قرآن اور نورِ امامت

ایک خصوصی ارشاد

سرکار مولانا حاضر امام شاہ کریم الحسینی صلوات اللہ علیہ نے مورخہ ۲۲ نومبر ۱۹۶۷ء میں ایک خاص اجتماع کو شرفِ دیدار بخشتے ہوئے اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے انڈیا (بمبئی) کے واعظین، مذہبی اساتذہ اور متعلقہ اراکین سے امتحاناً چند علمی سوالات کئے، آپ اس سلسلے میں قرآنِ شریف کا ایک لفظ “زیتون” کے معنی اور مطلب پر سوال فرما رہے تھے، اور اس کی اہمیت پر زور دے رہے تھے، امامِ زمان نے ارشاد فرمایا کہ واعظین اور مذہبی اساتذہ کا اس قابل ہونا بہت ہی ضروری ہے کہ وہ ان تمام قرآنی آیات کی تاویلی وضاحت کر سکیں، جو مختلف مواقع پر اسماعیلی جماعت میں پڑھی جاتی ہیں۔

 

۴

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

افتتاحیہ

 

الحمد للہ علیٰ احسانہ کہ “قرآن اور نورِ امامت” کا نسخۂ نافع بھی اب کتابت و طباعت کے مرحلے سے گزر کر شائع ہو رہا ہے، اس پیاری اور دل نشین کتاب میں اسماعیلی مذہب کے سب سے بنیادی اور اہم تصوّر سے بحث کی گئی ہے، وہ یہی مذکورہ تصوّر ہے، اور یہ موضوع فی نفسہٖ اتنا وسیع اور عظیم ہے کہ دین کے تمام دوسرے موضوعات اس میں محدود ہو جاتے ہیں۔

 

اس حقیقت کی پہلی مثال یہ ہے کہ قرآنِ پاک بموجبِ ارشادِ ربّانی (۶۵: ۰۵) امر ہے اور امامِ برحق صلوات اللہ علیہ صاحبِ امر (۰۴: ۵۹) چنانچہ امر و صاحبِ امر دین کی ہر چیز پر محیط ہیں، لہٰذا دین کا کوئی موضوع اور کوئی قول و فعل قرآن اور نورِ امامت کے احاطۂ معنوی سے باہر نہیں ہو سکتا۔

 

دوسری مثال یہ ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہے جس میں ہر چیز کا بیان ہے (۱۶: ۸۹) اور امامِ زمانؑ وہ پاک ہستی ہے، جس

 

۵

 

کی ذات میں ہر چیز محدود ہے (۳۶: ۱۲) اس سے ہر دانشمند مومن قرآن اور امام کے دائرۂ علم وحکمت کی بے پناہ وسعتوں کا اندازہ کر سکتا ہے۔

 

اسی بیان میں جاننے والوں کے لئے قرآن اور امام کے ظاہری اور باطنی ربط و تعلق اور وابستگی کے معنی بھی ہیں، جبکہ امر اور صاحبِ امر کا باہمی رشتہ ایک روشن حقیقت ہے، اور جبکہ آسمانی کتاب اور ربّانی معلّم کا مقصد و منشا ایک ہی ہے۔

 

ایک حقیقی مومن کو یہ اصول جاننا چاہئے کہ قرآن اور امام کے بہت سے نام مقرر ہیں، چنانچہ کلامِ الٰہی میں جہاں جہاں قرآن کا تذکرہ فرمایا گیا ہے وہاں لازمی طور پر نورِ امامت کا ذکر بھی موجود ہے، اور جہاں کسی بھی نام سے امامؑ کا ذکر کیا گیا ہے وہاں قرآن بھی ساتھ ہے، کیونکہ نہ تو کتاب معلّم کے سوا ہے اور نہ ہی معلّم کتاب کے بغیر۔

 

ذرا سوچا جائے تو دین و دنیا کا یہ اٹل قانون واضح ہو جائے گا کہ ہر کامل اور مکمل چیز کے ساتھ ساتھ اس کے لوازم بھی موجود ہوتے ہیں، ورنہ وہ چیز نامکمل ہوتی ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی (۰۵: ۰۳) کے مطابق اسلام کی تکمیل اور نعمتِ خداوندی کا اتمام یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ ساتھ معلّمِ قرآن بھی قائم و دائم رہے، اور حقیقتِ حال یہی ہے۔

 

دینِ اسلام کی تمام اساسی اور اصلی خوبیوں کا سرچشمہ اور منبع عہدِ رسالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ بابرکات تھی، چنانچہ حضورِ اکرمؐ ہی سراجِ منیر (روشن چراغ، ۳۳: ۴۶) ، نورِ قرآن

 

۶

 

(۰۵: ۱۵)، اور معلّمِ کتابِ سماوی (۰۲: ۱۵۱) تھے، آپؐ کی رحلت کے بعد یہ مرتبت و منزلت آپؐ کے برحق جانشین کو حاصل ہوئی، اور وہ جانشین امامِ زمانؑ ہیں۔

 

حدیثِ مماثلتِ ہارونی میں حضورِ اقدس نے مولا علیؑ کی شان میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے، اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ آنحضرتؐ کے جانشین کی ذاتِ عالی صفات اُن تمام اوصافِ کمالیہ کی حامل ہے، جو حضرتِ ہارونؑ میں موجود تھے، بجز نبوّت کے کہ سرورِ انبیاءؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، رسولِ خداؐ کے اس پُرحکمت ارشاد سے حقیقی مومنین پر امام شناسی کا ایک خصوصی دروازہ کھل جاتا ہے، اور یہ بات حضرتِ موسیٰؑ اور حضرتِ ہارونؑ کے قرآنی قصّے کا بغور مطالعہ کرنے سے متعلق ہے۔

 

جس طرح ہمیشہ سے دنیا والے آسمانی کتاب کے بغیر اپنے لئے کوئی دینی ہدایت نامہ نہیں بنا سکتے، اسی طرح وہ بذاتِ خود اُس کتاب کے حقیقی معلّم ہونے سے بھی قاصر ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے، لہٰذا دینِ فطرت کا دائمی قانون یہی رہا ہے کہ نہ صرف کتاب ہی خدا کی جانب سے نازل ہوتی ہے، بلکہ اس کا معلّم بھی پروردگار ہی کے حضور سے مقرر کر دیا جاتا ہے، تا کہ یہ ربّانی معلّم آسمانی توفیق و تائید سے لوگوں کو ان کی حیثیت کے مطابق کتاب اور حکمت سکھا دیا کرے۔

 

قرآنِ پاک کی سورت نمبر ۴۱ اور آیت نمبر ۵۳ کے ارشاد  (۴۱: ۵۳) سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات (نشانیاں اور معجزات) اس کائنات

 

۷

 

میں بھی ہیں اور انسان کی ذات میں بھی، اور عنقریب خداوند اپنی یہ آیتیں لوگوں کو دکھا دے گا یہاں تک کہ اُن پر واضح ہو جائے کہ وہ برحق ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ انسانِ کامل کے ضمیرِ منیر میں قرآن اپنی مکمل روحانیّت اور نورانیّت کے ساتھ موجود ہے، کیونکہ قانون یہ ہے کہ جہاں عوام کافی وقت کے بعد کسی چیز کو حاصل کرتے ہیں وہاں خواص بہت پہلے ہی وہ چیز حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں۔

 

اس اہم اور مفید سوال کا مکمل اور قطعی جواب کہ: “ائمۂ اطہار صلوات اللہ علیہم کے قلبِ مبارک میں قرآنِ حکیم کس صورت میں موجود ہے؟” سورۂ عنکبوت (نمبر ۲۹) آیت نمبر ۴۹ سے ملتا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا گیاہے کہ: ۔

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَؕ (۲۹: ۴۹)۔

بلکہ یہ (قرآن) روشن آیتیں ہیں ان لوگوں کے دل میں جن کو (خدا کی طرف سے) علم عطا ہوا ہے۔ اس کا مفہوم دانشمندوں کے نزدیک یہ ہے کہ کامل انسانوں کو پہلے علم الیقین دیا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد عین الیقین کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے جس سے ان کے آئینۂ دل میں قرآن کے روحانی اور نورانی معجزات کا ظہور ہوتا ہے، اور یہی معجزات آیاتِ بینٰت ہیں، جن کا قرآن میں بار بار ذکر آیا ہے۔

 

نورِ امامت کا فرمان ہے کہ اصل مذہب اور اصل سائنس دونوں ایک ہیں، سو اگر ہم مذکورۂ بالا حقیقت کی مثال سائنسی طور پر پیش

 

۸

 

کریں تو نامناسب نہ ہوگا، وہ یہ ہے کہ آج کل کے زمانے میں دنیا کا کوئی واقعہ اُس وقت زیادہ سے زیادہ قابلِ فہم ہو جاتا ہے جبکہ اس کو کتابی شکل میں لانے کے علاوہ ٹی وی پر بھی دکھا دیا جاتا ہے ، بالکل اسی طرح تصوّر کرنا چاہئے کہ ہادیٔ برحق کے باطن میں قرآن کی حقیقتیں زندہ واقعات اور روشن معجزات کی صورت میں موجود ہیں، جن کو روحِ قرآن اور نورِ قرآن کہا جاتا ہےکیونکہ انہیں اصل واقعات سے قرآن کے ظاہر و باطن پر روشنی پڑتی ہے۔

 

یہ کتابچہ اگرچہ کتابچہ ہی ہے اور اس کی ضخامت بہت ہی محدود ہے، لیکن ذرا غور سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت روشن ہو جائے گی کہ یہ دراصل مذہبی کتابوں کے ہزاروں صفحات اور بہت سے ذاتی تجربات کا نچوڑ اور جوہر ہے، دانش مند کو اس امرِ واقعی کا ایک واضح ثبوت کتابچۂ ہٰذا کے حواشی یعنی فٹ نوٹوں سے مل سکتا ہے، جن میں اور بعض دفعہ متن میں بھی قرآن و حدیث کے علاوہ بزرگانِ دین کی گرانمایہ کتابوں کے بہت سے حوالے دئے گئے ہیں، اور اس طریقِ کار سے قارئین کی معلومات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

آقائے نامور و نامدار حضرت مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام صلوات اللہ علیہ سے میری عاجز و ناتواں روح بصد شوق فدا ہو کہ اِس بے نظیر شاہنشاہِ دین کی ظاہری و باطنی دستگیری، مدد، نوازش اور احسان سے یہ ناچیز علمی خدمت آگے بڑھ رہی ہے، ورنہ زمانے

 

۹

 

کی گوناگوں مشکلات اور رکاوٹوں کے نتیجے میں یہ کام کبھی کا ختم ہوا ہوتا۔

 

حقیقی اسماعیلیوں کی سب سے بڑی پونجی امامِ زمانؑ کی رضا اور خوشنودی ہے، وہ کسی بھی قیمت پر اس کا سودا نہیں کر سکتے ہیں، کیونکہ ایمان کا یہ لازوال اور غیرفانی سرمایہ دونوں جہاں سے بڑھ کر ہے، لہٰذا ہر دانا مومن اسے اپنی جان سے بہت زیادہ عزیز رکھتا ہے اور اپنے سارے  اقوال و اعمال کو اسی معیار سے پرکھ لیتا ہے۔

 

