آٹھ سوال کے جواب
علم چشمۂ شیرین
ان لوگوں کی بہت بڑی ازلی سعادت ہے، جو علم کے چشمۂ شیرین کی لذّت کے دلدادہ ہیں، وہ اس آبِ زلال سے عالمِ شخصی کے ہر ملک و شہر اور ہر باغ و چمن کی آبادی وشادابی دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ ایک قرآنی حقیقت ہے کہ علم ہی کے پانی سے ہر چیز زندہ ہوسکتی ہے(۲۱: ۳۰) پس ایسی سعادت محترمہ کلثوم ناتھانی اور ان کی فیملی کو بہت بہت مبارک ہو۔
آمین!! ثم آمین!!!
ابتدائیہ
بِسمِ اللہِ الرَّحمنِ الرَّحِیمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ وَالصَّلَوٰةُ وَ السَّلَامُ
عَلَیٰ رَسُوْلِہٖ وَ عَلیٰ آلِہِ الطَّاھِرِیْنَ۔
اہلِ دانش کے سامنے یہ حقیقت روزِ روشن
کی طرح آشکار اور واضح ہے کہ متعلقہ علم کے سارے مضامین دین شناسی اور امام شناسی
میں سموئے ہوئے ہیں، اس لیے دین اور امام کی شناخت اسماعیلیت میں نہایت ہی ضروری
امر ہے، جس کے بغیر کسی اسماعیلی کو حقیقی سکون نہیں مل سکتا۔
علم و معرفت ہی سے مسائل حل ہوجاتے ہیں،
شکوک و شبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے، ایمان کی روشنی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جان و
دل کو تسکین ملتی ہے، اس سے مومن میں اولوالعزمی اور عالی ہمتی جیسی صفات پیدا
ہوجاتی ہیں غرض آنکہ علم و معرفت میں سب کچھ ہے۔
سوال کب پیدا ہوتا ہے؟ اس وقت جبکہ تعارف
نہ ہو یعنی جبکہ مذہب کی شناخت نہ ہو، جبکہ علم نہ ہو اور جبکہ لٹریچر نہ ملے،
سوال اُس وقت اُٹھتا ہے جبکہ دینی علم کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔
۱
خیر بہر حال اگر کوئی سوال پیدا ہوتا ہے
تو اس کے لیے جواب بھی مہیا کیا جاسکتا ہے، ایسا نہیں کہ سوال ہو اور جواب نہ ہو،
لیکن جو کچھ بھی ہو حق و صداقت پر مبنی ہونا چاہیے، ورنہ اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ
ہوگا۔
چنانچہ اس کتابچہ میں آٹھ ایسے سوالات کا
جواب دیا گیا ہے جو ہمارے سٹوڈنٹ میں سے ایک نے پیش کیے تھے، جہاں اس کام کے لیے
ہم پر اعتماد کیا گیا تو وہاں یہ ہمارا فرض ہوتا ہے کہ متوقع خدمت کی انجام دہی کے
لیے کوشان رہیں اور اللہ تعالیٰ سے توفیق و یاری چاہیں۔
میرے عقیدے میں اسماعیلیت کی حقانیت میں
کسی بھی سوال کا جواب دینا مشکل نہیں بہت ہی آسان ہے، چنانچہ اگر لاکھوں سوالات
ہوں تو بھی کوئی مشکل نہیں، کیونکہ ہم یہ ثابت کرکے دکھا سکتے ہیں کہ اسماعیلی
مذہب سے متعلق جتنے بھی سوالات اُٹھتے ہیں، وہ سب باہم مل کر ایک بہت بڑے درخت کی
صورت اختیار کرلیتے ہیں، اس لیے ہم درخت کے تنا پر بحث کرکے ساری باتوں کو سمجھا
سکتے ہیں اور بڑی بڑی شاخوں کے بارے میں گفتگو کرکے تمام سوالات کا جواب بتا سکتے
ہیں کہ اسماعیلی مذہب اور امامِ زمان حق ہے، یعنی سمجھنے والوں کے لیے صرف یہی
بنیادی سوال کافی ہے جو پوچھنا چاہیے کہ امام کے حق ہونے کا کیا ثبوت ہے؟ کیونکہ
متعلقہ تمام سوالات اِسی بڑے سوال کے تحت آتے ہیں، لیکن عوام الناس اس ترتیب کو
کہاں ملحوظِ نظر رکھتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں جو بھی دل میں آئے، جو بھی چاہیں۔
کوئی شک نہیں کہ اسماعیلیوں کو ہمیشہ
اپنے امامِ برحقؑ کی طرف دیکھنا چاہیے کہ امام کا منشاء کیا ہے یا ان کی واضح
ہدایت کیا ہے، اور اسی اصُول کو قائم رکھتے ہوئے دینی علم کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
۲
جاننا چاہیے کہ سوال کا جواب یا تو
بلاواسطہ دیا جاتا ہے یا بالواسطہ بہر حال جواب دینا ضروری ہوتا ہے، ورنہ جماعت کے
بعض حلقوں میں بددلی پھیل جاتی ہے اور خاص کر نئی نسل کا عقیدہ متاثر ہو جاتا ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق شاملِ حال رہی تو آئندہ بھی ہماری یہی کوشش جاری
رہے گی، اور کسی نہ کسی طریقے سے شکوک و شبہات کو دُور کردینے کی کوشش کی جائے گی۔
فقط جماعت کا علمی خادم
نصیرالدین نصیر ہونزائی
۳
Blank Page
آٹھ سوال
سوال نمبر ۱: جماعت خانے میں بعض دفعہ لڑکیاں کیوں
دُعا پڑھاتی ہیں، جبکہ شریعت میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی؟ صفحہ نمبر۷۔
سوال نمبر۲: مختلف مجالس کے عنوانات سے اور جدا جدا
مواقع پر جماعت خانے کے اندر جماعت سے کیوں پیسے لیے جاتے ہیں، کیونکہ وہ خدا کا
گھر ہے، جہاں صرف عبادت ہونی چاہیے؟ صفحہ نمبر ۱۰۔
سوال نمبر۳: جماعت خانے میں جب کبھی کوئی دوسرا مسلم
بھائی آنا چاہے، تو اسے کیوں نہ آنے دینا چاہیے؟ صفحہ نمبر۱۱۔
سوال نمبر۴: تمہارا شاہ کریم کس طرح امامِ برحق ثابت
ہوسکتے ہیں، جبکہ وہ یورپ میں مغربی طرزِ زندگی گزارتے ہیں؟ صفحہ نمبر۱۳۔
سوال نمبر۵: تمہاری زکات شرعی زکات سے کیوں مختلف ہے؟
اور وہ براہِ راست غُرباء و مساکین میں کیوں تقسیم نہیں ہوتی؟ صفحہ نمبر ۱۷۔
۵
سوال نمبر۶: تمہاری مذہبی رسومات کس حد تک درست اور
صحیح ہیں؟ خصوصاً ناندی کے بارے میں بتاؤ؟ صفحہ نمبر ۲۲۔
سوال نمبر۷: اسماعیلی جماعت میں صلاة پر کس حد تک عمل
ہوتا ہے؟ اور ان کے نزدیک صلاة کے کیا معنی ہیں؟ صفحہ نمبر۲۵۔
سوال نمبر۸: پوچھا گیا ہے کہ جماعت خانہ میں مرد و
عورت ایک ساتھ کیوں عبادت کرتے ہیں؟ صفحہ نمبر ۳۰۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : یہ سوالات ماہ دسمبر ۱۹۷۶ء میں ایک اسماعیلی سٹوڈنٹ نے پیش کئے
تھے۔
علامہ نصیرالدین نصیر ہونزائی
۲۴ ، دسمبر ۱۹۷۶ء
۶
آپ کے آٹھ سوال
لڑکیوں کا دعا پڑھانا:
سوال نمبر ۱: جماعت خانہ میں بعض دفعہ لڑکیاں کیوں
دُعا پڑھاتی ہیں، جبکہ شریعت میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی؟
جواب (الف) : اسلام صراطِ مستقیم ہے یعنی
راہِ راست، جو اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے لیے مقرر ہے، جب دینِ حق اس مثال میں
ایک راستے کے مشابہ ہے تو اس کی کچھ منزلیں بھی ہیں، جو کہ شریعت، طریقت، حقیقت
اور معرفت کہلاتی ہیں، چنانچہ جماعت خانہ اور اس کے آداب و رسومات اسی راہِ اسلام
پر چل کر آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی ایک زندہ مثال ہیں جس طرح کہ تصوف اسلام کے
ارتقاء کا ایک بین ثبوت ہے، اور ظاہر ہے کہ صوفیوں کے مسلک میں ہزاروں ایسی چیزیں
ہیں جو کہ شریعت میں نہیں ہیں، اور وہ چیزیں شریعت میں کیونکرہوسکتی ہیں، جبکہ وہ
طریقت کی چیزیں ہیں، اسی طرح جماعت خانہ کی چیزیں یعنی وہاں کے آداب و رسومات
حقیقت کی ہیں، لہٰذا ان کو کسی اور معیار سے پرکھنا سراسر غلطی اور لاعلمی کا
ثبوت ہے۔
۷
جواب (ب) : نیز یہ کہ اگر مقامِ شریعت پر
عورت شرعی نماز مردوں کو نہیں پڑھا سکتی ہے، تو اس کی وجہ ظاہر میں کچھ بھی نہیں
سوائے اس کی تاویل کے، اس کے برعکس جماعت خانہ میں جو عبادت و بندگی ادا کی جاتی
ہے، اس کی کوئی تاویل نہیں بلکہ وہ خود تاویل ہے، لہٰذا یہاں عورت دُعا پڑھا سکتی
ہے۔
اگر پوچھا جائے کہ عورت کی امامت شرعی
نماز میں جائز نہ ہونے کی کیا تاویل ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دین میں حضرت
پیغمبرﷺ مرد کے درجے پر ہیں، اور تمام افرادِ امت عورت کے مقام پر ہیں، نیز امامِ
عالی مقامؑ مرد ہیں اور مرید سب کے سب عورت ہیں، اسی طرح معلم مرد اور متعلم عورت
ہے، پس اگر کوئی عورت نمازِ شریعت میں پیشوائی کرے تو اس کی تاویل یہ بتلانے لگے
گی کہ (نعوذباللہ) رسولﷺ امت ہوکر پیچھے آئیں اور امت پیغمبر بن کر آگے بڑھیں،
امامؑ مریدی اختیار کریں اور مرید امام بن جائیں نیز معلم شاگرد بن کررہے اور
شاگرد اپنے استاد کے لیے استادی کرے، سو یہ تاویل ناممکن بات کی ترجمانی کرتی ہے،
اسی لیے نمازِ شرعی میں مردوں کی امامت عورت نہیں کرسکتی ہے۔ مگر مقامِ حقیقت میں
ایسی کوئی تاویل نہیں۔
جواب (ج) : اسلام دراصل نام ہے قرآن اور
معلمِ قرا ٓن کی تعلیمات و ہدایات کا، اور اِن تعلیمات و ہدایات کے مختلف مدارج کو
عملاً طے کرنا صراطِ مستقیم پر چلنا اور منزل بمنزل آگے بڑھنا ہے، پھر اِسی معنی
میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں، کہ اسلام اپنے مراتبِ علم و عمل کے اعتبار سے ایک
ایسی یونیورسٹی کی طرح ہے، جس کے تحت تعلیم کے بہت سے مدارج آتے ہوں، اب اِس مثال
سے ظاہر ہے کہ دینِ اسلام کے اِن تمام علمی اور
۸
عملی درجات کے لیے الگ الگ معیار مقرر
ہیں، اِسی لیے میں کہتا ہوں کہ اسماعیلیت کی رسومات کو غیر اسماعیلیت کی کسوٹی پر
پرکھنا ہرگز درست نہیں ہوسکتا۔
جواب (د) : اگر اسلام صراطِ مستقیم ہے تو
ماننا ہی پڑیگا کہ مسلم فرقے یا جماعتیں یکے بعد دیگرے اس طرح سے ہیں، جیسے کسی
رستے کی مختلف منزلوں پر پھیلے ہُوئے مسافر، اگر دینِ حق اللہ تعالیٰ کی رسی ہے
اور وہ خدا اور اس کے بندوں کے درمیان واقع ہے، تو اس میں بھی انکو درجہ وار اور
سلسلہ وار پکڑنے کی جگہ ہے، جہاں خدا کی معرفت کی بلندیوں کی طرف عروج کر جانے کی
مثال سیڑھیوں سے دی گئی ہے، (۷۰: ۳ تا ۴) وہاں اہلِ مذاہب الگ الگ زینوں پر ہیں، جس اعتبار سے دینِ
مبین ایک عظیم یونیورسٹی کی طرح ہے، اُس اعتبار سے اس کے ماننے والے علم و عمل کے
مختلف درجات پر ہیں اور جس وجہ سے دین فطرت کی تشبیہہ انسانی تخلیق اور زندگی کے
مختلف مراحل سے دی گئی ہے، اسی وجہ سے لوگ ایسے درجہ وار ہیں، جیسے انسانی خلقت اور
عمر کے جدا جدا مراحل ہوا کرتے ہیں، یعنی کچھ لوگ اس بچے کی طرح ہیں جو ماں کے پیٹ
میں ہوتا ہے، کچھ نومولود بچے کی طرح، کچھ طفلِ شیر خوار کے مانند، بعض طفلِ مکتب
جیسے، بعضے نوجوان کی طرح، کچھ تیس سال کے مکمل جوان کی طرح، کچھ چالیس سال والے
کی طرح اور کچھ اس سے بھی بڑی عمر والے کی طرح، اور یہ مثال اس لئے ہے کہ اسلام
دینِ فطرت ہے، اور اسے ایک انسان کی طرح رفتہ رفتہ درجۂ کمال کو پہنچنا ہے، اور
ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہُوا، کہ اسلام کی تعلیمات درجہ وار ہیں اور اس کی
ہدایات بھی تدریجی صورت میں ہیں، پس کسی کا کسی پر اعتراض کرنا اسلامی تعلیمات کے
مدارج سے نابلد ہونے کی وجہ سے ہے۔
۹
جماعت خانہ میں مالی قربانی:
سوال نمبر۲: مختلف مجالس کے عنوانات سے اور جدا جدا
مواقع پر جماعت خانے کے اندر جماعت سے کیوں پیسے لیے جاتے ہیں، کیونکہ وہ خدا کا
گھر ہے، جہاں صرف عبادت ہونی چاہیے؟
جواب (الف) : جماعت خانہ ہو یا کہ مسجد
اسمیں دنیاوی قسم کی تجارت وغیرہ جائز نہیں، مگر زکوٰة ، صدقہ اور ہر قسم کی مالی
قربانی کے علاوہ اور بھی بہت سے نیک کام ایسے ہیں جن کو خدا ہی کے گھر میں انجام
دینے میں زیادہ ثواب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: وَ اِذْ جَعَلْنَا
الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا (۰۲: ۱۲۵
اے رسولﷺ) وہ وقت بھی یاد
دلاؤجب ہم نے خانۂ کعبہ لوگوں کے ثواب اور پناہ کی جگہ قرار دی ۔ اس سے صاف طور
پر ظاہر ہے کہ خدا کا گھر مثابہ ہے یعنی ہر قسم کے ثواب کی جگہ اور خدا کا گھر سب
سے پہلے خانۂ کعبہ ہے اور اس کے بعد مسجد اور جماعت خانہ خدا کا گھر ہے، پھر جب
ثواب کا مرکز خدا ہی کا گھر ہے توبہت سے نیک کام وہاں کیوں نہ انجام دئیے جائیں۔
جبکہ یہ کام خدا ہی کے ہیں، تو خدا ہی کے گھر میں ہونے چاہئیں، جبکہ یہ عبادات میں
سے ہیں، جبکہ یہ مالی قربانیاں اور اعمالِ صالحہ ہیں، تو یہ خدا کے گھر میں سب کے
سامنے کیوں نہ ہوں تا کہ نیکی کرنے والے کو سب کی دعائیں حاصل ہوں، ساتھ ہی ساتھ
یہ ایک عملی تعلیم بھی ہے تاکہ جماعت کے افراد اسے دیکھ کر اپنے اندر ایسی مالی
قربانیوں کا جذبہ پیدا کرسکیں، اور یہی سبب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے عہدِ مبارک میں اکثر
مالی قربانیاں مسجد ہی میں لی جاتی تھیں۔
۱۰
جماعت خانہ اور غیر اسماعیلی:
سوال نمبر۳: جماعت خانے میں جب کبھی کوئی دُوسرا مسلم
بھائی آنا چاہے، تو اسے کیوں نہ آنے دینا چاہیے؟
جواب (الف) : اس کے جواب کے لیے آپ
دیکھیں میرے ایک مقالے میں جو اسلام کی بنیادی حقیقتیں“ کے عنوان سے ہے، جو
کتاب ”پنج مقالہ نمبر۱“ میں چھپ کر آنے
والا ہے، نیز یہ ہے کہ ایسا کوئی بھائی جب آئے تو کیاوہ جماعت خانہ میں آنے کے
تمام شرائط اور آداب و رسومات کو بالکل اسی طرح قبول کرے گا جس طرح کہ ایک
اسماعیلی کرتا ہے؟اور اگر یہ بات نہیں ہوسکتی ہے، تو اس کے جماعت خانہ آنے میں
کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا اس کا نہ آنا ہی بہتر ہے۔
جواب (ب) : دینِ اسلام میں کچھ مقدس
عمارتیں سب مسلمانوں کے درمیان مشترک ہیں، اور کچھ عمارتیں مخصوص ہیں، جو مقاماتِ
مقدسہ مشترک ہیں، اُن میں سب سے پہلے خانۂ کعبہ ہے، پھر مسجد ہے کیونکہ وہ اُس
وقت سے ہے جس میں کہ سب مسلمان ایک تھے، تاہم بعض جگہوں میں مسجدیں بھی الگ الگ
جماعتوں کے لیے یا جدا جدا نظریات کی بناء پر مخصوص ہوجاتی ہیں، اسی طرح بلکہ اس
سے کہیں زیادہ سختی کے ساتھ خانقاہ، امام باڑہ اور جماعت خانہ مخصوص ہیں، جن کی
حرمت صرف وہی لوگ بجا لاسکتے ہیں جو بنیادی طور پر عقیدةً ان سے منسلک ہیں، اور
دوسرے کسی کی ان میں کوئی شرکت نہیں۔
۱۱
جواب (ج) : مسجد کے معنی ہیں جائے سجدہ،
محلِ عبادت اس لیے یہ لفظ گویا سب مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہاں جائیں اور
اللہ تعالیٰ کے لیے سر جھکائیں اور عبادت کریں، مگر لفظِ جماعت خانہ میں عبادت کا
مفہوم و مطلب ظاہر نہیں بلکہ پوشیدہ رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ جماعت خانہ (خانۂ
جماعت) یعنی جماعت کا گھرہے، جو سب کے لیے نہیں صرف ایک ہی جماعت کے لیے ہے، جس
طرح خانقاہ کے معنی میں یہی فلسفہ پایا جاتا ہے کہ خانقاہ مُعَرب ہے خانگاہ (خانہ
گاہ) کا اور خانگاہ کے معنی ہیں صوفیوں اور درویشوں کے رہنے کی جگہ، جس میں عبادت
کا مفہوم پوشیدہ رکھا گیا ہے، اور اگر وہ چاہتے تو بڑی آسانی سے اس مطلب کے لیے
کوئی ایسا نام منتخب کرتے جس سے کہ فوراً ہی عبادت و بندگی کے معنی ظاہر ہوجائیں،
مگر جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا گیا، کیونکہ وہاں تو اسلام کی تعلیمات کسی پیرِ
طریقت کے مخصوص نظریات و تشریحات کے مطابق دینی تھیں، اور اس میں عبادت و بندگی
اور ریاضت اپنی نوعیت کی کرنی تھی، اور وہ خانقاہ بھی صرف اسی پیر یا شیخ کے
مریدوں کے واسطے مقرر تھی، سو یہی مثال جماعت خانہ کی بھی ہے، اور جماعت خانہ شروع
شروع میں تھا ہی خانقاہ، جس طرح صوفیوں کے تذکرے میں ملتا ہے کہ ”خواجہ بختیار
کاکی کا جماعت خانہ“ پھر اس کے بعد جماعت خانہ اسماعیلیت میں اپنایا گیا، یہ
تاریخی واقعہ اس امر کی ایک روشن دلیل ہے کہ شریعت کے باطن سے طریقت پیدا ہوتی ہے
اور طریقت کے باطن سے حقیقت اور ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جماعت خانہ
صرف امام حاضر ہی کے مریدوں کے لیے مخصوص ہے۔
۱۲
امام کی جائے سکونت:
سوال نمبر۴: تمہارا شاہ کریم کس طرح امامِ برحق ثابت
ہوسکتے ہیں، جبکہ وہ یورپ میں مغربی طرزِ زندگی گزارتے ہیں؟
جواب (الف) : یہی تو آپ کا بنیادی سوال
ہونا چاہیے تاکہ ایک ہی جواب سے ثبوت یا عدمِ ثبوت ظاہر ہو کر ساری بحث ہی ختم
ہوجائے گی، کیونکہ اگر امام ثابت ہوگئے تو کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ امام کو
امام تسلیم کرتے ہوئے بھی اُن پر اعتراض اٹھائے، اور اگر امام ثا بت نہیں ہوئے تو
پھر آپ مزید سوالات کی زحمت کیوں اٹھائیں کہ بحث ہی ختم ہوگئی، مگر یہاں سوالات
دہرائے گئے ہیں، بہر حال آپ کا سوال کچھ اس طرح سے ہے کہ اگر ہم نے یہ ثابت کردیا
کہ یورپ میں امام کی رہائش جائز اور روا ہے تو آپ شاہ کریم الحُسینی کو امامِ برحق
مانیں گے، سوال کا مطلب یہی ہے نا؟
جواب ( ب) : اگر آپ کے نزدیک مغربی طرزِ
زندگی غیر اسلامی ہے، جس کی وجہ سے آپ نے یہ سوال اٹھایا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ
اُس حکمِ قرآنی کو بھی ظاہر کرنا تھا جس کی روشنی میں آپ نے یہ پوچھنا مناسب سمجھا
ہے، اور اب بھی آپ سے یہی سوال ہے کہ آیا قرآنِ حکیم میں کوئی ایسی آیت موجود ہے
جس میں عصرِ حاضر کے اسلامی معاشرہ اور اس کے لوازم کی کوئی متعیّن شکل پیش کی گئی
ہو؟ وہ اگر نہیں تو کیا کوئی قرآن سے یہ ثابت کرسکتا ہے کہ زمانہ نبوت میں مسلمان
جن گھروں یا خیموں میں رہتے تھے، جس قسم کی غذائیں کھایا کرتے تھے، جو لباس وہ
پہنتے تھے اور جیسے معاشرے میں زندگی گزارتے تھے
۱۳
اب بھی بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے؟ ظاہر
ہے کہ ایسی بات کا قرآن سے ثابت ہوجانا تو درکنار اسے عقلِ سلیم بھی قبول نہیں
کرتی ہے۔
جواب(ج): آپ کے سوال کے پس منظر میں کوئی
خاص منطق نہیں سوائے اس کے کہ عہدِ نبوّت کے مسلمانوں کی جو مادی حالت تھی، اسی پر
آپ کا قیاس ٹھہرا ہوا ہے، حالانکہ وہ دینِ حق کا آغاز ہی تھا، اور پورے دور میں
اسلام کی جو معاشی اور معاشرتی ترقی ہونے والی تھی وہ سب صرف ۲۳ سال کے عرصے میں کس طرح ہوسکتی تھی،
الغرض آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ظہورِ اسلام کے وقت عرب کی جو مالی حالت تھی، وہی
دنیائے اسلام میں اب بھی ہونی چاہیے، مگر افسوس ہے کہ آپ کے اس خیال کی مخالفت سب
سے پہلے عرب کے مسلمان کررہے ہیں کیونکہ آج ان کی مادّی حالت پہلے سے بہت بہتر
ہوگئی ہے، اور ویسے بھی آپ کا خیال ہے بڑا خطرناک، کیونکہ آپ نہیں چاہتے ہیں کہ
مسلمانوں کی دنیاوی اور مادّی ترقی ہو، یہاں تک کہ فی الوقت عالمِ اسلام میں جو
شہنشاہ، بادشاہ، حاکم، لیڈر، سربراہ، امیر اور ترقی یافتہ لوگ ہیں وہ بھی آپ
کے اس اعتراض سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں اور نہ اس سے آئندہ ترقی کی
کوئی امید باقی رہتی ہے، اس لیے چلئے ہم قرآنِ مقدس کو پیشِ نظر رکھتے ہیں کہ اس
بارے میں کیا حکم ہے: سورہ اعراف (۷) کی آیت نمبر ۳۲ (۰۷: ۳۲) میں ارشاد فرمایا گیا ہے: قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ
الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ-قُلْ هِیَ
لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ
ترجمہ: آپ فرمائیے کہ کس نے حرام کیا
اللہ کی زینت کو جو اُس نے پیدا کی ہے اپنے بندوں کے واسطے اور رزق میں سے پاک
چیزیں تو کہہ دیجئے کہ
۱۴
یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے
ہیں دنیا کی زندگی میں خالص انہی کے واسطے ہیں دورِ قیامت میں۔ اس قرآنی حکم سے یہ
حقیقت صاف طور پر روشن ہوئی کہ آپ کا سوال بے بنیاد ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی بنائی
ہوئی زینت اور رزق و روزی کی پاک چیزیں اس کے بندوں کے لیے ہیں اور دورِ قیامت میں
یہ چیزیں مومنین کے لیے بطور خاص ہوں گی، پس یہ حقیقت پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی کہ
حضرت مولانا شاہ کریم الحسینی امام برحق ہیں کہ وہ اپنے طرزِ زندگی کے ذریعے سے اس
بات کی خوشخبری دے رہے ہیں کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ بندگانِ خاص کے لیے
پورا ہونے والا ہے، جس کا ذکر آیۂ مذکورۂ بالا میں ہے۔
جواب (د): شاہ کریم الحسینی صلوات اللہ
علیہ امام برحق ہیں، اور اس عظیم الشّان امر کے ثبوت میں ہمارے پاس ہزاروں ایسے
دلائل موجود ہیں، جن سے کوئی بھی حقیقت پسند انسان انکار نہیں کرسکتا، آپ اسماعیلی
کتب میں اثباتِ امامت کے موضوعات کا مطالعہ کریں، اور یہاں یہ بھی سن لیں کہ اسلام
میں تصورِ خلافت ایک مسلّمہ حقیقت ہے، اور یہ ہمارا ایمان ہے کہ خدا اور رسول کا
خلیفہ ہمیشہ دنیا میں موجود ہے اور وہ اس وقت نور مولانا شاہ کریم الحسینی صلو ات
اللہ علیہ ہیں، اگر اس حقیقت کی تردید ممکن ہو تو کوئی کہے کہ نہیں نہیں ایسا
خلیفہ تو فلان خاندان کا فلان شخص ہے جو اس وقت یورپ میں نہیں فلان جگہ پرہے یا
کہے کہ اسلام میں کوئی خلافت نہیں یا بتائے کہ خلافت شروع شروع میں تھی تو سہی مگر
بعد میں قرآن کے اس حکم کے بموجب خداوند عالم نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لی یا اسے
ختم کردیا، ایسی کوئی تردید ناممکن ہے۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ شاہ کریم امامِ
حاضرؑ ہیں۔
۱۵
جواب(ہ): میں کہتا ہوں کہ مولانا شاہ
کریم الحسینی برحق امام اس لیے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نورِ ہدایت ہیں،
اگر اس حقیقت کی تردید ممکن ہو تو کوئی شخص کہے کہ نہیں، نورِ ہدایت اور شمعِ
ولایت اس وقت تو فلان حضرت ہیں، جنہوں نے دینِ اسلام کی اشاعت و ترویج کی خاطر
فقروفاقہ کو اپنا شیوہ بنالیا ہے، جو دنیاوی ترقی سے گریزان ہیں، جن کا سلسلہ نسب
رسول اللہ سے جا ملتا ہے، جن کے آباؤاجداد اپنے اپنے وقت میں خدا کے نورِ ہدایت کے
درجے پر فائز تھے، میرے یقین میں ایسی تردید محال ہے، پس ظاہر ہے کہ شاہ کریم ؑ ہی
اس وقت سلسلہ امامت کے حقیقی جانشین اور امام برحق ہیں اور ان کے سوا اس درجے پر
کوئی نہیں۔
جواب(و): دنیا میں ایسے لوگوں کی کوئی
کمی نہیں جو دین کے کسی بڑے مرتبے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ اس میں بعض دفعہ
کچھ وقت کے لیے کامیاب بھی ہوجاتے ہیں مگر یاد رہے کہ باطل زیادہ وقت کے لیے ٹھہر
نہیں سکتا، اس لیے وہ چلا جاتا ہے لیکن حق ہمیشہ قائم رہتا ہے، دیکھئے قرآن: وَ قُلْ
جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا (۱۷: ۸۱) ترجمہ : اور (اے رسولﷺ) آپ کہہ دیجئے کہ
حق آگیا اور باطل چلاگیا یقیناً باطل جانے والا ہوتا ہے۔
اس آیۂ کریمہ میں بزبانِ حکمت فرمایا گیا
ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کو جو خلافتِ الہٰیہ اور امامتِ عالیہ حاصل تھی وہ حق تھی، اس
لیے وہ دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہے گی، اسی طرح اور اسی معنی میں حضورﷺ خدا کی طرف
سے نورِ ہدایت تھے، اور نور حق ہی حق ہے، اور حق ہمیشہ کے لیے قائم رہتا ہے تو کہاں
ہے وہ حق یعنی نورِ ہدایت بجز امامِ حق کے جو شاہ کریم الحسینیؑ ہیں
۱۶
اور اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ خدا کا نور
مخالفین کے بجھانے کی کوشش کے باوجود ہرگز نہیں بجھتا کیونکہ وہ حق ہے باطل نہیں،
تو میرے مولا کے برحق ہونے کے ثبو ت میں اس روشن دلیل کے علاوہ اور کیا ہو کہ وہ
خدا و رسول کی طرف سے سرچشمہ ٔہدایت ہیں اور اسلام میں ایسے سرچشمے کا ہونا حق ہے
جیسا کہ آنحضرتﷺ کے زمانے میں اور آپ کے بعد ہدایت کا یہی مرکز قائم تھا۔
زکوٰة
سوال نمبر۵: تمہاری زکات شرعی زکات سے کیوں مختلف ہے؟
اور وہ براہِ راست غرباء و مساکین میں کیوں تقسیم نہیں ہوتی؟ کہ جمع کرکے امام کو
دی جاتی ہے؟
جواب (الف): میں نے اس تحریر کی ابتدا ہی
میں سوال نمبر ۱ کے جواب دیتے ہوئے دلیل دی ہے کہ شریعت،
طریقت، حقیقت اور معرفت کے درمیان فرق ہے، مگر ان سب کا مقصدِ اعلیٰ ایک ہی ہے،
چنانچہ اگر کوئی باشعور انسان ذرا غور سے دیکھے تو اسے صاف طور پر معلوم ہوجائے گا
کہ زکوٰة کی جو روح اور جو آخری مقصد کی تکمیل اسلام میں ہونی چاہیے، وہ اسماعیلیت
میں کلّی طور پر ہوتی رہی ہے۔
جواب (ب): میں نے کہا کہ ہمارے یہاں
طریقِ زکوٰة اسلامی روح کے تقاضے اور مقصدِ اعلیٰ کے عین مطابق ہے، اور یہاں زکوٰة
سے جتنا فائدہ غربا ومساکین کو دلایا جاتا ہے اتنا کہیں بھی نہیں اور امام ایک
اعتبار سے زکوٰة لیتے ہیں اور دوسرے
۱۷
اعتبار سے نہیں لیتے، چنانچہ اسماعیلیوں
کے نظامِ زکوٰة کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق
چلتا ہے، یعنی جس زمانے میں اور جس ملک میں جیسا تقاضا ہوتا ہے ویسا نظام بھی اس
کے ساتھ مطابقت کرتا ہے اور محتاجوں کو زکوٰة سے زیادہ فائدہ دلانے کے یہ معنی ہیں
کہ بجائے اس کے کہ ان کو ایک وقت کا کھانا کھلایا جائے یا ایک جوڑا کپڑوں کا دیا
جائے یا کچھ نقد پیسے یا کوئی اور جنس ان میں تقسیم کر دی جائے یہ کوشش کی جاتی ہے
کہ جہالت و غربت کی لعنت کو بنیاد ہی سے ختم کرکے جماعت کے پس ماندہ افراد کو
ہمیشہ کے لئے علم و ہنر کی دولت سے مالا مال کردیا جائے اور اس مقصد کے حصول کے
لیے صحت اور تعلیم و تر قی کے مختلف اداروں کا قیام ضروری ہوتا ہے، لہذا امامِ
زمان کی سرپرستی و رہنمائی میں زکوٰة کی جمع آوری ہوتی ہے، اور بس اسی معنی میں
میں نے کہا تھا کہ امام ایک اعتبار سے تو زکوٰة لیتے ہیں اور دوسرے اعتبار سے نہیں
لیتے یعنی جماعت سے امام کا زکوٰة لینا صرف اتنا ہی ہے کہ اس کے نظام کی سر پرستی
کرتے ہیں، دعا دیتے ہیں اور جماعتی اداروں کے قیام و اجرا کے سلسلے میں اخراجات کی
منظوری و ہدایت دیتے ہیں۔
جواب (ج):مذہب کی یکجہتی اور اتفاق و
اتحاد کا فلسفہ یہی ہے کہ زکوٰة کی طاقت کو منتشر ہونے سے بچالیا جائے، وہ ایک ہی
جگہ پر جمع ہو اور اس کا استعمال ہادیٔ برحق کی ہدایت کے مطابق ہو، سو اسماعیلی
مذہب میں یہی ہوتا ہے۔
زمانۂ قدیم میں جن ثوابی کاموں کو ترجیح
دی جاتی تھی وہ اس زمانے کے مطابق ضروری تھے، مثلاً غلاموں اور کنیزوں کو خرید کر
آزاد کردینا، یتیموں، غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلانا
۱۷
یا کپڑے دینا وغیرہ اب زیادہ سے زیادہ
ثواب اس میں ہے کہ ہر قسم کے کمزور اور مجبور انسانوں کو علم و ہنر کی لازوال دولت
سے مالامال کردیا جائے دینی اور دنیاوی فلاح و بہبود کے ادارے قائم کئے جائیں تاکہ
اس سے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں اضافہ ہو اور اسلام کی عالمگیر روح کو
تقویت اور مدد ملے، امام عالی مقامؑ اسلام کے اسی منشاء کے مطابق زکوٰة سے کام
لیتے ہیں۔
رسومات:
سوال نمبر۶: تمہاری مذہبی رسومات کس حد تک درست اور
صحیح ہیں؟ خصوصاً ناندی کے بارے میں بتاؤ؟
جواب ( الف): ہماری مذہبی رسومات کے ثبوت
میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے، تاہم یہاں چند ہی نکات پر اکتفا کیا جائے گا، اس سلسلے
میں سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دین اور دنیا کی اکثر اصلی اور قیمتی چیزیں
ایسی ہیں، جن کا وجود و قیام کچھ دوسری بہت معمولی چیزوں کے اندر ہوتا ہے، مثلاً
درخت کے تنا اور شاخوں کی حفاظت چھلکوں کی بدولت ہوتی ہے اسی طرح پھول پھل اور غلہ
جات کا بھی کوئی غلاف، چھلکا وغیرہ ہوتا ہے تاکہ اس میں اصلی چیز محفوظ رہے اگر
کوئی انجان آدمی تنا کے چھلکوں کو بیکار سمجھ کر چھیل پھینکے تو ظاہر ہے کہ درخت
بہت جلد سوکھ جائے گا، چنانچہ کوئی شک نہیں کہ مذہبی رسومات ایک نا واقف انسان کی
نظر میں عام اور معمولی چیزیں لگتی ہیں مگرجاننے والا ہی جانتا ہے کہ ان رسومات کے
چھلکوں کے اندر عقائد اور ایمان کا درخت کس
۱۹
شان سے محفوظ ہے اور جب تک پھل درخت پر
ہی تو ان کی پختگی اور حفاظت کے لیے چھلکے کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔ اس مثال سے ظاہر
ہوا کہ اگر مذہبی رسومات نہ ہوں تو عقیدہ ختم ہوجائے گا۔
جواب (ب): ہماری مذہبی رسومات کلّی
طور پر صحیح اور حق و صداقت پر مبنی ہیں کیونکہ یہ سر تا سر امامِ زمان ؑ کے امرو
فرمان کے مطابق ہیں یا ان کے متعلق صاحبِ امر کی تصدیق کی سند موجود ہے، جبکہ
امامِ برحق خدا و رسول کی جانب سے مختارِ دین ہیں، کیونکہ آپ نہ صرف اللہ اور اس
کے رسولِ پاکﷺ کے فرمان گزار ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اولوالامر کی حیثیت سے خود
بھی ہدایت کرنے والے ہیں، لہٰذا ہماری مذہبی رسومات کے حق بجانب ہونے میں ذرہ بھر
شک نہیں۔
جواب (ج): یہ حقیقت ہے کہ کسی ملک
و قوم کی جائز اور مناسب رسومات تشریع کی اصل و اساس ہوا کرتی ہیں، اس کے یہ معنی
ہیں کہ جب شریعت بنی تھی تو اس میں مفید رواج پیشِ نظر رہا ہے۔ اور جب بھی شریعت
کے کسی گوشے میں تبدیلی آتی ہے تو وہ رواج کے تغیر و تبدل کی وجہ سے یوں ہوتی ہے،
ملاحظہ ہو مولانا جعفر شا ہ پھلواروی کی کتاب” اسلام دینِ آسان”
اور”اجتہادی مسائل”۔
جواب (د): ناندی (منادی) کا مطلب
ہے کسی نیک کام میں حصہ لینے کا اعلان، اور یہ رسم دینِ اسلام کے تصورِ مسابقت (
آگے بڑھنے میں مقابلہ کرنا) کے عین مطابق ہے، چنانچہ قرآن میں ہے کہ :
وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ (۰۳: ۱۱۴)، اور وہ نیک کاموں میں
۲۰
دوڑ پڑتے ہیں، یعنی نیکی میں سبقت لے
جانے کی کوشش کرتے ہیں، نیز ارشاد ہوا ہے کہ: اُولٰٓىٕكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی
الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ (۲۳: ۶۱) یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور بھلا ئیوں کی طرف
(دوسروں سے) لپک کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ : فَاسْتَبِقُوا
الْخَیْرٰتِ (۰۵: ۴۸) سو تم نیکیوں میں سبقت لے جاؤ۔ نیک کاموں
میں سبقت لے جانا، ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرنا اور اپنے حسنِ عمل کے ذریعے سے
دوسروں کو نیکی پر اُبھارنا یہ سب قرآنی تعلیما ت میں سے ہیں، لہٰذا ان کی کچھ
مثالیں جماعت خانہ میں پیش کی جاتی ہیں تاکہ دین کی عملی صورت ہمیشہ جماعت کے
سامنے رہے، چنانچہ رسولﷺ اکثر دفعہ مسجد ہی میں اعلان فرماتے تھے کہ فلان کام کے
لیے مالی قربانی کی ضرورت ہے، جس میں اصحابِ کبار رضوان اللہ علیہم ایک دوسرے سے
بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔
صلاۃ:
سوال نمبر۷: اسماعیلی جماعت میں صلاة پر کس حد تک عمل
ہوتا ہے؟ اور ان کے نزدیک صلاة کے کیا معنی ہیں؟
جواب (الف):صلاة کے معنی ہیں نماز، دعا،
رحمت، درُود چنانچہ لفظ صلاة قرآن میں جہاں جہاں دعا، رحمت اور درُود کے معنی میں
آیا ہے، اس میں البتہ کوئی سوال نہیں، لیکن جن مقامات پر یہ لفظ نماز کے لیے آیا
ہے وہاں ایسی نماز بھی ہے، جس میں کوئی رکوع و سجود نہیں، جیسے نمازِ جنازہ اور
پرندوں کی نماز (۰۹: ۸۴، ۲۴: ۴۱) سو جہاں صلاة
۲۱
کے معنی نماز کے ہیں وہاں ہم نے نہ صرف
ماضی میں نماز قائم کی بلکہ حال میں بھی اس کا عملی نمونہ ، ثمرہ اور تاویلی حکمت
ہمارے مذہب میں موجود ہے اور جہاں صلاة کے معنی دعا کے ہیں تو ہم اس کے لیے ہمیشہ
جماعت خانہ میں دعا پڑھتے ہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ جس طرح صلاة کے معنی میں نماز
بھی ہے اور دعا بھی، اسی طرح وہ عبادت و بندگی جو ہم جماعت خانے میں کرتے ہیں اگر
ایک اعتبار سے دعا ہے تو دوسرے اعتبار سے نماز ہے، کیونکہ اس میں نماز کی روح اور
غرضِ غایت پوری طرح سے موجود ہے اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے ملاحظہ ہو
کتاب” گُلستانِ حدیث” از مولانا محمد جعفر شاہ پھلواروی۔
جواب (ب): نماز کی روح اور مقصد کب تک
قائم رہ سکتا ہے، اس کے لیے سورہ ٔبقرہ کی آیت نمبر ۲۳۹ (۰۲: ۲۳۹) میں بغور دیکھا جائے اور اس ارشاد کا
ترجمہ یہ ہے
پھر اگر تم کو اندیشہ ہو تو کھڑے کھڑے
(یعنی چلتے چلتے) یا سواری پر چڑھے چڑھے (نماز) پڑھ لیا کرو۔ اب اس صورت میں ظاہر
ہے کہ نماز کی اصلیت و حقیقت اور مقصد اپنی جگہ پر قائم ہے باوجود اس کے کہ نماز
کے تقریباً سب ظاہری آداب ساقط ہوگئے کیونکہ پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر جاتے ہوئے
نماز پڑھنے میں نہ تو قبلہ کی شرط پوری ہوسکتی ہے اور نہ رکوع و سجود وغیرہ کی اور
ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نمازِ خوف ہے جو کہا جاسکتا ہے کہ یہ حالتِ مجبوری
ہے، لیکن یہ دراصل جبر نہیں ہے بلکہ دین میں آسانی کی ایک صورت ہے، اور یہ اس حقیقت
کا ثبوت بھی ہے کہ نماز کئی قسم کی ہے، اور ان تمام قسموں میں جو اصل حصہ ہے وہ
دعا اور ذکرِ الٰہی ہے جس میں عبادت کی روح اور حصولِ مقصد کا جوہر پنہان ہے، یہی
وجہ ہے کہ نمازِ خوف میں وہ تمام چیزیں اٹھائی گئی ہیں کہ جن کے بغیر بھی نماز کی
روح اور مقصد برقرار رہ سکتا ہے، اب ایسی نماز کی صورت تقریباً
۲۲
تقریباً دعا، تسبیح اور ذکرِ الٰہی کی سی
ہوجاتی ہے، اسی لیے میں نے کہا تھا کہ جماعت خانے کی عبادت نہ صرف دعا ہی ہے بلکہ
وہ ایک طرح کی نماز بھی ہے۔
یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے پیشِ نظر رہے کہ
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے حق میں آسانی و سہولت چاہتا ہے۔ دشواری و سختی نہیں
چاہتا، جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے: یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ
بِكُمُ الْعُسْرَ٘ (۰۲: ۱۸۵) مگر اس میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
اگر حق تعالیٰ ہمارے واسطے آسانیاں اور سہولتیں مہیا کردینا چاہتا ہے اور دینی
احکام میں کوئی دشواری نہیں چاہتا تو اس کی مشیت و قدرت کے ظہورِ فعل کے لیے کون
سی چیز مانع ہوسکتی ہے؟ اور ایسی عظیم رحمت کے حصول کے لیے بندوں کو کیا کرنا
چاہیے؟ سو اس کا جواب بھی خود قرآنِ پاک ہی سے ملتا ہے اور وہ اس فرمانِ خداوندی
میں ہے
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا (۶۵: ۴)
اور جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کے کام میں
سہولت پیدا کردے گا۔ آپ بھول نہ جائیں کہ یہ ارشاد زمانۂ نبوّت کا ہے اور اس میں یہ
بشارت ہے کہ جو لوگ دینی احکام کی بجاآوری میں خوفِ خدا اور تقویٰ کو ملحوظِ نظر
رکھیں ان کو آگے چل کر دین میں آسانیاں اور سہولتیں مہیا کردی جائیں گی، کیونکہ
عبادات و معاملات میں جہاں دشواری اور ریاضت و محنت ہے اس کا مقصد سوائے تقویٰ کے
کچھ بھی نہیں اور تقویٰ سب کچھ ہے۔
اسی مقصد کی تشریح اور وضاحت کے طور پر فرمایا گیا
سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًاً (۶۵: ۷)
خدا عنقریب ہی دشواری کے بعد آسانی پیدا
کرے گا۔ یعنی شریعت کے باطن سے
۲۳
طریقت اور طریقت کے باطن سے حقیقت ظاہر
کردے گا، اور تنزیل کے بعد تاویل کی حکمتوں سے روشناس کرے گا کیونکہ سب سے بڑی
آسانی یہی ہے اور اس کی دلیل وہ چھوٹی چھوٹی آسانیاں ہیں جن کا تجربہ ہر نیک
مسلمان اپنی روزمرہ کی زندگی میں کرسکتا ہے، مثلاً ہر قسم کی عبادت و ریاضت کی
بجاآوری اور پابندی کے سلسلے میں دشواری کے بعد اللہ تعالیٰ کی مدد ویاری سے آسانی
کا احساس ہوجانا، رفتہ رفتہ نیکی اور تقویٰ کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ رہنا
وغیرہ۔
جواب(ج): مجھے پھلواروی صاحب کی اکثر
باتیں بہت ہی پسند ہیں، وہ اپنی کتاب ” گُلستانِ حدیث” کے صفحہ نمبر ۵ پر” چند کلماتِ نماز” کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں
کہ :”ہم لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ نماز ایک بندھی ٹکی سی چیز ہے جس کے
کلمات معیّن اور حرکات مقرر ہیں، اس میں شک نہیں کہ نماز کا بہترین طریق ادا وہ ہے
جو حضور ﷺ نے بتایا ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ دوسرے طریقے غلط ہیں، آدمؑ سے
لے کر مسیحؑ بلکہ حضورﷺ تک جتنے پیغمبر بھی نماز ادا کرتے تھے ان کے طریقے خواہ
مختلف ہوں لیکن تھی وہ سب ہی نماز۔ ان کی شکلیں جداگانہ تھیں، لیکن روح سب کی ایک
ہی تھی، اور دراصل مطلوب و مقصود ہی روح ہے نہ کہ کوئی مخصوص شکل۔ یہ نماز جب با
جماعت ادا کی جائے تو نظم و ضبط اور ڈسپلن کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ سب کی نماز میں
یکسانی ہو، لیکن انفرادی نماز میں اگر ذوق و شوق عام اندازِ ادا پر غالب آجائے تو
وہ کوئی نقصان کا سبب نہیں ہوتا۔ بعض اوقات تو جماعت کے اندر بھی معمولی اختلاف
مضر نہیں ہوتا۔“ اس حقیقت بیانی کے بعد اور کوئی چیز قابلِ ذکر نہیں رہتی۔
۲۴
مرد عورت کی یکجا عبادت:
سوال نمبر۸: پوچھا گیا ہے کہ جماعت خانہ میں مرد و
عورت ایک ساتھ کیوں عبادت کرتے ہیں؟
جوا ب (الف): تم وہ قرآنی آیت دکھاؤ یا
پڑھ کر سناؤجس میں فرمایا گیا ہو کہ ایساکرنا حرام ہے یا ممنوع ہے یا مکروہ ہے، یا
یہ ثابت کرو کہ رسولﷺ کے عہدِ مبارک میں مسلمان عورتیں مسجد میں نہیں جاتی تھیں۔
جواب(ب): اسلام کے آداب و ارکان صرف
مردوں ہی کے لیے نہیں خواتین کے لیے بھی ہیں، جو لوگ عورت کو مقامِ عبادت سے دور
اس لیے رکھنا چاہتے ہیں کہ اس کی موجودگی کے سبب سے نفسِ انسانی کی سرکشی میں
اضافہ ہوجاتا ہے، تو ان کو تارک الدّنیا ہو کر کسی جنگل میں چلے جانا چاہئے، کیونکہ
عبادت میں خلل صرف عورت کی وجہ سے نہیں پڑتا، بلکہ اس کیلئے بہت سی چیزیں ہیں، جن
کا مجموعی علاج مجاہدۂ نفس اور تقویٰ ہے، یعنی نفسِ امارّہ کے خلاف جہاد کرتے ہوئے
پرہیزگاری اختیار کرنا ہے، نہ کہ کسی ایک چیز کو یا چند چیزوں کو اس دنیا سے خارج
کردینا۔
فقط جماعت کا علمی خادم
علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی
۹ جنوری ۱۹۷۷ء
۲۵
درجاتِ اسلام
(از قلم علاّمہ نصیرُالدّین نصیر ہونزائی)
دینِ اسلام صراطِ مستقیم (یعنی سیدھا راستہ) ہے اور ظاہر ہے کہ ہر طویل راستے کی چند منزلیں ہوا کرتی ہیں، جن کے نام ہیں: شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت، ہم ان چار منزلوں کو چار درجات بھی کہہ سکتے ہیں، مگر یہاں یہ اصول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یاد رہے کہ ان میں سے ہر درجے میں دو سے تین درجوں کے اجزاء بھی کم و بیش شامل ہیں، مثال کے طور پر جس منزل میں حقیقت ہے اس میں خالص حقیقت نہیں ہوسکتی ہے لہٰذا ایک اندازے کے مطابق حقیقت میں ۲۰ فیصد شریعت، ۲۵ فیصد طریقت، ۳۰ فیصد حقیقت اور ۲۵ فیصد معرفت کی باتیں ہوتی ہیں، یہی مثل باقی تین درجوں کی بھی ہے، اس مطلب کو درجِ ذیل نقشہ میں ظاہر کیا گیا ہے:۔ :۔
اجزائے چہارگانہ
| مجموعہ | معرفت فیصد | حقیقت فیصد | طریقت فیصد | شریعت فیصد | منازل | شمار |
| ۱۰۰ | ۱۵ | ۲۰ | ۲۵ | ۴۰ | شریعت | ۱ |
| ۱۰۰ | ۲۰ | ۲۵ | ۳۰ | ۲۵ | طریقت | ۲ |
| ۱۰۰ | ۲۵ | ۳۰ | ۲۵ | ۲۰ | حقیقت | ۳ |
| ۱۰۰ | ۴۰ | ۲۵ | ۲۰ | ۱۵ | معرفت | ۴ |
اسمٰعیلی اصطلاحات
اسمٰعیلی اصطلاحات
نعت
حضرتِ سیدُ الانبیاء و المرسلین
وہ بادشاہِ انبیاء وہ تاجدارِ اولیاء
محبوبِ ذاتِ کبریاء یعنی محمد مصطفیٰ
وہ رحمۃ للعالمین سلطانِ پاکِ ملکِ دین
وہ ھادیٔ حق الیقین یعنی محمد مصطفیٰ
اقدس ہے اسکا سلسلہ عالی ہے اسکا مرتبہ
قرآن ہے اس کا معجزہ یعنی محمد مصطفیٰ
وہ مفخرِ سب مسلمین وہ سرورِ سب کاملین
وہ رحمتِ دنیا و دین یعنی محمد مصطفیٰ
وہ پیشوائے مرسلین وہ ہے شفیع المذنبین
مقصودِ ربُ العالمین یعنی محمد مصطفیٰ
وہ تھا نبی وہ تھا صفی علمِ الٰہی میں غنی
محتاج اس کے ہیں سبھی یعنی محمد مصطفیٰ
جس شب گئے پیشِ خدا افلاک سب تھے زیرِپا
لولاک ہے اس کی ثنا یعنی محمد مصطفیٰ
۱
نورِ مجسم وہ نبی خود اسمِ اعظم وہ نبی
سب سے مقدم وہ نبی یعنی محمد مصطفیٰ
میں ہوں نصیرِ خاکسار اے سیدِ عالی وقار
راضی ہے تجھ سے کردگار جنت تجھی سے پربہار
یعنی محمد مصطفیٰ یعنی محمد مصطفیٰ
ن۔ن (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔آئی(
کراچی
اتوار ۱۳ ؍ جنوری ۲۰۰۲ء
۲
آغازِ کتاب
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا نہ شمار ہوسکتا ہے اور نہ اِحاطۂ بیان، جیسا کہ قرآنِ پاک کا ارشاد ہے: و اٰتکم من کل ما سالتموہ و ان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (۱۴: ۳۴) ترجمہ: اور پھر ہر چیز سے جو کچھ تم نے اس سے مانگا اس نے تمہیں وہی کچھ دے دیا۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کا احاطہ نہ کر سکو گے۔
اس حقیقت میں کوئی شک ہی نہیں کہ ہم سب کے سب اس کی نعمتوں کے دریا میں مستغرق ہیں۔
اسماعیلی اصطلاحات کی یہ کتاب یہاں تک مکمل ہوئی اگرچہ تمام اسماعیلی اصطلاحات اس میں موجود نہیں ہیں، اور یہ کام عرصۂ قلیل میں ہو نہیں سکتا تھا، جب جب کوئی خاص تاویلی راز کا انکشاف ہونے لگا تو میں نے اسی کی پیروی کو ضروری سمجھا، بہ ہر کیف یہ کتاب اب آپ کے سامنے ہے، یہ کتاب میرے ربّ اور عالمِ شخصی کے فرشتوں کی مدد سے تیار ہوئی ہے، فرشتے وہ جو باری باری سے حبل الورید کا کام کرتے ہیں، بفضلِ مولا میں کبھی کا اپنے
۳
عزیزوں سے قربان ہو چکا ہوں۔
؎ زھر کم کمترم گربی تو باشم
زگردون برترم گر با تو باشم
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
اتوار ۱۰، اگست ۲۰۰۳ ء
۴
اس کتاب کے دو نام
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ سورۂ اعراف (۷: ۱۸۰) کا ارشاد ہے: وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسنٰی فَادْعُوْہ بِھَا۔ واللہ! اسمِ اعظم ہی میں تمام اسماءِ حُسْنیٰ جمع ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا وہ بزرگ ترین اسم یقیناً امامِ زمانؑ ہے (ارواحنا فِداہٗ)!
اس کتابِ عزیز کے دو پیارے نام ہیں، اس کا ایک نام ’’اسماعیلی اصطلاحات‘‘ ہے، اور دوسرا نام ’’جنّت کی سیڑھی‘‘، جیسا کہ مولای روم نے کہا: نردبانِ آسمان است این کلام۔ شاید مثنوی کے بارے میں ہے: ترجمہ: یہ کلام آسمان کی سیڑھی ہے۔ سیڑھی زبردست پرحکمت مثال ہے (۷۰: ۱ تا ۴) معارج = معراج کی جمع۔
یہ بہت ہی پیاری کتاب ہمارے بیحد عزیز لٹل اینجلز کے اسمائے گرامی پر ہے، خواہ ہمارے عالمِ شخصی کے یہ فرشتے اور دوسرے فرشتے مشرق میں ہیں یا مغرب میں؟ اس سے باطن میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے، کیونکہ ہم سب کو حضرتِ قائم علیہ السّلام نے اپنی بے پایان رحمت سے یک حقیقت کے سانچے میں ڈھال کر یک جان بنا دیا ہے، جس طرح زرگر (سُنار) سونے کے بہت سے ذرّات کو پگھلا کر سونے
۵
کی ایک ڈلی بناتا ہے، ہماری ابدی سعادت، کامیابی اور جنّت اسی وحدت میں ہے۔
کتابِ ہذا کو لٹل اینجلز کی جانب سے شائع کرنے کی تجویز ہمارے بہت عزیز سابق کامڑیا حسن نے دی ہے، ہم اسی کتاب میں ان کی زرّین خدمات پر چند کلمات لکھنے والے ہیں، ان شاء اللہ العزیز۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ ۱۵، اگست ۲۰۰۳ ء
۶
انتساب
دانش گاہِ خانۂ حکمت نے شرق و غرب کے تمام اپنے لٹل اینجلز کے نیک بخت والدین کو ہائی ایجوکیٹرز کا باعزت نام دیا ہے، ’’ہم خرما و ہم ثواب‘‘ اپنے بچوں کو دین و دنیا کے زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا ایک ہمہ جہت عظیم کارنامہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
آپ اپنی گریہ و زاری کی خاص دعاؤوں میں یہ دعا بھی کریں کہ آنے والا زمانہ اور بھی زیادہ روشن اور بیش از بیش ترقی کا ہو! جس میں ہمارے ان فرشتوں کو ہماری توقعات سے کہیں زیادہ دین و دنیا کی عزت اور نیک نامی نصیب ہو! آمین!
سابق کامڑیا حسن ابنِ حیدر علی چارانیہ (مرحوم) اور سابقہ کامڑیانی کریمہ اہلیۂ حسن اور ان کا فرزندِ ارجمند سلمان ابنِ حسن، یہ تینوں عزیزان آئی۔ ایل۔ جی کا آنر رکھتے ہیں، کریمہ ڈالاس کے لئے سرپرستِ اعلیٰ کی پرسنل سیکریٹری ہے۔
ہمارے ہر عزیز کی زرّین خدمات کا آسمانی ریکارڈ اس کی نورانی مووی میں انتہائی خوبی کے ساتھ محفوظ ہے، ہمارے ساتھیوں کی گرانقدر خدمات اس قدر زیادہ ہیں کہ ہم ان کا قلمی احاطہ ہرگز نہیں کرسکتے ہیں، مگر کراماً کاتبین
۷
کی نورانی مووی سے کوئی ذرّہ بھر خدمت بھی باہر ہو نہیں سکتی ہے، اس یقینِ کامل کے ساتھ میں تمام علمی خدمت کرنے والوں کو مبارک باد! کہتا ہوں، آمین ! یارب العٰلمین!
الٰہی چارۂ بیچارگان کن الٰہی رحمتی بر مومنان کن
الٰہی رحمتت دریای عام است وزانجا قطرۂ مارا تمام است
گناہ داریم بیش از کوہِ الوند گناہ ازبندہ و عوف از خداوند
خداوندا سعادت یارِ ماکن زرحمت یک نظر برکارِ ما کن
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر ۱۶، اگست ۲۰۰۳ء
۸
تحفۂ لازوال برائے لٹل اینجلز
لٹل اینجلز سب کے سب بفضلِ اللہ ہمارے ہیں
مجھے حُبِّ علی جیسے یقیناً سب پیارے ہیں
کیا یہ حور و غلمان ہیں مثالِ زندہ گلدستے ؟
کتابیں ہیں؟ نوشتے ہیں؟ نہیں اصلاً فرشتے ہیں
تمہارے ہر تبسم میں نرالی گل فشانی ہے
نباتی گل فشانی میں عزیزو! کیا نشانی ہے؟
تمہارے شہر میں دیکھا ہمیشہ موسمِ گل ہے
پرندے مستِ نغمے ہیں صدائی سوزِ بلبل ہے
کمالِ علم و حکمت کو طلب کر رب العزت سے
کہ مایوسی نہیں ہوتی خدا کے بحرِ رحمت سے
تیاری حربِ علمی کی نہ بھولو لشکرِ قائم!
جہان میں تادمِ آخر جہادِ علم ہے دائم
نصیر الدین کہتا ہے لٹل اینجلز ہمارے ہیں
مجھے حُبِّ علی جیسے یقیناً سب پیارے ہیں
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
روزِ یک شنبہ ۲۴، دسمبر ۲۰۰۰ء
۹
اسماعیلی اصطلاحات پر کتاب کی سخت ضرورت
جناب محترم حاجی قدرت اللہ بیگ صاحب مرحوم اپنے وقت میں زبردست عالم اور بڑے معروف دانا شخص تھے، انہوں نے مجھ سے اسماعیلی اصطلاحات پرایک کتاب لکھنے کے لئے فرمایا تھا، لیکن مجھ سے یہ اہم کام بروقت نہ ہوسکا تھا، بعد میں مجھے شدّت سے محسوس ہونے لگا کہ یہ کام بے حد ضروری بھی تھا اور ازبس مفید بھی، لہٰذا عرصۂ دراز کے بعد اب میں اپنے ترقی یافتہ شاگردوں کی مدد سے ان شاء اللہ ازبس مفید کتاب لکھنا چاہتا ہوں، کیونکہ اب دانش گاہِ خانۂ حکمت میں بفضلِ خدا کافی اہلِ قلم پیدا ہوئے ہیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات ۲۰، اپریل ۲۰۰۰ء
نوٹ:
اصطلاح کی جمع آوری کا طریقِ کار اورنمونۂ گوشوارہ وغیرہ جناب ڈاکٹر (پی۔ ایچ۔ ڈی) فقیر محمد صاحب ہونزائی بحرالعلوم آپ کو بتائیں گے، کیونکہ ہم اسماعیلی اصطلاحات پر ایک مستند کتاب موصوف ڈاکٹر کے مبارک ہاتھ سے لکھنا چاہتے ہیں، ان شاء اللہ العزیز!
۱۰
جدید مثالوں اور اصطلاحات کی ضرورت
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قرآن حکیم (۱۵: ۲۱) کو اگر چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے تو یقین آتا ہے کہ زمانۂ آدمؑ سے لے کر آج تک جو کچھ علوم و فنون انسانوں کو حاصل ہوئے ہیں، وہ سب کے سب خزائنِ الٰہی سے آئے ہیں، پھر آج ہم جس روحانی حکمت کو روحانی سائنس کہتے ہیں وہ کوئی معمولی چیز کس طرح ہوسکتی ہے؟ اگر ہم نامۂ اعمال کو ’’نورانی مووی‘‘ سے تعبیر و تاویل کرتے ہیں تو بفضلِ خدا درست ہے۔ کیونکہ آپ پہلے قرآنِ پاک کا فیض صرف کاغذی صورت میں ہی حاصل کر سکتے تھے، آج ظاہری سائنس کی برکت سے جو ہمارے ربّ نے اپنے خزانوں سے نازل فرمائی ہے، کئی سمعی و بصری آلات بنے ہوئے ہیں جن کے ذریعے سے آپ بآسانی قرآنِ حکیم کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پس ان شاء اللہ کل بہشت میں آپ کی کتابِ اعمال نورانی مووی کی صورت میں ہوگی، جس کو دیکھ کر آپ بیحد شادمان ہوں گے، اس کے بارے میں آپ جو بھی سوال اٹھائیں اس کا جواب قرآنِ عزیز میں موجود ہے۔
۶۹: ۱۹ کا ترجمہ ہے: پس رہا وہ شخص جس کو کتابِ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی تو وہ کہے گا لو میری کتابِ اعمال کو پڑھو۔
۱۱
یہ نورانی مووی ہے، جس کو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، اس کو دیکھنا ہی پڑھنا ہے۔
؎ زدنیا تا بعقبیٰ نیست بسیار
ولی در رہ وُجودِ تست دیوار
(حضرتِ پیر)
ترجمہ: دنیا سے عقبا = آخرت تک کچھ زیادہ مسافت نہیں، لیکن تیری اپنی ہستی درمیان میں دیوار بنی ہوئی ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ۱۳، اگست ۲۰۰۳ء
۱۲
دربارۂ توصیفِ کتاب
آفتاب و ماہتاب و چرخِ اخضر ہے کتاب
چشمۂ آبِ حیات و آبِ کوثر ہے کتاب
حسن وخوبی میں یگانہ دلکشی میں طاق ہے
باغ و گلشن کی طرح اک خوب منظر ہے کتاب
بے مثال و لازوال انمول تحفہ علم کا
اے عزیزان لے کے رکھنا گنجِ گوہر ہے کتاب
میں جہاں بھی رہ چکا دن بھر کتابوں میں رہا
بس مرا گھر ہے کتاب اور میرا دفتر ہے کتاب
اک جہانِ علم و حکمت ہے کتابِ مُستطاب
ہے اگر قرآن سے پھر سب سے برتر ہے کتاب
آیۂ قَد جَاءَ کُم (۵: ۱۵) کو پڑھ لیا کر جانِ من!
نورِ حق کی روشنی میں سب کو رہبر ہے کتاب
تو ہے بھیدوں کا صحیفہ تو ہے کنزِ لامکان
قولِ مولانا علیؑ ہے: تیرے اندر ہے کتاب
ہے کتابِ حق تعالیٰ باتَکلُّم ہر جگہ
ظاہر و باطن میں دیکھو میرا حیدر ہے کتاب
۱۳
معجزے ہی معجزے قرآنِ ناطق سے سنو
آج مولائے زمانہ، روزِ محشر ہے کتاب
سربسر انوار کی دولت سے بھر کر ہے کتاب
اس بہشتِ معرفت میں کیا نہیں ہے جانِ من!
کانِ راحت جانِ لذّت شہد و شکر ہے کتاب
مِثلِ یارِدلنشین محبوب ہے مجھ کو کتاب
دِل کُشا ہے جانفزا ہے روح پرور ہے کتاب
جب قلم لیتا ہوں آتا ہے تجلّی بن کے وہ
یہ نوازش ہے اسی کی تب میسّر ہے کتاب
باغ و گلشن کی سیاحت میں ذرا سا حظ تو ہے
سیرِ علمی کے لئے بس سب سے بہتر ہے کتاب
اے نصیرالدّین تجھ کو سِرِّ اعظم یاد ہے؟
عالمِ عُلوی میں تنہا ایک گوہر ہے کتاب
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
ہفتہ ۷ جمادی الثانی ۱۴۲۰ ھ
۱۸؍ ستمبر ۱۹۹۹ء
۱۴
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱)
اسلام کی اسماعیلی شاخ کی ازلی اور قدیم اصطلاح لفظِ ’’امام‘‘ ہے، اس کا ایک ترجمہ پیشوا = راہنما (ھادی) ہے، یہ ھادی جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی جانب سے مقرر ہے امامُ الناس بھی ہے (۲: ۱۲۴، ۱۷: ۷۱) امام المُتقین بھی (۲۵: ۷۴)، نیز کلام اللہ کے ارشاد (۳۶: ۱۲) کے مطابق امامِ مبین لَوۡحِ مَحفُوظ بھی ہے کہ اس کے احاطۂ نور میں سب کچھ ہے، جیسا کہ مولا علیؑ کا ارشادِ مبارک ہے: اَنَا اللّوحُ المَحفُوظ = یعنی میں لوحِ محفوظ ہوں (کتابِ کوکبِ درّی، بابِ سوم، منقبت ۸)۔
امام اپنی نورانیت میں ازلی اور قدیم ہے، بحوالۂ کتابِ سرائر، ص ۱۱۷ اور کتابِ خزینۂ جواھر، ص ۳، امام علیہ السّلام اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کا الحیّ = زندہ اسمِ اعظم ہے، لہٰذا وہ نورِ ازل اور اللہ کے تمام اسمائے صفات کا جامع اور مظہر ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن ، ۶؍ جون ۲۰۰۳ ء
۱۵
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲)
آدم، خلیفۃ، خلیفۃُ اللہ، ناطق، صفی اللہ (۳: ۳۳)، ھابیلؑ (اساس) شیثؑ (اساس)، آدمِ اوّل (اس آدم سے وہ بیشمار سال پہلے تھا)، مولاعلیؑ نے فرمایا آدمِ اوّل میرے ظہورات میں سے تھا، کیونکہ میں عالم میں قدیم یعنی ہمیشہ ہوں۔
اے عزیزان! آدمِ سراندیبی کے آئینہ میں بے شمار آدموں کو پہچان سکتے ہو، وہ ایک مستجیب تھا، یعنی اس نے حدودِ دین میں سے کسی کے ذریعہ سے دعوتِ حق کو قبول کر لیا، پھر اس کو ذکرِاعظم = اسمِ اعظم عطا ہوا تھا، وہ کارِ بزرگ میں بڑا سخت محنتی تھا، بحوالۂ کتابِ سرائر، ص ۲۲۔
اسماعیلی مذہب میں جو نورانی عبادت ہے وہ انبیاء و اولیاء کی قدیم سنت ہے، یہ نردبانِ آسمان ہے، یعنی آسمان پر چڑھنے کی سیڑھی ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن، ۷، جون ۲۰۰۳ء
۱۶
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳)
خلیل، ہزار حکمت (ح: ۳۲۵)، (امامُ الناس اور امام المتقین)، امامِ مقیم، امامِ اساس، امامِ مستقر، امامِ متم، امامِ مستودع، امامِ قائم، حجتِ قائم، داعی، باب، ھادی، صاحبِ امر = ولیٔ امر، ولایتِ ولی (۵: ۵۵)، اھلِ بیت، پنجتنِ پاک، چہار مقرب، چہار کتبِ سماوی، صاحبِ امر، اور صاحبانِ امر کا حوالۂ قرآن (۴: ۵۹)۔
ھُنَالِکَ الوَلاَ یَۃُ لِلّہِ الْحَقِّ (۱۸: ۴۴) یہ مولاعلیؑ کی ولایت کا ذکر ہے، بحوالۂ سرائر، ص ۱۱۶ (ایک سو سولہ)، کلمۂ باقیہ (۴۳: ۲۸)، امامت جس میں اسمِ اعظم کا سب سے بڑا معجزہ ہے، تاکہ سب اس کی طرف رجوع کریں۔
یہ حدیثِ شریف کتابِ سرائر ص ۱۱۵ پر ہے:
علیؑ تم میں خلیفۃ اللہ ہے، وہ تم میں اس کتابِ ناطق کا خلیفہ ہے جو خدا کے پاس ہے (۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹) اور اللہ کی اس کتاب کا خلیفہ ہے جو تم پر نازل ہو چکی ہے یعنی قرآن کا، اور علیؑ قرآن کا دروازہ اور حجاب ہے، جس کے سوا قرآن
۱۷
میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۸، جون ۲۰۰۳ء
۱۸
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۴)
نامۂ اعمال = نورانی مووی، حظیرۂ قدس = عرفانی جنت، روحانی قیامت، ناقوری مناجات، فرشتۂ حبل الورید، ذکرِاعظم = نردبانِ آسمان، منزلِ اسرافیلی و عزرائیلی، نفسانی موت قبل از جسمانی موت = عارفانہ موت۔ شبِ قدر (حجتِ قائم روحی فداہٗ) کے زمانے میں جو روحانی قیامت ہوئی اس کے ذریعہ سے تمام عیال اللہ = عالمِ انسانیت کو نجات مل گئی۔ کتابِ وجہِ دین میں شبِ قدر کی تاویل کو پڑھ لیں۔
قرآنِ حکیم میں جس کثرت سے قیامت کا ذکر آیا ہے وہ سب کی سب صرف روحانی قیامت ہی ہے، حکیم پیر ناصرِ خسرو کے فرمانے کے مطابق بے پایان قیامات ہیں، کیونکہ جسمانی موت نفسانی موت کی مثال اور دلیل ہے، پس كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (۲۹: ۵۷) کی تاویل نفسانی موت اور روحانی قیامت ہے۔
عالمِ کبیر، عالمِ صغیر = عالمِ شخصی ، کائناتی بہشت، عالمِ ذرّ، ناسوت، ملکوت، جبروت، لاہوت۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن ۸، جون ۲۰۰۳ء
۱۹
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۵)
ازل، ابد، قلمِ اعلیٰ ، لوحِ محفوظ، عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، جد، فتح، خیال، عرش، کرسی، حاملانِ عرش، سفینۂ نوح، پانی پرعرش، عالمِ دین، عالمِ وحدت، نفسِ واحدہ، آدمِ زمانؑ، نورانی بدن = جسمِ لطیف، سرابیل، جثّۂ ابداعیہ، کتابِ مکنون، گوہرِعقل، کلمۂ باری = کُن = ہوجا، کُونُوا = ہو جاؤ۔
تصوف کے چار عناصر: شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت، آفاق و انفس، ظاہر، باطن، ہفت ادوار، ہفت صاحبانِ ادوار۔
روحِ نباتی، روحِ حیوانی، روحِ انسانی، روحِ قدسی، روحِ اعظم، روح الارواح، روحِ کلّی = نفسِ کلّی، فلکِ اعظم = کرسی، عالمِ علوی = عالمِ بالا، عالمِ خلق، عالمِ امر، عالمِ روحانی، عالمِ آخرت، علمِ لَدُنّی، علمُ الآخرت (۲۷: ۶۶)۔
سلوک، سالک، عارف، انسانِ کامل، فنا فی الامام، فنا فی اللہ، بقا باللہ، سَیْر اِلَی اللہ، سَیْر فی اللہ، علمِ تاویل، مثال،
۲۰
ممثول۔
ناطق، اساس = وصی، امام، باب، حجّت، داعی، ماذون، مستجیب۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن، ۹؍ جون ۲۰۰۳ء
۲۱
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۶)
درجاتِ یقین، مَؤَوِّل، راسِخ فِی العِلم =امامؑ ، اسمِ اعظم لفظی، اسمِ اعظمِ نورانی = امامِ زمانؑ، وزیرِ موسیٰؑ، وزیرِ محمدؐ، آنحضرتؐ کے علم وحکمت کا دروازہ = علیؑ صالِحُ المومنین و یعسُوب المُسلمین وَ حبل اللہ المتین، اَلْعُرْوَۃ الْوُثْقیٰ (۲: ۲۵۶) = محکم کڑا، اَیّامِ اللہ (۱۴: ۵) = عارف کی روحانی قیامت کا عرصہ جس میں معرفت کے اسرار ہی اسرار ہیں، یعنی جس میں چھ ناطق اور قائم کے اسرار ہوتے ہیں، جو اللہ کے سات دن ہیں، نیز اَیّامٍ معلوماتٍ (۲۲: ۲۸) میں سوچیں۔
(۱۴: ۲۴) کی بے مثال حکمت کتابِ وجہِ دین میں پڑھو، اس آیۂ کریمہ میں پاک درخت سے مراد آنحضرتؐ ہیں، پاک کلمہ اسمِ اعظم ہے، درخت کی شاخ جو حظیرۂ قدس کے آسمان میں ہر وقت پھل دیتی رہتی ہے، امامِ زمانؑ کی نورانیت ہے۔
علوم التاویل المحض المجرد = مشاہداتِ اسرار و انوارِ حق الیقین، کتا بِ سرائر، ص ۲۸۔
آدمِ سراندیب = آدمِ سراندیبی دارالضِّد (دشمن کے ملک)
۲۲
میں پیدا ہوا تھا، سرائر ص ۲۷، امام کے لاحِق اور حجّت اس کی روحانی پرورش کرتے تھے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۱۰؍ جون ۲۰۰۳ء
۲۳
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۷)
نامۂ اعمال = نورانی مووی انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی، چنانچہ جب جب امامِ زمان (ارواحنا فداہٗ) کی بابرکت اور پرحکمت تشریف جماعتِ باسعادت میں آرہی ہوتی ہے اور اس کی بے پایان خوشی کے جو بے مثال انتظامات ہوتے ہیں اس کی لاکھ درجہ بہتر نورانی مووی ہوتی ہے، تاکہ جنت الاعمال کے حسین مناظر کا طُرَّۂ امتیاز ہو، الغرض حضرتِ امامِ زمانؑ کی ہر سالگرہ، ہر خوشی، ہر علمی اجتماع اور ہر چھوٹی بڑی روحانی مجلس کی نورانی مووی ہوتی ہے، جس کی لازوال حسن و جمال کو دیکھ کر اہلِ بہشت حیرت زدہ ہوں گے۔
جس طرح مادّی مووی انسان کو کثیف سے لطیف کر دکھاتی ہے اسی طرح نورانی مووی انسان کو ظلمانی سے نورانی اور لافانی بناتی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور غالب معجزہ ہے۔
جب رحمتِ عالمؐ پر قرآن نازل ہوا اور اس میں خدا نے آفاق و انفس کے معجزات دکھانے کا وعدہ فرمایا تب ہی دنیا میں ظاہری سائنس کا انقلاب آیا، اس سے پہلے کوئی ایسا انقلاب کیوں نہیں آیا تھا؟ پھر کیا ظاہری سائنس اللہ کی نشانیوں میں سے نہیں ہے؟ کیا ہمیں اس کی
۲۴
مثالوں سے دین کی اعلیٰ حقیقتوں کو سمجھنا منع ہے؟ اگر اللہ کا منشا ایسا ہوتا تو وہ عَزّاِسمُہٗ پہلے انفس کی نشانیاں پھر بعد میں آفاق کی نشانیاں دکھاتا، ہم سوچ نہیں سکتے جس طرح سوچنے کا حق ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۱۲، جون ۲۰۰۳ء
۲۵
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۸)
یک حقیقت = مونوریالٹی، اَلَسْتُ؟ = اَلَسْت، تَجَدُّد ، سُنَّتِ اِلھٰی، لاتبدیل، فِطْرَت اللّٰہِ (۳۰: ۳۰)، قانونِ تسخیر (۳۱: ۲۰)، قانونِ خزائنِ (۱۵: ۲۱)، نُورِ منزل (۵: ۱۵)، نورِ مومنین وَمومنات (۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹ ، ۶۶: ۸ )، دیکھو کتابِ سرائر، ص ۱۱۶: چہرۂ علیؑ (امامِ زمانؑ) کی طرف نظر کرنا عبادت ہے۔
قرآن میں جہاں جہاں اللہ کے نور کا ذکر آیاہے، وہ تاویلاً امامِ زمانؑ کے نور کا ذکر ہے، آپ ما قیلَ فِی اللہ کے ارشاد کو ہرگز فراموش نہ کریں۔
جو نور مومنین و مومنات سے منسوب ہے وہ بھی دراصل امامِ زمانؑ ہی کا نور ہے، حقیقتِ حال اس طرح سے ہے کہ جب جب کسی عالمِ شخصی کی روحانی قیامت برپا ہونے لگتی ہے تو اس میں امامِ زمان (ارواحنا فداہٗ) کا نور طلوع ہو جاتا ہے، کیونکہ ناقور امامِ زمان ہے، قیامت امامِ زمان ہے، اور قائم بھی امامِ زمان ہے، اور سب سے اول اللہ کا اسمِ اعظم امامِ زمان علیہ السلام ہے، الحمد اللہ۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن ۱۳، جون ۲۰۰۳ء
۲۶
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۹)
امام علیہ السلام لوگوں پر خدا کی حجّت ہیں، کتابِ وجہِ دین، کلام ؍۱، ص ۲۷۔ علم دراصل کس چیز کا نام ہے؟ اور اس کا حقیقی سرچشمہ کہاں ہے؟ کلام؍۳، ص ۵۱۔ عالمِ لطیف = عالمِ روحانی ، کلام ؍۴، ص ۵۳۔ بہشت، کلام ؍ ۵، ص ۶۱۔
اللہ تعالیٰ کی جانب سےچھ ناطق، چھ وصی، اور حضرتِ قائم آئے، اس کی یہ تاویل ہے کہ عَزَّ اِسْمُہٗ نے ان چھ دنوں میں عالمِ دین کو پیدا کیا، پھر اس کے عرش کا ظہور بحرِ علم پر ہوا (۱۱: ۷)، پھر وہ عرش سفینۂ نجات بن گیا = بھری ہوئی کشتی (۳۶: ۴۱) اور اس کشتی میں خود کشتیبان ہی اصل = حقیقی اور نورانی کشتی تھا، اعنی امامِ زمان (روحی فداہٗ) جس میں تمام روحیں طَوْعاً وَ کَرْھاً فنا ہوچکی تھیں، یہ ہوا عرش پر مساواتِ رحمانی کا کام، خوب یاد رہے کہ ہر روحانی قیامت میں بحرِ علم پر ظہورِ عرش کا معجزہ ہوتا ہے۔
کتابِ وجہِ دین میں تمام حدودِ دین کا بیان ہے، آپ اس کتاب کو عشقِ مولا کے ساتھ پڑھیں، اسی ریاضت سے اس کو آئینہ بنا کر اپنے آپ کو دیکھیں، عبادت عملی بھی ہے اور علمی بھی، دونوں ایک ساتھ
۲۷
ضروری ہیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۱۵؍ جون ۲۰۰۳ء
۲۸
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱۰)
اللہ سُبْحَانہٗ و تعالیٰ کی سنتِ قدیم کی معرفت میں اُولُوالالباب = صاحبانِ عقل کے لئے بے پایان فائدے ہیں، اور ترجمۂ آیت: تم خدا کی عادت میں ہرگز تغیّرو تبّدل نہ پاؤ گے (۳۳: ۶۲)، اللہ کی سنت کی معرفت بھی عالمِ شخصی کی بہشت میں ہے (۴۰: ۸۵)۔
کتابِ سرائر ص ۱۳۴ پر حضورِ اکرم صلعم کا ایک مبارک نام قائم بھی ہے، اس میں عظیم و محیط حکمتیں اور اسرارِ غالب ہیں، بھلا یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ اسرارِ روحانی قیامت محبوبِ خداؐ کے احاطۂ علم ومعرفت سے باہر ہوں اور یہ کیوں کر ممکن ہو سکتا تھا جبکہ خدا نے اپنے انبیاء کے سردارؐ کو نورانی ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تھا تاکہ یہ دین دیگر تمام ادیان پر غالب کر دے (۹: ۳۳، ۴۸: ۲۸، ۶۱: ۹)، آیا ایسے میں کوئی عاقل مومن یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرتِ خاتم الانبیاء کو اللہ نے جس مقصد کے لئے بھیجا تھا وہ حضورؐ کی پر حکمت زندگی میں پورا نہیں ہوا، نہیں نہیں، ایسا ہرگز نہیں، محمدؐ و علیؑ کا نور ایک تھا جس نے روحانی قیامت کو برپا کیا۔
آپ نے روحانی قیامت کے احوال کو بار بار سنا ہے، لہذا
۲۹
آپ کو یقین کرنا ہوگا کہ روحانی قیامت کا بارہا تَجَدُّدْ ہوتا رہتا ہے، جس میں باطِناً دینِ حق بار بار غالب آتا ہے اور ظاہراً یوں لگتا ہے کہ ابھی قیامت بہت ہی دور ہے، اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت بڑی عجیب و غریب ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۲۰، جون ۲۰۰۳ء
۳۰
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱۱)
حضرتِ مولانا علی صلوات اللہ علیہ کی شان میں ایک حدیثِ شریف از کتابِ سرائر ص ۱۱۴۔۱۱۵ کو چند مرتبہ خوب غور سے پڑھیں تاکہ علمی عبادت بھی ہو اور اس میں جو عظیم پرحکمت اصطلاحات ہیں وہ بھی خوب یاد ہوں، اور آپ میں جو فرشتے ہیں وہ بھی شادمان ہو جائیں۔
آنحضرتؐ کا ارشادِ مبارک ہے: تم میں سے ہر ایک راع = راجا = تھم = بادشاہ ہے، راع کے معنی مرحلہ وار ہیں: چَوپان = سردار = بادشاہ، اگر یہ حقیقت نہ ہوتی تو اس میں رعیت کا کوئی ذکر ہی نہ ہوتا، کیونکہ بھیڑ بکریاں رعیت کی مثال تو ہو سکتی ہیں لیکن انسانی رعیت نہیں ہوسکتی ہیں۔
اے عزیزان! اب ’’قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت‘‘ کے حقائق و معارف کو سمجھنے کے بعد بہشت کے سلاطین کے بارے میں لاعلم رہنا بہت بڑی ناشکری نہیں تو پھر کیا ہے؟ آپ ہمارے مرکزِ علم و حکمت سے بھی ہمیشہ مدد حاصل کریں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۲۵، جون ۲۰۰۳ء
۳۱
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱۲)
ناطقان، اساسان، امامان، حجّتان، داعیان، معلمان، مستجیبان، قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت، ص ۱۵۵، قسط ۸۷ کو پڑھیں، ۳۱۳ کے سرِعظیم میں کما حقہٗ غوروفکر کریں، امامِ زمان علیہ السّلام کے نورِ اقدس کے معجزات بڑے عجیب و غریب ہیں۔
ز نورِ اُو تو ہستی ہمچو پَرتَو
حجاب از پیش بردار و تُو اُوشو
اس کا مطلب یہ ہے کہ تو سب سے پہلے آئینۂ خورشیدِ نور بن جا، بعد ازان آئینۂ خودی و دوئی کو توڑ دے تاکہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے۔
اے عزیزان! مولا کو ہمیشہ یاد کرو تاکہ یہ بابرکت اور پرحکمت یاد دل کی عادت اورخاصیت بن جائے اور اس اساسی معجزے کے لئے آپ باربار گریہ وزاری کریں، آمین!
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۲۷، جون ۲۰۰۳ء
۳۲
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱۳)
مولاعلیؑ کا نور عالم میں قدیم ہے، اللہ کا دین علیؑ ہے، علیؑ خلیفۃ اللہ اور خلیفۂ رسولؐ ہے، علیؑ وہ کتابِ ناطق ہے جو اللہ کے پاس ہے، علیؑ ہی ذالک الکتاب لَارَیبَ فِیہ ہے، علیؑ کا نور روحانی قیامت اور ناقور ہے، محمدؐ و علیؑ کا نور ازل سے ایک ہی تھا۔
مولانے فرمایا میں آدمِ اوّل ہوں، پھر فرمایا میں عالم میں قدیم = ہمیشہ ہوں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مولا آدمِ قدیم ہے، مولا وَجْہٗ اللہ ہے، یعنی مولا کی معرفت ہی حضرتِ ربّ کی معرفت ہے، علیؑ کا نور یقیناً امامِ زمانؑ میں جلوہ گر ہے، پس جو لوگ امامِ زمانؑ کو خود امام کے نورِ باطن کی روشنی میں پہچانتے ہیں ان کی سعادت کا کیا کہنا!
اے عزیزان! علم الیقین کو کمالِ عشق سے حاصل کرو اور عین الیقین کی جانب آگے بڑھو! آمین!!
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۲۹، جون ۲۰۰۳ء
۳۳
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱۴)
حدیثِ قدسی کا ارشادہے کہ اے آدمِ زمان = امامِ زمانؑ کا فرزندِ روحانی ! میری اطاعت کر تاکہ میں تجھ کو اپنی مثل بناؤں گا۔ اس حدیث قدسی میں صاحبانِ عقل کو یہ اشارہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے امامِ حقؑ کو ازل ہی میں اپنی مثل بنا لیا ہے، جیسا کہ قرآنِ حکیم فرماتا ہے کہ اس کی مثل جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں (۴۲: ۱۱) یعنی اللہ نے امام کو بے مثال اور لاجواب پیدا کیا ہے۔
کتابِ سرائر ص ۱۱۶ پر بھی دیکھیں، یعنی جناب بحرالعلوم سے درخواست کریں ورنہ وہ کتاب آپ کے پاس کہاں ہے، شاید آن جناب حضرتِ شاہِ ولایت صلوات اللہ علیہ کے ان اسرارِ عظیم میں سے بعض اسرار کو بیان کریں، میں یہاں ان اسرارِ عظیم کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ شاہِ ولایت نے فرمایا ہے: وَاِنَّ وَلایَتِی وَلَایَۃُ اللہ = یقیناً میری ولایت اللہ کی ولایت ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ھُنَالِکَ الْوَلاَیَۃُ لِلّٰہِ الْحَقِّ (۱۸: ۴۴) مولا نے فرمایا ہے کہ یہ میری ولایت ہے اور اسی طرح میری ولایت اللہ کی ولایت ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۲۹، جون ۲۰۰۳ء
۳۴
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱۵)
آدمؑ صاحبِ فَترتِ اوّل، ادریسؑ صاحبِ فَترتِ دوم، سرائر ص ۶ (مقدمۃ) ۔ ھابیلؑ، شیثؑ اور ادریسؑ کی شریعت کی طرف نوحؑ اپنی قوم کو دعوت دیتے تھے، سرائر ص۶ (مقدمۃ) جعفربن منصور بابِ ابواب، ص ۷ (مقدمۃ)، امام کا حجت اور لاحق، ص ۲۸، غوامض العلوم، علوم التاویل المحض المجرد، ص ۲۸۔
اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً (۲: ۳۰) وَھٰذا الخطاب مِن امامِ الزمان، ص ۲۹۔
آدمِ سراندیبی کا اپنا خاص نام تخوم بن بجلاح بن قوامہ بن ورقۃ الرویادی تھا، ص ۳۱، قبیلہ کا نام ریاقۃ، صاحبِ زمان اور امام العصر کے حجّت کا نام ھُنید تھا، ص ۳۲۔
حدیثِ شریف ہے: اِنّ علم الدّین ھُوَ السَّحر الحلال، ص ۳۴۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۳۰، جون ۲۰۰۳ء
۳۵
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱۶)
قابیل نے ہابیلؑ کو جسمانی طور پر قتل نہیں کیا تھا، جبکہ قتل کی اور بھی قسمیں ہیں، کتابِ سرائر ص ۴۶۔۵۲، اور ہابیلؑ نے ایک ستر (حجاب) کو قائم کیا اور سخت تقیہ سے کام لینے لگا، اپنےکام کو خدا کے دشمنوں سے مخفی رکھا، اپنے داعیوں کو سری طریقے سے پھیلا دیا، تاکہ اللہ کی توحید قائم ہو، اور آپؑ کے بعد شیثؑ جانشین ہوا جو آدم کے لئے اللہ کا عطیہ = ھِبۃ اللہ تھا۔
ہر انسان کے دل کے پاس ایک جنّ اور ایک فرشتہ ہیں یعنی نفس اور عقل ، چونکہ اللہ عَزَّاِسمہٗ کی ہر حکمت میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، اس لئے نفس اور عقل گویا دوسِیٹ بھی ہیں، لہٰذا آپ اپنے ایمانی اورعلمی دوستوں کو باری باری سے عقلی = مَلَکی سیٹ پر دعوت دے سکتے ہیں، یعنی ایسی نیّت کر سکتے ہیں، میں بھی ایسا خیال کرتا ہوں، اسی طرح ہم اللہ کی قدرت و حکمت سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اَلحَمدُ لِلّٰہِ عَلیٰ مَنِّہِ وَ اِحْسانِہٖ۔
نوٹ: مَلَکی = فرشتہ گانہ ANGELIC SEAT۔ حَبلُ الورید بھی یہی فرشتہ ہے، قانونِ بہشت کی تاویلی آیات قرآن میں بہت ہیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۲، جولائی ۲۰۰۳ء
۳۶
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱۷)
کتاب سلسلۂ نورٌعَلیٰ نُور، قسط ۳۸ میں مولانا علیؑ سے پہلے اماموں کے اسماء کو پڑھیں، کتابِ سرائر، ص ۸۰ پر یہ ذکر ہے کہ مولانا عبدالمُطلبؑ کے بارہ نقیبان تھے، ان میں سے پانچ آپؑ کے فرزند تھے: حارِث، حمزہ، الزبیر، ابو طالب = عبد مناف، اور عبد اللہ ، قرآنِ پاک (۵: ۱۲) میں بارہ نقیبان کا ذکر ہے۔
عالمِ شخصی، عالمِ خیال، عالمِ خواب، عالمِ بیداری، عالمِ امر، عالمِ خلق، ناسوت، مَلَکوت، جَبَروت، لاھوت، کتابِ مکنون، گوہرِ عقل، کلمۂ امر، نفسِ واحدہ، لفیف۔
تختِ سلیمانؑ روحانی تھا، انگوٹھی سے اسمِ اعظم مراد ہے، سلیمانؑ کی سلطنت روحانی تھی۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۴، جولائی ۲۰۰۳ء
۳۷
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱۸)
آدمِ سراندیبی، نفسِ واحدہ، خلیفۃ اللہ
تجدّد امثال کے بارے میں جاننا ازحد ضروری ہے، تجدّد کا اشارہ قرآن میں بھی ہے، اسرافیل و عزرائیل کی منزل میں بھی، حظیرۂ قدس کی عرفانی بہشت میں بھی، اور حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ (روحی فداہ) کے فرمان میں بھی، لہٰذا آپ کو اس عظیم راز کے باب میں جاننا بیحد ضروری ہے۔
مَجْمَعُ البَحْرَین، ذُوالقرنین، یاجُوج وَ ماجُوج (لشکرِ صاحبُ العصر) عالمِ ذرّ، علیین، مظہرِ نورِالٰہی = امامِ زمانؑ = اللہ کا زندہ اسمِ اعظم = نورِمنزل ، ولیٔ امر، امامِ آلِ محمدؐ، قرآنِ ناطق، مظہرالعجائب والغرائب، ہمارے محبوب امامِ زمان صلوات اللہ علیہ و علی آبائہٖ۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۷، جولائی ۲۰۰۳ء
۳۸
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۱۹)
اسماعیلی تاریخ میں کس امام نے اعلان فرمایا تھا کہ قیامت روحانی ہے؟ یہ فرمانِ مبارک کس کتاب میں محفوظ ہے؟
بسم اللہ کے کل ۱۹ حروف ہیں، اس میں کیا اشارہ ہے؟ بسم اللہ کی تاویلی حکمت کس کتاب میں ہے؟
قرآنِ پاک میں ۱۹ فرشتوں کا ذکر کہاں ہے؟
مَا قِیلَ فِی اللہ کس امام کا ارشادِ مبارک ہے؟
خدا کی خدائی میں بے پایان قیامات ہیں، یہ کس حجت کا قول ہے؟ آیایہ پر حکمت قول حکیم پیر ناصر خسرو کا ہے؟
کتابِ مستطابِ سرائر کس بزرگ ہستی کی تصنیف ہے؟ بڑا نامور قاضی نعمان کی کسی مشہور کتاب کا نام بتاؤ۔
زنورِ اُو تو ھستی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مکمل شعر کیا ہے؟
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۸، جولائی ۲۰۰۳ء
۳۹
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲۰)
اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس کا کلام قرآن بھی حکیم ہے، اس کا رسولِ پاکؐ بھی حکیم ہے، اور امامِ زمانؑ بھی حکیم ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دین کی تمام خاص باتیں حکمت کی زبان میں ہیں، لہٰذا اہلِ ایمان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ حکمت کو سیکھیں تاکہ ان کو دونوں جہان میں بے شمار فائدے حاصل ہوں۔
اللہ ہر وقت انسانوں کو آزماتا ہے اور اس کے قانون میں بار بار امتحان ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم میں بہشت کی تمام نعمتوں کا ذکر ہے، اور اس میں بہت بڑا امتحان ہے کہ کون کس نعمت کو زیادہ سے زیادہ چاہتا ہے؟ بہشت کی ان تمام نعمتوں کے تذکرے میں وہاں کی سلطنت کا بھی ذکر ہے، جب بہشت کی بادشاہی وہاں کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے تو پھر یہ نعمت کس طرح ناممکن ہوسکتی ہے؟ ہاں دنیا میں حقیقی ایمان اور حقیقی معنوں میں اعمالِ صالح ضروری ہیں۔
آپ نے براہِ راست قرآن میں یا میری کسی کتاب میں ضرور پڑھا ہوگا کہ حضرتِ موسیٰؑ کے مومنین بہشت میں مُلُوک = سلاطین ہوئے تھے (۵: ۲۰) اگر چشمِ بصیرت سے قرآن میں دیکھا جائے تو ہر پیغمبر اور ہر
۴۰
امامِ حق کے فرزندانِ روحانی کے لئے بہشت میں دعوتِ حق کی بادشاہی = سلطنت ہے۔
قرآنِ حکیم کا باطن اللہ سبحانہ و عزّاسمہٗ کے علم و حکمت کا تجلیاتی معجزہ ہے، تجلیات یا ظہورات بہت بڑی اصطلاح ہے، ہم ان شاء اللہ اس کا کچھ بیان کریں گے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۱۱، جولائی ۲۰۰۳ء
۴۱
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲۱)
تجلی= تجلیات = ظہورات کی حکمتوں سے قرآنِ حکیم ظاہر و باطن میں لبریز ہے، کیونکہ اللہ کی ذاتِ پاک اور اس کی ہر صفت قدیم ہے، لہٰذا آپ اللہ کے کلامِ قدیم کی لامحدود حکمت کو زمان و مکان کی کسی چیز میں ہرگز محدود نہیں کر سکتے ہیں، جبکہ اللہ خود ہی اپنی قدرتِ کاملہ سے لامحدود چیزوں کو محدود کر کے دکھانے کا معجزہ کر سکتا ہے، کیونکہ عارف کی بصیرت دَفعَۃً اللہ تعالیٰ کے لامحدود اسرار پر حاوی نہیں ہو سکتی ہے، لہٰذا اللہ جل جلالہ کائناتِ پُراسرار کو بصورتِ کتابِ مکنون = گوہرِعقل لپیٹتا ہے، اور اس کے سلسلۂ ظہورات و تجلیات سے ہر چیز عارفین کو سکھاتا ہے، الحمد للہ رب العٰلمین۔
جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ ذات و صفات میں قدیم ہے تو اس کا قول و فعل بھی قدیم ہے، حادث = نیا نہیں، مگر اس میں تجدّدِ امثال ہے، اس کی وضاحت بار بار کی گئی ہے، پس قرآن میں جس آدم کا ذکر آیا ہے وہ کوئی جدید آدم ہرگز نہیں، بلکہ وہ آدموں کے سلسلۂ بے پایان کی ایک کڑی ہے، یا نورِ خلافت وامامت کے لا ابتداء و لا انتہاء ظہورات میں سے ایک ظہور تھا، اور مولا علی علیہ السلام نے
۴۲
فرمایا ہے کہ میں آدمِ اوّل ہوں، اس کا مقصد آدم کی کوئی ابتداء ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ لوگ آدم شناسی کی جس تقلیدی دیوار کے پاس کھڑے ہیں اس دیوار کو گرانا ہے، تاکہ لوگ بہت آگے جائیں، اور اس ارشاد میں یہ اشارہ بھی ہے کہ خلافت و امامت ایک ہی منصب ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۱۲، جولائی ۲۰۰۳ء
۴۳
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲۲)
ذکرِ کثیر (۳۳: ۴۱) ، ایک ہی مقام پر آنحضرتؐ کے سات بابرکت اسماء: نبی، رسول، شاھد، بشیر، نذیر، داعی، سراجِ منیر (۳۳: ۴۵ تا ۴۶)، درود (۳۳: ۵۶)، آیۂ تطھیر (۳۳: ۳۳) آیتِ معرفتِ بہشت (۴۷: ۶)، آیۂ بیعت: (۴۸: ۱۰)، آیۂ اطاعت (۴: ۵۹)، آیتِ نورِ منزل (۵: ۱۵)، امامِ زمانؑ صاحبِ روحانی قیامت ہے (۱۷: ۷۱)۔
امامِ زمانؑ امامُ الناس بھی ہے (۲: ۱۲۴) اور وہ امام المتقین بھی ہے(۲۵: ۷۴)، امامِ زمانؑ (روحی فداہ) علیؑ کا نور ہے، لہٰذا علیؑ کی تعریف امامِ زمانؑ کی تعریف ہے، اور امامِ زمانؑ کی معرفت علیؑ کی معرفت ہے۔
کتابِ سرائر ص ۱۱۵ پر جو حدیثِ شریف درج ہے اس میں سے چند بیحد شیرین حکمتیں تحریر کر کے آپ کو دی گئی ہیں، اس کا اصل اشارہ: علی خلیفۃ اللہ فیکم، وخلیفۃ کتاب اللہ فیکم، وخلیفۃ کتاب المنزل علیکم، وبابہ و حجابہ الّذی لا یوتی الا منہ، والقائم من بعدی، و القائم فیکم مقامی۔
۴۴
خلاصہ : علیؑ خلیفۃ اللہ ہے، اور وہ اللہ کی کتاب ناطق کا بھی خلیفہ ہے (۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹)، اور وہ اللہ کی اس کتاب کا بھی خلیفہ ہے جو تم پر نازل ہوئی ہے، یعنی قرآن، اور وہ اس کا دروازہ اور حجاب ہے جس کے بغیر کوئی شخص قرآن میں داخل نہیں ہو سکتا ہے، اور وہ میرے بعد قائم (یعنی قائمِ قیامت)، اور تمہارے درمیان میرا جانشین ہے۔۔۔۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۱۳، جولائی ۲۰۰۳ء
۴۵
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲۳)
جیسا کہ ذکر ہوا، قصّۂ آدم میں انتہائی عظیم اسرار پوشیدہ ہیں، پس آدم شناسی جتنی مشکل ہے اتنی ضروری اور فائدہ بخش بھی ہو سکتی ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ ہر حالت میں دین کا قصّۂ آدمؑ سے اور آدمؑ کا قصّہ خلافت سے شروع ہوتا ہے، آپ کو یہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن و حدیث کی حکمت میں آدمؑ اور بنی آدم ساتھ ساتھ ہیں، آپ سب سے پہلے نفسِ واحدہ کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش کریں، بفضلِ مولا دانش گاہِ خانۂ حکمت کی کتابوں میں ہر قسم کی ضروری معلومات موجود ہیں۔
خداوند تعالیٰ اس ادارے کے فرشتہ خصلت عملداران اور ارکان سب کے سب پر نہایت مہربان ہے، ان نیک بخت لوگوں کو یہ خصوصی توفیق عطا ہوئی ہے کہ یہ حقیقی علم کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں، ہر نیک مراد کے موقع پر گریہ وزاری کے ساتھ بارگاہِ الٰہی سے رجوع کرتے ہیں، اسی لئے حق تعالیٰ نے ان کو آج عالمی = آفاقی نیک نامی اور لازوال شہرت و عزت عطا فرمائی ہے، اس کی دلیل ان کی وہ بے مثال شہرۂ آفاق کتاب ہے جو قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت کے پُرحکمت اسم سے موسوم ہوکر عالمی سطح پر ابھر رہی ہے، یہ کتاب دراصل اس روحانی اور قرآنی
۴۶
سائنس کا انقلابی ثبوت ہے جس کا قبلاً اسلام آباد میں ذکر ہوا تھا، الحمد للہ علیٰ منہ و احسانہٖ۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۱۴، جولائی ۲۰۰۳ء
۴۷
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲۴)
عالمِ شخصی میں روحانی قیامت کا نقطۂ آغاز سالک کے کان میں ایک باریک قدرتی آواز کے آنے سے شروع ہوتا ہے، جس کی مثال قرآن میں بَعُوضَۃً ہے ( ۲: ۲۶)، کتابِ کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت ۶۴ کے ارشاد کو پڑھیں کہ وہ مولاعلی علیہ السلام کی مثالوں میں سے ہے، آپ دانش گاہِ خانۂ حکمت کی کتابوں کو پڑھیں تاکہ آپ کو روحانی قیامت سے متعلق علم الیقین حاصل ہو۔
روحانی قیامت کے برپا ہونے میں بے پایان حکمتیں ہیں کہ ان کو صرف خدا ہی شمار کرسکتا ہے، اللہ نے اپنے جن حقیقی مومنین سے جس زمین کی خلافت کا وعدہ فرمایا ہے وہ بہشت میں دعوتِ حق کی زمین ہے، پس وہاں کا ہر خلیفہ بادشاہ ہوگا، اور ممکن ہے کہ وہ فرشتہ بھی ہو، اس میں غور کرنے کے لئے تین حوالے درج کئے جاتے ہیں: ۶: ۱۶۵، ۲۴: ۵۵، ۴۳: ۶۰۔
اس کے علاوہ قرآنِ حکیم (۴: ۵۴) میں آلِ ابراہیمؑ اور آلِ محمدؐ کی عظیم سلطنت کا ذکر ہے اور انہی حضرات کی یہی عظیم سلطنت بہشت میں مُلْکاً کَبِیراً (۷۶: ۲۰) کےنام سے ہے، دنیا کی روحانیت میں بھی
۴۸
اور بہشت میں بھی حضرت امام علیہ السلام بادشاہوں کا بادشاہ یعنی شاہنشاہ ہے، لہٰذا (۴۰: ۱۶) میں بھی اسی شاہِ شاہان ہی کا ذکر ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۱۶، جولائی ۲۰۰۳ء
۴۹
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲۵)
سورۂ مریم (۱۹: ۹۶) کا ترجمہ ہے: یقیناً جو لوگ کَمَا کَانَ حَقَّہٗ ایمان لائے اور انہوں نے حقیقی معنوں میں نیک اعمال کئے، عنقریب رحمان لوگوں کےدلوں میں ان کی محبت پیدا کر دے گا۔
تاویلی حکمت: خوب توجہ اور غور سے سن لیجئے! جب اللہ حکیم نے حقیقی مومنین کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے تو دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے، ہاں حقیقت یہی ہے کہ کل بہشت میں جب انہی اہلِ یقین کو بہشت کی خلافت و سلطنت عطا ہو گی، جس کی وجہ سے دنیا اور زمانہ بھر کے لوگ جو وہاں ہوں گے وہ ان سے محبت کریں گے، کیونکہ دنیا میں بھی لوگ اپنے بادشاہ سے محبت کرتے ہیں۔
آپ کو یہ مفہوم قرآن میں جگہ جگہ ملے گا کہ اہلِ جنت جو نعمت چاہیں وہ وہاں ان کو مل سکتی ہے، بےشک وہاں درجات ہیں، کیونکہ وہاں کی بہت بڑی اکثریت روحانی قیامت کی زبردستی سے داخل کی گئی ہے، پس بہشت میں شاہِ شاہان کا کوئی روحانی فرزند بادشاہ ہونا چاہتا ہے تو ہوسکتا ہے۔
۵۰
جو لوگ روحانی قیامت کی زبردستی سے بہشت میں لائے گئے ہیں وہ بہشت کی رعیت ہیں مگر ان کو دعوتِ حق کی تعلیمات میں بہت ترقی کرنی ہوگی، بہشت کی رعیت کو کوئی تکلیف ہرگز نہیں، بہشت میں کیونکر کسی کو تکلیف ہو سکتی ہے، مگر ہاں حقیقی علم ان کو سکھایا جائے گا تاکہ رفتہ رفتہ یہ بھی علم کے بادشاہ ہو جائیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حّبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۱۷، جولائی ۲۰۰۳ء
۵۱
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲۶)
حضرتِ آدم خلیفۃ اللہ علیہ السلام کی روحانی قیامت میں حق سبحانہ و تعالیٰ نے اہلِ یقین کو جس درجۂ عالیہ سے نواز کر سرفراز فرمایا تھا، اس کا ذکر سورۂ اعراف (۷: ۱۱) میں ہے، حضرتِ نوحؑ کے حقیقی فرزندانِ روحانی کی فضیلت کو سورۂ ھود (۱۱: ۴۸) میں غور سے دیکھیں، حضرتِ ابراہیمؑ کے فرزندانِ روحانی کی روحانی عزت و برتری کو ان پُرحکمت الفاظ میں دیکھیں: فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ (۱۴: ۳۶)، حضرتِ موسیٰؑ کے اہلِ یقین کو (۵: ۲۰) میں دیکھیں، حضرتِ عیسیٰؑ کے اہلِ یقین کو دیکھیں کہ فرشتے بن رہے ہیں ( ۳: ۴۹، ۵: ۱۱۰)، حضرتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟ کیا آنحضرتؐ کے باطن میں تمام انبیا و رُسُل کے جملہ معجزات جمع نہیں تھے؟ کیوں نہیں!
امام المتقین کے فرزندانِ روحانی کے بارے میں (۲۵: ۷۴) کو غور سے پڑھیں کہ جس طرح حضرتِ امامؑ کا جسمانی فرزند آپؑ کی پاک آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسی طرح آپؑ کے ہر روحانی فرزند کے حق میں بھی یہی دعا ہے، پس اطاعت و فرمانبرداری بے حد ضروری ہے۔
۵۲
نورِ امامت کے ارشادات کو زمانۂ اساس سے لے کر آج تک پڑھیں، اور یہ علمی عبادت پابندی سے کریں، آمین!
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۱۸، جولائی ۲۰۰۳ء
۵۳
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲۷)
حدیثِ شریف ہے: کُلُّکُمْ راعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ۔ بحوالۂ ہزار حکمت (ح: ۳۷۱)۔ قرآن و حدیث کے کئی ارشادات میں یہ ذکر آیا ہے کہ فرمانبردار اور کامیاب نفوس بہشت میں بادشاہ ہوں گے، اور جن کو یہ مرتبہ نہ ملے۔۔۔۔۔
یہ فرمانِ رسولؐ دراصل فرمانِ الٰہی ہے، پس اگر دنیا کے سب لوگ حقیقی اطاعت کر کے خدا کے نزدیک بہشت اور اس کی سلطنت کے مستحق ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ سے ہر انسان کے عالمِ شخصی کو کائناتی بہشت بنائے گا، اور اس میں سب کچھ ہوگا۔
آپ ہزار حکمت ص ۲۱۸۔۲۱۹ پر مذکورہ حدیث کو تاویلی حکمت کے ساتھ پڑھیں اور اپنے علمی دوستوں کے ساتھ مذاکرہ بھی کریں کہ رعیّت سے کیا مراد ہے؟ اور کس طرح دنیا کے لوگ رعیّت بھی اور بادشاہ بھی ہوسکتے ہیں؟
دیکھیں رحمتِ عالمؐ کے ارشاد میں کوئی ناممکن بات کیوں کر ہوسکتی ہے؟ آپ حقیقی علم حاصل کرتے جائیں اور اس کی اشاعت کرتے جائیں، اللہ کی رحمت سے مقصد حاصل ہوجائے گا، کیونکہ علم کا طریقہ بھی یہی ہے:
۵۴
حاصل کرنا، یاد کرنا، اور پھیلانا، یہ سب سے بڑا نیک کام انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے ہو سکتا ہے، اِنْ شَاءَ اللّٰہُ العَزیز!
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۲۰، جولائی ۲۰۰۳ء
۵۵
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲۸)
بحوالۂ ہزار حکمت ص ۳۹۷۔ ۳۹۸ حدیثِ شریف کا ترجمہ یہ ہے: تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک ساتھی جنّوں میں سے ہے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے، پوچھا گیا: یا رسول اللہؐ! کیا آپ کا بھی ایسا ہے؟ فرمایا: ہاں میرا بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غلبہ بخشا، پس وہ تابعدار ہوگیا، یہی ہے بحقیقت سنتِ رسول اور یہی ہے آپ کی پاک زندگی کا بہترین نمونۂ عمل = اُسوَۂ حَسَنَہ (۳۳: ۲۱)۔
اللہ جل شانہ نے جس دن روحانی قیامت میں اپنے محبوب رسولؐ کے لئے سارا جہان اور جملۂ کائنات کو مسخر کرتے ہوئے دینِ حق کو باقی تمام ادیان پر غالب کر دیا تھا، اسی روز ہی شیطان بھی تابعِ فرمان ہوگیا تھا، کیونکہ شیطان کو جو مہلت دی گئی ہے وہ روحانی قیامت کے قیام پر ختم ہو جاتی ہے، آپ دورِ حضرتِ قائم القیامت = دورِ تاویل = دورِ حکمت سے بھر پور فائدہ حاصل کریں، ورنہ بہت بڑی ناشکری ہو سکتی ہے، مولا آپ کی مدد فرمائے! آمین!!
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۲۲، جولائی ۲۰۰۳ء
۵۶
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۲۹)
جن ارضی فرشتوں کو مظہرِ نورِ خدا = امامِ حیّ و حاضر صلوات اللہ علیہ سے شدید محبت اور عشق ہے، وہ ہر وقت ظاہراً و باطناً اپنے پاک مولا کی بیحد شیرین اور پرحکمت یاد کرتے ہیں، جب آپ اور ہم جان و دل سے اس روشن حقیقت کو بصد احترام قبول کرتے ہیں کہ امام زمان علیہ السلام حق سبحانہ و تعالیٰ کا زندہ اسمِ اعظم ہے تو پھر ذاتِ سبحان کی سب سے عظیم اور سب سے اعلیٰ عارفانہ یاد کس طرح ہوسکتی ہے؟
اے عزیزانِ من! دل کی زبان سے مولا کی یاد کرو، اسی میں بہت بڑی حکمت ہے، عاشقوں کے دل کی زبان روحانی اور آسمانی وائرلیس WIRELESSہے، کیا آپ کو یاد نہیں لفظِ وائرلیس مولا کے پاک فرمان میں ہے؟ اس سے وہ فرشتہ مراد ہے جو آپ کے دو ساتھیوں میں سے ایک ہے، کیا فرشتہ وائرلیس سے کمتر ہے؟ نہیں نہیں، ہرگز ایسا نہیں، یہاں بہت بڑی ناشکری ہونے کا ڈر ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
یوسٹن
۲۴، جولائی ۲۰۰۳ء
۵۷
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳۰)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ حضرتِ مولا علی المرتضیٰ صلوات اللہ علیہ باب و حجابِ قرآنِ حکیم اور نقطۂ باءِ (ب) بسم اللہ ہیں، یہ دونوں لاہوتی حکمتیں خود از خود مل کر ایک ہوجاتی ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ اس میں لاکھوں حکمتوں کی طرف اشارہ ہے، اور وہ کئی طرح سے ہے: اوّل یہ کہ ہر چیز عالمِ ذرّ میں ایک ذرّہ ہے اور اللہ قادرِ مطلق وہ ہے جو ایک ہی ذرّہ میں عالمِ ذرّ کو محدود کر سکتا ہے۔
دوسری مثال یہ ہے کہ صدہا آسمانی کتابوں کا علم قرآن میں ہے، قرآن کا جملہ علم ام الکتاب (الحمد) میں ہے، جس کا علم بسم اللہ میں ہے، اور اس کا جوہر نقطۂ باء میں اس طرح ہے، جس طرح عارفوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ بے مثال و لاجواب معجزہ دیکھا ہے کہ ’’دستے از غیب بِرُون آید و کارے بکند‘‘ کا حظیرۂ قدس میں مشاہدہ ہوتا ہے، عالمِ غیب سے ایک ہاتھ ظاہر ہو کر کائنات کے باطن کو لپیٹ کر گوہرِعقل = کتابِ مکنون بناتا ہے، پھر اسے پھیلا کر ایک کائنات بناتا ہے۔
تیسری مثال روح کی ہے کہ ہر روح میں سب روحیں ہوسکتی ہیں، کیونکہ روح لامکانی ہے، اس لئے وہ جگہ کو نہیں گھیرتی ہے، اس کی مثال
۵۸
علمُ الحساب میں صفر ہے کہ اگر آپ سو کروڑ صفر کو جمع کریں تو جواب ایک صفر ہوگا، پس مولا کا یہ فرمانِ پاک و پُرحکمت حق ہے: ’’ مومن کی روح ہماری روح ہے۔‘‘
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
۲۷، جولائی ۲۰۰۳ء
۵۹
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳۱)
حضرتِ حکیم پیر ناصرِ خسرو (ق س ) کے دیوانِ اشعار میں ہے:
ھُوَ الاوّل ھُوالآخر ھُوَ الظّاھر ھُو البَاطن
مُنَزَّہ مَالِکُ الملکی کہ بے پایان حشر دارد
اس پُرحکمت اور حیرت انگیز شعر کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ روحانی قیامات بے پایان ہیں، یعنی جس طرح اللہ کی ذات قدیم ہے اور اس کی ہر صفت قدیم ہے، اسی طرح اس کی سنّتِ جاریہ قدیم ہے، لہٰذا اللہ کی بے پایان بادشاہی میں بے پایان قیامات کا تصور بالکل درست ہے، پس مُوتُوا قبْلَ اَنْ تَمُوْتوا اور روحانی قیامت زندہ اسم اعظم = امامِ زمانؑ کے بغیر اصل اور کلی معرفت ممکن نہیں۔
یہاں یہ بنیادی حکمت خوب یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کا زندہ اسمِ اعظم ناطق تھا، اور اللہ کا زندہ دین بھی جس میں روحاً سب لوگ داخل ہو چکے تھے (۱۱۰: ۱ تا ۲)، ناطق کے بعد اساس اسمِ اعظم اور خدا کا زندہ دین تھا، اور یہی مرتبہ ہر امامِ زمان کو حاصل ہوتا ہے، اور یہ حقیقت آیۂ امامِ مبین (۳۶: ۱۲) سے عیان ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر، ۲۸؍ جولائی ۲۰۰۳ء
۶۰
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳۲)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ قرآنِ حکیم کے ہزار ہا نورانی ظہورات اور تجلّیات ہیں کیونکہ وہ حق سبحانہ و تعالیٰ کے کلامِ قدیم کا معجزۂ بےمثال و لاجواب ہے، قرآن جس طرح مقاماتِ ظاہر پر ظاہر ہے، اسی طرح درجاتِ باطن میں بصورت تجلّیات حجاب میں ہے، کیونکہ قرآن جہاں لوحِ محفوظ میں ہے، جہاں امُ الکتاب میں ہے، کتابِ مکنون میں ہے، گوہرِعقل، اور کلمۂ امر میں ہے، تو ان نورانی درجات میں قرآن کسی ظاہری خاموش کتاب کی طرح نہیں، بلکہ نورانی تجلیات کی صورت میں اپنا کام کر رہا ہے۔
آیا جو کتابِ ناطق حضرتِ ربّ تعالیٰ کے پاس ہے اس کی مثال کوئی انسانی کتاب ہوسکتی ہے؟ نہیں نہیں، جو بولنے والی کتاب اللہ کے پاس ہے وہ ایک نور اور ایک فرشتہ ہے، مثال کے طور پر آفتابِ عالمتاب، مادّی نور ہے، اس کے دائرۂ خاص میں اگر کوئی چیز ہے تو وہ اس کا اپنا نور ہے اور کچھ نہیں، اسی لئے اس کتاب میں تجلّیات کی اصطلاح کی طرف بار بار توجہ دلائی جارہی ہے، یہاں یہ حکمت بھی خوب یاد رہے کہ خورشیدِ جہان آرا کی عندیت
۶۱
مکانی ہے، ذاتِ سبحان کی عندیت روحانی، نورانی اور لامکانی ہے۔
اَلحَمْدُ للّہ علیٰ منِہٖ و اِحْسَانہٖ۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
۲۹، جولائی ۲۰۰۳ء
۶۲
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳۳)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ اے عزیزانِ باسعادت! اے رفیقانِ فرشتہ خصلت! آپ پر مظہرِ نورِ خدا = علیِٔ زمان = ولیٔ امر صلوات اللہ علیہ وسلامہ کے بے شمار احسانات و انعامات ہوئے ہیں، ان میں یقیناً سب سے عظیم انعام وہ ہے جس سے ہم سب محوِ حیرت ہیں کہ اس کا شکرانہ کس طرح ادا ہوگا؟
’’اہلِ بیت‘‘ قرآن و حدیث کی خاص اصطلاحات میں سے ہے، اگر قرآنِ حکیم میں اسمِ ’’امام‘‘ واحد ہے تو وہ ادوار کے لحاظ سے جمع بھی ہے، جس طرح لفظِ روح واحد آیا ہے مگر افرادِ بشر کے پیشِ نظر وہ جمع بھی ہے۔
آلِ ابراہیم = آلِ محمد = اہلِ ذکر = اولوالامر = عالمون (۲۹: ۴۳) = اَلرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْم (۳: ۷) = اولولْعِلْم (۳: ۱۸) = آلِ یاسین = آلِ محمد (۳۷: ۱۳۰)۔
اسماعیلی اصطلاحات کے لئے جناب ڈاکٹر (پی۔ ایچ۔ ڈی) فقیر محمد ہونزائی بحرالعلوم کے تمام تراجم سے رجوع کریں، موصوف نے حال ہی میں حضرتِ مولاعلیؑ کے اپنے نورانی تعارف کے کلامِ حکمت نظام
۶۳
کا ترجمۂ لاثانی وغیرفانی یہاں کورس کے لئے عنایت کیا ہے، مرکزِ علم و حکمتِ لندن ہم سب پر مولائے پاک کے عظیم احسانات میں سے ہے، الحمد للہ رب العٰلمین و العاقبۃ اللمتقین!
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات ۳۱، جولائی ۲۰۰۳ء
۶۴
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳۴)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ بیت المعور = بھرا گھر، آباد گھر، اصطلاحاً خانۂ کعبہ کے عین اوپر آسمانوں پر خانۂ خدا جہاں فرشتے کثیر تعداد میں طواف اور عبادت کرتے رہتے ہیں (فیروز الغات ص ۲۵۱)، اس کی تاویلی حکمت کے لئے کتابِ وجہِ دین میں دیکھیں، نیز وہ مقالہ پڑھیں جو سرائر ص ۱۱۵ کے حوالے سے آپ کے پاس ہے، جس کی یاد دہانی اس طرح ہے کہ حضورِ اکرم صلعم نے سفرِ معراج کے دوران آسمانِ چہارم پر مولا علی المرتضیٰ کو بہت سے فرشتوں کے درمیان کرسئ کرامت پر بیٹھے ہوئے دیکھا تھا۔
ہم کافی پہلے سے یہ مان چکے ہیں کہ معراج آنحضرتؐ کو اپنے پاک عالمِ شخصی کی نورانیت میں ہوئی تھی، پس ہم پر خود شناسی واجب ہوئی تاکہ ہم کو امامِ زمانؑ (ارواحنا فداہ) کی پاک معرفت حاصل ہو، جن عاشقوں کے عالمِ شخصی میں امامِ مبینؑ کا نور طلوع ہو جاتا ہے، یقیناً وہ معجزۂ اعظم اور معرفت کل ہے۔
آپ کے لئے کونسی دینی نعمت غیر ممکن ہو سکتی ہے؟ آپ سب سے پہلے امامِ زمان علیہ السّلام کے عشق و محبت اور حقیقی
۶۵
اطاعت کے ساتھ علم الیقین میں سعئی بلیغ کریں، ان شاء اللہ مولا کارساز و بندہ نواز ہے، اݹ منݳسن اپی = ناشُدنی نیست۔ آمین ! یاربَّ العالمین! قرآن (۳۱: ۲۰)۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ یکم اگست ۲۰۰۳ء
۶۶
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳۵)
حظیرۃُ القدس کی اصطلاح بڑی عالی قدر اور عظیم الشان حکمتوں سے مملو ہے، کیونکہ یہ عالمِ شخصی کا آسمان = عرش = عرفانی بہشت اور ظہورگاہِ نورِ امامِ مبین صلوات اللہ علیہ ہے۔ جملۂ قرآنِ حکیم میں اسی کی تاویلی حکمتیں بھری ہوئی ہیں، ہر حکمتِ کاملہ کو حکمتِ بالغہ اس معنیٰ میں کہتے ہیں کہ وہ حظیرۂ قدس تک پہنچتی ہے، ہر پیغمبر کو حظیرۃُ القدس میں معراج ہوئی تھی، یہاں مثال کے طور پر حضرتِ ادریسؑ کی معراج کا حوالہ درج کرتے ہیں: (۱۹: ۵۷) مَکَاناً عَلِیّاً حظیرۃ القدس کے ناموں میں سے ہے۔
ہر نفسِ واحدہ کی روحانی قیامت میں آپ سب روحاً موجود تھے، ملاحظہ ہو ہزار حکمت میں لفظِ ’’ارواح‘‘۔ فرمانِ پاک میں جہاں جہاں روح کا کوئی بیان ہو اس کو غورسے پڑھیں، اور اس کی تاویلی حکمت کو اخذ کرلیں، جو شخص امامِ آلِ محمدؐ کا حقیقی عاشق ہے، وہ حضرتِ امام علیہ السلام کے ارشادات کو عشق و محبت سے پڑھے گا، اور جہاں جہاں امام کا علم پھیلا ہوا ہے، اس کو حاصل کرے گا، الحمد للہ رب العٰلمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر۲، اگست ۲۰۰۳ء
۶۷
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳۶)
اے عزیزانِ سعادتمند و اہلِ علم الیقین! یہ اساسی اصطلاح خوب یاد رہے کہ دینی علم کی روشنی میں یہ حقیقت اظہرِ مِنَ الشمس ہےکہ صراطِ مستقیم امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کا نورِ پاک ہے، کیونکہ اسی نور کی ’’نورانیت‘‘ میں چلنا ان لوگوں کے راستے پر چلنا ہے جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا ہے (۴: ۶۹)۔
ترجمۂ آیۂ شریفہ (۴: ۶۶) : اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے کہ اپنے نفسوں کو مار ڈالو۔۔۔۔۔۔ (الخ)۔ اللہ نے اپنے محبوب رسولؐ کی زبان سے یہ عمل فرض کر دیا اور وہ حکم یہ ہے: مُوْتُوا قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا۔ پس مومنِ سالک کی نفسانی موت اور روحانی قیامت امامِ زمانؑ کی نورانیت کی صراطِ مستقیم ہے، جبکہ مولا علیؑ نے فرمایا: ’’ میں قیامت ہوں‘‘۔
دائم الذّکر ایک بیحد خوبصورت اصطلاح ہے، یہ اس حقیقی مومنِ عاشق کا نام ہے، جو ہمہ وقت یادِ مولا میں مشغول رہتا ہے، اس کی قلبی زبان گونا گون طریقوں سے بھی اور کسی ایک طریق سے بھی پاک مولا کی انتہائی شیرین یاد میں لگی رہتی ہے، جب امامِ زمانؑ اللہ کا اسمِ اکبر ہے تو اس میں ضرور بے شمار معجزات ہوں گے جو احاطۂ بیان سے باہر ہو سکتے ہیں، مگر
۶۸
حکمت کا تقاضا تو یہی ہے کہ اوّل اوّل اس میں لذّت و شیرینی ہو، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔
؎ گرتو صد خانہ کنی زنبور وار
من بیک دیدار ویرانت کنم
ترجمہ: اے عاشق اگر تو بھڑ کی طرح سو گھر بھی بناتا ہے تو میں اپنے ایک ہی دیدار سے ان سب کو ویران کردوں گا۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر۴، اگست ۲۰۰۳ء
۶۹
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳۷)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ آیۂ تطہیر (۳۳: ۳۳) پنجتن = اہلِ بیت = اور أئمّۂ آلِ محمدؐ کی شان میں ہے۔ ھُوَ الَّذِی یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ ……. (الخ) (۳۳: ۴۳) اللہ تعالیٰ تم اہلِ ایمان پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر دس دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر سو ۱۰۰ مرتبہ درود بھیجتے ہیں، اور جو شخص محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر سو ۱۰۰ مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر ہزار مرتبہ درود بھیجتے ہیں۔ اسی کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت (۳۳: ۴۳) میں ذکر فرمایا ہے۔ بحوالۂ تفسیر المتقین ص ۵۴۹ حاشیہ۔ ۳۔
کشف = مُکاشَفہ۔ سِر، اسرار، سرِ اعظم، اسم، اسماء، اسمِ اعظم، ذکر، اذکار، ذکرِ اکبر، کل، کلیات، کلِ کلیات۔
عرش ایک عظیم نورانی فرشتہ ہے اور کرسی بھی وہی ہے آپ آیۂ امامِ مبین (۳۶: ۱۲) کو عشق و محبت سے بار بار پڑھیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
منگل ۵، اگست ۲۰۰۳ء
۷۰
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳۸)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمْ الإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ (۵۸: ۲۲) ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں (اللہ تعالیٰ نے) ایمان لکھ دیا اور ان کی مدد اپنی ایک روح سے کی، تاویلاً یہ کام خلیفۃ اللہ = امامِ زمانؑ نے کیا، حضرتِ امام باقرؑ کا ارشاد یاد کریں۔ اِخوانُ الصّفاء وَخُلّانُ الوَفاء میں بار بار اس آیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
جب ہر شخص میں دو مخالف ساتھی مقرر ہیں: ایک جنّ = نفس = شیطان، اور ایک فرشتہ = عقل = نورِ ہدایت کی چنگاری (یعنی امامِ زمانؑ کے نور کی چنگاری ) تو پھر جس طرح انسان کے دل میں وسوسہ ممکن ہے، اسی طرح الہام بھی ممکن ہے،اگر دنیا اور عالمِ شخصی میں مُضِلّ = گمراہ کُن = شیطان ہرجگہ پہنچ سکتا ہے، تو پھر ھادیٔ برحق = امامِ زمانؑ کیونکر محدود ہوسکتا ہے؟ عدلِ خداوندی کا کیا تقاضا ہے؟
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ۶، اگست ۲۰۰۳ء
۷۱
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۳۹)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ سورۂ انبیاء (۲۱: ۱۰۷) کی تاویلی حکمت دانش گاہِ خانۂ حکمت کی کتاب: ’’ قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت‘‘ میں بفضلِ مولا بیان کی گئی ہے، یہ کتاب سرتاسر اسی آیۂ شریفہ کی حکمتی تفسیر و تاویل ہے،لہٰذا آپ تمام عزیزان اس میں کما کان حقہٗ غور وفکر کریں، اور جب جب عشقِ مولا میں گریہ وزاری ہو، تو اس حال میں دعا کریں کہ یہ کتاب عالمِ انسانیت کے لئے مفید ثابت ہو! آمین!
میں صرف اپنے عزیزوں اعنی شاگردوں سے سوال کرتا ہوں کہ جب حق سبحانہٗ و تعالیٰ شانہٗ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ کو تمام عوالمِ شخصی کے لئے رحمت بنا کر بھیجا تو اس وقت اللہ کی رحمت کا یہ پروگرام مکمل ہوا یا کسی وجہ سے ادھورا رہا ؟ کوئی بھی صاحبِ عقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ کا یہ پروگرام نامکمل رہا، اگر یہ بات ہے تو آئیں ہم حکمتِ قرآن کے مطابق یہ مانیں کہ زمانۂ نبوّت ہی میں روحانی قیامت برپا ہوئی تھی جس میں ایک دیوار تھی اس میں ایک دروازہ تھا (۵۷: ۱۳) دروازے کے اندر رحمت تھی، اور اس سے باہر عذاب کا پہلو تھا، اور یہ روحانی قیامت کی ظاہری مشقت اور باطنی رحمت کا اشارہ بھی ہوسکتا ہے اور
۷۲
اس میں مزید حکمتیں بھی ہوسکتی ہیں۔
قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت کی کتاب بفضلِ مولا سینکڑوں سوالات کا جوابِ شافی ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات ۷، اگست ۲۰۰۳ء
۷۳
اسمٰعیلی اصطلاحات
(۴۰)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (۴۸: ۱) یہی سورۂ فتح کا نام اور اس کا آغاز ہے، اسی ارشادِ مبارک کی حکمتِ بالغہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آنحضرتؐ کے لئے عالمی اور کائناتی فتح و تسخیرِ باطن عنایت کردی، یقیناً روحانی قیامت کا یہ عظیم معجزہ غارِ حرا کے ذکرِ اسمِ اعظم کے سلسلے میں ہوا، اور حضورِ پاکؐ کی اسی روحانی قیامت کا ذکر سورۂ نصر (۱۱۰: ۱۔۲) میں بھی ہے۔
یہاں فتحِ مبین میں زبردست بلیغ اشارہ ہے جسکی وجہ سے فتح کے معنی فلکُ الافلاک سے بھی باہر جاتے ہیں۔ فَلَکُ الافلاک یا فَلَکِ اعظم کرسی ہے، جس میں سب آسمان اور زمین محدود ہیں (۲: ۲۵۵) ۔
روحانی قیامت، اللہ =القابض اور الباسط کی زبردست اور غالب قوّت کا نام ہے، پس زمانۂ نبوّت ہی میں روحانی قیامت کے ذریعے سے تمام لوگ اللہ کے زندہ دین = آنحضرتؐ میں روحاً داخل ہو گئے تھے، اور سورۂ نصر (۱۱۰: ۱ تا ۲) کے یہی معنی ہیں، اور مولا علی علیہ السّلام نے اسی معنیٰ میں فرمایا ہے اَناَ دِیْنُ اللّٰہِ حَقَّا، اَنَا نُفْسُ اللہ حَقَّا = یہ بات حق ہے کہ میں خدا کا دین ہوں، اور یہ بات حق ہے
۷۴
کہ میں نفسُ اللہ ہوں۔ کتابِ مستطابِ سرائر ص ۱۱۷۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعتہ المبارک ۸ ، اگست ۲۰۰۳ء
۷۵
روحانی اصطلاحات
(۱)
عالمِ صغیر = عالمِ شخصی، خود شناسی = معرفتِ نفس، سالک، مومنِ سالک = اپنی ذات میں سفر کرنے والا مومن، ہجرت کرنا = اپنے باطن میں داخل ہوجانا، نفسِ حیوانی کی منزلِ تحلیل (۲: ۶۷ تا ۷۳)، کان بجنے کی منزل (بعوضہ ۲: ۲۶)، ابتدائی رنگ برنگ روشنیاں = رنگِ خدا (۲: ۱۳۸)، منزلِ نفخ = منزلِ اسرافیلی = منزلِ عزرائیلی = منزلِ قبضِ روح، منزلِ تسخیرِ کائنات = منزلِ حشرونشر = منزلِ قبض و بسط، منزلِ فنا = منزلِ موت و بعث، قریۂ ہستی کا زیرو زبر ہونا (۲: ۲۵۹)۔
واقعۂ قیامت کی روحانی اور تاویلی ہمہ رسی اور ہمہ گیری انتہائی عجیب وغریب اور بے حد حیرت انگیز ہے، یہ ایک بہت بڑی صاف و شفاف ندی کی طرح ہے، جس کا پانی قرآنِ حکیم کے ہر قصّہ اور ہر مثال کے ظرف میں بھر کر بالکل اس کا ہم شکل ہوسکتا ہے، یہ ایک طرف سے قیامت و روحانیت کا سب سے عظیم معجزہ ہے، اور دوسری جانب سے قرآنِ حکیم کا سب سے بڑا معجزہ۔
منزلِ اسمِ اعظم خود گو یا خود کار، منزلِ فنائے دوم، منزلِ فنائے سوم، عین الیقین ، حق الیقین، زلزلہ، برق، رعد۔
۷۶
عالمِ شخصی کی زمین، پہاڑ، آسمان، کوہِ طور، عالمِ بالا، حظیرۂ قدس، ظہورِ ازل و ابد، کنزِ مخفی، بہشت برائے معرفت، لقاءُ اللہ، معجزۂ صورتِ رحمان، عقلانی پیدائش ، ابداع و انبعاث، کتابِ مکنون۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر ۳، جولائی ۲۰۰۰ء
۷۷
روحانی اصطلاحات
(۲)
عالمِ ذرّ = یاجوج و ماجوج (۱۸: ۹۴ نیز ۲۱: ۹۶) = جنودِ روحانی (لشکرِ غیب ۷۴: ۳۱) = لشکرِ آسمان و زمین (۴۸: ۷)۔
اَلْاَرْوَاحُ جُنُودٌ مُّجَنَّدَۃٌ = روحیں ہمیشہ روحانی جنگ کے لئے تیار شدہ لشکر کی حیثیت سے ہوتی ہیں۔
ثمراتُ کُلُّ شیٍٔ = ہر چیز کا میوہ = روح = جوہر = رازِ حکمت۔
دآبَّۃُ الْاَرْض ( ۲۷: ۸۲)، ناقور = صور = نفخ، ساعت، آیاتُ اللہ = علیؑ، وجہُ اللہ = علیؑ = کتابِ ناطق (۲۳: ۶۲ نیز ۴۵: ۲۹)۔
لوحٍ محفوظٍ (۸۵: ۲۲) = علیؑ (کوکبِ دری)، قلم = نورِ محمدی، لوح = نورِ علی، عرش = نورِ محمدی، کرسی = نورِعلی، عقلِ کلّ = نورِ محمدی، نفسِ کلّ = نورِ علی، شمس = محمدؐ، قمر = علیؑ، اسمِ اعظم = محمدؐ وعلیؑ، مومنین و مومنات کے روحانی والدین = محمدؐ وعلیؑ۔
صاحبِ تنزیل = محمدؐ، صاحبِ تاویل = علیؑ، وزیرِ موسیٰؑ = ھارونؑ، وزیرِ محمدؐ = علیؑ، ہر امام کتاب، اور علیؑ ام الکتاب ہے۔
۷۸
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ مَنّہٖ وَ اِحْسَانِہٖ۔ اب ہماری روحوں کی اساسی پرورش کرنے والی کتابِ مستطاب ’’ گنجینۂ جواہرِ احادیث‘‘ زیورِ طبع سے آراستہ و پیرا ستہ ہو کر نورِ امامت کے پروانوں کو دستیاب ہو رہی ہے، جس مبارک ہاتھ نے اور جس بابرکت قلم نے ہمارے لئے یہ خزانۂ عشقِ امام جمع کیا ہے ہم اس کو صبح و شام بلکہ علی الدّوام سلامِ محبت و عقیدت کرتے رہیں گے۔ آمین یا ربّ العالمین!
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر ۳ ،جولائی ۲۰۰۰ء
۷۹
روحانی اصطلاحات
(۳)
روحانیت کا قریب ترین آسمان (۶۷: ۵)، اللہ تعالیٰ نے اس آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے، اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے۔
جسمِ لطیف = جسمِ مثالی = جسمِ فلکی = جثۂ ابداعیہ۔
جسمِ لطیف کی ستر ہزار (۷۰۰۰۰) کاپیاں = عالمِ شخصی کی کاپیاں = کائنات کی کاپیاں = جنّت کے ایک بازار میں صرف تصویریں ہی تصویریں ہیں۔
بہشت میں ہر دل خواہ نعمت مل سکتی ہے، اور کوئی بھی نعمت غیر ممکن نہیں۔
التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ (۲: ۲۴۸)۔
منزلِ خوشبو = ریحِ یوسف (۱۲: ۹۴) = قمیضِ یوسف (۱۲: ۹۳)۔
طیبات = اَلْمنّ و السّلویٰ (۲: ۵۷)، طیبات = روحانی غذا بصورتِ خوشبو (۲۳: ۵۱)، روحانی غذائیں بصورتِ خوشبو عظیم معجزات میں سے ہیں (۷: ۳۲)۔
تابوتِ سکینہ سے سرتا سر امام کے تمام روحانی معجزات مراد ہیں،
۸۰
مائدہ عیسیٰ بھی تمام روحانی معجزات کا مجموعہ تھا، کیونکہ انسان ایک ایسی مخلوق کا نام ہے جو جسمِ کثیف و لطیف بھی ہے اور روح وعقل بھی، پس اگر اسے خوانِ نعمت کے معجزے سے اطمینان دینا ہے تو وہ تین قسموں میں ہوسکا ہے، اوّل: ایسی جسمانی غذا جو غیر معمولی ہو، وہ ہرقسم کی خوشبوؤں کی صورت میں ہے، دوم: روحانی غذا جو اللہ تعالیٰ کے پوشیدہ بزرگ ناموں میں ہے، سوم: عقلی غذا وہ جو اعلیٰ سے اعلیٰ علم و حکمت اور عظیم اسرارِ معرفت میں ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
منگل ۴ ، جولائی ۲۰۰۰ء
۸۱
روحانی اصطلاحات
(۴)
نفسِ لوّامہ = خود کو بہت ملامت کرنے والا نفس۔
جب ہم سورۂ قیامہ کے شروع (۷۵: ۲) میں نفسِ لوّامہ کی یہ فضیلت دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس طرح یومِ قیامت کی قسم کھاتا ہے، بالکل اسی طرح وہ علیم و حکیم نفسِ لوّامہ کی بھی قسم کھاتا ہے، اس سے کسی مومن شخص کو ضرور یہ شوق پیدا ہوسکتا ہے کہ کاش! وہ اپنے نفسِ امّارہ کو ملامت کرتے کرتے ایک دن نفسِ لوّامہ بنانے میں کامیاب ہو سکتا ! لیکن سوال یہ ہے کہ آیا تنہائی میں کسی کا اپنے آپ کو سخت سے سخت ملامت کرنے سے یہ مرتبہ حاصل ہوسکتا ہے؟ یا کسی مجلس میں گریہ وزاری اور مناجات کے بہانے سے اپنے آپ کی ملامت کافی ہوسکتی ہے؟ یا ان تمام کوششوں کے ساتھ ساتھ استادِ کامل کی پُرحکمت ملامت بھی بے حد ضروری ہے؟ تاکہ وہ اپنے شاگردوں کی اخلاقی بیماریوں کو چشمِ بصیرت سے دیکھتے ہوئے طبِ الٰہی سے علاج کر لیا کرے۔
جب مذکورۂ بالا باتیں حقیقت پر مبنی ہیں، اور اخلاقی ترقی کے بغیر روحانی ترقی غیر ممکن ہے تو آؤ ساتھیو! ہم سب کے سب اولوالعزم لوگوں کی طرح عالی ہمتی سے کام لیں، اور مرتبۂ نفسِ لوّامہ کو حاصل کرنے
۸۲
کی خاطر استادِ کامل کی تلخ ترین نصیحتوں کو بھی قبول کریں، ورنہ بعد میں ہم کو بہت ہی افسوس کرنا پڑے گا، جس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا، والسلام۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ۵ ،جولائی ۲۰۰۰ء
۸۳
چند اصطلاحات
عالمِ جمادات، عالمِ نباتات، عالمِ حیوانات، عالمِ انسان = ناسوت۔
عالمِ ملکوت = عالمِ ارواح و ملائکہ۔
جبروت = قدرت = بزرگی = عظمت = جاہ و جلال = اسمِ صفاتِ الٰہی۔
لامکان = وہ عالم جو مکان اور جہات سے مبّرا ہے۔
لاھوت (تصوف) = وہ عالمِ ذاتِ الٰہی جس میں سالک کو فنا فی اللہ کا مقام حاصل ہوتا ہے۔
عالمِ کبیر = عالمِ اکبر = کائنات = کل عالم۔
عالمِ اصغر = عالمِ صغیر = عالمِ شخصی ۔
عالمِ کثرت = جہاں لوگ بکھرے ہوئے ہیں۔
عالمِ وحدت = جہاں ایک میں سب ہیں۔
چہار ارکانِ تصوف = شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت۔
چار آسمانی کتابیں = توراۃ، انجیل، زبور، فرقان۔
۸۴
کل آسمانی کتابیں = ایک سوچار (۱۰۴) ۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
کراچی، ۲۲ ،جولائی ۲۰۰۰ء
۸۵
Little Angels: Coolness of the Eyes
The book “Ismaili Istilahaat” has been written with special reference to the LA (Little Angels) which is an institution that was created by Allama Sahib on 24th May 1998 during his memorable visit to London. The reason he gave for this name was that each and every person has an angel in them, and in the beginning this is a little angel. Therefore the institution of LA is a reminder that each of those children in their batin is a little angel.
In general all children are attractive to us, but in particular our own children hold a very special place for us. In fact Allamah Sahib has mentioned that our children are the “coolness of our eyes”. In his writings he has given two reasons for this description. Firstly, that they have been born according to the law of religion (30:30). Secondly, that God has cast the shadow of His love not only on Hazrat Musa, but on all the Prophets and the awliya’. Since God has said that those who follow them will also receive the same blessings, then children in particular have been blessed with the love of God. Due to this natural attraction in Children, parents make a special effort to teach them true knowledge. In addition Allamah Sahib has also explained that in paradise pious parents will receive didar (the vision of God) in the image of their angelic children.
In 6:66 it is said: “O you who believe, save yourself and your families form the fire.” The wise know that this fire of hell is none other than ignorance. The means of saving and being saved from this fire is therefore only through true knowledge.
It is for this reason that Allamah Sahib has created not just the institution of the LA (which includes all the children) but also the institution of the High Educator (which consists of the parents of those children) so that the above-mentioned duty may be carried out: that is, the parents may, through the dissemination of true knowledge, save themselves and their families from the fire of ignorance. However, it is incumbent upon the High Educators to first agree to this responsibility, and then implement it.
۸۶
When the LA was first created, it was difficult to understand the rationale behind it. But gradually, as Allamah Sahib has explained the reasons behind this act, it has been made clear that its basis is nothing other than our own spiritual progress.
Mawlana Hazir Imam has emphasized on meritocracy in his Farmans i.e. everyone should aim for nothing but the best in their education. This Holy guidance is for both the worlds, which implies that we should not confine ourselves to just secular education but we should also get the best religious knowledge. Together with our children, we have a golden opportunity to acquire deep religious understanding by reading and understanding what our Ustad has been writing so tirelessly. This Balance of the secular and religious and the training of the LA from a very young age will help develop a holistic personality.
Eshrat Zahir
Maryam Kotadia
۸۷
| Little Angels in USA | ||
| Names of Little Angels | Father’s Name | Mother’s Name |
| Hubb-i Ali Hunzai | Aminuddin Hunzai | Irfat Ruhi Aminuddin |
| Durr-i Alawi Hunzai | Aminuddin Hunzai | Irfat Ruhi Aminuddin |
| Durr-i Fatimah Hunzai | Aminuddin Hunzai | Irfat Ruhi Aminuddin |
| Nadia Momin | Ghulam Mustafa Momin | Mumtaz Momin |
| Nayab Ali | Nizar Ali Momin | Almas Nizar Ali |
| Hina Ali | Nizar Ali Momin | Almas Nizar Ali |
| Sabah Ali | Nizar Ali Momin | Almas Nizar Ali |
| Nasir Panjwani | Naushad Panjwani | Rozina Panjwani |
| Eesarali Panjwani | Naushad Panjwani | Rozina Panjwani |
| Azim Sultanali | Sultan Ali Ladji | Shaukat Bano Ladji |
| Zohaib Rahim | Zahir Rahim | Yasmin Rahim |
| Farah Rahim | Zahir Rahim | Yasmin Rahim |
| Salman Rahim | Zahir Rahim | Yasmin Rahim |
| Hina Khanjee | Nasiruddin Khanjee | Khairunnisa Khanjee |
| Kashif Khanjee | Nasiruddin Khanjee | Khairunnisa Khanjee |
| Komal Khanjee | Nasiruddin Khanjee | Khairunnisa Khanjee |
| Gulab Rafique | Dr. Rafique Jannat Ali | Dr. Shah Sultana |
| Shafique Rafique | Dr. Rafique Jannat Ali | Dr. Shah Sultana |
| Sakina Chagani | Imaran Chagani | Afroza Chagani |
| Zainab Akber Nathani | Akber G. Ali Nathani | Parveen Akber Nathani |
| Jafar Ali Jooma | Shamsuddin Jooma | Karima Jooma |
| Salman Hasan | Hasan Haider Ali | Kanma Hasan |
| Farah Gillani | Barkat Ali Gillani | Rukhsana Gillani |
| Zahra Gillani | Barkat Ali Gillani | Rukhsana Gillani |
| Sana Ali | Mehboob Ali | Zarin Mehboob Ali |
| Shoaib Ali | Mehboob Ali | Zarin Mehboob Ali |
| Karim Lakhani | Siraj Ali Lakhani | Shaheena Lakhani |
| Muizz Lakhani | Siraj Ali Lakhani | Shaheena Lakhani |
| Ali Shan Chandwani | Aziz Chandwani | Shamshad Chandwani |
| Arsalan Chandwani | Aziz Chandwani | Shamshad Chandwani |
| Shamim Rupani | Anwer Ali Rupani | Rozina Rupani |
| Rahim Rupani | Anwer Ali Rupani | Rozina Rupani |
| Noorie Hussain | Mohammad Ali Hussain | Rukhsana Hussain |
| Neha Hussain | Mohammad Ali Hussain | Rukhsana Hussain |
۸۸
| Narmeen Rajpari | Aziz Rajpari | Nafisa Rajpari |
| Akil Rajpanri | Aziz Rajpari | Nafisa Rajpari |
| Sitra Rajpari | Aziz Rajpari | Nafisa Rajpari |
| Asad Ali momin | Zahir Ali Momin | Saira Zahir Ali Momin |
| Sinaan Ali Momin | Zahir Ali Momin | Saira Zahir Ali Momin |
| Mahjabeen Momin | Nizar Ali Momin | Anis Nizar Ali Momin |
| Arrafa Momin | Salman Momin | Anila Salman Momin |
| Zaibunnissa Momin | Karim Momin | Zarina Momin |
| Kiran Momin | Qurban Momin | Noorbanu Momin |
| Neelam Momin | Qurban Momin | Noorbanu Momin |
| Hussain Momin | Qurban Momin | Noorbanu Momin |
| Noman Momin | Mustafa Momin | Yasmeen Momin |
| Salman Momin | Mustafa Momin | Yasmeen Momin |
| Fareed Momin | Liaqat Momin | Zubeda Momin |
| Rehan Momin | Liaqat Momin | Zubeda Momin |
| Zain Momin | Noordin Momin | Almas Momin |
| Sakina Amin | Amin M. Ali | Nusrat Amin |
| Ahsan Merchant | Meheraly Merchant | Shanshahi Merchant |
| Azeem Marchant | Meheraly Marchant | Shanshahi Merchant |
| Sufia Charania | Akber Ali Charania | Shamsha Charania |
| Kashif Amin Charania | Akber Ali Charania | Shamsha Charania |
| Little Angels in UK Markaz-e Ilm-o Hikmat |
||
| Names of Little Angels | Father’s Name | Mother’s Name |
| Nasiruddin Khizr-Ali Zahir | Zahir Lalani | Eshrat Zahir |
| Durr-I Maknun Zahir | Zahir Lalani | Eshrat Zahir |
| Zuhaa Jamani | Zulfikar Jamani | Farhat Jamani |
| Raziyyuddin Jamani | Zulfikar Jamani | Farhat Jamani |
| Farid Rener | Rehman Rener | Nimet Rener |
| Khalil Ali Rener | Rehman Rener | Nimet Rener |
| Abuzarr Ali Kotadia | Amin Kotadia | Mariam Kotadia |
| Salman Karim Kotadia | Amin Kotadia | Mariam Kotadia |
| Shazia Chatur | Mehboob Chatur | Firoza Chatur |
| Sara Lalani | Faizal Lalani | Haseena Faizal |
۸۹
امام شناسی
امام شناسی
امام شناسی ہی کائناتی بہشت ہے۔
اہلِ معرفت کے لئے یہ حقیقت روشن ہے کہ امامِ زمانؑ کی پاک معرفت اللہ تعالیٰ کا وہ زبردست معجزہ ہے، جس سے ساری کائنات بہشت بن جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث اور ارشاداتِ أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام کے بعد بزرگانِ دین کی حکیمانہ کتابوں میں بھی امام شناسی کی ضرورت و اہمیّت کی طرف بار بار توجہ دلائی گئی ہے۔
انتسابِ جدیدی: میں بہت شکرگزار اور ممنون ہوں ان تمام عزیز ساتھیوں کا، جو کتابی اور علمی خدمت میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں، اور کتابوں کی سرپرستی کر رہے ہیں، نیک نام مومن مہدی علی قاسم علی دھنجی اور ان کے اہلِ خانہ نے جس طرح امام شناسی کی اس دینی کتاب کے موجودہ ایڈیشن میں بھرپور تعاون کیا ہے اس کا لازوال اجر و صلہ مولائے پاک عطا کرنے والا ہے، میں ایک خادم درویش کی حیثیت سے عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ خداوند قدّوس ایسے تمام علم پرور اور علم گستر مومنین و مومنات کو دونوں جہان کی کامیابی اور سربلندی عطا فرمائے!
میں آئی۔ ایل۔ جی، سینیئر ممبر پریسیڈنٹ کمیٹی دانشگاہِ خانۂ حکمت عزیزم نصر اللہ قمر الدّین کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ایک ارضی فرشتے کو میرا دوست بنا دیا۔
املا از چیف ریکارڈ آفیسر نصیر الدّین نصیرؔ (حبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
عرفت روحی امین الدّین کراچی، جمعۃ المبارک، ۳ مئی ۲۰۰۲ء
ج
مہدی علی قاسم علی دھنجی اور اہلِ خانہ
مہدی علی قاسم علی دھنجی ڈھاکہ بنگلہ دیش میں ۱۹۶۴ء میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی، ۱۹۷۱ء کے بعد آپ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کراچی منتقل ہو گئے، آپ کی والدہ کا نام نور بانو قاسم علی اور والد کا نام قاسم علی دھنجی ہے، مہدی علی نے کئی سال تک ناظم آباد جماعت خانے میں ایک والنٹیئر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، آپ گزشتہ ۸ سالوں سے نصر اللہ قمر الدین ، آئی۔ ایل۔ جی، سینیئر ممبر پریسیڈنٹ کمیٹی دانشگاہِ خانۂ حکمت ، کے بزنس پارٹنر ہیں اور انہی کے توسط سے آپ خانۂ حکمت کی علمی کلاسس اور استادِ گرامی کی عالی قدر شخصیت سے متعارف ہوئے، اپنی طبیعت کی پاکیزگی، عشقِ مولا اور علم دوستی کی بناء پر آپ بہت جلد اس علم سے قلبی طور پر وابستہ ہو گئے، اپنی ذات کو روحانی طور پر منور کرنے کے ساتھ ساتھ آپ نے اس علم کو جماعت کے لئے عام کرنے کی اہمیت کو بھی سمجھ لیا اور علمی خدمت میں سبقت لے جاتے ہوئے امام شناسی جیسی اہم کتاب کی بارِ نو اشاعت کی سرپرستی کی ذمہ داری قبول کی۔
آپ کی زوجۂ محترمہ ناہید مہدی علی کراچی میں ۱۹۷۲ء میں پیدا ہوئیں، آپ کے والد ماجد کا نام حیدر علی حسن علی لاکھانی اور والدہ کا نام حبیبہ حیدر علی ہے، ناہید مہدی علی نے ابراہیم علی بھائی اسکول کریم آباد سے میٹرک پاس کیا،
د
آپ کو گارڈن جماعت خانے میں کچھ سالوں تک بحیثیت لیڈی والنٹیئر خدمت انجام دینے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ہے، خانۂ حکمت کی علمی محفل سے آپ کا تعارف آپ کے شوہرِ نامدار جناب مہدی علی قاسم علی کے توسط سے ہوا، اپنی سادہ، نیک اور مذہبی طبیعت کی وجہ سے آپ نے اس علم کی اثر پزیری کو قبول کیا اور امام کے حقیقی علم کے پھیلاؤ کے لئے مہدی علی کی کاوشوں کی بھرپور حمایت کی۔
آپ کے خاندان کے گلشن کو اپنی سدا بہار معصوم مسکراہٹوں اور فرشتگانہ احساسات سے معطر کرنے والا لٹل اینجل سولجر آپ کا ساڑھے تین سالہ فرزند رحیم مہدی علی ہے، رحیم ماما بے بی کیئر اسکول میں مونٹیسری کا طالبِ علم ہے۔
ہ
ایک مثالی خط
برادرِ بزرگ مہربان شاہ (مرحُوم) کے علمی ذوق و شوق کا یہ عالم تھا کہ دن ہو یا رات آپ ہمیشہ دینی کتب کا مطالعہ کرتے رہتے تھے اور اپنے خیالات کو سپردِ قلم بھی کرتے تھے، ان کے جذبۂ دینداری اور اوصافِ مومنی کی کوئی مثال نہیں، وہ عشقِ مولا میں خود کو فنا کر دینا چاہتے تھے، موصوف کے انتقال پر میں نے ان کے فرزندِ ارجمند موکھی سرفراز شاہ اور جملہ خاندان کی خدمت میں ’’ایک مثالی خط‘‘ تحریر کیا ہے، جو اس کتاب میں شامل ہے۔
و
ایک مثالی خط
عزیز و محترم موکھی سرفراز شاہ اور جملہ معزّز خاندان
دلِ دردمند سے یاعلی مدد کہتا ہوں، میں آہ و افسوس سے کہہ رہا ہوں کہ میرے بزرگ و محترم اور مشفق و مہربان بھائی، جن کا پیارا نام بھی ’’مہربان شاہ‘‘ ہے، جو آپ کے دولت خانہ میں قیام پذیر تھے، وہ کہاں تشریف لے گئے؟ اس سے پیشتر کہ آپ کچھ فرمائیں، قرآنِ حکیم ہی سے اس سوال کا جوابِ باصواب مل جاتا ہے کہ: انا للّٰہ و انا الیہ راجعون ۔ ۰۲: ۱۵۶، ( ہم تو خدا ہی کے ہیں اور ہم لوٹ کر اسی کی طرف جانے والے ہیں)۔
ان کے پاکیزہ دل میں خدا، رسولؐ، اور امامِ زمانؑ کی کتنی اور کیسی شدید محبّت تھی! وہ قرآنِ پاک اور دینی علم کے بڑے شیدائی تھے، ایک شب خیز اور مناجاتی درویش، ایک باعمل اور پرسوز دعاگو، ایک مومنِ صادق، ایک عاشقِ مولا، ایک مخلص جماعتی عملدار، ایک بہادر سپاہی (ماضی میں) ایک متّقی خلیفۂ پیرِ روشن ضمیر، ایک ہوشمند اور جفاکش زمیندار،
ز
امامِ عالی مقامؑ کا ایک سرفروش اور جان نثار مرید، ایک دائم الذّکر عابد، شمعِ نورِ امامت کا ایک پروانہ، جہادِ علمی کا ایک مجاہد، اور اہلِ بیت علیہم السّلام کا ایک مُحِبّ۔
ان کا دل جذبۂ ایمانی سے سرشار، آنکھیں آسمانی عشق سے اشکبار، زبان ذکرِ الٰہی میں مشغول، جبینِ سجدہ بار بار بر زمین، ہاتھ میں اکثر اوقات تسبیح، پیروں کو خدا کے گھر چلنے میں راحت، کان منقبت سننے کے لئے مشتاق، جان ہمیشہ مائلِ جانان، روح متّصلِ جنان (بہشت) اور ان کی خوبیان اس تحریر سے بہت زیادہ ہیں۔
عزیزم سرفراز شاہ! دینی اعتبار سے یہی بہتر اور مفید تر ہے کہ آپ تمام عزیزانِ خاندان صبر اور شکر کے راستے پر ثابت قدم رہیں، کیونکہ آپ سب کا بہت بڑا امتحان ہوا ہے، اور سب سے بڑی عبادت اسی میں ہے، آپ ان شاء اللہ، انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں، الحمد للہ، مومن خدا پر توکلّ کرتا ہے، یعنی اللہ کو اپنا وکیل اور کارساز قرار دیتا ہے، آپ کو دین و دنیا کی سعادتیں حاصل ہو رہی ہیں۔
قانونِ روح کا مطالعہ کرکے دیکھیں کہ کوئی کہیں نہیں جاتا، سب موجود ہیں، مومن صرف کثیف سے لطیف ہو جاتا ہے، چنانچہ قرآن نے فرمایا کہ شہید دراصل مرتے نہیں ہیں (۰۳: ۱۶۹) رسولِ اکرم نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا
ح
کہ ہر مومن شہید کا درجہ رکھتا ہے، اور حضرتِ پیر نے فرمایا کہ دنیا سے آخرت تک کچھ زیادہ مسافت نہیں، لیکن درمیان میں تمہاری اپنی ہستی ہی دیوار بنی ہوئی ہے، وہ شعر یہ ہے:
ز دُنیا تا بعُقبیٰ نیست بسیار
ولی در رہ وجودِ تُست دیوار
پس اگر ہم اپنی ہستی کی دیوار کو درمیان سے ہٹائیں، یا اسے شیشہ کی مانند صاف شفاف بنائیں، تو ہم تمام روحوں کو اس وقت بھی دیکھ سکتے ہیں۔
آپ کا دعاگو
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی ، کراچی
اتوار، ۱۶ جمادی الاوّل ۱۴۱۲ھ
۲۴ نومبر ۱۹۹۱ء
ط
امام شناسی
حصہ اول
پیش گفتار
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ان اللّٰہ و ملائکتہ یصلون علی النبی یایھا الذین اٰمنو صلوا علیہ و سلموا تسلیما ۔ (۳۳: ۵۶)۔ اللّٰھم صل علیٰ محمد و آل محمد ۔
۱۔ یہ کتابچہ اُن آیاتِ مقدسہ کی توضیحات و تاویلات پر مشتمل ہے جن میں امام اور امامت کا صراحت سے تذکرہ موجود ہے۔ اگرچہ باطناً قرآنِ حکیم کی کوئی آیت امامت کے موضوع سے خالی نہیں، تاہم ظاہراً اس سلسلے میں ایسی آیتوں سے بحث کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔
۲۔ سورۂ یٰسٓ (۳۶) آیت نمبر ۱۲ (۳۶: ۱۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر عقلی، روحی اور مادّی چیز کو امامِ اکرم کے نور میں مستغرق کر کے گھیر رکھا ہے، پھر حکمتِ قرآن کے اصول سے ظاہر ہوا کہ جملہ موضوعات امامت کے موضوع میں اور سارے الفاظ امام کے لفظ میں سموئے ہوئے ہیں۔ پس ضروری اور لازمی تھا کہ ان آیاتِ کریمہ کا یکجا طور پر تاویلی بیان کیا جائے جن میں امام یا أئمّہ کے الفاظ آئے ہیں۔
۳
۳۔ جن حقیقی مومنین کا دیدۂ دل روشن ہوا ہو وہ اس حقیقت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ کائنات و موجودات کی ہر چیز دنیا میں امام کے حیّ و حاضر ہونے کی گواہی دے رہی ہے، اور اس شہادت سے ظاہر و باطن کی کوئی شے خالی نہیں۔
۴۔ جب یہ ارشادِ الٰہی ظاہر ہے کہ ہر چیز امامِ مبین کے نورِ مقدس میں محدود و محصور ہے، پس یہ بات لازمی ہے کہ ہر شی امامِ عالی مقام کی نورانیت کے رنگ میں رنگی ہوئی نظر آئے چنانچہ دنیائے قرآن و حدیث کے علاوہ کائنات کی ہر چیز ایسی ہی رنگین نظر آتی ہے۔
۵۔ اگر بحکمِ حدیث یہ مان لیا جائے کہ خودشناسی کا نتیجہ خدا شناسی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو انسانِ کامل کی شناخت اس موضوع سے مستثنیٰ قرار نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ انسانِ کامل (امام) کی معرفت کے بغیر انسانِ ناقص کی اپنی معرفت خدا شناسی کا نمونہ نہیں بن سکتی۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ امام کی ابتدائی معرفت سے خود شناسی اور انتہائی معرفت سے خدا شناسی حاصل آتی ہے۔
۶۔ سورۂ قصص (۲۸) آیت نمبر ۸۸ (۲۸: ۸۸) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ کل شی ھالک الا وجھہ ۔ یعنی ہر چیز ہلاک و فنا ہونے والی ہے بجز اس کے چہرہ کے۔ جاننا چاہئے کہ خدا کے چہرہ سے اس کی معرفت مراد ہے، اور خدا کی معرفت وہ حقیقت ہے جو امام کی معرفت میں
۴
پوشیدہ ہے۔ چنانچہ مولانا علی علیہ السّلام نے فرمایا: انا وجہ اللّٰہ فی السمٰوٰۃ و الارض ۔ یعنی میں ہی آسمانوں اور زمین میں خدا کا چہرہ (معرفت) ہوں۔
۷۔ جب یہ حقیقت مسلّمہ ہے کہ امامِ عالی صفات کی معرفت خدا کی معرفت ہے، تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام علومِ الٰہی بھی اسی معرفت میں مجموع ہیں۔ یہی سبب ہے جو رسول اکرم صلعم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے امامِ وقت کی معرفت کے بغیر مر جائے وہ جاہلانہ موت میں مر جاتا ہے اور جاہل کا ٹھکانا آتشِ دوزخ ہے۔ یعنی وہ علمِ الٰہی کی جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔
۸۔ دینِ اسلام خدا سے جا ملنے کا راستہ ہے۔ جسے صراطِ مستقیم یعنی راہِ راست کہتے ہیں۔ اس کی چار منزلیں ہیں۔ جو شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے ناموں سے مشہور ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان میں منزلِ مقصود اور درجۂ کمال معرفت ہے۔
۹۔ روایت ہے کہ شریعت بمثل رات کے ہے، طریقت ستاروں کی روشنی کی طرح ہے، حقیقت چاند کی روشنی کی طرح ہے اور معرفت سورج کی روشنی کے مثل ہے پس نورِ معرفت کی روشنی میں ہر چیز کی اصلیت کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
۱۰۔ معرفت اور یقین کا ایک ہی مطلب ہے اور
۵
یقین کے تین درجے ہیں۔ علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین۔ پس ابتدائی معرفت علم الیقین میں ہے۔ درمیانی معرفت عین الیقین میں اور ا نتہائی معرفت حق الیقین میں۔ اور اس مطلب کی وضاحت یہ ہے کہ امامِ مبین کی ابتدائی معرفت ایک ایسے علم میں ہے جو شک سے بالاتر اور بالکل یقینی ہو۔ درمیانی معرفت ایسے دیدار اور مشاہدے میں ہے جو دیدۂ باطن سے کیا جاتا ہے، اور انتہائی معرفت اس روحانی معجزاتی تجربے میں ہے جس میں حقیقی مومن کی خودی امام کے نور کے درمیان اس طرح گم ہو جاتی ہے جس طرح کہ ایک چھوٹے سے کوئلے کی تاریکی اور سیاہی انگاروں کے درمیان کھو جاتی ہے۔
۱۱۔ امام شناسی کے بغیر پیغمبر صلعم کے نور کی معرفت ناممکن ہے اور پیغمبر کے نور کے بغیر خدا کی معرفت محال ہے۔ کیونکہ نبوّت کا دروازہ امامت ہے اور اُلُوہیّت کا دروازہ نبوت۔
۱۲۔ زندہ موجودات کے لئے زندگی کے چار درجے مقرر ہیں۔ پہلا درجہ روحِ نباتی ہے، دوسرا روحِ حیوانی، تیسرا روحِ انسانی اور چوتھا روحِ قدسی۔ اور معرفت روحِ قدسی میں ہے، جو انسانِ کامل یعنی امامؑ کی مبارک روح ہے۔
۱۳۔ اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ جب معرفت امام
۶
کی روح یعنی نور دیکھنے کو کہتے ہیں تو پھر یہ کیوں فرمایا گیا کہ جس نے اپنے آپ کو یعنی اپنی روح کو پہچان لیا تو بے شک اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو روح بحدِّ فعل امام کی ہے وہی روح بحدِّ قوت حقیقی مومن کی ہے۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ مومن کی پہلی روح نباتات سے حاصل ہوتی ہے، دوسری روح حیوانات سے تیسری روح انسانوں سے اور چوتھی روح یعنی روحِ قدسی امام سے حاصل کی جا سکتی ہے اور حقیقی مومن کو چاہئے کہ اپنی اس آخری روح کو حاصل کرے اور کماحقّہٗ پہچان لیا کرے۔
۱۴۔ اگر مان لیا جائے کہ انسان کے لئے چار روحیں مقرر ہیں تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جسمِ انسانی میں ان کے آنے کے لئے راستے بھی چار ہی ہیں۔ یعنی روحِ نباتی اور روحِ حیوانی شروع شروع میں ناف کے راستے سے اور پھر منہ سے داخل ہوتی رہتی ہیں اور روحِ انسانی اور روح القدس پہلے سر کے کانوں سے پھر گوشِ ہوش سے داخل ہوتی رہتی ہیں۔
۱۵۔ جس طرح یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ مادّی قسم کی غذاؤں کے بغیر روحِ نباتی اور روحِ حیوانی انسان کے جسم میں داخل ہو سکیں اسی طرح یہ امر بھی قطعی محال ہے کہ روحانی نوعیت کی غذاؤں کے بغیر روحِ انسانی اور روح القدس انسان کے دل و دماغ میں جاگزین ہوں اور روحانی غذا علم و حکمت کی باتیں ہیں۔
۷
۱۶۔ امام کے نورِاقدس سے فیوض و برکات حاصل کر کے اپنی ذات میں معرفت والی روح یعنی روحِ قدسی پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ امامِ زمان کے علمی اور عملی فرامینِ مقدس پر عمل کیا جائے اور اس کی خوشنودی ہر چیز پر مقدّم رکھی جائے۔
۱۷۔ امام شناسی کی بنیادی شرط عقیدہ ہے، کیونکہ جس کا عقیدہ درست نہ ہو وہ امام کی معرفت ہرگز حاصل نہیں کر سکتا۔ اور درست عقیدہ کے لئے عموماً بچپن میں مذہبی ماحول کا بہتر ہونا لازمی اور ضروری ہے۔
۱۸۔ امام شناسی کی دوسری شرط امام کی دوستی و محبت ہے۔ محبت عقیدہ کی ترقی یافتہ صورت کا نام ہے۔ اور ترقی امامِ زمان کی فرمانبرداری میں ہے۔
۱۹۔ امام شناسی کی تیسری ضروری شرط امامِ زمان کا عشق ہے جو محبت کی ترقی یافتہ شکل کا نام ہے اور اس کی ترقی اس بات میں ہے کہ امامِ زمان کی ظاہری اور باطنی خوبیوں سے آگاہی حاصل کی جائے۔ کیونکہ کوئی شخص کسی چیز پر عاشق نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے حسن و خوبی کو نہ دیکھے یا کسی سچ بولنے والے سے نہ سنے۔
۲۰۔ اگر مومن کے دل میں امامِ وقت کا عشق شعلہ زن ہونے لگے تو وہ خود ہی زبانِ حال اور زبانِ قال سے بتا دے گا کہ اب اس کے بعد امام شناسی کی راہ میں کس طرح
۸
آگے بڑھا جا سکتا ہے۔
نکاتِ مذکورہ بالا کا ماحصل یہ ہے کہ امام شناسی کے بغیر اسماعیلیت سے روحانی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور اس پاک مذہب میں جو کچھ خوبیاں موجود ہیں وہ سب کی سب امام کی شناخت میں پنہان ہیں۔ نیز مذکورہ حقائق سے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ امام شناسی کا ذریعہ بھی خود امامِ حیّ و حاضر ہیں۔ کیونکہ مومن کی فرمانبرداری انہی کے لئے ہونا چاہئے۔
جیسا کہ بتایا گیا کہ کسی مومن کو امامِ وقت سے عشق اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ وہ امام کی بے مثال خوبیوں کو دیکھے یا کسی سچ بولنے والے سے سنے چنانچہ اس کتاب کو تصنیف کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حقیقی مومنین امامِ عالی مقام کے علم و فضل اور روحانیت و نورانیت سے آگاہ ہو جائیں تا کہ اس سے ان کو امامِ زمان علیہ السلام کا عشق حاصل آئے اور اس مقدس عشق سے امام شناسی حاصل کی جا سکے۔
اخیر میں پروردگارِ عالمین کے حضور عاجزانہ دعا ہے کہ ذاتِ کبریا اپنے بے پایان فضل و کرم سے جملہ مومنین و مومنات کو امام شناسی کی لا انتہا دولت سے مالامال فرمائے! ان کو فتنۂ آخر زمان سے بچائے رکھے! ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازے! اور دنیا و آخرت کی سرفرازی عنایت فرمائے!
۹
آمین یا رب العالمین!
فقط امامِ زمان کا ایک ادنیٰ غلام
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
بروز بدھ ۲۱ جمادی الثانی ۱۳۹۲ھ
۲ اگست ۱۹۷۲ء
۱۰
لفظِ امام کی قرآنی حکمت اور معنوی وسعت
’’امام‘‘ کا لفظ قرآنِ حکیم کے مختلف مقامات پر واحد اور جمع کے صیغوں میں کل بارہ دفعہ مذکور ہوا ہے، اگر ان تمام آیاتِ مقدّسہ کو، کہ جن میں لفظِ امام اور اس کے معنی و مقصد کا تذکرہ موجود ہے، یکجا طور پر عقل و دانش سے دیکھا جائے، تو اس سے یقیناًاس امر کا بخوبی اندازہ ہو گا، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز میں امام شناسی کی حقیقتیں کس جامعیّت کے ساتھ بیان فرمائی ہیں، اور اس نے امامت کے موضوع میں کس قدر بے پایان وسعتِ معنوی رکھی ہے، کہ قرآنی حکمت کی عظیم کائنات فی الاصل اسی امامت کے موضوع کے باطن میں واقع ہے، کیونکہ امامِ عالی صفات علیہ السّلام کا پاک نور حقیقت الحقائق ہے، اس لئے امام کی حقیقتِ عالیہ کے تحت تمام موجودات کی حقیقتیں جمع ہو جاتی ہیں، چنانچہ ہم یہاں علی التّرتیب ان بارہ آیتوں کی کچھ وضاحت کرتے ہیں، جن کے معانی و مطالب میں اسمِ امام کی بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔
البقرہ (۲) کی آیت ۱۲۴ (۰۲: ۱۲۴) میں پروردگارِ عالم نے
۱۱
فرمایا ہے کہ: ’’ و اذا ابتلیٰ ابراہیم ربہ بکلمٰت فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماماً ۔ اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب کہ ابراہیم کے ربّ نے اس کا امتحان لیا چند کلمات سے تو اس نے انہیں پورا کر دیا تو خدانے فرمایا کہ میں تمہیں سب انسانوں کا امام بنانے والا ہوں۔‘‘
یہاں پر یہ سوال ضرور ہونا چاہئے، کہ اللہ تعالیٰ نے جن کلمات سے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا تھا وہ کس نوعیت کے کلمے تھے اور یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ آیا حضرت ابراہیم پیغمبر تھے یا کہ امام؟ اگر کہا جائے کہ آپ ان دونوں درجوں پر فائز ہوئے تھے، پھر سوال ہو گا، کہ آیا وہ پیغمبر پہلے ہوئے تھے یا امام؟ اگر جواب ملے کہ آپ پہلے پیغمبر پھر امام ہوئے تھے، تو پھر اس کی توجیہہ کرنی ہو گی، نیز یہ سوال بھی ہو، کہ حضرتِ ابراہیم دنیا بھر کے انسانوں کے امام کیسے ہوئے؟ یعنی سیّارۂ زمین کے تمام برِّاعظموں میں آپ نے کس طرح تبلیغ و دعوت کا کام انجام دیا، جب کہ اس زمانے میں پیغام رسانی کے ذرائع محدود تھے؟
جاننا چاہئے، کہ وہ کلمات، جن پر حضرتِ ابراہیمؑ کو آزمایا گیا، جسمانی اور روحانی حدود کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے اسمائےعظام تھے، مثلاً ابتدائی اسم میں حضرت آدم کی روحانیت تھی، دوسرے میں حضرت نوح کی روحانی
۱۲
مثالیں موجود تھیں، تیسرے میں خود حضرتِ ابراہیم کے ماضی و مستقبل پر روشنی ڈالی گئی تھی، چوتھے میں حضرتِ موسیٰ کے تمام روحانی واقعات و معجزات دکھائے گئے تھے، پانچویں اسم میں حضرت عیسیٰ کی روحانی زندگی مندرج تھی، چھٹے میں حضور اکرم کے روحانی کارنامے دکھائے گئے تھے اور ساتویں اسم یا کہ کلمہ میں حضرت قائم القیامت علیہ افضل التحیۃ و السلام کے روحانی معجزات پوشیدہ تھے، نیز ان میں سے ہر ایک اسم کے ساتھ ان حقیقتوں کی روحانی مثالیں بھی موجود تھیں، کہ عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، جد، فتح اور خیال کس معجزانہ طریق سے انبیاء و أئمّہ علیہم السلام کو تائید پہنچاتے رہتے ہیں۔
واضح رہے ، کہ خداتعالیٰ نے حضرتِ ابراہیم کو پہلے نبوّت و رسالت کے منصبِ جلیلہ سے اور اس کے بعد امامت کے درجۂ عالیہ سے سرفراز فرمایا، چونکہ امامتِ عالیہ کے کئی درجات ہیں۔ جن میں سے بعض درجات نبوّت سے پہلے اور بعض اس کے بعد آتے ہیں، تا کہ امام علیہ السّلام مصلحتِ وقت کے مطابق ان میں سے کسی درجے میں ظہور فرمائے اور حاضر رہے۔
حضرتِ ابراہیمؑ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سارے انسانوں کے لئے امام مقرر ہونے کے کئی معانی ہیں، اوّل یہ کہ آپ زمانۂ آدم سے لے کر اپنے وقت تک ماضی میں سارے لوگوں کے امام تھے، دوسرے یہ کہ اپنی زندگی کے دورانِ حال میں
۱۳
امام تھے، تیسرے یہ کہ اپنے سلسلۂ اولاد کی حیثیت سے مستقبل میں امام ہوئے، آپ زمانۂ ماضی میں اسی طرح امام تھے، کہ دورِ آدم اور دورِ نوح کے تمام پیغمبروں اور اماموں کی روحانیت میں آپ کی روحانیت بالکل اسی طرح شریک اور شامل تھی، جس طرح کہ آپ کی روحانیت میں ان سب کی روحانیّت ہمراز و ہمکار تھی، چنانچہ اسی معنیٰ میں ارشاد ہوا ہے: ’’ ان ابراہیم کان امۃ قانتا للّٰہ حنیفا و لم یک من المشرکین ۱۶: ۱۲۰، بے شک ابراہیم ایک فرمانبردار امّت تھا بالکل ایک طرف کے ہونے والا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا‘‘۔ امّت کے معنی امام بھی ہیں اور امّت بھی، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے یہاں دونوں معنی درست اور موزون ہیں، کہ آپ راہنمائی کی حیثیت میں امام تھے اور حضراتِ انبیاء و أئمّہ کی روح و روحانیت کا جامع ہونے کی وجہ سے ایک پوری امت تھے۔
آپ زمانۂ حال یعنی اپنے وقت میں دنیا بھر کے لوگوں کے امام اس طرح تھے، کہ کرۂ ارض کے بارہ حصے مانے گئے ہیں، اور ہر حصہ کو جزیرہ کہا جاتا ہے، جس کی جمع جزائر ہے، چنانچہ ان بارہ جزائر میں سے ہر جزیرے میں ایک حجّتِ شب اور ایک حجّتِ روز کے علاوہ تیس داعی ہمیشہ موجود ہوا کرتے ہیں، اور ہدایت کے مرکز سے خواہ پیغمبر ہو یا کہ امام، کرۂ ارض کے بارہ جزیروں کے تمام حجّتوں کو معجزانہ ہدایت ملتی
۱۴
رہتی ہے، پس اسی معنی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے وقت میں دنیا کے سب لوگوں کے امام تھے، مگر پیغمبر اور امام کے ایسے معجزات کے لئے اقرار کرنا عوام النّاس کے بس کی بات نہیں، جب تک کہ یہ حقائق ان کے مشاہدے میں نہیں آتے ہیں، اور جب تک کہ اس دنیا میں روحانیت کا دور دورہ نہیں ہوتا۔
قرآنِ حکیم میں یہ ارشاد ہے کہ خنّاس (شیطان) جو جنّات اور انسان کی دونوں صورتوں میں ہے، وہ لوگوں کے سینوں میں وسوسہ (برے خیالات) ڈالا کرتا ہے، پس اگر یہ ممکن ہے، کہ شیطان دور و نزدیک کے لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈال کر گمراہ کر سکتا ہے، تو دوسری طرف سے یہ بھی ممکن ہے، کہ پیغمبر اور امام قریب و بعید کے کسی فرق کے بغیر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت پہنچا سکتے ہیں، کیونکہ شیطان مُضِل ہے یعنی گمراہ کر دینے والا، اور پیغمبر یا کہ امام ہادی ہے، یعنی رہنمائی کرنے والا، پس اگر قانونِ قدرت مُضِل کی آواز لوگوں کے دلوں تک پہنچا دیتا اور ہادی کی آواز کسی طرح سے بھی نہ پہنچا دیتا، تو اس صورت میں لوگوں پر بڑا ظلم ہوتا، اور قیامت کے روز لوگوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر یہ حجّت قائم ہوتی، کہ اس نے دنیا میں کیوں گمراہی کے ذریعے کو ہمہ رس اور ہدایت کے وسیلے کو محدود کر رکھا تھا؟ مگر حقیقت کچھ اور ہے، وہ یہی کہ پیغمبر اور امام بارہ جزائر کے حجتوں کو روحانی اور نورانی
۱۵
ہدایت پہنچاتے ہیں، اور حجج (یعنی حجّتان) اپنے اپنے داعیوں کے توسط سے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
حضرتِ ابراہیمؑ مستقبل میں تمام لوگوں کے امام اس معنی میں تھے، کہ جس طرح آپ کی ذاتِ عالی صفات میں زمانۂ سلف کے انبیاء و أئمّہ علیہم السلام کی معجزاتی روحانیّت موجود تھی، بالکل اسی طرح آپ کے سلسلۂ اولاد میں آپ کی زندہ روحانیت موجود اور حاضر تھی، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: ’’ واجعل لی لسان صدق فی الاٰخرین ۔ ۲۶: ۸۴ ، اور میرے لئے بعد میں آنے والے لوگوں کے درمیان سچائی کی ایک زبان مقرر فرما دے‘‘۔ یہ عرض حضرتِ ابراہیم نے خداوند عالم سے کی تھی، نیز ارشاد ہوا ہے کہ: ’’ و جعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون ، ۴۳: ۲۸۔ اور اس (یعنی ابراہیم) نے اسے (نبوّت اور امامت کو) اپنی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ قرار دیا تا کہ وہ (اللہ تعالیٰ کی طرف) رجوع کرتے رہیں‘‘۔
یہاں اس بات سے کہ ابراہیم نے اپنی نبوّت و امامت کو ایک پائندہ کلمے میں اپنی اولاد میں منتقل کر دی، اس حقیقت کی مزید تصدیق ہوئی، جو بتائی گئی تھی، کہ خداوند تبارک و تعالیٰ نے جن کلمات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا تھا، وہ اللہ تعالیٰ کے زندہ نام تھے، جو انبیاء، أئمّہ اور ملائکہ کی روحانی صورت میں تھے۔
پس معلوم ہوا، کہ ابراہیم خلیل الرّحمٰن اسی معنی میں
۱۶
سب دنیا جہان والوں کے امام ہیں، جب یہ نظریہ مانا گیا، کہ نورِ امامت ایک شخصیت سے دوسری شخصیت میں منتقل ہوتے ہوئے ہمیشہ دنیا میں موجود ہے، تو یہ بھی ماننا لازمی ہے، کہ اسی نورِ امامت سے دنیا کے تمام حجّتوں کو، جو بارہ جزیروں پر منقسم ہیں، تائیدی ہدایت ملتی رہتی ہے۔
۱۷
لفظِ امام کے لغوی معنی
سورۂ توبہ (۹) کی بارہویں آیت کا ارشاد ہے کہ:
’’ و ان نکثوا ایمانھم من بعد عہدھم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا أئمّۃ الکفر انھم لا ایمان لھم لعلھم ینتھون ۔ اور اگر انہوں نے اپنے عہد و پیمان کے بعد قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کی تو تم (بھی) کفر کے سرداروں کے خلاف جنگ کرو تا کہ وہ باز آجائیں، بے شک وہ ایسے ہیں، کہ ان کی قسم کچھ چیز نہیں‘‘ (۰۹: ۱۲)۔
اس ارشادِ الٰہی سے ظاہر ہے، کہ أئمّہ، جو امام کی جمع ہے، کفر کے سرداروں کے لئے بھی آیا ہے، چنانچہ معلوم ہوا، کہ امام کے لغوی معنی سردار کے ہیں، اور کسی گروہ کے سردار سے ایک ایسا شخص مراد ہے، جو سب سے مقدم اور بڑا ہو، مثلاً اگر کہا جائے کہ فلان شخص کافروں کا سردار ہے، تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اس سے بڑھ کر کوئی کافر نہیں، اور کفر و کافری کا سبب اور ذریعہ وہی ہے، اور کافروں کی ساری نافرمانیوں اور گمراہیوں کی مسؤلیت بھی اسی پر ہے، اس کے
۱۸
مقابل میں اگر کہا جائے ، کہ فلان شخص مومنوں کا سردار ہے، اور یہ بات صحیح ہو، تو اس کا مطلب یہ ہو گا، کہ اس سے بڑھ کر کوئی مومن نہیں، اور ایمان و مومنی کا وسیلہ و ذریعہ وہی ہے، اور ساری ایمانداری اور ہدایت اسی کی وجہ سے ہے، اور امامِ زمانؑ ہی ایسا شخص ہو سکتے ہیں۔
اس فرمانِ الٰہی کی تعلیم سے جب یہ حقیقت ثابت ہوئی، کہ کفر و کافری کے سردار ہوا کرتے ہیں، اور ان کے بغیر ظلمتِ کفر دنیا میں پھیل نہیں سکتی، تو دوسری طرف سے لازماً یہ بھی ماننا ہی پڑے گا، کہ ہمیشہ سے دین و ایمان کے بھی سردار ہوا کرتے ہیں، اور ان کے حاضر و موجود ہونے کے بغیر زمانے میں دین و ایمان کی روشنی جاری نہیں ہو سکتی ہے۔
حکمت کا ایک اور مفہوم اس آیۂ کریمہ میں یہ ہے، کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی حاضر و موجود سردار (امام) کے حکم کے تحت منظم اور متّفق و متحد ہو جائیں، کیونکہ ارشاد ہے کہ ’’ تم (سب مسلمان) کفر کے سرداروں کے خلاف جنگ کرو‘‘۔ اور اس امرِ الٰہی پر عمل نہیں ہو سکتا، جبکہ کفر کے سردار کے مقابلے میں ایمان کے سردار موجود نہ ہوں اور دنیائے اسلام ان کے حکم کو قبول نہ کرے، اور اگر کہا جائے، کہ اس وقت ایمان کا کوئی ایسا سردار موجود نہیں جو سارے مسلمانوں کو منظم کر سکے، تو اس کے معنی یہ ہوں گے، کہ نعوذ باللہ منھا خدا خواہ مخواہ انہونی باتوں کے لئے بھی حکم دیتا ہے، یا اس
۱۹
کا مطلب یہ ہو گا کہ جہاد کا یہ حکم رسول اللہ کے زمانے سے متعلّق و محدود ہے، لیکن یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے، کہ خدائے حکیم نے جہاد جیسے ایک اہم رکن کے بنیادی ذریعے کو اب دینِ اسلام سے اٹھا لیا ہو، آپ خود خداوندی عدل و انصاف کی روشنی میں سوچئے!
ظاہری جہاد نہ سہی علمی جنگ سہی بہرکیف سب مسلمانوں کے لئے سردار یعنی امام کی ضرورت ہے، آپ اس کرۂ ارض کے تمام مسلمین کی خستہ حالی اور بے چارگی کا تصور کرکے کوئی بنیادی سبب بتائیے، کہ آج مسلمان ہر جگہ مجبور کیوں ہیں؟ اور آپ اس کے سوا اور کیا بتائیں گے، کہ جو مسلمان رسولِ اکرم صلعم کے زمانے میں متّفق و متحد تھے وہ آج متّفرق و منتشر ہیں، اور ان کے اس افتراق و انتشار میں صدیاں گزر گئیں، حالانکہ پروردگارِ عالم نے اس خطرناک نافرمانی سے بچنے کے لئے بروقت ارشاد فرمایا تھا کہ و اعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعا و لا تفرقوا ۔ تم سب کے سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا اور فرقہ فرقہ نہ ہو جانا (کیونکہ تمہارے ہاتھ اس رسی سے چھوٹ جانے کا خطرہ ہے) اب فرقہ فرقہ ہو جانے کا الزام مسلمانوں ہی پر عائد ہوتا ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کی رسی پر، کہ اس نے کیوں ان کو زور و زبردستی سے ایک مرکز پر نہیں لایا، کیونکہ خداوندِ عالم نے یہاں یہ نہیں فرمایا، کہ میری رسی! تم سارے
۲۰
مومنین و مسلمین کو اپنی ذات کی معرفت سے وابستہ کئے رکھنا اور ان کو فرقہ فرقہ نہ ہونے دینا، بلکہ اس نے تو یہ فرمایا کہ اے گروہِ مسلمین! تم سب یکجا طور پر خدا کی مضبوط رسی کو بڑی مضبوطی سے پکڑے ہوئے رہنا اور فرقہ فرقہ نہ ہو جانا۔
۲۱
کیا کوئی آسمانی کتاب امام ہو سکتی ہے؟
سورۂ ہود (۱۱) آیت ۱۷ (۱۱: ۱۷) میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : افمن کان علیٰ بینۃ من ربہ و یتلوہ شاہد منہ و من قبلہ کتٰب موسیٰ اماما و رحمۃ ۔ تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو، اور اس کے پیچھے ہی پیچھے اسی سے ایک گواہ ہو اور اس کے قبل موسیٰ کی کتاب (توریت) جو (لوگوں کے لئے) امام اور رحمت تھی (اس کی تصدیق کرتی ہو وہ شخص بہتر ہے یا کوئی دوسرا)۔
اس آیۂ کریمہ کی تعلیم یہ ہے کہ آنحضرت صلعم اپنے ربّ کی طرف سے دلیلِ روشن پر ہیں یعنی آپ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں، اور علیّ مرتضیٰؑ جو آپ کا جزو ہیں، آپ کے پیچھے ہی پیچھے حضور کی حقّانیت کا ایک گواہ ہیں، اور اس کے بارے میں ایک اور گواہ آنحضرتؐ کے قبل حضرت موسیٰؑ کی کتاب توریت ہے، جو لوگوں کے لئے امام اور رحمت تھی، اور یہ ساری حقیقتیں مسلّمہ ہیں مگر سوال کتابِ موسیٰ یعنی توریت کے بارے میں ہے، کہ وہ کس حیثیت میں امام تھی؟
۲۲
اس کا جواب یہ ہے، کہ یہ بات عربی زبان کے دستور میں شامل ہے، کہ بعض دفعہ کسی چیز کو دوسری ایسی چیز کے نام سے پکارا جاتا ہے، جو اکثر اس کے ساتھ ہو،مثلاً اس اونٹ کو، جو پانی کی مشکیں لادنے کے لئے مقرر ہو، مشک یا مشکیزہ کہا جاتا ہے، اور یہ مثال عربی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی مل سکتی ہے، چنانچہ اہلِ علم اس حقیقت سے آگاہ ہیں، کہ آنحضرت صلعم کو قرآنِ مجید (۶۵: ۱۰ تا ۱۱) میں ذکر کے اسم سے موسوم کیا گیا ہے، حالانکہ ذکر قرآن کا نام ہے، اور اس معنی میں حضورِ اکرم صلعم کو قرآن کہا گیا ہے، اور یہ بات کئی وجوہ سے درست ہے، جن میں سے کچھ وجہیں ظاہری اور کچھ باطنی ہیں، پس ثابت ہوا، کہ روحانی پیشوا (پیغمبر یا امام) کو کتابِ الٰہی اور کتابِ سماوی کو پیشوا یا امام کہا جاتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آسمانی کتاب یعنی توریت کو امام کے اسم سے موسوم کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے، کہ ہر الہامی کتاب فی الاصل ایک زندہ نور یعنی علم و حکمت کی روح کی حیثیت سے ہوتی ہے، اور وہ بحقیقت امام ہی کی روح ہے، الغرض مولانا ہارون علیہ السلام کی روحِ مقدّس حضرت موسیٰ پر بصورتِ روحانی کتاب وحی کی گئی تھی، پھر ان روحانی حالات و واقعات کی کچھ ترجمانی کرتے ہوئے کاغذی تحریر کی توریت لکھی گئی تھی۔ مگر اصل توریت روحانی اور نورانی صورت میں موجود تھی، یعنی حقیقی توریت تو امامِ عالی صفات کے نور
۲۳
سے جدا نہ تھی، جیسا کہ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ: قل من انزل الکتٰب الذی جاء بہ موسیٰ نورا و ہدی للناس تجعلونہ قراطیس تبدونھا و تخفون کثیرا ،۰۶: ۹۱۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجئے وہ کتاب جسے موسیٰ لے کر آئے تھے کس نے نازل کی تھی جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی جسے تم لوگوں نے کاغذات کی (تحریری) صورت دی ہے، جس میں کچھ تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر چھپاتے ہو۔
اس آیۂ مقدسہ کی حکمت یہ بتاتی ہے، کہ توریت دو صورتوں میں موجود تھی، چنانچہ پہلی اور اصلی صورت میں توریت علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے معجزاتی نور اور ہمہ گیر مقدس روح کی حیثیت سے ہارون اور موسیٰ علیہم السّلام کے دل و دماغ میں موجود تھی، جس سے بمصداق ’’ ھدی للنّاس ‘‘ اس طرح لوگوں کو معجزانہ ہدایت ملتی تھی، کہ براہِ راست حجّتانِ جزائر کو الہامی روشنی حاصل ہوتی تھی، پھر وہ اپنے اپنے داعیوں کے ذریعہ لوگوں کی ہدایت کرتے رہتے تھے، دوسری صورت میں توریت جو کچھ بھی تھی، اس کا حال آیۂ مندرجۂ بالا میں ظاہر اور واضح ہے۔
اب اس قرآنی حکمت کی تفصیل سے یہ حقیقت پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی، کہ توریت یقیناًاپنی اصلی حالت اور نوری کیفیت میں امام تھی، جس سے حضرت مولانا ہارون علیہ السّلام
۲۴
کا پاک نور مراد ہے، اس حقیقت کی مزید تصدیق و توثیق کے لئے اس آیۂ مقدسہ پر ذرا غور کیا جائے کہ: ’’ و کذالک او حینا الیک روحا من امرنا ما کنت تدری ما الکتاب و لا الایمان و لٰکن جعلنٰہ نورا نھدی بہ من نشاء من عبادنا ، ۴۲: ۵۲۔ اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف (یہ کتاب بصورت) ایک روح نازل کی ہے، آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان (کا انتہائی کمال ) کیا چیز ہے لیکن ہم نے اس (روح) کو ایک نور بنایا جس کے ذریعے سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں‘‘۔ اس ارشادِ الٰہی سے یہ حقیقت ظاہر ہے ، کہ قرآن حکیم کی بھی ایک ایسی روحانی اور نورانی اصلیت و حقیقت موجود ہے، جس کو پیغمبر اور امام کا نور کہا جاتا ہے۔
اگر کوئی شخص الہامی کتاب اور نور کے مذکورہ حقائق و معارف کے باوجود، جو قرآنِ حکیم کی روشنی میں بیان ہوئے، یہ سوال کرے، کہ آسمانی کتاب پیغمبر اور امام کے نور میں کس طرح موجود ہو سکتی ہے؟ تو اس کا مفصل جواب پھر عقلی طور پر دیا جائے گا، کہ دیکھو جب تم اپنے کسی عزیز کو ایک خط لکھتے ہو، تو وہ اپنے دل و دماغ کی معلومات سے لکھتے ہو، اس میں کبھی ایسا نہیں ہوتا، کہ جتنی معلومات لکھی گئی ہیں، وہ تمہارے ذہن سے خارج ہو کر خط میں اس طرح محدود ہو جائیں، جس
۲۵
طرح کہ کوئی مادّی چیز ایک برتن سے دوسرے برتن میں ڈالنے کے بعد پھر وہ چیز پہلے برتن میں پائی نہیں جاتی ہے، بلکہ وہ معلومات، جو خط میں تحریر ہوئی ہیں، تمہارے دل و دماغ میں اپنی اصلی حالت پر قائم ہیں، ان میں ذرا بھی کمی نہیں آئی، وہ جب تک انسانی ذہن میں ہیں، تو ان کی تحریری صورت نہیں ہوتی بلکہ وہ معلومات قلبی اور ذہنی کیفیت میں موجود ہوتی ہیں، اور یہ بات اس بحث سے علیحدہ ہے، کہ انسان اپنی قوتِ ارادی سے خیال میں بھی کوئی تحریر کر سکتا ہے۔ پس اس مثال و دلیل سے یہ حقیقت واضح ہو گئی، کہ قرآن کے علم و حکمت کا جو معجزاتی نور محمد و علی علیھما السّلام کی ذاتِ اقدس میں طلوع ہوا تھا، وہ قرآن کے لکھنے سے کم نہیں ہو سکتا تھا۔
اب اگر یہاں یہ سوال بھی ہو، کہ قرآن پیغمبر اور امام کی معلومات میں سے نہیں لکھا گیا تھا، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ سے آنحضرتؐ پر نازل فرمایا تھا، تو اس کا یہ جواب دیا جائے گا، کہ بے شک قرآن آنحضرتؐ پر لوحِ محفوظ سے نازل کیا گیا ہے، لیکن یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے، کہ وہ کس طرح نازل ہوا ہے اور لوحِ محفوظ کیا ہے، چنانچہ جاننا چاہئے، کہ قرآن ایک زندہ روح کی حیثیت سے حضورِاکرمؐ کے قلبِ مبارک پر نازل ہوا ہے، اور نزولِ قرآن کا تذکرہ اسرارِ روحانیت سے مملو ہے، جس کے لئے جداگانہ کوئی مقالہ ہونا چاہئے، المختصر یہ ہے، کہ جو چیز دل میں نازل ہوتی ہے
۲۶
وہ معلومات اور معقولات کی صورت اختیار کر لیتی ہے، اور اگر دل پاک ہے تو معلومات و معقولات کا یہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جاتا ہے، تا آنکہ ساری کائنات و موجودات اس میں سمو آتی ہیں، چنانچہ قرآن کی روح جو حضورِ اکرم صلعم پر وحی کی گئی تھی، آپ کی ذاتِ اقدس میں عالمِ ملکوت (فرشتوں کا عالم) بن کر آ گئی تھی، وہ علم و حکمت اور کشفِ حقیقت کی ایک جیتی جاگتی روشن دنیا تھی، جس کے مشاہدات اور تجربات کی ترجمانی عربی زبان میں حضورِ انور صلعم نے فرمائی، اور اسی طرح قرآنِ پاک کی تحریری صورت جمع کی گئی، لیکن قرآن کی روح یا کہ نور بلا کم و کاست حضور کی ذاتِ شریف میں آخری وقت تک موجود تھا۔
اب رہا سوال کہ پھر یہ روح علئ مرتضیٰؑ میں کس طرح آئی؟ اس کے لئے جواباً تحریر کی جاتی ہے، کہ (بحکم: و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ۔ ) نورِ علی، امامِ مبین، کتابِ مبین، ام الّکتاب اور لوحِ محفوظ ہے اور اس میں سب کچھ ہے، اور امام کے نور کے سوا دوسری کوئی چیز لوحِ محفوظ کے درجے میں نہیں ہو سکتی ہے، کیونکہ اگر لوح کے لفظی تصور سے یہ مان لیا جائے، کہ خدا کی ایک بہت بڑی تختی ہے، جس پر ہر چیز لکھی ہوئی موجود ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے، کہ اس ظاہری قسم کی تحریر اور لکھت میں ہر چیز نہیں آ سکتی ہے، مثلاً عقل، شعور، فہم، نطق، تمیز، خوشی،
۲۷
غم و غصہ، علم، حلم اور زندگی کے علاوہ عقول، نفوس، ملائکہ اور کائنات و موجودات کی ہر چیز نیز زمانہ اور اس کے بدلتے ہوئے حالات وغیرہ، یہ تمام باتیں ’’ کل شیء ‘‘ میں داخل ہیں، پس معلوم ہوا، کہ لوحِ محفوظ امام کے نور کا نام ہے، اور یہ نور کائنات و موجودات کے ظاہر و باطن پر محیط و حاوی ہے اور اسی طرح اس میں سب کچھ ہے۔
جاننا چاہئے، کہ عقلِ کل خدا کا زندہ قلم ہے اور نفسِ کل خدا کی زندہ تختی ہے، نیز یہ بھی جاننا چاہئے ، کہ عقلِ کل محمد کا نور ہے، اور نفسِ کل علی کا نور ہے، اور قرآن عقلِ کل کے قلم سے نفسِ کل کی لوح پر روحانی تحریر میں لکھا گیا ہے، اب آپ ہی بتائیے، کہ آنحضرتؐ کی شخصیت پر جو روحانی تحریریں منکشف ہوئیں یا جو قرآن نازل ہوا، وہ کہاں سے ہوا، علّئ عالی صفات کے نور سے، جو لوحِ محفوظ کے نام سے مشہور ہے، اگرچہ آنحضرتؐ کا نور قلمِ الٰہی کی حیثیت سے تھا، لیکن قلم نے تو ازل میں خدا کے امر سے لوح پر سب کچھ لکھ دیا ہے، اور اب ہر چیز لوحِ محفوظ پر موجود ہے، نیز ظاہر ہے، کہ لکھنے کے لئے قلم کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، اور پڑھنے کے لئے تختی کی طرف، پس معلوم ہوا کہ آنحضرتؐ نے علیؑ کے نور کو ام الکتاب اور لوحِ محفوظ سے خدائی تحریروں کی حکمت کا مشاہدہ کیا تھا، اور یہیں سے یہ پاک قرآن حاصل آیا ہے۔
۲۸
امامِ مبین
سورۂ حجر (۱۵) آیہ ۷۹ میں ارشاد ہے کہ:
’’ فانتقمنا مھم و انھما لبامام مبین ۔ ۱۵: ۷۹۔ پس ہم نے ان سے بدلہ لیا اور یقیناًوہ دونوں (اجڑی ہوئی بستیاں) کھلی شاہراہ پر ہیں‘‘۔
اس آیۂ کریمہ کا ظاہری پہلو قومِ لوط اور قومِ شعیب اور ان دونوں کی بستیوں سے متعلق ہے، کہ وہ لوگ اپنے پیغمبروں کو جھٹلانے کے انجام میں عذابِ الٰہی سے ہلاک ہوئے تھے، اور ان دونوں کی بستیاں تباہ و برباد ہو چکی تھیں، چنانچہ قومِ لوط کی بستیاں سدوم وغیرہ اور قومِ شعیب کی بستی مدین تباہ و برباد ہو جانے کے آثار نشانات عرب سے شام کو جاتے ہوئے اب بھی نظر آتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ یہاں لفظِ امام لغوی لحاظ سے رستے کے معنی میں آیا ہے، اس میں ذرا بھی شک نہیں، کہ حکمت کے اعتبار سے بھی امام رستہ ہیں، یعنی صراطِ مستقیم اور سبیلِ خدا، اور رستے کے دوسرے اور بھی نام ہیں، جیسے مذہب، مسلک، شریعت، طریقت، منہاج وغیرہ، تو ان تمام الفاظ سے امامِ
۲۹
عالی صفات مراد ہے، کیونکہ دنیاوی اور مادّی اعتبار سے راہ اور راہنما دو الگ الگ چیزیں ہوا کرتی ہیں، مگر دینی اور روحانی لحاظ سے ہدایت کے واحد نور کا نام راہ بھی ہے اور راہنما بھی، اس حقیقت کی ایک روشن دلیل قرآنِ پاک سے یہ ہے جو ارشاد ہوا ہے کہ: ’’ ان ربی علیٰ صراط مستقیم ۔ یقیناً میرا پروردگار سیدھی راہ پر ہے‘‘۔ یعنی چراغِ ہدایت اور نورِ معرفت کی روشنی میں خدا ملتا ہے، یا اس مطلب کو سادہ الفاظ میں یوں ادا کرنا چاہئے، کہ امامِ اقدس کا پاک نور ہی وہ سیدھا رستہ ہے جس پر کہ خدا ہے، اور بندگانِ خدا کے لئے خدا کا حقیقی تصور، دیدار و ملاقات اور معرفت اسی نور کے رستے پر یقینی ہے، اور نور کا یہ رستہ ہمیشہ کے لئے قائم و باقی ہے۔
اس آیۂ مقدسہ کی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے، کہ امامِ مبین کا مطلب جیسا کہ ذکر کیا گیا صراطِ مستقیم ہے، جو نور کا راستہ ہے، چنانچہ جب حقیقی مومنین امامِ مبین کی روحانیت و نورانیت کے رستے پر چلتے رہتے ہیں، تو وہ دیدۂ دل سے سابقہ امتوں کی بے شمار مثالوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، اور اس سلسلے میں قومِ لوط اور قومِ شعیب اور ان دونوں کی بستیوں کا حال بھی شامل ہے۔
نیز اس ارشادِ الٰہی میں ایک اور حکمت یہ بھی ہے، کہ عددی اصول کے اعتبار سے ’’ایک‘‘ کا عدد اللہ تعالیٰ
۳۰
کی وحدانیت پر دلیل ہے، اور اس کے بعد ’’دو‘‘ کا عدد آتا ہے، جو وحدت اور کثرت کے درمیان ہے، یعنی دونوں کے مابین واسطہ اور وسیلہ ہے، اور اس کی ایک خاصیت یہ ہے، کہ کثرت کو وحدت کے قریب لاتا ہے، پس دو کا عدد از روئے حکمت مخلوقات و موجودات میں سے ایسی دو ہستیوں کے لئے مقرر ہے، جو دونوں جہان میں خدا کے بعد انہی کا درجہ ہے، جس طرح اعداد و شمار میں ایک کے بعد دو آتا ہے، اور وہ دو ہستیاں ہیں عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ، چنانچہ اب اس لحاظ سے ’’ و انھما لبامام مبین ‘‘ کی تأویل یہ ہے کہ: عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ امامِ مبین کے ساتھ ہیں۔ کیونکہ عالمِ ہست و بود اور حدودِ روحانی میں سب سے عظیم دو فرشتے یہی ہیں۔
نیز جاننا چاہئے،کہ مراتبِ کائنات میں دو سب سے بڑی چیزیں عرش و کرسی ہیں، عالمِ علمِ الٰہی میں قلم و لوح ہیں، کونِ وحدت میں ربوبیت و عبودیت ہیں، دنیائے اسلام میں قرآن و حدیث ہیں، حدودِ جسمانی میں ناطق و اساس (محمد و علی علیہما السلام) ہیں، دائرۂ ہستی میں روحانیت و جسمانیت ہیں، مقاماتِ تعلیم میں مجمع البحرین یعنی دو ملے ہوئے سمندر ہیں، عرصۂ وجود میں دنیا و آخرت ہیں وغیرہ، چنانچہ ’’انھما‘‘ کی اس ضمیرِ تثنیہ میں مذکورہ دنیاؤں کی ان عظیم چیزوں کی طرف اشارہ ہے، کہ جن پر
۳۱
دو کے عدد کا بحقیقت اطلاق ہوتا ہے، پس یہ حقیقت واضح اور روشن ہوئی، کہ امامِ مبین اُس ہستی کا نام ہے، جس کی ذاتِ عالی صفات سے کوئی حقیقت جدا اور دور نہیں۔
۳۲
امامؑ کی دائمیّت کا تصوّر
سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) آیت ۷۱ میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ یوم ندعوا کل اناس بامامھم ۔ ۱۷: ۷۱۔ جس دن ہم تمام (زمانوں کے) لوگوں کو اپنے اپنے امام کے ساتھ بلائیں گے‘‘۔ یاد رہے، کہ یہ آیت لفظی معنی کے لحاظ سے اس قسم کی ہے، جس طرح کہ: قد علم کل اناس مشربھم ۔ ۰۲: ۶۰۔ سب قبیلوں نے اپنا اپنا گھاٹ جان لیا۔ چنانچہ اس آیۂ کریمہ کی حکمت کے سلسلے میں یہاں سب سے پہلے لفظ ’’اناس‘‘ کا مطلب سمجھنا ضروری ہے، اور وہ اس طرح سے ہے، کہ اناس انس کی جمع ہے، اور اس کی دوسری صورت اناسی ہے، جو کہ قرآنِ کریم میں لوگوں کی چھوٹی تقسیم کے لئے آیا ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے لوگوں کو امتِ موسیٰ یا کہ قومِ موسی کہا جاتا ہے، اور انہیں کسی اضافت و نسبت کے بغیر ناس بھی کہا جاتا ہے، مگر سب کو ملا کر اناس نہیں کہا جاتا۔ کیونکہ اناس قرآن میں لوگوں کی چھوٹی تقسیم کے لئے استعمال ہوا ہے، یعنی حضرت موسیٰؑ کی قوم کے بارہ قبیلوں میں سے ہر قبیلے کو اناس کہا گیا ہے۔ اس کا
۳۳
مطلب یہ ہوا، کہ امامِ وقت کی نسبت سے انسانوں کو اناس کہا گیا ہے۔ جس طرح کہ پیغمبر کی نسبت سے لوگوں کو امت یا قوم کہا جاتا ہے، چونکہ ہر ناطق پیغمبر کے دور میں کئی امام ہوا کرتے ہیں، پس ہر امام کے زمانے کے لوگ امت اور قوم نہیں کہلائیں گے بلکہ اناس کہلائیں گے۔
حقائق بالا مظہر ہیں، کہ امامِ عالی مقام ہمیشہ سے دنیا والوں کے درمیان موجود و حاضر ہیں، اور یہی سبب ہے، کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی عدالت گاہ میں ہر زمانے کے لوگوں کو ان کے امامِ وقت کے ساتھ بلا لے گا۔ یہ اس لئے کہ خدا نے امام کو دنیا والوں کے لئے سرچشمۂ ہدایت اور وسیلۂ نجات بنایا ہے، مگر لوگوں نے اسے نہیں پہچانا، نیز اس لئے کہ امام علیہ السلام لوگوں کے اعمال پر گواہ ہیں، چنانچہ خدا تعالیٰ لوگوں کے اچھے اور برے اعمال کا فیصلہ نہیں فرمائے گا، جب تک کہ امام علیہ السّلام ان کے اعمال کے متعلق گواہی نہ دے۔
اس اصول کا جاننا ضروری ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات پیغمبر اور امام علیہما السّلام کی نسبت سے ہیں۔ اور ایسی صفات معلوم کر لینے کا طریقہ یہ ہے، کہ خدا تعالیٰ کے سو (۱۰۰) ناموں کو دیکھا جائے، پھر پیغمبر کے سو (۱۰۰) ناموں کو دیکھا جائے اور اس کے بعد امام کے سو (۱۰۰) ناموں کو دیکھا جائے، اب خدا کے جو جو اسمِ صفاتی پیغمبر اور امام کے اسماء میں آئیں
۳۴
گے، وہ خدا کے ایسے اسماء ہوں گے، جو پیغمبر اور امام علیہما السلام کی نسبت سے ثابت ہیں۔ مثلاً خدا کے اسمائے صفاتی میں سے ایک اسم الہادی ہے، یعنی ہدایت کرنے والا، یہی اسمِ صفت رسولِ اکرم کا بھی ہے اور امامِ اطہر کا بھی، پس دانشمندوں کے لئے ظاہر ہے، کہ خدا اس لئے ہادی ہے، کہ اس نے ہدایت کے لئے پیغمبر بھیجا اور پیغمبر اس لئے ہادی ہے، کہ اس نے اپنے وقت میں لوگوں کی ہدایت کی اور آئندہ لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنی آل سے امام مقرر فرمایا، اور کارِ ہدایت امام پر آ کر مکمل ہوا۔
اسی طرح خدا کے ناموں میں سے ایک نام الشہید ہے، یعنی ’’گواہ‘‘ نیز پیغمبر اور امام علیہما السلام کا بھی یہی نام ہے، اور اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ خدا نے پیغمبر کو گواہ کے طور پر بھیجا ہے، اور پیغمبر نے بحکمِ خدا امام کو اپنی جگہ میں لوگوں پر گواہ بنایا ہے، پس لوگوں کے اعمال پر گواہِ مطلق امامِ عالی مقام ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ خدا قیامت کے دن ہر زمانہ کے لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلا لے گا۔
۳۵
خدا امامؑ سے ہر وقت مخاطب ہے
سورۂ انبیاء (۲۱) آیت نمبر ۷۳ میں خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ و جعلنٰھم ائمۃ یھدون بامرنا ۔ اور ہم نے ان کو (لوگوں کے ) ائمہ بنایا کہ وہ ہمارے امر کے بموجب لوگوں کو ہدایت کرتے تھے‘‘ (۲۱: ۷۳)۔
اس آیۂ کریمہ کی حکمت سے صاف طور پر ظاہر ہے، کہ أئمّۂ برحق کا تقرر اللہ تعالیٰ خود ہی فرماتا ہے، اور حضراتِ أئمّہ پروردگارِ عالم کے منشاء و امر کے مطابق لوگوں کو ہدایت کیا کرتے ہیں، نیز اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے، کہ امر و ارشاد فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ ہر وقت أئمّۂ اطہار سے مخاطب ہوتا ہے، اس خطابِ الٰہی کو خواہ ہم توفیقِ خاص کہیں یا نورانی ہدایت یا وحی بہرحال امامانِ برحق کو خدا تعالیٰ کا امرو فرمان وقت اور جگہ کی ضرورت کے موافق تازہ بتازہ حاصل ہوتا رہتا ہے، چونکہ امرِ باری تعالیٰ انہی صاحبان کے لئے مخصوص ہے، یعنی یہ حضرات ایک طرف سے تو اللہ تعالیٰ کا امر و فرمان حاصل کرتے رہتے ہیں، اور دوسری طرف سے لوگوں کو نافذ کر دیتے ہیں اور اسی معنی میں یہ حضرات اولوا الامر کہلاتے ہیں۔
۳۶
ہر وہ دانشمند جو خدا کی ہستی کا قائل ہو، ذرا غور و فکر کرکے اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے، کہ خدا تعالیٰ کے قانونِ رحمت کی رو سے یہ بات قطعاً ناممکن ہے ، کہ خدا جو رحمان و رحیم ہے، کسی وقت دنیا والوں سے اپنا ذریعۂ امر و ہدایت (یعنی امامِ زمان) اٹھا لے، نیز یہ بھی محال ہے کہ دنیا والے کسی وقت خدا کے سرچشمۂ ہدایت سے بے نیاز ہو جائیں، پس واجب و لازم ہے، کہ ہر زمانے میں امام بلباسِ بشریت لوگوں کے درمیان حیّ و حاضر ہو، خواہ نبوّت کا دور ہو یا امامت کا۔
واضح رہے، کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک جو زمانہ گزر چکا ہے، اسے دورِ نبوّت کہتے ہیں، اور آنحضرتؐ سے قیامت تک جو زمانہ گرز رہا ہے اسے دورِ امامت کہا جاتا ہے، اور ان دونوں زمانوں میں یہ فرق ہے، کہ دورِ نبوّت میں بعض أئمّۂ کرام علیہم السلام خدا کے امر سے امامت کے ساتھ ساتھ کارِ نبوّت کو بھی انجام دیتے تھے، لیکن دورِ امامت چونکہ دورِ قیامت ہے اس لئے اس میں آلِ محمد کے أئمّۂ طاہرین صرف امورِ امامت سے متعلق فرائض کو انجام دیتے آئے ہیں۔
۳۷
پرہیزگاروں کے امام
سورۂ شعراء (۲۵) آیت نمبر ۷۴ میں لفظِ امام اس انداز میں آیا ہے کہ: و الذین یقولون ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریتنا قرۃ اعین و اجعلنا للمتقین اماما ۔ اور وہ لوگ جو (ہم سے) عرض کیا کرتے ہیں، کہ پروردگار ہمیں ہماری بیبیوں سے اور ہماری ذریت سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا دے (۲۵: ۷۴)۔
اس آیۂ مقدسہ کی حکمتوں میں سے ایک نمایان حکمت یہ ہے، کہ اس دعا کا زیادہ تر تعلق أئمّۂ کرام علیہم السلام سے ہے، کیونکہ صرف وہی حضرات یہ شان رکھتے ہیں، کہ اپنی اولاد اور ذرّیات کی حیثیت میں بھی امام بن جائیں۔
اس آیۂ دعائیہ سے یہ حقیقت ظاہر ہے، کہ امامِ برحق اپنی اولاد و احفاد کی شخصیتوں میں بھی امام ہوتا ہے، چنانچہ اسماعیلیوں کا یہ عقیدہ درست ہے، جو کہتے ہیں کہ مولانا علیؑ شاہ کریم الحسینی حاضر امام کے جامۂ بشریت میں موجود و حاضر ہیں۔
آیۂ مذکورہ بالا کے حکیمانہ انداز میں عقل و دانش والوں
۳۸
کے لئے سلسلۂ امامت کی لا انتہائی کا ذکر موجود ہے، وہ اس طرح کہ نہ صرف زمانۂ ماضی میں بلکہ حال اور مستقبل میں بھی ہر امام مذکورہ ارشاد کے مطابق اپنے پروردگار سے یہی درخواست کرے گا، کہ وہ اپنی شخصیت کے علاوہ اپنے بیٹوں اور آئندہ نسل کی حیثیت میں بھی پرہیزگاروں کا امام بنتا رہے، اور بغیر کسی انتہا کے یہی سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری رہے گا۔ اگر بہت سے زمانوں کے بعد سیّارۂ زمین کی مدتِ عمر ختم ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نورِ امامت کو کسی دوسرے سیارے پر منتقل کر لے گا۔ جیسا کہ شروع میں یہ نور دوسرے سیّارے سے نازل ہوا تھا جس کو ہبوطِ آدم کہتے ہیں۔
جاننا چاہئے کہ پرہیزگاروں کا امام بننے کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ امامِ عالی مقام کے وجودِ مبارک سے پہلے کچھ پرہیزگار لوگ موجود ہوں۔ پھر اس کے بعد امام پیدا ہو جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے، کہ امامِ زمان کی ہدایت کے نتیجے میں کسی کو پرہیزگاری حاصل آتی ہے اور پھر امام ان سے منسوب ہو کر ’’امام المتّقین‘‘ کہلاتا ہے۔ یا یوں کہنا چاہئے ، کہ جب امام دنیا میں ہمیشہ سے ہیں تو نتیجے کے طور پر پرہیزگار بھی ہیں اور پرہیزگاری بھی۔
ایک اور عظیم حکمت یہاں لفظ ’’ذرّیت‘‘ میں پنہان ہے، ویسے تو لفظ ذرّیت میں ایک نہیں بلکہ بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ مگر ہم یہاں اختصار سے کام لیتے ہیں، کہ
۳۹
ذرّیت اور ذرّہ ایک ہی مادہ کے الفاظ ہیں۔ جاننا چاہئے، کہ ذرّیت اور اولاد کے درمیان بڑا فرق ہے، اور وہ یہ ہے کہ ذرّیت نام ہے ذرّۂ روح یا نقطۂ روح کا، جو انسان کے خون و خلیات میں ہے اور ابھی تولید کے مراحل سے نہیں گزرا ہے، اور اولاد ایسے ذرّات کو اس وقت کہا جاتا ہے، جبکہ یہ تولید کے مراحل سے آگے گزر چکے ہوں، اس حقیقت کی ایک روشن دلیل، کہ جسمِ انسانی کے خون اور خلیات کے اندر جو زندگی یا روحِ حیوانی کے بے شمار ذرّات موجود ہیں، ان کا قرآنی نام ذرّیت ہے، :ارشادِ قرآنی کی صورت میں یہ ہے
’’ و اٰیۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون ۔ ۳۶: ۴۱۔ اور ان کے لئے یہ بھی ایک معجزہ ہے، کہ یقیناً ہم نے ان کی ذرّیت (یعنی ان کی زندگی کے ذرّات) کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا”۔ یعنی جو مومنین کشتئ نوح میں بوقتِ طوفان سوار ہوئے تھے، ان کے خون و خلیات میں ان منکرین کی زندگی کے ذرّات یعنی ذرّیت موجود تھی۔ نیز کلامِ پاک میں یہ بھی ارشاد ہے: ’’ و اذ اخذ ربکم من بنی آدم من ظھورہم ذریتھم ، ۰۷: ۱۷۲۔ اور جب آپ کے ربّ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی ذرّیت کو لیا”۔ اس آیۂ کریمہ سے ظاہر ہے، کہ حضرت آدم کے بیٹوں کی پشتوں سے جو روحیں لی
۴۰
گئی تھیں، ان میں دنیا بھر کے لوگوں کی روحیں شامل تھیں، کیونکہ اس موقع پر خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی روحوں کو جس مقصد کے لئے بیدار کر دیا تھا، اس کا تعلق چند روحوں سے نہیں بلکہ ساری ارواح سے تھا، بہرکیف مذکورۂ بالا تینوں آیات کا خلاصہ یہ ہے، کہ ذرّیت ان بے شمار روحوں کا نام ہے، جو انسانی خون و خلیات کے اندر ایک قسم کی خوابیدہ حالت میں موجود ہیں، جن میں سے صرف چند روحیں قانونِ فطرت کے مطابق اولاد کی صورت میں نمودار ہوتی ہیں، اور باقی البتہ ویسے ہی خیال، توجہ، محبت، تعلیم ، دعائے خیر وغیرہ کی روحانی لہروں سے اپنوں اور بیگانوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں، یہی باتیں أئمّۂ طاہرین کی مذکورہ دعا میں بھی پائی جاتی ہیں کہ ان حضرات کے نزدیک آنکھوں کی ٹھنڈک (یعنی فرزند) دو صورتوں میں ممکن ہے، چنانچہ پہلی صورت جسمانیّت کی ہے، اور دوسری روحانیّت کی، پس ’’ و من ذریتنا = اور ہماری ذرّیت سے‘‘ میں جسمانی اولاد کا تذکرہ نہیں، بلکہ اس سے روحانی فرزند مراد ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے جو دعا کی گئی ہے، اس میں حضراتِ أئمّہ کی جسمانی بیبیاں شریک نہیں کی گئی ہیں۔
۴۱
امام کے روحانی فرزندوں کا درجہ
سورۂ قصص (۲۸) آیت نمبر ۵ میں لفظِ امام صیغۂ جمع میں اس طرح سے آیا ہے کہ: و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم ائمۃ و نجعلھم الوٰرثین ۔ اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ روئے زمین پر کمزور کر دئے گئے ہیں ان پر احسان کریں اور انہی کو (لوگوں) کے أئمّہ بنائیں اور انہی کو اس (سرزمین) کے وارث بنائیں (۲۸: ۰۵)۔
آیۂ مذکورۂ بالا ظاہراً حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون اور ان کے فرمانبردار مومنین کے بارے میں ہے، اور باطناً تمام أئمّۂ برحق اور ان کے سارے روحانی فرزندوں کے بارے میں ہے، اور اس آیت کا خلاصہ و نتیجہ یہ ہے، کہ دنیا میں امامِ عالی صفات اور اس کے ماننے والوں کو کمزور سمجھا جاتا ہے، ان پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جاتے ہیں اور ان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر خداوندِ عالم منکرین کے ایسے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتا ہے، اور امام اور اس کے حقیقی پیروؤں پر احسان کرتا ہے، درختِ امامت کو پھلنے پھولنے کا موقع عنایت کرتا ہے، امام اور اس کے روحانی فرزندوں
۴۲
کو ظاہری و باطنی مال و ملک کا وارث بنا دیتا ہے، اور ان کو دین و دنیا کی سرداری عطا کر دیتا ہے۔
ذرا غور و فکر کرنے سے آپ کو معلوم ہو گا، کہ اس آیۂ کریمہ نے حقیقی مومنین یعنی امام کے روحانی فرزندوں کو درجۂ امامت میں شامل کر دیا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں، اوّل اس لئے کہ دنیا کی کوئی فاتح قوم اپنا کوئی سردار منتخب کرتی ہے، تو یہ سرداری ساری قوم کی ہے، بالفاظِ دیگر پوری قوم سردار ہے، دوسرا اس لئے کہ اگر ایک شخص بادشاہ بننے میں کامیاب ہو گیا، تو اس کامیابی میں اس کے عزیز و احباب بھی شریک ہیں، اور تیسرا اس لئے کہ اگر باپ بادشاہ ہے، تو یقیناً بیٹا بھی بادشاہ ہو گا، یا کسی بڑے عہدے پر فائز ہوگا، بشرطیکہ لائق اور فرمانبردار ہو۔
سوال: اگر ایک ہندو اسلام قبول کر کے امامِ برحق کا مرید بنتا ہے تو وہ کس طرح امام کا روحانی فرزند ہو سکتا ہے جبکہ اس کی روح ہندوانہ تعلیم سے بنی ہوئی ہے؟
جواب :
ا۔ وہ اس طرح امام کا روحانی فرزند بن سکتا ہے، جس طرح کہ سلمان فارسی پیغمبر کا یا امام کا روحانی فرزند بن گیا تھا۔ حالانکہ وہ شروع شروع میں آتش پرست تھا۔
۲۔ اگر کوئی تالاب گندہ اور ناپاک پانی سے بھرا ہوا ہے، تو اس کو بڑی آسانی سے صاف اور پاک کر دیا جا سکتا
۴۳
ہے، وہ اس طرح کہ نہر سے تالاب میں پاکیزہ پانی بہا دیا جائے اور کچھ وقت کے لئے پانی کو جاری رکھا جائے۔ تا کہ یہ تازہ پانی اس گندے پانی کو مُخرج اور نکاس سے نکال دے اور تالاب میں صاف و پاک پانی رہ جائے۔
۳۔ اس سے قبل یہ بات بتا دی گئی ہے، کہ روحیں خیال، توجہ، محبت، تعلیم، دعائے خیر وغیرہ کی روحانی لہروں سے بھی اپنوں اور بیگانوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں، جس میں تالاب کے گندے پانی کی جگہ صاف پانی بھر جانے کی طرح ناپاک روحوں کو نکال کر پاک روحیں قائم رہتی ہیں۔
۴۔ اگرچہ سب کے نزدیک یہ بات مشہور ہے، کہ انسان کے اندر تین روحیں ہیں، اور انسانِ کامل کے اندر چار روحیں ہوتی ہیں، تاہم یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے، کہ ان تینوں یا چاروں کے مجموعی ذرّات بے شمار ہیں، اور سوائے خدا کے کوئی انسان ان کا شمار نہیں کرسکتا، پس ان لاتعداد روحوں میں سے ایک روح انسان کی خودی اور انائیت کے مرکز پر کام کرتی ہے باقی روحوں کا تعلق جس عضو سے ہو، وہی کام کرتی رہتی ہیں مگر سب کے سب اس بات کی متمنی ہوتی ہیں کہ وہ مرکز پر قبضہ کریں چنانچہ ذکر و عبادت کے نتیجے میں ان ذرّات کو موقع میسر ہوتا ہے، کہ روح کا مرکزی ذرّہ خدا کے نور میں تحلیل ہو جاتا ہے، اور قریب کا کوئی دوسرا ذرّہ اسی وقت مرکز پر آتا ہے، اور عبادت سے ہی سلسلہ ہمیشہ کے لئے
۴۴
جاری رہتا ہے، اسی چیز کا نام صوفیوں کے نزدیک تحلیلِ نفس یا تزکیۂ نفس ہے۔
۴۵
امام سرچشمۂ ہدایت ہیں
سورۂ قصص (۲۸) آیت نمبر ۴۱ کا ارشاد ہے:
و جعلنٰھم ائمۃ یدعون الی النار و یوم القیامۃ لا ینصرون ۔ اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا۔ جو آگ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کو کوئی مدد نہ دی جائے گی (۲۸: ۴۱)۔
اس فرمانِ الٰہی سے یہ حکمت ظاہر ہے، کہ فرعون و ہامان اور ان جیسے کافر سردار لوگوں کے ایسے پیشوا تھے، جو لوگوں کو آتشِ دوزخ کی طرف بلاتے اور راہنمائی کرتے تھے، اس سے صاف طور پر معلوم ہوا، کہ نافرمانی، گمراہی، اور کافری اگرچہ آسان ہے، لیکن یہ چیز بھی بغیر سردار اور پیشوا کے ممکن نہیں، پس فرمانبرداری، ہدایت اور ایمان پیشوا یعنی امام کے بغیر کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔
نیز جاننا چاہئے ، کہ اگر قانونِ قدرت کے لئے یہ بات ضروری ہے، کہ لوگوں کے درمیان کوئی ایسا شخص ہمیشہ موجود ہو، جو کہ انہیں راہِ راست سے گمراہ کر کے دوزخ کا راستہ بتائے، پھر اس کے مقابلے میں یہ امر زیادہ ضروری ہے، کہ
۴۶
دنیا میں کوئی ایسا شخص بھی ہمیشہ موجود رہے، جو کہ صراطِ مستقیم پر لوگوں کی راہنمائی کرتے ہوئے انہیں بہشت میں پہنچا سکتے، اور ایسا شخص امامِ زمان ہی ہیں۔
پروردگارِعالم جس شخص کو کفر کا سردار بناتا ہے، تو اس کو یوں ہی اور خالی خولی سردار نہیں بناتا بلکہ اسے ظاہری اور مادّی قسم کے سامانِ تجمل اور طرح طرح کے مال یا ظاہری علم و ہنر دے دیتا ہے، تب ہی وہ لوگوں کو راہِ حق سے گمراہ کر کے جہنم کے راستے پر چلانے میں کامیاب ہو سکتا ہے، جیسا کہ قولِ قرآن ہے: و قال موسیٰ ربنا انک اٰتیت فرعون و ملاہ زینۃ و اموالا فی الحیٰوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک ۔ ۱۰: ۸۸۔ اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تحقیق تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامانِ تجمل اور مال دیا ہے، دنیوی زندگی میں اے ہمارے ربّ تا کہ وہ تیری راہ سے (لوگوں کو) گمراہ کریں۔ پس لازمی ہے کہ خداوندِ عالم ایمان کے سردار یعنی امام کو بھی کچھ مال و دولت عطا فرمائے، تا کہ وہ لوگوں کی ہدایت کر سکے، کیونکہ لوگ فطرتاً اس شخص کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو، چنانچہ پروردگارِ عالم نے امامِ برحق کو روحانی مال و ملک سے نوازا ہے، جو علم و حکمت کی صورت میں ہے، جس کے سبب سے عقل و دانش والے امام کی طرف متوّجہ ہو جاتے ہیں۔
۴۷
آیۂ مذکورۂ بالا کی حکمتوں میں یہ بھی ارشاد ہے، کہ قیامت کے دن یعنی دورِ روحانیت میں کفر کے سرداروں کو کوئی مدد نہ دی جائے گی، پھر معلوم ہوا کہ اس حال کے برعکس ایمان کے سرداروں کو مدد دی جائے گی، یعنی فتح و نصرت اور غالبیّت أئمّۂ اطہار اور ان کے تابعین کی ہو گی۔
۴۸
امام کے صبر اور تیقّن کے معنی
سورۂ سجدہ (۳۲) آیت نمبر ۲۴ میں ارشاد ہے:
و جعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا لما صبروا و کانوا باٰیٰتنا یوقنون ۔ اور ہم نے ان میں سے امام بنائے جبکہ انہوں نے صبر کیا جو ہمارے امر سے ہدایت کیا کرتے تھے اور وہ لوگ ہماری آیتوں (یعنی روحانی معجزات) کا یقین رکھتے تھے (۳۲: ۲۴)۔
اس آیۂ مقدسہ کی وضاحت یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کی جنس سے امام بنائے، جبکہ انہوں نے ظاہری اور باطنی امتحانات میں صبر اختیار کیا، پیغمبروں اور اماموں پر جو ظاہری امتحانات آتے ہیں، وہ سب کو معلوم ہیں، مگر ان سے جو باطنی امتحانات لئے جاتے ہیں، ان سے بہت کم لوگ واقف ہیں، جاننا چاہئے کہ وہ آزمائشیں خالص روحانی قسم کی ہوا کرتی ہیں، جو علم و حکمت اور رشد و ہدایت سے بھرپور ہیں، جن کے ذریعہ امام کا فرزند حدودِ دین کے مراتب سے ایک ایک کر کے عروج کرتا ہے، تا آنکہ درجۂ امامت پر فائز ہو جاتا ہے۔
اس ارشادِ الٰہی سے یہ بھی واضح ہے کہ امامِ برحق
۴۹
اللہ تعالیٰ کے امر سے لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں جس کا یہ مطلب ہوا، کہ امام علیہ السلام جو کچھ ہدایت فرماتے ہیں، وہ دراصل خدا کی طرف سے ہے، اور اس طرح خدا تعالیٰ کا امر و فرمان دنیا میں جاری و ساری ہے۔
جاننا چاہئے، کہ جو ہدایت خدا کے امر سے ہو، وہی صحیح ہدایت ہوتی ہے، اس میں منزلِ مقصود کی طرف صحیح راہنمائی، ہر مشکل سوال کا درست جواب اور زمان و مکان کے پیدا کردہ مسائل کے یقینی حل موجود ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر ایمان لانے اور ان پر یقین رکھنے میں بڑا فرق ہے، کیونکہ ایمان عام بھی ہے اور خاص بھی، مگر یقین عام نہیں خاص ہی ہے، چنانچہ آیۂ مذکورہ بالا کا یہ ارشاد ، کہ أئمّۂ طاہرین اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا یقین رکھتے ہیں، اس امر کی دلیل ہے، کہ أئمّۂ کرام علیہم السلام پر علم الیقین، عین الیقین، اور حق الیقین کی ساری حکمتیں اور حقیقتیں ظاہر اور روشن ہیں، اور خدا کی کوئی نشانی ان سے پوشیدہ نہیں۔
ان تمام باتوں کا تعلق امام شناسی سے ہے، یعنی یہ باتیں ان لوگوں کے لئے مفید ہیں، جو امامت کا عقیدہ رکھتے ہوں اور امام شناسی کی کسی نہ کسی منزل پر پہنچتے ہوں۔
۵۰
نورِ امامت میں تمام چیزیں محدود ہیں
سورۂ یاسین (۳۶) آیت نمبر ۱۲ میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: انا نحن نحی الموتیٰ و نکتب ما قدموا و اٰثارھم و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ۔ بے شک ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال جن کو لوگ آگے بھیجتے جاتے ہیں اور ان کے وہ اعمال جن کو پیچھے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر (روحانی وعلمی) چیز کو امامِ مبین میں گھیر کر رکھا ہے (۳۶: ۱۲)۔
اس فرمانِ الٰہی کی تاویل یہ ہے، کہ جہالت و نادانی کی موت سے علم وحکمت کی روح میں زندہ ہو جانا اور دنیا و آخرت کی نعمتوں سے متمتع ہو جانا اس وقت ممکن ہے، جبکہ کوئی شخص امامِ مبین کی معرفت تک رسا ہو جائے کیونکہ خداوندِ تبارک و تعالیٰ نے پہلے مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر فرمایا پھر اعمالِ آخرت اور آثارِ دنیا کا، اور اس کے بعد فرمایا کہ یہ سب کچھ امامِ مبین کی ذاتِ با برکات میں مجموع ہے، پس معلوم ہوا، کہ امامِ مبین کی معرفت کی روشنی میں ان تمام حقیقتوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، کہ کس طرح مردہ زندہ ہو سکتا ہے،
۵۱
اور اعمالِ آخرت اور آثارِ دنیا سے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
امامِ مبین کے معنی ہیں ظاہر امام اور بیان کرنے والا امام یعنی امامِ حیّ و حاضر، جس کے نورِ مقدّس نے عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ کی صورت میں اپنے اندر دونوں جہان کو سموئے رکھا ہے، دونوں جہان میں سب کچھ ہے اور ان سے باہر کچھ بھی نہیں۔
مبین کے معنی میں امامؑ دو صورتوں میں ظاہر ہیں اور دو صورتوں میں بولنے والا ہیں، وہ دو صورتیں جسمانیّت اور نورانیت ہیں، یعنی امامِ عالی مقام بشری لباس میں بھی ظاہر ہیں اور پیکرِ نور میں بھی، وہ حدودِ جسمانی میں بھی بولنے والا ہیں اور درجاتِ روحانی میں بھی۔
۵۲
نورِ امامت خدا کی بولنے والی کتاب ہے
سورۂ احقاف (۴۶) آیت نمبر ۱۲ میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: و من قبلہ کتٰب موسیٰ اماما و رحمۃ و ھٰذا کتٰب مصدق لسانا عربیا لینذر الذین ظلموا و بشریٰ للمحسنین ۔ اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت، اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی، تا کہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنائے (۴۶: ۱۲)۔
حقیقی مومنین کو جاننا چاہئے، کہ حضرت مولانا امام ہارونؑ کا مقدس و مبارک نور ہی حضرت موسیٰؑ کی اصلی کتاب تھا، چونکہ آسمانی کتاب وحی کی کیفیت میں ایک زندہ نور ہوتی ہے، اور اسی معنی میں موسیٰ کی کتاب لوگوں کے لئے امام اور رحمت تھی، اور امامِ عالی مقام کی روحِ مقدس یعنی نور کے کتاب ہونے کا ذکر اس کتابچہ میں اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔
اسماعیلی مذہب کی تاویلی کتابوں کے مطالعے میں یہ بات بار بار آپ کے سامنے آ جائے گی کہ علمِ تاویل کی
۵۳
زبان میں کتاب امام یا اساس کو کہتے ہیں، چنانچہ ہر ناطق پیغمبر کا اساس اس کی نورانی کتاب ہے، اس طرح ’’کتابِ موسیٰ‘‘ کا مطلب حضرت مولانا امام ہارون علیہ السّلام ہیں، جن کے نورِ مبارک کا نام توریت تھا۔
مذکورہ حقیقت کے برعکس اگر ہم اس بات کو مانیں، کہ قرآن سے پہلے ظاہری توریت جس حالت میں بھی اپنے دور میں تھی، وہ لوگوں کے لئے پیشوا اور رحمت تھی، پھر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ یہودیوں نے اپنی آسمانی کتاب میں جو جو تحریفیں کی تھیں، اس میں خدا کی خوشنودی اور ہدایت و رحمت تھی، لیکن یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ ایسی توریت جس کی آیتوں میں لوگوں نے ہیر پھیر کر دیا ہو، وہ لوگوں کے لئے امام اور رحمت نہیں ہو سکتی، نہ ہی قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے۔
۵۴
امام شناسی
حصہ دوم
حرفِ آغاز
جب عوام و خواص کے نزدیک یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے، کہ اس ظاہری کائنات کا نور باطنی عالَم کے نور کی مثال کی حیثیت سے ہے، تو پھر ہمیں یہاں سب سے پہلے ظاہری اور مادّی نور کی کچھ صفات بیان کرنا چاہئے، تا کہ سالکانِ راہِ حقیقت مثال میں غور و فکر کرنے کے نتیجے پر ممثول کی شناخت حاصل کر سکیں۔
چنانچہ سب جانتے ہیں، کہ جسمانی نور اس دنیا میں صرف ایک ہی ہے، اور اس کے سوا روشنی کا کوئی دوسرا سرچشمہ حقیقت میں ہے ہی نہیں، ایسا ظاہری اور مادّی نور سورج ہے، اب رہا چاند، ستاروں اور روشنی کے دوسرے تمام ذریعوں کی روشنیوں کا سوال، سو وہ فی الاصل سورج کی پیداوار ہیں، اور اس جہان میں کوئی ایسی مادّی چیز موجود نہیں ہو سکتی، جو سورج کی مختلف قوّتوں سے پرورش پائے بغیر روشنی یا گرمی کا کوئی ذریعہ بن سکے، مادّی نور یعنی سورج کے اوصاف صرف یہی نہیں، بلکہ یہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا وہ کارخانۂ قدرت ہے، جس کے عملِ تکوین ہی کے ذریعے اس عظیم کائنات میں
۵۷
ستاروں اور سیاروں کی دنیاؤں کو وجود دیا جاتا ہے، اور ان میں سے ہر دنیا میں مادّی طور پر جو کچھ ہے، وہ اسی نور کے وسیلے سے موجود ہوا ہے۔
اسی طرح روحانی نور بھی عالمِ دین اور کونِ حقیقت میں ازل سے ایک ہی ہے، جس کے واسطے سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات کا ظہور ہوتا رہتا ہے، اور عالمِ روحانیت کی ہر چیز اسی نورِ مطلق کے ذریعے پیدا ہوئی ہے، مثلاً نور ہی سے حق تعالیٰ کا مقدس امر و فرمان صادر ہوتا رہتا ہے، نور ہی سے ربّانی رشد و ہدایت دی جاتی ہے، نور ہی کی ایک خاص صورت عقل و دانش اور علم و حکمت ہے، نور ہی کا نام دیدۂ دل اور چشمِ بصیرت ہے، نور ہی میں حضرتِ ربُّ العزّت کے اسرارِ عجائب و غرائب اور رموزِ حقائق و معارف پنہان ہیں، نور ہی کرامات و معجزات کا منبع و مخرج ہے، نور ہی روح الارواح اور عقلِ کامل یا کہ عرش و کرسی کہلاتا ہے، نور ہی کو کتابِ منیر اور تاویلِ نورانی کہا جاتا ہے، نور ہی کا ایک دوسرا نام عالمِ عُلوی اور بہشتِ حقیقی ہے، نور ہی میں ہر چیز موجود اور محدود ہے، اور یہی نورِ مطلق سب کچھ ہے۔
بیانِ مذکورۂ بالا سے جب یہ ظاہر ہوا، کہ آفاق میں جسمانی نور کی بادشاہی ہے اور انفس میں روحانی نور کی سلطنت، تو آئیے کہ اب ہم دنیائے قرآن کے سورج کو دیکھیں، چنانچہ امامِ عالی مقام علیہ الصّلوات و السّلام نے اشارہ فرمایا ہے، کہ قرآنی
۵۸
علم و حکمت کے عالم کا سورج آیۂ مصباح، چاند آیۂ سِراج اور ستارے دوسری آیاتِ نور ہیں، اور اس حقیقت کا جاننا ضروری ہے، کہ یہ تمام آیاتِ نور اپنے رشتۂ معنی میں آیۂ مصباح کے ساتھ ایسی منسلک ہیں، جیسے ستارے اور چاند روشنی کے سلسلے میں سورج سے وابستہ ہیں، اس حقیقت کی مثال یہ ہے، کہ رات کے وقت جب چمکتا ہوا چاند اور درخشان ستارے نظر آتے ہیں، تو اس وقت عام لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے، کہ شاید چاند اور ستاروں کی یہ روشنی ان کی اپنی ذات سے ہے، لیکن اہلِ بصیرت نے معلوم کر لیا ہے، کہ اس کی حقیقت کچھ اور ہے، وہ یہ کہ اگر ہم اسی وقت چاند اور ستاروں کی روشن دنیاؤں میں سے کسی ایک میں پرواز کر جائیں، تو اُس دنیا میں رات نہیں بلکہ دن کا کوئی وقت ہو گا، اور وہاں سے آسمان کی طرف دیکھنے سے آفتابِ منیر نظر آئے گا، اس کا مطلب یہ ہوا، کہ چاند اور تمام ستاروں کی روشنی دراصل سورج ہی کی روشنی ہے۔
بالکل اسی طرح جس وقت ہم آیاتِ نور پر نظر ڈالتے ہیں، تو فوری طور پر ہمیں ان کے عام معانی میں انوارِ کثیرہ کا تصور ہوتا ہے، یعنی ایسا لگتا ہے جیسے کتبِ سماویہ ، انبیائے کرام، ائمۂ عظام اور بزرگانِ دین جدا جدا اور مختلف انوار ہیں، مگر جب غور و فکر اور تحقیق و تدقیق کے بعد حقیقی مومن کا تصور ان آیات کی معنوی بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے، تو وہاں یکایک شک و گمان کی رات ختم ہو کر یقینِ کامل کا دن نظر آتا ہے، یعنی حصولِ معرفت کے بعد معلوم
۵۹
ہوتا ہے، کہ دینی چاند اور ستاروں کا نور فی الاصل آیۂ مصباح کے سورج ہی کا نور ہے۔
جیسے نور کی ایک آیت میں ہے کہ: نورھم ، یعنی مومنین کا نور، تو اس کے ظاہری معنی یہ البتہ یہ گمان ہوتا ہے، کہ مومنین کا یہ نور خدا کے نورِ مطلق سے الگ تھلگ کوئی ذاتی نور ہو گا، جس طرح رات کے وقت درخشان ماہتاب اور چمکتے ہوئے ستاروں کے متعلق یہ گمان ہوتا ہے، کہ یہ روشنی ان کی اپنی اپنی ذات سے مہیا ہوتی رہتی ہے، حالانکہ ایسا نہیں، بلکہ روشنی کے اس بے پایان سمندر کا واحد منبع و مخرج سورج ہی ہے، یہی مثال اس نور کی بھی ہے، جو عالمِ دین کے چاند اور ستاروں سے منسوب کیا گیا ہے، کہ جب کوئی حقیقی مومن روحانی طور پر اپنے باطن کی روشنی کی بلندیوں تک رسائی حاصل کر کے مشاہدہ کرتا ہے، تو اس وقت معلوم ہوتا ہے، کہ مومن کا یہ نور اصلاً وہ نورِ مطلق ہے، جس کا ذکر آیۂ مصباح میں موجود ہے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ: خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات و موجودات کے باطن کے لئے ایک ایسا واحد، ہمہ رس، کافی اور جامع صفات نور ہمیشہ اور ہر جگہ حاضر و موجود ہے، کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے نور کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ حقیقتاً اس میں دوئی کی گنجائش ہے۔
متذکرۂ بالا مثالوں اور شہادتوں سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیان و ظاہر ہے، کہ آفاق و انفس اور دنیائے قرآن میں نور کا درجہ سب سے اعلیٰ ، اس کی اہمیت سب سے زیادہ اور اس کی موجودگی
۶۰
انتہائی ضروری ہے، لہٰذا یہ امر کیسے ممکن ہو سکتا ہے، کہ ہر عالم میں تو اس کے تقاضوں کے مطابق نور موجود و حاضر ہو، اور عالمِ انسانیت میں نور کا کوئی مستقل وجود نہ ہو، اگر یہ بات ممکن ہوتی، تو ربّ العٰلمین کے معنی میں ایک خاص چیز کی کمی یہ رہ جاتی کہ خدا ہر ہر عالم کی پرورش تو کر ہی دیتا ہے، مگر دنیائے انسانیت یا عالمِ بشریت اور انسانی عقل و روح کی ہدایتی اور علمی پرورش و تربیت اس طرح سے نہیں کرتا جس طرح کہ کرنا چاہئے، ظاہر ہے کہ یہ امر محال اور خدا کی ہدایت و رحمت کے منافی ہے، پس معلوم ہوا، کہ اللہ تعالیٰ کا نور ہمیشہ عالمِ دین میں حاضر اور موجود ہے، اور وہ امامِ برحق صلوات اللہ علیہ کے جامۂ بشریت میں موجود اور حاضر ہیں۔
چنانچہ جب یہ بات مسلّمہ ہے، کہ امامِ عالی مقام نورِ مطلق کے مظہر کا درجہ رکھتے ہیں، تو یہ امر ہمارے لئے لازمی اور ضروری ہوا، کہ آیاتِ نور کی کچھ حقیقتیں بیان کر دی جائیں، تا کہ ان مقدس آیات کے یکجا مطالعہ اور مجموعی حکمت کی روشنی میں امام شناسی کی حقیقتیں ہر مومن کے لئے آسان اور قابلِ فہم ہوجائیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
فقط بندۂ احقر
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
۶۱
لفظِ نور
اللہ تعالیٰ کی اس عظیم حکمت میں خوب غور و فکر کیجئے، کہ لفظِ نور قرآن حکیم میں کل انچاس دفعہ استعمال ہوا ہے، جبکہ آلِ نبیؐ و اولادِ علیؑ کے پاک سلسلۂ امامت میں ہمارے سرکار نامدار حضرت مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام علیہ الصلاۃ و السّلام بھی انچاسویں امام ہیں، چنانچہ خدا کی حکمت و قدرت میں یہ امر ناممکن نہیں، کہ لفظِ نور کی اس تعداد میں قرآنِ پاک کی یہ پیش گوئی ہو، کہ نورِ امامت کے انچاسویں جامہ کے مبارک زمانے میں باطنی اور ظاہری علم و حکمت سے دین بھی روشن ہو گا اور دنیا بھی، جیسا کہ ظاہر ہے، کہ موجودہ امامِ عالی مقام علیہ السّلام کے عہدِ مبارک میں خاص طور پر ایٹمی دور کا آغاز ہوا اور تسخیرِ کائنات کے سلسلے میں انسان نے چاند پر فتح و کامیابی کا پرچم لہرایا۔
جب آیاتِ نور کی اس پیش گوئی سے ہمیں یقین ہوا، کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی روشنی کا زمانہ اور نور کا دور دورہ ہے،
۶۲
پس آئیے، کہ ہم حضرت پیر سیّد ناصر خسرو قدّس اللہ سرّہ کی حکیمانہ تعلیمات کے مطابق مذکورہ انچاس آیتوں کی کچھ وضاحت کریں، جن میں نمایان طور پر نورِ امامت کا تذکرہ موجود ہے
حقیقی نور اور خود ساختہ نور:
البقرہ۔ ۲۔ آیت۔ ۱۷۔ (۰۲: ۱۷) میں حقیقی نور اور خود ساختہ نور یعنی اصلی ہدایت اور نقلی ہدایت کی جس طرح مثال دی گئی ہے، اس کا واضح مفہوم یہ ہے، کہ رات کی تاریکی میں دو مسافر جدا جدا کسی دور و دراز سفر کے لئے نکل گئے، ان میں سے ایک کے ہاتھ میں ایک بے مثال معجزانہ ٹارچ ہے، کہ اسے نہ کوئی ہوا بجھا سکتی ہے اور نہ کوئی بارش، دوسرے مسافر کے پاس صرف ماچس کی ایک ڈبیا ہے، اب ٹارچ والا بڑے اطمینان سے منزلِ مقصود کی طرف چلتا اور بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ وہاں پہنچ جاتا ہے، دوسرا شخص روشنی نہ ہونے کے سبب سے آگے نہیں بڑھ سکتا، وہ تاریکی سے تنگ آ کر بڑی مشقت سے بیابان میں ایک آگ جلاتا ہے، اور چاہتا ہے، کہ اس کی روشنی میں اپنے سفر کی کچھ مسافت طے کرے، مگر ایک ہی جگہ پر ٹھہری ہوئی آگ کی روشنی کہاں تک روشنی دے سکتی ہے، آخرکار وہ آگ بھی بجھ جاتی ہے اور وہ مسافر اندھیری رات میں پڑا رہتا ہے۔
۶۳
اس تمثیل کی تاویل یہ ہے، کہ اہلِ نجات کے لئے امامِ حیّ و حاضر کی معرفت اور نور ہی وہ بے مثال معجزاتی ٹارچ ہے، جس کو مخالفت و دشمنی کی کوئی ہوا اور حادثاتِ زمانہ کی کوئی بارش ہرگز ہرگز نہیں بجھا سکتی، کیونکہ یہ مقدّس و مبارک نور خدائے قادر و توانا اور اس کے رسولِ برحق کا ازلی و ابدی نور ہے، جو کہ ہر آسمانی کتاب اور ہر پیغمبر کے ساتھ موجود تھا، اور آنحضرتؐ کے بعد بھی اسی شان سے ہمیشہ کے لئے موجود و حاضر ہے، تا کہ اس کی روشنی میں صراطِ مستقیم کی ہدایت حاصل ہو سکے، اس حقیقی نور کے بغیر حصولِ ہدایت کے لئے جو بھی سعی و کوشش کی گئی ہے، اس کی مثال آیۂ مذکورۂ بالا میں بزبانِ حکمت بیان ہوئی ہے۔
نورِ ہدایت اور ظلمتِ گمراہی:
البقرہ۔ ۲۔ آیت ۲۵۷۔ (۰۲: ۲۵۷) میں حضرت احدّیت کا جو ارشاد ہے، اس کا خلاصۂ مطلب یہ ہے، کہ اگر دنیا میں ایک طرف گمراہی کی ظلمت ہمیشہ سے ہے، تو دوسری طرف ہدایت کا نور بھی ہمیشہ سے موجود ہے، اگر ایسا نہ ہوتا اور دنیا میں کفر و ضلالت کے کالے بادل چھائے ہوئے ہوتے اور ایمان و ہدایت کا کوئی سورج نہ ہوتا، تو وہ قانونِ قدرت کی طرف سے دنیا والوں پر بہت بڑا ظلم و ستم ہوتا۔
۶۴
روشن کتاب:
آلِ عمران۔ ۳۔ آیت ۱۸۴۔ (۰۳: ۱۸۴) میں نور کا تذکرہ ’’الکتاب المنیر‘‘ یعنی روشن کتاب کے عنوان سے کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے، کہ حقیقی اور روحانی کتاب رسول اکرمؐ اور امامِ برحقؑ کے نورِ واحد کی حیثیت میں ہے، جو کتابِ ناطق یعنی خودگو کتاب ہے، اس روشن کتاب یعنی انسانِ کامل کے نور کو تاویل یا حکمت کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے (ملاحظہ ہو کتاب وجہِ دین حصۂ اول ص ۸۲۔۸۳) تاویل کو روشن کتاب اس معنی میں کہا جاتا ہے، کہ وہ روحانیت کے اعلیٰ ترین مقام پر اور کشف و مشاہدہ کے عالم میں موجودات کے حقائق و معارف کو واضح اور روشن کر کے دکھاتی اور بتاتی جاتی ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ وہی نور جو امامِ عالی صفات کی ذاتِ اقدس میں موجود ہے قرآنِ پاک کی زندہ اور بولنے والی روح ہے، جس میں قرآنِ حکیم کی عملی تاویل کی ایک جیتی جاگتی وسیع دنیا سموئی ہوئی ہے، چنانچہ ہمارے نامور پیروں اور بزرگوں نے امامِ وقت کی بتائی ہوئی عبادت اور ریاضت کے نتیجے پر اپنے دل و دماغ میں اس نور یعنی روشن کتاب کا کافی مشاہدہ اور مکمل تجربہ کر لیا، جس سے انہیں دونوں جہان کی زندہ حقیقتیں معلوم ہوئیں۔
۶۵
نورِ مبین:
النساء۔ ۴۔ آیت۔ ۱۷۴۔ (۰۴: ۱۷۴) میں نورِمبین کا لفظ آیا ہے، جس کے دو معنی ہیں، ایک معنی ہیں ظاہر نور اور دوسرے معنی ہیں بولنے والا نور، اور اس آیت میں یہ دونوں معنی مناسب و موزون ہیں، جیسے سورۂ زخرف۔ ۴۳۔ آیت۔ ۱۸۔ میں مبین کا لفظ بولنے والے کے لئے استعمال ہوا ہے، پس معلوم ہوا کہ امامِ اطہرعلیہ السّلام کا پاک نور نہ صرف جسمانی صورت میں ظاہر اور بولنے والا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ روحانی کیفیّت میں بھی معجزانہ ظہور اور کلام کرتا ہے۔
چنانچہ مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ میں ارشادِ ربانی ہے کہ: اے لوگو یقیناً تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک دلیل آ چکی ہے اور ہم تمہارے پاس ایک ظاہر نور نازل کر چکے ہیں۔ پس یہاں مرتبۂ نبوّت کو دلیل اور منصبِ امامت کو نورِمبین کہا گیا ہے، اگر یہاں کوئی شخص یہ کہے کہ دلیل سے قرآنِ مجید مراد ہے اور نور کا اشارہ رسولِ اکرم کی طرف ہے، تو اس سے بھی نتیجے کے طور پر پھر وہی حقیقت ثابت ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کا نور بجھنے والا نہیں تھا، اس لئے وہ آنحضرتؐ سے سلسلۂ امامت میں منتقل ہوا، اور وہ آج بھی امامِ حیّ و حاضر کے جامۂ بشریت میں جلوہ گر ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔
۶۶
نور اور کتابِ مبین:
المائدہ۔ ۵۔ آیت۔ ۱۵، ۱۶۔ (۰۵: ۱۵ تا ۱۶) میں پیغمبر اور امام علیہما السلام کو ایک ہی نور قرار دیا ہے، اور قرآن کو ظاہر کتاب کہا گیا ہے، یہاں پر شاید یہ سوال ہو سکتا ہے، کہ کبھی نور کو اور کبھی کتاب کو ظاہر کیوں کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے، کہ نور اور قرآن دونوں کی صفت یہ ہے کہ وہ ایک پہلو سے ظاہر ہیں اور دوسرے پہلو سے باطن، یعنی نور کی شخصیت اور قرآن کی تنزیل ظاہر ہیں، مگر نور کی روحانیت اور قرآن کی تاویل باطن ہیں، پس جہاں نور کی روشنی میں قرآن کی حکمت دیکھنے کی تعلیم دی گئی ہے وہاں شخصیت کے اعتبار سے نور کو ظاہر کہا گیا ہے اور اس کے برعکس جہاں قرآن کی مدد سے امام کی معرفت حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے، وہاں تنزیل کے لحاظ سے کتاب کو ظاہر کہا گیا ہے۔
توریت کا مقصد:
المائدہ۔ ۵۔ آیہ۔ ۴۴۔ (۰۵: ۴۴) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: تحقیق ہم نے توریت نازل کی، اس میں ہدایت اور نور ہے، انبیاء جو کہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے، اس کے مطابق یہود کو حکم دیا کرتے تھے، اور (اسی طرح) اہلِ اللہ اور علماء بھی (حکم دیا کرتے تھے) جن کو اللہ کی کتاب کی حفاظت سپرد کی گئی
۶۷
تھی، اور وہ اس کے گواہ تھے۔
مذکورۂ بالا آیت سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے، کہ توریت کا مقصد و منشاء ہدایت اور نور تھا، یعنی توریت سے ایسی ہدایت مقصود تھی، جس سے نورِ معرفت کا راستہ ملے اور امامِ زمان کی معرفت حاصل ہو۔
نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا، کہ خدا کی طرف سے انبیاء، اولیاء اور علماء مقرر ہو جانے کا مقصد بھی یہی تھا، کہ وہ لوگوں کو توریت کی ہدایت کے مطابق حکم دیا کریں، تا کہ اس ہدایت پر عمل کرنے کے بعد وہ نور کی معرفت تک رسا ہو جائیں۔
انجیل کا مقصد:
المائدہ۔ ۵۔ آیہ۔ ۴۶۔ (۰۵: ۴۶) میں ارشادِ ربّانی ہے کہ: اور ہم نے عیسیٰؑ کو انجیل دی، جس میں ہدایت اور نور ہے اور وہ اپنے سے قبل کی کتاب یعنی توریت کی تصدیق کرنے والی ہے اور وہ پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا، کہ جو موضوع اور مقصد توریت کا تھا، وہی انجیل کا بھی ہے، اور وہ یہ کہ لوگوں کو ایسے قول و عمل کی ہدایت اور تعلیم دی جائے، کہ جس سے وہ نورِ امامت کا مشاہدہ کر کے معرفت حاصل کر سکیں۔
اس آیت کے اخیر میں حق تعالیٰ کا یہ فرمانا، کہ انجیل پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے، اس حقیقت کی
۶۸
روشن دلیل ہے، کہ انجیل کی ہدایت و نصیحت پر صرف وہی لوگ عمل پیرا ہوتے تھے، جو تمام نفسانی اور دنیاوی اغراض سے اپنے آپ کو بچانے والے تھے، تا کہ ہدایت کے ذریعہ نورِ امامت کا مشاہدہ کر سکیں اور اسے پہچان سکیں، اور ہر آسمانی کتاب کا مقصد و منشاء یہی ہے۔
قرآنِ حکیم کا مقصد:
المائدہ۔ ۵۔ آیت۔ ۴۸۔ (۰۵: ۴۸) میں ربّ العزت کا فرمان ہے کہ: اور ہم نے یہ کتاب آپ کے پاس بھیجی ہے جو خود بھی صداقت سے بھرپور ہے، اور اس سے پہلے جو کتابیں ہیں ان کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور ان کتابوں کی محافظ بھی ہے، تو آپ ان کے درمیان اسی بھیجی ہوئی کتاب کے مطابق حکم کیجئے۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کہ قرآنِ مجید کس طرح اگلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے؟ اور کس معنی میں ان کا محافظ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان اگلی آسمانی کتابوں کا جو مقصد تھا، وہی مقصد قرآنِ مجید کا بھی ہے، اس لئے قرآنِ پاک کے بنیادی موضوعات اور اصولی تعلیمات وہی ہیں، جو توریت، انجیل، وغیرہ کی تھیں، اسی طرح قرآنِ پاک نے اگلی سماوی کتابوں کی ایسی عملی تصدیق کی، کہ جس سے بڑھ کر کوئی دوسری تصدیق نہیں ہو سکتی۔
اب یہ بتائیں گے کہ قرآن کس معنی میں اگلی آسمانی
۶۹
کتابوں کا محافظ ہے، چنانچہ جاننا چاہئے ، کہ اگلی سماوی کتب میں جو حقائق و معارف بیان کئے گئے تھے، وہ سب کے سب قرآنِ پاک کے ظاہر و باطن میں محفوظ ہیں، پس ان دونوں باتوں سے کہ قرآن پاک اگلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، اور ان کا محافظ بھی ہے، یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس طرح توریت اور انجیل کا خصوصی موضوع ہدایت اور نور ہے، اسی طرح قرآنِ حکیم کا موضوع بھی ہدایت اور نور ہے، چنانچہ سورۂ نور۔ ۲۴۔ آیت۔ ۳۵۔ کے اس فرمانِ الٰہی پر ذرا غور و فکر کیجئے جو ارشاد ہوا ہے کہ: حق تعالیٰ جسے چاہے اپنے نور کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ جسے چاہے قرآن، پیغمبر اور امامِ زمانہ کے توسط سے (کہ یہی مقدّس ہستیاں مشیتِ ایزدی اور ہدایتِ الٰہی کے ذرائع ہیں) اپنے مبارک و مقدّس نور کی شناخت کرا دیتا ہے، پس معلوم ہوا، کہ توریت اور انجیل کی طرح قرآنِ مجید کا اصلی موضوع اور مقصدِ اعلیٰ ہدایت اور نور ہے۔
ظلمت کے مقابلے میں نور:
الانعام۔ ۶۔ آیت۔ ۱۔ (۰۶: ۰۱) میں ارشاد ہوا ہے کہ: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں، جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں کو اور نور کو بنایا پھر بھی کافر لوگ اپنے ربّ کے برابر قرار دیتے ہیں۔
اس آیۂ مقدّسہ میں اللہ تعالیٰ کی تعریف اس بناء پر
۷۰
کی گئی ہے، کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کے نیچے زمین کو پیدا اور ظلمتوں کو اور ان کے مقابلے میں نور کو مقرر فرمایا، جس کا مطلب یہ ہے، کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عالمِ دین کو پیدا کیا، جو اس ظاہری کائنات کی طرح اپنے اندر آسمان، زمین، ظلمت اور نور رکھتا ہے، اور نور کی یہ اہمیّت ہے، کہ اگر یہ نہ ہو، تو عالمِ دین نیست و نابود ہو جائے گا، جیسا کہ یہ حقیقت سب جانتے ہیں، کہ اگر اس مادّی کائنات کے وسط میں یہ جسمانی سورج نہ ہو تو یہ جہان درہم و برہم ہو کر فنا ہو جائے گا، کیونکہ اس عالم کے قیام و نظام کا انحصار سورج پر ہے، بالکل اسی طرح عالمِ دین کے قرار و ثبات کا دارو مدار نورِ امامت پر ہے جو جہانِ دین کا سورج ہے۔
نور اور ہدایت:
الانعام۔ ۶۔ آیت۔ ۹۱۔ (۰۶: ۹۱) میں فرمایا گیا ہے کہ: اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (قدرت و توانائی کی) قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا، جبکہ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی، آپ کہیئے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ لائے تھے، جس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ نور ہے اور لوگوں کے لئے وہ ہدایت ہے، جس کو تم ورق ورق کرتے ہو (یعنی نورانی کیفیت سے منتقل کر کے کاغذی تحریر کی صورت میں لاتے ہو) اور بہت سی باتوں
۷۱
کو چھپاتے ہو۔
اس آیۂ کریمہ میں آسمانی کتاب کی زندہ روح کے متعلّق بہت سی حقیقتیں اور حکمتیں پوشیدہ ہیں، جن کو سمجھنے کے لئے وحی و الہام کی حقیقت و کیفیت سے آگاہی ضروری و لازمی شرط ہے، چنانچہ وحی و تنزیل ایک علمی نور اور ایک زندہ روح کی صورت میں واقع ہوتی ہے، جس کو روح القدس یا روح الامین کا نزول کہا جاتا ہے، نیز اس عقل و دانش کے نور اور علم و حکمت کی روح کو، جو بے شمار عجائب و غرائب اور کرامات و معجزات سے مملو ہے، حقیقی معنوں میں آسمانی کتاب کہا جاتا ہے، اگرچہ پیغمبر کی مبارک زبان اور کاتب کے قلم سے گزر کر کاغذ پر تحریری صورت میں نہیں آئی ہو۔
یاد رہے کہ آسمانی کتاب تحریر میں آنے کے بعد بھی بلا کم و کاست اپنی اصلی صورت و حالت پر پیغمبر اور پھر امامِ عالی مقام کی عظیم الشان روحانیت میں ہمیشہ کے لئے برجا و قائم رہتی ہے اور یہی کتاب امام علیہ السلام کا زندہ نور اور حقیقی ہدایت کہلاتی ہے۔
جاننا چاہئے کہ باطنی کتاب کا موضوع پہلے نور پھر ہدایت ہے، اور ظاہری کتاب کا مضمون اوّل ہدایت اوراس کے بعد نور ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ امام کے مقدّس نور سے قرآن کے حقائق و معارف کا راستہ مل جاتا ہے، اور قرآن کے علم و حکمت کی ہدایت سے امام کے نورکی معرفت تک رسائی ہو سکتی ہے۔
۷۲
نور ملے تو ابدی زندگی ملتی ہے:
الانعام۔ ۶۔ آیت۔ ۱۲۲۔ (۰۶: ۱۲۲) میں پروردگارِ عالم کا ارشاد ہے کہ: ایسا شخص جو کہ پہلے مردہ تھا، پھر ہم نے اس کو زندہ بنا دیا اور ہم نے اس کو ایسا نور دیا کہ وہ اس کے ذریعہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کی حالت یہ ہو کہ وہ تاریکیوں میں ہے ان سے نکلنے ہی نہیں پاتا۔
اس آیۂ مقدّسہ کی حکمت یہ ہے، کہ مردہ سے جاہل مراد ہے، زندہ کر دینے کی تاویل ہے علمِ حقیقت دینا، نور مقرر کر دینے کے معنی ہیں امامِ برحق کی معرفت اور نور کا حصول، اور نور کے ذریعے سے لوگوں میں چلنے پھرنے کا اشارہ ہے ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جانا اور لوگوں کی روحانیت میں داخل ہو جانا وغیرہ۔
رسول کے بعد نور کی پیروی:
الاعراف۔ ۷۔ آیت۔ ۱۵۷۔ (۰۷: ۱۵۷) میں یہ ارشاد ہے کہ: پس جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس کی مدد کرتے اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو اس (نبی) کے ساتھ بھیجا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
اس آیۂ مقدّسہ کی حکمت یہ ہے، کہ مومنین رسولِ اکرم پر ایمان لانے اور ان کی حمایت و مدد کرنے کے ساتھ ساتھ قرآنِ مجید پر بھی ایمان لاتے ہیں، کیونکہ رسول کی رسالت قرآن
۷۳
ہی کی صورت میں ہے اور اس سے ہرگز جدا نہیں، اب رہا نور کا سوال، جس کی مومنین نے پیروی کی، تو یہ امامت ہی کا نور ہے، کیونکہ اسلامی دور کے دو حصے ہیں، پہلے حصے میں عہدِ نبوّت ہے جس کا زیادہ تر تعلّق تنزیلی امور سے ہے، دوسرے حصے میں عصرِ امامت ہے، جس میں اکثر تاویلی امور پیشِ نظر ہوتے ہیں، پس یہی سبب ہے، کہ مومنین زمانۂ تنزیل میں پیغمبر کی اطاعت کرتے ہیں اور زمانۂ تاویل میں امام کی اطاعت کرتے ہیں۔
نیز جاننا چاہئے کہ اس آیۂ کریمہ میں رسولِ اکرمؐ کی اطاعت کے بعد نورِ امامت کی پیروی کا جو ذکر ہوا ہے، اس میں یہ پیشگوئی ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد غفلت و جہالت کی تاریکی پھیلنے والی ہے، جس کو صرف امامِ اطہر کا نور ہی دور کر سکتا ہے۔
نورِ الٰہی کے خلاف ناکام کوشش:
التوبہ۔ ۹۔ آیت۔ ۳۲۔ (۰۹: ۳۲) میں ارشادِ الٰہی ہے کہ: وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنے مونہوں (کی پھونکوں) سے بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ کو سوائے اس کے کچھ منظور نہیں کہ وہ اپنے نور کو پورا کر دے، اگرچہ کافروں کو برا لگے۔
اس آیۂ کریمہ کی حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ نورِ الٰہی کو بجھانے کی ناکام کوشش وہ شخص کرتا ہے، جو اس کو نہ پہچانے اور اس سے دشمنی کرے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا نور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
۷۴
کی طرح لباسِ بشریت میں لوگوں کے سامنے ظاہر ہے، مختصر یہ کہ پیغمبر اور امام علیہما السلام سے مخالفت و دشمنی رکھنے کا سبب سوائے اندھاپن اور جہالت کے کچھ بھی نہیں، کیونکہ دنیا میں کسی ایسے کافر کا ہونا ممکن نہیں، کہ وہ اوّل تو خدا کو مانے اس کے بعد کسی ہستی کے متعلق یہ باور کرے کہ خدا کا نور یہی ہے، اور پھر اس کو بجھا دینے کی کوشش کرے۔
اتمامِ نور:
یہاں پر ایک سوال یہ ہے، کہ خداوندِ تعالیٰ اپنے نور کو کس طرح پورا کرتا ہے؟ کیا اس کا نور ازلی و ابدی طور پر تمام و کمال کا درجہ نہیں رکھتا؟ اب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے شک خدا کا نور ہمیشہ سے تمام و کامل ہے اور فی نفسہٖ ہرگز ہرگز کوئی کمی نہیں، لیکن عالمِ دین میں خدا کی مصلحت کے مطابق چند ادوار مقرر ہوتے ہیں، ان میں سے ہر دور میں خدا کا مبارک و مقدّس نور علم و عمل کے ذریعے سے پاک روحوں کی ایک کثیر تعداد کو اپنے ساتھ ایک کر لیتا ہے، پس تنویرِارواح کے اعتبار سے ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرے گا۔
سورج اور چاند کی نورانی وحدت:
سورۂ یونس ۔ ۱۰۔ آیت۔ ۵۔ (۱۰: ۰۵) کا یہ پاک ارشاد ہے کہ: اللہ وہی ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو نورانی بنایا
۷۵
اور اس کی منزلیں مقرر کیں تا کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو۔
اس ربّانی فرمان کی تاویل یہ ہے، کہ جس طرح سورج اور چاند جسم کے اعتبار سے دو اور روشنی کے لحاظ سے ایک ہیں اسی طرح پیغمبر اور امام جسمانیّت میں دو اور روحانیت میں ایک ہیں، نیز دورِ امامت میں امام اور حجتِ اعظم (باب) عالمِ دین کے سورج اور چاند ہیں، جن کی ظاہریت جدا جدا اور باطنیت ایک ہے۔
اس آیۂ مقدسہ کی ایک تاویلی حکمت یہ بھی ہے، کہ جس طرح ظاہری سورج اور چاند سے دنیاوی سالوں، مہینوں، ہفتوں اور دنوں کا حساب و شمار معلوم ہوتا ہے، اسی طرح باطنی سورج اور چاند سے، جو کہ پیغمبر اور امام یا کہ امام اور باب ہیں، دینی اوقات بنتے اور معلوم ہو سکتے ہیں۔
اندھیرے اور نور:
سورۂ رعد۔ ۱۳۔ آیت ۔ ۱۶۔ (۱۳: ۱۶) میں ارشاد ہوا ہے کہ:
آپ کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہوا کرتے ہیں؟ یا کیا اندھیرے اور نور برابر ہوتے ہیں؟
یہاں قرآنِ حکیم اپنی مخصوص تاویلی زبان میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے، کہ جو شخص دین کے حقائق و معارف سے اندھا ہے، وہ اس شخص کا ہم پلہ ہرگز نہیں، جو چشمِ بصیرت اور دیدۂ دل کی نعمت سے نوازا گیا ہے، اور نہ کفر و جہالت کے اندھیرے اور
۷۶
انوارِ ایمان و عرفان برابر ہیں۔
جاننا چاہئے، کہ یہ نابینائی اور بینائی انسان کے دل سے متعلق ہے، جیسا کہ ۲۲: ۴۶ کا ارشاد ہے کہ: پس تحقیق آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں، پس معلوم ہوا کہ روحانی ظلمت و نور کا تعلق بھی دل ہی کی آنکھوں سے ہے نہ کہ سر کی آنکھوں سے۔
کتاب، پیغمبر اور نور:
اللہ تعالیٰ کی عادت و سنّت یہ ہے، کہ وہ جب چاہے آسمانی کتاب اپنے کسی پیغمبر پر نازل فرماتا ہے، تا کہ وہ پیغمبر اس کتاب کے ذریعے سے لوگوں کو غفلت و ناشناسی کی تاریکیوں سے نکال کر امام شناسی کے نور کی طرف لے آئے، پھر اس کے بعد بحکمِ خدا اپنے پورے دور میں اس نور یعنی امام کے توسط سے اللہ تعالیٰ کی طرف راہِ راست کی ہدایت کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلعم سے :فرمایا کہ
یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اس لئے اتاری ہے تا کہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے اندھیروں سے نور کی طرف نکال کر زبردست لائقِ حمد اللہ تعالیٰ کے راستے پر لگائیں۔ ۱۴: ۰۱۔
۷۷
ہادی اور نور:
سورۂ ابراہیم۔ ۱۴۔ آیت۔ ۵ ۔ (۱۴: ۰۵) کی مقدّس تعلیم یہ ہے کہ: اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نور کی طرف نکال اور انہیں اللہ تعالیٰ کے دن یاد دلا یقیناً اس میں ہر صبر کرنے والے شکر گزار کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔
قرآن پاک کی اس تعلیم میں یہ حکمت پنہان ہے، کہ جب اس دنیا میں ہمیشہ سے ایک طرف کفر و جہالت کا اندھیرا پایا جاتا ہے تو دوسری طرف دائم الوقت ایمان و ایقان کا نور بھی موجود ہے، لیکن لوگوں کی فطرت و عادت ایسی ہے، کہ وہ اپنے آپ اس ظلمت سے نکل کر نور میں داخل نہیں ہو سکتے، اس لئے اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں دے کر پیغمبر یا امام کی حیثیت سے ایک ہادی مقرر فرماتا ہے، تا کہ لوگ اپنے زمانے کے ہادی کو پہچانیں اور اس کی ہدایت کے مطابق اندھیرے کو چھوڑ کر نور کے راستے پر چل سکیں۔
یہاں پر یہ ضرور پوچھنا چاہئے ، کہ حضرت موسیٰ کے اس تذکرہ میں جو نشانیاں بتائی گئی ہیں، وہ ہر شخص کے لئے عام کیوں نہیں ہیں؟ اور اس کا سبب کیا ہے کہ یہ نشانیاں صرف صبر و شکر کرنے والوں کے لئے مخصوص ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صبر و شکر کرنے سے دیدۂ دل روشن ہو جاتا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے مشاہدے سے اس کا مقصد و منشاء معلوم ہو سکے، اور اس کے نور یعنی امامِ زمان کی معرفت حاصل کر لی جائے، اس کے برعکس جو شخص خود غرضی، نفسانیت، بے صبری
۷۸
اور ناشکری کا شکار ہوچکا ہو، تو اس کی چشمِ بصیرت پر پردۂ غفلت پڑ جاتا ہے، پھر وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتا، جو کتابِ سماوی میں ہیں یا پیغمبر اور امام کے ساتھ ہیں۔
امامِ زمان کا نور روشن کتاب ہے:
سورۂ حج (۲۲: ۰۸ تا ۰۹) میں پروردگارِعالم نے فرمایا کہ: اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم اور بجز ہدایت اور بدونِ روشن کتاب جھگڑتا ہے، اپنی کروٹ موڑ کر تا کہ اللہ کی راہ سے بہکائے۔
اس تعلیمِ سماوی کی تاویل یہ ہے کہ کوئی شخص داعی، حجت، اور امامِ زمان علیہ السلام کی شناخت و معرفت کے بغیر خدا تعالیٰ کی معرفت کے بارے میں مباحثہ و مناظرہ نہیں کر سکتا، کیونکہ داعی علم، حجت ہدایت اور امام روشن کتاب ہیں، جبکہ داعی علم الیقین، حجت عین الیقین اور امام حق الیقین کے مراتب پر ہیں۔
اس حقیقت کی دلیل یہ ہے کہ داعی علم الیقین سے لوگوں کو دعوت کر کے حجّت کے حوالے کر دیتا ہے، حجّت عین الیقین سے انہیں ہدایت کر کے امام کی نورانی معرفت تک پہنچا دیتا ہے اور امام اپنے نور کی روشن کتاب سے ان پر ظاہری و باطنی موجودات کی تمام حقیقتیں واضح اور روشن کر دیتے ہیں۔
کائنات کا نور:
سورۂ نور (۲۴: ۳۵) میں حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
۷۹
اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں چراغ روشن ہو وہ چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں ہو وہ قندیل ایسی ہو گویا وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے وہ زیتون کے مبارک درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی، قریب ہے کہ اس کا تیل (خود بخود) روشن ہو جائے، اگر اسے آگ نہ چھوئے وہ نور پر نور ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی راہ پر لگا دیتا ہے۔
مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ کی حکمت و تاویل یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ کا نور ظاہری و باطنی طور پر علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی صورت میں موجود ہے، جو امامِ حیّ و حاضر کے مبارک وجود سے طلوع ہو کر حدودِ روحانی کے آسمانوں اور حدودِ جسمانی کی زمینوں کو منور کر رہا ہے، یہ نور خانۂ حکمت (یعنی نبوّت یا امامت کے گھر) سے تعلق رکھتا ہے، جس کے خاص افراد اہلِ بیت کہلاتے ہیں، جو اس نور کے لئے طاق (یعنی چراغ دان) کا درجہ رکھتے ہیں، آنحضرتؐ کی خاندانی اصالت اور علمی مرتبت قندیل کی مثال پر ہے، جو ایک درخشان ستارے کی طرح ہے، جس کے اندر امامِ اطہر کی جسمانیت گویا اس معجزانہ چراغ کا ظرف ہے، امام علیہ السلام کی روحانیت کو زیتون کے تیل سے تشبیہہ دی گئی ہے، درختِ زیتون کا مطلب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت محمدؐ کا پاک خاندان ہے، اس چراغ کے تیل میں نفسِ کلّ اور عقلِ کلّ یعنی امام کی مقدّس روح اور ہمہ رس عقل بتی اور شعلے کی طرح ہیں، آگ کے معنی ہیں معجزانہ تائید اور
۸۰
نور پر نور کا مطلب ہے ایک امام کے بعد دوسرا امام ہونا۔
چنانچہ امامِ اطہر کی ہمہ گیر عقل کے شعلے سے جو ہدایت کی روشنی نکلتی رہتی ہے، وہ حدودِ روحانی و جسمانی کے توسّط سے کائنات و موجودات کے ظاہر و باطن میں پھیل جاتی ہے، تا کہ اس سے آسمان، زمین، عناصر، جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان کی ہستی و بقا کا راستہ بنے رہے اور موجودات و مخلوقات میں سے ہر ایک اپنی صلاحیت و قابلیت کے مطابق یہ ہدایت حاصل کر سکے۔
ان حقائق کے مختصر دلائل:
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذاتِ پاک کو آسمانوں اور زمین کا نور یا کہ روشنی قرار دے دیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ جلّ شانہ اس کائنات کی بلندی و پستی کی کلّی ہدایت کی روشنی ہے، یعنی خدا تعالیٰ کے نور نے آسمان و زمین اور ہر چیز کو نیستی کے اندھیرے سے نکال کر ہستی کی روشنی میں لایا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ آسمانوں، سیاروں اور عناصر میں جیسی بھی حرکت پائی جاتی ہے، یا جو چیز جس طرح سے ٹھہری ہوئی ہے، اس کا اصل سبب اللہ تعالیٰ کے نور کی رہنمائی ہے، نیز اس کائنات کی تمام تکوینی، تخلیقی اور حفاظتی قوّتوں میں نور کی ہدایت کارفرما ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اس کائناتی نور کے معنی یہ بھی ہیں، کہ اس نور کی معرفت کی روشنی میں اسرارِ کائنات کا ظاہراً و باطناً مشاہدہ و مطالعہ کیا جا سکتا ہے، اور روحانی یا جسمانی طور پر کائنات کو مسخر کیا جا سکتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ خدا کا نور عقل و دانش ، علم و
۸۱
حکمت اور رشد و ہدایت کی صورت میں ہے، نہ کہ کسی مادّی روشنی کی کیفیت میں۔
جب خدا کے نزدیک یہ کوئی عیب نہیں کہ آسمانوں کے علاوہ زمین بھی خدا کے نور کی روشنی میں مستغرق رہے، جس میں زمین پر رہنے والے ہر قسم کے جانور اور بُرے بھلے انسان سب شامل ہیں، پھر اس میں کیا شک ہو سکتا ہے، کہ اس کے نور کا مرکز امامِ اقدس کی ذاتِ عالی صفات میں موجود ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ کے نور کا دیدار اور معرفت ناممکن ہوتی، تو وہ اپنے نور کی مثال کسی ایسی چیز سے نہیں دیتا جو دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر ہے، جب اس نے اپنے نور کی مثال ظاہری چراغ سے دی ہے تو ثابت ہوا، کہ نورانی دیدار اور اس کی معرفت ممکنات میں سے ہیں، اور یہ صرف امامِ اقدس ہی کے وسیلے سے ممکن ہے۔
اگر خدا کا نور ظاہر و باطن میں قریبی مشاہدہ سے برتر اور نارسا ہوتا، تو عدل و انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ خدا اپنے نور کو سورج سے تشبیہہ دے، مگر اس نے ایسا نہیں کیا ہے، بلکہ اس نے تو اپنے نور کی تشبیہہ گھر کے چراغ سے دی ہے، تو معلوم ہوا، کہ اس کا پاک نور انسانوں کے درمیان ہے جو انسانِ کامل یعنی امام حیّ و حاضر علیہ السلام کے جامۂ بشریت میں ہے۔
اگر خدا کا نور جسمانیت کا جامہ کبھی نہیں بدلتا اور سورج کی طرح ظاہر میں ایک حال پر رہتا، تو پھر اس صورت میں اس
۸۲
کی مثال سورج سے دی جاتی، اور چراغ سے نہیں دی جاتی۔
جس طرح اس کائنات کے لئے ایک سورج ہے، اور گھر کے لئے کوئی چراغ ہوتا ہے، اسی طرح دنیائے انسانیت کی تاریکی دور کرنے کے لئے انسانِ کامل یعنی امامِ زمان موجود ہے۔
اگر عقل و دانش کی نظر میں جہالت ایک قسم کی ظلمت و تاریکی اور علم و حکمت اس کے مقابلے میں نور ہے تو لازماً یہ بھی درست اور صحیح ہے کہ علم و حکمت اور رشد و ہدایت کا یہ نور بدرجۂ اتم انسانِ کامل میں موجود ہے۔
اگر دنیا ایک عالم ہے تو دین بھی ایک عالم ہے، اور اگر دنیاوی سورج مادّی قسم کا ہے کہ اس میں عقل و روح نہیں، تو عالمِ دین کا نور عقل و روح رکھتا ہے اور وہ امام ہی ہے۔
یہ حقیقت تقریباً سب کے نزدیک مسلّمہ ہے، کہ انسان انفرادی طور پر ایک چھوٹی سی دنیا ہے، اور اس میں روشنی کا ایک چھوٹا سا نمونہ بھی ہے، جو عقلِ جزوی کے نام سے مشہور ہے، چنانچہ سارے انسان بھی اجتماعی صورت میں ایک عظیم دنیا ہیں، اور اس میں ایک عظیم الشّان نور بھی ہے جسے انسانِ کامل یا کہ امامِ زمان کہا جاتا ہے۔
جب انسان نظریں جما کر چمکتے ہوئے سورج کو دیکھنے لگتا ہے، تو فوراً روشنی کے ذرّات کی تیز بارش کی زد سے اس کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، بالکل اسی طرح جو شخص امامِ عالی مقام کی ذات و صفات پر تبصرہ و تنقید کی نظر ڈالنے لگتا ہے، تو امام
۸۳
کی شخصیت سے طرح طرح کے خیالات پیدا ہو کر وہ عقل کی آنکھ سے اندھا ہو جاتا ہے۔
اگر انسان سورج کو براہِ راست دیکھنے کی بجائے علم و حکمت اور ظاہری سائنس کی نظر سے دیکھے تو وہ سورج کے متعلق بہت سی حقیقتیں سمجھ سکتا ہے، اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکتا ہے، اسی طرح جو آدمی امام علیہ السلام کو ظاہری نگاہ سے دیکھنے کی بجائے علم و معرفت کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش میں ہو، تو اس کی بہت بڑی سعادت مندی ہے۔
نور علیٰ نور:
اگر ہم یہ عقیدہ نہ رکھیں کہ امام کا نور ازل سے جامۂ بشریت میں اسی طرح موجود ہے جس طرح اس وقت ہے تو نورٌعلیٰ نور کا مطلب کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا، کیونکہ نورٌعلیٰ نور میں ایک ایسا تصور ہے، جیسے ایک نور پہلے ہی سے موجود ہو اور دوسرا نور اس کے بعد وجود میں آئے، پھر یہ دونوں نور باہم مل کر ایک ہو جائیں، اور یہ ایک حقیقت ہے، پس معلوم ہوا، کہ ایک امام کے بعد دوسرا امام ہونے کا یہ سلسلہ ہمیشہ سے چلے آیا ہے، اور یہ ایک ایسی جامع حقیقت ہے، کہ جس میں تمام حقیقتیں سموئی ہوئی ہیں۔
جب نورٌعلیٰ نور کے تصور سے یہ معلوم ہوا، کہ نور بظاہر ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، مگر ان کی اصلیت و حقیقت ہمیشہ سے ایک ہی رہتی ہے، جیسے سورج کے علاوہ چاند اور تمام
۸۴
ستارے بھی مادّی قسم کے نور ہیں، مگر یہ تمام انوار مقامِ وحدت پر یعنی سورج کی ذات میں ایک ہیں اور ان کا آخری مقصد بھی ایک ہے۔
علاوہ برآن نور کی یگانگت و یک رنگی اور وحدت کی ایک واضح مثال یہ بھی ہے کہ جب ہم کسی مکان میں مختلف رنگ کے چند بلب روشن کرتے ہیں، تو ان سب کی روشنی اور رنگت ایک ہو جاتی ہے، یہ مثال ایک طرف سے انوارِ الٰہی کی وحدانیت کی ہے، اور دوسری طرف سے ارواحِ مومنین کی یگانگت کی۔
نورٌعلیٰ نور کی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے، کہ سب سے پہلے امام کا مبارک و مقدّس جسم بنتا ہے، جو ظاہری اور جسمانی ہدایت کا نور ہے، اور وہ اس معنی میں نور ہے کہ ظاہری اور بنیادی ہدایت کی روشنی امام کے مبارک جسم کی بدولت ہے، پھر اس پر امام کی روحِ ناطقہ کا نور ہے، اس پر نفسِ کلّی کا نور ہے اور اس پر عقلِ کلّی کا نور قائم ہے، یہ ہوئے نور پر نور ہونے کے معنی۔
نور اور اللہ تعالیٰ کی مرضی:
سورۂ نور (۲۴: ۳۵) کی ربّانی تعلیم ہے، کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی راہ پر لگا دیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشاء کے بغیر کوئی انسان اس کے نور کی شناخت اور پیروی نہیں کر سکتا۔
یہاں ایک طرف سے یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نور
۸۵
دنیا میں ہمیشہ موجود ہے، اور دوسری طرف سے یہ معلوم ہوتا ہے، کہ ہدایت کے مرحلے دو ہیں، پہلے مرحلے پر خدا کی ہدایت ہے، جس کی پیروی کرنے سے خدا کا نور مل جاتا ہے، دوسرے مرحلے پر خدا کے نور کی ہدایت ہے، جس پر چلنے سے سلامتی اور ابدی نجات مل جاتی ہے۔
جس کے لئے خدا نور مقرر نہ کر دے اس کے لئے کوئی نور نہیں:
مذکورۂ بالا سورہ کی آیت ۴۰ (۲۴: ۴۰) میں ارشاد ہوا ہے کہ: اور جس کے لئے اللہ تعالیٰ کوئی نور قرار نہ دے اس کے لئے تو کوئی نور ہی نہیں۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کا نور مقرر کر دینا اس طرح سے ہے، کہ وہ رسولِ اکرم صلعم سے فرماتا ہے اور آنحضرت جن لوگوں کے لئے اللہ کی مرضی ہو نور مقرر کر دیتے ہیں۔
اس آیۂ مبارکہ کے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ منکرین ایسے نہیں کہ ان کے اعمال نہ ہوں، اعمال تو ہیں مگر بے فائدہ، کیونکہ حقائق ان سے پوشیدہ ہیں اس لئے کہ خداوندِ عالم نے ان کے لئے نور مقرر نہیں فرمایا ہے، پس ان کے اعمال کی مثال ایک چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت کی طرح ہے، جس کو پیاسا آدمی دور سے پانی خیال کرتا ہے، مگر جب وہ قریب آ کر دیکھتا ہے تو کچھ بھی نہیں ریت ہی ریت ہے، یا ان کے اعمال کی مثال گہرے سمندر کے اندھیروں کی طرح ہے، کہ اس
۸۶
کو بڑی لہر نے ڈھانک لیا ہو جس کے اوپر دوسری لہر اور اس کے اوپر بادل ہیں غرض اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے ہیں، کہ اگر ایسی حالت میں کوئی انسان ہاتھ نکالے تو اسے دیکھنے کا احتمال بھی نہیں۔
عالمِ دین کے سورج اور چاند:
سورۂ فرقان (۲۵) کی آیت ۶۱ (۲۵: ۶۱) کی ہدایت یہ ہے: بہت برکت والا ہے جس نے آسمان میں بروج بنائے اور اس میں ایک چراغ یعنی سورج اور نورانی چاند بنایا۔
جاننا چاہئے کہ حقیقی برکت دنیاوی چیزوں میں نہیں بلکہ دینی چیزوں میں ہے، پس اللہ تعالیٰ بہت برکت والا اس معنی میں ہے، کہ اس نے عالمِ دین بنایا، جس کے آسمانِ روحانیت کے بارہ بروج بنائے یعنی بارہ حجّت، اور اس میں سورج اور چاند بنایا یعنی پیغمبر اور امام دورِ نبوّت میں، اور امام و حجّتِ اعظم دورِ امامت میں۔
بروج اگرچہ بارہ ہیں لیکن شب و روز کے دو حصوں کے حساب سے وہی بارہ کے چوبیس ہوتے ہیں اور منزلوں کے حساب سے اٹھائیس ہوتے ہیں، اسی طرح امام علیہ السلام کے حجتانِ جزائر بارہ ہیں، حجّتانِ لیلی و حجّتانِ نہاری چوبیس اور حجّتانِ مقرب کے ساتھ اٹھائیس ہوتے ہیں۔
۸۷
کتابِ منیر:
قرآنِ حکیم کی سورت ۳۱۔ آیت ۔۲۔ (۳۱: ۰۲) میں ارشاد ہے: اور لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں بغیر علم اور بغیر ہدایت اور بغیر کتابِ منیر کے جدل کرتا ہے۔
یہاں علم سے مراد دورِ نبوّت میں حجّت، ہدایت کا مطلب امام اور روشن کتاب کے معنی آنحضرت صلعم ہیں، اور دورِ امامت میں علم داعی، ہدایت حجّت اور روشن کتاب امام علیہ السلام ہیں، جبکہ تاویلی درجات اور حدودِ دین زمان و مکان کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔
نیز اسی طرح جاننا چاہئے کہ دورِ امامت میں داعی علم الیقین ہے، حجت عین الیقین اور امام زمان علیہ السلام حق الیقین، پس ان حدودِ دین کے بغیر اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور اس کی معرفت و توحید کے بارے میں مباحثہ و مجادلہ کرنا باعثِ گمراہی ہے۔
ظلمات سے نور تک:
سورۂ احزات یعنی ۳۳ ویں سورت کی آیات ۴۱، ۴۲، ۴۳ اور ۴۴ میں ارشاد کیا گیا ہے کہ: اے ایمان والو! تم اللہ کو خوب کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تم پر
۸۸
رحمت بھیجتے ہیں، تا کہ خدا تم کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آوے، اور اللہ تعالیٰ مومنین پر بہت مہربان ہے، وہ (مومنین) جس روز اللہ تعالیٰ سے ملیں گے تو ان کی دعا سلامتی ہو گی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بہت بزرگ اجر تیار کر رکھا ہے۔
(۳۳: ۴۱ تا ۴۴)۔
آیاتِ مذکورۂ بالا کی مجموعی حکمت یہ بتاتی ہے، کہ نور کی حقیقی پہچان اس وقت تک ناممکن ہے، جب تک انسان کا ایمان جیسا کہ چاہئے مکمل نہ ہو، اور کامل ایمان کی نشانی یہ ہے کہ مومن قلبی، زبانی اور عملی طور پر خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہے یہاں تک کہ وہ دائم الذّکر ہو جاتا ہے، بصورتیکہ یہ ذکر روحانی مسرتوں سے بھرپور ہوتا ہے، اور وہ صبح و شام زبانِ حال اور زبانِ قال سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہے یعنی اس کا ظاہر و باطن اور گفتار و کردار سب پاک ہوتا ہے جبکہ وہ صبح و شام خدا کے حضور میں گریہ و زاری اور عجز و انکساری کرتے ہوئے اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے، پھر نتیجے کے طور پر اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے فرشتے ایسے خاص بندوں پر رحمت فرماتے ہیں جس سے رفتہ رفتہ ان کی ذات سے غفلت، جہالت اور معصیت کی تاریکیاں دور ہو جاتی ہیں، اور نبی و علی (صلوات اللہ علیہما) کا نورِ واحد اپنے علمی و عرفانی عجائبات و معجزات کے ساتھ ان کے دل و دماغ میں جلوہ گر ہونے لگتا ہے، اللہ تعالیٰ کی یہ خاص رحمت صرف حقیقی مومنین ہی کے لئے مخصوص ہے، جس روز کسی حقیقی مومن
۸۹
کو خداوند تبارک و تعالیٰ کے اس نورِ مقدّس کا روحانی دیدار حاصل ہوتا ہے، اس وقت مومن زبانِ حال سے اپنی سلامتی کی دعا کرتا ہے، کہ وہ ابدی طور پر زندہ اور سلامت رہے جسے اللہ تعالیٰ منظور فرماتا ہے۔ بتوفیقِ الٰہی مذکورۂ بالا آیات کا تاویلی خلاصہ بتایا گیا۔
روشن چراغ:
سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۴۵ اور ۴۶ (۳۳: ۴۵ تا ۴۶) کا فرمانِ الٰہی یہ ہے کہ: اے نبی بے شک ہم نے آپ کو گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔
ان دونوں مقدّس آیتوں کی حکمت سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ یہاں حضورِ اکرم صلعم کی بعض دائمی اور زندہ صفات بیان کی گئی ہیں، جن کی دلیل سے آنحضرت کی دوسری تمام صفات بھی زندہ اور پائندہ ثابت ہو جاتی ہیں، مثلاً جب مانا گیا کہ آنحضورؐ اپنی تمام امت کے اعمال پر گواہ ہیں، جبکہ گواہ کا مطلب کسی معاملے کے سامنے حاضر و موجود ہونا ہے، تو سمجھ لینا چاہئے کہ آنحضرتؐ کی یہ صفت ہمیشہ کے لئے زندہ اور باقی ہے اور لازماً آپ کی دوسری بہت سی صفات بھی اسی طرح لازوال ہیں۔
نیز خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے کو بھی بندوں کے اعمال کے سامنے حاضر و موجود رہنا چاہئے، تا کہ
۹۰
نکوکاروں کو خوشخبری دے اور بدکاروں کو ڈرائے، اسی طرح نبئ اکرم صلعم کی ایک اور زندہ صفت یہ بھی ہے کہ آپ اب بھی اسی طرح خدا کے حکم سے زمانے کے مطابق راہِ حق کی طرف دعوت کرتے ہیں جس طرح عہدِ نبوّت میں اس وقت کے مطابق دعوت کرتے تھے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ حضور کی دعوت ہمیشہ سے وحئ الٰہی کی تابع ہوا کرتی ہے، جس کا لازمی نتیجہ صرف یہی نکلتا ہے، کہ پیغمبر صلعم کا مقدّس نور امامِ زمان کی بشریت میں حیّ و حاضر ہے۔
یہی مثال روشن چراغ کی بھی ہے، کہ خدا کے نور کے اس پاک چراغ کو ہرگز نہیں بجھنا چاہئے اور اس کی صفت میں کوئی کمی اور کوئی زوال نہیں آنا چاہئے، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ یہ ارشاد ہوا ہے کہ خدا کا نور ایک لازوال حقیقت ہے، پس یہ تمام زندہ اور دائمی صفات آنحضرتؐ کی رحلت کے بعد صرف آپ کے نور کی حیثیت میں باقی و برقرار ہیں، اور آپ کا یہ مقدّس نور حضرت مولانا علیؑ و آلِ علیؑ کے سلسلۂ امامت میں ہمیشہ کے لئے قائم ہے۔
سراجِ منیر (روشن چراغ) قرآنِ حکیم میں نورِ نبوّت و امامت کا ایک ایسا پرحکمت اور جامع اسمِ بزرگ ہے، کہ اس کی حقیقت و معنویت میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسمائے صفات کی قدرت و مظہریت سموئی ہوئی ہے، اس حقیقت کے ثبوت میں صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسی نورِ جامع صفات کے
۹۱
اعتبار سے، جو انسانِ کامل کے چراغِ ہستی سے طلوع ہو کر عالمِ دین اور دنیائے دل کو منور کر رہا ہے، آیۂ نور میں فرماتا ہے کہ:
“خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں چراغ روشن ہو۔” اگرچہ حق سبحانہ و تعالیٰ کی ذاتِ بے چون کے اعتبار سے کوئی چیز اس کے مشابہ اور مثل نہیں ہو سکتی ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد کیا گیا ہے کہ: “کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے ۔ ۴۲: ۱۱۔”
ظلمتِ جہالت اور نورِ معرفت:
سورۂ فاطر (۳۵) کی ۱۹ تا ۲۲ (۳۵: ۱۹ تا ۲۲) آیات میں ارشادِ ربّانی ہے کہ: اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں اور نہ تاریکی اور روشنی، اور نہ سایہ اور دھوپ، اور زندے اور مردے برابر نہیں ہو سکتے۔ بے شک اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔
ان آیاتِ مقدسہ میں ایک طرف صحیح عقیدے کے اور دوسری طرف غلط نظریے کے نتائج کا تقابلی تذکرہ ہے، اور زبانِ حکمت میں فرمایا گیا ہے کہ غلط نظریہ کوردلی اور نادانی کا باعث بن جاتا ہے اور صحیح عقیدہ بصیرت و دانشمندی کا سبب ہوتا ہے، کور دلی یعنی دل کی نابینائی کا نتیجہ جہالت کی صورت میں نکلتا ہے اور قلبی بصیرت کا ماحصل نورِ معرفت ہے، نورِ معرفت کے نتیجے میں رشد و ہدایت کا سایۂ راحت حاصل ہوتا ہے اور جہالت کی
۹۲
تاریکی میں آوارہ گردی کے بعد گمراہی کا تپتا بیابان سامنے آتا ہے، نورِ معرفت اور رشد و ہدایت کے سایہ والے روحانی طور پر زندۂ جاوید ہو جاتے ہیں اور ضلالت کے سوزندہ ریگستان والے نفسانی طور پر ہلاک ہو جاتے ہیں، یہ جو سایۂ رحمت و ہدایتِ الٰہی میں روحانی طور پر زندہ ہو گئے وہ اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کی باتیں سن سکتے ہیں اور جو لوگ بیابانِ گمراہی میں ہلاک ہو گئے وہ نیستی و معدومیت کی قبروں میں دفنائے ہوئے ہیں انہیں علم و حکمت کی باتیں سنوائی نہیں جا سکتی ہیں۔
انبیاء کے معجزات، کتب اور تاویل:
مذکورہ سورہ کی پچیسویں آیت (۳۵: ۲۵) میں ارشاد کیا گیا ہے: اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی جھٹلایا تھا ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزات اور کتب اور روشن کتاب کے ساتھ آئے تھے۔
قرآنِ حکیم کی اس مقدّس تعلیم سے ظاہر ہے، کہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ تین قسم کی عظیم الشّان چیزیں ہوا کرتی ہیں، وہ ہیں معجزات ، کتابیں اور کتابِ منیر، لیکن اس باب میں یہ ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، کہ پیغمبروں کے معجزات اور کتابوں کے علاوہ کتابِ منیر (روشن کتاب) کون سی ہے یا کیا چیز ہوتی ہے؟ کیونکہ آیۂ کریمہ کے عربی الفاظ کے لحاظ سے بینات کے معنی ہیں معجزات، زبر زبور کی جمع ہے جس کا مطلب ہے کتابیں اور کتابِ منیر کا ترجمہ ہے
۹۳
روشن کتاب۔
چنانچہ سوال تھا کہ روشن کتاب کون سی ہے؟ نیز یہ بھی سوال ہو سکتا ہے، کہ آیا وہ روشن کتاب اب بھی ہے یا نہیں، جبکہ آنحضرتؐ سے قبل کے جملہ پیغمبروں کے ساتھ ہمیشہ سے موجود تھی؟ ان سوالات کا سادہ اور آسان جواب یہ ہے، کہ روشن کتاب نورِ امامت کا نام ہے اور وہ پیغمبرِ آخر زمانؐ کے ساتھ بھی تھا اور اب بھی موجود ہے، اور یہی نور تمام پیغمبروں کے آسمانی کتب کی عملی تاویل و حکمتِ بالغہ کی حیثیت سے ہے، کیونکہ نورِ امامت ہی وہ نور ہے جس میں روحانیت کے جملہ اسرار اور تاویلات کے جملہ روشن حقائق و معارف موجود ہیں۔
شرحِ صدر:
سورۂ زُمُر کی بائیسویں آیت کا ارشاد ہے کہ: پس جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا اور وہ اپنے پروردگار کے نور پر ہے (کیا وہ شخص اور اہلِ قساوت برابر ہیں) پس جن لوگوں کے دل خدا کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے تو ان کے لئے بڑی خرابی ہے یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں (۳۹: ۲۲)۔
یہ پاک آیت سب سے پہلے انسانِ کامل یعنی پیغمبرِ آخر زمان اور امامِ برحق علیہما السلام کی شان میں ہے، ان کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے حدودِ دین کے بارے میں بھی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا شدہ وسعتِ قلبی، اسلام یعنی اطاعت اور خدا کا
۹۴
نور انسانِ کامل کے وسیلہ اور توسّط سے حدودِ دین کو بھی علیٰ قدرِ مراتب حاصل ہوتا ہے، اور انسانِ کامل کی ذاتِ اقدس میں یہ صفات اور دوسری تمام خوبیاں ہمیشہ کے لئے بدرجۂ اتم موجود ہوتی ہیں۔
اس آیۂ مقدسہ کی حکیمانہ تعلیم شرحِ صدر یعنی وسعتِ قلبی کے ذکر سے شروع ہو جاتی ہے، اور فرمایا جاتا ہے، کہ اسلام کو کماحقّہٗ قبول نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو وسعتِ قلبی عطا نہ فرمائے، نیز لفظِ اسلام کے دوسرے معنوی پہلو کے اعتبار سے ارشاد ہے، کہ اگر خدا کی طرف سے کسی کو کشادہ دلی عنایت نہ ہوئی تو اس شخص سے اطاعت و فرمانبرداری نہیں ہو سکتی، کیونکہ اسلام کے معنی اطاعت و فرمانبرداری کے ہیں، پھر اس کے بعد فرمان ہے کہ جب خدا نے کسی آدمی کے دل کو کھول دیا تو وہی حقیقی اسلام یا کہ فرمانبرداری بجا لا سکتا ہے، جب اس نے ہادئ برحق کی فرمانبرداری کر لی، تو اس کے دل و دماغ میں بتدریج خدا کا نور جلوہ گر ہونے لگتا ہے، اور ذکرِ الٰہی خود بخود جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے قلب میں رقّت و نرمی پیدا ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی معجزانہ صوتی ہدایات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اس صورتِ حال کے برعکس، جس میں حقائق و معارف کے زندہ معجزات موجود ہیں، جن لوگوں کے دل تنگ و تاریک ہوں، وہ حقیقی اسلام قبول نہیں کر سکتے، جس کے سبب سے
۹۵
ان کے دل خدا کے نور کے قابل نہیں ہو سکتے، نہ ہی وہ خدا کے ذکر کو جاری رکھ سکتے ہیں، پھر وہ قساوتِ قلبی کے روحانی مرض میں مبتلا ہو کر گمراہی اور ضلالت کے بیابان میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔
زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی:
سورۂ متذکرۂ بالا میں پروردگارِعالم کے نورِ مقدس یعنی نورِ امامت کے مختلف ظہورات کے بارے میں بطور پیش گوئی ارشاد ہوا ہے: اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا اور پیغمبروں اور گواہوں کو لایا جائے گا اور ان (یعنی لوگوں) کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ ہو گا ۔ ۳۹: ۶۹۔
اس آیۂ مقدسہ میں نزولِ قرآن کے دوران نورِ امامت اور روحانی واقعات کے بارے میں جو پیش گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق چار حالات سے ہے، انفرادی روحانیت، اجتماعی روحانیت یا کہ روحانی دور، انفرادی قیامت اور اجتماعی قیامت۔
حقیقی مومن کی انفرادی روحانیت میں نورِ امامت سے جو فیضان حاصل ہوتا ہے، اس کے متعلق اس آیۂ کریمہ کی پیشگوئی اس طرح سے ہے کہ پیغمبر کی تنزیلی ہدایات اور امامِ وقت کی تاویلی ہدایات پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہر حقیقی مومن کے دل کی زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی، اس کی روحانیت
۹۶
ایک زندہ کتاب کی حیثیت سے معجزانہ گفتگو کرے گی، پیغمبروں کی مقدّس روحیں اپنے اپنے معجزات اور جملہ واقعات کے ساتھ اس کے روحانی مشاہدے میں آئیں گی، نیز گواہوں یعنی أئمّۂ اطہار کے پاک انوار کے روحانی ظہورات ہوں گے اور اس مومن کے حق میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ ہو گا۔
اجتماعی روحانیت میں نورِ امامت اس طرح اثر انداز ہے، کہ اللہ تعالیٰ کا یہ نور جس ظاہری و باطنی ہدایت کی کیفیت میں پیغمبر صلعم کے بعد سلسلۂ امامت میں سے طلوع ہوتا رہا ہے اور جس انداز سے علم و حکمت کی مسلسل روشنی اس جہان والوں کو بخش رہا ہے اس کے نتیجے کے طور پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے، کہ اس میں دنیائے انسانیت، علم و ہنر، عقل و دانش اور شرافت و یگانگت کے اوجِ کمال پر پہنچ جائے گی، اور ہر قسم کی برائیاں نیست و نابود ہوجائیں گی، اسی وقت حق کو باطل پر فتح حاصل ہو گی اور حق و حقیقت کا دور دورہ ہو گا، غلط عقائد اور نظریات سب کے سب ختم ہو جائیں گے، اور جو سچا عقیدہ اور صحیح نظریہ ہے صرف وہی قائم رہے گا اور اسی کو فروغ حاصل ہوگا۔
یہ ہوا زمین کا اپنے ربّ کے نور سے روشن ہو جانا، کہ زمین کا مطلب یہاں انسانیت ہے، جو انبیاء و أئمّہ کے انوار کے فیوضات کے لئے ہر وقت محتاج ہے، اور یہ ہوا مختلف عقائد و نظریات کے اعمال ناموں کو سامنے رکھ کر قانونِ الٰہی
۹۷
کا فیصلہ کر دینا، پیغمبروں اور اماموں کا حاضر ہو جانا، کیونکہ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا یہی ایک دین تھا، جس کی طرف ان تمام حضرات نے ظاہراً و باطناً لوگوں کو دعوت کی تھی، پس ایسا زمانہ انبیاء، أئمّۂ ھُداؑ اور ہر زمانہ کے مومنین کی فتح مندی اور کامیابی کا دن ہے، جس کی پیش گوئی قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ کی گئی ہے۔
انفرادی اور اجتماعی روحانیت کی مذکورہ دونوں حالتوں کو قیامت کے نام سے بھی ہم مان سکتے ہیں، ایسی قیامت انسان کی زندگی میں آتی ہے۔
اب رہا سوال نورِ امامت اور اس قیامت کے تعلق کا، جو انسان کی جسمانی موت کے بعد واقع ہونے والی ہے، جو انفرادی حالت میں بھی ہے اور اجتماعی صورت میں بھی، جس کی مثالیں مذکورۂ بالا تفصیلات سے مل سکتی ہیں، مگر اس میں یہ بات ضرور یاد رہے، کہ جسمانی زندگی میں جو بھی روحانیت یا قیامت پیش آتی ہے، وہ جُزوی قسم کی ہے، اور مرنے کے بعد جو قیامت واقع ہو گی، وہ کُلّی۔ غرض یہ کہ امامِ اطہر کا نور ہی ہے جس کی روشنی کے لئے دنیا و آخرت والے ہمیشہ محتاج ہیں۔
نور کے عظیم اسرار:
سورۂ شوریٰ کے آخری رکوع کی زبانِ حکمت کا ایک پرمغز اور جامع مطلب یہ ہے، کہ پاکیزہ بشریت کے اعلیٰ ترین مقام پر اللہ تعالیٰ کے مقدّس نور کا جلوۂ دیدار کچھ لمحات
۹۸
کے لئے حاصل ہوتا ہے، مگر اس اعلیٰ ترین دیدار کے ساتھ ساتھ کلامِ الٰہی میسر نہیں ہوتا، ہاں ایک حکمت آگین اشارہ ہو سکتا ہے، کلامِ الٰہی تو اس دیدار سے نچلے درجے میں حجاب کے پیچھے سے ہوتا ہے، اور اس ربّانی کلام سے نچلے درجے میں فرشتے کے توسط سے وحی ہوتی ہے۔
اس کے معنی یہ ہوئے کہ روحانیت کا جتنا لمبا سلسلہ ہے، وہ تین درجات پر مشتمل ہے، چنانچہ سب سے نچلے درجے میں جبرائیل علیہ السّلام وحی لاتا ہے، اس کے اوپر کے درجے میں نورِ الٰہی خود ہی حجاب کے پیچھے سے کلام فرماتا ہے اور سب سے اوپر کے درجے میں یہ نور رحمانی صورت میں چند سیکنڈوں کے لئے اپنا جلوہ دکھاتا ہے، مگر اس انتہائی دیدار کے موقع پر کلام نہیں ہوتا، ہاں ایک جامع قسم کا اشارہ ہوتا ہے۔
پس اسی قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے عالمِ امر سے ایک عظیم روح آنحضرت پر وحی فرمائی تھی، اور سرورِ کائنات اس واقعہ سے قبل آسمانی کتاب اور ایمان کے انتہائی درجات سے واقف نہ تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضورِاکرمؐ کی اس روحانیت کو، جو وحی بھی تھی اور روح بھی، نور بنایا، جس کی روشنی میں پیغمبرِخدا سب کچھ جاننے لگے، اور اسی نور کی روشنی سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے ہدایت کرتا ہے۔
اس بیان کا خلاصہ یہ ہوا کہ نورِ امامت ’’ اوحینا الیک روحا ‘‘ کے معنی میں نہ صرف وحی اور قرآنِ ناطق
۹۹
کی حیثیت سے ہے، بلکہ یہ ایک عظیم روح بھی ہے، اور جہاں ’’ جعلنہ نورا ‘‘ کا ارشاد آیا ہے، وہاں نورِ امامت آسمانی کتاب یعنی قرآنِ صامت کے اسرارِ مخفی کے لئے روشنی بھی ہے، اور جو ارشاد ہوا ہے کہ: ’’ نھدی بہ من نشاء من عبادنا ‘‘ اس کے اعتبار سے ظاہر ہے کہ یہ نور وہی ہے، کہ جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضورِاکرمؐ سے قبل کے تمام انبیاءؑ کو بھی وحی کر کے رہنمائی کی تھی ’’ و انک لتھدی الیٰ صراط مستقیم ‘‘ کی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسولِ خداؐ کو یہ نور حاصل ہوا تو آپ نے اپنے وقت میں اسی نور کے ذریعے سے راہِ راست کی ہدایت کی، اور مستقبل کی ہدایت کے لئے حضورؐ نے بحکمِ خدا امامؑ کو مقرر فرمایا پھر نور امام میں منتقل ہو گیا۔ الحمدللہ یہ حقائق و معارف قرآنی حکمت کی زبان سے اور روحانی مشاہدات و تجربات کی روشنی میں بتائے گئے۔
نورانی معجزات:
سورۂ حدید کی نویں آیت (۵۷: ۰۹) میں نور کے بارے میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: وہ (اللہ) ایسا ہے کہ اپنے بندے پر واضح نشانیاں اتارتا ہے تا کہ وہ تم کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکال دے اور بے شک اللہ تعالیٰ تم پر بڑا شفیق و مہربان ہے۔
یہاں عقل و دانش سے خوب سوچنے کا مقام ہے، کہ
۱۰۰
جن تاریکیوں میں سے ایک مسلمان یا ایک مومن ہادئ برحق کے بغیر بذاتِ خود نکل نہیں سکتا، وہ کس نوعیت کی تاریکیاں ہیں؟ کیا یہ بات درست ہو سکتی ہے، جو ہم کہیں کہ یہ وہی تاریکیاں ہیں جو جہالت و نادانی اور زمان و مکان کے پیدا کردہ مسائل کی الجھنوں سے انسان کے دل و دماغ میں پیدا ہوتی ہیں، ظاہر ہے کہ واقعاً ان تاریکیوں کا مطلب یہی ہے، پھر لازماً ہم کو یہ بھی ماننا ہی پڑے گا، کہ جہالت و نادانی اور مسائلِ نو کی تاریکیوں سے نکل جانے کا ذریعہ صرف ایک ایسی تازہ ترین ہدایت ہی ہو سکتی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہو، اور ایسی ربّانی ہدایت آنحضرت صلعم کے بعد صرف امامِ وقتؑ ہی کے وسیلے سے حاصل ہو سکتی ہے، پس یہی حکمت آیۂ مذکورہ بالا میں پوشیدہ ہے۔
قرآنِ حکیم کے ان مبارک الفاظ کی روشنی میں جو ارشاد ہوئے ہیں کہ: وہ (اللہ) ایسا ہے کہ اپنے بندے پر واضح نشانیاں نازل کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف خدا کا ایک خاص بندہ (انسانِ کامل) ہی ہر زمانے میں موجود ہوتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ خدا کا یہ فعل بھی ہمیشہ کے لئے جاری رہتا ہے، کہ وہ اپنے بندۂ خاص پر بدلے ہوئے حالات کی ہدایت نازل کرتا ہے، اور خدا تعالیٰ کے حقیقی عدل و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے نور کا سرچشمۂ ہدایت ظاہر و باطن میں ہمیشہ کے لئے جاری و ساری رہے، چنانچہ سرورِ کائنات صلعم پر عہدِ نبوّت کے دوران قرآن پاک کی ظاہری نشانیاں (آیات) نازل
۱۰۱
ہوتی رہی ہیں، جن کو تنزیلی نشانیاں اور ظاہری ہدایت کہتے ہیں، اور ہر زمانے کے امامِ برحق پر قرآنِ حکیم کی باطنی نشانیاں نازل ہوتی رہتی ہیں، جن کو تاویلی نشانیاں اور باطنی ہدایت کہتے ہیں، تا کہ قیامت کے دن کسی زمانے کے لوگوں کو یہ عذر و بہانہ نہ ہو سکے کہ ان کے زمانے میں اللہ کی ہدایت کا کوئی آسان ترین ذریعہ موجود نہیں تھا۔
اگر آپ ذاتی طور پر بھی اس حقیقت کی مزید تحقیق کر کے مطمئن ہو جانا چاہتے ہیں، کہ کس طرح آسمانی کتاب کے مکمل نزول کے بعد زمانۂ دراز تک اس کی تدریجی تاویل نازل ہوتی رہتی ہے، اور کس طرح اس تاویل کے مکمل طور پر آنے کے ساتھ ساتھ قیامت برپا ہو جاتی ہے، تو اس کے لئے قرآنِ حکیم کی ان تمام آیات کے معنی میں غور کریں، جو تاویل سے متعلق ہیں، خصوصاً ، ۱۰: ۳۹، ۱۲: ۰۶، ۱۲: ۲۱، ۱۲: ۱۰۰، ۱۲: ۱۰۱میں، اور سب سے بڑھ کر ۰۷: ۵۳ میں آپ غور کریں، پھر آپ کو یقیناًاس حقیقت کے متعلق اطمینانِ قلب حاصل ہوگا، کہ نہ صرف آسمانی کتاب کی نازل شدہ آیات کی تاویل بتدریج نازل ہوتی رہتی ہے، بلکہ دوسری بہت سی چیزیں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ جن کی تاویل عرصۂ دراز کے بعد ظاہر ہوجاتی ہے۔
پس جاننا چاہئے کہ امامِ زمان علیہ الصّلوٰت والسّلام کی پاک ہدایات سے جب حقیقی مومن کے دل سے جہالت و نادانی کی تاریکی دور ہو جاتی ہے، تو اس وقت امامِ عالی مقام کے نور کے علمی و عرفانی معجزات اس کے دل و دماغ میں ظہور پذیر ہوتے
۱۰۲
رہتے ہیں، اور وہ ہمیشہ اپنے باطن میں ایک عجیب و غریب علمی دنیا کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے، یہ ہوا اللہ تعالیٰ کا اپنے خاص بندے پر واضح نشانیاں نازل کرنا اور انسانِ کامل کا مومنین کو تاریکیوں سے نکال کر نورِ معرفت کی طرف لے آنا۔
مومنین، مومنات اور نور:
سورۂ حدید کی بارہویں آیت (۵۷: ۱۲) میں انفرادی روحانیت اور دورِ قیامت کے اہلِ ایمان اور نورِ امامت کے بارے میں ارشاد ہے کہ: جس دن آپ مومنین اور مومنات کو دیکھیں گے، کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف سعی کرتا ہو گا، آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں، ان میں تم ہمیشہ رہنے والے ہو یہی بڑی کامیابی ہے۔
آیۂ مقدّسۂ بالا کا حکمت آگین اشارہ یہ ہے کہ ہر زمانے کی انفرادی روحانیت میں بھی اور دورِ قیامت میں بھی امامِ حیّ و حاضر کا پاک نور مومنین و مومنات کے ساتھ ان کی پیشانی یا داہنی طرف سے کلام کرتا رہے گا، اور “یسعیٰ” کے یہ معنی ہیں کہ اس وقت اہلِ ایمان کی روحانیت کی بے شمار منزلیں اس نور کی روشنی و رہنمائی میں بڑی تیزی کے ساتھ طے ہو جائیں گی، نیز اس لفظ کے یہ معنی بھی ہیں، کہ یہ نور حقیقی مومنین کے دین و دنیا سے متعلق ہر قسم کی بہتری اور بھلائی کے لئے سعی کرے گا۔
یہاں البتہ یہ بات قابلِ ذکر ہے، کہ مختلف اعتبارات سے
۱۰۳
نورِ مطلق کی مختلف اضافتیں اور جدا جدا نسبتیں ہوا کرتی ہیں، یعنی قرآنِ حکیم میں کبھی اس پاک نور کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ “نور اللہ کا ہے‘‘ کبھی روشن چراغ وغیرہ جیسے الفاظ کے مفہومات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ’’نور پیغمبر کا ہے” بعض آیات اپنی زبانِ حکمت سے بتاتی ہیں کہ “نور امام کا ہے” اور یہاں آیۂ مذکورۂ بالا سے ظاہر ہے کہ “نور مومنین و مومنات کا ہے” پس حقیقی مومنین کو نورِ مقدّس کے اس قانونِ وحدانیت اور نظامِ جامعیّت پر خوب غور و فکر کرنا چاہئے، کہ نورِ واحد کی اس کثرت نمائی میں کیا راز ہے؟
بہر حال جاننا چاہئے، کہ نور کی یہ مختلف نسبتیں اپنی اپنی جگہ پر بالکل صحیح اور درست ہیں، اور ان میں ذرّہ بھر بھی شک نہیں، نیز جاننا چاہئے، کہ ان جدا جدا اضافتوں کے باوجود نور ایک ہی ہے، اور اس میں کوئی دوئی نہیں، پس اس کے معنی، حقیقت اور صفاتِ کمالیہ بھی وہی ہیں جو ’’ اللہ نور السمٰوات والارض‘‘ کے مقام پر ہیں۔
منافقین، منافقات اور نور:
مذکورہ سورہ کی تیرہویں آیت (۵۷: ۱۳) میں منافقین، منافقات اور نورِ امامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے کہ: جس روز منافقین اور منافقات مومنین سے کہیں گے کہ ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں ان کو جواب
۱۰۴
دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر وہاں سے روشنی تلاش کرو۔
جاننا چاہئے کہ منافق لوگ نہ صرف دورِ قیامت (روحانی دور) میں اہلِ ایمان کی تیز رفتار روحانی ترقی پر رشک کریں گے، بلکہ ہر زمانے میں نورِ امامت کی شاندار رہنمائی اور مومنین کی ترقی اور کامیابی دیکھ کر منافقین کی روحیں زبانِ حال سے فریاد کرتی ہیں، کہ خدا کے لئے ذرا ٹھہرو تا کہ ہم بھی تمہارے امامؑ کے نور کی ہدایت میں ظاہری و باطنی کامیابی کی منزلیں طے کریں، مگر ان کو زبانِ حال سے یہ جواب دیا جاتا ہے کہ تم تواریخ اور عقائد کے راستے میں ازسرِ نو تحقیق کرتے ہوئے اپنے پیچھے چلو، اور تم نے جس دوراہے پر آکر نور کا پاک دامن چھوڑا تھا، اس کے متعلق سوچو اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے اپنے تمام عقائد کی اصلاح کرو پھر ممکن ہے کہ نور ملے۔
نور حاصل ہونے کا درجہ:
سورۂ حدید کی انیسویں آیت (۵۷: ۱۹) میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا مبارک فرمان یہ ہے کہ: اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لا چکے ہیں (جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے) ایسے ہی لوگ اپنے ربّ کے نزدیک صدّیق اور شہید ہیں ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔
اس آیۂ کریمہ کے باطن میں بہت سی عظیم حکمتیں پنہان
۱۰۵
ہیں، من جملہ ایک حکمتِ بالغہ یہ بھی ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کہ شروع سے آخر تک ایمان کے بہت سے درجات ہیں، صداقت ایک ایسی صفت ہے جو ایمان کامل ہونے سے حاصل ہوتی ہے، اور صداقت کے بھی کثیر مراتب ہیں، جب صداقت درجۂ کمال پر پہنچے، تو اس وقت مردِ مومن میں جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت پیدا ہوتا ہے، اور شہادت کے بھی کئی رتبے ہیں، پھر اس کے بعد اجر و صلہ کے مراحل آتے ہیں اور اجر کی بھی بہت سی قسمیں ہیں، اور ان تمام خوبیوں کے نتیجے کی صورت میں نور کا دروازہ کھل کر رہتا ہے۔
پس معلوم ہوا کہ حقیقی مومن کی روحانیت کا سب سے اونچا درجہ وہ ہے جہاں اس کو امامِ برحق کے مبارک و مقدّس نور کا معجزاتی دیدار اور روح افزا مشاہدہ ہو سکتا ہے، یہ وہ مقامِ وحدت ہے، جہاں پر حقیقی مومنین کی روحیں امامِ اقدسؑ کے نور کے ساتھ مل کر ایک ہو جاتی ہیں، یہی سبب ہے، جو ارشاد ہوا ہے، کہ حقیقی مومنین، جنہوں نے خدا اور اس کے رسولوں پر جیسا کہ چاہئے ایمان لایا ہے، اپنے پروردگار کے نزدیک صدّیق اور شہید جیسے ہیں، یعنی ایسے مومنین اساسوں اور اماموں کے نور سے واصل ہو چکے ہیں، کیونکہ تاویلی زبان میں صدیقین اساسوں کو کہتے ہیں اور شہداء اماموں کا نام ہے، اسی معنی میں کہ چھ ناطق پیغمبروں میں سے ہر ناطق پیغمبر کا ایک اساس ہوا ہے، چنانچہ حضرت محمد مصطفیٰ صلعم کے اساس حضرت مولانا امام علیؑ تھے،
۱۰۶
جنہوں نے نہ صرف شخصی اور ذاتی طور پر قرآن و شریعت کی تاویل کر کے حضورِ اکرمؐ کی نبوّت و رسالت کی تصدیق کی، بلکہ اپنی پاک اولاد کے سلسلۂ امامت کے توسّط سے بھی تاویلات کا یہ دروازہ ہر بار کھول دیا، جس سے ہمیشہ کے لئے آنحضرتؐ کی مرتبۂ پیغمبری کی تصدیق ہوتی رہی، اور اسی تاویلی تصدیق کی ضرورت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ناطق پیغمبر کے ساتھ ایک صدّیق مقرر ہوا تھا اور صدّیق کے معنی تصدیق کرنے کے ہیں، اور شہداء اماموں کا نام اس معنی میں ہے، کہ شہداء گواہوں کو کہتے ہیں، جس سے أئمّۂ اطہار مراد ہیں، کیونکہ یہی حضرات دنیا والوں کے اعمال پر گواہ ہیں، چونکہ وہ سلسلہ وار دنیا اور زمانہ میں حیّ و حاضر ہوتے ہیں۔
نور سرچشمۂ ہدایت:
خدا کے مقرّر کردہ نور کی موجودگی اور رہنمائی کے بغیر کوئی بھی نظریہ اور مذہب طولِ زمانہ کی پرخطر تاریکیوں سے سلامتی کے ساتھ گزر کر حوضِ کوثر پر وارد نہیں ہو سکتا، اور نہ کسی دین کا ابتدائی وجود ایک مجسّم نور کو مانے بغیر ثابت ہو سکتا ہے، اسی حقیقت کے باب میں سورۂ حدید کی اٹھائیسویں آیت (۵۷: ۲۸) کا یہ ارشاد ہے کہ: اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (محمدؐ) پر ایمان لاؤ (تا کہ خدا) تم کو اپنی رحمت سے دو حصے عطا فرمائے گا اور تم کو ایسا نور مقرر کر دے گا کہ تم اس کے ذریعہ چل سکو گے اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
۱۰۷
اس متّبرک آیت کی تفسیر یہ ہے کہ: اے ایمان والو! جو دائرۂ اسلام میں داخل ہو چکے ہو، اب خدا سے ڈرو، یعنی نیّات، اقوال اور اعمال میں تقویٰ کو ملحوظِ نظر رکھو اور خدا کے رسول حضرت محمد صلعم پر مکمّل طور سے ایمان لاؤ، یعنی حقیقی مومنین بنو، تا کہ اللہ تعالیٰ بذریعۂ رسولِ مقبولؐ تم کو اپنی رحمتِ بیکران سے دو حصے عطا کرے گا، یعنی ظاہری ہدایت اور باطنی ہدایت کا وسیلہ پیدا کرے گا، اور تم کو ایسا نور یعنی امام مقرر کر دے گا، کہ اس کا سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا، تا کہ تم دینی اور دنیاوی طور پر زمانے کے ساتھ ساتھ منزل بمنزل آگے بڑھ سکو گے، یہاں تک کہ تم سلامتی کے ساتھ حوضِ کوثر پر وارد ہو جاؤ گے۔
پیغمبرؐ اور امامؑ کا نور خدا کا نور ہے:
اس کتابچہ کے موضوعات کے سلسلے میں یہاں تک آیاتِ نور سے جو کچھ حقائق و معارف بیان کئے گئے، ان سے آپ پر یہ حقیقت واضح اور روشن ہوئی ہو گی، کہ خدا کے مقدّس نور کا مظہر انسانی ہدایت کے لئے بلباسِ بشریت ہمیشہ اس دنیا میں حاضر اور موجود ہے، جس کی حاضری و موجودگی کے بغیر عالمِ ادیان کی ہستی و بقاء قطعاً نا ممکن ہے، اس حقیقت کی ایک محکم اور روشن دلیل یہ ہے، کہ مادّی نور یعنی سورج کے وجود کے بغیر اس مادّی کائنات کا وجود او رنظام لمحہ بھر کے لئے بھی قائم نہیں
۱۰۸
رہ سکتا، کیونکہ یہ ساری کائنات اور اس کے اندر جو کچھ موجود ہے وہ سب سورج کی بے پناہ تکوینی قوتوں سے پیدا ہوا ہے، اور یہ سارا مادّی نظام سورج ہی کی ہمہ گیر طاقتوں پر قائم ہے، یہ سب کچھ مظہرِ نورِ خدا کی مثال ہے، جو کبھی پیغمبر کی حیثیت سے اور کبھی امام کی صورت میں ہوتا ہے، جس کے ازلی وجودِ مبارک سے بتدریج عالمِ ادیان پیدا ہوا، اور اسی مظہر کی ذاتِ شریف کی طرف سے تمام ادیان کو علیٰ قدرِ مراتب ہدایت حاصل ہوتی رہتی ہے، پس اگر بفرضِ محال عالمِ دین میں یہ مظہر نہ ہو، تو سارے ادیان نیست و نابود ہو جائیں گے، اسی معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ: و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ امام کی نورانی ہستی کی بدولت ہر چیز محفوظ ہے، کیونکہ اس کی مقدّس ہستی لوحِ محفوظ کی حیثیت سے ہے، کہ ہر چیز کو امام کے نور نے گھیر کر رکھا ہے۔
چنانچہ نورِ امامت کی اسی دائمیّت اور اس کو بجھانے کے لئے کافروں کی ناکام خواہش و کوشش کے باب میں سورۂ صف کی آٹھویں آیت کا یہ ارشاد ہے کہ: وہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے (پھونک مار کر ) بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا ہر چند کہ کافر لوگ ناخوش ہوں۔(۶۱: ۰۸)
جاننا چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نور کا مظہر عالمِ ظاہر میں نہ ہوتا اور عالمِ باطن میں ہوتا، تو اس صورت میں کافر لوگ خدا کے
۱۰۹
نور کو بجھانے کا ارادہ ہی نہ کرتے، کیونکہ کافروں کا ارادہ صرف اس دنیا کی ظاہری چیزوں تک محدود ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی خواہش کی تردید کرتے ہوئے یہ نہ فرماتا، کہ میں اپنے نور کو درجۂ کمال تک پہنچا کر ہی رہوں گا، پس معلوم ہوا کہ خدا کا یہ نور اس دنیا میں ظاہر ہے۔
خدا، رسول اور نورِ امامت:
سورۂ تغابن کی آٹھویں آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ: پس تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے ایمان لاؤ اور اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے ۔ ۶۴: ۰۸۔
اس آیۂ کریمہ سے جو حقیقت صاف طور پر ظاہر ہوتی ہے، اس سے کوئی بھی دانشمند انکار نہ کر سکے گا، کہ اس میں تین مقدّس ہستیوں کا جدا جدا ذکر کیا گیا ہے، اور ترتیب سے ان تینوں ذواتِ مقدّسہ پر مکمل ایمان لانے کے لئے فرمان ہوا ہے۔
چنانچہ سب سے پہلے امر ہوا، کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ، اس حکم کے تحت وہ تمام نیک باتیں آ گئیں، جو خدا پر ایمان لانے سے متعلق ہیں، مثلاً حق تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرنا، اس کے اسماء و صفات پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں، کتابوں اور ان پیغمبروں پر ایمان لانا، جو آنحضرتؐ سے قبل دنیا میں
۱۱۰
بھیجے گئے تھے۔
پھر ارشاد ہے کہ اس کے رسول یعنی حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر ایمان لاؤ، اس حکم میں مسلمانی کی تمام بنیادی باتیں آگئیں، جیسے آنحضرتؐ کی نبوّت و رسالت پر ایمان لانا، قرآنِ پاک کو برحق ماننا، اسلام اور آنحضرت کی تمام تعلیمات کو قبول کرنا وغیرہ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ تم اس نور پر ایمان لاؤ، جو ہم نے نازل کیا ہے، ظاہر ہے کہ یہ پاک نور امامت ہی کا ہے، جو ازل سے موجود ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے ناطق کے آسمانِ نورانیت سے اساس کی زمینِ شخصیت پر نازل کر دیا، بالفاظِ دیگر یہ نور آنحضرتؐ کی ذاتِ والا صفات سے حضرت مولانا علیؑ کی مقدّس ہستی میں منتقل ہو گیا، اور اولادِ علیؑ کے سلسلۂ امامت میں تا قیامت قائم ہے، اور اس مبارک نور پر ایمان لانا یہ ہے، کہ مذکورہ سلسلے کے أئمّۂ طاہرین کو ’’من عند اللہ‘‘ مان لیا جائے، یعنی یقین ہو کہ یہ امام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہوئے ہیں، اور ان کی ظاہری و باطنی ہدایات پر عمل کیا جائے، اور نور کے اشارے سے یہ سمجھنا مقصود ہے، کہ انسانیت اور مذہب کے دور و دراز راستے میں طرح طرح کی تاریکیاں اور گوناگون ظلمتیں آنے والی ہیں، جن کے لئے نورِ امامت کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
جاننا چاہئے، کہ اس آیۂ مقدسہ کا مقصد و منشاء بھی ایسا
۱۱۱
ہی ہے جیسا کہ آیۂ اطاعت کا، جو فرمایا گیا ہے کہ: اے ایمان والو تم اللہ تعالیٰ کا کہا مانو اور رسول کا کہا مانو اور صاحبانِ امر کا بھی جو تم میں سے ہیں ۔ ۴: ۵۹۔
پس معلوم ہوا کہ امامِ برحق کو امر اور نور دونوں کا مرتبۂ عالیہ حاصل ہے، یعنی جس طرح خدا اور رسول نے امامِ عالی مقام کو صاحبِ امر مقرر فرمایا، اسی طرح نور بھی اسی کے سپرد کر دیا گیا، کیونکہ نور کے بغیر خدا کی مرضی و خوشنودی کے مطابق امر و فرمان نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی امر و ہدایت سے بڑھ کر نور کا کوئی اور مقصد ہوتا ہے۔
نور ایک زندہ ذکر:
جاننا چاہئے کہ معجزہ ہمیشہ انتہائی عجیب و غریب ہی ہوتا ہے، اگر وہ ایسا نہ ہوتا، تو معجزہ ہی نہیں کہلاتا، چنانچہ بعض حقیقی مومنین کو اپنی ذات کی معرفت کے ایک اعلیٰ درجے پر اس حقیقت کا علم ہوتا ہے، کہ نورِ امامت نہ صرف اپنی ذاتِ اقدس ہی میں ایک نہایت ہی درخشندہ اور تابناک جہان ہے، بلکہ یہ ہر عارف کے باطن میں بھی ایک ایسا نورانی عالم بن کر مشاہدے میں آتا ہے، جس کی عقل و روح تو کلّی، کائناتی اور ہمہ گیر و ہمہ رس درجے کی ہے ہی، مگر حیرت اس بات کی ہے، کہ اس عالمِ نور کی ہر چیز گویا ایک فرشتہ ہے، کہ اس میں ایک پاکیزہ روح بھی ہے اور ایک کامل عقل بھی۔
۱۱۲
بناء برین جاننا چاہئے، کہ نور کی لاتعداد صفات میں سے ہر صفت ایک عظیم زندہ فرشتے کی حیثیت سے ہے، چنانچہ اسی سلسلے میں نور کی ایک زندہ صفت ’’ذکر‘‘ بھی ہے، جس کے کئی معانی ہیں۔
اب ذکر جو نور کی صفت ہے، اس کے معانی یہ ہیں: ا۔ ذکر = یادِ الٰہی جس کی بہت سی قسمیں۔ ۲۔ ذکر = قوتِ ذاکرہ۔ ۳۔ ذکر = قرآنِ حکیم ۔ ۴۔ ذکر = نصیحت۔ ۵۔ ذکر = پیغمبر اور امام کا لقب۔
سوال: نور اگر ذکر ہے اور ذکر کے معنی یادِ الٰہی کے ہیں، تو بتاؤ کہ نور میں یادِ الٰہی کس طرح سے ہے؟ جواب: حقیقی مومنین کو یقین ہو، کہ نور کا سورج آسمانِ امامت میں بھی اور بحالتِ عکس عارف کے آئینۂ دل میں بھی ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے معجزانہ ذکر کا حامل ہوتا ہے، یعنی یہ نور کے معجزات میں سے ہے، کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے عظام میں سے کوئی ایک اسم خود بخود ایک قدرتی آواز بن کر دائمی اور مسلسل ذکر کی صورت اختیار کرتا ہے، جس کی ایک ظاہری مثال ایسی ہے، جیسے کوئی خلا نورد انسان اپنے راکٹ کے ذریعے جب سیارۂ زمین کے دائرۂ کشش سے باہر نکلتا ہے، تو اس وقت وہ راکٹ کو اڑائے یا نہ اڑائے، بہر حال وہاں کی لاوزنی کیفیت اس کو اور اس کے راکٹ کو اڑائے ہوئے گھماتی رہتی ہے، پس یہی حال اس عارف کا بھی ہے، جس کا ذکر خواہشاتِ نفسانیت کے دائرۂ کشش سے نکل کر نورِ
۱۱۳
امامت کے خلا میں پہنچ چکا ہو۔
سوال: مانا گیا کہ نور کا ایک نام ذکر بھی ہے، مگر نور ذکر کے معنی میں قرآن کس طرح ہے؟ جواب: نور ذکر کے معنی میں قرآن اس طرح سے ہے، کہ ذکر اگر ایک طرف سے نور ہے، تو دوسری طرف سے قرآن کی روح ہے، پس نور، ذکر اور روحِ قرآن ایک ہی حقیقت کے مختلف نام ہیں، اس کا ثبوت یہ ہے کہ قرآنِ حکیم کی ۴۲: ۵۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ قرآن وحی کی کیفیت میں اب بھی ایک عظیم روح اور نور ہے۔
نیز اسی روح اور نور کو ۲۲: ۵۴ میں ذکر کا نام بھی دیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہے کہ: اور ہم نے قرآن کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے کہ ذکر کر لے۔ قرآن کو ذکر کے لئے آسان کر دینے کا مطلب یہ ہے، کہ قرآن کی زندہ روح اللہ تعالیٰ کے اسمِ بزرگ میں ہے جو امامِ زمان کا نور ہے، حضورِ اکرم نبوّت سے پہلے اسی بزرگ اسم کا ذکر کر لیا کرتے تھے، اور اسی سے قرآنِ پاک کا ظہور ہوا، اور اب بھی قرآنِ حکیم کی روحانیت و نورانیت اسی اسم اور اسی ذکر میں موجود ہے۔
جیسا کہ بتایا گیا، کہ نور کے ناموں میں سے ایک نام ذکر بھی ہے، اور بیان ہوا کہ ذکر کے یہ یہ معانی ہیں، پس اسی حقیقت کے بارے میں سورۂ طلاق کی دسویں اور گیارہویں آیت کا یہ ارشاد ہے کہ: تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف ایک ذکر نازل کیا ہے، ایک ایسا رسول جو تم کو واضح نشانیاں پڑھتا ہے تا کہ ایسے لوگوں
۱۱۴
کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کریں تاریکیوں سے نور کی طرف لے آئے۔ ۶۵: ۱۰ تا ۱۱
اس آیۂ حکمت آگین کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ خداوندِ عالم نے دنیائے اسلام میں ایک ایسا زندہ اور مجسّم ذکر بھیجا، کہ اس میں ذکر کے تمام مذکورہ معانی اور اوصاف بدرجۂ اتم موجود تھے، جو رسولِ مقبولؐ تھے، دوسری طرف سے اس کے باطنی معنی یا تاویل یہ ہے، کہ حقیقی مومنوں اور عارفوں کے پاکیزہ دل و دماغ میں اسمِ اعظم کا ذکر ڈالا گیا ہے، جس میں رحمتِ عالمین اور امامِ مبین کا نورِ واحد موجود ہے، جو ہمیشہ روحانیت، ہدایت اور علم و حکمت کی روشن آیات پڑھتا ہے، تا کہ مومنوں اور نکوکاروں کو جہالت و نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر اپنی ذات کی انتہائی معرفت کی روشنی کی طرف لے آئے۔
نور اور دورِ روحانیت:
سورۂ تحریم کے دوسرے رکوع کے شروع (یعنی ۶۶: ۰۸) میں ہے کہ: اے ایمان والو تم اللہ کی طرف خالص توبہ کرو، قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے برائیاں دور کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کر دے گا، جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں، اس دن اللہ تعالیٰ نبی (صلعم) کو اور جو مومنین (تابعداری کی رو سے) ان (یعنی پیغمبر) کے ساتھ ہیں، ان کو رسوا نہ کرے گا، ان کا نور ان کے داہنے اور ان کے سامنے سعی کرتا ہو گا، کہیں گے کہ
۱۱۵
اے ہمارے ربّ ہمارے لئے ہمارے اس نور کو پورا کر دے اور ہمیں معاف فرما بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اس آیۂ مقدسہ کی حکمتوں کے سلسلے میں یہ ہے، کہ عموماً سب مسلمانوں سے اور خصوصاً عہدِ نبوّت کے مسلمین سے فرمایا جاتا ہے کہ: “اے ایمان والو! تم اللہ کی طرف توبۂ نصوح کرو۔” یعنی اے لوگو! جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف خالص اور سچی توبہ کرلو، مطلب یہ کہ ظاہری اور باطنی گناہوں کو انتہائی ندامت کے ساتھ ترک کردو اور اپنی نیّت، قول، اور عمل کی واجبی طور پر اصلاح کرو، کیونکہ توبہ الی اللہ کے معنی دل و جان سے خدا کی طرف رجوع کرنے کے ہیں، جس کے لئے تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد جو الفاظ ارشاد ہوئے ہیں، ان میں نور اور روحانی دور کے انقلابات کی پیش گوئی کی گئی ہے، اور روحانی دور کی بابت یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت یہ کہ وہ باطنی طور پر ہمیشہ جاری و ساری ہے، اور دوسری صورت یہ ہے، کہ وہ ایک مقررہ وقت میں ظاہر ہو کر دنیا والوں کو متاثر کرے گا۔
اب اس مقام پر قرآنِ حکیم کی حکمت کا یہ اصول قابلِ ذکر ہے، کہ قرآنِ مجید میں جہاں کہیں دنیا والوں کی اجتماعی حالت کے بارے میں کوئی پیش گوئی کی گئی ہے، اس کے اندر لوگوں کی انفرادی حالت کی بھی پیش گوئی پوشیدہ ہے،
۱۱۶
مثال کے طور پر جن آیاتِ کریمہ میں ایسی قیامت کا ذکر آیا ہے جو موت کے بعد واقع ہونے والی ہے، ان میں انسانی افراد کی شخصی قیامتوں کا بھی تذکرہ موجود ہے۔
چنانچہ خالص اور سچی توبہ کے حکم کے بعد فرمایا گیا ہے کہ “قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے برائیاں دور کر دے گا۔” اس ارشاد سے ایک تو یہ معلوم ہوتا ہے، کہ نافرمانیوں اور گناہوں سے توبۂ نصوح کرنے کے بعد بھی مومنوں میں کچھ ایسی برائیاں باقی رہتی ہیں، جنہیں وہ خود دور نہیں کر سکتے، دوسرا یہ پتہ چلتا ہے، کہ خالص اور قلبی طور پر توبہ کرنے کے بعد امامِ وقتؑ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا دروازہ کھل جانے کی امید ہے۔
یہاں پر یہ ضروری سوال پیدا ہوتا ہے، کہ وہ کون سی برائیاں ہیں، جن کو مومن اپنی ذات سے توبۂ نصوح کرنے کے باوجود بھی دور نہیں کر سکتا؟ اس کا جواب یہ ہے، کہ انتہائی حد کی توبہ کرنے کے بعد نفسانی گناہوں کی امکانیت البتہ ختم ہو جاتی ہے، مگر مذہب سے متعلق باطل خیالات اور غلط نظریات ایسی چیزیں ہیں، جن کو مٹانے کے لئے تنہا توبۂ نصوح کافی نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کے ساتھ خصوصی ہدایت اور علمِ توحید کی ضرورت ہے، جو امامِ زمان کے وسیلے سے حاصل ہو سکتا ہے۔
بعد ازان ارشاد ہے کہ: “اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کر دے گا، جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں۔” یہ بہشتِ روحانیت کے ان باغوں کا ذکر ہے، جن کا تعلق نہ صرف انسان کی دوسری
۱۱۷
ہی زندگی سے ہے، بلکہ اسی زندگی کی روحانیت میں بھی جزوی طور پر ان کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، جن میں انسانی عقل و جان کے لئے ہر قسم کی نعمتیں اور لذّتیں موجود ہیں، ایسے باغوں کے نیچے تائیدِ الٰہی کی نہریں چلتی ہیں، یعنی ان روحانی درجات میں عقلِ کلّ کی تائید، نفسِ کلّ کی تخلیق، ناطق کی تنزیل اور اساس کی تاویل کی قوتیں جاری و ساری ہیں۔
پھر ارشاد ہوا ہے کہ: “اس دن اللہ تعالیٰ نبی (صلعم) کو اور جو مومنین (فرمانبرداری کی رو سے) ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہ کرے گا۔” یہ واقعہ روحانی دور سے متعلق ہے، روحانی دور دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی، وقت سے پہلے انفرادی طور پر بھی ہے، اور وقت آنے پر اجتماعی حالت میں بھی، ایسے دور میں خدا تعالیٰ پیغمبر کو اور ان مومنین کو رسوا نہیں کرے گا، جو تابعداری، محبت اور روحانیت کے اعتبار سے اور نورِ امامت کی معیّت کے لحاظ سے ( کہ امام کا نور پیغمبر کا نور ہے) پیغمبر کے ساتھ ہیں۔
’’ان مومنین کا نور ان کے داہنے اور ان کے آگے سعی کرتا ہو گا‘‘۔ یعنی ایسے دور میں، جس کا اوپر ذکر کیا گیا نورِ امامت جو نورِ ایمان بھی وہی ہے، مومنین کے داہنے کان اور ان کی پیشانی سے خطاب کرے گا، جس میں ان کی دنیا و آخرت سے متعلّق رشد و ہدایت اور علم و حکمت ہو گی، کیونکہ تاویل کی زبان میں داہنی طرف ظاہر کو کہتے ہیں، جس سے یہ دنیا مراد ہے،
۱۱۸
اور آگے کا مطلب آخرت ہے، کہ آخرت انسان کے مستقبل میں ہے۔
’’کہیں گے کہ اے ہمارے ربّ ہمارے لئے ہمارے اس نور کو پورا کر دے اور ہمیں معاف فرما‘‘۔ یعنی اس وقت مومنین کو اس بات کا احساس ہو گا، کہ وہ باوجود کم علمی اور محتاجی کے قبلاً اس رحمتِ بے پایان سے غافل تھے، لہٰذا وہ خداوند تبارک و تعالیٰ سے یہ دعا کریں گے، کہ اے پروردگار! ہمارے اس نور کو درجۂ کمال تک پہنچا دے! یعنی ہماری ذاتی روحانیت کو نور کی اصل سے واصل کر دے! اور ہم جو اس امکانی رحمت سے قبلاً غافل رہے ہیں، اس کے لئے ہمیں معاف فرما! اور ہمارے آئندہ گناہوں کو بھی بخش دے!
’’بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔ یعنی جب مومنین روحانی دور میں اللہ جلّ شانہٗ کے لاتعداد معجزات اور بے شمار قدرتوں کا مشاہدہ کریں گے، تو اس وقت وہ زبانِ قال اور زبانِ حال دونوں سے کہا کریں گے، کہ بے شک تو ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، اور تیری قدرت میں ’’کوئی شیٔ ناممکن نہیں‘‘۔
۱۱۹
آفتاب و ماہتاب:
قرآن حکیم کی ۱۰: ۰۵، ۲۵: ۶۱ اور ۷۱: ۱۶ میں سورج اور چاند کی روشنی کا ذکر اس انداز سے یکجا طور پر آیا ہے، کہ سورج اس کائنات کے لئے ظاہری اور مادّی روشنی کا سرچشمہ ہے اور چاند اس کا مظہر ہے۔
یہ پرحکمت آیتیں ایک ہی موضوع یعنی نور کے مضمون اور بیان سے متعلق ہیں، جن کے مربوط مطالعہ اور غورو فکر کے نتیجے میں بہت سے حقائق و معارف سامنے آتے ہیں، جن سے نور اور مظہرِ نور کے تصور کے علاوہ توحید کے دوسرے انتہائی اعلیٰ تصورات جیسے ہمہ ازوست یا ہمہ اوست وغیرہ کے سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
چنانچہ سورۂ نوح کی پندرھویں اور سولہویں (یعنی ۷۱: ۱۵ تا ۱۶) میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں اور چاند کو نور قرار دیا ہے اور سورج کو چراغ ٹھہرایا ہے۔
جاننا چاہئے، کہ قرآنی حکمت کے اصولات میں سے ایک اصول یہ بھی ہے، کہ کسی بھی گوہرِ حقیقت کا مشاہدہ نہ صرف اس کے مختلف پہلوؤں سے کرایا جاتا ہے، بلکہ ہر پہلو کا مشاہدہ بھی مختلف زاویوں سے کرایا جاتا ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم کی ان آیاتِ کریمہ میں، جو سورج، چاند اور ان کی روشنی کے متعلق ہیں،
۱۲۰
کبھی ارشاد ہوا ہے، کہ سورج کی ذات چراغ ہے یعنی ایک خالی ظرف، کبھی ارشاد کیا گیا ہے، کہ وہ ایک روشن چراغ ہے اور کبھی فرمایا گیا ہے، کہ سورج گویا چراغ کا ظرف ہے اور چاند اس کا نور (یعنی شعلہ) ہے۔
پس حقیقی مومنین کے لئے واضح رہے کہ نور کی مذکورہ مثالوں کے ممثولات اس طرح سے ہیں، کہ قرآن پاک میں جہاں سورج کی مثال ایسے ظرفِ چراغ سے دی گئی ہے جس کو روشن کر دینے کے لئے تیل کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں نظریۂ ہمہ اوست (یک حقیقت) کی طرف اشارہ ہے، کہ جس طرح اجزائے کائنات کے تمام ذرّات باری باری سورج کے مقام پر پہنچ کر روشنی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، اسی طرح ہر چیز کی روح جب خدا کی ذات سے واصل ہو جائے، تو وہ فنا ہو کر اس کی صفات کی روشنی بن جاتی ہے، یہ ہمہ اوست اور یک حقیقت کا نظریہ ہے۔
جہاں ارشاد ہوا ہے کہ سورج ایک ایسا روشن چراغ ہے جو کائنات میں روشنی پھیلا دیتا ہے، تو اس کے معنی ہمہ ازوست اور یک الٰہیت کے ہیں، کیونکہ جس طرح ہر چیز کا مادّی وجود سورج سے بنتا ہے، اسی طرح ہر چیز کی روحانی ہستی خدا سے ہے۔ اور جہاں سورج کو چراغ اور چاند کو نور یعنی شعلۂ چراغ قرار دیا گیا ہے، اور یہ مثال رات کے لحاظ سے ہے، جس کا مطلب یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ برحق کی غیر مرئی صفات
۱۲۱
کا نور امامِ زمانؑ سے ظاہر ہوتا ہے، چونکہ یہی انسانِ کامل ہے اور یہی خدا کا مظہر ہے۔
روشنی بلا واسطہ سورج کی ہو یا بالواسطہ چاند کی، ہر حالت میں ایک ہی روشنی ہے، اس میں کوئی دوئی نہیں، مگر اس میں یہ فرق ضرور ہے کہ رات کے وقت جو روشنی چاند سے زمین پر پڑتی ہے، وہ براہِ راست نہیں آتی، بلکہ چاند کی سطح سے ٹکرا کر آتی ہے، اس لئے وہ سورج کی روشنی کی طرح تیز اور گرم نہیں ہوتی، جس کی وجہ یہ ہے، کہ ہم رات کے وقت نہ صرف یہی کہ سورج سے دور ہو جاتے ہیں، بلکہ چاند بھی ہم سے بہت ہی دور رہتا ہے، پس اگر ہم اس وقت چاند کی سطح پر جائیں، تو وہاں اس وقت رات نہ ہو گی بلکہ دن ہو گا، اس لئے وہاں ہم کو براہِ راست سورج نظر آئے گا، اس مثال کی تاویل یہ ہے کہ جو انسان امامِ زمانؑ کے لئے اقرار کرے، اس کے لئے امام کی شخصیت چاند ہے اور امام کی ہدایت چاند کی روشنی ہے، جب ایسا مومن منازلِ معرفت کو طے کر کے امام کی ذاتِ اقدس تک پہنچ جائے گا، تو اس وقت اس کے لئے امامِ زمان کی ہدایت خدا و رسول کی ہدایت ثابت ہو گی، جیسے چاند کی روشنی میں چاند پر پہنچ جانے کے ساتھ ساتھ چاندنی سورج کی روشنی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
۱۲۲
امام شناسی
حصہ سوم
حرفِ آغاز
حضرت آدم علیہ السّلام کی خلقت و بعثت سے قبل ربّ العزّت نے جو تمام فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ: انی جاعل فی الارض خلیفۃ ۔ ۰۲: ۳۰۔ یعنی میں (ہمیشہ ) زمین پر ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں۔ اس فرمانِ خداوندی کا اصل مطلب یہ پیش گوئی اور یہ اعلان تھا، کہ خلافت و نیابتِ الٰہیّہ کا مبارک و مقدّس منصب آدمؑ و اولادِ آدمؑ کے انبیائے کرامؑ اور أئمّۂ عظامؑ کے پاک سلسلے میں رہتی دنیا تک جاری و باقی رہے گا، چنانچہ اسی منشائے خداوندی کے مطابق پہلے دورِ نبوّت میں یہی خلافتِ الٰہیّہ پشت بہ پشت چلتی آئی تھی، اور اس کے بعد پھر دورِ امامت میں یہی ربّانی منصب آج تک جامہ بجامہ جاری ہے، اور ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی یہی سلسلہ چلتا رہے گا۔
اس حقیقت کے بارے میں اگر کوئی دانشمند ذاتی طور پر بھی تحقیق و تدقیق کرنا چاہے، تو اسے سب سے پہلے لفظ جَاعِلٌ کے معنی میں خوب غور کرنا چاہئے، کہ جاعل اسمِ فاعل ہے اور یہاں اس کی معنوی وسعت کا تعلق فی
۱۲۵
الارض کے ساتھ ہے، اور فی الارض سے وہ تمام لوگ مراد ہیں جو حضرت آدم علیہ السّلام کے زمانے سے لے کر قیامِ قیامت تک سیّارۂ زمین پر بستے جائیں گے، اور لفظِ خلیفۃ سے اس حقیقت کا دو طرح سے ثبوت ملتا ہے، کہ خلیفۃ کے معنی ہیں ایک جانشین یا ایک نائب، جو ایک اعتبار سے حضرت آدم علیہ السّلام خدا کا وہ واحد خلیفہ ہے، جس کی اولاد کے تمام انبیاء و أئمّہ علیہم السلام اپنے اپنے وقت میں اسی کی خلافت کے وارث، ولی اور نمائندے تھے، اور دوسرے اعتبار سے یہ بھی درست ہے کہ ہر پیغمبر اور ہر امام اپنے زمانے میں خدا کا ایک خلیفہ ہے، اور یہ دونوں باتیں ایک ہی حقیقت کی حامل ہیں۔
اگر حضرت آدمؑ کی خلافت ان کی اولاد کے پیغمبروں اور اماموں کے سلسلے میں قیامت تک جاری و باقی رہنے والی نہ ہوتی، تو فرشتوں نے امرِ خلافت پر اعتراض کیوں اٹھایا، اگرچہ وہ فرشتے حقائقِ اشیاء سے واقف و آگاہ تو نہیں تھے، لیکن دنیا میں پیش آنے والے واقعات کی ظاہری حالت کو کسی ذریعے سے جانتے تھے، اور ان کا اعتراض اس انداز میں ہے کہ اس سے دنیا میں ہمیشہ لوگوں کے درمیان خلیفۂ خدا کی موجودگی ثابت ہو جاتی ہے، جیسے انہوں نے کہا کہ: کیا تو ایسے شخص کو زمین میں خلیفہ مقرر کرتا ہے، جو اس میں فساد اور خونریزیاں کرے گا۔ ۰۲: ۳۰۔ اس کے جواب
۱۲۶
میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے۔
دنیا میں لوگوں کی ہدایت و رہنمائی اور حق و انصاف کی تائید و حمایت کے لئے اللہ تعالیٰ کی خلافتِ صوری و معنوی ہمیشہ قائم ہے، اسی لئے پروردگارِ عالم نے فرمایا کہ: یا داؤد انا جعلنٰک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ۔ ۳۸: ۲۶۔ اے داؤد تحقیق ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے سو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکم کرتے رہنا۔ اس آیۂ کریمہ سے یہ مطلب صاف طور پر ظاہر ہوا، کہ خدائے حکیم نے وہ حکم، جو زمین والوں سے متعلق تھا، تمام معنوں کے ساتھ اپنے برگزیدہ خلیفہ کے حوالے کر دیا ہے، ورنہ خلیفہ کا یہ لقب بے معنی ہو جاتا، قرآنِ پاک کی اس تعلیم کے بموجب جب حکم دینا خلافتِ الٰہی کے بغیر روا نہیں، تو امر کرنا خدا کی خلافت کے سوا کس طرح جائز ہو سکتا ہے، پس یہ حقیقت یقینی الفاظ میں ثابت ہوئی، کہ قرآنِ حکیم نے أئمّۂ طاہرین صلوات اللہ علیہم کو اولوالامر اس لئے کہا ہے، کہ ان کو اللہ نے روئے زمین پر اپنی خلافت و نیابت کے شرف سے مشرف کر کے امر کا مالک اور مختار بنا دیا ہے۔
امام شناسی کی اس کتاب کے آغاز میں خلافتِ آدم کی بحث اس لئے کی گئی، کہ ان کی خلافت نہ صرف کارِ نبوّت کی بنیاد ہے، بلکہ یہ کسی شک کے بغیر امرِ امامت کی
۱۲۷
بھی اساس ہے، پس ہم نے اس بیان میں حضرت آدمؑ اور حضرت داؤدؑ کی خلافت کی قرآنی دلیل سے یہ حقیقت واضح کر کے بتایا، کہ امام خدا کے خلیفۂ معنوی کی حیثیت سے ہمیشہ دنیا میں حاضر اور موجود ہیں، اور ان کی معرفت کا حصول ہر دیندار آدمی کے لئے انتہائی ضروری شیٔ ہے، چنانچہ ہم نے اپنے اسماعیلی بھائیوں کے لئے امام شناسی کے مختلف موضوعات پر مشتمل کتابوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس میں قبلاً دو کتابیں تیار ہو چکی تھیں، اب خدا کے فضل و کرم سے زیرِنظر کتاب اسی سلسلے کا تیسرا حصہ ہے، جو مکمل ہو کر آپ کے سامنے ہے۔
یہ کتاب ایسی آیاتِ قرآنی کی شہادتوں پر مبنی ہے، جن میں “کل” کا لفظ آیا ہے، ان آیتوں کو کلیّات یعنی عام قوانین کے درجے میں مانتے ہوئے ہر کلیّے کی حقیقتوں سے امام شناسی کی ضرورت و اہمیت ظاہر کر دی گئی ہے، اس کتاب میں مضامین کا یہ طریقہ اس لئے اختیار کیا گیا ہے، کہ قرآنِ حکیم میں امام شناسی کا ایک مشہور کلیّہ “و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین” ہے اور اس کے معنی ہیں کہ ربّ العزّت نے ہر چیز کو امامِ مبین کی ذات میں گھیر کر رکھا ہے، جب یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ امام ہر چیز پر محیط ہے، تو ماننا پڑے گا، کہ امام شناسی کا موضوع تمام موضوعات پر حاوی ہے، پس ہم نے یہ ثابت کر کے
۱۲۸
دکھانا تھا، کہ امام شناسی کے مذکورہ کلیّے نے قرآن کے دوسرے تمام کلیّات کو کس طرح گھیر لیا ہے، چنانچہ آپ اس کتاب کے مطالعے سے یہ معلوم کر سکتے ہیں، کہ واقعاً تمام کلیّات امامِ مبین کے کلیّے میں داخل ہیں اور قرآنِ حکیم کی ساری آیات مختلف کلیّوں میں سموئی ہوئی ہیں۔
قرآن و حدیث کے علاوہ عقل بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے، کہ ہر چیز کا ایک دروازہ ہوا کرتا ہے، اسی طرح قرآن کی مختلف حکمتوں کے بھی خزانے ہیں، ان خزانوں کے مقفل دروازے ہیں اور ان قفلوں کی کلیدیں ہیں، جیسے قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ: افلا یتدبرون القرآن ام علیٰ قلوب اقفالھا ۔ ۴۷: ۲۴۔ تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں۔چنانچہ ہم نے اس کتاب میں (ان شاء اللہ تعالیٰ) امامِ برحق صلوات اللہ علیہ و سلامہ کے نورِ معرفت کی روشنی میں جن خاص خاص کلیدوں کو درج کر لیا ہے وہ حقیقی مومنین کے لئے واقعی امام شناسی اور قرآنی علم و حکمت کے گنجینوں کی کلیدیں ہیں۔
میں یہ کہتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں کرتا ہوں بلکہ اس سے مجھے بے اندازہ خوشی ہے کہ میں علم کا غنی نہیں، درویش ہوں اور امامِ عالی مقام کے دروازۂ روحانیت پر شب و روز شیء للہ کی صدا و صلا لگاتا رہتا ہوں، پس اگر میری تحریروں سے جماعت کی کوئی علمی خدمت ہو سکتی ہے،
۱۲۹
تو یہ اسی شاہِ ولایت و نورِ ہدایت کی مہربانی سے ہے، اور اگر ان قلمی کوششوں میں کچھ لفظی خامیاں ہیں، تو وہ میری اپنی نفسانی کدورتوں کے سبب سے ہیں۔
میں بالآخر گروہِ مومنین کی قلبی دعائیں چاہتا ہوں، تا کہ قادرِ متعال اپنے ولئ امر امامِ حیّ و حاضر کے وسیلے سے اس بندۂ ناچیز کو بیش از بیش علمی خدمت کی توفیق و ہمت عنایت فرمائے! آمین یا رب العالمین!!