علم الیقین کی روشنی پھیلانے سے جماعت کو جو جو فائدے حاصل ہوتے ہیں، وہ دانشمندوں سے پوشیدہ نہیں، اور جاننا چاہئے کہ اگر علم صحیح اور یقینی ہے تو وہ امامِ عالی مقامؑ کی طرف سے ہے، اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ جس طرح مادّی ترقی ظاہری علم کے بغیر ناممکن ہے اسی طرح روحانی ارتقاء مذہبی علم کے سوا محال ہے، علمی کتابوں ہی سے اپنوں اور بیگانوں کے بہت سے سوالات کے لئے مناسب جوابات مہیا رہتے ہیں، مذہب کا عمدہ طریقے سے تعارف ہوتا ہے اور مخالفت کم ہو جاتی ہے، قوم کی نئی نسل کو اس علمی کوشش سے بڑی مدد ملتی ہے، اداروں کے لئے ترقی کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں، حضرات علماء واعظین، اور معلّمین استفادہ فرماتے ہیں اور دوسروں کی نظر میں جماعت کا وقار بلند ہو جاتا ہے۔

 

اس بندۂ خاکسار اور اس کی کتابوں پر “خانۂ حکمت” کے

 

۱۰

 

بہت سے احسانات ہیں، خانۂ حکمت سے صدر مراد ہیں جو سینئر (SENIOR) سرپرست بھی ہیں، نیز دوسرے سرپرست حضرات، عملداران اور اراکین ہیں، جن کی جانفشانی اور ہر قسم کی قربانی سے اس مبارک ادارے کو ترقی اور کامیابی نصیب ہوئی ہے۔

 

اگر میں نعمت شناسی، احسان مندی، ممنونیّت اور شکرگزاری کے اس موقع پر دنیائے اسماعیلیت کے اُن تمام عزیزوں کو ذہن و خاطر میں نہ لاؤں جو علمی خدمت کے سلسلے میں مجھ سے تعاون کرتے ہیں تو یہ میری بہت بڑی کوتاہی ہوگی، لہٰذا میں ان سب کو فرداً فرداً یاد کرتا ہوں۔ اور کسی عزیز کی سب سے عمدہ اور سب سے اعلیٰ یاد دعاؤں کی صورت میں ہے، چنانچہ پروردگارِ عالم کے حضور میں میری عاجزانہ اور درویشانہ دعا ہے کہ وہ غنی بادشاہ میرے عزیزوں کو جو جان و دل سے علم کی خدمت کرتے ہیں سلامت رکھے! ان کو دونوں جہاں کی عزت بخشے! ان کا ہر نیک مقصد پورا ہو! اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خوش و خرم اور شادمان رہیں!

 

ان شکرگزاریوں کے سلسلے میں ادارۂ “عارف” کا ذکرِ جمیل بھی لازمی ہے، جس کے دانشمند، جری، مخلص اور دیندار چئیرمین شیراز صاحب شریف نے ادارے کے سرپرستِ اعلیٰ فقیر محمد صاحب ہونزائی کے تعاون سے اور دوسرے سرگرم اراکین کی مدد سے کینیڈا میں بہت سی علمی خدمات انجام دی ہیں، اور سب سے

 

۱۱

 

بنیادی اور اہم کارنامہ یہ کہ انہوں نے اس سلسلے میں پاک مولا کے حضورِ اقدس سے پُرحکمت اور بابرکت دعا حاصل کر لی ہے، لہٰذا میں ہمیشہ کے لئے ان کا شکرگزار اور دعاگو رہوں گا، پروردگار ان کو اور ان کے باعمل ساتھیوں کو دنیا و آخرت کی صلاح و فلاح اور کامیابی عطا فرمائے!

 

آپ کا علمی خادم

نصیر ہونزائی

جمعرات، ۲۵ رجب ۱۳۹۹ھ، ۲۱ جون ۱۹۷۹ء

سالِ گوسفند

 

۱۲

 

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

قرآن اور نورِ امامت

 

قرآنِ مجید اور حضرت محمد صلعم کی آلِ پاک یعنی سلسلۂ أئمّۂ برحق علیہم السّلام اپنے ہمہ رس و ہمہ گیر علمی کمالات اور عرفانی معجزات میں خدا کی ہدایتِ کلیہ کے دو ایسے آپس میں ملے ہوئے ذریعے ہیں، کہ جن کے متعلق اگر عقل و دانش اور حق و انصاف سے سوچ لیا جائے، تو ہرگز اُن دونوں کی علمی حیثیت کا جدا جدا تصوّر نہیں کیا جا سکے گا، اس لئے کہ قرآن نورِ امامت کے مختلف موضوعات سے بھرا ہوا ہے، اور نورِ امامت میں قرآن کے علم و حکمت کی روحِ ناطقہ ہمیشہ کے لئے موجود ہے، پس ہم یہاں اسی حقیقت کی چند قرآنی اور عقلی دلیلیں پیش کرتے ہوئے اس امرِ واقعی کی وضاحت کرتے ہیں، کہ نورِ امامت کا سہارا لئے بغیر قرآنِ پاک کے تاویلی حقائق و معارف کا دیکھ پانا مشکل ہی نہیں بلکہ قطعی ناممکن ہے۔

 

نور اور کتابِ مبین:۔

چنانچہ مذکورۂ بالا حقیقت کی قرآنی دلیلوں میں سے ایک

 

۱۳

 

یہ ہے:۔

قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌ (۰۵: ۱۵)۔

یقیناً تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور ظاہر کتاب آئی ہے (تفسیرِ صافی صفحہ ۱۳۲، تفسیر المتقین صفحہ ۱۳۱)۔ اس آیۂ مبارکہ میں حق تعالیٰ رتبۂ امامت کو قرآنِ پاک کی تاویلی روشنی قرار دے کر دونوں مقدّس چیزوں کی باہمی وابستگی اور لزومیت کی طرف توجہ دلاتا ہے، اور رمز کے طور پر یہ فرماتا ہے، کہ نورِ امامت کے سہارے کے بغیر قرآنِ پاک کے تاویلی علوم کے خزانوں کا راستہ دیکھ پانا محال ہے، جس طرح مادّی قسم کی روشنی کے بغیر ظاہری چیزوں کا مشاہدہ کرنا ناممکن ہے۔

 

اس بیان کی مزید وضاحت یہ ہے کہ ایک روز پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:۔

یاایھا الناس ان منکم من یقاتل علیٰ تاویل القرآن کما قاتلت علیٰ تنزیلہ۔ قیل من ھو یا رسول اللہ۔ فقال ذاک خاصف النعل۔ اے لوگو! تم میں سے ایک شخص ہے، کہ وہ تاویلِ قرآن پر جنگ کرے گا، جیسا کہ میں نے تنزیلِ قرآن پر جنگ کی ہے، پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ شخص کون ہے، فرمایا، وہ شخص جو جوتی درست

 

۱۴

 

کر رہا ہے (کوکبِ دری صفحہ ۱۰۸)۔ روایت مشہور ہے، کہ اُس موقع پر آنحضرتؐ کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا تھا، اور جناب مولانا علیؑ اس کو لے کر درست کر رہے تھے، چنانچہ اس حدیث کے بموجب مولانا علی علیہ السّلام ہی تاویلِ قرآن کے مالک ہیں، اور حقیقت میں ان کی اس علمی عظمت و مرتبت میں وہ تمام أئمّۂ اطہار بھی شامل ہیں، جو ان کی پاک ذرّیت میں سے ہیں، کیونکہ تاویل کی ضرورت و اہمیت نہ صرف مولانا علی علیہ السّلام ہی کے زمانے میں تھی، بلکہ جوں جوں زمانہ گزرتا گیا، توں توں  تاویل کی ضرورت و اہمیت بھی بڑھتی آئی ہے، چنانچہ بعد کے أئمّۂ برحق علیہم السّلام نے مجموعی حیثیت میں قرآنِ پاک کی جتنی تاویلات بیان فرمائی ہیں، ان کے مقابلے میں مولانا علی علیہ السّلام کی تاویلات بہت کم ہیں، پس اگر ہم ان تمام أئمّۂ برحق کی ذاتِ اقدس کو علیؑ کا نور نہ مانیں، تو تاویل صرف مولانا علیؑ ہی کے زمانے میں محدود ہو کر رہے گی، مگر یہ بات درست نہیں، بلکہ درست یہی ہے، کہ اس حدیث میں اُن تمام أئمّۂ برحق کا بھی ذکر موجود ہے، جو آلِ محمدؐ و اولادِ علیؑ سے ہیں، جو اولی الامر اور صاحبانِ تاویل کہلاتے ہیں، پس معلوم ہوا کہ وہ مبارک و مقدّس نور، جو قرآن سے جدا نہیں، نورِ نبوّت و امامت ہی ہے، جس نے حضرت محمدؐ کے لباس میں علومِ تنزیل پر روشنی ڈالی اور أئمّۂ طاہرین کی حیثیت میں علومِ تاویل پر

 

۱۵

 

روشنی ڈالی۔

 

برہان اور نورِ مبین

اسی سلسلے میں دوسری دلیل یہ ہے: ۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَاَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا (۰۴: ۱۷۴)۔

اے لوگو! اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برہان (دلیل یعنی معجزۂ قرآن) آ چکا ہے، اور ہم تمہارے پاس ایک ظاہر نور نازل کر چکے ہیں (تفسیر المتقین صفحہ ۱۲۵، تفسیر صافی صفحہ ۱۲۷۔ تفسیر المتقین میں بحوالۂ مجمع البیان لکھا ہے، کہ حضرت امام جعفر الصادق علیہ السّلام نے فرمایا کہ نور سے حضرت علی علیہ السّلام کی ولایت مراد ہے۔ مولوی فرمان علی صاحب اپنے ترجمۂ قرآن مطبوعۂ نظامی پریس لکھنؤ صفحہ ۱۶۷ کے حاشیے پر لکھتے ہیں: “ایک صحیح حدیث میں ہے، کہ برہان (دلیل) سے مراد حضرت رسول ہیں اور نورِ مبین (چمکتا ہوا نور) سے حضرت علی مراد ہیں)۔” اس ارشاد میں خدا تعالیٰ قرآنِ مجید کو حضرت محمدؐ کی نبوّت کا دائمی معجزہ قرار دیتا ہے، اور منصبِ امامت کو نورِ مبین (یعنی ظاہر نور) کے نام سے موسوم فرماتا ہے،

 

۱۶

 

جس کا اشارہ یہ ہے کہ قرآن کو دراصل اس وقت معجزۂ محمدیؐ سمجھ لیا جا سکتا ہے، جبکہ مرتبۂ امامت کی عرفانی روشنی میں قرآن کے تاویلی عجائب و غرائب دیکھ لئے جا سکیں۔

 

اس مقام پر یہ نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ مذکورۂ بالا دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت میں اوّل نور کا ذکر آیا ہے اور اس کے بعد کتاب کا، اس کے برعکس دوسری آیت میں پہلے کتاب کا اس کے بعد نور کا ذکر آیا ہے، جس کا اشارہ یہ ہے کہ نبوّت کا تعیّن نزولِ قرآن سے پہلے ہوا ہے اور ولایت کا اعلان نزولِ قرآن کے بعد کیا گیا ہے۔ یعنی نورِ نبوّت کا ظہور قرآنِ پاک نازل ہونے سے پہلے ہوا ہے، اور نورِ ولایت کا ظہور بعد میں، ہر چند کہ نبوّت اور ولایت ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔

 

ظاہری ہدایت و باطنی ہدایت

تیسری دلیل یہ ہے: ۔

یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ (۲۴: ۳۵)۔

خدا اپنے نور (کی معرفت) کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ اس آیۂ کریمہ میں پہلے قرآن کا ذکر آیا ہے، کیونکہ خدا کی ظاہری ہدایت تو قرآن ہی سے شروع ہو جاتی ہے، اس کے بعد نورِ امامت کا ذکر ہوا ہے، اس لئے کہ خدا کی باطنی ہدایت نورِ امامت ہی سے آغاز ہوتی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خدا جس کو چاہتا ہے ظاہری ہدایت

 

۱۷

 

کے ذریعہ باطنی ہدایت تک پہنچا دیتا ہے۔

 

ام الکتاب

چوتھی دلیل: ۔

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌ (۴۳: ۰۴)۔

اور قرآن ام الکتاب (کی حیثیت) میں میرے پاس علی ہے حکمت والا (تفسیرِ صافی صفحہ ۴۵۴ پر بحوالۂ معانی الاخبار امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہے، کہ جس شخص کا ذکر ام الکتاب یعنی سورۂ فاتحہ میں ہے، وہ جناب امیر المومنین علی علیہ السّلام ہیں، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول درج ہے: “اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ” اور “الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ” سے خود جناب امیر المومنین اور ان کی معرفت مراد ہے، اور تفسیر قمی میں بھی یہی مطلب درج ہے (تفسیر المتقین صفحہ ۸۶)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس آیۂ شریفہ کی تفسیر اس حدیث سے کی ہے: ۔

“علی مع القرآن و القرآن مع علی لا یتفرقان حتیٰ یردا علی الحوض۔

علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ ہے، اور دونوں جدا نہیں ہوں گے جب تک کہ حوضِ کوثر پر وارد ہوں۔”

 

۱۸

 

پیر ناصر خسرو کتابِ “وجہِ دین” میں ایک روایت نقل کرتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک دن رسولِ خدا (صلعم) نے فرمایا، کہ ظاہر میں سورۂ فاتحہ ام الکتاب ہے، اور باطن میں علی ام الکتاب ہیں، نیز مولانا علی فرماتے ہیں:۔

انا اللوح المحفوظ۔

یعنی میں لوحِ محفوظ ہوں (کیونکہ میرے نور میں تمام حقائقِ کونی و الٰہی کی صورتیں ثابت اور محفوظ ہیں) پس معلوم ہوا کہ درحقیقت حضرت علی ام الکتاب ہیں، اور ان کے نورِ اقدس میں تمام حقائقِ قرآنی کی روحانی صورتیں موجود اور محفوظ ہیں، کیونکہ لوحِ محفوظ ام الکتاب کا دوسرا نام ہے۔ ناسخ التواریخ جلدِ سوم از کتاب دوم صفحہ ۶۴۴ نیز صفحہ ۶۴۸ پر مرقوم ہے کہ: “و انہ (فی ام الکتاب) لدینا لعلی حکیم” کے اسماء علی ہی کے لئے ہیں۔

 

چنانچہ خدا، رسول اور خود مولانا علی کے کلام سے ظاہر ہے، کہ نورِ امامت ہی ام الکتاب، لوحِ محفوظ اور قرآن کی روحِ ناطقہ ہے، اگر خدا کی طرف سے قرآن کے حقائق سمجھانے کا یہ ذریعہ اور وسیلہ ہمیشہ کے لئے موجود نہ ہوتا، تو اس سے دینِ اسلام میں ایک بہت بڑی کمی واقع ہوتی، کیونکہ عہدِ نبوّت میں رسولِ اکرمؐ کی اطاعت کرنے والوں کے ہر سوال کا جواب یا تو کسی آیت کے نزول کی صورت میں ملتا تھا، یا رسول اللہ خود جواب دیتے تھے،لیکن حقیقت یہ ہے،

 

۱۹

 

کہ دینِ اسلام میں کوئی کمی نہیں پائی جاتی، بلکہ نورِ امامت کی اطاعت کرنے والوں کے ہر سوال کا جواب یا تو تاویلِ قرآن کی صورت میں ملتا ہے، یا نورِ امامت کے فرامین کی حیثیت میں۔

 

حبل اللہ

پانچویں دلیل: ۔

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۪ (۰۳: ۱۰۳)۔

اور تم سب کے سب (مل کر) خدا کی رسی مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں فرقہ فرقہ نہ بنو (مولوی فرمان علی صاحب اپنے ترجمۂ قرآن ص ۹۹ کے حاشیے پر لکھتے ہیں:۔ “حضرت امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت ہے، کہ آپؑ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے، کہ ہم اہلِ بیت خدا کی رسی ہیں، اور سب کو جس کی مضبوطی سے تھامنے کا خدا نے حکم دیا ہے، دیکھو صواعق محرقہ۔” نیز تفسیر المتقین صفحہ ۷۴ کے حاشیہ پر دیکھو۔ “المجالس المستنصریہ” کے صفحہ ۱۷۰ پر بھی خدا کی رسی کی یہی تعریف کی گئی ہے)۔

 

اس فرمانِ الٰہی میں قرآن اور امامت کی مثال ایک ایسی رسی سے دی گئی ہے، جس کا ایک سرا خدا کے ہاتھ میں اور دوسرا مومنین کے ہاتھ میں ہو، جو عرشِ برین سے فرشِ زمین تک پہنچی ہو،

 

۲۰

 

اور جو ازل سے ابد تک رسا ہوسکتی ہو، پس خدا کی ایسی رسی صرف قرآن اور نورِ امامت کی باہم ملی ہوئی علمی حیثیت ہی ہوسکتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پر عمل دورِ نبوّت میں نبی کے ذریعہ کیا جائے اور دورِ امامت میں امام کے ذریعہ، چنانچہ عہدِ رسالت میں مسلمان رسول اللہ کے ذریعے قرآن پر عمل کرتے تھے، اسی لئے وہ اُس وقت آپس میں فرقہ فرقہ نہیں بنے تھے، اسی طرح اگر اب بھی خلیفۂ رسول (یعنی امامِ زمانؑ) کے ذریعے قرآنی حقائق کوسمجھتے، تو وہ ہرگز فرقہ فرقہ نہ بن جاتے، کیونکہ ملی وحدت کا مرکز امامِ حاضرؑ ہی ہیں، جن کی فرمانبرداری میں فرقہ فرقہ ہونے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔

 

چنانچہ “اعتصام” کے معنی ہیں، خطرے سے بچنے کے لئے کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑنا، اور “واعتصموا” میں اسی معنی کا امر ہے، اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کہ وہ خطرہ کون سا ہے، جس سے بچنے کے لئے خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا ضروری ہوا ہے؟ اس کا جواب دو طرح سے ہے، پہلا جواب یہ ہے، کہ جس شخص کا ہاتھ خدا کی رسی سے چھوٹ گیا، تو اُسے گمراہی کا خطرہ رہتا ہے، اور اس کے برعکس جو شخص خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہا کرے، تو وہ ہدایت پاتا ہے، چنانچہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔

وَمَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (۰۳: ۱۰۱)۔ اور جو شخص خدا سے وابستہ ہو، تو وہ ضرور

 

۲۱

 

سیدھی راہ پر لگا دیا گیا۔ ظاہر ہے، کہ خدا کی رسی ہی کو مضبوطی سے تھامے رہنا، خدا سے وابستہ ہو جانا ہے، جس کا نتیجہ سیدھی راہ پر لگنا ہے، ورنہ گمراہی کا خطرہ رہتا ہے۔

 

مذکورہ سوال کا دوسرا جواب یہ ہے، کہ خدا کی رسی سے وابستہ نہ ہونے میں انسان کو ہمیشہ کے لئے بہیمیت کی پستی میں جا گرنے کا خطرہ درپیش رہتا ہے، اسی لئے فرمایا گیا ہے، کہ خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو، تاکہ تم کو حیوانیت کی پستی سے ملکوتیت کی بلندی پر اٹھا لیا جائے، کیونکہ خدا کی رسی اور کمند کا ایک خاص مفہوم یہ ہے، کہ یہ عالمِ ملکوت کی بلندی سے عالمِ ناسوت کی پستی تک باندھی گئی ہے، یا یوں کہنا چاہئے، کہ خدا کی رسی (یعنی قرآن اور نورِ امامت) سے وابستگی کی مثال ایک ایسی سیڑھی کی طرح ہے، جو عالمِ سفلی سے عالمِ علوی پر چڑھنے کے لئے قائم کر دی گئی ہے، چنانچہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِ (۷۰: ۰۳) خدا کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے۔ دانشمند کے لئے ظاہر ہے کہ سیڑھی کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، پس معلوم ہوا، کہ جو خدا کی رسی ہے، وہی خدا کی سیڑھی ہے، کیونکہ ہدایتِ الٰہیہ کا مرکز ایک ہی ہے، مگر اس کے نام اور مثالیں بے شمار ہیں۔

 

روشن چراغ

چھٹی دلیل: ۔

 

۲۲

 

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا (۳۳: ۴۵ تا ۴۶)۔

اے نبی ! ہم نے آپ کو گواہ اور (نیکوں کو بہشت کی) خوشخبری دینے والا اور (بدوں کو عذاب سے) ڈرانے والا اور خدا کی طرف اُسی کے حکم سے بلانے والا اور (تعلیم و ہدایت کا) روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے (جب یہ حقیقت مسلّمہ ہے، کہ آنحضرتؐ اپنے عہدِ نبوّت میں قرآن کے ساتھ علم و حکمت کا روشن چراغ تھے، جس کے متعلق حق تعالیٰ کا ارشاد ہے، کہ خدا اپنے اس نور کو درجۂ کمال تک پہنچا دے گا (دیکھو ۰۹: ۳۲ اور ۶۱: ۰۸) تو معلوم ہوا کہ یہ مقدّس نور آنحضرتؐ کے بعد سے لے کر قیامت تک لباسِ امامت میں جلوہ افروز ہے، تاکہ عالمِ دین اور عالمِ انسانیّت ہی میں خدا کے نور کا یہ چراغ ہمیشہ کے لئے روشن رہے)۔

 

اس آیۂ کریمہ میں بطریقِ حکمت یہ اشارہ کیا گیا ہے، کہ رسولِ برحقؐ نے سب سے پہلے حق تعالیٰ کی وحدانیّت پر گواہی دی، جو “لا الٰہ الا للہ” کی صورت میں تھی، اور لوگوں سے فرمایا، کہ وہ بھی یہی گواہی دیں، پس جن لوگوں نے یہ گواہی دی، تو رسولؐ نے ان کو بہشت کی خوشخبری سنائی،

 

۲۳

 

اور جن لوگوں نے اِس گواہی سے انکار کیا، سو آنحضرتؐ نے ان کو دوزخ سے ڈرایا، اور خدا کے حکم سے اسی طرح پیغمبر علیہ السّلام نے لوگوں کو خدا کی طرف دعوت کی، اور اسی اثنا میں نزولِ قرآن بھی انجام کو پہنچا، اب اس آیت کے اخیر میں حق تعالیٰ نے آنحضرتؐ کو جس نام سے یاد فرمایا ہے، وہ نام “سراجِ منیر” یعنی روشن چراغ ہے، پس دعوتِ اسلام اور نزولِ قرآن کے ذکر کرنے کے بعد رسول سے خدا کا یہ فرمانا کہ ہم نے آپ کو روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے، اس حقیقت کی ایک واضح دلیل ہے، کہ خدا کی جانب سے لوگوں کی مستقل ہدایت کے لئے قرآن کے ساتھ ساتھ ایک روشن چراغ یعنی نور کی بھی ضرورت ہے، ہم اس سے قبل بیان کر چکے ہیں کہ یہ نور کسی شک کے بغیر نبوّت و امامت ہی کا نور ہے، کہ جب یہ نور نبی میں تھا، تو علمِ تنزیل کی صورت میں تھا، اور جب امام میں آیا تو علمِ تاویل کی حیثیت میں ہے (دیوانِ اشعار حکیم ناصر خسرو تحقیق کردۂ حاجی سید نصر اللہ تقویٰ ص ۱۷۴۔ گفتم کہ بقرآن در پیداست کہ احمد ۔ بشیر و نذیر است و سراجست و منور۔۔ گر خواہد کشتن بدہن کافر او را۔ روشن کندش ایزد بر کافۂ کافر ۔ ترجمہ: میں نے کہا کہ قرآن میں ظاہر ہے کہ حضرت محمد بشیر و نذیر اور (ایسے) روشن چراغ ہیں، کہ اگر منکرین و کافرین اپنے مونہوں سے اُسے بجھانا چاہیں، تو خداوند تعالیٰ (ان کی خواہش کے برعکس) اس چراغ کو (تا قیامت روز بروز) زیادہ سے زیادہ روشن کرے گا)۔ اور دونوں صورتوں میں قرآن اور نور کی