فقط خاکسار مصنف
۷۴/۳/۱۲
۱۳۰
کلید نمبر ۱
قدرتِ کاملہ
اللہ تعالیٰ کی طاقت و توانائی کا نام قدرتِ کاملہ ہے، قرآنِ حکیم کے پر حکمت کلیّات کے سلسلے میں سب سے پہلے وہ کلیّہ آتا ہے، جو قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ کے متعلق ہے، جو سورۂ بقرہ کی بیسویں آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ: ان اللّٰہ علیٰ کل شیء قدیر (۰۲: ۲۰) یعنی یقیناًاللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
یہاں کل شیء کی وضاحت سب سے ضروری ہے، کہ کل شیء یعنی ہر چیز سے نہ صرف ممکنات مراد ہیں، بلکہ اس میں غیر ممکنات کا بھی تذکرہ موجود ہے، کیونکہ قادرِ مطلق کے لئے کوئی چیز ناممکن نہیں، جس کی ایک واضح اور روشن دلیل یہ ہے، کہ زمانۂ قدیم کے دنیاوی حکماء کے نزدیک جتنی چیزیں نا ممکن تھیں، ان میں سے اب بہت سی چیزیں سائنسی انقلاب کی بدولت ممکن ہوچکی ہیں، اور اس قسم کے انکشافات و ایجادات کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، پھر یہ اندازہ شاید غلط نہ ہوگا، کہ آنے والی چند صدیوں کے اندر اندر بے شمار ناممکن چیزیں ممکنات میں شامل ہو جائیں گی،
۱۳۱
اسی طرح رفتہ رفتہ ہوسکتا ہے، کہ غیر ممکن اور محال کا نظریہ قطعی طور پر ختم ہو جائے۔
پس اللہ تعالیٰ کے ہر چیز پر قادر ہونے اور اس کے لئے کوئی چیز ناممکن نہ ہونے کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو، کہ انسان، جو اس کی ایک مخلوق ہے، آئے دن کسی نہ کسی ناممکن چیز کو ممکن ثابت کرتا جا رہا ہے، یہ سب کچھ اسی قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ کی مہربانی سے ہے۔
اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے بیان کے ضمن میں انسان کی طاقت و توانائی کی بحث بھی چھڑ گئی ہے، اور یہ مسئلہ ایسا نہیں، کہ اس کو پسِ پشت ڈال دیا جائے، کیونکہ ’’ناممکن‘‘ کا تصور وہی تو ہے، جس نے دنیا کی بہت سی قوموں کے لئے علم و حکمت کے دروازے بند اور کامیابی کی راہیں مسدود کر دی ہیں، اس لئے جاننا چاہئے، کہ انسان، خواہ وہ مادّیت کے میدان میں ہو یا روحانیت کے مقام پر، خدا تعالیٰ کی قدرت و توانائی کا مظہر ہے، کیونکہ خدائے حکیم کے سارے معجزات انسان ہی سے ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ مبارک ہے کہ:
سنریھم اٰیٰتنا فی الاٰفاق و فی انفسھم حتیٰ یتبین لھم انہ الحق ۔ ۴۱: ۵۳۔ ہم عنقریب ان کو آفاق میں بھی اور ان کے نفوس میں بھی اپنے معجزات دکھائیں گے، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ برحق ہے۔
۱۳۲
قرآنِ حکیم کی اس پیش گوئی سے دانا کے لئے ظاہر ہے، کہ پہلے تو اس دنیا میں ظاہری اور مادّی قسم کے معجزات رونما ہونے والے تھے، جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے، اس کے بعد نفوسِ انسانی روحانی دور کی آمد سے متاثر ہونے والے ہیں، جس کے نتیجے میں روحانی قسم کے معجزات کا دور دورہ ہونے والا ہے، پس مومن کو چاہئے، کہ روحانیت کے انقلابی دور کے ساتھ سازگاری کے لئے اپنے آپ کو تیار کر کے رکھے، یہ تیاری کس طرح ہو سکتی ہے؟ یقینی درجے کے علم سے، امام شناسی کے علم سے اور ذاتی روحانیت کے تجربات سے، اس کے علاوہ قرآنِ حکیم کے ایسے کلیّات میں غور و فکر کرنے سے، جن میں ہر چیز کے قوانین کا علم و حکمت اور ہر شیٔ کی حقیقت و معرفت موجود ہے، تا کہ ایک طرف سے ’’ناممکن‘‘ کا تصور ختم ہوکر، ’’ممکن‘‘ کا نظریہ پیدا ہوسکے اور دوسری طرف سے روحانی دور کے اثرات کے متحمل ہونے کی اہلیت پیدا ہو سکے۔
جب تک کوئی انسان مادّیت کی تنگ و تاریک چاردیواری کے اندر مقید و محبوس، روحانی علم سے بے بہرہ اور امکانیت کی بے پناہ وسعتوں سے نا آشنا ہے، تو پھر وہ کیسے باور کر سکتا ہے، کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت اور علم نے انسان کے لئے ہر قسم کی امکانیت پیدا کر دی ہے اور کوئی چیز ناممکن نہیں، بلکہ ہر چیز، ہر بات اور ہر کام ممکن ہے، ہاں یہ بات
۱۳۳
ضرور ہے کہ ہر ممکن کے لئے ایک مناسب مقام اور ایک خاص موقع یا کہ کوئی ضروری شرط مقرر ہے، یعنی ازل سے ابد تک، دنیا سے آخرت تک اور مکان سے لامکان تک انسان کے لئے ہر چیز کی امکانیت کے بے شمار مواقع ملنے والے ہیں، اسی لئے ارشاد ہے کہ مایوسی کفر ہے اور اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ تم نے خدا سے مانگا تھا، اس نے وہ سب تم کو دے رکھا ہے۔
قدرتِ کاملہ اور ممکن و ناممکن کے اس بیان کے ساتھ ساتھ لازمی ہے، کہ انبیاء و أئمّہ علیہم السلام کے ظاہری و باطنی اور علمی وعملی معجزات کا بھی بطریقِ اجمال کچھ تذکرہ کر دیا جائے، چنانچہ یہ جاننا ضروری ہے، کہ قادرِ مطلق نے جن کامل انسانوں کو نبوّت یا امامت کے نورِ مقدّس کا حامل بنا کر بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مقرر فرمایا ہے، ان کو اثباتِ حقانیت وصداقت کے طور پر طرح طرح کے معجزات کی روحانی طاقت سے بھی نوازا ہے، تا کہ ہادئ برحق کے متعلق باور کرنے والے مکمل طور پر باور کریں اور انکار کرنے والے یا تو باور کریں یا انتہائی حد کا انکار کریں، تاکہ ان کے بارے میں قانونِ الٰہی کوئی فیصلہ صادر کرے، ظاہری اور حسّی معجزات کی کیفیت و حقیقت بس ایسی ہے، مگر بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے، کہ جن لوگوں نے شروع شروع میں معجزات پر ایمان لایا تھا، وہ بھی رفتہ رفتہ ان معجزات کے ایسے ہی عادی بن
۱۳۴
گئے، کہ معجزات ان کی نظر میں معجزات ہی نہ رہے، انہوں نے معجزات کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا، ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ ان میں قساوتِ قلبی پیدا ہوئی، یعنی دل کی سختی، جس کی وجہ سے ان کا ایمان روز بروز کمزور ہوتا گیا، اس واقعہ کی ایک مثال بنی اسرائیل کے قرآنی قصے میں موجود ہے۔
ان حالات کے برعکس ہادئ برحق کی حقیقی فرمانبرداری اور اس کی محبت و عشق میں ایمان و ایقان، اور علم وحکمت کے جو جو عجائبات اور معجزات پوشیدہ ہیں، ان کے بار بار سامنے آنے سے مومن کے ایمان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ان میں کوئی خطرہ نہیں۔
۱۳۵
کلید نمبر ۲
علمِ الٰہی
دوسرا قرآنی کلیّہ اللہ تعالیٰ کے علم کے باب میں ہے، جو البقرہ کی انتیسویں آیت میں ہے کہ: و ھو بکل شیء علیم ۔ ۰۲: ۲۹۔ اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
اس حقیقت کے بارے میں مومنین و مسلمین کو ذرّہ بھر شک و شبّہ نہ ہوگا، کہ اللہ پاک ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے، اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ اس کے احاطۂ علمی سے کوئی چیز باہر ہے، لیکن جو اہلِ بصیرت خدا کی توحید ومعرفت سے واقف وآگاہ ہیں، ان کے نزدیک علم کی یہ صفت حضرت ربّ العزّت کے لئے کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ اس کی فرمانبرداری کے نتیجے میں قلمِ قدرت (عقلِ کلّ) اور لوحِ محفوظ (نفسِ کلّ) کو بھی ہر چیز کا علم اور ہر چیز کی قدرت دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک ایسی زندہ اور حقانیت وصداقت سے بولنے والی کتاب ہے، کہ اس میں دستِ قدرت نے روحانی اور نورانی تحریر سے ہر چیز کا احاطۂ علمی کر رکھا ہے، یہ حقیقت ان دونوں آیتوں کا
۱۳۶
ماحصل ہے: و لدینا کتٰب ینطق بالحق ۔ ۲۳: ۶۲۔ اور ہمارے پاس ایک ایسی کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے۔ و کل شیء احصینٰہ کتابا ۔ ۷۸: ۲۹۔ اور ہم نے ہر چیز کو ایک کتاب میں گھیر رکھا ہے۔ جب یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے، کہ خدا کی اس نورانی کتاب میں تمام چیزیں موجود ہیں اور ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کتاب سے باہر ہو، پھر یہ بات لازمی ہے کہ خدا کی اپنی مخصوص چیزیں بھی اس معجزاتی کتاب میں ہوں، جبکہ یہ کتاب خدا ہی کی ہے، خدا کی خاص خاص چیزیں کون کون سی ہیں؟ خدا کی جملہ خوبیاں، یعنی تمام صفات ہیں، جن میں سب سے پہلے حیات، علم، ارادہ اور قدرت ہے، اس بیان سے جب یہ حقیقت صاف طور پر ظاہر ہوگئی، کہ خدا کی زندہ اور بولنے والی کتاب میں اس کی ساری خوبیوں کے خزانے پنہان ہیں، تو پھر اس حقیقت کے لئے بھی تسلیم کرنا چاہئے، کہ اللہ تعالیٰ کے مقدّس نور کے سوا کوئی چیز ایسی کتاب نہیں ہوسکتی ہے، جو پروردگارِ عالم کی جملہ صفات سے متصف ہو۔
اللہ تعالیٰ کے نورِ پاک کے حامل صرف انبیاء وأئمّہ علیہم السّلام ہی ہیں، جنہیں خدا نے روئے زمین کی خلافت و نیابت کے لئے برگزیدہ فرمایا ہے، اور ان حضرات کی برگزیدگی فقط اسی معنی میں ہے کہ ربّ العزّت نے ان کو اپنے اپنے وقت میں نورِ مطلق کا چراغ قرار دے دیا ہے
۱۳۷
تا کہ ان کی ہدایت و رہنمائی اور علم و حکمت کی ضیا پاشیوں سے عالمِ دین تابان و درخشان ہوتا رہے، جیسا کہ قرآن حکیم کی ۳۳: ۴۶ کے ارشاد سے ظاہر ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے وقت میں خدائی نور کے روشن چراغ تھے۔
یہ ہمارا اپنا عقیدہ اور ایمان ہے کہ خدا کے خلیفہ، قلمِ قدرت اور لوحِ محفوظ کا مظہر، کتابِ ناطق اور پیغمبرِ آخر زمان کا نور اور آپ کے جانشین امامِ مبین ہیں، یعنی امامِ زمانؑ، ہمارے نزدیک امامِ مبین کا نظریہ ایک ازلی وابدی حقیقت ہے، چنانچہ قرآنِ عظیم کا ارشاد ہے کہ: و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ۔ ۳۶: ۱۲۔ اور ہم نے ہر چیز کو امامِ ظاہر (کے نور) میں گھیر کر رکھا ہے۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ امامِ مبین سے لوحِ محفوظ مراد ہے، تو میں سوال کروں گا، کہ اچھا حضرت، یہ تو بتایئے کہ لوحِ محفوظ کس چیز سے بنی ہے؟ یعنی اس کے وجود کی کیفیت و حقیقت کیا ہے؟ کیا وہ قیمتی جواہرات میں سے کسی جوہر کی ہے؟ کیا وہ عقلی موجودات میں سے ہے یا روحانی موجودات میں سے؟ وہ ان تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ضرور کرے گا۔
اگر کہے کہ لوحِ محفوظ وجودِ عقلی رکھتی ہے، تو اس کا یہ جواب غلط ہو گا، کیونکہ ’’کل شیء‘‘ میں جب عقل، روح اور جسم تینوں کا ذکر ہے، تو مجرّد عقل کی ایسی لوحِ محفوظ تمام
۱۳۸
چیزوں کی حامل کس طرح ہو سکتی ہے، جب تک کہ اس کی ہستی میں روح اور جسم کی شرکت نہ ہو۔
اگر وہ اپنے جواب میں کسی عظیم روح کو لوحِ محفوظ قرار دے، تو اس صورت میں بھی اس کا جواب درست نہیں ہو سکتا، کیونکہ عقل اور جسم کے بغیر خالص روح کی لوحِ محفوظ میں صرف روحانی چیزیں ہی ہوسکتی ہیں، مگر کل شیء میں صرف روحانی چیزوں کا ذکر نہیں بلکہ سب چیزوں کا بیان ہے۔
اگر وہ شخص اس طرح جواب دے، کہ لوحِ محفوظ جواہرات میں سے کسی جوہر کی بنی ہے، اور ایسی لوحِ محفوظ کی تاویل کا قائل نہ ہوجائے، تو پھر بھی اس کا جواب غلط ہو گا، کیونکہ جواہرات بغیر روح اور بغیر عقل کے ہوتے ہیں، اور خدا کے نزدیک ان کی کوئی کرامت وفضیلت نہیں، پس کوئی جوہر عقلی اور روحانی چیزوں کا حامل کس طرح ہو سکتا ہے۔
اس بیان سے یہ حقیقت پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی، کہ امامِ مبین کے معنی امامِ ظاہر کے ہیں، جن کی مبارک و مقدّس ہستی میں عقل، روح اور درجۂ کمال کے انسانی جسم کی شرکت ہے، جس کے سبب سے امامِ مبین ہر لطیف چیز کے حامل ہیں، اور حقیقت میں لوحِ محفوظ بھی آپ کی ذاتِ اقدس ہی ہے۔
۱۳۹
علمِ الٰہی کے سلسلے میں علمِ غیب کی کچھ وضاحت بھی ضروری ہے، تا کہ نفسِ مضمون ادھورا نہ رہ جائے، چنانچہ حق تعالیٰ کا فرمانِ مبارک ہے کہ: عالمُ الغیب فلا یظھر علیٰ غیبہ احدا۔ الا من ارتضی من رسول ۔ ۷۲: ۲۶ تا ۲۷، غیب کا جاننے والا وہی ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اس شخص کے جس کو وہ رسولوں میں سے منتخب کرے۔
یہاں ’’علیٰ غیبہ‘‘ کے معنی قابلِ غور ہیں، جس کا مطلب ہے ’’اپنے تمام غیب پر‘‘ پس معلوم ہوا، کہ اللہ تعالیٰ اپنے تمام غیب پر کسی برگزیدہ پیغمبر کو بھی مطلع فرماتا ہے۔
علمِ الٰہی کے اس موضوع کے سلسلے میں یہاں تک جو کچھ بیان ہوا، اس کا خلاصہ یہ ہے، کہ علم کے بارے میں خداوند تعالیٰ کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے خاص خاص علوم کے عطیات سے اپنے برگزیدہ بندوں کو سرفراز فرماتا ہے، یہاں تک کہ علمِ غیب کو بھی اپنے لئے مخصوص نہیں رکھتا، جیسے و علم آدم الاسماء کلھا ۔ ۰۲: ۳۱ (اور خدا نے آدم کو تمام اسماء کی تعلیم دی) سے بھی یہ حقیقت ظاہر ہے، کہ خدا خود ہی حضرت آدم علیہ السلام کا معلّم ہے، اور علم الاسماء کوئی کتابی اور ظاہری علم نہیں، بلکہ یہ غیب ہی کا علم ہے، جس کو سوائے اللہ تعالیٰ کے ملائک بھی نہیں جانتے تھے، پس اللہ نے ابوالبشر کو غیب کا علم عطا کر دیا۔
۱۴۰
علمِ غیب کے بارے میں مزید حقائق کے لئے اس آیۂ کریمہ میں غور کیا جائے: و عندہ مفاتح الغیب۔۔۔ فی کتاب مبین ۔ ۰۶: ۵۹۔ اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسے بحروبر کی سب چیزوں کا علم ہے اور کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری یا سوکھی چیز نہیں ہے مگر وہ روشن کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔ اس فرمانِ الٰہی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خداوند تعالیٰ کا علمِ غیب کتابِ ناطق میں ہے سب چیزوں کی زندہ اور بولتی تصویریں کتابِ مبین (بولنے والی کتاب یعنی ) نورِ امامت میں موجود ہیں۔
یاد رہے کہ آسمان و زمین اور ظاہر و باطن کی چیزوں کی پوشیدہ باتوں کا جاننا ہی علمِ غیب کہلاتا ہے، جب ایسا علم ظاہر ہوجاتا ہے تو وہ اس وقت علمِ غیب نہیں رہتا، بلکہ علمِ ظاہر کہلاتا ہے، مگر اس کی حکمت اور تاویل، جو ظاہر نہیں کی گئی ہو، وہ اب بھی علمِ غیب ہی ہے۔
چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السّلام حضورِ انور کو بحکمِ خدا غیب کی کوئی بات بتانے کے بارے میں کنجوسی نہیں کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا کلامِ حکمت نظام ہے کہ: و ما ھو علی الغیب بضنین ۔ ۸۱: ۲۴۔ اور وہ (جبرائیل) غیب کی باتیں بتانے میں بخیل نہیں۔
۱۴۱
کتابِ ناطق یعنی قرآنِ ناطق میں علمِ غیب کا خزانہ پنہان ہونے کے بارے میں ارشاد ہے کہ: و ما من غائبۃ فی السماء و الارض الا فی کتاب مبین ۔ ۲۷: ۷۵۔ اور آسمان و زمین میں کوئی ایسی مخفی چیز نہیں ہے مگر وہ بیان کرنے والی کتاب میں موجود ہے۔ اس بیان کرنے والی کتاب سے نورِ امامت مراد ہے۔
جاننا چاہئے کہ کتابِ ناطق یعنی امامِ مبین کے نور میں آسمان و زمین کی تمام چیزوں کی ایسی نورانی تصویریں موجود ہیں جو عقل و روح کی رنگینیوں سے بحکمِ صبغۃ اللہ (۰۲: ۱۳۸) بھرپور ہیں، اور خدا کے اذن سے ان میں سے ہر تصویر کائنات و موجودات کی متعلقہ چیز کی مثال پیش کر سکتی ہے اس حقیقت کا نام نورانی تاویل ہے، چنانچہ حضرت یوسف اپنے وقت میں کتابِ مبین کی حیثیت سے تھے، وہ اپنے باطن کی نورانی مثالوں سے کسی بھی مخفی چیز کا حال بتا سکتے تھے چنانچہ انہوں نے ہادئ برحق کے علمِ غیب کی طرف توجہ دلانے کے لئے قید خانے میں اپنے دونوں ساتھیوں سے فرمایا کہ: دیکھو جو کھانا تمہارے پاس آتا رہتا ہے، جو کہ تم کو کھانے کے لئے یہاں ملتا ہے میں اس کے آنے سے پہلے ہی اس کی حقیقت (تاویل) بتلا دیا کرتا ہوں یہ بتلا دینا اس علم کی بدولت ہے جو مجھ کو میرے ربّ نے تعلیم فرمایا ہے ۔ ۱۲: ۳۷۔
۱۴۲
علمِ تاویل دو قسم کا ہوتا ہے، ایک نورانی ہے اور دوسرا کتابی، انبیاء وأئمّہ علیہم السّلام کے پاس علمِ تاویل نورانی صورت میں ہوتا ہے، جس کو علمِ لدّنی اور علمِ غیب بھی کہا جاتا ہے۔
۱۴۳
کلید نمبر ۳
ہر گروہ کا قبلہ
قرآن مجید کی ۰۲: ۱۴۸ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ: و لکل وجھۃ ھو مولیھا ۔ ۰۲: ۱۴۸۔ اس آیۂ پرحکمت کے کئی معنی ہیں، اوّل: اور ہر ایک فرقے کے لئے ایک سمت مقرر ہے جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں، دوم: اور ہر قوم کے لئے ایک شریعت مقرر ہے جس کی طرف وہ متوجہ رہتی ہے، سوم: اور ہر شخص کے لئے ایک دینی استاد ہے، جس کی طرف وہ رجوع کرتا ہے، چہارم: ہر روحانی طالب کا ایک مطلوب ہوا کرتا ہے، وہ اس کی تلاش میں لگے رہتا ہے، پنجم: ہر دینی درجہ کے لئے ایک اوپر کا درجہ ہوا کرتا ہے، وہ اس کا خواہشمند رہتا ہے، ششم: شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت میں سے ہر منزل کے لئے ایک قبلہ ہوا کرتا ہے، جس کے اہل اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، یعنی اہلِ شریعت کا قبلہ خانۂ کعبہ ہے، اہلِ طریقت کا قبلہ پیرومرشد ہے، اہلِ حقیقت کا قبلہ پیغمبر اور امام ہیں، اور اہلِ معرفت کا قبلہ خدا کا نور ہے۔
۱۴۴
مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ میں اس ارشادِ مقدّس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ: پس تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرتے رہو تم جہاں کہیں ہوگے خدا تم سب کو حاضر کرے گا، بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ ۰۲: ۱۴۸۔
اس آیۂ پاک کی حکمت کے اشارے نہ صرف ادیانِ عالم کی طرف ہیں، بلکہ افرادِ مذہب کی طرف بھی ہیں، کہ جس طرح ظاہری قبلہ کے بارے میں گروہوں کے حالات مختلف ہیں، اسی طرح باطنی توجہ کے باب میں بھی افراد کی کیفیت جدا جدا ہے، پس ان مختلف نظریات کو خدا کی توحید کے تصور کی طرف مرکوز کر دینے کا راز اس امر میں مضمر ہے کہ مسلمین و مومنین دوسرے ادیان والوں سے نیکی یعنی اعمالِ صالحہ میں سبقت لے جائیں، اور دنیا بھر میں نیکی کا نمونہ بن جائیں، تا کہ دعوتِ اسلام کا عملی صورت کارفرما ہوسکے، اور اس کے نتیجے میں دنیا والوں کو ضرور احساس ہوگا، کہ اسلام خدا کا آخری دین ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ خدا کے سچے رسول اور آخری نبی ہیں۔
اجتماعی قبلہ کے بیان میں انفرادی توجہ کا ذکر اس لئے آیا ہے، کہ قرآنِ حکیم میں جو ہدایت جماعتوں کے لئے آئی ہے اس میں افراد کے لئے بھی ہر قسم کی رہنمائی ہے، چنانچہ یہاں نیکی کا جو راستہ قوم کے لئے مفید ہے، وہ ایک فرد کے لئے بھی مفید ہوسکتا ہے، مثلاً ایک شخص کے دل میں
۱۴۵
عبادت کے دوران یکسوئی نہیں رہتی ہے اور اس کو طرح طرح کے خیالات پیدا ہونے کا احساس ہوتا ہے، تو وہ قرآنِ حکیم کی اس حکمت کی روشنی میں محسوس کرے، کہ اس میں نیکی کا مادّہ کم ہو رہا ہے، پھر وہ اپنے آپ میں نیکیوں میں سبقت لے جانے کا جذبہ پیدا کرے اور عملاً ایسا کر کے دیکھے، پھر اس کے دل میں عبادت کی یکجہتی اور روحانی سکون پیدا ہوگا۔
۱۴۶
کلید نمبر ۴
موت کا تجربہ
ہم نے یہاں اس موضوع کو ’’موت کا تجربہ‘‘ کے عنوان سے معنون کیا ہے، لیکن موت کا تجربہ کس نے حاصل کر لیا ہے؟ جبکہ موت کے واقع ہوجانے کے ساتھ ساتھ متوفّی کے تمام تجربات بھی ختم ہوجاتے ہیں! ولیکن ہاں، اموات میں ایک ایسی خصوصی موت بھی ہے، جو روحانیت اور ایقان وعرفان کے مشاہدات وتجربات سے بھرپور اور علم وحکمت کے مغز سے مملو ہے، جس کی حقیقت سے آگہی کے لئے آپ موضوعِ ذیل کا بغور مطالعہ کریں:
چنانچہ قرآنِ کریم کی (۰۳: ۱۸۵) میں موت کا کلیّہ اس طرح ارشاد ہوا ہے کہ: کل نفس ذائقۃ الموت ۔ ۰۳: ۱۸۵۔ یعنی ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔
موت کے اس کلیّہ کے بارے میں دو اہم سوال پیدا ہو جاتے ہیں، ایک یہ کہ جب وجودِ انسانی تین چیزوں کا مجموعہ ہے، یعنی عقل، نفس اور جسم، تو ان تینوں میں سے صرف نفس ہی کو موت کے واقعہ سے کیوں متعلق کیا گیا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے، کہ موت واقع ہونے کی
۱۴۷
تشبیہہ کسی چیز کے چکھنے کی طرح کیوں دی گئی ہے؟
ان میں سے پہلے سوال کا جواب یہ ہے، کہ اگرچہ انسان کی ہستی عقل، نفس اور جسم کے مجموعے سے ہے، لیکن حقیقت میں عقل موت سے بالاتر ہے، کیونکہ وہ مرتی نہیں، جیسے فرشتوں کا حال ہے کہ وہ عقل ہیں اور کبھی نہیں مرتے، اس کے برعکس حیوان جو نفس ہے وہ مر جاتا ہے، مگر پتھر وغیرہ جو جسم ہے وہ نہیں مرتا، اس سے معلوم ہوا، کہ موت کا براہِ راست تعلق نفس کے ساتھ ہے، مگر جسم پر براہِ راست موت واقع نہیں ہوتی، بلکہ نفس کے واسطہ سے ہوتی ہے، یعنی جسم کا جینا اور مرنا نفس ہی کے ذریعے سے ہے، پس یہی وجہ ہے جو قرآنِ حکیم نے اس کلیّہ میں موت کو صرف نفس ہی سے متعلق کر دیا۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے، کہ موت کی مثال کسی مادّی چیز کے چکھنے سے اس لئے دی گئی ہے، کہ وہ فی الواقع روحانی نوعیت کا ایک مزہ ہے، جو زیادہ سے زیادہ شیرین بھی ہے اور انتہائی درجے کا تلخ بھی، اس جواب کا دوسرا پہلو یہ ہے، کہ قرآنِ حکیم نے موت کا تصوّر کسی چیز کے چکھنے کی طرح اس لئے پیش کیا ہے، کہ خصوصی موت اہلِ معرفت کے نزدیک روحانی واقعات اور علمی وعرفانی تجربات کی حامل ہے، جو بموجب: ’’موتوا قبل ان تموتوا‘‘ طبعی موت سے پہلے ہی عبادت و ریاضت کے
۱۴۸
ذریعہ قبول کر لی جاتی ہے، جس کا مقصد معرفت ہے، جس میں روحانی سکون اور ابدی نجات کے اسرار پوشیدہ ہیں، پس نفسانی موت کے عنوان کے تحت حقائق ومعارف کے جو معجزات سامنے آتے ہیں، ان کے لحاظ سے یہ حقیقت ہے، کہ موت کی مثال کسی چیز کو چکھ کر اس کے ذائقہ کا تجربہ حاصل کرنے سے دی جائے۔
نفسانی موت، جو ہادئ برحق کی ہدایات کی روشنی میں مخصوص عبادت وریاضت اور نفس کشی کرنے سے واقع ہوتی ہے، روحانی واقعات و تجربات کا عنوان اس معنی میں ہے، کہ اس سے معرفتِ ذات کے جملہ ابواب کھل جاتے ہیں، اور اسی طرح یہ اختیاری موت روح اور روحانیت کے حقائق و معارف اور اسرارِ خدا شناسی کے حصول کا وسیلہ بن جاتی ہے۔
عام اور اضطراری موت سے پہلے انسان پر ایک خاص اور اختیاری یا کہ تجرباتی موت واقع ہونے کے بارے میں قرآنِ کریم کے بہت سے حکیمانہ اشارات موجود ہیں، جن کی ایک مثال یہ ہے، کہ انسان کے وجود میں نفس یا کہ جان ایک نہیں، بلکہ بے شمار جانیں ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نہایت ہی عجیب قدرت ہے، کہ انسان کے دل و دماغ کے علاوہ اس کا خلیہ خلیہ روحوں کا مسکن ہے، اور ان لاتعداد روحوں کی وحدت انسان کی ’’انا‘‘ ہے۔
۱۴۹
اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت بھی انتہائی عجیب ہے، کہ مختلف موقعوں پر انسانی وجود کے یہ نفوس قبض ہوتے جاتے ہیں، یعنی فرداً فرداً نکل جاتے ہیں، اور دوسری طرف سے نفوس کے داخل ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے، یا یوں کہنا چاہئے، کہ انسان جیتے جی ایک طرف سے مرتا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ دوسری طرف سے زندہ ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن ایسا بھی آتا ہے، کہ اس میں وہ پوری طرح سے مر جاتا ہے۔
مذکورۂ بالا موت کو جزوی موت کے نام سے یاد کرنا چاہئے، اسی جزوی موت کی بدولت ہر وقت انسانی نفس اور شخصیت کی اصلاح و تجدید اور تعمیرِ نو ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ چالیس دن کے بعد انسان کے نفس اور جسم کا کوئی پرانا ذرّہ باقی نہیں رہتا، اس حساب سے وہ ہر سال اپنی ہی جگہ پر نو دفعہ پرانے جسم سے نئے جسم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
انسان کی زندگی و بقاء گویا ارواح و نفوس کی ایک ندی ہے، جو ملکوت کے پہاڑوں اور ناسوت کی گھاٹیوں سے آتی ہے اور ہر وقت بہتی رہتی ہے، مگر یہ بات ہے کہ یہ ندی کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتی ہے، بعض اوقات صاف و شفاف بہتی ہے اور گاہے بگاہے مکدر بھی ہو جاتی ہے۔
۱۵۰
اس مقام پر مجھے حضرت پیر ناصر خسرو قدس اللہ سرّہ کا ایک شعر یاد آیا، آپ اپنی کتاب روشنائی نامہ میں فرماتے ہیں کہ:
ز دنیا تا بعقبیٰ نیست بسیار
ولی در رہ وجودِ تست دیوار
یعنی دنیا اور آخرت کے درمیان کچھ زیادہ مسافت تو نہیں، لیکن تیری ہستی ان دونوں کے درمیان دیوار بنی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب خاص عبادت اور سخت ریاضت سے کسی حقیقی مومن پر اختیاری موت آئے گی، اس وقت اس کی ہستی کی یہ دیوار درمیان سے ہٹائی جائے گی، اور اس صورت میں اس کو قیامت و روحانیت کے واقعات کا تجربہ کرایا جائے گا۔
سبحان اللہ! پیر صاحب کی یہ پرحکمت مثال اور یہ ارشاد کہ تمہارا اپنا نفسِ امّارہ ہی دنیا اور آخرت کے درمیان دیوار اور پردہ بنا ہوا ہے، جب تم ہادئ برحق کے مقدّس امر و فرمان کے مطابق خصوصی عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کے امتحان میں کامیاب ہو جاؤگے، تو اس وقت تمہاری ہستی و خودی کی کثیف و مکدر دیوار سامنے سے ہٹا دی جائے گی یا صاف شیشے کی بنا دی جائے گی یا اس میں دروازہ بنے گا، پھر تمہیں اس حال میں نہ صرف موت ہی کے عجائبات کا تجربہ حاصل ہوگا بلکہ علمِ قیامت و روحانیت اور معرفتِ الٰہی کے خزانوں کے ابواب بھی ہمیشہ کے لئے کشادہ رہیں گے۔
۱۵۱
اب رہا یہ سوال، کہ آیا موت کے اس کلیّہ سے کوئی نفس مستثنا بھی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب خود اس کلیّے میں موجود ہے، کہ کوئی نفس یعنی کوئی فردِ بشر موت کے اس قانون سے باہر نہیں جا سکتا، جبکہ اختیاری موت کے بغیر روحانیت کا کوئی دروازہ نہیں کھل سکتا، جبکہ قرآنی ارشاد کے مطابق نیند میں بھی ایک قسم کی موت پوشیدہ ہے (۳۹: ۴۲) اور جبکہ جسمانی موت مومن کی مکمل روحانی آزادی ہے پھر آپ خود اندازہ کریں، کہ حقیقی مومنوں کے لئے موت کس قدر ضروری ہے، پس معلوم ہوا کہ موت عالمِ روحانیت کا دروازہ ہے، جس سے داخل ہوئے بغیر نہ روحانی ترقی ممکن ہے اور نہ بہشتِ جاودانی میسر ہو سکتی ہے۔
۱۵۲
کلید نمبر ۵
ہر چیز سے روحانی ملاقات
قرآن حکیم کے آٹھویں پارے کا سرنامہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ: اور اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیتے اور مردے ان سے گفتگو کرتے اور سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے سوائے اس کے کہ اللہ کو منظور ہوتا لیکن اکثر ان میں سے جاہل ہیں۔ ۰۶: ۱۱۱۔
آپ حکمت کے اس اصول کو بھی ہمیشہ کے لئے یاد رکھیں، کہ قرآنِ حکیم انسان کے سامنے صرف انہی چیزوں کے تصورات پیش کرتا ہے، جو انسان کے لئے ممکنات میں سے ہیں، کیونکہ قرآن اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام ہے، اور اس میں انتہائی صداقت اور عدل کا سرمایہ موجود ہے، چنانچہ اگر فرشتوں، مردوں اور تمام چیزوں کی روحوں سے انسان کی روحانی ملاقات اور گفتگو ناممکن ہوتی، اور اللہ تعالیٰ نے کسی وقت میں بھی مومنوں اور کافروں سے واقعاً ایسے معجزات کا امتحان نہ لیا ہوتا، تو اندران حال اس معجزہ کے تذکرے میں (نعوذ باللہ) نہ صداقت ہوتی، اور
۱۵۳
نہ عدل، پس ظاہر ہوا، کہ مذکورہ کلیّہ میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے وہ ایک عملی حقیقت ہے، اور حقیقی مومنوں کے نزدیک کشفِ روحانیت اسی واقعہ کا نام ہے، البتہ خدا کی مصلحت سے بعض دفعہ کافروں پر بھی یہ معجزہ واقع ہوتا ہے، جس کا نام وہاں نزولِ عذاب ہے۔
جو حقیقی مومنین علم الیقین کی مدد سے روحانی ترقی کر کے عین الیقین کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں روحانیت کی ان حقیقتوں پر باور کرنا پڑے گا، کہ روح ظاہری اور مادّی چیزوں کے برعکس ایک معجزاتی جوہر ہے، وہ عالمِ امر کے عجائبات میں سے ہے، جہاں ارادۂ “کُنۡ” سے ہر چیز ظہور میں آتی ہے، اس لئے روح میں تمام علمی عجائبات پیش کرنے کی خاصیت موجود ہے یہ ایک یقینی حقیقت ہے، کہ ہر خدا رسیدہ مومن کی روح کائنات و موجودات کی روحانی صورت اختیار کرکے قیامِ قیامت اور عالمِ آخرت کا نمونہ پیش کرسکتی ہے، ایسی حالت میں انسان اپنے آپ کو روحوں کے ایک طوفان خیز سمندر کے درمیان پاتا ہے، جو فرشتوں، مردوں، زندوں، یاجوج و ماجوج اور تمام چیزوں کی روحوں کے عنوان سے پیش آتی ہیں، یہاں تک کہ اس میں بے جان چیزوں کی روحیں بھی ہوتی ہیں، مگر یہ بات ضرور یاد رہے کہ روحانیت کے ایسے اعلیٰ تجربات حاصل کرنے کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
۱۵۴
اگر یہاں یہ سوال ہو، کہ مومن کی روح اتنا بڑا کام کس طرح انجام دے سکتی ہے؟ اس کا جواب میرے پاس صرف ایک ہی جملے میں ہے، کہ مومن کی روح امام حیّ و حاضر کی حقیقی فرمانبرداری سے یہ عظیم کام مکمل کر سکتی ہے۔
پھر اگر سوال کیا جائے، کہ نورِامامت، روح القدس اور مومن کی روح ان تینوں کا باہمی تعلق کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام عالی مقام علیہ السّلام کے نور سے روح القدس جدا نہیں، اور نہ مومن کی روح بغیر روح القدس کے کوئی بڑا کام کر سکتی ہے، ان تینوں روحانی حقیقتوں کے باہمی تعلق کی مثال سورج، سمندر اور ندی کی طرح ہے، یعنی نورِ امامت سورج ہے، روح القدس سمندر اور مومن کی روح ندی ہے، ندی کا پانی کہاں سے آتا ہے؟ پہاڑوں سے جو برف اور بارش کا حاصل ہے، برف و بارش کا ذریعہ کیا ہے؟ بادل ہیں، جو سمندر سے پیدا ہوتے ہیں، سمندر سے بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں؟ سورج کی گرمی کے سبب سے۔
ندی کا پانی کم بھی ہو سکتا ہے اور اس کے زیادہ ہونے کا بھی امکان ہے، اس میں کمی اس وقت واقع ہوتی ہے جبکہ سورج کا نور اس کے پہاڑوں سے دور ہو، یا بغیر بارش کے بادلوں کے سائے پڑے رہیں، اسی طرح مومن کی روح میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، جو نورِ امامت سے دوری و نزدیکی کے سبب سے ہے۔
۱۵۵
جب سورج نزدیک آتا ہے اور آسمان صاف ہو جاتا ہے تو جگہ جگہ ندی پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں، اور اس کے پانی میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے، تاہم یہ سورج کا کوئی بڑا کرشمہ نہیں، ندی کو سورج کا ایک بڑا کرشمہ وہاں نظر آئے گا، جہاں یہ دریا کے ساتھ مل کر سمندر کی وحدت میں مدغم ہو جاتی ہے، کہ کس ہمہ گیر طریق پر بے پناہ سمندر سورج کی حرارت کی گرفت میں ہے، اور سمندر کا ایک عظیم حصہ، جو ساری دنیا کو سیراب کر کے فاضل دریاؤں کی صورت میں واپس بھی ہو، کس طرح بخارات اور بادلوں کی شکل میں آسمان کی بلندیوں کی طرف اڑتا رہتا ہے۔
چنانچہ ہر حقیقی مومن کی روح کسی نہ کسی درجے میں امامِ زمانؑ کا نورانی دیدار تو کرسکتی ہے، اور اس کی روحانیت میں ترقی بھی ہو سکتی ہے، مگر یہ کوئی بڑا دیدار اور کوئی عظیم معجزہ تو نہیں، ہاں، عظیم معجزہ اس مقام پر ہے، جہاں مومن کی روح پیروں اور بزرگوں کے علمی دریا پر سوار ہوکر روح القدس کے سمندر میں مل جاتی ہے، اس مقام کے بے شمار معجزات میں سے ایک یہ ہے، کہ ہادئ برحق کا نور روح القدس کے سمندر سے بے شمار ہدایتی روحیں اطرافِ عالم میں بھیجتا رہتا ہے، اور ہر گروہ، ہر طبقہ، ہر درجہ اور ہر فرد کی بدیہی اور فکری ہدایت اسی نہج پر ہوتی رہتی ہے، امامِ عالی صفات کے نورِ اقدس کو اس بات کی کوئی پرواہ ہی نہیں، کہ کوئی گروہ یا کوئی
۱۵۶
فرد اس کی عالمگیر ہدایت کا اقرار کرتا ہے یا نہیں، ہاں، اس میں یہ فرق ضرور ہے، کہ ہدایت حسبِ مراتب معرفت اور بمطابقِ ضرورت ہوا کرتی ہے، یا یوں کہنا چاہئے، کہ اس میں قبولِ ہدایت کی استطاعت لازمی شرط ہے۔
اس بیان کا خلاصہ یہ ہے، کہ تمام معجزات کا سرچشمہ روحِ قدسی ہے جو ہادئ برحق کے نور کے زیرِ اثر ہے، ہر معجزے کا نتیجہ دو طرح سے نکلتا ہے، یعنی اس میں روحوں کی آبادی بھی ہے اور بربادی بھی، اگر کوئی حقیقی مومن فرمانبرداری، عبادت، ریاضت اور علم الیقین سے اپنے آپ کو معجزات برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے، اور تدریجی معجزات میں آگے سے آگے بڑھتا جاتا ہے، تو اس کے لئے رحمت ہی رحمت ہے، اگر ایسا نہیں، بلکہ یکایک کوئی بڑا معجزہ کسی انسان کے سامنے آتا ہے تو یہ باعثِ ہلاکت ہے، ماسوائے اس کے کہ امامِ وقت ایسے حال میں بھی دستگیری کریں۔
۱۵۷
کلید نمبر ۶
انسی اور جنّی شیاطین
سورۂ انعام کی ایک سو بارہویں آیت میں انبیاء کے بارے میں ایک کلیہ مذکور ہے کہ: اور اسی طرح ہم نے انسی اور جنی شیاطین کو ہر نبی کا دشمن بنا دیا وہ فریب دینے کی غرض سے چکنی چپڑی باتیں (روحانی طریق پر) ایک دوسرے کے دل میں ڈالتے ہیں۔ ۰۶: ۱۱۲۔
اس ارشادِ الٰہی سے اوّل یہ تعلیم ظاہر ہے، کہ شیاطین دو قسم کے ہوتے ہیں، پہلی قسم کے شیاطین انسانوں میں سے ہیں اور دوسری قسم کے شیاطین جنّات میں سے، جو شیاطین انسانوں میں سے ہیں، ان کے متعلق عام طور پر یہ پتہ نہیں لگتا، کہ وہ واقعی شیاطین ہیں، کیونکہ وہ بظاہر کچھ عجیب شکل و صورت تو نہیں رکھتے، بلکہ وہ اپنی ظاہریت میں بالکل دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہیں، لیکن وہ حقیقت کی نظر میں انسی شیاطین ہیں، مگر یہ ضروری نہیں، کہ وہ خود کو پہچانتے بھی ہوں، کہ وہ ابلیس کے لشکر میں شامل ہو چکے ہیں۔
جو شیاطین جنّات میں سے ہیں، وہ خاص خاص
۱۵۸
حالات کے سوا ہمیشہ ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں، کیونکہ وہ ایسے لطیف جسم کے لباس میں ملبوس ہیں کہ وہ نظر ہی نہیں آتا، مگر جب خدا کی مصلحت ہو۔
اس فرمانِ الٰہی کی دوسری تعلیم یہ ہے، کہ خدائے علیم وحکیم کی مصلحت وحکمت اسی امر میں پنہان تھی، کہ انسی اور جنّی شیاطین کو نہ صرف ہر پیغمبر کا دشمن بنائے بلکہ اس طاغوتی گروہ کو ہر امام کے ساتھ بھی عداوت ہو، تا کہ بنی آدم کی اس امتحانگاہِ عمل میں ایک طرف ہمیشہ کے لئے رشد وہدایت کے تمام وسائل مہیا رہیں، اور دوسری طرف اس کے مقابلے میں ضلالت و گمراہی کے سارے اسباب مکمل ہوں۔
اس کلیّۂ حکمت آگین کی تیسری تعلیم یہ ہے، کہ خیر و شر کی اس دائمی جنگ میں، جو دورِ آدم سے قیامِ قیامت تک جاری و ساری ہے، جس طرح حق وباطل کا مقابلہ ہوتا رہتا ہے، اس میں نہ صرف شیاطینِ انسی و جنّی ہی کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں بدی پھیلانے کی غرض سے روحانی طریق پر ایک دوسرے کے دل میں چکنی چپڑی باتیں ڈال سکیں، بلکہ پیغمبر اور امامِ برحق کے علاوہ حجّت اور پیر جیسے مراتبِ عالیہ کو بھی اس بات کی امکانیت حاصل ہے، کہ وہ بھی روحانی طور پر ایک دوسرے سے مخاطبہ کرکے رحمانی طاقت اور نیکی کا ذریعہ بنائیں، اس بارے
۱۵۹
میں کسی عارف نے کیا خوب کہا ہے:
از دلِ حجت بحضرت رہ بود
او بتائیدِ دلش آگہ بود
یعنی حجّت اور پیر کے دل سے حضرت امام کی ذاتِ اقدس تک روحانی راستہ ہے، اور امامِ زمانؑ ان کے دل میں تائید وہدایت القاء کرنے سے غافل نہیں۔
۱۶۰
کلید نمبر ۷
آسمانی کتاب میں ہر چیز کی تفصیل
سورۂ انعام کے انیسویں رکوع کے اخیر میں حق سبحانہ کا ارشاد ہے کہ: پھر ہم نے موسیٰ کو ایسی کتاب عنایت کی جو نیکوکاروں کے لئے (ہر طرح سے) مکمل تھی اور ہر چیز کی تفصیل تھی اور ہدایت و رحمت تھی تا کہ وہ اپنے پروردگار کے دیدار پر ایمان لائیں۔ (۰۶: ۱۵۴)۔
اس ارشادِ الٰہی سے یہ حقیقت واضح اور روشن ہو جاتی ہے، کہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی آسمانی کتاب (توریت) میں اس دور کے نیکوکاروں کے لئے دینی اور دنیاوی ہدایات کی کوئی کمی نہیں تھی، اس میں ہر چیز کا تفصیلی ذکر موجود تھا اور ہر قسم کی ہدایت و رحمت تھی، تا کہ وہ ان تمام چیزوں کے نتیجے میں اپنے پروردگار کی ملاقات کا یقین کریں۔
اب یہ اہلِ دانش کے لئے غور و فکر کا مقام ہے، کہ توریت کے مکمل و مفصل ہونے اور اس میں ہر قسم کی ہدایت و رحمت ہونے کے فوائد صرف نیکوکاروں کے لئے کس طرح مخصوص ہوسکتے ہیں، بجز اس کے کہ وہ حکمت اور تاویل کے بے پایان خزانے کی حیثیت رکھتی ہو، کیونکہ اگر
۱۶۱
اس میں حکمت وتاویل نہ ہوتی، تو وہ عوام وخواص کے لئے یکسان ہوتی، پس ظاہر ہوا کہ توریت حکمت وتاویل کی صورت میں مکمل، مفصل اور ہدایت ورحمت سے بھرپور تھی، اور یہ بات صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ خدا کی کتاب کے ساتھ ساتھ خدا کی طرف سے معلّم بھی مقرر ہو، چنانچہ توریت کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی، کہ اس کی زندہ روح حضرت ہارون علیہ السّلام کی ذاتِ شریف میں موجود تھی، جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے وزیر اور اس زمانے کے امام تھے۔
اب اس حقیقت کا کوئی واضح ثبوت چاہئے، کہ حضرت ہارونؑ حضرت موسیٰؑ کے وزیر تھے، اس لئے توریت کی مقدّس روح یعنی زندہ حکمتیں اور بولتی تاویلیں حضرت ہارون علیہ السّلام کی روحانیت میں پوشیدہ تھیں، وہ ثبوت قرآن پاک کے اس ارشادِ مبارک میں ہے کہ: و لقد اٰتینا موسیٰ الکتٰب و جعلنا معہٗ اخاہ ہارون وزیرا ۔ ۲۵: ۳۵۔ بہ تحقیق ہم نے موسیٰ علیہ السّلام کو کتاب (یعنی توریت) دی تھی اور ہم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون علیہ السّلام کو ان کا وزیر بنایا تھا۔
اس فرمانِ خداوندی سے یہ حقیقت عیان ہوتی ہے، کہ حضرت ہارونؑ حضرت موسیٰؑ کے کسی اور کام میں وزیر ہو یا نہ ہو، مگر سب سے پہلے اور سب سے ضروری طور پر
۱۶۲
توریت کی روحانی ہدایت اور حکمت و تاویل کے معاملے میں وزیر تھے، کیونکہ آیۂ مبارکہ کے صوری و معنوی ربط میں کتاب کے ساتھ ساتھ وزیر کا ذکر آیا ہے، اور وزیر کے معنی بوجھ اٹھانے والے کے ہیں، اس ربط اور اس مناسبت کی دلیل سے توریت کی تنزیل وتاویل کا بارِگران حضرت ہارون علیہ السّلام اٹھا رہے تھے، چونکہ ہر آسمانی کتاب فی الاصل ایک زندہ اور بولنے والی روح کی حیثیت سے ہوتی ہے، بالفاظِ دیگر یہ ایک نور ہوتا ہے، پس یہ روح یا کہ نور جو حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں توریت کے اسم سے موسوم تھا، حضرت ہارون علیہ السّلام کے باطن میں پوشیدہ تھا۔
جب یہ مانا گیا کہ توریت صرف وہی نہیں تھی، جو ظاہری تحریر کی صورت میں خاموش تھی، بلکہ توریت وہ بھی تھی جو حضرت ہارونؑ کی نورانیت ، روحانیت اور جسمانیت میں زندہ اور گویندہ تھی، پس یقین کرنا چاہئے، کہ انہی معنوں میں ارشاد ہوا ہے جو اس موضوع کے آغا ز میں درج ہے کہ: پھر ہم نے موسیٰؑ کو ایسی کتاب عنایت کی جو نیکوکاروں کے لئے (ہر طرح سے) مکمل تھی اور ہر چیز کی تفصیل تھی اور ہدایت و رحمت تھی تا کہ اپنے پروردگار کے دیدار پر ایمان لائیں۔ ۰۶: ۱۵۴۔
پھر اس کے بعد انہی حقائق سے مربوط ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ:
۱۶۳
و ھذا کتٰب انزلنٰہ مبٰرک فاتبعوہ و اتقوا لعلکم ترحمون ۔ ۰۶: ۱۵۵۔ اور یہ کتاب (قرآن) جس کو ہم نے نازل کیا ہے برکت والی (کتاب) ہے تو تم اس کی پیروی کرو اور متقی بنو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔
چنانچہ “برکت والی کتاب” کے معنی میں پھر وہی تمام حقیقتیں موجود ہیں جو اوپر توریت کے بارے میں بیان ہوئی ہیں، یعنی قرآنِ حکیم میں علم وحکمت اور رشد و ہدایت کی فراوانی اور خیروبرکت کی کثرت اس طرح سے ہے کہ یہ تنزیل و تاویل کی حکمتوں سے بھرپور اور صلاح و فلاح سے مملو ہے، اور ہادئ برحق کے نورِ اقدس میں اس کے زندہ حقائق ومعارف موجود اور محفوظ ہیں، یہ پاک کتاب اسی صورت میں “تبیانا لکل شیء (۱۶: ۸۹)” یعنی تمام چیزوں کا بیان کرنے والی ہے، پس معلوم ہونا چاہئے کہ آسمانی کتاب حقیقی معلّم کی معیت میں ہر چیز کا بیان کرنے والی ہے۔
۱۶۴
کلید نمبر ۸
ہر شخص کی شناخت
امامیہ کتب میں آنحضرت صلعم اور أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام کے ارشاد کے حوالے سے مذکور ہے کہ:
و علی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم ( ۰۷: ۴۶) کا مطلب یہ ہے کہ معرفت کی بلندیوں پر ایسے مرد ہوں گے، جو سارے لوگوں کو ان کی پیشانیوں سے پہچان لیں گے، وہ مرد جو اعراف کی بلندیوں پر ہوں گے، حضرت مولانا مرتضیٰ علیؑ اور آپ کے فرزندوں میں سے اوصیاء یعنی أئمّۂ اطہار علیہم السّلام ہیں (ملاحظہ ہو کتاب دعائم الاسلام جزء اول عربی صفحہ ۲۵)۔
جب یہ ایک قرآنی حقیقت ہے، کہ قیامت کے روز ہر زمانے کا امام اپنے وقت کے ان تمام لوگوں کو ان کے چہروں کی نورانیت سے پہچان لے گا جو دنیا میں اس کو پہچانتے تھے، تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وسیلۂ رحمت وہدایت کا یہ قانون، یعنی دنیا والوں کے درمیان امام کا حاضر ہونا، نہ صرف پیغمبرِ آخر زمانؐ کے دور کے لئے مقرر ہے، بلکہ شفاعت و نجات کا یہ ذریعہ جملہ انبیاء کے ادوار
۱۶۵
کے لئے یکسان ہے، پس اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر زمانے کے لوگوں کے درمیان امامِ وقت حاضر اور موجود ہوتا ہے، چنانچہ آیۂ درجِ ذیل سے اس حقیقت کی تصدیق و توثیق ہوتی ہے۔
یوم ندعوا کل اناس بامامھم ۔ ۱۷: ۷۱۔ جس دن ہم ہر زمانے کے لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ یعنی قیامت کے روز امامِ زمانہؑ کے بغیر لوگوں کے حق میں شہادت، عدالت، شفاعت اور نجات ممکن نہیں، پس معلوم ہوا، کہ آغازِ عالم سے حضرتِ آدمؑ تک، حضرتِ آدمؑ سے حضرت خاتم الانبیاءؐ تک اور آنحضرتؐ سے قیامِ قیامت تک امامت کا پاک سلسلہ قائم و دائم ہے۔
“یوم ندعوا کل اناس بامامھم” کے یہ معنی بھی درست ہیں کہ خدا قیامت کے دن لوگوں کو ان کے امامِ وقت کے ذریعے سے بلائے گا، کیونکہ أئمّۂ ہدا علیہم السّلام خدا اور لوگوں کے درمیان واسطہ اور وسیلہ ہیں، یعنی خدا کا ہر کام جو امر وفرمان اور ہدایت سے متعلق ہو وہ صاحبِ امر کے توسط سے انجام پاتا ہے، اور لوگوں کا ہر کام جو خدا کی اطاعت اور اس کی خوشنودی کے بارے میں ہے وہ امام کے ذریعے سے مکمل ہوتا ہے۔
آیۂ اعراف کی تفسیر و تاویل کے ذیل میں جو حقیقتیں سامنے آئیں، ان سے ظاہر ہے، کہ امام شناسی ہی سے دونوں جہان کی سعادتمندی اور ابدی نجات کے دروازے
۱۶۶
کھل سکتے ہیں، جیسا کہ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ:
ان الذین کذبوا باٰیٰتنا و استکبروا عنھا لا تفتح لھم ابواب السمآء و لا یدخلون الجنۃ حتیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط ۔ ۰۷: ۴۰۔ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے۔ جاننا چاہئے کہ خدا کی آیات معجزات کے معنی میں بھی اور نشانیوں کے معنی میں بھی أئمّۂ اطہار علیہم السّلام ہیں، اور جو لوگ ان حضرات کو نہیں پہچانتے وہ ان سے تکبر کرتے ہیں، اور لفظ ’’استکبر‘‘ میں دو متضاد معنی پوشیدہ ہیں، یعنی خود کو بڑا اور دوسرے کو حقیر سمجھنا اور ان دونوں کا موقعِ استعمال ہم جنسیت کا مقام ہے، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آسمانی کتاب اور آفاقی آیات کی نسبت سے تکبر نہیں ہوسکتا، بلکہ لوگوں کو اپنے ہم جنس انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کے بارے میں تکبر ہوتا رہا ہے، اور ابلیس نے جو تکبر کیا وہ بھی ایک انسان تھا، جو علم میں مرتبۂ فرشتگی پر فائز ہو چکا تھا، اس نے اپنے ہم جنس بشر حضرت آدم علیہ السّلام کو حقیر سمجھا اور خود کو بزرگ قرار دیا۔
اس کے علاوہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں ارشاد
۱۶۷
ہوا ہے، کہ فرشتے اپنے پروردگار کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے ہیں، اس کی تاویل یہ ہے کہ مومنین جو عالمِ معرفت کے فرشتے ہیں امامِ وقت کی فرمانبرداری سے، جو خدا کی عبادت ہے، سرتابی نہیں کرتے، کیونکہ امامِ زمانؑ خدا کا سب سے بڑا نام ہے اور اس کی فرمانبرداری تاویلی زبان میں عبادت ہے۔
۱۶۸
کلید نمبر ۹
ہر چیز کی مقدار
سورۂ رعد کے دوسرے رکوع کے آغاز میں ارشاد ہوا ہے کہ: و کل شیء عندہ بمقدار (۱۳: ۰۸) اور ہر چیز خدا کے نزدیک ایک مقدار میں ہے۔
اس کلیّہ کا یہ مطلب ہوا، کہ اگرچہ زمان و مکان کی بعض چیزیں انسان کو غیر محدود اور لاانتہا نظر آتی ہیں، مثلاً زمانہ اور کائنات، لیکن خدا کے نزدیک ہر چیز محدود اور ایک مقررہ مقدار میں ہے، اور ہر چند کہ دورِ جدید کے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ کائنات، جس میں لاتعداد سیّاروں اور ستاروں کی دنیائیں موجود ہیں، بے پایان اور غیر محدود ہے، مگر کلیّۂ مذکورۂ بالا کا ارشاد ہے کہ یہ عظیم کائنات بھی اس کی عظمت و وسعت کے باوجود قانونِ قدرت کی ایک معیّن مقدار کے مطابق ہے، اور زمانہ بھی اپنی بے پناہ طوالت کے باوصف ایک محدود مقدار میں ہے۔
چنانچہ اگر کوئی دانشمند اس کتاب کا چشمِ بصیرت سے مطالعہ کرے تو اس کے ہر کلیّہ سے صاف طور پر
۱۶۹
ظاہر ہوگا، کہ اس میں جتنے کلیّات درج ہوئے ہیں، وہ سب کے سب ایک دوسرے کی حقیقت پر دلیل ہیں، اسی طرح ان سب سے مذکورۂ بالا حقیقت کی بھی تصدیق و توثیق ہوتی ہے، کہ ہر چیز خدا کے نزدیک ایک معیّن مقدار میں ہے یعنی ہر چیز خدا کے نزدیک محدود ہے۔
جیسا کہ کلید نمبر ۱ میں ذکر ہوا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے، پھر اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے اور ہر چیز خدا کی قدرت میں محدود ہے، یہی مثال خدا کے علم کی بھی ہے جہاں امامِ مبین کے نور میں ہر چیز کے محدود ہونے کا ذکر ہوا ہے۔
اگر ہر چیز خدا کے نزدیک ایک معیّن مقدار میں ہے، تو جاننا چاہئے، کہ یہ حقیقت بھی امامِ مبین کے احاطۂ نور اور دائرۂ علمی سے باہر نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو امامِ مبین کی ذاتِ اقدس میں محدود اور محصور کر دیا ہے۔
اس حقیقت کے بعد یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اگرچہ ہر چیز اپنی جگہ پر محدود اور ایک مقررہ مقدار میں ہے، تاہم وہ فنا وبقا یا کہ تغیّروتبدّل کے دائرے پر جو چکر کاٹتی رہتی ہے، اس کے اعتبار سے یہ کہنا درست ہے کہ ہر چیز لامحدود ہے، مثلاً دن رات دونوں محدود تو ہیں مگر ان دونوں کے تغیّروتبدّل
۱۷۰
سے وقت کا جو دائرہ بنتا ہے وہ غیر محدود ہے، اسی طرح اس سے بڑا دائرہ سال کے چکر کا بنتا ہے، اس کے بعد بڑے بڑے زمانوں کے دائرے ہیں اور اخیر میں جا کر اس کائنات کے مٹ جانے اور پھر وجود میں آنے سے دائرہ بنتا ہے، جو لاانتہا ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر چیز اگر ایک اعتبار سے محدود ہے تو دوسرے اعتبار سے غیر محدود ہے، اور یہی قانونِ قدرت کی تعریف ہے، کہ اس میں ابتدائی ولاابتدائی اور انتہائی و لاانتہائی کی سب خوبیاں موجود ہیں۔
قرآنِ حکیم میں ایسی بہت سی آیات موجود ہیں جن کی گہری حکمتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز ایک محدود مقدار میں ہونے کے باوجود غیر محدود ہے، وہ حقیقت اس طرح سے ہے کہ تمام چیزوں کے جوڑے ہیں یعنی ہر چیز کی ایک ضد یا مقابل ہے، مثلاً دن رات، روشنی و تاریکی، دنیا و آخرت، جسمانیت و روحانیت، ہستی و نیستی وغیرہ، پھر ہر جوڑے کے گھومنے سے ایک دائرہ بنتا ہے، جیسے شب و روز کا گردش کرنا اور ماہ و سال کا بار بار آنا، اسی طرح کائنات کا وجود ایک بہت بڑا دن ہے اور اس کا مٹ جانا ایک بہت بڑی رات ہے، ان دونوں کی بھی ایک گردش ہے، یعنی کائنات و موجودات کے وجود و عدم کا بھی ایک چکر ہے جو تمام دائروں میں سب سے بڑا دائرہ ہے، جس کی
۱۷۱
لاانتہا گردش کے سبب سے ہر محدود چیز لامحدود ہو جاتی ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ ہم کلید نمبر ۲۲ میں اس حقیقت کی مزید وضاحت کریں گے۔
۱۷۲
کلید نمبر ۱۰
مؤمنین کو سب کچھ دیا گیا
سورۂ ابراہیم کے پانچویں رکوع کے اخیر میں ارشاد ہوا ہے کہ: اور جو کچھ تم نے خدا سے مانگا سب تم کو دیا اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہیں سکتے ہو اس میں تو شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف ناشکرا ہے۔ ۱۴: ۳۴۔
اس فرمانِ الٰہی سے ظاہر ہے، کہ حقیقی مومنین نے جسمانیت میں یا روحانیت میں بزبانِ قال یا بزبانِ حال پروردگار سے جو کچھ طلب کیا وہ سب اس نے انہیں دے رکھا ہے، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ چیز کون سی ہے جس میں سب کچھ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی “جامع الجوامع” چیز جس میں تمام چیزیں موجود ہیں امامِ مبین کی معرفت ہے، کیونکہ امامِ مبین کے نورِ اقدس میں سب کچھ ہے۔
قرآنِ مجید میں ہے کہ جنت کا طول وعرض بھی کائنات کے طول وعرض کی طرح ہے، جس کا اشارہ عالمگیر روح کی طرف ہے، یعنی عالمگیر روح ہی روحانی جنت ہے،
۱۷۳
جس میں سب کچھ ہے، جو امام کی روح یعنی نور ہے، اس سے وہ سوال ختم ہوجاتا ہے کہ سب کچھ بہشت میں ملنا چاہئے، یا کہ امام کی روح میں؟ کیونکہ بہشت، امام کی روح اور اس کی معرفت ایک ہی حقیقت ہے۔
چنانچہ قرآنِ کریم کا یہ ارشاد مذکورۂ بالا مطلب سے جدا نہیں کہ: و سخر لکم ما فی السمٰوٰت و ما فی الارض (۴۵: ۱۳) اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو تمہارے لئے مسخّر کر دیا۔
یہ اصول ہمیشہ کے لئے یاد رہے کہ کسی بڑی چیز کے حاصل ہونے سے وہ تمام چھوٹی چھوٹی چیزیں جو اس سے وابستہ ہیں، خود بخود حاصل ہو جاتی ہیں، مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو باغ و گلشن دیا گیا تو پھر اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام چیزیں خود بخود مل جاتی ہیں، جو باغ و گلشن میں ہیں، جیسے ہر قسم کے میوے، خوش منظر مقام، آرام دہ سائے، مہکتے ہوئے رنگ برنگ پھول وغیرہ۔
اسی طرح اگر کسی خوش نصیب انسان کو وہ سب سے عظیم خزانہ مل جائے، جس میں اللہ تعالیٰ کے تمام خزانوں کی کلیّدیں ہیں، تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے سعادت مند آدمی کو خدائے جلیل وجبار کے سارے خزانے مل گئے، اللہ تعالیٰ کے سب خزانوں کے کلیدی
۱۷۴
حیثیت کا خزانہ امامِ مبین کی معرفت ہے، جس کے حصول سے ہر چیز حاصل ہو جاتی ہے۔
حدیثِ شریف کا ارشاد ہے کہ: من کان للّٰہ کان اللّٰہ لہ ، یعنی جو شخص خدا کا ہو کر رہے تو خدا بھی اسی کا ہو کر رہتا ہے، یعنی جو آدمی خدا کے ارشادات کی پیروی کرتے کرتے تن من دھن سے خدا ہی کی ملکیت بن جاتا ہے، تو پھر نتیجے کے طور پر خدا بھی ایسے شخص کا بے بہا خزانہ بن جاتا ہے، بے شک خدا تعالیٰ خزانۂ مخفی ہے، اور بموجبِ حدیثِ قدسی یہ خزانہ معرفت کے راستے سے مل سکتا ہے، مگر سب جانتے ہیں کہ پیغمبر کی معرفت کے بغیر خدا کی معرفت ممکن نہیں ہے، اور امامِ وقت کی معرفت کے بغیر پیغمبر کی معرفت ناممکن ہے، پھر وہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ امامِ مبین میں سب کچھ ہے۔
قرآنِ مجید کا ارشاد ہے کہ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون ۔ یعنی ہم خدا کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ایسا کہنے والے کون ہیں؟ صابرین ہی ایسا کہا کرتے ہیں، انہیں یقینِ کامل ہے، کہ وہ خدا کے حضور سے یعنی اس کے نور سے اس دنیا میں آئے ہیں، اس لئے وہ اس بات کے امیدوار ہیں، کہ وہ یہاں سے واپس جا کر پھر خدا کی وحدت میں مدغم ہو جائیں گے، اس حال میں ان کو روحانی بادشاہت کی صورت میں سب کچھ دیا ہوا
۱۷۵
ہوگا، لیکن یہاں یوں سوال ہے، کہ آیا کوئی شخص “اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم” کے فرمان پر عمل کئے بغیر صابر کہلا سکتا ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے، تو پھر ہمارا یہ دعویٰ حق بجانب ہو گا، کہ اسلام اور ایمان کی تمام خوبیاں امامِ مبین سے مل سکتی ہیں۔
انبیاء و أئمّہ علیہم السلام دنیا میں اس لئے آتے ہیں، کہ وہ دنیا والوں کی صحیح ہدایت کریں، تاکہ لوگ صراطِ مستقیم پر ثابت قدمی سے چل کر خدا کے حضور پہنچ جائیں، وہ حضرات نہ صرف قولی ہدایت کرتے ہیں، بلکہ ہدایت کی پیروی کا عملی نمونہ بھی پیش کرتے ہیں اور اس ہدایت پر عمل کرنے سے جو کچھ صلہ ملنے والا ہے، وہ بھی برملا دکھاتے ہیں، وہ صلہ کیا ہے؟ پیغمبر اور امامِ زمان ہیں، جن کے نورِ اقدس میں سب کچھ موجود ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
و یدخلھم الجنۃ عرفھا لھم (۴۷: ۰۶) اور ان کو اس بہشت میں داخل کرے گا، جس کا انہیں (پہلے سے ) شناسا کر رکھا ہے۔
۱۷۶
کلید نمبر ۱۱
ہر چیز کے خزانے
قرآنِ حکیم کی ۱۵: ۲۱میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : اور ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم اس کو مقررہ اندازہ سے نازل کرتے رہتے ہیں۔
اس کلیّۂ مقدّسہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے، کہ البتہ مکانی لحاظ سے نہیں، بلکہ فضل و شرف اور علم و معرفت کے اعتبار سے خدا تعالیٰ کی کوئی قربت و نزدیکی ہے، جہاں ہر چیز کے خزانے موجود ہیں اور وہ خزانے امامِ مبین کے مقدس نور میں ہیں، اور اس حقیقت کی مثال ہم ظاہری سورج سے لے سکتے ہیں، کہ سورج میں اس عظیم کائنات کے تمام ستاروں اور سیّاروں کی تکوینی دولت کے بے پایان خزانے موجود ہیں، یعنی مادّی قسم کی دولت کے خزانے، کیونکہ نہ صرف ہر ستارہ اور ہر سیّارہ بحکمِ خدا سورج کے فعل سے پیدا ہوتا ہے، بلکہ عناصر، پہاڑ، جمادات، معدنیات اور نباتات کے علاوہ حیوانات اور انسان کا جسم بھی سورج کی بدولت مکمل ہو جاتا ہے، پس اسی طرح عالمِ روحانیت کی تخلیقی دولت کے تمام خزانے
۱۷۷
امامِ مبین کے نورِ اقدس میں موجود ہیں۔
سورج کی اس عمدہ مثال کے بعد یہ بھی ہمارا علمی فرض ہے کہ آپ کو ثابت کرکے بتائیں، کہ سورج کی بے پناہ طاقتوں کی محرّک روح کا سرچشمہ کہاں ہے، چنانچہ مذکورۂ بالا ارشاد سے ظاہر ہے کہ ہر چیز کے خزانے خدا کے پاس ہیں، جس کا مطلب بتایا گیا کہ اللہ کے یہ خزانے امامِ مبین کے نور میں موجود ہیں، اب جبکہ امامِ برحق علیہ السّلام کے پاک نور میں خداوند تعالیٰ کے تمام خزانے موجود ہیں، اور پروردگار کے ان خزانوں سے کوئی شیٔ باہر نہیں، تو معلوم ہوا کہ آفتابِ عالم تاب کی بے پناہ اور بے پایان طاقت کی محرّک روح بھی امام کے نور کے خزانوں سے جاری و ساری ہے۔
اس حقیقت کی دوسری دلیل یہ ہے، کہ قرآنِ حکیم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلعم کو تمام عالموں کے لئے نورِ مطلق اور رحمتِ کل کی حیثیت سے بھیجا تھا، پھر جب سرورِعالم ساری کائنات اور سب جہانوں کے حق میں نور اور رحمت تھے، تو لازمی طور پر آنحضرتؐ سورج کے لئے بھی اسی حیثیت سے تھے، کیونکہ سورج بھی ایک عالم ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ حضورِ اکرم کی ذاتِ اقدس سے آفتابِ جہان تاب کو نور کی صورت میں طبعی ہدایت اور رحمت کی حیثیت سے متعلقہ روح ملتی رہتی تھی، پھر آپ کے
۱۷۸
بعد آپ کے وارث اور جانشین یعنی أئمّۂ اطہارعلیہم السّلام سلسلہ وار اسی حیثیت سے ہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کی بے بدل عادت اور اس کا اٹل قانون ہے، کہ ہر زمانے میں اس کے نور اور رحمت کا ایک مظہر ہوا کرتا ہے، خواہ وہ پیغمبر ہو یا کہ امام، پس یہ حقیقت واضح اور روشن ہو کر سامنے آ گئی، کہ امامِ مبین کا نور سورج کے مادّی فیوض و برکات کا بھی سرچشمہ ہے۔
۱۷۹
کلید نمبر ۱۲
شہد کی مکھی کی مثال
سورۂ نحل کے نویں رکوع میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ: ثم کلی من کل الثمرات فاسلکی سبل ربک ذللا (۱۶: ۸۹) اور ہر قسم کے میوے کھا اور اپنے پروردگار کے مسخر راستوں میں چلی جا۔
پروردگارِ عالم کا یہ خطاب ظاہر اور تنزیل کے اعتبار سے شہد کی مکھی کے لئے ہے مگر باطن اور تاویل کے لحاظ سے اس خطاب کا تعلق حجّت اور پیر سے ہے، کہ وہی شخص جو امامِ زمان علیہ السّلام کی جانب سے حجّت، پیر، یا داعی کے لقب سے اور بعض دفعہ کسی اور نام سے بھی مقرر ہوتا ہے، شہد کی مکھی کا ممثول ہے، اور شہد کی مکھی اسی شخص کی مثال ہے، کیونک جس طرح شہد کی مکھی مختلف پھولوں اور پھلوں سے رس چوس کر اپنے بطن میں شہد بناتی ہے، اسی طرح امامِ برحق علیہ السّلام کا علمی نمائندہ روحانیت کے پھولوں اور پھلوں سے اپنے باطن میں علمِ تاویل کا شہد تیار کرتا ہے، اس کے لئے علم و حکمت کے راستے ایسے صاف، مسخر اور آسان ہیں، جیسے شہد کی مکھی
۱۸۰
کے راستے، کہ وہ بڑی آسانی سے ایک پھول سے دوسرے پھول پر اڑ سکتی ہے۔
شہد کی مکھی جن مختلف پھولوں اور جدا جدا پھلوں سے شہد بناتی ہے ان سب کا ذائقہ مل کر شہد کا ایک ہی مزہ بن جاتا ہے، اور اس میں دوسرا کوئی ذائقہ باقی نہیں رہتا، اسی طرح حجّت، جس کو امام حیّ و حاضر علیہ السّلام کی روحانی تائید حاصل ہے، مختلف تنزیلات کی ایسی موافق تاویل کر سکتاا ہے، کہ وہ عقل کے نزدیک شہد کی طرح خوشگوار اور یقینی ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی تضاد نہیں ہوتا۔
آیۂ مذکورۂ بالا میں بصورتِ تنزیل شہد کی مکھی سے فرمایا گیا ہے کہ: “اور ہر قسم کے میوے کھا اور اپنے پروردگار کے مسخر رستوں پر چلی جا۔” ہر دانا شخص اس مقام پر تاویل کی اہمیت سمجھ سکتا ہے ، کہ دنیا میں جہاں کہیں شہد کی مکھیاں ہوتی ہیں، وہاں ہر قسم کی میوے جمع تو نہیں ہوتے اور نہ ہر نوع کے پھول یکجا ہو سکتے ہیں، اس کے علاوہ پروردگار کے رستے باغوں اور جنگلوں میں ، جہاں شہد کی مکھیاں ہوں، نہیں پائے جا سکتے، پس اس سے ظاہر ہے، کہ ہم اس آیۂ مبارکہ کی جو تاویل کر رہے ہیں، وہ درست ا ور صحیح ہے، ہر چند کہ اس کی اور بھی تاویلیں ہیں۔
چنانچہ جسمانی اور ظاہری حالت میں یہ بات بالکل
۱۸۱
ناممکن ہی ہے کہ دنیا کے کسی ایک مقام پر ہر موسم اور ہر ملک کے تمام پھول اور پھل یکجا موجود ہوں، مگر اس کے برعکس روحانی اور باطنی صورت میں ہر قسم کے پھول اور ہر طرح کے میوے ایک ہی مرکز پر جمع ہوسکتے ہیں، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا پاک ارشاد ہے کہ:
کیا ہم نے ان کو امن و امان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس سے کھانے کو ملتے ہیں ولیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ ۲۸: ۵۷۔ جاننا چاہئے کہ حرم کی تاویل امامِ زمان ہے، کیونکہ امام ہی خدا کے پاک نور کا حقیقی گھر اور نہانخانۂ اسرارِ توحید ہیں، جہاں ہر قسم کے روحانی میوے کھنچے چلے آتے ہیں، اور یہ رزق دنیاوی نہیں بلکہ خدا کے حضور سے آتا ہے۔
اس سے یہ تاویل ظاہر ہوئی کہ مرتبۂ حجتی پر فائز ہونے والے سے فرمایا جاتا ہے کہ تم اپنے امامِ وقت کے روحانیت میں داخل ہو جاؤ اور تنزیل کے باغات کے پھولوں اور پھلوں کے ہر نمونے سے تاویل کا شہد بناؤ اور اپنے پروردگار کے علم و حکمت کے مسخر رستوں پر چلو پھرو۔
سورۂ نحل میں شہد کی مکھی کے بارے میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے اس کی مجموعی تاویل یہ ہے کہ : اور آپ کے ربّ نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی، یعنی آپ کے پروردگار
۱۸۲
نے ہونے والے حجّت سے مخاطبہ فرمایا، کہ تو پہاڑوں میں گھر بنا لے، یعنی تم سے قبل جو دوسرے حجّت علم کے پہاڑ ہیں، ان کے ساتھ روحانی رابطہ رکھو، اور درخت میں بھی گھر بنا لے، یعنی حجّتوں کے بعد اپنے امامِ وقت کی معرفت تک رسائی کرو جو امامت کا سدا بہار درخت ہے، یعنی شجرۂ طیبہ جو ہر وقت پھل دیتا ہے اور اس چیز میں بھی گھر بنا لے جو وہ بلند کرتے ہیں، یعنی امامِ زمان کی معرفت کی روشنی میں حدودِ عُلوی کی حکمتوں سے بھی فیض حاصل کرو، پھر ہر قسم کے پھلوں سے کھا لے، یعنی روحانی اور علمی میوؤں سے کھا لو، پھر اپنے ربّ کے صاف اور مسخر رستوں پر چلی جا، یعنی اپنے ربّ کے علم وحکمت کے میدان میں چلو پھرو کہ تمہارے لئے کوئی رکاوٹ اور کوئی الجھن نہیں، اس کے پیٹ میں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کی رنگتیں مختلف ہوتی ہیں یعنی حجّت کے باطن سے گوناگون تاویلات ظاہر ہوتی ہیں، جو روحانی غذا ہے، کہ اس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے، یعنی حجّت کی تاویلات کی بدولت لوگ نادانی اور جہالت کی بیماری سے شفایاب ہو جاتے ہیں، یقیناً اس میں فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں، یعنی جو لوگ عقل ودانش سے غوروفکر کرتے ہیں، وہ اس حقیقت کو جانتے ہیں، کہ یہ تمام چیزیں، جن کا ذکر ہوا، امامِ برحق کے روحانی اور علمی معجزات ہیں۔
۱۸۳
کلید نمبر ۱۳
تمام تمثیلات
سورۂ کہف کے آٹھویں رکوع میں ہے کہ:
و لقد صرفنا فی ہٰذا القرآن للناس من کل مثل ۔ ۱۸: ۵۴۔ اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔
اس کلیّۂ مقدسہ کا واضح مفہوم یہ ہے، کہ پروردگارِ عالم نے قرآنِ حکیم میں ایک ہی حقیقتِ جامعہ کی مثالیں پھیر پھیر کر بیان کر دی ہیں، چنانچہ ہر مثال میں اسی حقیقتِ واحدہ کی ایک گونہ صورت پنہان ہے، اور جہاں مثل الاعلیٰ ہے، وہاں حقیقتِ واحدہ یا کہ حقیقت الحقائق ہے، پھر اس بیان کے یہ معنی ہوئے، کہ ساری مثالیں مثل الاعلیٰ کی مختلف تفصیلات ہیں اور تمام حقیقتیں حقیقتِ واحدہ کی جدا جدا تشریحات۔
چنانچہ مثل الاعلیٰ کے بارے میں خداوندِ عالم کا ارشاد ہے کہ: و لہ المثل الاعلیٰ فی السمٰوٰت و الارض و ھو العزیز الحکیم ۔ ۳۰: ۲۷۔ اور آسمانوں اور زمین میں بلند ترین مثال اسی کی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔
۱۸۴
اس آیۂ مبارکہ سے یہ حقیقت ظاہر ہے، کہ ہر چند کہ باری سبحانہٗ کی ذاتِ بے چون کی کوئی مثال نہیں، تاہم اس نے جملہ مثالوں میں سے ایک مثال کو اپنی ذاتِ پاک سے منسوب کرنے کے لئے منتخب فرمایا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے کہ: لیس کمثلہ شیء و ھو السمیع البصیر ۴۲: ۱۱۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سنتا دیکھتا ہے۔ اور اس کا تاویلی اشارہ ہے کہ حق تعالیٰ کی مثال جیسی کوئی شیٔ نہیں، یعنی اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے مگر کوئی چیز اس اعلیٰ مثال کی مثال نہیں بن سکتی، اور یہ تمام اشارے کمثلہٖ میں پوشیدہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مثل الاعلیٰ تمام مثالوں میں سے ارفع واعلیٰ اس لئے ہے، کہ یہ اپنی تمام معنوی اور تاویلی خوبیوں کی وجہ سے دوسری سب مثالوں سے ممتاز اور مخصوص ہے۔
جاننا چاہئے کہ مثل الاعلیٰ کا ذکر سورۂ نور میں کیا گیا ہے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: اللّٰہ نور السمٰوٰت والارض مثل نورہ کمشکوٰۃ فیھا مصباح ۲۴: ۳۵۔ خدا سارے آسمان و زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثل ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے جس میں ایک روشن چراغ ہو۔
پس وہ مثل الاعلیٰ جو کائنات و موجودات پر حاوی اور محیط ہے، یہی ہے، جس کا ذکر ہوا، اس کی تمام معنوی
۱۸۵
اور تاویلی خوبیوں کو کوئی فردِ بشر ضبطِ تحریر میں نہیں لا سکتا، اور اس کی بنیادی خوبی اس حقیقت میں ہے، جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کہ خدا، رسول اور امامِ مبین کا ایک ہی نور ہے، اور یہی ایک نور جملہ اوصافِ کمالیہ سے موصوف ہے، جبکہ حضرتِ باری تعالیٰ کی ذات ہر صفت سے پاک و منّزہ ہے، جیسا کہ ارشاد ہے کہ:
سبحٰن ربک رب العزۃ عما یصفون ۔ ۳۷: ۱۸۰۔ آپ کا ربّ جو عزت کا پروردگار ہے ان تمام اوصاف سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ مطلب یہاں صاف طور پر واضح ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر صفت اور ہر وصف سے پاک و بے نیاز ہے، کیونکہ وہ عزت کا پروردگار ہے، یعنی حدودِ روحانی و جسمانی کی عزت کا بلند کرنے والا ہے، یہاں تک کہ عزت کی بلندی کی انتہا آئے مگر وہ خود ہر صفت سے پاک اور ہر چیز سے بے نیاز ہے۔
مذکورۂ بالا بیان کی روشنی میں اب یہ بتلا دینا آسان ہے ،کہ امامِ مبین کا نور کوئی محدود نور نہیں بلکہ وہی مطلق نور ہے وہی مثل الاعلیٰ کا ممثول اور وہی حقیقت الحقائق ہے، اور یہی مقدّس نور انہی معنوں کے ساتھ خدا کا نور کہلاتا ہے، جس میں وہ تمام صفات موجود ہیں، جو خدا تعالیٰ سے منسوب کی جاتی ہیں۔
۱۸۶
اب جبکہ یہ حقیقت واضح ہوچکی، کہ نورِ مطلق ایک ہی ہے، جس کا حامل ہمیشہ سے امامِ مبین ہے، تو پھر ہم بیان کر دیں گے، کہ ایک ہی حقیقت کی کئی مثالیں یا کئی اعتبارات کس طرح ممکن ہیں، چنانچہ خداوند عالم نے آیۂ بیعت میں آنحضرتؐ کے دستِ مبارک کو اپنا ہاتھ قرار دے لیا ہے، ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس مثال میں اس فعل کو بھی اپنا لیا ہے، جو حضورِ اکرمؐ کے مبارک ہاتھ سے مکمل ہوا تھا، جیسا کہ ارشاد ہے کہ:
ید اللّٰہ فوق ایدیھم ۴۸: ۱۰۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ یعنی پیغمبر صلعم کا ہاتھ، جس نے مسلمانوں سے بیعت لیا، خدا کا ہاتھ ہے، اور رسول اللہ کے بیعت لینے کا جو فعل ہے، وہ بھی اسی نسبت سے خدا کا فعل ہے، پس آیۂ بیعت کے ان مبارک الفاظ سے نہ صرف یہ معلوم ہوا، کہ ایک ہی حقیقت کے کئی اعتبارات ہو سکتے ہیں، بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا، کہ اللہ تعالیٰ انسانِ کامل کے قول و فعل کو اپنا قول و فعل قرار دے سکتا ہے۔
نیز ارشاد ہے کہ: و ما رمیت اذ رمیت و لٰکن اللّٰہ رمیٰ ۔ ۰۸: ۱۷۔ اور (اے محمد) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اس ارشاد میں بھی پھر وہی حقیقت ہے کہ خدا نے انسانِ کامل کے فعل کو اپنا فعل ٹھہرا لیا ہے۔
۱۸۷
اس کے بعد آپ اس حقیقت پر غور کریں، کہ آیا پیغمبر کی مثال مثل الاعلیٰ کے ساتھ مل کر ایک ہوسکتی ہے یا نہیں؟ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
و داعیا الی اللّٰہ باذنہ و سراجا منیرا ۔ ۳۳: ۴۶۔ اور آپ خدا کی طرف بلانے والے ہیں اس کے حکم سے اور روشن چراغ ہیں۔ نیز خدا نے قرآن میں یہ بھی فرمایا، کہ آنحضرتؐ ساری کائنات کے لئے رحمت تھے (۲۱: ۱۰۷) اب اگر ہم خدا کے اس روشن چراغ کی وسعتِ روشنی کا تصور کائناتی رحمت (رحمۃ اللعالمین) کے تقاضے کے مطابق کریں، تو سارے آسمانوں اور زمین میں اسی خدائی چراغ کی روشنی کے سوا اور کوئی روشنی تصور میں نہ آئے گی، پس معلوم ہوا، کہ پیغمبر اکرمؐ کی مثال مثل الاعلیٰ کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔
اب امامِ مبین کی مثال سنئے، جو ارشاد ہے کہ: اے ایمان والو خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا، اور تمہارے لئے ایک نور مقرر کر دے گا، جس کی روشنی میں تم چل سکو گے اور تم کو بخش دے گا۔ ۵۷: ۲۸۔ جاننا چاہئے کہ یہاں خدا سے کماحقہٗ ڈرنے اور رسول محمدؐ پر جیسا کہ چاہئے ایمان لانے میں قرآن اور شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اب رہا اس کے اجر و صلہ کا سوال، جو ظاہر و باطن اور دنیا
۱۸۸
اور آخرت میں ملنا چاہئے، تو وہ اس طرح سے ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کے توسط سے مومنین کی ہدایت و رہنمائی کے لئے امام مقرر کر دے، تا کہ وہ امام کے نور کی روشنی میں چل سکیں۔
خدا و رسول نے مومنین کے لئے جس نور کا تقرر فرما دیا ہے، اس کے ظاہری معنی تو یہ ہوئے، کہ گروہِ مومنین کے لئے امام مقرر کر دیا گیا، یہ تو مانا گیا، لیکن اب اس کی تاویل کا سوال ہے، تو بتائیے، کہ اس کی تاویلی حقیقت کیا ہے؟
الجواب: حقیقی مومنین کے لئے خدا و رسول کے نور مقرر کر دینے کی تاویل یہ ہے، کہ حقیقی محبت و فرمانبرداری کے نتیجے میں مومنین کے طاقِ دل میں مصباحِ امامت کا نور جلوہ گر ہونے لگتا ہے، پھر “نورٌ علیٰ نور” کے اصول کے مطابق اس کی علمی و عرفانی روشنی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ تمام کائنات و موجودات کو گھیر کر اپنے باطن میں محدود کر لیتا ہے، اسی معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ: و کل شیء احصیناہ فی امام مبین ۔ ۳۶: ۱۲۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک پوشیدہ امر ہے کہ تم ہر چیز کے لئے امامِ مبین کی طرف رجوع کرو، پس ثابت ہوا، کہ مثل الاعلیٰ کی تاویل میں خدا، رسول اور امامِ برحق کا ایک ہی نور ہے۔
۱۸۹
کلید نمبر ۱۴
ذوالقرنین
ذوالقرنین کون تھا؟ کیا وہ ایک جہانگیر بادشاہ تھا، یا پیغمبر، یا اپنے وقت کا امام؟ اس سوال کا صحیح جواب نہیں دیا جا سکتا، جب تک کہ اس کے بارے میں ان قرآنی حقائق کا انکشاف نہ ہو، جو ذوالقرنین کے قصّے میں ہیں۔
چنانچہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: و یسئلونک عن ذی القرنین ۔ قل ساتلوا علیکم منہ ذکرا۔ ان مکنا لہ فی الارض و اٰتینٰہ من کل شیء سببا ۔ فاتبع سببا ۔ ۱۸: ۸۳ تا ۸۵۔ (اے محمد) وہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں اس کے بارے میں کچھ بیان کر دیتا ہوں۔ بے شک ہم نے اس کو زمین (روحانیت) میں قدرت دی تھی اور ہم نے اس کو ہر چیز کا سبب (رستہ) دیا تھا پس وہ ایک رستہ پر ہو لیا۔
اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادِ مبارک دانشمند مومنوں کو اس بات کی دعوت دیتا ہے، کہ وہ غور و فکر سے اس کی معنوی گہرائیوں تک رسا ہو کر اس کی حقیقتوں کو حاصل
۱۹۰
کر لیں، چنانچہ “و اٰتینٰہ من کل شیء سببا” کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ذوالقرنین کو آسمان و زمین اور ظاہر و باطن کی سب چیزوں کے وسائل و ذرائع مہیا کر دیئے تھے، پس حقیقی مومنوں کے نزدیک اس فرمانِ الٰہی کا مطلب بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ “و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین” کا ہے۔
جس طرح کہ اس کتاب کے تمام موضوعات میں ایسی قرآنی آیات سے بحث کی گئی ہے، جن میں لفظ “کل” آیا ہے، اور ایسی آیات کو جو کلیّات میں سے ہیں بطورِ ثبوت پیش کیا گیا ہے کہ ان میں جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ ظاہری اور باطنی قسم کی ساری چیزوں کے بارے میں ہے، اسی طرح آیۂ مذکورہ بالا میں ’’کل شیء‘‘ سے روحانیت اور جسمانیت کی تمام چیزیں مراد ہیں۔
یہاں اس حقیقت کی ایک اور مثال خود قرآنِ حکیم سے یہ ہے کہ: ام لھم ملک السمٰوٰت و الارض و ما بینھما فلیرتقوا فی الاسباب ۔ ۳۸: ۱۰۔ کیا ان کو آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان کے درمیان ہیں ان کی بادشاہی حاصل ہے (اگر ایسا ہے) تو ان کو چاہئے کہ سیڑھیوں سے آسمان پر چڑھ جائیں۔
جاننا چاہئے کہ یہ مثال ظاہر اور باطن میں غیر امکانیت
۱۹۱
اور امکانیت کے دو معنی رکھتی ہے، اور اس کی امکانیت یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ جن حضرات کو چاہے آسمانوں اور زمین کی روحانی بادشاہی عطا کرتا ہے، اور جن اسباب سے کائنات کی روحانی سلطنت مل سکتی ہے، وہ اسباب گویا آسمانوں اور زمین کی کلیدیں ہیں، جیسا کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: لہ مقالید السمٰوٰت و الارض و الذین کفروا باٰیٰت اللّٰہ اولٰئک ھم الخٰسرون ۔ ۳۹: ۶۳۔ اور اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی اور جو لوگ اللہ کی نشانیوں کو نہیں مانتے وہ بڑے خسارے میں ہیں۔ جاننا چاہئے کہ کسی مکان کا دروازہ، قفل اور کلید اس لئے ہوتی ہے کہ مالک جن کو چاہے اپنے مکان میں داخل کر دے اور جن کو نہ چاہے داخل نہ ہونے دے۔
چنانچہ قرآنِ پاک کی ۰۶: ۷۵ میں ہے کہ: اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھاتے تھے تا کہ وہ اہلِ یقین میں سے ہو۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو آسمانوں اور زمین کی روحانی بادشاہی دیکھنے کی کنجیاں عنایت فرمائی تھیں، یا یوں کہنا چاہئے ، کہ خدا نے اسے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کے اسباب یعنی رستے بتا دیئے تھے۔ پس یہی مثال حضرت ذوالقرنین کی بھی ہے، کہ ان کو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کے باطنی رستے بتائے
۱۹۲
گئے تھے، کیونکہ ذوالقرنین اپنے وقت کے امام تھے۔
قرآنِ حکیم میں حضرت ذوالقرنین کا مختصر قصہ ہے وہ دراصل تاویل طلب ہے، مثلاً وہ سورج ڈوبنے کی جگہ پر پہنچ گئے جہاں سورج ایک کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا تھا، اس سے صاف طور پر ظاہر ہے ، کہ یہ سورج مادّی اور دنیاوی سورج نہیں تھا، بلکہ یہ روحانی اور دینی سورج تھا جسے دوسرے الفاظ میں نورِ توحید کہا جاتا ہے، اور کیچڑ کے چشمے سے دو اصلِ جسمانی مراد ہیں، جو روحانی مغرب ہیں ، یعنی ناطق اور اساس، جیسے تخلیقِ آدم کے بارے میں ارشاد ہے کہ و لقد خلقنا الانسان من صلصال من حما مسنون ۔ ۱۵: ۲۶۔ اور ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی تھی پیدا کیا ۔ اور مشرق کی تاویل عقلِ کل اور نفسِ کل ہیں جہاں سے نورِ توحید طلوع ہو کر ناطق اور اساس میں غروب ہو جاتا ہے۔
کتاب ’’الامامۃ فی الاسلام‘‘ کے صفحہ ۱۴۸ سے معلوم ہوتا ہے، کہ حضرت ذوالقرنین علیہ السلام دورِ نوح کے سلسلۂ أئمّۂ مستقر میں سے ہیں چنانچہ آپ کا شجرۂ نسب یہ ہے: ذوالقرنین بن عابر بن شالخ بن قینان بن ارفکشاد بن سام بن نوح، یعنی آپ حضرت نوحؑ سے ساتویں پشت ہیں۔
مذکورۂ بالا حقائق سے ظاہر ہوا، کہ حضرت ذوالقرنین اپنے وقت کے امام تھے اور ان کے مشرق و مغرب کے سفر
۱۹۳
کا سارا قصہ روحانی اور تاویلی ہے۔
نیز حضورِ اکرم صلعم کے ایک مبارک ارشاد سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے کہ حضرت ذوالقرنین امام تھے، چنانچہ آنحضرتؐ نے مولانا علیؑ سے فرمایا کہ: یا علی ان لک کنزا من الجنۃ و انک لذوقرنینھا ۔ یعنی (یاعلی) جنت میں آپ کے لئے ایک مکان مخصوص ہے اور آپ اس امت کے ذوالقرنین ہیں۔ سبحان اللہ ارشادِ نبوی کی معنوی شان کس قدر بلند ہے، کہ اس مبارک حدیث میں امام شناسی کے جملہ اسرار موجود ہیں، ان میں سے ایک یہ کہ اگر علی ذوالقرنین کی طرح ہیں تو ذوالقرنین بھی علی کی طرح ہیں، پس اگر علی امام ہیں تو ذوالقرنین بھی اپنے وقت کے امام تھے، دوسرا یہ کہ قرآن کے تاویلی قصّے میں جو تعریف و توصیف ذوالقرنین کے متعلق ہے، اس کا تعلق علی سے بھی ہے، جبکہ علی ذوالقرنین کے ہمصفت ہیں، تیسرا یہ کہ جب تک دنیا میں آنحضرتؐ کی امت ہے، تب تک علی بھی انہی اوصاف کے ساتھ جو مذکور ہوئے حاضر اور موجود ہیں، کیونکہ آنحضرت نے مذکورہ ارشاد میں اس امت کے درمیان ایک ذوالقرنین کا مبارک وجود لازمی قرار دے دیا ہے۔
۱۹۴
کلید نمبر ۱۵
یاجوج و ماجوج
یاجوج و ماجوج کے بارے میں ظاہری کتابوں میں مختلف قسم کی روایتیں پائی جاتی ہیں، جن کی کثرتِ اختلاف کے سبب سے حقیقت پر جو پردہ پڑا ہے، اس کا ہٹانا کوئی آسان بات نہیں ہے، لیکن امامِ زمانؑ (جو خدا و رسول کی طرف سے ہادئ برحق ہیں) کی دستگیری اور تائید کے اعتماد پر اس موضوع کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔
قرآنِ حکیم میں یاجوج و ماجوج کا تذکرہ بطریقِ اجمال دو دفعہ آیا ہے، جو سورۂ کہف میں حضرت ذوالقرنین کے قصّے کے سلسلے (۱۸: ۹۱ تا ۹۸) میں ہے اور سورۂ انبیاء (۲۱: ۹۵ تا ۹۷) میں ہے۔
چنانچہ امامِ وقت کی حیثیت سے حضرت ذوالقرنین پر عالمِ روحانی کے تمام دروازے کھلے ہوئے تھے، انہوں نے اپنی نورانیت میں تمام خلائقِ عالم کی روحوں کا مشاہدہ کیا، یہ روحیں تین قسموں میں تھیں، یعنی اہلِ دنیا کی روحیں جن کا دوسرا نام یاجوج و ماجوج ہے، اہلِ ادیان کی روحیں اور اہلِ اللہ کی روحیں، پس حکمت کا تقاضا یہ تھا، کہ سب سے
۱۹۵
پہلے دین والوں کی روحوں کا مشاہدہ ہو، چنانچہ ذوالقرنین نے ایسی قوم کو نورِ ہدایت کے مغرب میں دیکھا، ان میں بھلائی اور برائی دونوں کی صلاحیت موجود تھی، اس کے بعد آپ روحانیت کے مشرق میں پہنچ گئے، جہاں ان کے مشاہدے میں ایسی روحیں آ گئیں، جن پر ہر وقت نورِ ہدایت کا سورج بلا واسطہ طلوع ہوتا رہتا تھا، یہ اہلِ اللہ کی روحیں تھیں، جن میں سوائے نیکی کے کچھ بھی نہیں تھا، اخیر میں حضرت ذوالقرنین علیہ السّلام روحانیت کے ایسے مقام پر پہنچے، جہاں خلیفۂ خدا یعنی پیغمبر اور امام کے لئے ممکن ہوتا ہے، کہ وہ اہلِ دنیا کی روحوں کے شر و فساد سے مومنوں کو محفوظ رکھیں، جس میں مومنین پر بھی انتہائی حد کی فرمانبرداری کا فریضہ واجب ہوتا ہے۔
چنانچہ اہلِ دنیا کی روحوں یعنی یاجوج و ماجوج کے شروفساد سے بچنے کے لئے اس وقت کے مومنین نے حضرت ذوالقرنین سے یعنی امامِ وقت سے درخواست کی، پس آپ کے علمِ روحانی اور مریدوں کے عملِ جسمانی سے حفظ و امان کی ایک مضبوط روحانی دیوار یاجوج و ماجوج کے سامنے کھڑی کر دی گئی، جس کے اوپر سے وہ چڑھ نہیں سکتے تھے، اور نہ اس میں سوراخ کر سکتے تھے، ذوالقرنین نے فرمایا کہ یہ میرے پروردگار کی ایک رحمت و مہربانی ہے پھر جب میرے پروردگار کا وعدۂ قیامت آئے گا اس کو ریزہ ریزہ کر
۱۹۶
دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچ ہے۔
اس کے بعد قرآنِ حکیم کا یہ واضح اشارہ ہے، کہ دورِ قیامت یعنی دورِ روحانیت کے آغاز میں یاجوج و ماجوج (یعنی اہلِ دنیا کی روحوں) کو کچھ وقت کے لئے موقع دیا جائے گا، جس میں بعض روحیں جسمانی طریق پر اور بعض روحانی طور پر شر و فساد میں مصروف ہوں گی، پھر ایک زمانے کے بعد صور پھونکا جاوے گا، جس کی بدولت خلائقِ عالم کی جملہ ارواح ایک ہی ملی وحدت کے رشتے میں منسلک ہو جائیں گی
قرآنِ مجید کے دوسرے مقام پر یاجوج و ماجوج کا بیان اس طرح آیا ہے کہ: اور ہم جس بستی کو ہلاک کر چکے ہیں اس کے لئے ممانعت ہے کہ وہ رجوع کرے (یعنی جو لوگ عذابِ الٰہی سے روحانی طور پر ہلاک ہوئے ہیں ان کی روحوں کے لئے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ لوٹ کر پھر دنیا میں آئیں) یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوں گے (۲۱: ۹۵ تا ۹۶) یاد رہے کہ ہر بلندی کا مطلب یہاں ہر حقیقی مومن کی روحانیت ہے جو دنیا والوں سے بلند تر ہے، کیونکہ حضرت اسرافیل حقیقی مومنوں کی روحانیت میں سے صور پھونکے گا، اس لئے یاجوج و ماجوج اور دوسری تمام روحیں صور کی آواز کی طرف دوڑیں گی، جہاں سے وہ پھر دنیا میں منتشر ہو جائیں
۱۹۷
گی، جیسا کہ قولِ قرآن ہے کہ: و نفخ فی الصور فاذا ھم من الاجداث الیٰ ربھم ینسلون (۳۶: ۵۱) پھر جب صور پھونکا جائے وہ یکایک قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف دوڑنے لگیں گے۔ یعنی تمام روحیں جو انسانی جسم کی قبروں میں مدفون ہیں، وہ وہاں سے بحکمِ خدا اٹھ کر صورِ اسرافیل کے پاس، جو حقیقی مومنین میں ہے، جمع ہو جائیں گی، جہاں ان کے پروردگار کا نور اسمِ اعظم کی صورت میں موجود ہے۔
۱۹۸
کلید نمبر ۱۶
ہر چیز کی خلقت و ہدایت
قرآنِ مقدس کی (۲۰: ۵۰) میں فرمایا گیا ہے کہ: قال ربنا الذی اعطیٰ کل شیء خلقہ ثم ھدیٰ (۲۰: ۵۰) (موسیٰ نے ) کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو خلقت (یعنی مادّی شکل و صورت) بخشی پھر راہ دکھائی۔
اس کلیۂ مقدسہ کی ان گنت حکمتوں میں سے جو باتیں قابلِ فہم ہیں ان کی یہاں وضاحت کی جاتی ہے، اوّل یہ کہ یہ آیتِ پاک حکمت کی زبان میں فرما رہی ہے، کہ ہر چیز عالمِ امر یعنی عالمِ روحانی میں ازلی و ابدی طور پر موجود ہے، جس کا وجود و صورت محض عقلی اور روحانی کیفیت میں ہے۔
دوم یہ کہ عالمِ امر کی حقیقتیں اشیاء کہلاتی ہیں، یعنی چیزیں، بلکہ چیزیں دراصل وہی ہیں، کیونکہ دنیا کی ہر مادّی چیز آخرت کی اصلی چیز کا سایہ ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ “کل شیء” میں بحقیقت عالمِ امر کی چیزوں کا ذکر ہے، ہاں یہ بات بھی درست ہے کہ جہاں کل شیء کا ذکر ہے وہاں تمام چیزوں کے سائے بھی شامل ہیں۔
سوم یہ کہ ہر چیز عالمِ امر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے
۱۹۹
موجود ہے ساتھ ہی ساتھ اس کو عالمِ خلق میں بھی ایک مادّی وجود دیا جاتا ہے، یہ ہوا خدا کی طرف سے ہر چیز کو خلقت بخشنا، درحالیکہ چیزوں کا مادّی وجود یعنی خلقی صورت بار بار مٹائی جاتی ہے اور بار بار بنائی جاتی ہے، جبکہ اشیاء کی امری صورت لافانی ہے۔
چہارم یہ کہ ہر چیز، جو بیک وقت دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی، اس کو اس کی ضرورت کے مطابق ہدایت دی گئی ہے یعنی راہ دکھائی گئی ہے، اور ان دونوں جہان کی اس ہمہ گیر و ہمہ رس ہدایت کا سرچشمہ خدا کا نور ہے، جیسے ارشاد ہوا ہے کہ: اللّٰہ نور السمٰوٰت والارض جس کا مفہوم ہے کہ خدا کائنات کے ظاہر و باطن کی ہر چیز کے لئے ہدایت کا نور ہے، مگر جسا کہ بتایا گیا، کہ ہدایت موجودات و مخلوقات کے درجات کے مطابق کارفرما ہوتی ہے۔
اب یہاں ہمیں عالمِ خلقی کی چیزوں کی ہدایت کے بارے میں کچھ مختصر بیان کرنا چاہئے، چنانچہ خدا کے اس نورِمطلق کی طرف سے، جس کی معرفت کے موضوعات پر یہ کتاب لکھی گئی ہے، سب سے پہلی ہدایت آسمانوں، سیّاروں اور ستاروں کو حاصل ہے، جس کی بدولت وہ نہ صرف وجود میں آئے، بلکہ اسی نورانی ہدایت کے بل بوتے پر وہ اپنے اپنے محدود دائروں میں گردش کرتے ہوئے مصروفِ عمل بھی ہیں۔
۲۰۰
دوسری ہدایت عناصرِ اربعہ کو ملی ہے، جو گرمی، سردی، خشکی اور تری کی طبعی کیفیت میں پنہان ہے، تیسرے درجے کی ہدایت موالیدِ ثلاثہ کو حاصل ہے، جو جمادات، نباتات اور حیوانات ہیں، اور ہدایت ان کے مختلف طبقات کے مطابق ہے، مثال کے طور پر جمادات کی ہدایت بھی ان کی طبعی کیفیت میں پوشیدہ ہے، نباتات کی ہدایت روحِ نامیہ کی قوتوں کی صورت میں ہے، حیوانات کی ہدایت روحِ حسی یعنی روحِ حیوانی کی حیثیت میں ہے اور انسانوں کی ہدایت روحِ ناطقہ کی شعوری طاقتوں کے توسط سے ہے۔
چونکہ روحِ ناطقہ یا کہ انسانی روح اگر ایک طرف سے حیوانی روح سے متصل ہے، تو دوسری طرف سے مَلَکی قوتوں سے بھی ملی ہوئی ہے، اس لئے انسانیت کے غیر معمولی وسیع دائرے میں مختلف نظریات کے بہت سے گروہ اور جدا جدا عادات کے بے شمار افراد داخل ہیں، پس یہ امر لازمی ہوا، کہ نورِ الٰہی کی طرف سے انسانوں کے لئے جس ہدایت کی ضرورت تھی، وہ لوگوں کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق درجہ بدرجہ حاصل ہوتی رہے اور امرِ واقعی ایسا ہی ہے۔
جب یہ بات حق ہے، کہ نورِ الٰہی کی جانب سے بنی آدم کے لئے جو ہدایت آتی ہے، اس کے بھی مختلف درجات ہوا کرتے ہیں، تو پھر اس بات کی تحقیق ضروری ہے، کہ
۲۰۱
ہدایت کا سب سے اعلیٰ درجہ کون سا ہے، اس کے بارے میں جب ہم قرآنِ حکیم کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے، کہ سب سے اونچی ہدایت عرفانی ہدایت ہے، جو امامِ مبین کی حقیقی معرفت اور نورِ ہدایت کی انتہائی قربت کا مرتبہ ہے۔
۲۰۲
کلید نمبر ۱۷
ہر چیز کا فنا ہو جانا
سورۂ قصص کے اخیر میں ہے کہ: کل شیء ہالک الا وجھہ ۔ لہ الحکم و الیہ ترجعون ۔ ۲۸: ۸۸۔ یعنی اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤگے۔
وجہ اللہ کے لفظی معنی ہیں خدا کا چہرہ، اور اس کا تاویلی اشارہ امامِ زمانؑ کی طرف ہے، جیسا کہ مولانا علیؑ کا مبارک فرمان ہے کہ: انا واللّٰہ وجہ اللّٰہ ۔ یعنی میں خدا کی قسم خدا کا چہرہ ہوں، نیز رسول اللہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ: من رانی فقد رای الحق ، یعنی جس شخص نے مجھ کو دیکھا، اس نے خدا کو دیکھا۔
جب اس بات میں کوئی تعجب نہیں، کہ حق تعالیٰ نے نبوّت و امامت کے نور کو اپنی روح قرار دے دیا ہے، جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے کہ خدا نے اپنی روح آدم علیہ السّلام میں پھونک دی، اور حضرت مریم علیہا السّلام کے قرآنی قصّے میں دیکھئے کہ اللہ نے روح القدس کو اپنی روح ٹھہرا لیا ہے، تو پھر اس امر میں کیا تعجب ہے، کہ خدا تعالیٰ امامِ
۲۰۳
زمان علیہ السّلام کو اپنا چہرہ قرار دے، اس معنی میں کہ امام کا دیدار خدا کا دیدار ہے اور امام کی معرفت خدا کی معرفت ہے، جیسا کہ امیر المومنین علی علیہ السّلام کا فرمانِ مبارک ہے کہ: انا وجہ اللّٰہ، انا جنب اللّٰہ ، انا ید اللّٰہ ، انا عین اللّٰہ، انا القرآن الناطق و انا البرہان الصادق و انا اللوح المحفوظ و انا القلم الاعلیٰ انا الٓمٓ، ذالک الکتاب، انا کھٰیٰعٓصٓ، انا طٰہٰ انا حاء الحوامیم و انا طاء الطواسین، انا الممدوح فی ھل اتیٰ۔ و انا النقطۃ تحت الباء ۔ میں خدا کا چہرہ ہوں، میری طرف متوجہ ہونا خدا کی طرف رخ کرنا ہے، میں ہی جنب اللہ ہوں، مجھ تک پہنچنا خدا کے پہلو میں بیٹھنا ہے، اور منتہائے قرب پر پہنچنا ہے، میں ید اللہ یعنی دستِ خدا ہوں، جو کچھ وہ کرتا ہے مجھ سے کرتا ہے، جو کچھ اس سے صادر ہوتا ہے، میرے ہاتھ سے ہوتا ہے، اور میں کرتا ہوں اس کا کہلاتا ہے، میں عین اللہ ہوں، اس کی آنکھ سے عالم کو دیکھتا ہوں، اور دنیا میرے لئے ایسی ہے جیسے کہ آنکھ میں تل، میں قرآنِ ناطق اور برہانِ صادق ہوں، میرا وجود حق اور دلیلِ وجود حق ہے، میں حاملِ اسرارِ الٰہی لوحِ محفوظ ہوں، میں ہی قلمِ اعلیٰ ہوں، جو کچھ صفحاتِ عالمِ امکان پر قدرت نے رقم کیا ہے وہ مجھ
۲۰۴
سے رقم کیا ہے، میں الم ذالک الکتاب ہوں، کتابِ فعلی اور کتابِ قولی دونوں میرا وجودِ حقیقی ہیں، میں ہی کھیعص ہوں، اور میں ہی طٰہٰ، میں ہی مبداء حوامیم ہوں، اور میں ہی راسِ طواسین ۔ میں ممدوحِ ہل اتیٰ ہوں اور میں نقطۂ تحتِ باء ہوں، جس میں کل کتاب جمع ہے۔ (کوکبِ دری)۔
جب خدا کے لئے یہ کوئی عجیب کام نہیں کہ اس نے آنحضرت صلعم کے دستِ مبارک کو اپنا ہاتھ قرار دے دیا ہے حالانکہ خدا کوئی بشر تو نہیں کہ اس کا ہاتھ ہو، تو یہ امر بھی عجیب نہیں کہ امامِ برحق کو اپنا چہرہ قرار دے، اس معنی میں کہ امام خدا کا نور ہے۔
قرآنِ حکیم میں خدا کی پنڈلی کا ذکر آیا ہے (۶۸: ۴۲)۔ اگرچہ خدائے پاک اعضاء و جوارح سے مبّرا و منّزہ ہے، جب مثال اور تاویل کے لئے یہ بات درست ہے تو یہ بھی حق ہے کہ امامِ زمان خدا کا چہرہ ہیں، کیونکہ امام کے تصور میں خدا کی معرفت کے اسرار پنہان ہیں۔
قرآنِ پاک کی ۲۹: ۵۶ میں لفظی طور پر جنب اللہ (خدا کا پہلو) مذکور ہے، جب پروردگارِ عالم کے لئے پہلو کی نسبت منظور ہے، تو امامِ حیّ و حاضر کے وجہ اللہ اور جنب اللہ ہونے میں کسی کو کیا شک ہوسکتا ہے۔
جب اس حقیقت کی وضاحت ہو چکی، کہ امامِ زمان وجہ اللہ ہیں، تو اب ہم بتوفیقِ الٰہی یہ بیان کر دیں گے
۲۰۵
کہ ہر چیز کے فنا ہو جانے کی تاویل کیا ہے، چنانچہ متعلقہ کلیّۂ مقدسہ یہ تھا کہ: وجہ اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔
خوب جاننا چاہئے، کہ اس فرمانِ الٰہی کی تاویل کے کم از کم چار مقام ہیں، سب سے پہلے مقام کی تاویل یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ایسے خاص خاص بندے بھی ہوا کرتے ہیں، کہ ان کے نورانی تصوّروتخیّل میں یا ان کی چشمِ بصیرت کے سامنے کائنات و موجودات کی ہر چیز اسرارِ نورِ الٰہی کی بے پناہ تجلّیوں میں فنا ہو جاتی ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک کا ارشاد ہے کہ: پس تم جس طرف بھی متوّجہ ہوجاؤ وہیں خدا کا نور موجود ہے۔ ۰۲: ۱۱۵۔ یہ ہوا کسی مومن کی انفرادی دنیا میں ہر چیز کا فنا ہوجانا، خدا کے نور کا باقی رہنا خدا کی بادشاہی کا دور آنا اور خدا کی طرف اس مومن کا لوٹ کر جانا۔
دوسرے مقام کی تاویل یہ ہے، کہ دنیا ہی میں ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے، جس میں روحانیت کا دور دورہ ہوگا، ہر جسمانی چیز روحانی طاقتوں کے نیچے مغلوب ہو کر نہ ہونے کے برابر رہے گی، وہ روحانی طاقت وجہ اللہ یعنی خدا کے نور کی ہو گی، اس وقت روئے زمین پر خدا کی ایک ہی حکومت ہو گی،اور اس حال میں مومنین خدا کی طرف رجوع کئے ہوئے ہوں گے، یہ ہوا مومنین کی اجتماعی دنیا میں
۲۰۶
ہر چیز کا فنا ہو جانا۔
تیسرے مقام کی تاویل یہ ہے، کہ جب بندۂ مومن اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے امامِ وقت کی روحانیت و نورانیت کی بہشت میں داخل ہوجاتا ہے ، تو اس وقت اس کے نزدیک امام کے نور کے سوا ہر چیز فنا ہو جاتی ہے، ایسے مومن کی اس ذاتی بہشت میں خدا ہی کی بادشاہی ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس حال میں وہ مومن خدا کی طرف رجوع کیا ہوا ہوتا ہے، یہ ہوا مومن کی انفرادی قیامت میں ہر چیز کا فنا ہوجانا۔
چوتھے مقام کی تاویل یہ ہے کہ کسی زمانے میں عالمِ جسمانی یعنی ساری کائنات کلّی طور پر فنا ہو جائے گی، جیسا کہ کلید نمبر ۹ میں بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے، اور اس حال میں بندگانِ خدا اپنے آپ کو خدا کے نور میں زندہ پائیں گے، جو عالمِ روحانی اور بہشتِ جاودانی ہے، اس عالم میں خدا ہی کی بادشاہی ہوگی اور مومنین خدا کی طرف لوٹے ہوئے ہوں گے، یہ ہوا مجموعی قیامت میں ہر چیز کا فنا ہو جانا۔
مذکورۂ بالا تاویلات کی ایک واضح مثال یہ ہے، کہ ہر انسان جب خواب کے عالم میں ہوتا ہے، تو اس کے نزدیک عالمِ خواب کے سوا ہر چیز فنا ہو جاتی ہے، یعنی یہ ظاہری کائنات تمام موجودات اور مخلوقات کے ساتھ اس کی نظر سے غائب اور پوشیدہ ہو جاتی ہے، مگر اس کے
۲۰۷
خواب کی دنیا میں ہر چیز موجود ہوتی ہے، جس میں خواب کی حکمرانی ہے اور اس کا رجوع خواب کی طرف ہوتا ہے، یہی مثال انفرادی روحانیت و قیامت کے علاوہ اجتماعی روحانیت اور قیامت کی بھی ہے، لیکن بمصداق: چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک۔ کہاں خواب کی تاریک اور مردہ دنیا، اور کہاں روحانیت و قیامت کا تابان و درخشان عالم، جس کی ہر چیز روحِ قدسی کی حیات و دانش سے معمور ہے۔
۲۰۸
کلید نمبر ۱۸
ہر چیز امامِ مبین میں
سورۂ یاسین کے رکوعِ اوّل کے اخیر میں پروردگارِعالم کا یہ ارشاد ہے کہ: و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ۔ ۳۶: ۱۲۔ اور ہم نے ہر چیز کو امامِ مبین (کی نورانیت) میں گھیر لیا ہے۔
سوال: اگر ’’امامِ مبین‘‘ کا یہ اسم حاضرامام ہی کے لئے ہے، تو ہمیں سمجھا دیجئے، کہ کائنات و موجودات کی ہر چیز یعنی تمام اشیائے ظاہروباطن امام کی ذات میں کس طرح گھیری ہوئی ہیں؟
جواب: ہاں، امامِ مبین حاضرامام ہی کا اسمِ مبارک ہے، چونکہ آپ خدائے قدوس کے پاک نور کی مرتبت رکھتے ہیں، اور خدا کا نور وہ ہے، جس نے ارض و سماء کی وسعتوں کو اپنے اندر گھیر کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نورِ مطلق کی حیثیت سے امامِ زمان کون ومکان کی جملہ اشیاء پر کس طرح حاوی ہے، اس کے کئی تصورات ہیں، ان میں سے ایک یہ کہ امامِ برحق کے آئینۂ باطن میں اشیائے دو جہان کی عقلی و روحی (یعنی زندہ
۲۰۹
اور باشعور) قسم کی عکاسی ہوتی رہتی ہے، بالفاظِ دیگر امام پاک کے ضمیرِمنیر کی لوحِ محفوظ پر ہر چیز کا زندہ نقش وصورت موجود ہے۔
دوسرا تصور یہ ہے کہ امام علیہ السّلام اس عظیم کائنات کی روح اور عقل ہیں، وہ اس طرح کہ امام کی عقل عقلِ کلّی ہے اور آپ کی روح نفسِ کلّی، پس تمام عقول امام کی عقل میں مجموع ہیں اور ساری ارواح آپ کی روح میں محدود۔
تیسرا تصور یہ ہے، کہ امام خدا کی آنکھ ہیں، اس لئے ان کی نگاہ کے سامنے موجودات کے احوالِ ظاہر و باطن محدود و محصور ہیں، جیسے مولانا علی علیہ السّلام کا فرمان ہے کہ:انا عین اللّٰہ فی ارضہ و لسانہ الناطق فی خلقہ انا نور اللّٰہ الذی لا یطفیٰ انا باب اللّٰہ منہ یوتیٰ و حجتہ علیٰ عبادہ = یعنی میں زمین میں خدا کی آنکھ ہوں، اور اس کی مخلوق میں اس کی بولتی ہوئی زبان ہوں، میں وہ نورِ خدا ہوں جو نہیں بجھایا جا سکتا، میں باب اللہ ہوں کہ میرے ہی ذریعہ خدا تک پہنچا جاتا ہے اور اس کے بندوں پر اس کی حجّت ہوں۔
چوتھا تصور امامِ مبین کی ذاتِ اقدس میں ہر چیز محدود ہونے کے بارے میں یہ ہے کہ امامِ عالی مقام کی مقدس روح نفسِ کلّی، روحِ اعظم، روح الارواح اور عالمِ روحانی
۲۱۰
کی حیثیت سے ہے، اس لئے امامِ مبین تمام مخلوقات اور جملہ اشیاء کی روحوں کا سورج ہیں، اب ان روحوں کی مثال جو دنیا میں آئی ہیں، سورج کی ان کرنوں کی طرح ہے جو سطح زمین تک پہنچی ہوئی ہیں، اور جو روحیں دنیا میں آنے کے بعد اپنی اصل سے واصل ہوئی ہیں یا ابھی تک دنیا میں نہیں آئی ہیں، ان کی مثال روشنی کے اس مادہ کی طرح ہے جو سورج کے سرچشمے میں موجود ہے، پس جو روحیں امامِ مبین کے نورِ اقدس میں ہیں وہ بھی، اور جو روحیں دنیا میں آئی ہیں وہ بھی امامِ اکرم کی ذات میں محدود ہیں، جیسے سورج کی کرنوں کا حال ہے، کہ جو شعاعیں ابھی سورج سے نہیں نکلی ہیں وہ تو سورج کے نور میں محدود ہیں ہی، اور ان کے علاوہ جو کرنیں ایک بے پایان نورانی سمندر کی شکل میں کائنات و شش جہات میں پھیلی ہوئی ہیں وہ بھی سورج سے وابستگی کی وجہ سے سورج میں محدود ہیں۔
ان تصورات کے علاوہ اس سلسلے میں ایک اور قرآنی دلیل یہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے، کہ و ما ارسلنٰک الا رحمۃ للعٰلمین ۲۱: ۱۰۷۔ اور (اے رسول) ہم نے تم کو تمام عالموں (یعنی ساری کائنات) کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اس فرمانِ الٰہی سے ظاہر ہے کہ حضورِ اکرم
۲۱۱
خدا کی ہمہ رس اور ہمہ گیر رحمتِ کل کی حیثیت سے تمام کائنات و موجودات پر حاوی تھے، چنانچہ اگلے صفحات پر بھی اس حقیقت کا ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز یعنی کائنات کو اپنی رحمت اور علم میں سما لیا ہے، اور وہ قرآنی ارشاد یہ ہے: ربنا وسعت کل شیء رحمۃ و علما ۔ ۴۰: ۷۔ چونکہ امامِ مبین خلیفۂ خدا اور خلیفۂ رسول ہیں، اس لئے امام کی روحانیت خدا کی ہمہ رس رحمت ہے اور آپ کی نورانیت خدا کا ہمہ گیر علم ہے، پس معلوم ہوا، کہ امامِ مبین کی روحانیت اور نورانیت دونوں ارض و سماء کی وسعتوں پر محیط ہیں۔
اب ذیل میں اس حقیقیت کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، کہ امامِ مبین کے نور میں کون و مکان کی تمام چیزیں کس طرح گھیری ہوئی ہیں:
۱۔ سورج نے اپنی روشنی کے بے پناہ سمندر میں تمام کائنات کو غرق کر لیا ہے، حالانکہ وہ خود کائنات کے درمیان ایک محدود جسم ہے۔
۲۔ یہ ایک یقینی حقیقت ہے کہ بائے بسم اللہ کے نقطے میں قرآنِ حکیم کا جملہ ظاہر و باطن پنہان ہے۔
۳۔ درخت کے بیج میں مغز ہوتا ہے اور مغز کے درمیان ایک چھوٹا سا نقطہ ہے اور اسی نقطے میں ایک عظیم درخت پوشیدہ ہے۔
۲۱۲
۴۔ حضرت آدمؑ کی پشت میں نفوسِ خلائق کی ایک بھرپور دنیا چھپی ہوئی تھی۔
۵۔ انسان کے دل و دماغ میں بہت سی لطیف دنیائیں سما گئی ہیں، مثلاً خواب کی دنیا، خیال کی دنیا، غور و فکر کی دنیا، عقل و دانش کی دنیا، تجربات کی دنیا، عشق و محبت کی دنیا وغیرہ۔
۶۔ بندۂ مومن کے قلب میں حکمت کا ایک نقطہ ہے، اور اس نقطے میں اس قدر زیادہ گنجائش ہے کہ حضرت رحمٰن اور اس کی تمام صفاتِ جلالیہ و جمالیہ کے لئے جگہ ہو سکتی ہے۔
۷۔ تمام پیغمبروں کے نفوسِ قدسیہ، کتبِ سماویہ، علمِ الٰہیہ اور ساری امتوں کی ایمانی روحیں آنحضرت کی ذاتِ بابرکات میں مجموع تھیں، ان تمام حقیقتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، پس اس کا مطلب یہ ہوا، کہ حضورِ اکرمؐ کا نورِ مقدّس، جس میں سب کچھ تھا، امامِ مبین میں موجود ہے۔
۸۔ یہ عظیم کائنات بہ امرِ خدا کاف و نون (کُنۡ) کے دو حرف سے وجود میں آئی ہے، اور بالآخر پھر کاف و نون میں داخل ہونے والی ہے۔
۹۔ انسان نے اپنے دل و دماغ میں عقل اور علم کو
۲۱۳
گھیر لیا ہے اور عقل وعلم نے انسان کو گھیر لیا ہے، یعنی وہ اپنی معلومات کے دائرے میں محدود ہے۔
۱۰۔ قیامت کے دن ساری زمین خدا کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ ۳۹: ۶۷۔
۱۱۔ سیاہی کی ایک دوات میں امکانی طور پر دنیا بھر کے علوم سموئے ہوئے ہیں، یعنی اس میں سے ہر قسم کی تحریر اور ہر نوع کا علم ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
پس مذکوۂ بالا دلائل اور مثالوں سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح اور ظاہر ہو گئی، کہ امامِ مبین کے احاطۂ نورانیت میں کائنات و موجودات کا ظاہر و باطن محدود ہے، اور یہ کلیّہ الحمد للہ اس واحد خزانے کی کلید کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں آسمانوں اور زمین کے جملہ مخفی خزانوں کی کلیدیں محفوظ ہیں، جن کا ذکر کلید میں کیا گیا ہے۔
۲۱۴
کلید نمبر ۱۹
ہر چیز کا ملکوت
سورۂ یاسین کی آخری آیت ہے کہ: فسبحٰن الذی بیدہ ملکوت کل شیء و الیہ ترجعون ۔ ۳۶: ۸۳۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔
ملکوت کے معنی ہیں بادشاہی، سلطنت، روحانیت، عالمِ ارواح، عجائبات اور فرشتوں کا عالم، اور ملکوت کل شیء کا مطلب ہے ہر چیز کی روحانیت، ہر چیز کے روحانی عجائبات اور ہر چیز کی وہ روحانی شکل و صورت جو عالمِ امر میں ہے، جس میں ہر چیز مادّی اور جسمانی کیفیت کے بغیر مجرّد روحانیت میں موجود ہے، جس کی ایک مثال عالمِ خواب ہے، کہ اس کی تمام چیزیں بغیر جسم اور بغیر مادّہ کے روحانی کیفیت میں ہوتی ہیں۔
نیز اس کے معنی ہیں ہر چیز کی ملکوتی بادشاہی اور روحانی سلطنت، کیونکہ کائنات و موجودات کی ہر چیز خدا کے قبضۂ قدرت اور اس کے اختیار میں تو ہے،
۲۱۵
لیکن وہ جسمانیت و مادّیت کے عالم میں ظاہر ہے، اور لوگوں کی نگاہیں اس تک رسا ہو سکتی ہیں، اس حال کے برعکس ہر چیز کا روحانی وجود ایسا نہیں، کہ ہر شخص اس کے عجائبات کا ادراک کر سکے، پس اسی اختصاص کے سبب سے ارشاد ہوا ہے، کہ ہر چیز کی روحانیت خدا کے ہاتھ میں ہے، اور خدا کے ہاتھ سے ولئ امر مراد ہیں یعنی امامِ زمان، کیونکہ خدا کی طرف سے مومنین سے بیعت لینے والا ہاتھ پیغمبر صلعم کے بعد امامِ برحق ہی کا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا، کہ نبوّت و امامت کے واحد نور کی روشنی میں تمام چیزوں کی روحانیت کا مشاہدہ ہوسکتا ہے، پھر ان اشیاء کی حقیقتوں اور معرفتوں کے نتیجے میں خدا کی طرف رجوع یعنی اس کی معرفت کا حصول ممکن ہے، آیۂ مذکورۂ بالا میں ربطِ الفاظ کا مطلب یہی ہے۔
اس کلیۂ مبارکہ میں خدا کے ہاتھ کا ذکر ہوا ہے، لیکن صاف ظاہر ہے کہ یہاں خدا کے تصورِ سبحانیت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے، اس لئے اگر ہم خدا کے ہاتھ سے خدا کا اختیار مراد لیں یا قبضۂ قدرت سمجھیں، بہرحال اس کی آخری تاویل ولئ امر ہی کو پہنچنے کے بغیر چارہ نہیں، چنانچہ صاحبِ امر یعنی امامِ مبین علیہ السّلام کے نور میں ہر چیز کا ملکوت موجود ہے، اور ان کے نور سے کوئی چیز
۲۱۶
باہر نہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے خدا کی جانب سے اپنے وقت میں ولئ امر ہونے کے ساتھ ساتھ آسمانوں اور زمین کے ملکوت کا مشاہدہ کیا تھا، چونکہ آپ اپنے زمانے کے امام تھے، اور انہوں نے اپنے نور ہی میں دیدۂ باطن سے عالمِ ملکوت دیکھا تھا، اور آپ نے حکمت کی زبان میں فرمایا کہ جو شخص میری پیروی کرے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق ملکوت کا مشاہدہ کرسکتا ہے، یہ مطالب سورۂ انعام کے رکوع نہم اور سورۂ ابراہیم کے رکوع ششم میں ہیں۔ مگر ایمان و ایقان کی قوتوں کے بغیر ان حقیقتوں کے متعلق باور کرنا سخت مشکل ہے۔
قرآنِ حکیم کی کسی آیت کی حقیقتوں سے کوئی حقیقت اس وقت کماحقہٗ دلنشین ہوسکتی ہے، جبکہ اس حقیقت سے متعلق قرآنی موضوع کا بغور مطالعہ کیا جائے اور جبکہ امام کی نورانی تائید حاصل ہو۔
حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی پیروی اور مشاہداتِ ملکوتی کے بارے میں ایک اور ارشاد یہ ہے کہ: بلاشبہ سب آدمیوں میں زیادہ خصوصیت رکھنے والے ابراہیم کے ساتھ البتہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کا اتباع کیا تھا اور یہ نبی (صلعم) ہیں اور یہ ایمان والے اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا حامی ہے ۔ ۰۳: ۶۸۔ یعنی سب لوگوں میں حضرت ابراہیم کے
۲۱۷
ساتھ زیادہ خصوصیت، زیادہ دوستی اور روحانیت اور نورانیت کا قریبی رشتہ رکھنے والے لوگ وہ تھے جنہوں نے حضرت ابراہیمؑ کی حقیقی معنوں میں پیروی کی تھی، جیسے آلِ ابراہیم کے انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام اور ان کے حقیقی مومنین، نیز نبئ اکرمؐ اور امتِ محمدیہ کے اہلِ ایمان۔
حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے اتباع کی اس تعلیم سے چند حکمتیں ظاہر ہوتی ہیں، چنانچہ پہلی حکمت یہ ہے: جناب ابراہیم خلیل اللہ کی حقیقی پیروی یہ ہے، کہ آپ کے پیچھے پیچھے روحانیت و نورانیت کے اس رستے پر چلا جائے جس میں کہ انہوں نے آسمانوں اور زمین کے ملکوتی عجائبات کا مشاہدہ کیا تھا، جس کا زندہ ثبوت آلِ ابراہیم کے جملہ انبیاء وأئمّہ علیہم السّلام نیز نبئ محمد صلعم اور آپ کے خاندان کے تمام أئمّۂ اطہار علیہم السّلام ہیں۔
دوسری حکمت: حضرت ابراہیمؑ کی پیروی ہو یا کسی اور پیغمبر کی، بہرحال پیروی کی دو صورتیں ہوا کرتی ہیں، اور تیسری کوئی صورت نہیں، پہلی صورت بلا واسطہ پیروی کی ہے اور دوسری صورت بالواسطہ پیروی کی، پیغمبر کی زندگی ہی میں جو پیروی کی جاتی ہے وہ بلا واسطہ ہے اور جو پیروی پیغمبر کی وفات کے بعد اس کی کتاب اور حقیقی
۲۱۸
جانشین کے ذریعے سے کی جاتی ہے وہ بالواسطہ ہے۔
تیسری حکمت: حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی پیروی کے لئے آپ کے فرزندِ ارجمند حضرت اسماعیلؑ سے حضرت ابو طالبؑ تک سلسلۂ امامت جاری تھا، جس کے بغیر ابراہیمؑ کی حقیقی پیروی ناممکن تھی اور آپ کی آسمانی کتاب لوگوں کے سامنے موجود نہیں تھی۔
چوتھی حکمت: حضور اکرم صلعم اپنی بعثت سے قبل کے زمانے میں امامِ وقت کے توسط سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی پیروی کر لیا کرتے تھے۔
پانچویں حکمت: مذکورہ ارشادِ قرآنی میں ہے، کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کا ولی ہے، پس ولی کے معنی یہاں کارساز، دوست، حامی، مددگار، مختار، وارث وغیرہ جیسے بھی ہوں بہرحال اس کا مطلب یہی ہے، کہ خدا نے مومنوں کو کسی بھی زمانے میں امامِ مبین کے بغیر نہیں چھوڑا ہے، کیونکہ اس نے امامِ مبین کو ہر چیز پر حاوی اور محیط فرما دیا ہے، اس لئے ہر زمانے میں امام کی موجودگی لازم آتی ہے، جبکہ ظاہریت و جسمانیت میں ہر چیز زمان و مکان کے سوا نہیں ہو سکتی ہے۔
اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے، کہ جب امامِ مبین اپنے نورِ مقدّس سے ہر چیز پر محیط ہے، تو یہ حقیقت ہے، کہ ہر چیز کا ملکوت بھی آپ کے پاک نور میں ہے، جیسے حضرت ابراہیمؑ کی مثال سے ظاہر ہے، اور کوئی شک نہیں کہ آپ
۲۱۹
اپنے وقت میں امامِ مبین تھے، پس یہی سبب ہے، کہ قرآن کے جملہ موضوعات حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے موضوع سے وابستہ کئے ہوئے ہیں، اور آنجناب کا موضوع امامِ مبین کے عنوان کے تحت ہے۔
۲۲۰
کلید نمبر ۲۰
ہر چیز کے لئے گنجائش رحمت اور علم میں
سورۂ مومن کی ساتویں آیت میں قرآنِ مقدّس کا ارشاد ہے کہ: ربنا وسعت کل شیء رحمۃ و علما ۔ ۴۰: ۰۷۔ اے ہمارے پروردگار تو نے ہر چیز اپنی رحمت اور علم میں سمو رکھی ہے۔
اس آیۂ کریمہ کا اشارۂ حکمت اس حقیقت کی طرف ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی زندہ رحمت نفسِ کلّی کی روحانیت ہے اور اس کا ذی حیات علم عقلِ کلّی کی نورانیت، اور روحانیت و نورانیت کے دو سمندر میں کائنات و موجودات کی تمام چیزیں ڈوبی ہوئی ہیں، یہ امرِ واقعی اس طرح سے ہے ، کہ جسمِ کلّی، جو آسمانوں ، ستاروں، سیّاروں اور تمام مادّی چیزوں کا مجموعہ ہے، نفسِ کلّ کی روحانیت میں غرق ہے اور نفسِ کلّ بمع ان تمام چیزوں کے (یعنی جسمِ کلّ کے ساتھ) عقلِ کلّ کی نورانیت میں مستغرق ہے، پس یہ ہوا ہر چیز کا رحمت اور علم میں سمو جانا۔
نیز اشیائے کائنات و موجودات کے رحمت وعلم میں سمو جانے کی ایک خاص صورت بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ
۲۲۱
تمام چیزیں اپنی ظاہری اور مادّی ہستی کے علاوہ رحمت میں روحانی طریق پر اور علم میں عقلی طور پر زندہ اور موجود ہیں، بالفاظِ دیگر ہر چیز بیک وقت تین صورتوں میں یا کہ تین مقامات پر موجود ہے، وہ جسمِ کلّ میں جسمانی طور، نفسِ کلّ میں روحانی حیثیت سے اور عقلِ کلّ میں عقلی صورت میں موجود ہے۔
اس حقیقت کی ایک روشن دلیل (کہ جس طرح ہر چیز عالمِ جسمانی میں مادّی صورت میں موجود ہے، اسی طرح وہ عالمِ ارواح میں روحانی صورت میں اور عالمِ عقول میں عقلی صورت میں موجود ہے) یہ ہے کہ ازل میں عقلِ کلّ کے قلم نے بامرِ الٰہی اپنے وجود کے عالم کی جملہ اشیاء کی روحانی یعنی زندہ تصویریں نفسِ کلّ کی لوحِ محفوظ پر اتار دی تھیں، مگر عقلِ کلّ کے عالم کی چیزیں ویسی کی ویسی اپنی اپنی جگہ پر موجود تھیں، اسی طرح نفسِ کلّ یا کہ لوحِ محفوظ کے روحانی نقوش کے مطابق اس دنیا کی جسمانی چیزیں پیدا کی گئیں، بغیر اس کے کہ لوحِ محفوظ کی چیزوں میں کوئی کمی واقع ہو۔
بیانِ مذکورۂ بالا سے نہ صرف یہ ثبوت ملا، کہ ہر چیز رحمت اور علم میں سموئی ہوئی ہے، بلکہ اس سے یہ بھی معلوم ہوا، کہ رحمت نفسِ کلّ کی صفت ہے اور علم عقلِ کلّ کی صفت، نیز اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہوا، کہ ہر چیز بیک وقت عقل، روح اور جسم میں موجود ہے، گویا عقل کا
۲۲۲
سایہ روح ہے اور روح کا سایہ جسم۔
امامِ عالی مقام علیہ السّلام کے مبارک فرمان میں ہے، کہ مومنین اپنی روحوں میں فرشتے ہیں اور جسموں میں انسان، پس یہ بات قابلِ یقین ہے کہ مومنوں کی روحوں کے فرشتوں کے بھی عقلی فرشتے ہیں، جس کا ثبوت انسان کا ظاہری وجود ہے، کہ اس میں تین چیزیں ہیں، یعنی جسم، روح اور عقل۔
جب یہ مانا گیا، کہ ہر وہ چیز جو جسمانی عالم میں ہے، وہ روحانی عالم میں بھی ہے اور عقلی عالم میں بھی، اور یہ بھی تسلیم کیا گیا، کہ روحانی عالم نفسِ کلّ ہے اور عقلی عالم عقلِ کلّ، پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عالمِ انسانیت کے سردار یعنی امامِ مبین کی روح وہ روحانی فرشتہ ہے، جو نفسِ کلّ کے اسم سے موسوم ہے، اور ان کی عقل وہ عقلی فرشتہ ہے، جس کو عقلِ کلّ کہا جاتا ہے، پس اس مضمون کا لبِ لباب یہ ہے کہ امامِ مبین کی روحِ اعظم کائنات کی رحمت کا سرچشمہ ہے اور آپ کی عقلِ کامل سارے جہانوں کے علم کا منبع ہے۔
۲۲۳
کلید نمبر ۲۱
ہر چیز کا بولنا
قرآنِ مجید کی ۴۱: ۲۱ میں فرمایا گیا ہے کہ: قالوا انطقنا اللّٰہ الذی انطق کل شیء ۔ ۴۱: ۲۱۔ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی۔
اس کلیۂ مبارکہ کی وضاحت کرنے سے قبل ہمیں نطق یعنی قوتِ گویائی کی حقیقت کے متعلق کچھ کہنا چاہئے، چنانچہ یہ جاننا ضروری ہے کہ اگرچہ بعض حکماء کے نزدیک قوتِ ناطقہ انسانی روح کا خاصہ ہے، لیکن حقیقتاً اس میں سبقت عقل ہی کو حاصل ہے، اور عقل ہی کے ذریعے سے بولنے کی طاقت روحِ انسانی کو حاصل ہوتی رہتی ہے۔
اس حقیقت کی پہلی دلیل، کہ انسانی روح کی یہ قوتِ ناطقہ عقل کے توسط سے حاصل ہوتی رہتی ہے، یہ ہے کہ عالمِ دین کی ترتیب میں سب سے پہلے اور سب سے اوپر کلمۂ باری کا مقام ہے، جس کو کلمۂ “کُنۡ” اور امرِ کل بھی کہا جاتا ہے، یہ فی المثل عالمِ دین کی قوتِ گویائی ہے، کُن کے امر سے عقلِ کلُ کا فرشتہ وجود میں آیا، جو عالمِ دین کی عقل
۲۲۴
کی حیثیت سے ہے، عقلِ کلّ سے نفسِ کلّ کا فرشتہ پیدا کیا گیا، جو عالمِ دین کی جان یعنی روح کا درجہ رکھتا ہے، اس مثال سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ روحِ ناطقہ کی تعمیر عقل سے ہوتی ہے اور عقل کی تکمیل نطق سے۔
دوسری دلیل یہ ہے، کہ انسان کے جسم کا قیام روح پر ہے، روح کی محافظ عقل ہے اور عقل کا مربی نطق۔
تیسری دلیل: عقل نطق کے بغیر نہیں ہو سکتی، جس کا ثبوت فرشتہ ہے، مگر روح نطق کے بغیر ہو سکتی ہے، جس کی مثال حیوان ہے۔
چوتھی دلیل: علم خواہ لدنی مرتبت کا ہو یا اکتسابی قسم کا بہرحال نطق کی صورت میں آسکتا ہے اور جو وحی کا اشارہ ہوتا ہے وہ بھی ایک طرح کا نطق ہے، جس کو سب سے پہلے عقل و شعور قبول کرتا ہے پھر یہ روح تک پہنچتا ہے۔
پانچویں دلیل: اگر کسی بچے کے کان شروع ہی سے سن نہیں سکتے، تو وہ بہرا کہلاتا ہے، جب وہ بہرا ہو گیا، تو اس سے گونگا بھی ہوجاتا ہے، پھر وہ اس کے نتیجے میں عقل کی دولت سے بے نصیب رہ جاتا ہے، اس کا سبب کیا ہے؟ بس یہی کہ جب وہ قوتِ سامعہ سے محروم ہوگیا، تو قوتِ ناطقہ اور عقل ودانش سے بھی محروم رہتا ہے، اس سے معلوم ہوا، کہ عقل کی تکمیل کا ذریعہ ناطقہ ہے۔
مذکورۂ بالا دلائل سے اس حقیقت کا بین ثبوت ملتا
۲۲۵
ہے، کہ جس طرح عالمِ دین میں کلمۂ باری یعنی “کُنۡ” کے امر سے عقلِ کل وجود میں آیا اور جیسے عقلِ کلّ سے نفسِ کلّ پیدا ہوا، اسی طرح مومن کے شخصی عالم میں امامِ زمانؑ کے پرحکمت فرمان سے، جو کلمۂ باری کی مثال ہے، عقلِ جزوی کو کمال حاصل ہوتا ہے، پھر ایسی عقل سے روح الایمان پیدا ہوتی ہے۔
پھر اس کے نتیجے میں مومن کے حواسِ باطن زندہ ہو جاتے ہیں، تب وہ حقائقِ اشیاء کا مشاہدہ کر سکتا ہے، کہ تمام چیزوں کی جسمانی، روحانی اور عقلی تین تین ہستیاں ہیں، ہر چیز اپنے عقلی وجود اور روحانی وجود میں بولتی رہتی ہے، اس کے علاوہ اشیاء کا ظاہری وجود بھی معجزانہ نطق سے خالی نہیں۔
چنانچہ ظاہری اور جسمانی چیزیں دو طرح سے بولتی ہیں، یعنی زبانِ حال سے اور زبانِ قال سے، مگر یہاں زبانِ حال کی کیفیت بیان کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے، ہم صرف زبانِ قال کی بات کریں گے، کہ اس کی بھی دو صورتیں ہیں، اوّل یہ کہ چیزوں کی آواز اور صوت و صدا روح القدس کے تصرف سے معجزانہ گفتگو اور ذکر وتسبیح میں تبدیل ہوجاتی ہے، دوم یہ کہ جن چیزوں کی کوئی آواز نہ ہو، ان سے ایسی معجزاتی آواز پیدا ہوتی ہے کہ اس کی کماحقہٗ توجیہہ نہیں ہو سکتی۔
جب آواز والی اور بے آواز والی جملہ چیزیں زبانِ نطق سے خدا کے ذکر و تسبیح کرنے لگتی ہیں، تو اس میں ہم
۲۲۶
ایک اعتبار سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ان چیزوں کو نطق دیا، دوسرے اعتبار سے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ مومن کی اپنی روحِ ایمانی کا کرشمہ ہے، تیسرے اعتبار سے یہ بھی مان سکتے ہیں، کہ یہ روح القدس کا معجزہ ہے اور چوتھے اعتبار سے یہ کہنا بھی حقیقت ہے ،کہ یہ سب کچھ امامِ مبین کے نور کی روشنی میں کشفِ روحانیت کا عالم ہے، پس یہ تمام باتیں اپنی اپنی جگہ پر حق اور صحیح ہیں اور ان میں سے کوئی بھی غلط نہیں، کیونکہ جہاں تمام حقیقتوں کی وحدت و یگانگت کا مقام ہے وہاں کی حالت و کیفیت کے مختلف اعتبارات ہوتے ہیں۔
۲۲۷
کلید نمبر ۲۲
تمام چیزوں کے جوڑے
قرآنِ عظیم کی ۵۱: ۴۹ میں حضرت تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: و من کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون ۔ ۵۱: ۴۹۔ اور ہر چیز کو ہم ہی نے جوڑا جوڑا بنایا تا کہ تم یاد رکھو۔
جیسا کہ کلید ۹ میں بطریقِ اختصار یہ ذکر ہوا تھا، کہ تمام چیزیں جوڑی جوڑی پیدا کی گئی ہیں، چنانچہ اسی مطلب کو یہاں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، کہ ہر چیز کی ایک ضد یا ایک مقابل ہے، جیسے مرد عورت، دن رات، روشنی تاریکی، خشکی تری، آسمان و زمین ، روحانی و جسمانی، خوشی و غم، امیری و غربت، دنیا و آخرت، وجود و عدم یا کہ ہستی و نیستی ، خلق و امر وغیرہ۔
یہاں یہ جاننا از بس ضروری ہے کہ چیزوں کے جوڑے دو قسم کے ہوا کرتے ہیں، ایک قسم وہ ہے جس کے ہر جوڑے کی دونوں چیزیں ایک ساتھ رہ سکتی ہیں، جیسے مرد عورت، دوسری قسم وہ ہے جس کے ہر جوڑے کی دونوں چیزیں یکجا نہیں ٹھہر سکتیں، جیسے دن رات۔
۲۲۸
چنانچہ اگر ہم اس کائنات کی بقا کو دن اور اس کی فنا کو رات قرار دیں، تو یہ بھی مذکورہ چیزوں کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا ہوگا، لیکن لازمی ہے کہ کائنات کی ہستی اور نیستی کے یہ دن رات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جاری ہوں، اور یہ حقیقت ہے کیونکہ دن رات تو ایک لا انتہا سلسلہ ہے۔
مذکورۂ بالا کلیّہ کی روشنی میں چشمِ بصیرت سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات و موجودات کے وجود و عدم کے سلسلے کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ کوئی انتہا، بلکہ اس سے دائمیّت کا ایک نہایت ہی وسیع دائرہ بنا ہوا ہے، جیسے دن رات کی مثال میں کائنات کی بقا و فنا کی لاانتہا گردش کی حقیقت ثابت کی گئی، اس کے برعکس اگر ہم صرف اسی بات کو مانیں کہ پہلے خدا کے سوا کچھ بھی نہیں تھا، پھر اللہ پاک کے امر سے یہ جہان پیدا ہوا، پھر ایک دن یہ جہان فنا ہوجائے گا، تو اس عقیدہ میں تین چیزیں ہو گئیں، یعنی پہلے نیستی، اس کے بعد ہستی ، پھر نیستی، اور یہ بغیر جوڑے کی بات ہوئی، حالانکہ مذکورۂ بالا کلیے کے مطابق ایسا ہونا چاہئے، کہ ہر نیستی کے بعد ایک ہستی ہو اور ہر ہستی کے بعد ایک نیستی، کیونکہ ذاتِ سبحان کے سوا کوئی چیز بغیر جوڑے کے نہیں ہو سکتی۔
علاوہ برآن اگر ہم ہستی کو چھوڑ کر صرف نیستی کی کیفیت کے بارے میں غوروفکر کریں، تو پھر وہی حقیقت نکھر کر
۲۲۹
سامنے آتی ہے، کہ قانونِ قدرت کے تصرف سے کوئی چیز مستثنا نہیں ہو سکتی، یعنی خلقنا زوجین کے حکم کا اطلاق ہر جوڑے کی دونوں چیزوں پر برابر ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہستی خدا کی بنائی ہوئی (مخلوق) ہے اسی طرح نیستی بھی اسی کی بنائی ہوئی (مخلوق) ہے، پھر جب ہم نے بحقیقت یہ تسلیم کر لیا کہ نیستی کوئی ایسی چیز یا کوئی ایسی کیفیت ہے نہیں، جو فعلِ قدرت کے تصرف کے بغیر خود بخود پائی جائے، بلکہ وہ جس حالت و کیفیت میں بھی ہو خدا ہی کی بنائی ہوئی ہے، تو اب ہمیں لازمی طور پر یہ بھی ماننا پڑے گا، کہ نیستی دراصل ہستی کی بدلی ہوئی ایک صورت ہے، جس طرح رات ایک بدلی ہوئی شکل ہے دن کی، پس اس کا نتیجہ یہ ہوا، کہ ایسی کوئی نیستی نہیں جس سے پہلے ایک ہستی نہ ہو اور نہ ایسی کوئی ہستی ہے جس سے قبل نیستی نہ ہو، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ یہ ارشاد ہے کہ خدا کے امر سے جس طرح رات کے اندر دن پوشیدہ ہے اور دن کے باطن میں رات پنہان ہے، بالکل اسی طرح نیستی میں ہستی چھپی ہوئی ہے اور ہستی میں نیستی مخفی ہے۔
بعض لوگوں کے عقیدے کے مطابق عدم اور نیستی ایک لاشیٔ اور بے مسمّا اسم ہے، مگر حقیقتِ حال اس کے برعکس ہے، جیسے قرآنِ پاک کا ارشاد ہے کہ: الذی خلق الموت والحیٰوۃ لیبلوکم
۲۳۰
ایکم احسن عملا ۔ ۶۷: ۰۲۔ یعنی خدا وہ ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا (یعنی مخلوق) کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے کام کرتا ہے۔ اس فرمانِ الٰہی سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے، کہ نیستی اور ہستی دونوں خدا کی مخلوقات میں سے ہیں، پس معلوم ہوا کہ نیستی ایک قسم کی مخلوق ہے جس کو خدا نے ہستی سے پیدا کیا ہے۔
ہم نفی اور اثبات کی دونوں حقیقتوں کو تسلیم کر لیتے ہیں، وہ یہ کہ بلا شک وشبہ ہر چیز فنا تو ہوہی جاتی ہے، مگر فنا ہی سے پھر وہی چیز پیدا کی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا پاک فرمان ہے کہ: کیف تکفرون باللّٰہ و کنتم امواتا فاحیا کم ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیہ ترجعون ۔ ۰۲: ۲۸۔ کیونکر تم خدا کا انکار کرسکتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے تم کو زندہ کیا پھر تم کو موت دے گا اور پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔
اس آیۂ کریمہ کی حکمت میں آپ ذرا ذہنی اور فکری صفائی کے ساتھ سوچئے، تو معلوم ہو گا، کہ انسان کی روح قدیم ہے، اس کی روحانی اور جسمانی زندگی بے پایان ہے، چنانچہ مذکورۂ بالا ارشاد میں فرمایا گیا ہے، کہ انسان بارہا بقا و فنا کے تجربات سے گذرتا رہا ہے، وہ ایک
۲۳۱
زمانے میں خدا کے حضور میں تھا، جہاں اس کے لئے حقیقی بہشت تھی، مگر وہ وہاں سے حضرت آدمؑ کی طرح کسی بہانے سے نکل کر دنیا میں آیا، اور پھر آخر کار وہ لوٹ کر وہاں جانے والا ہے، خدا کے حضور جانا بہشت کے بغیر نہیں، اور نہ بہشت خدا کے حضور کے بغیر ہے۔
اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام چیزوں کے جوڑے ہیں اور ہر جوڑے سے ایک دائرہ بنتا ہے، جیسے دن رات کا ایک دائرہ ہے اسی طرح کائنات کی ہستی و نیستی کا بھی ایک دائرہ ہے جو سب سے بڑا دائرہ ہے، اور موجودات و مخلوقات اسی دائرے پر بقا و فنا سے گذرتی ہوئی گردش کرتی رہتی ہیں۔
الحمد للہ علیٰ احسانہ، کہ یہ تمام حکمت کی باتیں امامِ مبین کی معرفت کے خزانے میں موجود ہیں، اور اس معرفت سے کوئی چیز باہر نہیں، پس مومن کو چاہئے کہ وہ امام شناسی میں کامل ہو جائے، اور امام شناسی کی کتابوں کو اصول کے مطابق پڑھتا رہا کرے، تاکہ اس کے دل میں اسرارِ امامت کی روشنی پیدا ہو جائے۔
و السلام
۲۳۲
ایثار نامہ
انتسابِ جدیدی
خانۂ حکمت کی یہ روز افزون ترقی علی اللہ، خداوندِ قیامت کے بے پایان احسانات و نوازشات اور اسی کی توفیقات سے ہمارے تمام عزیزان کی درویشانہ دعاؤں کی وجہ سے ہے، ہمارے ادارے کی بے مثال ترقی اور لا زوال نیکنامی ہوئی ہے، اگرچہ ہمارے پاس شائع شدہ کتابوں کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ تو نہیں ہے، لیکن اندازہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں کتابیں پھیلائی گئی ہیں، ہماری علمی بیٹی کریمہ ناتھانی بھی اسی سردار خدمت میں، یعنی علمی خدمات میں شامل ہیں، یا علی اللہ! تمام قائم شناس علمی خدمت والوں کو بہشت میں حدودِ دین اور سلاطین بنانا! ان کو فنا فی القائم کر کے بہشت کے عظیم خلفا اور فرشتے بنانا! آمین!
نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
کراچی
بدھ ۲۹ ستمبر ۲۰۰۴ء
۱
انتسابِ کتابِ ہٰذا
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سورۃ الملک (۶۷) کے آغاز میں ارشاد ہے: تبرک الذی بیدہ الملک و ھو علی کل شی قدیر الذی خلق الموت و الحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔
تاویلی مفہوم: حظیرۂ قدس کے معجزات کے دوران حضرتِ قائم کے دستِ مبارک میں گوہرِ عقل ہوتا ہے، یہ بہشت میں سلطنت عطا کرنے کا اشارہ ہے، وہ بے پایان برکات کا مالک ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا اور موت کی تمام قسموں میں ایک سردار موت ہے، وہ موتوا قبل ان تموتوا ہے تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے علم و عمل میں سب سے اچھا کون ہے؟ یہ ساری تعریف حضرتِ قائم (علی اللہ) کی ہے۔
میرے بہت ہی عزیز پسرزادے امین الدین ابنِ ایثار علی نے یہ مشورہ دیا کہ کتابِ ہٰذا کے ایڈیشن میں عائشہ بیگم (مرحومہ) کے حق میں دعاؤں کے ساتھ انتساب ہونا چاہئے، پس تمام اولین و آخرین کی دعاؤں کی سردار اور پادشاہ حاضر امام (روحی فداہ) کی دعا ہے، ملاحظہ ہو، کتابِ علمی بہار، ص ۴۔ محترمہ عائشہ بیگم (مرحومہ) کا آبائی نسب اس طرح ہے: عائشہ بیگم بنتِ اسد اللہ بیگ (عرف بلبل) ابنِ محمد رضا بیگ (فراج) ابنِ وزیر اسد اللہ بیگ ، ابنِ وزیر پونو۔ اور مادری شجرہ یہ ہے: عائشہ بیگم بنتِ تائفہ بانو، بنتِ ترنگفہ سلطان محمود، ابنِ غلامو، ابنِ سلطان بیگ، ابنِ خوش بیگ، ابن
۲
جٹوری۔
عائشہ بیگم کا آبائی شجرۂ نسب ص ۶۶ پر ہے، از کتابِ تاریخِ عہدِ عتیقِ ریاستِ ہونزا از حاجی قدرت اللہ بیگ۔
نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
کراچی
جمعہ ۲۸ مئی ۲۰۰۴ء
۳
حقوق کیا کیا ہیں
حقوق دو قسم کے ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد، جو حقوق بندوں کے ہیں ان میں ایک حق یہ بھی ہے کہ ہم اپنے آباؤاجداد کے لئے دعا کریں، کیونکہ اگر ہم ان کی ذریت ہیں تو وہ ہماری روح کے ذرات تھے۔ (۳۶:۴۱)
پس میں اپنے تمام آباؤاجداد، امہات اور حجای غریب کے لئے انتہائی عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ پروردگار ان سب کو غریقِ رحمت کر دے! حجای غریب کو خاص طور سے اس لئے یاد کیا گیا کہ اس نے اپنے خاندان کا نام روشن کر دیا ہے۔
الحمد للہ علیٰ احسانہ
۴
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دیباچہ
زیرِ نظر کتاب حضرتِ علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی صاحب کے ان پرحکمت خطوط کا مجموعہ ہے، جو ان کے فرزندِ دلبند جناب ایثار علی مرحوم کے سانحۂ ارتحال کے موقع پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات کی جانب سے بھیجے ہوئے تعزیت ناموں کے جواب میں لکھے گئے تھے، مرحوم کے نام کی نسبت سے اس کا عنوان ’’ایثار نامہ‘‘ رکھا گیا ہے، یہ عنوان اسم با مسمیٰ اور صوری و معنوی خوبیوں کا ایک بہترین مرقع اور آئینہ ہے۔ صوری لحاظ سے اس لئے کہ اس عنوان کے ذریعے مرحوم کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا، اور معنوی لحاظ سے اس لئے کہ اس کتاب میں دنیا کی ناپائیداری، رنج و مصیبت کے روحانی پہلو، موت کی حقیقت، روحانی عالم کی عظمت، جزع و فزع کی مذمت، صبر و شکر کی فضیلت، اور سب سے بڑھ کر فلسفۂ ایثار و قربانی کو، جو قربِ خداوندی کا نزدیک ترین باعث ہے، جوابی خطوط کی صورت میں مختصر مگر جامع انداز میں پیش کیا گیاہے۔ ناچیز کی نظر میں کتابِ مذکور شدائد و مصائب میں مومنوں کے لئے ایک ایسی مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی روشنی میں بندۂ مومن بے صبری و ناشکری کے دردناک ذہنی اور روحانی عذاب سے نکل کر صبر و شکر کی ابدی رحمتوں اور نعمتوں سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ایک عام انسان کے لئے ایک وجیہہ و شکیل، نڈر، بے باک پچیس سالہ نوجوان بیٹے کی یکایک موت قیامتِ کبریٰ نہ سہی تو قیامتِ صغریٰ سے کم
۵
نہیں، لیکن جہاں تک علامہ صاحب کا تعلق ہے، آپ کی روحانی مجالس میں شریک ہونے والوں، آپ کی وعظ و نصیحت کو گوشِ جان سے سننے والوں اور آپ کے دسترخوانِ علم و معرفت کی ریزہ چینی کرنے والوں کو یقینِ کامل تھا اور ہے، کہ آپ ایک فرزند کی جسمانی مفارقت کو کوئی ہنگامہ نہیں سمجھیں گے۔ اس لئے کہ آپ خاصانِ خداوند میں سے ہیں، اور علم و معرفت کے ایک ناقابلِ تسخیر پہاڑ کی حیثیت رکھنے کے باوجود جس منکسر المزاجی کے ساتھ جماعت کی روحانی اور علمی خدمت کرتے آئے ہیں، وہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں، حقیقت یہ کہ آپ ان مردانِ حق اور خاصانِ خدا میں سے ہیں، جن کی زندگی کا شعار یہ ہوتا ہے کہ:
درینجا مردانی کہ ایشان در رہِ فرمان
بکارِ دین، نیندیشند، ہیچ از جان و از کالا
نہ از جستن نہ از بستن نہ از کشتن نہ از مردن
نہ از خنجر نہ از زوبین نہ از سلطان نہ از غوغا
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک اضطراری قربانی اور وہ بھی ایک جوان سال بیٹے کی قربانی پر راضی برضائے الٰہی رہ کر صبر و شکر کرنا پہلے سے ارادی طور پر تیار ہو کر خداوندی حضور میں قربانی پیش کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ اس لئے کہ پہلی صورت میں عالمِ روحانی کے اجرِ عظیم کو خوش کن تصویر سامنے رہتی ہے اور اس روحانی کیفیت میں دنیوی مال و متاع اور زن و فرزند کی چمک دمک کوئی اثر نہیں رکھتی، اس کے برعکس دوسری صورت میں یہ کیفیت نہیں ہوتی، لہٰذا دفعۃً اس پر قابو پانا زیادہ دشوار کام ہے، لیکن یہ بات بھی عام انسانوں کے لحاظ سے ہے، خاصانِ خدا اور عاشقانِ مولا ہمیشہ اپنے ارادے سے فانی اور ارادۂ حق میں باقی ہوتے ہیں، اس لئے ان کی باطنی اور روحانی
۶
کیفیت باوجود بشری تقاضوں اور انسانی حالات کے لا خوف علیہم و لا ہم یحزنون کی رہتی ہے۔
علامۂ موصوف کی ذاتِ گرامی میں خاکسار کو ان معیاری صفات کا مشاہدہ رہا ہے، اور مجھے یقینِ کامل ہے کہ وہ تمام مومنین، جنہوں نے علامۂ موصوف کو دنیوی جاہ و حشمت، مال و متاع اور سیاسی و خاندانی تعلقات سے بالاتر ہو کر، محض دینی، علمی اور روحانی لحاظ سے پہچاننے کی کوشش کی ہے اور جو کریں گے ان کو یہ صفات اور یہ روحانی مرتبہ مشاہدہ کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں ہو گی اور نہ ہی آئے گی۔
موصوف کی زندگی ایک مردِ کامل کی حیثیت سے بڑی ہمہ گیر رہی ہے، آپ شبانی اور سپہ گری کی زندگی سے لے کر عالم، عاشقِ صادق اور عارف کی حیثیت تک گوناگون تجربات و معلومات کی زندگی گزارتے ہوئے آئے ہیں اور ان مختلف ادوار میں عشقِ حقیقی کا عنصر سب سے زیادہ کار فرما رہا ہے، اور چونکہ عشق نام ہی امتحانات کا ہے اور امتحان کا دوسرا نام قیامت ہے، لہٰذا آپ کی زندگی بھی بڑے بڑے امتحانات اور بار بار کی قیامات سے گزری ہے، جیسے خود فرماتے ہیں:
عشق دیدہ صد قیامت از قیامت پیشتر
از تو ہر دم صد قیامت نور مولانا کریم
لیکن عشقِ حقیقی میں ثابت قدمی کا اجرِ عظیم یہ ہے، کہ معشوقِ حقیقی کبھی اپنے عاشق کو بے نیل و مرام نہیں چھوڑتا، بلکہ زندگی کے ہرقدم میں اس کی رہنمائی کرتا ہے، اور اسی طرح عاشق عظیم سے عظیم امتحان میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے جیسا کہ خود علامہ صاحب فرماتے ہیں:
۷
عشقہ کاٹ لو منانکہ بیسنہ مہ کم
ای عقل میئمی مار امامِ زمان
یعنی اگر تم عشق کے عہد و پیمان پر ثابت قدم رہو گے تو تمہیں کسی چیز کی کمی نہ ہو گی، (اور اس حال میں) امامِ زمان خود تمہاری عقل کے استاد اور رہنما ہونگے۔
اکثر یوں ہوتا ہے کہ بزرگانِ دین کی اپنی زندگی کے دوران قدر شناسی کم ہوا کرتی ہے، لیکن اس لحاظ سے بھی علامہ صاحب نہایت سعادتمند ہیں، کہ آپ کی نہ صرف اسماعیلی جماعت میں قدر و منزلت ہے، بلکہ پوری مسلم برادری اور بالخصوص اہلِ علم حضرات آپ کو نہایت قدر و وقعت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور اسماعیلی جماعت میں خاص و عام کو آپ کے ساتھ جو والہانہ عقیدت و محبت ہے، اس کی مثال آپ خود ہیں۔ ذیل میں علامہ صاحب کی ہمہ گیر زندگی کے بارے میں چند اقتباسات خود آپ کے اپنے نوشتہ جات سے پیش کئے جاتے ہیں، جو سبق آموز بھی ہیں اور بصیرت افروز بھی۔
چنانچہ لکھتے ہیں ’’کہ میری زندگی کی کہانی انتہائی عجیب و غریب ہے جسمانی اور روحانی قسم کی آزمائشوں کا نتیجہ ! مسافرت و غربت کا قصہ! درویشی و فقیری کا خلاصہ! محنت و مشقت کا مجموعہ! گریہ و زاری کا سرچشمہ! اور صبر و شکر کا ایک ادنیٰ نمونہ!‘‘ ان گوناگون آزمائشوں کے دوران ان کے احساسات کیسے تھے؟ ان کی روحانی کیفیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ایک قسم کے احساسات وہ ہیں، جن کی اساس و بنیاد خدا و رسول اور ائمۂ برحق علیہم السلام کے مبارک و مقدس ارشادات پر ہے، دوسری قسم کے احساسات وہ ہیں، جن کا تعلق طبعی میلان، دنیاوی رسم و رواج اور ظاہری ماحول پر ہے، لیکن الحمد للہ ہمارے دینی احساسات ہر وقت دنیاوی احساسات پر غالب و
۸
فاتح رہتے ہیں، یہ سعادت اس ذاتِ بابرکات کی تائید و نصرت کے بغیر ممکن نہیں جس کے قبضۂ قدرت میں سب کچھ ہے‘‘۔
سطورِ بالا یہ اندازہ لگانے کے لئے کافی ہیں، کہ امامِ زمانؑ اپنے خاص بندوں اور عاشقانِ صادق کے لئے بڑے بڑے امتحانوں اور ابتلاؤں میں کس طرح خود عقل بنتے ہیں، اور کس طرح ان کو ادنیٰ اور طبعی خواہشات و احساسات سے نکال کر اعلیٰ اور روحانی خواہشات کی طرف ہدایت فرماتے ہیں، اور بزرگانِ دین اور عاشقانِ مولا اس باطنی ہدایت و تائید کی بدولت مصائب و شدائد میں بھی مومنوں کے لئے صبر و شکر اور ہمت و استقامت کا مثالی نمونہ بن کر دینی امور کی انجام دہی میں کس طرح سینہ سپر ہو جاتے ہیں، چنانچہ علامہ صاحب کی ایسی ایسی مثال ملاحظہ ہو کہ موصوف ۱۳ دسمبر ۱۹۷۲ء کو سرکار مولانا حاضر امام کے مبارک یومِ ولادت کے موقع پر دوسرے لوگوں کی طرح اپنے عزیز فرزند کی رحلت کے غم میں خانہ نشین نہیں ہوئے بلکہ امامِ زمان کے مقدس فرمان یعنی کہ: ’’اگر کسی کا جوان بیٹا بھی فوت ہو جائے تو غم نہ کرے‘‘ کے مطابق جوانمردانِ دین کے ایک قائد کی حیثیت سے میدان میں نکل کر جماعت کی قیادت فرمائی اور یہ معلوم ہونے بھی نہیں دیا کہ جسمانی لحاظ سے ان کی زندگی کی عزیز ترین شے یعنی لختِ جگر ان سے جدا ہو گیا ہے، بے شک مردانِ حق اور بزرگانِ دین کا یہی شیوہ و شعار ہوتا ہے جو نہ صرف وعظ و نصیحت کرتے ہیں بلکہ عین موقع پر عملاً جماعت کو دکھاتے ہیں اور یہی فلسفۂ ایثار و قربانی ہے۔
جیسا کہ شروع میں کہا گیا ہے کہ یہ کتاب فلسفۂ ایثار و قربانی کا ایک آئینہ ہے، چنانچہ علامۂ موصوف اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’قربانی کا لفظ قرب سے نکلا ہے اور خدائے تعالیٰ کی قربت کے لئے قربانی کی ضرورت پڑتی ہے، اس
۹
معنی میں قربانی ایک ایسی قیمتی چیز کو کہتے ہیں جو خدا کی راہ میں اس کی قربت و نزدیکی کی غرض سے نکالی گئی ہو‘‘۔ نیز قربانی کی قسموں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ مومنین سے دو قسم کی قربانی لیا کرتا ہے، ایک قربانی وہ ہے جو مومن سوچے سمجھے حال میں خدا کے حضور پیش کرتا ہے، دوسری قربانی وہ ہے جو خدا تعالیٰ اپنی مرضی سے مومن سے لیا کرتا ہے، اگر اس دوسری قربانی کے لئے مومن صابر و شاکر رہے تو یہ قربانی خدا کے نزدیک سب سے عظیم ہے‘‘۔
مجھے امید ہے کہ اس کتاب کو برابر پڑھنے اور سمجھنے کے بعد کوئی بھی حقیقی مومن مصیبت کو مصیبت نہیں بلکہ رحمتِ ایزدی ہی سمجھے گا، اس لئے کہ خدائے رحمان و رحیم ہماری اپنی جانوں سے زیادہ مہربان ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے جو کچھ کرتا ہے وہ یا تو سرزدہ گناہوں کے روحانی نقصان کی تلافی کے لئے کرتا ہے یا مزید روحانی ترقی کے لئے، اور ہر دو صورتوں میں رحمت ہی رحمت مقصود ہے، چنانچہ قرآنِ کریم میں آیا ہے: ۔۔۔ اولٰئک علیہم صلوٰت من ربھم و رحمۃ و اولٰئک ہم المھتدون (۲:۱۵۷)۔
فلسفۂ ایثار کی مزید وضاحت علامہ موصوف نے اس کتاب میں بار بار فرمائی ہے امید ہے کہ قاری جتنا زیادہ دقت کے ساتھ اس کو پڑھے گا اتنی زیادہ اس کی حقیقت کو پہنچے گا۔
اس کے علاوہ علامہ صاحب نے ’’سخنہائے گفتنی‘‘ میں بعض ناپسندیدہ اور مکروہ رسومات یعنی موت کے موقع پر زار و قطار رونا، مردے کی تعریف کرنا، خورد و نوش کی چیزیں لانے میں اسراف کرنا، ہفتوں مہینوں تعزیت کے لئے آنے وغیرہ سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے، امید ہے کہ اسماعیلی جماعت بالخصوص ان پر عقل و علم کی روشنی میں
۱۰
عمل کرنے کی کوشش کرے گی، اس لئے کہ یہ رسومات اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں اور اندازہ ہوتا ہے، کہ ایسی رسوم اشاعتِ اسلام سے پہلے کے اثرات ہیں، اب جبکہ دن بدن امامِ زمان کے مبارک فرامین کے ذریعے دین کی حقیقت روشن سے روشن تر ہوتی جا رہی ہے تو جماعت کا فرض ہے کہ بیہودہ رسومات کو ترک کرے اور امامِ زمانؑ کے مقدس فرامین پر عمل کرے، امید ہے کہ ان حقائق کو علامہ صاحب نے جس حکیمانہ انداز میں سمجھایا ہے، جماعت کماحقہ ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے گی۔
آخر میں دعا ہے کہ خداوندِ کریم و رحیم مرحوم کو اپنے جوارِ مغفرت و رحمت میں ابدی سکون و سعادت اور سرمدی مسرت و راحت نصیب کرے! مصنف کو صبر و شکر کا اجرِ غیر ممنون عنایت کرے اور جماعت کو ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تکالیف و شدائد میں صبر و شکر اور امامِ زمانؑ کی اطاعت و فرمان برداری میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا کرے!
فقیر محمد
معہد الدراساتِ الاسلامیہ
جامعۂ میکگل، مونتریال کنادا
۱۵ نومبر ۱۹۷۳ء
۱۱
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
محترم و مکرم قبلہ و کعبہ ہمارے بہت ہی شفیق بزرگوار دادا جان علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی (ایس۔ آئی) کے منشا پر عمل کرتے ہوئے ہم نے چند الفاظ قلم بند کرنے کی جسارت کی ہے۔ علامہ بزرگوار نے کتاب ’’ایثار نامہ‘‘ میں اپنے فرزندِ جگر بند ایثار علی (مرحوم) سے جو محبت کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے وہ کئی اعتبار سے مثالی اور دعائے جاریہ ہے۔ یہ ایک مردِ مومن کی آپ بیتی کا حصہ بھی ہے جس نے اس مشکل امتحان میں مذہبی تقاضوں کو نبھاتے ہوئے صبر و تحمل کی ایک نئی روایت رقم کی ہے تا کہ اس مثال کو اپناتے ہوئے ہر ذی شعور اور ایماندار انسان حکمِ خداوندی پر کما کان حقہ سرِ تسلیم خم کرے۔
دل بدست آور کہ حجِ اکبر است
از ہزاران کعبہ یک دل بہتر است
اس کتاب کی افادیت کے کئی پہلو ہیں جن میں سرِ فہرست یہ کتاب ایک دینی درس بھی ہے اور ایک اعلیٰ ادبی نسخہ بھی، کہ جس کو پڑھ کر قارئینِ کرام اپنے ذہنوں کو عالی ہمتی کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔
اولاد کی نعمت ایک فطری کشش کی حامل ہوا کرتی ہے۔ یہ عطیۂ خداوندی کائناتی نعمتوں میں سب سے شیرین اور دلفریب ہے۔ وہ جگر گوشے جو ماں باپ کے نورِ نظر اور دل کی ٹھنڈک ہوں یقیناً ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں مگر صد
۱۲
افسوس کہ ایسی اموات جو بھرپور جوانی میں واقع ہوں، پسماندگان کے لئے قیامتِ صغریٰ ثابت ہوتی ہیں جو بڑے سے بڑے مضبوط انسان کو بھی شکستہ خاطر اور بے بس کر دیتی ہیں۔ مغموم و دل سوز لواحقین آہ و نالہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ہیں اور غمگین ہوتے ہیں۔ مگر یہ سوچنا اور سمجھنا از حد ضروری ہے کہ منشائے خداوندی کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ہم سب اسی کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
اس کتاب کی مناسبت سے ہماری یہ دعا ہے کہ وہ تمام جانیں جو بھرپور جوانی میں دنیا سے چلی گئی ہیں، خداوندِ کریم و کارساز ان سب کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور تمام بنی نوع انسان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے! آمین یا رب العالمین!!
مخلصان
امین الدین ابنِ ایثار علی ابنِ نصیر الدین ابنِ حبِ علی
عرفت روحی اہلیۂ امین الدین
حبِ علی ثانی ابنِ امین الدین ابنِ ایثار علی ابنِ نصیر الدین ابنِ حبِ علی
درِ علوی بنتِ امین الدین ابنِ ایثار علی ابنِ نصیر الدین ابنِ حبِ علی
درِ فاطمہ بنتِ امین الدین ابنِ ایثار علی ابنِ نصیر الدین ابنِ حبِ علی
پیر ۲۴ مئی ۲۰۰۴ء
۱۳
ہماری امہات کے خاندانوں کا تذکرہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
میری والدۂ محترمہ (مرحومہ) روزی بائی بنتِ حیدر محمد کے آبائی خاندان بختہ کد ہیں، شجرۂ نسب ملاحظہ ہو: ص ۷۱۔۷۲، از کتابِ تاریخِ عہدِ عتیقِ ریاستِ ہونزا۔ میری نانی فضہ سلطان محمد کی بیٹی تھیں، سلطان محمد ہکل کد خاندان کا تھا، جو التت اور احمد آباد میں ہیں۔ میری دادی صاحبہ کا نام بھی روزی بائی تھا، جو درس علی (درویش علی) ابنِ قلی لسکر کی بیٹی تھیں۔ قلی لسکر اپنے زمانے کا بڑا بہادر اور نامور شخص تھا، ملاحظہ ہو ص ۹۵، از کتابِ مذکور۔
میری پر دادی گل بی بی (Gal Bibi) بنتِ خوش حال، کے خاندان خروٹنگ ہیں اور ہماری ایک دادی میلی بنتِ بڈو چبوی بُتی کی نسل سے تھی، چبوی بُتی گنش میں تھا، اسی کے نام سے چبوی کشل ہے، ہماری ایک دادی بل التت اسیکد خاندان سے تھی، اور بشوکد خاندان سے یکے بعدِ دیگرے ہماری دو یا تین دادیاں ہوئی ہیں، بشو کا شجرہ ملاحظہ ہو: ص ۶۵، از کتابِ مذکور۔
نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات ۲۷ مئی ۲۰۰۴ء
۱۴
حضرتِ قائم (ع۔س) کے عظیم احسانات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
عائشہ بیگم کے لئے حضرتِ قائم (علی اللہ) کے حضورِ پر نور سے فوق العادہ عظیم انعامات ہوئے، ان کو کبھی کبھی خواب میں حضرتِ قائم علینا سلامہ کا حجابی دیدار ہوتا تھا یعنی کسی بزرگ کے عنوان سے دیدار ہوتا تھا (ملاحظہ ہو) کتاب علمی بہار ص ۱۶۔ ۲۰۔
عائشہ بیگم کے حق میں حضرتِ قائم (علی اللہ) کا ایک بہت بڑا معجزہ ہوا تھا، اب تک میں نے اس کی تاویل کو تو بیان کیا لیکن شخص کا نام نہیں بتایا، خوفِ بے جا لاحق ہوا تھا، اب میں اس امانت کو ادا کرنا چاہتا ہوں، کہ میں یارقند میں تھا اور میری اہلیہ عائشہ بیگم ہونزا میں تھی حضرتِ قائم علینا سلامہ کے نورانی معجزات جاری تھے، ایک دن ہمارے خداوند (علی اللہ) نے عائشہ بیگم کی نیک بخت روح کو اور نیک بخت مومنات کے ایک بڑے گروپ کا روحاً ملا کر ایک فرشتہ بنایا اور وہ فرشتہ کہہ رہا تھا: تھلا تھلا تھلا نی، تھلا تھلا تھلا ژو۔ یہ الہام حضرتِ خداوند کے حکم سے تھا، اس لئے یہ ایک تاویلی کلیہ بن گیا۔ (کتاب علمی بہار ص ۱۶ ۔ ۲۳ ملاحظہ ہو)
نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
۲۸ مئی ۲۰۰۴ء
۱۵
شبِ قدر اور ایک وفات
۱۔ شبِ قدر کی تنزیلی و تاویلی دُہری اہمیت و فضیلت ہے، کیونکہ وہ ظاہر میں ماہِ رمضان کی سب سے افضل رات ہے، جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے، اور باطن میں حجتِ قائم (علینا منہ السلام) ہے، جس میں صاحبِ قیامت اور جملہ اسرارِ قیامت پوشیدہ ہیں، چنانچہ جس کو حجتِ قائم (ع۔م۔س) کی معرفت حاصل ہو جائے، اس کو حضرتِ قائم اور قیامت کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے، اور گنجِ اسرارِ مخفی اسی بندۂ مومن کے نام پر یا ایسے مومنین و مومنات کے نام پر ہو جاتا ہے۔
۲۔ آپ تمام عزیزوں کے لئے از حد ضروری ہے کہ سورۂ قدر (۹۷:۱۔۵) کو بغور بار بار پڑھیں، اور اس کی تاویل کتابِ ’’وجہِ دین‘‘ میں دیکھیں، خاص کر گفتار سی و سوم (۳۳) میں، جس کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ حضرتِ قائم القیامت (ع۔س) کی شناخت نہیں ہو سکتی ہے، مگر پانچ حدود کے توسط سے، جیسے اساس، امام، باب، حجت، اور داعی۔
۳۔ خدا کے بارے میں ہمیشہ حسنِ ظن سے کام لینا بہت بڑی دانشمندی ہے، چنانچہ ہم یہ کہیں گے کہ: عائشہ بیگم (علامہ نصیر الدین کی اہلیہ) پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہوئی کہ عرصۂ دراز تک بیماری کی بندگی، ریاضت اور آزمائش کے بعد دار الفنا سے دار البقا کی طرف اٹھا لی گئیں، زہے نصیب کہ اس نیک بخت کی وفات یومِ شنبہ ۲۳ رمضان المبارک (۱۴۱۴ھ) ، ۵ مارچ (۱۹۹۴ء) کو ہوئی، جبکہ تدفین کے چند گھنٹے بعد آفتابِ عالمتاب لیلۃ القدر کی مبارک رات کے لئے غروب ہوا، اور یہ بڑا
۱۶
عجیب حسنِ اتفاق یا پرحکمت موت کا پروگرام تھا کہ شبِ قدر کی تاویل ہے، حجتِ قائم، اور سنیچر کی تاویل ہے، حضرتِ قائم (ع۔س) اور اس کا اشارہ یقیناً یہی ہے کہ ان کے گھر میں حجت اور قائم (ع۔س) کی شناخت ہے۔
۴۔ محترمہ عائشہ بیگم (مرحومہ) کا پدری نسب اس طرح ہے: عائشہ بیگم بنتِ اسد اللہ بیگ (عرف بلبل) ابنِ محمد رضا بیگ (فراج) ابنِ وزیر اسد اللہ بیگ ابنِ وزیر پونو، اور مادری شجرہ یہ ہے: عائشہ بیگم بنتِ تائفہ بانو بنتِ ترنگفہ سلطان محمود ابنِ غلامو ابنِ سلطان بیگ ابنِ خوش بیگ ابنِ جٹوری۔
۵۔ عائشہ بیگم کی پیدائش کا سال ۱۹۲۲ء ہے، تقریباً سات سال کی عمر میں وہ میرے نکاح میں لائی گئی تھیں، اور میں شاید اس وقت بارہ برس کا لڑکا تھا، بڑی عجیب بات ہے کہ ایسی نو عمری میں یہ شادی ہوئی، اس کی وجہ البتہ یہی ہے کہ میرے والدین کسی اچھے خاندان سے اپنی بہو کا انتخاب کرنا چاہتے تھے۔
۶۔ میری رفیقۂ حیات عائشہ بیگم (مرحومہ) ہونزا کی ان عالی ہمت خواتین میں سے تھیں، جو جذبۂ جان نثاری اور کامل وفاداری سے لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈالتی ہیں، جبکہ ان کے شوہر عرصۂ دراز تک وطن سے دور کہیں ہوتے ہیں، ہونزا میں اس کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔
۷۔ میں نے اس واقعہ کو بہت غور سے سنا ہے، اور میں تصدیق کرتا ہوں کہ عائشہ بیگم کو کبھی کبھی نورانی خواب میں ایک باجلالت و باکرامت بزرگ کا دیدار ہوا کرتا تھا، میری تحقیق کے مطابق وہ نورِ امامت کی ایک تجلی ہوا کرتی تھی، لیکن میں اس معجزے کی بہت کم تعریف کرتا تھا، تا کہ بیگم غرور کا شکار نہ ہو جائیں، ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں یارقند (چین) میں تھا کہ عائشہ بیگم میرے متعلق لوگوں کی باتوں سے بہت
۱۷
مغموم ہو رہی تھی، اندران حال انہوں نے خواب میں اپنے بزرگ کو دیکھا، جو فرما رہے تھے: ’’بیٹی! تم ہرگز غمگین اور مایوس مت ہو جاؤ، میرا بیٹا میرے دامنِ اقدس کے نیچے محفوظ و سلامت ہے، اور وہ آج سے تین مہینے کے بعد آنے والا ہے، تم کسی غریب عورت کو تین روز اپنا کھانا دینا‘‘۔ انہوں نے بزرگ کی ہدایت پر عمل کیا، اور یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔
۸۔ عائشہ بیگم نے زمانۂ غریبی کو دیکھ لیا تھا، اس لئے جب ہماری مالی حالت کچھ بہتر ہوئی تو آپ اپنی عادت کے مطابق گاہ و بے گاہ سخاوت کا مظاہرہ کرتی تھیں، یہاں تک کہ بعض دفعہ گھر کے استعمال کی کوئی ضروری چیز بھی کسی حاجت مند کو دینے سے دریغ نہیں کرتیں۔
۹۔ مرحومہ بڑی حد تک مذہبی ہونے کی وجہ سے جماعت خانہ اور روحانی مجلس کی شیدائی اور امامِ عالی مقام علیہ السلام کی منظومہ تعریف سننے کی دلدادہ تھیں، ان کے دل کو جوان سال فرزند (ایثار علی) کی اچانک موت نے مجروح اور بہت نرم بنا دیا تھا، بنا برین ذکر و مناجات کی محفل میں ان کی بہت گریہ و زاری ہوا کرتی تھی، بے شک دلِ مجروح کی مناجات حضرتِ قاضی الحاجات کو پسند آتی ہے، اور ہر مصیبت میں رجوع الی اللہ کی یہی حکمت و مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔
۱۰۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہر نیک عورت اپنے بچوں سے بہت زیادہ مادرانہ محبت رکھتی ہے، اسی طرح عائشہ بیگم اپنی ہر اولاد کو جانِ عزیز سے بھی زیادہ عزیز رکھتی تھیں، لیکن تعجب اس چیز میں ہے کہ وہ سیف سلمان خان کو بھی بڑی شدت سے چاہتی تھیں، ان کا سچے دل سے یہ کہنا تھا کہ آپ بے شک خدا کے دوست ہیں، لہٰذا یہ اسی کی توفیق اور حکمت تھی کہ آپ نے یارقند کی سخت مسافرت اور محبوس زندگی
۱۸
میں دوسری شادی کا سہارا لیا، جس کا میوۂ شیرین آج ہمارے لئے ایثار علی کی جگہ پر سیف سلمان خان ہے، اور ہر وقت ان کا یہی اصرار ہوتا تھا کہ سلمان کو یہاں لائیں، چنانچہ خوش بختی سے گزشتہ سال سلمان مختصر وقت کے لئے پاکستان آیا، اور اس نے اپنی بیمار ماں کی پہلی اور آخری ملاقات کر لی، اور اس کو اس ادھوری خوشی سے زیادہ افسوس ہوا۔
۱۱۔ اب میں اجتماعی مفاد سے متعلق کوئی بات کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ میں ایسی رسمِ چراغ روشن کے حامیوں میں سے ہوں، جو سادہ، اور کم خرچ پر مبنی ہو، لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ ساتویں دن کی رسم کا پس منظر کیا ہے، اس لئے میں نے عائشہ بیگم کی وفات کے یومِ ہفتم (تھلے کد) کے اخراجات کو صدقۂ جاریہ کے طور پر پاک جماعت خانہ میں پیش کیا، اور امید ہے کہ (ان شاء اللہ) آئندہ ہوشمند لوگ ایسا ہی عمل کریں گے، موکھی صاحب نے اس مثالی کام کو بڑی فراخدلی سے سراہا، اور بہت ساری عمدہ دعائیں دیں، یہ مبارک دعائیں دراصل حضرتِ مولا کی تھیں، جو نامدار موکھی کی پاکیزہ زبان سے ادا ہوئیں، الحمد للہ۔
۱۲۔ مجھے پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ ہونزا وغیرہ سے بہت سے لوگ فاتحہ خوانی اور اظہارِ ہمدردی کے لئے گاڑیوں پر گلگت آئیں گے، جس کی وجہ سے جماعت یا قوم کے ہزاروں روپے خرچ ہوں گے، اور بالکل ایسا ہی ہوا، حالانکہ میں نے اعلان کیا تھا کہ ہم نے اس رسم کو محدود کرنا ہے، اس لئے دور سے لوگ نہ آئیں، میں نے علی آباد کے بعض اکابرین سے گزارش کی کہ اگر آپ حضرات گلگت آنے جانے کا ٹوٹل کرایہ کسی جماعتی کام میں خرچ کرتے، اور مجھے صرف ایک چھوٹا سا تعزیت نامہ لکھتے، تو بہت اچھی بات ہوتی، میں نے مزید عرض کی کہ آپ جماعت کو آئندہ کے لئے سمجھائیں کہ وہ بڑی تعداد میں دور دور تک فاتحہ خوانی کی غرض سے نہ جایا کریں (ہر قسم کی دعا اور فاتحہ
۱۹
خوانی کی بہترین جگہ خدا کا گھر ہے) وہ دانا تھے، اس لئے یہ باتیں ان کو پسند آئیں۔
۱۳۔ انہی مجالس میں وقت کے موضوع پر بھی گفتگو ہوئی کہ وقت کیا ہے؟ وقت عمرِ عزیز کے ایک حصے کا نام ہے، اگر فرد کی زندگی انمول ہے تو قوم کی زندگی اس سے کہیں زیادہ انمول ہے، لہٰذا اجتماعی زندگی کے قیمتی ٹکڑوں (یعنی اوقات) کو غیر ضروری کاموں میں صرف نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ خرچ شدہ دولت مل سکتی ہے، لیکن صرف شدہ زندگانی واپس نہیں آ سکتی۔
۱۴۔ میں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ شمالی علاقہ جات میں ایصالِ ثواب کی یہ رسم بہت اچھی ہے، لیکن یہ کہاں کی ہمدردی ہے کہ غمزدہ خاندان کو ذرا بھی آرام کی اجازت نہیں ہے، صبح سے لے کر شام تک باادب اور ہوشیار بیٹھنا ضروری ہے، کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ دن کے تقریباً دو بجے تک لوگ آیا جایا کریں؟ ورنہ غمگین لوگوں کو حسبِ دستور تکلیف ہوتی رہتی ہے، پھر علم و ترقی اور ڈاکٹروں کے مشوروں کا کیا فائدہ، الغرض بعض روایات میں سوچ سمجھ کر ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔
۱۵۔ اس بندۂ عاجز نے ہونزا ریجنل کونسل کے صدر جناب ڈاکٹر اسلم صاحب کی خدمت میں ایک بہت اہم مسئلہ پیش کیا تھا، اب میں وہ دوسرے الفاظ میں عرض کرتا ہوں کہ ’’مومن آباد‘‘ کے نام کا مشورہ میں نے ہی دیا تھا، اور بفضلِ خدا وہ کامیاب ہو گیا، کیونکہ وہ ہمارے بہت ہی عزیز، روحانی بھائی، جو مومن آباد میں رہتے ہیں، بڑے راسخ العقیدہ مومنین ہیں، لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ ان کے ایمان اور اخلاص کی قدردانی نہیں کی جاتی ہے، کیا وہ اور ہم سب ایک ہی امام علیہ السلام کی روحانی اولاد نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو پھر ان کو ’’برادری اور برابری‘‘ کے حقوق کیوں حاصل نہیں ہیں؟ میں ان کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ پرامن طریقے سے نامدار کونسل سے
۲۰
رجوع کریں، شاید اصلاحِ احوال کے لئے وقت لگے گا لیکن مسئلہ ان شاء اللہ حل ہو جائے گا۔
۱۶۔ خداوندِ قدوس کا شکر ہے کہ دعا کی غرض سے آئی ہوئی ہر جماعت کے سامنے علم کا کوئی نہ کوئی مناسب نکتہ بیان کیا، اور مجموعی طور پر البتہ علم و حکمت کی کافی باتیں ہوئیں، اس کے علاوہ بہت سے مومنین و مومنات کی پرخلوص دعاؤں کی سعادت و برکت بھی حاصل ہوئی، میں آخراً ان تمام افرادِ مومنین و مومنات کا قلبی گہرائی سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے عائشہ بیگم کی طویل علالت کے دوران بے مثال خدمات انجام دی ہیں، میں ان خواتین و حضرات کے حق میں عاجزانہ دعا کرتا ہوں جنہوں نے اس خدمت، عیادت اور تعزیت میں حصہ لیا، کہ رب العزت ان کو دین و دنیا کی لامحدود حسنات سے مالا مال فرمائے! آمین!! (بحوالۂ کتابِ علمی بہار، ص ۱۶ تا ۲۳)۔
نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
کراچی
جمعرات ۴ شوال ۱۴۱۴ھ، ۱۷ مارچ ۱۹۹۴ء
۲۱
فدائے مک کے یاسمین ۔ می اوشمکد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
ان دونوں عزیزوں نے میری بہت ہی عزیز پڑپوتی درِ علوی امین الدین کو بطورِ بیٹی گود میں لیا ہے، ہم تھم (راجہ) نہیں کہ قطعۂ زمین کا انعام دیتے، صرف دعا دی اور ان شاء اللہ درویشانہ دعائیں کرتے رہیں گے، اور علمی خدمت میں ان سے تعاون حاصل کیا، جس کا انعام ان کو اللہ کے حضور سے ملے گا۔ ایثار نامہ کے تیسرے ایڈیشن میں ان دونوں عزیزان نے ٹائپنگ کی خدمات انجام دی ہیں۔
تاریخِ عہدِ عتیقِ ریاستِ ہونزا، ص ۶۵ کے شجرہ کے مطابق جبلِ ایمان، جبلِ قوم، فاتحِ ایورسٹ، ستارۂ امتیاز جناب نذیر صابر صاحب، غلام قادر بیگ مومنِ عالی ہمت، میں، فدائے مک، اور یاسمین درم دلتس نامی شخص کی نسل میں سے ہیں، یعنی میری ایک دادی جو بشوکد کی بیٹی تھی وہاں میری نمائندگی کر رہی ہے۔
نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ۳۰ جون ۲۰۰۴ء
۲۲
این سعادت بزورِ بازو نیست
ہدیۂ عقیدت و احترام
از: فدا علی سلمان البدخشانی
انسان فطری خصائص کا ایک سمند ہے اس سمندر میں اوصاف کے ان گنت انمول موتی پنہان ہیں جب تک حوادث کا کوئی طوفان اس سمندر میں تلاطم پیدا نہیں کرتا ان بے بہا موتیوں پر نظر نہیں جاتی۔ غالباً صدمۂ مرگ اور وہ بھی مرگِ جوانی طوفانِ حوادث میں قہرمان ترین صدمہ ہے اور انسانی اوصاف کے موتیوں میں ہمدری اور غم گساری کا وصف سرِ فہرست ہے جو ورود و اظہار کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں، مگر کبھی کبھی یہ تلازم کچھ اس انداز میں سامنے آتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ ایسے مواقع دراصل متاثر شخصیت کی عظمتِ ذاتی اور معاشرے میں اس کی اعلیٰ قدر و منزلت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ رشد و موعظت کا بھی ایک عظیم ذریعہ بن جاتے ہیں۔
عزیز مرحوم ایثار علی کی انتہائی جانکاہ حادثاتی جوانامرگی بھی ایک ایسا ہی صدمہ ہے جس نے دور و نزدیک کے تمام احباب، اعزا اور افرادِ جماعت کو جہاں ایک طرف متاثر کیا ہے وہاں دوسری طرف مرحوم کے عظیم والدِ بزرگوار جناب علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی صاحب کی عظمت و بزرگی کو بھی جو شروع سے صرف حلقۂ احباب و ارادت مندان میں ہی نہیں بلکہ محافلِ اغیار میں بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں
۲۳
’’نور علیٰ نور‘‘ کر دیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور خاص پہلو ہمارے سامنے آیا ہے کہ معمولاتِ عالم کے خلاف جس کے بارے میں زبان زدِ خاص و عام ہے کہ:
مصیبت کی گھڑی میں کون کس کے کام آتا ہے
کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا انسان بے رہتا ہے
آزمائش کی اس گھڑی میں پوری قوم نے مجموعی طور پر علامۂ موصوف کی ذات سے اپنی جس وابستگی کا اظہار کیا ہے اور ہمدردی کے جن انمول موتیوں کو بے دریغ نچھاور کیا ہے اسے موصوف کے کمالِ عظمت اور نیک بختی کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔ اس ذیل میں تاروں اور خطوط کے ایک بڑے انبار میں سے چند اقتباسات نمونتاً درج کئے جاتے ہیں۔
۱۔ مجھے آپ کے فرزند کے سانحۂ ارتحال کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صبرِ جمیل عنایت فرمائے!
میر آف ہونزا (تار)
۲۔ مجھے آپ کے فرزند کی حادثاتی موت کا سخت صدمہ ہوا۔ دلی تعزیت قبول کیجئے۔ مولا مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے!
وزیر غلام حیدر بندے علی کراچی (تار)
۳۔ آپ کے فرزند کی موت پر تمام جماعت غم و اندوہ کے ساتھ اظہارِ تعزیت اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کرتی ہے۔
اسماعیلیہ کونسل سکردو (تار)
۲۴
۴۔ عزیز ایثار علی کی شہادت کا سن کر سخت صدمہ ہوا۔ ہم سب کو مرحوم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں یہ ہم سب کا غم ہے۔ تعزیت قبول کیجئے، اللہ تعالیٰ آپ کو یہ صدمہ سہنے کی قوت اور مرحوم کو جوارِ رحمت مرحمت فرمائے!
جملہ جماعتِ مسگر (تار)
۵۔ مجھے جان کر انتہائی صدمہ ہوا کہ حالیہ ہوائی حادثے کے المیے کا شکار ہونے والوں میں آپ کے جوان سال عزیز فرزند بھی شامل تھے۔
ہم سب کو راضی بہ رضائے مولا ہونا ہی پڑتا ہے۔ مولا پاک مرحوم کی روح کو دائمی سکون اور آپ کو بمعہ متعلقین اس ناقابلِ تلافی نقصان کو جھیلنے کی سکت بخشے! آمین!
وزیر کیپٹن امیر علی کریم ابراہیم
اسٹیٹ ایجنٹ مولانا حاضر امام
کراچی (مراسلہ)
۶۔ مجھے جمعہ ۸ دسمبر ۱۹۷۲ء کو آپ کے فرزندِ عزیز کے المناک حادثاتی سانحۂ ارتحال کا جان کر سخت صدمہ ہوا۔ جس کے لئے ہماری دلی تعزیت قبول فرمائیں۔
آپ ایک نور رسیدہ شخص ہیں مجھے امید ہے کہ آپ راضی بہ رضائے مولا کو اپنا شعار بنائیں گے۔ ہم سب یہاں پر مولانا حاضر امام کے حضور دست بہ دعا ہیں کہ مولا مرحوم کی روح کو دائمی سکون اور آپ کو یہ عظیم نقصان سہنے کی طاقت و ہمت عطا
۲۵
فرمائے! مجھے امید ہے کہ آپ کو ہمارا ۱۱ ماہِ روان والا تار ملا ہو گا۔
فقط
یا علی مدد
قاسم علی ایم جے
پریذیڈنٹ اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان۔ کراچی (مراسلہ)
۷۔ آپ کو معلوم ہے کہ کراچی میں مجھے والد صاحب کی وفات کی خبر ملی اس سے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے کہ سعادت خان جدا ہوا۔ مگر کیا کریں۔ کہاں جائیں۔ کس کو سنائیں، چارہ نہیں۔ علاج نہیں۔ اجل معین ہے۔ تقدیر کے قاضی کا فیصلہ اٹل ہے۔ تسلیم و رضا آخری حل ہے۔ دل تھام کے کہنا پڑتا ہے مرضیٔ مولا از ہمہ اولیٰ۔
زندگی انسان کی ہے مانندِ مرغِ خوش نوا
شاخ پر بیٹھا کوئی دم چہچہایا اڑ گیا
کیپٹن میر باز خان (اقتباس از مراسلہ)
۸۔ اصحابِ علم و دانش جن کو فلسفۂ زندگی سے کافی حد تک شناسائی ہے اس زندگیٔ ناپائدار پر کم اعتماد رکھتے ہیں اور ہر حالت میں کل شیء ہالک الا وجھہ (۲۸:۸۸) کے ارشادِ ربانی پر لبیک کہتے ہیں۔ گویا زخم ناقابلِ اندمال ہے اور یہ عظیم نقصان ناقابلِ تلافی، مگر سوائے صبر کے اور کوئی چارۂ کار باقی نہیں۔
محبوب علی کراچی (اقتباس از مراسلہ)
۲۶
۹۔ مرحوم عزیزم شادی شدہ تھا اور اس کے بچوں کی پرورش و کفالت بھی اب آپ کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ ان مصائب و آلام کوبرداشت کرنے کی مولا پاک آپ کو ہمت و استقامت عطا فرمائے! (آمین!)
تمام جماعتِ اسماعیلیۂ لائل پور (پنجاب) آپ کو بصد خلوص ہدیۂ تعزیت پیش کرتی ہےاور بارگاہِ رب العزت میں دست بہ دعا ہے کہ الہ العالمین مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور نورانی دیدار سے بہرہ ور فرمائے!
الواعظ عزیز علی فدائی لائل پور
(اقتباس از مراسلہ)
۱۰۔ اس اندوہناک حادثے نے ہمارے ہوش و حواس اڑا دئے ہیں اور اظہارِ ہمدردی اور قلبی کیفیت واضح کرنے کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں اگر ہوتے بھی تو ہم انہیں آپ کے پاس کیسے ادا کرتے کیونکہ آپ مصائب و آلام و ہمارے لئے ایک پناہ گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمارے دکھ سکھ کی گتھیاں آپ کے علم و عقل سے کھلتی ہیں۔ ہاں البتہ اتنا کہہ سکتے ہیں کہ آپ ابتلا کی کٹھن گھڑی میں ہمارے لئے صبر و شکر کا ایک اچھا معیار قائم کریں گے۔
(ہونزا کی مختلف جماعتوں اور کونسلات کے مراسلات سے اقتباس)
۱۱۔ آپ کے عزیز فرزند کی حادثاتی موت سے بہت دکھ پہنچا۔ یقین کیجئے اس آزمائش میں آپ تنہا نہیں ہیں ہم سب کے دل آپ کے ساتھ ہیں اگرچہ فاصلوں کے لحاظ سے ہم دور ہیں۔
(چند انفرادی مراسلات کا مجموعی تاثر)
۲۷
۱۲۔ دنیا دین سے وابستہ ہے آپ ایک عالمِ دین اور صاحبِ معرفت شخص ہیں ہم نے دینی شعور آپ ہی سے سیکھا ہے اور نیک و بد کی تمیز بھی۔ ایسے کڑے وقت کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے اس کے بہترین مظاہرے کی ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں۔ ہم دلی اور روحانی طور پر آپ کے ساتھ شریکِ غم ہیں۔
(چند انفرادی خطوط کا مجموعی تاثر)
میں ذاتی طور پر علامہ صاحب کے مداحوں میں سے ہوں۔ جس وقت ہوائی حادثے کی خبر یہاں موصول ہوئی اور پھر جس وقت شہید ایثار علی کا جسدِ خاکی یہاں پہنچا ایک قیامت کا سماں تھا۔ میں تو یہی سمجھ رہا ہوں کہ جن راہوں سے جنازہ گزرا ہے پتھر بھی رو پڑے ہوں گے، مگر آفرین ہے اس مردِ جلیل کے صبر و استقامت پر۔ کیا مجال ہے جو ذرا کمزوری دکھائی ہو، تمام پروگراموں میں برابر شریک ہوتے رہے، نہ صرف یہی بلکہ عقیدت مندوں، احباب اور اعزا میں سے جو لوگ غم سے مغلوب ہوئے بزرگوارِ موصوف نے بطورِ پند ہر ایک کو حوصلہ دیا۔ اور صبر و شکر کی تلقین کرتے رہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ وابستگان، عقیدتمندان اور احباب نے جس والہانہ انداز میں اپنی وابستگی، عقیدتمندی اور محبت کا اظہار کیا ہے، وہ انہی کا حق ہے اور انہی کا حصہ۔
میری دعا ہے کہ مولائے کائنات متاثر خاندان کو ظاہری و باطنی عنایات سے نوازے اور تلافیٔ نقصان میں جسمانی و روحانی نعم البدل عطا فرمائے!
الشریک فی الغم و الداعی للنعم
فدا علی سلمان البدخشانی
۲۸
سخنہائے گفتنی
۱۔ مومنین میں سے جو افراد مشیتِ ایزدی کی لاتعداد حکمتوں کا یقین رکھتے ہیں، وہ البتہ دنیا کی کسی بھی بڑی مصیبت سے واویلا اور جزع و فزع نہیں کرتے۔
۲۔ مومن کی زندگی فی الواقع دہری ہے، یعنی ایک تو چھلکے کی طرح ظاہر ہے اور دوسری مغز کی طرح باطن، اب اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی انسان کو باطن منظور ہو چکا ہے تو اس کے لئے چھلکے کو چھوڑنا اور ظاہر سے گزرنا پڑے گا، پھر اس پر کسی عزیز کو کوئی شکایت نہ ہونی چاہئے۔
۳۔ ہر انسان کی زندگی ہی میں کوئی نہ کوئی کارنامہ ہوا کرتا ہے، مگر اس عام اصول کے برعکس میرے عزیز فرزند ایثار علی کا ایک بڑا کارنامہ اس کی ناگہانی موت کے مکمل ہوا ہے، مثلاً ایک ایسے مردِ درویش کو اپنے عزیز بیٹے کی حادثاتی موت کے ابتلا و امتحان میں رکھنا جو صبح و شام کی عاجزانہ دعاؤں میں دوسرے مقاصد کے ساتھ ساتھ یہ بھی چاہتا تھا کہ اس پر کوئی ایسا امتحان نہ آئے، سارے خاندان بلکہ پوری قوم کو خون کے آنسو رلانا، چند قیمتی جانوں کی اتفاقیہ موت سے اتفاق کر کے چہ ہونزا و چہ گلگت اور پاکستان بلکہ پوری دنیا کو یکبارگی ہمدرد بنا لینا، اور مردِ درویش کی اس مصیبت کے بارے میں بعض معتقدین کا پوشیدہ تعجب کہ جہاں خوفِ خدا سے ہمیشہ گریہ و زاری ہوتی رہتی ہے، وہاں بھی خدا کا امتحان آ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اس درویش کے ہر قول و فعل کی طرف جماعت اور قوم کا متوجہ ہونا کہ اب دیکھیں کہ وہ عین مصیبت کے وقت کیا کرتا ہے، صبر و شکر کا مظاہرہ کر رہا
۲۹
ہے یا خود بے صبری اور نا شکری کا نمونہ بن رہا ہے، یہ تمام باتیں میرے عزیز بیٹے کی موت سے پیدا ہوئی ہیں، اس لئے میں ایثار علی کی موت کو اس کے حق میں قدرتی کارنامہ قرار دیتا ہوں۔
۴۔ میں ایک مصیبت زدہ باپ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک درویش بھی ہوں، ان دونوں صورتوں کے نتیجے میں میرے دل کے اندر جیسی جیسی عجیب و غریب کیفیات واقع ہوئی ہیں، وہ میں نے تعزیت کے جوابی خطوط میں بالکل صحیح طور پر ظاہر کر دی ہیں، پھر ان جوابی خطوط کو کتابی صورت دی گئی ہے، تا کہ ایک طرف سے تو یہ کتاب مسلمین و مومنین کے لئے پند و نصیحت کا ایک ذریعہ بن کر موجبِ ثواب ہو اور دوسری طرف سے اس پیاری روح کی یادگار باقی رہے جو پیارے ایثار علی کے نام سے میرے غریب خانے میں رہ چکی ہے۔
۵۔ یہ بات تقریباً سب جانتے ہیں کہ اولاد کی محبت ایک فطری امر اور ایک پیدائشی حقیقت ہے، اور ایک جوان بیٹے کی ناگہانی موت انسان کے لئے سب سے بڑا صدمہ ہے، لیکن انسان کیا کر سکتا ہے، کیا وہ قانونِ قدرت کے خلاف احتجاج کر سکتا ہے؟ کیا وہ خدا کے امتحان سے راہِ فرار اختیار کر سکتا ہے؟ نہیں نہیں وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا، اس لئے بہتر تو یہی ہے کہ صبر و شکر جیسا کہ حق ہے اختیار کیا جائے تا کہ اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور دونوں جہان میں رحمتِ خداوندی شاملِ حال رہے۔
۶۔ جماعت اور مسلم برادری کی طرف سے جو گہری ہمدردی مجھ سے کی گئی ہے، میرے خیال میں اس کی کوئی مثال نہیں اور جس خلوص اور دلسوزی سے دور و نزدیک کے عوام و خواص نے مجھے تعزیت دی ہے، اس کا تذکرہ کرنا میرے بس کی
۳۰
بات نہیں، اور تعزیت نامے اس قدر زیادہ موصول ہوئے کہ میں ان سب کو اس کتاب میں درج نہیں کر سکتا تھا، لہٰذا میں نے کوشش کی صرف ان کے مختصر جوابات شائع کئے جائیں، پھر بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید کچھ خطوط مجھے نہ مل سکے، لہٰذا ان کا جواب میرے لئے ناممکن تھا، نیز بعض خطوط اس کتاب کے مکمل ہو جانے کے بعد موصول ہوئے تھے۔
۷۔ اب مجھ پر واجب ہے کہ میں پھر ایک بار ان تمام حضرات کا قلبی طور پر شکریہ ادا کروں، جنہوں نے جلکوٹ کے جنگل میں میرے عزیز بیٹے کی لاپتا لاش کی تلاش کی، اسے یہاں لا کر سپردِ خاک کر دیا، مجھے اور تمام خاندان کو سہارا دیا اور سنبھالا، انہوں نے مجموعی طور پر اپنے قیمتی وقت سے ہزاروں گھنٹے ہماری تعزیت کی خاطر صرف کر دئے، مگر افسوس کہ ان میں سے بعض چیزیں حد سے بڑھ جانے کی صورت میں بت پرستی بن جاتی ہیں، میں نے اس سلسلے میں چند ایسی چیزیں بھی محسوس کی ہیں جو مذہبی نقطۂ نظر سے ناپسندیدہ اور مکروہ بلکہ بت پرستی ہیں، اگر میں یہاں ان کے تذکرہ سے گریز کروں تو نصیحت کی امانت میں خیانت ہو گی، وہ چیزیں یہ ہیں:
الف۔ بعض سادہ لوح مردوں اور خصوصاً عورتوں کا زار زار رونا اور آہ و فغان کرنا اور مردے کی تعریف و توصیف بیان کرنا، ب۔ دور دراز علاقوں سے تعزیت کے لئے آنا، ج۔ وقت گزر جانے کے بعد عرصۂ دراز تک تعزیت دیتے رہنا، د۔ زخم پر نمک پاشی کرنا یعنی لواحقین کے پاس بار بار متوفی کا تذکرہ کرنا، ہ۔ موت کی ناجائز رسومات کو جاری رکھنا اور اس سلسلے کی فضول خرچی یعنی وقت یا پیشہ بے جا طور پر استعمال کرنا۔
اب مجھے اخیر میں ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جن کو مجھ سے ہر قسم
۳۱
کی جسمانی ہمدردی کے علاوہ علمی تعاون بھی ہے، ان میں سے جناب پروفیسر فقیر محمد صاحب بی۔ اے (آنرز) ایم۔ اے (فلسفہ) ایم۔ اے (عربی) ایم۔ اے (فارسی) ڈبلیوم (جرمن) سرِ فہرست ہیں، جن کے گوناگون احسانات کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا، ان کی رفاقت سے میرے حوصلے بلند ہوئے ہیں، ان کی دوستی سے میری روح کو قوت ملی ہے، ان کی علمی تصدیق سے میری دور اندیشی کا ثبوت ملا ہے، آپ کی مایہ ناز شخصیت قوم کے لئے محنت و جفا کشی اور پھر کامیابی کا عملی نمونہ ہے، آپ کی ایمانی ذات خود شرافت و اصالت کی بہترین مثال ہے، آپ تحریر و تقریر دونوں میدان کے شہسوار ہیں، الحمد للہ علی احسانہ کہ یہ سب کچھ اسی حقیقی مالک کی مہربانی سے ایسا ہے تا کہ قوم اورجماعت زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھ سکے۔ پس میں صاحبِ موصوف کا بطریقِ اخص شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس کتاب کا ایک ایسا جامع اور دلکش دیباچہ تحریر فرمایا ہے کہ اس میں کتاب ’’ایثار نامہ‘‘ کے جملہ مطالب یکجا و واضح ہو چکے ہیں۔
پھر میں جناب فدا علی سلمان صاحب گوہر افشان کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی انوکھی اور بے مثال قابلیت اور جذبۂ اخوت سے میری مصیبت کے دوران نہ صرف جوابی خطوط میں میری معاونت فرمائی ہے بلکہ انہوں نے تمام تعزیت ناموں پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک پرمایہ پیش لفظ بھی لکھا ہے جس کی بدولت اس کتاب کی قدر و منزلت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
فدا علی سلمان صاحب کی علمی مرتبت کی مثال ایک ایسے گنجگاہ کی طرح ہے جس کے متعلق لوگوں کو کوئی گمان نہیں کہ وہاں ایک گرانقدر خزانہ چھپا ہوا ہے، مگر ایسا خزانہ بھی ہمیشہ کے لئے مخفی نہیں رہ سکتا، وہ ایک نہ ایک دن ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔
۳۲
میں اپنے پگھلے ہوئے دل میں یہ دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہ العالمین ان دونوں صاحبانِ علم و ادب کو اور دوسرے تمام ہمدرد حضرات کو علم و ہنر کے فیوض و برکات عطا فرمائے اور انہیں دونوں جہان کی کامیابی اور رو سپیدی عنایت کیجئے !!
آمین یا رب العالمین!!!
فقط
ذرۂ بے مقدار
نصیر ہونزائی
۳۳
گلگت
۱۳ دسمبر ۱۹۷۲ء
برادرانِ روحانی
جماعت ۱۔ حیدرآباد
۲۔ مرتضیٰ آباد
یا علی مدد!
میرے نوجوان فرزند کی ناگہانی اور اتفاقی موت اور اس ناقابلِ تلافی نقصان پر جس قدر خلوص اور دل کی گہرائیوں سے آپ سب نے ہمدردی کا اظہار کیا اور تعزیت کے متعدد پیغامات بھیجے ہیں اس کا میں تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔ خداوندِ تعالیٰ کی شاید یہی مرضی تھی۔ اس کے حضور سرِ تسلیم خم ہے اور جیسا کہ آپ روحانی بھائیوں نے میرے لئے صبر و استقامت کی دعائیں مانگی ہیں مجھے یقین ہے کہ مولائے کریم آپ سب بھائیوں کی دعاؤں کے طفیل اس عظیم آزمائش میں مجھے ثابت قدم رکھے گا۔
ایک دفعہ پھر آپ سب روحانی بہن بھائیوں چھوٹے بڑے اور تمام خیرخواہوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میری عاجزانہ دعائیں ہیں کہ مولائے کریم تمام جماعت کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ظاہری و باطنی فیوض و برکات سے نوازے! (آمین!)
والسلام
آپ کا روحانی بھائی
نصیر ہونزائی
۳۴
گلگت
۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء
ملک جی!
سلام و دعائیں! واقعی انسانیت کا معیار غمخواری ہے، مبارک ہے وہ آدمی جو دوسروں کا درد محسوس کرتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کر و بیان
میرے عزیز لختِ جگر کی بے ہنگام مفارقت کا عظیم صدمہ اگر میں سہہ گیا ہوں تو محض اس برتے پر کہ آپ جیسے غم گسار موجود ہیں حکیم خیام فرماتے ہیں:
بیگانہ اگر وفا کند خویش من ست
ور خویش جفا کند بد اندیش من ست
گر زہر موافقت کند تریاق ست
ور نوش مخالفت کند نیش من ست
ایک وہ تھا چوتھائی صدی پہلے کا معصوم بے بس بچہ! میرے جگر کا ٹکڑا، میرے جوان بازوؤں کے مضبوط حصار میں شدائدِ ایام سے محفوظ پلتا رہا اور آج جبکہ اسے میرے بڑھاپے کی لاٹھی بننا تھا تو عین ضعیفی کی عمیق کھائی کے کنارے مجھے ہکا بکا چھوڑ گیا، نہ آگے کو سوجھتا ہے اور نہ پیچھے مڑ سکتا ہوں، ایک آپ ہیں سینکڑوں میل دور ہوتے ہوئے بھی میرا درد بانٹ رہے ہیں اس کا صلہ میں کیا دے سکتا ہوں وہ دے
۳۵
دے جس کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا! آمین!
خیام ہی نے فرمایا ہے:
مردانہ در آ ز خویش و پیوند ببر
خود را تو ز بندِ زن و فرزند ببر
ہر چیز کہ ہست سدِ را ہست ترا
با بند چگونہ رہ روی بند ببر
یہ دنیا اگر فانی ہے تو یہاں کی ہر چیز فانی ہے۔ آنی جانی چیزوں کا غم کرنا بے سود ہے اور لاحاصل۔ راہِ سلوک میں بڑے کڑے مقام آتے ہیں راستے میں آنے والے مقامات سے گزر کر ہی کوئی راہی منزلِ مقصود تک پہنچ سکتا ہے، یہ کیسے کہا جا سکتا کہ منزل بھی ملے اور راستہ بھی طے نہ کرنا پڑے۔ سپاہی کو میدانِ جنگ میں نہ بھیج کر جنگ جیتنے کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہے، ہاں البتہ ضروری اسلحہ مہیا کرنے سے نہ صرف جنگ جیتنے کی امید ہو سکتی ہے بلکہ یقین کی حد تک سپاہی کی حفاظت بھی ہو جاتی ہے۔ کیا حیاتِ انسانی خیر و شر کی جنگ نہیں ہے اس جنگ کو جیتنے کے لئے دو بڑے ہتھیار ہیں یعنی صبر و شکر۔ میں نے انہی ہتھیاروں سے کام لینے کا فیصلہ کیا ہے آپ میرے لئے ثبات کی دعا کیجئے۔ مولا اجر دے گا۔
فقط
آپ کا خیر اندیش
نصیر ہونزائی
۳۶
جناب محترم شاہ زمان صاحب ڈورکھنڈ، ہونزا
یا علی مدد! اگرچہ یہ سانحہ آپ اور آپ کے خاندان کے لئے بلکہ ساری قوم اور جماعت کے لئے بہت ہی بڑا ہے، کہ اس جہاز کے حادثہ میں بیک وقت آپ کے چھ عزیز افراد جان بحق ہو گئے، امرِ الٰہی کے سامنے انسان کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے، پس بہتر یہی ہے کہ اب صبر و شکر کا راستہ اختیار کیا جائے اور اس آیۂ کریمہ کی حکمت پر عمل کیا جائے کہ: ’’قالوا انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ یعنی حقیقت میں ہم اپنی ذات کے لئے نہیں ہیں، بلکہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں، وہ ہمیں جس طرح استعمال کرے، اسی میں حکمت اور بہتری ہے اور اسی سے ہم کو دنیا و آخرت میں حق تعالیٰ کی قربت و نزدیکی حاصل ہو سکتی ہے۔
خدا تعالیٰ کے قرب کے لئے قربانی کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ قربانی کا لفظ قرب سے نکلا ہے، اسی معنی میں قربانی ایک ایسی قیمتی چیز کو کہتے ہیں، جو خدا کی راہ میں اس کی قربت و نزدیکی کی غرض سے نکالی گئی ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ حقیقی مومنین سے دو قسم کی قربانی لیا کرتا ہے، ایک قربانی وہ ہے جو مومن سوچے سمجھے حال میں خدا کے حضور میں پیش کرتا ہے، دوسری قربانی وہ ہے، جو خدا تعالیٰ خود اپنی مرضی پر مومن سے لیا کرتا ہے، اگر اس دوسری قربانی کے لئے مومن صابر و شاکر رہے، تو یہ قربانی خدا کے نزدیک سب سے عظیم ہے۔
اس کے علاوہ اگر یہ حقیقت مان لی جائے، کہ روح کی لا انتہا زندگی کے مقابلے میں جسم کی دو روزہ زندگی نہ ہونے کے برابر ہے، ساتھ ہی ساتھ اگر اس بات پر بھی یقین رکھا جائے کہ مومن کے لئے دنیا میں رنج وغم کے سوا کچھ بھی نہیں اور آخرت میں اس کے لئے راحت ہی راحت ہے۔ پھر اس صورت میں ہمیں اس مختصر سی جسمانی زندگی
۳۷
کی ناگوار تلخیوں کو ضروری طور پر برداشت کرنا ہو گا۔
پس دعا ہے کہ خدائے علیم و حکیم اس حادثہ میں گزرے ہوئے مومنین کی ارواح کو شہیدانِ اسلام کا درجہ عنایت فرمائے! اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق و ہمت عطا فرمائے ! آمین ثم آمین !!
فقط
آپ کا خیر اندیش
نصیر ہونزائی
۱۸ دسمبر ۱۹۷۲ء
۳۸
جنابِ محترم ماسٹر سلطان علی صاحب غلکنی
یا علی مدد! میں آپ اور آپ کے جملہ خاندان کا نیز موکھی علی شفا صاحب اور غلکن کی نیک نام جماعت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کہ آپ صاحبان نے مجھے اس جان گداز مصیبت پر ایک صبر آموز اور حوصلہ بخش تعزیت نامہ لکھا ہے۔
آپ اس حقیقت سے باخبر ہیں، کہ یہ دنیا دارالفنا ہے دارالبقا نہیں، اور ہم میں سے ہر ایک کو کسی بھی وقت یہاں سے کوچ کر جانا ہے، لہٰذا ہمیں موت کی اس تلخ حقیقت کو گوارا کرنا ہو گا۔
ہم پس ماندگان میں سے عزیزم ایثار علی کی والدہ کے لئے اپنے فرزندِ جگر بند کی مفارقت ناقابلِ برداشت نظر آ رہی تھی، مگر ہم نے بفضلِ مولا صد ہا نصیحتوں سے اس بارِ غم کو ہلکا کر دیا ہے۔
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۱۹ دسمبر ۱۹۷۲ء
۳۹
اس حادثہ کے جملہ مصیبت زدہ خاندانوں کی خدمت میں
السلام علیکم! حضرات میں آپ سے معذرت خواہ ہوں کہ ان جوابی خطوط کی تیاری میں اب تک تماماً اپنی ہی مصیبت کا ذکر کرتے آیا ہوں، حالانکہ یہ میرا اسلامی اور انسانی فرض تھا کہ سب سے پہلے ان تمام قیمتی جانوں کی مجموعی موت کے بارے میں کچھ تحریر کرتا، جو یکایک اس حادثہ کا شکار ہو چکی ہیں۔
بہر حال مجھے اپنے درد کے قیاس پر آپ صاحبان کے درد کا بھی احساس ہے، لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کہ ہم سب اپنے اس دردِ بے درمان کا کوئی دوسرا علاج نہیں کر سکتے، بجز آنکہ ہم صبر و شکر کا راستہ اختیار کریں، بے شک خلقِ اولین و آخرین میں یہی ایک نسخہ رہا ہے، جو مرضِ مصیبت میں نہایت ہی موثر ہے۔
صاحبان! آئیے ہم سب مل کر بارگاہِ ایزدی میں دعا و التجا کریں، کہ پروردگارِ عالم ہمارے ان عزیزوں کو، جو ہم سے جدا ہو کر عالمِ آخرت کو سدھارے ہیں، اپنے جوارِ رحمت میں مقام عنایت کرے! اور ہم سب پس ماندگان کو صبر و شکر اور عرفان و ایقان کی اعلیٰ توفیق و ہمت عطا کرے!! آمین ثم آمین!!!
فقط
نصیر ہونزائی
۱۹ دسمبر ۱۹۷۲ء
۴۰
جناب حاجی عزیز محمد خان صاحب راولپنڈی
یا علی مدد! آپ کے تعزیتی خط کا شکریہ! بے شک میرا عزیز فرزند آپ کو بھی بہت عزیز تھا، لیکن موت کے لئے کیا چارہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کی مصیبتوں کا آپ کو بھی خوب تجربہ ہے، اور کوئی انسان مصائب و آلام سے خالی نہیں، پس ہمیں اس قانونِ قدرت میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، بلکہ ایسے امتحانات کے وقت صبر و شکر کر کے روحانی طور پر فائدہ اٹھانا چاہئے، جیسا کہ قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ اس مطلب کا تذکرہ موجود ہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم یہ یقین کر سکتے ہیں، کہ جب ہم اس دنیا کی زندگی سے فارغ ہو جائیں گے، تو ہمیں روحانی عالم میں اپنے تمام عزیزوں کی ملاقات حاصل ہو گی، پھر ہم مایوسی میں کیوں روئیں۔
فقط
آپ کا روحانی بھائی
نصیر ہونزائی
۱۹ دسمبر ۱۹۷۲ء
۴۱
گلگت
۲۰ دسمبر ۱۹۸۲ء
عزیز الواعظ نظر شاہ صاحب گلمت
مولا آپ کو خوش رکھے! میرے عزیز فرزند کی حادثاتی موت پر آپ نے جس انداز سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے، میں اس سے آپ کی محبت کا اندازہ کر سکتا ہوں، ایک فقیر کے پاس محبت کے جواب میں دعا کے سوا اور کیا ہوتا ہے۔ سو میں دعا کرتا ہوں کہ مولا پاک آپ کو روحانی سکون عطا کرے!
جیسا کہ آپ نے آیتِ مبارکہ کا حوالہ دیا ہے، اگر ہمارا کوئی عزیز اپنے مرکز کی طرف لوٹتا ہے اور کامیاب لوٹتا ہے تو اس میں خوشی ہونی چاہئے نہ کہ رنج۔ آپ سب کو جو اس سانحہ کے وقت میری طرف نگران ہیں میرا پرخلوص مشورہ ہے کہ ایسے مواقع پر صبر و شکر اظہارِ عبودیت کا بہترین ذریعہ ہے، میں مولا کی مرضی پر راضی ہوں آپ میرے لئے استقامت کی دعا کیجئے، مولا پاک مجھ ناچیز کو اس عظیم نعمت کا اہل ہونے کی توفیق بخشے! مجھ فقیر کی دعا ہے کہ مولا پاک ہر درد مند دل کو حقیقی راحت عطا فرمائے!
فقط
دعا گو
نصیر ہونزائی
۴۲
گلگت
۲۰ دسمبر ۱۹۷۲ء
عزیزانِ محترم امیر گل صاحب و امیر احمد صاحب مسگر
آپ کا ہمدردیوں بھرا تار موصول ہوا۔ دلوں کی قربت فاصلوں کی دوری مٹا دیتی ہے یہ ایک امرِ واقعہ ہے۔ اس ابتلا کے وقت آپ جیسے احباب کی ہمدردیاں میرے صبر و تحمل کی گرتی دیوار کے لئے عظیم سہارا ہیں۔
خدا کی کمالِ مہربانی کا یہ بھی ایک عظیم اظہار ہے کہ قوموں پر آنے والی ابتلا کی خبر پہلے یا تو اجتماعی تکلیف کی صورت میں یا اس کے سرکردہ افراد پر ناگہانی آزمائشات کی شکل میں مل جایا کرتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ قومیں جو وقت اور حالات سے نصیحت پکڑتی ہیں۔ میں نے مختلف مواقع پر اپنی قوم کو آنے والے کڑے وقت سے خبردار کیا ہے۔ اب بھی میں یہی کہتا ہوں اے میری قوم ہوشیار! خبردار!! بندہ بہرحال بندہ ہے۔ مادی طمطراق اور خورد و نوش کی آسائشوں کی خاطر اپنا منشائے تخلیق مت بھولو۔ دیکھو ایک دن اچانک ہم میں سے ہر ایک کو موت کا کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا۔ اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا۔ اے عزیزو! وہ وقت بہت ہی کٹھن ہے۔ مولا ہر مومن کو اس روز اپنے دامنِ عفو و کرم میں جگہ دے! آپ کی ہمدردیوں کے لئے بہت ہی شکر گزار ہوں۔
فقط
دعا گو
نصیر ہونزائی
۴۳
گلگت
۲۰ دسمبر ۱۹۷۲ء
عزیز بھائی موکھی غلام قادر صاحب حیدرآباد
فرزندِ عزیز ایثار علی کی حادثاتی موت پر آپ نے جن دلی جذباتِ ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے۔ اس پر میں آپ کا بہت ہی ممنون ہوں۔ اس خانۂ دودر میں جو آیا ہے اسے یہاں سے جانا لازمی ہے اس پر رنج و غم بے معنی ہے۔ انسانی فطرت کی کمزوری بعض دفعہ ناگہانی صدمات پر ہمیں دل برداشتہ ضرور کر دیتی ہے۔ تاہم عقل کی کسوٹی پر جو انسانی شرف کا واحد سبب ہے حالات کو پرکھا جائے تو حقیقتِ حال واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا ۔ ہم کیسے اس حقیقت کو جھٹلائیں نعوذ باللہ من ذالک۔ ابراہیم نبی سے اپنے نورِ نظر کی حلقوم پر چھری چلوائی اور فرمایا: انی جاعلک للناس اماما۔ اس حکیمِ مطلق کی حکمتوں کا شمار کون کرے۔ روحانی طور پر مجھے ایک گونہ طمانیت محسوس ہوتی ہے کہ میں بھی اپنے محبوب کی نظر میں ہوں۔ میرا محبوب یہ نذرانہ قبول فرمائے اور مجھے اس دریا کو عبور کرنے کی ہمت ودیعت فرمائے ! میرے ساتھ آپ نے جو ہمدردی فرمائی ہے، مولا آپ کو اس کا اجر بخشے ! آمین!
فقط
دعا گو
نصیر ہونزائی
۴۴
گلگت
۲۰ دسمبر ۱۹۷۲ء
عزیزِ من موکھی علی رہبر صاحب مرتضیٰ آباد
ارشادِ ربانی ہے: و کل نفس ذائقۃ الموت۔ جو پیدا ہوا ہے اسے آخر ایک دن مرنا بھی ہے۔ لیکن بعض دفعہ حیاتِ انسانی کا یہ لازمی نتیجہ کچھ اس طرح سامنے آتا ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ ایسا ہونا تھا انسان کچھ دیر اچنبھے میں پڑ جاتا ہے کہ ’’ہائیں! یہ کیا ہوا؟‘‘ مگر عزیزِ من! ہمیں بحیثیتِ بندگانِ پروردگار یہ فرمانِ خداوندی ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ: لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
دیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر
پیارے ایثار علی نے جس انداز سے داغِ مفارقت دیا وہ ایک گران بار صدمہ تو ہے مگر روحانیت کی نظر سے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا منزلِ حقیقت آنا ہی چاہتی ہے۔ اور محبوبِ حقیقی پردۂ مجاز کی اوٹ سے بنظرِ امتحان مشاہدہ کر رہا ہے کہ جسے میں نے اپنے لئے چن لیا ہے وہ میری طرف سے امتحان و ابتلا میں کتنا ثابت قدم رہتا ہے۔ میں راضی برضا ہوں آپ ہی میرے لئے استقامت کی دعا کیجئے۔
آپ نے اس عظیم ابتلا کے وقت جس اپنائیت کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے وہ میرے لئے بہت تقویت کا باعث ہے۔ مجھ دل شکستہ فقیر کی دعا ہے کہ مولا پاک آپ کو اور تمام جماعت کو اپنے حفظ و امان میں رکھے! آمین!
اور درویش کی دعا کیا ہے
فقط
دعا گو
نصیر ہونزائی
۴۵
گلگت
۲۰ دسمبر ۱۹۷۲ء
عزیزانِ من ولایت خان و نیت شاہ مرتضیٰ آباد
اپنے روحانی بھائی کی ناگہانی مفارقت پر آپ نے جس اندازِ یگانگت سے اور جن خوبصورت الفاظ میں میری اور میری بیگم کی دلجوئی کی ہے۔ مولا پاک ہر دو جہان میں اس کا بدلا آپ کو مرحمت فرمائے!
یہ دنیا دارالفرار ہے دارالقرار نہیں۔ دل کی دھڑکن، گزرتے لمحات، بدلتے دن رات اور ماہ و سال کی گردش سے جو خاموش سبق ہمیں ملتا ہے جب ہم اس سے غافل ہو جاتے ہیں تو نظامِ قدرت جو بندوں پر بے انتہا مہربان ہے ایسے حوادثات کے ذریعے ہمارے سوتے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر جگانے کا بندوبست کرتا ہے۔ بڑی سے بڑی ابتلا قدرت کی طرف سے بڑے سے بڑا انعام ہے۔ ہاں! البتہ دنیاوی بندھنیں ایسے مواقع پر ہمارے اذہان کو قدرے مکدر ضرور کر دیتی ہیں۔ سو اس کے لئے ہمیں پروردگار سے معافی کا طالب ہونا چاہئے۔
میں اپنے تمام عزیزوں، دوستوں، شاگردوں اور عموم جماعت کو ایسے مواقع پر صبر و شکر کی تلقین کرتا آیا ہوں۔ آج جب کہ میں خود امتحان میں ہوں تو آپ مجھ سے بہتر رویہ اور مثالی کردار کی توقع کر سکتے ہیں میرے لئے دعا بھی کیجئے کہ مولا ہمت عطا فرمائے! مولا پاک آپ سب کو حقیقی راحت و دائمی سکون عنایت فرمائے!
فقط
دعاگو
نصیر ہونزائی
۴۶
گلگت
۲۰ دسمبر ۱۹۷۲ء
بہت ہی پیارے مجیب!
پیارے ایثار نے اچانک اس طرح ہمیں چھوڑ دیا کہ بے ساختہ کہنا پڑا:
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے!
کیا خوب! قیامت کا بھی ہو گا کوئی دن اور؟
آپ نے جس اندازِ یگانگت سے ہماری دلجوئی کی ہے میں اس کی بہت قدر کرتا ہوں اور مرحوم کے بارے میں آپ نے جن اچھے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ مولا پاک آپ کو اس کا اجر بخشے! مگر میں آپ پر واضح کر دوں کہ انسان یہی کچھ نہیں ہے کہ:
پیدا ہوا، کھایا پیا، اور مر گیا
بلکہ حقیقت میں انسان وہ ہے جو مر کر جیے، وہاں اس دائمی منزل میں جہاں ابدیت ہے، ایک لافانی عالم، جو انسان کی حقیقی آسودگاہ ہے۔ پھر یہ دنیا تو آنی جانی ہے اس کا کیا غم، اور جو عزیز اس دارِ محن سے جس قدر جلد چھٹکارہ پائے اسی قدر خوشی کا مقام ہے۔ البتہ بشر کی فطری کمزوری آڑے آتی ہے۔ آپ جیسے غمگساروں کی موجودگی میرے لئے بڑی تقویت کا باعث ہے۔ میرے لئے صبر و استقامت کی دعا کیجئے۔ مولا کی مرضی پر جان قربان! یہ میرے الفاظ نہیں ہیں بلکہ میرے دلی جذبات کا اظہار ہے میں نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا:
جا ھیرسٹہ مشغول گمنس با کہ یہ آور
ان خوش گمنس نا جہ یہ جا اسلوبم اکگو
۴۷
اگر میرے مولا کو میرے چمنِ زندگی کا بہترین پھول پسند آیا تو یہ میرے لئے فخر اور خوشی کا مقام ہے نہ کہ رنج اور افسوس کا:
بے وجہ نہیں گرمیٔ حالت میرے دوست
کچھ تو ہے پسِ پردہ نہان میرے لئے بھی
آپ کی ہمدردیوں کا ایک بار شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کی والدہ بھی بہت دعائیں دیتی ہے۔
فقط
دعاگو
نصیر ہونزائی
۴۸
میرے روحانی عزیزانِ مرتضیٰ آباد
یا علی مدد! آپ کی ہمدردیوں اور غمگساریوں کا بہت بہت شکریہ! کہ آپ نے میرے مرحوم فرزند کی مغفرت اور ہمارے صبر و استقلال کے لئے بارہا دعائیں کی ہیں۔
جاننا چاہئے کہ حق تعالیٰ اپنے دوستوں سے سب سے پیاری چیز کی قربانی چاہتا ہے، تا کہ اس امتحان سے اس کی سچی دوستی ثابت ہو جائے۔
ظاہر ہے کہ مومن اکثر اپنے آقا و مولا کے لئے فدا اور قربان جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے، لیکن جب کوئی قدرتی قربانی اور فدیہ واقع ہوتا ہے تو اس میں جزع و فزع کرنے لگتا ہے، پس کسی بھی موت پر کوئی افسوس نہیں، بلکہ انسان کی پست ہمتی پر بہت افسوس ہے۔
فقط
آپ کا استاد
نصیر ہونزائی
۲۱ دسمبر ۱۹۷۲ء
۴۹
بخدمتِ ممبران نامدار کونسل حیدرآباد۔ ہونزا
یا علی مدد! آپ صاحبان کی طرف سے مجھے نامۂ تعزیت موصول ہوا، ماتم پرسی اور اظہارِ افسوس کا بہت بہت شکریہ!
قرآنِ حکیم کے ارشادِ گرامی کے بموجب ہم اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، جب حقیقت یہی ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں، تو بندۂ مومن کے لئے کسی عزیز کی موت پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے، جبکہ مومن کی موت اللہ تعالیٰ کی قربت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
آپ صاحبان نے جس خلوص و محبت سے میرے نورِ نظر کے لئے مقدس عبادت خانہ میں دعائیں مانگی ہیں، میں اس کا ممنون ہوں، یقین ہے کہ آپ کی دعاؤں سے میرے عزیز فرزند کو ثواب اور مجھے صبر و سکون ملے گا۔
فقط آپ کا دینی خادم
نصیر ہونزائی
۲۱ دسمبر ۱۹۷۲ء
۵۰
بخدمتِ موکھی صاحب، کامڑیا صاحب
اور جماعتِ خروکشل حیدرآباد
یا علی مدد! میرے فرزندِ دلبند کی جدائی پر آپ صاحبان نے جس دل سوختگی اور ہمدردی سے اظہارِ افسوس کیا ہے، میں اس کے لئے قلبی طور پر شکرگزار ہوں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس صدمۂ جانکاہ میں میرا سخت امتحان ہو رہا ہے لیکن میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں، کیونکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ میں ایک حقیقی مسلمان اور امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کے سچے مریدوں میں سے ہوں، لہٰذا میں حق تعالیٰ کی ذاتِ اقدس پر توکل کرتا ہوں۔
آپ نے میرے عزیز ایثار علی کے حق میں جو بار بار دعا کی اور تسبیح پڑھی، اس کا صلہ و بدلہ خداوندِ تعالیٰ دونوں جہان میں عطا فرمائے گا۔
فقط
آپ کا اپنا
نصیر ہونزائی
۲۱ دسمبر ۱۹۷۲ء
۵۱
میری عزیز جماعتِ بر بر حیدرآباد
یا علی مدد! آپ نے جناب غلام قادر کے توسط سے مجھے جو تعزیت نامہ لکھا ہے اور جس یگانگت سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے، میں اس کا دل و جان سے احسان مند ہوں۔ جیسا کہ آپ میرے متعلق یہ توقع رکھتے ہیں، کہ میں اس ابتلا و آزمائش کے موقع پر صبر اور شکر سے کام لوں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ میں ایسا ہی کروں گا، کیونکہ میرے دین و دنیا کے فوائد اسی عمل میں پوشیدہ ہیں۔
معلوم ہوا کہ آپ نے اپنے پاک عقیدے کے مطابق میرے لختِ جگر کی مغفرت اور ثواب کے لئے دعائیں اور تسبیحیں پڑھی ہیں، یقین ہے کہ اس کے اجرِ عظیم میں سے آپ کو بھی ایک بڑا حصہ ملے گا۔
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۲۲ دسمبر ۱۹۷۲ء
۵۲
بخدمتِ شاہین والنٹیئرز حیدرآباد، ہونزا
یا علی مدد! مجھے سب سے پہلے آپ کی دینی خدمات کا اعتراف کرنا چاہئے کہ آپ کے کارنامے بے مثال ہیں، بعد ازان میں صمیمیتِ قلب سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اور حیدرآباد کی تمام جماعت نے میری اس مصیبت کے موقع پر نہ صرف دعائیں پڑھی ہیں، بلکہ ساتھ ہی ساتھ ہمدردی اور شرکتِ غم کے خطوط بھی بھیجے ہیں۔
میں آپ کی امید کے مطابق ان شاء اللہ تعالیٰ صابر و شکر رہوں گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے اسی میں مومن کی بہتری ہے، ہمیں دنیا کے مقابلے میں آخرت کی زیادہ ضرورت ہے، پس حصولِ آخرت کے لئے ایک عزیز پچیس سالہ جوان بیٹے کی قربانی ضروری ہوئی۔
آپ کا دعاگو فقیر
نصیر ہونزائی
۲۳ دسمبر ۱۹۷۲ء
۵۳
محترم عباد اللہ بیگ صاحب گلگت، ہونزا نیشنل گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی راولپنڈی
السلام علیکم و یا علی مدد! میں آپ کا نہایت ہی شکرگزار ہوں کہ آپ نے میرے ساتھ عملی ہمدردی میں کوئی کسر فروگذاشت نہیں کی، بے شک ایک حقیقی مومن کا شیوہ و شعار ایسا ہی ہونا چاہئے، میں آپ کے ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ جماعت اور بنی نوع انسان کی خدمت کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔
فی الواقع پیارے ایثار علی کی اچانک موت سے اس کے والدین اور اقربا کے لئے بہت بڑا صدمہ ہوا، لیکن جب ہم حقیقت کی روشنی میں دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ جسمِ خاکی فانی ہے اور روحِ پاک باقی ہے، اور طائرِ روح کے قفسِ عنصری کو چھوڑنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں، پس اگر ہم روحانیت کے قائل ہیں، تو ہمیں اپنے عزیز فرزند کی روحانی ملاقات پر یقین رکھنا چاہئے۔
آپ کا روحانی بھائی
نصیر ہونزائی
۲۳ دسمبر ۱۹۷۲ء
۵۴
محترم میر جہان شاہ صاحب
نیشنل گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی
یا علی مدد! میں آپ کے مکتوب کا شکرگزار ہوں، جو میرے غم کو کم کرنے کی غرض سے لکھا گیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے کہ: لا تقنطوا من رحمۃ اللہ یعنی تم خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی سخت ترین مصیبت میں بھی خدا کی رحمت سے مایوسی نہ ہونی چاہئے، چنانچہ اگر ہم پس ماندگان میں سے کوئی فرد اس لئے روتا ہے کہ اب ایثار علی کا دیدار نہ ہو گا، تو یہ خیال آیۂ مذکورۂ بالا کی رو سے غلط ہے کیونکہ آیت بزبانِ حکمت اعلان کر رہی ہے کہ اللہ کی رحمت سے عزیزوں کی ملاقات ہونے والی ہے، اوروہ روحانی عالم میں ہو گی۔
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ء
۵۵
بخدمتِ شناکی جماعت مقیم کراچی
ممبران شناکی ملٹی پرپز سوسائٹی کراچی
یا علی مدد! آپ روحانی بھائیوں نے جس ہمدردی اور اخوت سے میری ماتم پرسی کی ہے، میں اس کا واجبی طور پر شکریہ ادا نہیں کر سکتا ہوں، خداوندِ تعالیٰ خود آپ کو اس نیکی کا اجر عطا فرمائے گا۔
اگرچہ میرے نورِ نظر ایثار علی نے اپنی جدائی سے میرے ناچار دل کو پارہ پارہ کر دیا ہے، تاہم حکمِ مولا کے سامنے سرِ تسلیم خم کر رہا ہوں، البتہ یہ امتحان میرے لئے لازمی تھا، کیونکہ میں نے مولا کی عاشقی کا دعویٰ کیا تھا، اور میں نے یہ راستہ آسان سمجھا تھا، بقولِ حافظ شیرازی کہ عشق آسان نمود اول ولی افتاد مشکلہا۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ء
۵۶
بخدمتِ موکھی صاحب، کامڑیا صاحب اور
جماعتِ مرکزی جماعتخانہ ہونزا حیدرآباد
یا علی مدد! آپ کا تعزیت نامہ موصول ہوا، جس میں میرے جگر پارہ فرزند ایثار علی کے حادثۂ جان گسل پر اظہارِ افسوس کیا گیا تھا، میں آپ کے اس نامہ کا احسان مند ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیارے ایثار علی کی جدائی ہمیں بہت ستا رہی ہے لیکن اس زخمِ دل کا مرہم صبر اور شکر کی صورت میں ہے اس کے سوا اور کوئی دوا نہیں۔
صبر اور شکر حقیقی معنوں میں ہو، تو فی الواقع مرہم ہی ہے، ورنہ سطحی صبر و شکر سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
آپ کا
ایک علمی خادم
نصیر ہونزائی
۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ء
۵۷
میری روحانی بہنیں لیڈی والنٹیئرز حیدرآباد ہونزا
یا علی مدد! آپ مہربان بہنوں نے جن الفاظ میں مجھے تعزیت نامہ لکھا ہے، اور جس اخلاص سے دعا کی ہے، میں اس کا شکرگزار ہوں۔
اگرچہ جوان لڑکے کی اچانک موت ہر انسان کے لئے ایک بہت بڑا صدمہ ہے، تاہم حقیقی مومن کو تسلیم و رضا پر عمل پیرا ہونا چاہئے، چنانچہ میں اس بڑی آزمائش میں پروردگارِ عالم سے عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور میرے خاندان کو صبر و ثبات کی توفیق و ہمت عنایت فرمائے! ہم میں سے کسی کی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکلے جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنے!
شکر ہے کہ محبوبِ حقیقی نے میری مسرتوں کے گلشن سے ایک تازہ گلاب کے پھول کو پسند فرمایا۔
آپ کا
روحانی بھائی
نصیر ہونزائی
۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ء
۵۸
بخدمتِ جناب صدر و سیکریٹری
نامدار لوکل کونسل علی آباد ہونزا
یا علی مدد! آپ صاحبان نے اپنی نامدار کونسل اور نیکنام جماعت کی جانب سے مجھے جس ہمدردی اور دلسوزی سے تعزیت نامہ لکھا ہے، میں اس کا شکرگزار ہوں۔
جیسا کہ آپ اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، پس اگر خدا تعالیٰ اپنی کسی امانت کو واپس لیتا ہے، تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، مجھے شکر کرنا چاہئے کہ ایک امانت پھول پچیس سال تک میری خوشیوں کے گلشن کی زینت بنا رہا۔
اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روحانی عالم ایک ایسا مقام ہے جہاں ہمیں اپنے تمام عزیزوں کی ملاقات میسر ہونے والی ہے، پھر ہمیں اس ابتلا میں صبر و شکر کرنا ازبس ضروری ہے۔
فقط
آپ کا قومی خادم
نصیر ہونزائی
۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ء
۵۹
عزیزم درویش علی حیدرآباد ایمان زیاد باد!
بعد دعائے یا علی مدد واضح آنکہ عزیز کا خط ملا اور آپ کی ہمدردیوں کا شکریہ ادا کیا، ظاہر ہے کہ آن عزیزان ہماری خوشی میں خوش اور ہمارے غم میں غمگین ہوتے ہیں، جس کی وجہ آپ کا دین اور ایمان ہے، خداوندِ عالم جملہ عزیزوں کے نورِ ایمان میں اضافہ فرمائے! آمین!!
ثانیاً معلوم ہونا چاہئے کہ جو شخص مومنی اور عاشقی کا دعویٰ کرتا ہے، خدا تعالیٰ اس سے طرح طرح کا امتحان لیا کرتا ہے، تا کہ ظاہر ہو جائے کہ وہ شخص فی الواقع مومن و عاشق ہے یا جھوٹا مدعی۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۲۵ دسمبر ۱۹۷۲ء
۶۰
عزیزم صحت علی کراچی ایمان زیاد باد!
یا علی مدد! میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، نیز عزیزانم سلیمان شاہ، صفت خان، علی مدد، مولا مدد، شیر اللہ، شاہ غریب، محمد ضمیر، مبارک شاہ، احمد بیگ وغیرہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ عزیزوں نے میرے فرزندِ جگر بند کے انتقالِ پر ملال پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
آپ عزیزان سے پوشیدہ نہیں کہ حقیقی مومنوں سے ایسے امتحانات لئے جاتے ہیں، تا کہ ظاہر ہو جائے کہ مال و اولاد پیاری ہے یا کہ خدا کی خوشنودی عزیز ہے۔
یہ مجھ سے نہ پوچھا جائے کہ ایثار علی مجھے کس قدر عزیز تھا، مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہئے کہ میرے خزانوں میں سے ایک گرانقدر خزانہ خدا کی راہ میں صرف ہوا، جبکہ اولاد سے بڑھ کر کوئی چیز قیمتی نہیں۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۲۵ دسمبر ۱۹۷۲ء
۶۱
محترم کامڑیا ایوب صاحب مسگر
یا علی مدد! آپ نے جن پیارے الفاظ میں ہمیں تعزیت نامہ لکھا ہے اور جس ہمدردی سے اظہارِ افسوس کیا ہے، ہم اس کے شکرگزار ہیں، دعا ہے کہ پروردگارِ عالم آپ کو، آپ کے عزیزوں کو اور تمام جماعت کو دونوں جہان کی کامیابی عنایت فرمائے! آمین!!
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سانحہ ہمارے لئے بہت بڑا ہے، کیونکہ ایثار علی ہمارے جگر کا ٹکڑا تھا اور دل کا پیوند، لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہمیں مولا کی خوشنودی اس سے زیادہ عزیز اور عظیم ہونی چاہئے۔
ایک دین شناس شخص کی حیثیت سے مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہئے، کہ اس نے امتحان کے لئے مجھے انتخاب فرمایا اور قربانی کے لئے میرے پیارے نوجوان بیٹے کو۔
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۲۵ دسمبر ۱۹۷۲ء
۶۲
جناب غلام محمد خان صاحب نمائندۂ جماعتِ مسگر
یا علی مدد! میرے اس غم و الم کے موقع پر آپ نے مسگر کی نیک نام جماعت کی طرف سے جس شانِ اخلاص و محبت اور ہمدردی سے خط لکھا ہے اور جس شفقت و الفت سے میری تسلی و تشفی کی گئی ہے، میں اس کے لئے شکر گزار ہوں۔
برادرِ محترم! جیسا کہ آپ پر یہ حقیقت روشن ہے، کہ معشوقِ حقیقی اپنے عاشقوں سے ایک محبوب ترین چیز کی قربانی طلب کرتا ہے، چنانچہ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام سے اپنے عزیز اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اسی اصول کے مطابق مانگی گئی تھی، پس مجھے شکرگزار رہنا چاہئے، کہ مجھ سے بھی اپنی حیثیت کے مطابق ایک قربانی طلب کی گئی۔
دعا ہے کہ خداوندِ عالم تمام جماعت کو دین و دنیا کی کامیابی اور سرخروئی عطا فرمائے! آمین یا رب العالمین!!
فقط
آپ کا بھائی
نصیر ہونزائی
۲۵ دسمبر ۱۹۷۲ء
۶۳
جناب صدر صاحب لوکل کونسل گلمت۔ ہونزا
یا علی مدد! میں آپ کا اور آپ کی کونسل کے جملہ اراکین کا نیز آپ کی متعلقہ جماعتوں کا شکرگزار ہوں، کہ آپ نے ان تمام کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے میرے دردِ فراق میں مجھ سے ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے۔
اے میرے دیرینہ دوست! میرا دل تو فطری طور پر اپنے عزیز فرزند کی جدائی کے خنجر سے پارہ پارہ ہو چکا ہے، اور اگر میں اپنی اندرونی کیفیت بیان کروں، تو دنیا کا سب سے بڑا سنگ دل انسان بھی رونے پر مجبور ہو جائے گا، لیکن آپ یقین کیجئے کہ میں نے اس سانحہ سے بہت پہلے اپنے خداوند سے عہد کر لیا ہے کہ میں دنیا کی کسی بھی مصیبت پر ہرگز آنسو نہ بہاؤں گا، پس الحمدللہ میں اپنے عہد پر قائم ہوں، یہ مہربانی اس ذاتِ اقدس کی ہے، جس کے قبضۂ قدرت میں سب کچھ ہے، ہاں اس میں شک نہیں کہ میں جب بھی موقع ہو خدا کے حضور میں درویشانہ انداز میں گریہ و زاری کرتا رہتا ہوں، یہ میری روحانی آبادی کے لئے بارانِ بہار کا حکم رکھتی ہے۔
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء
۶۴
میرے عزیز ماسٹر صاحب علی پناہ گلمت ہونزا
یا علی مدد! آپ نے جو مجھے تسلی و تسکین کے لئے خط لکھا ہے۔ میں اس کا ممنون و شکرگزار ہوں، پروردگارِ عالم آپ کو دینی اور دنیاوی طور پر کامیابی عطا فرمائے!
امید ہے کہ آپ میری باتوں پر اعتماد کریں گے، کہ میں ایک درویش آدمی ہوں، اور سچے درویش کو اللہ تعالیٰ ہر قسم کی مصیبتوں کا متحمل بنا دیتا ہے، چنانچہ میں اپنے جوان اور خوبصورت بیٹے کی ناگاہ موت کے سنگین بوجھ کو صبر و شکر کے ساتھ اٹھا رہا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے متعلق قوم و جماعت کی نیک دعا سن لی ہے۔
آپ اپنے قبلہ اورخاندان کے ہر فرد کو میری دعا اور تسلیم پہنچا دیں اور محترم غلام الدین صاحب کو بھی اسی طرح سے۔
خداوندِ تبارک و تعالیٰ جملہ جماعت کو دین و دنیا کی کامیابی اور سربلندی عطا فرمائے! کہ اس نے ہر موقع پر اس درویش سے تعاون کیا۔
آپ کا دعا گو
نصیر ہونزائی
۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء
۶۵
برادرِ محترم دولت شاہ صاحب بر بر حیدرآباد
یا علی مدد! آپ نے جس دلسوزی اور ہمدردی سے مجھے تعزیتی خط لکھا ہے اور جن ناصحانہ الفاظ میں خطاب کیا ہے، میں اس کے لئے بے حد ممنون ہوں، ہمشیرہ صاحبہ کو ہمارے متعلق یقین دلانا کہ ہم صابر و شاکر ہیں۔
واضح رہے کہ معشوقِ حقیقی نے میری خوشیوں کے باغ سے ایک ایسے خوبصورت اور خوشبودار پھول کو چن لیا، جو نہ تو غنچہ تھا اور نہ مرجھایا ہوا، بلکہ پوری طرح سے کھل گیا تھا، پھر کیا میں اپنے معشوق کے اس انتخاب پر کوئی اعتراض کر سکتا ہوں؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں۔
اے پروردگار! میرے اس روحانی پھول کو جنت الفردوس کے پھولوں کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تر و تازہ رکھنا! اور ہمیں فردائے قیامت اس کے رنگ و بو سے مستفیض ہونے کی سعادت بخشنا! اے خداوندِ عالم! جملہ جماعت کی نیک مرادیں پوری کر دے! آمین یا رب العالمین!
فقط
آپ کا بھائی
نصیر ہونزائی
۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء
۶۶
محترم کامڑیا دولت علی صاحب، بلتت ہونزا
یا علی مدد! آپ کا نوشتہ جو میرے زخم خوردہ دل کی تسکین کے لئے تھا، موصول ہوا۔ میں صمیمیتِ قلب سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، خدائے حکیم آپ کو نیک مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے!
آپ نے مشہور انبیاء علیہم السلام کے حالاتِ زندگی کا خوب مطالعہ کیا ہے، جبکہ ان حضرات میں سے ہر ایک کی زندگی ہمارے لئے ہدایت نامۂ عمل کی حیثیت سے ہے، پس پیغمبروں کی مجموعی زندگی اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ انسان کی دنیاوی اور جسمانی زندگی مصائب و آلام سے کبھی خالی نہیں ہو سکتی ہے، لہٰذا ہمیں اس نقصان پر نالان نہ ہونا چاہئے، بلکہ صبر اور شکرجیسے اوصاف کو اپنانا چاہئے۔
میں پوری قوم اور جماعت کا شکرگزار ہوں، کہ میرے مرحوم بیٹے کے لئے جگہ جگہ دعائیں مانگی گئیں۔
آپ کا بھائی
نصیر ہونزائی
۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء
۶۷
عزیزم ولایت علی (برادرزادہ) کراچی
یا علی مدد! عزیز کا تعزیتی خط موصول ہوا، اظہارِ ہمدردی کا بہت شکریہ! جاننا چاہئے کہ درجۂ اول کی بلائیں انبیاء و ائمہ علیہم السلام پر آتی ہیں، اس کے بعد بزرگانِ دین اور حقیقی مومنین پر، الحمدللہ کہ اگر خدا کو منظور ہوا تو ہم بھی آج ان مومنین میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ امتحان لیا کرتا ہے، پھر صبر و شکر کے بعد ان کو نوازتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سی نعمتیں عطا فرمائی ہیں، آج اگر ان میں سے ایک نعمت امتحاناً ہم سے واپس لی گئی، تو پھر بھی ہمارے پاس بہت سی نعمتیں موجود ہیں، پس ہمیں شکر کرنا چاہئے تا کہ ان باقی ماندہ نعمتوں میں برکت پیدا ہو۔
فقط
آپ کا چچا
نصیر ہونزائی
۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء
۶۸
جنابِ عزت مآب وزیر امیر علی صاحب کریم ابراہیم کراچی
یا علی مدد! میرے جگر پارہ فرزند کے انتقالِ پرملال پر آپ نے جس شانِ شفقت و محبت اور جن معنی خیز الفاظ میں اظہارِ ہمدردی فرمایا ہے، میں اس کے لئے بہت ہی شکرگزار ہوں۔
جنابِ عالی! میں اپنے ان احساسات کی بابت جو اس وقت مجھ میں پائے جا رہے ہیں، اظہارِ خیال کرنا چاہتا ہوں کہ انسان تو انتہائی درجے کی ایک حساس مخلوق ہے، حیوان بھی اپنی اولاد کی جدائی سے رنج و غم محسوس کرتے ہیں، لہٰذا فطرتاً یہ لازمی تھا کہ اپنے عزیز جوان بیٹے کی اچانک موت سے ہم پر رنج و غم کا ایک عظیم پہاڑ ٹوٹ پڑے، لیکن اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنا کرشمہ دکھاتی رہتی ہے، چنانچہ ہم نے اس کمرشکستگی کے عالم میں تائیدِ غیبی کے لئے دعا کی، پس اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہماری اور جملہ مومنین کی دعا قبول ہوئی، کہ ہم بھی صحیح معنوں میں صبر و شکر کرنے لگے۔
امید ہے کہ ہم اپنی زندگی کے آخری ایام تک حسبِ معمول اپنے دینی فرائض کی انجام دہی کرتے رہیں گے، ہمارے لئے مزید دعا کیجئے۔
فقط
آپ کا تابعدار
نصیر ہونزائی
۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء
۶۹
گلگت
۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء
برادر دوست و محترم آقای دارا بیگ صاحب روزگارتان خوش باد!
نمی توانم احوالِ خود را شرح دہم و مآل این صدمۂ جانکاہ را بیان کنم۔ آرے از وصالِ ناگہانیٔ لختِ جگرم جگرم لخت لخت شدہ و جنگ فلک نا ہنجار کہ ہموارہ پے جورِ بے سبب میگردد برجانِ منِ ناتوان سخت تر از سخت۔ مگر با اینکہ بر استخوان ہائے پیرم بارے بس گران افتادہ مطمننم، بدو وجہ، اول این کہ این دنیا را بقائے نیست ہر کہ درین خانۂ دودر آمدہ باید کہ روزے ازین جا برود و بقولِ سعدی:
من این جا دیر ماندم خور گشتم
عزیز از ماندنِ دانم شود خوار
ہر کہ دیر تر زید خوارتر گردد بقولِ خدائے تعالیٰ: و من نعمرہ ننکسہ فی الخلق۔ از روی عقل ہر کہ ازین جا زود تر برود از خواریٔ بسیار ایمن میگردد۔ من سپاس میگونم خداوندِ عالمین را کہ عطیۂ کہ بصورتِ پسر بر من ارزانی فرمودہ بود۔ پیشتر ازین کہ ناشکریٔ درین خصوص از من سرزد گردد دادۂ خود را بخود باز گرفت و ہمچنین دو نعمت مزید برین بندۂ سر افگندۂ خود عنایت نمود کہ رہاند مرا از
۷۰
ناشکریٔ عطا و فرزندِ مرا از ازدیادِ خطا کہ بصورتِ زندگانی درین عالمِ فانی واجبِ انسان است۔
دوم اینکہ سرکار سلطان محمد شاہ روحنا فداہ فرمودہ است ’’خوش نصیب است کسے کہ اندرین عالم دوستانِ غمگسار دارد کہ ایشان وقت تنگی از حال او بے خبر نمی مانند و پیٔ چارۂ آن میکوشند‘‘۔ برادران و دوستان مثل شما برای یکی ہمچو منِ پامالِ غم عطائے الٰہی ہستند۔ من نمی توانم جزائے این غم خواری را بدہم۔ خدائے تان دہاد! و صد گونہ دہاد!! از شما دعائے صبر و استقامت را جویانم و ہمشیرۂ خویش را بیشتر ازین چہ گویم کہ:
درین دنیا کسی بے غم نباشد
اگر باشد بنی آدم نباشد
فقط
برادر غمزدۂ تان
نصیر ہونزائی
۷۱
محترم ایکس حوالدار شاہ زرین صاحب تمغۂ جرات بلتت
یا علی مدد! میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے میری اس مصیبت پر بڑی ہمدردی سے اظہارِ افسوس کیا ہے اور صبر و سکون کا مشورہ دیا ہے۔
آپ کا فرمانا بجا ہے، کہ چند سال قبل آپ سے بھی انتہائی سخت امتحان لیا گیا تھا، ایک بار نہیں دو بار، آپ کی دوسری مصیبت پر میں نے ذیل کے اشعار کہے تھے جن کی معنی میں میری طرح کے مصیبت زدہ انسانوں کے لئے کافی نصیحت و عبرت موجود ہے، وہ عنوان اور اشعار یہ ہیں: پیغام از زبانِ حالِ نیت زرین (۱۹۳۶ ۔ ۱۹۶۸) بہ پدرِ گرامی شاہ زرین صاحب تمغۂ جرات:
۱۔ روح را بشناس و تن را در گذار
تا شوی در ہر دو عالم کامگار
۲۔ من کہ روحم جسم را بگذاشتم
تا رسم در روضۂ دار القرار
۳۔ تو مرا فردا بہ بینی اے پدر
اشکِ غم از دیدۂ حسرت مبار
۴۔ نیستم امروز ہم از تو جدا
در خیال و خواب تو اے غمگسار
۵۔ پیش و پس اولادِ تو خدامِ تو
زان توئی در این و آن چون شہریار
۶۔ پس چرا غمگین شوی اے شیر مرد
رحمتِ حق چون بود انجامِ کار
۷۲
۷۔ ای پدر گر خیرِ ما خواہی مدام
در دعائے خیر ما را یاد دار
۸۔ از زبانِ حالتِ نیت زرین
این نصیحت باد دائم یادگار
ترجمہ: ۱۔ روح کو پہچان لے اور جسم کو چھوڑ دے، تا کہ تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جائے۔
۲۔ میں نے جو روح ہوں جسم کو چھوڑ دیا، تا کہ میں دارالقرار (جنت) کے باغ میں پہنچ سکوں۔
۳۔ اے میرے باپ! تو مجھے کل (قیامت کے دن) دیکھے گا، غم کے آنسو حسرت کی آنکھ سے نہ بہا۔
۴۔ آج بھی میں تجھسے جدا نہیں ہوں، تیرے خیال اور خواب میں اے غمخوار!
۵۔ تیرے آگے اورپیچھے یعنی دنیا و آخرت میں تیری اولادیں تیرے خدمتگار ہیں، اس لئے تو دونوں جہان میں پادشاہ کی طرح ہے۔
۶۔ اے شیر مرد! تو کیوں غمگین ہے، جبکہ اس کام کا نتیجہ خدا کی رحمت ہے۔
۷۔ اے باپ! اگر تو ہمیشہ ہماری بہتری چاہتا ہے، تو نیک دعا میں ہمیں یاد رکھنا۔
۸۔ نیت زرین کی زبانِ حال سے، یہ نصیحت ہمیشہ کے لئے یاد رہے۔
۷۳
خلاصۂ مطلب یہ ہے، کہ جسم کی کوئی اہمیت نہیں، اصل حقیقت روح ہے، روح ہی بہشت میں پہنچ سکتی ہے، کسی عزیز کی موت پر افسوس و غم کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ قیامت کی ملاقات برحق ہے، اس حیات میں بھی روح ہمارے ساتھ ہے، یہ مومن کی خوش بختی ہے کہ کچھ اولادیں اس کے آگے بھی جائیں، متوفی کے حق میں دعا ضروری ہے۔
فقط
آپ کا روحانی بھائی
نصیر ہونزائی
۳۰ دسمبر ۱۹۷۲ء
۷۴
محترم نائب صوبیدار صاحب نظر صاحب عطا آباد
یا علی مدد! آپ کی جانب سے تعزیت نامہ موصول ہوا، میری اس مصیبت کے متعلق آپ نے اظہارِ افسوس و ہمدردی کے لئے جو مشفقانہ الفاظ استعمال کیے ہیں اور جس محبت و یگانگت سے نیک مشورے اور دعائیں دی ہیں، میں ہمیشہ اس کا احسانمند رہوں گا۔ میں اس وقت اپنے ما فی الضمیر کو واضح کر دینا چاہتا ہوں، کہ انسانی فطرت کے نزدیک دنیا میں اولاد سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں ہو سکتی ہے، خصوصاً ایک جوان، ہوشیار اور خوبصورت بیٹاۛ! لیکن حقیقی مومن کے نزدیک بموجب یہ قول: ’’امرِ مولا از ہمہ اولیٰ‘‘ مولا کا حکم ہر چیز سے برتر اور عزیز تر ہے، الحمد للہ میں خود بھی یہی عقیدہ رکھتا ہوں۔
دعا ہے کہ خداوندِ برتر و توانا ساری قوم اور جماعت کے افراد کو دونوں جہان کی سعادتمندی عطا فرمائے! کہ انہوں نے اس موقع پر میرے مرحوم فرزند کے ثواب کے لئے کچھ دعائیں کی ہیں۔
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۳۰ دسمبر ۱۹۷۲ء
۷۵
مومنینِ بایقینِ جماعتِ خیر آباد (رامنج)
یا علی مدد! آپ حقیقی مومنین نے میرے فرزندِ دلبند کی ناگہانی موت پر جس جذبۂ ہمدردی سے متاسفانہ پیغام بھیجا ہے اور جس خلوصِ ایمانی سے دعا و نصیحت کی ہے، میں اس کا ہمیشہ معترف اور شاکر رہوں گا۔
اے میری عزیز قوم! اس میں کوئی شک نہیں، کہ میرا ایثار علی مجھے بہت ہی عزیز تھا، اتنا عزیز کہ میں بیان نہیں کر سکتا، لیکن خدا و رسول صلعم اور ائمۂ اطہار علیہم السلام کی ان پرحکمت ہدایتوں سے میں کس طرح چشم پوشی کر سکتا ہوں، جو مصائب و آلام میں صابر و شاکر رہنے کے لئے فرمائی گئی ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کی یہ مشہور ہدایت: انا للہ و انا الیہ راجعون یقیناً ہم اللہ کے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، یعنی ہم اللہ کی ملکیت ہیں وہ ہمیں جس طرح استعمال کرے اسی میں ہماری بہتری ہے اور اسی سے ہم دنیا اور آخرت میں اللہ کے نزدیک ہو سکتے ہیں۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۳۰ دسمبر ۱۹۷۲ء
۷۶
گلگت
۳۱ دسمبر ۱۹۷۲ء
عزیز بھائی غلام محمد جی!
ہاں! ہونہار جوان سال بیٹا ایک باپ کے لئے جس پر بیک وقت کئی ذمہ داریاں لاگو ہوں نہ صرف عزم و ہمت کی ڈھال ہے آلامِ زمانہ سے مقابل ہونے کے لئے بلکہ ایک ایسی دو دھاری تلوار بھی ہے جو ایک طرف اغیار کی مخاصمانہ نگاہوں کو اپنی چمک سے خیرہ کر دیتی ہے تو دوسری طرف مختلف ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا کر ایک رو بہ پیری باپ کے لئے یادِ خدا کے لئے یکسوئی کے اوقات مہیا ہو جاتے ہیں، جو ایک انسان کے لئے حقیقی نعمت ہیں۔
مگر میرے عزیز! مالک فرماتا ہے: عسی ان تکرھوا شیئا و ھو خیر لکم (۲:۲۱۶)۔ میرے لختِ جگر کی نگہانی موت میری کمرِ ہمت پر ضرب کاری ضرور ہے مگر میں نے عزم کر لیا ہے کہ اس چوٹ کو سہا جائے نہ صرف یہ بلکہ صبر و شکر کے مرہم سے اس چوٹ کا مداوا بھی کیا جائے۔ الرحمٰن الرحیم خدا کو اپنے بندوں کا بھلا ہی مطلوب ہوتا ہے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا میرا پیارا ایثار میرے آس پاس کہیں موجود ہے اور چپکے چپکے، ہولے ہولے، مجھے ایثار و قربانی کی تلقین کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے، ’’ابو! آپ نے ایک دن کہا تھا کہ سفرِ زندگی میں مرد کی نظر ہمالیہ کی چوٹی پر ہونی چاہئے۔ کہا تھا نا ابو! مجھے وہ بات ہمیشہ یاد رہی۔ دیکھیے نا! امی کی نرم اور گرم گود سے میں نے جس سفر کا آغاز کیا تھا، اسے یخ بستہ برف پوش پہاڑوں کے پتھریلے آغوش میں انجام کو پہنچایا۔ ابو! سچ ابو! اس دنیا میں میری آخری نظر نانگا پربت کی سب سے اونچی چوٹی پر تھی۔ ہاں! مجھے یاد ہے آپ نے پھر ایک دن کہا تھا انسان اس دنیا میں
۷۷
سیکھنے اور سکھانے کے لئے آیا ہے۔ ابو! میری جانکاہ جدائی نے آپ کو جو سبق دیا ہے کیا اسے آپ صبر و استقلال کا مظاہرہ کرکے دوسروں کو جو اس وقت آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں نہیں سکھائیں گے؟ میرے اچھے ابو!‘‘ احساسات کے سمندر میں طوفان اٹھتا ہے جس میں ڈولتی ہوئی میرے صبر و ہمت کی کشتی ڈوبتے ابھرتے، ڈوبتے ابھرتے، دور، بہت دور جذبات کے افق کے اس پار نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے، اور سکوت کے اس عالم میں جبکہ دل کی دھڑکن تک سنائی دیتی ہے میری سوچوں کی رسی کا آخری سرا بھی گم ہو جاتا ہے۔ اور پھر دل کے ساز پر وہ لاہوتی دھن چھڑ جاتی ہے۔ جس سے روح جھوم اٹھتی ہے: و لنبلوکم بشی من الخوف و الجوع و نقص من الاموال و الانفس و الثمرات و بشر الصابرین الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالوا انا للہ و انا الیہ راجعون (۲:۱۵۵۔۱۵۶)۔
جذبات کی رو میں مجھے یاد ہی نہیں رہا آپ کا تعزیتی تار ملا تھا۔ تار نہیں تھا، ہمدردیوں اور اظہارِ برادری کا ایک دیوان تھا جس سے میری بہت ہمت بندھی۔ مولا پاک آپ کو اجر بخشے! آمین!
فقط
آپ کا بھائی
نصیر ہونزائی
۷۸
گلگت
۳۱ دسمبر ۱۹۷۲ء
ضیاء
پیارے!
غالب نے کہا ہے:
کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
موت سے مفر نہیں مرے بغیر گذر نہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ زندگی کا انجام موت ہی ہے دل اس حقیقت کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ مرنے والا چین سے مر جاتا ہے مگر اپنے پیچھے غم و آلام کے وہ بگولے چھوڑ جاتا ہے جو آن کی آن برسوں کی بڑی محنت اور شوق و آرزو سے سجائی ہوئی زندگی کو تہ و بالا کر چھوڑتے ہیں۔ تمہارے ماموں زاد بھائی کی موت نے میری بوڑھی کمر پر جو لات ماری اس کا درد تم سے زیادہ کون محسوس کرے گا۔ تم میری ماں جائی کے نورِ نظر ہو نا آخر:
پیر میں جب چبھ جائے کانٹا آنکھ بچاری روتی ہے
پھانس سا جب لگ جائے دل میں آنکھ بچاری روتی ہے
سارے بدن کا درد اسی کو رونے پر مجبور کرے
ہر تکلیف میں ہر مشکل میں ۔۔۔ آنکھ بچاری روتی ہے
مگر میرے عزیز! جب انجامِ کار فنا ہے تو اس کے لئے آہ و بکا کیوں؟ غم پالنے
۷۹
سے بڑھتا ہے اور پھر کوئی فائدہ بھی تو نہیں دیتا۔ کیوں نہ ایسی فضول چیز کو صحرائے نسیان میں دل بدر کر دیا جائے۔ سندِ فضیلت امتحان کا مرحلہ طے کر کے ہی ملتی ہے، اور و بشر الصابرین کی سند لینے کے لئے تو لازماً بڑا کڑا امتحان دینا ہو گا۔ دعا کرو مولا ثبات بخشے! ہاں! تمہارا تار ملا میری ہمت بندھی۔ سچ جانو تم مجھے اپنے مرحوم بھائی سے کم عزیز نہیں ہو اور مجھے تمہارا اتنا ہی مان ہے۔
فقط
تمہارا اپنا ماموں
۸۰
مقامی نامدار کونسل اور اسماعیلی نیک نام جماعت سکردو
یا علی مدد! آپ کی طرف سے ہمیں تعزیتی ٹیلیگرام موصول ہوا، ہم آپ کی اس ہمدردی اور تعزیت کے بے حد ممنون و شکرگزار ہیں۔
فی الوقت مناسب ہے کہ میں دین کی کوئی حقیقت بیان کروں، اور وہ یہ ہے کہ مصیبتیں یا کہ اللہ کے امتحانات پانچ ہیں: ہر قسم کا خوف، ہر قسم کی بھوک، ہر قسم کا مالی نقصان، ہر قسم کا جانی نقصان اور ہر قسم کے پھلوں کا نقصان، ظاہر ہے کہ ان سب میں سے جانی نقصان بڑا ہے، چنانچہ اس کے صبر و شکر کا ثواب و صلہ بھی انتہائی عظیم ہے، پھر اموات میں بھی فرق ہے، چنانچہ سب سے بڑی موت جوان کی موت ہے، پس آپ دعا کریں کہ میرے اس عظیم امتحان میں مجھے کامیابی حاصل ہو! آمین!
آپ کا
علمی خادم
نصیر ہونزائی
یکم جنوری ۱۹۷۳ء
۸۱
میرے عزیز ضعیف اللہ بیگ صاحب اورسیئر ای۔ ایم سکردو
یا علی مدد! آپ کا ٹیلیگرام اور خط موصول ہوا، آپ کی یہ انتہائی ہمدردی یقینی ہے کیونکہ ایثار علی اور اس کے مصیبت زدہ والدین آپ ہی کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ کو پیارے ایثار علی کی جوان سالی کی ناگاہ موت سے بڑا صدمہ ہوا ہے، اور میرے رنج و غم کے متعلق آپ کو فکر لاحق ہوئی ہے، لیکن اگر بہ نگاہِ حقیقت دیکھا جائے تو ماننا ہی پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا روحانی اور حقیقی وکیل ہے، ہمارے لئے وہ جو کچھ کرے اسی میں ہماری سعادتمندی پوشیدہ ہے، وہ جو کچھ کرتا ہے اس میں ہماری اخروی فلاح اور ابدی نجات پیشِ نظر رہتی ہے۔ دعا ہے کہ ہر حقیقی مومن کو صبر و شکر کی حکمت سمجھنے کی توفیق نصیب ہو!
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
یکم جنوری ۱۹۷۳ء
۸۲
محترم غلام محمد خان صاحب اور محترم محمد رضا بیگ صاحب مسگر
یا علی مدد! آپ کی اور آپ کے خاندان کی طرف سے ہمیں تعزیتی تار موصول ہوا، جس کے لئے ہم آپ کے شکرگزار ہیں، خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو دونوں جہان کی کامیابی اور سرفرازی عطا فرمائے! آمین یا رب العالمین!!
آپ کو اس بات کا یقین ہے، کہ یہ فقیر امام علیہ السلام کے عاشقوں میں سے ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور بسا اوقات جان قربان اور روح فدا کے نعرے لگاتا رہا ہے، اب جبکہ ایک جانی قربانی کا امتحان لیا گیا ہے، تو پھر گھبرانا عبث ہے، اس میں تو صبر اور شکر کی ضرورت ہے۔
فقط
آپ کا قومی خادم
نصیر ہونزائی
یکم جنوری ۱۹۷۳ء
۸۳
برادرِ محترم مجیب اللہ بیگ صاحب، کراچی
یا علی مدد! آپ کے حوصلہ بخش تعزیت نامہ کا بہت بہت شکریہ! ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اور میری عزیز بھانجی اس رنج و غم میں ہمارے ساتھ برابر کے شریک ہیں، لیکن ہمیں صابر و شاکر رہنا چاہئے، تا کہ حق تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو۔
دعائم الاسلام جزء اول صفحہ ۲۲۶ پر شہادت کی قسموں کا تذکرہ کیا گیا ہے، جس میں ’’صاحب الھدم‘‘ کے عنوان سے اس شخص کو بھی شہید قرار دیا گیا ہے، جو کسی مکان، دیوار وغیرہ کے گرنے سے مر جائے، نیز یہی مطلب ’’لغات الحدیث‘‘ جلدِ ششم کتاب الھاء میں بھی مذکور ہے، پس خدا کا شکر ہے، کہ میرے عزیز! ایثار علی کو بھی شہادت کے درجات میں سے ایک درجہ ملا ہے۔
فقط
آپ کا بھائی
نصیر ہونزائی
۲ جنوری ۱۹۷۳ء
۸۴
جناب پریذیڈنٹ صاحب اسماعیلیہ ایسوسی ایشن کراچی
یا علی مدد! میرے فرزندِ دلبند کے انتقالِ پرملال پر آپ نے اپنی جمعیت کی طرف سے اور اپنی جانب سے ٹیلیگرام کے بعد جو تعزیت نامہ بھیجا ہے اور جس پرحکمت انداز سے مجھے حوصلہ بخش مشورہ دیا گیا ہے، میں اس کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے شکرگزار اور احسان مند رہوں گا۔
آپ کی جمعیت کا ہر فرد اورآپ خود اولاد کی بے پناہ محبت کا تجربہ رکھتے ہیں، کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، لیکن اس تلخ حقیقت کے لئے کیا کیا جائے، کہ حقیقی مومنین سے بڑی بڑی قربانیوں کے امتحانات لیے جاتے ہیں، ہاں! بس یہی کہ صبر کیا جائے، اور صبر ہی سے یہ تلخی بھی شیرینی کی صورت میں بدل سکتی ہے:
’’صبر تلخ است و لیکن برِ شیرین دارد‘‘۔
فقط
آپ کا تابعدار
نصیر ہونزائی
۳ جنوری ۱۹۷۳ء
۸۵
میرے بہت ہی عزیز برکت علی۔ این۔ بھامانی، کراچی
یا علی مدد! آپ نے اپنی طرف سے نیز اپنے احباب اور ماں جی کے گروپ کی طرف سے جو تعزیتی پیغام بھیجا ہے اور جو دعا کی گئی ہے میں اس کا بے حد شکرگزار اور ممنون ہوں، مولائے حکیم آپ سب کو دونوں جہان کی کامیابی عطا فرمائے! ایک حقیقی اسماعیلی ہونے کی وجہ سے مجھے اپنے عزیز بیٹے کی ناگہان موت پر آنسو نہ بہانا چاہئے، بلکہ مجھے یہ یقین رکھنا چاہئے، کہ بحکمِ کلامِ مولانا علیؑ: کل مومن شہید (ہر مومن شہید کا درجہ رکھتا ہے) میرا عزیز ایثار علی آج (ان شاء اللہ) شہید ہے، چنانچہ مولا نے فرمایا ہے: ای میتۃ مات بھا المومن فھو شہید (مومن جس موت سے بھی مرے وہ شہید ہے) اور قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے: و الذین امنوا باللہ و رسلہ اولٰئک ھم الصدیقون و الشھداء عند ربھم (۵۷:۱۹) اور جو لوگ خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے یہی لوگ اپنے پروردگار کے نزدیک صدیقوں اور شہیدوں کے درجے میں ہیں۔
فقط
آپ کا استاد
نصیر ہونزائی
۳ جنوری ۱۹۷۳ء
۸۶
میرے بہت ہی عزیز علی مدد سارجنٹ، کراچی
یا علی مدد! میرے فرزندِ ارجمند کے بارے میں آپ نے پریشانی سے تار دیا تھا، لیکن ہم کس زبان سے جواب دے سکتے تھے، کہ ایثار علی خیریت سے ہے، افسوس کہ یہ پیارا جملہ ۸ دسمبر ۱۹۷۲ء کے بعد ہم پھر کبھی استعمال نہ کر سکیں گے۔
اے میرے عزیز! مذکورہ باتیں جسمانیت سے تعلق رکھتی ہیں، مگر روحانی حقائق اس کے برعکس ہیں، جن کی طرف سابقہ ایک خط میں اشارہ کیا گیا ہے، امید ہے کہ میرے جملہ عزیز اب ایثار علی کی جسمانی حیثیت کے تصور کو بتدریج بھول جائیں گے، اور اس کو ایک روحانی مخلوق سمجھیں گے، پس بحکمِ حدیث: المومن حی فی الدارین (مومن دونوں گھروں میں، یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی زندہ ہے) میرا ایثار روحانی کیفیت میں زندہ ہے، کاش میرے عزیزوں میں سے ہر ایک کو روحانیت کا وہ مقام حاصل ہوتا، جس میں کہ ارواح کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، آپ اور میری بیٹی فدا بی بی کو اس حقیقت کا یقینِ کامل ہونا چاہئے
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۳ جنوری ۱۹۷۳ء
۸۷
جنابِ محترم و معظم فقیر محمد صاحب کراچی
یا علی مدد! اے میرے محسنِ عظیم! میں آپ کی بے مثال ہمدردیوں اور شفقتوں کی صحیح ترجمانی کے لئے ایسے بہترین الفاظ کا انتخاب نہیں کر سکتا، جیسے کہ چاہئیں، اور نہ میں آپ کے احسانات کا کوئی حساب و شمار کر سکتا ہوں، اے رب العزت! تو ہی میرے دل کی صداقت کا گواہ ہے۔
اے علم و فضل کے آسمان کے درخشندہ و تابان ستارے! یہ بات بہت پہلے ہی سے آپ کو معلوم ہے، کہ ایثار علی مجھے کس قدر عزیز تھا، لیکن میں نے شاید آپ سے اس بات کا تذکرہ ہی نہیں کیا تھا، کہ میرا نورِ نظر ایک خاص اسماعیلی عقیدے کے مطابق مہمانی نامزد کیا گیا تھا، یہ عظیم مہمانی ۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۲ء کے اخیر تک میرے پاس امانت تھی، مگر اب بروزِ جمعہ ۸ دسمبر کو یہ امانت یکایک مجھ سے واپس لی گئی ہے، آپ خود جانتے ہیں، کہ ایثار علی کی معنوی نسبت بھی ایثار و قربانی سے لازمی تھی۔
اے پروردگارِ عالم! تو ہی میرے دل کی کیفیت کا گواہ ہے کہ میں اس عظیم ابتلا و امتحان میں صابر و شاکر ہوں، پس اے خداوندِ تبارک و تعالیٰ! تو ہی دونوں جہان میں ہمارا مددگار اور کارساز ہے۔
اخیر میں ایک بار پھر آپ کے احسانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اپنی طرف سے اور نامدار اسماعیلیہ ایسوسی ایشن کے بہت سے حضرات کی طرف سے مجھے اور میرے خاندان کے ہر فرد کو اس سانحہ کے موقع پر ہر قسم کی ہمت دہانی فرمائی ہے، دعا ہے کہ خداوندِ کریم آپ کو اور ان حضرات کو اپنے جملہ
۸۸
عزیزوں کے ساتھ دنیا و عقبیٰ کی کامیابی سے نوازے! آمین!!
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۴ جنوری ۱۹۷۳ء
۸۹
عزیز ترینِ من جوہر علی حیدرآباد ہونزا
یا علی مدد! آپ کے پیغامِ تعزیت کا بہت ہی شکریہ! اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو دین و دنیا کی سعادتوں اور برکتوں سے نوازے! آمین!!
اے میرے عزیز! میری مصیبت سے شاہ زمان صاحب کی مصیبت بہت بڑی ہے کہ اس کے خاندان کے چھ افراد اس بدقسمت جہاز میں سوار تھے، جن کی لاشیں اگر مل جاتیں اور سپردِ خاک ہو جاتیں، تو شاہ زمان اور ان کے خاندان کے افراد کس قدر شکرگذار رہتے، پس اگر میں اللہ تعالیٰ کا شکر نہ کروں اور ناشکری کروں، تو کافر بن جاؤں گا، اور کافر بن جانا کہیں دور نہیں بلکہ شکر نہ کرنا ہی کفر ہے۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۴ جنوری ۱۹۷۳ء
۹۰
برادرِ محترم پلشیر بیگ صاحب حیدرآباد
یا علی مدد! آپ کے تعزیتی پیغام اور گہری ہمدردی کا بہت ہی شکرگزار ہوں، فقیرانہ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو سعادتِ دارین عطا فرمائے! اور آپ کے عزیزوں کو بھی۔
یہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ میری زندگی کی کہانی انتہائی عجیب و غریب ہے، جسمانی اور روحانی قسم کی آزمائشوں کا نتیجہ! مسافرت و غربت کا قصہ! درویشی و فقیری کا خلاصہ! محنت و مشقت کا مجموعہ! گریہ و زاری کا سرچشمہ! اور صبر و شکر کا ایک ادنیٰ سا نمونہ!
الحمد للہ میری پرمشقت زندگی کی اس مرحلے میں مجھ سے جو عظیم امتحان لیا گیا ہے اس میں بھی صبر و شکر کر رہا ہوں۔
فقط
آپ کا قومی خادم
نصیر ہونزائی
۴ جنوری ۱۹۷۳ء
۹۱
محترم سیکریٹری سلطان پناہ صاحب اشکومن
یا علی مدد! آپ کا تعزیت نامہ موصول ہوا، آپ نے میرے فرزندِ جگر بند کے انتقالِ پر ملال پر جس اخوت و یگانگت سے اور جن محبت انگیز الفاظ میں افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا ہے، میں اس کا قلبی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں، خداوندِ کریم آپ کو اپنے عزیزوں کے ساتھ دین و دنیا کی سلامتی و عافیت سے نوازے!! آمین یا رب العالمین! اے مہربان! قانونِ قدرت کی بالادستی اور موت کے بہانے کا حال ذرا سنیے، کہ شروع شروع میں ہمارے گھر کا معمول یہ رہا تھا، کہ جب کبھی ہمارا عزیز ایثار علی کسی سفر پر جانے لگتا، تو اسلامی عقیدہ اور اس کی والدہ کی خواہش کے مطابق میں اپنے فرزندِ دلبند کی سلامتی کے لئے خدا کے حضور میں گڑگڑاتے ہوئے دعا کرتا تھا، اور سب سے باہر کے دروازے کے سامنے تک ایثار علی کے آگے آگے قرآن نکالتا تھا، تا کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کی برکت سے اور اپنی عزیز کتاب کی حرمت سے ہمارے بیٹے کو بخیریت و عافیت گھر واپس پہنچا دے، نیز ایثار علی کی ماں درِ بلا کی نیت سے کسی چیز کا صدقہ نکالتی تھی، مگر افسوس کہ بعد میں یہ معمول یکسر بدل گیا، جس کی وجہ یہ ہوئی کہ چند سالوں سے اس طرف عزیزم ایثار (احسان نصیر) ہر کام کو میری مصلحت کے بغیر اپنی مرضی سے کرنے کا عادی ہو گیا، اور سفر بھی اکثر مجھ سے چھپے چھپائے کرنے لگا، چنانچہ مرحوم کے اس آخری سفر کے متعلق بھی مجھے کوئی علم نہیں تھا، جس سے کہ بموجبِ قانونِ اجل میرا عزیز پھر کبھی واپس گھر نہیں آ سکتا تھا۔
ان تمام افسوسناک صدمات کے باوجود یہ درویش بتائیدِ الٰہی صبر و شکر کے راستے پر ثابت قدمی سے چل رہا ہے، آپ دعا کیجئے کہ آئندہ بھی اس کے قدم میں کوئی
۹۲
لغزش نہ آئے!
فقط آپ کا خیر اندیش
نصیر ہونزائی
۷ جنوری ۱۹۷۳ء
۹۳
محترم محمد شفیع صاحب گرین جنرل سٹور چیلاس
یا علی مدد! آپ کے تعزیتی پیغام کا ممنون و احسان مند ہوں، جس میں آپ نے اپنی طرف سے اور اپنے خاندان کی طرف سے میرے جگر پارہ ایثار علی کی ناگہانی موت پر رنج و الم اور افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا تھا، عاجزانہ دعا ہے کہ قادرِ مطلق آپ کو دونوں جہان میں سلامت اور خوش و خرم رکھے! آمین یا رب العالمین!! اے میرے مشفق و مہربان! میرے دل اور جگر کے زخموں پر صبر و شکر کی مرہم پٹی تو ہو رہی ہے، لیکن میری بیوی کے یہ زخم کچھ لاعلاج نظر آ رہے ہیں، ہر چند کہ میں اسے طرح طرح کی نصیحتوں سے علاج کے لئے کوشش کر رہا ہوں، تاہم مجھے مایوس بھی نہ ہونا چاہئے، آخرکار پروردگارِ عالم اسے بھی توفیق و ہمت عطا فرمائے گا۔
میں تو یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤں، کہ اس نے مجھے نیستی سے نکال کر ہستی میں لایا، پھر اس نے مجھے یکا بعد دیگرے طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا، یہاں تک کہ اس کی نعمتوں کا حساب و شمار نہیں ہو سکتا، اب اگر امتحاناً ایک نعمت ہم سے واپس لی گئی ہے تو ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کہ اس کے متعلق گلہ کریں۔
اے پروردگارِ عالم! ہمیں اور جملہ مومنین کو ہر آزمائش پر صابر و شاکر رہنے کی توفیق و ہمت عنایت فرما! آمین یا رب العالمین!!
فقط
آپ کا خیر اندیش
نصیر ہونزائی
۸ جنوری ۱۹۷۳ء
۹۴
محترم ماسٹر غلام حیدر صاحب مسگر
یا علی مدد! آپ کا رقیمہ جو میرے دردِ دل پر دل سوزی، ہمدردی، افسوس اور دعائے خیر کے معنوں سے مملو تھا، موصول ہوا، ان شاء اللہ تعالیٰ میرا دل آپ کی اس ہمدردی اور جذبۂ یگانگت کو ہرگز فراموش نہ کرے گا۔
اے میرے عزیز! اس مصیبت کے وقت ہمارے باطن میں دو طرح کے احساسات پائے جاتے ہیں، ایک قسم کے احساسات وہ ہیں، جن کی اساس و بنیاد خدا و رسول اور ائمۂ برحق علیہم السلام کے مبارک و مقدس ارشادات پر ہے، دوسری قسم کے احساسات وہ ہیں، جن کا تعلق طبعی میلان، دنیاوی رسم و رواج اور ظاہری ماحول پر ہے، لیکن الحمد للہ ہمارے دینی احساسات ہر وقت دنیاوی احساسات پر غالب و فاتح رہتے ہیں، یہ سعادت اس ذاتِ بابرکات کی تائید و نصرت کے بغیر ممکن نہیں جس کے قبضۂ قدرت میں سب کچھ ہے۔ میں اپنے تمام خاندان کی طرف سے ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں اور فقیرانہ دعا ہے کہ خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو اور جملہ جماعت کو دین و دنیا کی برکتوں اور سعادتوں سے نوازے! آمین یا رب العالمین!!
فقط
آپ کا استاد
نصیر ہونزائی
۹ جنوری ۱۹۷۳ء
۹۵
جناب کیپٹن میر باز صاحب حیدرآباد
یا علی مدد! آپ نے جن درد انگیز الفاظ میں تعزیت نامہ لکھا ہے، اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے، بے شک ایثار علی آپ کو بے حد عزیز تھا، لہٰذا آپ کے نزدیک ایسے دردمندانہ جذبات کا اظہار صحیح ہے۔
مگر میں جیسا کہ آپ کو یقین ہے ایک ایسا درویش آدمی ہوں، جس کے ہاتھ پاؤں رضائے مولا کی رسی سے بندھے ہوئے ہیں، اس لئے اس فیصلۂ الٰہی کے خلاف کوئی فکری حرکت تک نہیں کر سکتا ہوں، مجھے اب بس طوعاً یا کرھاً صبر اور شکر کرنا چاہئے۔
جہاں تک میرے ایثار کی غریب ماں کا سوال ہے، اسے تو میں نصیحت کر کر کے تھک جاتا ہوں، مگر وہ نالہ و فغان سے نہیں تھکتی، آپ دعا کریں کہ خدا اسے ہلاکت سے بچائے، کیونکہ اس کے نظامِ قلب میں خرابی پیدا ہو رہی ہے۔
فقط
آپ کا اپنا
نصیر ہونزائی
۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء
۹۶
جناب میجر شاہ مکین صاحب نومل
یا علی مدد! آپ نے جو رقیمہ اظہارِ افسوس اور میری ہمدردی میں لکھا تھا، میں اس کی قدر اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہوائی جہاز کا یہ حادثہ واقعاً سب کے لئے بڑا درد ناک تھا۔
میجر صاحب! میں تو اپنے عزیز، جوان، اور ہنرمند فرزند کی ناگہانی موت کے بارِ غم کو صبر اور شکر کے ساتھ اٹھائے جا رہا ہوں، مگر افسوس صد افسوس کہ میری اہلیہ سے یہ سنگین بوجھ اٹھایا نہیں جا رہا ہے، حالانکہ میں شروع ہی سے اسے صد گونہ نصیحتیں کرتے آیا ہوں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
ان اللہ اشتریٰ من المومنین انفسہم و اموالھم بان لھم الجنۃ (۹:۱۱۱)
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے، کہ ان کو جنت ملے گی۔ پس معلوم ہوا کہ مومنین کی جانیں اور ان کے اموال اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، اور اگر خدا تعالیٰ اپنی کوئی امانت واپس لیتا ہے، تو اس پر پشیمان و نالان ہونا سراسر نادانی اور جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء
۹۷
جناب غازی جوہر خان صاحب
اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خپلو
یا علی مدد! میں آپ کی روحانی اخوت و یگانگت اور دینداری کی بے حد قدر و تکریم کرتا ہوں، کہ آپ نے باندازِ کریمانہ قلمی طور پر اس بندۂ مصیبت زدہ کی دلجوئی فرمائی ہے۔
آپ اس فلسفے کو بخوبی جانتے ہیں، کہ غم حقیقت میں زوالِ نعمت کا تصور ہے، جس کا علاج دو طرح سے ہو سکتا ہے، یا ہمیں نعمت کا امانت سمجھنا چاہئے، تا کہ امانت کی واپسی پر ہمارا کوئی اعتراض نہ ہو سکے، یا نعمت کے زوال کو عارضی قرار دیتے ہوئے یوں سمجھنا چاہئے کہ اگر اس چند روزہ زندگی میں ہم سے کوئی نعمت اٹھائی جاتی ہے، تو پھر وہ ہمیں ابدی زندگی میں بصورتِ احسن واپس ملنے والی ہے۔
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء
۹۸
محترم محمد شفیع صاحب
یا علی مدد! آپ نے میری شدتِ درد کو کم کر دینے اور مجھے تسلی و تسکین دینے کے لئے جو تعزیت نامہ لکھا تھا، وہ انسانی اور قومی ہمدردی کا ایک صحیح مظہر تھا، میں آپ کی اس ہمدردی کو ہرگز فراموش نہ کروں گا۔
اے دوستِ مہربان! جگرپارہ کی جدائی کا امتحان واقعی بڑا سخت ہے، لیکن اب اس خدائی امتحان سے میرے لئے گریز کی کوئی راہ نہیں ملتی، لہٰذا اس میں مجھے صبر و شکر جیسے اعلیٰ اوصاف سے کما کان حقہ فائدہ اٹھانا چاہئے، ورنہ گرانمایہ موتیوں کا خزانہ لٹ جانے کے ساتھ ساتھ اس کا ثواب بھی ضائع ہو جائے گا۔
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء
۹۹
عزیزانِ من صدر و اراکینِ اسماعیلیہ ہونزا کواپریٹو کریڈٹ سوسائٹی کراچی
یا علی مدد! آپ کا تعزیتی خط، جس میں مشفقانہ الفاظ سے میرے زخمِ دل پر مرہم لگانے کی کوشش کی گئی تھی، موصول ہوا، میں آپ کی اس ہمدردی اور سعیٔ صالحہ کے لئے نہایت ہی شکرگزار اور ممنون ہوں۔
اگرچہ ظاہری طور پر میرا نوجوان اور خوبرو بیٹا میری مسرتوں کا خزانہ تھا، اور اس کی ناگاہ موت کے ہاتھوں میری مادی خوشیوں کا یہ خزانہ لٹ گیا، تاہم میں دینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا ہوں، کہ میں بدقسمت ہوں، بلکہ میں عرفان و ایقان کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں خوش قسمت ہوں، کہ خداوندِ تبارک و تعالیٰ کے عطا کردہ خزانوں میں سے ایک گرانقدر اور بیش بہا خزانہ حصولِ آخرت کے امتحان میں صرف ہوا، آپ سب اس عظیم امتحان میں میری کامیابی کے لئے دعا کیجئے۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء
۱۰۰
عزیزِ من حسام الدین
یا علی مدد! میرے پیارے ایثار نے بموجبِ امرِ الٰہی یکایک نوجوانی میں ہی اس دنیائے ناپائدار کو خیرباد کہا ہے، ایسے حال میں ظاہری طور پر ہمیں اور آپ کو صدمہ ہونا لازمی تھا، لیکن تعجب کی بات ہے، کہ اس موقع پر ہمارے ساتھ ایک وسیع دنیا شریکِ غم ہے اور سبھی دعا کرتے ہیں، اور دعا بھی ایسی کہ وہ زبان کی نوک سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے ہے، پس بڑا نیک بخت ہے وہ مومن جوان جو اپنے داغِ مفارقت سے انسانی ہمدردی کا ایک عظیم الشان انقلاب لائے اور نیک دعاؤں کی ایک ابدی دنیا بسائے۔
بڑھاپے کی موت کے نتیجے میں نہ کسی کو کوئی درد ہوتا ہے نہ ہمدردی، نہ یہ کوئی خاص امتحان ہے نہ آزمائش، اور نہ اس کے صبر و شکر کا کوئی خاص پھل ہے، اس میں محدود دعائیں ہوتی ہیں وہ بھی صرف رسمی طور پر۔
فقط
آپ کا اپنا
نصیر ہونزائی
۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء
۱۰۱
عزیز جماعتِ حسین آباد
یا علی مدد! آپ کی ہمدردیوں اور دعاؤں کے لئے شکرگزار اور ممنون ہوں، خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو ان نیک خیالات کے عوض اجرِ عظیم عطا فرمائے! آمین یا رب العالمین!!
یہ حقیقت واضح رہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے امتحان و ابتلا کے لئے موت اور زندگی بنائی ہے، تا کہ یہ ظاہر ہو کہ خوبیٔ عقیدہ اور حسنِ عمل کے اعتبار سے کون آگے ہے اور کون پیچھے، پس مومنین پر واجب و لازم ہے کہ وہ حیات و ممات کے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں۔ آپ سب دعا کریں کہ خدا تعالیٰ جملہ مومنین کو نیک توفیق عنایت کرے!
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء
۱۰۲
محترم الواعظ غلام الدین صاحب التت
یا علی مدد! آپ نے تعزیت نامہ میں جس خلوص و محبت سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے، وہ قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہے، خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو دونوں جہان کی سربلندی عطا فرمائے! آمین یا رب العالمین!!
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین سے پانچ چیزوں میں امتحان لیا کرتا ہے، وہ ہیں خوف، بھوک، مال کا نقصان، جان کا نقصان اور ثمرات کا نقصان، ان میں سب سے بڑا امتحان جانی نقصان ہے، اور کامیابی کی صورت میں اس کا اجر و صلہ بھی انتہائی عظیم ہے، پس آپ ہمارے حق میں دعا کیجئے، کہ ہم اس عظیم ابتلا و امتحان میں کامیاب ہو سکیں۔
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۲۸ جنوری ۱۹۷۳ء
۱۰۳
محترم غلام الدین صاحب گلمت
یا علی مدد! آپ کا تعزیتی مراسلہ موصول ہوا، میں آپ کی اور آپ کے خاندان کی اعلیٰ انسانیت، سچی دینداری اور پرخلوص ہمدردی پر یقین رکھتا ہوں، خدائے برتر و توانا آپ اور جملہ مومنین کو دونوں جہان کی کامیابی عطا فرمائے! آمین ثم آمین!!
میرے عزیز فرزند ایثار علی کی بے ہنگام موت اگرچہ ایک ناقابلِ فراموش صدمہ ہے، تاہم مجھے اپنے مولا پر بھروسہ ہے، کہ اس نے مجھ سے یہ امتحان ایک عظیم اجر کے لئے لیا ہو گا، جیسے اس سے قبل مجھ سے طرح طرح کے امتحان لیے گئے ہیں۔
فقط
آپ کا دعا گو
نصیر ہونزائی
۲۹ جنوری ۱۹۷۳ء
۱۰۴
عزیزِ من حمید اللہ بیگ سکردو
یا علی مدد! میرا لختِ جگر ایثار علی یقیناً آپ کا بھی عزیز تھا لیکن موت کا پیغام ایسا ہے کہ اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا، لہٰذا اب ہمیں صبر و شکر کی حکمتوں کا سہارا لینا چاہئے اور ہمیں یقین رکھنا چاہئے، کہ ہماری جسمانی زندگی چند روزہ ہے، اور ہماری روحانی حیات لاانتہا ہے، جب ایسا یقینِ کامل ہمارے دنیاوی احساسات پر غالب آئے تو اسی وقت ہمیں تائیدِ الٰہی حاصل ہو سکتی ہے۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۲۹ جنوری ۱۹۷۳ء
۱۰۵
محترم محبوب علی صاحب کریم آباد کراچی
یا علی مدد! میرے دل و دماغ کے درد سے آپ نے جو ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا ہے، میں اس کا قلبی طور پر شکرگزار ہوں، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو اور آپ کے جملہ عزیزوں کو روحانی اور جسمانی سلامتی و کامیابی کی نعمتوں سے نوازے! آمین!!
آپ اس واقعہ کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ میرے سامنے صرف ایک نوجوان اور ہوشیار فرزند کی ناگاہ موت اور داغِ مفارقت کا امتحان نہیں ہے بلکہ اس امتحان نے کئی اور امتحانات جنم دئے ہیں، جن کی تفصیل کے لئے اس مختصر سے خط میں کوئی گنجائش نہیں ان تمام مصائب و آلام کے باوجود میں نے رب العزت کے حضور میں سر بسجود ہو کر مناجات کی ہے، کہ اگر وہ میری ان مصیبتوں سے خوش ہے تو میں بھی خوش ہوں، صرف اتنا ہے کہ وہ مجھے اس بارِ غم کو خندہ پیشانی سے اٹھانے کی قوت و ہمت عنایت فرمائے! آمین!!
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۲۹ جنوری ۱۹۷۳ء
۱۰۶
حضور امیر صاحب ہونزا
یا علی مدد! آپ نے ٹیلیگرام اور خط کے علاوہ بنفسِ نفیس تشریف لا کر جس عنایت و مہربانی سے میرے اس دردِ بے درمان پر افسوس و ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے، اور جن شفقت آمیز الفاظ میں دعا و نصیحت فرمائی ہے، میں اسے (ان شاء اللہ تعالیٰ) ہمیشہ ہمیشہ قدردانی سے یاد کروں گا۔
میرا مرحوم فرزندِ جگر بند کس قدر خوش نصیب تھا، کہ اس کی مغفرت اور روحانی سکون کی دعا کرنے کے لئے بادشاہِ وقت تشریف فرما ہوئے، شاہی خاندان کی بہت سی معزز ہستیوں نے اس میں حصہ لیا، جناب ریزیڈنٹ صاحب تشریف لائے، جناب پولیٹیکل ایجنٹ صاحب اور دوسرے بہت سے اعلیٰ افسروں نے شرکت کی، غرض کہ ہمدردی کی ایک بھرپور دنیا جوش و خروش کے ساتھ حرکت میں آ گئی، جس میں ہر نوع، ہر صنف اور ہر درجہ کے لوگ موجود تھے۔
جنابِ عالی! ہمیں ہر ابتلا و امتحان میں صبر اور ہر حالت میں شکر کرنا چاہئے کیونکہ ہم اپنے حقیقی مالک کے بندے یعنی غلام ہیں، اور ہماری روحانی اور جسمانی فلاح و بہبود صرف اسی امر میں پوشیدہ ہے کہ اپنے مالک و آقا کی فرمانبرداری اور غلامی کرتے ہوئے اس کی خوشنودی و رضا حاصل کریں۔
دعا ہے کہ خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو اور ہم سب کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق دینی اور قومی خدمت کا اعلیٰ ترین جذبہ و شوق اور توفیق و ہمت عنایت کرے! آمین یا رب العالمین!!
فقط آپ کا تابعدار
نصیر ہونزائی، یکم فروری ۱۹۷۳ء
۱۰۷
عزیزِ من امام یار بیگ لاہور
یا علی مدد! ایثار علی کے بے وقت موت سے مجھے جو طرح طرح کی تکالیف اٹھانا پڑی ہیں، ان میں آپ بھی شریک ہیں، لیکن میرا عقیدہ مجھے یہ بتاتا ہے، کہ اپنی انہیں تکالیف کو صبر اور شکر کی قوت سے اٹھانے میں حکمت ہے اب اس کے سوا فلاح و نجات کا کوئی راستہ نہیں۔
مومنین کے لئے مایوسی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا، کہ اس دنیا میں مومن سے جو کچھ لیا جاتا ہے، آخرت میں وہ ہزار ہا درجہ بہتر بنا کر واپس کر دیا جاتا ہے۔
فقط
آپ کا اپنا
نصیر ہونزائی
یکم فروری ۱۹۷۳ء
۱۰۸
محترم الواعظ عزیز علی فدائی صاحب لائل پور (پنجاب)
یا علی مدد! آپ کا تعزیت نامہ، جو محبت و یگانگت اور اخوت و ہمدردی کا آئینہ دار تھا، موصول ہوا، میں آپ کی اس ناقابلِ فراموش ہمدردی و محبت کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔
واعظ صاحب! جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کہ حقیقی مومنین کی موت دراصل شہادت کے سوا کچھ نہیں، اور شہادت کا نتیجہ خوشی ہونا چاہئے، نہ کہ غم، ہر چند کہ انسانی نفس اس امر کے لئے ہرگز تیار نہیں، کہ ایک نوجوان، عزیز اور ہر طرح سے مستعد بیٹے کی موت کے غم کو شہادت کی خوشی کی صورت دے کر مطمئن ہو جائے، مگر جس عقل کی صحیح پرورش امامِ برحق علیہ السلام کی مقدس ہدایات سے ہوئی ہے، اس کے لئے یہ امر مشکل نہیں، والسلام۔
فقط
آپ کا روحانی بھائی
نصیر ہونزائی
۷ فروری ۱۹۷۳ء
۱۰۹
محترم میجر مستی بیگ صاحب
یا علی مدد! آپ کا مکتوب جس میں آپ نے میرے نورِ نظر کے انتقالِ پرملال پر افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا تھا، اور مہر و محبت سے میری دلجوئی کی تھی، موصول ہوا، خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو دین و دنیا کی سعادت مندی عنایت فرمائے! آمین ثم آمین!!
جیسا کہ آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ میں ایک درویش آدمی ہوں، اور میرے نزدیک دنیا و ما فیہا کی چندان اہمیت نہیں، اور اگر اس کی کوئی اہمیت ہے، تو وہ صرف یہی کہ یہاں کی ہر چیز کو راہِ مولیٰ اور طریقِ عقبیٰ میں قربان کر دیا جائے، اور قربانی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر پیاری چیز سے دل اٹھا کر ذاتِ یگانہ کی طرف متوجہ کر دیا جائے۔
میرا ایثار علی مجھے نہایت ہی عزیز تھا، لیکن اب میں نے اپنے پیارے بیٹے کی محبت کو صبر اور شکر کی صورت میں فنا کر کے راہِ مولیٰ میں قربان کر دیا ہے۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۱۰ فروری ۱۹۷۳ء
۱۱۰
محترم افتخار حسین صاحب اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول بلتت ہونزا
یا علی مدد! آپ نے پیغامِ تعزیت میں جس دوستانہ طریق سے اور جن پیارے الفاظ میں میرے دردِ دل کے متعلق افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا ہے، میں اس کا ہمیشہ شکرگزار رہوں گا، خداوندِ کریم دائم الوقت آپ کے لئے علم و حکمت کے ابواب کشادہ رکھے! اور آپ کو دونوں جہان کی سرفرازی و کامرانی نصیب ہو!!
آپ اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں، کہ پیارے ایثار علی کے چالیس دن ابھی پورے نہیں ہوئے تھے، کہ عزیزم شیر سلمان نے میرے داغے ہوئے دل کو پھر داغ دیا، مگر رضائے الٰہی کے خلاف کسی بندے کی مرضی لمحہ بھر بھی ٹھہر نہیں سکتی، اس لئے بہتر یہی ہے، کہ اس طوفانِ غم سے بچنے کے لئے صبر اور شکر کی کشتی بنا لی جائے۔
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۱۱ فروری ۱۹۷۳ء
۱۱۱
محترم موکھی عصمت اللہ صاحب چپورسن
یا علی مدد! آپ کا تعزیتی خط جو خلوص و محبت کے پیرایہ میں مرقوم تھا ملا، پروردگارِ عالم اس ہمدردی و دلسوزی کے عوض آپ کو اور تمام جماعت کو دین و دنیا میں ہزار ہا نیکیاں عطا فرمائے!
نیکنام موکھی صاحب! بظاہر میرا پیارا ایثار علی دینی و دنیاوی کاموں میں میرے ہاتھ بٹانے سے گریز کر گیا، مگر حقیقتِ حال کچھ اور ہے، وہ یہ کہ میرے فرزندِ دلبند کی روح ایک روحانی کیفیت بن کر میری حقیقی ہستی میں موجود ہے، اس روحانی کیفیت سے مجھے بہت مدد ملتی رہتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا ہے: لا تقنطوا من رحمۃ اللہ (اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ)۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۱۲ فروری ۱۹۷۳ء
۱۱۲
عزیزِ من دولت شاہ خروکشل حیدرآباد
یا علی مدد! ہاں عزیز مجھے خوف تھا کہ میرے اس غم کی وجہ سے جماعت کے بے شمار افراد کو دکھ ہو گا، لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے، تو غم کا کوئی مستقل وجود نہیں، کیونکہ عوام کے نزدیک غم کا سبب کسی پیاری چیز کا فوت ہو جانا ہے مگر خواص کے نزدیک ہر چیز امامِ برحق کے نور کی روشنی میں حاضر اور موجود ہے (بحکمِ: وکل شی احصینٰہ فی امام مبین)۔
جاننا چاہئے، کہ ہر چیز کی دو ہستیاں ہیں، ایک ہستی چیز ہے اور دوسری ہستی اس کا سایہ ہے، چنانچہ روح چیز ہے اور جسم اس کا سایہ، سایہ کا وجود کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا، مگر چیز سایہ نہ ہونے کی صورت میں بھی موجود ہوتی ہے، اسی طرح پیارے ایثار علی کی روح جسم کے سایہ نہ ہونے کے باوجود امامِ عالی مقامؑ کے نور کی روشنی میں موجود ہے۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۱۳ فروری ۱۹۷۳ء
۱۱۳
جناب صوبیدار میجر عبد الحکیم صاحب سکردو
یا علی مدد! میرے دل و دماغ کے اس گہرے زخم پر آپ نے جو افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا ہے، میں اس کا شکرگزار اور ممنون رہوں گا، خداوندِ تعالیٰ آپ کی عزتِ دینی و دنیاوی میں ہر دم اضافہ کرے! آمین ثم آمین!!
یہ ایک فطری امر ہے کہ عزیز جوان اور ہر طرح سے مستعد بیٹے کی یکایک موت سے ایک حساس انسان زندہ درگور ہو جاتا ہے، مگر چونکہ مجھے رحمت کے فرشتوں نے پہلے ہی سے اس بات کے لئے تیار کر رکھا تھا، کہ میں ہر آنے والی مصیبت کو برداشت کروں اور یہ سمجھوں کہ مصیبت میں ایک عظیم حکمت پنہان ہے، پس میں پیارے ایثار علی کے داغِ مفارقت سے اُف تک نہ کر سکتا ہوں۔
فقط
آپ کا علمی خادم
نصیر ہونزائی
۱۸ فروری ۱۹۷۳ء
۱۱۴
محترم رحمت اللہ بیگ صاحب بلتت
یا علی مدد! آپ کا تعزیت نامہ موصول ہوا، آپ کی ہمدردی اور دعا کا شکرگزار ہوں، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو دونوں جہان کی کامیابیاں عطا فرمائے!
آپ جانتے ہیں کہ موت خاص کر ایک جوان بیٹے کی موت دنیاوی نظر کے سامنے ایک عظیم مصیبت ہے، لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے، تو موت روحانیت کا دروازہ ہے اور حقیقی مومن کے لئے یہ خوشی کے پھولوں کا گلدستہ ہے، نیز اس میں ایک سرِ مگو یہ بھی ہے، کہ روح خدا تعالیٰ کے نور کی کرن کی حیثیت سے قدیم ہے، یعنی یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، اس میں روح کے دنیا میں آنے اور یہاں سے جانے کی کوئی ابتداء و انتہا نہیں، جیسا کہ مولائے روم صرف ایک دور کے متعلق فرماتے ہیں:
گر ہمی پرسی ز حالِ زندگی
نُہ صد و ہفتاد قالب دیدہ ام
ترجمہ: اگر تو میری زندگی کا حال پوچھتا ہے، تو وہ یہ ہے کہ میں نے اس دفعہ نو سو ستر (۹۷۰) اجسام دیکھے ہیں، یعنی میں اس دور میں نو سو ستر مرتبہ دنیا میں پیدا ہوا ہوں۔
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۲۰ فروری ۱۹۷۳ء
۱۱۵
عزیزم غلام حیدر مسگر
یا علی مدد! آپ کا تعزیت نامہ جو دلسوزی و ہمدردی سے مملو تھا، موصول ہوا، میں آپ عزیزوں کی اس بے لوث و بے غرض محبت کا اعتراف کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ اس دردمند کے ہمدردوں کو ہر قسم کی سلامتی و کامیابی عطا فرمائے! آمین یا رب العالمین!!
میرے عزیز! اگر یہ فقیر صبر و شکر جیسا کہ چاہئے، کر سکے تو اس کے اپنے پیارے سے صبر و شکر کا وہ اجرِ عظیم بدرجہا افضل و اعلیٰ اور عزیز ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا اور آخرت میں اسے ملنے والا ہے۔
فقط
آپ کا دعاگو
نصیر ہونزائی
۲۴ فروری ۱۹۷۳ء
۱۱۶
برادرِ محترم جوہر بیگ صاحب راولپنڈی
یا علی مدد! آپ کے خط سے ظاہر ہے، کہ عین عالمِ شباب میں عزیزم ایثار علی کی ناگہانی اور حادثاتی وفات سے آپ کو ذہنی طور پر سخت تکلیف محسوس ہوئی ہے ہمیں اس میں ذرہ بھر شک نہیں، کیونکہ میرا فرزندِ جگر بند آپ کے عزیزوں میں سے تھا، لیکن اب ہمارے لئے صحیح راستہ یہ ہے کہ ہم صبر اور شکر پر عمل کریں، تا کہ بموجبِ ارشادِ الٰہی ہمیں صلوات، رحمت اور ہدایت حاصل ہو۔ اولٰئک علیہم صلوٰت من ربھم و رحمۃ و اولٰئک ہم المھتدون (۲:۱۵۷)۔
فقط
آپ کا بھائی
نصیر ہونزائی
۲۵ فروری ۱۹۷۳ء
۱۱۷
عزیزِ من امان اللہ خان لاہور
یا علی مدد! عزیز کا پیغامِ تعزیت موصول ہوا، اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے نورِ چشم ایثار علی کے انتقالِ پرملال سے آن عزیز کو بھی بڑا رنج ہوا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے بعد نہ کسی کا کوئی چارہ ہے اور نہ کوئی اعتراض، چنانچہ حق تعالیٰ حدیثِ قدسی میں ارشاد فرماتا ہے کہ: ’’جو شخص میرے فیصلہ کے لیے راضی نہ ہو اور میری آزمائش پر صبر نہ کرے، تو اسے چاہئے، کہ میرے سوا کسی دوسرے پروردگار کو ڈھونڈ لے اور میرے آسمان کے نیچے سے نکل جائے‘‘۔
پس ہم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر اپنی خوشنودی کو قربان کر دیتے ہیں اور وہ ہم سے جو کچھ امتحان لینا چاہے، ہم اس پر اس سے مدد چاہتے ہوئے صبر کرتے ہیں۔
فقط
عزیز کا اپنا
نصیر ہونزائی
۲۷ فروری ۱۹۷۳ء
۱۱۸
محترم غلام محمد صاحب و محترم محمد علی صاحب سکردو
یا علی مدد! آپ صاحبان کے اظہارِ افسوس اور ہمدردی کا بہت بہت شکریہ! آپ جانتے ہیں کہ عقل و نفس کے نام سے انسان کے باطن میں دو متضاد قوتیں موجود ہیں، عقل ہمیشہ دینی ہدایات کے مطابق عمل کرنے کی خواہان ہوتی ہے اور نفس ہر وقت عقل کے خلاف چلتا ہے، چنانچہ جب عقل صبر و قناعت اختیار کرتی ہے، تو نفس بے صبری اور طمع کو لیتا ہے، پس اگر میں اپنے عزیز فرزند کی موت پر صبر کروں تو یہ ہدایت کے مطابق عقل کا کام ہو گا اور اگر میں جزع فزع کروں تو یہ نفس کا عمل ہو گا، جو امرِ الٰہی اور عقل کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں اور جملہ مومنوں کا ہدایاتِ مقدسہ اور عقلِ سلیم کے مطابق عمل کرنے کی توفیق و ہمت عنایت کرے! آمین یا رب العالمین!!
فقط
آپ کا مخلص
نصیر ہونزائی
۲۷ فروری ۱۹۷۳ء
۱۱۹
میرے عزیز بھائی صوبیدار یوسف علی صاحب
یا علی مدد! ہاں، میرا نورِ چشم دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف کوچ کر گیا، اس فرزندِ ارجمند سے میری بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن اللہ کو کچھ اور امر منظور تھا، لہٰذا اب ہمیں ماننا چاہئے، کہ امرِ مولیٰ از ہمہ اولیٰ۔
عزیز بھائی! میرا ایثار علی کتنا خوش قسمت تھا! کہ دنیا کی ہرگونہ الجھنوں سے فارغ ہو اور آزاد ہو کر جوانی ہی میں انتقال کر گیا، بے شمار ہمدردیاں اور لاتعداد دعائیں حاصل کر لیں، بہت سے جماعت خانوں میں تسبیحِ مغفرت پڑھی گئی، گھر میں قرآن خوانی اور دوسری ثوابی رسموں کے علاوہ روحانی مجلسیں منعقد کی گئیں، ہر درجہ کے بے شمار انسانوں اور بہت سی جلیل القدر شخصیتوں نے تحریری یا ذاتی طور پر ماتم پرسی کی اور بے حساب آنکھوں نے اس کے غم میں آنسو بہائے۔
فقط
آپ کا بھائی
نصیر ہونزائی
۲۷ مارچ ۱۹۷۳ء
۱۲۰
بخدمتِ نیکنام صدر صاحب و ممبران نامدار مقامی کونسل گلگت مرکز
یا علی مدد! آپ کی جماعت اور ملحقہ جماعتوں کے اولواالعزم اور فرمانبردار اسماعیلیوں نے ایک زندہ قوم کی حیثیت سے اپنے تاریخ ساز کارناموں کے سلسلے میں جہاں اسلام، پاکستان اور جماعت کی بے شمار و دور رس خدمات انجام دی ہیں، وہاں ان کی ایسی لاتعداد خدمتوں اور امدادوں کی مثالیں بھی موجود ہیں، جو ضرورت مند یا مصیبت زدہ خاندانوں اور مستحق افراد کے لئے کی گئی ہیں، میں اپنے اس مختصر خط میں ان حقیقی اسماعیلیوں کی ان گوناگون قربانیوں کا مفصل بیان نہیں کر سکتا، جو نہ صرف اسماعیلیوں کے جماعتی دائرے تک محدود ہیں، بلکہ ان کی بدولت اسلام اور پاکستان کی مقامی ضرورتوں کو بھی پورا کیا گیا ہے۔
چنانچہ آپ حضرات نے میرے فرزند ایثار علی کے انتقال پر جس گہری ہمدردی سے اظہارِ افسوس کیا، جس خلوص و محبت سے میرے ساتھ شریکِ غم ہوئے اور جس عزت و تکریم سے مجھے اور میرے خاندان کو سہارا دیا، میں اس کا شکریہ، جیسا کہ اس کا حق ہے ادا نہیں کر سکتا ہوں، اور نہ ہی یہ امر میرے لئے آسان ہے کہ میں ان جماعتی اداروں اور تمام افراد کی شب و روز کی انتھک خدمات کی تفصیلات بیان کروں، جو مقدس مذہب کو تقویت پہنچانے اور امامِ برحقؑ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر انجام دی گئی ہیں۔
چنانچہ مثال کے طور پر مرد اور خواتین والنٹیئرز کی بے لوث اور خالص خدمات کی طرف اشارہ کرتا ہوں، کہ انہوں نے شروع ہی سے نہ صرف مذہبی اجتماعات کی خدمت کو اپنا فریضہ سمجھا، بلکہ اپنی جماعت کے کسی گھر کو بھی اس بات کی فکر کرنے کا موقع ہی نہیں دیا، کہ اب ہم اپنے گاؤں اور برادری سے دور اس مصیبت
۱۲۱
میں کیا کریں گے، دونوں قسم کے والنٹیئرز کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، امیدِ واثق ہے کہ جماعتی خدمت کی قدر و قیمت جہاں کہیں بھی ہو روز بروز بڑھتی جائے گی۔
اس کتاب کے آخر میں عاجزانہ اور درویشانہ دعا ہے کہ پروردگارِ عالم ان تمام جماعتی خدمت گزاروں کے دلوں کو اپنے پاک نور کی روشنی سے منور فرمائے! انہیں دونوں جہان کی سعادت مندی عطا ہو! اور جملہ جماعت کو نیک توفیق، بلند ہمت اور فلاحِ دارین عنایت ہو!!!
فقط
آپ کا دعاگو درویش
نصیر ہونزائی
۱۲۲
ترجمانیٔ زبانِ حالِ مجیب الدین (مرحوم = بہشتی) ابنِ علی یار خان مرتضیٰ آباد
رشتہ دارو! فضلِ مولا پر رکھو محکم یقین
میں تو ہوں الحمد للہ ساکنِ خلدِ برین
موت میری تھی شہادت میں مریدِ شاہ تھا
پس بہشت میں شادمان ہوں تم نہ ہو جانا حزین
میری طوفانی خوشی کا تم کو اندازہ نہیں
تم نے دیکھی ہی نہیں ہے باغِ جنت کی زمین
تم دعائیں کر کے مجھ کو کچھ تحائف بھیج دو
تا کہ راضی ہو ہمیشہ تم سے رب العالمین
ہر بہشتی شادمان ہے اور دائم ہے جوان
سب کو حاصل ہے لقائے حضرتِ سلطانِ دین
مجلسوں میں حور و غلمان لعل و گوہر کی طرح
ہیں مناظر سب حسین اور اہلِ جنت نازنین
۱۲۳
علم و حکمت کی مجالس نور کا دیدار بھی
نغمہ ہائے مدحِ مولا دل نواز و دل نشین
خواب میں اے کاش تم جنت کا منظر دیکھتے!
تا کہ تم ہرگز نہ ہوتے میرے بارے میں غمین
معرفت ہی معرفت ہے تیری باتوں میں نصیر!
اس لئے اشعارِ شیرین ہیں مثالِ انگبین
ذوالفقار آباد، گلگت
جمعرات ۲۴ مئی ۲۰۰۱ء
۱۲۴
پیغامِ روحانی بزبانِ حال
من جانبِ غزالہ مرحومہ
اے قبلہ! نہ کر غم کہ یہاں زندہ ہوئی میں
یہ اس کی نوازش ہے کہ تابندہ ہوئی میں
ہیں حور و پری ساتھ کہ میں خود بھی پری ہوں
اس انجمنِ نور میں خوشیوں سے بھری ہوں
میں دخترِ روحانیٔ مولائے زمان ہوں
شہزادیٔ عالم ہوں مگر سب سے نہان ہوں
ہم نور کی اولاد ابھی نور ہوئے ہیں
دنیا کی مصیبت سے بہت دور ہوئے ہیں
جنت میں عجب شاہی محل ہم کو ملا ہے
ہم زندۂ جاوید ہوئے فضلِ خدا ہے
شاہوں کی طرح شاد ہیں ہم اس کا کرم ہے
بیماری نہیں، موت نہیں اور نہ ہی غم ہے
۱۲۵
ہاں تیری غزالہ پہ علیؑ سایہ فگن ہے
وہ اس لئے جنت میں سدا زندہ چمن ہے
صد گونہ خوشی ہے ہمیں دیدارِ علیؑ سے
گنجینہ ملا ہے ہمیں اسرارِ علیؑ ہے
طوفانی خوشی ہے ہمیں، تم ہم پہ نہ رونا
ڈیڈی! ممی! تم کبھی بے صبر نہ ہونا
لینا ہے تمہیں علم و عبادت کا سہارا
ہے دینِ خدائی میں یہی شیوہ ہمارا
کس شان سے آیا ہے یہ پیغامِ غزالہ
روشن ہو زمانے میں سدا نامِ غزالہ
غزالہ بنتِ امام یار بیگ جنرل منیجر، آغا خان ہیلتھ سروسز، پاکستان، ناردرن ایریاز اینڈ چترال۔
غزالہ کی تاریخِ پیدائش: ۱۵ جولائی ۱۹۸۷ء
تاریخِ وفات: ۸ جنوری ۱۹۹۹ء
انا للہ و انا الیہ راجون (۲:۱۵۶)
۱۲۶
قانونِ بہشت
(ایک بہشتی کی زبانِ حال سے)
یہ رب کا کرم ہے کہ میں جنت میں گیا ہوں
اک نور یہاں ہے کہ مجھے اس نے لیا ہے
(س) ہو گی کہ نہیں کل کو ہمیں تیری ملاقات؟
اے جان! بتا ہم کو بتا جلدی یہی بات؟
(ج) وہ کیسی بہشت ہے کہ نہ ہو جس میں ملاقات
وہ کیسا سوال ہے! صد حیف ہے، ھیھات!
دانا ہیں وہی لوگ جو جنت کو سمجھتے
آیات کے باطن سے وہ حکمت کو سمجھتے
قانونِ بہشت دیکھ کہ وہ رحمتِ کل ہے
واں کوئی نہیں خار فقط غنچہ و گل ہے
جمعرات ۲۴ اگست ۲۰۰۰ء
نوٹ: قانونِ بہشت سے وہ آیاتِ کریمہ مراد ہیں جو بہشت کی توصیف میں وارد ہوئی ہیں۔
۱۲۷
پیر پندیات جوانمردی
پیر پندیاتِ جوانمردی
دیباچۂ طبعِ دوم
پروردگارِ عالمین کے اس عظیم فضل و احسان کا شکر بجا لانے سے ہماری زبان عاجز و قاصر ہے، کہ اس نے اپنی لا انتہا رحمت سے ہمیں توفیق و ہمت عطا فرمائی، جس سے یہ مبارک و مقدس کتاب فارسی سے فہم اور سلیس اردو میں منتقل کر دی گئی، جو سرچشمۂ رشد و ہدایت اور گنجینۂ علم و حکمت کی حیثیت رکھتی ہے، اور اسی ذاتِ پاک کے خاص لطف و کرم سے وسائل و ذرائع مہیا ہوگئے، جن کی بدولت حضرتِ امامِ عالیمقام علیہ السلام کے پاک ارشادات کے اس پر حکمت مجموعے کو طباعت و اشاعت کی مختلف منزلوں سے گزار کر عاشقانِ نورِ ہدایت تک پہنچا دیا گیا۔
أئمۂ طاہرینؑ کے علم کی اہمیت:
اسماعیلی اصول کے مطابق أئمۂ آلِ محمد (صلی اللہ علیہ و علہیم اجمعین) صاحبانِ امر کہلاتے ہیں، اور یہ حضرات بحوالۂ قرآنِ حکیم (۴: ۵۹، ۴: ۸۳ ) اولی الامر ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدائے تعالیٰ اور اس کے رسولِ برحقؐ کے امر و فرمان کی مکمل وضا حت بمقتضائے زمان و مکان أئمۂ طاہرین کی ترجمانی سے ہوتی آئی ہے، یہی وجہ ہے، جو قرآنِ پاک میں فرمایا گیا ہے: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں (۴: ۵۹) ۔
اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ اولوالامر أئمۂ آلِ محمدؐ ہی ہیں،
۷
آپ پاک اماموں کے علم و حکمت سے بھر پور فائدہ اٹھائیں، اور امامِ زمان کے امرو فرمان کا کامل اطاعت کریں، اور قرآن و حدیث کی روشن و تابناک دلائل کبھی بھول نہ جائیں، جو بڑی کثرت سے ہیں، مثال کے طور پر: جب تک دنیا میں قرآنِ پاک موجود ہے، تب تک اس کے ساتھ نورِ منزل بھی موجود ہے (۵: ۱۵) لوگوں کو امام کی ضرورت نہ صرف ظاہر میں ہے، بلکہ باطن میں بھی ہے کہ خدا لوگوں کو امام ہی کے وسیلے سے بلاتا ہے (۱۷: ۷۱) لوگ نہیں سمجھتے ہیں کہ ان کو امام کی ضرورت ہے، لیکن حکمت والے خدا نے حضرتِ ابراہیمؑ سے جس طرح فرمایا کہ میں تم کو لوگوں کا امام بنانے ولا ہوں (۲: ۱۲۴) اس سے اہلِ دانش کو ظاہر ہے کہ اہلِ جہان کے لئے امام کا ہونا بیحد ضروری ہے، اگرچہ امامت کے مختلف درجات ہوتے ہیں، لیکن حضرتِ ابراہیمؑ کا مرتبۂ امامت عظیم تھا۔
حضرتِ امام جعفر الصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ خدا وند تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیمؑ کو نبی مقرر کرنے سے پہلے اپنا عبد مقرر فرمایا، اور رسول بنانے سے پہلے اپنا نبی بنایا، اور خلیل بنانے سے پہلے رسول مقرر کیا، اور امام بنانے سے پہلے اپنا خلیل بنایا (المیزان، جلدِ اول، ص ۲۷۶، بحوالۂ تفسیر کافی) اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرتِ ابراہیمؑ کا عظیم الشان قرآنی قضہ در اصل امامت ہے، جس کے ظاہر و باطن میں جواہر علم و معرفت ابھرے ہوئے ہیں، الحمدللہ یہ پر نور تصور علی زمانؑ کے عظیم علمی معجزات اور عجائب و غرائب میں سے ہے۔
اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اہلِ ایمان آیاتِ قرآنی میں غورو فکر سے کام لیا کریں، تاکہ ان کو قرآنِ حکیم کی پوشیدہ حکمتوں سے آگہی ہو، مثال کے طور پر: حضرتِ آدمؑ کے بارے میں فرشتوں سے فرمایا: إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً=میں ایک خلیفہ زمین میں بنانے والا ہوں (۲: ۳۰)
۸
اور حضرتِ ابراہیمؑ سے فرمایا: إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا: میں تم کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں (۲: ۱۲۴) اب آپ سے یہ سوال ہے کہ آیا خدا کے دین کا نظام خلافت ہے یا امامت؟ یا کبھی وہ ہے اور کبھی یہ؟ یا دونوں لفظوں کی ایک ہی حقیقت ہے؟ آپ خوب سوچیں اور درست جواب دیں۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں میرا یقین یہ ہے کہ خلافت اور امامت الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ خلافت ایک تشریح ہے کتابِ امامت کی، اور تمہید ہے، جیسا کہ آپ نے حضرتِ ابراہیمؑ کی امامت کا تذکرہ سنا، کہ اس میں بڑی زبردست جامعیت ہے، اور قانونِ قیامت (۱۷: ۷۱) کو دیکھا کہ لوگوں کی کوئی قیامت ہی نہیں، مگر امام کے ساتھ، نیز قلبِ قرآن میں دیکھیں کہ خداوند تعالیٰ کس طرح امامِ مبین میں کل کائنات کو لپیٹ لیتا ہے (۳۶: ۱۲ ) یہ بات ایسی ہے جیسے خدا نے قلمِ قدرت سے لوحِ محفوظ میں سب کچھ لکھ دیا ہے۔
حدیثِ شریف ہے: اِنَّ اَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ الْقَلَمَ، فَقَالَ اکُتُبْ، قَالَ مَااَکْتُبُ؟ قَالَ اَکْتُبِ الْقَدْرَ مَا کَانَ وَ مَا ھُوَ کَائِنٌ اِلیٰ الْاَبَدٍ = اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور حکم دیا کہ لکھو، اس عرض کیا، کیا لکھوں؟ فرمایا: اندازہ، جو گزر چکا اور جو ابد تک ہونے والا ہے (جامعِ ترمذی، جلدِ اول، ابواب القدر)۔ اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ عالمِ شخصی کے اعتبار سے پہلے پہل انسان کی جسمانی تخیلق ہوتی ہے، بعد ازان روحانی پیدائش، اور آخر مین وہ عقلی طور پر پیدا ہو جاتا ہے، لیکن یہ آخر درحقیقت اول ہے، کیونکہ حقیقی زندگی اب شروع ہو گئی، اسی معنیٰ میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم / عقل / نورِ محمدی کو پیدا کیا۔
۹
س: قلم اندازۂ گزشتہ و آئندہ کو کب لکھتا ہے؟ ۔۔۔ ج: اس وقت جبکہ عارف صورتِ رحمان میں فناہو چکا ہوتا ہے، س: ایسے میں قلمِ عقل کی تحریروں سے عارف کو کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے؟ ۔۔ ج: یہ کتابِ مکنون بھی ہے، جس میں مطالعۂ اسرارِ معرفت کے بے شمار فائدے ہیں، س: اس حدیث کا کیا مطلب ہے: جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا اَنْتَ لَاقٍ = اس چیز کو لکھ کر قلم سوکھ گیا جس سے تو ملنے والا ہے؟ ۔۔۔ ج: قلمِ قدرت حظیرۂ قدس کی بہشت میں لکھ رہا ہے، لہٰذا وہ بشارت ار علم و حکمت کے سوا اور کچھ نہیں لکھتا ہے۔
۱۰
چند اساسی حکمتیں
سورۂ قلم کی آیتِ اول (۶۸: ۱) کی تفسیر و تاویل ہے جو حضرتِ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: قَالَ: وَاَمَّا’’ن‘‘ فَھُوَ نَہْرٌ فیِ الْجَنَّۃِ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَ جَلَّ: اُجْمُدْ فَجَمَد فَصَارَ مِدَادًا، ثُمَّ قَالَ لِلْقَلَمِ: اُکْتُبْ فَسَطَرَ الْقَلَمُ فِی اللَّوْحِ الْمَحْفُوْظِ مَا کَانَ وَمَاھُوَ کَائِنٌ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَالمِدَادُ مِدَادٌ مِّنْ نُوْرٍ، وَالْقَلَمُ قَلَمٌ مِّنْ نُوْرٍ، وَاللَّوْحُ لَوْحٌ مِّنْ نُوْرٍ = فرمایا کہ نون جنت کی ایک نہر (ندی) ہے، خداوند تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ جم جا، وہ جم گئی اور روشنائی بن گئی، پھر خدا نے قلم کو حکم دیا کہ لکھ پھر قلم نے جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا تھا وہ سب لوحِ محفوظ میں لکھ دیا، پس وہ روشنائی نور کی روشنائی ہے، اور وہ قلم بھی نور کا قلم ہے، اور لوح بھی نور کی لوح ہے۔
پوچھنے پر امام علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا: فَنُوْ نُ مَلَکٌ یُؤَدِّیْ اِلیَ الْقَلَمِ وَ ھُوَ مَلَکٌ، وَ الْقَلَمُ یُؤَدِّیْ اِلیَ اللَّوحِ وَھُوَ مَلَکٌ، وَاللَّوْحُ یُؤَدِّیْ اِلیَ جِبْرَائِیْلِ وَ جِبْرَائِیْلُ یُؤَدِّیْ اِلیَ الْاَ نِبْیَاءِ وَ الرُّسُلِ = نون ایک فرشتہ ہے جو قلم کو خبر یں دیتا ہے اور قلم بھی ایک فرشتہ ہے جو لوح تک حکم پہنچا دیتا ہے، اور لوح بھی فرشتہ ہے، جو اسرافیل کو
۱۱
پیغام دیتا ہے، اور اسرافیل میکائیل کو اور میکائیل جبرائیل کو اور جبرائیل نبیوں اور رسولوں کو اطلاع دیتے ہیں۔ (المیزان، جلد ۱۹، ص ۳۷۶)۔
نمونۂ عالمِ دین:
دین سب سے اہم اور سب سے عظیم عالم ہے، جو سات بڑے ادوار پر محیط ہے، وہ ادوار یہ ہیں: دورِ ناطقِ اول، دورِ ناطقِ دوم، دورِ ناطقِ سوم، دورِ ناطقِ چہارم، دورِ ناطقِ پنجم، دورِ ناطقِ ششم، اور دورِ حضرتِ قائم جو دورِ ہفتم ہے، یہ ایا م اللہ ہیں ( ۱۴: ۵) ، ۴۵: ۱۴) یعنی خدا کے سات زندہ دین، ان میں سے اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں عالمِ دین کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور سنیچر کے دن اسرارِ عرش کا کام کیا، اور ان میں ایک بہت بڑا راز مساواتِ رحمانی ہے۔
خداوندِ قدوس نے اپنی قدرت ِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے نہ صرف عالمِ دین بلکہ عالمِ ظاہر کو بھی عالمِ شخصی میں لپیٹ دیا ہے، تاکہ دینی معرف کی کوئی چیز مکانی اور زمانی مسافتوں کی وجہ سے دور نہ رہے، اور تمام قرآنی قصے، واقعات اور معجزات عارف کی چشمِ باطن کے سامنے ہوں، اسی معنیٰ میں یہ کہنا حقیقت ہے، کہ عالمِ شخصی نمونۂ عالمِ دین ہے، بلکہ یہ آئینۂ عالمِ دین ہے، بلکہ یہ اس کی روحانی اور نورانی مووی (MOVIE)ہے، جس کے زریعے سے دین شناسی جیسی سب سے بڑی سعادت نصیب ہو جاتی ہے۔
سورۂ ھود کی آیتِ ہفتم (۱۱: ۷) کے سرِ اعظم کے بارے میں آپ نے سنا ہوگا، اس آیۂ کریمہ کی تین تفسیریں ہوسکتی ہیں: اول ظاہری کائنات کے پیشِ نظر ، دوم عالمِ دین کے اعتبار سے، سوم عالمِ شخصی کے لحاظ سے، تاہم حصولِ معرفت کی غرض سے تیسری تفسیر زیادہ ضروری ہے، وہ آیۂ مبارکہ یہ ہے: وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ
۱۲
أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً=اور وہ تو وہی (قادرِ مطلق) ہے جس نے (عالمِ شخصی کے) آسمانوں اور زمین کو چھ دین (چھ سب سے چھوٹے ادوار) میں پیدا کیا، اور اس کا تخت پانی (بحرِ علم) پر ظاہر ہوا، تاکہ تم لوگوں کو آزمائے کہ تم میں بہ اعتبارِ (علم و ) عمل زیادہ اچھا کون ہے (۱۱: ۷) ۔
عرش مثال در مثال ہے: عرش آسمان پر بھی ہے، اور زمین (پانی) پر بھی، مگر یہ مثال در مثال اور حجاب در حجاب ہے، جبکہ زمین پر سمندر ہے، سمندر پر ایک تخت ہے جو کشتی بھی ہے، اس میں شخصِ کامل ہے، اور اس میں سے خود بخود اسمِ اعظم کا معجزاتی ذکر ہو رہا ہے، اب آپ ٹھیک طرح سے سوچ کر بتائیں کہ ان حقائق و معارف میں اصل عرش کونسا ہے جو بھری ہوئی کشتی بھی ہے؟ شخصِ وحدت؟ یا نور (اسمِ اعظم)؟ کیا عرش ایک عظیم فرشتہ ہے؟ آیا کرسی دوسرا عظیم فرشتہ ہے؟ کیا یہ سچ ہے کہ شخصِ وحدت عرش و کرسی بھی ہے، قلم و لوح بھی، اور بھری ہوئی کشتی بھی؟
انتسابِ جدید:
میرے علمی سفر کے رفقاء، میرے دل کے احبا ٔ (واحد حبیب) میری روح کے عزیزان، اور میرے عالمِ شخصی کے فرشتے وہ ہیں، جو بار بار مجھے یاد آتے رہتے ہیں، ان کی لطیف و شیرین یادیں میری جانِ حقیر کے لئے ایسی فرحت انگیز اور مسرت بخش ہیں، جیسے عمدہ سے عمدہ پھول اپنی دل آویز خوشبوؤں سے روحانی غذاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مثلاً گلاب، گلِ سوری، گلِ داؤدی، گلِ سنجد (گنڈورے اسقر) وغیرہ، اس موقع پر مجھے روحانی انقلاب کا زمانہ بھی یا دآیا، جس میں
۱۳
روحانی خوشبوؤں کا دروازہ کھل گیا تھا، میرے جملہ عزیزان (تلامیذ) ظاہری اور باطنی عطریات کی طرح پسند یدہ اور پیارے ہیں، میری بے شمار جانیں ان سے فدا !
اس شادمانی کے عالم میں ایک جانی اور ایمانی دوست کا ذکرِ جمیل کرنا چاہتا ہوں، جو حقیقی علم کے مثالی شیدائی اور عاشق ہیں، ان کا پاکیزہ چہرہ علم و عبادت کے خاموش معجزے سے ہر دم منور و تابان رہتا ہے، یہ خاندانی طور پر امامِ عالیمقام علیہ السلام کے جان نثار عاشق ہیں، علمی خدمت کے تقدس و عظمت کو جانتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہیں، ان کا بہت ہی پیارا نام طاہر علی ابنِ قاسم علی ہے، آپ ہمارے یوسٹین (امریکہ ) ہیڈکوارٹر کے آنریری خزانچی اور لائف گورنر ہیں، ظاہر علی بہت سی خداداد صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک ہیں۔
ان کی نیک خصلت بیگم سارہ (سائرہ) بڑی مذہبی اور بہت دیندار خانون ہیں، مزاج میں سادگی، دل علم و عبادت کے نور سے منور، قلب و لسان ذکرِ الٰہی میں مصروف ، بار بار صلوٰت پڑھنے کی عادی، حضرتِ رب العزت کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے لئے شکرگزار، اور لائف گورنری کے عہدے سے سرفراز، یہ ہیں عزیزم ظاہر علی کی بیگم سارہ، ان کے دو بہت پیارے بچے بڑے باسعادت ہیں، اسد ظاہر علی کا تولد ۴ ؍ اگست ۱۹۹۳ ء کو ہوا، اور سنان ظاہر علی کی تاریخِ پیدائش ۷؍ اکتوبر ۱۹۹۵ ء ہے، ان لٹل اینجلز کی بڑی نیک بختی ہے کہ بوقتِ خفتن تسبیحات پڑھتے ہیں، اور دونوں لائف گورنرز ہیں، پروردگار اپنی رحمتِ بے پایان سے اس باسعادت فیملی اور دیگر تمام عزیزان کو دونوں جہان کی کامیابی، سرخروئی ، اور سرفرازی عنایت کرے! آمین!!
نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی ) ھونزائی۔ کراچی
بدھ ۱۰ ؍ جمادی الاول ۱۴۱۹ ھ ۲ ؍ ستمبر ۱۹۹۸ ء
۱۴
پندیات
بسم اللہ الر حمٰنِ الر حیم۔
۱۔ [ یہ کتاب جو معرفت کا خزانہ ہے اور رحمت کا ٹھکانا ہے، پندیاتِ ؎ ۱ جوانمردی کے نام سے موسوم ہے، جس میں سرتا سر صرف حضرت مولانا مستنصر باللہ ثانی کے فرامین مبارک ہی درج کئے گئے ہیں، اور اس کتاب کو آنجناب نے اپنے عہدِ امامت میں جماعتِ ناجیہ کے لئے اپنے حجت (یعنی پیر ) کے مرتبے پر مقرر فرمایا ہے، حسبنا و کفیٰ مولانا۔
۲۔ یہ کتاب ایک پرانے نسخے سے نقل کی گئی، جو مقام تُنگ دارالخلافۂ سریقول میں لکھا گیا تھا، جس کے شروع اور اخیر کی چند سطور کہنگی و فرسودگی کی وجہ سے مٹ گئی تھیں]۔
۳۔ ۔۔۔۔ ابدی طور پر، آمین! اما بعد مولانا مرتضیٰ علی علیہ السلام کے راستے پر چلنے والوں کے آفتاب صفت نورانی ضمیر سے پوشیدہ نہ رہے، کہ امام ِ زمان حضرت مولانا شاہ مستنصر باللہ ( علیہ السلام ) کی درگاہِ معلی کے اس خادم کا کہنا ہے، کہ پندیاتِ جوانمردی کا سببِ تالیف یہ ہے، کہ مجھے جس مجلس، جس اجتماع اور جس اجلاس کے موقع
؎۱: پندیاتِ جوانمردی کے معنی ہیں عالی ہمتی کی نصیحتیں۔
۱۵
پر آنجناب کے حضور پر نور میں حاضر رہنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور ان موقعوں پر امامِ عالیمقام علیہ السلام نے مومنین کی جماعت اور تمام پیروؤں کے لئے امر، نہی، اخلاق، صفات اور سلوک کے بارے میں جو پندیات و نصائح فرمایا کرتے تھے، اور انسانیت، دینداری، عبادت اور مومنین کے دنیوی فیض اور اخروی سعادت کے لئے محنت و ریاضت کے متعلق جو کچھ ارشاد فرماتے تھے، ان سب کو میں نے کتاب کی صورت میں لکھ دیا، تاکہ سننے اور عمل کرنے والوں کے لئے یہ کتاب و سیلۂ نجات ہو، اور میں نے اس کتاب کا نام ’’پندیات‘‘ رکھا، کیونکہ اس میں ایک طویل پند، دو مختصر پند اور عالی ہمتی کے بارہ اصول مندرج ہوئے ہیں۔
۱۶
حقیقی مومن کے اوصاف (۱)
بسمِ اللہ الرَّ حمٰنِ الرَّ حیم۔
۱۔ جان لے، کہ ہمارے آقا امام زمان حضرت مولانا شاہ مستنصر باللہ جلت حکمۃ نےاپنی زبانِ مبارک سے فرمایا: ۔
۲۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے مال (یعنی آمدنی) سے دسواں ؎۱ حصہ جو امامِ حاضر کا حق ہے، صدقِ دل سے اور مکمل طور پر جدا کرتا ہے، اور اپنے امامِ زمان کےحوالے کر دیتا ہے، اس اصول سے، کہ وہ اپنی ان تمام مالی منفعتوں اور آمدنیوں کے، جو اسے حاصل ہوا کرتی ہیں، دس حصے کرتا ہے، اور اپنے اس رزق و روزی کے بھی، جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے، اور ان دس حصوں میں سے ایک حصہ امامِ زمان کی ملکیت ہے، جس کو حقیقی مومن جدا کر دیتا ہے، اور اس حصے کو حضرت مولانا شاہِ مردان مرتضیٰ علی علیہ السلام کے حضور میں، جو حی و حاضر ہیں، بلا کم و کاست پہنچا دیتا ہے۔
؎۱۔ دہ یک کا ترجمہ دسواں حصہ (۱۰/ ۱) ہے، جو اب دسوند کہا جانے لگا ہے، اس موضوع کی فقہی اصطلاح ’’ زکوٰۃ‘‘ ہے، جس کے چند ذیلی موضوعات ہیں، مثلا: قرضِ حسنہ، صدقہ، نذرانہ وغیرہ، تفصیل کے لئے دیکھئے: دائم الاسلام جز ؤ اول ص: ۲۴۰۔ ۲۶۷، نیز وجہ دین حصہ دوم ( اردو) ص: ۳۴ ۔ ۸۱، اور ص: ۲۱۳ ۔ ۲۱۹۔
۱۷
۳۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو شریعت سے طریقت میں اور طریقت سے حقیقت میں، جو شریعت کا باطن ہے، داخل ہو جاتا ہے، کیونکہ شریعت ایک شمع کی مثال ہے، طریقت راستے کی مشابہ ہے، اور حقیقت منزلِ مقصود کی طرح ہے، مومن کو کوشان رہنا چاہئے، تاکہ شمع کی روشنی میں سیدھے راستے پر چل سکے، اور خانۂ حقیقت میں داخل ہو جائے، اور حقیقت کی بنیاد امامِ زمان علیہ السلام کو پہچاننا ہے، اور ہر چیز کا مقصد اس کی اندورنی اصلیت ہی ہے، کیونکہ چیز کا نچوڑ، مغز اور رس تو وہی ہے، پس شریعت سے پیغمبر صلعم کی غرض اس کا اندورنی مطلب ہی ہے، جس کا نام حقیقت ہے، جو امامِ وقت کی پہچان (معرفت پر قائم ) ہے۔
۴۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو عالی ہمت ہوتا ہے، اور حقیقی مومن وہی ہے جو بارہ مہینے یعنی سال بھر اچھے کام اور اعمالِ صالح بجا لا تا ہے، ہمیشہ حق تعالیٰ کی یاد میں رہتا ہے، حق بات کہتا ہے، حق بات سنتا ہے، حق پر قائم رہتا ہے، راہِ حق پر چلتا ہے، اس کا قلب پاک ہوتا ہے، اور اس کا دل سچا اور صاف ہوتا ہے۔
۵۔ حقیقی مومن وہی ہے، جس کا ضمیر (نفس) حق پسند ہوتا ہے، وہ برے کام کے پیچھے نہیں جاتا، اور حرام کا تعاقب نہیں کرتا ہے۔
۶۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو حق دیکھنے والی آنکھ رکھتا ہے، جس سے وہ جائز کو دیکھتا ہے، اور ناجائز کی طرف نظر نہیں کرتا ہے، جیسے لوگوں کا مال اور ان کی عورتیں۔
۷۔ حقیقی مومن وہی ہے، جس کے الفاظ سچ ہوتے ہیں وہ بدزبانی نہیں کرتا، غیبت نہیں کرتا ہے، گالی گلوچ نہیں بکتا اور جو کچھ اپنے لئے مناسب نہیں سمجھتا، تو وہی دوسرے کے لئے بھی مناسب نہیں
۱۸
سمجھتا۔
۸۔ حقیقی مومن وہی ہے، جس کی بات ایک ہوا کرتی ہے، جو سیدھی ہوتی ہے ار ٹیڑھی نہیں ہوتی۔
۹۔ حقیقی مومن وہی ہے، کہ جب وہ وعدہ کرتا ہے، تو وعدہ خلافی نہیں کرتا، اور اس کا وعدہ سچا اور پورا ہوا کرتا ہے، اور اس نے اپنے خداوند کے ساتھ جو عہد کیا ہوا ہے اس کو بھی پورا کرتا ہے۔
۱۰۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو جائز اور حلال کا لقمہ کھاتا ہے، حرام سے پرہیز کرتا ہے، اپنے حق پر قانع ہوتا ہے، اپنے حصے پر راضی رہتا ہے، وہ طمع نہیں رکھتا، حرام کا لقمہ اپنے منہ میں نہیں ڈالتا، اور اپنے منہ کو حرام خوری سے ناپاک نہیں کرتا۔
۱۱۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو سچا ہوتا ہے، اپنے دل میں دشمنی اور نفرت نہیں رکھتا، جلد ناراض نہیں ہوتا، غصہ نہیں کرتا اور اپنے دل کو صاف اور سچا ہی محفوظ رکھتا ہے۔
۱۲۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو نیکو کار اور مخلص ہوتا ہے، وہ لوگوں کے مال اور عورتوں کی طرف دست دارزی نہیں کرتا، اور اپنے ہاتھ کو ناجائز طور پر پھلانے سے روک لیتا ہے۔
۱۳۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے نفس کو دوسروں کی بیویوں سے محفوظ رکھتا ہے اور ان کی طرف مائل نہیں ہوتا، جو شخص دوسروں کی بیویوں کی طرف مائل ہوتا ہے، وہ گویا اپنی ماں کی طرف مائل ہو جاتا ہے، اور جس شخص کی بیوی کی طرف دست درازی کرتا ہے، تو یہ ایسا ہے، جیسا کہ وہ اپنی ماں کی طرف دست درازی کرتا ہو، اور اگر وہ بد نظری کرتا ہے، تو اس کی بھی یہی مثال ہے، (یاد رکھو کہ) تم جس شخص
۱۹
کے حق میں جو کچھ کرو گے، تو تمہارے حق میں بھی وہی کیا جائے گا، ایسا معاملہ گویا تم نے خود ہی اپنے حق میں کیا ہے، اور جس راستے سے تم آئے ہو، پھر اسی راستے سے تمہیں واپس جانا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اسی کو تم دیکھ پاؤ گے۔
۱۴۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو حقانیت کے راستے پر قدم رکھتا ہے، اور طریقِ حق پر سچائی اور حسنِ سلوک سے چلتا ہے، وہ لوگوں کے مال اور ان کی عورتوں کے پیچھے ہر گز نہیں جاتا۔
۱۵۔ حقیقی مومن وہی ہے جو سراپا سچا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے ، کہ سچی بات کرتا ہے، سچی بات سنتا ہے، سچے راستے پر چلتا ہے، سچی مجلس میں بیٹھتا ہے اور سچے موقع پر اٹھتا ہے۔
۱۶۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو حق اور باطل کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے، حلال و حرام کے درمیان فرق و امتیاز جانتا ہے، اور ان کو ایک دوسرے سے جدا کر سکتا ہے۔
۱۷۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو نہیں ہنستا، کیونکہ ہنسی غفلت (یعنی خدا کی یاد بھول جانے) سے پیدا ہوتی ہے، اور قہقہہ مار کر ہنسنا تو شیطان کی صورت ہے، اور بے موقع ہنسنا حرام ہے، تو اس وقت ہنس لیا کر، جبکہ ہلاک کر دینے والے خطرات سے تجھے نجات مل چکی ہو، ورنہ جس شخص کو مرنا درپیش ہے، تو صحیح معنوں میں اس کی ہنسی کس طرح آسکتی ہے، اور اگر بھول سے وہ ہنس بھی لیا تو یہ کیا کام آسکتی ہے، اور اس خوشی سے فائدہ ہی کیا ہوا، جس (کے متعلق معلوم ہو، کہ اس ) کے بعد غم آرہا ہے، اور اس آسائش سے کیا حاصل ہوا، جس میں کچھ عرصہ کے بعد زوال آنے والا ہے۔
۱۸ ۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو ہمیشہ حق تعالیٰ کی یاد میں لگے رہتا
۲۰
ہے، اور ہمیشہ یا تو خدا کے ڈر سے یا اس کے دیدار کے شوق میں گریہ وزاری کرتا رہتا ہے۔
۱۹۔ حقیقی مومن وہی ہے، کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اور جو کچھ بھی نیک کام کرتا ہو، تو سب سے پہلے اس کو رحمت والے خداوند کی یاد کرنا چاہئے، ہمیشہ حق تعالیٰ کے خیال میں رہنا چاہئے اور لوگوں کی بیویوں اور بیٹیوں کو اپنی بہنیں سمجھنا چاہئے۔
۲۰۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو ہمیشہ ذکر، فکر اور خداوندِ ذوالجلال کی شناخت سے خالی نہیں رہتا ، قیامت کے دن کا خوف رکھتا ہے اور روزِ محشر کی ہولناکی سے آگاہ رہتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے۔
۲۱۔ حقیقی مومن وہی ہے، کہ روزِ قیامت کے حساب سے، جو حق تعالیٰ اس سے لینے والا ہے، ڈرتا ہے، اور اس حساب سے پیشتر روزانہ خود ہی اپنا حساب کرتا رہتا ہے۔
۲۲۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو ہمیشہ اپنی موت کو یاد کرتا ہے، اور قیامت کے دن کو اپنے نزدیک دیکھتا ہے، اور اس سے ڈرتا رہتا ہے۔
۲۳ ۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو خدا سے ڈرتا ہے، اس سے شرماتا ہے، کفر کی باتیں نہیں کرتا، اور حق تعالیٰ سے غافل نہیں رہتا ۔
۲۴ ۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو آخرت سے آگاہ رہتا ہے اور اپنی موت نہیں بھول جاتا ۔
۲۵۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فرمان اور اس کے حکم کی تابعداری کرتا ہے۔
۲۶ ۔ حقیقی مومن وہی ہے جو خدائے غفار کو ہمیشہ اپنے سامنے حاضر و ناظر، روبرو اور اپنے آپ سے بھی زیادہ نزدیک سمجھتا ہے۔
۲۷۔ حقیقی مومن وہی ہے، کہ جو کام اور شغل کرے، اس میں وہ اپنے خداوند کو اپنے پاس حاضر سمجھتا ہے۔
۲۱
۲۸۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے خداوند کو پہچانتا ہے، سچائی کے راستے پر چلتا ہے، اور اپنے دل میں اور زبان پر ایک ہی طرح کا قول رکھتا ہے۔
۲۹۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو مومنوں اور نیک لوگوں کی صحبت میں رہ کر علم کی باتیں سن لیا کرتا ہے اور انہیں یاد کرتا ہے۔
۳۰ ۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے آپ کو مردہ اور نیست تصور کرتا ہے اور حقانیت و کمالیت کے ساتھ سر سے لیکر پاؤں تک اپنے تمام اعضا ٔ کو حق تعالیٰ کے فرمان کے تابع رکھتا ہے۔
۳۱ ۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے گناہوں پر نظر کر کے خدا سے ڈرتا ہے اور توبہ کرتا ہے۔
۳۲۔ ۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو جفاکش، محنتی، خاموش اور کم بولنے والا ہوتا ہے۔
۳۳۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو ہمیشہ صابر، سچا اور پرہیزگار ہوتا ہے، برے کاموں سے دور رہتا ہے، نیکو کار، پاک، صاف دل اور بے کینہ ہوتا ہے۔
۳۴۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے اعمال و احوال سے باخبر رہتا ہے، غافل نہیں رہتا، موت کی تکلیف اور جان نکل جانے کی سختی سے بھی آگاہ رہتا ہے، عذاب اور نکیرو منکر کے سوال و جواب سے بھی ڈرتا رہتا ہے اور اسے نہیں بھول جاتا ہے۔
۳۵۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو حضرت امام مہدی عبد اللہ صاحب زمان علیہ السلام ( یعنی امامِ وقت علیہ السلام ) کو جانتا پہچانتا ہے، کیونکہ آنجناب دنیا میں حاضر ہے، تمہیں اس کا طالب رہنا چاہئے، تمہیں اس کو ڈھونڈنا، دیکھنا اور پہچاننا چاہئے، اور اس مولا کے مالی حق کو
۲۲
آنجناب کے حضور پرنور میں پہنچا دینا اور حوالہ کرنا چاہئے، اور اس کی محبت اختیار کرنا چاہئے۔
۳۶۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو دائم خدا کی یاد میں رہتا ہے، اور اس کی زبان پر یادِ الٰہی کے سوا کوئی اور چیز، کوئی اور بات نہیں ہوتی۔
۲۳
حقیقی مومن کے اوصاف ۔۲
۱۔ جان لو اے ایمان والو اور اے صداقت والو! جس شخص کا دل صاف اور بے کینہ ہو، تو وہی ہمیشہ خدا کی فکر و ذکر میں رہا کرتا ہے، اور اس کی زبان ہر وقت خدا کی تعریف میں مصروف رہتی ہے، اور خدا کا مخلص بندہ وہی ہے، جو خوفِ خدا سے ہمیشہ گریہ وزاری اور عجز و انکساری کرتا رہتا ہے، یقیناً اس کے گناہ گرتے جاتے ہیں، (جس طرح موسم خزان میں کسی درخت کے پتے گرتے ہیں) جس طرح آسمان سے برف پڑتی ہے، اور سورج کی گرمی سے پگھل جاتی ہے، جو شخص قیامت سے ڈر جائے، تو اس کے گناہ اسی طرح گرتے جاتے ہیں، اور جو شخص بے ترتیب ، بے موقع اور بغیر سوچے سمجھے بات کرتا ہو، فحش باتیں کرتا ہو، فضول گوئی کرتا ہو، مسخرہ کرتا ہو، غفلت اختیار کرتا ہو، اوروں کی بیویوں کی خوبیان بیان کرتا ہو یا ان کے عیوب گنتا ہو، یا لوگوں کی بیویوں کی طرف دیکھاکرتا ہو، یا ان کا عاشق بنتا ہو، یا کوئی ایسی عورت بیگانہ مرد کی عاشق بنتی ہو، پس خدا کے غضب سے نعوذ باللہ! کہ ایسے شخص نے اپنی تمام عمر میں جو کچھ نماز اور عبادت کی ہے اور جو کچھ نیک کام کیا ہے، وہ سب برباد ہو جاتا ہے، اور سب ضائع ہو جاتا ہے، اس شخص کی طرح جس نے ایک پاک طعام میں چوہے کی لینڈی یعنی گوہ یا کوئی اور غلاظت ملادی ہو، اور سب کو ناپاک کر دیا
۲۴
ہو، خدائے تعالیٰ ایسے شخص سے ناراض اور ناخوش ہو جاتا ہے، اور اس شخص کے کام میں نقصان آتا ہے، اور وہ دربدر، حیران، پریشان اور سرگردان ہو گا، دنیا و آخرت میں اس کے لئے تاریکیاں اور ظلمتیں ہوں گی، اور آخرت میں عذابِ دوزخ میں گرفتار ہوگااور مایوسی کی آگ میں جلتا رہے گا، بد فعلی اور بد عملی ہی کی وجہ ہے، جو بہت سے لوگ ہمیشہ دنیا میں خوار و زار اور دربدر اور آخرت میں روسیاہ اور دوزخی ہو جاتے ہیں۔
۲۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو ہمیشہ صابر، نیکو کار، سچا، راست باز، دیندار، پرہیزگار، متقی، بے کینہ، بے بغض اور صاف دل ہوتا ہے، اور ہر ایک کام میں اپنے خداوند کو اپنے سامنے حاضر و ناظر سمجھتا ہے اور ہمیشہ حق تعالیٰ کی یاد میں رہتا ہے، اور جو بندہ ایسا ہو، تو اس کے لئے دنیا میں نور اور فیض حاصل ہو گا، اور آخرت کے دن بہشت میں اپنے آقاو مولا علی علیہ اسلام کے دیدار سے مشرف ہوگا۔
۳۔ حقیقی مومن وہی ہے، جس کا قول و قرار ایک اور سچا ہوتا ہے، اس بندے کے دل کا خیال بھی سچا ہوتا ہے، اس کا وعدہ بھی سچا ہوتا ہے، اس کی محبت و عاشقی بھی سچی ہوتی ہے، اور وہ بندہ سرتاپا مخلص اور سچا ہوتا ہے، وہ شیرین کلام اور نرم گو ہوتا ہے، اور اس کی روح صداقت ولی ہوتی ہے، اور وہ دائم الذکر ہوتا ہے، ہمیشہ خدا کے ذکر و فکر اور اس کے وصف، تعریف اور معرفت میں مصروف رہتا ہے، اور اس کے اعمال و کردار اچھے ہوتے ہیں، وہ اپنے خداوند اور پیر کی فرمانبرداری کرتاہے، اس کی زبان پر پنج تن کا نام جاری رہتا ہے، خدا کی یاد و تسبیح سے اس کی محبت ہوتی ہے، اپنے آقا حضرت صاحب الامر امامِ زمان کو پہچانتا ہے، اور آن جناب تک رسا ہو کر فرمانبرداری اور اطاعت کرتا
۲۵
ہے، اور اپنے آپ کو اور اپنے تمام دینی اور دنیوی امور کو آن مولا علیہ السلام، جو امامِ زمان اور جہان و اہلِ جہان کے مالک ہیں، کے حوالے کر دیتا ہے۔
۴۔ حقیقی مومن وہی ہے جو اپنے تمام کاروبار، تجارت اور آمدنی و منافع کو حساب کر کے دہ یک (یعنی دسواں حصہ) مالِ واجبات کے طور پر جدا کر دیتا ہے، اور سچے اعتقاد، کامل محبت، اخلاق، شوق اور عشق سے اس دسویں حصے کو اپنے امامِ وقت کے حضور میں پہنچا دیتا ہے، اور اگر پاک اعتقاد، سچائی اور کامل طور پر پہنچا دے، تو اس کو دنیا میں فیض و برکت اور آخرت میں سعادت حاصل ہوگی، اور حق تعالیٰ اس سے راضی ہوگا، کیونکہ اس نے خداوند کا حق ادا کر دیا، اور یہی مومنی، خدا دوستی اور اخلاص مندی کی علامت و نشانی ہوا کرتی ہے، اور صرف ایسا شخص ہی صابر، سچا، نکوکار، راست باز، پاک فطرت، پرہیزگار، منکسرالمزاج اور درویش صفت ہوتا ہے، اور اپنے آپ کو نیست سمجھتا ہے، اور اپنے آپ کو سراسر گناہ گار تصور کرتا ہے، وہ خود بینی اور غرور نہیں کرتا، نہ وہ خود نگر اور خود بین ہوتا ہے۔
۵۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو دل میں بغض و عداوت نہیں رکھتا، ہمیشہ اپنے پروردگار کے ذکر و فکر میں رہتا ہے، اس کے دل و زبان ایک ہوتے ہیں، تمام مومنین کے ساتھ ہمیشہ اس کی ملاقات اور محبت ہوتی ہے، وہ آخرت کی فکر میں رہتا ہے اور علم کی باتوں کو یاد کر لیا کرتا ہے، حق تعالیٰ کی راہ میں روز بروز آگے بڑھتا رہتا ہے، خدا کی راہ میں چلنے سے نہیں تھکتا، راہِ حق میں اسے جو تکالیف پیش آتی ہیں، ان سے رنجیدہ نہیں ہوتا، وہ دین میں ناشکری اور سستی نہیں کرتا، بلکہ شوق و محبت سے دینداری میں مصروف رہتا ہے، اور
۲۶
روز بروز اس کا یہ عشق و شوق بڑھتا جاتا ہے، اور دن بدن اس کے اخلاق، اوصاف، اقوال اور اعمال بہتر ہوتے جاتے ہیں، اور روز بروز اس کا ایمان کامل تر ہوتا جاتا ہے، جیسے کوئی مریض روز بروز صحت یاب ہو رہا ہو، یہاں تک کہ اسے شفائے کلی ملتی ہے، وہ ہمیشہ خدا کی راہ میں ہوشیار رہتا ہے، خدا کی محبت میں آنسو بہاتا ہے اور بہت کم ہنسا کرتا ہے، اور اپنے آپ کو غفلت اور شیطنت کی ہنسی سے بچاتا ہے، ہر وقت اپنے خدا کی طرف متوجہ رہتا ہے، دائم حق تعالیٰ کی یاد کرتا ہے، قیامت کے دن سے ڈرتا ہے، خدائے غفار کی، اپنے امام علیہ السلام کی، جو صاحب الزمان ہیں، اور اپنے پیر کی ہمیشہ یاد کرتا ہے، اور اپنے پیر کے دامن کو پکڑا ہوا ہوتا ہے، کیونکہ یہی پیر قیامت کے روز تم مومنین کی فریاد کو پہنچے گا، اور دوسرا کوئی شخص تمہارا عذر نہیں سنے گا۔
۶۔ اے مومنو! اور اے نکوکارو! حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے آپ مومنین و صالحین کی خاکپا سمجھتا ہے، ایسا مومن ہی مخلص اور حقیقی ہوتا ہے، اور ایسا مومن ہی خدا تک پہنچتا ہے، خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے اور خدا اس سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔
۷۔ اے مومنو اور اے صادقو! خاص بندوں کے لئے دین کا کام آسان ہے، بشرطیکہ کوئی بجالائے، خدا وند تعالیٰ کی محبت اور عشق مومنوں کے لئے آسان بھی ہے اور انتہائی پر لطف بھی، خدا کا عشق مومنوں کے لئے سہل بھی ہے اور پرلذت بھی، پروردگارِ عالم نے اپنے عشق کو پاکبازوں کی روحانی غذا بنائی ہے، اور غافلوں اور غفلت کے مارے ہوؤں کے لئے یہ امر بہت بھاری اور مشکل ہے، غفلت والے اور غفلت زدہ لوگ دنیوی عشق رکھتے ہیں، ان میں سے ہر شخص
۲۷
کسی نہ کسی دنیوی چیز کا عاشق بن کر اس کے پیچھے چلتا ہے، حالانکہ مجازی قسم کا عشق درحقیقت عشق نہیں، ایک مہلک شی ہے، بلکہ یہ ایک دائمی بیماری ہے، اور ایسی عشق بازی عاشق کو جہنم میں پہنچا دیتی ہے، اور جو کوئی اپنے پروردگار کے دیدار کا طالب اور اس کی ملاقات کا عاشق ہو، تو خدا وند عالم اپنے ذکر کو اس کے دل و زبان پر قرار دیتا ہے، اور ایسا بندہ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
۸۔ اے مومنو! سچا مذہب ہی صراطِ مستقیم ہے ؎۱، یعنی امامِ وقت کی معرفت اور اس کی پیروی ہی سیدھی راہ (صراطِ مستقیم؎۱) ہے، سو جتنا بھی ہوسکے، تم راہِ راست پر آگے بڑھنے کی کوشش کرو، تاکہ منزلِ حقیقت میں، جو امام ِزمان علیہ السلام کی معرفت ہے، پہنچ سکو، اور تم جوانی میں ایسا کام کرو، کہ جس سے اپنے دین و ایمان کو کامل کرسکو، اور منزلِ مقصود میں پہنچ سکو، کیونکہ بڑھاپے میں حرص زیادہ اور عقل کم ہو جاتی ہے، اس وقت (اکثر لوگ) دنیا کے لئے حریص ہو کر غفلت میں رہ جاتے ہیں، پس اب تم اس فریضہ کو سمجھ سکتے ہو اور بجا لا سکتے ہو، اور جس وقت تم اس کو سمجھنے کے قابل نہ رہو گے، تو تمہاری کوشش لا حاصل اور بے سود ہوگی۔
؎۱ فالنبی، (ص) فی عصرہ ھو الصراط المستقیم و الوصی بعدہ کذالک، ثم ینتظم فی امام بعد امام، کل منہم یسند الیٰ من تقد مہ ویشیر الیٰ من تاء خرعنہ ۔۔۔ پس نبی (صلعم) خود ہی اپنے عصر میں ’’ صراط امستقیم‘‘ ہیں، ان کے بعد وصی ایسے ہی ہیں، پھر ایک امام کے بعد دوسرے امام میں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، اور ان میں سے ہر امام اگلے امام کی تصدیق و تائید کرتا ہے اور آنے والے امام کے متعلق اشارہ کرتا ہے۔
(المجالس المستنصریہ ص: ۱۶۹ ۔۱۷۰)
۲۸
۹۔ اے مومنو! غفلت سے خدا بچائے، کہ خدا سے غافل ہونا آفت ہے، جہاں تک تم سے ہوسکے، تو ذکرِ الٰہی سے غافل نہ ہونا، اور حق تعالیٰ کی یاد سے غفلت نہ کرنا، کیونکہ جو غافل ہوا، تو وہ ہار گیا، اور جو شخص حق تعالیٰ کو فراموش کرے، تو خدا اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے، اور خدا ایسے شخص کو قیامت کے دن فراموش کر دیتا ہے، پس تم غافل نہ رہنا، بلکہ اپنے تمام حالات سے باخبر رہنا۔
۲۹
سخاوت اور بخالت
نیز امام علیہ السلام نے فرمایا: ۔
۱۔ اے مومنو اور اے عزیزو! سخی و عالی ہمت شخص اور بخیل آدمی کے اوصاف سنو اور اپنے ذہن میں رکھ کر سمجھو کہ: ۔
۲۔ عالی ہمت اور بلند حوصلہ شخص وہ ہے، جو عالی ہمتی کرتا ہے، راست باز اور سچا ہوتا ہے، اس کے باطن میں ظاہر کی نسبت حقیقی محبت زیادہ ہوتی ہے، اور وہ ہر شخص سے دوستی اس لئے رکھتا ہے، کہ خدا کی خوشنودی حاصل ہو، نہ اس لئے کہ دنیا کا کوئی مطلب اور فائدہ حاصل ہو۔
۳۔ عالی ہمت اور بہادر شخص وہ ہے، جو نیک کاموں میں دوسروں سے سبقت لے جاتا ہے، بھلائی کے کاموں کے لئے کوشان رہتا اور ان کا بانی ہوتا ہے، اپنے کام پر دینی بھائی کے کام کو ترجیح دیتا ہے، اور طعام و آرام میں دوسروں کو مقدم رکھتا ہے، جہاں تک ہو سکے دیتا ہے لیتا نہیں، اگر اس کا دینی بھائی کھائے، تو یوں سمجھتا ہے، جیسا کہ اس نے کھایا، اور مومن بھائی کی شادمانی سے شادمان ہوتا ہے، اور اس کی غمگینی سے غمگین۔
۴۔ عالی ہمت اور حوصلہ مند شخص وہ ہے، جو نہ دنیوی فائدے
۳۰
سے خوش ہوتا ہے، اور نہ نقصان سے غمناک، پتھر اور جواہر اس کے نزدیک ایک جیسے ہوتے ہیں، اس کے خیال میں کھانا اور نہ کھانا یکسان ہے، اس لئے کہ وہ عاقل اور دانشمند ہوتا ہے۔
۵۔ عالی ہمت اور سخی شخص وہ ہے جو مہمان نواز ہوتا ہے، نہ یہ کہ وہ ہمیشہ دوسروں کا مہمان بنے، وہ شیر کی طرح (دوسروں کو بھی کھلانے والا) ہوتا ہے، نہ لومڑی کی طرح (دوسروں) کا کھانے والا) وہ ہمیشہ ہنس مکھ ہوتا ہے، اس میں امامِ وقت کا حقیقی عشق اور کامل اعتقاد ہوتا ہے، وہ یہ کوشش کرتا ہے، کہ خود کہ لازوال دولت تک، جو امامِ زمان کی معرفت ہے، پہنچا دے، وہ خیر خواہ اور نیک خصلت ہوتا ہے، اور جناب مولا علیہ السلام کے دوستوں اور عاشقوں کے حق میں جو کچھ مہربانی اور حسنِ سلوک ممکن ہو، کر دیتا ہے۔
۶۔ عالی ہمتی اور فیاضی (کی برکت) یہ ہے، کہ ایسے مومن کے تمام کام وقت پر ہی انجام پاتے ہیں، تمام بلائیں اس سے دور رہتی ہیں، دشمن اس پر قابو نہیں پا سکتے، رزق و روزی کا دروازہ اس کے لئے کھلا رہتا ہے، وہ خیرو برکت سے بھرپور ہوتاہے، اس کے تمام کام حسبِ منشا تکمیل پاتے ہیں، اس کے فرزند سلامت رہتے ہیں اور نیکو کار ہوتے ہیں، اس کا گھر آباد ہوتا ہے، ہر نیک کام کے لئے اسے موقع ملتا ہے، اور خدائے غفار اس کا مددگار ہوتا ہے، اور خدا کا مددگار ہونا یہ ہے، کہ اس کے دل کا آئینہ صاف و روشن ہو جاتا ہے، اس کا ایمان مستحکم اور کامل ہوتا ہے، اس کی کمائی اور آمدنی حلال کی ہوتی ہے، اور حلال آمدنی کی علامت یہ ہے، کہ وہ خدا کی راہ میں صرف ہوتی ہے، جس کا ثواب حقیقی مومنوں اور نکوکاروں کی پاک ارواح کو ملتا رہتا ہے، اور حلال مال منافقوں کی قسمت میں نہیں، اور ( حرام مال خرچ کرنے
۳۱
سے) منافقوں کی ناپاک ارواح کو نہیں پہنچتا ہے، حلال مال ہی ہے، جو ایمان و یقین والے مومنوں کے مولائے حاضر کے حضور پر نور میں اور اس کی مبارک درگاہ و دربار میں پہنچ سکتا ہے، خداوند عالم ایسے بندے سے راضی ہوتا ہے، اور اس بندے کو خیروبرکت ملتی ہے، خدائے قادر و توانا اس بندے سے خوشنود ہوتا ہے، اس کا دین کامل ہوتا ہے، اس کے دل کا آئینہ درخشان اور معجز نما ہوتا ہے، اس کی جان و روح روشن ہوتی ہے، اس کی عقل و دانش بھی روشن ہوتی ہے، اور آخرت میں عزت والا خدا اسے اپنا عزیز دیدار عطا فرماتا ہے۔
۷۔ عالی ہمتی کی صفات سے حقیقی مومنوں کے لئے اتنے درجات و کمالات حاصل ہوتے ہیں، عالی ہمت کو چاہئے، کہ کم بولنے والا، سچا اور حلیم ہو، اسے اپنے تمام امور میں صبر و تحمل اور خدا وند تعالیٰ پر بھروسا ہونا چاہئے، اسے تمام کاموں میں صابر اور حوصلہ مند رہنا چاہئے، مگر دو کاموں میں صبر نہیں کرنا چاہئے، اور جلد از جلد ان کو انجام دینا چاہئے، اور صبر و تحمل نہیں کرنا چاہئے بلکہ صبر کرنا اس موقع پر حرام اور کفر ہے۔
۸۔ پہلا: پروردگار کے دیدار کی خواہش و آرزو کرنے اور اس کی ملاقات تک رسا ہوجانے میں، جو تمام کاموں سے زیادہ ضروری اور لازمی ہے ( صبر و تاخیر کرنا کفر ہے) کیونکہ ان امور میں صبر کرنا و بال ، گمراہی کی بنیاد اور ابدی نقصان کا سبب ہے۔
۹۔ دوسرا: حق تعالیٰ کے مبارک امر و فرمان کے بجالانے میں ، کہ خدا کی اطاعت واجب ہے اور اس میں صبر (تاخیر) و سستی کرنا کفر کا سرمایہ ہے۔
۱۰۔ مذکورہ دونوں کاموں میں صبر نہیں کیا جاسکتا ، اور نہیں کرنا چاہئے، پس تجھے چاہئے، کہ مولا کی محبت پر اکتفا ٔ کرے، اور اس کی
۳۲
محبت کے ماسوا سے اپنے آپ کو بچالے، کیونکہ دوسری چیزوں کی محبت (معجزانہ طور پر ) تیرے دل کو حقیقت کی طرف نہیں لے جاسکتی۔ نہ ہی اپنا طالب بنا سکتی ہے، جب حق تعالیٰ کی عبادت و بندگی کا وقت آئے، سو تو جس دنیوی کام میں بھی مصروف ہے، اور جو کچھ بھی کام تیرے ہاتھ میں ہو، خواہ وہ کام ضروری ہو یا غیر ضروری ، فوراً ہی اسے چھوڑ دے اور جلدی سے حق تعالیٰ کی بندگی کی طرف چلا جا، اور کسی تاخیر کے بغیر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر میں مصروف ہوجا، یہ ہیں عالی ہمتی کے اوصاف جو مذکور ہوئے۔
۱۱۔ اب بخیلوں کے حالات سنو، کہ بخیل کا دل ہمیشہ تنگ و تاریک اور سیاہ رہتا ہے، بخیل بدخصلت ہوتا ہے، اس کا خیال ہمیشہ لقمے پر رہتا ہے، وہ دائم تکلیفات اور مشکل کاموں میں گرفتار رہتا ہے، ہر وقت دنیوی نفع و نقصان کے حساب میں لگے رہتا ہے، ہمیشہ اس کے دل کا چراغ بجھا ہوا اور اس کا دل و دماغ بصیرت سے کورا رہ جاتا ہے، اس کی عقل قاصر اور فہم زائل ہو جاتی ہے، وہ نفسانیت کی تاریکی میں گرفتار اور جہالت کے کنوئیں میں اوندھا رہتا ہے، وہ دولت فراہم کرنے، کمانے اور اسے رکھنے کے سوا نیز دنیوی اعتبار سے اپنے آپ کو دیکھنے کے سوا کچھ بھی نہیں جانتا، وہ صرف اسی دنیا کو جانتا ہے، مگر دوسرے جہان سے بے خبر ہے، کسی ایسے کیڑے کی طرح، جو مٹی کے نیچے یا کسی اور جگہ ہوتاہے، جو اپنی محدود جگہ کے سوا دوسری جگہوں سے بے خبر ہے، اور جو رزق وہ کھاتا ہے، اس کے متعلق اس کا گمان ہے، کہ اس کے سوا کوئی رزق ہی نہیں، اور بخیل جس کا دل اکتا یا ہوا اور غمگین ہے، جو ہمیشہ منہ بنائے اور تیوری چڑھائے رہتا ہے، اس کی دعا خدا کے حضور میں مقبول و مستجاب نہیں ہوتی، اس کی روح تاریکی
۳۳
اور ظلمت میں ہے، بخیل کے دل میں مہر و محبت نہیں ہوتی، بخیل مومن سے دوستی نہیں رکھتا، اور اللہ تعالیٰ ایسا سبب بناتا ہے، کہ بخیل ظالموں اور بدکاروں سے دوستی رکھتا ہے، کیونکہ اس کی روح وہیں سے ہے۔
۱۲ ۔ بخیل سرگردان اور خوار و زار ہوتاہے، اس کے اخراجات (منشا سے ) زیادہ ہوتے ہیں، اس کو کوئی ثواب نہیں ملے گا، گناہ کے بغیر اس کا کوئی وقت نہیں گزرتا، چونکہ خداوند تعالیٰ اس سے راضی نہیں بلکہ ناراض ہے، اسے ظالموں سے آشنا کردیا ہے، اور یہ سب کچھ اس سبب سے ہے، کہ بخیل پروردگار کو نہیں پہچانتا ، جب بخیل کے دل میں حقیقی مہر و محبت اور عشق نہیں ، اور اس کا مال خدا کی راہ میں خرچ و استعمال نہیں ہوتا ہے، تو لازماً کسی منافق کی روح کے لئے صرف ہوتا ہے۔
۱۳۔ بخیل کا دل شیطان کا گھر ہے، اور شیطان لعین منافق کے دل میں ہے، اور جب منافق راضی ہوا، تو سمجھ لو، کہ شیطان راضی ہوا کیونکہ منافق ان چیزوں سے خوشنود ہوتا ہے، جن سے شیطان خوشنود ہوتا ہے، شیطان اور منافق کے دل ایک ہیں، یہ دونوں خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے شریک ہیں، پس جب بھی تم منافق کو خوشحال دیکھتے ہو، گویا شیطان کو خوشحال دیکھتے ہو، اور جو شخص کوئی ایسا کام کرتا ہے، کہ جس میں شیطان کی خوشی ہے، تو ایسے شخص کے دل میں تاریکیاں اور ظلمتیں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے دل کے مکانات میں تاریکی چھا جاتی ہے، اور اس کی عقل و دانش بھی تاریک ہو جاتی ہے، اور اس کے سب کام مشکل ہو کر اسے پریشانی و سرگردانی پیدا ہوتی ہے، اور اس کا منہ اداس ہو جاتا ہے، اور منافق وہ شخص ہے، جو اپنے ولی ٔ نعمت ؎۱
؎۱: ولی نعمت۔ نعمت کا مالک۔
۳۴
کو، جو امامِ وقت ہیں، نہیں پہچانتا، اور جو شخص اپنے حقیقی ولیٔ نعمت کو نہیں پہچانتا ہو، لوگوں کو تکلیف دیتا ہو، مومن کی دل آزاری کرتاہو، اور لوگوں کا بدخواہ ہو، تو منافق وہی ہے۔
۱۴۔ اگر کوئی شخص ہزاروں اعمالِ صالحہ کرے، اور دائم خدا کی یاد و فکر اور تعریف و توصیف کرے، ہمیشہ استغفار پڑھتا رہے اور ہزاروں عبادات کو بجا لائے، جب تک اپنے وقت کے امامِ عالی مقام کو، جو دنیا میں حاضر ہیں، نہ پہچانے، تو نہ اس کی نماز و طاعت قبول ہوتی ہے اور نہ اس کی کوئی نیکی۔
۱۵۔ اے مومنو اور اے صداقت والو! تم نے منافقوں کی صفات سن لیا، کہ منافق کا خوش ہونا اس کی تاریکی اور روسیاہی کا سبب ہو جاتا ہے، پس منافق کے خوش ہونے سے تاریکی پیدا ہو تی ہے، اور مومنوں کے خوش ہونے سے نور حاصل آتا ہے، کیونکہ منافق شیطان کا سپاہی ہے اور مومنین رحمان کے لشکر ہیں۔
۱۶۔ اے مومنو! تم متوجہ اور ہوشیار رہو، تاکہ تم راستہ غلط نہ کرو۔
۱۷۔ اے مومنو اے نیکوکارو اور اے عزیزو! بخیل اور سخی کے اوصاف ایسے ہیں جو بیان کئے گئے، اور جن کو تم نے سن لیا، ابھی تم کو چاہئے کہ راہ حق پر، جو صراطِ مستقیم ہے، ثابت قدم ہونے کے لئے کوشش کرو، تاکہ تم (اپنا راستہ) بھول نہ جاؤ، بخیل و منافق خدا کے دشمن ہیں، اور سخی مومن خدا کا دوست ہے۔
۳۵
بدنظری
۱۔ اے مومنو اے صداقت والو! وہ مرد جو دوسروں کی عورتوں کو تاکتا ہے، وہ گویا اپنی ماں بہن کو تاکتا ہے، ہم بتا چکے، کہ جب کوئی مرد دوسروں کی عورتوں کو نفسانی خواہش سے گھورتا ہے، تو وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے اپنی ماں بہن پر بد نظر کیا، بے شک دوسروں کی عورتیں اپنی ماں بہن جیسی ہیں، تمہیں بدنظر نہیں کرناچاہئے، تاکہ تمہاری آنکھ ناپاک و نجس نہ ہو، اور لوگوں کی عورتوں کو اپنی مائیں سمجھو۔
۲۔ بد نظری کے معنی یہ ہیں، کہ وہ غیر عورتوں کو نفسانی خواہش کی نظر سے گھورتا ہے، اور یہ نہیں جانتا کہ اگر وہ دوسروں کی عورتوں کو بری نظر سے گھورتا ہے، تو یہ ایسا ہے جیسا کہ وہ اپنی ماں بہن کو گھور رہا ہو، اور اس جیسا ایک غلط کار (بیہودہ) شخص پیدا ہو سکتا ہے، جو اس کی عورت کو بھی بری نظر سے گھورا کرے، یہ صفات بدعملی ہیں، اور بد نظری اسی کو کہتے ہیں، حق تعالیٰ اس آدمی پر یعنی اس ناپاک شخص پر قہر کی نظر ڈالتا ہے، دنیا میں اس کا کام تباہ اور آخرت میں وہ خود روسیاہ ہوگا، وہ گرفتار، سرگردان اور دربدر ہوگا، اور وہ ہمیشہ دنیا میں دل تنگ، لوگوں کے نزدیک خوار و شرمسار ہوتا ہے، اور اس کا کام حسبِ منشا نہیں بنتا، او راس کا چہرہ اداس اور بے نور ہوجاتا ہے، پس تم ہر گز ہرگز لوگوں کی عورتوں کو نفسانی خواہش سے نہ دیکھو، کیونکہ یہ بد عملی ہے، اور یہ شیطان
۳۶
کے وسوسے کی وجہ سے ہے، اور یہ سب کام شیطان کے ہیں، اور وہ شخص جہنمی ہے، اور بدنظری بہت بری شے ہے، نعوذ باللہ منھا، پس اس قوم اور اس شخص سے، جو ایسے کام کرتے ہوں، بچنا چاہئے۔
۳۔ اے مومنو اور اے عزیزو! اگر کوئی دختر چشمِ بد سے کسی نامحرم مرد کو دیکھے، تو یہ ایسا ہے، جیسا کہ اس نے اپنے باپ اور بھائی کو چشمِ بد سے دیکھا، اس لئے کہ نامحرم مرد اس کے باپ اور بھائی کے مانند ہے، پس اس کے دل کی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ اگر اس کی حالت بدل جائے، تووہ نادان حق تعالیٰ کی راہ سے بھٹک کر دور اور سرگردان ہو جاتی ہے، اور وہ اپنے (دینی) مقصد تک نہیں پہنچ سکتی، پس اگر وہ مردوں پر بدنظری کرتی ہے، تو گویا اس نے اپنے باپ اور بھائی پر بدنظری کی، اور ایسی عورت پر خدا وند قہر کی نظر ڈالتا ہے، اور وہ بیچاری سرگردان، دربدر اور کندذہن ہو جاتی ہے، اس کے دل کا آئینہ تاریک اور ناخوش رہتا ہے، وہ پریشان حال اور لوگوں کی نظر میں خوار و زار ہو جاتی ہے، اور وہ مفلس و تنگدست ہو جاتی ہے، یعنی وہ اپنی تمام عمر میں حسرت میں رہتی ہے، ہمیشہ اس کے کاموں میں مشکلات پیش آتی ہیں، اور دنیا میں حیران و سرگردان رہتی ہے، اور اس کے لئے کوئی ٹھکانا اور کوئی قرار نہیں اور آخرت میں اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔
۴۔ نعوذ باللہ بد عملی کا انجام یہی ہے، بد عملی اور برائی کے سب کاموں کا نتیجہ انتہائی برا ہوا کرتا ہے، خواہ وہ کسی مرد سے صادر ہوا ہو یا کسی عورت سے، اور جو شخص بد عملی کرتا ہے، حق تعالیٰ اس کے اس کام کے متعلق بڑا قہر کرتا ہے، اور ایسا شخص دنیا میں خوار و زار، سرشکستہ اور روسیاہ ہوتاہے، اور آخرت میں بھی روسیاہ اور دوزخی ہو تا ہے، اور لوگوں کے درمیان
۳۷
بھی ذلیل و رسوا، خوار و زار، سرشکستہ، حیران اور سرگردان ہوتا ہے، اور قیامت کی سختی میں ساتویں دوزخ کی آگ کے عذاب میں گرفتار ہو کر جلتا رہتا ہے، اور دوسری بات یہ ہے ، کہ جس گھر میں ایسی کسی عورت کا قدم پڑے، تو وہ گھر ویران اور اس کے اہل پریشان ہو جاتے ہیں، اور وہ گھر دوبارہ کبھی آباد نہیں ہو سکے گا۔
۵۔ اے مومنو، اے صداقت والو اور اے عزیزو! جان لو، کہ جس گھر میں برا کام واقع ہو جائے، تو اس گھر والوں کا زمانہ تاریک و تباہ ہو تا ہے، اور وہ خوار و زار اور ذلیل ہو جاتے ہیں، اور اپنی پیشمانی میں کچھ ایسے لوگوں کے مانند ہو جاتے ہیں، جن کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور وہ اسی طرح خوار ہوتے ہیں۔
۳۸
حقیقی مومن کے اوصاف ( ۳)
۱۔ اے مومنو، اے صداقت والو اور اے عزیزو! حقیقی مومن وہی ہے، کہ دائم الوقت حق تعالیٰ کے خیال میں رہتا ہے، اور ہمیشہ نیک کام کی فکر میں رہتا ہے۔
۲۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو علم و معرفت رکھتا ہے، اپنے امام زمان علیہ السلام کی اطاعت کرتا ، نافرمانی و خلاف و رزی نہیں کرتا، ہمیشہ نیک خصلت، خوش معاملہ، نیکو کار اور خوش سلوک ہوتاہے، دائم خداوند ِ کریم کی یاد میں رہتا ہے، اور ہر وقت پروردگار کے ذکر و فکر، ثناو صفت اور تمجید و شناخت میں لگے رہتا ہے، اور مدام الوقت اپنے گناہوں سے پشیمان ہو کر رویا کرتا ہے، اور خدا کے خوف یا اس کے دیدار کےشوق میں گریہ وزاری کرنا موسمِ بہار کی بارش کی طرح ہے، جو باغ و چمن کے ہنسنے کا باعث ہوتی ہے، اور دوسرے موقعوں پر رونا بیجا اور بے موقع بارش کی مثال ہے۔
۳۔ حقیقی مومن کے دل میں ہمیشہ خوفِ خدا ہونا چاہئے، اور اسے (زندگی کی) راہ میں احتیاط سے چلنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ اس سے کوئی گناہ و خطا صادر ہو جائے ، یا اس سے کوئی برا قول و فعل واقع ہو جائے۔
۴۔ حقیقی مومن کو ہمیشہ شیطان سے بچنا چاہئے، اس کے دل میں وسوسہ نہ ہونا چاہئے، فتنۂ آخرزمان سے خوف رکھنا چاہئے، اور کفر کے
۳۹
زمانوں سے، جو دنیا میں آتے ہیں، ڈرنا چاہئے، شیطان کے پیروؤں سے دور رہنا چاہئے، اور جو شخص شیطان کی مدد کرتا ہو، اسے شیاطینِ انس میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ ( یہ شیاطینِ جن اور شیاطینِ انس) ایک دوسرے کی ہمت افزائی کرتے ہیں، اور یہ جہالت کی ہمت افزائی ہے، اس کام سے دور رہنا چاہئے اور ان سے دوستی و آشنائی نہیں رکھنی چاہئے، تاکہ وہ (خدا کے حفظ و) امان میں رہے، اور بہت سے لوگ ایسے ہیں، جو شکل و صورت سے آدمی نظر آتے ہیں، مگر باطن میں دیو ( یعنی شیاطین) ہیں، اور لوگوں کا تعاقب کر رہے ہیں، اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے، مگر جو مومن اپنے خدا، پیغمبر اور پیر کو پہچانے، اور ان کے حقوق ادا کرے، اور اپنے آپ کو خدا، پیغمبر اور پیر کے حوالے کر دے، اور امر و فرمان بجالائے، تو ڈاکو ( یعنی شیطان ) اس پر غلبہ نہیں پاسکے گا، اور جو شخص خدا وند تعالیٰ، پیغمبر اور اپنے پیر کی فرمانبرداری میں رہے، تو ہرگز وہ ڈاکو اور دشمن ( یعنی شیاطین) ایسے مومنوں کے نزدیک نہیں آسکیں گے، لیکن یہ ڈاکو ایسے لوگوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، جو اپنے خداوند، پیغمبر اور پیر کو اپنے سامنے نہیں دیکھتے ہیں، اور وہ جو کچھ کرتے ہیں، پیر کے امر و فرمان کے بغیر کرتے ہیں، پس یہ ڈاکو ایسے لوگوں کے تعاقب کر رہے ہیں۔
۵۔ اے مومنو اور اے نیکوکارو! اب یہ وقت آیا ہے، کہ تم دین کی مدد کرو، اور ایک دوسرے کی یاری کرو، حصولِ علم کے لئے کوشش کرتے رہو، دین ( کی ترقی) کے لئے کوشان رہو، ایمان کو کامل بنانے میں جدوجہد کرو، اور ایمان امامِ وقت کی اطاعت و پیروی کرنے سے کامل ہوتا ہے، اچھے کام کرو، اچھا کام یہ ہے، کہ تم امام کے فرمانبردار ہو، جو کچھ امام علیہ السلام کی مبارک زبان سے سنو، اسے بلا تاخیر بجالاؤ ، تبھی چھٹکارا ملے گا، پس اپنے
۴۰
پیرو پیغمبر کا دامن پکڑو، اور اپنے خدا کی اطاعت کرو اور اپنے امامِ وقت کا پاک دامن پکڑو، تاکہ امامِ زمان تمہیں اپنی پناہ میں رکھ کر مدد اور فتح و کشائش عطا فرمائیں، اور اپنے پیر کا دامن پکڑو، اور پیر کی ہمنیشنی کو غنیمت سمجھو، پیر اور امام علیہ السلام کے فرمان کو یاد رکھو اور ا س پر عمل کرو، جس تک رسا ہونا دوا میسر ہونے کی مثال ہے، اور پیرو مرشد یعنی امام کا قول سن کر اس پر عمل کرنا اور اس کی تعلیم حاصل کرنا اور اس کو بجالانا باطنی بیماریوں کے دفع ہونے، شفا پانے اور دل روشن ہونے کا سبب ہے، اور معلموں کی تعلیم دل کے آیئنے کو صاف اور روشن کر دیتی ہے۔
۶۔ اے مومنو، اے صداقت والو اور اے عزیزو! جب کوئی مومن خداوند کے ذکر میں مصروف ہوتا ہے، یا اپنے گھر میں کسی اور جگہ خداوند کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے، اس وقت ایک نادان، جو خدا کی عبادت میں شک رکھتا اور اس کو اس میں کوئی ذوق نہیں، کہتا ہے، کہ تم کس چیز میں مشغول ہو، اور اس بندے کو ذکر نہیں کرنے دیتا ، یا طنز کے طور پر کہتا ہے، کہ فلان شخص عابد ہوا ہے، یا شخ ہوا ہے، یا ان کی عبادت اور ملاقات سے دشمنی کرتا ہے اور طعنہ دیتا ہے، تو ایسے روسیاہ حاسد پر خداوند قہر کی نظر ڈالے گا، کیونکہ اس نادان نے اس عزیز بندے کو طعنہ دیا ہے، اور خداوند ایسے نادان گدھے کے لئے قہر کرتا ہے، کہ اے بدعمل اور مکار غافل ! میرے عزیز مومن بندے کے میری عبادت کرنے میں تم نے کیوں عیب جوئی کی، اور میرے بندے کو دل شکستہ کر کے ذکرو عبادت سے کیوں روک دیا؟ اور تم خود جبکہ عبادت نہیں کرتے ہو، اور منافق و دل سیاہ ہوگئے ہو، تو تمہیں خدا سے ڈرنا چاہئے اور شرمانا چاہئے کیونکہ خدائے تعالیٰ توانا و برتر (ایسے میں) سخت قہر کرتا ہے۔
۷۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے، کہ میں نے لوگوں کو اس لئے پیدا کیا ہے،
۴۱
کہ وہ مجھ کو یاد کرلیا کریں، اور اپنے دل و زبان پر میرا نام جاری رکھا کریں، اور پڑھتے رہیں، پس تم نے کیوں طنز اور عیب جوئی سے اس بندے کو عبادت میں ملامت کیا، اب جبکہ تم نے اس مخلص بندے کو عبادت کے متعلق طعنہ دیا، تو تم شیطان کی ظاہریت و صورت بن گئے ہو، اور دوزخ والوں سے ہو جاؤ گے۔
۸۔ یہ حالات و واقعات شیطان کے پیروؤں سے متعلق ہیں، جو خدا کی راہ سے بھٹک گئے ہیں، اور شیطان کے پیرو اور مطیع ہوئے ہیں، جو رحمان کی نعمت کھاتے ہیں اور شیطان کی اطاعت کرتے ہیں، لیکن جو لوگ اللہ والے ہیں، وہ تو خداوند کو پہچانتے ہیں۔
۴۲
منافق کی علم دشمنی
۱۔ اے مومنو اور اے عزیزو! دوسرا مطلب یہ ہے ، کہ جب عالم (ایک مجلس میں ) علم بیان کرتا تھا، تو اس میں اچانک ایک منافق آملا، اور وہ جاہل منافق خدا اور علم سے بےخبر تھا، اس نے کچھ نہیں سنا تھا، اور وہ اچھے اور برے میں تمیز نہیں کرسکتا تھا، ایسا شیطان صفت اور گمراہ شخص اس مجلس میں پیدا ہوا، اور اس کے خیال میں یہ بات تھی، کہ اس مجلس سے نکل جانے کے بعد اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر اس عالم کی زبان سے کچھ باتیں کرے، تاکہ اس عالم پر ہنسی اڑائی جائے، اور وہ عالم صاف دلی سے علم کی باتیں سنا تا اور بیان کرتا تھا، اور بیچارہ عالم اس شیطان، منافق اور منکر شخص کے کھوٹے دل سے آگاہ نہیں تھا، اور نہیں جانتا تھا، کہ یہ شخص شیطان صفت ہے، اور دل میں حیلہ و مکر رکھتا ہے، اور اگر وہ منافق اسی گھڑی علم کا مسٔلہ اس عالم سے پوچھ لیتا، کہ علم میں یہ بات کہی گئی ہے، اس کے کیا معنی ہوتے ہیں، تو بہتر تھا، تاکہ اسی وقت فوراً ہی وہ عالم اس نادان کو لفظ کے معنی اور علم کا مطلب بتا دیتا، اور اسے آگاہ کرتا، اور اس گمراہ شخص کے دل کو روشن اور (علم کے لئے ) بیقرار کردیتا، لیکن چونکہ وہ بے وقوف نادان، پرکینہ اور گدھا تھا، اس لئے اس نے علم کا مسٔلہ عالم سے نہیں پوچھا، نہ وہ خود جانتا تھا، اور اس کے بعد کہ وہ عالم وہاں سے چلا گیا، اور
۴۳
مجلس والے سب کے سب اپنے اپنے کام کے پیچھے چلے گئے، یہ عام نادان گدھے کہیں بیٹھ گئے، اور دوسرے چند گدھوں (یعنی نادانوں) کو بھی اپنے گرد جمع کر لیا، اور ان تمام شیطان کے فوجیوں نے اس عالم کی غیبت کے لئے زبان کھولی، اور اس عالم کی بدگوئی اور عیب جوئی کرنے لگے۔
۲۔ اے مومنو اور اے عزیزو!جو شخص معلم کی عیب جوئی کرتا ہے، ایسا ہے جیسا کہ وہ خدا کی عیب جوئی کرتا ہو، وہ گناہِ کبیرہ میں داخل ہو جاتا ہے، اور جو شخص (اعتقاد سے) عالم کا کلام سنتا ہے، گویا خدا کا کلام سنتا ہے، اور جو لوگ عالم کی غیبت کرتے ہیں، اس کی وجہ دشمنی، کینہ اور حسد ہے، اور اپنے دلوں میں بغض رکھتے ہیں، خدا کی لعنت ہو شیطان پر اور شیطان صفت لوگوں پر اور اہلِ حسد پر۔
۳۔ اے عزیزو! اگروہ نادان اور بیوقوف دل میں حسد نہیں رکھتا اور حق کی طرف مائل ہوتا، تو اسی گھڑی اس معلم سے کلام کی حقیقت پوچھ لیتا ، اور معلم کلام کی حقیقت سے اس کو آگاہ کر دیتا ، اور اس حقیقت سے اس نادان کا دل روشن، ملائم اور نرم ہو کر راہِ حق کا طالب ہوجاتا، پھر وہ حقیقت سے آگاہ ہوجاتا، اس کے دل کو سکون و قرار آجاتا، اور وہ اہلِ حق میں سے ہوتا، کیونکہ وہ شخص نادان اور خرتھا، اس نے خود علم کی حقیقت نہیں سنی تھی، اور نہیں جانتا تھا، اور اسے گمان نہیں تھا، کہ وہ عالمِ حقیقت سے باخبر ہے، یہی سبب تھا، جو عالم سے نہیں پوچھا، اور عالم کے چلے جانے کے بعد اس کی غیبت شروع کی، اور وہ دل میں راہِ حقیقت کے علما ٔ کی دشمنی و کینہ رکھتا تھا، اسی سبب سے ایسے لوگوں سے آخر کار گناہِ کبیرہ سرزد ہو کر دوزخی ہو گئے، یہ لوگ بہت ہی نادان اور خر تھے، اور بسببِ جہالت راہِ حق
۴۴
سے بھٹک گئے، ورنہ شروع شروع میں سب لوگ راہِ حق پر تھے، اور اپنی جہالت کی بنا پر ہر زمانے میں ایک ایک فرقہ ہو کر جدا ہوتے گئے، حضرت خاتم الانبیا صلعم سے قبل اور بعد میں اب تک جو لوگ سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، اس کا سبب جہالت، حسد اور دشمنی ہے، انہوں نے کتنے موقعوں پر حقیقی امام علیہ السلام کو چھوڑ کر غیر امام کی پیروی کی اور فرقہ فرقہ ہوگئے، اور اسی اپنی جہالت میں اب بھی سرگردان ہیں۔
۴۔ وہ حق کو چھوڑ کر باطل کے پیرو ہوئے، اور یہ دانشمندوں کا راستہ نہیں، اہلِ دانش تو امامِ علیہ السلام ہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ یہ کہ تم اپنے امامِ وقت کے امرو فرمان کی اطاعت کرو، اور دائرۂ وجود کے اس مرکز کے حکم کے تحت رہو، اور یہ کہ امامِ وقت کی معرفت حاصل کرو، علم کی حقیقت جانو، دینی علما سے پوچھ لیا کرو، علمی مجلس میں بیٹھا کرو، عالم سے پوچھو، سنو اور اس پر عمل کرو، تب ہی علم کی حقیقت جاننے والے تم کو بتا سکتے ہیں، سمجھا سکتے ہیں ، اور کام حسبِ منشا ہو سکتا ہے، اور کوئی شخص گمراہ نہ ہوگا۔
۵۔ اے مومنو ، اے عزیزواور اے صداقت والو!تمہیں غافل نہیں ہونا چاہئے، حق بات کی طرف توجہ دو، سیدھی راہ اور سچی بات کے طلبگار رہو، تحقیق و تصدیق سے راہِ حق کو قبول کرو، حق و صدق کی باتوں میں بحث نہ کیا کرو اور کلام (یعنی قرآن) کے معنی و حقیقت سمجھ لیا کرو، اور اس کی تعلیم دو اور اس کو سنو۔
۶۔ اے مومنو! حقیقی مومنین، جو ایمان کے مکمل ہوتے ہیں، وہ ہیں، جو دینداری سے متعلق احکام اور مطالب یعنی کام، افکار، رفتار و سلوک اعمال و احوال، جو مومن کی صفات ہیں، دینی علما ٔ سے ، جو معلمانِ صادق ہیں، پوچھ لیا کرتے ہیں، اور واقفیت حاصل کرکے
۴۵
ان کو بجا لاتے ہیں، کیونکہ اول علم پھر عمل ہے، اور جو لوگ راہِ حق کے طالب ہیں، وہ روز بروز راہِ حق سے زیادہ مانوس ہو تے ہیں، اور آگے بڑھتے ۔
۴۶
دیدار کے لئے قربانیاں (۱)
۱۔ اے مومنو!مومنین آخرت کے لئے ستم و سختی جھیلتے ہیں، اور مومنین پر یہ ظلم و سختی منافقین کی طرف سے آتی ہے، اور مومنین منافق لوگوں کے درمیان خوار و بیمقدار ہوتے ہیں، دشمنانِ دین مومنین کو اذیتیں پہنچاتے ہیں، اور مومنین ہر حالت میں صبر اختیار کرتے ہیں، نہ اذیت سے غمگین ہوتے ہیں، اور نہ ہی حمایت سے شادان، وہ دنیا کے غم اور خوشی سے متاثر نہیں ہوتے، کیونکہ نہ دنیا کا غم ہمیشہ رہ سکتا ہے اور نہ اس کی خوشی، اور مومن صرف اپنے پروردگار کی خوشنودی کا طالب رہتا ہے، اور مومنین نے اخروی نجات کے لئے محنت، مشقت اور زحمت اٹھائی ہے، اور گریہ وزاری کی ہے۔
۲۔ مومنین نے خداوند کے دیدار کی خاطر اپنی آمدنی کا دسواں حصہ، جو امام علیہ السلام کا حق ہے، بطورِ واجبات بلا کم و کاست اور پوری طرح سے حضور کو پہنچا دیا ہے، مومنین امام علیہ السلام کے دیدار کے لئے اپنے مال، بیوی، اولاد اور زندگی سے دست بردار ہوئے، مومنین نے دیدار کی غرض سے اپنے سر، فرزند، مال و ملک کو فروخت کر ڈالا، اور آنجناب کی راہ میں صرف و قربان کر دیا، مومنین نے حصولِ دیدار کے لئے دور و دراز خشکی اور دریائی راستوں کو طے کیا، طوفانوں سے گزرے، اخراجات اور تکالیف برداشت کیں، یہاں تک کہ مقصد کو پہنچ
۴۷
گئے، مومنین مولا کے دیدار کے لئے کس قدر دور ممالک سے آئے، کتنی تکالیف اٹھا کر اور کتنے اخراجات برداشت کر کے آئے اور مالِ و اجبات لائے، مومنین نے دیدار کی خاطر نیک کام انجام دیئے اور خیر خواہی کی، مومنین نے دیدار کی غرض سے نیک کام، سچائی، سادگی، امانت گزاری، پاک نظری، صاف دلی اور دینداری اختیار کی، مومنین نے دیدار کے لئے عبادت، بندگی اور ریاضت کی، جس سے مقصود کو پہنچ گئے، مومنین نے دیدار کے لئے خداوند کی یاد میں کوشش کی، دائمی ذکر اختیار کیا، وہ دن رات لحظہ بھر کے لئے بھی خدا کی یاد سے غافل نہ رہے اور انہوں نے ذوق و شوق سے بندگی کی، مومنین نے دیدار کی خاطر اپنے سرو جان کی کوئی پرواہ نہیں کی۔
۳۔ مومنین نے دیدار کے لئے حق تعالیٰ کے امرو فرمان کو بجا لایا، مومنین دیدار کی غرض سے حقیقی مومنین کی مجلس میں رہے اور دینی علما ٔ سے علمی سوالات کئے اور سن کر اس پر عامل ہوئے، مومنین نے دیدار کے لئے اپنے غریب دینی بھائیوں کی مالی امداد کی اور انہیں توانگر بنایا، مومنین نے دیدار کے لئے فیاضی کی اور راہِ دین میں بہت سے خیراتی کام کئے، مومنین نے دیدار کے لئے اپنے مال سے اپنے مومن بھائی کو حصہ دیا، اس کے ساتھ برادرانہ سلوک کیا، اسے شفقت کی نظر سے دیکھا، محتاج مومنوں کے لئے نیکی اور سخاوت کا دروازہ کھول رکھا، اور ان پر کسی دنیاوی غرض، طمع اور ریا کے بغیر مہربانی کی، اور مومنین نے دیدار کے لئے مومنین اور نادار دینی بھائیوں کی دلجوئی کی۔
۴۔ اے مومنو!راہِ حقیقت کی قدردانی کرو، کہ راہ نجات ہے، جو شخص اس راہ پر چلتا ہے، وہ منزلِ مقصود تک پہنچ سکتا ہے، جو دیدار کا مشاہدہ ہے، پس جہاں تک تم سے ہو سکے کوشان رہو، تاکہ منزلِ مقصود
۴۸
تک رسا ہوجاؤ، جو امام علیہ السلام کا پاک دیدار ہے، اور جو شخص امام علیہ السلام کا طلبگار ہو، تو امام علیہ السلام بھی اس کے طلبگار ہوتے ہیں، جو کوئی امام علیہ السلام کو سارے جہان پر برگزیدہ مانے، تو امام علیہ السلام بھی اس کو ممتاز کر دیتے ہیں، جو شخص امام علیہ السلام کے لئے قبول کرتا ہے، تو امام علیہ السلام بھی اسے قبولتے ہیں، لیکن جو شخص امام علیہ السلام کے لئے قبول نہ کرے، تو امام علیہ السلام بھی اس کی پذیرائی نہیں کرتے، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں، اور جس شخص کا دل اور آنکھ پا ک ہو، اور وہ امام علیہ السلام کے دیدار کا طلبگار ہو، اور اسی خواہش کی بنا پر تمام دنیاوی خواہشات سے دست بردار ہو جائے، تو امام علیہ السلام اس کو دیدار بخشتے ہیں، خواہ وہ دنیا میں کہیں بھی ہو۔
۴۹
خدا کا محل اور تخت
۱۔ اس کے علاوہ تم یہ جان لو، کہ جب کسی دیندار مومن کا دل خرسند، شادمان اور راضی ہوجاتا ہے، تو سمجھ لو، کہ خدا راضی ہوا، کیونکہ مومن کا دل خدا کا گھر ؎۱ ہے، اور خدا وندکریم کے نظر کرنے کی جگہ ہے۔
۲۔ اے مومنو اور اے پرہیزگارو! خداوند ہر اس شخص کے دل میں اپنا مقام رکھتا ہے، جو مومن اور پاکباز ہو، جس میں کینہ، عداوت اور دنیوی محبت نہ ہو۔
۳۔ اے مومنو! جن دلوں میں کینہ اور پلیدی بھری ہوئی ہے، جس کا سبب تاریکیوں اور باطل خیالات کے نتیجے پر شکوک کا پیدا ہونا ہے، ان دلوں میں شیطان اور جنات کی جگہ ہے، اس کے برعکس، وہ دل، جو صاف، پاک اور حقیقی محبت والے ہیں، جن میں کسی سے کینہ و عداوت اور دنیاوی محبت نہیں، اور خدا کے خیال کے سوا کوئی اور خیال نہیں، تو ایسے دل عرشِ الٰہی اور مقامِ ملائکہ ہیں۔
۴۔ پس اے مومنو اپنے دل ہی میں خدا کا مشاہدہ کر لیا کرو، اپنے
؎۱: حدیثِ قدسی ہے کہ: لا یسعنی ارضی ولا سمائی ولکن یسعنی قلب عبدی المومن۔
میں اپنی زمین اور آسمان میں نہیں سماتا ہوں، لیکن اپنے مومن بندے کے دل میں سماتا ہوں۔
نیز حدیثِ نبوی ہےکہ: قلب المومن عرش اللہ تعالیٰ۔ مومن کا دل اللہ تعالیٰ کا عرش یعنی تخت ہے۔
۵۰
دل کو ہمیشہ صاف و پاک رکھا کرو، آئینۂ دل سے شک اور نفاق کے زنگ و غبار کو یقین کے جھاڑن کے ذریعہ پونچھ لو، اور علم و حکمت کے پانی سے اسے دھولیا کرو، تاکہ تم اپنے دل کے آئینے میں خدا دیکھ سکو، اگر تم خدا سے دوستی رکھنا چاہتے ہو، تو تم سیاہ دل منافقوں کی طرف مائل نہ ہو جاؤ، ایسا نہ ہو، کہ منافق تمہیں اپنے مانند بنالیں، اور خدائے تعالیٰ نے منافقوں سے اپنا چہرہ پھیر لیاہے۔
۵۱
حاضر و ناظر کے معنی
۱۔ جو کوئی خدا سے دوستی رکھتا ہو، اسے چاہئے کہ بے ایمان منافقوں سے اپنا منہ موڑ لے، جس طرح مومنین خدا سے دوستی کرتے ہیں، اسی طرح خدا بھی مومنین سے دوستی کرتا اور ان کی مدد کرتا ہے، اور جو کوئی خدا سے دوستی کرتا ہو، اس کو پہچانتا ہو اور اس کی عبادت کرتا ہو، تو خدا وند اس کو ساری آفتوں سے محفوظ رکھتا ہے، اور وہ زمانے میں خدا کا خاص بندہ اور حقیقی مومن بن جاتا ہے، کیونکہ وہ ہر جگہ اپنے خدا کو حاضروناظر؎ جانتا ہے، اور غافل نہیں ہوتا، وہ جانتا ہے، کہ اس کے تمام حالات سے، خواہ وہ پوشیدہ ہوں یا ظاہر، خداوند مہربان باخبر ہے، وہ جس کام میں بھی مصروف ہو (یقین رکھتا ہے کہ ) خدا کے حضور میں اور اس کے روبرو ہے، اور خدا اس کے پوشیدہ اور ظاہر کاموں سے، اس کے دل کے خیالات سے اور اس کی نیت سے باخبر ہے، اور ذرہ بذرہ اس کی تمام چیزوں سے آگاہ ہے، اگرچہ تو خدا کو نہیں دیکھتا، تاہم خدا تجھے دیکھتا ہے ( بندے کو) یقین کرنا چاہئے، کہ وہ جو کچھ کام کرتا ہو، اور
؎۱: خدا کے حاضر ہونے کے معنی یہ ہیں، کہ وہ اپنے ظہورِ نور کے اعتبار سے لوگوں کے سامنے ہے، اور ناظر کے معنی یہ کہ وہ بندوں کے احوالِ ظاہر و باطن کو دیکھتا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: ’’فلنقصنّ علیھم بعلم و ماکنا غائبین ۷: ۷ اور ہم (قیامت میں ان کے احوال کے) علم کے ساتھ ان سے ضرور بیان کر دین گے اور ہم (کچھ ) غائب تو تھے نہیں۔‘‘
۵۲
ہر بد یا نیک خیال جو وہ دل میں رکھتا ہو، اس سے خدائے عادل کے سوا دوسرا کوئی آگاہ نہیں، اور خدائے تعالیٰ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے، اور اس کی تمام کمیت و کیفیت پر مطلع ہے، تو غافل اور بے خبر ہے، اور جو شخص بے خبر ہو، تو وہ ڈرتانہیں اور خدا کو فراموش کرتا ہے، اور شیطان اس کے دل میں برے کام کا وسوسہ ڈالتا ہے، اس وقت وہ غافل خدا کے سامنے ہی کسی برے کام میں مصروف ہوتا ہے، یا کسی کو تکلیف دیتا ہے یا کسی کی غیبت کرتا ہے، ایسا شخص آخرت میں رسوا ہوگا، حضرت باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ۔
۲۔ مخلص بندہ وہ ہے، کہ جو کچھ کام کرے، اور جہاں کہیں جائے، تو اس میں ہم کو اپنے سامنے حاضر و ناظر جانتا ہے، اور ہم سے شرمایا کرتا ہے، اگر کسی آدمی کے دل میں کوئی برا خیال پیدا ہو، یا وہ حرام خوری کی طرف مائل ہو، اور وہ اس وقت ہماری طرف التجا کرے، تو ہم اس کو اس وسوسۂ شیطانی سے، اور اس فعلِ بد سے، جو اس کے لئے عذابِ آخرت کا باعث ہے، نجات بخشیں گے، اور اس کے دل میں نیک کام ( کی خواہش) ڈالیں گے، جس سے وہ اچھے کام اور اعمالِ صالح انجام دے گا، جن سے وہ آخرت میں رستگار اور مسرور ہوگا، اور وہ خوشی سے دنیوی زندگی بسر کرے گا، اور آخرت میں بھی وہ خوش رہے گا۔
۵۳
حقیقی مومن کا درجہ
۱۔ مومن کو چاہئے، کہ ہمیشہ خدا کے خیال میں رہے، موت کو اپنے نزدیک سمجھے، آخرت کی فکر و کاروبار میں رہے، اس کی توجہ اس بات کی طرف ہو، کہ وہ اپنی آخرت کو آباد کرے، اور ہمیشہ صرف دنیا ہی آباد کرنے میں پا بہ زنجیر نہ ہو، قوت لایموت ؎۱ کی ضرورت کے مطابق صرف اس قدر کمائے، کہ جس سے لوگوں کے درمیان دینداری کر سکے، اور اپنے دین کو مکمل کرے نہ کہ دنیا کو۔
۲۔ مومن کو چاہئے، کہ اپنے وقت کے پیر کی پیروی کرے اور اس کا دامن پکڑے، خدا وندِ ذوالجلال نے فرمایا ہے، کہ جو شخص مجھے (دنیا میں) اپنا بزرگ اور مہربان برادر سمجھے، تو میں اسے آخرت میں اپنا چھوٹا بھائی قرار دوں گا، اور اپنا دیدار اسے نصیب کروں گا، وہ میرے نورانی دیدار کا مشاہدہ کرے گا۔
۳۔ اے مومنو! اپنی قدرو قیمت سمجھو، کہ تم کل قیامت کے دن (گزشتہ زمانے کے) مومنوں اور نیکوکاروں کے ہمسر ہوجاؤ گے، حوروں کی معیت میں بہشت کی نعمتوں سے حظ اٹھاؤ گے، ان کے ہمنشین بن جاؤ گے، اور تمہیں اپنے مولا کی دوستی و برادری حاصل ہوگی، اور وہ ہر جگہ تمہارا پشت پناہ رہے گا۔
؎۱: قوتِ لایموت۔ اس قدر قلیل خوراک ، جو صرف بھوک کی موت سے بچائے۔
۵۴
۴۔ اے مومنو! میں نے تم کو پیدا کیا ہے، تاکہ تم ہمیشہ میری ہی یاد میں رہو، اس صورت میں دوسرے کسی کی یاد تمہیں جائز نہیں، اور ہر قسم کی سختیوں میں میری ہی طرف التجا کرو اور مجھ ہی سے مدد چاہو، کیونکہ میرے ماسوا سے التجا کرنا اور کسی غیر سے حاجت طلب کرنا روا نہیں، تمہیں پوری طرح سے باادب رہنا چاہئے، تاکہ تم سے کوئی غلطی سرزد نہ ہو، اور میرا نام اپنے دل و زبان پر جاری رکھا کرو، تاکہ میں تم سے راضی رہوں، میں نے اپنی رحمانی صفت سے تم کو نیستی کے بھنور سے چھڑا کر وجود کے ساحل پر پہنچا دیا، زندگی کے تمام ذرائع مہیا کر دیئے، اور تمہاری سہولت کی خاطر میں نے تم کو راحت و آسائش بخشی، تاکہ تم میری عبادت کرسکو، اور جس کام کا میں نے امر ؎۲ کیا ہے، اسے بجا لا سکو ، اور جس کی نہی ؎۳ کی ہے، اسے ترک کر سکو، تاکہ تم بھی میرے مانند ہو سکو اور زندۂ جاوید رہو گے، اور تمہیں علم و قدرت عطا کر دوں ؎۴ گا، پس اگر تم میری فرمانبرداری کرو، تو اس کا فائدہ تم ہی کو حاصل ہوگا، مجھ کو نہیں، کیونکہ میں تو بے نیاز ہوں اور تم محتاج، پھر تم دیکھ لو اور سوچو، کہ میں تم سے بھی زیادہ تمہارا خیر خواہ ہوں ( اور تم جس قدر اپنا لحاظ و رعایت کرتے ہو) میں اس سے بھی بڑھ کر تمہارا لحاظ و رعایت کرتا ہوں، پس اگر فی الواقع تم خود اپنا دشمن نہیں بنتے ہو، اور اپنی ابدی راحت کے طلبگار ہو، تو
؎۱: امر۔ فرمان وہ حکم جو کسی کام کے کرنے کے لئے ہو۔
۲۔ نہی۔ منع، ممانعت، روک، وہ حکم جو کسی کام کے نہ کرنے کے لئےہو۔
۳۔ تورات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ( أطعنی یا بن آدم اجعلک مثلی حیاً لاتموت، عزیزاً لا تذل، غنیاً لا تفتقر) اے ابنِ آدم! میری اطاعت کر تاکہ میں تجھ کو ایسا زندہ کروں گا کہ تو کبھی نہیں مریگا، ایسا معزز بناؤں گا کہ تو کبھی ذلیل نہیں ہوگا، اور ایسا امیر بناؤں گا کہ تو کبھی محتاج نہیں ہوگا (بحوالۂ تاویل الدعائم ص ۴۲، تحقیق کردۂ محمد حسن الاعظمی)
۵۵
مجھے یاد کرتے رہا کرو، اور میری آشنائی اختیار کرو، کیونکہ کوئی دوسرا شخص تم کو خطرات و مہلکات سے چھڑا نہیں سکتا، بلکہ وہ خود تم سے بھی زیادہ عاجز ہوگا۔
۵۔ اے مومنو! جو کوئی میرا دیدار کرنا چاہتا ہو، تو اس کو چاہئے کہ وہ مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ قریب سمجھے اور مجھے حاضرو ناظر مانے، ہر حال میں اور ہر جگہ مجھے حاضر و موجود جانے، روزِ قیامت کے حسابات سے خوف رکھا کرے، اور اپنی موت سے غافل نہ ہو جایا کرے، اور جو شخص میری فکر میں رہے، تو میں بھی اس کی فکر کر لیا کروں گا۔
۵۶
پیر اور معلم
۱۔ اے عزیزو! سن لو، تمہیں حصولِ علم کے لئے کوشان رہنا چاہئے، تم عالم کی باتوں کی حاصل کرو، ان کو خوب اپنے ذہن و شعور میں رکھا کرو، خداوند کریم کے علم کی حقیقت معلم سے سیکھ لیا کرو، اور اس پر عمل کئے جاؤ، تاکہ تم درجۂ کمال تک پہنچ سکو، اور دنیا و آخرت کے فیوض و برکات حاصل کرسکو گے، اور معلم جو کچھ تمہیں تعلیم دیتا ہے، اسے بجا لایا کرو، اور دیکھو کہ علم کے مقام پر پیر نے کیا ارشاد فرمایا ہے، تم اسی پر عامل رہو، معلم تمہیں پیر شناسی اور دین شناسی سکھاتا ہے اور منزلِ معرفت تک پہنچا دیتا ہے، امامِ عالیمقام علیہ السلام جو کچھ فرماتے ہیں، اس پر ثابت قدم اور قائم رہو، اور آنجناب جو حکم فرمائیں، اسی کے مطابق عمل کرو، ہر لمحہ اس کے امر کے لئے منتظر رہو، اور ہر دم اس کے فیض کے لئے امید وار رہو۔
۲۔ اے مومنو! اگر تم خدا شناسی میں کامل ہونا چاہتے ہو، اور خدا کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہو، تو اپنے وقت کے پیر کے امر کو قبول کرو، اور پیر تمہیں جو کچھ فرماتے ہیں، اسی کے مطابق عمل کرو، امر سے تجاوز نہ کرو، اور ہمیشہ فرمانبردار رہو، تاکہ تم اہلِ کشف میں سے ہوسکو۔
۳۔ پیر وہ شخص ہے، جس کو امامِ زمان علیہ السلام ایک ایسا درجہ عطا فرماتے ہیں، کہ جس سے وہ لوگوں میں اشرف ترین ہو جاتا ہے،
۵۷
اور جب کبھی امام کسی پیر کا تعین و تقرر فرماتے ہیں، تو اس وقت تفصیلی معرفت لازمی ہوتی ہے، اور تجھے چاہئے کہ انہی ( پیر ) کے ذریعہ امام شناسی کو مکمل کرے، اور جب امام علیہ السلام پیر کا تقرر نہ فرمائیں، تو امام اہلِ علم میں سے جس کو ہدایت و دعوت کے لئے مامور فرمائیں، تجھے اس شخص کی دعوت و ارشاد سے امام کی معرفت حاصل کرنی چاہئے، تاکہ تو گمراہی میں نہ رہے، اور اس شخص کے علم کی روشنی سے تو امام کی معرفت میں پہنچ سکے، اور پیر کے ہونے سے یہ ہوتا ہے، کہ پیر اور امام علیہ السلام کے امرو فرمان کے بموجب اور پیر کی اجازت سے معلمین دعوت کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔
۴۔ پس اے مومنو! تم پر لازم ہے، کہ پیر کی پیروی کر لیا کرو، ان کی فرمانبرداری سے روگردان نہ ہو جاؤ، اور پیر تمہیں جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں، اس پر پابند رہو، اور اسے عمل میں لاؤ، پیر تم سے کوئی اجرو صلہ نہیں مانگتے ہیں، اور میں خود انہیں عوض دیا کرتا ہوں، اور تم پیر کی جتنی بھی اطاعت کرو گے، ان شاء اللہ پیر روزِ قیامت تمہاری سفارش کر ینگے۔
۵۔ قیامت کے دن اگلے اور پچھلے تمام لوگوں کا حساب مولانا علی ذکرہ الشفا ء ؎۱ کے ہاتھ میں ہوگا ، اور آنجناب علیہ السلام ہی اپنے بندوں کو طلب فرمائیں گے، ان کے طلبگار ہوں گے، دریافت فرمائیں گے اور مخلص مومنین کو نوازیں گے، اور نافرمان منافقین صحرائے محشر کی گرم دھوپ میں خود بخود گرفتار ہوں گے، وہ وہاں روسیاہ اور شرمسار ہونگے، عذاب جھیلتے ہوئے نالہ و فریاد کریں گے، ہر شخص خود بخود گرفتار ہوگا، اور جو کوئی دنیا میں پیر کا فرمانبردار رہا ہو، اس ہولناک روز اپنے
؎۱: ذکرہ الشفاء۔ اس کی یاد شفاء ہے، مراد یہ ہے، کہ مولانا علی علیہ السلام کی یاد روحانی بیماریوں کے لئے دوا و شفاء ہے (مترجم)
۵۸
وقت کے پیر کے سائے میں رہے گا، اور خوشیاں منائے گا۔
۶۔ روزِ قیامت (ہر شخص کے لئے ) بے شمار لوگوں کے سامنے اپنے سامان (یعنی اعمال ) ظاہر کرنے کا دن ہے، ہر شخص جو کچھ اچھی جنس رکھتا ہو، وہ بازارِ محشر میں حاضر کرے گا، اور اس بازار میں خود اللہ تعالیٰ ہی ان چیزوں کا خریدار ہوگا، پس اب تو نے سمجھ لیا اور حساب کے بارے میں آگاہ ہوا اور جان لیا کہ تیرا خریدار کون ہے، پھر عمدہ اجناس اور نفیس اشیا ٔ ( مہیا کرنے ) کی فکر میں رہا کر، جو انمول اور گرانمایہ ہوں، وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ پاک روح، پاکیزہ دل، امامِ وقت کا عشق، اور اس کی کلی معرفت، اس کے خوف و امید میں جان دینا اور اس کی رضاجوئی۔
۷۔ اے مومنو! قیامت کے دن پیرِ کامل کے سوا باقی سب پیر، امیر اور ان جیسے لوگ کاپنتے لرزتے ہوئے کھڑے رہیں گے، اور ان میں سے کوئی شخص بھی بولنے کی جرأت نہ کر سکے گا، اور اپنی بات کوظاہر نہ کر سکے گا، مگر تمہارا پیر ہی، جنہوں نے دنیا میں تمہاری دستگیری کی ہے، آخرت میں بھی تمہاری دستگیری اور سفارش کریں ؎۱گے، پس ان کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو، چونکہ تم دراصل اس جہان والے ہو، لازماً تم اس جہان میں خوشیاں کرو گے اور عیش و راحت سے رہو گے، پس تم اس دنیا کی خوشی، دولت، عزت، رتبہ اور بڑائی میں مقید نہ رہا کرو، تم روز بروز زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کی، اپنے پیر کی اور امام کی محبت اور خدمت کر لیا کرو، اور اس دنیا میں نہ پھنس جاؤ، کیونکہ یہ جہان فانی اور بے قدر و منزلت ہے، تم دنیوی آلائشوں سے بچکر رہو، کیونکہ یہ تمہیں غفلت
؎۱: جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے۔’’ يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلاَئِكَةُ صَفًّا لاَ يَتَكَلَّمُونَ إِلاَّ مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا(۷۸: ۳۸) جس دن روح اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہونگے، وہ بات نہیں کرسکیں گے، مگر وہ جسے رحمان اذن دے اور وہ ٹھیک بات کہے۔‘‘
۵۹
میں ڈال دیتی ہیں، جب تم غفلت میں پڑتے ہو، تو آپس میں جھگڑا فساد کر کے مرتے دم تک ایک دوسرے سے انتقام لینے کے درپے ہوتے ہو، اس وقت مفلس، شرمسار ار پشیمان ہو جاتے ہو، پس کوئی چیز آخرت میں کام نہیں آتی، صرف یہی، کہ اگر تم سے ہو سکے، تو اپنے مال کو اپنے امامِ وقت کی خوشنودی میں صرف کیا کرو، کیونکہ دنیوی طور پر جو کچھ خرچ کرتے ہو، یا خزانہ کر کے رکھتے ہو، اسے تم دوبارہ نہ دیکھ سکو گے، بلکہ وہ تمہارے لئے باعثِ عذاب ہوگا، اور جو کچھ تم راہِ مولا میں دیتے ہو، وہ تمہارے لئے آخرت میں باقی رہے گا، جس کی مثال گندم کی طرح ہے، کہ جو خرچ کئے جاتے ہیں، وہ تو ختم اور فانی ہی جاتے ہیں، اور جو تخم ریزی کے طور پر کھیت میں بکھیر دیتے جاتے ہیں، وہ غیر فانی ہیں، اور آخرت میں تمہارےلئے اپنے ہی وقت کا پیر زیادہ کارآمد اور ہمدرد ہوں گے، جو شخص اپنے زمانے کے پیر کافرمانبردار نہ ہو، اور ان کا حکم نہ سنے، تو اس کے لئے آہ و افسوس! کہ وہ دنیا و آخرت میں ہمیشہ سرنگون و سرگردان ہوگا، پس لازمی ہے، کہ تم پیر کے دامن کو پکڑے رہو، کہ پیر ہی تم کو امام علیہ السلام کی تفصیلی معرفت سمجھا سکتے ہیں۔
۸۔ اگر تم چاہتے ہو، کہ اپنے دل کو حق تعالیٰ کے عشق و محبت سے پر مسرت اور زندہ کر سکو، اور خدا وند عالم کا عشق تمہارے دل میں ہمیشہ قائم رہے، اور یہ عشق تمہیں اپنے پروردگار کی ملاقات کے لئے بیقرار اور اس کے دیدار کے لئے طلبگار کرتا رہے تو اس کے لئے یہ ہے، کہ تم اپنا دل ماسوا ؎۲ اللہ سے پھر دو، خداوند کی طرف متوجہ ہو جاؤ، پروردگار،
؎۱۔: ما سوا اللہ ۔ خدا کے سوا جو کچھ ہے۔
۶۰
پیر اور رہنما سے التجا کرو، باطل اور غیر ممکن خیالات کو چھوڑو، اور دنیوی محبت کو قطعی طور پر دل سے نکال دو، تب ہی خدا وند تعالیٰ کا عشق تمہارے دل میں ٹھہرے گا، اور تمہیں حقیقی دیدار کے لئے بے قرار کر دے گا۔
۶۱
کشتیٔ نجات
۱۔ انہیں اپنے نوحِ وقت کی کشتی ؎۱ میں سوار ہونا چاہئے، کیونکہ دوسری سب کشتیاں غرق ہو جانے والی ہیں، پس تم اپنے رئیس اور سردار کا دامن پکڑو، خانۂ حقیقت میں رہا کرو، اورا پنے نوحِ زمان کی کشتی میں داخل ہو جاؤ، تاکہ تم سلامتی سے ساحلِ نجات پر پہنچ سکو، اور وہ رئیس اور نوحِ زمان تمہارے امامِ وقت شاہ عبد السلام شاہ علیہ السلام ہیں، انہی کی شناخت حاصل کرلو اور کشتیٔ نوح میں داخل ہو جاؤ، یعنی ان کے طریقِ دعوت میں، تاکہ تمہارا ایمان مکمل ہو اور تمہاری روح آفتوں سے سلامت رہے۔
۲۔ جو گھر روشن دان اور کھڑکی کے بغیر ہو، وہ تاریک رہتا ہے، اسی طرح جس شخص کا خانۂ دل امامِ زمان علیہ السلام سے، جو وقت کے سورج ہیں، مستفیض نہ ہو، تو وہ تاریک اور بے نور ہے، اس میں کوئی روشنی نہیں، اور کینہ و عداوت کی تاریکیوں میں ہے، پھر تاریکی میں کسی چیز سے ٹکرا جانا، راستے سے بھٹک جانا اور گمراہ ہو جانا لازمی ہے۔
؎۱: اس باب میں آنحضرت صلعم کا ارشاد یہ ہے: مثل اھل بیتی فیکم کمثل سفینۃ نوح فی قومہ من رکبہا نجیٰ و من تخلف عنہا غرق۔ تم میں میرے اہلِ بیت سفینۂ نور کی مثل ہیں، جو ان کی قوم کے لئے تھی، جو اس پر سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے مخالف ہوا غرق ہوا ( ارجح المطالب، ص ۳۲۹)۔
۶۲
۳۔ جو شخص راہ راست سے بھٹک گیا، تو وہ خواہ چلے یا ٹھہرے منزل میں نہیں پہنچ سکتا، اگر تو اسے راہِ راست بتائے، تو وہ باور نہیں کرتا، وہ شک و نفاق میں ہے، رد کیا گیا ہے، پر کھ نہیں سکتا، ایسے لو گ گمان کرتے ہیں، کہ وہ خود راہِ راست پر ہیں، حالانکہ وہ گمان کے پردے میں ہیں، وہ سرگردان رہے، اور نہیں جانتے ہیں، کہ سیدھی راہ ( اور دینِ حق) وہی ہے، کہ جس راہ کے پیشوا اور جس دین کے مالک امامِ حی و حاضر علیہ السلام ہیں۔
۴۔ پیغمبروں کے زمانے میں بھی جو شخص اپنے وقت کے نبی کی راہ پر چلا، تو وہ ناجی ہوا، اور جو شخص (اگلی) شریعت پر عامل رہا، اور اس نے اپنے وقت کے پیغمبر کی فرمانبرداری نہ کی، تو ایسے لوگ ضلالت و گمراہی میں رہے، ہر چند کہ انہوں نے اس شریعت کی رو سے خدا کے حکم اور گزشتہ زمانے کے انبیأ کے فتویٰ کے مطابق عمل کیا، اور اب بھی دورِ ولایت (میں ایسا ہی ) ہے۔
۵۔ جب کبھی کوئی شخص اپنے ولیٔ زمان کو نہیں پہچانتا ، نہیں مانتا، اور ان کے فرمان کو علمِ ظاہر کے ذریعہ پرکھتا، اور (آنجناب کے ) امام ہونے کے متعلق علمائے ظاہر سے تقلید کے طور پر پوچھتا ہو، اور اس پر عمل کرتا ہو، تو اس کا یہ عمل باطل اور اس کی تکلیف ضائع ہو گی، اور آخر کار وہ دوزخ والوں میں سے ہوگا، کیونکہ قرآن اور صحیح حدیث کے معنی امام علیہ السلام کے پاس ہیں، اور پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ جو شخص میری عترت (آل) اور خدا کی کتاب (قرآن) کو پکڑے رہے، تو وہ ہر گز گمراہ نہ ہوگا، اور میری عتر ت امام علیہ السلام ہیں‘‘ کہ (یہ حقیقت) ذریۃ بعضھا من بعض ؎۱ کے مطابق ہے، اور امام ہی کے ذریعہ امام کو پہچاننا چاہئے، امام خود ہی اپنی اولاد میں سے جس کو امام مقرر فرمائیں، وہی امام ہوگا،
۶۳
اور اس کے سوا کوئی امام نہ ہوگا، اور لوگ امام مقرر نہیں کر سکتے ہیں، اور (امامِ سابق) اپنی اولادوں میں سے جس کو نورِ امامت کے لئے مقرر فرمائیں اور جس کو اسرارِ امامت حوالہ کریں، تو وہی شخص امام ہے، اور وہی آلِ نبی ہیں، اور باقی سب دوسرے فرزند اگر (امام) کی اطاعت کریں، تو وہ اہلِ نجات میں سے ہیں۔
۶۔ پس امام کی پیروی کرو، تاکہ تم نسلاً بعد نسل امام کے راستے پر قائم رہ سکو، اور جو لوگ امام کے راستے پر نہیں، اس کا سبب یہی ہے، کہ انہوں نے امام علیہ السلام کی مخالفت کی اور آنجناب علیہ السلام سے عداوت کی، اور امام علیہ السلام نے اپنے آپ کو ان سے پردے میں
؎۱: اس مطلب کی پوری آیت یہ ہے: إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ ۔ ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (۳: ۳۳ تا ۳۴) بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام اور آلِ ابراہیم علیہ السلام اور آلِ عمران علیہ السلام ( یعنی آل ابو طالب) کو تمام جہانوں پر مصطفیٰ (پاک و صاف) کیا ہے یہ ایک دوسرے کی نسل میں سے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا (اور ) جاننے والا ہے‘‘ اس آیۂ مقدسہ سے خوب واقف و باخبر ہونے کے لئے اس حقیقت کا سمجھ لینا ضروری ہے، کہ جب حضرتِ نوح علیہ السلام کے ایک بیٹے کنعان نے اپنے والد کے دینِ برحق میں داخل ہونے سے صاف انکار کیا، تو قانونِ الٰہی نے اسے حضرتِ نوح علیہ السلام کی اولادوں سے خارج قرار دیا، چنانچہ قرآن کا ارشاد ہے: ’’( خدانے ) کہا اے نوح یقیناً وہ (بیٹا) تیرے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس نے اچھا کام نہیں کیا (۱۱: ۴۶)‘‘ اب اگر کنعان کی کوئی نسل باقی رہتی، تو حقیقت میں نوح علیہ السلام کی زریت نہیں کہلاسکتی، چونکہ یہ ذریت صرف کنعان ہی کی نسبت سے نوح علیہ السلام سے منسوب ہوسکتی تھی، پس آدم علیہ السلام ، نوح علیہ السلام ، آلِ ابراہیم علیہ السلام اور آل عمران علیہ السلام ایک دوسرے کی اولاد سے ہونے اور پاک و صاف ہونے کے معنی یہ ہیں، کہ ان حضرات کے غیر منقطع سلسلۂ ذریت کے پاک اشخاص میں نورِ خدا تاقیامت جاری و باقی ہے۔
۶۴
رکھا، اور لوگوں نے ظاہری علما ٔ کی پیروی کی، اسی سبب سے یہ لوگ گمراہ ہیں، اور انہی علمائے ظاہری کے ساتھ باقی رہے، یہ لوگ تقلیدی طور پر عبادت و دینداری کرتے تھے، یہاں تک کہ یہی تقلیدی عمل ان کا موروثی دین بن گیا، جس طرح زمانۂ جاہلیت میں تھا۔
۷۔ علمائے ظاہر بھی جانتے ہیں، کہ دنیا امام سے ایک طرفۃ العین کے لئے بھی خالی نہیں اور نہ کبھی خالی ہوگی، کیونکہ اگر دم بھر کے لئے وہ امام موجود نہ ہو، تو زمین اور اس کے باشندے ہلاک ہو جائیں گے، مگر دینوی سرداری اور اقتدار نے ان کو اس بات پر مجبور کردیا ہے، کہ وہ اس حقیقت کو چھپالیں اور منکر ہو جائیں، آخر انہوں نے انبیا ٔ و اولیا ٔ سے جو تنازعات کئے، ان کا سبب بھی یہی تھا، کہ وہ لوگوں میں معزز و محترم ہو جائیں۔
۶۵
اصلی مسرت کا مقام
۱۔ اے مومنو! تعجب ہے ان لوگوں سے، جو امام کے رستے پر نہیں اور وہ ہنسی خوشی کر رہے ہیں، اور اس سے بھی زیادہ تعجب ان لوگوں سے ہے، جو امامِ وقت سے انکار اور دشمنی کرتے ہیں، ان کی مثال اس چھوٹی بچے کی طرح ہے، جو پن چکی کے پرنالے پر یا گھر کی چھت پر یا ہاتھ میں ایک سانپ لئے ہوئے خوش ہورہا ہے (حالانکہ وہ سخت خطرے میں ہے) یہ غیر مناسب ہنسی اور بیجا و بے موقع خوشی، جو عوام کرتے ہیں، تو دیکھے گا کہ یکایک یہ ان کی ہلاکت، عذاب اور غم کا سبب بن جائے گی۔
۲۔ اے مومنو اور اے صداقت والو! ہنسی خوشی اس وقت کرو، جبکہ تم خطرات و آفات سے نجات پا چکے ہو، اور غرقابی سے (بچکر) ساحل پر اور سفر سے (سلامتی کے ساتھ) منزل پر پہنچ چکے ہو، یہ اس وقت حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ تم اپنے امامِ وقت علیہ السلام کی معرفت میں پہنچ چکے ہو، امام علیہ السلام کی غلامی (بندگی) و فرمانبرداری کر رہے ہو، آنجناب علیہ السلام کی فرمانبرداری و یاد سے تم دم بھر کے لئے بھی غافل نہیں ہو، اور آنجناب علیہ السلام کی معرفت سے تمہارا ضمیر روشن ہو چکا ہو، ایسا وقت ہی تمہارے لئے مسرت و شادمانی کا وقت ہے۔
۳۔ پس قہقہہ مار کر ہنسنے سے، جو ناپائدار ملمع چیزوں کے سبب سے
۶۶
ہے، جن کی مثال بچوں کے کھلونوں کی طرح ہے، بہت ڈرا کرو، کیونکہ یہ ہنسی شیطان کی صورت ہے، اور یہ ہنسی بے ایمان شخص کا فعل ہے، ہنسی اپنے مالک کو خوار کر دیتی، انسان کو لوگوں کے نزدیک بے وقار، بے آبرو اور ھلکا کردیتی ہے، اور ہنسی غفلت سے ہے، اور غفلت بے وقوفی سے ہے، اگر ہنسنے والا بے وقوف نہ ہوتا، تو وہ یہ بات سمجھ لیتا، کہ امرأ، حکما یا کسی معزز شخص کے پاس لوگ نہیں ہنس سکتے ہیں، پس وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہنسی، بے ادبی، فحش، غیبت اور فعلِ بد کرتا ہے، وہ اپنے کام کی سزا پائےگا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
۶۷
برائی کا انجام
۱۔ اے مومنو! تم اپنے قول، سلوک اور عمل میں سچے رہو، اور ہر گز جھوٹی، فضول اور بیجا باتیں نہ کیا کرو، اور کم گوئی اختیار کرو، اور جو باتیں نہ پوچھی جائیں، وہ نہ بتایا کرو، ہمیشہ خدا کی راہ میں رہو، خدا کی راہ سے دست بردار نہ ہوجاؤ، اور جو کچھ حضرت خداوند اور پیر فرماتے ہیں، اسے سنو اور عمل میں لاؤ، اگر تم حق تعالیٰ سے رحمت چاہتے ہو، تو خدا تعالیٰ کے کام میں حاضر رہو، اور دینداری کے شائق رہو، کیونکہ تمہارے لئے حق تعالیٰ کے عدل و انصاف کا ایک وقت آئےگا، اور فصل کاٹنے کا وقت آنے والا ہے، جس میں ہر شخص اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹے گا، اور ہرشخص کو اپنے عمل کا بدلہ ملے گا، پس آخرت کے حساب کے خیال میں رہو، اگرچہ بہت سے کام ایسے ہیں کہ جن کا بدلہ لوگوں کو صرف قیامت میں ملتا ہے، تاہم بدی دنیا میں بھی تین چیزوں میں سے کسی ایک کو تباہ کردیتی ہے، یا مال کو یا عمر کو یا ایمان کو پس برے کام انتہائی احتیاط کے ساتھ پرہیز کرو، کہ برائی بہت ہی خطرناک ہے، برائی سے بہت سی برائیاں پیدا ہو تی جاتی ہیں۔
۶۸
زندہ سمندر
۱۔ حقیقی مومن کو سمندر کی طرح ہونا چاہیے، جو کمی بیشی سے اس میں تغیر نہیں آتا، اور اس میں گد لایا گندہ پانی کے داخل ہونے سے، یا کسی نجاست کے پڑنے سے اس کے رنگ و بو اور طبیعت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، پس مومن کو بھی چاہئے، کہ دنیوی مال کی کمی بیشی سے یا کس شخص کی برائی سے یا اس کی فحش باتوں سے یا ڈا کا مارنے سے یا بد زبانی و بدسلوکی سے متغیر نہ ہو جائے، ان چیزوں سے حقیقی مومن کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے، لہٰذا اس کا دل اپنے مولا کی محبت میں برقرار ہے، اور لوگوں کی برائی اور بھلائی اس ( امتحان کے) لئے ہے، کہ مومن غیض و غصہ نہیں کرتا، وہ اپنی قوتِ شہوانیہ اور قوتِ غضبیہ پر غالب آچکا ہے، اسی لئے مومن فحش گالی نہیں دیتا۔
۲۔ مومن بد زبان و تلخ کلام نہیں ہوتا، وہ بد معاملہ و بد سلوک نہیں ہوتا، بد فعل و بد کردار نہیں ہوتا، مومن بخیل نہیں ہوتا، وہ امامِ زمان علیہ السلام سے غافل نہیں رہتا، ہمیشہ اپنے امام کا فرمان بردار اور اس کی رضا کا طلبگار رہتا ہے، مومن غیبت نہیں کرتا، وہ لوگوں کے مال اور عورتوں کی طرف خیانت کا ہاتھ نہیں بڑھاتا، اور شرم وحیا کے اوصاف رکھتا ہے۔
۳۔ پس اے مومنو! بری بات کرنے سے ڈرو، کیونکہ برائی آدمی کو بے ایمان بنا دیتی ہے، برائی لوگوں کے ایمان کو زائل کر دیتی ہے،
۶۹
اور ان کو دوزخی اور روسیاہ کر دیتی ہے۔
۴۔ اے مومنو! جس آدمی کی طبیعت میں غصے کا مادہ ہو، اس کے غصے کی آگ بھڑکتی ہے، جب وہ غصے کے زور سے گرم ہو جاتا ہے، تو اسی گرمی سے (اس کی ہستی میں) آگ لگ جاتی ہے، اور اس کے ایمان، نیک کام، ثواب، بندگی، دل کی روشنی، چہرے کی رونق، فہم و فراست کو یکسر جلادیتی ہے، اور اسی حرص کی آگ سے نفسانی خواہشات کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، جو پرلذت غذاؤں کی خواہش، مال، عزت و اقتدار ، لوگوں کی عورتوں کی خواہش اور عمدہ غذا و نفیس لباس کی خواہش ہے، یہ حرص گویا دوزخ ہے، جو تجھے خوار اور کنویں میں نگو نسار (اوندھا) کرے گی، پس جس حد تک تم سے ہو سکے، اپنی غضبی قوت اور شہوانی قوت کو قابو میں کر رکھو، تاکہ یہ تم کو لغزش و حرکت نہ دے سکے، تم کو نہ گرمائے تم میں کوئی تغیر نہ لائے اور تمہاری طبعی حالت نہ بدلائے، کیونکہ جب حرص نے کسی کی انسانی طبیعت و خصلت بدل دی ، تو وہ انسان حیوانِ بےایمان بن جاتا ہے۔
۷۰
دیدار کے لئے قربانیاں (۲)
۱۔ اے مومنو اور اے عزیز و! حقیقی مومنین حصولِ آخرت کے لئے غلط راستے کو چھوڑ کر صحیح راستے پر گامزن ہوئے، اور ٹیڑھے راستے سے دست بردار ہو کر سیدھے راستے پر ہولئے، انہوں نے خود بخود آخرت کی خاطر دیندار مومن بھائی کی خدمت اختیار کر لی، اور روشن ضمیر پیروں کی خدمت اختیار کر لی، اور اپنے معلم سے حق باتیں پوچھ کر ان پر عمل کیا، نیک لوگ حصولِ آخرت اور امامِ وقت کے دیدار کے لئے تختِ شاہی سے دست بردار ہوئے، یہ سب کچھ ان کی فطرت کے تقاضے سے ہے، کیونکہ بہت سی فطرتیں اس قابل ہیں، جو دینوی چند روزہ بادشاہی، سرداری اور عزت سے دست بردار ہوسکتی ہیں، اور نیک لوگ امام کے دیدار کے لئے ظاہری سرداری سے گذر کر (باطنی اور) ابدی سرداری کو پہنچتے ہیں، اور بہت سی ایسی خبیث فطرتیں بھی ہیں، جو امام علیہ السلام کے دیدار کو چھوڑ کر دنیوی سرداری طلبگار رہتی ہیں، وہ لوگ نور چھوڑ کر ظلمت کے طلبگار ہوتے ہیں، اور پانی چھوڑ کر آگ میں چلے جاتے ہیں۔
۲۔ نیک لوگوں نے دیدار کے لئے اپنے رشتہ داروں اور قومیت والوں کو چھوڑ دیا، انہوں نے دیدار کی غرض سے مال، ملکیت، بیوی، اولاد، عزت اور اقتدار سب کچھ چھوڑ دیا، اور نیک لوگوں کے پاؤں
۷۱
میں، امام علیہ السلام کے عشق اور دیدار کی تلاش میں، چھالے پڑپڑ کر پھوٹ گئے، انہوں نے آخرت کے لئے مجالس میں دینی بھائیوں کی خدمت کی، اور نیک لوگوں نے ایمان مکمل کر لینے کے لئے مومنوں کی مجلس میں شرکت کی، اور عبادت و بندگی کی، اپنے معلموں سے علمِ حقیقت کے سوالات کئے، علم یاد کرلئے، علم سیکھ لئے، بیٹھے اور سن لئے، اور حفظ کر کے عمل کر لئے، اور وہ سب دینِ حق کے عاشق ہیں۔
۳۔ اے مومنو! تم سب علیہ السلام کے پاک دین کا عاشق بنو، کلام اور علم سے واقف ہو جاؤ اور اپنے احوال و افعال سے غافل نہ رہا کرو، کیونکہ حق سے غافل ہونا آفت ہے۔
۷۲
اسرار امامت
۱۔ اے حقیقی مومنو! جہاں تک ہوسکے، اپنے حضرتِ خداوند کے راز (بھید) کو پوشیدہ رکھو، تاکہ نااہل اس سے واقف نہ ہو، اور جواہرات کو نادان سے مخفی رکھنا چاہئے، چنانچہ خداتعالیٰ نے پیغمبر صلعم سے فرمایا، کہ حقیقت کے اسرار (بھیدوں) کو زمانہ کے جاہلوں سے پوشیدہ رکھ لیجئے۔
۲۔ اے حقیقی مومنو! حضرت مولانا شاہ مستنصر باللہ ( علیہ السلام )فرماتے ہیں، کہ تم میرے اور اپنے امام شاہ عبدالسلام شاہ علیہ السلام کے نام کو بے ایمان جاہلوں کے پاس، جن کو رسالت اور امامت سے فطری دشمنی ہے، زبان سے ظاہر نہ کیا کرو، تمہیں دل میں اور نہایت آہستگی سے پڑھنا چاہئے، اور ہمارے راز کو زمانہ کے غیر دین والوں سے پوشیدہ اور مخفی رکھا کرو، تاکہ تم فیض اور حیاتِ طیبہ کے درجۂ کمال کو پہنچ سکو، اور خداوند کریم تم اخلاص والوں سے راضی ہوگا، تمہارے دل روشن اور پرنور ہوں گے، اور تم شادمان رہو گے۔
۷۳
باہمی امداد و اتفاق
۱۔ اے مومنو! حقیقی دیندار وہ شخص ہے، جو آخرت کی نجات چاہتا ہو، اسے چاہئے کہ اپنے حقیقی دیندار بھائی کی مدد کرے، تاکہ وہ اہلِ نجات میں سے ہو، حقیقی مومنین وہ ہیں، جو اپنے دینی بھائیوں میں باہمی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کی یاری کرتے ہیں، جو کچھ میسر ہو مل کر کھاتے ہیں، غم اور خوشی میں ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں، ان کے دل میں ہرگز کینہ اور عداوت نہیں، ہوتی، ان کا ظاہر و باطن ایک ہوتاہے، یہ مومن شکم سیر ہو، تو وہ مومن خود کو شکم سیر سمجھتا ہے، وہ بھوکا ہو، تو یہ اپنے آپ کو بھوکا متصور کرتاہے، جب یہ کھائے تو وہ خوش ہوتا ہے، اور جب وہ کھائے تو یہ خوش ہوتا ہے، ایسے مومنین دنیا میں بھی متحد ہیں، اور آخرت میں بھی خداوند کے حضور میں متحد ہوں گے۔
۲۔ جو شخص انسان ہو، وہ اپنے دینی بھائی کے ساتھ متفق و متحد ہے، کیونکہ انسانی روح متحد ہے، اور حیوانی روح متفرق ہے، اور ضدیت و مخالفت حیوانی روح کی وجہ سے ہے، حیوانی روح کی زندگی غذا سے میسر ہوتی ہے، اسے غذا نہ ملتے ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرتا، کہ وہ ہلاکت ہو جاتی ہے، اور انسانی روح امام علیہ السلام کی معرفت اور اہلِ حق کی محبت سے زندگی حاصل کرتی ہے، اگر یہ دونوں چیزیں میسر نہ ہوں تو
۷۴
یہ ہلاک ہو جاتی ہے۔
۳۔ پس اے مومنو! اگر تم چاہتے ہو، کہ دونوں جہان میں زندہ رہو، تو ایمان کو مکمل کرلو، کیونکہ نورِ ایمان کے ذریعہ ابدی حیات تک رسا ہوسکتے ہیں، اور ایمان امامِ وقت علیہ السلام کی شناخت و معرفت اور فرمانبرداری سے، اور آنجناب کے پیروؤں کی محبت سے حاصل اور کامل ہو جاتا ہے، پس اپنے امام کی پیروی کرو، اور ایک دوسرے سے راضی اور متحد رہو، تاکہ تم دونوں عالم میں زندہ ہو سکو، اور آخرت میں نیک لوگوں اور انبیا ٔ علیہم السلام و اولیا ٔ علہیم السلام کے ساتھ اور امام علیہ السلام کے حضور میں اٹھائے جاؤ گے، اور انتہائی مسرت سے ایک دوسرے کو دیکھو گے۔
۴۔ پس اے مومنو! آخرت کے کام خواہ اچھے ہوں یا برے، دنیا ہی میں مکمل ہو تے ہیں، پس تمہیں دنیا میں باہمی صاف دلی اور محبت ہونی چاہئے، اور ایک دوسرے سے دوستی ہونی چاہئے، تاکہ کل قیامت کے روز تم امامِ زمان صاحب الامر علیہ السلام کے مقدس حضور پُرنور میں اور آنجناب علیہ السلام کے تخت کے نزدیک انتہائی مسرت و شادمانی سے ایک دوسرے کے ساتھ رہو گے۔
۵۔ اے مومنو! کسی شرم کے بغیر ایک دوسرے کی خدمت کر لیا کرو، اور اس میں ننگ و ناموس نہ کیا کرو، کیونکہ (بیجا ننگ و ناموس کرنے کے باعث) تم فیض سے دور رہ جاتے ہو، تم ایک دوسرے کے حال احوال سے آگاہ ہو جاؤ، ایک دوسرے کے گھروں میں آیا جایا کرو، اور تمہارا خیال ایک دوسرے کا مال کھانے کے لئے نہ ہو، ایسا نہ ہو کہ تم منافقوں کی طرح ایک دوسرے کی برائی کرنے لگو، بلکہ تیرا خیال یہ ہونا چاہئے، کہ تو اپنا کھانا اپنے مومن بھائی کو کھلائے، اور وہ اس خیال میں ہو، کہ اگر اس
۷۵
سے ہوسکے، تو وہ تجھے کھلا دے، اگر تم سے ہو سکے، تو اس خیال میں رہو، کہ اپنے کام پر مومن بھائی کے کام کو ترجیح دو، ہمیشہ تم جس کام اور معاملہ میں بھی ہو، جب مومن بھائی مطمئن ہوا تو تم مطمئن ہو جاؤ، اگر تمہارا کام بن گیا اور مومن بھائی کا کام ادھورا رہا، تو تم اطمینان سے نہ رہا کرو، یوں سمجھو جیسا کہ تمہارا اپنا کام ادھورا رہا ہو، اور اگر مومن بھائی کا کام بن گیا، یا اسے زیادہ فائدہ حاصل ہوا، یا ( اس کا مالِ تجارت) زیادہ اور اچھی قیمت پر بک گیا، تو تم اسے اپنے کام بن جانے کی نسبت زیادہ خوش ہو جایا کرو، اور اگر مومن بھائی کو فائدہ ہوا، تو یوں سمجھ لو کہ گویا تمہیں فائدہ ہوا، اسی صورت میں تم سب کو برکت، سلامتی اور خوشحالی حاصل ہوگی، تمہارا دل روز بروز روشن تر ہو تا جائےگا، تمہاری خوشی بڑھتی جائےگی، اور تمہارا اعتقاد کامل تر ہوتا جائےگا، اور اگر تم نے اپنے کام کو (مومن بھائی کے کام پر) ترجیح دی، اور اس خیال میں رہے، کہ تمہارا اپنا منافع زیادہ ہو، یا اس کے مال کو کھانا اور لے جانا غنیمت سمجھے اور تمہارا خیال یہ ہو، کہ تم اس کے مال کو لے کر اپنا مال بڑھا سکو، ایسے میں لازماً تمہارے مال سے خیروبرکت اٹھ جاتی ہے، اور تم خدا کی رحمت کو نہیں پہنچو گے۔
۶۔ جب کبھی تم دینی بھائی ایک دوسرے کے دوست اور خیر خواہ ہوتے ہو، تو خدا بھی تم سے راضی اور خوش رہتا ہے، اور بدی ہر گز نہ دیکھو گے، اور اگر تم ایک دوسرے کے دشمن اور بدخواہ ہوگے، تو خدا تم سب سے بیزار ہے، اور اگر بدی صرف ایک ہی طرف سے ہو، تو صرف وہی ایک فریق برائی میں گرفتار اور نگونسار ہوگا۔
۷۶
کشت گاہِ آخرت ؎۱
۱۔ اے بھائیو اور اے عزیزو! اگر کوئی شخص بیج نہ بوئے، تو وہ کیا حصول اٹھائے گا، تم جو کچھ بوتے ہو وہی اگتا ہے، پس نیکی کے بیج بودو، یعنی نیک کام کرو، تاکہ آخرت میں تم کو اچھا حصول ملے، تم دنیا کے معاملے میں جو کچھ خرچ کرتے ہو، وہ فنا اور ختم ہو جاتا ہے، اور راہِ خدا میں جو کچھ دیتے ہو، تو اسی کے ذریعہ آخرت میں تمہاری دستگیر ی ہوتی ہے، جو کچھ تم اپنے مولا کی راہ میں دیتے ہو، اس کا عوض دنیا میں سو گنا اور آخرت میں ہزار گنا تمہیں حاصل ہو جاتا ہے، پس کوئی زراعت اور کوئی تجارت اس سے بہتر نہیں، کہ تم اپنے حلال مال کو اپنے مولا کی راہ میں صرف کرو، اور اس سے برتر کوئی دولت ہی نہیں، کہ تمہیں اپنے امامِ وقت علیہ السلام کا راستہ مل جائے، اور اس سے بالاتر کوئی عبادت نہیں، کہ تم ہمیشہ اپنے امامِ زمان علیہ السلام کے ذکر میں لگے رہو، زہے نیک بختی، اس شخص کی، جس کو یہ مطلب حاصل ہو، جو ایسی لازوال نعمت کو پہنچے اور جس کو یہ ایسی دولت نصیب ہو۔
۲۔ جس کا دل اور زبان ایک ہو، تو صرف اسی کو خدا کے حضور میں کوئی قربت و منزلت میسر ہوسکتی ہے، اور جس کا دل و زبان ایک نہ ہو،
؎۱: آخرت کی کھیتی، چنانچہ حدیثِ شریف ہے: الدنیا مزرعۃ الاخراۃ۔ یعنی دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔
۷۷
تو وہ کسی مقام کو نہیں پہنچ سکتا، حقیقی مومن وہی ہے، جس کا دل اور زبان ایک ہو۔
۳۔ دیندار مومن وہی ہے، جو ہمیشہ خداوند کے ذکر میں ہو، اس کا دل خداتعالیٰ کے عشق میں اور اس کی زبان حق تعالیٰ کی توصیف و ثنا میں ہو، راہِ حق کے رہنماؤں کی نصیحت سنتا ہواور اس پر عمل کرتا ہو، اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہو، نیک کام کو اول خود انجام دیتا ہو اور اس کے بعد دوسروں کو اس کی ترغیب دیتا ہو۔
۷۸
خدا کی معرفت
۱۔ انسان اپنے پروردگار کی معرفت اس وقت حاصل کر سکتا ہے، جبکہ اس نے اپنے آپ کی معرفت حاصل کر لی ہو، اول؎۱ چاہئے کہ تو اپنے جسم کو جزو جزو پہچان لیا کرے، اس کےبعد تجھے جان لینا چاہئے، کہ تو خود بخود پیدا نہیں ہوا ہے، کسی دوسرے نے تجھے پیدا کر دیا ہے، پھر تجھے غور و فکر کرنا چاہئے ، کہ کس نے تجھے پیدا کر دیا ہے؟ اور اس دنیا میں کیوں لایا ہے؟ اور کہاں لے جانے والا ہے؟
۲۔ اس کے بعد تجھے معلوم ہوگا، کہ اگر تیرا بدن اعتدال پر ہے، تو وہ بیماریوں سے سلامت ہے، اگر اعتدال پر نہیں، تو بیمار پڑتا ہے، اس وقت انسان خود کو ناموافق غذاؤں سے بچاتاہے، اور وہ خود کو ظاہر سے باطن کی طرف لے جاتا ہے( یعنی جسم سے روح کی مثال لیتاہے) کہ اگر اپنے آپ کو افراط و تفریط ؎۲ سے بچائے، اس کا ہر کام اعتدال پر ہو، افراط و تفریط نہ کرے اور اخلاق کی اصلاح و درستی کرے،
؎۱۔ یہ اشارہ ہے، اس حدیثِ شریف کی طرف: من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔ جس نے اپنے وجود یعنی چار نفوس: نفسِ نباتی، نفسِ حیوانی، نفسِ ناطقی اور روحِ قدسی کو پہچانا، پس اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا۔
۲۔ افراط: بیشی ، تفریط، کمی۔ پس افراط و تفریط کا مطلب ہے غیر معتدل حالت، یعنی جس میں کمی بیشی ہو۔
۷۹
یہاں تک کہ اپنی ذات سے چوپایوں اور درندوں کی عادات کا خاتمہ کرے، اور انسان صفات سے متصف ہو جائے اور اپنے نفس کو پاک و صاف کر دے، جونہی اس کا دل پاک ہوا، شک و نفاق اس کے دل میں نہ رہا، اپنے امامِ زمان علیہ السلام کی معرفت پر یقین کیا، اور امام علیہ السلام کو ہر جگہ اپنے روبرو حاضر و ناظر دیکھا، تو اس وقت وہ علم الیقین میں پہنچتا ہے، اور حق الیقین کے مرتبے میں اس وقت پہنچتا ہے، جبکہ اس کا قلب نورِ یقین سے روشنی ہو جاتا ہے، اور وہ اپنی جان کو نورِ یقین کی روشنی میں دیکھنے لگتا ہے، اس کے بعد جہاں (یعنی جس مرتبے میں) اس کا پروردگار ہے، عین الیقین سے اس کا مشاہدہ کرتاہے، یہ سب کچھ اس وقت حاصل ہوتا ہے، جبکہ تو اپنے پیر اور رہنما کے فرمان پر عمل کرے، اور ایسے لوگوں کی پیروی کرے، جو راہِ حق پر چلے ہیں، یہ وہ راہنماہیں، جو امام علیہ السلام کی راہ کے سوا از خود کوئی راہ نہیں دیکھاتے، راہِ حقیقت میں صادق اور باخبر ہیں، یہ دنیوی اغراض سے آزاد ہوئے ہیں، اور امام علیہ السلام ، پیر اور معلم کے معاملات میں سرکشی اور چون و چرا نہیں کرتے، کیونکہ دینی بزرگ اور باخبر حضرات یعنی امام علیہ السلام ، حجج، دعاۃ؎۲ اور طریقِ حق کے معلمین ؎۳ کی مثال طبیبوں، دانشمندوں، استادوں اور داناؤں کی طرح، شفیق ناصح کی طرح اور دایوں کی طرح ہے، اور باقی سب لوگ مریض اور شیر خوار بچوں کی مانند (محتاجِ پرورش) ہیں، مریض اور شیر خوار بچوں کو لازمی ہے، کہ وہ اپنے طبیب اور پالنے والے کی اطاعت کریں، اور ان کا سب سے بڑا فائدہ اسی میں ہے، اگر وہ مخالفت اور انکار کریں، تو اس طریقِ کار سے ان کو نہایت ہی نقصان پہنچے گا، اور آخرکار ان پر ملامت آئے گی۔
؎۳۔ حجج۔ حجت کی جمع، دعاۃ۔ داعی کی جمع
۴۔ معلمین۔ معلم کی جمع
۸۰
۳۔ پس راہرو کے لئے لازمی ہے، کہ وہ راہبر کی پیروی کرے، تاکہ سلامتی سے منزل میں پہنچ جائے، پس جو لوگ ہماری محبت میں رہنا چاہتے ہوں، تو ان کی زبان سچی ہونی چاہئے، وہ جھوٹ بولنے والے اور غیبت کرنے والے نہ ہوں، ان کی آنکھیں پاک ہوں، اور غیر عورتوں اور مالِ بیگانہ کی طرف حسرت و خیانت کی نگاہ سے نہ دیکھیں، ان کا دل پاک ہو، ان کے دل میں دنیا اور مال و متاع کی محبت، عزت و اقتدار کی آرزو اور میٹھے کھانوں کا شوق نہ ہو، وہ عمل میں راست باز ہوں، ان کا منہ پاک ہو، حرام لقموں کے کھانے سے اور دسواں (دہ یک) جو امام زمان علیہ السلام کا مال ہے، کے نہ دینے سے، اور یتیم کے مال پر قبضہ کرنے سے اپنے منہ کو گندہ نہ کرتے ہوں، خاموش رہتے ہوں، ان کا خیال دنیوی آرائشوں کی طرف نہ ہو، ان کا خیال اپنے امام حاضر الوقت علیہ السلام کی جانب ہو، امام زمان علیہ السلام کے دیدار کے سوا کوئی چیز ان کے دل میں اور ان کی نظر میں جلوہ گر اور جاذب نہ ہو، ان کا خیال دنیا و آخرت کی طرف نہ ہو، بلکہ امام علیہ السلام کے دیدار اور آنجناب کی خوشنودی کی طرف ہو، سچائی سے حقیقت کی راہ پر چلیں، کارِ حرام کے پیچھے نہ جائیں، اور پاکیزہ و پرہیز گار رہیں، یعنی (حرام و حلال) تمام چیزوں سے پرہیز کر کے امام علیہ السلام کی معرفت کی طرف بڑھ جائیں، اس لئے کہ امام علیہ السلام کے سوا محسوسات اور غیر محسوسات کی ہر چیز ، خواہ بری ہو یا اچھی، فی الواقع آگ کی سی آفت ہے، پس جس طرح تم کاٹنے اور پھاڑنے والے جانوروں سے پناہ کی طرف دوڑتے ہو، اور (جس طرح دوسری تمام) بلاؤں سے خود کو بچاتے ہو، اسی طرح تمہیں دنیا اور تمام اہلِ دنیا سے بچ جانا چاہئے، اور دنیا کے مالک کے حضور میں پناہ لینی چاہئے، کیونکہ مکمل امن و آسائش کا مقام یہی ہے۔
۸۱
۴۔ پس اے مومنو! حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنا منہ نافرمانیوں سے موڑ لیتا ہے، اور حقیقی بادشاہ کی اطاعت کرتا ہے، حق تعالیٰ کی طرف رخ کر لیتا ہے، پیر کے امر کو بجا لاتا ہے، جس طرح پیر مولا کے امر کو بجالاتے ہیں، جس طرح پیر امام علیہ السلام کے فرمان کے تحت ہیں اور امر سے تجاوز نہیں کرتے، اس طرح معلموں کو بھی پیر کے امر و فرمان کے تحت رہنا اور تجاوز نہیں کرنا چاہئے، تاکہ مراد کو پہنچیں، اور مومنین بھی معلم کے فرمان سے تجاوز نہ کریں، اور اس سے تعلیم حاصل کریں، امام علیہ السلام کی معرفت اور احکامِ دین سیکھ کر ان پر عمل کریں تاکہ مراد کو پہنچیں۔
۵۔ پس مرشد اور رہبر جو کچھ تمہیں تعلیم دیتا ہے، جو تم کو پند، وعظ اور نصیحت کرتا ہے، اور تمہیں صحیح و سلامت امامِ حاضر علیہ السلام کی حقیقت و معرفت میں پہنچا دیتا ہے، تم جان و دل سے اس کے لئے قبول کرو، اور اس نعمت کا شکر کرو، کہ اگر انسان ایک سیدھی راہ کے درمیان چل رہا ہو، اور اس کے ساتھ ایک روشن چراغ ہو، تو وہ نہایت ہی سلامتی اور آسائش سے اپنے وطن میں پہنچ جاتاہے۔
۶۔ پس ہر کاروبار اور ہر معاملے میں جب کوئی دانا اور تجربہ کار شخص موجود ہو، تو وہی معیوب اور غیر معیوب جنس میں فرق و امتیاز کر سکتا ہے، اصل و نقل کو پہچانتا ہے، وہ اس میں دھوکا نہیں کھاتا، اور بے عیب اصلی جنس خریدتا ہے، پس معلمِ صادق کی دانش، جو کامل اور باخبر مرشد ہے، تجھے غلط راستے سے صحیح راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے، گمراہی کے کنویں سے نکال دیتی ہے، ہلاکت کے بیابان سے بچاؤ کی آبادی میں منتقل کر دیتی ہے، گمراہی کے دریا سے نجات کے ساحل پر پہنچا دیتی ہے، اور پر آفت جگہ سے اور جانوروں، درندوں، گزندوں اور
۸۲
جنات کے دست و چنگل سے (چھڑا کر) مقامِ امن، جو امام علیہ السلام کی شناخت ہے، میں لے جاتی ہے۔
۷۔ اے مومنو! جب کوئی شخص مذاق اور بیہودہ باتیں کرتا ہو اور ہنسا نے کی باتیں کرتا ہو، اور دوسرے لوگ اس کے سامنے کھڑے (یا بیٹھے) ہوئے ہنس رہے ہوں، تو وہ سب کے سب شیطان ہیں۔
۸۳
تقلید کے نتائج
اے مومنو! سنو اور حق بات کو اپنے دل و دماغ میں محفوظ رکھو، حق تعالیٰ کے فرمان کو یاد رکھو، اور حقیقی علم کی باتوں کو سن لو اور اپنے دل میں رکھو، کیونکہ بہت سے لوگ خود رائی، خود پسندی اور بے تعلیمی سے گمراہ ہو گئے ہیں، وہ قیل و قال، جھوٹے قول اور تقلید؎۱ میں رہ گئے ہیں، انجام سے بے خبر ہیں، وہ اپنی فرضی اور برائے نام دانش سے اور اپنی سرداری اور مالِ دنیا سے مغرور ہوچکے ہیں، روزِ قیامت میں جلادینے والا سورج ان پر طلوع ہوگا، اور سخت ترین حساب کی جگہ کھڑے کئے جائیں گے، اور یہ عوام علم کا کوئی حصہ نہیں رکھتے، تقلید میں گمراہ ہو جاتے ہیں، ان کی نکیل (یعنی اختیار) ڈاکو چھلاؤں؎۲ (جنات) کے ہاتھ میں ہے، جنہوں نے سب کو راہِ حق سے نکال دیا ہے، اور سب گمراہی کے سمندر میں غرق ہوئے ہیں، مگر وہ اپنی گمراہی کا کوئی احساس نہیں رکھتے، سب فرقہ فرقہ ہوئے ہیں، وہ اپنے غلط کام سے بے خبر ہیں، وہ نہیں جانتے کہ ان کے کام کا کیا انجام ہونے والا ہے، سب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، اور مرنے کے
؎۱: تقلید دینی معاملات میں ایسی پیروی کو کہتے ہیں، جو تحقیق کئے اور سوچے سمجھے بغیر کی جاتی ہے۔
؎۲: چھلاوہ غول بیابانی کا ترجمہ ہے، جو ایک قسم کا جن متصور کیا جاتا ہے۔
۸۴
بعد ان کو خبر ہوگی، مگر اس وقت ان کے باخبر ہونے میں کوئی فائدہ نہیں، اور وہاں پشیمانی و حسرت کے سوا ان کے لئے کوئی چیز نہیں۔
۲۔ مومن کو دنیا ہی میں قیامت سے اور اپنے کام کے انجام سے باخبر رہنا چاہئے، عوام اور ان کے پیشواؤں کی مثال بوڑھی گائیوں اور قصاب کی طرح ہے، کہ قصاب (آخر کار) چھری کی دھار سے ان سب کا چمڑا اتار لیتا ہے، اور وہ گائیں اس انجامِ کار سے بے خبر رہتی ہیں، پس ہر گز ہر گز تم اہلِ تقلید میں سے نہ ہوجانا، اور علمائے جور کی پیروی نہ کرنا جو علمائے ظاہری ہیں، جو امامِ وقت کے موجود ہونے سے، آنجناب کی راہ پر چلنے سے اور ان کے حضور میں مشرف ہونے سے منکر ہیں، اور اگر کوئی شخص کہے کہ ’’امام حی و حاضر ہیں، تجھے اس کی راہ حاصل کرنی چاہئے‘‘ تو اس بیچارے استاد کے متعلق کفرو بے دینی کا فتویٰ دیتے ہیں، اور اسے سنگسار کرتے ہیں۔
۳۔ ان خود پرست علما سے خدا کی پناہ لو، کہ انہوں نے اپنے لئے عجیب قسم کا خیالی پلاؤ پکایا ہے، اور اپنے لئے عجیب طرح کا پانی نہر میں بہا دیا ہے، کہ انہوں نے اسی جملے کے ذریعے سے لوگوں کی زبان بند کرادی ہے، جو کہتے ہیں، کہ ’’تم کفر کی باتیں کرتے ہو‘‘ اور انہوں نے ایک عام نادان شخص کو اپنا پیر قرار دیا ہے، اور ہر پاکیزہ فطرت شخص، جو امام سے واقف ہوتا ہے، وہ ان خود پرست دشمنوں کے باعث کچھ کہہ نہیں سکتا۔
۴۔ ان ریاست و سرداری کے طلبگاروں نے یہ دیکھ لیا، کہ جس وقت بھی انہوں نے خدا کے نور کو بجھانے کے لئے امامِ وقت کو ایذائیں پہنچائیں اور آنجناب کے خلاف جنگیں لڑیں، تو وہ ناکام ہی رہے، آخر انہوں نے عاجز آکر مکر اور جھوٹ سے کام لیا، اور کتابوں میں لکھ
۸۵
دیا کہ امام صرف آخرزمان میں کچھ کہے گا، اور لوگ (اس وجہ سے) امام علیہ السلام کی راہ دیکھ پانے سے رہ گئے، اور سارے عوام نے اس جھوٹی بات پر باور کر لیا، یہاں تک کہ وہ سب امامِ وقت علیہ السلام کے دیدار سے بے نصیب ہو گئے، حالانکہ امام علیہ السلام سورج کی طرح دنیا میں ظاہر ہیں، اور وہ لوگ از خود امام علیہ السلام کے دشمن اور ظہور کے منتظر ہیں، انہوں نے علمائے ظاہر کی فرمانبرداری اور تقلید میں اپنی زندگی برباد و ضائع کر دی ہے۔
۸۶
سب سے بڑی دولت
۱۔ اے مومنو اور اے صداقت والو! شکر کرتے رہو، کہ تم اس دولت سے مستفیض ہو گئے ہو، اور تمہاری سعادتمندی اور خوش نصیبی تھی، جو یہ (لازوال دولت ) تمہارے ہاتھ آگئی، اور وہ لوگ تم پر غالب نہ آسکے، (یعنی وہ تم کو گمراہ نہیں کرسکے) اور محتاط رہو، اور ہمارے بھید کو ان نااہلوں سے پوشیدہ رکھو، اور ان آدمی نما جنات سے ڈرتے رہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو ہلاک کر ڈالیں اور جس طرح وہ خود کھچے ہوئے ہیں اسی طرح تم کو بھی بدبختیوں کی تاریکیوں میں کھینچ نہ لے جائیں۔
۲۔ اے مومنو! خدا کا راستہ اختیار کرو، اور خدا کے راستے میں خیرات و عطیات دیا کرو، اور گریہ و زاری اور عبادت کرتے رہو، اور اس نعمت کی قدردانی کرو، مبادا کہ تم ہار جاؤ، اور بیش بہا موتی کی حفاظت کرنی چاہئے، تم دیکھتے ہو، کہ جس شخص کے پاس کوئی اچھا مال و متاع ہو، تو وہ کس قدر اس کا خیال رکھتا ہے، پس دینِ حق اور امامِ وقت علیہ السلام کی معرفت سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں، اور اپنے پیرکا دامن پکڑو، تاکہ طوفانوں سے بچکر رہو، اور شیطان کا ہاتھ تم پر نہ پہنچ سکے۔ اور حرام خوری سے اپنے آپ کو بچاؤ، تاکہ تمہارا دل کالا نہ ہو، اور جس شخص کا دل ذکر کرتے وقت بھاری، سخت اور سیاہ محسوس ہوتا ہو، تو یہ اس کے شوق نہ ہونے اور سستی آنے کی وجہ سے ہے، جو حرام خوری اور مالِ واجبات
۸۷
نہ دینے کے سبب سے ہے، پس مالِ واجبات پہنچا دیا کرو، اور امام علیہ السلام کے امر کو قبول کرتے رہو، کسی سے بدی نہ کرو، خیرخواہی اختیار کرو، نیک افعال، نیکی اور پرہیزگاری کے لئے آپس میں امداد اور ترغیب دیتے رہو، تاکہ تمہارا دل روشن ہو، اور اپنے مولا کے ذکر سے تمہاری تمام مشکلات آسان ہو جائیں۔
۸۸
مالِ واجبات
۱۔ اے مومنو! جو شخص شاہ (یعنی امام علیہ السلام ) کے مال کو روک لیتا ہو، اور اس کو اپنے مال سے جدا نہ کر دیتا ہو، اور اس کی آنکھ اور دل میں یہ مال اچھا لگتا ہو، تو اس کا دل کالا ہو جاتا ہے، اور وہ بدکار و بد عمل ہو جاتا ہے، اور اخیر میں اپنے آپ کو دوزخی کر دیتا ہے۔
۲۔ اے مومنو! آگاہ رہو اور غافل نہ ہوجاؤ، کہ (مالِ واجبات کھانا) بہت ہی مشکل اور بھاری لقمہ ہے، اور بہت سی تکالیف اٹھانے کے باوجود بھی یہ لقمہ گلے سے نہیں اترے گا، یہ باطنی قسم کی بیماریوں کا باعث ہو جاتا ہے، مالِ واجبات کا کھا لینا آخر کار آدمی کو ہلاک کردیتا ہے، اور اس دہ یک (یعنی دسواں) کے حساب میں بہت سی حکمتیں اور بے شمار آزمائشیں پوشیدہ ہیں، اور اس کے نہ دینے میں بہت سی آفتیں اور بلائیں پنہان ہیں اور یہ بہت ہی مشکل کام ہے، تم اسے ہلکا اور آسان مت سمجھنا، کیونکہ یہ بڑا سنگین اور بھاری بوجھ ہے (واجبات) دینے اور لینے والے کو چاہئے، کہ سچائی سے اور مکمل طور پر مولانا کے دربار میں پہنچا دیں۔
۸۹
امام کی شناخت
۱۔ اے مومنو! خبردار ہو، تاکہ تم سے غلطی نہ ہو، کیونکہ اس راہ میں بہت ہی دقت اور باریک بینی سے (کام لیتے ہوئے) چلنے کی ضرورت ہے، یہ ایک مشکل نعمت ہے، جو آسانی سے نہیں دی جاتی ہے، جب ظاہری نعمت اتنی دشواریوں کے بعد حاصل ہوتی ہے، تو باطنی نعمت کیونکر آسانی سے ہاتھ آئے، پس باطنی نعمت کے لئے، جو امام علیہ السلام کی شناخت ہے، جان دینی چاہئے، پس تم اس لازوال اور بے پایان نعمت کی قدر دانی کرو اور اپنے مولا کے شکر گزار رہو، کہ اس نے تمہیں عطا فرمائی ہے اور اپنی معرفت کی تعلیم دی ہے، ورنہ ان جنوں، آفتوں اور بلاؤں کے ہوتے ہوئے اور اس تمام قذاقی اور ڈکیتی کے باوجود تم سے کہاں ہو سکتا تھا، کہ امام علیہ السلام کا راستہ دیکھ پاؤ، انہوں نے کوئی ایسی دیوار کھڑی نہیں کر دی ہے، کہ بیچارہ عوام اس سے آگے بڑھ سکیں، انہوں نے ایک ایسی گانٹھ لگا رکھی ہے، جس کے کھولنے سے عوام عاجز رہ گئے ہیں، انہیں حیران و سرگردان ہو کر حسرت و ارمان بھرے دل کو مٹی میں لے جانا پڑے گا، مگر ان کو امام علیہ السلام کا دیدار نصیب نہ ہوگا۔
۹۰
مشاہدۂ نور
۱۔ ہوشیار رہو، کہ میں نے تمہیں ایک بہترین راستہ دکھایا، اور جو کچھ تمہاری نجات، آخرت کی رستگاری اور تمہاری دنیا و عقبیٰ کی صلاح کا سبب تھا، وہ سب میں نے تم کو بتا دیا ، اور تمہاری عقل کے مطابق اور تمہاری سمجھ بوجھ کے موافق میں نے تم سے بات کی، اور جو کچھ تمہاری حدِ قوت میں تھا جسے تم حدِ فعل میں لا سکتے تھے، میں نے اس کے متعلق کوئی ہدایت فروگذاشت نہیں کی، اب تم پر فرمانبرداری لازمی ہے، اور تمہیں سیدھی راہ پر لایا، جو صراطِ مستقیم ہے، پس اپنی راہ پر گامزن ہو جاؤ، اپنے وقت کے امامِ حاضرعلیہ السلام کی خوشنودی کے طلبگار رہو، اپنے امام علیہ السلام کو دیکھا کرو، کہ وہ سورج کی طرح ظاہر ہیں، اور دل و دیدہ (آنکھ) کو کدورت و آلائش اور زمانہ کی رنگینیوں سے پاک کئے رکھو، تاکہ تم علیہ السلام کے پاک نور کا مشاہدہ کر سکو، اور ان کے جانشین کو، جو امام علیہ السلام کے وصی اور آل ہیں، قبول کرو، اور ان کے متعلق اختلاف نہ کیا کرو، جس طرح گزشتہ زمانے میں کیا، انہوں نے امام علیہ السلام کو چھوڑا، اور غیر امام کو امام علیہ السلام کی جگہ قرار دیا، آخر کار خالی ہاتھ رہ گئے۔
۹۱
بنیادی غلطی
۱۔ میرے بزرگوار دادا حضرت شاہ حسین (علیہ السلام)کے زمانے میں بعض لوگ امام علیہ السلام کو چھوڑ کر محمد حنفیہ کی طرف گئے، شاہ زین العابدین (علیہ السلام) کے زمانے میں بعض لوگوں نے امام علیہ السلام کو چھوڑ کر زید کو لیا، میرے جد شاہ جعفر الصادق ( علیہ السلام) کے زمانے میں کچھ لوگ امام علیہ السلام کو چھوڑ کر موسیٰ کاظم کے معتقد ہوئے، بعض عبد اللہ (کی امامت) کے قائل ہوگئے، اسی طرح میرے دادا شاہ مستنصر باللہ علیہ السلام کے عہد میں کچھ لوگ امام کو چھوڑ کر مستعلی کے پیرو ہوگئے، آخرکار یہ سب سرگردان اور امام علیہ السلام کے دیدار سے محروم رہ گئے، یہ سب کچھ ان کی غفلت کی وجہ سے اور اس قدر ان کی غلط روایات کے سبب سے ہوا، انہوں نے اپنے باطن اور اپنے دل کو صاف نہیں کیا اور قدردانی نہیں کی (اس لئے) ان کی نعمت زوال ہوگئی، ان کے لئے ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ جن سے ان کی یہی صورتحال ہوئی۔
۲۔ پس ناشکرگزاری نعمت زوال ہو جانے کا باعث بن جاتی ہے، پس قدردانی کرو، اور جو کچھ فرمایا گیا وہ جواہر کی طرح اپنے کان میں لو، اور جو کچھ پیر امر کرتے ہیں، اس پر قائم رہا کرو، اور معلم کے فرمان پر عمل کرو، اور حاضر جامہ ؎۱ کی اطاعت، جو رائج
۹۲
سکے ؎۲ کی مثال ہے، شرعاً و عقلاً ؎۳ واجب ہے۔
۳۔ یہ تمام پندیات حضرت مولانا شاہ مستنصر باللہ (علیہ السلام) نے مجلسوں اور محفلوں میں جماعت کو وعظ و بیان فرمائی ہیں، اور جماعتوں، خیر خواہوں اور طالبوں کو (یہ پندیات) بار بار نصیحت فرمائی ہیں، اس حقیر نے جو کچھ الفاظ سن لئے تھے، ان کو اپنے حفظ میں محفوظ رکھ لیا تھا، یہاں تک کہ یہ الفاظ رشتۂ تحریر میں آگئے، تاکہ ان شاء اللہ آنے والوں کے لئے باقی رہیں، کیونکہ ہر زمانے کے مومنین پڑھ لیا کریں گے، یا سن کر عمل کریں گے، تاکہ وہ اگلے مومنین کی طرح اہلِ نجات ہوں، بعون اللہ الملک المنان و علیہ التکلان۔؎۴۔
تمام شد پندیات بزرگ
؎۱: حاضر جامہ علیہ السلام ۔ نورِ امامت کا موجودہ لباس، یعنی حاضر امام علیہ السلام
؎۲: رائج سکہ۔ چلتا ہوا سکہ۔
؎۳: شرعاً و عقلاً۔ شرعی طور پر (بھی) اور عقلی طور پر (بھی)۔
؎۴: اللہ تعالیٰ کی مدد سے جو بہت احسان کرنے والا بادشاہ ہے اور اسی پر بھر و سہ ہے۔
۹۳
پندیاتِ کوچک
۱۔ دوسری یہ پندیات بھی مولانا شاہ مستنصر باللہ (علیہ السلام) نے مومنوں کی جماعت، طالبوں اور فرمانبرداروں کو وعظ فرمائی ہیں، جو کچھ ان کی زبانِ مبارک سے سن لیا تھا، میں نے اس کو بھی لکھ کر کتابی صورت میں لایا، تاکہ مومنوں، طالبوں اور عمل کرنے والوں کے لئے نجات کا سبب و سیلہ بن جائے، اور ایک یادگار رہے، اور قدر کرنے والے اہلِ دل نیکی کے بانیوں اور خیر خواہوں کے حق میں دعائے خیر فرمایا کریں گے، اور میں نے ان نصیحتوں کا نام ’’پندیاتِ کوچک‘‘ رکھا۔ و علیکم بالسسماع و المطاع و التشکر والتحمید بہٰذہ النعمتہ و ما توفیقی الا باللہ الملک المنان ۱؎ علی الزمان۔
؎۱: اور اس کو سن کر عمل کرنا اور اس نعمت کی شکرگزاری میں خدا کی تعریف و توصیف کرنا تم پر واجب ہے، اور میری تائید تو خدا کے سوا اور کسی سے ہو ہی نہیں سکتی، جو بہت احسان کرنے والا بادشاہ ہے، علی الزمان۔
۹۴
فرمانبرداری کی برکات
اللّھم یا مولانا مددی
۱۔ فرمایا خداوندِ زمان، صاحبِ دوجہان اور امامِ عصرو زمان مولانا مستنصر باللہ (علیہ السلام) جلت حکمۃ و تعالیٰ شانہ العزیز نے:
۲۔ اے مومنو اور اے صداقت والو! مومن کو چاہئے، کہ حق تعالیٰ کے فرمان میں رہے، اور جو کچھ خدا کا فرمان ہے، اس کو احسان شناسی سے سر آنکھوں پر رکھنا چاہئے، ہر وہ بندہ جو حق بات سنتا ہے اور اسے بجالاتا ہے، دیکھ لینا کہ اس بندے کو کیسے کیسے فیوض پہنچتے ہیں، بلائیں اس بندے سے دور ہو جاتی ہیں، اس کے دشمن کو ر رہ جاتے ہیں، اس بندے کے لئے فتحمندی اور روزی کے دروازے کھل جاتے ہیں، خدا سے اس بندے کو فتح و نصرت ملتی رہتی ہے، اس کی نیکی اور عبادت و بندگی قبول ہو جاتی ہے، اس کی نیکی میں برکتیں پیدا ہو جاتی ہیں، اس کا تمام کام حسب منشا ہوتاہے، اس کے فرزند اور خویش و اقربا آفتوں، بلاؤں اور تکلیفوں سے سلامت رہتے ہیں، اس کا گھر آباد ہوتا ہے، وہ پریشان و سرگردان نہیں ہوتا، تمام کام میں اس کو فرصت ہوتی ہے، وہ خوشحالی میں مسرت و شادمانی سے رہتا ہے، خدائے مہربان اس کا یار، مددگار اور غمخوار ہوتا ہے، وہ خدا کے امان میں رہتا ہے، حق تعالیٰ اسکا دستگیر
۹۵
ہوتا ہے، وہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی فیوض و سعادات پاتا ہے، وہ ظاہری و باطنی اور دنیوی و اخروی دولت کو پہنچتا ہے، اور دنیا و آخرت کی دولت اسے میسر اور حاصل ہوتی ہے، آخرت کی دولت کا قصہ سنو جو اسے عطا کر دی جاتی ہے، مومنین آخرت میں حضرت پروردگار کے دیدار اور ملاقات سے مشرف ہوں گے، حق تعالیٰ مومن بندے کو آسمانوں میں سلطنتیں بخشے گا، وہ وہاں رنگ برنگ کے لباس پہنے گا، اور جس بندے نے عبادت و خدمت زیادہ کی ہو، اور (ثواب وصلہ کا) زیادہ حقدار ہوا ہو، تو وہ ساتویں آسمان میں خوشیاں منائے گا، اور سیر و سیاحت کرےگا، اور بخشش کے پروں کے ذریعہ پرواز کرے گا، تاجِ کرامت سر پر رکھے ہوئے اور عافیت کے لباس میں ملبوس ہو کر انبیأ علیہم السلام و اولیا علیہم السلام کے ساتھ سیر کرے گا، ساقی ٔ کوثر کے مبارک ہاتھ سے شرابِ طہور نوش کرےگا، اور وہ فضل و کمال کے محلات کی تصوراتی حوروں تک پرواز کرے گا، اور پاک دل اور دیندار مومنین سب ایک ہوں گے، وہاں کمی بیشی نہیں، اور مومن کے لئے کوئی اندوہ، غم، خرابی، درد، تکلیف، موت اور سختی نہیں۔
۳۔ اے مومنو! اس شخص کے لئے، جو دنیا میں اپنے امامِ وقت کے فرمان کو سمجھتا اور سن کر عمل کرتا ہے، آخرت میں اس قدر نعمتیں، دولتیں، راحتیں، اور آسائشیں میسر ہیں، پس مومن کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فرمان میں رہنا چاہئے، اور جو کچھ اس کے لئے امر ہو، تو اسی امر کو فوراً شوق سے بجالانا چاہئے، اور مومن کو دنیا میں اول چاہئے، کہ اپنے امامِ وقت علیہ السلام کو پہچانے اور اس کی اطاعت کرے۔
۹۶
حلال طعام و لباس
۱۔ پہلا فرمان، جو مومن کے لئے ارشاد ہوتا ہے، یہ ہے کہ اول چاہئے، کہ اس کا کھانا اور لباس پاک، حلال اور جائز ہو، اور ان چیزوں کا حلال ہونا اس بات سے ہے، کہ اول تجھے چاہئے، کہ ایمانداری سے اپنی تمام آمدنی اور منافع کو حساب کرے، اور اس کا دسواں حصہ، جو مالِ واجبات ہے، سچائی، درستی اور اخلاص سے امامِ زمان علیہ السلام کے دربار میں، جو دنیا و آخرت کے مالک ہیں، پہنچا دیا کرے، اور تو نہایت ہی کوشش کرے، کہ یہ پوری طرح سے ادا ہو جائے، اس مال سے ہر گز ہر گز نہ کھانا، کیونکہ اس فرض کی ادائیگی میں بہت سی حکمتیں اور بے شمار فیوض ہیں، اسی دسواں کے دینے سے تم بڑے درجے میں پہنچتے ہو اور اس کے نہ دینے سے گمراہی کی وادی میں رہ جاؤ گے، اور دسواں کے دینے سے عبادات قبول ہو جاتی ہیں، اور اس کے نہ دینے سے قبول نہیں ہوتی ہیں، یہ اس لئے کہ عبادت اس وقت مقبول ہو تی ہے، جبکہ غذائیں اور ملبوسات حلال، پاک اور جائز ہوں، وہ یہ کہ تو اپنے امامِ زمان علیہ السلام کو پہنچانے اور اپنے مال کا دسواں ٹھیک طرح سے دیدیا کرے، تبھی تیرا کھانا اور لباس حلال اور جائز ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد دوسری تمام عبادات مقبول ہو جاتی ہیں، اور اس کے علاوہ دوستی کا امتحان مال میں ہوا کرتا ہے نماز میں نہیں، نماز تو آسان ہی ہے، جسے ہر بیوہ عورت بھی پڑھ سکتی ہے، پس نماز پڑھنا
۹۷
عورتوں کا کام اور صفت ہے، اور مرد کی صفت و تعریف یہ ہے، کہ حقیقی معشوق کے لئے مال و جان دینے سے دریغ نہ کرے، پس نماز بیوہ عورتوں کا کام ہے، اور مال دینا مردوں کا کام ہے، چنانچہ فنا ہونے والی چیزوں کے لئے جب تک تو قیمت ادا نہ کرے، تو تجھے کوئی چیز نہیں دی جاتی ہے، پس باقی رہنے والی نعمتیں بلا قمیت کس طرح مفت دی جاسکتی ہیں، پھر مالِ (واجبات) کو مقدم کرو نہ نماز کو، یعنی اول مال دو اس کے بعد عبادت کرو، تاکہ قبول ہو جائے۔
۲۔ اس عمل کے بعد لوگوں کے مال کو اپنے مال میں ہر گز شامل نہ کرو، غنیمت کے قصد میں لوگوں کا مال نہ کھاؤ اور خیانت نہ کیا کرو، اپنے حلال و جائز حقوق سے مال حاصل کر لیا کرو، اور لوگوں کے مال سے ایک دھاگا بھی اپنے لباس میں شامل نہ کیا کرو، اور اپنے مال کو (کوئی حرام چیز ملا کر) ناجائز نہ کردو، اور دشمنی و سزا کے طور پر کسی سے کوئی چیز نہ لیا کرو، اور اپنے بدن کو، جو روح کا لباس ہے، باطنی نجاستوں سے پاک کئے رکھو، مثلاً تکبر، کینہ، عداوت، حسد، دنیوی محبت، شیطانی صفات اور مردم آزاری سے، کیونکہ یہ سب نجاستیں ہیں، اور یہ باطن کو نجس کر دیتی ہیں، ان سب سے بچنا اور دور رہنا دانشمند پر واجب ہے۔
۹۸
نافرمانی کا انجام
۱۔ دوسرا یہ کہ فرمانبرداری میں چست اور ہوشیار رہو، اور خدمت گزاری میں حاضر و قائم رہو، اور خداوند نے وعدہ فرمایا ہے، کہ جو شخص خدمت میں بے دریغ اور بے ریاہو، تو آخرت میں لاانتہا دولت کو پہنچےگا۔
۲۔ حضرت مولانا مستنصر باللہ (علیہ السلام)نے فرمایا: افسوس ہے ان لوگوں کے لئے ، جو نافرمانی اور کاہلی کرتے ہیں، اور جو کوئی فرمانبرداری کے معاملے میں ٹیڑھا ہو، تو ایسے اشخاص کے لئے سخت عذاب اور آتشِ دوزخ میں ٹھکانا ہے، وہ دردناک عذاب میں گرفتار، روسیاہ اور شرمسار ہوں گے، اور اس سب سے بڑی گھبراہٹ ؎۱ میں وہ گناہگار پیاس کی شدت سے پانی کے لئے روئے گا، اس وقت ’’ویل‘‘ ؎۲ کے کنویں سے، جو دوزخیوں کے میل اور پیپ سے بھرا ہوا ہے، مالکِ دوزخ اس گناہگار کو مشروبہ دے گا، جس کو ماء حمیم؎۳ یعنی گرم پانی کہتے ہیں، جو
؎۱: سب سے بڑی گھبراہٹ سے قیامت کی ہولناکی مراد ہے، اس مطلب کا قرآنی لفظ ’’الفزع الاکبر‘‘ ہے (۲۱: ۱۰۳)۔
؎۲۔ ویل کے معنی بربادی و ہلاکت ہیں۔
؎۳: اس مطلب کا اشارہ قرآن کی ان آیات کی طرف ہے:
( ۶: ۶۰، ۱۰: ۴، ۳۷: ۶۷ ، ۳۸: ۵۷، ۴۷: ۱۵، ۵۶: ۵۴، ۷۸: ۲۵)
۹۹
دوزخیوں کا میل، ذرداب اور خوناب ہے، جو دوزخ کی تپش سے ابلتا رہتا ہے، جس سے بدبو آتی ہے۔
۳۔ اس شخص کے لئے، جو امام کی فرمانبرداری نہ کرے، بہت سے عذاب ہیں اور اسے کوئی خوشی نہیں ملے گی، پس نافرمانی، تکبر اور غرور سے کنارہ کش ہوجاؤ، اور دیکھو کہ تکبر اور غرور کے سبب سے کیسی حقارتیں، مسخر گیاں، خواریاں اور مشقتیں عزازیل کے سر پر آگئیں، جو درگاہِ الٰہی کا معزز و مقرب فرشتہ تھا، اور تمام فرشتے اس کا احترام کرتے تھے، اور وہ خدا کی بندگی و عبادت میں مصروف رہتا تھا، اور گھڑی بھر کے لئے بھی بندگی سے غافل نہیں رہتا، اس اثنا میں لعنت کا ایک طوق معلق دیکھا گیا، اور خدا کی طرف سے فرشتوں کی ندا آئی، کہ اے فرشتو! یہ لعنت کا طوق اس شخص کے لئے ہے، جو فرمانِ الٰہی سے سرکشی کرے، اس کلام کے سنتے ہی تمام فرشتے کانپنے اور گریہ وزاری کرنے لگے، عزازیل نے ان سب کو تسلی دی، اور کہا، کہ تم میں سے جس کسی کو بھی (یہ طوقِ لعنت) آئے، تو میں اس کو نجات دلاؤں گا، وہ اپنی عبادت اور معرفت پر اس قدر مغرور تھا، کہ اپنے متعلق نافرمانی کا گمان ہی نہیں کرتا تھا، اور اس نے یہ نہیں سمجھا کہ ناشناس لوگ ہی غیر شعوری طور پر نافرمانی کرتے ہیں، یہاں تک کہ حضرتِ احدیت نے آدم ابوالبشر علیہ السلام کو پیدا کیا اور فرشتوں کو امر فرمایا کہ اس کو سجدہ کرو، تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے، جس نے سجدہ کرنے سے تکبر و انکار کر دیا، اور خدا وند نے فرمایا، کہ تو نے کیوں سجدہ نہیں کیا؟ عرض کی کہ تو نے فرمایا تھا، کہ میرے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرنا، نیز یہ بھی ہے کہ میں آدم علیہ السلام سے بہتر
۱۰۰
ہوں، کیونکہ وہ مٹی سے ہے اور میں آگ سے ہوں؎۱ ، پس تکبر و نافرمانی کی وجہ سے اس کے تمام اعمال اور عبادات برباد و ضائع ہو ئیں، اور پروردگارِ عالم کے استغنا و بے نیازی کی آگ میں جل کر نیست و نابود ہو گئیں، اور اس واقعہ کی بنیاد نافرمانی تھی، نافرمانی کی وجہ ناشناسی تھی (کسی عابد کی) وہ عبادت جو معرفت کے بغیر ہو، اس عابد کے لئے باعثِ جرمانہ ہے، اور اس کا کوئی خریدار نہیں، پس وہ عبادت، جو قبول ہو جاتی ہے، ایک ایسی عبادت ہے ، کہ جس میں تو دین کے مالک کو پہچانے اور اس کے فرمان کے بموجب عبادت کرے، اور جو کچھ امر ہو، تو اس کو کسی چون و چرا کے بغیر قبول کرے، کیونکہ معرفت کے بغیر عبادت غلطی و خطا کی ایک تقلید ہے، ہر چیز اور ہر شخص کی تقلید میں غلطی و خطا واقع ہوتی ہے، اور جو شخص تقلید میں رہے، تو وہ توحید میں نہیں پہنچتا ہے۔
۴۔ پس حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے امامِ وقت علیہ السلام کی پیروی کرے، اس کے امر کے لئے منتظر رہے، جو کچھ زمانے اور امر کے مالک علیہ السلام فرماتے ہیں، اسی کو سنے اور عمل کرے، اور اسے اپنا مالِ واجبات ٹھیک طرح سے دینا چاہئے۔ اور وہ ہر رات سوچے، کہ مجھ پر کچھ مالِ واجبات باقی بھی ہے یا میں نے سب دے کر ادا کر دیا ہے؟ اور اگر اس کو یاد آئے، کہ مالِ واجبات میں سے کچھ اس کے مال کے درمیان اور اس کے ذمے میں باقی ہے، تو وہ اسے فوراً ادا کردے، اور جبکہ تم اپنے مال کا دسواں دیتے ہو، تو شکر گزار رہو اور خوشیاں مناؤ، کہ تم کو توفیق دی گئی اور تم نے امام علیہ السلام کے حق کو امام علیہ السلام تک پہنچا دیا۔
؎۱: حضرت آدم اور ابلیس کا پورا قصہ قرآن مجید کی ان آیتوں میں ہے: ۔
(۲: ۳۵ تا ۳۶، ۷: ۱۱ تا ۲۵، ۱۵: ۲۸ تا ۴۲، ۱۷: ۶۱ تا ۶۵، ۱۸: ۵۰، ۲۰: ۱۱۵ تا ۱۲۳، ۳۸: ۷۱ تا ۸۵)
۱۰۱
آخرت پر یقین
۱۔ اے مومنو! دنیا کی بے اعتباری اور بے قدری کے بارے میں ذرا سوچو تو سہی، کہ یہ کسی کی دلی مراد کے لئے کافی نہیں ہوسکی، بلکہ اس نے تو اپنے طلبگار کو ناکام ہی بنا دیا ، تم چلو پھرو اور دیکھو، کہ روئے زمین پر کیسے کیسے اشخاص تھے، جو دنیا کے طلبگار ہوئے، اور انہوں نے جنگیں لڑیں آخر کارگذر گئے اور ختم ہوگئے، مگر انبیا و اولیا علہیم السلام میں سے کسی نے بھی اپنے آپ کو دنیا سے آلودہ نہیں کیا، اور (اس کے برعکس) ظاہری بادشا ہوں نے سرداری کی غرض سے کتنی کوششیں کیں، کیا کچھ نہیں کیا اور آخرکار کس قدر حسرت و افسوس کے ساتھ مرکر ختم ہوگئے، اور تمہارے آباواجداد بھی چل بسے، اب یہ تمہاری باری ہے۔
۲۔ اے مومنو! تم کیوں غم کے موقع پر بے غم بیٹھے ہو، اور دنیا کے درمیان خوابِ غفلت میں مدہوش اور آخرت سے بے خبر ہو گئے ہو، اور بے فکری و نادانی کی وجہ سے خیال نہیں کرتے ہو کہ بہت سے لوگ تن پروری اور جسم کی فربہی کے خیال میں لگے رہتے ہیں، وہ آخرت اور بڑے عذاب؎۱ سے بے خبر ہیں، اور (تم دیکھتے رہنا کہ یہ لوگ) آخر کار خود کو خوب موٹا اور چکنا کردیں گے، پس حقیقی مومن وہی ہے، جو آخرت کی
؎۱: بڑے عذاب کی قرآنی اصطلاح ’’العذاب الاکبر‘‘ ہے (۳۲: ۲۱ )
۱۰۲
فکر میں رہتا ہے، اور غم و غصہ (برداشت کر کر کے) لاغر اور کمزور ہو جاتا ہے، تاکہ اس کے گناہ بخش دیئے جائیں، اور (خیال رکھنا کہ ایمان کی) راہ میں بہت سے حملہ آور اور دشمن موجود ہیں، پس تمہیں چاہئے کہ شب و روز آخرت کی فکر میں رہو، جو شخص آخرت پر اعتقاد اور یقین رکھتا ہو، وہ کوئی گناہ نہیں کرتا، جس کا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کے متعلق کوئی شک نہیں رکھتا، اور جو لوگ بڑے اور چھوٹے گناہوں سے کنارہ کشی نہیں کرتے ہوں، تو اس کی وجہ یہ ہے، کہ قیامت کے بارے میں شک رکھتے ہیں، اور وہ گمان کرتے ہیں، کہ (مرنا اور زندہ ہو جانا درست نہیں، بلکہ) وہ نیست اور معدوم ہو جانے والے ہیں، وہ جانتے نہیں کہ آخرت سے آگاہی اور اس پر یقین امام علیہ السلام ہی کے قول سے حاصل ہو جاتا ہے، جبکہ کوئی شخص عبادت و ریاضتِ کاملہ اور اشیا ٔ کی حکمت و حقائق سے آگاہی کے ذریعہ امامِ وقت علیہ السلام تک رسا ہو چکا ہو۔
۳۔ علمائے ظاہر نے سدِ سکندر کی طرح شریعت کی ظاہریت اپنی سرداری کے لئے ایک دیوار بنا رکھی ہے، اور یہ بیچارہ عوام یا جوج و ماجوج ؎۲ کی طرح بجز خرابی اور بگاڑ کے اور سوائے شب و روز کھانے، سونے اور دنیوی محبت کے کچھ بھی نہیں جانتے ، یہ لوگ تقلید کی کمند میں بندھے ہوئے ہیں، اور موت کے وقت تک اس واقعہ سے بے خبر ہیں، کہ صرف تقلید کے طور پر آخرت کا اقرار کرتے ہیں۔
۴۔ اے مومنو! تحقیق سے جان لو، کہ تم خدا کے حضور سے اور عالمِ باطن سے، جو پاک اور آسمانی عالم ہے، اس عالمِ فانی میں، جو عالمِ خاکی کہلاتا
؎۲۔ یاجوج و ماج اور سدِ سکندر کا مختصر سا قصہ قرآن کے (۱۸: ۹۳ تا ۱۰۱) میں موجود ہے، نیز یاجوج و ما جوج اور قیامت کا ذکر قرآن کے (۲۱: ۹۴ تا ۹۷) میں ہے۔
۱۰۳
ہے، آگئے ہو، اور پھر خداوند تعالیٰ کی طرف واپس چلے جاؤ گے، پس کچھ کام کرو، تاکہ دوست کی طرف جاتے وقت خالی ہاتھ نہ ہو جاؤ، سرفراز ہو جاؤ، خجل و شرمسار نہ ہو جاؤ، پس دنیا کی حرص چھوڑ دو، اور آخرت کے کام کو مکمل کرلو۔
۵۔ جس وقت اللہ تعالیٰ پوچھے؎۱ گا، کہ میں نے دنیا میں تمہیں جو نعمتیں عطا کردی تھیں، تم نے انہیں کہاں کہاں صرف و خرچ کردیں؟ میری شناخت اور میری عبادت کے سلسلے میں، یا تم میری نعمت کھا کر میری مخلوق کو اذیت دینےمیں مصروف رہے، اور شیطان کی اطاعت میں لگے؟ اور میں نے تم کو آنکھ، عقل، ہوش اور اعضائے صحیح دیئے تھے، ان سے تم نے کیسے کیسے کام لئے؟ کیا تم نے ہاتھ مال (کما کر) میری راہ میں صرف کرنے کے لئے استعمال کیا، یا لوگوں کے مال اور عورتوں میں خیانت کرنے اور لوگوں کو مارنے کے لئے؟ کیا تمہارے کان حق بات سن لیا کرتے تھے یا باطل؟ کیا تمہاری زبان میرا ذکر کرتی رہتی تھی یا میرے بندوں کی غیبت؟ کیا تمہارا دل میری محبت میں تھا یا دنیا کی محبت میں؟ کیا تمہاری خواہش میری طرف تھی یا دنیا کی طرف؟ کیا تمہاری آنکھیں حق دیکھنے والی تھیں یا باطل؟ کیا تم نے اپنے لئے یہاں نیک بختی لائی ہے یا بدبختی؟ تم کو وہاں جواب دینا پڑے گا، اور کوئی چیز وہاں سود مند نہ ہوگی بجز پاک قلب ؎۲ کے پس دل کو دنیوی محبت سے پاک کرلو۔
؎۱: قیامت میں انسان کے اعمال کے متعلق سوال و پرسش ہونے کا ذکر قرآن مجید کی ان آیتوں میں ہے: (۱۶: ۹۳، ۱۷: ۳۶، ۲۱: ۱۳ ، ۲۱: ۲۳، ۳۷: ۲۴، ۱۰۲: ۸۔
؎۲: اس کا اشارہ قرآن کے ۲۶: ۸۸ تا ۸۹ کی طرف ہے۔
۱۰۴
روحانی ترقی کا راز
۱۔ اے مومنو! یحییٰ پیغمبر علیہ السلام کا قصہ سنو، کہ آپ دن رات رویا کرتے تھے اور آرام نہیں لیتے، ایک دن حق تعالیٰ کی طرف سے یحییٰ پیغمبر علیہ السلام پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوا، اور کہا، اے یحییٰ پیغمبر علیہ السلام ! پروردگارِ عالمین فرماتا ہے، کہ تو اس قدر کیوں روتا ہے، مجھے تجھ پر بہت رحم آرہا ہے، اگر تو بہشت کے لئے روتا ہے، تو میں نے وہ تجھے عنایت کر دی، اور اگر تو دوزخ کے خوف سے روتا ہے، تو میں نے وہ تجھ پر حرام کر دیا، یحیٰ پیغمبر علیہ السلام نے عرض کی، کہ میں نہ تو بہشت کے لئے روتا ہوں اور نہ ہی دوزخ کے خوف سے، بلکہ تیری ملاقات اور دیدار کے لئے گریہ وزاری کرتا ہوں، اس وقت پروردگارِ عالم نے فرمایا، کہ اگر تو میرے دیدار کے لئے گریہ و زاری کرتا ہے، تو اس سے بھی زیادہ گریہ وزاری کرتا رہ، تاکہ تو اپنی مراد کو پہنچے، جب تک تو اس دنیائے فانی میں ہے، تو اطمینان سے نہ بیٹھ اور بہت سی گریہ و زاری؎۱ کر۔
۲۔ اے مومنو! دیدار و جلوہ دیکھنا مشکل ترین کام ہے، لیکن تم مومنوں
؎۱: مذکورہ قسم کی گریہ وزاری کی فضیلت و حکمت ان قرآنی آیات میں بیان کی گئی ہے:
۶: ۴۲ تا ۴۳، ۶: ۶۳، ۷: ۵۵، ۷: ۲۰۵ تا ۲۰۶، ۹: ۸۲، ۱۷: ۱۰۷ تا ۱۰۹، ۱۹: ۵۸، ۵۳: ۵۹ تا ۶۲
۱۰۵
کے لئے پیرِ حاضر نے دیدارِ الہٰی آسان کر دیا ہے، اے مومنو اس کی قدر دانی کرو، غافل نہ ہو اور اپنے حاضر علیٔ زمان علیہ السلام کو یاد کرو، تاکہ وہ تمہاری دستگیری کریں، اور ان کے نام کو اپنی جانی حفاظت کے لئے دل میں اور زبان پر جاری و ساری رکھا کرو، تاکہ بلاؤں سے خداوندِ زمان کے امن امان میں رہو گے۔
تمام شد پندیاتِ کوچک
۱۰۶
دوازدہ جوانمردی
(عالی ہمتی کے بارہ اصول)
۱۔ بارہ جوانمردی، جو حضرت صاحب الزمان مولانا شاہ مستنصر باللہ علیہ السلام نے اپنی مبارک زبان سے فرمائی ہیں، جو کچھ میں نے سن لیا تھا، اسے لکھ دیا، اور وہ یہ ہے، جو حضرت مولانا شاہ مستنصرباللہ نے فرمایا: ۔
۲۔ جو شخص اہلِ حقیقت ہو، اس کا قول و فعل حقیقی ہوتا ہے، اس کی توجہ ہماری طرف رہتی ہے، وہ دنیا ہی میں ہم کو (چشم)ِ معرفت سے دیکھتاہے، اور وہ آخرت میں بھی اپنے پروردگار کا دیدار و جلوہ دیکھے گا، اور حضرت مولانا مستنصر باللہ علیہ السلام نے فرمایا، کہ جو شخص مجھے دوست رکھتا ہو، تو اس کو چاہئے، کہ بارہ جوانمردی بجا لائیں، تاکہ عاقبت میں اسے فیوض و برکات حاصل ہوں اور اپنے دل کی مراد کو پہنچے۔
۱۰۷
دل کی پاکیزگی
۱۔ پہلی جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ اول (وہ شخص) اپنے امامِ وقت، جو دنیا و آخرت کے مالک ہیں، کی فرمانبرداری میں کوشان رہے، شاہ (یعنی امامِ زمان علیہ السلام ) کی دوستی میں ثابت قدم، مستحکم اور قائم رہے، حق تعالیٰ کے فرمان کو بجالائے، اس کا دل پاک و صاف ہو، تم بخیل اور تنگدل نہ ہونا، اور کینہ و عداوت کو اپنے دل میں نہ رکھنا، کیونکہ امامِ زمان علیہ السلام، جو قلم و لوح اور ظاہر و باطن کے مالک ہیں (تم کو) دیکھتے ہیں، پس تم کوئی ایسا کام کرو، کہ جس سے تمہارے دلوں میں نقصان دہ باتیں اور فاسد خیالات جاگزین نہ ہوں، تم اپنے دل کو شیطان کا گھر نہ بناؤ، بلکہ اپنے قلب کو حقیقی علم کے پانی سے (دھو کر) پاک کرلو، تاکہ یہ رحمان کی جگہ ہوسکے، اور جس دل میں رحم ہو، وہ رحمان کی جگہ ہے، اور بے رحم و سیاہ دل شیطان کا ٹھکانا اور جنات کا مقام ہے۔
۱۰۸
دسواں حصہ
۱۔ دوسری جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ تو اس کام اور فعل میں، کہ جس سے حق تعالیٰ راضی ہو، مشغول رہا کرے، خدا کے حکم کی خلاف ورزی نہ کرے، اور جو کچھ تیری آمدنی ہو، اس کا دسواں، جو مالِ واجبات ہے، اپنے مال سے نکالے، اور اپنے مولا کی درگاہ میں، جو مرتضیٰ علی علیہ السلام اور دنیا و آخرت کے مالک ہیں، بلاکم و کاست پہنچادے، انتہائی سچے عشق و محبت سے اور شگفتہ رو ہو کر خوشی سے، اس لئے کہ دسواں کا مال تمہارے مولا کے حضورِ انور میں پہنچا اور قبول ہوا ہے، اس وقت (تیری آمدنی کے) وہ باقی نو حصے تجھ پر حلال ہوتے ہیں، اور تجھے فیض و برکت ملے گی، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
۲۔ اگر تو مالِ واجبات نہ دے، تو یہ ایک ایسے شخص کی مثال ہوگی، جو (اپنے کھیت میں ہل تو چلا دیتا ہے مگر) تخم ریزی نہیں کرتا، اور اگر تو اپنا مالِ واجبات دوسرے شخص کو دیتا ہے، تاکہ وہ پہنچا دے، اور وہ شخص مولا علیہ السلام کے حضور میں نہ پہنچا دیتا ہو، تو اس کی مثال ایسے بیجوں کی طرح ہے، جو تو دہقان کو دیتا ہے، وہ ان بیجوں کو کھا لیتا ہے اور کھیت میں تخم ریزی نہیں کرتا، اس وقت دہقان اور زمین کا مالک دونوں خالی ہاتھ رہیں گے (یعنی ان کو زمین سے کوئی حصول نہیں ملے گا۔
۳۔ پس لازم اور واجب ہے، کہ تو مالِ واجبات کو فوراً مکمل طور پر
۱۰۹
اور سچائی سے امامِ وقت علیہ السلام کے دربار میں پہنچائے، اور اگر (کوئی شخص) دہ یک (دسواں) کو، جو مالِ واجبات ہے، اپنے مال سے نہ نکالے، تو یہ ایک ایسے گوسفند کی مثال ہے، جس کو ذبح کر کے خون نہ بہایا جائے، اور حرام، مردار ار ناپاک کر کے کھا لیا جائے، پس اگر تو نے دسواں دیا، تو وہ باقی ماندہ نوحصے تیرے لئے حلال ہوتے ہیں، اور اگر تو نے نہیں دیا تو وہ دہ یک (۱: ۱۰) آگ بن کر ان دوسرے نو حصوں کو جلا ڈالتا ہے، اور خیروبرکت اور سلامتی تجھ سے اور تیرے مال سے چلی جاتی ہے، اور دس حصوں میں سے ایک حصہ خداوند کا مال ہے، اور حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، کہ ہمیشہ بندوں کو یہ بتا دیا جائے، کہ وہ غافل نہ ہو جائیں، اور ہمیشہ حساب کر کے دہ یک کو، جو خداوند کا مال ہے، اداکریں، تاکہ وہ حلال کھانے والے رہیں اور یہ دہ یک کا اصول حضرت شاہ مردان مرتضیٰ ( علیہ السلام )نے مقرر فرمایا ہے، چنانچہ مولانا علی علیہ السلام نے اہلِ حقیقت کے لئے ارشاد فرمایا، کہ جو شخص اہلِ حقیقت میں سے ہو اور میرے دیدار کی آرزو رکھتا ہو، تو وہ اپنے مال کا دسواں ، جو میرا حق ہے، مجھے پہنچا دیا کرے، تاکہ وہ (میرا روحانی) دیدار کر سکے، اہلِ شریعت اس حکم اور اس رمز سے بےخبر ہیں، پس ہر زمانے میں جس شخص کو امامِ زمان کا راستہ مل جائے، تو اس پر واجب ہے، کہ اپنے مال کا دسواں، جو امامِ وقت کا حق ہے، پہنچا دیا کرے، اور امام کے فرمان کے بموجب اپنے مال و جان کو قربان کر دے۔
۴۔ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے، کہ میرے بندے مجھے جس قدر اور جو کچھ دیا کریں، تو میں جو کہ پروردگار ہوں، ایک کےعوض میں انہیں لاکھ دوں گا، اور اپنا دیدار ان کو عطا کروں گا، اور ان کو آسمانوں میں محلات، مقامات، سیاحتیں، نظارے اور خوبصورت مکانات دیدوںگا، اور جو شخص اس دنیا سے گزر جاتا ہے، وہ دراصل (غیر شعوری طور پر پلِ ) صراط سے گزرا ہوا ہوتا
۱۱۰
ہے، جو شخص حق تعالیٰ کے لئے کام کرتا ہو، وہ فی الواقع اپنے لئے کام کرتا ہے، اور جو شخص اپنے لئے کام کرتا ہو، تو وہ درحقیقت بے کار ہے، اور اس کی کوئی عزت نہیں، کیونکہ لوگوں کی خودی اور ان کی ہر چیز کا مالک خدا ہے، اگر (بندے نے) دہ یک دیدیا، تو وہ نو حصے جو باقی رہتے ہیں، اس پر حلال ہوتے ہیں، اور اگر اس نے دسواں نہیں دیا، تو اس کا تمام مال اس کے لئے حرام ہے۔
۵۔ حقیقت کے تمام امور پوشیدہ اسرار کی حیثیت سے ہیں، جو پیغمبر علیہ السلام نے وحدت شناس مومنوں کے لئے معراج سے بطورِ تحفہ لائے ہیں، یہ مطالب ان ہزار اسرارِ نا گفتنی میں سے ہیں، جن کے متعلق حق تعالیٰ نے رسول علیہ السلام سے فرمایا، کہ آپ ہمارے ان اسرار کو نا اہلوں پر ظاہر نہ کریں، اور یہ وہ نصیحتیں ہیں، جو پیغمبر علیہ السلام نے اہلِ حقیقت کے لئے معراج سے لائی ہیں، اور ان نصیحتوں کو، جو اہلِ شریعت کےلئے ہزار گفتنی باتوں میں سے تھیں، سارے لوگ سمجھ گئے، لیکن مومنِ موحد کے سوا حقیقت کے ان اقوال سے کوئی شخص واقف نہیں، پیغمبرعلیہ السلام نے (یہ اسرار) مومنین کے حوالے کردیئے، اور تاکید فرمائی کہ انہیں نااہلوں سے پوشیدہ رکھو، جس طرح میں نے ان کو پوشید ہ رکھا اور یہ بھی انہیں پوشیدہ باتوں میں سے ہیں، جو فرمایا، کہ حقیقی مجلس میں شامل ہو جایا کرو، اور یہ دینِ حقیقت خدا وندتعالیٰ نے پاک سیرت لوگوں کے لئے مقرر فرمایا ہے، جس شخص کو اس دین کی توفیق دی گئی ہے، اسے ضرور چاہئے، کہ اس کی قدردانی کرے، اور تم پیرکا دامن پکڑے رہو، اور تمہیں صاحبِ دین کے امر پر قائم رہناچاہئے۔
۱۱۱
تسلیم و رضا
۱۔ تیسری جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ قضاو قدر؎۱ کے مالک کے حکم میں رضا و تسلیم ہونی چاہئے، اور حق تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ پیش آئے، اس پر تمہیں راضی ہونا چاہئے، جس کام سے حق تعالیٰ راضی ہوتا ہے، بندہ بھی اس میں راضی ہو، اور جس چیز سے خدا راضی نہیں، تو بندہ بھی اس میں راضی نہ ہو، اور امامِ حاضر علیہ السلام کی فرمانبرداری میں رہے، اور اپنے دل کو امام علیہ السلام کے عشق میں زندہ کر دے، تاکہ وہ دونوں جہان میں زندۂ جاوید ہو سکے۔
؎۱: قضافعلست در فطرت قدر منطق بامرحق
خرد عرشست درحکمت معانی و حی و کرسی آن
وضاحت: ’’قضا و قدر‘‘ کے معنی فعل و قول ہیں، جو حق تعالیٰ کے امر کے بموجب فطرت میں جاری ہے، ’’عرش‘‘ حکمت میں عقل و دانش کو کہتے ہیں اور ’’وحی‘‘ معنی و حقیقت کو، جو اس عرش کی کرسی ہے۔
دیوان ِ اشعار، ص: ۳۵۶
از حکیم پیر ناصر خسرو (ق س)
۱۱۲
حق دیکھنے والی آنکھ
۱۔ چوتھی جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ بندے کو چاہئے کہ وہ ہر جگہ خدا کو دیکھے (یعنی اس کو حاضر و ناظر جانے) اور کسی کی بھی برائی نہ کرے، جو لوگ کسی چیز کی یا کسی شخص کی برائی کرتے ہوں، تو اس کا سبب یہ ہےکہ وہ پردے میں ہیں، ان پر جہالت چھا گئی ہے ، اور حقیقتِ اشیا ٔ سے بے خبر ہیں، پس اے حقیقت شعار مومنو! خدا کو ہر جگہ حاضر و موجود جانو، خدا کی مخلوق کو اچھی سمجھو اور جن چیزوں کو دیکھتے ہو، ان سب کو اچھی نظر سے دیکھا کرو، اپنے آپ میں حق دیکھنے والی آنکھ پیدا کرو اور باطل دیکھنے والے نہ ہو جاؤ، دل میں اپنے خداوند کی تعریف و توصیف کرتے رہو، اور تم پر جو کچھ واقعہ گزرتا ہے، وہ اگر اچھا ہے، تو خدا کی طرف سے ہے، جو تمہاری عقل کی روشنی سے (پیدا کیا گیا) ہے، اور اگر واقعہ برا ہے، تو یہ تمہارے نفس کی تاریکیوں ؎۱ سے ہے، چنانچہ جو تکلیف تم پر آتی ہے، وہ قضا و قدر سے سمجھو، جس میں تمہارے برے اعمال کی سزا اور بلاؤں سے بچاؤ ہے، تاکہ (فیصلہ اور سزا و جزا کا یہ معاملہ) آخرت تک نہ آگے بڑھے، اور تم اپنے دل کو پاک کر رکھو، اور خدائے مہربان سے محبت کئے رہو،
؎۱: جو بھلائی تمہیں پہنچی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور جو تکلیف پہنچی وہ تمہارے نفس کی طرف سے ہے (القرآن ۴: ۷۹)
۱۱۳
تاکہ وہ تم کو دوست رکھے، اور ہمیشہ دل میں اپنے امام کی محبت رکھو، تاکہ تمہار دل حق تعالیٰ کے نور سے روشن ہو۔
۱۱۴
نعمت اور اس کا زوال
۱ ۔ پانچویں جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ تم دنیوی فائدے سے شادمان نہ ہوجاؤ، نہ ہی اس کے نقصان سے غمگین ہو جاؤ، بلکہ تمہارا دل ایک حال پر قائم رہنا چاہئے، اگر تمہیں کوئی تکلیف پیش آئے، تو شکر کرنا، کیونکہ یہ مصیبت تمہاری خطا کے بدلے میں ہے اور تمہاری گناہ کا کفارہ ہے، اور یہ خداوند تعالیٰ کی جانب سے اس کے بندوں پر اتری ہوئی نہیں، بدی خود بندے ہی کی طرف سے ہے، اور خدا تعالیٰ جب کوئی نعمت عطا کردے، تو وہ اس کو تغیر اور زائل نہیں کرتا، تغیر اور زوال بندے کی وجہ سے ہے، پس جو شخص راہِ حق میں گامزن ہوا، تو اس نے امام کی شناخت کو، جو عظیم ترین نعمت ہے، حاصل کرسکا ہے، تمہیں اس کی قدر دانی کرنی چاہئے، تاکہ تم کو نہ ہرا دیا جائے، اور جو بھی راحت یا مصیبت آتی ہو، تم اس میں صبر و سکون سے کام لیتے ہوئے حقیقی دوست کا طلبگار رہو، دنیا کی بھلائی اور برائی کو پیشِ نظر نہ رکھو، جب خداوند تعالیٰ تمام بندوں کے حال سے باخبر ہے، تو جو کچھ تیرے اخروی کام کی صلاح و بہبود ہو وہ تجھے عطا کر دیتا ہے، کچھ اس طرح کہ تو (آخرت میں) راضی ہو جائے۔
۱۱۵
خدا کی خوشنودی
۱۔ چھٹی جوانمردی یہ ہے، کہ اگر تم حق تعالیٰ کے طلبگار ہو، تو بزرگوں کے طلبگار رہو، کیونکہ خد ااپنے برگزیدہ بندوں کے پاک دل میں موجود ہے، تم کسی کے بھی دل کہ نہ دکھاؤ، کسی کی بھی دل شکنی نہ کرو، اور کسی کو بھی رنجیدہ اور دل آزردہ نہ کرو، کیونکہ مومن کا دل خدا کا گھر ہے، اور نادان (اس حقیقت سے) بے خبر ہے، اگر تم چاہتے ہو، کہ اپنی طرف سے خدا کو خوش اور راضی کر سکو، تو تم اپنی طرف سے مومن کو خوش اور راضی کر دو، کیونکہ مومن کی خوشنودی خدا کی خوشنودی ہے، اگر مومن کو کسی شخص سے کوئی تکلیف پہنچتی ہو، تو خداتعالیٰ اس شخص سے راضی نہیں، حق تعالیٰ اس ظالم سے کس طرح اور کب راضی ہے، جس نے بندۂ مومن کو تکلیف دی ہو، پس جہاں تک تم سے ہوسکے، مومن کو اپنی طرف سے خوش کر دینا، تاکہ تمہیں فیوض و برکات ملیں۔
۱۱۶
دینی و اخلاقی مائیں اور بہنیں
۱۔ ساتویں جوانمردی یہ ہے، کہ تم بیگانہ عورتوں کو اپنی بہنیں سمجھ لینا، اور اگر کوئی بیگانہ عورت تیرے پاس آجائے، تو تیری حالت و کیفیت ہر گز دگر گون نہ ہو، تو ایسا خیال کرنا ( جیسا ) کہ تیری ماں اور بہن تیرے پاس آئی ہے، اور اگر کوئی شخص تیرے پاس کسی عورت کا نام لیتا ہے اور کچھ کہتا ہے، تو تیرا دل برے خیال کی طرف مائل نہ ہو اور اس میں کوئی تبدیلی نہ آئے، اور اگر کسی بیابان میں یا کسی ایسے مکان میں، جہاں کوئی بھی نہ ہو، تو نے کسی بیگانہ عورت کو دیکھا، تو ہر گز برا خیال مت کرنا، ہر چند کہ وہاں کوئی بھی نہیں، لیکن خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے، پس تو یوں سمجھ لے کہ یہ تیری ماں یا بہن ہے، اور اپنے دل کو پاک اور وسوسوں سے خالی رکھ، ایسی صورت میں تجھ پر خدا کی مہربانی و عنایت نازل ہوتی ہے، اور تیرا دل حق تعالیٰ کی وحی (اترنے) کا مقام بن جاتا ہے۔
۱۱۷
غیبت کی بدبو
۱۔ آٹھویں جوانمردی یہ ہے، کہ تمام گناہوں سے کنارا کشی کی جائے، اور کسی کی غیبت نہ کی جائے، خصوصاً مومن کی (غیبت نہ کی جائے) جو شخص مومن کی غیبت کرتا ہے، وہ (گویا) میت کا گوشت کھاتا ؎ ۱ ہے، اور جو کوئی غیبت کرتا ہے یا جھوٹ بولتا ہے تو اس کے گھورا ؎۲ جیسے منہ سے ایک قسم کی بد بو نکلتی رہتی ہے، جس سے فرشتوں کو تکلیف پہنچتی ہے، اور اس بدبو سے شیطان کے دل کو قوت ملتی ہے، اور آخرت میں ایک ایسی حالت میں اس کا حشر ہوتاہے، کہ اس کے منہ سے بد بو اور گندگی ظاہر ہوتی ہے، سب لوگ اس سے پرہیز کرتے اور اپنے قریب نہیں آنے دیتے، اور وہ اپنے منہ کی بدبوئی اور گندگی کے باعث اپنے آپ سے بیزار ہو جاتا ہے، جب کبھی کوئی شخص کسی کی غیبت کرتا ہے، تو وہ یہ گمان کرتا ہے، کہ (فلان شخص ) برا آدمی ہے، حالانکہ تمام لوگوں کے باطن کو صرف خدا ہی جانتا ہے، اور اگر ( جس کی غیبت کی گئی) وہ اپنے باطن میں اچھا آدمی ہو، تو اس صورت میں ( غیبت کرنے والنے سے دو گناہ سرزد ہوتے ہیں) کہ اس
۱؎: قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ: اور (اے مومنین!)تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرے، کیا تم میں سے کوئی اسے پسند کرتا ہے، کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، پس تم اس سے (ضرور) نفرت کرو گے ۳۹: ۱۲۔
۲؎۔ گھورا۔ وہ جگہ جہاں کوڑا کرکٹ اور گندگی و غلاظت پھینکی جاتی ہے۔
۱۱۸
نے تہمت بھی کی اور غیبت بھی، پھر اس پر افسوس ہے، پس تجھے مومن کے حق میں اچھی بات کہنی چاہئے، اور اس کو اپنی طرف سے راضی کر دے، جس قدر بھی تو اپنے دل کی حفاظت اور صبر کرے، اس قدر تو آخر کا رشادمان ہو جائےگا، اس وقت آخرت میں تجھے معلوم ہوگا، کہ جس کام کے متعلق دنیا میں تیرا یہ خیال تھا، کہ اگر وہ کام بن جاتا یا اگر تو اسے کر سکتا، تو تیرے حق میں اچھا ہوتا ( مگر اس کے برعکس آخرت میں تو کہے گا کہ) اچھا ہوا جو فلان کام نہیں بنا اور میں نہیں کر سکا (پس سمجھ لے) کہ خدا تعالیٰ تیری صلاح و بہبود کو تجھ سے بہتر جانتا ہے، تجھے اپنے دل سے فضول اور بیہودہ خیالات کو نکال دینا چاہئے۔
۱۱۹
روزۂ باطن
نویں جوانمردی یہ ہے، کہ تم سال بھر روزہ دار رہا کرو، جس طرح اہلِ ظاہر ایک ماہ کے لئے روزہ رکھتے ہیں، روزہ سے ریاضت مراد ہے (پس اپنے آپ کی ) نگرانی کرتے رہو، اپنے آپ کو بری صفات ، برے افعال، نازیبا حرکات اور شیطنت سے بچائے رکھو، تاکہ رفتہ رفتہ آئینۂ دل کو پاک و صاف کرسکو، دوسرا یہ جان لو، کہ ان تیس دنوں میں، جن میں اہلِ ظاہر روزہ رکھا کرتے ہیں، روزہ (دراصل) ایک روز کا ہے ( جس میں شبِ قدر پوشیدہ ہے) لوگ اسی ایک دن کے لئے تیس دنوں کا روزہ رکھتے ہیں، تاکہ وہ اس دن کو پاسکے، اور وہ (دن یعنی شبِ قدر) بھی ایک رمز و اشارہ ؎۱ ہے جس طرح لوگ اسی ایک روز کو پانے کے لئے تیس روز روزہ رکھتے ہیں، تمہیں چاہئے کہ دیدارِ الٰہی حاصل کرنے کے لئے عمر بھر زحمتیں اور تکلیفیں اٹھائیں، صبرو ریاضت کریں اور اپنے باطن کو زندگی بھر روزے میں رکھیں۔
۲۔ اما باطنی ؎۲ روزے کی تفصیل یہ ہے، کہ سرکا روزہ یہ ہے کہ اپنے سر کو لوگوں کا پاؤں شمار کرنا ہے، اور اپنے سر سے سرداری، بڑائی اور تکبر کی تمنا و
؎۱: شبِ قدر کا رمزو اشارہ اور تاویل کے لئے دیکھئے: وجہ دین حصہ اول ص: ۲۰۲، نیز حصہ دوم ص: ۱۱۰۔
؎۲: روزہ کے باطن اور تاویل کے لئے دیکھیں: وجہ دین حصۂ دوم ص: ۹۵ تا ۱۱۰۔
۱۲۰
خواہش نکال دینی ہے، کیونکہ سرداری اور بڑائی حق تعالیٰ کی ذاتِ کبریا کے لئے شایان ہے، اس لئے کہ خدا قائم اور بادشاہی کا مالک ہے، آنکھ کا روزہ یہ ہے، کہ بیگانہ عورت کی طرف بدنظری نہ کی جائے، کان کا روزہ یہ ہے، کہ کان کو غیبت سننے سے محفوظ رکھا جائے، زبان کا روزہ یہ ہے، کہ زبان کو فحش اور غیبت سے روک لی جائے، دل کا روزہ یہ ہے، کہ دل کو شکوک و شبہات سے بچالیا جائے، پاؤں کا روزہ یہ ہے، کہ پاؤں کو ناجائز جگہ جانے سے روک لیا جائے اور ہاتھ کا روزہ یہ ہے، کہ اس کو خیانت سے باز رکھا جائے، مومن اپنے تمام اعضا کو روزے میں رکھے، تاکہ ظالم نہ ہو، خصوصاً زبان کو جھوٹ بولنے سے، اور اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں، کہ امام کے بارے میں منکر ہیں اور انہوں نے دنیا کے دوروزہ اقتدار کی خاطر نادان لوگوں کو اپنا تابع بنا لیا ہے۔
۱۲۱
حقیقی عشق کی حکمت
۱۔ دسویں جوانمردی یہ ہے، کہ تم پرہیزگار رہو، گناہوں سے توبہ کر لیا کرو، اور کسی چیز پر اعتماد و فخر نہ کیا کرو، مگر اپنے امام کے کرم پر (بھروسہ اور فخر کرو) کیونکہ تمام اشیا ٔ ان کے امر سے قائم ہیں، دوسری سب چیزیں فنا و ہلاک ہو جاتی ہیں، بجز امام کے، جو باقی، حی اور قائم ہیں، پس تجھے امام ملنے کے باوجود کسی چیز کا طلبگار رہنا اور دنیا پر مغرور ہونا انتہائی نادانی ہے، تو دنیا میں جس چیز کے ساتھ مانوس ہوتا ہے، آخر کار موت تجھے ناکام کر کے اس سے جدا کر دیتی ہے، پس تو لازمی طور پر کسی ایسی ہستی کی محبت اختیار کر لے، جو دنیا و آخرت میں تیرے ساتھ ہو، اس کو کوئی زوال نہ ہو، وہ تجھے سب سے زیادہ نزدیک ہو، وہ تجھے تیری خودی سے بھی زیادہ نزدیک ہو، اور وہ تجھ پر سب سے زیادہ مہربان ہو، وہ تیرے امامِ وقت ہی ہیں، پس ان سے ذرا بھی غافل نہ ہوجا۔
۱۲۲
کون سی شے باعثِ فخر ہے؟
۱۔ گیارہویں جوانمردی یہ ہے، کہ اگر تم کو امام کی راہ مل گئی ہے، اور ان کی بندگی و عشق میں مصروف رہتے ہو، تو فخر و خوشی کرو، ورنہ دنیا کی کسی چیز پر فخر نہ کرنا، کیونکہ آخر کار ہر چیز کا زوال ہو جاتا ہے، اور (یہ واقعہ) تمہارے لئے باعثِ تکلیف ہوگا۔
۱۲۳
طہارتِ باطن
۱۔ بارہویں جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ مومن کو اپنا ظاہر و باطن پاک و صاف رکھنا چاہئے، وہ اپنے لباس، جسم اور دل کو پاک رکھے، تاکہ اس کے ساتھ فرشتے رہ سکیں، کیونکہ اگر اس کا ظاہر و باطن ناپاک و نجس ہو، اور وہ خود کو پاک نہ رکھے، تو اس کے ہمراہ اور ہم خواب جنات و شیاطین ہوتے ہیں، اور اس کے دل میں بھوت اور شیاطین رہنے لگتے ہیں، پس تمہیں باطہارت رہنا چاہئے۔
۲۔ جس طرح اہلِ ظاہرظاہری عبادت کے لئے اپنے ظاہر کی طہارت اور وضو کرتے ہیں، اسی طرح اہلِ حقیقت کو چاہئے، کہ وہ باطنی طہارت اور حقیقی وضو کو جان لیا کریں اور بجالائیں؎۱، امام کی فرمانبرداری میں سر جھکانا سر کی طہارت و پاکیزگی ہے، امامِ وقت کو بیعت کا ہاتھ دینا ہاتھ کی طہارت و پاکیزگی ہے، امام کی راہ اور اس کی فرمانبرداری میں چلنا پاؤں کی طہارت و پاکیزگی ہے، امام کی محبت میں دل کو قائم رکھنا دل کی طہارت و پاکیزگی ہے امام کے ذکر میں زبان کو ہمہ وقت رکھنا زبان کی طہارت و پاکیزگی ہے، امام کی باتوں کو سن لینا کان کی طہارت و پاکیزگی ہے، اور امامِ وقت کا دیدار کر لینا آنکھ کی
؎۱: طہارت کے باطن یا تاویل کے متعلق مزید معلومات کے لئے دیکھئے ’’وجہ دین حصۂ اول‘‘ از صفحہ ۱۴۳ تا ۱۶۵۔ نیز ’’ تاویل الدعائم‘‘ عربی صفحہ ۷۲ تا ۱۳۳۔
۱۲۴
طہارت و پاکیزگی ہے۔
۳۔ جو شخص امام کے فرمان و کلام کا مطیع ہو، تو اس کے اعضا پاک ہو جاتے ہیں، اور جس کو امام تک راستہ گیا اور اپنے آپ کو ان کے امر کے حوالے کر دیا، تو اس کی جان پاک ہو جاتی ہے، اور اس کی روح پاک ہو جاتی ہے، اور جو شخص امام سے بے خبر ہو، اور منکر ہو، اور مام کی امامت کا قائل نہ ہو، یا ان سردار کی امامت میں شک کرے، تو اس کی مثال ایک ایسے فردِ بشر کی طرح ہے، جو ہمیشہ جنب یا ہمیشہ حیض سے خالی نہ ہو، پس خدا کی پناہ میں رہو، ان منکرین سے، جنہوں نے شریعت کو اسی ظاہری طہارت میں محدود کر رکھی ہے اور باطنی طہارت و پاکیزگی سے بے خبر ہیں حالانکہ انہیں ظاہر کی طرح باطن میں بھی پاک ہونا چاہئے۔
۴۔ عالی ہمتی کے بارہ اصول تمام ہوگئے، پس جو شخص ان صفات کا حامل ہو، تو وہ شاہِ دین کا خاص بندہ اور درگاہ کا حقیقی مومن ہے، اور یہ وہ اسرار ہیں، جو پیغمبر نے حقیقی مومنوں کے لئے معراج سے لائے ہیں، جو ( رسول کے فرمان کے بموجب) شاہ اولیا علی المرتضیٰ نے ( یہ اسرار ظاہر) فرمائے ہیں، کہ اپنے وقت کے امامِ حاضر کو، جو حاضر جامہ ہیں، پہچان لیا کرو، جس شخص نے اپنے امامِ وقت کو پہچان لیا، تو وہی وحدت شناس مومن ہے۔
۱۲۵
ہستی اور نیستی کے درمیان
۱۔ اے بھائیو! مولانا شاہ مستنصر باللہ (علیہ السلام) امامِ حاضر فرماتے ہیں، کہ جو کوئی دنیا میں اپنے آپ کو کوئی شخص خیال کرتا ہو یا ہست شمار کرتا ہو، تو وہ نیست ہو جائے گا، اور وہ ہستی سے بے بہرہ ہے، انسان کو نہ تو ہست کہا جاسکتا ہے، نہ ہی نیست، وہ نہ نور ہے، اور نہ تاریکی، اگر امام نے، جو صاحبِ ولایت ہیں، اس کی دستگیری کی، تو وہ ہست اور نور قرار دیا جاسکتا ہے، اور اگر وہ امام سے منکر ہو، اور اپنے امامِ زمانہ کو بیعت کا ہاتھ نہ دے، تو وہ نیست اور ظلمت ہو جائےگا۔
۲۔ اے مومنو! حضرت مولانا صاحب الزمان امام شاہ مستنصر باللہ فرماتے ہیں، کہ جس شخص نے دنیا میں ہماری راہ کی ہدایت حاصل کی ہو، اور اسی سبب سے دشمنوں سے تکلیف پاتا ہو، محنت کرتا ہو، اور ہماری محبت میں صاف دل پرتپاک ہو، تو اسے آخرت میں امن و آسائش ملے گی، اور اپنے پروردگار کے پاک دیدار میں مسرت و شادمانی سے رہے گا۔
۳۔ اے مومنو! حضرت مولانا شاہ مستنصر باللہ فرماتے ہیں، کہ جو شخص دنیا میں اہلِ حق کی مجلس میں بیٹھ کر علمِ دین حاصل کرے، تو اس بندے پر میری نظرِ رحمت ہوتی ہے، اور مرنے کے بعد اس کی جان سلامتی و عافیت سے حق تعالیٰ کے ساتھ مل جاتی ہے۔
۱۲۶
روحانی دیدار کی شرائط
۱۔ اے مومنو! حضرت مولانا امام شاہ مستنصر باللہ فرماتے ہیں، کہ حقیقی مومن وہی ہے، جو بے کینہ اور صاف دل ہو، جو شخص دنیا و آخرت میں ہمارا دیدار دیکھنا چاہے، تو اس کو چاہئے کہ ہر قسم کے عیب، مخالفت اور برائی سے اپنے آپ کو بچائے رکھے، یہاں تک کہ دل پوری طرح سے پاک و صاف ہو، اوراپنے پروردگار کو دنیا ہی میں دیکھ سکے، اس وقت وہ آخرت میں بھی خدا کو دیکھ سکے گا، مومن پر واجب و لازم ہے، کہ وہ اپنے پروردگار کو، جو دنیا میں ظاہر ہے اور بشری صورت میں ہے، پہچان لیا اور دیکھا کرے، تاکہ آخرت میں بھی دیدار کر سکے۔
۲۔ حضرت امامِ حاضر مولانا شاہ مستنصر باللہ فرماتے ہیں، کہ بری صفات سے دور رہو، کیونکہ تم نے یہاں جس چیز کو صفت و عادت اختیار کر لی ہو (مرنے کے بعد) تم اسی چیز کی صورت میں اٹھائے جاؤگے۔
تمام ہوئی کتاب ’’ پندیاتِ جوانمردی‘‘ جو ایک قدیم نسخے سے نقل کی گئی۔ جس کے شروع اور اخیر کی چند سطور فرسودہ ہو چکی تھیں، بلتت ہونزہ میں تحریر ہوئی ۱۹۳۵۔
الحمد للہ کہ ’’پندیاتِ جوانمردی‘‘ کا یہ اردو ترجمہ بروز یک شنبہ ۱۵ شوال ۱۳۸۸ھ بمطابق ۵ جنوری ۱۹۶۹ء مکمل ہوا۔
المترجم بندۂ حقیر پرتو شاہ (المعروف نصیر الدین نصیر ہونزائی)
۱۲۷
خلیفۂ خدا کی صفاتِ کمالیہ
حقائق و معارف کو آسان طریقے پر سمجھانے کے لئے سوالات اور ان کے جوابات: ۔
سوال ۱: خلیفہ کے کیا معنی ہیں؟
جواب: خلیفہ کسی منصب دار کے قائم مقام، نائب مناب اور جانشین کو کہتے ہیں۔
سوال ۲: یہ لفظ عام ہے کہ خاص؟
جواب: یہ لفظ عام بھی ہے اور خاص بھی۔
سوال ۳: لفظ خلیفہ جو خاص ہے، وہ قرآن مجید میں کن حضرات کے لئے استعمال ہوا ہے؟
جواب: ظاہراً یہ لفظ حضرت آدم اور حضرت داؤد علیہماالسلام کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔
سوال ۴: حضرت آدم اور حضرت داؤد کس کے خلیفے یا جانشین تھے؟
جواب: اللہ تبارک و تعالیٰ کے، جو خود ہر چیز اور ہر صفت سے بے نیاز ہے۔
سوال ۵: وہ دونوں حضرات یہ خلافت کہاں کہاں کرتے تھے؟
جواب: آفاق اور انفس میں، یعنی کائنات اور نفوسِ خلائق میں۔
سوال ۶: وہ برگزیدہ شخص جو آفاق اور انفس میں خدا کا جانشین ہو سکے،
۱۲۸
کن اوصاف کی بنا ٔ پر لوگوں سے ممتاز اور مخصوص ہو جاتا ہے؟
جواب: اس کے چند اوصاف یہ ہیں، کہ وہ علمِ لدنی کا حامل ہوتا ہے، جو ہر چیز پر حاوی ہے، اور علمِ لدنی کا سرچشمہ خدا کا وہ نور ہے، جو خدا کے خلیفہ میں ہوتا ہے، جس کا دوسرا نام خدا کی روح ہے، چنانچہ یہ قصہ مشہور ہے، کہ باری تعالیٰ نے حضرت آدم کے دونوں کانوں میں اپنی روح پھونک دی ، یعنی خدا نے ابو البشر کے باطن میں وہ روح ڈالی، جو عام انسانوں کی ارواح سے انتہائی بلند درجے پر ہے، اور وہ ازلیت و ابدیت کا زندہ نور ہے۔
سوال ۷: خلافتِ الٰہیہ کا دوسرا نا م کیا ہے؟
جواب: خلافتِ الٰہیہ کا دوسرا نام نبوت یا امامت ہے۔
سوال ۸: حضرت آدم نبی تھا یا کہ امام؟
جواب: حضرت آدم نبوت و امامت دونوں مرتبوں کا مرکز تھا، اور اس نے ناطقیت کے درجے پر پہنچ کر اپنے بیٹے حضرت شیث پر امامت کی نص کر دی۔
سوال ۹: اگر ایک وقت میں چند پیغمبر موجود ہوں، اور امام ِزمان تو ہر وقت حاضر اور موجود ہے، تو ان سب میں سے خدا کا خلیفہ کون ہوگا؟
جواب: خلافتِ الٰہیہ دینِ حق کی ظاہری و باطنی پوری تنظیم کا نام ہے، تاہم اس میں خلافت کا ظاہری مرکز وہ پیغمبر ہوتا ہے، جس پر ظاہری تبلیغ کی ذمہ داری عائد ہوئی ہو۔
سوال ۱۰: فرشتوں نے جو خدا کے امر سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا ، اس میں کیا حکمت پوشیدہ تھی، حالانکہ سجدہ خدا ہی کے لئے مخصوص ہے؟
جواب: سجدہ میں مخلوق کے انتہائی عجز و نیاز اور خدا کی انتہائی تعظیم ہے،
۱۲۹
اور یہ عبادت کے آداب میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، پس خدا کے امر سے فرشتوں نے جو آدم کو سجدہ کیا، اور ابلیس نے جو اس سے انکار کیا، اور جس طرح نتیجے کے طور پر فرشتوں کا علمِ حقیقت ملا، اور جیسے ابلیس راندہ ہوا، ان تمام واقعات میں یہ حکمت پوشیدہ ہے، کہ جو شخص صاحبِ خلافتِ الٰہیہ کی فرمانبرداری کرے، تو اس کو وہی علم ملے گا، جو فرشتوں کو ملا تھا، اور جو خلیفۂ خدا کی فرمانبرداری سے روگردان ہو جائے، تو اس کا وہی حشر ہوگا، جو کچھ ابلیس کا ہوا تھا۔
سوال ۱۱: کیا یہ خلافتِ الٰہیہ روئے زمین پر ہمیشہ کے لئے ضروری ہے، یا یہ کہ ایک ہنگامی ضرورت ہے؟
جواب: جب تک دنیا میں لوگ باقی ہیں، تب تک خلافتِ الٰہیہ اور اس کی ضرورت و اہمیت بھی باقی ہے۔
سوال ۱۲: آپ کے اس بیان کے بموجب آدم خدا کا خلیفہ اس لئے ہوا، کہ اس میں خدا نے اپنی روح پھونک دی، اور فرشتوں نے خدا کے امر سے اس کو سجدہ کیا، نیز اس کے اور داؤد کے خلیفہ ہونے کا بیان قرآن میں موجود ہے، لیکن ہم کس طرح سمجھ سکیں ، کہ ان دونوں حضرت کے علاوہ بھی دنیا میں خدا کے خلیفے مقرر ہوئے ہیں؟
جواب: خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’ انّی جاعِلٌ فی الارضِ خلیفہ۔یعنی میں روئے زمین پر (اپنا) ایک جانشین مقرر کرہا ہوں‘‘ تو اس ارشاد میں روئے زمین سے سیارۂ زمین مراد نہیں، بلکہ زمین کے تمام باشندے مراد ہیں، کیونکہ خلافتِ الٰہیہ کی ضرورت و اہمیت کا تعلق زمین کے باشندوں سے ہے، نہ
۱۳۰
کہ سیارۂ زمین سے، پس اس دائمی ضرورت کے پیشِ نظر خدا نے ہمیشہ کے لئے لوگوں کے درمیان اپنا خلیفہ مقرر کر دیا ہے، جب یہ ثابت ہوا، کہ لوگوں کے لئے خلافتِ الٰہیہ کی ضروت ہے، تو لازماً یہ خلافت اس وقت تک باقی ہونا چاہئے، جب تک دنیا میں لوگ باقی ہیں، اور آدم میں جو ربانی روح پھونک دی گئی تھی، وہ ایک ایسے پاک سلسلے میں تا قیامت باقی اور جاری ہے، جو آدم، نوح، ابراہیم اور ابوطالب کی ذریات میں قیامت تک چل رہا ہے۔
سوال ۱۳: کیا اس کا مطلب یہ ہوا، کہ بموجبِ آیۂ اصطفا ٔ خدا نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران (ابوطالب) کو دنیا والوں پر برگزیدہ کیا ہے؟
جواب: بے شک آیۂ اصطفا ٔ میں لفظ ’’عالمین‘‘ سے دنیا کے تمام لوگ مراد ہیں، جو آدم کے زمانے سے لےکر قیامت تک پائے جاتے ہیں، اور ان کی برگزیدگی نبوت و امامت کا اختصاص ہے۔
سوال ۱۴: خلیفۂ خدا اور خلیفۂ رسول میں کیا فرق ہے؟
جواب: خلیفۂ خدا اور خلیفۂ رسول میں ظاہراً فرق ہے اور باطناً کوئی فرق نہیں، پس ظاہر میں جو فرق ہے وہ یہ ہے، کہ خلیفۂ خدا رسول کا نام ہے، جو صاحبِ تنزیل ہے، اور خلیفۂ رسول امامِ زمان ہے، جو صاحبِ تاویل ہے، اور باطن میں جو فرق نہیں، اس کی حقیقت یہ ہے، کہ جب امامِ زمان خلیفۂ رسول ہے، تو وہ بحقیقت خلیفۂ خدا ہے، کیونکہ یہ خلافت تو دراصل خدا ہی کی ہے۔
سوال ۱۵: خلیفۂ خدا یعنی امام ِ زمان کی صفاتِ کمالیہ کیا ہیں ؟
۱۳۱
جواب: امامِ زمان کی صفاتِ کمالیہ میں سے چند یہ ہیں، کہ اس کی وہی روح ہے، جو خدا نے آدم میں پھونک دی تھی، یعنی وہ نورِ الٰہی کے اوصاف سے موصوف ہے، اس کا وہی مرتبہ ہے، جو فرشتوں کے مسجود میں ہونا چاہئے، اس میں وہی علمِ لدنی ہے، جس کے لئے فرشتے محتاج ہیں، اور اس کی وہی عظمت و جلالت ہے، کہ اگر کوئی فرشتہ خدا کے فرمانے پر اس کو سجدہ نہ کرے تو بارگاہِ رب العزت سے راندہ ہوجائے، بلکہ اس کی صفات ان صفات سے بھی بڑھ کر ہیں، جس کا سبب حسبِ ذیل ہے: ۔
ہر چند کہ خدا کا نور لم یزل و لایزال ہے، اور اس کے نقصان و کمال کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا، کیونکہ خدا کا نور ہمیشہ ایک حال پر ہے، تاہم یہ نور جس مقصد کے لئے دنیا میں آیا ہے، اس مقصد کے بتدریج پورا ہوجانے کے اعتبار سے ، یہ کہنا غلط نہیں کہ نور اب اپنے اوصاف میں درجۂ کمال کو پہنچا ہے، اور اس میں پہلے سے کہیں زیادہ معجزات پوشیدہ ہیں، اور یہ محض خدا کی ایک مصلحت ہے، کہ جوں جوں زمانہ ترقی کرتا ہے، اور انسانیت کی تکمیل ہوتی جاتی ہے، توں توں انسانِ کامل میں خدا کا وہ نور زیادہ سے زیادہ روشن ہوتا جاتا ہے، چنانچہ ’’و اللہ مُتِم نُورہ‘‘ کے یہی معنی ہیں، یعنی خدا اپنے نور کو آہستہ آہستہ درجۂ کمال تک پہنچا دیتا ہے۔
(از نصیر الدین نصیر ہونزائی)
۱۳۲
تجربات روحانی
[Page]
تجرباتِ روحانی
آغازِ کتاب
۱۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہ و عم نوالہ سورۂ ہود (۷: ۱۱) میں فرماتا ہے: و ھو الذی خلق السمٰوٰت و الارض فی ستۃ ایام و کان عرشہ علی الماء لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ ترجمۂ اوّل: وہ ایسی ذات ہے جس نے (عالمِ دین کے) آسمان اور زمین کو چھ دنوں (چھ ادوارِ بزرگ) میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر ظاہر ہوا تا کہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کس کا علم وعمل سب سے بہتر ہے۔ ترجمۂ دوم: وہ ایسی ذات ہے جس نے (عالمِ شخصی کے) آسمان اور زمین کو چھ دنوں (چھ ذیلی ادوار) میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر ظاہر ہوا تا کہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کس کا علم وعمل سب سے بہتر ہے۔
۲۔ خداوندِ قدّوس نے عالمِ دین کو جن چھ دنوں (چھ ادوارِ بزرگ) میں پیدا کیا، وہ یہ ہیں: دورِ آدمؑ، دورِ نوحؑ، دورِ ابراہیمؑ، دورِ موسیٰؑ، دورِ عیسیٰؑ، اور دورِ محمدؐ، اور جس دن خدا کا تخت (عرش) پانی پر ظاہر ہوا،
۷
[/page]
وہ دورِ قائمؑ ہے جو دین کا سنیچر ہے، یہی بیان ترجمۂ دوم کے مطابق عالمِ شخصی سے بھی متعلق ہے، مگر اس کے دن (ادوار) بہت ہی چھوٹے چھوٹے ہیں، کیونکہ کائناتِ ظاہر عالمِ شخصی میں لپیٹی ہوئی (یعنی مختصر) ہوتی ہے، پس عالمِ شخصی کے سمندر پر جو تختِ کشتی نما ہے، وہ کیونکر خالی ہو سکتا ہے، وہ اگر تخت ہے تو اس پر بادشاہ جلوہ گر ہوگا، اگر کشتی ہے تو اس میں کشتیبان ہوگا، اور اگر یہ دونوں معنوں میں ہے تو مالک بھی دونوں معنوں میں ہو گا۔
۳۔ سورۂ ذاریات (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) میں ارشاد ہے: و فی الارض اٰیٰت للموقنین۔ و فی انفسکم افلا تبصرون = اور کائناتی زمین (زمینِ نفسِ کل) میں اہلِ یقین کے لئے نشانیاں ہیں، اور (یہ ساری نشانیاں) تمہارے عالمِ شخصی میں بھی ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ اس ارشاد سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو گئی کہ خدائے علیم و حکیم نے کائناتِ ظاہر و باطن اور عالمِ دین کو عالمِ شخصی میں گھیر کر رکھا ہے تا کہ مومنینِ با یقین خود شناسی اور خدا شناسی کی غرض سے ان تمام معجزات (آیات ) کا مشاہدہ اور مطالعہ کریں۔
۴۔ مذکورۂ بالا آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور تاویلی تشریح بفضلِ خدا امام شناسی کی روشنی میں ہے، یہ سچ ہے کہ بحرِ علم پر جب تخت ہے تو یہ کشتی نما تخت ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ ایسا باکرامت تخت یا ایسی عظیم الشّان کشتی ہرگز خالی نہیں، بلکہ اس پر یا اُس میں خلیفۂ خدا یعنی
۸
حضرتِ قائم علیہ افضل التحیۃ و السّلام ہے، کیونکہ خدائے سبحان بذاتِ خود جسم نہیں کہ تخت پر متمکن ہو، اور اگر تاویل کے بغیر دیکھا جائے تویہ عقدۂ مالا ینحل ہے، اور سورۂ ذاریات (۵۱: ۲۰) کے حوالے سے ’’ارض‘‘ کا ترجمہ: کائناتی زمین (زمینِ نفسِ کلّ) بالکل ٹھیک ہے، کیونکہ آیاتِ قدرت سب کی سب سیارۂ زمین پر محدود نہیں ہیں، اور کائناتِ ظاہر و باطن کے بغیر تنہا یہ زمین عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) کے برابر نہیں ہو سکتی ہے۔
۵۔ اس کتاب کا نام:
حضرتِ امامِ عالی مقام صلوات اللہ علیہ و سلامہ کے علمِ روحانی کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے اس کتاب کا نام ’’تجرباتِ روحانی‘‘ مقرر ہوا، مجھے یقین ہے کہ ہمارے سکالرز ، گورنرز، علمی سولجرز، آفیسرز، اور ممبرز سب کے سب اس پیارے نام سے شادمان ہو جائیں گے، اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہماری پیاری جماعت کی خوشنودی اور دعا بھی حاصل ہو گی، جس میں بہت سی برکتیں ہیں۔
۶۔ اس علمی خدمت کی برکت سے یہاں جتنی پاکیزہ ہستیاں یا پاک روحیں جمع ہوئی ہیں، وہ بے شک ہمارے عالمِ شخصی کے فرشتے ہیں، وہ فرداً فرداً میرے آئینۂ خیال میں آتے رہتے ہیں، یہ عالمِ خیال کا پرحکمت احساس و ادراک میرے لئے خدا کے احسانات
۹
میں سے ہے، یہ ہر شخص کے لئے بہشت کا ایک نمونہ ہے کہ آئینۂ خیال میں دوستوں کو دیکھ سکتا ہے، قوّتِ خیال انسان کے لئے اللہ کا عظیم عطیہ ہے، ذکرِ الٰہی کی کثرت سے خیال میں طوفانی روشنی پیدا ہوتی ہے، حتیٰ کہ یہ ایک کائنات کی شکل اختیار کرتا ہے، آپ روشن خیال ہو جائیں، یہ کام حضرتِ امام علیہ السلام کے پاک عشق سے ہو سکتا ہے، مولا کا عشق تمام اخلاقی ، روحانی اور عقلی بیماریوں کی بڑی زبردست مؤثر دوا ہے۔
۷۔ قرآنِ حکیم اور امامِ آلِ محمدؐ کی مقدّس خدمت ہی اسلام کی خدمت ہے، الحمد للہ کہ یہی پاکیزہ اور پسندیدہ خدمت جماعت اور انسانیت کے لئے بھی ہے، پس اپنے جملہ خوش نصیب اور نیک بخت ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ علم الیقین کی روشنی میں خدا کا شکر کریں اور شادمان ہوجائیں کہ اس نعمتِ عظمیٰ کی خوشی شکر گزاری کے معنی میں بہت مناسب ہے، رحمتِ الٰہی سے بعید نہیں کہ اس خدمتِ عالیہ کا کوئی بہت بڑا سا انعام ہو، جیسے دوستانِ عزیز کے لئے عالمِ شخصی کا مسخر ہو جانا، جس میں تسخیرِ کائنات کا راز مخفی ہے۔
۸۔ تجربۂ روحانیت کے فوائد:
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے (ترجمہ): یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو اپنی (ظاہری) خلقت کی مثال پر بنایا، تا کہ اس کی خلقت
۱۰
سے اس کے دین کی مثال و دلیل لی جائے اور دین سے اس کی وحدانیت کی دلیل مل سکے (وجہِ دین، حصۂ اوّل، ص ۱۰۹)۔
جب دین و دنیا کا اصل قانون یعنی قانونِ فطرت ایک جیسا ہے، جیسے مذکورہ حدیثِ شریف کا ارشاد ہے تو ہم اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہ کریں کہ جس طرح مادّی سائنس کے تجربات سے تمام لوگوں کو بے شمار فائدے حاصل ہو رہے ہیں، اسی طرح آج نہیں تو کل روحانی سائنس کے تجربات سے بھی لاتعداد فوائد حاصل ہونے والے ہیں۔
۹۔ حج یا دعوتِ قیامت:
خداوندِ علیم وحکیم کا یہی منشا تھا کہ انبیاء و اولیا علیہم السّلام کی روحانی قیامتوں کو مختلف مثالوں میں پوشیدہ رکھا جائے، چنانچہ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی قیامت حج کی مثال میں مخفی ہے (۲۲: ۲۷ تا ۲۸) پس اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیلؑ سے فرمایا: و اذن فی الناس بالحج = اور لوگوں کو حج کے لئے پکارو۔ یعنی دنیا کے مختلف برِاعظموں میں جتنے بھی لوگ ہیں، ان سب کو اسرافیل کے توسط سے پکارو تا کہ وہ بشکلِ ذرّات تمہاری قیامت میں حاضر ہو جائیں۔۔۔ تا کہ وہ اپنے ان فائدوں کو دیکھ سکیں جو ان کے امامِ وقت میں محفوظ ہیں، اور ایامِ معلومات میں بطورِ شکرانہ اسمِ خدا کا ذکر کرتے رہیں کہ اللہ نے ان کو حدودِ دین کے علم سے
۱۱
فائدہ دلایا ہے۔
۱۰۔ قیامت کا تعلق امامِ زمانؑ سے ہے:
سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۱) میں ارشاد ہے کہ اہلِ زمانہ کی قیامت امامِ زمان علیہ السلام میں برپا ہوتی ہے، یہی سبب ہے کہ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی پاکیزہ شخصیت میں لوگوں کی مخفی ذرّاتی قیامت کا ذکر حج کی مثال میں ہوا ہے، یہ جاننا ضروری ہے کہ حدودِ دین میں سے جس حد (درجہ) میں قیامت قائم ہوتی ہے، اس میں حضرتِ امامِ عالی مقام کا نورانی ظہور ہوتا ہے، لہٰذا قیامت ایک اعتبار سے عارف میں بپا ہوتی ہے اور دوسرے اعتبار سے حضرتِ امام میں۔
۱۱۔ یعسوب المومنین:
روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے مولاعلیؑ سے فرمایا تھا: انت یعسوب المومنین =تم مومنین کے بادشاہ ہو۔ یعسوب (امیر النحل) کے معنی ہیں شہد کی مکھیوں کا بادشاہ یا ملکہ، پس اس مثال کے مطابق امامِ عالی مقام یعسوب اور امیر النحل ہے، اور روحانی علم و حکمت سے وابستہ مومنین و مومنات کی روحیں اس شہد کی مکھیاں ہیں، پس کتنی بڑی خوش نصیبی ہے ان لوگوں کی جو علمی خدمت کی وجہ سے روحانیت میں امام علیہ السلام کے ساتھ ہیں۔
۱۲
۱۲۔ احسان شناسی اور قدردانی:
یہاں کچھ ارضی فرشتوں کا تذکرہ ہے، کچھ پاکیزہ اور سعادتمند روحوں کا ذکرِجمیل ہے، اور کچھ پاک مولا کے سچے عاشقوں کی پیاری پیاری یادیں ہیں، وہ حضرات جو علمِ امام کے شیدائی ہیں، وہ صاحبان جو علمی مجلس کو جان و دل سے چاہتے ہیں، وہ عزیزان جو گریہ و زاری اور مناجات کی روح سے خوب واقف و آگاہ ہیں، وہ بہت پیارے دوست جو جماعت خانہ سے بے حد دل بستگی رکھتے ہیں، وہ احباب جو جماعتی خدمت کو اپنے لئے سعادتِ دارین سمجھتے ہیں، وہ عالی ہمت مومنین و مومنات جو ہمہ وقت روحانی ترقی کے لئے سعی کرتے رہتے ہیں، وہ آدمیت کے اعلیٰ نمونے جو زیورِ اخلاقِ حسنہ سے آراستہ و پیراستہ ہیں، وہ عسکرِ حقانی جو علمی جنگ میں بنیانِ مرصوص (سیسہ پلائی ہوئی دیوار ، ۶۱: ۴) کی طرح متحد و مضبوط ہیں۔
۱۳۔ وہ زبردست بہادر علمی سولجرز جو قرآن، امام، اسلام، اور انسانیت کی حربی خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ معزز حضرات جو علم الیقین کی دولتِ لا زوال سے مالامال ہیں، وہ دوستانِ خدا جن کے پاس طرح طرح کے علمی ذخائر موجود ہیں، وہ حقیقی مومنین و مومنات جو سیّارۂ زمین پر روحانی علم کو پھیلا رہے ہیں، وہ اقبالمند عزیزان جن کے لئے عالمِ شخصی کی سلطنت موعود ہے، وہ ہمارے بے حد پیارے علمی احباب جو پاکستان، برطانیہ، فرانس، امریکہ، کنیڈا،
۱۳
وغیرہ میں مقیم ہیں، ان کی مقدّس دینی عقیدت و محبت، پاکیزہ علمی خدمت، اور جذبۂ ایثار و قربانی کو ہزار در ہزار بار سلام کرتے ہوئے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
۱۴۔ وہ اللہ کے نیک بندے جو عشقِ مولا میں مست و فنا ہو کر سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں، وہ اہلِ ایمان جو آسمانی فرشتوں ہی کی طرح تمام اہلِ زمین کے حق میں خیر سگال اور دعا گو ہیں (شوریٰ ۴۲: ۵) وہ محبانِ اہلِ بیت جو حدیثِ شریف ’’الخلق عیال اللہ‘‘ کی حکمت پر نظر رکھتے ہیں، وہ ہمارے بڑے محترم احباب جو اپنی پاکیزہ جبین میں خانۂ خدا (جماعت خانہ) تعمیر کر رہے ہیں (یونس، ۱۰: ۸۷) وہ نیک بخت مومنین و مومنات جن کو اپنے پاک مولا کے مقدّس فرمان سے والہانہ محبت اور عشق ہے، وہ ہمارے بہت ہی عزیز رفقاء جن کا عظیم ترین عرفانی خزانہ مونوریالٹی (یک حقیقت) ہے، وہ نیک بخت سٹوڈنز جو اپنے پیارے استاد کے تعاون سے حضرتِ قائم علیہ السّلام کے علمِ تاویل کو پھیلا رہے ہیں، وہ علیٔ زمان کے علمی لشکر جو جہالت و نادانی کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔
۱۵۔ جدید انتساب، اوّل:
س: آپ کے نزدیک عالمِ شخصی کا موضوع بہت ہی اہم بلکہ سب سے مفید مضمون ہے، آپ یہ بتائیں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ ج: میں ناچیز کون ہوں
۱۴
کہ حقیقی علم کو درجہ وار کر سکتا ہوں، صرف اتنا ہے کہ ہم قرآنِ حکیم، حدیثِ شریف، اور أئمّۂ آلِ محمدؐ کے ارشادات کی طرف دیکھتے ہیں، پس اسی ہدایتِ حقّہ سے معلوم ہوا کہ عالمِ شخصی میں خود شناسی اور خدا شناسی کے سارے معجزات موجود ہیں۔
۱۶۔ س: عالمِ شخصی کن کن لوگوں کا ہوتا ہے؟ آیا اس کا تعلق ہر انسان سے ہے یا صرف مومن سے؟ عالمِ شخصی کا صدر مقام یا مرکز کہاں ہے؟ ج: ہر آدمی بحدِ قوّت ایک عالمِ شخصی ہوتا ہے، ہر نبی، ہر ولی، اور ہر عارف بحدِ فعل عالمِ شخصی ہوتا ہے، کوئی بھی انسان خدا، رسولؐ، اور ولیٔ امرؑ کی حقیقی اطاعت کرے تو یقیناً وہ عملی عالمِ شخصی ہو سکتا ہے، عالمِ شخصی کا صدر مقام یا مرکز جبین ہے، جہاں محیر العقول معجزات ہیں۔
۱۷۔ س: آپ نے کہا کہ عالمِ شخصی میں جبین وہ مرکز ہے جس میں انتہائی حیران کن معجزات ہیں، آپ ذرا یہ بتائیں کہ وہ کس نوعیت کے معجزات ہیں؟ وہ کیا کیا ہیں؟ ج: وہ معجزات روحانی، عقلی، علمی، عرفانی، تمثیلی، ازلی، ابدی، لامکانی، وغیرہ ہیں، مثال کے طور پر وہاں عالمِ وحدت ہے، جس کا قرآنی حوالہ نفسِ واحدہ (۳۱: ۲۸) ہے، جس سے انسانِ کامل مراد ہے، پس اس دورِاعظم میں بچشمِ معرفت دیکھا جائے تو حضرتِ آدمؑ سے شروع کرکے ہر انسانِ کامل (نفسِ واحدہ) کو اپنی جبین میں انسانی صورت کا عالمِ وحدت نظر آتا رہا ہے،
۱۵
جس میں عرش، کرسی، قلم، لوح، قرآن، کتاب، سدرہ، اسم، مسمیٰ، فرشتہ، جنّ، پری، ہر چیز، ہر چیز، اور ہر چیز انسانی صورت میں ہے، جب عالمِ وحدت کی تمام چیزیں انسانی صورت پر تھیں تو وہ سب کی سب مل کر ایک ہو گئیں۔
۱۸۔ ان چند حکمتوں کے بعد جدید انتساب کی بات یہ ہے کہ ہمارے بے حد پیارے اور معزز محمد عبد العزیز صدرِ ادارۂ عارف، سیکنڈ گورنر کی سنہری خدمات اور زرین کارناموں کا زندہ قصّہ بڑا طویل ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی عمرِ گرانمایہ کا ایک اچھا خاصا وقت ادارے کی مضبوطی اور ترقی کے لئے صرف کیا ہے، ہمارا نامور ادارہ سکالرز اور عملداروں کی جملہ خدمات کو قلمبند کر رہا ہے، ان شاء اللہ، دانشگاہِ خانۂ حکمت سے متعلق تمام تر کارناموں کو ’’تاریخِ زرّین‘‘ میں درج کریں گے، صدر محمد عبد العزیز کی خوش خصال اور فرشتہ صفت بیگم یاسمین محمد ریکارڈ آفیسر اور سیکنڈ گورنر کی ذات میں بہت سی اخلاقی اور ایمانی خوبیاں جمع ہیں، ان کی ازلی سعادت اور اساسی خوبی تو یہ ہے کہ آپ کا دل ذکرِالٰہی اور مناجات کے وقت فوراً ہی پگھلنے لگتا ہے، اور بڑی آسانی سے مولا کی محبت کے آنسو برسنے لگتے ہیں، پس اصل وجہ یہی ہے کہ ریکارڈ آفیسر یاسمین محمد تمام خدمات میں اپنی مثال آپ ہیں، محمد اور یاسمین کے فرزندِ ارجمند شہزاد علمی لشکر امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کی دوسری
۱۶
با سعادت اولاد سیلینہ ایم۔ بی۔ بی۔ ایس سالِ سوم کی طالبہ ہیں، اور تیسری نیک بخت اولاد کا نام زہرا ہے، جو میٹرک میں زیرِ تعلیم ہے۔
۱۹۔ صدر محمد عبد العزیز کی والدۂ محترمہ شیرین خانو (خانم) بنتِ شکور بڑی نیک اور دیندار خاتون تھیں، انہوں نے تقریباً ۳۰ سال تک لیڈیز والنٹیئر تنظیم میں اپنے پاک امام اور پیاری جماعت کی بے لوث خدمات انجام دیں، حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر بھی بطورِ خاص خدمت کی، ان کے پاس مختلف خدمات کے کئی میڈلز موجود تھے، آپ کی وفات ۷۲ سال کی عمر میں ہوئی، موصوف صدر کے والد محترم عبد العزیز ابنِ قاسم بڑے مذہبی اور خدا پرست انسان تھے، انہوں نے عرصۂ دراز تک جماعتی والنٹیئرز کے ساتھ امامِ عالی مقامؑ کی مقدس خدمات کو انجام دیا، آپ کسی مجلس کے موکھی بھی تھے، انہوں نے بینڈ میں بھی حصہ لیا، ان کو دینی علم اور گنان سے بے حد دلچسپی تھی، مولائے پاک نے انہیں حضور موکھی کا ٹائٹل عطا کیا تھا۔
۲۰۔ جدید انتساب، دوم:
س: سورۂ مومنون (۲۳: ۵۰) میں ہے: اور ہم نے ابنِ مریم اور ان کی والدہ کو بھی اپنی نشانی (آیت = معجزہ) قرار دیا اور انہیں ایک بلندی پر جہاں ٹھہرنے کی جگہ بھی تھی اور چشمہ بھی تھا پناہ دی۔ آپ بتائیں ، اس میں کیا کیا
۱۷
حکمتیں ہیں؟ ج: حکمتِ اوّل: اللہ تعالیٰ نے حضرتِ عیسیٰؑ اور ان کی والدہ حضرتِ مریمؑ کو عالمِ شخصی کے جملہ معجزات کا مجموعہ بنا دیا، حکمتِ دوم: یہ بلند و بالا مقام جبین ہے جو عالمِ شخصی کی معراج ہے، حکمتِ سوم: یہ منزلِ مقصود ہے، اس لئے یہی قرار کی جگہ ہے، حکمتِ چہارم: یہاں علمِ لدنّی کا سرچشمہ ہے جو ہمیشہ جاری رہتا ہے، حکمتِ پنجم: جملہ مومنین و مومنات تزکیۂ نفس سے اس مقامِ اعلیٰ تک پہنچ سکتے ہیں، کیونکہ یہاں ایک پرحکمت مثال موجود ہے کہ مریم سلام اللہ علیہا نبی نہ تھیں، لیکن ان کی روحانی ترقی ایک پیغمبر سے کم نہ تھی۔
۲۱۔ س: سورۂ فصلت (۴۱: ۲۱) کے حوالے سے سوال ہے کہ مرتبۂ روحانیت پر معجزات ہی معجزات ہیں، وہاں ہر چیز بولتی ہے، یہاں تک کہ بے جان چیزیں بھی خدا کے حکم سے کچھ بات کر سکتی ہیں، کیا آپ اس بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟ ج: (ان شاء اللہ) ہاں، ایسے معجزات بھی بہت ہیں، جیسے پرندوں کی آواز سے کچھ مختصر گفتگو، اسی طرح ہوا، پانی، اور دیگر آوازوں پر روح القدس کا تصرف، یعنی گفتگو بنانا، یہ زمانۂ انقلابِ روحانیت کی باتیں ہیں، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ قریب کے کسی لاؤڈ سپیکر پر چینی زبان میں کوئی لیکچر ہو رہا تھا، اور معجزاتی روح اس کو بروشسکی میں تبدیل کر رہی تھی، اسی طرح مرغِ سحر کی اذان سے بھی ایک ندائیہ کلمہ بنتا تھا، ایک رات میں تن تنہا
۱۸
عبادت کر رہا تھا کہ یکایک جماعت خانہ کی چار دیواری، چھت، اور فرش کی تمام چیزیں اسی طرح ذکرِ جلی کرنے لگیں، جس طرح کہ میں جماعت کو ذکر کراتا تھا، ایسا لگ رہا تھا، جیسے جماعت خانے میں ذکر ریکارڈ ہو چکاتھا، پس اس نوعیت کے معجزات بھی بہت ہیں۔
۲۲۔ اور یہاں سے جدید انتساب کی بات اس طرح کی جاتی ہے کہ لفظِ ’’زہراء‘‘ حضرتِ فاطمہ سیدہ سلام اللہ علیہا کا مبارک لقب ہے، یہ زَہَرَ (چراغ یا چاند یا چہرے کا چمکنا) سے مشتق ہے، جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ تیمناً و تبرکاً اہلِ بیتِ اطہار علیہم السّلام کے مبارک اسماء و القاب میں سے کسی پر اولاد کا نام رکھا جاتا ہے، چنانچہ محترم جعفر علی اور ان کی بیگم زرینہ جعفر علی کو توفیق عنایت ہوئی یا مقدّس جماعت خانہ کی طرف سے عطا ہوا کہ ان نیک فطرت والدین نے اپنی باسعادت نومولود بچی کا پسندیدہ نام زہراء رکھا، یومِ تولد جمعۂ مبارک تھا، اور تاریخ ۹ ستمبر ۱۹۷۰ء۔
۲۳۔ یہ سچ ہے کہ آدمی کی آدمیت کا اولین سکول ماں کی گود ہے، پھر گھر اور ماحول، خدا کے فضل و کرم سے زہراء کی اخلاقی اور مذہبی پرورش بڑی خوبی سے ہوتی رہی، اور سنِ شعور میں قدم رکھتے ہی انہوں نے جماعتی خدمت کی غرض سے جونیئر گائیڈز میں شرکت کی، پھر گرل گائیڈز، پھر سینئر گائیڈز، پھر پانی اینڈ شو کمپنی میں پُرحکمت خدمات انجام دیں، یہاں مجھے یہ خیال آیا کہ حضرتِ مولانا
۱۹
امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ و سلامہٗ نے مذہبی خدمت سکھانے کے لئے کیسی کیسی مفید تنظیمیں بنا دی ہیں، میرے ماں باپ اور میری روح ان سے فدا! کاش اس زمانۂ قیامت کے عدیم المثال امام پر کماحقہٗ کوئی کتاب ہوتی!
۲۴۔ محترمہ زہراء (دخترِ) جعفرعلی چونکہ شروع ہی سے مذہبی میلانات رکھتی تھیں، اس لئے مذہبی مدرسۂ شبینہ سے ایڈوانس ریلیجس ایجوکیشن کی سند حاصل کر کے ٹیچنگ میں شامل ہو گئیں، آپ نے دنیوی تعلیم میں ایم۔ اے (فارسی) کی سند حاصل کر لی ہے، اور اب تقریباً گیارہ سال کا عرصہ ہوا، دانشگاہِ خانۂ حکمت کے روحانی علوم سے محترمہ زہرا کو شغف ہے، ہم ان کو عنقریب ’’سکالر زہرا‘‘ کہہ کر بہت ہی شادمان ہو جائیں گے، آپ حقیقی علم کی بڑی شیدائی ہیں، ہر وقت اسی کی خدمت میں لگی رہتی ہیں، انسانی، اخلاقی، مذہبی، اور علمی خوبیوں اور قدروں کا ایک خزانہ ہیں۔
۲۵۔ زہراء جعفر علی کے پاس اتنے عہدے یا اتنی ذمہ داریاں ہیں: پرسنل سیکریٹری، چیف سیکریٹری، پروف سیکشن انچارج، ریکارڈ آفیسر، فرسٹ گورنر، اور خزانچی، ان بھاری ذمہ داریوں سے آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ بیٹی زہراء کتنی بہادر اور عالی ہمت گورنر ہیں، آپ کے والدین بہت ہی نیکوکار اور بہت ہی ایمانی ہیں، یہ انہی دونوں ارضی فرشتوں کی پرسوز دعا، دلی خواہش، اخلاقی کوشش
۲۰
اور مذہبی پرورش تھی، جس کی بدولت آج محترمہ زہراء صاحبہ دانشگاہِ خانۂ حکمت کے عظیم گورنرز کے ساتھ بھی ہیں اور عظیم سکالرز کے ساتھ بھی۔
۲۶۔ کاملین میں صورِ اسرافیل کی گونج:
اصل راز کی بات تو یہ ہے کہ عرفانی قیامت پیغمبر اور امام کے بعد صفِ اوّل کے کسی مومن پر بھی واقع ہو سکتی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو خود شناسی اور خدا شناسی (معرفت) محال ہوجاتی، مگر یہ بات ہرگز نہیں، ہاں معرفت جس میں سب کچھ ہے وہ انفرادی قیامت کے سوا ممکن ہی نہیں، اور معرفت (خدا شناسی) ہی وہ واحد کلید ہے، جس سے قرآنِ حکیم کے اسرارِ باطن کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
۲۷۔ کہتے ہیں کہ مٹی، پتھر، وغیرہ جیسی چیزیں بے جان ہیں، جن کو جمادات کہا جاتا ہے، یہ بات ظاہر میں درست ہے، ہم بھی اکثر اسی طرح لکھتے ہیں، لیکن باطنی حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ اپنے اپنے وقت میں کاملین کو یہ یقینی اور عرفانی تجربہ ہوچکا ہے کہ جب انسانِ کامل کی قیامت برپا ہو جاتی ہے تو اس وقت نفخۂ صور سے کائنات بھر کی چیزوں کی روحیں عالمِ شخصی میں جمع ہوکر ذاتِ سبحان کے لئے تسبیح خوان ہوجاتی ہیں، انہی روحوں کے ساتھ تمام پہاڑوں اور پرندوں کی ارواح بھی شامل ہوتی ہے، انکشاف کے لئے آیۂ
۲۱
شریفۂ دہم از سورۂ سبا (۳۴: ۱۰) پیشِ نظر ہو: ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو ( اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو بھی دیا، ہم نے لوہے کو اس کے لئے نرم کر دیا۔ لوہے سے علم مراد ہے، لوہا انتہائی سخت ہے = علم بھی انتہائی سخت ہے، لوہے کو گرم کر کے کوئی استعمال کی چیز بناتے ہیں = علم کو سخت محنت سے حاصل کرکے کام میں لاتے ہیں، خدائے تعالیٰ نے حضرتِ داؤدؑ کے لئے لوہے کو نرم بنا دیا = یعنی سخت علم کو علمِ لدنی کی صورت میں بہت ہی نرم اور بہت ہی آسان بنا دیا۔
نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
بدھ ۱۵ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ، ۲۰ اگست ۱۹۹۷ء
۲۲
ایک بے مثال کامیابی
۱۔ میرے بے حد پیارے ساتھیو! میرے بہت بہت بہت عزیز دوستو! آؤ آؤ، میری روح تمہارے لئے فرشِ راہ! میری جان تم سے بار بار فدا! آؤ آؤ، میں تم سب کے پاکیزہ دیدار کا منتظر ہوں، آ جانا تا کہ ہم سب کے سب مل کر جشنِ کامیابی منائیں، اس میں سب سے پہلے بعنوانِ شکر گزاری گریہ و زاری کریں، یہ عبادت بڑی پُرحکمت اور عظیم الشّان ہے، اسی میں دین و دنیا کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے عزیزان کی پرخلوص دعا اور ہر گونہ خدمت نے آج پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے لئے ایک کارنامۂ زرّین انجام دیا، الحمد اللہ، آج ہمارے بہت ہی معزز گورنرز اور علمی لشکر کو ایک بے مثال تاریخی کامیابی نصیب ہوئی، بلکہ بہت سی کامیابیاں، کیا عملی تصوّف اور روحانی سائنس ایک انقلابی کتاب نہیں ہے؟ آیا اس کی رسمِ رونمائی پاکستان کے دو وفاقی وزیروں کے دستِ مبارک سے ادا نہیں ہوئی؟ پھر ہزار حکمت
۲۳
کی کامیابی! پھر پچاس کتابوں کے انگریزی تراجم پر جناب پروفیسر ڈاکٹر فقیر محمد ہونزائی صاحب کا جشنِ زرین (گولڈن جوبلی) اور اب کتاب: ’’تجرباتِ روحانی‘‘ کی تصنیف اور کتابت، یااللہ ! ہم تیرے عظیم احسانات تلے دب گئے ہیں، اور تیری بے شمار نعمتوں کے طوفان میں غرق ہو چکے ہیں۔
۳۔ اے عزیزان! آپ نے بہت پہلے مونوریالٹی (یک حقیقت) کا درس پڑھا تھا، وہ آج اور ہمیشہ کام آئے گا، پس آپ میں سے ہرایک دل ہی دل میں بار بار کہتا رہے کہ میں علامہ نصیر ہوں، میں ڈاکٹر فقیر ہوں، میں دانشمند غلام قادر ہوں، میں نے اسلام آباد میں یہ یہ کام کیا، وغیرہ وغیرہ، اس وحدت سے عزیزم غلام قادر بیگ چیف ایڈوائزر، صدر الصدور ، اور دانشمند کو بے حد خوشی ہوگی، اور یہ حقیقت ہے کہ ہم سب غلام قادر صاحب میں موجود تھے، تب ہی انہوں نے ایسا بے مثال کارنامہ انجام دیا، اور اس کی کئی وجوہ ہیں، اوّل یہ کہ ہم سب کے نمائندہ ذرّات ان میں ہیں، دوم گریہ و زاری اور دعا بہت بڑی طاقت ہے، سوم دامے، دِرمے، قدمے، سخنے بھی ایک ضروری شے ہے، چہارم اچھے کام کرنے والے عملداروں کی ہمّت افزائی بھی ضروری ہے، پنجم کوئی بھی کام ہمارے یہاں گورنرز، علمی لشکر، وغیرہ کے تعاون کے سوا انجام پذیر نہیں ہوسکتا، تا آنکہ استاد نے بارہا کہا ہے کہ عزیزان ان کے خواب و خیال اور روحانیت کے
۲۴
ممد و معاون فرشتے ہیں۔
۴۔ پھر بھی دانشمند غلام قادر کی تعریف کے لئے بہت بڑی گنجائش ہے، آپ عابدِ شب خیز ہیں، ایک چھوٹے سے گروپ کے ساتھ بڑی سخت ریاضت کر رہے ہیں، ان کی گریہ و زاری بے مثال اور مناجات لاجواب ہے، تمام عزیزان کو اس حقیقت پر یقین ہے کہ رات کی درویشانہ عبادت ہی سے رحمتِ الٰہی کا دروازہ مفتوح ہو جاتا ہے، عزیزم غلام قادر صدرِ صدور بے شمار خوبیوں کا ایک بھرپور خزانہ اور کمالات کا ایک انمول گنجینہ ہیں، صبوری، حلیمی، سنجیدگی، نرم دلی، نرم گوئی، اور خوش خلقی میں اپنی مثال آپ ہیں، قادر صاحب صفِ اوّل کے سکالرز میں شمار ہوتے ہیں، ان کے عاقلانہ لیکچرز اور مقالے بڑے دلنشین ہوا کرتے ہیں۔
۵۔ بہتر تو یہ ہے کہ میں اعتراف کروں کہ القلم کانفرنس اسلام آباد کی ہمہ گیر خوبیوں کی توصیف مجھ ایسے درویش سے کبھی ہوہی نہیں سکتی، لہٰذا میں ان تمام عزیزان سے درخواست کرتا ہوں جو اس تقریب میں حاضر تھے کہ وہ ازراہِ کرم کچھ تاریخی یادداشت بھی لکھیں، اور ساتھ ہی ساتھ قادر صاحب کے لئے کوئی ہمت افزا مکتوب بھی ہو، نیک کام کو آگے بڑھانے کا یہی ایک طریقہ ہے، میرا یقین ہے کہ میرے دوستوں میں نہ صرف علم وعمل کی روح پائی جاتی ہے، بلکہ اس چیز کی بھرپور قدردانی اور حوصلہ افزائی بھی ہے، مجھے امید ہے، کہ ہمارے عزیزان
۲۵
ایک دوسرے کی ہمت افزائی کرتے رہیں گے۔
۶۔ میں اس بے مثال کامیابی کے تاریخ ساز موقع پر شمالی علاقہ جات، اسلام آباد، کراچی، لنڈن، امریکہ، کنیڈا، اور فرانس کے عزیزان کو بصد شوق مبارکباد پیش کرتا ہوں، اور بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ یہ سب کچھ آپ کی دم قدم کی برکت سے ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔
نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعہ ۹ جمادی اول ۱۴۱۸ھ ، ۱۲ ستمبر ۱۹۹۷ء
۲۶
تجرباتِ روحانی
۱۔ الٰہی، تیری آزمائشوں میں کیسی کیسی بے پایان رحمتیں اور برکتیں پوشیدہ ہیں! خداوندا، تیرے امتحانات میں کتنی بڑی بڑی حکمتیں پنہان ہیں! یااللہ، اس بندۂ عاجز و ناتوان کو کوئی علم ہی نہ تھا کہ آگے چل کر کیا ہونے والا ہے، جب میں مصائب و آلام سے تنگ آ کر روتا تھا، تب تیری رحمت گویا بہ اندازِ بشارت مسکراتی تھی، یا رب العالمین، تیرے نوازنے کے طریقے بھی کیسے عجیب وغریب ہوا کرتے ہیں! یا ربّ، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ تو ہی مسبب الاسباب اور مفتح الابواب ہے۔
۲۔ اے خداوندِ قدّوس، اپنے محبوب رسول حضرت محمدِ مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حرمت سے ہماری جملہ تقصیرات سے درگزر فرما! کہ ہم تیری بے شمار نعمتوں کی شکرگزاری اور قدردانی نہیں کرسکتے ہیں، اسی لئے خوف ہے کہ ہمارے اعمال کا مآل کیا ہوگا؟ افسوس ہے کہ اب گریہ و زاری کے لئے جگر میں
۲۷
نمی نہیں، دل میں نرمی نہیں، اور غفلت و ناشکری کی کوئی کمی نہیں، ہم ہر وقت آسمانی عشق کی تعریف تو کرتے رہتے ہیں، لیکن کما کان حقّہٗ اس کو اپنے دل میں بسا نہیں سکتے، اسی وجہ سے ہمیں بڑی شرمندگی کا احساس ہو رہا ہے۔
۳۔ قارئینِ کرام! اگرچہ اس کتاب کا پرکشش نام “تجرباتِ روحانی” ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ روحانیت کے تمام تجربے اسی میں جمع کئے گئے ہیں، بلکہ حق بات تو یہ ہے کہ بفضلِ خدا ہماری جملہ کتابیں انہی تجربوں کی روشنی میں لکھی گئی ہیں، ہر چند کہ یہ کتاب روحانی تجربات کے اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
۴۔ اگر ہم روحانی تجربات کی تفصیل میں جائیں تو اس کے لئے ہمیں بہت کچھ لکھنا پڑے گا، جس کے لئے طویل وقت چاہئے، لیکن ایسا کام ہمارے منصوبے میں نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کوئی آسان کام ہے، لہٰذا یہاں روحانی تجربات سے متعلق ایک مختصر تعارف پیش کرنا مقصود ہے، تاہم خوش بختی سے میں نے اپنی کئی تصانیف میں بعض تجربوں کا تذکرہ کیا ہے، پس کوئی محقق اس جہت سے بھی میری کتابوں پر ریسرچ کر سکتا ہے، میرا خیال ہے کہ اب دنیا میں ریسرچ کی بہت بڑی اہمیت ہو گی، اس کی کئی وجوہ ہیں، قرآن اور روحانیت کے بھیدوں کا زمانہ آگیا ہے، یعنی اب دورِ تاویل شروع ہوچکا ہے، خدا مسبب الاسباب ہے، وہی لوگوں سے کام لے کر اسلام کی عالمگیر خوبیوں
۲۸
کو بتدریج ظاہر کرے گا۔
۵۔ میں بعض اہم باتوں کو بار بار دہراتا ہوں، اور بار بار لکھتا بھی ہوں، چنانچہ نعمت شناسی کی اس بات کو بھی دہرانا ہے کہ خداوندِ تعالیٰ نے ہم سب پر بہت بہت بڑا احسان کیا کہ ہم کو بے شمار جمادات، بے شمار نباتات، بے شمار حیوانات، بے شمار لادینوں، اور بے شمار اہلِ ادیان سے آگے بہت ہی آگے لا کر مسلمانی کا درجہ دیا، اور پھر مزید ہزار در ہزار احسان کر کے اس نہایت مہربان خداوند نے ہم کو امام شناس بنا دیا، پھر مزید احسانات کر کے حضرتِ قائم القیامتؑ کا بھی شناسا کر دیا، ایسے میں اگر ہم سے قرآن، اسلام، اور انسانیت کی کوئی خدمت ہو سکتی ہے، تو ان شاء اللہ یہ ہماری سعادت مندی ہو گی۔
۶۔ تجربۂ روحانی کے دو پہلو ہیں، ایک پہلو میں کیفیات ہیں، اور دوسرے میں ثمرات، الحمد للہ، ہم نے اپنی بساط کے مطابق دونوں پر کام کیا ہے، کیفیات کا یہ مطلب ہے کہ آپ اپنے روحانی مشاہدات کا براہِ راست تذکرہ کریں، اور ثمرات اس علم وحکمت کو کہیں گے، جسے آپ روحانی مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، مثال کے طور پر ہمارے اکثر عزیزان منزلِ عزرائیلی وغیرہ کے بہت سے معجزات کا تذکرہ سن چکے ہیں، یہ اس تجربے کی کیفیت یا پس منظر یا حوالہ ہے، اب اگر ان کے سامنے نفسانی موت اور ذاتی قیامت کی کوئی مشکل بات بھی کی جاتی ہے تو یہ عزیزان بڑی آسانی سے
۲۹
سمجھتے ہیں اور کسی شک کے بغیر قبول بھی کر لیتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ روحانی علم کی عظمت و برتری کا ثبوت روحانی تجربہ ہے، اور تجربے کا ثبوت پس منظر ہے۔
۷۔ جو علم جیسا بھی ہے، اس کا تعارف ضروری ہے، لیکن روحانی علم کا تعارف بے حد ضروری ہے، تا کہ اس کی پہچان کی وجہ سے لوگوں کو زبردست فائدہ پہنچ سکے، آپ نے حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کے روحانی ارشادات کو پڑھا ہوگا، لیکن قرآنِ ناطق کے کلمات کو یوں سمجھ کر پڑھنا ہے کہ یہ کلماتِ تامات کی روحانی تفاسیر ہیں، آپ امامِ برحق کے ارشادِ روحانی کے کلمات کا ورد کریں، یہ مظہرِ نورِ خدا اور جانشینِ رسولؐ کے مبارک الفاظ ہیں، اس لئے ان میں علم و حکمت کی کلیدیں پوشیدہ ہیں۔
۸۔ اگر میں یہاں یہ کہوں کہ امام علیہ السلام دنیا میں اس لئے حاضر اور موجود ہوتا ہے تا کہ لوگ اخلاقی ، مذہبی، اور روحانی ترقی سے اس کے علمی معجزات تک رسا ہو جائیں، کیونکہ امامؑ کا نور خدا و رسولؐ کا نور ہے، جو ہمہ رس اور عالمگیر ہونے کی وجہ سے ہر شخص کے دل میں طلوع ہوسکتا ہے تو اس بات سے شاید یہ سوال پیدا ہو کہ آپ کو امامِ عالی مقام کے جوجو معجزے ہوئے ہیں، ان کا تذکرہ کریں، تو اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے، سب سے پہلے اس امرِ واقعی کی طرف توجہ دلائی جائے گی کہ جس نوجوان نے صرف دس ماہ کے قلیل عرصے میں تیسری اور
۳۰
چوتھی جماعت پڑھ کر پرائمری سکول کو خیرباد کہا تھا، اسی شخص نے ۱۹۵۷ء سے آج تک تقریباً سو (۱۰۰) کتابیں تصنیف کی ہیں، ان کتابوں کے بارے میں بعض دانشوروں کا یہ کہنا ہے کہ ان کتب میں علم وحکمت کاایک حصہ بڑا عجیب وغریب، غیر معمولی، بے مثال، اور معجزانہ قسم کا ہے، پس وہ حضرات یقیناً یہ کہتے ہیں کہ: یہ تو امامِ عالی مقام علیہ السلام کا علمی معجزہ ہے، اور حضرتِ امام کا یہ دستور زمانۂ آدم سے چلا آیا ہے۔
۹۔ دوسرا جواب اس طرح سے ہے: س: کوئی خوش نصیب مرید کس طرح اپنے امامِ وقتؑ سے جوہرِ قرآن (روحانیت) کی تعلیم حاصل کر سکتا ہے؟ اس مقصد کے لئے کیا کیا شرطیں مقرر ہیں؟ ج: اس عظیم ترین مقصد کے پیشِ نظر کوئی باہمت مومن سب سے پیشتر امامِ زمان علیہ السلام سے اسمِ اعظم برائے خصوصی عبادت حاصل کرتا ہے، شرائط وہی ہیں، جو حقیقی مومنین کے لئے ہوا کرتی ہیں، جب ایسا مومن اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب ہو جاتا ہے تو بحکمِ قرآن (۱۷: ۷۱) امام علیہ السلام نورانیت میں تشریف فرما ہو جاتا ہے، اور اس مومن کی ذاتی قیامت برپا ہوجاتی ہے۔ س: قیامت کی ہر گونہ سختی میں کس طرح مومن اپنے امامؑ سے روحانی تعلیم لے سکتا ہے؟ وہاں پڑھنے اور پڑھانے کا کیا طریقہ ہے؟ ج: سختی کے واقعات میں جتنی عظیم حکمتیں ہیں، وہ دل و دماغ میں اس طرح چبھ چبھ کر چسپان ہو جاتی ہیں کہ پھر وہ کبھی لوحِ حافظہ سے محو نہیں ہو سکتیں، وہاں پڑھنے
۳۱
اور پڑھانے کا طریقہ دنیا سے قطعاً مختلف اور طریقۂ آدمؑ کی طرح ہے، وہاں لسانی تعلیم بہت کم اور واقعات و اشارات کی عملی تعلیم بہت زیادہ ہے، اس میں طرح طرح کی مثالیں بھی شامل ہیں، دو ساتھی آپس میں گفتگو کرتے ہیں، اس میں بھی بہت سے اشارے ہیں، آواز کے بغیر الہام کثرت سے ہے (۹۱: ۸) اور بھی بہت سی چیزیں ہیں، لیکن روحانی احوال کے چند نمونوں کے علاوہ کلّی روحانیت کی صحیح صحیح عکاسی ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔
نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعہ ۳ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ، ۸ اگست ۱۹۹۷ء
۳۲
فنا فی اللہ
تو ھو میں فنا ہو جا تب گنجِ نہان تو ہے
یوں ہو تو سمجھ لینا وہ جانِ جہان تو ہے
اسرارِ خودی کو تو اے کاش سمجھ لیتا
اس عالمِ شخصی میں اک شاہِ شہان تو ہے ہر چیز تجھی میں ہے بیرون نہیں کچھ بھی
ہے ارض و سما تجھ میں اور کون و مکان تو ہے
تو ارض میں خاکی ہے افلاک پہ نوری ہے
یاں ذرّۂ گم گشتہ واں شمسِ عیان تو ہے ناقدریٔ دنیا سے مایوس نہ ہو جانا
جا اپنا شناسا ہو جب گوہرِ کان تو ہے
اس آئینۂ دل میں اک چہرۂ زیبا ہے
اے عاشقِ مستانہ وہ چہرۂ جان تو ہے
اس عالمِ شخصی میں سلطانِ معظم ہے
تو اس میں فنا ہوجا پھر شاہِ زمان تو ہے
۳۳
آئینِ جہان دکھ ہے تو اس سے نہ گھبرانا
پیری سے نہ ہو غمگین جنت میں جوان تو ہے
تو چشمِ بصیرت سے خود کو کبھی دیکھا کر
جو حسن میں یکتا ہے وہ رشکِ بتان تو ہے
بھرپور تجلی سے باطن ہے ترا پر نور
ہر چہرۂ جنت تو، جب رازِ جنان تو ہے
تو ساری خدائی میں اعجوبۂ قدرت ہے
تو معجزۂ حق ہے اور اس کا نشان تو ہے
تو خامۂ لاہوتی تو نامۂ جبروتی
پھر اس کی زبان تو ہے اور شرح و بیان تو ہے
اشعارِ حکیمانہ! ہے دل میں کوئی استاد؟
اے جان و دلِ حکمت! ہے میرا گمان تو ہے
کہتا ہے نصیرؔ تجھ کو اے عاشقِ آوارہ
تو ھو میں فنا ہو جا تب گنجِ نہان تو ہے
پیر ۲ جمادی الاول ۱۴۱۷ھ، ۱۶ ستمبر ۱۹۹۶ء، کراچی
۳۴
سرمݣے برکݽ
۱۔ انے سرمݣے برکݽ بلݳ قرآن لو ئیڎم
ان جانِ جہان بݳی برینن جان لو ئیڎم
۲۔زندانے اُیَم یاد جݺ مݹ بیلٹے تلالجم
جنت نکݳ آر دین نمی زندانُ لو ئیڎم
۳۔ دنیݳولو شہنشان اَیَشے نورے فرشتان
بردیٹے سوکم یار چوک اسمانُ لو ئیڎم
۴۔ ئینن لݺ علیؑ، نورِ نبیے حکمتے ہا ہݣ
حکمتݣے غٹم زندہ کتاپ ہانُ لو ئیڎم
۵۔ تھم تھانے حلال میل دُمنس ممکن اکوغن
فردوسے شراب جا شلے شاہ سانُ لو ئیڎم
۶۔ ہر ماہ رُخن گلبدنن دلبرِ جانن
اُنے نورے ملاقاتنے ارمانُ لو ئیڎم
۷۔ مݹ عاشقے گنے ظاہری لعلݣ بݺ اواجی
بُٹ قیمتی لعل گنجِ ازلے کانُ لو ئیڎم
۳۵
۸۔ احباب! یݺ ژوین مݹ غتݳین حکمتِ قرآن
تل حکمتے تعریف علیے شان لو ئیڎم
۹۔ ہن نورے جہانن نمہ بݳی برچی بم انسان
جا عالمِ ملکوت کھن انسانُ لو ئیڎم
۱۰۔ فرمانِ مبارک لو بئین حکمتے چھیئمڎ
اِنے نورے نظر رحمتے فرمانُ لو ئیڎم
۱۱۔ روحانی ببا می مدتر ہول نُویا دیبم
روے برگݺ تمام عالمے میدانُ لو ئیڎم
۱۲۔ دلدادہ نصیرؔ! دا کہ غتن رازݣے قرآن
مولا صفتݣ بُٹ بڎہ قرآن لو ئیڎم
ترجمہ
۱۔ میں نے دیکھا کہ قرآنِ پاک میں اُس (مولا) کے اسرار کا خزانہ موجود ہے، میں نے اپنی جان (یعنی خود شناسی) میں دیکھا تم بھی دیکھو کہ وہ یقینا عالمگیر روح ہے۔
۲۔ قیدخانے کی یادِ شیرین کو میں کس طرح بھول سکتا ہوں، جب کہ میں نے اُس محبوب کو زندان خانے ہی میں دیکھا کہ میرے لئے بہشت لے کر آیا اور (دے کر) گیا۔
۳۶
۳۔ وہ دنیا میں ایک شاہنشاہ کی سی شان رکھتا ہے، اور آسمان پر ایک نورانی فرشتہ ہے، تعجب ہے کہ وہ محبوب جو آسمان سے زمین پر اتر آیا تھا اس کو میں نے ابھی ابھی آسمان میں دیکھا۔
۴۔ (بحکمِ حدیثِ شریف) مولاعلی کو نورِ نبی کے دارِ حکمت کا دروازہ مان لو، یہ سچ ہے کہ میں نے گہری حکمتوں کی زندہ (اور بولنے والی) کتاب ایک گھر میں دیکھی ہے۔
۵۔ یہ بات ممکن ہی نہیں کہ کسی اور جگہ شرابِ حلال مہیا ہو سکے، کیونکہ میں نے خمرِ بہشت (یعنی شرابِ طہور صرف) اپنے سلطانِ عشق ہی کے خم خانے میں دیکھی ہے۔
۶۔ ہر حسین، ہر نازک بدن اور ہر دلنواز محبوب کو میں نے دیکھا کہ وہ تیرے نورانی دیدار کا مشتاق ہے۔
۷۔ اب عاشق کے لئے ظاہری جواہر کی کوئی ضرورت نہیں، میں نے تو خزانۂ ازل کی کان میں انتہائی گرانمایہ گوہر کو دیکھا۔
۸۔ دوستانِ عزیز! ہاں آؤ، اب ہم سب مل کر قرآنِ حکیم کی حکمت کو پڑھ لیں، میں نے تو یہ دیکھا ہے کہ ساری حکیمانہ تعریف مولا علی ہی کی شان میں ہے۔
۹۔ جو آدمی حقیقی معنوں میں فرمانبردار ہو، وہ اپنی ذات ہی میں ایک پرنور کائنات بن چکا ہوتا ہے، میں نے انسان ہی کے باطن میں عالمِ ملکوت دیکھا۔
۳۷
۱۰۔ (امامِ زمانؑ کے) بابرکت فرمان میں حکمت کی کلیدیں پنہان ہیں، میں نے یہ دیکھا کہ اس کا مقدّس فرمان ہی اس کی نظرِ فیض اثر کا باعث ہوتا ہے۔
۱۱۔ (جہادِ روحانی کا تذکرہ ہے کہ) روحانی باپ ہماری مدد کے لئے لشکرِ ذرّات لے کر آیا تھا، یہ حقیقت ہے کہ میں نے سراسر دنیا کے میدان میں روحانی جنگ کا مشاہدہ کیا۔
۱۲۔ اے عاشق نصیرؔ! اسرار والے قرآن کو اور بھی پڑھ لو (اور پڑھتے رہو) کیونکہ میں نے قرآن میں دیکھا کہ اس میں مولائے پاک کی تعریف و توصیف بہت زیادہ ہے۔
نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۲۶ ذیقعدہ ۱۴۱۶ھ، ۱۵ اپریل ۱۹۹۶ء
۳۸
نفسِ واحدہ کی مثال
ایک ، دو اور سب””
یہ روحانی سائنس کا ایک عمدہ مضمون ہے کہ نفسِ واحدہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السّلام ہے جو ایک، دو، اور سب ہے، یعنی باپ آدم، ماں حوّا، اور قیامۃ القیامات تک ہونے والی اولاد سب کا مجموعی نام نفسِ واحدہ ہے، کیونکہ لفظِ واحدہ (بروزنِ فاعلہ) کے دو معنی ہیں: ۱۔ فی نفسہٖ ایک ۔ ۲۔ اور ایک کر لینے والا، چنانچہ جب حضرتِ آدم پر ذاتی روحانیت کی قیامت گزر رہی تھی اس حال میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ کے عالمِ شخصی میں تمام آدمیوں کو بشکلِ ذرّات جمع کرکے متحد کر دیا تھا، اور یہی انتہائی عظیم واقعہ ہر شخصِ کامل پر گزرتا ہے، جس کے بغیر کنزِ مخفی کی معرفت ممکن ہی نہیں۔
ہر آدمی نفسِ واحدہ (آدم) کی اولاد ہے لہٰذا وہ بحدِ قوّت اپنے باپ ہی کی طرح ایک، دو، اور سب ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر شخص کی ہستی میں وحدت، دوئی، اور کثرت کی علامتیں بنائی گئی ہیں، وحدت یہ کہ
۳۹
انسان اپنی مجموعی ہستی میں ایک ہے، دوئی یہ کہ اس کی آنکھیں وغیرہ تمام اعضاء دو دو ہیں، اور کثرت کی علامت یہ کہ وہ بے شمار خلیّات کا مجموعہ ہے کہ ان کی تعداد صرف خدا ہی جانتا ہے، پروردگارِ عالم کی بے پایان رحمت کے پیشِ نظر یہ بات ممکن ہے کہ ہر خلیہ (Cell) ایک کائنات کا نمائندہ ہو، اس معنی میں کہ ہر ایمانی روح کے لئے ازلی و ابدی بہشت میں لاتعداد کائناتوں کی بادشاہی ہے، ان میں سے ہر کائنات میں سب کچھ ہے۔
شاید آپ قرآنِ حکیم کی اس حکمت کو جانتے ہوں گے کہ اللہ پاک کائنات جیسی پھیلی ہوئی چیزوں کو سمیٹ کر محدود بناتا ہے، اور محدود چیزوں کو کائنات کی حدود تک پھیلا کر وسیع بنا دیتا ہے، پس آپ میں جتنے بے شمار خلیّات ہیں، اتنے لاتعداد عوالم ہیں، اور ہر عالم میں بحدِ قوّت آپ کی بادشاہی کی رعیت ہے، اگر آپ ’’فنا فی المرشد‘‘ کے قانون سے فائدہ اٹھا کر کام کرتے ہیں تو مبارک ہو! ورنہ روزِ قیامت آپ مسئول ہوں گے۔ جیسا کہ ارشادِ نبوی کا ترجمہ ہے: تم میں سے ہر ایک راعی (چوپان = حاکم= بادشاہ) ہے اور تم میں سے ہر ایک سے سوال ہوگا کہ اس نے اپنی رعیت کو کیا دیا؟
عربی زبان ان تمام زبانوں کی سردار اور بادشاہ ہے جو دنیا اور بہشت میں بولی جاتی ہیں، کیونکہ یہ قرآنِ حکیم اور رسولِ اکرمؐ کی لسان ہے، لہٰذا اس کی ہر چیز نہایت خوبصورت بنائی گئی ہے، اس کے اعداد کے کمال کو دیکھئے کہ گریمر کے اعتبار سے پہلے واحد ہے،
۴۰
اس کے بعد تثنیہ، اور آخر میں جمع ہے، یہ خوبی البتہ کسی اور زبان میں نہیں، خوبی اس معنیٰ میں ہے کہ قرآنِ پاک ذاتِ خدا کے سوا ہر چیز کی دوئی کا ذکر فرماتا ہے، اس کی پہلی حکمت یہ ہے کہ کوئی مخلوق طاق اور اکیلی نہیں، بلکہ اُس کی کوئی جفت ہوتی ہے، تا کہ یہ اس حقیقت کی عالمگیر شہادت ہو کہ خدائے واحد کی کوئی جفت نہیں، اور دوسری حکمت یہ ہے کہ ہر شیٔ اس امرِ واقعی کی گواہی دیتی ہے کہ دین میں خدا کے بعد سب سے بڑا مرتبہ رسولؐ کا ہے، اور وہ ظاہراً و باطناً ہرگز بے جفت نہیں، بلکہ آپؐ مومنین کے باپ ہیں، اور اساس (علیؑ) ماں۔
سورۂ بلد میں ارشاد ہے: کیا ہم نے نہیں بنائیں اس کے لئے دو آنکھیں؟ اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟ اور ہم نے دکھادیں اسے (خیر و شر) کی دونوں راہیں، مگر اس نے دشوارگزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی، اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوارگزار گھاٹی؟ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا، یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا (۹۰: ۸ تا ۱۶)۔
لوگ کثرت کو جانتے ہیں اور وحدتِ الٰہی کے لئے اقرار کر سکتے ہیں، لیکن دوئی کی عظیم حکمت کو نہیں سمجھتے ہیں، جس سے نبوّت اور ولایت مراد ہے، حالانکہ یہی راہِ ہدایت اور دروازۂ علم و معرفت ہے، بنا برین قرآنِ حکیم کے متعدد مقامات پر دو یا جفت کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، اور یہ حقیقت مختلف مثالوں میں ہے، جیسے قرآنِ پاک
۴۱
کا یہ ارشاد کہ انسان کو دو آنکھیں عطا ہوئی ہیں، کیسی دو بڑی نعمتیں ہیں کہ ان کی ہستی میں بے شک دوئی ہے مگر فعل میں وحدت، زبان ایک ہے مگر اس میں دوئی کی علامت، ہونٹ دو ہیں لیکن گفتگو میں وحدت و سالمیت، اور خیر و شر کے دونوں راستے الگ الگ ہیں تاہم خیر کی پیروی اور شر سے اجتناب کا اجر و صلہ مجموعی طور پر ایک ہی ہے، پس قرآنِ عظیم میں جہاں جہاں دو، جفت، اور دوئی کے اشارے آئے ہیں، وہ سب عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ نیز ناطق اور اساس کے لئے ہیں۔
اب دورِ تاویل ہے اس لئے آپ کو کوئی ظاہری غلام نہیں ملے گا کہ آپ اس کو آزاد کر دیتے، مگر یہ ہے کہ ہر عام شخص اپنے نفسِ امّارہ کا غلام ہے، وہ اپنی جہالت اور عاداتِ حیوانیہ کی غلامی کر رہا ہے، پس اس پر واجب ہے کہ وہ بذریعۂ علم و حکمت اپنے آپ کو اس بدترین غلامی سے چھڑا لے، اگر وہ سچ مچ ایسا کام کر سکے تو اس میں روحانی اور علمی انقلاب آئے گا، جس سے وہ اس قابل ہو جائے گا کہ اب وہ رشتہ دار یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلا سکتا ہے، اس کی تاویل بیان کرنے سے پیشتر ایک بڑی عالیشان مثال ملاحظہ ہو:
حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ عزوجل نے (آنحضرتؐ سے) فرمایا: میں بیمار ہو گیا تھا ابنِ آدمؑ نے میری عیادت کیوں نہیں کی؟ اور مجھے پیاس لگی تھی ابنِ آدمؑ نے مجھے کیوں پانی نہیں پلایا؟ میں نے عرض کی کہ یا ربّ کیا تو بیمار ہو جاتا ہے؟ فرمایا: اہلِ زمین کے میرے بندوں
۴۲
میں سے جب کوئی بندہ بیمار ہو جاتا ہے تو اس کی بیمار پرسی نہیں کی جاتی ہے، پس اگر اس کی عیادت کی جاتی تو یہ عیادت میرے لئے ہوتی، اور زمین میں جب کسی کو پیاس لگتی ہے تو اسے پانی نہیں پلایا جاتا ہے، اور اگر اس کو پانی دیا جاتا تو یہ میرے لئے ہوتا۔ (مسندِ احمد بن حنبل، الجزء الثالث، ص ۱۲۱، حدیث ۸۹۸۹)۔
اس قانونِ رحمت کی روشنی میں اب ہم یہ کہیں گے کہ حضرتِ امام کا ایک قرآنی نام یتیم ہے جس کے معنی ہیں یگانۂ روزگار اور ’’یتیما ذا مقربۃ‘‘ کا مطلب ہے وہ یگانۂ روزگار (امام) جو اہلِ ایمان کا روحانی اور نورانی رشتہ دار ہے، اور اس کو فاقے کے دن کھانا کھلانا یہ ہے کہ آپ حقدار لوگوں کو حقیقی علم دیں، اور خاک نشین مسکین کی تاویل حجّت ہے کہ وہ امام کے مریدوں کے ساتھ رہتا ہے کہ مرید خاک ہیں، کیونکہ وہ علم کے پانی کو قبول کرکے زندۂ جاوید ہو جاتے ہیں، جس طرح مٹی (زمین) ظاہری پانی سے زندہ ہو جاتی ہے، خاک نشین مسکین کا ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ حجّت زمین پر رہ کر اپنا کام کرتا ہے اور امام کا عقلی مرتبہ عالمِ علوی میں ہے، پس مسکینِ خاک نشین کو بھوک کے دن کھانا کھلانے کی تاویل یہ ہے کہ آپ علمی قحط کے زمانے میں لوگوں کے لئے حقیقی علم کا دستر خوان بچھائیں، تب ہی آپ دشوار گزار گھاٹی سے گزر سکتے ہیں۔
ہر آدمی نفسِ واحدہ (آدم) کی اولاد ہے لہٰذا وہ بحدِ قوّت اپنے باپ آدم ہی کی طرح ایک، دو، اور سب ہے، یہ نکتۂ دلپذیر اہلِ دانش
۴۳
کے لئے قابلِ توجہ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ عددی فارمولا (کلیہ = قانون = آئین) بڑا عالیشان اور موافق بقرآن ہے، جیسا کہ سورۂ سباء (۳۴: ۴۶) میں ارشاد ہے: اے نبیؐ ان سے کہو کہ میں تمہیں بس ایک حکمت کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم برائے خدا (روحانیت اور ذاتی قیامت میں پہلے دو دو پھر ایک ایک ہوکر کھڑے ہوجاؤ پھر سوچو۔ یعنی رجوع الی اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ تم کثرت کو چھوڑ کر دو میں فنا ہو جاؤ، اس کے بعد اللہ میں فنا ہوجاؤ، جو ایک ہے، پھر علم و معرفت کے نتائج میں سوچ لو تب کامیابی ہو گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
آپ سورۂ یاسین (۳۶: ۳۶) میں خوب غور سے دیکھیں: (ترجمہ) وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے۔ یہاں اہلِ دانش کے لئے کئی واضح اشارے ہیں، اور ان میں سب سے خاص اشارہ یہ ہے کہ اہلِ ایمان روحانی والدین کے بغیر نہیں ہیں، جیسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے:
انا و انت یا علی ابوا المومنین ۔ اے علی! میں اور آپ تمام مومنین کے (روحانی) ماں باپ ہیں۔
نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعرات ۲۳ رجب المرجب ۱۴۱۷ھ، ۵ دسمبر ۱۹۹۶ء
۴۴
عالمِ شخصی میں پیشانی کا مرتبہ
آج (۹۷/۵/۱) ہم نے بفضلِ خدا ایک جدید مقام پر مناجات کی ہے، اس لئے (ان شاء اللہ) ہم کوشش کرتے ہیں کہ تحفۂ دوستان میں کچھ جدید چیزیں ہوں، چنانچہ آپ کو علم ہے کہ بہشت آٹھ ہیں، آٹھ کے چار جوڑے، چار کے دو جوڑے، دو کا ایک جوڑا، قرآن کی زبان میں زوجان، یعنی دو فرد، جیسے شوہر اور بیوی، اگر دو شخص عالمِ وحدت میں داخل ہوتے ہیں تو وہ قانونِ وحدت کی وجہ سے ایک ہو جاتے ہیں، پس بہشت ایک بھی ہے، دو بھی ہیں، چار بھی ہیں، اور آٹھ بھی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنت پھیلی ہوئی بھی ہے اور مرکوز و مجموع بھی۔
بہشت کائنات کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہے (۳: ۱۳۳، ۵۷: ۲۱) اور یہ عارف کے عالمِ شخصی میں خدا کے حکم سے محدود ہو جاتی ہے، اور کچھ عرصے کے بعد بطورِ خاص پیشانی میں مرکوز ہو جاتی ہے، اس معنیٰ میں پیشانی گویا عرش ہے جہاں عقلی بہشت اور اس کی ہر نعمت موجود ہے، پیشانی کے لئے قرآنِ حکیم میں لفظِ ’’جبین‘‘ آیا ہے، اس کا ایک خاص ذکر سورۂ
۴۵
صافات (۳۷: ۱۰۳) میں ہے، پس جبین (پیشانی) کا مرتبہ عالمِ شخصی میں سب سے اعلیٰ ہے، ہاں یہ سچ اور حقیقت ہے کہ حضرتِ امامِ زمان علیہ السلام کا مرکزِ نور جبین میں ہوتا ہے، یقینا یہ بہت بڑا راز ہے کہ انسانِ کامل کی بابرکت جبین میں نور خود از خود بولتا رہتا ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔
۱۔ جبین میں لپیٹی ہوئی بہشت ہے۔ ۲۔ یہ عالمِ شخصی کا عرشِ اعلیٰ ہے۔ ۳۔ یہ حظیرۃ القدس ہے۔ ۴۔ یہ نمونۂ معراج ہے۔ ۵۔ کوہِ طور کا سارا قصہ جبین ہی کا قصہ ہے۔ ۶۔ جبین میں پہنچ کر ہی ازل اور لامکان کا مشاہدہ ہوسکتا ہے۔ ۷۔ کنزِ مخفی جبین ہی میں پوشیدہ ہے۔ ۸۔ جبین ہی عالمِ شخصی کا آسمان اور عالمِ عُلوی ہے۔ ۹۔ پس جملہ مومنین و مومنات کے لئے یہ امر بے حد ضروری اور لازمی ہے کہ وہ بارگاہِ ایزدی میں بار بار گریہ و زاری کریں، اور آسمانی عشق میں بڑی کثرت سے جبین کے سجدے کریں۔
نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی
اسلام آباد
جمعرات ۲۳ ذی الحجہ ۱۴۱۷ھ، یکم مئی ۱۹۹۷ء
۴۶
عملی شکر کی حکمت
۱۔ قرآنِ عظیم اللہ تعالیٰ کا کلامِ حکمت نظام ہے، لہٰذا اس کی کوئی مثال ممکن ہی نہیں، اس کے تمام مضامین جواہرِ حکمت سے لبریز ہیں، اس وقت توفیقِ الٰہی سے موضوعِ شکر کی عظمت و برتری کا تصور دل ودماغ پر محیط ہے، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ اسلام کی ہر مکمل چیز نیت، قول، اور عمل کا مجموعہ ہے، ساتھ ہی ساتھ قرآنِ حکیم جہالت و نادانی کی سخت مذمت کرتا ہے اور علم و حکمت کی بے حد تعریف فرماتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ عملی شکر حکمت کے بغیر نہیں۔
۲۔ شکر کا مضمون قرآن میں قصۂ نوحؑ سے شروع ہو جاتا ہے، جیسے سورۂ بنی اسرائیل کے آغاز (۱۷: ۳) میں ارشاد ہے: ذریۃ من حملنا مع نوح انہ کان عبدا شکورا ۔ معنیٔ اوّل: اے اُن لوگوں کے اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں ) سوار کیا تھا۔ بے شک نوح (ہمارے) شکر گزار بندے تھے۔ معنیٔ دوم: اے وہ ارواح جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (اس روحانی کشتی میں) سوار کیا (جو علم کے پانی پر عرشِ الٰہ
۴۷
کی مثال تھی) یقینا نوح اس نعمتِ عالیہ کا عملاً شکر کرتے تھے۔
۳۔ عالمِ شخصی کی تکمیل کے بعد عرشِ الٰہی کا ظہور علم کے پانی پر ہوتا ہے، پانی پر ہونے کی وجہ سے اس عرش (تخت) کا نام کشتی بھی ہے، یہی عظیم مرتبہ حضرتِ نوحؑ کی روحانی کشتی کو حاصل تھا، اور ہر زمانے کا امام وہی کشتیٔ نوح ہے، جس میں اہلِ ایمان کی روحیں سوار ہو سکتی ہیں، قرآنِ حکیم اس قانون کی طرف پرزور توجہ دلاتا ہے کہ تمام چیزیں دو (۲) دو (۲) ہیں، چنانچہ عرش بھی دو ہیں، ایک عالمِ عُلوی میں ہے اور دوسرا عالمِ سفلی میں۔
۴۔ سورۂ سبا (۳۴: ۱۳) میں فرمایا گیا ہے: اعملوٓا اٰل داؤد شکرا و قلیل من عبادی الشکور۔ اس آیۂ کریمہ کا خلاصۂ حکمت یہ ہے کہ داؤدؑ امام تھا اور آلِ داؤد ان کے فرزندانِ روحانی تھے، یہ سب روحانیت کے بادشاہ تھے، اور سلیمانؑ ظاہر میں بھی بادشاہ تھا، لہٰذا ان سب پر عملی شکرگزاری واجب ہوگئی، یعنی اس نعمتِ عظمیٰ کی قدردانی کے طور پر اہلِ جہان کو روحانی فیض پہنچائیں، کیونکہ خدا کے بندوں میں سے ایسے خاص بندے بہت کم ہیں جو اس طرح کی عملی شکرگزاری کر سکیں۔
نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی
اسلام آباد
ہفتہ ۲۵ ذی الحجہ ۱۴۱۷ھ، ۳ مئی ۱۹۹۷ء
۴۸
ظہورِ ازل و ابد
یہ حقیقت قرآن شناسی اور امام شناسی کی روشنی میں ہے کہ جب مومنِ سالک منزلِ مقصود میں پہنچ کر فنا بحق ہو جاتا ہے تو اس حال میں وہ چشمِ بصیرت سے ان اسرارِ معرفت کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے جو زمان و مکان سے ماورا ہیں، جیسے دھر (ٹھہرا ہوا زمانہ) جو وہی ازل بھی ہے اور ابد بھی، جس کی معرفت کا اشارہ خود سورۂ دھر کے آغاز ہی (۷۶: ۱) میں موجود ہے، پس عالمِ شخصی کے حظیرۃ القدس میں جہاں امامِ مبین کے نور میں ہر چیز کے محدود ہونے کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے (۳۶: ۱۲) وہاں ازل و ابد کا ظہور بھی ہوتا ہے۔
اہلِ بصیرت کے لئے قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ امام شناسی کے اسرارِ عظیم مخزون و محفوظ ہیں، چنانچہ ایک ایسا خزانہ قصۂ ذوالقرنین میں بھی ہے، کیونکہ بحکمِ حدیثِ شریف علیؑ (یعنی امامِ زمانؑ) اس امت کا ذوالقرنین ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ذوالقرنین کا قصہ بباطن امامِ عالی مقام کا قصّہ ہے، پس آپ قصّۂ ہٰذا کو سورۂ کہف (۱۸: ۸۳ تا ۹۹) میں
۴۹
پڑھ لیں، اور تاویلی حکمت کی جستجو کریں، اس میں مطلع الشمس (سورج طلوع ہونے کی جگہ) کا ذکر ہے، یہ مصدرِ نورِ ازل ہے، آپ اسے مشرقِ خورشیدِ ازل بھی کہہ سکتے ہیں، اور بڑی عجیب حکمت تو یہ ہے کہ یہی مشرق خود مغرب بھی ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں آفتابِ قیامت مغرب سے طلوع ہو جاتا ہے۔
اے میرے علمی عزیزان! روحانی علم کی زندہ اور بولتی یونیورسٹی امامِ زمان علیہ السلام ہے، یہ مدرسۃ العلوم اس مقام پر ہے، جس کا نام قرآنِ حکیم میں مجمع البحرین ہے (۱۸: ۶۰) یعنی دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ، دو دو دریا یہ ہیں: ا۔ ازل و ابد۔ ۲۔ اوّل و آخر۔ ۳۔ ظاہر و باطن۔ ۴۔ لامکان و مکان۔ ۵۔ دنیا و آخرت۔ ۶۔ قبض و بسط۔ ۷۔ قلم و لوح۔ ۸۔ عرش و کرسی۔ ۹۔ عقلِ کلّ و نفسِ کلّ۔ ۱۰۔ آسمان و زمین۔ ۱۱۔ فرشتہ و بشر۔ ۱۲۔ غیب و شہادت۔ ۱۳۔ عقل و جان۔ ۱۴۔ قول وعمل۔ ۱۵۔ نبوّت و امامت۔ ۱۶۔ مثال و ممثول، وغیرہ وغیرہ، یقیناً امامِ مبین میں کل چیزیں محدود ہیں، اور وہ سب دو دو ہیں، یا جفت جفت ہیں، الحمد للہ رب العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
اسلام آباد
پیر ۲۷، ذوالحجہ ۱۴۱۷ھ، ۵ مئی ۱۹۹۷ء
۵۰
اعلیٰ نعمتوں کا ذکرِ جمیل
۱۔ اہلِ معرفت پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے انتہائی عظیم احسانات ہوا کرتے ہیں، جن کا ذکرِ جمیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، دین کی اعلیٰ نعمتوں کا تذکرہ عبادت و شکرگزاری بھی ہے اور احباب کے لئے علم و حکمت بھی، کیونکہ یہی تذکرے گلشنِ روحانیت کے گلدستے ہیں جو دوستانِ عزیز کو بطورِ تحفہ دئے جا سکتے ہیں، زہے نصیب جن جن کو بہشت کے سدا بہار اور خوشبودار پھول ملتے ہیں!
۲۔ قرآنِ حکیم میں ظاہری اور باطنی نعمتوں کا مضمون بڑا عالیشان ہے، آپ مضامینِ قرآن کو الگ الگ پڑھیں، اور نعمتوں کے مضمون کو بھی متعلقہ آیاتِ کریمہ کے ساتھ مربوط پڑھ لیں تا کہ اس کے اسرارِ عظیم کے جاننے سے آپ کو بے پایان خوشی کا راز معلوم ہو جائے۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کی کبھی ختم نہ ہونے والی نعمتوں کا بے حد شیرین مضمون سورۂ فاتحہ سے شروع ہو جاتا ہے، جیسا کہ آیۂ مبارکہ ہے: (ترجمہ) اُن لوگوں کی راہ ( پر ہمیں چلا لے) جن کو تو نے اپنی نعمتوں سے نوازا
۵۱
ہے (۱: ۶) اگر کوئی پوچھے کہ وہ حضرات کون ہیں جن پر خدا تعالیٰ کے تمام بڑے بڑے انعامات ہوئے ہیں؟ تو اس کا جواب سورۂ نسا (۴: ۶۹) میں موجود ہے، وہ اس طرح سے ہے: اور جو شخص اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کرے تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہدا اور صلحاء۔ یعنی پیغمبران، اساسان، امامان اور حجّتان، پس معلوم ہوا کہ آیۂ اھدنا میں حدودِ دین خصوصاً امامِ زمان کی پیروی کی حکمت پوشیدہ ہے۔
۴۔ جب حضرتِ ربّ نے خود ہی اہلِ ایمان کو مذکورۂ بالا دعا کی تعلیم دی، تو ظاہر ہے کہ تمام روحانی اور عقلی نعمتوں میں مومنین و مومنات بھی حدودِ اعلیٰ کے ساتھ ساتھ ہیں، آپ سورۂ نساء (۴: ۶۹) میں خوب غور سے دیکھ لیں، اس کے علاوہ حدیثِ نوافل میں بھی سوچیں کہ جب خدا اپنے پیارے بندے کا کان، آنکھ، زبان اور ہاتھ بن جاتا ہے تو پھر عارف کے لئے اس مقام پر کون سی نعمت ناممکن ہو سکتی ہے؟ الحمد للہ رب العالمین
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
جمعہ ۹ مئی ۱۹۹۷ء
۵۲
قرآنِ حکیم میں حقیقی مثالیں
۱۔ یہ بیان بعض حضرات کے لئے بڑا تعجب خیز ہو سکتا ہے کہ میری نظر میں قرآنِ حکیم کی تمام مثالیں واقعی اور حقیقی ہیں، اُن میں کوئی مثال فرضی نہیں، یعنی کسی غیر ممکن، اور ان ہونی (نا شدنی) چیز سے تشبیہہ و تمثیل نہیں دی گئی ہے، بلکہ قرآنِ عظیم کی ہر مثال اس طرح سے ہے کہ وہ ایک طرف سے کسی حقیقت کو سمجھانے کی خاطر مثال بھی ہے اور دوسری جانب سے خود اس میں کوئی بہت بڑا راز بھی پوشیدہ ہے۔
۲۔ اس نوعیت کی ایک پرحکمت اور عظیم الشّان مثال کے لئے سورۂ کہف (۱۸: ۵۱) میں دیکھ لیں: (ترجمہ) میں نے ان کو نہ تو آسمان اور زمین پیدا کرنے کے وقت گواہ بنایا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت (گواہ بنایا)۔ بظاہر یہ مثال ناممکن نظر آتی ہے کہ آفرینشِ عالم و آدم کے وقت کچھ لوگ حاضر اور گواہ ہوں، لیکن علم کی بہشت میں کوئی نعمت غیر ممکن نہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ عارفین و کاملین کے سامنے ہر لحظہ کائنات کو فنا کر کے از سرِ نو پیدا کرتا ہے، اس عمل کو
۵۳
تجدّدِ امثال کہتے ہیں، نیز یہ حضرات عالمِ شخصی میں اپنی روحانی اور عقلی پیدائش کو بھی دیکھتے ہیں، جبکہ بعض لوگ ایسے اسرارِ عظیم کا علم الیقین بھی نہیں رکھتے ہیں۔
۳۔ مذکورۂ بالا آیت کا ایک اور مفہوم بھی ہے وہ یہ کہ خداوندِ عالم نے اہلِ باطل کے بارے میں فرمایا: میں نے ان کے (غلط) نظریات کی شہادت نہ تو آسمانوں کی پیدائش سے دی ہے اور نہ خود ان کی تخلیق سے دی ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ جو نظریہ حقیقت پر مبنی ہے، اس کی شہادتیں (دلیلیں) آفاق میں بھی ہیں اور انفس میں بھی۔
۴۔ سورۂ قارعۃ (۱۰۱: ۴) میں ارشاد ہے: یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ جس روز لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ اس مثال میں اگر چشمِ ظاہر سے دیکھا جائے تو آدمی اور پروانہ کی جسمانیت اور بناوٹ میں کوئی مشابہت نہیں، مگر ہاں یہ درست اور حقیقت ہے کہ جب انفرادی قیامت برپا ہو جاتی ہے اس حال میں دنیا بھر کے لوگ ذرّاتِ لطیف میں پروانوں کی طرح پرواز کرتے ہوئے آتے ہیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد۔ گلگت
۱۲مئی ۱۹۹۷ء
۵۴
قصّۂ مریم = قصۂ حجّت
۱۔ قرآنِ حکیم میں مریم علیہا السلام کا جو قصّہ ہے، وہ حجت یا عارف کی مثال بھی ہے، کیونکہ علمی بہشت کا ہر پھل اگرچہ بظاہر ایک نظر آتا ہے، لیکن وہ حقیقت میں دو ہوتے ہیں (۵۵: ۵۲) جیسے ذوالقرنین ظاہراً ایک ہے اور باطناً دو ہیں، اسی طرح آدم دو ہیں، ایک گزشتہ تاریخ میں ہے اور دوسرا آپ کے عالمِ شخصی میں، کشتیٔ نوح ایک نہیں، مثال اور ممثول دو ہیں، جہان ایک نہیں صغیر و کبیر دو ہیں، الغرض تمام چیزیں دو دو ہیں۔
۲۔ قصّۂ مریم میں حجّت کا تذکرہ ہونے کی اوّلین وجہ یہ ہے کہ خود مریم کو مرتبۂ حجّتی حاصل تھا، دوسری وجہ یہ ہے کہ حجّت بمقابلۂ امام روحانیت میں عورت ہے، جس طرح مریم جسمانیت میں بھی اور روحانیت میں بھی عورت ہونے کے سبب سے حجّت کی نمایان مثال ہے، اور تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح حجّتوں کے اسرار کو عامۃ الناس سے مخفی رکھنا چاہتا ہے۔
۵۵
۳۔ اسمِ اعظمِ لفظی اور اسمِ اعظمِ شخصی یہ بھی دو ہیں، چنانچہ شخصی اسمِ اعظم (امامِ زمان) نے مریم کو لفظی اسمِ اعظم عطا کیا، جس میں نور کا ظہور ہونے والا تھا، وہ ظہور کئی طرح سے ہوا، حجج اور عرفاء کے لئے انتہائی عظیم اور نہایت عجیب و غریب ظہورات ہوتے ہیں، مثلاً امامِ زمان کی ظاہری تجلّی جو نورانی بدن میں ہوتی ہے جو سب سے زیادہ حیران کن ہے، یہ مومنین اور مومنات کا نور ہے جو دوڑتا ہے یعنی اس کا معجزہ برق رفتاری سے ہوتا ہے۔
۴۔ صوم (روزہ) صائم (روزہ دار مرد) صائمہ (روزہ دار عورت) چنانچہ مریم صائمہ تھی، یعنی شروع شروع میں روحانی اسرار کے بارے میں خاموش رہنے کا حکم ہوا تھا، جیسا کہ ارشاد کا ترجمہ ہے: اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی ہے پس آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی (۱۹: ۲۶)۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ روحانیت کے آغاز میں اسرار فاش کرنے کی اجازت نہیں ہے، مگر ہاں درجۂ تمامیت و کمالیت کے بعد اذن ہو سکتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ربنا اتمم لنا نورنا = پروردگارا! ہمارے لئے ہمارا نور پورا کر (۶۶: ۸)۔ اس کا اشارہ یہ ہے کہ نور مکمل ہو جانے کے بعد تاویل کرنے کی اجازت ہو گی۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد ، گلگت
۱۵مئی ۱۹۹۷ء
۵۶
گورنرز اور علمی سولجرز
۱۔ دنیا میں صرف ایک ہی خدمت ایسی ہے جس کو خداوندِ تعالیٰ شرفِ قبولیت بخش کر زمین سے بلند کر کے آسمان پر لے جاتا ہے، وہ دینی خدمت ہے، خصوصاً علمی خدمت، جس کی بہت بڑی اہمیت ہے، جیسا کہ سورۂ محمد (۴۷: ۷) میں ارشاد ہوا ہے: یا آیھا الذین اٰمنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم = اے ایماندارو اگر تم خدا کی مدد کروگے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم بنائے گا۔ اس آیۂ کریمہ میں بہت بڑی حکمت ہے، بہت بڑا راز ہے۔
۲۔ اے عزیزانِ با سعادت! پروردگارِ عالم کی کتنی بڑی نوازش ہے کہ آپ کی علمی خدمت کو اتنا بلند درجہ نصیب ہوتا ہے کہ وہ گویا خدا کے لئے مدد قرار پاتی ہے اور اس کے عوض میں آسمانی تائید آتی رہتی ہے، وہ ہے سلسلۂ خدمت کو جاری رکھنے کا جذبہ، شوقِ عبادت، ذوقِ علم، روشن ضمیری، وسیع القلبی، دانائی (حکمت)، عشقِ مولا، آخرت کی اعلیٰ امیدیں، دین شناسی، نرم دلی، نیک توفیق وغیرہ۔
۵۷
۳۔ ثابت قدمی کے معنی ہیں لغزش کے بغیر ترقی کے راستے پر آگے بڑھتے چلے جانا، اس سے علمی ترقی مراد ہے، پس اگر ہم خدا کی مدد (یعنی دین کی مدد) کے لئے حقیر سی کوشش کریں تو یقیناً اللہ تعالیٰ کی نورانی تائید ہماری دستگیری کرے گی، اور ہمیں علم کے میدان میں بہت ترقی نصیب ہوگی، آمین!
۴۔ اے میرے معزز گورنرز اور علمی سولجرز! میں آپ کی دینی عزت و برتری کے لئے ہر صبح و شام سلام کرتا ہوں، میں آپ سب کو بہت چاہتا ہوں، ہم سب کو اس مقدّس خدمت اور نظریۂ یک حقیقت (مونوریالٹی) نے ایک کر دیا ہے، ہم سب کا نامۂ اعمال بھی ایک ہوچکا ہے، سو یہ کتنی خوشی کی بات ہے! ہم سب صرف تن نہیں ہیں، بلکہ جان بھی ہیں، ہم صرف جان نہیں ہیں، بلکہ جانان بھی ہیں، یہ نعرۂ انا الحق نہیں، بلکہ نعرۂ ’’یک حقیقت‘‘ ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد ، گلگت۔
۱۶مئی ۱۹۹۷ء
۵۸
فنا فی الامام
۱۔ حقیقت میں قانونِ فنا اس ترتیب سے ہے: فنا فی الامام، فنا فی الرسول، فنا فی اللہ، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: لکل شی باب = ہر چیز کا دروازہ ہوا کرتا ہے، کسی اور موقع پر فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ حضورؐ نے کبھی یہ بھی فرمایا: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ چونکہ علی اپنے وقت کا امام تھا، لہٰذا مذکورہ دونوں حدیثوں میں باب (دروازہ) سے امامِ زمان مراد ہے۔
۲۔ اب یہ حقیقت روزِ روشن سے بھی زیادہ ظاہر ہوگئی کہ علم کے شہر اور حکمت کے گھر (یعنی رسول) میں فنا ہو جانے کی غرض سے اوّل اوّل دروازہ (امامِ وقت) میں فنا ہوجانا ضروری ہے، اور فنا فی اللہ سے پہلے فنا فی الرسول لازمی امر ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہاں ایک بڑا اہم سوال یہ ہے کہ آپ جس امام میں فنا ہو جانا چاہتے ہیں، آیا وہ خود رسول اور اللہ میں فنا ہوچکا ہے یا نہیں؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو ایسے امام میں اور تم میں کیا فرق ہے؟ اگر آپ علم الیقین کی روشنی میں کہتے ہیں کہ
۵۹
امامِ عالی مقام نورٌعلیٰ نور (۲۴: ۳۵) کی زندہ تفسیر ہے، یعنی اس میں نورِخدا، نورِرسول اور نورِامام کے معنوں میں ایک ہی نور ہے، اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ امام یقیناً رسول اور اللہ میں فنا شدہ ہوتا ہے، لہٰذا فنا فی الامام خود فنا فی الرسول بھی ہے اور فنا فی اللہ بھی۔
۳۔ حضرتِ امامِ اقدس و اطہرعلیہ السلام کے پاک عالمِ شخصی میں تمام عوالم مجموع ہیں، آپ قلبِ قرآن (سورۂ یاسین ، ۳۶: ۱۲) میں خوب غور سے دیکھ لیں، آیا تمام روحانی، علمی، عقلی اور عرفانی چیزیں امامِ مبین کے حظیرۂ قدس (جبینِ مبارک) میں محدود و موجود نہیں ہیں؟ کیا یہ مقام بحقیقت بیت اللہ اور بیت المعمور نہیں ہے؟ آیا اس کلیّہ اور بہشتِ کل سے دیدارِ الٰہی باہر ہے؟ نہیں نہیں، عزیزِ من! ہرگز نہیں۔
۴۔ فنا فی الامام کا مرتبۂ عالیہ عشق ومحبت کے بغیر ممکن ہی نہیں، اور عشق و محبت کا انحصار اس علم پر ہے جس سے رفتہ رفتہ حضرتِ مولا کی بے مثال خوبیاں مکشوف ومعلوم ہو جاتی ہیں، پس ان لوگوں کی بہت بڑی سعادت ہے، جن کو قرآن وحدیث کی روشنی میں ہر سو جلوۂ جانان نظر آتا ہے، پھر عشق و فنا کا عالم کیوں نہ ہو، جیسا کہ ارشاد ہے: فاینما تولوا فثم وجہ اللہ = پس جہاں کہیں رخ کرلو وہیں خدا کا چہرہ ہے (۲: ۱۱۵) یعنی عارفِ کامل ہر جگہ خدا ہی کو دیکھتا ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
اتوار، ۱۰ محرم الحرام، ۱۴۱۸ھ، ۱۸ مئی ۱۹۹۷ء
۶۰
کیا ظلِّ خورشید ہوتا ہے؟
۱۔ سوال: کیا یہ کہنا درست ہے کہ ہر چیز کا ظل یعنی سایہ ہوتا ہے؟ یا یہ صحیح ہے کہ بعض چیزوں کا سایہ ہوتا ہے اور بعض کا نہیں ہوتا؟ اگر اس کے بارے میں قرآنِ حکیم میں کوئی ارشاد ہے تو یقیناً وہی جوابِ باصواب فیصلہ کن ہوگا، ہاں ایک پرحکمت ارشاد اس طرح ہے: و اللہ جعل لکم مما خلق ظلا = اور خدا ہی نے تمہارے لئے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے (۱۶: ۸۱)۔ اس ارشادِ مبارک سے معلوم ہوا کہ ہر مخلوق شیٔ کا سایہ ہوا کرتا ہے، چنانچہ ہر روشن چیز کا بھی سایہ ہوتا ہے، جیسے سورج، چاند اور ستارے کا عکس صاف پانی اور آئینے میں نظر آتا ہے۔
۲۔ اگر ہم بجا طور پر سوچ نہیں سکتے ہیں تو یہ فرشِ زمین کے سائے ہیں، حالانکہ علم و معرفت کی روشنی میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عرشِ برین کے سائے ہیں، کیونکہ جن آیاتِ کریمہ میں اللہ کے عظیم احسانات کا تذکرہ ہو، اس کا تعلق صرف اہلِ ایمان سے ہوتا ہے، جیسے یہاں اس حقیقت کی دلیل “لکم” (تمہارے لئے) ہے، یعنی یہ وہ عظیم الشّان
۶۱
سائے ہیں جو صرف تمہارے لئے خاص ہیں، جیسے عالمِ شخصی میں ظلِّ عرش و کرسی، قلمِ اعلیٰ اور لوحِ محفوظ کا عکس، الغرض عالمِ عُلوی کی ہر عقلی اور روحانی چیز کا زندہ عکس، کیونکہ عالمِ بالا اور اس کی ہر شیٔ مخلوق ہے، اور مخلوقات کے درجہ بدرجہ سائے ہوا کرتے ہیں۔
۳۔ آدمی کا سایہ جب زمین پر پڑتا ہے تو وہ تاریک اور بے جان ہو جاتا ہے، لیکن جس وقت یہی سایہ قدِ آدم آئینے پر پڑتا ہے تو صاف روشن اور زندہ نظر آتا ہے، حالانکہ آئینۂ ظاہر بے جان اور بے عقل ہے، پھر بھی اس میں آدمی کا جو سایہ ہے وہ دراصل سایہ نہیں، بلکہ عکس اور کاپی (COPY) ہے، پس عالمِ شخصی میں جو آئینۂ باطن ہے جو عقل و جان کے اوصاف و کمالات سے آراستہ ہے، اس کا نورانی معجزہ بڑا عجیب وغریب ہے، اس میں تو عالمِ عُلوی کی چیزیں ہوبہو نظر آتی ہیں، اس کی ہر کاپی اصل ہی کی طرح ہوتی ہے، کیونکہ اس میں ہر چیز کا تجدّد ہوتا ہے۔
۴۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ عالمِ شخصی میں بہشت کی ہر نعمت کا سایہ = عکس = کاپی ہے، بلکہ بے شمار کاپیاں ہیں، مثال کے طور پر بازارِ جنّت میں جو تصویریں ہیں، اگر ان میں سے کسی تصویر کو لاکھوں آدمی چاہتے ہیں تو وہ سب کے سب صاحبِ تصویر کی باعقل و جان کاپیاں ہوجائیں گے، الحمد للہ رب العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
پیر ۱۱ محرم الحرام، ۱۴۱۸ھ، ۱۹ مئی ۱۹۹۷ء
۶۲
انتہائی عظیم راز
۱۔ علمی احباب کے لئے یہ ایک بڑا حیرت انگیز سوال ہو سکتا ہے کہ قرآنِ حکیم اور حدیثِ شریف کے ہر مقام پر اسرار ہی اسرار ہیں، ایسے میں کسی ایک راز کے بارے میں کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ یہی سب سے بڑا راز ہے یا انتہائی عظیم راز ہے؟ ہاں، حقیقتِ حال ایسی مشکل تو ہے، لیکن زمانۂ قیامت کے امامِ عالی مقام علیہ السلام جس راز کو آخری راز کے طور پر انکشاف کرے، وہی انتہائی عظیم راز ہے، اور وہ یک حقیقت (مونوریالٹی) ہے، تصورِ یک حقیقت ہی وہ سب سے آخری اور انتہائی عظیم راز ہے، جس کو عظیم الشّان امام حضرتِ مولانا سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے تمام اہلِ جہان کے سامنے پیش کیا۔
۲۔ یک حقیقت کے معجزات حظیرۃ القدس میں رونما ہوتے ہیں، معجزے کچھ اس طرح سے ہیں: (الف) کائنات کو لپیٹنے اور پھیلانے کا مسلسل عمل (ب) بنی آدم کا بہشت (حظیرۃ القدس) میں داخل ہوتے ہی اپنے باپ آدم کی صورت پر ہو جانا، آدم کو خدا نے اپنی رحمانی صورت پر پیدا کیا تھا
۶۳
(ج) جس طرح سارے انسان ایک ہی آدم سے پیدا ہوکر پھیل گئے تھے، اسی طرح سب کا واپس مل کر ایک ہی آدم / نفسِ واحدہ ہو جانا (د) آفتابِ قیامت کا مغرب سے طلوع ہو جانا (ھ) سورج، چاند اور ستاروں کا مل کر ایک ہو جانا (و) عارف کا اپنے آپ کو خدا میں پانا (ز) تمام جنّوں، انسانوں اور فرشتوں کا فردِ واحد ہو جانا (ح) یہی انسانی شکل کا فردِ واحد عرش، کرسی، قلم اور لوح بھی ہے (ط) یہاں تمام مثالوں کی نمائندگی صرف ایک ہی مثال کرتی ہے (ی) اس مقام پر صرف ایک ہی قول / کلمہ اور ایک ہی فعل ہے۔
۳۔ یہاں نمائندہ درخت ایک ہی ہے جو انسانِ کامل کی شکل میں زندہ ہے، وہ کبھی تین ہے، کبھی زیتون، کبھی شجرۂ طیبہ، کبھی شجرِ طور، کبھی درختِ خرما، کبھی سدرۃ وغیرہ، یہاں بحروبر کے جملہ جواہر اور معدنیات کا نمائندہ گوہر ایک ہی ہے، یہی گوہر شمس و قمر اور انجم بھی ہے اور نور بھی، نور کس کا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ، انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام اور مومنین و مومنات کا، پس یک حقیقت (مونوریالٹی) کی قابلِ فہم تعریف یہ ہے کہ نفسِ واحدہ کا نورانی ظہور جو حظیرۃ القدس میں ہے، اس کا ایک ہی نور، ایک ہی قول، ایک ہی فعل اور ایک ہی اشارہ (مثال) ہے، اور اسی کے ساتھ یہ سب کچھ ہے، اور کوئی حقیقت اس سے باہر نہیں، الحمد للہ ربّ العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
منگل ۱۲ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲۰ مئی ۱۹۹۷ء
۶۴
زندہ شہید اور عارف
۱۔ یہ بات سچ اور حقیقت ہے کہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں ظاہری شہیدوں کا ذکر آیا ہے، وہاں ساتھ ساتھ روحانی شہداء کا ذکر بھی موجود ہے، کیونکہ علمی بہشت کا ہر پھل دہرا ہوا کرتا ہے، یعنی اس کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہوتا ہے، اور کسی شک کے بغیر ہر آیۂ قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔
۲۔ سورۂ محمد کے اس ارشاد میں خوب غور سے دیکھ لیں: (ترجمہ) اور جو لوگ اللہ کی راہ (روحانی جہاد) میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا، ان کا حال درست کر دے گا، اور ان کو اس بہشت میں داخل کرے گا، جس سے ان کو شناسا کراچکا ہے (۴۷: ۴ تا ۶) اس ربّانی تعلیم میں زیادہ تر روحانی جنگ کے زندہ شہیدوں کا تذکرہ ہے، کیونکہ اعمال ضائع نہ ہونے کی یقین دہانی، رہنمائی کی ضرورت، اصلاحِ احوال اور بہشت کی پیشگی معرفت دنیا کی زندگی ہی میں ہو سکتی ہے۔
۶۵
۳۔ بہشت کی پیشگی معرفت ہو یا حضرتِ ربّ کی معرفت، وہ خود شناسی کے سوا محال ہے، خود شناسی یعنی معرفتِ ذات نفسانی موت اور تجربۂ قیامت کے بغیر ممکن ہی نہیں، پس بڑا مبارک ہے وہ مومنِ سالک جو جسمانی موت سے پہلے مرکر قیامت کا سر تا سر مشاہدہ کرتا ہے، چونکہ قیامت دینِ حق کی آخری دعوت اور روحانی جنگ ہے جو امامِ زمان علیہ السلام کے توسط سے ہوتی ہے (۱۷: ۷۱) لہٰذا اس جنگ میں جو شخص مر جاتا ہے، وہ زندہ شہید اور عارفِ کامل ہو جاتا ہے۔
۴۔ سورۂ آلِ عمران (۳: ۱۶۹) کی اس آیتِ کریمہ میں بھی سوچ لیں: (ترجمہ) جو لوگ اللہ کی راہ (روحانی جنگ) میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے ربّ کے پاس رزق پا رہے ہیں۔ اس آیۂ مبارکہ کا زیادہ سے زیادہ تعلق روحانی شہداء سے ہے کیونکہ ظاہری شہید جسم سے تو مر جاتا ہے مگر روحانی شہید فی الحال جسم سے بھی نہیں مرتا، اور وہ اپنے ربّ کے پاس رزق یعنی روحانی علم پا رہا ہے، اس بیان سے معلوم ہوا کہ جو عارفِ کامل ہوتا ہے وہ زندہ شہید بھی ہوتا ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
ہفتہ ۱۶ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲۴ مئی ۱۹۹۷ء
۶۶
کوئی نعمت ناممکن نہیں
۱۔ فرمایا گیا ہے: اݹ منسن اپݵ = کوئی چیز یا کوئی کام یا کوئی نعمت ناممکن نہیں۔ اس کلمہ کی اصل صورت یہ ہے: اݹ مناسن اپݵ ۔ اس کے دس حروف ہیں، جو دس حدود کی طرف اشارہ ہے، وہ یہ ہیں: مستجیب، ماذونِ اصغر، ماذونِ اکبر، داعیٔ مکفوف، داعیٔ مطلق، حجتِ جزیرہ، حجتِ مقرب، امام، اساس، ناطق، جیسا کہ ارشاد ہے: تلک عشرۃ کاملۃ (۲: ۱۹۶) یہ پورے دس ہوئے۔ یعنی عددِ کامل دس ہے۔
۲۔ اس پُرحکمت کلمے کا خاص تعلق بہشت سے ہے کہ اس میں ہر نعمت ممکن ہے اور کوئی چیز ناممکن نہیں، کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان میں کسی نعمت کی خواہش تو پیدا کی جائے مگر وہ نعمت خود جنت میں موجود نہ ہو، ایسا ہونا محال ہے، بلکہ امرِ واقعی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں کسی طلب کو پیدا کرنے سے بہت پہلے ہی مطلوبہ شیٔ کو پیدا کیا ہے، پس مثال کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اہلِ ایمان کی ہر جائز خواہش بہشت کی کسی نعمت کا وہ پرتَو ہے جو ان کے دل و دماغ پر پڑتا ہے۔
۶۷
۳۔ اݹ منسن اپݵ (oo manasan api) = جو چیز غیرممکن ہے وہ نہ تو بہشت میں موجود ہے اور نہ ہی انسان کی خواہش میں آسکتی ہے، لیکن جو نعمت ممکن ہے وہ جنت میں بھی ہے اور مومنین کے علمی خیال میں بھی، اس صراحت سے معلوم ہوا کہ کلیۂ ہٰذا بڑا پرمغز اور حکمت آگین ہے۔
۴۔ اس مخاطبۂ روحانی میں وعدہ اور خوشخبری کا پہلو بھی ہے کہ بہشت میں اہلِ ایمان کے لئے سب کچھ ہے، جیسے سورۂ قمر کے آخر (۵۴: ۵۴ تا ۵۵) میں ہے: بے شک متقین باغوں اور نہروں میں ہوں گے، علم کی سچائی کی جگہ، صاحبِ قدرت بادشاہ کے پاس۔ عقلی اور روحانی بہشت کی چار نہریں یا چار دریا یہ ہیں: عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق، اساس، پس پرہیزگار لوگ ان دریاؤں میں مستغرق ہوں گے، یہ حقیقی علم کا مقام ہے، پھر وہ قدرت والے بادشاہ میں فنا ہوکر بڑے عجیب وغریب کام کر سکیں گے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
اتوار، ۱۷ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲۵ مئی ۱۹۹۷ء
۶۸
علمِ شریف اور جسمِ لطیف
۱۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و أئمّہ علیہم السلام کو تمام اہلِ جہان پر فضیلت دی ہے، ساتھ ہی ساتھ قرآنِ حکیم اور ارشاداتِ رسول سے یہ بھی ظاہر ہوجاتا ہے کہ خدا اور پیغمبر ہی امام کو دینی اور روحانی بادشاہ بناتے ہیں، آپ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۴۵ کے بعد امام طالوت کا پورا قصّہ غور و فکر سے پڑھیں، جیسا کہ ارشاد کا ترجمہ ہے: (اے رسول) کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے سرداروں (حجّتوں اور داعیوں) کو نہیں دیکھا؟ جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا: ہمارے لئے ایک (دینی اور روحانی ) بادشاہ مقرر کر دو (ابعث لنا ملکا)۔
۲۔ مذکورہ آیت کے لفظِ ابعث میں بہت بڑا راز ہے، وہ یہ ہے کہ اگرچہ امام کا ظہور اعلیٰ درجات میں بھی ہے ، لیکن اس کا ایک درجہ ایسا ہے کہ وہ نبی کے تحت ہوتا ہے، چنانچہ بنی اسرائیل کے حجّتوں اور داعیوں نے اپنے پیغمبر سے کہا: ابعث لنا ملکا = ہمارے لئے ایک (دینی اور روحانی ) بادشاہ مبعوث کر دو۔ یعنی ایسے
۶۹
بادشاہ کے پاس ذاتی قیامت، روحانیت، اور ابداع و انبعاث کا بھرپور تجربہ ہونا ضروری ہے۔
۳۔ (ترجمۂ آیت) اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ بے شک خدا نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ کے طور پر مبعوث کیا ہے، یہ سن کر وہ بولے: ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حقدار ہو گیا؟ اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں، وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے، نبی نے جواب دیا: اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے، اور اسے علم و جسم دونوں میں کشادگی زیادہ دی ہے۔ یعنی اس کو خدا نے علمِ شریف (روحانی علم) اور جسمِ لطیف عطا کیا ہے۔
۴۔ یہاں سے اس حقیقت کا ثبوت مل جاتا ہے کہ امامِ عالی مقام کے پاس کائناتی علم بھی ہے اور ہمہ گیر جسم بھی، ہمہ گیر جسم سے جسمِ کلّی مراد ہے، جو پوری کائنات کا جوہر ہے، یہی کائناتی جوہر دینی اور روحانی بادشاہ (امام) کا ہمہ گیر جسمِ لطیف ہے، کیونکہ جب عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) کے لئے دو جسم ہیں: ایک کثیف اور ایک لطیف، تو عالمِ کبیر کے لئے بھی یقیناً دو جسم ہیں، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جسمِ لطیف کی وجہ سے انسان کائنات ہو جاتا ہے اور کائنات انسان ہو جاتی ہے، یہی سبب ہے کہ آدمی انسانِ صغیر کہلاتا ہے اور کائنات انسانِ کبیر۔
۵۔ ارشادِ نبوی ہے: یا بنی عبد المطلب، اطیعونی تکونوا ملوک الارض و حکامھا، ان اللہ لم یبعث نبیا الا جعل لہ وصیا و
۷۰
وزیرا و وارثا و اخا و ولیا = اے اولادِ عبد المطلب، میری فرمانبرداری کرو تا کہ تم سب روئے زمین کے سلاطین اور حکام ہو سکو، بے شک اللہ تعالیٰ نے جب بھی کوئی نبی مبعوث کیا اس کے لئے ایک وصی، وزیر، وارث، بھائی، اور ولی مقرر کیا ہے (دعائم الاسلام، جلدِ اوّل، ولایتِ امیر المومنین علیؑ)
۶۔ قرآن و حدیث دونوں جوامع الکلم ہیں، لہٰذا اس حدیث میں کئی عظیم حکمتیں پنہان ہیں، پہلی حکمت: ہر فردِ بشر اپنی ذات میں بحدِ قوت ایک بہت بڑا عالم ہے، جس کا آسمان و زمین بے حد کشادہ ہے، دوسری حکمت: ہر سیارہ اور ستارہ ایک جہان ہے، اور اس کا اپنا آسمان و زمین ہے، تیسری حکمت: عقلِ کلّی آسمان ہے اور نفسِ کلّی زمین، ہر آسمان اور زمین کی بے شمار کاپیاں ہیں، وہ اس طرح کہ اصل اور کاپی میں کوئی فرق نہیں، پس خدا کی خدائی میں بادشاہی کی بڑی گنجائش ہے، لہٰذا حضرتِ امام علیہ السلام کے بعد بے حساب لوگ بہشت کے بادشاہ ہو سکتے ہیں۔
۷۔ قرآن و حدیث کے ظاہر و باطن سے معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا و رسول نے مولا علی یعنی امام کو بادشاہ بنایا ہے، اور وہ اپنے تمام تابعدار روحانی بچوں کو بادشاہ بنا سکتا ہے، جبکہ دنیا کا کوئی بادشاہ اپنے جملہ شاہ زادوں اور شاہ زادیوں کو وارثِ تخت و تاج نہیں بنا سکتا، ہاں صرف ایک کو بنا سکتا ہے۔
۸۔ یہ تذکرہ بے حد ضروری ہے کہ عرفاء اپنی حیاتِ دنیوی ہی میں آخرت اور بہشت کی معرفت حاصل کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ محمد (۴۷: ۶)
۷۱
کے حوالے سے آپ نے پڑھا ہے، اور قرآنِ پاک کی یہی گواہی سورۂ دہر (۷۶: ۲۰) میں بھی ہے، وہ ارشاد یہ ہے: و اذا رایت ثم رایت نعیما و ملکا کبیرا = اور جب تم (دنیا میں) دیکھو گے تو پھر (آخرت میں کلّی طور پر) بہشت کی ہرگونہ نعمت اور عظیم الشّان سلطنت دیکھو گے۔
۹۔ سورۂ نمل (۲۷: ۳۴) میں حضراتِ أئمّہ علیہم السّلام کی ایک پرحکمت مثال آئی ہے جو اس طرح سے ہے: (ترجمہ) بلقیس کہنے لگی: بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب کسی بستی میں (بزورِ فتح) داخل ہوتے ہیں تو اس کو اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے ۔ یعنی جب صاحبِ زمان کے لشکر (یاجوج و ماجوج) کسی عالمِ شخصی میں داخل ہوتے ہیں تو برائے تعمیرِ نو اس کو بگاڑ دیتے ہیں، اور مومنِ سالک پر بہت بڑی سختی گزرتی ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
بدھ ۲۰ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲۸ مئی ۱۹۹۷ء
۷۲
نامۂ اعمال = نورانی موویز
۱۔ سوال: آیا نامۂ اعمال کسی ظاہری تحریر میں ہوتا ہے یا روحانی تحریر میں؟ وہ کس زبان میں ہے؟ جواب: کتابِ اعمال روحانی تحریر میں ہوتی ہے، ہم اس کو روحانی سائنس کی زبان میں نورانی موویز (MOVIES) بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ وہ بڑی عجیب و غریب معجزاتی کتاب ہے، جو زندہ ذرّات، متحرک تجلّیات اور بہشت آسا ماحول و مناظر کی زندہ تصاویر کے ساتھ ہے، نامۂ اعمال ہر شخص کی اپنی زبان میں ہوتا ہے۔
۲۔ کیا کوئی انسان جسمانی طور پر مرنے سے قبل اپنے نامۂ اعمال کو دیکھ سکتا ہے؟ اگر دیکھ سکتا ہے تو اس کا طریقِ کار کیا ہے؟ اور یہ کام کس علم کے تحت ہے؟ جواب: جی ہاں، جو آدمی جیتے جی روحانی قیامت سے گزرتا ہے وہ ضرور نامۂ اعمال کو دیکھتا ہے، طریقِ کار کے لئے کتاب ’’ذکرِ الٰہی‘‘ کو دیکھ لیں اور یہ کام علم الآخرت (معرفت) کے تحت ہے، اس حقیقت کی چند دلیلیں درجِ ذیل ہیں:
۳۔ پہلی دلیل: (۴۷: ۴) جو لوگ راہِ خدا (روحانی جنگ) میں قتل
۷۳
کئے جاتے ہیں (وہ زندہ شہید کہلاتے ہیں)۔۔۔ یعنی وہ حظیرۃ القدس کی بہشت کے عارف ہوتے ہیں (۴۷: ۶) یہ عظیم مرتبہ نامۂ اعمال کو علیین (۸۳: ۱۸) میں دیکھنے کے بعد حاصل ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ کہنا حقیقت ہے کہ ہر عارف نامۂ اعمال کو دیکھتا ہے۔
۴۔ دوسری دلیل: سورہ تطفیف (۸۳: ۱۸) میں فرمایا گیا ہے کہ نیک لوگوں کا نامۂ اعمال علیین میں ہے، جس کو مقربین پیشگی طور پر دیکھ سکتے ہیں (۸۳: ۲۱)۔
۵۔ تیسری دلیل: سورۂ نمل کے اس ارشاد کو گہرائی سے دیکھ لیں: (ترجمہ) بلکہ آخرت کے بارے میں ان کے علم کا خاتمہ ہو گیا ہے، بلکہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہیں، بلکہ یہ لوگ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں (۲۷: ۶۶) اس پرمغز ارشاد کا خلاصۂ بیان یہ ہے کہ یہ لوگ اگر نورانی ہدایت کی پیروی کرتے تو ان میں چشمِ بصیرت پیدا ہوتی، اور یہ آخرت سے متعلق سب کچھ دیکھ چکے ہوتے، اور آخرت کے اندھے نہیں کہلاتے۔
۶۔ چوتھی دلیل: آپ نے غور کیا ہو گا کہ جو آدمی شروع ہی سے سن نہیں سکتا وہ بول بھی نہیں سکتا ہے، اور جو بول نہیں سکتا ہو، اس میں عقل جیسی عظیم نعمت پیدا نہیں ہوسکتی ہے، اسی طرح جو شخص علم الیقین کی باتوں کو سننے سے گریز کرے، وہ اس علم میں گفتگو نہیں کر سکتا، اور جو اس علم میں گونگا ہو، اس میں چشمِ بصیرت پیدا نہیں ہوتی ہے، جیسا کہ
۷۴
ارشاد ہے: صم بکم عمی فھم لا یرجعون (۲: ۱۸)۔ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں پس یہ رجوع نہ ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ حقیقی معنوں میں فرمانبردار ہیں، وہ چشمِ بصیرت رکھتے ہیں۔
۷۔ سائنسی عجائب وغرائب یقیناً آیاتِ قدرت میں سے ہیں، ان کی روشن مثالوں سے اسرارِ روحانیت کے سمجھنے میں بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے، بلکہ یہ دورِ قیامت اور زمانۂ تاویل کی علامات ہیں، پس نامۂ اعمال جو کتابِ ناطق ہے، اس کو نورانی موویز کہنا ایک روشن حقیقت ہے، اور کوئی شخص اس کی تردید نہیں کرسکتا۔
۸۔ اے عزیزانِ من! بھرپور توجہ اور محویت سے سن لو کہ عارفین و کاملین کی ذاتی قیامت قرآنی تاویل کا سب سے بڑا خزانہ ہے، اور اگر یہ مانا جائے کہ اصل قیامت تو روحانی طور پر آتی ہے، مگر اس کا ایک مادّی نتیجہ بھی ہوتا ہے، جیسے اس دور میں سائنسی انقلاب ہے، تو مجھے یقین نہیں کہ سب لوگ قیامت کے ظاہری پہلو سے تاویلی فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ لوگوں کی بہت بڑی اکثریت بہت پہلے ہی تاویل کو بھول چکی ہے۔
۹۔ سورۂ اعراف (۷: ۵۲ تا ۵۳) میں کافی دقتِ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے، چنانچہ اس ارشادِ مبارک کے مختصر مفہوم کے مطابق پہلی آیت میں قرآنِ پاک کی تعریف ہے، اور دوسری آیت میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ بہت بڑی قیامت قرآنی تاویل کی صورت میں آنے والی
۷۵
ہے، اس کے سوا یہ لوگ کس چیز کے آنے کے منتظر ہیں؟
۱۰۔ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۱) میں قیامت کا یہ اساسی قانون مذکور ہے: یوم ندعوا کل اناس بامامھم = جس دن ہم اہلِ زمانہ کو ان کے پیشوا کے توسط سے بلائیں گے۔ (پوری آیت کے لئے قرآن میں دیکھ لیں) اس کے بعد ارشاد ہے: و من کان فی ہٰذہ اعمیٰ فھو فی الاٰخرۃ اعمیٰ و اضل سبیلا = اور جو شخص دنیا میں اندھا رہے گا سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا، اور زیادہ راہ گم کردہ ہو گا (۱۷: ۷۲) ۔ اس کی چند حکمتیں یہ ہیں: (الف) ہر ناطق کے دور میں جتنے أئمّہ ہوئے ہیں، اتنی قیامات برپا ہو چکی ہیں، مگر آنحضرتؐ کے دور کے آخر میں قیامۃ القیامات آنے والی ہے (ب) امام ہر زمانے میں ہوتا ہے (ج) چشمِ بصیرت اور معرفت دنیا ہی سے لے کر جانا بے حد ضروری ہے، ورنہ آخرت میں محرومی ہو گی (د) یہاں پہلی آیت (۱۷: ۷۱) میں حضرتِ امامؑ کا ذکر ہے، اور دوسری آیت (۱۷: ۷۲) میں اسی صاحبِ قیامت کی پہچان کے لئے سخت تاکید آئی ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
جمعرات ۲۱ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲۹ مئی ۱۹۹۷ء
۷۶
عقل اور عشق کی بحث
۱۔ یہ بحث و سوال بہت پہلے سے جاری ہے کہ عقل برتر ہے یا عشق؟ اگر عقل کو عشق پر فوقیت و برتری حاصل ہے تو اس کی کیا دلیل ہے؟ اور اگر اس کے برعکس عشق عقل سے افضل و اعلیٰ ہے تو اس کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے؟ اس کے بارے میں بعض حضراتِ علماء نے عقل کی اوّلیت پر زور دیا، اور فرمایا کہ قرآن اور حدیث دونوں میں کہیں لفظِ “عشق” نہیں آیا ہے، انہوں نے شاید خیال کیا کہ عشق محبت سے الگ شیٔ ہے۔
۲۔ اس باب میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ لفظِ عشق قرآنِ حکیم میں کسی بھی صورت میں موجود ہے یا نہیں؟ اس کے لئے بطریقِ حکمت دیکھنا ہو گا، تاہم عشق کو محبت سے الگ کرنا بڑی مشکل بات ہے، بلکہ ناممکن ہے، کیونکہ محبت ہی عشق کا دوسرا نام ہے، آپ المنجد میں دیکھ لیں، جو مستند لغات ہے: عشقہ عشقا ۔۔۔ محبت کرنا، محبت میں حد سے بڑھ جانا، پس یہ سچ ہے کہ قرآنِ عزیز میں عشق کا ایک ہم معنی لفظ حب
۷۷
(محبۃ) ہے، جیسے قرآنی ارشاد ہے: والذین اٰمنوا اشد حبا للہ (۲: ۱۶۵) اور جو مومن ہیں ان کو (صرف) اللہ کے ساتھ بہت سخت محبت (عشق) ہے۔
۳۔ یہ تاریخی واقعہ سب کو معلوم ہے کہ حضرتِ یوسف علیہ السلام کے حسن و جمالِ ظاہری و باطنی سے زلیخا کو بدرجۂ انتہا عشق ہوا تھا، جس کو قرآنِ حکیم نے حب (حبا ، ۱۲: ۳۰) کہا ہے پس ظاہر ہے کہ عشق کا دوسرا نام حب (محبت) ہے، جیسے ایک مستند ترجمہ ہے: اس غلام کا عشق اس کے دل میں جگہ کر گیا ہے (۱۲: ۳۰)۔
۴۔ کوئی تم میں سے اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوتا، جب تک اپنے باپ، بیٹے اور سب لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ رکھے (حدیث) یہی تو عشقِ رسول ہے جو دنیا کی ہر محبت اور ہر عشق سے افضل و اعلیٰ اور انتہائی پاک ہے، اور یہی عشق یقیناً عشقِ الٰہی کا وسیلہ بھی ہے یا بالواسطہ خداوند تعالیٰ کا عشق ہے۔
۵۔ آیۂ مبارکہ کی تفسیر میں کیا شک ہوسکتا ہے کہ قرآنِ کریم ایک ایسی کامل و مکمل اور بے مثال کتاب ہے کہ اس کے کلّی بیان سے کوئی چیز باہر نہیں (۱۶: ۸۹) پس یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ ’’عشق‘‘ جیسا ہمہ گیر مضمون قرآنِ حکیم میں موجود نہ ہو، یقیناً کئی مترادفات، اشارات، اور امثال میں خدا، رسول، اور امام کے پاک عشق کا تذکرہ پوشیدہ ہے، کیونکہ عشق ہی سرِ اسرار ہے، لہٰذا اس کا ذکرِ جمیل اکثر بطریقِ راز فرمایا گیا ہے، چنانچہ قرآنِ عظیم میں جہاں جہاں خمرِ بہشت کا تذکرہ آیا ہے، وہاں اسی آسمانی عشق
۷۸
کی مثال ہے، اسی وجہ سے عشاق کہتے ہیں کہ یقیناً عشقِ سماوی شرابِ جنت ہے۔
۶۔ آسمانی عشق و محبت کے تقدّس کی یہ شان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمِ اکبر اور عشقِ اقدس کو ایک دوسرے کے بالکل قریب لا کر دونوں کی عظمت کی قسم کھائی ہے، سورۂ شوریٰ کے آغاز میں دیکھئے: حٰمٓ (۱) عٓسٓقٓ (۲) ان حروفِ مقطعات کی ایک تاویل اس طرح ہے: ح م = الحی القیوم۔ ع س ق = عشق۔ یعنی اسمِ اعظم الحیّ القیوم کی قسم ہے (اور) عشقِ سماوی کی قسم ہے (۴۲: ۱ تا ۲)۔
۷۔ حدیثِ شریف ہے: اوّل ما خلق اللہ العقل = اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا۔ لیکن بہت سے لوگ یہ نہیں سوچتے کہ عقل کی تخلیق و تکمیل کا یہ عظیم الشّان کام کہاں ہوا؟ خدا کے کسی محبوب کے عالمِ شخصی میں؟ جی ہاں، یہی درست اور حقیقت ہے، آپ اس حدیثِ شریف میں بھی غور سے دیکھیں:
لما خلق اللہ العقل استنطقہ ثم قال لہ: اقبل فاقبل، ثم قال لہ: ادبر فادبر، ثم قال: و عزتی و جلالی ما خلقت خلقا ھو احب الی منک و لا اکملتک الا فی من احب، اما انی ایاک اٰمر و ایاک انہیٰ و ایاک اعاقب و ایاک اثیب۔
ترجمہ: جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو وہ بحکمِ خدا بولنے لگی، پھر خدا نے اسے فرمایا: آگے آ، تو وہ آگے آئی، پھر اسے فرمایا: پیچھے جا،
۷۹
تو وہ پیچھے گئی، پھر ارشاد ہوا: میری عزت و جلالت کی قسم! کہ میں نے کوئی ایسی خلق پیدا نہیں کیا ہے، جو تیرے مقابلے میں مجھ کو زیادہ محبوب ہو، اور بات یہ ہے کہ میں نے تجھ کو صرف ایسے شخص میں کامل و مکمل کر دیا ہے، جس سے میں محبت کرتا ہوں، ہاں میرے امر و نہی کا خطاب ہمیشہ تجھ ہی سے ہوتا رہے گا، اور عذاب و ثواب کا تعلق بھی تجھ ہی سے ہو گا۔
۸۔ مذکورۂ بالا حدیث میں عالمِ شخصی ہی کا قصہ ہے کہ انسانِ کامل سب سے پہلے جسمانی طور پر پیدا ہو جاتا ہے، پھر اس کی روحانی پیدائش ہوتی ہے، پھر محبوبِ خدا ہونے کی وجہ سے اس کی جبین (پیشانی) میں نورِعقل پیدا ہوتا ہے، پھر یہ نور رفتہ رفتہ مکمل ہوتا ہے، پھر خاص عقلی زندگی شروع ہوتی ہے، جس کی بنا پر فرمایا گیا کہ: خدا نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا۔
۹۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ عشق و محبت علت ہے اور عقل معلول، یہ ایک درخت ہے اور وہ (عقل) اس کا میوۂ شیرین، یہ گویا حضرتِ مریمؑ ہے اور وہ حضرتِ عیسیٰؑ ، عشق بحرِعمیق ہے اور عقل درِّ گرانمایہ، یہ کانِ گوہر ہے اور وہ گوہرِکان، یہ آسمانِ حکمت ہے اور وہ خورشیدِ انور، یہ کارخانۂ عشق ہے اور وہ اس کی پیداوار۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
سوموار، ۲۵ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲ جون ۱۹۹۷ء
۸۰
اپنی روح کی کاپیوں سے سوالات
۱۔ سوال: آپ سب کو حضرتِ امامِ عالی مقام علیہ السلام کے دیدارِ مقدّس کی اوّلین سعادت کب اور کس شہر میں نصیب ہوئی؟ کیا اُس بے مثال موقع پر کسی عظیم معجزے کا ظہور ہوا تھا یا صرف دیدارِ پاک کی شرف یابی ہوئی تھی؟
۲۔ سوال: یہ کون سا بیحد پسندیدہ حسن آباد تھا؟ جہاں جماعت کے ایک بڑے گروپ کے ساتھ ہم عاجزان مولائے پاک سے شب خیزی اور خصوصی عبادت کی نورانی ہدایت حاصل کر رہے تھے؟
۳۔ سوال: وہ کون سا مقام یا کون سا جماعت خانہ تھا جس میں بارِ اوّل روحانی روشنی کا مشاہدہ ہوا؟ نیز یہ بتائیں کہ یہ کس سال کا واقعہ ہے؟
۴۔ سوال: سریقول کا نورانی اور معجزانہ خواب کتنا حسین، دلنشین اور نا قابلِ فراموش ہے! آپ علم الیقین کی روشنی میں سچ سچ بتائیں کہ وہ قربانی کس کی تھی؟ کون ذبح ہوا تھا؟ کس کے لئے؟ کس کی طرف سے؟ جسم کہاں تھا اور سر کہاں؟ اس حال میں انائے عُلوی کہاں سے یہ منظر
۸۱
دیکھ رہی تھی؟ کیا یہ شہادت تھی یا ذبح و قربانی؟ کیا آپ تھے یا میں؟ یا ہم سب؟ خوب سوچ کر جواب دینا ہے۔
۵۔ سوال: اگرچہ یہ ایک نورانی خواب تھا، لیکن قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھنا ہو گا کہ بعض رویا (خواب) روحانیت ہی کی طرح ہوا کرتے ہیں، پس عجب نہیں کہ اس قربانی میں بہت سی حکمتیں پنہان ہوں، اس کا بیان الگ ہونا چاہئے، تا کہ اہلِ دانش پر حقیقت روشن ہو جائے۔
۶۔ سوال: ہم نے کہا تھا یا میری روح کی کاپیوں نے کہا تھا یا یہ تمام مومنین و مومنات کا جذبۂ جان نثاری تھا: قربان امنݽ اُنے گنے صد بار ایم جار = تیرے لئے قربان ہو جانا مجھے بیحد شیرین ہے۔ الحمد للہ، یہ پرحکمت قربانی عمل میں آئی، اور یہ بے حد شیرین اس معنیٰ میں ہے کہ بکرے کی قربانی اہلِ خانہ کی طرف سے ہوتی ہے، خدا کی قسم یہ قربانی بہت سے لوگوں کی طرف سے ہوئی، لیکن اس میں میری کاپیاں بھی قربان ہو چکی ہیں۔
۷۔ سوال: یہ نعمت انتہائی شیرین ہے، اس لئے میں بار بار اس کا ذکرِ جمیل کرتا رہتا ہوں، قصّہ روحانی سفر اور منزلِ عزرائیلی کا ہے، لیکن کیا ابدان کی طرح ارواح بھی الگ الگ اور دور دور رہتی ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں، حدیثِ شریف میں ہے کہ روحیں ہمیشہ لشکر کی طرح یکجا اور جمع ہوتی ہیں= الارواح جنود مجندۃ ۔ خصوصاً روحانی جنگ میں حصہ لینا اور ذاتی قیامت گاہ میں حاضر ہو جانا اس لشکر کا کام ہے، اور
۸۲
جو لوگ علمی سولجرز ہیں، ان کی عظیم روحیں کیونکر روحانی جنگ سے گریز کر سکتی ہیں۔
۸۔ سوال: کیا آپ نے منزلِ عزرائیلی کا روحانی قصہ نہیں سنا ہے؟ کیا اس منزل میں سب روحیں جمع نہیں ہوتی ہیں؟ مجھے کامل یقین ہے کہ وہاں آپ سب موجود تھے، اور شاید یہ علمی دوستی وہاں سے شروع ہوئی، آپ سب سے پہلے ذرّاتِ لطیف کی شکل میں آئے تھے، آپ نے عالمِ شخصی کے بے شمار عجائب و غرائب کو دیکھا ہے۔
۹۔ سوال: کیا آپ نے کبھی عشق و محبت سے کہا: مولانا حاضر امام روحی فداہ (میری روح اس سے فدا ہو!) کیا آپ سچ مچ اپنی پیاری روح حضرتِ امام علیہ السلام سے قربان کر دینا چاہتے ہیں؟ یا یہ ایک مہمل بات ہے؟ اگر یوں کہنا مومن کی خوبیوں میں سے ہے تو وہ عملاً کہیں قربان بھی ہوتا ہوگا۔
۱۰۔ سوال: کیا یہ میرا نعرۂ پرجوش کھوکھلا ہے یا پرمغز؟ جو کہتا رہتا ہوں کہ: مولا ڎم جا جی فدا! (مولا سے میری جان فدا ہو!) جماعت ڎم فدا! عزیزان ڎم فدا! نہیں کھوکھلا ہرگز نہیں، آپ تو ہر طرح سے قربان ہو چکے ہیں، اور بہت سے عزیزان علم الیقین کی روشنی میں اس امرِ واقعی کو سمجھتے بھی ہیں۔
۱۱۔ سوال: کیا دینِ اسلام کے زرّین اصولوں میں سے ایک اصول یہ نہیں ہے کہ دوسروں کی آسائش کی خاطر قربانی دی جاتی ہے؟ جی بلم قربان ایتم ھل دݳ کے جݶ مݣ بٹ منݽ ۔ گنڎ کے ہن قربان
۸۳
ایچم ڎہ جا ݽݽائیے کان دیا۔ یہ شعر شروع شروع کا ہے، بعد میں انکشاف ہوا کہ ایک شخص کے پاس لاتعداد جانیں ہو سکتی ہیں، چنانچہ میں نے اپنی جانوں کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی جانیں راہِ جانان میں قربان کر دیں، جو میری قیامت گاہ میں آئی تھیں۔
۱۲۔ سوال: اے عزیزانِ من! کیا ہم حقیقت میں ایک نہیں ہیں؟ کیا ہم ایک ہی علمی اور روحانی لشکر نہیں ہیں؟ کیا ہم منزلِ عزرائیلی میں سب ایک ساتھ نہیں مررہے تھے؟ اور ایک ساتھ زندہ نہیں ہوئے تھے؟ آیا ہم سب آدمِ زمانؑ کے ذرّاتی فرشتے نہیں تھے؟ کیا ہمارے آپس میں شدید اور بے مثال محبت نہیں ہے؟ ایسی محبت کس حقیقت کی علامت ہے؟ وحدت اور یک حقیقت کی، الحمد للہ ، ہم سب کا نامۂ اعمال ایک ہوچکا ہے، سو یہ کتنی بڑی خوشی کی بات ہے!
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
منگل ۲۶ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۳ جون ۱۹۹۷ء
۸۴
امتحان ہی امتحان
۱۔ سورۂ ملک کی دوسری آیت (۶۷: ۲) میں دیکھ لیں تاکہ یہاں یہ عجیب راز معلوم ہوجائے کہ خدا تعالیٰ نے حیات سے پہلے موت کو پیدا کیا، اور اس کے بعد حیات کو پیدا کیا ہے، حالانکہ بظاہر پیدائش پہلے ہے اور موت بعد میں آتی ہے، لیکن ہم یقین کرتے ہیں کہ اس ترتیب میں کوئی بہت بڑی حکمت پنہان ہے، اور وہ یہ ہے کہ اگرچہ حیوان کے مقابلے میں ایک عام انسان بہتر زندگی رکھتا ہے، کیونکہ اس میں عقلِ جزوی اور اختیار موجود ہے، لیکن روحانی اور حقیقی زندگی کے پیشِ نظر آدمی کی یہ عامیانہ زندگی موت کی طرح ہے، پس یہ حکمت ظاہر ہوئی کہ موت و حیات (عام زندگی اور خاص زندگی) دونوں امتحان کی غرض سے ہیں، آپ آیۂ محولہ کو قرآن (۶۷: ۲) میں پڑھیں۔
۲۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خداوند تعالیٰ تو ہمیشہ عالم الغیب ہے، وہ اپنے بندوں کے دلوں کی حالت و کیفیت کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے، پھر کیوں ان سے امتحان لیتا ہے؟ نیز یہ پوچھنا ضروری ہے کہ بندے کو
۸۵
حضرتِ ربّ العزت کس مقام پر آزماتا ہے اور کس طرح؟
۳۔ بہشت میں چھوٹے بڑے لاتعداد درجات ہیں، لہٰذا امتحان ضروری ہوا تا کہ ہر شخص کو اس کے علم و عمل کے مطابق کوئی درجہ دیا جائے، انسان کی پوری زندگی شروع سے لے کر آخر تک آزمائش کا میدان ہے، جس میں کامل اطاعت و فرمانبرداری بے حد ضروری ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ نیّت، قول، علم ، اور عمل کی ہر چیز اللہ کی خوشنودی کے مطابق ہو تا کہ کامیابی نصیب ہو جائے۔
۴۔ جس طرح دنیا کی تعلیم درجہ بدرجہ بلند سے بلند تر ہوتی ہے، یعنی اس کے بہت سے درجات ہیں، اسی طرح دینی تعلیم کے بھی بہت سے درجات ہیں، چنانچہ قرآنِ حکیم میں آسان سے آسان ہدایات بھی ہیں، اور مشکل سے مشکل مقامات بھی، تاکہ اس طرح سے بہت سے مدارج ترتیب پائیں، اور ہر عالم اپنی علمیت کے مطابق درجہ حاصل کرے، جیسا کہ ارشاد ہے: ھم درجات عند اللہ (۳: ۱۶۳) یہ لوگ خدا کے نزدیک مختلف درجوں میں ہیں۔ یعنی کوئی درجہ جتنا بلند ہو، اس کے علم وعمل کا امتحان اتنا مشکل ہوتا ہے۔
۵۔ بڑے بڑے امتحانات سے متعلق اندازہ کرنے کے لئے اس زبردست حکمت والی آیت کو دیکھیں: و ھو الذی خلق السماوات و الارض فی ستۃ ایام و کان عرشہ علی الماء لیبلوکم ایکم احسن عملا ۔۔۔ (۱۱: ۷) اس کا ترجمہ عالمِ شخصی کے مطابق اس طرح ہے:
۸۶
وہ (خدا) ایسا ہے کہ اس نے (عالمِ صغیرکے ) آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا تب اس کا عرش (تخت) پانی پر ظاہر ہوا تا کہ تم کو آزمائے کہ تم میں اچھا عمل کرنے والا کون ہے۔ عالمِ شخصی کے چھ دن سے چھ ناطق مراد ہیں، اور ساتواں دن (سنیچر) حضرتِ قائم ہے۔
۶۔ یہ بہت بڑی آزمائش ہے، بلکہ بہت سے امتحانات ہیں کہ قرآنِ حکیم کے اکثر مضامین عالمِ شخصی کے بارے میں ہیں، یعنی آسمان، زمین، عرش، کرسی، قلم، لوح وغیرہ سب کچھ عالمِ شخصی میں محدود اور موجود ہے، بشرطیکہ اس پر نورِمعرفت کی روشنی پڑ رہی ہو، یعنی جب نورِ امامِ مبین کا عکس پڑ رہا ہو۔
۷۔ قرآنِ حکیم کی ایک بہت بڑی حکمت لفظِ احسن میں ہے، جس کے معنی ہیں: بہت اچھا=بہتر، آپ قرآنِ عزیز کے ۳۶ مقامات پر اس نعمتِ عظمیٰ سے لطف و لذّت حاصل کریں، الغرض اللہ تعالیٰ ہر چیز میں آزما کر یہ چاہتا ہے کہ اس کا بندہ نیّت، قول، علم، اور عمل میں حسین نہیں بلکہ احسن ہوجائے، کیونکہ خدا کے پاس بہت سے درجات ہیں، اور عظیم مرتبے بھی ہیں۔
۸۔ ہر امتحان وابتلا میں صبر و ثبات اور کامیابی کے لئے گریہ و زاری اور مناجات کرتے رہیں، عبادت، بندگی، کثرتِ ذکر، کثرتِ سجود، خیر خواہی ، نیکی، خدمت، عاجزی، اور نرم دلی سے فائدہ اٹھائیں، اور علم الیقین کی لازوال دولت سے مالامال ہوجائیں، کیونکہ علم ہی ہے جس سے ہر
۸۷
آزمائش آسان ہو سکتی ہے۔
۹۔ اگر خدا چاہے تو ہر مشکل آزمائش میں اہلِ ایمان کی مدد کرسکتا ہے، جیسا کہ سورۂ مجادلہ (۵۸: ۲۲) میں ہے: ایسے لوگوں کے دل میں خدا نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی ایک خاص روح سے ان کی مدد فرمائی ہے۔
نصیر الدین نصیرّ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقارآباد، گلگت
جمعرات ، ۲۸ محرم الحرام ۱۴۱۸ ھ، ۵ جون ۱۹۹۷ء
۸۸
دعوتِ ظاہر اور دعوتِ باطن
۱۔ قرآنِ حکیم اور دینِ اسلام میں طاق کے بعد جفت کی بہت بڑی اہمیت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمام چیزوں کو جفت جفت یا دو دو یا اضداد کے قانون پر پیدا کیا ہے، آپ قرآنِ عزیز کے ان مقامات پر دیکھ سکتے ہیں: سورۂ ہود (۱۱: ۴۰) سورۂ رعد (۱۳: ۳) سورۂ مومنون (۲۳: ۲۷) سورہ یاسین (۳۶: ۳۶) سورۂ ذاریات (۵۱: ۴۹) اور سورۂ رحمان (۵۵: ۵۲) ، تا کہ آپ کو خدائے علیم و حکیم کی یہ عظیم حکمت معلوم ہوجائے کہ خدائے واحد طاقِ محض ہے، اور اس کی بنائی ہوئی چیزیں (مخلوقات) جفت جفت ہیں۔
۲۔ جیسا کہ سورۂ ذاریات میں ہے: و من کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون = اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں تا کہ تم نصیحت پکڑو (۵۱: ۴۹) زوجین کی مثالیں یہ ہیں: (الف) شوہر اور بیوی (ب) نر اور مادہ (ج) اضداد: دنیا و آخرت، آسمان و زمین ، خیر و شر، ہستی اور نیستی، دوزخ و بہشت، مکان و لامکان، روشنی اور تاریکی، جسم و جان، علم و
جہل، دوری اور نزدیکی، ممکن اور محال، ظلم و عدل، وغیرہ۔
۸۹
۳۔ اسی طرح قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے، یعنی اس کی ایک تنزیل ہے اور ایک تاویل، چنانچہ صاحبِ تنزیل رسولِ اکرمؐ ہیں اور صاحبانِ تاویل آپؐ کے جانشین ، یعنی أئمّۂ طاہرین ہیں، پس دعوتِ اسلام دو قسم کی ہے، ایک دعوتِ ظاہر ہے اور دوسری دعوتِ باطن، کیونکہ ہر رسول کا ایک وصی ہوا کرتا ہے جو وزیر کہلاتا ہے (۲۵: ۳۵) وہ دینِ حق کی باطنی اور تاویلی دعوت کرتا رہتا ہے۔
۴۔ ہر وہ آیۂ کریمہ اور حدیثِ نبوی جو مولاعلیؑ کی شان میں ہے، وہ دعوتِ باطن کی غرض سے ہے، ایسی آیات و احادیث بہت ہیں، تاکہ تاویلی دعوت کی اصل و اساس مستحکم ہو، کیونکہ اسی دعوتِ باطن سے ہر بار اسلام ادیانِ عالم پر غالب آتا ہے، چنانچہ وہ آیۂ شریفہ جو تمام ادیان پر دینِ حق کے غالب آنے سے متعلق ہے تین مقامات پر دہرائی گئی ہے: سورۂ توبہ (۹: ۳۳) سورہ فتح (۴۸: ۲۸) اور سورۂ صف (۶۱: ۹) پس ہر امام کے زمانے میں ایک روحانی قیامت برپا ہو جاتی ہے جو روحانی جنگ بھی ہے، اور دینِ حق کی آخری دعوت بھی، جس کے نتیجے میں اسلام دوسرے تمام ادیان پر غالب
آتا ہے، مگر لوگ اس عظیم معجزے کو دیکھ نہیں سکتے ہیں۔
۵۔ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۱) میں ارشاد ہے: یوم ندعوا کل اناس بامامھم = جس دین ہم زمانے کے لوگوں کو ان کے امام کے توسط سے بلائیں گے۔ یہاں لفظِ اناس (اہلِ زمانہ) سے معلوم ہوا کہ جس طرح امامت ایک سلسلہ ہے، اسی طرح قیامت بھی ایک سلسلہ
۹۰
ہے، جبکہ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔
۶۔ آپ دین کا یہ قانون بھول نہ جائیں کہ عظیم چیزیں دو دو ہوا کرتی ہیں، جیسے قلم و لوح، عرش و کرسی، عقلِ کلّ و نفسِ کلّ، ناطق واساس، امام و باب، حجّت و داعی وغیرہ، دوسری مثال میں ناطق اور وصی (وزیر = امام) جیسے سورج اور چاند، کہ شمس و قمر کی تین تاویلیں ہیں: ناطق و اساس، اساس و امام، امام و باب۔
۷۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ قیامت دینِ اسلام کی آخری دعوت ہے، کیونکہ خدا نے فرمایا: ندعوا (ہم دعوت کریں گے = ہم بلائیں گے)، پس اللہ کا بلانا دینی دعوت کے سوا نہیں، لیکن یہ لوگوں کے لئے زبردستی کی دعوت ہے، جیسے سورۂ آلِ عمران میں ارشاد ہے: و لہ اسلم من فی السماوات و الارض طوعا و کرھا و والیہ یرجعون = حال آنکہ سب اہلِ آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرمانبردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں (۳: ۸۳) پس یہاں کرھاً (زبردستی) سے باطنی قیامت مراد ہے، جو روحانی جنگ اور دینِ حق کی آخری دعوت ہے۔
۸۔ سورۂ طٰہٰ (۲۰: ۱۰۸) میں ہے: یومئذ یتبعون الداعی لا عوج لہ = اس روز تمام لوگ ایک ایسے داعی کی دعوت کو قبول کریں گے جو سب زبانوں کو جانتا ہے۔ الداعی (دعوت کرنے والا، بلانے والا) حضرتِ امام علیہ السلام ہے کہ اسی کے توسط
۹۱
سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو بلاتا ہے (۱۷: ۷۱) اور امامِ عالی مقام ہی ہے جو جملہ خلائق کی زبانوں کو جانتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قیامت اور روحانیت کا خطاب ہر زبان میں ممکن ہے، الحمد للہ علیٰ منہ و احسانہ۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
اسلام آباد
جمعرات ۶ صفر ۱۴۱۸ھ ، ۱۲ جون ۱۹۹۷ء
۹۲
چند اعلیٰ حکمتیں
حکمتِ اوّل: سورۂ جنّ کی آخری دو آیتوں (۷۲: ۲۷ تا ۲۸) کو اصولِ حکمت کے مطابق پڑھ لیں، اس ربّانی تعلیم کے آخر میں یہ اشارہ ہے کہ پیغمبروں کو خدا نے جو خزانۂ علم و معرفت عطا کیا تھا، وہ ہمیشہ عالمِ شخصی اور حظیرۃ القدس میں محفوظ ہے، اور کل چیزیں آخراً پہلے کی طرح ایک بنائی جاتی ہیں، یعنی سارے انسانوں کی وحدت و سالمیت نفسِ واحدہ میں ہوتی ہے، کیونکہ و احصیٰ کل شی عددا میں خصوصا انسانوں کا ذکر ہے۔
حکمتِ دوم: اے ہمارے بے حد عزیز گورنرز اور علمی سولجرز! آپ کو کسی تاخیر کے بغیر قرآنی حکمت کی لازوال دولت سے مالامال ہوجانا ہے، آپ کو حصولِ علم و حکمت کے لئے امامِ زمان علیہ السلام کے ساتھ ہو جانا ضروری ہے، جیسے سورۂ توبہ (۹: ۱۱۹) میں ارشاد ہے: اے ایمان والو خدا سے ڈرو اور سچوں (ائمہ) کے ساتھ ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بابرکت خطاب تمام زمانوں کے مومنین سے ہے، تا کہ ہر زمانے
۹۳
کے اہلِ ایمان اپنے امامِ وقت سے رجوع ہوجائیں، کیونکہ دنیا کی باتوں میں سچ بولنے والوں کی بات ہی نہیں، بلکہ دینی علم کے سچوں (الصادقین) کا ذکرِ جمیل ہے۔
حکمتِ سوم: پروردگارِ عالم نے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کو نورِجبین اور حظیرۃ القدس کے اسرار سے واقف و آگاہ کر دیا تھا، آپ اُس مقام پر صالحین کی وحدت کے ساتھ مل گئے تھے، جیسا کہ ارشاد ہے: رب ھب لی حکما والحقنی بالصالحین (۲۶: ۸۳)۔
حکمتِ چہارم: حضرتِ ابراہیمؑ بحیثیتِ امام آئندہ لوگوں میں بھی علمی صداقت کی زبان استعمال کرنا چاہتے تھے، اور یہ کام آنجناب کے سلسلۂ اولاد کے وسیلے سے ہوسکتا تھا، جو آلِ ابراہیمؑ اور آلِ محمدؐ ہیں، متعلقہ آیۂ شریفہ یہ ہے: واجعل لی لسان صدق فی الاٰخرین (۲۶: ۸۴) اور میرے لئے آئندہ لوگوں میں (علم و حکمت) کی سچی زبان بنا دے۔
حکمت پنجم: قرآنِ حکیم میں جن لوگوں کو بنی آدم کہا گیا ہے، وہ حقیقت میں آدمِ زمان علیہ السّلام ہی کے روحانی بچے ہیں، چنانچہ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۰) میں انہی کے بارے میں ارشاد ہے: و لقد کرمنا بنی اٰدم = اور یقینا ہم نے اولادِ آدم کو کرامت (عزت) دی، یعنی اپنے ایک اسمِ بزرگ الاکرم کی تجلی کے ساتھ ان کو دیدارِ پاک سے نوازا، و حملنٰھم فی البر والبحر = اور خشکی و تری میں ان کو سواریاں دیں، یعنی ان کو حدودِ دین کے دوش پر بٹھا کر روحانیت کی
۹۴
خشکی و تری کا سیر و سفر کرایا، تا آنکہ بھری ہوئی کشتی میں سوار کر لیا جو عرش بر آب بھی ہے، و رزقنٰھم من الطیبٰت= اور پاکیزہ روزی عطا کی، یعنی ایسے مقام پر ان کو علمِ حقیقی کی دولت سے مالامال فرمایا، و فضلنٰھم علیٰ کثیر ممن خلقنا تفضیلا = اور بہت سی مخلوق پر ان کو ایسی فضیلت دی جیسا کہ فضیلت دینے کا حق ہے، یعنی کشتی میں سوار ہو جانا ابدی نجات کی دلیل ہے، اور تخت (عرش) پر بیٹھنا فنا فی اللہ و بقا باللہ کی دلیل ہے جو سب سے بڑی فضیلت اور سب سے عظیم سلطنت ہے۔
حکمتِ ششم: سورۂ یاسین جو قلبِ قرآن ہے، اس میں بھری ہوئی کشتی کا عظیم راز بڑا عجیب وغریب ہے (۳۶: ۴۱) یقیناً یہ مونوریالٹی کا بہت بڑا بھید ہے، آپ قرآن کی فکری اور علمی عبادت کریں اور ایسے اعلیٰ مقامات میں خوب دل لگا کر سوچیں، کہ بھری ہوئی کشتی کیا ہے؟ کیا کشتی میں نوحؑ ہے؟ یا نمائندۂ اہلِ بیت؟ یا ظلِ الٰہی؟ یا صورتِ رحمان؟ یا نفسِ واحدہ؟ یا مساواتِ رحمانی؟ یا مبداء و معاد؟ یا عقلِ کلّ و نفسِ کلّ؟ یا قلمِ اعلیٰ و لوحِ محفوظ؟ یا عرش و کرسی؟ یا خداوند تعالیٰ کی تجلّی؟ یا مونوریالٹی؟ یا امامِ مبین؟
حکمتِ ہفتم: عرش صرف عالمِ شخصی کی ایک روحانی مثال ہے، اس سے حقیقت میں ذاتِ سبحان بے نیاز و برتر ہے، مگر اس کا سارا تذکرہ محض بندوں کو نوازنے کی غرض سے ہے، پس عالمِ
۹۵
شخصی میں دو عرش ہیں: ایک آسمان میں اور دوسرا زمین پر، جو عرش زمین پر ہے وہ پانی پر ہونے کی وجہ سے کشتی بھی ہے۔ الحمد للہ رب العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
یک شنبہ ۹ صفر ۱۴۱۸ھ، ۱۵ جون ۱۹۹۷ء
۹۶
مہمان نوازی اور علم گستری
۱۔ اگر مولائے پاک کا کوئی جان نثار عاشق مہمان نوازی یا میزبانی علم گستری کے مقصد کے پیشِ نظر کرتا ہے تو یہ بہت بڑی قربانی بھی ہے اور دعوتِ بقا کا ایک عمدہ نمونہ بھی، سچ تو یہ ہے کہ ایسی پرحکمت دعوت جناب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ عالیہ سے شروع ہوئی تھی، آپ سیرتِ طیبہ کی کتابیں پڑھیں۔
۲۔ ایک حقیقی مومن مختلف طریقوں سے علمِ امامت کی خدمت کرتا ہے وہ حضرتِ امام علیہ السلام کا عاشقِ صادق ہے، لہٰذا اپنے مولا و آقا کی تعریف و توصیف کو بار بار سننا چاہتا ہے، کیونکہ اسی علم میں اس کا قلبی سکون ہے، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ ہوشمند مومنین و مومنات کے نزدیک زندگی کے بہترین لمحات وہ ہیں جو حقیقی علم و عبادت اور اعلیٰ خدمت میں صرف ہو جاتے ہیں۔
۳۔ یہ میرے دورۂ گلگت کی مختصر رپورٹ بھی ہے، اور ان تمام معزّز و محترم خاندانوں کا پرخلوص شکریہ بھی، گوناگون نعمتوں کے دسترخوان
۹۷
اور جذبۂ میزبانی سے یوں لگتا تھا کہ وہ سب حضرات روحانی علم کے شیدائی ہیں، حق بات تو ہے کہ ہم ہر مجلس کی خوبیوں سے پگھل گئے، یقینا عشقِ سماوی کے زیرِ اثر ہم مرغِ نیم بسمل کی طرح تڑپ رہے تھے، اے کاش وہ خنجرِ عشق اس غریب دل میں بار بار لگتا! وہ مقدّس محفل! وہ پاک ساز و آواز! وہ گریۂ عشاق! وہ دعائے دل سوز! وہ بارانِ رحمت!
۴۔ وہ پاکیزہ دینی محبت و دوستی! وہ مونوریالٹی کا یقین! وہ بہشتِ برین میں تمام عزیزان کی ملاقات کی پرمسرت امید! وہ مشترکہ نامۂ اعمال (نورانی موویز) کی طوفانی شادمانی! وہ کاملین کی کاپیوں کی زبردست خوشی! وہ عالمِ شخصی کی سلطنت کی بشارت! وہ اسرارِ جبین کی میٹھی میٹھی باتیں! وہ دانشمندوں کی پر مغز باتیں! وہ احباب کی مشتاقانہ ملاقات! ان نعمتوں کے علاوہ اور بھی روحانی نعمتیں ہیں، ان شاء اللہ، ہم سب ایک خاص مقام پر ملنے والے ہیں، اس وقت ہم بے حد شادمان ہوں گے، الحمد للہ رب العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۱۰ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ ، ۱۶ جون، ۱۹۹۷ء
۹۸
علی علی علی
۱۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ آج کا عنوان بڑا عاشقانہ اور مستانہ ہے، شاید اس کی کچھ وجوہ ہوسکتی ہیں، اور ایک وجہ یقیناً یہ بھی ہے کہ بہشت میں لمبی لمبی نہریں بہہ رہی ہیں، کہ اگر چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے تو بلاشبہ معلوم ہو جائے گا کہ وہ اس دنیا تک پہنچی ہوئی ہیں، ازان جملہ خمرِ جنت کی نہر بھی ہے، جس میں کیف و سرور اور مستیٔ عشقِ سماوی بھری ہوئی ہے، سماوی اس معنیٰ میں کہ اس مقدّس عشق کو دل میں جگہ دینے کا حکم آسمان سے آیا ہے، یہ وہی پاک و پاکیزہ عشق ہے، جس کی دل نشین تعلیم قرآن و حدیث میں موجود ہے، پس میرا کوئی ساقی ہے، جس کی ہر بار ایک نئی شان ہوتی ہے:
ہر غنچہ کہ گل گشت دگر غنچہ نہ گردد
قربان بلبِ یار گہی غنچہ گہی گل
۲۔ اہلِ دانش کی نظر میں یہ حقیقت روشن ہے کہ آسمانی عشق کبھی نار بن کر سارے گناہوں کو جلا دیتا ہے اور کبھی نورِ ہدایت بن کر رہنمائی
۹۹
کرتا ہے، پس عشقِ سماوی کی سیڑھی چار زینوں پر مبنی ہے: عشقِ الٰہی، عشقِ رسولؐ، عشقِ علیؑ، اور عشقِ امامِ زمان، کیونکہ بندوں کا امتحان زمانۂ ماضی سے متعلق نہیں بلکہ زمانۂ حال کے بارے میں ہوتا ہے، لہٰذا ہر مومن اور مومنہ کا یہ عقیدۂ راسخ ہونا ضروری ہے کہ امامِ وقت کا پرحکمت نام ’’علیٔ زمان‘‘ ہوتا ہے، کیونکہ اس میں علیؑ ہی کا نور ہوتا ہے۔
۳۔ جامعِ ترمذی ، جلدِ دوم میں ہے: ان علیا منی و انا منہ و ھو ولی کل مومن من بعدی = یقینا علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ میرے بعد ہر مومن کا ولیٔ امر ہے۔ یہاں اگر نورِ عشق ہے تو اس کی روشنی میں عقل خوب سے خوب تر کام کرسکے گی کہ علیؑ سے امامِ زمان مراد ہے، کیونکہ علیؑ اپنے زمانے کا امام تھا، جبکہ حضورؐ نے فرمایا: ’’میرے بعد‘‘ اور فرمایا: ’’ہر مومن‘‘ تو آج بھی اور کل بھی آنحضرتؐ کے بعد کا زمانہ ہے، اور ہر مومن اور مومنہ کو ایسے ولیٔ امر کی ضرورت اب بھی ہے اور آئندہ بھی ہو گی، کیونکہ حدیثِ صحیحہ جوامع الکلم میں سے ہوتی ہے، جس کا مطلب ہرگز ادھورا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں زبردست معنوی بلاغت ہوا کرتی ہے۔
۴۔ علی علی علی۔ یہ عنوانِ گفتگو بھی ہے، اور نعرۂ عشق بھی، میں نے عشق کی مستی میں ’’ علی علی علی ‘‘ کا فلک شگاف نعرہ لگایا، اور مجھے یقین ہے کہ عشقِ علی کی یہ پرحکمت آواز اور گونج فرشتوں کی نورانی موویز میں امر اور لازوال ہوگئی، میں اپنی روحانی زندگی کے امامِ اقدس و اطہر علیہ السلام کا
۱۰۰
عاشق ہوں، کیونکہ اسی نے ازراہِ عنایت مجھے زندہ کر دیا، جب کہ میں سچ مچ مرا ہوا پڑا تھا، حضرتِ عیسیٰؑ مردگانِ جہالت کو زندہ کرتا تھا، اور اسی کی ہمیشہ ضرورت ہے، پس دینِ اسلام جو دینِ کامل ہے، اس میں معجزۂ عیسیؑ باقی و جاری ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام ہر معجزے کو نگاہِ ظاہر سے دیکھنا اور پرکھنا چاہتے ہیں اور یہ خیال بالکل غلط ہے، اگر دنیا میں اسلام کے غیر معمولی معجزات نہ ہوتے تو قرآنِ حکیم کبھی نہ فرماتا: صم بکم عمی فھم لا یرجعون۔ (۲: ۱۸) یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں سو وہ رجوع نہیں کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ دنیا ہی سے شروع کر کے سننے کے معجزے ہیں، بولنے کے معجزے ہیں، اور دیکھنے کے معجزے ہیں۔
۵۔ یقینا عشق ایک آسمانی نور ہے، اور نور کی چار نسبتیں ہیں: نورِ خدا، نورِ رسول، نورِعلی اور نورِ امامِ زمان، پس آپ نورِ عشق میں فنا ہو جائیں، اور زینہ بزینہ سیڑھی سے چڑھتے جائیں، اور دیکھئے کہ کیا ہوتا ہے، میرا خیال ہے کہ آپ اسی طرح فنا فی اللہ ہو جائیں گے، پس بڑا مبارک ہے ہر وہ شخص ، جس کو کمالِ عشق حاصل ہو، کہ:
این سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
۶۔ میں چاہتا ہوں اور میری عاجزانہ دعا ہے کہ تمام تر دلوں میں نورِعشق طلوع ہو! یہ عشق روحانی علم کی پیداوار ہے، یہ عشق قرآن و حدیث کا میوہ ہے، یہ عشق عقیدۂ راسخ کا نتیجہ ہے، یہ عشق مشاہدۂ حسن و جمال
۱۰۱
کا ثمرہ ہے، جس طرح وہ سب سے حسین ہے، اسی طرح اس کا پاک عشق سب سے شیرین اور سب سے اعلیٰ ہے، حافظ شیرازی کا شعر ہے:
ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما
۷۔ کوئی مومن علیٔ زمان کے عشق میں بہت کمزور بھی ہوسکتا ہے، جس کی وجہ البتہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس کے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں، اس کے لئے علاج بالضّد کرنا ہوگا، یعنی قرآن وحدیث اور بزرگانِ دین کی تعلیمات کی روشنی میں حضرتِ امامِ زمان علیہ السّلام کے اوصاف و کمالات کو اجاگر کرنا پڑے گا، تاکہ مومنِ ضعیف کو امامِ وقت سے عشق ہوسکے، اگر کوئی مومن یہ کہتا ہو کہ میں تو علی کو جان و دل سے امام مانتا ہوں مگر اب اُس جیسا کوئی امام نہیں، تو ایسے شخص کے پاس حقیقی علم نہیں، کیونکہ نورِ امامت ہی کی وجہ سے اہلِ زمانہ کی ظاہری اور باطنی ترقی ہوتی جاتی ہے، لہٰذا اب علیٔ زمان پہلے کی نسبت زبردست کام کر رہا ہے، جیسے قرآن میں ہے: و اللہ متم نورہ = اور خدا اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا (۶۱: ۸) یہ زمانۂ قائم کی طرف اشارہ ہے، الحمد للہ رب العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
منگل ۱۱ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ، ۱۷ جون ۱۹۹۷ء
۱۰۲
سنتِ الٰہی کے اسرار
۱۔ شب خیزی، بندگی، گریہ و زاری، مناجات، عشقِ سماوی، اور سجود کی کمی کے احساس کے ساتھ بڑی عاجزی اور ناچاری سے قرآنِ ناطق کی طرف رجوع ہو جاتا ہوں کہ وہ ہمیشہ کی طرح میری مدد فرمائے، تا کہ یہاں چند مفید باتیں درج ہوں، عزیزانِ من! شاید آپ سب کو یا بعض کو یاد ہو کہ آج سے پہلے بھی اس مضمونِ عالی کے بارے میں کچھ کچھ اظہارِ خیال کیا گیا ہے، لیکن موضوع بڑی زبردست اہمیت کا حامل ہے، لہٰذا مزید گفتگو کے لئے سعی کی جاتی ہے۔
۲۔ آپ کو میرا اوّلین مشورہ یہ ہے کہ ان تمام آیاتِ شریفہ کا خوب غور سے مطالعہ کریں، جن میں اللہ تعالیٰ کی سنتِ عالیہ کا ذکر آیا ہے، سنت کے معنی ہیں: عادت، دستور، آئین، راہ، معمول، طریقہ، قانون، جیسے سورۂ مومن کے آخر میں ہے: سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ = یہی اللہ کا دستور ہے جو اس کے بندوں میں گذر چکا ہے (۴۰: ۸۵) یعنی خدا کا معمول نہ آسمان میں ہے نہ زمین پر،
۱۰۳
بلکہ اس کے خاص بندوں (انبیاء و اولیاء ) میں گذرتا رہا ہے، بالفاظِ دیگر یہ ہے کہ اللہ کی سنت عالمِ شخصی میں پائی جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خداوند تعالیٰ کا قانونِ کل یا جملہ قوانین کا عمل عوالمِ
شخصی میں کسی ابتداء و انتہا کے بغیر ہمیشہ ہمیشہ جاری و باقی ہے۔
۳۔ قرآنِ حکیم فرماتا ہے کہ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائی جاتی، اس کا اشارہ اساسی قوانین کی طرف ہے، مثلاً وہ الخالق ہے، جو ہمیشہ عوالم کو پیدا کرتا رہتا ہے، وہ القابض اور الباسط ہے، جو ہمیشہ کائنات کو لپیٹتا اور پھیلاتا رہتا ہے، الغرض جس طرح اس کی ذات قدیم ہے، اسی طرح اس کی ہر صفت بھی قدیم ہے، اور یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ اللہ کی کوئی صفت حادث (نئی) ہو۔
۴۔ جب حضرتِ رب العزت کی معرفت انسان کے عالمِ شخصی ہی میں ہے تو پھر سنتِ الٰہی کی معرفت بھی لازمی طور پر یہیں ہے، اس کے سوا اور کہیں بھی نہیں، آپ قرآنِ عظیم کی معنوی گہرائی میں دیکھیں کہ آیات و معجزاتِ الٰہی کی معرفت آفاق میں مکمل نہیں ہوتی، جب تک کہ جملہ معجزات کا مشاہدۂ باطن انفس میں نہ ہو (۴۱: ۵۳)، زمین (مکان و زمان) میں جو معجزات بکھرے ہوئے ہیں، وہ عالمِ شخصی میں منظم اور یکجا ہیں(۵۱: ۲۰ تا ۲۱)۔
۵۔ جب سنتِ الٰہی کا دائمی تعلق عالمِ شخصی سے ہے تو پھر معلوم ہوا کہ انسان اپنی لامحدود زندگی اور عالمِ بالا سے جو رابطہ تھا وہ سب
۱۰۴
بھول چکا ہے، وہ جسمانی پیدائش اور موت کے قیاس پر ہر چیز کی ابتداء اور انتہا کا قائل ہوگیا ہے، حالانکہ یہ جزئیات ہیں کلّیات نہیں، جیسا عالمِ انسانیت ہے کہ اس کا اگلا یا پچھلا سرا نظر نہیں آتا، اور سرا دراصل ہے بھی کہاں؟ جیسے فرمایا گیا: اݹ مش او (OO MUS OO) یعنی لاابتداء اور لاانتہا کا تصوّر رکھو، کیونکہ انسان کی حقیقت ازلی و ابدی ہے۔
۶۔ سورۂ دہر کے آغاز (۷۶: ۱) میں ایک عظیم خزانے کی کلید ہے: کیا انسان پر دہر (زمانِ ناگزرندہ) کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟ یعنی یہ انسان کی ازلی ’’فنا فی اللہ‘‘ کی حالت ہے، جس میں وہ بے نام و بے نشان تھا، اور اب بھی وہ انائے علوی کے اعتبار سے ایسا ہی ہے، سوال ہے کہ آیا انسان کو اپنی اس بے مثال مونوریالٹی کی معرفت حاصل ہوئی ہے؟ اس کے بعد انائے سفلی کا تذکرہ اس طرح سے ہے: ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تا کہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لئے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا (۷۶: ۲) آخری امتحان معرفت سے متعلق ہے، پس جب کوئی مومنِ سالک اپنی انائے علوی کو خدا میں فنا پاتا ہے تو یہی معرفت اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
۷۔ سنتِ الٰہی کے قرآنی ذکر میں عالمِ شخصی کے ہمیشہ موجود ہونے کا اشارہ ہے، کیونکہ اللہ کی ذات قدیم ہے، اس کی جملہ صفات بھی قدیم ہیں، اور کسی نہ کسی عالمِ شخصی میں اس کا قانون بھی قدیم ہے،
۱۰۵
اگرچہ عوالم شخصی کے سلسلے میں بار بار تجدّد ہوتا رہتا ہے، جیسے فرمایا گیا: تھوݽ گٹو جݹ، مݶن شرݸ جݹ، یعنی میری قدیم روح کو جدید لباس عنایت کر، اور قدیم رزق عطا فرما، تو اس میں بہت بڑی حکمت یہ ہے کہ خالقِ قدیم ہر لحظہ ایک جدید کائنات کو پیدا کرتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: کل یوم ھو فی شان= ہر آن وہ ایک نئی شان میں ہے (۵۵: ۲۹)۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعرات ۱۳ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ، ۱۹ جون ۱۹۹۷ء
۱۰۶
روحانی بھونچال کی حکمت
۱۔ سورۂ ذاریات میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: و فی الارض اٰیٰت للموقنین۔ و فی انفسکم افلا تبصرون (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) اور اہلِ یقین (اہلِ معرفت) کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں (معجزات) ہیں اور خود تمہاری ذات میں بھی ہیں تو کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا؟ اس فرمانِ الٰہی سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ جو چیزیں دنیائے ظاہر میں مادّی طور پر ہیں، وہ سب کی سب عالمِ شخصی میں روحانی طور پر موجود ہیں، چنانچہ یہ سچ ہے کہ مومنِ سالک کئی بار خواب، نیم خوابی، اور بیداری میں روحانی بھونچال کے شدید تجربے سے گزرتا ہے۔
۲۔ سورۂ حج کے شروع (۲۲: ۱ تا ۲) میں زلزلۂ قیامت کی جس شدّت کا ذکر آیا ہے، آپ خود اسے غور سے قرآنِ پاک میں پڑھ لیں، یہاں صرف چند حکمتیں درج کی جاتی ہیں: زلزلۂ قیامت کی سختی کی وجہ سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی۔ حکمت: جب معلم کے عالمِ شخصی میں روحانی بھونچال آتا ہے تو وہ اس کی شدّت
۱۰۷
کے سبب سے اپنے شاگردوں کو بھول جاتا ہے۔ ہر حمل والی اپنے حمل کو گرا دے گی۔ حکمت: معلم کی ہستی میں جتنے ذرّاتِ روحانی ہیں، وہ سب اس کے حمل (بوجھ) اولاد اور شاگرد ہیں، یہ سب کے سب زلزلۂ قیامت کی شدّت کی وجہ سے باہر آتے ہیں۔ اے سالک تجھ کو لوگ مست و مدہوش نظر آئیں گے، لیکن یہ مستی نہیں بلکہ اللہ کا سخت عذاب ہے۔ حکمت: آدمی کی ظاہری مستی اس کیفیت کا نام ہے جس میں وہ عقلی اور فکری چیزوں کو بھول جاتا ہے، چنانچہ جب قیامت آتی ہے تو اپنے ساتھ اسرارِ معرفت کی سب سے عظیم کائنات کو لے کر آتی ہے، اور گزر جاتی ہے، درحالے کہ لوگ مست (بے خبر اور بے ہوش) پڑے رہتے ہیں، پس یہ مستی دراصل عقلی عذاب ہے، جو بڑا عذاب ہے۔
۳۔ سورۂ زلزال (۹۹: ۱ تا ۸) کو قرآنِ حکیم میں پڑھ لیں: جب زمین اپنی سخت جنبش سے لائی جائے گی۔ حکمت: عقل کے مقابل میں روح زمین ہے، اور روح کے مقابل میں جسم زمین ہے، چنانچہ قیامت کے دن زمین میں بھونچال آنے کے یہ معنی ہیں کہ مومنِ سالک کو جسماً و روحاً بڑی سختی سے ہلا دیا جاتا ہے۔ اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینکے گی۔ حکمت: عالمِ شخصی اپنے ہر قسم کے بوجھ کو باہر پھینک دیتا ہے، تا کہ روحانی احوال کے لئے تیار ہو سکے۔ انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہو گیا ہے؟ حکمت: اس عظیم معجزے سے سالک کو بڑی حیرت ہوتی ہے۔
۱۰۸
اس روز زمین اپنی سب خبریں بیان کرے گی۔ حکمت: اس موقع پر عالمِ شخصی کی زمین روحانی باتیں کرتی ہے۔ اس سبب سے کہ تمہارا رب اس کو وحی کرے گا۔ حکمت: چونکہ یہ قیامت ہے، اس لئے اللہ حسبِ وعدہ کلام کرے گا۔ اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہوکر رجوع ہوں گے، تا کہ اپنے اعمال کو دیکھ لیں۔ حکمت: عالمِ شخصی میں جو قیامت گاہ ہے اس کی طرف تمام لوگوں کو جانا لازمی ہے۔ پس جو شخص ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھے گا، اور جو شخص ذرّہ برابر بدی کرے گا وہ اس کو دیکھے گا۔ حکمت: یہ اس نامۂ اعمال کی طرف اشارہ ہے جو روحانی ذرّات پر مبنی ہے۔
۴۔ یہاں بفضلِ خدا اہلِ دانش کے لئے معرفتِ ذات سے متعلق زبردست معلومات ہیں، آج کے دن تک آپ عزیزان پر جتنے اسرارِ قرآن منکشف ہوئے ہیں، وہ ایسے بے بہا اور انمول ہیں کہ دنیا کے تمام خزانے ان کے مقابلے میں ہیچ ہیں، پس یہ خزائنِ حکمت آپ کو مبارک ہوں، ہمیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ ناشکری نہ ہو، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ نیک توفیق عنایت فرمائے! آمین!
۵۔ سورۂ احزاب (۳۳: ۹ تا ۱۱) میں غور سے پڑھیں، جہاں روحانی جنگ اور نمائندہ قیامت کا ذکر ہے، کہ جب سالک اور ذرّاتِ مومنین پر ایک ذرّاتی لشکر حملہ آور ہوا تو اس پر خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے صورِ اسرافیل کی آندھی اور ایک نظر نہ آنے والی آسمانی فوج بھیجی، جیسا کہ قرآن مزید فرماتا ہے: جب دشمن کا وہ ذرّاتی لشکر تمہارے سر اور پاؤں
۱۰۹
سے حملہ کر چکا تھا، تب تمہاری نگاہیں کام نہیں کر سکتی تھیں، کیونکہ تمہاری جان نکل رہی تھی، اور تم لوگ خدا کے ساتھ طرح طرح کے گمان کر رہے تھے، اس موقع پر مومنین کا امتحان کیا گیا اور سخت زلزلہ میں ڈالے گئے۔
۶۔ سورۂ بقرہ (۲: ۲۱۴) میں ہے: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ (آج روحانیت کی جنت میں اور کل مستقل) جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تمہیں اگلے زمانہ والوں کی سی حالت نہیں پیش آئی ؟ انہیں طرح طرح کی تکلیفوں اور بیماری نے گھیر لیا اور زلزلہ میں اس قدر جھنجھوڑے گئے کہ پیغمبر اور ایمان والے جو اس کے ساتھ تھے کہنے لگے: خدا کی مدد کب ہوتی ہے؟ دیکھو خدا کی مدد بہت قریب ہے۔
۷۔ یہ روحانی بھونچال یعنی زلزلۂ قیامت کی معرفت ہے، تا کہ اسی طرح رفتہ رفتہ بعض قرآنی حکمتیں اور اسرارِ روحانیت اہلِ دانش پر مکشوف ہو جائیں، کیونکہ مومن کے سامنے ہر جگہ امتحان ہے، اور سب سے بڑا امتحان بلکہ زبردست امتحانات قرآنِ عظیم میں ہیں، پس ہم بڑی عاجزی سے دعا کرتے ہیں کہ پروردگار اپنے نورِ منزّل کے وسیلے سے ہم سب کی مدد فرمائے تا کہ ہم قرآنِ حکیم سے بانصیب ہو جائیں! آمین!