 

۲۴

 

باہمی وابستگی اور لزومیت پائی جاتی ہے، کیونکہ یہاں نور کا مطلب رشد و ہدایت اور علم و حکمت ہے۔

 

مذکورہ دلائل کی روشنی میں یہ حقیقت پوری طرح سے واضح ہوگئی، کہ عہدِ نبوّت میں خدا کی طرف سے لوگوں کی مکمل ہدایت کے لئے قرآن کے ساتھ ساتھ ایک زندہ نور بھی تھا، جس کا ذکر حق تعالیٰ نے “سراجِ منیر” کے عنوان سے فرمایا، اور جہاں حق تعالیٰ نے اپنی حقیقت کے بارے میں کوئی مناسب مثال دینا چاہا تو وہاں بھی اُس نے “سراج” کا ایک ہم معنی لفظ استعمال فرمایا اور وہ لفظ “مصباح” ہے، چنانچہ ارشاد ہے:۔

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ (۲۴: ۳۵)۔

خدا آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کے مانند ہے، جس میں چراغ روشن کیا ہو۔ اب یہ خوب سوچنے کا مقام ہے، کہ حق تعالیٰ نے اپنے نور کی مثال کیوں روشنی کے اُن عظیم قدرتی اور آسمانی ذرائع سے نہیں دی، جو سورج، چاند اور ستاروں کے ناموں سے مشہور ہیں، اور کیا سبب ہے، کہ اُس نے اپنے نور کی مثال گھر کے چراغ سے دی اور اپنے رسول کے نور کی مثال بھی چراغ ہی سے دی، پس ان سخت ترین مسائل کا صحیح حل یہی ہے، کہ رسولؐ کا نور خدا ہی کا نور ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب حق تعالیٰ نے نور کو اپنی ذات سے منسوب فرمایا، تو اس میں نور کی مثال “روشن چراغ” سے دی، اور جب نور کو

 

۲۵

 

رسول سے منسوب فرمایا، تو اس میں بھی اسی طرح اس کی مثال “روشن چراغ” ہی سے دی، اور نور کی مثال دونوں صورتوں میں گھر کے چراغ سے دینے کا ایک اور سبب یہ بھی ہے، کہ بموجبِ ارشاد: “نورٌعلیٰ نور” (نورٌ علیٰ نور کا مطلب یہ ہے،کہ ایک امام کے بعد دوسرا امام ہوتا رہے گا (تفسیر المتقین صفحہ ۴۲۴ بحوالۂ تفسیرِ صافی صفحہ ۳۵۱ بحوالۂ التوحید منقول از امام جعفر الصادق علیہ السّلام)) روشنی کو ایک روشن کئے ہوئے چراغ سے دوسرے تیار چراغ میں منتقل کر دی جاتی ہے، مگر ایک سورج سے دوسرا سورج پیدا نہیں ہوتا، پس نور کے ظاہری پہلو (یعنی نبوّت و امامت کے مختلف اجسام) کی تبدیلی کے اعتبار سے چراغ کی مثال زیادہ موزوں اور مناسب ہے، اور نور کے باطنی پہلو یعنی عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ کے مقام کے لحاظ سے سورج اور چاند کی مثال بہتر اور صحیح ہے، اب اس اصول کے مطابق آپ خود ٹھیک طرح سے غور کر کے بتائیے، کہ مندرجۂ ذیل آیۂ کریمہ میں نور کے کس پہلو کے متعلق ارشاد ہوا ہے:۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ (۰۹: ۳۲)

وہ (منکرین) چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں (یعنی غلط دلیلوں) سے

 

۲۶

 

خدا کے نور کو بجھا دیں، اور خدا ایسا کرنا نہیں چاہتا ہے، مگر وہ اپنے نور کو مکمل کر دینا چاہتا ہے، اگرچہ کافر اس سے ناخوش رہیں۔ مطلب صاف ظاہر ہے کہ یہاں نور کے ظاہری پہلو کے بارے میں ذکر ہوا ہے، یعنی خدا کے نور کا بیان کیا گیا ہے، جو انبیاء اور أئمّۂ طاہرین کی شخصیتوں کے چراغ سے روشن ہوتے ہوئے آیا ہے، اور اسی نور کو منکرین اپنی غلط دلیلوں کی پھونکوں سے بجھانے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں، مگر یہ نور ہمیشہ سے آسمانی کتابوں کے ساتھ ساتھ موجود ہے، اسی مطلب کی ترجمانی میں کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:۔

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

(تفسیرِ صافی صفحہ ۲۰۶، تفسیر المتقین صفحہ ۲۲۹، ملاحظہ ہو۔ اس بارے میں کتابِ “وجہِ دین” حصّۂ اوّل صفحہ ۱۱۱ و صفحہ ۱۱۲ پر بغور دیکھو)۔

 

آسمانی کتاب کی وراثت

ساتویں دلیل: ۔

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاۚ (۳۵: ۳۲)۔

پھر ہم نے کتاب (یعنی قرآن کے علم و حکمت) کے وارث کر دئے، اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے اپنے بندوں سے برگزیدہ کیا ہے۔ کتاب یعنی قرآن کے علم و حکمت کے وارثین سے آلِ محمدؐ کے أئمّۂ طاہرین مراد ہیں، کیونکہ یہی

 

۲۷

 

حضرات خدا کے بندوں میں سے برگزیدہ اور علومِ قرآن کے خزانہ دار ہیں، جیسا کہ آیۂ ذیل میں بھی یہی مطلب ارشاد ہوا ہے:۔

فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا (۰۴: ۵۴)۔

اس میں کوئی شک نہیں، کہ ہم نے ابراہیم کی اولاد کو (قیامت تک) کتاب اور حکمت دی اور ان کو ایک عظیم سلطنت دی۔ (دیکھو کتاب “دعائم الاسلام” حصّۂ اوّل عربی صفحہ ۲۳، تفسیر المتقین صفحہ ۵۲۴)۔ اہلِ دانش کے لئے اس حقیقت میں ذرا بھی شبہ نہیں، کہ آلِ ابراہیم میں ترتیب کی رو سے سب سے پہلے حضرت اسماعیلؑ، حضرت اسحاقؑ اور ان کی اولاد کے تمام انبیاء و أئمّہ کا ذکر ہے، پھر آنحضرتؐ اور اُن کی آلِ پاک کے أئمّہؑ کا ذکر ہے (دعائم الاسلام حصّۂ اوّل صفحہ ۲۱ و صفحہ ۲۲ پر امام محمد باقر علیہ السّلام سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آلِ ابراہیمؑ میں سے رسل، انبیاء اور أئمّہ بنائے، نیز فرمایا ملکاً عظیماً سے یہ مراد ہے،کہ اُن میں سے امام بنائے، جس نے ان کی اطاعت کی اُس نے دراصل خدا کی اطاعت کی اور جس نے ان کی نافرمانی کی اُس نے خدا کی نافرمانی کی، پس یہی ملکِ عظیم ہے، پھر کس طرح (یہ درست ہو سکتا ہے کہ) وہ آلِ ابراہیم میں تو اس کا اقرار کرتے ہیں، لیکن آلِ محمدؐ میں انکار کرتے ہیں۔ تفسیر المتقین صفحہ ۱۰۳ پر بھی یہی روایت درج ہے)۔ مگر ان حضرات کو کتاب دی جانے کے یہ معنی ہرگز نہیں، کہ ابراہیمؑ کی اولاد میں سے ہر پیغمبر اور ہر امام پر ایک کتاب نازل کی گئی ہو بلکہ اس کا مطلب

 

۲۸

 

یہ ہے، کہ جو مشہور کتابیں نازل ہوئی تھیں، ان کی مجموعی حقیقت دراصل ایک کتاب کی سی ہے، جس کو حق تعالیٰ یہاں “الکتاب” کے نام سے موسوم کرتا ہے، جو لوگوں کو خدا کی طرف بلانے اور مومنین کو علم و حکمت سکھانے کے پیشِ نظر ایک پیغمبر کے بعد دوسرے پیغمبر یا امام کو دی جاتی ہے، اس لئے کہ روحانی سلطنت یعنی نبوّت و امامت انہی کے سلسلے میں چلتی رہی ہے اس سے معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید کے علم و حکمت کا ورثہ رسول اللہ کے بعد مولانا علیؑ ہی کو ملا ہے، اور ان کے بعد ان کی پاک اولاد میں قرآن کا یہ عظیم ورثہ موجود و باقی ہے۔

 

نورِ ہدایت

آٹھویں دلیل: ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (۵۷: ۲۸)۔

اے ایمان والو! خدا سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد) پر (جیسا کہ چاہئے) ایمان لاؤ، تو خدا تم کو اپنی رحمت کے دو حصے (یعنی ظاہر اور باطن میں) اجر عطا فرمائے گا، اور تم کو ایسا نور مقرر فرمائے گا، جس (کی روشنی) میں تم (سیدھی راہ پر) چلو گے اور تم کو بخش دے گا

 

۲۹

 

اور خدا بڑا بخشنے والا مہربان ہے (حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ علیہ السّلام نے فرمایا، کہ میں حضرت علیؑ اور رسولِ پاکؐ (حضرت محمدؐ) دونوں کا نور ہوں۔ نیز حضرت مولانا سرکار نامدار شاہ کریم الحسینی امام حیّ و حاضر فرماتے ہیں، کہ امام کے نور نے روحانی اور دنیاوی تسکین کے حصول کے لئے تمہیں بتایا ہے کہ کدھر اور کس رخ میں تمہیں مڑنا ضروری ہے (کتاب فرامینِ مبارک حصّۂ اوّل) نیز ملاحظہ ہو: کتاب “اساس التاویل” عربی از صفحہ ۳۴۹ تا صفحہ ۳۵۴)۔

 

مذکورہ آیۂ مقدّسہ میں ” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا” کا خطابِ الٰہی اُن لوگوں سے ہے، جو خدا اور اُس کے رسول پر ایمان لا کر قرآن کے ظاہری احکام پر عمل کرنے لگے تھے “اتقوا اللہ” کے امر میں ان کو ہر طرح کی پرہیزگاری اور خوفِ خدا کی تعلیم دی گئی ہے “و اٰمنوا برسولہ” کے ارشاد میں اُن کو یہ فرمایا کہ تم خدا کے رسول پر صحیح معنوں میں ایمان لاؤ، یعنی رسول تمہارے مستقبل کی ہدایات کے لئے بموجبِ فرمانِ الٰہی جس کو اپنا جانشین مقرر کریں اور اس سلسلے میں تم سے جو کچھ فرمائیں تم اس کی پوری طرح سے اطاعت کرو “یوتکم کفلین من رحمۃ” کا مطلب ہے، کہ خدا اس وسیلے سے تم کو اپنی رحمت یعنی ظاہری اور باطنی ہدایت

 

۳۰

 