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
ہفتہ ۱۵ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ ، ۲۱ جون ۱۹۹۷ء
۱۱۰
جنگِ روحانی اور فتحِ اسلام
۱۔ آپ سب کو یہ جان کر بے حد شادمانی ہو گی کہ روحانی جنگ زمانۂ ابو البشر سے جاری و ساری ہے اور ہرعالمِ شخصی میں دینِ فطرت (اسلام) کو اس جہادِ اکبر میں برتری اور فتح حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ سورۂ فتح میں ارشاد ہے: و للہ جنود السماوات والارض (۴۸: ۴، ۴۸: ۷) اور سارے آسمان و زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں۔ اس آیۂ مبارکہ سے یہ مفہوم ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہ زبردست لشکر صرف اس غرض سے ہیں کہ ہر زمانے کے مومنین کی روحانی جنگ میں مدد کریں، اور ان کو غالب و فاتح بنائیں، کیونکہ جہادِ اکبر کی سعادت تمام مومنوں کے لئے ممکن ہے۔
۲۔ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں حربی (جنگی) الفاظ آئے ہیں، وہاں درپردہ روحانی جنگ کا تذکرہ ضرور موجود ہے، جیسے: جنود (لشکر) ، فتح، غالب، جہاد، مجاہدین، حرب، شہید، شہدا، قتال، حزب اللہ، مغانم (غنیمتیں)، مَلک (بادشاہ)، محراب (قلعہ)، ضرب، لبوس (پوشش = زرہ)،
۱۱۱
سرابیل (کرتے)، بأس (جنگ)، غزیٰ، زحف، وغیرہ۔
۳۔ یہ ارشادِ مبارک سورۂ مجادلہ (۵۸: ۲۱) میں ہے: کتب اللہ لا غلبن ان و رسلی ان اللہ قوی عزیز۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات (ازل ہی میں) لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے بے شک اللہ تعالیٰ قوت والا اور غلبہ والا ہے۔ یعنی یہ خدا ہی کی مشیت اور مدد تھی کہ ہر رسولِ ناطق کے دور کے أئمّہ نے اپنے اپنے وقت میں بعنوانِ قیامت روحانی جنگ کی، جس میں ہر بار دینِ حق غالب ہوتا رہا۔
۴۔ مذکورۂ بالا آیت کی ایک تفسیر یہ ہے: یوم ندعوا کل اناس بامامھم (۱۷: ۷۱) اس دن (کو یاد کرو) جب ہم اہلِ زمانہ کو ان کے امام کے توسط سے بلائیں گے۔ اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ اللہ اور ہر دور کے رسول کی جانب سے زمانے کا امام روحانی جنگ کا سردار اور صاحبِ قیامت مقرر ہوا ہے، کیونکہ قانونِ اطاعت یہ کہتا ہے کہ سب سے پہلے اللہ کی اطاعت ہے، اس کے بعد رسول کی اطاعت، اور آخر میں ولیٔ امر یعنی امام کی اطاعت ہے، بعد ازان اور کسی کی اطاعت نہیں بلکہ اب یہاں قیامت کی باری آتی ہے جو روحانی جنگ کی صورت میں دعوتِ حق بھی ہے۔
۵۔ اسلام جو دینِ فطرت ہے، اس میں ہمیشہ تجدّد کا عمل جاری ہے، چنانچہ روحانی جنگ (جو قیامت اور باطنی دعوت بھی ہے) ہر امام کی سرداری میں ہوتی آئی ہے تاکہ حسبِ وعدۂ الٰہی تمام ادیان پر
۱۱۲
اسلام ہر زمانے میں غالب آئے، جیسا کہ سورۂ توبہ (۹: ۳۳) میں ارشاد ہے: ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ = وہی تو (وہ خدا) ہے جس نے اپنے رسول (محمد) کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ (مبعوث کرکے) بھیجا تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ الھدٰی سے مراد قرآنِ صامت اور قرآنِ ناطق (امام) ہیں، جن سے تنزیلی جنگ کے بعد تاویلی جنگ کا اشارہ ملتا ہے۔
۶۔ مذکورۂ بالا آیہ کریمہ سورۂ فتح (۴۸: ۲۸) اور سورۂ صف (۶۱: ۹) میں بھی ہے، اس کا مطلب یہ ہے یہ جہادِ اصغر ظاہر میں تھا، اور جہادِ اکبر باطن میں ہے جو نفسِ امّارہ کے خلاف جنگ کرنے سے شروع ہوکر نمائندہ قیامت اور عالمی روحانی جنگ کی صورت اختیار کرتا ہے، جس کا امیر اور سردار رسولِ پاک کی طرف سے امامِ زمانؑ ہوتا ہے، اور خداوند تعالیٰ کے حکم سے ادیانِ عالم کے تمام لوگ بشکلِ ذرّات دینِ حق میں داخل ہوجاتے ہیں۔
۷۔ سورۂ نساء (۴: ۵۴) میں دیکھ لیں: فقد اٰتینا اٰل ابراہیم الکتاب و الحکمۃ و اٰتینٰھم ملکاً عظیماً۔ ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت بھی دی ہے۔ آلِ ابراہیم کا سلسلہ محمد و آلِ محمد کے سلسلے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، لہٰذا اب آلِ ابراہیم کا نام آلِ محمد بھی ہے، جن کو خدا نے اپنی کتاب (قرآن) کی روح و روحانیت اور حکمت عطا فرمائی ہے، اور روحانیت کی بہت عظیم سلطنت بھی دی ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ روحانی جنگ اّئمّۂ آلِ
۱۱۳
محمد کی سرپرستی میں ہوتی ہے، کیونکہ خدا نے ان کو تمام معنوں میں بادشاہ بنایا ہے، اور شاہی اختیار عطا فرمایا ہے۔
۸۔ حدیثِ شریف ہے: رجعنا من الجہاد الاصغر الی الجہاد الاکبر= ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ جب آنحضرتؐ سے پوچھا گیا کہ جہادِ اکبر کیا شیٔ ہے؟ تو فرمایا: الا وہی مجاہدۃ النفس = اچھی طرح سن لو! جہادِ اکبر مجاہدۂ نفس ہے۔ اگر مجاہدۂ نفس کا مقصد صرف ذاتی اصلاح و نجات تک محدود ہوتا، تو یہ اس ظاہری جہاد کے مقابلے میں ’’اکبر‘‘ نہ ہوسکتا جو تمام مسلمین و مومنین کے مفاد میں ہے، پس معلوم ہوا کہ مجاہدۂ نفس دینِ اسلام کی روحانی جنگ کا سری عنوان ہے، کیونکہ مجاہدہ سے جیتے جی نفس پر کل تجرباتی موت واقع ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ روحانی جنگ اور قیامت شروع ہو جاتی ہے، جس کا بیان تمام قرآن میں پھیلا ہوا ہے۔
۹۔ قرآنِ حکیم کی سب سورتوں یا بعض سورتوں کے آخر میں کوئی بڑا علمی خزانہ ہوتا ہے، اسی طرح کا ایک گنجِ گرانمایہ سورۂ عنکبوت کے خاتمہ میں ہے: و الذین جاہدوا فینا لنھدینھم سبلنا و ان اللہ لمع المحسنین (۲۹: ۶۹) اور جو لوگ ہماری خاطر (اپنے نفس کے خلاف) مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکوکاروں ہی کے ساتھ ہے۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ یہ آیۂ کریمہ جہادِ اکبر کے بارے میں ہے، کیونکہ اگر قرآنِ عزیز میں
۱۱۴
جہادِ اکبر کا کوئی ذکر یا کوئی اشارہ نہ ہوتا تو حدیثِ شریف میں اس کی یہ زبردست تعریف نہ ہوتی۔
۱۰۔ جہادِ اکبر (روحانی جنگ) اور نمائندہ قیامت ایک باطنی چیز ہے جو انبیاء و اولیاء (أئمّہ) علیہم السّلام کے عوالمِ شخصی میں پوشیدہ طور پر چلتی رہی ہے، چنانچہ جب کسی کامل انسان یا کسی عارف پر کلّی قیامت گزرتی ہے تو اس کے اور عوام کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جاتی ہے، جس میں ایک دروازہ ہوتا ہے، اس کے اندر کی جانب رحمت ہوتی ہے، اور باہر کی طرف عذاب (۵۷: ۱۳) یہاں عذاب کے بارے میں جاننا ضروری ہے کہ یہ عقلی عذاب ہے، یعنی علم و حکمت سے محرومی اور جاہلانہ زندگی۔
۱۱۔ حضرتِ قائم القیامت علیہ السّلام ایک فرد تھا اور ایک قوم بھی، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جمع بصورتِ واحد اور واحد بصورتِ جمع کی نظیریں بہت ہیں، جیسے حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کی مبارک ہستی خود ایک امت تھی (۱۶: ۱۲۰) اسی طرح حضرتِ قائم کو روحانی لشکر کی نسبت سے قوم کہا گیا (۵: ۵۴) آپ غور سے سورۂ مائدہ کی اس آیت کا مطالعہ کرکے معلومات حاصل کریں۔
۱۲۔ سورۂ نحل (۱۶: ۸۱) میں ہے: و سرابیل تقیکم باسکم = اور ایسے کرتے بنائے جو تمہاری جنگ سے تمہاری حفاظت کریں۔ یہ اجسامِ لطیف ہیں جو روحانی جنگ کے ضرر سے محفوظ رکھتے ہیں، یاد رہے کہ
۱۱۵
جب خدا مومنین کو اپنی کسی نعمت کا احسان جتلاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ نعمت دوسروں کے پاس نہیں ہوتی، چنانچہ یہ کُرتے دنیا کی چیزیں ہرگز نہیں، بلکہ اجسامِ فلکی ہیں، جو زندہ اور با شعور ہیں۔
۱۳۔ روحانی جنگ کے اس مضمون میں یاجوج و ماجوج کا تذکرہ بھی لازمی ہے، حالانکہ ان کی اصل حقیقت اہلِ ظاہر سے ہمیشہ پوشیدہ رہی ہے، لیکن تجربۂ روحانیت یا روحانی سائنس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یاجوج و ماجوج ذرّاتی لشکر ہیں، جن میں سے بعض آپ کے اپنے ہیں اور بعض دشمن کے، جن کا نمایان ذکر قرآنِ پاک میں دو مقام پر ہے (۱۸: ۹۴، ۲۱: ۹۶) ان کے بارے میں قرآن میں ہے کہ یہ زمین میں فساد کرتے ہیں، اس سے روحانی جنگ اور اصلاح مراد ہے۔
۱۴۔ جہادِ اکبر (روحانی جنگ) کا تذکرہ قصّۂ آدمؑ سے شروع ہوتا ہے کہ فرشتوں نے کہا: آیا تو زمین میں ایسے شخص کو خلیفہ مقرر کرتا ہے جو اس میں فساد اور خونریزیاں کرے گا (۲: ۳۰) فرشتوں کے اس اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اگلے آدمؑ کی روحانی جنگ کو دیکھا تھا، مگر وہ اس بات کو نہیں جانتے تھے کہ روحانی جنگ میں بے شمار فائدے پوشیدہ ہیں، الغرض حضرتِ آدمؑ کی روحانیت میں یاجوج و ماجوج کی لڑائی ہوئی تھی، کیونکہ لشکرِ ارواح وہی ہیں۔
۱۵۔ حدیثِ شریف ہے: الارواح جنود مجندۃ = تمام روحیں جمع شدہ لشکر تھیں/ہیں۔ یعنی ہر انسانِ کامل کی روحانی جنگ میں جملہ روحوں
۱۱۶
نے لشکرِ خیروشر کی حیثیت سے کام کیا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں مخفی ہیں، یہاں سے معلوم ہوا کہ روح ہر انسانِ کامل کے عالمِ شخصی میں حاضر ہو سکتی ہے، جیسے عہدِ الست کا واقعہ ہے کہ عارفین و کاملین میں اس کا تجدّد ہوتا رہا ہے، کیونکہ اللہ کی سنت قدیم ہے، لہٰذا اس کے خاص بندوں کی روحانیت میں تمام بنیادی چیزیں ایک جیسی ہوا کرتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ روحانیت و قیامت اپنی نوعیت کے تجدّد کا ایک سلسلہ ہے، جس کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ کوئی انتہا۔
۱۶۔ چونکہ جہادِ اکبر نفس کے خلاف ہے، اس لئے یہاں شروع ہی میں یہ معلوم ہوا کہ یہ جنگ عقل اور علم کی فوقیت و فتح کی غرض سے ہے، پس روحانی جنگ میں عقل و دانش اور علم و حکمت کی بڑی زبردست اہمیت ہے، اور اس کے بغیر فتحمندی کا کوئی تصور ہی نہیں، لہٰذا آپ سب علم و حکمت کی بھرپور طاقت کے ساتھ جہادِ اکبر کریں، ان شاء اللہ، آپ کی کوشش رائگان نہیں جائے گی۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
بریسپت ، ۲۰ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ ، ۲۶ جون ۱۹۹۷ء
۱۱۷
ربّانی نوازش کی عالی شان حکمتیں
۱۔ اگر آپ انبیاء علیہم السلام کے قرآنی قصّوں میں گہری نظر سے دیکھیں گے تو یقیناً آپ کو بڑی حیرت انگیز خوشی ہوگی کہ حضرتِ ربِّ جلیل و کریم نے اپنے پیارے انبیاء و اولیاء کے ساتھ ساتھ حقیقی مومنین کو بھی جملہ باطنی نعمتوں سے نوازا ہے، ہم ( ان شاء اللہ) اس کی چند مثالیں قصّۂ آدم سے شروع کرتے ہیں۔
۲۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ آدم علیہ السّلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا تھا (خلق اللہ اٰدم علیٰ صورتہ۔ الحدیث) اور حدیثِ شریف میں یہ ارشاد بھی ہے کہ جو شخص بھی جنّت میں جائے آدم علیہ السّلام کی صورت کے مطابق ہوکر جائے گا (کل من یدخل الجنۃ علیٰ صورۃ اٰدم۔ الحدیث) یعنی ایسے نیک بخت مومن کا عقلی تولد حظیرۂ قدس میں آدمؑ ہی کی طرح ہوجاتا ہے، کیا یہ آدمؑ اور اولادِ آدمؑ پر خداوندِ قدوس کا احسانِ عظیم نہیں ہے؟ دوسری بہت بڑی نوازش یہ ہے کہ جب فرشتوں نے حضرتِ آدمؑ کو سجدہ کیا تو اس حال میں
۱۱۸
بنی آدم اپنے باپ کے سانچے میں ڈھل ڈھل کر کاپیاں ہو گئے تھے (۷: ۱۱)۔
۳۔ آدم و بنی آدم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں، کہ اس مہربان نے آدمؑ کو تاجِ خلافت سے سرفراز فرمایا، اور اس کی اولاد کے حقیقی مومنین سے وعدہ فرمایا کہ عنقریب ان کو بھی اگلے خاص مومنین کی طرح کائناتی زمین کی خلافت عطا کی جائے گی (۲۴: ۵۵) یاد رہے کہ روحانیت و نورانیت میں اس کائنات کی بے شمار کاپیاں ہیں، تا کہ بے شمار مومنین کو خلافتِ کبریٰ عطا ہو جائے، جو روحانی سلطنت بھی ہے۔
۴۔ حضرتِ نوح علیہ السلام کی کشتیٔ ظاہر مثال تھی اور کشتیٔ باطن ممثول، سفینۂ باطن ایک اسمِ اعظم اور اس کا ذکر تھا، اور اہلِ سفینہ ایک روحانی وحدت (یک حقیقت) تھے، چنانچہ یہ سفینہ عرشِ سماوی اور عرشِ ارضی (تخت بر آب) تک رسا ہو گیا، عرشِ سماوی تک رسائی اس معنی میں کہ طوفان تھم جانے کے ساتھ کشتی کوہِ جودی پر جا کر ٹھہر گئی تھی (۱۱: ۴۴) اور جودی گوہرِ عقل کا ایک نام ہے جو نورِ عرش ہے، اور عرشِ ارضی تک کشتی کی رسائی اس طرح سے ہے کہ سفینۂ نوح پانی پر خدا کا عرش ہے (۷: ۱۱) پس یہ بہت بڑا مسرت انگیز سوال ہے کہ آیا یہ خدائے بزرگ و برتر کا انتہائی عظیم احسان نہیں ہے کہ اس نے اہلِ ایمان کی روحوں کو نہ صرف بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا بلکہ عرشِ سماوی اور عرشِ ارضی پر بھی بٹھا دیا (۳۶: ۴۱، ۱۱: ۷)؟ اب یہ سوچنا ہے کہ سفینہ جو پہلے ہی سے بھرا ہوا تھا اس میں کون سے لوگ
۱۱۹
بیٹھے تھے؟ کیا یہ مونوریالٹی (یک حقیقت) کا سرِ اعظم نہیں ہے کہ یہی تمام مومنین اس کشتی میں پہلے ہی سے سوار تھے؟ الحمدللہ۔
۵۔ سورۂ صافات (۳۷: ۷۹) میں ارشاد ہے: سلٰم علیٰ نوح فی العالمین = عوالمِ شخصی میں نوحؑ پر سلامتی ہے۔ یعنی ہر عالمِ شخصی میں ہمیشہ نوح کی روحانی ہستی اور پرحکمت عملی زندگی ہو گی، تا کہ اہلِ ایمان اپنی روحانی زندگی میں انبیاء و اولیاء کی رفاقت سے مستفیض و مستفید ہوسکیں، سورۂ صافات میں اور بھی مقدّس ہستیوں پر اسی طرح کا سلام ہے، اور ایک بابرکت ارشاد یہ بھی ہے سلٰم علیٰ اٰل یاسین (۳۷: ۱۳۰) ہر عالمِ شخصی میں آلِ محمد پر سلامتی ہے۔ یعنی عارفین و کاملین کے عالمِ شخصی میں امامِ زمان علیہ السّلام موجود ہوتا ہے۔
۶۔ قرآنِ حکیم میں حضرتِ سید الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکرِ جمیل سب سے زیادہ بلکہ بڑی کثرت سے بلکہ تمام قرآن میں ہونا ہی تھا، وہ ہو چکا ہے، اور یہ روشن حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قرآنِ کریم جیسی بے مثال اور لاثانی کتاب آپ ہی کی ذاتِ اقدس پر نازل ہوئی ہے، لہٰذا حضورِ پاک کا اسمِ مبارک ’’محمد‘‘ قرآنِ عزیز میں صرف چار مرتبہ آیا ہے، اور باقی پانچ عظیم پیغمبروں کے بابرکت اسماء قرآنِ مجید میں اس طرح سے ہیں: آدمؑ ۲۵ دفعہ، نوحؑ ۴۳ دفعہ، ابراہیمؑ ۶۹ دفعہ، موسیٰؑ ۱۳۶ دفعہ، اور عیسیٰؑ ۲۵ دفعہ، میرا مضمون بہت مختصر ہے، اس لئے میں صرف حضراتِ ناطقوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔
۱۲۰
۷۔ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کے قصۂ قرآن میں اہلِ ایمان کے لئے بے پایان رحمتیں اور برکتیں ہیں، جیسے حضرتِ ابراہیمؑ کا یہ قول جو قرآن میں ہے: فمن تبعنی فانہ منی (۱۴: ۳۶)۔ پس جو شخص میری پیروی کرے تو وہ مجھ سے ہے۔ یعنی جو شخص راہِ دین اور طریقِ روحانیت پر میرے پیچھے پیچھے چلے تو وہ میرا روحانی فرزند ہے، وہ میری روحانی ہستی کا حصہ ہے یا آلِ ابراہیمؑ میں سے ہے، کیونکہ منازلِ روحانیت میں میرے پیچھے چل کر وہ وہی معجزات دیکھے گا جو میں نے دیکھے ہیں، اور بالآخر حظیرۃ القدس میں ایسے تمام لوگ میرے ساتھ ایک ہو جائیں گے۔
۸۔ حضرتِ ابراہیم اپنے وقت میں ایک عظیم فردِ پیغمبر بھی تھے اور ایک فرمانبردار امت بھی (۱۶: ۱۲۰) وہ سب لوگ جو اپنے پیغمبر کے عالمِ شخصی میں داخل ہو کر امتِ واحدہ ہو گئے کتنے خوش نصیب تھے! ہاں یہ سچ ہے کہ ہر پیغمبر اور ہر امام کا عالمِ شخصی مومنین و مومنات کا روحانی وطن ہوتا ہے، اور یہ عالمِ شخصی جسمانی بھی ہے اور نورانی بھی۔
۹۔ ترجمۂ آیۂ کریمہ (۲: ۱۲۴): اور جب ابراہیم کو ان کے ربّ نے چند کلمات میں آزمایا اور انہوں نے پورا کر دیا تو خدا نے فرمایا میں تم کو سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں، ابراہیم نے عرض کی اور میری اولاد میں سے (خدا نے) فرمایا جو ظالم ہوں گے وہ میرے عہد سے فائدہ نہ اٹھائیں گے۔ سوال: چند کلمات کیا تھے؟ جواب: اسمائے عظام اور کلماتِ تامّات، سوال: حضرتِ ابراہیم کن کن لوگوں کے امام مقرر ہو گئے تھے؟ جواب:
۱۲۱
اوّلین، حاضرین، اور آخرین یعنی سب لوگوں کے امام ہو گئے تھے، کیونکہ جب کوئی شخص خدا کے حکم سے امام ہوجاتا ہے تو وہ سلسلۂ نورٌعلیٰ نور کے مطابق ہر زمانے کا امام ہوتا ہے، سوال: یہاں ظالم کے مقابلے میں عادل کا بھی اشارہ ہے تو منصبِ امامت میں عادل کون ہے اور ظالم کون؟ جواب: عادل حضرتِ ابراہیمؑ اور ان کی آل ہیں، کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ وار أئمّہ بنایا تا وقتی کہ دنیا میں لوگ ہیں (۳: ۳۳، ۴: ۵۴) اور امام ہمیشہ عادل ہی رہتا ہے، لیکن جو شخص از خود امام بن جاتا ہے وہ ظالم ہے، اس کی نسل میں یہ جعلی امامت نہیں ٹھہر سکتی ہے۔
۱۰۔ ترجمۂ آیۂ کریمہ (۲: ۱۲۵) اور جب ہم نے خانۂ کعبہ کو لوگوں کے ثواب اور پناہ کی جگہ قرار دی، اور (حکم دیا کہ) ابراہیم کی جگہ کو نماز کی جگہ بناؤ۔ یعنی امام کی نورانی معرفت کو لوگوں کے ثواب اور پناہ کی جگہ قرار دی، اور اس معرفت کے سلسلے میں مرتبۂ عقل تک جانے کا حکم ہوا، جہاں حق الیقین کا مرکز ہے۔
۱۱۔ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کے قصۂ قرآن میں ایمان والوں کے لئے جو جو بشارتیں ہیں، ان میں سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، کہ عصائے موسیٰؑ سے اسمِ اعظم مراد ہے، حجرِ مکرم کی تاویل اساس (ہارونؑ) ہے، بارہ چشمے بارہ حجّت ہیں، چنانچہ حضرتِ موسیٰؑ نے جب حضرتِ ہارون کو اسمِ اعظم کی تعلیم دی، تو مولانا ہارونؑ کے مبارک دل سے بیک وقت بارہ حجّتوں کے لئے روحانی علم کا پانی جاری ہوا (۲: ۶۰) یہ علمی معجزہ ہر زمانے کے امام میں ہوتا ہے۔
۱۲۲
۱۲۔ سورۂ یونس (۱۰: ۸۷) میں ہے، ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی (ہارون) کے پاس وحی بھیجی کہ مصر (عالمِ شخصی) میں اپنی قوم کے لئے گھر بناؤ اور اپنے اپنے گھروں کو قبلہ بناؤ (یعنی خانۂ دل خانۂ خدا بناؤ) اور اسی میں نماز پڑھو، اور مومنین کو خوشخبری دے دو۔ یعنی جو کچھ تم نے دیکھا ہے اور جو معرفت حاصل ہوئی ہے اس کے وسیلے سے مومنین کو علمی قوّت اور بشارت دو تا کہ وہ بھی کوشش کر کے آگے بڑھیں، کیونکہ پیغمبر اور امام کی روحانی تعلیم نہ صرف زبردست مؤثر ہے بلکہ اس میں خوشخبری بھی ہے۔
۱۳۔ یہ سورۂ مائدہ کے ایک مثالی ارشاد (۵: ۲۰) کا ترجمہ ہے: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم جو نعمتیں خدا نے تم کو دی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ اس نے تم میں (یعنی تمہارے عالمِ شخصی میں) پیغمبر بنائے اور تم کو سلاطین بنایا اور تمہیں وہ دیا جو اہلِ زمانہ میں سے کسی کو بھی نہ دیا۔ یہ خطاب صفِ اوّل کے مومنین سے ہے، جن کے عالمِ شخصی میں انبیاء کا ظہور ہوتا ہے، جو امام کی روحانی اور عقلی کاپیوں کی وجہ سے بہشت میں بادشاہ ہوتے ہیں، کیونکہ امام ہی بادشاہ ہے اور اس کی باطنی کاپیاں بادشاہ ہیں، اور امامت ہی وہ بے مثال چیز ہے جو دنیا کی دوسری قوموں میں نہیں ہوتی ہے۔
۱۴۔ فاقتلوا انفسکم (۲: ۵۴) کی حکمت ہے: تم میں سے ہر ایک مجاہدہ سے اپنے نفس کو قتل کرے۔ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں معرفت
۱۲۳
کے عظیم اسرار موجود ہیں، وہاں سخت حجاب کی غرض سے بڑا حکیمانہ امتحان ہے، جیسے بنی اسرائیل کے ان لوگوں کے بارے میں ہے جو جیتے جی مر رہے تھے، یعنی وہ منزلِ عزرائیلی میں تھے، ترجمہ ہے: پھر تم کو موت نے آپکڑا اور تم (اس حالت کو) دیکھ رہے تھے (۲: ۵۵) پھر تمہیں تمہارے مرنے کے بعد ہم نے جِلا اٹھایا تا کہ تم شکر کرو (۲: ۵۶) یہ جسمانی موت نہیں بلکہ نفسانی موت تھی، جس سے روحانیت کا دروازہ کھل جاتا ہے، اور بڑے پیمانے پر باطنی نعمتیں شروع ہوتی ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہوتا ہے۔
۱۵۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصے میں بھی مومنین کے لئے بہت سے علمی و عرفانی فائدے ہیں، ان سب کا بیان اس مختصر مقالے کی گنجائش سے باہر ہے، لہٰذا یہاں صرف چند مثالوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے، یہاں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ پیغمبر اور امام لفظی اور شخصی اسمِ اعظم ہیں، چنانچہ حضرتِ مریم سلام اللہ علیہا کو لفظی اسمِ اعظم (کلمہ) دیا گیا تھا، اسی میں حضرتِ عیسیٰؑ کا نور بحدِ قوّت موجود تھا (۴: ۱۷۱) یہی سبب ہے کہ حضرتِ امامِ عالی مقام بعض مریدوں کو اسمِ اعظم کی تعلیم دیتا ہے تا کہ خصوصی بندگی اور ریاضت سے ان میں امام کا نور طلوع ہو جائے۔
۱۶۔ سورۂ آلِ عمران (۳: ۴۹) اور سورۂ مائدہ (۵: ۱۱۰) میں ہے کہ حضرتِ عیسیٰؑ خدا کے اذن سے کچھ خاص پرندے بناتے تھے، یہ ان کی روحانی اور عقلانی ہستی کی بے شمار کاپیاں تھیں، جن کو فرشتے اور جامہ ہائے
۱۲۴
جنّت بھی کہہ سکتے ہیں، اور یہ باطنی معجزہ ہر انسانِ کامل کا ہے، تا کہ جنّت میں اس لباس کو پہن کر اہلِ ایمان پرواز کر سکیں، اس کے علاوہ ایسے مبارک لباس میں کون سا معجزہ نہیں ہوسکتا ہے، یقیناً یہی معجزاتی چیزیں بازارِ جنّت کی زندہ تصویریں بھی ہیں، جن کا ذکر حدیثِ شریف میں ہے، آپ ہزار حکمت میں دیکھ لیں۔
۱۷۔ فیضِ روح القدس ار باز مدد فرماید + دیگران ہم بکنند آنچہ مسیحا می کرد
حضراتِ انبیاء علیہم السلام کے تقریباً سب معجزات تاویلی ہوتے ہیں، لہٰذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کے اکثر معجزے بھی تاویلی اور باطنی تھے، مثال کے طور پر مادر زاد اندھے کو ظاہری بینائی بخشنا، اس کی تاویل یہ ہے کہ حضرتِ عیسیٰؑ اپنے پراثر علم کی تعلیم سے لوگوں کے باطن میں چشمِ بصیرت پیدا کر دیتا تھا اسی طرح مردۂ جسمانی کو زندہ کرنے کی تاویل ہے: مردۂ جہالت و نادانی کو حقیقی علم کی روح میں زندہ کرنا، وغیرہ۔
۱۸۔ حضرتِ محمد مصطفی رسول اللہ حبیبِ خدا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ عالی صفات اوّلین و آخرین کے تمام عوالمِ شخصی کے لئے سرچشمۂ رحمت ہے، جیسا کہ اللہ جلّ شانہ نے ارشاد فرمایا: و ما ارسلنٰک الا رحمۃ اللعٰلمین (۲۱: ۱۰۷) اے رسول ہم نے تو تم کو تمام عوالمِ شخصی کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ عوالمِ شخصی کن کن
۱۲۵
خلائق کے ہوتے ہیں؟ جنّ، انس، ملائک، رسل، انبیاء، اولیاء، عرفاء، حکماء، علماء ، وغیرہ کے عوالمِ شخصی ہوتے ہیں، الغرض سب کے لئے رحمتِ کل آنحضرتؐ کا نورِ پاک ہے۔
۱۹۔ ترجمۂ ارشادِ مبارک از سورۂ احزاب: درحقیقت تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے (۳۳: ۲۱) پیغمبرِاکرم کا اسوۂ حسنہ (بہترین نمونہ = بہت اچھا نمونہ) نہ صرف ظاہری علم وعمل میں ہے بلکہ یہ روحانی ترقی کے لئے بھی ہے، پس یقیناً اس پُرحکمت تعلیم میں شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا اشارہ ہے، رسولِ پاک کو دنیا (یعنی روحانی معراج) میں اللہ کا دیدار ہوا تھا، آیا نبیٔ اکرم کے اسوۂ حسنہ میں معرفتِ معراج یا معرفتِ ربّ کا اشارہ موجود ہے یا نہیں؟ مذکورہ آیۂ مبارکہ میں اللہ کی امید پہلے ہے، اور آخرت کی امید بعد میں، اس سے یہ معلوم ہوا کہ آخرت سے پہلے بھی خدا کا دیدار ہوتا ہے، اور یہ معرفت ضروری ہے، ورنہ قرآن کو سخت اعتراض ہے ۔۔۔۔(۱۷: ۷۲)۔ شروع شروع میں علم الیقین آپ کو عین الیقین کی نمائندگی کرے گا، یہ حقیقت قرآنِ عزیز (۱۰۲: ۵ تا ۷) میں ہے۔
۲۰۔ جب قرآن اور اسلام میں صراطِ مستقیم اور اس کے لوازم کی بہت بڑی اہمیت ہے تو منزلِ مقصود کی بڑی زبردست اہمیت کیوں نہ
۱۲۶
ہو؟ ہم اچھی طرح کیوں نہیں سوچتے کہ منزلِ مقصود کیا ہے؟ یا کون ہے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے صراطِ مستقیم کی آخری منزل نہ بتا دی ہو؟ یقینا آنحضرتؐ نے اپنے قول و فعل دونوں سے اس کی رہنمائی اور نشاندہی فرمائی ہے، اور اس سے پہلے قرآنِ حکیم کی روشن ہدایت ہے، جیسے ارشاد ہے: انا للہ و انا الیہ راجعون (۲: ۱۵۶) ہم تو خدا ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہم اللہ کے قربِ خاص سے آئے ہیں اور ہمیں لوٹ کر اسی قرب میں جانا ہے، اس میں دیدار اور معرفت کا اشارہ خود بخود موجود ہے۔
۲۱۔ رجوع الی اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب کوئی عظیم روح (نفسِ واحدہ) خدا کی طرف واپس جاتی ہے تو اس میں کائنات بھر کے لوگ روحاً فنا ہوچکے ہوتے ہیں، لہٰذا وہ خدا کے پاس دو معنوں میں جاتی ہے۔ (۱) وہ اکیلی جاتی ہے ۔ (۲) سب کو لے کر جاتی ہے یا سب ایک ساتھ جاتے ہیں، لیکن یہ بڑی عجیب بات ہے کہ یہ عظیم روح آخراً خود بھی خدا میں فنا ہوجاتی ہے، میرا خیال ہے کہ یہ معرفت کا بہت بڑا راز ہے، مگر ہاں، اس کی وضاحت الگ ہے۔
۲۲۔ اب یہ حقیقتِ عالیہ بڑی حد تک قابلِ فہم ہوگئی کہ جب رحمتِ عالمین روحانی معراج پر تشریف لے گئے تھے، اس وقت سارے جہان کی روحیں بحالتِ فنا آپ کے ساتھ موجود تھیں، یہ حضورِ اکرمؐ کا عالمِ
۱۲۷
اسلام اور عالمِ انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے، اب اگر یہاں یہ سوال ہو کہ محبوبِ خدا کے علاوہ انبیاء و اولیاء وغیرہ مشاہدۂ معراج سے سرفراز ہوئے ہیں یا نہیں؟ اس کا جواب نفی میں نہیں، اثبات میں ہے، لیکن سوال در سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کائناتِ ظاہر و باطن اور خود معراج کس محبوبِ خدا کے نام پر ہے؟ صاحبِ لولاک کون ہے؟ وہ نورِ اقدس کس کا تھا جو سب سے پہلے پیدا کیا گیا؟ سید الانبیاء کس کا لقب ہے اور کیوں؟ تمام عوالم کے لئے خدا کی رحمت کون ہے؟ وہ محسنِ اعظم کون ہے جس نے سردارِ انبیاء کی مرتبت میں تمام پیغمبروں اور امتوں کو بحدِ قوّت معراج تک پہنچا دیا؟ ان جیسے بہت سے سوالات کا واحد جواب صرف اور صرف حضرتِ محمد رسول اللہ کے مبارک نام سے دیا جا سکتا ہے۔
۲۳۔ اب یہ بتانا آسان ہوگیا کہ معراج ہر پیغمبر، ہر ولی (امام) اور ہر عارف کے لئے بے حد ضروری ہے، کیونکہ حظیرۃ القدس مقامِ معراج کا نام ہے، جہاں خزائنِ الٰہی موجود ہیں، اور علم و معرفت کی کوئی ایسی چیز نہیں جہاں وہ نہ مل سکے، لہٰذا معراج کے بغیر کوئی علم، کوئی حکمت، اور کوئی معرفت مکمل نہیں، پس قرآنِ حکیم میں یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کسی پیغمبر کی معراج کا اشارہ کہاں کہاں ہے، الغرض انسانِ کامل کی معراج کی نشاندہی ہوسکتی ہے، ان شاء اللہ اس کے لئے ایک الگ مضمون
۱۲۸
ہو گا، الحمد للہ ربِّ العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
اکۛارو ۲۵ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ، یکم جولائی ۱۹۹۷ء
۱۲۹
معراج اور معارج
۱۔ حدیثِ شریف میں آیا ہے کہ: القراٰن ذلول ذو وجوہ فاحملوہ علیٰ احسن وجوھہ = یعنی قرآن بہت ہی رام ہونے والی چیز ہے، اور وہ متعدد پہلو (وجوہ) رکھتا ہے، لہٰذا تم اسے اس کی بہترین وجہ پر محمول کرو۔ (الاتقان، حصۂ دوم، نوع اٹھتر)۔ اس حدیثِ شریف میں نورِ نبوّت کی ایسی درخشندہ و تابندہ روشنی ہے کہ جس سے اہلِ علم و دانش کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، اور یہ حقیقت کلّی طور پر واضح اور نمایان ہو جاتی ہے کہ تمام قرآنی الفاظ اور معانی و مطالب یقیناً ایسے انمول جواہر کی طرح ہیں، جن کے متعدد پہلووں کی چمک دمک سے ناظرین کو بڑی حیرت ہوتی ہو۔
۲۔ سورۂ معارج کی چار ابتدائی آیات کا ترجمہ: ایک پوچھنے والے نے (براہِ تجربۂ معرفت) کافروں کے لئے ہو کر رہنے والے عذاب کے بارے میں پوچھا جس کو کوئی ٹال نہیں سکتا جو سیڑھیوں والے خدا کی طرف سے ہے ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں
۱۳۰
ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے (۷۰: ۱ تا ۴) یہ درپردہ روحانی قیامت کا تذکرہ ہے، جس میں عذاب اور رحمت کے دو پہلو ہیں، یہ شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر سوال کرنے والا شخص مومنِ سالک اور عاشقِ صادق ہے جو دیدار کے لئے جی رہا ہے اور دیدار کے لئے مر رہا ہے، خدائے تعالیٰ کی ایک صفت ذی المعارج ہے، یعنی سیڑھیوں والا، چونکہ لفظِ معارج جمع اور معراج واحد ہے، اس لئے ذی المعارج کا قابلِ فہم مطلب ہے ’’معراجوں کا مالک‘‘، یعنی خدا کی خدائی میں انبیاء ، اولیاء، اور عارفین کی بہت سی معراجیں ہیں۔
۳۔ اگرچہ ہر پیغمبر کا روحانی سفر یا اس کی ذاتی قیامت مختلف درجات کی ایک سیڑھی (معراج) ہے، جو حظیرۃ القدس تک پہنچ جاتی ہے، لیکن اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ حضرتِ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی معراجِ شریف تمام معراجوں کی سردار ہے، جبکہ رسولوں کے فضائل کے درجات ہیں، جبکہ آنحضرتؐ بلاشبہ تمام پیغمبروں کے سیّد (سردار) ہیں، جبکہ آپ سب کے لئے سرچشمۂ رحمتِ الٰہی ہیں، پس یہ سچ ہے کہ محبوبِ خدا کی معراج سب سے افضل ہے، اور باقی معراجیں سردارِ رسل ہادیٔ سبل صلعم کے نقشِ قدم پر چل کر عملی معرفت کی غرض سے ہیں، اور اسی طرح یہ روحانی عروج نہ ہو تو خود شناسی اور خدا شناسی محال ہے۔
۴۔ ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، روح سے
۱۳۱
مراد انسانِ کامل یعنی نفسِ واحدہ ہے اور ملائکہ ذیلی روحیں ہیں، نورِ ہدایت کا بڑا زبردست معجزہ ہے کہ وہ منزلِ سعی (دوڑنا) سے ہر کامل کو بڑی سرعت کے ساتھ آگے لے جاتا ہے، اور اب کم وقت میں عارف حظیرۂ قدس میں پہنچ جاتا ہے، ورنہ یہ راستہ بقولِ قرآن پچاس ہزار (۵۰۰۰۰) سال کی مسافت پر مبنی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہلِ معرفت سے عوام الناس پچاس ہزار سال پیچھے ہیں۔ ببین تفاوتِ راہ از کجاست تا بکجا۔
۵۔ سوال: قرآنِ مقدس میں ہے: فبعث اللہ النبیین (۲: ۲۱۳) اگر اس میں بھیجنے کے معنی ہیں تو اللہ پاک نے اپنے پیغمبروں کو کہاں کہاں سے بھیجا؟ اگر یہ مرکر زندہ ہو جانے کے معنی میں ہے تو یہ معجزہ کس مقام پر ہوا؟ جواب: دونوں معنی درست ہیں، چنانچہ یہ حضرات منزلِ عزرائیلی میں بھی مر کر زندہ ہو گئے تھے، اور مرتبۂ عقل پر بھی، پس ان کو مقامِ عقل (قربِ الٰہی) سے بھیجا گیا۔ سوال: عالمِ شخصی میں مقامِ عقل کہاں ہے؟ جواب: انسانِ کامل کی مبارک جبین میں۔
۶۔ ترجمۂ آیۂ دوازدہم از سورۂ یاسین (قلبِ قرآن ، ۳۶: ۱۲): ہم ہی یقینا مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو کچھ افعال انہوں نے کئے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں، اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک پیشوائے ظاہر میں گھیر کر رکھا ہے۔ خدا ہر قسم کے مردوں کو زندہ کرتا ہے، لیکن کاملین کی موت و
۱۳۲
حیات کا سب سے بڑا معجزہ منزلِ عزرائیلی اور منزلِ عقل میں ہے، پس یہ ایک ضروری سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا جس طرح انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کو زندہ کرتا ہے، اور جیسے ان کے پیغمبرانہ اور اولیائی کارناموں کو اور ان کے آثار کو ریکارڈ کرتا ہے وہ کہاں ہے؟ اس کا جواب دور نہیں، بلکہ ساتھ ہی ہے، اور وہ یہ ہے: اور ہم نے ہر چیز کو ایک پیشوائے ظاہر میں گھیر کر رکھا ہے۔
۷۔ بیانِ بالا سے معلوم ہوا کہ امامِ مبینؑ کا مرتبہ حظیرۃ القدس (احاطۂ مقدّس) ہے جس میں باطنی کائنات لپیٹی ہوئی ہے، پس امامِ مبینؑ میں سب کچھ ہے، ہر چیز ہے، پیغمبرانہ اور اولیائی کارنامے بھی ہیں، اور ان سب کی معراجیں بھی ہیں، یہ وصف ہر زمانے کے امام کے لئے ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے ہر امامِ برحق کو صاحبِ قیامت بنایا ہے (۱۷: ۷۱) اور قیامت وہ وقت ہے، جس میں ماضی ، حال، اور مستقبل کے سب لوگ امامِ وقت کے عالمِ شخصی میں جمع ہوتے ہیں (۵۶: ۴۹ تا ۵۰) اسی طرح ہر امام میں قیامت کا تجدّد ہوتا رہا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: و تلک الایام نداولھا بین الناس (۳: ۱۴۰) یہی (سات) دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ پس قیامت دین کا سنیچر ہے، جس کو بار بار آتے رہنا ہے۔
۸۔ حضرتِ آدم علیہ السّلام کی معراج کے ثبوت میں دو علمی وعرفانی شہادتیں پیش کی جاتی ہیں، پہلی شہادت یہ ہے کہ جس مقام پر خدا نے
۱۳۳
آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا تھا وہ معراج کا مقام تھا، کیونکہ یہ کام صرف بہشت میں ہوسکتا ہے اور مقامِ معراج بہشت کا حصہ ہے، دوسری شہادت یہ ہے کہ چیزیں دو دو ہیں، چنانچہ فرشتوں نے حضرتِ آدم کو پہلے عالمِ شخصی کی زمین پر سجدہ کیا، اس کے بعد جس وقت آدم عالمِ شخصی کے آسمان پر گیا اور حظیرۃ القدس میں داخل ہو گیا تو پھر وہاں فرشتوں نے اس کو دوسرا سجدہ کیا، اب سارے فرشتے مل کر ایک فرشتہ ہوگئے تھے، کیونکہ یہ مقامِ معراج تھا جو مقامِ وحدت ہے۔
۹۔ حضرتِ ادریس علیہ السّلام کی معراجِ روحانی کے بارے میں یہ آیۂ شریفہ ہے: ور فعنٰہ مکانا علیا (۱۹: ۵۷) اور ہم نے اسے (روحانیت کے) بہت اونچے مقام پر اٹھایا تھا۔ لوگ عالمِ شخصی کے اسرار سے بے خبر ہیں، جس کی وجہ سے انبیاء واولیاء علیہم السّلام کے بھیدوں کو اس مادّی کائنات میں ڈھونڈتے ہیں، حضرتِ ادریسؑ کو قرآنِ پاک میں صدّیق کے لقب سے یاد فرمایا گیا ہے (۱۹: ۵۶) صدّیق صاحبِ تاویل کو کہتے ہیں جو اپنی تاویل سے آسمانی کتاب یا کتب کی تصدیق کرتا ہے، کتاب کی تصدیق سے اس پیغمبر کی تصدیق ہوتی ہے جس کی وہ کتاب ہے اور آسمانی کتاب کی تاویل کوئی شخص نہیں جانتا، مگر پیغمبر، امام، اور حجّت، حجّت کی مثال مریم علیہا السّلام ہے، ہم ان شاء اللہ، معراجِ مریم کا بھی ذکر کریں گے۔
۱۰۔ حضرتِ ہود علیہ السّلام کی معراج کا اشارہ سورۂ ہود کے اس
۱۳۴
ارشاد میں ہے: ان اجری الا علی الذی فطرنی (۱۱: ۵۱) میرا اجر تو اس کے ذمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ یہاں فطرنی میں حظیرۂ قدس میں انسانِ کامل کے عقلی تولد کے معنی ہیں، جس میں وہ رحمان کی صورت پر پیدا ہوتا ہے، پس یہی آیۂ شریفہ حضرت ہودؑ کی معراج کی دلیل ہے، جیسے آیۂ کریمہ کا ترجمہ ہے: (اے رسول مقامِ عقل پر) اپنا چہرۂ جان دین کے لئے قائم کرو حنیف (موحّد) ہوکر، خدا کی (ازلی) آفرینش وہ ہے جس پر اس نے (ازل میں) لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی (اس) خلق میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی دینِ قائم ہے، مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں (۳۰: ۳۰)۔
۱۱۔ حضرتِ صالح علیہ السلام نے قومِ ثمود سے کہا: انی لکم رسول امین (۲۶: ۱۴۳) میں تو یقیناً تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں۔ امین کے تین معنی ہیں: امانتدار، امن والا، معتبر، جس کو قرآنِ حکیم میں امین کہا گیا ہے، وہ معراجی اسرار اور علم و معرفت کا امانتدار ہوتا ہے، وہ کلّی طور پر امن والا اور کاملاً معتبر ہوتا ہے، ہم یہ اس لئے کہتے ہیں کہ قرآن کے ہر خاص لفظ میں حکمتِ بالغہ مخفی ہوتی ہے، یعنی ایسی بلند ترین حکمت جو عرش، کرسی، قلم، لوح اور کلمۂ باری تک پہنچی ہوئی ہے، اور کتابِ مکنون کو چھو رہی ہے، کیونکہ یہ معراجی بہشت کی بلندی سے آئی ہے، پس اہلِ معرفت آپ کو حکمتِ بالغہ کی روشنی میں انبیاء و اولیاء (أئمّہ) علیہم السّلام کی معراجوں (معارج) کی نشاندہی کرسکتے ہیں، کیونکہ دینِ اسلام کی باطنی نعمتوں (۳۱: ۲۰)
۱۳۵
سے عرفانی نعمتیں مراد ہے۔ الحمد للہ۔
۱۲۔ سورۂ انبیاء (۲۱: ۷۱) میں حضرتِ ابراہیم اور حضرتِ لوط علیہما السلام سے متعلق ارشاد ہے: و نجینٰہ و لوطا الی الارض التی برکنا فیھا للعٰلمین۔ اور ہم نے ابراہیم اور لوط کو اس زمین میں پہنچا کر نجات دی جس میں ہم نے تمام عوالمِ شخصی کے لئے برکتیں رکھی ہیں۔ یہاں ’’الارض‘‘ سے نفسِ کلّی مراد ہے، جو عقلِ کلّی کی نسبت سے زمین ہے، اور ناطق کی نسبت سے آسمان، جس میں ہر عالمِ شخصی کے لئے جسمانی، روحانی اور عقلانی برکتیں ہیں، اور مقامِ معراج نفسِ کلّ کے آسمان میں ہے۔
۱۳۔ حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کو خداوند تعالیٰ نے نبوّت، رسالت، خُلّت (دوستی) اور امامت جیسے مراتبِ جلیلہ سے مشرف و سرفراز فرمایا تھا، آیۂ کریمہ: انی وجھت (۶: ۷۹) میں یہ لطیف اشارہ موجود ہے کہ آپ معراجی بہشت میں داخل ہوکر اپنے باپ آدم کی طرح رحمان کی صورت پر ہوگئے تھے، کیونکہ خدا شناس (معرفت) کا آخری درجہ یہی ہے، اے نورِعینِ من! یہ قانون ہمیشہ یاد رہے کہ دین کی اساسی چیزیں دو دو ہوتی ہیں، چنانچہ حضرتِ ابراہیم اور حضرتِ اسماعیل (ناطق و اساس) علیہما السلام دو تھے، انہوں نے خدا کے لئے دو گھر بنا دیئے تھے، ایک ظاہر میں تھا اور ایک باطن (جبین) میں، جیسا کہ ارشادِ مبارک ہے: و اتخذوا من مقام ابراہیم مصلی (۲: ۱۲۵) اور (ہم نے حکم دیا کہ) ابراہیم کی (اس) جگہ کو نماز کی جگہ بناؤ۔ یعنی ناطق اور اساس کے وسیلے سے عالمِ شخصی
۱۳۶
میں ترقی کرکے اپنی جبین میں خدا کا گھر بناؤ، یہی باطنی بیت اللہ اور مقامِ ابراہیم ہے، اسی میں نماز پڑھو اور علمی عبادت کرو۔
۱۴۔ سورۂ ذاریات کی دو آیتیں اس طرح کی حکمتیں بتاتی ہیں (ترجمہ): اور زمین میں اہلِ یقین (اہلِ معرفت) کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں، اور خود تم میں بھی ہیں تو تم کیا دیکھتے نہیں؟ (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دو گھر ہیں، ایک ظاہر میں ہے اور ایک باطن (جبین) میں، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ خدا کا یہ گھر جس کے مجاور ہم ہی ہیں، وہ کس حالت میں ہے؟ بحدِ قوّت ہے یا بحدِ فعل؟ صفائی کی گئی ہے یا نہیں؟ اس میں کہیں بہت سے اصنام تو نہیں ہیں؟
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
ڎندورہ گنڎ ، یکم ربیع الاول ۱۴۱۸ھ ، ۷ جولائی ۱۹۹۷ء۱۳۷
باطنی نعمتوں کا تذکرہ
۱۔ سورۂ لقمان (۳۱: ۲۰) میں ارشاد ہے (ترجمہ): کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں (حالانکہ ان کے پاس) نہ علم ہے اور نہ ہدایت ہے اور نہ کوئی روشن کتاب ہے۔ اس پرحکمت ربانی تعلیم میں بصد عجز و انکسار سوچنے کی ضرورت ہے کہ تمام کائنات کی چیزیں در حقیقت ظاہر میں مسخر کی گئی ہیں یا باطن میں؟ خداوندِ عالم کا یہ احسان و اکرام دنیا میں ہے یا آخرت میں یا دونوں میں؟ کیا یہ بہشت کی بہت بڑی سلطنت کا ذکر ہے (۷۶: ۲۰)؟
۲۔ مذکورہ آیت میں یہ سوال: ’’کیا تم لوگ نہیں دیکھتے؟‘‘ اِس غرض سے ہے کہ لوگ چشمِ معرفت کی ضرورت و اہمیت کو سمجھ لیں، جیسے اَلَم تَرَ (کیا تونہیں دیکھتا)؟ کا سوال قرآن میں ۳۱ دفعہ آیا ہے، جس کا مقصد چشمِ باطن (چشمِ بصیرت ) کی طرف توجہ دلانا ہے، تا کہ ہر ذی شعور مومن دل
۱۳۸
کی آنکھ حاصل کرنے کے لئے بیش از بیش سعی کرے، اور علم وعمل کی تمام شرطوں کے ساتھ گریہ و زاری اور مناجات کرتا رہے۔
۳۔ کائنات کا مسخر ہوجانا انتہائی عظیم نعمت ہے، لہٰذا یہ مرتبۂ فنا فی اللہ کے بغیر ممکن ہی نہیں، فنا خوشی سے بھی ہے اور زبردستی سے بھی، ماضی میں جو لوگ جسمانی زندگی ہی میں مرکر زندہ ہوچکے تھے، وہ علم و معرفت کے اعتبار سے کتنے ضروری تھے، حق بات تو یہ ہے کہ وہ آپ کو معرفت کی بے حد مفید باتیں بتا سکتے تھے، کاش ایسے لوگوں سے آپ کی اور ہماری ملاقات ہو سکتی! یا ان کی اصل اصل (ORIGINAL)باتیں ہم تک آئی ہوتیں! لیکن ہم مایوسی کا شکار کیوں ہوجائیں، جبکہ اسلام میں ناامیدی ممنوع ہے، کیونکہ اس زندہ اور پاک مذہب میں نہ صرف کل (آخرت) کی اعلیٰ امیدیں ہیں، بلکہ ساتھ ہی ساتھ آج دنیا میں بھی بہشت کی علمی وعرفانی نعمتیں اور روحانیت کی عملی بشارتیں موجود و مہیا ہیں۔
۴۔ آپ نے ترجمۂ آیۂ شریفہ (۳۱: ۲۰) میں خوب غور سے دیکھا ہوگا کہ ظاہری نعمتوں کے ساتھ ساتھ باطنی نعمتیں بھی مکمل اور تیار ہیں، لیکن یہ سوال سامنے آتا ہے کہ باطنی نعمتیں کیا ہیں؟ آیا یہ قرآنِ حکیم ہی کی باطنی نعمتیں ہیں؟ کیا اس سے علمِ باطن مراد ہے؟ کیا یہ باطنی ہدایت اور تاویل ہے؟ کیا روحانیت اور علمِ لدنی کی بات ہے؟ تائید ؟ دیدار؟ معرفت؟ حکمت؟ نور؟ علم الیقین؟ عین الیقین؟ حق الیقین؟ فنا فی اللہ؟
۱۳۹
بقاباللہ؟ چشمِ بصیرت؟ وہ تمام نعمتیں جن کا ذکر سورۂ رحمان میں ہے؟ وہ ساری نعمتیں جن کا تذکرہ تمام قرآن میں ہے؟ آیا یہ سب چیزیں باطنی نعمتوں میں سے نہیں ہیں؟ اگر جواب یہ ملتا ہے کہ بے شک قرآن اور اسلام میں باطنی نعمتیں بھری پڑی ہیں، تو آئیے ہم ہادیٔ برحق سے رجوع کریں تا کہ وہ ہماری رہنمائی اور مدد فرمائے تا کہ ہم قرآن اور اسلام کی کوئی چھوٹی سی خدمت کر سکیں۔
۵۔ اللہ جلّ جلالہ کی چیزیں عقل و جان کی اعلیٰ خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہیں، لہٰذا کوئی بے جان سڑک خدا تک نہیں جاسکتی ہے، بلکہ راہِ خدا یعنی صراطِ مستقیم ہادیٔ زمان ہی ہے، اُسی کی معرفت اور اطاعت کی غرض سے یہ آسمانی مقدّس دعا سکھائی گئی ہے: اھدنا الصراط المستقیم۔ صراط الذین انعمت علیہم= ہم کو راہِ راست پر چلا، ان لوگوں کی راہ جنہیں تو نے (اپنی) نعمتیں عطا کی ہیں۔ اللہ کی بے بدل اور اٹل سنت کے مطابق ہمیشہ دنیا میں روحانی ہدایت کا مرکز نورِمنزّل کی صورت میں قائم ہے، جس کی پیروی کرنے والے درجہ بدرجہ حدودِ دین ہو گئے، جیسے زمانۂ آدم سے اِس طرف کے ناطقان، اساسان، امامان، اور حجّتان، جن پر اللہ نے بہت بڑا انعام فرمایا ہے، پس اہلِ ایمان میں سے جو جو اشخاص حقیقی معنوں میں اطاعت کریں گے، وہ بھی روحانیت میں ان حضرات کے ساتھ ہوجائیں گے (۴: ۶۹) ۔ الحمد للہ ربِّ العالمین۔
۱۴۰
۶۔ اے عزیزانِ من! یہ از بس مفید نکتہ یاد رہے کہ معرفت بہت ہی ضروری شیٔ ہے، کیونکہ ہر نعمت کی تصدیق معرفت ہی سے ہوتی ہے، ورنہ تکذیب ہوتی ہے ، جیسے سورۂ رحمان (۵۵: ۱ تا ۷۸) میں کل ۳۱ بار یہ سوال دہرایا گیا ہے: پس اے جنّ و انس ، تم اپنے ربّ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاتے ہو؟ جھٹلانا ’’تکذیب‘‘ کو کہتے ہیں، جو تصدیق کی ضد ہے، اور تصدیق صرف علم و معرفت ہی سے ہوتی ہے، پس سورۂ رحمان میں جتنی نعمتوں کا ذکر ہوا ہے وہ سب مشاہدہ، معرفت، اور تصدیق کی متقاضی ہیں، اور یہ امر ممکن ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
بودو ، ۳ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ ، ۹ جولائی ۱۹۹۷ء
۱۴۱
معرفت اور اس کی جامعیّت
۱۔ کسی عزیز کو یہ خیال ہرگز نہ ہو کہ نورِ معرفت صرف آنکھ ہی کے لئے کام کرتا ہے اور بس، میں کہتا ہوں کہ ہرگز ایسا نہیں، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک نور ہے، جس میں عقلِ کامل ، روحِ اعظم، اور کائناتی جسمِ لطیف کی تمامتر خصوصیات جمع ہیں، لہٰذا یہ نورِ اقدس مومنِ سالک کے نہ صرف حواسِ ظاہر و باطن ہی کو حیاتِ نو عطا کرتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ تمام ذرّاتِ ہستی کو بھی ارواحِ تازہ اور قیامت خیز فعالیت بخشتا ہے، آپ نورِ معرفت کی تعریف کی غرض سے کتاب قرآنی علاج میں مضمون: ’’امواجِ نور‘‘ کو خوب غور سے پڑھیں،جس میں دعائے نور کی وضاحت ہے۔
۲۔ قرآنِ حکیم میں معرفت کا ذکر عیان بھی ہے اور نہان بھی، یعنی اس کا بیان براہِ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے آیا ہے، کہنا یہ ہے کہ اہلِ معرفت کی نظر میں مضمونِ معرفت عجیب طرح سے تمام قرآن میں پھیلا ہوا ہے، ہم (ان شاءاللہ ) یہاں اس کی چند مثالیں پیش کرتے ہیں:
۱۴۲
۳۔ مادّہ : ع ر ف:
اس کے مختلف صیغوں کو قرآنِ پاک میں دیکھ لیں، ان سب میں معرفت (پہچان) ہی کا ذکر ہے، جیسے سورۂ محمد (۴۷: ۶) میں ارشاد ہے: و یدخلھم الجنۃ عرفھا لھم = اور ان کو اُس بہشت میں داخل کرے گا جس کا انہیں شناسا کر رکھا ہے۔ خوب یاد رہے کہ یہ کلّی معرفت ہے، اور اس سے کوئی چیز باہر نہیں، کیونکہ جنّت میں سب سے بڑی نعمت حضرتِ ربّ کی ملاقات اور معرفت ہے، اور اس سے عظیم تر نہ کوئی معرفت ہے اور نہ ہی کوئی نعمت ہے۔
۴۔ مادّہ: ن ک ر:
سورۂ یوسف (۱۲: ۵۸) میں ہے: فعرفھم و ھم لہ منکرون = پس حضرتِ یوسفؑ نے انہیں پہچان لیا اور وہ لوگ اس کو نہ پہچان سکے۔ اس مثال سے یہ معلوم ہوا کہ مادّۂ ہٰذا کے تمام الفاظ معرفت کے برعکس ہیں، جیسے انکار، منکر، منکرین، وغیرہ، لہٰذا ان جملہ الفاظ میں بالواسطہ معرفت کا ذکر موجود ہے، یعنی منکر کی مذمت اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ عارف نہیں ہے۔
۵۔ مادّہ: ی ق ن:
معرفت کا ایک مترادف یقین ہے، جس کا مادّہ ی ق ن ہے، اور اس کے تمام صیغوں میں براہِ راست معرفت کا بیان ہے، جیسے سورۂ انعام (۶: ۷۵) میں ہے: اور ابراہیم کو ہم اسی طرح آسمانوں اور زمین کا نظامِ سلطنت دکھاتے تھے تا کہ وہ یقین کرنے والوں
۱۴۳
میں سے ہو جائے۔ یعنی وہ عارفین میں سے ہو جائے۔
۶۔ مادّہ: ر ی ب:
ریب (شک) یقین کے خلاف ہے، چنانچہ ارشاد ہے: الٓمٓ۔ ذالک الکتٰب لا ریب فیہ = قرآنِ ناطق کی قسم، وہ کتاب ایسی ہے کہ اُس میں کوئی شک ہی نہیں ، جب شک نہیں تو یقین ہی یقین ہے، جب یقین ہے تو کامل یقین یعنی حق الیقین (معرفت) ہے۔
۷۔ مادّہ: ش ھ د:
اس مادّہ کے الفاظ میں معرفت کے معنی پوشیدہ ہیں، جیسے روحانی شہید، یہ وہ شخص ہے جو جہادِ اکبر میں جیتے جی نفسانی طور پر قتل ہوچکا ہوتا ہے، وہ اپنی قیامت کے جملہ واقعات کے دوران حاضر تھا، اس لئے وہ ان عظیم معجزات کا عینی گواہ (چشم دید گواہ) بھی ہے اور عارف بھی ہے، ایسے شہداء کا ذکر سورۂ حدید (۵۷: ۱۹) میں بھی ہے۔
۸۔ مادّہ: ع ی ن:
حدیثِ نوافل میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی آنکھ ہوجاتا ہے، اس سے اہلِ دانش کو قرآنی حکمت سمجھنے کی بڑی حد تک امید مل سکتی ہے، اور علم الیقین کا سہارا لے کر عین الیقین کی جانب آگے جا سکتے ہیں، غرض عین سے چشمِ بصیرت مراد ہے، جس کا تعلق معرفت سے ہے۔
۱۴۴
۹۔ مادّہ: ن و ر:
نور = عقل، علم، حکمت، ہادیٔ برحق، کیونکہ امامِ مبین میں تمام معانی جمع ہوجاتے ہیں (۳۶: ۱۲)۔ خداوندِ تعالیٰ امامِ زمانؑ کے وسیلے سے مومنین کو حقیقی روح میں زندہ کرکے نورِ معرفت عطا کرتاہے، وہ اس نور کے ساتھ اپنے عالمِ شخصی میں لوگوں کے درمیان چلتے پھرتے ہیں (۶: ۱۲۲) اس سے مراد عالمِ شخصی کی بادشاہی ہے۔
۱۰۔ مادّہ: ر أ ی:
سورۂ فرقان (۲۵: ۴۵) میں ہے: الم تر الی ربک کیف مد الظل = کیا تو نے اپنے ربّ کی طرف نہیں دیکھا کہ کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ یہ اُس دیدارِ پاک کا ذکر ہے جو روحانی قیامت کے بعد حظیرۂ قدس کی جنّت میں عارف کو حاصل ہوتا ہے، سایہ شبِ ازل ہے۔
۱۱۔ مادّہ: ع م ی:
سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۲) میں ہے: و من کان فی ہٰذہ اعمیٰ فھو فی الاٰخرۃ اعمیٰ و اضل سبیلا۔ اور جو شخص اِس دنیا میں اندھا بنا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا اور راستہ سے بہت دور بھٹکا ہوا۔ یہ چشمِ معرفت حاصل نہ کرنے کی مذمت ہے۔
۱۲۔ مادّہ: و ج ھ:
سورۂ قصص کے آخر (۲۸: ۸۸) میں ہے:
۱۴۵
کل شیءٍ ھالک الا وجھہ = ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے وجہُ اللہ کے۔ اس میں فنا فی اللہ کا سرِاعظم مذکور ہے کہ جب سالک منزلِ فنائے عُلوی میں پہنچ جاتا ہے تو اس کی ہر چیز فنا ہوجاتی ہے، مگر وہ صورتِ رحمان میں باقی رہتا ہے، صورتِ رحمان امام ہے۔
۱۳۔ مادّہ: ف ن ی:
سورۂ رحمان (۵۵: ۲۶ تا ۲۷) میں ہے: کل من علیہا فان و یبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال و الاکرام = وہ سب جو ان (کشتیوں) پر سوار ہیں فنا ہوجانے والے ہیں اور صرف تیرے ربّ کا جلیل و کریم چہرہ ہی باقی رہے گا۔ قال علی علیہ السلام انا وجہ اللہ فی السمٰوٰت و الارض۔۔۔۔ (کوکبِ دری، بابِ سوم) پس وجہ اللہ کا مضمون بطورِ خاص معرفت ہی کا مضمون ہے۔
۱۴۔ مادّہ: ب ص ر:
بصیرۃ = دل کی بینائی، دیدۂ دل، چشمِ باطن، سورۂ یوسف (۱۲: ۱۰۸) میں ہے: قل ہٰذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علیٰ بصیرۃ انا و من اتبعنی = تم یہ کہہ دو کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں (بھی) اور وہ (بھی) جس نے میری پیروی کی ہے بصیرت پر ہیں۔ یہ آیۂ شریفہ آنحضرت، علی، اور أئمّۂ آلِ محمد کے بارے میں ہے (صلی اللہ علیہ و علیہم اجمعین)۔
۱۴۶
۱۵۔ مادّہ: ل ق ی:
لقاء = ملاقات، دیدار، سورۂ کہف کے آخر (۱۸: ۱۱۰) میں دیکھیں: فمن کان یرجوا لقاء ربہ فلیعمل عملا صالحا و لا یشرک بعبادۃ ربہ احدا= پس جو کوئی اپنے ربّ کی ملاقات (دیدار) کا امیدوار ہو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے ربّ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ ایک شخص نے از روئے انکار مولاعلیؑ سے سوال کیا: ہل رایت ربک حتّٰی عرفتہٗ؟ کیا تو نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے کہ اس کو پہچان لیا ہے؟ حضرتِ امیر نے فرمایا: لم اعبد ربا لم ارہٗ =میں نے ربّ کی عبادت نہیں کی، جب تک کہ اس کو نہیں دیکھا۔ اُس شخص نے پوچھا: کیف رایتہٗ؟ تو نے اس کو کس طرح دیکھا؟ فرمایا: ما راتہ العیون بمشاہدۃ العیان لٰکن راتہ القلوب بحقائق العرفان۔ اس کو سر کی آنکھوں نے نہیں دیکھا، لیکن اُس کو (اولیاء کے) دلوں نے عرفانی حقیقتوں کے ساتھ دیکھا ہے۔ (بحوالۂ کوکبِ دری، بابِ پنجم)۔
۱۶۔ مادّہ: ہ د ی:
سورۂ نور (۲۴: ۳۵) میں ہے: نور علیٰ نور۔ یھدی اللہ لنورہ من یشاء =وہ نور پر نور ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نور کی راہ بتلا دیتا ہے۔ نور پر نور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حاملانِ نور (حضراتِ أئمّہ علیہم السّلام) کا سلسلہ ہمیشہ جاری ہے، یہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ ہدایتِ ظاہر جو اللہ کی خوشنودی
۱۴۷
کے مطابق ہے، وہ اہلِ ایمان کو اللہ کے نور تک پہنچا دیتی ہے، پھر روحانی اور نورانی ہدایت جو باطن میں ہے وہ قدم قدم پر بڑے بڑے علمی معجزات کے ساتھ ہے، پس ہدایت دو قسم کی ہے: ظاہری اور باطنی۔
۱۷۔ مادّہ: ح ک م:
حکمۃ =حکمت، دانش، عقلمندی ، علمِ لدنّی، اسرارِ باطن کی معرفت، جیسا کہ سورۂ بقرہ (۲: ۲۶۹) میں ارشاد ہے: یوتی الحکمۃ من یشاء و من یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرًا کثیرًا = وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عنایت فرماتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اسے (تو) بہت کچھ خیر و برکت دی گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس پاک ارشاد میں جس شان سے حکمتِ سماوی کی تعریف فرمائی گئی ہے، وہ بے مثال کیوں نہ ہو، جبکہ فرمانِ عالی ہوا کہ حکمت خیرِ کثیر ہے۔
۱۸۔ مادّہ: ع ل م:
علم ہر چیز پر محیط بھی ہے اور ہر چیز میں محاط بھی، یعنی وہ ہر شیٔ کا حجاب بھی ہے اور ہر شیٔ میں محجوب بھی، علم کا یہ قانون قرآن، کتابِ نفس، اور صحیفۂ کائنات میں ہے، اس کی ایک عظیم الشّان مثال یہ ہےکہ جب ربّ العزت نے حضرتِ موسیٰؑ کے سامنے اپنی تجلّی کوہِ طور پر ڈالی تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا، ان کلمات میں علم ہے، جو مثال اور حجاب ہے، اب اس حجاب کے اندر جو
۱۴۸
علم محجوب ہے وہ بڑا عجیب وغریب ہے، وہ یہ کہ طور (پہاڑ) سے حضرتِ موسیٰؑ کی مبارک ہستی مراد ہے، جس پر منزلِ اسرافیلی میں اللہ نے اپنی پاک تجلّی ڈالی تو یہ ہستی اس طرح ریزہ ریزہ ہوگئی کہ اس کے خلیات میں سے بے حد و بے حساب روحیں بکھر گئیں، اس حال میں حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام طورِ ہستی کو دیکھتا بھی تھا، اور حیرت زدہ بھی تھا، اور اس کی آخری تاویل مقامِ عقل پر ہے، الغرض یہ اس حقیقت کی چند روشن مثالیں ہیں کہ قرآنِ حکیم میں مضمونِ معرفت کی بہت بڑی اہمیت ہے، یہی سبب ہے کہ اہلِ دانش کو تمام دوسرے موضوعات میں بھی اسرارِ معرفت نظر آتے ہیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۸ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ ، ۱۴ جولائی ۱۹۹۷ء
۱۴۹
آیات، مشاہدات، تجربات
۱۔ آفاق و انفس میں آیات:
سورۂ حٰمٓ السجدہ (۴۱: ۵۳) میں یہ پرازحکمت ارشاد ہے (ترجمہ): ہم عنقریب ہی ان کو اپنے معجزات آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ یقیناً وہی حق ہے۔
یہ سچ اور حقیقت ہے کہ قرآنی الفاظ کے ایک سے زیادہ معنی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مختلف کتابوں میں اس آیۂ کریمہ کی کئی وضاحتیں ہوچکی تھیں تاہم بہت ہی عاجزی سے یہاں ایک اور وضاحت کی جاتی ہے کہ آفاق جمع ہے اُفق کی، اور اُفق میں تین اشارے ہیں: ۱۔ وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ۲۔ وہ مقام جہاں زمینِ مادّیت اور آسمانِ روحانیت کا اتصال ہے ۔ ۳۔ وہ مرتبہ جہاں زمینِ روح اور آسمانِ عقل کا ارتباط ہے، پس یہ تین اُفق یا آفاق ہوگئے۔
اسی طرح انفس کے دو معنی ہیں: (الف) نفوسِ جزوی، جو
۱۵۰
لوگوں میں اب ہیں۔ (ب) نفوسِ کلّی جو لوگوں کو روحانی قیامت میں ملتے ہیں، نفوسِ کلّیہ سے انسانانِ کامل مراد ہیں، جو اہلِ ایمان کی اپنی اصل اور اعلیٰ روحیں قرار پاتے ہیں، اس مقصد کے لئے کاملین کی بے شمار کاپیاں ہیں، اور یہ خدا کی بہت بڑی عنایت ہے۔
۲۔ ہر اُفُق اور ہر نفس:
اُفُقِ ظاہری یا جسمانی ، اُفُقِ روحانی اُفُقِ عقلانی نفسِ جزوی، اور نفسِ کلّی یہ سب وہ مقامات ہیں، جہاں اللہ کے حکم سے ہمیشہ معجزات ہوتے رہتے ہیں، کیونکہ معجزے صفاتِ الٰہیہ کے مجموعی افعال ہیں، جن کو رکنا اور خاموش ہونا نہیں ہے، مثال کے طور پر اگر سورج اپنے قانون کے مطابق کام نہ کرے تو نظامِ شمسی پر کیا گزرے گا، الغرض خداوندِ عالم ہر وقت معجزات دکھاتا ہے، بلکہ بہت سی آیات پہلے ہی سے لوگوں کے سامنے موجود ہیں، لیکن اکثر لوگ ایسے ہیں کہ چشمِ باطن پیدا کرنے کی کوشش تو درکنار ، وہ چشمِ ظاہر سے بھی مطالعۂ قدرت کا کام نہیں لیتے ہیں۔
۳۔ روحانی قیامت کے تمام معجزات:
آیۂ مذکورۂ بالا میں روحانی قیامت اور اس کے تمام معجزات کا حوالہ یا ذکر ہے، اس قیامت میں ہر معجزہ رونما ہوتا ہے، جس کا مشاہدہ انسانِ کامل کے ساتھ سب اہلِ قیامت کرتے ہیں، لیکن یہ سب یا تو ذرّات میں یا بحالتِ
۱۵۱
فنا ہوتے ہیں، یعنی وہ انسانِ کامل کے عالمِ شخصی میں ہوتے ہیں، اور اسی کی روحانیت کی روشنی میں سب کچھ دیکھتے رہتے ہیں، مگر ان نمائندہ ذرّات (ارواح) اور دنیا والوں کے درمیان ایک دیوار حائل ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنی روحانی سرگزشتوں سے بے خبر بیٹھے ہیں۔
۴۔ ہر پہلی قیامت سے دوسری قیامت تک:
قرآنِ حکیم بزبانِ حکمت یہ فرماتا ہے کہ ہر زمانے کے امام کے ساتھ ایک پوشیدہ قیامت ہے (۱۷: ۷۱) اور ہر قیامت کی آخری اور عرفانی چوٹی پر عہدِ الست کا تجدّد ہوتا ہے، آپ سورۂ اعراف (۷: ۱۷۲) میں حسن و خوبی سے غور کریں، س: جب ربّ العزت نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی ذرّیت کو لیا تو کہاں پر لیا اور کیوں؟۔ ج: انسانِ کامل کی مبارک جبین پر لیا، اس امر میں بہت سے اسرار مخفی ہیں، منجملہ ایک راز یہ بھی ہے کہ تمام روحوں کو علمی وعرفانی پرورش کا نظام دکھاکر ان سے یہ عہد لینا مقصود تھا کہ حضرتِ ربِّ کریم حق ہے، اور یہ کام صرف مرتبۂ جبین ہی پر ہوسکتا ہے، س: کیا یہ کسی ایک زمانے کا قصّہ ہے یا دورِاعظم کے تمام انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کی قیامتوں کا ذکر ہے؟ ج: یہ جملہ جدا جدا قیامات کا مجموعی اور یکجا ذکر ہے، س: آیا انسانِ کامل کی نورانی جبین میں ربّ العزت کا دیدارِ پاک بھی ہوتا ہے یا
۱۵۲
صرف کلامِ الٰہی سننے کی سعادت نصیب ہوتی ہے؟ ۔ ج: ہر نعمتِ عظمیٰ حاصل ہوتی ہے، مگر انسانِ کامل میں فنا ہوکر، کیونکہ وہاں عالمِ یک حقیقت ہے۔
۵۔ مزید عرفانی سوالات:
س: آپ تو مختلف حوالوں سے ہمیشہ عشقِ سماوی کی حیران کن تعریف کرتے رہتے ہیں، لیکن الست بربکم (کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟) کے عظیم الشّان سوال میں وجودِ عشق اور اس کی پرورش کا کوئی اشارہ کہاں ہے جبکہ روح و عقل کی پرورش کا حکیمانہ اشارہ اسم ’’ربّ‘‘ میں واضح ہے؟ ۔ ج: جنابِ عالی، ربّ العالمین ہر قسم کی اعلیٰ پرورش کرتا ہے، اور اس کا پاک دیدار علی الخصوص مربیٔ عشق ہے، لہٰذا عشق کی بلندی بڑی عجیب وغریب ہے، س: کیا سوالِ الست کا تعلق صرف ذرّیتِ بنی آدم سے ہے یا اس میں آدم و بنی آدم بھی شامل ہیں؟۔ ج: یہی تو بہت بڑی حکمت ہے کہ ہر آدم قبلاً ابنِ آدم اور اُس سے پہلے ذرّیت تھا، کیونکہ اس آیۂ شریفہ کا یہی اشارہ ہے، س: اس ارشاد کی خاص حکمت کیا ہے: و اشھد ھم علٓیٰ انفسھم (۷: ۱۷۲)؟ج: اور ان کو اپنی اپنی روح پر گواہ بنایا۔ یعنی انہوں نے بتوفیقِ الٰہی حدیثِ من عرف کے مطابق اپنی معرفت سے ربّ کی معرفت حاصل کر لی۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
۱۵۳
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
بریسپت ، ۱۱ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ، ۱۷ جولائی ۱۹۹۷ء
۱۵۴
تلخ و شیرین تجربات
۱۔ موت کا مزہ چکھنا:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: کل نفس ذآئقۃ الموت = ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے (۲۱: ۳۵)۔ موت اگرچہ بحیثیتِ مجموعی ایک ہی ہے، لیکن وہ طرح طرح سے واقع ہوتی ہے، چنانچہ اس کی دو بڑی قسمیں ہیں: (الف) مرگِ طبیعی، یعنی قدرتی موت، جس کی بہت سی حالتیں ہیں، (ب) مرگِ مفاجات، یعنی اچانک آنے والی موت، اس کی بھی بہت سی صورتیں ہیں، لیکن یقیناً ان تمام اموات میں سے کوئی موت ایسی نہیں ہے، جس میں مرنے والے آدمی کو بمقتضائے حکمتِ قرآن موت کا حقیقی مزہ معلوم ہوجائے، ملک الموت اور اس کے لشکر کے عظیم اسرار سے آگہی ہو، اور وہ کوئی ایسی موت کی سچی کہانی جو سب کے لئے مشترک ہو من و عن (حرف بحرف) سنا سکے، ظاہر میں کوئی ایسی موت نہیں، اور نہ کوئی ایسا شخص ہے جو حقیقی معنوں میں آیۂ مبارکۂ بالا کا مصداق ہو۔
۱۵۵
۲۔ اضطراری موت اور اختیاری موت:
صوفیائے کرام کے نزدیک موت دو قسم کی ہوا کرتی ہے، ایک نفسانی (اختیاری) موت ہے اور دوسری جسمانی (اضطراری) موت، جب اسلام میں جہادِ اکبر بھی ہے تو لازمی طور پر باطنی شہادت بھی ہے، کیونکہ ہر ظاہری نعمت کے پیچھے ایک باطنی نعمت بھی ہے، اب سمجھ لیجئے کہ باطنی شہادت ہی وہ پرحکمت موت ہے، جس کا مزہ سالکین، عارفین اور کاملین چکھ لیتے ہیں، اور منزلِ عزرائیلی میں جیسے لاتعداد عجائب وغرائبِ حکمت کا انمول خزانہ ہے، اس سے اہلِ ایمان کو مستفیض کردیتے ہیں۔
۳۔ کیا موت بھی کوئی چکھنے کی چیز ہوتی ہے؟
یہ سوال معلوماتی بحث کی خاطر مناسب اور دلچسپ ہے، اس کا جواب عرض کرتا ہوں کہ ہاں، موت تجربۂ علم و معرفت کے معنی میں یقیناً چکھنے کی چیز ہے، لیکن خوب یاد رہے کہ ایسی تجرباتی موت صرف نفسانی موت ہی ہے، اس پُرحکمت اور عظیم الشّان موت کا لگاتار تجربہ سات رات اور آٹھ دن تک جاری رہتا ہے (۶۹: ۷) ایسے عظیم اسرارِ روحانی حجابات کے بغیر نہیں ہوتے ہیں، پس اگر آپ اس رازِ معرفت کے حجاب کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں تو سورۂ حاقہ (۶۹: ۶) میں قومِ عاد کا واقعہ پڑھ لیں۔
۱۵۶
۴۔ کیا ہرعارف راہِ روحانیت میں عذاب کو بھی دیکھتا ہے؟
جی ہاں، حصولِ معرفت کی غرض سے عذاب و ثواب دونوں کو دیکھتا ہے، کیونکہ اس کی شخصیت میں اہلِ جہان کی نمائندہ قیامت برپا ہوتی ہے، جس میں وہ سارے لوگوں کے ذرّاتِ روحانی کا مجموعہ بھی ہے اور اہلِ زمانہ کی طرف سے نمائندہ بھی، لہٰذا قیامت کے شدید امتحان سے اسی کو گزر جانا پڑتا ہے۔
۵۔ روحانیت کا ہر تلخ میوہ بعداً بے حد شیرین ہوتا ہے:
روحانیت کے جتنے بھی تجربات ہیں، ان میں سے بعض تو ہمیشہ ہی از بس شیرین و دل نشین ہوا کرتے ہیں، جبکہ بعض تجربے وقتی طور پر تو نہایت تلخ و تند ہوتے ہیں، مگر آگے چل کر علم و حکمت کی وجہ سے یہ بھی از حد لذیذ و شیرین ہوجاتے ہیں، اگر کوئی شخص یہاں یہ سوال کرے کہ روحانی سفر کی ساری تلخیاں کس قانون کی بنیاد پر لذّتوں اور شادمانیوں میں بدل جاتی ہیں؟ ۔ اس کا جواب یہ ہوگا کہ خدا کی خدائی میں قانونِ خیروشر اس طرح سے ہے کہ جو خیر ہے وہ مستقل ہے، لیکن جو شر ہے، وہ مستقل نہیں، بلکہ عارضی ہے، لہٰذا وقت آنے پر ہر شر کو خیر ہوجانا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: بیدک الخیر (۳: ۲۶) تیرے ہاتھ میں بھلائی ہے۔ اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ جب اللہ پوری کائنات کو لپیٹ لیتا ہے تو اس وقت خدا کے بابرکت ہاتھ میں
۱۵۷
صرف خیر ہی ہوتا ہے، اور شَر کا وجود کہیں نظر نہیں آتا۔
۶۔ قیامت گاہ میں خدا کا نور:
اللہ جلّ جلالہ نے امامِ زمانؑ کو صاحبِ قیامت بنا دیا ہے (۱۷: ۷۱) اسی طرح رسول کے بعد امام نورِ ہدایت بھی ہے (۵: ۱۵) اور مجموعۂ اسماء الحسنیٰ بھی ہے (۷: ۱۸۰) یہی سبب ہے کہ خداوندِ دو جہان اپنے حبیبِ پاک سے فرماتا ہے: (اے رسول) جس دن تم مومنین و مومنات کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا (۵۷: ۱۲) یہ امام ہی کا نور ہے جو رسول کا جانشین ہے، جو منازلِ قیامت کا رہنما ہے۔
۷۔ مولاعلیؑ نے فرمایا ہے:
انا الساعۃ التی لمن کذب بہا سعیرا = یعنی میں وہ قیامت ہوں کہ جو شخص اس کو جھٹلائے، اور اس کا منکر ہو، اس کے لئے دوزخ واجب ہے۔ انا الذی اقوم الساعۃ = یعنی میں وہ شخص ہوں کہ قیامت برپا کرتا ہوں۔ انا الناقور الذی قال اللہ تعالی فاذا نقر فی الناقور = یعنی میں وہ ناقور ہوں جس کا ذکر حق تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے (۷۴: ۸) ۔ انا الذی ان امت فلم امت و ان قتلت فلم اقتل = یعنی میں وہ شخص ہوں کہ اگر مجھے موت دی جائے تو نہیں مروں گا، اور اگر میں قتل کیا جاؤں تو میں (درحقیقت) قتل نہ ہوں گا (کوکبِ دری)۔
۱۵۸
۸۔ دو دفعہ غیر معمولی پیدائش:
حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کا قول ہے: لن یلج ملکوت السمٰوٰت من لم یولد مرتین =جو شخص دو دفعہ پیدا نہ ہو سکا وہ آسمانوں کی سلطنت میں ہرگز داخل نہیں ہوسکتا ہے۔ یعنی ہر عارف اپنی حیاتِ جسمانیہ ہی میں پہلے نفساً مر کر روحاً زندہ ہوجاتا ہے، پھر بہت آگے جا کر روحاً مر کر عقلاً زندہ ہوتا ہے، اور یہی ہے دو دفعہ خدا کے خاص دوستوں کی غیر معمولی پیدائش، اور یہی ذاتی قیامت بھی ہے، جیسا کہ حدیثِ شریف کا ارشاد ہے: من مات فقد قامت قیامتہ = جو شخص (نفساً) مر جاتا ہے اس کی قیامت برپا ہو جاتی ہے۔
۹۔ کیا امام صرف متّقین ہی کے لئے ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہادیٔ زمان بالعموم امام النّاس بھی ہے (۲: ۱۲۴) اور بالخصوص امام المتّقین بھی (۲۵: ۷۴) تا کہ لوگ بہ اختیارِ خود امام کی ہدایت سے فائدہ اٹھائیں، اور متّقین اپنے امام سے براہِ راست روحانی علم حاصل کریں، کیونکہ نورانی آواز کے ذریعہ تعلیم دینے کا بے مثال طریقہ زمانۂ آدم سے چلا آیا ہے، پس جن لوگوں پر قیامت کا تلخ تجربہ گزرتا ہے، ان کے لئے عظیم ترین فائدہ یہ ہے کہ ان کی روح جو فرشتہ ہے اس کو آدمِ زمانؑ کی نورانی تعلیم مل سکتی ہے۔
۱۵۹
۱۰۔ ایک اہم سوال:
س: اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ نفسانی موت کا مزہ چکھنا اور ذاتی قیامت کے پر حکمت تجربات سے گزر جانا صرف عارفین و کاملین ہی کے لئے خاص ہے، پھر بھی سوال ہے کہ آیا اس کلّیہ میں اور کوئی راز نہیں ہے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ ہر نفس (یعنی سب) کو موت کا مزہ چکھنا ہے؟ ۔ ج: جی ہاں، اس میں ایک عظیم راز ضرور پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ لوگ جس کارنامۂ روحانی کو خود انجام نہیں دے سکتے ہیں، اس کو امامِ عالی مقامؑ انجام دیتا ہے، اس مقصد کے لئے لوگوں کے روحانی ذرّات کو عارف کی نفسانی موت اور قیامت میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، چنانچہ وہ تمام نمائندہ ذرّات یہاں آ کر تجرباتِ قیامت میں شریک ہوجاتے ہیں، مگر یہ سب کچھ ان کے حق میں غیر شعوری طور پر ہوتا ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ (۲: ۲۴۳) میں ارشاد ہے: فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم ۔ پس خدا نے ان سے فرمایا کہ سب کے سب مر جاؤ (اور وہ مرگئے) پھر خدا نے انہیں زندہ کیا۔ یہ سب لوگوں کے نمائندہ ذرّات (روحیں) ہیں جو عارف کی منزلِ عزرائیلی میں بار بار مرتے ہیں اور بار بار زندہ ہو جاتے ہیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر، ۱۵ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ، ۲۱ جولائی ۱۹۹۷ء
۱۶۰
جشنِ زرّین
از برائے جشنِ زرّین ماہ و انجم آ گئے
جب پیا پے یارِ جانی کے تراجم آ گئے
دلکشی میں ترجمے ہیں تازہ دلہن کی طرح
پر بہار و جانفزا ہیں باغ و گلشن کی طرح
ترجمے کو خود پڑھیں تو رو رہا تھا میں کبھی
وادیٔ حیرت میں از خود کھو رہا تھا میں کبھی
سجدۂ شکرانہ تھا جب زار و گریان گر گیا میں فدایِ یارِ جانی مست و حیران گر گیا
ترجموں نے ان کتابوں کو تو مشہور کر دیا
دوستوں کے دل کو ازبس شاد و مسرور کر دیا
۱۶۱
ترجمے سے ان کتب کو روحِ جنّت مل گئی
یہ حقیقت ہے کہ مجھ کو اور عزّت مل گئی
وہ قلم سے گل فشان ہے اور زبان سے در فشان
علم و حکمت کے جہان میں کامیاب و کامران
اہلِ مغرب کے لئے اب گنجِ عرفان ہو گیا
جس نے دیکھا ہے خزانے کو وہ حیران ہو گیا
وصفِ مولا سے بھری ہے ہر کتابِ مستطاب
کیوں نہ ہو پھر یہ خزانہ کل جہان میں لاجواب
عشق و مستی کی قسم! سب ایک ہیں اے دوستان
فتحِ عالم ہے سنو اب شادمان ہو شادمان
ان کی ہر تحریر سے آتی ہے خوشبویِ گلاب
ہر عبارت دے رہی ہے عشقِ مولا کی شراب
فضل و احسانِ خدا ہے یہ فرشتہ آ گیا
ورنہ ہم ایسے کجا اور ایسے کارنامے کجا
۱۶۲
نامِ نامی ہے فقیر اور علم و حکمت میں امیر
تیرے اس علم و عمل کا صدقہ ہو جائے نصیرؔ
اک جہانِ علم ان کے ہاتھ سے آباد ہے
اس میں جو بھی بس رہا ہے شاد ہے آزاد ہے
جنگِ علمی میں نہ پوچھو ضربِ صمصامِ علی
علم شمشیرِ علی ہے دست ہے نامِ علی
“یک حقیقت” نے بتایا ہم سبھی ہیں ایک جان
سب میں اک ہے ایک میں ہیں سب نہان
میرے عالم میں عزیزان میری روح کی کاپیاں
اس سے بڑھ کر ہیں سبھی اُس پرفتوح[1] کی کاپیاں
۱۶۳
نور اور کتابِ مبین
۱۔ سورۂ مائدہ (۵: ۱۵) میں حق سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: قد جاء کم من اللہ نور و کتاب مبین = بے شک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور کتابِ مبین آئی ہے۔ یعنی ربّانی معلّم اور قرآنِ پاک = قرآنِ ناطق اور قرآنِ صامت= رسولِ اکرم اور قرآنِ حکیم= جانشینِ رسول (امامِ برحق) اور کتابِ سماوی = نورِ منزّل اور قرآنِ عزیز، اس وضاحت میں صرف ایک ہی حقیقت جھلکتی ہے، وہ یہ کہ قرآنِ مقدّس کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہر وقت ربّانی معلّم بھی موجود ہے، بمقتضائے عدلِ خداوندی ایسا ہی ہونا چاہئے، تا کہ قیامت کے دن خدا پر لوگوں کی یہ حجّت نہ ہو کہ ان کے زمانے میں کوئی مظہرِ نور ہی نہ تھا (۴: ۱۶۵)۔
۲۔ قرآنِ حکیم میں جتنی آیاتِ کریمہ نورِ ہدایت کے بارے میں آئی ہیں، ان سب کی یقینی شہادت یہی ہے کہ خدا و رسول نے اہلِ ایمان کے لئے جس امام کو مقرر فرمایا ہے، وہ نسلاً بعد نسلٍ دنیا میں ہمیشہ
۱۶۴
موجود و حاضر ہے، تا کہ قرآن اور اسلام کی باطنی نعمتوں کا دروازہ بند نہ ہو، کیونکہ آیۂ مبارکۂ بالا کے مطابق نور اور کتاب (قرآن) لازم وملزوم ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو صرف کتاب ہی کے آنے کا ذکر ہوتا۔
۳۔ قرآنِ حکیم (۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹) میں ہے کہ اللہ کے پاس ایک بولنے والی کتاب بھی ہے، ایسے میں لازمی ہے کہ خدا کی یہ دونوں کتابیں ایک دوسرے سے مربوط ہوں، کیونکہ خدا کی چیزوں میں روحانی ربط ہوتا ہے، پس خداوندِ عالم کی کتابِ ناطق (نور = امام) اور کتابِ صامت (قرآن) دونوں اس طرح مربوط ہیں کہ یہ باطن میں نورٌ علیٰ نور (یعنی ایک ہی نور) ہیں، اور ظاہر میں ایک تو معلّم ہے اور ایک کتاب (قرآن) جیسے حدیثِ شریف میں ہے: علی مع القراٰن ، و القراٰن مع علی۔ (المستدرک، جلدِ سوم) اس حدیثِ شریف میں زبردست امتحانی حکمت پوشیدہ ہے وہ یہ ہے کہ علی کا قرآن کے ساتھ ہونا اس طرح سے ہے کہ سر تا سر قرآن میں علی کا ذکرِ جمیل موجود ہے، اور قرآن کا علی کے ساتھ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ قرآن علی کے نور میں ہے، یعنی مولا علی کے عالمِ شخصی میں کل معجزاتِ قرآن کا تجدّد ہوا تھا، اور قرآن کا یہی تجدّد ہر امام میں ہوتا ہے، اور امامِ مبین میں ہر چیز کے محدود ہونے کے یہی معنی ہیں کہ ہر چیز کا مجموعۂ بیان قرآن ہے (۱۶: ۸۹) اور ایسا مجموعہ امامِ مبین میں ہے (۳۶: ۱۲)۔
۴۔ سورۂ بروج (۸۵: ۲۱ تا ۲۲) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: بل ھو
۱۶۵
قراٰن مجید۔ فی لوحٍ محفوظٍ = بلکہ وہ کمالِ شرف والا قرآن ہے، ایسی لوح میں لکھا ہے جو محفوظ ہے۔ اس ارشادِ مبارک کی تاویل کرتے ہوئے حضرتِ امیر المومنین علی نے فرمایا: انااللوح المحفوظ یعنی میں ہی لوحِ محفوظ ہوں۔ (کوکبِ دری)۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ آنحضرتؐ کا نور قلمِ اعلیٰ اور مولاعلیؑ کا نور لوحِ محفوظ ہے، اور یہ دونوں سب سے عظیم فرشتے ہیں جو عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ کہلاتے ہیں، کیونکہ عالمِ عُلوی کی چیزیں فرشتہ بشکلِ انسان ہوا کرتی ہیں۔
۵۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اوّل اوّل آدمِ دور میں آیا تھا، اس کا ذکر قرآنِ پاک میں برائے امتحان روح کے عنوان سے ہے (۱۵: ۲۹، ۳۸: ۷۲) اسی نور کے لئے فرشتوں نے سجدہ کیا اور اسی میں علمِ حقائقِ اشیاء تھا، میں اس سے پہلے یہ انقلابی راز کہیں لکھ چکا ہوں کہ ملائکہ نے حضرتِ آدم خلیفۃ اللہ علیہ السّلام کو ابتداء ً منزلِ عزرائیلی میں سجدہ کیا، اس مقام کا نام عالمِ ذرّ بھی ہے، بعد ازان بہت آگے چل کر جہاں مقامِ عقل آیا، وہاں خلیفۂ کائنات کا عقلی تولد ہوا جس میں وہ رحمان کی صورت پر ہوگیا، اور فرشتوں نے وہاں بارِ دوم سجدہ کیا۔
۶۔ آپ یقین کریں تو بہت فائدہ ہوگا کہ اگر توفیقِ الٰہی سے قرآنِ عظیم کے باطن کا دروازہ کھل گیا تو اس میں اسرار ہی اسرار ہیں، جیسے سورۂ اعراف کے اس ارشاد میں ہیں: و لقد خلقناکم ثم صورناکم
۱۶۶
ثم قلنا للملٰئکۃ اسجدوالاٰدم (۷: ۱۱) اور بے شک ہم نے تم کو (آدمِ زمانؑ کے عالمِ شخصی میں ) پیدا کیا، پھر تمہاری صورت بنا دی (یعنی تم آدمِ زمانؑ میں فنا ہو چکے تھے، اس حال میں تم کو صورتِ رحمان عطا ہوئی) پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو (ایسے میں تم آدم کے ساتھ ایک بھی تھے اور اس کی کاپیاں بن بن کر الگ بھی ہو رہے تھے)۔ اسی طرح آپ ہر پیغمبر اور ہر امام کی روحانیت میں ساتھ ساتھ رہے ہیں، کیونکہ ان حضرات میں سے ہر ایک شخص نفسِ واحدہ کا مرتبہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ کی بے پایان رحمت یہ ہے کہ آپ سب پر ہر نفسِ واحدہ میں ایک غیر شعوری قیامت گزری ہے، تا کہ تم آج علم الیقین کی روشنی میں اور کل بہشت میں عین الیقین کی روشنی میں اپنے آپ کو انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کی روحانیت میں دیکھ سکو، اور اس حکمتِ خداوندی پر یقین کرسکو کہ تم کو ہر اعلیٰ ہستی کی کاپی بطورِ جامۂ جنّت ملنے والی ہے، مثال کے طور پر جب کوئی شخص حضرتِ سلیمان علیہ السّلام سے لی گئی زندہ تصویر یا کاپی میں داخل ہوگا تو اس حال میں وہ خود کو سچ مچ سلیمان پائے گا۔
۷۔ یہ ایک زبردست پرحکمت حدیثِ شریف ہے: (ترجمہ) حضرتِ علیؑ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جنّت میں ایک بازار ہوگا جس میں خرید و فروخت نہیں ہوگی، ہاں اس میں عورتوں اور مردوں کی تصویریں ہوں گی، جو جسے پسند کرے گا، اسی کی طرح ہو
۱۶۷
جائے گا (جامع ترمذی، جلدِ دوم، ابواب صفۃ الجنۃ) اس میں اہلِ دانش کے لئے بہت سے اشارات اور بہت سے سوالات کے لئے تسلی بخش جوابات موجود ہیں، کیونکہ یہ حدیثِ شریف اپنے باطن میں بہت بڑی معنوی جامعیّت رکھتی ہے، اور یہ تصویریں کاغذی نہیں، ظاہری فلمی بھی نہیں، البتہ نورانی موویز ہوسکتی ہیں، جو زندگی اور شعور کی عمدہ عمدہ مثالیں ہوں، آپ ان کو انبیاء و اولیاء، اور بعد کے بہت سے درجات کے انسانوں کی زندہ اور بولنے والی کاپیاں کہہ سکتے ہیں، اجسامِ لطیف، لباسِ جنّت، حور وغلمان، جنّ و پری، فرشتہ وغیرہ کہہ سکتے ہیں۔
۸۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جنّت میں جتنی نعمتیں بنائی ہیں، ان میں ایک اعلیٰ نعمت یہ بھی ہے کہ وہاں روح کے لئے ظہورات ہیں، مثلاً اگر کوئی چاہے تو حضرتِ آدمؑ کی تصویر (کاپی) میں داخل ہوکر تجربہ کر سکتا ہے، اور اس نعمت کی امکانیت بہت پہلے ہی بنائی گئی تھی کہ تمام لوگ بشکلِ ذرّات شروع سے لے کر آخر تک آدمِ صفی اللہ کے ساتھ تھے، اور بہت سے معنوں میں خدمت کر رہے تھے، پس ان کا یہ حق بنتا ہے کہ بہشت میں اپنے باپ آدم کی طرح ہوجائیں، قس علیٰ ہٰذا۔
۹۔ سورۂ حشر کے آخر (۵۹: ۲۳ تا ۲۴) میں اللہ تعالیٰ کے چند خاص اسماء آئے ہیں، ان میں سے ایک اسم المصوّر (صورتوں کا بنانے والا)
۱۶۸
بھی ہے، حکماء کا کہنا ہے کہ اللہ بادشاہِ مطلق ہے، اس لئے وہ اپنے امر سے کام کراتا ہے، اور اس کی ذات کام کرنے سے بالاتر ہے، پس وہ اس معنٰی میں مصوّر ہے کہ اس کے حکم سے فرشتے، انبیاء، اور اّئمّہ نورانیت کی اعلیٰ تصویریں بناتے ہیں، جن کا اوپر ذکر ہوا، وہ حضرات اپنی اور دوسروں کی عقلانی، روحانی، اور لطیف جسمانی کاپیاں بناتے ہیں جو کاملاً انہی کی طرح زندہ اور دانندہ ہوا کرتی ہیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
منگل ۲۳ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ، ۲۹ جولائی ۱۹۹۷ء
۱۶۹
عرفانی سوال و جواب
سوال۔۱: سورۂ نمل (۲۷: ۱۶) میں ارشاد ہے: اور سلیمان نے کہا لوگو ہم کو (خدا کے فضل سے) پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔ پرندوں کی بولی سے کیا مراد ہے؟ اور ہر چیز یعنی کل چیزیں ظاہری ہیں یا باطنی، یا دونوں مراد ہیں؟۔ جواب: پرندوں کی بولی کا معجزہ حق ہے، مگر مختصر اور محدود ہے، لہٰذا اصل اشارہ ارواح و ملائکہ کی طرف ہے، جن کی بولی تمام حضراتِ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام جانتے ہیں، جیسا کہ اسی آیۂ کریمہ میں ہے: و ورث سلیمان داؤد= اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرتِ سلیمان کی ہر چیز یعنی کل چیزیں روحانی اور باطنی تھیں جو آلِ ابراہیم کی میراث کے عنوان سے عطا ہوئی تھیں (۴: ۵۴)۔
سوال ۔ ۲: و حشر لسلیمان جنودہ = اور سلیمان کے لئے جنّ اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے تھے (۲۷: ۱۷)۔ کیا یہاں صیغۂ حُشِرَ میں حضرتِ سلیمان کی ذاتی قیامت کا کوئی تذکرہ یا اشارہ بھی موجود ہے یا صرف ظاہری قصّہ ہے؟ ۔ جواب: یہاں دونوں چیزیں ہیں، یعنی قصّۂ ظاہر بھی ہے اور قیامتِ باطن بھی ، کیونکہ حُشِرکے لفظی اور اصطلاحی دو معنی ہیں، اور اصطلاحاً یہ قیامت کو ظاہر کرتا ہے، آپ قرآنِ پاک میں کم سے کم ایک مثال (۲۰: ۱۲۵) کو دیکھ سکتے ہیں۔
سوال۔ ۳:
جب کہا جاتا ہے کہ “روحانی لشکر” تو معلوم نہیں ہوسکتا کہ اس لشکر میں کن کن مدارج کی روحیں شامل ہوسکتی ہیں، کیونکہ ہر قسم کی نباتات اپنی اپنی نوعیت کی روحیں رکھتی ہیں حیوانات، حشرات اور جراثیم کی بھی روح ہے، پس آپ بتائیں کہ روحانی لشکر کس قسم کی روحوں کا نام ہے؟۔ جواب: یہ لشکر جنّوں ، انسانوں، اور فرشتوں پر مشتمل ہیں، اور بس، اس کی مثال حضرتِ سلیمانؑ کے لشکر ہیں (۲۷: ۱۷) کہ اس میں پرندوں سے فرشتے مراد ہیں۔
سوال ۔ ۴: قصّۂ ملکۂ سبا میں عرش عظیم کے کیا معنی ہیں؟ اور اس کو سلیمانؑ کے پاس لے جانے میں کیا حکمت ہے؟ ۔جواب: عرش کے کئی معنی ہیں، آپ لغات القرآن وغیرہ میں دیکھیں، ہم یہاں عرش کے صرف تین معنوں پر اکتفاء کرتے ہیں: تختِ شاہی، سلطنت، صورتِ عقل، پس بلقیس کے تخت کو حضرتِ سلیمانؑ کے پاس لے جانے کی چند حکمتیں ہیں، مثال کے طور پر دنیا کی ہر باطل بادشاہی اور حکومت روحانی طاقت سے مغلوب ہوکر حضرتِ امامِ عالی مقام کی
۱۷۱
باطنی سلطنت کا حصہ بن جاتی ہے، قرآن کہتا ہے کہ خداوند تعالیٰ کے پاس بہت سی روحانی غنیمتیں ہیں (۴: ۹۴، ۴۸: ۲۰) جب روحانی جنگ اور فتحِ اسلام ایک یقینی حقیقت ہے تو اس کے خوشگوار نتائج و ثمرات بھی یقینی ہیں۔
سوال ۔ ۵: وادیٔ نمل (چیونٹیوں کی وادی) کہاں ہے؟ سورۂ نمل کی آیت ۱۸ ، اور ۱۹ کو پڑھ کر بتائیں کہ وہ چیونٹی کس چیز کی مثال ہے؟ سلیمان کو کس بات سے تعجب ہو رہا تھا؟۔ جواب: ارواح کی ایک مثال چیونٹیوں سے دی گئی ہے، جیسے عالمِ ذرّ کے معنی ہیں، ان روحوں میں ایک داعی بھی ہے، اس کی آواز اتنی چھوٹی، لطیف، اور باریک ہے کہ سننے والے کو اس سے بڑا تعجب ہوتا ہے، اس آواز کا ہیولا (ہیولیٰ) کان کا بجنا ہے، اور وادیٔ نمل انسان کا کان ہے، جو روحوں کا عام راستہ اور مقام ہے۔
سوال۔ ۶: اکثر لوگ کان بجنے کی آواز کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے ہیں، اس کے بارے میں آپ کی روحانی معلومات کیا ہیں؟۔ جواب: یہ نفسِ انسانی کی آیاتِ قدرت میں سے ہے جن کی طرف قرآنِ پاک بار بار توجہ دلاتا ہے، چنانچہ کان بجتے بجتے صورِ قیامت کا عمل شروع ہوتا ہے، اسی آواز کو بعوضہ (۲: ۲۶) کہا گیا ہے، اور مولا نے فرمایا کہ وہ بعوضہ میں ہوں۔ نیز داعیٔ قیامت اسی آواز سے دعوت کا کام شروع کرتا ہے (۲۰: ۱۰۸) اور اسی آواز سے منادی پکارنے لگتا
۱۷۲
ہے (۴۱: ۵۰) اور یہ حکمت بھی سن لیں کہ حضرتِ عیسیٰؑ نے روحانی گہوارہ میں جس طفلانہ لہجے سے کلام کیا تھا، وہ بھی اسی لطیف آواز میں تھا، (۳: ۴۶، ۵: ۱۱۰، ۱۹: ۲۹) اور آپ کے دل کے پاس جو دو ساتھی ہیں (ایک جنّ اور ایک فرشتہ) وہ بھی اسی قسم کی آواز میں گفتگو یا بحث کرتے رہتے ہیں۔
سوال۔ ۷: کہا جاتا ہے کہ حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کے پاس ایک معجزاتی انگوٹھی تھی، جس میں اس کی ظاہری اور روحانی سلطنت کا راز پنہان تھا، تو کیا یہ روایت درست ہے؟۔ جواب: یہ صرف ایک مثال ہے، اور اصل حقیقت اسمِ اعظم ہے، جس کے ظہورات میں سے ایک ظہور انتہائی گرانقدر نگینے کی طرح بھی ہے، اسمِ اعظم کا ذکر قرآنِ مقدّس میں کئی طرح سے آیا ہے، اور ایک مفید ذکر سورۂ اعراف (۷: ۱۸۰) میں بھی ہے، کیونکہ اسمِ اعظم شروع شروع میں ایک ہی ملتا ہے، اگر اس کی عبادت میں کوئی شخص کامیاب ہوسکا تو اس کو کئی مزید اسماء ُ الحسنیٰ عطا ہوتے ہیں، اور یہ جاننا بہت ہی ضروری ہے کہ ہر انسانِ کامل کے پاس اسمِ اعظم ہوتا ہے۔
سوال۔ ۸: قرآنِ مجید میں صرف دو دفعہ لفظِ کرسی آیا ہے، پہلے آیۃ الکرسی (۲: ۲۵۵) میں الحیُّ القیوم کی کرسی کا ذکر
۱۷۳
ہے، اور قرآن میں آگے چل کر سورۂ ص (۳۸: ۳۴) میں حضرتِ سلیمانؑ کی کرسی کا تذکرہ ہے، کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ پہلی کرسی سے کیا مراد ہے اور دوسری کرسی کیا ہے؟ ۔ جواب: آیۃ الکرسی میں خدا کی کرسی کا ذکر ہے، وہ نفسِ کلّی ہے (یعنی روح الارواح) اور سورۂ ص میں سلیمان کی جس کرسی کا تذکرہ ہوا ہے، وہ بھی ظاہری نہیں، بلکہ روحانی ہے، پس وہ ہر انسانِ کامل کی روح ہے۔
سوال۔ ۹: حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کی مذکورہ کرسی سے متعلق آیۂ شریفہ کا ترجمہ ہے: اور ہم نے سلیمان کا امتحان لیا اور اس کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا پھر وہ رجوع ہو گیا۔ اس میں آپ یہ بتائیں کہ وہ کیسا جسد تھا جو سلیمانؑ کی کرسی پر ڈالا گیا؟ ۔ جواب: ابتدائی آزمائشی جسمِ لطیف تھا جو سلیمانؑ کی روحانی کرسی پر ڈالا گیا تھا، کیونکہ قانونِ روحانیت یہی ہے کہ روشنی سے پہلے ظلمت آتی ہے، امن سے پہلے خوف، خوبصورت سے قبل بدصورت، خوشبو سے پیشتر بدبو، اور فرشتہ جیسے جسمِ لطیف سے پہلے جانور جیسا جسمِ لطیف آتا ہے۔
سوال۔ ۱۰: حضرتِ سلیمان کے لئے جو ہوا مسخّر کی گئی تھی (۲۱: ۸۱، ۳۴: ۱۲، ۳۸: ۳۶) اس کی حقیقت کیا ہے؟ آیا وہ کوئی مادّی تخت تھا؟۔ جواب: یہ ہوا دراصل صورِ اسرافیل کی آواز تھی، آواز میں ہوا ہوتی ہے، کوئی مادّی تخت نہ تھا، بلکہ یہی جدّ (اسرافیل) کا معجزہ روحانی تخت کا کام کرتا ہے جو انبیاء و اولیاء کے لئے مسخّر ہے، جس سے ان حضرات کی روحانی پرواز بڑی آسان ہو جاتی ہے۔
سوال۔ ۱۱: وہ زمین کون سی ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے تمام عالمین کے لئے برکتیں رکھی ہیں؟ کیا وہ سرزمینِ شام (بیت المقدّس)
۱۷۴
ہے؟ ۔ جواب: وہ برکتوں والی زمین نفسِ کلّی ہے کہ ساری کائنات کی برکات اسی سے ہیں، کیونکہ وہ زمین بھی ہے اور آسمان بھی، چنانچہ انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کی روحانی پرواز وہاں تک ہوتی ہے (۲۱: ۷۱)۔
سوال۔ ۱۲: خداوندِ عالم نے حضرتِ سلیمان کے لئے ایسے شیاطین (جنّات) کو بھی تابع بنا دیا تھا جو معماری اور غواصی کا کام کرتے تھے (۳۸: ۳۷) آیا اس میں کوئی تاویلی حکمت ہے؟ اگر ہے تو بیان کریں۔ جواب: جی ہاں، اس میں زبردست تاویلی حکمت پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ جب انسانِ کامل جہادِ اکبر میں کامیاب ہو جاتا ہے، اور اس کی ذاتی قیامت برپا ہو جاتی ہے تو اس وقت شیاطین مغلوب ہو کر تابع ہو جاتے ہیں، وہ بحرِ روحانیت میں غواصی کی خدمات انجام دیتے ہیں اور عالمِ شخصی میں معماری وغیرہ کا کام کرتے رہتے ہیں۔
سوال۔ ۱۳: کیا یہ بات درست ہے کہ قرآنِ حکیم نے فرعون کوکبھی مَلِک (بادشاہ) نہیں کہا؟ آیا ہم اسی صورتحال کی دلالت سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآنِ پاک نے کافروں کے شاہانِ باطل کو ردّ کر دیا ہے؟۔ جواب: جی ہاں، یہ بات حقیقت ہے کہ حضرتِ موسیٰ اور فرعون کے قصۂ قرآن میں ۷۴ دفعہ فرعون کا نام آیا ہے، لیکن اس سارے قصے میں جو سب سے طویل ہے، کسی طرح سے بھی لفظِ مَلِک اس کے لئے نہیں آیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کسی کافر کا خود کو بادشاہ سمجھنا، یہ اُس کا گمان یا دعویٰ ہے، مگر حقیقت نہیں۔
۱۷۵
سوال ۔ ۱۴: یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، جس کے لئے مزید سوال و جواب کی ضرورت ہے، لہٰذا آپ یہ بتائیں کہ سورۂ یوسف میں پانچ مرتبہ جس بادشاہ کا ذکر آیا ہے وہ کون ہے؟ سورۂ نمل (۲۷: ۳۴) میں جن بادشاہوں کا تذکرہ ہوا ہے وہ کون ہیں؟ اور سورۂ کہف (۱۸: ۷۹) میں جس مَلِک کا بیان ہے، وہ کون ہے؟۔ جواب: سورۂ یوسف میں جس مَلِک کا ذکر ہوا ہے وہ تاویلاً امامِ مستقر ہے، جس کے زمانے میں حضرتِ یوسف امامِ مستودع تھا، ایسے میں امامِ مستقر خاموش رہتا ہے، سورۂ نمل میں حضراتِ أئمّہ کے بارے میں یہ بیان ہے کہ وہ اپنے عاشقوں کے عالمِ شخصی کو فتح کر لیتے ہیں، سورۂ کہف میں بھی امامِ عالی مقام ہی کا ذکرِ جمیل ہے، کہ وہ حجّتوں کی روحانی کشتی کو کبھی خود استعمال کرتا ہے اور کبھی ان کو دیتا ہے، مساکین حجّج ہیں، اگر تخت بر آب بنانے کے لئے کسی کی کشتی چھین لی جاتی ہے تو یہ اس شخص کی بہت بڑی سعادتمندی ہے۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعہ ، ۲۶ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ، یکم اگست ۱۹۹۷ء
۱۷۶
حضرتِ ربّ العزّت کی تجلّیات
۱۔ تجلّیٔ حق در آئینۂ موسیٰؑ:
یعنی حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کے آئینۂ باطن میں حق سبحانہ و تعالیٰ کی تجلّی کا بیان، سب سے پہلے یہ اُصولی بات یاد رہے کہ انسان کی خود شناسی اور خدا شناسی کے لئے جتنے بھی روحی اور عقلی معجزات ضروری ہیں وہ سب کے سب صراطِ مستقیم پر مربوط اور سلسلہ وار (ترتیب وار) ہیں، لہٰذا ہم یقین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگرچہ ظاہراً انبیائے قرآن کے معجزے الگ الگ بیان ہوئے ہیں،لیکن حقیقت میں سلسلۂ معجزات از اوّل تا آخر ایک ہی ہے، جس کو تمام انبیاء و اولیاء (أئمّہ) علیہم السّلام کے بعد عارفین و سالکین بھی دیکھ سکتے ہیں۔
۲۔ آپ مکمل آیۂ شریفہ اور ترجمۂ سورۂ اعراف (۷: ۱۴۳) میں پڑھ لیں، ہم یہاں اس کی صرف ایک حکمت بیان کرتے ہیں کہ جب حضرتِ موسیٰؑ کی روحانی قیامت برپا ہوئی اور اسرافیل وعزرائیل اپنا اپنا کام کرنے لگے تو اُس حال میں ربّ العزّت نے حضرتِ موسیٰؑ کے کوہِ روح پر اپنی تجلّی ڈالی، تو روح کا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر بے شمار ذرّات میں بکھر گیا،
۱۷۷
اور جبلِ روح کا ہر ذرّہ تجلیٔ حق کا دائمی آئینہ بن گیا، موسیٰؑ کی روح اب روحوں کی ایسی کائنات بن گئی جس میں ہر سو تجلّی ہی تجلّی تھی، اس وقت حضرت موسیٰؑ کو نفسانی موت کا مکمل تجربہ بھی حاصل ہوا، کیونکہ صَعِقَ کے معنی ہیں: وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا، وہ مر گیا، میرے نزدیک دوسرے معنی نفسانی موت کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہیں، کیونکہ جو شخص بے ہوش ہو جاتا ہے وہ کچھ دیکھ نہیں سکتا، جب کہ اس آیت کے مطابق خدا نے موسیٰؑ کو یہ حکم دیا تھا کہ پہاڑ کی طرف دیکھتے رہنا، پس یقیناً نفسانی موت اگرچہ بڑی سخت چیز ہے، لیکن اس میں بے ہوشی نہیں ہے، کیونکہ وہ مشاہدہ اور معرفت کی غرض سے ہے۔
۳۔ تجلّیٔ دوم بر کوہِ عقل:
بیانِ بالا سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگرچہ حضرتِ موسیٰؑ کو بظاہر دیدار نہیں ہوا، لیکن ان کی روح تجلّیاتِ حق میں مستغرق ہوئی تھی، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عاشقانِ الٰہی کی روح کو ہر گریہ و زاری میں دیدارِ روحانی ہوسکتا ہے، در حالے کہ ان کو پتا بھی نہ ہو، اب حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کے بارے میں عرض ہے کہ ان کو کوہِ عقل پر سب سے اعلیٰ دیدار ہوا، اس رؤیت (دیدار) میں علم و معرفت کے جملہ اشارے جمع ہوتے ہیں، سرتاسر قرآن میں اسی دیدار کی علمی تجلیات ہیں، یہی دیدارِ پاک کنزِ مخفی ہے، جس کے حصول کی غرض سے عارف کی روحانی اور عقلی تخلیق ہوتی ہے۔
۱۷۸
۴۔ تجلّیٔ حق در آسمان و زمینِ عالمِ دین:
جیسا کہ سورۂ نور (۲۴: ۳۵) میں ہے: اللہ نور السمٰوٰت و الارض = حق تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ قرآن اور اسلام کی نظر میں سورج، چاند، اور ستارے نہ تو خدا ہیں، اور نہ ہی اس کے نور کے مظاہر ہیں، بلکہ یہ اللہ کی ظاہری مخلوقات میں سے ہیں، آپ ان کو دیگر بہت سی چیزوں کی طرح صرف مظاہرِ قدرت کہہ سکتے ہیں، اور ان کے بارے میں سب سے ضروری بات تو یہ ہے کہ ظاہری آفتاب، ماہتاب، اور ستارے اس حقیقت کی روشن مثالیں ہیں کہ عالمِ دین میں بھی شمس، قمر، اور انجم ہیں، جو ناطق، اساس، امام اور ذیلی حدود ہیں، لیکن ظاہری روشنی اور نورِ باطن کے درمیان بے پایان فرق ہے۔
۵۔ اب آپ کو یہ سرِعظیم جاننا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ عارف کی روحانی قیامت میں کائنات کو لپیٹ لیتا ہے تو وہ کون سی کائنات ہے؟ اور اس سمیٹی ہوئی کائنات کو کہاں رکھتا ہے؟ اس کا درست جواب یہ ہے کہ عالمِ ظاہر ہمیشہ اپنی جگہ پر قائم ہے خدا تو عالمِ باطن یعنی عالمِ دین کو لپیٹ کر عالمِ شخصی میں محدود کردیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ تجلّیاتِ معرفت کے تمام ضروری آئینے عارف کے سامنے ہوا کرتے ہیں، مثلاً آئینۂ ازل و ابد، آئینۂ آدم ، آئینۂ نوح، آئینۂ ابراہیم وغیرہ۔
۱۷۹
: ۶۔ تجلّیٔ حق در آسمان و زمینِ عالمِ شخصی
سورۂ حدید (۵۷: ۳) میں ارشاد ہے: ھوالاوّل و الاٰخر والظاہر و الباطن و ھو بکل شیءٍ علیم = وہی اوّل بھی ہے اور آخر بھی، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اگرچہ خدا کی کوئی اوّلیت و آخریت نہیں، لیکن عارف کے عالمِ شخصی کے پیشِ نظر وہی اوّل و آخر ہے، اور وہی اسی عالمِ شخصی میں ظاہر، نورِعیان، اور متجلّی ہے اور وہی اسی میں مخفی ہے۔
۷۔ مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ میں آپ دیکھتے ہیں کہ الظّاہر اللہ تعالیٰ کے اسمائے صفات میں سے ہے، اور تجلّٰی ربہ للجبل (اس کا ربّ پہاڑ کے لئے ظاہر ہوا، ۷: ۱۴۳) کا تعلق اسی اسمِ مبارک سے ہے، پس عالمِ شخصی کے آسمان و زمین میں نورِ خدا کے ظہورات و تجلّیات کے ہونے میں کوئی شک ہی نہیں، جبکہ وہ النور بھی ہے، پس میرا ایمان اور یقین یہ ہے کہ سب سے اوّلین دیدار اسی دنیا میں ہے، لیکن اس کی ایک بہت بڑی شرط بھی ہے، وہ یہ ہے کہ ہر مومنِ سالک جسمانی موت سے قبل نفسانی طور پر مر جاتا ہے، تا کہ وہ راہِ روحانیت کے ہر قدم پر ظہورات و تجلّیات کو دیکھ سکے۔
۸۔ اپنے بے حد پیارے متعلمین سے سوال:
اے رفیقان و عزیزانِ من! بعض قسم کے سوالات بحث و مناظرہ اور آزمائش
۱۸۰
کی غرض سے نہیں ہوتے، بلکہ تقریر و تحریر کو منظم ، دلکش، قابلِ توجہ، آسان ، اور دل نشین بنانے کی خاطر ہوتے ہیں، چنانچہ میں بسا اوقات ایسے سوال و جواب کے لئے کوشش کرتا ہوں، پس اے عزیزان! میں بصد خلوص و محبت آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ انسان عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) ہے، تو اس کی روحانی، عقلانی، اور عرفانی روشنی کے لئے کوئی عظیم الشّان شمس یا نور موجود ہوگا یا نہیں؟ یقیناً آپ اپنے انمول ذخیرۂ علمی سے یہ جواب دیں گے کہ ہاں، عالمِ شخصی میں نور ضرور ہوگا، کیونکہ سورج (نور) کے سوا کسی عالم کا کوئی تصور ہی نہیں، تو میں کہتا ہوں کہ بالکل درست اور بجا ہے، عالمِ شخصی کے لئے جو خورشیدِ انور ہے، وہ بے مثال ہے، وہ کسی شک کے بغیر خدائے بزرگ و برتر کے نورِ اقدس کا مظہر ہے، اس لئے اس کی تعریف و توصیف کو احاطۂ تحریر میں محدود کرنا ہم جیسے کمزور انسانوں کے لئے محال ہے۔
۹۔ اوّل، آخر، ظاہر، اور باطن کی ایک تاویل:
یہ کہیں دور کی بات ہرگز نہیں، بلکہ عالمِ شخصی ، جبین اور احاطۂ مقدّس ہی کا ایک رازِ سربستہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے کل علمی و عرفانی اشیاء کو امامِ مبین کے نور میں اس طرح گھیر کر رکھا ہے کہ کوئی چیز اس پرحکمت جامع الجوامع سے باہر نہیں، حتّیٰ کہ یہاں ازل و ابد بھی ساتھ ساتھ چشمِ بصیرت کے سامنے موجود ہیں، اب اس مقام
۱۸۱
پر درجِ بالا چار اسماء کی تاویل اس طرح سے ہے: (الف) اسمِ اوّل: اس معنیٰ میں ہے کہ ازل نور کے ساتھ ہے (ب) اسمِ آخر: بمعنیٔ آنکہ ابد نور کے ساتھ ہے (ج) اسمِ ظاہر: بہ این معنیٰ کہ نور اس جگہ بار بار طلوع ہوتا رہتا ہے (د) اسمِ باطن: بہ این وجہ کہ نور یہاں بار بار غروب ہوتا رہتا ہے۔
۱۰۔ مجھے حضرتِ امامِ عالی مقام علیہ السّلام کے علمی معجزات کو بیان بھی کرنا ہے، اور ڈرنا بھی ہے کہ کہیں ہم سے ناشکری اور ناقدری نہ ہو جائے، اے کاش! اے کاش! ہم مثلِ طفلِ شیر خوار یا مانندِ ابرِنوبہار بڑی آسانی سے آنسو بہا سکتے! اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
منگل ۳۰ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ ، ۵ اگست ۱۹۹۷ ء
۱۸۲
تاویلی سوالات
۱۔ س: سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۱۰۱) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کونو کھلے معجزے عطا کئے تھے، آپ ہمیں بتائیں کہ وہ معجزات کیا کیا تھے؟۔ ج: وہ معجزات قرآنی ارشاد کے مطابق یہ ہیں: عصا (۷: ۱۰۷)، یدِ بیضا (۷: ۱۰۸)، قحط، پھلوں کی کمی (۷: ۱۳۰)، طوفان، ٹڈیاں، چچڑیاں، مینڈک، اور خون (۷: ۱۳۳)۔
۲۔ س: عصائے موسیٰ کس چیز کی مثال ہے؟ یدِ بیضا کی کیا تاویل ہے؟ قحط اور پھلوں کی کمی سے کیا مراد ہے؟ طوفان، ٹڈیاں، چچڑیاں، مینڈک اور خون کس طرح معجزات میں شمار ہوسکتے ہیں؟۔ ج: عصا بیک وقت چار چیزیں ظاہر کرتا ہے: اساس جو حضرتِ ہارونؑ تھا، اسمِ اعظم، روحانیت، اور علم، یدِ بیضا گوہرِعقل کا معجزہ ہے جو اپنے وقت میں ہر نبی اور ہر ولی کو حاصل ہوتا ہے، قحط اور پھلوں کی کمی کا اشارہ ہے کہ جو لوگ ہادیٔ برحق کو نہیں مانتے ہیں وہ روحانی قحط میں مبتلا ہو جاتے ہیں، یاد رہے کہ معجزہ دو قسم کا ہوتا ہے: معجزۂ رحمت، اور معجزۂ
۱۸۳
عذاب، چنانچہ حضرتِ موسیٰؑ کے بعض معجزات میں عذاب تھا تا کہ اہلِ انکار کو ڈرایا جائے۔
۳۔ س: عصائے موسیٰ اژدہا یعنی بہت بڑا سانپ بن جاتا تھا، اس میں کیا راز ہے؟ دوسرے جانوروں کو چھوڑ کر سانپ میں ایسی خوبی کی کون سی بات ہے؟۔ ج: لمبی بے جان لاٹھی سے لمبا جاندار اژدہا بن جانا بہت بڑا معجزۂ مناسبت ہے، اور سانپ جس طرح پیروں کے بغیر دراز ہو کر چلتا ہےاور جیسے کنڈلی مار کر بیٹھتا ہے وہ صرف اسی کا خاصہ ہے، پس اس معجزے میں ان حکمتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے: (الف) اسمِ اعظم شروع شروع میں عصائے موسیٰ کی طرح بے حس و بے حرکت ہوتا ہے، پھر علم وعمل اور سخت ریاضت سے اژدہا کی طرح ہوتا ہے تاکہ آفتوں ، بلاؤں، مخالفتوں ، اور عداوتوں کو نگل سکے، (ب) اسمِ اعظم سانپ کی طرح پیٹ کے بل بھی چلتا ہے (یمشی علیٰ بطنہ،۲۴: ۴۵) یعنی باطنی طور پر چلتا ہے، (ج) روحانیت اور علم کا اژدہا جب روان دوان ہو تو بہت ہی طویل ہوجاتا ہے، لیکن جب کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے تو محدود ہو جاتا ہے (ج) اسمِ اعظم کا علمی اژدہا دنیا والوں کے ہرعلم کو نگل لیتا ہے، اور اس کا عالمِ شخصی کائنات کو بھی نگل لیتا ہے۔
۴۔ س: انبیائے قرآن علیہم السّلام کے معجزات کی معرفت ممکن ہے یامحال؟ اگر ممکن ہے تو حاصل کرنے کا طریقِ کار کیا ہے؟ اگر محال ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟
۱۸۴
ج: یہ معرفت ممکن ہے، اور طریقِ حصول وہی ہے جو خود شناسی اور خدا شناسی کے لئے مقرر ہے، پس عارف اپنے عالمِ شخصی میں پیغمبروں کے معجزات کو دیکھتا ہے اور تصدیق کرتا ہے، اور یہی ہے ناطقوں، اساسوں، اماموں اور حجّتوں کے ساتھ ہو جانا (۴: ۶۹)۔
۵۔ س: معجزۂ یدِ بیضا کی جو تاویل ہے، اس کی وضاحت کریں۔ ج: یہ تو انتہائی راز کی بات ہے کہ ہر نبی، اس کے پیچھے پیچھے ہر ولی، اور اس کے نقشِ قدم پر چل کر ہر عارف گوہرِ مقصود یعنی گوہرِعقل کو ہاتھ میں لیتا ہے، یہ ہوا کتابِ مکنون کوچھونا، یدِ بیضا کا معجزہ کرنا ، وغیرہ، اب ایسے انسانِ کامل کا علم بھی غیر معمولی ہوگا، پس حضرتِ موسیٰؑ کے معجزۂ یدِ بیضا کے دو معنی ہوئے: باطن میں گوہرِعقل کو ہاتھ میں لینا، جس کے بے شمار معنی ہیں، اور ظاہر میں غیر معمولی علم بیان کرنا۔
۶۔ س: قصۂ یونس علیہ السّلام کے بارے میں پوچھنا ہے کہ آیا اس کا کوئی باطنی پہلو بھی ہے؟ اگر ہے تو بیان کریں۔ ج: یقیناً اس کا تاویلی پہلو ہے، وہ یہ کہ حضرتِ یونسؑ کو روحانیت کی سب سے بڑی مچھلی نے نگل لیا تھا، یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم میں مچھلی کے لئے اسمِ معرفہ آیا ہے، یعنی النون (۲۱: ۸۷)، الحوت (۳۷: ۱۴۲) اسی مچھلی نے ان کو عالمِ شخصی کے سب سے بلند ترین مقام پر اُگل دیا اور یہاں ان کو معراج ہوئی۔
۷۔ س: سورۂ آلِ عمران (۳: ۵۹) میں ہے: (ترجمہ)عیسیٰ کی مثال خدا کے نزدیک آدم کی سی ہے، جسے خدا نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس
۱۸۵
سے کہا ہوجا تو وہ فوراً ہوگیا۔ اس کی حکمت کس طرح سے ہے؟۔ ج: اللہ تعالیٰ عمل میں بھی اور علم میں بھی لوگوں کو آزماتا رہتا ہے، تا کہ ان کو درجات میں بڑھا دیا جائے، چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح حضرتِ عیسیٰؑ کے والدین تھے، اسی طرح حضرتِ آدمؑ کے بھی والدین تھے، آدم و عیسیٰؑ کی جسمانی تخلیق غیر معمولی نہ تھی، اللہ نے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح مٹی سے پیدا کیا، بعد ازان ان کی روحانی تخلیق انبیاء و اولیاء علیہم السّلام ہی کی طرح شروع ہو کر مرتبۂ عقل پر مکمل ہوئی، جہاں کُن (ہو جا) کا اطلاق ہو جاتا ہے۔
۸۔ س: اس دن تیرے پروردگار کے عرش کو آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھا لیں گے (۶۹: ۱۷) اس کی کچھ حکمتیں بیان کریں۔ج: یہاں عرش سے نورِعقل مراد ہے جو سرچشمۂ علم و حکمت ہے، یہ نور جو خدا کے علم و حکمت کا تخت ہے، قبلاً سات اماموں کی وحدت پر قائم ہوتا ہے، لیکن جب کسی عارف کی ذاتی قیامت برپا ہو جاتی ہے، تو اس وقت وہ بھی اسی وحدت کے ساتھ مل جاتا ہے، اور اسی طرح حاملانِ عرش آٹھ ہو جاتے ہیں، یہ عالمِ شخصی کا قصّہ ہے۔
۹۔ س: سورۂ ابراہیم (۱۴: ۲۵) میں ایک پاک کلمہ اور ایک پاک درخت کا ذکر آیا ہے، وہ کیا ہیں؟ ۔ ج: پاکیزہ کلمہ امامِ زمان کا وہ نور ہے جو عالمِ شخصی میں اسماء ُ الحسنیٰ اور کلماتِ تامّات کی صورت میں اپنا کام کرتا ہے، اور پاک درخت (شجرۂ طیبہ) محمد و أئمّۂ آلِ محمد ہیں (صلی اللہ علیہ
۱۸۶
و علیہم اجمعین) اس پاکیزہ درخت کی جڑ جو عالمِ دین کی زمین میں مضبوط ہے وہ حضورِ اکرمؐ ہیں، اور شاخ جو عالمِ عُلوی میں پہنچی ہے وہ امامِ وقت ہیں، آپ اس سرِاعظم کو جانتے ہوں گے کہ انفرادی عالمِ عُلوی جبین میں ہے۔
۱۰۔ س: سورۂ فرقان (۲۵: ۳۰) میں ہے: اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ اس آیۂ شریفہ کی تفسیر میں بین العلماء اختلاف ہے، بعض کا قول ہے کہ خداوندِ عالم کے حضور میں رسولِ اکرمؐ کی یہ شکایت صرف کافروں کے خلاف ہے، جبکہ بعض کہتے ہیں کہ یہ آیۂ کریمہ مسلمانوں کے بارے میں ہے، اس میں آپ کیا کہتے ہیں؟۔ ج: قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کا بے مثال کلام ہے، یہ آسمانی حکمتوں سے لبریز ہے، یہ اسرارِ الٰہی سے مملو ہے، یہ روحانیت و عقلانیت کا وہ بحرِعمیق ہے، جو درّرِ گرانمایہ سے بھرا ہوا ہے، لہٰذا نورِمنزل (۵: ۱۵) کے بغیر قرآنِ پاک کے جتنے حقوق ہیں، ان کی ادائیگی محال ہے۔
۱۱۔ س: کیا آپ نے جثۂ ابداعیہ کو دیکھا ہے؟ اگر دیکھا ہے تو وہ کیسا ہے؟ اس کی بعض خصوصیات بیان کریں۔ج: یقیناً میں نے جثۂ ابداعیہ کو دیکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے عجائب وغرائب کا مظہر ہے، دراصل وہ بہت کچھ ہے، بلکہ سب کچھ ہے، وہ مجموعۂ اسرارِ معرفت ہے، وہ مرئی بھی ہے اور غیر مرئی بھی، وہ جنّ و انس بھی ہے اور
۱۸۷
فرشتہ بھی، کیونکہ وہ کائنات کا خلاصہ اور جوہر ہے، اگر آپ ایک ہی چیز کا جوہر نکالتے ہیں تو اس میں ایک ہی خصوصیت ہوا کرتی ہے، اگر چند چیزوں کا جوہر ہے تو اس میں صرف چند خصوصیات موجود ہوتی ہے، لیکن جہاں جوہرِ کائنات ہو تو وہاں کیا نہیں ہے، پس ایک ہی وجودِ لطیف میں انسانِ کبیر، انسانِ صغیر، روح، ارواح، جنّ (پری)، فرشتہ، لشکرِ روحانی وغیرہ وغیرہ کے ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے۔
۱۲۔ س: الاتقان، حصۂ اوّل میں قرآنِ پاک کے ۵۵ نام درج ہیں، ان ناموں میں مبین، مبارک، نور، روح، ذکر اور شفا بھی ہیں، آپ قرآنِ عظیم کے ان اسماء کی حکمت بتائیں۔ ج: مبین کے معنی ہیں: ظاہر، واضح، اور بیان کرنے والا، مگر اس کی لازمی شرط نورِ منزل کی روشنی ہے (۵: ۱۵) کیونکہ اللہ کا نور اور قرآن ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، مبارک کے معنی ہیں: وہ شیٔ جس میں خدا کی طرف سے بہت سی برکتیں ہوں، یہ قرآن کی صفت ہے، قرآن رسولِ اکرم کی پاک و پاکیزہ شخصیت ہی میں نور تھا، اور أئمّۂ اطہارِ آلِ محمد کے سلسلے میں بھی حسبِ دستور قرآن نور تھا، اور اب بھی یہ اسی سلسلے میں نور ہی ہے، اسی طرح قرآن ہادیٔ برحق میں زندہ روح ہے جو نور کے معنی سے الگ نہیں، ذکر کے معنی ہیں: نصیحت ، یادِ الٰہی، رسول، اہلِ ذکر، پس قرآن ان تمام معنوں کے ساتھ ہے، اور قرآن چونکہ نور کے ساتھ ہے، اس لئے علی الخصوص روح اور عقل کی کل بیماریوں کے لئے شفا اور دوا ہے،
۱۸۸
الحمد للہ ربّ العالمین۔
۱۳۔ س: سورۂ مریم کے ایک ارشاد (۱۹: ۷۱ تا ۷۲) کی تفسیر میں اختلاف ہے، بعض علماء کہتے ہیں کہ دوزخ کے اوپر جو پُل ہے، اس سے اہلِ ایمان کو گزر جانا ہے اور بعض کا قول ہے کہ سب کو ایک بار دوزخ میں اتر جانے کا قانون ہے، اس میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟ ۔ج: آپ ان دونوں آیتوں کو لفظ بلفظ غور سے پڑھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ مصلحت اور حکمتِ خداوندی اسی میں ہے کہ سب کو ایک بار دوزخ میں وارد ہونا (اترنا) ہے، پھر بعض کو جلدی نجات ملے گی، اور بعض کو تاخیر سے۔
۱۴۔ س: سورۂ بقرہ ، آیت ۳۰ کے حوالے سے سوال ہے : اللہ تعالیٰ نے حضرتِ آدم علیہ السّلام کو جس زمین میں اپنا خلیفہ (نائب) بنایا تھا، آیا وہ صرف یہی زمین ہے جس پر ہم بس رہے ہیں؟ یا کوئی اور زمین بھی ہے؟ جیسے عالمِ دین کی زمین؟ ستاروں کی زمین؟ کائناتی یا عالمِ کبیر کی زمین؟ عالمِ شخصی یا عالمِ صغیر کی زمین؟ نفسِ کلّی کی زمین؟۔ ج: یہ زمینِ نفسِ کلّی ہے، جس میں نہ صرف ہر زمین شامل ہے، بلکہ ہر آسمان بھی داخل ہے، کیونکہ وہ اللہ کی کرسی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: وسع کرسیہ السمٰوات و الارض (۲: ۲۵۵) اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو (اپنے اندر) سما لیا ہے۔ پس حضرتِ آدم علیہ السّلام کو اللہ جلّ جلالہ
۱۸۹
نے اپنی ساری خدائی میں خلافت عطا کی تھی۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۲۰ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ ، ۲۵ اگست ۱۹۹۷ء
۱۹۰
قرآنی سائنس اور کائنات
۱۔ قرآنِ پاک کا پر از حکمت ارشاد ہے: فاقم وجھک للدین حنیفا فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللہ ذالک الدین القیم و لٰکن اکثر الناس لا یعلمون (سورۂ روم، ۳۰: ۳۰) آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس آیۂ شریفہ کے پانچ اجزاء ہیں، ان سے متعلق چوٹی کا مفہوم یا جبینی حکمت = روحانی سائنس یہ ہے: جزوِ اوّل: (اے رسول، اے ولی، اے عارف) تم حظیرۂ قدس میں اپنا چہرۂ عقل و جان دینِ حنیف (یک حقیقت) کے لئے قائم کرو۔
۲۔ جزوِ دوم: فطرت کے معنی ہیں: صورتِ رحمان، دینِ حق، آفرینشِ ازل، یک حقیقت، اور قانونِ فطرت، پس جزوِ دوم کے جبینی اسرار یہ ہیں: اللہ کی آفرینشِ ازل وہ ہے جس کے مطابق اُس نے تمام لوگوں کو پیدا کیا۔ یعنی خلاق ُ العلیم کی آفرینش عالمِ علوی میں بھی ہے اور عالمِ سفلی میں بھی، اور دونوں میں اصولی
۱۹۱
موافقت ہے، تا کہ ہر شخص دینِ حنیف کے ارشادات پر عمل کر کے خزانۂ جبین میں داخل ہو سکے۔
۳۔ جزوِ سوم: اللہ کی ظاہری اور باطنی آفرینش (تخلیق) میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یعنی دائرۂ اعظم میں اگرچہ ذیلی طور پر بے شمار تبدیلیاں ہیں، لیکن کلّی طور پر دیکھا جائے تو کوئی تبدل و تغیر نہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی صفتِ خلاقیت ہمیشہ ہمیشہ کسی تبدیلی کے بغیر اپنا کام کر رہی ہے، اور اس کام کی ابتداء و انتہا ممکن ہی نہیں، کیونکہ خدا کی بادشاہی قدیم (ہمیشہ) ہے۔
۴۔ جزوِ چہارم: قاموس القرآن میں لفظِ القیم کے یہ معنی ہیں: قائم رکھنے والا، نگرانی کرنے والا، سیدھا، صحیح، قیام سے ۔۔۔، پس جزوِ چہارم کا مفہوم ہے: یہی حضرتِ قائم القیامت کا دین ہے۔ جس کا تعارف مذکورہ آیۂ شریفہ میں موجود ہے، جس کی وضاحت کی گئی۔
۵۔ جزوِ پنجم: لیکن اکثر لوگ دینِ حق کے ان بھیدوں کو نہیں جانتے ہیں (جن کا یہاں ذکر ہوا)۔ پس انسان بہشت میں ہمیشہ ہمیشہ موجود ہے، یہ راز آپ کو قرآنِ حکیم کے بہت سے الفاظ میں مخفی طور پر ملے گا، مثلاً غلمان، جو بہشت کے ابدی نوجوان لڑکے ہیں، وہ ابدی بھی ہیں اور ازلی بھی، یہ کون ہیں؟ یہ کس کے زندہ اور معجزانہ لباس ہیں کہ جو بھی ان کو پہن لے تو اس
۱۹۲
کو یہ کامل یقین ہو جاتا ہے کہ وہ بہشت سے کبھی باہر نہیں آیا؟ یہ لباس آپ کے لئے ہیں، اور سب کے لئے ہیں۔
۶۔ اب ہم مذکورہ آیۂ فطرت کی روشنی میں کائناتِ ظاہر سے متعلق کچھ حقائق و معارف بیان کریں گے کہ ستارے اور لوگ ایک ہی قانونِ فطرت کے تحت پیدا کئے گئے ہیں، چنانچہ اس عالمی صورتِ حال میں بڑا حکمت آگین سبق ہے کہ دنیا کے تمام انسان کیوں ایک ہی ساعت اور ایک ہی دن میں پیدا نہیں ہوئے ہیں؟ سب کی طبیعی موت ایک ساتھ کیوں نہیں آتی ہے؟ یہی تو قانونِ فطرت کا زبردست اشارہ ہے کہ اسی طرح ستارے بھی دفعۃً (یکبارگی) وجود میں نہیں آئے، اور نہ ہی وہ ایک ساتھ فنا ہو جاتے ہیں، بلکہ آدمیوں ہی کی طرح ان میں بھی پیدائش اور موت کا لا ابتداء و لا انتہاء سلسلہ جاری ہے۔
۷۔ قرآنِ حکیم میں کائناتی قوانین یا کلّیات ہیں، جن کی روشنی میں کائنات کی ہر چیز کی معرفت ہو جاتی ہے، جیسے کلّیۂ آب کے بارے میں ارشاد ہے: و جعلنا من الماءِ کل شیءٍ حیٍ (۲۱: ۳۰) اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ یعنی مادّی پانی سے ظاہری زندگی بنتی ہے، اور روحانی پانی (علم) سے حقیقی حیات ملتی ہے، پس شروع شروع میں جب سیّارۂ زمین پر پانی کی برکت پیدا نہیں ہوئی تھی (۴۱: ۱۰) تو اس وقت یہ زمین ہنوز زندہ نہیں ہوئی
۱۹۳
تھی، اور زمانہائے دراز کے بعد جب سیارۂ زمین کے تمام آبی ذخائر (سمندر وغیرہ) ختم ہو جائیں گے (۱۸: ۷ تا ۸، ۲۳: ۱۸) اس وقت جملہ بناتات اور حیوانات نیست و نابود ہو جائیں گے، مگر انسان تب تک روحانی سائنس کی مدد سے نورانی قالب میں منتقل ہوکر کسی اور سیارے پر جا چکا ہو گا (ملاحظہ ہو: ہزار حکمت: قالب) کیونکہ قرآن فرماتا ہے: کہ تم طبقاتِ کائنات پر ضرور چڑھو گے (۸۴: ۱۹)۔
۸۔ س: آپ نے اپنی ایک کتاب ’’عملی تصوف اور روحانی سائنس‘‘ میں سورج کے وجود کے بارے میں زبردست مفید انکشافی بحث کی ہے، یہاں آپ یہ بتائیں کہ کائنات میں کوئی سیّارہ یا ستارہ کس طرح وجود میں آتا ہے؟ آیا اس باب میں قرآنِ حکیم کا کوئی اشارہ موجود ہے؟ اگر موجود ہے تو بتائیں۔ج: سورۂ انبیاء (۲۱: ۳۰) میں ارشاد ہے: کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ یعنی اب زمین کے جتنے ذرّات ہیں، وہ سب کے سب پہلے آسمان میں بکھرے ہوئے تھے، پس خدا کے حکم سے زمین کے لئے جو روح مقرر ہوئی، اُس نے رفتہ رفتہ تمام ذرّاتِ منتشر کو اپنے لئے جمع کرلیا، اور یہی قانونِ فطرت تمام اجرامِ سماوی کے لئے معین ہے۔ الحمد للہ۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
اسلام آباد
اتوار ، ۲۶ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ، ۳۱ اگست ۱۹۹۷ء
۱۹۴
کائناتی سائنس
سیارۂ زمین کی روح
لفظِ کائنات کی تحلیل:
الکون (مصدر) ہونا، الکائن، ہونے والا واقعہ، الکائنۃ (مؤنث) حادثہ، واقعہ جس کی جمع ہے کائنات، بمعنیٔ موجودات، نیز الکون کے معنی ہیں: کائنات، عالمِ وجود، جیسے کہتے ہیں: کونین، دونوں جہان، ہر دوعالم، دین و دنیا، ہر دو سرا۔ پس کائنات کے معنی میں غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ہمیشہ بحکمِ خدا حادثات (جدید اشیاء) واقعات، اور تخلیقات کا لاابتداء و لا انتہا سلسلہ جاری ہے۔ اب ہم ذیل میں سیّارۂ زمین کی روح کے ثبوت میں چند قرآنی دلائل پیش کرتے ہیں:
پہلی دلیل: یقیناً زمین کی اپنی ایک مخصوص روح ہے، جس کی وجہ سے اس کے بے شمار اجزاء و ذرّات کروی شکل میں
۱۹۵
مرکوز، مجتمع، اور یکجا ہیں، اس کی مثال آدمی کی سی ہے کہ جب تک انسان زندہ ہے، تب تک اس کا وجود قائم و برقرار رہتا ہے، لیکن جس وقت اس کی روح قالب کو چھوڑ جاتی ہے، تو اس حال میں قالب رفتہ رفتہ بوسیدہ، ریختہ اور منتشر ہو جاتا ہے، چنانچہ ہماری زمین فی الوقت بفضلِ الٰہ زندہ ہے، اور جب یہ خدا کے عظیم الشّان پروگرام کے مطابق مرنے کے قریب ہو جائے گی تو اُس حال میں سب سے پہلے بتدریج سارا پانی ختم ہو جائے گا، جیسا کہ قرآنِ حکیم (۱۸: ۷ تا ۸، ۲۳: ۱۸) میں اس کا ذکر ہے۔
دوسری دلیل: قرآنی ارشاد ہے کہ : اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کا نورِ ہدایت ہے (۲۴: ۳۵) یعنی وہ ذاتِ سبحان جو مادّیت اور جسم سے پاک ہے آسمانوں اور زمین میں سے ہر ایک کی روح کے لئے نورِ ہدایت ہے، کیونکہ اللہ سب سے بڑا ہے (اللہ اکبر) لہٰذا خدائے پاک و برتر جہاں اشرف المخلوقات (انسان) کے لئے انبیاء و الیاء علیہم السّلام ہی کے توسط سے نور ہے تو وہاں یہ امر کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ حضرتِ ربّ العزّت بلا واسطہ پتھر اور مٹی (زمین) کا نور ہو، مگر ہاں یہ بات درست اور حقیقت ہے کہ اللہ جلّ جلالہ روح الارض کا نورِ ہدایت ہے۔ پس اس روشن دلیل سے ثابت ہوا کہ زمین کی ایک بہت بڑی روح ہے۔
تیسری دلیل: سورۂ ذاریات (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) میں بنظرِ حکمت دیکھنے
۱۹۶
سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرتِ خدا کی جو جو نشانیاں اور معجزات انسان خصوصاً انسانِ کامل میں ہیں، وہی جملہ معجزات زمین کے ظاہر و باطن میں بھی ہیں، اس سے ظاہر ہوا کہ زمین عقل و جان کے بغیر نہیں ہے۔
چوتھی دلیل: یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی کوئی بات اور کوئی مثال ہرگز مہمل نہیں ہوتی، چنانچہ بعض منکرین کے بارے میں خداوندِ عالم نے اپنے رسول سے فرمایا: قل کونوا حجارۃً او حدیدًا = (اے پیغمبر ان لوگوں سے ) کہو کہ تم پتھر یا لوہا بن جاؤ (یا کوئی اور چیز بن جاؤ جو تمہارے خیال میں بڑی سخت ہو، ۱۷: ۵۰ تا ۵۱) اس سے صاف طور پر یہ معلوم ہوا کہ پتھر ، لوہا، وغیرہ میں بھی اپنی نوعیت کی روح ہے، پھر یہ کہنا حقیقت ہے کہ زمین کی ایک عظیم کلّی روح ہے۔
پانچویں دلیل: سورۂ حدید (۵۷: ۲۵) میں ارشاد ہے: و انزلنا الحدید۔ اور ہم نے لوہا نازل کیا۔ یعنی لوہے کی روح نازل کی، جس نے بعض خاص مقامات پر مٹی یا پتھر سے لوہا بنایا، اس سے ہمیں یہ پتا چلا کہ جو چیزیں ظاہراً بے جان کہلاتی ہیں، ان میں بھی حسبِ ضرورت روح موجود ہوتی ہے، جیسے کوئی پہاڑ ہے، جس میں قیمتی پتھر وغیرہ بنتے ہوں تو ایسا پہاڑ زندہ ہے جس میں تخلیق و تکوین کا یہ عظیم کام خدا کے حکم سے روح ہی کرتی رہتی ہے، پس زمین کی روح ہے، جس کی وجہ سے پہاڑوں کی بھی روح ہے۔
۱۹۷
چھٹی دلیل: سورۂ لقمان (۳۱: ۱۶) میں یہ پرحکمت اشارہ موجود ہے کہ جب مومنِ سالک کی انفرادی اور نمائندہ قیامت برپا ہونے لگتی ہے تو اُس وقت بشکلِ ذرّات ہر طرف اور ہر مقام سے روحیں آ کر عالمِ شخصی میں جمع ہو جاتی ہیں، یہاں تک کہ چٹانوں (پہاڑوں)، آسمانوں ، اور زمین سے بھی طوفانِ ارواح اُمنڈتا ہے، اس سے یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ کوئی چیز روح کے بغیر نہیں۔
ساتویں دلیل: آیۃٔ الکرسی (۲: ۲۵۵) کی عظمت و بزرگی اور علوِّ شان دراصل اس کے بڑے بڑے اسرارِ معرفت کی وجہ سے ہے، آپ یہاں اس کے ان مبارک الفاظ کو غور سے دیکھیں: وسع کرسیہ السمٰوٰت والارض = اس کی کرسی نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے۔ یعنی نفسِ کلّی (روحِ اعظم = روح الارواح) کے بحرِ نورانیت میں ساری کائنات مستغرق ہے، جس کی مثال لوہے کے ایسے ٹکڑے کی طرح ہے جو دہکتے ہوئے انگاروں کے درمیان ہونے کی وجہ سے سرخ انگارا ہو چکا ہے، ایسے میں لوہے کا کوئی ذرّہ آگ ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا ہے، پس آسمان اور زمین کا ذرّہ ذرّہ خاموش روح کا مسکن ہے۔
آٹھویں دلیل: ’’قرآنی سائنس اور کائنات‘‘ کے مضمون میں جس طرح آیۂ فطرت (سورۂ روم ، ۳۰: ۳۰) کی حکمت درج ہوئی ہے، وہ بے حد ضروری ہے، جس کے مطابق کائنات اور انسان کی آفرینش میں
۱۹۸
بہت سی باتیں مشترکہ اور یکسان ہیں، سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ آدمی کا جسم ہے، جسم میں بے شمار خلیات ہیں، ہر خلیہ میں بہت سی روحیں رہتی ہیں، ان کھربوں بلکہ لاتعداد روحوں کی وحدت و سالمیت ہی کا نام روحِ انسانی ہے، پھر انسان کی عقل ہے، اسی طرح کائنات کا جسمِ کلّی ہے، اس کے ہر ذرّہ میں بہت سی روحیں موجود ہیں، ان کی کلیت نفسِ کل کا بحرِ محیط ہے، جو عقلِ کلّ کے تحت ہے، یہاں سے معلوم ہوا کہ سیّارۂ زمین دیگر اجرامِ سماوی کی طرح روحِ اعظم کے سمندر میں غریق (ڈوبا ہوا) ہے، جس کی مثال مچھلی کی سی ہے جو پانی میں پیدا ہوتی ہے، اور صرف اسی میں زندہ رہ سکتی ہے۔
نویں دلیل: سورۂ حدید (۵۷: ۴) میں دیکھ لیں: خدا ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے یا زمین سے خارج ہوتی ہے اور جو چیز آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جو چیز آسمان کی طرف بلند ہو جاتی ہے۔ یعنی روحیں زمین میں داخل بھی ہوتی ہیں، اور اس سے خارج بھی، آسمان سے ان کا نزول بھی ہوتا ہے، اور آسمان کی طرف عروج بھی، کیونکہ کائنات میں روحوں کی دائمی حرکت جاری ہے۔
دسویں دلیل: سورۂ مومنون (۲۳: ۱۲) میں ارشاد ہے: و لقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین = ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ اس آیۂ شریفہ کی حکمت بڑی عجیب و غریب ہے کہ اس میں انسان کی ایک مکمل تخلیق کا ذکر بھی ہے، اور
۱۹۹
ساتھ ہی ساتھ یہ تخلیق کا آغاز بھی ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسان ایک ہمہ گیر حقیقت ہے، چنانچہ یہ لطیف بھی ہے اور کثیف بھی، نوری بھی ہے اور خاکی بھی، عالمِ علوی میں بھی ہے اور عالمِ سفلی میں بھی، پس عالمِ سفلی کے اعتبار سے انسان مٹی کے جوہر سے پیدا ہوا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ زمین میں روح پوشیدہ ہے۔
گیارھویں دلیل: سورۂ نوح (۷۱: ۱۷) میں ہے: و اللہ انبتکم من الارض بناتاً = اور اللہ نے اُگایا تم کو زمین سے ایک طرح کا اُگانا۔ جیسا کہ ذکر ہوا کہ انسان ایک ہمہ گیر حقیقت ہے چنانچہ اس کی روحِ سفلی زمین سے اور روحِ علوی عالمِ بالا سے ہے۔
بارھویں دلیل: حدیثِ شریف ہے: ان لکل شیءٍ قلباً و قلب القراٰن یٰسٓ۔ بے شک ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۂ یاسین ہے (ہزار حکمت، ص ۷۱)۔ حضورِ اکرمؐ کا فرمایا ہوا ہر کلّیہ اور ہرارشاد بڑا زبردست پرحکمت، ہمہ گیر، اور کائناتی ہے، اس میں سے جو کچھ ہم سمجھ سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہر تخم (بیج) ، ہر جانور، اور آدمی کا دل ہوتا ہے، نظامِ شمسی کا بھی دل ہے، اور وہ سورج ہے، یقیناً ستاروں سمیت زمین کا بھی دل ہے، وہ اس کا مرکز ہے، اس میں اسی روح کا دل ہو سکتا ہے، جس نے بحکمِ خدا زمین کے بکھرے ہوئے ذرّات کو جمع کر لیا تھا۔
میرا خیال ہے کہ مذکورہ دلائل زمین کی روح کے ثبوت کے
۲۰۰
لئے کافی ہیں، صوفیوں کا یہ قول درست ہے جو کہتے ہیں کہ عالم انسانِ کبیر ہے اور آدمی اس کی نسبت سے انسانِ صغیر، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جہانِ ظاہر عالمِ کبیر ہے اور انسان عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) ، اور یہ حکمت بھی کتنی عجیب ہے کہ عالمِ اکبر انسان میں سماتا ہے، ہاں، تسخیرِکائنات اسی طرح ہوتی ہے۔
اہلِ معرفت نے چشمِ باطن سے اس حقیقتِ حال کو دیکھا ہے، اور وہ یقینِ کامل سے کہتے ہیں کہ حضرتِ نوح علیہ السلام کا اصل طوفان روحوں کا تھا، جس میں آسمان سے ذراتِ ارواح کی بارش برس رہی تھی، زمین سے گویا روحوں کے فوارے چھوٹ رہے تھے، اسی معنیٰ میں یہ ارشاد ہے: اور کہا گیا: اے زمین ! اپنا پانی نگل جا، اے آسمان رُک جا، پانی نیچے چلا گیا اور معاملہ ختم ہو گیا (۱۱: ۴۴)۔
روحانی سائنس ، قرآنی سائنس، اور کائناتی سائنس ایک ہی علم ہے، حق بات تو یہ ہے کہ اس کی دو بڑی شرطیں ہیں: قرآن شناسی اور امام شناسی ، یہی شیٔ خود شناسی اور خدا شناسی کا دروازہ ہے، بعد ازان ہر چیز کی معرفت ممکن ہو جاتی ہے، اگر ایک شخص ایسا کوئی بڑا کامیاب تجربہ رکھتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ جذبۂ للہیت سے وہ اپنے تجربات کو قلمبند کرے، ورنہ اس کو وہی سزا ملے گی جو قارون کو ملی تھی، کیونکہ زکات نہ صرف مال پر واجب ہے، بلکہ علمی زکات اور بھی
۲۰۱
زیادہ ضروری ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
بدھ ، ۷ جمادی الاول ۱۴۱۸ھ، ۱۰ ستمبر ۱۹۹۷ء
۲۰۲
[1] پرفتوح، فتوح ، فتح کی جمع، پرفتوح، فتح پر فتح کرنے والا، یعنی امام جو ہمیشہ روحانی فتوحات کرتا ہے۔
۲۵جولائی ۱۹۹۷ء
تجہیز و تکفین
تجہیز و تکفین
دیباچۂ طبعِ اول
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
اللّٰھم صل علیٰ محمد و اٰل محمد کما تحب و ترضیٰ
خدائے قادرِ مطلق اور جوادِ برحق کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کریمِ کارساز نے اپنی رحمتِ بے نہایت سے اس بندۂ عاجز و ناتوان کو رسالۂ ہٰذا کی ترتیب و طباعت اور اشاعت کے لئے توفیق و ہمت عنایت فرمائی۔ یقیناًیہ ربّ العزّت کے دائمی انعامات اور ہمہ رس احسانات میں سے ہے جس کے لئے شکر کرنا ہر دین دار پر فرض ہے۔
یہ رسالہ جو تجہیز و تکفین کے احکام پر مشتمل ہے کلیۃً اسماعیلی فقہ کی مستند و جامع اور مشہور و معروف کتاب دعائم الاسلام سے لیا گیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ میں نے اس کتاب کو اصل دعائم الاسلام عربی سے ترجمہ کر لیا ہے ساتھ ہی ساتھ مذکورہ کتاب کا اردو ترجمہ بھی ملحوظِ نظر رہا ہے اور وہ ترجمہ بھارت کے مشہور عالمِ دین یونس شکیب مبارک پوری نے کیا ہے اور واقعاً انہوں نے ایک عظیم خدمت انجام دی ہے۔
عربی دعائم الاسلام مصر سے شائع ہوئی ہے، وہ عام طور پر دستیاب نہیں ہوتی اور اگر وہ دستیاب ہو بھی آئے تو اس کو پڑھنا اور سمجھ لینا ہر شخص کے بس کی بات نہیں اور یونس شکیب کا اردو ترجمہ جو ہندوستان میں چھپ گیا ہے وہ تو عنقا ہو گیا ہے لہٰذا یہ امر ضروری تھا کہ فقہی مسائل کی اہمیت کے پیشِ نظر
۱
دعائم الاسلام کے بعض اہم اجزاء الگ الگ کتابچوں کی اور رسالوں کی صورت میں شائع کئے جائیں تا کہ علم کی اشاعت اور حصول کے ہر مرحلے پر سہولت و آسانی مہیا ہو سکے چنانچہ اس سلسلے میں “فصولِ پاک” کے بعد رسالۂ “تجہیز و تکفین” ہٰذا مرتب ہو کر شائع ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ تجہیز و تکفین کے جتنے امور ضروری ہیں اور جو احکام کتاب و سنّت کے مطابق ہیں وہ اس کتاب کی جامعیّت سے باہر نہیں اور جو اضافی اور غیر ضروری چیزیں رواجاً بعد میں پیدا کی گئیں ان سے یہاں بحث نہیں۔
بالآخر میں گلگت مرکز کی عقیدت مند مخلص، نیکوکار، خدمت گزار اور نامور و نامدار جماعت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنی کریمانہ عادت کے مطابق اس دینی کتاب کے مصارف میں تعاون کیا پروردگارِ عالم اس قابلِ قدر اور عزیز جماعت پر ابوابِ!!فیوض و برکات ظاہراً و باطناً کشادہ کئے رکھے۔ آمین ، یا ربّ العالمین
فقط جماعت کا علمی خادم
نصیر الدین نصیر ہونزائی
۱۷۔ ۷۔ ۷۵
۲
دیباچۂ طبعِ ثانی
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للّٰہ علیٰ منہ و احسانہ
یہ دیکھ کر رسالۂ “تجہیز و تکفین” اب بفضلِ خداوند تعالیٰ طباعت و اشاعت کے مرحلۂ دوم میں داخل ہو رہا ہے اس بندۂ ناتوان و خاکسار کو ازبس خوشی ہو رہی ہے اس علمی مسرّت و شادمانی کا اصل راز جذبۂ شکرگزاری ہے اس لئے کہ علمی خدمت کی یہ پیش رفت پروردگارِ عالم کی عظیم نعمتوں میں سے ہے۔ اور یہ حق بات ہے کہ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت و عنایت نہ ہوتی تو ہم ایسے مفلسوں کے یہاں علم کی کوئی چیز نہ ہوتی۔
مظہرِ نورِ خدا، آلِ محمد مصطفی، جانشین علئ مرتضیٰ، مصباح ہدیٰ اور سلطانِ با صفا یعنی امامِ وقت شاہ کریم الحسینی صلوات اللہ علیہ و سلامہ کے ہر مرید اور ہر دوستدار سے بصد عقیدت و اخلاص قربان ہو جاؤں کیونکہ اسی شہنشاہِ علم و حکمت کے مبارک دروازے پر جا کر میں ناچیز سائل اپنی جھولی کو خوب بھر لیتا ہوں اور اس پرحکمت دریوزہ کی کئی شرطیں ہیں۔ مثلاً عاجزی، انکساری، اظہارِ حاجت اور خاص کر امامِ زمان کے ہر مرید و روحانی فرزند کی حقیقی خیر خواہی اور اگر بدقسمتی سے دل میں عاجزی کی کیفیت نہ ہو اور کسی بھی ایک مومن کی رنجش پوشیدہ پوشیدہ باقی رہے تو یہ سچ ہے کہ باریکیوں اور نزاکتوں کی درگاہ سے درویش کی روح تہی دامن اور نامراد لوٹتی ہے۔
۳
یہاں اس سوال کا پیدا ہو جانا بعید از قیاس نہیں کہ اصولِ درویشی یا قانونِ روحانیت اتنا خاص و باریک اور ایسا نازک کیوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی حکمت و مصلحت اور لوگوں کی منفعت اسی میں ہے کہ مذہبی زندگی سے متعلق کامیابی کا راستہ ظاہراً و باطناً پل صراط کی طرح سخت مشکل اور انتہائی نازک ہو تاکہ یہ اسی طرح اپنی جانب سے نہایت دشوار بھی ہو اور نورِ خداوندی کی ہدایت و تائید کے وسیلے سے بہت آسان بھی۔
حقیقی راحت و سکون “انا” میں نہیں بلکہ “فنا” میں ہے اور فنا کے کئی مدارج ہیں۔ اور اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ ہر دانشمند مومن انائیّت و خودی کو چھوڑ کر خود کو خاکِ پائے مومنین قرار دیتا ہے پھر وہ اس پُرحکمت عمل کے نتیجے میں خود نمائی کی تلخیوں سے نجات پاتا ہے کیونکہ کبر و فخر جیسی مہلک روحانی بیماری کے لئے کوئی جراثیم کش دوا چاہئے ورنہ یہ مرض رفتہ رفتہ آدمی کو ہلاک کر ڈالتا ہے۔
ہمارے مولائے مہربان اور آقائے زمانؑ کی کتنی بڑی عنایت و مہربانی ہے کہ آپؑ نے ان چند سالوں کے اندر اندر عالمِ اسماعیلیّت میں ایک عظیم اور دور رس علمی انقلاب لایا جس میں نہ صرف آپ کے نامدار ادارے عظیم الشّان خدمات انجام دے رہے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ امامِ عالی مقام کے دوسرے مرید بھی کسی نہ کسی صورت میں رضا کاری کر رہے ہیں۔ تاہم اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان کا مرکز اور ہر علاقے کے ذیلی ادارے لائقِ تحسین اور قابلِ مبارکباد ہیں کیونکہ انہوں نے بموجب امرِ مولا مین پاور کے عنوان سے دینی علم کے ایک لشکرِ جرّار کو تیار کیا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف جماعتی سطح پر زیادہ سے زیادہ نورِ علم کی روشنی پھیلا دینا ہے۔ الحمد للہ کہ اب ہماری نیک
۴
بخت جماعت نے علم و عمل کے ہر میدان میں نمایان ترقی کی ہے۔
یہ رسالہ جو بڑا اہم اور بہت مفید ہے اس دفعہ ہماری پیاری جماعت کی ضرورت کے پیشِ نظر “خانۂ حکمت” اور ادارۂ عارف” کی جانب سے شائع ہو رہا ہے۔ لہٰذا یہ میرا فرض ہے کہ میں جان و دل سے ان دونوں عزیز اداروں کی گوناگون خدمات کا شکریہ ادا کروں اور ان کو سراہوں، میرا عقیدہ ہے کہ صدر محترم جناب فتح علی حبیب اور صدر محترم جناب محمد عبد العزیز گویا دو ایسے عظیم فرشتے ہیں جن کے اس دنیا میں آنے کا سب سے بڑا مقصد علمی خدمت کو انجام دینا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی اور دوسرے عملداروں کی خدمات جو جان نثاری سے کم نہیں، بے مثال ہیں۔ “خانۂ حکمت” اور “عارف” کا ہر عہدہ دار اور ہر ممبر جہاں کہیں بھی رہتا ہو، حقیقی علم کی خدمت میں فدا کار اور جان نثار ہے اور ان سب کا زرّین اصول یہ ہے “نورِ علم کو حاصل کرو اور پھیلا دو۔” یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ باقاعدگی سے دینی کتابوں، مقالوں اور علمی خطوط کو پڑھتے ہیں اور حصولِ علم کے ہر وسیلے سے کام لے کر اپنی مفید معلومات میں گرانقدر اضافہ کر لیتے ہیں، ان شاء اللہ، ہر ہوشمند اسماعیلی دینی علم میں کمال حاصل کرے گا۔
جماعت کا علمی خادم
نصیر الدین نصیر ہونزائی
جمعرات ۲۷ جمادی الاول ۱۴۰۴ھ
یکم مارچ ۱۹۸۴ء
۵
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بیماری، عیادت اور احتضار
بخار کی حکمت:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام آپ کے پدر بزرگوار امام باقر علیہ السّلام آپ کے آباء کرام علیہم السّلام اور حضرت علی صلوات اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسولِ خدا صلعم ایک مرتبہ ایک مردِ انصاری کی عیادت (بیمار پرسی) کو تشریف لے گئے اس شخص نے آنحضرتؐ سے بخار کی تکلیف کی شکایت کی ۔ آپ نے فرمایا “ان الحمیٰ طھور من رب غفور” یعنی بخار خدائے غفور کی طرف سے ایک پاکیزگی ہے یعنی اس سے گناہ دھل جاتا ہے اس شخص نے کہا بل الحمیٰ تفور بالشیخ الکبیر حتیٰ تحلہ القبور ، یعنی نہیں بلکہ بخار ضعیف بوڑھے کو بھون ڈالتا ہے یہاں تک کہ اس کو قبر میں اتار دیتا ہے۔ رسولِ خدا یہ سن کر غصہ ہوگئے اور فرمایا کہ ایسا ہی تمہارے ساتھ ہونا چاہئے چنانچہ وہ شخص اسی بخار میں مر گیا۔
مریض کا کراہنا:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ مریض کا صبر و تحمل کے ساتھ کراہنا آہ آہ کرنا، نیک اعمال میں شامل کر کے لکھا جاتا ہے اور اگر بے صبری و اضطراب کے ساتھ کراہتا ہے تو اسے بے صبر قرار دیا جاتا ہے، جس کے لئے کوئی اجر و صلہ نہیں۔
گناہوں کا کفارہ:
موصوف امام علیہ السّلام سے منقول ہے، آپ نے فرمایا کہ ایک دن کا بخار ایک سال (کے گناہوں) کا کفارہ ہے۔
۶
جب کسی طبیب نے یہ سنا اور اس کو اس حدیث کا تذکرہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ یہ قول طبیبوں کی اس بات کی تصدیق ہے کہ ایک روز کا بخار ایک سال تک جسم کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔
خدا کا قید خانہ:
حضرت علی علیہ السّلام سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ بیمار خدا کے قید خانے میں ہوتا ہے اس کے گناہ مٹائے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ عیادت کرنے والوں سے اپنی بیماری کی کوئی شکایت نہ کرے اور جو مومن بندہ بیماری کی حالت میں انتقال کر جاتا ہے وہ شہید ہو جاتا ہے اور یوں تو ہر مومن شہید کا درجہ رکھتا ہے اور ہر مومنہ عورت حوراء ہوتی ہے اور مومن جس موت سے بھی مرے وہ شہید ہے۔ آپ نے یہ آیتِ کریمہ: تلاوت فرمائی
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ (۵۷: ۱۹)۔ اور جو لوگ خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے یہی لوگ اپنے پروردگار کے نزدیک صدّیقوں اور شہیدوں کے درجے میں ہوں گے۔
ثوابِ عیادت:
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے، آپ نے فرمایا کہ جب خدا بندے کو کسی مرض میں مبتلا فرماتا ہے تو اس کی بیماری کے مطابق اس کی خطائیں معاف کر دیتا ہے۔
آپؑ نے فرمایا کہ مریض کی بیمار پرسی تین دن کے بعد کرنی چاہئے اور عورتوں پر مریض کی عیادت فرض نہیں ہے۔
نیز آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلعم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ
۷
عیادت کرنے والا آدمی مریض کے پاس کوئی چیز کھائے کیونکہ بموجبِ قانونِ الٰہی اس کی بیمار پرسی کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔
حضرت امام حسین علیہ السّلام سے روایت ہے کہ آپ ایک دفعہ بیمار ہوئے اور عمرو بن حریث آپ کی عیادت کے لئے آیا تھا اتنے میں امیر المومنین علی علیہ السّلام باہر سے تشریف لائے۔ اور آپ نے اس سے فرمایا کہ اے عمرو! تم حسین کی عیادت کر رہے ہو مگر دل میں کچھ اور بات ہے؟ مجھے اس امر سے کوئی چیز مانع نہیں ہو سکتی ہے کہ تجھے ایک نصیحت کر دوں وہ یہ ہے کہ رسولِ خداؐ فرماتے تھے کہ کوئی بندہ مسلم کسی بیمار کی عیادت نہیں کرتا مگر ستّر ہزار فرشتے اس پر صلوات بھیجتے ہیں اگر دن ہو تو غروبِ آفتاب تک اور رات ہو تو طلوعِ فجر تک یہ صلوات جاری رہتی ہے۔
امیر المومنین علیؑ سے روایت ہے کہ آپ ایک مرتبہ زید بن ارقم کی عیادت کو تشریف لے گئے زید نے کہا کہ مرحبا ایسے امیر المومنین کو جو عیادت کو آئے ہیں حالانکہ وہ ہم سے ناراض تھے۔ امیر المومنین نے فرمایا کہ یقیناً ایسی کوئی چیز مجھے تیری عیادت سے نہیں روک سکتی تھی آپ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مریض کی عیادت کو اس نیّت سے جاتا ہے کہ خدا کی رحمت حاصل ہو جیسا کہ اس نے وعدہ فرمایا ہے تو وہ اسی وقت جنّت کے پھل چننے کی کیفیت میں ہوتا ہے جب تک کہ مریض کے پاس بیٹھا رہے اور جب اس کے پاس سے نکل جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس روز اپنے فرشتوں میں سے ستّر ہزار فرشتوں کو مقرر فرماتا ہے جو اس شخص پر رات تک صلوات بھیجتے رہتے ہیں اور اگر شام کو عیادت کرے تو وہ اسی وقت جنّت کے پھل چننے کی کیفیّت میں ہوتا ہے تا وقتیکہ اس کے پاس بیٹھا رہے جب اس کے پاس سے چلا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار
۸
فرشتوں کو مقرر فرماتا ہے جو اس شخص پر صبح تک صلوات بھیجتے رہتے ہیں پس مجھے شوق پیدا ہوا کہ ایسے ثواب کے لئے جلدی کروں۔
استقبالِ قبلہ:
امیر المومنین علی علیہ السّلام سے روایت ہے کہ رسولِ خدا خاندانِ عبد المطلب میں سے ایک شخص کے گھر اس وقت تشریف لے گئے جب کہ وہ حالتِ نزع میں تھا، اور اس کا منہ قبلہ کی طرف نہ تھا آپ نے فرمایا کہ اس کو قبلہ رخ کر دو کیونکہ جب تم ایسا کرو گے تو فرشتے اس کی طرف متوجّہ ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنا چہرہ مبارک اس کی طرف کر دے گا پھر اس کو اسی طرح رکھا جائے حتیٰ کہ اس کی روح قبض ہو جائے۔
حضرت مولانا علی صلوات اللہ علیہ سے منقول ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ امر فطرت میں سے ہے کہ جب مریض نزع کے عالم میں ہو تو اسے قبلہ کی طرف لٹا دیا جائے۔
کلمۂ شہادت وغیرہ:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ جب تم کسی میّت کے پاس اس کی موت سے قبل جاؤ تو اس کو کلمۂ شہادت کی تلقین و تفہیم کرو یعنی اس کے پاس “اشھد ان لآ الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ کو اس طرح پڑھے کہ وہ اسے سن کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی کوشش کرے۔
اگر کلمۂ طیب اور کلمۂ شہادت دونوں پڑھے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں اور اسماعیلیّت میں مناسب ہے کہ شہادت یا شہادتین کے بعد أئمّۂ اطہار علیہم السّلام کے اسمائے گرامی جامۂ حاضر کے نامِ مبارک تک پڑھے جائیں۔
۹
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ محتضر یعنی مرنے والے کے سر کے پاس آیتُ الکرسی اور اس کے بعد والی دو آیتوں (یعنی اللّٰہ لا الٰہ سے لے کر :خٰلدون تک) کا پڑھنا مستجب ہے اور یہ آیت پڑھی جائے
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ۫-یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًاۙ-وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖؕ-اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُؕ-تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (۰۷: ۵۴)۔
پھر سورۂ بقرہ کی یہ آخری تین آیتیں پڑھی جائیں:
لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ (۰۲: ۲۸۶) ۔
اس کے بعد یہ دعا پڑھے:
۱۰
اللّٰھُّمَ اِن کَانَ حَضَرَ اَجَلُہٗ فَسَھِّلۡ علیہٍ اَمۡرَہٗ وَ اَخۡرِجہٗ الیٰ رضآءٍ مِنۡکَ وَالرِّضۡوَانِ وَ لقِۃٍ الۡبُشۡریٰ و اغفرلہٗ وَارۡحَمۡہٗ بِرَحۡمَتِکَ یٰآ اَرۡحَمُ الرَّاحِمِیۡنَ۔ اللّٰھُمَّ ھٰذا عَبۡدُکَ (اگر عورت ہے تو کہے ھذِہٖ اَمَتُکَ ) ان کان بقی اجلہ و رزقہ (+) و اثرہ(+) فعَجِّل شفآءہ(+) و عافیتہ(+) اگر عورت ہے تو جہاں جہاں یہ علامت (+) ہے وہاں “ہا” کی ضمیرِ تانیث پڑھی جائے)۔
خاتمہ بالخیر:
ابو ذر غفاری رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں رسولِ خدا صلعم کے پاس اس بیماری کے وقت موجود تھا جس میں آپ نے رحلت فرمائی تھی۔ آنحضرت صلعم نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابوذر! میرے قریب آؤ تاکہ میں تمہارا سہارا لے کر بیٹھوں چنانچہ میں آپ کے قریب ہوا تو آپ نے میرے سینے کا سہارا لیا۔ لیکن جب امیر المومنین تشریف لائے تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابوذر اٹھو علیؑ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ پس علیؑ بیٹھ گئے اور آنحضرتؐ نے ان کی چھاتی کا سہارا لیا۔ پھر حضورؐ مجھ سے فرمانے لگے کہ یہاں میرے سامنے بیٹھو جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا کہ خوب یاد رکھو کہ جس شخص کی زندگی کا خاتمہ لا الہ الا اللہ کے کلمۂ شہادت پر ہو وہ جنّت میں داخل ہو گا۔ جس کا خاتمہ کسی محتاج کو کھانا کھلانے کی حالت میں ہو، وہ بھی جنّت میں داخل ہوگا۔ جس کا خاتمہ فریضۂ حج کے سلسلے میں ہو وہ بھی داخلِ جنّت ہو گا۔ جس کا خاتمہ عمرہ کی حالت میں ہو وہ بھی جنّت میں داخل ہو گا اور جس شخص کا خاتمہ راہِ خدا میں جہاد کرتے ہوئے ہو وہ بھی جنّت میں جائے گا۔ اگرچہ تھوڑی ہی دیر جہاد کیا ہو۔ آپ نے باقی حدیث بیان فرمائی۔
۱۱
جنّت کی بشارت:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت ہے آپؑ نے فرمایا کہ جب موت کے وقت مومن کی زبان بند ہو جاتی ہے تو اس وقت رسولِ خدا صلعم اس کی دائیں طرف تشریف لاتے ہیں اور بائیں طرف امیرالمومنین تشریف فرما ہوتے ہیں۔ اس کے بعد رسولِ خدا صلعم اس مومن کو فرماتے ہیں کہ اے مردِ مومن تم جس چیز کے امیدوار تھے وہ تمہارے سامنے موجود ہے اور تم کو جس چیز کا خوف تھا اس سے محفوظ ہو۔ اس کے بعد جنّت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔ پھر اس کو دکھا کر کہا جائے گا کہ جنّت میں یہ تیرا مقام ہے۔ اگر تم دنیا میں واپس ہو جانا چاہتے ہو تو وہاں بھی تمہارے لئے دنیاوی سونا اور چاندی کے ڈھیر ہوں گے۔ اس وقت مردِ مومن کہے گا کہ مجھے دنیا کی کوئی ضرورت نہیں اس وقت اس کا چہرہ سفید ہو جائے گا اور پیشانی سے پسینہ جاری ہونے لگے گا۔ اس کے دونوں ہونٹ سکڑ جائیں گے۔ اس کی ناک کے دونوں نتھنے پھیل جائیں گے اور بائیں آنکھ میں آنسو آجائے گا۔ جب تم یہ علامتیں دیکھو تو انہی پر اکتفا کرو کہ وہ جنّتی ہے۔ آپ نے باقی حدیث بھی بیان فرمائی آپ نے فرمایا کہ اس کی تصدیق کے لئے خدا کا یہ ارشاد ہے: لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا (۱۰: ۶۴) ان کے لئے دنیا ہی میں جنّت کی بشارت ہے۔
موت کی سختی و آسانی میں حکمت:
رسولِ خدا صلعم سے روایت ہے آپؐ نے فرمایا کہ جس بندے کے لئے جنّت میں مقام ہو وہ معمولی اور ذرا سی آزمائش کے سبب سے اس درجے پر نہیں پہنچ سکتا۔ یہاں تک کہ اس کی موت آ جائے اور جب وہ آخری وقت تک اس درجے پر
۱۲
فائز نہیں ہو سکتا تو اس کی موت سخت کر دی جاتی ہے پس وہ اس درجے پر پہنچ جاتا ہے۔
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت کی گئی ہے آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کبھی کبھار ملک الموت کو امر فرماتا ہے کہ وہ مومن کی جان کو کچھ وقت کے لئے کھینچتے اور چھوڑتے رہے تا کہ اس کو آسان طریقے سے قبض کیا جائے مگر لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس کی جان سختی سے نکل گئی اور اللہ تعالیٰ بسا اوقات عزرائیل کو حکم دیتا ہے کہ وہ کافر کی جان نکالنے میں سختی سے کام لے تو اس کی جان وہ ایک ہی جھٹکے میں کھینچ لیتا ہے جس طرح کہ لوہے کی سیخ پرانے اونی کپڑے سے کھینچ لی جا سکتی ہے۔
۱۳
موت کو یاد کرنا
جنازہ کی خدمت:
امام جعفر الصادق، امام باقر، آپ کے آباء کرام اور حضرت علی صلوات اللہ علیہم اجمعین سے روایت ہے کہ رسولِ خدا صلعم نے فرمایا کہ جب تم کو جنازہ کی طرف بلایا جائے تو جلدی سے جاؤ کیونکہ جنازہ تم کو آخرت کی یاد دلاتا ہے۔
امام باقرعلیہ السّلام سے پوچھا گیا کہ ایک شخص کو بیک وقت جنازہ اور ولیمہ کی دعوت ہو تو ان دونوں میں کس کو قبول کرنا چاہئے۔ آپؑ نے فرمایا کہ جنازہ کے امور میں شرکت کرے کیونکہ جنازہ کے امور میں حاضر رہنے سے موت اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے اور دعوتِ ولیمہ میں شرکت ان دونوں سے غافل بنا دیتی ہے۔
دنیاوی حرص سے چھٹکارا:
رسول اللہ صلعم سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے انصار میں ایک شخص کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں موت کو یاد کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ موت کی یاد تمہیں دنیاوی امور کی نگرانی سے چھڑا دے گی۔
آنحضرتؐ سے منقول ہے، آپؐ نے فرمایا کہ “ھاذم اللذّات” کو کثرت سے یاد کرو۔ عرض کیا گیا کہ اے رسولِ خدا صلعم ہاذم اللذّات سے کیا مراد ہے؟ رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ ہاذم اللذّات (دنیاوی لذتوں کو نیست و نابود کرنے والی) موت ہے مومنوں میں سب سے زیادہ عقلمند اور ہوشیار وہ ہے جو موت کو ان سب سے زیادہ یاد کرتا ہے اور ان سب سے بڑھ کر اس کے واسطے تیاری کرتا ہے۔
ہوشیار شخص:
حضورِ اکرم صلعم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب کی ایک جماعت سے پوچھا
۱۴
کہ لوگوں میں سب سے زیادہ ہوشیار شخص کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جو شخص موت کو سب سے زیادہ یاد کرے اور اس کے لئے سب سے زیادہ تیاری کرے۔
دنیا سے بے رغبتی:
امام باقر علیہ السّلام سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بعض اصحاب کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ موت کو کثرت سے یاد کیا کرو کیوں کہ جو شخص موت کو جس قدر زیادہ یاد کرتا ہے وہ اس قدر زیادہ دنیاوی معاملات سے بے رغبت ہو جاتا ہے۔
مومن کا گلدستہ:
رسولِ مقبول صلعم سے مروی ہے آپؐ نے فرمایا کہ موت مومن کا گلدستہ ہے نیز آنحضرتؐ نے فرمایا کہ موت میں دو قسم کی راحت ہے۔ ایک راحت وہ ہے جو خود مرنے والے کو حاصل ہوتی ہے۔ دوسری وہ ہے جو مرنے والے کو نہیں بلکہ دوسرے کو حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ جس مرنے والے کو راحت حاصل ہوتی ہے وہ نیکو کار بندہ ہے جو دنیا کے غم اور عبادت و ریاضت سے فراغت و راحت پا کر آخرت کی نعمتوں کو حاصل کرتا ہے اور جس شخص کی موت سے دوسرے کو راحت ہوتی ہے وہ فاسق و فاجر آدمی ہے کہ اس کے مر جانے سے اعمال لکھنے والے دونوں فرشتوں کو فراغت و راحت ملتی ہے۔
آخرت سے غافل ہو جانے کا نتیجہ:
رسولِ اکرمؐ سے روایت کی گئی ہے آپؐ فرماتے تھے کہ خبردار ہو بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک انسان مسرور و شادمان رہتا ہے اور وہ نہیں سمجھتا کہ آخرت کے معاملے میں اسے نقصان ہو چکا ہے وہ کھانے پینے اور ہنسنے میں مشغول رہتا ہے حالانکہ
۱۵
خدا کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
انسان، حیوان اور موت:
حضرت امیر المومنین علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم کو احمق نہ بنایا ہوتا تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر جانوروں کو معلوم ہوتا کہ وہ مرنے والے ہیں جیسا کہ تم انسانوں کو معلوم ہے تو وہ بھی تمہارے لئے موٹے تازے نہ ہو سکتے۔
اپنی موت کا باور نہ کرنا:
آپؑ نے فرمایا کہ میں نے کوئی ایسا ایمان نہیں دیکھا جو یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو لیکن وہ پھر بھی شک سے ملتا جلتا ہو سوائے اس انسان کے جو ہر روز مردوں کو الوداع کرتا ہے اور ان کو قبروں تک پہنچاتا ہے لیکن پھر بھی دنیا کے قریب کی طرف متوجّہ رہتا ہے اور شہوتوں اور لذّتوں سے نہیں رکتا۔ پس اگر بفرضِ محال ابنِ آدم مسکین کا کوئی گناہ اور حساب نہ بھی ہوتا اور صرف موت ہی ہوتی جو اس کی جمعیّت کو بکھیر دیتی ہے اور اس کی اولاد کو یتیم بناتی ہے تو پھر بھی اسے مناسب تھا کہ موت کی انتہائی سختی سے ڈرتا رہے ہم تو موت سے غافل رہتے ہیں اس قوم کی طرح جس کو گویا موت آنے والی ہی نہیں اور دنیاوی خواہشات کی طرف اس قوم کی طرح مائل ہوتے ہیں جس کو نہ حساب کی امید ہے اور نہ عذاب کا ڈر۔
زیادہ عقلمند:
حضرت امیر المومنین علیہ السّلام نے فرمایا ایک مرتبہ رسولِ خدا صلعم سے پوچھا گیا کہ کون سے مومنین زیادہ عقلمند اور ہوشیار ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہ جو موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں اور اس کے لئے خوب تیاری کرتے ہیں ایسے ہی مومنین عقلمند اور ہوشیار ہیں۔
۱۶
تعزیت، صبر اور رونے کی رخصت
جبرائیل اور اہلِ بیّت:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ جب رسولِ خدا صلعم کا وصال ہوگیا تو اہلِ بیّت کرام کے پاس ایک آنے والا آیا وہ حضرات اس کی آواز سن رہے تھے مگر اس کا جسم ان کو نظر نہیں آتا تھا پس اس نے کہا کہ:
السلام علیکم اھل البیّت و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ (۰۳: ۱۸۵)۔ ہر مصیبت کے وقت خدا کے لئے صبر سے کام لینا چاہئے ہر مرنے والا اپنے پیچھے جانشین چھوڑ جاتا ہے۔ لہٰذا خدا سے امید رکھو اور صرف اسی کی عبادت کرو اور یقین جانو کہ مصیبت زدہ دراصل وہی ہے جو ثواب سے محروم ہے اور تم پر سلام اور خدا کی رحمت اور برکات ہیں۔
پھر امام جعفر الصادقؑ سے پوچھا گیا کہ اے فرزندِ رسول! آپ حضراتِ اہلِ بیّتؑ کے خیال میں وہ بولنے والا کون تھا؟ آپ نے فرمایا کہ ہم اہلِ بیّتؑ اسے جبرائیلؑ خیال کرتے ہیں۔
صبر کا موقع:
امام جعفر الصادق ، امام محمد باقر ، آپ کے آباء کرام اور
۱۷
حضرت علی صلوات اللہ علیہم اجمعین سے روایت ہے کہ رسولِ خدا صلعم ایک عورت کے نزدیک سے گزرے جو ایک قبر پر رو رہی تھی آپؐ نے اس سے فرمایا کہ اے عورت تم صبر کرو اس عورت نے آپ سے کہا کہ اے مرد تم اپنی راہ لو کیونکہ یہ میرا فرزند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ رسولِ خداؐ اس عورت کو چھوڑ کر آگے تشریف لے گئے اور وہ عورت آپ کو نہیں پہچانتی تھی۔ جب اس کو بتایا گیا کہ وہ تو رسولِ خدا صلعم تھے یہ سن کر وہ عورت اٹھ کھڑی ہوئی اور حضورؐ کو تلاش کرنے لگی یہاں تک کہ آپؐ کے پاس جا پہنچی اور عرض کی کہ اے رسولِ خداؐ میں اس وقت حضورؐ کو نہیں پہچانتی تھی آپؐ فرمائیے کہ اگر میں صبر کروں تو مجھے اس کا اجر ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا اجر و ثواب پہلے صدمے کے ساتھ ہے یعنی مصیبت کے پہنچتے ہی صبر اختیار کرنے سے اجر ملتا ہے نہ کہ رونے دھونے کے بعد صبر کرنے سے۔
استرجاع اور صبر:
امام جعفر الصّادقؑ سے روایت ہے کہ رسولِ خدا صلعم نے فرمایا کہ جس شخص میں یہ چار چیزیں ہوں گی وہ ضرور جنّت میں داخل ہو گا۔ وہ کلمۂ شہادت لا الہ الا اللہ میں گناہوں سے پناہ لیتا ہو، اگر خدا احسان کرے تو الحمد للہ کہے، اگر کوئی گناہ کرے تو استغفراللہ کہے اور اگر کوئی مصیبت پہنچے تو انا للہ و انا الیہ راجعون کہے۔
حضرت امیر المومنین علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ جزع (بے صبری) سے بچو، کیونکہ اس سے امید ختم ہو جاتی ہے، عمل میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور فکر و غم میں انسان گرفتار ہو جاتا ہے ۔ جاننا چاہئے کہ مصیبت کے لئے چارہ کار دو طرح سے ہو سکتا ہے وہ یہ کہ جس معاملہ میں کوئی تدبیر کام آسکتی ہو تو تدبیر کرو اور جس میں کوئی تدبیر کام نہ آ سکے تو صبر پر لازم رہو۔
۱۸
آپؑ نے فرمایا کہ صبر کا درجہ ایمان میں ایسا ہے جیسے کہ سر کا درجہ جسم میں۔
آگ سے بچانے کا ذریعہ:
رسولِ خدا صلعم سے روایت کی گئی ہے آپؐ نے فرمایا جس شخص کے تین فرزند انتقال کر جائیں اور وہ اس سے اجر و ثواب کی توقع کرے تو اس کے یہ فرزند اس کو آگ سے بچانے کا ذریعہ بن جائیں گے ۔ رسولِ اکرمؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اگر کسی کے دو بچے انتقال کر جائیں تو؟ آپ نے فرمایا کہ وہ بھی ایسا ہی ذریعہ بن جائیں گے۔
صاحبِ ایمان کی نشانیاں:
رسولِ اکرم صلعم سے منقول ہے کہ ایک دفعہ آپ انصار کے کچھ لوگوں سے دوچار ہوئے جو ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان کو سلام کیا اور کھڑے کھڑے ان سے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کس حال میں ہو؟ انہوں نے جواباً عرض کیا کہ اے رسولِ خدا صلعم ہم سب اہلِ ایمان ہیں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس صاحبِ ایمان ہونے کی کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ، آپؐ نے فرمایا اس کو پیش کرو۔ انصار نے کہا کہ ہم راحت کے وقت خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ مصیبت میں صبر کرتے ہیں۔ اور قضا پر راضی ہیں۔ آنحضرتؐ نے ان کو فرمایا کہ تب تو تم ٹھیک کہتے ہو، یقیناً تم اہلِ ایمان ہو۔
صبر کا صلہ:
پیغمبرِ خدا صلعم سے روایت ہے آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دنیا بطورِ قرض عطا فرمائی ہے پس جس شخٰص نے اس دنیا سے تھوڑا سا حصہ لے کر اس پر صبر کیا تو خداوند تعالیٰ اس کو اس کے عوض تین ایسی بہترین چیزیں عطا کرے گا کہ ان میں سے اگر ایک چیز بھی خدا اپنے فرشتوں کو دیتا تو وہ خوش ہو جاتے وہ تین چیزیں درود، رحمت اور ہدایت ہیں جیسا کہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
۱۹
وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ (۰۲: ۱۵۵ تا ۱۵۷) اور (اے رسول) ایسے صبر کرنے والے مومنین کو خوشخبری دے دو کہ جب ان پر کوئی مصیبت آ پڑی تو بے ساختہ بول اٹھے ہم تو خدا ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں کہ انہیں لوگوں پر ان کے پروردگار کی طرف سے صلوات اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
ام سلمہ کا قصّہ:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ جب ابو سلمہ بن عبد الاسد کا انتقال ہو گیا تو اس کی بیوی ام سلمہ نے اس پر جزع و فزع کیا۔ اس وقت آنحضرت صلعم نے اس سے فرمایا کہ اے ام سلمہ تم اس طرح سے دعا کرو:
اللّٰھم اعظم لی اجری فی مصیبتی و عوضتی خیراً منھا۔ یا اللہ! تو مجھے اس مصیبت کا بہت بڑا اجر و ثواب عطا فرما اور اس کا بہترین عوض مجھے عنایت کر دے۔
ام سلمہ نے آنحضرت صلعم کی خدمت میں عرض کیا کہ اے رسولِ خدا صلعم، ابو سلمہ ایسا مجھے کہاں سے ملے گا۔ لیکن آنحضرتؐ نے پھر وہی فرمایا جو کچھ آپؐ نے پہلے کہا تھا ام سلمہ نے بھی اپنی وہی پہلی بات کہی حضورِ اکرمؐ نے تیسری دفعہ وہی ہدایت فرمائی اس وقت ام سلمہ نے اپنے جی میں کہا کہ میں نے رسولِ خدا صلعم کی بات تین مرتبہ رد کر دی آخرکار اس نے رسولِ خدا صلعم کی ہدایت کے مطابق دعا کی پس پروردگارِ عالم نے اس کو ایک ایسا شخص عطا فرمایا جو ابو سلمہ سے بہتر تھا یعنی ام سلمہ آنحضرت صلعم کے عقد میں آئیں۔
۲۰
سب سے بڑا سانحہ:
رسولِ اکرم صلعم سے روایت ہے آپؐ نے فرمایا کہ میرے بعد اگر تم میں سے کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو اس وقت جو مصیبت اسے میری وفات سے پہنچی ہے اس کو یاد کرے کیوں کہ اس کو میری وفات سے جو مصیبت پہنچی ہے وہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔
تعزیت میں نصیحت:
امام باقر علیہ السّلام سے مروی ہے آپؑ نے فرمایا کہ جب مسلمان کسی مسلمان کو تعزیت (ماتم پرسی) کرے اور اس وقت ایک ذمّی (دارالسّلام میں جزیہ دے کر رہنے والا غیر مسلم) موجود ہو تو”انا للہ و انا علیہ راجعون” پڑھے اور موت و آخرت وغیرہ کا تذکرہ کرے آپؑ نے فرمایا کہ اسی طرح تمہارا کوئی ذمّی پڑوسی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو اس کے نزدیک بھی یہی کہو اور اگر وہ ذمّی تم کو کسی میت کی تعزیت کرے تو اس کو “ہداک اللہ”کہو یعنی خدا تم کو ہدایت دے۔
آنحضرت کی کیفیت ابراہیم کی وفات پر:
حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ جب رسولِ اکرم کے فرزند جناب ابراہیم کا وصال ہو گیا تو آنحضرت صلعم نے مجھے غسل کا حکم دیا پس میں نے ان کو نہلایا اور آنحضرت نے ان کو کفن پہنایا اور حنوط لگایا اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اے علی میت کو اٹھا کر لے چلو پس میں جنت البقیع کی طرف لے آیا اور آنحضرت صلعم نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر آپ نے جنازے کو قبر سے نزدیک کیا اور مجھ سے فرمایا کہ اے علی تم قبر میں اترو ۔ میں جب قبر میں اترا تو آپ نے جنازے کو قبر میں جھکا دیا۔ جب آپ نے جنازے کو قبر میں اترتے دیکھا تو آپ رو پڑے اور تمام مسلمان
۲۱
رسول اللہ صلعم کو دیکھ کر رونے لگے۔ حتیٰ کہ مردوں کی آواز عورتوں کی آواز سے بھی بلند تر ہو گئی۔ اس وقت رسول اللہ صلعم نے ان کو سختی کے ساتھ رونے سے منع فرمایا اور کہا کہ آنکھیں آنسو بہائیں اور دل رنجیدہ و مغموم ہو لیکن ہم ایسی بات نہ کہا کریں جس سے پروردگار ناراض ہو۔ اے ابراہیم ہم تمہاری وفات سے مصیبت میں پڑ گئے اور ہم تم پر محزون ہیں۔ پھر آپ نے قبر کو ہموار کر دیا اور اپنا ہاتھ سرہانے رکھ کر انگوٹھے کو مٹھی میں دھنسا دیا اور یہ دعا پڑھی: بسم اللّٰہ ختمتک من الشیطان ان یدخلک ۔ یعنی خدا کے نام سے میں نے اس بات کی مہر لگا دی کہ شیطان تمہارے پاس داخل نہ ہو آپ نے باقی حدیث تفصیل کے ساتھ بیان کی تھی۔
آنحضرتؐ کی رحلت کے وقت فاطمۂ زہراؑ:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت ہے آپؑ نے فرمایا کہ جب آنحضرت صلعم پر نزع کا وقت آیا تو آپ پر غشی طاری ہو گئی اس وقت جناب فاطمہ زہرا علیہا السّلام رونے لگیں جب آنحضرتؐ کو ہوش آیا تو اس وقت جگر گوشۂ رسولؐ اپنی زبان اقدس سے یہ فرما رہی تھیں کہ اے رسول اللہ آپ کے بعد ہمارا پرسانِ حال کون ہو گا؟ آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ خدا کی قسم میرے بعد تم (یعنی اہلِ بیتؑ) کو کمزور و ناتوان سمجھا جائے گا۔
واویلا کرنے کی ممانعت:
امیر المومنین علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ آنحضرتؐ اپنے کسی فرزند کے انتقال پر رو پڑے لوگوں نے عرض کیا کہ اے رسولِ خدا صلعم، آپؐ خود رو رہے ہیں حالانکہ آپؐ ہم کو رونے سے منع فرماتے ہیں؟ آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ میں نے تم کو رونے سے کبھی منع نہیں کیا ہے میں نے تم کو نوحہ کرنے یعنی پکار کے چلا کے رونے اور واویلا کرنے سے منع کیا ہے،
۲۲
یہ رونا ایک قسم کی رقت اور رحمت ہے کہ خداوند تبارک و تعالیٰ جس کے دل میں چاہے پیدا کر دیتا ہے اور خدا جس بندے کو چاہے رحم کرتا ہے اور یقین کرو کہ خدا صرف اپنے نرم دل اور رحیم بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔
رونے کی رخصت:
امیر المومنین علیہ السّلام سے روایت ہے کہ آنحضرت صلعم نے مصیبت کے وقت رونے کی رخصت دی ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جان کو مصیبت پہنچتی ہے آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں اور وعدے کی گھڑی قریب ہے پس تم اپنے منہ سے ایسی بات کہو جس سے خدا خوش ہو اور بیہودہ باتیں منہ سے نہ نکالو۔
آہ کا نعرہ مارنا:
حضرت علی علیہ السّلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آہ کا نعرہ مارنا اور خراٹے لینا شیطان کا کام ہے۔
زندوں کی باتوں سے مردوں کو عذاب:
جناب امیر المومنین علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلعم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اے رسولِ خدا صلعم! عبد اللہ بن رواحہ بیماری کی وجہ سے بارِ گران ہو چکا ہے۔ آپؐ اٹھے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ ہو گئے یہاں تک کہ ہم اور آپؐ عبدا للہ بن رواحہؓ کے پاس پہنچ گئے۔ آنحضرتؐ نے اس کو بے ہوشی کے عالم میں پایا وہ کچھ سمجھ نہیں سکتا تھا، خواتین نالہ و فریاد کر رہی تھیں۔ آنحضرتؐ نے اس کو تین مرتبہ آواز دی اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تو آپؐ نے یہ دعا کی:
اللّٰھم عبدک ان کان قد قضیٰ اجلٰہ و رزقہ و اثرہ نالیٰ جنتک و رحمتک و ان لم یقض اجلہ و رزقہ و اثرہ فعجل
۲۳
شفاۂ و عافیتہ
“اے الٰہی! تیرا بندہ ہے اگر اس کا وقت پورا ہو چکا ہے اور آب و دانہ ختم ہوا ہے تو اس کو اپنی جنّت اور رحمت کی طرف لے جا اور اگر اس کی مدتِ عمر پوری نہیں ہوئی ہے اور آب و دانہ باقی ہے تو پھر اس کو جلد شفا اور عافیت عطا فرما۔”
اتنے میں کسی نے عرض کیا کہ اے رسولِ خدا صلعم! عبدا للہ بن رواحہؓ کے لئے یہ تعجب کی بات ہے کہ اس نے اکثر جہاد میں بغرضِ شہادت اپنے کو پیش کیا تھا مگر اس کو شہادت کا درجہ نصیب نہیں ہوا۔ اور آج وہ اپنے بستر پر انتقال کر رہا ہے ۔ آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ میری امت میں کون لوگ شہید کہلاتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اے رسولِ خدا صلعم! شہید تو وہ ہے جو میدانِ جنگ میں فرار ہوئے بغیر قتل ہو جائے۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر تو میری امت کے شہید بہت تھوڑے ہیں۔ یقیناً وہ شخص شہید ہے جس کا تم نے ذکر کیا۔ لیکن شہید وہ بھی ہے جو طاعون (پلیگ) سے مرا ہو۔ شہید وہ بھی ہے جو پیٹ کے عارضہ سے مر جائے۔ شہید وہ بھی ہے جو کسی مکان، دیوار وغیرہ کے گرنے سے مر جائے۔ شہید وہ بھی ہے جو پانی میں ڈوب کر مر جائے اور وہ عورت بھی شہید ہے جو بچہ پیٹ میں لئے مر جائے یا جو کنواری مر جائے لوگوں نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ کوئی عورت پیٹ میں بچہ لئے کیسے مر جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جب بچہ پیٹ میں ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد آنحضرتؐ وہاں سے چلے آئے اتنے میں عبداللہ بن رواحہؓ کو جب کچھ آفاقہ ہوا تو آنحضرت صلعم کو خبر دی گئی۔ آپ پھر ٹھہر گئے اور آپ نے عبداللہ
۲۴
بن رواحہؓ سے فرمایا کہ اے عبد اللہ ابھی ابھی تم نے جو کچھ دیکھا ہے بیان کرو کیونکہ تم نے بڑے عجائب دیکھے ہیں۔ عبداللہ بن رواحہؓ نے کہا کہ اے رسولِ خدا صلعم! میں نے ایک ایسا فرشتہ دیکھا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کی ایک قمچی تھی جس میں سے شعلے بھڑک رہے تھے۔ جب ان عورتوں میں سے کوئی چیخنے والی چیخ کر “اے میرے پہاڑ یعنی پشت پناہ” کہتی تو وہ فرشتہ قمچی سے میرے سر کی طرف اشارہ کرتا اور کہتا کہ کیا تو ہی اس عورت کا پہاڑ یعنی آسرا ہے؟ میں کہتا کہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے پس وہ قمچی کو ہٹا لیتا اور کوئی چیخنے والی چیخ کر “اے میرے عزت والے” کہتی تو وہ فرشتہ میرے سر کی طرف قمچی سے اشارہ کرتا اور کہتا کہ کیا تو ہی اس عورت کو عزت دینے والا ہے میں کہتا کہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے پس وہ فرشتہ قمچی کو ہٹا لیتا۔ آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ عبد اللہ نے سچ کہا ہے۔ اے لوگو! تمہارے ان مردوں کا کیا حال ہو گا جو تمہارے زندہ لوگوں کی باتوں سے تکلیف میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔
ایک وصیت:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے اپنی وفات کے وقت یہ فرمایا کہ میرے انتقال پر کوئی شخص اپنے رخساروں پر تھپڑ نہ مارے اور نہ کوئی گریبان چاک کیا جائے۔ اگر کوئی عورت اپنا گریبان پھاڑے گی تو جہنم میں اس کے لئے ایک کھڈا کھودا جائے گا۔ وہ جتنا زیادہ گریبان چاک کرے گی اتنا زیادہ بڑا کھڈا کھودا جائے گا۔
عورتوں سے نوحہ نہ کرنے کی بیعت:
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ آنحضرت صلعم نے عورتوں سے اس امر کی بیعت لی تھی کہ وہ ہرگز ہرگز نوحہ نہ کریں گی۔ نہ اپنے رخساروں کو نوچیں گی اور
۲۵
نہ خلوت میں نا محرموں کے ساتھ بیٹھیں گی۔
جاہلیت کے اثرات:
امیر المومنین علیہ السّلام سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم نے فرمایا کہ زمانۂ جاہلیّت کے یہ تین کام لوگوں کے درمیان قیامت تک باقی رہیں گے۔ ستاروں سے بارش مانگنا، ذات پات میں طعنہ زنی کرنا اور مردوں پر نوحہ کرنا۔
نوحہ ممنوع ہے:
حضرت علی علیہ السّلام سے روایت ہے کہ آپ نے رفاعہ بن شداد کو جو شہرِ اہواز میں آپ کا قاضی تھا ایک خط میں یہ لکھا کہ اے رفاعہ خبردار تم جس شہر کا بھی سلطان ہو وہاں کسی میّت پر نوحہ نہ ہونا چاہئے۔
کونسی آواز ملعون ہے:
علی مرتضیٰ علیہ السّلام سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم صلعم نے فرمایا دو آوازیں ملعون ہیں ان سے خدا بغض و عداوت رکھتا ہے۔ مصیبت کے وقت واویلا کرنے کی آواز اور دولت و راحت کے موقع پر گانے بجانے کی آواز۔
۲۶
میّت کو غسل دینا
امام جعفر الصادق، آپ کے پدرِ بزرگوار امام باقر، آپ کے آباء کرام اور حضرت علی صلوات اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے۔ امیر المومنین نے فرمایا کہ آنحضرت صلعم نے مجھ کو یہ وصیّت کی تھی کہ میں آپؐ کے غسل کی ذمہ داری لوں۔ پس جاننا چاہئے کہ مولا علیؑ ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو غسل دیا تھا۔ حضرت امیر المومنین غسلِ رسول اللہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
آنحضرتؐ کو غسل دینے کی کیفیّت:
جب میں آنحضرتؐ کو غسل دینے لگا تو میں نے بیت الشرف کی ایک جانب سے کسی کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے علی آنحضرت کے جسمِ اطہر سے قمیض نہ اتارو پس میں نے آپ کو قمیض کے ساتھ غسل دیا اور میں آپ کو غسل دے رہا تھا کہ میں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ ایک اور ہاتھ محسوس کیا جو آپؐ کے جسمِ مبارک پر کام کر رہا تھا چنانچہ جب میں نے حضورؐ کو پلٹا تو اس میں میری مدد کی گئی جب میں نے آپؐ کو منہ کے بل لٹانا چاہا تا کہ آپؐ کی پشتِ مبارک کو غسل دوں تو مجھے آواز آئی کہ حضورؐ کو منہ کے بل نہ لٹاؤ پس میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو پہلو پر لٹا کر پشتِ مبارک کو غسل دیا۔
حضرت امیر المومنینؑ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرتؐ نے مجھے اس امر کی وصیّت فرمائی کہ میں آپؐ کو غسل دوں اور میرے ساتھ کوئی دوسرا غسل نہ دے تو میں نے اس وقت رسولِ اکرمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ کا جسمِ مبارک
۲۷
بھاری ہے، میں تنہا آپ کو نہیں پلٹ سکوں گا۔ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جبرائیلؑ تمہارے ساتھ میرے غسل میں شریک ہوں گے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھ کو پانی کون دے گا؟ آپؐ نے فرمایا کہ فضل (ابنِ عباس) تم کو پانی دے گا۔ لیکن تم اس سے اتنا ضرور کہہ دینا کہ وہ اپنی دونوں آنکھوں پر پٹی باندھ لے کیونکہ تمہارے سوا جو بھی میرے سرّ کی طرف دیکھے گا وہ اندھا ہو جائے گا۔
امام باقر علیہ السّلام سے روایت ہے، آپؑ نے فرمایا کہ فضل ابنِ عباس آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے امیر المومنینؑ کو پانی دیتے تھے اور علیؑ و جبرائیل علیہ السّلام رسالت مآبؐ کو غسل دے رہے تھے۔
تین غسل:
امام باقر علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السّلام نے آنحضرتؐ کو تین مرتبہ غسل دیا تھا، ایک غسل ایسے پانی سے، جس میں حرض یعنی اشنان کی گھاس ڈالی گئی تھی۔ دوسرا غسل اس پانی سے جس میں ذریرہ (ایک قسم کی خوشبو) اور کافور ڈالا گیا تھا۔ اور تیسرا غسل سادہ پانی سے اور یہ آخری غسل تھا۔ حرض یا کہ اشنان ایک خاص قسم کی گھاس ہے جس سے ہاتھ اور کپڑے دھوتے ہیں اس کو جلا کر سجی (شخارہ شقوی) بناتے ہیں۔ اس کا بروشسکی نام صبون شقہ ہے۔ یہ گھاس اور درخت سدر (بیری) بیری کی پتیاں دونوں میت کے غسل میں مستعمل تھیں مگر بعد میں البتہ سدر کے پتے زیادہ استعمال ہونے لگے۔
میّت کی خدمت کا عظیم ثواب:
امیر المومنین علیہ السّلام سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جس مردِ مسلم نے اپنے کسی مسلمان بھائی کو بغیر کسی کراہت کے غسل دیا۔ اس کی شرمگاہ پر نظر نہ ڈالی اس کی کسی برائی کا ذکر نہیں کیا اس کے
۲۸
جنازے کے ساتھ چلا اس پر نماز پڑھی اور اس کی تدفین میں وقت صرف کیا ایسا مسلمان بندہ جب وہاں سے چلے گا تو اپنے گناہوں سے خالی ہو جائے گا۔
جنب اور حائض میّت کو غسل نہ دیں:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ جنابت اور حیض دار دونوں کسی بھی میّت کو غسل نہ دیں۔
شوہر کا بیوی کو غسل دینا:
امام باقر علیہ السّلام سے روایت ہے آپؑ نے فرمایا کہ حضرت علئ مرتضیٰ نے فاطمۂ زہرا صلوات اللہ علیہا کو غسل دیا تھا کیونکہ خاتونِ جنّت نے اس امر کی وصیت فرمائی تھی۔
امیر المومنین سے روایت ہے آپؑ نے فرمایا کہ فاطمۂ زہرا علیہا السّلام نے مجھے اس بات کی وصیّت کی تھی کہ ان کو میرے سوا کوئی اور غسل نہ دے اور اسما بنتِ عمیس مجھے پانی ڈالے۔
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے مروی ہے، آپ سے پوچھا گیا کہ آیا کوئی مرد اپنی عورت کو غسل دے سکتا ہے؟ آپؑ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ کپڑے کے اوپر سے غسل دے۔
بیوی کا شوہر کو غسل دینا:
امامِ موصوفؑ سے روایت ہے، آپؑ نے فرمایا کہ جب کسی عورت کا شوہر انتقال کر جائے تو وہ اس کو غسل دے سکتی ہے مگر قصداً اس کی شرمگاہ کو نہ دیکھے۔
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت ہے، آپؑ نے فرمایا کہ جب میرے جدِ امجد
۲۹
امام زین العابدین علیہ السّلام کا انتقال ہو گیا تو اس وقت میرے پدرِ بزرگوار امام باقر علیہ السّلام نے فرمایا کہ میں آپؑ کی زندگی میں آپ کی شرمگاہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا نا پسند کرتا تھا تو اب آپؑ کے انتقال کے بعد میں کس طرح اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ سکتا ہوں؟ پس آپؑ نے کپڑے کے نیچے ہاتھ ڈال کر آپ کو غسل دیا۔ اور آپؑ کی ام ولد۱ کو بلایا انہوں نے بھی آپ کے ہاتھ کے ساتھ اپنا ہاتھ شریک کر دیا اور آپ کو غسل دیا۔
امام جعفر الصادق علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ جب میرے پدرِ بزرگوار امام باقر علیہ السّلام کا انتقال ہوا تو میں نے بھی اسی طرح سے آپؑ کو غسل دیا تھا۔
۱ام الولد وہ لونڈی ہے جس کے ہاں مالک کے نطفے سے کوئی بچہ پیدا ہو چکا ہو۔
جب میّت کو غسل دینے کے لئے کوئی محرم نہ ہو:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسا مرد عورتوں کے درمیان انتقال کر جائے جس کو ان عورتوں میں سے کوئی محرم نہ ہو اور اسی طرح کوئی ایسی عورت مردوں کے درمیان مر جائے جس کو (کپڑوں کے نیچے) غسل دینے کے لئے کوئی محرم نہ ملے تو ان دونوں کو بغیر غسل کے دفن کر دیا جائے۔
یہاں امامِ عالی مقام کی رائے گویا یہ ہوئی کہ میّت کو غسل دینا تو واجب تھا لیکن جب ایک ناجائز ذریعے کے بغیر اس کی تعمیل ممکن نہیں ہوئی تو جو کچھ واجب تھا وہ خود بخود ساقط ہو گیا۔
شہید کے متعلق حکم:
امامِ موصوف علیہ السّلام سے روایت ہے، آپؑ نے فرمایا کہ جو شہید اپنی شہادت گاہ پر ہی جان بحق ہو چکا ہو اس کو اپنے کپڑوں ہی میں دفن کر دیا جائے۔ اور اس کو غسل نہ دیا جائے
۳۰
اور اگر اس میں تھو ڑی سی جان باقی رہی ہو اور اسی حالت میں شہادت گاہ سے منتقل کر دیا پھر اس کا انتقال ہو جائے تو اس کو غسل دیا جائے پھر کفنایا اور دفنایا جائے آپؑ نے فرمایا کہ رسولِ اکرمؐ نے امیر حمزہ علیہ السّلام کو ان کپڑوں میں دفن کیا تھا جن میں وہ شہید ہوئے تھے اور صرف ایک چادر کا اضافہ کیا تھا۔
حضرت علی علیہ السّلام سے روایت ہے آپؑ نے فرمایا کہ جنگِ بدر میں جو مسلمان شہید ہو گئے ان کے جسموں سے پوستینوں کو آنحضرتؐ نے اتروا لیا تھا ان کو پہنے ہوئے کپڑوں میں دفن کر دیا تھا اور ان پر نماز پڑھی تھی۔
حضرت علی علیہ السّلام نے فرمایا کہ شہید کے جسم سے پوستین ، جوتے، ٹوپی، پگڑی، کمرپٹہ (کمر بند) اور پاجامہ اتار لئے جائیں بشرطیکہ ان میں خون نہ لگا ہو اور اگر ان میں سے کسی چیز میں خون لگا ہو تو اسے نہ اتارا جائے اور اس کے ساتھ کوئی چیز گرہ لگا ئی ہوئی نہ رکھی جائے مگر کھول کر۔
جو ڈوب کر مرے:
امام باقر علیہ السّلام سے مروی ہے آپؑ نے فرمایا کہ جو شخص پانی میں ڈوب کر مر گیا ہو اس کو غسل دیا جائے۔
جو جل کر مرے:
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ جو شخص جل کر مر گیا ہو اسے جب غسل دیا جائے تو اس میں اوپر سے صرف پانی ڈالا جائے یعنی ہاتھوں سے اس کے جسم کو نہیں ملنا چاہئے۔
غریق:
امیر المومنین علیہ السّلام سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص پانی میں ڈوب کر مردہ جیسا بے حس ہو جائے تو اس کو ایک دن اور ایک
۳۱
رات رکھ کر دفن کیا جائے۔
زندہ درگور سے احتیاط:
امام باقر علیہ السّلام سے روایت ہے، آپؑ نے فرمایا کہ جس شخص پر آسمانی بجلی گر پڑی ہو اس کو تین دن سے پہلے دفن نہ کیا جائے، مگر یہ ہے کہ اس کی موت کی علامتوں کا پورا یقین ہو چکا ہو۔
تدفین میں تاخیر نہ ہو:
امیر المومنین علیہ السّلام سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کا انتقال دن کے پہلے حصّے میں ہو جائے تو اس کا قیلولہ (دوپہر کو سونا) اس کی قبر میں ہونا چاہئے، اور اگر دن کے آخری حصے میں انتقال کر جائے تو اس کی رات قبر میں گزرنی چاہئے۔
ایک ہی غسل کافی ہے:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت ہے آپؑ نے فرمایا اگر کوئی شخص جنابت کی حالت میں انتقال کر جائے تو اس کو ایک ہی غسل دینا کافی ہے اور حائضہ کو بھی ایک ہی غسل کافی ہے (نیز جو عورت نفاس کی حالت میں مر جائے اس کے لئے بھی یہی حکم ہے کہ اس کو صرف میّت کا غسل دیا جائے گا)۔
میّت کو غسل دینے کی کیفیت:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ میّت کو تین مرتبہ غسل دینا چاہئے۔ ایک غسل تو پانی اور سدر (بیری کی پتیوں) سے دیا جائے، دوسرا غسل کافور ملے ہوئے پانی سے دیا جائے اور تیسرا غسل سادہ پانی سے دیا جائے اور ہر غسل جنابت کی حالت کے غسل کی طرح ہونا چاہئے۔ چنانچہ پہلے میّت کو اسی طرح وضو کرایا جائے جیسے نماز کے لئے وضو کیا جاتا ہے پھر میّت کے سارے بدن پر پانی بہایا جائے۔ اور اس کو پہلو پر لٹایا جائے مگر بٹھایا نہ جائے اور نہ منہ کے بل گرایا جائے کیونکہ اگر میّت کو بٹھایا گیا تو اس کی کمر ٹوٹ جائے گی اس لئے
۳۲
میّت کو باری باری دونوں پہلوؤں پر لٹا کر اس کی پیٹھ کو دھونا چاہئے اور اسی حال میں سارے بدن پر ہاتھ پھیرنا چاہئے۔ جس طرح کہ جنابت دار شخص اپنے تمام جسم کو دھو لیتا ہے۔
امام موصوف علیہ السّلام نے فرمایا کہ میّت کو غسل دیتے وقت اس کی ناف سے لے کر گھٹنوں تک ازار (پاجامہ)بنائی جائے اور اس کے نیچے سے پانی بہایا جائے اور غسل دینے والا اپنے ہاتھ پر ایک کپڑا لپیٹ کر اس کو ازار کے نیچے داخل کرے اور اس کی شرمگاہ اور سرّ کے تمام حصے کو جو ازار کے نیچے ہے دھوئے۔
اگر میّت کا کوئی جزو گر جائے:
آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر میّت سے کوئی چیز گر جائے جیسے بال، گوشت، ہڈی وغیرہ تو ایسی چیز کو اس کے ساتھ کفن میں رکھ کر دفن کر دینا چاہئے۔
دعائم الاسلام عربی حصّہ اوّل ص ۱۱۴ میں ہے کہ جو شخص میّت کو غسل دے وہ اس کام سے فارغ ہو کر غسل کرے اس کا یہ غسل فرض نہیں بلکہ سنت ہے۔
نیتِ غسل:
میّت کو غسل دیتے ہوئے نیت کرنا ضروری ہے نیت کسی بھی زبان میں جائز ہے مثلاً اغسل ہٰذا المیت بمآء السدر قربۃ الی اللّٰہ بسم اللّٰہ و اللّٰہ اکبر ۔ جب کافور کے پانی سے میت کو غسل دے رہا ہو تو کہے اغسل ہٰذا المیت بمآء الکافور قربۃ الی اللّٰہ بسم اللّٰہ و اللّٰہ اکبر ۔ جب خالص پانی سے غسل دے رہا ہو تو یوں کہے اغسل ہٰذا المیت بمآء الخالص قربۃ الی اللّٰہ بسم اللّٰہ و اللّٰہ اکبر ۔ اگر میّت عورت کی ہے تو ہٰذا المیت کی جگہ ہٰذہِ المیت کہے۔
اگر نیّت فارسی میں ہو تو اس طرح کہے: غسل می دہم این میت را بآبِ سدر
۳۳
قربۃ الی اللّٰہ بسم اللّٰہ و اللّٰہ اکبر ۔ دوسرے غسل میں کہے غسل میدہم این میت را بآبِ کافور قربۃ الی اللّٰہ بسم اللّٰہ و اللّٰہ اکبر ۔ تیسرے غسل میں اس طرح نیّت کرے: غسل می دہم این میت را بآبِ خالص قربۃ الی اللّٰہ بسم اللّٰہ و اللّٰہ اکبر ۔
اگر اردو میں نیت کرنی ہے تو اس طرح سے کہے: غسل دیتا ہوں اس میت کو آبِ سدر (یا آبِ کافور یا آبِ خالص) سے قربۃ الی اللّٰہ بسم اللّٰہ و اللّٰہ اکبر ۔
واضح رہے کہ غسلِ میّت کی نیّت کے لئے کتابوں میں مختلف کلمات مذکور ہیں ان میں سے کوئی کلمہ مخصوص نہیں اس میں صرف خدا کی نزدیکی یا خوشنودی کی نیّت لازمی ہے۔
۳۴
حنوط اور کفن
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ جب میّت کو غسل دینے والا غسل دے کر فارغ ہو جائے تو اس کو ایک کپڑے سے پونچھے اور اس کے سجود کے اعضاء یعنی پیشانی، ناک، دونوں ہاتھ، دونوں زانو اور دونوں پیروں پر کافور اور حنوط (خوشبو) لگائے اور اس میں سے کچھ آنکھیں، کانوں، منہ، داڑھی اور چھاتی پر لگا دے۔ عورت اور مرد کا حنوط یکسان ہے۔
امام جعفر الصادق، آپ کے پدرِ بزرگوار امام باقر، آپ کے آباء کرام اور حضرت علی صلوات اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے کہ آپؐ حنوط کے لئے مشک (کستوری) کی آمیزش میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
میت کے لئے دھونی:
امیر المومنین علیہ السّلام سے روایت ہے آپؑ نے فرمایا کہ کسی میّت کو زعفران اور ورس (ایک قسم کی گھاس، جس سے رنگائی کا کام لیا جاتا ہے) سے حنوط نہ لگایا جائے۔ آپؑ میّت کو دھونی دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اس کے کفن کو اور اس جگہ کو جہاں اسے غسل و کفن دیا جائے دھونی دی جائے۔
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہےکہ آپ کسی میّت کے پیچھے پیچھے دھونی لے کر چلنا مکروہ سمجھتے تھے البتہ کفن کو دھونی دینی چاہئے۔
اگر کوئی حالتِ احرام میں مر جائے:
امام باقر علیہ السّلام سے مروی ہے آپ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو حجِ
۳۵
بیت اللہ کے لئے احرام باندھے ہوئے انتقال کر گیا ہو۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے کھلے ہوئے سر کو ڈھانک دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ پورا وہ عمل کیا جائے جو ایک بغیر احرام کی میّت کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر خوشبو کو اس کے قریب نہ کیا جائے۔ (یعنی اس کو کافور کے پانی سے غسل نہ دیا جائے۔ نہ اس کو کوئی حنوط لگایا جائے اور نہ اس کے کفن وغیرہ کو کوئی دھونی دی جائے)۔
کفن میں تین کپڑے:
حضرت علی مرتضیٰ علیہ السّلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے آنحضرتؐ کو تین کپڑوں میں کفن دیا تھا۔ دو کپڑے مضافاتِ عمان کے بنے ہوئے تھے (یعنی قمیض اور افافہ) اور ایک یمنی چادر تھی، ان کے علاوہ اراز اور عمامہ تھا۔
امام جعفر الصادقؑ سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ کفن میں بہترین تین کپڑے ہیں۔ ایک بغیر بٹن کا اور بغیر سلا ہوا کُرتا۔ ایک چادر اور ایک تہبند۔ صادقِ آلِ محمد علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ میرے پدرِ بزرگوار امام باقر علیہ السّلام نے مجھے یہ وصیّت کی تھی کہ میں ان کو تین کپڑوں میں کفن دوں۔ ایک یمنی چادر جس میں آپؑ جمعہ کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایک اور کپڑا (یعنی تہبند) اور ایک قمیض۔
امام باقر علیہ السّلام سے مروی ہے آپؑ نے فرمایا کہ میّت کو تہبند اور عمامہ پہنانا ضروری ہے لیکن یہ دونوں کفن میں شمار نہیں ہوتے ہیں اور میّت کو تین کپڑوں میں کفن دینا مستجب ہے اس میں کوئی چیز مخصوص اور فرض نہیں ہے۔
عمامہ، ران پیچ اور روئی کا استعمال:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ ایک ایسے شخص نے جو میّتوں کو غسل دیتا تھا آپؑ سے پوچھا کہ میّت کو کس طرح عمامہ پہنایا جائے؟ آپؑ نے فرمایا کہ اعرابی کے عمامہ کی طرح سے میّت کو عمامہ نہ پہناؤ لیکن عمامہ کو درمیان سے پکڑ کر میّت کے سر پر پھیلا دو اور داڑھی کے نیچے سے گزار کر عمامہ پہناؤ اور عمامہ کے
۳۶
دونوں سرّوں کو میّت کے سینے پر ڈال دو اور اس کی دونوں کوکھ پر تہنید کی طرح ایک کپڑا (یعنی ران پیچ) باندھو مگر اس کو ڈھیلا باندھو اور مقعد کے نیچے روئی رکھ دو تا کہ اس میں سے کوئی چیز خارج نہ ہو۔ عمامہ اور کوکھ سے بندھا ہوا کپڑا (یعنی ران پیچ) کفن میں شمار نہیں کفن تو وہی ہے جس میں میّت کے جسم کو کفنایا جاتا ہے۔
ریشمی کفن کی ممانعت:
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میّت کو ریشمی کپڑے میں کفنانے سے منع فرمایا ہے۔
اوڑھنی اور غیر سفید کفن:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ میّت کی مقعد میں روئی لگا دو تا کہ اس میں سے کوئی چیز باہر نہ نکلے۔ فرج پر اور دونوں پیروں کے درمیان بھی روئی رکھی جائے۔ اگر میت عورت ہو تو اس کے سر پر اوڑھنی اوڑھائی جائے اور اگر مرد ہو تو اس کے سر پر عمامہ باندھا جائے۔ أئمّۂ اطہار علیہم السّلام نے کفنوں میں غیر سفید کی بھی اجازت و رخصت دی ہے۔ حضرت علی (صلوٰت اللہ علیہ و علیٰ الائمّہ من ولد) سے منقول ہے کہ آنحضرتؐ نے حضرت حمزہ علیہ السّلام کو اون کی سیاہ دھاری دار چادر میں کفنایا تھا۔
امام حسین علیہ السّلام سے مروی ہے کہ آپؑ نے اسامہ بن زید کو سرخ چادر میں کفن دیا تھا۔
کفن، قرض اور میراث:
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ میّت کے مال میں سے اوّل کفن خریدا جائے پھر قرض ادا کیا جائے پھر اس کی وصیّت پوری کی جائے اور اس کے بعد میراث تقسیم کی جائے۔
۳۷
جنازے کے ساتھ چلنا
اسلام میں پہلا تابوت:
امام جعفر الصادق، آپ کے پدرِ بزرگوار امام باقر، آپ کے آباء کرام صلوات اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے کہ رسول اکرمؐ نے جناب فاطمہ زہرا علیہا السّلام کو یہ بھید بتایا کہ میرے اہلِ بیّتؑ میں سے تم سب سے پہلے مجھے ملو گی۔ جب آنحضرتؐ کا انتقال ہو گیا اور لوگ مبتلائے غم ہو گئے تو سیّدہ عالم فاطمہ زہرا علیہا السّلام بستر سے لگ گئیں ان کا جسم نحیف و زار ہو کر سایہ کے مانند ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد آپ صرف ستر دن تک زندہ رہیں۔ جب انتقال کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے اسماء بنتِ عمیسؓ سے فرمایا کہ میں مردوں کے کندھوں پر مکشوف حالت میں کس طرح اٹھائی جاؤں گی میرے جسم میں صرف ہڈیاں اور کھال باقی رہ گئی ہے۔ جب میں سریر (جنازہ) پر رکھ کر اٹھائی جاؤں گی تو کس طرح سے لوگ میرے جثّہ کو دیکھیں گے؟ اسماء بنتِ عمیسؓ نے کہا کہ اے جگر گوشۂ رسولؐ اگر آپؑ پر قضائے الٰہی صادر ہو گئی تو میں آپ کے لئے ایک ایسی چیز بناؤں گی جسے میں نے شہرِ حبشہ میں دیکھی تھی۔ حضرت فاطمہ زہراؑ نے فرمایا کہ وہ کیا ہے؟ اسماء بنتِ عمیسؓ نے کہا کہ وہ نعش (تابوت) ہے، جسے تختۂ جنازے کے اوپر رکھا جاتا ہے اور یہ میّت کو اس طرح چھپاتا ہے کہ میّت نظر ہی نہیں آتی۔ جگر گوشۂ رسولؐ نے فرمایا کہ میرے لئے بھی نعش (تابوت) بنوا دینا ۔ جب آپؑ کا انتقال ہو گیا تو اسماء بنتِ عمیسؓ نے ان کے لئے نعش (تابوت) بنایا تھا۔ پس یہ پہلا تابوت تھا جو اسلام میں اٹھایا گیا۔
۳۸
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نعش یعنی تابوت پر حنوط لگانے سے منع فرمایا ہے۔
تابوت پر رنگ برنگ کا کپڑا نہ ڈالا جائے:
علئ مرتضیٰؑ سے منقول ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ ایک ایسے تابوت کو دیکھا جس کو سرخ، سبز، اور زرد دوپٹوں سے مزیّن کیا گیا تھا۔ پس آپؑ کے امر سے انہیں اتارا گیا تھا۔
امیر و غریب کی قبر یکسان ہو:
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے ، آپؑ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آخرت کا پہلا عدل (یعنی مساوات) قبریں ہیں، کیونکہ ان قبروں میں سونے والوں کے متعلق کوئی پتہ نہیں چلتا کہ شریف کون ہے اور رذیل کون ہے۔
جب قریب سے کوئی جنازہ گزرے:
امیر المومنین علیہ السّلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے پاس سے جنازہ گزر رہا تھا وہ لوگ کھڑے ہو گئے۔ آپؑ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ یہ حکم ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے پاس سے جنازہ گزر جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلنے کا ارادہ نہیں کرتے ہوں لیکن جو شخص جنازے کے ساتھ جانے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اٹھ کر جنازے کے ہمراہ چلے اور جب تک جنازہ زمین پر نہ رکھا جائے اس وقت تک نہ بیٹھے۔
امام حسین علیہ السّلام سے منقول ہے کہ آپ ایک مرتبہ جنازہ کے ہمراہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے وہ لوگ اٹھنے لگے، آپؑ نے ان کو منع فرمایا اور آپؑ چلتے رہے جب قبر کے پاس پہنچے تو آپؑ وہاں رک گئے اور ابو ہریرہ اور ابن الزبیر کے ساتھ بات چیت کرنے لگے
۳۹
یہاں تک کہ جنازہ زمین پر رکھا گیا۔ اس وقت آپ بیٹھ گئے اور دوسرے لوگ بھی بیٹھ گئے۔
جنازہ لے جانے میں سست رفتاری نہ ہو:
حضرت علی علیہ السّلام سے روایت ہے، آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ جنازہ کو سرعت کے ساتھ لے جاؤ ، آہستہ آہستہ نہ لے جاؤ۔
جنازہ کو کندھا دینا:
علی مرتضیٰؑ سے منقول ہے آپؑ سے پوچھا گیا کہ آیا ہر اس شخص پر جنازہ کو کندھا دینا واجب ہے جو جنازہ کے ساتھ ساتھ ہے آپؑ نے فرمایا کہ واجب تو نہیں مگر بہتر ہے۔ پس جو شخص چاہے تو پکڑے اور جو نہ چاہے تو نہ پکڑے۔
جنازہ کو کسی سواری میں اٹھانا:
امیر المومنین علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے جنازہ کو سواری کے جانور پر اٹھانے کی رخصت و اجازت دی ہے مگر ایسا اس وقت کیا جائے جبکہ جنازہ اٹھانے کے لئے کوئی شخص نہ ملے یا کوئی عذر ہو لیکن سنّت اور حکم یہی ہے کہ جنازہ کو لوگ ہی اٹھائیں۔
جنازہ کو کندھا دینے کا طریقہ:
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے آپ اس عمل کو مستجب سمجھتے تھے کہ جو شخص جنازہ اٹھانے میں مدد کرنا چاہتا ہے وہ تختہ تابوت کی بائیں جانب سے شروع کرے اور جس کے دونوں ہاتھوں میں تختہ کا پایہ ہو اس سے لے کر یہ شخص اپنے داہنے کندھے پر رکھے پھر باری باری سے چاروں طرف گھوم کر پچھلے، داہنے اور اگلے پایہ کے نیچے بھی کندھا دے۔
جنازہ کے پیچھے چلو:
امیر المومنین علیہ السّلام سے منقول ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ جنازے کے پیچھے پیچھے چلو نہ کہ
۴۰
اس کے آگے آگے، تم اہلِ کتاب کے بالکل برعکس عمل کرو ۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے امیرالمومنین سے پوچھا کہ یاعلیؑ! آپؑ کی صبح کیسی گزری؟ آپؑ نے فرمایا کہ اس شخص سے بہتر گزری جو نہ کسی جنازہ کے پیچھے چلا، نہ کسی بیمار کی عیادت کی۔
جناب مرتضیٰ علی علیہ السّلام سے مروی ہے کہ آپؑ سے ایک مرتبہ ابو سعید الخدری نے جنازہ کے ہمراہ چلنے کی بابت پوچھا کہ جنازہ کے آگے چلنا افضل ہے یا پیچھے؟ آپؑ نے فرمایا کہ اے ابو سعید! تم جیسا انسان اس قسم کی بات پوچھتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں بخدا مجھ جیسا آدمی اس بارے میں پوچھتا ہے پس علی علیہ السّلام نے فرمایا کہ جنازہ کے پیچھے چلنے والے پر وہی فضیلت ہے جو فرض نماز کو نفل پر ہے۔ ابو سعید نے کہا کہ یہ آپ اپنی طرف سے فرما رہے ہیں یا اس بارے میں آپؐ نے کچھ رسولِ اکرمؐ سے بھی سنا ہے؟ امیر المومنین علیہ السّلام نے فرمایا کہ میں نے آنحضرتؐ کو یہی کہتے ہوئے سنا ہے جو میں نے تم سے ابھی کہا۔
جنازہ کے پیچھے ننگے پاؤں چلنا:
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے کہ آپؑ حصولِ فضل و ثواب کی خاطر جنازہ کے پیچھے ننگے پاؤں چلا کرتے تھے۔
جنازہ کے پیچھے کوئی عورت نہ جائے:
امیر المومنین علیہ السّلام سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرتؐ ایک جنازہ کے ہمراہ تشریف لے جا رہے تھے کہ آپؐ کی نظر ایک عورت پر پڑی جو جنازہ کے پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی آپؐ ٹھہر گئے اور فرمایا کہ اس عورت کو لوٹا دو پس وہ لوٹا دی گئی۔ آپؐ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آپؐ سے یہ کہا گیا کہ اے رسولِ خداؐ وہ عورت تو مدینہ کی دیواروں سے بھی آگے چلی گئی ہے تب آپؐ وہاں سے چلنے لگے۔
۴۱
نمازِ جنازہ
آنحضرتؐ کے جنازہ پر نماز:
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے آنحضرتؐ کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت علی علیہ السّلام جناب رسالت مآب کو غسل و کفن دے چکے تو اس وقت عباس بن عبد المطلبؑ آپ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اے علی علیہ السّلام! لوگ رسول اللہؐ پر نمازِ جنازہ پڑھنے کے لئے جمع ہو گئے ہیں اور ان کی یہ رائے ہے کہ آنحضرتؐ کو جنّت البقیع میں دفن کر دیا جائے۔ اور ان کی یہ بھی رائے ہے کہ انہیں میں سے ایک شخص رسولِ خداؐ پر نمازِ جنازہ کی امامت کرے۔ یہ سن کر امیر المومنین علیہ السّلام باہر تشریف لائے اور لوگوں سے فرمانے لگے کہ اے لوگو! یقیناً رسولِ خداؐ زندگی اور موت دونوں حالت میں امامؑ ہیں اور جو نبی جہاں وفات پاتا ہے اس کو وہیں دفن کیا جاتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپؑ کی رائے کے مطابق عمل ہو، چنانچہ امیر المومنین علیہ السّلام بیت الشرف کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ پر نمازِ جنازہ پڑھی اور آپؑ نے دس دس آدمیوں کو آگے کر دیا جو نماز پڑھ کر واپس آ گئے۔
اس نماز کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں:
امام باقر علیہ السّلام سے مروی ہے آپؑ نے فرمایا کہ آفتاب کے غروب اور طلوع کے وقت اور کسی وقت میں بھی نمازِ جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ تو محض استغفار یعنی مغفرت اور بخشش چاہنا ہے۔
۴۲
نیک عمل کی اہمیّت:
امیر المومنین علیہ السّلام سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ جب آپؑ کو کسی جنازے پر نماز پڑھانے کے لئے بلایا گیا تو آپؑ نے فرمایا ہم تو نمازِ جنازہ پڑھیں گے لیکن حقیقت میں متوّفی کا عمل ہی اس پر نماز پڑھتا ہے۔
چالیس مومنین:
امیر المومنین علیہ السّلام سے مروی ہے آپؑ نے فرمایا کہ جب مومن پر چالیس مومنین نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں اور اس کے لئے خوب دعا کرتے ہیں تو ان کی دعا متوّفی کے حق میں مقبول ہوتی ہے۔
سلطان:
مولا علیؑ نے فرمایا کہ جب سلطان خود بوقتِ نمازِ جنازہ حاضر ہو تو وہ میّت کے ولی سے اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس جنازے پر نماز پڑھائے۔
عورت کے خاندان والے:
علی مرتضیٰؑ سے پوچھا گیا کہ اگر کسی شخص کی بیوی انتقال کر جائے تو کیا وہ خود اس پر نمازِ جنازہ پڑھا سکتا ہے؟ آپؑ نے فرمایا کہ عورت کے خاندان والوں کو اس کے شوہر سے اس کام کا زیادہ حق حاصل ہے۔
نوزائیدہ بچہ:
امیر المومنین سے روایت ہے آپؑ نے فرمایا کہ اگر بچہ ولادت کے وقت زور سے روئے اور پھر مر جائے تو اس پر نمازِ جنازہ پڑھنا چاہئے۔
اگر کوئی بدکار ہو:
حضرت علیؑ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک ایسی عورت اور اس کے بچہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی تھی جو زنا کے نتیجے پر زچگی کی حالت میں مر گئی تھی۔ حضورِ اکرمؐ نے ہر نیک و بد مسلمان پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
۴۳
اگر جسم کا کوئی حصہ ہو:
امیر المومنین نے فرمایا کہ جسمِ انسانی کے ہر اس حصّے پر نمازِ جنازہ پڑھنی چاہئے جس کے متعلق معلوم ہو کہ اس کے جدا ہونے سے انسان مر جاتا ہے۔ (مثلاً جنگ یا کسی اور حادثے کے نتیجے میں ایک انسان کا سر یا سر کا کوئی حصہ ملتا ہے یا کوئی ایسا عضو ملتا ہے جس کے جدا ہونے سے ایک زندہ انسان مر جاتا ہے تو بدن کے ایسے حصّے اور عضو پر نمازِ جنازہ پڑھنی چاہئے اور اگر ہاتھ یا پاؤں وغیرہ کا کوئی ایسا حصہ مل گیا کہ جس کے کٹ جانے کے باوجود بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے تو ایسے عضو پر نمازِ جنازہ کا پڑھنا واجب نہیں۔
بیک وقت کئی جنازوں پر نماز:
علی مرتضیٰ علیہ السّلام سے روایت کی گئی ہے کہ جب بیک وقت کئی جنازے جمع ہو جاتے ہیں تو آپؑ ان تمام پر ایک ہی مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھتے تھے۔ اس صورت میں مردوں کے جنازے اپنے سے اور عورتوں کے جنازے قبلہ سے قریب رکھتے تھے۔
اسی طرح جب مردوں، بچوں، ہیجڑوں اور عورتوں کے جنازے جمع ہو جائیں تو مردوں کے جنازے پیش نما زکے قریب رکھیں، ان کے قریب بچوں کے جنازے ، ان کے نزدیک ہیجڑوں کے جنازے اور ان کے پاس عورتوں کے جنازے رکھیں۔
پیش نماز کہاں کھڑا ہو:
امیر المومنین سے منقول ہے کہ آنحضرتؐ جب کسی مرد کے جنازے پر نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوتے تو آپؐ اس کے سینے کے مقابل کھڑے ہوتے تھے۔ جب جنازہ کسی عورت کا ہوتا تو آپؐ اس کے سر کے مقابل کھڑے ہوتے تھے۔
جب ایک ہی نمازِ جنازہ میں مردوں، بچوں، ہیجڑوں اور عورتوں کے جنازے جمع ہو جائیں تو ان کو اس حالت میں رکھیں کہ پیش نماز کے سامنے مردوں اور بچوں کی چھاتیاں ہیجڑوں
۴۴
کی گردنیں اور عورتوں کے سر ایک ہی سیدھ میں ہوں۔
اگر طہارت کے لئے پانی نہ ہو:
امام جعفر الصادقؑ سے منقول ہے کہ آپؑ سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جو نمازِ جنازہ کے وقت بغیر وضو کئے حاضر ہو اور پانی نہ ملتا ہو؟ آپؑ نے فرمایا کہ اگر نمازِ جنازہ کے فوت ہو جانے کا خطرہ ہو تو تیمم کر کے نمازِ جنازہ پڑھے۔
پانچ تکبیر:
امام جعفر الصادقؑ سے روایت ہے کہ آپؑ نمازِ جنازہ کی تکبیر میں دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھاتے تھے اور جنازوں پر پانچ مرتبہ تکبیر کہتے تھے۔
ہر تکبیر میں ہاتھوں کو اوپر اٹھانا چاہئے، ملاحظہ ہو کتاب تاویل الدعائم ، ۲، ص ۶۹۔
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے منقول ہے کہ آپؑ سے نمازِ جنازہ کی تکبیروں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا کہ جنازوں پر پانچ تکبیریں کہی جائیں کیونکہ پانچ وقت کی نمازوں سے ایک ایک تکبیر لی گئی ہے۔
نمازِ جنازہ میں تاخیر سے شامل ہونا:
امامِ موصوف سے روایت ہے، آپؑ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص نمازِ جنازہ میں اس حالت میں آن ملے کہ کچھ تکبیریں اس سے پہلے کہی گئی ہیں تو وہ ابتدائی تکبیر کہہ کر ان میں داخل ہو جائے۔ اور جب لوگ سلام پھیریں تو وہ اپنی باقی تکبیریں پوری کر لیں پھر سلام پھیرے۔ یعنی جب وہ ان میں داخل ہوتا ہے تو وہ تکبیر کہہ کر پانچ دعاؤں میں سے پہلی دعا شروع کرے۔ اور جب پیش نماز تکبیر کہے تو وہ دوسری دعا پڑھے۔ علیٰ ہٰذا القیاس۔ یہاں تک کہ پیش نماز سلام پھیرے۔ اب اس کو چاہئے کہ سلام نہ پھیرے بلکہ اپنی باقی دعاؤں کو پوری کر کے سلام پھیرے۔
نمازِ جنازہ کی صورت:
اہلِ بیّتِ اطہار صلوات اللہ علیہم سے یوں تو نمازِ جنازہ
۴۵
کے بہت سے الفاظ اور دعائیں منقول ہیں ۔ اس صورتِ حال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی دعا مخصوص نہیں ہے ۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ نمازِ جنازہ پڑھنے والا (پہلے نیّت کرے پھر) اللہ اکبر کہہ کر خدا جس حمد و ثناء کے لائق ہے وہ حمد و ثناء کرے۔ اور اس کی تعظیم کرے جیسا کہ اس کی تعظیم کرنے کا حق ہے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر رسولِ خدا اور آپ کی آلِ پاک پر درود بھیجے پھر تکبیر پڑھ کر میّت کے حق میں دعا کرے جب کہ مومن ہو۔ اس کے بعد پھر تکبیر کہہ کر تمام مومنین و مومنات کے حق میں دعا کرے۔ پھر آخری تکبیر کہہ کر رسول اللہؐ اور آپؐ کی آلِ پاکؑ پر درود بھیجے (جس کی صورت ذیل کی طرح ہے) اگر ہر مرتبہ تکبیر میں مذکورہ تمام باتیں شامل ہوں تو وہ بھی بہتر ہے۔
نمازِ جنازہ کی نیت:
اصلی صلوٰۃ الجنازۃ خمس تکبیرات للّٰہ عز و جل ادآء مستقبل الکعبۃ الحرام
پہلی تکبیر:
اللّٰہ اکبر الحمد للّٰہ اہل المجد و الکبریآء و العظمۃ و القدرۃ و الثنآء
دوسری تکبیر:
اللّٰہ اکبر اللّٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد فی الاوّلین و صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد فی الآخرین
تیسری تکبیر:
اللّٰہ اکبر اللّٰھم اغفر لھٰذا المتوّفی ذنوبہ و احشرہ فی زمرۃ النبی محمد و اٰلہ الطاہرین
اگر عورت ہو تو اس دعا میں صرف اتنی ہی تبدیلی ہو گی ۔۔۔ لھٰذہ المتوفاۃ ذنوبھا و احشرھا
چوتھی تکبیر:
اللّٰہ اکبر اللّٰھم اغفر لی ولوالدی و للمومنین و المومنات
۴۶
الاحیآء منھم و الاموات انک وتی الحسنات و غافر السیئات
پانچویں تکبیر:
اللّٰہ اکبر اللّٰھم صلی علیٰ محمد و آل محمد کما تحب و ترضیٰ
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
اگر میّت نابالغ ہو تو تیسری تکبیر اس طرح پڑھی جائے۔
اللّٰہ اکبر اللّٰھم اجعلہ ھا لوالدیہ ھا سلفا و خلفا و فرطا و اجرا و زخرا بحق محمد و آلہ الطاہرین
۴۷
دفن اور قبر
لحد اور ضریح:
امام جعفر الصادقؑ، آپؑ کے پدرِ بزرگوار اور آپؑ کے آباء و اکرام اور حضرت علی (صلوات اللہ علیہم اجمعین) سے منقول ہے کہ آپؑ نے آنحضرتؐ کے لئے لحد کھودی تھی اور لحد اس جگہ کو کہتے ہیں جو قبر کے اندر میّت کے لئے قبلہ کی دیوار میں بنائی جاتی ہے اور ضریح اس جگہ کو کہتے ہیں کہ جس کے لئے قبر کے بیچ میں کھودا جاتا ہے۔
امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے مروی ہے کہ آپؑ نے اپنے پدرِ بزرگوار امام باقر علیہ السّلام کے لئے بربنائے احتیاج ضریح بنائی تھی کیونکہ آپ کافی جسیم تھے۔
قبر میں کوئی چیز بچھانا:
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ رسولِ خدا کی قبر مبارک میں چادر بچھائی گئی تھی کیونکہ وہ جگہ گیلی اور شورے والی تھی۔
میّت کو قبر میں کون اتارے:
امیر المومنینؑ سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ عورت کو قبر میں وہی شخص اتارے جس نے اس کو اس کی زندگی میں دیکھا ہو اور وہی شخص دوسرے تمام لوگوں میں اولیٰ ہے کہ اس عورت کی میّت کو پیروں کی طرف سے پکڑے اور اگر میّت مرد کی ہے تو اس کا قریب ترین رشتہ دار اس کے اگلے حصے کو پکڑ کر اتارے اور مرد کے لئے مکروہ ہے کہ اپنے فرزند کو خود قبر میں اتارے یہ اس لئے کہ اس پر رقت قلب طاری نہ ہو جائے۔
قبر کی پائیننی:
امیر المومنین علی علیہ السّلام سے روایت ہے آپؑ نے فرمایا کہ رسول اللہ
۴۸
نے فرمایا کہ ہر گھر کا ایک دروازہ ہوتا ہے اور قبر کا دروازہ میّت کے دونوں پیروں کی طرف ہے لہٰذا اسی طرف سے قبر میں اترنا اور چڑھنا چاہئے۔
جنازہ کو قبر کے کنارے رکھنا اور قبر میں اتارنا:
حضرت علی علیہ السّلام سے روایت ہے آپؑ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ آنحضرتؐ ایک جنازہ میں حاضر تھے آپؑ نے لوگوں کو فرمایا کہ میّت کو قبر کے قبلہ والے کنارے پر رکھیں اور قبلہ رو کر دیں۔ اور اسے ہاتھوں میں لے کر قبر میں اتاریں اور اس کے بعد فرمایا کہ پڑھو: علیٰ ملۃ اللّٰہ و ملۃ رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم)
قبر پر پردہ کرنا:
علی مرتضیٰؑ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عثمان بن مظعون کی قبر پر کپڑے کا پردہ کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ پہلی قبر تھی جس پر کپڑے کا پردہ کیا گیا۔
میّت قبر میں رکھنے کا طریقہ:
علی علیہ السّلام سے منقول ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک مرتبہ بنی عبد المطلب میں سے ایک شخص کے جنازے میں حاضر تھے جب لوگوں نے میّت کو قبر میں اتارا تو اس وقت آپؐ نے فرمایا کہ اس کو قبر میں داہنے پہلو پر قبلہ رو رکھو میّت کو نہ تو منہ کے بل رکھو اور نہ پشت پر پھر آپؐ نے اس شخص سے فرمایا جو قبر میں اترا تھا کہ تم اپنا ہاتھ میّت کی ناک پر رکھو تاکہ اس کے قبلہ رو ہونے کا یقین ہو، پھر آپؐ نے لوگوں سے فرمایا کہ اب یہ دعا پڑھو:
اللّٰھم لقنہ حجتہ و صعد روحہ و لقہ منک رضوانا
مطلب بارے الٰہا: جب فرشتے اس سے پوچھ گچھ کریں گے تو اس میں تو اس کو اپنی حجّت یعنی دلیل سمجھا دے اور اس کی روح کو بلند کر لے اور اپنی خوشنودی سے ملا دے۔
۴۹
اہلِ بیّتِ اطہار علیہم السّلام سے ایسی بہت سی دعائیں منقول ہیں جو میّت کو قبر میں رکھتے ہوئے پڑھی جاتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے لئے کوئی دعا مخصوص نہیں ہے۔
تین مٹھی مٹی:
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب کسی میّت کی تدفین میں حاضر ہوتے تو قبر میں تین مٹھی بھر مٹی ڈالتے تھے۔
حضرت علی علیہ السّلام سے مروی ہے کہ جب آپؑ کسی قبر میں مٹی ڈالتے تو یہ دعا پڑھتے تھے:
اللّٰھم ایمانا بک و تصدیقا لرسلک و ایقانا ببعثک ھٰذا ما وعد اللّٰہ و رسولہ و صدق اللّٰہ و رسولہ
آپؑ فرماتے تھے جو شخص اس پر عمل کرے گا تو اس کے لئے خاک کا ہر ذرّہ نیکی بن جائے گا۔
میّت کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر نہ لے جاؤ:
امیر المومنین علی علیہ السّلام سے منقول ہے ایک دفعہ آپؑ کی خدمت میں عرض کی گئی کہ کوفہ سے چند میل کے فاصلے پر دیہات میں ایک شخص انتقال کر گیا تھا پس لوگ اسے اٹھا کر کوفہ لے آئے آپؑ نے ان لوگوں کو سخت سزا دی اور فرمایا کہ میّتوں کو وہیں دفن کر دو جہاں ان کا انتقال ہوا ہے یہودیوں کا عمل اختیار نہ کرو جیسا کہ وہ ہر جگہ سے اپنے مردوں کو بیّت المقدّس لے جاتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے، آپؑ فرماتے ہیں کہ جنگِ احد میں جب انصار اپنے شہیدوں کو اپنے گھروں کی طرف لے جانے کے لئے آگے بڑھے تو اس وقت آنحضرتؐ نے ایک
۵۰
منادی کو یہ ندا کرنے کا حکم دیا کہ اجسام کو ان کے مقتل میں دفن کر دو۔
چوکور قبر:
حضرت علی مرتضیٰؑ سے مروی ہے کہ آپؑ جب رسولِ خدا کے جسمِ اطہر کو دفن کر چکے تو آپؑ نے قبر مبارک کو مربع یعنی چوکور بنا دیا تھا۔
قبر پر نشانی:
آپؑ سے یہ بھی روایت ہے کہ آنحضرتؐ جب حضرت عثمان بن مظعون کو دفن کر چکے تو آپؑ نے ایک پتھر منگا کر قبر کے سرہانے رکھ دیا اور فرمایا کہ یہ ایک نشانی کے طور پر ہے تا کہ میں اپنے اہلِ قرابت کو یہیں دفن کر سکوں۔
قبر کی گہرائی:
حضرت علی علیہ السّلام سے مروی ہے کہ آپؑ تین ہاتھ (یعنی تقریباً ڈیڑھ گز) سے زیادہ گہری قبر کھودنا اور قبر سے نکلی ہوئی مٹی کے علاوہ دوسری مٹی قبر پر رکھنا یہ دونوں باتیں مکروہ سمجھتے تھے۔
قبر پر پانی چھڑک دینا:
آپؑ سے یہ بھی روایت ہے کہ آنحضرتؐ جب عثمان بن مظعون کی قبر پر مٹی برابر کر چکے تو آپؑ نے اس پر پانی چھڑک دیا۔
زیارت قبور کی رخصت:
حضرت علی علیہ السّلام سے مروی ہے کہ آنحضرتؐ نے قبروں کی زیارت کی رخصت دی ہے، آپؑ نے فرمایا کہ قبروں کی زیارت سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
امام باقر علیہ السّلام سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا کہ سیدۂ عالم جناب فاطمۂ زہرا علیہا السّلام حضرت حمزہؑ کی قبر کی زیارت کرتی تھیں۔ قبر کے پاس کھڑی رہتی تھیں اور ہر سال خواتین کے ساتھ شہداء کی قبروں پر حاضر ہو کر دعا و استغفار کرتی تھیں۔
قبروں کو دیکھ کر سلام پڑھنا:
حضرت علی علیہ السّلام سے مروی ہے کہ آپؑ جب قبروں کے پاس سے گزرتے تھے تو اس طرح سے تین مرتبہ سلام پڑھتے
۵۱
تھے: السّلام علیکم یا اہل الدارنا نا بکم لاحقون
قبروں پر چلنا اور ان کے پاس ہنسنا:
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہے کہ آپؐ نے قبروں پر چلنے سے اور ان کے پاس ہنسنے سے منع فرمایا ہے۔
قبر کے پاس مسجد بنانا:
حضرت علی علیہ السّلام سے روایت ہے کہ آپؑ نے کسی قبر کے پاس مسجد بنانا مکروہ قرار دیا ہے۔
مصیبت والوں کے پاس کھانا لے جانا:
امیر المومنین علیہ السّلام سے روایت ہے کہ جب حضرت جعفر بن ابی طالبؑ کی خبرِ وفات پہنچی تو آنحضرتؐ نے اپنے اہلِ بیّتؑ سے فرمایا کہ کوئی کھانا پکاؤ اور حضرت جعفرؑ کے گھر والوں کے پاس لے جاؤ جبکہ وہ جعفر کے غم میں مبتلا ہیں۔ اور ان کے ساتھ تم بھی کھانا کھاؤ کیوں کہ ان پر ایسی مصیبت آئی ہے کہ وہ اس کی وجہ سے اپنا کھانا خود نہیں پکا سکتے۔
۵۲
ثبوتِ امامت
ثبوتِ امامت
خدا کا تخت پانی پر تھا اور ہے
پانی پر عرش یا عرش کے نیچے پانی ہونے ۱۱: ۷ کی تاویل یہ ہے کہ گوہرِعقل جو عرشِ رحمان ہے وہ سرچشمۂ علم ہے، اس لئے بحرِعلم اس کے تحت ہے، یہ ہوا پانی پر عرش کا ہونا، پس صدر فتح علی حبیب اور ایڈوائزر گل شکر کے فرزندانِ دلبند نزار، رحیم اور فاطمہ کتنے نیک بخت ہیں کہ ان کو بچپن ہی سے تاویلی حکمت سکھائی جارہی ہے اور وہ بڑے شوق سے سیکھ رہے ہیں۔
دیباچۂ طبع سوم
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ وسلام علےٰ عبادہ الذین اصطفے۔
بندۂ خاکسار، ذرّۂ بے مقدار، مانندِ طفلِ شیر خوار، یا مثلِ ابرِنو بہار گریان ہو ہو کر بارگاہِ ایزدی میں سجدہ ریز ہوجانا چاہتا ہے تاکہ انتہائی عاجزی اور محویت و فنائیت کے عالم میں شکر گزاری کرسکے، اور اس حسنِ ظن سے کہ خدا کا شکر کیا دل کو تسکین ہوجائے۔
یہ سچ ہے کہ یہ حقیر بندہ (پرتوِ شاہ=نصیر الدین) حکیم پیر ناصر خسرو کا ایک ادنیٰ سا شاگرد ہے، لہٰذا یہ لازمی امر ہے کہ یہاں جتنی علمی کوششیں کی گئی ہیں ان میں سے جو عقلی اور منطقی چیزیں ہیں، یا جو حکمت کی باتیں ہیں وہ سب کی سب حضرتِ امامِ قدس و اطہر علیہ السلام اور پیرِ نامدار کی برکت سے ہیں، اور جو کچھ خام و ناتمام ہے، وہ یقیناً اس ادنیٰ غلام کا ہے۔
’’ثبوتِ امامت‘‘ اگرچہ ایک چھوٹی سی کتاب ہے اور یہ بہت پہلے ضبطِ تحریر میں آئی تھی، لیکن اہلِ علم حضرات اس کو بہت پسند کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا ’’نظریۂ افضلیت‘‘ بڑا عجیب و غریب
۵
اور بے حد دلکش ہے، اس میں مطالعۂ فطرت اور مشاہدۂ قدرت کا ایک انقلابی تصور موجود ہے اور جو دلائل و براہین اس چھوٹی سی کتاب میں ہیں وہ بے مثال کیوں نہ ہوں، کیونکہ وہ آفاق و انفس کی شہادتوں اور حقیقتوں پر مبنی ہیں۔
یہاں اپنے اصول کے مطابق کچھ علمی باتیں بھی ضروری ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہر چیز بدرجۂ انتہا حیران کن ہوا کرتی ہے،جیسے اس کی کتاب (قرآن) میں سب آسمانی کتابوں کا خلاصۂ بیان موجود ہے کائنات میں بے شمار کائناتیں اور نفسِ انسانی میں لاتعداد نفوس پوشیدہ ہیں، اسی طرح ہر عالمِ شخصی میں تمام عوالمِ شخصی پنہان ہیں، اور اس میں بحدِّ قوت امامِ مبینؑ کا عالم بھی ہے، پس عقل و دانش والوں کے لئے خدا کے اس کام میں بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اولادِ آدمؑ کو جو کچھ ازقسمِ امکانی دولت، خزانہ، سلطنت اور نور عطا ہوا ہے وہ حقیقت ہے اور ان تمام بڑی بڑی نعمتوں کو فعلاً دیکھنے کیلئے ہر مومن اور مومنہ علم و عبادت سے کام لیتے رہے۔
کرۂ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کے حق میں ہماری عملی خیر خواہی یہ ہوگی کہ اب ہم قرآن و اسلام کی ان پوشیدہ حکمتوں کو ظاہر کرنے کی سعی کریں، جن کی روشنی میں ہر دانش مند کو یہ یقین آتا ہے کہ خدا کسی بھی انسانی روح کو ضائع نہیں کرتا ہے، اگرچہ
۶
عارضی دوزخ بصورتِ جہالت موجود ہے اور اس کی مذمت بھی ضروری ہے، کیونکہ جہالت و نادانی خواہ دینی ہو یا دنیاوی، عقل و دانش کی دشمن ہے، پس علم والوں پر فرض ہے کہ وہ جہالت کے خلاف جنگ کریں، تاکہ عالمِ انسانیت میں علم و حکمت کی روشنی پھیل جائے۔
میں اس سال ۱۹۹۳ میں بفضلِ خدا اپنے بہت ہی عزیز و محترم دوست امام داد کریم کی پُرخلوص دعوت پر فرانس جیسے عظیم ملک کے مختصر دورہ پر جاسکا، میں ۲، اور ۷،جولائی کے درمیان اس خوبصورت شہر میں تھا، متعلقہ دلچسپ باتیں بہت زیادہ ہیں، جن کو کراماً کا تبین نے (۸۲: ۱۰ تا ۱۱) یقیناً ریکارڈ کرلیا ہوگا، لیکن ایک بات جو یہاں ضروری ہے، وہ بتادی جاتی ہے کہ جب فرانس کے ایک ریڈیو کے لئے میرا انٹرویو ہورہا تھا، تب میں نے سلسلۂ گفتگو کے دوران اپنا طریقِ کار ظاہر کرتے ہوئے یوں کہا:
میں ایک اسماعیلی خاندان میں پیدا ہوا ہوں، لہٰذا یہ قدرتی امر ہے کہ میں اسماعیلی جماعت کی کچھ خدمت کروں، میرا دین اسلام اور ملک پاکستان ہے، الحمدللہ مجھے دین و ملک کی خدمت بے حد عزیز ہے، اور بالآخر میں ایک انسان ہوں، پس میں عالمِ انسانیت کی حمایت اور خدمت کیوں نہ کروں۔
اسلام اور انسانیت کے درمیان کوئی تضاد کس طرح
۷
ہوسکتا ہے، چنانچہ جو کام دینی خدمت کے عنوان سے کیا جاتا ہے وہی کام دراصل عالمِ انسانیت کے لئے بھی مفید ہوتا ہے۔
قرآنِ پاک (۲: ۲۱۳) میں یہ حکمتی اشارہ اور مفہوم موجود ہے کہ انبیاء علیہم السّلام کی تشریف آوری سے قبل کے زمانے میں سارے لوگ ایک ہی امّت (جماعت) تھے، چاہے وہ واقعہ عالمِ شخصی میں ہوا ہو یا کرۂ ارض پر یا کسی دوسرے سیارے پر، خواہ یہ اجسامِ کیثف کا اتفاق و اتحاد ہو یا اجسامِ لطیف کی وحدت و سالمیت، بہر حال یہ دورِ انسانیت ہی کی بات ہوسکتی ہے۔
سورۂ بقرہ کے چوتھے رکوع میں حضرتِ آدمؑ و حضرتِ حوّاؑ اور ان کے بہت سے ساتھیوں کے بہشت سے ہبوط یعنی اترنے کا ذکر ہے، اس سلسلے میں اِھْبِطُوْا (تم سب اترو) کا حکم دو دفعہ (۲: ۳۶، ۲: ۳۸) آیا ہے، چنانچہ پہلے حکم پر وہ سب سیّارۂ بہشت سے پرواز کرکے زمین پر اتر آئے، اور ایک عرصے تک جسمِ لطیف ہی میں تھے، اس انتہائی عظیم خزانۂ اسرار کو حضرتِ قائم کے ظہور تک پوشیدہ رکھنے کی خاطر وہ سب کے سب جنّات کہلائے، اور پھر خدا کا دوسرا حکم (۲: ۳۸) ہوا، جس کی وجہ سے وہ جسمِ لطیف سے جسمِ کثیف میں تبدیل ہوگئے، یہ تھے وہ جنّات جو انسانوں سے قبل زمین پر رہتے تھے اور یہی تھے وہ لوگ جو دورِ انبیاء سے پہلے
۸
ایک جماعت کی حیثیت سے رہا کرتے تھے، جن کا اوپر ذکر ہوا۔
میں اسلام کی عظمت و جلالت کو جھک جھک کر سلام کرتا ہوں، میں انسانی شرافت کے لئے بے حد احترام کرتا ہوں، اور پھر اپنے تمام عزیزوں کو نہ معلوم کیوں اتنی شدّت سے اور ایسی کثرت سے یاد کرتا ہوں! شاید اس کے پس منظر میں خداوندِ قدوس کی مبارک ہدایات و رحمت ہے، تاکہ ہم سب جو اس مقدّس علمی خدمت سے منسلک ہیں خوشی اور شادمانی سے اپنا اپنا کام انجام دے سکیں۔
ہمارے عزیزان جو شرق و غرب میں رہتے ہیں وہ سب کے سب یہاں کی تصانیف و تراجم اور طباعت و اشاعت کو دیکھ کر بیحد مسرور و شادمان ہوجاتے ہیں، اس حقیقت کی ایک روشن مثال امریکا میں پیش آئی، چنانچہ عملداروں کی ایک خاص میٹنگ میں علمی خدمت کی زبردست تعریف کی گئی، اور چیف ایڈوائزر اکبر اے علی بھائی نے تجویز پیش کی کہ ان عظیم الشّان اور بے مثال علمی کارناموں پر اگر ہم آپ کو سونے یا چاندی کی ڈلیوں میں نہیں تول سکتے ہیں تو پھولوں میں ضرور تول سکتے ہیں، میں نے کہا عزیزِمن! اتنی بڑی عزّت اور شہرت کا بارِگران یہ درویش ہرگز نہیں اٹھا سکتا، اور یہ سارا کارنامہ تنہا اس ناچار کا نہیں، اس میں بہت سی اعلیٰ قوّتیں شریک ہیں، پس اگر آپ کوئی ایسا کام کرنا چاہتے
۹
ہیں تو ’’جشنِ خدمتِ علمی‘‘ کے عنوان سے کچھ کریں، جس میں تمام عملداروں اور ممبروں کو خوشی دینے کے لئے سعی کی جائے گی، اس کے لئے انہوں نے بخوشی منظور کیا۔
ایک درویش آدمی ، جو ۱۹۱۷ میں پیدا ہوا ہے، اس بیچارے کے لئے دور دراز ممالک کا جسمانی سفر کتنا سخت مشکل ہوگا، لیکن وہ بڑا عجیب وغریب سفر کتنا تیز، آرام دہ اور آسان ہے جو ہر شخص کے واسطے معجزانہ ہوسکتا ہے، درحالے کہ آج لوگ اس کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہے ہیں، وہ خیال، تصور، ذہن اور فکر کا سفر ہے، چنانچہ یہ بندۂ کمترین اپنے تخیّل وتصور سے، جو تمام انسانوں میں موجود ہے، ہر اس شہر و دیار کا سفر کرتا رہتا ہے، جہاں اس کے عزیزان رہتے ہوں، جیسے شمالی علاقہ جات، جہاں اس غریب کی جائے پیدائش بھی ہے، اسلام آباد، کراچی، لنڈن، فرانس، شکاگو، ایلینوی، یوسٹن، ڈالاس اور کینڈا کے کئی شہر، یہ صرف ان عزیزان کی بات ہے جو ہمارے اداروں سے منسلک ہیں، اس برق رفتار تخیّل وتصوّر کی رسائی سے تمام تر ملاقاتیں تازہ اور لطیف ہوجاتی ہیں، الحمدللہ۔
نوٹ: ادارے سے باہر جتنے علم دوست حضرات
۱۰
ہیں وہ اس اصول سے باخبر ہیں کہ یہاں کی حوصلہ افزائی بالکل درست اور بجا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ علم کی روشنی پھیلائی جاسکے۔
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
کراچی
بدھ ۲۷، ربیع الاول ۱۴۱۴
۱۵ ، ستمبر ۱۹۹۳
۱۱
وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ (۳۶: ۱۲)
اصولِ افضلیّت
یعنی آفاق و انفس سے ثبوتِ امامت کے دلائل و براہین
اگر کوئی باشعور انسان اس عالمِ کثرت کے ربط و نظام پر ذرا غور کرے تو وہ یہ حقیقت ضرور معلوم کرسکے گا کہ کائنات اور اس کی مخلوقات مختلف قسموں یا کہ حصوں پر مشتمل ہیں، پھر مخلوقات کا ہر بڑا حصہ کئی چھوٹی چھوٹی قسموں پر منقسم ہے اور ان میں یہ اصول پایا جاتا ہے کہ جس طرح مخلوقات کی بڑی قسموں میں سے ایک قسم افضل و اعلیٰ ہے، اسی طرح چھوٹی قسموں میں سے بھی ایک افضل و اعلیٰ ہے، یہاں تک کہ بے جان اور جاندار مخلوق کے افراد میں بھی یہی اصول کارفرما ہے، ہم یہاں اس اصول کو ’’اصولِ افضلیّت‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، اور اسی اصول کے مطابق امامِ زمان کے ثبوت، اس کی افضلیّت اور ہر زمانے میں اس مقدّس و
۱۲
متبرک ہستی کے حیّ و حاضر ہونے کی اہمیت کے دلائل پیش کرتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے کائنات و موجودات کے مجموعی عمل کے ذریعے سے انسان پیدا کیا، اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہے کہ کائنات و موجودات ایک انتہائی عظیم درخت کی مثال ہے اور اس کا پھل انسان ہے، چنانچہ حضرت حکیم ناصر خسرو قدّس اللہ سرّہ ’’روشنائی نامہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
درخت است این جہان و میوہ مائیم
کہ خرم بر درخت او برائیم
ترجمہ: (مثال کے طور پر) یہ کائنات ایک درخت ہے، اور ہم (انسان) ہی اس کا پھل ہیں، کیونکہ اس کائنات کے بہترین حاصل تو ہم ہی ہیں۔
پس کائنات میں جو کچھ مادّی طور پر پھیلا ہوا ہے، وہ انسان میں روحانی طور پر یکجا ہے، جس طرح درخت میں جو کچھ بالفعل ظاہر اور پھیلا ہوا ہے وہ پھل کے مغز میں بالقوّۃ پوشیدہ اور یکجا ہے، چنانچہ درخت سے پھل پیدا ہوتا ہے اور پھل سے درخت بنتا ہے۔
مذکورہ بالاحقائق کے انکشاف سے معلوم ہوا کہ کائنات اور انسان یا کہ آفاق و انفس کی تخلیقی صورت خدا کا قانون اور اس کی عملی کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، اس لئے کہ اس کی آیتیں عملی صورت میں اہلِ بصیرت کے لئے روشن اور واضح ہیں اور وہ کتاب، جس میں کوئی شک نہیں، بالآخر سب کے لئے ذریعۂ یقین ہو
۱۳
سکتی ہے، چنانچہ خدا وندِ عالم فرماتا ہے:
سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (۴۱: ۵۳)
(یعنی حق تعالےٰ نزولِ قرآن کے زمانے میں فرماتا ہے کہ) ہم آئندہ آفاق میں اور خود ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتے رہیں گے، یہاں تک کہ انہیں ظاہر ہوجائے کہ وہ برحق ہے۔
اب ہم خداوند جلّ وعلیٰ کی توفیق سے ذیل میں آفاق و انفس کی چند ضروری شہادتوں کا بیان کرتے ہیں کہ وہ کس حقیقت کے متعلق ہیں:
۱۔ آسمانوں کی شہادت
چنانچہ آسمان نو (۹) ہیں جو وسعت اور شرف دونوں اعتبار سے ترتیب وار اور درجہ وار ہیں، اور نواں آسمان سب سے وسیع اور سب پر مقدّم ہے، جو عرشِ الہی کہلاتا ہے، پس آسمانوں کے درجات میں سے ایک درجے کی افضلیّت کہ وہ مرتبۂ عرشِ الہی ہے، آفاق کی ایک ایسی آیت ہے جس کے معنی سے یہ شہادت روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے کہ عالمِ انسان میں بھی ایک ایسا فرد ہے جو تمام انسانوں سے افضل و اشرف ہے، اور وہ اپنے علم و حکمت سے دوسرے تمام انسانوں پر اِس طرح حاوی ہے جس طرح فلکِ نہم دوسرے تمام آسمانوں اور کائنات کی ساری چیزوں پر محیط ہے،اور وہ شخص عالم انسان اور عالمِ دین میں خدائے
۱۴
تعالےٰ کا عرش ہے اور آفاق کی یہ آیت قرآنِ پاک کی اس آیت کے عملی معنی ظاہر کرتی ہے، وہ ارشاد یہ ہے:
وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ (۳۶: ۱۲)
ترجمہ: اور ہم نے ہر چیز ( یعنی صورتِ کائنات اور اس کے تمام باشندوں کے متعلق کل علم و حکمت) کو امامِ ظاہر (امامِ ناطق) کی ذات میں محدود و ملفون کیا ہے۔
۲۔ اجرامِ فلکی کی شہادت
کائنات کی ترتیب میں آسمانوں کے بعد اجرامِ فلکی یعنی ستارے آتے ہیں، چنانچہ آسمان میں بہت سے ستارے ہیں، مگر ان میں ایک ایسا درخشان ستارہ ہے جو باقی تمام ستاروں کو اور پوری کائنات کو بے دریغ روشنی اور گرمی پہنچاتا رہتا ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روشن اور تابان ہے وہ نہ تو گھٹتا ہے اور نہ بڑھتا ہے، ایسا ستارہ سورج ہے جس نے اپنے بے پناہ نور میں تمام کائنات و موجودات کو مستغرق کردیا ہے، پس سورج آفاق کی آیتِ نور ہے، جس کے معنی سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ عالمِ دین میں بھی ایک ایسی پاک ہستی ہے جو خدا اور رسولؐ کا نور ہے اور وہ علم و حکمت اور حسن سیرت میں دنیا کے سارے لوگوں سے افضل و اعلیٰ ہے، جس طرح سورج دوسرے تمام ستاروں سے افضل و اعلیٰ ہے، یہ آسمانی حقیقت و شہادت قرآنِ پاک کی اُن آیتوں کی طرح ہے جن میں انسانِ کامل یعنی امامِ زمانؑ خدا کے نور ہونے کا ثبوت ہے۔
۱۵
۳۔ عناصرِ اربعہ کی شہادت
عناصرِ اربعہ مٹی، ہوا، پانی اور آگ کو کہتے ہیں، یہ چار عناصر بھی درجہ وار ہیں، چنانچہ مٹی سب سے نیچے اور سب سے کثیف ہے، پانی نے مٹی کو گھیر لیا ہے اور مٹی سے لطیف ہے، ہوا پانی پر محیط ہے، اور پانی سے لطیف ہے، آگ ہوا پر محیط ہے اور ہوا سے لطیف ہے اور روشنی و گرمی میں سورج کی خاصیت رکھتی ہے، پس آگ جو بجلی وغیرہ کی صورتوں میں بھی ہے، چار عناصر میں سے افضل ہے، اور یہ حقیقت کائنات کی ایسی آیت ہے جس کے معنی سے یہ مطلب ظاہر ہے کہ عالمِ دین میں بھی ایک ایسا مرتبہ ہے جو ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، جس طرح بجلی ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی، اور عالمِ دین کا وہ مرتبہ امام اور اس کی امامت ہے کہ اس میں نورِ رحمت بھی ہے اور آتشِ قہر بھی ہے، جس طرح آگ اور بجلی کی مثال ہے اور کائنات کی یہ آیت قرآن کی اُن آیتوں کی تفسیر کرتی ہے جو مذکور ہیں کہ موسیٰ نے ایک آگ دیکھی اور موسیٰؑ کی قوم کے چیدہ چیدہ ستر رجال پر بجلی گری وغیرہ۔
۴۔ موالیدِ ثلاثہ کی شہادت
موالیدِثلاثہ جمادات، نباتات اور حیوانات کو کہتے ہیں،
۱۶
جن میں سے حیوانات کا گروہ افضل ہے، جس کا سبب روحِ حیوانیہ اور اس کے احساسات ہیں، اور حیوانات میں سے حیوانِ ناطق افضل ہے جس کی وجہ نطق و شعور ہے، حیوانِ ناطق کا دوسرا نام انسان ہے، جو جمادات، نباتات اور حیواناتِ صامت پر حکمرانی کرتا ہے، اسلئے کہ اس کی عقل و شعور ہے جوعقلِ کل کے اثر سے ہے، مگر باقی موالید میں یہ عقل و شعور نہیں، پس انسان آفاق کی آیتوں میں سے ایک ایسی آیت ہے جس کے معنی سے یہ مطلب ظاہر ہوجاتا ہے کہ عالمِ دین میں بھی ایک ایسا فرد ہے جو صاحبِ علم و حکمت اور مظہر عقلِ کل و نفسِ کل ہونے کے سبب سے خدا کا خلیفہ ہے اور اسی مرتبہ میں وہ خلائق کا بادشاہ ہے، ہر چند کہ اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ امامِ زمانؑ ان کا دینی اور روحانی بادشاہ ہے، جس طرح انسان جمادات، نباتات اور حیواناتِ صامت کا بادشاہ ہے، اگرچہ حیواناتِ صامت وغیرہ اس امر واقعہ کو نہیں سمجھتے کہ ان پر کوئی شخص بادشاہی کررہا ہے اور انسان یعنی بنی آدم دوسری تمام مخلوقات سے افضل و اشرف ہونے کی یہ آفاقی اور عملی آیت قرآنِ پاک کی اس آیت کی تفسیر ہے جس میں بنی آدم کی فضیلت بیان کی گئی ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
“بے شک ہم نے بنی آدم کو کرامت دی اور ان کو خشکی و تری میں اٹھایا اور انہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں اور اپنی بہت سی مخلوقات پر ان کو اچھی خاصی فضیلت دی‘‘۔ ۱۷: ۷۰
۱۷
اس آیت کی دلیل یہ ہے کہ لفظ ’’بنی آدم‘‘ کا اشارہ حضرت آدمؑ کی صَفوَت، علم و حکمت اور خلافت کی طرف ہے، دوسری طرف سے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص علم و حکمت میں آدم کے اوصاف سے قریب تر ہو وہی شخص صحیح معنوں میں ابنِ آدم کہلائے گا اور وہی شخص صحیح معنوں میں بنی آدم کی اس فضیلت کا حقدار ہوگا، پس وہ شخص پیغمبر اور امام علیہما السلام ہی ہیں۔
۵۔ مذاہبِ عالم کی شہادت
اس بات کی تحقیق کہ مذاہبِ عالم اپنی صورتِ حال سے کس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں؟ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جس کا کوئی بانی نہ ہوا ہو، اور اہلِ مذہب اس پر اعتقاد نہ رکھتے ہوں اس کو نہ چاہتے ہوں اور انکے اعتقاد و رسوم میں یہ معنی پوشیدہ نہ ہوں، کہ اگر وہ بانی یا اس جیسا یا اس سے کمتر دوسرا شخص اب بھی زندہ اور موجود رہ کر اس مذہب کی رہنمائی کرتا تو اہلِ مذہب نسبتہً زیادہ فائدے میں رہتے، نیز یہ کہ دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جس کی بنیادی ضرورتوں سے یہ دلیل نہ ملے کہ دین و دنیا کی ہدایت کے لئے ہادیٔ برحق کا موجود و حاضر ہونا انتہائی ضروری ہے، چنانچہ ہر مذہب میں اب بھی یہی اصول کار فرما ہے کہ لوگ دینی مسائل میں کسی نام نہاد دینی پیشوا کی طرف رجوع کرتے ہیں، پس مذاہبِ عالم کی یہ صورتِ حال
۱۸
اس حقیقت کی ایک روشن دلیل ہے کہ نظریۂ امامت بالکل صحیح ہے، اور اس میں وہ لوگ حق پر ہیں جن کا امام دنیا میں حیّ و حاضر ہے، اور ادیانِ عالم کا یہ قدرتی تقاضہ کہ ہادیٔ برحق کے وجود فائض الجود کا دنیا میں ہونا لازمی ہے، آفاق کی ایک ایسی آیت ہے جس کے معنی سے کوئی دانشمند انکار نہیں کرسکے گا، اور یہ آیت قرآن کی آیتِ ’’ھاد‘‘ کی تفسیر ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (۱۳: ۷)
(اے رسول!) آپ صرف انذار کے ذمہ دار ہیں، اور ہر قوم ( یعنی ہر زمانہ کے لوگوں) کے لئے ایک ہادی ہوا کرتا ہے۔
۶۔ سیاسی تنظیمات کی شہادت
دنیا کے ہر ملک میں ہمیشہ سے لوگوں کا کوئی نہ کوئی حاکمِ وقت ہوا کرتا ہے، خواہ وہ خود مختار سلطان ہو یا صدرِ جمہور، یا قبیلے کا سردار، خواہ دینی حیثیت کا ہو یا دنیاوی قسم کا، مگر ہر حال میں حاکمِ وقت کا ہونا لازمی ہے، ورنہ لوگوں کی عزت و آبرو، اہل و عیال، مال و جان اور ملک ہر وقت خطرے سے خالی نہ ہوگا، پس سیاسی تنظیمات کی ہستی اور اہمیت آفاق کی آیتوں میں سے ایک ایسی آیت ہے جس کی تفسیر یہ ہے کہ دینِ حق وہی ہے جس کا شاہنشاہ معجزانہ طور پر ہمیشہ حیّ و حاضر ہے، کیونکہ جب دنیا کی حفاظت دنیاوی حاکم کے بغیر ممکن نہیں، حالانکہ
۱۹
دنیا کے معاملات بہت آسان ہیں تو دین کی حفاظت دینی حاکم کے بغیر اس سے بھی زیادہ ناممکن ہے، اس لئے کہ دین کے معاملات بہت دشوار ہیں، پس یہ آفاقی آیت کی وضاحت کرتی ہے، جس میں روئے زمین پر خلیفۂ خدا موجود ہونے کا ذکر ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ (۳۸: ۲۶)
ترجمہ: اے داؤد! ہم نے تجھے روئے زمین پر خلیفہ مقرر کیا، پس لوگوں کے درمیان بالکل ٹھیک فیصلہ کرلیا کر۔
۷۔ انبیاء کی شہادت
یہ روایت مشہور ہے کہ خدا کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کرنے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں آئے ہیں، مگر خدا کی حکمت اور زمان و مکان کی ضرورت کے سبب سے سارے انبیاء فضیلت و مرتبت میں یکسان نہ تھے بلکہ خداوند تعالیٰ نےبعض پیغمبروں کو بعض پر فضل و شرف دیا تھا، چنانچہ ارشاد ہے:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ (۲: ۲۵۳)
ترجمہ: ’’ یہ سب رسول (جو) ہم نے (بھیجے) ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی‘‘۔
۲۰
چنانچہ حبیبِ خدا سردارِ انبیاء حضرت محمد مصطفےٰصلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر یہ فضیلت و مرتبت بطورِ کلّی منتہی ہے اور اس حقیقت کے اثبات کے لئے بہت سی دلیلیں موجود ہیں، منجملہ ایک دلیل یہ ہے جو خدا تعالےٰ فرماتا ہے:
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (۲۱: ۱۰۷)
ترجمہ: ’’ اور (اے رسول) ہم نے تو آپ کو سارے دنیا جہان کے لوگوں کے حق میں ازسرتا پا رحمت بناکر بھیجا‘‘۔
چنانچہ تمام انبیاء میں سے صرف آنحضرتؐ ہی رحمتِ کل ہیں، اور رحمت کا دوسرا لفظ مہربانی ہے اور خد اور رسولؐ کی مہربانی سب سے پہلے ہدایت کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آنحضرتؐ خلق اوّلین و آخرین کے لئے ہدایت کے مرکز تھے اور کسی کام کا مرکز درمیان میں ہونا درست ہے، اس لئے آنحضرتؐ دورِ نبوّت کے اخیر میں اور دورِ امامت کے شروع میں آئے اور ہدایت کے اس مرکز کی جانب سے خلقِ آخرین کی ہدایت أئمّہ علیہم السّلام نے کی، پس معلوم ہوا کہ آنحضرتؐ بلاشبہ سردارِ رسل اور ہادیٔ سبل ہیں۔
پس یہ حقیقت اظہرمن الشّمس ہے کہ ہر زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک ایسے دینی اور روحانی سردار کا ہونا ضروری ہے جو خدا کی جانب سے مقرر ہو، کیونکہ اگر قانونِ الہی میں یہ امر مناسب اور ممکن ہوتا کہ
۲۱
انسانوں کی کسی جمیعت کو یا کسی زمانے کے لوگوں کو روحانی سردار سے بے نیاز رکھا جائے اور ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی جائے تو سب سے پہلے یہ امر جمعیتِ انبیاء ہی میں ممکن ہوتا، اس لئے کہ وہ خود ہدایت یافتہ اور لوگوں کے سردار ہیں۔
اگرکوئی شخص یہ کہے کہ اس معاملے میں کتابِ سماوی ہی لوگوں کی ہدایت کرنے کے لئے کافی ہے، کیونکہ اس دینی سرداری سے ہدایت مراد ہے نہ کہ کوئی اور شے مقصود ہے۔ تو اس کے لئے میرا جواب یہ ہے کہ قرآن پاک آخری سماوی کتاب ہے اور یہ صرف حکمتِ بالغہ کے اصول پر ہدایت الہیہ کی ایسی بے نظیر کتاب ہے جس کے برابر کوئی کتاب جنّ و انس باہم مل کر بھی نہیں بناسکتے، اور یہی قرآن انہی اوصاف کے ساتھ معنوی طور پر اگلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں بھی تھا، چنانچہ ارشاد ہے:
وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ (۲۶: ۱۹۶)
ترجمہ: اور بے شک وہ (قرآن) اگلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں ( بھی موجود) ہے۔
وہ کتابیں ان امتوں کی اپنی اپنی زبانوں میں تھیں، مگر اس کے باوجود ان امتوں کے جو علماء ہادیٔ برحق کی نورانی ہدایت کے بغیر کتبِ سماوی کے حقائق و معارف سمجھنے کی سعی وکوشش کرتے تھے تو ان کی وہ کوشش نہ صرف بے سود ہی ثابت ہوجاتی بلکہ دراصل
۲۲
وہ لوگ خدا کے پیغمبروں کو جھٹلانے کے مرتکب بھی ہوجاتے تھے، جس کے اسباب حسبِ ذیل ہیں:
جب وہ لوگ ذاتی کوششوں سے کتب سماویہ کے حقائق تک نہ پہنچ سکے، تو انہوں نے گویا منطقی طور پر یہ کہا کہ ’’ کتابِ سماوی کے معنی بس یہی ہیں اور اس سے زیادہ کوئی چیز نہیں،‘‘ یا انہوں نے نتیجے کے طور پر یہ کہا کہ ’’ کتابِ سماوی کے معانی تو بہت سے ہیں مگر بتانے والاکوئی نہیں۔‘‘
پس انہوں نے ان دوصورتوں میں سے کسی بھی ایک صورت میں پیغمبروں کو جھٹلایا، پہلی صورت میں اس طرح کہ انہوں نے سطحی علم کے سوا باقی تمام علوم کو نیست قرار دیا، جس کی وجہ سے ان کے نزدیک کتبِ سماوی معجزانہ حکمت کے خزانوں سے خالی ہوکر رہ گئے، اور ساتھ ہی ساتھ انبیاء بھی ان کے نزدیک عام انسانوں کی طرح علمی معجزات سے خالی ہوگئے، پس اسی طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، اور دوسری صورتِ حال یہ ہے کہ اگر انہوں نے یہ کہا ہوکہ اب کتب سماوی کے معنی بتانے والا کوئی نہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ پیغمبروں نے اپنی آئندہ امتوں کے لئے ہدایت کا کوئی مستقل نظام قائم نہیں کیا، یعنی انہوں نے اپنی علمی پرورش سے کوئی ایسا شخص تیار نہ کرسکا جو کہ ان کے بعد امّت کی علمی پرورش کرسکے اور کتب سماویہ کے حقائق ومعارف سے لوگوں کو اُن کی حقداری کے مطابق واقف کرسکے۔
۲۳
چنانچہ پیغمبروں کو جھٹلانے والوں کے متعلق جو ارشاد ہے وہ حسبِ ذیل ہے:
وَكَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۙ وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ اٰتَيْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ (۳۴: ۴۵)
ترجمہ: اور جو لوگ ان ( منکرین) سے پہلے گزر گئے انہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا (جس کی وجہ یہ تھی کہ) ہم نے ان کو ( پیغمبروں کے توّسط سے) جو کتابیں دی تھیں وہ ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے، پس (اسی طرح) ان لوگوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا، تو (آپ نے دیکھا کہ) میرا عذاب اُن پر کیسے انوکھے انداز میں تھا۔
۸۔ اعداد کی شہادت
اقوامِ عالم کے اس قدرتی اتفاق میں بہت سے اسرارِ الٰہی پوشیدہ ہیں، کہ اعداد وشمار کی اساسی شکلیں سب کے نزدیک بلا اختلاف دس ہیں، وہ اشکال حسبِ ذیل ہیں:
پس یہی اشکال خود اعداد ہیں، اور اعداد چیزوں کی کمیت
۲۴
ظاہر کرتے ہیں جس طرح حروف چیزوں کی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔ اعداد اور حروف میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ اعداد میں سے ہر ایک عدد اپنی انفرادی شکل ہی میں بھی کسی چیز کی کمیت یعنی مقدار ظاہر کرتا ہے، مگر حروف میں یہ امکانیت بہت کم ہے۔ اس بیان سے مقصود یہ ہے کہ حقائق کی تحقیق کے سلسلے میں اعداد کی دلیلیں بہت مستحکم ثابت ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ اعداد کے تعیّن میں یقیناً قدرت کا ہاتھ ہے، اسی لئے اقوامِ عالم میں اس کی قدروں اور حساب کے اصولوں میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا ۔
چنانچہ اعداد میں سے صفر عالمِ روحانی کی مثال ہے، کیونکہ عالمِ روحانی کمیت سے بالاتر ہے، یعنی اس پر گنتی واقع نہیں ہوتی، کیونکہ روح ایک ایسا جوہر ہے جو قابلِ تقسیم نہیں، مگر اجسامِ مختلفہ سے متعلق ہونے کے بعد اس پر گنتی واقع ہوسکتی ہے، جس طرح صفر انفرادی طور پر کسی گنتی کو ظاہر نہیں کرتی، بلکہ اگر کوئی شخص گنتی کے کسی درجے کے بارے میں صفر کہے تو اس سے اس درجے کی کمیت کی نفی ہوجاتی ہے، ہاں جب یہ کسی دوسرے ہندسے کے ساتھ آجائے تو یہ اُس ہندسے کی مدد سے کسی مقدار کو ظاہر کرتا ہے۔ پس یہ حقیقت روشن ہوئی کہ صفر عالمِ روحانی کی مثال ہے۔
صفر کے بعد ایک آتا ہے جو نویں آسمان کی مثال ہے، کیونکہ نواں آسمان روحانیت اور جسمانیت کا درمیانی درجہ ہے، یعنی فلکِ نہم
۲۵
سے باہر روحانی کیفیت ہے اور فلکِ نہم کے اندر جسمانی کمیت ہے، جس طرح ایک سے آگے صفر ہے، جو عالم روحانی کی مثال ہے اور ایک کے بعد آٹھ اعداد ہیں، جو فلکِ نہم کے اندر آٹھ آسمانوں کی مثال ہیں، جن کے مجموعے کو عالمِ جسمانی کہا جاتا ہے۔
اس بیان سے بھی یہی حقیقت ظاہر ہوئی کہ ہر نوع کی چیزوں میں سے ایک چیز کی افضلیت قدرتی امر ہے، چنانچہ نوعِ انسان میں بھی ایک ایسا شخص موجود ہے جو انسانی اوصاف کی کمالیت میں یگانۂ روزگار ہے، جو قدرتی اور معجزانہ طور پر دوسرے تمام انسانوں کے لئے سرچشمۂ عقل و روح ہے، جس طرح عددِ واحد دوسرے تمام اعداد کے لئے باعثِ ہستی اور سببِ وجود ہے، کیونکہ ہر عدد کی اکائیوں کو عددِ واحد کے معنی کا سہارا ہے، پس وہ شخص جو یگانۂ روزگار ہے اور جس کی افضلیت اعداد کی مثال سے ظاہر ہوئی، انسانِ کامل یعنی امامِ زمان ہے اور آفاق کی یہ شہادت قرآنِ پاک کی اس شہادت کی تصدیق کرتی ہے جو ارشاد ہے:
قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ (۳۴: ۴۶)
(اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایک (حقیقت کے متعلق) نصیحت کرتا ہوں۔
۹۔ حروف کی شہادت
عربی زبان کے حروفِ تہجی اٹھائیس ہیں، ان میں سب سے پہلا
۲۶
حرف الف ہے، الف کی شکل ایسی ہے جیسے کوئی مرد حکیم اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتا ہے، پس اُس حکیم کا یہ اشارہ حسبِ ذیل معنوں پر مشتمل ہے:
۱۔ اگرچہ خدا ہر جگہ موجود ہے، تاہم علوِشان کے اعتبار سے یہ اشارہ ذاتِ واجب الوجود کی طرف جائز ہے۔
۲۔ نیز اس اشارے میں واحد کے معنی ہیں۔
۳۔ اس اشارے سے راستی اور سچائی بھی مراد ہوسکتی ہے۔
۴۔ اس اشارے سے عالمِ بالا کی طرف توجہ دلانا بھی مقصود ہوسکتا ہے۔
۵۔ اوّلیت اور آغاز کے معنی بھی ہوسکتے ہیں۔ پس جس حرف کی شکل کا اشارہ ایسے اعلیٰ ترین حقائق کی طرف ہو، وہ تمام حروف پر مقدّم ہے اور ایسا حرف صرف الف ہی ہے۔
اس اصول کے مطابق کہ ہر نوع کی چیزوں میں سے ایک چیز افضل و اعلیٰ ہوتی ہے، حروف میں بھی یہی حقیقت موجود ہے، چنانچہ یہ امر واقعہ اس بات کی شہادت ہے کہ انسانی افراد میں بھی ایک فرد افضل و اعلیٰ ہے، جس میں الف کے تمام اشارے ذیل کی طرح صحیح ہوتے ہیں:
۱۔ وہ فرمانبرداروں کو ذاتِ واجب الوجود سے واصل کردیتا ہے۔
۲۔ وہ مومنین کو توحید کی حقیقت سے آگاہ کردیتا ہے۔
۲۷
۳۔ وہ راستی اور صداقت کی ہدایت کرتا ہے۔
۴۔ وہ تابعین کو آخرت کی توجہ دلاتا ہے۔
۵۔ وہ عقلِ اوّل کا مظہر ہے، اس لئے اس کو تمام لوگوں پر اوّلیت اور افضلیت حاصل ہے۔
پس آفاق کی یہ آیت قرآنِ پاک کی اس آیت کی طرح ہے جو ارشاد ہے:
وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ اُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ ۵۶: ۱۰ تا ۱۱
ترجمہ: ’’ اور جو لوگ ( نیکیوں میں) سبقت لے جاتے ہیں، وہی لوگ (درجات میں بھی) آگے ہیں، اور وہی خدا کے مقرب ہیں۔‘‘
پس الف سابقون کی مثال ہے، کیونکہ یہ حرف دوسرے تمام حروف سے ترتیب میں بھی آگے ہے اور اپنے وسیع معنی میں بھی۔
۱۰۔ کتبِ سماوی کی شہادت
جس طرح آنحضرتؐ تمام پیغمبروں کے سردار ہیں اسی طرح وہ آسمانی کتاب بھی جو آنحضرت پر نازل ہوئی، تمام کتبِ سماوی سے افضل و اکمل اور جامع ہے جس کے بارے میں مسلمانوں میں کوئی اختلاف ہی نہیں، چنانچہ ذخیرۂ کتبِ سماویہ سے بھی یہ حقیقت ثابت ہوئی کہ ہر نوع کی چیزوں میں سے ایک چیز کی افضلیت قدرتی امر ہے، پس ظاہر ہے کہ نوعِ انسان میں بھی ایک فرد کی افضلیت کا یہی اصول کار
۲۸
فرما ہے، یعنی تمام انسانوں میں سے ایک شخص افضل و اعلیٰ ہے جو امام زمان اور ہادیٔ برحق ہے اور قرآنِ پاک کی طرح ذریعۂ ہدایت اور سرچشمۂ علم و حکمت ہے، بلکہ وہی قرآنِ کریم کی زندہ روح اور اس کا نور ہے اور یہ آنحضرتؐ کا ایک عظیم ترین معجزہ ہے کہ حضور کی کتاب کے ساتھ ساتھ زندہ نور بھی ہمیشہ کے لئے دنیا میں موجود ہے اور آفاق کی یہ آیت قرآنِ پاک کی اُس آیت کی تصدیق کرتی ہے جس میں ایک طرف سے آنحضرتؐ کی رسالت و نبوّت برحق ہونے کی شہادت ہے اور دوسری طرف سے اس حقیقت کا تذکرہ ہے کہ ہر زمانے میں ایک ایسے شخص کا موجود ہونا قدرتی امر ہے۔ جس کے پاس آسمانی کتاب کا علم ہے وہ ارشاد درج ذیل ہے۔
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ (۱۳: ۴۳)
ترجمہ: (اے رسول) آپ ( کافروں سے) کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان (میری رسالت کی) گواہی کے واسطے خدا اور وہ شخص، جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا علم ہے، کافی ہیں۔
مذکورہ بالا آیت سے یہ حکمتیں ظاہر ہوجاتی ہیں کہ اسلامی قانون کی رو سے ہر ضروری معاملہ میں دو ایسے معتبر اور عادل گواہ مقرر کر لئے جاتے ہیں، جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اس معاملہ کو تماماً دیکھ چکا ہو، چنانچہ آنحضرتؐ کی رسالت کے انتہائی عظیم واقعہ کا پہلا گواہ
۲۹
خود خدائے تعالیٰ تھا، اور دوسرا گواہ خدا و رسول کا نور تھا، جو آنحضرتؐ کے ان تمام عظیم روحانی واقعات کے رونما ہوتے وقت حاضر تھا، جو غارِ حرا سے مقامِ معراج تک اور معراج سے آخری وقت تک آنحضرتؐ پر گزر گئے تھے، وہ وہ مقدّس نور مولانا مرتضیٰ علی علیہ السّلام کی شخصیت میں جلوہ افروز تھا، اور وہی نور اب بھی بلباسِ امامِ زمان دنیا میں حیّ و حاضر ہے، اور یہ حکمت اسی آیت سے ظاہر ہے، کیونکہ اگر دنیا میں اب بھی آنحضرتؐ کی رسالت کے منکرین موجود ہیں تو حضورؐ کی رسالت کے وہ دونوں گواہ کیوں نہ ہوں، پس معلوم ہوا کہ امامِ زمان مولانا مرتضےٰ علی علیہ السّلام کا نور ہے، بس یہی نور قرآنِ پاک کی روح ہے، جس میں قرآن کے تمام علوم نورانی تصورات، مجرّد تخیلات، روحانی تمثیلات، بے دہن آواز اور کلماتِ تامّہ کے اشارات و رموز پر مشتمل موجود ہیں۔
پس مذکورہ تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات و موجودات کی کل چیزیں مختلف انواع و اقسام میں پائی جاتی ہیں، اور ان تمام اقسام میں سے صرف ایک ہی قسم اعلیٰ و افضل ثابت ہوجاتی ہے، جیسے تمام چیزوں کی قسموں میں سے صرف جاندار چیزوں کی قسم ہی افضل ہے، جس میں انسان بھی شامل ہے، پھر ان تمام اقسام میں سے ہر قسم کئی چھوٹی چھوٹی قسموں پر مشتمل نظر آتی ہے، اور ان چھوٹی چھوٹی قسموں میں سے بھی صرف ایک ہی قسم افضل ثابت ہوجاتی ہے، جیسے جاندار کہ وہ مخلوقات کے اقسام میں سے ایک بڑی قسم ہے، جس کی کئی چھوٹی
۳۰
چھوٹی قسمیں ہیں، جن میں سے انسانی قسم اعلیٰ و افضل ہے، چنانچہ اس کی مثال مندرجہ ذیل ہے:
۱۔ آسمانی کتابوں میں سے قرآنِ پاک افضل ہے اور قرآنِ پاک کی تمام سورتوں میں سے سورۃ فاتحہ افضل ہے، کیونکہ وہ ام الکتاب کے درجے میں ہے۔
۲۔ تمام عمارتوں میں سے مساجد و عبادت خانے افضل ہیں، اور ان میں سے خانۂ کعبہ افضل ہے، اس لئے کہ خدا نے اُسے بطورِ خاص اپنا گھر قرار دیا ہے۔
۳۔ تمام مہینوں میں ماہِ رمضان افضل ہے اور اس کے تیس دنوں میں شبِ قدر افضل ہے۔
۴۔ پتھروں سے جواہر افضل ہیں اور جواہر سے یاقوت افضل ہے۔
۵۔ چوپایوں میں سے حلال چوپائے افضل ہیں اور اُن سے اونٹ افضل ہے۔
۶۔ دانوں میں سے غلہ جات افضل ہیں اور اُن میں سے گندم افضل ہے۔
۷۔ درختوں میں سے پھل دار درخت افضل ہیں اور اُن میں سے کھجور افضل ہے۔
۸۔ پھولوں میں سے وہ پھول افضل ہیں جو خوشبودار ہیں، اور
۳۱
ان میں سے گلاب افضل ہے۔
۹۔ معدنیات میں سے دھات افضل ہیں اور ان میں سے سونا افضل ہے۔
۱۰۔ حیوانی جسم ڈھانپنے کے لئے اون، بال، رواں اور پروں کے مقابلے میں انسانی لباس افضل ہیں، اور ان میں ریشمی لباس افضل ہیں۔
۱۱۔ سونگھی جانے والی چیزوں میں سے خوشبویات افضل ہیں اور ان میں کستوری افضل ہے۔
۱۲۔ انسان کے باطنی اعضاء میں سے اعضائے رئیسہ افضل ہیں، جو دل، دماغ، کلیجہ، پھیپڑے، پتا، تلی اور گردے ہیں، اور ان میں دل افضل ہے۔
۱۳۔ انسان کے ظاہری اعضاء میں وہ اعضاء افضل ہیں جو حواسِ خمسہ کے مراکز ہیں اور ان میں آنکھیں افضل ہیں۔
۱۴۔ انگلی والے اعضاء میں دونوں ہاتھ افضل ہیں اور ان میں دایاں ہاتھ افضل ہے۔
۱۵۔ ہاتھوں کی انگلیوں میں سے دائیں ہاتھ کی انگلیاں افضل ہیں، اور ان میں انگوٹھا افضل ہے۔
۱۶۔ انسان کی باطنی قوّتوں میں عقلی قوّتیں افضل ہیں، اُن میں قوّتِ ذکر افضل ہے، کیونکہ روحانی معجزات اسی میں پوشیدہ ہیں اور اسی سے دوسری تمام قوّتیں پرورش حاصل کرتی ہیں۔
۳۲
پس معلوم ہواکہ کائنات وموجودات اصولِ افضلیت کے تحت قائم ہیں، چنانچہ خدائے تعالیٰ نے اسی اصول کے مطابق سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السّلام کو ثبوت و امامت کے لئے برگزیدہ کیا، اور یہ سلسلہ حضرت آدمؑ کی نسل میں حضرت نوح علیہ السلام تک چلا، حضرت نوحؑ کی نسل میں حضرت ابراہیمؑ تک چلا، حضرت ابراہیمؑ کی نسل میں حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تک چلا اور آنحضرت پر نبوّت کا سلسلہ تمام ہوا۔ مگر سلسلۂ امامت آنحضرتؐ کی آلِ پاک میں تا قیامت جاری و باقی ہے، چنانچہ حق تعالےٰ کا ارشاد ہے:
فَقَدْ اٰتَيْنَآ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاٰتَيْنٰھُمْ مُّلْكًا عَظِيْمًا ۴: ۵۴
ترجمہ: ’’ بے شک ہم نے ابراہیمؑ کی اولاد کو (قیامت تک) کتاب اور حکمت (کی وراثت) دی اور ان کو ایک عظیم سلطنت دی۔‘‘
پس مذکورہ ارشادِ الہٰی سے آلِ ابراہیمؑ یعنی آلِ محمدؐ کی افضلیت ظاہر ہے، وہ یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی تاویل اور حکمت تا قیامت انہی کے ذریعے سے کسی کو مل سکتی ہے اور وہ اسی سبب سے روحانیت کی عظیم سلطنت کے مالک ہیں، چونکہ آسمانی کتاب کی تاویل اور حکمت ہمیشہ کے لئے ضروری ہے، اس لئے امام جو ابراہیمؑ اور محمدؑ کے خاندان سے ہے دنیا میں ہمیشہ حیّ و ناضر ہوتا ہے ، اور خود مختار بادشاہ ایک ہوتا ہے۔ اس لئے امامِ مستقر جو دینی بادشاہ ہے ایک ہوتا ہے،
۳۳
اور دورِ نبوّت میں امام بظاہر اس روحانی سلطنت کے وزیر کی حیثیت سے ہوتا ہے، چنانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے زمانے میں دینی بادشاہ تھے، اور مولانا مرتضےٰ علی علیہ السلام ان کے وزیر تھے۔
حقدار مومنین کے لئے اصولِ افضلیت کا ذکر کیا گیا ۔ بفضلہٖ ومنّہٖ والسّلام۔
۳۴
منقبتِ نورِ امامت
بصورتِ سوال و جواب
جواب سوال
کون ہوا پیشوا بعدِ رسولِ امین؟
جس کو خدا نے دیا نامِ “امامِ مبین”
منبرِ روزِ غدیر کس کے لئے تھا بنا؟
سِرِّ خدا کے لئے تا کہ بنے جانشین
پرچمِ دینِ نبی کس نے کیا تھا بلند؟
حیدرِ کرار نے گونۂ شیرِ عرین
بعد خدا و رسول کس کی اطاعت ہے فرض؟
اسکی جو ہے نورِ حق صاحبِ دنیا و دین
نورِ امامِ مبین کب سے ہوا ہے طلوع؟
یہ تو ازل ہی سے ہے جبکہ نہ تھی ما و طین
کون ہے دلدل سوار؟ کون ہے وہ نامدار؟
سرورِ مردان علی قاضیٔ روزِ پسین
خازنِ علمِ خدا کون ہے اس دہر میں؟
رہبرِ راہِ ہدا ھادیٔ دینِ متین
باب علوم نبیؐ کون ہے اے ہوشمند؟
نورِ علیؑ ہے سدا بابِ رسولِ امینؐ
سلسلۂ نور کی کب سے ہوئی ابتدا؟
جبکہ ہوا بوالبشر نائبِ روئے زمین
فرض ملائک پہ کیوں سجدۂ آدم ہوا؟
آدمِ خاکی میں تھا نورِ علیؑ جاگزین
نفسِ رسولِ خدا کون ہے وہ ارجمند؟
والیٔ ملکِ ولا پیشروِ متقین
ہاں تو وہی ہے مگر جلوہ نما ہے کہاں؟
چشمِ بصیرت سے دیکھ دل میں ہوا ہے مکین
۳۵
عرشِ اِلہٰ کا قیام جس پہ ہے وہ کون ہے؟
سلسلۂ نور ہے حاملِ عرشِ برین
کس کو خدا نے دیا خاتمِ حکمت نگین؟
مملکتِ ملکِ دین جس کو ہے زیرِ نگین
کس کے احاطے میں ہے دائرہ کل شَی؟
ذاتِ امامت میں ہے عالمِ نورِ یقین
ہے کوئی ایسا چراغ جو نہ بجھے دہر میں؟
نور امامت ہے وہ نورِ دلِ مومنین
کس نے کہا اے نصیرؔ! شاہ بہت دور ہے؟
جسم سے ہاں دور ہے دل سے مگر ہے قرین
۳۶
آپ کے تعاون کا شکریہ
حق تعالےٰ کا فرمان ہے:
وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى (۵: ۲)
ترجمہ:’’اور تم نیکی و تقویٰ (کے کاموں) میں ایک دوسرے کا تعاون کیا کرو‘‘۔
اس ارشادِ الہی سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ نیکی و پرہیز گاری کے تمام کاموں میں مومنین کی باہمی امداد دین کے ضروری فرائض میں سے ہے، مگر امکاناً یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ سب سے عظیم نیکی اور سب سے بڑی پرہیزگاری کون سی ہے کہ جس کی تعمیل میں مومنین باہمی امداد کرکے زیادہ ثواب حاصل کرسکتے ہوں؟
اس کا سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ سب سے عظیم نیکی وہ ہے جو تمام نیکیوں پر حاوی ہو اور سب سے بڑی پرہیزگاری وہ ہے جو ساری پرہیز گاریوں پر محیط ہو، اور ایسی نیکی و پرہیزگاری تو صرف علم ہی ہے۔
چنانچہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَسِعَ رَبِّيْ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۭ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ (۶: ۸۰)
۳۷
ترجمہ: میرے پروردگار نے علم کو ہر چیز پر حاوی کردیا ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے ہو۔
پس معلوم ہوا کہ دینی قسم کی علمی خدمت ہی سب سے عظیم نیکی اور سب سے بڑی پرہیزگاری ہے، اور جس میں مومنین کا باہمی تعاون کرنا عظیم ترین ثواب ہے، کیونکہ علم ہی کے ذریعہ بھلائی اور برائی میں فرق و امتیاز کرکے اپنے اور دوسروں کے حق میں بھلائی کی جاسکتی ہے اور برائی سے پرہیز کیا جاسکتا ہے، اور صرف علم ہی ایک ایسی لامحدود اور ہمہ رس دولت ہےجس سے حال اور مستقبل میں قوم ومذہب کے ہر فرد کو کافی حصہ مل سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ علم خدا کی رحمت ہے جس میں دین و دنیا کی سرخروئی، سر بلندی اور شادمانی پنہان ہیں۔
حق تعالےٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہماری قوم کے اکثر علم دوست اور ترقی پسند حضرات دینی علم کے احیاء و اشاعت کے سلسلے میں ہر قسم کا تعاون کرلیا کرتے ہیں، جن کی کثیر تعداد وادیٔ ہنزہ کے تقریباً تمام مقامات اور گلگت ایجنسی کے علاقہ جات میں ہے، جن میں اوشی کھنداس اور دنیور کے دینی احباب قابلِ ذکر ہیں، اسی طرح نومل اور رحیم آباد کے عزیزان بھی ہیں، پنیال، اشکومن، گوپس اور یاسین کے اسماعیلوں میں بھی علم گستری کی قدر کرنے والے بہت سے حضرات ہیں، جیسے میرے عزیز نوجوان واعظین جو فی الحال کراچی کے علمی مرکز میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور جیسے میرے دوست فقیر یاسین
۳۸
خلیفہ محمد آباد صاحب۔
گلگت میں الواعظ جناب شہزادہ سلطان خان صاحب (مرحوم) تھے، جنہوں نے بارہا اپنے شیرین اور پر اثر کلام سے اس خادم کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے، ان کے علاوہ وہاں میرے بہت سے ایسے عزیز دوست ہیں جن کی دینی اور روحانی دوستی کی مسرتیں میرے دل و دماغ کو قوت بخشتی ہیں۔
اوشی کھنداس اور دنیور کے علاوہ نومل اور رحیم آباد میں بھی ایسے حقیقی مومنین اور میرے پیارے شاگرد ہیں جن کی خوشی حاصل کرنے کی امید نے مجھ میں ایک خاص قسم کی بیداری پیدا کردی ہے، بالکل یہی تذکرہ خضر آباد، حسین آباد، مایون، خان آباد اور ناصر آباد کے حقیقی اسماعیلیوں کے متعلق بھی ہے کہ جب بھی میں ذرا اُن مومنین کے درمیان رہا تو میرے دل و دماغ میں ایمان و اخلاص کی ایک نئی روشنی آجاتی ہے اور میرے باطن میں علمی خدمت کا ایک تازہ ترین جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔
مرتضیٰ آباد بالاو پائین کے حقیقی مومنین اور میرے خاص شاگردوں نے کمالِ خلوص و محبت سے مجھے بہت کچھ متاثر کردیا ہے ان کا اور دوسرے مقامات کے بعض عزیزان کا یہ حال ہے کہ بس ان کی روحانی اور مادّی طاقتیں میرے بھیس میں علمی خدمت کرتی ہیں۔
حسن آباد کے مومنین بڑے مخلص اور عقیدت مند ہیں، اِس خوش نصیب گاؤں کے اسماعیلیوں میں بعض بڑی لائق و فائق ہستیاں پیدا ہوئی ہیں، جن سے ہم کو طرح طرح کی معاونت حاصل ہے۔
۳۹
علی آباد کے تذکرہ ہی سے میرا دل و دماغ باغ باغ ہوجاتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یقیناً یہی ہے کہ علی آباد علی کے مبارک نام کے طفیل سے ایک ایسا گاؤں ہے کہ دینی اتفاق و اتحاد میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، وہاں کے اہلِ علم حضرات جو ہر وقت اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کی جدوجہد کرتے رہتے ہیں، وہاں کے سوشل ورکرز، جو ہمیشہ اپنی قوم اور مذہب کی خدمت سے تھک نہیں جاتے، وہاں کے مدرسین جو انتہائی جانفشانی سے قوم کے بچوں اور بچیوں کو تعلیم دیتے ہیں، وہاں کے کاریگر اور تمام اسماعیلی افراد جو قومی عمارتوں کی تعمیر کی خدمت انجام دیتے ہیں وہ سب اپنی مثال آپ ہیں، بلاشبہ علی آباد نہ صرف میری ہی قوّتِ بازو ہے بلکہ علی آباد نے زمانۂ قدیم سے ہر اسماعیلی سید، ہر عالمِ دین، ہر فقیر اور ہر خادمِ دین کی حمایت و یاری کی ہے۔
ڈورکھن کی اسماعیلی جماعت بھی شاہراہِ ترقی پر گامزن ہورہی ہے اس کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ وہاں کے چند نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے جو آگے چل کر نہ صرف اپنے گاؤں ہی کی ترقی کریں گے بلکہ پوری قوم اور مذہب کے لئے بھی کارہائے نمایان انجام دے کر ملک و ملت کو روشن کردیں گے، میں نے کئی دفعہ رسمی طور پر ڈورکھن کے اسماعیلیوں سے مذہبی گفتگوکی ہے، وہ بڑے ہوشیار، نکتہ شناس اور فہیم ہیں اور اپنے علماء کی عزت و تکریم میں کوئی بھی کمی نہیں کرتے۔
حیدر آباد کے عناصر سے میرا یہ ناتوان جسم بنایا گیا ہے، اس لئے
۴۰
میں اس گاؤں کے احسانات کا ممنون ہوں، کوئی شک نہیں کہ حیدرآباد کی اسماعیلی جماعت نے بھی مذہبی اور قومی امور میں کافی ترقی کرلی ہے، کیونکہ وہاں کے اسماعیلی افراد سب کے سب بڑے مخلص اور بڑے دیندار ہیں، ان کے قومی کارکنوں اور رضا کاروں نے مفید کاموں کی مثالیں پیش کرنے کے سلسلے میں بڑی جانفشانی دکھائی ہے۔
گنش اور گریلت کے اسماعیلیوں کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب پر انتہائی مضبوطی سے قائم ہیں، وہ اپنی خداداد قابلیت کی بناء پر دینی باتوں کے متعلق سوال و جواب کا اصول خوب جانتے ہیں، مجھے چند بارگریلت کے اسماعیلی جماعت کے جذبۂ ایمان سے لطف اندوز ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
بلتت ریاستِ ہنزہ کا دینی اور دنیاوی مرکز ہے، جہاں بڑے بڑے صاحبِ منصب اور ذمہ دار حضرات رہتے ہیں، اس کے علاوہ بلتت کی آبادی بڑی گنجان ہے، ان اسباب کی بنا پر وہاں کی ترقی قدرتی امر ہے، بلتت میں کل آٹھ جماعت خانہ ہیں، مجھے وہاں کے اکثر جماعت خانوں میں جانے کی سعادت نصیب ہوئی ہے اور بہت سے حقیقی مومنین کے نور ایمان سے میرے قلب میں اخلاص و یقین کا انعکاس و ادراک ہوا ہے، بلتت میں میرے بہت سے عزیز و احباب رہتے ہیں جن سے ہمیشہ میری علمی خدمت کی معاونت ہوتی رہتی ہے۔
التت کے اسماعیلی حضرات مذہبی عقائد میں بڑے مستحکم ہیں،
۴۱
اور خدا کے فضل و کرم سے اب ان میں چند علماء بھی پیدا ہوئے ہیں، کچھ نوجوانوں نے دنیا وی تعلیم میں بھی کافی ترقی کرلی ہے، میں نے کئی دفعہ التت کے اہلِ علم حضرات کے ساتھ مذہبی مذاکرہ کیا ہے، جس میں ان کی ذہانت و ہوشیاری دیکھ کر مجھے انتہائی خوشی حاصل ہوئی ہے، وہ بڑی سنجیدگی اور اخلاق سے بات کرتے ہیں، التت میں میرے بہت سے روحانی احباب ہیں جن کی محبت سے مجھے روحانی قسم کی تسکین ملتی ہے۔
احمد آباد کی جماعت بھی قابلِ تعریف ہے، خوش قسمتی سے مجھے وہاں کے تمام مومنین کے ساتھ ایک دفعہ شب بیداری اور عبادت کرنے کا شرف حاصل ہوا، مجھے وہاں کے چند خوش الحان قصیدہ خوانوں کی لطیف آواز نے بے حد مسرت بخشی اور میں جماعت کی دینداری سے بہت متاثر ہوا۔
گلمت علاقۂ گوجال کا صدر مقام ہے، وہاں کے حقیقی اسماعیلی دینی آداب کی بجا آوری میں بے مثال ہیں، علاقۂ گوجال کے اسماعیلیوں کے قلوب میں دینی اخلاص و محبت بھری ہوئی ہے، گلمت، حسینی، فاسو، خیبر، مورخون اور سوست بالاو پائین کی جماعتیں یکسان طور پر انتہائی دیندار اور بڑے حلیم الطبع ہیں،البتہ مورخون اور سوست بالاو پائین اور خدا آباد کی جماعتوں میں اس دفعہ ایک مزید خوبی دیکھی گئی، وہ خوبی عبادت اور ذکرِالہی میں اپنے آپ کو محو کردینے کے متعلق تھی۔
مسگار کے مخلص اور حقیقی مومنین کے دینی جذبات اور ذکر و عبادت
۴۲
کے نتیجے میں روحانی واقعات انتہائی حیرت انگیز اور ازبس تعجب خیز ہیں، یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میں مہینوں اور ہفتوں کے لئے مختلف موقعوں پر بار بارمسگار کے اسماعیلوں کے درمیان رہا، جس کی مجموعی مدت کم از کم تین ہزار گھنٹوں کی ہے اور حق بات یہ ہے کہ میں نے ہر بار ان کو دینی صلاح و فلاح میں روز افزون ترقی پر دیکھا، اور خصوصاً اس سال!
اس دفعہ مسگار کی جماعت کی جانب سے وہاں کے تعلیم یافتہ حضرات نے مجھے ایک ایسا سپاس نامہ عنایت کردیا ہے کہ جس سے میری بہت حوصلہ افزائی ہوئی، جس کے مضمون کی علمیت و قابلیت دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسگار پر علم و ادب کا کوئی ستارہ طلوع ہورہا ہے۔ اس کتابچے کی یہ ہزار جلدیں مسگار کی تمام حقیقی اسماعیلی جماعت کے قابل قدر تعاون کے ثمرات میں سے ہیں، میں انکی اس ہمہ رس دینی خدمت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دل و جان سے اعتراف کرتا ہوں کہ مسگار کی جماعت کے خواندہ طبقہ اور حقیقی اسماعیلیوں نے ہر بار ’’خانۂ حکمت و ادارۂ عارف سے تعاون کیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مرتضیٰ آباد، اوشی کھنداس وغیرہ میں بھی کافی عرصے سے جدید قسم کے روحانی تجربات کے لئے ذکرِ جلی کی مخصوص مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ عام روحانی مجالس میں بھی کسی نہ کسی خوش نصیب مومن کو ذکرِ الہٰی میں مست و مدہوش یا عجزو نیاز میں لرزہ براندام دیکھا گیا ہے، مگر مسگار کے حقیقی مومنوں نے قدرتی
۴۳
اور معجزانہ طور پر سوز و گداز اور محویت کے جس انداز کا مظاہرہ کیا ہے وہ میرے لئے ایک ایسا فرحت بخش اور قابلِ یاد واقعہ ہے، جس کو بفرضِ محال اگر میں فراموش کردینا چاہوں تو غیر ممکن ہے کہ فراموش کرسکوں۔
چترال کے اسماعیلیوں نے قومی اور ملی اعتبار سے کافی ترقی کرلی ہے، انہوں نے تعلیم و تنظیم کے بہت سے ادارے قائم کئے ہیں اور وہاں ہیلتھ سینٹر کی شاخیں کھولی گئی ہیں، وہاں کے اسماعیلی اعلیٰ درجے کے عقیدتمند اور مخلص ہیں، ان کے قومی کارکنوں میں ہمت و جرات کا خاصہ موجود ہے چترال کے اسماعیلیوں میں بھی میرے بہت سے ایسے احباب ہیں جن سے میری ہر طرح کی ہمت افزائی اور معاونت ہوتی رہتی ہے۔
راولپنڈی اور سرگودھا کے اسماعیلیوں میں میرے چند خاص احباب ہیں جو علمی خدمت میں ہمیشہ میرا تعاون کرتے رہتے ہیں، جن کی دوستی سے مجھے فخر و خوشی حاصل ہے۔
کراچی کے اسماعیلیوں میں بھی میرے بہت سے عزیز و احباب ہیں جن سے مجھے طرح طرح کی امداد حاصل ہے، مجھے تعلیم یافتہ اور ترقی پسند حضرات بہت ہی عزیز ہیں، جن کی دوستی و محبت سے مجھے ہر وقت خوشی حاصل ہوتی ہے، اور اکثر یہی خوشی میرے کاموں میں ممد ومعاون ثابت ہوجاتی ہے۔ والسلام۔
فقط آپ کا مخلص: نصیرؔ ھنزائی
مورخہ ۷، ذیقعد ۱۳۸۷
۷، فروری ۱۹۶۸
۴۴
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سپاسنامہ
پنہان اسی میں جذبِ محبت کا راز ہے
اللہ کے عاشقوں کا یہی امتیاز ہے
اس عشق کا یہ جذبۂ سوزو گداز ہے
دردِ فنا کے جام سے جو بے نیاز ہے
محترم عالی قدر جناب علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی
یاعلی مدد
جنابِ والا! آپ اپنی گونا گون مصروفیات کے باوجود اپنا قیمتی وقت نکال کر مولانا حاضر امامؑ کے مقدس مذہب اور قوم کی دینی و دنیوی ہدایت اور بہتری کی خاطر ہمارے ہاں تشریف لائے اور مختصر سی مدت میں راہِ نجات دکھا کر اپنی پراثر صبحت سے مستفیض فرمایا، جس کے ہم نہایت شکر گزار ہیں۔ جناب یہ دینی خدمات آج سے نہیں بلکہ عرصۂ دراز سے سرانجام دیتے آئے ہیں، اور آپ کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ آپ دنیا کی رنگین لذّتوں کو خیرباد کہہ کر اپنی قوم بلکہ پورے اسماعیلی عالم میں ان لوگوں کو جو دورِحاضر کے روحانی نور سے بے خبر ہیں،
۴۵
مشعلِ راہ بن کر راہِ نجات دکھانے کیلئے کمربستہ ہیں، خدا کی قربت قلب و نظر کے سکون کے لئے بلاشبہ متاعِ گران کی ضمانت دیتی ہے، مگر یہ کس طرح حاصل ہو؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو بے علم انسان کے لئے ایک عقدۂ لاینحل کی حیثیت رکھتا ہے، اور جس کی عقدہ کشائی ایک ذی علم وعمل عارف کی بصیرت افروز وعظ و نصیحت ہی سے ممکن ہے یعنی دنیا کے جادو اثر فریبوں کی پردہ دری کرنا، بھلائی اور برائی کی سوجھ بوجھ پیدا کرنا اور تزکیۂ نفس کی کہکشانی راہوں پر چلنا سکھانا ایک باعمل اور روشن ضمیر عارف کا کام ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ اس مصیبت بردوش وقت میں ایک صاحبِ علم وعرفان کی حضوری ہمیں گھر بیٹھے نصیب ہوئی، جن کی درویشانہ صفات کے اثر سے ہم جہالت کی تاریکیوں سے نورِ معرفت کی طرف آئے اور قلب و ذہن کے گوشے گوشے تک مقدّس نور کی روشنی پھیلتی ہوئی محسوس کررہے ہیں، جن کا حقیقت پر مبنی اور معرفت سے معمور کلام متین اور سخنِ شیرین ہماری روحوں کے لطیف پردوں سے ٹکرا ٹکرا کر ایک مقدّس و منزہ سرور کو جنم دے رہا ہے اور جن کے دل گداز اندازِ تخاطب سے فیوض کے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور جن کی روح پرور روحانی کیفیت دیکھ کر اقبالؔ کا یہ شعر از خود زبان پر جاری ہوجاتا ہے کہ:
۴۶
نگاہ بلند، سخن دل نواز جان پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کاروان کے لئے
یہ دیکھ کر خدا کے بے نیازی پر ہزار بار قربان ہونے کو جی چاہتا ہے کہ قدرت ہم جیسے گناہوں کی گہری دلدل میں پھنسے ہوئے انسانوں کی بھی اپنی رحمتِ بے پایان کے نورانی دامن تلے چھپالینا چاہتی ہے، کیا یہ اس کی شانِ بے نیازی نہیں؟ اور ہم جیسے جنم جنم کے مریضوں کے کے لئے حکیم بھی ایسا منتخب کیا ہے جو دورِ حاضر کے روحانی معالجوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، جیسا کہ شاعر کہتا ہے:
اہلِ نظر، اہلِ کمال، اہلِ قلم ہم جیسے
ڈھونڈ کے تم دیکھ لو دنیا میں کہاں ملتے ہیں
مولاناحاضرامامؑ کونین میں جناب کو اس خدمت کا صلہ عطا کرے سچ ہے کہ آپ بحیثیت ایک نامور دینی فقیر کے اپنی جان کی قربانی سے دریغ نہ کرکے اپنے شہنشاہِ دوعالم کی خدمات میں تکالیف جھیلتے ہیں۔ جناب یہ مذہبی اور قومی خدمات آپ کے شایانِ شان ہے آفرین صد آفرین، آپ کی ابتدائے پیدائش بھی سعادت مندی ہے اور آخری مرحلہ بھی!
عالیجاہ! آج ہمارے چہروں پر اداسی کی لکیریں کیوں پھیلتی جا رہی ہیں؟ آج ہماری روحیں اپنے دنیاوی ویران گوشوں ہی میں
۴۷
روحانی بہاروں کے دل آویز نشیمن بنانے کے باوجود کیوں غمناک ہیں! آج ہمارے ایمان کے نور سے چمکتے ہوئے قلب کیوں مدھم ہورہے ہیں؟ آج ہماری خوشی کے لبریز پیمانے غم کی تلچھٹ سے کیوں چھلک رہے ہیں؟ کیا اس لئے کہ ہمارے عظیم محسن ہمیں صراطِ مستقیم پر گامزن کرکے اور کسی تاریکی میں ڈوبی ہوئی بستی کو جگمگانے کے لئے جارہا ہے اور ہمیں ان کی جدائی گوارا نہیں، مگر اس پر تو ہمیں افسردہ خاطر نہیں ہونا چاہئے، بلکہ دین کی پھیلتی ہوئی روشنی کی ایمان افروز لہروں کو لب و نگاہِ عقیدت سے سو سو بار چومنا چاہئے۔ اے ہمارے عظیم میرِ کاروان! آپ ہم جیسے اور گم کردہ راہ قافلوں کو بھی صحیح رہگذر منزل کا پتہ بتانے کے لئے ضرور جائیے، مگر دیکھئے گا کہ اپنے اس قافلے کی خبر نہ بھولئے گا جو منزل کی سمت روان دوان ہے۔
یہ تمنا ہے کہ آئے آپ لاکھوں باریوں
جھوم کر آتا ہے جیسا ماہِ خندان ماہ بہ ماہ
آخرمیں جماعت بارگاہِ خداوندی میں دست بہ دعا ہیں، کہ مولانا حاضر امام آپ کو دین و دنیا میں سر فراز و سر بلندرکھے، آپ کو سکھی و آباد رکھے ! مولانا حاضر امام آپ کو دنیوی آفتوں سے محفوظ رکھے، ہمیشہ ان کی نظرِ رحمت آپ پر پڑےاور اپنے نورانی ظاہر و باطن دیدار سے مدام مشرف کرے! آمین!
(از طرفِ اہالیانِ مسگر ہونزہ سٹیٹ)
۲۷، اگست ۱۹۶۷
۴۸
تجلّیاتِ حکمت
دینی کتب کا مطالعہ
پئی علم چون شمع باید گداخت
کہ بے علم نتوان خدا را شناخت
ترجمہ: علم کی خاطر موم بتی کی طرح پگھل جانا چاہئے، کیونکہ جب تک علم نہ ہو تو خدا کی پہچان نہیں ہو سکتی ہے۔
عزیز و محترم (ریٹائرڈ) صوبیدار میجر شاہین خان ان بڑے خوش نصیب اور سعادت مند انسانوں میں سے ہیں جو بسا اوقات مطالعۂ دینی کتب جیسی علمی عبادت میں مصروف رہتے ہیں، آپ کو خداوندِ تعالیٰ نے تمام تر نیک عادتیں اور اعلیٰ صلاحیتیں عنایت کر دی ہیں، اسی وجہ سے آپ اپنی عسکری زندگی میں ہر بار اور ہمیشہ کامیاب، نیک نام اور سر بلند ہو گئے، الحمد للہ۔
آپ کا شجرۂ نسب یہ ہے: ریٹائرڈ صوبیدار میجر شاہین خان ابنِ محمد خان، ابنِ بائے خان، ابنِ رستم خان، ابنِ غلام خان، ابنِ لگشر خان، ابنِ عاشور خان، ابنِ دودار خان۔
آپ کے نیک بخت اور ایمانی اہلِ خانہ کے اسماء یہ ہیں: نیک خصلت زوجۂ محترمہ ثریا بانو، نورِ چشم بیٹا ریاض شاہین عمر ۱۰ سال، نورِ نظر بیٹی رضیہ شاہین عمر ۸ سال اور نورِ عین اعجاز شاہین عمر ۶ سال، عاجزانہ دعا ہے کہ پروردگارِ عالم
۳
اپنی بے پایان رحمت سے اس عزیز خاندان کو دین و دنیا کی کامیابی سے سرفراز فرمائے!آمین یا ربّ العالمین!!
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقارآباد، گلگت
۶ محرم الحرام ۱۴۱۵ھ
۱۷ جون ۱۹۹۴ء
۴
Blank Pages 5- 6 for Table of contents
افتتاحیہ
۔۱۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ الم تروا ان اللہ سخر لکم ما فی السمٰوٰت و ما فی الارض و اسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ و باطنۃ (۳۱: ۲۰) کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں، اور اپنی ظاہری و باطنی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں (۳۱: ۲۰)۔ حقیقت کو سمجھنے اور سمجھانے کی خاطر دوستانہ سوال و جواب کا طریقہ ہمیشہ مفید رہا ہے، چنانچہ یہاں پوچھنا یہ ہے کہ یہ تسخیرِ کائنات کس قسم کی اور کس درجے کی ہے؟ مادّی ہے یا روحانی ہے؟ یا دونوں ہیں؟ کیا اس احسانِ خداوندی میں سب دنیا والے شریک ہیں؟ یا یہ کچھ خاص لوگوں کے لئے ہے؟ قرآن اور اسلام کی باطنی نعمتیں کیا کیا ہو سکتی ہیں؟ آیا یہ درست ہے یا نہیں، کہ مذکورہ نعمتیں مادّی نہیں ہیں؟ کیونکہ مادّی نعمتوں میں دوسرے لوگ ہم سے بہت آگے ہیں، پس تسخیرِ کائنات مومنین و مومنات کے لئے ایک باطنی راز اور روحانی احسان ہے، اور باطنی نعمتوں سے مراد باطنی علم و معرفت اور تاویلی حکمت ہے، اور معلوم ہے کہ ہر مثال میں ظاہر کے مقابلے میں باطن اعلیٰ و افضل ہوا کرتا ہے۔
۔۲۔ باطنی نعمتوں کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس حدیثِ شریف سے
۷
ہو سکتا ہے، ارشادِ نبوی ہے۔
ان للقراٰن ظھرًا و بطنًا و لبطنہ بطنًا الی سبعۃ ابطنٍ و فی روایۃ ٍ الیٰ سبعین بطنًا = یقیناً قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے، اور باطن در باطن کا سلسلہ سات بواطن تک ہے، اور دوسری روایت کے مطابق ستر بواطن تک ہے۔ آیا اسی طرح قرآنِ پاک میں بے شمار نعمتیں موجود نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو آخر کس کے لئے ہیں؟
۔۳۔ اس نوعیت کی ایک اور حدیث صادقِ آلِ محمد علیہ السلام سے مروی ہے۔
کلام اللہ علیٰ اربعۃٍ: العبارۃ، و الاشارۃ، و اللطایف، و الحقایق، العبارۃ للعوام، و الاشارۃ للخواص، و اللطایف للاولیاء، والحقایق للانبیاء = کلامِ الٰہی چار وجوہ پر ہوا کرتا ہے: عبارت، ا شارت، لطائف (نکتہ ہائے مخفی) اور حقائق، پس عبارت عوام کے لئے ہے، اشارت خواص کے لئے، لطائف اولیاء کے لئے ہے، اور حقائق انبیاء کے لئے۔ مذکورہ دونوں حدیثوں سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ قرآن فہمی کے بہت سے درجات ہیں، جیسے خود قرآنِ کریم علمی درجات کا ذکر فرماتا ہے۔
نرفع درجٰت من نشاء و فوق کل ذی علم علیم (۱۲: ۷۶)۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلندکردیتے ہیں، اور ہر علم والے سے دوسرا
۸
علم والا بڑھ کر ہے (۱۲: ۷۶)۔
۔۴۔ جیسا کہ آپ سب حقیقت سے باخبر ہیں کہ احادیثِ صحیحہ میں قرآن کی تفسیر ہے، چنانچہ امامِ زمان صلواۃ اللہ علیہ و سلامہ کی پاک نورانیت میں خزائنِ علم و حکمت کی حیثیت سے اللہ کے ’’کلمات التامات‘‘ ہوتے ہیں، جن کا تذکرہ دعائیہ حدیثوں میں ہوا ہے، کیونکہ وہ خزائنِ اسرار ہونے کی وجہ سے زبردست پُراثر ہیں، لہٰذا قرآنِ پاک میں ان کی اس طرح بے حد تعریف و توصیف ہوئی ہے:
و لو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام و البحر یمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر ما نفدت کلمات اللہ (۳۱: ۲۷) زمین میں جتنے درخت ہیں، اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں، اور سمندر (دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کے کلمات التّامات کی علمی وضاحت ختم نہ ہوگی۔ ان کلماتی خزانوں میں اس قدر بے پایان علم و حکمت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ علمی کائنات کو لپیٹتا بھی ہے اور پھیلاتا بھی ہے، جس طرح ایک آدم سے بے حد و بے حساب انسانوں کو پھیلا دیتا ہے، اور دوسرے آدم میں بصورتِ ذرّاتِ ارواح سمیٹ لیتا ہے۔
۔۵۔ بفضلِ الٰہی ’’تجلّیاتِ حکمت‘‘ کے نام سے یہ ایک کتابچہ آپ کے سامنے ہے، جس میں ’’تصورِ آفرینش‘‘ کی لا ابتدائی و لا انتہائی کے ثبوت میں چالیس دائرہ نما حکمتیں درج کی گئی ہیں، کیونکہ قرآنی آیات ہوں یا آفاق و انفس
۹
کی آیات، ان میں کوئی ایسی آیت نہیں جس میں حکمتِ دائرہ نما کا کوئی اشارہ موجود نہ ہو، پھر یہ قانونِ فطرت کا بہت بڑا راز کیوں نہ ہو کہ ہر چیز پر بتحریرِ الٰہی حکمتِ دائرہ نما نقش ہے۔
۔۶۔ اب یہ سوال برمحل ہے کہ اس کتابچے کے تجلّیاتِ حکمت کن معنوں میں کہا گیا ہے؟ ان شاء اللہ اس کا جواب کافی دلچسپ اور مفید ہوگا، وہ یوں ہے کہ شیخ عطار نے کہا:
چشم بکشا کہ جلوۂ دلدار
متجلیست بر در و دیوار
ترجمہ: آنکھ کھول کہ معشوق (کے حسن و جمال) کا جلوہ درودیوار سے ظہور پذیر ہو رہا ہے۔ وہ اوّل بھی ہے، آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور باطن بھی (۵۷: ۳) لہٰذا وہ لاحدّ ہے، یعنی وہ عالمِ غیب میں محدود نہیں، وہ کہاں نہیں، ہر جگہ موجودوحاضر ہے، وہ گویا دیدار دینے کے لئے منتظر ہے، مگر عاشقوں کی آنکھ کھل جانے میں دیر لگ رہی ہے۔
۔۷۔ محبوبِ جان کی کوئی بھی تجلّی علم وحکمت کے اسرار سے خالی نہیں، کیونکہ تجلّی میں ظہورِ صفات کا تصور ہے، جس کا ادراک عقل ہی بہتر طریقے سے کر سکتی ہے، جیسے تجلّیٔ طور ایک بار مقامِ روح پر ہوئی، اور دوسری بار مرتبۂ عقل پر، دونوں قسم کی تجلّیوں میں علم وحکمت کے خزانے ہیں، یہ سوچنا کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ کوہِ طورِ ظاہر خدا کی تجلّی سے ریزہ ریزہ ہوگیا، حالانکہ آیۂ مصباح (۲۴: ۳۵) کے مطابق اللہ تعالیٰ کائنات
۱۰
کی بلندی و پستی کا نور ہے، جس سے آسمان و زمین کے قیام و بقا وغیرہ کے بے شمار فائدے ہیں، اور نور سے بربادی کے معنی میں کائنات ریزہ ریزہ نہیں ہوتی۔
۔۸۔ ہر بار کسی بڑے عرفانی راز کا منکشف ہوجانا تجلّی اور عقلی دیدار ہے، جس میں بہت سی علمی نعمتیں ہیں، کیونکہ ایک حدیثِ قدسی کے مطابق اللہ گنجِ مخفی ہے، لیکن یہ خزانہ علم و حکمت اور اسرارِ معرفت ہی کا ہے، اور کسی دوسری چیز کا ہرگز نہیں، ہر عارف جب کنزِ مخفی کو حاصل کر لیتا ہے، تو اپنی حقیقت یا انائے عُلوی کو ازلی و ابدی طور پر اس کے ساتھ ایک پاتا ہے۔
۔۹۔ عالمِ عقل کے تمام اسرار دائرہ نما ہیں، جن کے زیرِاثر عالمِ روحانی اور عالمِ جسمانی کی ہر چیز دائرہ نما یا مستدیر ہے، یہی علامت لا ابتدائی و لا انتہائی کی ہے، کیونکہ یہ بات ممکن ہی نہیں کہ پہلے یا بعد میں کبھی خدا کی نعمتیں موجود نہ ہوں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ساری چیزیں ایک طرف خزائنِ الٰہی سے آتی ہیں (۱۵: ۲۱) اور دوسری طرف ان خزانوں میں جاتی ہیں، جس طرح دنیا کے ہر خزانے کا یہی نظام ہوا کرتا ہے، کہ ایک جانب سے سکہ وغیرہ شاہی خزانے میں جمع کیا جاتا ہے، اور دوسری جانب سے خرچ ہوتا ہے، اور یہ ایک ایسا گول سلسلہ ہے جو ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔
۔۱۰۔ حکیم سنائی کا یہ شعر قابلِ توجہ ہے۔
۱۱
بمیر اے دوست پیش ازمرگ اگرعمرِ ابد خواہی
کہ ادریس از چنین مردن بہشتی گشتہ پیش از ما
اے دوست! اگر تو ابدی زندگی چاہتا ہے تو (اضطراری) موت سےپہلے ہی مر جا، کیونکہ حضرتِ ادریس اسی طرح مر کر ہم سے پہلے بہشتی ہو چکا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔
و رفعنٰہ مکانا علیا (۱۹: ۵۷)
اور ہم نے ان (یعنی ادریس) کو اونچی جگہ (بہشتِ روحانیت پر) اٹھا لیا تھا۔
۔۱۱۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ’’القلم ایوارڈ کی دوسری تقریب توقع سے بہت زیادہ کامیاب ہوئی، روزِ جمعہ اپنے دامن میں ہمارے عزیزوں کے لئے بہت ساری برکتیں لے کر آیا تھا، ۲۹ ذوالحج ۱۴۱۴ھ، جون ۱۹۹۴ ء کا بڑا اہم تاریخی دن ہمیشہ یاد رہے گا، اس بابرکت جشن کو سب کے لئے مفید بنانے کی غرض سے جو ایڈوائزری بورڈ قائم ہوا ہے، وہ لائقِ تحسین ہے، ہماری ریجنل برانچ گلگت کے عملداران و ممبران کی بے مثال سوچ، سکیم، وقت کی قربانی اور جانفشانی کی تعریف و توصیف کا حق ادا نہیں ہوسکتا، شمالی علاقہ جات کی تمام نیک بخت روحیں مجھے از حد عزیز ہیں، خصوصاً ہر کامیابی کے موقع پر میں ارضی فرشتوں سے فدا ہو جانا چاہتا ہوں۔
۔۱۲۔ مذکورہ تقریب میں کوئی ایک خوشی نہ تھی، بلکہ خوشیوں اور شادمانیوں کا ایک طوفانی عالم تھا، میں خاص کر اُس وقت روحانی سرور سے مست و
۱۲
مغلوب ہوگیا، اور کپکپی کے زیرِ اثر آنے لگا، جبکہ میری ایک اردو نظم ترنم اور موسیقی کے ساتھ پڑھی جا رہی تھی، لیکن شرم کے مارے بصد کوشش اپنے آپ پر کنٹرول کیا، چونکہ ایک فرد کی خوشی کے مقابلے میں جماعت کی اجتماعی خوشی کا وزن بہت زیادہ ہے، اسی وجہ سے تذکرہ کرتا ہوں کہ شاید ہماری جماعت کی دلجوئی اور تمام اہلِ قلم کی ہمت افزائی کی خاطر اس بندۂ ناچیز کو ایک بہت بڑا ٹائٹل ’’حکیم القلم‘‘ عطا کیا گیا، یہ مہربانی جناب محمود خان صاحب، چیف کمشنر برائے شمالی علاقہ جات گلگت نے کی، ہر چند کہ میں اس قابل نہیں ہوں، لیکن جب رحمتوں کا طوفان آ جائے تو اس کے لئے یہ کہنا غیر ممکن ہے کہ میں تیار نہیں ہوں، مجھ میں ایسی کوئی اہلیت نہیں ہے۔
۔۱۳۔ آج کی یہ قابلِ رشک اور تاریخی کامیابی ہمارے تمام عزیزوں کی مجموعی کوشش کا ثمرہ ہے، کاش وہ سب کے سب اس زبردست خوشی کے موقع پر ہمارے ساتھ ہوتے! میں بڑے شوق سے فرداً فرداً سب کی دست بوسی کرتا! عاجزی سے شکریہ ادا کرتا! اور ہم سب مل کر بارگاہِ الٰہی میں سجدۂ شکرانہ بجا لاتے! کچھ مناجات، گریہ و زاری اور کچھ آنسوؤں کی درفشانی کرتے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
اتوار یکم محرم الحرام ۱۴۱۵ھ، ۱۲ جون ۱۹۹۴ء
۱۳
توصیفِ قلم
۔۱۔ اے قلم! جنبشِ ازل ہے تو
قدرتِ ذاتِ لم یزل ہے تو
۔۲۔ تجھ سے تحریرِ کائنات ہوئی
اے خوشا! حق کی تجھ سے بات ہوئی
۔۳۔ ہے ہمارا قلم تیرا سایہ
اس کو تجھ سے ملا ہے سرمایہ
۔۴۔ وہ قلم اُس جہان میں سلطان ہے
ذاتِ حق کی دلیل و برہان ہے
۔۵۔ یہ قلم بادشاہِ دنیا ہے
جب سے علم وعمل کا چرچا ہے
۔۶۔ اک قلم برفرازِ عرشِ برین
اک قلم بر بسیطِ روئے زمین
۔۷۔ علم کا ایک جہان قلم میں ہے
رازِ کون ومکان قلم میں ہے
۔۸۔ کام میں سر کے بل یہ چلتا ہے
جس سے دنیا زمانہ پلتا ہے
۔۹۔ یہ سیاہی سے روشنی کر دے
دولتِ علم سے غنی کر دے
۔۱۰۔ اس کا قطرہ مثالِ بحرِعمیق
گنجِ گوہر رہا ہے جس میں غریق
۔۱۱۔ اسپِ تازی کہ تیز طوفان ہے
بلکہ یہ اک جہازِ پران
۔۱۲۔ چشمۂ علم و منبعِ حکمت
باعثِ فخر و مایۂ عزت
۔۱۳۔ ارضِ جنّت ہیں اس کے مکتوبات
کیف آور ہیں جس کے مشروبات
۔۱۴۔ چپکے چپکے قلم کلام کرے
ساری دنیا اسے سلام کرے
۔۱۵۔ تو نہ شمشیر ہے نہ شیرِ ببر
پھر بھی طاقت میں تو رہا برتر
۱۴
۔۱۶۔ یہ کتابیں اسی کی پیداوار
جن کی رونق ہے رشکِ باغ و بہار
۔۱۷۔ یہ قلم ہے کہ ہے عصائے کلیم
شر کو نگلے یہ اژدہائے عظیم
۔۱۸۔ ہیں مبارک تمام اہلِ قلم
جن پہ اللہ کا ہوا ہے کرم
۔۱۹۔ خدمتِ قوم ہے رضائے خدا
کام کر کام کر برائے خدا
۔۲۰۔ یہ قلم تیرے پاس امانت ہے
حق ادا گرنہ ہو، خیانت ہے
۔۲۱۔ اے نصیر خامہ بہت پیارا ہے
چونکہ اللہ نے اتارا ہے
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
۲۸ذی الحجہ ۱۴۱۴ھ، ۹ جون ۱۹۹۴ء
۱۵
فہرستِ دائرہ نما حکمتیں
حکمت۔۱: دائمی گردش کا دائرہ۔
حکمت۔۲: ہر چیز کا دائمی سفر گول ہے۔
حکمت۔۳: پانی کا چکر ہر چیز کی گردش کا نمونہ ہے۔
حکمت۔۴: درخت پہلے یا گٹھلی؟
حکمت۔۵: دائرۂ شب و روز۔
حکمت۔۶: نقطے سے کتاب، پھر کتاب سے نقطہ۔
حکمت۔۷: آدمی میں دائرے ہی دائرے۔
حکمت۔۸: گردشِ زمانہ اور مساواتِ رحمانی۔
حکمت۔۹: دائرے ہی پر دائمی ترقی۔
حکمت ۔۱۰: اسرارِ معرفت اور خزائنِ جنّت۔
حکمت۔۱۱:رفیقِ اعلیٰ کا راز۔
حکمت۔۱۲: روحِ مستقر اور روحِ مستودع۔
حکمت۔۱۳: بہشت کے ازلی و ابدی لڑکے۔
حکمت۔۱۴: اصل انسانی روح۔
حکمت۔۱۵: ثمرۂ لا مقطوعہ۔
۱۶
حکمت۔۱۶: مثال اور ممثول۔
حکمت۔۱۷: علمی و عرفانی مربّی۔
حکمت۔۱۸: پردۂ ازل میں اسرار۔
حکمت۔۱۹: کنزِ کل اور اس کا پھیلاؤ۔
حکمت۔۲۰: صورتِ آدم اور صورتِ اہلِ جنّت۔
حکمت۔۲۱: مردۂ زندہ نما اور قطعی مردہ۔
حکمت۔۲۲: حقیقی زندگی / حیاتِ طیبہ۔
حکمت۔۲۳: امامِ مبین / جسمِ لطیف، روحِ اعظم، اور عقلِ کامل۔
حکمت۔۲۴: قلم و لوح دو عظیم فرشتے۔
حکمت۔۲۵: پیراہنِ یوسف سے متعلق ایک سوال۔
حکمت۔۲۶: قرآن میں بہت سی کتابیں۔
حکمت۔۲۷: نفسانی موت کا تجربہ۔
حکمت۔۲۸: قانونِ آفرینش ایک ہی ہے۔
حکمت۔۲۹: کوئی بشر والدین کے بغیر نہیں۔
حکمت۔۳۰: سونے کے کنگنوں کی تاویل۔
حکمت۔۳۱: سفینۂ ظاہر اور سفینۂ باطن۔
حکمت۔۳۲: اہلِ بیت اور سلمان۔
حکمت۔۳۳: امام کا معجزۂ کثرت۔
حکمت۔۳۴: پانچ وسائطِ عُلوی۔
۱۷
حکمت۔۳۵: المؤمن /الامام۔
حکمت۔۳۶: المؤمنون/ الأئمّہ۔
حکمت۔۳۷: قیامتِ صغریٰ / زبردستی دعوت۔
حکمت۔۳۸: قصۂ ذوالقرنین / قصّۂ امام۔
حکمت۔۳۹: دو قسم کے اسمائے الٰہی۔
حکمت۔۴۰: قوانینِ کلّ / ہمہ گیر قوانین۔
۱۸
دائرہ نما حکمتیں
حکمت۔۱: اللہ جلّ جلالہ کی قدرتِ کاملہ کا ایک بہت بڑا راز اس امر میں مخفی ہے کہ اس حکیمِ مطلق اور دانائے برحق نے ہرچیز کو ایک دائمی دائرے پر پیدا کیا، اور گردش دیا (۲۱: ۳۳، ۳۶: ۴۰)۔
حکمت۔۲: آسمان، زمین، سورج، چاند، سیارے، ستارے اور دوسری تمام چیزیں نہ صرف شکل ہی میں مستدیر (گول) ہیں، بلکہ ان کا بے پایان سفر بھی ہمیشہ گول ہے۔
حکمت۔۳: زمین اور سمندر کے گرداگرد کرّۂ ہوا کی حرکت گولائی میں ہے، علی الخصوص اس سلسلے میں پانی کا سائیکل (دور، چکر) قابلِ دید مثال ہے، یقیناً اس میں تمام دور کی مثالوں کی قریبی نمائندگی ہے۔
حکمت ۔۴: درخت پہلے ہے یا گٹھلی ؟ گندم کی ہری فصلیں اوّل ہیں یا بیج؟ مرغی کو اوّلیت حاصل ہے یا انڈے کو؟ انسان مقدم ہے یا نطفۂ امشاج(نطفۂ مخلوط، ۷۶: ۲) ؟ ان سوالات، اور ان جیسے دوسرے بہت سے مسائل کے لئے ایک ہی جواب ہے، وہ یہ کہ ان میں سے ہر دو چیزیں مل کر ایک دائرہ بناتی ہیں، جس میں کلّی طور پر دیکھا جائے تو کوئی تقدیم و
۱۹
تاخیر نہیں ہے۔
حکمت۔۵: سورۂ فرقان کے اس مبارک ارشاد میں غور کیجئے: و ھو الذی جعل اللیل و النھار خلفۃ (۲۵: ۶۲) اللہ وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ یعنی شب و روز میں سے ایک مقرر آگے اور ایک مقرر پیچھے نہیں ہے، بلکہ دونوں برابر برابر آگے پیچھے ہیں، بالفاظِ دیگر ان کا دائرۂ گردش ایسا نہیں، کہ اس کا ایک حصّہ مقدم اور ایک حصہ مؤخر ہو، جب دن رات کا دائرہ ثابت ہوا تو پھر معلوم ہوا کہ وقت سے متعلق ہر چھوٹی بڑی چیز کا دائرہ ہوا کرتا ہے، جیسے سیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، ہفتہ، مہینہ، سال، زمانہ وغیرہ۔
حکمت۔۶: کسی شک کے بغیر سورۂ فاتحہ ام الکتاب یا ام القرآن ہے، جس کا خلاصہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہے، اس کا جوہر اور نقطۂ آغاز نقطۂ بائے بسم ہے، یہ وہ نقطۂ جامعۂ حقائق و معارف ہے جس کے بارے میں مولا علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: میں وہ نقطہ ہوں جو بائے بسم اللہ کے تحت ہے۔ مولائے پاک کے اس مبارک فرمان میں بہت سے اشارے پوشیدہ ہیں، اور ان میں سے چند ہی اشارے یہ ہیں۔
الف:) دائرۂ پرکار نقطۂ مرکز ہی کے سہارے پر بنتا ہے، چنانچہ علی دائرۂ دو جہان کا نقطۂ مرکز ہے۔
ب:) کسی بھی حرف یا تحریر کے سرے پر سب سے پہلے نوکِ قلم سے نقطہ بنتا ہے، جس کی روانی سے حروف و کلمات اور آیات کی ظاہری تحریر
۲۰
ہے، الغرض قرآنِ حکیم کی کوئی آیۂ کریمہ ایسی نہیں، جس میں ظاہراً و باطناً نقطے کی روانی و جلوہ نمائی نہ ہو، یعنی کوئی آیت ایسی نہیں جس کے جز جز میں مولا علیؑ کا ذکرِ جمیل موجود نہ ہو۔
ج:) جس طرح شجر و ثمر کا دائرہ ہوا کرتا ہے، اور جیسے گوہرِعقل اور عالمِ شخصی کا دائرہ ہے، اسی طرح قرآنِ عظیم اور نقطۂ بائے بسم اللہ کا بھی معنوی اور حکمتی دائرہ ہے۔
د:) جسم اور روح کی چھوٹی بڑی چیزیں بے شمار ذرّات کے مجموعے ہوا کرتے ہیں، اور کوئی چیز اس قانون سے باہر نہیں، مثال کے طور پر انسانی بدن پر غور کیجئے، جس میں بے حد و بے حساب زندہ ذرّات ہیں اور ہر ذرّہ بحدِ قوّت ایک جداگانہ عالمِ شخصی اور ایک دائرہ ہے۔
حکمت۔۷: آدمی کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا رکنا، سونا جاگنا، بولنا چپ ہو جانا، رونا ہنسنا، بیماری صحت، بھوک شکم سیری، غصہ حلیمی، سکون بے قراری، سفر حضر، وغیرہ جیسے احوال میں سے ہر دو متضاد حالتیں مل کر ایک دائرے کو تشکیل کرتی ہیں، اس کے علاوہ انسان میں اور بھی دائرہ نما حکمتیں ہیں، مثلاً بدن میں دورانِ خون کا نظام، تنفس کا نظام، حرکتِ قلب کا نظام، پلک جھپکنے کا نظام، وغیرہ، الغرض ان تمام دائرہ نما حکمتوں کا زبانِ حال سے یہ کہنا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بادشاہی کی نہ تو کوئی ابتدائی حد ہے، اور نہ ہی کوئی انتہائی حد، بلکہ وہ ہمیشہ اور قدیم ہے۔
حکمت۔۸: سورۂ آلِ عمران (۳: ۱۴۰) میں ہے: و تلک الایام
۲۱
نداولھا بین الناس = اور یہی زمانہ ہے جس کو ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں (۳: ۱۴۰) اس سماوی تعلیم میں اہلِ بصیرت کے لئے انتہائی دور رس اشارے موجود ہیں۔
حکمت۔۹: اگر انسان لامحدود اور بے انتہا ترقی چاہتا ہے تو وہ ایک ایسے پرحکمت دائرے پر ممکن ہے، جس پر بحیثیتِ مجموعی عارضی مشقت برائے نام اور دائمی راحت بہت زیادہ ہے، کیونکہ آدمی ایک بڑی عجیب وغریب شے ہے کہ اس کی دو انائیں ہیں: ایک ہمیشہ بہشت میں رہنے کے لئے اور ایک دنیا میں آکر واپس جانے کے لئے، اسی وجہ سے حدیثِ قدسی میں خداوندِ عالم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’انسان میرا راز ہے اور میں اس کا راز ہوں‘‘۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انائے عُلوی کو ’’رفیقِ اعلیٰ‘‘ کے نام سے یاد کیا، وہ حدیث اس طرح ہے: اللھم اغفرلی و ارحمنی و الحقنی بالرفیق = اے میرے اللہ ! مجھ کو بخش دے، اور مجھ پر رحم کر اور مجھ کو رفیق (اعلیٰ) سے ملا دے! (صحیح بخاری، جلدِ سوم، کتاب المرضی، حدیث: ۶۳۴)۔
حکمت۔۱۰: ہادیٔ برحق، قائم القیامت علیہ افضل التحیۃ والسّلام کی خصوصی عنایات کا شکر دانشمندوں پر واجب ہے، کہ اُسی مہربان کے نورِ اقدس نے اسرارِ معرفت اور خزائنِ جنّت کی نشاندہی کی، جس کی بدولت جواہرِ حقائق و معارف اس قدرعام ہوگئے کہ اب قدردانی بہت مشکل ہوگئی ہے، اس معنیٰ میں ہم سب قصوروار ہیں، تاہم مایوسی نہیں، اگر
۲۲
توفیق عنایت ہوئی تو ہم اس کے حضور میں خوب آنسو بہائیں گے۔
حکمت۔۱۱: حدیثِ شریف کے حوالے سے ’’رفیقِ اعلیٰ‘‘ کا یہ تصور اور اس کی یہ تاویلی حکمت قیامت خیز انکشاف ہے، اب اس حدیث کے نور کی ضوفشانی سے بہت سے پیچیدہ سوالات خود بخود ختم ہوجاتے ہیں، کیونکہ اگر علم و معرفت کی روشنی میں دیکھا جائے تو آدمی انائے عُلوی سے بہشت ہی میں ہے، اور اکثر سوالات وہ تھے، جو مایوسی سے پیدا ہوئے،یا وہ مسائل نظامِ ہدایت پر اعتراض کی صورت میں تھے، لیکن جب ہوشمند لوگوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس انتہائی عظیم احسان کا علم ہوجائے گا، تو ان کی سوچ سمجھ میں انقلاب آئے گا، اور وہ ضرور اعتراف کریں گے کہ ان کے بہت سے سوالات غلطی پر مبنی تھے، اس لئے وہ ختم ہوگئے۔
حکمت۔۱۲: کاش ہماری جانیں راہِ جانان میں بار بار قربان ہوجائیں! کہ اس نے آدم و آدمی کو روحِ مستقر کی صورت دے کر ہمیشہ کے لئے بہشت میں رکھا، اور ان کی روحِ مستودع کو بشری لباس پہنا کر بطورِ سایہ بار بار دنیا میں بھیجتا رہا (۶: ۹۸) کیونکہ قرآنِ عظیم کا حکیمانہ اشارہ ہے کہ خداوندِ عالم نے انسانوں کے لئے ہر مخلوق کا ایک مفید سایہ بنا دیا ہے (۱۶: ۸۱) چنانچہ آپ کا ظاہری وجود آپ کی ہستیٔ باطن کا سایہ ہے، اور سائے کا بار بار نمودار ہو جانا ایک فطری امر ہے۔
حکمت۔۱۳: بہشتِ برین میں لوگوں کی انائے عُلوی اور روحِ مستقر کی موجودگی کی ایک روشن دلیل حور، غلمان، اور ولدان ہیں (۵۶: ۲۳، ۵۲: ۲۴، ۵۶: ۱۷)
۲۳
یہ لطیف مخلوقات بے شمار خوبیوں کے ساتھ ساتھ جنّت کے زندہ گھروں کی حیثیت بھی رکھتی ہیں، اور وہاں ان کا وجود و قیام ازلی و ابدی ہے، کیونکہ بہشت اور اس کی تمام نعمتیں ازل میں پیدا کی گئی تھیں، جس کی دلیل و شہادت قرآنِ حکیم کی ان پرحکمت کلمات میں موجود ہے۔
الف: یطوف علیہم ولدان مخلدون = ان کی خدمت میں ازلی و ابدی لڑکے چلتے پھرتے ہوں گے (۵۶: ۱۷)
ب: حور مقصورات فی الخیام = خیموں (پردۂ ازل) میں ٹھہرائی ہوئی حوریں (۵۵: ۷۲)
ج: سورۂ واقعہ (۵۶) کی آیاتِ کریمہ ۳۵ تا ۳۸ کا مجموعی مفہوم یہ ہے کہ اصحابِ یمین اور ان کی بیویوں کو جنّت میں بحالتِ لطیف ازلی و ابدی نوجوان، پیکرِ عشق اور ہم عمر بنا دیا جائے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے یہ کام ازل ہی میں کر دیا ہے۔
حکمت۔۱۴: یہ جہان، یہ کائنات، یعنی مکان و زمان گویا ایک قید خانہ ہے، جبکہ لامکان و لازمان (ازل) بہشت کی آزادی ہے، لامکان کا دوسرا نام عالمِ امر ہے، اور انسانی روح عالمِ امر سے آئی ہے (۱۷: ۸۵) جس کا بالائی سرا روحِ مستقر ہے، جس کا اوپر ذکر ہوا، مومن اور مومنہ کی اصل روح جنت میں رحمانی حسن و جمال کا خاص نمونہ ہے، کیونکہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: اے ابنِ آدم ! میری اطاعت کر تاکہ میں تجھ کو اپنی زندہ نورانی کاپی بنا دوں گا۔۔۔۔ پس خدا نے مرتبۂ ازل پر ایسا ہی کیا ہے۔
۲۴
حکمت۔۱۵: ارشادِ خداوندی ہے: و فاکھۃ کثیرۃ لا مقطوعۃ و لا ممنوعۃ = اور کبھی ختم نہ ہونے والے اور بے روک ٹوک ملنے والے پھلوں کی کثرت ہوگی (۵۶: ۳۲ تا ۳۳) بہشت کی نعمتوں کا سلسلہ کسی لمبی لکیر کی طرح ہرگز نہیں، کیونکہ لکیر اپنے دونوں سروں پر مقطوعہ (کٹی ہوئی) ہوتی ہے ۔ جیسے مقطوعہ -مقطوعہ، مگر اس کے برعکس دائرہ لا مقطوعہ ہے، پس بہشت بشمولِ دنیا دائرہ نما ہے، اور دنیا ہی آخرت کی کھیتی باڑی ہے، اس لئے اس کی بہت بڑی اہمیت ہے، آپ ہمیشہ کلی طور پر سوچیں، جزوی سوچ کی عادت ترک کر دیں، یعنی ایسا خیال نہ کریں کہ موت کے بعد اس جہان کی حکمت ختم ہو جائے گی۔
حکمت۔۱۶: قرآنِ پاک کا یہ حکمت آگین قاعدہ و قانون خوب یاد رہے کہ ہر چیز کے ظاہری بیان کے ساتھ ساتھ پوشیدہ پوشیدہ علم و حکمت کا بیان فرمایا گیا ہے، اس میں ظاہر کو مثال اور باطن کو ممثول کہتے ہیں، جیسے ارشاد ہے: و یطوف علیہم غلمان لھم کانھم لو لو مکنون= اور ان کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو انہی (کی خدمت) کے لئے مخصوص ہوں گے، ایسے خوبصورت جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی (۵۲: ۲۴) یطوف= وہ طواف کرتا ہے، گھومتا ہے، یعنی آفتابِ نورِ عقل اپنے طلوع و غروب کی گردش سے اسرارِ ازل و ابد کو ظاہر کرتا ہے، جس کی تمثیل یہاں غلمان سے دی گئی ہے۔
حکمت۔۱۷: یہ ارشاد سورۂ طور میں ہے: متکئین علی
۲۵
سرر مصفوفۃ و زوجنٰھم بحور عین = وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں ان سے بیاہ دیں گے (۵۲: ۲۰)۔ ان میں سے ہر متّقی عالمِ شخصی کے تختِ سلطنت پر جلوہ افروز ہوگا، اور ہم اس کو اہلِ بصیرت کا علمی وعرفانی مرّبی بنائیں گے، حورعین کا اشارہ ہے: اہلِ بصیرت، کیونکہ چشمِ ظاہر چشمِ باطن کی دلیل ہے۔
حکمت۔۱۸: سورۂ رحمان میں ارشاد فرمایا گیا ہے: حور مقصورات فی الخیام = خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں (۵۵: ۷۲) یعنی پردۂ ازل میں رکھے ہوئے اسرار، جن کے جاننے سے بےحد لذّت و شادمانی حاصل ہوتی ہے، کیونکہ جس مقام پر تجدّدِ ازل ہے، اور جہاں اسرارِ ازل ہیں، وہاں حظیرۃ القدس ہے، جس میں دین و دنیا کی تمام لذّتیں اور خوشیاں بصورتِ جوہر جمع اور یکجا ہیں، چونکہ یہ خزانہ دونوں جہان کی کل نعمتوں کا نچوڑ ہے، اس لئے اس کی عمدہ عمدہ مثالیں دی گئی ہیں۔
حکمت۔۱۹: میں نے حال ہی میں ’’جوہرِکائنات‘‘ کے عنوان سے ایک بہت مختصر مقالہ لکھا ہے، آپ اسے غور سے پڑھیں، اللہ تعالیٰ کے جس بزرگ ترین خزانے میں دونوں عالَم کی خوبی، خوبصورتی، حسن، جمال، کمال، قدر، قیمت، روح، عقل، علم، حکمت، نور، ضیاء، لذت، خوشی، اور دیگر تمام نعمتیں یکجا ہوں تو اس کی وضاحت کے لئے بے شمار تشبیہات و تمثیلات کی ضرورت ہے، اور خداوندِ قدوس نے اپنا کام کرکے رکھا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے۔
۲۶
و لقد صرفنا للناس فی ہٰذا القرآن من کل مثل= اور ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں سب مثالیں طرح طرح سے بیان کر دی ہیں (۱۷: ۸۹) یعنی خزانۂ حقائق و معارف ایک ہی ہے، اور اس کی مثالیں بے شمار ہیں۔
حکمت۔۲۰: حدیثِ شریف کا ارشاد ہے: خلق اللہ آدم علیٰ صورتہ= اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السّلام کو اپنی (رحمانی) صورت پر پیدا کیا۔۔۔ فکل من یدخل الجنۃ علیٰ صورۃ آدم = ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہوگا، وہ آدم علیہ السّلام کی صورت پر ہوگا۔ (صحیح بخاری، کتاب الاستئذان، باب ۶۵۸) یہاں چند نکات ہیں۔
نکتۂ اوّل: مذکورہ حدیث اس آیۂ کریمہ کی ایک تفسیر ہے: و لقد خلقنٰکم ثم صورنٰکم ثم قلنا للملٰئکۃ اسجدوا لآدم = اور ہم نے تم کو (جسمانی طور پر) پیدا کیا، پھر تمہاری (روحانی) صورت بنا دی، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے لئے سجدہ کرو (۷: ۱۱) اہلِ دانش کے سامنے یہ ایک تابناک حقیقت ہے کہ کاملین جملہ مدارجِ روحانیت میں حضرتِ آدم کے ہمراہ ہیں۔
نکتۂ دوم: آدم علیہ السّلام جب کامل روحانیت کی بہشت میں داخل ہوگئے تو ان کو رحمانی صورت عطا ہوئی، اس طرح جو شخص اس ابتدائی جنت میں داخل ہوگا، وہ اپنے باپ آدم کی صورت پر ہوگا، اور یہاں یہ اشارہ ہے کہ آدم کے توسط سے ہر مومن بہشت میں رحمانی صورت پر ہوگا۔
نکتۂ سوم: مکمل روحانیت ابتدائی اور جزوی بہشت ہے، مگر
۲۷
کلی بہشت نہیں۔
حکمت۔۲۱: نباتات بمقابلۂ جمادات روحِ نامیہ تو رکھتی ہیں، لیکن روحِ حیوانی سے محروم ہیں، حیوان حس و حرکت سے زندہ کہلاتا ہے، مگر روحِ ناطقہ نہ ہونے کی وجہ سے مردہ ہے، انسان بنسبت حیوان بولنے والی روح سے زندہ ہے، تاہم حیاتِ طیبہ اور روحِ قدسی نہ ہونے کے سبب سے مردہ شمار ہوتا ہے، کیونکہ وہ ابھی فنا فی المرشد نہیں ہوا ہے کہ اس کو روحِ قدسی مل جائے، پس مردے دو قسم کے ہیں: زندہ نما مردے (روحانی مردے) اور جسمانی مردے۔
حکمت۔۲۲: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یایھا الذین اٰمنوا استجیبوا للہ و للرسول اذا دعاکم لما یحییکم = اے لوگو!جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو، جب کہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں (حقیقی) زندگی بخشنے والی ہے (۸: ۲۴) یحییکم کا لفظ بلفظ ترجمہ ہے: وہ تم کو زندہ کرے گا، گویا تم ایک طرح سے مردہ ہو، لیکن ہم کس روح کے نہ ہونے سے مردہ ہیں، حالانکہ انسانی روح تو رکھتے ہیں؟ جواب ملتا ہے کہ ہنوز وہ روح نہیں آئی جو انسانِ کامل میں ہے۔
حکمت۔۲۳: اللہ تعالیٰ نے کائنات و موجودات اور دنیا و آخرت کی تمام لطیف چیزوں کو امامِ مبین میں گھیر لیتا ہے، کیونکہ امام ہی اس کے نورِ اقدس کا گھرہے، چنانچہ دو قسم کے مردوں کوزندہ کر دینے کا خدائی کام اور
۲۸
اعمال و آثار کا ریکارڈ بھی امامِ مبین ہی میں ہوتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: انا نحن نحی الموتی و نکتب ما قدموا و آثارھم و کل شیءٍ احصینٰہ فی امام مبین = یقیناً ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) ان کے نشان پیچھے رہ گئے، ہم ان کو قلمبند کر لیتے ہیں، اور ہم نے ایک ظاہر پیشوا میں تمام چیزیں گھیر کر رکھی ہیں (۳۶: ۱۲) یعنی امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام کے جسمِ لطیف، روحِ اعظم، اور عقلِ کامل کے احاطے سے کوئی لطیف شے باہر نہیں۔
حکمت۔۲۴: قلمِ الٰہی سے ایک عظیم فرشتہ مراد ہے، جس کا نام عقلِ کلّ ہے، اور لوحِ محفوظ دوسرا عظیم فرشتہ ہے، جس کو نفسِ کلّ کہا جاتا ہے، اور یہی دونوں فرشتے حضرت امامِ زمان علیہ السّلام کی عقلِ کامل اور روحِ اعظم ہیں، یہی نورِ واحد ہے، جو ہمیشہ عالمِ بالا میں قلم ولوح کا کام کر رہا ہے، اور قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ کا کمال یہ ہے کہ ہر عارف کے عالمِ شخصی میں نورِ امامت کے باطنی معجزات سب کے سب عملاً دکھائے جاتے ہیں، تا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی روحانی نعمتوں کا سلسلہ جاری و ساری رہے۔
حکمت۔۲۵: گذشتہ علمی مجلس میں ہمارے گلگت کے جانی عزیزوں نے چند منتخب سوالات کئے، ان میں سے ایک یہ سوال ایسا تھا، جس پر مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت تھی، سوال یہ ہے: بحوالۂ قصۂ قرآن (۱۲: ۲۱ تا ۲۹) حضرت یوسف علیہ السلام کا قمیض پیچھے سے پھٹ گیا تھا۔
۲۹
اس کی ظاہری وجہ تو سب کو معلوم ہے، لیکن ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کی باطنی حکمت کیا ہے؟
جواب: اس واقعہ کی تاویل کچھ یوں ہے کہ روحانی معشوق جو دونوں جہان کے حسینوں کا شاہنشاہ ہے، جو ہمارا جانان اور سب کا سلطان ہے، وہ ہمارے اور آپ کے عشق سے بے نیاز ہے، نیازمند ہم ہی ہیں، وہ نہیں، لہٰذا ہم اس کو ذکر کے محل میں روک لینا چاہتے ہیں لیکن وہ رکتا نہیں، تاہم ایک نہ ایک دن اس کا دامنِ اقدس آگے سے نہیں پیچھے سے ہاتھ آتا ہے، اور ہمارے واپس لانے کی کوشش اور اس کے بھاگ جانے کے قصد کی کشاکش سے کرتۂ لطیف پیچھے سے پھٹ جاتا ہے، یہ ایک روشن دلیل ہے کہ سازِ عشق کو ہم نے چھیڑا تھا، ہم ہی وہ عشق کے غریب لوگ تھے، جو مل کر رویا کرتے تھے، تب بھی وہ متوجہ نہیں ہو رہا تھا، تاہم خدا کا شکر ہے کہ عشاق منازلِ امتحان سے آگے گئے، اور وہ کامیاب و کامران ہو گئے، اب بحمداللہ ثمرۂ عشق مل گیا، وہ بھی عجیب طرح سے کہ جس بے مثال و لازوال حسن و جمال کے خزانے کے لئے ہم مر رہے تھے، وہ واللہ! ہماری اپنی ہی روح کی روح (جانِ جان) اور انائے عُلوی ہے، ہم اب بھی روتے ہیں، کیونکہ بے پناہ خوشیوں کو ہضم کر لینے کا شاید یہی طریقہ بہتر ہے، الحمد للہ ربِّ العالمین۔
حکمت۔۲۶: اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآنِ حکیم کی ساری آیات یا بعض آیات ذیلی کتب (۹۸: ۳) کا حکم رکھتی ہیں، تاہم اس بندۂ ناچیز
۳۰
کی بہت محدود رسائی کے مطابق قرآنِ عظیم کے باطنی اور ظاہری معجزات ہوتے رہے، منجملہ ایک آیۂ کریمہ ایسی ہے کہ ہر بار اس کی ایک نئی حکمت دل و دماغ کو چھو کرگئی، جس سے مجھے بے حد حیرت ہوتی رہی، وہ آیۂ مبارکہ یہ ہے۔
خلق الانسان من عجل ساوریکم اٰیٰتی فلا تستعجلون (۲۱: ۲۷)۔ اس کی ایک مثالی حکمت: انسانِ خاص کو ذکرِ سریع سے پیدا کیا گیا ہے، میں تمہیں عنقریب عالمِ بالا اور مقامِ عقل کے خزائن کھول کر دکھا دوں گا، تا کہ تمہیں اس سے حظیرۃ القدس کی جنت و راحت نصیب ہو، اور تم آرام و سکون سے رہ سکو۔
حکمت۔۲۷: قرآنِ حکیم آسمانی اور خدائی حکمت کی کتاب ہے، اس لئے اس میں جو جو احکام ظاہر ہیں، وہ عوام و خواص سب کے لئے ہیں، لیکن جو احکام حکمتی اشارات میں پوشیدہ ہیں، وہ صرف خواص ہی کے لئے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے: لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا = خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا (۲: ۲۸۶) چنانچہ اہلِ طریقت اور اہلِ حقیقت کے لئے قرآنِ پاک کا یہ اشارہ ہے کہ وہ جسمانی موت سے پہلے ہی نفسانی موت کا تجربہ کرکے علم و معرفت کی غیر فانی دولت سے مالامال ہو جائیں۔
یہ ایسی چند آیاتِ مبارکہ کے حوالہ جات ہیں، جن میں نفسانی موت کا اشاراتی حکم موجود ہے۔
الف:) فاقتلوا انفسکم (۲: ۵۴) تم اپنے اپنے نفسِ امّارہ کو قتل کرو۔
۳۱
ب:) پھر نفسانی موت کے بعد ہم نے تم کو از سرِ نو زندہ کر دیا تا کہ تم احسان مانو (۲: ۵۶)۔
ج:) ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ (۲: ۶۷) اللہ تم کو حکم دیتا ہے، کہ ایک بیل ذبح کرو۔ یعنی نفسِ حیوانی کی قربانی کرو۔
د:) فتمنوا الموت ان کنتم صٰدقین (۲: ۹۴) پس اگر تم سچے ہو تو (عملاً) موت کی آرزو کرو، یعنی نفسانی موت سے یہ ثابت کرو کہ تم سب سے پہلے بہشت میں داخل ہوچکے ہو۔
حکمت۔۲۸: قرآنِ مقدس کے بنیادی اور بڑے اہم موضوعات میں سے ایک سنتِ الٰہی کا موضوع ہے، جس کو خصوصی توجہ اور گہری نظر سے پڑھنے کی ضرورت ہے، تا کہ اس کی روشنی میں عامۃ الناس کا یہ بڑا پیچیدہ مسئلہ خود بخود حل ہوسکے کہ آیا حضرتِ آدمؑ، حضرتِ عیسیٰؑ، دوسرے انبیاء، اور سب انسان ایک ہی قانونِ فطرت کے مطابق پیدا کئے گئے ہیں یا پیدائش کے الگ الگ طریقے مقرر ہیں؟ لیکن حقیقت میں پیدائش کا ایک ہی طریقہ ہے، کیونکہ اللہ کی ایک ہی سنت ہے، اور ایک ہی قانونِ فطرت، جیسا کہ فرمایا گیا ہے:
فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللہ ذالک الدین القیم (۳۰: ۳۰) مفہوم: خدا کی فطرت یعنی قانونِ آفرینش وہی ہے، جس پر لوگوں کو پیدا کرتا رہا ہے (ایسا کوئی زمانہ نہ تھا اور نہ کبھی ہوگا، جس میں خدا کی ایسی مخلوق نہ ہو) اللہ کی آفرینش میں کوئی تبدیلی نہیں (اور نہ اس کی سنت میں کوئی تبدیلی ہے) اور یہی ہمیشہ قائم رہنے
۳۲
والا دین اور اس کے ماننے والے لوگ ہیں۔
حکمت۔۲۹: سورۂ دہر (۷۶: ۲) میں ارشاد ہے: انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج = ہم نے (ہر) انسان کو نطفۂ مخلوط سے پیدا کیا ہے۔ یہ ایک کلی قانون ہے، جس سے کوئی فردِ بشر مستثناء نہیں ہوسکتا، چاہے حضرت آدم ہو یا حضرت عیسیٰ، یا کوئی ایسا بشر جو جثۂ ابداعیہ میں زمین پر اترا ہو، کیونکہ سوائے اللہ کے کوئی بھی ماں باپ کے بغیر نہیں، آپ ہر چیز کو حکمتِ دائرہ نما کی روشنی میں دیکھیں۔
حکمت۔۳۰: قرآنِ مجید کے چار مقام (۱۸: ۳۱، ۲۲: ۲۳، ۳۵: ۳۳، ۷۶: ۲۱) پر یہ ذکر آیا ہے کہ نیکوکاروں کو بہشت میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے، کنگن کلائی کا ایک زیور ہے، جس کو عربی میں اساور (واحد: سوار) فارسی میں دستینہ، اور انگریزی میں BANGLE کہتے ہیں، جاننا چاہئے کہ یہ حکمتِ دائرہ نما کی ایک مثال ہے، جو کون و مکان کے تمام اسرار کو گھیر لیتی ہے، ورنہ عقل و جان کی بہشتِ برین میں سونے کے کنگن کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے، جیسا کہ سورۂ حج کا یہ ارشاد ہے:
یحلون فیھا من اساور من ذھب و لولوا و لباسھم فیھا حریر (۲۲: ۲۳) وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کئے جائیں گے، اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔ یعنی ان کو ایسا علم و حکمت عطا ہو گا، جو دائرہ نما اور مستدیر (گول) ہے جس کی نہ کوئی ابتداء ہے، اور نہ کوئی انتہا، اور لولو گوہرِعقل ہے، جو ازلی و ابدی
۳۳
بھیدوں کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے، اور ریشمی لباس سے جثۂ ابداعیہ مراد ہے، جس طرح پوشاک میں سب سے عمدہ اور سب سے نفیس ریشمی لباس ہی ہوتا ہے، اسی طرح تمام اجسام میں سے اعلیٰ و افضل جسمِ لطیف (جثۂ ابداعیہ) ہے۔
حکمت۔۳۱: یہ ارشاد سورۂ یاسین (۳۶: ۴۱ تا ۴۲) میں ہے: و اٰیۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون و خلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون = اور ان کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے ان کی ذرّیت (ذرّاتِ ارواح) کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا، اور پھر ان کے لئے ویسی ہی کشتیاں اور پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں (۳۶: ۴۱ تا ۴۲)۔
حضرت نوح علیہ السّلام کی دو بھری ہوئی کشتیاں تھیں، ایک ظاہری اور دوسری باطنی، باطنی کشتی سے امامِ وقت علیہ السّلام کی بابرکت ہستی مراد ہے، اور امامِ برحق ہر زمانے میں موجود ہوتا ہے، جیسے مذکورہ آیۂ کریمہ میں ارشاد ہے: کہ کشتیٔ نوحؑ کے بعد بھی خداوندِ قدوس نے ویسی ہی کشتیاں پیدا کی ہیں، یعنی کشتیٔ امامت جو کشتیٔ نجات ہے، اس سے کبھی دنیا خالی نہیں ہو سکتی، جیسے حدیثِ شریف میں ہے:
منزلۃ اہل بیتی فیکم کسفینۃ نوح، من رکبھا نجا و من تخلف عنھا غرق = تمہارے درمیان میرے اہلِ بیت کا مقام کشتیٔ نوحؑ کی طرح ہے، جو اس میں سوار ہوا اُس کو نجات مل گئی، اور جس نے
۳۴
اس سے مخالفت کی وہ غرق ہو گیا۔
حکمت۔۳۲: اللہ جل جلالہ اپنے خلیل حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کے بارے میں حکایۃً فرماتا ہے: فمن تبعنی فانہ منی (۱۴: ۳۶) پس جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے ۔ یعنی میرا روحانی فرزند ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سلمان فارسی کے بارے میں ارشاد فرمایا: سلمان منا اہل البیت = سلمان، ہم اہلِ بیت میں سے ہے۔ اور حضرت امام جعفر الصادق علیہ السّلام نے اپنے بعض دوست داروں سے فرمایا: انتم منا اہل البیت= تم ہم اہلِ بیت میں سے ہیں۔ آپ بھول نہ جائیں کہ ایسی بے مثال اور اعلیٰ ترین روحانی ترقی کا وسیلہ اطاعت و محبت ہی ہے۔
حضرتِ مولا علی صلوات اللہ علیہ نے سلمان کے بارے میں فرمایا: علم العلم الاول و العلم الآخر، و ھو بحر لا ینزف = (سلمان) علمِ اوّل اور علمِ آخر کا منارہ اور نشان ہے، اور وہ ایک ایسا سمندر ہے جو (استعمال کرنے سے) کبھی ختم نہیں ہوتا۔ (کتاب المجالس و المسایرات، ص۵۶، از سیدنا قاضی نعمان)۔
حکمت۔۳۳: انسانِ کامل کا عالمِ شخصی ربّانی علم و حکمت کے عجائب و غرائب اور تمام معجزات کا کارخانہ ہوا کرتا ہے، منجملہ ایک بہت بڑا معجزہ یہ بھی ہے کہ خداوندِ عالم شخصِ کامل کی ہستی کے سانچے میں ڈھال ڈھال کر فرشتے بنا دیتا ہے، یہ فرشتے اس عظیم المرتبت انسان کی کاپیاں بھی
۳۵
ہیں، یہ معجزہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام اپنے وقت میں طیر (پرند) کی مثال پر کرتے تھے (۳: ۴۹، ۵: ۱۱۰) حضرت موسیٰ اور حضرتِ ہارون علیہما السّلام کے نزدیک یہ رحمتِ الٰہی مومنین کو ملوک و سلاطین بنانے کے لئے ہے (۵: ۲۰) اور اللہ تعالیٰ کا یہ سب سے بڑا انعام ہر زمانے میں ممکن ہے۔
حکمت۔۳۴: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اننی اخذ الوحی عن جبریل، و جبریل یاخذہ عن میکائیل، و میکائیل یاخذہ عن اسرافیل و اسرافیل یاخذہ عن اللوح و اللوح یاخذہ عن القلم= یقیناً میں وحی جبرائیل سے حاصل کر لیتا ہوں، جبرائیل میکائیل سے لیتا ہے، میکائیل اسرافیل سے لیتا ہے، اسرافیل لوحِ محفوظ سے لیتا ہے، لوحِ محفوظ قلم سے لیتی ہے۔ پس اسی طرح پانچ حدودِعلوی سے ناطقوں کو تائید حاصل ہوتی ہے، جن کا ذکر ہوا، پھر نطقاء اور مستجبین کے درمیان علم و ہدایت کے لئے پانچ حدودِ سفلی ہیں: اساسان، امامان، حجتان، نقیبان (صاحبانِ جزائر) اور داعیان (اجنحہ)۔ (کتاب اساس التاویل، ص ۷۰)۔
حکمت۔۳۵: مذکورہ کتاب کے ص ۳۴۱ پر یہ حدیث اور اس کی مختصر تاویل اس طرح درج ہے: اتقوا فراسۃ المومن فانہ ینظر بنور اللہ، یعنی الامام = مومن کی فراست سے ڈرتے رہو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا رہتا ہے، یعنی امام کی فراست سے (جامعِ ترمذی، جلدِ دوم، تفسیر سورۂ حجر)۔
یقیناً یہاں مومن سے امامِ عالی مقام ہی مراد ہے، کیونکہ وہ امیر المومنین ہے
۳۶
اس لئے زمانے میں اوّل المومنین وہی ہے، اور نورِ الٰہی کا حامل بھی وہی ہے، اس کے برعکس ہر عام مومن یہ سوچ بھی نہیں سکتا، کہ وہ خدا کے نور کی روشنی میں دیکھتا ہے، سمجھنے والوں کے لئے اس حدیثِ شریف کا پہلا اشارہ ہی کافی ہے کہ جن کو ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے، وہ الگ ہیں اور زیادہ، اور جس کی فراست سے ڈرنا چاہئے، وہ الگ ہے اور صرف ایک، ہوشمندوں کے لئے اتنا کہنا کافی ہے۔
حکمت۔۳۶: سورۂ توبہ (۹: ۱۰۵) میں ارشاد ہے: و قل اعملوا فسیری اللہ عملکم و رسولہ والمومنون = اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ، خدا اور اس کا رسول اور مومنین تمہارے اعمال کو دیکھ لیں گے۔ بقولِ حضرتِ امام جعفر الصادق علیہ السلام یہاں مومنون سے حضراتِ أئمّہ علیہم السّلام مراد ہیں (ملاحظہ ہو: کتاب دعائم الاسلام، عربی، جلد اوّل، ص ۲۱)۔
قولہ تعالیٰ : یایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصٰدقین (۹: ۱۱۹)۔ اے ایمان والو! خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ اس قرآنی تعلیم کو غور سے دیکھ لیں، ایک طرف وہ سارے لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور دوسری طرف صادقین، یعنی أئمّۂ آلِ محمدؐ ہیں، ایسے میں قرآنِ پاک کا حکم ہے کہ اہلِ ایمان اللہ سے ڈرتے ہوئے سچوں کی پیروی کریں، اور علم و عمل میں ان کے ساتھ ہو جائیں۔
۳۷
حکمت۔۳۷: حدیثِ نبوی ہے: الخلق کلھم عیال اللہ فاحبھم الی اللہ انفعھم لعیالہ= مخلوق سب کی سب (گویا) اللہ کا کنبہ ہے، لہٰذا جو اس کے کنبے کو زیادہ فائدہ پہنچائے گا، وہی اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہو گا۔ (مجمع البحرین، ص ۷۰، بحوالۂ طبرانی و بیہقی)۔
جب حضرتِ ربّ العالمین اہلِ زمانہ کو ان کے امامِ وقت کے ساتھ بلا لیتا ہے تو اسی دوران اُن سب کو دوزخِ جہالت سے نجات مل جاتی ہے، کیونکہ یہ واقعہ: یوم ندعوا کل اناس بامامھم (جس دن ہم اہلِ زمانہ کو ان کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے) قیامتِ صغریٰ بھی ہے، اور دینِ حق کی طرف زبردستی دعوت بھی (۱۷: ۷۱) دنیا بھر میں جو عیال اللہ ہے، اس کے حق میں اس سے بڑا مفید کام کوئی اور ہرگز نہیں کر سکتا۔
حکمت۔۳۸: روی عن رسول اللہ (ص) انہ قال لعلی (ع): انت ربان ہٰذہ الامۃ، و ذوقرینھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے حضرت مولا علیؑ سے فرمایا: تم اس امت کا مرّبی ہو، اور اس کا ذوالقرنین ہو۔ (المجالس المویدیہ، المائۃ الاولی، ص ۳۳۵) آپ سب اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ ہر وہ آیۂ کریمہ اور ہر ایسی حدیثِ صحیحہ جو مولاعلی علیہ السّلام کی شان میں وارد ہوئی ہے، وہ ہر زمانے کے امام سے متعلق ہے، کیونکہ نورِعلی جو خدا و رسول کا نور ہے، وہ امامت کے پاک سلسلے میں جاری و ساری رہا ہے، جس سے لوگوں کی روحانی وعقلانی پرورش ہوتی رہتی ہے، اور
۳۸
یہ مرّبی جو اللہ و رسول کی جانب سے مقرر ہوا، وہ ہمیشہ دنیا میں موجود ہے۔
حکمت۔۳۹: مذکورہ کتاب کے صفحہ ۲۱۲ پر ہے: خدا کے اسماء دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک قسم کے اسماء وہ ہیں، جو ملفوظ اور حروفِ تہجی سے مرکب ہوتے ہیں، جن کو کوئی کاتب لکھتا ہے، اور کبھی کبھار کسی وجہ سے مٹاتا بھی ہے، اور دوسرے اسماء زندہ، گویندہ، دانا اور اشرف ہوا کرتے ہیں، جیسے انبیاء، اوصیاء، اور أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام ہیں، جو بیرق و نشانِ آخرت، دلائلِ توحید، اور عبد و معبود کے درمیان وسیلہ اور واسطہ ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہ اسماء الحسنیٰ (۷: ۱۸۰، ۱۷: ۱۱۰، ۲۰: ۸، ۵۹: ۲۴) کیسی کیسی بے شمار برکتوں کے خزانے ہیں! ان میں کتنی عجیب و غریب روح پرور اور ایمان افروز روشنیاں ہیں! پس کوئی شک ہی نہیں کہ خدائے رحمان و رحیم کا اسمِ اکبر، اسمِ اعظم، سب سے بڑا نام، اور نقشِ مکرم امامِ زمان صلواۃ اللہ علیہ و سلامہ ہے، الحمد للہ۔
حکمت۔۴۰: قرآنِ کریم کی جتنی آیاتِ مبارکہ ’’کُلّ‘‘ کے عنوان کے تحت وارد ہوئی ہیں، وہ یقیناً کلّیات (ہمہ گیر قوانین) ہیں، ان میں بار بار غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، جیسے ارشاد ہے: کل شیءٍ ہالک الا وجھہ لہ الحکم و الیہ ترجعون (۲۸: ۸۸) اس کے (پاک) چہرے کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے، اسی کا امر ہے، اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔
۳۹
آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ ہلاکت و فنائیت ایسی ہرگز نہیں، جس کو عدمِ محض کہا جائے، بلکہ یہ اشیائے کائنات کو دستِ قدرت سے لپیٹ لینے کے معنی میں ہے، ایسے میں ہر شیٔ وجہ اللہ کے سامنے غیر شعوری طور پر فنا ہو جاتی ہے، مگر صرف عارف ہی ہے، جو شعوری اور عرفانی طور پر فنا فی اللہ کی سب سے بڑی سعادت حاصل کر لیتا ہے، عزیز دوستو! آؤ، ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ ہمیں توفیق و ہمت عطا فرمائے! تاکہ ہم قرآنِ عظیم کی کچھ خدمت کر سکیں، آمین!
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
پیر، ۲۵ ذوالحج ۱۴۱۴ھ، ۶ جون ۱۹۹۴ء
۴۰
قیامت اور معرفت
س۔۱: اے نورِعینِ من! مجھے اس کا جواب دو کہ اللہ تعالیٰ نے جنّ و انس کو کس مقصدِ عالی کے پیشِ نظر پیدا کیا؟
ج: حق سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کے لئے۔
س۔۲: اے عزیز! کیا تم یہ بتاسکتے ہو کہ حقیقی عبادت کے لئے سب سے ضروری شرط کون سی ہے؟
ج: جی ہاں! عرض کرتا ہوں کہ قابلِ قبول عبادت کی سب سے اہم شرط یقین یعنی معرفت ہے، جیسا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: لا عمل الا بنیۃ و لا عبادۃ الا بیقین، و لا کرم الا بالتقویٰ = نیت کے بغیر کوئی عمل نہیں، اور یقین (معرفت) کے بغیر کوئی عبادت نہیں، اور تقویٰ کے بغیر کوئی بزرگی نہیں۔ (دعائم الاسلام، جلد اوّل، عربی ص ۱۰۵)۔
س۔۳: اے نورِ چشمِ من! معرفت جو یقین کے معنی میں ہے۔ اس کے کتنے درجے ہیں؟ اور وہ درجات کن ناموں سے مشہور ہیں؟
ج: یقین کے تین درجے ہیں: علم الیقین، عین الیقین، اور حق الیقین ۔
۴۱
س۔۴: اے عزیزانِ من! اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ زمانی اعتبار سے ہر مومن اور مومنہ کے لئے معرفت پہلے آتی ہے یا قیامت؟
ج: ایک معرفت قبل از انفرادی قیامت ہے، دوسری معرفت قیامت کے ساتھ ساتھ ہے، اور تیسری قیامت کے بعد ہے، یعنی علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین۔
س۔۵: اے میرے دل کے عزیزان ! آپ یہ سمجھائیں کہ انفرادی قیامت یا قیامتِ صغریٰ کب واقع ہوتی ہے؟ اس میں اور قیامتِ کبریٰ میں کیا فرق ہوتا ہے؟
ج: جو شخص اسمِ اعظم کی خصوصی عبادت و ریاضت کے ذریعہ سے قبل از جسمانی موت نفسانی طور پر مرجاتا ہے، اس کی قیامت برپا ہو جاتی ہے، جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے: من مات فقد قامت قیامتہ = جو کوئی مرتا ہے، اس کی قیامت برپا ہو جاتی ہے (احیاء ُ العلوم، جلدِ چہارم، ص ۱۰۶) قیامتِ صغریٰ ہر امام کے زمانے میں ہوتی ہے (۱۷: ۷۱) اور قیامتِ کبریٰ حضرتِ قائم کے زمانے میں، تاہم روحانی اور باطنی طور پر ہر قیامت ایک جیسی ہوا کرتی ہے۔
س۔۶: اے نورِ نظر! تم قرآنِ پاک کی روشنی میں یہ تو بتاؤ کہ لفظِ یقین کس طرح معرفت کا ہم معنی (مترادف) ہو سکتا ہے؟
ج: ارشاد ہے: و کذالک نری ابراہیم ملکوت السمٰوٰت
۴۲
و الارض و لیکون من الموقنین (۶: ۷۵)۔ اور ہم اسی طرح ابراہیم کو زمین اور آسمانوں کا نظامِ سلطنت دکھاتے تھے، تاکہ وہ یقین کرنے والوں (اہلِ معرفت) میں سے ہو جائے۔
س۔۷: اے دوستانِ عزیز! کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ کن کن اسرارِ خفی کی معرفت ممکن ہے؟ اور وہ اشیاء کون سی ہیں جن کی معرفت غیر ممکن ہے؟
ج: جب حضرتِ ربّ کی معرفت ممکن ہے تو پھر ہر عظیم شے کی معرفت ممکن ہے، مثلاً عرش و کرسی، لوح و قلم، بہشت و دوزخ، کتبِ سماوی، ملائکہ، انبیاء و اولیاء (أئمّہ)، ارواح، وغیرہ۔
س۔۸: عزیز ساتھیو! آپ میں سے کوئی سینیر یہ بتائے کہ ہر عظیم شیٔ کا مشاہدۂ باطن کس طرح ممکن ہو جاتا ہے؟
ج: جیسا کہ حدیثِ قدسیٔ نوافل کا ارشاد ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندۂ خاص کی آنکھ ہوجاتا ہے جس سے وہ مراحلِ روحانی اور مقاماتِ عقلانی کے حقائق و معارف کو دیکھتا ہے، اور یقیناً ایسی آنکھ جس میں خدا کا نور کام کر رہا ہو، اسرارِ ازل و ابد کو لوحِ محفوظ میں دیکھ سکتی ہے۔
س۔۹: اے برادران و خواہرانِ روحانی! خوش بختی سے آپ پر اسرارِ امامت منکشف ہو گئے ہیں، لہٰذا آپ میں سے کوئی عزیز یہ بتائیں کہ امامِ مبین کا نورِ اقدس جو زندہ و گویندہ لوحِ محفوظ
۴۳
ہے، اس میں قرآنِ کریم اور ہر چیز کس طرح محفوظ ہے؟
ج: (الف) قرآن ظاہراً ایک کتاب اور باطناً ایک نور ہے، وہ نور باطن میں نورِ امامت کے ساتھ ایک ہے۔
(ب) امامِ اقدس و اطہر کی عقل و جان عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ کے نام سے دو انتہائی عظیم فرشتے ہیں، اور یہی قلمِ الٰہی اور لوحِ محفوظ بھی ہیں، چنانچہ ان میں قرآن اور ہر چیز اپنی ازلی صورت و حرکت کے ساتھ موجود و محفوظ ہے۔
(ج) عالمِ بالا کا دوسرا نام لامکان ہے، وہ اس مادّی کائنات کے برعکس ہے، اس میں ماضی بھی نہیں، مستقبل بھی نہیں، صرف حال ہی حال ہے، کیونکہ وہاں زمانِ ناگزرندہ (دہر) ہے، جس میں تمام ازلی وعقلی چیزوں کا تجدّد ہوتا رہتا ہے۔
س۔۱۰: اے میرے بہت ہی عزیز روحانی بھائیو اور بہنو! کیا آپ اس حقیقت کی کوئی روشن دلیل پیش کرسکتے ہیں کہ قرآن اور امام کے نورِواحد کا باطنی دیدار ممکن ہے، اور اس کے اسرارِ ازل کا مشاہدہ ہوسکتا ہے؟
ج: جی ہاں، ان شاء اللہ، سورۂ نمل کا پرحکمت خاتمہ اس طرح ہے: و قل الحمد للہ سیریکم اٰیٰتہ فتعرفونھا (۲۷: ۹۳) ان سے کہو، تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا، اور تم انہیں پہچان لوگے۔ یعنی
۴۴
عقلِ کلّ (الحمد = حمد) اللہ ہی کا ہے، وہ تمہیں اسی مرتبۂ عقل پر اپنی آیات (قلم، لوح، قرآن، وغیرہ) دکھا دے گا، اور تم ان کی روحانی اور عقلی معرفت حاصل کرو گے۔ آفاق و انفس کی تمام آیات (معجزات = نشانیاں، ۴۱: ۵۳) جو حصولِ معرفت کے لئے ضروری ہیں، وہ سب کی سب قرآن اور امام کے نورِ واحد میں محدود و مرکوز ہیں (۳۶: ۱۲)۔
س۔۱۱: اے برادران و خواہرانِ ایمانی ! آپ کو اس حقیقت کا علم ہے کہ حضرتِ مولا علی علیہ السّلام کی علمی فضیلت و برتری تقریباً سب مسلمانوں کے نزدیک مسلّمہ ہے، لہٰذا آپ ان کے اس منظوم کلام سے کوئی حکمت بیان کریں: و تحسب انک جرم صغیر + و فیک النطوی العالم الاکبر = اور تو خیال کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے، حالانکہ تجھ میں عالمِ اکبر لپٹا ہوا ہے۔ و انت الکتاب المبین الذی + باحرفہ یظھر المضمر = اور تو وہ کتابِ مبین ہے جس کے حرفوں سے پوشیدہ راز ظاہر ہوتے ہیں۔
ج: اگرچہ بنظرِ ظاہر یہ بیرونی کائنات عالمِ اکبر ہے، اور انسان عالمِ اصغر، لیکن حقیقت میں آدمی خود عالمِ اکبر ہے، کیونکہ آسمانوں اور زمین کو عالمِ شخصی میں لپیٹ لیا جاتا ہے، جیسے قرآنِ حکیم میں اس کا ذکر آیا ہے (۲۱: ۱۰۴، ۳۹: ۶۷) اور یہ سب سے بڑا معجزہ اُس وقت ہوجاتا ہے، جبکہ مومنِ سالک امامِ برحق علیہ السّلام میں فنا ہو جاتا ہے، اسی حال میں مومنین و مومنات کو نور حاصل ہو جاتا ہے (۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹، ۶۶: ۸)
۴۵
اور وہ بولنے والی کتاب ہو جاتے ہیں، جس میں اسرارِ معرفت ہیں۔
س۔۱۲: اے طالبانِ حقیقت! حضرت امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام جو کتابِ مبین کے لئے نور و معلم بھی ہے (۵: ۱۵) اور قرآنِ ناطق بھی — بھی (۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹) اس سے بھرپور علمی و عرفانی فائدہ اٹھانے کے لئے کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟
ج: مکمل اطاعت و فرمانبرداری اور کامل محبت و عشق کے ذریعہ سے امامِ عالی مقام میں فنا ہو جانا، تا کہ قیامتِ صغریٰ برپا ہوجائے، اور مولائے پاک کا مقدّس نور کتابِ ناطق اور نامۂ اعمال کے طور پر کام کرے، یہ سب کچھ اسی زندگی میں ممکن ہے، تا کہ مومنین و مومنات کے لئے علم و معرفت کی لازوال دولت مہیا ہوسکے۔
س۔۱۳: میرے بہت ہی عزیز دیندار بھائیو اور بہنو! آپ اور تمام اہلِ ایمان پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کا درود نازل ہو! (۳۳: ۴۳) آپ یہ بتائیں، کہ ایسے درود کا نتیجہ و ثمرہ کیا ہے؟ اور وہ عظیم فرشتے کون ہیں جو ایمان والوں پر درود بھیجتے ہیں؟
ج: چونکہ یہ درود اہلِ ایمان کو جہالت و نادانی کی تاریکیوں سے نورِعقل کی طرف لانے کے لئے ہے، اس لئے یہ کہنا حقیقت ہے کہ درود کا میوۂ روح پرور علم و حکمت ہی ہے، اور خداوندِ بزرگ و برتر کے بعد صلوٰۃ بھیجنے والے فرشتے آسمان پر عقلِ کلّ
۴۶
اور نفسِ کلّ ہیں، اور زمین پر ناطق و اساس، جن میں دوسرے تمام آسمانی اور زمینی فرشتے جمع ہیں، پس امامِ زمان جو دعائے برکات فرماتے ہیں، وہ حقیقت میں درود ہے، جس کا ذکر سورۂ احزاب (۳۳: ۴۳) میں ہے۔
س۔۱۴: اے برادران و خواہرانِ حقیقی! روح ہر جا حاضر ہے، یعنی کائنات بھر میں موجود ہے اور آپ بھی بتائیں کہ روح کے اعلیٰ سے اعلیٰ اوصاف کیا ہیں؟
ج: انسانی روح نورِ الٰہی کا عکس ہے، جیسے آئینے میں آفتاب کا عکس ہوتا ہے، وہ ظلِّ الٰہی ہے، وہ کنزِ مخفی ہے، وہ مونوریالٹی ہے، وہ حقیقتِ حقائق ہے، وہ نفسِ واحدہ اور نفسِ کلّ ہے، وہ جانِ جان اور جانان ہے، وہ مولا ہے، اور مولا ہی ہماری آخری اور اصل روح ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
گلگت
۱۲ ذی الحجہ ۱۴۱۴ھ، ۲۴ مئی ۱۹۹۴ء
۴۷
جوہرِ کائنات
۔۱۔ دنیا کی ہر چیز قانونِ جوہر کی بدولت قائم ہے، مثال کے طور پر جمادات کا جوہر نباتات ہیں، نباتات کا نچوڑ حیوانات، حیوانات کا خلاصہ انسان ہیں، اور انسانوں کا جوہر انسانِ کامل، کیونکہ وہ فعلاً و عملاً عالمِ شخصی ہو چکا ہے، اور اس میں بطورِ خلاصہ ہر چیز آگئی ہے۔
۔۲۔ معدنیات اور قیمتی پتھر مٹی اور پہاڑوں کے جوہر ہیں، موتی سمندر کے جوہر، پھول پھل درخت کا نچوڑ ہیں، مغز پھل کا خلاصہ ہے، تیل مغز کا ست اور روشنی تیل کا جوہر ہے۔
۔۳۔ گھاس سے کہیں دودھ نہیں بن سکتا، مگر گائے وغیرہ کے کارخانۂ باطن میں پھولوں اور پھلوں سے اصل شہد کوئی نہیں بنا سکتا، مگر اس کام کی صلاحیت شہد کی مکھی کو عطا کی گئی ہے، الغرض دودھ کا خلاصہ مکھن اور پھولوں کا خلاصہ شہد ہے۔
۔۴۔ حقیقی مومنین اور اللہ کے دوست حلال ماکولات و مشروبات سے ذکر و عبادت اور علم و عمل کا جوہر بناتے ہیں، یہ جوہر کسی شک کے بغیر ایک نور ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جو جو جواہر جمادات، نباتات، حیوانات، اور عام انسانوں سے بناتا رہتا ہے، ان سے کہیں زیادہ بہتر جواہر کاملین و مومنین
۴۸
سے بناتا ہے۔
۔۵۔ اب ہم نتیجے کے طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب آدمی روحانیت و عقلانیت کے درجۂ کمال کو حاصل کر لیتا ہے، تو وہ یقیناً جوہرِ کائنات ہو جاتا ہے، ایسے میں مکان و زمان کی تمام چیزیں اس کی طرف مرکوز ہو جاتی ہیں، جوہرِ کائنات کہیں یا گوہرِ کائنات مطلب ایک ہی ہے، اس گوہر یا جوہر میں بے شمار جواہر کی یک جائی اور وحدت ہے، اس لئے اس کے بے حساب اسماء و امثال ہیں، آپ قرآنِ حکیم میں گوہرِ کون و مکان کے زیادہ سے زیادہ ناموں اور مثالوں کو جاننے اور پہچاننے کے لئے سعی کریں، تا کہ اس عمل سے آپ کی تاویلی حکمت میں اضافہ ہو سکے، ان شاء اللہ۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
راول ہوٹل، راولپنڈی
جمعہ، ۸ ذی الحجہ ۱۴۱۴ھ، ۲۰ مئی ۱۹۹۴ء
۴۹
حکمت آموز نصیحت
۔۱۔ اے نورِعینِ من! اے عزیزِ من! نورِ حق کا عاشقِ صادق ہوجاؤ، کیونکہ تم کو اسلام کا ایک خاص مقام مل گیا ہے، اور اس مقصدِ عالی کے تمام تر وسائل مہیا ہیں، دیکھو، سوچو، دنیا کے بےشمار انسانوں میں تمہارا دینی مرتبہ کیا ہے؟ ذرا پیچھے کی طرف مڑ کر جائزہ لو، کتنے لوگ ہوں گے، جو تمہاری منزل سے بہت ہی دور اور بہت ہی پیچھے ہیں؟
۔۲۔ اے نورِ چشمِ من! میں مانتا ہوں کہ تم کئی اعتبار سے اچھے ہو، تمہاری خوش نصیبی اور سعادت مندی ہے، اسی لئے میں کہہ رہا ہوں کہ تم اپنی نیک بختی سے فائدہ اٹھاؤ، اور علم وعبادت میں خوب ترقی کرو، تم عالمِ اسلام کے ایک ایسے مذہب میں ہو کہ اس میں ترقی ہی ترقی ہے، پس سعی کرو اور آگے بڑھو، تا کہ آخرت میں کم ترقی ہونے کی وجہ سے کوئی افسوس نہ ہو۔
۔۳۔ اے نورِ نظر! لختِ جگر! ذکر وعبادت کی غرض سے شب خیزی کی عادت بنا لو، مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات کے پرنور وسیلے سے عشق و فنا کے سمندر میں غوطہ زنی کرو، تا کہ اس سے آئینۂ قلب پاک صاف ہو، پھر اس میں ان شاء اللہ عالمِ عُلوی کی تجلّیات دیکھو گے، اور اس کے نتیجے میں عشقِ سماوی مستحکم ہو گا۔
۵۰
۔۴۔ اے نورِ دیدۂ من! حقیقی علم نور و سرور کا راستہ ہے، تم اس پر گامزن ہو جاؤ، اور خداشناسی کے بھیدوں کو حاصل کرتے رہو، اگر روز بروز علمی دولت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، تو دل و جان سے شکر کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو جائے، اور اس کی عطا کردہ نعمتیں برقرار رہیں۔
۔۵۔ اے میرے دل کے عزیزان! یہ زمانہ جس میں آپ دنیا میں آئے دورِ قیامت اور دورِ تاویل ہے، اس میں آپ سب کو حضرتِ قائم علیہ السّلام کے علمی لشکر میں بڑی شکرگزاری کے ساتھ شامل ہوجانا ہے، کیونکہ اب تاویلی جنگ بڑے زوروں پر جاری ہے۔
۔۶۔ میرے بہت ہی عزیز ساتھیو! ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی جب سب سے بڑی طاقت علم و دانش ہی ہے تو علمی حرب سب سے بڑی حرب کیوں نہ ہو، اگر یہ بات حقیقت ہے تو یہ کہنا بھی درست ہوگا، کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا آسمانی لشکر معزز ہے، اسی طرح زمینی لشکر بھی معزز ہے، جیسے سورۂ فتح (۴۸: ۴، ۴۸: ۷) میں ارشاد ہے: و للہ جنود السمٰوٰت و الارض = اور لشکرِ سماوی و ارضی خدا ہی کے ہیں۔
۔۷۔ دوستانِ عزیز! کوئی ایک اکیلی خوشی کی بات نہیں، بلکہ خوشیوں اور شادمانیوں کا ایک طوفانی عالم ہے، اب بہت زیادہ شکرگزاری کی ضرورت ہے، اور وہ برستے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ ہونی چاہئے، تا کہ خداوندِ قدوس اپنی رحمتِ بے پایان سے ہم سب پر مہربان ہو جائے،
۵۱
اور ہم کو فخر وغرور کی بیماری سے بچائے، کیونکہ انسان از خود ہر حالت میں کمزور ہوتا ہے۔
۔۸۔ اے یارانِ طریق! آپ سب کے سب مل کر اپنی ظاہری و باطنی قوّتوں سے غریب استاد کو آگے بڑھا رہے ہیں، اور یہ بھی ایک بہت بڑی دائرہ نما حکمت ہے کہ استاد و شاگرد ایک دوسرے کو بنا رہے ہیں، جس طرح آدم سے حوّا کی تخلیق، اور حوّا سے آدم کی تکمیل ہوئی، نیز عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ ایک دوسرے سے پیدا ہوئے، جیسا کہ حضرتِ پیر کا قول ہے: ز یکدیگر بزادند آن دو گوہر = وہ دونوں گوہر ایک دوسرے سے پیدا ہوگئے۔
۔۹۔ اے میوہ ہائے دلِ ما! جب آپ کو یقین ہے کہ آپ کی علمی خدمت قابلِ صد ستائش ہے، کیونکہ یہ مقدّس خدمت سب سے پہلے قرآن اور اسلام کی ہے، پھر ملک، قوم، جماعت اور انسانیت کی ہے تو پھر آپ کسی بات کی پرواہ کئے بغیر اپنا کام کرتے جائیں، ان شاء اللہ، مزید ترقی اور نیک نامی ہوگی، اور خداوندِ قدوس کی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔
۔۱۰۔ اے برادران و خواہرانِ روحانی! جس طرح پرندوں کے دو دو پر ہوتے ہیں، اسی طرح آپ کے طائرِ جان کے بھی دو پر (بازو) ہیں، ان میں سے ایک عبادت کا ہے، اور دوسرا علم کا، جیسے پرندے تلاشِ رزق کے لئے اپنے پروں کو کثرت سے استعمال کرتے رہتے ہیں، اسی طرح آپ بھی علم و عبادت کے دونوں پروں سے بکثرت پرواز کرتے رہیں، تا کہ
۵۲
بصورتِ تائیدی علم آپ کو رزق ملے۔
۔۱۱۔ اے میرے بہت ہی عزیز قلبی دوستو! آپ ازل کی حقیقت جاننے کے لئے کوشش کریں، ازل دراصل ماضیٔ بعید کا نام نہیں، بلکہ یہ روحانیت کی انتہائی بلندی پر مرتبۂ عقلانیت کا نام ہے، بالفاظِ دیگر عالمِ شخصی میں جو روحانی سفر ہے، اس کی منزل یا منزلِ مقصود ازل ہی ہے، جہاں ابد بھی ہے، یہ وہ عالی شان مقام ہے، جس میں انسان کی انائے عُلوی خدا کے نور سے کبھی جدا نہیں ہوئی۔
۔۱۲۔ اے دوستانِ حمیم! یقیناً آپ حصولِ علم اور اس کی خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں، زہے نصیب! آپ کو نور اور کتابِ مبین کے بھیدوں کا علم مل رہا ہے، آپ علم الیقین سے مطمئن ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ یہ نعمتِ خداوندی دنیا میں عام ہو جائے، اسی معنیٰ میں آپ سب کے خیر خواہ ہیں۔
۔۱۳۔ اے قرآنِ پاک اور امامِ مبین کے عاشقو! یہ اسی بابرکت عشق ہی کا ثمرہ ہے کہ آپ ہر وقت علم و حکمت کے جواہر کو چاہتے ہیں، اور حاصل بھی کر لیتے ہیں، آپ کی کتنی فیاضی ہے کہ یہ انمول موتی اور یہ بیش بہا لعل و گوہر دوسروں کو بھی دے رہے ہیں، آپ بڑے خوش نصیب ہیں کہ نہ صرف قیمتی موتیوں کی جمع آوری ہی سے شادمان ہوجاتے ہیں، بلکہ ان کو بانٹتے ہوئے بھی ازحد خرسند ہو رہے ہیں۔
۔۱۴۔ اے پاک فطرت و راسخ العقیدت مومنین و مومنات! الحب للہ (خدا کے لئے یعنی خدا کی وجہ سے محبت کرنا) یہ ہے کہ ہم قرآنِ حکیم
۵۳
اور امامِ آلِ محمدؐ سے محبت کریں، اور اس پاک و پاکیزہ محبت کو ترقی دے کر درجۂ کمال پر کیمیائے عشق بنائیں، تا کہ اس سے ہر باطنی بیماری کا علاج ہو، میں نے کچھ درویشوں کو دیکھا جو بطرزِ گریہ و زاری ’’نورِ عشق‘‘، ’’نارِ عشق‘‘ کہتے ہوئے پگھل رہے تھے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ سماوی عشق سب سے بڑا انقلاب ہے، جس میں سب کچھ ہے، میرا عقیدہ یہ ہے کہ ۔۔۔ اشد حبا للہ (۲: ۱۶۵، اللہ کے لئے بہت سخت محبت = عشق) براہِ راست ممکن نہیں جبکہ حضرتِ ربّ کی ہدایت، اطاعت اور دوسری تمام چیزیں بالواسطہ ممکن ہوا کرتی ہیں۔
۔۱۵۔ اے ہمارے بہت ہی پیارے ارضی فرشتو! شیطان اور نفسِ کافر پر شعلہ ہائے سوزان برسانے کے لئے نورِ عشق اور نارِ عشق کی سخت ضرورت ہے، تا کہ جس سے وہ مغلوب ہو کر مسلمان ہو جائیں، یا ہم کو مزید نہ ستائیں، پھر اس جہادِ اکبر میں کامیابی کے بعد علم وعبادت کی حلاوت و مسرّت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔
۔۱۶۔ اے سالکانِ راہِ حقیقت! قرآنی حکمتیں ہر زمانے کے لئے ہیں، چنانچہ بنی اسرائیل کے لئے خداوندِ عالم کا یہ حکم ہوا کہ تم اس گاؤں کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو جاؤ (۲: ۵۸، ۴: ۱۵۴، ۷: ۱۶۱) اور اس میں سب کے لئے یہ اشارہ موجود ہے کہ بفرمودۂ رسول اسلام میں بھی ایک ایسا دروازہ ہے، جس میں سجدہ کرتے ہوئے خوش نصیب لوگ پیغمبرِ اکرم کے علم و حکمت میں داخل ہو سکتے ہیں۔
۵۴
۔۱۷۔ اے نورِ امامت کے پروانو! آپ سب کو یہ عظیم الشّان فتح مندی اور کامیابی ہزار بار مبارک ہو! کہ آپ کی علمی و ادبی کوششوں کے ثمرات دور دور تک پھیل رہے ہیں، اگر امامِ زمان کی خوشنودی اور پاک دعا حاصل نہ ہوتی تو یہ سچ ہے کہ ہم جیسے حقیر انسانوں سے اتنا بڑا کام ہرگز نہ ہوتا، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ احسانِ عظیم اسی کا ہے۔
۔۱۸۔ علیٔ زمان کے دوستدارو! جس طرح قیامِ بدن کے لئے ہر روز جسمانی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح روح کے لئے ذکر وعبادت اور عقل کے لئے علم و حکمت از حد ضروری ہے، اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ جسمانی نعمتوں کے مقابلے میں روحانی اور عقلی نعمتیں بدرجہ ہا لذیذ تر اور بالاتر ہوا کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ارضی و سماوی فرشتے ہمیشہ ذکر و عبادت اور علم و حکمت میں مصروف رہتے ہیں، اور اسی عمل سے وہ پرنور ہو جاتے ہیں۔
۔۱۹۔ اے اہلِ سعادت! حضرت مولانا سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ و سلامہ نے ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم کو ایک دوستانہ خط لکھا تھا، جس کی تاریخ ۲۲ مئی ۱۹۵۰ء درج ہے، اس خط میں امامِ عالی مقام نے تصورِ یک حقیقت (مونوریالٹی) کی طرف توجہ دلائی ہے، اور یہی تصور ’’اسلام میرے مورثوں کا مذہب‘‘ میں بھی ہے، میرے خیال میں یہ دورِ قیامت اور دورِ تاویل کا سب سے بڑا انقلابی تصور ہے، لہٰذا اس میں بہت زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے، میرا عاجزانہ مشورہ یہ ہے کہ ’’یک حقیقت‘‘ کو
۵۵
سمجھنے کے لئے خود امام سلطان محمد شاہ علیہ السلام کے ان ارشادات کو خوب غور سے پڑھا جائے جو روحِ مومن کی امکانی ترقی سے متعلق ہیں۔
۔۲۰۔ میرے بے حد عزیز روحانی احباب! میرے ماں باپ آپ سے فدا! میری روح آپ سے قربان! آپ پگھلتے ہوئے دل سے دعا کریں کہ امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام کی خوشنودی اور پاک دعا حاصل ہو! آمین یا ربّ العالمین۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
منگل ۲۴ محرم الحرام ۱۴۱۵ھ، ۵ جولائی ۱۹۹۴ء
۵۶
جماعت خانہ
جماعت خانہ
ترجمۂ فرمان مبارک
مورخہ ۹، اکتوبر ۱۹۶۱ء
میرے عزیز رُوحانی فرزند
مجھے تمہارا برقیہ موصول ہوا، اور میں تمہاری فداکارانہ خدمات کے عوض میں اپنی بہترین شفقت آمیز مبارک دعائیں دیتا ہوں۔ میں یہ جان کر بہت ہی خوش ہوا ہوں کہ تم نے ہونزائی زبان میں گنان کی کتاب مکمل کر دی ہے۔
تمہارا مشفق
آغاخان
الواعظ نصیر الدین نصیر ھونزائی
بمعرفت: ایچ۔ایچ۔آغاخان اسماعیلیہ کونسل
راولپنڈی
مغربی پاکستان
ج
حصۂ اول
مولا کس کو چاہتے ہیں؟
مولائے پاک اگرچہ سب کو چاہتے ہیں، لیکن دینی خدمت کیلئے جوانوں کو زیادہ پسند فرماتے ہیں، ایک ایسا عالی ہمّت جوان، جن سے علمی خدمت کی بھرپور توقع کی جا سکتی ہے، عزیزم غلام مصطفیٰ قاسم علی (مومن) ہیں، جن کا مختصر تعارف قبلاً ہوچکا ہے، ان سے نیک بختی اور علم دوستی کی علامات ظاہر ہوجاتی ہیں، باقاعدہ ملاقات سے پیشتر میں نے ان کی تعریف سنی تھی، سچ مچ وہ ایک ارضی فرشتہ ہیں، آپ سب اِس پُرخلوص دعا میں شامل ہوجائیں کہ خداوند تعالیٰ ان کے اور ان کے عزیزوں کے قلوب کو نورِعلم کی ضیأ پاشی سے منور کر دے! آمین یا ربّ العالمین!!
نصیر الدّین نصیر ھونزائی
کراچی
۲۷، رجب المرجب ۱۴۱۴ھ ۱۰ جنوری ۱۹۹۴ء
۳
دیباچہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا پاک و پُرحکمت ارشاد ہے: اللہ نور السمٰوٰت والارض ۔۔۔۔ بالغدو والاٰصال (۲۴: ۳۵ تا ۳۶) خدا (عالمِ شخصی کے) آسمانوں میں زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق، جس میں ایک روشن چراغ ہو، اور چراغ شیشے کی قندیل میں ہو (اور) قندیل (اسقدر شفاف ہے کہ) گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ایک ستارہ ہے (وہ چراغ) زیتون کے ایک مبارک درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے کہ وہ نہ مشرق کی طرف واقع ہے اور نہ مغرب کی طرف، اس کا تیل (اس قابل ہے کہ) اگر اس کو آگ نہ بھی چھوئے تاہم معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہی آپ روشن ہو جائے گا (غرض ایک نور نہیں بلکہ) نورٌعلیٰ نور ہے (یعنی نور پر نور ہے) خدا اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور خدا تو ہر چیز سے خوب واقف ہے (اور ہاں وہ چراغ) ان گھروں میں روشن ہے جن کی نسبت خدا نے حکم دیا کہ ان کی تعظیم کی جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے جن میں صبح و شام وہ لوگ اس کی تسبیح کیا کرتے ہیں۔
اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ کائناتِ ظاہر اپنی صورتِ لطیف کے
۵
اعتبار سے عالمِ شخصی میں داخل و شامل اور محدود و مجموع ہے، اور خدائے بزرگ و برتر عالمِ شخصی کے آسمانوں اور زمین کا نور ہے، کیونکہ اسی میں ظاہر و باطن کی یک جائی ہے اور اسی کے تمام اسرارِ حقائق و معارف پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے، جبکہ مادّی آسمان، زمین، جمادات، نبادات اور حیوانات میں ایسی کوئی صلاحیت موجود نہیں کہ ان پر نورِایمان، نورِعلم، نورِ یقین، نورِعشق، نورِدیدار اور نورِ معرفت کی شعاعیں برسا دی جائیں، اور جبکہ دوسری جانب یہ حقیقت عیان ہے کہ عالمِ انوارِ الہٰی (لاہوت) سے بنیادی صلاحیت کے طور پر روحِ ناطقہ اور عقلِ جزوی کی روشنی صرف انسان ہی کو عطا ہوئی ہے۔
آئیے! ہم نورِ اقدس کی اس عظیم الشّان تعریف و تفسیر پر غور کرتے ہیں جو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی پاکیزہ تعلیمات میں سے ہے، اور وہ یہ پُرحکمت دعا ہے جو حضرتِ امام جعفر الصّادق علیہ السّلام ہر نمازِ فجر کے بعد پڑھا کرتے تھے: ۔
اللھم اجعل لی نوراً فی قلبی
ترجمہ: یا اللہ! میرے لئے میرے دل میں ایک نور مقرر کر دے۔
ان دعائیہ الفاظ میں سب سے پہلے دل کے لئے نورِ ایمان اور نورِعشق مطلوب ہے، کیونکہ ایمان ہر چیز سے مقدم ہے، اور وہ بہت سی خوبیوں کا مجموعہ ہے، اور ایمان کی حفاظت و ترقی کے لئے دل میں عشقِ الہٰی کی تپش بے حد ضروری ہے، اور یہ صرف نورِنبوت اور نورِامامت ہی کے وسیلے سے ممکن ہے۔
و نوراً فی سمعی
ترجمہ: اور میرے کان میں ایک نور (مقرر کر دے)۔
۶
یہاں یہ حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے کہ کانوں کے واسطے جس نور کی ضرورت ہے، وہ علمی اور عرفانی آواز کی صورت میں ہے، جو ظاہراً امام، حجّت، داعی اور باطناً جد، فتح، خیال کے ذریعے سے ہوسکتی ہے۔
و نوراً فی بصری
ترجمہ: اور میری آنکھ میں ایک نور۔
مقصود یہ ہے کہ ظاہری و باطنی ہر حِس اور ہر مدرکہ کے لئے ایک نور حاصل ہو، چنانچہ چشمِ عیان اور دیدۂ نہان دونوں کے لئے نور چاہئے، تاکہ اسرارِ خداوندی کے عجائب و غرائب کا مشاہدہ و مطالعہ کیا جائے۔
و نوراً فی لسانی
ترجمہ: اور ایک نور میری زبان میں۔
جب زبان میں نور کا ظہور نہ ہو تو وہ نہ ذکرِجلی کرسکتی ہے اور نہ ذکرِخفی، اور اگر بصد مشقت کوئی ذکر وعبادت کر بھی لے تو اس سے کوئی حلاوت نہیں ملتی۔
و نوراً فی شعری و نوراً فی بشری و نوراً فی لحمی و نوراً فی دمی و نوراً فی عظامی و نوراً فی عصبی
ترجمہ: اور میرے بال، کھال، گوشت، خون، ہڈیوں اور رگوں میں بھی نور بنا دے۔
اس بابرکت دعا میں کُل سولہ مرتبہ لفظِ ’’نور‘‘ آیا ہے، اس سے یہ یقین آتا ہے کہ عالمِ شخصی میں روحانی عجائب وغرائب اور حقائق و معارف کی سولہ کائنات موجود ہیں، جن پر روشنی ڈالنے کے لئے سولہ قسم کے انوار مطلوب ہیں، مثلاً انسانی جلد پر بالوں کی دنیا قائم ہے، لیکن ان کی باطنی حکمتیں
۷
صرف اس وقت معلوم ہوسکتی ہیں، جبکہ نورِ خداوندی کے MICROSCOPE (خوردبین) سے دیکھا جائے کہ ان کے اندر روحِ نباتی کے کیسے کیسے کرشمے ہیں، اور ہر ذرّۂ روح کے باطن میں کیا کیا تجلّیات ہیں۔
و نوراً بین یدی، و نوراً فی خلفی، و نوراً عن یمینی، و نوراً عن یساری، و نوراً من فوقی و نوراً من تحتی
ترجمہ: اور میرے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، اوپر اور نیچے بھی نور مقرر فرما۔
اس میں یہ اشارہ ہے کہ عالمِ شخصی کی چھ اطراف سے چھ ناطقوں کے انوار داخل ہو جاتے ہیں، تفصیل کے لئے کتابِ وجہ دین، گفتار ۸ ملاحظہ ہو، پس اس بیان میں نور کی تعریف (DEFINITION) بھی ہے اور تفسیر بھی۔
اگر آیۂ مصباح کی تاویل حدودِ دین ہیں تو حدودِ دین کی روحانی اور عقلانی صورتیں امامِ مبین علیہ السّلام میں محدود ہیں، اس عظیم الشّان اور حکمت آگین مثال میں کشفِ سرِ لامکان کا اشارہ بھی موجود ہے، وہ اس طرح کہ جس بابرکت درختِ زیتون کے تیل سے یہ چراغ روشن ہوتا ہے وہ مشرق و مغرب میں نہیں، یعنی مکان میں نہیں بلکہ لامکان میں ہے، اور اس کے سرِ عظیم کا کشف و مشاہدہ عرفاء کو اس حال میں ہوتا ہے، جبکہ خداوندِ تعالیٰ بطریقِ باطن کائنات یعنی مکان کو لپیٹ کر فنا کر دیتا ہے، تاکہ کاملین کو ایسے میں عالمِ لامکان کے انتہائی بڑے بڑے اسرار کا علم ہو جائے، جیسا کہ سورۂ حاقہ میں ارشاد ہے:
اور فرشتے آسمان کے کنارے (حاشیۂ کائنات) پر ہوں گے، اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اپنے سروں پر اٹھائے ہوں گے (۶۹: ۱۷) اسرارِ عالمِ دین سب کے سب عالمِ شخصی میں پوشیدہ ہیں،
۸
چنانچہ عرش سے نورِ مطلق مراد ہے، اور ہر امام اپنے وقت میں تنہا حاملِ عرش ہوا کرتا ہے، کیونکہ اس کی مبارک پیشانی میں نورِعقل بنامِ عرشِ عظیم کام کرتا رہتا ہے، اسی طرح جب سات آئمہ علیھم السّلام کا دور مکمل ہوجاتا ہے تو باطنی طور پر ایک بڑی قیامت برپا ہوجاتی ہے، اور اس وقت مجموعۂ ارواحِ مومنین و مومنات کا آٹھواں فرشتہ بھی اس سلسلے میں شامل ہوجاتا ہے، جن کی پیشانی میں ظہورِ نور کا تذکرہ سورۂ حدید (۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹، ۵۷: ۲۸) اور سورۂ تحریم (۶۶: ۸) میں موجود ہے، الغرض درختِ زیتون کا ممثول لامکان میں نفسِ کُلّی ہے۔
وہی نورِ واحد چراغ کی مثال میں انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کے باطنی گھروں میں روشن ہوتا رہا ہے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے وقت میں خدا کا زندہ گھر تھا، اور اسی سنتِ الہٰی کے مطابق جس میں کوئی تبدیلی نہیں، اِس وقت امامِ حیّ و حاضرعلیہ السّلام خدائے بزرگ و برتر کا پاک و پاکیزہ گھر ہے، جس کی حرمت و تعظیم کے لئے خدا نے حکم دیا ہے، اور کتنی بڑی رحمت ہے کہ پاک جماعت خانہ خدا کے گھر کا قائم مقام ہے، اور وہ اسماعیلی جماعت کے لئے بڑا بابرکت گھر ہے، جس میں روح و روحانیت کے بڑے سے بڑے معجزات پنہان ہیں۔
ہم ہر امامِ برحق کو مولا علیؑ ہی کی طرح مانتے ہیں، اور یہ حقیقت ہے، پس جو کچھ قرآن، حدیث، خطبۃ البیان وغیرہ میں ارشاد ہوا ہے، وہ نہ صرف مولانا علیؑ کے بارے میں ہے بلکہ یقیناً ہر امام کے بارے میں ہے، لہٰذا حضرتِ امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام خدا کے عجائب وغرائب کا مظہر ہے، چنانچہ دیکھنے والوں نے دیکھا ہے کہ مومنین و مومنات کے لئے نورِ امامت کا معجزہ جماعت خانہ ہی سے شروع ہوکر کائنات پر محیط ہو جاتا ہے، یعنی اس نور کے باطنی معجزات
۹
بے شمار ہیں۔
مولا کے بڑے بڑے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ ہے کہ اس کا مقدّس نور جثۂ ابداعیہ اور ہیکلِ نورانی کی صورت میں ہر جماعت خانہ میں موجود ہے، جیسا کہ امامِ عالی مقامؑ نے جامۂ سابق میں بارہا ارشاد فرمایا ہے کہ اس کا پاک نور جماعت خانہ میں حاضر ہوتا ہے، جیسے قرآنِ حکیم بزبانِ حکمت فرماتا ہے کہ نور دنیا بھر میں بلکہ کائنات میں چلنے کے لئے ہوتا ہے۔
(یمشی بہ، ۶: ۱۲۲، تمشون بہ، ۵۷: ۲۸)
عرشِ عظیم امام ہے، کیونکہ وہ حاملِ نورِعرش ہے، بیت المعمور امام ہے، کیونکہ وہ خدا کا آباد گھر ہے، بیت اللہ امام ہے، اس لئے کہ وہ قبلۂ حقیقت ہے، حرمت والی مسجد (خانۂ کعبہ) امام ہے کہ مسجد کے معنی ہیں سجدہ گاہ، اور امام کے عالمِ شخصی میں ارواح و ملائکہ اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ کرتے ہیں، اور جماعت خانہ امام ہے، کیونکہ وہ اس پاک گھر کی جان اور جماعت کا جانان ہے۔
چونکہ اسلام دینِ فطرت ہے، اس لئے یقیناً اسلام ہی آفاقی دین ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہاں علم و عمل کے اعتبار سے بہت سے درجات کی گنجائش ہے، اس کی بڑی عمدہ مثال صراطِ مستقیم ہے جس کی چھوٹی چھوٹی منزلیں بہت زیادہ ہیں، مگر بڑی اور معروف منزلیں صرف چار ہیں:
۱۔ شریعت
۲۔ طریقت
۳۔ حقیقت
۴۔ اور معرفت
یہ معنی آپ کو قرآنِ حکیم میں مل سکتے ہیں، جیسے ارشاد ہے:
۱۰
لکل جعلنا منکم شرعۃ و منھاجاً(۵: ۴۸)۔
ترجمہ: تم میں سے (اے اہلِ ملّلِ مختلفہ) ہر ایک کو ہم نے ایک شریعت اور ایک طریقت دی۔
سورۂ اعراف میں ارشاد ہے:
حقیق علیٰ ان لا اقول علی اللہ الا الحق (۷: ۱۰۵)
ترجمہ: (اور موسیٰؑ نے کہا کہ میں) حقیقت شناس ہوں، تاکہ بجز سچ کے خدا کے بارے میں کوئی بات نہ کروں۔
پس قرآنِ پاک میں جہاں جہاں لفظِ حق آیا ہے وہاں حقیقت ہی کا ذکر ہے، اور اسی طرح قرآنِ مجید میں معرفت کے الفاظ آئے ہیں، جیسے:
فتعرفوا (۲۷: ۹۳) یعرفون (۲: ۱۴۶، ۶: ۲۰، ۷: ۴۶، ۱۶: ۸۳) یعرفونھم(۷: ۴۸) عرفھا (۴۷: ۶)۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں شریعت کے ساتھ ساتھ طریقت، حقیقت اور معرفت بھی لازمی ہیں، اور اس خداوندی نظام و پروگرام کے مطابق یہ امر بھی ضروری تھا کہ مسجد اور خانقاہ کے بعد مقامِ حقیقت پر جماعت خانے کا عمل شروع ہوجائے، کیونکہ آنحضرتؐ کی رحلت کے ساتھ اگرچہ پیغمبرانہ وحی کا دروازہ بند ہوگیا، لیکن قرآنِ حکیم اور حضورِ اکرمؐ کی تعلیمات کے ثمرات و نتائج رفتہ رفتہ ظاہر ہونے والے تھے۔
خداوندِ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جماعت خانہ جیسے مقدّس مقام سے متعلق ایک چھوٹی سی کتاب تیار کی گئی، جس کے اکثر اجزاء خود بندۂ ناچیز کی بعض کتابوں میں پہلے ہی سے موجود تھے، اس کی تجویز گذشتہ سال ۱۹۹۲ء دورۂ امریکا کے دوران اُس وقت عمل میں آئی تھی جبکہ ہمارے عزیز دوست
۱۱
چیف ایڈوائزر اکبر اے علی بھائی کے گھر میں اُن کی فرشتہ خصلت بیگم ریکارڈ آفیسر شمسہ (اکبر۔اے۔علی بھائی) نے اس نوعیت کا ایک اہم سوال پیش کیا تھا، اس سوال سے کتنی بھلائی ہوئی، ہم اپنے تمام عزیزوں کے ممنون اور شکرگزار ہیں۔
دنیا بھر میں امامِ عالی مقام علیہ السّلام کے جتنے ادارے ہیں، خصوصاً دینی تعلیم سے متعلق ادارے، ہم ان کی خاکِ پا کے بھی برابر نہیں ہیں، وہ بڑے مقدّس ادارے ہیں، اس لئے ہم ان سے عملاً قربان ہوجانا چاہتے ہیں، اور ہماری یہ مفید قربانی علمی خدمت کی شکل میں ہوسکتی ہے، تاکہ اس سے جماعت کو بھی فائدہ حاصل ہو، مجھے یقین ہے کہ اس نیّت میں تمام عزیزان میرے ساتھ ہیں، اور ان میں سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔
جو حضرات یہاں اعزازی طور پر ہماری کتابوں کا ترجمہ کرتے ہیں، جو کمپیوٹر کا کام کرتے ہیں، جو ایڈٹ کرتے ہیں، اور جو کتاب سے متعلق دوسرے امور انجام دیتے ہیں، وہ اس بندۂ حقیر کو ہراس فرد کے عالمِ شخصی میں زندہ کر دینا چاہتے ہیں، جس کو کتاب سے دلچسپی اور فائدہ ہو، کیونکہ آخرت میں نہ صرف مشترک بہشت ہوگی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمِ شخصی کی جنّت بھی ہوگی، جس میں حسبِ منشاء ہر شخص اور ہر نعمت موجود ہے۔
الخلق عیال اللہ (مخلوق گویا خدا کا کنبہ ہے) جیسی سب سے اعلیٰ تعلیم جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی ہے، تو پھر ہمیں انتہائی عاجزی سے یہ دعا کرنا چاہئے کہ اے پروردگارِ عالم! اپنے خاص نورِعلم سے دوزخِ جہالت کو ٹھنڈا کر دینا، اور تمام اولادِ آدم اور عالمِ انسانیت کو بہشت کی لازوال نعمتوں سے سرفراز فرمانا! الہٰی تیرے غضب پر تیری رحمت کو
۱۲
سبقت حاصل ہے، اس لئے عجب نہیں کہ تو سارے لوگوں کو معاف کر دے۔ آمین!
۳۱ اگست ۱۹۹۳ء
۱۳
خانۂ خدا ۔ خانۂ جماعت
(پہلی قسط)
اسلام اپنی روح میں کامل و مکمل دین ہے، اِس میں رشد و ہدایت اور علم و حکمت کی فراوانی ہے، اِس کا ہر قول وعمل اور ہر چیز ظاہراً و باطناً عقلی اور روحانی خوبیوں سے مالا مال اور یقین و معرفت کے اشارات سے بھرپور ہے، چنانچہ آج ہم یہاں عنوانِ بالا (خانۂ خدا ۔ خانۂ جماعت) سے بحث کرتے ہیں، اور یہ معلوم کرلینا چاہتے کہ آیا ذاتِ سبحان بحقیقت کسی گھر کے لئے محتاج ہے یا اس کی حاجت و ضرورت دراصل اہلِ ایمان کو ہے؟ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ جو کون و مکان کا خالق و مالک ہے، وہ مکان و لامکان سے بے نیاز و برتر ہے، سو اس حال میں یہ سوال ہوگا کہ اگر خانۂ خدا کا یہ تعیّن لوگوں کی دینی ضرورت کے پیشِ نظر ہے تو پھر بتائیے کہ اس سے ان کو کیا کیا فائدے حاصل ہوتے ہیں؟ اور اس میں کیا کیا اسرار پنہان ہیں؟ اس کا مفصّل جواب ذیل میں درج ہے: ۔
۱۔ جاء و جہت یا مکان و زمان کے اعتبار سے خدا کا تصور تین درجوں ہر مبنی ہے، اوّل یہ گویا خداوند تعالیٰ ایک خاص گھر میں جلوہ نما ہے، جس طرح بیت اللہ کا تصور ہے (۲۲: ۲۶) دوسرا یہ کہ وہ ہر جگہ موجود ہے (۲: ۱۱۵) اور تیسرا یہ ہے کہ وہ مکان و لامکان سے بے نیاز و برتر ہے، کیونکہ وہ سبحان،
۱۴
قدوس، اور صمد ہے، اور یہ حقیقت مسلّمہ اور ناقابلِ تردید ہے، چونکہ اسلامی تعلیمات و ہدایات تدریجی صورت میں ہیں، لہٰذا یہ امر ضروری قرار پایا کہ ہر فردِ مسلم سب سے پہلے خانۂ خدا کے عقیدۂ راسخ کو اپنائے، اور اس سے وابستہ ہو جائے، تاکہ اس کو یہیں سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت حاصل ہو، اور اگر کوئی شخص اِس بنیادی تصور کی حکمت کو نہیں سمجھتا، اور اسے نظرانداز کرتا ہے، تو وہ دوسرے اور تیسرے تصور کے خزانوں کو براہِ راست حاصل نہیں کر سکتا، کیونکہ خدائی قانون کے خلاف چلنا باعثِ نامرادی ہے۔
۲۔ اسلام میں جس طرح عرشِ عظیم کا تصور ہے، وہ بھی دینِ حق کی جملہ حکمتوں کا مرکز ہے، اس سے نہ صرف خدا کے گھر کی عظمت و بزرگی کا ثبوت مل جاتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس سے بہت بڑی فضیلت کا یقین بھی ہو جاتا ہے کہ جو مومنین زمین پر خانۂ خدا کی آبادی و ترقی کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں، وہ عالمِ بالا کے ان پاکیزہ فرشتوں کی طرح ہیں، جو عرشِ الہٰی سے متعلق ہیں یا اِس کے گردا گرد طواف کرتے ہیں، اِس بیان سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ جس طرح خانۂ خدا کی نزدیکی اور شناخت سے انسانوں کو فائدہ ہے، اِسی طرح عرشِ اعلیٰ کی قربت و معرفت سے فرشتوں کو فضیلت حاصل ہوتی ہے، مگر اللہ سبحانہُ و تعالیٰ ہر شیٔ سے بے نیاز و برتر ہے۔
۳۔ خدائے واحد کی ذاتِ پاک و منزہ اُس وقت بھی تھی، جبکہ خانۂ کعبہ نہ تھا، اور بیت اللہ کی تعمیر اُس وقت ہوئی، جبکہ حضرت آدم علیہ السّلام کے سیّارۂ زمین پر اُترنے کا وقت آیا، چنانچہ خداوندِ عالم کے امر سے فرشتوں نے خانۂ خدا کی تعمیر کی، تاکہ آدمؑ و اولادِ آدمؑ اس سے رجوع کر کے روحانی
۱۵
فائدے حاصل کریں، اس سے معلوم ہوا کہ دین کی اصل و اساس خانۂ خدا ہے، اور یہی خدا کا گھر خانۂ دین اور خانۂ جماعت بھی ہے، جس کی اُردو عبارت’’جماعت خانہ‘‘ ہے، ’’خدا کا گھر‘‘ کہنے کا مطلب ہے کہ اس میں انوار و اسرارِ خداوندی کا ظہور اور فیوض و برکات کا نزول ہوتا رہتا ہے، تاکہ مومنین ہمیشہ خدا کے اِس گھر میں جا کر مستفیض ہوتے رہیں اور روز بروز علم و عمل میں ترقی کرتے جائیں۔
۴۔ خانۂ کعبہ جس میں عظیم تاویلی حکمتیں پوشیدہ ہیں اپنی جگہ بیحد ضروری ہے تاکہ جملہ مسلمانانِ عالم اس کی ظاہری اور باطنی حکمتوں کو سمجھتے ہوئے باہمی اتفاق و یکجہتی کی دولت کو ہاتھ سے نہ جانے دیں، اور زمانۂ نبوت کے مسلمانوں کی طرح سب کے سب سالکِ وحدتِ ملّی سے منسلک ہی رہیں، اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی ضروری تھا کہ ذیلی طور پر ہر مسلم قریہ میں خدا کا ایک گھر بنایا جائے، کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ دور دراز ممالک کے مسلمین روزانہ عبادت کے لئے خانۂ کعبہ میں پہنچ جائیں چنانچہ سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے نام سے خدا تعالیٰ کا مقامی گھر بھی بنا دیا، یہ صرف ایک چاردیواری تھی، جس میں تین طرف دروازے تھے۔۔۔ آنحضرت کے بعد جتنی نئی مسجدیں تعمیر ہوئیں، سب کا بنیادی ڈھانچہ یہی رہا، رفتہ رفتہ مسجد کی تعمیر مسلمانوں میں ایک فن بن گئی، اِس طرح ایک خاص طرزِ تعمیر کا ارتقاء ہوا۔۔۔ (فیروز سنز۔ اُردو انسائیکلوپیڈیا)۔
۵۔ قبلۂ اسلام کے کئی نام ہیں، جیسے کعبہ، جس کے لفظی معنی ہیں چار گوشہ مکان (۵: ۹۵) البیت (گھر ۲: ۱۲۵) البیت العتیق (قدیم گھر ۲۲: ۲۹) بیت اللہ (خدا کا گھر ۲: ۱۲۵) بیت وضع للناس (وہ گھر جو لوگوں کے واسطے مقرر کیا گیا ۳: ۹۶) البیت الحرام (حرمت والا گھر ۵: ۲) المسجد الحرام (حرمت والی مسجد
۱۶
۲: ۱۴۴) وغیرہ۔
خانۂ خدا کے مذکورہ اسماء میں کسی ابہام کے بغیر یہ جواز موجود ہے کہ جس طرح مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام مسجد درست ہے، اسی طرح اس کا نام ’’جماعت خانہ‘‘ بھی درست ہے، یعنی جماعت کا مذہبی گھر، کیونکہ اللہ کا گھر لوگوں کا دینی گھر ہوا کرتا ہے، جبکہ بیت اللہ لوگوں کے لئے مقرر ہے (۳: ۹۶) جب ہم تاریخی تحقیقی (ریسرچ) کی روشنی میں زمانۂ نبوت کو دیکھتے ہیں، تو اس میں باعتبارِ شکل مسجد اور جماعت خانہ ایک ہی چار دیواری نظر آتی ہے، چنانچہ میرے نزدیک مسجدِ رسولؐ خدا کا مقامی گھر اور حال و مستقبل کا جماعت خانہ تھی، جس کو اللہ پاک کے مرکزی گھر کی نمائندگی حاصل تھی۔
۶۔ مسجد کے معنی ہیں جائے سجدہ (سجدہ کرنے کی جگہ) عبادت خانہ، نیز اس کے معنی ہیں عبادت، اور اس کی تاویل ہے اسمِ اعظم، اساسؑ اور امامِ زمانؑ، کیونکہ ربّ العالمین کا حقیقی اسمِ اعظم اور عقل و جان والا گھر ہادیٔ زمان ہوا کرتا ہے، جیسا کہ کتابِ دعائم الاسلام جلد اوّل (عربی) کتابِ حج کے سلسلے میں صفحہ ۲۹۲ پر ذکر ہے کہ فرشتوں نے خانۂ خدا کی تعمیر کی، اس کے یہ معنی ہیں کہ ملائکہ نے انسانِ کامل کے عالمِ شخصی میں بیت اللہ کی روحانی تعمیر کی، کیونکہ فرشتوں کا اصل کام روحانی قسم کا ہوتا ہے، اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ فرشتوں نے واقعی کعبۂ ظاہر کو بنایا تھا، تو اس کی تاویلی حکمت یہ ہوگی کہ مومنین نے جو جسمانی فرشتے ہیں عالمِ جسمانی میں ایک جماعت خانہ بنایا، اور ’’جیسا عمل ویسا بہترین ثواب‘‘ کے قانون کے مطابق ان کے ہاتھ سے روحانیت میں کعبۂ جان کی تعمیر کروائی گئی۔
۷۔ حضرت ابراہیمؑ نے بیت اللہ کی تعمیرِ نو اسی مقام پر کیا، جہاں یہ طوفانِ
۱۷
نوحؑ سے پہلے تھا، اس جگہ کی نشاندہی ایک ایسی ہوا نے کی جو حضرت ابراہیمؑ کی تسکین کے لئے خداوند تعالیٰ نے بھیجی تھی جس کا نام سکینہ تھا، اِس ہوا کے دو سر تھے، جو ایک دوسرے کے پیچھے گھومتے تھے، جس کی تاویل ذکرِ خدا اور اس کی روحانیت ہے، اس سے یہ حقیقت نمایان ہوجاتی ہے کہ اللہ کے خانۂ ظاہر کے تاویلی پسِ منظر میں خانۂ نورانیت کا تذکرہ موجود ہے، کیونکہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہوا کرتا ہے، جیسا کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: و اسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ و باطنۃ (۳۱: ۲۰) اور اُس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں۔
۸۔ اللہ تعالیٰ کا پاک فرمان ہے: و اذ جعلنا البیت مثابۃ للناس و امنا و اتخذوا من مقام ابراہیم مصلی (۲: ۱۲۵) اور جس وقت ہم نے خانۂ کعبہ کو لوگوں کے لئے جائے ثواب اور مقامِ امن مقرر کر رکھا اور مقامِ ابراہیمؑ کو جائے نماز بنا لیا کرو۔
اِس آیۂ کریمہ کی پہلی تاویل: جس طرح خدا کے حکم سے خانۂ کعبہ ظاہر میں ثواب اور امن کی جگہ ہے، اِسی طرح امامِ زمان صلوات اللہ علیہ باطن میں بیت اللہ کی حیثیت سے ہر قسم کے ثواب کا وسیلہ اور ہر طرح کے امن کا ذریعہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امامِ برحقؑ قبلۂ باطن ہیں، جس کی طرف قلبی توجہ ہر نیک کام میں لازمی ہے، اور طریقِ ثواب یہی ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ ثواب کا ذکر پہلے ہے اور امن کا ذکر بعد میں، اس کی حکمت یہ ہے کہ پہلے مومنین امامِ
۱۸
اقدس و اطہرؑ کی اطاعت و فرمانبرداری سے ثواب و نیکی کے مراحل طے کر لیتے ہیں، پھر نتیجے کے طور پر امامِ عالی مقامؑ کی روحانیت و نورانیت میں داخل ہو جاتے ہیں، اور یہی اللہ تبارک و تعالیٰ کا خانۂ باطن ہے، جس میں امن ہی امن ہے، یعنی کوئی خوف و خطر نہیں۔
جس طرح ظاہر میں مقامِ ابراہیمؑ خانۂ کعبہ کی ایک ایسی جگہ ہے، جہاں ایک پتھر تھا، اسی طرح خانۂ باطن یعنی امامِ مبینؑ کی نورانیت میں ایک عقلی گوہر ہے، اُس تک رسائی حاصل کر کے نماز کی حکمتوں کو حاصل کر لینے کے لئے فرمایا گیا ہے۔
دوسری تاویل: جس طرح خانۂ کعبہ اللہ کا مرکزی گھر ہے، اسی طرح جماعت خانہ خدا کا مقامی گھر ہے، یا یوں کہا جائے کہ جیسے بیت اللہ شریف مقامِ شریعت پر ہے، ویسے مقدّس جماعت خانہ مقامِ حقیقت پر ہے، لہٰذا مذکورہ آیۂ کریمہ میں جو فضائل بیان ہوئے ہیں، وہ خدا کے اِس گھر کے بارے میں بھی ہیں، جو جماعت خانہ کے نام سے مشہور ہے، چنانچہ عقیدۂ اسماعیلیت اور قرآنی حکمت کے مطابق جماعت خانہ جائے ثواب اور مقامِ امن ہے، اِس کے معنی یہ ہیں کہ دین کے کُل اوامر و نواہی کا جملہ ثواب جماعت خانہ میں مرکوز ہے، اور روحانی امن و سکون بھی اسی میں ہے، کیونکہ جماعت کے اِس خانۂ دین کو دُہری فضیلتیں حاصل ہیں کہ یہ اگر ایک جانب سے خانۂ کعبہ کا نمائندہ ہے، تو دوسری جانب سے امامِ برحقؑ کی مثال ہے، جبکہ امامؑ نے بمنشائے الہٰی اپنی شخصیت اور ظاہری و باطنی قربت کی جگہ جماعت خانہ دیا ہے، پس مرحلۂ اوّل میں جماعت خانہ کے لئے یہی مقامِ ابراہیم ہے۔
۹۔ سورۂ آلِ عمران (۳: ۹۶) میں ربِّ عزت کا فرمان ہے: ان اوّل
۱۹
بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبٰرکا و ھدی للعٰلمین (۳: ۹۶) یقیناً وہ مکان جو سب سے پہلے لوگوں کے واسطے مقرر کیا گیا، وہ مکان ہے جو کہ مکہ میں ہے جس کی حالت یہ ہے کہ وہ برکت والا ہے اور جہان بھر کے لوگوں کے لئے رہنما ہے۔ اِس آیۂ مبارکہ میں کئی حکیمانہ اشارات ہیں، منجملہ ایک اشارہ یہ ہے کہ ’’اوّل‘‘ اعدادِ ترتیبی (ORDINALS) کی بنیاد ہے، اور اس کا تقاضا ہمیشہ یہ ہوا کرتا ہے کہ اوّل (پہلا) کے بعد دوسرا، تیسرا، چوتھا، پانچواں وغیرہ بھی ہو، اس کا مفہوم یہ ہوا کہ اگرچہ لوگوں کا اوّلین اور مرکزی گھر مکہ میں ہے، تاہم زمانۂ نبوّت اور دورِ امامت میں ذیلی اور مقامی طور پر بہت سے گھر (جماعت خانے) ہوں گے۔
دوسرا اشارہ یہ ہے کہ جس طرح لوگوں کے واسطے اوّلین دینی گھر مکہ میں مقرر ہوا، اِسی طرح امامِ اوّل (مولا علیؑ) بھی مکہ میں مقرر ہوئے، جو لوگوں کے لئے روحانیت و نورانیت کا گھر ہیں، جس میں اُن لوگوں کے لئے برکات و ہدایات ہیں، جو عالمِ شخصی بن جاتے ہیں۔
تیسرا اشارہ یہ ہے کہ ’’ بَکَۃً ‘‘ کا ایک اشارتی قرأت گریہ وزاری کے معنی میں بھی ہے، سو اس کا تاویلی مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کے لئے اوّلین روحانیت کا گھر عشقِ مولا کے تابناک آنسوؤں سے بنایا جاتا ہے، جو اہلِ دل کے لئے برکتوں اور ہدایتوں سے بھر پور ہے۔
چوتھا اشارہ یہ ہے کہ خانۂ کعبہ، امامؑ، اور جماعت خانہ اگر ایک طرف سے خدا کے گھر ہیں تو دوسری طرف سے لوگوں کے گھر ہیں، کیونکہ ان پاک گھروں میں جو برکتیں اور ہدایتیں ہیں، وہ لوگوں کے لئے ہیں، اور ان کا خدا تعالیٰ سے منسوب ہو جانا خصوصی ملکیت کی وجہ سے ہے۔
۱۰۔ سورۂ نور میں فرمایا گیا ہے: فی بیوت اذن اللہ ان ترفع و یذکر
۲۰
فیھا اسمہ یسبح لہ فیھا بالغدو و الاٰصال (۲۴: ۳۶) (وہ نور) ایسے گھروں میں روشن ہے جن کی نسبت خدا نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے جن میں صبح و شام وہ لوگ اس کی تسبیح کیا کرتے ہیں۔ ان گھروں سے حضراتِ أئمّۂ طاہرین صلوات اللہ علیھم مراد ہیں، نیز یہ گھر جماعت خانے ہیں، جن میں نورِ خداوندی کا چراغ روشن ہوتا ہے، جس کا مشاہدہ اور عرفان یقینی ہے۔
۱۱۔ خانۂ کعبہ ظاہری علامت، مثال اور نمونہ ہے اُن آیاتِ کریمہ کا، جن کی تاویلی حکمت کا تعلّق خداتعالیٰ کے زندہ گھر یعنی امام علیہ السّلام سے ہے، اور امامِ عالیمقامؑ کی معرفت جو نہایت ہی ضروری ہے، وہ کسی کو حاصل نہیں ہوسکتی، مگر اطاعت سے اور اطاعت و فرمانبرداری کا مرکز جماعت خانہ ہے، کیونکہ یہ جائے ثواب اور مقامِ امن ہے۔
جس طرح ہر چیز کی رُوح ہوا کرتی ہے، اِسی طرح جماعت خانہ کی ایک عظیم رُوح ہے، یہ امامِ زمانؑ کی رُوح یعنی نور ہے، جس میں جماعتی رُوح زندہ ہوجاتی ہے، پس اگر آپ باور کرتے ہیں کہ جماعت خانہ میں امامِ برحقؑ کا نور موجود ہے، تو یہ بھی جان لیں کہ یہی نور اللہ تعالیٰ کا زندہ گھر ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک کا ارشاد ہے:
قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم و الذین معہ (۶۰: ۴) تمہارے واسطے تو ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں (کے قول و فعل) کا اچھا نمونہ موجود ہے۔ اِس ربانی تعلیم سے یقینی طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ ویسے تو ظاہر میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ بہت سے لوگ تھے، مگر جو حضرات باطن میں آپ کے ساتھ تھے، وہ آپؑ کی پیروی میں درجۂ انتہا پر پہنچ گئے تھے، اگر ایسا نہ ہوتا
۲۱
تو ان کا اُسوۂ حسنہ حضرت ابراہیمؑ کے اُسوۂ حسنہ سے نہیں ملتا، اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسے حضرات کون تھے یا کون ہیں؟ آلِ ابراہیمؑ ہیں، یعنی انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام، جن کا ظہور جناب خلیل اللہؑ کے نزدیک بہت ہی ضروری تھا (۲: ۱۲۴) اور خدائے مہربان نے آلِ ابراہیم کو سب کچھ دے رکھا تھا (۴: ۵۴) چنانچہ آنحضرتؐ نے بحکمِ خدا حضرت ابراہیمؑ کی پیروی کرتے ہوئے نہ صرف خانۂ کعبہ کو قبلہ بنایا بلکہ اسکے ساتھ ساتھ مقامی طورپر بھی خدا کا ایک گھر (مسجد) بنایا، اور پاک اماموں نے بھی اپنے اپنے وقت میں مسجد یا جماعت خانہ کے نام سے اللہ کے ایسے گھروں کی تعمیر کی۔
۱۲۔ سورۂ قصص (۲۸: ۵۷) میں فرمایا گیا ہے: کیا ہم نے ان کو امن و امان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس سے کھانے کو ملتے ہیں و لیکن ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے (۲۸: ۵۷) اگر آپ غور کریں تو صاف طور پر معلوم ہوجائے گا کہ ثمرات کل شی یعنی تمام چیزوں کے ظاہری میوے کہیں بھی خود بخود کھنچ کھنچ کر نہیں آسکتے، مگر یہ حقیقت ہے کہ پیغمبر اور امام صلوات اللہ علیھما جس جگہ کو عبادت کے لئے مقرر فرمائیں، وہاں کُلّ اشیاء کے روحانی میوے کھنچ کھنچ کر خودبخود آتے رہتے ہیں، اور یہی روحانی معجزات جماعت خانہ سے متعلّق ہیں۔
جب قرآنِ حکیم نے کہا کہ ثمرات کل شی (جملہ اشیاء کے میوے) تو اِس خداوندی کُلّیّہ کے مطابق جمادات، نباتات، حیوانات، اور انسان سب کے سب درخت قرار پائے، تاکہ ان میں سے ہر ایک کا پھل خانۂ خدا کی طرف آئے، مگر یہ صرف اور صرف روحانی صورت میں ممکن ہے، چنانچہ جماعت خانہ وہ مقام ہے، جہاں امامِ زمانؑ کی عظیم المرتبت روح (یعنی نور) کام کرتی ہے، جس کی طرف دُنیا بھر کی چیزوں کی روحیں کھنچ کھنچ کر آتی ہیں، جیسا کہ امامِ مبین
۲۲
میں اشیائے کائنات جمع ہوتی ہیں (۳۶: ۱۲) پس حقیقی مومنین کے لئے جماعتخانہ سے متعلق یہ روشن دلائل کافی ہیں۔
۱۰ دسمبر ۱۹۸۴ء
۲۳
خانۂ خدا ۔ خانۂ جماعت
(دوسری قسط)
۱۔ اِس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ خانۂ خدا خانۂ جماعت ہے، اور نہ ہی اِس بات میں کوئی شُبہ ہے کہ جس طرح دین کا مرکزی گھر خانۂ کعبہ ہے، اسی طرح مقامی گھر جماعت خانہ ہے، اور یہ نظام اللہ تعالیٰ کی سنت اور قانونِ فطرت کے عین مطابق ہے، کہ ہمیشہ رحمتوں اور برکتوں کا مقام ظاہراً و باطناً بندوں سے قریب تر کردیا جاتا ہے، جیسے حضرت آدم علیہ السّلام کے اِس دُنیا میں آنے کے ساتھ ساتھ آپؑ اور آپؑ کی اولاد کی خاطر یہاں خانۂ خدا کی تعمیر کی گئی، جو اِس زمین پر عرشِ عظیم کا درجہ رکھتا ہے، کیونکہ خدا کے عرش (تخت) کا جو مفہوم ہے وہی مفہوم خدا کے گھر کا بھی ہے، اور جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینۂ منورہ میں اللہ پاک کا ایک دوسرا گھر بنایا، جس کو ہم پہلی مسجد بھی کہہ سکتے ہیں، اور اوّلین جماعت خانہ بھی، کیونکہ فی الاصل ان دونوں کی شکل اور حقیقت ایک ہی ہے، بہرحال وہ خدا کے قدیم گھر کا قائم مقام تھا، اِس کے یہ معنی ہوئے کہ خانۂ کعبہ کو عرشِ عظیم کی نمائندگی حاصل ہے، اور جماعت خانہ کو کعبۂ شریف کی نمائندگی۔
۲۔ آپ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ اسلام میں تقویٰ کی بہت اہمیت ہے، کیونکہ تقویٰ جملہ عبادات کی جان ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لئے
۲۴
بہت کچھ کرنا پڑتا ہے، مگر شعائر اللہ یعنی خدا کی نشانیوں کی شانِ رحمت دیکھئے کہ ان کی حرمت و تعظیم سے قلبی تقویٰ کا عمل بن جاتا ہے (۲۲: ۳۲) امامِ زمان صلوات اللہ علیہ و سلامہ جو قرآنِ ناطق ہیں، ان کی پاک و پاکیزہ شخصیت اور جماعت خانہ شعائر اللہ میں سے ہیں، لہٰذا ان کی تعظیم کرنا قلبی تقویٰ کا نتیجہ بھی ہے اور درجہ بھی، کیونکہ ان میں سے ایک خدا کا باطنی گھر ہے اور دوسرا ظاہری گھر۔
۳۔ سورۂ حج کے ایک ارشاد (۲۲: ۲۶) کا تاویلی مفہوم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو بیت اللہ قرار دیا تھا، تاکہ اِس مرتبہ کی روحانیت و نورانیت میں توحید کی معرفت حاصل ہو، اور خدا کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا جائے، ربّ العزّت نے آپؑ کو یہ بھی حکم دیا کہ آپ اللہ کے اِس زندہ گھر کی نظریاتی، روحانی اور عقلی پاکیزگی کریں، تاکہ اس میں تین قسم کے فرشتے آجائیں، اور وہ ہیں طواف کرنے والے، قیام یا اعتکاف کرنے والے، اور رکوع و سجود کرنے والے۔
۴۔ پیغمبر اور امام کی پاک شخصیت میں روحانی مسجد اور نورانی جماعت خانہ ہونے کا خدائی قانون ہمیشہ سے جاری ہے، جیسے نوح علیہ السّلام نے اِس خانۂ نورانیت کو بیتی (۷۱: ۲۸) کہا، اور مومنین میں سے جو افراد اس میں داخل ہوچکے تھے، وہ ’’اھلِ بیت‘‘ کہلاتے تھے وہ قرآنی ارشاد یہ ہے:
رب اغفر لی و لوالدی و لمن دخل بیتی مومنا و للمومنین و المومنات (۷۱: ۲۸) اے میرے ربّ مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو کمالِ ایمان سے میرے (روحانی) گھر میں داخل ہوگئے ہیں ان کو اور تمام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ حضرت نوحؑ کی اس پُرحکمت دعا میں اہلِ ایمان دو درجوں میں ہیں، یعنی بعض مومنین کمالِ
۲۵
ایمان کی بدولت آپؐ کے خانۂ نورانیت (یعنی خانۂ خدا) میں داخل ہوچکے ہیں، اور بہت سے مومنین و مومنات ہنوز اِس درجے میں داخل نہیں ہوسکے ہیں۔
۵۔ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے وقت میں خدا تعالیٰ کا زندہ گھر (۲۲: ۲۶) اور نورانیت سے بھرپور معجزاتی جماعت خانہ تھے، جیسا کہ سورۂ احزاب (۳۳: ۳۳) میں فرمایا گیا ہے: انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت و یطھرکم تطھیرا (۳۳: ۳۳) اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اے (نورانیت کے) گھر والو تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو (ہر طرح سے ظاہراً و باطناً) پاک و صاف رکھے۔ یہ مقدّس گھر نورِ نبوّت و امامت تھا، اور اہلِ بیت (گھر والے) پنجتنِ پاک تھے، یعنی حضرت محمد مصطفیٰؐ، حضرت علی مرتضیٰ، حضرت فاطمۃ زہرا، حضرت حسن مجتبیٰ اور حضرت حسین سیّد شہداء صلوات اللہ علیھم، یہی خانۂ نورانیت اللہ تعالیٰ کا بولنے والا گھر اور عقلی و روحانی جماعت خانہ ہے، اور یہی وہ حکمت کا گھر ہے، جس کے بارے میں آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’میں حکمت کا گھر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہے‘‘۔ نیز یہ وہی مبارک و مقدّس گھر ہے جس میں بموجب آیۂ قرآن (۲۴: ۳۵) نورِ خداوندی کا چراغ روشن ہے۔
۶۔ یہاں متعلّقہ حقیقت کو دل نشین انداز میں پیش کرنے کی غرض سے یوں سوال کیا جاتا ہے کہ صراطِ مستقیم (راہِ راست) کس کی ہے؟ آیا یہ خدا کی ہے یا انبیاء کی؟ کیا یہ راہ آنحضرتؐ کی ہے یا امامؑ کی؟ کیا یہ مومنین کے لئے نہیں ہے؟ اِس کا جواب اِس طرح سے ہے کہ صراطِ مستقیم سب سے پہلے خدائے پاک و برتر کی ہے، کیونکہ راہِ راست کی منزلِ مقصود وہی ہے، یعنی سب کو اسی کے خانۂ نور میں جانا ہے (۴۲: ۵۳، ۲: ۱۵۶) نیز صراطِ مستقیم جملہ انبیاء علیھم السّلام کی ہے، کیونکہ وہ حضرات اس پر لوگوں کے رہنما تھے (۱: ۷، ۴: ۶۸) یہ راہِ راست پیغمبرِ
۲۶
آخر زمان صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہے، اِس لئے کہ حضورؐ سرورِ انبیاء و سردارِ رُسل ہیں (۱۲: ۱۰۸) نیز یہ رستہ امامِ عالی مقام علیہ السّلام کا ہے، کہ آپ ہادیٔ برحق ہیں (۱۳: ۷) اور یہ بھی حقیقت ہے کہ صراطِ مستقیم مومنین کی ہدایت کے لئے بنائی گئی ہے (۴: ۱۱۵) بالکل اسی طرح وہ انتہائی پاک و پاکیزہ گھر جو ربّ العزّت کا ہے، وہ مذکورۂ بالا تمام درجات کا ہے، اگرچہ ذاتِ خدائے بے مثل مکان اور لامکان سے بے نیاز و برتر ہے، لیکن اس کی وحدانیت کی معرفت خانۂ نورانیت سے باہر ممکن نہیں (۲۴: ۳۵) یہ گھر جو رحمتوں اور برکتوں سے مملو اور نورِ معرفت سے منور ہے وہ انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام کا نور ہے (۲۴: ۳۶) اور یہی نور سے معمور گھر مومنین و مومنات کا بھی ہے، جبکہ وہ مکمل پیروی کرتے ہیں (۵۷: ۱۲، ۶۶: ۸)۔
۷۔ قانونِ فطرت (پیدائش) یہ ہے کہ ہر چیز ابتداءً ایک محدود سانچے میں بنتی ہے، اس کے بغیر کسی چیز کا وجود میں آنا غیر ممکن ہے، درختوں کا پھل چھلکے کے بغیر اور مغز گٹھلی کے سِوا نہیں بن سکتا، اور جس طرح انسان کی ہستی و شکل اپنی ماں کی بچہ دانی سے باہر نہیں بن سکتی ہے، اور دوسری طرف سے آپ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض اشیاء موجود تو ہیں، مگر اُن کی کوئی مخصوص شکل و صورت نہیں، کیونکہ وہ سانچے کے بغیر بکھری ہوئی ہیں، جیسے عناصرِ اربعہ، یعنی مٹی، پانی، ہوا، اور آگ، چنانچہ بحکمِ خدا و رسول اللہؐ اور صاحبِ امر نے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ایک مقامی گھر بنا دیا، تاکہ اسی سانچے میں ڈھل کر ہر مرید بحقیقت مومن کہلائے، اور اس کی ایک خاص ایمانی اور روحانی صورت بن جائے۔
۸۔ جہاں رحمتِ کُل کے قانون کی رُو سے یہ ممکن ہے کہ عرشِ عظیم کا ایک نمونہ بصورتِ خانۂ کعبہ زمین پر اُتارا جائے، پھر زمانۂ طوفان میں آسمانِ چہارم پر اُٹھایا
۲۷
جائے، پھر زمانۂ ابراہیمؑ میں زمین پر اِس کی تعمیرِنو ہوسکتی ہو، اور پھر عہدِ نبوّت میں جہاں مقامی طور پر بھی خدا کا ایک گھر بنایا جا سکتا ہو، تو وہاں یہ بھی ممکن ہے کہ جماعت خانہ خدائے مہربان کے خانۂ ظاہر یعنی کعبۂ شریف اور خانۂ باطن (امامؑ) کی حقیقی نمائندگی کرے، اور یہ بات حق وحقیقت ہے، اور اس میں ذرّہ بھر شک نہیں۔
۹۔ جماعت خانے تین ہیں پہلا عالمی جماعت خانہ، جو امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کا مبارک وجود ہے، دوسرا مقامی جماعت خانہ، جو شہر یا قصبہ یا گاؤں یا محلے کا جماعت خانہ، اور تیسرا انفرادی جماعت خانہ جو بندۂ مومن کا دل ہے، مگر اِن تینوں کی مربوط حکمت مقامی جماعت خانے میں ہے، کہ وہیں پر رفتہ رفتہ روحانی ترقی ہوتی ہے، اور قلبی جماعت خانے کا دروازہ کھل جاتا ہے، پھر وہ نورِایمان سے منور ہو جاتا ہے، اور اسی میں امامِ اقدس و اطہرؑ کا پاک دیدار ہوتا ہے، جو نورانیت کا حقیقی جماعت خانہ ہے۔
۱۰۔ سورۂ یونس (۱۰: ۸۷) میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
و اوحینا الی موسی و اخیہ ان تبوا لقومکما بمصر بیوتا و اجعلوا بیوتکم قبلۃ و اقیموا الصلوٰۃ و بشر المومنین (۱۰: ۸۷) اور ہم نے موسیٰؑ اور ان کے بھائی (ہارونؑ) کے پاس وحی بھیجی کہ مصر میں اپنی قوم کے لئے گھر بناؤ اور اپنے اپنے گھروں ہی کو مسجدیں قرار دے کر پابندی سے نماز پڑھو اور مومنین کو خوشخبری دے دو۔ ہر ایسے شہر کو مصر کہتے ہیں جس کے گرداگرد صرف فصیل (شہرِپناہ) ہو، اس سے شہرِ روحانیت مراد ہے، کیونکہ اس کے گردا گرد نہ صرف فصیل ہے، بلکہ اس کا ایک دروازہ بھی ہے، چنانچہ اس آیۂ حکمت آگین میں انفرادی جماعت خانوں کی روحانی ترقی کا ذکر فرمایا گیا ہے،
۲۸
یعنی اللہ پاک نے پیغمبر اور امام علیھما السّلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کے حدودِ دین کے لئے شہرِ روحانیت میں گھر بنائیں، اور ان گھروں کو خانۂ خدا کا درجہ دے کر دعوتِ حق کا کام کریں، اور ایسے عروج و ارتقاء سے مومنین کو عملاً خوش خبری دے دیں۔
۱۱۔ سورۂ توبہ (۹: ۱۸) میں ارشاد فرمایا گیا ہے: خدا کی مسجدوں کو بس صرف وہی شخص (جا کر) آباد کرسکتا ہے جو خدا اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نماز پڑھا کرے اور زکوٰۃ دیتا رہے اور خدا کے سوا (اور) کسی سے نہ ڈرے تو عنقریب یہی لوگ ہدایت یافتہ لوگوں سے ہوجائیں گے (۹: ۱۸) اگر کہا جائے کہ یہاں مساجد اللہ سے دُنیا بھرکے جماعت خانے یا مسجدیں مراد ہیں، تو پھر ایک ہی شخص اُن سب کی آبادی میں کس طرح حصّہ لے سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ بات ناممکن ہے، چنانچہ یہ ارشاد تاویلی حکمت کا متقاضی ہے، اور وہ حکمت یہ ہے کہ خدا کی مسجدیں یعنی جماعت خانے تین درجوں میں ہیں، جیسا کہ ۹ میں بتایا گیا ہے، عالمی جماعت خانہ (یعنی امامِ وقتؑ)، مقامی جماعت خانہ، اور قلبی جماعت خانہ، اور ان تینوں کو ایک ساتھ صرف وہی شخص اپنی حاضری سے آباد کرسکتا ہے، جو خدا اور یومِ آخر (امامؑ) پر ایمان لائے اور نماز قائم کرے، یعنی کارِ دعوت کو انجام دے، اور ظاہری و باطنی زکات دیتا رہے۔
جب بندۂ مومن عقیدت و محبت سے متعلقہ جماعت خانے میں جا کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتا ہے، تو اس پُرحکمت عمل سے نہ صرف جمات خانہ آباد ہوجاتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انفرادی اور عالمی جماعت خانہ بھی معمور ہوجاتا ہے، کیونکہ خدا تعالیٰ کے یہ تینوں گھر مربوط اور یکجا ہیں، جبکہ مومن
۲۹
جماعت خانے سے وابستہ ہے، اور جبکہ امامِ زمان صلوات اللہ علیہ جماعت خانے کی رُوح ہیں، اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو مومن جماعت خانے پر یقینِ کامل رکھتا ہے اس کی رُوح کے ذرّات میں سے ایک خاص ذرّہ ہمیشہ امامِ برحقؑ کی مبارک و مقدّس شخصیت کی خدمت میں رہتا ہے، آپ حقیقتِ رُوح کے بارے میں تحقیق کر سکتے ہیں، اور ذرّاتِ رُوح سے متعلق مضامین کا مطالعہ بھی کرسکتے ہیں، تاکہ رُوح کے بسیط و ہمہ جا ہونے کا حال معلوم ہو سکے۔
۱۲۔ فرمایا گیا ہے کہ: ’’مومن کا قلب (دل) اللہ تعالیٰ کا عرش ہے‘‘۔ لیکن یہاں پوچھنے اور جاننے کی ضرورت ہے کہ اس قول کی اصل حقیقت کیا ہے؟ کیونکہ لفظِ ’’مؤمن‘‘ کا اطلاق تو بہت سے لوگوں پر ہوتا ہے، مگر عرش کا تصور بہت بلند ہے، لہٰذا آپ اِس حکمت کو بخوبی دل نشین کر لیں، کہ مومن کا قلب امامِ زمان صلوات اللہ علیہ ہیں،ا ور اسی مقدّس ہستی میں خدا کا نور جلوہ گر ہے، جیسے قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے: و اعلموا ان اللہ یحول بین المرء و قلبہ (۸: ۲۴) اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آڑ بن جایا کرتا ہے آدمی اور اس کے قلب کے درمیان۔ یعنی حقیقی علم کی روشنی میں تم اِس قانونِ امتحان کو جان لو کہ آدمی اور اس کے دل (یعنی امامِ زمانؑ) کے درمیان خدا کیوں حائل ہو جاتا ہے؟ یقیناً اس میں حکیمانہ اشارہ اور کامیابی کا راز بس یہی ہے کہ ہر شخص اپنے حقیقی دل کے ساتھ اللہ سے رجوع کرے، وہ لوٹ کر اُس طرف سے آگے بڑھے، جس طرف اس کا دل ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ درحقیقت قلبی جماعت خانہ بھی امامِ زمان ہیں۔ و ما توفیقی الا باللہ۔
۲۰ دسمبر ۱۹۸۴ء
۳۰
جماعت خانہ سے متعلق سوالات
سوال نمبر ا: بزرگوار علامہ صاحب! کیا آپ براہِ کرم شمالی علاقہ جات میں جماعت خانوں کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں گے کہ ان کا قیام کب عمل میں آیا؟ آیا اس بارے میں امامِ عالی مقام صلوات اللہ علیہ کا براہِ راست فرمان تھا یا کسی بزرگ کے توسط سے یہ حکم ملا؟
جواب: آج سے تقریباً ۷۲ سال پہلے ہمارے ملک کے شمالی علاقوں میں جماعت خانے تعمیر ہونے لگے، اور اس مقدّس کام کا حکم حضرتِ آغا عبد الصمد شاہ بزرگ کے ذریعہ موصول ہوا، اور مولائے پاک کے اس پُرحکمت فرمان پر جماعتوں نے جان و دل سے عمل کیا۔
سوال نمبر ۲: شمالی علاقہ جات میں اِس وقت کُل کتنے جماعت خانے ہیں؟
جواب: یہ بات ۱۹۷۳ء کی ہے، جبکہ میں اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برانچ گلگت کا انچارج آفیسر تھا، اس وقت میں نے تمام جماعت خانوں کا شمار اور مجموعہ کیا تھا، جس کے مطابق وہاں کے کُل جماعت خانے تقریباً ۳۰۰ (تین سو) تھے، ان میں اسماعیلی فوجیوں کے عارضی جماعت خانے بھی شامل ہیں۔
سوال نمبر ۳: کیا آپ نے روحانی روشنی دیکھی ہے؟ اگر دیکھی ہے تو کب اور
۳۱
کہاں؟ جماعت خانے میں یا اس سے باہر؟
جواب: الحمد للہ! اس بندۂ کمترین کو یہ سعادت نصیب ہوئی، یہ ۱۹۴۸ء کا موسمِ خزان تھا، اور کھارادر کے پُرانے جماعت خانے میں اس نورانی معجزے کا آغاز ہوا، اور منزل بہ منزل اس کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ ذاتی قیامت کا تجربہ ہوا۔
سوال نمبر ۴: کیا آپ قرآنِ شریف سے ثبوت پیش کر سکتے ہیں کہ جماعت خانے کی بہت بڑی فضیلت و مرتبت ہے؟
جواب: جی ہاں، ان شاء اللہ، جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ میں جماعت خانہ کے کمالات کا عاشق ہوں اور اسی کے بارِ احسانات کے نیچے دب گیا ہوں، لہٰذا میں نے فضائلِ جماعت خانہ کے باب میں براہِ راست اور بالواسطہ بہت کچھ لکھا ہے، مختصر یہ کہ خدا کا پہلا گھر خانۂ کعبہ ہے، دوسرا گھر امامِ زمانؑ ہے، جو بیت اللہ شریف کی تاویل ہے، تیسرا گھر جماعت خانہ ہے، جس میں امامِ وقتؑ کا باطنی دیدار اور نورانی معجزات ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا چوتھا گھر بندۂ مومن کا دل ہے، پس قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں بیت اللہ یا حرمت والی مسجد (مسجد الحرام) کی تعریف کی گئی ہے، وہ تاویلاً امامِ زمان علیہ السّلام کی توصیف ہے، جس کی معرفت جماعت خانہ ہی میں ہوسکتی ہے، کیونکہ امامِ عالی مقامؑ کی باطنی ملاقات جماعت خانہ میں ہے۔
سوال نمبر ۵: کیا آپ نے کسی جماعت خانے کی تعمیر میں عملاً حصّہ لیا ہے؟ اگر لیا ہے تو کس علاقے یا کس ملک میں؟
جواب: اس سلسلے میں مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بڑا عجیب لگتا ہے کہ
۳۲
میں تین چار سال کا بچہ تھا، جبکہ ہمارے گاؤں حیدر آباد (ہونزہ) میں مرکزی جماعت خانہ کی تعمیر ہورہی تھی، میں چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ شاید کھیل رہا تھا کہ کسی شخص نے کہا: بچو چلو گود میں بھر بھر کر ریت لاؤ، میں چلا اور چند ننھے منے بچوں کے ساتھ مٹی بھر ریت لانے لگا، اُس وقت میرے ہاتھ میں ایک سُرخ مونگا (RED CORAL) تھا، جس سے میں محبت کرتا تھا، لیکن مجھے خیال آیا کہ اسے جماعت خانے کیلئے قربان کر دینا چاہئے، سو میں نے اس مرجان کو ایک دہری دیوار میں ڈال دیا، اُس عمر کے اعتبار سے یہ کام میرے حق میں ایک کرامت سے کم نہ تھا، آگے چل کر سچ مچ جماعت خانے سے عشق ہوگیا، جس قدر بھی ممکن ہوا جماعت خانوں کی تعمیر میں حصّہ لیا، خصوصاً یارقند (چین) کے جماعت خانے اس حال میں تعمیر کروائے جبکہ جماعت کے بعض بڑے لوگ اس امر کی شدید مخالفت کر رہے تھے، وہ اور کچھ غیر اسماعیلی مخالفین بار بار یہ کوشش کرتے رہے کہ مجھے جاسوس قرار دیں، ہاں وہ مجھے بار بار قید اور نظربند کروانے میں کامیاب تو ہوگئے، مگر ثبوتِ جرم اور مقصدِ قتل میں کامیاب نہیں ہوئے، کیونکہ میرا معاملہ صاف اور پاک تھا اور میں صرف جماعت خانوں کو چاہتا تھا۔
سوال نمبر ۶: جماعت خانے کے بارے میں حدیثِ شریف کا کیا ارشاد ہے؟
جواب: یہاں ایک حدیث شریف کی بات نہیں، بلکہ احادیث کے کلّیات کا کلّ یہ ہے جو ارشاد ہوا:
من کنت مولاہ فعلی مولاہ ۔۔۔ و ادر الحق معہ حیث دار (میں جس کا سرپرست ہوں تو علی اس کا سرپرست ہے۔۔۔ اے اللہ!
۳۳
تو حق کو اس کے ساتھ گھما دے جہاں وہ گھومے)۔
یعنی زمانے کا علیؑ بفرمودۂ رسولؐ مومنین کا سرپرست اور مختار ہے، اور خدا نے حق کو اس کے ساتھ کر دیا ہے، پس جماعت خانہ بحکمِ امامِ مبینؑ حق پر مبنی ہے، لہٰذا اس کے بے شمار فضائل ہیں، کیونکہ یہ بیت اللہ شریف کی تاویل ہے۔
سوال نمبر ۷: کیا آپ نے جماعت خانے میں کوئی بڑا معجزہ دیکھا ہے؟ اگر دیکھا ہے تو کہاں اور کس جماعت خانے میں؟
جواب: میں نے قریۂ قرانگغو توغراق (QARANGU TUGRAQ) کے مبارک جماعت خانے میں انتہائی عظیم روحانی معجزے دیکھے، یہ بابرکت گاؤں یارقند (چین) میں ہے، میں نے آج تک جو کچھ لکھا ہے اور جو کچھ کہا ہے، اس کی ساری علمی اور عرفانی برکتیں انہیں معجزات میں سے ہیں، جو اس بندۂ ناچیز پر چین کے جماعت خانے میں ظاہر ہوتے رہے۔
سوال نمبر ۸: جماعت خانے کی عظمت و بزرگی پر عقلی دلیل کیا ہوسکتی ہے؟
جواب: ہر چیز کا ایک دل یا مرکز یا سنٹر ہوا کرتا ہے، اسی طرح عقیدہ اور مذہب کے عروج و ارتقاء کے لئے بھی کوئی خاص مقام ہونا چاہئے، تاکہ انسانیت اور آدمیّت کی تمام تر صلاحیتوں کو فروغ حاصل ہو، اور اجتماعی صورت میں خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے، ورنہ اختلافات کا امکان ہے۔
سوال نمبر ۹: آپ کس عمر سے جماعت خانہ جانے لگے تھے؟
جواب: خدا کے فضل و کرم سے میں بچپن سے جماعت خانہ جاتا تھا، کیونکہ میرے لئے اس میں ایک قدرتی دل کشی پیدا ہوگئی تھی، ہمارے
۳۴
گاؤں کے بزرگ جب خدا کی عبادت اور حمد کی تسبیح کرتے تھے، اور جس وقت نعت و منقبت خوانی ہوا کرتی تھی، اس سے مجھے بیحد خوشی حاصل ہو جاتی تھی۔
سوال نمبر ۱۰: آپ شروع شروع میں جماعت خانہ کن کے ساتھ جاتے تھے؟
جواب: میں بچپن میں اپنے والدِ محترم کے ساتھ جماعت خانہ جایا کرتا تھا، آپ دین کے دلدادہ، عاشق اور اپنے پیر کے خلیفہ تھے، مجھے یقیناً انہی سے دینی روح ملی۔
سوال نمبر ۱۱: کیا آپ کے علاقے میں جماعت خانوں سے پہلے بھی ذکرِ جلی اور شب بیداری کی رسم جاری تھی؟
جواب: جی ہاں، ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ دینِ اسلام جو دینِ فطرت ہے، وہ شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کا مجموعہ ہے، تاکہ ہر شخص رفتہ رفتہ معرفت میں داخل ہوسکے، اور اس سلسلے میں ذکرِجلی طریقت کا ایک اہم عنصر ہے، لہٰذا حکیم پیر ناصر خسرو کے حلقۂ دعوت میں شب بیداری اور ذکرِجلی کی رسم چلی آئی ہے۔
سوال نمبر ۱۲: آپ نے کس علاقے یا کس جماعت خانے میں زیادہ سے زیادہ شب بیداری کی ہے؟
جواب: اگرچہ روحانی مجلس اور شب بیداری کی مذہبی رسم شمالی علاقہ جات میں بہت پہلے سے جاری ہے، جس میں اکثر و بیشتر میری شرکت ہوتی رہی، تاہم یارقند کے انتہائی شدید امتحانات نے مجھے جماعت خانہ سے وابستہ کرکے شب بیداری کی دولت سے مالا مال کر دیا، تب ہی مجھے پتہ چلا کہ کس طرح ظلمات میں آبِ حیات پوشیدہ ہے۔
۳۵
سوال نمبر ۱۳: استادِ گرامی! آپ نے تقریباً کتنے جماعت خانوں کو دیکھا ہے، اور ان میں عبادت کی ہے؟
جواب: ہر چند کہ میرے پاس کوئی خاص تعداد ریکارڈ نہیں، لیکن مشرق و مغرب کے ایک دائمی مسافر کی حیثیت سے مجھے بہت سے جماعت خانوں کی زیارت نصیب ہوئی ہے، اور اگر ہر ایسے مقام پر معبودِ برحق کی کچھ عبادت کی گئی ہو تو اس نعمت پر شکر کرنا چاہئے، نہ کہ فخر۔
سوال نمبر ۱۴: آپ کے تجربے کے مطابق کیا سارے جماعت خانے فضیلت و معجزے میں یکسان ہوتے ہیں، یا ان کے درجات ہوا کرتے ہیں؟ اگر درجات ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: قرآن میں خانۂ خدا کو پاکیزہ رکھنے کا حکم ہے، تاکہ اس میں معجزاتی روحیں آجائیں (۲: ۱۲۵) اس کا آخری اشارہ یہ ہے کہ اہلِ جماعت خانہ ذکر وعبادت اور علم و معرفت کے ذریعہ اپنے باطن کو پاک کریں، تاکہ جماعت خانہ میں امامِ اقدس و اطہرؑ کا دیدار ہو، پس اس وجہ سے جماعت خانوں کے مختلف درجات ہوسکتے ہیں۔
سوال نمبر ۱۵: آپ کی تحریروں سے جماعت خانوں میں معجزات کا اشارہ ملتا ہے، سو آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ بڑے بڑے معجزات آپ نے کس جماعت خانے میں دیکھے ہیں؟
جواب: یہ صرف ذاتی تجربے کی بات ہے کہ میں نے قرانغو توغراق (یارقند) جماعت خانے میں انتہائی عظیم معجزات کا مشاہدہ کیا ہے، اور وہاں کے مختلف قید خانوں میں بھی، اگر ان کی تفصیلات درج کی جائیں تو بہت بڑی ضخیم کتاب ہوسکتی ہے۔
۳۶
سوال نمبر ۱۶: آپ کو اسمِ اعظم پر عبادت کرنے کی اجازت کہاں اور کب دی گئی تھی؟
جواب: یہ ۱۹۴۶ء کا زمانہ تھا، جبکہ امامِ عالی مقام حضرت مولانا سلطان محمد شاہ ڈائمنڈ جوبلی کے لئے بمبئی تشریف لائے تھے، اس موقع پر بمقامِ حسن آباد مولائے پاک نے اسمِ اعظم کے سرِ اسرار سے نوازا، اور اس گروپ کو تقریباً آدھا گھنٹے تک انمول ہدایات دیں، اس پاک دیدار میں میرے لئے بہت بڑی قیامت پوشیدہ تھی۔
سوال نمبر ۱۷: کیا آپ یہ بتائیں گے کہ جماعت خانے میں شیطان آسکتا ہے یا نہیں؟ اگر آسکتا ہے تو وہ کون سا شیطان ہے، انسی ہے یا جنّی؟ نیز یہ بتائیے کہ خدا کے گھر میں شیطان کس طرح داخل ہوسکتا ہے؟
جواب: شیطان جماعت خانے میں بڑے آرام سے آسکتا ہے، جبکہ درست حفاظت نہ ہو، چاہے انسی شیطان ہو یا جنّی، ایک ہی چیز ہے، خدا کا گھر روحانیت کی صراطِ مستقیم ہے، اور شیطان ہمیشہ یہ کوشش کرتا رہتا ہے کہ لوگوں کو یہاں سے گمراہ کردے، قرآن (۷: ۱۴ تا ۱۷) میں دیکھ لیں کہ کس طرح شیطان کو قیامت تک مہلت اور آزادی دی گئی ہے۔
سوال نمبر ۱۸: جماعت خانے سے زیادہ سے زیادہ روحانی فائدہ اٹھانے کے لئے کیا کرنا چاہئے، اور کیسی شرائط کی تکمیل ہونی چاہئے؟
جواب: اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ امامِ عالی مقام علیہ السّلام کے ان تمام ارشادات کا بغور مطالعہ کیا جائے جو جماعت خانہ سے متعلق ہیں، تاکہ جماعت خانہ سے عشق پیدا ہو جائے، جب یہ پاک عشق ہو تو پھر ہر
۳۷
مشکل آسان ہوجائے گی، کیونکہ پاک عشق نور ہے، اور نور میں ہر گونہ ہدایت موجود ہوتی ہے، ایسے میں ان شاء اللہ خدا کے گھر کے معجزات ظاہر ہوں گے۔
سوال نمبر ۱۹: کیا آپ جماعت خانہ کی حرمت کے بارے میں کچھ نصیحت کرسکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، ان شاء اللہ، جماعت خانہ، خانۂ کعبہ کی تاویل ہے، اور خدا کی نشانیوں میں سے ہے، (۲۲: ۳۲) اس کی حرمت و تعظیم سے دل کا تقویٰ بنتا ہے، اور جس کے دل میں تقویٰ ہو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر ۲۰: جماعت خانہ اور کعبہ میں کیا رشتہ ہے؟
جواب: وہ مثال ہے یہ ممثول، وہ تنزیل ہے یہ تاویل، اور وہ ظاہر ہے یہ باطن، اسی طرح ان دونوں کے درمیان آسمانی رشتہ ہے۔
سوال نمبر ۲۱: اسماعیلی مذہب میں کتنی قسم کے جماعت خانے ہیں؟ اور وہ کون کون سے ہیں؟
جواب: تین قسم کے جماعت خانے (خدا کا گھر) ہیں: انفرادی جماعتخانہ یعنی قلبِ مومن، مقامی جماعت خانہ اور عالمی جماعت خانہ (امامِ زمانؑ) اور ان کے آپس میں وحدت ہے۔
۲۲ اگست ۱۹۹۲ء
۳۸
دعائے جماعت خانہ کے فیوض و برکات
مومن کو سدا رحمتِ رحمان دعا ہے
طاعت میں یہی مقصدِ قرآن دعا ہے
من احسن قولاً سے دعا ہی کو سراہا
اللہ نے، پس مایۂ ایمان دعا ہے
یہ میوۂ توفیق ہے یہ مغزِ عبادت
بس حاصل ایمانِ مسلمان دعا ہے
مولا کی اطاعت میں جھکا دو سرِ تسلیم
سمجھو کہ تمہیں ثمرۂ فرمان دعا ہے
تم راہِ حقیقت میں دعا ہی سے مدد لو
اس راہ میں جب شمعِ فروزان دعا ہے
گرجان میں ہے کوئی مرض یا کہ بدن میں
ہر درد و مرض کے لئے درمان دعا ہے
جب جلوۂ انوارِ الہٰی کی طلب ہو
دیکھو کہ تمہیں دیدۂ عرفان دعا ہے
۳۹
ہے عالمِ دل نورِ حقیقت سے منور
خورشیدِ ضیا بخشِ دل و جان دعا ہے
دنیا میں اگر رنج و الم ہے تو نہیں غم
صد شکر کہ یاں روضۂ رضوان دعا ہے
معلوم ہوئی توبۂ آدمؑ کہ دعا تھی
پھر نوحؑ کا وہ باعثِ طوفان دعا ہے
ہو جائے اگر آتشِ نمرود ہویدا
ہو کوئی خلیلؑ اب بھی گلستان دعا ہے
یونسؑ کو دعا ہی نے دلائی ہے خلاصی
ہر دور میں بس رحمتِ یزدان دعا ہے
ہاں خضرؑ ہوا زندۂ جاوید اسی سے
دنیا میں یہی چشمۂ حیوان دعا ہے
موسیٰ ؑ کو عصا اور یدِ بیضا کے نشانے
حاصل جو ہوئے وجہِ نمایان دعا ہے
عیسیٰؑ میں جو تھا معجزۂ روحِ مقدّس
اس معجزہ کی حکمتِ پنہان دعا ہے
احمد جو ہوئے گوشہ نشین غارِ حرا میں
مقصودِ نبیؐ شمعِ شبستان دعا ہے
مولائے کریم دہر میں ہے نورِ الہٰی
اس نور سے کچھ فیض کا امکان دعا ہے
۴۰
گر نورِ امامت بمثلِ راہِ خدا ہے
اس راہ میں بھی مشعلِ ایقان دعا ہے
عاشق نے جو کچھ دیکھ لیا دیدۂ دل سے
صد گونہ یہاں جلوۂ جانان دعا ہے
تو شام و سحر آکے یہاں ذکر و دعا کر
اخلاق و عقیدت کی نگہبان دعا ہے
جس راہ سے منزلِ وحدت کا سفر ہے
منزل کی طرف وہ رہِ آسان دعا ہے
اس نظمِ نصیری میں ہے اک گنجِ حقائق
گنجینۂ پُر گوہرِ رحمان دعا ہے
شوال ۱۳۹۵ھ۔ اکتوبر ۱۹۷۵
۴۱
جماعت خانہ
درونِ نقطۂ توحیدِ بای بسم اللہ
حقیقتیست نہان نکتۂ ولیٔ الٰہ
علیست رہبرِ راہِ خدا و پیغمبر
بگیر دامنِ او تا رسی بمنزلِ جاہ
امامِ جنّ و بشر صاحبِ لوایِ حشر
امیرِ ہر دو سرا بادشاہِ این درگاہ
سخیٔ جملہ خلائق کریمِ دشمن و دوست
علیٔ عالی و آمرزگارِ جرم و گناہ
بحکمِ حضرتِ مولایِ حاضر و ناظر
خوشا شریف مقامی کہ شد عبادت گاہ
مبصرانِ حقیقت شناسِ کونِ صفا
کنند کحلِ بصر خاکِ راہِ این درگاہ
ز ہویِ لشکرِ غمہا چرا تو می ترسی
بیا بخانۂ مشکل کشا تراست پناہ
بیا مریدِ شہنشاہِ دین امامِ زمان
ز بارگاہِ امامت ہر آنچہ خواہی خواہ
۴۲
بشو باشکِ ندامت اگر تو دانا ای
ترا کہ جامۂ جانِ عزیز گشتہ سیاہ
دلِ من و رہِ عشق تو بعد ازین جانا
اگر برون رود از راہِ تو بیار براہ
مرا بحضرتِ حق ہیچ طاعتی نبود
بجز وظیفۂ عشق و دعایِ نالہ و آہ
نقاب را بکشا ای فروغِ دیدۂ جان
کہ تا بچہرۂ زیبایِ تو کنیم نگاہ
زرنجِ ظلمتِ غم گر نجات می خواہی
بیا بخانۂ نورِ زمانہ شام و پگاہ
برین در است صلایِ نصیرِ بی سامان
دہند آنچہ بخواہد ز لطفِ حضرت شاہ
۴۳
ترجمہ
۱۔ بائِ بسم اللہ کے (خزانۂ) باطن میں ’’(علی) ولی اللہ‘‘ کا نکتہ ایک پوشیدہ حقیقت ہے۔
۲۔ (کیونکہ) علیؑ یقیناً خدا اور رسولؐ کی راہ (یعنی صراطِ مستقیم) کا راہنما ہے، تُو اس کے دامنِ اقدس کو تھام کر رہنا، تاکہ تجھے آخرکار منزلِ مقصود نصیب ہو۔
۳۔ وہ جنّ و انس کا امامِ عالی مقام اور لوائے قیامت (لواءِ الحمد) کا مالک ہے، دونوں جہان میں صاحبِ امر اور اس بارگاہِ عالی کا بادشاہ ہے۔
۴۔ تمام لوگوں کے لئے سخی اور دشمن و دوست کا کریم و فیاض ہے۔ عالی مرتبت علیؑ ہی کی وجہ سے جرم و گناہ کی بخشش مل جاتی ہے۔
۵۔ (چونکہ اللہ و رسولؐ نے امامؑ ہی کو ولیٔ امر بنایا ہے، اس لئے) حضرتِ مولائے حاضر و ناظر کے فرمانِ پاک کے مطابق جو مقام عبادت گاہ (جماعت خانہ) کی مرتبت رکھتا ہو، اس کی کتنی بڑی سعادت ہے۔
۶۔ جن لوگوں کو عالمِ صفا (عالمِ لطیف) سے خصوصی نسبت ہے، اور اہلِ بصیرت ہونے کی وجہ سے حقیقت شناس ہیں، وہ عقیدت و احترام سے اِس درگاہ کی خاکِ راہ کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لیتے ہیں۔
۷۔ تو دکھوں اور غموں کے لشکر کے شور و غوغا سے کیوں ڈرتا ہے، آجا مشکل کشا کے گھر میں تیرے لئے مستقل امن و پناہ ہے۔
۴۴
۸۔ اے شاہنشاہِ دینِ امامِ زمان کے مرید آجا، حضرتِ امامِ عالی مقامؑ کی بارگاہِ عالی سے جو کچھ چاہئے، طلب کر لے۔
۹۔ اگر تُو دانا ہے تو ندامت و پشیمانی کے آنسوؤں سے اپنی پیاری روح کے لباس کو دھو لے، جو (نافرمانی کے میل سے) کالا ہو گیا ہے۔
۱۰۔ اے جانِ جان! اب اس کے بعد میرا دل تیرے پاک عشق کے راستے پر چلتا رہے گا، اگر یہ کبھی بھٹک جائے تو تُو خود اسے (لطفاً) راستے پر لے آنا۔
۱۱۔ یہ سچ ہے کہ خداوند تعالیٰ کے حضور میں میری کوئی بندگی نہیں، ما سوائے مناجاتِ عشق اور گریہ وزاری بھری ہوئی دعا کے۔
۱۲۔ اے میری روحانی آنکھ کی روشنی! (اپنی نورانیت کا) نقاب کھول دے، تاکہ ہم تیرے حسین و جمیل چہرے کو دیکھ سکیں۔
۱۳۔ (اے طالبِ حقیقت!) اگر تو ظلمتِ غم کی تکلیف و اذیت سے چھٹکارا چاہتا ہے تو صبح و شام (یقین کے ساتھ) نورِ زمانہ کے گھر میں آیا کر۔
۱۴۔ اسی مقدّس دروازے پر بے سروسامان (مفلس) نصیر ہر بار (شیئاً لِلّٰہ کی) صدا لگاتا ہے، اور اس کو ہر باطنی نعمت حضرتِ شاہِ ولایت کی مہربانی سے عطا کر دی جاتی ہے۔
نوٹ: میں نے اپنے برادرِ روحانی اور دوستِ جانی محترم عزیز محمد خان (مرحوم) کے پیارے گاؤں قرانگغو توغراق (یارقند چین) کے پاک و بامعجزہ جماعت خانے کو کیسے بھول سکتا ہوں، درحالے کہ اس میں پیش آمدہ واقعات و معجزات میرے دل و ماغ میں کالنّقش فی الحجر (پتھر کے نقش کی مانند) ہو گئے
۴۵
ہیں، اگرچہ بحدِ قوّت ہر ملک اور ہر مقام کا جماعت خانہ انتہائی معجزاتی ہوا کرتا ہے، تاہم مخفی نہ رہے کہ علم و عمل بے حد ضروری ہے، اور سب سے بڑھ کر قانونِ رحمت بڑا عجیب و غریب ہے۔
میں بارہا عرض کرچکا ہوں کہ فی زماننادورِقیامت جاری ہونے کے ساتھ ساتھ دورِ تاویل بھی ہے، کیونکہ تاویل قیامت کے بہت سے ناموں میں سے ایک نام ہے، جی ہاں! اجتماعی قیامت کے اتنے سارے نام اس لئے ہیں کہ اس کے ظاہری و باطنی کئی پہلو اور بہت سے کام ہیں، یہاں شاید آپ میں سے کوئی عزیز یہ سوال کرے کہ لفظِ تاویل کے معنی میں واقعۂ قیامت کی کون کون سی باتیں پوشیدہ ہیں؟
جواب: تاویل لفظِ اوّل سے مشتق ہے، لہٰذا اس کے لغوی معنی ہیں: کسی چیز کو اوّل کی طرف لوٹا دینا، یعنی مثال میں سے ممثول (روحانی حقیقت) کو معلوم کر لینا، تاہم قرآن میں جس تاویل کے آنے کا ذکر ہے (۷: ۵۳) وہ خزائنِ الہٰی سے نازل ہو کر دنیا میں آنے والی تاویل ہے، جو آفاق و انفس کی آیات کی صورت میں ہے، جس کا ایک نمایان حصّہ سائنسی انقلاب ہے۔
۸ دسمبر ۱۹۹۳ء
۴۶
جائے ثواب
جائے ثواب و امنِ خدائی بگو کجاست؟
آن کعبۂ مبارک و آن خانۂ خداست
دانی مثالِ کعبۂ اعظم کہ چیست آن؟
این خانۂ شریف کہ درپیشِ روئے ماست
آن چیست خانۂ ز خدا آنچہ زندہ است؟
مولائے حاضر است کہ او نورِ کبریا ست
ایزد ولیٔ امر کرا خواند در کلام؟
آن را کہ او امامِ زمان است و رہنما ست
بنمائے از حدیث کہ بابِ نبی کہ بود؟
واللہ بابِ نبی ذاتِ مرتضا ست
مولائے مومنان کہ بود بعد مصطفا؟
آن نائب رسول کہ سرتاجِ ہل اتیٰ ست
آن کشتیٔ نجات کدام است در جہان؟
شخصِ امامت است کہ از آلِ مصطفا ست
نورِ خدا کجاست کہ تابانِ ہمی رود؟
در ہستیٔ امامِ بحق شاہِ اولیا ست
۴۷
آیا ہموست حبلِ خدا یا کسی دگر؟
انسانِ کامل است کہ در دہر پیشواست
آئینۂ خدائے نما کیست بر زمین؟
سلطانِ لا فتا و شہنشاہِ انما ست
شاہِ زمانہ کیست و سردارِ دین کجاست؟
مولا کریمِ عصر کہ سرچشمۂ ہداست
نوری کہ با کتابِ سماویست آن کجا ست؟
در جبہۂ مبارکِ مولا و مقتدا ست
آن مظہرِ خدا و امامِ زمانہ کیست؟
آقائے ما کہ از ہمہ رو پاک با صفاست
خود خازن و خزانہ و مفتاح و در کہ است؟
آن نورِ حق امامِ مبین میرِ دو سرا ست
سنگِ بنیادِ جماعت خانۂ سونی کوٹ نہادہ شد۔
چہار شنبہ، ۱۷ جمادی الآخر ۱۴۰۴ھ، ۲۱ مارچ ۱۹۸۴
سالِ موش۔
۴۸
ترجمہ
س۱: (۲: ۱۲۵) بتاؤ کہ لوگوں کے لئے جائے ثواب اور مقامِ امن کہاں ہے؟
ج: ایسا مقام وہ بابرکت خانۂ کعبہ اور وہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہی ہے، جو مکہ میں ہے۔
س۲: آیا تم کعبۂ اعظم کی مثال جانتے ہو کہ وہ کیا ہے؟ ج: جی ہاں، یہ فضل و شرف والا گھر یعنی جماعت خانہ اِس کا نمونہ ہے، جو ہمارے سامنے ہے۔
س۳: خداوند عالم کا وہ گھر کون سا ہے، جو زندہ و گویندہ ہے؟
ج: خدائے تعالیٰ کا ایسا گھر مولائے حاضر یعنی امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کی پاک و پاکیزہ ہستی ہے، کیونکہ نورِ الہٰی وہی تو ہے۔
س۴: اللہ پاک نے قرآنِ حکیم (۴: ۵۹) میں کس کو ’’صاحبِ امر‘‘ قرار دیا ہے؟
ج: اُس نے انسانِ کامل کو جو زمانے کا برحق امامؑ اور ہادی ہوا کرتا ہے۔
س۵: تم حدیثِ شریف کی روشنی میں یہ دکھاؤ کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علم و حکمت کا دروازہ کون تھا؟ ج: خدا کی قسم آنحضرتؐ کے علم و حکمت کا دروازہ مولا مرتضیٰ علیؑ کا نور ہے۔
س۶: حضرت محمد مصطفیٰ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد مومنین کا مولا و آقا کون ہے؟ ج: وہ بحکمِ حدیث: من کنت مولا ہُ۔۔۔ آنحضورؐ کے جانشین ہیں، یعنی حضرت علی علیہ السّلام، جو مملکتِ
۴۹
ہل اتیٰ (۷۶: ۱ تا ۳۱) کے بادشاہ ہیں۔
س۷: اس دنیا میں وہ نجات والی کشتی کون سی ہے، جس کا ذکر حدیث میں فرمایا گیا ہے؟ ج: یہ شخصِ کامل صاحبِ مرتبۂ امامت ہے، جو آلِ حضرت محمد مصطفیٰؐ ہے۔
س۸: خدا تعالیٰ کا نور جس کا ذکر قرآن کے بہت سے مقامات پر موجود ہے، وہ کہاں ہے، جو ازل سے درخشان و تابان روان دوان ہے؟
ج: وہ نور امامِ برحق کی پاک ہستی میں ہے جو اولیاء کا بادشاہ ہے۔
س۹: کیا اللہ کی رسی (۳: ۱۰۳) بھی وہی یعنی امامِ عالی مقامؑ ہے یا کوئی دوسرا شخص؟ ج: وہی انسانِ کامل خدا کی رسی بھی ہے جو زمانے میں پیشوا ہے۔
س۱۰: کہتے ہیں کہ خلیفۂ خدا روئے زمین پر آئینۂ خدا کا کام انجام دیتا ہے، تو وہ کون ہے؟ ج: وہ سلطنتِ لافتیٰ کا سلطان اور ولایتِ انما (۵: ۵۵) کا شاہنشاہ ہے۔
س۱۱: زمانے کا بادشاہ کون ہے اور دین کا سردار کون؟ ج: وہ مولانا شاہ کریم الحسینی امامِ زمان ہی ہیں، جو سرچشمۂ ہدایت ہیں۔
س۱۲: جو نور ابتدا ہی سے آسمانی کتاب کے ساتھ ساتھ آیا ہے، وہ کہاں ہے؟ ج: وہ نور مولا اور پیشوا (امامؑ) کی مبارک پیشانی میں جلوہ گر ہے۔
س۱۳: وہ خدا کا مظہر اور زمانے کا امامِ اطہر کون ہے؟ ج: وہ مظہر ہمارے آقائے نامدار ہیں، جو ہر طرح اور ہر اعتبار سے انتہائی پاک و پاکیزہ ہیں۔
س۱۴: خود ہی خزانہ دار بھی ہے، خزانہ بھی، کلید بھی، اور دروازہ بھی، یہ کون ہو
۵۰
سکتا ہے جو ان تمام اوصاف کا مالک ہے؟ ج: وہ خدائے بزرگ و برتر کا نور، امامِ مبین، اور دونوں جہان کے امیر (صاحبِ امر) ہے۔
نوٹ: سونی کوٹ (گلگت) کی نیک نام جماعت کی خواہش بلکہ پُرزور فرمائش تھی کہ ان کے جماعت خانۂ نو کے کتبہ کے لئے کوئی پُر مغز نظم تیار کر دی جائے، چنانچہ بتائیدِ نورِ الہٰی یہ عالیشان نظم تیاری ہوئی، اور ان حضرات کے بخت سے بڑا تعجب ہوا کہ یہ نظم اپنی اعلیٰ خوبیوں کی وجہ سے کورس میں شامل ہوئی۔
۱۵ جمادی الثانی ۱۴۰۷ھ
۱۴ فروری ۱۹۸۷ء
۵۱
حصۂ دوم
انتسابِ جدیدِ حکمتی
کتابِ جماعت خانہ کا ایک حصّہ قبلاً چھپ کر شائع ہوچکا تھا، لیکن اب سفرِ چین کی رپورٹ لکھتے لکھتے کچھ ضروری مقالے ایسے جمع ہوگئے کہ ان کو کتابِ جماعت خانہ میں ہی شامل کرنا بہت مناسب تھا، پس ہم نے کتابِ جماعت خانہ حصّۂ دوم کے عنوان کے اِن خاص مقالوں کو کتابی شکل دی اور اس علمی خدمت کی سعادت عاشقِ مولا فتح علی حبیب اور ان کے نیک بخت افرادِ خاندان نے حاصل کرلی، فتح علی کی فرشتہ خصلت بیگم گُل شکر ایڈوائزر ہماری خداداد بیٹی ہے، ان کی دُختر نیک اختر فاطمہ فتح علی مثلِ فرشتہ ہے، عزیز نزار فتح علی دلدادۂ علمِ حقیقی ہے، ان کی شرافت والی بیگم شازیہ نزار اور لٹل اینجل دُرِ ثمین، عزیز رحیم مرچنٹ ہنرمند ہے اور انکی بیگم نسرین فرشتۂ جسمانی۔ ان میں سے چھ کے پاس آئی ایل جی کا اعزاز بھی ہے۔ مولا ان سب کا مددگار ہو!
دانشگاہِ خانۂ حکمت کے تمام عزیزان فردِ واحد ہوچکے ہیں یہ حظیرۂ قدس کی بات ہے، کل بہشت میں یہ سب اپنی نورانی مووی کو دیکھ کر حیران ہوجائیں گے۔ کیونکہ ان کے عظیم کارنامے بڑے عجیب و غریب ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص معجزانہ طور پر سب میں ہے یعنی ہر روح کے ساتھ سب ارواح جمع ہیں جیسا کہ مولا (روحی فداہٗ) کا ارشاد ہے کہ روح ایک ہی ہے۔
۵۵
سُبحان اللہ کیسا عظیم الشّان فرمان ہے الحمدللہ!
اس پیاری کتاب کے حصّۂ اوّل میں ہمارے بیحد عزیز انٹرنیشنل لائف گورنر اور فرسٹ پریسیڈنٹ (BIG) بورڈ آف انٹرنیشنل گورنرز غلام مصطفیٰ مومن اور ان کے خاندان کا انتساب درج ہے۔
جمعہ یکم، نومبر ۲۰۰۲ء
۵۶
دیباچۂ کتابِ جماعت خانہ حصّۂ دوم
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سورۂ یونس (۱۰: ۸۷) ترجمہ: ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی (ھارونؑ) کو اشارہ کیا (وحی بھیجی) کہ مصر میں چند مکان اپنی قوم کے لئے مہیا کرو یعنی ظاہر میں چند عبادت خانے مراد ہیں، اور باطن میں حدودِ دین اور ان ظاہری اور باطنی گھروں کو ترقی دے کر قبلہ قرار دو یعنی خانۂ خدا قرار دو، اور نماز و عبادت کو قائم کرو، اور اسی طرح روحانی ترقی کے عمل سے مومنین کو خوشخبری دو۔
اِس ارشادِ مبارک میں اہلِ تاویل کے لئے بہت سی ظاہری اور باطنی حکمتیں ہیں جن کی طرف اشارہ کیا گیا۔ پس جماعت خانہ اللہ، رسولؐ، اور امامِ زمانؑ کے امر سے ہے جو خدا کا گھر ہے اور خدا کا باطنی گھر عالمِ شخصی میں ہے، پھر بڑا مبارک ہے ہر وہ شخص جو جماعت خانہ کی معرفت رکھتا ہے، عقل والوں کے لئے جماعت خانے کی معرفت بیحد ضروری ہے یہ اعلیٰ معرفت روحانی قیامت اور قرآن حکیم میں ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کتابِ جماعت خانہ حصّۂ دوم میں جماعت خانے کے بہت سے معجزات کا ذکر ہوا ہے، ان شاء اللہ اس طریق سے عاشقوں کو عرفانی فائدہ حاصل ہوگا، میں اب جماعت خانہ اور امامِ مبین کے معجزات کو چُھپا نہیں سکتا
۵۷
ہوں کیونکہ گواہی کا چُھپانا اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم و ستم ہے (۲: ۱۴۰)۔ ترجمہ: اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا، جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چُھپائے؟ آیۂ شریفہ یہ ہے:
و من اظلم ممن کتم شہادۃ عندہ من اللہ۔
جمعہ یکم، نومبر ۲۰۰۲ء
۵۸
رباب نے کیا کہا؟
۱۔ حضرتِ حکیم پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرّہٗ کے حلقۂ دعوت میں منقبت خوانی دف و رباب کی موسیقی کے ساتھ ہوتی ہے، اس کا رواج تقریباً ہزار سال قبل شروع ہوا، اس مقدّس روایت نے اتنے لمبے عرصے میں گویا مکتبِ عشق اور صورِ اسرافیل کا کردار ادا کیا ہے، جس کے وسیلے سے یہاں کے بے شمار اسماعیلیوں کو امامِ برحق علیہ السّلام سے عقیدت و محبت کی فضیلت حاصل ہوتی رہی، پس یہ اہلِ بصیرت کے نزدیک اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ایک خصوصی نعمت ہے، خدا ہمیں ایسا زمانہ کبھی نہ دکھائے، جس میں یہ پُرحکمت چیز ہم سے چھن گئی ہو۔
۲۔ یارقند (چین) کا ایک واقعہ ہے کہ جب یہ خاکسار درویش اپنے روحانی انقلاب کے مراحل سے گزر رہا تھا، اسی زمانے میں کسی شام کے وقت وہ گھر میں انفرادی ذکر کے دوران رباب کو چھیڑنے لگا (جس کے چھ ۶ تاروں میں سے ایک انتہائی زیر، دو درمیانی زیر، ایک انتہائی بم، اور دو درمیانی بم ہوا کرتے ہیں) خداوندِ تعالیٰ کی قدرت بڑی عجیب وغریب ہے، کہ میں نے جب مضراب سے رباب کے تاروں کو چھیڑا تو کچھ تار صاف آواز میں بولنے لگے، انتہائی بم نے کہا ’’برائے دین، برائے دین‘‘ (یعنی دین کی خاطر، دین کی خاطر) اور درمیانی زیر کے دونوں تار نے کسی معجزانہ شخصیت کے نام کو دہرایا، اس روحانی معجزہ کی
۵۹
دونوں باتوں سے مجھے بدرجۂ انتہا حیرت ہوئی، یقیناً اس معجزۂ امامِ زمانؑ میں عقلمندوں کے لئے بہت سے اشارے موجود ہیں، نیز اس میں میرے مستقبل کے بارے میں کوئی پیش گوئی بھی تھی۔
۳۔ صبح سویرے میں ٹھیک وقت پر جماعت خانہ گیا، ریاضت اور عبادت حسبِ معمول ادا ہوگئی، اور جماعت کے افراد اپنے اپنے گھروں کی طرف جا چکے تھے، مگر قبول آخوند جو ایک بڑا مومن شخص تھا، وہ میرے پاس جماعت خانے میں آ کر کہنے لگا: ’’غو جم! (میرے خواجہ!) باہر کچھ لوگ آئے ہوئے ہیں‘‘۔ میں نے اس کے مغموم لہجے اور چہرے سے اندازہ کیا کہ وہ لوگ کچھ اچھی نیت سے نہیں آئے ہیں، پس میں نے زائد دعا و تسبیح ختم کرلی اور آخری سجدہ بجا لا کر باہر نکلا، تو گیٹ کے سامنے مخالفین کا ایک گروہ موجود تھا، جس کی تعداد شاید چالیس اور پچاس کے درمیان تھی، یہ لوگ مجھے گرفتار کرنے کی غرض سے آئے تھے، جس کا سبب یہ تھا کہ وہاں ہمارے جانے سے قبل ہماری جماعت پوشیدہ تھی، کیونکہ کہیں کوئی جماعت خانہ نہیں بنا تھا، لیکن ہم نے جیسے ہی کئی مقامات پر چند جماعت خانے بنوائے، تو اسی کے ساتھ اسماعیلی جماعت ظاہر ہوگئی، جس سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہونے لگی کہ نصیر الدّین کوئی نئی تحریک چلانے کے واسطے یہاں آیا ہے، اس پر مزید مصیبت یہ ہے کہ خود ہماری جماعت کے بعض بڑے لوگ بھی تعمیرِ جماعت خانہ کے مخالف تھے، اسلئے وہ میری شدید مخالفت کرتے تھے۔
۴۔ خداوند تعالیٰ اس حقیقتِ حال کا گواہ ہے کہ جب سے میں نے امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام کے روحانی معجزات دیکھے تھے، اور جب جب غلبۂ روحانیت کی مستی طاری ہوتی تھی تو اس حال میں کسی بھی خطرے سے نہیں ڈرتا
۶۰
تھا، چنانچہ میں نے بڑی دلیری اور بے باکی کے ساتھ ان کے پارٹی لیڈر سے چند سوالات کئے، اور کہا کہ آیا تم نے اسماعیلی جماعت اور جماعت خانے کے خلاف یہ یہ کام کیا ہے یا نہیں؟ وہ بڑی کمزور اور مضطرب آواز میں ’’نہیں نہیں‘‘ بول رہا تھا۔
۵۔ کچھ دیر بعد ایک رائفل مین بھی وہاں حاضر ہوگیا، بڑا موٹا اور لمبا جوان تھا، جس کو دیکھتے ہی سب لوگ احتراماً اُٹھ کھڑے ہوگئے، اور ہر شخص نے گرمجوشی سے اس کے ساتھ مصافحہ کیا، میرے ضمیر نے جو شرابِ روحانیت سے سرشار تھا، کسی آواز کے بغیر حکم دیا کہ اگر میری گرفتاری مطلوب ہے تو میں بکری کی طرح نہیں بلکہ شیر کی طرح گرفتار ہوجاؤں، چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھا اور اُس سپاہی یا پولیس کی رائفل کو سنگین کے سامنے سے انتہائی سختی کے ساتھ پکڑ کر چھین لینے کی کوشش کی، اور قریب ہی تھا کہ رائفل میرے ہاتھ میں آئے لیکن جب ان لوگوں نے یہ بڑا خطرناک منظر دیکھ لیا، تو فوراً سب کے سب مجھ پر حملہ آور ہوگئے، اور بڑی مشکل سے بندوق میرے ہاتھوں سے چھڑا لی گئی، مجھے یہ واقعہ عجیب لگتا ہے کہ مجھ میں اتنی زبردست طاقت کہاں سے آ گئی؟ جس سے مقابلہ کرنے کے لئے اتنے سارے آدمیوں کی ضرورت ہو! اور یہ بھی بڑی حیرت کی بات ہے کہ اگر رائفل ہاتھ میں آتی تو میں اسے کیا کرتا! میرا کوئی منصوبہ ہی نہ تھا۔
۶۔ حملہ کرنے والوں نے بندوق کا مسئلہ حل کر کے فوراً ہی میرے دونوں ہاتھ میری پشت پر باندھ لئے، اب میں دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوچکا تھا، وہ مجھے اپنے مقام سے کہیں دور لیجانے والے تھے، راستے میں ایک
۶۱
نابکار آدمی نے (جو انقلاب سے پہلے میرے روحانی بھائی اور دوست عزیز محمد خان کا نوکر تھا) میری پشت پر لات ماری اور گستاخی کی، لیکن دوسرے لوگوں نے اس حرکت کی مذمت کرتے ہوئے منع کیا، آپ باور کریں گے کہ اُس وقت میرا بدن اضافی روحوں کی طاقت سے بھرپور تھا، لہٰذا ایسی کوئی چوٹ اثر انداز تو نہیں ہوسکتی تھی، تاہم نجانے میں نے کیونکر اپنے آقا سے اس گرفتاری اور اہانت کی شکایت کرلی، جس کے جواب میں ایک مقدّس اور پُرجلال آواز نے فرمایا کہ: ’’تم صبر کرو تمہارے نہیں میرے ہاتھ باندھ لئے ہیں‘‘۔ سبحان اللہ! یہ کتنی بڑی عنایت ہے۔
۷۔ ہماری مقامی جماعت شاید اس مشکل مسئلہ کے حل کیلئے سوچ رہی تھی، مگر قبول آخوند جیسے عاشق کو کہاں صبر ہوسکتا تھا، وہ تو جان کی بازی لگا کر اُن لوگوں کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔
۸۔ دریائے زر افشان کے اس طویل پُل کے قریب (جہان سے یارقند کا راستہ قراغالیق اور خوتن کو جاتا ہے) مجھے ایک کھمبے کے ساتھ باندھا گیا، میں بار بار ’’اللہ اکبر‘‘ اور ’’یاعلی‘‘ کے حوصلہ مندانہ نعرے لگاتا رہا، اور دل میں خوف و ہراس جیسی چیز کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں تھی، ہر چند کہ رسی کی سخت بندش کے سبب سے ہاتھوں کی انگلیوں کے سروں سے خون ٹپکنا چاہتا تھا، مگر صبر و ہمت کا روحانی معجزہ ساتھ تھا، یہ بھی ایک آزمائش تھی کہ اس دوران مجھے شدّت سے پیاس لگی تو میں نے پانی مانگا، لیکن اہلِ کربلا کی طرح مجھے پانی سے محروم رکھا گیا، بیچارہ قبول آخوند اپنے بے مثال جذبۂ جان نثاری کے تحت میرے پاس آنا چاہتا تھا، مگر مخالفین پتھراؤ کرکے اسے ہٹا رہے تھے، اور وہ بھی جواباً اُن پر سنگ باری کرتا تھا۔
۶۲
۹۔ تقریباً چار یا تین گھنٹے تک یہ درویش اس جان گدازستون کے ساتھ باندھا ہوا رہا، درین اثناء مخالفین نے وہاں سڑک کے بیگار (رجاکی) کرنے والے بہت سے لوگوں سے سازباز کرکے میرے قتل کے لئے حکومت کو درخواست لکھ دی، پھر کچھ لوگوں نے مجھے پُل کے پار ایک پولیس چوکی کے حوالہ کر دیا، جہاں مجھے زندگی میں دوسری دفعہ گالی گلوچ اور ضربِ خفیف کا تجربہ ہوا، لیکن پوچھنے پر جب میں نے اپنی داستانِ ظلم و ستم اُن کو سنا دی تو بظاہر وہ خاموش ہوگئے۔
۱۰۔ پت جھڑ کا موسم تھا، اس لئے رات طویل، بڑی ٹھنڈی اور وحشتناک تھی، مگر مومنین اور مجاہدینِ اسلام پر اللہ تعالیٰ کے احسانات ہوا کرتے ہیں، چنانچہ اس ابتلا و امتحان کے دوران عالمِ روحانیت کی آوازیں اس ناچیز درویش کے ساتھ گفتگو کر رہی تھیں، اس حال میں مجھے یوں تصوّر ہونے لگا کہ گوناگون آوازوں اور صداؤں کا ایک طوفانی فوارہ یا ستون میری ہستی سے بلند ہوکر کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، اس میں وہ غضبناک آوازیں بھی شامل تھیں، جو بموجبِ قرآن دوزخ والوں کے لئے مقرر ہیں، اور وہ رحمت آمیز آوازیں بھی، جو اہلِ جنّت کو نوازنے کے لئے ہوتی ہیں، نہ معلوم میں نے یہ بچگانہ گستاخی کس طرح کی اور کہا کہ: اے روحوں کے سردار! اب اسی وقت جبکہ آپ پوری کائنات سے مخاطب ہیں تو فرصت ہی کہاں کہ آپ مجھ ناچیز سے کچھ خطاب فرمائیں۔ سو پاک آواز فرمانے لگی کہ ایسا ہرگز نہیں، ہمیں ہر وقت فرصت ہی فرصت ہے۔ اور آناً فاناً مرکز سے پاکیزہ اور شیرین آواز کی ایک شاخ پیدا ہوکر مجھ سے مصروفِ گفتگو ہونے لگی، درحالے کہ مرکز کسی فرق کے بغیر اپنا کام کر رہا تھا۔
۶۳
۱۱۔ جب صبح کا وقت ہوچکا تو مجھے واپس یارقند شہر کی جانب چلایا گیا، اور درمیان میں کسی دفتر میں رُکنا پڑا، شام کا وقت ہوچکا تھا، وہ موقع ہی ایسا تھا کہ اکثر اوقات روحانیت کے عظیم معجزات اور اسرار کا مشاہدہ ہوتا تھا، چنانچہ وہاں انگلیوں کے معجزے نمایان تھے، اس کا اشارہ یہ ہوا کہ جس طرح خدا کے دوستوں کی زبان کو تائید حاصل ہوتی ہے، اسی طرح ان کے ہاتھ کو بھی روحانی مدد حاصل ہوسکتی ہے، کچھ دیر کے بعد گاؤں کی جماعت کے دو مومن حکومت کی طرف سے رہائی کا حکم نامہ لیکر پہنچ گئے، اور خدا کے فضل و کرم سے میں بخیر و عافیت واپس گھر پہنچ گیا، جس گاؤں میں میرا قیام تھا، وہاں ہماری جماعت کے صرف ۴۵ گھر تھے، سب نے مل کر متفقہ طور پر حکومت سے درخواست کی تھی کہ ان کے عالمِ دین کو فوراً رہا کر دیا جائے، نیز یہ کہ گاؤں میں حکومت کے ذمہ دار افسران آ کر تفتیش کریں کہ تاجیک جماعت پر یہ ظلم و زیادتی کیوں ہو رہی ہے۔
لفظِ ’’تاجیک‘‘ تازی (عربی) کا مغیّر ہے، جو چین، روس، اور افغانستان میں اسماعیلیوں کے لئے استعمال ہوتا ہے، القصّہ مقامی حکومت کے سنٹر سے کچھ ذمہ دار افسران ہمارے گاؤں ’’قرانگغو توغراق‘‘ آگئے، جنہوں نے مسلسل نو ۹ دن تک واقعات و حالات کی تحقیقات کی، اور نتیجے کے طور پر یہ حکم صادر کیا گیا کہ تاجیک (اسماعیلی) اپنے مذہب کے معاملے میں آزاد ہیں، وہ دوسروں سے جماعتی طور پر الگ ہیں، ان کے جماعت خانے کی بے حرمتی اور جماعتی سکول پر قبضہ کرنے کی کوشش سراسر ظلم و ناانصافی ہے، اور اگر کوئی شخص اس حکم کے باوجود ان کے عقائد کو نقصان پہنچاتا ہے تو حکومت اس سے خبر لے گی۔ (بحوالۂ کتاب زبورِ عاشقین ۷۶ تا ۸۳)۔
۶۴
فقط آپ کا خادم
نصیر الدّین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
۲۰ نومبر ۱۹۸۰ء
۶۵
علامہ نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی سے ذاتی سوالات۔۱
س۔ (۱) حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کے حضورِ اقدس میں خصوصی عبادت کی اجازت اور ہدایت کب ملی تھی اور کہاں؟
ج: ڈائمنڈ جوبلی کے زمانے میں (۱۹۴۶ء) اور بمبئی، حسن آباد زیارت کے مقام پر۔
س۔ (۲) آپ نے روحانیت کی اوّلین روشنی کب دیکھی تھی اور کس مقام پر؟۔ ج: یہ کراچی کھارادر کا پُرانا جماعت خانہ تھا، اور سال ۱۹۴۸ء۔
س۔ (۳) رسولِ کریمؐ کا ارشاد ہے تم علم کو طلب کرتے جاؤ، اگرچہ تمہیں اس کی خاطر چین جانا بھی پڑے، کیا آپ اپنے سفر چین کو اس حکم کی تعمیل قرار دیتے ہیں؟۔ ج: نہیں، نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت تھی کہ اس نے ایک بندۂ ناچیز کو اس بارے میں حسنِ ظن کا موقع عطا کر دیا۔
س۔ (۴) کیا یہ پہلے ہی سے طے شدہ پروگرام تھا کہ ۴۸واں امام باطنی طور پر جزیرۂ صین میں جا کر سب سے بڑی روحانی قیامت برپا کرے گا؟۔
ج: جی ہاں، جی ہاں۔
س۔ (۵) آپ نے جو عظیم نورانی خواب سریقول میں دیکھا تھا، اس میں کیا کیا حکمتیں ہیں؟۔ ج: (الف) جسمانی موت سے قبل نفسانی موت کی بشارت، (ب) باطنی شہادت (ج) ذبیح اللہ کی معرفت (د) جسم سے ماورا زندگی کا مشاہدہ۔
۶۶
س۔ (۶) جسم سے ماورا زندگی کی کیا مثال تھی؟۔ ج: فضا میں کچھ بلندی پر عالمِ ذرّ جیسا منظر، جس میں چمکتے ہوئے ذرّات کا گویا ایک سمندر، اس میں آپ کی خودی (انا) کیلئے کوئی ایک ذرّہ مقرر نہیں، جبکہ آپ کسی بھی ذرّے میں ہوسکتے ہیں، چنانچہ وہیں سے میں نے زمین پر اپنے بے جان جسم کو دیکھا، سر جسم سے الگ کر کے دیوار سے لٹکایا گیا تھا۔
س۔ (۷) حسن آباد زیارت کے مقام پر امامِ اقدس و اطہرؑ نے کارِ بزرگ کی تعریف میں اور کیا فرمایا تھا؟۔ ج: مولائے پاک نے فرمایا تھا کہ کارِ بزرگ میں بہت سے فائدے ہیں۔
۲۸ دسمبر ۱۹۹۹ء
۶۷
ذاتی سوالات قسط۔۲
س۔ (۱) ڈائمنڈ جوبلی کے زمانے میں آپ کو اپنے محبوب امام کا دیدارِ پاک حاصل ہوا، اس وقت آپ کی کیا عمر تھی؟۔ ج: میں اس وقت تیس سال کا جوان تھا۔
س۔ (۲) آپ کے گاؤں میں جماعت خانہ کی تعمیر کب ہوئی تھی؟۔
ج: ۱۳۴۰ھ=۱۹۲۱ء سالِ مرغ میں۔ یہ مرکزی جماعت خانہ تھا، اب سات جماعت خانے ہو گئے ہیں۔
س۔ (۳) آپ نے تعمیرِ جماعت خانہ کے سلسلے میں کیا خدمت انجام دی؟۔ ج: میں اس زمانے میں ۵ سال کا بچہ تھا، چھوٹے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، کسی شخص نے کہا: چلو بچو! شاباش تم اپنے اپنے دامن میں بھر بھر کر ریت کو لو اور لے جاؤ وہاں سامنے جہاں جماعت خانہ بن رہا ہے، میں اپنے چھوٹے سے دامن میں چند مٹھی ریت لے کر وہاں گیا جہاں مقدّس عمارت کی دُہری دیوار بن رہی تھی، تو دل میں خیال آیا کہ یہاں کچھ نذرانہ پیش کرنا چاہئے، لیکن میرے پاس کچھ بھی نہ تھا، صرف ایک سُرخ مونگا (لڅم) تھا، جس کو میں نے نذرانہ کے طور پر دُہری دیوار کی بھرائی میں ڈال دیا۔
س۔ (۴) آپ پہلے پہل کس عمر میں جماعت خانہ گئے تھے؟۔
ج: میں پانچ سال کی عمر میں اپنے والد صاحب کے ساتھ جماعت خانہ جانے لگا
۶۸
تھا، پھر آگے چل کر اس نیک عمل میں بہت سی برکتیں پیدا ہو گئیں۔
س۔ (۵) آپ پر سب سے عظیم روحانی انقلاب کب آیا تھا؟ کہاں؟ کس عمر میں؟۔ ج: ۱۹۵۱ء کاشغر میں۔ عمر ۳۵ سال کی تھی۔
س۔ (۶) کیا وہ انفرادی قیامت تھی یا اجتماعی؟۔ ج: اس میں دونوں پہلو تھے، جبکہ انفرادی قیامت میں اجتماعی قیامت پوشیدہ ہوتی ہے۔
س۔ (۷) آپ کے نزدیک ہر جماعت خانہ روحانی معجزات کا مرکز ہے اور اس میں امامِ زمان/ مظہرِ نورِ خدا کا پاک دیدار ہوسکتا ہے، تاہم آپ کے روحانی انقلاب کا زیادہ سے زیادہ تعلّق کس جماعت خانے سے تھا؟۔ ج: میں جزیزۂ صین کے شہر یارقند کے قرانگغو توغراق جماعت خانے کے عظیم معجزات کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔
۲۹ دسمبر ۱۹۹۹ء
۶۹
ذاتی سوالات قسط۔۳
س۔ (۱) کسی بھی جماعت خانے میں امامِ زمانؑ کا نور اُس وقت روحانی معجزات کرتا ہے، جبکہ متعلّقہ جماعت انتہائی فرمانبردار، اور حقیقی عبادت گزار ہوا کرتی ہے، تو کیا آپ قرانگغو توغراق جماعت کی کچھ خوبیاں بتا سکتے ہیں؟۔ ج: جی ہاں، اوّل یہ کہ چین کی جماعت قابلِ تعریف ہے، دوم یہ کہ ان پر ظاہر میں بہت بڑا امتحان آیا تھا، سوم یہ کہ جب جب یہ درویش ان کے سامنے مناجات اور گریہ وزاری کرتا تھا تو وہ سب کے سب اس کے ساتھ برابر کے شریک ہوتے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ زمانۂ قیامت بھی تھا، لہٰذا اس جماعت خانے کے روحانی معجزات حرکت میں آ گئے۔
س۔ (۲) کیا روحانی قیامت کے تمام معجزات ہی قرآنی تاویل ہیں۔ (۷: ۵۳)؟۔ ج: جی ہاں۔ آپ نے زلزلۂ قیامت کو کہاں کہاں دیکھا؟۔
ج: دیدارِ اوّل کے موقع پر، عالمِ شخصی میں، اور قرانگغو توغراق جماعت خانہ میں۔
س۔ (۳) کیا آپ نے یہ زبردست اور بے مثال معجزہ بھی دیکھا کہ جماعت خانۂ مذکور نے ذکرِ جلی کیا؟۔ ج: جی ہاں، الحمد اللہ وہ ذکر بڑا عجیب و غریب اور حکمت سے لبریز تھا۔
س۔ (۴) کیا وہ ذکرِ جلی یہ تھا؟: یا علی مولاعلی۔ سلطان محمد شاہ علی۔
۷۰
ج: جی ہاں۔ الغرض ق ت جماعت خانہ بے شمار روحانی معجزات کا مرکز تھا۔ الحمد اللہ ربّ العلمین۔
۳۰ دسمبر ۱۹۹۹ء
۷۱
ذاتی سوالات قسط۔۴
س۔ (۱) کیا آپ نے یہ معجزہ بھی دیکھا کہ ق ت جماعت خانہ کے گردا گرد کچھ روحیں طواف کرتی تھیں؟۔ ج: جی ہاں۔ یہ سچ ہے، یہ سچ ہے۔
س۔ (۲) کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے مرغِ سحر (خروس) کو ہر صبح بروشسکی میں ایک جملہ بولتے ہوئے سنا تھا؟۔ ج: جی ہاں، یہ بات صحیح ہے۔
س (۳) کیا آپ کے نزدیک پرندوں کی بولی سمجھنا دو طرح سے ہے، اوّل ظاہری پرندوں کی بولی جو سرسری چیز ہے، دوم فرشتوں کی زبان سمجھنا جو بہت بڑی بات ہے؟۔ ج: جی ہاں یہ بالکل درست ہے۔
س۔ (۴) آپ جن معجزات کا ذکر کر رہے ہیں، آیا ان کا حوالہ قرآنِ حکیم میں موجود ہے؟۔ ج: جی ہاں، کیوں نہیں۔ آیتِ آفاق و انفس (۴۱: ۵۳) اور آیۂ معرفت (۲۷: ۹۳) کو غور سے دیکھیں، اور یاد رہے کہ آیات ہی معجزات ہیں۔
س۔ (۵) جماعت خانۂ ق ت کا ایک مومن عبدالاحد تھا کیا اس سے متعلّق ایک معجزہ تحریر نہیں ہوا ہے؟۔ ج: جی ہاں، درج ہوا ہے۔ بحوالۂ لعل و گوہر ص۴۱۔
س (۶) کیا قبول آخوند کا واقعہ معجزاتی نہ تھا؟۔ ج: کیوں نہیں۔ لعل و گوہر ص۴۴۔
س (۷) کیا رباب نے آپ سے کچھ کہا تھا؟۔ ج: جی ہاں۔
۳۰ دسمبر ۱۹۹۹ء
۷۲
ذاتی سوالات قسط۔۵
س (۱) کیا آپ کو شروع ہی سے شب بیداری، شب خیزی اور سحر خیزی سے بیحد شادمانی حاصل ہوتی تھی؟ کیا آپ قرآن سے کوئی حوالہ دے سکتے ہیں؟۔ ج: یقیناً زبردست مزہ آتا تھا، کیونکہ شب بیداری سخت ریاضت ہے، شب خیزی قدرے آسان ریاضت ہے، اور سحر خیزی زیادہ آسان ہے، قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ ان بابرکت اوقات کا تذکرہ آیا ہے، تاہم سورۂ مزمل (۷۳: ۱ تا ۲۰) میں ذکر و عبادت سے متعلق جملہ ضروری ہدایات موجود ہیں۔
س (۲) آپ نے بروشسکی نظمیں کب لکھی تھیں، روحانی انقلاب سے پہلے یا بعد میں؟۔ ج: کچھ پہلے لکھی گئی تھیں، اور کچھ بعد میں تصنیف ہوئیں۔
س (۳) آیا آپ نے روحانی انقلاب سے قبل کوئی نثری کتاب لکھی تھی؟۔ ج: نہیں، پہلے میں اس قابل ہی نہ تھا۔
س (۴) آپ کی اس بے مثال کامیابی میں آپ کے والدین کا کیا کردار رہا ہے؟۔ ج: شروع شروع میں میری مذہبی تربیت والدین سے ہوئی، اور بعد میں جب ساڑھے پانچ سال تک چین میں تھا، اس عرصے میں میرے والدین روتے رہے، اور خداوند تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کی گریہ وزاری کو بامقصد اور بابرکت بنا دیا۔ الحمد للہ۔
۷۳
س (۵) کیا آپ نے اپنی بیگم کی وفاداری اور جانثاری پر کچھ لکھا ہے؟ ج: جی ہاں، میں نے علمی بہار کے شروع میں ’’شبِ قدر اور ایک وفات‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے۔
۶ جنوری ۲۰۰۰ء
۷۴
ذاتی سوالات قسط۔۶
س (۱) کیا آپ جزیزۂ صین کے لئے شکرگزار ہیں کہ اس میں آپ پر روحانی انقلاب آیا؟۔ ج: جی ہاں، میں جان و دل سے اس ملک کا شکرگزار ہوں۔
س (۲) قیامت کے بہت سے ناموں میں سے ایک نام ہے تاویلِ کتاب (۷: ۵۳) کیا آپ نے ذاتی قیامت کو قرآنی تاویل کی صورت میں دیکھا؟۔ ج: جی ہاں۔
س (۳) سورۂ واقعہ (۵۶: ۸۹) میں روح اور خوشبو کا ذکر ہے، آپ نے اس کا تاویلی معجزہ کس طرح دیکھا ہے؟۔ ج: میں نے روح پر جو کتاب تصنیف کی ہے، اس سے ہر دانا شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ میں نے بعون و عنایتِ الہٰی روح کا مشاہدہ کیا ہے، اور روحانی خوشبوؤں کا تجربہ معرفتِ کُلّی سے الگ نہیں ہے۔
س (۴) روحانی خوشبوؤں کے عجائب وغرائب کا کچھ ذکر کریں؟۔ ج: جو روحانی خوشبوئیں ہیں، وہی روحانی غذائیں بھی ہیں اور غذائی روحیں بھی۔ میری اسیری زندگی میں حضرتِ امام(ع) کے جتنے عظیم معجزات ہوئے ان سب کا اشارہ اس شعر میں ہے: زندانے ایم یاد جہ مݹ بیلٹے تلالجم ۔ جنت نکݳ آر دین نمی زندان لوئیثم۔ قیدخانے کی شیرین یاد کو اب میں کیسے فراموش کرسکتا ہوں، محبوبِ جان میرے لئے جنت لے کر آیا اور گیا، میں نے یہ معجزہ زندان میں دیکھا، الحمد للہ ربّ العلمین۔
۷ جنوری ۲۰۰۰ء
۷۵
ذاتی سوالات قسط۔۷
س (۱) کیا آپ کے چلۂ اسیری میں روحانی وغیرہ آپ سے کلام کرتے تھے؟۔ ج: جی ہاں، الحمد للہ۔
س (۲) کیا وہ آپ کی مرضی کے مطابق ہر پھل، پھول، وغیرہ کی مجرّد خوشبو کو لا کر آپ کو سونگھا دیتے تھے؟۔ ج: جی ہاں، یہ سچ ہے۔
س (۳) اس عظیم معجزے سے آپ نے کیا نتیجہ اخذ کیا؟۔ ج: مجھے قرآنی ثمرات اور غذائی روح کی معرفت حاصل ہوئی اور یقین آیا کہ بہشت کی غذائے لطیف بھی ایسی ہی ہے۔
س (۴) آیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز میں روح ہے، اور ہر خوشبو میں بھی روح ہے؟۔ ج: یقیناً یہی بات درست ہے، مگر مادّی خوشبو الگ ہے اور روحانی خوشبو الگ۔ قرآنِ حکیم میں اسی خوشبو کا نام رزق بھی ہے۔
س (۵) آیا مریم کے پاس خدا کی طرف سے ظاہری پھل آیا کرتے تھے (۳: ۳۷)؟۔ ج: نہیں یہ مثال ہے، مریم کو روحانی اور علمی میوے آتے تھے۔
س (۶) حضرت عیسیٰؑ کی دعا سے جو خوان آسمان سے نازل ہوا تھا، اس پر کس قسم کی نعمتیں تھیں؟۔ ج: اس پر سب کی سب باطنی نعمتیں تھیں، یعنی روحانی اور عقلی غذائیں تھیں۔
۷۶
س (۷) کیا چلۂ اسیری میں آپ حسبِ معمول کھانا کھاتے تھے؟۔ ج: ہر گز نہیں۔
س (۸) کیا اسی دوران ایک رات کو حضرتِ قائم القیامت کا پاک دیدار بھی ہوا تھا؟۔ ج: جی ہاں، الحمد للہ۔
۸ جنوری ۲۰۰۰ء
۷۷
ذاتی سوالات قسط۔۸
س (۱) آپ دین کے خاص اور اعلیٰ اسرار کو کیوں ظاہر کرتے ہیں؟۔ ج: اگر میں اس ضروری شہادت کو چُھپائے رکھوں تو یہ بہت برا ظلم ہو گا (۲: ۱۴۰) اگر میں نے امامِ آلِ محمدؐ کے نور کی روشنی میں قرآن کے روحانی معجزات کو دیکھا ہے، تو میں کس طرح ان پر پردہ ڈال سکتا ہوں۔
س (۲) کیا آپ کی ان باتوں سے امام شناسی اور قرآن شناسی میں لوگوں کو مدد مل سکتی ہے؟۔ ج: ہاں ایسی امید ہے۔
س (۳) آپ قرآن فہمی کی جگہ قرآن شناسی کہتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ج: کیونکہ قرآن کی معرفت بہت بڑی چیز ہے۔ یاد رہے کہ قرآن اور امام باطن میں دو باہم ملے ہوئے نور ہیں، لہٰذا ایک کو پہچاننے سے دوسرے کی پہچان خودبخود ہوجاتی ہے۔
س (۴) آیا یہ حقیقت ہے کہ آپ نے امامِ زمان کی معرفت میں قرآن کی معرفت حاصل کر لی؟۔ ج: یہ اسی کی بہت بڑی مہربانی ہے۔
س (۵) کیا خزانۂ خزائن (۳۶: ۱۲) سے کوئی بھی روحانی، عقلی اور علمی چیز باہر ہوسکتی ہے؟۔ ج: نہیں نہیں، بفضلِ خدا کلّیۂ امامِ مبین سے کوئی چیز باہر نہیں، پھر قرآن کی روحانیت و نورانیت کیونکر اس سے باہر ہو سکتی ہے۔
۸ جنوری ۲۰۰۰ء
۷۸
ذاتی سوالات قسط۔۹
س۔ (۱) آفاق و انفس کی آیات و معجزات (۴۱: ۵۳) میں سے جو کچھ آپ کو دیکھایا گیا ہے، اس کو کسی خوف کے بغیر بلا کم و کاست بیان کریں، گھوڑے سے متعلق کیسا معجزہ ہوا؟۔ ج: اسیری چلّہ تمام ہوجانے کے بعد بندۂ درویش گھوڑے پر اپنے وطن کی طرف آنے لگا، اس نے اسماء الحسنیٰ میں سے ایک اسم کا ورد دل ہی دل میں شروع کیا تو چشمِ پوشی کے عالم میں محسوس ہوا کہ گھوڑا مست و رقصان ہوا میں چل رہا تھا، آنکھ کھول کر دیکھنے سے یہ معجزہ غائب ہوگیا، پھر تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کر کے اسی اسم کو دل میں پڑھنے سے وہی معجزہ ہوا، الحمد للہ۔
س۔ (۲) کیا آپ اس معجزے کی کوئی حکمت بتا سکتے ہیں؟۔
ج: ان شاء اللہ تعالیٰ، جاننا چاہئے کہ اسمِ بزرگ کا یہ معجزہ گھوڑے کے جسمِ لطیف پر ہوا تھا۔ حدیثِ شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ جنّت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت لطیف گھوڑا بھی ہے۔
س (۳) آیا آپ اس گھوڑے کی بولی سُن رہے تھے؟۔ ج: جی ہاں، منہ اور زبان سے نہیں، بلکہ پیشانی کی طرف سے کچھ باتیں سنائی دیتی تھیں۔
س (۴) کیا آپ کو روحانی انقلاب کی بدولت بے شمار علمی اور عرفانی برکتیں حاصل نہیں ہوئیں؟۔ ج: کیوں نہیں، میں تو اس سے پہلے بہت پس ماندہ
۷۹
اور علم و معرفت سے خالی تھا۔
س۔ (۵) ایک دفعہ درخت پر سے کوّے نے کیا کہا؟۔ ج: کوّا نے کہا: قار قار، میں نے خیال کیا، شاید یہ قہر قہر کہتا ہے، لیکن لفظ قار قار تھا، اور قار ترکی میں برف کو کہتے ہیں، شاید یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ بوقتِ واپسی مجھے مِنتکا کی گھاٹی میں برف سے بہت تکلیف ہوئی تھی۔
۱۲ جنوری ۲۰۰۰ء
۸۰
ذاتی سوالات قسط۔۱۰
س۔ (۱) کیا آپ نے اپنے نفسانی موت کے دوران ملک الموت یعنی عزرائیل (۳۲: ۱۱) کو دیکھا تھا؟۔ ج: نہیں، مگر جس اسم کا ذکر کر رہا تھا، وہ صاف صاف سنائی دیتا تھا، اور لگاتار قبضِ روح کا عمل محسوس ہوتا رہتا تھا۔
س۔ (۲) کیا آپ نے عزرائیلی لشکر کو دیکھا ہے؟۔ ج: جی ہاں، ہر لشکر ذرّاتی شکل میں ہوتا ہے، اور وہ سب کے سب مل کر صورِاسرافیل کی ہم آہنگی میں تسبیح خوانی کرتے ہیں، اور سالک کے جسم میں ڈوب کر روح کے بے شمار ذرّات کو قبض کرتے اور واپس کرتے رہتے ہیں۔
س۔ (۳) یاجوج و ماجوج سے متعلّق انتہائی مشکل سوالات تھے، آپ نے امامِ آلِ محمدؐ کے تاویلی خزانے سے بیشتر سوالات کو حل کر دیا ہے، مگر پھر بھی چند سوالات باقی ہیں، آپ سورۂ انبیاء (۲۱: ۹۶) کے حوالے سے یہ بتائیں کہ حَدَبِ=بلندی سے کیا مراد ہے؟۔ ج: ہر بلندی سے حدودِ جسمانی مراد ہیں۔
س۔ (۴) قصّۂ ذوالقرنین (۱۸: ۸۳ تا ۹۹) میں کس کے اسرار ہیں؟۔ ج: علیٔ زمان کے اسرار ہیں۔
س۔ (۵) یاجوج و ماجوج کس کے لشکر ہیں؟۔ ج: صاحبِ زمان کے روحانی لشکر ہیں۔
سنیچر ۷ شوال المکرم ۱۴۲۰ھ
۱۵ جنوری ۲۰۰۰ء
۸۱
ذاتی سوالات قسط۔۱۱
س۔ (۱) کیا آپ اپنی زندگی کے پُرمشقت حالات، طرح طرح کی مشکلات، دوسری طرف سے خداوندی عنایات، اور عمر بھر کے گرانمایہ تجربات کو اس لئے بیان کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس سے بطورِ خاص آپ کے عزیز شاگردوں کی علمی ترقی میں مدد ملے؟۔ ج: جی ہاں، ان شاء اللہ العزیز۔
س (۲) حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کے زمانے میں آپ پر ایک بہت بڑا روحانی انقلاب آیا تھا، جسکی وجہ سے کیا آپ کے پاس بے شمار بھیدوں کا بہت بڑا خزانہ نہیں ہے؟ وہ کسی خوف کے بغیر مجموعاً ظاہر کیوں نہیں کرتے ہیں؟۔ ج: الحمد للہ، یقیناً وہ خزانہ موجود بھی ہے، اور حکمت کے طریقوں سے وہ بیان بھی ہوتا رہا ہے، یاد رہے کہ روحانی بھیدوں کو ظاہر کرنے کا بہترین طریقہ قرآنی حکمت ہے۔
س۔ (۳) کیا آپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کی جملہ کتابوں میں وہ سب کچھ ہے جو کچھ آپ کو قرآن اور امام سے حاصل ہوا ہے؟ ج: جی ہاں، پھر بھی میں امامِ زمان کا ایک ادنیٰ مرید اور غلام ہوں۔
س (۴) آپ اور آپ کے تمام ساتھی یہ جو علمی خدمت کرتے ہیں، وہ کس کے لئے ہے؟۔ ج: امامِ زمان علیہ السّلام کے لئے ہے، کہ میں اسی کے
۸۲
پاک خاندان کا علمی زرخرید غلام ہوں، اسی کے ساتھ عزیز جماعت کا ذکر بھی آیا، نیز ہماری خدمت اسلام کے لئے ہے، مجھے ان تین خدمات پر مزید روشنی ڈالنی ہوگی۔
جمعہ ۱۳ شوال المکرم ۱۴۲۰ھ
۲۱ جنوری ۲۰۰۰ء
۸۳
روحانی قیامت
روحانی قیامت اپنے ساتھ علم و معرفت کے بے شمار معجزات کو لے کر آتی ہے، لیکن کوئی بیچارہ درویش جو قیامت کی چکی میں پِس رہا تھا وہ کس طرح قصّۂ قیامت کو کما کان حقّہٗ بیان کرسکتا ہے؟ اگر تم عاشق ہو تو اس میں سے ہر بات کو سُن لو۔
شاید وہی رات تھی جس میں آتشِ سرد کے بہت سے اسرار ظاہر ہوئے تھے، یہ درویش جس کو ابھی ابھی بہت سے معجزات نے خوف زدہ کیا تھا کہ اس کو چھت کے درمیان بڑا شگاف نظر آیا اور اس کا بالائی آسمان، اور اس میں یو۔ایف۔اوز کے کئی جہاز مجھ پر بمباری کرنے کے لئے منڈلانے لگے، اب چھت میرے اوپر سے تقریباً غائب ہو چکی تھی، میں نے اپنے بیٹے سیف سلمان خان کو جو اُس وقت بہت چھوٹا تھا اور اس کی والدہ کو دوسرے رُوم میں رکھا تھا، تاکہ وہ ان جہازوں کی بمبارمنٹ سے محفوظ رہیں۔
کیا یہ خواب تھا؟ نہیں، کیا یہ بیہوشی کا عالم تھا؟ نہیں، نہیں، میں سب کچھ دیکھ رہا تھا، لیکن اس معجزے کو ناقابلِ فراموش کر دینے کا قدرتی ایک نظام تھا، اور کوئی روحانی آواز دے کر یو۔ایف۔اوز کو بتا رہا تھا کہ دیکھو ٹارگیٹ یہاں ہے، کسی بہت بڑے ملک کا نام لیا جا رہا تھا کہ یہ جہاز وہاں سے آئے ہیں۔
۸۴
آج یو۔ایف۔اوز نہ صرف سائنس دانوں ہی کے لئے بلکہ بڑے بڑے ممالک کے لئے بھی انتہائی حیران کُن سوال ہیں، مگر ان شاء اللہ ہم درویش لوگ خدائے علیم و حکیم کی ہدایت کی طرف دیکھتے ہیں، آپ قرآنِ حکیم سے رجوع کریں اور آفاق و انفس میں اللہ کی نشانیوں کی پیش گوئی کو بھول نہ جائیں۔ (۴۱: ۵۳)۔
جمعرات ۵ اکتوبر ۲۰۰۰ء
۸۵
غیر معمولی سوالات
س: کیا گُڈُر کے دوسرے معنی بھی ہیں؟
جواب: جی ہاں، گُڈُرورد=گول چیز، البتہ یہ اصل معنی ہیں۔
س: آیا عارفانہ قیامت میں عالمِ ذرّ کا ظہور اور یاجوج و ماجوج کا خروج ایک ساتھ ہیں؟
جواب: جی ہاں۔
س: اور سُنو جس دن منا دی کرنے والا قریب ہی سے پکارے گا (۵۰: ۴۱)، قیامت کی منادی کرنے والا کون ہے؟ اور قریب ہی کی جگہ کونسی ہے؟
جواب: وہ عالمِ شخصی کا ایک اساسی فرشتہ ہے، اور وہ قریب ہی کی جگہ کان ہے۔
س: مومن اور مومنہ کے کان بجنے میں کیا اشارہ ہے؟
جواب: یہ صورِاسرافیل کی آواز کا نقطۂ آغاز ہے۔
س: سورۂ قمر (۵۴: ۶) کے مطابق داعیٔ قیامت لوگوں کو کس چیز کی طرف دعوت کرے گا؟
جواب: قیامت اور صاحبِ قیامت کی طرف، جس کی معرفت نہ ہونے کی وجہ
۸۶
سے بڑی عجیب اور ناگوار ہوگی۔
س: جس رات اُڑن طشتریاں آپ کو مرعوب کر رہی تھیں، اُس وقت آپ کے اوپر جو چھت تھی وہ نظر نہیں آ رہی تھی، کیا یہ معجزہ درست ہے؟
جواب: جی ہاں، میں نے اپنے شاگردوں کے لئے اس کو ضبطِ تحریر میں بھی لایا ہے۔
س: سورۂ نحل (۱۶: ۷۷) میں جس طرح قیامت کا بیان آیا ہے، وہ ہم کو سمجھا دیں۔
جواب: امرِ قیامت (واقعۂ قیامت) آسمانوں اور زمین میں چشمِ زدن سے بھی تیزتر رفتار سے جاری و ساری ہے، مگر حجاب کے پیچھے، اور حجاب حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن کے درمیان ہے۔
منگل ۱۰، اکتوبر ۲۰۰۰ء
۸۷
شاہنشاہِ جِنّات=صاحبِ جثّۂ ابداعیہ
قیدخانے میں اتفاق سے آخری چلّہ ہوگیا، جس میں بے شمار عجائب و غرائب کا مشاہدہ ہوا، جن کا بالترتیب بیان میرے لئے غیرممکن ہے، ایک دفعہ رات کے پہلے حصّے میں دروازہ غیرمعمولی طور پر دھماکے کے ساتھ کھل گیا اور اُسی آن وہ بند ہو گیا، اور شاہنشاہِ جِنّات میرے سامنے تشریف فرما ہوگیا، ایک ہاتھ میں رائفل سنگین کے ساتھ اور دوسرے میں ٹارچ، شاید یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ وہ حاملِ نور بھی ہے اور صاحبِ جنگ بھی، میری حالت خوف و حیرت کی وجہ سے دگرگون ہوئی تھی اور میں عجیب قسم کی موت کا شکار ہو رہا تھا، مگر کتنی اعلیٰ موت تھی، الحمد للہ۔
گر عشق نبودی سخن عشق نہ بودی
چندین سخنِ خوب کہ گفتی کہ شُنودی
ترجمہ: اگر عشق نہ ہوتا اور عشق کا بیان نہ ہوتا، تو اتنی عمدہ باتیں کون کہتا اور کون سُنتا۔
زندانہ اُیم یاد جہ مݹ بیلٹہ تل آلجم
جنت نُکَݳ آر دین نمی زندانُ لوئیڎم
قرآنِ حکیم میں بارہا جثۂ ابداعیہ کا ذکر آیا ہے، اور وہ تذکرہ
۸۸
مختلف مثالوں میں ہے، ان میں سے ایک مثال یسعیٰ نورھم (۵۷: ۱۲، ۶۶: ۸)=مومنین و مومنات کا نور دوڑ رہا ہو گا، یہ معجزہ ظاہر میں جثۂ ابداعیہ ہے۔
فرعون کے محل میں موسیٰ کو قتل کرنے کے لئے جو میٹنگ ہو رہی تھی، اس سے موسیٰ کو کس نے آگاہ کیا تھا؟ جثۂ ابداعیہ نے، جو شہر سے باہر بیابان میں رہتا تھا، مگر خفیہ طور پر فرعون کے محل میں بھی آیا تھا (۲۸: ۲۰)
جو لوگ کہتے ہیں کہ جنّات نہیں ہیں، وہ قرآن اور روحانیت سے بالکل نابلد ہیں، ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ زمین کے دو حصّے ہیں، کہ اس کا ایک حصّہ آباد ہے جس میں بنی آدم رہتے ہیں، اور دوسرا غیرآباد حصّہ ہے جس میں جنّات بستے ہیں، اگر آپ سوال کرتے ہیں کہ انس و جنّ میں کیا رشتہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اب جسمِ کثیف رکھتا ہے مگر جِنّ جسمِ لطیف ہے، جنّات بعض اچھے ہیں اور بعض بُرے ہیں، جو نیک جنّات ہیں وہ فرشتے بھی ہیں اور جو بُرے جنّات ہیں وہ شیاطین بھی ہیں اور جو انسان ہر طرح سے نیک ہو وہ لطیف ہو کر نیک جِنّ اور فرشتہ ہو جائے گا۔
اگر آپ کو لفظِ جنّ سے ڈر ہے یا نفرت ہے، تو اس کی وجہ لاعلمی کے سوا کچھ بھی نہیں، خدا کے واسطے جِنّ کو پری قوم سمجھو، اور یہ بات خوب یاد رکھو کہ نہ صرف پری قوم کی عورتیں ہی لطیف اور انتہائی خوبصورت ہوا کرتی ہیں، بلکہ اس قوم کے مرد بھی لطیف اور بدرجۂ انتہا حسین و جمیل ہوتے ہیں، پس اکثر لوگ جس طرح جِنّ کا تصوّر کرتے ہیں وہ بالکل غلط اور گمراہ کُن ہے، اس کی وجہ وہ بے حقیقت کہانیاں ہیں جو زمانۂ قدیم سے عوام النّاس میں چلی آئی ہیں۔
قرآنِ حکیم کی اعلیٰ سطحی حکمت یہ بتاتی ہے کہ خدا ضدّ سے ضدّ کو پیدا کرتا ہے،
۸۹
پس انسان جو کثیف ہے اس سے لطیف کو پیدا کرتا ہے، یعنی فرشتہ، حور، پری مرد یا عورت، نیک جِنّ وغیرہ۔ حضرتِ آدمؑ سے قبل اس زمین پر جِنّات رہتے تھے (بحوالۂ کتاب دعائم الاسلام، حصّۂ اوّل، عربی، ص۲۹۱)۔
آپ کو اس بھید کے جاننے سے ازحد خوشی ہوسکتی ہے کہ حدودِ جسمانی نہ صرف انسانوں میں سے ہوتے ہیں، بلکہ جِنّات سے بھی حدودِ جسمانی ہوتے ہیں، اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو کہ حضرتِ رحمتِ عالمؐ کے حدود جِنّات میں سے بھی تھے، سورۂ احقاف (۴۶: ۲۹ تا ۳۱) نیز سورۂ جِنّ(۷۲: ۱ تا ۱۵) میں غور کریں۔
یوم الاحد ۱۷، ستمبر ۲۰۰۰ء
۹۰
حقیقی مومن کا نورانی خواب
کسی ملک میں ایک حقیقی مومن شدید تکالیف سے گزر رہا تھا، جن کی وجہ سے وہ بار بار قاضی الحاجات کی بارگاہِ اقدس میں گریہ وزاری کرتا رہتا تھا، اس نے ایک باسعادت رات میں بڑا عجیب نورانی خواب دیکھا کہ حضرتِ امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ اُس کے پاس تشریف فرما ہیں، حضرتِ امام کے جسمِ مبارک پر سفید اُونی چوغہ ہے، جس پر بہت سارے مڈل اس طرح سجائے ہوئے ہیں کہ کوئی جگہ خالی نہیں ہے، امامِ عالی مقام نے مومن سے پوچھا: جانتے ہو کہ میرے چوغے پر یہ کیا چیزیں ہیں؟ اس مُرید نے بصد عاجزی عرض کی کہ مولا بہتر جانتے ہیں، تب امامِ زمان نے جواباً فرمایا کہ یہ سب میرے ظاہری عملدار ہیں، پھر امامؑ نے اپنے چوغے کے اندر کی طرف کے بہت سے تمغوں کو دکھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ میرے باطنی عملدار ہیں، اور فرمایا کہ تم باطنی عملداروں میں سے ہو۔
جمعہ ۱۷، نومبر ۲۰۰۰ء
۹۱
ایک نہایت بابرکت اعتکاف=چلّہ
تقریباً چالیس دن تک اعتکاف یا چلّہ اور ترکِ خواب و خور کے بعد جسم میں بڑا انقلاب آیا، اُس اثنا میں غذائی روحانی عطا ہو رہی تھی، جس کا میں نے دوستوں کو زبانی اور تحریری ذکر کیا ہے، جو طرح طرح کی خوشبوؤں کی صورت میں سونگھا دی جاتی تھی، اور یہ کام عالمِ ذرّ کے جنّات انجام دیتے ہیں، یہ جنّات انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرّات کی شکل میں ہیں، اور ان کی پرواز کی رفتار برق سے بھی زیادہ تیز ہے، وہ آپ کو دنیا کے کسی بھی حصّے سے پھولوں، پھلوں، جڑی بوٹیوں اور درختوں کے خوشبودار پتوں کی خوشبو فوراً ہی لے آسکتے ہیں، جس سے آپ کے اندر ایک قسم کا جسمِ لطیف پیدا ہوتا ہے۔
خوشبو روح نہیں بلکہ جسم ہے، اس سے جسم کی غذا ہوجاتی ہے، خصوصاً ایسے جسم کی غذا ہوتی ہے جو کثیف سے لطیف ہو رہا ہو، یہی وجہ ہے کہ جنّ و پری پہاڑوں اور دشت و بیابان میں رہتے ہیں، کیونکہ ان کو صاف ہوا سے اوکسیجن وغیرہ ملتی ہے، انبیاء و اولیاء علیھم السّلام نے بہت پہلے ایسے بے شمار معجزات کا تجربہ کر لیا تھا۔
خدا کی خدائی میں ایک ساتھ دو عالم ہیں: عالمِ خلق اور عالمِ امر، ان دونوں میں بڑا فرق ہے، وہ یہ کہ عالمِ خلق میں چیزیں دیر سے تیار ہوتی ہیں، مگر
۹۲
عالمِ امر میں اللہ کے ’’ہو جا‘‘ فرمانے سے، یا صرف ارادہ فرمانے سے مطلوبہ چیز فوراً ہی سامنے آتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ عالمِ امر میں تمام چیزیں ابداعی طور پر ہوتی ہیں، پس ممکن ہے کہ قیدخانے کی وہ تمام غذائیں جو طرح طرح کی خوشبوؤں کی صورت میں جنّات لایا کرتے تھے، دراصل ابداعی نعمتیں ہوں، اور یہ میری کمزوری تھی کہ ابداعی معجزات کو اچھی طرح سے نہیں سمجھ رہا تھا۔
چالیس دن تلک میں نے گندم کی روٹی کی شکل تک نہیں دیکھی تھی، ایک دن ایک اجنبی آدمی گندم کی ایک خوبصورت روٹی تھالی میں لے کر آیا اور غائب ہوگیا، کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا، یاد نہیں روٹی تھالی میں توڑی ہوئی تھی یا میں نے خود ٹکڑے ٹکڑے کئے تھے، کھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو روحانی نے منع فرمایا، لیکن بڑی عجیب بات ہے کہ میں اس معجزے سے شک اور یقین کی کش مکش میں رہا کہ یہ ابداعی معجزہ تھا، یا یہ دنیا کی روٹی تھی؟
لیکن یہ نکتہ خوب یاد رہا کہ بعض معجزے ناقابلِ یقین باتوں میں ہوتے ہیں، اور اگر کسی معجزے میں شک ہوتا ہے تو اس میں بھی حکمت ہے کہ اس میں لوگوں کی آزمائش ہے۔
جمعرات ۲۸، ستمبر ۲۰۰۰ء
۹۳
وہ بڑا عجیب و غریب تاویلی خواب جو تاشغورغان میں دیکھا!
ایک رات شاید مقررہ عبادت کے بعد یہ بہت بڑا حیران کُن خواب دیکھا کہ البتہ میری قربانی ہوچکی تھی، میرا ظاہری سر قریب کی ایک دیوار سے آویزان اور بدن شمالاً جنوباً زمین پر پڑا تھا، اور سب سے بڑی حیرت کی بات تو یہ ہے کہ میں فضا کی ایک مخصوص بلندی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا، میں یعنی میرا شعور بے شمار ذرّات کے درمیان تھا جو چمکتے تھے، مگر یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ میں کس ذرّے میں ہوں یا ہوسکتا ہے کہ یہ میری روح ہی کے بیشمار ذرّات تھے اور ان سب کی وحدت میری انا تھی، پس میں نے ایک طرف زمین پر اپنے قربان شدہ بدن اور سر کو دیکھا اور دوسری طرف فضا میں اپنی روح کے بے شمار ذرّات کو دیکھا۔
کیا حدیثِ شریف کے مطابق ہر روح بذاتِ خود ایک جمع شدہ لشکر ہے؟ یا تمام روحیں مل کر ایک جمع شدہ لشکر ہیں؟ جب ایک فردِ بشر کا ایک عالمِ شخصی ہوسکتا ہے اور اس میں ایک عظیم سلطنت بھی ہے تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس بہت بڑی بادشاہی کا بے شمار روحانی لشکر (یعنی بے حساب ذرّاتِ روح) ہوں، اور ان کا مجموعی نام روح ہو، جس طرح کروڑوں خلیات کے مجموعے کا نام انسان ہے۔
اس نورانی خواب کی آئندہ تاویل عارفانہ موت اور روحانی قیامت تھی، جو دنیا بھر میں سب سے بے مثال اور سب سے عظیم واقعہ تھا، الحمد للہ ربّ العلمین!
جمعہ ۶، اپریل ۲۰۰۱ء
۹۴
آخری چلّہ کے اَن مِٹ نقوش اور فیوض و برکات
قرآنِ حکیم کے زبردست حکمت والے کلّیات میں سے ایک کلّیہ یہ بھی ہے کہ ہر چیز ایک دائرے پر گردش کر رہی ہے، چنانچہ ہم نے بڑے بڑے کائناتی دائرے تو ابھی نہیں دیکھے، مگر بہت سے چھوٹے چھوٹے دائروں کو خوب غور سے دیکھا، مثلاً دائرۂ دانۂ گندم کو، دائرۂ درختِ خوبانی کو، دائرۂ مرغی اور انڈے کو، دائرۂ انسان اور نطفے کو، اور دائرۂ پروانۂ ریشم کو، ان تمام دائروں میں جہاں روح ہے (نباتی، حیوانی، انسانی) اُس میں قانونِ غذا ایک جیسا نظر آتا ہے، وہ ہے غذا کی تبدیلی اور کمی و بیشی۔
انسان کا مجرّد ذرۂ روح سب سے پہلے خزینۃ الارواح سے پشتِ پدر میں آتا ہے، جہاں اس کو نطفے میں ڈال کر جرثومۂ حیات بنایا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ایسے بے شمار جرثومے ہوتے ہیں، ان میں سے کوئی خوش نصیب جرثومۂ حیات رحمِ مادر میں پہنچ سکتا ہے، اور اس کے بہت سے ساتھی ناکام ہوکر ضائع ہوجاتے ہیں، اہلِ زمانہ کے لئے روحانی پیدائش بھی بالکل اسی طرح مشکل بلکہ ناممکن ہے، مگر اللہ وہ بادشاہ ہے جو ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔
بات غذا کی تبدیلی سے متعلق ہے، پس سوال ہے کہ جرثومۂ حیات کی پرورش رحمِ مادر میں کس غذا سے ہوتی رہتی ہے؟ اور یہ بھی پوچھنا ہے کہ جب عورت
۹۵
کے شکم میں کوئی حمل ٹھہرتا ہے تو اس کا حیض وقتی طور پر بند ہو جاتا ہے، اسکی کیا وجہ ہے؟ آیا یہ بات درست ہے کہ یہ خون گندہ ہو جانے سے پہلے ہی جنین=پیٹ کے بچے کے جسم کا حصّہ بن جاتا ہے۔
بدھ ۱۳، جون ۲۰۰۱ء
۹۶
کائناتی بہشت
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے امامِ مبین میں سب کچھ گھیر کر اور گن کر رکھا ہے اور اُس کو اپنی قدرت کا کارخانہ اور مظہرِ عجائب و غرائب بنایا ہے، پس جب امامِ زمان علیہ السّلام کے عشق میں مومنِ سالک پر عارفانہ موت اور روحانی قیامت واقع ہونے لگتی ہے تو حضرتِ امامؑ کے عظیم معجزات شروع ہو جاتے ہیں، مومنِ عاشق کو حیرت بالائے حیرت ہوتی رہتی ہے۔
صورِاسرافیل کا لاہوتی معجزہ ایسا ہرگز نہیں کہ دنیائے ظاہر میں اس کی کوئی تمثیل ہو، عزرائیلی معجزہ بھی بڑا حیران کُن ہے، ساتھ ہی ساتھ عالمِ ذرّ کا ظہور اور خروجِ یاجوج و ماجوج، اس کے ساتھ ساتھ کُلّ ارواح کا حشر اور پھر نشر، یعنی القابض اور الباسط کا عملِ مسلسل، اس میں مجھے قرآنِ حکیم میں امامِ وقت کی تائید حاصل تھی ورنہ میں ان عظیم معجزات کی جلالت و ہیبت سے نیست ونابود ہوجاتا، مگر خدا کے فضل و کرم سے اور رحمتِ عالم (صلعم) کی رحمت سے میں ناچیز مرمر کر زندہ ہوگیا۔
اب میں اُس عظیم ملکِ صین کو سلام کرتا ہوں، شہرِ یارقند کو سلام کرتا ہوں، قرانگغو توغراق جماعت خانہ کو بار بار ترکی سلام کرتا ہوں، عزیز محمد خان اور اسکے افرادِ خاندان کو سلام کرتا ہوں، اس گاؤں کی جماعت کو سلام و دعا کرتا ہوں، اس اپنے گھر کو سلام کرتا ہوں جو جماعت خانہ سے متّصل تھا، اور یارقند کی جماعت کو سلام کرتا ہوں، آمین!
ہفتہ ۲۱، اپریل ۲۰۰۱ء
۹۷
چین میں اوّلین جماعت خانہ اور اس کے معجزات نمبر ۱
ارشادِ نبوی ہے: اطلبوا العلم و لو بالصین۔
ترجمہ: علم کو ڈھونڈو اگرچہ اس کے لئے تمہیں چین جانا پڑے۔ سعادتِ ازلی اور حسنِ اتفاق سے یہ بندۂ کمترین چین گیا: ۔
این سعادت بزورِ بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو بہت سی سعادتیں ایک ساتھ بھی حاصل ہوسکتی ہیں، ہاں ہاں، اُس کا فضل و کرم اور فیاضی بے مثال ہے۔
شہر یارقند کے ایک گاؤں کا نام قرانگغو توغراق تھا، اس بابرکت گاؤں میں ۴۵ اسماعیلی خاندان آباد تھے، ان میں ایک نامور اسماعیلی عزیز محمد خان کا خاندان بھی شامل تھا، عزیز محمد خان نہ صرف ایک بڑا دولت مند اسماعیلی تھا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ عشقِ مولا میں امیر تھا، علم و حکمت کا شیدائی، ذکر وعبادت کا فدائی، شب خیز مومن، نیک کاموں کا مشتاق تھا، یہ وہ بڑا خوش نصیب مردِ مومن تھا جس نے ذاتی اخراجات سے ملکِ چین (یاقند) میں سب سے اوّلین جماعت خانہ تعمیر کیا جو باکرامت و معجزاتی جماعت خانہ قرار پایا، اس پاک جماعت خانہ میں جو کچھ دیکھا گیا تھا اگر میں کسی وجہ سے پوشیدہ رکھوں تو اپنے آپ پر بڑا ظلم ہو گا (۲: ۱۴۰) چونکہ تمام جماعت کیلئے بہت بڑا امتحان تھا، لہٰذا جماعت خانہ میں عاجزانہ عبادت اور گریہ وزاری ہوتی رہتی تھی، جس کی وجہ سے جماعت خانے کے بعض معجزے ظہور پذیر ہونے لگے۔
اتوار ۲۲، اپریل ۲۰۰۱ء
۹۸
چین میں اوّلین جماعت خانہ اور اس کے معجزات نمبر ۲
قرانگغوتوغراق (یارقند) چین کا یہ جماعت خانہ ۱۹۴۹ء میں تعمیر ہوا، اور یہ بندۂ درویش بھی اسی سال وہاں پہنچا تھا، حکیم پیر ناصر خسرو (قدّس اللہ سرّہ) کے حلقۂ دعوت میں ذکرِجلی کی روایت بھی چلی آئی ہے اور گریہ وزاری بھی، قرآنِ حکیم (۷: ۱۸۰) میں اللہ تعالیٰ کا پاک ارشاد ہے کہ اسماء الحسنیٰ اُسی کے لئے ہیں پس جب بھی تم اللہ کو پکارو تو اس کو انہی ناموں سے پکارنا، ہم اس کی تفسیر و تاویل کے لئے ارشاداتِ أئمّۂ آلِ محمدؐ سے رجوع کرتے ہیں۔
چنانچہ اُس پاک جماعت خانے میں ہم سب دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے زندہ اسمِ اعظم پر عشق و محبت کے ساتھ ذکرِ جلی بھی کرتے تھے، کچھ عرصے کے بعد جبکہ میں رات کے وقت جماعت خانہ میں تنہا تھا تو قادرِ مطلق کی قدرت سے جماعت خانہ کی چار دیواری، فرش اور سِلِنگ نے یا جماعت خانہ کے تمام ذرّات نے یا نورِ جماعت خانہ نے یا اس کی روح نے اسی زور و شور سے ذکرِ جلی کیا، جس طرح ہم جماعت قبلاً ذکر کرتے رہتے تھے، معجزہ انسانی عقل سے ماوراء ہے، اس لئے ہم اس کی تحلیل نہیں کر سکتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور رات صرف جماعت خانہ میں زلزلۂ روحانی آیا اور کہیں بھی نہیں، یہ ظاہری بھونچال ہرگز نہ تھا، ایک رات مجھے یہ احساس و ادراک بھی ہوا کہ کوئی
۹۹
روحانی لشکر جماعت خانے کے گردا گرد طواف کر رہا تھا، اس میں بڑی حیرت کی بات تو یہ تھی کہ وہ اللہ کے سپاہی زمین پر زور سے پاؤں مارتے ہوئے چلتے تھے، چال اور آواز سے معلوم ہوا کہ ان میں میرے والدِ محترم بھی شامل تھے، قرآنِ حکیم کا حکمتی اشارہ ہے کہ اللہ کے گھر سے تین قسم کے جسمانی اور تین قسم کے روحانی وابستہ ہیں (۲: ۱۲۵) وہ یہ ہیں: طواف کرنے والے، اعتکاف کرنے والے اور رکوع و سجود کرنے والے۔
اتوار ۲۲ اپریل ۲۰۰۱ء
۱۰۰
چین میں اوّلین جماعت خانہ اور اس کے معجزات نمبر ۳
سوال: مبارک جماعت خانہ نے وہی ذکرِ جلی کر کے دیکھایا جو اس سے پہلے افرادِ جماعت کرتے رہتے تھے، اس کی حکمت یا تاویل کیا ہے؟
حکمتِ اوّل: یہ امامِ زمان کا نور تھا۔
حکمتِ دوم: یہ جماعت خانہ کی پاک روح تھی۔
حکمتِ سوم: جماعت کی متحدہ روح تھی۔
حکمتِ چہارم: یہ ایک زندہ معجزہ تھا۔
حکمتِ پنجم: یہ نامۂ اعمال کی ایک جھلک تھی، وغیرہ۔
سوال: زلزلۂ روحانی میں کیا حکمت تھی؟
جواب: یہ معجزاتِ جماعت خانہ میں سے ایک معجزہ تھا، حرکت زندگی کی علامت ہے، لہٰذا یہ اشارہ تھا کہ اس پاک گھر کی ایک پاک روح موجود ہے، وہ پاک روح امامِ زمان کا نور ہے۔
ایک دفعہ بوقتِ روز میں جماعت خانہ میں تھا، اس حال میں فاختہ جیسے بہت سے پرندے صحن میں تھے، کسی آواز نے ان کو جماعت خانے کی طرف بلایا اور وہ میری طرف آنے لگے اور مجھ پر ایک زبردست رعب طاری ہوگیا، حالانکہ ظاہر میں اس کی کوئی وجہ نہ تھی، کیونکہ وہ چھوٹے چھوٹے پرندے تھے، مگر ایسا
۱۰۱
لگتا تھا کہ ان پر کسی روح کا کنڑول تھا، تاہم یقیناً وہ اچھی روح تھی، کیونکہ وہ صاف اور ستھرے پرندے تھے جو اکثر جماعت خانہ کے صحن میں آیا کرتے تھے۔
خُرُوسانِ سَحَر گویند کہ قم یایھا الغافل
تواز مستی نمی دانی کسی داند کہ ہشیار است
ترجمہ: صبح سویرے بولنے والے مرغے بولا کرتے ہیں کہ اے غافل شخص اُٹھ جا (عبادت کے لئے) تو اپنی مستی کی وجہ سے اس پکار کو نہیں سمجھتا کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کو صرف کوئی دانا سمجھ سکتا ہے، سبحان اللہ! مرغ کی اذان میں ایک بڑا راز ہے، خدا اس حقیقت کا گواہ ہے کہ قریب کا کوئی مرغا گاؤں والوں سے کچھ کہا کرتا تھا۔
اتوار ۲۲، اپریل ۲۰۰۱ء
۱۰۲
چین میں اوّلین جماعت خانہ اور اس کے معجزات نمبر ۴
بحوالۂ کتابِ دعائم، عربی، جلدِ اوّل، کتابُ الحج، ص۲۹۲: ۔
زمین پر سب سے پہلے بحکمِ خدا فرشتوں نے اللہ کا گھر بنایا تھا، وہ زمانۂ طوفان میں آسمانِ چہارم پر اُٹھایا گیا، جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے زیارت کے لئے داخل ہو جاتے ہیں کہ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آسکتے، اس کی حکمت یہ ہے کہ اللہ کے پاک گھر کی روح و روحانیت ہے، اسی حیثیت میں وہ مقدّس گھر آسمانِ چہارم پر مرفوع ہوا تھا، پس جماعت خانہ بیتُ اللہ شریف کی تاویل ہے، لہٰذا قرآن و حدیث میں جو کچھ بیت اللہ کی شان میں ہے تاویلاً جماعت خانہ کی شان میں ہے۔
خود ستائی کفر اور شرک ہے، اللہ ہر مومن کو اس سے بچائے! لیکن دینِ اسلام میں شہادت (گواہی) کی جو اہمیت ہے وہ سب پر عیان ہے، پس اگر میں نے اللہ کے زندہ اسمِ بزرگ کا کوئی معجزہ دیکھا ہے تو اس پر کونسا پردہ ڈال سکتا ہوں اور کیوں؟ شروع شروع میں میرے اپنے لوگوں میں سے بعض مجھے یہ نصیحت کرتے تھے کہ روحانیت کے بھیدوں کو ظاہر کرنے کی اجازت نہیں، لیکن وہ یہ نہیں سوچتے تھے کہ یہ حکم دورِ قیامت کے لئے نہیں ہے۔
پیر ۲۳، اپریل ۲۰۰۱ء
۱۰۳
چین میں اوّلین جماعت خانہ اور اس کے معجزات نمبر ۵
اللہ تعالیٰ جلّ جلالہٗ و عمّ نوالہٗ کے عظیم اور سلسلہ وار احسانات اور انعامات کی شکرگزاری سے زبان قاصر ہے، اور یہ بات بالکل سچ اور حقیقت ہے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کو کبھی شمار بھی نہیں کرسکتے ہیں، بہرکیف یہاں معجزات کا تذکرہ ہو رہا ہے۔
میری مذہبی زندگی کا سب سے بڑا یوم وہ تھا جس میں حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ ارواحنا فداہٗ نے برقی بدن (جثّۂ ابداعیہ) میں اپنا پاک ظاہری، نورانی، معجزاتی دیدارعطا فرمایا تھا، اس کا بیان میرے لئے سب سے مشکل اس لئے ہے کہ یہ سب سے بڑا معجزہ ہے، اس کو بیان کرنے کیلئے شایانِ شان الفاظ ہمارے پاس کہاں ہیں، مگر ہاں ایک چارۂ کار ہے، وہ یہ ہے کہ ہم آ ئینۂ قرآن میں دیکھیں، کیونکہ حضرتِ امام محمد باقر علیہ السّلام نے ہماری اس مشکل کو بہت پہلے ہی آسان کر دیا ہے، وہ ہے ما قیل فی اللہ کا ارشادِ مبارک، اب میں کئی آیاتِ قرآنی کی تاویلی زبان میں برقی بدن میں دیدار کی معرفت بتا سکتا ہوں۔
آپ اس شعر کو سُن لیں: ۔
آئینۂ خدائے نما مرتضیٰ بُوَد در چشمِ جان تجلّیٔ جانان کُند علی
ترجمہ: مرتضیٰ علی آئینۂ خدا نما ہے، اگر دل کی آنکھ سے دیکھا جائے تو علی ہی خدا کی تجلّی کرتا ہے۔
پیر ۲۳، اپریل ۲۰۰۱ء
۱۰۴
ناقابلِ فراموش معجزات۔۱
جی ہاں، تقریباً سب معجزے ناقابلِ فراموش ہوتے ہیں، مگر پھر بھی انسانی یادداشت کی کمزوری اپنی جگہ پر ہے، میری بروشسکی شاعری کا اوّلین شعر کسی سوچے ہوئے منصوبے کے بغیر حاضر امامؑ کے مبارک اسم سے شروع ہوا، اور اُس اوّلین نظم کا موضوع امام کا عشق ہے۔
اس بندۂ مسکین کو حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کا پاک ظاہری دیدار سب سے پہلے ۱۹۴۶ء میں شہر پونا میں حاصل ہوا: ۔
جار جلوہ اوّل غنم لو زلزلہ دیمی = جب میں نے اس کا پہلا جلوہ دیکھا تومجھ کو ایک ذاتی زلزلہ ہوا۔
میں حسن آباد زیارت (بمبئی) کے اُس حکمت آگین دیدار کو کیسے بھول سکتا ہوں، جس میں میرے مولا نے مجھے تحفۂ لازوال عطا فرمایا تھا، اُس بابرکت تحفے میں ایک عالمِ شخصی پنہان تھا اور ایک کائناتی بہشت بھی تھی، میں مردۂ جہالت تھا میرے مولا نے مجھے حیاتِ سرمدی کا ایک بے مثال نسخہ لکھ کر سمجھا دیا۔
میں پرانا جماعت خانہ کھارادر کراچی کو ہمیشہ یاد کرتا ہوں، کیونکہ میں نے اس میں شب خیزی کی ریاضت کی اور تقریباًایک چلّہ کے بعد اسمِ اعظم کی پہلی روشنی کا مشاہدہ کیا، یہ ۱۹۴۸ء کا زمانہ تھا۔
میں نے تاشغورغان کے انتہائی عجیب و غریب نورانی خواب کو قبلاً لکھ دیا ہے، کیونکہ اس خواب میں ایک تاویلی خزانہ پوشیدہ ہے۔
منگل ۲۴، اپریل ۲۰۰۱ء
۱۰۵
ناقابلِ فراموش معجزات۔۲
ایک شب میں نے بڑا عجیب صالح نوارنی خواب دیکھا، حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ علیہ السّلام روحی فداہٗ کا پاک دیدار بہت ہی قریب سے حاصل ہوا، آپؑ نے ایک صاف و سفید ہونزائی اُونی چوغہ زیبِ تن کیا ہوا تھا جس پر بہت سے تمغے (میڈلز) لگے ہوئے تھے جن کی طرف دستِ مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے بندۂ کمترین سے سوال فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیا ہیں؟ میں نے عاجزی سے گزارش کی کہ مولا بہتر جانتے ہیں، پھر مولا فرمانے لگے کہ یہ سب میڈلز جو میرے چوغے پر بیرونی جانب سے ہیں وہ میرے ظاہری عملدار ہیں، پھر امامِ عالی مقام نے اس چوغہ کے اندر کی طرف لگے ہوئے بہت سے منڈلز کو دیکھاتے ہوئے فرمایا کہ میرے باطنی عملدار بھی ہیں، اور فرمایا کہ تم باطنی عملداروں میں ہو۔
شمالی علاقہ جات میں امامِ آلِ محمدؐ کے بہت سے ظاہری اور روحانی معجزات ہوئے ہیں جن کو چشمِ بصیرت سے دیکھا اور پہچانا جا سکتا ہے، منجملہ ایک معجزہ یہ بھی تھا کہ مولا نے جب میر غزن خان ثانی کو کارِ بزرگِ اوّل و دوم عطا فرمایا تو اس کے دل میں جو عشقِ مولا تھا اس میں زبردست اضافہ ہوا، اس نے اپنی تمام رعیت کو کارِ بیگار وغیرہ سے آزاد کر دیا، وہ ہر شبِ جمعہ از شام تا سحر دف و رباب کے ساتھ حضرتِ امام کی منقبت خوانی کو سنتا رہتا تھا، وہ میر محمد نظیم خان کا بیٹا اور میر محمد جمال خان کا باپ تھا۔
بدھ ۲۵، اپریل ۲۰۰۱ء
۱۰۶
امامِ آلِ محمدؐ کے تاویلی معجزات۔۱
رسولِ اکرمؐ کا سب سے دُوررس ارشاد یہ ہے: ۔
اطلبوا العلم و لو با لصین۔ تم علم کو طلب کرو اگرچہ تمہیں اس کی خاطر چین جانا پڑے۔
اس حدیثِ شریف کا وہ تاویلی معجزہ جو انتہائی حیران کُن اور بے مثال ہے، حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ (روحی فداہٗ) نے کمالِ رحمت و مہربانی سے دکھایا، اور امامِ آلِ محمدؐ کے اس قیامت خیز اور طوفانی معجزے میں عجائب و غرائب کی لاتعداد کائناتیں موجود ہیں، علیِٔ زمان کے ان تاویلی معجزات میں وَاللہ ہر قسم کے مشکل سوالات کے لئے جوابات ہیں۔
قرآنِ حکیم اور دینِ فطرت (اسلام) کی بہترین خدمت سرمایۂ حکمت ہی سے ہو سکتی ہے، مادّی سائنس کی انقلابی ترقی سے تمام لوگ حیرت زدہ ہیں، اے دانا لوگو! ایسے میں ذرا روحانی سائنس اور قرآنی حکمت کے عجائب و غرائب کو بھی دیکھا کرو! اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قرآن ظاہری سائنس کے خلاف ہے، جب قرآن کا ایک اسمِ صفت حکیم ہے اور یہ اپنی کئی آیاتِ کریمہ میں حکمت کی شاندار تعریف فرماتا ہے تو اسی میں مادّی سائنس کی تصدیق و تعریف بھی ہے، کیونکہ حکمت کا کوئی ایک رُخ نہیں بلکہ وہ آفتابِ عالمتاب کی طرح ہمہ جہت روشنی پھیلانے والا گوہر ہے۔
جمعہ ۲۷، اپریل ۲۰۰۱ء
۱۰۷
امامِ آلِ محمدؐ کے تاویلی معجزات۔۲
یارقند، قرانگغو توغراق جماعت خانہ کے صحن میں جس شام آتشِ سرد=ٹھنڈی آگ کا تاویلی معجزہ ہوا تھا وہ کئی عظیم معجزات کا جامع تھا، میں صحن میں کھڑا تھا کہ پانی کے بہاؤ کی طرح کوئی چیز میری طرف آنے لگی، قریب آنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک عجیب قسم کی آگ تھی، بعد میں پتا چلا کہ یہ وہ آگ تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کے زمانے میں ٹھنڈی اور باعثِ سلامتی بنایا تھا (۲۱: ۶۹)۔
پس یہ آگ میرے جسم سے لپٹتی ہوئی سر سے بہت بلند ہو گئی، ایسا لگا کہ یہ آسمان کو چُھو رہی ہے، میرے ساتھ کچھ روحانی ساتھی تھے ان میں سے ایک نے کہا کہ تم اپنے سر کو جھٹکا دے کر اس کو پرے گرادو، تو میں نے ایسا ہی کیا اور وہ آتشِ سرد کا ٹاور گر کر چُور چُور ہو گیا، مگر فوراً ہی تمام ٹکڑے آپس میں مل گئے اور پھر وہی ٹاور سر سے بلند ہو گیا، مجھے روحانی ساتھی نے سر کو ہلا کر اس ٹاور کو گرانے کا حکم دیا اور میں نے اس کو گرا دیا۔
اب تیسری دفعہ یہ ٹاور پھر میرے سر سے بلند ہو کر آسمان کو چھونے لگا، اب کی میری کوشش سے اس ٹاور کو کچھ نہیں ہو رہا تھا وہ اپنی جگہ قائم تھا، اب مجھے بہت پریشانی ہونے لگی، میں نے طرح طرح کی دعائیں شروع کیں، پھر یہ ٹاور فوّارہ جیسا ہوا اور اس سے جو قطرات گِرتے تھے وہ چھوٹے چھوٹے جاندار بن
۱۰۸
جاتے تھے، لہٰذا بعد میں مجھے یہ یقین آیا کہ جِنّات آتشِ سرد سے پیدا کئے گئے ہیں، اور وہ کُرتے بھی جو گرمی سے بچانے کے لئے ہیں (حوالہ: ۱۶: ۸۱) میرے کانوں میں چھوٹے چھوٹے جانور داخل ہوئے تھے، لہٰذا بیقراری کا عالم تھا۔
ہفتہ ۲۸، اپریل ۲۰۰۱ء
۱۰۹
امامِ آلِ محمدؐ کے تاویلی معجزات۔۳
آج کی زبردست ترقی یافتہ دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ یو۔ایف۔اوز کے بارے میں ہے، جو کوئی بھی اسے حل نہیں کرسکتا ہے، سائنسدانوں نے ان کو جیسا نام دیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ ان کو پہچاننے سے عاجز ہیں۔
معجزۂ آتشِ سرد کا بارِگران میرے لئے آسان نہ تھا، میں اپنے گھر داخل ہو آیا ہی تھا اتنے میں یو۔ایف۔اوز کا معجزہ شروع ہوا، کسی آواز نے کہا کہ تم اوپر دیکھو کہ رُوس کے جہاز تم پر بمباری کرنے کے لئے آگئے ہیں، میں اوپر دیکھنے لگا تو مکان کی چھت میں ایک بڑا شگاف پڑ گیا تھا، پھر رفتہ رفتہ چھت تقریباً غائب ہوگئی، اور سچ مچ میرے مکان کے اوپر کچھ جہاز منڈلاتے ہوئے نظر آئے، آواز کا پتا نہیں چلا، میں نے بالکل یقین کیا کہ اب بس میری جسمانی موت آن پہنچی۔
میں نے اپنے فرزند سیف سلمان خان اور اس کی والدہ کو ساتھ والے دوسرے کمرے میں رکھا، اس خیال سے کہ تنہا مجھے ہلاک ہو جانا ٹھیک ہے مگر خاندان تو بچ جائیں، میں مرعوب و مغموم ہوچکا تھا سُکڑ کر بیٹھ گیا، تب النعاس = غُنودگی (۸: ۱۱) کی صورت میں معجزہ ہوگیا، فوراً تمام خوفناک چیزیں یکسر ختم ہوگئیں، اور سامنے والی دیوار میں ایک روحانی ریڈیو بج رہا تھا، اور اس پر کوئی مذہبی جشن ہو رہا تھا۔
ہفتہ ۲۸، اپریل ۲۰۰۱ء
۱۱۰
عالمِ عجائب و غرائب
ہاں بیشک یہ عالمِ شخصی ہی کا ذکر ہے، لیکن اس کے عجائب و غرائب کا بیان کما حقہٗ کوئی بھی نہیں کرسکتا ہے کیونکہ یہ وہ کارخانۂ قدرت ہے جس میں بے پایان اور لامحدود چیزیں پیدا ہوتی ہیں، یہ صرف عالمِ شخصی کی طرف توجہ دلانے کی ایک کوشش ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ عالمِ شخصی کا دوسرا نام بجا طور پر عالمِ عجائب وغرائب ہے، کیونکہ یقیناً اس کی ہر ہر چیز انتہائی عجیب وغریب، بے حد انوکھی اور ازبس نرالی ہے، مثلاً آپ جب عالمِ ذرّ کو دیکھیں گے تو آپ کو بے حد حیرت ہوگی۔
چنانچہ میں یہ قصّہ اپنے دوست عزیز محمد خان مرحوم (یارقند چین) کے حوالے سے بیان کرتا ہوں کہ ایک دفعہ کسی صوفی پر کشف ہوا، اس کو عالمِ ذرّ کے کچھ جِنّات دیکھائے گئے جو ذرّات کی شکل میں تھے، اس نے اپنے اِس کشف کا تذکرہ اپنے دوستوں سے بڑی حیرت کے ساتھ کیا اور کہا کہ میں نے تو یہ سُنا تھا کہ جنّات عظیم الجُثّہ ہوا کرتے ہیں، آج میں ذرّاتی جِنّات کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو گیا ہوں۔
الغرض عالمِ ذرّ ایک مکمل عالم ہے مگر اس کی تمام مخلوقات خدا کی قدرتِ عجیبہ سے ذرّات کے برابر ہیں اور انہی میں لشکرِ سلیمان اور یاجوج و ماجوج
۱۱۱
بھی ہیں، اور ذرّاتِ ارواح بھی ہیں۔
ہفتہ ۸، ستمبر ۲۰۰۱ء
۱۱۲
حضرتِ امامِ عالیمقامؑ (روحی فداہٗ) کے اِس غلامِ کمترین کا زندہ مذہبی مکتب
بندۂ خاکسار (پرتوِشاہ=نصیر الدّین) ابنِ خلیفہ حُبِّ علی ابنِ خلیفہ محمد رفیع مولائے برحق کے فضل و کرم اور سعادتِ ازلی سے ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہوا ۱۹۱۷ء اور مقام حیدر آباد، ہونزہ ہے، خوش بختی سے میرے مشفق والدین میرے لئے ایک زندہ مذہبی مکتب کا کام کرتے تھے، میری والدۂ محترمہ اگرچہ حرف شناس تو نہیں تھیں، لیکن وہ میرے والدِ محترم کے ساتھ ساتھ ہر اُس فارسی نظم کو بڑی مہارت سے پڑھتی ہوئی ہم نوائی کرتی تھیں، جو امامِ زمان کی تعریف و توصیف میں ہوتی تھی، اور میں ہمیشہ غور سے سُنتا رہتا اور ہم نوا بھی ہوتا تھا، نہ تنہا میرے والد صاحب بلکہ تمام خلیفہ صاحبان رباب اور دف کی مقدّس موسیقی کا سہارا لیکر منقبت خوانی اور ذکرِ جلی کر لیا کرتے تھے، اور دعوتِ بقا کی رسم میں تو دف اور رباب لازمی ہیں۔ پس ایسے پاک مذہبی ماحول نے مجھے ایک مذہبی شاعر بنایا میں نے شروع شروع میں کچھ وقت تک شاعری کی صرف مشقیں کیں، بعد ازان ۱۹۴۰ء میں ایک باقاعدہ بُروشسکی نظم امامِ زمان کی شان میں تصنیف کی جس کے مطلع کا ترجمہ یہ ہے: حاضر امام کے عشق کی ایک آگ میرے دل میں لگ رہی ہے، حاضر امام میرے زخموں کا مرہم اور میرے دردِ دل کا درمان ہے۔ میں
۱۱۳
اس وقت گلگت سکوٹس=سکاوٹس میں بھرتی ہوچکا تھا۔ گلگت سکاوٹس میں اسماعیلیوں کی بہت بڑی تعداد تھی۔ حوالدار تحویل شاہ اور حوالدار حسن علی مولا کے عاشقوں میں سے تھے، اور ان کی آواز بھی مثالی تھی، انہوں نے اس نظم کو مجھ سے طلب کرکے خوب ترنم سے پڑھا اور مولا کا معجزہوا کہ لوگ حیرت زدہ ہو گئے، اور جگہ جگہ سے فرمائش ہوئی کہ یہ نظم مجھے لکھ کر دو۔ میں خود حیران ہوگیا، اُس زمانے میں کوئی فوٹوسٹیٹ مشین کہاں تھی؟ پس میں نے کچھ عرصے تک عاجز آکر اپنی نظموں کو مخفی رکھا اور جب ایک کتاب نظموں کی تیار ہوئی تو مولانا حاضرامامؑ کے حضور میں بغرضِ دعا ایک تارِ برقی بھیجا جس کا جواب مولا نے مرحمت فرمایا ہے، وہ فرمانِ پاک دیوانِ نصیری کے آغاز میں موجود ہے۔ الحمد للہ علی منہ و احسانہ
منگل، ۲۰ اگست ۲۰۰۲ء
۱۱۴
تاشغورغان کے عجیب و غریب خواب کی تاویل
اوّل: حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے خواب کی مثال، تاویل اور معرفت تھی (۳۷: ۱۰۲)۔ دوم: اس لڑکے کی مثال تھی جس کو خضر نے قتل کیا تھا (۱۸: ۷۴)۔ سوم: جسماً مر جانے سے قبل نفساً مرنے کا ایک نمونہ تھا، چہارم: باطنی شہادت تھی (۴۷: ۴ تا ۵)۔ پنجم: روحانی قیامت اور منزلِ عزرائیلی کا اشارہ تھا۔ ششم: فنافی الامام کا ایک نمونہ تھا۔ ہفتم: فضا میں بصورتِ چمکتے ہوئے ذرّات وہ روح تھی جس کے بارے میں مولا نے ارشاد فرمایا ہے کہ روح ایک ہی ہے، یعنی تمام روحوں کی وحدت ہی اصل روح ہے۔ جس طرح کروڑوں خلیات کی وحدت و سالمیت کا نام انسان ہے۔
تاشغورغان کا بڑا عجیب و غریب خواب اللہ کے زندہ اسمِ اعظم (امامِ زمانؑ) کے بے شمار معجزات میں سے ایک تھا پاک مولا نے فرمایا کہ اسماعیلی مذہب روحانیت کا تخت ہے، یعنی اس کے باطن میں تختِ سلیمان بھی ہے اور عرش بھی ہے اور عرش دو طرح سے ہے ایک تو پانی پر ہے، اور دوسرا حظیرۂ قدس عرش ہے۔ یاد رہے کہ نورانی خواب کوئی معمولی چیز ہر گز نہیں، بلکہ یہ انبیاء علیھم السّلام کے عظیم معجزات میں سے ایک
۱۱۵
ہے۔
امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کے ایسے معجزات میں اسرارِ معرفت اور تاویلِ قرآن پوشیدہ ہوا کرتی ہے۔ الحمد للہ ربّ العلمین۔
۲۳، اگست ۲۰۰۲ء
۱۱۶
عبدالاحد کا اشارہ جانبِ آسمان
یہ اُس عجیب و غریب بابرکت وقت کا قصّہ ہے، جبکہ یہ عاجز بندہ ذاتی طور پر یارقند (چین) میں روحانی انقلاب=روحانی قیامت کے مراحل سے گزر رہا تھا۔
کتابِ لعل و گوہر ص۴۱ پر بھی نظر ہو، ۔۔۔ چنانچہ ظاہری انقلاب اہلِ ایمان کے لئے اللہ پاک کا وہی امتحان تھا جس کا ذکر سورۂ بقرہ (۲: ۱۵۵) میں فرمایا گیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف عبدالاحد ہی بلکہ بہت سارے اہلِ ایمان قبل از عبادت، بعد از عبادت اور بعض دفعہ بندگی کے ساتھ ساتھ گریہ وزاری کر لیا کرتے تھے، اِس حال میں روحانی اعتبار سے خداوندِ قدوس کی کتنی بڑی رحمت تھی، ایک دن میں نے نورانی خیال اور نورانی خواب کے درمیان عبدالاحد کو دیکھا، وہ بڑا شادمان، خرسند اور راضی مگر خاموش کھڑا تھا، وہ ہاتھ سے آسمان اور ستاروں کی طرف کچھ ایسے اشارے کرنے لگا کہ ان کے مفہومات خود بخود میرے دل میں اترتے رہے، وہ اشاراتی زبان میں کہہ رہا تھا کہ ہم سیارۂ زمین پر اراضی اور اموال کے چھن جانے سے کیوں روئیں جبکہ ہمارے خداوند نے اِس عظیم
۱۱۷
کائنات کی وسعتوں میں بے شمار ستاروں کی دنیائیں اور ان میں بہشت کی بڑی بڑی سلطنتیں (خلافتیں) بنائی ہیں۔ (۲۴: ۵۵)، (۶: ۱۶۵)، (۴۳: ۶۰)۔ عبدالاحد کا باپ شاکر آخوند ایک اسماعیلی عالمِ شخص تھا، اِس لئے عبدالاحد مولائے برحق کے حقیقی عاشقوں میں سے تھا وہ مولا کے اِس کمترین غلام کی تعلیمات کو عشق سے سُنتا تھا، پس وہ شدید گریہ وزاری کے کورس کے بعد فرشتہ ہوگیا، پھر اُس نے قرآنِ حکیم کی تین محولۂ بالا آیات کی تاویل میں اہلِ ایمان کو بُشارت دی کہ ان کے لئے آسمانی بہشت میں خلافت=بادشاہی ہے۔ آپ آیاتِ خلافت کو بار بار پڑھیں وہ ہیں: سورۂ نور (۲۴: ۵۵)، سورۂ انعام (۶: ۱۶۵)، سورۂ زخرف (۴۳: ۶۰)۔ فرشتہ کبھی اشارہ=وحی کرتا ہے اور کبھی کلام کرتا ہے مگر کلام سے وحی=اشارہ بلند تر ہے، کیونکہ وحی=اشارہ کے معنی زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔
اتوار ۲۵، اگست ۲۰۰۲ء
۱۱۸
مرحوم و مغفور عزیز محمد خان باے (غنی) ابنِ عزیزآخوند باے=غنی کی لازول مذہبی خدمات قسط۔ ۱
حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے پونا میں ارشاد فرمایا: اگر صرف ایک ہی مومن ’’ہمت والا‘‘ ہو تو ہم اُس اکیلے (مومن) کو ایک لاکھ مومنوں کے برابر سمجھتے ہیں۔ پس یقیناً مولا کا عاشقِ صادق عزیز محمد خان اِس پاک فرمان کا مصداق تھا، امامِ عالی مقام علیہ السّلام نے ۱۹۲۳ء میں پیر سبز علی کے توسط سے اسماعیلی جماعت کے لئے بہت سی پُرحکمت ہدایات کے ساتھ تعمیرِ جماعت خانہ کا امر بھی فرمایا ہوا تھا، لیکن کیا مجبوریاں تھیں جن کی وجہ سے کہیں ایک جماعت خانہ بھی وجود میں نہیں آیا، خدا گواہ ہے کوئی مجبوری نہ تھی، مگر بات یہ ہے کہ موروثی لیڈرز جماعتی ترقی اور مضبوطی سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے وہ صرف ذاتی طور پر نمایان دولتمند ہو جانا چاہتے تھے تاکہ وہ اسی طرح حکومت اور عوام کی نظر میں بڑے معزز اور واجب الاحترام ہو سکیں۔
پس وہ جماعت کے دل میں یہ خوفِ بیجا ڈالتے رہے کہ ہمارے اِس ملک میں جماعت خانہ ناممکن ہے کیونکہ اس سے اسماعیلی مذہب جو اب تک پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہو جائے گا جس سے جماعت کو ہر قسم کی تکلیف ہوگی۔
۱۱۹
جب مولا کے حقیقی عاشق عزیز محمد خان کو ۱۹۴۹ء میں یہ خبر ملی کہ فتح علی اور نصیر الدّین تاشغورغان (سریقول) میں مولائے پاک کا ایک مبارک فرمان لے کر آئے ہوئے ہیں اس مقدّس فرمان میں ایک ضروری حکم تعمیرِ جماعت خانہ کے لئے ہے، پس امامِ زمان کے عاشقِ جان نثار عزیز محمد خان نے اپنے ایک نیک نام گاؤں قرانگغو توغراق میں عظیم ملکِ چین کا اوّلین مقدّس جماعت خانہ کلّی طور پر ذاتی اخرجات سے تعمیر کیا، اس بابرکت گاؤں میں کُل ۴۵ اسماعیلی گھر تھے کسی سے چندہ وغیرہ نہیں لیا گیا، اور جو لوگ تعمیر کا کام کرتے تھے ان کو امیرانہ طعام دیا جاتا تھا۔ اِس پاک جماعت خانہ کے یومِ افتتاح سے لیکر ایک سال کے مکمل ہونے تک ہر شبِ جمعہ کو پوری جماعت کیلئے رباب کے ساتھ منقب خوانی، ذکر و عبادت اور علمی مجالس اور ظاہری کھانے کی دعوت بھی جاری تھی، ایسی سال بھر کی بھاری مجلس کی تجویز میری طرف سے کیونکر ممکن ہوسکتی تھی، یہ تو عزیز محمد خان کا ذاتی معاملہ اور جماعت خانہ سے عشق تھا وہ البتہ جانتا تھا کہ تقریباً ایک سال کے بعد کروڑوں کی جائیداد اور دولت کہیں غائب ہو جانے والی ہے، اور جو عشقِ مولا کے تحت لازوال دینی نعمتیں ہیں وہی ہمیشہ ہمیشہ ساتھ رہیں گی۔
بدھ ۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲ء
۱۲۰
عزیز محمد خان ابنِ عزیزآخوند ایک عظیم فرشتۂ ارضی تھا۔ ۲
جس مومنِ موحد کو بحقیقت فرشتۂ ارضی کہا جاتا ہے وہ بہت سی مذہبی خوبیوں کا مالک ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عزیز محمد خان اور ان کے افرادِ خاندان سب ارضی فرشتے تھے، یہی وجہ ہے کہ نیک نام قرانگغو توغراق گاؤں میں ان کی زمین پر دورِ قیامت کا مثالی اور قیامتی جماعتخانہ بن گیا اور اس میں ظہورِ قیامت کی عظیم معجزات رُونما ہوئے۔ جس طرح میں نے امامِ مبین کے بعض معجزات کو ذکر کیا ہے۔
جو میری سب سے گرانمایہ کتاب ہے: ’’قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت‘‘ یہ جماعت خانۂ قرانگغو توغراق اوریارقند و کاشغر میں صاحبِ قیامت کے کئے ہوئے معجزات کے فیوض و برکات سے ہے، جس کا بڑا کامیاب انگلش ترجمہ مرکزِ علم و حکمت لندن کے علمی فرشتوں سے کیا ہے تو ماشاء اللہ کیا خوب ترجمہ ہے! خداوندِ قدوس نورِ امامت کے تمام نیک بخت پروانوں کو ارض و سماء کی خلافت والے عظیم فرشتے بنائے! آمین! (۴۳: ۶۰)
کتنی بڑی سعادت ہے ان درویشوں کی جن کو حجّتِ قائم اور حضرتِ قائم اور روحانی قیامت کی عملی معرفت حاصل ہوئی اور وہ عرفانی جنّت کے شناسا ہو گئے امامِ مبین=امامِ زمانؑ، اللہ کے زندہ اسمِ اعظم=کنزِ کُلّ
۱۲۱
کے چشم دید معجزات کے تذکروں سے کتابیں بھر گئیں ہیں۔ مجھے یقینِ کامل ہے کہ نہ صرف عزیز محمد خان ہماری روح کا حصّہ ہوگیا بلکہ اس روحانی حشر کی وجہ سے دنیا کے تمام اسماعیلی قانونِ یک حقیقت کے تحت نفسِ واحدہ ہو گئے۔ الحمد للہ علیہ منہ و احسانہ۔
بدھ ۱۶، اکتوبر ۲۰۰۲ء
۱۲۲
امامِ مبین=امامِ زمانؑ اللہ کا زندہ اسمِ اعظم اور کنزِ کُلّ ہے
ماہِ فروری ۱۹۴۹ء میں ہم تاشغورغان پہنچ چکے تھے، اس بندۂ درویش کو شب خیزی اور خصوصی عبادت کا موقع حاصل تھا۔ خواب و خیال میں عجائب و غرائب کا مبارک سلسلہ جاری تھا، تاہم ایک رات کو انتہائی عجیب و غیرب خواب دیکھا وہ نہ صرف بہت بڑا حیران کُن تھا بلکہ ساتھ ہی ساتھ تاویل کے عظیم اسرار سے بھی لبریز تھا، میں نے یکایک یہ انوکھا اور سب سے نرالا منظر دیکھا کہ میری قربانی ہوچکی تھی جسم جنازے کی طرح زمین پر پڑا تھا، سر قریب کی ایک دیوار کے ساتھ آویزان تھا میں (یعنی روح یا شعور) کچھ بلندی پر چمکنے والے بہت سے ذرّات کے درمیان تھا، یہ کس نے مجھے خواب میں ذبح کیا؟ میرے محبوبِ روحانی باپ (امامِ زمانؑ) نے، دیکھو قرآن (۳۷: ۱۰۲ تا ۱۱۰) اس قربانی کا فدیہ ذبحٍ عظیم (۳۷: ۱۰۷) وہ منزلِ عزائیلی کی قربانی سے جو بہت ہی عظیم ہے، جس میں سات رات اور آٹھ دن مسلسل مرنا اور جی اُٹھنا پڑتا ہے، (۶۹: ۷) اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے، اس میں انسان کے لئے بیشمار فائدے ہیں۔
سوال: وہ روشن ذرّات کیا تھے جن کے درمیان میرا شعور تھا؟ کیا وہ تمام روحوں کی یک حقیقت تھی؟ یا امامِ زمان کا نور تھا؟ کیا امامِ زمان
۱۲۳
کا نور ایک اکائی ہے یا ایک بے مثال وحدت ہے؟ ہمیں اس خواب پر مزید سوچنا ہو گا۔ ممکن ہے یہ روحانی شہادت اور فنافی الامام کا ایک نمونہ ہو۔ یہ حکمت قرآنی تاویل کی کلیدوں میں سے ہے۔ الحمد للہ ربّ العلمین۔
جمعرات ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۲ء
۱۲۴
جنگ – خُصوصی انٹرویو
جنگ خصوصی انٹرویو
اعزازی خدمات
جو نیک بخت اور ہوشمند لوگ اپنی عزیز قوم کی آنریری خدمات انجام دیتے ہیں، وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سایۂ رحمت میں ہیں، اور افرادِ قوم کے دلوں میں ان کے لئے ایک پیاری سی دعا جاری ہے، اور وہ یقیناً قابلِ صد احترام ہیں۔
عزیزم شیراللہ بیگ ابن پہلوان بیگ ابن رجب شاہ خانۂ حکمت ریجنل برانچ گلگت کے آنریری سیکریٹری ہیں اور وہ یہ گرانقدر خدمات عرصۂ دراز سے انجام دے رہے ہیں، ان کو علم وحکمت سے عشق ہے، وہ ہماری کتابوں کو گہری نظر سے پڑھتے ہیں، یہ بہت بڑی سعادت مندی کی علامت ہے، ایسے میں آپ اپنے استاد کو بیحد عزیز کیوں نہ ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے تمام شاگرد اور رفقائے کار ہمیشہ ملک و ملت اور انسانیت کی خدمت کرتے رہیں تا کہ ان کو دونوں جہان کی حقیقی خوشی حاصل ہو، آمین!
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۲۳ جمادی الثانی ۱۴۱۵ھ /۲۸ نومبر ۱۹۹۴ء
تمہید
۱۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یا اللہ! اپنے محبوبِ خاص حضرتِ محمد مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حرمت سے اس بندۂ کمترین کے قلب و لسان اور قلم کو ہر گونہ لغزشوں سے بچنے کے لئے اعلیٰ توفیق، ہمت اور ہدایت عنایت فرما، تا کہ علم و عمل کی ہر چیز تیری خوشنودی کے مطابق ہو۔
۲۔ دوستو! آؤ یہاں آؤ، ہم سب مل کر آسمانی عشق کا تذکرہ کریں، نورِعشق اور نارِعشق کا نعرہ بلند کریں، چونکہ ہم مجانین ہیں، اس لئے ہم پر ’’با ادب، ہوشیار‘‘ ہونے کی کوئی پابندی نہیں، ہمارے لئے درویشی ہی سرمایۂ حیات ہے، یہی طرزِ زندگی ہمارے لئے سہل ترین ہے، ہم ان لوگوں میں سے ہو جانا چاہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لئے شدید محبت یعنی عشق (۰۲: ۱۶۵) رکھتے ہیں، یہی عشق اور اس کا وسیلہ نور بھی ہے اور نار بھی، اور اسی کا مبارک نام
۵
آسمانی عشق ہے، اگر قرآنِ حکیم میں (۲۷: ۰۸) نور کا دوسرا نام نار نہ ہوتا تو ہم ’’نورِ عشق، نارِ عشق‘‘ کا ذکرِ جمیل ہی نہ کرسکتے۔
۳۔ نورِعشق کی آفاقی اور کائناتی مثال نیرِاعظم (سورج) ہے، آفتاب جہان آرا بھی اور عالم سوز بھی، یعنی اسی سے باغ و چمن سرسبز و شاداب بھی ہوجاتا ہے، اور اسی سے وہ سب کچھ خشک و خراب بھی ہوجاتا ہے، یہ اس لئے ایسا ہے کہ حقیقی معنوں میں جان دِہ و جان ستان ایک ہی ہے، پس حکمت و دانائی اسی میں ہے کہ آپ معجزۂ عشق کے نور و نار دونوں پہلو سے فائدہ اٹھائیں، نورِ عشق کی روشنی میں شاہراہِ صراط المستقیم پر گامزن ہوتے جائیں، اور نارِعشق میں نفسِ امّارہ کو بار بار جلاتے رہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ سب سے بڑی کامیابی اسی سے ہوگی۔
۴۔ ان چند سالوں میں شمالی علاقہ جات کے محسنین، پی۔بی۔ سی گلگت اور پاکستان کے بعض موقر اخبارات نے اس بندۂ ناچیز پر ایسے بڑے بھاری احسانات کر دئے کہ کسی عمدہ سے عمدہ عبارت میں بھی ان نوازشات کا شکریہ ادا نہیں ہو
۶
سکتا، روزنامۂ جنگ راولپنڈی (پیر ۱۹ ربیع الثانی ۱۴۱۵ھ /۲۶ ستمبر ۱۹۹۴ء) میں جو خصوصی انٹرویو شائع کیا گیا، اس میں نہ تنہا میری ہمت افزائی کی گئی ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ تمام شمالی علاقہ جات کے ادبی سفر کا بھی ذکر کیا گیا ہے، پس میں جناب الطاف پیرزادہ صاحب، جناب شاہد محمود صاحب، جناب غلام قادر ہونزائی صاحب، اور جناب سعادت علی مجاہد صاحب کا شکرگزار اور ممنون ہوں، یہ ادبی ایڈیشن بڑی خوبصورت سرخیوں کے ساتھ شائع ہوا ہے۔
۵۔ ہم ان شاء اللہ ان سوالات و جوابات کو بطورِ یادگار ایک کتابچہ کی صورت میں شائع کریں گے، جس کا نام ’’جنگ خصوصی انٹرویو‘‘ ہوگا، اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر کما کان حقہٗ ادا نہیں ہوسکتا، یہی ایک بہت بڑی حسرت ہے، جس کی وجہ سے کبھی کبھار یہ کوشش کی جاتی ہے کہ مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات کا سہارا لیا جائے، اور اگر خداوندِ قدّوس کی توفیق و تائید حاصل ہو جاتی ہے تو خونِ جگر سے کچھ آنسو بھی برسا دئے جاتے ہیں، تا کہ خداوندِ عالم کو ہماری حالتِ زار پر رحم آئے۔
۷
۶۔ مجھے وہ زمانہ خوب یاد ہے جب کہ صرف علم ہی کا قحط نہیں بلکہ کثیر چیزیں نایاب تھیں، مثال کے طور پر دیا سلائی ابھی ہونزہ تک نہیں پہنچی تھی، لہٰذا ہم اپنی قدیم روایت کے مطابق توّے کی کالک کو چمچے میں لے کر اس پر سنگِ چقماق اور فولاد کے ٹکڑے کے ٹکراؤ سے چنگاریاں گراتے اور اسی طرح آگ پیدا کرلیتے، صابون نہیں تھا، اس کی جگہ ایک قسم کی گھاس میں کپڑے دھو لیا کرتے تھے، جس کا نام بروشسکی میں ’’صبون ݽقا‘‘ ہے، ٹھوس نمک نہیں ملتا تھا، اور جب یہ پہلی بار کہیں سے قلیل مقدار میں لایا گیا تو اس کا نام بُماربیو رکھا (یعنی نمک جو بیمار کے لئے دوا ہے) شروع شروع میں ہم لوگ ݼل بیو (سیال نمک) استعمال کرتے تھے جو ایک قسم کی صحرائی مٹی سے بنایا جاتا تھا۔
۷۔ ہم اس زمانے میں چائے کو نہیں جانتے تھے، پھر پیتے کیسے، ہونزہ میں کہیں کھانے پینے کی کوئی دکان نہیں تھی، گلگت جا کر واپس آنے کے لئے چھ یا سات دن درکار ہوتے تھے، لوگ یہ سارا سفر پا پیادہ طے کرلیتے اور اس کے ساتھ ساتھ پشت پر کوئی بوجھ بھی اٹھا لیتے، موسمِ بہار اکثریت کے
۸
لئے بڑا دشوار وقت ہوتا تھا، کیونکہ اس وقت اشیائے خوردنی سب کی سب ختم ہوجاتی تھیں، لوگ شرم و ناموس کے مارے اپنی ناداری اور بھوک کی حالت دوسروں پر ظاہر نہیں کرتے تھے، اگر ہم اس تاریخی حقیقت سے نئی نسل کو آگاہ نہ کردیں تو وہ اپنے وقت کی نعمتوں کی شکر گزاری اور قدر دانی کس طرح کر سکیں گے۔
۸۔ روشنی کا کم سے کم ذریعہ مٹی کا تیل ہے، لیکن اس زمانے میں یہ کہاں سے مل جاتا، چنانچہ ہمارے لوگ بڑے دور جنگلوں میں جا کر خشک تنۂ عرعر (دفران =جونیپر = گل) کی لکڑیاں لایا کرتے تھے تا کہ ان کو جلا کر روشنی کا کام لیں، یا کچھ عام قسم کے بیجوں کو بھون لیتے، پھر انہیں کوٹ پیس کر مِنا بناتے، اور مِنا فلیٹو جلا کر تھوڑی سی روشنی حاصل کرلیتے تھے، الغرض یہ اس زمانے کی انتہائی پس ماندگی کی چند مثالیں ہیں، اب اگرچہ شمالی علاقہ جات کے حالات پہلے جیسے نہیں ہیں، پھر بھی بد قسمتی سے یہاں آج تک وہ ترقی نہ ہوسکی جو ہونی چاہئے۔
۹۔ ملک و ملت اور انسانیت کی خدمت بہت بڑی عبادت
۹
ہے، لہٰذا یہ دیکھنا اور سوچنا ہوگا کہ ہم اس سلسلے میں کیا کیا کام انجام دے سکتے ہیں، اگر آپ اجتماعی یا انفرادی طور پر ہمہ رس علمی خدمت کرسکتے ہیں تو یہ بہت ہی بڑا مبارک عمل ہے، اور اس میں بہت سی برکتیں پوشیدہ ہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ، اس سے آپ کے علم میں زبردست اضافہ ہوگا، اور آپ کی عقل و جان کو بے حد شادمانی حاصل ہوتی رہے گی۔
۱۰۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: من عرف نفسہ فقد عرف ربہ = جس نے اپنے آپ (یعنی تمام مدارجِ روح) کو پہچان لیا یقیناًاس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا۔ اس میں کتابی معرفت کی بات نہیں، بلکہ عملی معرفت کا ذکر ہے، اور وہ روحِ علوی کے تمام درجات میں ہے، تا آنکہ فنا فی اللہ و بقا با اللہ کا مرتبہ آ جاتا ہے۔
۱۱۔ ظاہراً و باطناً اللہ تبارک و تعالیٰ کی جتنی بے شمار نعمتیں ہیں وہ سب کی سب اس کے بندوں کے لئے ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ وہ پاک و بے نیاز بڑی سے بڑی نعمت کو بھی اپنے دوستوں سے دریغ نہیں رکھتا، آپ قرآنِ حکیم میں سورۂ رحمان کو خوب غور سے پڑھیں، خصوصاً آیاتِ مبارکہ
۱۰
۲۶، ۲۷، ۲۸ کو، کیونکہ ان میں سب سے آخری اور سب سے عظیم نعمتوں کا اشارہ ہے، جو مرتبۂ فنا فی اللہ سے متعلق ہیں، اور یہ بڑی بڑی نعمتیں اسرارِ معرفت پر مبنی ہیں۔
۱۲۔ اللہ شاہد ہے کہ اب مجھے اپنی فکر نہیں بلکہ شاگردوں کے بارے میں بڑی حد تک فکر ہو رہی ہے کہ وہ کب لیلائے علم و حکمت کی خاطر مجنون ہو جائیں گے؟ کیونکہ جب تک کسی کو علم و دانش سے شدید محبت اور عشق نہ ہو تب تک اس کا حصول ناممکن ہی ہے، تا ہم میں اس باب میں مایوس نہیں ہوں، اس لئے کہ خدائے بزرگ و برتر کے فضل و کرم سے بعض عزیزان میں خزائنِ علم وعرفان کا یہ بے مثال جذبہ اور ولولہ پیدا ہو رہا ہے، ان شاء اللہ دوسرے عزیزان بھی ان کے پیچھے پیچھے چلیں گے۔
۱۳۔ ہر روز روح کے عجائب وغرائب کا تذکرہ ہونا چاہئے، روح عالمِ امر میں ایک ہی ہے، مگر عالمِ خلق میں ہزار و بے شمار ہو کر کام کر رہی ہے، جو صوفئ صافی اس راز کو بحقیقت جانتا ہے، وہ سب لوگوں کو عزیز رکھتا ہے، وہ غیر اور بیگانہ کا تصور ہی نہیں کرتا، کیونکہ چشمِ بصیرت سے دیکھا
۱۱
جائے تو پتہ چلتا ہے کہ خدا کی خدائی میں کوئی دوسرا نہیں ہے، جو بھی ہیں سب اپنے ہی ہیں۔
۱۴۔ قرآنِ عظیم کے اشارۂ حکمت (۴۲: ۰۵) کے مطابق تمام اہلِ زمین کے حق میں عفو و درگزر کی دعا اور خیر خواہی ضروری ہے، پھر مسلمین و مومنین کے لئے خصوصی دعائیں ہیں، اور اس کے بعد جو عزیزان ہمارے کاموں کو ہم سے بھی زیادہ آگے بڑھاتے ہیں، ان سے اگر ہم قربان بھی ہوجائیں تو کم ہے، کیونکہ یہاں جب آن جانب اتنا بڑا جذبۂ قربانی ہے تو این جانب کیوں نہ ہو، میں نے ایک مختصر عبارت میں مشرق و مغرب کے اپنے رفقائے کار اور ان کے زرین کارناموں کو یاد کیا، الحمد للہ ربّ العالمین۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۲۶ ربیع الثانی ۱۴۱۵ھ، ۳ اکتوبر ۱۹۹۴ء
۱۲
توصیفِ قلم
اے قلم جنبشِ ازل ہے تو
قدرتِ ذاتِ لم یزل ہے تو
تجھ سے تحریرِ کائنات ہوئی
اے خوشا! حق کی تجھ سے بات ہوئی
ہے ہمارا قلم ترا سایہ
اس کو تجھ سے ملا ہے سرمایہ
وہ قلم اس جہان میں سلطان ہے
ذاتِ حق کی دلیل و برہان ہے
یہ قلم بادشاہِ دنیا ہے
جب سے علم و عمل کا چرچا ہے
اک قلم برفرازِ عرشِ برین
اک قلم بربسیطِ روئے زمین
علم کا ایک جہان قلم میں ہے
رازِ کون و مکان قلم میں ہے
۱۳
کام میں سر کے بل یہ چلتا ہے
جس سے دنیا زمانہ پلتا ہے
یہ سیاہی سے روشنی کر دے
دولتِ علم سے غنی کر دے
اس کا قطرہ مثالِ بحرِ عمیق
گنجِ گوہر رہا ہے جس میں غریق
اسپِ تازی کہ تیز طوفان ہے
بلکہ یہ اک جہازِ پرّان ہے
چشمۂ علم و منبعِ حکمت
باعثِ فخر و مایۂ عزت
ارضِ جنت ہیں اس کے مکتوبات
کیف آور ہیں جس کے مشروبات
چپکے چپکے قلم کلام کرے
ساری دنیا اسے سلام کرے
تو نہ شمشیر ہے نہ شیرِ ببر
پھر بھی طاقت میں تو رہا برتر
۱۴
یہ کتابیں اسی کی پیداوار
جن کی رونق ہے رشکِ باغ و بہار
یہ قلم ہے کہ ہے عصائے کلیم
شر کو نگلے یہ اژدہائے عظیم
ہیں مبارک تمام اہلِ قلم
جن پہ اللہ کا ہوا ہے کرم
خدمتِ قوم ہے رضائے خدا
کام کر کام کر برائے خدا
یہ قلم تیرے پاس امانت ہے
حق ادا گر نہ ہو خیانت ہے
اے نصیرؔ خامہ بہت پیارا ہے
چونکہ اللہ نے اتارا ہے
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
ذوالفقار آباد، گلگت
۲۸ ذوالحج ۱۴۱۴ھ /۹ جون ۱۹۹۴ء
۱۵
علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی
ایک ہمہ گیر علمی شخصیت
ممتاز اسکالر، شاعر اور محقق و مفکر محترم علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کی تقریباً باسٹھ سالوں پر محیط ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں ’’بابائے بروشسکی‘‘ اور ’’لسان القوم‘‘ کے خطابات پانے کے بعد انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ شمالی علاقوں کی مقامی حکومت نے ۱۰ جون ۱۹۹۴ء کو گلگت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی ادبی تقریب میں آپ کو ’’حکیم القلم‘‘ کے خطاب سے نوازا، آپ شمالی علاقوں میں بولی جانے والی قدیم زبان ’’بروشسکی‘‘ کے پہلے صاحبِ دیوان، صوفی شاعر، ۱۵۰ کتابوں کے مصنف، جن میں سے چالیس کا انگریزی میں اور متعدد کا فرانسیسی، سویڈش، فارسی، ترکی اور گجراتی میں ترجمہ ہوچکا ہے، بروشسکی زبان، اس کی گرائمر، لغت اور تاریخ و روایات کو معدوم ہو جانے سے بچایا اور قرطاسِ بقاء پر لا کر
۱۶
معروف غیر ملکی یونیورسٹیوں اور اپنی منفرد تخلیقات میں نہ صرف محفوظ کیا ہے بلکہ قدیم انسانی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی علامات کے ساتھ اس زبان کو نئی زندگی سے ہمکنار کیا ہے، بروشسکی زبان اور اس کے ادب کو اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے دنیائے علم و ادب میں روشناس کروانے والی اس ہشت پہلو علمی شخصیت نے اپنے قلم کے ذریعے روایتی موضوعات کے علاوہ سائنس و مذہب، روح و مادّہ، مکان و لا مکان، اڑن طشتریوں اور روحانی سائنس جیسے عنوانات کا اس طرح احاطہ کیا ہے کہ دقیق نظر سے مطالعہ کرنے والے قاری ان کتابوں کے ہر ورق پر ’’علمی انکشافات‘‘ محسوس کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شمالی علاقوں کے اس درویش صفت بطلِ جلیل کا نامِ گرامی جب بھی سننے یا پڑھنے میں آتا ہے تو دل میں یکدم احترام اور علمِ بیکران و عرفان کے جذبات و احساسات ابھرتے ہیں، قلب و نظر کو روشن کرنے والی آپ کی تخلیقات سے معاشرے کے ہر طبقۂ فکر کے افراد استفادہ کرتے ہیں اور اپنے عوالمِ شخصی کو علم و حکت، اسرارِ روحانیت اور بلند حقائق و معارف سے منور
۱۷
کرتے ہیں، یہ اس امر کی روشن دلیل ہے کہ آپ کی تائیدی تخلیقات میں معنوی گہرائی اور گیرائی بدرجۂ اتم موجود ہے۔
قاری جب علامہ صاحب کی تحریروں کا دقیق نظر سے مطالعہ کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک نئے علمی جہان میں پاتا ہے اور زمان و مکان کی بندشوں سے آزاد ہو کر کچھ دیر کے لئے یوں محسوس کرتا ہے جیسے وہ بحرِ بیکران میں غوطہ زن ہوکر علم و آگہی، عشق و محبت اور ایمان و ایقان کے وہ گوہرِ نایاب چن رہا ہو جو ابنِ آدم کا اصل مقصدِ حیات ہیں، آفاقی فکر و عمل رکھنے والی یہ پر تاثیر علمی بزرگ شخصیت موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لئے ایک ایسے روشن منارے کی حیثیت رکھتی ہے جس سے کائنات کی ازلی سچائیوں سے معمور قرآنی حکمت و روحانیت اور مکان و لامکان کی معنوی وسعتوں کو سمیٹ کر عرفانی اشعار کے قالب میں پیش کرنے والے آسمانی عشق و محبت کے سچے جذبوں کی پرنور کرنیں پھوٹتی ہیں۔
علامہ صاحب کی ہمہ رس شخصیت نے بڑی بڑی قدآور علمی، ادبی اور تنظیمی شخصیات کو وہ پالیسی ساز آفاقی سوچ دی جس نے انہیں بے لوث علمی خدمت کے ایک عالمگیر
۱۸
استقلالی عزم سے ہمکنار کیا اور اس نوعیت کی جہدِ مسلسل، ان کی زندگی کا اعلیٰ ترین نصب العین قرار پایا، جہاں تک غیر ملکی یونیورسٹیوں سے تحقیق کے میدان میں اشتراکِ عمل کا تعلق ہے آپ نے ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی کے پروفیسر ہرمن برگر کو پچاس ہزار بروشسکی الفاظ بغیر کسی معاوضے کے مہیا کر کے پہلی بروشسکی۔جرمن ڈکشنری کی اشاعت کی راہ ہموار کی اور مانٹریال یونیورسٹی کنیڈا کے پروفیسر ٹیفو کو بروشسکی گرائمر، پہیلیوں اور کہاوتوں کا مواد فراہم کیا جس کو تالیف کے مراحل سے گزار کر پروفیسر نے Hunza Proverbs نام سے نئی کتاب کی حال ہی میں اشاعت کی ہے، نتیجتاً علامہ صاحب اس ڈکشنری اور نئی کتاب کے شریک مصنف قرار پائے۔ مختصراً علامہ صاحب کے حکیمِ قلم اور شیرین لسان نے حریت فکر اور اعلیٰ حقائق و معارف سے آراستہ تحریروں اور تقریروں کے ذریعے لاتعداد شخصیات کے حوالہ سے ایک وسیع کائنات کو متاثر کیا ہے اور قارئین و سامعین کے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
علامہ صاحب نے اپنی کہن سالی کے باوجود اپنے علمی
۱۹
مشن کو پھیلانے کے لئے سفر کی بے شمار صعوبتیں بھی برداشت کیں ہیں اور مشرق و مغرب کے مابین اپنے تخلیقی خیالات و افکار کے ہمہ وقت بہاؤ کو یقینی بنانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔
اب یہ ہمارا فرضِ اوّلین ہے کہ آپ کی تخلیقات کو زبان زدِ خاص و عام کریں یہ انٹرویو اس فرض کی ادائیگی کی ایک کوشش ہے آئیے اس سلسلے میں پینل انٹرویو کے ذریعے علامہ صاحب سے ان کے خیالات دریافت کرتے ہیں۔
۲۰
* الطاف پیرزادہ: سوال نمبر ۱:
علامہ صاحب! ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کے مشکور ہیں کہ آپ نے اپنی گوناگون مصروفیات کے باوجود یہ قیمتی لمحات ہمارے اور قارئینِ کرام کے لئے مختص کئے، آپ کی شخصیت کے علمی پہلو اہلِ علم و قلم سے پوشیدہ نہیں، لیکن آپ کے بچپن، جوانی اور بعد کے حالات کے بارے میں ہمارے قارئین کو کچھ تفصیلات سے نوازیں۔
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
جناب الطاف پیرزادہ صاحب انچارج میگزین روزنامہ جنگ راولپنڈی، آپ کی بہت بڑی نوازش اور ذرہ نوازی ہے کہ مجھے اپنے بارے میں کچھ عرض کرنے کا موقع دیا، میں ۱۵ مئی ۱۹۱۷ء کو قریۂ حیدرآباد، ہونزہ میں پیدا ہوا، چونکہ ہونزہ میں صدیوں سے صرف شخصی حکومت ہی کے مفادات مطلوب و مقصود تھے لہٰذا یہ امر اس ریاست کے لوگوں کے لئے ناممکن تھا کہ وہ اپنے بچوں کو ابتدائی تعلیم کے نعمت سے مستفید کر سکیں، جبکہ پوری ریاست میں گورنمنٹ پرائمری
۲۱
اسکول بلتت کے سوا کوئی اسکول ہی نہ تھا، نہ کہیں کوئی استادِ کامل فیضِ عام کا ذریعہ ہوسکتا تھا، اور نہ کوئی دینی مکتب، بس ہر طرف جہالت و لاعلمی کی ظلمت چھائی ہوئی تھی، سوائے میر اور وزیر خاندان کے باقی تمام لوگوں میں یہ عام روایت چلی آرہی تھی کہ اپنے بچوں سے بھیڑ بکریاں چرانے کا کام لیا کریں، ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی ضروری تھی کہ بچے ہر روز پہاڑ سے چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کا بوجھ اٹھا کر لائیں۔
یہ وہ بڑا مشکل زمانہ تھا، جس میں رعیت کا کوئی فرد ریاست کی حدود سے باہر قدم نہیں رکھ سکتا، اگر کسی کو گلگت جانے کی سخت ضرورت پیش آتی تو وہ شخص تازہ یا خشک پھلوں کی ٹوکری لے کر میر صاحب کے دروازے پر جاتا اور کسی خاص نوکر کے توسط سے زبانی درخواست بھیجتا کہ حضور بندہ پرور! فدوی کو گلگت کی عارضی راہداری (پاسپورٹ) چاہئے، اب بصورتِ منظوری اس کو ’’راہداری‘‘ کے نام سے کاغذ کا ایک ٹکڑا دیا جاتا، جس پر منشی صرف میر صاحب کے نام کا مہر ثبت کرکے دیا کرتا تھا، اور اس میں کچھ مزید تحریر نہیں ہوتی، شخصی حکمرانی کی اس پالیسی کا منشاء سوائے اس کے
۲۲
اور کیا ہو سکتا ہے کہ ریاست کا کوئی آدمی حصولِ علم کی خاطر باہر نہ جا سکے۔
اگر ہزاروں میں سے بمشکل کوئی ایک آخوند (استاد) مل جاتا تو وہ بھی کامل نہیں ہوتا، پھر بھی کچھ نوجوان حصولِ علم کی غرض سے اس کے پاس جایا کرتے تھے، لیکن زمانے کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ایسے معصوم طالبِ علموں سے نوکروں کی طرح کام لیا جاتا تھا، اس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوا ہوگا کہ میرے بچپن اور نوجوانی کے زمانے میں اہلِ ہونزہ کے اجتماعی حالات کیسے مشکل تھے، اور اس وقت علم کی راہ میں کیسی کیسی رکاوٹیں اور دشواریاں حائل تھیں۔
* سعادت علی مجاہد انچارج نیوز بیورو برائے روزنامہ جنگ، راولپنڈی: سوال نمبر ۲:
گو کہ ہم جانتے ہیں کہ اہلِ شوق کے لئے نا موافق حالات بھی موافق ہوجاتے ہیں لیکن :
یونہی چراغ لالہ روشن نہیں ہوا۔
ہمارا تجسس ہمیں مجبور کرتا ہے کہ۔
دیکھئے کیا گزرتی ہے قطرے سے گوہر ہونے تک۔
آپ کی ذات کے حوالے سے ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ شمالی علاقہ
۲۳
جات جیسے دور افتادہ علاقے میں علمی و ادبی درسگاہیں نہ ہونے کے باوجود آپ علم و ادب کی اس قابلِ رشک منزل تک کن دشوار مراحل سے گزر کر پہنچے اور آپ کو یہ بلند علمی مقام کیسے ملا؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
یہ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت نے میرے لئے عجیب و غریب طریقوں سے کام کیا، وہ یوں کہ میں ایک خلیفہ (نمائندۂ پیر) کا سب سے چھوٹا فرزند ہوں، لیکن علم کا سب سے بڑا شائق و شیدائی رہا، بالفاظِ دیگر میں علم کے فطری عاشقوں میں سے تھا اور اب بھی یہی حال ہے، یہ مبارک عشق گویا مجھ پر ایک مؤکل بٹھایا گیا تھا، جو مجھے تلاشِ علم کے بغیر چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ والدِ بزرگوار کے پاس جو کچھ علم تھا، اس کو حاصل کرتا رہا، لغات بینی کی عادت بنا لی، کچھ گھر کے باہر سے بھی دریوزہ کیا، جب جب بکریاں چراتا تو اس وقت کتابِ ’’پنج گنج‘‘ ساتھ ہوتی، جس وقت بھیڑ بکریوں کو لے کر چند مہینوں کے لئے یایلاق (تیر) جاتا، اس دوران مطالعے کی غرض سے قرآن پاک موجود ہوتا۔
۲۴
نوجوانی میں دس ماہ کے لئے گورنمنٹ پرائمری اسکول بلتت گیا، اس دوران تیسری اور چوتھی جماعت پڑھ لی، اس کے بعد نہیں جاسکا، اور ذاتی مطالعہ پر زیادہ سے زیادہ زور دیا، میرے نزدیک فوجی زندگی کا تجربہ بھی ضروری تھا، اس لئے میں ۸ اپریل ۱۹۳۹ء کو گلگت سکاؤٹس میں بھرتی ہوگیا، وہاں دیکھنے اور جاننے کے لئے ایک نئی دنیا تھی، پھر میں وہاں سے یکم ستمبر ۱۹۴۳ء کو مستعفی ہوکر ۵ اکتوبر ۱۹۴۳ء کو آرمی میں بھرتی ہوگیا، اب مشاہدات و تجربات کے لئے میری زندگی کا میدان کافی وسیع ہوچکا تھا، خدا کے فضل و کرم سے یہ بات میری عادت میں داخل ہوئی تھی کہ میں کتابوں کے علاوہ دوسری چیزوں میں بھی علم کی جستجو کروں، میں ۷ فروری ۱۹۴۶ء کو آرمی سے بھی بخوشی فارغ ہوگیا۔
اگرچہ علم ایک ایسی نورانی حقیقت کا نام ہے جو ہر قسم کی مادّیت سے مجرّد و مبرّا ہے، تاہم ظاہری اور مادّی اشیاء میں سے کوئی شیٔ علم کی آئینہ داری و نمائندگی کے بغیر نہیں، لہٰذا ہر شخص کو چشمِ بصیرت کی سخت ضرورت ہے تا کہ مختلف
۲۵
چیزوں میں نورِ علم کے گوناگون ظہورات کا مشاہدہ ہو سکے۔
* شاہد محمود ماہرِ بشریات: سوال نمبر ۳:
آپ کی علمی کاوشیں تین شعبوں پر مشتمل ہیں یعنی قرآنی علم و حکمت، شاعری اور بروشسکی زبان کی لغت، گرامر اور اس کے دیگر پہلوؤں پر تحقیق۔ آپ سے اس سوال کا جواب مطلوب ہے کہ تینوں قسم کے ان دریاؤں میں بیک وقت غوطہ زنی کر کے گوہرِ گرانمایہ نکالنے کے لئے آپ نے کس نوعیت کی ریاضت کی؟ اور اس مقصد کے لئے کون سے وسائل و ذرائع ہاتھ آئے؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
قرآنی علم و حکمت وہ سب سے عظیم آسمانی معجزہ ہے، جس کی برکتوں سے انسان کا اصل جوہر کھل جاتا ہے، اور وہ بہت سے اعلیٰ کارناموں کو بڑی آسانی سے انجام دے سکتا ہے، ریاضت دو قسم کی ہوتی ہے: انسانی ریاضت اور خدائی ریاضت، ان دونوں میں آسمان زمین کا فرق پایا جاتا ہے، انسانی ریاضت کی جاتی ہے مگر ناتمام اور غیر مفید، اور الٰہی
۲۶
ریاضت بصورتِ مصائب و آلام کرائی جاتی ہے، جس کے نتائج و ثمرات بے انتہا مفید ہیں، ہر مومن کے پاس عمومی فرائض کے علاوہ ذکرِ کثیر یعنی اللہ کو کثرت سے یاد کرنے کا وسیلہ ہونا چاہئے، مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات اور گریہ و زاری سے ہر مشکل کام آسان ہوجاتا ہے، شب خیزی اور طویل عبادت ضروری ہے، ہر کامیاب سالک اپنے دل کو کینہ و کدورت سے پاک رکھتا ہے، قرآن و حدیث میں جس شدید محبت (عشق) کا ذکر آیا ہے وہی ہماری ہر اخلاقی اور روحانی بیماری کے لئے نسخۂ لاہوتی ہے۔
’’آورد‘‘ قسم کی شاعری میں تکلیف ہے، اور ’’آمد‘‘ قسم کی شاعری میں راحت ہی راحت ہے، کیونکہ اس میں خود از خود دل میں اور زبان پر آنے کا عنصر غالب ہے، پس ایسی شاعری الگ نہیں بلکہ روحانی علم کی ایک شاخ ہے، اسی طرح بروشسکی زبان کی لغت، گرائمر وغیرہ میں بھی تائیدِ الٰہی کار فرما ہے، کیونکہ ہر زبان کی ساخت و پرداخت اللہ کی نشانیوں میں سے ہے (۳۰: ۲۲) اور آفاق و انفس میں جس قدر بھی خدا کی نشانیاں ہیں، ان پر نورِ معرفت کی روشنی پڑنے والی ہے
۲۷
(۴۱: ۵۳)۔
* غلام قادر نیوز ایڈیٹر انچارج شعبۂ نیوز ریڈیو پاکستان، گلگت : سوال نمبر ۴:
آپ کی تخلیقات اور بروشسکی شاعری سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آپ کے تائیدی علم کے حصول کا گہرا اور منطقی تعلق ان صعوبتوں سے ہے جو تقریباً چالیس (۴۰) برس قبل چین میں آپ کے قیام کے دوران پیش آئی تھیں، اس سلسلے میں وضاحتاً بتائیے کہ آپ کی زندگی میں علمی و عرفانی انقلاب برپا کرنے میں ان غیر معمولی واقعات کا کیا کردار ہے؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
تصوف میں ریاضت کی بہت بڑی اہمیت ہے، لیکن سب سے عظیم اور سب سے مفید ریاضت وہ ہے جو اللہ پاک خود اپنے کسی بندے کو کراتا ہے، یعنی اس پر پُرحکمت مصیبتیں ڈالتا ہے تا کہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی ریاضت کے ساتھ بھی اور بعد میں بھی روحانی علم و حکمت کا سلسلہ جاری و ساری رہ سکے، پس میں اُس ملک، اُس شہر، اور اُن مقامات کو
۲۸
شکرگزاری اور قدردانی کا سلام کرتا ہوں، جہاں مجھ پر ایسی عظیم الشّان، بے مثال اور با کرامت ریاضت مسلط کی گئی، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشادِ گرامی کا ترجمہ ہے: علم کو ڈھونڈتے رہو خواہ تمہیں اس کے لئے چین جانا کیوں نہ پڑے۔
یہ حسنِ اتفاق بڑا حیران کن ہے کہ مجھ جیسے ایک بندۂ خام و نا تمام پر مذکورہ حدیثِ شریف کا سرِعظیم منکشف ہوگیا، یہ اس انتہائی شدید ریاضت کی برکت تھی، جو مسبب الاسباب کے حکم سے کرائی گئی، تا کہ میں نورِ اسلام کے علمی وعرفانی عجائب و غرائب کو دیکھنے کے قابل ہو جاؤں۔
* الطاف پیرزادہ: سوال نمبر ۵:
علم وعرفان اور قرآنی حکمت کی آفاقی تعلیمات جن کا درس آپ نے دیا ہے، ان کے بنیادی اصول کیا ہیں؟ ان اصولوں کے فروغ کے لئے آپ نے کون سا طریقۂ کار اختیار کیا؟ اور درس دینے کے اس عمل کے ذرائع کیا ہیں؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
۲۹
علم وعرفان اور قرآنی حکمت کی آفاقی تعلیمات تدریجی اور ہر شخص کی سعی و رسائی کے مطابق ہیں، کیونکہ دنیا کے لوگ عقل و شعور میں یکسان و برابر نہیں ہوتے، لہٰذا میرے درس دینے کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ میں مختلف درجات کی تعلیم پیش کرتا ہوں، تا کہ ہر شخص اپنی عقل کے مطابق علم سے بہرہ مند ہوسکے، ویسے بھی میرے سامنے کوئی ایک کلاس نہیں ہوتی، بلکہ ایسے لوگوں کا چھوٹا سا اجتماع ہوتا ہے، جس کے افراد علم و دانش کے مختلف مدارج پر فائز ہوئے ہوتے ہیں، اب یہی عزیزان میری تعلیمات کے لئے بنیاد بھی ہیں اور معیار بھی، میرے نزدیک اس تعلیمی اصول کا فروغ اس طرح ہو سکتا ہے، کہ مشرق و مغرب میں بہت ساری کتابیں پھیلا دی جائیں، آڈیو کیسیٹز بھی ہر جگہ پہنچ جائیں، بہت سارے اسکالرز پیدا ہوجائیں، اور یہی امور اصولات بھی ہیں اور ذرائع بھی۔
* سعادت علی مجاہد: سوال نمبر ۶:
آپ کی تصانیف کی مجموعی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو ہے، ان تصنیفات کی دنیا میں آپ نے کب قدم رکھا؟ اور کس
۳۰
جذبے نے آپ کو قلمی دنیا میں داخل ہو جانے کی ترغیب دی؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
یہ ۱۹۵۷ء کا زمانہ تھا، جس میں میری زندگی کے چالیس (۴۰) سال پورے ہوچکے تھے، تب میں نے اپنی اوّلین کتاب تصنیف کی، کیونکہ مجھے اس بات کا یقین تھا کہ میرے پاس خود شناسی کی ایک عظیم امانت ہے تو یہ امر ضروری ہوا کہ اس قسم کی امانت کو سینے سے سفینے میں منتقل کر دی جائے، اور مجھ کو جس طرح علم سے عشق تھا، اس کا بھی یہی تقاضا تھا کہ کچھ کتابیں تصنیف کی جائیں، علاوہ برآن بزرگانِ دین کی کتابیں ہر بار گویا کہتی رہتی تھیں کہ کوشش کرو کچھ لکھو، کچھ لکھو۔
* شاہد محمود: سوال نمبر ۷:
آپ کی تخلیقات کا علمی تجزیہ کرنے سے ایسے موضوعات پر بھی روشنی پڑتی ہے جنہیں دنیائے علم و ادب اور خود سائنس نے بھی ’’غیر دریافت شدہ اشیاء‘‘ قرار دے
۳۱
کر سمجھ اور تحقیق کے شعبے میں بے بسی کا مظاہرہ کیا ہے، جیسے اڑن طشتریوں کا سیارۂ زمین پر بار بار وارد ہوجانا، روحانی سائنس، جسمِ لطیف اور ستاروں یا سیاروں پر لطیف مخلوقات کا وجود، چنانچہ آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں وضاحت کیجئے۔
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
بیشک میں نے اپنی تحریروں میں اڑن طشتریوں کا ذکر کیا ہے، خصوصاً کتاب ’’میزان الحقائق‘‘ میں، کیونکہ مجھے اس نوعیت کے موضوعات سے بے حد دلچسپی ہے، جس کی وجہ مشاہدہ ہے، اور مقصد معلومات فراہم کرنا ہے، بڑی عجیب بات ہے کہ عوام کے نزدیک جنّ، پری، جسمِ لطیف، اڑن طشتری، وغیرہ الگ الگ مخلوقات ہیں، حالانکہ یہ ایک ہی لطیف مخلوق ہے، جو مختلف شکلوں میں ظاہر ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لئے اس کے بہت سے نام ہیں، چنانچہ میں نے روحانی انقلاب کے دوران جس واحد مخلوق کو دیکھا تھا، اس کا تذکرہ کئی ناموں سے کیا ہے، یعنی کبھی اس کو جنّ (پری) کا نام دیا، کبھی جسمِ لطیف کہا، کبھی جثۂ ابداعیہ، کبھی اڑن طشتری، کبھی
۳۲
جسمِ مثالی، وغیرہ، حالانکہ وہ ایک ہی چیز ہے، اور روحانی سائنس روحانیت و قرآن میں ہے، اس کی ایک متعلقہ مثال حسبِ ذیل ہے:
جب کوئی آدمی اللہ تبارک و تعالیٰ کی عنایتِ خاص سے وہ آسمانی قمیص پہن لیتا ہے، جس کا ذکر سورۂ نحل (۱۶: ۸۱) میں فرمایا گیا ہے تو وہ اس کے نتیجے میں جنّ / پری، فرشتہ، اڑن طشتری، جسمِ لطیف، وغیرہ کی طرح آسمان اور ستاروں میں پرواز کرسکتا ہے، اس سے پتا چلا کہ ہر ستارہ لطیف مخلوقات کی ایک دنیا ہے، آپ سورۂ شوریٰ (۴۲: ۲۹) میں دیکھیں اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ زمین اور آسمانوں کی پیدائش اور یہ جاندار مخلوقات جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں۔
* غلام قادر : سوال نمبر ۸:
علم و حکمت کا سرچشمہ قرآن پاک ہے، اس حوالے سے آپ نے قرآنی علاج، علمی علاج، اور روحانی علاج کے نام سے کتابیں تحریر کرکے گویا قرآنی شفا خانے یا آسمانی معالج
۳۳
کا خوبصورت تصور دیا ہے، ایسے میں ہم ان افراد کو کونسے دلائل دے کر قائل کرسکتے ہیں جو مادّیت زدہ ہونے کے باعث اس تصور سے دور ہیں؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
قرآنی، علمی، اور روحانی علاج کے ثبوت میں بہت سی دلیلیں پیش کی جا سکتی ہیں، اور مذکورہ بالا کتابوں میں اس نوعیت کے کئی دلائل دئے گئے ہیں، تاہم ذیل میں مزید مثالیں درج کی جاتی ہیں:
۱۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مادّی قسم کی دوا کے علاوہ کوئی اخلاقی یا نفسانی چیز بھی انسان کے دل و دماغ اور جسم و جان پر اثر انداز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ ۲۔ سب جانتے ہیں کہ کبھی کوئی آدمی شرم کے مارے پسینے میں شرابور ہوجاتا ہے، یہ محض نفسیاتی اثر پذیری کی علامت ہے۔ ۳۔ اسی طرح انسان کی ہستی پر خوف کا زبردست اثر پڑتا ہے۔ ۴۔ اکثر لوگ اپنے ہی غیض و غضب سے دگر گون ہوجاتے ہیں۔ ۵۔ انسانی فطرت میں یہ بات بھی داخل ہے کہ غم کا بوجھ اس پر سنگین گزرتا ہے۔ ۶۔ کبھی کبھی شدید غم یا
۳۴
انتہائی خوشی آدمی کے لئے خطرناک ثابت ہوجاتی ہے۔ ۷۔ مایوسی سے انسان کا دل و دماغ نیم مردہ ہوجاتا ہے۔ ۸۔ بنی نوع انسان میں شدید محبت (عشق) کا اثر شدید ہے۔
ان مثالوں سے یہ معلوم ہوا کہ انسان نہ صرف دوسروں سے اثر لینے کی خاصیت رکھتا ہے، بلکہ وہ خود بھی ہمیشہ اپنے آپ پر اثر ڈالتا رہتا ہے، پس جو لوگ قرآنی، علمی، اور روحانی دواؤں کے کورس کو مکمل کئے بغیر یہ کہتے ہوں کہ ان میں کوئی شفا نہیں تو وہ صریح غلطی پر ہیں، وہ عقلی اور منطقی طور پر بیمار ہیں، مگر یہ بیماری پوشیدہ ہے۔
* الطاف پیرزادہ: سوال نمبر ۹:
’’روح کیا ہے؟‘‘ کے نام سے آپ کی نئی کتاب جدید تحقیقی میدان میں ایک نئی ’’علمی دریافت‘‘ سے کسی طرح بھی کم نہیں، لہٰذا قارئین کی دلچسپی کے پیشِ نظر آپ سے گزارش ہوگی کہ اس موضوع پر کچھ وضاحت کریں۔
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
۳۵
روح کا علم جتنا بلند اور مشکل ہے اتنی اس کی معرفت ضروری بھی ہے، کیونکہ خدا شناسی کا کوئی درجہ روح شناسی ہی سے ممکن ہے، اور یہ بات اسلامی تصوف میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ خود شناسی کے لئے ریاضت اور نوافل کی سخت پابندی کی جائے، ساتھ ہی ساتھ مرشدِ کامل کی اجازت اور دعا شرطِ اوّلین ہے، ظاہر ہے کہ اسمِ اعظم کے بغیر ایسا کوئی کام ممکن ہی نہیں، اور وہ اسماء الحسنیٰ میں سے ہوگا، جسے مرشد خود تجویز کریں گے۔
اب یہ کوئی چلّہ ہرگز نہیں بلکہ نوافل (وہ زائد عبادات جو واجب نہ ہوں) کا سلسلہ شروع ہوگا، شب خیزی اس کا لازمی جزو ہے، ذکرِ الٰہی کے لئے راستہ ہموار کرنے کی غرض سے گریہ و زاری اور مناجات ازحد مفید ہے، اس مقدّس کام سے متعلق تفصیلات بہت زیادہ ہیں، میں مختصراً عرض کروں گا کہ اگر کوئی سالک جیتے جی موت کے دروازے سے داخل ہوسکا، اور تقریباً ایک ہفتہ تک حضرت عزرائیل ؑ نے اس کو موت وحیات کی انوکھی ریاضت کرائی تو ان شاء اللہ اب یہ طفلِ نوزائیدۂ روحانیت بتدریج آگے بڑھے گا، اور مراحلِ
۳۶
روحانی میں ترقی کرے گا، تا آنکہ وہ مقامِ عقل پر بھی اپنے آپ کو طفلِ نوزائیدہ پائے۔
* سعادت علی مجاہد: سوال نمبر ۱۰:
اللہ تعالیٰ کے ننانوے (۹۹+۱=۱۰۰) نام ہیں، ان میں ایک ذاتی اور باقی تمام صفاتی ہیں، روح اور عقل کے مقامات پر انسانی عروج و ارتقاء کے حوالے سے ان اسماء میں درجہ وار علم و معرفت ہونے سے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
وہ حدیثِ شریف یہ ہے: للّٰہ تسعۃ و تسعون اسما مائۃ الا واحداً (بخاری، جلدِ سوم، کتاب الدعوات، باب ۸۰۵) اس کا اشارہ یہ ہے کہ اسمائے الٰہی ننانوے بھی ہیں، سو بھی ہیں، اور ایک بھی ہے، جو ۹۹ اسماء ہیں وہ صفاتی ہیں، جہاں ۱۰۰ ہیں، وہاں ان میں ایک اسم نمائندۂ اسمِ ذات بھی ہے، اور جو ایک ہے وہ اسمِ ذات ہے، جو اسمِ ذات ہے وہی اسمِ اعظم بھی ہے، پس ہر اسم علم وحکمت کا ایک خزینہ ہے، اور اسمِ اعظم (اسمِ ذات /اسمِ اکبر) خزینۃ الخزائن ہے، یعنی اس میں تمام
۳۷
اسماء اور ان کے سارے خزانے جمع ہیں، جملہ اسماء میں لوگوں کے لئے درجہ وار علم و حکمت ہے۔
* شاہد محمود: سوال نمبر ۱۱:
صوفیانہ اور عارفانہ شاعری قوموں کی اخلاقی اور روحانی تربیت اور ان میں اجتماعی بیداری پیدا کرنے میں کیا کردار ادا کرسکتی ہے؟ آپ نے اس حوالے سے کن کن زبانوں میں شاعری کی ہے؟ اور ان کے اثرات و نتائج کیا ہیں؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
صوفی اور عارف کی پرحکمت شاعری میں صورِ صغیر اور قیامتِ صغریٰ کے زبردست مؤثر اجزاء ہوتے ہیں، کیونکہ ہر قسم کی چیزوں کا ایک کُلّ ہوا کرتا ہے، اور ہر کُلّ کے اجزاء ہوتے ہیں، چنانچہ ارشادِ نبوی کا مفہوم ہے: شعر گوئی کی ایک قسم وہ ہے جس میں حکمت ہے۔ (ان من الشعر حکمۃ) اور حکمت کی تعریف و توصیف قرآن حکیم سے سن لیں:
اور جس کو حکمت ملی، اسے حقیقت میں بہت سی خیر مل گئی (۰۲: ۲۶۹)۔ یقیناً صوفیانہ اور عارفانہ نظمیں قوموں کی جان
۳۸
ہوا کرتی ہیں۔
بندۂ ناچیز نے علی التّرتیب بروشسکی، فارسی، اردو اور ترکی میں شاعری کی ہے، اللہ کے فضل و کرم سے بحیثیتِ مجموعی نتائج و ثمرات بہت ہی اچھے ہیں، ایک زبردست خودکار اوپن یونیورسٹی کی طرح کام ہو رہا ہے، خصوصاً بروشسکی نظموں میں، الحمد للہ۔
* غلام قادر: سوال نمبر ۱۲:
سائنسی علوم سے اب یہ حقیقت قابلِ فہم ہوگئی ہے کہ کائنات یا کائناتوں کے مجموعی نظام میں وحدت کا اصول کارفرما ہے، قرآنی تعلیمات کے حوالے سے انسانی وحدت و سالمیت سے متعلق آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟ کیا ایسے میں نسلِ انسانی کسی وقت مکمل طور پر متحد اور ایک ہو سکتی ہے؟ اگر ہاں، تو کب؟
۔۔۔ علامہ صاحب: جواب:
جی ہاں، کائنات کو خدائے واحد نے پیدا کیا ہے، اس لئے اشیائے عالم میں ازلی وحدت و سالمیت کے آثار موجود
۳۹
ہیں، اسی طرح بنی آدم ہیں، جو سب کے سب ایک ہی ابوالبشر کی پشت سے پھیل گئے ہیں، اور قرآن پاک میں تمام لوگوں کی یکجائی سے متعلق بہت سی پیش گوئیاں ہیں، قرآن اور اسلام میں جو فرمایا گیا ہے وہ حق ہے، اس لئے میں قرآن حکیم کے حوالے سے یہ عرض کروں گا کہ تمام لوگوں کی یکجا پیدائش اور یکجا قیامت کا نمونہ نفسِ واحدہ ہے (۳۱: ۲۸) روحانی عجائب و غرائب کے سلسلے میں سب لوگ خود نفسِ واحدہ بھی ہو جاتے ہیں۔
تصوف کی اصطلاح کے مطابق کائناتِ ظاہرعالمِ کبیر ہے اور انسان عالمِ صغیر، اور اس کی نئی اصطلاح عالمِ شخصی / پرسنل ورلڈ ہے، کیونکہ انسان میں بیرونی دنیا سمائی ہوئی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر شخص میں تمام اشخاص اور ساری چیزوں کی ذرّاتی نمائندگی ہے، یہی وجہ ہے کہ آدمی اپنی جسمانی و روحانی ہستی میں بے شمار ذرّات کا مجموعہ ہے، ذرّات اس طرح ہیں: جسم کے بے شمار خلیات، نفسِ نباتی (جو انسان میں ہے) کے لاتعداد ذرّات، نفسِ حیوانی (جو انسان میں ہے) کے بے حساب ذرّات، نفسِ انسانی کے لا تعداد ذرّات، اگر
۴۰
یہی ذرّات کی دنیا عین الیقین کے سامنے ہے تو وہ عالمِ ذرّ کہلاتا ہے، اسی طرح ہر فردِ بشر میں بحدِ قوّت عالمِ انسانیت کی وحدت موجود ہے۔
* الطاف پیرزادہ: سوال نمبر ۱۳:
بروشسکی زبان کی جو خدمات آپ نے سرانجام دی ہیں وہ علاقائی اور ملکی سطح کے علاوہ غیر ملکی یونیورسٹیوں سے اشتراکِ عمل کی شکل میں بھی ہیں، چنانچہ اس زبان کی ہیئتِ ترکیبی، اس کے پھیلاؤ، گرائمر، لغت اور تاریخ کے حوالے سے ان خدمات کے بارے میں قارئینِ کرام کو متعارف کیجئے کہ یہ سارا دشوار کام اپنی مدد آپ کے تحت کیسے سر انجام پایا؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
میرا یقین ہے کہ ہر نیک کام اللہ تعالیٰ کی توفیق سے انجام پاتا ہے، ورنہ شروع شروع میں بروشسکی شاعری کے سامنے شدید مشکلات حائل تھیں، زبان کے متعلق بعض مقامی لوگوں کا تاثر اچھا نہیں تھا، کہتے تھے کہ ’’بروشسکی سراسر
۴۱
گالیوں کی زبان ہے‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چند عامیانہ الفاظ زبان کی بے شمار خوبیوں پر غالب آگئے تھے، گویا انمول جواہر کے خزانے پر اژدھا بیٹھا ہوا تھا، اور شہزادی دلہن برائے آزمائش پھٹی پرانی چادر میں چہرہ چھپا رہی تھی، جس کے سبب سے چند مقامی اہلِ قلم نے بروشسکی کو نظر انداز کرکے فارسی میں شاعری شروع کی تھی۔
اس زبان کا ایک تجزیہ اس طرح سے ہے: ہستو (ہاتھی)، گݳلجو (گیدڑ)، شدی (بندر)، یہ جانور شروع ہی سے علاقے میں موجود نہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ قدیم بروشو کسی ایسے بڑے ملک سے آئے ہوئے ہیں، جس میں زمانے کے مطابق سب کچھ تھا، وہ صرف زبان اور الفاظ اپنے ساتھ لے کر یہاں آ گئے، اور دوسری بہت سی چیزیں وہاں رہ گئیں، دوسرا تجزیہ: گرمنس (لکھنا)، غتنس (پڑھنا)، یہ دونوں مصدر اصلی ہیں، اس لئے یہ کہنا بجا ہو گا کہ زمانۂ قدیم میں بروشسکی ایک ایسی قوم کی زبان تھی، جس میں لکھنے پڑھنے کا رواج تھا، تیسرا تجزیہ: کر، کر کر، ککر، کِر کر، کِر کِر، کِکِر، کݳر، کِݶر کݳر، کݳر گبݹر، کور، کور کور، کو کور، کِݶر کݹر، کِرکور، یہ
۴۲
سب ایک ہی مادّہ کے الفاظ ہیں، جن میں چلنے پھرنے کے مختلف معنی ہیں، بروشسکی الفاظ کا مادّہ اکثر با معنی ہوتا ہے، جیسے کر (پھرنا) یہ دو حرفی الفاظ کے ذخیرے میں سے ہے جو بہت بڑا ذخیرہ ہے۔
چوتھا تجزیہ: ہر (بیل) اسی سے یہ الفاظ ماخوذ ہیں: ہرݽ (ہل)، ہرڅم (جوا= yoke) ہرکی (کاشت) ہرݽ (لکڑی کا بیلچہ) ہرکاݶ (بیلوں کی جگہ ہل کھینچنا) ہلا گون (ہل کی کھینچی ہوئی لکیر) یہ الفاظ قدیم، اصل اور سالم ہیں، کیونکہ اس کی تحقیق ہوسکتی ہے۔
ہونزہ، نگر اور یاسین میں بروشسکی زبان بولی جاتی ہے، اگر ان علاقوں کے آپس میں کچھ لہجہ اور الفاظ کا فرق ہے تو یہ اس زبان کی وسعت کی دلیل ہے، مثال کے طورپر: شکل (صورت) عربی کا ایک لفظ ہے، جس سے زمانۂ قدیم میں بروشسکی لفظ: اِشْکِل (اس کا چہرہ) بنا، جو نگر میں اپنی اصلیت کے ساتھ محفوظ ہے، اور ہونزہ میں اس کی تھوڑی سی ترقی ہوئی، یعنی یہ یہاں اِسْکِل ہوگیا، اسی طرح بعض مسائل یاسین کے طرزِ گفتگو سے حل ہو جاتے ہیں، ان شاء اللہ
۴۳
مستقبلِ قریب میں ہونزہ، نگر اور یاسین سے ایسے باکمال سکالرز پیدا ہوں گے جو آپس کے تعاون سے مشترکہ لغات اور گرائمر کو مکمل کرلیں گے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی غیر بروشن یا غیر برشو کو اس عظیم منصوبہ سے کامل دلچسپی پیدا ہوجائے، بہر حال خوشخبری ہے کہ آنے والا زمانہ امن و امان، صلح و آشتی، اور علم و ادب کا ہے۔
* سعادت علی مجاہد: سوال نمبر ۱۴:
کیا آپ کی ترجمہ شدہ تصانیف مغربی ممالک کے پیشہ ورانہ یا تعلیمی اداروں میں پڑھائی جاتی ہیں؟ کونسے ادارے؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
آج کی سائنسی دنیا میں ہر طرف ترقیوں کے طوفان امنڈ رہے ہیں، ایسے میں دنیا کے کسی بڑے علمی ادارے میں ایک حقیر شخص کی تصنیف کا تعارف کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، تاہم اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہی مسبب الاسباب ہے چنانچہ کنیڈا کی مونٹریال یونیورسٹی کے
۴۴
شعبۂ لسانیات میں میری بعض بروشسکی کتابیں ریسرچ کے لئے موجود ہیں اور حال ہی میں پروفیسر ای۔ ٹیفو نے ’’ہونزہ پرووربز‘‘ کے نام سے ۲۵۲ صفحات کی ایک کتاب شائع کروائی ہے، جس کے اندر والے ٹائٹل پیج پر پانچ مصنفین کے نام اس طرح درج ہیں:
۱۔ ای۔ ٹیفو، یونیورسٹی ڈے مونٹریال۔
۲۔ وای۔ سی۔ ایچ، مورین، یونیورسٹی ڈے مونٹریال۔
۳۔ ایچ۔برگر، یونیورسٹی ہائڈل برگ
۴۔ ڈی۔ ایل۔ آر، لاریمر لفٹنٹ کرنل
۵۔ نصیر الدین نصیر ہونزائی، خانۂ حکمت
میرے خیال میں بڑے بڑے پروفیسروں کی شرکت میں کسی تصنیف کا کام کرنا باعثِ نیک نامی و عزّت ہے، اب یہ کتاب نہ صرف یونیورسٹی ہی میں استعمال ہوگی، بلکہ اس سے باہر بھی پڑھی جائے گی، یہی مثال اس جرمن بروشسکی ڈکشنری کی بھی ہے، جس کو پروفیسر ہرمن برگر ہائڈل برگ یونیورسٹی سے شائع کر رہے ہیں۔
خاتون ڈاکٹر (پی۔ ایچ۔ ڈی) بوستان ہیرجی میدانِ علم و ادب میں بڑی قابل شخصیت ہیں، انہوں نے واشنگٹن ڈی۔
۴۵
سی (یو۔ ایس۔ اے) میں دی واشنگٹن ہاسپٹل سینٹر کے ایک شعبے میں ہیلتھ کورس کے دوران میری کتاب ’’قرآنی علاج‘‘ کے ترجمۂ انگلش ’’قرآنک ہیلنگ‘‘ کو بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا، اس کا تذکرہ ان کے اس تبصرے میں بھی موجود ہے جو انہوں نے قرآنک ہیلنگ کے بارے میں رقم کیا، جو اس کتاب کے نئے ایڈیشن کے آخر میں ہے۔
* شاہد محمود: سوال نمبر ۱۵:
علم و ادب کے فروغ کے لئے آپ نے کون سے ادارے قائم کئے ہیں؟ ان اداروں کی مجموعی کارکردگی اور مستقبل کا پروگرام کیا ہے؟ ساتھ ہی یہ بھی بتائیے کہ آپ کی علمی کاوشوں کے دائرے کو بین الاقوامی سطح پر خصوصاً مغربی دنیا میں وسیع تر کرنے میں کن کن شخصیات، ذرائع اور عوامل نے بنیادی کردار ادا کیا؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
ہمارے علمی و ادبی ادارے تین ہیں: خانۂ حکمت، ادارۂ عارف، اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی، ان کی مجموعی کارکردگی
۴۶
قابلِ رشک ہے، اس وقت خدا کے فضل و کرم سے میرے شاگردوں میں تقریباً چالیس (۴۰) عملدار و اسکالرز ہیں، یہی عزیزانِ مشرق و مغرب آپس میں مل کر مستقبل کا پروگرام کریں گے، میری پہلودار علمی خدمت کے دائرے کو دنیا میں پھیلانے کے لئے سارے شاگرد کمربستہ ہیں، اور سب کے سب شب و روز عالی ہمتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تاہم یہ سچ ہے کہ ترجمہ اور متعلقہ امور میں اگر موجودہ جذبۂ جان نثاری نہ ہوتا تو ہم خدمت میں بہت محدود رہ جاتے، اور ہماری کوئی شناخت ہی نہ ہوتی، میرا اشارہ جناب ڈاکٹر (پی۔ ایچ۔ ڈی) فقیر محمد ہونزائی صاحب، ان کے ساتھی، اور دوسرے مترجمین کی طرف ہے۔
*غلام قادر: سوال نمبر ۱۶:
آیا آپ قارئین کے لئے کوئی اہم پیغام دینا چاہیں گے؟
۔۔۔ علامہ نصیر: جواب:
جی ہاں، ان شاء اللہ، (۱) جس طرح حصولِ پاکستان کے سلسلے میں تمام مسلمان رہنما اور علمائے کرام ایک ہو گئے تھے،
۴۷
اسی طرح اب اس کی وحدت و سالمیت، اور حفاظت و ترقی کے لئے بھی ہم سب کو متفق و متحد ہو جانا ضروری ہے۔ (۲) اہلِ قلم اپنے وسیع میدانوں میں ملک و ملت اور انسانیت کے لئے بہترین خدمات کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ (۳) ہر مسلمان کو جذبۂ خیر خواہی سے سرشار ہو جانا چاہئے، کیونکہ بفرمودۂ حدیثِ شریف دین کی تعریف خیر خواہی ہے۔ (۴) میرا خیال ہے کہ مادّی سائنس کے بعد روحانی سائنس کا زمانہ آرہا ہے، اس کے لئے یقیناًاخلاقی اور روحانی تیاری کی ضرورت ہوگی۔ (۵) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حرمت سے ہم سب کو نیک توفیق عنایت فرمائے! تا کہ ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں مخلص اور باہمت ہو جائیں، آمین!
علامہ صاحب! آپ احساسِ فکر کی بنیاد پر ایک ایسی عظیم علمی خدمت سر انجام دے رہے ہیں جس کا دائرہ اسلامی، ملکی اور انسانیت کی سطح پر محیط ہے، آپ جن رموزِ
۴۸
روحانی اور اسرارِ علمی کو بتدریج منظرِ عام پر لا رہے ہیں وہ تصنع اور بناوٹ سے پاک اور سچائی کے پاسدار ہیں، اس قدر علمی سربلندی کے باوجود آپ کا حقیقی درویشی کے اصولوں پر کاربند رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ، آپ کا قلم اور آپ کی تخلیقات عظیم اور باوقار ہیں، اور ان میں توازن اور استقامت کی کارفرمائی ہے۔
(غلام قادر)
۴۹
علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی قرآنی طریقِ علاج سے طب کی دنیا کو مالامال کر رہے ہیں
جائزہ: آئی ۔ یو۔ جیرل
ترجمہ: شہناز سلیم
اس ہفتے مجھے سو کتابوں کے نامور و قابلِ قدر مصنف اور مذہبی اسکالر علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی سے چار کتابیں موصول ہوئیں۔ انہوں نے اسلام اور انسانیت کے وسیع میادین میں اپنی صلاحیتوں کو علم کی خدمت میں وقف کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ کی تشکیل کی ہے۔ ان کا متحمل اور عاجزانہ قلم دنیا کی مختلف زبانوں یعنی اردو، بروشسکی، انگریزی، فارسی (نظم و نثر) اور ترکی (نظم و نثر) میں علم کے عجائب وغرائب کو پیدا کررہا ہے۔ نیز ان کی ۳۳ کتب کا انگریزی ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
۵۰
قرآنی علاج (Quranic Healing)
یہ علامہ صاحب کی ایک اہم اور نادر تخلیق ہے جس کا نام قرآنی علاج ہے، یہ کتاب روحانی سائنس اور قرآن کے ایسے تصورات کو بیان کرتی ہے جن کا بحسن و خوبی تعین کیا جاسکتا ہے اور نتیجتاً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ روحانی علاج ایک ایسا کثیر پہلودار سلسلہ ہے جس میں نئی دریافتوں کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ ہر چند کہ کتاب میں باطنی صحت سے متعلق بصیرت افروز بیان ہے تاہم اس کتاب کا مقصد ظاہری و باطنی دونوں قسم کی بیماریوں سے بچاؤ کرنا ہے۔
کتاب میں کل ۲۶ مضامین کے علاوہ رئیس امروہوی مرحوم کا تحریر کردہ دیباچہ بھی شامل ہے۔ ہر چند کہ یہ کاغذی جلد میں ایک چھوٹی ضخامت والی کتاب ہے، تاہم علم اور حکمت کے لحاظ سے اس کا ہر مضمون ایک جامع اور مفید کتاب کے برابر ہے کیونکہ خداوند نے یقیناًعلامہ صاحب کو قرآنِ مبین کے لعل و گوہر کی دولت سے نوازا ہے۔
کتاب کا مقصد یہ ہے کہ ہر دانشمند مسلمان نبی اکرم صلی
۵۱
اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لائے ہوئے خدائی امر کی پیروی کرتے ہوئے اپنے آپ کو باطنی بیماریوں سے مکمل طور پر بچائے تاہم ذیلی اور ضمنی طور پر کتاب میں ظاہری بیماریوں کی روک تھام کے قوانین بھی مذکور ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اس کتاب کا مقصد یقینی طور پر قرآن، اسلام، پاکستان اور انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔
یہ کتاب ۲۵ مقالوں پر مشتمل ایک جامع اکائی ہے جس سے کتاب کی خواندگی اور مطالعہ بہت آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں ایک قاری منتخب موضوعات کا مطالعہ کر سکتا ہے۔ علامہ صاحب کا یہ تحقیقی منصوبہ ہر مسلم اور مغربی قاری کے لئے اسلام کے اس تاریخی نقطۂ نظر کا نئے سرے سے تعارف کراتا ہے جس میں خدا، فطرت اور انسان کے مابین ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہ نقطۂ نظر ایک ایسے علم کو جنم دیتا ہے جس میں مادّیت و روحانیت کا باہمی ارتباط ہے جو اسلام کی اساس ہے۔
مقالات ۱۰ ۔۱۴ ’’قرآنی علاج اور آواز‘‘ ، ’’خواب کے اشارات‘‘، ’’ذکرِ الٰہی‘‘، ’’خوفِ بے جا کا علاج‘‘ اور ’’دعا‘‘ میں
۵۲
جدید مغربی نفسیات اور نفسیاتی طریقِ علاج سے روحانی طب کے نقطۂ نظر سے بحث کی گئی ہے جو روحانی طبی تعلیم اور روحانی مشاورت کے لئے بہت مفید ہے۔
علمی علاج (Healing through Knowledge)
علامہ صاحب کی دوسری کتاب علمی علاج کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ۳۱ مقالوں کے ساتھ مصنف کے تحریر کردہ دیباچے پر مشتمل ہے۔ ایک حدیث شریف کے مطابق ہر نیک عمل ایک صدقہ ہے اور اگر کوئی نیکی دائمی ہو تو اسے صدقۂ جاریہ کہتے ہیں جس کا شمار دائمی نیک عمل میں ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے (الباقیات الصالحات، ۴۶: ۱۸)۔
اسی لئے علامہ نصیر ہونزائی جیسے مومنین، جو خیرخواہی اور پرجوش محبت کے ساتھ خدا کی عظیم نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہیں یا ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں وہ گویا شکرگزاری کی
۵۳
عبادت ہے جس سے اس (مالک) کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور موصوف نے جن تصورات کو اپنی تحریروں میں متعارف کروایا ہے اس سے علم کی محبت، فراخ دلی اور اسلام کی اخوت کی گوناگون برکتیں ظاہر ہورہی ہیں۔
علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی نے اردو اور دوسری زبانوں میں غیر معمولی طور پر قرآنِ حکیم کے انکشافات کے لئے ایک منفرد انداز اپنایا ہے جس میں وہ اس امر کو ثابت کرتے ہیں کہ علم روحانی بیماریوں کی دوا بھی ہے اور روح و عقل کی غذا بھی۔ کیونکہ دنیا میں علاج کا کوئی بھی طریقِ کار نہیں جو علم کا رہینِ منت نہ ہو یا جو حکمت، کتاب یا استاد کے بغیر جاری رہ سکتا ہو۔
علاج میں جو وسائل و ذرائع استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم وسیلہ ’’علم‘‘ ہے اور یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے۔
علامہ صاحب کی اس کتاب میں علم کے ذریعے علاج کے عنوان پر معقول دلائل اور جوابات تفصیلاً ملتے ہیں۔ یہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ قرآن پاک شفا اور دوا ہے لیکن یہ بات یاد
۵۴
رکھنی چاہئے کہ اس کی مخصوص شفا کا تعلق انسانی وجود کے اعلیٰ پہلوؤں یعنی روح اور عقل سے ہے جب کہ اس سے جسمانی صحت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
روحانی علاج (Spiritual Healing)
علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کی تیسری کتاب جس کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ بھی کراچی ہی کے مذکورہ بالا پبلشر نے شائع کی ہے۔ یہ کتاب یقینی طور پر ایک بہت اہم، جامع اور ہمہ رس تخلیق ہے جسے اردو اور انگریزی کے موجودہ قارئین اور آنے والی نسلوں کے لئے مکمل و مہیا کردیا گیا ہے۔
اس کتاب میں ہر قسم کے خوفِ بے جا، ہرگونہ پریشانی، احساسِ کمتری، دنیاوی حرص، گھبراہٹ، برے خیالات یا وسوسوں کی اذیت، غمگینی، بے چینی، مایوسی، ناخواستہ غصہ، سبک مزاجی، زبان کی لغزش، کم ہمتی، بد باطنی، فخر، خودبینی، جہالت، کمینگی، غفلت، سستی، تنگ دلی، اضطراب، نسیان، ذہنی اختلال، کم ظرفی، ایسی کئی دوسری
۵۵
روحانی اور اخلاقی بیماریوں کا علاج ’’اطمینانِ قلب‘‘ کو قرار دیا گیا ہے جو ذکرِ الٰہی کی برکتوں سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے ’’ الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب ‘‘ ہوشیار رہو کہ خدا کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔ (۱۳: ۲۸)۔ ایک اور آیۂ شریفہ ہے:
’’تمہارے پاس تمہارے ربّ کی جانب سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے‘‘۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں یہ نور خود رسول کی ذاتِ اقدس تھی اور اس کے بعد بھی اس نور کی موجودگی ضروری ہے۔
۲۲ مقالوں پر مشتمل یہ ایک شاندار کتاب ہے جس میں علامہ صاحب نے خاص طور پر قرآنی حوالہ جات کے ذریعے روحانی علاج کی تفصیلات کو مجمل طریقے سے مہیا کر دیا ہے اور ایسا کرتے ہوئے انہوں نے جدید طب کی دنیا میں ایک
۵۶
ایسا تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے جو ایک لمبے عرصے تک نہ صرف یاد رکھا جائے گا بلکہ آنے والی ان گنت نسلیں اس کا حوالہ دیں گی۔
روح کیا ہے؟ (What is Soul?)
زیرِ نظر کتاب میں علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں سو سوالات کے جوابات دئے ہیں۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی ڈاکٹر فقیر محمد ہونزائی اور رشیدہ نور محمد ہونزائی نے کیا ہے اور خانۂ حکمت، ادارۂ عارف، ۳۔ نورویلا، ۲۶۹، گارڈن ویسٹ، کراچی نمبر ۳، پاکستان نے اسے شائع کیا ہے۔
یہ کتاب پانچ حصوں پر منقسم ہے اور سو مضامین کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب کو مصنف (علامہ صاحب) خدا کی نعمتوں کا ایک معجزہ قرار دیتے ہیں۔ یہ ہمارے بنیادی نظریات میں سے ہے کہ اخلاص اور خاکساری سے کی گئی دعائیں مومنین کے لئے روحانی تائید کا وسیلہ ہیں۔
۵۷
روح کے بارے میں یہ بحث انتہائی دلچسپ اور مفید ہے کیونکہ روح کا اعلیٰ و ارفع موضوع اتنا ضروری ہے کہ علم و حکمت سے وابستہ افراد اس پر جتنی بھی توجہ دیں، کم ہے۔
علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کی اغلاط سے مبرا مطبوعات کے لئے ہم ان کتب کے پبلشرز خانۂ حکمت کراچی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
۲۸ اگست ۱۹۹۴ء
۵۸
روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی ۱۸ جون ۱۹۹۴ء
شمالی علاقہ کے تین محققین کو ۹۴۔۱۹۹۳ء کا ایوارڈ دیا گیا
تقریب کا اہتمام خانۂ حکمت، ادارۂ عارف اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی نے کیا تھا
گلگت (پ ر) شمالی علاقوں کے ممتاز سکالروں، ادیبوں اور شعراء میں ایوارڈ تقسیم کرنے کی دوسری سالانہ تقریب پبلک سکول و کالج جوٹیال کے آڈیٹوریم ہال میں منعقد ہوئی۔ تقریب کا اہتمام خانۂ حکمت، ادارۂ عارف اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی شمالی علاقہ جات نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ شمالی علاقوں کے چیف کمشنر محمود خان جو اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ اپنی تقریر میں ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کے لئے ایوارڈز کی تقریب منعقد کرنے پر خانۂ
۵۹
حکمت اور دوسرے ماتحت اداروں کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ علاقہ کے اہلِ قلم حضرات کی حوصلہ افزائی کے لئے حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ چیف کمشنر نے شمالی علاقہ جات کی تہذیب و تمدن اور اسلامی ادب کو ملک کے دوسرے حصوں اور غیر ممالک میں متعارف کرانے پر علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی غیر معمولی تحقیقی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’حکیم القلم‘‘ کا خطاب دیا۔ یاد رہے کہ علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کو اس سے پہلے بھی ’’لسان القوم‘‘ اور ’’بابائے بروشسکی‘‘ کا خطاب مل چکا ہے۔ علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی تقریباً ایک سو پچاس (۱۵۰) کتابوں کے مصنف کے علاوہ بروشسکی زبان کی پہلی لغت کے خالق ہیں اور ساتھ ہی اردو، فارسی اور مقامی زبان بروشسکی کے معروف شاعر بھی ہیں۔ پچاس ہزار بروشسکی الفاظ پر مشتمل یہ لغات عنقریب مارکیٹ میں آنے والی ہے۔ اس موقع پر چیف کمشنر نے نوجوان سکالر اور محقق غلام عباس کے اسلامی فلسفہ سے متعلق خیالات کی بھی تعریف کی۔ غلام عباس لندن میں شمالی
۶۰
علاقوں کی تہذیب و تمدن اور ادبیات پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تقریب میں ڈگری کالج گلگت کے پرنسپل میر عبدالخالق نے ادبی اور تحقیق کے میدان میں علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی اور غلام نصیر بابا چیلاسی جو ’’تھگ کے پیر‘‘ کے نام سے مشہور ہے کی خدمات پر مقالہ پڑھا اور شمالی علاقوں کی انتظامیہ سے اپیل کی کہ گلگت کی چند سڑکوں کو جو بے نام پڑے ہیں شمالی علاقوں کے معروف علمی شخصیات کے نام پر منسوب کیا جائے تا کہ اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔ بلتستان کے مشہور محقق، دانشور، سید عباس کاظمی، ڈاکٹر غلام عباس اور میکگل یونیورسٹی کنیڈا کی پروفیسر مسز بوستان ہیرجی نے اپنے الگ الگ مقالوں میں علامہ نصیر الدّین کی علمی، تخلیقی کام کو زبردست الفاظ کے ساتھ سراہا۔ اس موقع پر علامہ نصیر الدّین نے قلم کی عظمت کے عنوان پر اپنی تازہ نظم سنائی جسے حاضرینِ تقریب نے بہت سراہا۔ اس سے قبل غلام قادر چیف ایڈوائزر خانۂ حکمت نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے القلم ایوارڈز کے مقاصد بتائے اور کہا کہ اس کا بڑا مقصد علاقہ میں ادبی اور تحقیقی اشتراکِ عمل کو فروغ دینا
۶۱
ہے۔ اس موقع پر چیف کمشنر نے میزبان اداروں کی طرف سے ضلع دیامر کے غلام نصیر چیلاسی، بلتستان کے سید عباس کاظمی اور گلگت کے غلام عباس کو ان کی غیر معمولی ادبی خدمات کے اعتراف میں ۹۴۔۱۹۹۳ کے لئے القلم ایوارڈز دئے جب کہ ۹۳۔۱۹۹۲ کے لئے القلم ایوارڈ معروف محقق عثمان علی اور محمد امین ضیاء کو دیا گیا۔ تقریب میں ڈپٹی کمشنر گلگت اور دوسرے سرکاری حکام کے علاوہ عوامی نمائندے، ادیب، شعراء اور عمائدینِ شہر کے علاوہ خانۂ حکمت اور ادارۂ عارف کے کارکنوں نے حصہ لیا۔
۶۲
روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۱ جون ۱۹۹۴ء
علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی کو ’’حکیم القلم‘‘ کا خطاب دے دیا گیا
شمالی علاقوں کے اہلِ قلم کے مابین منظم خطوط پر ریسرچ کو آگے بڑھایا جائے گا، محمود خان
گلگت (نمائندۂ جنگ) شمالی علاقوں کے اہلِ قلم کے مابین منظم خطوط پر ریسرچ کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے اشتراکِ عمل کا ایک جامع پروگرام تشکیل دیا جائے گا تاکہ علاقے کے اہلِ قلم کو اپنی علمی و ادبی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع میسر آسکے۔ ان خیالات کا اظہار چیف کمشنر شمالی علاقہ جات محمود خان نے ناردرن ایریا کے ممتاز محققین اور ادیبوں میں ’’القلم ایوارڈز‘‘ کی تقسیم کی دوسری سالانہ تقریب سے
۶۳
بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پبلک اسکول اینڈ کالج گلگت کے آڈیٹوریم ہال میں منعقدہ اس تقریب کا اہتمام خانۂ حکمت، ادارۂ عارف اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی شمالی علاقہ جات نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ چیف کمشنر نے ناردرن ایریا سے تعلق رکھنے والے ۱۵۰ کتابوں کے مصنف اور معروف بین الاقوامی سکالر و خانۂ حکمت اور دیگر ماتحت اداروں کے بانی علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کی ادبی و تحقیقی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف نے دنیا بھر بالخصوص جرمنی، برطانیہ اور امریکہ میں شمالی علاقوں کا تہذیبی و اسلامی ادب متعارف کرانے میں بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ مہمانِ خصوصی نے علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کو حکیم القلم کا خطاب دیتے ہوئے علاقے کے عوام بالخصوص اہلِ قلم حضرات پر زور دیا کہ وہ اس عظیم دانشور کی خداداد صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کریں۔ تقریب سے ڈگری کالج گلگت کے پرنسپل میر عبد الخالق، بلتستان کے سکالر عباس کاظمی، گلگت کے دانشور ڈاکٹر غلام عباس، خانۂ حکمت کے چیف ایڈوائزر غلام قادر اور امریکن یونیورسٹی کی پروفیسر بوستان ہیرجی نے
۶۴
بھی خطاب کیا۔ انہوں نے علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کے فلسفہ اور تخلیقات اور تحقیقی خدمات اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ علاقے کی مختلف اہم شاہراہوں کو علامہ کے نام سے منسوب کیا جائے اس موقع پر علامہ موصوف نے قلم کے عنوان سے اپنی تازہ نظم سنائی۔ تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی چیف کمشنر شمالی علاقہ جات محمود خان نے شمالی علاقوں کے دانشوروں میں ایوارڈز تقسیم کئے۔ ۹۴۔۱۹۹۳ء کا القلم ایوارڈ بابا نصیر چیلاسی عرف تھکے پیر، سید عباس کاظمی بلتستان، اور ڈاکٹر غلام عباس گلگت جب کہ ۹۳۔۱۹۹۲ء کا القلم ایوارڈ پرفیسر میر عثمان علی اور محمد امین ضیاء کو دیا گیا، بعد ازان چیف کمشنر نے بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کے زیرِ اہتمام کتابوں کی نمائش کا معائنہ بھی کیا۔
۶۵
ہفت روزہ سیاچن، اسلام آباد ۲۲۔۲۸ جون ۱۹۹۴ء
شمالی علاقوں کے ممتاز محققین اور ادیبوں کو القلم ایوارڈز دئے گئے
غلام نصیر، سید عباس کاظمی اور غلام عباس کو ۹۴۔۱۹۹۳ء ، میر عثمان اور محمد امین کو ۹۳۔۱۹۹۲ء کا ایوارڈ دیا گیا
تقریب کا اہتمام خانۂ حکمت، ادارۂ عارف اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی نے مشترکہ طور پر کیا،
چیف کمشنر مہمانِ خصوصی تھے
گلگت (پ ر) شمالی علاقوں کے ممتاز سکالروں، ادیبوں اور شعراء میں ایوارڈ تقسیم کرنے کی دوسری سالانہ تقریب پبلک سکول و کالج جوٹیال کے آڈیٹوریم ہال میں منعقد ہوئی۔
۶۶
تقریب کا اہتمام خانۂ حکمت، ادارۂ عارف اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی شمالی علاقہ جات نے مشترکہ طور پر کیا تھا شمالی علاقوں کے چیف کمشنر محمود خان اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کے لئے ایوارڈز کی تقریب منعقد کرنے پر خانۂ حکمت اور دوسرے ماتحت اداروں کی تعریف کی چیف کمشنر نے یقین دلایا کہ علاقہ کے اہلِ قلم حضرات کی حوصلہ افزائی کے لئے حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا چیف کمشنر نے شمالی علاقہ جات کی تہذیب و تمدن اور اسلامی ادب کو ملک کے دوسرے حصوں اور غیر ممالک میں متعارف کرانے پر علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی غیر معمولی تحقیقی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں حکیم القلم کا خطاب دیا۔ یاد رہے کہ علامہ نصیر ہونزائی کو اس سے پہلے بھی لسان القوم اور بابائے بروشسکی کا خطاب مل چکا ہے چیف کمشنر نے نوجوان سکالر اور محقق غلام عباس کے اسلامی فلسفہ سے متعلق خیالات کی بھی تعریف کی غلام
۶۷
عباس لندن میں شمالی علاقوں کی تہذیب و تمدن اور الٰہیات پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں تقریب میں ڈگری کالج گلگت کے پرنسپل میر عبدالخالق نے ادب و تحقیق کے میدان میں علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی اور غلام بابا چیلاسی جو ’’تھک کے پیر‘‘ کے نام سے مشہور ہیں کی خدمات پر مقالہ پڑھا اور شمالی علاقوں کی انتظامیہ سے اپیل کی کہ گلگت کی بے نام سڑکوں کو علاقوں کی معروف علمی شخصیتوں کے نام پر منسوب کیا جائے، بلتستان کے مشہور محقق و دانشور سید عباس کاظمی، ڈاکٹر غلام عباس اور میکگل یونیورسٹی امریکہ کی پروفیسر مسز بوستان ہیرجی نے اپنے الگ الگ مقالوں میں علامہ نصیر الدین نصیر کی علمی، تحقیقی کام کو زبردست الفاظ کے ساتھ سراہا اس موقع پر علامہ نصیر الدین نے قلم کی عظمت کے عنوان پر اپنی تازہ نظم سنائی قبل ازین غلام قادر چیف ایڈوائزر خانۂ حکمت نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے القلم ایوارڈز کے مقاصد بتائے اور کہا کہ اس کا بڑا مقصد علاقہ میں ادبی اور تحقیقی اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے اس موقع پر چیف کمشنر نے میزبان اداروں کی طرف سے ضلع دیامر کے
۶۸
غلام نصیر چیلاسی، بلتستان کے سید عباس کاظمی اور گلگت کے غلام عباس کو ان کی غیر معمولی ادبی خدمات کے اعتراف میں ۹۴۔۱۹۹۳ کے لئے القلم ایوارڈ دئے جب کہ ۹۳۔۱۹۹۲ کے لئے القلم ایوارڈ معروف محقق عثمان علی اور محمد امین ضیاء کو دیا گیا۔
۶۹
روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اسلام آباد ۲۸ جون ۱۹۹۴ء
تہذیبی ورثے کی بقاء کے لئے تحقیقاتی اداروں کو ہر ممکن سہولت دی جائے گی
حکومت شمالی علاقہ جات میں تہذیب و ثقافت کو تحفظ دینے کے لئے کوشان ہے، محمود خان
چیف کمشنر شمالی علاقہ جات نے تقریب القلم ایوارڈ میں معروف شاعر نصیر ہونزائی کو ’’حکیم القلم‘‘ کا خطاب دیا
گلگت (نامہ نگار) شمالی علاقوں کے چیف کمشنر محمود خان نے کہا ہے کہ حکومت علاقے کی تہذیب و ثقافت کی ریسرچ کرنے والے اداروں اور محققین کو ہر ممکن سہولتیں مہیا کرے گی تا کہ شمالی علاقہ جات کے تہذیبی ورثے کو تحفظ دیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبلک اسکول آڈیٹوریم
۷۰
گلگت میں القلم ایوارڈز کی تقسیم سے متعلق دوسری سالانہ تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا اہتمام خانۂ حکمت، ادارۂ عارف اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی شمالی علاقہ جات نے کیا تھا۔ چیف کمشنر نے اپنی تقریر میں اسلامی ادب کو فروغ دینے اور اس سلسلے میں عملی خدمات سرانجام دینے پر معروف ادیب و شاعر علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی عملی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’حکیم القلم‘‘ کا خطاب دیا۔
۷۱
ہفت روزہ اخبارِ جہاں کراچی ۱۱۔۱۷ جولائی ۱۹۹۴ء
جنت نظیر ’’ہونزہ‘‘
تلخیص و ترجمہ: محمد نعیم اختر
علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی علاقے کے بہت مشہور شاعر اور عالمِ دین سمجھے جاتے ہیں کہا جاتا ہے کہ وہ بروشسکی زبان کے پہلے شاعر ہیں اور اس زبان کی تحقیق و تدوین میں انہوں نے اپنی ۶۲ سالہ زندگی گزار دی ہے۔ انہیں اس امر پر افسوس ہے کہ شاہراہِ قراقرم کی وجہ سے اصل بروشسکی زبان پر انگریزی اور اردو الفاظ کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے اور یہ زبان اپنی اصلیت کھوتی جارہی ہے۔ علامہ نصیر الدین اس قدیم زبان کو اپنی شاعری کے ذریعہ زندہ رکھنا چاہتے ہیں اور ان کی شاعری کے کیسٹ ہونزہ کے تقریباً ہر شخص کے پاس دیکھے جاسکتے ہیں۔
۷۲
جنگ راولپنڈی، تعلیمی ایڈیشن ۱۶ جولائی ۱۹۹۴ء
شمالی علاقہ جات کے اہلِ قلم میں تقسیمِ اعزازات کی تقریب
غلام قادر
گلگت شمالی علاقہ جات کا انتظامی مرکز ہے اس شہر کی شہرت کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ اعلیٰ تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی پہچان رکھنے والا یہ شہر شمالی علاقوں کے اسکالروں، ادیبوں، محققین، شعراء اور دانشوروں کا مسکن ہے اور تقریباً دو درجن سے زائد حسین اور سرسبز وادیوں پر مشتمل شمالی علاقہ جات میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تہذیبی تحقیق اور تخلیقی عمل کا عکس گلگت میں ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اس صورتِ حال کی ایک روشن مثال گزشتہ دنوں گلگت میں پبلک اسکول میں القلم
۷۳
کی دوسری سالانہ تقسیمِ اعزازات کی تقریب کی شکل میں سامنے آئی جس میں شمالی علاقوں کے چیف کمشنر محمود خان نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شمالی علاقوں کے مختلف اضلاع کے معروف اہلِ قلم اور محققین میں علم و ادب اور ریسرچ کے میدان میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈز تقسیم کئے مہمانِ خصوصی نے اپنی تقریر میں اپنی مدد آپ کے تحت بہترین انتظام کے ساتھ القلم تقریب کا اہتمام کرنے پر خانۂ حکمت، ادارۂ عارف اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی شمالی علاقہ جات کو مبارکباد دی اور اداروں کے سرپرستِ اعلیٰ اور معروف اسکالر، ادیب و شاعر علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کی تریسٹھ سالہ طویل ادبی خدمات پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی ان یادگار خدمات کے اعتراف میں انہیں حکیم القلم کا خطاب دیا۔
چیف کمشنر نے کہا کہ علامہ نصیر الدین کی تمام زندگی جہدِ مسلسل اور بے لوث علمی خدمت سے عبارت ہے اور ان کی تخلیقات آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک قیمتی علمی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علامہ نصیر الدین نے مختلف ممالک میں
۷۴
موجود بے شمار شاگردوں کے ذریعے بروشسکی زبان اور علاقائی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لئے بروشسکی لغت تیار کرنے کا جو منصوبہ شروع کیا ہے وہ قابلِ ستائش ہے اس لئے کہ انہوں نے ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی اور مانٹریال یونیورسٹی کنیڈا کا تعاون حاصل کر کے اس کام کے دائرہ کو بین الاقوامی سطح تک پھیلا دیا ہے جو ایک خوش آئند امر ہے۔
ممتاز اسکالر ڈاکٹر غلام عباس نے اپنے مقالے میں اسلامی فلسفہ اور فکرِ جدید کے ارتقائی منازل اور مراحل پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ علامہ نصیر الدین کی منطق اور قانونِ فطرت سے ہم آہنگ افکار اسلامی فکر کا ایک اہم اور قابلِ ذکر حصہ ہیں جن میں روحانی عروج و ارتقاء کے لئے قاری کو اپنے قلب و نظر اور عالمِ شخصی پر توجہ دینے کی ترغیب ملتی ہے تا کہ وہ تسخیرِ نفس سے تسخیرِ کائنات کی منزل پا سکے۔
ممتاز اہلِ قلم میر عبد الخالق پرنسپل ڈگری کالج گلگت اور بلتستان کے معروف محقق و دانشور سید عباس کاظمی اور امریکی یونیورسٹی کی پروفیسر محترمہ بوستان ہیرجی نے اپنے
۷۵
مقالات میں شمالی علاقوں کی عملی اور ادبی تاریخ میں علامہ نصیر الدین کی ادبی تخلیقات کو سنگِ میل قرار دیا اور کہا کہ کٹھن حالات اور شدید دشواریوں سے عبارت اس پسماندہ معاشرے میں انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت جس علمی و عرفانی ادب کو جنم دیا ہے وہ آئندہ نسلوں کے لئے ایک روشن مثال ہے۔ محترمہ بوستان نے اپنے مقالہ میں علامہ نصیر الدین کی مشہور تصنیف قرآنی علاج میں شامل علاج سے متعلق اس تجربے کا ذکر کیا جو ایک امریکی ادارے میں ذہنی مریضوں کے علاج کے لئے ڈاکٹروں اور نرسوں کی پیشہ ورانہ تربیتی کورس میں شامل کیا گیا اور اس طرح یہ طریقۂ علاج اس لئے مؤثر اور مفید ثابت ہوا کہ اس سے کئی ذہنی مریض شفا یاب ہوئے۔ اس سے یہ امر روشن ہوا کہ آج کل سائنسی اور مادّی دور میں علامہ موصوف کی کتابوں میں انسانی عقل و جان کی صحت کے لئے کس قدر شفا اور فائدے ہیں۔
ان مقالہ نگاروں نے گلگت کی سڑکوں کو علامہ نصیر الدین اور دوسرے معروف اہلِ قلم کے نام وقف کرنے کی تجویز دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ قراقرم کی وادیوں کی منفرد
۷۶
تہذیب و ثقافت پر ریسرچ کو منظم خطوط پر استوار کرنے کے لئے ایک ٹھوس حکمتِ عملی وضع کرے اس موقع پر علامہ نصیر الدین ہونزائی نے توصیفِ قلم کے عنوان سے اپنی تازہ نظم ترنم سے پڑھی۔ جسے حاضرین نے بے حد سراہا نظم میں حاضرین کو عظمتِ قلم اور اس کی اہمیت سے متعلق قلب و نظر کو روشن کرنے والے جامع مفاہیم سننے کو ملے۔ تینوں میزبان اداروں کے چیف ایڈوائزر جناب غلام قادر نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ القلم ایوارڈز کی تقریب سالانہ بنیاد پر منعقد کرنے کا سب سے بڑا مقصد علاقے کے اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں شمالی علاقوں کی تہذیب و ثقافت پر معروضی تحقیق کے لئے دعوتِ فکر دینا ہے تاکہ ان میں خود اعتمادی کے ساتھ اشتراکِ عمل کا جذبہ اجاگر ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ موصوف تائیدی و عرفانی ادب اور علمی تحقیق کے لئے جس طرح انتہائی ناموافق ماحول میں پروان چڑھ کر معروف صاحبِ قلم بننے کی منزل سے ہمکنار ہوئے وہ ہم سب کے لئے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ خانۂ حکمت گلگت کے صدر سلطان اسحاق نے اس موقع پر
۷۷
ادارے کے جانب سے مہمانِ خصوصی کو تحفہ کے طور پر پھولوں کا ہار، روایتی چوغہ اور ٹوپی پیش کی اور اظہارِ تشکر کے کلمات ادا کئے۔
بعد میں مہمانِ خصوصی نے معروف لکھاریوں اور محققین میں ان کی ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں القلم ایوارڈز برائے سال ۹۴۔۱۹۹۳ء تقسیم کئے۔
۷۸
THE MUSLIM
Wednesday, June 15, 1994
Gilgit News
HUNZAI LAUDED
Chief Commissioner Norther Areas, Mehmood Khan has lauded the literary and research services of renowned scholar, poet and writer Allamah Nasiruddin Nasir Hunzai and said his books along with their translated versions have been equally admired in the country and .abroad
Addressing a big gathering of writers, researchers and intellectuals at Public School auditorium here in connection with the Northern Areas Second Al-Qalam Awards Distribution Ceremony 1993-94. The Chief Commissioner said Allamah Nasiruddin was embodiment and symbol of self-development, struggle, love and affection
Keeping his outstanding literary services, the Chief Commissioner presented a literary title Hakimu’l-Qalam to Allamah Nasir which was appreciated by the audience.
۷۹
THE PAKISTAN TIMES
ISLAMABAD, JUNE 17, 1994
Allamah Nasir Honoured
LITERARY SERVICES OF SCHOLAR LAUDED
PT Correspondent
Gilgit, June 16: The Chief Commissioner of Northern Areas, Mr. Mehmood Khan has lauded the literary and research services of renowned scholar, poet and writer Allamah Nasiruddin Hunzai. He said, his books along with their translated versions have been equally admired in the country and abroad
He was addressing a big gathering of writers, researchers and intellectuals at Public School auditorium here in connection with the Northern Areas second Al-Qalam Awards distribution ceremony 1993-94
The Chief Commissioner said Allama Nasiruddin was embodiment and symbol of self-development, struggle, love and affection.
The Chief Commissioner presented a literary title Hakimu’l-Qalam to Allamah Nasir, which was appreciated by the audience. The Allamah has already got titles of Baba-yi Burushaski and Lisanu’l-Qawm from .leading literary and social organizations
Prominent scholar Mir Abdul Khaliq, Principal Degree College, Giglit, Syed Abbas Kazmi from Baltistan and Dr. Ghulam Abbas in their papers, shed light on various aspects of literary services of Allamah Nasiruddin and renowned poet of Diamer district Mr. Ghulam Nasir Baba .Chilasi
۸۰
Mir Abdul Khaliq suggested Chief Commissioner to rename the new road after Allamah Nasir and other leading writers to encourage them
The ceremony was organized by Khanah-yi Hikmat, co Idarah-yi Arif and Burushaski Research Academy, Northern Areas
Earlier, Mr. Ghulam Qadir the chief advisor of the host organizations, in his welcome address said the prime purpose of awarding writers was to diversify culture and civilization of the area and bring them closer for mutual research co-operation
Allamah Nasiruddin, on this occasion, presented a poem titled “Tauseef-i Qalam”
Later, the chief guest distributed awards among prominent writers. They were Mr. Ghulam Naseer, who is popularly known as Pir of Thak, Syed Abbas Kazmi from Baltistan and Dr. Ghulam Abbas, from Hunza and literary organization Halqa-yi Arbab-i Zawq, Gilgit
Prominent writers and researchers, Mr. Usman Ali and Muhammad Amin Zia were also awarded for the year 1992-93
۸۱
FOUNDED BY QUAID-E-AZAM MUHAMMAD ALI JINNAH
DAWN DAILY NEWS KARACHI
(Thursday, June 30, 1994)
NASIR HUNZAI’S LITERARY WORKS PRAISED
Gilgit, June 29: The Chief Commissioner of Northern Areas, Mehmood Khan, and other writers have lauded the literary and research works of Allamah Nasiruddin Nasir Hunzai and said his over 200 books on Qur’anic and spiritual knowledge were equally admired in and outside Pakistan.
Addressing a gathering of writers, researchers and intellectuals to mark the second Northern Areas Al-Qalam Awards distribution ceremony 1993-94 here recently, the Chief Commissioner presented the title of “Hakimu’l-Qalam” to Allamah Hunzai and assured all Government help for accelerating his research projects
Prominent scholars and researchers, including Dr. Ghulam Abbas from Hunza, Syed Abbas Kazmi from Baltistan, Mir Abdul Khaliq, Principal, Degree College, Gilgit, and Prof. (Dr.) Boostan Hirjee and Shahnaz Saleem in their papers highlighted the various phases of Allamah’s intellectual achievements
They said thousands of people have benefitted from his books and lectures
۸۲
The ceremony was organized by Khanah-yi Hikmat, Idarah-yi Arif and Burushaski Academy, Gilgit
Earlier Mr. Sultan Ishaque, President, Khanah-yi Hikmat, presented traditional chowgha and cap to the Chief Commissioner as a token of gift
Mr. Ghulam Qadir, in his welcome address, explained the purpose of giving awards to writers and said it aimed at bringing writers and researchers closer for mutual cooperation in initiating research projects in the field of oral culture and civilization of Northern Areas. He said another purpose was to bring intellectuals of various schools of thought closer to help promote peace and sectarian harmony
The Chief Commissioner later distributed awards among writers and researchers of Gilgit, Baltistan and Diamar districts. The recipients of these awards were eminent researchers Syed Abbas Kazmi from Baltistan, Mr. Ghulam Nasser, Pir of Thak, Chilas and Dr. Ghulam Abbas from Hunza Valley
۸۳
SUDASIEN-INSTITUT DER UNIVERSITAT HEIDELBERG INDOLOGIE I – KLASSICHE INDOLOGIE
Professor emeritus Dr. Hermann Berger
Allamah Nasiruddin “Nasir” Hunzai
-C 27Radium Apartments
165, Garden East
Karachi – 3
Pakistan
Im Neuenheimer Feld 330
,69120 Heidelberg, Germany
Telefon 06221 / 562933, 562917
Telefax 06221 / 564998
28 July, 1994
,Dear Allamah Nasiruddin
The work of incorporating the old Burushaski words contained in your most recent dispatch into our Burushaski-German dictionary is now nearing completion. Despite the prolonged interruption of our domestic routine in the weeks following our removal to a new flat in Heidelberg, the fascination of your new material impelled me to carry on with the dictionary work, even amid the mountain ranges and valleys formed by the stacks of packing cartons containing our household goods. As in the case of previous word-lists, a number of questions have arisen regarding the meanings and contexts of usage of certain
۸۴
words. I would be grateful if you could find the time to reply to the queries .contained in the enclosed list
Well do I know the magnitude of your contribution to our common cause, the documentation of Old Burushaski. For some time now, I have considered various ways of giving recognition in an enduring form to your unselfish labours. Would you allow me to include your name on the title page of the dictionary in the following form?
A Burushaski-German Dictionary
by
Hermann Berger
in collaboration with
Allamah Nasiruddin Hunzai
In addition, I should like to mention the co-operation and support of the members of the Burushaski Research Academy in Karachi and Gilgit in the foreword to the dictionary. Please let me know if you approve of this proposal
۸۵
I trust this letter will find you well and happy, and remain for the present
With best wishes
Yours sincerely
sd/-
(Professor emeritus Dr. Hermann Berger)
۸۶
SUDASIEN-INSTITUT DER UNIVERSITAT HEIDELBERG INDOLOGIE I – KLASSICHE INDOLOGIE
Professor Dr. Hermann Berger
Allamah Nasiruddin “Nasir” Hunzai
-C 27Radium Apartments
165, Garden East
Karachi – 3
Pakistan
Im Neuenheimer Feld 330
,69120 Heidelberg, Germany
Telefon 06221 / 562933, 562917
Telefax 06221 / 564998
8 October, 1994
Dear Allamah Nasiruddin
I am happy that you have accepted my proposal to include your name on the title page of my forthcoming Burushaski-German dictionary
In the enclosed list of queries you may find a number of words that were items for clarification in previous lists. This is not the result of an over-sight. Please respond to these queries as well. Moreover, the present list contains a number of words from Nager-Burushaski. If you are familiar with these words, please comment on the contexts in which you know them
۸۷
When further queries have accumulated, I will send you another dispatch. Thank you for your kind help
With best wishes
Your sincerely
sd/-
(Professor Dr. Hermann Berger)
۸۸
چالیس سوال
چالیس سوال
بسم ﷲ الرحمٰن الرحیم
ایک خوش نصیب اور ہوشمند سٹوڈنٹ نے کراچی میں مورخۂ ۲۸جون ۱۹۸۳ء کو مندرجہ ذیل سوالات بغرضِ تحلیل پیش کردئے، مجھے امید ہے کہ حضراتِ اہلِ علم ان کے اِس ذوقِ دین شناسی اور اعلیٰ ذہانت کی قدر کریں گے۔
سوال نمبر ۱: حجرِاَسوَد کیا ہے؟ یہ کہاں سے آیا، اور اِس میں کیا حکمت ہے؟
جواب : حجرِاَسوَد خانۂ خدا کی دیوار میں ایک انتہائی مقدّس پتھر ہے، جسے بطریقِ روحانیّت حضرتِ جبرائیلؑ نے لایا ہے، اور اس میں تاویلی حکمت یہ پنہان ہے کہ یہ گوہرِعقل کی مثال وعلامت ہے، جس پر جا کر روحانی حج مکمّل ہوجاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ حجرِاَسوَد دراصل بہشت میں حجرِاَبیَض ( سفید پتھر) تھا، مگر اِس دُنیا میں آنے کے بعد یہ مقدّس پتَھر کالا ہوگیا، اِس بات کا اِشارہ یوں ہے کہ حجرِالاَسوَد کا ممثول جو گوہرِعقل ہے، وہ سفید ہے، یاد رہے، کہ عالمِ بالا یا بہشت سے کسی چیز کے دُنیا میں آنے کا یہ مطلب ہرگز
۱
نہیں کہ وہ وہاں سے مادّی اور جسمانی حالت کے ساتھ آتی ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز عالمِ روحانیت ( بہشت ) میں بصورتِ لطیف روحانی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے موجود ہے، اور اس کے اِس مادّی دُنیا میں آنے یا ظہور کے یہ معنی ہیں کہ اس کا یہاں ایک ثانوی اور جسمانی وجود بن جاتا ہے، پس گوہرِعقل یا حجرِاَبیَض خانۂ کعبہ کی تعمیر کے سلسلے میں یہاں اِس طرح آیا کہ وہ تعمیرِخانۂ روحانیت کے درجۂ اعلیٰ پر قائم ہی ہے، مگر یہاں بیتَ اللہ ظاہر میں ایک سنگِ سیاہ سے اس کے دُنیا میں آنے کی تشبیہ دی گئی۔
سوال نمبر ۲: ابراھیمؑ تم نے خواب سچاکر دکھایا، ہم ایک بہت بڑا ذبیحہ ( ذبحٍ عظیم) اس قربانی کا فدیہ قرار دیتے ہیں’’جو بعد میں آئے گا۔ ‘‘ اس سے کیا مراد ہے؟
جواب : ان الفاظ میں ترجمۂ قرآن ( ۳۷: ۱۰۴ تا ۱۰۸) کے پیش نظر اصلاح کی ضرورت ہے۔ تا ہم اس کے درست مفہوم کے مطابق جواب یوں ہے کہ انبیاء و أئمّہ علیھم اسلام پر جوجو روحانیت کے عظیم واقعات گزرتے ہیں، وہ بحیثیتِ مجموعی ایک جیسے ہیں، کیونکہ تمام روحانی معجزات صراطِ مستقیم پر واقع ہیں اور سب کو اسی راہ پر چلنا ہے، مگران واقعات و معجزات کی مثالیں جُدا جُدا ہیں، تاکہ اسی طرح لوگوں کو آزمایا جائے، پس حضرت اسماعیلؑ کی جسمانی قربانی مثال تھی اور روحانی قربانی ممثول، آپؑ کی جسمانی قربانی محدود تھی اور روحانی قربانی ہمہ رس وعظیم، لہٰذا جسمانی ذبح کا فدیہ روحانی ذبح سے دیا گیا، جس کو تاویل کی زبان میں ’’عہد لینا ‘‘ کہتے ہیں، چنانچہ آپؑ کے
۲
بھائی حضرت اسحاقؑ سے بھی یہ عہد لیکر مرتبۂ حجاب پر فائز کر دیا گیا، جس سے حضرت اسماعیل ؑ کا روحانی فدیہ اور بھی عظیم ہوگیا۔ عہد لینا ایک روحانی اور نورانی معجزاتی عمل ہے، جس کا مفصل ذکر کہیں اور ممکن ہے۔ اگر کسی زمانے میں امام مستقّر کے علاوہ امامِ مستودع بھی ہو تو اُس صورت میں امامِ مستقر پر ستر و حجاب ہُوا کرتا ہے ( قرآن میں) حجاب کے تصّور کو دیکھو ۴۲: ۵۱
سوال نمبر۳: خدا وند تعالیٰ کے سو نام ہیں، جبکہ ننانوے ناموں کا علم ہے اور ایک نام معلوم نہیں، کیا وہی ایک نام ’’ اسم اعظم ‘‘ ہے یا تمام نام اسمِ اعظم کا درجہ رکھتے ہیں؟ کیا اسمِ اعظم کو پوشیدہ رکھنا ضروری ہے؟ اور کیوں؟
جواب : ﷲ تعالیٰ کے ظاہری اور لفظی یا صَوتی اسماء جتنے بھی ہیں وہ سب ظاہر ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی پوشیدہ نہیں، تاہم اگر یہ مان لیا جائے کہ اسمِ اعظم ان ہی میں سے ہے تو یوں کہنا پڑیگا کہ ان تمام ظاہری اسماء میں یہ پہچان نہیں ہوسکتی ہے کہ اسمِ اعظم کون سا ہے، یہ بات ظاہری اعتبا ر سے ہے، مگر اصل جواب سُنئے : اسمِ اعظم اپنے اپنے وقت میں انبیاء وأئمّہ علیہم السّلام ہوا کرتے ہیں، چنانچہ زمانے کا امامؑ خدائے بزرگ وبرتر کا بزرگ ترین اسم ہوا کرتا ہے اور وہی مومنین کی خصوصی عبادت کے لئے اسمائے الٰہی میں سے کسی اسم کو منتخب کرتا ہے، ہاں اسمِ اعظم اور اس کے بھیدوں کو پوشیدہ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ ﷲ کی سُنّت سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ اسمِ اعظم کو صیغۂ راز میں رکھنا چاہئے تاکہ اس کا تعلّق خواص کے ساتھ
۳
رہے، اور قرآن کا ارشاد یہ بھی ہے کہ جو لوگ خدا ( کے بزرگ ناموں کو نہیں سمجھتے ہیں، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے ( ۰۷: ۱۸۰)۔
سوال نمبر ۴ : اصحابِ کہف کے بارے میں بتائیں، نیز ان کی تاویل کیا ہے؟
جواب : قصّہ کے ظاہری پہلو کوقصّۂ قرآن میں دیکھ لینا، ہم آپ کو صرف اس کے باطنی پہلو کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں گے کہ اصحابِ کھف کا مطلب اصحابِ روحانیت ہیں، کیونکہ روحانیت کی بہت سی مثالوں میں سے ایک مثال کہف ( غار) ہی ہے، یعنی جس طرح لوگ بوقت ضرورت کسی غار میں پناہ لیا کرتے ہیں، اسی طرح دُشمنانِ دین کے ستائے ہُوئے مومنین غارِ روحانیت میں جا کر خود کو محفوظ کرلیتے ہیں، آپ میرے ایک مقالہ کو جو اصحابِ کہف پر ہے پڑھیں۔
سوال نمبر ۵ : عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ میں کیا فرق ہے؟ یہ امام کی ہدایت کے سلسلے میں کس طرح تائید کرتے ہیں؟
جواب : ان دونوں عظیم فرشتوں میں جو کچھ فرق ہے، وہ عرش و کرسی، آدم وحوّا، قلم ولوح اور پیغمبروامام کی طرح ہے، اور یہ دونوں چونکہ روحانی ہیں اس لئے روحانی طور پر مومنین کی بالواسطہ مدد کر دیا کرتے ہیں۔
سوال نمبر ۶ : زیتون کے مبارک درخت اور تیل کی کیا تاویل ہے؟
جواب : اس کی کئی تاویلیں ہیں، جن کا مقصد ایک ہی ہے، اور ان میں سے ایک زیادہ قابلِ فہم تاویل یہ کہ ہادئ برحق کی پاک شخصیت زیتوں کا بابرکت
۴
درخت ہے، اور اس کی برکات سے وہ لا تعداد فائدے مراد ہیں جو مومنوں کے علاوہ دوسرے تمام انسانوں کو بھی حاصل ہوتے ہیں، اور تیل سے ان کی روحِ قدسی مراد ہے، جس سے ان کی عالمگیر عقل کا شعلہ بن جاتا ہے، لطیف شخصیت کا یہ درخت شرقی بھی نہیں اور غربی بھی نہیں، یعنی اس کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ ہی کوئی انتہا، بلکہ یہ ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔
سوال نمبر ۷ : ﷲ پاک کا فرمان ہے : تحقیق ہم نے تمہاری تخلیق کی پھر ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے لیے سجدہ کرو ( ۰۷: ۱۱) اس ترجمۂ آیت کی کیا تشریح ہے؟
جواب: اس کی تشریح یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے عالمِ ذرّ میں سب سے پہلے تمام انسانوں کو جسمانی ذرّات میں پیدا کیا، پھر ان کی روحانی صورت بنائی گئی پھر اس کے بعد جمالی فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ آدم کے لیے سجدہ کریں، اس تصّور سے اَسرارِ تخلیق کا ایک انقلابی دروازہ کھل جاتا ہے، آپ کتاب “روح کیا ہے” کو پڑھیں۔
سوال نمبر۸: تسبیحات وغیرہ کو طاق نمبر کی صورت میں کیوں پڑھتے ہیں؟
جواب: کیونکہ خداوند تعالیٰ واحد و یکتا اور طاقِ محض ہے۔ وہ جُفت نہیں۔
۵
سوال نمبر ۹ : آپ نے آنحضرتؐ کی ایک حدیث کو پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ: اسلام کا آغاز ایک غریب ( اجنبی ) شخص کی طرح ہوا اور پھر مستقبل میں بھی یہ اجنبی ہوجائے گا، اس کا کیا مطلب ہے؟ غریب و اجنبی کس معنیٰ میں ہے؟
جواب: جب بھی اﷲ تعالیٰ کا کوئی پیغمبر سچے دین کے ساتھ اس دنیا میں تشریف فرما ہوا، تو اہلِ انکار کی نظر میں نہ صرف رسول ہی بلکہ اس کا دین بھی غریب یعنی اجنبی لگا، کیونکہ جو لوگ ہادئ برحق سے ہٹ کر ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ سچا دین وہی ہے جس پر وہ لوگ اڑے ہوئے ہیں، حالانکہ خدا کا دین خلیفۂ خدا کے ساتھ ہوا کرتا ہے، پس جاہلوں کی نظر میں اسلام کا اجنبی ہوجانا کسی ایک وقت کے لیے خاص نہیں، بلکہ یہ ہر زمانے کے لیے ہے۔ یعنی امام کو نہ پہچاننا اسلام کو اجنبی قرار دیتا ہے، کیونکہ حق امام کے ساتھ ہے۔
سوال نمبر ۱۰: قرآن میں حضرت یوسفؑ اور بی بی زلیخا کا جو قصّہ مذکور ہے، اس کے پس منظر میں کیا تاویل پوشیدہ ہے؟ کیا بی بی زلیخا کا نام قرآن میں موجود نہیں ہے؟ کیوں؟
جواب : حضرت یوسفؑ کے قصّۂ قرآن میں تاویلات کی ایک دُنیا پوشیدہ ہے، جس کی تفصیلات کی گنجائش ان صفحات سے باہر ہے، کیونکہ جناب یوسفؑ خود ہر قسم کی تاویلات کا عنوان ہیں، چنانچہ اس قصّۂ پُرحکمت میں امامِ مستقر
۶
اور امامِ مستودع کا ذکرہے، حجتانِ شب و روز کا بیان ہے، نورِ امامت کی منتقلی کا تذکرہ ہے، اور زلیخا کی مثال کا ممثول یہ ہے کہ امامِ مستقر کا حجّتِ اعظم یوسفؑ ( امامِ مستودع ) کا ماتحت ہوجانا چاہتا ہے، کیونکہ حضرت یوسف کو قانوناً تمام حدودِ دین سے آگے گزر کر امامِ مستقر سے دوسرے درجے پر پہنچ جانا ضروری ہے، وغیرہ۔ ہاں قرآن میں لفظِ ’’ زلیخا ‘‘ موجود نہیں ہے۔
سوال نمبر ۱۱ : ہمارے موجودہ امام شاہ کریم الحسینی جو کہ ۴۹ ویں امام ہیں ان کی امامت کس لحاظ سے بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے، جبکہ تمام أئمّۂ طاہرین کا درجہ یکسان ہوا کرتا ہے؟
جواب : مرتبۂ امامت کے دو پہلو ہوا کرتے ہیں، باطنی پہلو سے تمام حضراتِ أئمّہ کا مرتبۂ عالی ایک جیسا ہے اور ظاہری پہلو سے وہ مختلف مراتب کے مالک ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ وہ خدائی پروگرام ہے جو شروع سے لے کر قیامت تک پورے دور پر پھیلا ہوا ہے، جس کے مطابق اماموں کو مختلف درجات پر کام کرنا پڑتا ہے، چنانچہ مولانا حاضرامام شاہ کریم الحسینی صلوٰت ﷲ علیہ نے کئی بڑی بڑی حیثیتوں میں کام کرنا ہے۔ ان حیثیتوں میں سے ایک تو یہ ہے کہ آپؑ ۷ ضرب ۷ = ۴۹ کے مقام پر ہیں۔ دوسری حیثیت یہ ہے کہ آپؑ ایٹمی دور کے امام ہیں۔
سوال نمبر ۱۲ : “ہاروت و ماروت شروع میں دو فرشتے تھے، لیکن بعد میں دنیا کی چاہ کے سبب سے شیطان بن گئے، جو اب تک شہر بابل کے کنویں میں قید ہیں، اور لوگ وہاں سے کالا علم سیکھتے ہیں۔” یہ کس طرح
۷
سے ممکن ہوسکتا ہے؟ آپ اس پر روشنی ڈالیں۔
جواب: اس تاویلی سوال کا تعلق قرآن حکیم کی ( ۰۲: ۱۰۶) سے ہے، چنانچہ متعلقہ خلاصہ یہ ہے کہ مملکتِ سلیمانی کا اشارہ امامِ زمانؑ کی روحانی سلطنت کی طرف ہے اور اسی روحانیت میں “بابل” اصحابِ شمال کے امتحان کا ایک مقام ہے، جہاں دو فرشتے ہر وقت آپس میں متعلقہ شخص کی قلبی کیفیت پر بحث کرتے رہتے ہیں۔ جن کے نام قرآن اور شریعت میں مختلف اعتبارات سے مختلف ہیں۔ جیسے نکیر ومنکر، ہاروت وماروت وغیرہ، ان میں سے ایک فرشتہ ہر لحظہ دل کے ادنیٰ خیالات پر بڑی سختی کے ساتھ تنقید کرتا رہتا ہے اور دوسرا فرشتہ بڑی مہربانی کے ساتھ اس تنقید کی تردید کرتا ہے۔ مگر یہ مقام اصحابِ یمین کا نہیں، اس لیے مومن کو نہ تو اس سے دنیا کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور نہ ہی اس منزل میں ٹھہرنا چاہیے۔ روایت کا باقی حصّہ قرآن سے باہر اور غیر منطقی ہے۔
سوال نمبر ۱۳ : حضرت عیسےٰؑ کے کان سے پیدا ہونے کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ وہ پیدائش کے فوراً بعد ظاہری زبان سے بولنے لگ گئے تھے؟
جواب: یاد رہے کہ خدا و رسولؐ اور امامِ زمانؑ کی اطاعت کرنے والے مومنین بموجبِ قرآن ( ۰۴: ۶۹) انبیاء، اساسان، أئمّہ اور حُجّت و داعی جیسے حضرات کی روحانی رفاقت میں ہوا کرتے ہیں، اس کا یہ مطلب ہواکہ ہر حقیقی مومن شروع سے لے کر انتہائی منزلِ مقصود تک راہِ روحانیت
۸
کا بخوبی تجربہ کرسکتا ہے۔ جس کی مختلف مثالیں قرآنِ مقدّس میں مذکور ہیں، اب اسی آیۂ بالا کی روشنی میں توّجہ فرمائیں کہ بی بی مریمؑ کو اسمِ اعظم دیا گیا، جس میں بحیثیتِ زندہ اور حقیقی اسمِ اعظم کے حضرت عیسٰیؑ ہی تھا، اسی معنی میں عیسٰےؑ ایک کلمہ کی صورت میں کان کی راہ سے مریم ؑ میں داخل ہوگیا اور بہت کم عرصے میں اپنی ماں کے باطن میں بولنے لگا۔ جب کہ وہ نبوّت کا نوزائیدہ بچہ تھا، اور قصّۂ مریمؑ کا تمام تر تعلق باطنی اور روحانی پہلو سے ہے، چنانچہ جب کوئی خوش قسمت اسماعیلی مرید (مرد ہو یا عورت) اسمِ اعظم کے روحانی کورس میں بدرجۂ اعلیٰ کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ اپنی انفرادی دنیا میں مثلاً بی بی مریمؑ بن کر عیسٰےؑ جیسے نور کو جنم دیتا ہے۔ اُس صورت میں نور پر یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک میں کوئی کسر فرو گذاشت نہ کرے۔
سوال نمبر ۱۴ : کیا پیغمبر بھی خدائی جلوے کی تاب نہیں لاسکتے، جیسے حضرت موسٰیؑ کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ جلوۂ خدا کی تاب نہ لا کر بے ہوش ہوگئے تھے؟
جواب : خدائی جلووں کے بہت سے مراتب ہیں اور آپ کا سوال سب سے بڑے اور آخری جلوے سے متعلق ہے، جس کی ایک عام مثال سورج کے سرچشمے سے دی جاسکتی ہے کہ قُرصِ خورشید کو براہِ راست دیر تک دیکھنے سے آنکھیں ضا ئع ہوسکتی ہیں۔ چنانچہ خدا کا سب سے عالیشان دیدار صرف چند سیکنڈ کے لیے حاصل ہوجاتا ہے، جس میں حیرت کی کوئی حدّ نہیں
۹
ہوتی اور یہی حیرت تاویل کی زبان میں بے ہوشی کہلاتی ہے، ایسے ظہورِ نور کا مبارک مقام اور وسیلۂ عظیم دیدار جُثۂ ابداع ہے، جو امرِ “کُن” کا مرکزِ ظاہر ہے۔ پھر جب اس ابداعی ظہور کی عرفانی اور عقلی توجیہہ سمجھ میں آتی ہے، تو اس کو “ہوش میں آنا” کہتے ہیں۔
سوال نمبر۱۵ : “دجال” ایک کافر اور دشمن جس کی تیسری آنکھ ہوگی، وہ لوگوں کو صراطِ مستقیم سے بھٹکائے گا اور اس کا ظہور امام مہدی کے دور میں ہوگا، آپ اس پر روشنی ڈالیں۔
جواب: اس سوال کے الفاظ اصلاح طلب ہیں، بہرحال دجال کی تاویل کتاب وجہ دین میں مذکور ہے، آپ وجہِ دین کا مطالعہ کریں۔
سوال نمبر ۱۶ : روایت ہے کہ سِدرۃ المنتہیٰ وہ حدّ ہے جس سے آگے جبرائیلؑ فرشتہ نہیں جا سکتا، اس کی کیا تاویل ہے؟
جواب: مثال کے طور پر اﷲ تعالیٰ میزبان ہے، حقیقی مومن مہمان ہے اور جبرائیلؑ خادم، اور اس ربّانی مہمان نوازی کا خاص تعلق اسرارِمعرفتِ توحید سے ہے، لہٰذا جبرائیلؑ کو درجۂ جبروت پر رک جانا پڑتا ہے اور وہ لاہوت کی طرف آگے نہیں بڑھ سکتا۔ دوسری مثال: ۱ ( ایک) ۲( دو ) ۳ ( تین ) سے لے سکتے ہیں کہ پہلے ایک ہے، پھر دو، پھر تین ہے اس میں ایک کا مطلب خدا ہے دو سے بندۂ مومن مراد ہے اور یہاں تین کا عدد جبرائیل کے لیے ہے، کیونکہ اس کی اہمیت سفرِ روحانیت میں مومن کے بعد ہے کہ وہ حقیقی مومن کے نیک اعمال کے نتیجے ہی پر
۱۰
کچھ کام کرسکتا ہے، چنانچہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دو کا عدد ایک سے بالکل قریب ہے مگر تین دُور ہے، اس لیے جبرائیل فرشتے کو روحِ مومنِ مُوَحِدّ کے ساتھ خلوت خانۂ توحید میں داخل نہیں ہونا چاہیئے۔ تیسری مثال:
اب اگر فرض کر لیا جائے کہ ان اعداد کو فنا اور رجوع کی مدد سے اصل سے واصل ہوجانا ہے، توقانون یہ ہے کہ نو آٹھ میں، سات چھ میں، چھ پانچ میں اور پانچ چار میں فنا ہوجائے اور اسی طرح چار تین میں اور تین دو میں مٹ جائے اور بالآخر صرف دو ہی وہ عدد ہے جو واحد ( یعنی ایک ) میں داخل ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ہے کہ تم کو ( ایک اکیلا ہوکر ﷲ کے حضور جانا ہے (۰۶: ۶۴)
سوال نمبر ۱۷ : جب ہم کہتے کہ : اَللہُ اکبر (خدا سب سے بڑا ہے) یا کہتے ہیں کہ سُبحان ﷲ (خدا پاک ہے) تو آیا اس بڑائی اور پاکیزگی کی کچھ حدود ہوتی ہیں یا یہ صفت لا محدود ہے؟
جواب : ہر چند کہ لفظِ اکبر تفصیلِ کلّ کے لیے آتا ہے، جو مخلوق کے عام استعمال میں ہے، جیسے سب سے بڑا بھائی کو اکبر کہنا، مگر جب یہ وصف خالق کے لیے آتا ہے، تو اس میں مقابلے کے لیے نہ تو کوئی ادنیٰ مخلوق کا تصوّر ہے اور نہ ہی ساری خلقت کا، مگر ہاں اس میں دین کے درجاتِ عالیہ کا اشارہ ہے کہ خدا ان درجات سے بڑا ہے اور پھر اس کے معنی غیر محدود ہوجاتے ہیں۔
۱۱
سوال نمبر ۱۸ : حضرت موسٰیؑ کو جو معجزات عطا کئے گئے تھے، ان کی تاویل کی ہے؟
جواب: عصائے موسٰیؑ ( ۰۲: ۶۰) کی تاویل: عملی اسمِ اعظم اور اس کے گوناگون معجزات، حجرِمکرّم سے پانی کے بارہ چشموں کا جاری ہونا (۰۲: ۶۰): حضرت موسٰیؑ کی روحانیت سے بارہ حجّتوں کا علمی وجود اور ان کی ۱۲ درجے کی تعلیمات، بیل کو ذبح کرکے مُردے کو جلانا (۰۲: ۶۷ تا ۷۳): مومن کی حقیقی عبادت و ریاضت اور نفس کشی کے نتیجے میں حیاتِ طیبہ کا معجزہ دیکھنا، یدِ بیضا (۰۷: ۱۰۸): علمی فکر اور گوہرِعقل کا روشن نتیجہ، طوفان، ٹڈی، جوئیں، مینڈک اور خون (۰۷: ۱۳۳) روحانی ہلاکت، ٹڈی، جوں اور مینڈک جیسی مضر اور نفرت انگیز روحوں کا ظہور، علم میں شکوک وشبہات کا بھر جانا، لاٹھی مار کر دریا میں خشک راستہ پیدا کر دینا (۲۰: ۷۷): دریائے روحانیت کے اس ساحل سے اُس ساحل پر قوم کو اس طرح باسلامت اتار دینا کہ روحانیت ان کو کوئی گزند نہ پہنچاسکے، فرعون اور اس کی قوم کا دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوجانا (۲۰: ۷۸): موسٰیؑ اور ہارونؑ کے دریائے روحانیت میں ان کا فروں کا ہلاک ہوجانا، فرعون کی لاش کا دریا سے برآمد ہو جانا (۱۰: ۵۲): ہادیٔ برحق کے دشمن کا روحانی اعتبار سے مرجانا، مگر جسمانی لحاظ سے لاش کی طرح ( یعنی روح الایمان کے بغیر ) لوگوں کے سامنے موجود رہنا۔
سوال نمبر ۱۹: کائنات کب سے موجود ہے اور جب اس کا وجود نہ تھا، تو اُس وقت اس کی کیا حالت و کیفیت تھی یا کیا کچھ تھا؟
۱۲
جواب: ( ا لف) : جب ہم اس کائنات کے نہ ہونے کا تصوّر کرتے ہیں تو اسی کے ساتھ ساتھ “کب” اور “کہاں” کا سوال بھی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ “کب” کی بنیاد زمان پر قائم ہے، اور “کہاں” کا انحصار مکان پر ہے، یعنی مکان اور اطرف خود یہ جہان ہے اور زمان اس کی گردش کا نام ہے اور سورج بھی مکان کا ایک روشن حصّہ ہے، نیز اس تصوّر کے نتیجے میں کائنات کی کوئی بھی مادّی شکل و کیفیت نہیں ہوسکتی ہے، کیونکہ کائن (ہونے والا، بننے والا) کون کے مادّہ سے ہے اور “کائنات” کائن کی جمع ہے، پس اگر کائنات (بننے والی چیزیں) نہیں، تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔
( ب) : میرا یک مقالہ “تصوّرِ آفرینش” کو پڑھ لیجئے، تخلیق کا تصوّر خط کی طرح نہیں، بلکہ دائرے کی مثال پر واقع ہے، جس کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ ہی کوئی انتہا، بلکہ خدا ہمیشہ کائنات کی تخلیق کرتا رہتا ہے۔
سوال نمبر۲۰: اگر فرشتے اعلیٰ ترقی یافتہ روحوں کو کہا جاتا ہے تو پھر ان کو پہلے ہی سے علمِ اسماء کیوں نہیں دیا گیا تھا؟ وہ حضرت آدمؑ کی تعلیم کے لیے کیوں محتاج ہوئے؟
جواب : یاد رہے کہ فرشتے یا ملائکہ دو درجوں پر منقسم ہیں: کائناتی ( جلالی ) اور ذاتی ( جمالی ) آپ نے پہلی قسم کے فرشتوں سے متعلق سوال اٹھایا ہے۔ جبکہ ذاتی فرشتوں کی بات اس سے مختلف ہے، جس کی مثال: آپ گویا لاتعداد آدموں میں سے ایک آدم ہیں، تو دنیا بھر کے لوگ
۱۳
بصورتِ ذرّاتِ روحانی آپ کی ذرّیت بن کر آپ میں داخل ہوجائیں گے، اب یہی ذرّاتِ لطیف آپ کے ذاتی فرشتے بھی ہیں، جن کو بحکمِ خدا آپ کی روحانیت میں بذریعۂ اسمِ اعظم علمِ اسماء سکھایا جائے گا۔
سوال نمبر ۲۱ : نہرِ کوثر اور نہرِ تسنیم سے کیا مراد ہے؟
جواب : کوثر کی تاویل اساس ( وصئ رسولؑ یعنی علیؑ) ہے جو مردِ کثیرُالذّرّیت بھی ہے اور خیرِکثیر بھی، یعنی کوثر مولاعلیؑ کا باطنی اور روحانی مرتبہ ہے، جس میں تمام نیکیاں اور ساری حکمتیں جمع ہیں، اور تسنیم روحانیت کی انتہائی بلندی پر بصورتِ کلمۂ تامّہ علم وحکمت کا ایک عظیم سرچشمہ ہے، جسے کلمۂ باری کہا جاتا ہے۔
سوال نمبر ۲۲ : سورۃ برآٔۃ ( سورۂ توبہ ) کی تبلیغ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ آنحضرتؐ نے پہلے حضرت ا بوبکر کو تبلیغ کے واسطے بھیجا، لیکن خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ حضرت مولا مرتضیٰ علیؑ اس تبلیغ کے حقدار ہیں، آیا یہ روایت درست ہے؟ کیونکہ پیغمبرِ برحقؑ کسی چیز سے لاعلم تو نہیں ہوتے تھے۔
جواب : یہ بات تاریخی نوعیت کی ہے۔ لہٰذا آپ اس کی تحقیق مستند تاریخی کتاب سے کریں۔
سوال نمبر۲۳: خداوند تعالیٰ نے حضرت موسٰیؑ کو معجزاتی عصا عطا فرمایا تھا۔ جو زمین پر ڈالنے سے اژدھے کی صورت اختیار کرلیتا تھا۔ تو اس کی تشبیہ قرآن میں اژدھے سے کیوں دی گئی۔ جبکہ ظاہراً یہ (اژدھا) اچھی چیز کو ظاہر نہیں کرتا؟ اس کے پیچھے کیا حکمت پوشیدہ ہے؟
۱۴
جواب : یاد رہے کہ معجزہ کے دو رخ (پہلو) ہوا کرتے ہیں۔ ایک طرف رحمت اور دوسری جانب غضب ہوتا ہے، رحمت کو تو خوبصورت اور خوشگوار ہونا ہی ہے اور غضب کو چاہئے کہ وہ اس کے برعکس ہو، ہر بڑا پیغمبر بشیر و نذیر ہوا کرتا ہے، یعنی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، ڈرانے کے سلسلے میں اژدھا جیسی مثالیں مناسب ہیں۔ انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام میں اسمِ اعظم کا نور وہ معجزہ ہے جو ایک طرف سے خدا کے دوستوں کی روحانی آبادی کا وسیلہ بھی ہے اور دوسری طرف سے اس کے دشمنوں کی بربادی کا سبب بھی ہے۔
سوال نمبر ۲۴ : فرشتے سراپا عقل وعلم ہوا کرتے ہیں، ان میں نفسِ امّارہ موجود نہیں ہوتا ہے، پھر عزازیل فرشتہ شیطان کیسے بن گیا، کیونکہ غرور تو صرف نفسِ امّارہ کی وجہ سے ہوجانا تھا؟
جواب: بحوا لۂ جواب نمبر ۲۰ فرشتے دو قسم کے ہوتے ہیں، بحدِّ قوّت (جمالی) اور بحدِّ فعل (جلالی) چنانچہ جو شخص شیطان بن گیا، اگر اسے عام روایت سے ہٹ کر حقیقت کی روشنی میں دیکھا جائے۔ تو صاف طور پر معلوم ہوجائے گا کہ وہ بحدِّ فعل فرشتہ نہیں تھا، وہ ایک جاہل و نادان شخص تھا، جس کی وجہ سے وہ ہادئ برحقؑ کا دشمن بن گیا۔
سوال نمبر ۲۵ : آسمانی چیزیں مثلاً سورج، چاند، ستارے، سیّارے وغیرہ کیا ہیں؟ آیا یہ ہماری زمین کی طرح ہیں یا ترقی یافتہ روحیں ہیں؟ کیا ان کی بھی عمریں مقرّر ہوتی ہیں، جیسے کسی ستارے کا ٹوٹ کر گرجانا؟
۱۵
جواب : سورج کا وجود چاند ستاروں سے مختلف ہے۔ کیونکہ وہ جوشندہ روشن گیس کا طوفان ہے۔ ( میزان الحقائق میں اس کی تفصیل کے لیے دیکھا جائے۔ ) مگر اس کے برعکس چاند اور جملہ ستارے ہماری زمین کی طرح مختلف دنیائیں ہیں۔ لطیف جسم اور روحانی زندگی تمام ستاروں پر موجود ہے، مگر اب تک سیّارۂ زمین کے سوا اور کہیں کثیف جسم کے وجود کا کوئی علم نہیں، ہر ستارے کی ایک مجموعی روح بھی ہے، کتاب “روح کیا ہے” کو دیکھیں۔ وہ ترقی یافتہ اور بڑی روح ہے، ہاں ستاروں کی عمریں ہوا کرتی ہیں۔ یعنی وہ بنتے ہیں اور اپنے اپنے وقت پر بگڑ جاتے ہیں، مگر جس چیز کو عام زبان میں ستارے کا ٹوٹ جانا کہا جاتا ہے، وہ کوئی اور چیز ہے۔
سوال نمبر۲۶: کسی بھی نیک کام کی انجام دہی کے وقت خدا کی رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ ہمارے اندر یہ بیداری روحوں کے ذرّات سے ہوتی ہے۔ یعنی نیک ارواح کے ذرّات سے، تو کیا یہ روحیں ہر وقت ہمارے ارد گرد موجود رہتی ہیں؟
جواب : جی ہاں، جس طرح مچھلیاں سمندر میں رہتی ہیں، اسی طرح ہم ذرّاتِ روح کے سمندر میں مستغرق ہیں، ہم میں ہر وقت روحوں کا آنا جانا ہوتا ہے۔ ہماری اپنی بھی لاتعداد روحوں ( ذرّات ) کا مجموعہ ہے اور اسی طرح ہم میں جُدا جُدا کثیر روحوں کے ہونے میں انتہائی عظیم حکمت پوشیدہ ہے۔
۱۶
سوال نمبر ۲۷: قرآن میں بہت ساری جگہوں میں
Codedحروف آئے ہیں، جن کو حروفِ مقطّعات کہا جاتا ہے، مثلاً: آلٓمٓ، الٓمٓرٓ، الٓمٓصٓ، طٰہٰ، یٰسٓ وغیرہ، ان کا مطلب کیا ہے؟ اور ان کو Code میں رکھنے میں کیا بھید ہے؟
جواب: ان حروف میں خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے اسرار پوشیدہ ہیں، مثال کے طور پر: ال م: قلم، لوح، مِداد(عقلِ کُلّ، نفسِ کُلّ، مخلوقات) جو ﷲ کی عملی کتاب ہے، ال م ر: قلم، لوح، مِداد، رقیم۱( عقلِ کُلّ، نفسِ کُلّ، مخلوقِ ظاہر، مخلوقِ باطن ۲ )وغیرہ، ان کو راز میں رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کا فائدہ خواص کو حاصل ہو، جس طرح قرآن میں اور بھی کئی طریقے ہیں۔ جن کے مطابق خدا اپنے بھیدوں کو صرف خاص بندوں پر ظاہر کرنا چاہتا ہے۔
( نوٹ: ۱: رقیم سے روحانی تحریر مراد ہے۔ ۲: مخلوقِ باطن کا مطلب روحانی تحریر ہے۔ )
سوال نمبر ۲۸ : کسی پاگل کی روح بدن میں کس طرح یعنی کس صورت اور کیفیت میں ہوتی ہے؟
جواب : جس طرح ظاہر میں پاگل کا قول و فعل ہے اسی طرح باطن میں اس کی روح کی حرکات ہیں۔
سوال نمبر۲۹: خداوند تعالیٰ نے عالمِ روحانیت میں عہدِ الست کس طرح لیا تھا؟
۱۷
جواب : یاد رہے کہ ﷲ تعالیٰ ہر کامل انسان کی انفرادی قیامت ( روحانیت ) میں ذرّاتِ ارواح کو حاضر کرکے اُن سے پوچھتا ہے: الست بِربّکم (آیا میں تمھارا پروردگار نہیں ہوں؟) یعنی تمام بنی آدمؑ کی پشتوں میں سے ارواح کو اٹھا کر وہاں لائی جاتی ہیں، جہاں کسی کامل شخص میں جملہ روحانی واقعات کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے، تو یہ عمل ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ ہمیشہ روحانی معجزات کے ضمن میں آتا رہتا ہے۔
سوال نمبر۳۰: پاک روحوں کے ذرّات خوشبوؤں کی صورت میں کیوں ہوتے ہیں؟
جواب : ذرّاتِ روح سے تمام چیزوں کی روحیں مراد ہیں، یعنی ہر چیز کی روح ہوا کرتی ہے، چنانچہ خوشبو کی روح ہے، یعنی گلاب کی روح میں گلاب کی خوشبو ہے اور چنبیلی کی روح میں چنبیلی کی خوشبو، اس کے یہ معنی ہوئے کہ عالمِ ارواح میں ہر چیز کی روح ہے، یہاں تک کہ پتھر اور لوہے کی بھی روح ہے۔ آپ ان روحوں کو روحانی بیج بھی کہہ سکتے ہیں۔ پس جب آپ کے پاس کستوری کی روح آئے گی تو اس سے کستوری کی خوشبو آئے گی، جب کسی پھل کی روح آئے گی تو اُس وقت اس پھل کی خوشبو آئے گی۔
سوال نمبر۳۱: صحیفوں اور آسمانی کتابوں کے درمیان کیا فرق ہے؟
جواب: ان دونوں کے آسمانی ہونے میں کوئی فرق نہیں مگر فرق اس بات میں ہے کہ صحیفۃ کا مطلب ورق ہے، جس کی جمع صُحف ( اوراق) ہے،
۱۷
اور کتاب سے ایک مکمل کتاب مراد ہے اور اس میں ایک تاویلی اشارہ بھی ہے۔ کہ صحیفۃ سے ورقِ روحانیت مراد ہے صحیفۃ ہر چیز کے پھیلے ہوئے حصّے کو کہتے ہیں، چنانچہ جس طرح روحانیت باطن میں پھیلی ہوئی ہے، اُس لحاظ سے یہ صحیفہ ہے جو کہ تحریری اور کتابی صورت میں لوگوں کے سامنے نہ لائی گئی ہو، اور کتاب وہ ہے جو مرحلۂ روحانیت ( صحیفہ ) سے کتابی شکل میں آچکی ہو اور یہ نظریہ اس لیے ضروری ہے کہ ہر پیغمبر صاحبِ روحانیت یعنی صاحبِ صحیفہ ہوا کرتا ہے مگر صرف بعض پیغمبر صاحبِ کتاب ہوتے ہیں۔ یعنی روحانیت تو سب پیغمبروں کی ہوتی ہے مگر اُن میں سے صرف بعض کی روحانیت کتابی شکل میں لوگوں کے سامنے آسکتی ہے۔
سوال نمبر۳۲: خداوند تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیمؑ کو چار پرندوں کی قربانی کا حکم دیا جو کہ نفس کے تحت آتے ہیں (یعنی مرغا، مور، بطخ اور کوا) لیکن دوسری طرف عالمِ روحانیت میں روحوں کے ذرّات کو بھی پرندوں سے تشبیہہ دی گئی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ پرندوں کے تاویلی معنی ہیں روحیں، کیونکہ پرندے اچھے اور بُرے دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ جس کی تاویل یہ ہوئی کہ روحیں اچھی بھی ہیں اور بُری بھی، پس ابراہیم علیہ السّلام کے چار پرندوں کی قربانی کی تاویل یہ ہے کہ آپ نے ذرّاتِ نفس میں سے چار (جو تاویل کی زبان میں چار پرندے کہلاتے ہیں) کو ذبح کردیا، تاکہ خدا تعالیٰ ان کو بہترین صورت میں زندہ کردے۔
۱۹
سوال نمبر۳۳: چند انبیاء پر جو آسمانی کتابیں نازل ہوئیں ان کی وجہِ تسمیّہ کیا ہے؟ جیسے توریت، زبور، انجیل اور قرآن، کیا تمام انبیاء پر کتابیں نازل نہیں ہوئیں؟ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
جواب: کہتے ہیں کہ توراۃ ( توریت ) وَری کے مادّہ سے ہے جس کے معنٰی آگ روشن کرنا ہیں، چونکہ اس کتاب میں بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کی روشنی تھی، لہٰذا توراۃ کہا گیا۔ زبور زبر۱ سے ہے، بمعنی مذبور (لکھی ہوئی) انجیل اِونجَلیُون (EVANGELION) لفظ یونانی سے ہے، جس کے معنی مسرت انگیز خبر یا بشارت کے ہیں۔ اور قرآن کے معنی پڑھنے کے ہیں، کیونکہ یہ اسمِ اعظم پڑھنے کے نتیجے میں نازل ہوا۔ نیز ظاہر میں بھی یہ پڑھا جاتا ہے، سوال کے باقی حصّہ کے لیے نمبر ۳۱ کو دیکھیں۔ (۱۰۰ سوال حصّہ چہارم صفحہ ۳۵ پر “کتبِ سماوی” کے مضمون کو بھی پڑھیں)۔
( نوٹ: ۱: زبر = لکھنا)
سوال نمبر۳۴: ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر ہو گزرے ہیں۔ ۔ ۔
جواب: آپ کا یہ سوال مبہم اور مغلّق ہے، دوبارہ واضح کر کے لکھیں۔
سوال نمبر ۳۵ : نورِ امامت ازل سے موجود تھا یا نورِ نبوّت۔ ۔ ۔
جواب: نور ایک ہی ہے، اس میں تقدیم و تاخیر کا کوئی سوال نہیں اس نور کے مختلف ظہورات اور ظاہری و باطنی پہلو ہوتے ہیں، نور ہمیشہ
۲۰
سے اپنے سر چشمۂ اعلیٰ میں ایک ہی ہے۔
سوال نمبر ۳۶ :۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جواب: سوال کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرتؐ کو اسمِ اعظم کی تعلیم کس نے دی تھی؟ جواب عرض ہے کہ اما مِ مقیم نے، اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لیے امامِ مقیم حضرتِ ابو طالب علیہ السّلام تھے، ملاحظہ ہو کتاب “الامامۃُ فی الاسلام” جو عظیم امام کسی ناطق پیغمبر کی علمی پرورش کرتا ہے وہ امامِ مقیم کہلاتا ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب الامامۃُ فی الاسلام۔
سوال نمبر ۳۷ : نمازِ جنازہ اور نمازِعید کی کیا حقیقت ہے؟ کیا ان کا تذکرہ قرآنِ پاک میں موجود ہے؟
جواب: کسی چیز کی حقیقت کا مطلب ہے اس چیز کی اصلیت، مغز اور جوہر، پس نمازِ جنازہ اور نمازِ عیِدَین کے علاوہ دیگر تمام نمازوں کا جوہر بھی ان کی تاویل ہے، جس کے لیے آپ کتاب “وجہِ دین” کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ دینِ اسلام کے تمام اقوال و اعمال کی تاویلات ہیں۔ جو صرف ایک ہی مرکز کو ظاہر کرتی ہیں اور اسی مرکز سے وابستہ ہیں، ہاں نمازِ جنازہ اور نمازِ عِیدَین کا اجمالی ذکر یا اشارہ قرآن میں موجود ہے۔
سوال نمبر۳۸: حدیثوں کی کتنی قسمیں ہیں، اور ان میں کیا فرق ہے؟
جواب : آپ کے اس سوال کا تقاضا یہ ہے کہ “علمِ حدیث” کا
۲۱
ایک خلاصہ پیش کیا جائے، مگر یہ کام کافی لمبا چوڑا ہے، لہٰذا “علمِ حدیث” کی کسی کتاب کو پیش نظر رکھیں۔
سوال نمبر۳۹: قرآنِ کریم ۲۳ برس کے عرصے میں مکمل ہوا۔ ۔ ۔
جواب: جہاں اور جب قرآنِ حکیم روحانی طور پر امامِ زمان سے اور آپؑ قرآن سے وابستہ ہیں تو قرآن ہر طرح سے کامل اور مکمل ہے۔ پھر قرآن کی سالمیت کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھانا چا ہئے، ہمارے اس نظریہ کا ثبوت رسولِ اکرمؐ کا وہ ارشادِ مبارک ہے جس میں آپؐ کے بعد اُمّت کی ہدایت کے لیے دو گرانقدر چیزیں موجود ہونے کا ذکر ہے، اور اگر حدیثِ ثقلین نہ ہوتی، تو کوئی سوال پیدا ہوسکتا۔
سوال نمبر ۴۰ : گنانوں اور امام کے فرمان میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جواب : آپ نے کوئی حوالہ نہیں دیا ہے، تاکہ اس کی گہری حکمت تک رسائی کے لیے کوشش کی جاتی، بہرحال سوال دائرۂ روح کے بارے میں ہے، جس کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ علم کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر پانی کا سرچشمہ جو سمندر ہے، وہ اپنی جگہ پر ساکن بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک طرح سے اپنے دائرے پر گردش بھی کر رہا ہے، یہی حال روح کا بھی ہے کہ وہ اپنے اصل سرچشمہ کے اعتبار سے عالمِ امر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہے، مگر وہ ارواحِ جزوی کے توسط سے دائمی طور پر دنیا میں آتی رہتی ہے، اس کا
۲۲
خلاصہ یہ ہوا کہ روح ایک تو خود ہے اور ایک اس کا سایہ، وہ خود عالمِ امر میں ہمیشہ کے لیے ٹھہری ہوئی ہے، مگر اس کا سایہ اس دنیا میں لاانتہا بار آتا رہتا ہے۔ کتاب “روح کیا ہے” میں دیکھیں تو معلوم ہوجائے گا کہ روح مستقر بھی ہے اور مستودع بھی، یعنی مستقر اصل اور مستودع سایہ ہے۔
نصیر الدین نصیرؔ لنڈن
۸۳۔ ۷۔ ۷
۲۳
چراغِ روشن اور حکیم پیر ناصر خسرو ایک علمی کائنات
چراغ روشن
اور
حکیم پیر ناصر خسروایک علمی کائنات
کوہِ قاف کا راستہ
کوئی کہتا ہے کہ کوہِ قاف ہے اور کوئی کہتا ہے کہ دنیا میں کوہِ قاف کا کوئی وجود ہی نہیں، میں عرض کروں گا کہ کوہِ قاف اپنے بیشمار عجائب و غرائب کے ساتھ ایک ایسے مخفی مقام پر موجود ہے کہ اس کا کوئی راستہ ہے ہی نہیں۔ مگر حقیقی علم اور روحانیت، پس کتنی بڑی نیک بختی ہے ایسے خاص مومینن کی جوہمیشہ حقیقی علم اور روحانیت کی مقدّس خدمت میں لگے ہوئے ہیں جیسے جناب کیپٹن محمد یاربیگ ابنِ حُرمت اللہ بیگ حیدرآباد (ہونزہ) جناب احمد حسین ابنِ نیت شاہ، کریم آباد (بلتت ) جناب عبدالمجید ابنِ نعمت خان ، حسن آباد اور جناب فرمان علی ابنِ علی حرمت آغاخان آباد (علی آباد)۔
پیش گفتار
ابنِ مریم(حضرتِ عیسٰی) علیہ السّلام نے بارگاہِ خداوندی میں یوں عرض کی: اللَّہُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ِ تَکُونُ لَنَا عِیْداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَۃً مِّنکَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَیْرُ الرَّازِقِیْن(۰۵: ۱۱۴)۔
اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! ہم پر(روحانی اور عقلانی) آسمان سے ایک خوان (پرُاز نعمت) نازل فرما کہ وہ ہم لوگوں کے لئے، ہمارے اگلوں کے لئے اور پچھلوں کے لئے عید کا دن (یعنی باربار آنے والا جشن،خوشی کے عود کرنے کا دن) قرار پائے، اور (ہمارے حق میں) تیری طرف سے یہ ایک معجزہ ہو، اور تو ہمیں (عقل و روح کی) روزی دے اور تو سب روزی دینے والوں سے بہتر ہے (۰۵: ۱۱۴)۔
اس میں اہل دانش کو ذرا بھی شک نہیں کہ آیۂ مذکورۂ بالا سُنّتِ الٰہی کے مطابق ایک کلّیہ ہے، جس کا تعلق تمام زمانوں سے ہے، جیسا کہ اس دعا میں ماضی، حال، اور مستقبل کے مومنین کا ذکر موجود ہے، کیونکہ حضرتِ عیسٰیؑ اپنے وقت میں خدا کا نور تھا (۶۱: ۶ تا ۸) اس لیے اُس نے ہر زمانے کے
۵
اہلِ ایمان کے حق میں یہ دعا کی تھی، اور ظاہر ہے کہ کشف و کرامت کی خوشیوں کی یہ عید اوّلین، حاضرین اور آخرین سب کے لئے ہے، اور لفظ’’عید‘‘ پر غور کریں کہ عید عَوۡد سے ماخوذ ہے، جس کے معنی لوٹنے کے ہیں، یہاں یہ قانون بھی یاد رہے کہ ظاہری عید اپنے وقت پر آتی ہے، مگر روحانی عید وقت سے بالاتر ہے۔
اگر چہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مائدۂ عیسٰیؑ ایک محدود وقتی معجزہ تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر انسانِ کامل کی مکمل روحانیت کا عرصہ ہے، جس کی چند دلیلیں یہ ہیں:
(الف:) اس دعا میں جس آسمان کا ذکر ہے، وہ آسمان عقلِ کلّی ہے، اس لئے یہ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کی روحانیت کا دستر خوان ہے (ب:) اس میں اطمینانِ قلبی مقصود ہے، جو مشاہداتِ روحانیت و عقلانیت کے سوا ممکن نہیں (ج:) اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جو کل کے لئے وعدہ کیا گیا ہے، اس کا یقین آج ہوجائے: صدقتنا ۰۵: ۱۱۳ (د:) یہاں جو لفظِ شاھدین آیا ہے (۰۵: ۱۱۳) وہ بتاتا ہے کہ روحانیت کا مشاہدہ کرنا مطلوب ہے، (ھ: ) لَنَا (ہمارے لئے) کی تشریح ہے: اوّلین و آخرین، یعنی تمام انبیاء و أئمّہ علہیم السّلام اور اہلِ ایمان(و:) آیات معجزہ کا نام ہے، اور خدا کا معجزہ عقل، روحانی اور دائمی ہوا کرتا ہے، وہ نقش بر آب نہیں کہ فوراً
۶
ہی مٹ جائے(ز:) یہاں رزق مطلوب ہے، اور وہ عقل و جان کی ہرگونہ غذا کا نام ہے۔
خداوند تعالیٰ کا ہر امر منتظر نہیں، بلکہ فرمایا گیا ہے، اس کا ہر کام کیا ہوا ہے، اور اس کا ہر وعدہ عمل میں آچکا ہے (۳۳: ۳۷، ۰۸: ۴۴) یعنی اللہ کا کوئی امر نافرمودہ نہیں، نہ کوئی کام ناکردہ ہے، تو پھردعا اور طلب کیوں ضروری ہوئی؟ آیا اس قانونِ ازل کے مطابق عقلی اور روحی نعمتوں کا دسترخواں نازل شدہ نہیں ہے؟ کیا خدا کا کوئی کام ناکردہ(UNDONE) ہوسکتا ہے؟
جواب: بیشک پروردگارِعالم کا فرمان فرمایا ہوا ہے، اس کا کام کیا ہوا ہے، اور اس کا وعدہ پورا ہوچکا ہے، نیز باطنی نعمتوں کا دسترخوان ہمیشہ کے لئے نازل ہوچکا ہے، لیکن پھر بھی قول و فعل اور دعا کی سخت ضرورت ہے، خصوصاً ہادیٔ برحق کی دعا بے حد ضروری ہے، کیونکہ خداتعالیٰ نے تو ہر نعمت عطا کر رکھی ہے (۱۴: ۳۴) لیکن ہمارے اعمال کی وجہ سے پردے حائل ہوگئے ہیں، پس کشفِ غطا یعنی پردہ کھولنے کے لئے علم و عمل کی بہت بڑی اہمیت ہے۔
اس بحث کی روشنی میں ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پیر ناصر خسرو ان عظیم المرتبت حکماء و عرفاء میں سے ہیں، جن کے لئے روحانی اور عقلی نعمتوں کا دستر خوان ہمیشہ بچھا ہوا رہتا ہے، چنانچہ حضرتِ پیر
۷
نے اس سماوی دسترخوان سے ایک دوسرے دسترخوان کو سجایا اور وہ ان کی گرانقدر کتابوں کا پُرحکمت ذخیرہ ہے۔
حکیم پیر ناصر خسرو کے قلبِ مبارک پر امامِ زمنؑ کا نور طلوع ہوا تھا، یہی وجہ ہے کہ اُن پر قرآنِ حکیم اور دینِ اسلام کے بے شمار تاویلی اسرارمنکشف ہوگئے، اسی نورِ ہدایت کی صورت میں امامِ برحقؑ نے ان کو رسمِ چراغ روشن بطرزِ جدید جاری کرنے کا حکم دے دیا، چنانچہ آپ کے شاگردوں نے رفتہ رفتہ چراغنامہ تیار کیا، اور موصوف پیر کے حلقۂ دعوت میں اس کا خوب رواج ہوا۔
رسمِ چراغ روشن بے شمار خوبیوں کا مجموعہ ہے، اگر تفصیل سے اس کا ذکر کیا جائے تو اس سے ایک اور کتابچہ تیار ہوسکتا ہے، لیکن ہم اختصار سے کام لینا چاہتے ہیں، اور اس میں بڑے بڑے مذہبی فوائد پنہان ہونے کی روشن دلیل یہ ہے کہ مولانا حاضر امام صلوات اللہ علیہ اسے پُرازحکمت قرار دیتے ہیں، اسی لئے مولا نے اس درخواست کو نامنظور فرمایا، جو اس مقدّس رسم کو ترک اور ختم کرنے کے لئے لکھی گئی تھی۔
میرے خیال میں چراغ روشن فقہی مسئلہ ہرگز نہیں، یہ محض ایک خاص رسم اور ایک مخصوص عملی تاویل ہے۔ لہٰذا اس میں حلال و حرام کی
۸
بحث کی کوئی گنجائش نہیں، اور نہ اس میں متوّفی کی عمر کی کوئی حد مقرّر ہے، جبکہ دعوتِ بقاء کسی گھر کے افراد کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے، جن میں چھوٹے بڑے سب شامل ہوتے ہیں، کیونکہ یہ عظیم کارِثواب بھی ہے۔
فقط بندۂ عاجز
نصیرالدّین نصیرؔ ہونزائی
۹۳۔۴۔۲۲
۹
شمالی علاقہ جات میں اسماعیلی دعوت کا پسِ منظر
حکیم ناصر خسرو کی ابتدائی زندگی:
مولوی عبدالرّزاق کانپوری جو سفرنامۂ ناصر خسرو کے مترجم ہیں، حکیم موصوف کے”عہدِ طفولیت و تعلیم و تربیت” کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں، مدارجِ اربعہ کے بعد جب نفسِ ناطقہ میں ادراک کا مادّہ پیدا ہوگیا تو چھٹے سال ناصر کی مکتب نشینی ہوئی اور نو سال کی عمر میں حافظِ قرآن ہوگیا، اور پانچ سال کی محنت میں علمِ لغت صرف و نحو، عروض و قافیہ اور حساب و سیاق حاصل کیا۔
تحصیلِ حبادیات کے بعد تین سال میں نجوم، ہیئت، رمل، اُقلیدس اور مجسطی کی تکمیل ہوئی،جب عمر کی سترہ (۱۷) منزلیں طے ہوگئیں تو علمِ ادب، فقہ، تفسیر اور حدیث کا درس شروع ہوا، اور اسی سِلسلے میں امام محمّد شیبانی کی کتاب جامع کبیر اور سیرِ کبیر بھی ختم ہوئی، اور قرآن کی تکمیل کے لئے تقریباً تین سو (۳۰۰) تفسیریں پٖڑھیں، ان میں کچھ تو داخلِ نصاب
۱۰
تھیں اور بقیہ کا بطورِ خود مطالعہ کیا، تفسیر اور علوم القرآن کے بعد فلسفۂ یونان کو پڑھا، چنانچہ پندرہ سال میں اس نصاب کی تکمیل ہوئی اور عالمِ شباب تک بلخ میں رہا، عربی کے علاوہ وہ ترکی، یونانی، عبرانی اور ہندوستانی (سندھی) زبان بھی جانتا تھا اور فارسی مادری زبان تھی، اور عبرانی کی تصدیق سفر نامہ سے ہوتی ہے۔۔۔۔۔
جب ناصر کی عمر۳۲ سال ہوگئی اس وقت تورات، زبور، انجیل کو یہودی علماء سے پڑھا، اس کے بعد بطورِ خود ہر سہ کتب کو کامِل چھ سال تک محققانہ اور مناظرانہ حیثیت سے دیکھا، اس کے بعد منطقِ الہٰی و طبیعی (مصنفۂ حکیم جاماسب) طب اور ریاضت کو ختم کیا، اور سب سے آخر میں تصوّف، روحانیت، علمِ تسخیر اور طلسمات کو حاصل کیا جس کے ماہر بابُل میں موجود تھے، اور تقریباً چوالیس (۴۴) سال کی عمر میں ناصر خسرو ایک عدیم النظیرحکیم، فلسفی، عالم، مناظر اور شاعر بن گیا، اور یہ جملۂ علوم بلخ و بخارا، عراق اور اضلاع خراسان میں حاصل کئے جس کی تردید نہیں ہوسکتی ہے، جہاں ہر علم و فن کے باکمال علماء و حکماء موجود تھے، اور علمائے یہود و نصاریٰ نے ناصرسے اپنی مذہبی کتابیں پڑھی تھیں۔
۱۱
حکیم ناصر خسرو کا ایک پُرحکمت خواب:
آپ لکھتے ہیں: “میں شراب نوشی کرتا تھا، آنحضرت صلعم کا ارشادِ گرامی ہے: قولوالحقَّ وَ لَو عَلیٰ انفُسِکُم۔ سچی بات کہو اگرچہ وہ تمہارے حق میں مُضرّ کیوں نہ ہو۔
ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ کوئی بزرگ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ: ناصر! یہ شراب جو انسان کی عقل کو زائل کردیتی ہے کب تک پیتے رہو گے؟ اگر خودی میں رہو تو بہتر ہے۔
میں نے جواباً عرض کیا کہ “شراب کے سوا حکیموں نے کوئی ایسی شے ایجاد ہی نہیں کی ہے جو غم غلط کرنے والی ہو۔” بزرگ نے جواب دیا کہ “بے خودی اور بے ہوشی میں بھی کہیں راحت ملتی ہے؟ تم ایسے شخص کو حکیم مت کہو جو ہوشیاروں کو بے ہوش بنادے، بلکہ حکیم سے ایسی شے مانگو جس سے عقل و ادراک میں اضافہ ہو۔” تب میں نے سوال کیا کہ “وہ شے کہاں سے دستیاب ہوسکتی ہے؟” فرمایا “جو ڈھونڈتاہے وہ پاہی لیتا ہے۔‘‘ اور قبلہ کی طرف اشارہ کرکے خاموش رہا۔
۱۲
بعض سکالرز (عبدالوہاب طرزی، مؤلف کتاب “ناصر خسرو بلخی” ص۲۲، پروفیسر ہینری کوربن: مقدمہ جامع الحکمتین فرانسوی ص۳۰) کا خیال ہے کہ ناصر خسرو جس خواب کا ذکر کیا ہے وہ کسی اسماعیلی داعی سے متاثر ہونے کی مثال ہے، میرے نزدیک یہ خیال صحیح ہے، کیونکہ بسا اوقات حکیم ناصر خسرو رمزوکنایہ سے کام لیتا ہے، چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ کسی عظیم المرتبت داعی نے شراب نوشی کی مخالفت کی اور امامِ وقت کی نشاندہی کی جو عقلی راحت کاسرچشمہ تھا، ورنہ خواب جیسے بیان ہوا ہے وہ حالت شراب نوشی میں اتنا منظّم اور نورانیت سے بھر پور نہیں ہوسکتا ہے۔
پیر ناصر خُسر و یُمگان میں:
کتاب”ناصر خسرو و اسماعیلیان‘‘ صفہ ۱۸۴ پر درج ہے کہ درّۂ یمگان حجتِ خراسان (یعنی ناصرِخسرو) کی حقیقی کرسی بن گیا تھا، اور تحریر ہے کہ لوگوں کا شاہِ ناصر کہنا غلط نہیں ہے، یعنی جس طرح قریبی حلقۂ دعوت نے ان کو علم و حکمت کا بادشاہ مانا، وہ درست ہے، کتاب مذکورہ کے مؤلّف نے لکھا ہے کہ ناصر خسرو نے یمگان میں اپنے
۱۳
سِلسلہ دعوت کو جاری و ساری رکھا تھا، وہ اطراف میں دور دراز تک لوگوں کو اسماعیلی مذہب سے متعلق دعوت نامے بھیجا کرتے تھے،جیسا کہ ان کے دیوان میں ہے: (ص ۳۸۵)
ہر سال یکی کتابِ دعوت
با طراف جہان ہمی فرستم
تا داند خصم من کہ چون تو
در دین نہ ضعیف خواروستم
اپنے کئی قصائد میں فرماتے ہیں کہ: اگرچہ میں وطن مالوف سے مہجور و دور ایک غار میں مقیم ہوں، لیکن اپنے دوستوں کی نظر میں بہت معزز ومحترم ہوں، چنانچہ روشنائی نامہ میں فرمایا ہے:
زحجت این سخنہایاد میداد
کہ دریمگان نشستہ پادشہ وار
مذکورۂ بالا کتاب میں یہ بھی ہے کہ ناصر خسرو یُمگان سے مصر اپنے مرکز دعوت کے ساتھ خط و کتابت کرتے تھے،آپ نے اپنی اکثر فلسفی کتابیں یمگان میں لکھی ہیں، مثال کے طور پر روشنائی نامہ، جامع الحکمتین، زادالمسافرین وغیرہ۔
دعوتِ ناصری کا مرکزومنبع:
اہلِ دانش کے سامنے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیان ہے کہ چترال، شمالی علاقہ جات، سریقول اور یارقند میں جب بھی اسماعیلی دعوت
۱۴
کی روشنی پھیل گئی ہے، وہ بدخشان کی طرف سے آئی ہے، پیروں، داعیوں معلّموں اور نمائندوں نے علم و حکمت اور امام شناسی کے جیسے چراغ روشن کئے، ان کا سرچشمۂ نور ایک ہی تھا جسے پیر نامورحکیم ناصرخسرو نے بحکم امامِ عالیمقام بصد ہزار مشقت بدخشان میں تیار کیا تھا، اس بے پناہ روشنی کے ذخائر بڑی ضخیم کتابوں کی صورت میں تھے، اور ایک ایسے علمی لشکر کی شکل میں بھی، جو ناصری علم وحکمت کے اسلحہ سے لیس ہوکر ظلمتِ نادانی کے خلاف جنگ کرسکتا ہے۔
اس میں کیا شک ہوسکتا ہے کہ اگر حضرت حسن صباح نے ایک ظاہری قلعہ بنایا تو پیرناصر نے بدخشان میں علم و حکمت کا ایک اور قلعہ بنایا، جیسے ایک ہلاکوخان کیا ہزار ایسے ظالم بھی نہیں توڑسکتے، اس کا ثبوت حکیم ناصر کی وہ گرانمایہ کتب ہیں جو نہ صرف دنیائے اسماعلیت کے لئے باعثِ فخروناز ہیں، بلکہ اقوامِ عالمِ کے ہر علمی ادارے میں بھی موجود و محفوظ ہیں۔
حکیم ناصر خسرو نے بڑی جراتمندی اور بڑی حکمت سے دعوت کا فریضہ انجام دیا اور جیسی بھی حالت پیش آئی، اس سے فائدہ اٹھایا، یعنی جب آزادی اور موقع میسر آتا تو زبانی دعوت اور جہاد کرتے اور جب مخالفین کی وجہ سے عرصۂ حیات تنگ ہوجاتا، تو قلمی طور پر اس کام میں مصروف ہوجاتے تھے، تاکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دعوت و نصیحت کا سلسلہ جاری رہے۔
۱۵
ہُنزہ میں اثناعشری مذہب کا آغاز:
زمانہ قدیم میں باشندگانِ ہنزہ دینِ اسلام سے بیگانہ تھے، مردوں کو جلانا یا بعض وابستہ چیزوں کے ساتھ دفنانا ان کی رسومات میں شامل تھا، بعض قرائن سے ایسا لگتا ہے کہ پورے علاقے میں بُدھ مت اور زرتشتی مذہب کی روایات پھیلی ہوئی تھیں، لوگ بویو(BOYO) کی پرستش کرتے تھے، بوئن (BOYN) جس کی جمع بویو ہے، کتے کے پلّے(بچہ) کی طرح ایک چھوٹا سا جانور تھا،جو کسی درخت سرو کوہی(گل) کے نیچے یا سنگلاخ سے نکلتے تھے، ان کے لئے کوئی نذرانہ از قسم مکھن یا دودھ یا خونِ گوسفند رکھا جاتا تھا، اور اگر وہاں سے بویو پیدا ہوگئے اور اس نیازکو چاٹ لیا تو وہ لوگ اُسے شرفِ قبولیت سمجھتے تھے۔
کہتے ہیں کہ جب میوری تھم کا بیٹا عیݳ شݹ دوم سُخݳݷ ہنزہ کا حکمران ہوا تو اس نے بلتستان سے ابدال خان کی بیٹی شہ خاتون سے شادی کی، اور اسی رشتہ و رابطہ کی بدولت بلتستاب سے ہُنزہ میں بصورتِ اثنا عشری دعوتِ اسلام کا آغاز ہوا، اور وہاں بتدریج اثنا عشریت پھیل گئی، تاہم بعض لوگ عرصۂ دراز تک بویو کو بھی مانتے تھے ہر چند کہ مبلغین و ناصحین انہیں اس بت پرستی سے باز لانے کی کوشش کرتے تھے ۔
۱۶
ہنزہ میں اسماعیلی دعوت کی روشنی کا آغاز:
ہنزہ میں عیݳ شݹ خاندان کا پہلا حاکم گِر کِس تھا، اس کے بعد پانچ نمبر پر عیݳ شݹ سُخݳݷ ابن مَیُوری تھم کا نام آتا ہے، جس نے بلتستان سے ابدال خان کی بیٹی شہ خاتون سے شادی کرلی، اور حاکمِ وقت کے اسی رشتے کی وجہ سے بلتستان سے ہنزہ میں اثنا عشری مذہب کی تبلیغ کی گئی، اور رفتہ رفتہ لوگ اس مذہب میں داخل ہوگئے، تاہم بعض لوگ اپنی پُرانی عادتوں سے باز نہیں آرہے تھے۔
اس کے بعد ۱۹ نمبر پر سِلُم خان کا نام آتا ہے، جس نے آخری عمر میں اسماعیلی مذہب کو صرف ذاتی طور پر قبول کرلیا، اور اس نے اس پاک مذہب میں تنہائی محسوس کرتے ہوئے سید حسین ابنِ شاہ اَردَبیل سے پوچھا کہ ’’میری تجہیز و تکفین وغیرہ کون کرے گا؟‘‘ پیر نے فرمایا کہ اِن شاء اللہ تعالیٰ اس وقت اسماعیلی داعیوں میں سے کوئی ضرور آئے گا۔
جب سِلُم خان قریب المرگ ہوگیا تو اسے اپنی تجہیز و تکفین اور نمازِجنازہ کی بڑی فکر ہوئی، اور وہ اس بات کا منتظر تھا کہ حسبِ وعدہ پیر آخری وقت میں کوئی آئے گا،لہٰذا وہ اپنے معتمدین سے کہتا
۱۷
رہتا تھا کہ دیکھو، کیا کوئی آرہا ہے، آخرکار خبر ملی کہ ہاں دور میدان سے کوئی سوار اس طرف آرہا ہے، وہ پیر شاہ حسین ابنِ اَردَبیل تھے، جنہوں نے حَسبِ وعدہ سِلُم خان کو تسلّی دی اور جب اس کا انتقال ہوگیا تو اس کی تجہیز و تکفین کی اور نمازِ جنازہ پڑھی۔
نوٹ: حضور موکھی خلیفہ مہربان شاہ(۱۹۱۰۔۱۹۹۱ء،ابنِ گل بہار شاہ)کھِسݣاݷ سید کے حوالے سے بتاتے تھے کہ مولانا قاسم شاہ علیہ السّلام کی امامت کے زمانے میں تاج مغل نے گلگت کے بعد ہونزہ کو بھی فتح کرکے اس کے باشندوں کو اسماعیلی بنایا تھا، تاہم ایسا لگتا ہے کہ اس نے دعوتِ حق کا کوئی خاص انتظام نہیں کیا، اس لئے لوگ یہ پاک مذہب بھول گئے، یہ واقعہ تقریباً چھ سو۶۰۰ سال کا ہے۔
نصیر ہونزائی
۹۳۔۴۔۱۱
۱۸
چراغِ روشن ۔ عملی تاویل
عنوانِ بالا کا واضح مطلب ہے: ’’رسمِ چراغِ روشن ایک عملی تاویل۔‘‘ تاویل لفظاً کسی چیز کو اوّل کی طرف لوٹانے کو کہتے ہیں، اور اصطلاحاً باطنی حکمت کا نام ہے، جو منازلِ روحانی سے لے کر مراتبِ عقلانی کے آخر تک پائی جاتی ہے، تا آنکہ عُرفاء کو یقین آتا ہے کہ تاویلی حکمت کا اصل سرچشمہ آفتابِ نورِ ازل ہی ہے، یعنی گوہرِعقل، اسی مقام پر جیسی عظیم الشّان اور بے مثال حکمت ہے، اسی کی قرآنِ مجید میں یوں تعریف کی گئی ہے:
یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا
جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی،اسے حقیقت میں خیر کثیر مل گئی (۰۲: ۲۶۹) حکمت تمام نعمتوں کی بادشاہ ہونے کی وجہ سے فوقانی ہے، اور دوسری ساری نعمتیں رعایا کی طرح تحتانی ہیں، اگر آپ یہ معلوم کرلینا چاہیں کہ براہِ راست باطنی حکمت یا تاویل کن مقدّس ہستیوں کو عطا ہوتی ہے؟ تو آپ قرآنِ پاک میں دیکھ سکتے ہیں
۱۹
کہ ایسے حضرٰت انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام ہیں:
نورِ نبوّت حکمت کا زندہ گھر ہے،اور نورِ امامت اس کا زندہ دروازہ، اس کا واضح اشارہ یہ ہوا کہ قرآن وحدیث کی حکمت ہمیشہ امامِ عالیمقامؑ کے توسط سے ملتی رہی ہے، اور اس پر عمل بھی ہوتا رہا ہے، کیونکہ حکمت کا مقصد ہی عمل ہے، جب کہ حکمت کے معنی ہیں دانشمندی سے کام کرنا، چنانچہ قرآن کا اشارہ ہے کہ لقمان کو حکمت اس لئے دی گئی تھی کہ وہ اللہ کا شکر حکمت کے ساتھ کرے، یعنی اس کا ہر نیک قول و فعل حکمت پر مبنی ہو، تاکہ حقیقی معنوں میں اس بے مثال نعمت کی شکرگزاری اور قدردانی ہو۔
عربی کا کوئی لفظ جہاں کسی لغات میں ہے تو عموماً اس کی کوئی تاویل نہیں ہوتی، اگر یہی لفظ قرآنِ حکیم میں آیا ہے، تو اس کی تاویل ہوسکتی ہے،جیسے ’’حبل‘‘ عربی میں رسی کا نام ہے، اور قرآن میں آنے سے قبل اس میں کوئی حکمت نہ تھی، لیکن جب یہی لفظ قرآنِ پاک میں داخل ہوکر اسمِ اللہ سے مضاف ہوگیا، اور حبل اللہ (خدا کی رسّی) کہلانے لگا، اور اس کو ایک زبردست تمثیلی حیثیت مل گئی، تو پھر اس میں بڑی تاویلی حکمتوں کی گنجائش پیدا ہوگئی، ورنہ رسّی وہی بے جان اوربےعقل چیز ہے، جسے لوگ اپنی مرضی سے استعمال کرتے رہتے ہیں،
۲۰
یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی اس سے خود کشی کا پھندا بنالے، تو اس حال میں بھی وہ کچھ منع نہیں کرسکتی، اس کے برعکس خدا کی رسّی عقلِ کامل اور روحِ قدسی کے جملہ اوصاف سے موصوف اور ہر عیب سے پاک و برتر ہے، جو طولِ زمانہ پر محیط، ہمہ رس اور ہمہ گیر ہے، اس کا ایک سرا خدا کے ہاتھ میں ہے، اور دوسرا سرا لوگوں کے سامنے تا کہ جو شخص چاہے وہ اس کو مضبوطی سے تھامے رہے، یہ تاویلی حکمت کا ایک ناقابلِ تردید نمونہ ہے، کیونکہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں مثالیں آئی ہیں، وہاں ان کی تاویلات ہوا کرتی ہیں۔
اب ہم اصل موضوع کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور سب سے پہلے یہ سوال خودبخود ہمارے سامنے آتا ہے کہ رسم چراغ روشن کے عملی تاویل ہونے کی دلیل کیا ہے؟ یہ تاویل کس آیۂ کریمہ سے متعلق ہے؟ آیا اس عمل کے بارے میں قرآن کا کوئی اشارہ ہے؟ جواباًعرض ہے کہ قرآن اور اسلام کی کوئی چیز تاویل کے بغیر نہیں، لہٰذا ہمارا مذہب تاویلی ہے، حکیم ناصرخسرو تاویل کے قائل تھے، اس لئے آپ نے اپنے حلقۂ دعوت میں چراغِ روشن کو حضرتِ امام علیہ السّلام کے منشاء کے مطابق جاری کیا، حالانکہ یہ رسم محدود اور مخصوص طریق پر شروع سے چل کر ختم ہورہی تھی، جیسے کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے
۲۱
آنحضرت صلعم نے اپنے ایک صاحبزادے کی وفات پر بہت ہی مختصر چراغِ روشن کیا تھا، چنانچہ چراغ نامہ میں یہ قول ہے:
چراغِ اوّل بدستِ مصطفٰے بود
دلیلش با علیٔ مرتضٰی بود
مذکورہ روایت میرے نزدیک صحیح ہے، اور اس کی ایک شہادت یہ ہے: جب امام محمد باقر علیہ السّلام کا انتقال ہوا، تو امام جعفر صادق علیہ السّلام نے اس گھر میں چراغ جلانے کا حکم دیا، جس میں حضرت (یعنی امام محمد باقرؑ) رہا کرتے تھے۔ (الشّافی،جلد سُوم،ص۲۱۴)
’’چراغِ روشن‘‘ کو عملی تاویل اس معنی میں کہا کہ یہ ایک پُرحکمت عمل ہے، جس کے توسط سے آیۂ مِصباح (۲۴: ۳۵) کی بے مثال کلیدی حکمتوں پر غور وفکر کرنا مقصود ہے، اس آیۂ مبارکہ کا ترجمہ یہ ہے، خدا تو (عالمِ شخصی کے) آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو، چراغ ایک فانوس میں ہو، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے، نور پر نور ہے، خدا اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے، وہ لوگوں کو مثالیں بیان کرتا ہے اور
۲۲
خدا ہر چیز کو خوب جانتا ہے (۲۴: ۳۵)۔
حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے مذ کورہ آیۂ مبارکہ کی طرف جس حکیمانہ انداز میں پر زور توجّہ دلائی ہے، اور جس شان سے اس کی تاویلی روح کی نشاندہی فرمائی ہے، وہ یقیناً ہمارے لئے روشن ہدایات میں سے ہے۔ (ملاحظہ ہو: کتابچہ: اسلام میرے مورثوں کا مذہب، ص ۶۔۷)
آیۂ مصباح کے بعد جو ارشاد ہے، اس کا ترجمہ اور قوسین میں مفہوم اس طرح ہے: (مصباح = چراغِ روشن کا عملی نمونہ) ان گھروں میں ہے، جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کے ذکر کا خدا نے اذن دیا ہے، ان میں ایسے لوگ صبح وشام اس کی تسبیح کرتے ہیں (۲۴: ۳۶) اس کی کم سے کم حکمیتں دو ہیں: پہلی حکمت: انبیاء و أ ئمّہ علیہم السّلام اور مومنین کے ظاہری گھروں میں آیۂ مصباح کا تاویلی چراغ روشن کیا جاسکتا ہے، کیونکہ وہ گھر ذکرِالٰہی کی وجہ سے بلند ہیں، کہ ان میں صبح و شام خدا کی تسبیح کی جاتی ہے، پس ایسے گھروں میں چراغِ روشن کا مقدّس عمل کیا جاسکتا ہے۔
دوسری حکمت: پیغمبرؐ اور امامؑ کی تعلیم و ہدایت کی روشنی میں اہلِ ایمان اپنے باطنی گھروں (قلوب) میں نورِ خداوندی کے چراغ
۲۳
کو روشن کرسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خدائے علیم و حکیم نے اپنے پاک نور کی تشبیہ و تمثیل آفتابِ عالمتاب سے دینے کی بجائے گھر کے چراغ سے دی، کیونکہ جو جو اشارے چراغ میں ہیں، وہ سورج میں کہاں، جیسے علم، عمل، ریاضت، یعنی باطن میں ایک مقدّس گھر بنا کر اس کی دیوار کے طاق میں ایک روشن چراغ سجانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، پھر دیکھنے اور سوچنے کی خاطر ظرفِ چراغ، تیل، بتی، آگ، شعلہ، دُھواں، پھیلی ہوئی روشنی اور ایک چراغ سے دوسرے چراغ کو روشن کرنا، اس میں انسانِ کامل کی معرفت کے لئے بہت سی حکمتیں ہیں، مگر سورج میں یہ حکمتیں نہیں۔
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ قرآنِ کریم کی سب سے روشن اور فیصلہ کن آیات کی شناخت حاصل کریں، تو آیاتِ نور کو لیں اور خوب غور سے ان کا مطالعہ کریں، تا کہ اس عمل سے بہت سی حقیقتیں منکشف ہوجائیں، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہو کہ ان سب خزانوں کی کُنجیاں تو آیۂ مصباح کے خزانے میں پوشیدہ ہیں، آپ وہاں سے ہر نورانی کنز کی کُنجی لے کر علم و حکمت کی لازوال دولت سے ابدی طور پر مالامال ہوسکتے ہیں، یہاں یہ بھی یاد رہے کہ آیاتِ نور کے تین درجے ہیں، جو اللہ، رسولؐ اور أئمّہؑ کے بارے میں ہیں،
۲۴
کائنات کی روشن آیات بھی تین درجوں میں ہیں: سورج، چاند اور ستارے، اور اسی قانون کے مطابق عالمِ شخصی میں بھی تین مراتب کی نشانیاں (آیات) ہیں، یعنی عقل، روح اور احساس وادراک کی بہت سی قوّتیں، جیسا کہ نقشۂ درجِ ذیل سے یہ مطلب واضح ہو جاتا ہے:
نقشۂ آیاتِ نور
| عالمِ شخصی | کائنات | قرآن |
| عقل | سورج | آیۂ مِصباح(۲۴: ۳۵) |
| روح | چاند | آیۂ سراجِ مُنیر(۳۳: ۴۶) |
| انسانی قوّتیں | ستارے | آیۂ کِفِلیَن(۵۷: ۲۸) |
نقشۂ مرقومۂ صدر سے ظاہر ہوا کہ عالمِ قرآن کے خورشیدِ انور کا نام مِصباح (روشن چراغ) ہے، کیونکہ جو باطنی اور نورانی چراغ اپنی نوعیت کی کائنات کو منوّر کر رہا ہو، وہ آفتاب کیوں نہ کہلائے، یہ بات سب جانتے ہیں کہ دنیا میں کوئی ایسا چراغ ہے ہی نہیں، جو سورج کی طرح کام کرے، اور اس کا نام ایک جانب سے چراغ ہو، اور دوسری
۲۵
جانب سے سورج، لیکن نورِباطن ’’اصغر واکبر‘‘ سب کچھ ہے، اس لئے وہ چھوٹا بڑا ہر کام کرسکتا ہے، اور کثیر کاموں کی وجہ سے ناموں کی کثرت ہوسکتی ہے۔
سورۂ نبا (۷۸: ۱۳) میں ارشاد ہے: وَجَعَلْنَا سِرَاجاً وَہَّاجاً: اور ہم نے (سورج کو) روشن چراغ بنایا (۷۸: ۱۳) آپ خوب سوچ لیں، کہ اس میں سورج کی بہت بڑی تعریف کی گئی ہے، لیکن کس طرح؟ روشن چراغ کی تشبیہ و تمثیل دے کر، اس کی حکمت یہ ہے کہ قرآن اور روحانیت میں جہاں کہیں بھی سورج کا ذکر آئے، یا خود سورج کا مشاہدہ ہو، تو جان لینا کہ یہ وہی روشن چراغ ہے، جس کی تعریف و توصیف آیۂ مصباح میں آئی ہے، اس سے پتا چلا کہ’’چراغِ روشن‘‘ میں مرکزِ انوارِباطن کی تاویل پوشیدہ ہے، بظاہر ایک رسم سہی، لیکن اس کی باطنی حکمتیں بڑی عجیب و غریب ہیں، ان شاء اللہ، امامِ زمان علیہ السّلام کی تائید سے ہم یہاں بعض حکمتوں کا تذکرہ کریں گے، تاکہ عزیزوں اور دوستوں کی معلومات میں گرانقدر اضافہ ہو۔
حکمت نمبر۱: چراغِ روشن کا تعلّق بالعموم تمام آیاتِ نور سے اور بالخصوص آیۂ مصباح سے ہے، بِنا برین اس میں نور کی مختلف مثالیں اور تاویلیں پنہان ہیں، چنانچہ اس کا ایک بڑا اہم نمونہ تجدّد
۲۶
ہے کہ شعلۂ چراغ میں لمحہ بہ لمحہ تبدیل و تجدید کا سلسلہ جاری ہے، اس سے یہ راز پردۂ خفی سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ نورٌعلیٰ نور(ایک روشنی پر دوسری روشنی) کی عمل میں کوئی تاخیر اور کوئی وقفہ نہیں، بلکہ وہ سلسلہ یعنی زنجیر اور رسّی کی طرح ہے، اور شعلے کے اس تجدّد میں بے شمار حکمتیں ہیں۔
حکمت نمبر۲: آیۂ مصباح میں نورونار کے دونوں لفظ آئے ہیں، چراغِ روشن میں بھی آگ اور روشنی لازم و ملزوم ہیں، پس اس کی حکمت یہ ہے کہ نار عشق ہے اور نور علم و معرفت، چنانچہ جب تک کوئی مومن آتشِ عشقِ مولا میں جلتا نہ رہے، اس کے دل میں علم و معرفت کی روشنی پیدا نہیں ہوگی، آگ کی یہ مثالیں بھی خالی از حکمت نہیں کہ اگر آتش زیرِخاکستر ہے تو یہ پوشیدہ عشق کی مثال ہے، چنگاری کا اشارہ ہے کہ کم عشق، انگاروں کے معنی ہیں خاموش عشق، اور شعلہ متحرک عشق کو ظاہر کرتا ہے۔
حکمت نمبر ۳: دعوتِ بقا ہو یا دعوتِ فناء اس موقع پر حسبِ دستور جب کسی گھر میں مقدّس چراغ فروزان ہونے لگتا ہے، اور جب تک وہ روشن رہتا ہے، اس دوران چراغِ روشن کی روشنی کی موجودگی میں کسی اور روشنی کو استعمال کرنے یا رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی
۲۷
ہے، تا کہ اس گھر میں وہی روشنی منفرد اور یگانہ قرار پائے، اس کی تاویل یہ ہے کہ دراصل نور ایک ہی ہے اور وہی نورِ واحد عالمِ شخصی کے آسمانوں اور زمین کو منور کردینے کے لئے کافی ہے۔
حکمت نمبر۴: رسمِ چراغِ روشن کے آغاز میں یہ بات بھی ہے کہ خلیفہ صاحب کے سامنے قاضی بحالت اِستادگی اجتماعی درودِ شریف کے ساتھ ظرفِ چراق کو تین دفعہ زمین سے بلند کر کے رکھ دیتا ہے، اس کی حکمت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کا نور ایک ہی ہے، ہر چند کہ اس کی نِسبتیں تین ہیں: نسبتِ خدا، نسبتِ رسول اور نسبتِ امامِ زمان، اور جب چراغ کو فروزان کیا جاتا ہے، تو اس وقت بھی ایک بار کچھ دیر کے لئے چراغِ منوّر کو زمین سے ہاتھ میں اٹھا لیا جاتا ہے ، تاکہ اس حکمتی اِشارے سے یہ ظاہر ہو کہ اللہ کا نورِواحد آسمان میں بھی ہے اور زمین پر بھی۔
حکمت نمبر۵: چراغ روشن کرنے کا دوسرا نام دعوت ہے، جس کا اصل مقصد دو مرحلوں میں ہے، اوّل اسلام و ایمان کی طرف بلانا جس طرح ماضیٔ بعید میں ہوا اور دوم روحانیت کے درجاتِ عالیہ اور نورِ معرفت کی طرف بلانا، جیسے بعد کے دور میں یہ کام ہونے لگا، مگر یہ بہت بڑا منصوبہ علم و حکمت اور ذکر و عبادت کے بغیر ممکن ہی نہ تھا،
۲۸
پس اس پُرحکمت رسم میں دوقسم کی موثر عبادات ضروری ہوئیں، ایک علمی عبادت اور دوسری عملی عبادت، تاکہ اس کی بجا آوری سے زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی ثواب اور اجرِاعظیم حاصل ہو۔
حکمت نمبر ۶: اس دعوت کی غرض سے جو گوسپند ذبح کی جاتی ہے، وہ “دعوتی” کہلاتی ہے، جو قربانی کی طرح حرمت والی قرار پاتی ہے، ایسے جانور کے انتخاب کی ایک ضروری شرط یہ ہے کہ وہ لاغر(دُبلا) نہ ہو، بلکہ اس میں چربی ہو، تاکہ اس کو پگھلا کر تیل سے چراغ کو روشن کیا جاسکے، اس کا حکیمانہ اشارہ یہ ہے: جو مومنین عقیدہ، عبادت اور حقیقی علم میں کمزور ہیں، وہ مرتبۂ روحانیت کی گوسفندِ دعوت (دَعوَتی = قربانی) نہیں ہوسکتے، کیونکہ ان میں ہنوز ترقی و کمالیت کا وہ جوہر پیدا نہیں ہوا، جس سے نورانیت کا چراغ روشن ہو جاتا ہے، جس کی مثال چربی سے دی گئی ہے۔
حکمت نمبر۷: حضرتِ امام جعفرالصّادق علیہ السّلام کا یہ ارشادِ مبارک ایک عظیم نورانی خزانے کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے عرفانی جواہر گرانمایہ اور انمول ہیں، وہ ارشاد یہ ہے، ماقیل فی اللہ فھوفینا،وماقیل فینا فھوفی البلغاء من شیعتنا: جو کچھ خدا کے بارے میں کہا گیا ہے وہ (تاویلاً) ہمارے بارے میں ہے، اور جو کچھ ہمارے
۲۹
بارے میں کہا گیا ہے وہ (تاویلاً) ہمارے دوستوں میں سے ان کے لئے ہے جو پہنچے ہوئے ہیں، اس کلیدی حکمت سے خزانے کھل سکتے ہیں، اور چراغِ روشن کی مثال میں بھی ایک خزانہ پوشیدہ ہے، یہاں یہ نکتہ دلپذیر یاد رہے کہ جس جگہ کوئی خزینۂ دفینہ ہوتا ہے، وہ جگہ اکثر دیدۂ ظاہر بین کے سامنے حقیر نظر آتی ہے۔
حکمت نمبر۸: حضرتِ امام جعفرالصّادق علیہ السّلام سے آیۂ مصباح یعنی اللَّہُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۔۔۔۔ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ھو مثل ضربہ اللہ لنا فالنبی و الأئمّۃ صلوات اللہ علیہم من دلالات اللہ و آیاتہ التی یھتدی بھا الی التوحید۔۔۔ وہ ایک مثل ہے جسے خدا نے ہمارے حق میں بیان فرمائی ہے، پس نبی اور أئمّہ صلوات اللہ علیہم خدا کی طرف سے وہ رہنما اور معجزات ہیں جن کے توسط سے وہ توحید کی طرف لے جاتا ہے۔۔۔۔ (المیزان، جلد۱۵، ص۱۴۱)۔
حکمت نمبر۹: اس مضمون میں جو نقشہ ہے، اس کو غور سے دیکھ لیں، وہاں آیۂ مصباح، سورج اور عقل ایک دوسرے کے سامنے ہیں، جس کی وہاں توجیہ کی گئی ہے، یہاں ایک اور وجہ بیان کی جاتی ہے کہ لفظِ ’’مصباح‘ ‘ گرامر(GRAMMAR) میں “صبح”
۳۰
سے اسمِ آلہ ہے، یعنی مصباح وہ چیز ہے جس سے صبح بنائی جاتی ہے، اور وہ سورج ہے، مگر یہاں عالمِ شخصی کا سورج مراد ہے، جو انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کے بعد صفِ اوّل کے مومنین میں بھی طلوع ہوجاتا ہے، تاہم یہ بات خوب یاد رکھو کہ روحانیت کے آغاز میں جس روشنی کا مشاہدہ ہوتا ہے، وہ نہ تو سورج کی ہے اور نہ ہی چاند کی، صرف اور صرف ستاروں ہی کی روشنی ہے، پھر بھی اس کی رعنائی اور دلکشی ایسی زبردست مسحورکن ہے کہ بہت سے لوگ ان روشنیوں کو تجلّیاتِ الٰہی سمجھ کر گمراہ ہوجاتے ہیں (۶۷: ۵ ،۷۲: ۸، ۳۷: ۶ تا ۷)۔
حکمت نمبر۱۰: ان نجوم، کواکب اور مصابیح (چراغوں) میں بہت بڑا امتحان ہوا کرتا ہے، کیونکہ یہاں بڑی گمراہی بھی ہے اورکامیاب ہدایت بھی، اس کے بعد چاند کی روشنی آتی ہے، اور آخر میں مرتبۂ ازل پر آفتابِ نورِعقل طلوع ہوجاتا ہے(۰۶: ۷۵ تا ۷۹) تب عالمِ شخصی میں صبحِ ازل اور شامِ ابد ہوجاتی ہے، اور دونوں کے درمیان صرف چند ہی سیکنڈ لگتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مقام پردستِ قدرت ہر وسیع اور پھیلی ہوئی چیز کو لپیٹ کر محدود کرلیتا ہے، جیسا کہ خداوندِعالم کا ارشاد ہے: وَکُلُّ شَیْءٍ عِندَہُ بِمِقْدَاراور ہر چیز اس کے پاس ایک مقدار میں ہے (۱۳: ۸) یہ ہے مِصباح (چراغِ
۳۱
روشن) جو ہمیشہ مرتبۂ ازل پر خورشیدِ عقل کی صورت میں طلوع وغروب ہوتا رہتا ہے۔
حکمت نمبر۱۱: اب اس ضروری سوال کا جواب بھی دینا ہوگا کہ مومن کی موت سے چراغِ روشن کا کیا تعلق ہے؟ آیا نجاتِ روحانی صرف اسی میں ہے کہ چراغ جلایا جائے؟ یا اس میں کوئی اور راز ہے؟ اگر چہ قبلاً اس قسم کے مسائل کے جوابات خود بخود آچکے ہیں، تاہم مزید گزارش ہے کہ جب رسمِ چراغِ روشن آیۂ مصباح کی مثال اور تاویل ہے تو اس سے حکمت اور معرفت کی بہت سی باتیں بتانا مقصود ہیں، ان میں ایک خاص بات یہ ہے کہ مومن اگرچہ جسماً مرجاتا ہے، لیکن روحاً نہیں مرتا، وہ جسمِ کثیف کو چھوڑ کر جسمِ لطیف کا بہشتی لباس پہن لیتاہے، پہلے تاریک تھا، اب وہ روشن ہوجاتا ہے، ساکن سے متحرّک، محدود سے وسیع ، اورپست سے بلند ہوجاتا ہے، یہ سارے اشارے چراغِ روشن کے عمل میں موجود ہیں، جیسے چراغ جلانا اِنبعاث کی طرح ہے، روغنِ کثیف سے شعلۂ لطیف بن جاتا ہے، تاریک ماحول روشن ہوجاتا ہے، تیل کا روشنی بن کر حرکت کرنا، اور پھیل کر وسیع ہوجانا، اور شعلۂ چراغ کا بلندی کی طرف جانا۔
حکمت نمبر۱۲: اہلِ ایمان کے باطن میں جو خدائی چراغ روشن ہو
۳۲
سکتا ہے، اس کے بارے میں حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے کئی مواقع پر حکیمانہ انداز میں ذکر فرمایا ہے، جیسے آپ کا ارشاد ہے: اسلام کے نزدیک ایک صحت مند انسانی جسم ایک ایسا عبادت خانہ (معبد TEMPLE=) ہے، جس میں روحِ قدسی کا شعلہ فروزان رہتا ہے۔۔ پھر امامِ عالیمقامؑ نورانی چنگاری(SPARK) کی اہمیت وترقی پر زور دیتے ہیں، مولائے پاک کا ایک بابرکت فرمان یہ بھی ہے: آپ کی روح کے چراغ میں تیل کا ذخیرہ ہے، لیکن اگر آپ اس کو دیا سلائی سے نہیں سلگائیں گے تو روشنی کیسے ہوگی؟ آپ باقی ماندہ زندگی کو بے فائدہ اور بے خبری میں کتنے عرصے تک گنواتے رہیں گے؟ آپ باطنی علم سے آگاہ ہوجائیں۔
امامِ اقدس و اطہرؑ کے ایک خصوصی فرمان میں بھی بے حد دلنشین انداز میں روحانی اور عقلانی چراغ کا ذکر فرمایا گیا ہے، اور اس کو روشن کرنے سے متعلق تمام ضروری ہدایت دی گئی ہیں۔
حکمت نمبر۱۳: چراغِ روشن اس امرواقعی کی علامت ودلالت ہے کہ ہر مومن زندہ شہید ہے، اور ایسے شہیدوں کے لئے دنیا میں بھی اور عقبیٰ میں بھی اجراور نور ہے۔ آیۂ کریمہ قرآن پاک (۵۷: ۱۹) میں پڑھ لیں، اور حدیثِ شریف یہ ہے: کُلُّ مومنٍ شھید: یعنی ہر مومن
۳۳
شہید کا درجہ رکھتا ہے۔
حکمت نمبر۱۴: چراغِ روشن ایک مادّی روشنی ہے، جو نورِ ہدایت (امامِ زمانؑ) کی مثال بھی ہے اور گواہی بھی، چنانچہ جب چراغ جلایا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ مومنین امامِ برحق وحاضر کو برحق مانتے ہیں، اور گواہی دیتے ہیں کہ یہی مولا مظہرِ نورِ الہٰی، نورِ نبیؐ، اور نورِ علیؑ ہیں۔
حکمت نمبر۱۵: خداوندِ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ’’النّور‘‘ ہے، اورخدا کا یہی نام یعنی نور آیۂ مصباح میں آیا ہے، جیسے: اللَّہُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْض۔ اور اللہ تعالیٰ کے اسماءُ الحُسنٰی آنحضرتؐ اور أئمّہ طاہرینؑ ہیں، جیسا کہ مولاعلی علیہ السّلام کا ارشاد ہے: انا اسمآءُ الحُسنٰی وامثالہ العُلیا و ایاتہ الکُبریٰ: میں اس کے اسماءِ حُسنیٰ اور امثالِ عُلیا اور اس کی آیاتِ کبریٰ ہوں۔ یعنی خدا کے بزرگ نام زندہ اور گویندہ ہیں (۰۷: ۱۸۰) اسی طرح اس کی اعلیٰ مثالیں (۳۰: ۲۷) اور بہت بڑے معجزات بھی زندہ ہیں (۵۳: ۱۸)۔
حکمت نمبر۱۶: چراغِ روشن، جس میں آیۂ مصباح (۲۴: ۳۵) اور آیۂ سراجِ مُنیر(۳۳: ۴۶) کا یکجا ذکرِ جمیل موجود ہے، وہ کتابِ روح و روحانیت اور نور و نورانیت کی مثال پر قائم ہے، اس لئے
۳۴
چراغِ روشن گویا ایک حکمت آگین کتاب ہے، جس کا سب سے بڑا مقصد نور کی معرفت ہے، چنانچہ نور کی تین نسبتوں کا قبلاً ذکر ہوچکا، اب ہم یہاں چوتھی نسبت کا تذکرہ کرتے ہیں کہ نور خدا، رسولؐ، اور امامؑ کے بعد مومنین و مومنات کا بھی ہے، جیسے سورۂ حدید (۵۷: ۱۲ تا ۱۳، ۵۷: ۱۹، ۵۷: ۲۸) اور سورۂ تحریم (۶۶: ۸) میں ہے، اس بات کی شاندار تصدیق حضرتِ امام جعفرالصّادق علیہ السّلام کے ارشاد سے بھی ہوتی ہے، آپ نے فرمایا: فالمومن یتقلّب فی خمسۃ من النّور مدخلہ نور، و مخرجہ نور، و علمہ نور، وکلامہ نور و مصیرہ الی الجنّۃ نور = پس مومن پانچ مقام پر نور سے بہرہ اندوز ہوتا رہتا ہے: اس کے داخل ہونے کی جگہ نور ہے، اس کے نکلنے کی جگہ نور ہے: اس کا علم نور ہے، اس کا کلام نور ہے، اور اس کا جنّت کی طرف لوٹ جانا نور ہے۔ (المیزان،جلد۱۵،ص۱۴۰)۔
حکمت نمبر۱۷: جب کوئی مومنِ سالک جسمانی موت سے پہلے ہی علم و عمل سے امامِ زمانؑ میں فنا ہو جاتا ہے تو اس معنی میں وہ فنا فی الرسولؐ، اور فنافی اللہ بھی ہوچکا ہوتا ہے، ایسے میں خدا اور رسولؐ اور امام کا نورِ واحد اس کا نور ہوجاتا ہے، یعنی اس پر یہ سرِّعظیم منکشف ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی انائے علوی میں نورِ مطلق سے
۳۵
واصل رہا ہے، اور کبھی جُدا ہی نہیں ہوا، کیونکہ نور ایک ہی ہے، مگر آئینوں کی وجہ سے کثرت نظر آتی ہے، جیسے سورج کے لئے چاند اور بے شمار ستارے گویا آئینے یا مظاہر ہیں، پس ان کے اجرام میں فصل (جدائی) تو ہے، لیکن روشنی میں فصل نہیں، وصل ہی وصل ہے پھر بھی یہ چیزیں مادّی ہیں، اس لئے حقیقت کی کُلّی ترجمانی مشکل ہے۔
حکمت نمبر۱۸: عالمِ کثرت (دُنیا) میں آفتاب، ماہتاب اور بے حساب ستارے سب کے سب الگ الگ اور منتشر ہیں، جبکہ عالمِ وحدت کا قانون اس سے بالکل مختلف ہے، اس میں ایک ہی نور ہے، جو شمس و قمر اور نجوم سب کا کام کر رہا ہے، وہی مِصباح ومصابیح اور سِراجِ مُنیر بھی ہے، کیونکہ خدائے بزرگ و برتر کا یہ معجزۂ اکبر بڑا قیامت خیز ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی خدائی میں قبض و بسط کا کام کرتا رہتا ہے (۰۲: ۲۴۵) یعنی عالمِ کثرت کو دستِ قدرت میں لپیٹ کر عالمِ وحدت بنا لیتا ہے، حالانکہ یہ دونوں اپنی اپنی جگہ قائم بھی ہیں، پس اگر ہم یہاں یہ کہیں کہ عالمِ وحدت یا عالمِ لطیف یک حقیقت (MONOREALITY) ہے تو ان شاء اللہ یہ بات غلط نہ ہوگی۔
۳۶
حکمت نمبر۱۹: آپ کو اس حکمتِ خداوندی میں بجا طور پر غور و فکر کرنا ضروری ہے کہ قرآنِ حکیم میں نورِالٰہی کی مثل روشن چراغ (مصباح۲۴: ۳۵) ہے، اور نورِنبیؐ کی مثل بھی روشن چراغ (سِراجِ مُنیر۳۳: ۴۶) ہے، اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اس چراغِ ہدایت کو اہلِ انکار نہیں بجھاسکتے ہیں (۹: ۳۲،۶۱: ۸) تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ بحقیقت عالمِ باطن میں دو نہیں ایک ہی روشن چراغ کافی ہے، کیونکہ جب خدا خود ہی اپنی کتابِ عزیز میں لفظِ “مُنیر” کو اعلیٰ معنوں میں استعمال کرتا ہے (نورِازل = نورِعقلِ کُلّی = کتابِ مُنیر ۳: ۱۸۴،۲۲: ۸،۳۱: ۲۰،۳۵: ۲۵، عرش وکرسی = قلم ولوح: سِراجاً (وھّاجًا۷۸: ۱۳) قمراًمنیراً۲۵: ۶۱) تو اسی نورِ واحد میں عالمِ وحدت کی جملہ خوبیاں جمع ہوجاتی ہیں، اور امامِ حیّ و حاضرؑ کی پاک و پاکیزہ ہستی بمرتبۂ جانشینِ رسولؐ اسی نورِمطلق کی حامل ہے جس کا نام روشن چراغ ہے۔
حکمت نمبر۲۰: اگر کوئی عزیز مجھ سے یہ سوال کرے کہ جن اسمٰعیلی جماعتوں میں چراغِ روشن کا رواج نہیں ہے، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آیا وہ اس نعمتِ عُظمٰی سے محروم ہیں؟ یا اس جیسی نعمتیں ان کے پاس بھی ہیں؟ میں جواباً عرض کروں گا کہ دنیا میں
۳۷
امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام کی کوئی ایسی جماعت موجود نہیں، جس کو کوئی خاص دینی نعمت حاصل نہ ہو، میں نے دُنیا کی کئی جماعتوں میں جاکر دیکھا اور جن ممالک میں نہیں جاسکا، ان کے بارے میں سُنا کہ مولا کے مرید دنیا کے جس حصّے میں بھی ہوں، ان کے پاس امامِ زمانؑ کی محبت اور وابستگی کے لئے کوئی نہ کوئی رسم ہوتی ہے، جس سے ان کو اعتقادی طور پر بڑا فائدہ ملتا ہے۔
حکمت نمبر۲۱: قانونِ فطرت اور فعلِ قدرت لوگوں کے ساتھ ساتھ ہے، جب کہ خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اور وہ آدمی کی شہِ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے(۵۰: ۱۶) تو پھر اس میں کیا راز پہنان ہے جو فرمایا گیا کہ خدا نے پیغمبروں کو بھیجا (اَرسَلَ)؟ کتابیں نازل کی گئیں؟ روح بھیجی گئی (۱۹: ۱۷)؟ اور اس نے نور نازل کیا (۰۴: ۱۷۴) آیا اس قسم کے خطابات میں مکانی دوری اور بلندی کا تصوّر موجود نہیں ہے؟ جواب: یہ مثالیں اور حجابات ہیں، اور ان کے ممثولات و محجوبات بڑے عجیب و غریب ہیں، چنانچہ قرآنِ حکیم میں عوام کو سمجھانے کی خاطر فرمایا گیا: اَرسَلَ، اور یہی مثال حقیقت پر حجاب بھی ہے، پس اس کا ممثول و محجوب ہے: بَعَثَ (۰۲: ۲۱۳) جس کے معنی ہیں: زندہ کیا، اور تاویل ہے: کاملین کو جیتے جی مقامِ روح پر بھی اور مرتبۂ عقل پر بھی موت و
۳۸
حیات کا مکمل عملی تجربہ کرانا، تاکہ ان کو ہرگونہ علم و معرفت حاصل ہو، اب ایسے میں خاصانِ الہیٰ کو ہر نعمت دست بدست سامنے سے دی جاتی ہے، بھیجی نہیں جاتی، اور نہ ہی نازل ہوتی ہے، تاہم مکانی اور جغرافیائی اعتبار سے نہیں، بلکہ روحانی اور شرفی لحاظ سے دوری و نزدیکی یا پستی و بلندی بھی ہے۔
تاریخی نوٹ نمبر۱: اس دفعہ سفرِ مغرب کے بعد یارقند (چین) جانے کا ارادہ مُصمم ہوا، اور ۳ ستمبر۱۹۹۲ کو گلگت سے روانہ ہوکر سوست پہنچ گیا، دوسرے دن یعنی ۴ ستمبر کو کاشغر گیا، اور پانچ تاریخ کو یارقند، جہاں زرافشان میں میرا فرزندِ عزیز سیف سلمان خان اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہے، یارقند اور کاشغر میں تقریباً ۲۲ دن رہنے کے بعد واپسی ہوسکی، پروردگارِعالم کے فضل و کرم سے سفر بہت کامیاب ہوا، ہر چند کہ طوفانی بارش کی وجہ سے ہمارے علاقے کا راستہ بڑی حد تک خراب ہوچکا تھا، جس کے سبب سے بہت کچھ تکلیف ہوئی، لیکن کامیابی کے بعد تکلیف کہاں یاد رہ کر ستاتی ہے؟
نوٹ نمبر۲: خدا کی قدرت انتہائی نرالی شیٔ ہوا کرتی ہے، چنانچہ نہ تنہا مجھے بلکہ بہت سے لوگوں کو بھی اس واقعہ سے بڑا تعجب ہوا کہ میرے بڑے بھائی سہرابی خان (جن کی عمر تقریباً ۹۷ برس کی تھی جو عرصے
۳۹
سے علیل تھے) ملاقات اور مختصر سی بات چیت کے بعد ہی رات کے وقت انتقال کر گئے، ایسا لگا ، جیسے اس میں خداوندِ عالم کی کوئی حکمت ہو، پھر ہم نے اپنی سی حقیر کوشش کی، تاکہ ان بے شمارلوگوں کوجو سات دن تک مسلسل آتے رہے، کچھ نہ کچھ علم کی باتیں بتائیں، ہمارے علاقے کا رواج بھی یہی ہے کہ اگر ایسی محفل میں کوئی عالم شخص ہو، تو اس کی باتوں سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں، خداوندِ قدوس کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ برادرِ بزرگ کی روح کے حق میں بہت سے مومنین و مومنات کی پُرخلوص دعاؤں کے علاوہ علمی گفتگو کا کارِ خیر بھی ہوا۔
نوٹ نمبر ۳: گلگت ہمارے علاقہ جات کا چھوٹا سا شہر اور مرکز ہے میں ۶اکتوبر ۱۹۹۲ کو گلگت آیا، یہاں عظیم اور عزیز دوستوں کی ملاقاتوں کی ایک تازہ بہار کی آمدآمد تھی، احباب بار بار پوچھے تھے کہ ڈاکٹر فقیر محمد صاحب ہونزائی، رشیدہ نور محمّد ہونزائی، اور مسٹر ظہیر لالانی کب تشریف لاتے ہیں؟ ان کی اور دوسرے احباب و رفقاء کی ملاقات کی حلاوت اس وقت نقطۂ وعروج پر پہنچ جاتی تھی، جب کہ ہم سب کسی روحانی مجلس میں جمع ہوتے تھے، چنانچہ چند بابرکت گھروں میں نورِ امامت کے بہت سے پروانوں کے ساتھ علم و ذکر کی محفلیں ہوئیں، جن میں ہر عاشقِ مولا مست و بیخود نظر آتا تھا، جیسے چیف ایڈوائزر
۴۰
غلام قادر صاحب، صدر سلطان اسحاق صاحب، صوبیدار میجرعبدالحکیم صاحب، اور رسیئردلدار صاحب، محبوب صاحب، الف خان صاحب، اور میں نے سنا کہ علی آباد میں ڈاکڑ اسلم صاحب کے گھر میں بھی سب پر یہ کیفیّت گذری۔
نوٹ نمبر۴: میں حیرت زدہ اور مبہوت ہوں کہ کس ملک کے عزیزوں کا ذکرِ جمیل کروں! حالانکہ یہ بات ایک طرح سے آسان بھی ہے کہ ہم ایک میں سب کے قانون کو مانتے ہیں، تاہم باطن سے قبل ظاہر کے بہت سے مراحل آتے ہیں، لہٰذا کسی وجہ یا بہانے سے دوستانِ حمیم کا کچھ تذکرۂ شیرین ہونا چاہئے، چنانچہ حسنِ اتفاق سے جب اس دلپسند مقالہ کی حکمتیں ۲۱ ہوگیئں، تو مجھے شکاگو (امریکہ) کا ایک خوشگوار وقعہ یاد آیا، وہ یہ ہے: ۔
میں ان دنوں عزیزانم حسن کامڑیا اور کریمہ حسن کے گھر آیا ہوا تھا، میرے دوسرے عزیزوں میں سے ایڈوائزر اکبر اے علی بھائی اور انکی بیگم شمسہ اے علی بھائی ملاقات کے لئے آئے، اور انہوں نے اکیس(۲۱) قسم کے پھلوں کا دسترخوان بچھادیا، میں نے کہا کہ اتنے سارے پھل کیوں؟ کہنے لگے کہ آپ میں جو ریسرچ اور ہر چیزکو جاننے کا ذوق ہے اس کی تسکین کی خاطر، پھر میں نے شمسہ بیٹی سے کہاں کہ پلیز، آپ ان
۴۱
پھلوں کی لسٹ بنادیں، تو انہوں نے ۲۱ میوؤں کو انگریزی میں لکھ کر دیا، جو اب تک میرے پاس محفوظ ہے، اور اس کی تاریخ ہے،۱۹،جولائی ۱۹۹۲ء۔
نوٹ نمبر۵: علم کی اس مقدّس خدمت کے سلسلے میں جن جن عزیزوں کی جیسی قابل قدر شرکت ہے، اس کے باب میں ہم چند حقیر الفاظ لکھیں یا نہ لکھیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ خدائے علیم وحکیم کی طرف سے جو حافظین/ کراماً کاتبین مقرر ہیں، (۸۲: ۱۰ تا ۱۱) وہ تو کسی فروگذاشت کے بغیر ہر چیز کو لکھتے ہیں، لیکن قرآنِ پاک میں جس تاویل کے آنے کی پیش گوئی ہے (۰۷: ۵۳) اس کا سلسلہ جاری ہے، اس لئے ہمیں حافظین: کراماً کاتبین اور نامۂ اعمال کے بارے میں فکرِجدید کے تقاضوں اور روحانیت کے اصولوں کے مطابق سوچنا ہوگا، کیونکہ ہمارا یہ خیال درست نہیں کہ نامۂ اعمال کسی دنیوی کتاب کی طرح مادّیت میں ہوگی، جب کے فرشتوں کی تحریر دنیا کی لِکھت جیسی نہیں ہے، وہ تو اس سے قطعاً مختلف ہے، آپ کو کس طرح سمجھائیں کہ نامۂ اعمال ایسا ہے؟ تاہم ایک چھوٹی سی مثال ہے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ بتایا جاسکتا ہے، وہ متحرّک فلم (مووی MOVIE) ہے، لیکن کتابِ
۴۲
اعمال جو روحانیت کی مووی ہے وہ معزز فرشتوں کی تیار کردہ ہوتی ہے، اس لئے وہ عقل و جان اور علم و حکمت کی خوبیوں سے آراستہ ہوا کرتی ہے، جبکہ دنیا کی فِلم میں نہ تو عقل ہوتی ہے اور نہ جان، پھر بھی وہ اخلاقی، مذہبی اور علمی قسم کی ہوسکتی ہے، تاکہ ہم اس کے پیشِ نظر یہ کہہ سکیں کہ روحانیت یا فرشتوں کی تحریر کچھ ایسی ہوا کرتی ہے۔
نوٹ نمبر۶: خانۂ حکمت ریجنل برانچ گلگت کے صدر سلطان اسحاق صاحب کی پُرخلوص فرمائش پر چراغِ روشن کا یہ مقالہ لکھاگیا۔ ان کا دل امامِ زمانؑ کے نورِ عشق سے معمور اور روشن ہے اور آپ پیاری جماعت کے خیرخواہ اور علم و حکمت کے بڑے قدردان ہیں، اسی وجہ سے ان کے مشورے پر ایسا پُرحکمت مضمون تیار ہوگیا، الحمداللہ! خداوندِعالم کا بہت بڑا احسان ہے،
نصیر حقیر۔ کراچی
۹۲۔۱۲۔۶
۴۳
حکیم پیر ناصرِخسرو ایک علمی کائنات
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ تو ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ جہانِ ظاہرعالمِ کبیر ہے اور انسان عالمِ صغیر، جیسا کہ پیر ناصرخسرو نے ’’روشنائی نامہ‘‘ میں ارشاد فرمایا:
مراین را عالمِ صُغراش گفتند
مرآن را عالمِ کُبراش گفتند
(ترجمہ) اس یعنی انسان کو عالمِ صغیر کا نام دیا گیا ہے، اور بیرونی جہان عالمِ کبیر یا عالمِ اکبر کہلاتاہے، دیکھئے قاموس القرآن، صفحہ۳۴۴ پر حضرتِ امام جعفرالصّادق علیہ السّلام کے حوالے سے لفظِ عالم اور عالمین کی تفسیر، تشریح، اورحقیقت۔
لیکن کیا اس معنٰی میں عوام و خواص بلافرق و امتیاز سب ایک جیسے ہوسکتے ہیں؟ نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ امرِواقعی یوں ہے
۴۵
کہ انسان اگرچہ بحدِّ قوت ایک عالم ہے، تاہم یہ کاملین ہی کی مرتبتِ عُلیا ہے کہ صرف وہی حضرات اپنے آپ کو فِعلاً ایک روحانی اور علمی کائنات پاتے ہیں، اور بس، اور یقیناً یہی وصف بدرجۂ کمال حکیم ناصرِ خسرو کا ہے۔
آپ کا ایک عرفانی خزانہ: روشنائی نامہ:
اس مثنوی کا آغاز اللہ تبارک و تعالیٰ کی تعریف و توصیف سے ہوتا ہے ، اس سلسلے میں پیر صاحب فرماتے ہیں:
ہزاران سال اگر گوُیند و پوُیند
در آخررُخ بخونِ دیدہ شوُیند
(ترجمہ): اگر وہ ہزاروں سال اسی طرح قیل و قال کرتے چلے جائیں، پھر بھی آخرکار وہ (ناکام ہوکر) خون کے آنسوؤں سے اپنا چہرہ دھولیں گے، اس کے بعد فرماتے ہیں:
چُنین گفتند رَو بشناس خود را
طریقِ کفر و دین ونیک و بد را
(ترجمہ): انھوں (یعنی پیغمر اور امام علی علیھماالسّلام) نے یوں ارشاد فرمایا کہ جا تو اپنے آپ کو پہچان لیا کر، تاکہ تو خود شناسی کے ذریعہ کفروایمان اور نیک و بد کی شناخت کرسکے۔ موصوف پیر کا اشارہ ’’اعرفکم بنفسہ اعرفکم بربّہ‘‘ اور ’’من عَرَفَ نفسہ فقدعرف ربّہ‘‘ کی طرف ہے۔ یہاں
۴۶
معرفت سے متعلق پہلا ارشاد آنحضرت صلعم کا ہے، اور دوسرا ارشاد مولا علیؑ کا، آپ اس کی حکمت پر خوب غور کریں: یعنی جو شخص تم میں سب سے زیادہ خود شناس ہو، وہی تم میں سب سے زیادہ خدا شناس ہے، جس شخص نے اپنے آپ کو پہچان لیا پس تحقیق اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔
اب یہ پوچھنا ضروری ہوا کہ حکیم ناصرِخسرو کے نزدیک انسان کی خودی، یا انا، یا حقیقت کیا ہے؟ یا یوں سوال ہونا چاہیے کہ آیا نفس سے روح مراد ہے؟ روحِ نباتی؟ روحِ حیوانی؟ روحِ انسانی؟ یا روحِ قدسی؟ آیا ایسی کتاب میں کہیں ہمارے اس اہم ترین سوال کا تسلّی بخش جواب مل سکتا ہے؟ کیوں نہیں، وہ جوابِ باصواب حسبِ ذیل ہے:
۱۔ توئی جانِ سخن کوئی حقیقی
کہ باروح القدس دائم رفیقی
۲۔ بہ چشمِ سر جمالت دیدنی نیست
کسی کودید رُؤیت چشمِ معنیست
۳۔ زجای و از جہت باشی مُنزّہ
ببین تاکیستی انصافِ خود دہ
۴۔ نگر تادرگمان این جا نیفتی
قدم بفشار تا از پا نیفتی
۴۷
۵۔ صفت ہایت صفت ہای خدائیست
ترا این روشنی زان روشنائیست
۶۔ ہمی بخشد کزوچیزی نکاہد
ترا دادودہد آن را کہ خواہد
۷۔ زنورِ اُو تو ہستی ہمچو پرتَو
وجودِخود بپرداز وتو اوشو
۸۔ حجابت دور دارد گر نجوئی
حجاب ازپیش برداری تو اُوئی
۹۔ اگر دعوٰی کنم واللہ کہ جایست
حقیقت ناصرِ خسرو خدایست
ترجمہ: ۔
۱۔ تو دراصل وہ روح ہے جو حقیقی معنوں میں بولنے والی ہے، کیونکہ تو ہمیشہ روح القدس کی رفاقت میں ہے،
۲۔ تیرے روحانی حسن و جمال کو ظاہری آنکھ دیکھ نہیں سکتی، جس نے یہ دیدار دیکھا ہو وہ تو دیدۂ باطن ہی سے ہے،
۳۔ توبحقیقت مکان و اطراف کی قید سے پاک و برترہے، ایسے میں دیکھ کہ تو کون ہے اور اپنا انصاف خود کرلے۔
۴۔ اچھی طرح دیکھ لے تاکہ یہاں گمان میں نہ پھنس جائے قدم
۴۸
جما کر چلنا تاکہ تو گر نہ جائے،
۵۔ تیری اصل صفات خداوندِ عالم کی صفات ہیں (بحکمِ حدیثِ شریف: تُخلِّقوا باخلاق اللہ) تجھ کو یہ روشنی اسی روشنی سے حاصل ہے۔
۶۔ خدا تعالیٰ اس طرح نور عطا فرماتا ہے کہ اس سے کوئی شیٔ ہرگز کم نہیں ہوسکتی، تجھے دیا ہے اور جس کو چاہے دے سکتا ہے۔
۷۔ اس کے نور کا تو گویا زندہ عکس(تصویر) ہے، اپنی ہستی سے فارغ(فنا) ہوکر تو ”وہ” ہے۔
۸۔ اگر تو اس کو طلب نہ کرے تو تیرا حجاب تجھ کو اس سے دور رکھے گا، اور جب تو اپنے سامنے سے حجاب (پردہ) ہٹائے تو یقین ہوگا کہ تو” وہ” ہے۔
۹۔ اگر میں دعوٰی کروں تو خدا کی قسم بر محل ہے کہ حقیقت میں ناصرِ خسرو فنافی اللہ و بقا بااللہ کا ایک نمونہ ہے۔
ترکِ تقلید۔ دعوتِ فکر و تحقیق اور تاویل:
حضرتِ پیر فکرو تحقیق اور تاویل کی طرف پرزور دعوت دیتے ہوئے تقلید کی مذمّت کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ محمد (۴۷: ۲۴) میں ہے: أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا = تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے
۴۹
(لگے ہوئے) ہیں، چنانچہ شاہ ناصر کا قول ہے:
سراسر پُر زتَمثالست تنزیل
تو زو تفسیر خواند ستی نہ تاویل
قرآن کا ظاہر (تنزیل) شروع سے لے کر آخر تک تمثیلات و تشبیہات سے پُر ہے، تو نے اس کی تفسیر پڑھی ہے، لیکن تاویل سے بے خبر ہے۔
خزانۂ دوم: خوانُ الأخوان:
یعنی برادرانِ دوستانِ کرام کے لئے علم و حکمت کی گوناگون نعمتوں کا دائمی دسترخوان، جس کی روحانی اور عقلی لذّتیں کبھی کم نہیں ہوسکتیں، جبکہ ہر مادّی نعمت یا تو ختم ہو جاتی ہے یا شکم سیری کی وجہ سے پھیکی ہونے لگتی ہے، لیکن علمی نعمت کا مزہ عقلی ارتقاء کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ بہشتِ روحانیتِ کی لافانی حلاوتوں کو چھونے لگتا ہے۔
دسترخوان کی مناسبت سے یہ بات یاد آگئی کہ حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کا ایک عظیم معجزہ یہ ہے کہ آپؑ کی درخواست پر خدائے بزرگ و برتر نے حواریوں کے لئے مائدہ علمِ روحانی(۰۵: ۱۱۴) نازل فرمایا، جس کا بہت بڑا رازِ روحانیت اس طرح ہے: ۔۔۔۔۔ تَکُونُ لَنَا عِیْداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا (تا کہ یہ ہمارے اوّلین و آخرین کے
۵۰
حق میں عیدِ سعید ثابت ہو) یعنی اس میں اللہ کے اس لطفِ عمیم کا مظاہرہ ہوجائے، جو ہر زمانے میں حدودِ دین پر محیط ہے۔
نمو نٔہ نعمت از خوانِ نعمت:
علم و حکمت کے اس وسیع و عریض دسترخوان کی انتہائی شیرین و خوشگوار نعمتوں کی رعنائی اور دلکشی کا کیا کہنا، جس پر سو۱۰۰ صفوں میں قطار درقطار بہشتی غذائیں چُنی گئی ہیں، میں عالمِ حیرت میں دماغ پر زور دے دے کر سوچتا رہا کہ اس گنجِ گرانمایہ سے کس دُرِّ شہوار کو برائے نمونہ منتخب کروں، درحالے کہ یہاں علم و معرفت کا ہر موتی انمول اور تابناک ہے! پس میں نے تھوڑی دیر کے لیے کتابِ ہذا بند کرلی، اور نیّت کرکے دوبارہ کھولی، تو اس حال میں ص۷۹ پر”صفِ بیست۲۴وچہارم” کا عنوان میرے سامنے آیا، جس کے تحت ہمارے عظیم المرتبت اور نامور حکیم پیر نے اپنے مخصوص اندازِ تحریرمیں اسمِ بزرگِ ”اللہ” کی دلنشین تاویل بیان کی ہے، پیر فرماتے ہیں کہ: ۔
جان لو کہ یہ چار حروف (ال ل ہ) جو اس بزرگ اسم (اللہ) میں ہیں، وہ چار اصول کی دلیل ہیں، جن میں سے دو روحانی اور دو جسمانی ہیں، کیونکہ تمام روحانی اور جسمانی مخلوق کا قیام انہی کے نظام پر ہے، جیسے مقرّب فرشتوں اور نیک بندوں کی مثال سے یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے، چنانچہ ان حروف میں سے ہر حرف دونوں جہان کی خوبیوں کا
۵۱
سرچشمہ ہے، جیسے” الف” کہ وہ عقلِ کلّ کے مقابل ہے، جو سرچشمۂ تائید ہے، اسم ”اللہ” سے” لام” جو نفسِ کلّ کے مقابل ہے، جو ترکیب (تخلیق) کا سرچشمہ ہے، دوسرا لام جو ناطق کے مقابل ہے، جو تالیف (جمع آوری) کا سرچشمہ ہے، اور”ھا” کہ وہ مقابلِ اساس ہے، جو بیان وتاویل کا سرچشمہ ہے، پس خدا کے اس نام کے حروف برابر ہیں دونوں عالم کی خیر و خوبی کے سرچشموں کے ساتھ، (یعنی عقلِ کلّ / قلم، نفسِ کلّ / لوح، ناطق اور اساس)۔
خزانۂ سوم: گشائش و رہائش:
اس پُرحکمت رسالے میں حضرتِ پیر نے تیس۳۰ انتہائی پیچیدہ مسائل کے حکیمانہ جوابات مہیّا کردیئے ہیں، ان اُلجھے ہوئے اور شکوک و شبہات بھرے ہوئے سوالات کو زمانے میں سوائے حکیم ناصرخسرو کے اور کوئی حل نہیں کرسکتا تھا، لہٰذا آپ ہی نے یہ کام اپنے ذمّہ لیا، اور حجّتِ امامؑ کی مرتبتِ عالیہ میں ہر بیان اور جملے سے علمِ روحانی کے جواہر بکھیر دیئے، لیکن مجھے بڑا افسوس ہے کہ ایسی عزیز و عالیشان کتاب کے متن میں چند مقامات پر کُورانہ تقلید و تعصّب کی وجہ سے مخالفانہ جملے اس طرح داخل کردیئے ہیں کہ ان کی شناخت طالب علموں کے لئے مشکل ہوگئی ہے، کیونکہ ایسی باتیں فٹ نوٹ، حاشیہ، یا بریکٹ میں نہیں ہیں، تاہم اس پیاری کتاب کا وہ اردو ترجمہ جو
۵۲
اسماعیلیہ طریقہ بورڈ میں محفوظ ہے، مذکورہ آلائش سے پاک ہے، کیونکہ جب محترم دوست جون ایلیا صاحب “گشائش ورہائش” کا ترجمہ کر رہے تھے، تو اس دوران یہ خاکسار ان داغوں کی نشاندہی کرتا تھا۔
بطورِ نمونہ: سولھواں مسئلہ:
اے برادر تم نے یہ پوچھا ہے کہ ”عالَم ” کیا ہے؟ اور جس شَیٔ کو عالَم کہتے ہیں، وہ کیا ہے؟ اسے عالَم کیوں کہا گیا؟ اور عالَم کتنے ہیں؟ بیان کرو، تا کہ ہمیں اس کی معرفت حاصل ہو۔
جواب: اے بھائی! جاننا چاہیے کہ ”عالَم” علم سے مشتق ہے، اس لئے کہ عالَمِ جسمانی کے اجزاء میں علم کے آثار نمایان ہیں، ہم کہتے ہیں کہ عالَم کی نہاد و بنیاد بطورِ خود ایک حکمت اور تمامتر حکمت ہے، مثلاً عناصرِاربعہ کا اجتماع، جن میں سے ہر ایک عنصر ایک اعتبار سے دوسرے کے موافق ہے، اور ایک اعتبار سے مخالف، جیسے آگ اور ہوا کہ یہ دونوں گرمی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مُتحد ہیں اور خشکی اور تری کے اعتبار سے مخالف اور جُدا، اسی طرح ہوا اور پانی تری کے اعتبار سے ایک دوسرے سے متحد ہیں، مگر گرمی و سردی کے اعتبار سے جُدا، یہی صورت پانی اور مٹی کی ہے کہ یہ دونوں سردی کے اعتبار سے مُتحد ہیں، اور خشکی کے اعتبار سے جُدا،
۵۳
اسی طرح مٹی اور آگ خشکی کے اعتبار سے آپس میں مُتّحد ہیں اور سردی و گرمی کے اعتبار سے جُدا۔۔۔۔۔۔۔۔
خزانۂ چہارم: رسالۂ حکمتی:
ہر چند کہ یہ رسالہ صرف ۲۰ صفحات پر مشتمل ہے، لیکن یہ حجّتِ امامؑ کے تائیدی علم کی دولت سے مالامال ہے، اس لئے اہلِ دانش کے نزدیک یہ علمی کرامات کا مجموعہ ہے، اگر چہ ظاہری دریا کُوزے میں بند نہیں کیا جاسکتا، لیکن شاہ ناصر نے خدا کے فضل و کرم سے ہر بار دریائے علم و حکمت کو کوزے میں بند کردیا ہے، یہی سبب ہے کہ دنیائے علم و ادب میں آپ کی گرانمایہ کتابوں کا چرچا ہوتا رہا، جن پر بڑے شوق سے ریسرچ (تحقیق) کرتے ہوئے بہت سے محقّقین اپنی عمریں صرف کر رہے ہیں، ہمیں دیکھنا اور سوچنا ہوگا موصوف حکیم کی طرف ایک دنیا کیوں مائل نظر آرہی ہے؟ آخر اس میں کوئی بڑا راز ہوگا، ہاں، وہ عظیم راز سید شاہ ناصر کا “علمِ لدنّی” ہے اور یہ آپ کے علمی ذخائر میں آج بھی درخشان و تابان موجود ہے۔
رسالۂ حکمت کے جواہر پارے:
رسالۂ ہذا چوٹی کے ۹۱ أسئِلہ کے جواب میں ہے، وہ سوالاتِ حذف شدہ فلسفی، منطقی، طبعی، نحوی، دینی، اور تاویلی ہیں، چنانچہ
۵۴
حکیمِ نامور سب سے پہلے ”دَھر” سے بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دہر ارواحِ مجرّد کی بقائے مطلق کا نام ہے، جس کا تعلق ان موجودہ جسموں سے نہیں، دہر میں بگاڑ اور فنا کی کوئی گنجائش نہیں، نیزکہتے ہیں کہ دہر ایک ایسا زندہ وجود ہے جو اپنی ذات کو قائم رکھتا ہے، یعنی جس کی حیات اپنی ذات سے ہو وہ نہیں مرتا ہے ، اور جو چیز نہیں مرتی ہے، اس کی بقا خود دہر ہی ہے ، اور کہتے ہیں کہ دہر(ساکن ہے، یعنی اٹل، جس) سے زمان گردش کرتا ہے، ۔۔۔۔۔
خزانۂ پنجم: سفر نامہ:
دنیائے علم و ادب کے بڑے نامی وگرامی علماء، فُضلاء، ادباء، شُعراء، ڈاکٹرز، اور ریسرچ سکالرز نے جس شان سے حکیم ناصر خسرو کی پُرمغزو پُرمایہ کتابوں کی تعریف و توصیف فرمائی ہے، اورجیسے مرقوماتِ زرّین کی جگمگاہٹ ہے، اس کو دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں، اور شدید خجالت و شرمساری کا احساس ہوتا ہے، اور اس بندۂ ناچیز کا دل کہتا ہے کہ کاش! اے کاش، ہم بھی ایسی سنہری تحریروں سے ان عالیقدر کتب کا تعارف کراسکتے! جبکہ ہم بجاطور پر علمِ امامت کے دلدادہ عاشق ہیں، جو ہم کو اپنے حجّتوں اور پیروں کے توسط سے ملاہے، کیونکہ بحکمِ قرآن و حدیث مومینن کے روحانی ماں باپ ہوا کرتے ہیں۔
۵۵
سفرنامہ کا ایک کمال:
سلسلۂ مطبوعاتِ انجِمن ترقّیٔ اردو(ہند)نمبر۱۳۷۔ سفرنامۂ (حکیم) ناصرِخسرو۔ مترجمۂ: مولوی محمّدعبدالرّزاق، کانپوری۔ شائع کردہ: انجمنِ ترقّی اردو،(ہند)، دہلی۱۹۴۱ء
۱۔ تمہید: ۱۳۱۶ھ ۱۸۹۸ء میں دہلی جانے کا اتفاق ہوا، زمانۂ طالبِ علمی سے شمس العُلمَاء خان بہادر ذکاءُ اللہ دہلوی سے شَرفِ نیاز حاصل تھا، لہٰذا سلام و مزاج پرسی کے لئے مولانا کی خدمت میں بھی حاضر ہوا۔
اثنائے گفتگو میں عربوں کی سیروسیاحت کا تذکرہ شروع ہوگیا، اس کے بعد سیاّحانِ عجم کی باری آئی، تو شمس العُلَماء نے سفر نامہ فارسی حکیم ناصر خسرو کا ذکر کیا، اور یہ بھی ارشاد ہوا کہ ”خواجہ الطاف حسین حالی نے چند سال ہوئے کہ یہ سفر نامہ مع مقدمہ شائع کیا ہے تم اس کو ضرور پڑھو۔”
مولانا سے رخصت ہوکر دریبہ (دہلی کا مشہور بازار) کی سَیر کی اور مشہور کتاب خانوں کو دیکھا تو حسنِ اتفاق سے سفر نامہ مذکور جو۱۳۰۰ھ ۱۸۸۲ء میں شائع ہوا تھا مل گیا، یہ نادرالوجود سفرنامہ نواب ضیاء الدّین احمد خان بہادر، رئیسِ لوہارو کے قلمی نسخے
۵۶
کی نقل تھا، میں نے یہ سیاحت نامہ دورانِ سفر(ازدہلی اسٹیشن تا کانپور) میں پڑھا اور پڑھ کر بے انتہا مسرّت ہوئی، کیونکہ نہ صرف ادبی حیثیت بلکہ وقایعِ سیاحت اور عجائباتِ عالم کے لحاظ سے بھی نہایت جامع اور دل چسپ تھا، اس بناء پر تنقید کی نظر سے دو مرتبہ اور مطالعہ کیا، جب مضامین اور طرزِ انشاء پر عبور ہوگیا تو نُدرت کے لحاظ سے ترجمے کا خیال پیدا ہوا، اور اس ضرورت سے خواجہ بزرگ حالی کو جنوری۱۳۱۸ھ؍۱۹۰۰ء میں ایک عریضہ لکھا،۔۔۔۔۔
خزانہء ششم: جامع الحکمتَین:
یعنی ایسی کتاب، جس کے موضوعات میں حکمتِ ظاہر(فلسفہ وغیرہ) اور حکمتِ باطن دونوں سے کام لیا گیا ہے، یہ پُرحکمت کتاب بھی ایسی بہت سے اسئلہ کے جواب میں تصنیف ہوئی ہے، جو انتہائی مشکل ہیں، لیکن جن حضرات کے ساتھ آسمانِ روحِ اعظم کی تائیدات کام کر رہی ہوں، ان کے نزدیک کوئی مسئلہ مشکل نہیں ہوسکتا، چنانچہ حجّتِ خراسان کی یہی عادت تھی کہ آپ ہمیشہ انتہائی مشکل سوالات اور عُقدہ ہائے ناکُشودنی کو لوگوں کے لئے حل کردیتے ہیں کہ اپنی پسند اور معلومات کے مطابق بولنا اور لکھنا بڑا آسان کام ہے، لیکن علم و حکمت کا سب سے بڑا امتحان اس وقت سامنے
۵۷
آتا ہے، جبکہ کسی مشکل سوال سے واسطہ پڑے، مگر ہم یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ حُجّتِ مستنصری وہ عظیم المرتبت شخصیّت تھے، جن پر ہر وقت علمِ لدُّنی کے ابواب مفتوح رہتے تھے۔
نمونۂ حکمت ازجامع الحکمتَین:
ص۱۰۹،امّااہلِ تاویل علیھم السّلام کا جواب عالمِ ابداع کے سات انوار کی نسبت یہ ہے جو فرمایا: جو کچھ عالمِ حسّی میں موجود ہے، وہ اس چیز کے اثر سے ہے جو عالمِ علوی میں موجود ہے، جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ عالمِ ظاہر میں سات ستارے ہیں، جن سے مخلوقات روشنی اور لطافت حاصل کر رہی ہیں، تو یہ موجوداتِ نورانی (یعنی ستارے) اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ عالمِ علوی میں سات انوارِ اوّلی و ازلی ہیں، کہ وہ ازلی چیزیں علِّتیں ہیں ان جسمانیوں کے انوار کے لئے، اور وہ سات ازلی انوار میں سے ایک تو ابداع ہے، دوسرا جوہرِعقل، تیسرا مجموعِ عقل، کیونکہ اس کے تین مرتبے ہیں، یعنی وہ عقل بھی ہے، عاقل بھی ہے ، اورمعقول بھی، اورکسی موجود کے لئے یہ خاصیّت نہیں سوائے عقل کے، کہ وہ (یعنی فرشتۂ عقل) اپنے آپ کو جاننے والا ہے، اوراس کی ذات جانی ہوئی ہے، چوتھا نور نفسِ کُلّ ہے، جوعقل سے مُنبعِث (برانگیختہ) ہوا ہے، پانچواں نور جدّ (اسرافیل) ہے، چھٹا فتح (میکائیل) ہے، اور ساتواں نور خیال
۵۸
(جبرائیل) ہے۔
خزانہ ہفتم: دیوانِ اشعار:
حضرتِ پیر کے ان القاب سے آپ کی روحانیّت و نورانیّت اور علم و حکمت کا پتا چلتا ہے: حجّت، حجّتِ خراسان، حجّتِ مستنصری، حجّتِ فرزندِ رسولؐ، حجتِ نائبِ پیغمبرؐ، سفیرِ امامِ زمانہؑ، مامور، امینِ امامِ زمانؑ، مختارِ امامِ عصرؑ، مُستعینِ محمّدؐ، اور برگزیدۂ علیّ المرتضیٰ (دیوانِ اشعار، چاپِ دوم، مقدمّہ و شرحِ احوالِ ناصرِ خسرو، بقلمِ آقای تقی زادہ، ص۱۴۔۱۵)۔
ایک بڑا اہم سوال:
قرآنِ حکیم میں شاعری اور شُعرا کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ہر شاعر کی یہ کوشش ضرور ہوتی ہے کہ وہ اپنی خیالی کائنات کی بلندیوں میں پرواز کرتا رہے، اور خود سِتائی کا مزہ بھی اڑائے، آیا ناصرِ خسرو کا شاعرانہ کلام عام شاعری سے بالاتر اور اپنی ذات کی ستائش سے پاک ہوسکتا ہے؟ وہ کیسے؟
اس کا جواب:
قرآن و حدیث کی حکمتوں سے ظاہر ہے کہ شاعری دوقسم کی ہوا
۵۹
کرتی ہے، ایک حق پر مبنی ہوتی ہے، اور دوسری برباطل، یعنی جو شاعر ہادیٔ برحق کی نورانی ہدایت سے مستفیض ہو، اس کے کلام میں خود ازخود حکمت داخل ہو جاتی ہے، اور جوشاعر صراطِ مستقیم سے ہٹ گیا ہو، وہ گمراہ ہوچُکا ہے، اس کی باتوں میں گمراہی کے سوا کچھ بھی نہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآنِ پاک میں گمراہ شاعروں کی پیروی کی مذّمت کی گئی ہے، (۲۶: ۲۲۴ تا ۲۲۵) پس اگر شاعری محض گمراہی کے سبب سے قابلِ مذّمت ہے، تو پھر یہ ہدایت کی وجہ سے لائقِ تحسین کیوں نہ ہو، جیسے رسولِ خداؐ حَسّان بن ثابت سے فرماتے تھے: ”پڑھو روح القدس تمھارے ساتھ ہے۔” اس سے ظاہر ہوا کہ جہاں حق کی حمایت میں شاعری ہو، وہاں فیضِ روح القدس شاملِ حال رہتا ہے، اور یقیناً یہ بات پیر شاہ ناصر کی شاعری پر صادق آتی ہے، ایسے میں آپ کے پُرحکمت اشعار عالی اور پاک و پاکیزہ نظر آتے ہیں۔
خود سِتائی وہاں ہوتی ہے، جہاں آدمی صرف اور صرف اپنی ہی ذات پر نظر رکھتا ہو، لیکن جب کوئی شاعر کسی رشتہ و نسبت کی بنا پر اپنی توصیف کر رہا ہو، تو یہ وصف درحقیقت اس شخص کا ہوتا ہے، جس سے اس کو نسبت یا قربت حاصل ہے، جیسے خواجہ حافظ کا قول ہے:
۶۰
مصرع: اے دل غلامِ شاہِ جہان باش و شاہ باش
یعنی اے دل شاہِ جہان کی غلامی بہت بڑی عزت ہے، اس لئے تو اس کا غلام ہوکر ایسی عزّت کا بادشاہ ہوجا۔ آپ اس مثال میں خوب غور کرکے یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آیا یہ حافظ کی خود سِتائی ہے، یا بادشاہِ عالم کی مدح سرائی؟
دوسرا اہم سوال:
سورہ یاسین(۳۶: ۶۹) میں ارشاد ہے: وَ ما علمنہ الشعر و مَا یَنبَغِیْ لَہُ ۔۔۔۔اور ہم نے نہ اُن (پیغمبرؐ) کو شعر کی تعلیم دی ہے اور نہ یہ ان کی شان کے لائق ہے۔ یہاں یہ مسئلہ ہے کہ جس شاعری کی تائید (مدد) روح القدس سے ہوتی ہے، اس میں کیا کمی تھی، جس کی وجہ سے وہ آنحضرت صلعم کی شان کے لائق نہ ہوسکی؟
جواب:
روح القدس کی تائید کے مختلف مدارج ہوا کرتے ہیں، جبکہ پیغمبروں میں سے بعض پر فضیلت دی گئی ہے (۰۲: ۲۵۳) اسی طرح مراتب کا فرق اولیاء اور مومنین میں بھی پایا جاتا ہے (۰۳: ۱۶۳) درحالے کہ ان میں سے ہر ایک کو حسبِ مرتبہ تائید حاصل ہوسکتی ہے (۵۸: ۲۲) اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگرچہ حضرتِ داودؑ اور حضرتِ سلیمانؑ کے مقدّس نغمے (مزامیر) خداوندی
۶۱
تعلیم کے بغیر نہ تھے، لیکن جس ذاتِ جامع الصّفات پر قرآنِ عظیم نازل ہورہا تھا، وہ اس قرآنِ عزیز کی بدولت شعرگوئی سے بے نیاز وبرتر تھی، پس آیۂ مذکورہ کا مفہوم یہ ہے کہ خداوندِ عالم جس کو چاہے روح القدس کے توسّط سے لاہوتی اشعار کی تعلیم سے نوازتا ہے، لیکن پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا مرتبہ عالیہ اس سے بہت بڑا ہے۔
نمونۂ اشعار: ص۳۲۶:
مراحسّانِ اوخوانند ازیراک
من ازاحسانِ اوگشتم چو حسّان
(ترجمہ:) مجھے اس کا حسّان کہتے ہیں اس لئے کہ میں اس کے احسان سے حسّان (بن ثابت)کی طرح ہوچکا ہوں، پیر صاحب کے اس پرحکمت اور روح پرور شعر میں بتائیدِ الہٰی بہت سی اعلیٰ خوبیاں جمع ہیں، مثال کے طور پر دیکھ لیں:
(الف) اس میں حسّان بنِ ثابت کی شاعری اور ان سے متعلق ارشادِ رسول صلعم کی طرف اشارہ ہے۔
(ب) زمانۂ نبوّت اور اصحابِ کبار کی یاد دہانی ہے۔
(ج) اس حوالے سے دینِ حق میں شاعری کی اہمیّت و افادیت کی دلیل ہے۔
۶۲
(د) اس میں یہ ذکر ہے کہ امامِ عالیمقامؑ ہی کے احسان سے پیر ناصر حسّان ہوگیا ہے۔
(ھ) حسّان کے معنی ہیں بہت خوبصورت، بہت نیکوکار۔
(و) پیر فرماتے ہیں کہ حضرتِ امام علیہ السّلام کے احسانات سے میری روح بیحد خوبصورت ہوگئی ہے، اور میں بہت نیکوکار ہوا ہوں، حضرتِ پیر نے دیوان کے چھ مقامات پر اپنے آپ کی تشبیہہ و تمثیل حسّان بن ثابت سے دی ہے، تاکہ ہم حقیقتِ حال کو سمجھ سکیں کی اُن کہ اشعار علمِ لَدّنی کے نور سے منوّر ہیں۔
حکیم ناصرِ خسرو کا گرانمایہ دیوان ایک ایسے بحرِعمیق کی طرح ہے کہ اس کی سطح پر اگرچہ مال و متاع اور سَیروسیاحت کی کشتیاں چلتی رہتی ہیں، تاہم انمول موتیوں کو صرف اس کی گہرائیوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے، جس کا سمجھنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، مثال کے طور پر اس قصیدہ کو لیں، جس کا مطلع یہ ہے:
ای خواندہ بسی علم و جہان گشتہ سراسر
تو برزمی وازبَرَت این چرخِ مُدوّر
اس نظم میں آگے چل کے فرماتے ہیں کہ:
روزی برسیدم بدرِشہری کان را
اِجرامِ فلک بندہ بُد آفاق مسخّر
۶۳
(ترجمہ) میں ایک دن ایک ایسے شہر کے دروازے پر پہنچ گیا کہ اس کے لیے اِجرامِ سماوی (سورج، چاند، ستارے، اور سیّارے) غلامی کر رہے تھے، اور دُنیا مسخّر تھی۔ اب آپ ہی بتائیں کہ یہ دُنیائے ظاہر کے کس شہر کا دروازہ تھا؟ آیا یہ روحانی سفر اور امامِ زمانؑ کے نورِ اقدس تک رسائی کی مثال نہیں ہے؟ کیا یہ: “انا مدینۃ العلم و علی بابھا” کی عملی تفسیر و تاویل نہیں ہوسکتی؟ ہوسکتی ہے، اور یقیناً اس میں یہی حکمت ہے۔
حکیم ناصر فرماتے ہیں: وہ ایک ایسا شہر تھا کہ اس کے سارے باغات پھلوں اور پھولوں سے بھرے ہوئے تھے، تمام دیواریں نقش و نگار سے آراستہ تھیں اور زمین پردرخت ہی درخت نظر آرہے تھے، اس کا صحرا سب کا سب پھولدار ریشمی کپڑے کی طرح مُنقّش تھا، اس کا پانی پاکیزہ اور کوثر جیسا تھا، ایسا شہر کہ اس میں بغیر(علم و) فصل کے کوئی گھر ہی نہیں ہے، ایک ایسا باغ کہ اس میں عقل کے سوا کوئی درخت صنوبر نہیں مل سکتا، وہ ایسا شہر ہے کہ وہاں حُکَماء ریشمی لباس پہنتے ہیں، جن کو نہ کسی عورت نے بُنا ہے اور نہ کسی مرد نے، ایسا شہر کہ جب میں اس میں داخل ہوگیا تو میری عقل نے کہا کہ: یہیں سے اپنی حاجت کو طلب کر اور اس منزل کو نہ چھوڑ، تب میں اس شہر کے محافظ (دربان، جس سے امامِ وقتؑ مراد ہیں) کے پاس گیا، اور گزارش کی، انھوں
۶۴
نے فرمایا کہ: اب غم نہ کر کیونکہ تیری کان جواہر سے بھر گئی، ۔۔۔۔۔۔۔۔
حق بات تو یہ ہے کہ حضرتِ پیر یہاں اپنی ابتدائی روحانیت کے واقعات و مشاہدات کو اس حدیثِ شریف کے مطابق پیش کر رہے ہیں، جس میں ارشاد ہوا کہ: انا مدینۃ العلم و علی بابھا (یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی (امامِ زمانہ) اس کا دروازہ ہے)، اس حکیمانہ نظم کے اس مقام پر آپ اچھی طرح دیکھ رہے ہیں کہ ہرعمدہ سے عمدہ تعریف و توصیف شہرِ علم کی ہورہی ہے، تاہم بڑا عجیب واقعہ ہے کہ شہر میں داخلہ ملنے کے باوجود گیٹ (باب، دروازہ، دربان، محافظ) ہی سے رجوع ضروری ہے، اور حکمت اسی میں ہے، حضرتِ پیر شاہ ناصر اپنے اسی قصیدہ میں آگے چل کر فرماتے ہیں:
دستم بکفِ دستِ نبی داد بیعت
زیرِ شجرِ عالی پُرسایہ و مُثمر
(ترجمہ) اس ( یعنی امامِ عصرؑ) نے میرے ہاتھ کو بیعت کے لئے دستِ پیغمبرؐ کی ہتھیلی میں دے دیا، اس عالیقدر اور بلندترین درخت کے نیچے جو وسیع سایہ رکھتا ہے اور بہت زیادہ میوہ دیتا ہے۔ یہ بیعتِ رضوان (۴۸: ۱۸) کی عملی تاویل ہے، جو روحانیت کی انتہا اور مرتبتِ عقل میں پیش آتی ہے، اس مقام کے بے شمار نام ہیں، چنانچہ درخت کی مثالیں جو صرف
۶۵
ایک ہی ہے، یعنی وہ درخت، جس کے نیچے روحانی اور عقلی بیعت لی جاتی ہے، لیکن آپ کو تعجّب ہوگا کہ یہی درخت شجرِ موسیٰؑ، درختِ زیتون، سِدرۂ منتہا وغیرہ بھی ہے۔
خزانۂ ہشتم: تحلیلِ اشعارِ ناصر خسرو:
یہ بیحد دلپسند کتاب مہدی محقّقِ استادِ دانش گاہِ تہران نے تألیف کی ہے، جس میں حضرتِ پیر کے ایسے اشعار کی تحلیل کی گئی ہے، جن پر براہِ راست قرآن و حدیث کی روشنی پڑتی ہے، یا وہ امثالِ عرب کے مطابق ہیں، اسی طرح خدا کے فضل و کرم سے یہ ایک اور گنجینہ مہیّا ہوا ہے۔
تحلیلِ اشعار کے نمونے:
پیر صاحب فرماتے ہیں کہ:
ہر کس کہ نیلفنجد اونصیرت
فرداش بہ محشر بصر نباشد
(ترجمہ) جو شخص یہاں (اپنے لئے) بصیرت جمع نہ کرتا ہو، کل قیامت میں اس کی آنکھ نہیں ہوگی۔ جیسا کہ ارشادِ قرآنی ہے: وَمَن کَانَ فِیْ ہَـذِہِأَعْمَی فَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ أَعْمَی وَأَضَلُّ سَبِیْلا ۱۷: ۷۲
۶۶
ایزد عطاش داد محمّد را
نامش علی شِناش و لقب کوثر
(ترجمہ) خداوندِ عالم نے حضرت محمّد صلعم کو عطا کردیا، (وہ شخص) جس کا نام علیؑ ہے، اور لقب کوثر۔ اِنا اعطینک الکوثر (۱۰۸: ۱)
تن تُرا گوُراست بی شک ہم چُنان چون وعدہ کرد
روزی ازگورت برون آردخدایِ دادگر
(ترجمہ) یقیناً جسم تیرے لئے قبر ہے (لہٰذا) جیسے اس نے وعدہ کیا ہے، ایک دن خدائے عادل تجھے اس قبر سے نکال دے گا۔ (۲۲: ۷) اس سے ظاہر ہوا کہ قبر کی تاویل جسمِ انسانی ہے۔
بغارِ سنگین در نہ بٖغارِ دین اندر
رسول را بدلِ پاک صاحبُ الغاریم
(ترجمہ) پتھر کے غار میں نہیں، دین (یعنی روحانیت) کے غار میں ہم اپنے پاکیزہ دل سے پیغمبرؐ کے یارِ غار ہیں (۰۹: ۴۰) یہاں سے معلوم ہوا کہ غار سے روحانیت مراد ہے، پس اصحابِ کہف کچھ ارواح کا نام ہے۔
چو جانت قوی شد بایمان وحکمت
بیا موزی آنگہ زبانہای مرغان
بگویند باتوھمان مور و مرغان
۶۷
کہ گفتند ازین پیش تر با سلیمان
(ترجمہ) جب تیری روح ایمان اور حکمت کی بدولت مضبوط ہوجائے، تو اس وقت تو پرندوں کی بولی سمجھنے لگے گا، تجھ سے چیونٹیوں اور پرندوں کی وہی گفتگو ہو گی، جو اس سے پہلے حضرتِ سلیمان سے ہوئی تھی، (۲۷: ۱۶) صراطِ مستقم ہی راہِ روحانیت ہے، جو انبیاء، اولیاء، شہدا، اور صالحین کا راستہ ہے، اور انہی حضرات کے نقشِ قدم پر مومنین کو چلنا ہے (۰۴: ۶۹) جس میں معجزات ہی معجزات ہیں، تاکہ معرفت حاصل ہو۔
آلِ رسولِ خدای حبلِ خدایست
گرش بگیری ز چاہِ جہل بر آئی
(ترجمہ) خدا کے پیغمبر کی آل (امام عصرؑ) ہی خدا کی رسی ہے، اگر تو نے اسے مضبوطی سے تھام لیا، تو تُو نادانی کے کنویں سے نکل کر مرفوع ہو جائے گا، (۰۳: ۱۰۳) دنیا کی اچھی اور بری بہت سی مثالیں ہیں، اور ایک مثال تاریک کنواں ہے، جس سے لوگوں کو نکالنے کے لئے اللہ نے عالمِ بالا سے اپنے پاک نور کی رسی اتار دی ہے۔
رسول خود سخنی باشد ازخدای بخلق
چُنانکہ گفت خداوند درحقِ عیسیٰ
(ترجمہ) (کتاب کے علاوہ) پیغمبرؐ خود بھی خدا کی جانب
۶۸
سے لوگوں کے لئے کلمہ اور کلام کا مرتبہ رکھتا ہے، جیسا کہ خداوندِ تعالیٰ نے حضرتِ عیسٰے کے بارے میں فرمایا (۔۔۔۔ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ ۰۳: ۴۵) اس دلیل سے حضرتِ رسولؐ اور حضرتِ امامؑ کے قرآنِ ناطق ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔
بسانِ طیرِ ابابیل لشکری کہ ھمی
بیوفتد گُھری زوبجای ہر حجری
(ترجمہ) جھنڈ کے جھنڈ پرندوں کی طرح ایک لشکر(آئے گا) کہ ( جہاں ہاتھی والوں پر پتھر گرائے گئے، وہاں) اس لشکر سے ہر پتھر کی جگہ ایک گوہر گرے گا (۱۰۵: ۳ تا ۴) بہت زیادہ سوچنے کا مقام ہے کہ حکمتِ قرآن بڑی عجیب و غریب ہوا کرتی ہے۔
قصّہ سلمان شنید ستی و قولِ مصطفی
کوز اہل البیت چون شد با زبانِ پھلوی
(ترجمہ) تو نے سلمان فارسی کا قصّہ اور حضرتِ محمّد مصطفیؐ کا ارشاد سنا ہوگا، وہ (ایرانی تھا تو) فارسی زبان کے ساتھ کس طرح اہل بیت میں سے ہوگیا؟ حدیثِ شریف ہے: اِنَّ سلمانَ مِنّااھلَ البیتِ (بیشک سلمان (بلحاظِ روحانیّت) ہم اہلِ بیت میں سے ہے)۔
گرچت یکبار زادہ اند بیابی
عالمِ دیگر اگر دوبارہ بز ائی
۶۹
(ترجمہ) اگرچہ تجھے (فی الوقت) ایکبار جنم دیا گیا ہے، تاہم تو نے اگر دوبارہ جنم لیا تو تجھ کو دوسرا عالم مل جائے گا۔ جیسا کہ حضرتِ عیسیٰ کا قول ہے: لن یَلجَ ملکوتَ السّمٰوٰتِ من لم یُو لَد مَرَّ تَینِ (جو شخص (جیتے جی مر کر) دوبارہ پیدا نہ ہوجائے، وہ آسمانوں کی بادشاہی یعنی روحانیت میں داخل نہیں ہوسکتا)۔
بمیانِ قدر و جبر رہِ راست بجوی
کہ سُوی اہلِ خرد جبر و قدر دردوعناست
(ترجمہ) تقدیر اور جبر(اختیار کا نہ ہونا) کے درمیان سیدھا راستہ ڈھونڈلے، کیونکہ اہلِ دانش کے نزدیک جبر و قدر دکھ اور تکلیف ہے۔ جیسا کہ حضرتِ امام جعفر الصّادق علیہ السّلام کا فرمانِ عالی ہے: لاجبَر وَلا تفویضَ بَل امر بَینَ الا مَرَینِ (آدمی(اعمال میں) نہ تو مجبور ہے اور نہ ہی مختارِکلّ، بلکہ دونوں حالتوں کے درمیان ایک حالت ہے) کتابِ کُشائش و رہائش کے آخر میں ملاحظہ ہو۔
سُوی آن باید رفتنت کہ ازامرِ خدای
برخزینۂ خِرد وعلمِ خداوند وراست
(ترجمہ) تجھے اس شخص (یعنی امامِ برحقؑ) کی طرف جانا چاہئے۔ جو خدا کے حکم سے خداوندی عقل و علم کے خزانے پردرودربان کا مرتبہ رکھتا ہے۔ انا مدینۃ العلم و علی بابھا
۷۰
فمن اراد العلم فلیات الباب۔
پرت از پرہیز و طاعت کرد باید کزحجاز
جعفرِ طیّار بر عُلیا بدین طاعت پرید
(ترجمہ) تجھ کو پرہیز وبندگی سے اپنے پَربنا لینا چاہئے، کیونکہ حجاز سے جعفرِطیّار(بن ابی طالب) اسی طاعت (کے پروں) سے پرواز کرکے عالمِ عُلوی میں پہنچ گیا ہے۔ رایت جعفرا لہ جناحان فی الجنۃ (میں نے جعفر کو بہشت میں دو پروں کے ساتھ دیکھا۔ حدیث)۔
بفرمود جُتن بچین علمِ دین را
محمّد شُدم من بچینِ محمّد
(ترجمہ) حضرتِ محمّد صلعم نے فرمایا: علمِ دین کی جستجو میں چین جانا چاہئے، اس لئے میں آنحضرتؐ کے چین (یعنی امامِ عالیمقامؑ کی نورانیت) میں گیا۔ اطُلبوٰالعلمَ وَلو بِالصِّینِ (تم علم کو طلب کرو اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے)۔
اندک اندک علم یابد نفس چون عالی بُوَد
قطرہ قطرہ جمع گردد وانگھی دریا شود
(ترجمہ) جب کسی کی روح باسعادت اور عالیقدر ہو، تو اس کو ہر وقت تھوڑا تھوڑا (تائیدی) علم ملتا رہتا ہے، پانی قطرہ قطرہ جمع ہوجائے تو تب دریا بن جاتا ہے۔
۷۱
و قطر الیٰ قطر اذا اجتمعت نہر
و نہر الیٰ نہر اذا اجتمعت بحر
(گلستانِ سعدی)
خزانۂ نہم: زادالمسافرین:
یعنی طریقِ روحانیت اور سبیلِ آخرت کا تَوشہ (زادِ راہ) اس بیمثال و لاجواب کتاب کے بارے میں یہ کہوں کہ مجھ ناچیز سے اس کا حقِ تعریف ادا نہیں ہوسکتا، تو شاید یہ اپنی ہی جگہ بلند رہے گی، ورنہ میرے طفلانہ الفاظ سے اس پر ایک حجاب پڑے گا، تاہم اس کے لئے ایک چارۂ کار بھی ہے، وہ یہ کہ ہم حضرت پیر ہی کے قول سے اس حکیمانہ کتاب کی تعریف کریں، جیسا کہ موصوف نے اپنے دیوان میں فرمایا:
زتصنیفاتِ من زادُالمسافر
کہ معقولات رااصلست وقانون
اگر بر خاکِ افلاطون بخوانند
ثنا خواند مرا خاک فلاطون
(ترجمہ) میری تصانیف میں سے زادالمسافرین ایسی کتاب ہے، جو علمِ معقولات کی چیزوں (کو جانچنے اور پرکھنے) کے لئے ”اصولات و قوانین” کا درجہ رکھتی ہے، اگر (یونان کے
۷۲
مشہور حکیم) افلاطون کی قبر پر یہ کتاب پڑھی جائے، تو (اس کے عجائب و غرائب کے شدید اثر سے) افلاطون کی مٹی میری تعریف و ستائش کرنے لگے گی۔ یہ ہے اس گنجِ گوہر ہائے علم و حکمت کی تعریف۔
اس کتاب سے حکمت کے نمونے:
زادالمسافرین کے بڑے مضامین (اقوال) ۲۷ ہیں، اور ذیلی عنوانات یا فصلیں ۳۳۵، صفحات ۵۱۹۔ حکیم ناصر خسرو علوی نے یہ کتابِ شریف ۴۵۳ھ/۱۰۶۱ء میں تصنیف کی ہے، آپ کی بابرکت پیدائش۳۹۴ھ میں ہوئی تھی، اس لئے یہ کہنا درست ہوگا کہ حکیم نے یہ کتاب ۵۹ برس کی عمر میں تحریر کی ہوگی، آپ زادالمسافرین کے قول شانزدھم (۱۶) میں ”مُبدِعِ حق ، اِبداع، اور مُبدَع” کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مُبدِع حق تعالیٰ کے اثر سے ہے، یہ نکتہ کلیدی اہمیّت کا حامل ہے، کیونکہ یہ علمِ اسرار میں سے ہے۔
اس کتابِ عزیز میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ معقولات (عقلی چیزیں) زمان سے برتر ہیں (ص۱۱۷) اور محسوسات زمان کے نیچے ہیں۔
کسی چیز کے ختم ہوجانے سے اس کا زمان ختم ہوجاتا ہے، لیکن دھر زمان نہیں، جیسے کسی آدمی کے مر جانے پر اس کا
۷۳
زمان اٹھایا جاتا ہے، پس اگر آسمان جس کی حرکت تمام حرکتوں پر محیط ہے ختم ہوجائے تو زمان کلّی طور پر ختم ہو جائے گا، امّا دہر زمان نہیں، بلکہ یہ اپنی ذات کو زندہ رکھنے والی چیز کی زندگی ہے، جس طرح زمان ایک ایسی چیز کی زندگی کا نام ہے، جس کو کوئی اور چیز زندہ رکھتی ہے، اور دھر کو گزر جانا نہیں، بلکہ وہ ایک ہی حال ہے، کیونکہ وہ ایسی شیٔ کی زندگی ہے، جس کا حال کبھی بدلتا نہیں، اور جب اس حقیقت کا تصوّر کیاجائے، تو اس وقت معلوم ہوگا کہ روحانین پر زمان کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔
انسان ہر اس چیز پر بادشاہ ہے، جو آفرینش میں ہے، اور یہ روئے زمین پر خدا کا خلیفہ اور نائب ہے (ص۴۶۲)۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ملکِ باطن پر بھی بادشاہ بنا دیا ہے (ص۴۶۴)۔۔۔
انسان اس دنیا میں ایک مسافر کی طرح ہے، اور اس کی منزلِ مقصود حضرتِ خالقِ کائنات ہے (ص۴۶۵)۔
یہ دنیا ایک ابتدائی منزل ہے، اور آدمی کی عمر ایک راستہ کی مثال ہے، اور انسان کا سفر اس راستے پراسی منزلِ مقصود کی جانب ہے، تاکہ وہ حضرتِ صانع عالم تک پہنچ جائے۔۔۔۔۔
حضرتِ پیر ناصر خسرو(قدّس اللہ سِرّہ) کی اس کتابِ شریف و لطیف میں بے شمار حکمتیں ہیں، جن کا قلمی احاطہ کجا! اور میرا
۷۴
چھوٹا سا مقالہ کجا! یہ تو کئی کئی جلدوں کے دائرۃُ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) کی صورت میں بھی انتہائی مشکل کام ہے۔
خزانہ دھم: وجہِ دین:
اگرچہ یہ ایک روشن اور مُسلّمہ حقیقت ہے کہ سیّدنا حکیم ناصرِخسرو علوی (قدّس اللہ سِرّہ) کی ہر کتاب بجائے خود علم و حکمت کا ایک گرانمایہ اور پائندہ گنجینہ ہے، تاہم کتابِ وجہِ دین کئی اعتبارات سے ان پیرِ کبیر کے جملہ کتب کا خلاصہ اور لُبِ لباب (COMPENDIUM) ہے، پس ہم بجاطور پر کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب خزینۂ خزائن کا درجہ رکھتی ہے، کیونکہ کتابِ ہٰذا پیر شاہ ناصر کی آخری تصنیف ہے۔
اس کتاب کی حکمت کے نمونے:
میں کتابوں کا بیحد دلدادہ رہا ہوں، اور جس قدر بھی ہوسکا میں نے مختلف کتب کے مطالعے سے لطف اور فائدہ اُٹھایا، لیکن پیر ناصر خسرو کی کتابیں بڑی عجیب و غریب ہیں، خصوصاً وجہِ دین، کیونکہ یہ کتاب ایسی حیرت انگیز جامعیّت اور مغز حکمت سے بھر پور ہے کہ جہدِ مسلسل کے باوصف اس کی علمی برکتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ وجہِ دین کا خاص تعلق قرآن
۷۵
و حدیث کی تاویل اور علمِ امامت سے ہے، یہ سب کچھ طریقِ باطن اور راہِ روحانیت کا نتیجہ ہے، یعنی اس میں کشف و کراماتِ روحانی کا عالم ہے۔
اگر آپ عرصۂ دراز سے کتابِ وجہِ دین کو پڑھتے آئے ہیں، پھر بھی آپ باور کریں کہ ہنوز اس کے بہت سے تاویلی بھید پردۂ اخضا سے ظاہر نہیں ہوئے، مثال کے طور پر گفتار ہشتم کی متعلقہ عبارت کو غور سے پڑھ کر تجربہ کریں، اور جواب دیں کہ سیّارۂ زمین (جو ہمیشہ گھومتا رہتا ہے) کی شِش جہت یعنی آگے پیچھے، دائیں، بائیں، اوپر، اور نیچے کا تعیّن کس طرح ہوسکتا ہے؟ تاکہ ہم یقین کرسکیں کہ زمین کے باشندوں کی چھ طرفیں ہیں، اور خدا نے ہر طرف سے ان کے پاس ایک عظیم پیغمبر بھیجا ہے؟ لیکن نقشۂ دنیا کے گلوب پر الگ الگ چھ نشانات لگا کر کوئی شخص یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ اسی طرح لوگوں کو چھ اطراف سے چھ بڑے پیغمبر آئے ہیں، کیونکہ لوگ کسی ایک شہر یا کسی خاص ملک میں نہیں، بلکہ مختلف بّرِاعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں، اس لئے لوگوں کی مجموعی اطراف نہیں ہیں، سوائے اوپر کے۔
لوگوں کے لئے چھ پیغمبر چھ اطراف سے کیسے آگئے، اس کی روحانی مثال اور معرفت عالمِ شخصی (عالمِ صغیر) میں ہے، چنانچہ کسی شک کے بغیر انسانی جسم کی چھ اطراف ہیں: آگے،
۷۶
پیچھے، دائیں، بایئں، اوپر نیچے، پس حضرتِ پیر کا اشارہ ہے کہ: عالم شخصی میں حضرت آدمؑ کا نور سر کی بالائی جانب سے آتا ہے، حضرت نوحؑ کا نور بائیں کان سے، حضرتِ ابراھیمؑ کا نور پشت سے، حضرتِ موسیٰؑ کا نور پاؤں سے، حضرتِ عیسیٰؑ کا نور داہنے کان سے، اور آنحضرت صلعم کا نور پیشانی سے داخل ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت امام جعفر الصّادقؑ کا دعائیہ قول ہے:
۔۔۔۔ وَنوراً بَینَ یَدَیّ وَ نوراً مِن خلفی وَ نوراًعن یمینی وَ نوراً عن یساری وَ نوراً من فوقی وَنوراً من تحتی ۔۔۔ (ملاحظہ ہو: قرآنی علاج، ص۲۰۵)
وجہِ دین کے موضوعات:
اس مبارک و باکرامت کتاب کے بڑے بڑے موضوعات ۵۱ ہیں، اور ذیلی عنوانات ۲۴، تاہم سر تا سر کتاب میں پھیلے ہوئے مضامین اور بھی ہیں، جیسے خدا شناسی اور علمِ توحید، نبوّت، امامت، علمِ حدُود، روحانیّت، قیامت، حضرتِ قائم، حجّتِ قائم، علمِ تاویل، عددی تاویل، اسمِ اعظم، آفاق و انفس، پیش گوئی، اسرارِ روحانیت، اصولِ دین، فروعِ دین، کلید ہائے حکمت، خود شناسی، سلسلۂ
۷۷
ہدایت، قانونِ وصایت، اسرارِ قرآن، وغیرہ۔
وجہ دین کی ایک کرامت:
جناب فضیلت مآب سیّد منیر صاحب (مرحوم) بدخشان کا ایک راسخ العقیدت اور علم دوست شاگرد ہے، اس نے بہت پہلے مجھ سے یہ ذکر کیا تھا، کہ اس کو مطالعۂ وجہِ دین سے بیحد مزہ آنے لگا، جس کی بنا پر وہ روزانہ اسے پڑھا کرتا تھا، تا آنکہ یہ کام اس کا معمول بن گیا، اور زیادہ سے زیادہ خوشی محسوس ہونے لگی، اور نتیجے کے طور پر اس کی دیدۂ باطن کُھل گئی، یہ وجہِ دین پر علمی ریاضت کرنے کی کرامت تھی، یاد رہے کہ اگر علم وحکمت کی خوشی سے آپ کو جھٹکے لگتے ہیں، تو یہ فیضِ روح القدس کی بہت بڑی خوشخبری ہے۔
کلیدی تاویل:
کتاب وجہِ دین میں عملی اور کلیدی نوعیّت کی تاویل کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے، جس کی برکتوں سے قارئین کے نہ صرف شکوک و شبہات ہی کا اِزالہ ہو جاتاہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بے شمار سوالوں کے جوابات بھی مہیّا ہوجاتے ہیں، کیونکہ مرضِ جہالت و نادانی کا انتہائی موثّر علاج تاویل ہی سے ہوسکتا ہے،
۷۸
جبکہ تاویلی حکمت ہی وہ شہد ہے، جس کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے؛ فِیْہِ شِفَاء لِلنَّاس (۱۶: ۶۹: اس میں لوگوں کی (بیماریوں کی) شِفا ہے)۔
حُدودِ د ین:
تاویل کی بنیاد حدودِ دین پر قائم ہے، جس کے بغیر تاویل نہیں ہوسکتی ہے، اور یہ حقیقت وجہِ دین سے ظاہر ہوجاتی ہے، اگرچہ اب دورِ قیامت ہے، جس میں صرف آفتابِ امامت کے سوا اور کوئی ستارا نظر نہیں آتا، لیکن ہم اپنے پاک مذہب کی روحانی تاریخ کیسے بھول سکتے ہیں، جس میں قلم، لوح، اسرافیل، میکائیل، ناطق، اساس، امام، حجّت، داعی وغیرہ کے کارناموں کا تذکرہ ہے، اور اسی کا نام تاویل ہے، اور معرفت کا راستہ بھی یہی ہے۔
امامِ عالیمقامؑ ۔۔ عالمِ شخصی:
حضرتِ امیرالمومنین علی علیہ السّلام کا ارشاد ہے: کیا تیرا یہ گمان ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے، حالانکہ تجھ میں عالمِ اکبر سما گیا ہے؟ اور تو وہ بولنے والی کتاب ہے، جس کے حروف سے پوشیدہ اسرار ظاہر ہوجاتے ہیں۔ پس اس قول و معنیٰ کا اطلاق سب سے پہلے خود مولاعلیؑ اور ہر امامؑ پر ہوتا ہے کہ وہی عالمِ شخصیٔ نورانی ہے،
۷۹
اور ایسی بولنے والی کتاب، جس سے تاویلی بھید ظاہر ہوتے رہتے ہیں، اب بہت بڑا سوال یہ ہے کہ ناصر خسرو پر امامِ وقتؑ کا نور کس شکل میں طلوع ہوا؟ کیونکہ پیر صاحب اپنے دیوان میں کہتے ہیں: “جب میری روح پر امامِ زمان کا نور طلوع ہوگیا، تو میں جو قبلاً شبِ تاریک تھا روزِ روشن بن گیا۔ ”اس انتہائی عظیم سوال کا ازبس عجیب و غریب جواب یہ ہے کہ حکیم ناصر خسرو پر امامِ عصرؑ کا نور عالمِ شخصی اور عالمِ اکبر کی صورت میں طلوع ہوچکا تھا، جس میں سب کچھ تھا، اور وہی نورانی کائنات بولنے والی کتاب بھی ہے، اور حضرتِ شاہ ناصر کا علمِ تاویل اسی عالمِ لطیف سے متعلّق ہے، جس کا بیان وجہِ دین، کلام ۴ میں ہے۔
علمِ بیان ۔۔ علمِ تاویل:
پیر صاحب نے وجہِ دین کے بہت سے مقامات پر تاویل کا ایک دوسرا ہم معنی لفظ ”بیان” بھی استعمال کیا ہے، اور علمِ تاویل کو علمِ بیان کہا ہے، مثال کے طور پرملاحظ ہو: وجہِ دین اردو، کلام ۴۶ کا آخری حِصّہ، ص۲۰۹، نامور حکیم کی اس لطیف تعلیم سے ایک بیحد خوبصورت معنوی انقلاب رونما ہوجاتا ہے، وہ یہ ہے: ثُمَّ إِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہ (۷۵: ۱۹)، پھر یقیناً اس کی تاویل بھی ہمارے ہی ذمّہ ہے) یعنی اے رسولؐ! قرآن
۸۰
کی تاویل کا کام ہم ہی آپ کے جانشین سے کرادیں گے۔ جیسا کہ حدیثِ شریف سے ظاہر ہے: (وجہِ دین اردو، کلام۔ ۳۵، ص۱۲۲)۔
امامِ مُبین(۳۶: ۱۲):
جب سیّدناحکیم ناصر خسرو کی شُہرۂ آفاق کتاب (وجہِ دین) میں تاویل کا دوسرا لفظ ” بیان” ، تو آئیے اب ہم قرآنِ حکیم میں لفظِ مُبین کو بھی دیکھتے ہیں ، چنانچہ معلوم ہے کہ سورہ زُخرف (۴۳: ۱۸) میں اس لفظ کے معنی ہیں بولنے والا، بیان کرنے والا، پس امامِ مُبین کے معنی ہیں وہ امام جو ظاہر ہے اور تاویل کرتا ہے، کیونکہ جس کی ذات میں تمام روحانی اور عقلی چیزیں محدود اور جمع ہوں، وہی صاحبِ تاویل ہوسکتا ہے۔
عددی تاویل:
حضرت سیّد شاہ ناصر خسرو حجّتِ خراسان کی اس پُرمایہ اور بیمثال کتاب (وجہِ دین) میں جابجا عددی تاویل کی حکمت بھی نمایان ہے، اس علمِ مخفی کا انتہائی اہم اور اساسی حوالہ کتابِ ہذا کے کلام ۴۸ میں ہے، جس میں مومنوں پر حقِ واجبات کا ذکر ہے، آپ وہاں اس روشن حقیقت کا بحسن و خوبی مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ خدا و رسولؐ کے منشا کے مطابق دینِ حق میں عددی تاویل کا آغاز سب سے پہلے حضرتِ مولا علی علیہ السّلام نے کیا، آپ وجہِ دین ترجمۂ اردو، کلام
۸۱
۴۸ کو ازصفحہ ۲۱۳ تا ۲۱۹ اچھی طرح سے پڑھ لیں۔
ایک علمی کائنات:
میرے نزدیک سب سے پسندیدہ اور سب سے زیادہ قابلِ فہم بات یہ ہے کہ موصوف حکیم علم و حکمت کی ایک کائنات ہیں، لیکن یہ وصف محض آپ کے خزائنِ کتب ہی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس میں اور بھی بے شمار چیزیں شامل ہیں، جو زمانے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہیں، مثال کے طور پر پیر ناصر کے حلقۂ دعوت کا پھیلاؤ کہاں کہاں تک ہے؟ اور دائرہ فیوضاتِ کتب کی وسعت کا کیا اندازہ ہے؟ تقریباً ایک ہزار سال کی اس دعوتِ حق کے نتیجے میں جتنے خوش نصیب لوگ امامِ برحقؑ کے دامنِ اقدس سے وابستہ ہوچکے ہیں، ان کے کیا تعداد ہوسکتی ہے؟ کیا ہر ایسا آدمی جو ناصر خسرو کا شاگرد ہو، بجائے خود ایک عالمِ شخصی نہیں ہے؟ اگر یہ تمام اثری وسعتیں اپنی اپنی جگہ درست اور حقیقیت ہیں، اور یہ سب کچھ دعوتِ ناصری کی کائنات میں ہورہا ہے، تو آئیے ان کے کچھ ایسے اشعار کو دیکھتے ہیں، جن میں ان تمام حقائق کی طرف اشارہ موجود ہے، وہ حکمت آگین اور دلنشین اشعار درجِ ذیل ہیں:
گر بایدت ہمی کی ببینی مرا تمام
چون عاقلان بچشمِ بصیرت نگر مرا
۸۲
منگر بدین ضعیف تنم ز آنکہ درسخن
زین چرخِ پُر ستارہ فزونست اثر مرا
ہر چند مسکنم بزمین است روزوشب
بر چرخِ ہفتمست مجالِ سفر مرا
(ترجمہ) اگر تو مجھ کو بطورِکلّی دیکھنا چاہتا ہے، تو داناؤں کی طرح مجھے چشمِ بصیرت سے دیکھ لے، میرے اس کمزور جسم کو نہ دیکھا کر کیونکہ میرے قول کا اثر اس فلکِ پُرانجم سے بھی زیادہ ہے، اگرچہ دن رات میری جائے سکونت زمین ہی پر ہے، تاہم میں آسمانِ ہفتم پر بھی سفر کرسکتا ہوں (اس سے آسمانِ روحانیت مراد ہے)۔
اہلِ دانش کے نظر میں ان پُرمغز و حکمت آگین اشعار کا مجموعی مطلب واضح اور روشن ہے کہ حکیم ناصر خسرو (ق ۔ س) ظاہراً و باطناً ایک علمی کائنات ہیں، اگر بات یہ ہوتی، تو آپ ہر گز یہ فرماتے کہ مجھے چشمِ بصیرت سے دانشمندوں کی طرح کلّی طور پر دیکھنا، میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی دینی حکیم جو حجّت یا پیر کا مرتبہ بھی رکھتا ہو، وہ کبھی مُبالغہ آمیز باتیں نہیں کرتا، اس کا قول صداقت، حقیقت، اور حکمت سے بھر پور ہوتا ہے، تاکہ اس کے توسط سے امامِ برحق علیہ السّلام کی روشن ہدایت مہیا ہوتی رہے، پس یقیناً حضرتِ پیر ناصر خسرو پر امامِ زمانؑ کا مقدّس نور اپنی تمامیّت و کمالیّت کے ساتھ طلوع ہوچکا تھا، جس سے حضرتِ پیر کا عالمِ شخصی (PERSONAL WORLD)
۸۳
منوّر و تابان ہوا، جس کا ذکر شروع میں بھی ہوا ہے۔
اختتام:
بڑی خوش آئند اور بیحد مفید بات ہے کہ گلگت میں حضرتِ پیر ناصر خسرو پر ایک دو روزہ سیمینارکا اہتمام ہوا ہے، یقیناً اس علمی کام سے پوری جماعت کو زبردست خوشی اور شادمانی ہونے کے ساتھ ساتھ دور رس فائدہ بھی حاصل ہوگا، اور ہر طرف امام شناسی کی خوشبو پھیل جائے گی، جب اہلِ دنیا چاہتے ہیں کہ ان کے ماحول میں پھول ہی پھول نظر آئیں، تو پھر دین میں علم کے پھولوں اور حکمت کے پھلوں کی کثرت و فراوانی کیوں نہ ہو۔
الحمدللہ کہ ہمارے نامدار طریقہ بورڈ کے اعلیٰ افسروں نے ازراہِ عنایت اس بندۂ کمترین کو بھی اس تاریخی سیمینار میں مدعو فرمایا ہے، ولایت نامہ کی تاریخ ۸ ستمبر۱۹۹۰ء ہے، مجھے یہ معززخط بمقامِ گلگت ۱۵ ستمبر میں موصول ہوا، اس خاکسار نے کراچی آکر۲۴ستمبر میں تَعمیلِ حکم کے لئے شروع کیا، پس قلیل وقت کی وجہ سے اس مقالے میں کوئی خامی رہ گئی ہو، تو میں معافی چاہتا ہوں، دعا ہے کہ خداوندِ قدّوس اپنی ہر ہر نعمت پر ہمیں شاکر بنائے! آمین!