کے دو حصّے اجر عطا فرمائے گا:۔

و یجعل لکم نوراً۔

اور تم کو ایک ایسا نور (یعنی امامِ زمانؑ کی معرفت) عطا فرمائے گا “تمشون بہ” کہ جس کی روشنی میں تم انقلاباتِ زمانہ کے مسائل حل کرتے ہوئے چل سکو گے۔ “یغفرلکم و اللہ غفور رحیم” اور خدا تم کو بخش دے گا، یعنی تمہارے کام آسان سے آسان تر ہوتے جائیں گے اور خدا بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

پس اس فرمانِ الٰہی سے معلوم ہوا، کہ جس نور کی روشنی میں انقلاباتِ زمانہ کے مسائل حل کرتے ہوئے چلا جا سکتا ہو، وہ امامت ہی کا نور ہے، جو مومنین کے لئے بظاہر اس وقت مقرر کیا گیا، جبکہ انہوں نے خدا و رسول پر ایمان لا کر قرآن کے ظاہری احکام پر عمل کیا، خدا سے ڈرتے ہوئے تقویٰ کا راستہ اختیار کیا اور رسول کے آخری فرمان کی پوری طرح سے اطاعت کی، جو غدیرِ خم میں سنایا گیا تھا، اور وہ ان الفاظ میں تھا:۔

من کنت مولاہ فھٰذا علی مولا۔ میں جس کا مولا و آقا ہوں، پس یہ علی بھی اُسی کا آقا و مولا ہے۔

چنانچہ اس تابعداری کے بدلے میں اُن مومنین کو حق تعالیٰ کی رحمت سے ظاہری و باطنی ہدایت کے دو حصّے ملے، اور ان کو ہمیشہ کے لئے امامِ زمانؑ کی معرفت حاصل ہوئی، جس کی بدولت وہ امام شناسی کے ہر امتحان و ابتلا میں کامیاب ہوتے ہوئے چلے آئے ہیں، اسی طرح ان کے سب

 

۳۱

 

کام آسان کر دئے گئے۔

 

راسخون فی العلم

نویں دلیل: ۔

وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ  وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ-كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاۚ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ (۰۳: ۰۷)۔

اور قرآن کی تاویل بجز حق تعالیٰ اور اُن لوگوں کے جو علمِ دین میں پختہ کار ہیں، کوئی اور نہیں جانتا، وہ کہتے ہیں، کہ ہم اس پر یقین رکھتے ہیں (یہ محکمات و متشابہات) سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں، اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں، جو اہلِ عقل ہیں (تاویل اور امام کے موضوع کے لئے ملاحظہ ہو: وجہِ دین حصّۂ اوّل اردو از صفحہ ۹ تا ۳۲ نیز از صفحہ ۶۸ تا ۸۶۔ نیز “اساس التاویل” عربی از صفحہ: ۲۸ تا ۳۲ ملاحظہ ہو)۔

 

حضرت امام جعفر الصادق علیہ السّلام نے آیۂ بالا کی تفسیر کے بارے میں فرمایا: نحن الراسخون فی العلم و نحن نعلم تاویلہ و فی روایۃ: فرسول اللہ افضل الراسخین فی العلم قد علمہ اللہ عز و جل جمیع ما انزل علیہ من التنزیل و التاویل

 

۳۲

 

و ما کان اللہ لینزل علیہ شیئا لم یعلمہ تاویلہ و اوصیائہٖ من بعدہٖ یعلمونہ کلہ۔

ہم (أئمّہ) ہی علمِ دین میں پختہ کار ہیں اور ہم قرآن کی تاویل جانتے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے: پس رسول اللہ علمِ دین کے پختہ کاروں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں، کہ حق تعالیٰ نے آنحضرتؐ پر تنزیل و تاویل میں سے جو کچھ نازل فرمایا، وہ سب آنحضرتؐ کو سکھایا ہے، کیونکہ شانِ الٰہی کے لئے یہ ہرگز مناسب نہیں تھا کہ خدا آنحضرتؐ پر کوئی ایسی چیز نازل فرماتا، جس کی تاویل حضورؐ کو نہ سکھائے۔ اور (اسی طرح) آنحضرتؐ کے اوصیا بھی قرآن کی تاویل پوری طرح سے جانتے ہیں (تفسیرِ صافی صفحہ ۷۹، تفسیر المتقین صفحہ ۵۹، وجہِ دین حصّہ دوم (اردو) صفحہ ۱۴۰، تاویل الدعائم حصّہ اوّل صفحہ ۶۵)۔

مذکورۂ بالا آیت کے معنی میں ذرا غور و فکر کرنے سے بھی یہی حقیقت ثابتہ ظاہر ہو جاتی ہے کہ قرآن کی تاویل (جس کا دوسرا نام حکمت ہے) لوگوں کو زمانے کی رفتار اور تقاضے کے مطابق بتدریج سکھانے کے لئے رسول کے بعد ہر زمانے میں امامِ برحق حاضر اور موجود ہے، اگر ایسا نہ ہوتا، تو یہ خدا کی طرف سے دینی ہدایت کے سلسلے میں ایک بہت بڑی بخالت ہوتی کہ اُس نے خاتم الانبیاء پر نبوّت ختم کر لی، اپنی خاص خاص حکمتیں متشابہات کی حیثیت میں چھپائے رکھیں اور ہدایت کا کوئی فیصلہ کُنۡ ذریعہ مقرر

 

۳۳

 

نہیں فرمایا، مگر یہ بات خدا کے عدل و رحمت کی منافی ہے، بلکہ حقیقت یہی ہے کہ رسولِ اکرمؐ کے حقیقی جانشین ہمیشہ کے لئے تاویل کا ذریعہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔

 

دعائے ابراہیم و اسماعیل

دسویں دلیل: ۔

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ (۰۲: ۱۲۹)۔ (حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السّلام نے کہا): اے پروردگار ! ہم کو اپنا حقیقی مطیع بنا لیجئے، اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کیجئے، جو آپ کی حقیقی مطیع ہو۔ اے پروردگار! اور اس جماعت کے اندر ان ہی میں سے ایک ایسا پیغمبر بھی مقرر کیجئے، جو اُن لوگوں کو آپ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کریں، اور ان کو آسمانی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیا کریں اور ان کو پاک کر دیں (تفسیر المتقین صفحہ ۲۳، ترجمۂ قرآن از مولوی مقبول احمد صفحہ ۲۳، وجہِ دین حصّۂ دوم (اردو) صفحہ ۱۴۱، دعائم الاسلام حصّۂ اوّل(عربی صفحہ ۳۳))۔

 

۳۴

 

مذکورہ جماعت، جو خدا کی حقیقی مطیع ہے، آلِ ابراہیم کے أئمّۂ طاہرین ہیں، جن کا سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا، اور رسول سے مراد بالعموم آلِ ابراہیمؑ کے سب پیغمبر ہیں اور بالخصوص آنحضرتؐ ہیں، کیونکہ انبیاء أئمّہ کی جنس میں سے ہیں، اور آنحضرتؐ نے خدا کی آیتیں دراصل ان ہی کو ظاہر و باطن میں پڑھ کر سنا دی ہیں، ان ہی کو آسمانی کتاب اور حکمت کی تعلیم دی ہے اور ان ہی کو پاک و پاکیزہ رکھا ہے، تا کہ یہ حضرات أئمّۂ قرآن اور حکمت کی اس خصوصی و معجزانہ تعلیم اور پاکیزگی کے اوصاف سے نورِ امامت کے قابل ہو جائیں، اور قرآنِ پاک کی تاویلی روح سے بندگانِ خدا کو ان کی سعی و کوشش اور حقداری کے مطابق فیضِ ہدایت پہنچاتے رہیں۔

 

اسی حقیقت کی مزید تصدیق و توثیق یہ ہے:۔

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ (۰۲: ۱۴۳)۔

اور اسی طرح (اے أئمّۂ برحق!) ہم نے تم کو عادل امت بنا دیا، تاکہ لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول (محمد) تم پر گواہ بنیں (کتاب “وجہِ دین” حصّۂ دوم صفحہ ۲۰۵ از حضرت پیر ناصر خسرو ۔ تفسیر المتقین ص ۲۵ ، دعائم الاسلام حصّۂ اوّل ص ۳۵۔ نیز سلیم بن قیس سے مروی ہے، کہ حضرت علیؑ نے فرمایا، کہ امتِ عادل اور لوگوں پر گواہ ہم ہیں، اور خاص ہم ہی اس سے مقصودِ خدا ہیں، اور حضرتِ رسولؐ ہم پر گواہ ہیں، اور ہم گواہانِ خدا ہیں، اس کی مخلوق پر، اور اس کی حجت ہیں زمین پر، اور ہم ہی وہ ہیں، جن کے بارے میں خدا نے “کذالک جعلنٰکم امۃ وسطاً” فرمایا ہے، دیکھو شواہد التنزیل ، حاکم ابو القاسم (حاشیۂ ترجمۂ قرآن صفحہ ۳۳ از فرمان علی))۔

 

۳۵

 

وسط کے معنی عاد ل کے علاوہ واسطہ، وسیلہ، ذریعہ اور مرکز بھی ہیں، اور ان تمام معنوں سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے، کہ بلاشبہ یہ آیت أئمّۂ طاہرین کی شان میں ہے، کیونکہ ہر امام اپنے زمانے میں امت اور رسول کے درمیان واسطہ، وسیلہ اور ذریعہ ہے، نیز لوگوں کا مرکز ہے، اور وہ اسی سبب سے خدا و رسول کی جانب سے لوگوں پر گواہ ہے، اور گواہ کا عربی لفظ “شہید” ہے، جس کے معنی ہیں “حاضر” جس کا مطلب یہ ہے کہ امام لوگوں کے سامنے حاضر رہ کر ان کی ہدایت کرتا ہے، اور ان کے اعمال کا گواہ ہوتا ہے، اور رسول کے ہر امام پر گواہ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرتؐ اپنی نورانیّت میں ہر زمانے کے امام کے سامنے موجود ہیں، جو آسمانی کتاب کے علم و حکمت سکھا دیا کرتے ہیں، نیز رسول امام پر اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ امام نے لوگوں کی حقداری کے مطابق ہدایت کر دی۔

 

لفظ “شہید” گواہ کے معنی میں خدا کے ناموں میں بھی ہے اور رسول و امام کے ناموں میں بھی، اور ایسے ہونے سے ہرگز کوئی

 

۳۶

 

تضاد نہیں ہو سکتا، کیونکہ خدا لوگوں پر گواہ رسول کی نسبت سے رسول لوگوں پر گواہ امامِ زمانؑ کی نسبت سے ہیں اور امامِ زمانؑ لوگوں پر گواہ ذاتی طور پر ہیں، اس لئے کہ امامِ زمانؑ لوگوں کے سامنے حاضر ہیں، اور صرف حاضر ہی کا گواہ بننا درست اور عقل کے لئے قابلِ قبول ہے، اور کوئی غائب ذاتی طور پر گواہ نہیں بن سکتا، پس قیامت کے دن شناختِ امام اور ضروری ہدایت کی پرسش کے لئے نیز عدل و انصاف کی غرض سے ہر زمانے کے لوگوں کو اُن کے امامِ وقت کے ساتھ بلایا جائے گا، چنانچہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ (۱۷: ۷۱)۔

ظاہر ہے کہ خدا و رسول کی طرف سے لوگوں پر گواہ صحیح معنوں میں أئمّۂ برحق علیہم السّلام ہی ہیں، چونکہ امام لوگوں کے درمیان ہر زمانے میں حاضر و موجود ہے، تاکہ ان کو آسمانی کتاب کی تاویل و حقیقت سے آگاہ کر لیا کرے۔

 