نصیرُالدّین نصیر ہونزائی
بروزِ عیدِ میلادُالنبی۱۲۔ ربیع الاوّل ۱۴۱۱ھ ، ۳ اکتوبر ۱۹۹۰ء
۸۴
چہل حکمتِ جہاد
صبغۃ اللہ
پروردگارِعالم نے اپنی رحمتِ بے پایان سے تمام مومنین و مومنات کے لئے یہ بہت بڑی فضیلت ممکن بنا دی ہے کہ وہ علم، عبادت اور عشقِ مولا کے وسیلے سے صبغۃ اللہ (رنگِ خدا = نورِ خدا، ۰۲: ۱۳۸) میں رنگین ہوجائیں، الحمد للہ، ہمارے تمام ساتھی ایسے ہوسکتے ہیں، مثال کے طور پر ہمارے بہت ہی عزیز دوست شمس الدّین جمعہ صدر ادارۂ عارف امریکہ اور ان کی فرشتہ خصلت بیگم محترمہ کریمہ سیکریٹری کو دیکھئے کہ کس طرح ذکر و عبادت اور علم و حکمت کی لذّتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں اور کس شان سے امامِ زمان علیہ السّلام کے پاک عشق کے نور کی شعاعوں سے مستفیض و مستنیر ہو جاتے ہیں، آپ دونوں عزیز صفِ اوّل کے علمی خادموں میں سے ہیں، اللہ کا شکر ہے۔
مؤرخہ ۲۵ دسمبر ۱۹۹۳ء
Table of contents
آغازِ سخن
۔۱۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ ایک انتہائی پُرکشش حقیقت ہے کہ خداوندِعالم کی توفیق و تائید کے بغیر بندۂ مومن کا کوئی نیک کام نہ تو شروع ہوسکتا ہے اور نہ ہی آگے بڑھ کر مکمل ہوسکتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس حکمت میں کتنا عظیم راز مخفی ہے کہ وہ علیم و حکیم اہلِ ایمان کو ہمیشہ اپنے حضور پرنور کی طرف متوّجہ رکھنا چاہتا ہے، تا کہ وہ ” لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم” کے بموجب ہر وقت آسمانی تائید کے طالب رہیں۔
۔۲۔ وہ تمام نیک لوگ اور جملہ عزیزان جو علم اور دوسرے نیک کاموں میں ترقی چاہتے ہیں، اُن سب کو میرا پرخلوص مشورہ ہے کہ وہ اسلامی عبادات و اذکار سے کبھی غافل نہ ہوجائیں، عبادت، نماز جو کچھ فرض ہے، وہ تو فرض ہی ہے، اگر کسی مومن کو صراطِ مستقیم پر روحانی ترقی کرنی ہے، اور قرآن و اسلام کے نور اور اس کے روحانی اور عقلانی معجزات کو دیکھنا ہے، تو پھر نوافل کا سہارا لینا ہوگا، اور نوافل کے بارے میں یہ حدیثِ قدسی ہے:
(ترجمہ) “اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعہ مجھ سے قرب حاصل کرتا ہے، یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پس جب میں اس
۵
سے محبت کرتا ہوں، تو میں اس کے کان ہو جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا ہاتھ ہو جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں ہو جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے۔”
۔۳۔ سبحان اللہ! نوافل (واحد نفل = زائد عبادت) کے انعامِ خداوندی کی شان دیکھئے! ایسے خوش نصیب بندے اللہ کے خاص دوست (اولیاء اللہ) ہی ہوسکتے ہیں، یہاں یہ تو پتہ چلا کہ اگر خدا کسی کے باطن میں نور ہوجائے، اور اسی نور کے ذریعہ سنا، دیکھا، پکڑا اور چلا جائے تو پھر علم و معرفت کے معاملے میں کوئی چیز غیر ممکن نہیں، یہ حدیثِ قدسی فنا فی اللہ و بقا باللہ کا سب سے روشن ترین ثبوت ہے، پس بقا باللہ یا کنزِ مخفی کا حاصل ہونا ایک ہی بات ہے، جو علم و معرفت کے اسرار سے مملو ہے۔
۔۴۔ میں عموماً سب کو اور خصوصاً علم دوست حضرات کو مذکورہ حدیثِ قدسی میں غور و فکر کی پرزور دعوت دیتا ہوں، کیونکہ یہی ایک اکیلی حدیث کئی کئی آیاتِ کریمہ کی تفسیر و توضیح کے علاوہ ایسے کثیر سوالات کے لئے جوابِ شافی بھی ہے، جو سخت مشکل ہوں، اس کی سب سے بڑی وجہ ظاہر ہے کہ خدا کا نورِ اقدس جس کامل شخصیت میں جلوہ فگن ہو، اس میں علم و حکمت کی ساری کائنات مرکوز ہوجاتی ہے، اور اس حدیث کا موضوع بس یہی ہے۔
۶
۔۵۔ “چہل حکمتِ جہاد” کے مقالے کو تحریر کر کے مجھے اور میرے عزیز ساتھیوں کو زبردست خوشی حاصل ہوئی تھی، اس خوشی کی کئی وجہیں ہیں، اور اب مزید شادمانی ہے کہ ہم اس کو الگ بھی شائع کر رہے ہیں، تا کہ (ان شاء اللہ) ہمارے سب عزیزان کو مل سکے، کیونکہ یہ آرٹیکل بے حد ضروری ہے اور دائمی خوشیوں کا طوفان اس نعمتِ عظمیٰ سے ہے کہ اس پسندیدہ اور مفید مضمون کا انگلش میں بڑا عمدہ ترجمہ ہوچکا ہے، اور یہ عظیم احسان جناب غلام عباس صاحب ہونزائی نے کیا ہے، عزیز و محترم عباس صاحب کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ آپ کا علم و دانش سے مملو لیکچر بڑے بڑے اجتماعات میں سحرِحلال کا کام کرتا ہے، آپ کی گہری نظر اور نکتہ دانی سے نہ صرف عوام ہی کو بلکہ اہلِ علم کو بھی بڑی حیرت ہوتی ہے۔
۔۶۔ پاکستان بنانے کے سلسلے میں جن زعمائے اسلام نے فکری اور سیاسی جہاد کیا، ان میں ہمارے امامِ عالی مقام حضرت مولانا سلطان محمد شاہ علیہ السّلام نمایان تھے، جس کا واضح مفہوم حکمت نمبر۱ میں جھلک رہا ہے، اب امامِ عالی نسبؑ کے اس پرحکمت عمل کے بعد یہ سوال ہر اسماعیلی کے لئے خود از خود ختم ہو جاتا ہے کہ: “اسلام اور پاکستان کی کوئی دفاعی جنگ جہاد ہے یا نہیں؟”
۔۷۔ جہالت و نادانی بھی ملک و قوم کی ایک قوی دشمن ہے، لہٰذا (ان شاء اللہ) ہم اس دشمن کے خلاف بھی اپنے طور و طریق سے شدید
۷
جہاد کرتے رہیں گے، لیکن کوئی بھی بڑی ظاہری جنگ لشکر کے بغیر نہیں لڑی جا سکتی، اس لئے بفضلِ خدا ہمارے ساتھ نہ صرف ایک لشکر ہے، بلکہ اس میں بہت سے افسر بھی ہیں۔
۸۔ دنیائے اسلام کے طول و عرض میں جو لوگ نیک، خیر خواہ، اور دین کے سچے خادم ہیں، وہی فردائے قیامت بہشت میں مخدوم اور بادشاہ ہوں گے، کیونکہ قرآن اور اسلام کی خدمت اگر منشائے خداوندی کے مطابق ہے تو یہ تمام خدمات کی سردار اور بادشاہ ہوسکتی ہے، جس کا اجر و صلہ یقیناً بہشت میں عظیم سلطنت ہے (۷۶: ۲۰) کیونکہ دنیا میں اس سے کوئی بڑی بندگی اور خدمت نہیں، اور آخرت میں اس سے بڑا کوئی ثواب نہیں۔
۔۹۔ جہادِ اصغر میں بھی اور جہادِ اکبر میں بھی علم و حکمت کی حمایت اور جہالت و نادانی کی مخالفت مقصودِ اصلی ہے، چنانچہ عقل و دانش اور علم و حکمت کو جتنی بھی اہمیت دی جائے، اور جس قدر بھی اس کی تعریف و توصیف کی جائے، وہ کم ہے۔
۔۱۰۔ جہادِ جسمانی، جہادِ مالی، جہادِ نفسانی، جہادِ علمی وغیرہ، دراصل ایک ہی عظیم کارنامہ کے مختلف اجزاء ہیں، اس لئے تنہا ہر جزو دوسرے اجزاء کے بغیر نا مکمل ہے، یہی سبب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کسی غزوہ سے واپس ہوتے ہوئے اصحابِ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: ہم چھوٹے جہاد سے (فارغ ہوکر) بڑے جہاد کی طرف واپس
۸
ہو رہے ہیں (یعنی نفسِ امّارہ کے خلاف لڑنا جہادِ اکبر ہے)۔
۔۱۱۔ جو لوگ قرآنی حکمت اور روحانیت سے با خبر ہیں، وہ آپ کو بتا سکتے ہیں کہ دینِ حق کی حفاظت و حمایت میں لڑنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ کے بے شمار لطیف لشکر بھی ہیں، لطیف کو نہ کوئی دیکھ سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے، کیونکہ وہ روح اور فرشتہ ہوا کرتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: وَ لِلّٰہِ جنود السمٰوات والارض: زمین اور آسمانوں کے سب لشکر خدا کے قبضۂ قدرت میں ہیں (۴۸: ۴)۔
۔۱۲۔ ہر چند کہ اللہ تبارک و تعالیٰ قادرِ مطلق اور ہر چیز سے بے نیاز ہے، لیکن اُس جواد الکریم نے محض اپنے بندوں پر عظیم احسانات کرنے اور ان کو بدرجۂ انتہا نوازنے کی خاطر بڑے عجیب و غریب قوانینِ رحمت بنائے، جن کے مطابق وہ پاک و برتر فرماتا ہے: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا (۴۷: ۷) نیز فرمایا: اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو (۷۳: ۲۰) پھر ارشاد ہوا: اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ (۰۹: ۴۱)۔ پس یہ سب کچھ اہلِ ایمان کی روحانی ترقی اور بہشت کی سلطنت کے لئے ہے۔
۔۱۳۔ جسمانی (جانی) جہاد اور مالی جہاد کی فضیلت ایک ہی آیۂ کریمہ میں بیان ہوئی ہے، اس ارشادِ خداوندی کا ترجمہ یہ ہے: اللہ نے خرید لی مومنوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ ان کے لئے
۹
جنت ہے، لڑتے ہیں خدا کی راہ میں پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں (۰۹: ۱۱۱) یہ سودا جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان بہت پہلے ہوچکا ہے، اس کا عہد و پیمان اتنا ضروری ہے کہ اس کی تجدید کے لئے بار بار بیعت لی جاتی ہے، کیونکہ بیعت کا لفظ “بیع” سے ہے، جس میں خرید و فروخت کے دونوں معنی موجود ہیں، پس بیعت کے عمل میں جانی اور مالی جہاد کا راز مضمر ہے، آپ بیعتِ رضوان (۴۸: ۱۸) کے بارے میں معلوم کر سکتے ہیں، کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ بیعت کس مقصد کے پیشِ نظر لی تھی؟
۔۱۴۔ عصرِ حاضر کی بات ہے، اگر آپ کسی اسلامی عسکر میں شامل نہیں ہیں، اس لئے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ جسمانی جہاد کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے ہیں، تو مایوس نہ ہو جائیے، کیونکہ مالی جہاد، علمی جہاد، اور نفسانی جہاد کے زرین مواقع بھی تو ہیں۔
۔۱۵۔ مالی قربانی کو جہاد کا درجہ کیوں کر حاصل ہوسکتا ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ مال شرعی خون بہا (خون کی قیمت = دِیَت) کی صورت میں جان کا عوض ہوسکتا ہے (بحوالۂ قرآنِ کریم، سورۂ نساء آیت ۹۲) اور دنیاوی مثال میں بھی یہی بات ہے کہ اگر حکومت کی ذمہ داری میں کسی خاندان کا جانی نقصان ہوجائے، تو اس کو بطورِ معاوضہ کوئی مناسب رقم دی جاتی ہے، یہ اس حقیقت کی دلیل ثابت ہوئی کہ اگرچہ ظاہراً جانی قربانی سے مالی قربانی کمتر ہے، لیکن جب صرف اور صرف مالی قربانی ہی کی سخت ضرورت ہو، تو پھر مالی جہاد جانی جہاد ہی کی طرح مفید ہوسکتا ہے،
۱۰
یہ ایک جزوی مثال ہے۔
۔۱۶۔ ان شاء اللہ، ہم اپنے محدود دائرۂ رسائی میں علمی جہاد کرتے رہیں گے، جس میں ہمارے مشرق و مغرب کے تمام عزیز تلامیذ شامل ہیں، کیونکہ اس اجتماعی عمل میں کوئی ایک کام نہیں، بلکہ سینکڑوں کام ہیں، جن کو ہمارے بہت سے ساتھی انجام دیتے ہیں، اس دائرۂ کار میں ہم جتنے بھی افراد ہیں سب بے انتہا شادمان ہیں، جس کی وجہ خداوندِ قدوس کی رحمت اور کامیابی ہے، جس سے ہم ایک دوسرے کو اپنی جان کی طرح عزیز رکھتے ہوئے سچے دل سے کہتے رہتے ہیں کہ: “یہ ترقی آپ کی کوششوں کی برکت سے نصیب ہوئی۔” اور اسی طرح مونوریالٹی (یک حقیقت) کی بات بنتی ہے۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
کراچی
جمعرات ۲ رجب المرجب ۱۴۱۴ھ / ۱۶ دسمبر ۱۹۹۳ء
۱۱
ستارۂ سعدِ اکبر
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ینصر کم و یثبت اقدامکم (۴۷: ۷) صدق اللہ العلی العظیم۔ اس آیۂ کریمہ کا ترجمہ یہ ہے: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا۔
مہمانِ خصوصی جناب محمد طاہر صاحب صدر ریجنل کونسل گلگت، میر مجلس جناب سرفراز شاہ صاحب چیئرمین مصالحتی بورڈ گلگت، جناب ظفر اقبال صاحب آنریری سیکریٹری ریجنل کونسل گلگت، جماعت کے دیگر عملداران، اکابرین اور معزز حاضرین! السلام علیکم!
ابھی ابھی آپ کے سامنے سورۂ محمد کی ایک آیۂ شریفہ (۴۷: ۷) پڑھی گئی، جو مغزِ حکمت سے مملو ہے، جس میں اہلِ ایمان کو حکم ہے کہ وہ اللہ کی مدد کریں، اور اس میں بزبانِ حکمت رسولِ خدا کی مدد کرنے کے لئے امر ہوا ہے، کیونکہ حقیقت میں خدائے بزرگ و برتر کسی کی مدد کے لئے ہرگز محتاج نہیں، تاہم پروردگارِعالم ہر عظیم شیٔ کو اپنی ذاتِ پاک سے منسوب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ میرے لئے ہے، تا کہ ایسی چیز کی اہمیت اور قدر و منزلت ظاہر ہوجائے، اسی قانون کے
۱۲
مطابق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امامِ عالی مقامؑ کے مقدّس ادارے اس لئے مقرر ہوئے کہ جماعتی ترقی کے کاموں میں امامِ زمانؑ کا ہاتھ بٹائیں، اور اس میں جماعت کا فرض ہے کہ تابعداری اور نیک کاموں کی صورت میں مولائے پاک کے اداروں کی مدد کرے، تا کہ یہ مدد امامِ زمانؑ کے لئے ہو، اور امام کے توسط سے رسولِ اکرمؐ کی مدد ہو۔
ستارۂ سعدِ اکبر (سب سے بڑا نیک ستارہ) مشتری کو کہتے ہیں، دراصل میرا اشارہ کسی اور ستارے کی طرف ہے، جو انتہائی عظیم سعادتوں کا سرچشمہ ہے، جو آسمانِ عقلانیت پر طلوع ہوجاتا ہے، پس ایسا لگتا ہے، جیسے آج اتوار ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو آسمانِ عقل پر ستارۂ سعدِ اکبر طلوع ہوگیا ہو۔
تحفہ یا خطاب کا تجزیہ:
یہ تحفہ (خطاب) جو مولائے پاک کے مقدّس ادارے کی جانب سے ملا ہے، وہ میری ناچیز ہستی اور حیثیت سے بڑھ کر ہے، کیونکہ “لسان القوم” کے معنی ہیں قوم کی بولنے والی زبان، اس میں ادب، علم، اور حکمت سے متعلق تمامتر اشارات موجود ہیں، اس کا ہم معنی لفظ “ترجمان القوم” ہے، اس خطاب کی اصل خوبیاں پسِ پردہ پوشیدہ ہیں، وہ یہ کہ یہاں دینی اور روحانی قوتوں کی کارفرمائی کی پُرحکمت مثال موجود ہے، یعنی
۱۳
زبان پانچ حواسِ ظاہر میں سے ایک حس سے زیادہ کچھ بھی نہیں، کیونکہ وہ ازخود کچھ بول ہی نہیں سکتی، جب تک دل و دماغ جیسی باطنی قوتیں حکم اور مدد نہ کریں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ پوری قوم روحانی وحدت و سالمیت میں فردِ واحد کی طرح ایک ہے، جس کے اعضاء اور ظاہری و باطنی قوتوں کا کام قوم کے لوگ ہی کرتے رہتے ہیں، پس جماعتِ با سعادت کی پاکیزہ روحوں کی نیک دعاؤں اور روحانی تائیدات کے لئے بندۂ کمترین سخت محتاج ہے۔
آج میرے حق میں امامِ زمان صلواۃ اللہ علیہ و سلامہ نے اپنی نامدار ریجنل کونسل کے توسط سے گویا مردۂ صد سالہ زندہ کر دینے کا معجزہ کر دیا، ہادئ برحقؑ کے اس قیامت خیز معجزے سے میں مسرّت و حیرت کی کشا کش میں ہوں، قومی خوشی اور شادمانی کے اس موسمِ گل میں جب تمام شرکاء شادمان ہیں، تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ، نامدار ریجنل کونسل کے کارنامہ ہائے زرّین سے جملہ جماعت کو بے حد خوشی ہوگی، محض اس وجہ سے نہیں کہ نصیر الدین کو ایک پُرحکمت تحفہ عطا ہوا، بلکہ اس لئے بھی سب کو شادمانی ہوگی کہ اب بحمداللہ امامِ عالی مقام علیہ السّلام کے پاک ادارہ جات میں زیادہ سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات آ گئے، اور انہوں نے منشائے مولا کے مطابق ہر میدان اور ہر شعبے میں کام کرنے والوں میں ہمت و حوصلہ کی روح پھونک دینے کا
۱۴
منصوبہ بنا لیا۔
کس طرح شکریہ ادا کروں؟
یہی ہے طریقِ ذرّہ نوازی، یہی ہے ذرّۂ بے مقدار کو آفتاب بنانے کا عمل، اسی کا نام احسانِ عظیم ہے، اور یہی ہے سب سے بڑا انعام، لیکن میں آج، جبکہ میرے لئے آسمانِ عقلانیت پر ستارۂ سعدِ اکبر طلوع ہوچکا ہے، شش و پنج میں ہوں کہ کن شایانِ شان الفاظ میں اپنے تمام محسنوں کا شکریہ ادا کروں! میں اپنے دل و دماغ سے پوچھتا ہوں کہ آیا میں اس عظیم احسان کے لئے صرف قولی شکریہ پر اکتفاء کروں، یا اس کی کوئی عملی شکر گزاری بھی ہے؟ تاہم صرف اتنا ہی سوچنا اس مسئلے کا آخری حل نہیں، لہٰذا اب مجھے ہادئ ظاہر و باطن کے حضورِعالی میں شدید احساس کے ساتھ گڑگڑانا ہوگا، تا کہ وہ مہربان مجھے ازراہِ بندہ نوازی کوئی خاص ہدایت و توفیق عنایت فرمائے کہ جس سے میں بصد شکرگزاری کوئی نیک کام انجام دے سکوں۔
خیر خواہی کا عظیم عمل:
رحمتِ عالم فخرِ بنی آدم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے: الدین نصیحۃ: دین ہر طرح کی خیر خواہی کا نام ہے، یعنی نیت میں بھی، قول میں بھی، اور عمل میں بھی خیر خواہی ضروری ہے، تا کہ اس سے اسلام اور ایمان کی ساری خوبیاں جمع ہوسکیں، چنانچہ اسی اسلامی خیر خواہی کے جذبے سے ہمارے نامدار ادارہ “آغا خان ریجنل
۱۵
کونسل گلگت” نے علاقہ کے فرقہ ورانہ فسادات کے سدِ باب کی خاطر جو جو نمایان کارنامے انجام دیئے، وہ تاریخ کے اوراق پر آبِ زرّ سے لکھنے کے قابل ہیں، امامِ عالی مقام کے ان قابلِ احترام نمائندوں نے اپنے دونوں برادر فرقوں کو جذبۂ خیر خواہی سے اتنا متاثر کیا کہ بالآخر وہ حضرات جو آخری کانفرنس میں تھے ایک دوسرے سے بغلگیر ہوگئے، ایسا بڑا مشکل کام ایک دو دن میں کیسے مکمل ہو سکتا تھا، لہٰذا انہوں نے بڑی جانفشانی اور دانشمندی سے مرحلہ وار کئی میٹینگیں منعقد کیں، اپنے طور پر بھی، دوسرے بھائیوں کے ساتھ بھی، اور مقامی حکام کے ساتھ بھی۔
الغرض نامدار ریجنل کونسل گلگت نے جس ہمہ گیر خیرسگالی، امن پسندی، اور تصفیۂ باہمی کا کردار انجام دیا، اسے نہ صرف حکومت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے، بلکہ آرمی کی ہائی کمان، اور عوام و خواص کی اکثریت بھی اس مصالحتی کارنامے کی تعریف کرتی ہے، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آگ بجھائی گئی، ورنہ یہ آتش پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیتی۔
جماعتی ترقی:
گلگت میں ہماری جماعتِ با سعادت کی ترقی موجودہ حد تک کس طرح پہنچ گئی، اور اس کے اسباب و ذرائع کیا کیا تھے، وہ قصّہ بڑا طویل ہے، لیکن ہم یہاں امامِ اقدس و اطہرؑ کے ان تمام مخلص
۱۶
اور جان نثار مریدوں کو سلامِ عزّت بھیجتے ہیں، جنہوں نے اس مجموعی ترقی کے سلسلے میں کسی بھی حیثیت سے کام کیا ہو، قومی ترقی کی خاطر نہ صرف دماغی قوّت اور پین پاور سے کام لیا جاتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ مالی قربانی اور جسمانی محنت و مشقت بھی ازحد ضروری ہوا کرتی ہے، پس موجودہ ترقی زبانِ حال سے یہ گواہی دے رہی ہے کہ مولائے برحق کے پاک اداروں اور نیک نام جماعت نے شروع سے لے کر اب تک بڑی گرانمایہ خدمات انجام دی ہیں۔
علم و ادب:
علم دینی بھی ہے اور دنیاوی بھی، ہمیں من حیث القوم دونوں کی سخت ضرورت ہے، ادب اگر علم کے بغیر ہے تو وہ صرف تیاری کا مرحلہ ہے، علم گویا آدمی ہے اور ادب اس کا لباس، کیونکہ پہلے مرحلے میں زبان ہے، دوسرے میں اس کا ادب، اور اس کے بعد علم کا درجہ آتا ہے، اگر ہم یہاں زبان کی بات کرتے ہیں، تو سب سے پہلے قرآن و حدیث کی زبان ہے، اس کے بعد فارسی زبان ہے، کیونکہ اس میں دینی کتب کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے، نیز یہ ہمارے اُن بھائیوں کی زبان ہے، جو ایران، افغانستان، تاجکستان، سریقول وغیرہ میں رہتے ہیں، اردو زبان کی اہمیت مسلّمہ ہے، جبکہ وہ ہماری قومی زبان ہے، جی ہاں، آج کی دنیا میں انگلش کی بھی بڑی اہمیت و ضرورت ہے، اس لئے کہ یہ عالمی زبان بن چکی ہے
۱۷
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آپ اس سلسلے میں اپنے لوگوں کی بہترین خدمت کس طرح انجام دے سکتے ہیں، تاہم یہ بات یاد رہے کہ کوئی بھی لسان علم نہیں، یعنی زبان دانی کا نام علم نہیں ہوسکتا ہے، ہاں یہ بات درست ہے کہ ہر ایسی زبان علم کے لئے سیڑھی ہے، جس میں علمی کتابیں مہیا کی گئی ہوں۔
تاویلی حکمت:
پیغمبرِاکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: الحکمۃ ضالۃ المومن = حکمت مومن کی کھوئی ہوئی چیز ہے۔ یعنی جب مومن خدا کے نزدیک یا بہشت میں تھا تو اس وقت اس کے پاس علم و حکمت کے خزائن تھے، جب وہ اس دنیا میں آگیا، تو یہ دولت فراموش اور گم ہوگئی، لہٰذا اب ہر مومن اور مومنہ کے لئے اس متاعِ گمشدہ کی تلاش ضروری ہوگئی، یاد رہے کہ دین کی سب سے اعلیٰ باتیں سیم و زرّ، اور لعل و گوہر سے کہیں زیادہ گرانقدر ہیں، اس لئے وہ جہاں بھی ہوں صندوقِ حکمت میں مقفل ہیں، پس کلیدی حکمت کی بہت بڑی اہمیت ہے۔
ایک اہم مثال:
حضرتِ امیر المومنین علی علیہ السّلام نے فرمایا: سلونی عما دون العرش = پہلا ترجمہ: مجھ سے ہر اس چیز کے بارے میں پوچھو جو عرش (کی حد) کے نیچے ہے۔ دوسرا ترجمہ: مجھ سے ہر
۱۸
اس چیز کے بارے میں پوچھو جو نورِعقل (عرش) کے تحت ہے۔ اگرچہ لفظی اعتبار سے پہلا ترجمہ غلط تو نہیں، لیکن اس میں صندوقِ حکمت مقفل ہی ہے، اور وہ لفظِ “عرش” ہے، جبکہ دوسرے ترجمہ میں یہ صندوق کھولا گیا ہے، اب اس وجہ سے دونوں ترجموں کے درمیان آسمان زمین کا فرق پیدا ہوگیا، پس علئ زمان صلواۃ اللہ علیہ اپنے نورِعقل کی ہمہ گیر روشنی میں ہر چیز کا علم رکھتا ہے، اور کوئی شیٔ نورِعقل سے باہر اور برتر نہیں۔
سلونی کا مطلب:
چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے تو ہر زمانے کا امام مولاعلیؑ کی طرح “سلونی عما دون العرش” کا فرمان صادر فرماتا ہے، اور وہ قول سے بڑھکر ایک عملی ہدایت ہے، یعنی شاہراہِ صراطِ مستقیم پر گامزن کر دیا جاتا ہے، تا کہ آگے سے آگے چل کر مومنین و مومنات نورِعقل کا دیدار کریں، اور اس سے پوچھے بغیر ہر ہر سوال کا جواب حاصل کریں، (۵۷: ۱۳، ۵۷: ۲۸، ۵۷: ۱۲) اور آیۂ کریمہ: فسئلوا اہل الذّکر (۱۶: ۴۳) اہلِ ذکر سے پوچھو، کا مطلب بھی یہی ہے کہ جو لوگ پیغمبروں کی روحانیت کو نہیں جانتے ہیں، وہ اہلِ ذکر (امامِ وقتؑ ) سے اس طرح پوچھیں کہ اس کی ہدایت کے مطابق کامل و مکمل روحانیت کو حاصل کریں، تا کہ نورِ عقل کی روشنی میں ہر چیز کا علم حاصل ہو جائے۔
۱۹
گہوارہ اور قبر میں علم؟
آنحضرتؐ نے فرمایا: اطلبوا العلم من المہد الی اللحد = تم گہوارے سے لے کر قبر تک علم کی تلاش کرتے جاؤ۔ ظاہر ہے کہ طفلِ گہوارہ نہ تو علم کی تلاش کر سکتا ہے اور نہ ہی علم کو سمجھ سکتا ہے، اور قبر میں تو مردہ ہے، وہ کس طرح علم کو ڈھونڈ سکتا ہے، چنانچہ اس کی تاویلی حکمت لازمی ہے، وہ یہ ہے کہ ہوشمند مومن شروع شروع میں طفلِ شیر خوار کی طرح اپنے آپ کو دینی معلّم کے سپرد کر دیتا ہے، تا کہ وہ اسے گہوارۂ فرمانبرداری میں باندھ کر شیرِعلم سے پرورش کرے، پھر وہ آگے چل کر یا تو نفسانی موت کا مزہ چکھ لیتا ہے، یا جسمانی موت سے مرجاتا ہے، پس ان دونوں میں سے جو بھی صورت ہو، اس مومن یا مومنہ کو ایک زندہ قبر یعنی ایک اعلیٰ ہستی مل جاتی ہے، جس میں اس کو روحانی تعلیم دی جاتی ہے۔
علم کے ساتھ لفظِ “طلب” کیوں؟
اس میں کیا راز پوشیدہ ہے کہ حدیثِ شریف میں حصولِ علم کے لئے جو حکم دیا گیا ہے، وہ اکثر لفظِ : “طلب” سے شروع ہو جاتا ہے؟ یعنی فرمایا گیا ہے کہ علم طلب کرو (ڈھونڈو) یا علم تلاش کرو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ علم کی طلب و تلاش میں ذہنی اور خارجی ہر قسم کی حرکت اور جستجو لازمی ہے، خواہ وہ جسمانی مسافرت ہو یا روحانی سفر، چاہے وہ قرآن و حدیث کا گہرا مطالعہ ہو یا آفاق و انفس
۲۰
میں غور و فکر، غرض ان تمام حرکتوں کا نام طلبِ علم ہے، پس مومن اور مومنہ کی ہوشمندی اسی میں ہے کہ وہ ہمیشہ حصولِ علم کی خاطر اپنی ہر کوشش اور ہر گونہ حرکت کو جاری رکھے، تا کہ خداوندِ دو جہان اس کی پرخلوص حرکت میں علم کی گوناگون برکتیں پیدا کرے۔ آمین!
ایک بڑا مشکل سوال اور اس کا جواب:
ربّ العزت کا ارشاد ہے: و اعبد ربّک حتی یاتیک الیقین (۱۵: ۹۹) پہلا ترجمہ: اور تم اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو تا آنکہ تمہارے پاس موت آئے۔ دوسرا ترجمہ: اور تم اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو تا آنکہ تم کو یقین آئے۔ یہ بڑا مشکل مسئلہ رہا ہے کیونکہ اکثر علماء نے یقین سے موت مراد لی ہے، جبکہ دوسرے علماء کے نزدیک یقین کا مطلب موت نہیں، یقین ہی ہے، جسے آپ قلبی اطمینان بھی کہہ سکتے ہیں، تاہم دونوں ترجموں میں سوال باقی ہے، بلکہ کئی سوالات ہوسکتے ہیں، چنانچہ ترجمۂ اوّل سے یہ بحث ہے: ہر کام کا ایک آخری مقصد ہوا کرتا ہے، لیکن عبادت کا مقصد ظاہری موت نہیں، اگر کوئی کہے کہ یہ نفسانی موت ہے تو بھی درست نہیں، کیونکہ ایسی موت بھی عبادت کی آخری حد نہیں ہوسکتی، معلوم ہے کہ انبیاء و اولیاء پر زندگی ہی میں نفسانی موت واقع ہوجاتی ہے، اور وہ حضرات ذکر و بندگی کو ترک نہیں کرتے ہیں۔ ترجمۂ دوم سے بحث: آیۂ شریفہ کا خطاب آنحضرتؐ سے ہے۔
۲۱
پھر کیا حضورِ انورؐ کو اس حکم سے پہلے ہی سے یقینِ کامل حاصل نہیں تھا؟ یہ کس طرح ممکن ہے کہ رسول اللہ کی عبادت ذاتی یقین کی حد تک محدود ہو؟
آخری جواب:
آیۂ کریمہ کا خطاب اگرچہ نبئ اکرمؐ سے ہے، تاہم نمونۂ ہدایت اہلِ ایمان کے لئے ہے، اور اس قسم کا ارشاد بڑا خاص ہوا کرتا ہے، چنانچہ میں ولئ زمان صلواۃ اللہ علیہ کی تائید و یاری سے اس آیۂ مبارکہ کی کچھ حکمتیں بیان کرنے کے لئے سعی کرتا ہوں کہ یقین کے تین بڑے درجے ہیں: علم الیقین، عین الیقین، اور حق الیقین، پھر ہر بڑے درجے کے بہت سے ذیلی درجات ہیں، چنانچہ حکم ہوا کہ اے مومنِ موَحِّد تو اپنے ربّ کی ہر عبادت اس معیار سے کر کہ نتیجے کے طور پر یقین کی روشنی اور اطمینانِ قلبی حاصل ہو جائے۔
دوسری حکمت یہ ہے کہ جس طرح ہرعبادت کے نتیجے میں ایک ذیلی یقین کی روشنی یعنی تائیدی علم وغیرہ ضروری ہے، اسی طرح مجموعی بندگی کا ثمرہ کسی بھی مرحلے میں بصورتِ حق الیقین مل سکتا ہے، کیونکہ جزو دلیل ہے کلّ کے لئے، اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے کہ مومنین و مومنات اس درجہ سے بھی بہت آگے جائیں، جہاں ہر عبادت کے نتیجے میں یقین کی روشنی نظر آتی ہے، جیسا کہ حکم ہے: اے بنی آدمؑ ہر عبادت میں اپنی (روحانی) زینت سے آراستہ ہو جاؤ (۰۷: ۳۱)
۲۲
یعنی اے آدمِ زمانؑ کے بیٹو! تم ہر عبادت اس پاکیزگی سے کرو کہ اس کا نتیجہ روحانی روشنی اور علم ہو۔
تیسری حکمت: جنّ و انس کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت و معرفت ہے (۵۱: ۵۶) معرفت کا دوسرا لفظ یقین ہے، یقین کا آخری اور سب سے بڑا درجہ حق الیقین کہلاتا ہے، جہاں دوسری تمام حقیقتوں اور معرفتوں کے ساتھ ساتھ فنا فی اللہ کا مشاہدہ بھی ہے، چونکہ فنا فی اللہ کے بعد بقا باللہ کا مرتبہ آتا ہے، جس کو ہم عقلی جنم بھی کہہ سکتے ہیں، جہاں سے خدا کے دوستوں کی حقیقی زندگی کا آغاز ہوجاتا ہے، چنانچہ کل من علیہا فان (۵۵: ۲۶)میں بطریقِ حکمت فنا فی اللہ کا ذکر فرمایا گیا ہے، و یبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام (۵۵: ۲۷) میں بقا باللہ کا بیان ہے، اور اس کے بعد ارشاد ہے کہ اس انتہائی اعلیٰ مقام پر جو نعمتیں ہیں، ان کو تم دونوں (یعنی گروہِ جنّ و انس) کیسے جھٹلاؤ گے۔
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
تحریر: گلگت میں، تحقیق و اضافہ: کراچی میں
۳ جمادی الثانی ۱۴۱۴ھ
۱۸ نومبر ۱۹۹۳ء
۲۳
فہرستِ چہل حکمتِ جہاد
| نمبر شمار | حکمت | ص |
| ۱ | سیاسی اور عقلی جنگ | ۲۷ |
| ۲ | اتحاد بین المسلمین | ۲۷ |
| ۳ | محاذِ جنگ پر روحانیت | ۲۷ |
| ۴ | سب سے بہترین موت | ۲۸ |
| ۵ | اللہ والے | ۲۸ |
| ۶ | چھوٹی جماعت | ۲۸ |
| ۷ | سب سے چھوٹا ہتھیار۔ فلاخن | ۲۸ |
| ۸ | جہاد میں تقویٰ اور صبر | ۲۹ |
| ۹ | صوفیانہ جہاد | ۲۹ |
| ۱۰ | سب سے بہترین زمانہ | ۲۹ |
| ۱۱ | ہوشمند مجاہد | ۳۰ |
| ۱۲ | جہادِ اکبر | ۳۰ |
| ۱۳ | جہاد اسلام کا ایک اہم رکن | ۳۱ |
| ۱۴ | سیف و قلم | ۳۱ |
| ۱۵ | خدا کا ہر وعدہ مشروط ہے | ۳۱ |
| ۱۶ | اسلام ایک عظیم درخت | ۳۲ |
| ۱۷ | قرآن کے علم الاشارہ میں ہر چیز کا بیان | ۳۲ |
| ۱۸ | قرآنی اشارات کی بہت بڑی اہمیت | ۳۳ |
| ۱۹ | قرآن اور تسخیرِ کائنات | ۳۳ |
| ۲۰ | فرشتوں کی مدد کی شرطیں | ۳۳ |
| ۲۱ | اجتماعی نافرمانی | ۳۴ |
| ۲۲ | بزرگی کا معیار کیاہے؟ | ۳۴ |
| ۲۳ | عبادت کی مشقیں اور جنگی مشقیں | ۳۵ |
| ۲۴ | صبر اور نماز | ۳۵ |
| ۲۵ | “فطرت” اسلام کا نام ہے | ۳۵ |
| ۲۶ | دو بھلائیوں میں سے ایک | ۳۶ |
| ۲۷ | سب سے بڑی عبادت | ۳۶ |
| ۲۸ | خدا کے رنگ میں رنگین ہو جانا | ۳۷ |
| ۲۹ | مومن سپاہی کی ورزش بھی عبادت ہے | ۳۷ |
| ۳۰ | خوف کس روح میں ہے؟ | ۳۸ |
| ۳۱ | خوفِ بے جا اور خوفِ خدا | ۳۹ |
| ۳۲ | علاج کی تین کتابوں کا مطالعہ | ۳۹ |
| ۳۳ | قرآنی حکمت کا مطالعہ | ۴۰ |
| ۳۴ | درد و الم کس روح کی خاصیت ہے؟ | ۴۰ |
| ۳۵ | فنا کے تین مراتب | ۴۰ |
| ۳۶ | فنا اور حدیثِ قدسیٔ نوافل | ۴۱ |
| ۳۷ | بہشت میں شہید کی ایک تمنا | ۴۱ |
| ۳۸ | شہید روحاً نہیں مرتا | ۴۲ |
| ۳۹ | ایک کو زندہ کیا تو گویا سب کو زندہ کیا | ۴۲ |
| ۴۰ | اسلامی لشکر کے لئے دعا | ۴۳ |
صفحہ ۲۴-۲۶
چہل حکمتِ جہاد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حکمت نمبر ۱۔
پاکستان بنانے کے سلسلے میں جو سیاسی اور عقلی جنگ لڑی گئی، جیسی جانی اور مالی قربانیاں پیش کی گئیں، اور جس نوعیت کا عظیم جہاد کیا گیا، اس میں اسلام کے تمام مکاتبِ فکر کے رہنماؤں اور علماء نے عملاً حصہ لیا، لہٰذا، اب ہمارے لئے یہ امر ضروری بھی ہے اور باعثِ فخر بھی کہ ہم پاکستانی لشکر میں شامل ہوکر اپنے ملک و ملّت کی حفاظت و پاسبانی کریں۔
حکمت نمبر ۲۔۔
فرقہ واریّت اور انتشار کے تلخ تجربوں کے بعد اب اتحاد بین المسلمین کی انتہائی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، اور یہ تحریک سب سے پہلے افواجِ پاکستان کی بدولت بڑی حد تک کامیاب ہوسکتی ہے، بشرطیکہ ملک و ملت کی مضبوطی کی خاطر ہر قسم کے تعصب سے گریز کیا جائے۔
حکمت نمبر ۳۔
حضراتِ اصحاب رضوان اللہ علیہم میں سے بعض نے محاذِ جنگ پر روحانیت کے عجائب و غرائب کا مشاہدہ کیا تھا، اور ان کی روحانی ترقی ہوئی تھی، کیونکہ ایسے میں خدا کی یاد کثرت سے ہونے لگتی ہے، اور
نزولِ ملائکہ کا عالم ہوتا ہے۔
۲۷
حکمت نمبر ۴۔
سب سے بہترین موت شہادت ہے، جو ظاہری بھی ہے اور باطنی بھی، اور یہی شہادت دراصل حیاتِ طیبہ کہلاتی ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک کا ارشاد ہے، ترجمہ: اور جو لوگ خدا کی راہ میں شہید کئے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ لوگ جیتے (جاگتے موجود) ہیں اپنے پروردگار کے ہاں سے (وہ روحانی اور عقلی) روزی پاتے ہیں (۰۳: ۱۶۹)۔
حکمت نمبر ۵۔
یہ ربّانی تعلیم سورۂ آلِ عمران میں ہے ( ترجمہ): اور ایسے پیغمبر بہت سے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ بہتیرے اللہ والوں نے (راہِ خدا میں ) جہاد کیا اور پھر ان کو خدا کی راہ میں جو جو مصیبت پڑی ہے نہ تو انہوں نے ہمت ہاری اور نہ بوداپن کیا اور نہ (دشمن کے سامنے) گڑگڑانے لگے اور صبر کرنے والوں سے خدا محبت کرتا ہے (۰۳: ۱۴۶)۔
حکمت نمبر ۶۔
حضرتِ طالوت کے قصۂ قرآن میں ہے (ترجمہ): بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ خدا کے حکم سے چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آگئی ہے اور خدا صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے (۰۲: ۲۴۹)۔
حکمت نمبر ۷۔
مذکورہ قصہ میں یہ بھی ہے: و قتل داؤد جالوت (۰۲: ۲۵۱) داؤد نے جالوت کو قتل کیا۔ قرآنِ کریم کی ہر آیۂ مقدّسہ میں اہلِ ایمان کے لئے بہت سی سبق آموز نصیحتیں ہیں، چنانچہ
۲۸
یہ قصّہ مشہور ہے کہ حضرتِ طالوت کے زمانے کا سب سے بڑا کافر پہلوان جالوت تھا، جس کو حضرت داؤدؑ نے اس طرح قتل کیا کہ فلاخن (مقلاع، گوپن، گوپھن) میں پتھر رکھا اور جیسا کہ معمول ہے کچھ دور رہ کر فلاخن کو گھمایا، اور اس کا پتھر جالوت کی پیشانی میں گولی کی طرح لگا اور دماغ کے وسط تک پہنچا۔
حکمت نمبر ۸۔
اگر مجاہدین نے پہلے ہی سے اپنی ذات میں تقویٰ اور صبر جیسے عالیشان اوصاف پیدا کر لئے ہیں، تو وعدۂ الٰہی کے مطابق میدانِ جنگ میں فرشتے ان کی مدد کرسکتے ہیں، اور وہ روحانیت کی روشنیوں اور کرامتوں کا مشاہدہ کرسکتے ہیں، کیونکہ ایمانِ کامل اور جذبۂ جہاد سے روحانیت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
حکمت نمبر ۹۔
جس شخص نے صوفیانہ جہاد کیا اور کامیاب ہوگیا تو وہ خدا کے فضل و کرم سے جہادِ ظاہر کے روحانی بھیدوں کے بارے میں گفتگو کرسکتا ہے، کیونکہ دونوں جہاد کا روحانی نتیجہ ایک جیسا ہوتا ہے تا کہ عالمِ شخصی میں علم و معرفت کی ہر چیز موجود ہو۔
حکمت نمبر ۱۰۔
زمانۂ نبوّت تاریخِ اسلام کا سب سے بہترین زمانہ شمار ہوتا ہے، اس میں آج کی طرح اسلامی عسکر کا ادارہ الگ تھلگ نہ تھا، بلکہ اہلِ ایمان (مرد و زن) سب کے سب اسلامی لشکر کے سپاہی تھے، اس سے کئی ایک روشن حقیقتیں چشمِ بصیرت کے سامنے آتی ہیں۔
۲۹
الف: جہاد بڑا اہم فریضہ ہے، جس میں ہر تندرست مسلمان کا شامل ہو جانا ضروری ہے۔
ب: خدا و رسول کی سب سے بنیادی سنّت یہ رہی ہے کہ مسلمین ہمیشہ متحد و متفق ہو جائیں۔
ج: پاکستان آرمی کے علاوہ یہاں کے دوسرے مسلمانوں خصوصاً جوانوں کو بھی جنگی تربیت دینے کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں ہر مسلمان اپنے وقت کے آلاتِ حرب کو جہاد میں بخوبی استعمال کرسکتا تھا۔
حکمت نمبر ۱۱۔
ہوشمند مجاہد مقررہ نماز و عبادت کے علاوہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے بابرکت ذکر میں مصروف رہتا ہے، تا کہ شیطان اپنے وسوسوں کے سلسلے میں اس کے دل میں خوفِ بے جا نہ ڈال سکے، اگر خدائے جلیل و جبار کی پرحکمت یاد مسلسل اور مکمل ہے تو وہ ایک سرچشمۂ نور ہے، جس سے بے شمار کرنیں پھوٹتی ہیں، ان میں کوئی کرن مسرت و شادمانی ہے، کوئی توفیق و ہدایت، کوئی علم و حکمت، کوئی ذوقِ عبادت، کوئی دینی محبت، کوئی شوقِ شہادت، وغیرہ۔
حکمت نمبر ۱۲۔
مجاہدین کے لئے محاذ اور میدانِ جنگ باعثِ رحمت ہے، کیونکہ آدمی کا نفسِ امّارہ اپنی سرکشی سے کبھی باز نہیں آتا، مگر میدانِ جہاد جیسے حالات میں، یہی سبب ہے کہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کسی غزوہ سے واپس ہوتے
۳۰
ہوئے اصحابِ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ: ہم چھوٹے جہاد سے (فارغ ہوکر) بڑے جہاد کی طرف واپس ہو رہے ہیں۔ (یعنی نفسِ امّارہ کے خلاف لڑنا جہادِ اکبر ہے) اس کا مطلب یہ ہوا کہ نفسانی جہاد کے لئے بڑی آسانی جسمانی جہاد کے فوراً بعد ہی ممکن ہے، اور اگر موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا، اور وقت گزرتا گیا تو پھر مشکل ہے۔
حکمت نمبر ۱۳۔
اس کتاب میں بجا طور پر جہاد، مجاہد اور میدانِ جنگ کے بارے میں اسلامی ہدایات درج کی گئی ہے، اور یہ باتیں قابلِ ستائش ہیں، کیوں نہ ہوں، جبکہ ہر بات قرآنِ حکیم اور حدیثِ شریف کی روشنی میں کہی گئی ہے، اور جبکہ جہاد اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔
حکمت نمبر ۱۴۔
ایک ساتھ سیف و قلم جیسی دنیا کی دونوں سردار چیزوں کی مہارتِ تامّہ حاصل کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، لیکن اس معاملے میں میجر جنرل فضلِ غفور صاحب اور ان کے ساتھ آفیسرز قابلِ مبارک باد اور لائقِ تعظیم ہیں کہ انہوں نے اللہ کی رحمت و مہربانی سے ایک ایسا علمی کارنامہ انجام دیا، جو ہمارے پیارے پاکستان کی نامور افواج کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوسکتا ہے۔
حکمت نمبر ۱۵۔
قرآنِ کریم میں خدائے بزرگ و برتر کا کوئی ایسا وعدہ موجود نہیں، جس کے متعلق ہم یہ سمجھ بیٹھیں کہ جہالت، بے عملی، اور تفرقہ کے باوجود ہم دنیا میں غالب و فاتح ہوتے چلے جائیں گے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ پاک کا ہر وعدہ علم و عمل سے مشروط ہے۔
۳۱
اور اس ضمن میں جو کچھ فرمایا گیا ہے، اس میں کوئی انوکھی اور نرالی بات نہیں، مثال کے طور پر اگر میدانِ جنگ میں آسمانی تائید کی شرط تقویٰ اور صبر ہے تو یہ کوئی نئی شرط نہیں، جبکہ یہ مومن کے ہر مقبول قول و فعل کی جان ہے۔
حکمت نمبر ۱۶۔
ہر عظیم اور کلّی چیز کا وجود اس حالت میں قائم و باقی رہ سکتا ہے، جبکہ وہ کامل و مکمل اور واحد و سالم ہو، تقسیم نہ ہو، ٹوٹ نہ جائے، اور اس کے اجزاء الگ الگ نہ ہوجائیں، چنانچہ مسلمان اس وقت فرقہ فرقہ تو ہوچکے ہیں، لیکن پھر بھی اس کا چارۂ کار باقی ہے، وہ یہ کہ ہم ایک ایسے عظیم درخت کی طرح متحد و متفق ہوجائیں، جس کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں، درخت کی شاخیں الگ الگ تو ہیں، لیکن منقطع نہیں، مربوط ہیں، اور درختِ اسلام کی یہی شان بڑی عظیم ہے۔
حکمت نمبر ۱۷۔
کتنی بڑی غفلت و نادانی سرزد ہوئی کہ ہم نے ہدایت نامۂ سماوی (قرآن) کی بے مثال حکمتوں میں بروقت غور و فکر نہیں کیا، جس کی وجہ سے ہم سائنس، ٹیکنالوجی اور مادّی ترقی میں دوسروں سے بہت پیچھے رہ گئے، حالانکہ اللہ کی پرحکمت کتاب کے علم الاشارات میں سب کچھ موجود ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: و نزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شیء = اور ہم نے تم پر کتاب (یعنی قرآن) نازل کی جس میں ہر چیز کا بیان
ہے (۱۶: ۸۹)۔
۳۲
حکمت نمبر ۱۸۔
شاید اس بات سے کسی کو تعجب اور حیرت ہو کہ قرآنِ کریم میں دیگر بہت سے علوم کے ساتھ ساتھ “علم الاشارہ” بھی موجود ہے، کیونکہ اشارہ خدائے علیم و حکیم کے نزدیک ایک پسندیدہ چیز ہے، جبکہ لفظِ “اشارہ” وحی کا ہم معنی ہے، اس کی ایک مثال کے لئے ہم سورۂ انفال سے رجوع کرتے ہیں، فرمایا گیا: (ترجمہ) اور تم ان کفار کے (مقابلہ کے) واسطے جہاں تک تم سے ہوسکے قوّت اور بندھے ہوئے گھوڑے سے تیاری کرو (۰۸: ۶۰)۔ پس یہاں لفظِ قوّت (طاقت) ایک غیر محدود اشارہ ہے، جس میں ہر زمانے کی تمام جنگی قوّتوں کا ذکر ہے۔
حکمت نمبر ۱۹۔
آیا قرآنِ مجید میں تسخیرِ کائنات کا موضوع نہیں ہے (۲۲: ۶۵، ۳۱: ۲۰، ۴۵: ۱۳)؟ اگر ہے تو اس کا تعلق کن لوگوں سے ہے؟ اور قرآنِ عظیم کا خطاب کس قوم سے ہوا ہے؟ کیا اس موضوع کا بیان ایسا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایتِ بے نہایت اور اپنے محبوب رسول کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے کائنات کی تمام چیزیں بحدِ قوّت (potentially) مسخر کر دی ہیں؟ پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ اللہ کی یہ مادّی نعمتیں غیروں کے پاس ہیں، اور ہم ان کے دست نِگر ہیں؟
حکمت نمبر ۲۰۔
احکامِ دین کی بجا آوری کا سب سے اعلیٰ مقصد پروردگارِ عالم کی خوشنودی ہی ہے، جس میں دین و دنیا کی
۳۳
صلاح و فلاح مضمر ہے، اس کے علاوہ ہر حکم کی تعمیل میں بہت سے ذیلی اور ضمنی فائدے بھی ہیں، مثال کے طور پر اگر نماز حقیقی معنوں میں ادا کی جائے تو اس کا فوری ثمرہ یہ ہے کہ ایسا نمازی ہر بے حیائی اور برائی سے محفوظ رہتا ہے (۲۹: ۴۵) اور روزہ اس کی روح کے ساتھ رکھنے سے مومن میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوجاتی ہے (۰۲: ۱۸۳) اب اگر ایسا مومنِ مجاہد میدانِ جنگ میں جاتا ہے تو یقینی امر ہے کہ خدا کے حکم سے فرشتے اس کی مدد کریں گے، اور اگر مصلحتِ ربّانی اس کے شہید ہوجانے میں ہے تو پھر بھی فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے (۴۱: ۳۰)۔
حکمت نمبر ۲۱۔
زمانہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے، دنیا کی بڑی بڑی قومیں آپس میں مل کر ایک ہو رہی ہیں، حالانکہ ان کے پاس کوئی ایسی آسمانی کتاب موجود و محفوظ نہیں، جیسے ہمارے پاس قرآنِ عظیم ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم لوگ ملی وحدت و سالمیت کی بے شمار نعمتوں کو ضائع کرتے ہوئے فرقہ واریت کے فتنوں کو برپا کر رہے ہیں، یہ بہت بڑی اجتماعی نا فرمانی ہے۔
حکمت نمبر ۲۲۔
دینِ اسلام کے تمام قولی و فعلی عبادات کے جوہر کا نام تقویٰ ہے، اور تقویٰ کے معنی ہیں: خوفِ خدا، پرہیزگاری، پارسائی، اپنے آپ کو گناہ سے بچانا، اور قرآنِ حکیم نے خوفِ خدا (تقویٰ) کو خصوصی علم کے ساتھ مربوط (۳۵: ۲۸) کرکے اسے بزرگی کا معیار قرار دیا (۴۹: ۱۳) اس میں کوئی شک نہیں کہ تقویٰ کے معنی
۳۴
میں انبیاء و اولیاء کے اوصاف و کمالات کے جوہر کا تذکرہ ہے، کیونکہ دراصل یہ وصف انہی حضرات کا خاصہ ہے، اور انہی قدسیوں سے اس کا فیض اہلِ ایمان کو ملتا رہتا ہے۔
حکمت نمبر ۲۳۔
جس طرح ہر کامیاب اور نامور فوج اپنی جنگی مشقیں عملی جنگ سے پہلے ہی مکمل کر لیتی ہے، اور اسی پر اکتفاء نہیں کرتی، بلکہ انہیں جاری بھی رکھتی ہے، اسی طرح خدا کے شیروں یعنی مجاہدین کے لئے یہ امر بے حد ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی جملہ عبادات کو اسلام کی روح کے مطابق بجا لائیں، تا کہ میدانِ جنگ میں ان کی دعا قبول ہو، اور آسمانی تائید و نصرت ان کے ساتھ رہے۔
حکمت نمبر ۲۴۔
ارشادِ باری تعالیٰ کا ترجمہ ہے: اے ایمان والو! تم صبر اور نماز کے ذریعے سے (خدا کی) مدد مانگو (۰۲: ۱۵۳) لیکن یہاں یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ صبر جیسا اعلیٰ وصف ایک دن میں پیدا نہیں ہوسکتا، اور نہ مذکورہ نماز غافلوں کی نماز ہوسکتی ہے، جن کے بارے میں ارشاد ہوا ہے (ترجمہ): پس ان نمازیوں کے لئے تباہی ہے جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں (یعنی وہ نماز تو پڑھتے رہتے ہیں، لیکن وہ ان کے دل کی گہرائی میں نہیں اترتی، کیونکہ ان میں عاجزی اور خوفِ خدا نہیں)۔
حکمت نمبر ۲۵۔
اسلام آفاقی دین ہے، اس لئے یہ دینِ فطرت کہلاتا ہے، بلکہ لفظِ فطرت خود اس دین کے ناموں میں سے ہے،
۳۵
جیسا کہ ارشادِ نبوّی ہے: کل مولود یولد علی الفطرۃ۔۔۔ہر بچہ اسلام پر پیدا ہوجاتا ہے۔۔۔ یہ بات اہلِ دانش کے نزدیک معمولی ہرگز نہیں، بڑی انقلابی ہے کہ دنیا بھر کے نوزائیدہ بچے پیدائشی مسلمان ہوا کرتے ہیں، مگر ان میں سے اکثر بچے والدین کی وجہ سے دوسرے ادیان میں چلے جاتے ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس ارشادِ مبارک میں بڑی عجیب و غریب حکمتیں پوشیدہ ہیں۔
حکمت نمبر ۲۶۔
ہمارے بہادر اور نامور مجاہدین کے لئے ایک خاص قابلِ توجہ نکتہ یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت و مہربانی سے میدانِ جنگ میں دو بھلائیوں میں سے ایک کو حاصل کرنے والے ہیں، وہ فتح ہے یا شہادت، اور یہ نظام قرآنِ پاک (۰۹: ۵۲) میں احدی الحسنین (دو بھلائیوں میں سے ایک) کہلاتا ہے، اور یہ بہت بڑی سعادت صرف اہلِ ایمان کو نصیب ہوتی ہے۔
حکمت نمبر ۲۷۔
خداوند تعالیٰ حقیقی بادشاہ اور ہم سب اس کے عباد، غلام، اور بندے ہیں، اللہ کی عبادت، غلامی، اور بندگی دراصل ایک ہی چیز ہے، تاہم اردو ادب میں لفظِ غلامی زیادہ قابلِ فہم ہے، اس لئے ہم یہاں کچھ دیر کے لئے عبادت کو اللہ کی غلامی کہیں گے، چنانچہ دینِ اسلام میں نیت، قول، اور فعل کے سلسلے میں ہم خدا کی غلامی کرنے کے پابند ہیں، اب ہم سوال کرتے ہیں کہ حقیقی بادشاہ کی نظر میں اپنے غلاموں کی کون سی غلامی زیادہ سے
۳۶
زیادہ پسند ہے؟ قرآنِ کریم اور حدیثِ شریف کی روشنی میں اس کا جواب بڑا آسان ہے، وہ اس طرح کہ جو غلامی سب سے زیادہ مشکل ہو، اور جس میں مسلمانوں کا اجتماعی فائدہ ہو، وہی غلامی اللہ کو زیادہ پسند ہے، اس مثال سے ظاہر ہے کہ مجاہدین سب سے بڑی عبادت میں مصروف ہیں، اور ہر وہ شخص بھی ایسی عبادت کر رہا ہے، جو حقیقی معنوں میں قوم کا خادم ہو۔
حکمت نمبر ۲۸۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہرگز کسی چیز کا محتاج نہیں، لیکن اس کی رحمت و نوازش کی شان کتنی انوکھی اور نرالی ہے کہ وہ ہمیں جان و مال عطا کر دیتا ہے، پھر اس عظیم احسان پر انتہائی عظیم احسان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ: یقیناً اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور ان کے اموال کو بہشت کی قیمت پر خرید لیا (۰۹: ۱۱۱) پھر اس کی عنایات کا کیا کہنا کہ اللہ کا کیا ہوا سودا جہاد کے دن تک مومنین ہی کے پاس امانت رہتا ہے، تا کہ وہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں، یہاں ایک نکتۂ دل نشین یہ ہے کہ اگر جہاد کے بیشتر قرآنی فضائل اشاراتِ حکمت میں نہ ہوتے، اور ہر شخص ان کو سمجھ سکتا تو کوئی مومن بسترِ علالت پر مرنا پسند نہ کرتا، وہ اپنی شہادت کے خون سے رنگین ہونے کو صبغۃ اللہ (۰۲: ۱۳۸) قرار دیتا۔
حکمت نمبر ۲۹۔
دنیا کے نامور کھلاڑیوں اور مشہور پہلوانوں کو دیکھ کر کوئی آدمی دل ہی دل میں یوں کہتا ہوگا کہ کاش میں بھی ایسا ہوتا!
۳۷
لیکن اس دنیوی شہرت کی کوئی اہمیت ہی نہیں، اگر مومن سپاہی طرح طرح کے مردانہ کھیلوں سے اپنے آپ کو جہاد میں سختی برداشت کرنے کا عادی بنا لیتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے، ورنہ کھیل اور پہلوانی صرف دنیا کا ایک تماشا ہے، اور دین کی نظر میں وہ کوئی بہادری نہیں، شجاعت، دلیری، بہادری، اور مردانگی میدانِ جہاد میں ظاہر ہوتی ہے، اسی لئے فوجی اعزازات مقرر ہیں، اور ان میں چوٹی کا اعزاز “نشانِ حیدر” ہے۔
حکمت نمبر ۳۰۔
انسانِ کامل میں چار روحیں ہوتی ہیں، چوتھی روح کا نام روحِ مقدّس ہے، باقی انسانوں میں تین ہیں، جن کے نام یہ ہیں: روحِ نباتی، روحِ حیوانی، اور روحِ انسانی، اب ایک بڑا دلچسپ اور مفید سوال کرنا ہوگا، بتائیے کہ خوف ان تینوں میں سے کس روح کا خاصہ ہے؟ اور غصہ کس روح کا ؟ اس کا جوابِ شافی یوں دیا جائے گا کہ ہم درخت، جانور، اور آدمی پر نظر ڈال کر ریسرچ کرتے ہیں، تو اس میں ہمیں پتا چلتا ہے کہ خوف اور غصّہ درخت میں نہیں، جب ہم حیوان پر آتے ہیں، تو یہ دونوں خاصیتیں اسی میں پائی جاتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خوف اور غصے کا مقام نہ تو روحِ نباتی ہے اور نہ ہی روحِ انسانی، بلکہ یہ روحِ حیوانی میں موجود ہے، اب مذکورہ سوال کا جواب مہیا ہوگیا، اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بیماری کی جڑ کہاں ہے۔
۳۸
حکمت نمبر ۳۱۔
خوف جو ہماری روحِ حیوانی میں ہے، اس کا کلّی خاتمہ نہ تو مصلحت ہے اور نہ ممکن، بلکہ اس کو قرآن اور اسلام کے نسخۂ لاہوت کے زیرِ اثر خوفِ بے جا سے خوفِ خدا بنانا چاہئے، اور یہ بات ناممکن نہیں، اسی علاج کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب (۱۳: ۲۸) یاد رکھو کہ خدا ہی کے ذکر سے دلوں کی تسلی ہوا کرتی ہے۔ انسانی قلب میں بہت سی اخلاقی اور روحانی بیماریاں ہوتی ہیں، ان سب کا علاج اللہ کی یاد میں ہے، جس کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہنا چاہئے، تب ہی دل خوفِ بے جا اور دوسری تمام کمزوریوں سے پاک صاف ہوکر اللہ تعالیٰ کی توفیق و ہدایت کی روشنی سے منور ہوجائے گا، آپ اپنے دینی اور دنیوی فرائض کے ساتھ ساتھ ذکرِ کثیر کا طویل سلسلہ شروع کرکے دیکھیں، ان شاء اللہ، توقع سے زیادہ کامیابی ہوگی۔
حکمت نمبر ۳۲۔
کیا کوئی عزیز یہ خیال کرے گا کہ میں اس سلسلے میں جہاد کے موضوع سے ہٹ کر بات کر رہا ہوں؟ ہرگز ایسا نہیں، بلکہ یہ ایک مزید مفید تجویز ہے کہ میری تین کتابوں کا مطالعہ کیا جائے، جو قرآنی علاج، علمی علاج، اور روحانی علاج کے نام سے ہیں، یہ تجویز اس لئے ہے کہ ان کتابوں میں میری پوری زندگی کے خاص خاص تجربات نام لئے بغیر درج ہوئے ہیں، اور یہ خدا کے فضل و کرم سے مشرق و مغرب میں پھیل رہی ہیں۔
۳۹
حکمت نمبر ۳۳۔
اگر ہوسکے تو آپ قرآنِ حکیم کو حکمت کے ساتھ پڑھیں، کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: الحکمۃ ضالۃ المومن (حکمت مومن کی گم شدہ چیز ہے) پس ہر مومن کی ہوشمندی یہ ہے کہ غور و فکر کے ذریعے سے قرآنی حکمت کی تلاش میں لگے رہے، اور قرآنِ پاک میں حکمت کی تعریف اس طرح فرمائی گئی ہے: و من یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا (۰۲: ۲۶۹) اور جس کو (خدا کی طرف سے) حکمت عطا کی گئی تو اس میں شک ہی نہیں کہ اسے خوبیوں کی بڑی دولت ہاتھ لگ گئی۔
حکمت نمبر ۳۴۔
قبلاً ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ خوف اور غصہ انسان کی کس روح میں ہے؟ اب ہم ایک اور مفید سوال کرتے ہیں: سو بتائیے کہ درد و الم کس روح کی خاصیت ہے؟ کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں جنگ میں کوئی خوف نہ ہو، اور اگر ہم زخمی ہوجاتے ہیں تو درد نہ ہو یا کم سے کم ہو، چنانچہ مذکورہ سوال کا جواب یہ ہے کہ درد کا احساس بھی روحِ حیوانی ہی میں ہوتا ہے، پس اس کا علاج بھی ذکرِ کثیر ہی میں ہے، یعنی ہماری عادت ایسی ہو کہ ہم کثرت سے خدا کو یاد کریں، تا کہ محویت و فنائیت کا کوئی مقام حاصل ہو، جس کی برکت سے درد ختم ہوجائے، یا کم ہوجائے۔
حکمت نمبر ۳۵۔
صوفیوں کا تصورِ فنا حقیقت کی طرف جانے کے لئے پل کا کام دے رہا ہے، وہ اس طرح ہے: فنا فی الشیخ / فی المرشد / فی الامام،
۴۰
پھر فنا فی الرسول، اور آخر میں فنا فی اللہ و بقا باللہ، میں سمجھتا ہوں کہ وہ سالک جو شیخ یا مرشد یا امام میں فنا ہوجاتا ہے، وہ روحانیت کا غیر معمولی تجربہ اور علم رکھتا ہوگا، ورنہ ایسی فنا کے کیا معنی ہوسکتے ہیں۔
حکمت نمبر ۳۶۔
فنا صرف آخرت میں حاصل ہوتی ہے یا دنیا میں بھی؟ جواب کے لئے اس حدیثِ قدسی میں غور کریں (ترجمہ): “اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعہ مجھ سے قرب حاصل کرتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پس جب میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں ہوجاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے۔” (صحیح بخاری، جلدِ سوم، کتابِ رقاق) اس حدیثِ قدسی میں بہت سے کلیدی مسائل کے جوابات موجود ہیں۔
حکمت نمبر ۳۷۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے: ما احد یدخل الجنّۃ یحب ان یرجع الی الدّنیا و مالہ علی الارض من شیءٍ الا الشھید یتمنی ان یرجع الی الدنیا فیقتل عشر مرَّات لما یری من فضل الشّھادۃ۔
(ترجمہ): جنت میں پہنچنے کے بعد کوئی شخص بھی دنیا میں لوٹنا پسند نہیں کرتا کیونکہ زمین پر اس کا کچھ نہیں رہ جاتا، مگر شہید جب شہادت کے انعامات کو دیکھتا ہے تو یہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ کاش وہ دنیا
۴۱
میں لوٹا دیا جائے اور دس بار قتل ہو۔ (گلستانِ حدیث، ص ۲۸)۔
حکمت نمبر ۳۸۔
شہید جسماً قتل تو ہو جاتا ہے، لیکن روحاً نہیں مرتا، کیونکہ جہادِ اصغر اور جہادِ اکبر کے شہداء کی ارواح حضرتِ ربّ العزت کے سرچشمۂ نور میں پہلے ہی سے زندہ ہیں، ان کو وہاں بہشت میں عقلانی، روحانی اور لطیف جسمانی نعمتیں مل رہی ہیں، وہ ان بے مثال نعمتوں سے بے حد شادمان ہیں، ان کی وجہ سے ان کے پس ماندگان وغیرھم پر جس طرح اللہ مہربان ہو رہا ہے، اس سے بھی وہ پھولے نہیں سماتے ہیں۔
حکمت نمبر ۳۹۔
سورۂ مائدہ (۵: ۲۷ تا ۳۲) میں قصّۂ ہابیل و قابیل کو خوب غور سے پڑھ لیں، اور اس حکمت کو جاننے کے لئے کوشش کریں کہ جس نے ایک آدمی کو ناحق قتل کیا اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا، اور جس نے ایک شخص کو زندہ کیا (جان بچا دی یا علمی طور پر زندہ کیا) تو اس نے گویا سب لوگوں کو زندہ کیا۔ آدم علیہ السّلام اپنے وقت میں ایک فرد تھے، مگر آج آپ اپنی نسل کی وجہ سے دنیا بھر میں پھیل گئے، اگر ہابیل کو قتل نہ کیا جاتا تو وہ بھی آدم کی طرح ایک فرد سے بے شمار افراد ہو جاتا، پس قابیل نے تنہا ہابیل کو قتل نہیں کیا، بلکہ ایک عالمِ انسانیت کو مار ڈالا، جو اس سے پیدا ہونے والا تھا، چنانچہ اگر ہمارے سرفروش مجاہدین ملک اور علاقے کو دشمن کے حملوں سے بچاتے ہیں، تو وہ گویا ہر مسلمان کے عالمِ شخصی میں سے آنے والی بے حساب
۴۲
نسلوں کو زندہ کردیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جہاد کے اتنے بڑے فضائل بیان ہوئے ہیں۔
حکمت نمبر ۴۰۔
انتہائی عاجزی سے دعا ہے کہ پروردگارِ دانا و بینا عالمِ اسلام کو توفیقاتِ غیبی اور فتوحاتِ لاریبی کی لازوال دولت سے مالامال فرمائے! ربّ العزت دنیا بھر کے مسلمانوں کو شاہ راہِ مستقیم پر ایک کر دے! اور اسلامی لشکر کو ہر مقام پر آسمانی تائید و نصرت نصیب ہو! آمین!!
علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
جمعرات ۲۷ ذیقعدہ ۱۴۱۳ھ / ۲۰ مئی ۱۹۹۳ء
۴۳
علامہ نصیر ہونزائی کی شہرۂ آفاق تصنیف ” قرآنی علاج” پر ڈاؤسن کالج مانٹریال کی سکالر بوستان کا تبصرہ
کتاب کا نام: قرآنی علاج
مصنف: علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی
شائع کردہ: خانۂ حکمت، ادارۂ عارف، کراچی
انگریزی ترجمے کا عنوان : Quranic Healing
مترجمین: ڈاکٹر فقیر محمد ہونزائی اور رشیدہ نور محمد ہونزائی
صفحات کی تعداد: ۱۳۴
یہ کتاب ۲۵ ابواب پر مشتمل ہے جن میں سے ہر باب اپنے تئیں ایک جامع اکائی کی حیثیت رکھتا ہے، کتاب کی یہ وحدت اس کے مطالعے اور تحقیق کو اس معنی میں بہت سہل بنا دیتی ہے کہ موضوعاتی سانچے میں ڈھلی اس کتاب کو قاری بآسانی سمجھتا چلا جاتا ہے۔
عام طور پر صحت اور بیماری کے موضوع کو جسمانی اور ذہنی دو قسموں پر تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں جسمانی صحت اور بیماری کا تعلق جسم سے اور ذہنی صحت و علالت کا تعلق ذہن سے ہے، کتابِ ہٰذا صحت اور بیماری کے اس موضوع میں روحانی پہلو کو شامل کرنے کی غرض سے تحریر کی گئی ہے جس کا ذکر خود مصنف نے کتاب کے صفحہ ۳ پر کیا ہے۔
در حقیقت صحت اور بیماری کے موضوع کا یہ تیسرا اہم پہلو، جو روحانی صحت و علالت سے متعلق ہے۔ مغربی تشخیص کے طریقۂ کار میں اکثر و بیشتر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے تاہم اب علاج کے اس
۴۴
روحانی پہلو کے ناگزیر کردار و اثرات کی طرف توجہ مغربی طب اور خالص علمی میادین میں امتیازی حیثیت حاصل کر رہی ہے اور اس حقیقت کے پیشِ نظر نصیر ہونزائی صاحب کی اس کتاب کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
یہ کتاب اپنے مغربی اور مسلمان دونوں قارئین کو نئے سرے سے اسلام کے اس ہمہ گیر (wholistic) نظام سے متعارف کرواتی ہے جس میں بندے، خدا، اور کائنات کی ہم آہنگی کا تصور مسلّمہ ہے، دوسرے لفظوں میں یہ ایک ایسا “نظریۂ علم” ہے جس میں اسلام کے بنیادی تصور کے مطابق روحانی عالم جسمانی عالم سے باہم ملا ہوا ہے، ایک ایسا ہمہ گیر نظریہ جس کی بنیاد مختلف عناصر کے مربوط عمل پر رکھی گئی ہو، اس نظریۂ ذرّیت یا جوہریت (Automistic approach) کی جگہ لے لیتا ہے جس کو مغربی روایات نے آج تک برقرار رکھا ہے۔
کتاب کے ابواب دہم تا چہاردہم “قرآنی طب اور آواز،” “خواب کے اشارات،” “ذکرِ خدا۔ اکسیرِ اعظم،” “خوفِ بے جا کا علاج،” اور “ایک آسمانی دوا۔ دعا” ہیں، ان مقالوں میں ایسے مسائل سے بحث کی گئی ہے جو آج جدید مغربی نفسیات اور روحانی نوعیت کے نفسیاتی معالجے (Psychotherapy of a Pastoral Nature ) کے بنیادی موضوعات ہیں، یہ مباحث روحانی علاج کی تعلیم اور روحانی علاج کے لئے مشاورت (Clinical Pastoral Ed. and Pastoral Counselling) جیسے موضوعات کے لئے خاص طورپر مفید ہیں۔ اسی طرح اس کتاب
۴۵
میں دل کی بیماریوں کی نشان دہی اور درجہ بندی سائیکو تھراپی میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ وہ “شعور کی رکاوٹوں” اور “توانائی کی رکاوٹوں” (Blocks in Consciousness & Energy blocks) کی نشاندہی کرتی ہیں۔
مذکورہ بالا ابواب میں انسدادی (Preventive) اور شفا بخش (Curative) تدابیر اتنی مفصل اور واضح ہیں کہ ہر انفرادی قاری کو سائیکوتھراپی کے عمل میں شرکت کے لئے کچھ ٹھوس اور مثبت طریقے پیش کرتی ہیں۔
بابِ ششم “سورۂ شفا میں طبی اشارات” میں صحت و علالت کی جو درجہ بندی کی گئی ہے وہ انسانی ذات کی مرکزیت کے نظریے کو خدائی ذات کی مرکزیت کے نظریے کی طرف تبدیل کرنے کی اہمیت کو نمایان کرتی ہے، اگرچہ مصنف نے ایسا کرتے ہوئے مکمل طور پر کوئی نیا تصوّر تو پیش نہیں کیا ہے تاہم اس نے یقیناً روحانی نظام کی تجدید اور از سرِ نو تفسیر کی ہے اور اس نئی تفسیر کی مدد سے ہماری زندگی میں مادّیت کی مرکزیت (Material Centeredness) سے پیدا ہونے والی روحانی بیماریوں کی تشریح کرتے ہوئے ان کے علاج پیش کئے ہیں۔
کتاب کے ابواب ۱۸ تا ۲۱ میں “معیارِ صحت،” “حقیقی صحت،” “انسان دنیا میں دنیا انسان میں،” “خدا کن سے محبت کرتا ہے اور کن سے محبت نہیں کرتا،” جیسے موضوعات میں عمومی مسائل سے بحث کی گئی ہے، اگرچہ یہ کتاب بنیادی طور پر ایک مسلمان قاری سے مخاطب نظر آتی ہے
۴۶
تاہم اپنے عمومی اطلاق (Applicability) اپیل اور فائدے کے اعتبار سے دوسروں تک بھی اس کی رسائی ہے، عمومی اطلاق، اپیل اور فائدے تک یہ رسائی صحت و بیماری کے ایسے عام تصورات کو زیرِ بحث لا کر حاصل کی گئی ہے جو کسی بھی حدود سے بالاتر ہیں۔
اس کتاب میں ایک اختتامی باب کی کمی محسوس ہوتی ہے جو کتاب میں پیش کئے گئے علم کی وسعت کو خلاصۃً پیش کرے، نئے ایڈیشن میں اجنبی اصطلاحات کی فرہنگ اور اشاریہ کو شامل کرنا ایک خوش آئند امر ہوگا۔
تبصرہ نگار: بوستان ہیرجی، ڈاؤسن کالج
شعبۂ مذہبیات، مانٹریال
نوٹ: تبصرہ نگار نے واشنگٹن ڈی۔ سی۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے واشنگٹن ہاسپٹل سینٹر میں روحانی علاج کی تعلیم (Clinical Pastoral Education) کے ایک کورس کو مرتب کرنے اور پڑھانے کے لئے کتابِ مذکورہ کو استعمال کیا۔
چہل حکمتِ شکر گزاری
ریکارڈ آفیسرز
اب بفضلِ خدا تین ہیں: عزیزانم روبینہ برولیا، ظہیرلالانی اور عشرت رومی، ویسے تو ہر ایمانی روح کی تعریف و توصیف پھیلانے کے لیے صفحۂ کائنات بھی کم ہے، لیکن یہاں بات بہت ہی مختصر ہوگی، اور وہ بھی ایسی جو مشترک ہو کہ یہ پاکیزہ روحیں ایمان کی لازوال دولت سے مالامال، ذکروعبادت اور مناجات کی حلاوتوں سے آگاہ، علم و حکمت کی لذّتوں سے باخبراور سب سے عظیم خدمت کی فضیلت سے واقف ہیں۔
الحمد للہ ربّ العالمین
۷ اپریل ۱۹۹۳ء
دیباچہ
بسم اللہ الرحمٰن الرّحیم
دوستانِ عزیز! آو ہم سب مل کر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں پر شکرگزاری کی مناجات کرتے ہوئے خوب آنسو بہائیں، یہاں تک کہ ہم منزلِ فنا سے انتہائی قریب ہوجائیں، کیونکہ اللہ، رسولؐ اورصاحبِ امرؑکے نورِہدایت نے اتنے معجزے کئے ہیں اور ایسے عظیم احسانات ہوئے ہیں کہ ان کی کثرت اور جمال وجلال سے عجیب قسم کا ڈرلگ رہا ہے۔
عزیزساتھیو! میں آپ سب سے بصد شوق قربان ہوجاؤں! یہ آپ کی عاشقانہ گریہ وزاری اور پاکیزہ آنسوؤں کی درّفشانی کی قیمت تھی، جس سے میں اپنے محبوبِ جان (امامِ زمانؑ) کے شہر و مقام تک جا سکا، الحمدللہ!بندۂ ناچیز کوجماعت کے ایسے ایسے عملداران وارکان سے ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی جو امامِ زمان علیہ السّلام کے قربِ خاص میں شب وروز خدمت کررہے ہیں، خدا اس حقیقت کا گواہ ہے کہ میں اس زبردست مسرّت وشادمانی سے مغلوب اور بے حال ہورہاتھا، میں نے اُن باسعادت آنکھوں میں معشوقِ روحانی کے دیدار کا تصور کیا، جو امامِ اقدس و اطہرؑ کے نورانی چہرے کو بار بار دیکھتی رہتی ہیں۔
۱
میرا ایک بروشسکی شعر ہے:
جے اتݽقلتݺ کݺ گوڈِ گاری طوافر مولا!
انݺ محّبتݺ مݶلݺ اورشم سِسݺ پروانہ میام
ترجمہ: اے(میرے)مولا! اگر میں تیرے گرداگرد طواف کرنے کی سعادت کو حاصل نہیں کرسکتا ہوں، تو یہ بات میرے لئے ضروری ہے کہ میں ان لوگوں کا طواف کروں جو تیری محبت کی شراب سے مست و مخمور ہوئے ہیں۔
حضرت عیسیٰؑ کی ایک قرآنی مثال (وَجَعَلَنِی مُبَارَکاً أَیْنَ مَا کُنتُ، ۱۹: ۳۱) کے پیشِ نظرہم یقین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسانِ کامل کی ذاتِ بابرکت جہاں ہو وہاں سے ہمیشہ بے شمار ظاہری اور باطنی برکتیں پھیلتی رہتی ہیں، جس طرح سورج اپنے مرکز سے ہمیشہ مسلسل روشنی بکھیرتا ہے۔ اور جیسے کوئی سدا بہار چمن ہر لحظہ اطراف میں عطرافشانی کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح امامِ عالی مقامؑ کی مقدّس نورانیّت، روحانیت اورشخصیت سے فیوض و برکات کا سِلسلہ جاری رہتا ہے۔
دوستانِ عزیز! آپ کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں کہ انسان عالمِ صغیر ہے، یعنی ہر آدمی بحدِّقوّت ایک عالمِ شخصی ہے۔ پس ہر فردِ بشر میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں موجود ہیں، پھر اس کلّیے کی یہ تشریح کیونکر غلط ہوسکتی ہے کہ ہر شخص کی روح علم وعبادت کے وسیلے سے کائناتی روح (روحِ اعظم) میں فنا ہوکر ہمہ رس اور عالمگیر ہوسکتی ہے؟
۲
فرشتۂ عقلِ کامل (عقلِ کُلّ) کے بہت سے ناموں میں سے ایک نام “حمد” ہے۔ چنانچہ “الحمدللہ رب العٰلمین” کی تاویل ہے کہ: فرشتۂ عقل کلّ خدائے بزرگ وبرتر ہی کا ہے جس کے توسط سے وہ پاک عوالمِ شخصی کی پرورش کرتا ہے، اور یہ اس کی خاص تعریف ہے۔
سُورۂ شوریٰ کی آیت پنجم(۴۲: ۵) میں قرآنی قانون کے مطابق ایک عظیم حکمت پوشیدہ ہے، جس کا تاویلی مفہوم یہ ہے کہ: کچھ بعید نہیں کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کے عقلِ کلّ کی نورانیت میں تسبیح کرتے ہیں اور اہلِ زمین کے لئے معافی مانگتے ہیں۔ یہ تاویلی حکمت لفظِ “حمد” میں پنہان ہے، یہاں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ عظیم فرشتے انہونی (غیر ممکن) چیزوں کے لئے دعا نہیں کرتے اور نہ ہی وہ ناقابلِ معافی مجرموں کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں، اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ بالآخر سب کو نجات اور بہشت مِلنے والی ہے، ہر چند کہ بہت سے لوگ عارضی طور پر دوزخِ جہالت میں داخل ہیں۔
خدائے جلیل وجبّار کا ارشاد ہے (ترجمہ) اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی اور نامٔہ اعمال رکھ دیا جائے گا، اور پیغمبروں اور گواہوں کو حاضر کیا جائے گا (۳۹: ۶۹) خواہ عالمِ شخصی کی انفرادی قیامت ہو یا عالمِ ظاہر کی اجتماعی قیامت، ہر صورت میں یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ یہاں زمین سے کیا مراد ہے؟ کرۂ ارض؟ یا اس کے باشندے؟ ظاہری زمین کومادّی روشنی کی جتنی ضرورت ہے وہ تو شروع ہی سے
۳
مہیا ہے، تو کیا اس قرآنی پیش گوئی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زمانۂ روحانیت میں تمام لوگوں پر نورانی علم کی بارش ہونے والی ہے؟ اور یہ سوال الگ ہے کہ آیا ایسے زبردست علم کی بارش عالمِ شخصی میں ہوگی؟ یا عالمِ ظاہر میں؟ یا دونوں میں؟
ہر شخص میں بصورتِ ذرّاتِ لطیف تمام اوّلین و آخرین موجود ہوا کرتے ہیں، لہٰذا جب کسی مومنِ سالک پر انفرادی قیامت گزرتی ہے، تو یہ جملہ خلائق کی نمائندہ قیامت قرار پاتی ہے، یعنی ذاتی قیامت میں اجتماعی قیامت پوشیدہ طور پر واقع ہوتی ہے، اوردوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہی انفرادی قیامت اس مومنِ سالک کی اور سب کی کتابِ اعمال بھی ہے۔
قرآنِ حکیم میں ہر علمی سوال کے لئے مکمل جواب موجود ہے۔ مثال کے طور پر یہ سوال ہو کہ بہشت میں اہلِ بہشت کے لئے کیا کیا چیزیں یعنی نعمتیں ہیں؟ اس کا جواب متعدد آیاتِ مقدسہ سے مِل سکتا ہے، اور ان میں سے ایک یہ ہے: لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ (۵۰: ۳۵)
ترجمہ: ان کو بہشت میں سب کچھ مِلے گا جو جو چاہیں گے، اور ہمارے پاس اور بھی زیادہ ہے۔
اب فرض کرلو کہ ایک مومن جنّت میں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا حشر آنحضرتؐ کے ساتھ ہو، تا کہ وہ حضورِانورؐ کی معراج کے انتہائی عظیم اسرار کا مشاہدہ کرسکے تو یقیناً اس مومن کو یہ بہت
۴
بڑی نعمت ملے گی، کیونکہ ” ہر ایک میں سب” کے قانون کے مطابق رحمتِ عالم صلعم میں سب لوگ موجود تھے، اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہ بھی ہے کہ ہر شخض کو طوعاً یا کرھاً سرِتسلیم خم کرکے اس کی طرف لوٹ جانا ہے(۰۳: ۸۳) اور خدا کی طرف لوٹ جانا صراطِ مستقیم (پیغمبراور امام) ہی سے ممکن ہے، اور دینِ حق کا یہ راستہ معراج تک جاتا ہے۔
میرے روحانی بھائیو اور بہنو! مجھے معلوم ہے کہ آپ سب روحانی ترقی کو جان و دل سے چاہتے ہیں، اور اس کے لئے جدوجہد بھی جاری ہے، تاہم میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ چوٹی کی روحانی ترقی کے لئے عام و خاص عبادت کے ساتھ ساتھ علم الیقین سے بھی کام لیں، کیونکہ حقیقی علم کے بغیر تنہا عبادت سے کوئی خاص روحانی ترقی نہیں ہوسکتی ہے۔
“چہل حکمتِ شکرگزاری” کا یہ مقالہ بالعموم سب کے لئے ہے، اور بالخصوص ان کے لئے، جن کی روحیں، دعائیں اور یادیں میرے دل و دماغ کو ہر بار تازہ دم کرتی رہتی ہیں، ان عزیز دوستوں کی عظیم الشّان امیدوں کی کیا تعریف کروں، جو مونوریالٹی پر یقین رکھتے ہیں، ہم سب عشق و محبت کے ساتھ اس پاک وپاکیزہ ہستی سے قربان جائیں جس نے کمالِ کرم سے ہم کو یہ انقلابی تصور دیا۔ الحمدللہ۔
سب سے ادنیٰ خادم
نصیر الدّین نصیرؔہونزائی
لنڈن۔ ۹۳۔۷۔۹
۵
چہل حکمتِ شکر گزاری
حکمت۱: الحمدللہ! ہم اسماعیلی زمانۂ آدمؑ سے قیامت تک نورِامامت کے حاضر و موجود ہونے کے قائل ہیں، اور یہ عقیدہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔
حکمت ۲: الحمد للہ! پیغمبرِاکرمؐ کے ارشادِ گرامی کے بموجب اہلِ بیت یعنی امامِ زمان علیہ السّلام ہمارے لئے کشتیٔ نوحؑ ہیں، اسی وجہ سے ہمیں جہالت و گمراہی کے طوفان سے نجات حاصل ہے۔
حکمت ۳: الحمدللہ! قرآنِ حکیم میں جس طرح آلِ ابراھیمؑ کی تعریف و توصیف کی گئی ہے(۰۴: ۵۴) وہ اب آلِ محمد یعنی امامِ وقتؑ کی تعریف و توصیف ہے، اس معنی میں ہم پر شکر واجب ہے کہ ہم قرآنی حکمت کے خزانے سے وابستہ ہیں۔
حکمت ۴: الحمدللہ! مولا علیؑ مثیلِ ہارونؑ تھے، اور امامِ زمانؑ میں علیؑ کا نور موجود ہے۔
حکمت ۵: الحمدللہ! دینِ اسلام آنحضرتؐ پر آکر مکمل ہوا، اور حضورِ انورؐ کے برحق جانشینوں (أئمّۂ طاہرینؑ) کی وجہ سے دین کا یہ کمال برجا و برقرار ہے، اور جو نعمت درجۂ تمامیت کو پہنچی تھی وہ بھی موجود ہے۔
حکمت ۶: الحمدللہ! ہم مسلمان ہیں، محمد رسول اللہؐ اور علی مرتضٰیؑ کے
۶
جان نثار، دوست دار اور شاہ کریم الحسینی حاضر امام کے مخلص مرید ہیں، اور یہ ہماری سب سے بڑی ازلی سعادت ہے۔
حکمت۷: الحمدللہ! مومن ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اور اس کے دنیا میں آنے کا مقصد معرفت ہے، تا کہ وہ آخری مقصد کے طور پر گنجِ مخفی کو حاصل کرسکے۔
حکمت ۸: الحمدللہ! ہر مومن اور مومنہ کی روح و روحانیت میں کائناتِ ظاہر کے برابر ایک عالم پوشیدہ ہے، جس میں بہشت کی ذاتی سلطنت موجود ہے، اور وہ کون سی نعمت ہے جو وہاں موجود نہ ہو۔
حکمت ۹: الحمدللہ! دین کے ظاہر و باطن میں خدا کی نعمتیں اس کثرت سے ہیں کہ ان کو ہم شمار نہیں کرسکتے اور نہ ہم کماحقہٗ ان کا شکر بجالاسکتے ہیں، پس بہتر یہ ہے کہ ہم اپنی عاجزی کا اعتراف کریں، اور کچھ آنسو بہائیں۔
حکمت۱۰: الحمدللہ! نورِ امامت کا سلسلہ خدا کی رسی ہے جس کو ہم اسماعیلیوں نے مضبوطی سے تھام لیا ہے، اور یہ عمل ایسا بنیادی اور ضروری ہے کہ اس میں تمام اصولی احکام کی تعمیل پوشیدہ ہے۔
حکمت ۱۱: الحمدللہ! اس کی حکمت بڑی عجیب و غریب ہے، وہ اپنی چیزوں کو نہ صرف پھیلاکر رکھتا ہے بلکہ جب چاہے لپیٹ بھی لیتا ہے، جیسے قرآن ۱۱۴ سورتوں میں پھیلا ہوا ہے، اور اُم الکتاب(سورۂ فاتحہ) میں لپیٹا ہوا ہے، لہٰذا سُورۂ فاتحہ پڑھنے کا ثواب تمام قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔
۷
حکمت ۱۲: الحمدللہ! قرآنی ارشاد ہے کہ: اگر تم شکر کروگے تو تم کو زیادہ نعمت دوں گا(۱۴: ۷) ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ شکر گزاری سے نعمت پر روشنی پڑے اس کی قدروعظمت بڑھ جائے، جبکہ ناشکری سے نعمت پر تاریکی چھا جاتی ہے۔
حکمت ۱۳: الحمدللہ! قرآنِ حکیم کی نمائندہ آیات ہیں جن میں تمام قرآنِ پاک کا خلاصہ بیان فرمایا گیا ہے، جیسا کہ سورۃ یاسین کا ارشاد ہے: اور ہم نے( عقل و جان اور علم و حکمت کی) ہر چیز امامِ مبین میں محدود کر رکھی ہے۔(۳۶: ۱۲)
حکمت۱۴: الحمدللہ! قرآن علیؑ کے ساتھ ہے اور علیؑ قرآن کے ساتھ، اس کے معنی یہ ہوئے کہ جب ہم قرآن میں جاتے ہیں تو علیؑ کا نور بھی مِل جاتا ہے اور جب ہم علیؑ کو پہچانتے ہیں تو قرآن کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔
حکمت ۱۵: الحمدللہ! امامِ برحق نور کا سرچشمہ ہیں، اگر ظاہری سورج میں نظامِ شمسی کی مخلوقات کے لئے سب کچھ ہے تو پھر مظہرِ نورِ خدا میں کس کس چیز کی کمی ہوسکتی ہے۔
حکمت۱۶: الحمدللہ! باطنی نعمتوں کی عظمت و بزرگی اور قدرو منزلت کا یہ عالم ہے کہ حکمت کے بغیر نہ ان کی شناخت ہوسکتی ہے اور نہ شکرگزاری، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ہم نے لقمان کو
۸
حکمت عطا کردی کہ اللہ کا شکر کرتے رہو(۱۲: ۳۱)
حکمت ۱۷: الحمدللہ! روحانی سمندر اپنے قطرے میں سما سکتا ہے، جبکہ مادّی سمندر نہ تو قطرے کے پاس جاسکتا ہے اور نہ ہی اس میں سما سکتا ہے۔
حکمت۱۸: الحمدللہ! ہمارا مذہب خیرخواہی کا ہے، ہم اسلام اور انسانیت کی بہتری اور بھلائی چاہتے ہیں، کیونکہ خلق گویا خدا کا کنبہ ہے لہٰذا اللہ کے نزدیک سب سے محبوب و پسندیدہ شخص وہ ہے جو اس کے کنبے کو زیادہ فائدہ پہنچائے اور اس کے اہلِ خانہ کو مسرورکردے۔
حکمت ۱۹: الحمدللہ! ہمارے پاک مذہب میں شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے اعلیٰ نمونے موجود ہے۔
حکمت ۲۰: الحمدللہ! اسلام آفاقی دین ہے، اس کی مثالیں اور دلیلیں اسماعیلی مذہب میں ملتی ہیں، کیونکہ یہاں بالآخر سب کی نجات کا تصور موجود ہے، اس لئے تمام انسانوں کی خیر خواہی مطلوب ہے۔
حکمت۲۱: الحمدللہ! امامِ زمان کی ظاہری و باطنی ہدایت کا نظام بے مثال اور لاجواب ہے، جس کی بدولت ہماری نیک بخت جماعت دین و دنیا کی کامیابی و سرفرازی حاصل کر رہی ہے۔
حکمت ۲۲: الحمدللہ! ا مامِ برحقؑ نے ہمارے عظیم پیروں کے توسط سے ہم پر بہت بڑا احسان کیا کہ انہوں نے ہمیں آبِ حیاتِ معرفت پلاکر زندہ کردیا، ورنہ ہم اب تک مُردہ رہتے۔
۹
حکمت ۲۳: الحمدللہ! امامِ اقدس و اطہرؑ نے خوش نصیب اسماعیلی جماعت کی دینی اور دنیاوی خدمت کے لئے جیسے اور جتنے منظّم ادارے دیئے ہیں، ایسے اور اتنے ادارے کسی اور جماعت میں نہیں ملتے، امامِ عالی مقام کے ان اداروں سے نہ صرف جماعت ہی کو فائدہ حاصل ہوتا ہے بلکہ اس میں عملداروں اور ممبران کی بہت بڑی عزت بھی ہے۔
حکمت ۲۴: الحمدللہ! جسمانی تکلیف عارضی ہے، روحانی راحت دائمی، دنیا چند روزہ ہے، آخرت پائندہ اور ہمیشہ، اور خدا کی رحمت ہر چیز پر محیط ہے۔
حکمت۲۵: الحمدللہ! دین میں سب سے بڑا ہنر عاجزی اور نرم دلی ہے اور سب سے بڑی سائنس گریہ وزاری، کیونکہ اس عمل سے دل و جان کی پاکیزگی ہو جاتی ہے، جس میں بے شمار فائدے پوشیدہ ہیں۔
حکمت۲۶: الحمدللہ! جو نور کے سچّے عاشق ہیں وہ نورانی عبادت کے لئے رات کو اٹھا کرتے ہیں۔ وہ دل میں کہتے ہیں کہ ہمیں محبوبِ جان کے دیدار کے لئے جانا ہے، ان کی روحانیت میں روزافزون ترقی ہوتی جاتی ہے۔
حکمت ۲۷: الحمدللہ! مولا کے پاک عشق کی برکت سے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے، اور جس کو یہ پُرحکمت عشق نہ ہو، اس کو دین کی ہر بات بھاری لگتی ہے، پس مومن کو امامِ زمان کے مقدّس عشق کے لئے پگھل جانا چاہئے۔
حکمت ۲۸: الحمدللہ! نور کا عشق دراصل مومن ہی کے لئے خاص ہے،
۱۰
بڑی خوشی کی بات ہے کہ علم و عبادت سے آتشِ عشق تیزتر ہوجاتی ہے، اور معشوق کا حُسن و جمال ہر بار بصورتِ دیگر سامنے آتا ہے۔
حکمت ۲۹: الحمدللہ! ہم سب امامِ عالی مقام کے روحانی بچے ہیں، اس میں خوب غور و فکر کرنے سے معلوم ہو جائے گا، کہ یہ کتنی بڑی فضیلت ہوسکتی ہے، اور اس کے ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں۔
حکمت ۳۰: الحمدللہ! دعا کو مغزِعبادت کا درجہ حاصل ہے، پس جن لوگوں کو دعا پڑھنے کا حکم دیاگیا ہے، ان کو فرشتوں کی عبادت عطا ہوئی ہے، کیونکہ فرشتے دعا اور ذکرکرتے رہتے ہیں۔
حکمت۳۱: الحمدللہ! امام عالی مقامؑ کے دو دروازے ہیں، دروازۂ ظاہر اور دروازۂ باطن۔ تاکہ دورونزدیک کے مُریدوں کے لئے حضرت امامؑ تک رسائی ممکن ہوسکے۔
حکمت۳۲: الحمدللہ! نورِامامت کا سرّالاسرار یہ ہے کہ یہاں نورانی عبادت کا حکم دیا جاتا ہے، تاکہ پاکیزہ روحوں کو علم الاسماء کی تعلیم حاصل ہو۔
حکمت ۳۳: الحمدللہ، مومن راحت میں ہو یا تکلیف میں، ہر وقت خدا کو کثرت سے یاد کرتا ہے، جس کی بدولت اس کا دل مطمئن رہتا ہے، اس کو یہ حقیقت معلوم ہے کہ ہمیشہ ذکرِ خدا وندی میں مصروف رہنا ہے۔
حکمت ۳۴: الحمدللہ! مومنین کی عبادت عرشِ اعلیٰ تک پہنچ جاتی
۱۱
ہے اور کلمۂ “کُن” میں فنا ہوکر فرمانِ الہٰی کی طاقت بن جاتی ہے، اور اس سے اصلاحِ احوال ہوجاتی ہے۔
حکمت۳۵: الحمدللہ! اسماعیلی مذہب کی بنیادی اور کلیدی حکمت یہ ہے کہ ہر فرد جماعت خانے کی حاضری سے روحانی ترقی کرے، کیونکہ جماعت خانہ بڑا مقدّس اور بابرکت مقام ہے۔
حکمت ۳۶: الحمدللہ! جماعت خانہ کارخانۂ نور ہے، جہاں ذکر و عبادت سے نور بنتا ہے، علم و نصیحت سے نور بنتا ہے، امامِ زمانؑ کی محبت سے نور بنتا ہے، ہر قسم کی نیکی اور خدمت سے نور بنتا ہے، بول، بیت الخیال اور نقش سے نور بنتا ہے۔
حکمت۳۷: الحمدللہ! جماعت خانے میں فرشتوں اور نیک روحوں کا نزول ہوتا ہے، کیونکہ وہاں امامِ اقدس و اطہرکا نور موجود ہے، جس طرح شمع کے گرداگرد پروانے ہوا کرتے ہیں اور پھولوں پر تتلیاں بیٹھتی ہیں، اسی طرح نورِ امامت کے ساتھ ہمیشہ لشکرِ ارواح و ملائکہ موجود رہتے ہیں۔
حکمت۳۸: الحمدللہ! امامِ زمان علیہ السّلام کے پاس علم و حکمت کے خزائن موجود ہیں، پس ہر فردِ مومن کی دانش مندی اس بات میں ہے کہ وہ اپنے امامِ وقت کو روحانی طور پر پہچان لے اور اس سے علم و حکمت کو حاصل کرے۔
حکمت۳۹: الحمدللہ! ہم سب کی بہت بڑی سعادتمندی ہے کہ ہم روحانی
۱۲
دور کے زیرِاثر ہیں، یعنی حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ اور مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امامؑ کا زمانہ روحانی اور نورانی علم کا زمانہ ہے جس سے فیض حاصل کرنے میں مومنین کی زبردست نیک بختی ہے۔
حکمت ۴۰: الحمدللہ! ہر مومن اس حقیقت کو جانتا ہے کہ اسلام کی اصل نعمت کون سی ہے؟ اور وہ اس کے لئے شکرگزار بھی ہے، پس دعا ہے کہ پروردگارِ عالم دینی نعمتوں کی شناخت کے لئے ہمّت و توفیق عنایت فرمائے!آمین یاربّ العالمین!!
نصیرُالدّین نصیرؔ ہونزا ئی
لندن ۹۳۔۶۔۲۹
بیادِ دورۂ فرانس
۱۳
اَنا اور فنائیت
ہزاروں لعل و گوہر ہیں درونِ سنگِ ہستی میں
نہ کر تاخیر اے نادان طریقِ خود شکستی میں
درختِ سربلندی سے تُجھے گر بہرہ لینا ہے
خودی کے تخم کو اوّل گرادے خاکِ پستی میں
پذیرائی نہ کر ای نُورِ آتش ہیزمِ ترکی
کہ وہ مغرورِ ظلمت ہے فریبِ خود پرستی میں
بہ شرطِ دین و دانش سعی کر تو زربکف ہوجا
وگرنہ گنجِ لقمانی نہان ہے تنگ دستی میں
عصائے دین توانگر کے لئے ازبس ضروری ہے
کہ گر جاتا ہے انسان نشّۂ دولت کی مستی میں
۱۴
اگر تو ہو نہیں سکتا فنا فی ہستیٔ اعلیٰ
بحالِ خود رہے گا تا قیامت اپنی ہستی میں
خودی کے دشتِ وحشت سے تعلّق اب نہیں باقی
نصیرا! ہم تو رہتے ہیں “انا” سے پار بستی میں
۱۵
چہل کلید
چہل کلید
دیباچہ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم یا ربّ بحقّ محمّد وآلِ محمّد(صلوات اللہ علیھم)۔ اِس بندۂ حقیرومحتاج کونعمت شناسی، قدردانی اورشکرگزاری کی توفیق وہمت عنایت فرما! اے خداوندِعالم! یہ بے چارہ دل تیرے نورِاقدس کی پاک محبت کی تشنگی سے خشک وسخت ہو رہا ہے، رحم فرما اوربارانِ رحمت برسادے، تاکہ قلب میں رقت ونرمی پیدا ہو، کیونکہ جب تک تیرے مقدّس عشق کی نورانی تائید نہ ہو، تب تک نہ توذکروعبادت سے کوئی مزہ آتا ہے، اورنہ ہی کوئی روح والی مناجات ہوسکتی ہے، اے خدائے دانا و بینا! اے حکیم آسمانی! اے طبیبِ روحانی! دراصل ہم سخت مریض ہیں، اس لئے اپنے پاک عشق اور پرحکمت دیدار باطن کے شفاخانے میں داخل کرلے، تاکہ ہمیں بہت جلد شفاءِ کلّی نصیب ہو۔
۵
خدمتِ قرآن
اللّٰہ تعالیٰ کی وہ پاک کتاب جوعلم وحکمت کے خزائن سے مملواورانتہائی جامعیّت کے اوصاف میں بے مثال ہے وہ قرآن حکیم ہی ہے، جوظاہرمیں بھی اور باطن میں بھی دائمی طورپرعقلی معجزات کا سرچشمہ ہے، جس کا نزول حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پرہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے وقت میں قرآن کے معلّم اورنورتھے (۰۵: ۱۵) اورخدا کے حکم سے یہ زندہ نور پیغمبرکے بعد حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے برحق جانشین میں منتقل ہوگیا، یعنی امام زمانؑ ہی بحقیقت اوربمرتبہ نورانیت معلّم قرآن ہیں، چنانچہ ہم نے اپنی علمی وادبی کمزوری کے باوجود بہت ساری امیدوں کا سہارا لے کرقرآن اوراس کی معلّم کی خدمت کیلئے کوشش کی، آپ سب دعا کریں کہ یہ کوشش کامیاب اورسب کے لئے نافع ہو!
اس رسالہ کانام
علم الاسرار کے خزانے، دروازے، تالے، اورکلیدیں ہوا کرتی ہیں، چنانچہ اس یقین سے کہ یہاں جوچالیس منتخب نکات درج ہوئے ہیں، وہ کنوز علم وحکمت کی کلیدوں کا کام کریں گے، اس رسالے کا نام’’چہل کلید‘‘رکھا گیا، اگرکوئی عزیزجیسا کہ چاہئے ان کلیدوں کا مطالعہ کرے، اورساتھ ہی ساتھ ہماری دوسری تمام کتابوں سے بھی خوب فائدہ اٹھائے، توان شاء اللّٰہ تعالیٰ، وہ قرآن حکیم اورنورامامت کے بہت سے بھیدوں سے واقف و آگاہ ہوسکتا ہے، اور یہ سب سے بڑی سعادت ہے۔
۶
ایک بڑا یادگار دورہ
اعزّہ واحبّا کی پرخلوص دعا اورخداوند قدّوس کے فضل وکرم سے اگرچہ ہر دورہ کامیاب اوریادگار رہا ہے، جس کا ثبوت کتابوں، مقالوں، خطوط، کیسیٹوں وغیرہ سے مل سکتا ہے، تاہم لنڈن، امریکہ اورکینیڈا کا دورہ، جو گزشتہ سال (۱۹۹۱ء) ہوا تھا، بڑا یادگار ہو سکتا ہے، جس کی کئی وجوہ ہیں، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کریمِ کارساز اور رحیمِ بندہ نواز نے ہم پراور ہمارے دوستوں پر بے شماراحسانات کئے ہیں، جن کا حق شکرگزاری ہزارسالہ زندگی میں بھی ہم سے ادا نہیں ہوسکے گا۔
مجموعی ترقی
امامِ اقدس واطہر صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی ظاہری و باطنی دعائے برکات اورنورانی تائید کے صدقے سے چند ہی سالوں میں ہمارے ادارے کی زبردست ترقی ہوئی ہے، دراصل یہ امامِ زمانؑ ہی کا باطنی اور روحانی معجزہ ہے، ورنہ یہاں ذرا غورسے دیکھا جائے توکچھ بھی نہیں، نہ علم ہے، نہ ادب، نہ ہنر ہے نہ سند اور نہ کوئی دوسری طاقت، بس صرف ایک بہت ہی حقیربندہ، جوکسی قطار و شمارمیں نہ تھا، ہاں یہ بالکل سچ ہے اورسچائی کونہیں چھپانا چاہئے کہ اس زمانے میں وہ علاقہ بہت ہی پیچھے تھا، چنانچہ وہ غیرمعروف اورگمنام لڑکا اپنے باپ
۷
کی بکریاں چرایا کرتا تھا، قانون رحمت کے مطالعے سے اب یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ شاید رحمتِ خداوندی نے اس چوپان کے دل کے کان میں بارباربعنوان توفیق یہ سرگوشی کی ہوگی کہ اب تم بھیڑبکریوں کی محبت دل سے نکالو، ان کے پیچھے پیچھے چلنا چھوڑ دو، علم کی پیروی کرو، اوراسی سے عشق ومحبت رکھو، پس ایسا ہی ہوا، اور وہ چوپان میں خود تھا، الحمدللہ، جب بھی مجھے کسی قسم کے فخرکا خطرہ ہوتا ہے، تومیں اپنے ماضی کے احوال میں سے کسی حال کو پیش نظر رکھتا ہوں۔
علمی لشکر
خانۂ حکمت اورادارۂ عارف کے عملداران و ارکان امام زمانؑ کے رضا کارعلمی لشکرمیں سے ہیں، ان کی بہت بڑی سعادت مندی یہ ہے کہ جہالت ونادانی کے خلاف جوعلمی جہاد ہے، اس میں توقع سے کہیں زیادہ کامیابی ہو رہی ہے، اورانہیں معتبر ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ علیٔ زمانؑ اس خدمت سے بے حد خوش ہیں، لہذا یہ سب عزیزان بدرجۂ انتہا شادمان اورشکرگزار ہیں، اورامامِ وقت کی یہی خوشنودی و رضا ان سب کے آپس میں اتحاد واتفاق کا باعث ہے، کیونکہ یہ سارے نیک بخت عزیزان حضرت امامؑ کے سرفروش اورجان نثارمرید ہیں، لہذا ان کے نزدیک ہرخدمت کو پرکھنے کے لئے صرف ایک ہی کسوٹی ہے، اور وہ ہے امام اقدس واطہر صلوات اللہ علیہ کی پاک خوشنودی۔
۸
خاموش خدمت کی اہمیت
یہ فخرہرگزنہیں، بلکہ مولائے پاک کی مبارک دعا اورنورانی ہدایت کی شکرگزاری ہے، بحمداللہ، کہ ہماری خاموش علمی خدمت اورآوازمیں جذب شدہ آوازعزیزشاگردوں اوردوستوں کے توسط سے پیاری جماعت میں جاری وساری ہے، بہت ہی مقدّس خدمت کی یہی نمائندگی اورعلم کی دلی آوازہماری پیاری پیاری کتابوں میں بھی ہے، جن کا دائرہ بفضل خدا روز بروز وسیع سے وسیع ترہوتا جا رہا ہے، اوراسی مقصد کے پیش نظرایک ہزارسے زیادہ آڈیوکیسیٹوں کی کاپیاں بھی بتدریج پھیل رہی ہیں، لیکن ان تمام خدمات کی بادشاہ وہ سب سے عظیم خدمت ہے، جو باطن کے علاوہ ظاہرمیں بھی امامِ وقتؑ کے دست مبارک میں پہنچ جانے کی سعادت حاصل کرے، وہ کتابوں کے ایسے ترجمے کی خدمت ہے، جسے ہمارے مولا و آقا بہت پسند فرماتے ہیں، پس میں بصدِ شوق ان تمام حضرات سے فدا ہوجانا چاہتا ہوں، جو ہماری کتابوں کا کسی بھی اہم زبان میں ترجمہ کرتے ہیں، اوراُن عزیزان سے قربان ہوجانے کا جذبہ رکھتا ہوں، جوترجمہ وغیرہ میں معاونت کرتے ہیں۔
زبان حال سے دعا
دعا دوقسم کی ہوا کرتی ہے: ایک زبانِ قال سے ہے، اور دوسری زبانِ حال سے،
۹
قال میں الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں، مگرحال میں الفاظ نہیں ہوتے، صرف کوئی خاموش کیفیت ہوتی ہے، مثال کے طورپرتم کسی مستحق محتاج آدمی کی مالی مدد کرتے ہو، وہ زبان سے تمھارے حق میں دعا کرے یا نہ کرے، لیکن وہ بہت ہی خوش ہوجاتا ہے، اوراس کی خوشی کی کیفیت میں تمھارے لئے ایک عمدہ دعا پوشیدہ ہوتی ہے، یہ “زبانِ حال سے دعا” کی ایک قابلِ فہم مثال ہے، اب یہاں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگرافلاس وتنگدستی بری چیزہے، تویہ بھی سچ ہے کہ دینی جہالت ایک عذاب ہے، جس سے بچنے اوربچانے کا خدا نے حکم دیا ہے (۶۶: ۶) پس آئیے ہم سب مل کر نورقرآن (امامؑ) کے علم کی روشنی پھیلائیں، اوربے شمارلوگوں کی زبانِ حال سے پرخلوص دعائیں حاصل کریں۔
عزیزوں کا ذکرجمیل
انسانی قلب راڈار = Radar(لاسلکی آنکھ) کی طرح گھومتا ہوا کام کرتا ہے، مگراس کا دائرۂ کارانتہائی وسیع ہے، یہاں تک کہ مکان ولامکان پراس کوعبورحاصل ہوسکتا ہے، اور راڈار یہ کام کبھی نہیں کرسکتا، چنانچہ میراقلب بڑی سرعت سے ان تمام ممالک، علاقوں، شہروں اورمقامات کی طرف متوّجہ ہوجاتا ہے، جہاں میرے عزیزان رہتے ہیں، اسی طرح اگرچہ میں اُن سب کویاد کرتا ہوں، جن کومیں پہچانتا ہوں، لیکن اعِزّہ واحِبّا کی یاد قوّی اور زور آور
۱۰
ہوتی ہے، اور اس سے بھی زیادہ پرکشش اورتمام بشری یادوں پرغالب یاد ان عزیزوں کی ہے، جوہمارے ساتھ شانہ بشانہ علمی خدمت کا مقدّس فریضہ انجام دے رہے ہیں، ہم ان کی بے حد پیاری یاد کوذکرِجمیل کہیں گے، کیونکہ عقل وجان کی نظرمیں یہ یاد نہایت ہی خوبصورت اوردل آویز ہے، اے برادر! ہم ان عزیزوں کوکیسے یاد نہ کریں، جوحصۂ دل اور پیوند جان ہوگئے ہیں، ہمارے یہاں “یک جان و دو قالب” کی جگہ “یک جان و کثیرقالب” کی مثل درست ہے، کیونکہ ہم کوامام برحقؑ نے یک حقیقت (حقیقتِ واحدہ) کی تعلیم دی ہے، جو سب سے بڑی انقلابی اور سب سے آخری قیامت خیز تعلیم ہے، اس کا قرآنی تصور نفسِ واحدہ ہے (۳۱: ۲۸)۔
سیسا پلائی ہوئی دیوار
سورۂ صف (۶۱: ۴) میں ارشاد ہے: خدا توان لوگوں سے محبت رکھتا ہے جواس کی راہ میں اس طرح قطار باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیساپلائی ہوئی دیوار ہیں (۶۱: ۴) یہ جہاد ظاہرکے لئے مثال ہے، اورجہاد باطن کے لئے حقیقت، کیونکہ صرف حقیقی مومنین کی ارواح ہی ذکروعبادت اورعلم ومعرفت کے زیراثرصحیح معنوں میں سیساپلائی ہوئی دیوار کی طرح ایک ہوسکتی ہیں، جس کی علامت زبردست اور غالب علمی جہاد ہے، جو ولیٔ امرکی نورانی تائید
۱۱
سے ہوتا ہے یہ نکتہ اچھی طرح یاد رہے کہ صف (قطار) باندھنا قرآنی حکمت اور روحانیت میں ارواح وملائکہ کے ایک ہوجانے کا نام ہے، جیسا کہ سورۂ فجر(۸۹: ۲۲) میں ارشاد ہے: وَجَائَ ربُّک والملکُ صفّاًصفّاً = اورتمھارا پروردگاراورفرشتے قطارکی قطار آجائیں گے۔ چونکہ یہ عالمِ وحدت (دارالابداع) کی سب سے اعلیٰ حقیقت ہے، جوعالم کثرت کی مثال میں پیش کی گئی ہے، لہذا اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ یہ حضرت قائم القیامت علیہ افضل التّحیۃ والسّلام کے ظہور نورانی ہی کا تذکرہ ہے، جس میں نہ صرف فرشتوں ہی کی نمائندگی ہوتی ہے، بلکہ اس میں ربّ کریم کی تجلّی بھی ہے، جس طرح امام مبین(۳۶: ۱۲) میں کلِّ شَی یعنی ہر چیزکا تصوّر ہے، مگراشیائے معرفت کے بغیرہرچیز(کُلَّ شَیْ) کس طرح ہوسکتی ہے، پس اگرامام مبینؑ کی ذات اقدس میں دیگراعلیٰ چیزوں سے بھی کہیں زیادہ ضروری عرفانی چیزیں ہیں، تو پھراس میں حضرتِ ربّ کے ظہورات وتجلّیات لازمی ہیں، کیونکہ اس کے سوا معرفت ممکن ہی نہیں۔
ایک بے حد مفید تجویز
آج بوقت شام بعد ازجماعت خانہ جمعرات۱۰ رجب المرجب۱۴۱۲ھ ۱۶جنوری ۱۹۹۲ ء کوکلاس میں ایک نہایت پرسوزمناجات کا آڈیوکیسیٹ
۱۲
پلے ہورہا تھا، نورِامامت کے عشق ومحبت کے طفیل اورپاکیزہ روحوں کی حاضری و موجودگی کی برکت سے کیسیٹ میں بہت ساری خوبیاں آئی ہوں گی، اس لئے سامعین کے ہرفرد پریہ حال طاری ہوا کہ وہ یا تودریائے مستی میں مستغرق ہو یا سیلابِ گریہ وزاری میں بہہ جائے، میں خود بھی ورطۂ حیرت میں سوچ رہا تھا کہ یہ کس محفل کا کیسیٹ ہے؟
بالآخرچند تجاویز ذہن میں آگئیں، اوران میں سے ایک بے حد مفید تجویز یہ بتائی گئی کہ جن عزیزوں کوروحانی ترقی کا زبردست شوق اورلگن ہو، وہ ہمارے کیسیٹوں میں سے، جوایک ہزارسے بھی زیادہ ہیں، چالیس۴۰ کا انتخاب کریں، جوعلمی بھی ہوں، اورمناجاتی بھی، پھر۴۰ دن تک ہرصبح بعد ازجماعتی عبادت ایک ایک کیسیٹ کوبھرپور توجہ سے سنتے جائیں، توان شاء اللہ اس عجیب وغریب پوشیدہ چلّہ سے روحانی لذّتوں کا بڑا تجربہ اورعلمی انقلاب کے لئے راستہ ہموارہوسکتا ہے، اسی طرح دینی کتب میں سے چالیس منتخب مضامین پربھی چلّہ ہوسکتا ہے، لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ ایسے بابرکت اعمال کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ان مومنین کوحاصل ہوسکتا ہے، جو پرہیزگار، عبادت گزاراوردائم الذّکر ہوتے ہیں۔
۱۳
سلام ودعا کا مقدّس فریضہ
میں آخراً شرق وغرب کے جملہ عہدہ داران وارکان کوصمیمیّتِ قلب سے سلام ودعا کرتا ہوں، وہ سب مجھے بے حد عزیزہیں، کیونکہ امام عالیمقامؑ کے اس علم کی روشنی پھیلانے کی خاطر وہ میری روح کی کاپیاں ہوگئے ہیں، کوئی شاید تعجب سے سوال کریگا کہ آیا ایسا بھی ممکن ہے؟ میں جواب دوں گا کہ جی ہاں، ممکن ہے، نہ صرف وہ میری کاپیاں ہیں، بلکہ میں خود بھی ان میں سے ہرایک کی کاپی ہوں، اس کی پہلی مثال سیسا پلائی ہوئی دیوارہے، (۶۱: ۹۴) اوردوسری مثال سدّ یاجوج (۱۸: ۹۴) یعنی ذکروعبادت، علم اوراعلیٰ خدمت کے وسیلے سے ایمانی روحوں کے ذرّات امام زمانؑ کے نوراقدس کے سانچے میں ایک ہوجاتے ہیں، اور یہی نفسِ واحدہ ہے(۳۱: ۲۸) جس کی کاپیاں مومنین کے اجسام میں ہوتی ہیں۔
نصیرالدّین نصیرؔہونزائی
کراچی
۱۱؍ رجب المرجب۱۴۱۲ھ ؍
۱۷جنوری ۱۹۹۲ء
۱۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کلید نمبر۱: سلامتی کی راہیں:
دین فطرت (اسلام) کا سب سے اہم اورسب سے بنیادی نکتہ جس کوتسلیم کرلینے میں بے شمارعلمی وعرفانی فائدے ہیں، یہ ہے کہ خداوندِ تبارک و تعالیٰ کی مکمل اور روشن ہدایت نورِ منزّل اورکتاب مبین (قرآن) میں ہے، (۰۵: ۱۵) اسی سے خدائے پاک وبرترسلامتی کی راہوں پران لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے، جواس کی خوشنودی کی پیروی کرتے ہیں، آپ ہرگز ہرگز یہ بات بھول نہ جائیں کہ اللہ جلّ جلالہ کی خوشنودی (رضوان ۰۵: ۱۶) سب سے بڑی چیز ہے (۰۹: ۷۲) اور یہی خود سب سے بڑا راز بھی ہے، جس کی معرفت امامِ زمان صوات اللہ علیہ وَسلامہ کی کامل اطاعت و فرمانبرداری ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔
اگرکوئی پوچھے کہ سلامتی کی راہیں (سُبُل السّلام ۰۵: ۱۶ ) کیا ہیں؟
۱۵
ان میں اورصراط المستقیم میں کیا فرق ہے؟ توآپ اس کو یوں جواب دیں کہ: سلامتی کی راہیں شریعت، طریقت، حقیقت اورمعرفت ہیں، چونکہ یہ خود صراط مستقیم کی چاربڑی منزلیں ہیں، لہٰذا اس میں فرق کا سوال خود بخود ختم ہوجاتا ہے، آپ متعلقہ آیۂ کریمہ(۰۵: ۱۶ ) میں دیکھ سکتے ہیں کہ پہلے سلامتی کی راہوں کی ہدایت کا ذکرفرمایا گیا ہے، اورپھرصراطِ مستقیم کی ہدایت کا، کیونکہ تمام منزلوں کی رہنمائی پوری راہ کی رہنمائی قرارپاتی ہے، تاہم یہاں یہ سوال ہے کہ صراط مستقیم کی منزل مقصود کیا ہے؟ اورکوئی شخص یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ علیٰ صراطٍ مّستقیم اور اِلیٰ صراطٍ مّستقیم میں کیا فرق ہے؟ میں جواباً یہ عرض کرونگا کہ اس راہ راست کی منزلِ مقصود خدا ہی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: اورجوشخص خدا کومضبوطی سے پکڑے تووہ ہدایت یافتہ ہوگیا (۰۳: ۱۰۱ )۔
نیزارشاد ہے: خدانے فرمایا کہ یہی راہِ راست ہے کہ مجھ تک (پہنچتی ) ہے(۱۵: ۴۱ ) اورسورۂ نساء ۰۴: ۱۷۵ میں بھی دیکھ لیں، اب علیٰ اور اِلیٰ کے بارے میں جوسوال ہوا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی صورت میں صراطٍ مستقیم پرہدایت کی بات ہے، اوردوسری صورت میں منزل مقصود کا اشارہ ہے، کیونکہ راستے کی مراد منزل ہی ہوتی ہے، اوریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گنجِ عقل میں جہاں تمام چیزوں کی حقیقتیں اورمعرفتیں لپیٹی ہوئی ہیں، وہاں صراطِ مستقیم کی عقلی صورت بھی ہے۔
۱۶
کلید نمبر۲: ہرچیزکی علمی صورت:
قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ خداوندِ عالم نے ہرچیزکے ظاہر و باطن میں حقیقی علم رکھا ہے(۰۶: ۸۰؛ ۰۷: ۸۹؛ ۲۰: ۹۸ ) اوراس کلّیہ سے ہرگزکوئی شیٔ خارج نہیں ہوسکتی، پھراس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن وحدیث کے جتنے الفاظ ہیں، ان میں سے ہرلفظ کے ظاہری معنی اپنی جگہ درست ہونے کے ساتھ ساتھ اسی مناسبت سے ایک پوشیدہ معنی بھی ہیں، اوراس میں وہ علم ہے، جس کوعلم باطن یا تاویل کہا جاتا ہے، مثال کے طور پر”سلام” ایک قرآنی لفظ ہے، جوقرآن میں متعدد بارآیا ہے، اس کے ظاہری معنی ہیں: سلامتی، دعا، سلام، امان، سالم، اللہ تعالیٰ کا نام، اوراس کے باطنی معنی ہیں: روحانی اورنورانی تائید، جس میں عقل وجان کی سلامتی پوشیدہ ہے، جیسا کہ سورۂ یاسین میں ہے: سَلَامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رّحیم (۳۶: ۵۸ ) (اوراہل جنت کو ) مہربان پروردگار کی طرف سے ایک قول (یعنی کلمہ باری باعث ) تائید ہے تاکہ اس نورانی تائید سے ان کے علم اسرارمیں اضافہ ہو۔
سورۂ ھود (۱۱: ۶۹ ) میں ہے کہ: فرشتوں نے حضرت ابراہیمؑ کوسلام کیا اورآپؑ نے سلام کا جواب دیا۔ اس سے روحانی مخاطبہ (گفتگو) مراد ہے، کیونکہ فرشے کی آواز روحانیت میں ہوتی ہے، اس لئے
۱۷
دل کی زبان سے اس سے گفتگوکی جاتی ہے، یاد رہے کہ مخاطبِ روحانی کا دوسرا نام سلام ہے، جس کو تائید بھی کہتے ہیں، جیسا کہ اہلِ جنّت کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ: وہ لوگ وہاں سلام کے سوا کوئی بےہودہ بات سنیں گے ہی نہیں (۱۹: ۶۲ ) اس کی تاویل یہ ہے کہ بہشت کی ساری گفت وشنید ہمیشہ روحانیت ہی میں ہوا کرتی ہے، کیونکہ جنّت میں ظاہری قسم کا سلام نہیں ہوسکتا، جس کے معنی میں بطوردعا یہ کہا جائے کہ تم پرسلامتی ہو! جبکہ اہل جنّت خود سلامتی کے گھر (دارالسّلام ) میں رہتے ہیں (۰۶: ۱۲۷ ) دارالسّلام بہشت بھی ہے اورخدا کا گھر بھی، اس لئے کہ “السّلام” اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے (الملک القدّوس السّلام ۵۹: ۲۳ ) پس بہشت میں پروردگارعالم اورفرشتوں کے سلام سننے کے معنی ہیں: نورانی تائید، روحانی کلام، علم اسراراورمعرفت، جس سے خدا کے دوستوں کی ازلی وابدی سلامتی اورہمیشہ ہمیشہ اصل سے واصل رہنے کی حقیقت روشن ہوجاتی ہے۔
کلید نمبر۳: نفسانی موت:
سورۂ جمعہ (۶۲: ۶ ) میں ارشاد ہے: (اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم ) کہہ دوکہ اے یہودیو! اگرتم یہ خیال کرتے ہوکہ تم ہی خدا کے دوست ہو اورلوگ نہیں، تواگرتم (اپنے دعوے میں) سچے ہوتو (نفسانی) موت کی تمنا کرو (۶۲: ۶ ) کیونکہ خدا کے اولیاء کی علامت یہی ہوتی ہے، اور
۱۸
اسی تمنا کے نتیجے میں انہیں فنا فی اللہ و بقا باللہ کی سب سے بڑی سعادت حاصل ہوجاتی ہے، ورنہ ظاہری اورجسمانی موت کی آرزو کوئی ایسا آدمی بھی کرسکتا ہے، جواپنی غلط کاریوں کی بنا پر زندگی سے تنگ آچکا ہو، اوراس سلسلے میں بعض دفعہ انسان خودکشی کا ارتکاب بھی کرتا ہے، پس ظاہر ہے کہ حصولِ روحانیت کے لئے بدنی موت نہیں بلکہ نفسانی موت ضروری اورلازمی ہے۔
“تم اپنے نفس کو قتل کرو (۰۲: ۵۴ ) “یہ حکم صرف بنی اسرائیل ہی کے لئے نہ تھا، بلکہ آج بھی لوگوں سے ظاہراً یا باطناً بچھڑے کی پرستش جیسے مشرکانہ گناہ سرزد ہوسکتے ہیں، لہذا جو شخص توبہ کرکے مومنِ مُوَحِّد ہوجانا چاہتا ہو، تواُس پرواجب ہے کہ وہ علم وعمل کے ذریعے سے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے، کیونکہ یہی جہاد اکبر ہے، جو بےحد ضروری ہے، اوراس کے بغیرموت کی تمنا کرنے کا کوئی مطلب نہیں۔
بچھڑا نہ توگائے کی طرح فائدہ دے سکتا ہے اورنہ بیل کا کام کرسکتا ہے، کیونکہ یہ ابھی ناتمام ونارسیدہ ہے، چنانچہ روحانی سفرکے سلسلے میں وہ آزمائشی مقام بھی آتا ہے، جہاں سامری (شیطان) روحانی مسافرکے خلاف ایک ایسی آوازکا حربہ استعمال کرتا ہے، جو بےعلم اورغیرمفید ہونے کی وجہ سے بچھڑے کی آوازجیسی ہوتی ہے، اورسامری یہ تأثردیتا ہے کہ دیکھو یہی خدا ہے، لیکن
۱۹
توحید کا اصل مقام کئی فناؤں کے بعد ہے، لہٰذا اس امتحان سے گزر کرآگے جانے کی ضرورت ہے، سامری اوربچھڑے کا قصہ ملاحظہ ہو: ۲۰: ۸۵؛ ۲۰: ۸۷؛ ۲۰: ۹۵ اور۰۲: ۵۱؛ ۰۲: ۵۴؛ ۰۲: ۹۲؛ ۰۲: ۹۳؛ ۰۴: ۱۵۳؛ ۰۷: ۱۵۲؛ ۰۷: ۱۴۸؛ ۲۰: ۸۸، تاکہ آپ قرآنی حکمت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں۔
متعلقہ سوال وجواب: س نمبر۱ : اس کی کیا تاویل ہے کہ بنی اسرائیل کا گوسالہ (بچھڑا ) زیورات سے بنا گیا تھا؟
ج: خاموش روحانیت کے مراحل میں ہرطرف تصوراتی سیم و زر اور لعل و گوہرکی کثرت کا مشاہدہ ہوتا ہے، اورجوشخص ان چیزوں پرفریفتہ ہوجاتا ہے، اس کے لئے آوازکا ایک بچھڑا بنایا جاتا ہے۔
س نمبر۲: قر آن حکیم (۲۰: ۸۸ ) میں اس بچھڑے کے جسمانی ہونے کا ذکرہے، اس میں کیا راز ہے؟
ج: کیونکہ یہ بچھڑا ان چیزوں میں سے ہے جوذرّات جسمِ لطیف سے ہوتی ہیں۔
س نمبر۳: فرشتے کے نشان قدم کی ایک مٹھی (۲۰: ۹۶ ) سے کیا مراد ہے؟
ج: جسم لطیف کے ذرّات کی مٹھی۔
س نمبر۴: لامِساس (۲۰: ۹۷ ) کے کیا معنی؟
ج: اس کے معنی ہیں: نہ چھونا، ہاتھ نہ لگانا، یعنی سامری کوآخربڑی ذلت سے یہ کہنا پڑا کہ مجھ کونہ چھونا، جس کی تاویل ہے:
۲۰
مجھ سے تعلیم نہ لو، نیز اس کا اشارہ ہے کہ جوسامری جیسے پیشوائے باطل کی پیروی کرے، وہ گوہرمقصود کوکیسے پہنچ سکتا ہے۔
س نمبر۵: توبہ کے لئے نفس کشی کا حکم کیوں دیا گیا (۲: ۵۴ ) ؟
ج : کیونکہ حقیقی توبہ لوٹ کرفنافی اللہ ہوجانا ہے، جس کے لئے جسمانی موت سے قبل نفسانی موت ضروری ہے۔
س نمبر۶: شیطان چھوکریا لپیٹ کرکسی کومخبوط الحواس یعنی دیوانہ بنا سکتا ہے (۰۲: ۱۷۵) اس میں کیا رازہے؟
ج: جب کوئی شیطانِ انسی یا شیطانِ جنّی کسی آدمی کوگمراہ کرکے غلط باتیں سکھاتا ہے، تواس کا قول وفعل اہل بصیرت کے نزدیک دیوانے کی طرح لگتا ہے، اگرچہ وہ ظاہرمیں ایسا ہرگزنہیں کہ اسے دیوانہ کہا جائے، لیکن یہ اس کے عقائد و نظریات کے اعتبارسے ہے۔
کلید نمبر۴: حدیثِ قدسی:
حدیث قدسی میں ہے: اے آدم کی اولاد! میں ہمیشہ زندہ رہنے والا ہوں، مروںگا کبھی نہیں، توعمل کرجس کا میں نے تجھے حکم دیا ہے اورجس چیز سے تم کومنع کیا ہے اس سے رک جا، تاکہ میں تجھے زندہ رہنے والا بنا دوں کہ تومرے نہیں، اے آدم کے بیٹے! میں بادشاہ ہمیشہ رہنے والا ہوں، جب میں کسی چیزکوکہتا ہوں کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتی ہے، تومیری اطاعت کر، جن چیزوں میں مَیں نے تجھے حکم دیا ہے اورباز رہ جس سے تم کومنع کیا ہے، تاکہ توبھی
۲۱
جس چیزکو کہے کہ ہوجا تو ہو جائے۔
یہ حدیث قدسی بھی حکمتوں سے مملوہے: اے آدم کی اولاد!میری اطاعت کر، تاکہ میں تجھ کوخود جیسا زندہ اورلافانی بناؤں گا‘ اور ایسا معزز بناؤں گا کہ توکبھی ذلیل نہ ہوگا، اورایسا دولت مند بناؤں گا کہ توکبھی مفلس و نادار نہ ہوگا۔
اس قسم کے پرحکمت اشارات سے قرآنِ حکیم بھرا ہوا ہے، مثال کے طورپر: فنا فی اللہ وَبقا با اللہ کا اشارہ (۵۵: ۲۶ تا ۲۷ ) کیونکہ سورۂ رحمان میں انتہائی عظیم نعمتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، جودوستانِ خدا کوعطا ہوجاتی ہیں، نیزعنایتِ الٰہی سے ہرمومن ومومنہ کا بادشاہ ہوجانا (۰۵: ۲۰؛ ۰۳: ۲۶؛ ۶۷: ۰۱؛ ۷۶: ۲۰ ) اہل ایمان کو پروردگارسب کچھ عطا کردیتا ہے (۱۴: ۳۴ ) اہل بہشت کو ان کی خواہش کے مطابق ہرنعمت عنایت ہوتی ہے (۱۶: ۳۱؛ ۲۵: ۱۶؛ ۳۹: ۳۴؛ ۴۲: ۲۲؛ ۵۰: ۳۵ ) قرآن پاک میں فنا فی اللہ اوربقا باللہ کے اوربھی بہت سے اشارے موجود ہیں، بلکہ لاتعداد اشارات ہیں، کیونکہ جس طر ح منزل فنا (مقامِ عقل) میں پہنچ کرہرچیزہلاک و فنا ہوجاتی ہے (۲۸: ۸۸ ) اسی طرح تمام الفاظ کے معانی بھی فنا ہوکر”یک حقیقت” بن جاتے ہیں، ، مثلاً جوشخص منازِل روحانی کے پیش نظرمقرب کہلاتا ہو، وہی تجربۂ فناکی وجہ سے اصل سے واصل بھی ہے، تاہم ایسے اسرارپرامتحانی حجاب ہے کہ علم کے دعوٰی کرنے والے لوگ مقربین کو
۲۲
واصلین (۰۴: ۱۷۲؛ ۵۶: ۱۱؛ ۸۳: ۲۱؛ ۸۳: ۲۸؛ ۰۳: ۴۵؛ ۵۶: ۸۸ ) مانتے ہیں یانہیں؟
قرآن کریم میں “رجوع اِلی اللہ” کا موضوع زبردست اہمیت کا حامل ہے، جس سے بہت سی آیاتِ مقدّسہ متعلق ہیں، لیکن آخری رجوع فنا اور وصال کے معنی میں ہے، اگرچہ یہ معنی ظاہرنہیں، پوشیدہ ہیں، کیونکہ حقائق ومعارف کتاب مکنون (۵۶: ۷۷ تا ۷۹ ) میں پوشیدہ ہوا کرتے ہیں، اوراس میں کوئی شک نہیں کہ جولوگ روحانیت اورعلم وحکمت کے ذرائع سے پاک کئے گئے ہیں، وہی کتابِ مکنون کوچھوسکتے ہیں اورپڑھ سکتے ہیں اوریہی حضرات قرآنِ حکیم کی گہری حکمتوں کے اسرارسے واقف وآگاہ ہوتے ہیں۔
کلید نمبر۵: اہلِ قرآن:
قال صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم: من ارادان یّتکلّم مع اللّٰہ فلیقرء القراٰن۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ: جوشخص خدا سے کلام کرنا چاہے وہ قرآن کوپڑھے (جیساکہ پڑھنے کاحق ہے ) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ: اہل قرآن ہی خدا والے ہیں اوراس کے مقرب ہیں۔ (اہل القراٰن ھم اہل اللّٰہ وخاصّتہٖ ) دراصل یہ وصف اُن لوگوں کا ہے، جوقرآن پاک کو منشائے الٰہی کے مطابق نورکی روشنی میں حکمت کے ساتھ پڑھتے ہیں، کیونکہ اہل قرآن حضرات أئمّہؑ ہی ہیں، وہی خدا والے اورخاصانِ الٰہی ہیں، اورانہی لاہوتیوں
۲۳
کی ہدایت وتعلیم کے مطابق کوئی شخص قرآن پڑھ کرخدا سے کلام کرسکتا، اورجو پروردگارسے کلام کرے، وہ جہالت ونادانی کی نجاست سے پاک وپاکیزہ ہوجاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کاعظیم مرتبہ بھرپورعلم وحکمت کے معنی میں ہے۔
حدیث شریف ہے کہ: جوشخص (نفسانی طورپر ) مرجائے اس کی (ذاتی ) قیامت برپا ہوجاتی ہے (من مات فقد قامت قیامتہ ) یہ کوئی عام اورمعمولی بات ہرگزنہیں، بلکہ انتہائی مشکل کام ہے، خدا کے ایسے دوست جن پرذاتی قیامت کی سختیاں اورآزمائشیں گزرتی ہیں، کیسے کیسے علمی وعرفانی عجائب وغرائب اورمعجزات کا مشاہدہ کرتے ہوں گے؟ قرآنی علوم میں وہ علم جوسب سے مشکل اورانتہائی مخفی ہے، علم قیامت ہی توہے، آیا وہ لوگ (عارفین وکاملین ) جن کی قیامت قائم ہوچکی ہوقیامت کے بھیدوں سے ناواقف ہوں گے؟ آپ قرآن کریم (۰۲: ۱۷۴؛ ۰۳: ۷۷؛ ۴۲: ۵۱) کی روشنی میں یہ بتائیں کہ ایسے حضرات سے (جن کی ذاتی قیامت برپا ہوچکی ہے ) خداوندِ تعالیٰ کلام کرتا ہے یا نہیں؟ اوریہ بھی پوچھنا ہے کہ یہی نفسانی موت اورانفرادی قیامت فنافی اللہ کا باعث ہوسکتی ہے یا نہیں؟
کلید نمبر۶: دوسمندر:
خالق اکبرنے اپنی قدرتِ کاملہ اورحکمت بالغہ سے خیروشرّ کواس طرح پیدا کیا کہ اس
۲۴
علیم وحکیم نے خیرکودائمی بنایا اورشر کوعارضی، خیرگویا میٹھے اورخوشگوارپانی کا سمندر ہے، اورشرکھارا اورتلخ پانی کا سمندر، لیکن یہ دونوں سمندرمچھلیوں اورموتیوں سے یکسان طورپربھرے ہوئے ہیں (مفہوم: ۳۵: ۱۲ ) چنانچہ کوئی قرآنی مثال چاہے خیرسے متعلق ہو یا شرسے، مگراس میں ہمیشہ بھرپورمغز حکمت پوشیدہ ہوا کرتا ہے، اوریہی قانون قرآن کا ایک عظیم رازہے، جیسا کہ ارشاد خداوندی کا ترجمہ ہے: (قوم ) عاد بہت شدید وتیز آندھی سے ہلاک کئے گئے خدا نے اسے سات رات اورآٹھ دن لگا تاراُن پرچلایا (۶۹: ۷ ) یہ شراورنافرمانی کی سزا توہے ہی، تاہم اس مثال کے حجاب میں یہ حکمت بھی پنہان ہے کہ سات رات اورآٹھ دن کی یہی مدّت وہ خاص وقت ہے، جس میں مومنِ سالک اسرافیل اورعزرائیل کے فعل سے مسلسل مرتا اورزندہ ہوتا رہتا ہے۔
اگرچہ مومنِ صادق روحانی سفرکے دوران منزل عزرائیلی میں باربارمرتا اورباربارزندہ ہوجاتا ہے، جس کا اوپرذکرہوچکا، اورمقام عقل پربھی اسی طرح فنا وبقا کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، کیونکہ جزوی حیات وممات کی اس کثرت میں بے شمارحکمتیں پوشیدہ ہیں، تاہم عارفِ کامل بحیثیت مجموعی مقامِ روح اورمرتبۂ عقل پردو دفعہ مرجاتا ہے اوردو دفعہ زندہ ہوجاتا ہے، اوریہ دُرِّگرانمایہ پہلے سمندرسے نہیں، بلکہ دوسرے سمندرسے ہیں (۴۰: ۱۱ )۔
۲۵
قانون قدرت کے صاف وشفاف آئینے میں ہمیشہ سے یہی حقیقت جھلکتی آئی ہے کہ ہرکل کے بہت سے اجزا ہوا کرتے ہیں، ہرروشنی بہت سی کرنیں رکھتی ہے، ہربیج میں بحدِّ قوّت لاتعداد بیجوں کا ذخیرہ مخفی ہوتا ہے، ہرخاص وعام کتاب کی ہزاروں کاپیاں ہوسکتی ہیں، ہرآدمی کی بہت ساری تصاویر ممکن ہیں، اورآج ایک ہی شخص کی ہزارہا فلمی کاپیاں بنتی ہیں، توکیا قادرِمطلق کے لئے یہ امرکوئی مشکل ہے کہ و ہ نفسِ واحدہ (۳۱: ۲۸ ) سے بے شمارارواح و ملائیکہ پھیلائے اور ا س میں سب کولپیٹے (۳۹: ۶۷ ) یقیناً وہ ایسا ہی کرتا ہے، پس انسان ایک اکیلا بھی ہے، اورایک عالم بھی ہے، آپ اِ س سرِّعظیم میں بار بارسوچیں۔
کلید نمبر۷: سورۂ فاتحہ تفسیرِ قیامت:
انفرادی قیامت کے بارے میں گفتگواورسوال وجواب بے حد ضروری ہے، کیونکہ اس کی بہت بڑی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ یہ اجتماعی قیامت ہی کی طرح واقع ہوتی ہے، جبکہ ایک شخص کی قیامت میں سب کی قیامت پوشیدہ ہے، اورجبکہ ہرکامل انسان میں قیامت کا تجدّد ہوتا ہے، اس لئے کہ روحانی ترقی، باطنی علم اورخدا کی معرفت کے لئے تجربۂ قیامت انتہائی ضروری ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت روحانی انقلاب کا نام ہے، اوراس انقلاب کے بغیر کوئی روحانی ترقی نہیں، پس یہ حقیقت
۲۶
ہے کہ ذاتی اورانفرادی قیامت سے کوئی زمانہ خالی نہیں، یہ حدودِ جسمانی کے اگلے درجوں میں برپا ہوجاتی ہے۔
قرآن پاک شروع سے لیکرآخرتک کس طرح قیامت کے تذکروں سے بھرا ہوا ہے، اس کی ایک روشن مثال سورۂ فاتحہ سے عیاں ہوجاتی ہے، وہ یہ ہے: الحمدللّٰہ ربّ العٰلمین = سب تعریف خدا ہی کے لئے (سزاوار ) ہے جوسارے جہانوں کا پالنے والا ہے (۰۱: ۱ ) اللہ کی تعریف یہاں اس بناء پر ہے کہ وہ ہرعالم شخصی کی پرورش کرتا ہے، لیکن جس تربیت وپرورش کی وجہ سے اللہ کی حمد وستائش کی گئی ہے، وہ پرورش ان عظیم الشّان روحانی اورعقلی نعمتوں سے ہے، جومنازلِ روحانیت اورمراحل قیامت کے آخرتک پائی جاتی ہے، پس جوشخص خدا، روزقیامت، باطنی نعمتوں اوراعلیٰ پرورش کاعارف ہو وہی بہتر طریقے سے اللہ کی حمد کرسکتا ہے۔
الرّحمٰن الرّحیم = بڑامہربان (اور) نہایت رحم والا ہے (۰۱: ۲ ) رحمان اورحیم کی تفسیروتاویل کے لئے کتاب وجہِ دین گفتار (کلام ) نمبر۱۴ ملاحظہ ہو، خلاصہ یہ کہ رحمان خدا کا ایک خاص نام ہے، اس کے معنی میں جن رحمتوں اورنعمتوں کا ذکر ہے، وہ دنیا میں سب کے لئے عام ہیں، اوررحیم کے معنی میں جورحم وبخشش ہے، وہ قیامت کے دن صرف مومنین ہی کے لئے خاص ہے۔
۲۷
مٰلک یوم الدّین = روزجزا کا حاکم ہے (۰۱: ۳ ) اس میں براہِ راست روزِ آخرت کا ذکر ہے۔ ایّاک نعبدوایّاک نستعین = خدایا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورتجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں (۰۱: ۴ ) یہ عارفانہ عبادت ہے، جس کے نتیجے میں خدا کی مدد شامل حال ہوجاتی ہے، اورمرتبۂ معرفت قیامت کے بعد ہے۔
اھدنا الصّراط المستقیم = توہم کو سیدھی راہ پرچلا (۰۱: ۵ ) یعنی زندہ ہدایت کی روشنی میں ہمیں روحانیتِ اسلام اورذاتی قیامت کے مراحل میں آگے سے آگے لے جا، تا آنکہ ہم تجھ میں فنا ہوجائیں۔ صراط الّذین انعمت علیھم = ان کی راہ جنہیں تونے نعمتیں عطا کی ہیں (۱: ۶ ) یعنی ناطقوں، اساسوں، اماموں اورابواب کا راستہ (۴: ۶۹ ) جن کی لاتعداد نعمتیں انفرادی قیامت میں پوشیدہ ہیں، پس اگرکسی مومین کی ذاتی قیامت قائم ہوئی تویہ تمام نعمتیں بوسیلۂ تجدّد اس کے سامنے آتی ہیں، تاکہ وہ معرفت کاملہ کوحاصل کرے۔ غیرالمغضوب علیھم ولاالضّآلّین= نہ ان کی راہ جن پرتیراغضب ہوا، اورنہ ہی گمراہوں کا (۰۱: ۷ ) غضب الٰہی میں گرفتار اورگمراہ ہوجانے کی مثال وہ لوگ ہیں، جن کوشدید نافرمانی کی وجہ سے خدا نے مسخ کرکے بندراورخِنزیربنا دیا تھا (۰۵: ۶۰ ) پس ایسی مستقل سزا ذاتی قیامت کے بغیرنہیں ہوسکتی ہے، توآپ نے اس مثال کواچھی طرح سے دیکھ لیا کہ سورۂ فاتحہ کی کوئی آیت تذکرۂ قیامت
۲۸
سے خالی نہیں، پس یہی حال اوریہی مثال قرآن عظیم کی تمام دوسری سورتوں کی بھی ہے۔
کلید نمبر۸: دو بھلائیوں میں سے ایک:
قرآن حکیم کی بے شماراعلیٰ اوربے حد مفید حکمتوں میں سے ایک پرکشش حکمت سورۂ توبہ (۰۹: ۵۲) میں ہے، اور وہ ہے: اِحْدَالْحُسْنَیْنِ (دوبھلائیوں میں سے ایک ) یعنی خداوند تعالیٰ اس دنیا میں اہلِ ایمان کے ہرفرد کوآمنے سامنے کی دواچھی چیزوں میں ایک نہ ایک ضرورعطا کردیتا ہے، جیسے زمانۂ نبوت کے جہاد میں یا تو فتح حاصل ہوتی تھی، یا شہادت کی سعادت، اسی طرح نہ صرف جسمانی راحت ہی نعمت ہے، بلکہ دوسری جانب ظاہری تکلیف بھی عقل وجان کے لئے نعمت ہے، مگراس میں سوچنے کی ضرورت ہے۔
دنیا میں علمی، فنی، اورعسکری امتحانات لوگوں کی ترقی ہی کے لئے ہوا کرتے ہیں، ہرمیدان میں جوشخص جتنے امتحانوں سے کامیابی کے ساتھ گزرتا ہے، اتنی اس کی عزت ہوتی ہے، مگر یہ دیکھنا ہوگا کہ لفظ “امتحان” کے اصل معنی کیا ہیں؟ اورقرآن مجید میں اس کا دوسرا لفظ کیا ہے؟ امتحان مَحَنْ سے ہے، مَحَنْ کے معنی ہیں: آزمانا، چاندی کوتپا کرصاف کرنا، کپڑا پہن کرپرانا کرنا، دینا، کنویں کی مٹی نکالنا، اونٹنی کوچلا کرتھکانا، اورچمڑے کونرم
۲۹
کرنا، پس اس کا مجموعی مطلب ہے: محنت، مشقت، ریاضت اوراس کا دوسرا لفظ قرآن میں بَلاء ہے (امتحان، آزمائش، غم، تکلیف ) سورۂ بقرہ (۰۲: ۱۵۵ تا ۱۵۷ ) میں دیکھیں کہ ہرقسم کا خوف، ہرنوع کی بھوک، ہرطرح کا مالی نقصان، جانوں کی کوئی کمی اورپھلوں (پیداوار ) کی کمی مومن اورمومنہ کی آزمائش یعنی امتحان ہے، اورایسی مصائب میں جولوگ جذبۂ دینداری سے صبرکریں، توان کونورِہدایت کی جانب سے کامیابی کی عملی (یعنی روحانی ) خوشخبری ملتی ہے، اورایسے ہی لوگوں کے دل میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورامام زمانؑ کا ادب اورعشق پیدا ہوتا ہے۔
سورۂ حجرات ۴۹: ۱ تا ۸ آیات کریمہ کوغورسے پڑھیں، آیا پیغمبراکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے برحق جانشین کی مبارک ہستی اللہ کی وہ کسوٹی نہیں ہے، جس سے مومنین کے ایمان، اخلاص، تقوٰی اورعشق کو پرکھ لیا جاتا ہے؟ کیا خدا کی بے بدل سنت یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ قلوب میں کلمۂ تقوٰی کے روحانی معجزات کے لئے جوبھی امتحان لیا کرتا ہے، وہ ہادیٔ برحق کی اطاعت اورمحبت کے تحت ہوتا ہے؟
کلید نمبر۹: علّیّین:
جس طرح قرآن حکیم کی ہرہرآیت اسرارِ حکمت سے مملوہے، اسی طرح سورۂ مطَفِّفِین (۸۳) کی آیاتِ مقدسہ ہیں، آپ ان تمام کی حکمت کے لئے غور و فکر کریں،
۳۰
اوریہ دیکھیں کہ نیک لوگوں (ابرار ) کا مشترکہ اورمتّحدہ نامۂ اعمال کہاں ہے؟ عِلِّیّیِن میں ہے (۸۳: ۱۸ ) عِلِّیّین یاعِلّیّیون کیا ہے؟ وہ خود بھی لکھی ہوئی زندہ کتاب اورچاراصول دین کی وحدت ہے، اوریہی کائناتی کتاب بھی ہے، جوآسمانوں کولپیٹ کربنائی جاتی ہے (۲۱: ۱۰۴ ) اوراسی میں نیکوکاروں کااعمال نامہ درج ہوتا ہے، آیا نیک لوگ اپنے اس عالیشان نامۂ اعمال کوآج دیکھ سکتے ہیں؟ نہیں، مگران میں سے جومقربین ہیں، وہی چشم باطن سے ان اسرار سربستہ کا مشاہدہ کرسکتے ہیں (۸۳: ۲۱) اس کا مطلب یہ ہوا کہ مقربین وہ حضرات ہیں، جن کی ذاتی قیامت جسمانی زندگی ہی میں برپا ہوچکی ہوتی ہے، کیونکہ وہ تمام نیک کاموں میں سب سے آگے آگے ہوتے ہیں۔
وحدتِ محض خدا کے لئے ہے، اور وحدتِ متَکثّرمخلوق کے لئے، چنانچہ اسی کثرت پذیروحدت کی وجہ سے ہم نے عالمِ عقل کوعالمِ وحدت کہا، یقیناً عالمِ وحدت میں سب ایک ہیں، یعنی ایک ہے، جوآدم کی طرح رحمانی صورت میں ہے، جس میں کون ومکان کی تمام چیزیں موجود ومحدود ہیں، مگرسب سے بہترین شکل میں، اوروہ انسانی شکل ہے، جوعقلِ کامل اورروحِ قدسی کے زیورِ بہشت سے آراستہ وپیراستہ ہے، پس عالم وحدت یعنی عِلِّیِّین میں نیک لوگوں کا نامۂ اعمال وہی شخصِ واحد ہے، جو
۳۱
انتہائی عظیم فرشتہ، انسان کامل، امام مبین (۳۶: ۱۲) اورخدا کے حکم سے سب کچھ ہے۔
کلید نمبر۱۰: عقل کی ترجمانی:
عالمِ عقل جوعالمِ وحدت ہے، اس میں ہرچیززبان حال اورعقل کی ترجمانی سے خدا کی تسبیح کرتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: اورکوئی چیزایسی نہیں جواس کی حمد کے ذریعہ تسبیح نہ کرتی ہو مگرتم لوگ اس کی تسبیح نہیں سمجھتے (۱۷: ۴۴ ) تسبیح کے معنی ہیں: ذات سبحان کومخلوقات کی صفات سے پاک وبرترقراردینا، جیسا کہ خداوندِ عالم کا ارشاد ہے: سبحٰن ربِّک ربِّ العزّۃِ عمّایَصِفون (۳۷: ۱۸۰ ) تمھارا ربّ عزّت کا پروردگاراس وصف سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ یعنی خدا بذاتِ خود ہرچیزسے بے نیاز و پاک ہے، وہ دین کے ہرمعززکی عزت میں اضافہ کرتا ہے، اوراس کا درجہ عرش تک پہنچا دیتا ہے، قولہ تعالٰی: رفیع الدَّرَجٰتِ ذوالعرشِ (۴۰: ۱۵ ) درجوں کا بلند کرنے والا صاحب عرش۔ اس میں واضح اشارہ ہے کہ فنافی اللّٰہ وَ بقا باللّٰہ کامرتبہ عرش ہی پرہے۔
عرش کے ایک معنی ہیں: چھت، جمع عروش (چھتین) اس کی تاویل ہے: ازل اورنورازل، کیونکہ عالم دین اورعالم شخصی کی چھت یا سقفِ مرفوع (۵۲: ۵ ) یا سقفِ محفوظ (۲۱: ۳۲ ) مرتبۂ ازل ہی
۳۲
ہے، جومقام عقل ہے، یہ اس چھت کی تعریف ہے جس کواللہ تعالیٰ نے مرفوع (بلند ) ومحفوظ کیا ہے، اور اس کے سوا وہ چھتیں (عروش ۰۲: ۲۵۹ ؛ ۱۸: ۴۲ ؛ ۲۲: ۴۵ ) جوگرجاتی ہیں، وہ روحانیت کے نچلے درجات کی مثال ہیں، جیسے عملِ عزرائیل کے دوران سرسے روح کی چھت باربارگرجاتی ہے۔
علم ومعرفت کے انتہائی عظیم میوہ ہائے اسرارکے باغات جومرتبۂ ازل اورمقام عقل پرتیارہوتے ہیں، وہ جَنّاتٍ معروشات (۰۶: ۱۴۱ ) کہلاتے ہیں، لفظ معروش عرش سے ہے، یعنی بلند کیا ہوا، نورِازل اوردرجۂ عقل تک پہنچایا ہوا، اوردوسرے روحانی باغوں کا ذکرفرمایا گیا، جوان سے کم درجوں پرہیں، اوروہ ہیں: غیرمعروشات (۰۶: ۱۴۱ ) جن میں حقائق ومعارف ازل وابد کا تجدّد نہیں ہے۔
اب رہا سوال حاملان عرش (۴۰: ۷ ؛ ۶۹: ۱۷ ) کا، تو وہ حضرات حاملان نورِ ازل ہیں، جونورِعقل ہے، یعنی أئمّۂ طاہرینؑ، جوایک کے بعد دوسرا، حاملِ نوراورامام ہوتا ہے، یقیناً جوشخص کامل خدا کا زندہ گھرہے، وہی نورِعرش کا حامل بھی ہے، اوریہ اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے کہ اس نے اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے امام مبین (۳۶: ۱۲ ) کے عالمِ شخصی کونہ صرف عالمِ ذرّ بنایا، بلکہ اس میں تمام ازلی، ابدی، نورانی، عقلی، علمی، عرفانی، اور روحانی چیزوں کوبھی لپیٹ کر (۲۱: ۱۰۴، ۳۹: ۶۷ ) محدود
۳۳
کردیا، پس امام زمانؑ ہی مرتبۂ عقل پرعالمِ وحدت اورعِلِّیّین ہے۔
کلید نمبر۱۱: حضرت آدمؑ کی کاپیاں:
اگرانسان کسی حقیقت کونہیں جانتا ہو، یا جاننے کے بعد بھول چکا ہو، تواس کی وجہ سے وہ حقیقت ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنی جگہ قائم ہی رہتی ہے، اس کی مثال واقعہ الست (۰۷: ۱۷۲ ) ہے، جس کولوگ یکسربھول چکے ہیں، لیکن قرآن مجید اس کی گواہی دیتا ہے، قرآن کریم کا فرمانا ہے کہ: خدانے تم کونفسِ واحدہ (یعنی آدمؑ ) سے پیدا کیا (اس سے یہ مراد ہے کہ مرتبۂ روح اورمرتبۂ عقل پرتم سب آدمؑ کی کاپیاں ہو (۰۷: ۱۸۹؛ ۳۱: ۲۸؛ ۳۹: ۶ ) پھرانہی روحوں میں سے ایک زوجہ آدم بنائی گئی، یہی پُرحکمت مفہوم سورۂ اعراف (۰۷: ۱۱) میں بھی ہے: ہم نے تم کومقامِ روح پرپیدا کیا اورمقامِ عقل پرمکمل کرکے اپنی رحمانی صورت دی پھرفرشتوں سے کہا کہ تم سب کے سب آدم کے لئے سجدہ کرو۔ ۔ ۔ میں پوچھتا ہوں، کیا یہ سرگزشت آپ کویاد ہے؟ نہیں، پھرآپ کوایک ایسے علم الیقین کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی درستی اورصفائی کی وجہ سے آپ کومشاہدے کی طرح کام کرے۔
جب خداوندِ جہان نے نفسِ واحدہ (انسان کامل) سے لوگوں کوپیدا کیا تو ان کی دودوانائیں، یا دودو بقائیں مقرر ہوئیں، مستقر یا مستودع (۰۶: ۹۸ ) مستقرکا دوسرا نام حدیث شریف کی روشنی میں “رفیقِ اعلیٰ” ہے، اوریہی وہ زندہ کرتۂ ابداعیہ ہے، جس کا ذکرسورۂ نحل (۱۶: ۸۱ ) ۔
۳۴
میں فرمایا گیا ہے، اوریہ کرتے روحانی اورعقلانی دوقسم کے ہوا کرتے ہیں، جوہادیٔ برحق کے نورسے بنتے ہیں، جن کا ذکرہوچکا ہے۔
خدا ایک ہے، اورانسان دو، بلکہ تمام مخلوقات دودو ہیں (۳۶: ۳۶ ) پس انسان کی تخلیق وہستی کی بنیاد دوئی پرہے، اوراسی میں سب سے بڑی حکمت پوشیدہ ہے، آدمی اوراس کے سایہ کے درمیان آسمان زمین کا فرق پایا جاتا ہے، کچھ ایسا فرق حیاتِ ابداعی اورظاہری زندگی کے مابین بھی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کُرتۂ ابداعیہ میں ہرمومن اورمومنہ کی روح امامِ اقدس واطہرؑ کی کاپی اوربہشت کی بادشاہ ہے (۷۶: ۲۰ ) اورجسم خاکی میں انسان ضعیف البُنیان، مصرع: ببین تفاوتِ راہ ازکجاست تابکجا۔
کلید نمبر۱۲: سلیمان زمانؑ:
حقیقت صرف ایک ہی ہے، مگراس کی گوناگون مثالیں بہت زیادہ ہیں (۱۷: ۸۹؛ ۱۸: ۵۴ ) چنانچہ حضرت سلیمانؑ کا قصۂ قرآن انہی مثالوں میں سے ہے، وہ اس طرح کہ شاہنشاہِ دین سلیمان زمان ہے، جملہ دنیوی بادشاہی ملکۂ سبا کی حکمرانی ہے، اورجس طرح تختِ بلقیس حضرت سلیمانؑ کے حضورلایا گیا، وہ محض روحانی عمل ہے، کیونکہ اسلام کی حقیقی غالبیت اورفتح باطن اورروحانیت ہی میں ہے،
۳۵
پس جنوں، انسانوں اورپرندوں کا روحانی (سلیمانی یا اسلامی ) لشکراب بھی موجود ہے، جن کا کوڈ (خفیہ code =) نام یاجوج وماجوج (۱۸: ۹۴؛ ۲۱: ۹۶ ) ہے اورحدودِ مقرّب دربارسلیمان کے سردارہیں، جن سے ملکۂ سبا کے تخت کوحاضرکرنے کے بارے میں سوال ہوا تھا سورۂ نمل (۲۷: ۱۵ تا ۴۴ ) میں غورکریں۔
حشرکے معنی ہیں: جمع کرنا، اکٹھا کرنا، یومُ الحشرقیامت کے دن کوکہتے ہیں، کیونکہ اس دن لوگوں کواکٹھا کیا جاتا ہے، اب اس آیۂ کریمہ میں غورکریں: وَحُشِرَلِسُلیمانَ جُنودُہ مِنَ الْجنِّ والاِ نسِ وَالطیّرِ۔ ۔ ۔ اورسلیمان کے لئے ان کے لشکرجنّات اورآدمی اورپرندے سب (بطور ذاتی قیامت ) جمع کئے گئے (۲۷: ۱۷) چونکہ حضرت سلیمانؑ دینی اور روحانی بادشاہ تھے، اس لئے بہت ممکن ہے کہ یہ انفرادی قیامت ان کے حدود جسمانی میں سے کسی میں برپا ہوئی ہو، کیونکہ بادشاہ وہ سب سے معزز اور مختار شخص ہوتا ہے، جوحکم دے کر لوگوں سے کام کراتا ہے، مگرضروری نہیں کہ وہ بھی اس طرح کام کرے۔
قرآنی حکایت ہے: ترجمہ: ملکہ نے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب کسی بستی میں (بزورِ فتح ) داخل ہوتے ہیں تواس کواجاڑدیتے ہیں وہ وہاں کے معزز لوگوں کوذلیل و رسوا کردیتے ہیں، اوریہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے (۲۷: ۳۴ ) تاویلی مفہوم: بلقیس
۳۶
نے کہا اماموں کا دستور ہے کہ جب کسی عالمِ شخصی میں (روحانی لشکرکے ساتھ ) داخل ہوتے ہیں تو (تعمیرِنو کی غرض سے) اس کو بگاڑ دیتے ہیں، وہ وہاں کے سخت دل لوگوں کونرم دل بناتے ہیں اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: اذِلّتہ (نرم دل ) اعزّتہ (سخت دل ) سورۂ مائدہ (۰۵: ۵۴ )۔
۳۶
کلید نمبر۱۳: روحانی لشکر:
قرآن حکیم شروع سے آخرتک علم وحکمت اوررشد و ہدایت کی نعمتوں سے بھرا ہوا ہے، اس لئے یہ اہلِ ایمان کے لئے اوّلین بہشت ہے، اس کے حکیمانہ ثمرات اساسی اورمثالی اہمیت کے حامل ہیں، چونکہ یہ خدائے بزرگ وبرترکا کلامِ حکمت نظام ہے، اس لئے اس کی ہرہرآیت معنویت کا ایک ایسا معجزہ ہے کہ اس کی برکتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، پس اس میں جگہ جگہ رحیقِ مختوم کا نمونہ اورکستوری کی خوشبوکیوں نہ ہو (۸۳: ۲۵ تا ۲۶ )۔
سورۂ مائدہ (۰۵: ۵۴ ) کی اس ربّانی تعلیم میں دیدۂ دانش سے دیکھنا ہے: اے ایمان والو! تم میں سے جوکوئی اپنے دین سے پھرجائے توعنقریب ہی خدا ایسے لوگوں کولائے گا جن سے اللہ محبت کریگا، اوروہ اللہ سے محبت کریں گے، مومنین پرنرم دل ہوں گے اورکافروں پرسخت دل ہوں گے، اورخدا کی راہ میں جہاد کریں گے، اورملامت کرنے والوں کی ملامت سے
۳۷
نہیں ڈریں گے، یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ ۔ ۔ (۰۵: ۵۴ ) یہ ایسے لوگ نہیں جو بشری لباس میں ظاہر ہوں، بلکہ اسلام کے روحانی لشکرہیں، فرمایا گیا کہ وہ مومنین پرنرم دل یعنی مہربان ہیں، اس سے پتہ چلا کہ وہ جسمانی مومنین سے الگ ہیں۔
خداوندعالم کے روحانی لشکردوبڑی قسموں میں ہیں: سماوی اورارضی (۴۸: ۴؛ ۴۸: ۷ ) ان کوکوئی نہیں دیکھ سکتا، مگرپیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورامامؑ اوروہ شخص جس پرذاتی قیامت گزررہی ہو (۰۹: ۴۰؛ ۳۳: ۹ ) ان میں سے زمینی (ارضی ) لشکروہ ہیں، جو یاجوج و ماجوج کہلاتے ہیں، اوروہ انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرّات کی شکل میں ہیں، وہ حدّ و حساب سے باہرہیں، اورجوآسمانی لشکر ہیں وہ کوکبی لطیف بدن (Astral Body) میں ہیں، مگران کی سب سے عجیب بات تویہ ہے کہ وہ ایک کی وحدت وسالمیت میں پوشیدہ ہو کر سب آتے ہیں، آپ یہاں ایک بہت ضروری نکتہ یاد رکھیں کہ بڑے فرشتوں کی قطاراورصف بندی ایسی منظم ہے کہ اس میں سب کے سب مل کرایک ہی فرد ہوجاتے ہیں، اس صورت میں ان کو قرآنی حکمت کی زبان میں محراب (قلعہ ) کہا جاتا ہے (۳۴: ۱۳ ) کیونکہ جس طرح دنیا کے قلعے میں بہت سے فوجی یا سپاہی رہتے ہیں، اسی طرح ایک آسمانی فرشتے میں اس جیسے بے شمار فرشتے پوشیدہ ہوتے ہیں، آپ ان کو کاپیاں کہہ سکتے ہیں۔
۳۸
کلید نمبر۱۴: رفاقت روحانی:
اب ہم مذکورۂ بالاحقیقت کی روشنی میں یہ بتا سکتے ہیں کہ جب خدا کے حکم سے فرشتوں نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کیا، تو تم بھی آدمؑ کی وحدتِ مُتکثّر میں پوشیدہ پوشیدہ موجود تھے (۰۷: ۱۱ ) اوراسی طرح قرآن پاک کا حکیمانہ اشارہ ہے کہ تم ہرعظیم پیغمبرکے ساتھ تھے، جیسا کہ حضرت نوحؑ کے بارے میں ارشاد ہوا: کہا گیا اے نوح! اترو ہماری طرف سے سلامتی اوربرکتیں تم پرنازل ہوں گی، اوران جماعتوں پربھی جوتمھارے ساتھ ہیں (۱۱: ۴۸ ) جماعتوں کے سرپرست انبیاء وأئمّہؑ ہیں، جس طرح حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں فرمایاگیا: بیشک ابراہیم ایک امت، خدا کے فرمانبردار اورباطل سے کترا کے چلنے والے تھے (۱۶: ۱۲۰ ) نیزاس عظیم الشّان قانون میں دیکھیں، قولہ تعالیٰ: اورجوخدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اورصاحبانِ امر ) کی اطاعت کرتے ہیں، وہ صراط مستقیم پر) ان کے ساتھ ہیں جنہیں خدا نے اپنی نعمتیں دی ہیں، یعنی انبیاء اورصِدّیقین اورشہدا اورصلَحاء اور یہ لوگ کیا ہی اچھے رفیق ہیں (۰۴: ۶۹ ) یعنی کامیاب مومنین قبل ازجسمانی موت اپنے روحانی سفرمیں حجتوں، اماموں، اساسوں اورناطقوں سے جا ملتے ہیں۔
جس مومن کے عالمِ شخصی میں انفرادی قیامت قائم ہوتی ہے، اس میں درِپردہ تمام لوگوں کی غیرشعوری قیامت واقع ہوجاتی ہے،
۳۹
پھراللہ تعالیٰ اس باشعورمومن میں سب کوسمیٹتا ہے، اورفردِ واحد کے طورپراس کا انبعاث ہوتاہے (۱۷: ۱۰۴؛ ۱۹: ۹۵ ) قرآن پاک نے بڑے واضح الفاظ میں فرمایا کہ لوگوں کو اللہ کے پاس تنہا تنہا جانا ہے، جیسے قرآن حکیم میں ہے: ولقد جئتمونافرادٰی کماخلقنٰکم اوّل مرّتہٍ۔ ۔ ۔ (۰۶: ۹۵ ) اورتم ہمارے پاس تنہا تنہا آگئے، جس طرح ہم نے پہلی بارتم کو پیدا کیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور یہی روشن دلیل سورۂ مریم میں بھی ہے: ترجمہ: اورجوکچھ یہ کہتا ہے ہم اس کے وارث ہوں گے، اوریہ ہمارے پاس اکیلاہی آئے گا (۱۹: ۸۰ )۔
اس کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت وحکمت سے اونٹ کو سوئی کے ناکہ سے گزارتا ہے یا پِروتا ہے (۰۷: ۴۰ ) وہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کوبعنوان قیامت فردِ واحد میں داخل کردیتا ہے، تاکہ اس وسیلے سے سب کونجات ملے، اوریہی رحمتِ کلّ کا سرِّعظیم ہے، اونٹ کوعربی میں جَمَلْ کہتے ہیں، ج م ل میں جمع کے معنی بھی ہیں، جیسے جَمَل، جمع کیا یا جمع کرنا، جُمْلَتہ، مجموعہ، جُمُلْ، لوگوں کا گروہ، یعنی لاحق سوئی بھی ہے اوردرزی بھی، کیونکہ وہی روحانی لباس تیارکرتا ہے، لہٰذا قیامت صغرٰی کے موقع پرلوگ اسی کی شخصیت میں داخل ہوجاتے ہیں۔
۴۰
کلید نمبر۱۵: حدیث شریف کی پیش گوئی:
سید امیرعلی کی کتاب “روح اسلام” صفحہ۳۰۵ تا ۳۰۶ پرحوالۂ جامعِ ترمذی یہ حدیث شریف درج ہے: وعن ابی ھُرَیْرَۃَ قال قا ل رسول اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیہ وَسلّم: اِنَّکم فی زمانٍ مَّن تَرَکَ مِنکم عُشرَمااُمِرَ بِہٖ ھلک ثمّ یاتی زمانٌ مّن عَمِلَ مِنہم بِعُشۡر ما اُمِرَ بہٖ نجا۔ تم لوگ ایک ایسے دورسے گزررہے ہوکہ اگرتم احکام کے دسویں حصے سے بھی تغافل برتو تو برباد ہوجاؤگے اس کے بعد ایک ایسا وقت آئے گا کہ اس وقت جواحکام دیئے گئے ہیں اگرکوئی ان کے دسویں حصے پربھی عمل کرے گا تواسے نجات نصیب ہوجائے گی۔ ملاحظہ ہو: جامعِ ترمذی، جلد دوم، باب الفتن، نیزمشکٰوۃ، جلد اوّل، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتٰب والسّنّۃ فصل دوم۔
کلید نمبر۱۶: مرتبۂ فنا:
اگرچہ ہماری تحریروں میں’’فنا‘‘ کا تذکرہ اس کی بہت بڑی اہمیت کی وجہ سے باربارہوا ہے، لیکن یہ تصورچونکہ منزلِ مقصود سے متعلق ہے، اس لئے ہمیشہ اس کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے، چنانچہ آپ کو یاد ہوگا کہ عالم شخصی میں عرفانی سفرکی آخری منزل “فنا فی اللہ” ہے، جس کا دروازہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں، اورآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دروازہ امام زمانؑ،
۴۱
تاہم آپ کوتعجب نہ ہوکہ یہ دراصل ایک ہی فنا ہے، ہرچند کہ اس کی تعبیریں الگ الگ ہیں۔
اگرکوئی پوچھے کہ روحانیت کیا ہے؟ توآپ جواب دیں کہ وہ کائنات وموجودات کا نچوڑ، خلاصہ اورجوہر ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ روحانیت وہ سب سے بڑی حیران کن چیز (عجوبہ ) ہے جس میں تمام معانی (خواہ متضاد کیوں نہ ہوں ) جمع ہیں، ان بے شمارمعنوں اورحقیقتوں میں شروع سے لیکرآخرتک فنا و بقا کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے، اورابدی زندگی کا پیش خیمہ یہی ہے، یہاں تک کہ اپنی ذات کا اندرونی سفرآفتاب نورکے سامنے جاکرختم ہوجاتا ہے، جہاں سب سے عظیم الشّان دیدار کا مخفی خزانہ موجود ہے۔
مذکورہ بیان سے آپ نے ضروریہ نتیجہ اخذ کرلیا ہوگا کہ سلسلۂ فنا کے چھوٹے سے چھوٹے اوربڑے سے بڑے بہت سے درجات ہیں، مثال کے طور پرجب آپ مخلصانہ عبادت اورعاشقانہ گریہ وزاری سے پگھل جاتے ہیں، تو یہ ایک قسم کی امید افزا فنا ہے، اورجس وقت آپ علم ومعرفت کی باتوں سے بے حد مسرور و شادمان ہوتے ہیں، تویہ بھی ایک بڑی مفید فنا ہے، اورہرفنا تبدیلی کا نام ہے، مگرمذہبی فنا کا مقصد یہ ہے کہ قلب کی حالت وکیفیت پہلے سے بہترہو، اور یہ انقلابی عمل
۴۲
آگے بڑھ جاتا ہے، جیسے قانون فطرت میں ہرچیزکی مثبت فنا یہ ہے کہ وہ بلندی کی طرف حرکت کرے، مثلاً جماد، نبات، حیوان، انسان اور فرشتہ، کہ ان میں سے ہر ایک کی مفید فنائیت اس بات میں ہے کہ وہ اپنے اوپرکے درجے میں فنا ہوجائے۔
کلید نمبر۱۷: مصدر نورِ ازل:
دوات میں جو روشنائی (سیاہی ) ہے، اس میں بحدِّ قوّت دنیا بھرکی قدیم وجدید زبانوں کے تمام الفاظ اوران کے سارے معنی جمع ہیں، درحالے کہ اس میں کوئی ایک لفظ بھی ظاہر نہیں، لیکن جب تم قلم اوردوات (سیاہی ) سے کچھ لکھنا چاہو تو بڑی آسانی سے لکھ سکتے ہو، یہ مثال ہے اس دوات کی، جومقامِ عقل اورعالمِ علوی میں موجود ہے، جس میں سب کچھ مجموع ومخزون ہے، جیسا کہ قرآ ن کریم کا ارشاد ہے: نٓ والقلمِ وما یسطرونَ (۶۸: ۱) قسم ہے نون (دوات ) کی اورقلم کی اوراس چیزکی جولکھتے ہیں۔
نٓ سے مصدرنورِازل مراد ہے، یعنی نورِعقل کا مشرق ومغرب، کہ وہاں شرق وغرب ایک ہی ہے، پس مشرقِ ازل سے آفتابِ عقل کا طلوع ہوجانا ایسا ہے، جیسے دوات سے قلم کچھ لکھنے کے لئے برآمد ہوجاتا ہے، القلم کی تاویل نورِعقل (یاآفتابِ عقل) ہے، اورمرتبۂ عقل پرجوکچھ لکھتے ہیں (و ما یسطرون )۔
۴۳
وہ کلماتِ التّامات ہیں، وہ عارف میں ایک ہے اورعارفین میں کثیر ہیں۔
قرآنِ حکیم نے اپنی کئی پُرحکمت مثالوں میں درختوں کی طرف توجہ دلائی ہے، یہ آپ کا اورہمارا ایمان ہے کہ اس میں کچھ بھید ہوں گے، آئیے ہم نور الٰہی کی تائید کے لئے درخواست کرتے ہوئے اس میں سوچتے ہیں، اگرچشمِ بصیرت سے کسی پُرثمرشجرکا مطالعہ کیا جائے، تومعلوم ہوجاتا ہے کہ یہ نہ صرف ایک آیۂ قدرت ہے، بلکہ اس کا وجود ایک کامل صحیفۂ آسمانی کی طرح ہے، اگرچہ اس کی تفسیرلکھنے سے ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے، لیکن ہمارا مقصد صرف اتنا بتانا ہے کہ میوہ داردرخت میں تین اساسی مثالیں ہیں: پھول اورپھل کے بغیر درخت مادّیت کی مثال ہے، درخت کے پھول اورپھل روحانیت کی مثال ہیں، اور مغزعقلانیت کی مثال ہے، اب قدرت خدا کے عجیب وغریب نظاروں کو دیکھئے کہ درخت کی گیلی لکڑی سے پھول اورپھل اپنی تمامترخوبیوں کے ساتھ کیسے بنے! اور میوے میں جومغزہیں، اس میں خوب غورکیجئے، مغز گویا قلم بھی ہے اور دوات بھی، تاکہ اس سے کتابِ شجر کوفعلاً رقم کردیا جائے۔
کلید نمبر۱۸: لپیٹی ہوئی کائنات:
درخت اپنی جگہ موجود بھی ہے، اور اس کو گٹھلی (مغز )
۴۴
میں دستِ قدرت نے لپیٹ بھی لیا ہے، پس اسی حقیقت کا یقین کرنا ہوگا کہ جب اورجہاں درخت کا وجود مغزمیں مانا جائے، تواس وقت درخت کے جملہ اجزا مغز ہی مغز کی وحدت وسالمیت میں نظرآئیں گے، یعنی جڑیں، تنا، چھلکے، شاخیں، غنچے، پتے، وغیرہ سب کے سب مغز کی صورت میں موجود ہیں، اسی طرح آسمانوں اورزمین یعنی کائنات وموجودات ظاہراً برجا بھی ہیں اورباطناً مرتبۂ عقل پرلپیٹی ہوئی بھی ہیں، جس میں ہرچیزعقل کے ساتھ ایک ہوگئی ہے، جیسے درخت کے چھلکے، پتے اوردیگراجزا گٹھلی میں جاکر مغز بن جاتے ہیں اورجب گٹھلی زمین میں بوئی جاتی ہے، تواس کے مغزسے پودا پھردرخت بن جاتا ہے۔
اس سلسلے میں قرآ ن حکیم کے ان بابرکت الفاظ میں گہری نظرسے دیکھیں: واللّٰہ یقبض ویبسط (۰۲: ۲۴۵ ) پہلا ترجمہ: خدا ہی (رزق و روزی) میں تنگی کرتا ہے اورکشائش کرتا ہے، دوسرا ترجمہ: خدا ہی (چیزوں کودستِ قدرت کی ) مٹھی میں لیتا ہے اور پھیلاتا ہے۔ یہ کائناتی کلّیہ ہے، جس میں ایک طرف سمیٹنے کا ذکر ہے، اور دوسری طرف پھیلانے کا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم “القابض” ہے، اوردوسرا “الباسط” ان دونوں میں سے جولفظ آپ کے نزدیک آسان ہو، اسی پر پہلے غور کریں، چنانچہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ قرآن مجید میں”باسط” پھیلانے کے
۴۵
معنی میں آیا ہے (۰۵: ۲۸؛ ۱۳: ۱۴؛ ۱۸: ۱۸ ) پس الباسط کے معنی ہیں پھیلانے والا اوراسی نام کے پیش نظر القابض کے معنی ہوئے سمیٹنے والا، پس اللہ قابض ہے کہ عالم اکبر کی عقلی اور روحانی صورت کوعالمِ شخصی میں لپیٹ لیتا ہے، اور باسط ہے کہ اسی کائنات کے سانچے میں ہرمومنِ صادق کے لئے ایک باطنی کائنات اور بہت بڑی سلطنت کو پھیلاتا ہے، یعنی بہشت تیار کرتا ہے (۰۳: ۱۳۳؛ ۵۷: ۲۱؛ ۷۶: ۲۰ )۔
کلید نمبر۱۹: حشر و نشر:
قرآن عظیم کے پُرحکمت اور برعکس الفا ظ میں سے دو اورلفظ حشراورنشر ہیں، یعنی کسی چیزکوجمع کرنا اور پھیلانا، اصطلاحاً روحوں کو قیامت میں یکجا کر دینا، پھر ان کو منتشر کرنا، یہاں ایک اہم سوال سامنے آتاہے، وہ یہ کہ جب ارواحِ خلائق قیامت کے دن اکٹھی کی جاتی ہیں، تو پھر کہاں پھیلائی جاتی ہیں؟ اور کیون؟ اس کا جواب یہ ہے: ذاتی قیامت زمانۂ نبوّت کے جہاد کی طرح ہے، جس کی غرض سے لشکراسلام کو اکٹھا کیا جاتا تھا، اور فتح و کامیابی کے بعد ان کو منتشر ہونا پڑتا تھا، حشرونشر کی دوسری مثال نمازجمعہ سے دی گئی ہے (۶۲: ۹ تا ۱۰ ) کہ اس کی اذان کی تاویل صورِاسرافیل کی آواز ہے، نمازِجمعہ قیامت ہے، جس کی طرف روحیں دوڑتی ہیں، کیونکہ وہاں اسم اعظم کا خصوصی ذکر چل رہا ہوتا ہے، اورنماز ادا
۴۶
ہوجانے کے بعد زمین میں پھیل جانے کے لئے فرمایا گیا ہے، یعنی ذاتی قیامت کے بعد روحیں دنیا پرمحیط ہوجاتی ہیں، تاکہ خدا کے فضل وکرم سے روحانی سلطنت قائم ہو، اور کثرت سے خدا کو یاد کرنے کا حکم ہے، تاکہ قیامت کے تاویلی فائدے حاصل ہوں۔
ذاتی حشرونشرکی تیسری مثال حج بیت اللہ ہے، جس سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے اہل اسلام جمع ہوجاتے ہیں، اورپھر واپس ہوکردنیا میں پھیل جاتے ہیں، جیسا کہ ان حکیمانہ الفاظ کا اشارہ ہے: واذِّن فی النّاسِ بِالحجّ۔ اورتُو (اسرافیل کے توسط سے) دنیا بھرکے لوگوں کوحج کے لئے پکار۔۔۔ (۲۲: ۲۷ ) یعنی ذاتی حشر جو باطنی حج ہے۔ سورۂ اِنشِقاق (۸۴: ۷ تا ۹ ) میں بھی غورسے دیکھ لیں: پھر (اس دن) جس کا نامۂ عمل اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، اس سے توحساب آسان طریقہ سے لیا جائے گا، اورپھر وہ اپنے (مومنین کے) قبیلہ کی طرف خوش خوش پلٹے گا (۸۴: ۷ تا ۹) آیا یہ انفرادی حشر نہیں ہے کہ حساب دینے والا (یعنی نفسانی موت سے آگے جانے والا سالک) اپنے لوگوں سے الگ بھی ہوجاتا ہے، پھران کی طرف واپس بھی آتا ہے؟
۴۷
کلید نمبر۲۰: بہشت کی ہمیشگی:
سوال: بہشت میں نیک لوگوں کے ہمیشہ رہنے کا تصورکس طرح ہے؟ کیا جنت میں لوگ اپنے اپنے وقت پرداخل نہیں ہوتے، جبکہ جنت بہت پہلے سے بنی بنائی موجود ہوتی ہے؟ اوردوسرے اعتبار سے یہ سوال بھی ہے کہ آیا بہشت و دوزخ کی ایک مقررہ عمرنہیں ہے، جو کائنات کی مدت عمرکے برابر ہے؟ پھراہلِ بہشت کس طرح ہمیشہ بہشت میں رہ سکتے ہیں (۱۱: ۱۰۷ تا ۱۰۸ ) ؟
جواب: انسان جہاں اپنی انائے علوی میں ازلی طور پراصل سے واصل ہے، اور وہاں ہمیشہ بہشت میں رہتا ہے، مگر انائے سفلی کے اعتبار سے وہ ہنوز جنت میں داخل نہیں ہوا ہے، سورۂ ھود (۱۱: ۱۰۷ تا ۱۰۸) میں جس طرح دوزخ، اور بہشت کا دوام (ہمیشگی) کائنات کے دوام سے وابستہ کیا گیا ہے، اور پھریہ اشارہ بھی فرمایا گیا ہے کہ وقت آنے پرآسمانوں کو لپیٹ لیا جائے گا، اس سے بظاہر یوں لگتا ہے، جیسے عالمِ جسمانی کی کوئی خاص عمرہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورۂ ھود کے مذکورہ ارشاد کا تعلق عالمِ شخصی کے احوال سے ہے، کیونکہ جس وقت عارف کی ذاتی کائنات لپیٹ لی جاتی ہے، تواس وقت نہ صرف دوزخ اورذیلی بہشت دستِ قدرت کی گرفت اورلپیٹ میں آکر وجہ اللہ کے سامنے فنا ہوجاتی ہے، بلکہ ہرچیزپراس قانونِ کلّ کا اطلاق ہوجاتا ہے،
۴۸
لیکن یہاں یہ دیکھنا بے حد ضروری ہے کہ وہ فنا کس مقام کی ہے؟ اورکس نوعیت کی؟
یہ حکمت ہمیشہ کے لئے یاد رہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے عالمِ شخصی کولپیٹ لیتا ہے، توخدا کے اس فعل سے دوزخِ جہالت جو شر ہے، وہ ختم ہوکر خیر بن جاتا ہے، کیونکہ خدا کے ہاتھ میں شر ٹھہر ہی نہیں سکتا (۰۳: ۲۶ ) اسی طرح دوزخ کی عمرعارف کے نزدیک ختم ہوجاتی ہے، مگربہشت کی عمرختم ہوجا نے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ اس کے بارے میں ارشاد ہوا: عَطَائً غیرَ مجذوذ (۱۱: ۱۰۸) وہ غیرمنقطع بخشش ہے۔ اورجہاں تک فنا کا تعلق ہے، وہ تو دارالابداع میں امرِکُن (ہوجا ) کے تحت ہے، اورخدا جس چیزکو”ہوجا” فرمائے، وہ بجائے بہترسے بہتر ہونے کے کس طرح نیست و نابود یا معدوم ہوسکتی ہے۔
کلید نمبر۲۱: علمی دیدار:
ہماری تقریروں اورتحریروں میں جس قدربھی اصل اورخاص چیزیں ہیں، وہ بلاشبہ سب کی سب درِّامامت کے دریوزے (بھیک ) سے ہیں، چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ “علمی دیدار” ایک انقلابی تصوّر ہے، اور ازلی حقیقت پرمبنی ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست مفید ہے، پس یہاں حقیقی راز کو منکشف کرنا چاہئے کہ کسی عارف کے لئے خدا کا سب سے بڑا اور ازلی و ابدی علمی دیدار وہ ہے،
۴۹
جس میں وہ پاک وبرتراپنے دستِ قدرت سے کائنات و موجودات کو لپیٹ لیتا ہے (۲۱: ۱۰۴؛ ۳۹: ۶۷ ) یہ خلاصۂ کائنات، مجموعۂ موجودات، ملفوفۂ مصنوعات، اورجوہرِاشیاء ایسا جامعِ جوامع اورکُلِّ کُلّیّات ہے کہ ہرمسما اور ہراسم کی نمائندگی کرتا ہے، پس یہ خدا کے ہاتھ میں کوہِ عقل اورطورِموسیٰؑ بھی ہے، جو ہرعالمِ شخصی میں خدا کی تجلّی سے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔
دلائل و براہین اورغور و فکرکے بعد ہی کسی کو یقین آسکتا ہے کہ حقیقی علم میں سرتا سر خداوندِ تعالیٰ کے اسی ظہورِنوراوردیدارکا تصوّر اورتذکرہ ہے، جومرتبۂ عقل پرخدا کے خاص دوستوں کوحاصل ہوجاتا ہے، ہرآیۂ قرآن میں اسی تجلّی کا اشارہ، ہرمثال میں اسی ظہورکی تاویل، ہرجملہ میں وہی سرِاعظم پنہان، ہر حکمت اسی دیدارسے متعلق، ہرقصّہ میں اسی ملاقات کی خوبیاں، ہرعلم کا سرچشمہ وہی گوہر، ہرخزانے کا سرمایہ وہی لُولُوئے مکنون، وہی گنج، وہی گنجور (گنج ور ) وہی طور، وہی جبلِ نور، وہی جلوۂ حور، وہی بہشت کے محلات و قصور، وہی کتاب مسطور، وہی رَقِ منشور، وہی بیت المعمور، اور وہی سب کچھ۔
آپ آیۂ کریمہ کوازسرِنو غورسے دیکھیں کہ اس میں لفظ لِلْجَبَل ہے عَلَی الْجَبَل نہیں، کیونکہ خدا پہاڑ پر نہیں بلکہ کوہِ عقل ہاتھ میں لیے ہوئے ظاہر ہوا تھا، تاکہ اس کو ریزہ ریزہ کرکے حقائق و
۵۰
معارف کی ایک کائنات کو وجود میں لائے (۰۷: ۱۴۳ ) اوراس قادرِمطلق نے عالمِ شخصی میں ایسا ہی کیا، پس اہلِ بصیرت کے نزدیک حقیقی علم کی ہربات آئینۂ خدا نما ہے، اورعلمی دیدارکے یہی معنی ہیں، جیسا کہ خود قرآن کریم کا ارشاد ہے: فاینما تُولّوافثمّ وجہُ اللّٰہ (۰۲: ۱۱۵ ) سو جس طرف تم منہ کرو وہاں ہی اللہ کا چہرہ (اوردیدار ) ہے۔
کلید نمبر۲۲: جامۂ جنت:
قرآن کریم کی ہرآیۂ مقدّسہ کے ظاہری معنی کے ساتھ ساتھ باطنی حکمت بھی ہے، جیسا کہ یہ ارشاد ہے: اے آدمؑ کی اولاد ہم نے تمھارے لئے پوشاک نازل کی جوتمہاری شرمگاہوں کوچھپاتی ہے اورزینت کے کپڑے اور (اس کے علاوہ ) پرہیزگاری کا لباس اور یہ سب سے بہتر ہے (۰۷: ۲۶ ) حکمت: اے آدم کی روحانی اولاد! ہم نے تمھارے بدن کو لباس کے طور پر بنایا جوتمہاری باطنی شرمگاہوں (خاص بھیدوں ) کو چھپاتا ہے، اورہم نے تمہارے لئے جسم فلکی (ریش ) بنایا، جس میں زینت اور پرواز کی طاقت ہے، اس کے علاوہ ہم نے تمھارے واسطے جامۂ تقوٰی بنایا، یعنی وہ جثّۂ ابداعی، جوروحانی جنگ میں ہرطرح سے محفوظ اورغالب رہتاہے، اوریہی سب سے بہترین ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق حضرت قائم القیامت علیہ افضل التّحیّۃ والسّلام سے ہے۔ سورۂ نحل (۱۶: ۸۱ ) میں بھی دیکھ لیں۔
۵۱
جثّۂ ابداعی یا فرشتہ روحانی لشکرکا قلعہ ہوا کرتا ہے، اس لئے ایک فرشتہ میں بہت سے فرشتے پوشیدہ ہوتے ہیں، مثلاً ایک ہزار یا تین ہزار یا پانچ ہزار، کیونکہ فرشتوں کا جوہر ایک ہی ہے، آپ ایسے فرشتوں کا تذکرہ جنگِ بدر سے متعلق آیات کریمہ (۰۸: ۹؛ ۰۳: ۱۲۴؛ ۰۳: ۱۲۵) میں پڑھیں، اوریہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ مُسَوِّمین (۰۳: ۱۲۵ علامات والوں ) کے یہ معنی ہیں کہ ایسے فرشتے جنگی علامت کے طور پر ہاتھ میں کوئی ہتھیار لئے ہوئے ہوتے ہیں، مگریہ صرف اشارہ ہے، جبکہ روحانی طریق پرلڑتے ہیں۔
کلید نمبر۲۳: ظہورِ ازل:
خود شناسی اورخدا شناسی صرف کہنے کے لئے نہیں، بلکہ وہ ایک امرِ واقعی بھی ہے، چنانچہ قرآنِ مجید وہ ہدایت نامۂ سماوی ہے، جو دوسری تمام ضروری تعلیمات کے ساتھ ساتھ باطنی مشاہدہ، دیدار، اورمعرفت کے تذکروں سے بھی بھرا ہوا ہے، جیسا کہ سورۂ ملک (۶۷: ۱ ) میں ہے کہ جملہ برکات کا سرچشمہ ظہورِازل ہے، یہی ازل جو دوسرے اعتبارسے ابد ہے، عالمِ شخصی میں مخفی ہے، یہی ظہورِازل وہ گنجِ مخفی ہے، جس میں تمام اسرارِ عرفان پوشیدہ ہوتے ہیں، یہ خزینۂ خزائن خدا کے ہاتھ میں ہے، اس میں سب چیزیں بصورت جوہرجمع اوریکجا ہیں، اس لئے اس کے اتنے اسماء ہیں جتنے دونوں جہان کے مُسمّا ہیں، اس سے ایسا لگتاہے کہ یقیناً حضرت آدمؑ
۵۲
کواسی مقام پرعلم اسماء کی آخری تعلیم دی گئی تھی، پس وہ اعجوبہ جواللہ کے ہاتھ میں ہے، ہرچیزکا نمائندہ ہے، اورمُلک وملکوت کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
انسان پہلے زندگی گزارتا ہے، اوراس کے بعد ہی موت کے دروازے سے داخل ہوجاتا ہے، لیکن سورۂ ملک (۶۷: ۲ ) میں یہ ترتیب اس کے برعکس ہے، وہ یہ کہ خدا نے (پہلے ) موت اور (پھر ) زندگی کو پیدا کیا۔ یہ کس طرح ہے؟
ج : انسان کی جسمانی زندگی دراصل موت ہے، اوراس میں ہمارا زبردست امتحان ہے کہ ہم کواپنی زندگی نما موت کا بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے یا نہیں؟ اگرکسی خوش نصیب آدمی کواِس بات کا یقین ہو کہ حقیقی زندگی یہاں سے بہت دورآگے چلنے سے مل سکتی ہے، اوروہ اس کے ساتھ ساتھ علم وعمل کا سہارا لے کرآگے بڑھتا ہو تو ان شاء اللہ وہ اسی جسم میں ہوتے ہوئے بحقیقت زندہ ہوجائے گا، اوراُس حال میں بھی علم وعمل کا امتحان ہے۔
کلید نمبر۲۴ : سات آسمان:
خداوندِ تعالیٰ نے عالمِ عقل کے سات آسمانوں کوایک دوسرے کے مطابق اورموافق بنایا ہے، جس کی وجہ سے وہ سب ایک ہوگئے ہیں، یعنی ایک ہی آسمان کی حیثیت میں سات آسمان ہیں، کیونکہ عالم وحدت میں ایسا ہی ہوتا ہے، مثال کے طور پرتم عدد واحد (۱)
۵۳
کوایک ہی جگہ پرسات باراس طرح لکھتے ہو کہ پہلی شکل میں ذرا بھی فرق نہیں پڑتا، تواس حال میں یہ کہناغلط نہ ہوگا کہ وہ عدد ظاہراً ایک ہے، اورباطناً سات، اسی طرح کسی ایک روحانی یاعقلی چیز میں اپنی نوعیت کی ہزار بلکہ بے شمارچیزیں سما سکتی ہیں، جبکہ غیرمادّی اورلامکانی اشیاء کے لئے جگہ اورگنجائش کا مسلہ ہے ہی نہیں۔
خدا کی خدائی میں مخلوقات کے لئے درجات بھی ہیں اور مساوات (برابری) بھی، چنانچہ عالمِ ظاہراورعالمِ روحانی میں بے شماردرجات ہیں، اور عالمِ عقل (عالمِ وحدت ) میں مساوات ہی مساوات ہے، کیونکہ مراتب کی سیڑھی صرف چھت (عرش) تک جاتی ہے، اورچھت جو ہموار ہے، اس پرکوئی سیڑھی نہیں، یا یوں کہا جائے کہ دور و درازسفر کے مراحل و منازل ضرور ہوا کرتی ہیں، مگرمنزلِ مقصود کے بعد نہ توسفرہے اورنہ ہی کوئی منزل، اورقرآنِ پاک کا ارشاد ہے کہ ابداع وانبعاث کے مقام پرسب لوگ ایک جان کی طرح (مساوی اور یکسان ) ہیں (۳۱: ۲۸ ) پس جن لوگوں پرآفتابِ نورِعقل کسی حجاب کے بغیرطلوع ہوتا ہے، (۱۸: ۹۰ ) وہ خدا کے معزز بندے ہم مثل اوربرابرہیں (۲۱: ۲۶ )۔
بہشت کی سب سے بڑی عزت وہاں کی بادشاہت ہے، جس کا ذکرقرآن حکیم کی بہت سی آیات میں موجود ہے، اورجہاں جہاں سُرُرْ (واحد، سریر=تخت ) اور ارائک (واحد، اریکۃ= تخت )
۵۴
جیسے الفاظ آئے ہیں، وہاں بھی فردوسِ برین کی بادشاہی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، کیونکہ تخت نشین صرف وہی شخص ہوسکتا ہے، جوبادشاہ ہو، جیسا کہ سورۂ حجرمیں ہے: اورجوکچھ ان کے دل میں رنج تھا اس کوبھی ہم نکال دیں گے اوریہ باہم ایک دوسرے کے آمنے سامنے (شاہی ) تختوں پر برادرانہ محبت سے بیٹھے ہوں گے (۱۵: ۴۷ ) پس ان سب بہشت کے بادشاہوں کے آمنے سامنے اور بھائی بھائی جیسے ہونے کا مطلب برابری ہے، یہ جنت کا وہ سب سے اعلیٰ مقام ہے، جہاں پرنچلے تمام درجات رفتہ رفتہ پہنچ کرمساواتِ رحمانی میں بدل جاتے ہیں۔
کلید نمبر۲۵: نورانی عشق:
خدا، رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورامام زمانؑ کا پاک و پاکیزہ عشق وہ لاہوتی عطرہے، جس کی جان پرور اور ایمان افروزخوشبو اہلِ ایمان کے لئے طبِّ سماوی کے معجزے دکھاتی ہے، کیونکہ یہ عشق دراصل ایک کامل ومکمل نور ہے، اورنورکا کام ہے تمام ترمشکل حالات میں رہنمائی اوردستگیری کرنا، ہرنبی اورہرولی میں ہاہو (شور) کے بغیرخاموش اورسنجیدہ مگر زبردست عشق الٰہی پوشیدہ ہوا کرتا ہے، اوراسی عشق سے ہمیشہ اخلاقی اور روحانی امراض کاعلاج ہوتا رہا ہے، جیسے قرآن حکیم کا ارشاد ہے: وَالّذین اٰمنواشدُّ حُبّاً للّٰہِ (۰۲: ۱۶۵ ) اورمومنین توخدا ہی سے قوّی محبت رکھتے ہیں۔
۵۵
یہ خدا اوراس کے مظہرکے لئے بڑی شدید محبت اورعشق ہے، چونکہ خدا کی محبت اورعشق کوقرآنِ حکیم نے شدّت کے معنی میں بیاں فرمایا، اورشدّت طاقت ہوا کرتی ہے، اس لئے ہم تسلیم کریں گے کہ حقیقی عشق ومحبت سب سے بڑی اصلاحی طاقت ہے، جس کی بدولت بڑی حد تک اخلاقی اور روحانی ترقی ہوسکتی ہے، اگریہ بات بالکل درست ہے، توپھرآسمانی عشق سے بھرپورفائدہ اٹھانے میں لَیت ولَعَلُ (ٹال مٹول ) نہیں کرنا چاہئے، درحالے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت ومحبت خدا کی اطاعت ومحبت ہے، اورامام زمانؑ کی اطاعت ومحبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت ومحبت، یہ محبت یعنی عشق ایک مخفی اورقلبی معجزہ ہے، جس سے زندگی کی ہرتلخی شرینی میں تبدیل ہوسکتی ہے، اگرعشق سچ مچ معجزہ ہے، توپھردین کی کون سی نعمت ہے جواس کے ذریعہ حاصل نہ ہو؟
عشق نوربھی ہے اورنار (آگ) بھی، چنانچہ آپ اگرعلم وعمل کے وسیلے سے عشق امام کے لئے ایندھن ہو جائیں، توآپ اپنے عالم شخصی میں نوراور اس کے جملہ کمالات ومعجزات کا مشاہدہ کرسکیں گے، اوراسی طرح اپنی ذات کی معرفت سے پروردگارکی معرفت حاصل ہوجائے گی، جبکہ اسی مقصد کے حصول کی خاطرانسان دنیا میں آیا ہے۔
۵۶
کلید نمبر ۲۶: گریہ وزاری:
سب جانتے ہیں اورسب کومعلوم ہے کہ قرآن اوراسلام میں بڑی سختی سے تکبّرکی مذّمت کی گئی ہے، مذّمت ہی پراکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے دفعیّہ اورتوڑکے کئی طریقے بھی بتائے گئے ہیں، وہ ہیں: توضع، عاجزی، کسرِ نفسی، نرم دلی اورسب سے بڑھ کر گریہ وزاری کا طریقہ ہے، جس کی عادت ہونے سے تکبّر کی بدترین بیماری کا بڑی حد تک علاج ہوسکتا ہے، کیونکہ گریہ وزاری خوفِ خدا سے ہوسکتی ہے، یاعشقِ الٰہی سے، یا برسبیل دعا ومناجات، یا بعنوانِ توبہ، یا بربنائے عبادت وغیرہ، پس بہرحال اس میں یادِ خداوندی کے طوفانی عالم ہونے کی برکت سے فخروتکبرکے خیالات یکسر مٹ جاتے ہیں، اورمومن کا قلب عکسِ آفتابِ ہدایت کے لئے مثالِ آئینہ پاک وصاف ہوجاتا ہے، اور بہت سے معنوں میں گریہ وزاری بے حد مفید ثابت ہوجاتی ہے۔
انسان کے ظاہری اقوال واعمال کا انحصارخیالات پر ہے، کیونکہ اچھے خیالات فرشتے ہیں اوربرے خیالات شیاطین، شیطانوں کو دور کرکے فرشتوں کو بلانے کا طریقہ ذکرِالٰہی کی کثرت ہے، اورسب سے بہترین اورانقلابی ذکر گریہ وزاری اورمناجات ہے، چنانچہ جب بندۂ مومن بارگاہِ خداوندی میں تضّرع اور گڑگڑاہٹ کے ساتھ دعا کرتا ہے، تواس پرخدا کی رحمت برستی ہے، اور
۵۷
اس کاعالمِ دل منور ہوجاتا ہے، اوراس کے مزاج میں بے حد نرمی، سنجیدگی اورعاجزی پیدا ہوتی ہے، اوراس سے روحانی ترقی کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔
گریہ و زاری خواہ انفرادی ہو، یا اجتماعی، اس کے لئے قرآنی آداب مقرر ہیں اورادب کے بغیرکوئی عبادت و بندگی خدا کو پسند نہیں، ملاحظہ ہو (ترجمۂ آیۂ کریمہ ): تم اپنے ربّ سے دعا کیا کرو، گڑگڑا کراورآہستہ آہستہ، بے شک وہ حد سے تجاوزکرنے والوں کودوست نہیں رکھتا (۰۷: ۵۵ ) نیز سورۂ بنی اسرائیل میں دیکھیں: اوریہ لوگ (سجدے کے لئے ) ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں اور روتے جاتے ہیں اور یہ قرآن ان کی عاجزی بڑھاتا جاتاہے (۱۷: ۱۰۹ )۔
کلید نمبر ۲۷: امام مبینؑ میں ہرچیز:
یہی توکمالِ قدّرت اورزبردست معجزے کی بات ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی پیدا کردہ ایک ہی چیز اپنی تمامیّت، کمالیت، اورکفایت کی وجہ سے ہرچیز ہوسکتی ہے، یا ایک ہی شیٔ سب کچھ ہے، یا ایک ہی مخلوق میں تمام مخلوقات محدود ہیں، خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ خداوندِعالم نے تمام حقیقی اوراعلیٰ چیزیں (ازقسم روحانی، عقلانی اورعلمی ) امام مبینؑ میں گھیرکر رکھی ہیں (۳۶: ۱۲) مگریہاں یہ نکتہ اچھی طرح یاد رہے کہ مذکورہ چیزیں عقل وجان کے
۵۸
نورسے معمور و منوّر ہیں، اس لئے وہ زندہ و گوئندہ ہیں اور ان سے ہر وقت علم و حکمت کی ضوفشانی ہوتی رہتی ہے، ان تمام چیزوں میں سب سے پہلے یہ نام آتے ہیں: نورمحمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، عقل، قلم، لوح، عرش، کرسی، کتابِ مکنون، خزانۂ ازل، آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، سمندر، باغ، شہر، لوگ وغیرہ اوراسی طرح ان انتہائی عظیم چیزوں میں اسماء الحسنیٰ بھی ہیں (۰۷: ۱۸۰؛ ۱۷: ۱۱۰؛ ۲۰: ۸؛ ۵۹: ۲۴ )۔
قرآنی الفاظ کے معنی اصل لغت سے ہٹ کرنہیں ہوتے، چنانچہ اسماءُ الحسنیٰ کے معنی ہیں اللہ کے بہت خوبصورت نام، یعنی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورأئمّۂ طاہرین ؑ، خداوندِ دوجہان کے یہ اسمائے عظام سچ مچ انتہائی خوبصورت ہیں، کیونکہ ان بزرگ اسماء میں سے ہراسم اپنے وقت میں زندہ بہشت کا مرتبہ رکھتا ہے، اوربہشت وہ مقام ہے، جس کا ہر منظر بےحد حسین، ہر شیٔ نہایت خوبصورت، ہرمخلوق بدرجۂ کمال جمیل، ہرجلوہ حیران کن، ہرصورت مایۂ زیبائی و رعنائی، ہرچہرہ رشکِ آفتاب و ماہتاب، ہرملاقات مسرّت انگیز، ہردیدارجان پرور، ہرنعمت نشاط افزا، ہرروح پیکرِحسن وجمال، ہرقطرۂ باران درّ ثمین، ہردریا بحرِگوہر زا، ہرپانی اَبِ کوثر، ہر پہاڑ کوہِ طور، ہر پھتر حجرِ مکرم، اورہرفرد رنگِ خدا سے رنگین ہے، یہ اسماءُ الحسنیٰ کی ایک بہت مختصر وضاحت ہے۔
۵۹
کلید نمبر۲۸ـ : کتاب لاریب:
قرآن مجید کے مقاصد میں سے ایک خاص مقصد یہ ہے کہ یہ اگلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اورساتھ ہی ساتھ کتاب لاریب (۱۰: ۳۷) کی تفصیلات بیان کرتا ہے، الکتاب لاریب فیہ (۱۰: ۳۷) کیا ہے؟ ج: وہ روحانی اورعقلانی کتاب ہے، آپ اسے کتابِ مکنون (۵۶: ۷۸ ) یا نورِعقل یا نورِامامت بھی کہہ سکتے ہیں، جس میں کوئی شک نہیں، یعنی وہ توعینُ الیقین اورحقُ الیقین کے مقام پر ہے، اس لئے اس کا نام کتاب لاریب ہوا، لیکن وہ امثال واشارات سے بھری ہوئی ہے، لہٰذا وہ مُجَمل ہے، مُفَصَّل نہیں، اورقرآن کریم اس کی تفسیرو تفصیل ہے، جیسا کہ سورۂ انعام (۰۶: ۱۱۵ ) میں ہے: وھوالّذی انزل الیکم اِلکتٰاب مُفَصَّلاً۔ وہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے پاس مفصل (واضح ) کتاب نازل کی۔
کامل ومکمل روحانیت وعقلانیت جودرجہ بدرجہ بلند ہوکراسرارِ ازل تک پہنچ جاتی ہے الکتاب کہلاتی ہے، اُس میں کوئی شک نہیں، کیونکہ اس میں یقین ہی یقین ہے، جیسا کہ اوپرذکرہوا، اورروحانی واقعات کا یہی سلسلہ دوسرے الفاظ میں یوم القیامۃ لاریب فیہ (روز قیامت جس میں شک نہیں ۰۴: ۸۷؛ ۰۶: ۱۲؛ ۴۵: ۲۶ ) بھی ہے، کیونکہ عالمِ لطیف میں چیزیں آپس میں مل کرایک ہوتی ہیں، جبکہ عالمِ کثیف کی اشیاء الگ الگ ہوا
۶۰
کرتی ہیں، پس قرآن حکیم میں قیامت کے جتنے نام آئے ہیں، وہ سب کے سب امام اقدس و اطہرؑ کی روحانیت ونورانیت کے ناموں میں سے ہیں، ملاحظہ ہو: کتاب کوکب دری، ص۲۲۶، منقبت۲۷ تا ۲۸ کہ امامؑ السّاعہ (قیامت ) بھی ہیں اورکتاب لاریب فیہ بھی۔
جانشین رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (امامؑ) پریقین رکھنا آخرت پریقین رکھنا ہے (۰۲: ۴) کیونکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جس نور پرایمان لانا واجب ہے، وہ امام عالیمقام ؑ ہی ہیں (۰۷: ۱۵۷ ) جو ہراعتبارسے یوم الآخرہیں، جیسے مولاعلیؑ نے ارشاد فرمایا: اناالّذی اقومُ السّاعۃ (میں ہوں وہ شخص کہ قیامت برپا کرتا ہوں۔ مذکورہ کتاب، ص۲۲۹، منقبت ۵۳ )۔
کلید نمبر۲۹: اصل سے واصل:
حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صَلَوات اللّٰہ علیہ کا ارشاد گرامی ہے کہ: دنیا میں رہ کر مومن کے کام کرو، اس دنیا میں بھی مومن اصل میں واصل ہوسکتا ہے، اپنے مذہب میں رہتے ہوئے اصل میں واصل ہونا آسان معاملہ ہے۔ (دارالسلام۹۔ ۳۔ ۱۹۲۵ء ) میں آپ کو اس فرمان مبارک کی معنوی گہرائی اورحکمت کی طرف دعوتِ فکرکی غرض سے چند سوالات کرتا ہوں کہ آیا “اصل سے واصل ہونا” روحانی سفراورترقی کی آخری منزل
۶۱
نہیں ہے؟ کیا اس میں نفسانی موت سے گزرجانے کا اشارہ نہیں ہے؟ اصل سے واصل اورفنا فی اللہ میں کیا فرق ہے؟ آیا امامِ عالیمقامؑ کے اس فرمان مقدّس میں ذاتی یا انفرادی قیامت کا واقعہ پوشیدہ نہیں؟ آپ کے نزدیک اصل سے کیا مراد ہے؟ نفسِ واحدہ؟ یا مُبدِع؟ یا نورالانوار؟ یا روحِ کُلّی؟ یا بہشت؟ یا امامِ زمانؑ؟ یا کوئی اورمرتبہ؟ یا رفیقِ اعلیٰ؟ یا انائےعلوی؟ یا عِلّیّین؟ یا گنجِ ازل؟ یا خداوندِ تبارک وتعالیٰ؟ الغرض آپ کو حضرت اما مؑ کے ایسے اہم اور پرازحکمت ارشادات میں اچھی طرح سے غور کرنا ضروری ہے۔
کلید نمبر۳۰: قصۂ قارون:
حدیث شریف میں ہے کہ: آیاتِ قرآن میں سے ہرآیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن..، پھرقصۂ
قارون (۲۸: ۷۶؛ ۲۸: ۷۹؛ ۲۹: ۳۹؛ ۴۰: ۲۴ ) کس طرح باطنی حکمت کے بغیرصرف ظاہری معنی میں محدود ہوسکتا ہے، جبکہ خود قرآن حکیم ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے، جواسے اساطیر الاوّلین (اگلوں کی کہانیاں ۰۶: ۲۵ ) قراردیتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حکایات قرآن کی نصیحت وعبرت اورعلم وحکمت کو ذرا بھی نہیں سمجھتے، القصۂ قارون حضرت موسیٰؑ کے قرابتداروں میں سے تھا، اس کوظاہری دولت اس کثرت سے حاصل ہوئی کہ اس کے کثیرخزانوں کی کنجیاں ایک طاقت ورجماعت کوتھکا دیتی تھیں، جب اس کوادائے زکات کا حکم دیا گیا، تواس نے صریحاً انکارکیا،
۶۲
اورکہا کہ یہ (مال ودولت ) تومجھے اپنے علم کی وجہ سے حاصل ہوا ہے (۲۸: ۷۸ ) پس یہ ہرایسے شخص کے لئے تنبیہی مثال ہے، جومادّی یاعلمی دولت کے خزانوں سے مالامال ہو، اور وہ ہادی برحق کی اطاعت نہ کرے، اورمالی یاعلمی زکات نہ دے۔
قرآن پاک اپنی نوعیت کا ایک عالم ہے، اس میں گویا دو سمندر (بحران ۳۵: ۱۲ ) ہیں، ایک کا پانی پینے کے لئے شرین وخوشگوار ہے اوردوسرے کا کھارا اور کڑوا ہے، لیکن یہ دونوں مچھلیوں اورموتیوں کی فراوانی میں یکسان ہیں (۳۵: ۱۲ ) چنانچہ قصۂ قارون کا ظاہر واضح اورمعلوم ہے، لیکن اس کا باطن ایک پوشیدہ اشارہ ہے جو روحانی علم کے خزانوں، کلیدوں اورکلید برداروں (خزانچیوں ) کا تصوّر دیتا ہے، وہ علم طوفان نوحؑ جیسے بے پناہ اورمنتشرمثال میں ہونے کے باوجود منظم کُنُوز و مفاتح اور ایک قوّی خزانچی جماعت کے تحت ہے۔
کلید نمبر۳۱: فعل خدا کی نمائندگی:
سورۂ صٓ (۳۸: ۱۷) سے دیکھیں: اللہ تعالیٰ کا اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ فرمانا کہ تم ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشاہدۂ باطن اورمراحل نورِعقل کے حوالے سے ہے، کیونکہ اس آیۂ کریمہ میں حضرت داؤدؑ کو”ذاالاید” اور”اوّاب” یعنی ہاتھوں والا اور رجوع کرنے والا کہا گیا ہے، اورہاتھوں کی یہ تعریف نہ
۶۳
صرف کتاب مکنون کوچھونے کی وجہ سے ہے، بلکہ یہ دستِ خدا اورفعلِ الٰہی کی نمائندگی کے سبب سے بھی ہے، اورکسی پیغمبرکا خدا سے رجوع یا توبہ (لوٹ جانا ) یہ ہے کہ وہ انتہائی عظیم دیدارتک پہنچ جائے، جس میں فنا ہوجانا ہے۔
عالم انسانیت میں دو قسم کے نفوس (ارواح) ہیں: منجمد اور ذرّات، نفوسِ منجمد گویا جبال (پہاڑ) ہیں، اورذرّات پرند (طیور) پس حضرتِ داؤدؑ کی انفرادی قیامت میں پہاڑوں کواپنی جگہ مسخرکرکے پرندوں کوجمع کیا گیا اور وہ سب حضرتِ داؤدؑ کے ساتھ ملکر صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھا کرتے تھے (۳۸: ۱۸) عالمِ ابداع میں دنیائے ظاہر کا وقت سمیٹا ہوا ہوتا ہے، اس لئے وہاں شام کی تسبیح صبح کی تسبیح سے ملی ہوئی ہے۔ دنیا کی سلطنتوں کا نچوڑاور جوہر روحانی بادشاہی میں ضم کیا جاتا ہے، جس طرح ملکۂ سبا کی سلطنت حضرت سلیمانؑ کی مملکت میں ملائی گئی تھی، یہاں حکمت سے لُولُوئے عقل مراد ہے، اور “فصل الخطاب” کلمۂ باری ہے (۳۸: ۲۰ )۔
کلید نمبر ۳۲: دُ نبیوں کا مسئلہ:
دروازے سے آنا ان حدود کی علامت ہے، جوجسمِ لطیف (آسٹرل باڈی ) میں دین کا کام کررہے ہیں، اور دیوار سے آنا حدودِ روحانی کی نشانی ہے، چنانچہ حضرتِ داؤد نبیؑ کے پاس
۶۴
جوحدودِ دین دیوارکوچیرکرآئے، وہ جبرائیل اورمیکائیل جیسے روحانی تھے (۳۸ : ۲۱) ۹۹+۱=۱۰۰ دُنبیاں خدا کے اسمائے صفاتی کی مثال ہیں، جوعلم وحکمت کے خزانے ہیں (۳۸: ۲۳) مگرتمام خزانوں کی کلیدیں اسم اعظم میں ہیں، جوخزانۂ اعظم اورکنزالکنوز ہے، جس کی تشبیہ وتمثیل مذکورہ قصہ میں ایک ایسی دنبی سے دی گئی ہے، جس کا نر (دنبہ ) موجود ہے، اس لئے یہ نسل پھیلانے کے اعتبارسے ان ننانوے دنبیوں سے زیادہ فائدہ بخش ہے، جودوسرے بھائی کے پاس ہیں، کیونکہ وہ سب کی سب نرکے بغیرہیں۔
ذاتِ سبحان کے سوا کوئی بھی شیٔ ایک اکیلی نہیں، کیونکہ خداوندِ عالم نے تمام چیزوں کوجفت جفت پیدا کیا ہے (۳۶: ۳۶ ) اورقرآنِ عظیم میں بارہا اس قانونِ دوئی کا ذکروبیان فرمایا گیا ہے، اس روشن حقیقت میں ذرہ بھرشک وشبہ نہیں کہ کائنات و موجودات کی جملہ اشیاء دو دو یعنی جوڑی جوڑی ہیں، یہ قاعدہ کئی طرح سے ہے، جیسے نر و مادہ کا نظام، اضداد کا طریقہ، وغیرہ، ہم نے بارباراس کا تذکرہ کیا ہے، پس اسم اعظم بھی اسی قانونِ فطرت کے مطابق دو ہیں، ایک اسم لفظی ہے، جوصامت (خاموش ) ہے، اوردوسرا شخصی، نورانی ہے، جو ناطق یعنی بولنے والا ہے، اس سے زمانے کا نورِمجسّم مراد ہے۔
حرفی اسمِ اعظم دلیل ہے، شخصی اسمِ اعظم مدلول، وہ گویا
۶۵
آسمانی کتاب ہے، یہ ربّانی معلّم اورنور، وہ روحانی خزانہ ہے، تو یہ اس کا خزانہ دار، وہ جسم کی طرح ہے، یہ روح کا درجہ رکھتا ہے، وہ حیاتِ سرمدی کا اشارہ ہے، یہ مُشارٌ اِلیہ اور خود اسی حیات کاسرچشمہ، وہ طالب کی طلب ہے، تویہ مطلب اور مطلوب، وہ ایک چراغ ہے، مگرہنوزروشن نہیں ہوا، یہ ایک ایسا روشن چراغ ہے، جواس کوبھی فروزان کرسکتا ہے، وہ آسمان روحانیت کے لئے نردبان (سیڑھی ) ہے، تویہ روحانیت ونورانیت کا آسمان ہے، وہ ایسا درخت ہے جس میں علمی درخت کا پیوند لگ سکتا ہے، یہ علم کا زندہ شجرہے، لہذا اپنے نورانی علم کا پیوند اس درخت میں لگا سکتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ زندہ اسمِ اعظم (امام زمانؑ ) کا نور لفظی اسمِ اعظم کے توسط سے قلوب مومنین میں طلوع ہوسکتا ہے۔
کلید نمبر ۳۳: کوہِ قاف:
حضرت امیرالمومنین علیؑ کا ارشادِ گرامی ہے: انا لولوالاھداف، اناجبل قاف، یعنی میں ہی وہ گوہریک دانہ ہوں، جس میں تمام اعلیٰ مقاصد جمع ہیں، اورمیں ہی کوہِ قاف ہوں، جس پرعالمِ عقل کے عجائب وغرائب موجود ہیں، درّیتیم یا گوہریکدانہ (لُولُوئےعقل) کے بارے میں اگرچہ بہت کچھ لکھا گیا ہے، تاہم یہاں اس میں اضافہ کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے
۶۶
کہ گوہرِعقل میں کائنات ومخلوقات کے آثار متَحجّرات [fossils] پائے جاتے ہیں، یعنی جس طرح سائنسی تحقیق سے اس بات کا علم ہوچکا ہے کہ زمانۂ قبلِ تاریخ کی بہت سی نباتی اورحیوانی چیزیں پتھربن کرپہاڑ میں محفوظ ہوچکی ہیں، جسے رکازی ریکارڈ [Fossil Record] کہا جاتا ہے، اسی طرح کوہِ عقل میں تمام باطنی چیزوں کا نورانی ریکارڈ موجود ہے۔
سورۂ قٓ (۵۰: ۱ ) کا ارشاد مبارک ہے: قٓ۔ والقراٰنِ المجید (۵۰: ۱ ) قسم ہے قاف کی اورباعظمت قرآن کی۔ حرف “ق” کی ابجدی قیمت ۱۰۰ ہے، اورسو۱۰۰ کا جملِ اصغرایک ہوتا ہے، جس کی عددی تاویل عقلِ کلّ ہے، جوقلمِ قدرت اورکوہِ عقل ہی کا نام ہے، اوریہی عالمِ شخصی میں نورِازل بھی کہلاتا ہے، اس مقام پرقرآن مجید سے لوحِ محفوظ مراد ہے، جس میں عظمت والا قرآن درج ہے (۸۵: ۲۱ تا ۲۲ ) اورلوحِ محفوظ ہی نفسِ کلّ ہے، چونکہ دنیائے ظاہرکے ارتقاء کا آغاز جمادات سے ہوجاتا ہے، اس لئے ظہوراتِ عقل میں پہاڑ کی مثال کو بہت بڑی اہمیت حاصل تھی، پس کوہِ عقل کا نام ایک اعتبارسے کوہِ قاف ہوا، قاف کے بہت سے معنی ہیں، جیسے قدرت، قلم، قدیم، قرآن وغیرہ اورکوہِ قاف کی وجہ تسمیہ یہ بھی ہے کہ عالمِ شخصی کے اس پُرنور پہاڑ پرعربی کے ایسے بہت سے الفاظ درج ہیں، جن میں سے ہرلفظ کے آخر
۶۷
میں “ق” آتا ہے، اوریہاں یہ نکتۂ دلپذیر بھی سن لیجئے کہ قرآن حکیم میں اس نوری تحریرکا نام الرّقیم (۱۸: ۹ ) ہے، جس کے معنی ہیں نوشتۂ روحانی، اورہرلفظ کے آخرمیں “ق” ہونے کا البتہ یہ اشارہ ہے کہ ہم ایسے الفاظ مقدّس کوقرآنِ کریم میں دیکھیں، اور ان میں کوہِ قافِ عقل کے اَسرارِمعرفت کی جستجو کریں۔
کلید نمبر ۳۴ : اصحاب فیل:
سورۂ فیل کوقرآن (۱۰۵: ۱ تا ۵ ) میں پڑھ لیں: (اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمھارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیر غلط نہیں کردی؟ اوران پرپرندوں کے غول کے غول بھیجے، جوان پرسنگ گِل کی کنکریاں پھینکتے تھے، پس اللہ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسا کی طرح کردیا (۱۰۵: ۱ تا ۵ ) ترجمہ وتفسیراورتاریخی واقعہ کے بعد اس ربّانی تعلیم کی حکمت اس طرح ہے کہ شروع میں عالمِ شخصی کے حوالے سے مشاہدۂ روحانیت کی طرف بھرپور توجہ دلائی گئی ہے، جس میں اقتدار والے مخالفین (ہاتھی والے) بصورتِ ذرّات خدا کے باطنی گھرکو ڈھانے کی غرض سے حملہ آور ہوئے تھے، مگراللہ نے ان پرایک زبردست روحی لشکر کو بھیجا جس نے منجمد روح کی کنکریاں برسا کران کوکھائے ہوئے بھوسا جیسا کردیا، جس سے وہ روحانی طور پر ہلاک ہوگئے، کھایا ہوا بھوسا وہ ہے جوگائے بیل،
۶۸
وغیرہ کے پیٹ میں متغیر ہونے لگتا ہے، تاکہ اس کا کچھ حصہ حیوانی جسم کے ساتھ ملکرایک ہو، اورکچھ حصہ گوبرکی صورت میں خارج ہوجائے، یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ حملہ آور روحیں ہلاک ہوکرعارف کے نفسِ حیوانی کے لئے خمیر بھی ہوجاتی ہیں، اورپھوک کی طرح خارج بھی۔
کلید نمبر۳۵ : نور کا ذکرِجمیل:
سورۂ حدید کی پانچ آیات کریمہ میں جس شانِ حکمت سے نورکا ذکرِجمیل آیا ہے، اس کا مجموعی مطالعہ بےحد ضروری ہے، تاکہ دنیا ہی میں نورکی شناخت کی اہمیت کا اندازہ ہوجائے، چنانچہ اِ س باب میں سب سے پہلے (۵۷: ۹ ) میں ذرا غورسے دیکھ لیں، اوریہ بتائیں کہ آیا نزول قرآن اوراس کی بابرکت تعلیمات کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگوں کوکفروجہالت کی تاریکیوں سے نکال کرنورکی طرف لایا جائے؟ تاکہ نورانی ہدایت اورعلم وعمل کے نتیجے میں دنیا ہی میں مومنین ومومنات پر روحانی ترقی کا وہ وقت بھی آئے، جس میں ان کا نور ان کے آگے اورداہنی طرف دوڑنے لگتا ہے(۵۷: ۱۲) روحانی ترقی ہی قیامت صغرٰ ی ہے، جوعالمِ شخصی میں واقع ہوتی ہے، جس میں بعض حدودِ دین کی نیابت ونمائندگی سرِّعظیم ہے، ایسی انفرادی قیامت میں جہاں تمام روحوں کی حاضری ہوتی ہے، وہاں منافقین ومنافقات کی روحیں کیا کہتی ہیں،
۶۹
اس کوبھی سورۂ حدید (۵۷: ۱۳ ) ہی سے پڑھ لیں۔
اس کے بعد نورکا ایک اورعظیم الشّان تذکرہ یہ ہے: اورجولوگ خدا اوراس کے رسولوں پر (حقیقی معنوں میں ) ایمان لائے ہیں یہی لوگ اپنے پروردگارکے نزدیک صدّیقوں اورشہیدوں کے درجے میں ہیں، ان کے لئے اپنا اجراور (زندہ ) نور ہے (۵۷: ۱۹)۔ یقین کے ساتھ جاننا چاہئے کہ جس طرح دنیا کے چھوٹے بڑے بے شمارکام شمس اورنظام شمسی سے وابستہ ہیں، اسی طرح جملہ اموردینی کی وابستگی نوراورنظام نورانی سے ہے، پس یہاں یہ حقیقت اور زیادہ روشن ہوجاتی ہے کہ دنیا ہی کی روحانیت میں مومنین ومومنات کا نوران کے آگے اورداہنی طرف سعی کرتا ہے، یعنی بڑی سرعت سے ظہورات ابداع و اِنبعاث کے نمونے پیش کرتا رہتا ہے۔
سورۂ حدید کی وہ آیۂ مقدسہ، جونورِامامت کی معرفت سے متعلق بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس طرح ہے (ترجمہ): اے ایماندارو! خدا سے ڈرو (جیسا کہ ڈرنا چاہئے ) اوراس کے رسول (محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ) پرایمان لاؤ (جیسا کہ حق ہے ) توخدا تم کواپنی رحمت کے دوحصے اجرعطا فرمائے گا اور تم کوایسا نور (یعنی نورِامامت ) مقررفرمائے گا، اورخدا توبڑا بخشنے والا مہربان ہے (۵۷: ۲۸ ) الغرض نہ صرف سورۂ حدید
۷۰
ہی میں بلکہ سر تا سر قرآن میں جتنی آیات نور ہیں، ان سب کا مجموعی اور مربوط و یکجا مطالعہ بےحد ضروری ہے، تاکہ موضوعِ نور زیادہ سے زیادہ قابل فہم ہوسکے، ان شاء اللہ، خدا، رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اورامام زمانؑ کے عشق سے ہرعلمی مشکل آسان ہوجائے گی۔
کلید نمبر۳۶: سجدۂ تفویض:
سورۂ یوسف (۱۲: ۱۰۰) میں ارشاد ہے: ورفع البویہ علی العرش وخرّوالہ سجّداً (اور یوسفؑ نے اپنے ماں باپ کوتخت پر بٹھایا اور یہ سب کے سب یوسفؑ کے سامنے سجدہ میں گر پڑے ) اور یوسفؑ نے کہا: اے ابا یہ تاویل ہے میرے اس پہلے خواب کی کہ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا۔
تاویل ظاہرمیں نہیں باطن میں ہوتی ہے، چنانچہ حضرت یوسفؑ نے جو وارثِ امامت تھے، منازلِ روحانیت اورمراحلِ عقلانیت کوطے کرلیا، اور اپنے روحانی ماں باپ/ امام اور باب کوعالمِ شخصی کے تختِ عقل (عرش ) پربٹھا دیا، پھروہ سب وہاں یوسفؑ کے لئے سجدہ میں گر پڑے، یعنی خدا کے حکم سے مرتبۂ امامت حضرت یوسفؑ کوحاصل ہوا، اوران کی اطاعت کی گئی، اوران کے خواب کی تاویل یہی تھی۔
کلید نمبر۳۷: دو دفعہ پیدا ہو جانا:
حضرت عیسیٰؑ کے ایک ارشاد کاعربی
۷۱
ترجمہ ہے: لَنْ یَلِجَ مَلَکو تَ السّمٰواتِ مَنْ لم یُوْلَدْ مَرَّتَیْنِ (وہ شخص آسمانوں کی بادشاہی میں ہرگز داخل نہیں ہوسکتا، جو دو دفعہ پیدا نہ ہوجائے) اس کی وضاحت یہ ہے کہ سب سے پہلے بتائیدِ الٰہی نفسِ حیوانی سے مرجائے اور روح انسانی میں زندہ ہوجائے، اوراس کے بعد روح انسانی سے بھی فنا ہوکرروح مَلکی (نورِعقل ) میں زندہ ہوجائے، مگریہ سب کچھ اسی زندگی میں کرنا پڑے گا، دوسر ے الفاظ میں نفسِ امّارہ سے مرکرنفسِ لوّامہ میں جینا ہے، پھرنفسِ لوّامہ سے بھی مرجانا ہے، اورآخرمیں نفسِ مطمئنہ میں زندہ ہوجانا ہے، پس یہی ہے زندگی ہی میں دو دفعہ مرجانا، اوردو دفعہ زندہ ہوجانا، جیسا کہ سورۂ مومن (۴۰: ۱۱ ) میں بزبانِ حکمت اس واقعہ کا ذکرفرمایا گیا ہے۔
کلید نمبر ۳۸: خدا کے سات دن:
حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراھیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، اورحضرت محمد مصطفیٰ علیھم السّلام اللہ تبارک وتعالیٰ کے چھ دن ہیں، جن میں اس قدرت والے نے عالمِ دین کو پیدا کیا، یعنی ان چھ ناطقوں کے چھ بڑے ادوارمیں عالم دین مکمل ہوا، اورحضرت قائم علیہ السّلام ساتواں دن (دَور) ہے، یعنی سینچر، جس میں پروردگار عالم نے وہ تمام امورانجام دیئے، جونورِعرش (نورِعقل ) سے متعلق ہیں، اوریہی خدا کے سات
۷۲
دن ہیں، جوایّام اللہ (۱۴: ۵؛ ۴۵: ۱۴) کہلاتے ہیں، اورانہی دنوں کا نام ایّامٍ معلومات (۲۲: ۲۸ ) بھی ہے، کیونکہ یہ روحانی علم وحکمت سے پُر ہیں۔
اگرخداوندِ جَلّ جلالہ اپنی قدرت سے چیزوں کوایک طرف پھیلاتا ہے، تو دوسری طرف لپیٹتا بھی ہے، چنانچہ سات بڑے ادوارمیں سے ہر دَورِ بزرگ کے سات ذیلی ادوار مقرر ہوگئے، اوریہ أئمّۂ ھُداعلیھم السّلام کے چھوٹے چھوٹے ادوار ہیں، اب آئیے عالمِ شخصی کی بات کرتے ہیں کہ اس میں بھی ۶+۱=۷ دن یا سات مختصرادوار ہیں، ان میں انبیائے کرام اورأئمّۂ عِظام صَلَوات اللہ علیھم کی نورانی معرفت کے خزائن پوشیدہ ہیں، اور معارف کا گنجِ آخرین جو خزینۃ الخزائن ہے، وہ حضرت قائم القیامت علیہ افضل التّحیّۃ والسّلام سے متعلق ہے۔
کلید نمبر ۳۹: ظہورِ قائم:
قرآن حکیم نے ابتداءً اپنی مخصوص زبانِ حکمت میں یہ فرمایا تھا کہ دنیا میں قائم القیامت کاحجاب دارظہور ہوگا، اِ س لئے کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ قائم تشریف لاچکے ہیں اورقیامت برپا ہورہی ہے، جبکہ قیامت باطنی اور روحانی واقعہ ہے، جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے: ھَل ینظرون الّاالسّاعۃ ان تاتیھم بغتۃً وھم لایشعرون (۴۳: ۶۶ ) کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر بیٹھے ہیں کہ اچانک ہی ان پرآجائے اوران کوخبرتک نہ ہو۔ پس
۷۳
حضرت قائم القیامت علیہ افضل التّحیّۃ والسّلام کوکوئی نہیں پہچان سکتا، مگرپانچ حدود کے ذریعے سے، اوروہ یہ ہیں: اساس، امام، باب، حجت، اورداعی۔
کلید نمبر۴۰ : خلافت صغرٰی:
اگرمومنین خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خوشنودی کے مطابق نورِہدایت کی پیروی، ایمان کامل، اعمالِ صالحہ، اورنورانی عشق میں کامیاب ہوگئے، تو ربِّ کریم ان کوحسبِ وعدہ عالمِ شخصی کا خلیفہ بنائے گا (۲۴: ۵۵ ) جس میں تمام مراتب جمع ہیں، یعنی وہ خلیفہ بھی ہیں، بادشاہ بھی (۰۵: ۲۰ ) نوربھی (۵۷: ۱۲ ) اور اصل کی کاپی بھی ہیں (۵۵: ۲۷ ) کیونکہ خلافتِ الٰھیہ میں سب کچھ ہیں، یہ اگرچہ عالمِ شخصی کی بات ہوئی، لیکن یہ نفسِ کلّ سے ملکرکل کائنات پرمحیط ہوجاتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کے سارے وعدے خلافتِ عظمیٰ سے متعلق ہوجاتے ہیں، وَمَا توفیقی اِلّا بِاللّٰہِ۔
نصیرالدّ ین نصیرؔ ہونزائی،
کراچی
جمعرات، ۳، رجب المرجب ۱۴۱۲ھ
۹، جنوری ۱۹۹۲ء
۷۴
تاریخی تحفہ
۱۔ یہ حقیقت مرتبۂ ازل اورگنج عقل کے عظیم اسرار میں سے ہے کہ تمام انسان سرچشمۂ روح میں ایک تھے، اب بھی عالمِ علوی میں ایک ہیں، اور کثرتِ اجسام سے فارغ ہوجانے کے بعد بھی ارواح کی یہی یکجائی اور وحدت سامنے آئے گی، مگراس میں جیسے بے شمار لوگ جمع ہیں، ویسے بے حساب ظہورات ہوں گے، تاکہ وحدت و کثرت کے دونوں دریا ہمیشہ اس طرح متصل بہتے رہیں کہ دونوں کا وجود اپنی اپنی جگہ قائم وباقی رہے، (قرآن پاک کے چارمقام پراَلْبَحْرَیْن کی حکمت کودیکھ لیں )۔
۲۔ عزیزانِ من!امام عالیمقامؑ کی خواہش ہے کہ ہردانشمند مرید قرآنی حکمت کی طرف بھرپورتوجہ دے، اس سلسلے میں میری ایک عاجزانہ گزارش یہ ہے کہ آپ قرآن حکیم کوبہت سے طریقوں سے پڑھیں، اورحصولِ حکمت کے لئے اس کے کلّیات کوسمجھنا بےحد
۷۵
ضروری ہے، مثال کے طور پر تسخیرِ کائنات و موجودات کے موضوع کو لے کردیکھیں کہ اس میں سب سے بڑا کلّیہ کونسا ہے، شاید آپ میں سے جن کے پاس زیادہ علم ہو، وہ یہ بتائیں گے کہ اِس مضمون پر کل ۳۱ آیات ہیں، اوران میں سب سے بڑا کلّیہ وہ ہے، جس کا ترجمہ اس طرح ہے: اوراسی نے وہ سب جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اپنی طرف سے تمھارے کام میں لگا رکھا ہے، اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جوغورکرتے ہیں (۴۵: ۱۳)۔
۳۔ ارشادِ ربّانی کی حکمت یہ ہے کہ سماواتِ عقلِ کلّ اورارضِ نفسِ کلّ میں جوکچھ ہے وہ سب تم میں سے ہرایک کے لئے مسخرکیا گیا ہے، اوراس قانون سے کوئی چیز، کوئی طاقت اورکوئی نعمت باہرنہیں، جبکہ عقلِ کلّ، نفسِ کلّ اوردوسرے تمام درجات اس تسخیرمیں شامل ہیں، اس کامطلب یہ ہوا کہ خداوندِ تعالیٰ ہرکامیاب مومن کو اپنی اُس خلافت عالیہ سے سرفراز کردینا چاہتا ہے، جس سے حضرت آدمؑ کوسربلند فرمایا تھا، مگریہ عظیم کائناتی سلطنت روحانیت اور بہشت میں حاصل ہوسکتی ہے۔
۴۔ ہرشخص دین میں خوشخبری کی باتیں توسنتا رہتا ہے، لیکن درحقیقت علم وحکمت ہی کی روشنی میں بہشت کی ذاتی بشارت کسی کے لئے روشن اوریقینی ہوسکتی ہے، جس کے تین درجے ہیں: علم الیقین، عین الیقین، اورحق الیقین، آپ پہلے پہل درجۂ
۷۶
علم الیقین پردینی اورروحانی بشارتوں کا مکمل اطمینان حاصل کرلیں، پھران شاء اللہ، دیدۂ باطن کے کھل جانے سے اور روحانی معجزات کے مشاہدے سے مرتبۂ عین الیقین کی عملی خوشخبری ملے گی، ورنہ اجتماعی اورقولی بشارت میں کسی نافرمان اورلاعلم شخص کو یہ گمان اور قیاس ہوسکتا ہے کہ یہ سب کچھ اسی کے لئے ہے، پس یاد رہے کہ دنیا میں دوستانِ خدا کوآخری عملی مژدہ مرتبۂ حق الیقین پرملتا ہے۔
۵۔ قرآن حکیم کا خطاب نہ صرف زمانۂ نبوّت ہی کے مومنین سے ہے، بلکہ یہ آئندہ مسلمانوں کے لئے بھی ہے، چنانچہ آپ اس حکم میں غور کریں: اور ہم تم کو آزمائیں گے کبھی خوف سے، کبھی بھوک سے، کبھی مال میں نقصان سے، کبھی جان کے نقصان سے، اورکبھی پھلوں میں نقصان سے، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم! تم بشارت سنا دوصابرین کو (۰۲: ۱۵۵ ) اس ارشاد کا یہ مطلب توصاف ظاہر ہے کہ اب اس وقت یا آئندہ جب اللہ کسی مومن کو ہرمصیبت میں آزمائے، اوروہ بندہ اس پرصبرکرے، توتب اس کوپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف سے تین مقامات کی عملی تہنیت ملے گی، اوراس سے پہلے ذاتی خوشخبری نہیں، پس معلوم ہوا کہ خوشخبری ایک عملی حقیقت ہوا کرتی ہے، یعنی نیک کاموں کے بعد ہی کسی مومن کوبشارت دی جاتی ہے۔
۷۷
۶۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنی حکمت میں سوچنے کی اعلیٰ ہمت اورتوفیق عطا فرمائے! ورنہ بڑی آسان بات بھی شدید مشکل ہوسکتی ہے، اوراس کی لا تعداد مثالیں موجود ہیں۔
۷۔ خوب غوراوربڑی ذمہ داری سے سن لیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نہ صرف اپنی عقلِ کامل اورروحِ اقدس ہی سے نورِ ھدایت تھے، بلکہ جسمِ اطہرسے بھی نورتھے، کیونکہ اہلِ بصیرت کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی پاک وپاکیزہ شخصیت کے ہرقول وفعل سے نورِ ھدایت کی ضیا پاشی ہوتی تھی، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اپنے نورکے باطنی پہلو (عقل و روح ) کے اعتبارسے خدا کے نزدیک تھے، اورنورکے ظاہری پہلو (شخصیت) کے لحاظ سے لوگوں کے پاس آئے، اور قدجاء کم مِنَ اللّٰہ نور (تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نورآیا ہے (۰۵: ۱۵ ) کی حکمت یہی ہے، یعنی اس آیۂ کریمہ میں حضورانور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی مبارک شخصیت کا ذکر ہے، پس یہ پاک نور بحکم “نورعلٰی نور” دَور نبوّت کے اختتام پراشخاص امامت کے سلسلے میں منتقل ہوگیا، اورآج الحمدللّٰہ یہ نورمنَزَّل امامِ حیّ و حاضرصلوات اللہ علیہ میں جلوہ گرہے۔
۸۔ المعجم الصّوفی ص۱۲۵۸پردرج ہے: اِنَّ اللّٰہَ خلق مِائَۃَ الف آدم۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ آدموں کوپیدا
۷۸
کیا ہے۔ اگریہ قول احادیث صحیحہ میں سے ہے تواس میں ایک بڑے دَور کی بات ہوسکتی ہے، کیونکہ تصورِآفرینش یہی درست ثابت ہوا ہے کہ خدا کے فعلِ خالقیت کسی ابتدا و انتہا کے بغیر ہمیشہ جاری ہے، لہٰذا بے پایان ادوار میں ایسے لاتعداد آدموں کا سلسلہ چلتا رہا ہے کہ ان کا شمارممکن نہیں۔
۹۔ سیدنا جعفربن منصوریمن فرماتے ہیں کہ آدم کسی ذاتی شخص کا نام نہیں بلکہ یہ خدا کی جانب سے ایک دینی لقب ہے، جوہرناطق کے لئے اس کے وقت میں اورہرامام کے لئے اس کے عصرمیں استعمال ہوتا ہے، موصوف سیدنا کی کتابِ سرائرکے مطابق اس دَورِاعظم کا آدمؑ، جس کا ذاتی نام تخوم بن بجلاح بن قوامۃ بن ورقۃ الرّویادی تھا، سراندیب (سیلون ) کے مضافات میں سے جزیرۂ بوران کے شہرسوباط میں پیدا ہوا، قدیم ترین تاریخ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تخوم کا ایک اورنام یا لقب عبداللہ بھی تھا۔
۱۰۔ اللہ تعالیٰ کے ہر پیغمبرمیں درجۂ کمال کی نیک عادات ہوا کرتی ہیں، اورقرآن کریم میں ان کا ذکرجمیل اس مقصد کے پیش نظرفرمایا گیا ہے کہ اس سے نیک بخت مومنین بھرپورفائدہ اٹھائیں، چنانچہ حضرت ابراھیمؑ کا تذکرہ ہے کہ آپؑ بڑے نرم دل اور بے حد ہمدرد تھے، آپؑ بہت گریہ وزاری کرتے اور آہیں بھرتے تھے، جیسا کہ ارشاد ربّانی ہے: اِنّ ابراھیمَ لَاَوّاہٌ حلیم (۰۹: ۱۱۴ )
۷۹
بیشک ابراھیم بہت آہیں کرنے والا اورمتحمل تھا۔ نیزسورۂ ھود (۱۱: ۷۵ ) میں ہے: بیشک ابراھیم تحمل والا بہت آہیں کرنے والا اور رجوع کرنے والا تھا۔
۱۱۔ علم بہت بڑی دولت ہے، جس کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ کسی بد نصیب انسان کو مست ومغروربنا سکتا ہے، لہذا قرآنی حکمت کا یہ اشارہ ہے کہ اہل علم حضرات اوردرویش صفت مومنین غرورکی مہلک بیماری سے بچنے کی خاطرخدا کے حضورگریہ وزاری کریں، مگرانتہائی ادب اور بڑی عاجزی سے یہ عمل ہونا چاہئے، کیونکہ کوئی بھی گستاخانہ آواز اورحرکت اللہ کو پسند نہیں، سورۂ بنی اسرائیل کے آخرمیں دیکھئے، یہ کون حضرات ہیں، جن کو نزولِ قرآن سے پہلے ہی علم دیا گیا ہے؟ پھروہ کیوں روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرتے ہیں؟ کوئی دانشمند اس کا جواب با صواب اس طرح دے گا:۔
۱۲۔ چونکہ اسلام میں با ادب، خاموش یا کم آواز گریہ وزاری چوٹی کی عبادت ہے، لہذا اس میں ایسے اعلیٰ معانی پوشیدہ ہوا کرتے ہیں، جیسے: استغفار، عبادت کی کمی، توبہ، رجوع، پناہ بخدا، طلب رحمت، محویّت، فنائیت، شکرگزاری، نعمت شناسی، شوقِ دیدار، خوفِ الٰہی، عاشقانہ عبادت، روحانی ترقی، دعائے خاص، مناجات، سب کے لئے دعا، وغیرہ، جس طرح کوئی طفلِ
۸۰
شیرخوار مختلف اوقات میں جدا جدا ضرورتوں کی غرض سے صرف روتا رہتا ہے، اورالفاظ میں کچھ کہہ نہیں سکتا، تاہم مجموعی طور پراس کے رونے میں بہت سے معنی کارفرما ہیں۔
۱۳۔ اے عزیزانِ من! اس مقالے میں جتنا حصہ علم وحکمت کا ہے، وہ توسب کے لئے ہے، اورجونصیحت کی تلخ دوا اوراظہارتشکرکے سدابہار پھول ہیں، وہ آپ کے لئے ہیں، نصیحت یہ ہے، جس کی کاپی نامدارکونسل کے ریکارڈ میں بھی رہے گی کہ : ۔
الف: ہمارا مقصد اصلی علمی خدمت ہے۔
ب: ہمارے لئے عبادت کی بہترین جگہ جماعت خانہ ہے۔
ج: دن کو یا رات کو ادارے کی میٹنگ اورکامیابی کے لئے مناجات بھی ہوسکتی ہے۔
د: دعوتِ بقا میں جس طرح علمی باتوں کے علاوہ منقبت خوانی اورذکربھی ہوتا ہے، اسی طرح مگربغیرخرچ اورآسان روحانی مجلس بھی مفید ہوسکتی ہے، تاہم آداب وقواعد کا پابند ہونا ضروری ہے، اس کے لئے ہرشخص مسئول اورجواب دہ ہوگا۔
ہ: ہرمقام پرعملداردیکھا کریں کہ کوئی شخص یا اشخاص خانۂ حکمت کوغلط استعمال نہ کریں۔
۱۴۔ اور وہ سدا بہار پھول یہ ہیں کہ آپ بڑی سعادت مندی سے صحراؤں اوربیابانوں میں باغ وچمن لگا رہے ہیں، یہ کتابیں
۸۱
تیار کرنے اورعلم پھیلانے کی مثال ہے، کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہاں جوعمدہ سے عمدہ کام ہو رہا ہے، وہ آپ سب کے تعاون سے اورادارے کی صورت میں ہو رہا ہے؟ کیا آپ کو باور نہیں کہ میں آپ میں سے ہرفرد کواپنی جان ہی کی طرح عزیزرکھتا ہوں، اورشاگردوں کو”عزیزان” کے پیارے نام سے یاد کرتا ہوں؟ کیونکہ آپ سب اس علمی درخت کی مضبوط جڑیں ہیں، پیارے ساتھیو! یہ قوّت خیال ہرشخص کے لئے اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے کہ میں عالمِ خیال میں گاہ و بیگاہ مسگارکی مقدّس محفلوں کو دیکھتا ہوں، اورپاکیزہ روحوں کوخدا اورسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اورامامؑ کے عشق میں سرشار پاکر بےحد شادمان ہوجاتا ہوں، تمام ایسی مجالس کا تصور، جوجگہ جگہ ہوتی رہی ہے، کیسے نہ کروں، اوراُ ن مبارک چہروں کوکس طرح فراموش کروں، جن پر رحمتِ خداوندی کی بارش برس رہی تھی!
۱۵۔ میں دنیا کے تمام مومنین کو جان و دل سے چاہتا ہوں، خصوصاً ان پیاری پیاری روحوں کو، جوپیش قدمی کرکے میری نظم ونثر کے خزائن د رّ و مرجان کو لوٹتی رہتی ہیں، اِ س خوانِ یغما کے لے جانے میں عزیزان بھی ہیں، اوردوست بھی، رشتہ داربھی ہیں، اوراہل زمانہ بھی، الحمدللہ۔
۱۶۔ ہرچیزکے وجود میں آنے اورقائم ہوجانے کے لئے ابتدائی قوّتیں ازحد ضروری ہوتی ہیں، چنانچہ خداوند قدوس کے فضل و کرم
۸۳
سے شمالی علاقہ جات میں میرے لئے شروع ہی سے وسیلۂ دوستان پیدا ہوا ہے، احباب نہ صرف خانۂ حکمت ہی میں ہیں، بلکہ اِس سے باہربھی ہیں۔
۱۷۔ شمالی علاقہ جات میں خانۂ حکمت کی یہ برانچز ہیں ۱۔ مسگاربرانچ ۲۔ التت، اورکریم آباد برانچ ۳۔ حیدرآباد اورعلی آباد برانچ ۴۔ مرتضیٰ آباد برانچ ۵۔ گلگت برانچ، جس میں اوشی کھنداس اورنومل کے حلقے بھی شامل ہیں، ان شاخوں میں ہمارے بہت ہی پیارے عملداران اوراراکین بڑی سرگرمی اورلگن سے کام کر رہے ہیں، علاوہ برآن گلگت میں ادارۂ عارف اوربروشسکی ریسرچ اکیڈمی بھی ہیں، جن کے عہدہ داران وارکان کئی کئی حیثیتوں میں کام کررہے ہیں، الغرض ادارہ ہو یا اس سے باہر، ہمارے روحانی باپ کے بچوں میں سے ایسی ایسی نیک بخت اورپاکیزہ روحیں بھی ہیں، جن کو ہم عالم شخصی کے فرشتے قرار دے کر بےحد شادمان ہوجاتے ہیں۔
۱۸۔ خداوندعالم کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ مناسب وقت پرخانۂ حکمت کی برانچ اسلام آباد میں بھی قائم ہوئی، چونکہ یہ مقام ہمارے ملک کا مرکز ہے، اور یہاں اعلیٰ سطح کے لوگ رہتے ہیں، اس لئے ہماری برانچ کوبڑے بڑے لوگوں کی حمایت حاصل ہے، جن میں ڈاکٹرز، پروفیسرز، انجیئرز، جماعتی عملداران، وغیرہ شامل ہیں، پس امید واثق ہے کہ ہماری اس شاخ کی بہت جلد ترقی ہوگی۔
۸۳
۱۹۔ کراچی میں خانۂ حکمت اورادارۂ عارف کا مرکزہے، ہاں مرکزتو ہے ہی، لیکن کوئی جدا گانہ دفترنہیں، تاہم سنئے رحمتِ خداوندی اورعلم سے عشق ہونے کی بات کہ یہاں ہرعملدارکا گھراپنی نوعیت کا دفترہے، اورایسے دفتراورسٹورتقریباً نو ہیں، جن میں دفترکے ضروری سامان کے علاوہ کتابوں کے ذخائر رکھے ہوئے ہیں، اگرہمارے یہ رفقائے کار درویش صفت اورمولائے پاک کے نورِ علم کے عاشق نہ ہوتے، تواپنے صاف ستھرے گھروں کو سٹور جیسے نہ ہونے دیتے، لیکن میں سچ کہہ رہا ہوں کہ ہمارے تمام عزیزوں کوعلم سے شدید محبت یعنی عشق ہے، کیوں نہ ہوجبکہ علم امامِ اقدس واطہرؑ کا نورِمنتشر ہے، جیسا کہ میں نے بارہا دیکھا ہے کہ ہرعزیزمقالۂ نو اورنئی کتاب کوبھرپورعقیدت ومحبت سے چومتا ہے، اوراحتراماً آنکھوں سے لگا لیتا ہے۔
۲۰۔ مرکز کی دیگرشاخوں کی طرح کراچی شہرمیں بھی خانۂ حکمت کی دو برانچ ہیں، ایک “شاہ بی بی برانچ” اوردوسری کریم آباد برانچ، “شاہ بی بی برانچ” ہیڈ مسٹریس شاہ بی بی کی تحویل میں ہے، آپ ہمارے ادارے کی ایک بہت سینئیر رکن اورایک ایڈوائزر ہیں، ان کی انسانی اورایمانی خوبیوں کی وجہ سے سب عزت کرتے ہیں، وہ گویا زمین پرایک فرشتہ ہیں، پروردگارِعالم ان کودوجہان کی کامیابی اورسربلندی عنایت فرمائے!
۸۴
۲۱۔ کریم آباد برانچ پرخدا کی طرف سے رحمت وعلم کی بارش برس رہی ہے، اس لئے یقین آتا ہے کہ اس خوش نصیب برانچ کی بہت ترقی ہوگی، اس میں ہمارے ہیڈ آفس کی بھی بہت بڑی سعادت ہے کہ کریم آباد برانچ میں بہت کام ہورہا ہے، خوشی کی بات تویہ ہے کہ سبھی روحانی تائید پریقین رکھتے ہیں، اس لئے یہ اکثراوقات ذکر و عبادت اورگریہ وزاری سے عقل و روح کی قوّتیں حاصل کرتے ہیں۔
۲۲۔ ہمیں نعمت شناسی کے بہت سارے آنسو بہاتے ہوئے اور ٹھوڑی کے بل گرتے ہوئے عاجزانہ سجدۂ شکرگزاری بجا لانا چاہئے کہ خداوندعالم کے فضل وکرم سے ہمارے ادارے میں کئی بدنی ڈاکٹرز بھی ہیں، جن میں سے بعض علم دوست اورفرشتہ صفت ڈاکٹروں نے اپنے اپنے کلینک کا نام اپنے علمی استاد کے نام پررکھا ہے، اوروہ میڈیکل ایڈوائزر بھی ہیں، یعنی محترم ڈاکٹر رفیق جنت علی، جوخانۂ حکمت کے اعزازی سیکریٹری بھی ہیں، اوران کی بیگم محترمہ ڈاکٹرشاہ سلطانہ، اورمحترمہ ڈاکٹر زرینہ اہلیہ حسین (مرحوم )۔
۲۳۔ دراصل یہ مظہرِنورِ خدا، ہادیٔ زمان، امام برحق صلوات اللہ علیہ کا علمی معجزہ ہے کہ ہماری کتابیں ایسی تیزی سے دنیائے اسماعیلیت میں پھیل رہی ہیں، اب ان شاء اللہ تعالیٰ روس کی
۸۵
جانب بھی جا رہی ہیں، آپ نے یہ نویدِ جانفزا پہلے ہی سنی ہوگی کہ مولا اِن کتابوں سے اور اس علمی خدمت سے بہت ہی راضی اورخوشنود ہیں، یہ میرا ایمان ہے کہ حاضرامامؑ کی اِس خوشنودی میں تمام عمدہ سے عمدہ دعائیں جمع ہیں، پس ہمارے جملہ عزیزوں کوامامِ اقدس و اطہرؑ کی پرحکمت رضا اورخوشنودی مبارک ہو! ہزاربارمبارک ہو! لاکھ بارمبارک ہو! آمین!!
۲۴۔ آپ کوقرآن حکیم اورمعرفت کی روشنی میں یہ نکتہ جاننا ہے کہ قولاً وَ فِعْلاً رَ بُّنَا اللّٰہ (۴۱: ۳۰ ) کہنا ہے، اور اِ ستقامہ (۴۱: ۳۰ ) کے معنی اختیاری قیامت کے ہیں، اورفرشتے جو مومنین کے اولیاء (دوست، مددگار۴۱: ۳۱) ہیں، وہ آپ کی دو طرح سے مدد کرتے ہیں، آپ میں آکر، اوردوسرے مومنین میں جاکر، الحمد للہ۔
یہی کچھ ہورہا ہے، اوراس رحمتِ خداوندی کی سب سے نمایان مثال یعنی جسمانی فرشتے (۱۷: ۹۵ ) ڈاکٹرفقیرمحمد ہونزائی، ان کی پاکیزہ سیرت بیگم رشیدہ (صمصام ) اوروہاں کے ہمارے جملہ عزیزان ہیں، یہ لنڈن کا روحانی اورعلمی قصہ ہے۔
۲۵۔ ادارۂ عارف کراچی کے صدر محمد عبد العزیز آج کل امریکا میں ہیں، چیئرمین نورالدّین راجپاری اورچیف ایڈوائزر شمس الدّ ین جمعہ، ان تینوں عملداروں کی اوردوسرے تمام عزیزوں کی خواہش اورپرخلوص دعوت پرمیں پہلی بارامریکا گیا تھا، عجیب بات ہے
۸۶
کہ وہاں کے عزیزان شوقِ ملاقات سے بیتاب تھے، جیسے بہت پہلے ہی سے ہم آپس میں یکجان اورکثیرقالب دوست ہوچکے ہوں، جی ہاں یہ حقیقت ہے، ان کے اس جذبۂ دینداری اورعلم دوستی سے میں زبردست متاثر ہوا، اورمجھے بے حد خوشی ہوئی، اورآگے سے آگے اس روحانی خوشی میں اضافہ ہوتا گیا، یہاں تک کہ ان کی یادیں دل پرنقش اورناقابلِ فراموش ہوگئیں، خدا کرے کہ میٹھی میٹھی یادیں خاموش دعائیں ہوجائیں! اورہرعزیزکے حق میں ایسا ہو!علم وہنراورامریکا جیسے عظیم ملک کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں کے عزیزان اس دورہ کے بارے میں ایک مکمل رپورٹ لکھیں کہ کن کن گھروں میں مجالس ہوئیں، اوردیگرضروری احوال۔
۲۶۔ دو بہت سینیئر لیڈی ممبرزایسی خوش نصیب ہیں کہ انہوں نے علم پھیلانے کے سلسلے میں نہ صرف امریکا ہی میں بلکہ قبلاً پاکستان میں بھی طویل اوربے شمارخدمات انجام دی ہیں، اس کا جزوی اورکلّی اجروصلہ توخداوندِعالم ہی عطا فرمائے گا، ہم صرف ان کی گرنمایہ خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے ناموں سے دو برانچز قائم کرتے ہیں: یاسمین نورعلی برانچ اورماہِ محل بدرالدّ ین برانچ امید ہے کہ میرا یہ مشورہ تمام عزیزوں کومنظورہوگا۔
۲۷۔ امریکا کے احباب کی اخلاقی جاذبیّت اورایمانی کشش
۸۷
سے باہرنکل جانا اگرچہ بڑامشکل کام تھا، تاہم طے شدہ پروگرام کے مطابق یہ بندہ ایڈمنٹن (کینیڈا ) گیا، تووہاں بھی ہمارے دوست جامِ عشقِ مولاسے مست ومدہوش تھے، قربان ہوجائیں علیٔ زمانؑ کے جان نثارمریدوں سے کہ ہرجگہ فرشتوں کی طرح کام کررہے ہیں، ادارۂ عارف کی ایڈمنٹن برانچ کے عملداریہ ہیں: ڈاکٹرنوراللہ جمعہ چیئرمین، تیریزکانجی سیکریٹری، اورنسیم جمعہ ایڈوائزر، ان شاء اللہ وہ عزیزان پروگرام کے مطابق اپنا کام کرتے رہیں گے، اوران کی بہت ترقی ہوگی۔
۲۸۔ فرانس میں ہمارے عزیز امام داد کریم بہت ہی ضروری امور کوانجام دے رہے ہیں، ان کا ایمان پہاڑ کی طرح مضبوط ہے، وہ علم کی روشنی پھیلانے میں حکمتی مدد کر رہے ہیں، پروردگار ان کو دونوں جہان کی عزت و آبرو عنایت فرمائے!
۲۹۔ جس طرح بفضل خدا ہر کامیاب دَورہ کے بعد مجھے کراچی آنا پڑتا ہے، اسی طرح اس تحریرمیں بھی آخراً کراچی میں واپس ہوکریہاں کے تمام عزیزوں کو پرخلوص سلام کرتا ہوں، اوران کی انمول خدمات پردل وجان سے مبارکباد دیتا ہوں، یعنی صدرفتح علی حبیب، نائب صدرنصراللہ قمر الدّین، صدر محمدعبدالعزیز، نائب صدرمحیُّ الدّین شاہ صوفی، اعزازی سیکریٹری ڈاکٹر رفیق جنّت علی، جائنٹ سیکریٹری الامین، اوران سب کی بیگمات، نیزچیف
۸۸
ایڈوائزرخان محمد، اوردوسرے تمام عہدہ داران وارکان کوبعد از سلام عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ خدائے رحمان و رحیم ان کو اور شرق وغرب کے جملہ عزیزوں کو ہرنیک کام میں تائیدِ روحانی اورعلمی خدمت میں کامیابی عطا فرمائے!آمین یاربّ العٰلمین!!
نصیرالدّ ین نصیرؔ ہونزائی، کراچی
اتوار،۴ربیع الثّانی ۱۴۱۲ ھ
۱۳، اکتوبر۱۹۹۱ ء
۸۹
سپاسنامہ
بخدمتِ جناب علّامہ نصیرالدّ ین نصیرؔ ہونزائی صاحب
برموقعِ واپسی ازامریکہ، ماہِ اگست ۱۹۹۱ء
مشک آنست کہ خودببوید۔ نہ آنکہ عطّار بگوید
کستوری وہ ہے جوخود ہی خوشبو پھیلا کراپنی پہچان کراتی ہے، یہ ایسی چیزنہیں کہ جسے عطارکے تعارف کی حاجت ہو، اس مثال سے کہیں بڑھ کر ہمارے بزرگوار استاد علّامہ نصیر الدّ ین نصیرؔ ہونزائی صاحب کی شخصیت ہے، جو ہرگز کسی تعارف کی محتاج نہیں، پھربھی اگرہم خلوص ومحبت کی وجہ سے آپ کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہیں، توموصوف کی ہستی کے پہلو ارفع واعلیٰ اورغیرمحدود ہیں، درحالے کہ ہماری سوچ کی پرواز نہایت ہی محدود ہے، تاہم جس طرح طفلِ نوآموزجب ماں باپ کی محبت سے بے قابو ہوکر
۹۰
ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے سہارے سے باتیں کرتا ہے، توایسے میں اُس بچے کے والدین پھولے نہیں سماتے، اوربسا اوقات خوشی اورشادمانی سے ایسی اولاد کو سینے سے لگا لیتے ہیں۔
صاحب!ہم سب آپ کے شاگرد، جوامریکہ میں رہتے ہیں، سچ مچ علمی اطفال ہیں، لیکن اس کے باوجود اِس خواہش سے بیتاب ہیں کہ ہمارے قلوب میں آپ کے لئے جیسا جذبۂ عقیدت ومحبت ہے، اورجس طرح ہم آپ کے احسان مند و ممنون ہیں، اس کا اظہار بیان کریں، تاہم کوشش بسیارکے باوصف ہم الفاظ ومعانی کی تنگ دامنی کے سبب سے اپنے دلی جذبات کواحاطۂ تحریرمیں لانے سے عاجز ہیں۔
جناب عالی! جولوگ آپ کی شخصیت سے واقف وآگاہ ہیں، وہ ہرگزاس حقیقت سے انکارنہیں کرسکتے، کہ آپ کے پاکیزہ دل میں امامِ عالیمقام صلوات اللہ علیہ کا جو دریائے علم موجزن ہے، وہ دنیاوی اور اکتسابی نہیں، بلکہ وہ عطائے ربّانی سے ہے، اس لئے اسے عطائی اورلدّنی کہا جاتا ہے، جس کی خاطر یقیناً آپ نے بے شمارمصائب وآلام کونہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا، یہاں تک کہ آپ نے قید و بند کی صعوبتیں بھی دیکھیں، آپ کوبارہا نظربند کیا گیا، آپ کے ساتھ اکثربڑے لوگوں نے ہمیشہ مخالفت اوردشمنی کی، آپ بعض دفعہ ایسے شدید مشکل حالات سے بھی گزرے
۹۱
کہ بس ایسے میں موت ہی موت نظرآتی تھی، آخریہ سب کچھ کیوں؟ اورآپ کا کیا قصورتھا؟ بس یہی کہ آپ حق کی حمایت کیوں کررہے تھے؟ اورکیوں اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ علم کی روشنی پھیلائیں؟
ان تمام نا مساعد حالات میں آپ نے عالی ہمتی سے کام لیتے ہوئے خدا پرتوکّل کیا، کیونکہ آپ عشقِ مولا سے سرشار ہوکراپنی ہستی کوفنا یا قربان کر دینے کے آرزومند تھے، اسی وجہ سے گاہ وبیگاہ امامِ برحقؑ کے نورانی دیدارکی چاہت میں مرغِ نیم بِسمل کی طرح تڑپتے رہتے، بالآخرسرکارِ عالی وقارکی دعائے برکات سے رحمتِ خداوندی جوش میں آگئی، اورآپ کو گنجینۂ ہائے عرفان سے مالامال کیا گیا، اوراس وقت سے لے کرآج تک آپ نے میدانِ علم وحکمت میں ایسے ایسے نقوشِ جاویدان ثبت کردئیے ہیں، جن کی درخشانی وتابانی رہتی دنیا تک برقرار رہے گی، یعنی یہ جوآپ کے علم وحکمت کے سدا بہار چمنستان اورباغات ہیں، ان کے مہکتے ہوئے پھول اورپُرلذّت پھل ہمیشہ کون ومکان میں پھیلتے رہیں گے۔
جناب والا! آپ کی انتہائی گرانقدر علمی کاوشوں اورخدمات سے خاوران (مشرق ومغرب ) میں لاتعداد اہلِ ایمان، سکالرز، اورعلم جُو (طالبان) مستفیض ومستفید ہو رہے ہیں، آپ نے جس شان سے حقیقی علم کی تبلیغ و اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا ہے، اس کی مثال کے لئے ڈائمنڈ کاعمل کیا خوب ہے کہ جب اس سے روشنی کی لہر
۹۲
گزرنے لگتی ہے، تو ڈائمنڈ اپنی خاصیت سے ایک ہی رنگ کی روشنی کومختلف ابوان اورنوع بنوع رنگوں میں تقسیم کرتا ہے، چنانچہ اُ ستاذِ مکرم کا طغرائے امتیاز بھی ایسا ہی ہے کہ آپ نے علمِ روحانی کومختلف النّوع حیثیتوں میں پیش کیا ہے، جیسے آپ کے روحانی علم پرمبنی پیاری پیاری کتابوں میں اچھوتے، نرالے اوراعلیٰ موضوعات کی گوناگونی اوررنگارنگی کا پُربہاراوردلکشش منظردکھائی دیتا ہے، اِسی طرح ایک ہزارسے زائد آڈیوکیسیٹوں کا پُرمغز ذخیرہ علمی عجائب وغرائب کا بہت بڑاخزانہ ہے، اس کے علاوہ تقریباً ۱۰۰ نقوشِ حکمت ہیں، ان میں سے ہرنقشہ کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ علامہ صاحب ہی کا خاصہ ہے کہ کوزہ میں دریا کو بند کیا ہے، مزید برآن آپ کی پُرحکمت نظموں کا خزانہ ہے، جوروحانی مشاہدات وتجربات کے عرفانی بھیدوں سے بھرا ہوا ہے۔
آپ کے کلام (حصۂ نظم ) کومورخۂ ۱۹،اکتوبر ۱۹۶۱ء میں امامِ زمان صلوات اللہ علیہ نے گنان کا مرتبہ مرحمت فرمایا، یہ کلام بروشسکی، فارسی، اردو اورشرقی ترکی میں ہے، شمالی علاقہ جات کے جماعت خانوں میں جب استادِ معظم کا کلام پڑھا جاتا ہے، تواس میں نورِ امامت کے عشق کی جومقدّس روح ہے، اس کے زیراثرعاشقانِ مولا پرمستی، مسرت، وجد، محویت، فنائیت، مشاہدہ اورگریہ وزاری جیسی روحانی کیفیات گزرتی ہیں۔
۹۳
یہ روحانی اورعلمی نعمتیں جولازوال اورغیرفانی ہیں، ہمارے لئے میسرآئی ہیں، اورہراُس مومنِ صادق کے لئے ہیں، جوچراغِ امامت کا پروانہ ہو، جو دیدارِ باطن کا طالب اورشیدائی ہو، اورجس خوش نصیب مومن کوگنجِ معرفت کی طلب ہو۔
علامۂ موصوف نے جن خاص الخاص موضوعات پرروشنی ڈالی ہے، ان میں سے چند نمونے یہ ہیں: قرآنیات، اسلامیات، توحید، نبوّت، امامت، آسمانی محبت، طریقۂ اسماعیلیّت، تقوٰی، ذکروعبادت، گریہ وزاری، اطاعت، نور، روح، تصوف، حکمت، باطنیت، خدا کی ہرچیز (عرش، کرسی، قلم، لوح وغیرہ ) زندہ ہے، سنت الٰہی، مطالعۂ قدرت، علمِ حدودِ دین، علم الاشارات، علم الاعداد، علم التّاویلات، علم الاسرار، علم نقوش (ڈایاگرامز) اَسرارِانبیاء وأئمّہ، یک حقیقت، عالمِ خیال، عالمِ خواب، عالمِ ذرّ، عالمِ شخصی، حکمتِ تثنیہ، انائے عُلوی، انائے سفلی، قیامت، ابداع و اِنبعاث، تخلیق درتخلیق، ازل وابد، لامکان و دھر، انسان، وحدتِ انسانی، اڑن طشتریاں، جسمِ لطیف، روحانی مشقیں، قصۂ معجزات، روحانی خوشبوئیں، روحانی سائنس، مذہب اورسائنس، علاج، زندہ بہشت، سوال وجواب، روح اورمادّہ، دائرے، لاابتدا اورلاانتہا، وغیرہ وغیرہ۔
آج کے اس دگرگون زمانے میں مذہب سے متعلق ایسے
۹۴
پیچیدہ سوالات سامنے آتے ہیں کہ جن سے عقل سربگریبان رہ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ مذاہبِ عالم کے علماء نہایت مضطرب و پریشان ہیں، اس پرستم یہ کہ دنیا کی آبادی کا بیشترحصہ مادّیت کی یلغارسے خائف ہوکر زندگی کے مادّی پہلوکوسب کچھ سمجھنے لگا ہے، ایسے میں بزرگواراستاد علم وحکمت کے اسلحہ سے لیس ہوکرہمہ وقت مستعد ہیں، تاکہ ہرگونہ سوال کاجواب دے کردین وایمان اورعقیدۂ روحانیت کا دفاع کیا جائے۔
مذہب، فلسفہ، سائنس وغیرہ الغرض کسی بھی موضوع سے سوال ہو، آپ بلا تاخیر اس کا نہایت تسلی بخش جواب مہیا کردیتے ہیں، باآنکہ بسا اوقات ہم کم علمی سے غیرمنطقی اور مبہم سوالات بھی کرتے ہیں، لیکن آپ ہمیشہ خندہ پیشانی اورمہروشفقت کے ساتھ عقدہ کشائی فرماتے ہیں، آپ کی تقریروتحریر کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس کے مطالب صاف وصریح، تضادات سے پاک اورعلم وحکمت سے آراستہ و پیراستہ ہوا کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کے پیش کردہ دلائل و براھین تسکین بخش و خاطر نشین ہوا کرتے ہیں، کہ جس میں کوئی شائبہ نہیں ہوتا، جیسا کہ کہا گیا ہے:۔
این سعادت بزورِ بازونیست۔ تانہ بخشد خدائےبخشندہ
یعنی یہ نیک بختی قوّتِ بازو سے حاصل نہیں کی جا سکتی، جب تک کہ خداوندِ مہربان کسی کوعطا نہ کرے۔
۹۵
آخراً عالی جناب ہم سب آپ کے عزیزشاگرد جوامریکہ میں رہتے ہیں تہِ دل سے ممنون وشکرگزارہیں کہ آپ نے اپنی مصروفیات کی کثرت کے باوجود اوراس سے بڑھ کر کہن سالی کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کرہماری ناچیزدعوت کوشرفِ قبولیت بخشا، اورہمیں اپنی ہمنشینی کی سعادت سے نوازا، اب ہم چشمِ پُرنم کے ساتھ اپنے قلبی احساسات کی ترجمانی کے لئے مولائے رومی کی اس رباعی کا سہارا لیتے ہیں، فرماتے ہیں:۔
نی آبِ روان زماہیان سَیر شود
نی ماہی ازان آبِ روان سیر شود
نی جانِ جہان زعاشقان تنگ آید
نی عاشق ازانِ جانِ جہان سیرشود
ترجمہ: نہ کبھی بہتا پانی مچھلیوں سے رنجیدہ ہوجاتا ہے، نہ کسی وقت مچھلیوں کا جی اس آبِ روان سے بھر جاتا ہے، نہ توحقیقی معشوق عاشقوں سے بیزار ہو جا تا ہے، اورنہ ہی عاشقوں کو کسی حال میں محبوب کے دیدارسے سیرچشمی ہوجاتی ہے۔
استاد معظم! واللہ، ہم بھی جان ودل سے آپ کوچاہتے ہیں، اورآ پ کے شیدائی ہیں، توپھریہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کی ملاقات اورعلمی مجلس سے سیرہوجائیں، ہم تودائم الوقت آپ کی عرفانی صحبت میں رہنا چاہتے ہیں، مگرہماری ایسی بڑی خوش بختی کہاں! پھربھی ہم باادب دست بستہ خواستگار ہیں کہ براہِ کرم آپ بہت جلد دوبارہ ہمارے درمیان تشریف لائیں اورہماری تشنہ لب
۹۶
روحوں کوعلمِ امامؑ کے آبِ زلال سے سیراب فرمائیں۔
پروردگارِعالم کی بارگاہِ عالی میں ہم بصد عاجزی دعا کرتے ہیں کہ جس طرح اس مسبّب الاسباب نے آپ کوعلمِ روحانی کے بے پایان خزانوں سے مالامال فرمایا ہے، اورجیسے ہمہ رس علمی خدمت کے زرین مواقع عنایت کردیئے ہیں، اسی طرح وہ مہربان آپ کی زندگی بھرکی تمام خدمات کوقبول فرمائے! اور دونوں جہان کی سرخروئی و سرفرازی عطا فرمائے!آمیں!یاربّ العٰالمین!
ازطرف اراکین ادارۂ عارف امریکہ
۱۸؍اگست ۱۹۹۱ء
۹۷
الوداعی پیغام
بزرگواروعالی وقاراستاذ! آپ نے جس شان سے بذریعۂ علم امامت، جس میں روشنی ہی روشنی ہے، ہمارے تاریک دلوں کومنوّرکردیا، اورجیسے آپ کے روشن دلائل سے ہمیں اپنے پاک مذہب کے باطنی جوہرکاعلم ہوا، ان تمام اعلیٰ نعمتوں کا رسمی شکریہ توہم مختصرالفاظ میں ادا کرسکتے ہیں، لیکن حقیقی معنوں میں انتہائی مشکل بلکہ نا ممکن ہے، چنانچہ اس اعتراف کے ساتھ ہم آپ کے جملہ عزیزان “جوادارۂ عارف امریکہ” سے وابستہ ہیں، آپ کی مہربانیوں اورنوازشوں کے لئے سرِ تعظیم خم کرتے ہوئے شکریہ ادا کرتے ہیں، اورسپاس گزارہیں۔
صاحب! جب پہلی مرتبہ آپ سے ہماری ملاقات ہوئی توہمارے دلوں سے مجموعاً یہ صدا بلند ہوئی: چشمِ ما روشن، دلِ ماشاد (آپ کی تشریف آوری سے ہماری آنکھیں روشن ہوئیں، اور
۹۸
ہمارے دل خوشی وشادمانی سے معمور ہوئے ) اب جبکہ آپ ہمارے درمیان سے تشریف لے جارہے ہیں، توحالت وکیفیت اس کے برعکس ہے، وہ یہ کہ سچ مچ اس وقت ہماری آنکھیں تاریک اوردل آفسردہ ہو رہے ہیں، اس صورتِ حال کے پیش نظراجازت ہوتومیں آپ سے عاجزانہ گزارش کروں کہ آپ فی الحال یقیناً ہم ایسے سبزۂ نوخاستہ کوچھوڑ کر جانے والے تو ہیں، لیکن خدارا! ہم سقیم الحال اورافتادۂ راہ ہیں، ہمیں آپ کے اُس خاص علم کی بے حد ضرورت ہے، جوامام عالیمقامؑ سے ملا ہے، آپ کا حالیہ دورۂ امریکہ دراصل سلسلۂ ملاقات کے لئے ایک مستحکم اورمفید بنیاد ثابت ہوا، پس ہم بہت ہی آرزومند ہیں اورامید قوّی رکھتے ہیں کہ ان شاء اللہ آپ سالِ آئندہ بھی اسی طرح یہاں تشریف فرما ہوں گے، اورہم توابھی سے آپ کے آنے کا دلکش تصورکرتے رہیں گے۔
استادِ مکرم! جب آپ واپس پاکستان جائیں تو اُس وقت ہماری طرف سے تمام عزیزساتھیوں کوسلام ودعا اورعقیدت ومحبت کا پیغام دیجئے گا، کتنی بڑی سعادت ہے کہ وہ ارضی فرشتے عرصۂ دراز سے آپ کی علمی مجلس میں رہتے آئے ہیں، اورخدمت میں بھی وہ بہت سینئیر ہیں، چنانچہ ہم اُن سب کے جذبۂ خدمت کودل وجان سے سلام کرتے ہیں، کاش! ہمیں ان کی ملاقات کا شرف حاصل ہوتا، تو ہم بڑے شوق سے ان کی دست بوسی کرتے،
۹۹
ان شاء اللہ وہ دن بھی دور نہیں، جس میں ہم سب یکجا ہوکرسب سے بڑی فتح مندی اورکامیابی کی عید منائیں گے، آمین!
استادِ محترم! اگرہم آپ کی بابرکت زندگی پرغوروفکرکریں، توبڑاتعجب ہوگا کہ آپ نے روحانی ترقی اوردینی خدمت کی خاطر کیسی کیسی شدید مشقیتں اٹھائی ہیں، کن کن ممالک کا سفرکیا ہے، اورآج تک آپ کے دور دراز دَ ورے جاری ہیں، حالانکہ آپ کی عمرِشریف اس وقت تقریباً ۷۴ برس کی ہے، ہمیں لنڈن کے احباب کی نیک بختی پررشک آتا ہے کہ شاید حسنِ کارکردگی کی کشش سے آپ اکثران حضرات کے پاس جاتے رہے ہیں، ہم آخر میں دست بستہ معذرت خواہ ہیں کہ شاید آپ کے طعام و قیام کا شایانِ شان انتظام ہم سے نہ ہو سکا، ہم اپنی ہرغلطی اور کوتا ہی پرآپ ایسے عظیم درویش سے معافی چاہتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ آپ کی درویشانہ دعا کے لئے بھی درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے خاص خاص اوقات میں ہماری دینی اوردنیاوی صلاح وفلاح کے حق میں دعا فرماتے رہیں، آمین!
از طرف خاکسارانِ ادارۂ عارف امریکا
۱۸، اگست۱۹۹۱ء
۱۰۰
حظیرۃ القدس – عالمِ شخصی کی بہشت
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
آغازِ کتابِ حظیرۃ القدس
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے ’’حظیرۂ قدس‘‘ کی پیاری کتاب تقریباً ایک سو قسطوں میں مکمل ہوچکی تھی، اور پھر کم عرصے میں دوسری پیاری کتاب ’’کنوز الاسرار‘‘ بھی، خداوندِ قدّوس کے ان علمی معجزات و احسانات کی شکرگزاری سے زبان قاصر اور قلم عاجز ہے، لہٰذا یہ بندہ یعنی غلام اپنے مولا و آقا کے سامنے ازبس خجل = شرمندہ ہے، یہی وجہ ہے کہ میں اپنے تمام عزیزانِ شرقی و غربی کو وقتاً فوقتاً گریہ و زاری کی دعوت دیتا ہوں۔
امامِ زمانؑ جو خدا اور رسول کا نور ہے، مجھ ناچیز اور تمام عزیزان پر بدرجۂ انتہا مہربان ہے، اُس کارساز نے ہم سب کو علم کی سب سے اعلیٰ بہشت عطا کر دی ہے، الحمد للہ۔
اس علمی بہشت میں جتنے بھی ہیں وہ سب کے سب فرشتے ہیں، خدا کی قسم، اگر وہ فرشتے نہ ہوتے تو ان کی آواز میں ایسی شادمانی والی روح نہ ہوتی! کل سیکنڈ پریسیڈنٹ شمس الدین جمعہ اور اُن کی فرشتہ خصلت بیگم سیکریٹری کریمہ نے یہ درخواست کی ہے کہ وہ دونوں فرشتے اس کتابِ حظیرۂ قدس کو شرق و غرب کے اپنے کل ساتھیوں کی طرف سے طبع و نشر کرانا چاہتے ہیں، ان کی نیّت اور ساتھیوں
ط
کے لئے خیرخواہی قابلِ ستائش تھی، لہٰذا میں نے ان کی درخواست منظور کر لی، آپ سب ان کے لئے دعا کریں، آمین!
ہر کسی کے دنیا میں آنے کا کوئی مقصد ہوتا ہے، آپ عزیزوں کے دنیا میں آنے کا مقصد عظیم، بلکہ انتہائی عظیم ہے، کیونکہ آپ سب کو حجّتِ قائم اور حضرتِ قائم سلام اللہ علیہما کے علمی لشکر کے طور پر کام کرنا ہے، یہ بہت بڑی سعادت آپ سب کو مبارک ہو! آمین!!
نصیر الدّین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
اسلام آباد، پیر ، ۶ مئی ۲۰۰۲ء
ی
حظیرۃ القدس = عالمِ شخصی کی بہشت
سورۂ لقمان (۳۱: ۲۰): کیا تم لوگوں نے (چشمِ بصیرت = چشمِ معرفت سے) نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟
اس آیۂ کریمہ کی باطنی حکمت میں حظیرۂ قدس = عالمِ شخصی کی بہشت کا قصّہ ہے، جس میں اگر چشمِ معرفت سے دیکھا جائے تو اس نمائندہ آیت کی تاویلی حکمت سمجھ میں آتی ہے۔
میں آپ کو ایک خاص الخاص راز بتانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآنِ حکیم بہت مشکل بھی ہے اور بہت آسان بھی ہے، مجھے احساس ہے کہ میرا یہ قول آپ کے لئے ایک عجیب سا سوال بن گیا کہ قرآن بیک وقت بہت مشکل بھی ہے اور بہت آسان بھی ہے، آئیے ہم قرآن ہی کی روشنی میں اسکی وجہ معلوم کر لیتے ہیں۔
سورۂ الم نشرح (۹۴) فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ ترجمہ: سو بےشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ آپ نے سورۂ انشراح (۹۴: ۰۵ تا ۰۶) کو پڑھا کہ ہر عظیم کام میں پہلے مشکل ہے پھر بعد میں آسانی ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم اپنی اصل صورت میں علم و حکمت کی انتہائی بلندی پر ہونے کی وجہ سے بہت مشکل ہے،
ک
مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتِ بے پایان سے اسے آسان کر دیا ہے، ذکر و عبادت کے لئے بھی اور علم و حکمت کے لئے بھی۔
سورۂ قمر (۵۴: ۱۷، ۵۴: ۲۲، ۵۴: ۳۲) کو دیکھیں، اللہ تعالیٰ نے بہت مشکل قرآنِ حکیم کو اس طرح سے آسان کر دیا ہے کہ اپنا نورِ منزّل = زندہ اسمِ اعظم = امامِ زمانؑ کو قرآن کے ساتھ کر دیا ہے، اور جو مومن امامؑ سے قرآن کی حکمت کو سیکھنا چاہتا ہو اس کو امامِ زمانؑ اسمِ اعظم کے اسرار بتاتے ہیں، اور ایسا مومن اسمِ اعظم کے ذریعے سے فنا فی الامام ہو جاتا ہے، اور جب وہ فنا فی الامام ہو جاتا ہے تو اسی کے ساتھ ہی فنا فی القرآن بھی ہوجاتا ہے کیونکہ باطن میں قرآن کو کس طرح آسان کر دیا ہے۔
نصیر الدّین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
اتوار، ۲۸ اپریل ۲۰۰۲ء
ل
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱
حظیرۂ قدس = احاطۂ پاک = عالمِ شخصی کی جنّت ہے، جہاں کلیۂ امامِ مبین (۳۶: ۱۲) کے تمام معجزات اور جملہ اسرارِ معرفت جمع ہیں، یہاں آدم خلیفۃ اللہ علیہ السّلام کی جنّت ہے، اور اسی میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ کو صورتِ رحمان پر پیدا کیا تھا، اسی مقدّس مقام پر عظیم فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا، تم سب اُس دن ساجدین میں بھی اور مسجود میں بھی موجود تھے (۰۷: ۱۱) دیکھو قرآنی حکمت = قرآنی سائنس کو خوب غور سے پڑھو اور قرآنِ حکیم سے روحانی فائدہ حاصل کرتے جاؤ۔
حقیقی مومنین کے لئے وہ مقدّس بیوت (گھر، ۲۴: ۳۶) بھی حظیرۂ قدس ہی میں ہوتے ہیں، جن میں خدا کے نور کا چراغ روشن ہوسکتا ہے۔
حضرتِ نوح علیہ السّلام کے روحانی طوفان = روحانی قیامت، میں کشتی کوہِ جودی = کوہِ عقل پر جا کر ٹھہری تھی (۱۱: ۴۴)، اور کوہِ عقل = گوہرِعقل حظیرۂ ہٰذا میں ہے، یہیں سے نوح سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اتر گیا تھا (۱۱: ۴۸)، گویا روحانی طوفان اور روحانی قیامت کا مقصد حظیرۂ قدس میں پہنچ جانا تھا۔
حضرتِ ادریسؑ جب جسمانی موت سے قبل روحانی طور پر مر گیا تو خدا نے
۱
اسے حظیرۂ قدس پر مرفوع کیا (۱۹: ۵۶ تا ۵۷)۔
قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے کہ تمام چیزیں دو دو ہیں پس حضرتِ ابراہیم اور حضرتِ اسماعیل علیہما السلام نے نہ صرف ظاہر میں خدا کا گھر بنایا تھا، بلکہ باطن یعنی حظیرۂ قدس میں بھی ایک بیت اللہ بنایا تھا۔
ن۔ ن (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
اتوار، ۹ دسمبر ۲۰۰۱ء
۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲
قرآنِ حکیم میں مشارق و مغارب والی سرزمین کا ذکر آیا ہے (۰۷: ۱۳۷)، اس سے حظیرۃ القدس مراد ہے، کیونکہ وہاں اگرچہ ایک ہی مشرقِ نور ہے جو مغرب بھی ہے، لیکن وہی واحد بھی ہےاور جمع بھی، اللہ تعالیٰ نے حدودِ دین کے ذریعے سے بنی اسرائیل کو حظیرۂ قدس کا وارث بنایا تھا آپ اس آیت کو قرآن میں دیکھیں۔
سورۂ انبیاء (۲۱: ۷۱) کے مطابق حظیرۂ قدس وہ سرزمین ہے، جس میں خدا نے عوالمِ شخصی کے لئے بےشمار برکتیں رکھی ہیں آپ اس آیت کو باترجمہ قرآن میں پڑھیں۔
سورۂ ذاریات (۵۱: ۲۰ تا ۲۲) میں ارشاد ہے:
وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ ۔ وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ۔ وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ
ترجمہ: زمین میں بہت سی نشانیاں (معجزات) ہیں اہلِ یقین کے لئے، اور خود تمہارے اپنے وجود (عالمِ شخصی) میں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟ آسمان (حظیرۂ قدس) ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز (بہشت) بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
اس ارشاد کی روشنی میں آپ دیکھتے ہیں کہ عالمِ شخصی اور حظیرۂ قدس میں
۳
سب کچھ ہے، یہاں آسمان سے حظیرۂ قدس مراد ہے، رزق علم و حکمت اور معرفت ہے، وہ چیز جس کا وعدہ کیا جاتا ہے بہشت ہے، جب امامِ زمانؑ کا نور عالمِ شخصی میں طلوع ہوجاتا ہے تو تب یہ سارے حقائق و معارف روشن ہوجاتے ہیں۔
پس دانائی اور حکمت یہ ہے کہ تم بوسیلۂ عشق امامِ زمانؑ میں فنا ہوجاؤ تا کہ تمہیں عالمِ شخصی اور حظیرۂ قدس کے عظیم معجزات کی حقیقی معرفت حاصل ہو۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر، ۱۰ دسمبر ۲۰۰۱ء
۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳
قصّۂ موسیٰ میں جو طور ہے، اس کی باطنی تاویل حظیرۂ قدس ہے، حضرتِ مولانا علی صلوات اللہ علیہ کا ارشاد ہے:
انا النور الذی اقتبس منہ موسیٰ فھدیٰ۔
یعنی میں وہ نور ہوں، جس سے موسیٰؑ نے روشنی طلب کی تو ہدایت پائی۔ (بحوالۂ کتاب کوکبِ درّی، بابِ سوم، ص ۔ ۲۲۶)۔ اس ارشاد سے یہ حقیقت ظاہر ہو رہی ہے کہ امامِ زمانؑ کا نور حضرتِ موسیٰؑ کے عالمِ شخصی میں طلوع ہوا تھا۔
سورۂ نمل (۲۷: ۰۷ تا ۰۸) میں ارشاد ہے:
اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًاؕ-سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَاؕ-وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ترجمہ: جب موسیٰؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ مجھے ایک آگ سی نظر آئی، میں ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا کوئی انگارا چن لاتا ہوں تا کہ تم لوگ گرم ہوسکو، وہاں جو پہنچا تو ندا آئی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے ماحول میں ہے، پاک ہے اللہ جو عوالمِ شخصی کا پروردگار ہے۔
۵
یہ اللہ کے نورِمنزل کی تجلّی تھی نہ کہ ذاتِ سبحان کی تجلّی، یعنی یہ نورِالٰہی کا مظہر تھا، جس آیت میں کوئی سوال پیدا ہوتا ہے اس کے آخری حصے میں حکمتی جواب موجود ہوتا ہے، چنانچہ یہاں سبحان اللہ ربّ العالمین میں، پیدا ہونے والے سوال کا جواب ہے، نیز بُوْرِكَ = وہ برکت دیا گیا، یہ تعریف ذاتِ سبحان کے لئے نہیں ہو سکتی ہے کہ کسی نے اُس کو برکت دی ہو۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
پیر، ۱۰ دسمبر ۲۰۰۱ء
۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴
سورۂ مومنون (۲۳: ۵۰) میں ارشاد ہے:
وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ ۔
ترجمہ: اور ابنِ مریمؑ اور اس کی ماں کو ہم نے ایک آیت = نشانی = معجزہ بنایا، اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے۔ یہ حظیرۂ قدس کی تعریف ہے۔
چونکہ عالمِ شخصی کی بہشت حظیرۂ قدس ہی ہے لہٰذا یہ عارفوں کے لئے اعلیٰ اطمینان کی جگہ ہے، اور اس میں علم و حکمت اور اسرارِ معرفت کے چشمے جاری ہیں جن کی تعریف و توصیف قرآنِ حکیم میں ہے، کیا اس جنّت میں رازِ ازّل و ابد بھی ہوسکتا ہے؟ کتابِ مکنون؟ کلمۂ باری کی معرفت؟ گوہرِعقل کا سرِّاعظم؟ لقاء اللہ؟ کنزِ مخفی؟؟؟؟؟ وغیرہ۔
بقعۂ مبارکہ = خطۂ مبارکہ = حظیرۂ قدس (۲۸: ۳۰)، وہاں جس درخت پر آگ نظر آئی تھی وہ نفسِ کلّی تھا۔
زیتون کا مبارک درخت جو نہ شرقی ہے نہ غربی (۲۴: ۳۵) نفسِ کلّی ہے جو کائنات گیر اور لامکانی ہے۔
۷
حضورِ اکرم صلعم کے قصّۂ معراج (۵۳: ۱۵ تا ۱۶) میں سدرۃ المنتہیٰ نفسِ کلّی تھا جو گوہرِعقل کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
سورۂ مومنون (۲۳: ۲۰) ترجمہ: اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طورِسینا سے نکلتا ہے تیل لئے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لئے سالن بھی۔ اس سے نفسِ کلّی کے وہ فیوض و برکات مراد ہیں جو عرفاء کے لئے حظیرۂ قدس میں ہیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
منگل ۱۱ ، دسمبر ۲۰۰۱ء
۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵
سورۂ ق (۵۰: ۳۱ تا ۳۵) میں ارشاد ہے:
وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِﹰ ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ ۔
ترجمہ: اور (روحانی قیامت میں) جنّت متقین کے قریب لے آئی جائے گی (یعنی عالمِ شخصی اور حظیرۂ قدس = جبین میں بہشت ہوگی) کچھ بھی دور نہ ہوگی، ارشاد ہو گا: یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لئے جو بہت رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا جو بے دیکھے رحمان سے ڈرتا تھا اور جو دل گرویدہ لئے ہوئے آیا ہے، داخل ہوجاؤ جنّت میں سلامتی کے ساتھ، وہ دن خلود کا ہوگا (یعنی یہ راز معلوم ہوگا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ بہشت میں ہیں) وہاں اس کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ان کے لئے ہے۔
بحوالۂ سورۂ اعراف (۰۷: ۱۷۲ تا ۱۷۳) واقعۂ الست کا تعلق حظیرۂ قدس سے ہے، جہاں ربّ العزّت نے تمام روحوں سے پوچھا تھا کہ آیا میں تمہارا
۹
پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے کہا ضرور آپ ہی ہمارے پروردگار ہیں ہم نے دیکھا اس لئے ہم گواہی دیتے ہیں۔ لیکن آج کسی آدمی کو یہ عظیم واقعہ یاد نہیں پھر بھی یہ قرآنی شہادت اور روشن دلیل ہے کہ مومن روحانی ترقی میں حظیرۂ قدس تک جاسکتا ہے اگر روحوں کا یہ عروج کسی وسیلے سے ہوا تھا تو اب بھی وہ وسیلہ موجود ہوسکتا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
منگل ۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء
۱۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶
علم الیقین کی ایک عجیب و غریب مثال: دو دوست کسی دور شہر میں گئے تھے جس میں دونوں نے بہت سے عجائب وغرائب کا مشاہدہ کیا، جب یہ دونوں اپنے وطن واپس آگئے تو ایک دوست تمام عجائب کو بھول چکا تھا، جبکہ اس کے ساتھی کو ہرہر واقعہ یاد تھا، مگر یہ دونوں دوست بڑے نیک اور ایک دوسرے کے عزیز اور خیر خواہ تھے لہٰذا دونوں نے مل کر قصّۂ سفر کو یاد کیا جس میں ذہین دوست نے اپنے دوست کی بہت مدد کی۔
اس میں میرا مطلب صرف اور صرف یہی ہے کہ علم الیقین آپ کے روحانی سفر کا ساتھی اور گویا ذہین دوست ہے، آپ اس سے پوچھیں کہ آیا آپ روحاً دربارِ الست میں موجود تھے یا نہیں؟ اور یہ بھی پوچھیں کہ بارگاہِ الٰہی اُس وقت حظیرۂ قدس میں تھی یا اور کہیں؟
طور = پہاڑ، حضرتِ موسیٰؑ کے لئے ظاہراً و باطناً دو تھے طورِ باطن آپ کی جبینِ مبارک میں تھا، جس میں امامِ زمان علیہ السّلام کا نور طلوع ہوگیا تھا، یہ زندہ نور خدا کا اسمِ اعظم ہوتا ہے جو خودگو ذکرِاکبر ہے یہ از خود روشن ہونے والا کائناتی چراغِ نور ہے۔
قصّۂ موسیٰؑ میں دونوں دریاؤوں کا سنگم (۱۸: ۶۰) عظیم امتحانات میں
۱۱
سے ہے کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ عالمِ شخصی میں جگہ جگہ سنگم ہیں، چنانچہ روحانی قیامت کے آغاز ہی میں اسرافیل اور عزرائیل کا سنگم ہے، پھر خیر و شر (فرشتہ اور جنّ) کا سنگم ہے، یہی نفس اور عقل کا سنگم بھی ہے، قصّہ دراصل حظیرۂ قدس کا ہے: کلمۂ امر اور عقلِ کلّی کا سنگم ہے، قلم اور لوح کا، مشرق اور مغرب کا، گوہرِعقل اور کتابِ مکنون کا، عرش اور کرسی کا، آسمانِ عقلِ کلّ اور زمینِ نفسِ کلّ کا، ازل و ابد کا، ابداع و انبعاث کا، مکان ولامکان کا، اور ناسوت و ملکوت کا سنگم ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ، ۱۲، دسمبر ۲۰۰۱ء
۱۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۷
سالکین اور عارفین کے لئے عالمِ شخصی اور حظیرۂ قدس میں علمِ لدّنی کے بہت سے خاص خاص مقامات ہیں، جن کی نشاندہی اور معرفت کا حکیمانہ رہنما اصول مجمع البحرین (۱۸: ۶۰) اور مرج البحرین (۵۵: ۱۹ تا ۲۰) ہے، قسط نمبر ۶ کے مطابق ہر سنگم پر خضرِ وقت = امامِ زمانؑ کی نورانی تائید کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور رسولِ پاکؐ کی طرف سے نورِ ہدایت وہی ہے، جبکہ امامِ مبین میں بحکمِ نورٌ علیٰ نورٍ تمام انوار جمع اور ایک ہیں۔
اے عزیزان! اس بیان کے سلسلے میں یہ حقیقت بھی سن لو کہ:
حضرتِ موسیٰؑ کا قصّۂ ظاہر از (۱۸: ۶۰) تا (۱۸: ۸۲) تاویلِ باطن پر حجاب ہے، کیونکہ حضرتِ موسیٰؑ کا یہ سفر اپنے عالمِ شخصی ہی میں تھا۔
نیز دیکھو:
ترجمۂ آیۂ مبارکہ (۲۵: ۳۵) ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (مددگار) بنایا پس یہاں اشارۂ حکمت یہ ہے کہ بحکمِ خدا ہارونؑ موسیٰؑ کے باطنی امور میں وزیر = مددگار تھا اور خدا ہی کی مرضی ایسی تھی کہ ہارونؑ = امامؑ کا نور موسیٰؑ کے عالمِ شخصی
۱۳
میں نورانی تاویل کا کام کرے اور قصّۂ موسیٰؑ میں یقیناً خضرؑ سے امامِ زمانؑ مراد ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات، ۲۷ ، رمضان المبارک ۱۴۲۲ھ
۱۳ دسمبر ۲۰۰۱ء
۱۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۸
سورۂ انعام (۰۶: ۱۶۵) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىٕفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْؕ-اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ ۔ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔
ترجمہ: (اللہ) وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دیئے، تا کہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے، بے شک تمہارا ربّ سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔
سوال: خلیفہ اور خلافت کی مناسبت سے یہ پوچھنا ضروری ہے، کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرتِ آدم علیہ السّلام کو کس زمین میں خلیفہ بنایا تھا؟
جواب: اوّل سیّارۂ زمین کے لوگوں = ناسوت میں، دوم عالمِ شخصی میں، سوم حظیرۂ قدس میں، چہارم کائناتی بہشت کی زمین میں، پنجم نفسِ کلّی کی زمین میں۔
لفظِ الخلیفۃ = جانشین = قائمِ مقام= سب سے بڑا بادشاہ، ج۔ خلفاء = خلائف (المنجد)۔
۱۵
اللہ تعالیٰ نے جس طرح موسیٰؑ اور ہارونؑ کی قوم میں روحانی ملوک = سلاطین بنایا (۰۵: ۲۰) اسی طرح اس نے محمدؐ اور علیؑ کے مومنین کو کائناتی بہشت کی زمین کے خلفاء = بادشاہ = سلاطین بنا دیا، اس آیۂ شریفہ کو آیتِ استخلاف (۲۴: ۵۵) کے تناظر میں پڑھیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے عالمِ شخصی میں حقیقی مومنین سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو کائناتی بہشت کی زمین میں خلیفہ = بادشاہ بنانے والا ہے۔
اے عزیزان! آپ حدیثِ اطیعونی تکونوا ملوک الارض کو ہرگز نہ بھولیں، اس میں شاہانِ بہشت کا ذکر ہے، یعنی رسولِ پاک صلعم کی حقیقی اطاعت وہ ہے جو اہلِ ایمان کو سلاطینِ بہشت بنا دیتی ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعۃ المبارک، ۱۴، دسمبر ۲۰۰۱ء
۱۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹
حظیرۂ قدس حق سبحانہ و تعالیٰ کے عظیم معجزات کی جنّت ہے جس میں اللہ کے معجزاتی خزانے ہیں، اور خزینۃ الخزائن = امامِ مبینؑ کا نور بھی ہے، آپ آیۂ خزائن (۱۵: ۲۱) اور آیۂ امامِ مبین (۳۶: ۱۲) کو حکمت کی روشنی میں پڑھیں تاکہ آپ کو صاف صاف معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام خزائن، جملہ اسماء الحسنیٰ اور ہرہر خاص چیز کو امامِ مبین کے نور میں گھیر کر اور شمار کرکے رکھا ہے اگر آپ امامِ زمانؑ کو بحقیقت پہچاننا چاہتے ہیں تو اپنے عالمِ شخصی کا سفر کرکے حظیرۂ قدس کی منزلِ مقصود میں پہنچ جائیں اور چشمِ بصیرت سے وہاں اپنے امامؑ کی کامل معرفت کو حاصل کریں، چونکہ وہ مقام مرتبۂ حق الیقین ہے، لہٰذا آپ امام کو پہچان لیں گے جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے۔
آپ کی بنیادی امام شناسی قرآن و حدیث کی روشنی میں ہونی چاہئے، تا کہ آپ ہر طرح سے کامیاب ہوجائیں اللہ جلّ جلالہ نے حضرتِ آدمؑ کو عالمِ ناسوت کے لئے خلیفہ بنایا تھا، آپ یہ بتائیں کہ فی الوقت سیّارۂ زمین پر ناسوت موجود ہے یا نہیں؟ اگر ناس (لوگ) ہیں تو ناسوت (عالمِ انسانیت) بھی ہے، اگر ایسا ہے تو پھر تین باتوں میں سے ایک بات بتا کر اس پر قائم رہو، کیا
۱۷
خلافتِ الٰہیہ صرف شخصیتِ آدمؑ ہی کے لئے مخصوص و محدود تھی؟ کیا اللہ نے اپنا یہ مرتبۂ ناسوت سے واپس لیا؟ کیا عالمِ ناسوت میں بعد از آدمؑ کوئی انسانِ کامل وارثِ آدمؑ ہوا کرتا ہے؟ کیا داؤدؑ کوئی نیا خلیفہ تھا یا وارثِ آدمؑ (۳۸: ۲۶)، سلیمان اپنے باپ داؤد کا وارث ہوا (۲۷: ۱۶) وہ اپنے وقت میں وارثِ آدم ہوا یا نہیں؟
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر، ۱۵، دسمبر ۲۰۰۱ء
۱۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۰
سورۂ حجر (۱۵: ۲۱) کی یہ آیۂ شریفہ حظیرۂ قدس کے الٰہی خزانوں کی شان میں ہے: وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآىٕنُهٗ٘- وَمَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ۔
ترجمہ: کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے (حظیرۂ قدس میں) ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں وہ لوگوں کی علمی رسائی کے مطابق ہوا کرتی ہے۔
اس سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ حضرتِ ربّ العزّت اور اس کے خزانوں کی معرفت اور خزانۂ خزائن = نورِ امامِ مبین کی معرفت حظیرۂ قدس میں ہے، اور وہ اہلِ ایمان کو درجہ بدرجہ حاصل ہوتی ہے۔
اس آیۂ کریمہ میں ظاہری چیزیں مثال ہیں اور باطنی چیزیں ممثول، بارش کا خزانہ سمندر ہے، اگرچہ وہ حظیرۂ قدس میں موجود نہیں، لیکن کلمۂ امر = کُنۡ = ہوجا جو ارادۂ الٰہی کا خزانہ ہے، وہ ہمیشہ حظیرۂ قدس کی جنّت میں ہے، اللہ کا ارادہ کلمۂ کُنۡ سے عبارت ہے، کُنۡ (ہوجا) کی عبارت کسی اور لفظ میں بھی ہوسکتی ہے۔
کلمۂ امرِ کُنۡ (ہوجا) = ارادۂ باری تعالیٰ کا خزانہ قدیم = ہمیشہ کا ہے جس کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ کوئی انتہا، اس سے تصورِ آفرینش سمجھ میں آسکتا ہے، جیسا کہ حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ (روحی فداہ) کا ارشادِ مبارک ہے کہ خداوندِ تعالیٰ ہمیشہ تخلیق کرتا ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر، ۱۵، دسمبر ۲۰۰۱ء
۱۹
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۱
بحوالۂ ہزار حکمت (ح: ۷۰۱) من مات فقد قامت قیامتہ۔ ترجمہ: جو شخص (نفسانی = روحانی) موت سے مر جائے تو اُس کی قیامت برپا ہوجاتی ہے۔
اس حدیثِ شریف میں عارفانہ موت اور انفرادی قیامت کا ذکر ہے، جس میں باطناً اجتماعی قیامت کا منظر ہوتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کلی قیامت کی معرفت سے عارف بے خبر رہتا جس کا ذکر سر تا سر قرآن میں ہے، مگر یہ بات نہیں، بلکہ عرفاء کو تمام اسرارِ قیامت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
سوال: آیا قرآنِ حکیم میں موتوا قبل ان تموتوا کا حکم یا اشارہ موجود ہے؟
جواب: جی ہاں، سورۂ بقرہ (۰۲: ۵۴) میں خوب غور سے دیکھو، قرآنِ حکیم کے ہر لفظ میں حکمتِ بالغہ ہوتی ہے۔ ترجمۂ آیت: جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ لوگو! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو۔
یہاں لفظی توبہ مراد نہیں، بلکہ عملی اور حقیقی توبہ مقصود ہے، اور وہ حظیرۂ قدس میں اپنے خالق سے رجوع ہے، جو نفس کشی، یعنی موتوا قبل ان تموتوا سے ممکن ہے جس کا حکم اس آیت میں موجود ہے: تم میں سے ہر ایک اپنے نفس کو پرحکمت ریاضت سے قتل کرے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
اتوار، ۱۶، دسمبر ۲۰۰۱ء
۲۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۲
اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے قرآنِ حکیم میں سر تا سر حکمتیں ہی حکمتیں ہیں لہٰذا حکمت ہی کی امید پر یہ سوال ہے کہ بحوالۂ قرآن (۳۲: ۱۱) فرشتۂ موت (عزرائیل) ہر انسان پر مقرر اور مؤکل ہے، اس میں کیا رازِ حکمت ہے؟ حالانکہ اور بھی چھوٹے بڑے فرشتے ہیں ان کی طرف کوئی ایسی توجہ نہیں دلائی گئی ہے؟
جواب: اس میں دانا لوگوں کے لئے بہت بڑی حکمت ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہر دانا شخص موتوا قبل ان تموتوا پر عمل کرکے روحانی قیامت اور سب فرشتوں کو دیکھے، اور جیتے جی حضرتِ ادریسؑ کی طرح حظیرۂ قدس کی جنّت میں داخل ہوجائے، اگر اللہ کی رحمت سے ایسا ہوسکا تو یہ حضرتِ عزرائیل علیہ السّلام ہی کی برکت سے ہوگا، اگر تم عاشقانہ موت یا عارفانہ موت کے لئے بالکل تیار ہو تو سنو کہ تنہا عزرائیل نہیں آئے گا بلکہ اسرافیل اور دیگر تمام فرشتے بھی آئیں گے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ فرشتۂ موت ملکوت کا دروازہ ہے جب یہ دروازہ کھلتا ہے تو سب فرشتے آجاتے ہیں، پس خدائے علیم و حکیم نے ملک الموت کی صورت میں تمام فرشتوں کو ہر انسان پر مقرر کیا ہے، اور اس سے زیادہ بڑی رحمت اور حکمت اور کیا ہوسکتی ہے۔
۲۱
قرآنِ عزیز (۰۲: ۹۴) میں موت کی آرزو کی حکیمانہ تعریف ہے، ایسی با سعادت اور پرحکمت موت کون سی ہوسکتی ہے؟
جواب: صوفیانہ موت، عاشقانہ موت، اور عارفانہ موت، جس میں روحانی قیامت اور معرفت ہے اور جس کا آخری نتیجہ حظیرۂ قدس = جنّت ہے جہاں جیتے جی بہشتِ جاویدانی کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے (قرآن، ۴۷: ۰۶) الحمد للہ علیٰ منہ و احسانہ۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بموقعِ عید الفطر، پیر، ۱۷، دسمبر ۲۰۰۱ء
۲۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۳
سورۂ انشقاق (۸۴) روحانی قیامت اور عالمِ شخصی کے عظیم اسرار سے لبریز ہے لہٰذا آپ تیاری کے طور پر اسے پہلے ترجمۂ قرآن میں بغور پڑھ لیں پھر ان شاء اللہ ہم آپ کو اس کی کچھ حکمتیں بیان کریں گے۔
ترجمۂ آیات (۸۴: ۰۱ تا ۱۱): جب آسمان پھٹ جائے اور سن لے حکم اپنے ربّ کا، اور وہ آسمان اسی لائق ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے اور نکال ڈالے جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے اور سن لے حکم اپنے ربّ کا اور وہ زمین اسی لائق ہے، اے آدمی تجھ کو تکلیف اٹھانی ہے اپنے ربّ تک پہنچنے میں سہہ سہہ کر، پھر اُس سے ملنا ہے، سو جس کو ملا اعمالنامہ اُس کا داہنے ہاتھ میں تو اُس سے حساب لیں گے آسان حساب، اور پھر کر آئے گا اپنے لوگوں کے پاس خوش ہو کر، اور جس کو ملا اُس کا اعمالنامہ پیٹھ کے پیچھے سے، سو وہ پکارے گا موت موت۔
اگرچہ کائناتِ ظاہر عالمِ اکبر ہے، اور انسان عالمِ اصغر، لیکن جب روحانی قیامت برپا ہوتی ہے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ ساری کائنات کو عالمِ صغیر = عالمِ شخصی میں محدود کر دیتا ہے، جیسا کہ حضرتِ علیؑ کے دیوان میں ہے:
و تحسب انک جرم صغیر
و فیک انطوی العالم الاکبر
۲۳
ترجمہ: اور تو خیال کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے، حالانکہ تجھ میں عالمِ اکبر لپٹا ہوا ہے۔
پس یقیناً اللہ روحانی قیامت میں جملہ کائنات کو مومنِ سالک کے عالمِ شخصی میں لپیٹتا ہے، لہٰذا یہاں باطنی اور روحانی قیامت کے جن معجزات کا ذکر ہوا ہے ان کا تعلق سالک کے مشاہدۂ باطن سے ہے، کائناتِ ظاہر یہاں صرف مثال کے طور پر ہے، آپ میری ایک کتاب: عملی تصوف اور روحانی سائنس میں، از صفحہ ۱۴۱ تا ۱۵۰، روحانی سائنس کے عجائب و غرائب کو پڑھیں تا کہ آپ کو روحانی قیامت اور عالمِ شخصی کے معجزات کی خبر ہو۔
آپ کو علم ہے کہ آسمان ٹھوس اور یک لخت نہیں، بلکہ ایک لطیف گیس ہے، لہٰذا آسمان کا پھٹ جانا سالک کے لئے مثالی معجزہ ہے، اور زمین کی توسیع یہ ہے کہ عالمِ شخصی کو حدودِ کائنات تک پھیلا کر کائناتی بہشت بنائی جاتی ہے، ممکن ہے کہ اس کائنات کے باطن میں ستر ہزار روحانی کائناتیں ہوں، اور ہر کائنات بہشت ہو۔
آپ قرآنِ حکیم کو حکمت کے ساتھ پڑھیں تو ایسے اسرار کا علم ہوجائے گا۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
منگل ۱۸، دسمبر ۲۰۰۱ء
۲۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۴
سورۂ انشقاق (۸۴) یقیناً صاحبِ روحانی قیامت = امامِ زمان اور عالمِ شخصی کے عظیم عرفانی اسرار سے لبریز ہے یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ذاتِ سبحان نے کون و مکان کی تمام اصل اور اعلیٰ چیزوں کو امامِ مبین میں گھیر کر اور عددِ واحد میں شمار کر کے رکھا ہے، ہر عارف کی روحانی قیامت میں خدا اپنے اس عظیم معجزے کا تجدّد کرتا ہے، تا کہ عارف چشمِ بصیرت سے اس کو دیکھ کر کامل معرفت حاصل کرسکے، امامِ زمان علیہ السّلام کی مہربانی سے ہماری کتابوں میں حکمت اور معرفت کے جواہر پارے بکھرے ہوئے ہیں آپ دیکھ سکتے ہیں۔
اس حقیقت میں کسی شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ مومنِ عاشق ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی بے شمار تکالیف کو برداشت کرنے کے بعد ہی حظیرۂ قدس میں اپنے ربّ سے مل سکتا ہے۔
جو شخص جیتے جی عرفانی موت سے مر کر حظیرۂ قدس تک پہنچ جاتا ہے اور کتابِ مکنون اس کے داہنے ہاتھ میں ہوتی ہے، تو یہ اس کا نامۂ اعمال ہے جو اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا، تو اس کا آسان حساب ہوگیا، اب وہ اپنے لوگوں کی طرف شادان و فرحان لوٹ آئے گا۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
منگل ۱۸، دسمبر ۲۰۰۱ء
۲۵
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۵
آج کے اس مقالے میں ایک بے حد پیارے قرآنی لفظ کو حفظ = یاد کرنا ہے وہ ہے: لفیفا (۱۷: ۱۰۴) تم اس کو قانونِ لفیف بھی کہہ سکتے ہو۔
لفیف = لپٹا ہوا = سمٹا ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ارحم الراحمین ایک ہی عاشق و عارفِ مولا کی روحانی قیامت میں سب لوگوں کو لپیٹ کر = سمیٹ کر حظیرۂ قدس میں اپنے پاس لے جاتا ہے، ایسے میں تمام لوگ نفسِ واحدہ ہوجاتے ہیں، یعنی ایک ہی جان = ایک ہی روح۔
پس مبارک ہیں وہ جملہ عزیزان جو مل کر علمی خدمت کرتے کرتے خود بھی علمی ہو جاتے ہیں، میرا خیال ہے کہ آپ تمام عزیزان کی خوش نصیب روحیں حجتِ قائم کے زمانے میں حظیرۂ قدس میں پہنچ گئی تھیں اور جملہ جماعت بھی۔
اسرارِ معرفت پر بہت سے حجابات ہیں، آپ علم الیقین کے ذریعے سے ایک ایک کر کے حجابات کو ہٹاتے جائیں تا آنکہ آپ کو کامل یقین ہو کہ آپ امامِ مبین کی نورانی بہشت = حظیرۂ قدس میں ہیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ، ۱۹ ، دسمبر ۲۰۰۱ء
۲۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۶
حظیرۂ قدس، وادیٔ مقدسِ طویٰ (۲۰: ۱۲) بھی ہے، طورِ سینا (۲۳: ۲۰) بھی ہے، یہ وہ جبل (پہاڑ) ہے (۰۷: ۱۷۱) جو بنی اسرائیل پر ظلۃ = چھتری کی طرح بلند کیا گیا تھا (۰۲: ۶۳)، (۰۴: ۱۵۴) یہاں انتہائی عظیم معجزات ہیں کہ اللہ اپنے دستِ مبارک سے کائنات کو لپیٹتا ہے اور پھیلاتا بھی ہے (۲۱: ۱۰۴) یہاں مطویات ہیں (لپیٹی ہوئی کائناتیں) (۳۹: ۶۷)۔
اے عاشقانِ امامِ زمان علیہ السّلام، تم کو اپنے پاک مولا کا مقدس عشق مبارک ہو ! علم و عبادت اور حقیقی اطاعت سے آگے بڑھو بہت آگے بڑھو تا آنکہ امامِ مبین کا نور تمہاری جبین (پیشانی) میں طلوع ہوجائے، لیکن اتنا کارِ بزرگ = عظیم کام چند دنوں میں کیسے ہو سکتا ہے؟ محنت، محنت، محنت، مشقت، بہت زیادہ مشقت، دائم الذّکر ہوجاؤ، ہمیشہ گریہ و زاری کرو، دیکھو جیتے جی حظیرۂ قدس کی جنّت کی معرفت ممکن ہے۔
قرآن میں دیکھو، اللہ نے اپنی آیات = معجزات دکھانے کا وعدہ فرمایا ہے یا نہیں؟ کیا قرآن و حدیث میں امام شناسی بے حد ضروری نہیں ہے؟
۲۷
اگر یہ چیز بہت ہی ضروری ہے تو آخر کیوں؟ یہ خدا ہی کی مرضی ہے کہ اُس نے امامِ مبین میں سب کچھ رکھا ہے (۳۶: ۱۲) پس یہ آپ کی بہت بڑی دانائی ہوگی کہ خدا و رسول کی خوشنودی کو امامِ زمانؑ کی اطاعت سے حاصل کریں۔ آمین ! ثم آمین !
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات، ۲۰، دسمبر ۲۰۰۱ء
۲۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۷
سوال: آیا حظیرۂ قدس سے امامِ مبین کا احاطۂ نور مراد ہے جو عالمِ شخصی کی جنّت ہے؟ جواب: جی ہاں۔
پس اللہ تعالیٰ کا وہ ارشادِ مبارک جو امامِ مبین کی شان میں ہے (۳۶: ۱۲) وہ عالمِ شخصی کی بہشت میں گوناگون الٰہی تجلیات و معجزات کی صورت میں ہے۔
امامِ مبین کے احاطۂ نور = حظیرۂ قدس میں کل اشیاء تو محدود ہیں مگر امام خود لامحدود ہے پھر بھی اُس کی معرفت ہوسکتی ہو، یہ معرفت عارف کی خود شناسی کی چوٹی پر ہے، چونکہ امامِ آلِ محمد مظہرِ نورِ الٰہی ہے لہٰذا امامِ زمانؑ کی معرفت خدا کی معرفت ہے۔
حظیرۂ قدس = جنّت کا ہر ہر معجزہ تجلّیاتی ہے مثال کے طور پر وہاں کتابِ مکنون ایک غالب تاویلی معجزہ ہے، جس میں قرآنِ کریم کے تمام اسرار = بھید جمع ہیں، اس کی ہر تجلّی سے امامِ زمان (روحی فداہ) آپ کو ایک قرآنی بھید بتاتا ہے، نہ تو تجلّیات کا سرچشمہ بند ہو جاتا ہے اور نہ ہی اسرارِ قرآنِ کریم ختم ہو جاتے ہیں۔
کتابِ مکنون (۵۶: ۷۷ تا ۷۹) کتابِ مکنون کے اور بھی بہت سے اسماء ہیں اور ہر اسم میں بہت سی معنوی تجلّیات ہیں، الحمد للہ ربّ العالمین۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ ۲۱، دسمبر ۲۰۰۱ء
۲۹
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۸
حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کا پرحکمت فرمان ہے: “ہم علی اور نبی دونوں کے نور ہیں۔” امامِ عالی مقام کا یہ جامع الجوامع ارشاد آیاتِ نور کی ایک حکیمانہ تفسیر ہے، اس میں امامِ زمانؑ کے عاشقوں کے لئے حظیرۂ قدس = جنّت کی بشارت ہے، کیونکہ امامِ زمان علیہ السّلام اللہ کا زندہ اسمِ اعظم اور زندہ بہشت ہے۔
جو مومنین و مومنات اپنے امامِ وقت کو علم الیقین کی روشنی میں پہچانتے ہیں وہ بڑے مبارک ہیں، اگرچہ عین الیقین اور حق الیقین کے مراحل ہنوز طے نہیں ہوئے ہیں، تاہم مولائے مہربان کارساز اور بندہ نواز ہے اور اس کے پاس حدودِ دین کا وسیلہ بھی ہے، اور وہ مسبب الاسباب ہے، آمین !
ارشادِ قرآنی کے مطابق ہر امام کے زمانے میں ایک مخفی = روحانی قیامت برپا ہوتی ہے، جو سب لوگوں کے لئے باعثِ رحمت ہے، کیونکہ امام اوّل متقین کے لئے ہے، اور دوم تمام لوگوں کے لئے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ، ۲۱، دسمبر ۲۰۰۱ء
۳۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۹
حضرتِ رحمان نے بوسیلۂ اسمِ اعظم قرآنِ حکیم کی باطنی = نورانی تعلیم دی اور اسی ذریعے سے اس نے ہر انسانِ کامل کو بعد از جسمانی تخلیق و تکمیل روحاً و عقلاً پیدا کیا، اور علم البیان = علمِ تاویل سکھایا، حظیرۂ قدس میں شمس و قمر ایک ہیں اس لئے ان کا طلوع و غروب اور گردش کا ایک ہی حساب ہے، وہاں نجوم (تارے) اور درخت ایک ساتھ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں، خدا ہی نے عالمِ شخصی کی زمین سے آسمان کو الگ کرکے بلند کیا، اور علم و حکمت کی میزان حظیرۂ قدس کے آسمان ہی میں قائم کر دی تا کہ تم یہاں تک پہنچ جانے کے بعد ہی حقائق و معارف کو ٹھیک ٹھیک تول سکو۔
قرآنِ حکیم کی ہر آیت میں حکمتِ بالغہ، یعنی حظیرۂ قدس تک پہنچ جانے والی حکمت ہے، پس مضامینِ قرآن گویا حظیرۂ قدس = جنّت کے چشموں سے آئی ہوئی نہریں ہیں، یا اس بہشت کے قابلِ تعریف اور پرسکون لمبے لمبے سائے = ظلِ ممدود (۵۶: ۳۰) ہیں۔ مثلاً توبہ، رجوع ، لقاء اللہ، دیدار، کلام، اشارہ، صورتِ رحمان کا سرِّ اعظم، فنا فی اللہ، انبیا علیہم السّلام کی معراجوں کے اسرار، نورِ محمدیؐ = قلم، نورِ علیؑ = لوح، الغرض تمام اسرار اسی عرفانی جنّت = حظیرۂ قدس میں ہیں۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر، ۲۲ ، دسمبر ۲۰۰۱ء
۳۱
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲۰
صحیح بخاری جلدِ سوم کتاب الرقاق باب ۸۵۶ میں یہ حدیثِ شریف ہے:
یدخل الجنۃ سبعون الفاً بغیر حساب۔
ترجمہ: جنّت میں ستر ہزار بلا حساب داخل ہوں گے۔
ہر زمانے کا امامِ آلِ محمد وارثِ علی بحکمِ خدا (۱۷: ۷۱) عالمِ شخصی میں ایک مخفی اور روحانی قیامت برپا کرتا ہے، جس میں دنیا بھر کے تمام لوگوں کا روحانی حشر ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ان سب میں سے ستر ہزار خاص ایمانی روحوں کو فرشتہ بناتا ہے، یہی ستر ہزار فرشتے بیت المعمور کی زیارت کرتے ہیں جو حظیرۂ قدس کے آسمان میں ہے اور وہ مرتبۂ امامِ زمان علیہ السلام ہے، یعنی امامِ زمان کا نور ہی بیت المعمور یعنی خدا کا وہ گھر ہے جس میں خدا کا دیدار اور اس کے جملہ خزائن ہیں ان ستر ہزار فرشتوں میں سے ہر فرشتہ ایک عالمِ شخصی بھی ہے اور ایک روحانی کائنات بھی، ان تصورات میں خوب غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال: جو حقیقت قرآنِ پاک میں ہے، وہی حدیثِ شریف میں بھی ہے، پس وہ آیت کون سی ہے، جس میں یہ ذکر ہے کہ خدا کی رحمت سے بعض لوگ
۳۲
حساب کے بغیر بھی بہشت میں داخل ہو سکتے ہیں؟
جواب: اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (۰۳: ۳۷) ترجمہ: اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے (یعنی خدا جسے چاہتا ہے روحانی قیامت کی سختی کے بغیر حظیرۂ قدس کی بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے) یہاں حساب سے روحانی قیامت کی سختی مراد ہے، یہ قصّہ مریم سلام اللہ علیہا کا ہے کہ اس کے پا س علمِ لدّنی آ رہا تھا حالانکہ وہ روحانی قیامت کی سختی سے ہنوز نہیں گزری تھیں، نیز دیکھو (۰۳: ۲۷) (۰۲: ۲۱۲)۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر ۲۲، دسمبر ۲۰۰۱ء
۳۳
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲۱
مذکورۂ بالا بہشت دو مقام پر ہے، اوّل جبینِ مبارک امامِ مبین دوم کائنات گیر کرسی کا دائرۂ اعظم = نفسِ کلّی جو امامِ مبین کا نورِ محیط ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی ہے کہ اگر تم امامِ زمانؑ میں فنا ہوجاتے ہو جیسا کہ فنا ہوجانے کا حق ہے تو خدا کی قسم تمہاری باسعادت جبین میں بھی نورِ امامِ مبین طلوع ہوکر ہر طرح سے حظیرۂ قدس کا منظر ہوگا، اور وہ سارے معجزات ہوں گے جن کا ذکر ان قسطوں میں ہوچکا ہے، اس حقیقت پر بہت سی قرآنی شہادتیں پیش کی جاسکتی ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ میرے عزیزان اس حقیقت کو جان چکے ہیں ان کو حجتِ قائمؑ کی اعلیٰ روحانی تعلیمات یاد ہیں، اعنی حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ (روحی فداہ) کے ارشادات جو روحانی ترقی سے متعلق ہیں۔
حجتِ قائمؑ نے بڑے رازدارانہ طریق سے فرمایا ہے کہ تم زندگی ہی میں روح کو بدن سے ایک بار باہر نکال کر تجربہ کرو، یہ بات ہرگز معمولی نہیں، یہ تو روحانی قیامت اور منزلِ عزرائیلی ہی کا پرحکمت قصّہ ہے، ایک اور ارشاد میں یہ مفہوم ہے کہ کوئی بھی مومن جیتے جی اپنے امام سے واصل نہیں ہوسکتا، مگر مر جانے کے بعد، اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ جو مومن جیتے جی عارفانہ موت سے مر جاتا ہے وہ حظیرۂ قدس = احاطۂ نورِ امامِ مبین سے واصل ہو جاتا ہے۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
اتوار، ۲۳، دسمبر ۲۰۰۱ ء
۳۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲۲
سورۂ بروج (۸۵: ۲۱ تا ۲۲) میں ارشاد ہے: بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۔ ترجمہ: بلکہ وہ قرآنِ مجید ہے (بلند مرتبہ قرآن ہے) اُس لوح میں (نقش ہے) جو محفوظ ہے۔ رسولِ اکرمؐ کے علم وحکمت کا باب (دروازہ) کون تھا؟ جواب: مولا علیؑ۔ پس یہ مولا علیؑ ہی کا ارشاد ہے: انا اللوح المحفوظ یعنی میں لوحِ محفوظ ہوں (کوکبِ درّی) یقیناً آنحضرتؐ کا نور قلم اور علیؑ کا نور لوحِ محفوظ ہے۔ پس امامِ مبینؑ کا نور لوحِ محفوظ ہے جس میں قرآنِ مجید ثبت ہے۔
سورۂ ق (۵۰: ۰۱) میں ارشاد ہے: قٓ-وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ= قسم ہے قلم کی اور لوحِ محفوظ = قرآنِ مجید کی، یعنی نورِ محمدؐ اور نورِ علیؑ کی قسم ہے۔ اس کے بعد جو ارشاد ہے، وہ جوابِ قسم ہے، پس قرآن کی تاویلی حکمت محمدؐ و علیؑ کے نور کی اس معرفت میں ہے، جو حظیرۂ قدس کے خزانوں میں ہے۔
سورۂ طور (۵۲: ۰۱ تا ۰۷) میں ارشاد ہے: ترجمہ اور حکمت: قسم ہے طور (کوہِ عقل) کی اور کتابِ مسطور (یعنی ذرّاتِ لطیف پر لکھی ہوئی کتاب) کی اور بیت المعمور (آباد گھر) کی اور اونچی چھت (حظیرۂ قدس) کی اور بھرا ہوا سمندر (یعنی بحرِعلم جس پر عرشِ اعلیٰ ہوتا ہے) کی قسم ہے کہ تیرے ربّ کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے (یعنی روحانی قیامت جس کے ابتدائی مراحل میں سخت تکلیف ہے)۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر ۲۴، دسمبر ۲۰۰۱ ء
۳۵
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲۳
سورۂ بقرہ کے آغاز ہی (۰۲: ۰۱ تا ۰۲) میں ارشاد ہے: الٓمّٓ، ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ۔ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ۔ ترجمہ: وہ کتاب (ایسی ہے کہ)اُس میں کوئی شک ہی نہیں، (یعنی اُس میں یقین ہی یقین ہے) ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لئے۔
مولا علی علیہ السلام مؤوّلِ قرآن نے فرمایا: اَنَا ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ یعنی میں وہ کتابِ ناطق ہوں جس میں کوئی شک نہیں (۴۵: ۲۹) اس میں متقین کے لئے روشن ہدایت ہے۔
حضرتِ مولانا علی صلوات اللہ علیہ نے فرمایا: انا خازن علم اللہ۔ یعنی میں ہوں علمِ الٰہی کا خزانہ دار، یعنی قرآنِ حکیم کے علم و حکمت کا خزانہ میرے پاس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولا خزانہ بھی ہے اور خزانہ دار بھی ہے۔
اے عزیزان آپ جان و دل اور عشق و محبت سے مولا علی علیہ السّلام کے پرحکمت ارشادات کو پڑھیں اور مطالب کو یاد کریں، تا کہ قرآنی حکمت کے سمجھنے میں اس طریقِ کار سے مدد ملے، کیونکہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، قرآنِ عزیز بھی حکیم ہے، اور مولائے پاک بھی حکیم ہے۔
مولا علیؑ کے ارشادات کے لئے کوکبِ دری میں دیکھیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر ۲۴، دسمبر ۲۰۰۱ ء
۳۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲۴
سورۂ مطففین (۸۳: ۱۸ تا ۲۱) میں ارشاد ہے: وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ ترجمہ: ہرگز نہیں، بےشک نیک آدمیوں کا نامۂ اعمال عالی مرتبہ ہستیوں کے دفتر (کتاب) میں ہے اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ عالی مرتبہ ہستیوں کا دفتر؟ ایک لکھی ہوئی کتاب، جس کومقرّب لوگ چشمِ بصیرت سے دیکھ سکتے ہیں (یعنی وہ حظیرۂ قدس ہے) جو عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق، اساس، اور امامِ مبین کے انوار کی وحدت کا مقامِ اعلیٰ ہے، یہی حظیرۂ قدس ہے، جو عالمِ شخصی کی بہشت ہے، مقربین = عارفین، جس کا مشاہدہ کرکے کامل معرفت حاصل کرتے ہیں، یہ ہے حظیرۂ قدس کی ایک خاص تعریف، یہ فضل و کرم اللہ تعالیٰ ہی کا ہے وہ جسے چاہے عطا کرتا ہے۔
سوال: کیا روحانی قیامت کے شروع شروع میں تجربۂ عذاب بھی ہے؟ جواب: جی ہاں۔
سوال: ایسا کیوں ہے؟
جواب: اس میں بہت بڑی حکمت اور بہت بڑی مصلحت ہے، یہ بہت بڑی قربانی ہے، بہت ہی بڑی قربانی، اور باطنی شہادت بھی۔
۳۷
سورۂ مریم (۱۹: ۷۱) وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ۔
ترجمہ: تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے ربّ کا ذمہ ہے۔ (پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میں متّقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے)۔
عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق، اساس اور امامِ مبین کے انوار کی وحدت کا مقام، سبحان اللہ!
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
منگل ۲۵، دسمبر ۲۰۰۱ ء
۳۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲۵
عالمِ شخصی کی مذکورہ بہشت کائناتی بہشت کے ساتھ مربوط ہے، جس کو حاصل کرنے میں سبقت کا حکم دیا گیا ہے (۵۷: ۲۱) اور (۰۳: ۱۳۳) یہ عالمی اور کائناتی سبقت انتہائی مشکل عمل ہے، جس کی تفصیلات ہم بیان نہیں کر سکتے ہیں، الغرض جو متقی لوگ تمام شروط کے مطابق عالمِ شخصی اور کائناتی بہشت کے حصول میں سبقت کریں گے، تو جنّت بحقیقت انہی کو عطا ہوگی، تاہم سلاطینِ بہشت کی سلطنت لوگوں کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا سب لوگ بہشت میں داخل کئے جائیں گے، کیونکہ امامِ آلِ محمد علیٔ زمان امام المتقین بھی ہے اور امام الناس بھی، الحمد للہ ربّ العالمین۔
آپ قرآنِ حکیم میں سبقت کے مضمون کو اچھی طرح سے پڑھ لیں اور سابقون ہی مقرب لوگ ہوتے ہیں (۵۶: ۱۰ تا ۱۱) اس حکمت کو بھی سمجھ لیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
منگل ۲۵، دسمبر ۲۰۰۱ء
۳۹
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲۶
سورۂ نمل (۲۷: ۶۵ تا ۶۶) قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُؕ-وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ ﱄ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا-بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ۔
ترجمہ: ان سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا، اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کب مبعوث کئے جائیں گے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آخرت کے بارے میں ان کے علم کا خاتمہ ہوگیا ہے، بلکہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہیں، بلکہ سچ یہ ہے کہ اس سے یہ لوگ اندھے بنے ہوئے ہیں۔
اگر علمِ قیامت اور علمِ آخرت کسی بھی وسیلے سے ممکن الحصول نہ ہوتا تو یہاں بعض لوگوں پر یہ اعتراض نہ ہوتا مگر ظاہر ہے کہ یہ کام غیر ممکن نہیں بلکہ ممکن ہے، پس اہلِ دانش پر واجب ہے کہ وہ امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں عالمِ شخصی میں داخل ہوجانے کے لئے سخت ریاضت کریں تا کہ ان شاء اللہ نفسانی موت اور روحانی قیامت کا دروازہ ان کے لئے مفتوح ہوجائے اور قیامت و آخرت کا علم ان کو حاصل ہو۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ۲۶، دسمبر ۲۰۰۱ ء
۴۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲۷
قسط ۲۶ کو بار بار پڑھیں تا کہ آپ کو علم القیامت اور علم الآخرت کی اہمیت کی خبر ہو، قرآنِ پاک نے عمون (اندھے) کے لفظ میں باطنی اندھا پن کی مذّمت برائے مذّمت نہیں کی بلکہ یہ برائے عبرت و ہدایت ہے تا کہ عقل والے قرآنی حکمت سے فائدہ حاصل کریں، یہی مقصد ہر اُس آیت کا ہے، جس میں باطنی نابینائی کی مذّمت کی گئی ہے، جیسے سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۲) میں ارشاد ہے: وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا۔ ترجمہ: اور جو شخص اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام۔
قرآنِ حکیم طبیبِ لاہوتی کا شفا خانہ ہے جس میں عالمِ ناسوت کے ہر باطنی مریض کے لئے شفائے کلّی کا انتظام ہے لہٰذا ہر ہوشمند انسان کو قرآنی حکمت سے فائدہ اٹھانے کی سخت ضرورت ہے، جس طرح ظاہر میں اگر ایک بیماری کا بروقت علاج نہ کیا گیا تو دوسری بیماری بھی ہوسکتی ہے، یہی مثال باطن میں بھی ہے۔
اے عزیزان ذکر و عبادت، گریہ و زاری اور علم و حکمت ہی سے روحانی زندگی میسر ہوسکتی ہے، اللہ تعالیٰ سب کو نیک توفیق عطا فرمائے، آمین!
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ۲۶، دسمبر ۲۰۰۱ء
۴۱
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲۸
حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ (ح ق) صلوات اللہ علیہ کے پاک ارشادات میں ہے: جہاں (باطنی) دیدار ہے وہاں ہی بہشت ہے (کلامِ امامِ مبین حصۂ اول۔ منجیوڑی۔ ۲۵۔ ۱۲۔ ۱۸۹۳)۔
تم نورانی بدن کے لباس میں ملبوس ہوکر بہشت میں جاؤ گے (کلامِ امامِ مبین حصّۂ اوّل۔ منجیوڑی۔ ۲۸ ۔ ۱۲۔ ۱۸۹۳)۔
نورانی بدن = جسمِ لطیف = لبوس (۲۱: ۸۰) سرابیل (۱۶: ۸۱) جثۂ ابداعیہ۔ حدیثِ شریف ہے: روح المومن بعد الموت فی قالب کقالبہ فی الدنیا = مومن کی روح بعد از موت ایک قالب (نورانی بدن) میں رکھی جاتی ہے جو اُسی صورت کا ہوتا ہے جیسے دنیا میں اس کا قالب (بدن) تھا صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں قالب کثیف تھا، مگر یہ جدید بدن لطیف اور نورانی ہوتا ہے (ہزار حکمت، قالب، ح: ۶۷۲)۔
سوال: جو مومن جیتے جی مرکر زندہ ہو جاتا ہے، اس کی روح جسمِ لطیف میں ہوتی ہے یا جسمِ کثیف میں؟ جواب: دونوں میں ہوتی ہے، یعنی بہشت میں بھی ہوتی ہے اور دنیا میں بھی، الحمد للہ ربّ العالمین۔
ن۔ ن۔ (حّبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات ۲۷ دسمبر ۲۰۰۱ء
۴۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۲۹
سورۂ رعد (۱۳: ۱۲) میں ارشاد ہے:
هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ ۔ ترجمہ: وہی ہے جو تمہیں برق (جثۂ ابداعیہ = نورانی بدن) دکھاتا ہے، جس سے تم ڈرتے بھی ہو، اور تم کو طمع بھی ہوتی ہے (کہ تم اس میں منتقل ہو جاؤ) وہی ہے جو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے۔
آفاق و انفس کے معجزات ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی، اور جتنے ظاہری ہیں ان میں سب سے زبردست معجزہ برقی بدن = نورانی بدن = جثۂ ابداعیہ ہے، جی ہاں عارف کے لئے یہاں بھی جیتے جی ایک پرحکمت موت ہے، مگر منزلِ عزرائیلی کی موت کی طرح نہیں، بلکہ یہ صرف ایک خوف یا رعب کی کیفیت میں ہے، کیونکہ یہ امامِ زمان کا نورانی دیدار ہے۔
حدیثِ شریف کے حوالے سے بار بار اس حقیقت کا ذکر ہوچکا ہے، کہ قرآن حکیم کی ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن، اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ قرآنِ پاک کے ہر قصّے کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے، اور یقیناً قصّۂ موسیٰؑ بھی اسی قانونِ ظاہر و باطن کے مطابق ہے، اور آیت کے باطن سے تاویلی حکمت مراد ہے، اب آپ کو ایک سچے عاشقِ مولا کی حیثیت سے اس بات کا پختہ یقین آئے گا کہ قرآنِ حکیم
۴۳
کی تاویل حضرت مولانا علی صلوات اللہ علیہ کے پاک ارشادات سے شروع ہوکر سلسلۂ نورِ امامت کے ساتھ ساتھ جاری و ساری ہے، کیونکہ یہ بات قانونِ رحمتِ الٰہی سے بعید ہے کہ دنیا میں قرآن بھی ہو اور سلسلۂ نور بھی ہو مگر قرآنی حکمت غائب ہو جائے یہ بات ہرگز نہیں ہے بلکہ جس طرح دنیا میں اللہ کی کتاب اور اللہ کا نور موجود ہے اسی طرح قرآن کی حکمت بھی عاشقوں کو حاصل ہوتی رہتی ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ ۲۸ ، دسمبر ۲۰۰۱ء
۴۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳۰
ان للقرآن ظھرا و بطنا و لبطنہ بطنا الی سبعۃ ابطن۔ ترجمہ: یقیناً قرآن کا ایک ظاہر ہے، اور ایک باطن، اور باطن کا بھی باطن ہے سات بواطن تک (کتابِ احادیثِ مثنوی از بدیع الزمان فروزانفر استادِ دانشگاہِ تہران)۔
سورۂ بقرہ (۰۲: ۵۵ تا ۵۶) میں خوب غور سے دیکھیں، یہ لوگ حدودِ دین یا صفِ اوّل کے مومنین تھے لہٰذا یہ جیتے جی معجزاتی موت سے مرکر زندہ ہوگئے تھے اور یہ مظہرِ نورِ خدا = امامِ مبین کا معجزہ تھا، حصولِ معرفت کی غرض سے جس کو دیکھنا ضروری ہے، اور یہ حقیقت و انتم تنظرون (اور تم دیکھتے تھے) سے ظاہر ہوجاتی ہے، اگر ان کی موت عرفانی نہ ہوتی، ظاہری اور جسمانی ہوتی، تو وہ کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے، کیونکہ حادثاتی موت میں آدمی کے دل و دماغ کا چراغ فوراً ہی گل ہو جاتا ہے، جیسے منزلِ عزرائیلی میں مومن کی روح بار بار قبض کی جاتی ہے مگر سالک بے ہوش نہیں ہوتا، بلکہ وہ حضرتِ عزرائیل کے ذکرِ اسمِ اعظم کو اور حضرتِ اسرافیل کی آوازِ صور کو نیز عالمِ ذرّ کی تسبیحات کو سنتا رہتا ہے، اور یہ بھی دیکھ رہا ہوتا ہے کہ روح کائنات میں پھیلائی جا رہی ہے، وغیرہ، حالانکہ اس کی روح کا صرف نچلا سرا دماغ میں باقی
۴۵
رہ کر اس کے لئے شعور کا کام کر رہا ہوتا ہے، تو یہ بڑی عجیب بات ہے کہ یہاں بھی حیات و ممات کا ایک سنگم ہے، جس میں بھید ہی بھید ہیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ ۲۸، دسمبر ۲۰۰۱ء
۴۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳۱
یہ حدیثِ شریف، گنجینۂ جواہرِ احادیث، ص ۶۶ پر ہے، ان فاطمۃ و علیا و الحسن و الحسین فی حظیرۃ القدس فی قبۃ بیضاء سقفھا عرش الرحمان۔
ترجمہ: یقیناً فاطمہ اور علی اور حسن و حسین علیہم السلام حظیرۂ قدس = جنّت کے ایک ایسے سفید قبہ (گنبد) میں ہوں گے جس کی چھت عرشِ رحمان ہے۔
ہم مذکورہ کتابِ مستطاب کے ترجمۂ اردو کے لئے بھی درخواست کرتے ہیں، اس ایمان افروز اور روح پرور کتاب کے ص ۲ پر صاحب جوامع الکلم کا یہ ارشادِ مبارک بھی ہے: یا علی انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی = اے علیؑ مجھ سے تم کو وہ نورانی منزلت حاصل ہے، جو موسیٰؑ سے ہارونؑ کو حاصل تھی، مگر یہ ہے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے۔ اس حکمتِ بالغہ کی رو سے حضرتِ امام ہارونؑ وزیرِ موسیٰؑ کے تمام ظاہری و باطنی اوصاف و کمالات مولا علیؑ سے بھی متعلق ہو جاتے ہیں۔
قرآنِ حکیم میں ۱۲۶ دفعہ حضرتِ موسیٰؑ کا نام ہے اور ۲۰ دفعہ حضرتِ مولانا
۴۷
ہارونؑ کا نام ہے، پس اسمِ موسیٰؑ اور اسمِ ہارونؑ محمدؐ و علیؑ کے نور کی آئینہ داری کرتے ہیں اور ہر دانا مومن کو حکمت کے اس عجیب و غریب پل کو عبور کرکے علم و حکمت کے عجائب و غرائب کا نظارہ کرنا چاہئے، ہم ان شاء اللہ اس پُرحکمت عمل کی کوئی مثال پیش کریں گے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر، ۲۹، دسمبر ۲۰۰۱ ء
۴۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳۲
سورۂ انبیاء (۲۱: ۴۸) میں ارشاد ہے:
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَ۔ ترجمہ: پہلے ہم موسیٰ اور ہارون کو فرقان = معجزہ = توراۃ اور نور، اور ذکر = اسمِ اعظم عطا کر چکے ہیں۔
سید الانبیاء و المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشادِ مبارک کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس آیۂ کریمہ میں کئی عظیم اساسی حکمتیں ہیں، یعنی موسیٰؑ اور ہارونؑ رسولِ اکرمؐ اور مولا علیؑ کی مثال ہیں، اور متّقی لوگ وہاں بھی ہیں اور یہاں بھی، اور عجیب و غریب حکمت تو یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ پیغمبر اور امام کو جو فرقان = معجزہ، نور، اور ذکر = اسمِ اعظم عطا فرماتا ہے، وہ متقین کے لئے ہے۔
پس ہر مومن کی دانائی اس بات میں ہے، کہ وہ موسیٰؑ اور ہارونؑ کے قصّے میں محمدؐ و علیؑ کے اسرار کے لئے تلاش کرے، ان شاء اللہ کامیابی ہوگی، اور حدیثِ مماثلتِ ہارونی کا مقصد یہی ہے، اور یہاں یہ سوال ہونا چاہئے کہ حدیثِ منزلت میں جس طرح لفظِ منزلت آیا ہے، اس کا اشارۂ حکمت کیا ہے؟ جواب: منزلت دراصل منزل سے ہے، یعنی جائے
۴۹
نزول یا اترنے کی جگہ، کیونکہ اللہ سے جو وحی موسیٰؑ پر نازل ہوتی تھی، اس کی روحانی اور نورانی تاویل براہِ راست یا بالواسطہ ہارونؑ پر نازل ہوتی تھی، لہٰذا موسیٰؑ سے ہارونؑ کو نورانی تاویل کی منزلت حاصل تھی، اور بحکمِ حدیثِ نبوی نورانی تاویل کی یہی منزلت آنحضرتؐ سے مولا علیؑ کو حاصل تھی، اسی نورانی تاویل کے حامل ہونے کے معنی میں مولا علیؑ قرآنِ ناطق = نور برائے کتاب (۰۵: ۱۵) اور صاحبِ تاویل ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر ۲۹، دسمبر ۲۰۰۱ ء
۵۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳۳
سوال: کیا آپ ذوالقرنین کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟
جواب: ان شاءاللہ، میں امامِ آلِ محمد صلوات اللہ علیہ کی یاری سے چند حکمتیں بیان کر سکتا ہوں، اوّل یہ ہے کہ ذوالقرنین دنیا کا کوئی بادشاہ ہرگز نہیں بلکہ یہ حضرتِ امام علیہ السّلام ہی ہے، جیسے مولا علیؑ قرآنِ ناطق نے فرمایا: انا ذوالقرنین۔ یعنی میں ذوالقرنین ہوں (کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت۔ ۴) ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا، اس سے ناقور مراد ہے جو آواز کے دو حصوں پر مبنی ہے چونکہ دین کی ہر بڑی چیز دو دریاؤں کے سنگم کے اصول پر ہے، لہٰذا صورِ قیامت بھی اسی طرح سے ہے، پس ذوالقرنین سے صاحبِ صورِ قیامت = امام مراد ہے، ذوالقرنین کا سفر عالمِ شخصی میں تھا مگر وہ اکیلا نہ تھا، بلکہ کسی مومنِ سالک = عارف کی رہنمائی فرما رہا تھا۔
قصّۂ ذوالقرنین کے آغاز (۱۸: ۸۴) میں ارشاد ہے: اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًا۔
ترجمہ: ہم نے اس کو زمینِ عالمِ شخصی میں اقتدار عطا کر رکھا تھا، اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل بخشے تھے یہ یقیناً کلّیۂ امامِ مبین کی ایک
۵۱
تفسیر ہے نہ کہ یہ کسی دنیوی بادشاہ کی تعریف ہے۔
پس ذوالقرنین یعنی حضرتِ امام علیہ السّلام نے سالک = عارف کو حظیرۂ قدس تک رہنمائی فرمائی اور اسی مقام پر منزلِ مقصود تھی، چونکہ یہاں اسرار ہی اسرار بھی ہیں اور حجابات ہی حجابات بھی اس لئے فرمایا گیا کہ وہ پہلے مغرب میں گیا اور دیکھا کہ سورج ایک کالے پانی میں غروب ہوتا تھا، یہ سخت حجاب اور زبردست امتحان نہیں تو اور پھر کیا ہے؟
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی)ہونزائی (ایس۔ آئی)
اتوار ۳۰، دسمبر ۲۰۰۱ء
۵۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳۴
المستدرک جلدِ سوم ص ۱۳۳ پر یہ حدیثِ شریف ہے، رسولِ پاک نے فرمایا: یا علی ان لک کنزاً فی الجنۃ و انک ذوقرنیھا ۔ ترجمہ: اے علی تمہارے لئے جنّت میں ایک (عظیم) خزانہ ہے، اور یقیناً تم اس (جنّت) کا ذوالقرنین ہو۔ یہ کنز حظیرۂ قدس = جنّت = کلّیۂ امامِ مبین (۳۶: ۱۲) کا خزانہ ہے۔
قصّۂ ذوالقرنین میں جس مغرب و مشرق کا ذکر ہے وہ سیّارۂ زمین کے شرق و غرب نہیں ہیں، وہ تو حظیرۂ قدس، یعنی عالمِ شخصی کی جنّت ہے جس میں ایک ہی مقام مشرق و مغرب بھی ہے اور جمع و واحد بھی ہے، وہاں دنیا کا سورج ہرگز نہیں بلکہ وہ نورِ ازل ہی ہے جس میں ہر ہر روشن چیز کی نمائندگی ہے یعنی وہ شمس بھی ہے، قمر بھی ، نجم بھی ہے، انجم بھی، نور بھی ہے، انوار بھی، اور اس کے صد ہا اسماء ہیں، الغرض ذوالقرنین سے امامِ مبین مراد ہے، اور ذوالقرنین کا مطلب صاحبِ ناقور ہے۔
ناقور یا صورِ قیامت کے بارے میں ایک اعرابی نے آنحضورؐ سے پوچھا کہ یا حضرت صور کیا چیز ہے؟ رسولِ پاک نے فرمایا کہ وہ ایک قرن (سینگ) ہے یعنی وہ سینگ جس میں پھونکنے سے ایک زوردار آواز نکلتی
۵۳
ہے، قرآن (۳۹: ۶۸) میں دیکھیں کہ صور دو دفعہ پھونکا جاتا ہے، پس یہ گویا دو قرن (قرنین) دو سینگ ہیں، میں نے قرآنِ حکیم کے حوالے سے ہر خاص اور عظیم چیز کے سنگم کا بار بار ذکر کیا ہے، کیونکہ ذاتِ سبحان کے سوا ہر چیز کا جوڑا ہوتا ہے (۳۶: ۳۶)۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
اتوار ۳۰، دسمبر ۲۰۰۱ء
۵۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳۵
کتابِ کوکبِ درّی، بابِ سوم، منقبت ۸۱ میں حضرتِ امیر المومنین علی قرآنِ ناطق علیہ السلام کا ارشادِ مبارک ہے: انا ذوالقرنین ہٰذہ الامۃ، یعنی میں اس امت کا ذوالقرنین ہوں۔ انا الذی انفخ فی الناقور، یعنی میں وہ شخص ہوں کہ روحانی اور عرفانی قیامت کو برپا کرتے وقت صور پھونکتا ہوں اور عالمِ شخصی کی مخفی روحانی قیامت برپا کرتا ہوں (منقبت ۸۲)۔
مذکورہ کتاب کے بابِ دوم ، منقبت ۶۷ میں ارشادِ رسولِ اکرم صلعم ہے: یایھا الناس ان منکم من یقاتل عَلیٰ تاویل القرآن کما قاتلت عَلیٰ تنزیلہ فقلنا من ھو یا رسول اللہ، فقال ذاک خاصف النعل۔
ترجمہ: اے لوگو! تم میں سے ایک شخص ہے کہ وہ تاویلِ قرآن پر جنگ کرے گا، جیسا کہ میں نے تنزیلِ قرآن پر جنگ کی ہے۔
سوال: قرآنی تاویل پر علیٔ زمانؑ کس طرح جنگ کرتا ہے، اس کی کوئی خاص مثال کیا ہے؟ جواب: زمانے کا امام علیہ السّلام بحکمِ خدا (۱۷: ۷۱) اپنے حدودِ دین کے عالمِ شخصی میں ایک مخفی روحانی قیامت
۵۵
قائم کرتا ہے، یہ روحانی قیامت بھی ہے، تاویلِ قرآن کی جنگ برائے دعوتِ اسلام بھی ہے، اب سب لوگ اس تاویلی جنگ = قیامت کی زبردستی سے دینِ حق میں داخل ہو جاتے ہیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر ۳۱ دسمبر ۲۰۰۱ ء
۵۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳۶
سنّتِ الٰہی میں تبدیلی ہرگز ہرگز نہیں، ہاں اس میں مسلسل تجدّد ہے، چنانچہ کاملین و عارفین کے لئے مخفی روحانی قیامت کا تجدّد اللہ کی سنّت ہے، کیونکہ علم و حکمت اور معرفت کے تمام انمول خزانے حجاباتِ قیامت ہی کے پیچھے پوشیدہ ہیں، لہٰذا مخفی روحانی قیامت کا قیام ہر امامِ حق کے زمانے میں بے حد ضروری ہے، جیسا کہ حکیم پیر ناصر خسرو کے دیوان میں ہے:
ھو الاوّل ، ھو الآخر، ھو الظّاہر، ھو الباطن
منزّہ مالک الملکی کہ بے پایان حشر دارد
ترجمہ: وہی اوّلین سے اوّل ہے، آخرین سے آخر ہے، وہی سب سے آشکار ہے، اور سب سے باطن ہے، وہ ہر چیز سے پاک اور پادشاہی کا ایسا مالک ہے، کہ اس کی پادشاہی میں بے پایان قیامات ہیں۔
بے پایان حشر کا مطلب ہے کہ سلسلۂ قیامات کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ ہی کوئی انتہا، اس کے معنی یہ ہوئے کہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں قیامت کے برپا ہونے کا ذکر ہے وہ دراصل قیامت کے تجدّد کا ذکر ہے اور یہ نکتۂ دل پذیر خوب یاد رہے کہ نزولِ قرآن کے بعد جب بھی کسی کامل یا
۵۷
عارف پر روحانی قیامت آئی تو وہ تاویلِ قرآن کی صورت میں آئی، کیونکہ قیامت کا سب سے عظیم اور ہمہ رس اور ہمہ گیر فائدہ قرآنی تاویل ہے، اور یہ حظیرۂ قدس میں جمع ہے، الحمد للہ۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
منگل، یکم جنوری ۲۰۰۲ء
۵۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳۷
قرآنِ حکیم کی تاویل، مخفی روحانی قیامت کی صورت میں آتی ہے، سورۂ اعراف (۰۷: ۵۲ تا ۵۳)۔
اللہ تعالیٰ نے حضرتِ یوسف علیہ السّلام کو علمِ تاویل سکھانے کے لئے منتخب کیا تھا، (۱۲: ۰۶) حضرتِ یوسفؑ امامِ مستودع کو علمِ تاویل عالمِ شخصی اور حظیرۂ قدس میں عطا ہوا تھا (۱۲: ۲۱)۔
اللہ تعالیٰ کا ارشادِ پاک ہے: فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا۔ ترجمہ: ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملکِ عظیم بخش دیا، یعنی عظیم روحانی سلطنت۔ (۰۴: ۵۴)۔
پس جب تک دنیا میں قرآن اور حکمت ہے تب تک آلِ ابراہیم = آلِ محمد کی روحانی سلطنت (امامت) بھی جاری اور باقی ہے، پس قصّۂ یوسفؑ میں ملک (بادشاہ) سے امامِ مستقر مراد ہے ، مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ ظاہراً مصر ہی میں موجود ہو، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جملہ قرآن میں لفظِ ملک خدا کے بعد صرف حضرتِ امامؑ ہی کے لئے آیا ہے، اور مذکورہ آیۂ کریمہ کا یہی فیصلہ ہے۔
۵۹
کتاب ہزار حکمت میں لفظِ تاویل کو دیکھیں: از حکمت ۱۸۴ تا ۲۰۴ یعنی ۲۱ حکمتیں۔
آلِ ابراہیم سے متعلق ایک مختصر اور جامع بیان ہزار حکمت (ح: ۵) میں بھی دیکھ لیں، اور کتابِ دعائم عربی جلدِ اوّل ص ۲۱ پر بھی، بلکہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ آپ دعائم میں سے کتاب الولایۃ کو خوب غور سے پڑھیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ، ۲، جنوری ۲۰۰۲ء
۶۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳۸
امیر المومنین علی ابنِ ابی طالب علیہ السّلام سے یہ روایت منقول ہے آپ فرماتے ہیں کہ جب آیتِ کریمہ: وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ (۲۶: ۲۱۴) ترجمہ: اور آپ اپنے قریب ترین کنبہ والوں کو ڈرائیے، نازل ہوئی تو آنحضرت صلعم نے ایک پیالہ دودھ اور بکری کی ایک ران دسترخوان پر رکھ کر خاندانِ بنی عبد المطلب کو جمع کیا جو چالیس مردوں پر مشتمل تھا، مگر دس نوجوان تو ایسے تھے کہ ان میں سے ہر ایک، میمنہ اکیلا ہی کھا سکتا تھا اور ایک مشک دودھ پی سکتا تھا، پھر بھی ان لوگوں نے خوب پیٹ بھر کر کھایا پیا، اس روز ابولہب بھی ان کے ساتھ تھا، جب خورد و نوش سے فارغ ہوچکے تو رسولِ اکرم صلعم نے ان سب سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ اے بنی عبد المطلب! میری اطاعت کرو تو تم سب زمین کے بادشاہ اور حکمران بن جاؤگے، اور میں تم سے پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اب تک پروردگارِعالم نے دنیا میں جتنے پیغمبر بھیجے ہیں ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک وصی اور وزیر بھائی اور وارث اور ولی مقرر فرمایا تھا تو آج تم میں کون ایسا جوان مرد ہے جو میرا وارث میرا ولی میرا بھائی اور میرا وزیر بنے گا؟ اتنا سننا تھا کہ سب پر خاموشی چھا گئی، مگر آنحضرت صلعم نے اتمامِ حجّت کے طور پر ان میں سے ایک ایک کے سامنے
۶۱
فرداً فرداً یہ دعوت پیش کی لیکن کسی نے آپ کی اس دعوت کو قبول نہ کیا الا آنکہ میں باقی رہ گیا تھا اس وقت میں سب سے کمسن تھا مگر جب رسول اللہ صلعم نے میرے سامنے اپنی یہ دعوت پیش کی تو میں نے مؤدّبانہ عرض کیا کہ اے پیغمبرِ خدا میں آپ کا وصی، وزیر، بھائی، وارث اور ولی بنوں گا آپ نے فرمایا کہ ہاں ! اے علی تمہیں میرے وصی میرے وزیر میرے بھائی اور میرے ولی ہو۔
جب بنی عبد المطلب مجلس سے باہر نکلے تو ابولہب نے ان سے کہا کہ تم نے آج جو کچھ دیکھا ہے کیا اس سے تم کو اپنے صاحب محمدؐ کی جادوگری کا ثبوت نہیں ملتا کہ اس نے تمہارے سامنے دستر خوان پر بکری کی ران رکھی اور دودھ کا ایک پیالہ جس سے تم لوگ خوب شکم سیر ہوگئے، پھر کیا تھا وہ سب کے سب ابولہب کی اس بات کو سن کر ٹھٹھا کرنے لگے اور حضرتِ ابوطالب سے کہنے لگے کہ تمہارا بیٹا تم پر مقدم ہوگیا۔ از کتابِ دعائم الاسلام حصّۂ اوّل ص ۳۱ تا ۳۲۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
جمعرات ۳، جنوری ۲۰۰۲ء
۶۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۳۹
قسط ۳۸ میں حدیثِ بنی عبد المطلب کا ذکر ہوا، کیا یہ حدیثِ شریف دین کی حقیقی بنیاد کا حصہ نہیں ہے؟ جواب: کیوں نہیں، یہ تو عاشقانِ نور کے لئے ایک ایسا چراغِ ہدایت ہے جو کبھی بجھنے والا نہیں ہے، سبحان اللہ! صاحبِ جوامع الکلم کی تعریف و توصیف خدا کے سوا کوئی نہیں کر سکتا، اللہ ہمیں اپنے محبوب رسول صلعم کے کلامِ حکمت نظام سے اور زیادہ حیرت اور عشق نصیب کرے!
اس حدیثِ شریف میں دینِ حق کی اساسی حقیقتیں اپنی جگہ پر ہیں، ساتھ ہی ساتھ یہ ذکر بھی ہے کہ حقیقی اطاعت کے انعام میں بہشت کی بادشاہی ملتی ہے، جس کے بارے میں کئی مقالے لکھے گئے ہیں۔
حقیقی مومنین سے اللہ تعالیٰ نے عالمِ شخصی میں یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا، جس طرح اگلے لوگوں کو خلیفہ بنا چکا ہے (۲۴: ۵۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو کثیف سے لطیف بنائے گا، یعنی وہ جثّۂ ابداعیہ میں کائناتی بہشت کے بادشاہوں میں سے ہوں گے، جثّۂ ابداعیہ کو کائناتی بہشت کی سلطنت حاصل ہے، وہ تمام سیّاروں، ستاروں ، اور فضاؤوں کی سیاحت کرسکتا ہے، ساتھ ہی ساتھ اس کا
۶۳
تعلق عالمِ روحانی سے بھی ہے جس کی بہت بڑی اہمیت ہے، اور اصل بہشت تو وہی ہے، اور مضمونِ خلافت میں آپ (۰۶: ۱۶۵) کو ہرگز فراموش نہ کریں، اس میں آپ کو بڑی بشارت اور مبارکبادی ہے۔ آمین آمین !!
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ ۴، جنوری ۲۰۰۲ء
۶۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴۰
اے برادران و خواہرانِ روحانی! قرآن اور امامِ مبین کے تمام اسرار کا سب سے عظیم خزانہ عالمِ شخصی ہی میں مخفی ہے، اگر آپ عالی ہمت اور عاشقِ صادق ہیں تو امامِ زمان صلوات اللہ علیہ عالمِ شخصی کی رہنمائی کرسکتا ہے، سب سے پہلے امامِ مبین نے بذریعۂ اسمِ اعظم آدم کو عالمِ شخصی میں پہنچا دیا تھا۔
ہر مخفی روحانی قیامت میں کاملین اور عارفین کو امامِ زمان (روحی فداہ) حظیرۂ قدس کی منزلِ مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔
اگر تم کثرتِ ذکرِ اکبر کے زیرِ اثر مخفی روحانی قیامت کے آغاز ہی میں مرتے ہو تو یہ تمہاری روح کی موت ہرگز نہیں، بلکہ نفس ہی کی موت ہے، جس کی وجہ سے تم کو ذات و کائنات کی کلّی فتح حاصل ہوئی، اب تم شکرگزاری میں گریہ و زاری کرتے رہو، کہ اللہ و رسول کا ہر وعدہ تمہارے حق میں پورا ہوا، اب ناشکری سے ڈرتے رہو۔
سوال: آلِ ابراہیم اور آلِ محمد کی عظیم سلطنت (۰۴: ۵۴) اور بہشت کی ملکِ کبیر (بڑی بادشاہی) (۷۶: ۲۰) میں کیا فرق ہے؟ جواب: عظیم اور کبیر کے ایک ہی معنی ہیں، لہٰذا یہ حضرتِ امامؑ کی ایک ہی بہت بڑی بادشاہی،
۶۵
بلکہ شاہنشاہی ہے۔
جب حضرتِ موسیٰؑ اور حضرتِ ہارونؑ کے خاص مومنین کو خدائے مہربان نے ملوک = سلاطین بنایا (۰۵: ۲۰) تو اپنے محبوب رسول صلعم اور آپ کے وارث (امام) کے حقیقی مومنین کو بھی بہشت کے سلاطین بنا سکتا ہے، اور اس حقیقت میں اہلِ دانش کو کوئی شک ہی نہیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر ۵، جنوری ۲۰۰۲ ء
۶۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴۱
انبیا و اولیا علیہم السّلام اور ان کے حدودِ جسمانی کے عالمِ شخصی میں سنّتِ الٰہی کا تجدّد ہوتا ہے، یہاں یہ راز یاد رہے کہ باطنی اور اصولی معجزات سنّتِ الٰہی کے مطابق یکسان ہوا کرتے ہیں، چنانچہ حضرتِ عیسیٰؑ کے معجزات کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن، مثال کے طور پر آیت (۰۳: ۴۹) اور (۰۵: ۱۱۰) کو پڑھیں، حضرتِ عیسیٰؑ مٹی کے گارے سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا تھا اور اس میں پھونک مارتا تو وہ خدا کے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا، اس کی ایک عظیم الشّان تاویل ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب حدودِ جسمانی میں مخفی روحانی قیامت قائم ہوتی ہے تو اس وقت دنیا بھر کے لوگوں کی ارواح حاضر ہوتی ہیں، یہ منزلِ اسرافیلی اور عزرائیلی کا قصّہ ہے، جس میں کسی مومن پر سخت روحانی قیامت گزرتی ہے، اس کی روح بار بار قبض کرکے واپس بدن میں ڈال دی جاتی ہے، ایسی حالت میں صاحبِ قیامت بحکمِ خدا ستر ہزار ایماندار روحوں کو فرشتے بناتا ہے، مٹی کی تاویل مومن ہے، اور مٹی سے پرندہ بنانے کی تاویل ہے، مومن سے فرشتہ بنانا۔
بخاری جلدِ سوم باب ۸۵۶ میں یہ حدیثِ شریف ہے: یدخل الجنۃ سبعون الفا بغیر حساب ۔ ترجمہ: جنّت میں ستر ہزار بلا حساب داخل ہوں گے۔ البتہ یہی ستر ہزار فرشتے ہیں جو حظیرۂ قدس کے بیت المعمور کی ایک بار زیارت کرتے ہیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر ۵ جنوری ۲۰۰۲ء
۶۷
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴۲
ستر ہزار فرشتوں کا ذکر ہوا، وہ جس قیامت گاہ = عالمِ شخصی سے مرفوع ہوئے ہیں، یعنی بلند کئے گئے ہیں، اسی کی کاپیاں اور کائناتیں ہیں، اعنی ہر فرشتہ ایک کائناتی بہشت، اور ایک خلافت = سلطنت ہے، جس کا وعدہ قرآنِ پاک میں موجود ہے (۰۶: ۱۶۵) اور (۲۴: ۵۵)۔
حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (۰۳: ۲۷)۔ ترجمہ: اور تو جس کو چاہتا ہے قیامت کا حساب لئے بغیر بہشت کا بے شمار رزق عطا کرتا ہے۔ یہ ستر ہزار حقیقی مومنین و مومنات ہیں جو نہ صرف حساب کے بغیر بہشت میں داخل ہوئے، بلکہ اللہ نے ہر ایک کو ایک فرشتہ اور ایک زندہ کائناتی بہشت بنایا، اور اس میں ایک دینی خلافت و سلطنت قائم کی تا کہ اس میں علم و حکمت اور معرفت کی نعمتوں کی فراوانی ہو، الحمد للہ علی منہ و احسانہ۔
یہ حقائق و معارف اپنی اپنی جگہ پر بدرجۂ اعلیٰ یقینی ہیں، تاہم بحکمِ الخلق عیال اللہ سب لوگ بہشت میں جائیں گے کیونکہ بہشت کی سلطنتیں لوگوں کے مختلف درجات پر قائم ہوتی ہیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
اتوار ۶ جنوری ۲۰۰۲ء
۶۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴۳
حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ نے جو معجزات دیئے تھے ان کا ذکر قرآنِ حکیم کے دو مقام پر ہے: (۰۳: ۴۹) اور (۰۵: ۱۱۰) ان معجزات میں اساسی معجزہ یہ ہے کہ حضرتِ عیسیٰ اسمِ اعظم کا ایک جسمانی ظہور تھا، کیونکہ آپ کی والدہ مریم صدیقہ سلام اللہ علیہا کو اسمِ اعظم عطا ہوا تھا اور وہ لفظ کلمۃ ہے (۰۳: ۴۵) اور (۰۴: ۱۷۱) اور آپ کو یقین ہے کہ امامِ زمان خود ہی اللہ تعالیٰ کا زندہ اسمِ اعظم ہے، اور جب امامِ مبین میں خدا کی ہر ہر چیز محدود ہے، تو پھر پیغمبروں کے معجزات کیوں کر امامِ مبین سے باہر ہوسکتے ہیں، پس آئیے ہم امامِ زمانؑ کی نورانی معرفت کی روشنی میں حضرتِ عیسیٰؑ کے معجزات کی تاویلِ باطن کو دیکھتے ہیں، آپ نے گہوارے میں لوگوں سے کلام کیا، اس کی تاویل یہ ہے کہ جب مومنِ سالک کی روحانی قیامت کا آغاز ہوتا ہے تو امامِ زمانؑ کا نور طفلِ نو مولود کی آواز میں کلام کرتا ہے۔
قرآن (۰۲: ۲۶) میں یہ معجزہ بعوضہ کی مثال ہے، مولا علی علیہ السّلام نے فرمایا: وہ بعوضہ میں ہوں۔ کوکبِ درّی، بابِ سوم، منقبت ۶۴۔
یہاں نور کی یہ آواز برائے امتحان مچھر کی آواز کی طرح ہے یا کان بجنے کی آواز کی طرح ہے، نیز یہ ناقورِ قیامت کی بنیاد بھی ہے، اور مولا علیؑ خود
۶۹
ناقور ہے، منقبت ۵۶۔ اور امامِ زمانؑ کا یہ سمعی نور جو کان بجنے کے حجاب میں ہے وہ فرشتہ بھی ہے جو ایک جنّ کے خلاف مقرر ہے۔
حضرتِ عیسیٰؑ کے دوسرے معجزات کی تاویل ان شاء اللہ قسط ۴۴ میں بیان کریں گے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر ۷، جنوری ۲۰۰۲ء
۷۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴۴
حضرتِ عیسیٰؑ خدا کے حکم سے مادر زاد اندھوں کو بینائی عطا کرتے تھے، یہاں یہ سوال ہے کہ آیا باطن میں بھی مادرزاد اندھے ہوتے ہیں؟ جواب: جی ہاں بہت زیادہ بلکہ بے شمار، کیونکہ جو حضرات نورٌعلیٰ نور ہیں وہ تو اس بحث سے بالاتر ہیں باقی سب لوگ چشمِ باطن کے بغیر پیدا ہوتے ہیں، اس سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آئی کہ حضرتِ عیسیٰؑ کے اس معجزے کی تاویل ہے، اور وہ یہ ہے کہ آپ باطنی اندھوں کا علاج کرتے تھے اور خدا کے اذن سے ان کی چشمِ باطن روشن ہوتی تھی، آپ مردوں کو زندہ کرتے تھے، مردے دو قسم کے ہوتے ہیں، جسمانی مردے ، اور غفلت و جہالت کے مردے۔
انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ وہ غافلوں اور جاہلوں میں علم و حکمت کی روح پھونک کر حقیقی معنوں میں زندہ کرتے ہیں، پس حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم تاویلِ باطن کو دیکھتے ہیں تو حضرتِ عیسیٰؑ نے کوئی انوکھا معجزہ نہیں کیا بلکہ ہر پیغمبر اور ہر امام کے باطنی معجزات کی نشاندہی ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔
سوال: ابنِ مریم کوڑھی = جذامی کو بھی شفایاب کرتے تھے، اس کی
۷۱
کیا تاویل ہے؟ جواب: روحانی سفر میں ذرا آگے چلنے کے بعد ایک آزمائشی روشنی آتی ہے جو غیر مفید ہے، اس کو چھوڑ کر آگے جانا چاہئے، لیکن ہادیٔ برحق کی مدد کے بغیر یہاں سے نکل کر آگے جانا غیر ممکن ہے، لہٰذا بہت سے لوگ وہاں سے ناکام ہوکر واپس ہوجاتے ہیں، مگر جس کو ہادیٔ برحق کی رہنمائی حاصل ہوئی وہ آگے سے آگے جاتا ہے اور رفتہ رفتہ حظیرۂ قدس کی منزلِ مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
پیر ۷، جنوری ۲۰۰۲ء
۷۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴۵
سورۂ مائدہ (۰۵: ۱۱۲ تا ۱۱۵) کے حوالے سے مائدہ (خوانِ آسمانی) کی کیا تاویل ہے؟ جواب: اسمِ اعظم کے نتائج و ثمرات = علمی و عرفانی معجزات اور حظیرۂ قدس کا مشاہدہ۔
سوال: آیا یہ معجزہ صرف حضرتِ عیسیٰؑ اور اس کے شاگردوں (حواریوں) کے لئے مخصوص تھا؟ جواب: نہیں نہیں یہ تو امامِ مبین علیہ السّلام کا باطنی معجزہ ہے، جس سے ہر زمانے کے عارفین و سالکین فائدہ حاصل کرسکتے ہیں، اور حدودِ دین کے وسیلے سے اس معجزۂ علمی کا دائرۂ برکات وسیع تر ہوسکتا ہے۔
حضرتِ عیسیٰؑ نے حواریوں کی درخواست پر ربّ العزّت کے حضور میں یوں دعا کی:
اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَۚ-وَارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ (۰۵: ۱۱۴)۔
ترجمہ: خدایا، ہمارے ربّ، ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر جو، ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے عید (خوشی کا موقع) ہو، اور تیری طرف سے ایک نشانی (ایک معجزہ) ہو، ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق
۷۳
ہے۔
حضرتِ عیسیٰؑ کی اس دعا میں صاحبانِ عقل کے لئے بہت سی حکمتیں ہیں ظاہر ہے کہ یہ باطنی عیدِ سعید زمانۂ عیسیٰؑ سے پہلے بھی آتی تھی اور بعد میں بھی آتی رہے گی، اللہ خیر الرازقین ہے، اس میں عقلی اور روحانی رزق دینے کا واضح اشارہ ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
منگل، ۸ جنوری ۲۰۰۲ ء
۷۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴۶
حدیثِ شریف ہے: خلق اللہ اٰدم علیٰ صورتہ۔ ترجمہ: اللہ نے آدم کو اپنی (رحمانی) صورت پر پیدا کیا (بخاری، جلدِ سوم، باب ۶۵۸) اور یہ ارشادِ نبوی بھی ہے: فکل من یدخل الجنۃ علیٰ صورۃ آدم۔ پس جو شخص جنت میں جائے آدم علیہ السلام کی صورت کے مطابق ہو کر جائے گا۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے کب اور کہاں آدم کو اپنی رحمانی صورت پر پیدا کیا تھا؟
جواب: جب آدم حظیرۂ قدس = جنّت میں داخل ہوا، اب یہاں آدم کی دو صورتوں کا تصور ہوتا ہے، ایک وہ صورت جو حظیرۂ قدس سے باہر اور فنا فی اللہ سے پہلے تھی اور ایک یہ صورت، یعنی صورتِ رحمان، جو بعد میں عطا ہوئی۔
دوسرا اہم سوال یہ ہے، کہ جو شخص بھی جنّت میں جائے وہ آدم کی صورت کے مطابق ہو کر جائے گا، لیکن پوچھنا یہ ہے کہ آدم کی بشری صورت؟ یا رحمانی صورت؟ اگر بات رحمانی صورت کی ہے تو قرآنی شہادت ضروری ہے۔
قرآنی شہادت (۰۷: ۱۱) میں اس طرح ہے: وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ
۷۵
صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ۔
ترجمہ: ہم نے تم کو (نفسِ واحدہ = آدم کی وحدت میں) جسماً و روحاً و عقلاً پیدا کیا پھر تم کو حظیرۂ قدس میں صورتِ رحمان پر پیدا کیا پھر فرشتوں کو حکم کیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ اور فرشتوں نے خدا کے حکم سے آدم کو دو مقام پر سجدہ کیا ہے، پہلا سجدہ منزلِ اسرافیلی کے آغاز میں، دوسرا سجدہ حظیرۂ قدس میں، دونوں مقام پر تم فرشتوں میں بھی تھے اور آدم میں بھی۔
ایک بہت بڑی قرآنی شہادت یہ بھی ہے: مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍؕ۔ مفہوم: تم سب کو پیدا کرنا اور پھر بعد از موتِ نفسانی دوبارہ جِلا اٹھانا نفسِ واحدہ (آدم) کی طرح ہے (۳۱: ۲۸)۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ۹ جنوری ۲۰۰۲ ء
۷۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴۷
حدیثِ شریف ہے: ان لکل شیءٍ قلبا و قلب القرآن یٰسٓ۔ ترجمہ: ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۂ یس ہے۔
صاحبِ جوامع الکلم صلعم کے اس پاک و پرحکمت ارشاد میں ضرور کوئی بہت بڑا راز مخفی ہوسکتا ہے، اور وہ راز یقیناً یہی ہے کہ خدائے علیم وحکیم نے اس سورہ میں کلّیۂ امامِ مبین کا بیان فرمایا ہے (۳۶: ۱۲) یہ کلّیہ دراصل کلِّ کلّیات ہے، یعنی قوانینِ قرآن کا جامع الجوامع قانون ہے، اور اس میں صاحبانِ عقل و دانش کے لئے ہر ہر علمی و عرفانی سوال کا شافی جواب موجود و مہیا ہے، اور اس حقیقت میں کسی دانا کے لئے کیا شک ہو سکتا ہے کہ قرآنِ حکیم کلامِ الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی سنّت کا مظہر ہے، سنتِ الٰہی کی کامل اور مکمل معرفت تو خدا شناسی سے الگ نہیں ہے، تاہم علم الیقین کی مدد سے آپ اس حقیقت کا یقین حاصل کریں کہ اللہ الباسط بھی ہے اور القابض بھی، یعنی وہ چیزوں کو پھیلاتا بھی اور لپیٹتا بھی ہے، پس اسی سنّتِ الٰہی کے مطابق قرآنِ حکیم بیک وقت پھیلایا ہوا بھی ہے، اور لپیٹا ہوا بھی ہے، الحمد میں سارا قرآن جمع ہے، اسمِ اعظم میں قرآن مخزون ہے، ام الکتاب میں، لوحِ محفوظ میں، خزائنِ الٰہی میں، اور اس بولنے والی کتاب میں، جو خدا کے پاس
۷۷
ہے، وغیرہ، اگر ان حقائق کے باؤجود ہم قرآن کی وحدت و سالمیت کو نہیں جانتے ہیں تو ہم ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے، جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ہے، (۱۵: ۹۱) قرآنِ عزیز کے جو جو خزائن اور مراکز اور درجات ہیں ان سب کی وحدت و سالمیت امامِ مبین ہی میں ہے، لہٰذا امامِ زمان کا نور قرآن کا زندہ قلب = دل ہے اور سورۂ یٰسٓ کے قلبِ قرآن ہونے کا رازِ اعظم یہی ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات ۱۰ جنوری ۲۰۰۲ء
۷۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴۸
آپ حضرتِ مولا علی صلوات اللہ علیہ کے پاک و پرحکمت ارشادات کو کامل عشق و محبت سے پڑھا کریں، خود مولا کی نورانی تاویل کا کہنا ہے کہ امامِ مبین قرآنِ ناطق ہے، اسی مناسبت سے سورۂ یٰسٓ قلبِ قرآن ہے، اور یہ خداوندِ تعالیٰ ہی کا ارشاد ہے کہ اللہ کی طرف سے نور بھی آیا ہے اور کتاب بھی آئی ہے (۰۵: ۱۵)۔ یہی زندہ نور قرآنِ ناطق ہے، پہلے رسولِ اکرمؐ، اور پھر آپ کا وصی = امامِ مبین، قرآنِ ناطق ہے، نیز اسی زندہ نور کا بالائی سرا کتابِ ناطق کے نام سے اللہ کے پاس ہے (۲۳: ۶۲) (۴۵: ۲۹) اور یہی نور اللہ کی رسی بھی ہے، جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور دوسرا سرا لوگوں کے سامنے ہے، اور یہی نور وہ امامِ مبین ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کل اشیاء کو گھیر کر اور عددِ واحد میں گن کر رکھا ہے، اور خدا وہ قادرِ مطلق ہے جو بےشمار کائناتوں کو دستِ قدرت میں لپیٹ کر گوہرِ نورِ ازل بناتا ہے، پھر اسی نور سے لاتعداد کائناتیں بناتا ہے، جب نورِ محمدی، عقلِ کل = قلم = عرش ہے، اور نورِعلی، نفسِ کلّی = لوح = کرسی ہے، تو کرسی کی تعریف قرآن میں پڑھیں:
ارشاد ہے: وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ۔
ترجمہ: اُس کی کرسی نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا
۷۹
ہے (۰۲: ۲۵۵)۔ اللہ کی یہی کرسی امامِ مبین کا ہمہ رس اور ہمہ گیر نور ہے جو فرشتۂ عظیم = نفسِ کلّی ہے، جس کے باطن میں ستر ہزار سے زیادہ کائناتیں ہیں۔
پس سورۂ یس (۳۶: ۱۲) میں جو کلیۂ امامِ مبین ہے، وہ دراصل کلِ کلیات اور تمام قوانینِ قرآن کا جامع الجوامع قانون ہے، جس میں اہلِ بصیرت کے لئے قرآنِ حکیم کی نورانی تاویل کا سب سے بڑا خزانہ موجود ہے، قرآنِ عزیز کی نورانی تاویل سے کاملین و عارفین کا عالمِ شخصی معمور و پرنور ہوتا ہے، اور یہ سب کچھ مخفی روحانی قیامت کی برکت سے ہے، جس کو امامِ مبین ہی برپا کرتا ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔آئی)
جمعہ، ۱۱، جنوری ۲۰۰۲ء
۸۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۴۹
سوال: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا کیا؟ جبکہ اوّلیت سے متعلق رسولِ اکرم صلعم کی تین پاک حدیثیں ہیں۔ جواب: ان اسرارِعظیم میں لوگوں کا بڑا امتحان ہے، اور امرِ واقعی یہ ہے کہ نورِ محمدیؐ، عقل، اور قلم ایک ہی چیز ہے، محمدؐ و علیؑ کا نورِ واحد ہی نورِ ازل اور سب سے اوّل ہے، یہی پاک نور قلم اور عقل ہے، ایک ہی اعظم چیز کے بہت سے نام اور بہت سے کام ہوا کرتے ہیں، جیسے اللہ کے اور اس کے پاک رسولؐ اور علیؑ کے بہت سے اسماء ہیں۔
سوال: حظیرۂ قدس میں بہت سے انوار ہیں یا نورِ واحد ہے؟ جواب: وہاں نورِ یک حقیقت ہے، چونکہ ح۔ ق عالمِ وحدت ہے۔
حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ حجتِ قائم صلوات اللہ علیہ نے یک حقیقت کا انقلابی تصوّر دیا ہے، آیا اس غالب تصوّر کے اسرارِ عظیم حظیرۂ قدس میں مکشوف ہوسکتے ہیں؟ جواب: جی ہاں، بہت زیادہ تسلی بخش طریق پر۔
سوال: رجوعِ روح کس طرح ہے؟ کیا یہ انفرادی اور ذاتی ہے، یا اجتماعی؟ یا نفسِ واحدہ کے ذریعے سے ہے؟ جواب: انسان دنیا میں ازخود نہیں آیا ہے، بلکہ نفسِ واحدہ کے ذریعے
۸۱
سے آیا ہے، پس لازمی ہے کہ نفسِ واحدہ ہی کے ذریعے سے وہ واپس جائے گا، یعنی ہر شخص خوشی سے یا زبردستی سے امامِ مبین ہی میں فنا ہوکر خدا کے پاس جاسکتا ہے، پس اسی معنیٰ میں وجہ اللہ امام المتّقین بھی ہے اور امام النّاس بھی ہے۔
خدا کے دین میں سب سے زبردست طاقت روحانی قیامت ہے، جس کو برپا کرنے کے لئے اللہ نے امام کو مقرر فرمایا ہے (۱۷: ۷۱)۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر ۱۲، جنوری ۲۰۰۲ء
۸۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵۰
کتابِ دعائم الاسلام عربی، جلدِ اوّل ص ۱۵ تا ۱۶ پر حدیثِ بنی عبدالمطلب کو خوب غور سے پڑھیں اس میں چند عظیم اساسی حکمتیں ہیں، اس حدیثِ شریف کے مطابق حضرتِ مولا علیؑ آنحضرتؐ کا وصی، وزیر، وارث، بھائی اور ولی ہے، اس بارے میں آپ کو کئی اور احادیثِ صحیحہ مل سکتی ہیں۔
آپ یقیناً اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ ہر حدیثِ صحیحہ قرآنِ حکیم کی کسی آیت کی ترجمانی کرتی ہے، چنانچہ ہم یہاں خداوندِ قدّوس کی توفیق سے اس بات کی تحقیق کرتے ہیں کہ مولا علیؑ حضورِ اکرمؐ کی کس چیز کا وارث ہے، اور وہ آیۂ شریفہ کون سی ہے، جس میں پیغمبر کے وارث ہونے کا حکم یا اشارہ ہے؟
جواب: سورۂ فاطر (۳۵: ۳۲) میں یہ ارشاد ہے:
ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاۚ۔ ترجمہ: پھر ہم نے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا تھا۔ اس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ علیؑ = امامِ مبین وارثِ نبی کے معنی میں وارثِ کتاب یعنی وارثِ قرآن ہے، کہ قرآن کی جو نورانی تاویل امامِ آلِ محمد کے پاس ہے، وہ کسی کے پاس نہیں، اور قرآن کی نورانی تاویل عظیم باطنی معجزات کی صورت میں اُس عالمِ شخصی
۸۳
اور حظیرۂ قدس میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ جس میں بعنوانِ روحانی قیامت امامِ زمانؑ کا نور طلوع ہو جاتا ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر ۱۴ جنوری ۲۰۰۲ء
۸۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵۱
مولا علی صلوات اللہ علیہ کا یہ فرمانِ اقدس عاشقانِ امامِ مبین کے لئے ایک عظیم نورانی خزانہ ہے:
انا و محمد نور واحد من نور اللہ ۔
ترجمہ: میں اور محمد ایک ہی نور ہیں، اللہ کے نور سے
انا اللوح المحفوظ = میں لوحِ محفوظ ہوں۔
و انا القرآن الحکیم = اور میں قرآنِ حکیم (قرآنِ ناطق) ہوں۔
انا محمد و محمد انا = میں محمد ہوں، اور محمد میں (علی) ہے۔
فآدم، و شیث، و نوح، و سام، و ابراہیم، و اسماعیل، و موسیٰ ، و یوشع، و عیسیٰ، و شمعون، و محمد و انا کلنا واحد = پس آدم، اور شیث، اور نوح، اور سام، اور ابراہیم، اور اسماعیل اور موسیٰ، اور یوشع، اور عیسیٰ ، اور شمعون، اور محمد اور یقیناً ہم سب ایک ہیں۔
انا ملک ابن ملک = میں بادشاہ کا بیٹا بادشاہ ہوں (یعنی امام کا بیٹا امام ہوں)۔
۸۵
انا النباء العظیم انا الصراط المستقیم = میں وہ سب سے بڑی خبر ہوں، جس کے بارے میں لوگوں میں اختلاف ہے، میں صراطِ مستقیم ہوں یعنی وہ نورانی راہِ راست جو آسانی سے خدا تک جاتی ہے۔
انا و اللہ وجہ اللہ = خدا کی قسم! میں وجہ اللہ ہوں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر ۱۴ ، جنوری ۲۰۰۲ ء
۸۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵۲
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ (۴۰: ۰۱، حم)، (۴۱: ۰۱، حم)، (۴۲: ۰۱، حم)، (۴۳: ۰۱، حم)، (۴۴: ۰۱، حم)، (۴۵: ۰۱، حم)، (۴۶: ۰۱، حم)۔
یہ قرآنِ حکیم کے حروفِ مقطعات میں سے ہیں ان میں سے ہر ٹکڑا حٰمٓ کہلاتا ہے، اور جمع حوامیم ہیں، ان کی تاویل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولاعلیؑ نے ارشاد فرمایا: انا امانۃ یاسین، انا حاء الحوامیم۔ مفہوم: میں یاسین (سورہ یٰسٓ، نیز حضرتِ محمدؐ) کی امانت ہوں، میں حوامیم کا حرفِ حا = حجت= الحی ہوں۔ ح =۸، م = ۴۰ = ۴۸، یہ اشارہ ہے کہ حجتِ قائم کے زمانہ میں ایک عظیم مخفی روحانی قیامت برپا ہوگی، جس میں سورۂ قدر (۹۷: ۰۴) کے ارشاد کے مطابق عالمِ امر سے ملائکہ و ارواح کا نزول ہوگا، مگر اہلِ معرفت کے سوا کسی کو اس قیامت کی خبر نہ ہوگی۔
حٰمٓ، میں اللہ تعالیٰ کے دو بزرگترین نام ہیں: الحیّ ، القیوم۔ اور حٰمٓ قرآنِ عزیز میں سات دفعہ وارد ہوا ہے، اس کا اشارۂ حکمت یہ ہے کہ زمانۂ نبوّت اور زمانۂ قائم کے درمیان سات روحانی قیامات ہیں۔
۸۷
وجہِ دین، ص ۱۹۷ پر یہ حدیثِ شریف درج ہے: بین قبری و منبری روضۃ من ریاض الجنۃ = میری قبر اور منبر کے درمیان باغاتِ بہشت میں سے ایک باغ ہے۔
قبر = اساس = علی، منبر = حضرتِ قائم، یعنی میرے اساس اور قائم کے درمیان ظاہری اور باطنی دعوت کا سلسلہ جاری رہے گا، اور باطنی دعوت روحانی قیامت ہے، اس سے معلوم ہوا کہ روحانی قیامت ہر امام کے زمانے میں برپا ہوتی چلی آئی ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
منگل ۱۵ جنوری ۲۰۰۲ء
۸۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵۳
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کا پاک ارشاد ہے: ان للقرآن ظھراً و بطناً و لبطنہ بطنا الی سبعۃ ابطن او الیٰ سبعین بطنا۔ ترجمہ: اس میں شک نہیں کہ قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے اور اس کے باطن کا بھی باطن ہے یہ سلسلہ سات بواطن یا ستر بواطن تک جاتا ہے۔ ہزار حکمت (ح: ۶۸۸) بحوالۂ المیزان ، جلدِ اوّل، ص ۷۔
قرآن کے باطن سے تاویل مراد ہے، اور نورانی تاویل امامِ مبین کے نورِ اقدس میں ہے، اور یقیناً قرآن خود بھی باطن میں روح اور نور ہے (۴۲: ۵۲) یعنی قرآن جہاں امامِ مبین علیہ السّلام میں ہے، وہاں یہ امام کی روحِ مقدّس میں روح اور اس کے نورِ پاک میں زندہ نور ہے۔
سورۂ اعراف (۰۷: ۵۳) کے مطابق روحانی قیامت ہی کی صورت میں قرآن کی نورانی تاویل آتی ہے، بالفاظِ دیگر جب امامِ مبین کا نور مومنِ سالک کے عالمِ شخصی میں طلوع ہو جاتا ہے تو یہ سورج کی طرح خاموشی سے طلوع نہیں ہوتا بلکہ قیامت برپا ہو جاتی ہے، جس کا تذکرہ تمام قرآن میں موجود ہے، پس اسی مخفی روحانی قیامت کے واقعات و معجزات میں امام کے نور کی وجہ سے قرآن کی نورانی تاویل آتی ہے۔
۸۹
مولا علیؑ کے ارشادات میں دیکھیں: مولا ناقورِ قیامت ہے (۷۴: ۰۸)، مولا الساعۃ = قیامت ہے (۲۵: ۱۱) مولا ہی قائم القیامت ہے (۱۷: ۷۱)، پس سر تا سر قیامت میں مولا ہی کا نور کام کر رہا ہوتا ہے، لہٰذا قرآن کی نورانی تاویل امام کے نور کی نورانیت ہے۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ، ۱۶، جنوری ۲۰۰۲ء
۹۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵۴
سورۂ اعراف (۰۷: ۱۸۰) میں ارشاد ہے: وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ-سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ ترجمہ: اور اللہ کے بہت ہی اچھے نام = اسمائے عظام ہیں، اس کو انہی اسمائے عظام ہی سے پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے اسماء کی معرفت میں راستی سے منحرف ہو جاتے ہیں جو کچھ وہ کرتے ہیں، اس کا بدلہ وہ پا کر رہیں گے۔
کوکبِ درّی، بابِ سوم، منقبت ۲۹ کو دیکھو مولاعلیؑ (یعنی امامِ مبین) اسمِ اعظم اور اسماء الحسنیٰ ہے، یاد رہے کہ امامِ زمانؑ اپنے جن روحانی بچوں کو نمائندہ اسمِ اعظم عطا فرماتا ہے، وہ اگرچہ واحد ہوتا ہے، پھر بھی وہ جمع ہے، کیونکہ کامیابی کی صورت میں اس میں سے کئی اسماء کا ظہور ہوتا ہے اسی وجہ سے مذکورہ آیۂ کریمہ میں اسمِ اعظم اسماء الحسنیٰ سے عبارت ہے، نیز یہ مثال ایسی ہے جیسے امامِ زمان میں سب امام ہوتے ہیں، پس امامِ زمان واحد بھی ہے اور جمع بھی، جیسے حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام امام تھا، جو واحد بھی تھا اور جمع بھی، وہ آیۂ شریفہ یہ ہے: اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًاؕ۔ ترجمہ: واقعہ یہ ہے کہ ابراہیم
۹۱
ایک امت تھا اللہ کا مطیعِ فرمان اور یک سو (۱۶: ۱۲۰) اسی طرح امامِ زمان اللہ تعالیٰ کا زندہ اسمِ اعظم ہے اور اپنے سلسلۂ نور میں اسماء ُ الحسنیٰ ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ۱۶، جنوری ۲۰۰۲ ء
۹۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵۵
گنجینۂ جواہرِ احادیث ص ۱۳ پر یہ حدیثِ شریف ہے:
علی مع القرآن و القرآن مع علی، لن یتفرقا حتی یردا علی الحوض ۔ رسولِ کریمؐ کا پاک ارشاد ہے: علیؑ (باطن اور نورانی میں) قرآن کے ساتھ ہے، اور قرآن اُسی صورت میں علیؑ کے ساتھ ہے، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے تا آنکہ یہ دونوں حوضِ کوثر پر مجھ سے مل جائیں۔ یعنی ان دونوں کی رہنمائی حجتِ قائم اور قائم تک ضروری اور لازمی ہے۔
اس کے بعد صاحبِ تاویل سے متعلق جو مشہور حدیث ہے اس کا ترجمہ یہ ہے: یقیناً تم میں وہ شخص بھی ہے جو قرآن کی تاویل پر جنگ کرے گا، جس طرح میں نے قرآن کی تنزیل پر جنگ کی۔ یہ حضرتِ علی علیہ السّلام کی شان میں ہے۔
پس جس طرح حضورِ اکرمؐ تنزیلی جنگ کے لئے ظاہر میں لشکر کو منظم اور تیار کرتے تھے، اسی طرح امامِ مبین تاویلی جنگ کے لئے لشکر کو باطن اور نورانیت میں تیار کرتا ہے کیونکہ قرآنِ حکیم کی نورانی تاویل عالمِ شخصی کے باطن میں بشکلِ معجزاتِ روحانی قیامت پائی جاتی ہے، جس کے حصول کے لئے عالمِ شخصی کا
۹۳
روحانی سفر ضروری ہوتا ہے، بشرطیکہ عالمِ شخصی میں امامِ زمانؑ کا مقدّس نور طلوع ہو چکا ہو، ورنہ ظلمت میں نہ تو صراطِ مستقیم کا سفر ممکن ہے، اور نہ ہی کوئی تاویلی معجزہ نظر آئے گا۔
شبِ تاریک اور روزِ روشن کے درمیان جو آسمان زمین کا فرق ہے، اس کو کون نہیں جانتا؟ مجھے حکیم پیر ناصر خسرو کا شعر یاد آیا:
بر جانِ من چو نورِ امامِ زمان بتافت
لیل السرار بودم و شمس الضحیٰ شدم
میری جان پر جب امامِ زمانؑ کا نور طلوع ہوا میں گھپ اندھیری رات تھا (اب) روزِ روشن ہوگیا۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات ۱۷، جنوری ۲۰۰۲ء
۹۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵۶
سورۂ اعراف (۰۷: ۵۲ تا ۵۳) مفہوم: ہم ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب (قرآن) لے آئے ہیں جس کو ہم نے ایک خاص علم یعنی علمِ تاویل کی بناء پر مفصل بنایا ہے، اور جو حقیقی معنوں میں ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے، کیا وہ لوگ کسی اور بات کے منتظر ہیں مگر یہ ہے کہ (مخفی روحانی قیامت کی صورت میں) اُس کی (یعنی قرآن کی) تاویل آئے گی۔
سوال: مخفی روحانی قیامت کا قرآنی ثبوت کیاہے؟ ج: جواب کے لئے ویسے تو بہت سی آیاتِ کریمہ ہیں، مگر مقالہ بہت ہی مختصر ہے، لہٰذا صرف ایک ہی آیۂ شریفہ کا ترجمہ پیش کرتے ہیں، جو سورۂ نمل (۲۷: ۶۶) ہے: بلکہ آخرت کا علم ہی ان سے گم ہوگیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں۔
ہزار حکمت (ح: ۶۲۶) اور (ح: ۶۲۷) کو دیکھو، وہاں، لفظِ عمون کی حکمت بیان ہوئی ہے۔
آپ کو یہ جاننا از بس ضروری ہے کہ اللہ کا کلامِ حکمت نظام صدق و عدل میں بدرجۂ انتہا کامل و مکمل اور ہر طرح سے بے مثال ہے (۰۶: ۱۱۵) ایسے میں قرآنِ حکیم کا یہ اعتراض کہ آخرت کا علم ہی ان لوگوں سے گم ہوگیا ہے، یعنی
۹۵
یہ لوگ سرچشمۂ علمِ آخرت سے ہٹ گئے ہیں، پھر اعتراض ہے کہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، اس کی حکمت یہ ہے کہ یہ کام (امر) ممکن تھا کہ وہ علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین سے شکوک کو ختم کرسکتے تھے، آخری اعتراض ہے: بلکہ یہ اس (قیامت اور آخرت) سے اندھے ہیں، اگر دنیا ہی میں قیامت اور آخرت کا مشاہدۂ عرفانی ممکن نہ ہوتا تو قرآنِ حکیم ان لوگوں کو اندھے قرار نہ دیتا، اس آیۂ کریمہ کی حکمتِ بالغہ سے صاحبانِ عقل پر یہ حقیقت روشن ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا امتحان علم الآخرت میں ہے اور علمِ قیامت کا نتیجہ علمِ آخرت ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ ۱۸، جنوری ۲۰۰۲ ء
۹۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵۷
سورۂ طٰہٰ (۲۰: ۱۵) میں ارشاد ہے: اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى ۔ ترجمہ: قیامت ضرور آنے والی ہے، میں اُس کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں تا کہ ہر شخص اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ ایک اور ترجمہ: یقیناً قیامت آنے والی ہے، میں اُس کو (تمام خلائق سے) پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں، تا کہ ہر شخص کو اس کی کوشش کے مطابق بدلہ مل جائے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یقیناً قیامت کو تمام خلائق سے برائے امتحان پوشیدہ رکھا ہے، ساتھ ہی ساتھ اُس قادرِ مطلق نے امامِ مبین کو صاحبِ قیامت بنایا ہے، پس امام کا لوگوں کو قیامت کے لئے بلانا گویا خدا کا بلانا ہے (۱۷: ۷۱) امامِ زمانؑ اپنے روحانی لشکر کے کسی عالمِ شخصی سے بذریعۂ اسرافیل سیارۂ زمین کے تمام لوگوں کو بلاتا ہے، لوگ ظاہری جسم میں نہیں، بلکہ ذرّاتِ روحانی میں محشور ہوتے ہیں سوائے عارف کے باقی سب لوگوں کی یہ مخفی روحانی قیامت غیر شعوری حالت میں ہوتی ہے، کیونکہ سب لوگ شعوری قیامت کی شرائط سے غافل تھے اور انہوں نے صاحبِ قیامت سے رجوع نہیں کیا جیسا کہ رجوع کرنے کا حق ہے، امامِ زمان علیہ السّلام ہی بحکمِ خدا ارواحِ خلائق کو مخفی روحانی قیامت
۹۷
کے لئے بلاتا ہے، جیسے حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام نے بمرتبۂ امامت حج کی مثال میں دنیا بھر کے لوگوں کو روحانی قیامت کے لئے بلایا تھا، (۲۲: ۲۷ تا ۲۹) خدا نے حضرتِ ابراہیمؑ کو حکم دیا: وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ (۲۲: ۲۷)۔
ترجمہ: اور دنیا بھر کے لوگوں کو حج کے لئے پکارو۔ پہلا سوال: آیا زمانۂ ابراہیم میں سب لوگ مسلمان تھے؟ دوسرا سوال: اس زمانے میں دنیا بھر کے لوگوں کو بلانے کے لئے کیا ذریعہ تھا؟ ظاہر ہے کہ یہ صرف اور صرف روحانی قیامت کے لئے بذریعۂ اسرافیل روحانی دعوت تھی، جس کا حکم خدا نے حضرتِ ابراہیمؑ ہی کو دیا تھا۔
اُس روز صور پھونکا جائے گا اور وہ سب بے ہوش ہوجائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، سوائے ان کے جنہیں اللہ باہوش رکھنا چاہے (۳۹: ۶۸)۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
سنیچر ۱۹ جنوری ۲۰۰۲ء
۹۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵۸
قرآنِ عزیز کی متعدد آیاتِ کریمہ میں کائنات یا اجزائے کائنات کی تسخیر کا ذکر آیا ہے، اگر ان آیاتِ مقدسہ کا باطنی اور تاویلی پہلو بھی ہے، تو بتائیں کہ سفرِ عالمِ شخصی کی کس کس منزل میں سالکین و عارفین کے لئے تسخیری معجزات ہوتے ہیں؟ ج: سوال انتہائی عظیم اور سخت مشکل ہے، اور میری معلومات بہت ہی محدود، چلو مولائے پاک سے تائید کی درخواست کرتے ہیں، روحانی سفر کا مکمل قصّہ نہ صرف بڑا طویل ہے، بلکہ ازبس نازک اور انتہائی دشوار بھی ہے، لہٰذا ہم، مخفی روحانی قیامت کے آغاز میں جو جو عظیم معجزاتِ اسرافیلی اور عزرائیلی ہیں، ان کا اشارہ کرتے ہیں، ان دونوں عظیم فرشتوں کے تمام معجزات تسخیری ہیں، یعنی تسخیر سے متعلق جتنی بھی آیاتِ شریفہ ہیں، ان سب کی ایک بار تاویل اسی منزل میں مکمل ہو جاتی ہے، اگر تم حجتِ قائم میں اور حضرتِ قائم میں فنا ہوجاتے ہو تو کائنات اور اجزائے کائنات کی تسخیر کا سب سے بڑا مقصد حاصل ہوسکتا ہے، اور آخری بار ہر چیز کی تسخیر تو حظیرۂ قدس ہی میں ہے، جبکہ تم اُس میں داخل ہوسکتے ہو۔
آپ میری کتابوں کو غور سے پڑھیں اور اس سوال کے جواب کے لئے عملی تصوف کو بھی، خاص کر روحانی سائنس کے عجائب و غرائب ص ۱۴۱ تا ۱۴۶۔
قرآنِ حکیم میں آیاتِ تسخیر کو پڑھیں، خصوصاً (۳۱: ۲۰) کو۔
۹۹
معجزاتِ اسرافیلی و عزرائیلی سے پہلے عالمِ خواب اور عالمِ خیال کے معجزات اور عجائب و غرائب ہیں، حق الیقین کے سب سے عظیم معجزاتِ تسخیری تو حظیرۂ قدس ہی میں ہیں کیونکہ ح۔ ق تو بہشتِ برین ہے، سبحان اللہ و الحمدللہ و لا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر و لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
اتوار، ۲۰ جنوری ۲۰۰۲ ء
۱۰۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۵۹
سورۂ رعد (۱۳: ۰۱ تا ۰۲) میں ارشاد ہے: الٓـمّٓرٰ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِؕ-وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ۔
مفہوم: الف۔ لام۔ میم۔ را۔ الف= اوّل = عقلِ اوّل = نورِ محمدی = قلم = عقلِ کلّ ۔ لام = ثانی = نفسِ کلّ = لوحِ محفوظ = نورِ علی ۔ میم = مرقوم = مکنون = مقامِ محمود۔ را = رویت = دیدار = لقاء اللہ = وجہ اللہ۔ یہ اُس کتابِ ناطق کی آیات ہیں جو اللہ کے حضور میں ہے (۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹) اور جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے (یعنی قرآن) وہ عین حق ہے مگر (تمہاری قوم کے) اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَؕ-كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ۔
مفہوم: وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو غیر مرئی ستونوں پر مرفوع (قائم) کیا پھر وہ عرش (تخت) پر جلوہ فرما ہوا اور سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہر
۱۰۱
چیز ایک مسما حقیقت (ظاہر کرنے کے) لئے چل رہی ہے، وہ کلمۂ امر (کن = ہو جا) کا ہمیشہ اعادہ فرماتا ہے، یعنی ہمیشہ تخلیق کا کام کرتا ہے، وہ اپنی آیات کی تفصیل بیان کرتا ہے، شاید کہ تم اپنے ربّ کی ملاقات کا یقین کرو۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر ۲۱، جنوری ۲۰۰۲ ء
۱۰۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶۰
مقامِ محمود (۱۷: ۷۹) = علیین (۸۳: ۱۸) = کتاب مرقوم (۸۳: ۲۰) = کتابِ مکنون (۵۶: ۷۷ تا ۷۹) = وجہ اللہ (۰۲: ۱۱۵، ۵۵: ۲۷، ۲۸: ۸۸)۔
قرآنِ حکیم کے بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ کی پاک ملاقات کا ذکر ہے، رسولِ اکرمؐ کا ارشاد ہے: من رانی فقد را اللہ = جس نے مجھ کو دیکھا اُس نے (گویا) خدا کو دیکھا۔ اور یہاں فرمانِ امام محمد باقرؑ (ما قیل فی اللہ) بھی پیشِ نظر ہو، پس ممکن ہے کہ خدا کے دیدار کی تاویل امامِ مبین کا دیدار ہو، جبکہ امامِ زمانؑ وجہ اللہ ہے = آئینۂ خدائے نما ہے، مظہرِ نورِ الٰہی ہے، اللہ کا زندہ اسمِ اعظم ہے، خدا کے حکم سے حظیرۂ قدس میں امامِ مبین ہی کا نورِ اقدس طلوع ہوتا ہے۔
سوال: وہ سرزمین کون سی ہے، جس کے بہت سے مشارق و مغارب ہیں اور جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے لاتعداد برکتوں سے مالامال فرمایا ہے (۰۷: ۱۳۷)؟ جواب: یہ حظیرۂ قدس کی خوبصورت اور پرحکمت مثالوں میں سے ایک بڑی عمدہ مثال ہے، ح۔ ق کا صرف ایک ہی مشرق ہے، جو خود مغرب بھی ہے، اور بہت بڑی عجیب بات یہ ہے کہ یہی بہت پاک مقام بہت سے مشارق و
۱۰۳
مغارب کا کام کر رہا ہوتا ہے، پس ان کثیر مشارق و مغارب کے ذریعہ آفتابِ نورِ امامِ مبین کثرت سے طلوع و غروب ہوتا ہے، ہر طلوع اور ہر غروب ایک بے نام حقیقت کی طرف اشارہ ہے، اب خدا کی جانب سے صرف امامِ زمانؑ ہی بتا سکتا ہے کہ وہ حقیقت کس نام سے ہے، اسی طرح بہت سے اشارے، بہت سے اسماء اور بہت سے مسمّا ہوگئے، اور یہ خزانۂ نورِ امامِ زمان کے اسرار میں سے ایک سرِعظیم ہے جس کے مطابق حضرتِ آدم خلیفۃ اللہ علیہ السّلام کو امامِ زمانؑ نے علم الاسماء کی تعلیم دی تھی۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
منگل ۲۲، جنوری ۲۰۰۲ء
۱۰۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶۱
حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ حجتِ قائم (روحی فداہ) کا مبارک ارشاد ہے: دنیا میں ہمیشہ تین سو تیرہ (۳۱۳) مومن ہوتے ہیں اگر وہ نہ ہوں تو دنیا کا نظام نہ چلے۔ (کلامِ امامِ مبین۔ حصّۂ اول۔ منجیوڑی۔ ۲۷۔ ۱۲۔ ۱۸۹۳ء)۔
کہتے ہیں کہ اصحابِ طالوت اور اصحابِ بدر کی تعداد برابر تھی (تین سو تیرہ = ۳۱۳) اور اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ حضرتِ امامِ عالی مقامؑ کا ایک خاص روحانی لشکر ہے، جس کی تعداد امام علیہ السّلام نے خود ہی بتا دیا، اور مولائے پاک نے ہر طرح سے روحانی ترقی پر بہت ہی زور دیا ہے، یقیناً امامؑ کا یہ لشکر بطریقِ روحانی فاتحِ عالم = فاتحِ کائنات ہوسکتا ہے۔
سورۂ توبہ (۰۹: ۳۳)، سورۂ فتح (۴۸: ۲۸) اور سورۂ صف (۶۱: ۰۹) میں ایک ہی ارشاد ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: اللہ وہی تو ہے، جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
اس انتہائی عظیم آسمانی پروگرام کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اس بندۂ ناچیز کو بفضلِ خدا اس کی یہ معرفت حاصل ہوئی ہے کہ جانشینِ
۱۰۵
رسولؐ = امامِ آلِ محمدؐ = امامِ زمانؑ = امامِ مبینؑ بحکمِ خدا اپنے روحانی لشکر اور روحانی قیامت کے ذریعے سے دینِ حق کو دیگر ادیان پر غالب کر دیتا ہے، اور اسی طرح سب لوگ بوسیلۂ امامِ آلِ محمدؐ خدا کے دین میں زبردستی سے لاکر بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں، تا کہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ سلاطینِ بہشت کون ہیں اور شاہنشاہِ بہشت کون ہے، آپ اس حقیقت کو ہرگز فراموش نہ کریں کہ ہر زمانے کا امام روحانی قیامت کا تجدّد (Revival, Renew) کرتا ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ، ۲۳، جنوری ۲۰۰۲ء
۱۰۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶۲
امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کے خاص روحانی لشکر کا تعلق اجسامِ لطیف سے بھی ہوسکتا ہے، جن کا ذکر قرآنِ حکیم میں موجود ہے، جیسے سرابیل (۱۶: ۸۱) ظلال = اجسامِ مثالی (۱۶: ۸۱) لبوس (۲۱: ۸۰) جثّۂ ابداعیہ یا قالبِ نورانی۔
خاص روحانی لشکر کا گہرا تعلق فرشتوں سے بھی ہے اور جنّات سے بھی ہے (۰۳: ۱۲۴ تا ۱۲۵) چونکہ امامِ آلِ محمدؐ کی روحانی سلطنت حضرتِ سلیمانؑ ہی کی روحانی سلطنت جیسی ہے، لہٰذا سورۂ نمل (۲۷: ۱۷) میں جس طرح لشکرِ سلیمانؑ کا ذکر آیا ہے بالکل اسی طرح امامِ مبینؑ کے بھی لشکر ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ لشکرِ سلیمانی میں انس و جنّ اور فرشتے تھے، اور پرندے اس میں فرشتوں کی مثال ہیں ورنہ پرندے جنگ نہیں کر سکتے ہیں جبکہ روحانی جنگ کے لئے صرف تین قسم کی مخلوقات درکار ہیں، وہ انسانان، جنّات، اور فرشتے ہیں۔
وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ (۲۷: ۱۷)۔ ترجمہ: اور سلیمان کے لئے جنّات اور انسانان اور پرندوں (فرشتوں) کے لشکر جمع کئے گئے تھے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ، ۲۳، جنوری ۲۰۰۲ء
۱۰۷
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶۳
از کتاب عملی تصوّف اور روحانی سائنس، بعنوان “جنّات کے بارے میں چند سوالات:” روحانی سائنس کے سلسلے میں یہ بھی ایک اہم موضوع ہے کہ ہم قرآنِ حکیم کی روشنی میں جنّات سے متعلق بطریقِ سوال و جواب کچھ معلومات فراہم کریں، کیونکہ بعض لوگ اس مخلوقِ لطیف کے وجود ہی سے انکار کرتے ہیں، اور بعض کو انکار تو نہیں، لیکن وہ جنّ کی اصل حقیقتوں سے نا آشنا اور نابلد ہیں، لہٰذا ہماری کلیدی معلومات درجِ ذیل ہیں:
۱۔ س: جنّ اور پری قوم کے درمیان کیا فرق ہے یا کیا رشتہ ہے؟ لفظی لحاظ سے جنّ کے کیا معنی ہیں؟ اور پری کو کس معنیٰ میں پری کہا گیا؟ ج: جنّ اور پری ایک ہی قوم ہے، اس لئے فرق اور رشتے کا سوال خود بخود ختم ہوجاتا ہے، کیونکہ ایک ہی قوم اور ایک ہی مخلوق ہے، جس کا نام عربی میں جنّ اور فارسی میں پری ہے، لفظِ جنّ پوشیدہ ہونے اور نظر نہ آنے کے معنی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ پری (پریدن سے) اڑنے کو کہتے ہیں۔
۲۔ س: سورۂ نمل (۲۷: ۱۷) میں ایک آیۂ کریمہ و حشر ۔۔۔ تا یوزعون ہے، جس کا ترجمہ ہے: سلیمان کے لئے جنّ اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے تھے اور وہ پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے۔
۱۰۸
یہاں یہ ایک فطری سوال ہے کہ پرندے آدمیوں سے بھاگتے ہیں اور آدمی جنّات سے ڈرتے ہیں، پھر ان لشکروں کی یکجائی کیوں کر ممکن ہوسکتی ہے؟ ج: عالمِ ذرّ میں تمام مخلوقات اور جملہ اشیاء ایک جیسے ذرّات ہیں، لہٰذا ماننا ہوگا کہ حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کے یہ تمام لشکر ذرّاتی اور روحانی صورت میں تھے۔
۳۔ س: یہ تو معلوم ہی ہے کہ ابلیس سجودِ آدمؑ سے انکار کرنے پر راندہ ہوگیا، اس سے قبل وہ فرشتوں میں سے تھا (۰۲: ۳۴) یہ شہادت چند آیاتِ کریمہ میں موجود ہے، اور سورۂ کہف کے ایک ارشاد (۱۸: ۵۰) میں ہے کہ وہ اس نافرمانی سے پہلے جنّات میں سے تھا، آپ یہ بتائیں کہ اس میں کیا راز ہوسکتا ہے؟ جواب: اس میں بہت بڑا راز یہ ہے کہ مومن جنّ ہی فرشتہ ہوتا ہے، اور فرشتہ ہی مومن جنّ ہوتا ہے۔
۴۔ س: کہا جاتا ہے کہ انسان میں عاجزی اور حلیمی اس وجہ سے ہے کہ اس کی سرشت مٹی سے ہوئی، اور جنّ میں سرکشی اس سبب سے ہے کہ وہ شعلۂ آتش سے پیدا کیا گیا ہے، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ج: خیر و شر کی یہ توجیہہ بڑی عجیب ہے، کیونکہ سارے انسان عاجز و حلیم نہیں ہیں، اور نہ ہی تمام جنّات سرکش ہوسکتے ہیں، آپ سورۂ جنّ (۷۲) میں آیت ۱۱ اور ۱۴ (۷۲: ۱۱، ۷۲: ۱۴) کو ذرا غور سے پڑھ لیں، مزید برآن نکتۂ راز تو یہ ہے کہ جنّ کو خداوند تعالیٰ آدمی کی روحانی ترقی سے پیدا کرتا ہے، یعنی جنّ انسان کا جسمِ لطیف ہی ہے کہ جب کوئی مومن عشقِ سماوی کی آگ میں جلتے رہنے کی سعادت حاصل کرتا ہے تو اسی حال میں شعلۂ عشق سے جنّ (فرشتہ = جسمِ لطیف) کا ظہور ہوتا ہے۔
۵۔ س: آپ سورۂ رحمان (۵۵) کی آیاتِ شریفہ ۱۴ تا ۱۶ (۵۵: ۱۴ تا ۱۶) کی حکمت
۱۰۹
بیان کریں۔ ج: اسی (خدا) نے انسان کو ٹھیکری کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی (یعنی صورِ اسرافیل کی ابتدائی آواز) سے پیدا کیا اور اسی نے جنّات کو آگ کے شعلے (یعنی سالک کے نورِ عشق) سے پیدا کیا۔ پس اے جنّ و انس! تم اپنے ربّ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اور جنّات قانونِ کثرت کے تحت الگ الگ بھی ہیں، اور قانونِ وحدت کے مطابق ایک بھی ہیں۔
۶۔ س: اے گروہِ جنّ و انس! اگر تم سے ہوسکتا ہے کہ تم آسمانوں کے اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو (چلو) نکل جاؤ حالانکہ بغیر غلبہ تم نکل نہ سکوگے (۵۵: ۳۳) کیا آپ اس ارشاد کی کوئی حکمت بتا سکتے ہیں؟ ج: (ان شاء اللہ تعالیٰ) یہ بہت بڑا امتحان روحانی سفر سے متعلق ہے جو انسان کی اپنی ذات میں ہے کہ اگر کوئی مومنِ سالک علم و عبادت کے زور سے ذاتی کائنات کی چھت پر چڑھ سکتا ہے تو وہ یقیناً ان خزائنِ معرفت کو حاصل کر لیتا ہے جو زمان و مکان سے بالاتر ہیں، کیونکہ تمام تر مشکل مسائل قید خانۂ کائنات ہی میں ہیں۔
۷۔ س: آپ قرآنِ پاک کے حوالے سے یہ بھی کہتے ہیں کہ بہشت کائنات کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے، اور ستاروں پر لطیف زندگی ہے، ایسے میں کائنات سے باہر جانے کا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ ج: کائنات بہشت معرفت سے مشروط ہے، معرفت کے خزانے لامکان میں ہیں، آپ اس کائنات کو دماغ میں رکھتے ہوئے ازل کا تصوّر نہیں کرسکتے ہیں، نہ لامکان کو پہچان سکتے ہیں، اور حظیرۃ القدس کے اسرار سے آگہی ہوسکتی ہے، پس سالک کے لئے یہ سفر ضروری ہے کہ وہ اپنے جنّات یعنی فرشتوں میں مدغم ہوکر عالمِ شخصی
۱۱۰
کی چھت پر چڑھ کر ایک بار دیکھے تا کہ تمام علمی و عرفانی عقدے کھل سکیں۔
نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۱۷ ، رمضان المبارک ۱۴۱۷ھ
۲۷ ، جنوری ۱۹۹۷ء
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ، ۲۵، جنوری ۲۰۰۲ ء
۱۱۱
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶۴
سورۂ احقاف (۴۶: ۲۹ تا ۳۲) میں ایماندار جنات کے بارے میں ارشاد ہے جو حدودِ دین ہیں: وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا ۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ۔قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ۔يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ۔وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءُ ۚ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ۔
ترجمہ: (اور وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے) جب ہم جنّوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تا کہ قرآن سنیں۔ جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے انہوں نے جا کر کہا: “اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی
۱۱۲
کتابوں کی رہنمائی کرتی ہے حق اور راہِ راست کی طرف۔ اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرلو اور اُس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذابِ الیم سے بچا دے گا”۔ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کر دے، اور نہ اُس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اُس کو بچا لیں، ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔آئی)
جمعہ، ۲۵، جنوری ۲۰۰۲ ء
۱۱۳
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶۵
قاموس القرآن ص ۲۴۹ پر انبیاء کی تعداد ، ایک لاکھ چوبیس ہزار ، اور رسولوں کی تعداد تین سو تیرہ ہے، لغات الحدیث کتابِ ن ، ص ۴ پر ہے: دنیا میں ایک لاکھ بیس ہزار پیغمبر آئے ہیں، ان میں رسول (جو صاحبِ شریعت ہوں) تین سو تیرہ گزرے ہیں۔
کتابِ سرائر و اسرار النّطقاء جو جعفر بن منصور الیمن الداعی الاجل = عظیم داعی کی کتاب ہے اس کے ص ۲۰۰ پر انبیاء علیہم السّلام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔
سورۂ انعام (۰۶: ۱۳۰) کے حوالے سے کسی کو فوری طور پر یہ گمان ہوسکتا ہے کہ شاید جنّات میں بھی نبی ہوئے ہوں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنّوں میں سے کوئی نبی نہیں ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل و اساس انسان ہی ہے، یہی افضل اور برتر ہے، انسان ہی ایک دیندار جنّ ہوکر فرشتہ ہوسکتا ہے، اور انسان ہی نافرمانی سے ایک نافرمان جنّ اور شیطان ہو سکتا ہے، پس اصل پیغمبر انسان میں سے ہوتا ہے، اور جنّات میں سے جو مومن ہیں وہ مرکزِ ہدایت کی طرف سے قاصد یا ایلچی یعنی حدودِ دین ہوسکتے ہیں۔
شروع شروع میں ہم نے اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ خیال کیا تھا کہ دو
۱۱۴
دریاؤں کا سنگم صرف ایک ہی جگہ پر ہوسکتا ہے، مگر عرصۂ دراز کے بعد معلوم ہوا کہ خدا کی خدائی میں جگہ جگہ دو دریا اور سنگم ہے، پس انس و جنّ کے دو دریاؤں کا سنگم دیکھنا ہے تو سورۂ رحمان کو غور سے پڑھیں۔
پہلا سوال ہے کہ سورۂ رحمان کو کس وجہ سے عروس القرآن کہا گیا ہے؟ دوسرا سوال ہے کہ اس سورہ کے حوالے سے انس و جنّ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں میں کیوں ایک ساتھ ہیں؟ بالفاظِ دیگر اللہ کی نعمتیں انس وجنّ میں مشترک کیوں ہیں؟
کیا ہر انسان میں ایک جنّ اور ایک فرشتہ نہیں ہیں اگر ہیں، تو سنتِ رسول کے مطابق ہر عالی ہمت مومن ذاتی جنّ کو مسلمان بنائے تا کہ تمام جنّات کی برائی یکسر ختم ہو جائے، جو لوگ ذاتی جنّ کو مسلمان نہیں بنا سکتے ہیں، وہ بیرونی جنّات کو گالیاں دیتے ہیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر ۲۶، جنوری ۲۰۰۲ ء
۱۱۵
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶۶
سورۂ لقمان (۳۱: ۲۰) میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ۔
ترجمہ: کیا تم لوگ (چشمِ بصیرت سے) نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں، اور اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟
یہ آیۂ شریفہ عاشقانِ نورِ معرفت کے لئے ایک عظیم خزانہ ہے، اور اس کی حکمت درجہ بدرجہ ہے، اور اس کی آخری درجے کی حکمت حظیرۂ قدس میں ہے، آپ فنا فی الامام کی حقیقت کو تو مانتے ہوں گے، مگر روحانی قیامت کے ذریعے سے اسرافیل اور عزرائیل کا سہارا لے لیں اور بار بار امام کے لئے قربان ہو جائیں اور اس کے معجزات و انعامات کو دیکھیں، پھر قرآنِ حکیم کی تاویلی حکمت کی خدمت کریں۔
تجربۂ روحانی قیامت اور حصولِ معرفت کی خاطر جیتے جی مر جانا انتہائی سخت مشکل کام ہے، مگر امامِ مبین کوئی وسیلہ بنا سکتا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایان رحمت سے تمہیں ظاہری اور باطنی
۱۱۶
نعمتیں اور قوتیں عطا کر دی ہیں، تو کیا یہ ممکن نہیں کہ تم ایک دن جسمِ لطیف میں جہاز کے بغیر پرواز کرو گے، فون کے بغیر دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے دوستوں سے بات کر سکوگے، ٹی وی کے بنا مناظرِ عالم کو دیکھ سکو گے، کیا یہ قانونِ تسخیر اور رحمتِ خداوندی سے بعید ہے؟ قرآنِ حکیم میں ایسی بہت سی بشارتیں موجود ہیں، صرف سمجھنے کا فرق ہے، ورنہ قرآن میں کیا نہیں ہے؟ الحمد للہ علی منہ و احسانہ۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔آئی)۔
اتوار، ۲۷، جنوری ۲۰۰۲ ء
۱۱۷
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶۷
امامِ مبین ارواحنا فداہ کے خزانۂ باطن سے علم و حکمت کی ہر ہر نعمت ملتی ہے، الحمد للہ ربّ العالمین، العاقبۃ للمتقین۔
اݹ منݳسن اپݶ یعنی کائناتی بہشت میں ہر نعمت ممکن ہے، دنیا آخرتہ ہرکݽ بلا = دنیا آخرت کی کھیتی باڑی ہے، لہٰذا نیک اعمال کا اجر و صلہ دنیا میں جزوی طور پر اور آخرت میں کلی طور پر ملتا ہے، کیونکہ کلی بہشت آخرت میں ہے۔
سوال: کیا دنیا میں اللہ کا دیدار ہو سکتا ہے؟ جواب: جی ہاں، لیکن دیدار اور کلام دونوں انتہائی عظیم معجزے ایک ساتھ نہیں ہوتے، لہٰذا جب کسی بشر کو دیدار ہوتا ہے تو اس حال میں کلام کی بجائے کوئی پرحکمت اشارہ ہوتا ہے (۴۲: ۵۱)۔
حدیثِ شریف ہے: اعرفکم بنفسہ اعرفکم بربّہ = تم میں جو سب سے زیادہ اپنی روح کا عارف ہو، وہی تم میں سب سے زیادہ اپنے ربّ کا عارف ہے۔ یہ عالمِ شخصی اور حظیرۂ قدس کا حوالہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ عارف اپنی روح ہی میں حضرتِ ربِّ تعالیٰ کا دیدار کر کے اس کی معرفت
۱۱۸
حاصل کرتا ہے، جیسے مولا علی علیہ السّلام کا ارشاد ہے: من عرف نفسہ فقد عرف ربہ = جس نے اپنی روح کو پہچان لیا، جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے، تو اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔ کیونکہ روح عالمِ امر سے آئی ہے، اور وہ وہاں خدا سے واصل ہے (۱۷: ۸۵)۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)۔
پیر ، ۲۸، جنوری ۲۰۰۲ ء
۱۱۹
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶۸
سوال: آیا سورۂ فرقان (۲۵: ۴۵ تا ۴۶) میں دیدارِ خداوندی کا ذکر ہے؟ جواب: جی ہاں، وہ مقامِ حظیرۂ قدس کا دیدار ہے، وہاں ظلِّ الٰہی = سایۂ خدا کی تمثیل ہے، خدا کا سایہ نہیں ہوتا ہے، بلکہ عکسِ نور ہوتا ہے، مثال کے طور پر آئینے میں سورج کا عکس یعنی تصویر۔
دنیا میں جو لوگ حقیقی اطاعت اور علم و عبادت سے مرآتِ قلب = آئینۂ دل کو پاک و پاکیزہ کرتے ہیں، وہ یقیناً چشمِ باطن سے اپنے دل ہی میں خدا کا دیدار کرتے ہیں، اور ایسے ہی لوگوں کو شمسِ ہدایت اللہ سے ملا دیتا ہے، اور آیۂ شریفہ کا مفہوم اسی طرح سے ہے۔
حضرتِ حکیم پیر ناصر خسرو کا پر از معرفت شعر ہے:
ز نورِ او تو ہستی ہمچو پرتو (عکس)
حجاب از پیش بردارو تو او شو
ترجمہ: تو اس کے نور کا عکس ہے، پردہ سامنے سے ہٹا کر تو وہ ہو جا۔
بحوالۂ سورۂ اعراف (۰۷: ۱۵۵) حضرتِ موسیٰؑ نے اپنی قوم سے جن ستر رجال کو اپنے ساتھ کوہِ طور پر لے جانے کے لئے منتخب کیا تھا، ان کو دیدار
۱۲۰
ہوا تھا یا نہیں؟ ج: یقیناً ان کو دیدار ہوا تھا۔
سوال: خود حضرتِ موسیٰؑ کو ربِّ تعالیٰ کا پاک دیدار ہوا تھا یا نہیں؟ ج: حضرتِ موسیٰؑ کو ربّ العزت کا دیدار ہوا تھا درحالے کہ خدا کے دستِ مبارک میں لپیٹی ہوئی کائنات تھی یا کتابِ مکنون، یا گوہرِعقل تھا، یا نور الانوار، اور یہ اُس آیت کی تاویل ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر، ۲۸، جنوری ۲۰۰۲ء
۱۲۱
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۶۹
حضرتِ آدم خلیفۃ اللہ علیہ السّلام کی تخلیقِ روحانی کے سلسلے میں چالیس (۴۰) صبحیں ایسی خاص اور کامیاب تھیں کہ حدیثِ قدسی ہے: خمرت طینۃ آدم بیدی اربعین صباحا ۔ ترجمہ: میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے آدم کی مٹی کو چالیس صبحوں میں گوندھ لیا۔
سوال: اللہ تبارک و تعالیٰ وہ قادرِ مطلق ہے، جو اپنے ہر کام کو صرف کن (ہو جا) فرما کر یا کن کا صرف ارادہ کر کے انجام دیتا ہے، پھر آدم کی تخلیق میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ جواب: ایک ہے عالمِ خلق = عالمِ جسمانی، اور دوسرا ہے عالمِ امر = عالمِ روحانی، پس عالمِ خلق میں ہر چیز کے پیدا ہونے میں وقت لگتا ہے، اور اس کے برعکس عالمِ امر میں ہر چیز اللہ کے فرمانِ کن (ہو جا) ہی سے کسی تاخیر کے بغیر موجود و مشہود ہو جاتی ہے۔
سوال: اللہ کے دونوں ہاتھوں سے کیا مراد ہے؟ جواب: اللہ کے دونوں ہاتھ عالمِ سفلی میں ناطق اور اساس ہیں، اور عالمِ علوی میں، عقلِ کل اور نفسِ کل ہیں۔
سورۂ مائدہ (۰۵: ۶۴) میں ارشاد ہے: بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِۙ یعنی اللہ کے دونوں ہاتھ تو فیاضی میں بڑے کشادہ ہیں۔ اس آیت کی تاویل کو وجہِ دین میں بھی پڑھیں۔
سورۂ ص (۳۸: ۷۵) سے بیانِ بالا کی تصدیق ہو جاتی ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
منگل ۲۹، جنوری ۲۰۰۲ء
۱۲۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۷۰
حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے فرمایا: تم نورانی بدن = جسمِ لطیف کے ساتھ بہشت میں جاؤ گے، تمہارے پاس جو اسمِ اعظم = بول ہے، وہ دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے، ہمارا مذہب روحانیت کا مذہب ہے، اس لئے تمہیں اس کا پورا پورا علم ہونا چاہئے۔ (کلامِ امامِ مبین، حصۂ دوم۔ زنجبار۔ ۱۹۔ ۲۔ ۱۹۲۵ء)۔
ایک بھائی نے امام کے حضور عرض کی کہ مجھے دنیا میں رہنا اچھا نہیں لگتا ہے، اس لئے مجھے اصل میں واصل فرمائیں، تو امام نے فرمایا: دنیا میں رہو، یہاں رہتے ہوئے مومن کے کام کرو۔ تو اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی تم اصل سے واصل ہوسکتے ہو، ہمارے مذہب میں دنیا میں رہ کر اصل میں واصل ہونا بہت آسان ہے، آپ بیت الخیال میں داخل ہوئے تو اس وقت ہم نے جو فرمان فرمایا تھا اس کے مطابق عمل کرو گے تو دل میں عشق پیدا ہوگا اور ہر چیز ممکن ہو سکے گی۔ (کلامِ امامِ مبین، حصۂ دوم۔ دار السلام۔ ۹۔ ۳۔ ۱۹۲۵ ء)۔
تمہارے دل میں خداوند تعالیٰ کا نور ہے، اگر دین پر سچے دل سے چلو گے تو یہ نور ظاہر ہوگا (کلامِ امامِ مبین، حصّۂ اول، جامنگر۔ ۹۔ ۴۔ ۱۹۰۰ ء)۔
تم ہماری روحانی اولاد ہو اور یاد رکھنا کہ ’’روح ایک ہی ہے‘‘۔ (کلامِ
۱۲۳
امامِ مبین ، حصّۂ اول۔ ممباسہ۔ ۱۲۔ ۱۱۔ ۱۹۰۵ء)۔
سبحان اللہ! سبحان اللہ! اور یاد رکھنا کہ “روح ایک ہی ہے۔” سبحان اللہ شاید یہاں سب سے بڑا انقلابی راز ہے، یعنی یک حقیقت۔ میں تو اس سے جیسے بے ہوش ہوگیا، مجھے ہوش میں آنے دو اور سوچنے دو، میرے لئے ایک نیا معجزہ ہے!
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ، ۳۰، جنوری ۲۰۰۲ء
۱۲۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۷۱
مخفی روحانی قیامت کے معجزات کا ذکر قرآنِ حکیم میں ہے ان کو نہ تو کوئی شمار کر سکتا ہے اور نہ ہی علی الترتیب بیان کرسکتا ہے، کیونکہ روحانی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام طوفانِ نوح ہے (۲۹: ۱۴) اگر کسی غریب و ناچار نے اسے دیکھا بھی ہو تو وہ اس کی کامل و مکمل عکاسی کس طرح کر سکتا ہے؟ اے برادران و خواہرانِ روحانی ! تم سب ان شاء اللہ بہشت میں جا کر کسی نامۂ اعمال = نورانی مووی میں سر تا سر روحانی قیامت اور اس کے تمام معجزات کو دیکھو گے، آمین! عزیزانِ من! معجزۂ زلزال بڑا بابرکت ہے، جو روحانی قیامت کے معجزات میں سے ہے، اس کے قرآنی حوالے یہ ہیں: (۹۹: ۰۱)، (۰۲: ۲۱۴)، (۳۳: ۱۱) اور (۲۲: ۰۱) معجزۂ زلزال کے اس بیان میں حقیقت بھی ہے اور حکمت بھی، واللہ، میں نے بارہا یہ معجزہ ظاہراً و باطناً دیکھا، اور جماعت کے بعض افراد پر ظاہراً واقع ہوتے ہوئے بھی جبکہ ذکرِ جلی کی محفلیں ہوتی تھیں، کنیڈا میں جناب بحرالعلوم بھی تشریف رکھتے تھے بعض جماعت خانوں میں ہمیں درویشانہ ذکرِ جلی کی اجازت ملی تھی درویشانہ ذکرِ جلی قدیم ہے یہ دراصل دف و رباب کے ساتھ ہے، یہ رسم درویشانہ ہے تو لازماً صوفیانہ ہے، اور اس کی تاریخ حضرتِ داؤد نبی، خلیفۃ اللہ اور
۱۲۵
امامِ مستودع اور ان کی آسمانی کتاب زبور تک جاتی ہے۔ قرآنِ پاک میں زبور کا ذکر ہے: (۲۱: ۱۰۵)، (۰۴: ۱۶۳)، (۱۷: ۵۵)، (۲۶: ۱۹۶)، (۰۳: ۱۸۴)، (۱۶: ۴۴)، (۳۵: ۲۵)، (۵۴: ۴۳)۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ۳۰، جنوری ۲۰۰۲ء
۱۲۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۷۲
اے برادران و خواہرانِ عزیزِ روحانی! آپ کو دین کی یہ اساسی حکمت بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چیزیں دنیا کی چیزوں سے نہایت پاک و برتر ہیں، جیسے اللہ کا قلم، جو فرشتۂ عقلِ اوّل = عقلِ کلّ = نورِ محمدی = زندہ عرش ہے، لوحِ محفوظ = ثانی = نفسِ کلّ = نورِ علیؑ = زندہ کرسی ہے۔
اللہ کے چھ دن جن میں اس نے عالمِ دین کو پیدا کیا، چھ ناطق ہیں، اور خدا کا ساتواں دن = سنیچر، جس میں اللہ نے عرش پر مساواتِ رحمانی کا کام کیا، حضرتِ قائم ہے، اللہ کا دین = رسولِ پاک صلعم تھا، بحوالۂ سورۂ نصر (۱۱۰: ۰۲) اور آپ کے بعد مولاعلیؑ خدا کا دین ہے، جیسا کہ مولا کا پاک ارشاد ہے: انا دین اللہ حقا = یہ حقیقت ہے کہ میں خدا کا دین ہوں۔ انا نفس اللہ حقا یعنی میں نفس اللہ ہوں۔ (کتابِ سرائر ص ۱۱۷)۔
نفس اللہ کا حوالہ: (۰۶: ۱۲، ۰۶: ۵۲ تا ۵۴) پہلی آیت میں ہے: کتب علیٰ نفسہ الرحمۃ = اس نے اپنے نفس = مظہرِ نور = امام میں قانونِ رحمت لکھا ہے۔ دوسری آیت میں: کتب ربکم علیٰ نفسہ الرحمۃ یعنی تمہارے ربّ نے اپنے نفس = مظہرِ نور = امامِ مبین میں قانونِ رحمت درج کیا ہے۔
۱۲۷
سورۂ مومن (۴۰: ۸۵) کا تاویلی مفہوم بےحد ضروری ہے: اللہ کی سنت نورٌعلیٰ نور کے پاک اشخاص کے سلسلے میں بارہا گزر بھی چکی ہے، اور کسی تبدیلی کے بغیر اس کا تجدّد سلسلۂ مذکور میں جاری بھی ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات ۳۱، جنوری ۲۰۰۲ء
۱۲۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۷۳
بحوالۂ کتابِ کوکبِ دری بابِ سوم: امامِ مبین صلوات اللہ علیہ اپنی نورانیتِ باطن میں لوحِ محفوظ ہے، جس کی کامل معرفت حظیرۂ قدس میں ہے، اسی لوحِ محفوظ میں قرآنِ مجید محفوظ ہے (۸۵: ۲۱ تا ۲۲) اور اسی وجہ سے امامِ مبین قرآنِ ناطق کہلاتا ہے، مزید صراحت کے لئے قرآنِ حکیم میں کتابِ ناطق یعنی بولنے والی کتاب کی تعریف کو بھی پڑھیں (۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹) حضرتِ امامؑ اپنے پاک نور میں ساعت = قیامت ہے، اور مضامینِ قرآن میں قیامت کا مضمون اپنے کثیر ناموں کے ساتھ بڑا زبردست اور سر تا سر قرآن میں پھیلا ہوا ہے، اسی طرح امامِ مبین کا ہر اسم، ہر لقب، اور ہر وصف جملۂ قرآن میں محیط ہے، اسی لئے مولا نے ارشاد فرمایا: و انا وجہ اللہ الذی ذکرہ بقولہ (فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ ، ۰۲: ۱۱۵) (کتابِ سرائر ص ۱۱۷)۔ پس میں ایک عاشق درویش کہتا ہوں: مکان و لا مکان، اوّل، آخر، ظاہر، باطن، آسمان و زمین، عالمِ شخصی، اور قرآنِ حکیم میں جہاں بھی دیکھو اور جس طرف بھی توّجہ کرو، وہیں وجہ اللہ = امام کا نور موجود ہے یعنی عارفِ حق پرست کے لئے ہر طرف اور ہر جگہ دیدار ہی دیدار ہے، کیونکہ خدا خود ہی اس کی آنکھ ہوچکا ہے۔
۱۲۹
حجتِ قائم القیامت نے فرمایا کہ حقیقت میں صرف ایک ہی روح ہے اور وہی سب ہے، یہ یک حقیقت کی بڑی خوبصورت صراحت ہے، ہر شخص ڈرتے ڈرتے اسے قبول کرے، مبادا کوئی شخص تکبر کا شکار ہوجائے۔
اللہ نے چھ دن = چھ ادوارِ بزرگ میں عالمِ دین کو پیدا کیا، اور ساتویں دن اُس نے حظیرۂ قدس میں مونوریالٹی = یک حقیقت کا کام کیا، آج یکایک یہ سرِّاعظم بھی عزیزوں پر ظاہر ہوا کہ ان تمام قسطوں کا ایک ہی عنوان (حظیرۂ قدس) کیوں ہے؟
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ ، یکم فروری ۲۰۰۲ ء
۱۳۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۷۴
بحوالۂ کتابِ کوکبِ درّی، بابِ سوم: امامِ مبین ہی اپنی پاک نورانیت میں وہ کتاب ہے، جس میں کوئی شک ہی نہیں ، بلکہ یقین ہی یقین ہے (۰۲: ۰۱ تا ۰۲)۔ امامِ زمان علیہ السّلام ہی اللہ کے اسماء الحسنیٰ ہے (۰۷: ۱۸۰) جنّ کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ انہی اسماءُالحسنیٰ سے اس کو پکارا جائے۔ امامِ مبینؑ مقامِ نورانیت پر قرآن کا ترجمان اور مؤول ہے، وہی علمِ الٰہی کا خزانہ دار ہے، وہی ناقور بھی ہے، قیامت بھی ہے، اور قائمِ قیامت بھی۔ مولا نے فرمایا کہ وہ نورِ کوہِ طور ہے، اس کا ارشاد ہے کہ وہ ذوالقرنین ہے۔
امامِ مبینؑ لوگوں پر خدا کی حجت ہے۔ دابۃ الارض امام کا ایک معجزہ ہے (ہزار حکمت، ح: ۳۳۳)۔ امام کے پاس فصل الخطاب ہے (۳۸: ۲۰) = ایک فیصلہ کن کلمۂ تامّہ۔
امامِ مبین نورانیتِ باطن میں حاملِ عرش اور عالمِ تاویل ہے۔ امام خدا کا زندہ اسمِ اعظم ہے۔ اور آیات اللہ = خدا کی نشانیاں= معجزات کہلاتا ہے۔
امامِ عالی مقام صاحبِ جثۂ ابداعیہ ہے، حضرتِ امامؑ
۱۳۱
پانی پر اللہ کا عرش بھی ہے اور اسی حال میں سفینۂ نوح بھی ہے، بحوالۂ تاویل (۱۱: ۰۷) ہزار حکمت (ح: ۵۶۸)۔
اگر دنیا کی ہزار زبانوں میں سے ہزار اشخاص عارف بن کر عالمِ شخصی میں جائیں تو امامِ مبینؑ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اُس کی زبان میں کلام کرے گا۔ بحوالۂ تاویلِ آیت (۱۴: ۰۴)۔ امام رسولِ پاک کے علم و حکمت کا دروازہ ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ، یکم فروری ۲۰۰۲ ء
۱۳۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۷۵
چہار مرغِ خلیل علیہ السّلام (۰۲: ۲۶۰) سے متعلق سوال ہے: جب اللہ نے چار مذبوح پرندوں کو زندہ کر دیا، تو کیا اُس وقت حضرتِ ابراہیمؑ کے عالمِ شخصی میں روحانی قیامت برپا ہوئی تھی؟ جواب: جی ہاں۔ سوال: یہ چار پرندے جو قدرتِ خدا سے زندہ ہوکر ابراہیمؑ کے پاس آ گئے وہ تاویلاً کون تھے؟ جواب: جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل، اور یہ حضرتِ ابراہیمؑ کے مومنین میں سے تھے، یہ پہلے گویا مردہ تھے اب بحقیقت زندہ ہوگئے، یہ جسماً چار حجتانِ حضوری تھے اور روحاً چار مقرب فرشتے، کیونکہ عالمِ شخصی عالمِ دین کا نمونہ ہوتا ہے۔
بحوالۂ کتاب نورِ مبین اردو ص ۳۹۹ کے آخر میں حضرتِ امام حسن علیٰ ذکرہ السّلام کا یہ فرمان ہے: دنیا قدیم ہے، زمانہ جاودانی ہے، قیامت صرف روحانی ہے، بہشت و دوزخ معنوی (باطنی) ہیں، ہر ایک شخص کی موت اس کی قیامت ہے۔ جیسا کہ حدیثِ شریف کا ارشاد ہے: من مات فقد قامت قیامتہ یعنی جو شخص نفسانی طور پر مرتا ہے، اس کی روحانی قیامت برپا ہوجاتی ہے اور جو شخص کامیاب ریاضت نہیں کرسکتا ہے اس کی غیر شعوری قیامت ہوتی ہے، اور بہشت میں کسی کی غیر شعوری قیامت بھی شعوری قیامت ہو
۱۳۳
سکتی ہے۔
سورۂ لقمان (۳۱: ۲۸) مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍؕ اس میں یہ اشارۂ حکمت ہے کہ نفسِ واحدہ کی روحانی قیامت میں سب ہوتے ہیں، مگر شعوری اور غیر شعوری کا بہت بڑا فرق ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر، ۲ ، فروری ۲۰۰۲ ء
۱۳۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۷۶
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی بے پایاں رحمت سے ہر شخص کے لئے اسی دنیا ہی میں چار عالم بنا دیئے ہیں، اور ان کے نام یہ ہیں: اوّل: عالمِ بیداری، دوم: عالمِ خواب، سوم: عالمِ خیال، اور چہارم: عالمِ روحانیت۔ پس انسانی زندگی کی یہ بےقیاس وسعت محض اس مقصد کے پیشِ نظر ہے کہ انسان وقت کی اس فراوانی سے فائدہ اٹھا کر ذکر و عبادت اور علم و حکمت کی تیاری سے روحانی قیامت میں داخل ہو جائے، تا کہ وہ اپنی روح اور اپنے ربّ کو پہچان سکے، اس طریقِ کار کی خصوصی اور کلی ہدایت صرف اور صرف امامِ زمانؑ ہی (روحی فداہ) کے پاس ہے۔
آپ نے روحانی قیامت کا ایک نام طوفانِ نوح بتایا ہے، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ایسی قیامت انسان کو ہر طرف سے گھیر لیتی ہے یعنی بیداری، اور خواب و خیال میں قیامت محیط ہو جاتی ہے؟ جواب: جی ہاں۔
اطلبوا العلم و لو بالصین۔ صاحبِ جوامع الکلم کا یہ ارشادِ پاک ایک بہت ہی خاص معجزہ بھی ہے اور یاد آورِ تمام معجزاتِ چین بھی ہے۔
سورۂ مجادلہ (۵۸: ۲۱) کا یہ ارشاد: كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ
۱۳۵
رُسُلِیْؕ-اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ ترجمہ: اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسل ہی غالب ہوکر رہیں گے، فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے۔
آپ بھول نہ جائیں، کہ غالب آنا ایک حربی اصطلاح ہے، جس کا اشارہ یقیناً روحانی قیامت کی جنگ کی طرف ہے، اور اس روحانی جنگ کا نورانی سردار یعنی صاحبِ قیامت امامِ زمان علیہ السلام ہی ہے (۱۷: ۷۱)۔ الحمد للہ علی منہ و احسانہ۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔آئی)
اتوار، ۳ ، فروری ۲۰۰۲ء
۱۳۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط۔ ۷۷
آیا یہ بات درست ہے کہ قرآنِ حکیم کی جن آیاتِ کریمہ میں شہیدانِ ظاہرکی تعریف آئی ہے، ان کی تاویل میں شہیدانِ باطن کی تعریف ہے؟ جواب: جی ہاں یہ قول درست اور حقیقت ہے۔
پہلی مثال: سورۂ آلِ عمران (۰۳: ۱۶۹ تا ۱۷۱) ۔ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ۔ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔
ترجمہ: جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے ربّ کے پاس رزق پا رہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اُس پر خوش و خرم ہیں، اور مطمئن ہیں کہ جو اہلِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لئے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے، وہ تو اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شادان و فرحان ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع
۱۳۷
نہیں کرتا۔
دوسری مثال: سورۂ محمد (۴۷: ۰۴ تا ۰۶): وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ۔ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ۔
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا، ان کا حال درست کر دے گا اور ان کو اس جنّت میں داخل کرے گا جس سے وہ ان کو شناسا کرا چکا ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
اتوار، ۳، فروری ۲۰۰۲ ء
۱۳۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۷۸
سوال: شہیدانِ باطن کا تعلق کس جہاد سے ہوتا ہے؟ جواب: یہ لوگ جہادِ اکبر کے شہید ہوتے ہیں جس کے بارے میں ایک مشہور حدیث یہ ہے: رجعنا من الجہاد الاصغر الی الجہاد الاکبر = ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ صحابۂ کرام نے پوچھا: حضور جہادِ اکبر کیا چیز ہے؟ فرمایا: الا وہی مجاہدۃ النفس = اچھی طرح سے سن لو! جہادِ اکبر مجاہدۂ نفس ہے۔ (کتاب کشف المحجوب)۔ یہ بھی ایک مشہور حدیث ہے: موتوا قبل ان تموتوا = تم جسماً مر جانے سے قبل نفساً مر جاؤ (المعجم الصوفی ص ۱۰۳۳) ۔ امامِ مبین علیہ السّلام (روحی فداہ) اپنے جن مریدوں کو ان کی درخواست پر اسمِ اعظم عطا فرماتا ہے، ان میں سے جو موتوا قبل ان تموتوا کے مطابق روحانی قیامت کے زیرِ اثر مر کر زندہ ہو جاتے ہیں، وہی باطنی شہید ہوتے ہیں، دراصل ان کی روحانی قربانی بھی ہوتی ہے، اور باطنی شہادت بھی۔
حضرتِ آدمؑ کے دو بیٹوں کی قربانی کی مثال بھی ہے اور ممثول بھی، اور ممثول یہ ہے کہ حضرتِ ہابیل باطن میں ذبیح اللہ بھی ہو گیا تھا اور شہید فی سبیل اللہ بھی۔ بحوالۂ سورۂ مائدہ (۰۵: ۲۷)۔ اگر حضرتِ اسماعیل
۱۳۹
ذبیح اللہ سے پہلے اللہ کی کوئی ایسی سنّت نہ ہوتی تو حضرتِ ابراہیمؑ بحکمِ خدا خواب میں اپنے فرزند کو ذبح نہ کرتے۔ سورۂ صافات (۳۷: ۱۰۲ تا ۱۰۵)۔ قرآنِ حکیم کے کتنے تاویلی اسرارِ عظیم اب تک ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں! اب ہم مانتے ہیں کہ مولانا ہابیلؑ کے گوسفند کی قربانی مثال ہے، اور روحانی قیامت کے تحت جان کی قربانی ممثول ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر، ۴، فروری ۲۰۰۲ ء
۱۴۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۷۹
دائرۂ درودِ شریف کا تصوّر ایک ایسی نورانی رسی کی طرح ہے، جو عرشِ برین اور فرشِ زمین کے درمیان گول شکل میں قائم کی گئی ہو، جی ہاں یہ مثال اور تصوّر قرآن و حدیث ہی کی روشنی میں ہے، پس آپ جب جب محمد و آلِ محمد پر درود پڑھتے ہیں تو یہ پاک نورانی رسی جو دراصل درود ہی کی رسی ہے حرکت میں آتی ہے، جس کی وجہ سے آپ کی درخواست جو درود کے الفاظ میں مخفی ہے، وہ عرشِ اعلیٰ کی طرف بلند ہو جاتی ہے، پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے اس درخواست کو اپنے الٰہی درود میں فنا کر لیتا ہے، اور حسبِ ارشادِ سورۂ احزاب (۳۳: ۴۳) اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے فرشتے اہلِ ایمان پر درود بھیجتے ہیں، جو رسولِ پاکؐ یا جانشینِ رسولؑ = امامِ زمانؑ کی مقدس دعائے برکات کی صورت میں یہ آسمانی درود جملہ مومنین و مومنات کو ہر وقت حاصل ہوتا رہتا ہے۔
آپ درودِ شریف کی پر نور حکمت کو سرچشمۂ قرآن و حدیث سے عشق و محبت کے ساتھ دلنشین کر لیں، مضمونِ صلوات میوۂ بہشت کی طرح بےحد شیرین، ایمان افروز اور روح پرور ہے ، درودِ شریف = صلوات کا ایک مختصر اور جامع مضمون ہزار حکمت میں بھی ہے (ح: ۵۰۶ تا ۵۱۰)۔
۱۴۱
سوال: درودِ شریف کی زبردست فضیلت کا اصل راز کیاہے؟ یہ سوال بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے، جس کی وجہ سے اس کا جواب اور بھی زیادہ ضروری ہے، لہٰذا میں ان شاءاللہ ولیٔ امر کی یاری سے قسط ۸۰ میں یہ جواب لکھنے کی سعی کروں گا کیونکہ اس قسط کی ظرفیت میں مزید گنجائش نہیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
منگل ۵، فروری ۲۰۰۲ء
۱۴۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۸۰
یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ درودِ شریف کی زبردست اہمیت و فضیلت کا اصل راز کیا ہے؟ الجواب: سورۂ احزاب (۳۳: ۵۶) کا ترجمہ ہے: یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے (سب کے سب) نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ حکمائے دین کہتے ہیں کہ عقلِ کلّ زندہ نور اور سب سے عظیم فرشتہ ہے، اور اسی طرح نفسِ کلّ بھی، قلم اور لوح بھی فرشتے ہیں، عالمِ ذرّ میں فرشتے ہیں، عالمِ ملکوت اور عالمِ جبروت میں فرشتے ہیں، کائنات کی ایک بالشت جگہ بھی فرشتوں سے خالی نہیں، سورج، چاند، اور تمام ستارے بھی اپنی نوعیت کے فرشتے ہیں، اللہ کے تمام سماوی اور ارضی لشکر فرشتے ہیں، وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ (۴۸: ۰۷) اور اللہ کے ایسے بےشمار نیک بندے ہیں جو کائناتی بہشت میں جا کر فرشتے ہو گئے ہیں، الغرض اللہ تعالیٰ اور یہ سب فرشتے محمدؐ و آلِ محمدؐ پر درود بھیجتے ہیں، جب اصحابِ کبار نے آنحضرتؐ سے درود کے بارے میں پوچھا تو حضورؐ نے فرمایا: فقولوا اللّٰھم صل علی محمد و علیٰ آل محمد ۔۔۔ بحوالۂ حدیثِ بخاری جلدِ سوم کتاب الدعوات باب ۷۶۹ ، نیز دیکھیں ہزار حکمت (ح ۵۰۶ تا ۵۱۰)۔
سورۂ نور (۲۴: ۴۱) میں ارشاد ہے: ترجمہ: کیا تم دیکھتے نہیں ہو
۱۴۳
کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں؟ ہر ایک اپنی صلاۃ (نماز = درود) اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔
اس مدّلل بیان سے اُس پیدا شدہ سوال کا جواب کلی طور پر مہیا ہو گیا جو درودِ شریف کی زبردست فضیلت سے متعلق پیدا ہوا تھا اور اب خلاصۂ جواب یہ ہے کہ خدا اور اس کی خدائی کی ہر چیز کی طرف سے محمدؐ و آلِ محمدؐ پر درود کا سلسلہ جاری ہے، لہٰذا ہر شخص کی دانائی یہ ہے کہ وہ خود کو اس کل کائناتی درود کے طوفانی ثواب میں شامل کر دے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔آئی)
بدھ ، ۶، فروری ۲۰۰۲ء
۱۴۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۸۱
سورۂ احزاب (۳۳: ۴۳) کا ارشاد ہے: هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىٕكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِؕ-وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا۔ ترجمہ: وہ (اللہ تعالیٰ) وہی ہے، جو تم پر درود بھیجتا ہے، اور اُس کے (جملہ) فرشتے بھی، تا کہ تمہیں (غفلت و نادانی کے) اندھیروں سے نور کی طرف نکالے، اور وہ مومنین پر بہت رحم کرنے والا ہے۔
بحوالۂ حاشیۂ تفسیر المتقین ص ۵۴۹۔ تفسیرِ صافی ص ۴۰۷ پر بحوالۂ کافی امام جعفر صادق علیہ السّلام سے منقول ہے، کہ جو شخص محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر دس دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر سو مرتبہ درود بھیجتے ہیں، اور جو شخص محمدؐ و آلِ محمدؐ پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر ہزار مرتبہ درود بھیجتے ہیں۔ اسی کا خدا تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے۔
سوال: وہ آیۂ کریمہ کون سی ہے جس میں بمقتضائے حکمت درود اور رحمت دونوں معنوں کا ذکر ہے؟ جواب: وہ آیت (۰۲: ۱۵۷) کی ہے، جس میں ارشاد ہے:
اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَ
۱۴۵
اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ۔
سوال: اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ کا درود مومنین تک کس طرح پہنچ سکتا ہے؟ جواب: زمانۂ نبوّت میں بوسیلۂ رسولِ پاک، اور ختمِ نبوّت کے بعد امامِ آلِ محمدؐ کے توسط سے۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔آئی)
کراچی
جمعرات ، ۷، فروری ۲۰۰۲ء
۱۴۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۸۲
از دعائم الاسلام عربی، جلدِ اوّل، بعنوان ذکر ایجاب الصلاۃ علیٰ محمد و علیٰ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وعلیہم اجمعین و انھم اہل بیتہ، و انتقال الامامۃ فیھم و البیان علیٰ انھم امۃ محمد صلی اللہ علیہ و علیہم (کتابُ الولایۃ ص ۲۸ تا ۲۹):
قال اللہ عز و جل: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (۳۳: ۵۶)۔
و روینا عن رسول اللہ (صلع) ان قوما من اصحابہ سالوہ عند نزول ہٰذہ الآیۃ علیہ فقالوا: یا رسول اللہ، قد علمنا کیف نسلم علیک، فکیف نصلی علیک؟ فقال: تقولون: اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و علیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید ، فبین لھم رسول اللہ (صلع) کیف الصلوٰۃ علیہ التی افترض اللہ عز و جل علیہم ان یصلوھا علیہ، و انھا علیہ و علیٰ آلہ کما علمہم و بین لھم سائر الفرائض التی انزل ذکرھا علیہ مجملا
۱۴۷
فی کتابہ، کالصلوۃ و الزکوٰۃ، و الصوم، و الحج، والولایۃ الجہاد کما انزل ذکر الصلوٰۃ علیہ مجملا ففسرلھم رسول اللہ (صلع)۔
ترجمہ از دعائم الاسلام اردو، جلدِ اوّل بعنوان محمدؐ و آلِ محمدؐ پر صلوات کا بیان، محمدؐ و آلِ محمدؐ پر صلوات بھیجنا واجب ہے اور آلِ محمدؐ سے اہلِ بیتِ رسولؐ مراد ہیں، اور منصبِ امامت انہیں میں منتقل ہوا ہے اور آلِ محمدؐ ہی رسولِ اکرم صلعم کی (خاص) امت ہیں (کتاب الولایۃ، ص : ۵۷ تا ۵۸)۔
ترجمۂ آیت (۳۳: ۵۶): اس میں شک نہیں کہ خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر اور ان کی آل پر درود بھیجتے ہیں تو اے ایماندارو تم بھی درود بھیجتے رہو اور برابر سلام کرتے رہو۔
رسولِ اکرم صلعم سے روایت ہے کہ جب آنحضرتؐ پر مذکورۂ بالا آیتِ کریمہ نازل ہوئی تو آپ کے اصحابِ کرام میں سے بعض نے پوچھا کہ اے پیغمبرِ خدا ہمیں آپ پر سلام پڑھنے کی کیفیت کا علم تو ہے لیکن آپ پر صلوات بھیجنے کی کیا صورت ہے؟ اس وقت رسالتمآب نے فرمایا کہ مجھ پر اس طرح سے درود بھیجا کرو: اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم و علیٰ آل ابراہیم انک حمیدٌ مجید۔ چنانچہ آنحضرت صلعم نے اپنے اصحاب کو کھلے لفظوں میں یہ بتا دیا کہ ان پر کس طرح صلوات بھیجنا چاہئے اور یہ واضح رہے کہ پروردگارِ عالم نے صرف محمدؐ و آلِ محمدؐ ہی پر صلوات بھیجنا اہلِ ایمان کے لئے واجب قرار دیا ہے۔
رسولِ اکرم صلعم نے اپنے اصحاب کو محمدؐ و آلِ محمدؐ پر صلوات بھیجنے کی
۱۴۸
کیفیت سے اس طرح آگاہ کر دیا تھا جس طرح کہ آپؐ نے نماز پڑھنے، زکوٰۃ دینے، روزہ رکھنے، حج کرنے اور ولایت و جہاد کی تمام تفصیلات سے واقف کر دیا تھا کیونکہ یہ تمام فرائض قرآنِ حکیم میں مجمل نازل ہوئے تھے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
کراچی
جمعرات، ۷، فروری ۲۰۰۲ء
۱۴۹
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۸۳
سورۂ توبہ (۰۹: ۱۰۳ تا ۱۰۴) میں خوب غور کر کے چشمِ بصیرت سے دیکھنا ہوگا کیونکہ یہ ارشادِ مبارک اُن ارشاداتِ عالی میں سے ہے، جن کے آئینۂ حکمت میں نمائندۂ خدا (رسول اور بعدہ امام) کا قول و فعل لا ریب خدا ہی کا قول و فعل ہوتا ہے۔
اس کی ایک روشن مثال آیۂ بیعت (۴۸: ۰۱) میں ہے کہ رسولِ پاکؐ کا دستِ مبارک گویا اللہ کا ہاتھ تھا، اس دلیلِ محکم سے بیعت کی بہت بڑی اہمیت ، اور امامِ آلِ محمدؐ کی امامت اور خلافت کا ثبوت مل گیا، زمین پر ہمیشہ نورِ منزل موجود ہونے کے بارے میں اہلِ دانش کو کوئی شک ہی نہیں، اس لئے ہم اصل موضوع کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور وہ صلوات کا موضوع ہے، آپ سورۂ احزاب (۳۳: ۴۳ اور ۳۳: ۵۶) کو اس طرح مربوط پڑھیں کہ اس میں ایک آیت دوسری کی تفسیر ہو، مثلاً آپ نے اوّل آیت ۴۳ کو پڑھا، پھر آیت ۵۶ کو تو اس کا مختصر مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے جو آسمان و زمین میں ہیں، مومنین پر درود بھیجتے ہیں، آپ یہاں خوب سوچ کر بتائیں کہ زمانۂ نبوّت میں رسولؐ اور امامؑ زمین پر دو عظیم فرشتے بھی تھے اور خدا کے دو نمائندے بھی، لہٰذا ان دونوں عظیم فرشتوں نے بھی کماحقہ مومنین
۱۵۰
و مومنات پر درود بھیجا یا نہیں؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ پیغمبر اور اساس (امام) جب زمین پر دو عظیم فرشتے بھی تھے، اور زمین پر آسمانی صلوات کے دو نمائندے بھی تو پھر لازمی طور پر انہوں نے خدا اور اس کے تمام فرشتوں کا صلوات اہلِ ایمان کو پہنچا دیا جیسا کہ اس کا حق ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
کراچی
جمعہ، ۸، فروری ۲۰۰۲ ء
۱۵۱
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔۸۴
سورۂ احزاب ہی میں (۳۳: ۴۳ اور ۳۳: ۵۶) مضمونِ درود کی دو بنیادی آیتیں ہیں، آپ نے قسط ۸۳ میں پہلے آیت ۴۳ کو پڑھا ہے، لہٰذا اب یہاں آیت ۵۶ کے مفہوم کو بیان کرتے ہیں کہ یقیناً اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے (سب کے سب) نبیؐ اور آلِ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے ایماندارو، تم بھی محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر درود بھیجتے رہو، اور تسلیم یعنی اطاعت و فرمانبرداری کرتے رہو، تا کہ یہ اللہ کی فرمانبرداری بھی ہو، اور محمدؐ و آلِ محمدؐ کی تعظیم و تکریم بھی ہو، اور تم پر آسمانی درود کے لئے ایک درخواست بھی، کیونکہ مومنین کا ہر پاک کلمہ خدا کی طرف چڑھتا ہے اور نیک عمل اس کو بلند کرتا ہے (۳۵: ۱۰)۔
اس قرآنی ارشاد کے مطابق درودِ شریف کے کلمات بہت ہی پاک ہیں اور وہ یہ ہیں: اللّٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ آلِ محمد۔ اللّٰھم خدا کا ایک خاص اسم ہے، جو ساٹھ اسماء کے برابر ہے، محمد و آلِ محمد اسماء الحسنیٰ اور اسمِ اعظم ہیں، پس درود جو ان پاک کلمات پر مبنی ہے یقیناً عرشِ برین تک جاتا ہے اور پھر وہاں سے آسمانی درود کی صورت میں زمین کی طرف آتا ہے، آپ درود پر یقین رکھیں جیسا کہ حق ہے۔
سورۂ احزاب (۳۳: ۴۱ تا ۴۳) اے لوگو، جو ایمان لائے ہو اللہ کو
۱۵۲
کثرت سے یاد کرو، اور صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے رہو، اللہ وہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے، اور اس کے (سب) فرشتے بھی، تا کہ تمہیں تاریکیوں سے انوار کی طرف لے آئیں، یعنی نورِعلم، نورِایمان، نورِیقین، نورِحکمت، نورِدیدار، نورِمعرفت، نورِوحدت، وغیرہ، کیونکہ ایک ہی نورمیں بہت سے انوار ہوتے ہیں، اگرتم بہشت میں انوار کو الگ الگ دیکھنا چاہو تو بےشک دیکھ سکتے ہو۔ الحمد للہ۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ، ۸ ، فروری ۲۰۰۲ء
۱۵۳
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۸۵
بحوالۂ صنادیقِ جواہر۔ سوال: ۲۰۶: آپ نے سورۂ نجم کی مذکورہ آیاتِ کریمہ کے اسرار میں جبرائیل کا کوئی ذکر نہیں کیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب: (۱) یہاں دراصل جبرائیل کا کوئی ذکر نہیں ہے (۲) جبرائیل اکیلا نہیں، بلکہ وحی کے فرشتے پانچ ہیں، سب سے اوپر وہ فرشتہ ہے، جو قلم کے نام سے مشہور ہے، اس کے بعد جو فرشتہ ہے، وہ لوح کے نام سے ہے، پھر اسرافیل ہے، پھر میکائیل، اور سب سے نیچے جبرائیل ہے (۳) جیسا کہ حضرتِ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے: فنون ملک یودی الی القلم و ھو ملک، و القلم یودی الی اللوح و ھو ملک و اللوح یودی الی اسرافیل و اسرافیل یودی الیٰ میکائیل و میکائیل یودی الی جبرائیل و جبرائیل یودی الی الانبیاء و الرسل (المیزان: ۱۹، ص ۳۷۶)۔
سوال: ۲۰۷: مسند احمد بن حنبل، جلدِ سوم، حدیث ۸۹۲۱ میں ہے لا تقوم الساعۃ حتیٰ تطلع الشمس من مغربھا = قیامت برپا نہیں ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔ اس حدیثِ شریف میں کیا حکمت ہے؟ کیا ابھی تک کوئی قیامت نہیں آئی ہے؟ جواب: اس کی
۱۵۴
تاویلی حکمت یہ ہے کہ قیامت روحانی واقعات کا ایک سلسلہ ہے، اور یہ اس وقت مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ حظیرۂ قدس کا سورج مغرب سے طلوع ہو جاتا ہے، کیونکہ وہاں مشرق و مغرب ایک ہی ہے، اس حدیثِ شریف میں روحانی قیامت کی حدِ تکمیل کا ذکر ہے کہ قیامت کے مکمل ہو جانے کا مقام وہ ہے جہاں تک پہنچ کر یہ مشاہدہ ہو جاتا ہے کہ سورج کا مشرق و مغرب ایک ہی جگہ پر ہے، اور قرآنِ حکیم نے بزبانِ حکمت بتا دیا کہ ہر امام کے ساتھ ایک روحانی قیامت ہے (۱۷: ۷۱)۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر، ۹، فروری ۲۰۰۲ء
۱۵۵
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۸۶
بحوالۂ کتابِ مستطابِ گنجینۂ جواہرِ احادیث ص ۶۸: اللھم انک جعلت صلواتک و رحمتک و مغفرتک و رضوانک علیٰ ابراہیم و آل ابراہیم، اللھم! انھم (یعنی اہلِ بیت) منی و انا منھم فاجعل صلواتک و رحمتک و مغفرتک و رضوانک علی و علیہم۔ یعنی علیا و فاطمۃ و حسنا و حسینا۔
The holy Prophet said: “O Allah! Verily You sent Your blessing, Your mercy, Your forgiveness and Your pleasure upon Ibrahim and his progeny. O Allah! They are from me, and I am from them. So, send Your blessings, mercy, forgiveness and pleasure upon me and them, namely Ali, Fatimah, Hasan and Husayn.”
یا اللہ، یقیناً تو نے اپنا درود اور رحمت، اور مغفرت و خوشنودی کو ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر نازل کیا تھا، اے اللہ تعالیٰ یہ مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، پس (تو اپنی عنایتِ بے نہایت سے) اپنا درود اور رحمت اور اپنی مغفرت و خوشنودی مجھ پر نازل فرما! اور ان پر بھی، یعنی علی، فاطمہ، اور حسن و حسین۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر ، ۹، فروری ۲۰۰۲ء
۱۵۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۸۷
سورۂ انفال (۰۸: ۲۹) میں ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔
ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم خدا ترسی اختیار کروگے تو اللہ تمہارے لئے ایک فرقان = معجزہ = کسوٹی = معیار = (نور، ۵۷: ۲۸) مقرر کرے گا۔ لفظِ فرقان کی قرآنی حکمتوں کی معرفت کے لئے قرآن میں دیکھیں: ۰۲: ۵۳، ۰۲: ۱۸۵، ۰۳: ۰۴، ۲۱: ۴۸، ۰۸: ۲۹، ۰۸: ۴۱۔
لفظِ فرقان کی قرآنی معرفت کے لئے یہی چھ مقامات ہیں، اور ہاں آپ لغاتِ قرآن کو بھی دیکھیں، فرقان کے جتنے معانی ہیں، ان میں نور کے معنی بھی ہیں، اور شاید یہ آپ کے لئے آسان ہیں، پس آپ عالمِ شخصی کی طرف توجہ دیں، اور اس میں نور کا مشاہدہ کریں اور ذکر و عبادت، اور علم و حکمت میں غیر معمولی ترقی کریں تو یہ نور جو دراصل امامِ زمانؑ ہی کا نور ہے، آپ کو حظیرۂ قدس تک لے جائے گا۔
اگر آپ کو اسمِ اعظم نہیں ملا ہے، امامِ زمانؑ کے پاک عشق کے معجزات کا تجربہ نہیں ہے، آپ کو نفس کے خلاف جہادِ اکبر کرنے کی ہمت نہیں ہے اور آپ دوسرے حقیقی مومنین و مومنات کی طرح عبادت میں گریہ و زاری بھی نہیں
۱۵۷
کرسکتے ہیں تو پھر آپ کو دیکھنا اور سوچنا پڑے گا کہ کس وجہ سے ایسا ہے۔
لفظِ فرقان کی لغوی وضاحت کے لئے دیکھو: قاموس القرآن، ص ۳۹۹۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
اتوار، ۱۰ ، فروری ۲۰۰۲ء
۱۵۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۸۸
سورۂ حدید کے آخر میں بھی ایک زبردست انمول نگینہ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔ (۵۷: ۲۸)۔ ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، اور اس کے رسول (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ) پر کماحقہ ایمان لاؤ، اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دہرا حصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور مقرر کرے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔
سوال: کیا رحمت کے دہرے حصے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ظاہر و باطن اور دنیا و آخرت میں رحمت ہوگی؟ جواب: ان شاءاللہ۔ سوال: یہ کون سا نور ہے؟ جواب: یہ امامِ زمان علیہ السلام کا نور ہے۔ سوال: ایک حساب کے مطابق قرآنِ حکیم کی آیات ۶۶۶۶ = چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ ہیں، آپ نے اب سے بہت پہلے یہ کہا تھا کہ آپ ان شاءاللہ قرآنِ حکیم کی ہر آیت کے باطن میں سے ثبوتِ امامت کی کوئی حکمت بناسکتے ہیں، کیا آپ اس طریقِ کار کا کوئی راز بتا سکتے ہیں؟ جواب: جی ہاں، اصل راز
۱۵۹
حضرتِ امامِ آلِ محمدؐ کی مدد ہی ہے، جس سے اس غلامِ کمترین کو یہ معلوم ہوا ہے کہ قرآن کی ۶۶۶۶ آیات میں کیونکر اختلاف ہوسکتا ہے؟ ان میں تو ہم آہنگی اور یکرنگی ہے، وہ سب کی سب کتابِ مکنون میں ہیں، وہ گوہرِعقل میں ہیں، وہ امامِ مبین میں ہیں، وہ سب کلمات ہیں، اور کلمات میں حروف ہیں، حروف میں نقطے ہیں، نقطے سب یکسان ہیں، لہٰذا صرف ایک ہی نقطے کی معرفت ضروری ہے اور وہ نقطہ بائے بسم اللہ ہے، جس کی تاویل علی ہے، پس ہر آیت میں بشکلِ نقطہ علی ہے، یہ نقطہ جو علی ہے، وہ گوہرِعقل ہے، = کتابِ مکنون = لپیٹی ہوئی کائنات = نورِ ازل = نورِ محمدیؐ = نورِعلیؑ۔ مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
اتوار، ۱۰، فروری ۲۰۰۲ء
۱۶۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۸۹
بحوالۂ کتابِ وجہِ دین، اردو، کلام ۔۱ ، ص ۳۱ پر سورۂ ابراہیم (۱۴: ۲۵) کی پرحکمت آیۂ شریفہ درج ہے جس میں رسولِ اکرم کی مثال ایک ایسے پاک درخت کی طرح ہے، جس کی جڑیں زمین میں محکم و مضبوط ہیں، اور اس کی شاخیں آسمان میں پہنچ گئی ہے، یعنی فرزندِ رسول = امامِ مبین کا نورِ اقدس حظیرۂ قدس کے آسمان میں ہر وقت اپنے ربّ کے اذن سے علم و حکمت کا روح پرور پھل دیتا رہتا ہے اور حظیرۂ قدس کے تمام اسرارِ عظیم کا تعلق بھی امامِ مبین کے نورِ مبارک ہی سے ہے یعنی کلیۂ امامِ مبین کے انتہائی عظیم حیران کن اور ہوش رُبا معجزات، ظہورِ ازّل و ابد، عہدِ الست کا تجدّد، فنائے مطلق کا سرِ اعظم!
سوال: کیا آدم خلیفۃ اللہ جنّت میں جا کر ہی صورتِ رحمان پر پیدا ہوا تھا؟ ج: جی ہاں۔ سوال: حضرتِ داؤد نبی، امامِ مستودع اور خلیفۃ اللہ تھا (۳۸: ۲۶) اُس میں اور آدم میں کیا فرق تھا؟ جواب: کوئی فرق نہ تھا۔ سوال: اُس کو فرشتوں نے سجدہ کیا تھا یا نہیں؟ جواب: کیا تھا۔ سوال: وہ حظیرۂ قدس میں جا کر صورتِ رحمان پر پیدا ہوا تھا یا نہیں؟ جواب: ہوا تھا۔
سورۂ انعام (۰۶: ۱۶۵) کے مطابق اللہ تعالیٰ نے جن کو خلیفہ بنایا
۱۶۱
ہے، وہ ظاہری ہیں یا باطنی؟ اگر وہ باطن میں ہیں، تو کیا وہ سلاطینِ بہشت ہیں؟ یہی سوال سورۂ نور (۲۴: ۵۵) سے بھی متعلق ہے، ایسے سخت مشکل سوالات کے جوابات کے لئے حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کے پرحکمت ارشادات کو پڑھیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
کراچی
پیر، ۱۱، فروری ۲۰۰۲ ء
۱۶۲
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹۰
سوال: حضرتِ ربّ تعالیٰ کی پاک و پرحکمت معرفت کا اوّلین دل نشین اشارہ قرآنِ عزیز کے کس مقام پر ہے، اور کس طرح؟ جواب: یہ سب سے اوّلین اشارۂ معرفتِ الٰہی سورۂ فاتحہ کی ربّانی تعلیم میں ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت اور توحید کے اشارے پر مبنی تعلیم میں اپنے عارفوں کی زبان سے کہا کہ ہم تجھ کو پہچانتے ہیں اور واحد و یکتا مانتے ہیں اور تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ قرآنِ حکیم کے مبارک الفاظ یہ ہیں۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین۔ کیونکہ معبودِ برحق کی عبادت کے لئے معرفت ضروری ہے۔
سورۂ ذاریات (۵۱: ۵۶) میں ارشاد ہے: وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ۔ ترجمہ: اور میں جنّوں اور انسانوں کو اپنی عبادت = معرفت کے لئے پیدا کیا ہے۔ یہ ابنِ عباس کی تفسیر ہے، بحوالۂ المعجم الصوفی ص ۱۲۶۷۔
حدیثِ قدسی ہے: کنت کنزا لا اعرف فاحببت ان اعرف فخلقت خلقا فعرفتھم فبی عرفونی۔ (ص ۱۲۶۶) ترجمہ: میں ایک ان پہچانا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ میری معرفت ہو، تو میں نے ایک خلق کو پیدا کیا، پس میں نے ان کو اپنا عارف بنایا، پس انہوں نے میرے ہی وسیلے سے مجھ کو پہچان لیا۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
پیر، ۱۱، فروری ۲۰۰۲ء کراچی
۱۶۳
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹۱
کتاب دعائم الاسلام عربی، جلدِ اوّل ص ۲۵ پر یہ حدیثِ شریف ہے: من مات لا یعرف امام دہرہ حیا مات میتۃ جاہلیۃ = یعنی جو شخص اپنے زندہ امامِ زمانہ کی معرفت کے بغیر وفات پا گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرگیا۔
کتابِ وجہِ دین ص ۳۴۳ پر بھی اس حدیثِ شریف کو پڑھیں: من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاہلیۃ و الجاہل فی النار = جو شخص مرے اور اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جاہل جیتے جی دوزخِ جہالت میں گرفتار ہے۔
امام شناسی کے تین بڑے درجے ہیں، علم الیقین، عین الیقین، اور حق الیقین۔ علم الیقین وہ سلسلۂ یقینی علم ہے، جس سے بتدریج = رفتہ رفتہ آپ کے سوالات اور شکوک و شبہات کم سے کم ہوتے جاتے ہیں، کامیاب اور حقیقی عین الیقین اُس وقت ممکن ہے، جب امامِ زمان اپنے کسی مرید کو اسمِ اعظم عطا فرماتا ہے، اگر کسی مومنِ سالک پر مخفی روحانی قیامت واقع ہو جاتی ہے، تو یہ اس کی بہت بڑی سعادت ہے، اب وہ بحکمِ خدا اپنے نفسِ امّارہ کے خلاف جہادِ اکبر میں فتح یاب ہو سکتا
۱۶۴
ہے، تاہم حق الیقین = حظیرۃ القدس تک سخت امتحانات جاری ہیں، کیونکہ قیامِ قیامت کا عمل اُس وقت پورا ہوتا ہے، جب حظیرۂ قدس کا آفتابِ نور مغرب سے طلوع ہوتا ہے، اور یہ مقامِ حق الیقین ہے، الحمد للہ۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
کراچی
منگل، ۱۲، فروری ۲۰۰۲ء
۱۶۵
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹۲
حضرتِ امیر المومنین علی علیہ السّلام کا ارشادِ مبارک ہے: اسمی فی القرآن حکیما ۔ یعنی میرا نام قرآن میں حکیم ہے۔ بمعنیٔ صاحبِ حکمت، یہ اسم اللہ تعالیٰ کے اسمائے صفاتی میں بھی ہے، حکیم قرآن کے ناموں میں بھی ہے، اور رسول کے ناموں میں بھی، اس کا اشارہ یقیناً یہ ہے کہ خدا و رسول اور قرآن کی حکمت علیؑ = امامِ مبینؑ سے عاشقوں اور عارفوں کو مل سکتی ہے، جب علیؑ = امامِ زمانؑ اللہ کا حقیقی اور نورانی اسمِ اعظم اور مجموعۂ اسمائے حسنیٰ ہے تو اللہ کے تمام اسمائے صفات اُس کے اسمِ اعظم میں جمع ہو سکتے ہیں حضرتِ مولانا علی صلوات اللہ علیہ کے پاک ارشادات کا اشارہ یہی ہے۔
آپ کو اور ہمیں راہِ معرفت میں آگے سے آگے جانے کی سخت ضرورت ہے، تا آنکہ ہم حظیرۂ قدس میں داخل ہو جائیں، تا کہ ہم وہاں امامِ زمان کو حقیقی معنوں میں پہچان سکیں، کیونکہ حظیرۂ قدس ہی علم و حکمت اور معرفت کے معجزات کی بہشت ہے، آپ نے جتنے معجزات کے بارے میں سنا ہے، وہ سب زمانۂ ماضی میں ہوسکتے ہیں، لیکن آپ نے وعدۂ الٰہی (۴۱: ۵۳) کے باوجود اپنے عالمِ شخصی اور حظیرۂ قدس میں امامِ آلِ محمدؐ کے معجزات کو نہیں دیکھا، چلو
۱۶۶
آپ اور ہم سب امامِ عالی مقام کے عاشق مرید ہیں، یہ دل کی آنکھ کا مشاہدہ ہے کہ امامِ مبینؑ کا ہر معجزہ علم و حکمت اور معرفت کا سرچشمہ ہوا کرتا ہے۔
کیا یہ سب سے عجیب و غریب اور سب سے عظیم معجزہ نہیں ہے کہ امامِ مبینؑ کائنات کو بار بار لپیٹتا اور پھیلاتا رہتا ہے، حالانکہ یہ اپنی جگہ قائم ہے، آپ امام میں فنا ہوکر اس کے معجزات کو دیکھیں، حضرتِ امامِ اقدس و اطہر کے تمام عظیم معجزات حظیرۂ قدس میں ہیں۔ الحمد للہ۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ، ۱۳ ، فروری ۲۰۰۲ء
۱۶۷
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹۳
جب عالمِ اسلام میں تصوف کا ایک خاص مقام ہے، تو پھر عملی تصوف کی بہت بڑی اہمیت کیوں نہ ہو، پس آپ عملی تصوف کی کتاب کا مطالعہ ضرور کریں، اور ایسا کوئی حقیقی صوفی دنیا میں نہیں ہوگا جو حدیثِ قدسیٔ نوافل پر یقین نہ رکھتا ہو، پس آپ کتابِ عملی تصوف میں معجزۂ نوافل قسطِ اوّل اور دوم کی حکمتوں کو پڑھ لیں، پھر آپ عالمِ شخصی کی بہشتِ برین = حظیرۂ قدس کا تصور کریں، اب آپ اس تصوّر میں دیکھیں کہ ایک لطیف نورانی ہاتھ ہے، جو باطناً کائنات کو لپیٹتا اور پھیلاتا رہتا ہے، یہ کس کا ہاتھ ہے؟ کیا یہ آپ کے پاک امام کا دستِ مبارک ہے؟ جواب: جی ہاں، یقیناً، کیونکہ یہاں امامِ مبین کا نورِ اقدس کام کر رہا ہے، قلبِ قرآن (۳۶: ۱۲) میں جو کلیۂ امامِ مبین ہے، اس کے عملی معجزات اور ظہورات کا مقام جبین =حظیرۂ قدس = عالمِ شخصی کی بہشت ہے جس میں بوقتِ روحانی قیامت امامِ مبین کا پاک نور طلوع ہوجاتا ہے، اور سب سے عظیم معجزات کرتا ہے، جن میں ناقابلِ فراموش علم و حکمت اور معرفت کے اسرارِ عظیم ہیں، امامِ مبین اللہ تعالیٰ کے نورِ قدیم کا حامل ہے۔
پروانہ اگر ایک بار شعلۂ چراغ کی زد میں آکر جلتا ہے، تو پھر وہ مر کر
۱۶۸
ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا ہے، اس کے برعکس اگر تم کو امامِ برحقؑ کے نورِ عشق میں ستر ہزار مرتبہ جلاتے اور زندہ کرتے رہتے ہیں تو تم کو اور تمہارے تمام دوستوں کو بہت بہت مبارک ہو کہ تم کو ازلی اور ابدی حیات عطا ہوئی۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ، ۱۳، فروری ۲۰۰۲ ء
۱۶۹
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹۴
جو شخص حظیرۂ قدس میں امامِ زمانؑ کا عارف ہو جاتا ہے، وہ اپنی روح اور اپنے ربّ کا عارف ہوجاتا ہے، خدا کی قسم نورِ امامِ زمانؑ اور نورِ قرآن الگ الگ نہیں، اور نہ ہی جنّت کے کل معجزات اس سے جدا ہیں (۴۷: ۰۶) ہاں یہ سچ اور حقیقت ہے کہ جنّت بنا بنایا ہوا دنیا کے کسی باغ کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ حضرتِ باری تعالیٰ کے کلمۂ کن (ہوجا) کے بےشمار عجیب و غریب معجزات کی صورت میں ہے جس کی معرفت عالمِ شخصی خصوصاً حظیرۂ قدس میں ہے۔
سورۂ نمل کی آخری آیت (۲۷: ۹۳) بھی ایک بڑا انمول نگینہ ہے: ارشادِ خداوندی ہے: و قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَاؕ-وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ ترجمہ: ان سے کہو، تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں (معجزات) دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے، اور تیرا ربّ بےخبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو۔
تاویلی حکمت: حمد = عقلِ کلّ، اور یہی فرشتۂ عظیم، اللہ کی سب سے بڑی زندہ تعریف ہے، اللہ کی آیات = معجزات = امامِ زمانؑ ہے، ارشاد ہوا کہ عنقریب روحانی قیامت میں تم کوآیات و معجزاتِ الٰہی یعنی
۱۷۰
امامِ زمانؑ کا نور دکھا دیا جائے گا، اور تم کو اس کی معرفت ہوگی، پس آیات اللہ = خدا کے معجزات امامِ زمان علیہ السلام ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
بدھ ، ۱۳، فروری ۲۰۰۲ء
۱۷۱
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹۵
شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا ص ۱۳۱۶ پر نزولِ قرآن کی تخمینی مدت ۲۲ سال ۵ ماہ اور ۱۴ دن ہے، نیز اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلدِ دوم ص ۱۱۳۵ پر بھی یہی مدت درج ہے، ان دونوں کے مطابق کل آیاتِ قرآن ۶۶۶۶ ہیں، جیسے جار اللہ کے اس قول پر یہ شعر ہے:
گفت جار اللہ ہمہ آیاتِ قرآنِ مجید
شش ہزار و شش صد و شصت و شش آمد در شمار
جار اللہ نے کہا: قرآنِ مجید کی تمام آیات شمار میں ۶۶۶۶ ہیں۔
حکیم پیر ناصر خسرو کی شہرۂ آفاق کتاب وجہِ دین میں حجتِ قائم اور قائم علیہما السلام کے بارے میں معرفتِ کتابی حاصل کریں، یہ کتاب تقریباً ایک ہزار سال پہلے تصنیف کی گئی ہے، اور یہ اسرارِ امام شناسی کا ایک عظیم خزانہ ہے، اس عظیم الشان کتاب میں حدودِ دین کی معرفت اور علمِ تاویل کا بہت بڑا سرمایہ ہے، اس میں جا بجا حجتِ قائم اور حضرتِ قائم کا ذکر آیا ہے، اس کتاب کے مطابق سورۂ قدر کی تاویلِ باطن میں حجتِ قائم اور نورِ قائم کا ذکر ہے، جس میں شبِ قدر سے حجتِ قائم مراد ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کو مخفی روحانی قیامت بنانا چاہتا تھا (۲۰: ۱۵) اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ
۱۷۲
فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ (۹۷: ۰۱) = ہم نے اُس (قائم) کو شبِ قدر (حجتِ قائم) میں نازل کیا۔ تا کہ یہ قدر والی رات قائم اور قیامت کو چھپا لے، اور تمام لوگوں کے لئے بہت بڑا امتحان ہو۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات ، ۱۴، فروری ۲۰۰۲ء
۱۷۳
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹۶
یہ حدیثِ شریف کتابِ سرائر ص ۲۴۳ پر بھی موجود ہے: من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاہلیۃ۔ اس کا ترجمہ قبلاً ہو چکا ہے۔
سوال: اس ارشادِ نبوی میں، امامِ زمان کی کون سی معرفت مقصود ہے؟ اقرار؟ ظاہری شناخت؟ کتابی معرفت = علم الیقین؟ عین الیقین؟ یا کلی معرفت = حق الیقین؟ جواب: امام شناسی گویا حظیرۂ قدس کی سیڑھی ہے، لہٰذا سیڑھی اوپر جانے کے لئے ہوا کرتی ہے۔
حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ (ارواحنا فداہ) نے اپنے زمانے کی روحانی قیامت برپا کر کے تمام انسانوں اور جنات پر بہت بڑا ابدی احسان کیا ہے، ان کی امامت کا زمانہ ظاہراً و باطناً خداوندی پروگرام کے مطابق بڑا انقلابی زمانہ تھا، اے کاش ان کے پرحکمت ارشادات سے ہم سب بھرپور فائدہ اٹھا سکتے! اے کاش ہم سب ان کو قرآن و روحانیت کی روشنی میں پہچان سکتے! ان کے وارث و جانشین نور مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام صلوات اللہ علیہ کی شانِ اقدس میں اس بندۂ درویش نے کئی مدحیہ نظمیں تصنیف کی ہیں، جو فارسی، اردو اور بروشسکی میں ہیں، آپ ان کا گہرا مطالعہ کر کے دیکھیں۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعرات، ۱۴، فروری ۲۰۰۲ ء
۱۷۴
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹۷
از کتاب سراج القلوب ص ۱۰۰، بعنوانِ سورۂ کوثر کی حکمت:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَر فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ = (اے رسول) بے شک ہم نے تمہیں کوثر ؎۱ عطا کیا ہے، تو تم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو، اور قربانی کرو، یقیناً تمہارا دشمن ہی مقطوع النسل ہے۔ (۱۰۸: ۰۱ تا ۰۳)
؎۱ کوثر بروزنِ فوعل صیغۂ مبالغہ ہے، جو کثرت سے مشتق ہے، کثیر زیادہ، اکثر بہت زیادہ، کثار بہت ہی زیادہ، اور کوثر بے حد زیادہ، جو خلق کی عقل و فہم سے ورا ء ہے، اس سے عالمِ ذرّ مراد ہے، جو حضورِ اکرمؐ سے آپ کے وصی مولا علیؑ میں منتقل ہو گیا، اسی طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پاک ذرّیت جاری و باقی رہی، جیسے ارشادِ نبوی ہے:
ان اللہ تعالیٰ جعل ذریۃ کل نبی فی صلبہ و جعل ذریتی فی صلب علی بن ابی طالب = خدا نے ہر نبی کی اولاد اس کے صلب سے قرار دی ہے، لیکن میری اولاد صلبِ علیؑ سے ہے۔
کوثر کے ایک معنی مردِ کثیر اولاد کے ہیں، اور وہ حضرتِ علی علیہ السّلام ہی ہیں، کیونکہ ان کی پشتِ مبارک میں عالمِ ذرّ آیا، جس میں کثیر ذرّیت اور کوثر
۱۷۵
کے دوسرے تمام معانی شامل ہیں۔
حکیم پیر ناصر خسرو ق س کے دیوانِ اشعار میں ہے:
ایزد عطاش داد محمد را
نامش علی شناس و لقبش کوثر
خداوندِ قدوس نے حضرتِ محمد صلعم کو جانشین عطا کر دیا، جس کا اسمِ گرامی علیؑ اور لقب کوثر ہے، کتاب وجہِ دین، کلام ۱ میں سورۂ کوثر کی یوں تفسیر و تاویل کی گئی ہے۔
(اے محمد صلعم) ہم نے آپ کو بہت سی اولاد والا مرد عطا کر دیا ہے (جس سے اللہ تعالیٰ کی مراد اساس یعنی علی ہیں) پس آپ اپنے پروردگار کے لئے نماز قائم کیجئے (یعنی دعوتِ حق برپا کیجئے) اور نحر کے طریقے پر اونٹ ذبح کیجئے (یعنی اساس کا عہد لیجئے) کیونکہ آپ کا دشمن دم بریدہ ہے (یعنی وہ بے اولاد ہے، اس لئے امامت اس میں نہ رہے گی، بلکہ وہ آپ ہی کی ذرّیت میں باقی رہے گی)۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
منگل ۲۲ شعبان المعظم ۱۴۱۵ھ
۲۴ جنوری ۱۹۹۵ء
کراچی
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ، ۱۵ ، فروری ۲۰۰۲ ء
۱۷۶
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹۸
حکیم پیر ناصر خسرو ق س کے دیوانِ اشعار ص ۱۴۸ پر یہ پرحکمت شعر ہے:
ایزد عطاش داد محمد را
نامش علی شناس و لقب کوثر
یعنی خداوندِ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلعم کو بطورِ فرزند و جانشین وہ شخصِ کامل عطا کر دیا، جس کا نامِ مبارک علیؑ اور لقب کوثر ہے، یہ سورۂ کوثر کا تاویلی راز ہے، آپ کتابِ وجہِ دین میں بھی لفظِ کوثر کو دیکھیں، اور سراج القلوب ص ۱۰۰ کو بھی۔
سورۂ احزاب (۳۳: ۴۰) کا ترجمہ ہے: محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے اس فرمان میں یہ چاہتا ہے کہ حضرتِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے خاندانی شرف و اصالت اور سیادت کو نمایان اور مستند کیا جائے اور آلِ ابراہیمؑ و آلِ محمدؐ کی معرفت میں کسی کو کوئی غلط فہمی نہ ہو جائے۔
قرآنِ حکیم میں حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کا نام کل ۲۵ بار آیا ہے، جس میں کبھی عیسیٰ اور کبھی عیسیٰ ابنِ مریم کہا گیا ہے، البتہ اس میں کوئی بڑا سا راز ہے، ورنہ والدہ کے اسم کے بغیر بھی قرآن میں اسمِ عیسیٰ موجود ہے۔
المیزان، جلد، ۱۹، ص ۳۷۶: امام جعفر صادق علیہ السّلام کا ارشاد ہے: و اما نون فھو نھر فی الجنۃ قال اللہ عز و جل: اجمد
۱۷۷
فجمد فصار مدادا ثم قال للقلم: اکتب فسطر القلم فی اللوح المحفوظ ما کان و ما ھو کائن الیٰ یوم القیامۃ فالمداد مداد من نور و القلم قلم من نور و اللوح لوح من نور۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ، ۱۵، فروری، ۲۰۰۲ء
۱۷۸
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۹۹
آیۂ شریفۂ الست بربکم (۰۷: ۱۷۲) کے معجزۂ اعظم کا ہر تجدّد حظیرۂ قدس ہی میں ہوتا ہے، اس معجزے کا اوّلین تعلق انبیاء و اولیاء اور عرفاء سے ہے، یاد رہے کہ ایک میں سب ہوتے ہیں، لہٰذا روحانی قیامت صرف فردِ واحد کی ہوتی ہے، جو سب کی نمائندگی کے لئے کافی ہے، اور اسی طرح ہر روحانی قیامت میں صرف ایک ہی روح اللہ کے حضور جاتی ہے، جس میں سب کی ازلی وحدت پوشیدہ ہوتی ہے، پس آیۂ الست کی حکمت کے لئے زیادہ سے زیادہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
اس آیتِ مبارکہ میں بنی آدم سے انبیاء و اولیاء اور عارفین مراد ہیں، اور ان کی پشتوں میں سے ان کی ذرّیت کو لینا روحانی قیامت کا عمل ہے، اور خدا کا یہ پوچھنا کہ آیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ عوام النّاس سے متعلق نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ان خواص سے ہے، جنہوں نے اپنی روح اور اپنے ربّ کو پہچان لیا ہے، یہاں یہ حضرات اپنی روح کو خدا کے نور سے واصل پاتے ہیں، یا اپنی انائے علوی کو خدا میں فنا پاتے ہیں۔
و اشھدھم علیٰ انفسھم = اور ان کو اپنی جانوں = روحوں پر گواہ بنایا۔ کسی واقعے کا گواہ وہ شخص ہوتا ہے جو حاضر ہو کر پوری
۱۷۹
طرح سے واقعے کو دیکھ لیتا ہو، تو کیا اس ارشاد میں مشاہدۂ روح اور دیدارِ خداوندی کا ذکر نہیں ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
جمعہ، ۱۵، فروری ۲۰۰۲ء
۱۸۰
حظیرۃ القدس عالمِ شخصی کی بہشت
قسط ۔ ۱۰۰
کتاب زاد المسافرین ص ۱۸۳ پر جو عظیم الشّان حدیثِ قدسی ہے، یہ اسی کا مفہوم ہے کہ اے ابنِ آدم = آدمِ زمانؑ کا حقیقی مومن، میری کلی اطاعت کر تا کہ میں تجھ کو اپنی مثل بناؤں گا، کہ تو ہمیشہ زندۂ جاوید رہے گا اور کبھی نہیں مرے گا، اور ایسا عزت والا بناؤں گا کہ تجھ کو کبھی کوئی ذلت ہی نہ ہو، اور ایسا غنی کہ کبھی مفلسی تیرے قریب ہی نہ آسکے ۔ حضرتِ پیر نے اس حدیثِ قدسی کی قرآنی شہادت کے لئے جس آیۂ کریمہ کو لیا ہے، وہ (۰۴: ۱۲۵) ہے، یعنی: وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ-وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا ۔
آپ علمائے کرام کے مستند تراجم کو بعد میں خوب غور سے دیکھ لینا کیونکہ اس آیۂ کریمہ کے باطن میں اسرارِ معرفت کا ایک عظیم خزانہ ہے، جس کے دروازے کی نشاندہی اس حکمت میں ہے: “جس نے اپنے چہرۂ جان کو اللہ کے سپرد کر دیا، جس طرح حضرتِ ابراہیم نے یہ عمل کیا تھا (۰۶: ۷۹) تو ایسا شخص حظیرۂ قدس میں فنا فی اللہ بھی ہو جاتا ہے اور اپنے باپ آدمؑ کی طرح صورتِ رحمان پر پیدا بھی ہو جاتا ہے۔” یہاں اتنی تاویل صاحبانِ عقل کے لئے کافی ہے، صوفیاء کے درجۂ اعلیٰ کے مطابق فنا فی اللہ
۱۸۱
و بقا باللہ کا سرِاعظم حق ہے، اور یہ سب سے بڑا معجزہ حظیرۂ قدس میں ہوتا ہے، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ روح شناسی اور ربّ شناسی کا یہ انتہائی عظیم معجزہ انبیاء و اولیاء اور عرفا کے لئے خاص ہے اور امامِ زمان علیہ السّلام کے عاشق مریدوں میں سے جو بھی اسمِ اعظم کی تمام شرائط پر عمل کرتا ہے وہ بھی فنا فی الامام کی سب سے بڑی سعادت حاصل کر سکتا ہے، اور فنا فی الامام کا مرتبہ دراصل مرتبۂ فنا فی اللہ ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
سنیچر، ۱۶ ، فروری ۲۰۰۲ ء
۱۸۲
حقائقِ عالیہ
دیباچۂ طبعِ ثانی
بِسْمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم۔ اللّٰھم اجعل لی نوراً فی قلبی، و نوراً فی سمعی و نوراً فی بصری، و نوراًفی لسانی، ونوراًفی شعری، و نوراً فی بشری، و نوراً فی لحمی، و نوراً فی دمّی، و نوراً فی عظامی، و نوراً فی عصبی، و نوراً من بینَ یدی، و نوراً من خلفی، و نوراًعن یمینی، ونوراً عن یساری، و نوراً من فوقی، ونوراً من تحتی، اللھم عظم لی نوراً و نعمتہ و سروراً (دعائم الاسلام، جلد اول، ص۱۶۷) ۔
حکمتِ اوّل: آنحضرتؐ کی یہ بابرکت دعا ایک خزانۂ اَسرار ہے، بلکہ یہ ایک جہانِ علم و حکمت ہے جو انتہائی جامع الفاظ میں سمیٹا ہوا ہے، یہ چوٹی کی دعا بھی ہے، چوٹی کی تعلیم بھی ہے، نور کی کارکردگی کی معرفت بھی ہے، رحمتِ الہی کی امکانیت بھی ہے، اور حقیقتِ حال کی تصویر کشی بھی ہے کہ نور کس طرح پیغمبرؐ اور امامؑ میں محیط ہوکر کام کرتا ہے۔
۵
حکمتِ دوم: نور میں انوار ہوا کرتے ہیں، جیسے نورِ ہدایت، نورِ علم، نورِ ایمان، نورِ یقین، نورِ عشق، نورِ عقل، نورِ معرفت وغیرہ، اور اسی طرح بہت سے انوار کا مجموعہ نور کہلاتا ہے، جیسے مذکورۂ بالا دعائے نور میں الگ الگ انوار کا ذکر ہے، اور وہ سب مل کر ایک نور بھی ہے، جس کی دلیل قرآنِ پاک میں نورٌعلیٰ نور ہے۔
حکمتِ سوم: نور آنکھ بھی ہے، آنکھ کی روشنی بھی، دور بین بھی ہے، خردبین بھی، خودبین (خود شناس) بھی ہے، اور خدا بین بھی، جب نور عارف کے دل میں آتا ہے تو وہ خالی خولی نہیں آتا، بلکہ مکان و لا مکان کو اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔
حکمتِ چہارم: دل کے مراکز تین مقام پر ہیں: سینہ، جان اور عقل، اس سے یہ راز بھی معلوم ہوا کہ اس پاک دعا میں جو نور مطلوب ہے، وہ نہ صرف جسمانی بہتری کے لئے ہے، بلکہ نور کی زیادہ سے زیادہ ضرورت روح اور عقل کے لئے ہے، تاکہ منشائے الٰہی کے مطابق انسان کنزِ مخفی کو حاصل کر سکے۔
حکمتِ پنجم: میں سمجھتا ہوں کہ اس دعا میں روحانی طب بھی ہے اور روحانی سائنس بھی، طب اس معنیٰ میں ہے کہ جب بال، کھال، گوشت، خون وغیرہ میں نور موجود ہوگا، تو پورے بدن میں کوئی بھی خطرناک بیماری نہ ہوگی، اور اس بھر پور نورانیت
۶
میں روحانی سائنس کیوں نہ ہو، نور کی روشنی میں بے شمار غیر معمولی چیزوں کا بار بار مشاہدہ اور کامل تجربہ ہوتا ہوگا۔
حکمتِ ششم: حضرتِ محمد مصطفیٰ رسولِ خدا سراجِ منیر اور نورِ منزل تھے، آپ کی مبارک ہستی کا ذرّہ ذرّہ پُرنور ہوا تھا، اور اس ہمہ گیر طوفانی روشنی کا آغاز غارِ حرا ہی سے ہوا تھا، پھر دعائے نور کا مطلب آنحضرتؐ کے نزدیک سوائے تعلیم اور دعوت کے اور کیا ہوسکتا ہے۔
حکمتِ ہفتم: آپ نے نبیؐ اور ولیؑ (امامؑ) کے جثۂ ابداعیہ کے بارے میں سنا ہوگا، وہ سر تا پا نور ہی نور ہوتا ہے، یہ خلقِ جدید ہے، اس میں ہمیشہ ہمیشہ جدّت اور تازگی قائم رہتی ہے، یہ نور ہے اور فرشتہ، لہٰذا اس کا عکس انسانِ کامل میں بھی ہوسکتا ہے۔
حقائقِ عالیہ: یہ کتاب اس لئے بھی بہت ہی پیاری ہے کہ اس کی تصنیف لنڈن میں ہوئی تھی، جہاں میری نمائندہ روحیں اور کائناتیں ہیں، اور کہاں نہیں ہیں؟ لوگ کہتے ہیں کہ ایک شخص کی ایک ہی جان ہوا کرتی ہے، میں کہتا ہوں کہ نہیں نہیں، ایسا نہ کہا کرو، یہ بہت بڑی ناشکری ہے، جبکہ تم میں سے ہر فرد ایک عالمِ شخصی ہے، جس میں بے شمار جانیں یا روحیں ہیں، جہالت کی وجہ سے بہت سے لوگ علم و معرفت کی
۷
بہشت کی لذّتوں اور خوشیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔
حقائقِ عالیہ واقعاً بڑی عمدہ کتاب ہے، آپ حقیقی معنوں میں اسے پڑھ کر دیکھیں، اس کے عنوانات اب گیارہ ہوگئے ہیں، میں نے کبھی غلطی سے یہ خیال بھی کیا ہوگا کہ میں کوئی چیز ہوں، حالانکہ میں ناچیز ہوں، کیونکہ میں جب اپنے ماضی کی طرف جانے لگتا ہوں تو قدم قدم پرخود کو کم سے کمتر دیکھتا جاتا ہوں، تاآنکہ میرا کوئی نام و نشان بھی نہیں ملتا۔
انتسابِ جدید: اگرچہ جہادِ اکبر کی بہت بڑی اہمیت ہے اور بہت بڑی تعریف بھی ہے، لیکن جب تک اس کے نتیجے میں گنجِ علم اور پھر جنگِ علم میں فتح حاصل نہ ہو تو پھر جہادِ اکبرکا اصل مقصد حاصل نہ ہوا، الحمد للہ، جب بعض نیک بخت مومنین و مومنات کو یہ معلوم ہوا کہ یہاں آلِ محمدؐ کے امامؑ نے ایک علمی چراغ کو روشن کردیا ہے، تو یہ سب پروانہ وار عشق کے ساتھ اس روشنی کے گردا گرد جمع ہوگئے، تاکہ جذبۂ پروانہ اور عقلِ انسانی کے مطابق نورِعلم کی خدمت کریں، پس شمعِ محفلِ علم و حکمت کے پروانوں میں سے ایک پروانۂ جان باز محترم کریمہ ناتھانی بھی ہیں، ان کے دل میں ہمیشہ علم کے لئے تڑپ اور بے چینی جاری رہتی ہے، یہ ان خوش نصیب افراد میں سے ہیں جو علم و حکمت کی باتوں سے زبردست اثر لیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ محترم کریمہ نا تھانی علمی خدمت
۸
کو اپنی جانِ شیرین سے بھی زیادہ شیرین سمجھتی ہیں۔
آپ کے والدِ محترم کا اسمِ گرامی غلام علی حبیب ناتھانی ہے، جو ۲۰ستمبر۱۹۳۰کو گجرات (انڈیا) کے گاؤں پوربندر میں پیدا ہوئے، آپ نے ۱۹۵۷تا ۱۹۶۰گارڈن لائبریری میں آنریری خدمات انجام دیں، ۱۲ دسمبر۱۹۹۸ کو آپ کا انتقال ہوا۔
کریمہ کی والدۂ محترمہ کا نام مسز کلثوم غلام علی نا تھانی ہے، آپ ۲ دسمبر۱۹۳۵ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں، دین و مذہب اور علم سے بے انتہا دلچسپی ہے، آپ گارڈن جماعت خانہ میں آبِ شفا کے برتنوں کی صفائی اور ان کی تنظیم کی کمیٹی میں ایک عرصے سے خدمت کر رہی ہیں۔
نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی
جمعہ۱۹ صفر المظفر۱۴۲۰ھ۴جون۱۹۹۹ء
۹
پیش لفظ
۱۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یاربّ العزّت! تو اپنی رحمتِ بیکران سے اس بندۂ عاجز و کمترین کو ایسی توفیق و ہمت عنایت فرما، کہ وہ براستۂ لطف و کرم اس خاکسارِ ہیچ مدان کی دستگیری و رہنمائی کرے، اور ایک انتہائی دلپذیر روش سے قدم بقدم اور منزل بمنزل آگے سے آگے لیجا کر تیرے محبوب پیغمبر حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اور أئمّۂ آلِ پاکِ محمدؐ کے دریائے عشق و معرفت میں سراپا ڈبو دے، تاکہ اس بحرِ عجائب و غرائب میں، جو آبِ رحمت بھی ہے، اور آب و تاب بھی، یہ دلِ سخت و سنگین مسکۂ ملائم کی طرح بآسانی پگھل جائے، اور اس حال میں اشک فشانی کے ساتھ تیری ہر ہر نعمتِ عظمٰی کی پرخلوص اورعاجزانہ شکر گزاری ہو، بیشک اس نیک عمل سے ایک گونہ تسکینِ خاطر اور راحتِ جان ضرور ہوگی، لیکن اے میرے بیحد مہربان پروردگار! تیرے احسانات و انعامات ایسے عظیم اور اتنے کثیر ہیں کہ اس دل خواہ سعی کے باوجود تیرے حقوقِ سپاس کی کائنات کا ایک ذرّہ بھی ادا نہیں ہوسکتا۔
۱۰
۲۔ اے خدائے بزرگ وبرتر! اے ملیکِ مقتدر (۵۴: ۵۵) اے بادشاہِ بندہ نواز! تیرے نورِ اقدس کے عاشقانِ صادق سے میری مسکین روح فدا ہو! اگرچہ میں صرف ایک مُٹھی خاک ہوں، اور تو شاہنشاہِ افلاک ہے اور بہت ہی پاک، پھر بھی اس خاکِ پائے مومنان پر تیری نگاہِ جود و احسان ہے، کہ تو نے اپنے اولیائے کرام (أئمّۂ طاہرینؑ) کی دوستی سے سرفراز فرمایا، اور انہی حضرات کے نورِ ولایت کی روشنی میں خزائنِ قرآن مل سکتے ہیں، الحمد للہ۔
۳۔ اما بعد گزارش یہ ہے کہ ۱۹۸۶ء کو بار دوم سفرِ چین کی سعادت نصیب ہوئی، ہر چند کہ یہ دورہ محدود اور مختصر تھا، لیکن بفضلِ خداوندِ تعالٰی اس میں توقع سے بہت ہی زیادہ کامیابی اور بیحد شادمانی ہوئی، چنانچہ سب سے پہلے جو قابلِ تعریف چیز مشاہدے میں آئی، وہ چین کی موجودہ ترقی ہے، یارقند میرے لئے بڑا بابرکت شہر ہے، کیونکہ یہ سچ اور حقیقت ہے، کہ اس خاکِ پائے مومنان نے وہاں صرف چند کرامات نہیں بلکہ نورِ اسلام کے بھر پور معجزات کی ایک کائنات دیکھی ہے، آپ قرآنِ حکیم میں مادّہ: ک۔ ت۔ م کے تحت دیکھ لیں کہ آیا علم و حکمت کی زبان میں ان معجزات کی طرف اشارہ نہیں کرنا چاہئے؟ کیا حق اور شہادت کو چھپا لینا چاہئے؟ (۰۲: ۱۴۰، ۰۲: ۴۲، ۰۲: ۲۸۳ ) ہرگزنہیں، ہرگز نہیں۔
۱۱
۴۔ دورۂ یارقند کے بعد اس خاکسار خادم کو لنڈن کے عزیزوں سے ملنے کا لائحہ طے ہوا تھا، وہ چراغِ امامت کے پروانے نورِ معرفت کی روشنی میں ایک بڑی تابناک اور کامیاب مذہبی اورعلمی زندگی گزار رہے ہیں، ان کو اعلیٰ سطح پر یہ زرّین موقع میسر ہے کہ دینِ اسلام اور اسماعیلیّت کی قلمی اور علمی خدمت کریں، وہ ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں، جہاں ظاہری علوم اور مادّی ترقیوں کا طوفان چل رہا ہے، اور نتیجے کے طورپر بہت سے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں، جن پر وہ وقتاً فوقتاً مل کر روشنی ڈالتے ہیں، اور کبھی کبھار اس بندۂ درویش کو بھی اس علمی محفل میں شرکت کیلئے دعوت دیتے ہیں۔
۵۔ یہ تو سب کو معلوم ہی ہے کہ جہاں علم کی سطح زیادہ سے زیادہ بلند ہو، وہاں حقیقی علم کا ظہور قدرتی طور پر اسی معیار کے مطابق ہو جاتا ہے۔ اس علم کی ایک دوسری شرط عاجزی اور کثرتِ ذکر و بندگی ہے، اگر آپ چاہیں تو جذبۂ علم سے سرشار اور ہمہ تن گوش ہوکر جلوہ ہائے علم کے لئے مقناطیسیت پیدا کرسکتے ہیں، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم بندے روحانی اور علمی بھوک اور پیاس کے مارے گریہ و زاری اور فریاد و فغان کرتے رہیں، اور خداتعالیٰ کو اس درد ناک حالت کی خبر ہی نہ ہو، حالانکہ قرآنِ کریم بار بار فرماتا ہے کہ: خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے (۱۱: ۱۲۳) ۔
۶۔ الغرض اگر یہ مانا جائے کہ یہ خادم ایک ٹیچر (استاد) ہے، تولازمی طور پر یہ مثال بھی بالکل درست ہو جاتی ہے کہ ہر معلّم ایک شیر دار
۱۲
خاتون کی طرح ہے، اور اس کی ذاتی معلومات علمی دودھ کہلاتی ہیں، مگر اس میں ایک بڑا فرق بھی ہے، وہ یہ کہ ظاہری عورت اور مادّہ جانور کا دودھ محدود مقدار میں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مقررہ وقت کے لئے ہوا کرتا ہے، لیکن علم کا دودھ غیر محدود بھی ہے اور دائمی بھی، چنانچہ مثال کے طور پر اگر آپ کسی قابل ٹیچر کو گھرمیں محبوس کر دیتے ہیں، تو اس غریب خاتونِ علم کا قیمتی دودھ ہمیشہ کے لئے سوکھ جائیگا، درین صورت اس کا انفرادی اور قوم کا اجتماعی نقصان ہوسکتا ہے۔
۷۔ الحمد للہ! میرے نہایت ہی مہربان امامِ زمان صلوت اللہ علیہ و سلامہٗ کی پاک نورانی دعا اور زبردست تائید سے میرے مشرق و مغرب کے بہت سے دوستوں، عزیزوں، اور شاگردوں نے اس شیرِ شیرین کو نہ صرف جاری ہی رہنے دیا، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس میں اضافے اور ترقی کے لئے بھی مواقع فراہم کر دیئے، جیسے ادارے کی شکل میں مل کر کام کرنا، جس میں تصنیف، ترجمہ، درس و تدریس، اور لیکچرز کا اہتمام، مفید علمی سوالات، دورہ کے فرائض، جماعت اور اداروں کی خاموش خدمت، وغیرہ وغیرہ شامل ہیں، پس اس علمی خدمت کا سارا ثواب میرے عزیزوں کو حاصل ہے، اور اس سے مجھے بیحد خوشی ہے۔
۸۔ امامِ اقدس و اطہرؑ کی نورانی دعا کس طرح کام کرتی ہے، اس کے بارے میں ایک مستقل مضمون ہونا چاہیے، کیونکہ ہر مومن کی کامیابی اسی
۱۳
مبارک دعا کی برکتوں سے حاصل ہوتی ہے، چنانچہ لنڈن جیسے عظیم اور انتہائی حسین و جمیل شہر کے کسی پاکیزہ مکان میں تنہائی، ریاضت، عبادت اور مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات کی سعادت نصیب ہوئی، اس کے علاوہ ہم نے اپنے فرشتہ خصلت عزیزوں کے ساتھ بھی بارہا آنسوؤں کے تابناک موتی برساتے ہوئے مناجات و دعا کی، جس سے سکونِ قلب حاصل ہوا، اور یہ روح پرور سلسلہ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا، اسی اعتکاف جیسی مدت میں یہ عزیز رسالہ جو “حقائقِ عالیہ” کے اسم سے موسوم ہے مرقوم ہوا، اور کتاب کا یہ نام ہمارے عظیم دوستوں کی تجویز سے مقرر ہوا۔
۹۔ قرآنی حکمت کا فرمانا یہ ہے کہ ہر چیز میں علم ہے، یعنی ہر مثال میں علم ہی کا ذکر موجود ہے (۰۶: ۸۰، ۴۰: ۰۷) پس وہ صلوٰۃ جو اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتے اہل ایمان پر بھیجتے ہیں علم کی ایک صورت ہے، تاکہ ان کو ظلمتِ جہالت سے نکال کر نورِ معرفت کی طرف لائیں (۳۳: ۴۳) اور وہ صلوٰۃ بھی علم ہی کی ایک کیفیت ہے، جو رسول اکرمؐ کی جانب سے مومنین کو حاصل ہوتی تھی (۰۹: ۱۰۳) اور اب یہی علم امامِ وقتؑ سے مل سکتا ہے، کیونکہ اسی مقصد کے لئے خدا و رسولؐ نے امامؑ کو مقررفرمایا ہے (۵۷: ۲۸) ۔
۱۰۔ خداوندِ تبارک و تعالیٰ نے امامؑ کی تعریف و توصیف چار۴ مقامات پر فرمائی ہے، وہ لاھوت، جبروت، ملکوت، اور ناسوت ہیں،
۱۴
عالَمِ ناسوت میں امامِ عالی مقامؑ کی جو معرفت ہے، اس کے تین درجے ہیں۔ یعنی امام کی تعریف پیغمبروں کے ساتھ بھی ہے، ان کے بعد بھی، اور مومنین کے ساتھ بھی، سوال: نورِ نبوّت اور نورِ امامت کے ایک ہی مقام پر ہونے کی مثال و دلیل کیا ہے؟ جواب: الف: دیکھئے اس خلافتِ الٰہیہ کے اعلانِ اوّل کو، جس میں نبوّت و امامت دونوں مقصودِ خدا ہیں (۰۲: ۳۰) ۔ ب: حضرت ابراہیمؑ پیغمبر بھی تھے اور امام بھی، جس سے نبوّت و امامت کی یکجائی کا ثبوت مل جاتا ہے (۰۲: ۱۲۴) ۔ ج: حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ دونوں پر وحی نازل ہوتی تھی، ان میں سے پہلی وحیٔ جلی ہے، اور دوسری وحیٔ خفی، اور سب جانتے ہیں کہ حضرت ہارونؑ امام تھے (۰۲: ۲۴۸، ۲۱: ۴۸) ۔
۱۱۔ سوال: پیغمبر کے بعد امام کا ہونا کیوں ضروری ہے؟ اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ جواب: الف: ہر پیغمبر کا ایک وزیر اور جانشین ہوا کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو آسمانی کتاب کی حکمت سے آگاہ کر دیا جائے (۲۵: ۳۵، ۰۷: ۱۴۲) ب: ہر آسمانی کتاب کا ایک خاص وارث ہوتا ہے، اور وہ امام ہی ہے۔ (۳۵: ۳۲) ج: رسول کے بعد اولوالامر کا سلسلہ جاری ہے (۰۴: ۵۹) ۔ د: کتابِ سماوی کے ساتھ ہمیشہ کے لئے نورِمنزّل کا ہونا بھی از بس ضروری ہے (۰۵: ۱۵) ۔
۱۲۔ سوال: جو امام انبیاؑ کے ساتھ ہو، اور ان کے بعد
۱۵
بھی ہو، وہ مومنین کی قطار میں کیسے آ سکتا ہے؟ جواب: الف: حضرت امامؑ صاحبِ امر (ولیٔ امر) یعنی امیرِ مومنان ہیں (۰۴: ۵۹) لہٰذا ظاہراً و باطناً اہلِ ایمان کی صفِ اوّل میں بلکہ اس سے بھی آگے ان کا ہونا لازمی ہے تاکہ امت پیغمبر کے بعد امامِ وقت کی پیروی کرسکے۔ ب: قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں خداوندِ عالم نے ہر زمانے کے مومنین سے خطاب فرمایا ہے، جیسے یَآ اَیُّھَا الّذین اٰمنوا (اے ایمان والو!) وہاں امامِ عالی مقامؑ بحیثیتِ امیرالمومنین پیش پیش ہیں۔ ج: سورۂ حدید میں ارشاد ہے (ترجمہ) “جس دن آپ مومنین و مومنات کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور داہنی طرف دوڑتا ہو گا۔” یہ حکم حضراتِ أئمّہؑ، مومنین، اور مومنات میں مشترک ہے، یعنی اس نورانی تعلیم میں اہلِ ایمان کے مردوں اور عورتوں کے ساتھ امام بھی ہے جس کی وجہ سے اہلِ نجات کا یہ مرتبۂ نورِعقل باعث صد افتخار نظر آتا ہے، امامِ اقدس و اطہرؑ کی جو معرفت ناسوت میں ہے، وہ بنیادی ہونے کے سبب سے بیحد ضروری ہے، اور جو تعریف و توصیف ملکوت، جبروت، اور لاہوت میں کی گئی ہے، وہ بعد کی چیز ہے، اور وہ اسی کی تابع ہے، نیز اس پیشِ لفظ میں اس کی تفصیلات کیلئے گنجائش بھی نہیں۔
۱۳۔ اس خادم کی تحریریں اکثر ان موضوعات سے متعلق ہیں: قرآنِ حکیم، اسلام، توحید (خداشناسی) نبوّت (پیغمبر شناسی) امامت (امام شناسی) آسمانی محبت، یعنی خدا، رسول اور امامؑ کی محبت، طریقۂ اسماعیلیت، تقویٰ،
۱۶
ذکر و عبادت اور گریہ و زاری، اطاعت و فرمانبرداری، نور اور نورانیت، روح اور روحانیت، تصوف، حکمت، باطنیت، خدا کی ہر چیز زندہ ہے، سنتِ الٰہی، مطالعۂ قدرت، علمِ حدود (حدودِ دین) علم الاشارات، علم الاعداد، علم التاویلات، علم الاسرار، علم النقوش (ڈایاگرامز) اسرارِ انبیاء و أئمّہ، یک حقیقت
، (Monoreality)، عالمِ خیال، عالمِ خواب، عالمِ ذرّ، عالمِ شخصی (عالمِ صغیر) حکمت تثنیہ (دو۲کی حکمت) انائے علوی اور انائے سفلی، قیامت، ابداع و انبعاث، تخلیق درتخلیق، ازل و ابد، لامکان اور دہر، انسان اور انسانیت، وحدتِ انسانی، اڑن طشتریاں، (Flying Saucers)، جسمِ لطیف، روحانی مشقیں، قصّۂ معجزات، روحانی خوشبوئیں، روحانی سائنس، مذہب اور سائنس، قرآنی اور علمی علاج، زندہ بہشت، سوال و جواب، روح اور مادّہ، دائرۂ دائمیت، لا ابتداء اور لا انتہاء، وغیرہ وغیرہ۔
۱۴۔ مذکورۂ بالا مضامین میں سے بعض منظم اور یکجا ہیں، بعض ایسے نہیں، بلکہ ان کے اجزاء دوسرے موضوعات میں بکھرے ہوئے ہیں، جیسے قصّۂ معجزات، جو یکجا مضمون نہیں، مگر جگہ جگہ کثرت سے، نہ صرف اشارات میں بلکہ واضح الفاظ میں بھی، ان کا ذکر کیا گیا ہے، لہٰذا قارئین کیلئے معلومات فراہم کرنے کی غرض سے موضوعات کی یہ فہرست یہاں درج کی گئی۔
۱۵۔ جیسا کہ ہر ادارے کا یہی اصول رہا ہے کہ ہر پروگرام اور ہر کام افسر اعلٰی یعنی پریزیڈنٹ کی تجویز یا حکم، یا منظوری اور نگرانی کے بغیر انجام نہیں
۱۷
پا سکتا، تاہم حق بات تو یہ ہے کہ ہمارے دونوں پریزیڈنز صاحبان اس رسمی صفت سے بڑھ کر کارہائے نمایان انجام دیتے آئے ہیں، ان کو خشک بزرگی بالکل پسند ہی نہیں، یہ آج کے مشرق و مغرب کے ترقی یافتہ انسانوں کی طرح زبردست سوشل ورکرز ہیں، بلکہ یہ علمی مجاہدین کے سردار ہیں، اور خدا کے علم میں یہ بات روشن ہے کہ میں جان و دل سے ان کے ہزاروں احسانات و خدمات کا اعتراف کر رہا ہوں، یعنی جناب فتح علی حبیب صدرِ خانۂ حکمت، اور جناب محمد عبدالعزیز صدرِ ادارۂ عارف کا بیحد شکر گزار ہوں کہ ان امامِ عالیمقامؑ کے عاشقوں نے اپنے شرق و غرب کے تمام ساتھیوں کی بھرپور مدد سے میری محدود علمی خدمت کو غیر محدود اور لازوال بنا کر عالمِ اسلام اور اسماعیلیّت میں پھیلا دیا، نیز محترمہ ایڈوائزرگل شکر فتح علی، اور محترمہ سیکریٹری یاسمین محمد کا بھی ازحد ممنون ہوں کہ ان چار جسمانی فرشتوں نے دوسرے عملداروں اور ممبروں کے تعاون سے جیسے انتہائی مفید علمی کارنامے انجام دیئے ہیں۔ انکی کہیں مثال نہیں ملتی، ان کے اخلاقِ حسنہ اوراوصافِ کمال بیان کرنے کے لئے کئی مہینوں کا عرصہ بھی کم ہے، مختصر یہ کہ ان مشکل اور پیچیدہ حالات میں اس مشکل ترین کام (یعنی علمی خدمت) کو انجام دینے کے لئے نگاہِ خداوندی نے دنیا بھر کے لوگوں سے ان کو اور ان کے مشرق و مغرب کے ہمکاروں (Colleagues) کو منتخب فرمایا ہے، ساتھ ہی ساتھ ان سب کو عالی ہمتی اور اولوالعزمی بھی عطا ہوئی ہے۔
۱۸
۱۶۔ ہمارے عزیزان جو امامِ اقدس و اطہرؑ کے نورانی علم کی برکت سے ذرّاتِ روح کے بھیدوں سے خوب واقف و آگاہ ہیں، چنانچہ وہ اس حقیقت پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم سب ذرّاتی طور پر اپنے ہر فرد میں موجود ہیں، لہٰذا کسی ایک کی تعریف درحقیقت سب کی تعریف ہے، تاہم اس کے باوجود یہاں یہ مناسب ہے کہ ادارۂ عارف کی برانچ لنڈن کے چیئرمین امین کوٹا ڈیا اور سیکریٹری مریم کوٹاڈیا کا بطورِ خاص شکریہ ادا کریں، کہ رسالۂ “حقائقِ عالیہ” میں جو موتیوں کا خزانہ ہے، وہ اس ابرِ رحمت کی دُرفشانی سے جمع ہوا ہے، جو عشقِ مولا کے سمندر سے اٹھ اٹھ کر سرِ عزیزان کی فضاؤں میں چھائے ہوئے برستا رہتا تھا، سبحان اللہ! شاہِ ولایت کی نورانی کرامت دیکھئے کہ پورے لنڈن میں موسمِ سرما زور آزمائی کر رہا ہے، لیکن اس کا ایک گوشہ ایسا ہے کہ اس میں چند درویشوں کی قلبی شادابی کی خاطر بہارِ روح پرور کی بارش برس رہی ہے۔
۱۷۔ آخر میں ہم سب عارف کی برانچ امریکہ کے چیئرمین نور الدین راج پاری کی علم دوستی اور گرانقدر خدمات کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، اسی طرح کوآرڈینیٹر ماہِ محل بدرالدّین، اور کوآرڈینیٹر یاسمین نورعلی کے بھی قلبی طور پر شکر گزار ہیں کہ یہ عزیزان اپنے مولائے برحقؑ کے حقیقی علم کی روشنی دور دور تک پھیلانے کے لئے بلند و بالا اور مستحکم منارے (Light-houses) ہیں، خداوندِ عالم سب مومنین کو دوجہان
۱۹
کی سلامتی اور کامیابی عنایت فرمائے! آمین!!
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
پیر۴جمادی الاول۱۴۰۷ھ
۵ جنوری۱۹۸۷ء
۲۰
گلہائے معنوی
۱۔ ہمارے دونوں فرشتہ خصلت پریذیڈنز فتح علی حبیب اور محمد عبد العزیز جو احسانات و انعاماتِ خداوندی میں سے ہونے کی وجہ سے ہمیں بیحد عزیز و محترم ہیں، اور ہمارے دوسرے تمام عملدار و ارکان جو انہی معنوں میں بہت ہی پیارے ہیں، ان سب کواور شمالی علاقہ جات کے تمام دوستوں کو دل کی گہرائیوں سے یاد کرتے ہوئے یاعلیؑ مدد کی مقدّس دعا کرتا ہوں، پروردگار اسے قبول فرمائے!
۲۔ خداوندِ قدّوس کے فضل و کرم اور آپ جملہ عزیزان کی پُرخلوص اور بامعرفت دعا سے یہ بندۂ درویش ۲۴نومبر۱۹۸۶ء کی شام کے چھ بجے تقریباً ۱۸ گھنٹے کے بعد لنڈن ائرپورٹ پر وارد ہوگیا، ہر چند کہ سفر ہذا خاصا طویل تھا، لیکن خدا کا شکر ہے کہ کوئی تکلیف نہیں ہوئی، اس مسکین کے استقبال کے لئے یہ عزیزان آئے تھے، ڈاکٹر فقیر محمد صاحب ہونزائی، ان کی بیگم محترمہ رشیدہ، صدرامین کوٹاڈیا، ان کی بیگم محترمہ
۲۱
مریم، ان کے عزیز فرزند سلمان کریم، عزیزم عبد الرحمان، اور محترمہ گلشن، یہ حضرات مغرب کے سارے شاگردوں کی نمائندگی کر رہے تھے، انہوں نے توفیقِ خداوندی کے بے آواز اشاروں سے ایک انتہائی پرحکمت تحفے کو پیش کیا، یہ تھا گلِ یاسمین کا ایک حسین و جمیل گلدستہ، جو ایک خوبصورت کاغذ کے قیف نما غلاف میں محفوظ تھا، تاکہ یاسمین کی خوشبو سے بھری ہوئی نرم و نازک اور صاف شفاف پنکھڑیاں تروتازہ رہیں، میں نے شاید زندگی میں پہلی بار یاسمین کے پھول کو اسی حالت میں تازہ بتازہ نوبنو دیکھا۔
۳۔ اگرچہ چشمِ بصیرت سے کام لیا جائے تو اس کائنات کی چیزوں کے باہمی ربط و ضبط اور نظامِ وحدت کو دیکھ کر بہت تعجب ہونے لگے گا اور ایسا کیوں نہ ہو، جبکہ دستِ قدرت بار بار آسمانوں اور زمین کو تمام اشیاء سمیت لپیٹتا اور سمیٹتا رہتا ہے، اور خدا کے اس فعل میں اتنی کثیر حکمتیں ہیں کہ ان کو جنّ و مَلک اور بشر شمار ہی نہیں کرسکتے، چنانچہ میرا یہ یقین ہے کہ مہکتے ہوئے گلہائے یاسمین کی صورت میں یہ بندۂ عاجز شرق و غرب کی بہت سی پاک و پاکیزہ روحوں کو سونگھ سونگھ کر دل و دماغ کو معطر بنا رہا تھا، یہ ایک بہت ہی ضروری سوال ہے، جس کے بارے میں بڑی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، کہ رحمتِ عالم خوشبو کو مادّی چیزوں میں اتنی زیادہ اہمیت کیوں دیتے تھے؟ ہمارا ایمان یہ کہتا ہے کہ اس میں کئی عظیم حکمتیں
۲۲
پوشیدہ ہوں گی، اور ان میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ جب روحِ مقدّس کے ظہورات ہوتے ہیں، تو ان میں سے ایک ظہور مختلف خوشبوؤں کی شکل میں ہوتا ہے، ایسی خوشبوئیں جسمِ لطیف ہیں، لہٰذا وہ جسم بھی ہیں اور روح بھی، تاکہ جسم و جان دونوں کے لئے باعثِ مسرت و شادمانی اور وسیلۂ قوّت ثابت ہو جائیں۔
۴۔ ہم قرآنِ حکیم کی ہر آیتِ کریمہ کو ایک کلّیہ تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ پیراہنِ یوسفؑ میں پیغمبر اور امام صلوات اللہ علیھما کے جسمِ لطیف کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، جس میں بہشت کی گونا گون خوشبوئیں ہواکرتی ہیں، پس آنحضرتؐ کی سنتِ مطہرہ میں خوشبو کی اہمیت کا مقصد یہی ہے کہ ہر ہوشمند روح اور ریحِ یوسفؑ (۱۲: ۹۴) کی حقیقت کو پہچان لے۔
۵۔ اس عالمِ رنگ و بو میں بظاہر خوبصورت دکھائی دینے والے پھول تو بہت ہیں، لیکن برتری ان پھولوں کی ہے جو رنگینی کے علاوہ عطریات کے خزانے بھی رکھتے ہیں، پس لوگ ایسے پھولوں کے دلدادہ ہوا کرتے ہیں، مگر وجہ ظاہر نہیں کہ کیوں؟ کس لئے؟ اور اس کا پس منظر کیا ہے؟ تاہم اہلِ دانش جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے، وہ جانتے ہیں کہ انسان جس فطرت پر پیدا کیا گیا ہے وہ ایک کامل و مکمل فطرت ہے، جس کی بزبانِ حکمت تعریف و توصیف فرمائی گئی ہے (۳۰: ۳۰) یہ فطرت وہ سرشت ہے جو بہشت کی پاک مٹی سے گوندھی گئی ہے، اور جنّت کی زمین سے پھولوں کا براہِ راست
۲۳
رشتہ تھا، جس کی یاداشت انسانی فطرت میں دفنائی ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ آدمی پھولوں سے محبت تو کرتا رہتا ہے، لیکن وہ اس کا سبب بیان نہیں کر سکتا۔
۶۔ دوسری مثال یہ ہے کہ جس طرح لوگ بصورتِ ذرّاتِ روحانی کشتیٔ نوحؑ میں سوار تھے (۱۷: ۰۳، ۳۶: ۴۱) اسی طرح وہ پشتِ آدمؑ سے وابستہ ہوکر باغِ بہشت میں بھی رہ چکے ہیں (۰۷: ۱۱، ۰۷: ۱۸۹) مگر یہ عظیم الشّان واقعہ ان کو یاد نہیں، جیسے واقعۂ “الست” آج کسی کو یاد نہیں، مگر قرآنِ حکیم یاد دلاتا ہے، کیونکہ انسان سے عالمِ ذرّ کی طویل زندگی سراسر فراموش ہوچکی ہے، تاہم اس کی فطرت میں اس عالَم کی نعمتوں سے ایک خاموش اور پوشیدہ مانوسیت باقی ہے، جس کی بناء پر یہ ان چیزوں کو چاہتا ہے، لیکن وہ اس کی توجیہہ نہیں کرسکتا۔
۷۔ علم کا وہ حصّہ آسان ہے، جو عملی اور تاریخی نوعیت کا ہو، یعنی احباب کو علم کی ایسی باتیں خوب ذہن نشین ہوکر یاد رہتی ہیں، جو اہم مواقع اور ان کی نیک کوششوں کی ترجمانی کرتی ہیں، پس ہمارا فرض ہے کہ اپنے تمام عزیزوں کے پیش کردہ پھولوں اورگلہائے حسین وجمیل جیسے نیک کاموں کو نہ صرف زبانی یاد کریں، بلکہ علم و حکمت کی زبان میں اس کی ترجمانی کرنے کے لئے کوشش بھی کریں، کیونکہ مسگار، ہونزہ، گلگت، کراچی، لنڈن، کینیڈا، امریکا، وغیرہ میں ہمارے عزیزان علمِ امامت کے پھول
۲۴
اگا رہے ہیں، تاکہ ایک دنیا شہدِ شیرین اور عطر کی دولت سے مالامال ہو، یہی سبب ہے کہ ہمارے احباب بعض مواقع پر ظاہری پھولوں کو بھی بطور تحفہ پیش کرتے ہیں تاکہ اصل حقیقت کی علامت اور دلیل ہو، اور جاننے والے حضرات ان معنوں اور اشاروں کو سمجھ سکیں۔
۸۔ دنیائے فانی مجموعاً عالمِ باقی کی دائمیّت کی روشن ترین دلیل ہے، یہاں کے مرجھانے والے پھول زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں کہ علم اور روحانیت کے پھول سدا بہار ہوا کرتے ہیں، جن کی عطر افشانی کبھی کم نہیں ہوسکتی، وہ پھول صرف ایک ہی ہے، مگر ہزار بلکہ بے شمار پھولوں کی شکل میں جلوہ نمائی کرتا ہے، تاکہ ظہورِ کثرت از وحدت، اور رجوعِ کثرت بوحدت کی حقیقت پر روشنی پڑے، جیسے دستِ خدا کائنات و موجودات کو ہر لحظہ پھیلاتا بھی ہے اور مٹھی میں لپیٹتا بھی ہے، تاکہ رجوع اور ہدایت کا سلسلہ ایک ساتھ جاری رہے۔
۹۔ ہر چیز اور ہر چہرہ اپنی ہلاکت کے پیشِ نظراس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا رہتا ہے کہ ہر شیٔ ہلاک ہوجاتی ہے مگر چہرۂ خدا ہلاکت و فنا سے پاک و برتر ہے، اورلوگوں کی ہلاکت دو طرح سے ہے: جہالت و نادانی کی تاریکی میں، اور علم و معرفت کی روشنی میں، پس جہاں ظلمت ہے، تو وہاں کچھ بھی
۲۵
نظر نہیں آئیگا، اور جس مقام پر نور ہو، وہاں چہرۂ خدا میں ہر چہرہ فنا ہوتا ہوا دکھائی دے گا، اور اس سے بڑھ کر کوئی سعادت ہو نہیں سکتی، کہ کوئی شخص اسی طرح اپنی اصل سے واصل ہوجائے، اور اپنی انا کو مرتبۂ ازلی میں پائے۔
۱۰۔ “ازل” بظاہر ایک سہ حرفی لفظ ہے، مگر اس کی حقیقت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا سب سے بڑا خزانہ پوشیدہ ہے، جس میں تمام گوہر ہائے معرفت جمع ہیں، جس طرح کسی بادشاہ کے سب سے بڑے خزانے میں بصورتِ سکہ اور زر و گوہر سب کچھ سمیٹا ہوا موجود ہوتا ہے، چنانچہ اسرارِ ازل سے بالاتر کوئی سِر (بھید) نہیں، مگر بڑی عجیب بات تو یہ ہے کہ وہاں جتنے الفاظ و اصطلاحات مقرر ہیں وہ سب کے سب چہرۂ خدا اور اس کی گونا گون تجلیوں کے لئے ہیں، کیونکہ وہ مقام ایسا نہیں کہ وہاں وجہ اللہ کے سوا کوئی چیز ٹھہر سکے (۲۸: ۸۸، ۵۵: ۲۷) پس ازل، ابد، اور دہر وجہِ خدا کی حقیقتِ دائمیت کے نام ہیں، جسمیں انسان کو اس طرح فنا ہوجانا ہے کہ اس کی بشریت کا نام و نشان ہی مٹ جائے، اور وہ بالکل شیءِمذکور ہی نہ رہے (۷۶: ۰۱)
۱۱۔ اگر ازل بعید سے بعید ترین ماضی کا کوئی بے پایان زمانہ ہوتا، تو وقت گزر جانے کے ساتھ ساتھ لوگ اس سے دور ہوتے چلے جاتے، مگر خدائے مہربان نے ایسا نہیں کیا، چنانچہ قرآنِ حکیم کا فرمانا ہے کہ اللہ تعالٰی
۲۶
انسان کی رگِ جان سے بھی نزدیک تر ہے (۵۰: ۱۶) پس جہاں خدا اس قدر نزدیک ہو، وہاں ازل اوردہر کس طرح دور ہوسکتا ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ جس منزلِ آخرین میں دیدارِ خداوندی کا سب سے عظیم شرف حاصل ہوجاتا ہے، اسی منزل میں سب کچھ موجود ہے، اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی بڑا یا چھوٹا بھید مقامِ دیدار سے ہٹ کر ہو، جبکہ حکمتِ قرآن یہ فرماتی ہے کہ ہر چیز کو علمی و عرفانی طور پر چہرۂ خدا سے قربان کر دو (۲۸: ۸۸، ۵۵: ۲۷)، تاکہ تم اس کے ظہورات و تجلّیات میں ہر چیز دیکھ سکوگے اور سورۂ رحمان کا واضح مفہوم اور مقصد و منشاء یہی ہے۔
۱۲۔ دیکھئے اور توجہ سے سنیے کہ قرآنِ حکیم میں ازل کا تذکرہ موجود ہے، چنانچہ جب حضرت موسٰیؑ نے ربِّ کریم کے سب سے بڑے دیدار کے لئے درخواست کی، تو اس وقت بحالتِ روحانی مقامِ ازل آپؑ کے سامنے تھا، آپ اسرارِ ازل کا مشاہدہ کر رہے تھے، اور بحرِ حیرت میں ڈوب رہے تھے، پس اللہ جل شانہٗ نے اپنی بے مثال تجلّی کا بارِگران کوہِ عقل پر ڈال دیا، جس سے وہ پارہ پارہ ہوکر بے شمار جواہر میں تقسیم ہوگیا، تاکہ حضرت موسٰیؑ کے لئے یہ علمی دیدار جو بہت سی قسطوں میں ہے آسان ہوجائے، پس حقیقی علم میں خدائے بزرگ و برتر کا رنگِ نور اور حسن و جمال موجود ہے، اور ہر عرفانی بھید میں اس کا ایک دیدار پوشیدہ ہے۔
۱۳۔ حضورِ اکرم فخرِ بنی آدم رحمتِ عالم صلّی اللّٰہ علیہ وسلم
نے جس شان سے حقائق و معارفِ ازل و ابد کا مشاہدہ کیا، اس کا ایک حکیمانہ بیان سورۂ نجم (۵۳: ۰۱ تا ۱۸) میں فرمایا گیا ہے، ان اٹھارہ آیاتِ مقدّسہ میں جس طرح سردارِ رسل کی معراج مرتبۂ ازل کے ساتھ واصل نظر آتی ہے، وہ انتہائی حیرت انگیز ہے، جیسے ستارے کا گرنا، یعنی مظاہرۂ گوہرِعقل، اور دوسری مثال میں قلمِ قدرت کی حرکتِ ازلی، پھر آنحضرتؐ کی انفرادی راہ یابی اور اجتماعی راہ نمائی کی تعریف و توصیف، جس میں نہ صرف حضورِ انورؐ کی ازلی و ابد تک رسائی کا اشارہ موجود ہے، بلکہ آپ کی کامیاب ہدایت و رہنمائی کا تذکرہ بھی ہے، کیونکہ اللہ تعالٰی نے اس منزلِ آخرین کی نسبت سے اپنے محبوب پیغمبر کو مومنین کا رفیقِ روحانی (صاحبکم) کہہ کر یاد فرمایا ہے، اور کوئی شک نہیں کہ حضورِ اکرم کے اس نامِ مبارک میں اور اس آیۂ کریمہ میں اہلِ ایمان کے لئے یہ بشارت ہے کہ وہ رسول اللہ کی پیروی میں گنجِ ازل تک رسا ہوسکتے ہیں، جو گوہر ہائے اسرارِ نبوّت وامامت سے مملو ہے۔
۱۴۔ آنحضرتؐ کی معراجِ روحانی اور مقامِ ازل کا دوسرا تذکرہ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۰۱) میں فرمایا گیا ہے، جس میں المسجد الاقصا (انتہائی دور کی مسجد یا آسمانی مسجد) سے درجۂ ازل مراد ہے، جو علم وحکمت کی بے پایان برکتوں کا منبع و مخرج ہے، اور وہ مرتبہ مسجد ان معنوں میں ہے، کہ وہاں پیغمبرانہ، اولیائی، اور عارفانہ عبادت ہواکرتی ہے۔ (دور کی مسجد کی ایک اور تاویل آخری اسمِ اعظم ہے) ۔
۲۸
۱۵۔ انبیاء و اولیاء (أئمّہ) کی ذواتِ مقدّسہ جس طرح اسرارِ ازل و ابد تک رسا ہو کران کا عرفانی مشاہدہ کرلیتی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن یہ سوچنا اورجاننا انتہائی مشکل کام ہے کہ آیا مومنین کو کبھی ان حقائق و معارف کا مشاہدہ اور تجربہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ تو آئیے ہم اس کے بارے میں قرآنِ حکیم میں دیکھتے ہیں:۔
۱۶۔ قرآنِ کریم کی سب سے زیادہ فیصلہ کن آیات وہ ہیں، جن میں نمایان طور پر نور کا ذکر موجود ہے، چنانچہ نور تو خدا، رسول اور امامؑ کا ہے، لیکن شرطِ اطاعت کی بجا آوری کے بعد یہی نور مومنین کا بھی ہو جا تا ہے، ملا حظہ ہو سورۂ حدید (۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹) اور سورۂ تحریم (۶۶: ۰۸) اب آپ سے برائے مکمل توجہ یہ سوال کرتا ہوں کہ نور کے دائرہ کار میں کیا کیا افعال داخل ہیں؟ اور کون کون سے کام اس دائرے سے باہر ہیں؟ آپ ہر گز یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ نور ازل اور ابد کے بھیدوں پر روشنی نہیں ڈال سکتا، اورنہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ نور کا دائرہ محدود ہے، جبکہ نور کی روشنی ہمہ رس اور ہمہ گیر ہے، اس بیان سے ظاہر ہے کہ نور ہر سطح کے مشاہدات اور ایک کامل معرفت کیلئے مقرر ہے۔
۱۷۔ نور کے بہت سے درجات ہیں، تاہم آسانی کی خاطر اس کے تین بڑے درجوں کے نام بتائیں گے، اور وہ یہ ہیں: علم الیقین، عین الیقین
۲۹
اور حق الیقین، جیسے نورِ خورشید کے تین مراتب ہیں: الف: صبحِ صادق، بادلوں کے ساتھ روشنی، درختوں کے نیچے روشنی۔ ب: دھوپ، جس میں کوئی سایہ نہیں۔ ج: سورج خود جو روشنی کا سرچشمہ ہے، یہاں اصل بحث حق الیقین کے بارے میں ہے، کہ اس تک مومنین پہنچ سکتے ہیں یا نہیں؟ لیکن مُحَوَّلۂ بالاآیاتِ مقدّسہ میں اچھی طرح سے غور کرنے سے معلوم ہوجائے گا کہ جو نور مومنین کے آگے اور داہنی طرف دوڑتا ہے وہ نورِ حق الیقین ہے، یعنی وہ دھوپ نہیں، بلکہ سورج خود ہی ہے، اعنی روحانیت کے عالمِ علوی میں نورِ وحدت کا طلوع و غروب ہو رہا ہے، تاکہ صبحِ ازل سے لیکر شامِ ابد تک جو کچھ حقائق و معارف اور عظیم اسرار ہیں، ان پر روشنی پڑے، یعنی یہی ہے نورِعقل کا وہ مظاہرہ، جس میں تمام لامکانی اور لا زمانی اسرار (بھید) محفوظ ہیں۔
نوٹ: گلہائے معنوی نہ صرف ایک تاریخ ساز مضمون ہے بلکہ علم و عرفان کے اعتبار سے بھی اس کی بہت بڑی اہمیت ہے، لہٰذا آپ اس کے مطالب کو خوب ذہن نشین کر لیں۔
نوٹ: مُحَوَّلہ آیات کو قرآنِ مجید میں دیکھئے۔
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
لنڈن
۲۷ نومبر۱۹۸۶ء
۳۰
عالمِ لامکان
۱۔ دونوں جہاں میں سے ایک تو مکان ہے، یعنی عالمِ جسمانی، جس کے ابعادِ ثلاثہ (طول، عرض، عمق) ہوتے ہیں، اور دوسرا لامکان/ عالمِ روحانی ہے، جو بہت سی صفات میں عالمِ ظاہر کے برعکس ہے، کیونکہ وہ غیر مادّی، غیر مکانی، اور لطیف ہے، لہٰذا اس کے بارے میں درحقیقت ایسا کوئی سوال پیدا نہیں ہوسکتا، جس کا تعلق جسم سے یا مکان و زمان سے ہو، جیسے کسی یہ پوچھنا کہ لامکان کہاں ہے؟ یہ سوال نا درست اور غیر منطقی ہے، جبکہ “لامکان” کے معنی میں مکانیّت (جگہ) طرف، وغیرہ کی نفی موجود ہے، نیز لامکان کے متعلق یہ پوچھنا بھی درست نہیں کہ وہ کب پیدا ہوا؟ یا کب سے موجود ہے؟ اس لئے کہ یہ سوال مادّی چیزوں سے تعلق رکھتا ہے، مگر مجازاً ایسا کوئی بیان ہوسکتا ہے، اور اس نوعیت کی تشبیہات و تمثیلات ہوسکتی ہیں۔
۲۔ اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کرکے اس کائنات کے
۳۱
ختم و فنا ہوجانے کا تصوّر کریں، تو اسی کے ساتھ ساتھ وجودِ زمانہ کا تصوّر بھی ختم ہوجائے گا، اس لئے کہ زمانہ اور وقت بحیثیتِ مجموعی آسمان اور سیّاروں کی گردش سے بنتا ہے، اس کے بغیر دن رات، ماہ وسال کا کوئی وجود ہی نہیں، پس ظاہر ہے کہ جس طرح یہ دنیا جسم اور مکان و زمان ہے، اسی طرح اس کے مقابل میں دوسرا عالم روح اور لامکان و لازمان ہے، یعنی وہ مادّیت کی کوئی جگہ نہیں، اور نہ ہی اس میں ماضی، حال، اور مستقبل ہے، مگر بیشک اس میں “دھر” ہے، یعنی زمانۂ ساکن (ٹھہرا ہوا زمانہ) کہ وہ گزرتا نہیں۔
۳۔ صبحِ صادق کے کچھ دیر بعد جب سورج نظرآتا ہے، تو لوگ عادتاً کہنے لگتے ہیں کہ سورج طلوع ہوگیا، یا کہتے ہیں کہ سورج نکل آیا، اور شام کے وقت جب دکھائی نہیں دیتا، تو کہاجاتا ہے کہ سورج ڈوب گیا، جبکہ حقیقتِ حال کچھ اور ہے، وہ یہ کہ سورج خود نہ طلوع ہوجاتا ہے، اور نہ غروب، کیونکہ وہ اپنی جگہ پر ساکن ہے، بلکہ زمین ہی گردش کرتی رہتی ہے، جسکی وجہ سے دن رات کا تعیّن اور مختلف اوقات کا ظہور ہوتا ہے، چنانچہ حقائق و معارف سے متعلق لوگوں کے نظریات دو قسم کے ہوا کرتے ہیں، ایک وہ نظریہ جو عادت، روایت، اور چشمِ ظاہر کے مطابق ہوتا ہے، اور دوسرا وہ نظریہ، جو اصل حقیقتِ حال کے مطابق ہو، پس قرآنِ حکیم نے بطریقِ حکمت نظریۂ اوّل کو مثال کے طور پر لیا، اور نظریۂ دوم کو ممثول کا درجہ عطا کر دیا، جیسا کہ سورۂ رحمان کا
۳۲
ایک ارشاد (۵۵: ۰۵) ہے: سورج اور چاند ایک مقرر حساب سے (چل رہے) ہیں، ظاہر ہے کہ سورج اس طرح نہیں چلتا، جس طرح چاند چلتا ہے، پس یہ عالمِ دین کے تین درجوں کے شمس و قمر کی مثال ہے، یعنی درجۂ اوّل کے سورج اور چاند عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ ہیں، درجۂ دوم کے سورج اور چاند ناطق و اساس اور درجۂ سوم کے آفتاب و ماہتاب امامؑ اور باب (حجتِ اعظم) ہیں، کیونکہ خورشید و ماہ کے مقامات تین ہیں: عالمِ روحانی، زمانۂ نبوّت، اور دورِ امامت۔
(اس مقالے میں درجۂ اعلٰی کے بہت ہی مشکل سوالات کیلئے درست جوابات مہیا کئے گئے ہیں۔ الحمد للہ علی منہٖ واحسانہٖ)
۴۔ جس طرح معرفتِ نفس (روح/ذات) حضرتِ ربِّ عزّت کی معرفت کا وسیلۂ واحد ہے، اسی طرح یہی پہچان اسرارِ لا مکان کی شناخت کا ذریعہ بھی ہے، چنانچہ تذکرۂ عالمِ شخصی کے بغیر حقائق و معارفِ لامکان و لازمان کو کما حقہٗ سمجھنا اور سمجھانا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے، پس یہاں اس انتہائی اہم موضوع کے سلسلے میں لازمی اور ضروری طور پر پرسنل ورلڈ (عالمِ شخصی) کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس میں اللہ تعالٰی کی تمامتر نشانیاں، عظیم معجزات، اور اسرارِ ازل و ابد مخفی ہیں (۴۱: ۵۳، ۵۱: ۲۱) جیسے قرآنِ کریم کا ایک بہت ہی عالی شان مضمون “عالمین” ہے، جو قرآنِ پاک میں ۷۳ دفعہ
۳۳
مذکور ہے، اور حضرتِ امامِ جعفر الصّادقؑ کا ارشاد ہے کہ عالمین سے انسان مراد ہیں، کیونکہ ہر شخص اپنی ذات (روح) میں ایک مستقل عالم (دنیا) ہے، جس میں اگر چشمِ حقیقت بین سے دیکھا جائے، تو عقلی، علمی، اور روحانی کیفیات میں خدا کی بادشاہی کا سب کچھ موجود ہے، اور کائنات وموجودات کی کوئی چیز ایسی نہیں، جس کا نمونہ عالم شخصی میں نہ ملتا ہو۔
۵۔ اب ہم یقینِ کامل سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ آدمی کی عقل و روح عالمِ لامکان ہے، جو مکان و زمان سے بالاتر ہے، جس کی ایک عام مثال دنیائے خیال ہے اور عالمِ خواب، کہ وہ مکان نہیں، اور نہ وہ زمانۂ ظاہر کی طرح کوئی زمان ہے، بلکہ یقیناً خیال بھی اور خواب بھی لامکان و لازمان کا ایک واضح نمونہ ہے، کیونکہ یہ دونوں حالتیں بشرطِ علم وعمل مرتبۂ روحانیت کے ساتھ مدغم ہو جاتی ہیں، جیسے انبیاءؑ کے خیال و خواب، کہ اگر اس حال میں روحِ قدسی کی روحانیت ممکن نہ ہوتی، تو ان حضرات کو سوتے میں کوئی آسمانی اشارہ نہ ہوتا۔
۶۔ یاد رہے کہ دینِ اسلام کا اساسی اور بنیادی قانون اللہ تعالٰی کی سنّت ہے، اور اس کی پاک و منزہ سنّت کی ایک خاص وضاحت یہ ہے کہ خداوندِ عالم “تخلیق درتخلیق” کرتا ہے (۳۹: ۰۶) خلقاً مِّنْ بعدِ خلقٍ (۳۹: ۰۶) نیز ملاحظہ ہو: پہلی تخلیق: سلالہ، دوسری تخلیق: نطفہ، تیسری تخلیق: عَلَقہ، چوتھی تخلیق: مضغہ، پانچویں تخلیق: عظام، چھٹی تخلیق: لحم، اور ساتویں تخلیق: خلقِ آخر (۲۳: ۱۲ تا ۱۴) یہی وہ قانونِ الہٰی ہے، جس کو قرآنِ حکیم
۳۴
نے فطرت کا نام دیا (۳۰: ۳۰) آپ اسے فطرت اللہ (۳۰: ۳۰) کہیں یا سنۃ اللہ (۱۷: ۷۷) بہرحال جو پیغمبرؑ خدا کی طرف سے مبعوث ہوئے تھے، ان حضرات کی تکمیل جسم میں بھی اور روح میں بھی سنتِ تخلیق در تخلیق کے مطابق ہوئی تھی (۱۷: ۷۷) اور اگر کسی عزیز کو اس بیان میں کوئی شک ہو، تو وہ متعلقہ آیاتِ مقدّسہ میں سنجیدگی سے غور کرسکتا ہے، تاکہ اسی بنیاد پر یہاں اب جو حقائق و معارف بیان ہونے والے ہیں، ان کے سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ ہو۔
۷۔ کائناتِ ظاہر ہو، یا عالَمِ دین، یا عالَمِ شخصی، کوئی عالَم چاہے خلقی ہو یا امری (عالم امر میں تخلیق در تخلیق کا صرف مظاہرہ ہوتا ہے)، ہر حال میں وہ قانونِ فطرت کے تحت ہوتا ہے، اور اس میں تخلیق در تخلیق کا عمل یا نمونہ جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں کئی طرح کی وسعت پیدا ہوجاتی، مثال کے طور پر اس کے واقعات اور علم میں کشادگی پیدا ہوجاتی ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم کا ارشاد ہے: اور ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور بیشک ہم وسعت والے ہیں (۵۱: ۴۷) اس آیۂ پُرحکمت میں ذات و کائنات کے بہت سے بھید پوشیدہ ہیں، من جملہ ایک اشارہ یہ ہے کہ تخلیق در تخلیق کی بدولت ہر عالم میں معنوی اور علمی فراخی پیدا ہوجاتی ہے، جیسے عالَمِ دین زمانۂ آدمؑ میں پیدا ہوا تھا، لیکن بعد کے ناطقوں کی شریعتوں سے بھی اس کی تخلیق ہوتی چلی آئی، اسی طرح حضورِ اکرم صلّی اللّٰہ علیہ و سلّم
۳۵
کے ظہورِ اقدس تک عالمِ دین میں کُل چھ دفعہ تخلیق درتخلیق ہوئی، جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ (۰۷: ۵۴، ۱۰: ۰۳، ۱۱: ۰۷، ۲۵: ۵۹، ۳۲: ۰۴، ۵۰: ۳۸، ۵۷: ۰۴ )۔
۸۔ پروردگارِ عالم نے اپنے محبوب رسولؐ کو نہ صرف قرآنِ عظیم کی دولتِ پائندہ سے مالا مال فرمایا، بلکہ آپ کو سبعِ مثانی بھی عطا کر دیا (۱۵: ۸۷) تاکہ حضورِ انورؐ کی دعوتِ حق کا کام قیامت تک جاری رہے، یہ سبعِ مثانی (سات دُہرائی جانے والی چیزیں) جو قرآنِ پاک کے علاوہ ہیں، وہ آلِ محمدؐ کے أئمّۂ طاہرینؑ ہیں، جو بحکمِ خدا اپنے سلسلے میں سات سات کے ادوارِ کہین (ادوارِ کہین، چھوٹے ادوار، جن میں سے ہر ایک میں سات اماموں کا ایک دور ہوتا ہے ) بناتے آئے ہیں، چنانچہ رسولِ خداؐ کے علم و حکمت سے، جس کا دروازہ مرتبۂ امامت ہے، آخری بارعالمِ دین کی تخلیق ہوگئی، چونکہ آنحضرتؐ مرکزِ انبیا وأئمّہ ہیں، لہٰذا آپ کا دین ماضی اور مستقبل کے تمام ادوار پر محیط ہوگیا، اور آپ کا دور دراصل دورِاعظم قرار پایا، اس اعتبار سے سردارِ انبیا و رسلؐ کا عالَمِ دین جو زمانۂ آدم سے لیکر قیامت تک ہے، وہ آٹھ دنوں میں مکمل ہوگیا، جیسا کہ قرآنِ پاک (۴۱: ۰۹ تا ۱۲) میں اس کا ذکر موجود ہے۔
۹۔ حضرت آدمؑ اور حضرت نوحؑ کی شریعتیں ان دو دنوں کی مثال ہیں، جن میں عالمِ دین کی زمین بنائی گئی، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ،
۳۶
اور آنحضرتؐ کی شرائع وہ چار دن ہیں، جن میں زمینِ دین پر پہاڑ پیدا کئے گئے اور ان میں گونا گوں برکتیں اور قوّتیں رکھی گئیں، اور مرتبۂ امامت و قیامت وہ دو دن ہیں، کہ ان میں روحانیت کے سات آسمان وجود میں آگئے۔
۱۰۔ عالمِ شخصی کا سب سے مکمل نمونہ انسانِ کامل ہے، جس کے بابرکت وجود کے دو رُخ (پہلو) ہوا کرتے ہیں، یعنی وہ جسم و جسمانیت کے اعتبار سے مکان و زمان کے تحت بھی ہے، اور روح و روحانیت کے لحاظ سے لامکان و لازمان بھی ہے، تاکہ اس کی پاک و پاکیزہ ہستی مکان و لامکان کے درمیان پُل کی طرح، اور عالمِ سفلی سے عالم علوی تک سیڑھی کی طرح کام کرسکے، شروع سے لیکراب تک جتنے بھی انسانانِ کامل ہوئے ہیں، وہ سب جسمانی طور پر الگ الگ زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن عقل و روح کے جس مقام پر مکان و زمان کی تمام مسافتیں ختم ہو جاتی ہیں، وہاں وہ سارے نفسِ واحدہ کی طرح ایک ہو جاتے ہیں (۳۱: ۲۸)
۱۱۔ اگر یہاں یہ کہا جائے کہ سب انسان مقامِ ازل پر ایک ہی نورانی شخص کی صورت میں چہرۂ اصل سے واصل تھے، پھر اس چہرے کی بے شمار تصویریں بنا کر اس دنیا میں لائی گئیں، تو یہ بات ایک روشن حقیقت ہوگی، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی جاننا ہے کہ عکاسی اور تصویر کشی سے اصل (Original) میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی ہے، لہٰذا لوگ مرتبۂ ازل میں اب بھی ویسے متحد اور شخصِ واحد ہیں، جیسے دنیا میں آنے سے پہلے تھے،
۳۷
اور یہ نکتہ ان حضرات کے لئے زیادہ سے زیادہ دلنشین ہوسکتا ہے، جو اس کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں، الغرض انسان کا اپنی اصل کی طرف رجوع صرف علمی اور عرفانی صورت میں ممکن ہے، اور یہ بات خودشناسی کے تحت آتی ہے۔
۱۲۔ یہ ہمارے لئے پہلا سبق ہے کہ عقلِ کلّ سے نفسِ کلّ پیدا ہوگیا، یہ دوسرا سبق ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے پیدا ہوگئے، اور یہ تیسرا اور آخری درس ہے، کہ کوئی بھی کسی سے پیدا نہیں ہوا، کیونکہ پیدائش عالمِ خلق میں ہے اور عالمِ امر میں نہیں، لہٰذا وہاں جو کچھ مشاہدے میں آتا ہے، وہ صرف ایک نورانی مظاہرہ (Demonstration) ہے، جو عرفانی مقصد کے پیش نظر دکھایا جاتا ہے، جس میں تمام حقیقتوں اور معرفتوں کی مثالیں جمع ہیں۔ اور یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اس حکمتِ مُدَوَّر (Globular Wisdom) میں کبھی فعلِ خدا پہلے نظر آتا ہے، کبھی گوہرِعقل، اور کبھی کلمۂ کُنۡ، اس کا سبب دائرۂ دوائِر۱ ہے، جس پر مسلسل یہ ظہورات ہوتے رہتے ہیں، جس کو اگربنظرِ کلی دیکھا جائے تو اس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں، کیونکہ یہ سب لامکان و لازمان کے مظاہرات ہیں۔
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
لنڈن
۲/۱۲/۸۶
۱دائرۂ دوائر، سب سے آخری دائرہ، جس میں تمام دائرے داخل ہیں، جو حکمتِ مدوّر کے دائمی فعل سے بنتا ہے۔
۳۸
روح اور مادّہ
کیایہ تصوّر درست ہے کہ روح اور مادّہ (جسم) دو الگ الگ چیزیں ہیں؟ یا یہ دراصل ایک ہی شیٔ ہے؟ اگر یہ دونوں جدا جدا ہیں، اور ان کی حقیقی وحدت کا کوئی مقام ہی نہیں، تو پھر ان کے درمیان جو حدِّ فاصل ہے، وہ کہاں واقع ہے؟ اور کیاہے؟ اور اگر یہ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں، تو وہ حقیقیت کیا ہے؟ آیا ازل میں روح تھی؟ یا جسم تھا؟ جب چہرۂ خدا کے سامنے ہر چیز ہلاک ہو جائے گی، تو اس وقت روح اور مادّہ کا کیا عالم ہوگا؟ کیا عالَمِ ذرّ میں جمادات کی روحیں بھی حاضرہوتی ہیں؟ آیا پتھر اور لوہا جیسی چیزوں میں بھی روح پوشیدہ ہوسکتی ہے؟ اگر ان میں روح موجود ہے، تو وضاحت کیجئے۔ ان جیسے مسائل و مباحث سے بحث کرنے کے لئے (ان شاء اللہ) ذیل میں چند دلائل درج کئے جاتے ہیں: ۔
دلیل۱: روح اورمادّہ اگرچہ ظاہراً دو چیزیں ہیں، اور عمومی تصوّر بھی یہی ہے، تاہم حقیقت میں یہ ایک ہی شیٔ ہے، مثال کے طور پر اگر یخ (برف)
۳۹
اور پانی ظاہری شکل اور کیفیت میں مختلف اور جدا نظرآتے ہیں، تو کیا ہوا، جبکہ یخ کے پگھل جانے سے پانی بن جاتا ہے، اور پانی کے منجمد ہونے سے یخ بن جاتی ہے، اس کے علاوہ ان کی اصل وحدت و سالمیّت بادلوں میں موجود ہے، چنانچہ مادّہ روحِ منجمد ہے، اور روح مادّۂ محلول اوران دونوں کا مرکزِ وحدت وہ جسمِ لطیف ہے، جس نے ساری کائنات کو اپنے اندر ڈبو لیا ہے، جس کو حکمائے قدیم نے ھَیُولیٰ کہا، اور جدید سائنس میں اس کا نام ایتھر ہے۔
دلیل۲: بفرمودۂ قرآنِ حکیم (۲۴: ۳۵) نورِ خدائے برحق روشنیوں کا ایک ایسا انتہائی عظیم سمندر ہے کہ اس میں آسمان و زمین کا ذرّہ ذرّہ اندرسے بھی اور باہر سے بھی مستغرق ہے، پس کون کہتا ہے کہ اس نورِ جان و جانان میں حرارتِ حیات نہیں، اور یہ ہمیشہ ہر چھوٹے سے چھوٹے ذرّے کو ایک مخفی اور خاموش زندگی کی تب و تاب عنایت نہیں کرسکتی ہے، وہ کیسا انسان ہوگا، جو یہ خیال کرسکے کہ الحیُّ القیّوم کا نور بلندی و پستی کے ہر ایٹم اور ہر ریزے کو منور نہیں کرسکتا، سو اس بیان سے ظاہر ہے کہ کائنات کے ہر ذرّے میں روح بصورتِ نور پنہان ہے۔
دلیل۳: یہ جہان کیا ہے؟ اور کس مقصد کے لئے بنا ہے؟ یہ گویا قدرت کا ایک زندہ کارخانہ ہے، جس میں مختلف درجات کے ذی حیات کی تخلیق ہوتی رہتی ہے، دنیا والوں نے ابتک کوئی ایسی مِل (MILL) نہیں بنائی، جو خام مال کی محتاج نہ ہو، اور ہمیشہ خود بخود کام کرتی رہے، لیکن صرف کارخانۂ فطرت
۴۰
ہی ایسا ہے، جو بحیثیتِ مجموعی خود ہی زندگی کی مِل بھی ہے، اور خود ہی مواد بھی، اور یہ کارگاہ بحکمِ خدا خودبخود ہمیشہ چلتی رہتی ہے، اگر کارخانۂ کائنات سر تا سر زندہ اور روح سے بھرپور نہ ہوتا، تو حکمائے قدیم اس کے اجزاء کو زندہ مخلوق سے تشبیہ نہ دیتے، جیسے انہوں نے کہا: نو۹باپ (نو آسمان) چار (۴) مائیں (چار عناصر) اور تین۳ بچے (جماد، نبات، حیوان) اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ یہ جہان اندرونی طور پر زندہ ہے، اور اسی وجہ سے یہ کارخانۂ زندگی کا درجہ رکھتا ہے۔
دلیل۴: سورۂ حدید (۵۷: ۲۵) میں قرآنی ارشاد ہے کہ اللہ تعالٰی نے لوہے کو نازل کیا۔ لیکن اہلِ دانش جانتے ہیں کہ آسمان سے لوہے کے چٹان نہیں گرائے گئے، مگر جگہ جگہ لوہے کی روح نازل کی گئی، جس سے لوہا پیدا ہوا، اسی قانونِ روح کے مطابق روح ہی سے تمام معدنیات اور جواہر پیدا ہوئے، جیسے آپ کو علم ہے کہ موتی اور مونگا دونوں پتھر کی طرح ہوتے ہیں، حالانکہ ان میں سے پہلا روحِ حیوانی کی پیداوار ہے، اور دوسرا روحِ نباتی کی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر چیز کی روح ہے، لہٰذا معدنیات کی بھی روح ہے۔
دلیل۵: قرآنِ حکیم میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو کُنۡ (ہوجا) فرماتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے، جیسے اُس پاک وبرتر نے آتشِ نمرود سے فرمایا: كُوْنِیْ بَرْدًا (۲۱: ۶۹) تو ٹھنڈی ہوجا، تو وہ ٹھنڈی ہوگئی،
۴۱
اسی طرح خداوندِ تعالٰی نے بنی اسرائیل کے کچھ نافرمان لوگوں سے کہا: كُوْنُوْا قِرَدَةً (۰۲: ۶۵) تم بندر بن جاؤ، تو وہ بندر بن گئے، اور یہ سب کچھ روحانی طور پر زیادہ صحیح ہے، پس اگر خدا کسی کی روح کو پتھر یا لوہا بنانا چاہے تو یہ امر کس طرح ناممکن ہوسکتا ہے، جیسے سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۵۰) میں اس کا ایک واضح اشارہ موجود ہے، پس جسم نہیں بلکہ روح مسخ ہوجاتی ہے، یعنی روح پتھر، لوہا، وغیرہ بن جاتی ہے۔۱
دلیل۶: حضرت نوحؑ کا سب سے بڑا اور عالمگیر طوفان روحانی شکل میں برپا ہواتھا، چنانچہ خداوندِ عالم نے بروقت آپؑ کو حکم دیا کہ اے نوحؑ ہر قسم کی چیزوں (یعنی جمادات، نباتات، اور حیوانات کے ذرّاتِ ارواح) سے نرومادہ کا جوڑا یعنی دو لے لو (۱۱: ۴۰) چنانچہ حضرت نوحؑ نے اپنی کشتیٔ ہستی (عالَمِ ذرّ) میں کُل چیزوں کی ہر گونہ روحوں سے دو دو جوڑوں کو لیا، تاکہ اس طوفانِ ہلاکت کے بعد ایک نئی دنیا بسا لی جائے کہ اس کی ہر چیز خدا کے خزانے سے ہو (۱۵: ۲۱) جو اُس وقت حضرت نوحؑ میں رکھا ہوا تھا، اور یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اسی طرح تمام چیزوں کی نمائندہ روحیں انسانِ کامل میں جمع ہوجاتی ہیں کہ وہی خزانۂ الٰہی ہے (۱۵: ۲۱) اور وہاں سے
۱(ارشاد ہوا ہے: قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًا (۱۷: ۵۰) (اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ )
۴۲
ہر چیز دنیا میں پھیل جاتی ہے۔
دلیل۷: سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۴۴) میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آسمان و زمین میں کوئی چیز ایسی نہیں جو خداتعالٰی کی حمد و ثنا کی تسبیح نہ کرتی ہو، بے شک خدائے پاک کی یہ تسبیح چیزیں ایک طرح سے اپنی اپنی جگہ پر بھی کرتی ہیں، لیکن ان کے ذرّاتِ ارواح جس طرح انسانِ کامل کے عالَمِ شخصی/ عالَمِ ذرّ میں تسبیح پڑھتے ہیں، وہ ایک عظیم روحانی معجزہ ہے، یہی تسبیح خوانی ہے، جس کو معجزۂ لحنِ داؤدی کہا جاتا ہے۔ (۲۱: ۷۹، ۳۴: ۱۰، ۳۸: ۱۸) اور ہاں، اس میں صورِ اسرافیل کا کمال بھی ہے۔
دلیل۸: سورۂ حج کے ایک ارشاد (۲۲: ۱۸) کا یہ مفہوم ہے کہ جو لوگ آسمانوں میں ہیں، اور جو لوگ زمین میں ہیں، اور آفتاب، ماہتاب، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے، اور بہت سے لوگ اپنے اپنے مقام پربھی اور بصورتِ ذرّاتِ روحانی عالمِ شخصی میں بھی خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ چونکہ آیۂ کریمہ کا خطاب، جیسا کہ اَلَمْ تَرَ (کیا تم نے اس کو نہیں دیکھا) سے ظاہر ہے، آنحضرتؐ سے فرمایا گیا ہے، لہٰذا ہم یہ حقیقت یقینِ کامل سے بیان کریں گے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عالمِ ذرّ میں مذکورہ خلائق کے ذرّاتِ ارواح خدائے برحق کو سجدہ کرتے تھے، اور یہ سجدہ خصوصاً اطاعتِ و فرمانبرداری کے معنی میں ہے۔
دلیل ۹: آپ نے قبل ازین دو۲ کی حکمت کو ذہن نشین کرلیا ہوگا،
۴۳
کہ کُل چیزیں دو۲ دو۲ کے جوڑوں میں ہیں، اور اس قانونِ دوئی سے کوئی چیز مستثنا نہیں (۱۳: ۰۳، ۳۶: ۳۶، ۵۱: ۴۹) سو جس طرح سجدہ کے دو مقام ہیں، اسی طرح تسخیرِ کائنات بھی دو جگہوں پر ہوتی ہے، جن میں سے ایک تو عالَمِ ظاہر ہے، اور دوسرا عالَمِ ذرّ یا عالَمِ شخصی، عالَمِ شخصی میں کائنات بصورتِ ذرّاتِ روح مسخر ہوجاتی ہے، اور یہ واقعہ بحدِ فعل بھی ہے اور بحدِ قوّت بھی، متعلقہ آیاتِ مقدّسہ کے لئے س۔ خ۔ ر کے تحت قرآنِ مجید کے الفاظ کو دیکھئے، جیسا کہ سورۂ جاثیہ کا ایک فرمان (۴۵: ۱۳) ہے: اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کوخدا نے تمہارے کام میں لگا دیا ہے، جو لوگ غور کرتے ہیں، ان کے لئے اس میں (قدرتِ خدا کی) بہت سی نشانیاں ہیں۔ پس امام شناسی کے سلسلے میں اس حقیقت کا جاننا بیحد ضروری ہے۔
دلیل۱۰۔ چونکہ جمادات میں بحدِّ قوّت روح ہے، اور نباتات کی جڑیں مٹی میں مضبوط ہیں، اس لئے ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہاں مادّہ اور روح کے درمیان حدِ فاصل ہے، جب گوسفند کو ذبح کیا جاتا ہے، تو اس کی جان/ روح نکل جاتی ہے، اور کچھ دیر کے بعد بالکل ٹھنڈی ہوجاتی ہے، اس حالت کو دیکھ کر شاید کوئی یہ خیال کرے کہ یہ جسم اور روح کے درمیان ایک واضح حدِّ فاصل ہے، لیکن ایسا نہیں، کیونکہ پھر بھی اس گوسفند میں بحدِّ قوّت روح ہے، جس کو فعلاً روح بنانے کے لئے گوشت کھایا جاتا ہے، اور اگر کسی وجہ سے یہ گوشت زیادہ عرصے تک پڑا رہے، تو اس میں کیڑے پیدا ہوں گے، کیوں کہ
۴۴
اس میں ظہورِ زندگی کی صلاحیت موجود ہے، اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ مادّہ اور روح کے درمیان کوئی حدِ فاصل نہیں۔
دلیل۱۱: تخلیقِ عالَم کے بارے میں دو نکتے ہیں، وہ یہ کہ اگر جزوی طور پر دیکھنا ہے توآفرینش کی ابتداء بھی ہے اور انتہا بھی، اور اگر کُلّی حیثیت سے مشاہدہ کرنا ہو، تو اس کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ ہی کوئی انتہاء اور قرآنِ حکیم کا یہی فیصلہ ہے، اب بات یوں ہے کہ جس اعتبار سے پیدائش کا ایک سرّا ملتا ہے، اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہے کہ مقامِ ازل پر خدا نے سب سے پہلے نورِعقل کو پیدا کیا، پھر اس نے عقل سے نفسِ کُلّ کو اور اس سے جسمِ کُلّ کو وجود میں لایا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے جس طرح یہ کائنات پھیلائی ہے، وہ اس کو اسی طرح لپیٹ بھی لیتا ہے، یعنی جسم روح میں فنا ہو جاتا ہے، اور روح عقل میں، پس معلوم ہوا کہ روح اور مادّہ اگرچہ ظاہراً دو ہیں، لیکن در حقیقت یہ ایک ہی چیز ہے۔
دلیل۱۲: انسانِ کامل بحدِّ فعل اور دوسرے سب لوگ بحدِّ قوّت خدا کی ایک ایسی زندہ اور بولنے والی کتاب ہیں، کہ اس میں دونوں جہاں کے جملہ حقائق و معارف کی ساری مثالیں گھیر کر درج کی گئی ہیں (۷۸: ۲۹) یہی کتاب مجموعۂ نامہ ہائے اعمال بھی ہے (۱۷: ۱۳، ۱۸: ۴۹) اور اس سے کوئی مثال باہر نہیں، چنانچہ اس کتاب/ عالَمِ شخصی پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ جس طرح عالَمِ کبیر ایک گوہر سے بنایا گیا ہے، اسی طرح عالَمِ صغیر ایک جوہر سے پیدا ہوا، وہاں
۴۵
پہاڑوں میں روح منجمد بھی ہوئی ہے، اور معدنیات کی تکوین میں مصروفِ عمل بھی ہے، یہاں ہڈیوں کے خلیات میں ساکن بھی ہے اور متحرک بھی، جیسے درختوں کی زندگی روحِ نباتی سے ہے، ویسے انسانی بالوں کی ہستی بھی اسی سے ہے۔
دلیل۱۳: اگرچہ روح زندہ ہے اور مادّہ مردہ، لیکن قرآنِ حکیم بار بار کہتا ہے اور اہلِ دانش دیکھتے ہیں کہ خدا وہ ہے جو تمام اضداد کو ایک دوسرے سے پیدا کرتا ہے، اور اسی قانون کو سامنے رکھتے ہوئے فرمایا گیا۔ (ترجمہ): اور کون (ہے وہ جو) مردے سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردے کو نکالتا ہے (۱۰: ۳۱) چنانچہ زمین مادّہ ہے اور مردہ (۳۰: ۱۹، ۳۶: ۳۳) جو روح سے بنائی گئی ہے، اور جب یہ کُلّی طور پر فنا ہوجائیگی، تو روح بن کر زندہ ہوجائیگی، جس طرح وہ ہر سال موسمِ خزان میں جزوی طور پر مر جاتی ہے اور موسمِ بہار میں زندہ ہو جاتی ہے (۲۲: ۰۵)
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
لنڈن
۶/۱۲/۸۶
۴۶
چہرۂ خدا کی روشنی میں
۱۔ عنوانِ بالاکے کئی اعلٰی مطالب ہیں، من جملہ ایک مطلب یہ بھی ہے کہ یہاں قرآنِ حکیم کی اُن عظیم الشّان اور حکمت آگین آیات کی روشنی میں بعض خاص حقائق و معارف بیان کئے جائیں، جو موضوعِ وجہ اللہ اور لقائے خداوندی سے متعلق مذکور ہوئی ہیں، کیونکہ ان نورانی آیتوں میں اسرارِ معرفت اور انوارِ وحدت کا سب سے بڑا خزانہ پنہان ہے، جس کی تلاش میں ادیانِ عالم کے تمام لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر لگے ہوئے ہیں، اور اس گنجِ مخفی کو کون نہیں چاہتا۔
۲۔ اس باعظمت موضوع کی اہمیت و ضرورت کو اجاگر کرنے، اور اس کی طرف کما حقہٗ مکمل توجہ دلانے کی خاطر یہاں یہ چند سوالات درج کئے جاتے ہیں: الف: اساسی طور پر “وجہ” کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ ب: وجہ اللہ کا اصل
۴۷
مطلب کیا ہے؟ آیا اس سے ذاتِ خدا مراد ہے، یا اس کے اصلی معنی (چہرۂ خدا) بجا ہیں؟ جب لفظِ “ذات” بھی عربی ہے، تو وہ خود اس آیۂ کریمہ میں داخل ہو کر”ذات اللہ” کیوں نہیں کہلایا؟ ج: اگر آپ کے نزدیک وجہ اللہ کا مطلب چہرۂ خدا ہے، تو پھر بتائیے کہ ذاتِ سبحانِ بیچون وبیچگون کا چہرہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر کوئی شخص چہرۂ خدا کا قائم مقام ہے، یا اس کی نمائندگی کرتا ہے، تو دلیل کی روشنی میں دکھائیے کہ وہ کون ہے؟ د: دیدارِ خداوندی کے باب میں قرآنِ پاک کا کیا ارشاد ہے؟ سورۂ قیامت (۷۵) کی اس آیۂ مبارکہ کا کیا مطلب ہوسکتا ہے: اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (۷۵: ۲۳) اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہوں گے۔ سورۂ قیامت (۷۵: ۲۳) ۔
۳۔ یہ دینِ اسلام کا بنیادی عقیدہ بھی ہے اور حقیقت بھی، کہ حق سبحانہ وتعالٰی اعضاء و جوارح سے پاک وبرتر ہے، لیکن یہ امرِعظیم سب پر روشن ہے کہ قرآنِ حکیم اور دینِ فطرت (اسلام) میں خلیفۂ خدا کا انتہائی بلند مرتبہ بھی ایک اساسی حقیقت ہے، اور اسی اصولِ خلافت اور قانونِ نیابت میں یہ واضح و صریح حکم موجود ہے کہ جس طرح خلیفۂ خدا روح اللہ، ید اللہ، لسان اللہ، وغیرہ کہلاتا ہے، بالکل اسی طرح وہ وجہ اللہ (چہرۂ خدا) بھی ہے، جیسے حدیثِ شریف: مَن راٰنی فقد رَأَ الحق (جس نے مجھے دیکھا تحقیق اس نے خدا کو دیکھا)۔
۴۸
سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ یقیناً آنحضرتؐ خدا کا مبارک چہرہ تھے، اس تصور کے بغیر آیاتِ وجہ اللہ کی حقیقی تفسیر ممکن ہی نہیں، مثال کے لئے ملاحظہ ہو:
۴۔ ایک پُر ازحکمت آیۂ کریمۂ وجہ اللہ کا ترجمہ یہ ہے: چہرۂ خدا کے سوا ہر چیز فنا ہو جانے والی ہے (۲۸: ۸۸) اب اگر چہرۂ خدا سے خلیفۂ خدا، یا خلیفۂ رسول مراد لیا جائے، تو اس کی تفسیر و تاویل دونوں اپنی اپنی جگہ پر صحیح و درست ہوں گی، ورنہ اس کا مطلب و مفہوم یہ ہوگا کہ ہر چیز فانی ہے، یہاں تک کہ خدا کے اعضاء بھی (نعوذ باللہ) فنا پذیر ہیں، مگر صرف اس کا چہرہ ہی باقی رہے گا، لیکن دوستو! یہ نظریہ کیسے درست ہوسکتا ہے؟ نیز اگر ہم یہ کہیں کہ صرف ذاتِ خدا ہی باقی ہے، تو پھر اس کی منطق یہ ہوگی کہ دوسری جملہ اشیاء کے ساتھ صفاتِ الٰھیہ بھی (نعوذ باللہ) ہلاک ہو جاتی ہیں، لیکن یہ عقیدہ کس طرح صحیح ہوسکے گا۔
۵۔ یقیناً ہر پیغمبر اورہرامام اپنے زمانے میں چہرۂ خدا کا کام کرتا ہے، اور یہ کسی دوسرے کا اصول ہرگز نہیں، بلکہ اللہ تعالٰی کا مقرر کردہ قانون ہے، چنانچہ حضرت نوحؑ اپنے وقت میں چہرۂ خدا ہونے کا درجہ رکھتے تھے، آپ کے طوفان
۴۹
کے پس منظر میں ایک روحانی قیامت برپا ہوئی تھی، جس نے نہ صرف بے شمار نا فرمان لوگوں ہی کو غرق و ہلاک کر ڈالا، بلکہ آیۂ وجہِ خدا کے ارشاد کے مطابق اس سے ہر مخلوق اور ہر شیٔ فنا ہوگئی، مگر جو مومنین سفینۂ ظاہر و باطن میں سوار ہوئے تھے، اور جتنے ذرّاتِ روحانی چہرۂ خدا کی کشتی ٔ حکمت (عالمِ ذرّ) میں داخل ہوگئے تھے (۱۱: ۴۰، ۲۳: ۲۷) وہ سب کے سب ہر طرح سے سلامت رہے، چونکہ اللہ تعالٰی کی اس پُرحکمت اور خزائنِ اسرار سے مملو سنت و عادت میں کوئی تبدیلی رونما ہونے والی نہیں تھی (۱۷: ۷۷، ۳۳: ۶۲) لہٰذا خدائے علیم و حکیم بقانونِ روح و روحانیت اپنی یہی عادت ہر دور اور ہر زمانے میں دہراتا رہا ہے، اور کوئی وقت اس قانونِ خداوندی سے مستثناء نہیں۔
۶۔ جب قرآنِ کریم کی ہر آیت بموجبِ ارشادِ نبوّی ایک ظاہر اور ایک باطن کے بغیر ممکن ہی نہیں، تو پھر جن آیاتِ کریمۂ قرآنی میں ظاہری طوفان کا قصّہ ہے، ان کے باطن میں روحانی طوفان/قیامت کا تذکرہ کیوں نہ ہو، چنانچہ یہ بات یاد رہے کہ ظاہری مثال باطنی ممثول کے لئے حجاب کا کام دیتی ہے، تاکہ جتنے بھی عظیم اسرارِ سربستہ ہیں، وہ سب کے سب صیغۂ راز ہی میں بیان ہو سکیں، الغرض قرآنِ مجید میں جتنی بھی سرکش و نافرمان قوموں کی تباہی و بربادی کا ذکر آیا ہے، اگرچہ ان کی ہلاکت کی ظاہری
۵۰
مثالیں مختلف ہیں، لیکن باطن میں ان سب پر ایک ہی عذاب نازل ہوا، اور وہ روحانی قیامت کا عذاب تھا۔
۷۔ خلیفۂ خدا، خواہ کوئی پیغمبر ہو یا امام، کس معنیٰ میں چہرۂ خدا ہوسکتا ہے؟ کیونکہ ان مبارک و مقدّس ہستیوں کا بابرکت دیدار حضرتِ ربِّ کریم کے دیدار کا نمائندہ ہے، ان کی نورانی معرفت میں توحیدِ باری تعالٰی کی معرفت پنہان ہے، وہ سفینۂ نوحؑ کی طرح وسیلۂ نجات ہیں، ان کا وجود کلامِ الٰہی کا ترجمان ہے، جیسا کہ حدیثِ قدسی کا ارشاد ہے، نورِخداوندی ان کے لئے حواسِ ظاہر و باطن کا کام کرتا ہے، (صحیح بخاری، جلدِ سوم، کتابِ رقاق باب۸۴۴، حدیث۱۴۲۲) اور جو لوگ ان میں فنا ہوجاتے ہیں، ان کے لئے مرتبۂ فنا فی اللہ یقینی ہو جاتا ہے۔
۸۔ سورۂ قصص کی آخری آیت (۲۸: ۸۸) میں فرمایا گیا ہے: کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ اِلّاَوَجْھَہٗ اس کے چہرۂ پاک (یعنی مظہرِ نور) کے سوا ہرچیز فنا ہو جانے والی ہے۔ اوراس فنا کی ایک خاص تعریف یہ ہے کہ جب انسانِ کامل (پیغمبر اور امام) کی روحانی قیامت برپا ہوجاتی ہے، تو اس وقت جماد، نبات، حیوان، اور انسان
۵۱
جیسی تمام چیزوں کے ذرّاتِ لطیف شخصِ کامل کے عالمِ شخصیت میں داخل ہو جاتے ہیں، جیسے حضرت نوحؑ کے بارے میں ذکر ہوا ہے، اور ہاں، اس دوران عالمِ شخصی میں مسلسل صورِ اسرافیلؑ بجتا رہتا ہے (قیامت اور فنا کے لئے صورِاسرافیل کا ہونا ضروری ہے) ، اور ہر چیز یہاں غیر شعوری طور پر نمائندۂ چہرۂ خدا میں فنا ہو جاتی ہے، مگر وہ کامل انسان جو عظیم المرتبت ہے، ان ذروں کی طرح فنا نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اگرچہ جسمانی اعتبار سے فنا پذیر اشیاء میں شامل ہے، لیکن نورانی مرتبت کے لحاظ سے ان سے بدرجۂ انتہاء اعلٰی اور پروردگارِ عالم سے اقرب و واصل ہے۔
۹۔ مذکورۂ بالا بیان غیر شعوری فنا یا ہلاکت کے بارے میں ہے، اب شعوری اور نورانی فنا کے باب میں کچھ عرض کی جاتی ہے کہ ہر پیغمبر اور ہر امام شروع شروع میں اپنے مقدم کی نورانیت میں فنا ہوکر چہرۂ خدا ہونے کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے، آپ سورۂ رحمان (۵۵: ۲۴ تا ۲۸) میں غور کریں، صوفی حضرات کا جو نظریۂ فنا ہے، وہ یہی ہے، یعنی فنا فی الشیخ، یا فنا فی المرشد، فنا فی الرسول، اور فنا فی اللہ، مگر ہمارے یہاں امامِ زمانؑ ہی کامل اور حقیقی مرشد ہیں، پس اگرچہ نورانی فنا کے درجات تین ہیں، لیکن وہ ایک ساتھ ہیں۔
۱۰۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بنیادی
۵۲
سنتِ مطہرہ یہ تھی، کہ آپ اپنی جس نورانیت، اور علم و حکمت کی طرف لوگوں کو مدعو کیا کرتے تھے، اس کے لئے مولا علیؑ کو دروازہ قرار دیتے تھے، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ خدا تعالٰی کا دروازہ پیغمبرہیں اور پیغمبر کا دروازہ امامِ زمانؑ، کیوں کہ ہر چیز کا ایک دروازہ ہوا کرتا ہے، پس اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص بحقیقت امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کے در سے داخل ہو جاتا ہے، اس کے لئے خدا و رسول کے جملہ خزانے کُھل جاتے ہیں، اور انہی خزانوں میں گنجِ حقائقِ ازل بھی ہوتا ہے، سو لوگوں کے لئے امامِ عالی مقامؑ کی فرمانبرداری سب سے بڑی سعادت ہے۔
۱۱۔ یہ انتہائی عالیشان مرتبہ، جس کو چہرۂ پُرنورِخدا یا صورتِ رحمان کہا گیا ہے، وہ آج سے نہیں، بلکہ ازل سے ہے، یعنی ہمیشہ موجود ہے، مگر مقامِ ازل پر اس کا دوسرانام کیا تھا؟ اس ازلی اور ابدی حقیقت کا دوسرا نام “نفسِ واحدہ” ہے، ویسے تو اس نور کے بہت سے اسماء ہیں، مگر ہم یہاں اسی نام سے آیاتِ قرآنی کا بیان پیش کریں گے، چنانچہ سورۂ انعام (۰۶: ۹۸) میں جس شان سے ارشاد ہوا ہے، اس کی حکمت اس طرح ہے: اور وہ وہی خدا ہے جس نے تم لوگوں کو عالمِ روحانی میں اور مقامِ ازل پر نفسِ واحدہ (ایک شخص) سے پیدا کیا، پھر اس حکیمِ مطلق نے اپنی رحمتِ بے پایان سے قانونِ دوئی
۵۳
کو بنایا (۳۶: ۳۶، ۵۱: ۴۹) اور سب کے لئے دودو انائیں مقرر کی گئیں، ایک انا بحکمِ خدا مستقر کے نام سے ازلی اور ابداعی حالت میں وہاں رہی، اور دوسری انا بنامِ مستودع اس دنیا کے میدانِ امتحان میں وارد ہوئی، پس وہ اصل ہے اور یہ اس کا سایہ۔
۱۲۔ سوال: کیا یہ آدم وحواؑ کا قصّہ نہیں؟ آیا ہم ان کی اولاد نہیں ہیں؟ فردِ واحد یا نفسِ واحدہ سے بہت سے نفوس کس طرح پیدا ہوسکتے ہیں؟ جواب: یہ ظاہری اور جسمانی آدم و حواؑ اور ان کی بدنی اولاد سے پہلے کی بات ہے، تاہم اگر آپ نفسِ واحدہ کو آدمِ معنی یا آدمِ روحانی کہیں، تو ہر گز غلط نہ ہوگا، نفسِ واحدہ سے نفوسِ خلائق پیدا کئے جانے کی دو روشن مثالیں موجود ہیں، ایک یہ ہے کہ نفسِ واحدہ، جو چہرۂ خدا بھی ہے، اور صورتِ رحمان بھی، اس کی بے شمار جیتی جاگتی تصویریں بنائی گئیں، دوسری مثال یہ ہے کہ اس کو ابداعی قالب (سانچا) بنا کر اسمیں ھَیُولائے نور ڈھالا گیا، اور اس کی اتنی ساری کاپیاں ہوئیں، جتنے کہ سب انسان ہیں، ان دونوں مثالوں میں صرف الفاظ کا فرق ہے، مگر حقیقت میں کوئی فرق نہیں۔
۱۳۔ قرآنِ حکیم کے تمام الفاظ میزانِ حکمت میں تُل کر آئے ہیں، چنانچہ لفظ واحدہ فاعلہ کے وزن پر ہے، لہٰذا نفسِ واحدہ فعلِ توحید
۵۴
کا فاعل ہے، کہ یہ نفوس کو اپنے ساتھ ایک کر لیتا ہے، کیونکہ ازل میں سب کے سب اس کے ساتھ ایک تھے، اور قادرِ مطلق نے یہ کام اس کے لئے آسان بنادیا ہے، چنانچہ جو لوگ اسلامی تعلیمات کے مطابق تزکیۂ نفس کا عمل انجام دیتے ہیں، وہ صرف کل ہی نہیں، بلکہ آج دنیا میں بھی نفسِ واحدہ سے واصل ہوسکتے ہیں، اگر کلّی طور پر نہیں، تو جزوی طور پر، اور عملی طور پر نہیں، تو علمی طورپر، پس اس سلسلے میں قرآنی حکمتوں میں غور و فکر، اور عرفانی بھیدوں کی تلاش بہت بڑی عبادت ہے۔
۱۴۔ وہ سب سے بڑے مقام، جہاں آدم و آدمی کی تخلیق ہوتی ہے، دو ہیں، عالمِ امر اور عالمِ خلق، عالمِ امر میں انسانوں کی جیسی پیدائش ہوتی ہے، وہ تولید نہیں، بلکہ ابداع ہے، جوکلمۂ کُنۡ سے ظہور پذیر ہوتی ہے، لہٰذا وہاں انسان کی والدہ ہے نہیں، اور جہاں تک باپ کا تعلق ہے، وہ بھی ایک اعتبار سے ہوتا ہے، اور دوسرے لحاظ سے نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ انسانوں کی امری پیدائش نفسِ واحدہ سے ہوئی، جس کی مثال اس دنیا میں وہ لا تعداد جراثیمِ حیات ہیں، جو ایک جوان مرد کے وجود میں پائے جاتے ہیں، حالانکہ ان کی ماں ہنوز پردۂ غیب میں ہے، اسی طرح عالمِ ذرّ اور مقامِ عقل پر لوگ موجود تھے، پھر وہ عالمِ خلق میں آدم و حواؑ سے جسمانی طور پر بھی پیدا ہوگئے۔
۵۵
۱۵۔ جیسا کہ سورۂ اعراف (۰۷: ۱۸۹) میں ارشاد ہے: هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَاۚ (۰۷: ۱۸۹) وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (عالمِ امر میں) ایک شخص سے پیدا کیا اور (عالمِ خلق میں) اس سے اس کا جوڑا بھی بنا ڈالا، تاکہ اس سے تسلی ہو (حضرت آدمؑ کو اس اہتمام سے تسکین ہوئی کہ اس سے دنیا میں سلسلۂ نور جاری و باقی رہنے والا تھا۔ (۰۷: ۱۸۹) ۔ یہاں ایک اور سوال یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ حضرت آدمؑ سے بی بی حواؑ کس طرح پیدا ہوئی؟ آپ آیۂ بالا میں غور کرسکتے ہیں کہ ایک لفظ خَلَقَ ہے اور دوسرا جَعَلَ، اور ان دونوں کے درمیان بڑا فرق ہے، آخر یہ فرق کیوں؟ اس لئے کہ لفظِ اوّل تخلیق کے لئے ہے، اور لفظِ دوم میں تقرر کے معنی ہیں، اور اگر یہ بات نہ ہوتی، اور پہلوئے آدمؑ سے حواؑ کا جسمانی وجود بن جاتا، تو یہی امر قانونِ فطرت بن جاتا، اور آج ہر عورت اپنے والدین سے نہیں، بلکہ اپنے شوہر سے جنم لیتی، مگر یہ بات نہیں، حقیقت کچھ اور ہے، وہ یہ کہ کوئی مرد شوہر نہیں کہلا سکتا، جب تک کہ اس کی بیوی نہ ہو، اور کوئی عورت بیوی نہیں بن سکتی، تاوقتیکہ اس کا شوہر نہ ہو، پس جس طرح بیوی کی حیثیت شوہر سے بنتی ہے، اسی طرح شوہر کی یہ اضافی قدریں،
۵۶
اور معنویت بیوی سے حاصل آتی ہے، لہٰذا ان کا تقرر یکطرفہ نہیں، بلکہ دو طرفہ ہوتا ہے اور اس میں روحانی میاں بیوی کی مثال بھی ہے۔
۱۶۔ سوال: انائے مستقر اور انائے مستودع میں کیا حکمت ہے؟ اس دوئی میں کیا راز ہے؟ آیا یہ روح کے دو۲ سرے ہیں؟ ہم اس حقیقت کوکن مثالوں کے ذریعہ سمجھ سکتے ہیں؟ آپ اس کی مزید وضاحت کریں۔ جواب: الف: قرآنِ پاک کا اشارہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ ہوا کرتا ہے (۱۶: ۸۱، ۲۵: ۴۵) پس انسان کی انائے علوی گویا ایک آفتاب ہے، اور انائے سفلی اس کا سایہ، یعنی عکس ہے۔ ب: قرآنی حکمت کا کہنا ہے کہ روح دراصل کوئی ایسی چیز نہیں، جو محدود ہو، بلکہ وہ ایک ہمہ رس و ہمہ گیر حقیقت ہے، لہٰذا اسے بیک وقت دونوں جہاں میں ہونا چاہیے۔ ج: انبیاء واولیاء (أئمّہؑ) انہی دو اناؤں کی وجہ سے عالمِ روحانی کو بھی دیکھتے ہیں، اور اس دنیا کو بھی، اور ان کی یہ صفت اس حقیقت کی دلیل ہے کہ ہر شخص کی دو انائیں ہوا کرتی ہیں۔ د: مکان ہوتو آنا جانا ہوتا ہے، لامکان ہو تو ایسا نہیں ہوتا، روح اگرچہ لامکانی ہے، تاہم مثال کے طور پر یہ کہنا جائز ہے کہ یہ انا اوپر جا سکتی ہے، اور وہ انا نیچے آسکتی ہے، تاکہ دونوں ایک ہو جائیں (قرآن میں روح اور فرشتوں کے عروج و نزول کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، مثال کے طور پر دیکھیے: ۳۵: ۱۰، ۰۷: ۴۰، ۵۳: ۰۷، ۱۵: ۱۴، ۹۷: ۰۴، ۵۸: ۲۲، ۴۲: ۵۲)
۵۷
۱۷۔ اگرچہ قرآنِ مجید کی ہر ہر آیت آسمانی علم و حکمت کے لعل و گوہر سے لبریز ہے، تاہم آئیے ایک انتہائی حیرت انگیز بھید کو دیکھتے ہیں، جو عظمتِ انسانی کے سب سے بڑے خزانے سے متعلق ہے، اس مبارک و مقدّس ارشاد میں سب سے پہلے تو یہ فرمایا جاتا ہے کہ مومنین خدا و رسول کی خصوصی دعوت کو قبول کریں، تاکہ وہ روحانی زندگی میں زندہ ہو جائیں، پھر ان کو علم و عرفان کی روشنی میں یہ جاننا ہوگا کہ خدائے علیم وحکیم برائے امتحان و آزمائش کس طرح آدمی اور اسکے قلب کے درمیان حائل ہوگیا ہے، یعنی حقیقی قلب کسے کہتے ہیں؟ وہ کہاں ہے؟ اور اس کا مرتبہ کیا ہے؟ یہ تمام اسرارِ پنہانی اس وقت منکشف ہوں گے، جبکہ کوئی مومن عالمِ شخصی میں اپنے پروردگار کو پہچانتا ہو، یادرہے کہ اس قلب سے امامِ زمانؑ مراد ہے، جو مومن کی انائے علوی بھی ہے (۰۸: ۲۴)
۱۸۔ جب کسی خوش نصیب اور کامیاب مومن کو خدا، رسول، اور امامِ وقتؑ کی حقیقی فرمانبرداری کے نتیجے میں روحانیت کا سب سے بڑا دیدار حاصل ہو جاتا ہے، تو وہ شاہنشاہِ دیدار کون ہوتا ہے؟ خدا؟ رسول؟ امامؑ؟ فرشتۂ عظیم؟ اپنی روح؟ انائے علوی؟ کتابِ ناطق؟ ازل یا دہر؟ ایک یا سب؟ ابداع یا انبعاث؟ اوّل یا آخر؟ بتائیے کہ وہ کون ہے، جو دیدار دے رہا ہے؟ و اللہ!۔
۵۸
وہ سب کچھ ہے، اور صوفیوں کی زبان میں”ہمہ اوست” اسی کو کہتے ہیں، چہرۂ خدا کی روشنی یہی ہے، جس میں تمام حقیقتیں یکجا نظر آتی ہیں، بلکہ سب کی ایک ہی حقیقت ہو جاتی ہے، جو حقیقتِ حقائق کے نام سے ہے، اور یک حقیقت بھی یہی ہے۔
۱۹۔ دنیا کی کوئی چیز اشاراتی زبان سے کچھ کہے بغیر نہیں رہتی چنانچہ جب دو آدمی روبرو ہو جاتے ہیں، تو اس حال میں وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں نظر آتے ہیں، یہ آنکھ کی پُتلی ہے، جو بزبانِ اشارہ کہہ رہی ہے کہ جب روحانی دیدار ہوتا ہے، تب انائے علوی اور انائے سفلی ایک دوسرے میں داخل و شامل ہو جاتی ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون از بس ضروری ہے، اسے خاص توجہ سے پڑھیں، اور بار بارپڑھ کر اس کی گہرائیوں کو سمجھنے کیلئے سعئی بلیغ کریں۔
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
لنڈن
۱۱/۱۲/۸۶
۵۹
حجاب اور مظہر
(حجاب، پردہ، مظہر، جائے ظہور، ظاہر ہونے کی جگہ)
۱۔ اس صحیفۂ کائنات اور کتابِ موجودات میں اگرچہ صرف ایک ہی قانون کی بالادستی اور کارفرمائی ہے اور وہ قانونِ قدرت یا نظامِ فطرت کہلاتا ہے، لیکن یقیناً اسی کی مختلف شکلیں یا جدا جدا ظہورات مانیے کہ اس عالمِ کثرت کے کارخانۂ بو قلمونی اور رنگارنگی میں بہت سے قوانین باہم مل کر کام کر رہے ہیں، جن میں انتہائی اہمیت کے ساتھ دستورِ حجاب بھی ہے، اور آئینِ مظہریت بھی، لیکن جہاں یہ دونوں قانون خداوند تعالٰی کے لئے خاص ہیں، تو وہاں سے یہ اپنے دامنِ مقدّس میں دین و دنیا کی جملہ سعادتیں اور برکتیں سمیٹ کر اور علمِ الہٰی کی حسین و جمیل تجلّیات کا سرچشمہ بن کر آتے ہیں، پس ان لوگوں کی سب سے بڑی سعادت مندی ہے، جو اس خدائی حجاب و مظہر کو کعبۂ جان اور قبلۂ ایمان سمجھے ہیں۔
۲۔ نورِ مطلق خود حجاب بھی ہے، اپنے آپ میں محجوب (پوشیدہ)۔
۶۰
بھی، مظہر بھی ہے، ظاہر بھی، عاشق بھی ہے، اور معشوق بھی، اس حقیقت کی ایک روشن مثال سورج ہے، کہ وہ مادّیت میں سب کچھ ہے، چنانچہ موسمِ سرما خورشیدِ جہان آرا کی تمازت و حرارت سے دوری اور اس کی کمی کا نام ہے، جس میں زمین ایک بار مر جاتی ہے، لیکن نورِ آفتاب کا یہ کتنا بڑا کارنامہ اور کیسا احسانِ عظیم ہے کہ بہارِ رفتہ کو واپس لاتے ہوئے زمینِ مردہ کو از سرِ نو زندہ کر دیتا ہے، حجابِ خاک سے نباتات کی عروسانِ سبز پوش کو نمایان کرکے ان کے جلوہ ہائے حسنِ زمردین (زمردین، سبز رنگ کا، زمرد کی طرح سبز) دکھلاتا ہے، اب غنچہ ہائے چمن کے بارے میں سن لیجیے کہ وہ نہ صرف خوبصورت پھولوں کے حجابات ہی ہیں، بلکہ ان دل آویز گلوں کے مظاہر بھی ہیں، پس نیرِ اعظم نے نسیمِ بہار کو ایک معتدل مزاج عطا کرتے ہوئے کہا کہ اب تم گلستان کی تمام کلیوں کو گد گدا کر ہنسا دو، تاکہ رنگ برنگ پھول جو شہکارِ قدرت ہیں وہ پردۂ خلوت سے جلوت میں آئیں، اور بیدریغ رنگ و بو کی دولت لٹا دیں، اور یہ نورِ شمس ہی تو ہے، کہ طیورِ خوش الحان کو پھر سے باغ و چمن کی بزمِ موسیقی کے لئے مدعو کرتا ہے، جو شدتِ سردی کی وجہ سے نگاہوں سے غائب اور محبوب ہوگئے تھے۔
۶۱
۳۔ غنچہ اگر حجابِ گل ہے، تو گل میوۂ خام کا پردہ ہے، خام و نا تمام میوے ہی میں پختہ و تمام ثمر تیار ہو جاتا ہے، جس میں گھٹلی مخفی ہوتی ہے، اس میں مغز پوشیدہ رہتا ہے، جس کے اندر تیل، اور تیل روشنی کا حجاب بھی ہے، اور مظہر بھی، یہ سارا قصّہ کیا ہے؟ حجاب درحجاب کی ایک خوبصورت مثال ہے، نیز پہاڑ کے بارے میں ذرا غور کیجیے، کہ اس کی ساخت کس طرح تہ بہ تہ ہوتی ہے، اور ان تہوں کے بہت سے پردوں کے پیچھے بیش بہا جواہر پنہان ہوتے ہیں، سمندر کے گوہر ہائے گرانمایہ پُرخطر حجابات کے بغیر کہاں حاصل ہوسکتے ہیں، غرض دنیا کی کوئی چیز، خواہ گرانمایہ ہو یا کم مایہ، حجاب کے بغیر نہیں، جی ہاں، حجابات کئی طرح کے ہوا کرتے ہیں، مثلاً مادّی اشیاء کا درمیان میں حائل ہو جانا، زمان یا مکان کی مسافتیں، ہر قسم کی رکاوٹیں، مشکلات، لاعلمی، غفلت، ناشکری، جہالت، وغیرہ۔
۴۔ آپ سورۂ شوریٰ (۴۲: ۵۱) کی تہ بہ تہ حکمتوں میں بنظرِ غائر دیکھ کر معلوم کر سکتے ہیں کہ خداوندِ دوجہان کا نہ صرف حجاب ہی ہے، بلکہ مظہر و ظہور بھی ہے، اور اس کے حجابِ اکبر کے لئے بہت سے حجابات بھی ہیں، اور یہ قانون یاد رہے کہ حجابِ اعظم ہی ہے جو مظہریّت کا مقدّس ترین فریضہ بھی انجام دیتا ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی جاننا ہے کہ خدا نور ہے، لہٰذا نورِ اقدس کا حجابِ متصل یعنی حجابِ اکبر کوئی اور چیز نہیں، بلکہ
۶۲
صرف نور ہی ہوسکتا ہے، جیسے سورج مادّی نور ہے، اور اس کا بیرونی حصّہ اندرونی حصّے کا پردہ و نمائندہ ہے، اس کے سوا اس مادّی دنیا میں کوئی ایسی انتہائی طاقتور چیز ہے ہی نہیں، جو آفتاب جہانتاب کی قیامت خیز نوری امواج کے بالکل سامنے ٹھہر کر حجابِ متصل یا خول کا کام کرسکے۔
۵۔ مُحَوَّلۂ بالا آیۂ کریمہ میں جملہ روحانیت کے تین مدارج کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، ان میں سب سے اعلیٰ درجہ ظہورِ نورانی، رویّت، مشاہدہ، اور اشاراتِ جوامع سے متعلق ہے، جس میں ابداع و انبعاث، ازل و ابد، اور دوسرے تمام انتہائی عظیم معجزات شامل ہیں، دوسرا درجہ وہ ہے، جس کے معجزے حجاب کے پیچھے سے سنائی دیتے ہیں، اور تیسرا درجہ جو سب سے نیچے ہے، اس میں ارواح و ملائکہ کے سارے عجائب و غرائب کا مشاہدہ ہوتا ہے۔
۶۔ اب سے تقریباً چودہ۱۴۰۰ سو سال قبل نزولِ قرآن کے دوران مستقبل کے ظاہری و باطنی انقلابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا کہ آگے چل کر قرآنِ کریم کی تاویل آنے والی ہے (۰۷: ۵۲ تا ۵۳) اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآنی تاویل جو پہلے چند اعلیٰ درجات کے لئے خاص تھی، وہ سب کے لئے عام ہوجائے گی، چنانچہ اس بارے میں میرا پختہ یقین یہی ہے کہ جس طرح عصرِ حاضر میں مادّی
۶۳
ترقیوں کا ایک بہت بڑا طوفان آیا ہے اسی طرح روحانیت میں بھی ایک عظیم انقلاب آچکا ہے، اور وہی تاویل ہے، اب آپ خود سورۂ اعراف کی آیت۵۲۔ ۵۳ میں بغور دیکھ کر بتائیں کہ ہمیں اس معاملے میں کیا کرنا چاہیے، آپ البتہ یہی کہیں گے کہ تاویل جب بھی ہوااور جہاں بھی ہو، حکمت اور خیرِ کثیر ہے (۰۲: ۲۶۹) لہٰذا بڑی قدردانی سے اسے قبول کرنا چاہیے، تاکہ قرآن اور اسلام کی لازوال عظمتوں کا ثبوت ہو۔
۷۔ اللہ جل جلالہ نے سورۂ نور (۲۴: ۳۵) میں جس شانِ علم وحکمت سے اپنے نورِ پاک کی تشبیہ و تمثیل بیان فرمائی ہے، اس میں عرفان و ایقان کی ایک روشن دنیا موجود ہے، اور وہاں یہی قانونِ حجاب و مظہریت دوسرے بہت سے حقائق کے ساتھ درخشان ہے، وہ یہ کہ چراغِ نور”زُجاجہ” (شیشے کی قندیل) میں ہے، آیا یہ زجاجہ یا شیشہ بھی نور نہیں ہے، تاکہ نور کا پردہ اور مظہر بھی نورانیت سے بھر پور ہو؟ یقیناً ایسا ہی ہے، کیونکہ وہ شیشہ مادّیت کی کوئی بیجان و بیعقل چیز تو نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ ایک مبارک و مقدّس ہستی ہے، کوئی شک نہیں کہ وہ انسانِ کامل ہے، جب اسے نورِ انوار کے قرب و اتصال کا یہ بلند ترین مرتبہ حاصل ہے، تو اس کو خود بخود نور ہوجانا اور ہمیشہ روشن رہنا ہے۔
۸۔ میرے بہت ہی عزیز دوستو! کیا آپ نے کبھی نورٌعلٰی نور (۲۴: ۳۵)
۶۴
کے بارے میں گہرائی سے سوچا ہے؟ کیونکہ اس سے بڑے بڑے بھید ہیں، مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: الف: نورٌعلٰی نور (ایک نور کے بعد دوسرا نور ہوتا رہتا ہے) یعنی انبیاء وأئمّہؑ، جو اپنے اپنے زمانے میں نورِ خدا کے مظاہر اور انوار تھے، جبکہ اللہ نورالانوار ہے اور بحکمِ نورٌعلٰی نور ھادیٔ زمانؑ میں انوار کی وحدت ہوتی ہے۔ ب: اپنے خیال کی تختی پر عددِ واحد (۱) لکھئے، اب بالکل اسی شکل کے اوپر یہی ایک کا عدد ہزار بار تحریر کریں، پھرتصور میں دیکھیں، کہاں ہے وہ ہزارکا ہندسہ؟ کچھ نہیں بس صرف ایک ہی ہے، یہ نورٌ علی نور کی وحدت ہے۔ ج: نور کے چار درجات ہیں: نورِ الوہیت (۲۴: ۳۵) نورِ نبوّت (۳۳: ۴۶) نورِ امامت (۵۷: ۲۸) اور نورِ مومنین (۵۷: ۱۲) مگر نورٌعلٰی نور کا اشارہ یہ ہے کہ تمام انوار ایک ہو جاتے ہیں (جیسے فنا فی اللہ اور بقا با اللہ کا تصور ہے) ۔
۹۔ حضرت موسیٰؑ نے جس درخت سے نورِخدا کو دیکھا تھا، وہ درخت درحقیقت کیا تھا؟ مظہر اورحجاب کا وجودِ مبارک، یعنی حضرت موسیٰؑ کا عالمِ شخصی نیز امامؑ کی پاکیزہ شخصیت، کیونکہ قرآنِ حکیم کے کئی مقامات پر پیغمبرؐ اور امامؑ کی تمثیل درخت سے دی گئی ہے۔ اس لئے کہ اُن کی پاک و پاکیزہ ہستی وہ شجرۂ طیبہ ہے، جس کا ذکر سورۂ ابراہیم (۱۴: ۲۴ تا ۲۵)
۶۵
میں فرمایا گیا ہے، یہ بہشتِ روحانیت کا سدا بہار درخت ہے، جوہر وقت اپنے پروردگار کے حکم سے پھل دیتا رہتا ہے۔
۱۰۔ سوال: حجاب کا سایہ کس پر پڑتا ہے؟ آیا یہ حجابِ بصری ہے، یا سمعی؟ یا دونوں ہیں؟ سورۂ شوریٰ (۴۲: ۵۱) میں کس قسم کے حجاب کا ذکر ہے؟ جواب: حجاب کا سایہ نور پر نہیں، بلکہ نافرمان انسانوں پر پڑتا ہے، زمین اور بادلوں کے سایے سورج پرنہیں، بلکہ اہلِ دنیا پر پڑجاتے ہیں، کیونکہ کوئی ظاہری اور مادّی تاریکی سورج کی طرف نہیں جاسکتی ہے، ہاں، حواسِ ظاہر و باطن میں سے ہر حس کے لئے ایک حجاب ہوا کرتا ہے، سورۂ شوریٰ میں بصری حجاب کا تذکرہ ہے، کیونکہ اس درجے سے اوپر رویّت و دیدار کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
۱۱۔ سورۂ معارج (۷۰) کی ۹ (۷۰: ۰۱ تا ۰۹) ابتدائی آیاتِ مبارکہ پیشِ نظررکھیں، اور سب سے پہلے لفظِ معارج کو لیجئے، جس کے معنی ہیں سیڑھیاں، درجے، واحد معراج، اللہ تعالٰی شانہٗ کو “ذی المعارج” (درجوں والا) اس لئے کہا گیا کہ اس کی بارگاہِ قرب تک پہنچنے کے لئے انسانوں اورفرشتوں کو بہت سے درجات طے کرنے پڑتے ہیں (قاموس القرآن) یہاں جیسے ارشاد ہوا ہے، اس کے مطابق ایک جانب کوئی دن ہے، اور دوسری جانب پچاس ہزار (۵۰۰۰۰) برس ہیں، اور سیڑھیوں کے اشارے سے یقین ہو گیا کہ یہی پچاس ہزار برس دوسری مثال میں پچاس ہزار
۶۶
درجات و حجابات بھی ہیں، جن سے گزرے بغیر خدا کے حضورِ خاص تک نہ کوئی بشر پہنچ سکتا ہے اور نہ کوئی فرشتہ، لیکن قرآنی حکمت کہتی ہے کہ قادرِ مطلق کے ایک ہی دن نے ان پچاس ہزار سالوں کو سمیٹ کر اپنے اندر محدود و مختصر کر لیا ہے، اور وہ اللہ تعالٰی کا یَومْ (۷۰: ۰۴) امامِ زمانؑ ہیں، جیسے اصولِ تاویل کے مطابق چھ۶ ناطق علیہم السّلام خداوندِ عالم کے چھ۶ دن ہیں، اور ساتواں دنِ حضرت قائم القیامتؑ ہیں، آپ کو اس حقیقت کا علم ہے کہ خدا وہ ہے، جو اپنی قدرتِ کاملہ سے زمان و مکان کی مسافتوں اور وسعتوں کو لپیٹتا بھی ہے اور پھیلاتا بھی ہے (۲۱: ۱۰۴، ۳۹: ۶۷، ۳۶: ۱۲) جیسے وہ علیم و حکیم بے شمار چیزوں کو ایک (۱) کرکے گنتی کر لیتا ہے، یعنی اللہ تعالٰی کا لوگوں کو اور تمام چیزوں کو شمار کرنا یہ ہے کہ وہ اپنے دستِ قدرت سے سب کو لپیٹ کر عددِ واحد (۱) میں ایک کرکے رکھتا ہے (۱۹: ۹۴، ۷۲: ۲۸) ۔
۱۲۔ امامِ اقدس و اطہر صلوت اللہ علیہ ظاہراً حجاب اکبر، اور باطناً آئینۂ خدا ہیں، وہ یوم الآخر اور یوم القیامۃ ہیں، اور قرآنِ مجید میں قیامت سے متعلق جتنے نام ہیں، وہ سب امامِ عالی مقامؑ کے تاویلی اسماء ہیں، جن میں سے ہر ایک اسم متعلقہ آیۂ کریمہ کے خزانۂ علم و حکمت کے لئے دروازہ، قفل، اور کلید کا کام کرتا ہے، کیونکہ ہر ایسی آیۂ پاک بطورِ خاص اسرارِ قیامت سے مملو ہوتی ہے، آپ کو یقین ہے کہ پیغمبرِ اکرم کا
۶۷
روحانی مرتبہ شہرِ علم اور دارِ حکمت ہے، جہاں قرآن کی روح و روحانیت محفوظ و موجود ہے، جس کا دروازہ، یعنی حجاب و مظہر حضرتِ امام زمانؑ ہیں، اور یہ قرآنی قانون ہر گز بھول نہ جائیں کہ یہی وہ دروازہ ہے، جس سے بحکم خدا کوئی شخص ظاہرسے باطن میں جاسکتا ہے (دیکھیے سورۂ حدید، ۵۷: ۱۳) تاکہ روزِ قیامت کسی کو یہ عذر نہ ہو کہ اس کے زمانے میں کوئی ایسا وسیلہ موجود نہ تھا، جس سے اس کی قرآنی مشکلات اور جدید مسائل کی تحلیل ہوسکے۔
Nasiruddin Nasir Hunzai
London 15-12-86
۶۸
اسرارِ انبیاء وأَ ئمّہ
۱۔ حضراتِ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کے بیش از بیش خزائنِ اسرار حضرتِ آدمؑ کے زمانے اور قصّۂ قرآن میں مخفی ہیں، اور اس امرِ واقعی کا ثبوت یہ ہے کہ ابوالبشر سے متعلق ایسے کثیر سوالات ہیں، جو بڑے اہم ہونے کی وجہ سے ان کے جوابات انقلابی نوعیّت کے ہوسکتے ہیں، مثال کے طور پر ملا حظہ ہو:
۲۔ حضرتِ آدمؑ کی تخلیقِ جسمانی اورتکمیلِ روحانی کس طرح ہوئی؟ سورۂ روم (۳۰: ۳۰) میں کما حقہٗ غور و فکر کرکے بتائیے کہ آیا سنتِ الٰہی اور قانونِ فطرت (پیدائش) میں کوئی تغیر و تبدل ہوسکتا ہے؟ سیّارۂ زمین کب پیدا ہوا؟ اس سیّارے پر انسانِ اوّل کہاں سے اور کیسے وارِد ہوگیا؟ کیا وہ صرف ایک ہی آدم تھا؟ پھر مختلف براعظموں میں کس طرح اس کی نسل پھیل گئی؟ حضرتِ آدمؑ کی خلافت کس عالم میں تھی؟ کائنات میں؟ یا عالمِ دین میں؟ یا عالمِ شخصی میں؟ اگر ابوالبشر کی
۶۹
خلافت صرف روئے زمین پر تھی، تو پھر فرشتوں نے ان کو سجدہ کیسے کیا؟ اور ان سے ملکوتی علم و عرفان کس طرح حاصل کر لیا؟ آیا یہ حقیقت ہے کہ شیطان سجدۂ آدمؑ سے منکر ہونے کی وجہ سے اس علمِ الٰہی سے محروم رہا، جو خلیفۂ خدا کے پاس تھا؟ بتائیے کہ خلافتِ خداوندی دائمی ہوتی ہے، یا ہنگامی؟ اگر خلافت تمام زمانوں پر محیط ہوکر قیامت تک پائی جاتی ہے، تو وضاحت کیجئے کہ وہ کس طرح ہے؟
۳۔ اللہ تعالٰی کی ذاتِ پاک اور ہر صفت قدیم ہے، اُس کا قول و فعل بھی قدیم ہے، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ کسی ابتداء و انتہا کے بغیر ہمیشہ خالق ہے، جس طرح خدا ہمیشہ بے شمار لوگوں کو پیدا کرتا ہے، اسی طرح بے حساب دنیاؤں کو پیدا کرتا ہے (مفہوم: ۳۰: ۳۰) ، چنانچہ تصورِ آفرنیش ایک ایسے دائرے کی طرح ہے، کہ اس کا کوئی سرا نہیں، جس کی ایک روشن دلیل خود قصّۂ آدمؑ میں موجود ہے، کہ آپؑ اس دنیا میں پیدا ہوئے تھے، جیسا کہ قانونِ فطرت ہے (۰۳: ۷۷، ۱۷: ۷۷، ۳۰: ۳۰) پھر خدا کے حکم سے بہشت میں چلے گئے، پھردنیا میں آئے، اور پھر جنّت میں داخل ہوگئے، کیا یہ صرف ایک ہی آدم کی بات ہے؟ پھر دو قانون ہوگئے؟ ایک حضرت آدمؑ کے لئے، اوردوسرا باقی سب کیلئے، نہیں ہر گز نہیں، خدا کی
۷۰
سنت ایک ہی ہے، جس کے مطابق یقیناً یہ بے شمارآدموں کا قصّہ ہے، کہ بہشت کے آخری درجے میں پہنچ کر ہر آدم انائے علوی کے اعتبار سے تو رہتا ہے، مگر انائے سفلی کے لحاظ سے اس دنیا میں آتا ہے۔
۴۔ حضرت آدمؑ قانونِ فطرت کے مطابق پیدا ہوگئے تھے، جس کو سمجھنے کے لئے آیاتِ قرآنی کا حوالہ درج ہوگیا، اور باقی جتنے اسرارِعظیم کا ذکر فرمایا گیا ہے، وہ ان کی روحانی تخلیق کے بارے میں ہے، وہ بھید سب کے سب جملہ انبیاء وأئمّہ صلوات اللہ علیہم کی روحانی تمامیت و کمالیت کے سلسلے میں مشترک ہیں، کیونکہ حضرت آدمؑ کی ساری عظمت و بزرگی اور علم وفضل محض خلافتِ الٰہیہ کے سبب سے حاصل تھا، لہٰذا جب تک یہ ربّانی منصب لوگوں کے درمیان موجود ہے، تب تک اسے کسی کمی کے بغیر پوری شان سے رہنا ہے، پس سلسلۂ انبیاء و أئمّہ کا ہرعالی مرتبت فرد وارثِ آدمؑ، خلیفۂ زمان، اور خزینۂ علمِ لدّنی ہوا کرتا ہے، اور اگر پروردگارِعالم کی یہ حکمت و مصلحت نہ ہوتی تو فرشتوں کا وہ اعتراض، جو انہوں نے شروع میں کیا تھا (نعوذ باللہ) درست ثابت ہو جاتا، کہ خداتعالٰی نے اپنی انتہائی دور رس اور عالمگیرخلافت کا اعلان تو کردیا، مگر وہ کچھ زمانے کے بعد خاموش ہوگئی، اس کا فائدہ نہ ظاہر میں ہوا، اور نہ باطن میں، لیکن یہ خیال کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔
۷۱
۵۔ سائنسدانوں کے بقول سیّارۂ زمین اب سے تقریباً۴۵۵۰ملین سال قبل پیدا ہوگیا ہے، یعنی چار ارب پچپن کروڑ (۴۵۵۰۰۰۰۰۰۰) برس پہلے ہماری دنیا وجود میں آئی تھی، تاہم اس پر آبادی زمان ہائے دراز کے بعد ہوئی ہوگی، انسانِ اوّل محض موجودہ سیّارے کی نسبت سے دنیا میں کس طرح آیا؟ یہ انتہائی مشکل سوال ہے، لیکن قرآنِ حکیم اور آلِ محمدؐ کے امامِ پاکؑ اس لئے موجود ہیں کہ اگر ہم ان سے پوچھنے کی قابلیت رکھتے ہیں، تو ہم کو بتائیں، چنانچہ ہر کامل انسان اپنے جسمِ لطیف میں ایک عالمِ ذرّ ہوا کرتا ہے، جس میں نوع بنوع چیزوں کے ابتدائی ماں باپ کے ذرّات یعنی تخمہائے ابداعی ہوتے ہیں، جیسے حضرت نوحؑ کے روحانی طوفان میں دنیا کی ہر چیز ہلاک ہوگئی تھی، مگر آپؑ کے عالمِ شخصی میں کل چیزوں کی ہر قسم کے جوڑے (یعنی نرو مادہ) موجود تھے (۲۳: ۲۷، ۵۱: ۴۹) لہٰذا یہ دنیا حضرت نوحؑ سے ازسرِ نو آباد ہوئی۔
۶۔ انسانِ اوّل جو شروع شروع میں سیّارۂ زمین پروارد ہوا وہ بہشت، عالمِ لطیف، عالمِ امر، یا ایسے سیّارے سے آیا، جہاں جسمِ لطیف کی جنّت معمور تھی، وہ ایک عالمِ ذرّ تھا، وہ کائنات و موجودات کا نچوڑ اور خزانۂ الٰہی تھا، اس میں تمام چیزوں کے ابداعی بیج موجود تھے، جس طرح سائنسی مشاہدات و تجربات کے مطابق آدمی خلیات و جراثیم سے بھرا ہوا ہوتا ہے، اسی طرح روحانیت کا تجربہ کہتا ہے کہ انسانِ کامل عالمِ ذرّ کا
۷۲
مرتبۂ اعلیٰ رکھتا ہے، جس کے ذرّات کسی سیّارے کی تخلیق، تعمیر، اور ترقی کے لئے ابتدائی بیج بھی ہیں، اورآخری پھل بھی، جس طرح میوۂ درخت میں یہی دو باتیں ہوتی ہیں کہ وہ کسی شجر کا ثمر بھی ہے، اور کسی درخت کو پیدا بھی کرسکتا ہے۔
۷۔ کائنات اور انسانی ذات کے آپس میں ایک زبردست مضبوط اور اٹوٹ ازلی اور ابدی رشتہ موجود ہے، وہ یہ کہ انسان شجرۂ کائنات کا میوۂ گرانمایہ ہے، اور کائنات میوۂ کمالِ انسانیت کے بیج سے اگایا ہوا درخت ہے، دوسری مثال میں یہ عالم ایک خاموش آدم ہے، اورآدمی ایک بولتا عالم ہے، اور تیسری مثال میں یہ جہان ایک ایسے مقام کی طرح ہے، جس میں جگہ جگہ زر و گوہر جیسی بیش بہا چیزیں بکھری ہوئی ہیں، اور انسان ایک ایسا خزانہ ہے، جس میں یہ ساری دولت منظم طور پر جمع کی گئی ہے، پس عالم اور آدم کی وحدت و سالمیت اسی طرح ہے۔
۸۔ آپ نے رفعِ زمان کا مقالہ پڑھا ہوگا، وہ ایک بہت بڑا انقلابی راز ہے (واقعۂ الست کا قرآنی ذکر رفعِ زمان کے طور پر ہے، یعنی اس میں انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کی روحانیت و نورانیت کا یکجا ذکر فرمایا گیا ہے، اور زمانے کو درمیان سے اٹھا لیا ہے)، سورۂ اعراف میں جہاں (۰۷: ۱۷۲) واقعۂ الست کا ذکر ہے، وہاں دیکھئے، اس آیۂ مقدسہ میں یہ “بنی آدم” کونسے حضرات
۷۳
ہیں؟ انبیاء وأئمّہ علیہم السّلام، کیونکہ جملہ فضائل و کمالاتِ آدمؑ انہی نفوسِ قدسیہ میں موجود ہیں، اورخلافتِ الٰہیہ کے نورانی تاج سے یہی انسانانِ کامل سرفراز ہیں، یہاں یہ بہت ضروری سوال ہے کہ عہدِ الست کب، کن سے، کہاں، اور کس طرح لیاجاتا ہے؟ عرض ہے کہ ہر پیغمبر اور ہر امام کے روحانی انقلاب کے دوران تمام اہلِ زمانہ کو بذریعۂ صورِ اسرافیلؑ عالمِ ذرّ میں حاضر کر لیا جاتا ہے، جبکہ لوگ ذرّاتی شکل میں ہوتے ہیں، اور وہاں پروردگار ان سب سے اپنی ربّوبیت کا اقرار لیتا ہے۔
۹۔ سوال: “واشھدھم علٰی انفسھم” کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ جواب: الف: اور ان کو اپنی ارواح کا مشاہدہ کرایا۔ ب: اور ان کو اپنے آپ پر گواہ بنا دیا۔ ج: اور ان کو اپنی انائے علوی کا دیدار کرایا۔ د: اور ان کو چہرۂ خدا میں فنا کر ڈالا، کیونکہ پروردگار کی پرورش کا درجۂ کمال یہی ہے، یہ عارفین تھے۔
۱۰۔ سورۂ نساء کے اُس ارشادِ مبارک (۰۴: ۵۴) کو پیشِ نظر رکھیں، جس میں اللہ تعالٰی کی جانب سے آلِ ابراہیمؑ کے پاس کتاب، حکمت، اورملکِ عظیم موجود ہونے کا ذکر ہے، زمانۂ نبوّت میں آلِ ابراہیمؑ سے کون سے حضرات مراد تھے؟ اب کون ہیں؟ اور ان کے پاس کس طرح کتاب، حکمت، اور ملکِ عظیم موجود ہے؟ کسی شک و شبہہ کے بغیر یہ حقیقت ظاہر و عیان ہے کہ اولادِ ابراہیمؑ سے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اور آنحضرتؐ
۷۴
کی آل، یعنی أئمۂ طاہرینؑ مراد ہیں، اور کتاب یقیناً قرآنِ پاک ہے، حکمت اس کی زندہ روح ہے، جو ہمیشہ معلّم ربّانی میں پوشیدہ رہتی ہے، اور ملکِ عظیم مرتبۂ امامت کی دینی اور روحانی سلطنت ہے، اس میں ہوشمندی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ قرآنِ مقدّس کے کئی مقامات پر حکمت کا ذکر کتاب سے متعلق مگر ایک جدا شیٔ کے طور پر کیوں فرمایا گیا ہے، حالانکہ بظاہر حکمت کتاب ہی کے اندر ہوتی ہے؟ یہ روحِ روشن ہے (۴۲: ۵۲) اور نور برائے قرآن ہے (۰۵: ۱۵، ۰۷: ۱۵۷، ۵۷: ۲۸) جو رسول کریمؐ کے بعد امامِ برحقؑ کی پیشانیٔ پاک میں ضوفگن ہے، تاکہ اس کی تائیدی روشنی میں قرآنِ حکیم کی گہری سے گہری حکمتیں بھی اجاگر ہوجائیں۔
۱۱۔ جس مملکت کو خداوندِ تعالٰی نے عظیم کہا ہے، وہ دنیا کی کوئی بادشاہی ہر گز نہیں، بلکہ روحانیت کی انتہائی بڑی سلطنت ہے، جو خدائے بے نیاز و برتر کی جانب سے ہر زمانے کے امامِ برحق کو عنایت ہوتی رہتی ہے یہ وہی خلافتِ کبریٰ ہے، جس کا ذکرِ جمیل قصّۂ آدمؑ میں فرمایا گیا ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے کہ حضرت داؤدؑ خلیفۂ وقت تھے (۳۸: ۲۶) اورپھر حضرت سلیمانؑ آپ کے وارث ہوئے (۲۷: ۱۶) اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ حضرت سلیمانؑ نہ صرف ملکِ روحانیت کے بادشاہ تھے، بلکہ مرتبۂ خلافت بھی انہی کو حاصل تھا۔
۱۲۔ آپ یہ قبول کرسکتے ہیں کہ حضرت امامِ زمانؑ کی
۷۵
باطنی اور روحانی سلطنت بہت سے معنوں میں ملکِ سلیمانؑ کی طرح ہے، مگر یہ بات یاد رہے کہ جناب سلیمانؑ کی اصل بادشاہی روحانیت میں تھی، اور ظاہر میں جو کچھ تھا، وہ حجاب کے طور پر تھا، آپ کو شاید آج یہ تو معلوم ہو گیا کہ امامِ عالی مقامؑ کو کیوں”شاہ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اب ایسا ہونا چاہیے کہ آپ آئینۂ قرآن میں چشمِ بصیرت سے دیکھا کریں کہ اس سلطانِ روحانیت کے فضل و کمال اور جاہ وجلال کا کیا عالم ہے، جو خلیفۂ خدا بھی ہے، نائبِ رسولؐ بھی، اور امامِ زمانؑ بھی۔
Nasiruddin Nasir Hunzai
London 18-12-86
۷۶
قرآنی علم الاعداد [۱]
صفر: اعداد کی ترتیب میں سب سے پہلے صفر(zero) کا مقام ہے، کیونکہ اگرچہ یہ تنہا کسی مقدار کو ظاہر نہیں کرتا، لیکن ہر مقدار و مسافت کا نقطۂ آغاز یہی صفر ہوتا ہے، اس نقشے کو دیکھیے: ۰ ۱ ۲ ۳ ۴ ۵ ۶ ۷ ۸ ۹ ۱۰ چنا نچہ قرآنِ حکیم کے علم الاشارات کے مطابق صفر نیستی (Non-being) کی علامت ہے، اور حکمائے دین کے نزدیک نیستی سے ابداع مراد ہے، کیونکہ وہ ہر چیز سے مجرّد اور ادراک سے ماورا ہے، مگر ارادۂ کلمۂ “کُنۡ” سے اس کے ہر گونہ ظہورات و تجلّیات ہوتی رہتی ہیں، اور “ہو جا” فرمانے والا شاہنشاہ جس چیز کو چاہے، وہی شیٔ سامنے آتی ہے، اب صفر کے بارے میں مزید بحث یہ ہے کہ یہ کس طرح نیست یا ابداع کے بالمقابل ٹھہرا ہو ا ہے، اس کے لئے ملاحظہ ہو: و کنتم امواتاً فاحیاکم (۰۲: ۲۸) اور تم بے جان تھے تو اسی نے تم کو زندہ کر دیا۔ یعنی حالتِ ابداع میں تم سب حرکتِ زندگی کے بغیر
۷۷
خاموش پڑے تھے، جس طرح کوئی صفر جہاں اکیلا ہوتا ہے، تو اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی، پس اس نے تم کو زندہ کیا، مثال کے طور پر کسی شخص نے قلم کی نوک سے صفر لکھا (۰) اور اسی کو نیچے کی طرف کھینچ کر ایک بنا دیا (۱) ابداع کا ایک دوسرا نام قرآنِ حکیم میں غیر شی ہے (۵۲: ۳۵) ۔
ایک: اگرچہ ایک کا اشارہ اللہ تعالٰی کی ذاتِ پاک کے لئے ہو سکتا ہے، لیکن وہ ایسا ایک ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں، چنانچہ اس نے نفسِ واحدہ کو پیدا کیا، اور اسی سے سب کو پیدا کیا، وہ اس طرح کہ اسی شخص میں سب کی ابداع ہو کر انبعاث ہو گیا (۳۱: ۲۸) تاکہ اس کا عالمِ شخصی ہر طرح سے مکمل ہو، کیونکہ جو آدمی بہشت میں داخل ہو جاتا ہے، وہ اکیلا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے بے شمار ذرّاتِ روح ساتھ ہوتے ہیں، جن میں لوگوں کی ایک بہت بڑی دنیا موجود ہوتی ہے، جس طرح جب آپ عالمِ خواب میں جاتے ہیں، تو اکیلا نہیں جاسکتے۔
بنا برین ایک کا عدد نفسِ واحدہ کی دلیل ہے، کیونکہ وہ سب کو اپنے ساتھ ایک کر لیتا ہے، یہ نفسِ کلّی ہے، اور آدمِ معنی، نیز ایک مبدع ہے، اورحضرتِ قائمؑ، نیز عقلِ کلّی ہے، جس میں عالمِ عقول کی وحدت ہے۔
دو: قانونِ وحدت کے بعد قانونِ دوئی (Duality) ہے، جسے
۷۸
خداوند تعالٰی نے خود بنایا ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم کا فرمانا ہے کہ حق سبحانہٗ و تعالٰی نے تمام چیزوں کو جفت جفت پیدا کیا ہے اور اس قانون سے کوئی چیز مستثنا نہیں (۳۶: ۳۶) نیز سورۂ زخرف (۴۳: ۱۲) میں ایک پُرحکمت ارشاد کا اشارہ ہے کہ خدا نے ساری چیزیں دو دو بنائی ہیں اور تمہارے لئے کشتی اور سواری کے چوپائے بھی ظاہری اور باطنی دو دو بنائے ہیں (۴۳: ۱۲) پس دو کے معنی عالمِ روحانی میں عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ ہیں، دورِ نبوّت میں ناطق اور اساسؑ، اور دورِ امامت میں امامؑ اور حجت، اور ہر ظاہر کے ساتھ ایک باطن ہوا کرتا ہے۔
تین۔ عالمِ روحانی میں تین بلند ترین درجات ہیں، اور وہ یہ ہیں، کلمۂ باری، عقلِ کلّی، اور نفسِ کلّی، عالمِ جسمانی میں بھی سب سے بڑے درجے تین ہیں، ناطق، اساس، اور امامؑ، موجودات تین قسم کی ہیں: عقلی، روحانی، اور جسمانی، پس روشنی اور تاریکی بھی تین نوع کی ہے۔ (۳۹: ۰۶، ۷۷: ۳۰) حضرت زکریاؑ نے عالمِ عقل کی تین راتوں میں کمالِ صحت کے باوجود لوگوں سے بات نہ کر سکنے کا معجزہ دیکھا (۱۹: ۱۰) جس میں ان کے لئے بزبانِ حکمت یہ حکم دیا گیا کہ کلمۂ کن، گوہرِعقل، اور نفسِ کلّ، جو خاموش رات کی طرح مخفی ہیں، ان کے اسرار کے بارے میں لوگوں سے گفتگو نہ کریں، اور آپؑ نے اسی مقام پر دوسرا معجزہ یہ دیکھا کہ تین دن تک ماسوائے اشارے کے آپ لوگوں سے بات نہیں کر سکتے تھے، (۰۳: ۴۱)۔
۷۹
جس کا مطلب یہ تھا کہ ناطق، اساس، اور امامؑ جو دن کی طرح ظاہر ہوتے ہیں، ان کے بارے آپ لوگوں سے اشارہ و کنایہ سے بات کریں۔
چار۔ اصولِ دین چار ہیں: عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق، اور اساسؑ، جن کی طرف چار کا عدد اشارہ کرتا ہے، پروردگارِ عالم نے چار دن میں عالمِ دین کے پہاڑ بنائے، اور ان کو برکتوں اور قوّتوں سے بھر دیا، یہ چار دن حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسٰیؑ اور حضرت محمد مصطفٰیؐ ہیں اور وہ پہاڑ ان حضرات کے قرآنی قصّے ہیں، جن میں علم وحکمت کی گونا گون برکتیں مخفی ہیں (۴۱: ۱۰) سورۂ فاطر کے شروع ہی (۳۵: ۰۱) میں ہے کہ خدائے پاک وبرتر فرشتوں کو اپنا قاصد بناتا ہے، جن کے دو دو تین تین اور چار چار پر ہوا کرتے ہیں (۳۵: ۰۱) اس میں ارواحِ مومنین کے مختلف درجات کا ذکر ہے، جو کثرتِ ذکر و بندگی، حسنِ عمل، اور حقیقی علم سے مرتب ہو جاتے ہیں۔
پانچ ۔ حدودِ روحانی پانچ ہیں: قلم، لوح، اسرافیل، میکائیل، اور جبرائیل، حدودِ جسمانی بھی پانچ ہیں: ناطق، اساس، امام، حجت، اور داعی، نیز حواسِ ظاہر و باطن بھی پانچ پانچ ہیں، یاد رہے کہ حدودِ دین میں سے کسی کو روحانی علم مل جانے کی تین مثالیں ہیں، وہ راہِ اسلام میں جہاد کر رہا تھا، اس میں کافروں کو شکست ہوئی، اور بہت سا مالِ غنیمت
۸۰
اس کے ہاتھ آیا، یا اس کو ایک بہت بڑا دفینہ (خزانہ) مل گیا، یا اس نے کہیں جواہر کی کان دریافت کرلی، اب ایسے مال سے خمس یعنی پانچواں حصّہ نکالنا ہوگا، اور اللہ تعالٰی کی خوشنودی کی خاطر پانچ حدودِ جسمانی کے دینی مقصد کے لئے استعمال کرنا پڑیگا (۰۸: ۴۱) ۔
چھ ۔ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا (۱۰: ۰۳، ۱۱: ۰۷) جاننا چاہیے کہ یہ حکم عالمِ دین اور عالمِ شخصی کے بارے میں خاص ہے کہ چھ ناطق اپنے ادوار سمیت دینی عالم کے چھ دن ہیں، اور پرسنل ورلڈ میں ان کے نمونوں کے طور پر روحانیت کے چھ مراحل ہیں، تاکہ انسان کو اپنی ذات ہی میں خدا اور اس کے عظیم پیغمبروں کی شناخت حاصل ہو، انسانی جسم کی تخلیق کے بھی چھ مرحلے ہیں، سلالہ، نطفہ، علقہ، مضغہ، عظام، لحم، اور خلقِ آخر میں کمالِ روحانیت کا ذکر ہے، نیز چھ شریعتیں ہیں، اورچھ اطراف ہیں۔
سات ۔ سورۂ طلاق کے آخر (۶۵: ۱۲) میں قرآن فرماتا ہے کہ: خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کی طرح زمین کو بھی (۶۵: ۱۲) بڑے دور کے دینی آسمان یہ ہیں: حضرت آدمؑ، حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسٰیؑ، حضرت محمد مصطفیٰؐ اور حضرت قائمؑ، اور سات زمین چھ اساس اور خلیفۂ قائم ہیں، اور چھوٹے
۸۱
دور کے سات آسمان، سات أئمّہ ہیں، اور سات زمین ان کے ابواب ہیں۔
ایک بڑا اہم سوال: روحانیت کے یہ سات آسمان کس طرح ہیں؟ کیا وہ مادّی چیزوں کی طرح الگ الگ ہیں؟ یا ایک ہوگئے ہیں؟ اگر وہ ایک ہوگئے ہیں، تو اس کی کیا مثال ہوسکتی ہے؟ جواب: وہ الگ الگ نہیں، کیونکہ خدا نے ان کو تہ بہ تہ پیدا کیا ہے، ان کی وحدت کی مثال نورٌعلٰی نور ہے، جس کا ذکر “حجاب اور مظہر” کے موضوع میں ہوچکا ہے، اور یہاں بھی ایک مثال درج ہے، ملاحظہ ہو، ۱، ۱، ۱، ۱، ۱، ۱، ۱
یہ عددِ واحد کی سات جدا جدا شکلیں ہیں، ان سب کو تیر کے رُخ آگے لے جاکر آخری شکل پر اس طرح رکھ دیں کہ یہ تہ بہ تہ (طباق: ۶۷: ۰۳، ۷۱: ۱۵) ہو کر “ایک” نظر آنے لگیں، جیسے یہ شکل ہے: “۱” کہ یہ ایک بھی ہے، اور سات بھی، اس کا ایک ہونا ظاہر ہے، مگر سات ہونے کی دلیل چاہیے، اور وہ دلیل یہ ہے کہ قانونِ وحدت نے سات کو ایک کرلیا ہے، مثال سامنے ہے، اور ہم سب نے دیکھا ہے۔
آٹھ ۔ آپ نے مقالے میں پڑھا کہ اللہ تبارک و تعالٰی حجاب سے بھی کام لیتا ہے، چنانچہ خدائے پاک کا یہ ارشاد مثال کے حجاب میں ہے: وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍؕ (۳۹: ۰۶) اور اسی نے تمہارے
۸۲
لئے چوپایوں کے آٹھ جوڑے نازل کر دیئے۔ اگر آپ پوری آیۂ کریمہ کے ربط کو دیکھیں، اور لفظِ نازل (یعنی انزل) پر غور کریں، تو یقین کریں گے کہ اس میں حدودِ دین کے خدا کی طرف سے ہونے کا ذکر ہے، یعنی ناطق، اساس، امام، اور حجتِ اعظم کا کام اور مرتبۂ نورانیت ظاہر میں بھی ہے، اور باطن میں بھی، لہٰذا ان حضرات کے آٹھ جوڑے ہوگئے، سورۂ انعام (۶) آیت۱۴۲۔ ۱۴۴۔ دیکھیے، اور کتابِ وجہِ دین کو بھی پڑھیے۔
سورۂ قصص (۲۸: ۲۷) کو دیکھیے، حضرت موسیٰؑ نے حضرت شعیبؑ کے ہاں آٹھ یا دس سال تک بکریاں چرانے کی خدمت انجام دی، اور اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ اس دوران آپؑ ذرّاتِ روح کی بکریاں بھی چراتے تھے، اب سورۂ کہف (۱۸: ۰۹ تا ۲۶) پیشِ نظر ہو، چنانچہ اصحابِ کہف سات تھے، اور آٹھواں ان کا کتا تھا، اس کی تاویلی مثال میں یہ انتہائی عظیم راز پوشیدہ ہے کہ امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کے نورانی درجات سات ہیں، اور ہر وہ مومن جو خدمت، غلامی، اور وفاداری میں امام کا کتا ہو، وہ ان درجات کا آٹھواں شمار ہوتا ہے، اسی طرح اصحابِ کہف آٹھ ہوگئے، یہ مومنین کی ذاتی دنیا کی بات ہے کہ اس میں بہت سی زبردست صلاحیتیں خوابیدہ ہیں، جب یہاں روح کلّی طور پر جاگتی ہے، تو معلوم ہوجا تا ہے کہ عالمِ شخصی میں سب کچھ موجود ہے،
۸۳
اگرچہ باور کرنا کوئی آسان کام تو نہیں، آخر میں ہم یہ ضرور کہیں گے کہ جس مومن کا نام سگِ علی یا کلبِ علی (علی کا کتا) ہے تو وہ نام حکمت سے خالی نہیں۔
Nasiruddin Nasir Hunzai
London 21-12-86
۸۴
قرآنی علم الاعداد [۲]
آٹھ: بہشت آٹھ ہیں، وہ زندۂ جاوید اور عقل و جان کی اعلٰی قدروں سے آراستہ ہیں (۲۹: ۶۴) وہ جنتیں انبیاء وأئمّہؑ ہیں، یعنی چھ ناطق، حضرت قائم، اور حجتِ قائم، نیز سات أئمّہ، اور خلافتِ صغرا دیکھیے سورۂ نور (۲۴: ۵۵) اور اس میں خوب غور و فکر کیجئے، نیز اصحابِ کہف اور حاملانِ عرش کے بارے میں بھی سوچ لیجیے، اگر مومن امامِ زمانؑ میں فنا ہوسکتا ہے، تو پھر وہ بفضلِ خدا کیا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بہشت کا کام دینے کے لئے اللہ تعالٰی نے انسانِ کامل سے بہتر کوئی مخلوق پیدا نہیں کیا، اور کوئی بھی دانا ایسی جنّت میں جانا نہیں چاہتا، جو عقل و جان کے اوصافِ کمال سے عاری ہو، اور آدم و آدمی کے دوسری تمام مخلوقات سے اشرف و افضل ہونے اور صورتِ رحمان کا سب سے اعلیٰ مرتبہ رکھنے سے متعلق بہت سے دلائل پیش کئے جا سکتے ہیں، مثال کے طور ملاحظہ ہو:۔
۸۵
الف: ربّ العزّت نے چار بار قسم کھا کر فرمایا کہ اس نے انسان کو بہترین تقویم یعنی کھڑا کر دینے اور مرتبۂ اعلیٰ تک پہنچا دینے کے نہج پر پیدا کیا ہے (۹۵: ۰۱ تا ۰۴) ۔ ب: خدا نے کائنات و موجودات کی ہر گونہ تخلیق و تیاری کے بعد انسان کو پیدا کیا، اور اسے”خلقِ آخر” یعنی درجۂ کمال کی مخلوق قرار دیا، اور اسی مناسبت سے اپنے آپ کو احسن الخالقین کہا (۲۳: ۱۴) ۔ ج: بیشک خدا نے ہر چیز کو خوبصورت بنائی، لیکن آدمی کو ہر طرح کی صلاحیتوں سے ممتاز و سرفراز کرکے اس میں اپنی روح پھونک دی (۳۲: ۰۷ تا ۰۹) ۔ د: اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدمؑ کو دوسری جملہ مخلوقات پر جیسی کرامت و فضیلت عنایت کر دی ہے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ پروردگار نے اس کو پشتِ قدرت پر اٹھا کر ظاہری اور باطنی خشکی اور سمندر کی سیر و سیاحت کرادی ہے، اور جسم و جان کے لئے پاکیزہ رزق دیا ہے، پس ظاہر ہے کہ بہشت انسانی شکل کی ہے، یعنی ہر کامل انسان بحدِّ فعل بہشت ہے، اور دوسرے سب لوگ بحدِّ قوّت بہشت ہیں۔
قیامت کے دن حاملانِ عرش آٹھ ہوں گے (۶۹: ۱۷) عرش کے معنی یقیناً تخت ہیں، لیکن اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کا تخت نور ہے، چنانچہ امامِ اوّل سے لیکر امامِ ہفتم تک عرش کے اٹھانے والے علی التّرتیب سات ہوگئے، اور وہ جملہ مومنین جو نورِ ہدایت سے وابستہ ہیں، وہ عالمِ شخصی
۸۶
میں انفرادی طور پر اورعالمِ دین میں اجتماعی طور پر حاملِ ہشتم کی حیثیت سے ان حضرات میں شامل ہوں گے (۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹، ۶۶: ۰۸) یہاں یہ سرِ عظیم یاد رہے کہ عرشِ اعلیٰ ہمیشہ حرکت میں ہے، اور اس نورانی حرکت کی بدولت دونوں جہان زندہ ہیں۔
نو: اللہ تعالٰی نے حضرتِ موسیٰؑ کو نو۹ کھلے معجزے عطا کر دئیے تھے (۱۷: ۱۰۱) ان کی تفصیل یہ ہے: عصا، یدِ بیضاء (۰۷: ۱۰۸، ۰۷: ۱۰۹) قحط، پھلوں کی کمی (۰۷: ۱۳۰) طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، اور خون (۰۷: ۱۳۳) ان معجزات کے اشارات یہ ہیں: عصا (لاٹھی) سے اسمِ اعظم مراد ہے، یدِ بیضاء مرتبۂ عقل کا مظاہرہ ہے، قحط روحانی علم کا نہ ہونا ہے، پھلوں کی کمی حدودِ دین سے فیض کا نہ ملنا ہے، طوفان روحانی انقلاب ہے، ٹڈیوں کا اشارہ ایسی روحوں کی طرف ہے، جو دینِ حق سے متعلق عقائد کی فصل کو تباہ کر دیتی ہے، جوؤں سے اذیّت ناک روحیں مراد ہیں، مینڈکوں کا عذاب بھی روحانی تھا، جس میں نہ صرف ان کی آوازیں بلکہ شکلیں بھی ستاتی تھیں، صاف ستھرا پانی فرعون اور اس کی قوم کے لئے خون کی شکل میں بدل جاتا تھا، یعنی حضرت موسٰی اور حضرتِ ہارون علیہم السّلام کا پاک و پاکیزہ علم ان کو شکوک و شبہات کا مجموعہ بن جاتا تھا۔
دس: دس جو عددِ کامل ہے (۰۲: ۱۹۶) وہ حضرت ناطق صلّی اللّٰہ علیہ و سلم کے لئے ہے،
۸۷
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آل وسلم حدودِ جسمانی کے درجۂ کمال پر ہیں، اور وہ ترتیب اس طرح ہے: ۱۔ مستجیب، ۲۔ ماذونِ اصغر، ۳۔ ماذونِ اکبر، ۴۔ داعیٔ مکفوف، ۵۔ داعیٔ مطلق، ۶حجتِ جزیرہ، ۷۔ حجتِ اعظم، ۸۔ امامؑ، ۹۔ اساسؑ، اور ۱۰۔ ناطق۔
قرآنِ پاک میں ہے کہ: جو شخص نیکی کرے گا تو اس کو ایسی دس نیکیاں ملیں گی (۰۶: ۱۵۹) یعنی جو دعوتِ حق کو قبول کرے، اس کو مذکورۂ بالا دس درجات بطور خزانہ ملیں گے، اور یہ حکمت بھی سن لیجئے کہ حدودِ جسمانی دس ہیں، اور مستجیب اس عدد (۱۰) کا دسواں حصہ ہے، یعنی قرآن کی زبان میں معشار ہے (۳۴: ۴۵) پس اللہ تعالٰی نے ظہورِ اسلام سے پہلے لوگوں کو جو کتاب اور حدود دیئے تھے، وہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے، یعنی وہ مستجیب نہ بن سکے، اور اسی وجہ سے انہوں نے خدا کے پیغمبروں کو جھٹلایا (مفہوم: ۳۴: ۴۵) سورۂ طٰہٰ (۲۰: ۱۰۳) میں فرمایا گیا ہے، کہ روزِ قیامت مجرمین آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ (دنیا میں) ہم لوگ تو بس دس دن ٹھہرے ہوں گے، اس سے دس حدود کے عوالمِ شخصی مراد ہیں، جو ان میں سب سے زیادہ ہوشیار ہے وہ بول اٹھےگا کہ تم تو بس ایک دن ٹھہرے ہوگے (۲۰: ۱۰۴) چونکہ حضرت ناطقؑ جسمانی حدود کا مجموعہ ہیں، اور امامِ موجودؑ آپ کا جانشین، لہٰذا اس اعتبار سے صرف ایک ہی عالمِ شخصی ہے، پس امامِ اطہرؑ کی شخصیت ایک دن کی مثال
۸۸
ہے، جیسا کہ سورۂ روم (۳۰: ۵۶) میں ارشاد ہوا ہے کہ لوگ انبعاث تک خدا کی (بولنے والی) کتاب میں رہتے ہیں، یعنی امامِ وقتؑ کے عالمِ شخصی میں بشکلِ ذرّات مقیم ہوتے ہیں۔
گیارہ: حضرت یوسفؑ نے شروع شروع میں خواب دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے اور شمس و قمرآپؑ کو سجدہ کر رہے ہیں، (۱۲: ۰۴) اس کی تاویل یہ ہے کہ اس وقت آپؑ بھی ایک ستارہ تھے، چنانچہ حضرت یعقوبؑ اپنے وقت کے امامِ مستودع تھے، آپؑ کے بارہ فرزند بارہ ستارے، یعنی بارہ حجت تھے، ان میں سے ایک ستارے (حضرت یوسفؑ) کو خداوندِ تعالٰی نے چاند پھر سورج (یعنی باب اور پھر امام) بنا دیا، اس لئے گیارہ حجتوں، سابق امام، اور حجتِ اعظم نے ان کی اطاعت بجا لائی، لیکن یہاں چند ضروری سوالات پیدا ہوجاتے ہیں:
الف: آیا اس میں لیلی حجتوں کا ذکر ہے؟ یا نہاری حجتوں کا؟ یا دونوں کا؟ کیا دنیا کے بارہ جزائر نہیں ہوتے؟ اور ہر جزیرے میں حدودِ دین؟ ۔ ب: آیا تمام حجتانِ شب و روز امام ہی کے گھر سے ہوتے ہیں، جیسا کہ قصّۂ یوسفؑ سے ظاہر ہے؟ ۔ ج: حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے کب سجدہ کیا؟
جواب: اس میں لیلی اورنہاری دونوں حجتوں کا تذکرہ ہے، جی ہاں، سیّارۂ زمین کے بارہ جزیرے ہیں، اور ہر جزیرے پرحدودِ دین
۸۹
ہوا کرتے ہیں، وہ جسمِ کثیف میں بھی ہوسکتے ہیں اورجسمِ لطیف میں بھی، وارثِ تختِ امامت تو امام کے خاندان سے ہوا کرتا ہے۔ باقی حدود کیلئے جگہ اور خاندان شرط نہیں، ویسے تو قرآنِ حکیم سراسر احسن القصص ہے، تاہم یہ ارشاد سورۂ یوسفؑ (۱۲: ۰۳) میں ہے، اور یہ اشارہ بھی ہے کہ اس میں حدودِ دین کے نظام اور قانونِ تاویل سے متعلق ہر سوال کے لئے جواب موجود ہے (۱۲: ۰۷) پس ہم یقین کریں گے کہ مرکزِ امامت سے تمام حجتانِ جزائر کو ہر وقت نہیں تو کچھ خاص وقتوں میں روحانی رابطہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قصّۂ یوسفؑ میں سب حجتوں کو امام سے مربوط کرکے پیش کیا گیا ہے، یعنی ظاہری واقعہ کچھ ایسا لگتا ہے، جیسے یہ سب حضرتِ یعقوبؑ کے گھر کا معاملہ ہو، مگر یہ بات نہیں، بلکہ دراصل یہ حدودِ دین کا قصّہ ہے، جس میں تمام حجتوں کی منفی اور مثبت حکمتوں کا یکجا ذکر فرمایا گیا ہے۔
بارہ: بنی اسرائیل کے باب میں ارشاد ہے: وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًاؕ (۰۵: ۱۲) اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کئے۔ یہاں روحانی اورعرفانی نقطۂ نگاہ سے لفظِ بعث زیادہ سے زیادہ قابلِ توّجہ ہے، کیونکہ اسی سے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ حضرات کس عظمت و مرتبت کے سبب سے سردار تھے، چنانچہ بعث کا اصل مطلب انبعاث ہے، جو روحانیت کا درجۂ کمال ہے، جہاں ابداع کے معجزات بھی ہیں، اور آپ
۹۰
نے پڑھا ہے کہ ابداع و انبعاث کیا ہوتا ہے، پس وہ بارہ سردار حضرت موسیٰؑ کے حججِ کرام تھے، ان میں سب سے پہلے اساسؑ، امامؑ، اور باب تھے، چنانچہ حضرت موسٰیؑ نے بحکمِ خدا ان نقیبوں میں سے ہر فرد کے سنگِ عقل میں اسمِ اعظم کی لاٹھی مار کر علم و حکمت کا ایک پاک و پاکیزہ اور شیرین چشمہ بہادیا، اور اسی طرح بارہ حجتوں کے عوالمِ شخصی میں کل بارہ چشمے ہو گئے (۰۲: ۶۰، ۰۷: ۱۶۰) اس ربّانی تعلیم میں اہلِ دانش کے لئے بہت سی عظیم حکمتیں موجود ہیں، اس لئے آپ یہاں آپس میں اچھی طرح سے مذاکرہ کریں، اور پوچھیں کہ آیا آنحضرتؐ کے زمانے میں یہ حدود اور یہ چشمے نہیں تھے؟ اور بعد میں بھی؟
جس طرح دنیائے ظاہر کے ایک سال میں بارہ مہینے ہوا کرتے ہیں، اسی طرح عالمِ دین کا ایک سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، مگر دین کی ہر چیز حیات و دانش کے بغیر نہیں، اس لئے دین کے مہینے زندہ و گویندہ ہیں، وہ زمانۂ نبوّت کے حجج ہیں، نیز دورِامامت کے حجتان ہیں، بارہ میں سے چارحجتانِ مقرب کہلاتے ہیں، وہ حرم (ادب و حرمت والے) ہیں کہ وہ روحانی جہاد سے فارغ ہوچکے ہیں، جب دنیائے شخصی بنی، اور جب عالمِ دین پیدا ہوا، تب سے بارہ مہینوں کا یہی قانون جاری ہے، دیکھئے سورۂ توبہ (۰۹: ۳۶) بارہ حجتوں کے علاوہ بارہ درجات بھی ہیں، جن کے اسماء اور اعدادِ حکمت درجِ ذیل ہیں:۔
۹۱
| اسم | عدد | اسم | عدد |
| حجتِ اعطم یا باب | ۷ | مستجیب | ۱ |
| امامؑ ۱ | ۸ | ماذونِ اصغر | ۲ |
| اساسؑ | ۹ | ماذونِ اکبر | ۳ |
| ناطقؐ | ۱۰ | داعیٔ مکفوف | ۴ |
| نفسِ کُلّ | ۱۰۰ | داعیٔ مطلق | ۵ |
| عقلِ کُلّ | ۱۰۰۰ | حجّتِ جزیرہ | ۶ |
۱ خداتعالیٰ نے امامِ مبین کو اپنے علم کا شہر بنا کر اس میں حدودِ دین سمیت تمام چیزوں کو محدود کر دیا ہے (۳۶: ۱۲) پس نورِ امامت کی روشنی میں علمِ حدود کا مطالعہ کرنا حکمتِ قرآن کے لئے ازبس ضروری ہے، اور اس کے بغیر قرآنی تاویل ممکن ہی نہیں۔
Nasiruddin Nasir Hunzai
London 24-12-86
۹۲
رجوع الی اللہ
یقیناً ہر دانشمند انسان اس بات کو جانتا ہے کہ رجوع الی اللہ کا موضوع جتنا ضروری ہے، اتنا مشکل بھی ہے، تاہم قرآنِ کریم اور نورِ امامت کی روشنی میں ہر علمی مشکل ان شاء اللہ آسان ہوسکتی ہے، لہٰذا اسی امید پر ذیل کی چند مثالوں میں عاجزانہ کوشش کی جاتی ہے۔
مثال۱: جملہ خلائق یعنی تمام اشیاء درجات پر موجود ہیں، اور ہر درجے کی ضرورت کے مطابق ایک ہدایت مقرر ہے، اسی طرح جمادات، نباتات، حیوانات، اور انسان میں سے کوئی مخلوق ہدایتِ الٰہیہ کے بغیر نہیں، جیسا کہ سورۂ طٰہٰ (۲۰: ۵۰) میں ارشاد فرمایا گیا ہے (مفہوم: ) موسیٰؑ نے کہا ہمارا پروردگار وہ ہے، جس نے عالمِ امر کی ہر چیز کو عالم خلق میں ایک مادّی صورت عطا کر دی، پھر منزلِ مقصود تک اس کی رہنمائی فرمائی، یعنی عالمِ امر میں لوٹا دیا، اس کلّیہ سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے، کہ ہر چیز جہاں سے آئی تھی، آخر کار لوٹ کر وہاں جاتی ہے۔
۹۳
مثال۲: قیامت کے دن اوّلین و آخرین سب کے سب عالمِ شخصی میں جمع ہو جاتے ہیں (۵۶: ۴۹ تا ۵۰) لیکن اس سب سے بڑے اجتماع میں بابصیرت اور بے بصیرت دو قسم کے لوگ ہوں گے (۱۷: ۷۲، ۲۰: ۱۲۴) چنانچہ اہلِ بصیرت کو اس روز خدا کا دیدار ہوگا، جس کی علمی اور عرفانی برکتوں سے ان پر یہ سب سے بڑا راز منکشف ہوگا کہ وہ ازلی اور ابدی طور پر اصل سے واصل ہی ہیں، پس رجوع الی اللہ (خدا کی طرف لوٹ جانا) علمی صورت میں ہے۔
مثال۳: سورۂ انعام (۰۶: ۱۰۳) میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ: اس کو آنکھیں نہیں پا سکتیں، اور وہ (لوگوں کی) آنکھوں کو پاسکتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا کا دیدار نہیں ہوتا، بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جب پروردگار کا نورِ اقدس کسی کے دیدۂ دل کو چھو لیتا ہے، تو ایسے شخص کو دیدار ہوتا ہے، یعنی اللہ اپنی رحمت سے آدمی کی آنکھ بن جاتا ہے، جیسے حدیثِ تقرب کا ارشاد ہے، جس کو آپ نے بارہا سنا ہے، کہ خدا اپنے عاشق کے حواسِ ظاہر و باطن کا کام خود کرنے لگتا ہے، اور یہ رجوع ہے۔
مثال۴: اصل رجوع زندگی ہی میں ہے، جسے پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عملاً کرکے دکھایا، اور وہ واقعۂ معراج ہے، جس کا ذکر قرآنِ مجید میں کئی طرح سے فرمایا گیا ہے، معراج کا لفظی ترجمہ سیڑھی ہے اور سیڑھی درجات، یعنی حدودِ دین کی ہوا کرتی ہے (۳۲: ۰۵، ۷۰: ۰۴، ۰۳: ۱۶۳) ۔
۹۴
جس طرح مادّی مثال میں ماضی سے حال تک اور دیہات سے شہروں تک قانونِ ترقی کو دیکھا جائے، تو پہلے بہت ہی معمولی سیڑھیاں نظر آتی ہیں، اور اس کے بعد ایسی سیڑھیاں دکھائی دیتی ہیں، جو خود حرکت میں آ کر آدمی کو اوپر تک پہنچا دیتی ہیں، جن کو لفٹ Elevator [مِصْعد] یا Escalator کہا جاتا ہے ۱
اسی طرح روحانیت کے ابتدائی مراحل میں شدید محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں، یہاں تک کہ خدا کی زندہ سیڑھیاں روحانی مسافروں کو اٹھانے لگتی ہیں۔
مثال۵: سورۂ فجر کی ایک آسمانی تعلیم (۸۹: ۲۷ تا ۳۰) یہ ہے: اے اطمینان یافتہ روح! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جا تو اس سے خوش وہ تجھ سے راضی، سو میرے (خاص) بندوں میں شامل ہو جا، اور میری بہشت میں داخل ہو جا (۸۹: ۲۷ تا ۳۰) یہاں فادخلی فی عبادی (میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا) کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے: میرے انبیاء و أئمّہ کے عالمِ شخصی میں داخل ہوجا کہ میری جنت یہی ہے، اور رجوع بھی یہی ہے۔
مثال۶: اللہ تعالٰی کی بارگاہِ عالی تک آدمی کا جسم نہیں پہنچ
۹۵
سکتا، بلکہ حقیقی علم اور نیک عمل سے وابستہ ہوکر قلب ہی وہاں تک جا سکتا ہے، جس کے لئے عملِ صالح کا ایک تخت بن جاتا ہے، ا س پر ایک پاکیزہ قول جا بیٹھتا ہے، جس میں علم و عبادت اور قلبی حقیقت موجود ہوتی ہے، اب اس چیز کو بلند ہوکر خداوندِ تعالٰی کے قول و فعل سے واصل ہو جانا ہے، دیکھئے سورۂ فاطر (۳۵: ۱۰) ۔
مثال۷: جسمانی موت سے قبل زندہ شہیدوں کی موت مر جانا اور نور سے واصل ہو جانا رجوع ہے (۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹، ۶۶: ۰۸) اور یہی وہ سعادتِ عظمٰی ہے، جس کا ذکر قرآن کی مختلف مثالوں میں موجود ہے، جیسے سورۂ توبہ (۰۹: ۱۱۱) میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالٰی نے مومنین سے ان کی جانوں اور اموال کو اس قیمت پر خرید لیا ہے کہ ان کو جنّت دی جا رہی ہے، اب اس حکم کے تحت جس طرح اسلام کا ظاہری جہاد واجب اور شہادت ممکن ہے، اسی طرح باطنی جہاد لازم اور روحانی شہادت ممکن ہے۔
مثال۸: کسی بھی مومن کو اس حقیقت کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ قرآنِ حکیم نہ صرف دنیائے ظاہر میں موجود ہے، بلکہ قرآنِ مجید بحالتِ روح و روحانیت لوحِ محفوظ میں بھی ہے (۸۵: ۲۱ تا ۲۲) اسی طرح یہ کتابِ مکنون میں بھی ہے (۵۶: ۷۵ تا ۸۰) جس کو صرف وہی لوگ چھوسکتے ہیں، جو پاک کئے گئے ہیں، اب آپ قرآن ہی کی روشنی میں بتائیں کہ زمانۂ نبوّت کے مومنین کوکون پاک و پاکیزہ کرتا تھا؟ اور کس طرح؟ آپ یقیناً یہی
۹۶
کہیں گے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم علم و حکمت سکھا کر اوردیگر ذرائع سے مومنین کو پاک کر دیتے تھے (۰۲: ۱۵۱، ۶۲: ۰۲، ۰۹: ۱۰۳) اور آنحضرتؐ کے بعد اس انتہائی ضروری کام کو کون انجام دے سکتے ہیں؟ کیا اب کوئی نہیں ہے؟ یہ خاص کام صرف اور صرف انہی حضرات کا ہے، جن کو اللہ تعالٰی نے اسی مقصد کے پیش نظر اپنے محبوب پیغمبر کے ساتھ ساتھ ہر طرح سے پاک و پاکیزہ کرکے رکھا ہے (۳۳: ۳۳) اور وہ أئمّۂ اہلِ بیتِ اطہارؑ ہیں، جن کا نمائندۂ نورانی امامِ زمان صلوات اللہ علیہ ہیں، پس نتیجے کے طور پر جو مومنین کتابِ مکنون کو چھوتے ہیں، وہ رجوع کئے ہوئے ہیں۔
مثال۹: رجوع دو طرح کا ہے، ایک رجوع وہ ہے جو انائے علوی میں مرتبۂ ازل پر ہوچکا ہے، دوسرا رجوع انائے سفلی سے متعلق ہے، جس کو زندگی ہی میں انجام دینا ضروری ہے، ورنہ خوشی کا رجوع نہ ہو گا، بلکہ زبردستی کا رجوع ہو گا (۰۳: ۸۳) ۔
مثال۱۰: جب سورج مشرق میں یا مغرب میں ہوتا ہے، تو اس حال میں آدمی کا سایہ دور جا پڑتا ہے، لیکن جب آفتاب ٹھیک سر کے اوپر ہوتا ہے تو اس وقت سایہ اپنے مرکز کی طرف رجوع کر جاتا ہے، اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ نور کی قربت و نزدیکی کے بغیر انائے سفلی کا رجوع نا ممکن ہے۔
مثال۱۱: خدائے بزرگ و برتر نے لوگوں کے اناہائے سفلی کو
۹۷
پھیلا دی ہے، جو نفسِ واحدہ کے اجزاء (ذرّات) اور سائے ہیں، جب خدا چاہئے تو ان سایوں کو انسانِ کامل میں جمع کر دیتا ہے، پھر بڑی آسانی سے دستِ قدرت کی مٹھی میں لیکر اپنی طرف بلند کر لیتا ہے (۲۵: ۴۵ تا ۴۶) اس اعتبار سے انسانوں کے تین مقام ہوئے، اوّل یہ کہ وہ اجسام میں پھیلے ہوئے ہیں، دوم انسانِ کامل میں بشکلِ ذرّات اکھٹے ہیں، اور سوم نورِعقل میں ایک ہوگئے ہیں، پس یہ بشرطِ مشاہدہ رجوع ہے۔
مثال۱۲: آپ قرآنِ حکیم میں بغور دیکھیں کہ رجوع الی اللہ کیسا انتہائی عظیم کام ہے، اور اس کی شرطیں کتنی بڑی مشکل ہیں، مثلاً خداکی جانب سے بندوں کی یہ آزمائش: ہر قسم کا خوف، مال و جان کا نقصان، اورپھلوں کی کمی، ان احوال اور دوسری بہت سی مصیبتوں میں صبر کرتے ہوئے خدا کو یاد کرنا، اور یہ کہنا کہ: ہم تو خدا ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں (۰۲: ۱۵۵ تا ۱۵۷) ۔
مثال۱۳: خدا کے نزدیک ہر چیز کی ایک مقررہ مقدار ہے (۱۳: ۰۸) چنانچہ رجوع کے لئے علم و عبادت اور نیک اعمال کی ایک خاص مقدار ہے، لہٰذا جب تک کسی مومن میں وہ مقدار مکمل نہ ہو، تو اس بندے پر امرِ کن (ہو جا) کا اطلاق نہیں ہوتا، اور اگر مذکورہ شرط کے مطابق اسے کن فرمایا گیا، تو وہ شخص بقولِ قرآن امور میں سے ایک امر ہو جاتا ہے، یعنی ایسی مخلوق، جو کلمۂ کن سے بطریقِ ابداع پیدا ہوجاتی ہے، اور ایسے
۹۸
امور ہی خدا کی طرف رجوع ہو جاتے ہیں (۰۲: ۱۱۷، ۰۳: ۱۰۹) ۔
مثال۱۴: ہر کامل انسان زندگی ہی میں اس طرح رجوع ہوجاتا ہے کہ وہ جیتے جی روحانیت کی پر اسرار موت کا مکمل تجربہ کر لیتا ہے، اور کچھ مراحل کے بعد وہ مقامِ عقل پر فنا فی اللہ ہوکر اپنے آپ کو عالمِ وحدت میں پاتا ہے، جس میں خداوندِ تعالٰی کے وہ تمام ظہورات و تجلّیات ہیں، جن کا ذکر ازل، ابد، اور بہشت کے عنوانات کے تحت فرمایا گیا ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ جو حضرات بحرِ رویّت میں ڈوب کر فنا ہوجاتے ہیں، وہ پھر تعجب ہے کہ صورتِ رحمان یا چہرۂ خدا کے ساتھ بقا پاتے ہیں۔
مثال۱۵: جیسا کہ حدیثِ قدسی کا ارشاد ہے کہ خداوند تبارک و تعالیٰ ایک مخفی خزانہ تھا، اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب بھی یہ خزانہ بہت پوشیدہ ہے، یعنی اس کے حجابات انتہائی مشکل مگر بیحد مفید اسرار پر مبنی ہیں، اور جو خوش بخت انسان ان عظیم بھیدوں کی معرفت حاصل کریگا تو یہ خزانہ اسی کی اور اس جیسوں کی “انا” ہو جائے گا، کیونکہ اس پوری حدیث کا خلاصہ اور اشارہ یہی ہے، ورنہ خدا اپنی ذاتِ پاک کو خزانے کا نام نہ دیتا، جبکہ ہر گنج اپنے لئے نہیں، بلکہ دوسروں کے فائدے کی خاطر ہوتا ہے، اور یہ حقیقت “اللہ الصمد” کی معنوی شان کے مطابق ہے، کہ وہ ہر طرح سے بے نیاز ہے، پس اس کے پاس جو بھی خزائن ہیں، یا وہ بذاتِ خود جیسا خزانہ ہے، وہ سب کچھ اسکے بندوں کیلئے ہے، اور یہ رجوع کی آخری حقیقت ہے۔
Nasiruddin Nasir Hunzai
London 28-12-86
۹۹
حقیقی دیدار
حقیقی دیدار
تلاشِ معرفت
جی ہاں، روحِ انسانی تلاشِ معرفت کی غرض سے دنیا میں بھیجی گئی ہے، لیکن اس گنجِ گرانمایہ کے راستے میں عجیب و غریب طلسمات سامنے آتے رہتے ہیں ، کیونکہ یہ خزانہ انتہائی انمول اور نایاب ہے، اسی لئے آزمائش کا سلسلہ بڑا طویل اور بے حد دشوار ہے، تاہم ہادیٔ برحق کے دامنِ اقدس سے وابستگی اور علمی خدمت سب سے بڑی سعادتمندی ہے، یہ پُرمغز اور شایانِ شان الفاظ جان نثار سیکریٹری آنسہ زہرا جعفر علی اور ان کے نیک بخت خاندان کے لئے بہت ہی مناسب ہیں۔
۱
اظہارِ تشکر
بزرگو، بھائیو، بہنو، دوستو اور عزیزو! سب سے پہلے مجھے ضرور یہ کہنے دیجئے کہ آج وہ زمانہ نہیں رہا، جسے زمانۂ قدیم کہا جاتا ہے، ہر چند کہ اُس میں بھی کئی مفید پہلو پوشیدہ و پنہان ہیں، آپ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ زمانہ جس میں آپ اور ہم سب زندگی گزار رہے ہیں، علم و فن اور حکمت و فلسفہ کی انتہائی ترقی کا ہے، لہٰذا اس میں یہ امر نہایت ہی ضروری ہوا ہے کہ اپنی عزیز قوم اور پیاری جماعت کی نئی نسل کو ایسے مفید اور کارآمد علم سے آراستہ کر دیا جائے، جو عقل و دانش اور تحقیق و تدقیق سے کام لے کر مہیا کیا گیا ہو، مگر ہاں، میں اس بات کو ضرور مانتا ہوں کہ اس کام کے لئے انتہائی سخت محنت اور جانفشانی کی بہت ہی ضرورت ہے اور اتفاق و اتحاد اور باہمی تعاون لازمی ہے۔
عزیز بھائیو اور بہنو! یہ ایک چھوٹی سی کتاب آپ کے سامنے ہے، جو “حقیقی دیدار” کے نام سے لکھ کر صرف اسماعیلی جماعت کے درمیان
۳
شائع کی گئی ہے، اگرچہ یہ کام کوئی بڑا کارنامہ تو نہیں، تاہم چھوٹی چھوٹی کتابیں شائع کرنے کا یہ طریقہ اس لحاظ سے بہتر ہے کہ ہر خواندہ اسماعیلی اس کو کاملاً پڑھنے کے لئےوقت نکال سکے گا، اب رہا سوال اس کتابچہ کی علمی اہمیّت و افادیّت کے متعلق، تو یہ آپ خود ہی کتاب کو بغور پڑھ کر فیصلہ فرمائیں اور اگر ممکن ہوا تو اپنے اس علمی خادم کو کوئی مفید مشورہ بھی دے دیا کریں تا کہ مجھے اپنے کام میں مزید تقویّت حاصل ہو۔
“حقیقی دیدار” کی اس کتاب کے بارے میں حق بات تو یہ ہے کہ مجھے بہت ہی عمدہ اور بہت ہی پیارے الفاظ میں شکریہ ادا کرنا چاہئے اُن عزیزوں کا جن کی وجہ سے یہ کتاب مکمل ہوکر شائع ہوئی ہے، وہ ہیں میرے مستقل معاونین جن کے تعاون سے میں کچھ علمی خدمت کرسکتا ہوں، مجھ سے میری اخلاقی اور ایمانی طاقت باصرار یہ تقاضا کرتی ہے کہ میں ان تمام عزیزوں کا پرخلوص شکریہ ادا کروں جن سے مجھے ہر وقت حوصلہ افزائی ہوتی رہتی ہے، بلکہ وہ اس مقدّس خدمت میں میری پشت پناہی کرتے ہیں، مگر افسوس کہ اُن سب کے نام بتانے کے لئے یہاں گنجائش نہیں، ہاں اس دفعہ یہ چھوٹی سی کتاب کس طرح وجود میں آئی اس کا مختصر تذکرہ ضروری ہے، اور وہ یہ ہے کہ غالباً ماہِ جنوری ۱۹۷۶ء کی سولہویں تاریخ تھی کہ کسی نیک مجلس کے بعد برسبیلِ تذکرہ میرے محسن اور انتہائی عزیز روحانی بھائی فتح علی حبیب نے مجھ سے ایسی کتاب تیار کرنے کی فرمائش کی، اور میرے جانی دوست نصر اللہ راعی قمر الدین کو بھی یہ مشورہ
۴
بہت ہی پسند آیا، بعد ازان دونوں عزیزوں نے اس بارے میں جناب شمس الدین اور میرے عزیز برکت علی سے بھی گفتگو کی، کہ اس کام کی کیا اہمیّت و افادیّت ہے اور دیدار کے موضوع پر کچھ حقائق و معارف پیش کرنا کس قدر ضروری ہے، وغیرہ۔
چنانچہ میں ان تمام اسماعیلیوں کا قلبی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں جو علم دوست اور حقیقت شناس ہیں، اور درویشانہ دعا ہے کہ خداوندِ عالم ان سب کو اور ساری جماعت کو حقیقی علم کی دولت سے مالامال فرمائے اور دونوں جہان کی نیکی و سعادت مندی عطا کرے۔
فقط آپ کا علمی خادم
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
۲۱ جنوری ۱۹۷۶ء
۵
دیدارِ مبارک
نہ جانے میرے عزیز دوستوں نے مجھے آج یکایک یہ پیارا سا مشورہ کیوں دیا، کہ میں دیدار کے موضوع پر کچھ اپنے خیالات کا اظہار کروں، اُن کی یہ قابلِ قدر تجویز اور دل پسند و مفید مشورہ شاید اس لئے تھا کہ ہمارے محبوب روحانی پیشوا و مقتدا حضرت مولانا دھنی سلامت داتار شاہ کریم الحسینی حاضر امام علیہ الصّلات و السّلام عنقریب یہاں ہمارے پیارے ملک پاکستان میں تشریفِ مبارک لا کر ہم سب اسماعیلیوں کو اپنے مقدّس دیدار کے شرف سے مشرف کرنے والے ہیں، چنانچہ قبل اس کے کہ میں زمانے کے امام علیہ السّلام کی ملاقات و دیدار کے فیوض و برکات اور نتائج و ثمرات کا کچھ بیان کروں، مناسب سمجھتا ہوں، کہ دنیائے ظاہر سے چند عام فہم مثالیں پیش کروں، تا کہ ہر شخص بآسانی ظاہریت و مادیّت کے اس پل سے گزر کر حقیقت و حکمت کے شہر میں پہنچ سکے۔
اس سلسلے میں اولاً اس سوال کا معقول اور آسان جواب
۶
مہیا ہونا چاہئے کہ پانچ حواس یعنی دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور چھونے کی قوّتوں میں سے کون سی قوّت افضل ہے؟ اور دیکھنے کی قوّت کی کیا اہمیّت و فضیلت ہے؟ اور اس حاسہ (یعنی حس) کی وساطت سے انسان کس قدر مسرت و شادمانی حاصل کرسکتا ہے؟
چنانچہ اس بارے میں سب سے پہلے لفظ “دیدار” کی طرف توّجہ مبذول کرائی جاتی ہے کہ دیدار ایک فارسی لفظ ہے دید اور دیدن سے، جو درشن اور ملاقات کے معنی میں مستعمل ہے، لیکن میرے نزدیک اور یقیناً سب کے نزدیک یہ بہت ہی پسندیدہ اور پیارا لفظ ہے، بہت ہی پیارا، اور کیوں نہ ہو، جبکہ یہ اپنے وسیع معنوں میں قدرت و فطرت کے ظاہری و باطنی حسن و جمال کے مشاہدات پر بولا جاتا ہے، جبکہ یہ عجائباتِ خلقت اور آثارِ رحمت کے نظارے کا نام ہے، جبکہ یہ عالمِ خواب، عالمِ خیال اور دنیائے تصوّر و تفکّر کے علاوہ عالمِ روحانیت کی تجلّیات و مشاہدات کے لئے استعمال ہوتا ہے، جس میں ہر حسین و جمیل چیز صبغۃ اللہ (۰۲: ۱۳۸) (خدا کے رنگ) میں رنگی ہوئی نظر آتی ہے، اور جبکہ دیدار کا لفظ اپنے انتہائی معنوں میں خدا تعالیٰ کی پاک ملاقات کے لئے مستعمل ہے۔
جاننا چاہئے کہ اگرچہ ہمارے حواسِ ظاہری پانچ ہیں اور سب سے پہلے ان تمام کا تعلّق مادّی چیزوں سے ہے، لیکن پھر بھی ماننا پڑے گا، کہ ان میں سے بعض افضل ہیں، اور قوّتِ باصرہ
۷
(یعنی دیکھنے کی طاقت) سب سے افضل ہے، کیونکہ اس کی رسائی بے پناہ اور اس کی لذّت گیری لا انتہا ہے، یعنی عجائباتِ قدرت کی رعنائیوں پر نظر ڈالنے اور دنیا کے خوبصورت و دلکش مناظر کے مشاہدہ کرنے سے جو لذّت و مسرّت حاصل ہوتی ہے اس کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، باغ میں جاکر طرح طرح کے لذیذ پھلوں میں سے کھائیے، آخر کتنے کھائیں گے؟ گلشن کی طرف قدم بڑھا کر حسین و رنگین پھولوں کی خوشبوؤں کو سونگھ لیجئے، آپ اور زیادہ کتنی خوشبو کو دماغ میں جذب کرسکیں گے، تھوڑی دیر کے بعد ممکن ہے کہ دردِ سر شروع ہوجائے، کیونکہ دماغ کی کوٹھڑی مادّی لحاظ سے محدود جگہ ہے اور اس میں خوشبو کے مزید ذرّات نہیں سما سکتے، لیکن باغ و گلشن کے خوبصورت منظر کا نظارہ و مشاہدہ ایسا تو نہیں کہ وہ آپ کو تھکا دے یا آپ اس سے سیر اور دل برداشتہ ہوجائیں، اس کے علاوہ آنکھ کے عجائب و غرائب میں سے یہ بھی ہے کہ زمین کی تو بات ہی کیا آنکھ آسمان کو بھی اپنے اندر سما لیتی ہے اور یہ بڑی سے بڑی چیز کو چھوٹی اور محدود کرسکتی ہے، پس اس سے معلوم ہوا کہ آنکھ کی قوّت روحانی قوّتوں کے بہت ہی قریب ہے۔
جو افراد حقیقی علم والے ہیں ان کو یہ بات معلوم ہے کہ انسان میں حواسِ ظاہر کے ساتھ ساتھ حواسِ باطن بھی ہیں اور ان میں بھی بصیرت یعنی چشمِ باطن کی قوّت سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اور یہی سبب ہے کہ قرآنی حکمت میں بہشت کی تمام روحانی لذّتوں کی طرف اشارہ
۸
کرنے کے لئے جو عنوان منتخب کیا گیا ہے وہ لقاء اللہ (خدا کا دیدار) ہے، خواہ دیدارِ الٰہی کی کیفیت و حقیقت کچھ بھی ہو، بہرحال دیدارِ خداوندی میں جنت بمع تمام نعمتوں اور مسرّتوں کے سموئی ہوئی ہے، اور قرآن میں جہاں جہاں بہشت کی تعریف و توصیف بیان ہوئی ہے، وہ دیدارِ روحانی اور تجلّیاتِ ربّانی کی تمثیلی وضاحت ہے، اس بیان سے کسی کو یہ خوف بھی نہ لاحق ہو جائے کہ پھر جنّت کا وجود ہی نہیں، یعنی بہشت ایسی نہیں جیسا کہ اس کا تذکرہ ملتا ہے، نہیں بابا نہیں، روٹھو مت، فکر نہ کیا کرو، وہاں عقل و جان کے لئے سب کچھ ہے، مگر روحانی اور نورانی طور پر نہ کہ مادّی اور جسمانی حیثیت میں، کیونکہ وہاں کی ہر چیز، ہر نعمت اور ہر لذّت نورِالٰہی کی رنگینی میں رنگی ہوئی ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ جنّت نورِمطلق کے گوناگون ظہورات و تجلّیات کا مسکن ہے۔
چنانچہ دیدار پیغمبرِ اکرم صلعم کا ہو یا امامِ زمان علیہ السّلام کا وہ ہر حال میں دیدارِ آخرت اور ملاقاتِ جنّت کے لئے واحد وسیلہ اور یکتا ذریعہ ہے، یہ دیدار مریدوں کے لئے باعثِ تسکینِ قلب اور موجبِ راحتِ جان ہے، کیونکہ یہ عقیدہ اور یہ تصور وجودِ باری تعالیٰ کے عقیدہ کے تحت ہے، اور اس کی قربت و نزدیکی کے لئے ہے، اس کا مقصد ہے کہ دینِ خدائی سے رجوع اور وابستگی ہو، الٰہی ہدایت حاصل ہو اور اس کی اطاعت عمل میں آئے، خدائے رحمان و رحیم اور حضرتِ رحمتِ عالم کی رحمتوں اور شفقتوں کا کوئی حصّہ ملے، کیونکہ اس کے حصول کا یہی وسیلہ ہے۔
۹
عرش اور امام:
جاننا چاہئے کہ کسی مقدّس مقام کا طواف کرنا یعنی اس کے گرداگرد عقیدت و محبت اور تعظیم و تکریم سے چکر لگانا، جیسا کہ خانۂ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے، بہت بڑی عزّت و حرمت ہے، چنانچہ کتاب “دعائم الاسلام” میں اس کا ذکر ہے کہ فرشتے عرشِ عظیم کا طواف کر لیا کرتے ہیں، اب یہاں پر ایک معنی خیز سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا فرشتوں کا یہ طواف فقط عرش کی تعظیم کے طور پر ہے یا کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و بزرگی کے لئے؟ اس میں اگر جواب یہ ہو کہ یہ طواف خدا کی تعظیم یا بندگی کے طور سے ہے، تو پھر بھی سوال ہوگا، کہ وہ فرشتے عرش کو اور حملۃ العرش (عرش کو اٹھانے والے فرشتوں) کو چھوڑ کر صرف خدا ہی کا طواف کیوں نہیں کرتے، کیونکہ ظاہر ہے کہ رحمان خدا ہے اور عرش خدا نہیں، لہٰذا تعظیم وعبادت کسی کی شرکت کے بغیر خدا ہی کی ہونی چاہئے؟ اس کا جواب کوئی شخص نہیں دے سکتا، مگر اہلِ حقیقت یعنی اہلِ تاویل، اور اس گوہرِعالی صفات کے ایک پہلو کی تاویلی جھلکیاں یہ ہیں کہ أئمّۂ طاہرین حاملانِ عرشِ عظیم ہیں، نورِمطلق جو ان پر قائم ہے عرشِ الٰہی ہے، حقیقتِ توحید رحمان ہے جو نور پر قائم ہے، اور مومنین کی روحیں وہ ملائکہ ہیں جو اس نورانی عرش کا طواف کرلیا کرتے ہیں، جیسا کہ مولانا علی علیہ السّلام کا ارشادِ گرامی ہےکہ:
۱۰
انا الذی ھو حامل عرش اللہ مع الابرار من ولدی:
ترجمہ: میں وہ شخص ہوں جو اپنی اولاد کے نیکوکاروں (یعنی اماموں) کے ساتھ عرشِ خدا کا اٹھانے والا ہے۔
آدم اور امام:
قرآنِ عزیز سے یہ حقیقت صاف طور پر ظاہر اور واضح ہو جاتی ہے کہ اس دور کے انسانِ اوّل یعنی حضرت آدم علیہ السّلام میں خدائے حکیم نے جو اپنی روح پھونک دی تھی، وہی پاک روح بی بی مریم علیہا السّلام میں بھی پھونکی گئی تھی (دیکھئے قرآنِ مجید کی ۱۵: ۲۹، ۲۱: ۹۱، ۳۲: ۰۹، ۳۸: ۷۲، ۶۶: ۱۲) اس سے معلوم ہوا کہ جو قدسی روح آدم صفیؑ میں جلوہ گر ہوئی تھی، وہی روح تمام انبیاء و أئمّہ (صلوات اللہ علیہم اجمعین) کے مقدّس سلسلے میں جاری رہتی ہوئی چلی آئی ہے، بلکہ ان کے علاوہ صفِ اوّل کے بزرگانِ دین کو بھی اس پاک روح کی روشنی حاصل ہوتی رہی ہے جیسا کہ حضرت مریمؑ کی مثال سے ظاہر ہے کہ آپ نہ تو پیغمبر تھیں اور نہ ہی امام، بلکہ ایک صدّیقہ یعنی دینی بزرگ تھیں، پھر آپ یہ ضرور باور کریں گے بلکہ یقینی طور پر مانیں گے کہ وہی خدائی روح جس کی وجہ سے آدمؑ مسجودِ ملائکہ ہوا تھا اب بھی انسانِ کامل میں موجود ہے، لہٰذا ہر پیغمبر اور امام تعظیم و تکریم کے لائق ہوتا ہے، اور کسی بھی ہوشمند کی طرف سے ہرگز ہرگز یہ نہیں
۱۱
کہا جاسکتا کہ انبیاءو اولیاء (أئمّہ) کے لئے جو تعظیم کی جاتی ہے، وہ کفر و شرک ہے، جبکہ خدا کی وہ فرمودہ تعظیم اس سے کہیں بڑھ کر تھی، جسے آدمؑ کے لئے فرشتوں نے انجام دی تھی، یہ انسانِ کامل کی عظیم مرتبت کی ایک بنیادی دلیل تھی، اور اس کے بعد قرآن و حدیث اور عقل و نقل کے چند دلائل و براہین آتے ہیں جو پیغمبرِ اکرمؐ اور امامِ زمانؑ کی عظمت و بزرگی اور توقیر و حرمت سے متعلق ہیں۔
انبیاء و امام:
ہمارے عقیدے کے مطابق زمانہ دو حصّوں پر منقسم ہوتا ہے، پہلا حصّہ نبوّت کا ہے اور دوسرا حصّہ امامت کا، امامت کے دور میں کوئی امام نبی یا رسول نہیں ہوتا، مگر دورِ نبوّت میں بعض پیغمبر امام بھی ہوئے ہیں، چنانچہ ہم یہاں ان مشہور پیغمبروں کے اسمائے مبارک درج کرتے ہیں، جو اپنے اپنے زمانے میں امام بھی تھے:
۱۔ حضرت شیثؑ
۲۔ حضرت ہودؑ
۳۔ حضرت ابراہیمؑ
۴۔ حضرت اسماعیلؑ
۵۔ حضرت اسحاقؑ
۶۔ حضرت یعقوبؑ
۷۔ حضرت یوسفؑ
۸۔ حضرت ایوبؑ
۹۔ حضرت شعیبؑ
۱۰۔ حضرت ہارونؑ
۱۱۔ حضرت یوشع بن نونؑ
۱۲۔ حضرت الیسعؑ
۱۲
۱۳۔ حضرت داؤدؑ
۱۴۔ حضرت سلیمانؑ
۱۵۔ حضرت زکریاؑ
۱۶۔ حضرت یحییٰؑ، اور
۱۷۔ حضرت شمعون الصفاؑ
(ملاحظہ ہو کتاب “الامامۃ فی الاسلام” صفحات: ۱۴۵، ۱۴۷، ۱۴۹، ۱۵۱ ، ۱۵۳)
چنانچہ مقصد یہ ہے کہ امام کو پیغمبر کی انتہائی قربت و نزدیکی حاصل ہے اور جو مرتبہ رسول سے امام کو ملا ہے وہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوا، اس سے یہ ثابت ہوا کہ قرآنِ حکیم میں انبیائے کرامؑ کے جن اوصافِ کمالیہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ أئمّۂ طاہرینؑ سے بھی متعلق ہیں، پس یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ امامِ زمانؑ کے مبارک دیدار میں بہت سے فیوض و برکات مضمر ہیں، جن سے ہر مومن بقدرِ ہمت مستفیض ہوتا ہے۔
قرآن اور امام:
قرآنِ مقدّس اللہ تعالیٰ کا کلامِ حکمت نظام ہے، جس کی تعظیم و حرمت ہر دیندار مسلمان پر واجب ہے، اور اس سلسلے میں جو بھی مناسب آداب قولاً و فعلاً انجام دیئے جائیں وہ مستحسن قرار پائیں گے، بالکل اسی طرح امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کی تعظیم و تکریم بھی واجب اور ضروری ہے، کیونکہ آپ بحکمِ ربّ العزّت نہ فقط معلمِ قرآن کی مرتبتِ عظمیٰ پر فائز ہیں، بلکہ ساتھ ہی ساتھ آنجناب خدائے حکیم
۱۳
کی کتابِ ناطق بھی ہیں۔
جس طرح قرآنِ عزیز کے تقدّس و شرف کے متعلق یہ ایک صریح گستاخی ہوگی، کہ اگر کوئی شخص یہ کہہ کر اس کی عزّت و حرمت کا عقیدہ نہ رکھے کہ قرآن اُس مکھی کو بھی نہیں اڑا سکتا جو اس پر جا بیٹھے، اسی طرح امامِ عالی مقامؑ کی بشریت کے کسی پہلو پر اعتراض اٹھانا، اور آنجنابؑ کی تعظیم و تکریم کا قائل نہ ہوجانا کسی انسان کی عقلی کمزوری بلکہ بہت بڑی غلطی ہے۔
قرآن کی مثال از روئے اسلام یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کو بڑی عقیدت و محبّت سے اپنانا چاہئے، سفر و حضر میں ساتھ رکھ لینا چاہئے، اس کو پڑھنا اور سمجھنا چاہئے اور پھر اس کے ارشادات کے مطابق عمل کرنا چاہئے، اسی طرح پہلے پہل امامِ عالی مقامؑ کو اخلاص و یقین سے اپنایا جاتا ہے، اپنے اندر اس کی دوستی و محبّت اور دیدار کا بھرپور جذبہ پیدا کیا جاتا ہے، پھر اس عقیدت مندی و اخلاص کیشی کے نتیجے میں امامِ برحق علیہ السّلام کی تعلیمات و ہدایات کا نور حاصل ہوتا ہے جس کی روشنی میں خدا و رسول کے احکام پر عمل کر کے ابدی نجات حاصل کی جاتی ہے۔
خانۂ کعبہ اور امام:
خانۂ کعبہ خدا تعالیٰ کا مقدّس گھر ہے، جس کی دلیل بس یہی کافی ہے، کہ پروردگارِعالم نے اسے اپنا گھر قرار دے کر بہت بڑی عزّت
۱۴
و حرمت بخشی ہے (۰۲: ۱۲۵، ۲۲: ۲۶، ۱۰۶: ۰۳)، اب اگر کوئی آدمی اپنی ہی عقلِ جزوی اور اپنی سی ناقص منطق کے معیار پر پرکھ کر خانۂ کعبہ کی حرمت و تعظیم کو بت پرستی سمجھتا اور اس کی تاویلی حکمتوں کا اقرار نہیں کرتا ہے، تو یہ اس کی کج فہمی اور بہت بڑی جہالت ہوگی، کیونکہ وہ کم از کم یہ باور نہیں کرتا ہے کہ اس میں اللہ کی کوئی حکمت و مصلحت ہوگی۔
اسی طرح امامِ زمان علیہ السّلام ہیں، کہ آنجناب مقامِ حقیقت پر خانۂ خدا کا رتبۂ عالی رکھتے ہیں، جس کے ثبوت میں قرآن و حدیث اور عقل و دانش کے متعدد روشن دلائل موجود ہیں، اور ان میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ بموجب: هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ (۵۷: ۰۳) اللہ تعالیٰ کا درجہ ہر عالَم میں ثابت اور موجود ہے، چنانچہ عالَمِ شریعت میں خدا کا گھر خانۂ کعبہ ہے اور عالَمِ حقیقت میں امامِ زمان علیہ السّلام کی پاک شخصیت حق تعالیٰ کا گھر ہے، کیونکہ شریعت ظاہر ہے اور حقیقت اس کا باطن، اور یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ ظاہر میں خدا کا ایک مخصوص گھر ہو اور باطن میں کوئی خاص گھر نہ ہو، بلکہ امرِ واقعی یہ ہے کہ خانۂ کعبہ مثال ہے اور امامِ عالی مقامؑ اس کا ممثول، اور کوئی شک نہیں کہ خدا کی حقیقت کی مثال اور اس کا ممثول دونوں چیزیں انتہائی مقدّس و متبرک اور لائقِ صد تعظیم ہیں۔
۱۵
آنحضرتؐ اور امامؑ:
یہاں حکمتِ خداوندی کا یہ خاص اصول خوب یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں جہاں کہیں بھی امورِ دین کے متعلق آنحضرتؐ سے کوئی ارشاد فرمایا ہے، تو اس میں آنحضورؐ کے علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے وہ تمام وسائل و ذرائع بھی خدا کے پیشِ نظر رہے ہیں، کہ جن سے کام لے کر رسولِ اکرمؐ حال و مستقبل میں دنیا والوں کی ہدایت و رہنمائی کرنے والے تھے، جس کی چند مثالیں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:
۱۔ حق تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے کہ:
وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (۴۲: ۵۲)۔
اور یقیناً (اے رسول!) آپ راہِ راست کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔ اللہ پاک کے اس فرمان سے یہ حقیقت قطعی طور پر فیصل ہوکر واضح ہوجاتی ہے کہ دینِ اسلام کی مستقل ہدایت کا مقدّس فریضہ تا قیامت آنحضرتؐ کے ذمّہ ہوگا، اور ظاہر ہے کہ یہ امر صرف اس صورت میں ممکن تھا کہ حضور نبیٔ کریمؐ قرآنِ مقدّس اور اپنے جانشین یعنی امامِ عالی مقامؑ کے توّسط سے دینی ہدایت کے اس فرضِ منصبی کو انجام دیتے رہیں، الحمد للہ ایسا ہی کیا گیا، اور یہی سبب ہے کہ اسماعیلی امامِ زمان علیہ السّلام کے امر و فرمان کے ذریعے رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔
۲۔ سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۷۳ میں فرمایا گیا ہے کہ: اے رسول
۱۶
کفار کے ساتھ (تلوار سے) اور منافقوں کے ساتھ (زبان سے) جہاد کرو اور ان پر سختی کرو (۰۹: ۷۳)۔ ظاہر ہے کہ جہاد کا یہ حکم (جاھد الکفار: کفار کے ساتھ جہاد کر) لفظی اعتبار سے صرف آنحضرتؐ ہی کو ہے، مگر اس کا مطلب خدا کے نزدیک یہ ہرگز نہیں کہ پیغمبرِاکرم یکہ و تنہا کافروں اور منافقوں کے خلاف جہاد کریں، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جہاد کے اس فرمان میں وہ تمام جنگی وسائل اللہ پاک کے پیشِ نظر ہیں جن سے کہ آنحضرتؐ جہاد کرسکتے ہیں، خصوصاً سردارانِ لشکر جو رسولِ خدا صلعم کی جانب سے مقرر ہوئے تھے، اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ خلیفۂ رسولؐ یعنی امامِ برحقؑ کا ذکرِ جمیل بہت سے قرآنی ارشادات میں اس طرح آنحضرتؐ کے ساتھ ساتھ ہے کہ عوام کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس میں نمائندۂ رسولؐ کا بھی تذکرہ ہے، پس نتیجہ یہ نکلا کہ دینِ اسلام میں پیغمبرؐ کے بعد امامؑ کی تعظیم واجب ہے۔
۳۔ آیۂ نور کا ایک پرحکمت ٹکڑا جو صرف تین لفظوں پر مشتمل ہے، نورٌ علیٰ نور (۲۴: ۳۵) ہے، اور اس کے اندر اتنی حکمتیں پوشیدہ ہیں کہ ان کے جاننے سے نور کی بہت سی حقیقتیں واضح ہوجاتی ہیں، چنانچہ “نورٌ علیٰ نور” میں سب سے پہلے یہ اشارہ ہے کہ نور ایک شخصیت کے بعد دوسری شخصیت میں منتقل ہوجاتا ہے، کیونکہ ایک روشنی پر دوسری روشنی کے یہی معنی ہیں، اور یہ بات نہ صرف اس لئے صحیح ہے کہ پیغمبرؐ اپنے وقت میں نور تھے اور آپ کے بعد امامِ برحقؑ نور قرار پائے، بلکہ یہ اس لئے بھی درست ہے کہ زمانۂ آدمؑ سے نور کی شخصیتوں کا یہ سلسلہ جاری ہے، پس ظاہر ہوا کہ قرآن اور اسلام کی رو سے امامِ زمانؑ کی عظمت و بزرگی
۱۷
مسلّمہ ہے، لہٰذا یہ عقیدہ حقیقت ہے کہ امامِ حاضرؑ کا دیدار پیغمبرؐ کے دیدار کی نمائندگی کرتا ہے اور پیغمبرؐ کا دیدار خدا کے دیدار کا قائم مقام ہے۔
وسیلۂ ہدایت:
جس طرح مذکورۂ بالا مثالوں میں اس قانونِ الٰہی کی وضاحت کی گئی کہ محمد رسول اللہ نے نہ صرف ذاتی طور پر دینِ الٰہی کی سرپرستی و رہنمائی فرمائی ہے، بلکہ حضورؐ نے بحکمِ خدا کتابِ سماوی اور امامِ برحقؑ کے وسیلے سے بھی اپنے علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے سرچشمے کو دنیا میں جاری و ساری رکھا ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ امامِ زمانؑ کی ہدایت رسولؐ کی ہدایت ہے اور رسولؐ کی ہدایت خدا کی، جیسا کہ اس آیۂ کریمہ سے ظاہر ہے:
وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا (۲۵: ۳۱)
اور ہدایت کرنے اور نصرت دینے کے لئے آپ کا پروردگار ہی کافی ہے۔
قرآنِ مقدّس کی اس پرحکمت تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنّت و عادت کے مطابق بنی نوعِ انسان کی ہدایت کے لئے جو نظام مقرر فرمایا ہے، وہی نظامِ ہدایت اللہ کا پسندیدہ ہے اور اسی کی یہاں تعریف کی گئی ہے، اور وہ یہ ہے کہ خدا کی ہدایت و تائید ہمیشہ ہادیانِ برحقؑ کے وسیلے سے آتی رہی ہے پھر یہ ایک یقینی حقیقت ہے کہ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کی ہدایت خدا کی ہدایت ہے، کیونکہ وہ
۱۸
حضرات مامور من اللہ (خدا کی طرف سے امر کئے گئے) اور واصل باللہ (خدا سے ملے ہوئے) کا عظیم مرتبہ رکھتے ہیں۔
اہلِ بیت اور امام:
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اہلِ بیتِ اطہار کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
و الذی نفسی بیدہ لا یدخل قلب رجل الایمان حتیٰ یحبکم للہ و لرسولہ:
ترجمہ: قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ کسی آدمی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ تم (اہلِ بیت) سے خدا اور اس کے رسول کے لئے دوستی و محبت نہیں کرتا۔ (مفتاح کنوز السنۃ، بحوالۂ ترمذی و مسند احمد بن حنبل)۔
اس حدیثِ شریف سے نہ فقط یہی کہ پنجتن پاکؑ یعنی اہلِ بیتؑ کی دوستی و محبت ضروری و لازمی قرار پاتی ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ زمانے کے امامؑ کی ولایت و دوستی بھی واجب ہوتی ہے، کیونکہ رسولِ کریمؐ کے بعد اہلِ بیتؑ کا مقصد ہی امامِ زمانؑ ہے، ہادیٔ زمانہؑ کی دوستی و محبت کے اس ثبوت کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ امامِ برحقؑ کا مبارک دیدار حاصل ہو تاکہ اس پاک و پاکیزہ دینی محبت میں روز افزون ترقی ہوتی رہے۔
۱۹
اسی طرح حضورِ انورؐ نے مولانا علیؑ کے بارے میں فرمایا:
لا یحبہ الا مؤمن و لا یبغضہ الا منافق
ترجمہ: اس سے دوستی و محبت نہیں کرتا مگر کوئی مومن اور اس سے دشمنی و عداوت نہیں رکھتا مگر کوئی منافق (مفتاح کنوز السنۃ، بحوالۂ ترمذی، ابنِ ماجہ، مسند احمد بن حنبل) یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ جس طرح قرآن حق و باطل کے درمیان فرق و امتیاز پیدا کرنے کے لئے فرقان کی حیثیت سے ہے، اسی طرح علیٔ عالیؑ وہ معیارِ حقیقت ہیں، جس کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کون ہے اور منافق کون۔
آنحضرتؐ کا فرمانِ اقدس ہے کہ:
علی یحب اللہ و رسولہ و اللہ و رسولہ یحبانہ:
ترجمہ: علی خدا اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور خدا و رسول علی سے محبت کرتے ہیں (مفتاح کنوز السنۃ، بحوالہ مسند احمد بن حنبل)۔
نیز ارشاد ہے کہ:
انا دارالحکمۃ و علی بابھا:
ترجمہ: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مذکورہ کتاب بحوالۂ ترمذی)۔
پس جاننا چاہئے کہ جو مرتبت علیؑ کی ہے وہی مرتبت امامِ زمانؑ
۲۰
کی ہے، کیونکہ وہی نورِ ولایت جو علیؑ میں تھا اب امامِ حیّ و حاضر میں جلوہ گر ہے۔
متذکرہ بالا احادیثِ شریف اور ان کے علاوہ دوسری بہت سی حدیثوں سے اہلِ بیتِ اطہارؑ اور امامِ زمانؑ کی عظمت و بزرگی اور فضیلت و کرامت ثابت اور مسلّمہ ہے، اور ان احادیث سے ولایتِ علیؑ سے متعلق آیاتِ قرآنی کی وضاحت ہوتی ہے، پھر اس میں کسی دیندار کو کیا شک ہو سکتا ہے کہ امام علیہ السّلام کی محبّت و دوستی اور دیدارِ پاک کے نتائج و ثمرات کے باب میں پوچھے، مگر ہاں، پوچھنا کچھ اس انداز میں صحیح اور مفید ہے کہ جس سے اس کے علم و معرفت میں اضافہ ہو، بہرحال الحمد للہ کہ حقیقی مومنین اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول صلعم کے منشاء و مقصد کے مطابق امامِ زمانؑ سے جیسا کہ چاہئے دوستی و محبت رکھتے ہیں، اور ہر وقت اس شاہِ ولایت اور نورِ ہدایت کے مبارک و مقدّس دیدار کے بے حد خواہشمند اور مشتاق رہتے ہیں۔
مومن کا دل اور امام:
ارشادِ نبوّی کے مطابق بندۂ مومن کا دل خدا تعالیٰ کا عرش (یعنی تخت) ہے، لیکن یہاں سوچنے کی خاص بات یہ ہے کہ مومنین نورِ ایمان کی کمی بیشی کے لحاظ سے مختلف مراتب پر ہیں، اور اس سلسلے میں یہ کہنا بالکل حقیقت ہے کہ پیغمبر اور امام (صلوات اللہ علیہما)
۲۱
نورِ ایمان کے درجۂ کمال پر ٹھہرے ہوئے ہیں، لہٰذا ان دونوں انتہائی بزرگ ہستیوں کا قلبِ مبارک صحیح معنوں میں اور جیسا کہ چاہئے خداوندِ عالم کا عرش ہے، اور واقعاً اللہ پاک کا روحانی، نورانی اور عرفانی عرش یہی ہے، پس اس سے ظاہر ہوا کہ امامِ زمانؑ کے دیدارِ مقدّس میں بہت سی برکتیں پوشیدہ ہیں۔
اطاعت، محبت اور دیدار:
جیسا کہ آیۂ اطاعت (۰۴: ۵۹) سے ظاہر ہے کہ سب سے پہلے خدا کی اطاعت ہے، پھر رسول کی، اور اس کے بعد اولوالامر (یعنی أئمّۂ طاہرینؑ) کی، مگر سب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری پیغمبر کے بغیر محال و ناممکن ہے، اور حقیقت میں پیغمبرؐ کی اطاعت امامِ زمانہؑ کے بغیر غیر ممکن ہے، اسی لئے زبانِ حکمت سے فرمایا گیا ہے ، کہ خدا کی محبت پیغمبر کے توسط سے اور آنحضرتؐ کی محبت امامِ وقتؑ کے ذریعے سے حاصل آتی ہے۔ پھر اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف اطاعت و محبت کی یہ مثال ہے، بلکہ خدا کی ملاقات اور دیدار کا سبیل بھی یہی ہے، کہ امامِ حیّ و حاضر کے مبارک دیدار کے وسیلے سے پیغمبرؐ اور خدا کی ملاقات و معرفت حاصل ہوسکتی ہے۔
۲۲
وسیلہ اور دعا:
۱۔ سورۂ نساء کی آیت نمبر ۶۴ میں زمانۂ حیاتِ رسول کے کچھ لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
اور اگر یہ لوگ اُسی وقت جبکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تمہارے پاس آتے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے اور رسول بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتا تو یہ ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان پاتے (۰۴: ۶۴)۔
۲۔ اس حکمِ الٰہی سے یہ مطلب صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ہادیٔ برحقؑ کے حاضر و موجود ہونے کی کیا اہمیت ہے اور مومنین کے لئے ان کی پاک و پاکیزہ دعا کا وسیلہ کس قدر ضروری ہے، اور یہ ایک واضح اشارہ ہے اس حقیقتِ حال کی طرف کہ جب مرشدِ کامل یعنی امامِ زمانؑ کا دیدار میسر ہوتا ہے تو اس وقت بعض مومنین کے دل معجزانہ طور پر پگھل جاتے ہیں، اور بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگتے ہیں، ایسے خوش قسمت مومنین کی یہ ظاہری و باطنی کیفیت خدا کے حضور میں نہ صرف توبہ اور خصوصی دعا کی حیثیت سے پیش ہوتی ہے، بلکہ پروردگارِ عالم کی اس عظیم الشّان نعمت کے لئے شکرگزاری کی عملی صورت بھی یہی ہے، اور یہ تمام برکتیں اور سعادتیں دراصل دیدارِ پاک کی وجہ سے ہیں۔
۲۳
۳۔ جب بندۂ مومن حق تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مصروف ہو جاتا ہے، تو وہ اللہ پاک کی حمد و ثنا اور ذکر و عبادت کے لئے بہت عام اور معمولی چیزوں کا سہارا لیتا ہے، مثلاً اس کی آواز کی یہ کیفیت ہوتی ہے، کہ وہ سب سے پہلے سانس کے ذریعے سے ہوا کو پھیپھڑے میں بھر لیتا ہے، پھر حلق، زبان، تالو، دانتوں اور ہونٹوں کی مدد سے اس جمع آوردہ ہوا کے حروف اور الفاظ بنا کر اُن کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان جو خود بھی مخلوق ہے وہ مذکورہ طریق پر سانس یعنی ہوا اور آواز سے حروف کی تخلیق کرکے اس کے وسیلے سے خدا کی عبادت کرتا ہے، اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ وہ دین و دنیا کے ہر ہر مقام پر وسیلہ کے لئے سخت محتاج ہے، اور اس کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا، لہٰذا دینی امور میں اسے ہادیٔ برحقؑ سے ہمیشہ رجوع ہونا چاہئے۔
دیدارِ خداوندی:
۱۔ اگرچہ یہ بات قرآنِ حکیم کی ایک اساسی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس بے چون و بے چگون ہے، تاہم یہ بھی خداوندِ تبارک و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے، کہ نہ صرف عالمِ آخرت ہی میں بلکہ دنیا کی اونچی روحانیت میں بھی خدائے رحمان کے دیدارِ پاک تک رسائی ہو سکتی ہے، اور ہم یہاں اس مسئلہ سے بحث نہیں کرتے ہیں
۲۴
کہ ایسا ربّانی دیدار کس طرح حاصل ہوتا ہے؟ کسی وسیلے اور واسطے سے یا براہِ راست؟ بہرحال دیدارِ خداوندی حق ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم کا ارشاد ہے کہ:
۲۔ اُس دن کچھ چہرے ہشاش بشاش ہوں گے اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہوں گے (۷۵: ۲۲ تا ۲۳)، پس قرآنِ حکیم کی اس بابرکت تعلیم کی روشنی میں یہ حقیقت نکھر کر سامنے آئی کہ دینِ اسلام میں پیغمبر اور امام (صلوات اللہ علیہما) کے مبارک دیدار کی اہمیت اس لئے ہے ، کہ جس طرح ان کی اطاعت و محبت خدا کی اطاعت و محبت ہے، اسی طرح ان کا مقدّس دیدار بھی خدا تعالیٰ کا پاک دیدار ہے، اور اسی معنیٰ میں حضورِ اکرمؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
من رانی فقد را اللہ (یعنی جس نے مجھے دیکھا تحقیق اُس نے خدا کو دیکھا)۔
۳۔ سورۂ اعراف کی آیت ۷۹ میں بزبانِ حکمت ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہادیٔ برحق سے دوستی و محبت نہ کرنا نصیحت و ہدایت سے انکار کرنے کا سبب بن جاتا ہے (۰۷: ۷۹)، کیونکہ انسان کی فطرت کی یہ خاصیت ہے، کہ کوئی آدمی کسی معلّم کی تعلیم یا کسی ناصح کی نصیحت کو اور خصوصاً مذہبی باتوں کو صرف اسی وقت قبول کرسکتا ہے، جبکہ یہ اُس سے عقیدت و محبت رکھتا ہے، اور اگر رشد و ہدایت کے سامنے مخالفت و عداوت کی دیوار کھڑی کر دی گئی ہو تو تعلیم و نصیحت آگے
۲۵
نہیں بڑھ سکتی ہے۔
۴۔ یہ وضاحت دینی تعلیمات میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبّت براہِ راست حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ پیغمبرؐ کے وسیلے سے میسّر ہوتی ہے، اور آنحضرتؐ کی اطاعت و محبّت کے لئے بھی وسیلہ چاہئے، اور وہ وسیلہ امامِ زمانؑ ہیں، جو دنیا میں حاضر اور موجود ہیں، جن کی محبّت تمام دینی محبتوں کی اصل و اساس کی حیثیت سے ہے، کہ اس کے نتیجے میں رسولؐ کی پھر خدا کی محبت حاصل ہوتی ہے۔
۵۔ قرآن کہتا ہے کہ خدا نے مومنین کو ایمان کی محبت عطا کی ہے، یعنی ایمان مومنین کے لئے بہت ہی عزیز اور محبوب قرار دیا ہے، اور اس کا اشارہ یہ ہے کہ پیغمبر اور امام (صلوات اللہ علیہما) جو ایمانِ مجسّم ہیں، ان سے دوستی اور محبت کی جائے۔
۶۔ سرورِ انبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ:
من رانی فقد را اللہ : یعنی جس نے مجھے دیکھا اُس نے گویا خدا تعالیٰ کو دیکھا، حضورِ اقدس کا یہ مبارک ارشاد عظیم حکمتوں سے پُر ہے، منجملہ ایک یہ کہ اس فرمانِ نبوّی سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ رسولِ اکرمؐ اپنے وقت میں خدا کا چہرہ تھے، جس طرح آیۂ بیعت (۴۸: ۱۰) کی روشنی میں آپ کے دستِ خدا ہونے میں کوئی شک نہیں، اسی طرح بلا شک حضرت وجہ اللہ (چہرۂ خدا)
۲۶
کا بزرگ درجہ رکھتے تھے، اور آپ کے بعد أئمّۂ طاہرینؑ بھی اپنے اپنے زمانے میں چہرۂ خدا کے درجے میں ہیں، پس اس روشن حقیقت کے جاننے سے حقیقی مومنین کو بے حد خوشی ہوگی کہ امامِ زمانؑ کے مقدّس دیدار کے لئے وہ جس قدر مشتاق رہتے ہیں اس قدر ان کے ایمان کی روشنی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
۷۔ خطبۃ البیان یعنی کلامِ مولا علیؑ میں ارشاد ہے کہ:
انا وجہ اللہ فی السمٰوات و الارض۔ یعنی میں خدا کا چہرہ ہوں آسمانوں میں بھی اور زمین پر بھی، اس ارشاد کی تاویلی وضاحت اس طرح سے ہے کہ رسول اور امام (صلوات اللہ علیہما) خدا کا چہرہ اس معنیٰ میں ہیں، کہ وہ حضرات عالمِ دین میں خدا کے خلیفہ اور نائب ہیں، انہی کی شناخت و معرفت سے خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے، کیونکہ انہی کے دیدار کے وسیلے سے حق تعالیٰ کا دیدار ہوتا ہے اور انہی کی محبت میں پروردگارِعالم کی محبت پنہان ہے، پس دیدارِ الٰہی کا یقینی وسیلہ لقاءِ اللہ کا پہلا مرحلہ ہے، لہٰذا یہ مرحلۂ دوم کا نائب مناب ہے، یعنی پیغمبرؐ اور امامؑ کا دیدار حق تعالیٰ کے دیدار کا قائم مقام ہے۔
۸۔ اگر یہ حقیقت تسلیم کرلی جائے، کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، کیونکہ اسے کائنات و موجودات کی تمام چیزوں پر فضیلت و کرامت دی گئی ہے، پھر لازماً یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انسانِ کامل بنی نوعِ انسان
۲۷
میں سب سے اشرف و افضل ہے اور نیک انسانوں کی روحیں حسبِ مراتب فرشتے اور روحانئین ہیں، تو اس صورت میں یہ بھی ایک حقیقت ہوگی، کہ پیغمبرؐ اور امامؑ جو انسانِ کامل ہیں، وہ حق تعالیٰ کی قربت و نزدیکی کے درجۂ انتہا پر ہیں، بالفاظِ دیگر یوں کہنا چاہئے کہ وہ حضرات تو فنا فی اللہ اور بقا با للہ کی کیفیت میں ہوا کرتے ہیں، اگر وہ صاحبان اس طرح خدا سے واصل نہ ہوئے ہوتے اور راہِ خدا کی تھوڑی سی بھی مسافت باقی رہی ہوتی تو پھر اس صورت میں وہ کس طرح لوگوں کے حقیقی رہنما بن سکتے، پس ظاہر ہوا کہ انسانِ کامل کو کلّی طور پر خدا تک رسائی حاصل ہوتی ہے، لہٰذا امامِ زمانؑ کے دیدارِ فیض آثار کی سعادت لازمی شے ہے، تا کہ مومنین بطورِ کامل اپنے مولا و آقا کے حضور سے دعائے برکات حاصل کر سکیں۔
۲۸
“انا” اور “فنا”
حقیقی دیدار کے اس دلکش و دلپسند موضوع کے آخر میں مناسب ہے کہ “انا” اور “فنا” کے بارے میں بھی چند حقیقتوں کی وضاحت کر دی جائے، کیونکہ روحانی معشوق کے مبارک و مقدّس دیدار اور ملاقات کا مفید ترین نتیجہ تو یہ ہونا چاہئے کہ محبِ صادق کی انا (خودی) محبوبِ حقیقی کی حقیقت میں محو اور فنا ہوجائے، اور یہ سب سے عظیم سعادت صرف اس صورت میں میسر اور حاصل ہوسکتی ہے، جبکہ کوئی دانشمند مومن علم و عمل کا پورا پورا سہارا لیتا ہے۔
انا و فنا کے موضوع کے کئی پہلو ہیں، لہٰذا اس سلسلے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، لیکن ہم یہاں اپنے قارئین کی سہولت و آسانی اور دلچسپی کو مدِّنظر رکھتے ہوئے موضوع کے اس رخ کو سامنے رکھنا چاہتے ہیں، جس کی وضاحت کے دوران سخت الفاظ اور مشکل اصطلاحات کے استعمال کی ضرورت نہ ہو، چنانچہ انا یا انائیت کا مطلب ہے انسان کی خودی، جس کی طرف “میں” کہہ کر اشارہ کیا جاتا ہے، اور فنا کی مراد ہے اس انائیت و خودی کو مذہب کے خصوصی احکام کے تحت مٹا دینا، تاکہ مومن ہر قسم کی خامیوں اور کوتاہیوں سے نجات پاکر “رفیقِ اعلیٰ” سے
۲۹
واصل ہو جائے۔
آدمی کی انائے سفلی صرف اس وقت فنا ہو سکتی ہے، جبکہ وہ حقیقی محبت سے سرشار ہو کر دینی مقاصد کی تکمیل کی خاطر جسم و جان اور عقل کی قربانیاں پیش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، کیونکہ انا کا قیام و بقا انسان کی ہستی پر ہے اور یہ ہستی انہی تین چیزوں کا مجموعہ ہے، لہٰذا قربانی و فنائیت اس اعتبار سے تین قسموں میں ہے، یعنی جسمانی، روحانی اور عقلی فنا۔
اگر حقیقی مومن کسی قسم کے دکھاوے کے بغیر ہمیشہ اپنے جسم کے ذریعے پرخلوص جسمانی خدمات سے دین کو تقویّت پہنچاتا ہے، تو نتیجے کے طور پر اس کی انا، خودی اور خودنمائی ختم یا کمزور ہوجاتی ہے، اسی طرح عبادت و ریاضت، ذکر و فکر اور حقیقی محبت میں گریہ و زاری کرنے سے بھی انا کی محویّت و قربانی ہوجاتی ہے اور یہ روح کے وسیلے سے ہے، اور عقل و دانش کی مخلصانہ قربانیوں سے بھی یہی مقصد حاصل ہوسکتا ہے، جس کے معنی ہیں دماغی اور ذہنی طور پر قوم اور جماعت کی خدمات انجام دینا اور خود کو عاجز و ناچیز سمجھ لینا، تاکہ انائے سفلی کا تصوّر ختم ہوکر جماعتی اور کلّی روح کی زندگی حاصل ہو۔
دینِ اسلام میں اللہ تعالیٰ کی جو بے پناہ رحمتیں میسر ہیں ان میں ایک عظیم اور خاص رحمت یہ ہے کہ مذکورہ قربانیوں ہی کی طرح مومن کی بے لوث مالی قربانی سے بھی انائیت و خودی کو مٹانے یا پاک و پاکیزہ کرنے کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے، اور اس قربانی کی اتنی بڑی اہمیت
۳۰
اس لئے ہے کہ اس کے برعکس کثرتِ مال کی خواہش اور بخالت کی وجہ سے انسان کے اندر خود پسندی ، خود نمائی، خود غرضی، دنیا پرستی، عیاشی اور معصیت جیسی بہت سی برائیاں جنم لیتی ہیں، جن کے نتیجے پر اس میں جذبۂ ایثار و قربانی اور محویّت و فنائیت کا کوئی مادّہ پیدا نہیں ہوسکتا، لہٰذا ان نفسانی بیماریوں کا سدِباب اور علاج صرف اور صرف مالی قربانیوں ہی سے ممکن ہے۔
قرآنِ حکیم کا مقدّس ارشاد ہے کہ:
كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ-لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ (۲۸: ۸۸)۔
اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے اسی کی حکومت ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔
اہلِ دانش کے نزدیک اس آیتِ پرحکمت کا مفہوم یہ ہے کہ مومن صرف اس وقت اپنی اصلیت و حقیقت یعنی انائے علوی میں زندہ ہوکر دیدارِالٰہی (وجہ اللہ) کے قابل ہوجاتا ہے، جبکہ فنائے اختیاری یا فنائے اضطراری (موت) سے اس کے وجود و ہستی کی ہر چیز فنا ہوجاتی ہے، ورنہ ہر شیٔ (جیسے جسم، روح اور عقل، جو تزکیہ و تحلیل کے بغیر ہو) اس کے سامنے پردہ بنی ہوئی رہتی ہے، اور اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ: تم (طبعی طور پر) مرنے سے پہلے ہی (نفسانی طور پر) مرجاؤ۔ تا کہ اس اختیاری فنائیت کے وسیلے سے تم خدا سے واصل ہوسکو۔
صوفیوں کے بقول محویت و فنائیت کے لئے تین درجات مقرر ہیں: اوّل فنا فی الشّیخ، دوم فنا فی الرّسول، سوم فنا فی اللہ، یہ تصور اہلِ
۳۱
حقیقت کے نزدیک بھی بہت پسندیدہ ہے، مگر اس میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ جس پاک و پاکیزہ شیخ (پیر و مرشد) میں مومن کو فنا ہوجانا چاہئے، وہ صرف اور صرف زمانے کا امام علیہ السّلام ہی ہے، جس طرح آیۂ اطاعت کا پاک حکم ہے کہ: اے ایمان والو! خدا کی اطاعت کرو اور پیغمبر کی اطاعت کرو اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں (۰۴: ۵۹) ۔ چنانچہ اسی اطاعت کے حکم میں انہی تین مراتب کی پرحکمت محبت اختیار کر لینے اور درجہ بدرجہ ان میں فنا ہوجانے کا واضح منطقی اشارہ موجود ہے، کیونکہ فنائیت محبّت کا اور محبت اطاعت کا لازمی نتیجہ ہوا کرتی ہے۔
سورۂ رحمان جو عروس القرآن ہے اس کے دوسرے رکوع کے شروع ہی میں فنا کا ذکر فرمایا گیا ہے، اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ روئے زمین کی ہر مخلوق کے فنا ہو جانے اور پروردگار کی ذات (جو عظمت و بزرگی والی ہے) کے باقی رہنے کو جنّ و انس کے لئے عظیم ترین نعمت قرار دی گئی ہے، اس سے یہ حقیقت صاف طور پر روشن ہوگئی کہ عجز و انکساری سے انائیت و خودی کو مٹا مٹا کر فنا کر دینا اور محبوبِ حقیقی میں زندہ ہوکر ابدی طور پر باقی رہنا ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔
حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے اپنی کتاب “آپ بیتی” کے خاتمہ پر مختصراً مگر انتہائی جامع اور پُرمغز و پُرحکمت انداز میں محبّت، محویّت، خود فراموشی اور فنائیّت کا تذکرہ فرمایا ہے، آپ کے اس مبارک و مقدّس ارشاد کی روشنی میں غور سے دیکھا جائے تو مقصدِ حیات کے عظیم بھیدوں کا پتہ چلتا ہے اور منزلِ مقصود کی نشاندہی ہوتی ہے۔
۳۲
حقیقی عشق
حقیقی عشق
یکے از تصنیفاتِ
علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
حقیقی عشق
حقیقی عشق کے باب میں کچھ اظہارِ خیال کرنے کے لئے کوئی اور چیز نہیں بلکہ خود حقیقی عشق ہی چاہئے، وہی ہو تو کچھ دلکش باتیں ہوں گی، وہی ہو تو کوئی مطلب کسی کے دل میں اتر سکے گا، اس کے بے پناہ بیان میں سے جس قدر بھی تحریر میں آ سکے، خود حقیقی عشق کی روشنی میں ہونا چاہئے، کیونکہ جب وہ خود ہی ایک نور ہے، تو اس کو اس کی اپنی ہی روشنی میں کیوں نہ ظاہر کیا جائے۔
حقیقی عشق کب سے ہے؟ کہاں سے آیا؟ کیوں ہے؟ کس طرح ہے؟ کب تک ہوگا؟ کہاں کہاں ہے؟ کیا یہ مجسّم ہے یا مجرّد؟ اس کے حصول سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ اور اس کے نہ ہونے سے کیا نقصان ہوتا ہے؟ عشقِ حقیقی کی عظمت و مرتبت کیا ہے؟ اور اس کا پھیلاؤ کہاں سے کہاں تک ہے؟ اس قسم کے سوالات کے حل کے طور پر یہ کتاب لکھی گئی ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے بہت دلچسپی اور بہت فائدہ ہوگا۔
۱
وہ نور ہے:
یعنی عشقِ حقیقی انوارِ الٰہی میں سے ایک نور ہے، ایک ایسا عظیم نور کہ اس سے بڑھ کر کوئی نور نہیں، کیونکہ جسم سے روح کا مرتبہ اونچا ہے، روح سے عقل کا درجہ بلند تر ہے اور عقل سے عشق ارفع و اعلیٰ ہے۔
ہم نے یہ دعویٰ تو کر ہی لیا کہ عشقِ حقیقی سب سے عظیم نور ہے، مگر ایمانداری تب ہوسکتی ہے، جبکہ یہ بھی سوال کیا جائے کہ ایسے نور کی روشنی کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ اور یہ روشنی کس قسم کی تاریکی کو دور کر دیتی ہے؟
چنانچہ میں اس کا بیان ربّ العزّت کی توفیق سے کروں گا، مگر مجھے احساس ہے کہ یہ بہت بڑی بات ہے اور بہت اونچی بات ہے، اس لئے نہ صرف مجھے اِس رازِ حقیقت کو انتہائی ادب اور حرمت کے ساتھ بیان میں لانا چاہئے، بلکہ آپ کو بھی نہایت ہی قدردانی کے ساتھ ایسی باتوں کی طرف توجہ دینی چاہئے، تا کہ حقائق و معارف کی قدر و قیمت قائم رہ سکے، اے میرے عزیزو! یہ جان رکھو کہ نور یعنی روشنی کسی چیز کے جل جانے سے پیدا ہوتی ہے اور اس کے بغیر کوئی نور ہے ہی نہیں، کہ جلنے جلانے کے سوا نور ہو، سو نورِ عشق عاشق کے جل جانے سے پیدا ہوتا ہے، اس میں جسم، روح اور عقل تینوں چیزیں مسلسل جلتی رہتی ہیں، یعنی ان کی تحلیل ہوتی چلی جاتی ہے، ہاں درست ہے یہ کام ترتیب سے اور اصول کے
۲
مطابق ہوتا ہے، کہ جسم جل کر ایکدم سے نورِ عشق نہیں بن سکتا، بلکہ جسم کی تحلیل سے روح کا احاطہ بڑھ جاتا ہے اور اس مطلب کو عام الفاظ میں ظاہر کرنے کے لئے ہم کہہ سکتے ہیں، کہ جسم کے حقیقی معنوں میں جلنے سے روح کا شعلہ بن جاتا ہے، روح کے جلنے سے عقل کا وجود بنتا ہے اور عقل کو اُس بے مثال محبوب کے حسن و جمال اور اوصافِ کمال کی محبت و حیرت کی آگ میں جلانے سے نورِ عشق پیدا ہو جاتا ہے۔
اِس مقام پر ہوشیار قاری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مجھ سے یہ سوال کرے، کہ اگر ہم یہ مان لیں، کہ عشق کی تحریک و تحلیل ہی سے روح اور عقل کا وجود بن جاتا ہے، تو پھر ہم اس کی کیا توجیہہ کر سکتے ہیں، کہ چھوٹے بچوں میں عقل کا مایہ اور روح ہے، اور جانوروں میں بھی روح ہے، لیکن ان میں عشق نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بچوں میں اگرچہ کوئی کامل عشق نہیں، تاہم عشق کا سایہ ہے یعنی عشق کی ایک خفیف صورت یا صلاحیت موجود ہے مگر یہ ابتدائی شکل میں ہونے کی وجہ سے کھانے پینے اور سونے جاگنے میں محدود ہے اس کے علاوہ یہ بھی ایک عام مشاہدے کی بات ہے، کہ بچے پیدا ہونے کے چند دن بعد روشنی کو حیرت سے دیکھنے لگتے ہیں، کچھ آگے چل کر وہ کھلونوں سے محبت کرتے ہیں، انسان کی یہی صلاحیت رفتہ رفتہ نشونما پا کر عشق کی صورت اختیار کر
۳
لیتی ہے۔
اب رہا جانوروں میں عشق کی کسی صورت کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں سوال، تو عرض یہ ہے کہ جانوروں میں بھی عشق کی مختلف ادنیٰ (یعنی کم سے کم تر) صورتیں موجود ہیں، مثلاً باہمی میل جول اور بچوں سے محبت، غذا کی خواہش اور حرص، اور ایسی عادتوں کی طرف ہر وقت مائل رہنا جو فطری طور پر جانوروں میں پائی جاتی ہیں۔
الغرض یہ بات حقیقت ہے کہ عشقِ حقیقی نور ہے جس کی روشنی عقل کی روشنی سے بڑھ کر ہے، کیونکہ جہاں انسانی روح فکری مشقت کی آگ میں جل کر عقل کی روشنی بن جاتی ہے وہاں عاشقِ صادق کی عقل جمالِ جانان کی تجلیوں کی سوزش سے نورِ عشق کی کیفیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
نورِ عشق کی کیفیت و حقیقت کماحقہٗ بیان نہیں ہو سکتی ہے، اس لئے کہ عشق عاشق کے اُس بھرپور جذبے کو کہا جاتا ہے، جس میں سچا عاشق ماسوائے معشوق کے ہر چیز کو اور سب سے پہلے خود کو ہیچ سمجھتا ہے، یعنی وہ ہر چیز کو اور اپنی خودی کو ارادے کی انتہائی شدّت سے اپنے معشوق پر قربان کر دیتا ہے، اس کیفیت کی مثال کسی چیز کو جلا کر روشنی پیدا کرنے کی طرح ہے، ایسی حالت میں یقیناً ایک حقیقی مومن میں نورِ عشق کی روشنی پیدا ہوتی ہے، جس کی
۴
تجلّیوں کی تعریف و توصیف کے لئے مناسب الفاظ نہیں ملتے، اور حق بات یہ ہے کہ حقیقی عشق کی کیفیت احاطۂ بیان سے باہر ہے، تاہم یہاں قریب قریب کی مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔
اُس روشنی کی مثال:
یعنی وہی سوال کہ نورِ عشق کیسا ہے؟ اس کی مثال کیا ہے؟ اور اس کو کس طرح سمجھ لیا جائے؟ جاننا چاہئے، کہ انسان اپنی باطنی حیثیت اور قلبی حالت میں ایک بہت ہی عظیم دنیا ہے، اور اس میں عشق سورج ہے، عقل چاند ہے، روح ستاروں کا مجموعہ ہے اور جسمانیّت و نفسانیّت رات کی طرح ہے، دوسری مثال میں عشق بادشاہ ہے، عقل وزیر، روح امیر اور جسم رعیّت ہے۔
عشق دنیائے دل کا نور اس لئے ہے، کہ جن جن تاریکیوں کو عقل دور نہیں کر سکتی ہے، ان کو عشق دور کر سکتا ہے، عشق ہر خام کو پختہ اور ہر نا تمام کو مکمل کر دیتا ہے، عشق وہ ہے جو جسم، روح اور عقل تینوں کو بیداری اور حقیقی زندگی بخشتا ہے، یہ انسان کی خرابیوں اور بری عادتوں کی اصلاح کرتا ہے، عبادت و بندگی اور روحانی ترقی کی مشکلات کو آسان کر دیتا ہے، مصائب و آلام کی تلخیوں کو خوشگوار بناتا ہے، خوف و ہراس کو امید و یقین کا رنگ دیتا ہے، یہ
۵
بعید کو قریب لاتا ہے، پرائے کو اپنا اور دشمن کو دوست بنا لیتا ہے، نفرت کو محبّت کی صورت دیتا ہے، بُرے کو اچھا قرار دیتا ہے، بد صورت کو خوبرو سمجھتا ہے۔
عشق کا مذہب و مسلک بھی ازبس عجیب ہے، یہ مذہب ایسا ہے کہ یہ ہونے کو ہے بھی اور نہ ہونے کو نہیں بھی، کیونکہ قانونِ عشق مذاہب کے تعصبات اور اختلافات و انتشارات سے بالا و برتر ہے، چونکہ عشق رحمتِ خداوندی کا نام ہے، جبکہ رحمت مہر و مہربانی اور محبّت و عشق کو کہتے ہیں۔
یہ وضاحت عشق کی روشنی میں ہے اور یہ خود بھی عشق کی اتنی روشنی ہے جتنی کہ تحریر میں آ سکتی ہے، اور جو عشق کی عملی روشنی ہے وہ اس سے الگ ہے اس کو عین الیقین سے دیکھنے کے لئے یہ پہلا زینہ ہے جو علم الیقین کا زینہ ہے، اس کے بغیر کوئی شخص عین الیقین کے زینے پر نہیں چڑھ سکتا۔
جس طرح روحانی روشنی مادّی روشنی سے مختلف ہوتی ہے، اور علم و عقل کی روشنی اس سے بھی مختلف ہوتی ہے، اسی طرح عشق کی روشنی بھی بالکل جدا اور قطعی نرالی چیز ہے، یہ محسوس ہوتی ہے دکھائی نہیں دیتی، مگر ہاں اس کے تحت عقل و روح کی روشنی جو خادم کی طرح کام کرتی ہے، وہ عشق کے زیرِ اثر تیز تر اور نمایان تر ہو جاتی ہے۔
۶
عشق کی پیدائش:
یہ عنوان اپنے اندر یہ سوال رکھتا ہے کہ عشق کب پیدا ہے؟ اور مومن میں کس طرح پیدا ہوسکتا ہے؟ اور اس میں اضافہ کیسے ہو؟ اس کے لئے جواب ہے کہ عشق ازل سے ہے، یعنی اس کی کوئی ابتداء نہیں، بلکہ یہ ابتداء و انتہا کے بغیر ہمیشگی کی ایک حقیقت ہے، کیونکہ یہ رحمان و رحیم کا وصف ہے، اور آپ ضرور باور کریں گے، کہ خدا کی ہر صفت قدیم ہوا کرتی ہے، یعنی جس طرح ذاتِ خداوندی ہمیشہ سے ہے اسی طرح اس کی صفات بھی ہمیشہ سے ہیں۔
اب یہ سوال بہت ضروری ہے کہ بندۂ مومن میں حقیقی عشق کا وصف کس طرح پیدا ہوتا ہے؟ اور کس طرح اس کی ترقی ہوسکتی ہے؟ جاننا ضروری ہے کہ عشقِ حقیقی پیدا نہیں ہوتا، مگر محبوب و معشوق کے حسن و جمال اور اوصافِ کمال کے مشاہدہ و مطالعہ سے ، یا اس کی گوناگون خوبیوں اور رعنائیوں کی تعریف و توصیف کے سننے سے، یعنی عشق کی پہلی شرط یہ ہے، کہ معلوم ہو کہ دلبر و دلدار ایسا ہے اور ایسی ایسی صفاتِ عالیہ کا مالک ہے۔ اس مطلب کو شناخت اور معرفت کہا جاتا ہے، اب معشوق کی شناخت جتنی مکمل اور زیادہ ہوگی اتنا عشق مضبوط اور وسیع ہوگا۔
۷
دوسری شرط تقویٰ ہے، یعنی پرہیزگاری کا ہونا لازمی ہے، کیونکہ حقیقی عشق ایک انتہائی مقدس معجزہ اور ایک نہایت ہی عالی شان صفت ہے، جو صرف پاک و پاکیزہ مومنین میں پیدا ہوتا ہے، اور جس دل میں ذرہ بھر گناہ ہو، عشق اس کے قریب بھی نہیں آتا۔
تیسری شرط خوش خلقی ہے، یعنی مومن کو نیک عادات اور اعلیٰ صفات کا حامل ہونا چاہئے، تا کہ اس قریبی نسبت سے حقیقی معشوق سے مومن کی دوستی، محبّت اور عشق ہوسکے، کیونکہ دوستی و محبّت جانبَین کے اوصاف کی موافقت و یک رنگی ہی سے ہوتی ہے اور مخالف و متضاد عادات والوں کے آپس میں ہرگز عشق پیدا نہیں ہوتا۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
آپ کبھی تو کہتے ہیں کہ گریہ و زاری اور عجز و انکساری اختیار کرو، اور کبھی کہتے ہیں کہ جب تک اپنے اندر خدا کے اوصاف نہ پیدا کئے جائیں، عشقِ حقیقی نہیں ہوسکتا، حالانکہ اِس وضاحت میں تضاد پایا جاتا ہے، کیونکہ گریہ و زاری اور عجز و انکساری سے اللہ تعالیٰ بہت بالاوبرتر ہے، وہ تو عظمت و بزرگی اور قدرت و توانائی کا مالک ہے، اور یہ بھی ہے اگر ہمارے لئے ممکن ہے کہ ہم اپنے اندر
۸
خدا کی سی عادتیں پیدا کر لیں، تو پھر دوستی و عشق کی کیا ضرورت، کیونکہ جو کچھ وہاں ہے وہ یہاں بھی ہے، آپ ہی بتائیں کہ یہ سوال ہے یا نہیں؟ اور اس کا کیا جواب ہونا چاہئے؟
جواب: جاننا چاہئے کہ گریہ و زاری اور عاجزی و انکساری فی نفسہٖ مراد نہیں بلکہ اس کا نتیجہ مراد ہے، یعنی دل و دماغ کی صفائی اور روح کی پاکیزگی مقصود ہے اور روح کا پاک ہونا کسی قدر یعنی کسی حد تک خدائے پاک کی صفت کے مشابہ ہے۔ جس طرح شبنم کا ایک قطرہ کسی حد تک سمندر کی صفائی کے مشابہ ہوتا ہے، قطرہ اپنی محدود صفات میں جو کچھ بھی رکھتا ہے، وہ سمندر کی خاصیت کے مخالف اور متضاد نہیں، وہ سمندر سے دوستی رکھنے کا محتاج ہے، ان دونوں کے آپس میں دوستی ممکن ہے کیونکہ جانبَین میں یک رنگی اور ہم جنسیت و موافقت ہے، لہٰذا کوئی دانشمند نہیں کہہ سکتا کہ قطرہ سمندر کے برابر ہوگیا اب اسے سمندر سے محبت رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔
عشق طبیب ہے:
قرآنِ پاک کے پُرحکمت اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جسم کی طرح روح بھی قسم قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے، بلکہ جسم کے مقابلے میں روح
۹
بہت زیادہ بیمار رہتی ہے اور اس کی بیماری بھی بڑی خطرناک ہوتی ہے، کہ اگر وقت پر علاج نہ کیا گیا تو انسان جہالت و گناہ کی موت ہلاک ہو جاتا ہے، اور بہت بڑی دانشمندی یہ ہے کہ ہر نوع کی روحانی بیماری کا علاج عشقِ حقیقی سے کیا جائے، کیونکہ اخلاقی، مذہبی اور روحانی بیماریوں کے لئے حقیقی عشق سے بڑھ کر کوئی علاج نہیں، ان معنوں میں عشق خود دوا بھی ہے اور خود طبیب بھی، جبکہ عشق خاموشی کی زبان سے کلام کرتا ہے، بتاتا ہے، سمجھاتا ہے اور سکھاتا ہے، کیونکہ نورِ عشق میں نورِ ہدایت کی روشنی ہے، جس میں نیک توفیق بھی ہے اور اعلیٰ ہمت بھی اور سچ پوچھو تو اس میں کیا نہیں سب کچھ ہے۔
عشق طبیب ہے اور معشوق طبیب ہے، میرے نزدیک دونوں باتیں ایک ہیں، کیونکہ عشق نمائندہ ہے معشوق کا، عشق قائم مقام ہے محبوب کا، جب عشقِ حقیقی ہماری روحوں کا علاج کرسکتا ہے تو ہم اسے کیوں نہ طبیب مانیں، اور جب بھی دل میں جانان کا کوئی ظہور ہوگا، تو عشق میں سے ہوگا پھر ہم یہ کیوں نہ کہیں کہ عشق چراغ کی روشنی ہے اور معشوق چراغ ہے، اگر تمہارے دل میں اُس دلبر و دلدار کا مکمل عشق ہے، تو مبارک ہو کہ عنقریب تم کو جانِ جان کا جلوہ دکھائی دینے والا ہے، وہ یار جانی تم کو اپنا مقدّس دیدار دینے والا ہے، اس کے پاک عشق نے ہی پہلے پہل تم کو اس قابل بنایا، کہ اب تم خود کو روحانی دیدار کے
۱۰
مستحق سمجھ رہے ہو، شروع شروع میں تمہیں روحانی بیماریوں کی شکایت رہتی تھی، اب یہ بات نہیں رہی، تو معلوم ہوا کہ عشق طبیب ہے جس نے دوا دی اور علاج کیا پھر شفا ملی۔
یہ نسخہ ہزار بار آزمودہ اور کامیاب ہے، کہ حقیقی محبّت اور دینی عشق کی دستگیری اور مدد حاصل کئے بغیر کوئی مومن ایمان اور ایقان میں آگے نہیں بڑھ سکتا، راہِ روحانیت میں ترقی نہیں کرسکتا اور نہ اس کی عبادت و بندگی اور ذکر و فکر میں کوئی جان ہوتی ہے، حقیقت میں ایسے شخص کی زندگی کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔
مرضِ روحانی کی علامتیں:
روحانی بیماری کی عام علامتیں یہ ہیں: شوقِ عبادت کا فقدان، ذکر و بندگی میں سستی و کاہلی، دل میں طرح طرح کے وسوسوں کا آنا، خوفِ بے جا، بے چینی، ذکر و عبادت کا سلسلہ قائم نہ رہنا، عبادت کے الفاظ ادا کرنے میں لغزش، قساوتِ قلبی (دل کی سختی) یعنی بندگی اور وعظ و نصیحت کے درمیان دل کا نرم نہ ہو جانا، اور گریہ و زاری کے فیض سے بے بہرہ رہ جانا وغیرہ۔
غیبت، شکایت، بدگوئی اور بیہودہ باتوں میں مصروف رہنے کی عادت، جھوٹ
۱۱
بولنا، معمولی باتوں میں بار بار قسمیں کھانا، نیک صحبت اور علم کی باتوں سے گریز کی خواہش، دینی قسم کی مایوسی، علمائے دین سے بغض رکھنا، غیروں کی باتوں سے دلچسپی، اور حرام کو چاہنا، خواہ وہ حرام صرف دل کی نیّت تک محدود ہو یا وہ قول حرام ہو یا کوئی حرام عمل ہو، ہر حالت میں حرام ہی ہے اور اس کی خواہش روحانی بیماری ہے جو بنیادی قسم کی ہے۔
غرض یہ ہے کہ خدا و رسول اور صاحبانِ امر کے حکم کے مطابق جو چیزیں ممنوع ہیں ان کو چاہنا اور ان سے دوستی رکھنا روحانی بیماری کی علامت ہے، جبکہ دوسری طرف سے دینی حکم کے موافق اعمالِ صالح سے دوستی ہونا روح اور دل کی صحت کی علامت ہے۔
مذکورۂ بالا تمام روحانی بیماریوں کا علاج عشق ہی سے کیا جا سکتا ہے، کیونکہ عشق ہی طبیب ہے، عشق ہی دوا اور علاج ہے اور عشق ہی شفا ہے، جبکہ عقیدہ، اخلاص، محبت، ایمان، یقین اور معرفت عشق کے بغیر نہیں، اگر دینی امور میں عشق ہے تو کوئی چیز مشکل نہیں، عشق وہ معجزہ ہے جس سے مشقت راحت بن جاتی ہے، عشق وہ ہے جو عاشق کو معشوق سے ہمکنار کر دیتا ہے بلکہ خود عاشق کو معشوق بنا دیتا ہے۔
عشق کے درجات:
۱۲
قرآنِ حکیم میں دینی قسم کی محبت و دوستی اور ولایت فرض کی گئی ہے، جس کا ہم یہاں عشق کے عنوان سے ذکر کر رہے ہیں، اگرچہ لفظِ عشق قرآن میں بظاہر موجود نہیں، لیکن مترادفات میں اس کا ذکر فرمایا گیا ہے، اور حروفِ مقطعات میں بھی، اور اگر دقتِ نظر سے کام لے کر دیکھا جائے، تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئیگی، کہ دنیائے قرآن کی تمام چیزیں عشقِ خدائی کے رنگ میں رنگی ہوئی ہیں، جس کا اشارہ ۰۲: ۱۳۸ میں ہے، اور اس قول میں کیا شک ہو سکتا ہے، جبکہ خداوند عالم نے ارشاد فرمایا کہ:
وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ (۴۹: ۰۷) لیکن خدا نے تمہیں ایمانِ حبیب و عزیز قرار دیا اور اس کی خوبصورتی و عمدگی تمہارے دلوں میں ظاہر کر دی، یعنی ایمان نہ صرف محبّت و جاذبیّت و دلکشی کی تاثیر ہے بلکہ اس میں یہ خاصیت بھی ہے کہ جب ایک حقیقی مومن کے دل کی آنکھ کھل جاتی ہے تو اس وقت ایمان اس کے روحانی مشاہدے میں تجلّیاتِ نورانیّت کی جنّت بن کر سامنے آتا ہے، اس کا مختصر مطلب یہ ہوا کہ ایمان پیارا ہے، وہ پیار چاہتا ہے، ایمان ہر چیز سے حسین اور خوبصورت ہے، کیونکہ حکمت میں ایمان ہی بہشت ہے، اور اسی میں تمام لذّتیں پوشیدہ و پنہان ہیں، اس میں کسی چیز کی کمی نہیں۔
جب ایمان پیار اور محبت کا سرچشمہ ہے، جب یہ حقیقی محبت کی دعوت کرتا
۱۳
ہے، جب اس کی ہر بات اور ہر کام میں مہر و شفقت ہے اور جب اس کا انجام حقیقی عشق ہے کیوں نہ مانیں کہ دین محبت ہی محبت ہے۔ اس قول کی مراد یہ ہے کہ قرآن و سنّت کی تعلیمات میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دین کے تمام امور خوشی اور محبت سے انجام دیئے جائیں، کیونکہ دین میں اکراہ (زبردستی، ۰۲: ۲۵۶) نہیں، یعنی دین میں ہر بات اور ہر کام خوشی اور محبت کے تصور سے کرنا ہے اور یہی طریقہ سب سے بہتر اور یہی تصوّر سب سے ارفع و اعلیٰ ہے، اور خدا کی خوشنودی کا سبیل بھی یہی ہے، اگرچہ دین میں جہاد اور خوفِ خدا جیسی چیزیں بھی ہیں، لیکن انجام میں ۔
اب ہم یہاں حقیقی محبّت اور نورانی عشق کے مراتب و درجات کے باب میں کچھ تذکرہ کرنا مناسب سمجھتے ہیں، کہ اس کا سب سے اونچا درجہ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے، پھر حضرت رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپؐ کے اہلِ بیت اطہار و أئمّۂ پاک علیہم السّلام کے عشق کا مرتبہ ہے، پھر گروہِ مومنین کی محبّت ہے، اور اس کے بعد نیک باتوں اور اچھے کاموں سے محبّت رکھنے کا رتبہ ہے، ظاہر ہے کہ خدا و رسولؐ سے محبّت و عشق رکھنے میں کوئی اختلاف نہیں، اور نہ ہی مومنوں کے آپس میں ایمانی دوستی و محبّت رکھنے کی بابت کوئی شک ہے، لیکن مقامِ تعجب ہے کہ امیرالمومنین یعنی امامِ زمانؑ کی محبت کے باب میں لوگوں
۱۴
کو کیوں سوال پیدا ہوتا ہے! اور بعض دفعہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی محبّت کے متعلّق بھی تأمل کیا جاتا ہے، حالانکہ اہلِ بیتِ رسول اور امامِ زمانؑ کی دوستی و محبّت مایۂ ایمان اور ذریعۂ عرفان ہے۔
عشق کے مقاصد:
یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ عشق کے بہت سے مقاصد ہیں، جو ابتداء سے لے کر انتہا تک ترتیب وار اور درجہ وار ہیں، اور ان کے آخر میں جو سب سے عظیم مقصد ہے، وہی اس سلسلے کا مقصدِ اعلیٰ ہے، اور وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا مبارک عشق ہے۔
ذاتِ سبحان کا مقدّس عشق بلا واسطہ حاصل نہیں ہوتا، یہ صرف پیغمبر برحقؐ ہی کے وسیلے سے ممکن ہے، پیغمبر علیہ السّلام کی جانب سے عشقِ الٰہی کے رستے کی ہدایت اس وقت مل سکتی ہے، جبکہ ہم رسول و اہلِ بیت اور أئمّۂ ہدا علیہم السّلام سے دوستی و محبت رکھیں، قانونِ الٰہی یہی ہے، اسی میں دین کی تمام حکمتیں پوشیدہ ہیں، یہیں سے اسرارِ معرفت کا ظہور ہوتا ہے، یہی راستہ صراطِ مستقیم کہلاتا ہے، اسی مقام پر نور ملتا ہے، اور یہی طریقہ اسلام کی اصل اور روح کے عین مطابق ہے۔
۱۵
دینی محبّت اور حقیقی عشق اس لئے ضروری ہے کہ اس سے فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں بڑی حد تک آسانی پیدا ہو جاتی ہے، دین کی لگن اور وابستگی اسی میں ہے، جذبۂ ایثار و قربانی اس کے بغیر نہیں پیدا ہوسکتا، اسی حقیقی عشق کے حاصل ہونے سے دنیا کی محبّت اور خواہشاتِ نفس پر قابو پانا ممکن ہے، یعنی اسی کے ذریعے سے باطل چیزوں کی محبّت زائل یا کم ہوسکتی ہے، اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے، کہ دوزخ کے خوف اور بہشت کی طمع سے بالاتر ہوکر خدا و رسولؐ اور صاحبِ امرؑ کی حقیقی اطاعت اسی وسیلے سے کی جا سکتی ہے، یہی تسلیم و رضا کا اصل طریقہ ہے، یعنی خود کو خدا کے سپرد کر دینے اور اس کی خوشنودی کا طالب رہنے کا راستہ یہی ہے، اور تائیدِ غیبی و نصرتِ خداوندی بھی اسی حقیقی عشق میں کارفرما ہے۔
عشق کا ذریعہ:
اگر کوئی پوچھے کہ عشق کا ذریعہ کیا ہے؟ تو بتا دینا کہ عشق کا اصل ذریعہ اور بنیادی وسیلہ خود معشوق ہی ہے، کیونکہ عشق کی علتِ اولیٰ وہی ہے، یہ اسی کی وجہ سے ہے کہ عاشق دردِ عشق میں مبتلا ہوا ہے، اور اس پر طرہ یہ کہ میں اکثر عاشقوں کی محفل میں جا کر انکے دل کے زخموں پر نمک پاشی اس طرح
۱۶
سے کرتا ہوں، کہ نظم و نثر کی صورت میں یار جانی کے حسن و جمال کی تعریف و توصیف کرتا ہوں، اگر چہ یہ میرے بس کی بات تو نہیں ہے، کہ اس شاہِ خوبان کی لاتعداد خوبیوں میں سے کسی ایک خوبی کی درست نقشہ کشی کرسکوں، لیکن تذکرۂ حسنِ جانان کی تاثیر کا یہ عالم ہے، کہ جوں ہی محبوب کا نام لیا گیا، ادھر عاشقوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کے آبدار موتی برسنے لگے، میں نہ سہی کوئی اور سہی، مگر حق بات یہ ہے کہ میرے دلبر و دلستان کی بے مثال و لازوال زیبائی و رعنائی کی پیاری باتیں کرنے سے اہلِ عشق کی عاجزی و انکساری کی حد ہو جاتی ہے، جس سے اُن کا عشق اور بھی قوّی ہو جاتا ہے، کیونکہ ان کے آئینۂ دل میں اس گریۂ و زاری سے صفائی اور جِلا پیدا ہو جاتی ہے، اور اس میں یارِ دل نشین کے چہرۂ زیبا کا عکس جھلکتا رہتا ہے۔
اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ عشق کے ذریعے کی عملی وضاحت کر دی جائے، تا کہ معلوم ہو، کہ کس طرح حقیقی عشق میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے متعلق واضح طور پر مثال پیش کر کے بتایا گیا کہ عشق حسن و جمال کی دلکشی و جاذبیّت کا نام ہے، چنانچہ اگر عشق میں اضافہ کرنا ہے تو بار بار خصوصی طور پر یعنی نورانیت میں دیدارِ یار چاہئے، لیکن ایسا دیدار ہر عاشق کو کہاں حاصل ہوتا ہے، کوئی اور عام دیدار کا سہارا لیا جائے، مثلاً چند ہم خیال عاشق باہم مل کر
۱۷
خلوت و فراغت میں عشق اور معشوق کی پیاری پیاری باتیں کر لیا کریں، یہ ایک طرح کا دیدار ہے یعنی اس ذریعے سے روحانی محبوب تصور اور خیال میں آسکتا ہے، یہ کام مجمع کے علاوہ تنہائی میں بھی ہو سکتا ہے۔
حقیقی محبّت کے فوائد:
حقیقی محبّت جب شدید ہو، تو اُسے عشق کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں، کہ عشق ایک نور ہے، اور جاننا چاہئے کہ روحانی یعنی باطنی نور کے اوصاف ظاہری اور مادّی نور کے مقابلے میں ارفع و اعلیٰ اور افضل و اکمل ہوا کرتے ہیں، مگر یہ بیان، جس میں ہم نے نورِ عشق کی مثال سورج سے دے کر دونوں کے فرق کو اعلیٰ اور ادنیٰ سے ظاہر کیا، میری مجبوری اور بے چارگی کا ثبوت ہے، چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک۔
بہرحال نورِ محبّت میں عشق اور عقل و روح کی روشنی ہے، یعنی اس کی بدولت عاشقِ صادق کے باطن میں دنیائے محبّت، دنیائے دانش اور دنیائے روحانیّت روشن ہو جاتی ہیں، اِس نور میں جیسا کہ ہونا چاہئے گرمانے، پگھلانے، جلانے اور ہمرنگ و ہم صفت بنا لینے کی خاصیتیں موجود ہیں، جن کی بدولت ایک خام و ناتمام انسان پختہ اور کامل ہوجاتا ہے، دل میں رقت و نرمی کی کیفیت پیدا ہو جاتی
۱۸
ہے، جس میں بہت سی رحمتیں اور برکتیں پوشیدہ ہیں، گناہوں کے ڈھیر میں آگ لگائی جا سکتی ہے، جس طرح دنیا کی آگ لکڑی ہو یا کوئلہ ہر قسم کے ایندھن کو اپنا رنگ اور اپنی صفت عطا کرکے اپنا لیتی ہے، اسی طرح نورِعشق، جس میں آتشِ محبّت ہے، نیک انسانوں کے علاوہ کسی سیاہ کار کو بھی جلا جلا کر انگارا اور شعلہ بنا سکتا ہے، اِس حالت کو فنائے عشق کہا جاتا ہے۔
ایک عظیم حکمت:
قرآنِ حکیم کی ۲۷: ۰۸ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: پس جب موسیٰؑ اُس آگ کے پاس آئے تو ان کو آواز آئی کہ مبارک ہیں جو اس آگ کے اندر ہیں اور جو اس کے گرد ہیں اور وہ خدا جو سارے جہان کا پالنے والا ہے پاک و پاکیزہ ہے۔ (۲۷: ۰۸)۔
آپ غالباً سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ قرآنی قصّہ حضرت موسیٰؑ اور وادئ ایمن کا ہے، جہاں ان کو (پہلے پہل) کچھ دور سے آگ کی روشنی نظر آئی تھی، مذکورۂ بالا ارشاد میں اسی مطلب کا تذکرہ ہے، اب یہاں چند اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں، کہ وہ آگ کس نوعیّت کی آگ تھی؟ کیا وہ آتشِ عشقِ الٰہی تھی یا ذاتِ خدا کی تجلّی؟ اس کے اندر کون تھے اور اس کے گرد کون؟ اگر آپ یہ کہتے ہیں،
۱۹
کہ اُس روشنی کے اندر ذاتِ سبحان مخفی تھی، تو پھر سبحان کا کیا مطلب ہوا؟ اس کے علاوہ یہ بھی ایک بہت بڑا سوال ہے کہ جو کوئی اُس مقدّس آگ کے اندر ہے اور جو اس کے گرد ہیں ان کو اِس وجہ سے برکت دی گئی ہے کہ وہ آگ میں اور اس کے قریب ہیں، تو کیا آپ یہ بات ماننے کے لیے تیار ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی دوسری چیز کی بدولت “برکت دیا گیا” کہلاتا ہے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔
میں نے اس کتابچہ کے شروع ہی میں یہ بتا دیا ہے کہ عشق انوارِ الٰہی میں سے ایک نور ہے، ایک ایسا عظیم نور کہ اس سے بڑھ کر کوئی نور نہیں، جس کا مظہر انسانِ کامل ہے، جو عشقِ خداوندی کا معجزاتی آئینہ ہے، تم سورج سے کہو کہ وہ تمہارے پاس آجائے اور اس کے لئے بہت کچھ منت سماجت کرو پھر بھی نہیں آئے گا، لیکن تم اس کو جیسے ہی آئینہ دکھاؤگے وہ اس میں ایک طرح سے تمہارے پاس اُتر آئے گا، یہ اس مطلب کی مثال ہے، کہ ہادئ برحقؑ اوصافِ ربّانی کے ظہور کا آئینہ ہے، چنانچہ خدا کی اُس سنّت کے مطابق جس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، موسیٰؑ سے پہلے بھی ہادی تھا، جس کے وسیلہ اور توسط سے موسیٰ علیہ السّلام نے عشقِ الٰہی کی تجلّی دیکھی، جب سورج کی تجلّی آئینے سے ظاہر ہوتی ہے، تو اُس وقت آئینہ روشنی کے اندر ہوتا ہے اور دیکھنے والا اس کے گرد رہنے والوں میں سے ہوتا ہے، مذکورہ آیت کا اشارہ اِسی عظیم حکمت کی طرف تھا۔
۲۰
معشوق میں عشق:
آپ تو یہ کہتے ہیں کہ عشق صرف عاشق کا وصف ہے، کیونکہ یہ اُسی سے ظاہر ہوتا ہے، اور یہ کیفیّت و حقیقت اُسی کے دل و دماغ میں پائی جاتی ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ عشق کا اصل سرچشمہ خود معشوق ہی ہے، لہٰذا عشق سب سے پہلے معشوق کی ذات میں ہوتا ہے، اس کا ابتدائی ظہور محبوب ہی سے ہونے لگتا ہے، اور عشق یا دعوتِ عشق کا یہ ظہور ظاہری اور باطنی اوصاف کے حسن و جمال کی تجلّیات کی حیثیت میں ہے، جو ہر وقت اہلِ بصیرت اور اصحابِ وفا کو اپنی طرف متوّجہ کئے رکھتا ہے، اور عشق و محبّت سب سے پہلے معشوق کی ذاتِ عالی صفات میں موجود ہونے کا ثبوت یہ ہے جو حدیثِ قدسی میں ارشاد ہوا ہے کہ:
کنت کنزاً مخفیاً فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق ، میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا سو میں نے اِس بات سے محبت کی کہ میرا تعارف ہو پس میں نے خلق کو پیدا کیا۔
آپ نے دیکھا کہ محبّت سب سے پہلے کہاں پیدا ہوئی، یا یہ کس ذات میں موجود تھی، یہی نا کہ محبّت پہلے پہل خدا تعالیٰ میں تھی، اور وہ کچھ اِس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی دوسری تمام صفات سے پیشتر محبّت کا ظہور ہوا، یعنی ربّ العزّت کو اس امر سے محبّت ہوئی کہ اُس کی شناخت و معرفت ہو، پھر ہمیں کسی جھجک کے
۲۱
بغیر یہ بھی کہنا چاہئے کہ خدا کو ازل ہی سے اپنے عاشقوں اور عارفوں سے محبّت اور عشق ہے، اس لئے کہ اس کو اپنے تعارف کرانے سے عشق ہے اور اس لئے کہ اس کو اپنے جلال و جمال سے عشق ہے۔
خدا میں عشق:
عشق اگر ہم میں ہے تو ناتمام و نامکمل ہے، اور اگر یہ کسی کامل انسان میں ہے تو مکمل اور ہر قسم کی خوبیوں سے بھرپور ہے اور جہاں یہ خدا میں ہے، تو وہاں پر یہ ایک مقدّس نور ہے، ایک خداوندی صفت ہے، بلکہ جملہ صفاتِ الٰہی میں عشق کے معنی پائے جاتے ہیں، کیونکہ عشق و محبّت رحمت کے معنی سے مختلف نہیں، یہ خود رحمت ہے یعنی مہر۔ اور رحمت یا کہ مہرِ الٰہی نے کائنات و موجود کو ظاہراً و باطناً گھیر لیا ہے، اور ہر چیز رحمت کے بے پایان سمندر میں ڈوبی ہوئی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ عشق خدا کے اوصاف میں موجود ہے، مگر اس طرح سے نہیں جس طرح کہ ہم میں اور تم میں ہے، وہاں تو شانِ بے نیازی اور بڑائی اور بزرگی کی انتہا پر ہے، ہم عشق میں گریہ و زاری کرتے ہیں، ہم میں اضطراب اور بے قراری و بے تابی کی کیفیت ہوتی ہے، مگر خدا کی شان میں ایسا کوئی تصوّر درست نہیں، سمندر کا پانی انتہائی پروقار اور خاموش ہوتا ہے، مگر ایک چھوٹی سی ندی کے
۲۲
سامنے جہاں کوئی نشیبی علاقہ آتا ہے اور جہاں پتھر آتے ہیں وہاں وہ شور مچاتی ہے، کیونکہ اُس کو چوٹ آتی ہے، دھکا لگتا ہے اور صدمہ پہنچتا ہے، مگر سمندر کو کچھ نہیں ہوتا۔
خام عشق اور پختہ عشق:
اگر کوئی آدمی ایسا ہو کہ وہ عشقِ حقیقی کا دعویٰ کرتا ہے اور شاید یہ سمجھتا ہے کہ وہ عاشقِ صادق ہے، تو اسے اپنے آپ کو آزمانا چاہئے ، اور یہ بات ہمیشہ کے لئے پیشِ نظر رکھنا چاہئے، کہ عشق کا پھل شروع شروع میں خام و ناتمام ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ یہ کچا پھل پختہ ہو جاتا ہے یعنی یہ پک جاتا ہے، کچے اور پکے میں فرق و امتیاز رنگ، بو اور ذائقہ سے ہوسکتا ہے، ویسے تو رنگینی اور خوشبو اس وقت میں عمدہ قسم کی ہوتی ہے جب کہ درخت میں پھل لگنے کے لئے پھول کھلتا ہے، مطلب یہ ہے کہ حقیقی عشق کا ثبوت اخلاق کی بلندی اور علم و حکمت کی پختگی کے بغیر ممکن نہیں۔
حقیقی عشق اور مجازی عشق:
جب یہ کتابچہ عشق کی پیاری پیاری باتوں پر مبنی ہے، تو لازمی ہے کہ
۲۳
کچھ مختصر سا بیان عشقِ مجازی کا بھی کر دیا جائے۔ چنانچہ جاننا چاہئے ، کہ عشقِ حقیقی کے مقابلے میں عشقِ مجازی ایسا ہے جیسے نور کے مقابلے میں ظلمت، خیر کے سامنے شر، کیونکہ یہ عدل ہے اور وہ ظلم، یہ جنّت کا رستہ ہے اور وہ دوزخ کی راہ، اس میں انسان کی عزّت و شرافت اور روسپیدی ہے اور اُس میں ذلت و کمینگی اور روسیاہی، اِس کا نتیجہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کی صورت میں نکلتا ہے اور اُس کا انجام غضبِ الٰہی اور عذابِ جہنم ہے، حقیقی عشق سے علم و حکمت کے سرچشمے پھوٹتے ہیں اور مجازی عشق ہر قسم کی ظاہری اور باطنی بیماریوں کی جڑ ہے۔ پس دانشمند کو چاہئے کہ وہ ان دونوں باتوں کے نفع و نقصان کے بارے میں لوگوں کو سمجھا دے اور نصیحت کرے۔
حکمتِ تسمیہ اور اسمائے اہلِ بیت
حکمتِ تسمیہ اور اسمائے اہلِ بیت
فرمانِ مبارک
بذریعۂ رادیو، بنامِ جماعۂ ہونزہ و گلگت
بمبئی ۱۰ مارچ ۱۹۴۰ء
تمام جماعۂ شمالی سرحداتِ ہندوستان مثلاً چترال، ہونزہ، گلگت، و بدخشان تمام دوستداران و مخلصان رابد عائے خیر یاد میکنم، یقین دارید کہ نورِ محبت و لطفِ من برسائرِ جماعۂ ہونزہ مثلِ خورشید خواہد رسید۔ مرد و زن، صغیر و کبیر برنا و پیر ھمہ فرزندانِ روحانیٔ من ہستید، ہرگز ازشما فراموش نیستم و نخواہم کردہم در دنیا و ہم در آخرت۔
بہ آموختنِ علمِ فرزندانِ خود سعی نمائید و دانستنِ زبانہائے یورپ و زبانِ انگلیسی جہد کنید، اطاعتِ حاکمِ وقت کنید، برکوچکان و زیر دستان مہربان شوید۔
ارشاد از حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ
۱
ترجمہ
فرمانِ مبارک بذریعۂ ریڈیو بنامِ جماعتِ ہونزہ و گلگت
بمبئی ۱۰ مارچ ۱۹۴۰ء
شمالی سرحداتِ ہندوستان کی تمام جماعتوں مثلاً چترال، ہونزہ، گلگت، اور بدخشان کے تمام دوستداروں اور اخلاص مندوں کو نیک دعا میں یاد کرتا ہوں، یقین رکھو کہ میری محبت و عنایت کا نور ہونزہ کی پوری جماعت پر سورج کی طرح طلوع ہوجائے گا۔
مرد، عورت، چھوٹے، بڑے، جوان اور بوڑھے سب میرے روحانی فرزند ہیں، میں تم کو ہر گز فراموش نہیں کرتا، اور نہ کبھی فراموش کروں گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
اپنی اولاد کو علم سکھانے کے لئے کوشش کرتے رہنا، یورپ کی زبانیں اور انگلش سیکھنے کے لئے کوشان رہنا، اپنے وقت کے حاکم کے حکم کو ماننا، چھوٹوں اور ماتحتوں پر مہربان ہوجانا۔
ارشاد از حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ
۲
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دیباچہ
زیرِ نظر کتابچہ حضرت علامہ نصیرالدین نصیرؔ ہونزائی صاحب کی پُرحکمت کتابوں میں سے ہے۔ اگرچہ ضخامت کے اعتبار سے مختصر ہی سہی لیکن عِلمی برتری کے اعتبار سے جتنا اہم ہے، اس کا اندازہ پڑھنے والے حضرات خود ہی کریں گے۔ أئمّۂ ھُدا علیھم السّلام کے اسمائے مبارک کی تعریف و توصیف کے اعتبار سے اس کتابچہ کا عنوان “حکمتِ تسمیہ اور اسمائے اہلِ بیتؑ” رکھا گیا ہے جو صوری و معنوی خوبیوں کا ایک بہترین مرقع اور آئینہ ہے۔ صوری لحاظ سے اس لئے کہ اس عنوان کے ذریعے اہلِ بیتِ اطہار صلوات اللہ علیھم کے اسمائے عظام کے معنی اور حکمتِ تسمیہ یعنی نام رکھنے سے متعلق بنیادی باتوں کو واضح کیا گیا ہے اور معنوی طور پر اس لئے کہ أئمّۂ پاک علیھم الصلوۃ والسّلام کے اسمائے مقدّسہ میں پوشیدہ علم و معرفت کے خزانوں کو حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
۳
چنانچہ اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ جاننا از بس ضروری ہےکہ دینِ حق میں اہلِ بیتِ اطہار علیھم السّلام انتہائی پاکیزگی، تقدّس، روحانیت اور نورانیت کے مالک ہیں، قرآن و حدیث میں جا بجا ان کی عظمت و بزرگی اور بشری کمالات کی شہادتیں ملتی ہیں اور یہ پاک و نورانی ہستیاں حضرت محمدؐ، حضرت علیؑ، حضرت فاطمۃ الزہراؑ، حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ ہیں، جن کے پاک و پاکیزہ گھر میں قرآن نازل ہوا اور جن کی برکت سے دنیا میں اسلام کی روشنی پھیل گئی۔
اہلِ بیت کے اس تصوّر میں عجیب طرح کی حکمت ہے، وہ یہ کہ پیغمبرِ اکرمؐ کے دو گھر تھے، ایک ظاہری و جسمانی اور دوسرا باطنی و روحانی، رسولِ خدا صلعم کے خانۂ ظاہر میں وہ سب افراد حاضر تھے، جو ظاہری لحاظ سے اہلِ خانہ تھے، مگر خانۂ روحانیت و نورانیت میں سب سے پہلے وہ حضرات موجود و حاضر ہوا کرتے ہیں جن کو خدائے بزرگ و برتر ہر طرح سے برگزیدہ فرماتا ہے، لہٰذا بحقیقت اہلِ بیت پنجتن پاک اور ان کی نسل سے أئمّہؑ ہیں۔
بالفاظِ دیگر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیغمبرؑ و امامؑ خانۂ روحانیت ہے جس کا اشارہ قرآنِ حکیم میں بیت یا بیوت کے عنوان سے کیا گیا ہے، یہی وہ حرمت والا گھر ہے جس میں نورِ خدا کا چراغ روشن ہے اور جو عظیم فرشتوں اور مقدّس روحوں کے لئے خانۂ خدا اور عبادت گاہ ہے۔
جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کا گھر زندہ ہے اسی طرح اس کے اسمائے
۴
مبارکہ بھی زندہ و گویندہ ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ انبیاء و أئمّۂ علیھم السّلام ہی ربّ العزّت کے زندہ و گویندہ اسماء ہیں۔ جس طرح کسی کا نام اس کی شخصیّت کی پہچان ہوا کرتا ہے، اسی طرح انبیاء و أئمّۂؑ جو خدا کے زندہ نام ہیں، خدا تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہیں۔
پس اسمائے اہلِ بیت روحانیت میں نورِ علم و حکمت کے سرچشموں کی حیثیت سے ہیں، جو اسرارِ خداوندی کے جواہر سے مملو اور ایقان و عرفان کی دولت سے بھرپور ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسم اپنی ہمہ گیر و ہمہ رس معنویّت اور جامعیّت کی وجہ سے ایک مکمل صحیفۂ آسمانی کی طرح ہے۔
کتابچۂ ہٰذا میں محترم علامہ بزرگوار نے نہ صرف ان اسماء کی لفظی تحلیل کی ہے بلکہ ان میں پوشیدہ باطنی حکمتوں کو بھی بڑے حسن و خوبی کے ساتھ بیان فرمایا ہے، جن کی چند مثالیں درجِ ذیل ہیں:
حضرت مولا مرتضیٰ علیؑ کے نام کی تشریح کرتے ہوئے موصوف اس طرح رقم طراز ہیں:
“علی کے معنی ہیں بلند، شریف، بلند مرتبہ، بلند قدر، “علی” کا یہ بابرکت نام خدا تعالیٰ کے اسمائے صفاتی میں سے ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں (انبیاء و أئمۂؑ) کو اپنی صورتِ رحمانی پر پیدا کرتا ہے، اپنا کوئی نام دیتا ہے، اپنازندہ اسمِ اعظم قرار دیتا ہے، اپنی
۵
مقدّس روح ان میں پھونک دیتا ہے اور اپنی خلافت سے ان کو سرفراز فرماتا ہے، پس یہ حقیقت ہے کہ محمدؐ و علیؑ کے پاک نام خدا کی طرف سے عطا ہوئے ہیں”۔
چونکہ مولا علیؑ امامت کا عنوان ہیں یعنی تمام أئمّہ مولاعلیؑ میں جمع ہیں اس لئے اس پاک نام کی باطنی حکمتوں کا اطلاق ہر امام پر ہوتا ہے۔ حضرت امام محمد مہدی علیہ السّلام جو خلافتِ فاطمیہ کے بانی بھی تھے، کے مبارک اسم کی تشریح میں بزرگوار نے اس طرح قلم رانی کی ہے:
“مہدی: ہدایت یافتہ، وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ حق کی طرف رہنمائی کرے، امامِ عالی قدرؑ کے اس نامِ مبارک کا عنوان ہدایت ہے، اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہر امامِ برحق سب سے پہلے مہدی (ہدایت یافتہ) ہے، اور اس کے بعد ہادی (رہنما) ہے، اگرچہ تمام حضراتِ أئمّۂ طاہرینؑ باطنی طور پر نور کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں تاہم خدائی پروگرام کے مطابق بعض اماموں کے زمانے میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوجاتے ہیں جیسے حضرت امام محمد مہدیؑ کے زمانے میں ہوا تھا”۔
سلسلۂ نورِ امامت میں اڑتالیسویں امام کا دور ظاہری و مادّی لحاظ سے، سائنس و تکنالوجی کی ترقی اور باطنی اعتبار سے، روحانی و عرفانی انقلاب کا دور تھا۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر موصوف نے “سلطان محمد شاہ” کے اسم کی تشریح میں اس طرح خامہ آرائی کی ہے:
۶
“اس عظیم الشّان اور بابرکت نام میں سلطنتِ محمدیؐ کے معنی موجود ہیں، اور یقیناً حضرتِ مولانا سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی بیمثال شخصیّت روحانی بادشاہی کی مالک تھی، ویسے تو ہر امام اپنے وقت میں روحانی بادشاہ ہوا کرتا ہے، مگر خدا کے عظیم پروگرام کے مطابق تمام زمانے ایک جیسے نہیں ہوتے، چنانچہ حضرتِ امام سلطان محمد شاہ علیہ السّلام کا زمانہ بڑا اہم اور بہت خاص بلکہ سب سے عظیم تھا، کیونکہ قرآنی تاویل کی زبان میں آپؑ کی ذاتِ عالی صفات شبِ قدر تھی، جس میں تمام عالمِ امر کے فرشتوں اور روحِ اعظم اور دیگر ارواح کا نزول ہوتا ہے۔”
أئمّۂ طاہرین علیھم السّلام کے نام جہاں صوری لحاظ سے عقیدہ کے باعث مومنین کے لئے بے حد پسندیدہ ہوا کرتے ہیں وہاں ان ناموں کی بوقلمونی میں پوشیدہ رموز ان کے لئے خدا کے زندہ اسمِ اعظم کی معرفت کے گونا گون ذہنی و عقلی دروازے کھول دیتے ہیں، پس اسمائے اہلِ بیتؑ کی حکمت پر مسلسل غور و فکر ایک مومنِ عاقل کے لئے صبحِ روحانی کی نویدِ جانفزا لاسکتی ہے۔
مزید برآن ہر وہ مومن، جس نے عقیدت کی بناء پر اپنی اولاد کا نام انبیاء و أئمّۂ علیھم السّلام کے نام پر رکھا ہے یا رکھنا چاہتا ہے وہ ان اسماء میں پوشیدہ باطنی معنوں کو کما حقہٗ جان کر، اپنی اولاد کو انبیاء و أئمّہؑ کے پیچھے
۷
پیچھے صراطِ مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے، اپنی عقیدت کو ایک مضبوط علمی بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔
علمی خدمت گزار
یاسمین حبیب
یکم نومبر، ۱۹۸۹ ء
۸
حکمتِ تسمیہ۱ اور اسمائے اہلِ بیتؑ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ بندۂ عاجز و ناتوان، غلامِ غلامانِ امامِ زمانؑ، خاکِ پائے دوستان اس خاص موضوع کی صورت میں اپنے چند عظیم المرتبت، علم پرور اور دانشمند دوستوں کی اس تحریری فرمائش کی تعمیل کے لئے سعی کرتا ہے، جس میں انھوں نے ازراہِ علم گستری اہلِ بیتِ اطہار صلوات اللہ علیھم کے اسمائے مبارک کے معنی اور حکمتِ تسمیہ بیان کرنے کے لئے فرمایا تھا، چنانچہ بڑی انکساری سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے تسمیہ یعنی نام رکھنے سے متعلق کچھ بنیادی باتوں کا تذکرہ ضروری ہے، جو درجِ ذیل ہیں:
۱۔ اکثر دفعہ روایت یا دستور یا مذہبی عقیدہ کے بموجب لوگ
۱: تسمیہ: نام رکھنا
۹
اپنی اولاد کا نام کسی دینی یا خاندانی بزرگ یا کسی مشہور و معروف شخصیت کے نام پر رکھتے ہیں، اور اس عمل کا مقصد و منشا یہ ہوتا ہے کہ شاید بحکمِ خدا ان کی اولاد اسم با مسمیٰ ہوجائے۔
۲۔ اگر اتفاقاً کسی بڑی ہستی کا نام لغوی اعتبار سے عام یعنی معمولی نوعیت کا ہے، تو پھر بھی اصولی طور پر شخصیت کی خوبیوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بڑے شوق سے ایسے نام کا انتخاب کرلیتے ہیں، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا با برکت نام ہے، کہ لفظِ “موسیٰ” اگرچہ ظاہراً اپنی اصل (یعنی قبطی زبان) میں عام معنی رکھتا ہے، جیسے “مو” بمعنیٰ پانی، اور “سا” درخت ہے، یعنی “موسیٰ” کامطلب ہے درخت کے نیچے پانی سے لیا گیا، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ حصولِ برکت کی نیّت سے اس عظیم الشّان پیغمبر یعنی موسیٰؑ کے نام پر رکھا جاتا ہے، کیونکہ اس مثال میں نام کے لفظی معنی پر شخصیّت کی خصوصیات اور خوبیاں غالب آگئی ہیں۔
۳۔ اس سلسلے میں ایک رواج یہ بھی ہے کہ نومولود کے لئے کوئی ایسا نیا یا پرانا نام منتخب کیا جائے، جس کے معنی میں بچے یا بچی سے کوئی اچھی صفت منسوب ہوجائے، جیسے “شیر دل” اور “آفتاب بانو”۔
۴۔ بعض اوقات بچے کا نام زمان و مکان اور دیگر واقعات کی مناسبت سے رکھا جاتا ہے، جیسے نوروز علی، گلشن، حج بی بی
۱۰
وغیرہ، تاہم سب سے عمدہ بات تو یہ ہے کہ مومنین اپنے بچوں کے نام اہلِ بیت علیھم السّلام کے مبارک ناموں پر رکھیں، اور ہاں لڑکیوں کے ناموں کے لئے البتہ اجازت ہے کہ ستاروں، جواہر، اور پھولوں جیسی دلکش چیزوں میں سے کسی نام کو پسند کریں۔
اگرچہ ظاہر میں حضراتِ انبیاء و أئمّۂ علیھم السّلام کے اسمائے گرامی میں بھی یہی اصول کار فرما نظر آتا ہے، لیکن خدا تعالیٰ کے مقرب بندوں کی حیثیت سے ان حضرات کے مبارک ناموں میں علم و معرفت کے بڑے بڑے اسرار پوشیدہ ہیں، سو عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کے نام میں بھی ایک خاص تاویل سما دی ہو، کیونکہ علمِ تاویل اپنی لطافت و سازگاری کی قوّت میں پانی کی طرح ہے، اور الفاظ مختلف شکل کے ظروف جیسے ہیں، چنانچہ تاویل کا پانی ہر لفظ کے ظرف میں حسبِ شکل و صورت ہمیشہ سے موجود ہوا کرتا ہے، اب ہم اس تمہید کے بعد اصل موضوع کی طرف لوٹ آتے ہیں:
محمدؐ:
اس لفظ کا مادّہ ح م د ہے، محمد کے معنی ہیں نہایت تعریف کیا گیا، سراہا گیا، قرآنِ پاک میں لفظ محمدؐ چار دفعہ آیا ہے، اور احمدؐ ایک بار مذکور ہے، ویسے تو جملہ قرآن رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعریف و توصیف سے بھرا ہوا ہے، مصرع: “قرآن تمام وصفِ کمالِ محمدؐ است”۔
۱۱
قرآن کلی حیثیت میں کمالِ محمدی کی تعریف ہے، لیکن یہاں صرف اسمِ “محمدؐ ” کے معنی مقصود ہیں، لہٰذا یہ کہنا مناسب ہے کہ اس لفظ کا براہِ راست تعلق “مقامِ محمود” سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (۱۷: ۷۹)
بعید نہیں کہ تمھارا پروردگار تمھیں مقامِ محمود پر فائز کردے۔ یعنی تمھارا انبعاث مقامِ محمود پر ہوگا، جو کلمۂ باری اور سرچشمۂ عقل ہے، جو تعریف کیا گیا اور سراہا گیا ہے۔
محمدؐ کی عددی تاویل علیؑ ہے، وہ اس طرح: محمد = م (۴۰) + ح (۸) + م (۴۰) + د (۴) = ۹۲ = ۲ + ۹ = ۱۱ = ۱ + ۱ = ۲: جواب، علی= ع (۷۰) + ل (۳۰) + ی (۱۰) = ۱۱۰ = ۰ + ۱ + ۱ = ۲: جواب، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ محمدؐ کا جملِ اصغر ۲ ہے، جس سے علیؑ مراد ہے، کیونکہ علیؑ کا جملِ اصغر بھی ۲ ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد و علی صلوات اللہ علیھما نورِ واحد ہیں، اس لئے کہ نور ہمیشہ ایک ہی ہوا کرتا ہے، وہی ایک نور ہمہ رس، ہمہ گیر اور کافی ہے، اور دو نور کے تصوّر سے کمالِ نور کی نفی ہوجاتی ہے۔
مصطفیٰؐ:
اس کا مادّہ ص ف و ہے، اور اس کے معنی ہیں چنا ہوا، انتخاب کیا ہوا، برگزیدہ، پسندیدہ، مقبول، اور یہ آنحضرتؐ کا لقبِ مبارک ہے۔
علیؑ :
مادّہ ع ل و ہے،معنی ہیں بلند، شریف، بلند مرتبہ، بلند قدر، “علیؑ” کا یہ بابرکت نام خدا تعالیٰ کے اسمائے صفاتی میں
۱۲
سے ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک اپنے برگزیدہ بندوں (انبیاء و أئمّہ) کو اپنی صورتِ رحمانی پر پیدا کرتا ہے، اپنا کوئی نام دیتا ہے، اپنا زندہ اسمِ اعظم قرار دیتا ہے، اپنی مقدّس روح ان میں پھونک دیتا ہے، اور اپنی خلافت سے ان کو سرفراز فرماتا ہے، پس یہ حقیقت ہے کہ محمدؐ اور علیؑ کے پاک نام خدا کی طرف سے عطا ہوئے ہیں، کیونکہ یہ اس کا ایک اٹل فیصلہ تھا کہ نورِ علم و ہدایت ہمیشہ کے لئے آلِ ابراہیمؑ سے وابستہ رہے گا (۰۴: ۵۴)۔
مرتضیٰؑ:
مادّہ ر ض ی ہے، اس کے معنی ہیں پسندیدہ، برگزیدہ، مقبول، چنا ہوا، منتخب، یہ مولاعلیؑ کا لقب ہے، جو خدا و رسولؐ کے منشا کے مطابق ہے۔
فاطمہؑ:
مادّہ ف ط م ہے، فاطمہ کے لغوی معنی ہیں وہ عورت جس نے مقررہ وقت پر بچے کا دودھ چھڑایا ہو، مگر جنابِ سیدہ سلام اللہ علیھا کا یہ پاکیزہ نام فاطمہ بنتِ اسد کے نامِ گرامی پر رکھا گیا ہے، اور اس میں لفظی معنی کی بجائے فاطمہ بنتِ اسد زوجۂ حضرت ابوطالبؑ کی شخصی خصوصیات ملحوظِ نظر ہیں، آپ اسد کی بیٹی، حضرت ہاشمؑ کی پوتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی پھوپھی تھیں، آپ میں کیا کیا خوبیاں تھیں اور آنحضرتؐ کی کفالت کے سلسلے میں کتنی محبّت و دلسوزی سے دیکھ بھال کی ہے، اس کا اندازہ متعلقہ تاریخ سے ہوسکتا ہے۔
۱۳
زہراؑ:
مادّہ ز ہ ر ہے، معنی ہیں درخشان، چمکیلا، روشن، تابان، زَہَرَ کہتے ہیں چراغ یا چاند یا چہرے کے چمکنے اور روشن ہونے کو، ازہر بھی یہی معنی رکھتا ہے، مگر وہ مذکر کے لئے بولا جاتا ہے، اسی مادّہ سے ایک دوسرا لفظ زُہْرَہْ ہے، جو حسن و جمال کے معنی میں مستعمل ہے، یہی زُہۡرَہ ایک ستارہ ہے، جس کو بعض قدیم لوگوں نے حسن و جمال کی دیوی مانا، غرض یہ ہے کہ فاطمۂ زہرا صلوات اللہ علیھا کی پاک و پاکیزہ ذات میں وہ تمام خوبیاں اور کمالات موجود تھے، جو خواتینِ جنّت کی ایک سردار خاتون میں ہونے چاہئیں، آپؑ عقلی، روحانی اور جسمانی طور پر بدرجۂ انتہا پاک و پاکیزہ تھیں، کیونکہ خداوندِ عالم نے آیۂ تطہیر میں اہلِ بیتِ رسولؐ کی کامل و مکمل طہارت و پاکیزگی کی ضمانت دی ہے (۳۳: ۳۳) اس دنیا میں مادّی چیزوں کی پاکیزگی کئی طرح سے ہوتی ہے، مگر سب سے اعلیٰ پاکیزگی سورج کی شعاعوں سے اور دوسرے درجے کی صفائی پانی سے ہوتی ہے، جب پانی سمندر تک پہنچتے پہنچتے آلودہ ہوجاتا ہے تو سورج اسے لطیف و پاک بناکر اٹھا لیتا ہے اور پاک پانی (۲۵: ۴۸) کی حیثیت میں دوبارہ برسا دیتا ہے، اس مثال سے یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ اہلِ بیتؑ کی پاکیزگی نور کی بارش سے ہوا کرتی ہے، جو سب سے اعلیٰ درجے کی پاکیزگی ہے۔
۱۴
حَسَنْؑ:
مادّہ ح س ن ہے، ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز، خوبصورت، جمیل، ارشادِ نبوّی ہے کہ : اَلْحَسَنُ والحسین اِماما حقٍّ قاما أو قَعَداوابوھُما خیرٌ منھما = حسن اور حسین دونوں برحق امام ہیں خواہ وہ کھڑے ہوجائیں یا بیٹھ جائیں، اور ان کے والد دونوں سے بہتر ہیں۔ یعنی حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ خواہ دعوت کریں یا نہ کریں امامِ مستودع اور امامِ مستقر ہیں، اور ان کے والد ان سے افضل ہیں اس لئے کہ وہ اساس ہیں۔
امام برحق کا نام جہاں علیؑ ہے، وہاں نورِ خدا کی بلندی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، اور جب یہ نور حَسَنؑ کے روپ میں ہے تو تب اس کے باطنی حسن و جمال کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے، حضرت یوسفؑ امامِ مستودع تھا، جس کو خدائے علیم و حکیم نے نورِ امامت کے روحانی جمال و جلال کی مثال بناکر پیش کیا ہے، تاکہ اہلِ ایمان میں حقیقی عشق کا غلبہ پیدا ہو۔
حُسَیْنْؑ:
مادّہ ح س ن ہے،اس کے معنی وہی ہیں جو لفظ حَسَنْ کے ہیں، مگر اس میں صرف لفظی فرق اتنا ہے کہ یہ اسمِ مصغّر ہے، جو پیار کی وجہ سے ہے، اس پُرحکمت نام سے اشارہ ملتا ہے کہ کچھ لوگ آلِ نبیؐ اولادِ علیؑ کو حقیر سمجھیں گے اور کچھ لوگ ان سے محبت کریں گے، کیونکہ اسمِ تصغیر کے یہی دو پہلو ہوا کرتے ہیں۔
۱۵
زین العابدینؑ:
مادّہ زی ن اور ع ب د ہے،آپؑ کا اصل نام علیؑ تھا، اور زین العابدین لقب، اس کے معنی ہیں عبادت گزاروں کی زینت، امامِ عالیمقامؑ کے اس مبارک لقب سے خدائے واحد کی عبادت کی اہمیت اجاگر ہوجاتی ہے، ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ عبادت کی روح تصوّرِ امامت میں ہے، کیونکہ امامِ زمانؑ ہی معرفت کا دروازہ ہوا کرتا ہے، اور معرفت عبادت کی جان ہے، قرآن میں لفظ “زین” نورِ ایمان کے لئے آیا ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے: وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ (۴۹: ۰۷) مگر خدا نے تمھیں ایمان محبوب کردیا اور اس کو تمہارے دلوں میں مزّین و منّور کر دکھایا۔
محمد باقرؑ:
اس کا مادّہ ہے ب ق ر،بَقَرَہ (ن) بَقْراً=پھاڑنا، کھولنا، وسیع کرنا، تَبقّرَ الرّجلُ =کسی کا وسیع العلم یا کثیر المال ہونا، انہی اصل الفاظ کے مطابق باقر کے معنی ہیں علومِ مخفی اور اسرارِ باطن کا کھولنے والا، اسی سبب سے آپؑ “باقر العلوم” کہلاتے تھے، مختصر یہ کہ آپؑ کے نام اور کام کی مثال سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ نورِ امامت ہمیشہ باطنی اور عرفانی حکمتوں کو ظاہر کرتا رہتا ہے۔
جعفر الصادقؑ:
مادّہ ج ع ف اور ص د ق ہے، جعفر کے معنی ہیں دریا، ندی، اور صادق
۱۶
سچ بولنے والے کو کہتے ہیں، اس مبارک نام سے یہ حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے کہ امامِ اقدس و اطہرؑ حقیقی علم کا دریائے روان ہوا کرتا ہے، ہر امام اپنے زمانے کا “الصادق” ہوتا ہے، اور تمام حضراتِ أئمّہ “صادقین” کہلاتے ہیں، چنانچہ تمام زمانوں کے لوگوں سے فرمایا گیا: يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (۰۹: ۱۱۹)۔اے اہلِ ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ یعنی اپنے امامِ وقتؑ کے ساتھ منسلک ہوکر رہو، تاکہ تم کو حقائق و معارف کے خزائن سے مالا مال کردیا جائے۔ آپ اگر چاہیں تو یہاں خوب غور کرسکتے ہیں کہ ایک طرف سب ایمان والے ہیں، جن کو حقیقی ایمان اور تقویٰ سے کام لے کر صادقین کے ساتھ ہوجانا چاہئے، دوسری جانب صادقین ہیں، جو ایمان، تقویٰ اور صدق کے درجۂ کمال پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔
اسماعیلؑ:
یہ لفظ عبرانی میں “شماع ایل” ہے، شماع (سماع)سننا اور ایل (اللہ) لفظی معنی خدا کا سننا، امامِ برحقؑ کا یہ بابرکت نام حضرتِ ابراہیمؑ کے فرزندِ ارجمند حضرتِ اسماعیلؑ کے نام پر ہے، اس پر حکمت نام میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ سلسلۂ امامت آلِ ابراہیمؑ اور آلِ محمدؐ ہے، نیز اس سے ظاہری اور باطنی قربانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
محمد بن اسماعیلؑ:
امامِ پاکؑ کا یہ مبارک نام پیغمبرِ اسلامؐ کے اسمِ گرامی پر ہے، تاکہ أئمّۂ آلِ محمدؐ
۱۷
کی نورانی اور خاندانی نسبت لوگوں پر واضح رہے، خداوندِ عالم نے اپنے محبوب پیغمبرِ اسلامؐ کو الکوثر (۱۰۸: ۰۱) یعنی مردِ کثیر ذریّہ عطا فرمایا ہے، اور وہ یقیناً مولاعلیؑ ہے، تاکہ رسول اللہؐ کے پیارے دین (اسلام) کا نظامِ ہدایت ہمیشہ کے لئے قائم رہے، چنانچہ امیرالمومنین علیؑ کی ذاتِ عالی صفات میں کوثر کے جملہ معانی مخفی تھے، کوثر کے دوسرے معنی حکمت ہیں، جس میں خیرِ کثیر ہے (۰۲: ۲۶۹) اور اس کے تیسرے معنی حوضِ کوثر ہیں، اور یہ سب حقیقتیں نورِ امامت میں پوشیدہ ہیں، حوضِ کوثر کی تاویل مرتبۂ قیامت ہے، جس کا مالک ہر امامِ ہفتم ہوا کرتا ہے، چنانچہ حضرت امام محمد بن اسماعیلؑ سات سات اماموں کے چھوٹے چھوٹے ادوار کے سلسلے میں پہلا صاحبِ قیامت تھا، یہی وجہ ہے کہ آپؑ میں نورِامامت غیر معمولی طور پر منتقل ہوا تھا۔
وفی احمدؑ:
مادّہ و ف ی اور ح م د، وفی: کامل، بہت وفا کرنے والا، حق دینے والا اور حق لینے والا، احمدؐ: بڑا سراہا ہوا، محمود، بہت تعریف کیا گیا، یہاں “احمدؐ” آنحضرتؐ کا پاک اسم ہے، چنانچہ “وفی احمدؐ” کے معنی ہیں آنحضرتؐ کی جانب سے حق دینے والا اور حق لینے والا، اور بہت وفا کرنے والا، اس متبرک نام سے یہ حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے کہ امامِ برحقؑ خدا و رسولؐ کی جانب سے ہوا کرتا ہے، یاد رہے کہ وفی کی صفت
۱۸
“وفا” بہت بڑی ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ جیسے جلیل القدر پیغمبرؑ کے تمام ظاہری اور باطنی کارناموں اور علم و معرفت کی تعریف اسی ایک لفظ سے فرمائی ہے، وہ ارشاد یہ ہے: وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ (۵۳: ۳۷) اور ابراہیم کے (صحیفوں میں) جنھوں نے پورا (وفا) کیا۔
تقی محمدؑ:
مادّہ و ق ی، تقی:صاحبِ تقویٰ، متقی، پرہیزگار، خدا ترس، باتقویٰ، یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نورِ امامت ہمیشہ سے ایک ہی ہے، صرف اس کے اسم و جسم کے ظہورات مختلف ہوا کرتے ہیں، لہٰذا درحقیقت ایک امام کے نام میں جو معنوی اشارے ہیں، وہ سب اماموں سے متعلق ہیں، جیسے تقی محمدؑ (محمدؐ کا متقی) اگرچہ ایک امام کا اسمِ مبارک ہے، لیکن اس لفظ کے معنی تمام أئمّہ علیھم السّلام میں مشترک ہیں، نیز یہاں یہ بھی یاد رہے کہ تقویٰ جس کی قرآن اور اسلام میں بہت بڑی اہمیّت ہے، وہ امامِ عالیمقامؑ کی ذاتِ بابرکات سے وابستہ ہے۔
رضی عبداللہؑ:
مادّہ ر ض ی اور ع ب د، رضی عبداللہ: وہ بندۂ خدا جو خوشنود یعنی راضی ہے، امام علیہ السّلام کے اس پاکیزہ نام کا موضوع رضا اور رضوان اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے، کیونکہ دینِ اسلام میں خداوند کی رضا سب سے بڑی چیز ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خاصانِ الٰہی ہر عبادت
۱۹
و اطاعت نہ تو دوزخ کے خوف سے کرتے ہیں اور نہ ہی بہشت کے شوق سے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کرنے کے لئے بجا لاتے ہیں، نیز وہ ہر حال میں راضی برضائے الٰہی رہتے ہیں، چنانچہ قرآنِ حکیم کہتا ہے کہ: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَه ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ (۰۲: ۲۰۷) اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان بیچ دیتا ہے اور خدا تعالیٰ ایسے بندوں پر بڑا ہی شفقت کرنے والا ہے۔ اس آیۂ کریمہ کے خاص و عام دو پہلو ہیں، اس کا خاص پہلو یہ کہ یہ امیر المومنین علی علیہ السّلام کی شان میں ہے، اور عام پہلو یہ ہے کہ اس میں سب کے لئے ہدایت ہے، تاکہ سمجھ لیا جائے کہ خدا کی خوشنودی کی خاطر بڑی سےبڑی قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔
محمد مہدیؑ:
مادّہ ھ د ی، مہدی: ہدایت یافتہ، وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ حق کی طرف رہنمائی کرے، امامِ عالیقدرؑ کے اس نامِ مبارک کا عنوان ہدایت ہے، اور اس کی وضاحت یہ ہے، کہ ہر امامِ برحقؑ سب سے پہلے مہدی (ہدایت یافتہ) ہے، اور اس کے بعد ہادی (رہنما) ہے، اگرچہ تمام حضراتِ أئمّۂ طاہرینؑ باطنی نور کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں، تاہم خدائی پروگرام کے مطابق بعض اماموں کے زمانے میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوجاتے ہیں، جیسے حضرت امام محمد مہدیؑ کے زمانے میں ہوا تھا۔
۲۰
قائم بامراللہؑ:
مادّہ ق و م اور ام ر،قائم بامراللہ: وہ شخص جو بحکمِ خدا کارِ دین کے لئے کھڑا ہوا ہو، ولیٔ امر، صاحبِ اختیار جو امام علیہ السّلام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ (۰۳: ۱۸) خدا نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام فرشتوں نے اور صاحبانِ علم (انبیاء و اولیاء) نے جو عدل پر قائم ہیں (یہی شہادت دی ہے)۔ اس آیۂ مقدّسہ میں شہادتِ توحید کے بارے میں خدا اور فرشتوں کے بعد جن حضرات کا ذکر فرمایا گیا ہے، وہ انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام ہیں، جو علم والے ہیں اور اپنے اپنے وقت میں عدل پر قائم ہیں، چنانچہ حضرت امام قائم بامراللہ علیہ السّلام خدا کے حکم سے روحانی علم و عدل کے لئے استادہ تھا، اور ہر امام ایسا ہے۔
نورِ خدا کا چراغ ہمیشہ کے لئے روشن ہے، وہ کبھی نہیں بجھتا، اس کا مطلب یہ ہے کہ علم و ہدایت کا یہ چراغ ایک پاک سلسلے میں قائم ہے،وہ سلسلہ دورِ نبوّت میں انبیائے کرامؑ پر اور دورِامامت میں أئمّۂ طاہرینؑ پر مبنی ہے، اور اسی پاک و پاکیزہ سلسلے کے مقدّس اشخاص اولوالعلم ہیں جو عدل پر قائم ہیں، اس کے برعکس اگر ایک زمانے میں علم و عدل کے کئی ذرائع ایک ساتھ موجود ہوتے اور دوسرے زمانے میں کوئی وسیلہ نہ ہوتا، تو اس صورت میں خدا کا علم تمام زمانوں پر محیط نہ ہوتا، اور اس کے
۲۱
عدل میں نقص پیدا ہوجاتا، مگر یہ بات نہیں۔
منصور باللہؑ:
مادّہ ن ص ر، منصور باللہ: وہ شخص جس کو خدا سے مدد مل گئی ہو، امامِ برحقؑ اپنے اس بابرکت نام کے معنوی اشارے سے یہ فرماتا ہے کہ ہر زمانے کے امام کو خداوند تعالیٰ سے مدد ملتی رہتی ہے، یہاں لفظ “مدد” کی وضاحت ضروری ہے، کیونکہ یہ کم سے کم بھی ہے اور زیادہ سے زیادہ بھی، لہٰذا ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ امامِ عالی مقام صلوات اللہ علیہ کو خدائے برتر و بے نیاز سے جو مدد ملی ہے وہ انتہائی عظیم ہے، اور وہ یہ کہ امامِ اقدس و اطہر میں خدا کا نور ہے، اور نور میں سب کچھ ہے۔
معزالدین اللہ:
مادّہ ع زز اور دی ن،معزالدین اللہ: وہ شخص جو خدا کے دین کو عزّت و تقوّیت دے، امامِ آلِ محمد علیہ السّلام کا یہ اسمِ گرامی عزّت کا موضوع بنا ہے، اور اس میں کسی مومن کو کیا شک ہوسکتا ہے، جبکہ ساری عزّت خدا و رسولؐ اور أئمّۂ طاہرینؑ کے لئے ہے، جیسا کہ فرمایا گیا ہے: وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ (۶۳: ۰۸) حالانکہ (اصلی) عزّت خدا کی اور اس کے رسول کی اور مومنین (یعنی أئمّہّ) کی ہے، مگر منافق (اس بات سے) واقف نہیں۔ یہ نکتہ قرآنی حکمت کے اصولات میں سے ہے، کہ قرآن میں جہاں جہاں بطرزِ تعریف مومنین کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، وہاں اس تعریف
۲۲
کا مقصودِ اصلی حضراتِ أئمّہ ہوا کرتے ہیں، کیونکہ ایمان کے درجۂ کمال پر وہی صاحبان ہوتے ہیں، غرض یہ کہ دین کا ایک باطن ہے اور ایک ظاہر، دین کے باطن کو خدا نے امام سے وابستہ کرکے رکھا ہے، اور دین کے ظاہر کو لوگوں پر چھوڑ دیا، تاکہ فردائے قیامت ان سے پوچھا جائے۔
عزیزباللہؑ:
مادّہ ع ز ز، عزیز باللہ: وہ شخص جس کو خدا نے عزّت اور غلبہ عطا کردیا ہو، حضرت امام عزیزباللہ کے اس شاہانہ نام کے ساتھ ساتھ ایک درویشانہ نام بھی تھا، اور وہ “نزار” تھا، جو فارسی لفظ ہے، جس کے معنی عاجز و ناتوان ہیں، یہ نام سب سے پہلے حضرت مولانا امام قائم بامراللہؑ کی ذات سے متعلق نظر آتا ہے، امامِ حق کے ایسے دو متضاد ناموں کی حکمت یہ کہتی ہے کہ یقیناً ہمیشہ امامِ عالی مقامؑ کی مبارک ہستی کے دو پہلو ہوا کرتے ہیں، ایک نورانیّت اور دوسرا جسمانیّت، نور بیشک عزیز (غالب) اور محیط ہے، اور جسم نور کے بغیر عاجز و ناتوان ہے، چنانچہ جو لوگ امام کی نورانیّت کو سمجھتے ہیں، جیسا کہ سمجھنے کا حق ہے، تو ان کو جسمانیّت کا قانون کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، او رجو لوگ امام کی جسمانیّت و بشریت میں محدود ہوجاتے ہیں، تو وہ شکوک و شبہات کے طوفان میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔
امامِ عالی وقار کے ایسے نام میں یہ حکمت بھی ہے کہ اگرچہ مومن کو ہر وقت عاجز ہی رہنا ہے، تاہم کامیابی کے وقت اس کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تاکہ دل میں فخر کا کوئی دخل نہ ہو، اور شرطِ ادب کے
۲۳
ساتھ شکر گزاری ادا ہوسکے۔
حاکم بامراللہؑ:
مادّہ ح ک م،حاکم بامراللہ: خدا کے امر سے حکم اور فیصلہ کرنے والا، خدا کے امر سے حکومت کرنے والا، اس مقام پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ کہنے کو تو بہت سے لوگ کہا کرتے ہیں کہ وہ جو حکم یا فیصلہ کردیا کرتے ہیں خدا کے امر سے کرتے ہیں لیکن اس سیّارۂ زمین پر صرف امامؑ ہی ایک ایسا حاکم ہے، جو بحقیقت خدا اور رسولؐ کے امر و منشا کے مطابق فیصلہ کیا کرتا ہے، اور بس، چنانچہ ارشاد فرمایاگیا ہے: اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللّٰهُ (۰۴: ۱۰۵) اے پیغمبر! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو کچھ (روحانیّت میں) اللہ نے تمھیں دکھایا ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔ بِمَآ اَرٰىكَ اللّٰه (جوکچھ اللہ نے تمھیں دکھایا ہے) کا اشارہ قرآن کی روح اور روحانیّت کی طرف ہے، جو صرف پیغمبرؐ اور امامؑ کے لئے خاص ہے، لہٰذا خدا کے امر سے معلمِ قرآن اور فیصلہ کرنے والا امام ہی ہے۔
ظاہرؑ:
مادّہ ظ ہ ر، ظاہر: آشکار، مددگار، غالب، حضرت امام علیہ السّلام کا یہ حکمت آگین نام ان معنوں کے ساتھ دینِ خدا کی عزّت و تقویّت کے لئے تھا، اہلِ دانش جانتے ہیں کہ “الظاہر” خدا کے اسمائے صفاتی میں سے ہے، چنانچہ
۲۴
اگر کوئی شخص امامِ برحقؑ کو اللہ کا وہ نور مانتا ہے جو اس کی طرف سے دنیا میں ہدایت کے لئے مقرر ہے، تو پھر اس کے معنی یہ ہوئے کہ امامِ عالیمقامؑ خدا کا وہ نام ہے جیسے “النور” کہا جاتا ہے، اور اگر یہ صحیح ہے تو یہ بھی درست ہے کہ امامِ برحقؑ اللہ کا اسمِ صفت “الظاہر” ہے، کیونکہ نور اور ظاہر کا مطلب ایک ہی ہے۔
مستنصر باللہؑ:
مادّہ ن ص ر، مستنصر باللہؑ: خدا سے مدد چاہنے والا، مستنصر بامراللہؑ: اللہ کے امر سے مدد چاہنے والا، پاک و پاکیزہ امام علیہ السّلام کا یہ نام جو ہر طرح کی برکتوں سے پر ہے “تائید” کا عنوان ہے، اللہ تعالےٰ سے مدد چاہنے کے عام و خاص بہت سے مختلف درجات ہیں، یہاں تک کہ ایک ایسا مقام بھی آتا ہے، جہاں تائید پہلے ہی سے موجود ہے اور وہ خود بخود کام کرتی ہے، اور ایسا مقامِ عالی حضرت امام اقدس و اطہرؑ کا نور اور نورانیّت ہے۔
نزارؑ:
یہ لفظ فارسی ہے،اور اس کے معنی ہیں ناتوان، کمزور، عاجز، حضرت مولانا امام نزار صلوات اللہ علیہ کے اس بابرکت اور حکمت آگین نام سے ہدایت کی یہ روشنی ملتی ہے کہ بندۂ مومن کو عجز و انکساری کا شیوہ اختیار کرلینا چاہئے، کیونکہ صلاح و فلاح کی جملہ حکمتیں اسی میں پوشیدہ ہیں، مثال کے طور پر:
۱۔ جہاں دعا عبادت کا مغز ہے، وہاں اظہارِ عاجزی دعا کا ایک
۲۵
اہم عنصر ہے۔
۲۔ غرور سب سے بڑا اخلاقی اور روحانی روگ ہے اور اس کی پیش بندی صرف عجز و انکساری ہی سے ہوسکتی ہے۔
۳۔ توبہ روحانی طہارت (پاکیزگی) ہے، مگر اس کی جان عاجزی ہے۔
۴۔ نفس بڑا قوّی دشمن ہے اور اس کو صرف عاجزی ہی سے شکست دی جاسکتی ہے۔
۵۔ اگر کوئی چیز مومن کو فنائے نورانیت کے قریب لے جاسکتی ہے تو وہ عاجزی ہے وغیرہ۔
ہادیؑ:
مادّہ ہ د ی، ہادی: ہدایت کرنے والا، راہنما، رہبر، پیشوا، امام، حضرت مولانا امام ہادی علیہ السّلام کا مبارک نام نورِ امامت کے بڑے اہم اسماء میں سے ہے، کیونکہ ہدایت جو ہادیٔ برحقؑ کی صفت ہے، وہ قرآن اور اسلام کا سب سے وسیع موضوع ہے، اس لئے کہ ہدایت علم بھی ہے اور نور بھی، یہ قول بھی ہے اور فعل بھی، یہ ظاہر میں بھی ہے اور باطن میں بھی، یہ چھوٹے درجات پر بھی ہے اور بڑے درجات پر بھی، اس میں خدا کی نمائندگی بھی ہے اور رسولؐ کی نمائندگی بھی۔
مہتدی ؑ:
مادہ ہ د ی، مہتدی ؑ: ہدایت پانے والا، ہدایت شدہ، ہدایت حاصل کردہ، حضرت امام مہتدی
۲۶
علیہ السّلام کا اسمِ گرامی بھی ہدایت سے متعلق ہے، یاد رہے کہ جس طرح ہر کام کا ایک آخری مقصد ہوا کرتا ہے اسی طرح ہدایت کا بھی ایک آخری مقصد ہے، اور وہ ہے صراطِ مستقیم کی انتہائی منزل یعنی منزلِ مقصود، جہاں مومن امرِکل سے واصل ہوجاتا ہے۔
قاہرؑ:
مادّہ ق ہ ر، قاہر: غالب، زبردست، خدا کے صفاتی ناموں میں سے ہے، جیسے ارشاد ہے: لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (۴۰: ۱۶) آج کس کی بادشاہی ہے؟ خدا کی ہے جو ایک (اور) زبردست ہے۔ اس میں زبردستی سے سب کو آخری مقام پر ایک کردینے کا اشارہ ہے، یعنی جس روز خدا کی روحانی سلطنت قائم ہوگی، اس وقت تمام لوگوں کو خدا کی زبردستی سے ایک کردیا جائے گا۔
یہاں امامِ عالی مقام صلوات اللہ علیہ کا پورا نام القاھِر بِقوّۃِ اللہ ہے، یعنی خدا کی قوّت سے غالب ہونے والا، خدا کی جانب سے زبردست، اس کا مطلب یہ ہے کہ امامِ برحقؑ اللہ کا زندہ نام ہوا کرتا ہے، لہٰذا امامؑ جملہ صفاتِ خداوندی کا مظہر اور آئینۂ انور ہے۔
حسن علیٰ ذکرہ السلامؑ:
نام حسن اور لقب علیٰ ذکرہ السّلامؑ ہے،حسن کے معنی جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے، عقل، روح اور جسم میں انتہائی خوبصورت اور جمیل
۲۷
کے ہیں، علیٰ ذکرہ السّلام کا مطلب ہے: اس کی یاد پر سلام ہو، جیسے ہر امام کا اسم لیتے ہوئے کہا جاتا ہے: “صلوات اللّٰہ علیہ وسلامہ”۔ یعنی اس پر خدا کی صلوات و سلام ہو، سلام کی تاویل تائیدِ اعلیٰ ہے، یعنی نور کی بھر پور مدد۔
اعلیٰ محمدؑ:
مادّہ ع ل و، اعلیٰ: سب سے بلند، بلند ترین، اعلیٰ ۔ محمدؐ: وہ شخص جو خدا اور محمد رسول اللہؐ کی جانب سے اہلِ دنیا میں سب سے سربلند و ممتاز ہو، یعنی امامِ اقدس و اطہر صلوات اللہ علیہ، جو حاملِ نور ہونے کے سبب سے سب سے اعلیٰ و افضل ہے، جیسے امامِ آلِ محمدؐ و اولادِ علیؑ کو ہونا چاہئے۔
جلال الدین حسنؑ:
مادّہ ج ل ل، جلال الدین: دین کی عظمت و بزرگی، حضرت امامؑ کا نامِ مبارک حسن تھا اور لقب جلال الدین، اس لئے جلال الدین حسن کا مطلب ہے، ظاہر و باطن کی تمام خوبیاں رکھنے والا جو دین کی بزرگی ہے، یا یوں کہا جائے: حسن جو دین کی عظمت ہے، یہ بات سب ہی مانتے ہیں کہ اسلام دینِ فطرت ہے، مگر لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اس کا مطلب کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ آنحضرتؐ درختِ اسلام کے بیج کی طرح تھے، لہٰذا آپ ہی کی ذاتِ عالی صفات سے درختِ اسلام پیدا ہوکر پھلا پھولا چنانچہ آپؑ کی ذاتِ اقدس میں جتنی خوبیاں تھیں، وہ سب شجرۂ اسلام میں پھیل گئیں، اور پھر امامؑ اس درخت کا پھل تھا، اس لئے دینِ اسلام
۲۸
کی جملہ خوبیاں امامؑ کی ذات میں جمع ہوگئیں۔
علاء الدینؑ:
مادّہ ع ل و، علاء:بلندی، شرافت، علاء الدین: دین کی بلندی و شرافت، بلندی دوطرح کی ہوتی ہے: مادّی اور روحانی، یہاں جس بلندی کا ذکر ہے، وہ روحانی بلندی ہے، جو نورِعقل اور علم و عرفان کی بلندی ہے، امامِ اقدس و اطہر کا پورا نام علاء الدین محمدؑ ہے، جس کے معنی ہیں دین کی بلندی و شرافت محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہیں، نیز اس کے معنی ہیں وہ شخص جو خدا اور محمد رسول اللہؐ کی طرف سے دین کی بلندی ہے، یعنی امامِ عالی مقام۔
رکن الدین خورشاہؑ:
مادّہ ر ک ن، رکن: سہارا، ستون، قوّت کا سرچشمہ، رکن الدین: جس پر دین کا اعتماد ہو، یعنی دینی قوّت کا سرچشمہ، ستونِ دین، خور (خورشید=آفتاب) شاہ: بادشاہ جو سورج کی طرح ہے، یعنی امامِ عالی وقارؑ، جو دینی قوّت کا سرچشمہ اور بادشاہ مثلِ آفتاب ہے، سورج جو نورِ ہدایت کی مثال ہے دو طرح سے کام کرتا ہے، ایک یہ کہ براہِ راست روشنی بکھیرتا ہے، دوسرا یہ کہ چاند کے توّسط سے روشنی پھیلاتا ہے، چنانچہ زمانۂ نبوّت میں پیغمبرؐ سورج اور اساسؑ چاند ہیں، عہدِ اساسؑ میں اساسؑ سورج اور امامؑ چاند ہیں، اور زمانۂ امامت میں امامؑ سورج اور باب (وارثِ امامت) چاند ہیں، اسی معنیٰ میں قرآن نے
۲۹
سورج کو ضیاء اور چاند کو نور کہا ہے (۱۰: ۰۵، ۷۱: ۱۶) یہاں ضیاء اور سراج اصل روشنی ہے، اور نور سے وہ روشنی مراد ہے جو منعکس (REFLECTED) ہو جاتی ہے۔
شمس الدین محمدؑ:
مادّہ ش م س، شمس: سورج، آفتاب، شمس الدّین: دین کا سورج- شمس الدّین محمد: محمدؐ دین کا سورج ہیں، نیز اس کے معنی ہیں وہ شخص جو خدا اور محمد رسول اللہؐ کی طرف سے دین کا سورج ہو، یعنی امامِ عالی مقامؑ، ہادیٔ برحقؑ کا یہ بابرکت نام ان آیاتِ قرآنی کے مطابق ہے، جن میں نورِ ہدایت کی تشبیہہ سورج سے دی گئی ہے، اس نوعیت کی آیات صرف لفظ “شمس” ہی کے ساتھ نہیں، بلکہ مشرق، مغرب، سماء، نور وغیرہ کے ساتھ بھی ہیں۔
قاسم شاہؑ:
مادّہ ق س م، قاسم: تقسیم کرنے والا، قاسم شاہ: وہ بادشاہ جو تقسیم کرتا ہے، یعنی امامِ برحقؑ جو بحکمِ خدا خزائنِ الٰہی کی تمام اشیاء تقسیم کرتا ہے، جیسے ارشاد فرمایا گیا ہے: کیا ان کے پاس تمھارے پروردگار کے خزانے ہیں یا وہ داروغہ ہیں (۵۲: ۳۷) اس کا مقصد یہ ہے کہ حضراتِ أئمّہ صلوات اللہ علیھم خدا کے خزانہ دار ہیں، اور اس معنیٰ میں ہر امام قاسم یعنی تقسیم کرنے والاہے۔
اسلام شاہؑ:
مادّہ س ل م، اسلام شاہ: بادشاہِ اسلام، شہنشاہِ دین، امامِ پاک صلوات اللہ علیہ کے لئے بادشاہ کی مثال ایک روشن حقیقت ہے، اس مطلب کا قرآنی لفظ
۳۰
مَلِکْ ہے، اور دوسرا لفظ مُلکْ ہے، نیز ملکوت وغیرہ ہے، خدا کے دین میں اگر زمانۂ نبوّت ہے تو پیغمبرؐ بادشاہ ہے اور امام وزیر، اور اگر زمانۂ امامت ہے تو امام بادشاہ اور اس کا وارث وزیر ہے۔
محمد بن اسلام شاہؑ:
حضرت امام صلوات اللہ علیہ کا یہ اسمِ گرامی سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے بابرکت نام پر ہے، کیونکہ امامؑ خدا و رسولؐ کا نور ہوا کرتا ہے، اس مقدّس نور کی کئی نسبتیں ہیں، جیسے نورِ قرآن، نورِ اسلام، نورِ ہدایت، نورِ علم، نورِ معرفت، نورِ وحدت، نورِ ایمان، وغیرہ، ایک ہی نور کے بہت سے نام ہونے میں کسی کو کیوں شک ہو، جبکہ خدا و رسولؐ کے بھی بہت سے نام ہیں۔
مستنصر باللہؑ:
مولانا امام مستنصر باللہ علیہ السّلام کا یہ مبارک نام اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے، یہاں صرف اتنا بتائیں گے کہ اللہ کی مدد رسولؐ اور امامِ عالی مقامؑ کے توّسط سے کسی کو مل سکتی ہے، اور خدا کی نصرت و تائید دین اور آخرت کے کاموں میں چاہئے، چنانچہ اللہ کی زندہ اور بولنے والی مدد امامِ زمان صلوات اللہ علیہ ہے۔
عبدالسلامؑ:
مادّہ ع ب د، عبد: بندہ، غلام، سلام: سلامت، سلامتی، خدا تعالیٰ کا نام، عبدالسلام: بندۂ خدا، سلامتی والے کا غلام، اگر کسی دوسرے شخص کا نام عبدالسّلام
۳۱
ہو، تو وہ لغوی معنی میں عبدالسّلام ہوگا، لیکن اس کے برعکس امام حقیقی معنی میں عبدالسّلام ہے، وہ یہ کہ امامِ برحقؑ خدا کا برگزیدہ بندہ ہے، لہٰذا وہ خدا کی سلامتی کو لوگوں تک لاتا ہے اور لوگوں کو خدا کی سلامتی تک پہنچا دیتا ہے، اس کے علاوہ امامِ عالی مقامؑ اپنی مبارک شخصیّت میں بدرجۂ انتہا عارف ہے، لہٰذا اس کی عبادت باکمال اور نورانیّت سے بھرپور ہے۔
غریب مرزاؑ:
مادّہ غ ر ب،غریب: اجنبی، وطن سے دور، انوکھا، عجیب، مرزا=امیر زادہ: شہزادہ، غریب میرزا: انوکھا شہزادہ، اجنبی شہزادہ، یقیناً امامِ اقدس و اطہرؑ اہلِ دنیا سے نرالا بھی ہے اور اجنبی بھی، کیونکہ لوگ اسے نہیں پہچانتے ہیں جیسے ارشادِ حدیث ہے کہ اسلام انوکھی صورت میں (غریب) شروع ہوا، اور آخر میں جاکر پھر غریب (انوکھا) ہوگا، پس اسلام اور امامؑ عجیب و غریب ہیں، یعنی ان کا باطن نورِ علم و حکمت کے عجائب و غرائب سے مملو ہے، اور امامؑ اجنبی اس معنیٰ میں ہے کہ اس کا وطن عالمِ بالاہے، نیز وہ اجنبی اس لئے ہے کہ لوگ اسے نہیں پہچانتے ہیں، جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے، اسی لئے فرمایا گیا: سلمان غریبم قلبِ تو۔۔۔۔
ابوذر علیؑ:
مادّہ اب و اور ذرر، ابو:باپ، ذرّ: ذرّہ، جس کی جمع ذرّات ہے، ابوذرعلیؑ: علیؑ جو ذرّات کا باپ ہے، یعنی امامِ اطہرؑ جو ذرّاتِ ارواح کا باپ ہے، جس کی ذات عالمِ ذرّ ہے یعنی جس میں تمام روحیں بصورتِ ذرّاتِ لطیف جمع ہیں، تاکہ روحوں
۳۲
کی وحدت و کثرت کی مثال ہو، یاد رہے کہ انسان میں تین بنیادی مثالیں موجود ہیں، عقل میں وحدت کی مثال ہے جو سب سے اوپر ہے، جسم میں کثرت کی مثال ہے جو سب سے نیچے ہے، اور روح میں دونوں کی مثالیں (یعنی وحدت بھی اور کثرت بھی) ہیں، کیونکہ یہ درمیان میں ہے، لہٰذا روح ایک بھی ہے اور کثیر بھی۔
مراد مرزاؑ:
مادّہ ر و د، مراد:ارادہ کیا گیا، چاہا گیا، مطلوب، مقصود، مراد مرزا: وہ شہزادہ جو مطلوب ہو، یعنی امامِ اقدس و اکرمؑ جو سب کا مطلوب و مقصود ہے، اس میں کوئی شبّہ ہی نہیں کہ مومن مرید (چاہنے والا)ہے، ارادتمند ہے اور پاک امامؑ مراد (چاہاگیا) ہے، یعنی مقصودِ جان ہے، ویسے تو اہلِ ایمان کی دینی اور دنیوی مرادات بہت زیادہ ہیں اور ان کی ترتیب بھی ہے، مگر جملہ مرادوں کی مراد یا سب سے آخری اور اعلیٰ مراد امامِ زمانؑ ہے، کیونکہ وہی اسرارِ الٰہی کا جامع الجوامع خزانہ ہے۔
ذوالفقار علیؑ:
مادّہ ذو اور ف ق ر،ذو: والا، صاحب، ذوالفقار: وہ تلوار جس کی پشت ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہو، جیسے کہا جاتا ہے: سیف مفقّر = وہ تلوار جس کی پشت پر ہموار خراشے ہوں، ذوالفقار علیؑ : علیؑ کی ذوالفقار، امامِ آلِ محمدؐ کا یہ پاک نام تنزیلی اور تاویلی جہاد کی علامت ہے، تنزیلی
۳۳
جہاد کو تو سب جانتے ہیں، مگر تاویلی جہاد کو اس کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ سمجھنا عوام کے بس کی بات نہیں، جبکہ یہ ظاہر میں بھی ہے اور باطن میں بھی، عقلی بھی ہے اور علمی بھی، جانی بھی ہے اور مالی بھی، آسمانی لشکر کی مدد سے بھی ہے اور زمینی لشکر کے ذریعے سے بھی۔
نورالدّین علیؑ:
مادّہ ن و ر، نور: روشنی، نورالدّین:دین کی روشنی، نورالدّین علیؑ: علی دین کی روشنی ہے، وہ شخص جو علی کی طرف سے دین کی روشنی ہے، یعنی آلِ محمدؐ و اولادِ علیؑ کا امامؑ، حضرت امامِ عالی مقامؑ کا یہ پُرحکمت نام بڑا اہم ہے، کیونکہ “نور” قرآن میں سب سے روشن موضوع ہے، جس میں مجموعی طور پر ایک ہی نور کا ذکر ہے، تاہم حقیقتِ نور کے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے آیۂ مصباح (۲۴: ۳۵) میں اللہ کا تصوّر ہے، آیۂ سراج (۳۳: ۴۶) میں رسولؐ کا اور آیۂ مصابیح (۴۱: ۱۲، ۶۷: ۰۵) میں حضراتِ أئمّہ کا تصوّر ہے۔
خلیل اللہ علیؑ:
مادّہ خ ل ل، خلیل:فقیر، محتاج، خالص دوست، خلیل اللہ: خدا کا فقیر، یعنی ایسا شخص جس کو خدا نے اپنی عنایات کے لئے خاص فقیر ٹھہرایا ہو، خدا کا خالص دوست، حضرت ابراہیمؑ کا لقب، خلیل اللہ علیؑ: علیؑ جو خدا کا فقیر اور خالص دوست تھا، وہ امامؑ جو علیؑ کی اولاد سے خدا کا فقیر اور خالص دوست ہے، ہر امامِ حقؑ عطیاتِ نورانیّت کا فقیر اور
۳۴
اللہ کا مخلص دوست ہے، جیسے حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: وَاتَّخَذَ اللّٰه اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا (۰۴: ۱۲۵) اور خدا نے ابراہیمؑ کو اپنا فقیر قرار دیا، نیز یہ ترجمہ بھی درست ہے: اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنالیا۔ حضرت موسیٰؑ کے بارے میں فرمایا گیا ہے: رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ (۲۸: ۲۴) اور (موسیٰ نے) دعا کی کہ پروردگار! جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کردے میں اس کا محتاج ہوں۔ پس خدا کے فقیر کے معنی اسی سطح کے مطابق ہیں۔
نزارؑ:
اس سے پیشتر لفظ نزار کے بارے میں عرض کی گئی ہے کہ ہادیٔ برحقؑ کا یہ مبارک نام اہلِ ایمان کو عجز و انکساری کا درس دیتا ہے، کیونکہ ساری حکمت کسرِ نفسی میں ہے، نفس کی شکست اور عقل کی فتح اسی میں ہے، کہ تواضع اور فروتنی اختیار کی جائے، چنانچہ فرمایا گیا ہے: اور (اے پیغمبر!) عاجزی کرنے والے بندوں کو (روحانیّت) کی خوش خبری سنا دو (۲۲: ۳۴)۔
سیّد علیؑ:
مادّہ س ا د، سیّد: سردار، پیشوا، حضرت فاطمہ صلوات اللہ علیھا کی اولاد اور نسل والے، آلِ رسولؐ، سید علیؑ: علیؑ سردار ہے، وہ شخص جو علیؑ کی طرف سے سید و سردار یعنی امام ہے، لفظ “سیّد” کے یہ معنی دینی علم کے علاوہ مستند کتبِ لغت کے بھی مطابق ہیں، اور مستند لغات بڑی منطقی چیز ہوا کرتی ہے، چنانچہ جب یہ بات مسلّمہ ہے کہ سیّد یعنی سردار اور آلِ رسولؐ صرف اس
۳۵
شخص کو کہا جاتا ہے، جو جناب فاطمہ زہراؑ کی اولاد ہو، تو پھر کیا ایسے حضرات جو آلِ محمدؐ ہیں، وہ آیۂ اصطفا (۰۳: ۳۳) کی برگزیدگی میں شامل نہیں ہوسکتے ہیں؟ ضرور ہوسکتے ہیں، کیونکہ “آلِ محمدؐ” کی یہ اصطلاح آلِ ابراہیمؑ اور آلِ عمرانؑ کی توضیح و تشریح ہے۔
حسن علیؑ:
حسن:خوبصورت، جمیل، حسن علیؑ: علیؑ یہ حسن ہے جو نورِ خدا کی خوبیوں کے ساتھ انتہائی خوبصورت ہے، اور یہ حسن، علیؑ کی طرف سے ہے، اور نور کے اعتبار سے خود علیؑ ہے، ربّانی حُسن و جمال کا سرچشمہ نور ہے، پھر روح ہے اور جسم صرف ایک سایہ ہے۔
قاسم علیؑ:
قاسم: تقسیم کرنے والا، قاسم علی: تقسیم کرنے والا علیؑ ہے، یعنی بحکمِ خدا علیؑ دوزخ اور بہشت کے درکات و درجات کا تقسیم کرنے والا ہے، نیز آج دنیا میں بھی علیؑ ہی ہے جو نورِ خداوندی کی حیثیت میں عقلی اور علمی رزق بانٹتا ہے، پس حضرت امام قاسم علیؑ کا بابرکت نام اسی نظریہ کو تازہ کرتا ہے۔
ابوالحسن علیؑ:
ابوالحسن علیؑ: علیؑ ابوالحسن ہے، یہ امام ابوالحسن علیؑ کا تقرر علیؑ کی طرف سے ہے، اور علیؑ کی اولاد سے ہے، نیز ابوالحسن کی کنیت بھی مولا علیؑ کی ہے، چونکہ علیؑ ہی مرکزِامامت ہے، لہٰذا یہ امر ضروری ہے کہ أئمّۂ اولادِ علیؑ کے مبارک اسماء اصل اور مرکز کی طرف لوٹ جائیں، اور ہر اسم میں نور کے کسی پہلو کا ذکر ہو۔
۳۶
خلیل اللہ علیؑ:
اس پاک نام میں سب سے پہلے اللہ کی یاد ہے جس کا مقصد تصوّرِ وحدانیّت ہے، پھر خدا کی تعریف ہے کہ اس نے حضرت ابراہیمؑ کو اپنا خلیل بنا کر نور کی دولت سے مالا مال فرمایا، پھر علیؑ کے ذکر میں یہ اشارہ ہے کہ نور کا سلسلہ ابراہیمؑ کی آل میں تاقیامِ قیامت جاری ہے اور وہ آلِ محمدؐ اور اولادِ علیؑ میں ہے، حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اپنے وقت میں یوں دعا کی تھی: اے میرے ربّ! مجھ کو حکمت عطا فرما، اور صالحین سے میرا الحاق کردے، اور میرے لئے آئندہ لوگوں میں ایک سچ بولنے والی زبان بنادے (۲۶: ۸۳ تا ۸۴) قانونِ حقیقت یہ کہتا ہے کہ خدا نے ابراہیمؑ کو حکمت دے کر اپنی آل کے سلسلۂ نورِ ہدایت سے واصل کردیا، وہ اس نور میں زندہ ہے، اور ہادیٔ برحقؑ کو اس کی زبان قرار دیا گیا ہے، اور سچ بولنے والی زبان کا مقصد علم و حکمت بیان کرنا ہے۔
حسن علی شاہؑ:
شاہ کا یہ پسندیدہ اور پیارا لقب تقریباً سب اماموں کے لئے استعمال ہوتا ہے، کیونکہ امام بحقیقت بادشاہ ہے، اور تختِ روحانیت کے بادشاہ کی محبت بڑی پُرلطف ہوتی ہے، شاہ کا قرآنی لفظ “مَلِک” ہے، جس کی جمع ملوک ہے، اور حقیقی مومنین کے لئے امامؑ کے بادشاہ ہونے کے تصوّر سے بیحد خوشی اس لئے ملتی ہے کہ اس میں ایک بہت بڑا راز ہے، جو اس آیۂ کریمہ میں پوشیدہ ہے: یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا
۳۷
تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تمھیں عطا کی تھی، اس نے تم میں نبی پیدا کئے اور تم کو ملوک (بادشاہ) بنایا (۰۵: ۲۰) یہ راز اس طرح سے ہے کہ امتِ موسیٰؑ کے سچے مومنین اپنے اپنے امامِ وقتؑ کے نور میں بادشاہ تھے، کیونکہ امامِ زمانؑ مومنین کی روحِ اعظم کا نام ہے، جو انسانِ کامل کی حیثیت سے مجسم ہے اور یہ عظیم نعمت تمام زمانوں کے لئے یکسان ہے۔
نورِ مقدّس کے اسی جامۂ مبارک سے “آغا خان” کا لقب شروع ہوا ہے، اس لفظ کی ایک صورت “آقا خان” بھی ہے، آقا: بزرگ، سرور، خان: رئیس، امیر، لفظ کے دونوں حصّے ترکی ہیں، آقا خان کے اصطلاحی معنی بہت اعلیٰ اور بے مثال ہیں، جس کی وجہ ظاہر ہے کہ امامؑ نے اسے بطورِ لقب اپنایا ہوا ہے۔
علی شاہ داتارؑ:
اس مقدّس نام کا مطلب یہ ہے: حضرت امیر المومنین علیؑ بڑا سخی بادشاہ ہے، یہ امامِ عالی مقام جس کا نامِ نامی “علی شاہ داتارؑ” ہے بحقیقت مرتضیٰ علی بادشاہؑ ہے جو بڑا فیاض تھا، داتار: فیاض، سخی، داتا: عطا کرنے والا، بخشنے والا، چونکہ امام اور پیغمبر صلوات اللہ علیھما خدا کے ہاتھ ہیں، اس لئے خدا تعالیٰ اپنے ان ہاتھوں سے لوگوں کو انعامات دیتا ہے، سو امامؑ بمرتبۂ دستِ خدا جو کچھ عنایت کردیتا ہے، وہ سب چیزوں سے اعلیٰ اور لازوال ہوا کرتا ہے، جیسے ایک قرآنی مفہوم (۰۲: ۲۴۸) ہے کہ: امام کے روحانی بادشاہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ تمھارے پاس صندوقِ روحانیت آئے
۳۸
گا جس میں تمہارے ربّ کی طرف سے سکونِ قلب کی چیزیں ہیں، نیز اس میں آلِ موسیٰؑ اور آلِ ہارونؑ (نبوّت و امامت) کا علم و حکمت ہے، صندوق کو فرشتے اٹھاکر لائیں گے، یعنی یہ صرف ایک روحانی چیز ہے، مادّی نہیں، یہ ہے امامِ برحقؑ کی روحانی سلطنت کی ایک روشن دلیل، جو آیۂ آلِ ابراہیم (۰۴: ۵۴) کے مطابق ہے۔
سلطان محمد شاہؑ:
مادّہ س ل ط، سلطان:دلیل، حجّت، زور، غلبہ، بادشاہ، سلطان محمد: اس عظیم الشّان اور بابرکت نام میں سلطنتِ محمدیؐ کے معنی موجود ہیں، اور یقیناً حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی بے مثال شخصیّت روحانی بادشاہی کی مالک تھی، ویسے تو ہر امام اپنے وقت میں روحانی بادشاہ ہوا کرتا ہے، مگر خدا کے عظیم پروگرام کے مطابق تمام زمانے ایک جیسے نہیں ہوتے، چنانچہ حضرت امام سلطان محمد شاہ علیہ السّلام کا زمانہ بڑا اہم اور بہت خاص بلکہ سب سے عظیم تھا، کیونکہ قرآنی تاویل کی زبان میں آپؑ کی ذاتِ عالی صفات شبِ قدر تھی، جس میں تمام عالمِ امر کے فرشتوں اور روحِ اعظم اور دیگر ارواح کا نزول ہوتا ہے، ملائکہ اور ارواح کے نزول کا مقصد دو طرفہ ہوا کرتا ہے، ایک یہ کہ لوگوں کے ماضی سے حساب لیا جائے، دوسرا یہ کہ مستقبل کے لئے ایک عظیم پروگرام بنایاجائے، سو اس “زندہ شبِ قدر” کے زمانے میں اللہ کا وہ وعدہ عمل میں
۳۹
آچکا ہے جس کا ذکر قرآن (۹۷: ۰۱ تا ۰۵) میں فرمایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ فرشتہ ہو یا روح، وہ کئی سطحوں پر پائی جاتی ہے، یعنی ملائکہ اور ارواح مقامِ معرفت پر اپنی حقیقی صورت میں ہوتی ہیں جنھیں کوئی عارف وہاں دیکھ کر پہچان سکتا ہے، مگر نچلی سطحوں پر اہلِ دنیا کو جیسے فرشتے آتے ہیں اور جو روحیں ملتی ہیں وہ منجمد ہوا کرتی ہیں، یعنی دنیاوی علم و ہنر اور سائنس کی ہر چیز اپنی اصل اور بنیاد میں ایک منجمد فرشتہ یا روح ہوا کرتی ہے، جیسے پانی اپنے دائرۂ کل کے ہر مقام پر پانی نہیں ہوتا، وہ بھاپ یعنی بخارات، بادل، برف و بارش، یخ وغیرہ بھی ہے، چنانچہ آج کے زمانے میں سائنس دانوں نے ذرّہ (ATOM) کا تجزیہ کرکے برق پاروں کی صورت میں منجمد روح کو پایا ہے، اسی طرح اڑن طشتریاں ایک قسم کے منجمد فرشتے ہیں، اور یہ سب کچھ اس انتہائی عظیم خدائی پروگرام کے مطابق ہے جس کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ فرمایا گیا ہے، جو شبِ قدر اور حضرت قائم القیامت علیہ افضل التحیتہ والسّلام سے متعلق ہے۔
شاہ کریمؑ:
مادّہ ک ر م، کریم: بخشش کرنے والا، درگزر کرنے والا، مکرّم و معظّم، معزّز، خدا کا ایک نام، اور متعلقہ ایک پوشیدہ بزرگ نام: “الاکرم الاکرم الاکرم …..” نور مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امامؑ: نور کے معنی ہیں عقلی، روحانی اور اخلاقی روشنی، مولانا کا مطلب ہے ہمارے آقا و مولا، شاہ کریم الحسینی کی وضاحت ہے حسینی نسل کا فیاض بادشاہ، حاضر امام کا مطلب ہے، وہ امام جس کی پہچان اور اطاعت اہلِ زمانہ پر فرض ہے، اور اس
۴۰
کے بغیر اگلے اماموں کی ولایت کا م نہیں آسکتی ہے، یہ امام اکرم و اعظم جو سلسلۂ پاکِ امامت میں ساتواں ہفتم ہے ایٹمی دور کا امام ہے، جس کی امامت کے پس منظر میں ایک عظیم قیامت برپا ہوچکی ہے، جس کو اہلِ جہان نے صرف عالمِ ذرّ میں دیکھا، مگر دنیائے ظاہر میں نہیں دیکھا، جس کی وجہ وہ دیوار ہے جو ظاہر و باطن کے درمیان قائم کی گئی ہے۔ والسّلام …..۔
فقط خادمِ ناتوان
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
۲۴۔ستمبر، ۱۹۸۳ ء
۴۱
حکیم پیر ناصر خسرو اور روحانیت
حکیم پیر ناصر خسرو اور روحانیّت
باطنی پاکیزگی
نورعلی مامجی اور یاسمین نور علی مامجی کے دونوں فرزند نادرعلی اور نسرین کتنے پیارے ہیں، زہے نصیب کہ ان عزیزوں نے امریکا میں رہتے ہوئے ایک علمی نہر کی تعمیر میں تعاؤن کیا، تا کہ اس سے روحانی آبادی اور باطنی پاکیزگی ہو۔
بِسم اللہ الرّ حمٰنِ الرّ حیْم
حرفِ اوّل
یہ کتابچہ یعنی “پیر ناصر خسرو اور روحانیت” ایک ایسی اہم تقریر پر مشتمل ہے جو “اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان” کے ماہانہ لیکچروں کے سلسلے میں مرتب ہوکر بمورخہ یکم اگست ۱۹۷۰ء اہلِ علم کے ایک خاص اجتماع میں سنائی گئی تھی، جس میں بعض اہلِ بصیرت نے اس مقالہ کی اہمیّت و افادیّت کے پیشِ نظر یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اس کو فوری طور پر شائع کردیا جائے۔
اگرچہ “پیر ناصر خسرو اور روحانیت” جیسے دشوار اور بے پایان موضوع کو ایک محدود اور مختصر مقالہ میں سمودینا ایک انتہائی مشکل بلکہ ناممکن کام تھا، تاہم اس میں بقدرِ امکان یہ کوشش کی گئی ہے، کہ روحانیّت کے ان رہنما اصولوں کو واضح کردیا جائے، جو حجتِ خراسان پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرّہٗ کے نظریئے اور تجربے کے مطابق ہیں، جن کی روشنی میں غور و فکر کرنے کے بعد قاری کو نہ صرف حکیم پیر ناصرکے علوم و معارف کے خزانوں کا راستہ مل سکتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اسماعیلی مذہب کے علومِ مخفی اور امام شناسی کا دروازہ بھی کھل سکتا ہے۔
۷
جن حضرات نے تاریخِ عالم کا بغور مطالعہ کیا ہے، وہ اس بات سے بخوبی واقف و آگاہ ہیں کہ ابتدائی انسان اس سیّارۂ زمین پر آئے زمانہائے دراز گزر چکے تھے، کہ دنیا میں یکے بعد دیگرے مختلف علوم و فنون ظاہر ہوئے، مگر علمِ روحانیّت وہ علم ہے جو تاریخِ انسانیّت سے بھی زیادہ قدیم ہے، جس کی خاص اہمیّت و ضرورت ہر زمانے میں رہی، خصوصاً موجودہ اور آئندہ زمانے میں سب سے زیادہ ضرورت اس کی ہے، جبکہ آفاقی (یعنی مادّی) ترقی کے معجزات ظاہر ہوچکے ہیں، اور روحانی ترقی کے معجزات ظہور پذیر ہونے والے ہیں جیسا کہ آیۂ کریمہ سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا (۴۱: ۵۳) کا اشارہ ہے۔
اس انقلابی دور میں اسماعیلیوں کے لئے روحانی تعلیم کی اہمیّت و ضرورت ہونے کی سب سے بڑی دلیل امامِ زمان حضرت مولانا شاہ کریم الحسینی صلوات اللہ علیہ و سلامہ کا وہ خصوصی ارشادِ گرامی ہے، جس میں انھیں اس امر کی تاکید فرمائی گئی ہے کہ وہ موجودہ دور میں ضروری طور پر اپنے مذہب کی روحانیّت و معرفت کو کما حقہ سمجھ لیا کریں۔
دعا ہے کہ خدا وندِ تبارک و تعالیٰ ان سب کو روحانیّت و معرفت سمجھنے اور حاصل کرنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے! آمین یاربَّ العالمین!