چنانچہ اس آیت پر ذرا غور کرنے سے یہ حقیقت پوری طرح سے واضح ہو جاتی ہے کہ نہ صرف انبیاء علیہم السّلام کے ساتھ بلکہ ان کے بعد بھی ہر زمانے میں سلسلۂ امامت بطورِ گواہ تا قیامت جاری و ساری ہے، وہ آیۂ مبارکہ یہ ہے:۔

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ

۳۷

 

بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (۳۹: ۶۹)۔

اور (قیامت کے روز) زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ (یعنی أئمّۂ برحق) آئیں گے، اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر (ذرہ برابر) ظلم نہیں کیا جائے گا۔

 

جب یہ ثابت ہوا کہ دنیا میں ہمیشہ قرآن کے ساتھ ساتھ امامِ زمانؑ بھی حاضر و موجود ہیں، تو معلوم ہوا کہ قرآن اور امام لازم و ملزوم ہیں، اس لئے کہ قرآن ہر شخص پر نازل نہیں کیا گیا، بلکہ قانونِ الٰہی کی رو سے یہ ایک کامل انسان پر نازل ہوا، تو یہ امر لازمی ہے، کہ قرآن کی تاویل یعنی حکمت بھی ایک کامل انسان کو دے دی جائے، تا کہ وہی واحد شخص فرمانبرداروں کو قرآنِ پاک کے علم و حکمت کی تعلیم دیا کرے۔

 

کتابِ ناطق

گیارہویں دلیل: ۔

وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (۲۳: ۶۲)۔

 

۳۸

 

اور ہمارے پاس ایک ایسی کتاب ہے جو حق و انصاف سے بولتی ہے، اور لوگوں پر (ہماری طرف سے) ظلم نہیں کیا جاتا ہے۔ (ایک روز مولانا مرتضیٰ علی علیہ السّلام قرآن کی تلاوت کر رہے تھے، کہ اس سلسلے میں  یہ آیۂ کریمہ آ گئی: هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّؕ (۴۵: ۲۹) یہ ہماری کتاب تم پر سچ سچ بولتی ہے۔ تو قرآن اپنے سرِ مبارک پر رکھے ہوئے فرمانے لگے: “اے کتابِ الٰہی بولئے، اے کتابِ الٰہی بولئے، اے کتابِ الٰہی بولئے۔” آنجنابؑ کے اس قول کا اشارہ یہ تھا کہ مولا خود ہی کتابِ ناطق تھے اور قرآن کتابِ صامت (المجالس المستنصریہ صفحہ ۱۷۶))۔

 

اس موقع پر سوال پیدا ہوتا ہے، کہ یہ بولنے والی کتاب کونسی ہے؟ اب اگر یہ مانا گیا کہ خدا کی بولنے والی کتاب قرآن کے علاوہ اور اُس سے جدا ہے، اور وہ اس دنیا میں ظاہر نہیں، تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ حق تعالیٰ نے بولنے والی کتاب تو اپنے پاس رکھی اور نہ بولنے والی کتاب دنیا کے گم گشتہ انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجی تاکہ وہ خود اپنی عقلِ نا رسا و ناتمام کے ذریعے ہدایت کی حقیقتوں کو سمجھیں، اور رضائے الٰہی کے مطابق عمل کریں، حالانکہ عقل و دانش اور حق و انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ خدا اپنی رحمت سے انسانوں کی ہدایتِ کلیہ کے لئے کتابِ ناطق اور کتابِ صامت دونوں کو ایک ساتھ بھیجتے، یا کم از کم یہ ہے کہ بولنے والی کتاب بھیجتے تاکہ قیامت کے دن لوگ ہرگز یہ نہ کہہ سکیں کہ اے ہمارے پروردگار! دنیا میں ہماری ہدایت کے لئے وہ سب کچھ موجود اور حاضر نہیں تھا، جو آپ کی رحمت میں ممکن ہے۔

 

یہ سوال اس لئے پیدا ہوا ہے کہ حق تعالیٰ کے اس فرمان کی تعلیم سے ظاہر ہے کہ لوگوں کے دینی اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لئے خدا کاحقیقی ذریعۂ عدل وہ ہے، جو خدا ہی کی طاقت سے خود بولے، جس میں کسی عقلِ ناتمام کا دخل و شرکت ہی نہ ہو، تو لازم آتا ہے کہ ذریعۂ ہدایت بھی اُسی معیار کے مطابق ہونا چاہئے، جس

 

۳۹

 

معیار پر عدل ہوتا ہے یا ہونے والا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے، کہ خدا کی طرف سے جو ذریعہ عدلِ الٰہی کا ہے، وہی ذریعہ ہدایتِ ربّانی کا بھی ہے، پس ایسا ذریعہ قرآن اور امامت کا نور ہے، جو امامِ زمانؑ کی عقل و روح میں ہے، کیونکہ نطق (یعنی بولنا) انسانی عقل و روح کا خاصہ ہے، اور خدا کی نزدیکی پیغمبر اور اُس کے جانشین (یعنی امامِ زمانؑ) کے لئے مخصوص ہے، اور انسانِ کامل کو کتاب کے اسم سے موسوم کرنے کا سبب یہ ہے، کہ اس میں کتابِ سماوی کے علم و حکمت کی روحِ ناطقہ موجود ہوتی ہے، چنانچہ یہ حقیقت اہلِ دانش کے نزدیک مسلّمہ ہے کہ قرآن کی بعض آیتوں میں امام کو کتاب (“وجہِ دین” حصّۂ اوّل کے صفحات: ۲، ۶۴، ۶۵، ۷۶، ۷۷، ۱۰۵، ۱۸۷۔ “وجہِ دین” حصّۂ دوم کے صفحات: ۲۲، ۲۹، ۸۹، ۱۰۱، ۱۲۶، ۱۴۸، ۲۱۱، ۲۱۲۔ “کتاب الکشف” کے صفحات: ۲۰، ۳۰، ۵۱، ۹۵، ۱۲۴، ۱۳۱، ۱۳۲، ۱۴۰، ۱۶۷، ۱۶۸، ۱۷۱، ۱۷۲، ۱۷۳، ۱۷۶۔ “تاریخ دعوۃ الاسماعیلیہ” کے صفحہ ۳۳۳ تا ۳۳۴ پر یہ کلامِ مولا (یعنی خطبۃ البیان) درج ہے کہ: انا ام الکتاب، انا مؤول التاویل، انا حفیظ الالواح، یعنی میں ام الکتاب ہوں، میں آسمانی کتابوں کی تاویل کرنے والا ہوں، میں تختیوں کی حفاظت کرنے والا ہوں (مراد حضرت موسیٰؑ کی تختیاں ہیں، جن پر خدا کی جانب سے توراۃ لکھی ہوئی تھی)۔ نیز “تاویلِ دعائم” حصّۂ اوّل صفحہ ۳۶۳ ، “المجالس المستنصریہ” صفحہ ۱۹۵ اور “المجالس المؤیدیہ” کی مجلس نمبر ۲۳۸ ملاحظہ ہو) اور کتاب کو امام (“راحۃ العقل” صفحہ ۶۸، سورۂ ہود آیت ۱۷ (۱۱: ۱۷)۔ سورۂ احقاف آیت ۱۲ (۴۶: ۱۲)، “تاویل دعائم” حصّۂ اوّل ص ۶۱) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، اس

 

۴۰

 

لئے کہ امام بحدِّ فعل کتاب ہے اور کتاب بحدِّ قوّت امام، جس کی مثال درخت اور اس کا دانہ ہے کہ درخت میں بالفعل دانہ وغیرہ ظاہر ہے، اور دانہ میں درخت بالقوہ پوشیدہ، چنانچہ قرآن میں آیا ہے:۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةًؕ (۱۱ سورہ۔ ۱۷ آیہ، ۱۱: ۱۷)۔

تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے دلیلِ روشن پر ہو، اور اس کے پیچھے ہی پیچھے اُن ہی کا ایک گواہ ہو، اور اس کے قبل موسیٰ کی کتاب (توراۃ) جو (لوگوں کے لئے) امام اور رحمت تھی (اس کی تصدیق کرتی ہو، وہ بہتر ہے یا کوئی دوسرا) اس آیت میں ’’علیٰ بینۃ‘‘ سے مراد حضرت رسول ہیں، اور ’’یتلوہ شاہد منہ‘‘ سے مولانا مرتضیٰ علی مقصود ہیں (’’دعائم الاسلام‘‘ (عربی) جز اول صفحہ ۱۹۔۲۰ ، تفسیر المتقین صفحہ ۲۶۶، تفسیرِ صافی صفحہ ۲۳۲، ارجح المطالب میں صفحہ ۳۶ پر ابن المغازلی، ابن ابی حاتم، ابن عساکر اور سیوطی کی درِ منثور کے حوالے سے مذکورہے: عاد بن عبداللہ الاسیدی کہتے ہیں: میں نے جناب امیر (مولانا علی) کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کے حق میں ایک یا دو آیتیں نازل نہ ہوئی ہوں، ایک شخص نے پوچھا آپؑ کے شان میں کون سی آیت نازل ہوئی ہے، جناب امیر غصہ ہو کر فرمانے لگے، اگر تو سب کے سامنے نہ پوچھتا، تو میں ہرگز تجھے نہ بتاتا، افسوس ہے تو نے سورۂ ہود میں (آیہ ۱۷، ۱۱: ۱۷) نہیں پڑھا: افمن کان۔۔۔۔ الخ۔ جناب رسول صلعم تو “علیٰ بینۃ من ربہ” ہیں، “و یتلوہ شاہد منہ” میں ہوں)۔

 

۴۱

 

اس آیۂ مقدّسہ میں ایک خاص مسئلہ یہ ہے کہ جب حضرت رسولؐ کی نبوّت کی تصدیق قرآن سے اگلی تمام آسمانی کتابوں میں کی گئی ہے، تو کیا سبب ہے، جو یہاں خاص طور پر توراۃ ہی کا نام لیا گیا ہے، اس کا صحیح حل یہی ہے کہ حق تعالیٰ نے ہر پیغمبر کے لئے ایک وصی، وزیر اور وارث مقرر فرمایا ہے، چنانچہ بمقتضایٔ حکمت حضرت موسیٰؑ کے قرآنی قصّے میں اس قانونِ الٰہی کا نمایان طور پر تذکرہ ہوا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو جب وادیٔ ایمن میں پہلی بار خدا سے کلام کرنے کا شرف حاصل ہوا اور خدا نے اُسے نبوّت عطا فرمائی، تو موسیٰ علیہ السّلام نے اسی وقت ہی حق تعالیٰ سے عرض و التجا کرکے اپنے بھائی ہارون علیہ السّلام کو اپنا وزیر مقرر کر لیا، اور وزیر کے لغوی معنی ہیں بوجھ بٹانے والا، اور اصطلاحاً وزیر سے وہ شخص مراد ہے، جو کسی دینی یا دنیاوی بادشاہ کے نظامِ سلطنت اور امورِ مملکت میں مددگار و معاون کی حیثیت سے کام کرتا ہو۔

 

پس توراۃ اور موسیٰ کی سنت میں رسول اللہ کی نبوّت کی گواہی اور تصدیق یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے خدا کی اجازت سے اپنی نبوّت کے آغاز ہی سے ہارون علیہ السّلام کو اپنا وزیر اور وصی مقرر کر لیا، اسی طرح آنحضرتؐ نے بھی اپنی نبوّت کے آغاز ہی میں مولانا علی علیہ السّلام کو اپنا وزیر اور وصی

 

۴۲

 

مقرر فرمایا، جس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ جب وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ (۲۶: ۲۱۴) (اور ڈر سنا لیجئے اپنے قریبی خاندان والوں کو) کی یہ آیت نازل ہوئی، تو آنحضرتؐ نے بنی عبد المطلب کے تمام افراد کو جمع کیا اور ایک ایک کرکے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص میرا وزیر اور وصی ہونا چاہتا ہے، تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، اور اخیر میں مولانا علیؑ سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ یا رسول اللہ! اگرچہ میں ان سب سے عمر میں چھوٹا ہوں لیکن میں آپ کا وزیر اور وصی بنوں گا، اور ہر طرح سے آپ کی مدد کروں گا، رسول اللہ نے فرمایا، کہ بے شک اے علی! آپ ہی میرا سب کام کریں گے (بہت سے اثنا عشری اور اسماعیلی علماء نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں اسی قسم کی روایت درج کی ہے، منجملہ سید امداد حسین نے اپنے ترجمۂ قرآن (تفسیر المتقین) کے صفحہ ۴۵۰ پر تفسیرِ صافی صفحہ ۳۶۸ سے بحوالۂ تفسیرِ قمی اس کا ذکر کیا ہے)۔

 

نیز جب رسول اللہ پر حضرت موسیٰؑ کے قصّے کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی:۔

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْ هٰرُوْنَ اَخِی اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْ وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْ (۲۰:  ۲۹ تا ۳۲)۔

تو رسول اللہ نے حق تعالیٰ سے درخواست کی:۔

 

۴۳

 

و انا اقول یا رب کما قال موسیٰ: رَبِّ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْ عَلِیَّا اَخِی اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْ وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْ

اے پروردگار! میں بھی عرض کرتا ہوں، جیسے موسیٰ نے عرض کیا: اے پروردگار ! میرے واسطے میرے خاندان میں سے ایک وزیر مقرر کر دیجئے یعنی علی کو، کہ میرے بھائی ہیں، ان کے ذریعے سے میری قوّت مستحکم کر دیجئے اور ان کو میرے (اس تبلیغ کے) کام میں شریک کر دیجئے (مولوی فرمان علی نے اپنے ترجمۂ قرآن صفحہ ۴۹۹ پر یہ روایت درج کی ہے، اور قاضی نعمان نے دعائم الاسلام جلد اوّل (عربی) کے صفحہ ۱۵ و صفحہ ۱۶ پر)۔

 

اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ مولانا ہارونؑ کی وزارت و امامت ہی توراۃ کی امامت ہے، جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ امام کو کتاب اور کتاب کو امام اس لئے کہتے ہیں کہ دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے، پس مولانا ہارون کی وزارت و خلافت کے بارے میں قرآن کا جو کچھ ارشاد ہے، وہ مولانا علی کے متعلق بھی ہے، چنانچہ رسولِ برحق کا ارشاد ہے: ۔

یٰا عَلِیُّ اَنۡتَ مَنّیِ بِمَنۡزِلَۃِ ھَارُوۡنَ مِنۡ مُوۡسیٰ اِلّاَ اَنَّہٗ لَا نَبِّیَ بَعۡدَیۡ:۔

اے علی ! تیرا درجہ مجھ سے ایسا ہے، جیسے ہارون کا درجہ موسیٰ سے تھا، مگر یہ کہ میرے بعد پیغمبری نہیں ہے۔

 

۴۴

 

اہلِ ذکر: ۔

بارہویں دلیل: ۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْــٴَـلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (۱۶: ۴۳)۔

اور ( اے رسول!) آپ سے پہلے صرف آدمیوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا کئے، جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے، تو (تم اہلِ مکہ سے کہو کہ) اگر تم خود نہیں جانتے ہو، تو اہلِ ذکر (یعنی أئمّۂ برحق) سے پوچھو۔

 

اہل الذکر سے آنحضرتؐ کے اہلِ بیت مراد ہیں (تفسیر المتقین صفحہ ۳۲۴ پر مرقوم ہے:۔ “تفسیرِ صافی صفحہ ۲۷۷ پر بحوالۂ کافی و تفسیرِ عیاشی اور تفسیرِ قمی أئمّۂ معصومین علیہم السّلام سے بہت سی حدیثیں وارد ہیں، کہ الذکر سے مراد رسول اللہ صلعم ہیں اور اہل الذکر سے آلِ رسولؐ مراد ہیں، اور امت اس بات پر مامور کی گئی ہے کہ جو کچھ وہ نہ جانتے ہوں، آلِ رسولِ خدا صلعم سے دریافت کر لیں۔” نیز کتاب “دعائم الاسلام” حصّۂ اوّل (عربی) کے ص ۲۲ پر دیکھو)، جن سے لوگوں کو علم و حکمت کی باتیں پوچھنے کے لئے فرمایا گیا ہے، چنانچہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔

قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًا  رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ (۶۵: ۱۰ تا ۱۱)۔

 

۴۵

 

دوسرے اعتبار سے “الذکر” قرآن ہے، اور اہل الذکر (یعنی اہلِ قرآن) آلِ محمد ہیں، مذکورہ بالا ارشاد (اہلِ ذکر سے پوچھو) کا یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ لوگ مذکورہ فرمان کے بموجب آلِ محمد سے پوچھنے اور علم و حکمت حاصل کرنے کے لئے مامور ہیں، مگر آلِ محمد لوگوں سے پوچھنے کے لئے مامور نہیں۔

 

اب متذکرۂ بالا حقیقتوں کی روشنی میں یہ ماننا کوئی مشکل نہیں کہ نورِ امامت یقینی طور پر نبوّت و رسالت اور تنزیل کے حقائق سے بخوبی واقف اور آشنا ہے، آسمانی کتابوں کے ظاہر و باطن کو اصل و بنیاد ہی سے جانتا ہے اور علمِ دین کے ہر سوال کا جواب دے سکتا ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا، تو حق تعالیٰ مذکورۂ بالا آیت کے مفہوم میں لوگوں سے یہ نہ فرماتا کہ اگر تم ہمارے پیغمبر کی نبوّت و رسالت اور نزولِ وحی کے بارے میں شک کرتے ہو، تو تم اہلِ ذکر یعنی اپنے زمانے کے امام سے پوچھو کہ خدا نے کیوں کسی فرشتے کو اپنا رسول بنا کرنہیں بھیجا؟ اور اگر بشر ہی کو رسول بنا کر بشر کی طرف بھیجا ہے، تو اس میں مقابلۃً کیا کیا خوبیاں ہو سکتی ہیں؟

 

یہ اور ان جیسے بنیادی قسم کے تمام مشکل سوالات، جن کے حل کرنے میں تنزیل و تاویل کے دوسرے سب ذیلی سوالات خود بخود حل ہو سکتے ہیں، صرف اہلِ ذکر یعنی أئمّۂ طاہرین ہی سے حل کئے جا سکتے ہیں، چنانچہ بزرگانِ دین نے اپنے اپنے زمانے کے امام سے ظاہراً و باطناً جس طرح پوچھنا تھا پوچھ لیا، یہی سبب ہے کہ بزرگانِ دین قرآنی

 

۴۶

 

مشکلات پر قادر ہوا کرتے ہیں اور جاننا چاہئے کہ پوچھنے کی واحد شرط أئمّۂ برحق کی حقیقی تابعداری ہے، ورنہ بغیر تابعداری کے پوچھنے سے کوئی علم حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

 

اس بارے میں قانونِ الٰہی اور سنتِ نبوّی کی ایک مثال یہ ہے کہ جب غیر مسلم آنحضرتؐ سے کوئی سوال کرتے تھے، تو اس کا جواب یا تو کسی آیت کے نزول سے دیا جاتا تھا یا آنحضرتؐ کے قول سے، مگر یہ جواب حکمت کے اصول پر مبنی ہوتا تھا، تاکہ اس کا علمی فائدہ صرف اہلِ حکمت ہی کو حاصل ہو، چنانچہ کچھ عیسائیوں نے جب آنحضرتؐ سے روح کی ماہیّت و حقیقت کے بارے میں پوچھا، تو خدا نے ارشاد فرمایا:۔

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِؕ-قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا (۱۷: ۸۵)۔

(اے رسول!) آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے کہ روح میرے پروردگار کے امر سے ہے، اور تم کو تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔

 

اب اس جواب میں بظاہر حقیقتِ روح کی کوئی تفصیل نظر نہیں آتی، پس جن لوگوں نے رسول کی حقیقی فرمانبرداری کے بغیر یہ سوال کیا تھا، ان کو ایسے سوال کے جواب سے کوئی علم حاصل نہیں ہوا، اس کے برعکس جو رسول اور امامِ برحقؑ کے حقیقی تابعدار ہیں، ان کو اس آیۂ

 

۴۷

 

مقدسہ کے مطالعہ سے روح کے علم و عرفان کا ایک دروازہ کھلتا ہے، وہ اس طرح کہ بقا و فنا یا کہ ثبات و بے ثبات کے لحاظ سے دو قسم کے عالم ہیں، ایک کو عالمِ امر کہا جاتا ہے اور دوسرے کو عالمِ خلق (اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُؕ-تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (۰۷: ۵۴)، آگاہ رہو کہ عالمِ خلق اور عالمِ امر اُسی کے لئے ہیں، اللہ تعالیٰ کل جہانوں کا پرورش کرنے والا صاحبِ برکت ہے۔ عالمِ امر= عالمِ ارواح، عالمِ ملائکہ، جو بلا مادّہ اور بغیر مدت حق تعالیٰ کے فرمان سے وجود میں آیا۔ عالمِ خلق= یہ جہان، جو مادّہ سے پیدا کیا گیا)، اور یہ دونوں عالم ایک دوسرے کے برعکس و متضاد ہیں، چنانچہ یہ عالم حادث ہے اور وہ عالم قدیم، یہ محدود ہے اور وہ غیر محدود، یہ خاموش ہے اور وہ گویا، یہ بے شعور ہے اور وہ باشعور، یہ ناقص ہے اور وہ کامل، یہ بے جان ہے اور وہ زندہ، اور یہ زمان و مکان کے تحت ہے، مگر وہ زمان و مکان سے برتر۔

 

پس حق تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ “( اے رسول! ) کہہ دیجئے کہ روح میرے پروردگار کے امر سے ہے۔” اس اصول کی تعلیم ہے کہ روح عالمِ خلق سے نہیں، بلکہ عالمِ امر سے ہے، اس لئے قیاسِ ضد کے تصوّر سے کام لیتے ہوئے عالمِ خلق کی چیزوں سے روح کی حقیقتیں معلوم کر لی جا سکتی ہیں، نیز اس ارشاد میں یہ تعلیم بھی ہے کہ قرآنِ پاک میں جہاں جہاں لفظِ امر

 

۴۸

 

آیا ہے (قرآنِ شریف میں قیاسِ ضد کے اصول کے علاوہ امر، نور، روح اور نفس کے عنوانات میں تقریباً ۵۱۹ دفعہ روح کا بیان آیا ہے، جو اکثر تاویلی صورت میں ہے)، وہاں سے بنظرِ غائر روح کی حقیقتیں معلوم کر لی جا سکتی ہیں، اس بیان سے یہ ثابت ہوا کہ دراصل پیغمبرؐ اور امامِ زمانؑ سے علم کی باتیں پوچھنا یہ ہے کہ ان کی فرمانبرداری کی جائے، کیونکہ پیغمبرؐ اور امامِ زمانؑ کی خاصیت فرمانبرداروں کو علم دینا ہے۔

 

جب یہ ثابت کیا گیا کہ قرآن اور نورِ امامت اس لئے ایک دوسرے سے جدا نہیں، تاکہ خدا کی اس مکمل ترین ذریعۂ ہدایت سے (جو کتابِ الٰہی اور اس کے قدرتی معلم کی حیثیت میں موجود ہے) عوام و خواص میں سے ہر شخص کو اس کی کوشش اور حقداری کے مطابق خدا کی ظاہری و باطنی ہدایت ملتی رہے،اور شناختِ ذات و منزلِ نجات کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہونے پائے، جیسا کہ اس ارشادِ الٰہی سے یہ قانون ظاہر ہے: ” وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ (۲۲: ۷۸) اور خدا نے امورِ دین میں تمہارے لئے کسی طرح کی رکاوٹ نہیں کر رکھی ہے” (یعنی دینی ہدایت کا ذریعہ ظاہراً و باطناً مکمل ہے، چنانچہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے: اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ (۰۵: ۰۳) میں نے آج کے دن تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور میں نے تمہارے لئے دینِ اسلام کو پسند کر لیا۔ دیکھو تفسیر المتقین صفحہ ۱۲۷، اساس التاویل صفحہ ۳۵۶ اور وجہِ دین حصۂ اول ص ۱۷۰)۔

 

۴۹

 

اب مناسب یہ ہے کہ مذکورہ حقائق کی روشنی میں عملی تاویل کی کوئی ایسی مثال بیان کی جائے کہ جس سے ہر دانشمند کو بخوبی اندازہ ہو سکے کہ تنزیل اور تاویل کے درمیان کتنا بڑا فرق پایا جاتا ہے، اور کس طرح نورِ امامت ہر زمانے کے حقیقی مومنوں کو تاویل کی روشنی پہنچاتا رہتا ہے، چنانچہ حکیم سید پیر ناصر خسرو اپنی پُرحکمت کتاب “وجہِ دین” میں مندرجۂ ذیل آیت کی تاویل لکھتے ہیں:۔

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِ وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَ وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ (۹۵: ۰۱ تا ۰۳)۔

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طورِ سینین کی اور اس امن والے شہر کی (وجہِ دین حصۂ اول (اردو) صفحہ ۱۰۳ تا صفحہ ۱۰۵ ملاحظہ ہو۔ “کتاب الکشف” ص ۲۴ پر مذکور ہے کہ و التین و الزیتون سے حسنین علیہما السّلام مراد ہیں، اور تاویلی اسرار سے بعید نہیں، کہ حسن اور حسین سے عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ کے انوار ظہور پذیر ہوں، کیونکہ آپ دونوں حضرات محمدؐ و علیؑ کی اصل سے ہیں، جس طرح انجیر اور زیتون پہاڑ اور شہر میں پیدا ہوتے ہیں)۔

 

اس آیۂ کریمہ کی تنزیل یعنی ظاہری معنی سے اہلِ دانش کو تعجب ہو سکتا ہے، اس لئے کہ بوقتِ ضرورت اصولاً کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جاتی

 

۵۰

 

ہے، جو دینی طور پر واجب الاحترام ہو، مگر حق تعالیٰ خود اس آیۂ مقدسہ میں جمادات اور نباتات جیسی معمولی اور بے جان چیزوں کی قسم کھاتا ہے، جبکہ ہمیں یہ فرماتا ہے کہ تم سورج، چاند وغیرہ جیسے مظاہرِ قدرت کی تعظیم و تکریم مت کیا کرو، کیونکہ یہ چیزیں خالق نہیں، بلکہ مخلوقات میں سے ہیں، پس یہ مسئلہ کہ مذکورہ چیزیں خدا کے نزدیک کن معنوں میں قابلِ حرمت ہیں، صرف تاویل ہی سے حل کیا جا سکتا ہے، چنانچہ آیۂ مذکورہ کی اس تاویل پر ذرا غور و فکر کیجئے:۔

 

انجیر:۔

انجیر سے اللہ تعالیٰ کی مراد عقلِ کلّ ہے، جو کسی واسطہ کے بغیر کلمۂ باری یعنی امرِ”کُنۡ” سے ملا ہوا ہے، اور عقلِ کل کو انجیر اس لئے کہا کہ انجیر کا بیرونی و اندرونی حصہ سب کے سب کھانے کے قابل ہے، چنانچہ اس کو کھاتے وقت انسانی طبیعت اس کی کوئی چیز واپس نہیں کرتی بلکہ اسے قبول کرتی اور پورے انجیر کو اپنی مرغوب غذا بنا لیتی ہے، جس طرح کوئی پاکیزہ نفس عقل کے بارے میں کوئی شک نہیں رکھتا۔

 

زیتون:۔

زیتون (جو ایک میوہ ہے) نفسِ کلّ کی مثال ہے، اور اس کی مثال زیتون سے اس لئے دی گئی ہے کہ زیتون کا کچھ حصہ تو کھانے

 

۵۱

 

کے قابل ہے، جیسے گودا اور تیل، اور کچھ حصہ پھینک دینے کے قابل ہے، جیسے گٹھلی کا چھلکا اور پھوک، جس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر وہ نفس، جو پاکیزہ ہو، عقل کے فرمان کی اطاعت کرتا ہے، اور وہی نفس زیتون کے تیل اور پھل کی طرح، جو کھانے کے قابل ہیں، عقل کے نزدیک پسندیدہ اور مقبول ہو جاتا ہے، اس کے برعکس ہر وہ نفس، جو ناپاک اور فرومایہ ہو، عقل کے فرمان کی اطاعت نہیں کرتا، نہ وہ رک جاتا ہے جس چیز سے عقل اُسے روک لینا چاہتی ہے، وہ عقل کے فوائد قبول نہیں کرتا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا ہے، پس ایسا نفس زیتون کی گٹھلی کے چھلکوں اور پھوک کی طرح دھتکارا ہوا، پھینکا ہوا اور ذلیل کیا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ جس سے بعض نفوس کو ثواب اور بعض کو عذاب لازمی ہوا۔

 

طورِ سینین:۔

طورِ سینین ناطق (یعنی حضرت محمدؐ) کی مثال ہے، کیونکہ آنحضرتؐ نے نفسِ کلّ کے فوائد کو پوشیدہ طور پر قبول کیا ہے، جس طرح پہاڑ اپنے اندر معدنیات پیدا کرنے کے سلسلے میں سورج اور ستاروں کے اثرات کو پوشیدہ طور پر قبول کرتا ہے، اور آنحضرتؐ نے نفسِ کلّ کے یہ فوائد دنیا والوں کو شریعت کے ذریعے پہنچا دیا، اور اساس یعنی اپنا جانشین (علیؑ) مقرر کر دیا، تا کہ آنجناب شریعت کی تاویل لوگوں کو پہنچاتے رہیں، چنانچہ طورِ سینین ایک پہاڑ ہے، جس کا ظاہر بدنما، کھردرا اور سیاہ ہے کہ ہمیشہ

 

۵۲

 

کے لئے سامنے کھڑا نظر آنے کی وجہ سے دیکھنے والے کو اکتاہٹ محسوس ہوتی ہے، مگر اس پہاڑ کے اندر ایسے گرانمایہ اور بیش بہا جواہر اور معدنیات ہیں کہ دیکھنے والوں کو ان کے دیکھنے سے مسرت حاصل ہوتی ہے، جیسے یاقوت، زمرد، بیجادہ، سونا، چاندی، پیتل، تانبا اور دوسرے جواہر۔

 

پس اسی طرح ناطق کی شریعت میں ظاہراً شک اور اختلاف پایا جاتا ہے، اس لئے دانشمند کواس کے قبول کرنے میں مشکل ہوتی ہے، مگر جب تاویل کے ذریعے وہ اس کے حقائق تک رسا ہو جائے، اور اس کے معنوں کو سمجھے، تو دانشمند کا نفس اسے قبول کرتا اور مطمئن ہو جاتا ہے۔

 

امن کا شہر:۔

امن کا شہر اساس (یعنی مولانا علی) کی مثال ہے، کیونکہ آنجناب کے ذریعے دانشمند کو ظاہر کے شکوک و شبہات سے امن ملا ہے، اور جو کوئی اُن کی تاویل تک نہیں پہنچ سکا، تو وہ اختلافات اور شبہات کے راستے پر چلنے لگا، اور جو شخص ان کی تاویل تک رسا ہوا، تو وہ ظاہری اختلافات سے چھٹکارا پایا۔

 

اللہ تعالیٰ نے جن مذکورہ چار چیزوں کی قسم کھائی ہے، ان میں سے دو چیزیں اُگنے والی ہیں، اور دو چیزیں جگہیں ہیں، اور کسی جگہ کے بغیر اُگنے والی چیز کا اگنا ناممکن ہے، پھر اس کے یہ معنی ہوئے کہ عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ روحانی ہیں،

 

۵۳

 

جیسے نباتات کی روح ہوتی ہے، اور ناطق و اساس (علیہما السّلام) جسمانی ہیں، مگر یہ دونوں نبات (یعنی انجیر و زیتون) پہاڑ اور شہر میں پیدا ہوتی ہیں، اسی طرح عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ کے فوائد و انوار ناطق اور اساس ہی کے ذریعہ ظہور پذیر ہو جاتے ہیں۔

 

مذکورہ روحانی اور جسمانی دونوں قسم کے میوؤں کی لذت صرف وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں، جو ان میوؤں کو کھاتے ہوں ۔

 

والتین و الزیتون (قرآنِ مجید کی چند آیتوں میں زیتون کا ذکر آیا ہے، وہ یہ ہیں: ۰۶: ۹۹، ۰۶: ۱۴۱، ۱۶: ۱۱، ۹۵: ۰۱، ۸۰: ۲۹، ۲۴: ۳۵۔ ان میں سے مذکورۂ بالا  ۹۵: ۰۱ کے بعد ۲۴: ۳۵ زیادہ ضروری ہے، جس کی مختصر تاویل مندرجۂ ذیل کتبِ مقدّسہ میں موجود ہے:۔ تفسیر المتقین ص ۴۲۴ بحوالۂ تفسیرِ صافی ص ۳۵۱، ترجمۂ قرآن مولوی فرمان علی ص ۵۶۵، وجہِ دین حصّۂ اوّل ص ۱۱۱ و ص ۱۱۲) دونوں اسم ایک ایک لفظ ہیں، و طورِ سینین و ہٰذا البلد الامین دونوں دو دو لفظ ہیں، اور یہ اس لئے ایسا ہے، تاکہ دانشمند یہ اشارہ سمجھ سکے، کہ عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ، جو روحانی ہیں، ایک ہی حالت پر قائم ہیں، اور ناطق و اساس، جو جسم اور روح دونوں رکھتے ہیں، دو حالتوں کے مالک ہیں۔

 

خاتمہ:۔

اب اس موضوع کے شروع سے لے کر اخیر تک جو مدلل تفصیلات

 

۵۴

 

مندرج ہوئیں، اُن سے یہ حقیقت پایۂ ثبوت تک پہنچ گئی کہ قرآن اور امامت دو ایسی مقدّس چیزیں ہیں، جن کے علمی وجود کو ایک دوسرے سے جدا ثابت نہیں کیا جا سکتا، اور ان دونوں کی یہ دائمی باہمی وابستگی حق تعالیٰ کی طرف سے ہے، تاکہ جن مومنین کو توفیق ہو، وہ امامِ حیّ و حاضر کے مبارک و مقدّس فرامین کی روشنی میں قرآن کے علم و حکمت حاصل کر لیا کریں، اور اسماعیلی پیروں اور بزرگوں نے بالکل ایسا ہی کرکے دکھایا، چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں، کہ اُن حضرات کے علمی آثار قرآنی حکمتوں سے بھرپور ہیں، پس کسی قوم اور مذہب کی اس سے بڑھ کر اور کیا خوش نصیبی ہو سکتی ہے، جس کا سردار محمدؐ و علیؑ کا نور، کلامِ الٰہی کا ترجمان اور امامِ برحق ہیں، الحمد للہ ربِّ العالمین۔

ختم شد۔

 

۵۵