فقط احقرالعباد
نصیر ہونزائی
۱۸ ؍ ستمبر ۱۹۷۰ء
۸
حکیم پیر ناصر خسرو ق س اور روحانیّت
روحانیّت
ظاہری فلسفیوں میں سے جنھوں نے روحانیّت کی جو کچھ تعریف کی ہے اور جس انداز میں روحانیت کا نظریہ پیش کیا ہے اس میں بہت سا اختلاف اور اضطراب پایا جاتا ہے، جس کی وجہ اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ عملی اور حقیقی روحانیّت ظاہری علوم کی رسائی سے برتر و بالا تر ہے، لیکن چونکہ اسماعیلی مذہب کی بنیادیں باطنی اور روحانی امور پر قائم اور مستحکم ہیں اور اس میں عملی روحانیّت اور معرفت کے تمام ذرائع اور مواقع ہر وقت مل سکتے ہیں، لہٰذا اس مذہب کی ساری تعلیمات روحانیّت و معرفت سے معمور اور روحانی لذّتوں سے بھر پور ہیں، پس یقینی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ روحانیّت کا اصلی نام معرفت ہے۔
چنانچہ اس موضوع میں حضرت پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرہٗ کی روحانیّت سے ان کی وہ معرفت مراد ہے، جو نورِ امامت کے پہچاننے سے ان کو حاصل ہوئی تھی اور یہ جاننا ضروری ہے کہ انسانِ کامل کی روح ہی نورِ مطلق ہے، یہ
۹
روح دوسری عام انسانی روحوں سے ارفع و اعلیٰ ہوتی ہے، جو روح القدّس یا کہ روح الامین کے نام سے موسوم ہے اور کسی شک و شبہ کے بغیر پیر ناصر خسرو کے نزدیک اسی روح کی روحانیّت حقیقی اور اصلی روحانیّت ہے اور اسی روحانیّت کے ذریعے سے خدا کی معرفت حاصل ہوسکتی ہے اور پیر صاحب نے اپنی تخلیقات و تصنیفات میں اسی روحانیت کا ذکر فرمایا ہے، چنانچہ آپ اپنی گرانمایہ اور عظیم الشّان کتاب “زادالمسافرین” کے کئی صفحات پر اسی جامع حقیقت کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ پیغمبر اور امام علیھما السّلام میں انسانی روح کے علاوہ ایک عظیم و برتر روح بھی ہوا کرتی ہے جس کے بہت سے نام ہیں، مثلاً روح القدّس ، روح الامین، روح اللہ ، روح الاعظم، روح الوحی، روح الارواح، روحِ الٰہی، روحِ عالم، روحِ ملکوتی، روحِ محمدی، روح القرآن، نور، کلمہ ، رسول، ذکر وغیرہ۔
پیر صاحب مذکورہ کتاب زادالمسافرین میں فرماتے ہیں کہ پیغمبر اور امام علیہما السّلام کی فرمانبرداری اور اطاعت کرنے سے حقیقی مومنین بھی روح القدّس میں زندہ ہوسکتے ہیں اور اس بیان کی صداقت پر آپ یہ قرآنی دلیل پیش کرتے ہیں کہ: یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوااسْتَجِیْبُوْالِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ(۰۸: ۲۴)۔
اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کرو جبکہ رسول تمھیں اس چیز کی طرف بلاتے ہیں جو تمھیں زندہ کردینے والی ہے۔
واضح رہے کہ یہاں جس دعوت کا ذکر آیا ہے وہ دعوتِ حق ہے، یعنی
۱۰
آلِ نبی اور اولادِ علی علیہم السّلام کی ظاہری و باطنی دعوت اور وہ چیز جو مومنین کو روح القدّس کی زندگی میں زندہ کردینے والی ہے، اسی سلسلے کے أئمّۂ اطہار علیہم السّلام کی ولایت و امامت ہے، پس معلوم ہوا کہ روح القدّس ہی وہ حقیقی روح ہے جس کی روحانیّت میں خدا کی معرفت اور ابدی نجات پنہان ہے۔
۱۱
حضرتِ آدمؑ میں خدا کی روح
روح اور روحانیّت کا تذکرہ بظاہر حضرتِ آدم علیہ السّلام کی تخلیق کے ساتھ ساتھ شروع ہوجاتا ہے، لہٰذا ہم اپنے اس مقالے کا آغاز بھی حضرتِ آدمؑ ہی سے کرتے ہیں، تاکہ اس سے نہ صرف نفسِ مضمون کے بیان کرنے اور سمجھنے میں مدد مل سکے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ آپ کو اس سلسلے میں کہیں نہ کہیں پیر ناصر خسرو کی تعلیمات کی معنوی گہرائیوں کا اندازہ بھی ہو، کہ پیغمبروں کے جوجو قصّے آپ نے سن رکھے ہیں ان کے متعلق علمائے ظاہر کا اندازِ فکر کیسا ہے اور پیرناصر خسروکس طریق اور کیسی گہری نظر سے ان قصّوں کی تاویلی حکمتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
چنانچہ حجتِ خراسان حکیم ناصر خسرو قدّس اللہ سرّہٗ کی تعلیمات کی روشنی میں اس مسئلہ سے بحث کی جاتی ہے کہ حضرتِ آدمؑ میں اللہ تعالیٰ نے کس طرح اپنی روح پھونکی؟ اور قرآنِ حکیم کا وہ ارشاد، جس سے یہ سوال پیدا ہوا ہے، یہ ہے:
فَاِذَاسَوَّیْتُہ‘ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ‘ سٰجِدِیْنَ (۱۵: ۲۹، ۳۸: ۷۲)
۱۲
(یعنی تخلیقِ آدمؑ سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرمایا): پس جب میں اسے درست کروں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کو سجدہ کرتے ہوئے گرجانا۔
چنانچہ مذکورہ سوال کا مفصل جواب یہ ہے کہ اس آیۂ مقدّسہ میں حضرتِ آدمؑ کی جس تخلیق کا ذکر آیا ہے، اس سے آدمؑ کی جسمانی پیدائش مراد نہیں، بلکہ وہ اس کی روحانی تکمیل ہی ہے اور روحانی تخلیق و تکمیل کے دو مرحلے ہوا کرتے ہیں: پہلا مرحلہ خدا کی روح (یعنی روح القدّس) حاصل کرنے کی اہلیت سے متعلق ہے، جسے تزکیۂ نفس یا روحانیّت کی عام ترقی کہنا چاہئے اور دوسرا مرحلہ وہ ہے جس میں خدا کی روح پھونکی جاتی ہے، مذکورہ آیت سے یہی مطلب ظاہر ہے کہ حضرت آدمؑ نے پہلے تو عام روحانی ترقی کی اور اس کے بعد روح القدّس حاصل کرلی۔
اب رہا یہ سوال کہ آدمؑ میں خدا نے کس طریق سے اپنی روح پھونک دی؟ اور یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ روح ایک غیر مادّی حقیقت ہے،اس لئے وہ ہوا کی طرح ایک سے دوسرے میں پھونکی نہیں جاسکتی، پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ آدم میں خدا کا روح پھونک دینا تاویلات میں سے ہے اور اس کی تاویل ذیل میں بیان کی جاتی ہے:
روح ایک لطیف اور بسیط جوہر ہے، جس کی ہمہ گیر و ہمہ رس حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھانے کے لئے اگر اس کائنات کی تمام چیزوں کو ایک ایک کر کے بتادیا جائے کہ روح ایسی ہے تو پھر بھی روح کی مثالوں کی ضرورت
۱۳
پوری نہ ہوسکے گی، کیونکہ روح کی حقیقت و کیفیت ایک ایسے عظیم سمندر کی طرح ہے جو نہ صرف اپنے مرکز پر ہے، بلکہ اس نے اپنی مختلف شاخوں کی صورت میں ایک وسیع دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو، جیسے: بادل، بارش، برفِ یخ، چشمہ، ندی، نالہ ، دریا، ہوا کی نمی، نباتات، حیوانات وغیرہ کہ یہ تمام چیزیں پانی کی بدولت جاری و ساری ہیں، بلکہ یہ پانی کی مختلف شاخیں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ موقع کی موزونیّت و مناسبت کے مطابق روح اور روحانیّت کی مثالیں مادّی چیزوں سے دی گئی ہیں، تاکہ بقدرِ امکان روحانی معارف و حقائق سمجھائے جاسکیں، چنانچہ آیۂ مذکورۂ بالا میں روح القدّس کی مثال ہوا سے دی گئی ہے اور ویسے بھی “روح” اور “ریح” کے دونوں لفظ ایک ہی مادّہ کے ہیں، اور اہلِ دانش کے لئے اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ پھونکنے کا ذریعہ سانس ہے اور سانس لینے کا ذریعہ ہوا ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ پھونکنا ہوا کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اب اللہ تعالیٰ کی توفیق و یاری سے حکیم ناصر خسرو کے علم و حکمت کی روشنی میں یہ دیکھنا ہے کہ جب حق تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السّلام کو ایک اعلیٰ ترین روح عنایت فرمائی، تو اس کی مثال کن کن وجوہ کی بنا پر پھونکنے سے دی؟ اس کے جواب کی تفصیل اس طرح سے ہے کہ آدمؑ خدائی روح حاصل کرنے سے پہلے روایات کے ظاہری پہلو کے مطابق مٹی کا ایک بے جان پتلا نہ تھے، بلکہ وہ جیتا جاگتا ایک برگزیدہ انسان تھے، چنانچہ مولانا ھنید علیہ السّلام (جو اس وقت کے امام تھے) کے جسمانی اور روحانی کلام کے ذریعہ حضرت
۱۴
آدمؑ کا دل و دماغ علمِ الٰہی سے بھر پور ہوا، کیونکہ کسی شخص میں روح پھونکنے کی بہترین صورت یہی ہے کہ ہوا اور سانس سے آواز بنائی جائے اور آواز کے ذریعہ اس شخص کو علم و حکمت سنادی جائے، کیونکہ علم و عرفان کی غذا کے بغیر کسی کو حقیقی روح نہیں دی جاسکتی، جس طرح جسمانی خوراک کے بغیر حیوانی روح کی تکمیل ناممکن ہے۔
آدم علیہ السّلام میں روحِ قدسی پھونک دینے کا دوسرا اشارہ یہ بتاتا ہے کہ آدم میں خدا کے نور کی جو معمولی سی چنگاری تھی، جو فطری طور پر ہر انسان میں ہوا کرتی ہے، اسی کو روح القدّس کی قوّت سے ایک مکمل نور کی صورت دے دی گئی، جس طرح پھونک اور ایندھن کے ذریعہ ذرّہ بھر چنگاری سے ایک عظیم آگ روشن کردی جاتی ہے، جو مادّی قسم کا نور ہے۔
۱۵
اس مثال کا تیسرا مطلب یہ ہے کہ روح القدّس کے ذریعہ آدمؑ کے باطن کو پاک و پاکیزہ کردیا گیا، جس طرح سطحِ زمین کی ساری صفائی پانی سے ہوتی ہے اور پانی کی پاکیزگی ہوا کے ذریعہ ہوا کرتی ہے، اور کئی طرح سے ہے مثلاً: جب ہوا سمندر کے کھارے پانی سے بخارات کو اٹھاتی اور ان کو بادلوں کی شکل میں تبدیل کرتی ہے، تو ان سے جو بارش برستی ہے اس کا پانی نہ تو کھارا ہوتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کا ناصاف رہتا ہے، بلکہ وہ پاک و پاکیزہ ہوتا ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں اس کا اشارہ ہے کہ:
وَاَنْزَلْنَامِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَھُوْرًا (۲۵: ۴۸)۔
“اور ہم نے بلندی سے پاک و صاف پانی اتارا”۔
اس مثال کا چوتھا ممثول یہ ہے کہ حضرت آدمؑ ابوالبشر تھے لہٰذا ان میں بشری خواہشات کا چراغ پایا جانا کوئی عجیب بات نہ تھی جس میں روشنی کم اور دھواں زیادہ ہوا کرتا ہے، پس حق تعالیٰ نے اپنی رحمت کی پھونکوں سے اس چراغ کو بجھا دیا اور اس کی جگہ پرملکوتیّت کا پُرنور چراغ روشن کردیا۔
اب یہ ایک اور سوال ہے کہ حق تعالیٰ نے فرشتوں سے جو فرمایا کہ تم آدم کے لئے سجدہ کرتے ہوئے گرجانا، اس کے کیا معنی ہیں؟ کیونکہ یہی فرمانا کافی تھا کہ تم آدم کے لئے سجدہ کرنا، جبکہ سجدہ کی حالت میں زمین پر سرجھکایا جاتا ہے، خود کو گرایا نہیں جاتا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ آدمؑ اپنے وقت کے انسانِ کامل تھے اور جب انسانِ کامل میں روح القدّس داخل ہوتی ہے، تو خدا تعالیٰ کے امر سے وہ وحدت و کثرت کا بہترین نمونہ بن کر آتی ہے، یعنی وہ ایک بھی ہے اور بے شمار بھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ روح القدّس اپنی ذات میں ایک ہونے کے باوجود تمام کائناتی فرشتوں اور کُلّ انسانی روحوں کے نمونوں کوکچھ عجیب قسم کے زندہ ذرّات کی صورت میں اپنے ساتھ لاتی ہے اور یہ معجزانہ ذرّات انسانِ کامل کے دونوں کانوں اور نتھنوں کی راہ سے اس کے سارے جسم میں گرتے جاتے ہیں، پس فرشتے آدم کے لئے سجدۂ (فرمانبرداری) کرتے ہوئے اسی طرح گرے تھے۔
اب اس حقیقت کی دلیل پیش کی جاتی ہے کہ روح القدّس میں کائنات کے سب فرشتوں اور تمام انسانی روحوں کے زندہ نمونے موجود ہوا کرتے
۱۶
ہیں، یہ ہے، کہ انسان کی تخلیق کے سلسلے میں سب سے پہلے جب روحِ نباتی انسانی جسم بنانا شروع کرتی ہے، تو اس میں اُگانے اور نشونما دینے کی تمام قوّتیں موجود ہوتی ہیں، اس کے بعد جب انسانی جسم میں روحِ حیوانی داخل ہوکر مکمل ہوجاتی ہے، تو وہ دنیا بھر کے حیوانات کی خاصیتوں کی آئینہ دار ہوتی ہے، پھر جب اس میں انسانی روح کا اضافہ ہوجاتا ہے، تو یہ روح رفتہ رفتہ بہت سی انسانی صلاحیتوں کا مجموعہ ہوتی ہے، اور اپنی ذات میں دنیا بھر کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے، جیسا کہ انسان کے خواب کی کیفیت سے ظاہر ہے کہ وہ حالتِ خواب میں جس عظیم عالم کو اور اس میں جتنی بے شمار مخلوقات کو دیکھتا ہے وہ دراصل کوئی بیرونی عالم نہیں، بلکہ اپنی روحِ انسانی کی بے شمار صلاحیتوں کا ایک معمولی سا مظاہرہ ہے۔
مذکورہ بیان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہر عام انسان میں تین ارواح ہیں اور ہر درجہ کی روح اس درجے کا ایک عالم ہے، یعنی روحِ نباتی نباتات کا ایک عالم ہے، جو جمادات پر حاوی ہے، روحِ حیوانی حیوانات کا ایک عالم ہے جوعالمِ نباتات پرمحیط ہے،اور روحِ انسانی انسانوں کا ایک عالم ہے جو عالمِ حیوانات کو گھیرے ہوئے ہے، چنانچہ ہر کامل انسان (پیغمبر اور امام) میں ان تین روحوں کے علاوہ اور ان سے برتر ایک اور روح ہوا کرتی ہے، جس کا نام روح القدّس یا روح الامین ہے اور وہ بھی بذاتِ خود ایک عظیم عالم ہے، جس کو عالمِ ملکوت یا کہ فرشتوں کا عالم کہتے ہیں، جو انسانوں کے عالم کو گھیرے ہوئے ہے، پس معلوم ہوا کہ جب انسانِ کامل میں روح القدّس داخل ہوتی
۱۷
ہے تو وہ فرشتوں اور انسانوں کے عالم کی زندہ اور باشعور تصویریں لے کر آتی ہے۔
۱۸
بنی آدم کی ذرّیت
سورۂ اعراف (۷) آیہ ۱۷۲ (۰۷: ۱۷۲) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولادوں کو لیا اور انھیں ان کی اپنی اپنی ذات پر گواہ قرار دیا اور ان سے پوچھا کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا ہاں تُو ہمارا پروردگار ہے ہم گواہی دیتے ہیں۔
اس ارشادِ الٰہی کے متعلّق چند اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ یہ واقعہ خلقتِ آدمؑ سے پہلے کا ہے؟ یا بعد کا؟ اگر یہ واقعہ آدمؑ کے پیدا ہونے سے پہلے کا ہے تو اس میں آدمؑ، بنی آدم اور ان کی پشتیں کہاں تھیں؟ اور اگریہ قصّہ تخلیقِ آدم کے بعد کا ہے، تو بنی آدم سے سب لوگ مراد ہیں؟ یا بعض؟ اگر سب لوگ مراد ہیں تو خدا تعالیٰ نے بنی آدمؑ کی اولادوں سے یہ اقرار کہاں اور کب لیا؟ وغیرہ
مذکورہ سوالات کے جوابات یہ ہیں کہ عہدِ الست کا یہ واقعہ خلقتِ آدم کے بعد کا ہے اور بنی آدم سے مراد بالخصوص انبیاء و اولیاء اور ان کے حقیقی
۱۹
پیرو ہیں اور بالعموم سب لوگ، اور ان کی پشتوں سے ان کی اولادوں کو ہر اس موقع پر لیا جاتا ہے، جبکہ ہونے والے پیغمبریا امام میں روحِ قدسی پھونکی جاتی ہے، یعنی جبکہ روحانی طور پر نبی یا امام میں نور منتقل ہوا کرتا ہے، جس میں روح القدّس کائنات بھر کے فرشتوں اور روحوں کے نمونوں کو زندہ ذرّات کی صورت میں لے کر داخل ہوتی ہے، اسی موقع پر بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولادوں کو بھی لیا جاتا ہے، تاکہ تمام فرشتے اور ارواح اپنے وقت کے پیغمبر یا اپنے عصر کے امام کے نور کا مشاہدہ کریں، کیونکہ اسی مشاہدہ میں حق تعالیٰ کی معرفت کے اسرار پوشیدہ ہیں اور روح القدّس کا یہ قیامت خیز عظیم واقعہ انبیاء و اولیاء کے وسیلہ سے کامل پیروں اور حقیقی مومنوں کو بھی پیش آتا ہے۔
بیانِ مذکورۂ بالا کی تفصیل یہ ہے کہ جس طرح حضرت آدمؑ کی روحانیت کے بارے میں بتایا جا چکا ہے، کہ جب روح القدّس کسی کامل انسان میں داخل ہوتی ہے تو وہ اس وقت تنہا نہیں آیا کرتی، بلکہ اس کے ساتھ تمام ملائکہ اور ساری روحیں بھی آتی ہیں، پھر یہ سب نفوس پہلے تو انسانِ کامل کے جسم میں گرتے ہیں، اس کے بعد اسمِ اعظم کے ذکر، جبرائیل کی تعلیم، میکائیل کی تفہیم، اسرافیل کی موسیقی اور عزرائیل کی تسبیح سے یہ تمام نفوس بلند ہوتے ہوئے پیشانی پر یکجا اور مرکوز ہوجاتے ہیں، جہاں پر روح القدّس کی روشنی میں یہ نفوس اپنے آپ کو زندہ اور خدا کے حضور میں حاضر پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کی نورانیّت کا مشاہدہ کرکے اس کی قدرت و ربوبیّت کا
۲۰
اقرار کرتے ہیں۔
۲۱
انسانی روحیں آدمؑ کے ساتھ
سورۂ اعراف (۷) آیہ نمبر ۱۱ (۰۷: ۱۱) میں ارشاد ہے کہ اور یقیناً ہم نے تمھیں پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنادی پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو پس سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا۔
اس آیۂ کریمہ کی حکمت سے صاف طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب فرشتے آدمؑ کو سجدہ کررہے تھے، تو اس وقت سب انسان روحانی طور پر آدمؑ کی پیشانی میں حاضر کئے گئے تھے، کیونکہ اس ارشاد میں سب سے پہلے تمام انسانوں کی خلقت کا ذکر ہے، پھر ان کی روحانی تخلیق کا اشارہ ہے اور آخر میں آدمؑ کو فرشتوں کے سجدہ کرنے کا تذکرہ ہے۔
۲۲
خلقتِ آدمؑ
ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ:
خَمَّرْتُ طِیْنَۃَ اٰدَمَ بِیَدَیَّ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحاً۔
یعنی میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے (مسلسل ) چالیس یوم تک ہر صبح تخلیقِ آدم کی مٹی گوندھی۔
ظاہر ہے کہ اس سے آدمؑ کی روحانی تخلیق مراد ہے، جو آدمؑ کی مسلسل عبادت و بندگی کا نتیجہ تھی، خصوصاً اس وقت کی عبادت کا جو پچھلی رات اور صبح سویرے کرلیا کرتے تھے، جس میں خدا کے دونوں ہاتھ یعنی عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ ان کی روحانی تخلیق کے لئے کام کرتے تھے اور اسی طرح تخلیقِ آدم کا روحانی گارا چالیس صبحوں میں گوندھا گیا تھا، کیونکہ چالیس کا عدد نہ صرف پیغمبروں کی حیاتِ طیّبہ میں روحانی انقلاب کا پیش خیمہ ہے، بلکہ یہ عام انسانوں کی زندگی میں بھی بڑی بڑی تبدیلیاں آنے کی علامت ہے، اور انبیاء
۲۳
علیہم السّلام کے متعلق چالیس کے عدد کی مثال یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ چالیس راتوں کے اعتکاف کے لئے کوہِ طور پر گئے تھے، اعتکاف کے معنی ہیں مسلسل عبادت پر لگے رہنا، اور آنحضرت صلعم اپنی عمرِ شریف کے چالیسویں سال میں درجۂ نبوّت و رسالت پر فائز ہوئے تھے۔
مذکورہ تفصیلات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آدم کی جس تخلیق کے لئے دستِ قدرت نے چالیس یوم تک مٹی کا گارا بنایا تھا، وہ تخلیقِ روحانی تھی، کیونکہ تاویل کی زبان میں مٹی ایمان اور مومن کو کہتے ہیں، یعنی کہنا یہ ہے کہ حضرتِ آدمؑ مومنین میں سے ایک مومن تھے، جو حق تعالیٰ نے ان کو برگزیدہ فرما کر روئے زمین پر اپنا خلیفہ (نائب) مقرّر کیا، اور فرشتوں نے قبلاً اسی وجہ سے اعتراض کیا تھا کہ ایک مومن کو نبوّت و امامت جیسے منصبِ جلیلہ پر کیوں فائز کردیا جائے، اور ابلیس نے اسی سبب سے آدمؑ کے لئے سجدہ (یعنی فرمانبرداری) کرنے سے انکار کیا تھا۔
حضرت آدمؑ کے قرآنی قصّے میں انتہائی باطن کے اسرارِ الٰہی پوشیدہ ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ خداوندِعالم کی مصلحت بینی اسی میں تھی، کہ آدم کو دنیائے انسانیت کا ایک ایسا نمونہ اور مثال قرار دیا جائے، کہ جس کی شخصیّت ایک اعتبار سے دورِ جدید کا پہلا انسان ثابت ہو اور دوسرے اعتبار سے بقائے بشری کی لاانتہائی اور دائمی عروج و نزول کی نمائندگی کرے، پس یہی وجہ ہے کہ، قرآنِ حکیم میں حضرت آدمؑ کے جو حالاتِ زندگی بیان ہوئے ہیں، ان کے دوہرے معنی ہیں جن کو صرف اہلِ توفیق ہی سمجھ سکتے ہیں۔
۲۴
روح القدّس
روح القدّس کے لفظی معنی ہیں پاک روح، یہ روح حق تعالیٰ کے اسمِ قدّوس کی مظہر ہے، اس لئے یہ خود بھی ہر طرح سے پاک وپاکیزہ ہے، اور ان حضرات کو بھی ہر قسم کی بُرائی سے پاک رکھتی ہے، جن سے یہ بموجبِ فرمانِ الٰہی علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی صورت میں ظہور پذیر ہوتی رہتی ہے، یہی مطلب اس آیۂ کریمہ میں موجود ہے جو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السّلام کی شان میں ارشاد ہے کہ اے: (پیغمبر کے) اہلِ بیت خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو (ہر طرح کی) بُرائی سے دور رکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ویسا پاک وپاکیزہ رکھے (۳۳: ۳۳) پس اسی روحِ قدسی کی وجہ سے ان حضرات کو پنج تنِ پاک کہا جاتا ہے اور ان برگزیدہ ہستیوں کو پاک رکھنے میں اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ انھیں وحیٔ آسمانی اور علمِ الٰہی کے مراتبِ عالیہ سے سرفراز فرما کر دنیا والوں کے لئے ذریعۂ ہدایت اور نمونۂ رحمت بنا دیا جائے اور اس بات کا ایک اور قرآنی ثبوت، کہ اللہ تعالیٰ پیغمبرؐاور امامؑ کے
۲۵
ساتھ خواصِ اہلِ بیتؑ کو بھی روح القدس کے ذریعہ ب بُرائیوں سے دور اور پاک رکھتا ہے۔ یہ ہے جو خدا تعالیٰ حضرت مریمؑ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ: اور (وہ وقت قابلِ ذکر ہے) جبکہ فرشتوں نے کہا کہ اے مریم بلاشک تم کو اللہ نے برگزیدہ فرمایا ہے اور بُرائیوں سے پاک رکھا ہے اور کُلّ جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کیا ہے (۰۳: ۴۲) اس کے علاوہ قرآنِ حکیم میں جتنی آیتیں حضرت عیسیٰؑ کی شان میں آئی ہیں ان میں سے اکثر آیات ایسی ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے “عیسیٰ ابنِ مریم” کہہ کر خطاب فرمایا ہے اور حضرت عیسیٰؑ کی یہ مادری نسبت محض تعریف و توصیف کے طور پر نمایان کی گئی ہے، کہ ماں اور بیٹا دونوں روح القدّس کی پاک و پاکیزہ زندگی گزارتے تھے اور اسی پاک روح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو تمام روحانی نعمتیں حاصل تھیں، جیسا کہ قولِ قرآن ہے کہ: جبکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ : اے عیسیٰ ابنِ مریم! میرا انعام یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوا ہے جبکہ میں نے تم کو روح القدّس سے تائید دی (۰۵: ۱۱۰)۔
اہلِ دانش پر یہ حقیقت واضح اور روشن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی روح (یعنی روح القدّس) نہ صرف حضرت آدمؑ میں پھونکی تھی، بلکہ یہ امر خدا کے نزدیک ایک ایسا کلّیہ ہے کہ جس میں انبیاء و اولیا علیہم السّلام کے علاوہ حقیقی مومنین بھی شامل ہیں، اس کی ایک مثال سورۂ انبیاء (۲۱) آیت ۹۱ (۲۱: ۹۱) او رسورۂ تحریم (۶۶) آیت ۱۲ (۶۶: ۱۲) میں یہ ہے کہ حضرتِ مریمؑ میں بھی خدا نے اپنی روح پھونکی تھی، حالانکہ حضرتِ مریم پیغمبراور امام کے بعد کے کسی درجے پر
۲۶
تھیں۔
جب ہم مذکورۂ بالا ارشادات کی روشنی میں غور و فکر اور تحقیق و تدقیق سے کام لیتے ہوئے یہ معلوم کرلینے کی کوشش کرتے ہیں، کہ آیۂ تطہیر میں پنج تنِ پاک کو “اہلِ بیت” کے خطاب سے مخاطب کرکے گھر کی نسبت کو جس انداز میں نمایان کردیا گیا ہے، اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں، کہ اہلِ بیت کا مطلب ہے نبوّت کے گھر والے، یعنی پنج تنِ پاک، یہاں گھر سے رسول اللہؐ کا وہ روحانی مقام اور درجہ مراد ہے، جس میں آپ پر ہمیشہ وحی نازل ہوا کرتی تھی، پس اہلِ بیت کے حقیقی معنی ہیں وہ پانچ حضرات جو خانۂ روحانیّت میں ہم نشین اور علمِ الٰہی میں ہم راز تھے، وہ سب روح القدّس کے ذریعہ پاک و پاکیزہ اور یکجان تھے، اور ان کے یک دل و یک جان ہونے کی مثال “آلِ عبا” کے معنی سے ظاہر ہے، کہ آلِ عبا کے معنی ہیں چادر والے، اور یہ پنج تنِ پاک کا لقب ہے، اس لقب کی وجہ یہ ہے کہ رسولِ اکرمؐ نے بموجبِ فرمانِ الٰہی آیۂ تطہیر کے نزول کے موقع پر اہلِ بیت کو اپنے ساتھ ایک ہی چادرمیں سلایا تھا، جس کے معنی یہ ہیں کہ اگرچہ یہ حضرات جسم کے اعتبار سے پانچ ہیں، لیکن روح کے لحاظ سے ایک ہیں، اور وہ روح القدّس ہے، پس پنج تن کے ایک ہی چادر میں لیٹنے اور اسی وقت ان کی شان میں آیۂ تطہیر کے نازل ہونے کی تاویل یہی ہے کہ پنج تن روح القدّس کی روحانیّت میں سموئے ہوئے ہیں اور ہر طرح کی بُرائی سے پاک و پاکیزہ ہیں۔
۲۷
روح القدّس اور حزب اللہ
قرآنِ حکیم کے دو مقام ایسے ہیں، جہاں اگر کوئی صاحبِ بصیرت مومن غور و فکر سے دیکھے، تو اسے معلوم ہوگا کہ روح القدّس کے فیضِ روحانیّت اور نورِ تائید حاصل کرنے کے لئے مومن میں کیا کیا اوصاف ہونے چاہئیں، اور گزشتہ مومنین نے کیسی کیسی عظیم قربانیاں دے کر اس مقصدِاعلیٰ کو حاصل کرلیا تھا، وہ دو مقام سورۂ مائدہ (۵) کا آٹھواں رکوع اور سورۂ مجادلہ (۵۸) کا آخری رکوع ہیں، یہ دونوں رکوع باہم مل کر ایک ہی موضوع کی تعلیمات پیش کرتے ہیں جو حزب اللہ (یعنی خدا کے گروہ) کا موضوع ہے، اس موضوع میں حزب اللہ ان حقیقی مومنین کو قرار دیا گیا ہے جو صرف خدا، رسولؐ، صاحبِ امرؑ اور مومنین سے سچی محبت اور حقیقی دوستی رکھتے ہیں، جس کے نتیجے پر وہ روح القدّس کی روحانیّت و نورانیّت سے مستفیض ہوجاتے ہیں چنانچہ اس موضوع کے مؤخرالذّکررکوع میں اللہ کا ارشاد ہے:
اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَ ھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ(۵۸: ۲۲)۔
۲۸
یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید فرمائی ہے، ان کے دلوں میں ایمان لکھنے اور انھیں اپنی روح سے مدد دینے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ان مومنین کے دل میں نورِ ایمان اور فیضِ روح القدّس کو ایک زندہ اور بولنے والی کتاب کی حیثیت سے مکمل کردیا ہے، جس کی برکت سے حقیقی مومنین، غالب و فاتح اور دین و دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں، جیسا کہ خواجہ حافظ شیرازی کا قول ہے:
فیضِ روح القدّس ار باز مدد فرماید
دیگران ہم بکنند آنچہ مسیحا میکرد
ترجمہ: روح القدّس کافیض اگر پھر سے مدد کرے، تو دوسرے لوگ بھی وہی کچھ (معجزات) کرکے دکھائیں گے جو کچھ حضرت عیسیٰؑ نے “معجزات” کرکے دکھائے تھے۔
۲۹
روح الامین
روح الامین، روح القدّس اور جبرائیل کا مطلب ایک ہی ہے، اس الٰہی روح کو روح الامین اس لئے کہا گیا ہے، کہ یہ اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے بے پایان خزانوں کی امانت دار ہے، جیسے سورۂ یوسف میں لفظِ امین کے یہ معنی ظاہر ہیں کہ: بادشاہِ مصر نے حکم دیا، کہ اسے (یعنی یوسفؑ کو) میرے پاس لاؤ میں اس کو خاص اپنے (کام کے) لئے رکھوں گا، جس وقت بادشاہ نے یوسفؑ سے باتیں کیں تو بادشاہ نے کہا، کہ تم میرے نزدیک آج (سے) بڑے معزّز اور امین (معتبر) ہو، یوسفؑ نے کہا اس ملک کے سب خزانوں پر مجھے متعیّن کردو (اور دیکھو کہ) میں کیسا حفاظت کرنے والا اور وجوہِ مصارف جاننے والا ہوں (۱۲: ۵۴ تا ۵۵) ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے، کہ جو شخص قابلِ اعتبار ہو وہی امانت دار بھی ہے اور امانتداری کی مثال مذکورہ دونوں آیتوں سے ظاہر ہے، کہ حضرت یوسفؑ امین کے معنی میں مملکتِ مصر کے کُلّ خزانوں پر متعیّن تھے۔
اب یقیناً روح الامین کے معنی سمجھنے کے لئے آسانی ہوئی، کہ اس
۳۰
مقدّس روح میں علمِ روحانی اور اسرارِ سبحانی کے تمام خزانے امانت ہیں، تاکہ دنیا والے اپنے وقت کے پیغمبر اور امام کے ذریعے سے اس روحانی علم تک رسا ہوجائیں، یہی سبب ہے، کہ ہر اس پیغمبر نے جس کی تبلیغِ رسالت کا قرآنِ پاک میں ذکر آیا ہے: “تحقیق میں تمہارے لئے رسولِ امین ہوں” کہہ کر اپنی قوم سے خطاب فرمایا (سورہ ۲۶ کی آیات ۱۰۷، ۱۲۵، ۱۴۳، ۱۶۲، ۱۷۸، ۱۹۳، (۲۶: ۱۰۷، ۲۶: ۱۲۵، ۲۶: ۱۴۳، ۲۶: ۱۶۲، ۲۶: ۱۷۸، ۲۶: ۱۹۳،) اور ۴۴: ۱۸) کیونکہ وہ حضرات اپنی روح یا، کہ نور کی نسبت سے علمِ الٰہی اور اسرارِ کماہی کے امین اور خزانہ دار تھے۔
اب اس حقیقت کا ثبوت کہ خدا تعالیٰ کی مختلف چیزوں کے مختلف خزانے ہوا کرتے ہیں، یہ ہے جو خود اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ:
وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّاعِنْدَنَا خَزَآئِنُہ‘ وَمَا نُنَزِّلُہ‘ ٓاِلَّابِقَدَرٍمَّعْلُوْمٍ (۱۵: ۲۱)۔
اور کوئی چیز ایسی نہیں مگر یہ، کہ ہمارے پاس اس کے خزانے موجود ہیں اور ہم اسے جانے بوجھے ہوئے انداز کے مطابق اتارتے ہیں۔
سورۂ احزاب (۳۳) (۳۳: ۷۲) کے آخری رکوع میں ارشادِ خداوندی ہے، کہ یقیناً ہم نے امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو ان سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈرگئے اور اسے انسان نے اٹھالیا، یقیناً وہ بہت تاریک اور بہت نادان تھا۔ اس آیت میں دنیا اور زمانہ بھر کے تمام انسانوں کو ملا کر ایک انسان قرار دیا گیا ہے، جس میں انبیاء و اولیاء اور
۳۱
سب عوام شامل ہیں، کیونکہ انسان کے نام میں بشر کے تمام افراد داخل ہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے، کہ کیا یہ امانت سب انسانوں نے اٹھالی؟ نہیں نہیں صرف انسانِ کامل نے اپنے نور یعنی روح الامین کے ذریعہ اٹھالی، تاکہ وہ خدا کے امر سے دنیائے انسانیت کی تاریکی اور جہالت کو دور کریں۔
پیغمبر اور امام علیہما السّلام کے نور یعنی روح الامین کی روحانیّت سے مستفیض ہونے کی لازمی شرط یہ ہے، کہ اس نور کے لئے دل و جان سے اطاعت و فرمانبرداری کی جائے، جیسے قرآن میں روح الامین (جبرائیل) کے بارے میں ارشاد ہے کہ: مُطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ(۸۱: ۲۱)اس کی اطاعت کی جاتی ہے پھر وہ امانت دار ہے۔ اس فرمانِ الٰہی میں علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے خزانۂ امانت سے مستفیض ہونے کی شرط تابعداری اور فرمانبرداری بتائی گئی ہے، جو پیغمبرؐ اور امامِ وقتؑ کے لئے کی جانی چاہئے کیونکہ روح الامین کے مظہر وہی حضرات ہیں۔
اس کے علاوہ روح الامین کے معنی ہیں امن والی روح، جیسے قرآنِ پاک میں یہ لفظ اس معنی میں بھی آیا ہے کہ: وَہٰذَا الْبَلَدِالْاَمِیْنِ(۹۵: ۰۳) اور اس امن والے شہر کی قسم۔ نیز ارشاد ہے کہ : اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ(۴۴: ۵۱)یقیناً پرہیزگار امن والے مقام میں ہوں گے۔ یہ ارشاد بہشت کی تعریف و توصیف کے سلسلے میں ہے، یہاں امن کے معنی ہیں بے خوفی اور اطمینان، پس اس اعتبار سے روح الامین کے معنی ہیں اطمینان والی روح یا کہ مطمئن کردینے والی روح، چنانچہ بزرگوں کے قول کے ساتھ ساتھ قرآنِ مجید کا
۳۲
اشارہ بھی ہے، کہ اگر نفسِ امّارہ کی اصلاح و تزکیہ کیا جائے تو یہ نفسِ لوّامہ بن جاتا ہے اور اگر نفسِ لوّامہ کی بھی تطہیرو تحلیل ہوئی تو اس سے نفسِ مطمئنّہ بن جاتا ہے اور بس یہی نفسِ مطمئنّہ بہشت میں داخل ہوسکتا ہے، اس کے معنی یہ ہوئے، کہ نفس کو اس درجے پر جو اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ اس کے روح الامین سے مل جانے کی صورت ہے، کیونکہ اطمینان اور سکون کا سرچشمہ تو وہی ہے۔
۳۳
جبرائیل امینؑ
جبرائیل یا کہ جبریل امین علیہ السّلام حق تعالیٰ کا ایک مقرّب فرشتہ ہے،یہ جلیل القدر فرشتہ قرآنِ حکیم میں روح القدّس اور روح الامین کے نام سے مشہور ہے، جبرائیل عبرانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں عبداللہ یعنی بندۂ خدا، جبرائیلؑ کی ایک عجیب صفت یہ ہے، کہ وہ مقرّب فرشتوں میں سب سے زیادہ مہربان اور شفیق ہے، اس کی ایک مثال یہ ہے، کہ جب کوئی حقیقی مومن روحانیّت کے رستے پر چلتا رہتا ہے، تو اس میں سب سے پہلے جبرائیلؑ اس کا ہمراہ بن جاتا ہے، پھر میکائیلؑ، اس کے بعد اسرافیلؑ اور سب سے اخیر میں عزرائیلؑ اس کے ساتھ ہوجاتا ہے، اب یہ چاروں مقرب فرشتے اپنی اپنی عجیب و غریب قوّتوں کو بروئے کار لاکر مومن کو نہایت ہی آسانی کے ساتھ معراجِ یقین پر پہنچا دینے میں مصروف ہوتے ہیں، یعنی جبرائیلؑ تعلیمی قوّت کو استعمال کرتا ہے، میکائیلؑ تاویلی اثر ڈالتا ہے، اسرافیلؑ معجزانہ موسیقی سے محویّت طاری کردیتا ہے اور عزرائیلؑ ذریعۂ فنائیت سے کام لے کر روح
۳۴
کو پیشانی پر مذکور کردیتا ہے، اسی طرح حقیقی مومن رسول اللہؐ اور امامِ حیّ و حاضر کی ہدایت کے بموجب اپنے پیروں اور بزرگوں کے نقشِ قدم پر روحانیّت کی منزلوں کو طے کرتا جاتا ہے، یہاں تک کہ سب سے پہلے عزرائیلؑ رستہ میں پیچھے رہ جاتا ہے، پھر اسرافیلؑ اور اس کے بعد میکائیلؑ رہ جاتے ہیں، مگر جبرائیلؑ عالمِ جبروت تک مومن کا ساتھ نہیں چھوڑتا، بلکہ انتہائی مہربانی اور شفقت سے اس کی مدد کرتا رہتا ہے، جب حق تعالیٰ کے حکم سے روحانیّت کا طالب عالَمِ لاہوت کی طرف آگے بڑھنے لگتا ہے، تو اس وقت جبریل امین بھی اس کی ہمراہی سے رہ جاتا ہے، یہ صرف مومن کی پہلی معراج کا قصّہ ہے اور اس کے لئے ایسی کئی معراجوں کا امکان ہے۔
حکیمِ ربّانی حضرت پیر ناصر خسرو کے نزدیک انسانی عقل ہی وہ فطری صلاحیّت ہے، جو ہادیٔ برحق کی ہدایت کے مطابق تعلیم و تربیت پانے کے بعد جبریل امین بن کر خدا تعالیٰ کے حضور سے وحی لاسکتی ہے، چنانچہ پیر نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب زادالمسافرین اور دوسری تصنیفات میں قرآنِ پاک اور آفاق وانفس کی روشن دلیلوں سے یہ ثابت کردیا ہے، کہ پیغمبر اور امام علیہما السّلام کی اپنی روح ہی جبریل ہے، جس کو روح القدّس اور روح الامین بھی کہتے ہیں اور یہی ان کی پاک روح وہ نور ہے، جس کو خداوندِعالم نے اپنی روح اور اپنا نور قراردیا ہے، جس کی وجہ سے یہ دونوں حضرات سارے انسانوں سے ممتاز اور مخصوص ہیں، یہی سبب ہے جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس وقت سے وہ روح (یعنی جبرائیل) آنحضرت صلی
۳۵
اللہ علیہ وآلہٖ و سلم پر نازل فرمائی، وہ پلٹ کر نہیں گئی اور وہ ہم (اماموں) میں موجود ہے۔
یہاں پر یہ بات قابلِ ذکر ہے، کہ اگرچہ جبرائیل پیغمبر اور امام علیہما السّلام کی اپنی روح کی حیثیت سے ہے، تاہم وہ اپنی خاص ہدایت کے ذریعہ حقیقی فرمانبرداروں میں بھی ان کی کوشش کے مطابق یہ قوّت عمل میں لاسکتے ہیں، جیساکہ صفحۂ عالَم پر بھی یہ حقیقت ثبت ہے، کہ روحِ نباتی جمادات کو اپنا کر نشوونما پانے کے قابل بناتی ہے، حیوان نباتات کو اپناکرروحِ حیوانی کی زندگی بخشتی ہے اور انسان حیوان کو غذا کے طور پر استعمال کرنے کے بعد اپنے ساتھ انسانی روح کی زندگی میں شریک کرلیتا ہے، بالکل اسی طرح پیغمبرؐ اور امامؑ فرمانبردار مومنین کو عبادت و بندگی اور علم و عمل کے ذریعہ اپنے ساتھ ایک کرکے جبریل امین یعنی اپنی روح اور نور کا روحانی مشاہدہ اور تجربہ کراتے ہیں۔
۳۶
کلیم اللہ
کلیم اللہ کے معنی ہیں خدا سے کلام کرنے والا اور یہ بظاہر حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا لقب ہے، کہ آپ اکثر سینا کے پہاڑ پر جاکر اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوا کرتے تھے، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں، کہ کسی دوسرے پیغمبر کو یہ شرافت و سعادت نصیب ہی نہ ہوئی ہو، کیونکہ اور بھی بہت سے پیغمبر ایسے ہیں جو حق تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے بلکہ انبیاء کے علاوہ اولیاء، پیروں اور حقیقی مومنین کو بھی خدا وندِعالم سے ہمکلامی کی عزّت حاصل ہوتی رہی ہے، چنانچہ اس امرِ واقع کے متعلق جو کچھ سورۂ شوریٰ کے آخری رکوع میں ارشاد ہے، اس کا آسان مفہوم یہ ہے کہ: حق تعالیٰ ان لوگوں سے کلام نہیں فرماتا جو روحانیّت میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور جو لوگ روحانیّت کی ترقی پر ہیں، ان سے خدا تعالیٰ اس طرح کلام کرتا ہے کہ روحانیّت کا روشن عالم صاف طور پر نظر آنے کے کچھ عرصہ بعد ان کے پاس کوئی فرشتہ (یعنی روح) رسول کے طور پر بھیجتا ہے، وہ رسول خدا کی طرف سے روحانی طور پر ان سے کلام
۳۷
کرتا ہے یا وحی کرتا ہے، پھر اس کے بعد حجاب (پردہ) کے پیچھے سے اللہ تعالیٰ کا نور خود ہی ان سے کلام کرتا ہے اور آخری درجوں پر نورِ الٰہی اپنی اصلی صورت میں ان کے سامنے ظاہر ہوکر ایک مخصوص طریق پر وحی (اشارہ) کرتا ہے، جو حکمتِ بالغہ سے بھرپور اور اسرارِ معرفت سے مملو ہے۔
مذکورہ ارشاد کے بعد آنحضرت صلعم کے بارے میں فرمایا گیا ہےکہ:
وَکَذَالِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ رُوْحاً مِّنْ اَمْرِنَاطمَاکُنْتَ تَدْرِیْ مَاالْکِتٰبُ وَلَاالْاِیْمَانُ وَلٰکِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًانَّھْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآئُ مِنْ عِبَادِنَاطوَاِنَّکَ لَتَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (۴۲: ۵۲)۔
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے امر سے ایک روح وحی کی آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتابُ اللہ کیا چیز ہے اور نہ یہ خبر تھی، کہ ایمان کا (آخری درجہ) کیا چیز ہے لیکن ہم نے اس (روح) کو نور قرار دیا جس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں اور یقیناً آپ سیدھا راستہ کی ہدایت کررہے ہیں۔
اس فرمانِ خداوندی کی وضاحت اس طرح ہے، کہ اے رسول! جس طریق سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں سے کلام فرماتا ہے، جس کا اوپر ذکر ہوا، اسی طریق پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بھی عالمِ امر سے ایک خاص روح یعنی روح القدّس وحی کردی ہے، اس سے پہلے آپ نہ تو کتابِ کائنات جانتے تھے اور نہ ہی ایمان کے یہ درجات، لیکن ہم نے اس روح القدّس کو جو ہمیشہ آپ کے پاس ہے نور بنایا ہے اور یہی وہ نور ہے جس کے ذریعہ ہم ہمیشہ
۳۸
سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں روحانی طور پر ہدایت کرتے ہیں، پھر وہ بندے ہمارے اذن سے پیغمبر، امام، پیر وغیرہ کی صورت میں لوگوں کو ہدایت کرتے رہتے ہیں، اسی طرح آپ بھی ذاتی طور پر اور اپنے وصی اور اس کے سلسلۂ اولاد کے ذریعہ سیدھا رستہ کی ہدایت کرتے رہے ہیں۔
۳۹
روح ُاللہ
روح اللہ کے معنی ہیں خدا کی روح، یعنی وہ خاص روح جو امرِ باری سے ہے، کیونکہ سیدنا پیر ناصر خسرو کے نزدیک امر ہی خدا کا تصوّر اور اس کی وحدانیّت ہے اور امر ہی موجوداتِ روحانی و جسمانی کے وجود کا باعث ہے، یہی امرفی نفسہٖ ایک خاص عالم ہے جو عالمِ امر یا عالمِ وحدت کہلاتا ہے، پس خدا کی روح کہنے کا مطلب یہی ہے، کہ یہ روح جو خاص الخاص ہے عالمِ امر سے آئی ہے۔
قرآنِ حکیم میں جہاں روح کی کیفیّت و حقیقت کے متعلق سوال کا ذکر کیا گیا ہے، وہاں اس کا مختصر اور جامع جواب بھی موجود ہے اور وہ اس ارشاد میں ہے کہ: (اے رسول!) وہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ بتا دیجئے کہ روح میرے پروردگار کے امر سے ہے اور تمھیں تو علم میں سے بہت ہی تھوڑا حصّہ دیا گیا ہے(۱۷: ۸۵)۔ اس جواب میں یہ فرماکر، کہ روح میرے پروردگار کے امر سے ہے، یہ اشارہ کیا گیا ہے، کہ اگر روح کی
۴۰
حقیقت سمجھنا ہے تو قرآنِ حکیم میں امر کے متعلق جو جو آیات وارد ہوئی ہیں ان کا غور و فکر سے مطالعہ کیا جائے، کیونکہ قرآن میں لفظِ امر کے جو معنی آئے ہیں، ان سب کا مفہوم روح کی روحانیّت میں موجود ہے۔
روح اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا بھی لقب ہے، مگر حقیقت تو یہ ہے، کہ دوسرے بڑے پیغمبر بھی روحانیّت کے اس مقام پر نظر آتے ہیں جیسا کہ قرآنِ کریم کا ارشاد ہے کہ: رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُوْالْعَرْشِ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ لِیُنْذِرَیَوْمَ التَّلَاقِ (۴۰: ۱۵) بلند کرنے والا درجوں کو عرش والا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے امر سے روح ڈال دیتا ہے تاکہ ملاقات کے دن (یعنی قیامت) سے ڈرائے۔ ظاہر ہے، کہ یہ ارشاد تمام پیغمبروں کے حق میں ایک لازمی اصول اور ایک ضروری قانون کی حیثیت رکھتا ہے، کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنے امر سے “الرّوح” یعنی روح القدّس ڈال کر اس کا درجہ بلند کردیتا ہے اور اسے پیغمبر بناتا ہے، تاکہ وہ اپنی اُمت کو قیامت کے دن سے ڈرائے۔
چنانچہ یہی مفہوم اس ارشاد میں بھی ہے، جو انفرادی طور پر حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ:
اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗۚ-اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ٘ (۰۴: ۱۷۱)۔ ماسوا اس کے نہیں ہے، کہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم اللہ تعالیٰ کا رسول اور اس کا کلمہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے مریم کی طرف القا کیا اوراس کی طرف سے ایک روح ہے۔
۴۱
شرحِ صدر
شرحِ صدر کے لفظی معنی ہیں سینے کو کشادہ کردینا، یعنی وسعتِ قلبی اور فراخدلی پیدا کردینا، جس سے انسانی نفس کی وسعت مراد ہے کیونکہ نفس کا مرکزدل و دماغ ہے، ہر چند کہ کشادگی اور تنگی روح اور نفس کی صفت نہیں جسم کی صفت ہے، تاہم عالمِ مثال جو لطیف اور روحانی ہے، پھیلاؤ اور کشادگی کے لحاظ سے اس کائنات کی طرح ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ (۰۳: ۱۳۳)۔
اور اپنے پرودگار کی مغفرت اور اس جنّت کی طرف جلدی کرو جس کا پھیلاؤ سب آسمان اور زمین ہیں وہ پرہیز گاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
اس ارشاد سے یہ حکمت ظاہر ہے کہ مذکورہ بہشت اس کائنات کی روحانی صورت ہے، بالفاظِ دیگر یہ بہشت اس عظیم کائنات کی روح یعنی نفسِ کُلّ کی صورت میں ہے یا اس مطلب کو اس طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ ہر
۴۲
جسمانی چیز کی ایک روحانی لطیف صورت ہوا کرتی ہے، اسی طرح اس عظیم کائنات کی بھی ایک لطیف روحانی صورت ہے اور وہی عالمِ مثال اور مذکورہ بہشت ہے اور روحانی قسم کی انتہائی وسعت و کشادگی بھی وہی ہے۔
جب روحانی پھیلاؤ کا تصوّر معلوم ہوا، تو اب ہم شرحِ صدر کی مزید وضاحت کرتے ہیں، کہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (۳۹: ۲۲) بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور (کی ہدایت) پر ہو ( تو کیا وہ کسی گمراہ کے برابر ہوسکتا ہے) پس جن لوگوں کے دل خدا کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے ان کے لئے بڑی خرابی ہے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔
اس آیۂ کریمہ سے یہ معلوم ہوا ہے، کہ مومن جب حقیقی محبّت کی آگ میں پگھلتے ہوئے ذکرِ الٰہی میں ایسا مگن رہتا ہے، کہ وہ سوائے خدا کی یاد کے ہر چیز بھول جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے اپنے آپ کی بھی خبر نہیں رہتی، کہ وہ بیدار ہے یا عالمِ خواب میں ہے، تو اس وقت اس کی روح میں وسعت پیدا ہونے لگتی ہے اور اس وسعت کے بعد نور نظر آنے لگتا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں قرآنِ پاک کا ارشاد ہے:
اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ (۹۴: ۰۱)کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنحضورؐ کا قلبِ مبارک یعنی پاک روح کو انتہائی حد تک
۴۳
وسیع کردی گئی تھی اور نتیجتاً آپؐ کی پاک روح میں ساری کائنات کی روحانی صورت نظر آتی تھی۔
۴۴
کلمہ
یوحنا کی انجیل کے آغاز میں ہے کہ ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا، یہی ابتداء میں خدا کے ساتھ تھا، سب چیزیں اس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا ہے اس میں سے کوئی چیز بھی اس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی، اس میں زندگی تھی اور وہ زندگی آدمیوں کا نور تھی۔
انجیلِ مقدّس کی مذکورہ آیت میں کلام یعنی بول کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے، فرمایا گیا ہے کہ اس عالم کے پیدا ہونے سے پہلے بول تھا، جس کو قرآن کی اصطلاح میں کلمہ کہا گیا ہے، انجیل کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے، کہ وہ بول ایک اعتبار سے خدا کے ساتھ تھا اور دوسرے اعتبار سے بول خود ہی خدا تھا، کیونکہ نور کی یہی صفت ہوا کرتی ہے، چنانچہ قرآنِ پاک کی آیت ِ نور “اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ” کی حکمت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ خود ہی آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے، پھر “مَثَلُ نُوْرِہٖ” کے ارشاد سے ظاہر ہے، کہ یہ نور خدا سے منسوب ہے، جبکہ آیت کے اگلے حصّے میں فرمایا گیا ہے،
۴۵
کہ خدا خود ہی نور ہے، پس معلوم ہوا، کہ کلمہ میں خدا کی صفات کا مشاہدہ اور معرفت موجود ہے، دوسرے الفاظ میں کلمہ خدا کے نور کا مظہر ہے یا یہ وہ خزانہ ہے جس میں خدا کے جمال و جلال کے گرانمایہ جواہر پوشیدہ ہیں۔
یہ کلمہ وہی ہے جس کا ذکر قرآنِ پاک کی بہت سی آیات میں موجود ہے، جیسا کہ سورۂ ابراہیم(۱۴) آیات ۲۴ تا ۲۵ میں ارشاد ہوا ہے کہ: اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِ تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَاؕ-وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ (۱۴: ۲۴ تا ۲۵)۔
کیا آپ نے نہیں دیکھا، کہ اللہ تعالیٰ نے پاک کلمے کی مثال کیسی بیان فرمائی ہے، کہ وہ ایک پاکیزہ درخت کے مشابہ ہے، اس کی جڑ محکم ہے اور اس کی شاخ آسمان میں (پہنچی) ہے وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا ہے۔
انجیلِ مقدّس اور قرآنِ حکیم کے مذکورہ ارشادات سے اس بات کی تحقیق ہوئی، کہ انبیاء و اولیاعلیہم السّلام اور حقیقی مومنین کی روحانیّت و نورانیّت کا سرچشمہ ایک ایسا کلمہ (بول) ہے، جو حق تعالیٰ کے علمی خزانوں کے لئے کلید کی حیثیت سے ہے، یہی کلمہ تھا جو حق تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو عطا فرمایا اور جس کی مثال آدمؑ میں خدا کی روح پھونکنے سے دی گئی ہے۔
یہی کلمہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کو عطا ہوا تھا، جس میں ان کے لئے نورِ ہدایت اور فتح و نصرت کے اسرار پوشیدہ تھے جیسا کہ فرمانِ الٰہی میں ہے: وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ(۳۷: ۱۷۱) اور یقیناً
۴۶
ہمارے بھیجے ہوئے بندوں (پیغمبروں) کے لئے ہمارا کلمہ (یعنی بول) پہلے عمل میں آچکا ہے۔ پس انبیاء علیہم السّلام کے لئے اللہ جلّ جلالہ کا کلمہ وہی ہے جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔
قرآنِ کریم میں نہ صرف یہی ذکر ہے، کہ حق تعالیٰ نے سب پیغمبروں کو کلمۂ پاک (یعنی بول) عطا فرمایا تھا، بلکہ بعض پیغمبروں کے قصّے میں اس کا نمایان طور پر بھی تذکرہ ہوا ہے، جیسے حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں ارشاد ہے کہ : وَاِذِابْتَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہ‘ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ(۰۲: ۱۲۴) اور (وہ وقت یاد کیجئے) جبکہ ابراہیم کے ربّ نے اس کا امتحان لیا چند کلمات سے تو اس نے انھیں پورا کردیا۔ وہ کلمات اللہ تعالیٰ کے اسمائے عظام (بڑے بڑے نام) تھے۔
نیز حضرت مریمؑ کے بارے میں ارشادِ باری ہے کہ: فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِکَلِمٰتِ رَبِّھَا وَ کُتُبِہٖ وَکَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ (۶۶: ۱۲) پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اس نے اپنے پروردگار کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبردارں میں سے تھی۔ اس آیۂ مقدّسہ کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات اور ہیں اور اس کی کتابیں اور ہیں، چنانچہ یہاں پر ظاہر ہے، کہ حضرت مریم علیہا السّلام میں پہلے روحِ الٰہی پھونکی گئی تھی، وہ یہ کہ اس کو کلمہ (بول) دیا گیا تھا اور اس نے چند کلمات کی صحیح عبادت مکمل کرلی تھی، جس کے نتیجے میں اس کو روشنی مل گئی، پھر ان کلمات کی اس روشنی میں حضرت مریمؑ نے آسمانی کتابوں کی
۴۷
حقیقت سمجھ لی، یہ ہوا خدا کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرنا اور خدا کی فرمان برداری کرنا، کیونکہ خدا کے نزدیک کسی چیز کی تصدیق وہ نہیں جو اس چیز کی حقیقت سمجھے بغیر محض زبانی طور پر کہا جائے، کہ یہ چیز درست اور صحیح ہے، بلکہ حقیقی معنوں میں اس کی تصدیق یہ ہے کہ اس کی حقیقت سمجھ لی جائے، پس معلوم ہوا کہ روحانی طریق پر علمِ الٰہی سے بہرہ اندوز ہونے کے لئے پہلے تو کلمہ کی حقیقی عبادت ہے اور اس کے بعد آسمانی کتاب۔
یہی کلمہ جو علمی عجائبات و معجزات سے بھر پور ہے، نبوّت و امامت کے نور یعنی روح القدّس کا حامل ہوا کرتا ہے، اور اس حقیقت کی قرآنی مثال یہ ہے کہ جو حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں ارشاد ہوا ہے، کہ: اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗۚ-اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ٘ (۰۴: ۱۷۱)۔ ماسوا اس کے نہیں کہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم اللہ تعالیٰ کا رسول اور اس کا کلمہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مریم کی طرف القا کیا اور اس کی طرف سے ایک روح ہے۔
اگر کوئی صاحبِ بصیرت اس آیت کی حکمت پر ذرا غور کرے تو اسے یقیناً یہ حقیقت معلوم ہوگی، کہ جو عظیم معجزاتی کلمہ حضرت مریم کو بتایا گیا تھا، اس میں حضرت عیسیٰؑ روحانی اور نورانی حیثیت سے موجود تھا اور یہیں سے کئی بنیادی حقیقتوں کا انکشاف ہو جاتا ہے، جن میں سب سے پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ جب یہ مانا گیا کہ حضرت عیسیٰؑ کا حقیقی وجود ایک معجزانہ کلمے میں پوشیدہ تھا، پھر یہ کہنا قطعاً غلط ہی ہوگا کہ بعد میں عیسیٰؑ کو یہودیوں نے قتل
۴۸
کردیا تھا یا سولی پر چڑھایا تھا، کیونکہ حضرت عیسیٰؑ اپنے تمام معجزات کے ساتھ ایک پاک کلمے کے اندر محفوظ تھا، جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے کہ : وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْ ہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ (۰۴: ۱۵۷)انھوں نے نہ اس (حضرت عیسیٰؑ) کو قتل کیا اور نہ ہی اسے سولی دی ، لیکن ان کو شبہ ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ حقیقت میں کلمہ اور روحِ قدسی تھا، پس یہود روح کو کس طرح قتل کرسکتے تھے، مگر ہاں انھوں نے حضرت عیسیٰؑ کے جسم کو قتل کیا، اسی لئے ان کو یہ شبہ ہوگیا تھا کہ انھوں نے خود حضرت عیسیٰؑ ہی کو قتل کردیا ہے، جس طرح عوام النّاس شہیدوں کے متعلق یہ گمان کرتے تھے کہ وہ مرے ہوئے ہیں، لیکن قرآنِ حکیم نے ان کا یہ گمان ممنوع قرار دیا اور انھیں بتایا کہ شہید حقیقت میں مرے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ وہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور قرآن کی یہ تعلیم آلِ عمران (۳) آیت ۱۶۹ (۰۳: ۱۶۹) میں موجود ہے۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ ہی کی طرح دوسرے سب انبیاء و اولیاء علیہم السّلام بھی کلمہ (اسمِ اعظم، بول وغیرہ) میں پوشیدہ ہوا کرتے ہیں اور وہیں سے ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں، یعنی حق تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ ہر پیغمبر اور ہر امام کا نور یا کہ روح القدّس مومنین کے لئے جو روحانی طور پر علم و حکمت کا سرچشمہ بنتی ہے، وہ اس معجزاتی کلمے کے توسط سے ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک کے متذکرۂ بالا ارشاد سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اس وقت بھی خدا کا رسول تھا، جب کہ وہ ایک خاص و پاک کلمہ اور روح کی صورت میں حضرت مریمؑ کی طرف القا کیا گیا تھا۔
۴۹
اب اس حقیقت کی ایک اور دلیل، کہ کس طرح انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا نور یعنی ان کی اصلی ہستی کلمہ (بول) میں پوشیدہ ہوا کرتی ہے، یہ ہے جو حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں ارشاد ہے کہ: وَجَعَلَہَا کَلِمَۃً بَاقِیَۃً فِیْ عَقِبِہِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ (۴۳: ۲۸) اور ابراہیمؑ نے اس (نورِ نبوّت و امامت) کو اپنی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ قرار دیا، تاکہ وہ (اللہ تعالیٰ کی طرف) رجوع کرتے رہیں۔ یعنی حضرت ابراہیمؑ نے اپنی نبوّت و امامت کے تمام اوصاف و خواص کو ایک پاک پُر حکمت کلمے کی حیثیت میں اپنی اولاد کے سپرد کردیا اور آلِ ابراہیمؑ میں یہ معجزاتی کلمہ تا قیامت باقی ہے۔
نیز اسی سلسلے میں توضیح کی جاتی ہے کہ آنحضرتؐ کا روحانی و نورانی وجود بھی پاک کلمہ میں پوشیدہ ہے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا پاک قول ہے کہ: فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۚ-قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًا۔ رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِ جَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِؕ (۶۵: ۱۰ تا ۱۱)۔
پس اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اے عقل والو! جو ایمان لاچکے ہو یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف ذکر کو اتارا ہے جو رسول ہے وہ تم پر اللہ تعالیٰ کی واضح آیتیں پڑھتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لاچکے اور انھوں نے نیک اعمال کئے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے۔
اس آیۂ کریمہ کا خطاب أئمّۂ اہلِ بیتؑ سے ہے، کیونکہ عقل اور ایمان کے درجۂ کمال پر وہی حضرات فائز ہیں اور آنحضرتؐ کا نور ذکر کی حیثیت سے
۵۰
انہی میں نازل کیا گیا ہے اور اسی لئے ان حضرات کو “اہلِ ذکر” کہا گیا ہے، یہی ذکر یا کہ کلمہ نبوّت و امامت کا نور ہے، جس میں قرآن کی روشن اور زندہ حقیقتیں موجود ہیں اور یہ نور بصورتِ ذکر أئمّۂ اطہارؑ میں اس لئے نازل ہوا ہے، تاکہ ان مومنین کو جو اچھے کام کرتے ہوں، اندھیروں سے نور کی طرف لایا جائے، پس اس بیان سے صاف طور پر یہ ظاہر ہوا کہ آنحضرتؐ کا مقدّس نور جو ایک امامؑ سے دوسرے امامؑ میں منتقل ہوتا ہوا چلا آیا ہے، وہ ذکریا کہ کلمہ کی صورت میں کار فرما اور جلوہ فگن ہے۔
اس کلمے کے سلسلے میں عہدِ نبوّت کے مومنین کے متعلق ارشاد ہے کہ: فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہ‘ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَکَانُوْآ اَحَقَّ بِھَا وَاَھْلَھَا (۴۸: ۲۶) ۔
پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر او ر مومنین پر تسکین نازل فرمائی اور تقویٰ کا کلمہ ان پر لازم کردیا اور وہ اس کے بہت حقدار اور اس کے اہل تھے۔ اس آیت میں بطریقِ حکمت ارشاد ہوا ہے کہ جب مومنین عبادت و بندگی کے علاوہ دین کے سلسلے میں انتہائی عظیم خدمات بھی انجام دیتے ہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان پر ایک خاص قسم کا روحانی سکون نازل فرماتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ معجزاتی کلمہ جو ان کو دیا گیا ہے، مومنین کے دل و دماغ میں خود بخود بولنے لگتا ہے، یعنی مومنین کے باطن میں شب و روز خود بخود ذکرِالٰہی ہوتا رہتا ہے اور وہیں سے بے شمار معجزات کا سلسلہ جاری ہونے لگتا ہے۔
۵۱
روح یا نور
روح القدّس اور نور فی الاصل ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں، اس لئے ہم روحانیّت کو نورانیّت بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ روح اپنی ذات اور جوہر میں ہرگز تاریک نہیں، بلکہ یہ اپنے آپ میں ایک روشن عالم ہے جس کو عالمِ روحانی کہا جاتا ہے، روح کا نورانی عالم کی شکل و صورت میں ہونا ایک ایسی جامع حقیقت ہے، جس کی تشبیہہ و تمثیل اس عظیم کائنات اور اس کی ساری چیزوں سے دی گئی ہے، چنانچہ اسی روح القدّس کی نسبت سے انسان عالمِ صغیر کہلاتا ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ انسان کا عالمِ کبیر ہے اور ان دونوں عبارتوں کا فرق اسی طرح سمجھ لیجئے کہ انسان کا عالمِ صغیر ہونا یہ ہے کہ وہ اس کائنات کے اندر ہونے کے باوجود اپنی ذات یا کہ روحانیّت میں ایک عالَم ہے اور اس کے عالمِ کبیر ہونے کے یہ معنی ہیں، کہ اگر چہ وہ ظاہراً اس کائنات کے اندر محدود ہے، لیکن فی الحقیقت وہ اپنی اصلی روح (یعنی نفسِ کلّی) میں ساری کائنات پر محیط ہے۔
۵۲
روح کی دوسری تشبیہہ و تمثیل کتاب سے دی گئی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی جیتی جاگتی روشن کتاب ہے، کہ اس میں دنیا و آخرت کے جملہ احوالِ واقعی کی چلتی پھرتی تصویروں کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور اسی معنی میں روح القدّس کو کتابِ منیر (روشن کتاب) کہا گیا ہے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِعِلْمٍ وَّلَاھُدًی وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ(۲۲: ۰۸، ۳۱: ۲۰) اور لوگوں میں سے ایسا شخص بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم، بغیر ہدایت اوربغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔
اس فرمانِ خداوندی میں خدا کی شناخت و معرفت کے متعلق یقین کے تین درجات کا ذکر آیا ہے، جن میں پہلا درجہ علم الیقین کا، دوسرا عین الیقین کا اور تیسرا درجہ حق الیقین کا ہے، یعنی اس آیت میں جس علم کا ذکر کیا گیا ہے، وہ علم الیقین ہے، ہدایت کا مطلب عین الیقین ہے اور کتابِ منیر سے حق الیقین مراد ہے اور وہی یقین کا آخری درجہ ہے، پس معلوم ہوا کہ روح القدس جس مرتبے میں دونوں جہان کی زندہ اور روشن حقیقتوں کی حیثیت سے ہے، وہ مرتبۂ علم و ہدایت سے بھی برتر ہے، جس کی دلیل یہ ہے کہ علم کا مطلب راستہ اور منزل کے متعلق صحیح معلومات فراہم کرنا ہے، ہدایت کے معنی راستے پر منزلِ مقصود کی طرف چلنا ہے اور کتابِ منیر فی نفسہٖ منزلِ مقصود ہی ہے۔
روحانیّت کے متذکرۂ بالا درجات کا تجربہ کسی انسان کو صرف اسی صورت میں ممکن اور میسر ہوسکتا ہے، جس میں کہ وہ پیغمبرؐ اور امامِ زمانؑ کی
۵۳
صحیح طور سے فرمانبرداری کرے، کیونکہ وہی حضرات روح القدّس کے مظہر یا نورِ مجسم ہیں اور یہ بات قطعاً ناممکن ہے کہ ایک شخص روح القدّس کے فیوض و برکات کو کماحقہٗ حاصل کرسکے، جبکہ وہ اس کے مظہر سے منہ موڑ رہا ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ: جو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو بے شک اللہ (بھی ان) کافروں کا دشمن ہے(۰۲: ۹۸)۔
واضح رہے کہ اس دنیا میں ایسا کافر کہیں بھی نہیں جو خدا، ملائک، انبیاء، جبرائیل اور میکائیل کے وجود کو مانتے ہوئے ان پاک ہستیوں سے دشمنی کرتا ہو، یہ بات ناممکن ہی ہے، بلکہ وہ کوئی ایسا شخص ہوسکتا ہے جو مذکورۂ بالا مقدّس ہستیوں کے مظاہر کو نہ پہچانے اور ان کی نافرمانی کرتے ہوئے دشمن بن جائے۔
۵۴
قرآنی سوال و جواب
حصّۂ اوّل
۵۵
بِسم اللہ الرّحمٰنِ الرّحیْم
سوال نمبر ۱
محترم برکت علی صاحب مقیم گارڈن ایسٹ، کراچی، سوال کرتے ہیں کہ :
آپ نے ایک خط میں جو دینی باتوں پر مشتمل تھا، ہمیں یہ لکھا ہے کہ قرآنِ حکیم میں کوئی آیت ایسی نہیں جو اپنی مخصوص زبانِ حکمت سے امامِ حیّ و حاضر کی تعریف و توصیف نہ کرتی ہو اور اسماعیلیّت کی تعلیم و تربیت نہ دیتی ہو۔ اگر فی الواقع آپ کا یہ دعویٰ حق بجانب ہے، تو سب سے پہلے آپ اس حیرت انگیز حقیقت کے ثبوت میں چند روشن دلیلیں پیش کریں، اس کے بعد آپ یہ بتائیں کہ قرآنِ حکیم کی آخری سورت کی آخری آیت “مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاس” (۱۱۴:۰۶) میں امامِ زمانؑ یا اسماعیلیّت کے متعلق اس نوعیت کی کون سی حکمت پوشیدہ ہے؟
جواب
دلیل نمبر۱: قرآنِ مجید چار حصوں میں نازل ہوا ہے، ان میں سے ایک
۵۶
حصّہ ظاہراً و باطناً مولانا مرتضیٰ علی علیہ السّلام (یعنی نورِامامت) کی شان میں ہے، دوسرا حصّہ نورِعلیؑ کے دشمنوں کی مذمت میں ہے، پس اس میں بھی اساسی طور پر شاہِ ولایت کی محبّت و دوستی کی اہمیّت مذکور ہے، تیسرے حصّے میں قصّے اور مثالیں ہیں، ان میں بھی جناب مرتضیٰ سرِّ خداؑ کا تذکرہ بطریقِ حکمت موجود ہے، کیونکہ یہ قصّے اگرچہ ظاہراً پیغمبروں کے بارے میں ہیں، لیکن باطناً نورِعلیؑ کی شناخت کے متعلق ہیں، چنانچہ آنحضرتؐ کی حدیث ہے کہ: “اے علیؑ آپ دوسرے تمام پیغمبروں کے ساتھ مخفی تھے اور میرے ساتھ آشکار ہوئے” اس طرح مثالوں میں بھی گوہرِامامت کے حقائق و معارف بیان کئے گئے ہیں، چنانچہ خدا کی رسّی، پاک درخت، خدا کانور، سیدھی راہ، ام الکتاب، وغیرہ جیسی بے شمار مثالوں کا مقصد و منشاء علیؑ ہی کی ولایت و معرفت ہے، چوتھے حصّے میں فرائض و احکام ہیں اور اس آخری حصّے میں بھی نورِامامت کا ذکرِجمیل موجود ہے، کیونکہ فرائض واحکام کی بجا آوری ہی خدا، رسولؐ اور اولواالامرؑ کی اطاعت و فرمانبرداری ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ قرآن کے اس حصّے میں اولواالامر (یعنی أئمّۂ برحقؑ) کی فرمانبرداری فرض کی گئی ہے، جیسے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اے ایمان والو! خدا و رسول کی اطاعت کرو اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو(۰۴: ۵۹)۔” تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، میرا ایک مقالہ “قرآن اور حقیقتِ شیعیّت” جس کو اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان نے یومِ امامت ۱۹۶۹ء کے موقع پر شائع کیا ہے۔
دلیل نمبر۲: جب آنحضرت صلعم علم کا شہر اور حکمت کا گھر ہیں اور جناب
۵۷
علیٔ مرتضیٰؑ اس شہر اور اس گھر کا دروازہ ہیں، تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ ہر آیت و حدیث کے علم و حکمت کو کوئی دانشمند صرف اسی صورت میں سمجھ سکتا ہے، جبکہ وہ ایمان و ایقان کے ساتھ نظریۂ امامت کی روشنی میں اس پر غور و فکر کرتا ہے، پس یہ حقیقت صاف طور پر ظاہر ہوئی کہ نظریۂ امامت قرآن و حدیث کے علم و حکمت کی کلید ہے۔
دلیل نمبر۳: یہ آپ کا اور ہمارا یقین ہے کہ بموجبِ ارشادِ قرآنی (۳۶: ۱۲) حق تعالیٰ نے ہر چیز امامِ مبینؑ میں محدود کر رکھی ہے، وہ اس طرح کہ امامؑ کی عقل تمام عقول پر حاوی ہے، امامؑ کی روح ساری ارواح پر محیط ہے اور امامؑ کا نورانی جسم کُلّ اجسام پر غالب ہے، بالکل اسی طرح امامت کے موضوع میں جملہ آسمانی کتابوں کے موضوعات سموئے ہوئے ہیں، پس اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر قرآنی آیت کی حکمت نظریۂ امامت کی تعلیمات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
دلیل نمبر۴: مولانا علی علیہ السّلام کا فرمانِ مبارک ہے کہ: انا نقطۃ تحت باء بسم اللّٰہ یعنی میں باءِ بسم اللہ کا نقطہ ہوں (جس میں جملہ قرآن کا علم و حکمت پوشیدہ ہے) اب اگر غور سے دیکھا جائے، تو بس یہی ایک نقطہ ہے، جس کو مختلف شکلوں میں کھینچ کر سارے حروف بنائے گئے ہیں، مثلاً الف کی ساخت کو دیکھئے کہ اس کے لکھنے میں اوّلاً قلم کی نوک سے نقطہ بنتا ہے، پھر اسی نقطہ کے کھینچنے سے الف کی شکل بنتی ہے اور دوسرے تمام حروف کا بھی یہی حال ہے کہ ان سب کی شکلیں اسی طرح نقطہ ہی سے بنی ہوئی ہیں۔
۵۸
چنانچہ مولانا علی صلواۃ اللہ علیہ کے اس کلام کی تاویل کہ آپ بائے بسم اللہ کا نقطہ ہیں، یہ ہے کہ جس طرح نقطہ ہر حرف کی شکل و صورت میں پوشیدہ ہے، اسی طرح مولانا علیؑ کا ذکرِ جمیل ہر آیت کی حکمت میں پنہان ہے، نیز جس طرح بسم اللہ کے بغیر قرآن کا پڑھنا جائز نہیں اور باء کے بغیر بسم اللہ درست نہیں، اسی طرح نظریۂ ولایتِ علیؑ کے بغیر قرآنِ شریف کی تاویلیں کرنا جائز اور درست نہیں۔
دلیل نمبر۵: حق تعالیٰ کے ایک ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ کتابِ سماوی کا علم نورِعلیؑ کے پاس ہے (۱۳: ۴۳)۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص قرآن کا علم و حکمت حاصل کرنا چاہے تو اس کو چاہئے کہ جان و دل سے امامِ وقتؑ ہی کی طرف رجوع کرے، تاکہ امامِ عالی مقامؑ اپنی مخصوص ظاہری و باطنی ہدایت کے ذریعے سے قرآنی علم و حکمت کا دروازہ اس کے لئے کھول دیں، پس اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام قرآنی آیات کے علم و حکمت کی کلید اسماعیلیّت اور امام شناسی ہی ہے۔
دلیل نمبر۶: قرآنِ حکیم علم و حکمت کی دنیا ہے اور نورِ امامت اس علمی دنیا کا سورج ہیں (۰۵: ۱۶) ۔ جس طرح اس ظاہری سورج کی روشنی کے بغیر مادّی دنیا کی کوئی شے نظر نہیں آسکتی ، اسی طرح روحانی سورج کے بغیر علمی دنیا کی کوئی حقیقت و حکمت ظاہر نہیں ہوسکتی ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر امام شناسی کی آنکھ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا، کہ ہر قرآنی آیت کے ظاہر و باطن میں نورِامامت ضیاء پاشی کررہا ہے، کیونکہ ظاہری سورج کی روشنی
۵۹
صرف مادّی چیزوں کی سطح تک محدود ہے، مگر روحانی سورج کی روشنی دنیائے علم و حکمت کے ظاہر و باطن کو جگمگا رہی ہے۔
دلیل نمبر۷: قرآنِ پاک کی یہ تعلیم ہے کہ آسمانی کتاب کی وراثت ان حضرات ہی کے لئے مخصوص ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے برگزیدہ فرمایا ہے(۳۵: ۳۲)۔ اور مولانا علیؑ کا کلام ہے کہ: نحن اولٰٓئِک، یعنی ہم (أئمّۂ برحق) ہی وہ گروہ ہیں، چنانچہ معلوم ہوا کہ امامِ زمانؑ ہی آسمانی کتاب کے وارث و مالک ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ نظریۂ امامت کے سہارے کے بغیر قرآنی آیات کی گہری حکمتوں تک رسائی ناممکن ہے۔
مندرجۂ بالا دلائل سے یہ حقیقت ثابت ہوئی کہ نظریۂ امامت اور اسماعیلیّت کی تعلیمات ہر قرآنی آیت کی حکمت میں موجود ہیں۔
اب قرآنِ مجید کی آخری سورت کی آخری آیت “مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاس” کی حکمت بیان کی جاتی ہے: چنانچہ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاس کے معنی ہیں جنّوں میں سے اور انسانوں میں سے یعنی شیطان جس کا دوسرا نام خنّاس ہے جو انسانی سینوں میں وسوسہ ڈالا کرتا ہے، وہ جنّوں میں سے بھی ہے اور انسانوں میں سے بھی۔
اس آیت کی تاویل (حکمت) یہ ہے کہ شاید آپ نے مذہبی کتابوں میں کہیں یہ قصّہ پڑھا ہوگا کہ حضرت آدم خلیفتہ اللہؑ کے زمانے میں حارث مرّہ کے نام سے ایک شخص تھا جو آدمؑ کی فرمانبرداری سے روگردان ہونے کی وجہ سے خلیفۂ خدا کا دشمن اور اس دور کا شیطان و خنّاس مقرر ہوا تھا، چنانچہ اللہ
۶۰
تعالیٰ کا یہی قانون ہر زمانے میں جاری و باقی ہے کہ جو شخص خلیفۂ وقت یعنی امامِ زمانؑ سے دشمنی کرے وہی شخص شیطان اور خنّاس ہے، خواہ وہ جنّوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے اور یہی خنّاس مکرو فریب اور جھوٹی باتوں کے ذریعہ آدمیوں کے سینوں میں وسوسہ ڈال کر امامِ برحقؑ کی معرفت کی راہ سے گمراہ کر دیتا ہے، جس کی بُرائی سے مومن کو لوگوں کے پروردگار کی پناہ لینی چاہئے کہ لوگوں کا بادشاہ اور معبود ہے۔
اس مطلب کی مزید تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب “پیر پندیاتِ جوانمردی” ص ۳۸ پیرا ۴۱ اور وجہ ِدین حصّۂ اوّل ص ۱۴۸ تا ۱۵۱ نیز “رسالۂ درحقیقتِ دین” میں جگہ جگہ اس کا ذکر موجود ہے۔
۶۱
سوال نمبر ۲
اسی طرح کراچی سے محترم عبدالعزیز صاحب “الٓمّٓ” کے متعلق پوچھتے ہیں، اور وہ اس کے تاویلی خزانے سے کچھ حکمت جاننا چاہتے ہیں تاکہ ظاہر ہوجائے کہ امامِ حیّ و حاضر کی صفاتِ کمالیہ قرآنِ پاک کی حکمت میں موجود ہیں۔
جواب
نمبر۱: “الٓمّٓ” نورِ امامت کے بے شمار ناموں میں سے ایک نام ہے اور یہ نام کتابِ حق الیقین کا درجہ رکھتا ہے، چنانچہ اس کے بعد ارشادِ خداوندی ہے “ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہِ” یعنی وہ کتاب جس میں کوئی شک نہیں، ظاہر ہے کہ جس کتاب میں کوئی شک نہ ہو اس میں یقین ہی یقین ہے، یعنی علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین، کیونکہ شک کے مقابلے میں یقین
۶۲
ہے، جس طرح تاریکی کے مقابلے میں روشنی ہے، پھر یہ صفت کتابِ صامت (خاموش) کی نہیں، بلکہ کتابِ ناطق (بولنے والی) یعنی نورِ امامت کی ہے، جس کے ذریعہ لاعلمی کے شکوک و شبہات دور ہوسکتے ہیں، جیسا کہ مولانا مرتضیٰ علی صلوات اللہ علیہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ: “اَنَاذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہِ” یعنی مولانا علیؑ فرماتے ہیں کہ “الٓمّٓ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہِ” کا اشارہ میری ذات (نور) کی طرف ہے۔
نمبر۲: الٓمّٓ کا بسطِ ملفوظی یہ ہے: الف لام میم، اس کا بسطِ حرفی یہ ہے: ا ل ف ل ا م م ی م، ان حروف کے اعداد اور مجموعہ یہ ہیں: ۱+۳۰+۸۰+ ۳۰+ ۱+ ۴۰+ ۴۰+ ۱۰+۴۰ برابر ہے ۲۷۲ ۔ دوسو بہتر کا جُملِ اصغر یہ ہے: ۲+۷+۲برابرہے ۱۱۔ گیارہ کا جملِ اصغر یہ ہے: ۱+۱ برابر ہے ۲ جواب۔
اسمِ مبارک محمدؐ کے اعداد یہ ہیں: م ح م د برابر ہے ۴۰+۸+۴۰+۴برابر ہے ۹۲۔ بیانوے کا اصغر : ۲+۹ برابر ہے ۱۱۔ گیارہ کا اصغر ہے ۱+۱برابر ہے ۲ جواب۔
اسمِ مبارک علیؑ کے اعداد یہ ہیں: ع ل ی برابر ہے ۷۰+۳۰+۱۰ برابر ہے ۱۱۰۔ ایک سو دس کا اصغر ۰+۱+۱ برابر ہے ۱۱۔ گیارہ کا اصغر ۱+۱ برابر ہے ۲ جواب۔
پس اس کے معنی ہیں کہ محمدؐ و علیؑ کا نور ہی الٓمّٓ ہے اور یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
۶۳
نمبر ۳: الٓمّٓ (الف لام میم)یعنی ال ف ل ا م م ی م۔ ان حروف کا عملِ تخلیص کیا یعنی ان کے اساسی حروف لیے تو یہ ہوئے ا ل ف م ی، ان کا لفظ یہ بنتا ہے: الفمی، اس کے معنی ہیں زبانی یعنی الٓمّٓ جو ایک کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں وہ تحریری نہیں بلکہ زبانی ہے یعنی وہ محمدؐ و علیؑ کا زندہ نور ہے۔
نمبر۴: الٓمّٓ کا عملِ تقلیب اس طرح سے ہے: الم۔ امل۔ لام۔ لما۔ مال۔ ملا۔ “ملا” سب سے وسیع المعنی ہے، جس کی دوصورتیں ہیں: مَلَا اورمَلَا ٔ۔ ملا کا مطلب کائنات اور ملاء کے معنی سردار ہیں اور سردار سے أئمّۂ برحق علیہم السّلام مراد ہیں۔ پس اس اعتبار سے الٓمّٓ کی تاویل کائنات اور نورِامامت ہے، یعنی أئمّۂ برحق علیہم السّلام کی تعلیمات اور ان کے نور کی روشنی میں کائنات ایک زندہ کتاب کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے حقائق و معارف ایسے یقینی ہیں کہ ان میں ذرّہ بھر بھی شک نہیں۔ یہی سبب ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے، یعنی خدا کے نور کی روشنی میں کتابِ کائنات کے حقائق و معارف کا ظاہراً و باطناً مطالعہ و مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
نمبر ۵: الٓمّٓ کے حروف تین ہیں ا ل م، ان کے اعداد اور اصغر یہ ہیں: ۱+ ۳۰+ ۴۰ برابر ہے۷۱،۱+۷برابرہے ۸ جواب۔
اب حدودِ دین اور ان کے اصولی اعداد ملاحظہ ہوں۔ مستجیب ۱، ماذونِ محدود ۲، ماذونِ مطلق ۳، داعیٔ محدود ۴، داعیٔ مطلق ۵، حجتِ جزیرہ ۶، حجتِ
۶۴
اعظم ۷، امام۸، اساس ۹، ناطق ۱۰، نفسِ کُلّ ۱۰۰، عقلِ کُلّ ۱۰۰۰۔ اس اصول میں آٹھ کا عدد امام کے لئے مقرر ہے۔ پس اس کی تاویل یہ ہے کہ الٓمٓ کا اشارہ امامِ عالی مقامؑ کی طرف ہے۔
نمبر ۶: جیسے جواب نمبر ۲ سے ظاہر ہے کہ الف لام میم کے حروف کے اعداد کے مجموعے کا اصغر ۲ ہے، اسی طرح “الامام الوقت” کا اصغر بھی ۲ ہے چنانچہ ملاحظہ ہو۔
الامام الوقت: ا ل ا م ا م ا ل و ق ت : ۱+۳۰+۱+۴۰+ ۱+۴۰+۱ +۳۰+ ۶+۱۰۰ +۴۰۰ برابر ہے ۶۵۰، ۰+۵+۶ برابر ہے ۱۱، ۱+۱ برابر ہے ۲ جواب۔
پس معلوم ہوا کہ الٓمّٓ کے معنی الامام الوقت یعنی امامِ حاضر ہیں۔
نمبر۷: الٓمّٓ کے حروف تین ہیں یعنی ا ل م ۔ ان میں الف کا اشارہ امام علیہ السّلام کی عقل کی طرف ہے، لام کا ایماء امام کے نفس کی طرف ہے اور میم کا رمز امام کے جسم کی طرف ہے، کیونکہ امامؑ عقلِ کُلّ، نفسِ کُلّ اور جسمِ کُلّ کا مظہر ہیں، چنانچہ امامؑ کی جسمانیّت علم الیقین، روحانیت عین الیقین اور عقلانیت حق الیقین کی حیثیت رکھتی ہے، اسی لئے امام علیہ السّلام وہ کتاب ہیں کہ جس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
۶۵
سوال نمبر۳
محترم غلام عباس ساکن مرتضیٰ آباد بالا، ہونزا۔ فی الحال مقیم کراچی ۔ سورۂ اعراف کی آیت نمبر ۴۰ کی حکمت پوچھتے ہیں:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ تحقیق جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا، تو ان کے واسطے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور وہ بہشت میں داخل نہ ہوں گے۔ یہاں تک سوئی کے ناکے میں سے اونٹ گزرجائے اور ہم اسی طرح گناہگاروں کو سزادیتے ہیں۔(۰۷: ۴۰)
جواب
جاننا چاہئے کہ آیۂ مذکورۂ بالا میں “آیات اللہ” کا ذکر آیا ہے اور آیات اللہ یعنی خدا کے معجزات یا خدا کی نشانیوں کی مراد أئمّۂ آلِ محمد علیہم السّلام ہیں، چنانچہ روئے زمین پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے معجزات اور نشانیاں یہی أئمّۂ طاہرین علیہم الصلوات والسّلام ہیں، جیسا کہ مولانا مرتضیٰ علی علیہ السّلام کا ارشادِ گرامی ہے کہ : اَنَا اٰیَاتُ اللّٰہِ وَاَمِیْنُ اللّٰہ یعنی میں خدا کے معجزات اور
۶۶
اس کے علم و حکمت کا امانتدار ہوں۔ (مناقبِ مرتضوی فارسی ص ۷۷) یہ ارشادِ مبارک نورِ امامت کا ہے، جو اس وقت مولانا مرتضیٰ علیؑ میں جلوہ گرتھا اور یہی نورِالٰہی جملہ أئمّۂ کرامؑ کے سلسلے میں جلوہ فگن ہوتے ہوئے آیا ہے ۔
اب اس حقیقت کا ثبوت کہ أئمّۂ برحق علیہم السّلام آسمانِ روحانیّت اور نورِالٰہی کے ابواب ہیں، یہ ہے جو حضرت مولانا علی صلوات اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ: اَنَابَابُ اللّٰہِ الَّذِیْ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْابِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْاعَنْھَا لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ۔ (مناقبِ مرتضوی فارسی ص ۷۶)۔ یعنی میں خدا کا وہ دروازہ ہوں کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے۔
دوسرا ثبوت ان دومشہور حدیثوں سے ظاہر ہے کہ حضورِ اکرمؐ علمِ الٰہی کا شہر ہیں اور مولانا علیٔ مرتضیؑ اس کا دروازہ ہیں، نیز سرورِ کائنات حکمتِ لم یزلی کا گھر ہیں اور جناب مرتضیٰؑ اس کا دروازہ ہیں، پھر اس سے یہ معلوم ہوا کہ امام ہی کے دروازے سے داخل ہونے کے بعد خدا اور رسولؐ کا علم و حکمت اور نورِ ازل ضرور مل جاتا ہے، پس ظاہر ہے کہ أئمّۂ برحقؑ اپنے اپنے وقت میں آسمانِ روحانیّت (یعنی نورِالٰہی) کے دروازے ہیں، جن کے کھل جانے سے مومنین بہشتِ برین میں داخل ہوجاتے ہیں اور ان کے ماسوا کو بہشت میں داخل ہوجانا اتنا ناممکن ہے، جتنا کہ اونٹ کو سوئی کے ناکے سے گزرجانا۔
۶۷
سوال نمبر۴
اسی طرح محترم امین مہروانی صاحب سورۂ فلق کی حکمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔
جواب
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
قُلْ۔ کہئے یعنی اے رسولِ اکرمؐ آپ ذاتی طور پر نیز اولواالامر (یعنی أئمّۂ برحق) علیہم السّلام کے توسط سے ظاہراً اور باطناً لوگوں کو بطورِ تعلیم بتلا دیجئے۔
اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔ کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں یعنی نور کے مالک کی پناہ میں اپنے آپ کو محفوظ رکھتا ہوں۔
مِنْ شَرِّ مَاخَلَقَ۔ بُرائی سے جو پیدا کی ہے یعنی ہر اس بُرائی سے جو موجود ہے اور دینی اعتبار سے مضر اور نقصان دہ ہے۔
۶۸
وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَاوَقَبَ۔ اور تاریکی کردینے والی چیز کی بُرائی سے جب چھپ جائے یعنی اس شخص کی بُرائی سے بھی نور کے مالک کی پناہ لیتا ہوں، جو اپنی طرف سے دین میں جھوٹی روایتوں کی تاریکی پھیلاکر کہتا ہے، کہ یہ پیغمبرؐ کی حدیث ہے، یا کہتا ہے کہ یہ فلان امام کا قول ہے وغیرہ اور اسی طرح وہ اس قول میں اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتا، جب ایسی باتیں پیغمبرؐ اور امامؑ کی نہیں، بلکہ یہ اس شخص کی جھوٹی باتیں ہیں تو یہ جہالت اور نافرمانی کی تاریکی ہے اور وہ شخص دین میں ایسی روحانی تاریکی پھیلا کر خود چھپ جاتا ہے، پس ایسے آدمی کی بُرائی سے بھی نورِامامت کی پناہ لینی چاہئے۔
وَمِنْ شَرِّالنَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ ۔ اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کی بُرائی سے۔ اس کی تاویل یہ ہے کہ صاحبِ امر علیہ السّلام دینی اور علمی اعتبار سے مرد کے درجے پر ہیں اور دوسرے تمام لوگ عورت کے درجے پر ہیں (ملاحظہ ہووجہِ دین حصّۂ دوم ص ۲۰۱-۲۱۰) جس طرح جادوگر عورتیں دھاگوں کی گرہوں میں منتر پھونک کر کسی پر جادو چلاتی ہیں، اسی طرح صاحبِ امرؑ کے مخالف علماء جو دین میں عورت کے مقام پر ہیں، دین کی آسان اور سادہ باتیں الجھا الجھا کر پیچیدہ مسائل بناتے ہیں اور ایسے مسائل کی گرہوں میں یہ مقصد پھونکتے ہیں کہ لوگ اس جادو کے اثر سے یہ ماننے کے لئے مجبور ہو جائیں کہ ایسے مسائل کا جاننے والا دینی علم میں یگانۂ روزگار ہے، اسی طرح مخالف علماء امامِ برحقؑ کی معرفت سے لوگوں کو بھٹکا دیتے ہیں۔ پس ان دینی جادوگروں کی بُرائی سے بھی نورِامامت کی پناہ لینی چاہئے۔
۶۹
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍاِذَاحَسَد۔ اور حسد کرنے والے کی بُرائی سے جب حسد کرتا ہے یعنی جب پیغمبرؐ یا امامِ برحقؑ نورِ ہدایت کی روشنی میں کامیابی سے مومنین کی رہنمائی کرتے ہیں تو اس وقت ان کے دشمن حسد کرتے ہوئے ہر طرح کے مکرو حیلہ اور ہر قسم کی بُرائی سے کام لینے لگتے ہیں اور ایسا وقت بھی بڑا خطرناک ہوتا ہے، پس مومن کو چاہئے کہ ایسے وقت میں بھی اپنے آپ کو نورِامامت کی ہدایت میں محفوظ رکھے۔
۷۰
سوال نمبر۵
محترم فتح علی حبیب آدم کالونی لسبیلا ہاؤس کراچی نمبر ۵ کی معرفت میری ایک روحانی بہن آیۂ درجِ ذیل کی حکمت پوچھتی ہیں:
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُاَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ط وَ مَنْ یُّشْرِکْ بِا للّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً بَعِیْدًا(۰۴: ۱۱۶)۔
بے شک اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا یہ کہ اس کے ساتھ شریک لایا جائے اور بخشتا ہے سوائے اس کے جس کو چاہے اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شریک لائے پس تحقیق گمراہ ہوا گمراہی دور کی۔
جواب
اس آیۂ کریمہ سے یہ مطلب صاف طور پر ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک لانا ایک ایسا گناہِ کبیرہ ہے جو بخشا نہیں جاسکتا اور یہ ایک ایسی دور کی گمراہی ہے جس سے واپس سیدھی راہ پر کوئی انسان آ ہی نہیں سکتا، جب اس ارشادِ الٰہی کے بموجب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ شرک کا نتیجہ صراطِ مستقیم سے گمراہی اور حق تعالیٰ کی بخشش سے محرومی ہے، تو اس کے معنی یہ
۷۱
ہوئے کہ توحید کا نتیجہ راہِ راست کی ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی بخشش ہے، پس جو لوگ سرچشمۂ ہدایت یعنی امامِ حاضرؑ کے امرو فرمان سے وابستہ ہوں تو وہ اہلِ توحید ہیں اور شرک سے یہ بہت دور ہیں اور امام علیہ السّلام کے سرچشمۂ ہدایت ہونے میں مومن کو کوئی شک نہیں، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے کہ:
اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِر’‘وَ لِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ(۱۳: ۰۷)۔
یعنی اے رسول اکرمؐ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم (یعنی ہر زمانے کے لوگوں) کے لئے ایک ہادی ہوا کرتا ہے اور معتبر سندوں سے یہ حقیقت ثابت ہے کہ یہ آیۂ کریمہ نورِ امامت کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
چنانچہ جاننا چاہئے کہ شرک کی بہت سے قسمیں ہیں اور ان میں سب سے بڑا شرک یہ ہے کہ کوئی شخص خلیفۂ خدا یعنی امامِ زمانؑ کے ساتھ شریک ٹھہرائے۔ دیکھئے وجہ ِ دین حصّۂ دوم ص ۱۸۱- ۱۸۸، جیسا کہ ابلیس نے اپنے آپ کو خلیفۂ خدا یعنی حضرت آدم علیہ السّلام کے ساتھ شریک ٹھہرایا اور کہا کہ میں آدم سے بہتر ہوں۔ پس اس کا یہ گناہ یعنی شرک ایسا سنگین تھا کہ نہیں بخشا گیا۔
یہی واقعہ حضرت نوح علیہ السّلام کے زمانے میں بھی ہوا کہ جو لوگ غرقابی کی وجہ سے ہلاک ہوئے وہ دراصل مشرک تھے، کیونکہ انھوں نے اپنی عقل کو خلیفۂ خدا کی عقل پر ترجیح دی اور اس کو دنیا والوں سے بے نظیر نہیں مانا، پس وہ لوگ ہادیٔ برحقؑ کی ہدایت سے انکار کرکے گمراہی میں اس قدر دور
۷۲
گئے، کہ ان کا دوبارہ راہِ راست پر آنا ناممکن تھا اور سب سے بڑا شرک کی علامت بس یہی تھی کہ اس کے بعد ہدایت اور مغفرت کا کوئی ذریعہ باقی نہ رہا۔
حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے زمانے میں نمرود اور اس کی قوم جو مچھروں کے تباہ کن حملے سے ہلاک ہوگئی، اس کا سبب بھی یہی تھا کہ انھوں نے اپنے خلیفۂ وقت یعنی ابراہیم خلیل اللہؑ کو عقل و دانش کے اعتبار سے حقیر سمجھا۔ پس یہ بات حقیقت میں ایسی تھی جیسے انھوں نے (نعوذ باللہ) خدا کو حقیر سمجھا، آخر کار یہ لوگ ہدایت کے مرکز سے جدا ہوکر بہت دور کے گمراہ اور سب سے بڑے گناہ کے مرتکب ہوگئے، پس شرک کے معنی یہی ہیں۔
چنانچہ یہی انجام ان تمام امتوں کا بھی ہوا جو دوسرے پیغمبروں کے زمانے میں تھیں، جنھوں نے اپنے پیغمبروں کو خلافت و نیابتِ الہٰیّہ میں بے شریک اور رشد و ہدایت میں یکتا نہیں مانا، پس وہ لوگ مشرک ہوگئے۔
اب اگر کوئی شخص مذکورۂ بالا حقائق کے باوجود بھی یہ اعتراض اٹھائے کہ شرک کے معنی یہ ہرگز نہیں کہ خلیفۂ خدا یعنی پیغمبرؐ یا امامؑ کو لوگوں میں بے نظیر اور یکتا نہیں ماننا، بلکہ اس کے معنی ہیں خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا، جیسے آیۂ درجِ بالا سے یہ مطلب ظاہر ہے تو اس کے لئے میرا جواب یہ ہے کہ:
انبیاءُاللہ کے تذکروں سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جس ملک اور جس قوم میں بُت پرستی کا آغاز ہوا یا جہاں کسی کافر بادشاہ نے “میں خدا
۷۳
ہوں” کا نعرہ لگانا شروع کیا، تو اللہ تعالیٰ نے وہاں اپنی رحمت سے کسی پیغمبر کو مبعوث فرمایا، تاکہ بُت پرستوں اور خدائی کے دعویٰ گروں کو ہدایت کردی جائے، پس اگر یہ شرک وہ آخری شرک ہوتا جس کے بعد کوئی بخشش نہیں اور یہ گمراہی وہ انتہائی دور کی گمراہی ہوتی جس کے بعد ہدایتِ الٰہی کا کوئی ذریعہ باقی نہیں، بلکہ ایسے مجرموں کو کسی مہلت کے بغیر ابدی عذاب میں داخل کر دینا ہے، تو اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت اور بخشش کے لئے پیغمبر مبعوث نہ فرماتا، چنانچہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ نمرود نے جب خدائی کا دعویٰ کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے پاس حضرت ابراہیمؑ کو بھیجا اور جب فرعون نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کے پاس حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ بھیجے گئے، پس معلوم ہوا کہ
بُت پرستی، خود پرستی وغیرہ شرک ضرورہیں، مگر یہ آخری اور سب سے بڑا شرک ہرگز نہیں، چنانچہ بُت پرست اور خود پرست کافروں کا آخری فیصلہ قانونِ الٰہی کی رو سے اس طرح ہونا تھا کہ ان میں سے جو کوئی خلیفۂ خدا کے فرمان کو قبول کرے تو اس کے سب اگلے گناہ معاف کئے جائیں اور جو اس کے امر سے روگردان ہو تو اسے انتہائی دور کا گمراہ اور پرلے درجے کا مشرک قرار دے کر داخلِ جہنم کردیا جائے۔
سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر۱۵ (۱۷: ۱۵) کے ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم یا فرد کو اس کے کسی گناہ کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہیں فرماتا، جب تک کہ کسی پیغمبر کے ذریعے سے اسے ہدایت نہ پہنچادے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایک انسان خدا کی ہستی سے منکر ہوجائے یا بُت پرستی کرے یا خدا
۷۴
کے ساتھ شریک ٹھہرائے تو پھر بھی قانونِ الٰہی کی رو سے اس کا یہ گناہ آخری حد کا نہیں ہوتا، کہ اس کو کسی تاخیر و مہلت کے بغیر دائمی عذاب میں گرفتار کر دیا جائے، بلکہ پیغمبرؐ یا امامؑ یا پیر یا داعی وغیرہ کے توسط سے ایسے شخص کو ہدایت پہنچادی جاتی ہے، کیونکہ یہ ممکنات میں سے ہے کہ وہ اس ہدایت کے باعث اپنے گناہ سے باز آئے اور اگر اس نے پیغمبر اور امام علیہما السّلام کے امر سے سرکشی کی تو بس اسے قطعی مشرک قراردے کر داخلِ جہنم کردیا جاتا ہے۔
۷۵
سوال نمبر ۶
میری خواہرِ روحانی مس زرینہ محمد مہر علی کراچی نمبر۵ سے لکھتی ہیں: “معزّز و محترم نصیر صاحب یاعلی مدد! براہِ کرم آپ ہمیں سورۂ فلق کی آیت: وَمِنْ شَرِّالنَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ (۱۱۳: ۰۴) کی حکمت سمجھا دیجئے۔”
جواب
میری روحانی بہن! مولا علی مدد! واضح ہو کہ سوال نمبر ۴ میں میرے عزیز امین حاجی مہروانی صاحب نے پوری سورۂ فلق کے متعلق پوچھا تھا، لہٰذا میں نے ان کے جواب میں سورۂ فلق کی تفسیر و تاویل لکھی ہے، جس میں آپ کے اس سوال کا جواب تفصیلاً موجود ہے تاہم یہاں بھی اختصار سے لکھ دیتا ہوں کہ:
وَمِنْ شَرِّالنَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ: اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کی بُرائی سے (بھی نور کے مالک کی پناہ لیتا ہوں) اس کی تاویل یہ ہے کہ صاحبِ امرؑ دینی و علمی اعتبار سے مرد کے درجے پر ہیں اور دوسرے تمام لوگ عورت کے درجے پر ہیں (ملاحظہ ہو: وجہِ دین حصّۂ دوم ص ۲۰۱-۲۱۰) جس طرح جادوگر عورتیں دھاگوں کی گرہوں میں منتر پھونک کر کسی پر جادو چلاتی ہیں، اسی طرح صاحبِ امرؑ کے مخالف علماء جو دین میں عورت کے مقام پر ہیں، دین کی آسان اور سادہ باتیں الجھا الجھا کر پیچیدہ مسائل بناتے ہیں اور ایسے مسائل کی گرہوں میں یہ مقصد پھونکتے ہیں، کہ لوگ اس جادو کے اثر سے یہ ماننے کے لئے مجبور ہوجائیں، کہ ایسے مسائل کا جاننے والا دینی علم میں زبردست عالم ہے اور اس کا کوئی ثانی نہیں، اسی طرح مخالف علماء امامِ حقؑ کی معرفت سے لوگوں کو گمراہ کردیتے ہیں، پس ان دینی جادوگروں کی بُرائی سے بھی نورِ امامت کی پناہ لینی چاہئے۔
۷۶
سپاسنامہ
آج ہم اس مجلس میں اپنے علمی و روحانی معلمِ خصوصی علّامہ نصیرالدّین نصیرؔہونزائی صاحب ( جو کہ ایک طویل مدّت ہمارے درمیان رہ کر ہمیں روحانیت کی ہر اعلیٰ قسم کے علم کی روشنی سے منوّر کرنے کے بعد طبیعت کی ناسازگی کی وجہ سے کچھ وقت کے لئے ہم سے رخصت ہو رہے ہیں) کی خدمت میں نذرانۂ عقیدت و محبت پیش کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔
اہلِ دانش اور علم دوست حضرات میں بہت ہی کم افراد ایسے ہوں گے جو علّامہ نصیر الدّین صاحب کی شخصیّت سے ناواقف ہوں اور ان کے روحانی علوم و معارف سے فیضیاب نہ ہوئے ہوں، چنانچہ گزشتہ چھ سات سال سے اسماعیلیہ ایسوسی ایشن کے زیرِ تربیت واعظین جس کامیاب طریق پر علمِ حقیقت کی روشنی سے منوّر ہوئے ہیں، اس کا سہرا بالخصوص علّامہ نصیرالدّین کے سر پر ہے۔
علّامہ نصیرالدّین صاحب نے اسماعیلیہ ایسوسی ایشن کے زیرِ نگرانی واعظین کو جس بہتر اصول سے تعلیم دی ہے، اس کی ایک زندہ مثال وہ
۷۷
واعظین ہیں جو آج سے پہلے تقریباً تین سال تک آپ کے زیرِ تعلیم رہے، اور اس وقت وہ تمام اعلیٰ پائے کے واعظین میں اپنا درجہ رکھتے ہیں، یہاں ان سے میرا مطلب وہ طالبِ علم ہیں جو بمبئی، مڈغاسکر، ڈھاکہ اور مغربی پاکستان کے دیگر علاقوں سے آئے تھے، جو علّامہ صاحب کی صحبت میں رہ کر بہت ہی کم عرصے میں عدیم المثال ترقی کرکے علم کے آسمان کے روشن ستاروں کی طرح چمکنے لگے۔
علّامہ نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی صاحب کی شخصیّت کے مختلف پہلوؤں کے متعلق کچھ کہنا کوئی نئی بات نہیں ہے، کیونکہ ایک خوشبودار پھول کے بارے میں جبکہ اس میں سے ہمیشہ خوشبو مہک رہی ہو، یہ کہنا کہ اس میں خوشبو ہے کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ اس کے متعلق کچھ بیان کئے بغیر بھی لوگ اس کی خوشبو کو محسوس کرلیتے ہیں اور اس کے بارے میں یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ اس میں خوشبو ہے، اسی طرح علّامہ صاحب جو کہ مولائے زمین و زمان کی روحانیّت اور عشق کے باغ کے پھول کی حیثیّت سے ہیں اور جس سے ہمیشہ معرفت کی خوشبو مہک اٹھتی ہے ان کے متعلق جو بھی تعریف و توصیف کے طور پر کہا جائے وہ ان کی شخصیّت کو عیان نہیں کرسکتا، جو صاحبان پندرہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے علّامہ صاحب کی علمی صحبت میں رہے ہیں، وہ بھی ان کے علم کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
حجتِ خراسان پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرّہ‘ کے علوم اور فلسفے (جو اسماعیلی دین کے بنیادی فلسفے کی حیثیّت سے ہیں) کو جس حد تک آپ حضرت
۷۸
نے سمجھا ہے، شاید ہی کوئی اور سمجھا ہواور یہی وجہ ہے کہ آپ کا طریقِ تعلیم و تصانیف کافی حد تک حکیم ناصر خسرو قدّس اللہ سرّہ‘ سے مشابہ ہے، اس میں کوئی مبالغہ نہیں، جبکہ ہماری موجودہ اسماعیلی جماعت جو ہندوستان، پاکستان اور افریقہ کے مختلف علاقوں میں بستی ہے، ناصر خسرو کی تعلیمات سے بالکل بے بہرہ ہے، بلکہ اس حد تک کہ ہماری جماعت کی اکثریت حکیم ناصر خسرو حجتِ خراسان کے نام سے بھی واقف نہیں، ایسی حالت میں علّامہ صاحب کا یہ ایک عظیم کارنامہ ہے، کہ انھوں نے حکیم ناصر خسرو کی گرانمایہ تصنیف “وجہِ دین” جیسی ضخیم کتاب کا اردو ترجمہ کرکے اسماعیلی مذہب و قوم کی ایک عظیم خدمت انجام دی ہے، اس کے علاوہ آپ کی دیگر تصنیفات بھی حکیم ناصر خسرو (ق س) کے فلسفے کو سمجھنے میں بڑی مدد دیتی ہیں، آپ کی چند تصنیفات جیسے میزان الحقائق، سلسلۂ نورِ امامت اور مفتاح الحکمت ایسی کتابیں ہیں، جن میں موجودہ سائنسی انکشافات کے بعد پیدا ہونے والے تمام سوالات کے جوابات سمودیئے گئے ہیں، آپ نے اپنی ایک کتاب “فلسفۂ دعا” میں ہماری مقدّس دعا کے فلسفے اور حکمت کو جس خوش اسلوبی سے اجاگر کردیا ہے، اس کو دیکھ کر ایک علم شناس شخص بے ساختہ یہ کہہ اٹھتا ہے کہ آج تک کسی بھی اسماعیلی عالم کی نگاہ اس گہرائی تک نہیں پہنچی ہے۔
بعض اوقات جماعت کے چند افراد آپ حضرت کی تصنیفات کے متعلق پریشانی اور الجھن کا اظہار کرتے ہیں، کہ نصیر کی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں لیکن حقیقت یہ ہے آپ کی تعلیمات و تصنیفات سے کما حقہٗ
۷۹
مستفیض وہی شخص ہوسکتا ہے جو آپ کے طریقِ تعلیم اور طرزِ تصنیف سے مانوس ہو، چنانچہ جو شخص جتنا زیادہ وقت آپ کی صحبت میں گزارے وہ بہتر طریقے سے آپ کے علم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، کیونکہ علمِ حقیقت اور تاویل کے میدان میں کوئی نووارد آپ کے علم سے فوراً کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتا، بلکہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ کی صحبت میں رہ کر یا آپ کی تمام کتابوں کو بار بار پڑھ کریا آپ کی جملہ تقاریر میں حاضر ہوکر، ان کو سن کر، ان پر غور و فکر کرے یا آپ سے تعلیم حاصل کرنے والے کسی طالبِ علم کے ساتھ کچھ وقت رہ کر نصیر صاحب کے طرزِ تعلیم کا مطالعہ کرے، تب ہی وہ اپنے دل میں علمِ حقیقت کی کوئی بات اتار سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ علّامہ نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی صاحب ایک بہت بڑے عالم ہیں، لیکن ان کے علم کو کتاب کی طرف منسوب کرنا یعنی یہ کہنا کہ آپ نے اس علم کو ہزاروں کتابیں چھان مارنے کے بعد حاصل کیا ہے، آپ کی علمی حیثیّت کے ساتھ بڑی بے انصافی ہے، چونکہ آپ کا یہ علم کتابی نہیں ہے چنانچہ جو حضرات برسوں سے آپ کے زیرِ تعلیم رہے ہیں، وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ حقائق و معارف کے سمجھانے میں آپ نے نہ تو کبھی کسی غیر اسماعیلی مصنف کی کتاب سے کوئی مدد لی ہے اور نہ ہی قرآن و حدیث اور چند اسماعیلی کتب کے سوا کسی اور کتاب کا حوالہ دیا ہے، آپ کا یہ علم عطائی علم ہے اور یہ تو آپ سے تعلیم پانے والا کوئی شاگرد ہی سمجھ سکتا ہے کہ آپ ایک پیرِ کامل اور روحانی بزرگ کی طرح وہی کچھ بتاتے ہیں، جو
۸۰
عبادت اور ریاضت کے درمیان آپ کے تجربات میں آئے ہیں۔
علّامہ نصیرالدّین نصیرؔ ہونزائی صاحب کے اخلاقِ حسنہ کے متعلق کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، کیونکہ آپ سرتا پا اخلاقِ حسنہ کے جواہر سے مزّین ہیں، ایک طویل مدّت تک آپ کی علمی صحبت میں رہنے والے کسی بھی شاگرد نے کبھی آپ کو ناراض، چین بجبین یا کسی کو علمی یا روحانی مشورہ دیتے ہوئے تھکاوٹ یا بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، آپ چاہے کتنے بھی مصروف کیوں نہ ہوں، جسمانی طور پر اپنی عمر کے تقاضے کے مطابق کتنے تھکے ہوئے کیوں نہ ہوں، جب کبھی آپ سے کسی شاگرد نے علمی یا روحانی مشورہ چاہا، تو آپ اس کے ساتھ پدرانہ شفقت سے پیش آتے اور جب تک وہ شاگرد مطمئن ہوکر خود رخصت نہ ہوجائے، آپ اسے رخصت ہونے کو نہیں فرماتے۔
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ آپ اپنی کچھ جسمانی تکلیف اور نادرستیٔ صحت کی وجہ سے کچھ مدّت کے لئے ہم سے جدا ہورہے ہیں، لیکن ہم اپنے محترم استاد کو یقین دلانا چاہتے ہیں، کہ اس مختصر عرصے میں بھی ان کے بغیر ہمیں علمی طور پر بہت کچھ کمی محسوس ہوگی اور ہماری روح آپ کے علم سے مستفیض ہونے کے لئے پھر سے ملنے تک بے چین رہے گی، پھر بھی ہم امید کرتے ہیں کہ جیسا کہ آپ حضرت نے ہمیشہ کیا ہے، ایسا اس مرتبہ بھی بوقتِ ضرورت خط و کتاب کے ذریعہ ہماری رہنمائی فرماتے رہیں گے۔
اخیر میں مولائے زمین و زمان کی بارگاہ میں دل کی گہرائیوں سے ہماری دعا
۸۱
ہے، کہ مولا آپ کو جلد از جلد صحت یاب کردے! لمبی سے لمبی پُرصحت عمر عطا فرمائے! قوم اور مذہب کی خدمت کرنے کی اور بھی توفیق و ہمت عطا فرمائے اور ہمیں آخری دم تک آپ سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع عنایت فرمائے! آمین!
منجانبِ واعظین کلاس، اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان
ماہِ اگست ۱۹۷۰ء
۸۲
ابجد کے اعداد
ا ب ج د ھ و ز
۱ ۲ ۳ ۴ ۵ ۶ ۷
ح ط ی ک ل م ن
۸ ۹ ۱۰ ۲۰ ۳۰ ۴۰ ۵۰
س ع ف ص ق ر ش
۶۰ ۷۰ ۸۰ ۹۰ ۱۰۰ ۲۰۰ ۳۰۰
ت ث خ ذ ض ظ غ
۴۰۰ ۵۰۰ ۶۰۰ ۷۰۰ ۸۰۰ ۹۰۰ ۱۰۰۰
نوٹ: بسلسلۂ “قرآنی سوال و جواب” سوال نمبر ۲ میں یا دیگر اسماعیلی کتب میں جہاں کہیں بھی عددی تاویل اور علمِ جفر کی روشنی میں جو دلائل یا جوابات دیئے گئے ہیں، ان کو سمجھنے کے لئے اس جدول کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
۸۳
چند علمی سوالات
(اسی کتاب کو بار بار پڑھ کر یہ اور اسی قسم کے دوسرے بے شمار سوالات حل کئے جا سکتے ہیں)۔
۱۔ سیّارۂ زمین کا اوّلین انسان کس نام سے مشہور ہے؟
۲۔ علمِ روحانیّت کی تاریخ انسانیت سے بھی زیادہ قدیم ہونے کا ثبوت کیا ہے؟
۳۔ کیا آنے والے زمانے میں علمِ روحانیّت کی زیادہ سے زیادہ ضرورت پیش آئے گی اور کیوں؟
۴۔ نظریۂ اسماعیلیّت کے مطابق روحانیّت کی تعریف کیا ہے؟
۵۔ نورِ مطلق کسے کہتے ہیں؟
۶۔ روح الاعظم، روح الوحی، روح الارواح، روح الایمان، روح الرّوح، روحِ عالم، روح القرآن، اور روح الذّکر میں سے ہر ایک کی جدا جدا تشریح کیجئے۔
۸۴
۷۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پاک نور سے حضرت آدم علیہ السّلام کی ذات کو کس طرح منوّر کردیا؟
۸۔ روح کے لطیف و بسیط ہونے کا مطلب سمجھاؤ۔
۹۔ قرآنِ حکیم میں زیادہ سے زیادہ کتنی آیتوں میں روح اور روحانیّت کا تذکرہ آیا ہے؟ ان کے حوالے دیجئے۔
۱۰۔ پانی اور سمندر کی مثالوں سے روح کی کچھ حقیقتیں سمجھا دیجئے۔
۱۱۔ کیا حقیقت کی رو سے سارے انسان بنی آدم کہلا سکتے ہیں؟ یا ان میں کچھ تخصیص بھی ہے؟
۱۲۔ عزرائیلؑ کس طرح روحوں کو قبض کرلیتا ہے؟
۱۳۔ کیا پنج تنِ پاکؑ میں مجموعاً ایک روح تھی یا پانچ روحیں؟
۱۴۔ حزب اللہ پر ایک چھوٹا سا مضمون لکھئے۔
۱۵۔ روح الامین کے بارے میں پانچ سوال ایسے لکھئے جو اس کتاب کے پڑھنے سے پیدا ہوئے ہیں۔
۱۶۔ حق تعالیٰ کے کلام اور وحی میں کیا فرق ہے؟ نیز بتائیے کہ وحی کی کتنی قسمیں ہیں؟
۱۷۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ظاہراً کوئی عورت پیغمبر نہیں ہوئی ہے، لیکن اگر کوئی شخص یہ منطقی سوال پیش کرے، کہ پیغام بر (پیغمبر) کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم لانے والے کو، چنانچہ حضرت مریمؑ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم بطورِ اشارہ لوگوں سے کہہ دینا کہ میں نے آج نہ بولنے کا روزہ رکھا
۸۵
ہوا ہے، اس لئے میں تمہارے ساتھ گفتگو نہ کروں گی اور یہ حکم اس نے پہنچا دیا۔ ایسے سوال کا مناسب اور موزون جواب کیا ہونا چاہئے؟
۱۸۔ بتائیے کہ حضورِ اکرمؐ کے سینۂ مبارک کو کس طرح پاک وصاف اور کشادہ کردیا گیا تھا؟
۱۹۔ حق تعالیٰ نے آیۂ نور میں فرمایا ہے، کہ میں خود بلندی و پستی کا نور ہوں پھر اسی آیت میں مثال دیتے ہوئے بہ اندازِ حکمت یہ ارشاد فرماتا ہے کہ ایسا نور میرا نور ہے، کیا آپ اس کی عظیم ترین حکمت کو سمجھ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو آپ اپنی ذات کے متعلق سوچ کر بتایئے کہ “میں” اور “میرے” کے درمیان کیا فرق ہے؟ مثلاً آپ جب کہتے ہیں کہ میری عقل، میری روح اور میرا جسم ، پھر ان الفاظ کے کہنے کے بعد بتایئے کہ “میں” کس حقیقت کا نام ہے؟
۸۶
دُعا مغزِ عبادت
دعا مغزِ عبادت
ایک خاص حسین عالم
عزیزانِ علمی، محترم جنت علی (حسینی غلام) ان کی فرشتہ جیسی نیک سیرت اہلیہ محترمہ شاہ بی بی، اور معزز افرادِ خاندان کی یہ ایک بہت بڑی سعادت ہے کہ ایک نامور علمی ادارے کی تاریخ میں ان کے حسنِ عمل کا ذکرِ جمیل (ان شاء اللہ) ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہے گا۔
مولائے پاک و مہربان کے فضل و کرم سے اس مشترکہ دنیا میں ہمارے عزیزوں کی پیاری پیاری کتابوں کا ایک انتہائی حسین عالم بھی ہے، اس میں جب اور جہاں “شاہ بی بی برانچ” یا کسی دوسری برانچ یا کسی عظیم کارکن کا نام اور تذکرہ آتا ہے تو اس مقام پر ہر ذی شعور انسان نہ فقط محوِ حیرت ہو جاتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس کے دل میں حقیقی عزت و احترام کا ایک بےمثال جذبہ بھی ابھرتا ہے۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
نصیر الدین ہونزائی ’’لسان القوم‘‘
۲۰ اکتوبر ۱۹۹۳ء
دیباچۂ طبعِ سوم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یا اللہ! اپنی قدیم ذات و صفات کی حرمت سے، یا الٰہی! اپنے اسماء الحسنیٰ اور کلماتِ التّامات کی حرمت سے، یا ربّ العزت! اپنے جملہ سماوی و ارضی فرشتوں کی حرمت سے، یا خداوندا! اپنی ساری آسمانی کتابوں اور نوشتوں کی حرمت سے، اے معبودِ برحق! اے دانائے مطلق! اپنے انبیائے کرام علی الخصوص حضرتِ محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی حرمت سے، اے خالقِ انس و جان! اے پروردگارِ عالمیان! آلِ محمدؐ کے أئمّۂ ھُدا کی حرمت سے۔
اے خلاقِ کون و مکان! دارندۂ زمین و آسمان! دانندۂ اسرارِ نہان! تیری ذاتِ پاک سے ہماری کوئی حالت پوشیدہ نہیں، تیرے عظیم احسانات و انعامات کی عاجزانہ شکرگزاری ہم سے کب اور کہاں ادا ہوگی، ہم آئینۂ دل کو تیرے ذکرِ جمیل کی تجلّیوں کے سامنے سے ہٹا کر اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں، اے آسمانی طبیب! اے عرشی ڈاکٹر! آ جا، آ جا، ہم ظاہراً و باطناً مریض ہیں، ازراہِ عنایت ہمارا علاج کر، اگر ہم سچ مچ مریض نہ ہوتے تو ذکر و عبادت کے دوران وسوسوں کے اژدھے کا لقمہ نہ بن جاتے، یا اللہ! اپنے نورِ منزل کے پاک عشق سے ہماری کل بیماریوں کا علاج کر، اے خداوندِ کریم! جب تو نے اپنے اس نورِ اقدس کو زمین پر نازل کر دینے سے دریغ
الف
نہیں فرمایا تو اب بےحد ضرورت اس بات کی ہے کہ ازراہِ بندہ پروری اس نورِ ہدایت سے ہمارے تنگ و تاریک دلوں کو وسیع و منور کر دے!
یا ربِّ غفور! تیری رحمت کا بحرِ بیکران کائنات و موجودات پر محیط ہے اور تیرے علم کا سمندر بحرِ رحمت پر حاوی ہے، اس سے ہمیں یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اگرچہ دوزخ (آتشِ جہالت) حق ہے، لیکن تو بالآخر سب کو بخشنے والا ہے، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دعا اور خیرخواہی کا دائرہ ہمہ رس اور ہمہ گیر ہو جائے، کیونکہ ہم نے قرآنِ پاک کی روشنی میں یہ دیکھا کہ فرشتے علم میں جتنے عظیم تر ہوتے ہیں، ان کی دعا کا دائرہ اتنا وسیع تر ہوتا ہے۔
یا ربّ العالمین! ہمیں ذکر و عبادت اور دعا کی بڑی سے بڑی حکمتوں کو سمجھنے کی ہمت و توفیق عطا کر دے، تا کہ اس کی خوبیوں سے جاذبیّت و کشش پیدا ہو سکے، کیونکہ حکمت دینِ حق کی سب سے بڑی دولت ہے، اور خیرِ کثیر (تمام تر خوبیاں) حکمت ہی سے وابستہ ہے، اور قرآنِ عظیم نے بڑی شان سے عقل و دانش کی تعریف کی ہے، پس مناسب نہیں کہ ہم کچھ سمجھے بغیر تقلید کی بندگی کریں، اس میں کوئی خاص فائدہ نہیں۔
میرے عزیز روحانی بھائیو اور بہنو! جملہ عبادات ضروری ہیں، لیکن دعا بےحد ضروری ہے، اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں بڑی کثرت سے دعا کا ذکر موجود ہے، اور اس میں اللہ کے برگزیدہ بندوں کی مقبول دعائیں بھی مذکور ہیں۔ دوسری دلیل: سورۂ فاتحہ کی اہمیّت و فضیلت سب پر عیان ہے کہ وہ ام الکتاب ہے جس کا نصفِ اوّل خدا کی حمد و ثنا
ب
پر مبنی ہے، اور نصفِ آخر میں نورِ ہدایت سے متعلق نہایت اہم دعا کی تعلیم دی گئی ہے۔
تیسری دلیل: اہلِ ایمان کے لئے بطورِ خاص حکم دیا گیا ہے کہ وہ امید و یقین کے ساتھ اللہ کو پکارا کریں۔ جیسے ارشاد ہے: وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ (۴۰: ۶۰) اور تمہارا ربّ کہتا ہے “مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا”۔ چوتھی دلیل: (ترجمہ:) اور (اے رسول!) جب میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتا دو کہ میں ان کے پاس ہی ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں، پس انہیں چاہئے کہ میرا ہی کہنا مانیں، اور مجھ پر (کماحقہ) ایمان لائیں، تا کہ وہ راہِ راست پر چل سکیں (۰۲: ۱۸۶)۔
پانچویں دلیل: قرآنِ حکیم کی دو پُرحکمت آیتوں (۰۶: ۵۲، ۱۸: ۲۸) کی روشنی میں یہ حقیقت معلوم ہو جاتی ہے کہ دینِ اسلام میں شروع ہی سے کچھ ایسے درویش صفت لوگ بھی موجود ہیں، جو دیدارِ خداوندی (وجھہ) کی غرض سے اجتماعی دعا پڑھتے ہیں، دیدارِ پاک کے اس انتہائی عظیم مقصد کی مناسبت سے ان کی درویشی اور صراطِ مستقیم پر روحانی ترقی کا ثبوت ملتا ہے۔ چھٹی دلیل: حدیثِ شریف ہے: الدعا مُخُّ العبادۃ = دعا مغزِ عبادت ہے (ترمذی: دعا)۔
ساتویں دلیل: کتاب الشّافی، جلدِ پنجم، کتاب الدّعا میں ہے: حضرتِ امام محمد باقر علیہ السّلام نے فرمایا: ۔۔۔۔۔ افضل العبادۃ الدعا = دعا
ج
سب عبادتوں سے افضل ہے، آپ سے اس آیۂ کریمہ کے بارے میں پوچھا گیا: اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ (۱۱: ۷۵) بے شک ابراہیم بڑا حلیم اور بہت آہیں بھرنے والا اور رجوع کرنے والا تھا۔ آپ نے جواب دیا کہ: وہ بہت زیادہ دعا کرنے والے تھے۔
الغرض اگر ہم دعا کی فضیلت پر دلائل لکھتے جائیں تو یہ دیباچہ اپنی حد سے زیادہ طویل ہو جائے گا، تاہم یہاں یہ ضروری سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ دعا میں اصل راز کیا ہے کہ قرآن و حدیث میں اس کی اتنی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا میں مناجات اور عاجزی کا موقع ہے، اور گریہ و زاری والی تسبیح پڑھی جاتی ہے، یہ بات الگ ہے کہ ہم آج کی مادّی ترقی کے طوفان میں دعا کی تمام شرطیں بھی پوری کر سکتے ہیں یا نہیں۔
دعا کی سب سے بڑی فضیلت یقیناً اس وجہ سے ہے کہ اس کا حکم اللہ، رسول، اور صاحبِ امر نے دیا ہے، اور یہی دین کا وہ حکم ہے، جس کے تحت ذکر و عبادت اور علم و عمل کی تمام خوبیاں آجاتی ہیں۔
اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ دینِ فطرت (یعنی اسلام) کی ہدایات و تعلیمات قانونِ فطرت کے مطابق ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ نہ صرف علوم ہی بلکہ عبادات بھی درجہ بدرجہ ہیں، کیونکہ قرآنِ کریم کی بہت سی آیاتِ مبارکہ میں صراطِ مستقیم کا ذکر ہے، اور اسی طرح دوسری متعدد آیات میں درجات کا تذکرہ ہے، پھر یہ امر لازمی ہے کہ درجات اور
د
کہیں نہیں بلکہ صراطِ مستقیم ہی پر ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ دینِ فطرت میں یقیناً ترقی ہے، جیسے درجِ ذیل حدیث سے ظاہر ہے:
“الشریعۃ اقوالی، و الطریقۃ افعالی، و الحقیقۃ احوالی، و المعرفۃ سری = شریعت میرے اقوال کا نام ہے، طریقت میرے اعمال کا، حقیقت میری باطنی کیفیت کا، اور معرفت میرا راز ہے”۔
سید امیر علی کی مشہور کتاب “سپرٹ آف اسلام” کا اردو ترجمہ “روحِ اسلام” ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ نے شائع کر دیا ہے، اس کے صفحہ ۳۰۵ کے آخر میں ایک حدیثِ نبوّی کا ترجمہ اس طرح سے درج ہے: “تم لوگ ایک ایسے دور سے گزر رہے ہو کہ اگر تم احکام کے دسویں حصے سے بھی تغافل برتو تو برباد ہو جاؤ گے، اس کے بعد ایک ایسا وقت آئے گا کہ اُس وقت جو احکام دیئے گئے ہیں اگر کوئی ان کے دسویں حصّے پر بھی عمل کرے گا تو اُسے نجات نصیب ہو جائے گی۔”
صفحہ ۳۰۶ پر اصل حدیث اس طرح ہے: عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انکم فی زمان من ترک منکم عشر ما امر بہ ہلک ثم یاتی زمان من عمل منھم بعشر ما امر بہ نجا۔ رواہ الترمذی۔ (بحوالۂ ترمذی و مشکوٰۃ)۔
اس کتاب کا نام اب “دعا مغزِ عبادت” مقرر ہوا ہے، یہ اس حدیثِ شریف سے لیا گیا ہے: الدعاء مخ العبادۃ (دعا عبادت
ہ
کے مغز کا درجہ رکھتی ہے) قبلاً فلسفۂ دعا کے نام سے شائع ہوئی تھی، میں یہاں اپنی جماعتِ باسعادت کے ہوش مند قارئین کو عاجزانہ و مخلصانہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ مقدّس دعا سے متعلق وسیع تر معلومات کی خاطر دو اور مفید کتابوں کو بھی پڑھ لیں، وہ جناب ڈاکٹر (پی۔ ایچ۔ ڈی) فقیر محمد صاحب ہونزائی کی کتاب “برکاتِ دعا” اور جناب الواعظ عالیجاہ کمال الدین صاحب کی کتاب “حکمتِ دعا” ہیں۔
علیٔ زمان صلواۃ اللہ علیہ و سلامہ کا مقدّس عشق تمام آسمانی محبتوں کا مرکز ہے، یعنی نور الانوار، آئینۂ حق و حقائق، مظہرِ عجائب و غرائب، غالب علیٰ کلِ غالب، میں سچ سچ بتاتا ہوں کہ گاہے گاہے یہ دل اس محبوبِ لاثانی و غیر فانی کے غلبۂ عشق سے مغلوب و بےچارہ ہو جاتا ہے، ایسے میں جی چاہتا ہے کہ نثر ہی میں شاعرانہ باتیں لکھوں، تا کہ جو کچھ خیال میں آئے وہ ظاہری ربط و ضبط کے بغیر بول سکوں، کیونکہ دائرۂ کائنات میں جتنی چیزیں موجود ہیں، ان میں ربط ہی ربط ہے، اسی طرح بحرِ علم و حکمت میں جیسے بھی نکات ہیں، ان میں کلّی طور پر ربط و وحدت ہے۔
میرے عزیزان جو مغرب میں رہتے ہیں، وہ امامِ عالی مقام کے اس علم سے کتنے خوش و خرسند ہیں، اس کی ایک زندہ مثال اس گفتگو سے مل سکتی ہے، کہا گیا: “آپ کو مولا نے ایسا رفیع الشّان علم دیا ہے کہ اس کے احترام میں اکیس توپوں کی سلامی بھی کم ہے، ہم اگر آپ کی
و
طویل علمی خدمات پر گولڈن جوبلی نہیں منا سکتے ہیں تو فلاور جوبلی ضرور منا سکتے ہیں”۔ میں نے گزارش کی خدارا، ایسی باتیں مت کیجئے، میں جماعت میں سب سے چھوٹا آدمی ہوں، اگر کچھ کرنا ہے تو “جشنِ خدمتِ علمی” کے عنوان سے کوئی کام کریں، تو اس کے لئے وہ راضی ہوگئے۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
میں ہوں: اہلِ جماعت خانہ کی خاکِ پا
ن۔ ن۔ (حبِّ علی) ہونزائی
کراچی رہائش گاہ
جمعرات ۱۸ شوال ۱۴۱۴ھ
۳۱ مارچ ۱۹۹۴ء
ز
دعا مغزِ عبادت
کے ساتھ یہ کتابچہ بھی ضروری ہے۔
حکمتِ تسمیہ اور اسمائے اہلِ بیّت
یکے از تصنیفاتِ
علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی
شائع کردہ
خانۂ حکمت ۔ ادارۂ عارف
۳۔ اے نور ویلا، ۲۶۹۔ گارڈن ویسٹ
کراچی ۳
تشکر
طبعِ دوم
اہلِ ایمان کے لئے اس حقیقتِ ثابتہ میں کوئی شک ہی نہیں کہ قادرِ مطلق اور حکیمِ برحق کی صفاتِ عالیہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ “مسبب الاسباب” ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ خدائے تعالیٰ خود ہی اپنی قدرتِ کاملہ سے اپنے بندوں کے نیک کاموں کے ذرائع و اسباب یکے بعد دیگرے مہیّا کر دیتا ہے، کیوں نہ ہو، کہ وہی حقیقی کارساز ہے، اور وہی اپنے قبضۂ قدرت سے خاص اور حقدار مومنوں کو ایسے نیک، مفید، اور ہمہ رس کاموں کی توفیق عطا فرماتا ہے کہ جن سے تمام اہلِ مذہب کو (خواہ وہ حال و مستقبل میں کہیں بھی ہوں) ہمیشہ ہمیشہ کے لئے طرح طرح کے فوائد حاصل ہوتے رہتے ہیں، مگر اس قسم کا کوئی عظیم کارنامہ، کہ جس سے ہمیشہ کے لئے دنیا بھر کے دینی بھائیوں اور بہنوں کو بلا فرق و امتیاز فائدہ ہی فائدہ ہو، صرف دینی علم کی تخلیقی یا تالیفی صورت میں ہو سکتا ہے، اور کسی ایسے کارنامے کی نیک نامی اور ابدی ثواب میں بحقیقت وہ خوش نصیب حضرات بھی شامل ہوسکتے ہیں، جو اس کی انجام دہی کی کسی بھی منزل میں امداد و معاونت کرتے ہوں، یعنی امداد کی علی التّرتیب بہت سی
۷
صورتیں ہوا کرتی ہیں، کہ وہ خیرخواہی زبانی حوصلہ افزائی، عاقلانہ مشورہ، نیک دعا، قلمی تعاؤن اور ضروری عمل میں سے کسی بھی امکانی صورت میں ہوسکتی ہے۔
چنانچہ ربّ العزّت کی عنایتِ بےنہایت سے اس پُرمعلومات اور ضروری کتاب کی طبعِ ثانی کے لئے بھی ایک ایسا بہترین وسیلہ و ذریعہ پیدا ہوا، وہ اس طرح کہ ۱۹۶۷ء کے ماہِ نومبر میں جب کہ سرکارِ اقدس نور مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام پاکستان تشریف لائے، تو کراچی کھارادر کے مقام پر حضور پرنورؑ نے بالعموم تمام اسماعیلی جماعت کو اور بالخصوص اسماعیلی طلبا و طالبات کو پُرزور اور تاکیدی الفاظ میں فرمایا، کہ وہ اپنی اس موجودہ دعا کے معانی و مطالب کو اچھی طرح سے سمجھ لیا کریں، جو بطریقِ عبادت جماعت خانوں میں پڑھی جاتی ہے، نہ صرف اسی موقع پر بلکہ اس سے پیشتر بھی امامِ عالی مقام نے کئی دفعہ مختلف مقامات پر دعا کے معنی و حقیقت کی اہمیت کے بارے میں اسی طرح کے تاکیدی ارشادات فرمائے تھے۔
بنا برین اس کتاب کی طبعِ ثانی کی ضرورت زیادہ سے زیادہ محسوس ہونے لگی، اور اس بارے میں ہم اپنے علمی احباب کے ساتھ مشورہ کر رہے تھے، اس وقت علاقہ چترال کے اسماعیلی اہلِ علم حضرات اور واعظینِ گرامی میں سے ایک حقیقی مومن کراچی آئے ہوئے تھے، جنہوں نے قبلاً کتاب “فلسفۂ دعا” (دعا مغزِ عبادت) کا بغور مطالعہ و ملاحظہ کیا تھا، نیز انہوں نے امامِ زمانؑ کے مذکورہ ارشادِ گرامی کو سنتے ہی اپنے دل میں یہ ارادہ کر لیا تھا، کہ اگر خداوندِ عالمین کو منظور ہوا تو وہ اپنے امامِ برحقؑ کے مذکورہ ارشاد
۸
پر عمل کرنے کے سلسلے میں ذاتی مصارف سے کتاب “فلسفۂ دعا” کی طبعِ ثانی کرا دیں گے، کیونکہ امامِ زمانؑ کے فرمان کے بموجب دعا کے معانی و حقائق سمجھنے اور سمجھانے کا بہترین ذریعہ صرف کتاب ہی ہوسکتی تھی، پس انہوں نے ذاتی اخراجات سے اس کتاب کی دوسری طباعت و اشاعت کی ذمّہ داری لے لی، اسی طرح بحمد اللہ اس کتاب کا یہ دوسرا ایڈیشن آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔
لہٰذا مناسب، حق، اور خدمت شناسی کا اصول یہ ہے کہ میں قارئینِ کرام کو ان کا تعارف کرا دوں، چنانچہ وہ حقیقی مومن، جنہوں نے ایسی برمحل اور ہمہ رس دینی خدمت انجام دی، جناب عالی قدر الواعظ حاجی جنّت خان صاحب، ابنِ غلام حیدر خان، ابنِ رستم علی خان، ابنِ نصیر خان ہیں، ان کی پیدائش ماہِ دسمبر ۱۹۰۱ء میں ریاستِ ہونزہ کے صدر مقام بلتت میں ہوئی، انہوں نے سنِ شعور میں آتے ہی بلتت میں ابتدائی تعلیم شروع کی، پھر گلگت گورنمنٹ مڈل سکول میں تعلیم حاصل کرکے آٹھویں کی سند حاصل کر لی، اس زمانے میں وہاں یہی تعلیم کافی سمجھی جاتی تھی، جنّت خان صاحب اس کے بعد گلگت سول ہسپتال میں کمپاؤنڈری سیکھنے کے شوق میں ملازم ہوئے، مگر چار سال کے بعد کسی خاص ترقی کی امکانیّت نہ ہونے کی وجہ سے وہ وہاں سے مستعفی ہوکر بمبئی چلے گئے، اُس وقت اسماعیلی مذہب کا مرکز بمبئی میں تھا، وہ وہاں تقریباً تین سال تک خاندانِ امامت کی خدمتِ اقدس کا شرف حاصل کرتے رہے، ازان بعد وہ دربارِ امامت کی طرف سے بدخشان بھیج دیئے گئے، اور وہاں چند سال تک مرحوم جناب فضیلت مآب سید شاہ ابو المعانی صاحب ابنِ پیر سید شہزادہ لیث صاحب
۹
کی علمی و عرفانی صحبت سے مستفیض ہوتے رہے، اس کے بعد جناب موروثی موکھی سید عبد الجبار خان صاحب، ابنِ سید ابو المعانی صاحب کی جانب سے چترال کے متعلقہ اسماعیلیوں میں نمائندگی کرنے لگے۔
یہ امرِ واقعی ہے کہ صاحبِ موصوف نے اپنے امام اور مذہب کی صمیمانہ خدمات انجام دی ہیں، ان میں صبر و ضبط، سنجیدگی اور مردم شناسی کے اوصاف نمایان ہیں، وہ بطورِ خاص دینی کتب کے مطالعہ سے دلچسپی رکھتے ہیں، وہ بروشسکی، اردو، فارسی اور چترالی چار زبانوں میں مہارت سے گفتگو کر سکتے ہیں، واعظِ موصوف ہمارے چترال کے ان علمی اور دینی احباب میں سے ہیں، جن کی دوستی سے ہمیں دائمی فخر و خوشی محسوس ہوتی ہے۔
میں بحیثیتِ نمائندہ “دار الحکمت الاسماعیلیہ، ہونزہ، گلگت” (موجودہ خانۂ حکمت) اپنے اراکین و معاونین کی جانب سے موصوف کے اس قابلِ قدر تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اور ہم سب کی طرف سے مخلصانہ دعا ہے کہ خداوندِ قادرِ متعال انہیں دین و دنیا میں سرخروئی و سربلندی عطا فرمائے! آمین یا ربّ العالمین!! ثم آمین!!!
فقط دعا گو، نصیر ہونزائی، نمائندہ:
“دار الحکمت الاسماعیلیہ۔ ہونزہ۔ گلگت”
یوم عید الفطر، یکم شوال ۱۳۸۷ھ
بمطابق ۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔ کراچی۔ پاکستان۔
۱۰
عرضِ حال اور شکریہ
کسی بھی دینی خادم کے متعلق اس کے مذہب اور قوم کے تمام افراد کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی ہے کہ وہ ان کے لئے بہترین اور مفید ترین خدمات کرتا رہے، خصوصاً علما سے ان کے اہلِ مذہب کی یہی امید وابستہ ہوتی ہے، ہرعالمِ دین کو اس کے دین والے علمی خدمت کے مواقع دیتے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ ہر قسم کا تعاون کرتے رہتے ہیں، تب کہیں وہ عالم کوئی علمی خدمت پیش کر سکتا ہے، ورنہ یہ مشکل ترین کام ہے، خصوصاً اس زمانے میں جبکہ اقوامِ عالم کے آپس میں اتفاق و اتحاد زان بعد ترقی کا مقابلہ ہو رہا ہے، تاہم بحمد اللہ اس خادم کو کسی قسم کی مایوسی ہرگز نہیں، جس کی وجہ واللہ خدا کے نور کی خاص عنایت ہے، اس کے بعد تمام میرے پیارے دینی بھائیوں اور بہنوں کی ان نیک دعاؤں کا اثر ہے، جو اپنی حقیقی طاعت و بندگی دنیا بھر کے “دینی بھائیوں اور بہنوں” کے نام کر دیتے ہیں، اس کے علاوہ مخصوص دعائیں بھی میسر ہیں، پھر ان تمام تعلیم یافتہ اور ترقی پسند اسماعیلی حضرات کی طرف سے تحریری صورت میں یا زبانی طور پر اس خادم کی حوصلہ افزائی ہے، اور اس فقیر کے ہمکاروں، رفیقوں اور پیارے شاگردوں کی ہر طرح سے عملی امداد مہیا ہے، ان عزیزوں میں سے بعض تو “دار الحکمۃ” کی تشکیل میں اور بعض اس سے باہر رہ کر اس درویش کی
۱۱
ہر طرح سے مدد کر لیا کرتے ہیں، ان تمام حضرات کے نام ظاہر کرنے کے لئے ہمیں موقع اس وقت ملے گا، جب کہ ہم کوئی “نمبر” شائع کر سکیں گے، اور ان شاء اللہ یہ کام کیا جائے گا۔
چنانچہ مذکورہ اصول کے مطابق بتوفیق و تائیدِ خداوندی ایک جوانمرد، علم دوست اور حقیقی اسماعیلی نے، جن کی پرورش خاندانی طور پر دینی علوم کے ماحول میں ہوئی ہے، اس کتاب کی طباعت کے لئے کمربستہ ہوئے، انہوں نے علاقہ شیر شاہ کراچی کے صرف چند اسماعیلی عزیزوں سے ایک بہت چھوٹا سا چندہ جمع کیا، اور اس سے سات گنا زیادہ رقم اپنی طرف سے مخصوص کرکے اس کتاب کی کتابت، کاغذ، طباعت، اور بائنڈنگ کے اخراجات پورے کر دیئے، بلاشبہ ان کی اخلاقی خصوصیات قابلِ تعریف ہیں، میں نے ان کی اس دینی خدمت سے پیشتر ہی اپنے احباب کے کئی حلقوں میں ان کی روحانی صلاحیت کا ذکر کر دیا تھا، ہمیں اس کا تجربہ اس وقت ہوا جبکہ ہم کسی عزیز کی صحت یابی کے لئے فقیرانہ ذکر کر رہے تھے، جس میں وہ عزیز اور دوسرے چند عزیزان موجود تھے، وہ اس ذکر سے سوز و گداز کے ایک عجیب عالم میں تھے، اور دوسرے چند عزیزان بھی ان کے ساتھ شریکِ حال تھے۔
اس کے علاوہ کچھ عرصے سے ہمارے حلقۂ شاگردی میں بھی ہیں، بنا برین ہم ان کے دینی جذبات اور اخلاقی خصوصیات سے خوب واقف ہوچکے ہیں، مذکورہ خصوصیات کے حامل میرے دینی برادر بجانم برابر محترم عالمگیر ابنِ قلندر شاہ ابنِ علی موجود صاحب ہیں۔
۱۲
بیت:
بالائی سرش ز ہوشمندی
می تافت ستارۂ بلندی
پس میں ادارۂ “دار الحکمۃ الاسماعیلیہ، ہونزہ۔ گلگت” (موجودہ خانۂ حکمت) کی طرف سے اور اپنی طرف سے موصوف کی اس ضروری امداد کا شکریہ ادا کرتا ہوں، نیز جناب الواعظ میر باز خان صاحب کا بھی، کہ انہوں نے ازراہِ دین شناسی و علم دوستی اس کتاب کا ایک عالمانہ دیباچہ لکھا ہے، کسی کتاب کا اس طرح دیباچہ لکھنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اس کے نزدیک اس کتاب کے تمام نظریات بالکل درست اور صحیح ہیں، اور یہ اس وقت ہوسکتا ہے، جبکہ کتاب کے مسوّدہ کو کمالِ تدقیق و تحقیق سے پڑھا جائے، اور اس کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھ لیا جا سکے، یا یہ کہ مصنف کے عقائد و نظریات کے متعلق ذرّہ بھر بھی شک واقع نہ ہو، کیونکہ اگر کتاب میں کچھ نقائص پائے جائیں، تو اس صورت میں نہ صرف مصنف ہی کو ملامت کے تیروں کا نشانہ بنا لیا جاتا ہے، بلکہ ایسی کتاب کا دیباچہ لکھنے والے کو بھی انہی تیروں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس کے علاوہ اور بھی دشواریاں ہوتی ہیں جنہیں وہ قبول کرتا ہے۔
پس معلوم ہوا کہ جناب الواعظ فقیر محمد صاحب اور جناب الواعظ میر باز خان صاحب نے خود میری گزارش پر جس طرح میری دو کتابوں کا دیباچہ لکھا ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ میرے ہمکاروں کی اگلی قطار میں میرے ساتھ کام کرتے ہیں، اس لئے وہ میرے متعلق بڑی آسانی کے ساتھ اظہارِ خیال کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی ہے کہ جب بھی ضرورت پڑے تو
۱۳
میں اپنے تعلیم یافتہ اور ترقی پسند احباب سے خط و کتابت کے ذریعہ یا زبانی طور پر اپنے علمی کام کا مشورہ لے لیا کرتا ہوں، چنانچہ اس سلسلے میں بھی یہ دونوں صاحبانِ موصوف میرے ساتھ ہیں، بلکہ امرِ واقع یہ ہے کہ میں نے جو بھی کتاب اب تک کراچی کے اندر رہ کر مکمل کرلی، اور چھپوائی ہے، اس میں ہر ضروری مشورہ جناب فقیر محمد صاحب سے لیا جاتا تھا، اور اکثر صاحبِ موصوف مسودہ کی خوشخطی میں بھی مدد فرماتے تھے، اب بحمد اللہ ہمیں ایک اور لائق و فائق ہمکار ملا ہے، وہ جناب میر باز خان صاحب ہیں، ہمیں اپنے دین کے ہر تعلیم یافتہ فرد پر فخر ہے، خصوصاً ایسے افراد پر جو کسی نہ کسی طریقے سے دینی خدمت کرتے ہوں، ان شاء اللہ تعالیٰ اپنے اپنے وقت پر سب کی قدردانی کی جائے گی۔
فقط آپ کا دینی خادم نصیر ہونزائی
مورخہ ۲۱ مارچ ۱۹۶۷ء
۱۴
حرفِ آغاز
“It is the duty of the local people to see that every word of our prayer is understood by every member of our jamaat, such as for instance Qul Huwa’llahu Ahad”.
بنامِ خداوندِ بخشندۂ مہربان۔
لیجئے! علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی صاحب “فلسفۂ دعا” (دعا مغزِ عبادت) کے نام سے ایک اور اسم با مسمّیٰ کتاب اپنے مذہب اور دین سے دلچسپی رکھنے والے بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔
میں نے اس کتاب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے، جلیل القدر مصنف نے مذہب کے دلدادگان کے لئے اردو زبان میں اپنی نوعیت کی پہلی اور واحد کتاب لکھی ہے، جس میں شیعہ امامیہ اسماعیلیہ جماعت کی رائج الوقت دعا کی تشریح و توضیح کی ہے۔
دعا کی اہمیّت، قدر و قیمت اور ہماری روحانی زندگی میں اس کی ضرورت کے سلسلے میں مولانا حاضر امامؑ کے ان فرامین مبارک کو ذہن میں
۱۵
رکھنا چاہئے:
“There is only one sure key for happiness, that is prayer”.
’’خوشی و مسرت کے لئے صرف ایک ہی یقینی کلید ہے، اور وہ دعا ہی ہے۔‘‘
“A man without prayers is a man who has no use on this earth”.
’’وہ آدمی جو بغیر دعا کے ہو، ایک ایسا آدمی ہے، جس کے اس زمین پر ہونے کا کوئی فائدہ نہیں‘‘۔
لیکن جہاں تک حقیقت شناسی کا تعلق ہے، اس کے لئے ہمیں مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امامؑ کے اس فرمانِ مبارک کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے: “یہ دیکھنا مقامی لوگوں کا فرض ہے کہ ہماری جماعت کا ہر ممبر ہماری دعا کے ہر لفظ کو جانتا ہے، مثال کے طور پر “قل ھو اللہ احد”۔ اس فرمانِ مبارک کی رو سے اسماعیلی جماعت کے ہر فرد کو دعا کے حقیقی معنی کو کامل طریقے سے سمجھنا چاہئے۔”
یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ کسی چیز کے ترجمہ اور معنی میں بہت فرق ہے، مثلاً قرآن شریف کا ترجمہ ہر خواندہ آدمی پڑھ سکتا ہے، مگر ہر خواندہ آدمی قرآن کے اصلی معنی کو نہیں سمجھتا، اس لئے کہ حکمت کی بات
۱۶
کو سمجھنے اور اس کی حقیقت کو جاننے کے لئے اس بات کے معنی کی تہ تک پہنچنا ضروری ہے۔
مولانا حاضر امامؑ نے دعا کی حقیقت کو جاننے کے لئے ایک مثال “قل ھو اللہ احد” سے دی ہے، سورۂ اخلاص کا لفظی ترجمہ ہر خواندہ مسلمان جانتا ہے، مگر ہر خواندہ مسلمان اس کے حقیقی معنی کو نہیں سمجھتا، اس لئے کہ یہ سورت بظاہر نہایت مختصر ہے، مگر حقائق و معارف کا ایک اتھاہ سمندر ہے، اور دُرِّ معانی کا ایک بحرِ بےکنار ہے، اسی میں توحید کے اسرار و رموز مخفی ہیں، اور اسی میں تصوّف کا عظیم نظریۂ وحدت الوجود ہے، جس میں تمام حقائق پنہان ہیں، ایسے دقیق مگر ہمہ گیر مسائل پر خیال آرائی اور خامہ فرسائی کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں، اس کے لئے دینی علوم سے کامل واقفیت، ذہن رسا، قوتِ فکر و تخلیق اور قوتِ استدلال کی ضرورت ہے۔
علامہ نصیر الدّین نصیر ہونزائی صاحب نے مولانا حاضر امامؑ کے فرمانِ مبارک کے مطابق آیاتِ دعا کی عالمانہ تشریح و توضیح کر کے حقائق کو منظرِ عام پر پیش کیا ہے، اور جماعت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔
چونکہ نصیر صاحب نے اس کتاب میں حقائق و قرآن و حدیث اور دینی ہادیوں کے اقوال کی روشنی میں واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ذاتی اجتہاد سے بھی کام لیا ہے، اور دلائل و براہین کو اپنے حسنِ استدلال کے ذریعے منطقی انداز میں اس قدر جاذبیّت اور دلآویزی سے پیش کیا ہے کہ قاری کے قلب و نظر میں ایک طرح کی وسعت پیدا ہوتی ہے، اور نکات کی موشگافی یکے
۱۷
بعد دیگرے کچھ اس انداز سے کی گئی ہے کہ قاری کا دل چاہتا ہے کہ بس پڑھتا جائے، اور فی الواقع یہ کتابِ نو تعلیم یافتہ طبقہ کے لئے اپنے اندر جاذبیّت اور دلکشی کا کافی سرمایہ لئے ہوئے ہے۔
ترتیبِ نکات اور معانی کا ضابطہ نہایت مشکل اور اہم کام ہے، لیکن قابلِ قدر مصنف نے یہ فرض کمال و خوبی سے ادا کیا ہے۔
زیرِ نظر کتاب کے اندر عقائد سے متعلق آیات ہیں، اور ہر آیت اپنے اندر حقائق و معارف کا ایک مخفی خزانہ رکھتی ہے، ان آیات کی حکمت کو کماحقہ سمجھنا، پھر سہل طریقے سے اسے سمجھانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے، لیکن قابلِ قدر مصنف نے ہر عقدۂ لاینحل کی عقدہ کشائی کی ہے، اور ہر سربستہ راز کو منکشف کیا ہے، موصوف نے آیت کی تشریح کچھ اس قدر وسعت سے کی ہے کہ گویا وہ اپنی جگہ پر ایک تفسیر ہے، جہاں ایک طرف انہوں نے کثرتِ تشریح سے قطرے کو سمندر میں تبدیل کیا ہے، وہاں دوسری طرف حاشیہ نویسی کے ذریعے خلاصۂ تشریح کی نشاندہی کر کے پھر سمندر کو کوزے میں بند کیا ہے۔
نصیر صاحب دل و دماغ کی خداداد قابلیت کے مالک ہیں، وہ بیک وقت چار زبانوں: اردو، فارسی، بروشسکی اور ترکی کے قادر الکلام، اور شیوا بیان شاعر ہونے کے علاوہ ایک فصیح و بلیغ واعظ، بلند پایہ مصنف اور کامیاب مبلغِ دین بھی ہیں، موصوف کے افکار نے ریاستِ ہونزہ اور چینی ترکستان کی جماعت کے قلوب و اذہان میں ایک زبردست انقلاب پیدا
۱۸
کیا ہے، ان کے گنان ہر ایک کے وردِ زبان ہیں، اور ہر روحانی محفل میں نہایت ذوق و شوق اور سوز و گداز سے پڑھے جاتے ہیں، موصوف نے نظم و نثر دونوں پر یکسان قلم اٹھایا ہے، کئی منظوم اور منثور کتابیں قارئین کی نظر سے گذری ہیں، زیرِ نظر کتاب اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، قابلِ قدر مصنف نے زیرِ نظر کتاب کو اپنی خداداد، ذہنی اور فکری صلاحیت سے اسقدر اچھوتے اور دلکش انداز میں لکھا ہے، کہ دل و دماغ تازہ ہو جاتے ہیں۔
یہ کتاب خوبیٔ انداز کے علاوہ اپنی جامعیت، افادیت، اور دینی معلومات کے لحاظ سے ایک بیش بہا خزانہ ہے، جلیل القدر مصنف نے اسے دلچسپ، پرمغز اور پر از معلومات بنانے میں نہایت دقت اور کاوش سے کام لیا ہے۔
مجھے امید ہے، کہ مذہب کے دلدادگان اور دین کے پرستار اس کتاب کو ہر پہلو سے مفید پائیں گے، اور اس سے کماحقہ فائدہ اٹھا کر قابلِ فخر مصنف کے ذوقِ محنت اور شوقِ خدمت کی دل کھول کر قدردانی کریں گے، تا کہ آئندہ بھی قابلِ قدر مصنف سے اس سے بھی بڑھ کر دینی و علمی تصنیفات کی توقع ہو۔
اخیر میں میری دعا ہے کہ مصنف کے فکر و نظر میں وسعت اور قلمی کارناموں میں برکت پیدا ہو، اور ان کی زندگی سے قوم و ملت کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو! آمین!!
دعاگو
الواعظ میر باز خان، کراچی
۲۰ مارچ ۱۹۶۷ء
۱۹
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تعوذ کے حقائق کا انکشاف
طالبانِ علم و حکمت کے لئے یہ حقیقت واضح ہو کہ تعوذ یعنی “اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم” قرآنِ پاک کی تلاوت وغیرہ کے آداب میں سے ہے، اس کلمے کے علاوہ تعوذ کی چند دوسری صورتیں بھی منقول ہیں، مثلاً:
۱۔ استعیذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم
۲۔ اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم
۳۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، ان اللہ ھو السمیع العلیم
۴۔ استعیذ باللہ من الشیطان الرجیم
مگر ان تمام کلمات کا آخری مطلب اور مفہوم ایک ہی ہے، وہ یہ کہ ان کلمات کے پڑھنے والے سب کے سب شیطانِ رجیم کی برائی سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں، اور یہ ایک ایسے ارشاد پر عمل پیرا ہونے کے لئے کوشش ہے، جس میں حکیمِ مطلق
۲۰
) جلّ جلالہ) حضرت نبی محمد مصطفیٰ (صلعم) سے یوں مخاطب ہے:
” فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ” (۱۶: ۹۸(
ترجمہ: “جب قرآن کی قرأت کرو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کر لیا کرو، راندے ہوئے شیطان سے۔” مذکورہ آیت کا یہ ترجمہ تعوذ کے اس روایتی پہلو کے مطابق ہے، جس کے پیشِ نظر اکثرمفسرین نے اپنا خیال ظاہر کیا ہے، کہ تعوذ قرآنِ حکیم کی تلاوت و قرأت سے پہلے پڑھنا چاہئے، لیکن اس کے برعکس بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ تعوذ قرآن پڑھ چکنے کے بعد پڑھ لینا چاہئے، ان میں ابنِ کثیر بھی شامل ہے، جو سنّتِ رسولِ مقبولؐ سے متعلق ایک روایت کی دلیل کے ساتھ اس طرف مائل ہو جاتا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ ہم اس باب میں آپ کے سامنے کچھ حقائق پیش کریں گے، تا کہ آپ بآسانی سمجھ سکیں کہ مذکورہ ارشاد کا مقصد کیا ہے، اور اس پر عمل کرنے کے متعلق اختلاف کس وجہ سے پیدا ہوا، وغیرہ۔
جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فرامین اُس کے بندوں پر واقع ہونے کے تین مقاصد ہوتے ہیں: یا تو کسی عمل کے لئے فرمایا جاتا ہے کہ تم یہ کام کر لیا کرو، یا کسی قوّل کے لئے ارشاد ہوتا ہے کہ تم یہ بات کہا کرو، یا کسی علم کے لئے فرمان ہوتا ہے کہ تم اس واقعہ کے علم تک رسا ہو جایا کرو، کیونکہ بندے کا دائرۂ اختیار اپنی ہی ہستی کے ظاہر و باطن میں صرف عمل، قول، اور علم تک محدود ہے، جس میں عمل کا تعلق اس کے جسم سے، قول کا تعلق نفسِ ناطقہ سے اور علم کا تعلق عقل سے ہے۔
اب ہم مذکورہ بالا آیت کی تحقیق کرتے ہیں، کہ اس ارشاد کا اصلی مقصد کیا ہے، چنانچہ امرِ “فاستعذ” کے معنی ہیں “پناہ طلب کرو” جس کا اصلی مقصد ایک خاص عمل ہے، اور وہ بھی علم و حکمت کی صورت میں، کیونکہ اگر ہم یہ مانیں کہ امرِ “فاستعذ” کی تعمیل صرف کلمۂ “اعوذ باللہ” ہی کے پڑھ لینے سے ہوسکتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا، کہ یہ کلمہ اس سلسلے میں ایک دعا کی حیثیّت سے ہے، دران حال ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جس دعا میں فعل کی نسبت بندے کی طرف دی گئی ہو، تو اس کا اشارہ یہ ہوتا ہے کہ، اس دعا کی قبولیت کے لئے کوئی خاص علم و عمل لازمی ہے، مثلاً جب ہم اپنی مقررہ دعا میں یہ کہا کرتے ہیں، کہ “ایاک نعبد و ایاک نستعین۔ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں، اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔” تو ظاہر ہے کہ اس دعا میں شرطِ قبولیت کا ذکر لفظِ دعا سے پہلے آیا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھ لیا کریں، کہ کس طرح بلا شرکتِ غیر صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کر لی جا سکتی ہے، تو یہاں اس حقیقت کی کلید ملنے کا اشارہ عبادت کی طرف کیا گیا ہے گویا استعانت کی شرط عبادت بتائی گئی ہے، اور یہ عبادت بھی تو عامیانہ و جاہلانہ قسم کی عبادت نہیں، بلکہ اس مقام پر عبادت کی انتہائی درست صورت کا ذکر ہے، اور وہ عارفانہ طرز کی عبادت ہے، پس معلوم ہوا کہ ہر دعا کی قبولیت کے لئے کوئی نہ کوئی عملی شرط ہوا کرتی ہے، اس کا
۲۲
نتیجہ یہ نکلا کہ “فاستعذ” کے امر کا اصلی مقصد یہ نہیں کہ ہم صرف قول ہی کو اپنائے بیٹھیں، اور اس کے معنی میں جو علم و عمل مطلوب ہے، اس کو انجام نہ دیں۔
اب اس وضاحت کے بعد مذکورہ آیۂ استعاذہ کے اصلی ترجمہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، اور وہ یہ ہے: “پس جب تو قرآن پڑھ چکے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کر لیا کر شیطانِ رجیم سے” اس ترجمہ کے متعلق آپ دو سوال کر سکتے ہیں: پہلا سوال یہ کہ قرآن پڑھ چکنے کے بعد شیطان سے واسطہ پڑنے اور اس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کے کیا معنی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ شیطان راندے ہوئے کو اصل معنی ہی کی طرح رجیم کہنے کا مطلب کیا؟ تو پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ جس طرح وزن اور فعل کی واقعیّت ” فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ” (۹۴: ۰۷) (پس جب تو فارغ ہو جائے تو نصب کر لیا کر) میں ہے، اسی طرح فاذا قرات القرآن فاستعذ (جب پس تو قرآن پڑھ چکے تو پناہ طلب کر لیا کر) میں ہے، اور اس آیت کا یہی ترجمہ صحیح ہے، جس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ جس امر میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مخاطب ہوا ہے، تو اس کے معنی میں انسانوں کی انتہائی نجات کی ہدایت پوشیدہ ہوتی ہے، پس اس خطاب میں (جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول سے کیا ہے) شیطان کی تمام برائیوں سے قطعی طور پر بچ کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی پناہ حاصل
۲۳
کرنے کی ہدایت موجود ہے، اور اس اعلیٰ ترین مقصد میں کامیاب ہو جانے کی کلّی شرط یہ ہے کہ پہلے تو قرآن پڑھ لیا جائے، یعنی اس کی ضروری حقیقت کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ لفظ “قرآن” کے معنی “پڑھنے” کے ہیں، جیسے ارشادِ خداوندی ہے: ” اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِـعْ قُرْاٰنَهٗ (۷۵: ۱۷ تا ۱۸) یقیناً ہمارے ذمّہ ہے (آپ کے قلب میں) اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھنا، پھر جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو آپ اس کے پڑھنے کے تابع ہو جایا کیجئے۔”پس اگر ہم آیۂ تعوذ کے یوں معنی کر لیں: فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پس جب تو پڑھنا پڑھ چکے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کر لیا کر، شیطانِ رجیم سے” تو اس کا مطلب بھی ہوا کہ انسی و جنّی شیطان کے خطرات اور وسوسوں سے مومن عارضی طور پر اس وقت بچ سکتا ہے، جب کہ وہ اپنی روزانہ عبادت کی عام دعائیں یا خاص کلمات، اسماء وغیرہ پڑھ چکا ہو، کیونکہ “قرآن” کے معنی “پڑھنے” کے ہیں، چنانچہ اگر آج اس کلامِ الٰہی کا نام “قرآن” ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوا ہے، تو اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے، کہ جناب سیدِ کونین پر نبوّت کے آثار ظاہر ہونے سے پہلے حضور اسمِ اعظم پڑھا کرتے تھے، جس کا نتیجہ کلامِ الٰہی کی صورت میں ظاہر ہوا، لہٰذا کلامِ اقدس کا مبارک نام “قرآن” یعنی “پڑھنا” ہوا، تا کہ رسولِ مقبولؐ کی اس نتیجہ خیز عارفانہ
۲۴
عبادت کی ایک لازوال یادگار باقی رہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غارِ حرا اور دوسرے مقامات پر کر لیا کرتے تھے۔
کچھ عرصے کے بعد ان پر عجیب و غریب روحانی قسم کے پرحکمت واقعات گزرنے لگے، اور یہی سلسلہ جاری رہا، مگر ان عجیب واقعات پر خاطر خواہ غور و فکر کرنے کے لئے آنحضرتؐ کو اس لئے وقت نہیں ملتا تھا، کہ مکاشفہ اور مشاہدہ کا ایک بھرپور عالَم ان کے سامنے موجود تھا، یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے جبرئیل علیہ السلام باقاعدہ وحی لے کر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہونے لگا، بعد ازان کسی وقت میں آنحضرتؐ کو اپنی روحانیّت کی ابتدائی منازل کے متعلق ان حکمت آگین معلومات کے ضائع ہونے کی فکر ہوئی، تو اللہ تعالیٰ نے حضورِ پرنورؐ کو یہ فرما کر مطمئن کر دیا کہ یقیناً ہمارے ذمّہ ہے، اس سارے کلام کا (جو آپ کی روحانیّت کا نتیجہ ہے) آپ کے قلب یعنی نور میں یکجا کر دینا، اور اس کا پڑھنا۔ پس اس بیان کے نتیجے سے یہ ثابت ہوا کہ حقیقی مومن شیطان کے مسلسل حملوں سے بچ کراللہ تعالیٰ کی ابدی پناہ میں اُس وقت محفوظ رہ سکتا ہے، جبکہ وہ قرآنِ حکیم کی حقیقت و حکمت اور نورِ محمدیؐ کی معرفت تک رسا ہو چکا ہو۔
دوسرا سوال لفظِ “رجیم” کے متعلق پیدا ہوا تھا، جس کا مفصل جواب یہ ہے کہ رجیم کے حقیقی معنی ہیں: سنگ سار کرنے والا یا پتھراؤ
۲۵
کرنے والا، یعنی لوگوں کو صراطِ مستقیم سے ہٹانے میں شیطان اپنی پوری طاقت کے ساتھ سوالات کی بوچھاڑ کرتا رہتا ہے، جن سے صرف قرآنی علم و حکمت کی سپر ہی کسی مومن کو بچا سکتی ہے، اور قرآنی علم و حکمت کی کلید رسولِ خدا کی حقیقی فرمانبرداری میں پوشیدہ ہے، اور جاننا چاہئے کہ سب سے بڑے رجیم کا نام ابلیس ہے، جس کی لاتعداد ذرّیات ہیں، ان میں سے کچھ تو جنّات (نادیدہ مخلوق) کی صورت میں پوشیدہ ہیں، اور کچھ حیوان و انسان کے بھیس میں ظاہر ہیں۔
اب فرض کیجئے کہ ایک شیطان صفت انسان کسی حقیقی مسلمان کو سیدھے راستے سے ہٹانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، اور وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے اُس حقیقی مسلمان پر بناوٹی علم کا اثر ڈال رہا ہے، جس میں جھوٹ، فریب، اور مکر کے سوا کچھ بھی نہیں، اب اس نمائندۂ ابلیس کی باتیں ظاہر میں خواہ کتنی نرم، میٹھی، اور خوش آئند کیوں نہ ہوں، مگر ان باتوں سے اُس حقیقی مومن کی “روح الایمان” جس طرح مجروح ہو رہی ہے، اس کے اعتبار سے حقیقت میں اس شیطان الانس کو رجیم یعنی پتھراؤ کرنے والا کہا جائے گا، ظاہر ہے کہ اس موقع پر مومن کے لئے صرف علمِ حقیقت ہی کام آسکتا ہے، اور ذکر و عبادت ہی اُسے فائدہ دے سکتی ہے، کیونکہ عبادت سے نہ صرف علمِ حقیقت کا جوہر کھلتا ہے، بلکہ معجزانہ قسم کا روحانی علم بھی اسی کے وسیلے سے ملتا
۲۶
رہتا ہے۔
پس یہ حقیقت پایۂ ثبوت پر آگئی کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا اصلی اور آخری مقصد، جس میں فرمایا گیا ہے کہ “پس جب تو قرآن پڑھ چکے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کر لیا کر شیطانِ رجیم سے” یہ ہے کہ خدا کے نور اور اس کی کتاب کے ذریعہ ہمیں یہ علم ہوا کہ ابلیس، شیطان وغیرہ کون ہیں؟ اور یہ کہاں کہاں سے حملہ آور ہو سکتے ہیں؟ اور کن کن ہتھیاروں سے ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟ یا یہ کہ ان سے بچ کر خدا کی پناہ میں آنے کا راستہ کون سا ہے؟ اور شیطان سے جنگ کرنے یا اس سے دور بھاگ کر خدا کی پناہ میں آنے کی باتیں اس لئے لازم آتی ہیں، کہ وہ بقولِ قرآن ہمارا کھلا دشمن ہی ہے، اور اس کے پاس لاتعداد فوج ہے۔
والسّلام
۲۷
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تسمیہ کے حقائق کا انکشاف
پروردگارِ عالمین سے توفیقِ خاص طلب کرتے ہوئے بیان کیا جاتا ہے کہ تسمیہ اس کلمۂ بسم اللہ کا نام ہے جو قرآنِ پاک کے ہر سورے کے آغاز میں لکھا ہوا موجود ہے، اور یہ پورا کلمہ یعنی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یقیناً اللہ تعالیٰ کے ان بابرکت کلماتی ناموں میں سے ہے، جو مفصل ہیں، اور معنوی فیوض و برکات سے بھرپور ہیں، جیسا کہ قرآنی ارشاد ہے: ” تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ (۵۵: ۷۸) بڑا بابرکت نام ہے، آپ کے ربّ کا جو جلالت و کرامت والا ہے۔” یہاں برکت سے خاص مراد علم و حکمت کی لاانتہائی ہے، یعنی مطلب یہ کہ پروردگار کے خاص ناموں کے مسلسل ذکر کرنے سے جو علمی عجائبات کا سلسلہ جاری رہتا ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا، اور اسی اعلیٰ ترین برکت کے تحت دوسری تمام روحانی و مادّی برکات بھی پائی جا سکتی ہیں، اور لفظِ برکت کے لغوی معنی بڑھاؤ اور زیادتی کے ہیں۔
۲۸
کتبِ تفاسیر و احادیث میں بسم اللہ کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں، اسی طرح دوسری متعلقہ کتب میں بھی اس قسم کی بہت سی روایات منقول ہیں، چنانچہ تفسیر بحرالدّر اور ریاض القدس کے حوالے کی بنا پر کوکبِ درّی بابِ پنجم کے شروع میں ابنِ فخری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز امیر المومنین علیہ السّلام نے فرمایا: “لو شئت لا وقرت بباء بسم سبعین بعیرا ۔ یعنی اگر میں چاہتا تو باء بسم اللہ کی تفسیر سے ستر اونٹ لاد دیتا۔”
پس معلوم ہوا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے کئی معنی ہیں، اور ان تمام معنوں کے خلاصے میں معبودِ برحق کے مبارک نام کی تعریف اور اس کے ذکر کی ہدایت ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ” وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ (۰۶: ۱۲۱) اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر (بوقتِ ذبح) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔” اب دو حقائق ہمارے سامنے آ گئے: ایک حقیقت یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے لفظی نام ہوتے ہیں، اسی طرح اس کے کلماتی نام بھی ہوا کرتے ہیں، اس لئے کہ حلال جانوروں کو ذبح کرتے وقت جو کلمہ (بسم اللہ و اللہ اکبر) پڑھا جاتا ہے، اس پورے کلمے کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نام قرار دیا، جس میں اس کا لفظی نام بھی ہے، اور ناموں کے ذکر کرنے کی ہدایت بھی ہے، اس حقیقت کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے آغاز میں جبرئیل نے آنحضرت سے کہا کہ: “اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ (۹۶: ۰۱(
۲۹
اپنے ربّ کا نام لے کر پڑھا کیجئے۔” تو اس کی تعمیل بہرحال کلمۂ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی صورت میں کی گئی۔ پس معلوم ہوا کہ بسم اللہ کی پوری آیت اللہ تعالیٰ کے کلماتی ناموں میں سے ایک ہے، اس لئے کہ قرآنِ پاک کی اوّلین سورت پڑھنے سے پہلے پروردگار کے جس نام کا پڑھنا مقصود تھا، وہ یہی بسم اللہ ہے۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کو ایک محدود اختیار دیا گیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ جبکہ اپنی اصلی اور قدرتی فطرت میں ہو تو نیکی اور بدی کے درمیان اس طرح ٹھہرا ہوا ہوتا ہے، جس طرح ایک منصف مزاج سنار سونا تولنے سے پہلے ترازو کی برابری دیکھنے کے لئے، اور سونا تولنے کے نتیجے پر سونے اور بٹے کی برابری دیکھنے کے لئے انتہائی ہوشیاری اور عدل سے ترازو کی سوئی کو بالکل سیدھی کر دیتا ہے، تا کہ سونے کے لین دین میں نہ لینے والے پر ظلم ہو، اور نہ دینے والے پر۔ اس مثال سے یہ معلوم ہوا کہ انسان جبکہ اپنی اصلی فطرت پر ہو، اپنی ارادی قوّت کی ذرا سی حرکت سے بڑی آسانی کے ساتھ نیکی اور بدی میں سے کسی ایک کی طرف جھک سکتا ہے، اب اس نے یہ ارادی حرکت اپنی ہی پسند سے کی، پس پسند کا دوسرا نام اختیار ہے۔
پھر اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ جب انسانی ارادے کی مثال ایک ایسے ترازو کی طرح ہے جس کے دونوں پلے آخری حد تک برابر
۳۰
کئے گئے ہیں، تو ایسے متوازن اور مساوی ارادے کے اندر اختلاف اور تضاد کہاں سے واقع ہوا، کہ ارادے کا یہ ترازو کبھی تو نیکی کی طرف جھکتا ہے، اور کبھی بدی کی طرف؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کا یہ ارادہ دو برابر کی مخالف اور متضاد طاقتوں کے زیرِ اثر ہے، اور وہ دو طاقتیں انسان کی عقل اور نفس ہیں، اس لئے اس کے ارادے پر کبھی تو عقل کا اور کبھی نفس کا تصرف ہوتا رہتا ہے۔
اسی طرح انسانی عقل و نفس کی یہ پوشیدہ جنگ ہمیشہ جاری رہتی ہے، اور یہ جنگ نہ صرف کسی ظاہری قول و عمل کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں واقع ہوتی ہے، بلکہ تفکّرات، تصوّرات، اور خالص ارادے میں بھی عقل و نفس کی جنگ یا کہ رسہ کشی ہوتی رہتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی رحمتِ کلّ کا یہ تقاضہ ہوتا ہے کہ عقل و نفس کی اس خانہ جنگی میں عقل کی مدد کی جائے، اور نفس کو ہر معاملہ میں عقل کا تابع بنا دیا جائے، اور جن لذّتوں کی طمع سے وہ عقل کی مخالفت کر رہا ہو، اس کو ان سے بےرغبت کر کے روحانی قسم کی بہترین لذّتوں اور مسرّتوں کی طرف راغب کر دیا جائے۔
پس اللہ تعالیٰ نے جو قادرِ مطلق اور حکیمِ برحق ہے، اپنے اسما ہی کو جن میں عقل کے لئے نورانی مدد اور نفس کے لئے روحانی مسرّت موجود ہے، انسان کے سامنے رکھ دیا، تا کہ انسان کو ان کے ذکر سے سکونِ قلب حاصل ہو سکے، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: “اَلَا بِذِكْرِ
۳۱
اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ (۱۳: ۲۸) آگاہ ہو، کہ اللہ تعالیٰ کی یاد ہی سے (جو اس کے حقیقی ناموں کے ذریعہ کی جا سکتی ہے) دلوں کو تسلی ملتی ہے۔” دل نفس کا دوسرا نام ہے، پس یادِ الٰہی سے انسانی نفس کو روحانی مسرّت ملتی رہتی ہے، اور وہ مزید خوشیوں اور مسرّتوں کی امید پر عقل کی تابعداری کرنے لگتا ہے۔
ایسے نفس کو جس نے عقل کی تابعداری میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور حقیقی ذکر سے آخری اطمینان اور روحانی سکون حاصل کر لیا ہو، اللہ تعالیٰ سے یہ ندا آتی ہے کہ: “یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُ ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ (۸۹: ۲۷ تا ۳۰) اے اطمینان یافتہ نفس! اب تو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کر، درحالیکہ تو اس سے خوش اور وہ تجھ سے خوش ہے پھر تو میرے (خاص) بندوں میں شامل ہو جا، اورمیری جنّت میں داخل ہو جا۔”
حضرت آدم علیہ السّلام کے بارے میں قرآنِ پاک کا یہ قصّہ مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے علم الاسماء (ناموں کا علم) سکھایا، مگر اس حقیقت کو اہلِ حکمت کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ اسے یہ تعلیم کس طریقے پر دی گئی؟ کیا آدم علیہ السلام کا وہ علم اکتسابی (ظاہری) نوعیّت کا تھا یا عطائی (معجزانہ) قسم کا؟ کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو البشر کو اسماء الاشیاء (چیزوں کے ناموں) کی تعلیم
۳۲
دی یا اسماء اللہ الحسنیٰ (اللہ تعالیٰ کے بزرگ ناموں) کی؟ کیا یہ درست نہیں کہ کائنات و موجودات کی ساری چیزوں کے نام اور ان کے متعلق تمام علوم اللہ تعالیٰ کے ناموں میں پوشیدہ ہیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ آسمان و زمین کے علمی خزانوں میں داخل ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کے سارے نام ہی نورانی کلیدوں کی حیثیت رکھتے ہیں؟ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ” لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ (۳۹: ۶۳) اسی کے اختیار میں ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں۔”
اگر حقیقت یہی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نام (اسماء) ہی آسمانوں اور زمینوں کے خزانوں کی کلیدیں ہیں تو اصولًا یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تمام کنجیوں کا بھی ایک علیٰحدہ خزانہ ہوگا، جس کی نایاب، گرانقدر اور واحد کلید نہ تو وقف ہوگی کہ جو شخص چاہے ان تمام خزانوں کو لٹا سکے، نہ یہ کسی اور خزانہ میں رکھی ہوگی، کیونکہ اگر یہ کلید کسی اور خزانے میں رکھی ہوئی ہوتی، تو پھر اس خزانے کی بھی ایک کلید لازم آتی، اور یہ سلسلہ یعنی کلید کی کلید ہونا کبھی ختم نہ ہوتا، اور نہ یہ کسی دوسرے کھلے مقام میں رکھی ہو گی، بلکہ یہ ایک ایسے شخص کے پاس رکھی ہوئی ہوگی جو حیّ و حاضر ہونے کے باوجود (بقول مولائی روم) سات سو پردوں کے اندر رہتا ہے، پس ایسا شخص انسانِ کامل یعنی امامِ زمانؑ ہے۔
پس یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے سارے نام جو
۳۳
بلندی و پستی (آسمان و زمین) کے علمی خزانے ہیں، اسمِ اعظم کے تحت ہیں، نیز یقین رکھنا چاہئے کہ ابو البشر کی تعلیم اسمِ اعظم کے ذکر کے نتیجہ میں معجزانہ طریقے پر ہوئی تھی، اور یہی طریقۂ تعلیم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دوسرے تمام انبیاء و اولیاء کے لئے مقرر تھا، اور مقرر ہے، تو معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا حقیقی نام ہی علم و معرفت کی کلید ہے، یہی وجہ تھی کہ جبرئیل علیہ السّلام نے سب سے پہلی بار وحی لاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا کہ: ” اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ۔ یعنی اپنے پروردگار کے نام کے ذریعے پڑھا کیجئے۔” (۹۶: ۰۱)
جب حضرت نوح علیہ السّلام کے زمانے میں طوفان شروع ہوا، تو انہوں نے اپنے فرمانبردار مومنوں کو کشتی میں سوار کرنے سے پہلے جو دعا زبان پر لائی وہ “بسم اللہ” کی صورت می تھی، چنانچہ قرآن کا ارشاد ہے: “وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَاؕ (۱۱: ۴۱) اور حضرت نوح نے فرمایا کہ اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا اللہ ہی کے نام سے ہے۔”
اس موقع پر یہ حقیقت سامنے لائی جاتی ہے کہ جو دعا، کلمہ یا اسم ذکرِ الٰہی کے طور پر پڑھنے کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہو تو اس کے اندر کچھ ایسے معانی اور حقائق مخفی ہوتے ہیں جن کا سمجھ لینا دوسرے حقائق کے بہ نسبت اتنا ضروری ہے، جتنا کہ دوسری عبادت کے
۳۴
بہ نسبت اس ذکرِ الٰہی کا پڑھنا ضروری ہے۔
مذکورۂ بالا بیان سے بسم اللہ کے معنی و حقیقت سمجھنے کی ضرورت و اہمیّت ظاہر ہوئی، چنانچہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے معنی ہیں:
“شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔” لیکن یہ اس کے سطحی معنی ہیں، اور اس کی تحقیق کرنے کے لئے ہمیں بسم اللہ کے متعلق ضروری آیات کو سامنے رکھ کر چشمِ بصیرت سے دیکھنا ہوگا، کہ بسم اللہ کی معنوی تعلیم اور امرِ آخرین کس چیز کے متعلق ہے، چنانچہ یہ حقیقت تو بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرئیل علیہ السّلام نے جب پہلی بار پیغام لایا، تو اس کے شروع میں کلمۂ بسم اللہ جزوِ کلام کی حیثیت سے لگا ہوا نہیں تھا، اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر بسم اللہ اس سورۃ کے آغاز ہی میں لگی ہوئی ہوتی، تو یہ نہ فرمایا جاتا کہ “اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھا کیجئے،” بلکہ صرف یہی فرمایا جاتا کہ “پڑھا کیجئے۔” چونکہ بفرض بسم اللہ اس سورہ کا حصہ تھی، جس کو پڑھنے کے لئے فرمایا گیا تھا تو پھر اس کا علٰحیدہ ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی، پس معلوم ہوا کہ کلمۂ بسم اللہ کسی بھی سورت کے شروع میں نہیں آیا ہے، بلکہ یہ کلمہ قرآنِ پاک کے متن کی ایک آیت ہے جس طرح کلمۂ اعوذ باللہ قرآنِ پاک کے متن کی ایک آیت ہے، مگر آداب کے طور پر قرآنِ مجید پڑھنے سے پہلے پڑھا جاتا ہے، اسی طرح بسم اللہ
۳۵
ہر سورے کے آغاز میں لکھی گئی، جس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ آنحضرتؐ سے فرمایا گیا کہ پروردگار کا نام لے کر قرآنِ پاک کی قرأت کیجئے، اور دوسری وجہ بسم اللہ کی معنوی اہمیّت ہے۔
پس بسم اللہ کہنے یعنی پروردگار کا نام لے کر قرآنِ پاک کی سب سے پہلی تنزیل پڑھنے کے بارے میں آنحضرتؐ کو جو کچھ ارشاد ہوا ہے ہم اسی سے بحث کرتے ہیں، چنانچہ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے: ” اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ (۹۶: ۰۱) (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) آپ پر (جو قرآن نازل ہونے لگا ہے) اسے اپنے ربّ کا نام لے کر پڑھا کیجئے۔” یعنی اپنے اس پروردگار کے “اسمِ اعظم” کے ذکر کی روشنی میں حقیقتِ تنزیل کو سمجھ لیجئے، جس کی پرورش سے آپ کی یہ روحانی تخلیق مکمل ہوئی ہے۔ “خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (۹۶: ۰۲) اسی نے انسان کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔” یعنی ذکر کے ایک ایسے سلسلے سے انسانِ کامل کو پیدا کیا جس کے الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح جمے ہوئے تھے، جس طرح خون کے قطرات کے آپس میں جمنے سے گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے، اور اس سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ ’’اقرا و ربک الاکرم الذی علم بالقلم (۹۶: ۰۳ تا ۰۴) (اس قرآن کو) پڑھا کیجئے، اور آپ کا پروردگار بہت بزرگ ہے، جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔” یعنی اسی ذکر کی روشنی میں حقیقت تنزیل
۳۶
کو پھر پڑھ لیجئے، کیونکہ آپ کا پرورگار بہت بزرگ ہے، جس نے آپ کو گوہرِعقل (قلم) کے ذریعے چند غور طلب رموز سکھائے ہیں۔ ” عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ (۹۶: ۰۵) جس نے انسان کو سکھایا، جو کچھ وہ نہیں جانتا تھا۔” یعنی اس نے روحانیّت کے انہی خاص طریقوں سے انسانِ کامل کو وہ ساری چیزیں سکھا دیں، جن کو وہ نہیں جانتا تھا۔
اب مذکورہ بالا حقیقت کی روشنی میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے حقائق و اسرار ملاحظہ ہوں: حرف “ب” استعانت کے لئے آیا ہے، جس کے معنی “ذریعہ” یا “سے” کے ہوتے ہیں، اور حرف “ب” کا اصلی نام “بیت” یعنی گھر تھا، کیونکہ اس حرف کی شکل ایک گھر کی شکل تھی، جس کے دروازے پر ایک کھڑا شخص ظاہر کر دیا گیا تھا، جیسے ، پھر رفتہ رفتہ بیت کا نام “با” سے بدل گیا، اور مکان کی شکل پڑی لکیر جیسی ہو گئی، اور وہ آدمی نقطہ بن کر رہ گیا۔
پس قرآن پاک کے شروع میں، ہر سورے کے آغاز میں، اور بسم اللہ جیسے خدا کے ایک بہت بڑے کلماتی نام کی ابتدا میں حرف “با” (ب) کے آنے کا اشارہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی جو مقدّس کتاب حقائقِ کائنات اور اسرارِ موجودات سے بھری ہوئی ہے، اس کی حکمت ایک خاص گھر سے مل سکتی ہے، اور اس مبارک گھر میں داخل ہونے کی اجازت ایک خاص شخص
۳۷
سے مل سکتی ہے، وہ مبارک گھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں، وہ عظیم ترین شخص جو اس پاک گھر کے دروازے پر دربان کی حیثیت سے ہے، حضرت مولانا مرتضیٰ علی علیہ السّلام ہیں، چنانچہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: “انا دار الحکمۃ و علی بابھا۔ میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔” نیز فرمایا: “انا مدینۃ العلم و علی بابھا فمن اراد العلم فلیات الباب۔ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، پس جو شخص علم کا طالب ہو اُسے چاہئے کہ شہر کے دروازے سے آئے۔” اور مولانا علی علیہ السلام نے اسی معنی میں فرمایا: “انا نقطۃ تحت باء بسم اللہ۔ میں وہ نقطہ ہوں جو باء بسم اللہ کے نیچے ہے۔”
بسم اللہ میں حرف “ب” کے بعد اسم آتا ہے، جس کی مراد اسمِ اعظم ہے، اللہ کے معنی معبودِ برحق کے ہیں، الرحمٰن خدائے تعالیٰ کا وہ اسمِ صفت ہے، جس میں وہ سارے انسانوں کے لئے جسمانی رحمتیں مہیا کر دیتا ہے، اور “الرحیم” خدائے تعالیٰ کا ایک ایسا نام ہے جس میں وہ صرف مومنوں کے لئے روحانی رحمتیں عطا کر دیتا ہے، اور یہ دونوں قسم کی رحمتیں دل کی نرمی سے شروع ہوا کرتی ہیں، کیونکہ رحمت (مہر) کے معنی رقتِ قلب یعنی دل کی نرمی کے ہیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بسم اللہ اس معنی میں پڑھا کرتے تھے: “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ معبودِ برحق کے اسمِ اعظم کے ذریعہ قرآن پڑھتا، اور
۳۸
سمجھتا ہوں جو رحمت والا ہے، جسمانی احتیاجات کے لئے، اور رحمت والا ہے روحانی ضروریات کے لئے۔”
اس بیان کا خلاصہ یہ ہوا کہ بسم اللہ کی معنوی واقعیّت ہر شخص کی علمیّت کے مطابق ہے، اور حقیقت یہی ہے کہ سب سے پہلے اس ارشادِ الٰہی پر غور کیا جائے، جس میں بسم اللہ پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے، یعنی “اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ” کے منشا و مطلب کو سمجھ لیا جائے، وہ یہ ہے کہ آنحضرتؐ سے فرمایا جاتا ہے کہ اپنے ربّ کے اُس نام کے ذریعہ قرآن پڑھا کیجئے، جس کے ذکر کی بدولت آپ کی روحانی پرورش و تخلیق مکمل ہو چکی ہے، پس یہ اشارہ اسمِ اعظم کی طرف ہے، پھر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسمِ اعظم کے ذکر کو نزولِ قرآن کے دوران بھی اسی طرح قائم و جاری رکھا، جس طرح یہ اس سے پہلے تھا، اور کلمۂ بسم اللہ کو جس میں اسمِ اعظم کی عملی تعریف موجود تھی، قرآن پاک کا سرنامہ بنایا، اور یہی سرنامہ ہر سورۃ کے آغاز میں رکھا گیا، تاکہ قرآنِ پاک کی ترتیب میں اسمِ اعظم کا ذکر سب سے پہلے آجائے۔
اس سے قبل بتایا جا چکا ہے کہ بسم اللہ قرآنِ حکیم کے متن کی ایک آیت ہے جو سورۂ نحل (۲۷) کی تیسویں (۳۰) آیت (۲۷: ۳۰) ہے، جو حضرت سلیمان علیہ السّلام کے قصّے کے سلسلے میں آتی ہے، چنانچہ ملکۂ بلقیس نے کہا کہ سردارو! میری طرف ایک باکرامت کتاب ڈالی گئی ہے
۳۹
وہ سلیمان کی جانب سے ہے، اور وہ “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” ہے۔ حکیمِ مطلق نے اس قصّے میں ملکۂ بلقیس کے عالمِ مکاشفہ کو “کتابِ کریم” قرار دیا، اور اس معجزاتی تصوّر و خیال کا دوسرا نام “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” بتایا، جو حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کی جانب سے اسمِ اعظم کے ذکرِ خفی کا ایک ذیلی معجزہ تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بسم اللہ (اللہ کے نام کے ذریعے) جس موقع پر بھی کہا ہو تو اس سے آنحضرتؐ کی مراد اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا معجزاتی نام یعنی اسمِ اعظم ہی تھا جو ہمیشہ زندہ اور ظاہر و باطن میں نورِ ہدایت کا سرچشمہ ہے، کیونکہ غور و فکر کرنے سے ہر دانشمند کے لئے یہ حقیقت روشن ہو سکتی ہے کہ لفظ “اللہ” اگرچہ اسم ہے، لیکن یہ یہاں دوسری بہت سی مثالوں کی طرح مسمّا کے طور پر آیا ہے، مثلًا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ میں “ربّ” مسمّا ہے، اس لئے اس ارشاد کی تعمیل میں یا ربّ یا ربّ نہیں کہا جائے گا، بلکہ دوسرا کوئی اسم پڑھا جائے گا، جس کا ذکر ہو چکا ہے، اسی طرح بسم اللہ میں اسم کی مراد اسمِ اعظم ہے، اور لفظ “اللہ” مسمّا کے طور پر آیا ہے، یعنی اس حکمت میں جو بسم اللہ ہے، لفظ “اللہ” کا کوئی بیان نہیں، کیونکہ وہ ذاتِ خدا کا قائم مقام ہے، بلکہ خدا کے نام کا بیان ہے، یہاں تک کہ “الرحمٰن الرحیم” میں بھی سر تا سر اسی نام یعنی اسمِ اعظم کی تعریف و توصیف سموئی ہوئی ہے، اس بیان کو ہر قسم کی تقلید سے بالاتر رہ کر پڑھنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت
۴۰
ہے، ورنہ اس کا مطلب سمجھ لینا دشوار ہے، مگر اس شخص کو اس حقیقت کا سمجھ لینا کوئی مشکل نہیں، جس کو خدائے تعالیٰ نے حقیقت پسندی کی توفیق عنایت فرمائی ہے۔
والسّلام
۴۱
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دعا حصّۂ اوّل
اُم الۡکتاب کے رموز و اسرار
سورۂ فاتحہ کے ناموں میں سے ایک نام “ام الکتاب” ہے، جس کے معنی ہیں “کتاب کی اصل۔” اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآنِ حکیم اور کتابِ کائنات کی ساری حکمتیں مختصر سے مختصر کر کے اس سورے میں سمو دی گئی ہیں، یا یہ کہ سارا قرآن سورۂ فاتحہ کی خدائی تفسیر و تشریح ہے، اور یہ دونوں واقعات صحیح ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌ (۴۳: ۰۴) اور وہ (قرآنِ پاک) ام الکتاب (سورۂ فاتحہ) میں ہے (اور وہی ام الکتاب نوری وجود میں) ہمارے پاس علی ہی ہے، حکمت والا” پس اہلِ دانش کے لئے
۴۲
یہ حقیقت مسلّمہ ہے کہ قرآن اگر ایک طرف سے سورۂ حمد میں سمویا ہوا ہے، تو دوسری طرف سے حضرت مولانا علی علیہ السّلام کے نور میں یکجا ہے، کیونکہ بقول نبیٔ اکرمؐ سورۂ فاتحہ تو ظاہری ام الکتاب ہے، اور مولانا علیؑ کا نور باطنی ام الکتاب ہے، اس مطلب کی مزید توثیق کے لئے کتابِ “وجہِ دین” گفتار ۱۹ کا آخری حصہ ملاحظہ ہو۔
سورۂ فاتحہ کے ام القرآن ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ سورۃ تمام قرآن کا خلاصہ ہے، یعنی قرآنِ پاک میں جس مطلب کی تشریح کی گئی ہے سورۂ فاتحہ میں اسی مطلب کا اختصار کیا گیا ہے، بالفاظِ دیگر سورۂ حمد کتابِ مجمل اور قرآن کتابِ مفصل ہے، سورۂ فاتحہ ہدایتِ الٰہی کی ایک جامع اور ہمہ رس مثال ہے، اور تمام قرآن اسی ہدایت کی ذیلی مثالوں کا مجموعہ ہے، نیز سورۂ فاتحہ حکیمانہ انداز پر مطلوبہ حقائق کی ایک ایسی فہرست ہے، جس کو بغور دیکھنے سے ہر خوش نصیب دانشمند یہ سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو اپنی پیاری کتاب میں کن کن ضروری حقائق کی تعلیم دینا چاہتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ سورۂ فاتحہ کی جملہ خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ قرآنی مضامین کی ایک مکمل فہرست کی حیثیت رکھتا ہے، چنانچہ ذیل میں اس امرِ واقع کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے:
۱۔ معرفتِ الٰہی کا بیان
۲۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف و ستائش
۴۳
۳۔ الوہیت
۴۔ ربوبیّت
۵۔ دنیائیں
۶۔ جسمانی رحمت
۷۔ روحانی رحمت
۸۔ خدا کی بادشاہی
۹۔ زمانہ
۱۰۔ دین اور قیامت
۱۱۔ اخلاص
۱۲۔ عبادت
۱۳۔ استعانت
۱۴۔ دعا سب سے پہلے کس چیز کے لئے ہو؟
۱۵۔ ہدایت
۱۶۔ سیدھا راستہ
۱۷۔ مختلف راستے
۱۸۔ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام
۱۹۔ وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا
۲۰۔ غضبِ الٰہیہ کسے کہتے ہیں؟
۲۱۔ گمراہی
ان مضامین کے علاوہ سورۂ فاتحہ میں اور بھی بہت سے عنوانات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، مثلًا نقطہ الف سے پہلے کیوں آیا؟ یعنی قرآن بسم اللہ کے نقطے سے کیوں شروع ہوا؟ حالانکہ الحمد الف سے شروع ہوئی ہے؟ قرآنِ حکیم کا سب سے پہلا لفظ “بسم” کیوں آیا؟ قرآنی حروف کی ترکیب میں سب سے پہلے “ب” اور “س” مل کر “بِس” ہونے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ بسم اللہ میں جو انیس حروف آئے ہیں ان کا کیا اشارہ ہے؟ سورت فاتحہ کی سات آیتیں کس حقیقت پر دلیل کرتی ہیں؟ اس کے شروع میں جو پنج حرفی لفظ “الحمد” آیا ہے، اس کا کیا اشارہ ہے؟ وغیرہ۔ لیکن یہ حقائق جس طرح حکمت کی گہرائیوں میں پنہان ہیں، اسی طرح عوام کے لئے ان کی فوری تلاش و تحقیق کی ضرورت بھی نہیں، نہ اس مختصر سی کتاب میں اس سے زیادہ تفصیل کی گنجائش ہے، پس اس باب میں سورۂ فاتحہ کے مذکورہ بالا مطلوبہ مضامین کی کچھ تشریح پر اکتفا کیا
۴۴
جاتا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
۱۔ معرفتِ الٰہی کا بیان:
الف لام عربی زبان میں “حرفِ تعریف” یا کہ “علامتِ معرفہ” ہے، کیونکہ ہر وہ اسم جس کے شروع میں یہ علامت لگی ہو، اسمِ معرفہ کہلاتا ہے، معرفہ کے معنی ہیں پہچانا ہوا، اور نکرہ کے معنی ہیں انجان جس کی عربی مثال الرجل اور رجل ہے، الرجل سے ایک ایسا مرد مراد ہے، جو مشاہداتی یا تحریری یا زبانی طور پر پہچانا ہوا ہو، اس کے برعکس رجل سے ایک ایسا مرد مراد ہے جو کسی طرح بھی نہ پہچانا گیا ہو۔ اب اگر حقیقت پسندی اور اسلامی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے اور عقل و انصاف سے سوچا جائے تو اس حقیقت سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکے گا، کہ اللہ تعالیٰ کی ستائش اور تعریف مسلمانوں کے لئے بصورتِ حمد نکرہ نہیں رہی، بلکہ اس میں الف لام لگ کر الحمد ہوئی اور معرفہ ہوئی، تو یقیناً خدا کی حمد کا تعارف حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی نے کرایا، اور یہی تعارف ان کے بعد ہر زمانے میں ان کے وصی نے کرایا۔ اندران صورت خدا کی حمد جو معنوی طور پر نکرہ سے معرفہ کی صورت میں آ کر بحقیقت الحمد ہوئی، تو گویا الحمد کے اس الف لام کے لانے والے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور علی علیہ السّلام ہیں، کیونکہ یہ دونوں حضرات اپنی تنزیل و تاویل کے
۴۵
ذریعے اگر لوگوں کو خدا کی ستائش سے تعارف نہ کراتے تو لوگ اگرچہ بظاہر الحمد للہ کہہ سکتے، لیکن بحقیقت ان کی یہ تحمید ناشناختہ ہو جاتی، یعنی اس کی معنوی صورت تو نکرہ ہی کی طرح رہتی، پھر لازماً ان کے اس تلفظ کے الف لام معنوی طور پر موجود ہی نہ ہوتے، مگر اب امرِ واقع ایسا نہیں، بلکہ دینِ اسلام میں خدا کی حمد شناختہ ہے، کیونکہ نبی و علی (علیہما و علیٰ آلِ ہما السّلام) نے جب خدا کی حمد کا تعارف کرایا، تو الحمد لفظی اور معنوی دونوں صورتوں میں معرفہ ہوئی اور وہ دونوں حضرات الف لام کے حقیقی معنی ہوئے، اس لئے کہ جس طرح ظاہری الف لام نے لفظِ حمد کو نکرہ سے معرفہ بنا دیا ہے، اسی طرح ان دونوں حضرات نے معنوی الف لام کی حیثیت سے حمد کے ناشناختہ معنی کو شناختہ کرا دیا ہے، پس اس دلیل سے الحمد کے الف لام کے معنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت علی علیہ السّلام ہوئے، اور سورۂ فاتحہ میں جو قرآنِ پاک کے ابواب کی فہرست کی حیثیت رکھتا ہے، سب سے پہلے معرفتِ الٰہی کا عنوان (ال) آیا، جس سے خدا شناسی کی اہمیّت اور اس کے وسیلے کی ضرورت ظاہر ہوئی۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف و ستائش:
الحمد کے معنی میں اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات اور اس کی ساری خوبیوں کا ذکر ہے، اور اسی اعتبار سے الحمد کا ترجمہ “سب تعریفیں”
۴۶
لکھتے ہیں، اور ان میں سے ہر صفت اور ہر خوبی عربی زبان میں اپنے خاص موقع پر الف لام کے ساتھ آتی ہے، مثلًا الخالق، الرّزاق، العلیم، السّمیع، وغیرہ، اور ہر خوبی کی بھی یہی مثال ہے، چنانچہ الجمال، الکمال، الثنا، البقا، وغیرہ، اور ان تمام معارف (شناختہ صفات اور خوبیوں) میں وہی الف لام کی علامتِ معرفہ موجود ہے، اور اس علامت کے حقیقی معنوں کے اسباب و علل بھی وہی حضرت محمد اور حضرت علی علیہما السّلام ہیں، اور اس امرِ واقع کی مثال قبلًا بیان کی گئی ہے، اب یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کیا یہی معرفت پروردگار کی آخری معرفت ہے جس کا ذکر ہوا؟ تو کہنا ہو گا کہ نہیں بلکہ یہ عام اور ابتدائی نوعیّت کی معرفت ہے، جو مذاہبِ عالم کے مقابلے میں دینِ اسلام کو حاصل ہے، جس کے بعد جماعتی معرفت اور اخیر میں انفرادی معرفت آتی ہے، لیکن معرفت کے ان تمام مراحل میں مذکورۂ بالا مثال کے مطابق وہی نبیٔ اکرمؐ اور اس کے وصیٔ برحقؑ باعثِ معرفت ہوتے ہیں، اور ہر اگلے مقام پر الحمد کے معنی اور الف لام کی معرفت خاص سے خاص تر ہوتی جاتی ہے، اس لئے کہ معرفت کے معنی پہچان اور شناخت کے ہیں، جس کے بہت سے درجات متعیّن ہیں، جن کے سلسلے میں سارے انسانوں کو آگے بڑھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کو اپنے آخری نبی کی حیثیت سے
۴۷
بھیجا ہے، اور آنحضرتؐ نے خدا کے امر سے مولانا علی علیہ السّلام کو اپنا وصی مقرر فرمایا ہے، تا کہ اس کا لازوال نور امامِ زمانہؑ کی حیثیت سے قیامت تک سرچشمۂ ہدایت اور ذریعۂ معرفت ہو جائے۔
۳۔ الوہیّت:
سورۂ فاتحہ کا تیسرا باب الوہیّت کے متعلق ہے، یہ مطلب لفظ “اللہ” میں پوشیدہ ہے، لفظ “اللہ” فی الاصل الالٰہ تھا جو الٰہ کا معرفہ ہے، لیکن کثرتِ استعمال کی وجہ سے یہ لفظ “اللہ” ہوا، اس لئے یہ اسم جامد نہیں بلکہ الٰہ سے نکلا ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ لفظ “اللہ” اکثر ذاتِ واجب الوجود کے لئے مخصوص ہو جاتا ہے، اور بعض اوقات یہ لفظ معبود کے معنی رکھتا ہے، اور اس کے اصلی معنی تو یہی ہیں، چنانچہ ارشاد ہے:
“وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِؕ (۰۶: ۰۳) آسمانوں اور زمینوں میں صرف وہی معبود ہے۔” پس لفظِ اللہ الوہیّت یعنی معبودیّت اور عبودیّت کا موضوع ہے، یعنی اس میں خدائی اور بندگی کا بیان پوشیدہ ہے، وہ اس طرح کہ اللہ کے معنی معبود کے ہوئے، اور معبود وہ ہے جس کی عبادت کی جاتی ہے، پھر لازماً یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ معبودِ برحق کی معرفت کا ذریعہ کیا ہے؟ اور اس حقیقی عبادت کی طریقہ کیا ہے جس سے خدا کی رضا حاصل
۴۸
ہو سکتی ہے؟ پھر اس اہم سوال کے مفصل جواب کی ضرورت سے ان تمام آیاتِ قرآنی کا تعلق ثابت ہو جاتا ہے، جن میں الوہیّت، معرفت اور عبودیّت کی تفصیل آئی ہے، اور ہر تفصیل کی کلید ان حضرات سے مل سکتی ہے، جن کی طرف الف اور لام اشارہ کر رہے ہیں، جن کا ذکر ہو چکا ہے۔
۴۔ ربوبیّت:
ربوبیّت ربّ کی صفت ہے، اور یہ لفظ فارسی میں پروردگاری ہے، اس لئے کہ ربّ کے معنی پروردگار اور مالک کے ہیں، اور ربوبیّت کے معنی پروردگاری اور مالکیّت کے ہیں، اور ربّ ایک ایسا اسمِ صفت ہے جو خاص بھی ہے اور عام بھی، یعنی یہ اسم عربی زبان میں حق تعالیٰ کے لئے بھی آتا ہے، اور موقع پر انسان کے لئے بھی، مگر یہ اسم سورۂ فاتحہ میں بطورِ خاص آیا ہے، کیونکہ اس میں باری سبحانہٗ کی اس صفت کا ذکر ہے جو موجودات و مخلوقات کی پرورش کی مقتضی ہے، حق تعالیٰ کی جانب سے مخلوقات کی یہ پرورش یا تربیت تین درجوں میں پائی جاتی ہے: پہلے درجے کی پرورش عقلانی ہے، جس سے ذی عقل موجودات کی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں، دوسرے درجے کی پرورش روحانی ہے جس سے ذی روح مخلوقات کی احتیاجات پوری ہو جاتی ہیں، اور تیسرے درجے
۴۹
کی پرورش جسمانی ہے جس سے جمادات، نباتات، اور حیوانات کے اجسام کی تخلیق و تکمیل ہو جاتی ہے۔ پرورش کے ان تینوں درجات میں سے ہر ایک میں بےشمار ذیلی درجات ہیں، جن کے تحت بےشمار قسم کی موجودات و مخلوقات پلتی ہیں۔
۵۔ دنیائیں:
ام الکتاب کی پہلی آیت “العالمین” پر تمام ہو جاتی ہے، اور الحمد للہ ربّ العالمین” کا مفہوم اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب تعریف و ستائش اللہ ہی کے لئے شایان ہے، اس لئے کہ وہی تمام دنیاؤں کی پرورش کرتا ہے، خدا کی اس تعریف و ستائش سے لوگوں کو متعارف کرانے والے محمدؐ اور آلِ محمدؐ ہی ہیں، جو الحمد کے الف لام کے حقیقی معنی ہیں، اور تعریف و معرفت کے حقائق کی طرف جانے کا راستہ وہ عبادت ہے، جو انہی کی ہدایت کے مطابق کی جائے، اس لئے کہ الفاظ کی ترتیب میں چوتھا لفظ اللہ ہے، جو عبادت کا مقتضی ہے، کیونکہ اس کے معنی معبودِ برحق کے ہیں، اور عبادت کا پھل علم و معرفت کی صورت میں ملنا چاہئے، کیونکہ آیت کا پانچواں لفظ ربّ ہے، جس کے خاص معنی عقلانی و روحانی پرورش کرنے والے کے ہیں، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علم و معرفت کے بارے میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ علم و معرفت اس تحقیق کا نام ہے
۵۰
جس میں چشمِ دل سے یہ دیکھا جائے کہ پروردگار کس طرح انسانی عقل اور روح کی پرورش کر رہا ہے؟ وہ مشہور حدیث یہ ہے: “من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ۔ جس نے اپنی ذات یعنی عقل و نفس کی حقیقت اور ان کی پرورش دیکھ پائی تو اس نے تحقیق کے اس سلسلے کے اخیر میں اپنے پالنے والے کو پہچان لیا۔”
پس یہاں ظاہر ہوا کہ حصولِ علم و معرفت کے لئے حق تعالیٰ کی اس صفت کا حوالہ دیا گیا ہے، جو اسم “ربّ” میں موجود ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی نفس یا خودی کی معرفت (پہچان) اور علم، عقلانی و روحانی قسم کی تربیت و پرورش کی صورت میں حاصل ہوا کرتا ہے، دران حال عارف چشمِ سِرّ سے خدائے تعالیٰ کی تمام صفات کی ایک ایک مثال دیکھ پاتا ہے، اور یہ مثالیں نہایت پرنور، انتہائی دلکش، بےحد عشق انگیز، ازبس عجیب اور ناقابلِ فراموش ہوا کرتی ہیں، اس لئے عارف اپنے نفس (خودی) اور اپنے پروردگار کوپہچاننے کے بعد پھر کبھی اس علم و معرفت کو بھلا نہیں سکتا، اور ربّانی پرورش کا اطلاق سب سے پہلے انسان پر ہوتا ہے، اس لئے کہ عقلانی، روحانی اور جسمانی پرورش کا اوّلین مستحق اور سب سے زیادہ ضرورتمند تو انسان ہی ہے۔ مزید برآن اللہ تعالیٰ کی جس تعریف و ستائش کا یہاں تذکرہ ہو رہا ہے، اس کی وجہ کائنات و موجودات کی پرورش ہے، یعنی عوالم کی پرورش کرنا ہی اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی صفت
۵۱
ہے، جس میں اس کی دوسری تمام صفات بھی شامل ہیں، کیونکہ خدا کے سارے ناموں میں خدائی رحمت کی بےدریغ فیاضی اور انسان کی حاجت مندی کے معنی پائے جاتے ہیں۔
ربّ العالمین یعنی عالموں یا دنیاؤں کا پروردگار کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ربّ العزّت کے لاتعداد عوالم ہیں، اور بعض حکمائے دین کے قول کے مطابق ان کی تین بڑی قسمیں ہیں، یعنی عوالمِ لطیف (خالص روحانی دنیائیں) عوالمِ کثیف (خالص جسمانی دنیائیں) اور عوالمِ تالیف (جسم اور روح سے مرکب دنیائیں) یعنی انسانی شخصیتوں کی دنیائیں۔
اب جو خالص روحانی دنیائیں ہیں، وہ زمان و مکان سے برتر اور زندۂ جاوید فرشتے ہیں، کیونکہ اس قول کے مطابق اگر انسانی روح و جسم سے مرکب ایک عالم ہو سکتا ہے، تو لازماً فرشتہ بھی ایک خالص روحانی عالم ہو سکتا ہے، اور خالص جسمانی دنیاؤں کے بارے میں کوئی شک ہی نہیں کہ وہ تو سیارات اور کواکب ہی ہیں، پھر عناصر، نباتات، اور جانور ہیں، جن میں جسمانیّت کا حصہ زیادہ ہے، اس لئے وہ جسمانی عوالم ہی میں شامل ہیں۔
پس معلوم ہوا کہ ربّ العالمین کے معنی میں خصوصاً انسانی عوالم کی عقلانی، روحانی اور جسمانی پرورش کا ذکر ہے، کیونکہ مذکورہ تین قسم کے عوالم میں سے خالص روحانی عوالم یعنی فرشتے تو پرورش کی اتنی ضرورتیں نہیں رکھتے جتنی کہ انسان رکھتے ہیں، اور خالص جسمانی
۵۲
عوالم جن میں عقل و شعور نہیں، ربّانی پرورش حاصل کرنے کی اتنی صلاحیت نہیں رکھتے، جتنی کہ انسان میں پائی جاتی ہے۔
مزید برآن یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ لفظِ عالمین قرآنِ پاک میں لوگوں کے معنی میں زیادہ مستعمل ہوا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: “وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (۲۱: ۱۰۷) اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا، مگر انسانی عوالم کے لئے ایک رحمت کی حیثیت سے بھیجا۔” تو معلوم ہوا کہ “ربّ العالمین” میں جس ربّانی پرورش کا ذکر آیا ہے، وہ خاص طور پر انسانی عوالم کی پرورش ہے، اور عام طور پر دوسرے عوالم کی پرورش ہے، کیونکہ اگر ہم صرف یہی مانیں کہ اس کائنات کو خدائی پرورش حاصل ہے، تو اس پرورش کے نتیجے میں کائنات کا کوئی پھل ہونا چاہئے، اور وہ پھل اگر ہے تو انسان ہی ہے، پھر اس صورت میں بھی ربّانی پرورش کا ثمرہ انسان ہی ہوا، اور ربّانی پرورش اسی کے لئے مخصوص ثابت ہوئی، جس طرح درخت کی پرورش بحقیقت پھل کی پرورش ہے۔
ام الکتاب کے پُرحکمت الفاظ جو قرآنی تفصیلات کے عنوانات کے درجے میں بےپایان معنی رکھتے ہیں، جن کی اس سے زیادہ تشریح اس چھوٹی سی کتاب میں سموئی نہیں جا سکتی ہے، لہٰذا جن الفاظ کے مطالب میں اختلاف پایا نہ جاتا ہو، تو ہم ان کی تشریح بہت مختصر کر دیتے ہیں۔
۵۳
۶۔ جسمانی رحمت: ۷: روحانی رحمت۔ ۸: خدا کی بادشاہی:
چنانچہ جسمانی رحمت اور روحانی رحمت کے بارے میں کسی کو کوئی شک ہی نہیں، جو الرحمٰن الرحیم کے معنی ہیں، نہ خدا کی بادشاہی سے کوئی اہلِ دین انکار کر سکتا ہے۔
۹۔ زمانہ: ۱۰۔ دین اور قیامت:
مگر “مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ” (۰۱: ۰۳) کے معنی میں یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ “یومِ دین” کے ساتھ خدا کی بادشاہی یا مالکیّت کی تخصیص کرنے میں کیا راز پوشیدہ ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ساری کائنات و موجودات کا حقیقی مالک اور یکتا بادشاہ ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حقیقی مالک ہے، اور کائنات و موجودات کا یکتا بادشاہ ہے، لیکن اس کے باوجود اس قادرِ مطلق اور دانائے برحق کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر نو آباد سیّارے کے باشندوں کو ایک خاص زمانے تک کچھ اختیار بھی عطا فرماتا ہے، جب ان کی یہ مہلت ختم ہو جائے تو قادرِ مطلق اپنی طرف سے ان پر روحانی طاقتیں مسلط کر کے ان کے اس جزوی اختیار کو اپنے قبضۂ قدرت میں واپس لیا کرتا ہے۔
پس معلوم ہوا کہ نو آباد سیّارے کے باشندوں پر دو قسم کے
۵۴
زمانے گزرتے ہیں: پہلا دور وہ ہے جس میں ان کو ایک محدود اختیار دیا جاتا ہے، اور دوسرا دور وہ ہے جس میں یہ اختیار ان سے واپس لیا جاتا ہے، کیونکہ مالک کے آخری معنی صاحبِ اختیار کے ہیں، یوم ایک خاص وقت یعنی روحانی دور کے لئے آیا ہے، اور دین کے چند معنوں میں سے یہاں زیادہ موزون مذہب بدلہ اور حساب ہیں، پس روحانی دور میں، جو مذہب، بدلہ اور حساب کا دین ہے، لوگوں کے تمام اختیارات جو ان کو بطورِ امانت دیئے گئے تھے، حقیقی مالک کے تصرّف میں لئے جائیں گے، جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگوں کے درمیان جو نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں، وہ سب اٹھ جائیں گے، چنانچہ ارشاد ہوا ہے: “لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ-لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (۴۰: ۱۶) آج کے روز کس کی حکومت ہو گی؟ بس اللہ ہی کی ہو گی، جو یکتا (اور) غالب ہے۔” اللہ کی حکومت سے مراد حقیقی اسلامی حکومت ہے، یکتا کا اشارہ عالمی وحدت اور ملی سالمیّت کی طرف ہے، اور غالب کا ایماء روحانی طاقتوں کے انکشاف کے لئے ہے۔
۱۱۔ اخلاص:
سورۂ فاتحہ کی چوتھی آیت میں سب سے پہلے اخلاص کا بیان آتا ہے، یعنی وحدانیّت کے متعلق اپنے عقیدے کو ماسوا اللہ سے خالص اور پاک کر دینے کا ذکر ہے، اور اخلاص کے معنی کسی چیز
۵۵
کو آمیزش اور ملاوٹ سے صاف اور خالص کر دینے کے ہیں، چنانچہ ہر وہ چیز خالص کہلاتی ہے جس میں ملاوٹ اور کھوٹ تو ممکن ہو، مگر وہ واقعاً صاف اور پاک ثابت ہو جائے، جیسے خالص سونا، چاندی وغیرہ، مگر دینی اصطلاح میں اخلاص دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کی قلبی توجہ صرف خدا ہی کی طرف لگی رہے، اور اس کیفیّت میں ذرّہ بھر بھی دوسرے خیالات و افکار کی آمیزش نہ ہو، اس بارے میں خود قرآنِ حکیم کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے: “فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَﳛ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَ (۲۹: ۶۵)۔ پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں، پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو وہ فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں۔” اس آیۂ کریمہ کا مطلب صرف حکمت ہی سے واضح ہو سکتا ہے، کیونکہ خدا کے ماننے والوں میں سے اکثر لوگ جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں، تو ظاہراً خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے نہیں لگتے ہیں نہ وہ خشکی پر اترنے کے بعد فوراً خلافِ معمول بت پرستی کرنے لگتے ہیں، مگر یہ ضرور ہے کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں، تو خوف و ہراس کے نتیجے میں فطری طور پر وہ دل ہی دل میں خدا کی طرف کچھ ایسے متوّجہ ہوتے ہیں کہ ان کی اس قلبی توّجہ کو دنیا کی کوئی چیز خدا سے اس طرف
۵۶
موڑ نہیں سکتی۔ پھر جب یہ لوگ خشکی پر اتر جاتے ہیں تو ان کے قلب کی وہ کیفیت، جس کا نام خدا کے نزدیک “خالص اعتقاد” تھا، فوراً ہی غائب ہو جاتی ہے، اور ان کے دل میں طرح طرح کے دنیاوی خیالات و افکار جاگزین ہونے لگتے ہیں، اور دل کی ایسی کیفیت بقولِ خدا شرک کہلاتی ہے، پس اخلاص دل کی اس کیفیّت کا نام ہے، جس میں انسان کی قلبی توجہ صرف خدا ہی کی طرف لگی رہے، بالکل اسی طرح جس طرح کسی خطرناک سمندر پر چلنے والے کشتی کے سوار خدا کی طرف متوّجہ ہوتے رہتے ہیں۔
۱۲۔ عبادت:
عبادت، دعا اور ذکر کی پہلی شرط اخلاص ہے جس کا ذکر ہو چکا، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: “اِیَّاكَ نَعْبُدُ” (۰۱: ۰۴) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ یعنی ہم تیری عبادت کو فکری بت پرستی کی آلائشوں سے پاک و خالص کرتے ہوئے گزارتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں عارفانہ طریقِ عبادت کی تعلیم دی گئی ہے، تاکہ بتدریج ہر مومن عبادت و معرفت کے اس اعلیٰ ترین مقام پر پہنچ سکے، مگر یہاں پر سوال یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے مومن کا اخلاص اتنی ترقی کر جائے کہ عبادت کے وقت اس کے دل میں صرف خدا ہی کی توجہ قائم رہے، اور باقی سب کچھ
۵۷
بھول جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے سرکش نفس کو اس کی عقل کے تابع و فرمانبردار بنانے کے لئے دو ذرائع پیدا کئے ہیں، ایک ذریعہ خوف ہے اور دوسرا ذریعہ امید ہے، جس طرح ایمان کی تعریف میں فرمایا گیا کہ: “الایمان بین الخوف و الرجا۔ ایمان خوف اور امید کے درمیان پایا جاتا ہے۔” اب جس طرح خوف کے معنی میں وحشت و نفرت پوشیدہ ہے، اسی طرح امید کے معنی میں محبت و عشق مضمر ہے، چنانچہ ذریعۂ خوف کی ایک قرآنی مثال میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس سے انسان کا سرکش نفس کس حد تک مرعوب ہو کر عقل کے مشورے پر کام کرنے لگتا ہے، اور اس کے نتیجے میں انسان کا عملی اخلاص کس طرح نفس کی دنیاوی خواہشات کو رد کر دیتا ہے، اور خدا کی طرف انسان کی قلبی توّجہ اور دعاؤں کا سلسلہ کس قدر مضبوط اور اٹوٹ ہو جاتا ہے، جب تک کہ خوف باقی ہے۔
یہی حال ذریعۂ امید یعنی حقیقی محبت و عشق کے نتیجے کا بھی ہے، بلکہ مومن کا وہ اخلاص جو حقیقی محبت و عشق پر مبنی ہو، زیادہ مستحکم اور زیادہ فائدہ بخش ہوتا ہے، بہ نسبت اُس اخلاص کے جس کی اساس خوف و ہراس پر قائم ہوئی ہو، مگر پھر بھی سوال کا ایک پہلو باقی ہے، وہ یہ کہ مومن کے لئے خدا سے حقیقی محبت و عشق پیدا ہونے کا ذریعہ کیا ہے؟ تو اس بنیادی اور اہم ترین سوال کا تسلی بخش
۵۸
جواب سب سے پہلے قرآنِ کریم ہی سے ہونا چاہئے، وہ یہ ہے جو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (۰۳: ۳۱) آپ فرما دیجئے کہ اگر تم خدائے تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری پیروی کرو، کہ خدا بھی تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کر دے گا، اور خدائے تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا بڑی عنایت فرمانے والا ہے۔”
پس ظاہر ہوا کہ جو لوگ اپنے طور پر خدا سے محبت رکھتے ہیں تو خدا ان سے محبت نہیں رکھتا، جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی اور اس سے محبّت نہ کرتے ہوں، اور جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی اور اس سے محبت کرنے لگیں تو خدا بھی ان سے محبت کرنے لگتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے سارے گناہ اسی زندگی میں معاف کر دیئے جاتے ہیں، تا کہ وہ اس حد تک پاک ہو سکیں کہ خدائے تعالیٰ کی پاک محبّت و عشق کا ان سے ظہور ہونے لگے، پس معلوم ہوا کہ خدا سے حقیقی محبّت و عشق کا ذریعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی اور اس کی محبّت ہی ہے۔
اب اگر کوئی شخص یہ پوچھے کہ بقولِ قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حقیقی پیروی کا ذریعہ کیا ہے؟ تو اسے یہ بتا دیا جائے
۵۹
کہ حضرتِ رسولؐ کی پیروی کا واحد ذریعہ آنحضرتؐ کے قرابت داروں کی محبّت اور دوستی ہے، چنانچہ خدائے تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: “قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ (۴۲: ۲۳) ۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغِ رسالت) کا کوئی صلہ نہیں مانگتا، سوائے قرابت داروں کی دوستی کے۔”
اس آیۂ کریمہ کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرابت داروں سے دوستی رکھنا، اگرچہ ہر دیندار پر ایک ضروری فرض ہے، تاہم اس حقیقت پر عقل و دانش سے غور کرنا چاہئے کہ رسول اللہ کے قرابت داروں کی یہ دوستی ایسی نہیں کہ تبلیغِ رسالت کے بعد یہ دوستی کسی گروہ یا کسی فرد پر بطورِ اجرت زبردستی سے لازم کر دی جائے، یا کوئی شخص حقیقت و منفعت سمجھے بغیر اس کو اپنائے اور قبول کر سکے، اور یہ دوستی وہی ثابت ہو سکے جسے خدا و رسول چاہتا ہے، بلکہ یہ دوستی ایسی ہے کہ تبلیغِ رسالت کے آغاز ہی سے رسولِ خدا کے ساتھ ان کے قرابت داروں کی نورانی قرابت اور روحانی نزدیکی کی حقیقت سمجھ لی جائے، کیونکہ رسول اللہ سے علی، فاطمہ، حسن، حسین اور ان کی اولادِ پاک یعنی ائمۂ برحق علیہم السّلام کی یہ قرابت داری نہ صرف جسمانی ہی ہے، بلکہ اس سے پیشتر اور اس سے اعلیٰ مقام پر ان کی قرابت نورانی اور روحانی قسم کی ہے۔
پھر رسول اللہ کے ان نورانی قرابت داروں کی محبّت اور دوستی
۶۰
کے یہ معنی ہوئے کہ خدا اور رسول کے درجے کے بعد ان کی فرمانبرداری اور پیروی کی جائے، کیونکہ دینی مراتبِ عالیہ سے محبّت رکھنے کے معنی ان مراتب کی فرمانبرداری کرنے کے ہیں، اور ان مراتبِ عالیہ کی مومنوں سے محبت و دوستی رکھنے کے معنی مومنوں کو ہدایت دینے اور ان پر رحمت کرنے کے ہیں، چنانچہ آیۂ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ ۔۔۔ (۰۳: ۳۱) کے حقائق کا ایک مفہوم یہ ہے: “آپ فرما دیجئے کہ اگر تم بزعمِ خود خدائے تعالیٰ سے دوستی رکھتے ہو تو اس کی صورت یہ ہونی چاہئے کہ تم لوگ میری پیروی کرو، جس کے نتیجے میں خدا بھی تم سے محبّت کرنے لگے گا اور تم سے خدا کی دوستی یہ ہو گی کہ وہ تمہارے سب گناہ معاف کر دے گا۔”
پس معلوم ہوا کہ خدا، رسول اور اس کے قرابت داروں سے مومنوں کی محبّت اور دوستی فرمانبرداری کی صورت میں ہو سکتی ہے، اور اسی وجہ سے رسولؐ کی محبّت حاصل ہونے کا ذریعہ رسولؐ کے قرابت داروں سے محبت رکھنا ہے، اور خدا کی محبت حاصل ہونے کا ذریعہ رسولؐ سے محبّت رکھنا ہے، اور خدا کی حقیقی محبّت اور عشق کا یہ معجزانہ اثر ہے کہ حقیقی معنوں میں خدا کی عبادت کرنے کے لئے اس سے مومن کو بہت بڑی مدد ملتی ہے، اور یہی حقیقی محبّت مومن کے لئے ذریعۂ امید اور وسیلۂ اخلاص ہے، جس سے بوقتِ عبادت مومن کی قلبی توجہ خدائے تعالیٰ کی طرف مرکوز رہتی ہے، اس لئے
۶۱
کہ اس قسم کی عبادت اور توّجہ میں اعلیٰ قسم کی روحانی مسرّت اور نورانی تسکین موجود ہوتی ہے۔
۱۳۔ استعانت:
مذکورۂ بالا عارفانہ قسم کی عبادت کے بیان کے بعد سورۂ الحمد میں استعانت یعنی خدائے تعالیٰ سے ہر نیک کام میں مدد طلب کرنے کا ذکر آتا ہے، اس لئے کہ خدائی مدد بڑے پیمانے پر اور نمایان طور پر عبادت کے بعد مل سکتی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ: وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ (۰۱: ۰۴) اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ یعنی اے اللہ! ہم تیری وحدت کو کثرت کی شرکت سے مجرّد کر کے، اور تیری معرفت کو یکتا کر کے صرف تجھ ہی سے روحانی قسم کی معجزانہ مدد طلب کرتے ہیں، جو تیرے خاص بندوں کے ساتھ ہمیشہ شاملِ حال رہتی ہے۔
۱۴۔ سب سے پہلی دعا:
اللہ تبارک و تعالیٰ سے عملی طور پر روحانی مدد طلب کرنے کے بعد حقیقی مومن خدائی تعلیم کے مطابق سب سے پہلے جس چیز کے لئے دعا کرتا ہے، وہ ہدایت ہے، کیونکہ “اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ” (۰۱: ۰۱) میں حقیقی مومن نے خدا کی تعریف و توصیف کی، “الرَّحْمٰنِ
۶۲
الرَّحِیْمِ” (۰۱: ۰۲) میں اس نے خدا کی جسمانی اور روحانی رحمت کا اقرار کر لیا، “مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ” (۰۱: ۰۳) میں اس نے قیامت یعنی روحانی دور کے آنے اور اس میں مومنوں کے سربلند ہونے کے متعلق امید ظاہر کی، اور “اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ” (۰۱: ۰۴) میں اس نے عارفانہ قسم کی عبادت کی، اور عملی طور پر روحانی مدد طلب کر لی۔ اب ہدایت کے لئے جس طرح وہ دعا کرتا ہے، اس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ خاص ہدایت مومن کے اختیار سے بالاتر ہے، کیونکہ وہ صرف خدا کے اختیار میں ہے، نیز یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآنِ پاک کی سب سے پہلی دعا ہدایت طلب کرنے کے لئے ہے، اور اس حقیقت کی دلیل کہ خاص ہدایت خدا کے اختیار میں ہے، یہ ہے کہ الحمد سے لے کر نستعین تک تقریباً نصف سورے میں جو امور تھے، ان کے متعلّق مومن کو کچھ اختیار دیا گیا تھا، جن پر اس نے اپنی طاقت کے مطابق عمل کیا، نیز اس نے ان امور کی اصلاح کرنے کے لئے خدا سے عملی مدد طلب کر لی، مگر اھدنا سے لے کر الضالین تک جو امور مذکور ہیں، ان میں مومن کو اختیار حاصل نہیں، اس لئے ان میں سے بعض چیزوں سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے اور بعض سے بچنے کے لئے دعا کر رہا ہے۔
۱۵۔ ہدایت:
یاد رہے کہ عربی زبان دنیا کی وسیع ترین زبان ہے، قرآنِ حکیم
۶۳
اسی زبان کے چیدہ چیدہ الفاظ میں نازل ہوا ہے، اور ام الکتاب یعنی سورۂ فاتحہ قرآن کے چنے ہوئے الفاظ میں ہے، الفاظ کے ان انتخاب کا مطلب معنوی وسعت ہے۔ مزید برآن حکمت کا ایک خاص طریقہ یہ بھی ہے کہ جب کسی لفظ کے معنی میں زیادہ سے زیادہ وسعت پیدا کرنا مقصود ہو، تو اس لفظ کے لغوی معنی کو ایک موزون ترین مثال کی صورت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے ایسے لفظ کے معنی زیادہ سے زیادہ ہو جاتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ کائنات و موجودات کے بہت سے حقائق ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں، اندران حال یہ مثال یکسان طور پر بہت سے حقائق کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔
اسی طرح لفظِ ہدایت بھی ایک مثال ہے، جس کے لغوی معنی کسی شخص کو دنیاوی طور پر ایک مقام سے دوسرے مقام تک راستہ دکھانے کے ہیں، چنانچہ دین میں بھی ایک ایسی کیفیّت ہے، جو اس دنیاوی راستہ دکھانے کی کیفیّت سے ملتی جلتی ہے، وہ دین و دنیا کے متعلّق ایک ایسی باطنی یا ظاہری تعلیم ہے، جس کے ذریعے انسانوں کو ایک درجے سے دوسرے درجے میں بڑھاتے ہوئے آخری حد تک خدا سے ملا دیا جاتا ہے، پس دینِ حق کی مثال سیدھے راستے سے دی گئی، حقیقی تعلیم دینے والے کی مثال راستہ دکھانے والے سے دی گئی، اور تعلیم کی مثال راستہ دکھانے سے دی گئی۔
۶۴
۱۶۔ سیدھا راستہ:
قرآنِ حکیم کی وہ اوّلین مثال، اور سب سے پہلی دعا، جس میں سارے مسلمین اللہ تعالیٰ سے یہ تعلیم و توفیق طلب کرتے ہیں کہ انہیں دینِ حق کی معرفت حاصل ہو جائے، اور وہ اس میں آگے بڑھ سکیں، انہی الفاظ سے شروع ہو جاتی ہے:
” اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ (اے اللہ) ہمیں سیدھا راستہ دکھائیے۔” (۰۱: ۰۵) یعنی اے اللہ! ہمیں حقیقی اسلام کی تعلیم و توفیق کے ظاہری و باطنی ذرائع سے بہرہ مند فرمائیے، تا کہ ہم ان تمام نئے مسائل کو حل کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیں، جو زمانہ کے حالات اور واقعات سے یا ذہنی ترقی سے پیدا ہوتے ہیں، سیدھا راستہ دیکھ پانے اور اس پر چل سکنے کے لئے اس مقام پر جو تعلیم، توفیق، اور ہمت طلب کی جا رہی ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ فی الواقع دینِ حق ایک انتہائی سیدھے راستے سے ملتا جلتا ہے، جس کی طول و مسافت باعتبارِ روحانی ارتقاء ازل سے ابد تک ہے، باعتبارِ جسمانی ارتقاء دورِ آدم سے قیامت تک ہے، باعتبارِ ہر امت ایک صاحبِ شریعت سے دوسرے صاحبِ شریعت کے آنے تک، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آمد سے قیامت تک ہے، شخصی زندگی کے پیشِ نظر سیدھے راستے کی طول و مسافت ہر شخص کی پیدائش سے اس کی موت تک، اور تصوّف و حقیقت کے پیشِ نظر ہر شخص کی پیدائش سے اس کی خود شناسی کے وقت تک ہے۔
۶۵
پس معلوم ہوا کہ دینِ حق ایک سیدھے راستے سے مشابہت رکھتا ہے، جس کو دیکھ پانا اور اس پر چلنا جس قدر آسان ہے اسی قدر مشکل بھی ہے، آسان اس لئے ہے کہ اس ذاتِ یگانہ نے جس کی مہربانیوں کی تعریف و توصیف الحمد سے لے کر نستعین تک کی گئی ہے، اپنی عنایت و رحمت سے اس سیدھے راستے کو دیکھ پانے اور اس پر چلنے کے تمام ذرائع پیدا کئے ہوئے ہیں، اور اس سلسلے میں ذرہ بھر بھی کوئی کمی نہیں، اور مشکل اس لئے ہے کہ ایک بڑا زبردست مکار، پرحیلہ اور جادوگر دشمن یعنی شیطان جو کبھی تو انسان کے بھیس میں نظر آتا ہے، اور کبھی جنّات کے لباس میں چھپ جاتا ہے، اسی سیدھے راستہ پر ہی تاک لگا کر بیٹھا ہے، تا کہ وہ اپنی بےشمار سوار اور پیادہ افواج کی مدد سے اس راستے کی طرف رخ کرنے والوں پر، نیز اس پر چلنے والوں پر یکایک حملہ کر سکے، اور ہر گروہ اور ہر فرد کو اس راستے سے بھگا سکے، اس مطلب کے لئے سورۂ الاعراف رکوع دوم (۰۷: ۲۰۲) اور سورۂ بنی اسرائیل رکوع ہفتم کی تعلیم پر غور کیجئے۔
جب یہ حقیقت مانی گئی کہ شیطان ہمیشہ دنیا میں موجود ہے، اور وہ قیامت تک لوگوں کو سیدھے راستے سے گمراہ کرتا رہے گا، تو عدلِ الٰہی کے قانون سے یہ لازم آتا ہے کہ اس کے برعکس ہمیشہ دنیا میں ایک ایسا ذریعہ بھی موجود ہو، جو لوگوں کو قیامت تک راہِ راست کی ہدایت کرتا رہے، یہ ذریعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اور
۶۶
اس کی آل یعنی امامِ زمانؑ ہے، جو نبیؐ و علیؑ کا نور ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (۱۳: ۰۷) اے محمد! آپ صرف ڈرانے والے ہیں، اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہوا کرتا ہے۔” تو ظاہر ہے کہ ڈرانا (جو ظہورِ معجزات اور نزولِ بلیات یا خالص تبلیغ کے ذریعے ممکن ہوتا ہے) پیغمبروں کا کام ہے، اور ظاہر و باطن کی پوشیدہ ہدایت اماموں کا کام ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جب تک دنیا میں کوئی قوم رہتی ہے، تب تک ہادی موجود اور حاضر ہے، اس لئے کہ مذکورہ آیت کے بموجب ہادی اور قوم یعنی اہلِ زمانہ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں، اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ آپ تو صرف قرآن اور اپنی سنّت کے ذریعے اپنی قوم کو قیامت تک ڈرانے والے ہیں، مگر اس قوم کی ہدایت تو ہادی ہی کرے گا، یعنی علیؑ اور اس کی اولاد کے أئمّۂ کرام یہ کام انجام دیں گے۔
۱۷۔ مختلف راستے:
صراطِ مستقیم یعنی سیدھے راستے کے سوا جو دوسرے مختلف راستے ہیں، وہ ٹیڑھے اور تکلیف دہ ہونے کے علاوہ منزلِ مقصد کی طرف بھی نہیں جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود ان راستوں پر چلنے والوں کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ ان راستوں سے ہٹ کر
۶۷
شاہراہِ مستقیم پر گامزن ہو جائیں، چنانچہ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے: ” وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآىٕرٌؕ-وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ (۱۶: ۰۹) اور سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے، اور اسی سے (نکل جانے کے) ٹیڑھے راستے بھی ہیں، اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو مقصود تک پہنچا دیتا۔”
۱۸۔ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام:
ام الکتاب میں خدا کی جس بڑی نعمت کا یا جس بڑے انعام کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے وہ سیدھے راستے کی ہدایت ہے، اس لئے کہ ہدایت کے معنی میں علم، معرفت، حکمت، اور خدا کی خوشنودی پوشیدہ ہیں، ہدایت عقل اور روح کی روشنی کا نام ہے، اور ہدایت خدا کے نور تک راستہ پانے کا نام ہے، چنانچہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے: ” یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ (۲۴: ۳۵) اللہ تعالیٰ اپنے نور تک جس کو چاہتا ہے راہ دے دیتا ہے۔” یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے امامِ زمانؑ کی معرفت عطا فرماتا ہے، کہ امامِ زمانؑ ہی خدا کا نور ہے، اور امامِ زمانؑ ہی کے ذریعے خدا کی ظاہری و باطنی ہدایت لوگوں کو مل سکتی ہے۔
۶۸
۱۹۔ وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا:
یہ سیدھا راستہ اور اس کی ہدایت ان لوگوں کے لئے ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے، اور وہ پانچ گروہ ہیں:
۱۔ نبیّین
۲۔ صدّیقین
۳۔ شہداء
۴۔ صالحین
۵۔ تابعین
(النساء کی آیت ۶۹ ملاحظہ ہو، ۰۴: ۶۹)
یعنی ناطقان، اساسان، أئمّہ، حجّتان اور داعیان، یہی ہیں وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے، اور یہی لوگ دوسروں کے لئے سیدھے راستے کی ہدایت کر سکتے ہیں، کیونکہ جو لوگ خود ہدایت یافتہ ہیں، وہی لوگ دوسروں کی بھی ہدایت کر سکتے ہیں، اس آیت میں جس کا یہاں صرف خلاصہ لیا گیا ہے، پہلے ناطقوں کا نام آیا ہے، ان کے بعد صدّیقین یعنی اساسوں کا نام لیا گیا ہے، اس لئے کہ ہر ناطق کی تنزیل کی تصدیق کے لئے ایک صدیق یعنی اساس ہوا کرتا ہے، جو اپنی تاویل کے ذریعے اس تنزیل کی تصدیق کرتا ہے، ان کے بعد اماموں کا ذکر کیا گیا ہے، اور اماموں کو یہاں گواہ (شہداء) کہا گیا ہے، کیونکہ ہر امام اپنے زمانے کے لوگوں پر
۶۹
گواہ ہوتا ہے، اور کوئی وقت ایسا نہیں جس میں امامِ زمانؑ حاضر اور گواہ نہ ہو، پھر حجّتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ صالحین سے مراد روئے زمین کے بارہ حجّت ہیں، جو دنیا بھر میں امامِ زمانؑ کی ہدایت کے بموجب اصلاح کرتے ہیں، پھر دعاۃ کا ذکر ہوا ہے، کیونکہ تابعین سے مراد دعاۃ ہیں، جو ان چاروں جسمانی حدود کی تابعداری کرتے ہیں، نیز یہی دعاۃ ہی ہیں جو لوگوں سے امامِ زمانؑ کی تابعداری اور بیعت لیتے ہیں۔
پس یہی لوگ ہیں جو راہِ راست پر ہدایت یافتہ ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے مقرر کئے گئے ہیں، اور اس دعا میں لوگوں کو انہی سے ہدایت حاصل کرنے اور انہی کے راستے پر چلنے کی تعلیم دی جاتی ہے: “صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ۔ (۰۱: ۰۶) ہمیں ان لوگوں کا راستہ دکھا دیجئے جن پر آپ نے انعام فرمایا ہے۔”
۲۰۔ غضبِ الٰہیہ کسے کہتے ہیں؟
ام الکتاب میں دوسرے بہت سے ضروری عنوانات کے ساتھ خدا کے غیض و غضب کا عنوان بھی ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ قرآنِ حکیم کے مضامین میں سے ایک اہم مضمون خدا کے غصہ و غضب کے متعلق ہے، پھر ہمیں یہاں اس کے بارے میں کچھ مختصر بیان کر دینا چاہئے، وہ یہ ہے کہ خدا کا غضب خدا کی ذاتِ پاک
۷۰
سے وابستہ نہیں، بلکہ وہ قانونِ الٰہی میں شامل ہے، اور قانونِ الٰہی کائنات و موجودات کی مجموعی فطرت کا نام ہے، اور اسی فطرت کا خلاصہ انسان ہے، پس انسانی فطرت قانونِ الٰہی کے ایک نمونے اور ایک کتاب کی حیثیت سے ہے، بالفاظِ دیگر انسان کے اندر قانونِ الٰہی موجود ہے، اور یہ قانون خودکار قسم کا ہے، یعنی یہ “Automatic Law” ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار سے جو کچھ نیت کرتا ہے، جو کچھ کہتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے تو اس کے اچھے یا برے اثرات اور نتائج سب سے پہلے اور اخیر میں خود اسی پر واقع ہوتے ہیں۔
پھر آپ لازماً یہ سوال کریں گے کہ اگر حقیقت یہی ہے کہ انسان کو نیکی اور بدی دونوں پر برابر اختیار حاصل ہے، اور وہ اپنی مرضی سے نیکی یا بدی جو کچھ کرتا ہے، قانونِ الٰہی اس کو اس نیکی اور بدی کا بدلہ دیتا جاتا ہے، تو پھر خدائے تعالیٰ کی ننانوے یا کہ سو صفات کے افعال کس مخلوق پر واقع ہوتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ انسان اس اختیار سے جو خدا نے اسے عطا کر دیا ہے جتنی نیکی کر سکتا ہے اتنی بدی بھی کر سکتا ہے، اندران حال مناسب یہ تھا کہ اس کو نیکی اور بدی دونوں کا برابر بدلہ ملے، مگر فی الواقع ایسا نہیں ہوتا بلکہ بدی کا بدلہ اس کی بدی ہی کے برابر دیا جاتا ہے، اور نیکی کا بدلہ اس کی نیکی سے دس گنا زیادہ دیا جاتا ہے، تو ظاہر
۷۱
ہے کہ اس میں نو گنا بدلہ اللہ کی صفات کی بدولت ہے، اور باقی ایک بدلہ انسان کے اختیار کی وجہ سے ہے، چنانچہ قولِ قرآن کی شہادت ہے: “جو شخص نیک کام کرے گا اس کو دس گنا بدلہ ملے گا، اور جو شخص برا کام کرے گا سو اس کو اس کے برابر سزا ملے گی، اور ان پر ظلم نہ ہو گا (۰۶: ۱۶۰)۔
اس بیان سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے صفات میں غیض و غضب کا کوئی مستقل نام نہیں، اور جو قاہر یا قہار کا اسم ہے اس میں غضب و غصے کے معنی نہیں بلکہ اس کے معنی غالب آنے کے ہیں، اور اگر لوگ لفظِ قہر کو غصہ یا غضب کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، تو یہ لوگوں کی غلط عادت کی بات ہے۔
اب یہ حقیقت پایۂ ثبوت پر آ گئی کہ غضبِ الٰہیہ ایک اٹل قانون کی حیثیت سے انسان کی فطرت میں پوشیدہ ہے، اور وہ انسان کی اپنی جہالت اور غفلت کی صورت میں ہے، چنانچہ جو فرد یا قوم خدا کے امر کی تابعداری نہ کرے، اور اس کی بندگی سے منہ موڑے، تو اس کو لازماً وہ علم نہیں ملے گا جو اس امر میں پوشیدہ تھا، اور اس کی روح کو وہ خوراک نہیں ملے گی جو اس عبادت میں پنہان تھی، پس اس کی جہالت اور غفلت بڑھ جائے گی، یہاں تک کہ اس کی عقل اور روح مسخ ہو جائے گی، یعنی اس میں حقیقی علم و دانش حاصل کرنے کی، اور ذکر و عبادت سے حظ اٹھانے کی جو
۷۲
صلاحیت موجود تھی، وہ یکسر ختم ہو جائے گی، درحالیکہ وہ شکل و صورت میں انسان ہی رہے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ (۳۶: ۶۷) اور اگر ہم چاہتے تو ان کو اپنی جگہ پر ہی مسخ کر ڈالتے، جس سے یہ لوگ نہ آگے کو چل سکتے، اور نہ پیچھے کو لوٹ سکتے۔” یعنی اگر ہم چاہتے تو ان کو انسانی جسم ہی میں مسخ کرکے کسی جانور کی خاصیت و عادت میں بدل ڈالتے، جس سے وہ لوگ نہ تو انسانیت کی کوئی ترقی کر سکتے، اور نہ اپنے بچپن کے اس مقام کی طرف لوٹ سکتے، جہاں پر ان کی فطری صلاحیتیں کھو گئی ہیں۔
۲۱۔ گمراہی:
سورۂ فاتحہ کا یہ بیان ہے کہ ہر زمانے کے لوگ دین و آئین کے اعتبار سے چار بڑے گروہوں میں منقسم ہوتے ہیں، جن میں سے پہلا گروہ وہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص عنایتوں سے ہدایت یافتہ ہے، صراطِ مستقیم پر خود چلتا ہے، اور دوسروں کو بھی اس سیدھے راستہ پر چلنے کی ہدایت کر سکتا ہے، دوسرا گروہ وہ ہے جو صراطِ مستقیم پر چلنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اس کے لئے ہمیشہ دعا کرتا رہتا ہے، تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن پر خدا کا غصہ و غضب واقع ہوا ہے، اب انہوں نے جو راستہ اختیار کر
۷۳
لیا ہے وہ ایسا نہیں کہ صراطِ مستقیم سے جا ملے، اور چوتھا گروہ ان لوگوں کا ہے جو راہِ راست سے گم ہو گئے ہیں، اور اب وہ جس راستے پر چل رہے ہیں، وہ اس قابل نہیں کہ منزلِ مقصود تک پہنچ جائے۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: “غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۔ نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گیا ہے، اور نہ ان لوگوں کا جو راہِ راست سے گم ہو گئے ہیں۔” (۰۱: ۰۷)
فصل صلوٰۃ کے الفاظ کے بارے میں
“سجد وجھی الیک۔ اے اللہ! میری نیت، توجہ، اور چہرے نے تیرے حضور میں عاجزی اور خاکساری سے سجدہ کیا۔” سجدہ کے معنی عاجزی و خاکساری سے جھکنے کے ہیں۔ وجہ کے معنوں میں سے یہاں نیّت، توجہ، اور چہرہ مقصود ہے، اور الیک کا ترجمہ یہاں “تیرے حضور میں” درست ہے۔ “و توکلت علیک۔ اور میں نے تجھ پر ہی توکل کیا” یعنی اپنے اختیار سے بالاتر امور کو تیرے ہی سپرد کر دیا، اور تجھ پر ہی بھروسہ کیا۔ “منک قوّتی۔ تجھ ہی سے میری قوّت مہیا ہوتی ہے۔” یعنی اگر میں اپنے دائرۂ اختیار میں روحانی و جسمانی طور پر کچھ کر سکتا ہوں، تو یہ بھی تیرے ہی دیئے
۷۴
ہوئے ذرائع سے ہے۔ “و انت عصمتی یا ربّ العالمین۔ اور تو ہی میری پناہ اور بچاؤ ہے، اے پروردگارِ عالمین!” یعنی اپنی روحانی و جسمانی ہدایت اور معجزانہ قدرت کے ذریعے گناہوں اور بلاؤں سے مجھے محفوظ رکھنے والا تو ہی ہے، کیونکہ تو عالموں کا پالنے والا ہے، اور پالنے والے کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جو زیادہ حاجت مند ہو اور جو زیادہ رویا کرے، وہ اسی کی زیادہ پرورش و حفاظت کرتا رہتا ہے۔
“اللھم صل علیٰ محمد المصطفیٰ ۔ اے اللہ! تو رحمت نازل فرما، اپنے برگزیدہ محمد (رحمت للعالمین ۲۱: ۱۰۷) کے وسیلے سے” جس کو تو نے دنیا جہان والوں کے لئے رحمتِ کل کی حیثیت سے بھیجا ہے۔ “و علیٰ علی المرتضیٰ۔ اور اپنے پسندیدہ علی کے وسیلے سے۔” جس کو تو نے الکوثر کا خطاب دے کر حضرت محمدؐ کا فرزند قرار دیا ہے۔ “و علی الائمۃ الاطہار۔ اور سارے پاک و برحق اماموں کے وسیلے سے” جو حضرت محمدؐ اور الکوثر (علیؑ) کی نورانی و جسمانی اولاد ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہی أئمّہ علیہم السّلام کو رسولِ اکرمؐ کی اولاد، اس کے حقیقی وارث و جانشین، اور اس کے نورِ ہدایت کے حامل قرار دیتے ہوئے سورۃ الکوثر میں اس کافر کے قول کی تردید فرمائی ہے، جس نے کہا تھا کہ محمدؐ کی کوئی مردانہ اولاد نہیں ہے، اور اس کافر کا نام بعض روایتوں میں عاص
۷۵
بن وائل تھا، بعض میں ہے کہ یہ شخص عقبہ بن ابو معیط تھا، اور ابنِ عباس وغیرہ کا قول ہے کہ یہ بات کعب بن اشرف اور جماعتِ قریش سے تعلق رکھتی ہے۔
“و علیٰ حجۃ الامر صاحبِ الزمان و العصر امامنا الحاضر الموجود مولانا شاہ کریم الحسینی۔ اور رحمت نازل فرما ہمارے حاضر و موجود امام مولانا شاہ کریم الحسینی کے وسیلے سے، جو تیرے امر کی حجت (دلیل) اور زمانہ ظاہر و عصرِ باطن کے مالک ہیں” امر کی حجّت کی تشریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی زمانے میں بھی اس جہان کو ہادی سے خالی نہیں رکھا ہے، کیونکہ خدا اہلِ زمانہ کے درمیان اگر کوئی ہادی مقرر نہ فرماتا تو قیامت کے دن لوگ یہ کہا کرتےکہ اے پروردگار! ہمارے زمانے میں آپ کی طرف سے کوئی ہادی حاضر و موجود نہ تھا، اور ہم آپ کی کتاب کا آخری مقصد نہیں سمجھ سکتے تھے، تو اس صورت میں ان کا یہ کہنا از روئے عدل صحیح ہو گا، اور اس کی دلیل و حجّت (جواب دہی) خدا پر رہے گی، مگر حقیقت یہ ہے کہ دلیل و حجّت تو لوگوں ہی پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں لوگوں کی ہدایت کے لئے کوئی نہ کوئی رسول بھیجا ہے، پھر اس کا کوئی حقیقی جانشین مقرر کر دیا ہے، تا کہ رسولوں کے بھیجے جانے، یا ان کے جانشین مقرر کئے جانے کے بعد خدا پر لوگوں کی کوئی دلیل و حجّت (جواب دہی) باقی نہ رہ جائے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
۷۶
“لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِؕ (۰۴: ۱۶۵) تا کہ رسولوں کے بھیجے جانے کے بعد خدا پر لوگوں کی کوئی جواب دہی باقی رہ نہ جائے۔” چنانچہ رسولِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد سے قیامت تک ہر زمانے کا امام اپنے وقت میں حجّۃ الامر ہے، یعنی امامِ زمانؑ لوگوں پر خدا کے امر اور ہدایت کی حجّت ہے، اس لئے فردائے قیامت خدا پر لوگوں کی کوئی حجّت باقی نہیں۔ عصرِ باطن اس روحانی وقت کا نام ہے جو اس زمانۂ ظاہر سے بحیثیتِ روح وابستہ ہے، بالفاظِ دیگر عصر اس روحانی دور کا نام ہے، جو اس جسمانی دور کے اندر پوشیدہ ہے، اور جب یہ دور ختم ہو جائے تو وہ دور ظاہر ہونے لگے گا، جس طرح رات ختم ہونے پر دن ظاہر ہو جاتا ہے، عصر کی کچھ حقیقت سمجھانے کی مثال یہ ہے کہ غالباً آپ نے کسی وقت کسی بڑی نیکی یا کسی اچھی عبادت کے نتیجے پر کوئی نہ کوئی نورانی خواب دیکھا ہو گا، جس میں آپ نے ضرور دیکھا ہو گا کہ آپ کے عالمِ خواب کا وقت اس دنیا کے ظاہری وقت سے قطعاً مختلف تھا، ہو سکتا ہے کہ آپ نے ایسے کسی نورانی خواب میں بغیر موسم کے بہار دیکھی ہو، وہ عصر ہی ہے، اب بیداری کی ایک مثال سے عصر کی حقیقت سمجھائی جاتی ہے، فرض کیجئے کہ ایک سچا درویش یا ذاکر فقیر ہے، یا کوئی صوفیٔ حقیقت یا حقیقی مومن ہے، اور اس نے نیک کاموں کے ساتھ ساتھ عبادت اور معرفت میں یہ کمال
۷۷
حاصل کر لیا ہے کہ وہ جب بھی ظاہری آنکھیں بند کر کے باطنی آنکھوں سے دیکھنے لگتا ہے، تو ایک نورانی عالم اس کے سامنے موجود پایا جاتا ہے، اب اس نورانی عالم میں جو وقت ہو گا، وہ یہ وقت نہیں ہو گا، جو اس شخص کے جسم پر گزر رہا ہے، پس وہ وقت عصرِ باطن ہی ہے جس کی جلالت و عظمت کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھاتا ہے: وَ الْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ (۱۰۳: ۰۱ تا ۰۲) قسم ہے عصر کی کہ انسان (بوجہِ غفلت عصر کے معاملے میں) بڑے خسارے میں ہے۔” “اللھم لک سجودی و طاعتی۔ اے اللہ! میرے سجدے اور طاعت و فرمانبرداری تیرے ہی لئے ہیں۔”
فصلِ صلوٰۃ کے معنی کے بارے میں
صلوٰۃ کی تفسیر میں اختلافات پائے جاتے ہیں، اس سلسلے میں ہم اپنے خیالات ظاہر کرنے سے پہلے یہاں پر فرمان علی صاحب کے ترجمۂ قرآن کے حاشیے کی ایک نقل درج کرتے ہیں، وہ یہ ہے:
۷۸
“میں نے ترجمہ میں لفظِ آل بڑھا دیا ہے (یعنی شک نہیں کہ خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر اور ان کی آل پر درود بھیجتے ہیں) اس کی چند وجہیں ہیں:
۱۔ امام رازی نے اس کا اقرار کیا ہے کہ حضرت کے اہلِ بیت پانچ چیزوں میں آپ کے برابر ہیں، منجملہ تشہد میں ان پر درود بھیجنا۔
۲۔ شجرِ اسلام کی شادابی سے قبل ملائکہ نے حضرت علیؑ پر مدتوں درود بھیجا۔
۳۔ مناقبِ مرتضوی میں انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا کہ آپ فرماتے تھے مجھ پر اور علی پر ملائکہ نے سات مرتبہ درود بھیجا۔
۴۔ سنن ابی داؤد میں ابن ابی شیبہ سے روایت ہے، اور اس کی تصحیح ترمذی حاکم ابو القاسم، ابنِ خزیمہ اور ابنِ مسعود بدری نے کی ہے، کہ لوگوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا، آپ کو سلام کرنا تو ہم جانتے ہیں، مگر ہم آپ پر درود کیونکر بھیجیں؟ آپ نے فرمایا یوں کہو:
اللھم صل علی محمد و علیٰ آل محمد کما
۷۹
صلیت علی ابراہیم و علیٰ آل ابراہیم ۔
۵۔ مواہبِ لدنیہ میں ہے کہ حضرت رسول نماز میں یوں فرماتے تھے: اللھم صل علی محمد و آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و آل ابراہیم۔
۶۔ صواعقِ محرقہ میں ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: لا تصلوا علیٰ صلوٰۃ بترا۔ مجھ پر ناقص درود نہ بھیجا کرو، لوگوں نے عرض کی، ناقص درود کیا ہے؟ فرمایا: اللھم صل علیٰ محمد کہا کرنہ رہ جاؤ، یہ ناقص ہے، بلکہ یوں کہو: اللھم صل علی محمد و آل محمد۔
۷۔ ان سب سے قطع نظر کر کے خود قرآن میں “سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ (۳۷: ۱۳۰) موجود ہے، اور یہ واضح ہے کہ یاسین حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خطاب ہے۔ لہٰذا آلِ یاسین سے مراد آلِ محمدؐ ہے۔
۸۔ اس کے علاوہ آیۂ هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىٕكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِؕ-وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا (۳۳: ۴۳) اور علامہ زمخشری کے
۸۰
قول کے مطابق جب عام مومنین پر درود بھیجنا چاہئے تو حضراتِ اہلِ بیتؑ ان سے زیادہ اولیٰ ہیں۔
۹۔ امام شافعی نے کیا خوب کہا ہے: قطعہ
یا اہل بیت رسول اللہ حبکم
فرض من اللہ فی القرآن انزلہ
کفاکم من عظیم القدر انکم
من لم یصل علیکم لا صلوٰۃ لہ
ترجمہ: اے اہلِ بیتِ رسولؐ! خدا نے تمہاری محبّت قرآن میں فرض کر دی ہے، تمہارے مرتبہ کی بزرگی میں اسقدر کافی ہے کہ نماز میں جو شخص تم پر درود نہ بھیجے، اس کی نماز ہی صحیح نہیں۔ دیکھو تفسیرِ درِ منثور جلد ۵ صفحہ ۲۱۶ مطبوعہ مصر وغیرہ۔”
یہاں تک فرمان علی صاحب کا مذکورہ حاشیہ درج ہوا۔
صلوٰۃ کے بارے میں میرا کہنا یہ ہے کہ بے شک مذکورہ اقوال سے آلِ رسول کی فضیلت و مرتبت کی تصدیق ہوئی، اور حضرتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نام کی معیّت میں ان کے نام پر صلوٰۃ پڑھنا فرض ثابت ہوا، مگر اب یہ سمجھ لینا باقی ہے کہ ہم حضرتِ رسولؐ اور آلِ رسولؐ کے لئے کن معنوں میں صلوٰۃ پڑھیں؟ کیا یہ صحیح ہے کہ ہم صلوٰۃ کے معنی میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی رحمت طلب کرتے ہیں جو صرف ہماری ہی طلب سے ان کو میسر آ سکتی ہے؟
۸۱
اگر یہی صحیح ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس عالمگیر ارشاد اور دور رس فرمان کا مطلب کیا ہو گا؟ “وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (۲۱: ۱۰۷) اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے لئے نہیں بھیجا، مگر دنیا جہان کے لوگوں پر رحمت (مہربانی) کرنے کے لئے۔” حق بات تو یہ ہے کہ جب ہم حبیبِ خدا، سرورِ انبیا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، رحمۃ للعالمین اور آنحضرتؐ کی پاک آل کے نام پر بطورِ تعظیم صلوٰۃ پڑھا کرتے ہیں، تو ان کے وسیلے سے ہم اپنے ہی لئے خدا کی رحمت طلب کرتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (۳۳: ۵۶) بےشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی محمدؐ (اور اس کی آلؑ) کے وسیلے سے رحمت بھیجا کرتے ہیں، ایمان والو! تم (بھی) انہی کے وسیلے سے رحمت طلب کر لیا کرو، اور (اس مقصد کے لئے) پوری طرح سے ان کی تابعداری کرتے رہو۔”
آیۂ بالا کی معنوی تحقیق اس طرح کی جا سکتی ہے کہ ہم سب سے پہلے یصلون اور صلوا دونوں الفاظ کے مصدر “صلوٰۃ” کو سامنے رکھیں، جس کے معنی نماز، دعا، اور رحمت کے ہیں، پس اسی مصدر کی اساس پر یصلون کے معنی یہ ہوں گے: وہ نماز پڑھتے ہیں، دعا کرتے ہیں، یعنی مانگتے ہیں، رحمت طلب کرتے ہیں، رحمت
۸۲
بھیجتے ہیں، لیکن اس پر سب لوگ متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نہ تو کسی کے لئے نماز پڑھتا ہے، نہ کسی سے دعا کرتا ہے، اور نہ کسی سے کوئی رحمت طلب کرتا ہے، بلکہ اس کے یہی معنی درست ہیں کہ وہ اپنی طرف سے فرشتوں کے ساتھ اور محمدؐ و آلؑ کے وسیلے سے مومنین پر رحمت بھیجا کرتا ہے، پس یصلون میں یہی مطلب پوشیدہ ہے، اس کے برعکس اگر ہم یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے بھی اللہ ہی کی طرح رحمت بھیجتے ہیں، تو سوال پیدا ہو گا کہ فرشتوں کی یہ رحمت کہاں سے آئی؟ نیز یہ کہ فرشتے یہ رحمت کس کے ساتھ بھیجا کرتے ہیں؟ جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت فرشتوں کے ساتھ بھیجا کرتا ہے۔
جب یہ ثابت ہوا کہ یصلون کے معنوں میں سے یہاں صرف وہی معنی مراد ہیں، جو خدا کے فعل کے عین مطابق ہیں، پھر اسی دلیل پر یہاں صلوا سے بھی وہی معنی مراد ہیں، جو ایمان والوں کے عقیدے کے عین مناسب ہیں، پس یہاں صلوا کا امر رحمت طلب کرنے کے لئے ہے، رحمت بھیجنے کے لئے نہیں، کیونکہ آیۂ مذکورہ کے شروع میں یہ ذکر آ چکا ہے، کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے کسی کی درخواست یا سفارش کے بغیر ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اس کی آلِ پاکؑ کی طرف رحمت کافیّہ بھیجتے ہیں، تا کہ ایمان والے ان کی پوری طرح سے فرمانبرداری کرتے ہوئے یہ رحمت
۸۳
طلب اور حاصل کر سکیں۔
اب لفظِ “علیٰ” کو لیجئے، جس کے معنی مختلف محاورات میں مختلف ہوا کرتے ہیں، یعنی بعض دفعہ یہ نہیں ہوتا کہ “علیٰ” کے معنی “پر” ہو کر مطلب اسی پر ختم ہو جائے، جس کے آگے لفظ “علیٰ” آیا ہے، بلکہ مطلب جاری رہتا ہے، چنانچہ اس ارشاد میں “علیٰ” کی ایک مثال ملاحظہ ہو:
“ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ (۸۸: ۲۶) پھر ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔” اس مثال میں اگرچہ “علیٰ” اسمِ ضمیر “نا” کے ساتھ آیا ہے، مگر یہ یہاں لفظِ حساب کے معنی کو “ھم” کی طرف جاری رکھتا ہے، یعنی اس آیت کا ترجمہ یوں نہیں: “پھر ان کا حساب ہم پر ہے” صلوٰۃ کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہے۔
۸۴
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصۂ دوم
آیۂ اطاعت کے رموز
“یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا۔ اے ایمان والو!” یعنی اے امتِ محمدیہؐ کے خواص و عوام! جو نزولِ قرآن سے قیامت تک کے زمانوں میں ہو۔ “اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ (۰۴: ۵۹) اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور اولی الامر کی فرمانبرداری کرو، جو تم میں سے ہیں۔” اس آیۂ مقدّسہ کے رموز کی توضیح یہ ہے کہ مذکورہ آیت کے اعتبار سے اطاعت تین طرح کی ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی کے خلاصے سے اطاعتِ خدا، اطاعتِ رسول اور اطاعتِ اولی الامر ظاہر ہیں، اطاعتِ خدا
۸۵
(اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری) کائنات کے اٹل قوانین، نظامِ فطرت کے اصولات اور انسانوں کے مشترکہ ضابطۂ حیات پر مشتمل ہے، اندران حال دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب والے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے ہیں، یا یہ کہو کہ اس اخلاقی فرمانبرداری کے لئے تو سب لوگ قائل ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو پسندیدہ امور اسلام سے پہلے بھی موجود تھے، ان پر ایمان والوں کاعمل کرنا ہی قرآنی اصطلاح میں خدا کی اطاعت ہے، پھر یہ اخلاقی فرمانبرداری ہوئی، اطاعتِ رسول ان خاص دینی امور میں ہے، جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے دینِ اسلام کے نام سے اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وساطت سے دنیا والوں کے لئے نافذ فرمایا، جن پر عمل کرنا خدا کی ایک ایسی اطاعت ہے جس کو لوگ صرف رسول ہی کی وساطت سے کر سکتے ہیں، پس اطاعتِ رسول کا دوسرا نام دینی فرمانبرداری ہوا۔ اطاعتِ اولی الامر اس نورانی اور دائمی ہدایت سے وابستہ ہے، جو ہر زمانے کے امام میں پائی جاتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا: “اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (۱۳: ۰۷) اے محمد! آپ صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہوا کرتا ہے۔” یعنی آپ کا کام صرف ظاہری اور وقتی طور پر ڈرانا ہے اور ہر قوم میں ایک ہادی ہوا کرتا ہے، چنانچہ آپ کی قوم میں بھی ہمیشہ
۸۶
کے لئے ہادی ہوا کرے گا، پس ہادی یعنی صاحبِ امر کی اطاعت روحانی فرمانبرداری ہوئی۔
اس حکمت آگین آیت سے اب یہ نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں:
۱۔ مذکورہ ارشاد نے دینی امور کو دو قسموں میں منقسم کر دیا، جن میں سے ایک قسم کے امور کا تعلّق انذار یعنی ڈرانے سے ہے، اور دوسری قسم کے امور کا تعلق ہدایت سے ہے۔
۲۔ منذر یعنی پیغمبر جو خدا کی طرف سے لوگوں کو ڈراتا ہے، ڈرانے کے ظاہری و باطنی ذرائع سے کام لے سکتا ہے، خصوصاً ظہورِ معجزات اور نزولِ بلیّات سے، اور یہ سب کچھ اعلانیہ طور پر ہو سکتا ہے، مگر ہادی یعنی امام جو خدا کی طرف سے لوگوں کی روحانی ہدایت کے لئے مقرر ہے، نہ کسی طرح سے لوگوں کو ڈراتا ہے، نہ ہی کوئی ظاہری معجزہ اپنے نام پر ظہور میں لاتا ہے، اور نہ ہی بڑے پیمانے پر اعلانیہ تبلیغ کرتا ہے۔
۳۔ جس طرح منذر لوگوں کو پہلے دوزخ سے ڈرایا کرتا ہے، اس طرح ہادی ان کو بعد میں بہشت سے امید دلاتا ہے۔ پس اس اعتبار سے یہ معلوم ہوا کہ سب سے پہلے اخلاقی فرمانبرداری آتی ہے، جو خدا کی عام اطاعت ہے، اس کے بعد دینی فرمانبرداری ہے، جو رسول کی وساطت سے کی جا سکتی ہے، اور یہ اس عام اطاعت کے مقابلے میں خدا کی خاص اطاعت
۸۷
ہے، اور اخیرمیں روحانی اطاعت آتی ہے، جو ہادی یعنی صاحبِ امر کی وساطت سے کی جا سکتی ہے، اور یہ خدا کی خاص ترین اطاعت ہے۔
یہی وجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: اے ایمان والو! خدا کی فرمانبرداری کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو، اور اولی الامر کی فرمانبرداری کرو، جو تم میں سے ہیں۔ یعنی سب سے پہلے قرآنِ پاک کی ان سادہ اور آسان باتوں پر عمل کرنا چاہئے، جو واضح ہیں، جو ہر قوم اور گروہ کے نزدیک مسلّم اور واجب العمل ہیں، اور جن کے فائدہ بخش ہونے میں لوگوں کو کوئی شک ہی نہیں، تا کہ انسان اخلاقی طور پر آگے بڑھ سکے، اور دینِ اسلام کی بنیاد اس کی فطری صلاحیتوں اور اخلاقی قابلیتوں پر مستحکم ہو سکے، اور وہ اخلاقی قوانین کی مدد سے دینی قوانین کی حکمت کو اچھی طرح سے سمجھ سکے، اس طرح کی اخلاقی درستی کے بعد قرآنِ پاک کے ان ارشادات پر عمل کیا جائے، جن کا خاص تعلق دینِ اسلام اور حضرتِ رسول سے ہے، جن کی تشریح آنحضرتؐ نے اپنی سنتِ مطہرہ اور خاص حدیثوں سے کی ہے، اس کے بعد انسان کو چاہئے کہ قرآن کے ان فرمودات پر عمل کرے، جن کا خاص تعلق روحِ اسلام اور ہادی سے ہے، اور جن کی تشریح یعنی تاویل ہادیٔ زمانؑ کی روحانی و جسمانی ہدایت میں پائی جاتی
۸۸
ہے، مگر قرآن پاک کے ایسے فرمودات پر عمل اس وقت ہو سکتا ہے، جبکہ ہادی یعنی امامِ زمانؑ کی شناخت حاصل ہو، اور اس کی حقیقی فرمانبرداری کی جائے، چنانچہ اخلاقی فرمانبرداری خدا کی ہستی کے اقرار سے شروع ہو جاتی ہے، اور حضرت محمدؐ کی رسالت کا اقرار کرنا دینی فرمانبرداری کی ابتدا ہے، اسی طرح ہادیٔ زمانؑ کی شناخت اور اس کی ہدایت کے اقرار سے روحانی فرمانبرداری کا آغاز ہوتا ہے۔
امامِ زمانؑ کی روحانی فرمانبرداری کے سلسلے میں حقیقی مومن کو حضرت محمدؐ کے اس نور کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے، جس کی مثال آنحضرتؐ نے علم کے شہر اور حکمت کے گھر کے دروازے سے دی ہے، اسی طرح امامِ زمانؑ کی روحانی فرمانبرداری میں حقیقی مومن بحقیقت رسول کی فرمانبرداری کرتا رہتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کو علم و حکمت اور خدا کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے، کیونکہ امامِ زمانؑ ہی علیؑ کا نور اور حضرت محمدؐ کے علم و حکمت کا دروازہ ہے، پس معلوم ہوا کہ امامؑ ہی کی ہدایت سے خدا اور رسول کی حقیقی فرمانبرداری ہو سکتی ہے، یہی سبب تھا کہ آیۂ اطاعت میں خدا کی عام اور ظاہری فرمانبرداری یعنی اخلاقی فرمانبرداری سب سے پہلے لازم کر دی گئی، اس کے
۸۹
بعد رسولؐ کی دینی فرمانبرداری واجب ہوئی، اور اخیر میں أئمّۂ برحق کی روحانی فرمانبرداری فرض ہوئی، اور یہ تین قسم کی اطاعتیں ظاہری اور عام قسم کی تھیں، مگر باطنی اور خاص قسم کی اطاعت امامِ زمانؑ کی روحانی فرمانبرداری سے شروع ہو جاتی ہے، جو روحانی اور نورانی ہدایت کی صورت میں ہے، جس کی روشنی میں رسولِ برحقؐ کی وہ اطاعت کی جا سکتی ہے، جس کا تعلق علم و حکمت سے ہے، اور اخیر میں خدا کی اطاعت کی جا سکتی ہے، جس کا تعلق علمِ وحدت اور خدا شناسی سے ہے۔
“وَكُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ (۳۶: ۱۲) اور ہم نے تمام چیزیں امامِ ظاہرؑ کی ذات (نور) میں محدود کر دی ہیں۔” یعنی امامِ برحقؑ کے نورمیں کائنات و موجودات کی ہر چیز علمی صورت اور روحی وجود میں موجود ہے، نیز یہ کہ اس نور میں جو خدا اور اس کے رسول کا نور ہے، آسمان و زمین سموئی ہوئی ہے، چنانچہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے: “وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ (۰۲: ۲۵۵) اس کی کرسی سب آسمانوں اور زمینوں کو گھیرے ہوئے ہے۔”کرسی سے مراد نورِ ہدایت ہے، جس کے بارے میں ارشاد ہے: “اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ (۲۴: ۳۵) اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔” جب ہر چیز کے ظاہر و باطن میں خدا کا نور ہے تو انسانی عالم میں بھی خدا کا نور ہے، اور یہی نور
۹۰
امامِ مبین ہے، اور فرمایا: “وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًا (۷۸: ۲۹) اور ہم نے ہر چیز کو ایک کتاب میں گھیر رکھا ہے۔” کتاب سے بھی وہی امامِ مبین مراد ہے، جس کے نورِ ہدایت میں سب کچھ موجود ہے، اور فرمایا: “رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا (۴۰: ۰۷) پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔” اور اس رحمت و علم سے امامِ مبین کی روح اور اس کی عقل مراد ہے، جو نفسِ کلّ اور عقلِ کلّ کے نام سے ہے۔
اب ذرا عقل اور منطق کے اصول سے سوچئے اور انصاف سے بتائیے کہ کسی ایک بڑی سے بڑی چیز میں سب چیزیں آ جانی چاہئیں یا ہر چیز میں سب چیزیں آ جانی چاہئیں؟ اگر حقیقت یہی ہے کہ ہر چیز اپنے اندر تمام چیزوں کو سمو نہیں سکتی ہے، بلکہ ایک ہی چیز اپنے اندر تمام چیزوں کو سمو سکتی ہے، اور ایسی چیز سب سے بڑی اور سب سے زیادہ وسیع ہونی چاہئے، تو سمجھ لیجئے کہ روحانی موجودات کی بھی یہی مثال ہے، اور ان میں ایک انتہائی عظیم چیز ہے، یعنی ایک نہایت وسیع حقیقت ہے، جس میں دوسری تمام حقیقتیں سموئی ہوئی ہیں، چونکہ یہ اعلیٰ ترین حقیقت اپنے اندر بہت سے حقائق اور بہت سی مثالیں پوشیدہ رکھتی ہے، اس لئے کلام کے موضوع میں جس قسم کی مثال اور جیسا اشارہ مقصود ہو، اسی قسم کے الفاظ یا کلمے میں اس حقیقتِ کلّ کا ذکر آتا ہے، تا کہ عقل و دانش والے اس حقیقتِ واحدہ کے تحت
۹۱
دوسرے تمام ضروری حقائق بھی سمجھ سکیں، اور دوسرے بہت سے لوگ صرف ان مثالوں کے ماحول ہی سے خوش ہوتے رہیں۔
بعض لوگ امامِ مبین کے معنی لوحِ محفوظ بتاتے ہیں، لیکن ان کا یہ ترجمہ صحیح نہیں، کیونکہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ لفظِ امام کے معنی لوح اور مبین کے معنی محفوظ کے ہیں، اس لئے امامِ مبین کا ترجمہ لوحِ محفوظ ہوا تو یہ کسی بھی لغوی اصول سے درست ہو نہیں سکتا، جس کی نمایان وجہ لفظی تضاد ہے، وہ یہ کہ محفوظ کے معنی نگاہ داشت اور پوشیدہ داشتہ (پوشیدہ رکھا ہوا) کے ہیں، چنانچہ کہتے ہیں حفظ السرّ = بھید چھپایا، مگر اس کے برعکس مبین کے معنی ظاہر و آشکار اور بیان کرنے والے کے ہیں، پس یہی بات حقیقت ہے کہ امامِ مبین کے معنی امامِ ظاہر کے ہیں، نیز امامِ مبین کے معنی امامِ گوئندہ یعنی امامِ ناطق کے ہیں، جس کا ذکر اس ضمن میں آئے گا۔
لفظِ امام نزولِ قرآن سے پیشتر حضرتِ آدمؑ کے زمانے میں اور نمایان طور پر حضرتِ ابراہیمؑ کے دور میں، پھر بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل کی قوم میں ایک خاص دینی اصطلاح کی حیثیت سے استعمال ہوتا رہا ہے، کہنا یہ ہے کہ لفظِ امام ہمیشہ سے لغوی طور پر دنیاوی سردار کے لئے اور اصطلاحی صورت میں اس دینی سردار اور پیشوا کے لئے مخصوص رہا ہے، جس کا منصب بظاہر ہر بڑے پیغمبر سے دوسرے درجے پر ہے، اور وہ ہر ایسے پیغمبر کے ساتھ معجزانہ
۹۲
قسم کا وزیر رہا ہے، پھر اس کے بعد ہمیشہ کے لئے اس کا وارث، وصی اور جانشین مقرر ہوتے آیا ہے، چنانچہ یہاں اس اعلیٰ ترین مطلب کی تفہیم کے لئے قرآنِ حکیم کی ایک پرحکمت آیت پیشِ نظر رکھی جاتی ہے، وہ یہ ہے: “وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ-قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ-قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْؕ-قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ (۰۲: ۱۲۴) اور جس وقت حضرت ابراہیمؑ کو اس کے پروردگار نے کلماتِ (تامّہ اور اسمِ اعظم وغیرہ) میں آزمایا، اور اس نے ان کو (نورانی ذکر کے طور پر) پورا کر دیا، (تو اس وقت) پروردگار نے اس سے فرمایا کہ میں تم کو (تمام) لوگوں کے لئے امام مقرر کروں گا، ابراہیم نے عرض کی کہ میری ذرّیّت میں سے بھی (یہ سلسلہ جاری رکھئے) ارشاد ہوا کہ (فکر نہ کرو) میرا یہ عہدہ (جس کے اندر عدل کی خاصیت ہے) ظالموں کو ملنے والا نہیں یعنی تیری ذرّیّت ہی میں عہدۂ امامت تا قیامت جاری رہے گا، اور دوسروں کو نہ ملے گا۔”
معلوم ہونا چاہئے کہ مذکورہ کلماتِ تامّہ سے مراد اسمِ اعظم اور اس کے طفیلی اسماء ہیں، جس میں نورِ نبوّت و امامت موجود ہوتا ہے، اور اس کی غرض لوگوں کی ہدایت ہے، اور یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ مسجودِ ملائکہ ہونے سے قبل حضرتِ آدمؑ کو اسماء کی تعلیم دی گئی تھی، اور جب وہ بہشت سے واپس روئے زمین پر آیا تو
۹۳
اس کو کلماتِ تامّہ کی تعلیم دی گئی، اور یہ دونوں باتیں فی الاصل ایک ہی حقیقت ہے۔ حضرت آدم علیہ السّلام کے ان کلمات سے نورِ نبوّت و امامت طلوع ہونے لگا، پس حضرتِ ابراہیمؑ کے سب سے بڑے امتحان میں انہی کلمات و اسماء اور ان کے نتائج (نبوّت و امامت) کا ذکر ہو رہا ہے۔
اس پرحکمت آیت کے نتائج میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امامت کا عظیم درجہ معمولی وحی و الہام اور عام روحانی گفت و شنید کے بعد شروع ہو جاتا ہے، اور اس کا یہ درجہ درجۂ ناطق سے قریب تر ہے، چنانچہ ظاہر ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ بلاواسطہ یا بالواسطہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام سے کلام کر رہا ہے، حضرت ابراہیمؑ یہ پاک کلام سن رہے ہیں، اور اپنی عرض پیش کر رہے ہیں، اور یہ سب کچھ امامت کی تیاری کے سلسلے میں ہے، یعنی حضرتِ ابراہیمؑ ان تمام روحانی واقعات کے بعد امام مقرر ہونے والا ہے، تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ روحانی کلام مرتبۂ امامت سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے، اور وہ اپنے خاص مرتبے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خزائنِ توفیق و ہدایت کا مالک ہوتا ہے، اور اس
۹۴
بیان میں امامت کے متعلق پیدا ہونے والے تمام سوالات کا تسلی بخش جواب موجود ہے، بشرطیکہ کوئی خوش نصیب عقل و دانش سے کام لے اور اس کو توفیق و ہدایت ملی ہو۔
اب لفظِ مبین کے بارے میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قول پر غور کیجئے: “علی باب علمی و مبین لامتی ما ارسلت بہ من بعدی ۔ علی میرے علم کا دروازہ ہے، اور میرے بعد میری امت کے واسطے اس چیز کو بیان کرنے والا ہے، جس کے ساتھ مجھ کو بھیجا گیا ہے۔” یعنی علیؑ علمِ حقیقت اور تاویلِ قرآن کا مالک ہے، اس حدیث سے نہ صرف یہ معلوم ہوا کہ مبین کے معنی ظاہر اور بیان کرنے والے کے ہیں، بلکہ یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ حدیث مذکورہ آیت و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین کی تشریح کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یہاں صاف طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا علم و حکمت جو قرآن و حدیث کے نام سے ہیں، حضرت علیؑ کی ذاتِ با برکات میں داخل ہیں۔ اس لئے بابِ علمِ نبی کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت محمدؐ اور اس کے تمام علوم اور حکمتیں حضرت علیؑ میں اس طرح محدود اور مجموع ہیں، جس طرح ایک آبادان اور منظم شہر اپنی مضبوط فصیل (چہار دیواری) اور مستحکم دروازے کے اندر محدود اور گھرا ہوا ہوتا ہے، پس معلوم ہوا کہ حضرت محمدؐ کا نور، قرآنِ پاک کی روح اور حدیث کی حقیقت
۹۵
علیؑ یعنی امامِ مبین کے نور میں داخل ہے، پھر محمدؐ کے نور، قرآن کی روح، اور حدیث کی حقیقت سے باہر کون سی چیز پائی جا سکتی ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ خدا کی خداوندی کے آخری عظیم اسرار بھی ان ہی حقائق میں پوشیدہ ہیں، اور یہیں سے وہ اسرار کسی عارف پر منکشف ہو سکتے ہیں، پس اس کتاب میں امامِ مبین کی یہی تشریح کافی ہے۔
“اللھم یا مولانا انت السلام۔ اے اللہ اے ہمارے مولا! تو خود بذات و صفات، خود ابدی حیات اور لازوال سلامتی ہے، ومنک السلام۔ اور وہ لازوال سلامتی (کسی غیر کی طرف سے نہیں بلکہ) تجھ ہی سے ہے۔ و الیک یرجع السلام۔ اور تیری ہی طرف سلامتی لوٹتی ہے۔ حینا ربنا بالسلام۔ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں حقیقی سلامتی کی حیات عطا فرما۔ و ادخلنا دارالسلام۔ اور ہمیں مرکزی بہشت کے گھر (نورِ مشخص) میں داخل فرما۔ تبارکت ربنا و تعالیت یا ذالجلال و الاکرام۔ اے صاحبِ جلالت و کرامت! تو بڑا بابرکت اور برتر ہے۔”
سلام کے لغوی معنی جسم و جان دونوں کی صحت، درستی اور سالمیّت کے ہیں، اور اس کے اصطلاحی معنی تائید کے ہیں، یعنی وہ روحانی اور نورانی مدد جو معجزانہ قسم کے علم و حکمت کی صورت میں انبیاء و أئمّہ اور چوٹی کے مومنوں کو ملا کرتی ہے، جس میں ان
۹۶
سے روحانین مخاطبہ کرتے ہیں، اور بصری و سمعی رموز و اشارات کے ذریعہ ان کو علم و حکمت اور ضروری ہدایت دی جاتی ہے، ان تمام حقائق و صفات کا جامع “السلام” ہے، جو اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ میں سے ایک اسم ہے، اس مقام پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام دوسرے نام سے جدا اس وقت ہو سکتا ہے، جبکہ اس میں جداگانہ معنی اور خصوصیات موجود ہوں، چنانچہ خدا کے ناموں میں سے ایک نام “الظاہر” ہے، جس کے معنی آشکار کے ہیں، پھر اگر اس نام میں ظہورِ نور، ظہورِ قدرت، ظہورِ علم، ظہورِ معجزہ اور ظہورِ کلام میں سے کوئی ایک واقعہ بھی نہ ہوتا، تو اللہ تعالیٰ اس نام کو اس قسم کے معنوں کے ساتھ کیوں اپناتا۔ پس معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ کا ہر نام دوسرے نام سے اس لئے جدا ہوتا ہے کہ اس میں جداگانہ معنی اور علیٰحدہ خصوصیات ہوتی ہیں، بنابرین مذکورہ دعا میں اسم “السلام” کی خصوصیات اور ذکر و دعا میں اس کی اہمیّت و ضرورت کے متعلق بیان ہے، مختصر یہ کہ اس اسم کا تعلق امامِ زمانؑ کے نوری (فلکی) جسم سے ہے، جس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کے موکّل، مظاہر اور خزانہ دار ہوا کرتے ہیں، اس بارے میں حقیقی مومنوں کے لئے یہی بیان کافی ہے۔
“اللھم یا مولانا منک مددی۔ اے اللہ! اے ہمارے
۹۷
مولا! تجھ ہی سے میری (روحانی) امداد ہوتی رہتی ہے۔ و علیک معتمدی۔ اور تو ہی میرا بھروسہ اور سہارا ہے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے امداد طلب کرتے ہیں۔ یا علی بلطفک ادرکنی۔ یا علی (جو خدا ہی کا ہے، جس کے فعل کی خاص نسبت خدا ہی سے ہے) اپنے لطف و عنایت سے میری امداد کے لئے پہنچئے۔ لا الہ الا اللہ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمد رسول اللہ۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کے رسول ہیں، علی امیر المومنین علی اللہ۔ اور امیر المومنین حضرت علی علیہ السّلام خدا ہی کے مقرر کردہ ہیں۔ مولانا شاہ کریم الحسینی الامام الحاضر الموجود۔ اور ہمارے مولانا شاہ کریم الحسینی امام حاضر الموجود ہیں۔”
“اللّٰھم لک سجودی و طاعتی۔ اے اللہ! میرے سجدے اور عبادت تیرے ہی لئے ہیں۔”
۹۸
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصۂ سوم
قرآنی تبلیغ کا آخری مقصد
“یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ-وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ (۰۵: ۶۷) اے رسول! جو امر تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے، تم اسے پہنچا دو، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو (سمجھ لو کہ سرے سے) تم نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا، اور (تم ڈرو نہیں) خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ ”
۹۹
جب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حجۃ الوداع سے فارغ ہو کر مدینہ منوّرہ کی طرف مراجعت فرما ہوئے تھے، تو اثنائے راہ میں مقامِ حجفہ پر جو غدیرِ خم سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر واقع ہے، جبرئیلِ امین مذکورۂ بالا آیت لے کر نازل ہوا، چنانچہ شیعوں کے علاوہ بعض حقیقت پسند سنی علماء کی کتابوں میں بھی یہ روایت مشہور ہے، ہم اس بارے میں فرمان علی صاحب کے ایک حوالے کو یہاں درج کرتے ہیں، وہ اپنے ترجمۂ قرآن صفحہ ۱۸۸ کے حاشیے پر یوں لکھتے ہیں: “ابنِ ابی حاتم نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ یہ آیت غدیرِ خم میں حضرت علیؑ کے بارے میں نازل ہوئی، اسی وجہ سے ابنِ مردویہ نے ابنِ مسعود سے روایت کی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ کے زمانے میں اس آیت کو یوں پڑھتے تھے:
یا یھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ان علیا مولی المومنین و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ و اللہ یعصمک من الناس۔ اے رسول! جو حکم اس بات کا کہ “علی تمام مومنین کے حاکم ہیں” تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے پہنچا دو، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو سمجھ لو کہ تم نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا۔ اور (تم ڈرو نہیں) خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ دیکھو تفسیر
۱۰۰
درِ منثور، جلال الدین سیوطی جلد ۳، صفحہ ۳۹۸ سطر ۸، غیر مطبوعہ۔ سچ تو یوں ہے کہ جناب رسالتمآب ایک عرصہ سے چاہتے تھے کہ علی بن ابی طالبؑ کو اپنا خلیفہ نامزد کر دیں، مگر کچھ اپنے ساتھیوں کی مخالفت کے خوف سے اس پر اقدام نہ کرتے تھے، آخر خدا نے آخری حج کے بعد راستے میں تاکیدی حکم نازل کیا، تب تو حضرتؐ مجبور ہو گئے اور ایک مقام پر جس کا نام غدیرِ خم تھا، ایک لاکھ آدمیوں کے سامنے اپنا خلیفہ نامزد کیا، اور پھر لوگوں نے حضرت علیؑ کو ان کی خلافت و ولایت کی مبارک باد دی، شعراء نے قصیدے نذر کئے، چنانچہ حسان کا یہ شعر مشہور ہے:
فقال لہ قم یا علی فاننی
رضیک من بعدی اماما و ہادیا
ترجمہ: پس رسول نے فرمایا اے علی! کھڑے ہو جائیے کہ یقیناً میں نے آپ کو اپنے بعد امام اور ہادی مقرر کر دیا۔”
“لا الہ الا اللہ الحی القیوم۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو ہمیشہ بذاتِ خود زندہ اور قائم ہے۔ لا الٰہ الا اللہ الملک الحق المبین۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو ظاہر کا حقیقی بادشاہ ہے۔ لا الٰہ الا اللہ الملک حق الیقین۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو یقین کا حقیقی بادشاہ ہے۔ لا الٰہ الا اللہ مالک یوم الدین۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو روزِ جزا کا مالک (صاحبِ اختیار) ہے۔”
۱۰۱
“لا فتیٰ الا علی لا سیف الا ذوالفقار۔ کوئی بہادر نہیں سوائے علی کے، اور کوئی جوہردار تلوار نہیں سوائے ذوالفقار کے۔ توسلوا عند المصائب بمولاکم الحاضر الموجود شاہ کریم الحسینی۔ تم مصیبتوں کے وقت اپنے حاضر اور موجود مولا شاہ کریم الحسینی کا وسیلہ اور تقرب حاصل کرو۔”
“اللھم لک سجودی و طاعتی۔ اے اللہ! میرے سجدے اور عبادت تیرے ہی لئے ہیں۔”
کلمۂ لا الہ الا اللہ، قرآنِ حکیم کے کلماتِ تامّہ میں سے ہے، کلماتِ تامّہ سے مراد وہ مختصر اقوال (باتیں) ہیں، جن میں حقائقِ کائنات و موجودات کے متعلق بہت سے معانی سمو دیئے گئے ہوں، مثال کے طور پر کلمۂ کن بھی انہی کلمات میں سے ہے، جس کا ترجمہ بظاہر یہی ایک لفظ “ہو جا” ہے، مگر اس کے اندر بےپایان حقائق پوشیدہ ہیں، چنانچہ حضرت حکیم پیر ناصر خسرو (قدّس اللہ سرّہ العظیم) نے کتابِ “وجہِ دین” کلام ۱۱ میں کلمۂ لا الہ الا اللہ کی تاویل بیان کر دی ہے، جو ۲۹ صفحات پر مشتمل ہے۔
۱۰۲
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصۂ چہارم
حقیقی بیعت کے لئے پیغمبر یا امام کی موجودگی لازمی ہے
“اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ-فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا (۴۸: ۱۰) ۔ (اے رسول!) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں، تو وہ (واقع میں) اللہ تعالیٰ سے بیعت کر رہے ہیں، خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، پھر (بیعت کے بعد) جو شخص عہد توڑے گا، تو اس کے عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا، اور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا، جس پر (بیعت میں) خدا سے عہد کیا ہے، سو عنقریب خدا اس کو
۱۰۳
بڑا اجر دے گا۔”
لفظ “بیعت” بیع (خرید و فروخت) سے بنا ہے، جس کے اصطلاحی معنی ہیں، حضرتِ رسولؐ یا اس کے قائم مقام کے ذریعہ خدا سے مومنوں کا عہد و پیمان کر لینا، کہ وہ خدا کی خوشنودی اور نجات حاصل کرنے کی خاطر ہر قسم کی جانی و مالی قربانی دینے کے لئے راضی اور تیار ہوئے، نیز خدا، رسول، اور صاحب الامر کی حقیقی فرمانبرداری کرنے کے لئے بری خواہشات سے دستبردار ہوئے، کیونکہ قرآنِ پاک میں تین جگہوں پر بیعت کا ذکر آیا ہے، جس کا مجموعی مطلب یہی ہے، جو یہاں مذکور ہوا، وہ جگہیں الفتح کی دسویں اور اٹھارہویں آیت، نیز الممتحنہ کی بارہویں آیت ہیں۔
یہاں اس حقیقت کا ذکر کر دینا لازمی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مصلحت بینی اور اختیار کے اعتبار سے قرآنِ پاک کے فرامین دو طرح سے واقع ہوئے ہیں، جن میں سے ایک طرح کے فرامین وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی ارادے سے یا رسولِ مقبولؐ کی خواہش سے صادر فرمایا، بعد ازان ان پر عمل ہونے لگا، دوسری طرح کے فرامین وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا پوشیدہ اشارہ تھا، یا رسول اللہ نے جن کو مصلحتِ وقت کے مطابق اپنے اختیار سے عمل میں لایا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نزولِ وحی سے ایسے اعمال کی
۱۰۴
تصدیق و توثیق فرمائی، چنانچہ بیعتِ رضوان کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ ۶ھ میں صلحِ حدیبیہ کے موقع پر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیک وقت چودہ سو اصحاب سے بیعت لی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح کی دو آیتوں میں اس پرحکمت عمل کی توثیق فرمائی۔
پس حقیقی بیعت اور اس کی شرائط پر عمل کرنا اسلام اور ایمان کا ایک آخری امتحان ہے، جس کے لئے رسولِ خداؐ یا امامِ زمانؑ کی موجودگی لازمی ہے، کیونکہ مومنوں سے حقیقی بیعت لینے کے لئے دنیا میں ایک ایسی شخصیّت کا حاضر اور موجود رہنا ضروری ہے، جس کی ذاتِ شریف کی نسبت سے یہ بیعت خدا کی بیعت کہلا سکے، اور اس کا مبارک ہاتھ جس پر مومنوں نے بیعت کی خدا کا ہاتھ قرار دیا جا سکے، تا کہ مومنوں کو اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان بار بار یاد آ جائیں کہ انہوں نے گویا خدائے تعالیٰ ہی سے بیعت کی ہے، اور اس کے روبرو ہو کر اس کی حقیقی فرمانبرداری کا عہد و پیمان کر لیا ہے۔
’’اللھم اغفرلنا ذنوبنا۔ اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے گناہوں کو بخش دے۔ وارۡزقنا وارۡحمنا۔ اور ہمیں روحانی و جسمانی رزق عطا فرما، اور ہم پر رحم فرما۔ بحق رسلک المقربین و ائمتک المطھرین ۔ اپنے
۱۰۵
مقرّب پیغمبروں اور اپنے پاک اماموں کی حرمت سے۔ و بحق مولانا و امامنا شاہ کریم الحسینی۔ اور ہمارے مولا و امام شاہ کریم الحسینی کی حرمت سے۔”
“اللھم لک سجودی و طاعتی۔ اے اللہ میرے سجدے اور عبادت تیرے ہی لئے ہیں۔”
۱۰۶
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصۂ پنجم
قرآن اور امامت، خدا اور رسول کی امانات ہیں
’’یایھا الذین اٰمنوا لا تخونوا اللہ و الرسول و تخونوا اماناتکم و انتم تعلمون (۰۸: ۲۸) اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی (امانت میں) خیانت کرو، اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، حالانکہ تم سمجھتے بوجھتے ہو۔”
اس ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ حقیقتِ قرآن اور رتبۂ آلِ محمدؐ
۱۰۷
(امامت) خدا اور رسول کی امانتیں ہیں، پس ایمان والوں کوچاہئے کہ وہ ان امانتوں میں خیانت نہ کریں، یعنی وہ ان مقدّس امانتوں کے مالک ہونے کا دعویٰ نہ کریں، بلکہ ان کو خدا و رسول کی ملکیّت سمجھیں، چنانچہ قرآن کے متعلق یہ عقیدہ رکھیں کہ قرآن کی حقیقت اللہ تعالیٰ جانتا ہے، اور اس کا رسول جانتا ہے، اور وہ شخص جانتا ہے جس کو خدا اور رسول نے مقرر کر دیا ہے، اور رتبۂ امامت کے بارے میں یہ عقیدہ رکھیں کہ امامت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہے، اور اس کے بعد یہ امانت اس کی آلِ پاکؑ کی ہے، اور امت کو اس میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں، اس عقیدہ اور تصوّر کی مثال ایسی ہے جیسی کہ خدا اور رسولؐ کی امانتیں ادا کر دی گئیں، اور خدا و رسولؐ کی منشا کے مطابق ان سے فائدہ اٹھایا گیا، اور آیت کے آخری حصّے کا اشارہ حسبِ ذیل ہے:
یہ جو فرماتا ہے کہ “اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔” اس سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ اگر تم خدا و رسول کی امانتوں میں خیانت کرو گے، تو تم میں سے ہر ایک شخص دانستہ طور پر اپنی ہی امانت میں خود خیانت کرنے لگے گا، وہ اس طرح کہ جب کسی شخص نے قرآنِ پاک کے علم و حکمت کوسمجھنے کا دعویٰ کیا، بغیر اس کے کہ اس نے آلِ رسولؐ یعنی امامِ زمانؑ سے علم حاصل کیا ہو، تو اس نے خدا و رسول کی امانتوں میں خیانت کی، اور اس خیانت کے نتیجے میں وہ اپنی اس امانت میں بھی
۱۰۸
خیانت کر رہا ہے، جو امامِ زمانؑ کے پاس ہے، جس کی حجّت اس شخص پر رہے گی جس نے اپنی امانت میں خود خیانت کی ہے، حالانکہ وہ یہ جانتا تھا کہ ایسے غلط راستے پر چلنے سے وہ شخص علمِ الٰہی کے خزانہ دار کو نہ دیکھ پا سکے گا، اور علم و حکمت کے شہرستان میں داخل نہ ہو سکے گا، چنانچہ مولاناعلی علیہ السّلام نے فرمایا ہے: “انا ترجمان وحی اللہ ۔ میں ہوں وحیٔ خدا کی تفسیر و بیان کرنے والا۔” نیز فرمایا: “انا خازن علم اللہ۔” میں ہوں علمِ الٰہی کا خزانچی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے: “انا مدینۃ العلم و علی بابھا فمن اراد العلم فلیات الباب۔ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، پس جو شخص علم کو چاہتا ہے، تو اس کو لازم ہے کہ شہر کے دروازے سے داخل ہو جائے۔” اور اللہ تعالیٰ نے اسی بارے میں فرمایا ہے:
ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاۚ (۳۵: ۳۲) پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے خاص اُن لوگوں (یعنی أئمّہؑ) کو قرآن کا وارث بنایا جنہیں (قدرتی قابلیت کی بنا پر) ہم نے منتخب کیا ہے، کیونکہ (عام) بندوں میں سے کچھ تو (نافرمانی کر کے) اپنی جان پر ستم ڈھاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے نیکی و بدی کے درمیان ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگ خدا کے اختیار سے نیکیوں میں (دوسروں سے) گویا سبقت لے گئے ہیں، یہی (انتخاب و سبقت) تو
۱۰۹
خدا کا بڑا فضل ہے۔”
“ربنا اغفرلنا ذنوبنا و سھل امورنا و ارزقنا و ارحمنا انک علیٰ کل شیء قدیر۔ اے ہمارے پروردگار! تو ہمارے لئے ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہمارے کاموں کو آسان کر دے، ہمیں روحانی و جسمانی رزق عطا فرما، اور ہم پر رحم فرما، یقیناً تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔”
“یا علی یا محمد۔۔۔ یا محمد یا علی۔۔۔”
“یا امام الزمان یا مولانا انت قوّتی و انت سندی و علیک التکالی یاحاضر یا موجود یا شاہ کریم الحسینی انت الامام الحق المبین ۔ اے امامِ زمانؑ! اے ہمارے مولا! آپ ہی میری قوّت اور آپ ہی میرا سہارا ہیں، اور آپ ہی میرا توکّل (اعتماد و بھروسہ) ہے، اے حاضر! اے موجود! یا شاہ کریم الحسینی آپ ہی برحق اور ظاہر امام ہیں۔”
“اللھم لک سجودی و طاعتی۔ اے اللہ! میرے سجدے اور عبادت تیرے ہی لئے ہیں”
۱۱۰
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصۂ ششم
سورۂ اخلاص کے معارف
’’قل ھو اللہ احد۔ (اے محمد) کہہ دیجئے کہ وہ اللہ (وحدۃ الوجود) ایک ہے۔ اللہ الصمد۔ اللہ بےنیاز ہے‘‘۔ یعنی وحدت الوجود اپنی صفات کے صوری و معنوی ظہورات میں سب کچھ ہے۔ ’’لم یلد۔ اس کی کوئی اولاد نہیں‘‘۔ اس لئے کہ وحدتِ وجود خود ہی ایک ابدی اور ہمہ رس حقیقت ہے، پس اسے اولاد کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ اولاد کی ضرورت ایک ایسے موجود کو ہو سکتی ہے، جو فانی ہو، اور ہمہ رس نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ وحدتِ وجود سے کوئی اور اس طرح کی وحدت
۱۱۱
پیدا نہیں ہوئی۔ ’’و لم یولد ۔ اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے‘‘۔ کیونکہ فی الحقیقت یہ وحدت خود ہی ازلی ہے، یعنی ہمیشہ سے ہے، اور ہمیشہ رہے گی، پھر کس طرح یہ وحدت کسی کی پیدا کردہ مانی جا سکتی ہے۔ ’’و لم یکن لہ کفوا احد (۱۱۲: ۰۱ تا ۰۴) اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔” کیونکہ یہ وحدت اپنی ضروری صفات، گوناگون ظہورات اور رنگ برنگ تجلیات کے ساتھ اپنے اندر جیسا کہ چاہئے انتہائی تمامیّت و کمالیّت رکھتی ہے۔
اس مطلب کو واضح کرنے کے لئے ایک مثال ریاضی سے پیش کی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر ہم تمام اعداد کو عددِ “واحد” کے مظاہر مانیں تو پھر یہ بھی کہنا درست ہو گا کہ اعداد و شمار کے عالم میں فی الاصل عددِ “واحد” ہی سب کچھ ہے، اس لئے کہ اعداد میں سے کوئی عدد ایسا نہیں، جس کے وجود کا قیام صرف چند اکائیوں پر ہی منحصر ہو، پس معلوم ہوا کہ شمار و حساب کی ترجمانی کرنے کے لئے عددِ “واحد” درحقیقت کسی دوسرے عدد کا محتاج ہی نہیں، نہ “عددِ واحد” سے بحقیقت کوئی دوسرا عدد پیدا ہوا، نہ عددِ واحد کسی دوسرے عدد سے پیدا ہوا، اور نہ کوئی دوسرا عدد اس کے برابر کا ہے، چونکہ تمام اعداد دراصل خود واحد ہی کی مختلف صورتیں ہیں، اور تمام قرآن میں اسی حقیقتِ واحدہ کی مختلف مثالیں بیان کی گئی ہیں، چنانچہ ارشاد ہے:
۱۱۲
“فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ (۰۲: ۱۱۵) پس تم جس طرف بھی متوّجہ ہو جاؤ، وہاں ہی خدا کی ذات موجود ہے۔” اس ہمہ گیر حقیقت کا اطلاق نہ صرف اطراف و جوانب ہی پر ہوتا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی مراد ہے کہ ہر چیز کی ذات میں وحدت کی کوئی نہ کوئی جلوہ نمائی موجود ہے، کیونکہ اس پُرحکمت تعلیم کا اشارہ ذاتِ وحدت کی لامحدودیّت کی طرف ہے، اور لفظ “این” لا انتہا زمانہ، وسیع کائنات اور لاتعداد موجودات کی ذات کی نشاندہی کرتا ہے، نیز متوّجہ کا تعلق بھی زمان و مکان اور متمکن ہی سے ہے، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر چیز کی ذات میں وحدت کی ایک خاص جلوہ نمائی موجود ہے، بالفاظِ دیگر ذاتِ ذوات کا نام وحدت الوجود اور اللہ ہے۔
اس حقیقت کی مزید وضاحت اس آیت سے ہو سکتی ہے: “كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ (۲۸: ۸۸) اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔” اب اس آیۂ مقدّسہ میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ حرفِ استثنا (الا) کسی جملے میں اس وقت آتا ہے، جبکہ بیان میں ایک جنس کی چند اشیا میں سے کسی ایک شے کو مستثنا رکھنا مقصود ہو، یعنی جب وہ چیز ہم جنسیّت کے اعتبار سے اپنی ہم جنس چیزوں میں شمار ہو، مگر اس بیانِ حال کے اعتبار سے ان میں شمار نہ ہو، یہی مثال خدا کی ذات یعنی وحدتِ وجود کی ہے کہ یہ وحدت اشیا کی باطنی بقا سے جدا نہیں، لیکن اشیا کی ظاہری فنا سے اس کی فنا لازم
۱۱۳
نہیں آتی، اور نہ کُل اشیا بیک وقت ہلاک ہو سکتی ہیں، اور جو چیزیں بظاہر فنا بھی ہو جائیں، تو پھر بھی ان کی نورانی صورت اور ازلی پیکر وحدتِ وجود میں باقی رہتی ہیں، لہٰذا اس وحدت میں کسی بھی قسم کی کمی واقع نہیں ہوتی، اس کے برعکس اگر ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ازل میں ذاتِ باری تعالیٰ و تقدّس تو موجود تھی، مگر اس کی کوئی مخلوق نہ تھی، تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ایک خالق تھا، مگر اس نے ابھی کوئی مخلوق پیدا نہیں کی تھی، پھر کھربوں سال کے بعد اس نے مخلوقات پیدا کیں، اندرین حال خدا حادث ہوا، یعنی وہ ایک حال سے دوسرے حال میں بدل گیا کہ پہلے اس نے کوئی چیز پیدا نہیں کی تھی، اور اب اس نے اتنی مخلوقات پیدا کیں، مگر یہ واقعہ ناممکن ہے، اور حقیقت اس کے برعکس ہے، وہ یہ ہے کہ خدا خود اپنی ذات و صفات میں سب کچھ ہے، اور یہ تشریح “ھو الکل” اور “ہمہ اوست” کی ہے، جو یہاں وحدتِ وجود کے عنوان سے کی گئی، پس “قل ھو اللہ احد” کا اشارہ وحدتِ وجود کی طرف ہے، نہ کسی جداگانہ ذات کی انفرادیت کی طرف، کیونکہ وحدتِ محض سے بحقیقت کثرت کا پیدا ہونا محال ہے، چنانچہ حکیم ناصر خسرو علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے:
مکن در صنع مصنوعات رہ گم
ز جو جو روید و گندم ز گندم
۱۱۴
یعنی حقیقتِ مصنوعات کی تلاش میں راستہ نہ بھول جا (اور یہ اصول یاد رکھنا) کہ جَو سے جَو ہی اگتا ہے اور گندم سے گندم ہی اگتا ہے، یعنی وحدت سے بحقیقت کثرت پیدا نہیں ہوئی، مگر مجازاً یہ سب کچھ مانی گئی ہے، اور نہ وحدتِ وجود کو ایک ازلی حقیقت ماننے کے بعد کوئی شے پیدا ہونے کا سوال اٹھ سکتا ہے، بجز آنکہ اس امرِ واقع کے لئے تسلیم کر لیا جائے کہ وحدتِ وجود ہی ایک کثرت نما وحدت ہے، جس طرح سمندر، بادل، بارش، ندی، چشمہ، اور ہر قسم کی تری کی وحدت کا نام پانی ہے، خواہ وہ تری ہوا میں ہو یا نباتات و حیوانات میں، مگر پانی کے نام، صفت، خاصیّت، رنگ اور ذائقہ میں فی الاصل یہ سب چیزیں ایک ہیں، اور اگر ان کے افعال میں کچھ فرق ہے، تو وہ ان کی مقدار کی کمی بیشی کی وجہ سے ہے، چنانچہ اگر سمندر اپنے بادلوں کے ذریعے ساری زمین پر بارش برسا دیتا ہے، اور کوئی قطرہ یہ کام ہرگز نہیں کر سکتا تو اس کی وجہ سمندر کی وہ عظیم مقدار ہے جس میں بہت سے قطرے مل کر یہ کام کر رہے ہیں، اور یہ مثال پانی کی اس وحدتِ وجود کی ہے جو دائرے کی شکل میں ہے، اور ایک کثرت نما وحدت ہے۔
“اللھم بحق محمد المصطفیٰ و علی المرتضیٰ و فاطمۃ الزہراء و الحسن و الحسین۔ اے اللہ! حضرت محمد مصطفیٰؐ اور حضرت علی مرتضیٰؑ، اور
۱۱۵
حضرت فاطمۃ الزہراؑ، اور حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ کی حرمت و وسیلے سے۔”
“اللھم بحق مولانا علیؑ (تا حاضر جامہ) و بحق مولانا و امامنا الحاضر الموجود شاہ کریم الحسینی ارحمنا و اغفرلنا انک علیٰ کل شی قدیر۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
اللھم لک سجودی و طاعتی۔
اے اللہ! ہمارے مولا علی کی حرمت و وسیلے سے، مولانا الحسین، مولانا زین العابدین، مولانا محمد الباقر، مولانا جعفر الصادق، مولانا اسماعیل، مولانا محمد بن اسماعیل، مولانا وفی احمد، مولانا تقی محمد، مولانا رضی الدین عبداللہ، مولانا محمد المہدی، مولانا القائم، مولانا المنصور، مولانا المعز، مولانا العزیز، مولانا الحاکم بامر اللہ، مولانا الظاہر، مولانا المستنصرباللہ، مولانا نزار، مولانا ہادی، مولانا مہتدی، مولانا قاہر، مولانا علیٰ ذکرہ السلام، مولانا اعلیٰ محمد، مولانا جلال الدین حسین، مولانا علاؤالدین محمد، مولانا رکن الدین خور شاہ، مولانا شمس الدین محمد، مولانا قاسم شاہ، مولانا اسلام شاہ، مولانا محمد بن اسلام شاہ، مولانا المستنصر باللہ، مولانا عبدالسلام، مولانا غریب میرزا، مولانا ابو ذر علی، مولانا مراد میرزا، مولانا ذوالفقار علی، مولانا نورالدین علی، مولانا خلیل اللہ علی، مولانا نزار، مولانا السید علی، مولانا حسن علی، مولانا قاسم علی، مولانا ابو الحسن علی، مولانا خلیل اللہ علی، مولانا شاہ حسن علی، مولانا شاہ علی شاہ، مولانا
۱۱۶
سلطان محمد شاہ، اور ہمارے مولا و امام حاضر و موجود شاہ کریم الحسینی کی حرمت و وسیلے سے تو ہم پر رحم فرما، اور ہمیں بخش دے۔ بےشک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور ہر ستائش و تعریف اللہ کی ہے، جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔
اے اللہ! میرے سجدے اور عبادت تیرے ہی لئے ہیں۔”
۲۸ صفر المظفر ۱۳۸۶ھ
بمطابق ۱۸ جون ۱۹۶۶ء
۱۱۷
دعائے جماعت خانہ کے فیوض و برکات
مومن کو سدا رحمتِ رحمان دعا ہے
طاعت میں یہی مقصدِ قرآن دعا ہے
من احسن قولاً سے دعا ہی کو سراہا
اللہ نے، پس مایۂ ایمان دعا ہے
یہ میوۂ توفیق ہے یہ مغزِ عبادت
بس حاصل ایمانِ مسلمان دعا ہے
مولا کی اطاعت میں جھکا دو سرِ تسلیم
سمجھو کہ تمہیں ثمرۂ فرمان دعا ہے
تم راہِ حقیقت میں دعا ہی سے مدد لو
اس راہ میں جب شمعِ فروزان دعا ہے
گرجان میں ہے کوئی مرض یا کہ بدن میں
ہر درد و مرض کے لئے درمان دعا ہے
جب جلوۂ انوارِ الہٰی کی طلب ہو
دیکھو کہ تمہیں دیدۂ عرفان دعا ہے
ہے عالمِ دل نورِ حقیقت سے منور
خورشیدِ ضیا بخشِ دل و جان دعا ہے
دنیا میں اگر رنج و الم ہے تو نہیں غم
صد شکر کہ یاں روضۂ رضوان دعا ہے
۱۱۸
معلوم ہوئی توبۂ آدمؑ کہ دعا تھی
پھر نوحؑ کا وہ باعثِ طوفان دعا ہے
ہو جائے اگر آتشِ نمرود ہویدا
ہو کوئی خلیلؑ اب بھی گلستان دعا ہے
یونسؑ کو دعا ہی نے دلائی ہے خلاصی
ہر دور میں بس رحمتِ یزدان دعا ہے
ہاں خضرؑ ہوا زندۂ جاوید اسی سے
دنیا میں یہی چشمۂ حیوان دعا ہے
موسیٰؑ کو عصا اور یدِ بیضا کے نشانے
حاصل جو ہوئے وجہِ نمایان دعا ہے
عیسیٰؑ میں جو تھا معجزۂ روحِ مقدّس
اس معجزہ کی حکمتِ پنہان دعا ہے
احمد جو ہوئے گوشہ نشین غارِ حرا میں
مقصودِ نبیؐ شمعِ شبستان دعا ہے
مولائے کریم دہر میں ہے نورِ الہٰی
اس نور سے کچھ فیض کا امکان دعا ہے
گر نورِ امامت بمثلِ راہِ خدا ہے
اس راہ میں بھی مشعلِ ایقان دعا ہے
عاشق نے جو کچھ دیکھ لیا دیدۂ دل سے
صد گونہ یہاں جلوۂ جانان دعا ہے
۱۱۹
تو شام و سحر آکے یہاں ذکر و دعا کر
اخلاق و عقیدت کی نگہبان دعا ہے
جس راہ سے منزلِ وحدت کا سفر ہے
منزل کی طرف وہ رہِ آسان دعا ہے
اس نظمِ نصیری میں ہے اک گنجِ حقائق
گنجینۂ پر گوہرِ رحمان دعا ہے
شوال ۱۳۹۵ھ۔ اکتوبر ۱۹۷۵ء
۱۲۰
دیوانِ نصیری
دیوانِ نصیری
(اردو)
کتاب کے حقوق
بسمِ اللہ الرحمٰنِ الرحیمِ ۔اللّٰھم انی اسئلک باسمائِک الحسنی
اس کتاب ــ “دیوانِ نصیری (اردو)” کے جملہ حقوق محفوظ ہیں، بنامِ عزیزترازجانم حُبِّ علی ثانی ابنِ امین الدین ہونزائی ابنِ ایثار علی (مرحوم) ابنِ علاّمہ نصیرالدین نصیرؔ ہونزائی (ایس۔آئی) ابنِ خلیفہ حُبِ علی اوّل ابنِ خلیفہ محمد رفیع ابنِ فولاد بیگ ابنِ شمشیر بیگ۔
دیوانِ ہٰذا کی تمام نظموں میں عشقِ سماوی کی دولتِ لازوال بھری ہوئی ہے، الحمدُ للہ ! حضرتِ امامِ زمان صلوات اللہ علیہ نے اپنے ایک پاک فرمان میں جماعت کی اس مدح خوانی کو شَرفِ قبولیت عطا فرمایا ہے، اور اہلِ دانش کے نزدیک یہ مولائے پاک کے نورِ لطف و محبت کی روشنی ہے جس کی پیش گوئی بمبئی ۱۰ مارچ ۱۹۴۰ء میں ہوئی تھی، امامِ عالی مقامؑ کی ہر پیش گوئی ظہور پزیر ہوکر رہتی ہے، حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کا یہ فرمانِ مبارک کتابچۂ حکمتِ تسمیہ کے آغاز میں محفوظ ہے۔
نصیر الدّین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی (ایس۔آئی)
منگل ۳،اپریل ۲۰۰۱ء
ISBN 190344032-7
Published by:
International Book House Gilgit
شاہِ شاہانِ دو عالم قائمِ آلِ نبی
پرنس علی سلمان یقیناً نورِ یکتا بای علی
کراچی،ہفتہ ۱۰،اپریل۲۰۰۴ء
ج
حضرتِ قائم ؑ=جانانِ عاشقان
کیا خوب ہے بہارِ دل و جانِ عاشقان!
از نورِ پاکِ حضرتِ جانانِ عاشقان
قائم شناس جو بھی ہے وہ کامیاب ہے
اجر و ثواب اُس کے لئے بے حساب ہے
کراچی،بدھ،۱۴،اپریل ۲۰۰۴ء
د
آغازِ کتاب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر کہ دیوانِ نصیری (اردو )بھی بارِاوّل منظرِ خاص و عام پر آگیا، ہم علیُّ الوقتؑ کی عنایاتِ بے نہایت کے لئے ہمیشہ محتاج ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ وہ صاحبِ فضل و کرم اسے اہلِ ایمان کے لئے نافع بنائے آمین! آج کل ہمارے عزیزان نئی کتابوں میں بہت زیادہ محنت سے کام کرتے ہیں،مجھے یقین ہے کہ حضرتِ قائم علیٰ ذکرہ السّلام انہیں علمِ لدنّی کی دولت سے مالا مال فرمائے گا، کیونکہ علمی خدمت کرنے والوں پر وہ شاہِ شاہان بے حد مہربان ہے۔
خانۂ حکمت میں خدمت کرنے والے، ان شاء اللہ بہشت کے تاجدار ہوں گے، یہ حضرات بہشت میں دعوتِ حق کا کام کریں گے۔یہ قرآنی تاویل ہے۔(۲۴: ۵۵)۔
اے عزیزان!آپ قائمؑ شناسی میں کامل ہوجانا، سلمان غریبم قلبِ تو اللہ ُ مولانا علیؑ کی حکمتوں کو سمجھ لینا۔ یہ وہ نورانی خزانہ ہے جس کی طرف سے دوستوں کو گویا اعلان ہوا کہ ہر حقیقی عاشق اس خزانے کو حاصل کرے کیونکہ یہ خزانہ بڑا عجیب و غریب ہے کہ یہ قلب بھی ہے اور
ہ
نورِ قلب بھی اور اللہ ُ مولانا علیؑ کا سِرِّ اعظم بھی ہے۔
ز نورِ اُو تُو ہستی ہمچو پرتو
حجاب از پیش بردار و تو اُو شَو
آن دشمنِ خورشید ، برآمد بر بام
دودیدہ ببست و گفت خورشید بِمرد
گلشنِ خودی صفحہ ۲۳۔
نصیر الدّین نصیرؔ (حبِّ علی) ہونزائی (ایس۔آئی)
کراچی
بدھ،۷ ،اپریل ۲۰۰۴ء
و
حضرتِ آدم ؑ اور بنی آدم کا تجدُّد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ دیوانِ نصیری (اردو) کا انتساب اپنے آباوامَّہات کے اسماء پر لکھنے کے لئے سوچ رہا تھا پھر اچانک ایک انقلابی خیال آیا، وہ یہ کہ عظیم روحانی قیامت کی وجہ سے آدمؑ اور بنی آدم کا تجدّد ہوچکا ہے ، جس سے بہت سے اسرار کا انکشاف ہوا ہے۔
دیوانِ نصیری (اردو) کی اشاعت سے دانش گاہِ خانۂ حکمت کی نیکنامی میں (ان شاء اللہ) مزید اضافہ ہوگا، اور سب کچھ علیُّ الوقتؑ کا علمی معجزہ ہے، حضرت قائم علی ذکرہ السّلام اس باطنی ادارے پر بے حد مہربان ہیں۔ ایچ۔ڈی۔ برانچ حضرت قائمؑ کا ایک خاص معجزہ ہے، میں نے اس نوروز کے قریب ایک نورانی خواب دیکھا ہے، جس کا تاویلی خلاصہ یہ ہے کہ حضرتِ قائم علیہ افضل التحیۃ و السّلام خواتین وغیرہ کی گریہ و زاری سے ایک بڑا مفید عالمی پاور کا معجزہ بنانے والے ہیں۔
قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت نیز کتابِ قائمؑ شناسی “اللہ ُ مولانا علیؑ” کے عظیم معجزات میں سے ہیں۔
نصیر الدّین نصیرؔ (حبِّ علی) ہونزائی (ایس۔آئی)
کراچی
منگل ، ۶ ، اپریل ۲۰۰۴ء
ز
انتساب
نورالدّین مومن ابنِ قاسم علی ابنِ وزیر علی
والدۂ ماجدہ لاڈچی بائی زوجۂ قاسم علی
۵ جون ۱۹۶۲ء
الماس مومن بنتِ کریم ابنِ ولی محمد
والدۂ ماجدہ نور بانو زوجۂ کریم
۱۲، دسمبر ۱۹۶۷ء
زین العابدین ابنِ نورالدّین ابنِ قاسم علی
۷ اپریل ۱۹۹۱ء
کتابِ لعل و گوہر کے شروع میں بھی انہی ارضی فرشتوں کے نام پر انتساب ہے، خانۂ حکمت کے تمام عزیزان کو حضرتِ قائمؑ سلاطینِ جنّت بنارہے ہیں، بہشت کی خلافت و سلطنت کے مقابلے میں دنیا کی سلطنت ہیچ ہے۔
خانۂ حکمت کے مومنین و مومنات سے حضرتِ قائم علی ذکرہ السّلام نے عالمِ شخصی میں جو کچھ وعدہ فرمایا ہے، اس کے لئے دیکھ لو (۲۴: ۵۵) وغیرہ۔
نصیر الدّین نصیرؔ (حُبِ علی) ہونزائی (ایس۔آئی)
کراچی، جمعرات، ۸ اپریل ۲۰۰۴ء
ح
نذرانۂ عقیدت
بموقع تشریف آوریٔ امامِ زمان شاہ کریم الحسینی صلوات اللہ علیہ
اے مظہرِ نورِ خدا اھلاً و سہلاً مرحبا
اے آلِ پاکِ مصطفیٰ اھلاً و سہلاً مرحبا
خورشیدِ انوارِ ہُدا سلطانِ ملکِ انّما
اے جانشینِ مرتضیٰ اھلاً و سہلاً مرحبا
تشریف فرما جب ہوئے قرآنِ ناطق اس طرف
روح الامین کہنے لگا اھلاً و سہلاً مرحبا
دیدارِ اقدس کیلئے ہم دیر سے تھے تشنہ لب
اے چشمۂ آبِ بقا اھلاً و سہلاً مرحبا
جب یارِ جانی آ گئے جانیں ہوئیں سب فرشِ راہ
نکلی دلوں سے یہ صدا اھلاً و سہلاً مرحبا
سلطانِ عزت آ گیا دریائے رحمت آ گیا
با صد عنایات و سخا اھلاً و سہلاً مرحبا
خورشیدِ راحت آ گیا اب ظلمتِ غم مٹ گئی
اے دلِ کہا کر برملا اھلاً و سہلاً مرحبا
کرتے ہیں سر خم ہو کے سب تسلیم و تعظیم و ادب
پڑھتے ہوئے صَلِ علیٰ اھلاً و سہلاً مرحبا
اے علم و حکمت کے چراغ اب آپ کی تشریف سے
ہر دل منور ہو گیا اھلاً و سہلاً مرحبا
امید کے غنچے کھلے ارمان کے موتی ملے
احسان ہے یہ آپ کا اھلاً و سہلاً مرحبا
مسرور و نازان ہو گئے شادان و خندان ہو گئے
یہ آپ کے اہلِ وفا اھلاً و سہلاً مرحبا
جب آپ گویا ہو گئے موتی بکھر جانے لگے
اے گنجِ اسرارِ خدا اھلاً و سہلاً مرحبا
یہ کیا کرشمہ ہو گیا مٹی سے سونا بن گیا
یہ کیمیائے عشق تھا اھلاً و سہلاً مرحبا
اک دل نیا سا مل گیا اک جان نئی سی آ گئی
اب ہم میں اے نورِ خدا اھلاً و سہلاً مرحبا
۱
سب اہلِ دل مخمور ہیں اس وصلِ نورانی سے اب
اے رہبرِ صدق و صفا اھلاً و سہلاً مرحبا
یہ دل ہے یا گلشن ہے یہ ، اتنی خوشی ایسی خوشی
اے جانِ جان ، روحی فدا اھلاً و سہلاً مرحبا
میری خوشی کا یہ سماں بیدار ہوں یا خواب میں!
یا یہ کہ میں بے خود ہوا اھلاً و سہلاً مرحبا
مستی ہے یا پستی ہے یہ ، ،ہستی ہے یا کیفِ فنا!
یہ ارض ہے یا ہے سماء اھلاً و سہلاً مرحبا
یہ وصلِ جانان کی شراب فکر و نظر کا انقلاب
یہ دردِ الفت کی دوا اھلاً و سہلاً مرحبا
یہ محفلِ بزمِ لقا یہ منظرِ نور و ضیا
یہ جامِ عشقِ جانفزا اھلاً و سہلاً مرحبا
دیدار کی گفتار کی یہ لذّتیں یہ راحتیں
سب آپ ہی کی ہیں عطا اھلاً و سہلاً مرحبا
مقصودِ رب العالمین محبوبِ شاہِ مرسلین
اے ہادیٔ راہِ ھدا اھلاً و سہلاً مرحبا
اے سرورِ روئے زمین اے بادشاہِ ملکِ دین
اے دل نشین و دل رُبا اھلاً و سہلاً مرحبا
حبلِ خدائی آپ ہیں اے مقتدائے مومنان
اے شہسوارِ لافتیٰ اھلاً و سہلاً مرحبا
اے پیکرِ حسن و جمال اے صورتِ وصفِ کمال
آئینۂ ایزد نما اھلاً و سہلاً مرحبا
اے وارثِ دینِ نبی اے والیٔ ملکِ وصی
اے صاحبِ حوض و لوا اھلاً و سہلاً مرحبا
تو کون ہوتا ہے نصیرؔ جو شاہ کی مدحت کرے
چپ ہو کے سن سب کی ذرا اھلاً و سہلاً مرحبا
صفر ۱۳۹۶ ھ، فروری ۱۹۷۶ء
۲
دعوتِ غوروفکر
مقصدِ کائنات کیا ہو گا ؟
سِرِّ سِرِّ حیات کیا ہو گا ؟
کب سے دونوں جہان ہوئے قائم ؟
پھر کبھی یہ ثبات کیا ہو گا ؟
جز خدا کلِّ شئ تو ہالک ہے
عالم شش جہات کیا ہو گا ؟
کیا ہلاکت فنائے کلّی ہے؟
یا فنائے صفات ، کیا ہو گا ؟
ہے تصوّر میں کوئی ایسی مثال ؟
منظرِ کائنات کیا ہو گا ؟
عدل و رحمت کا کیا تقاضا ہے ؟
حق کا وہ التفات کیا ہو گا ؟
خود شناسی ہے گر فنائے “انا”
ماورائے ممات کیا ہو گا ؟
۳
معرفت ہی رہے گی یا عارف ؟
یا فقط ذاتِ ذات ، کیا ہو گا ؟
معرفت کی کوئی بقا بھی ہے ؟
ورنہ یہ تُرّہات ، کیا ہو گا ؟
کیا دران حال بھی دوئی ہو گی ؟
ہے کوئی ایسی بات ؟ کیا ہو گا ؟
کیا بتوں کو دکھائے جائیں گے ؟
حالِ لات و منات کیا ہو گا ؟
حالِ مطلق جواب کلّی ہے
حالِ بعدِ وفات کیا ہو گا ؟
اپنے انجام کی خبر ہے نصیر ؟
سرِّ سرِّ نجات کیا ہو گا ؟
۴
تجلّیات
دل میں جب میں نے وہ صنم دیکھا
جسمِ کلّی کا کیف و کم دیکھا
میرے چشم و چراغ جب آئے
ہستی و نیستی بہم دیکھا
جب مرے دل کی آنکھ میں وہ بسے
لوحِ محفوظ تا قلم دیکھا
میری ہستی پہ برقِ نور گری
میں ہوا نیست پھر عدم دیکھا
میں نے اس نیستی پہ غور کیا
نہ کوئی خوف ہے نہ غم دیکھا
مایۂ علم ہے حصولِ فنا
ایسے عشاق میں نے کم دیکھا
ہے کوئی اہلِ دل تو سن لے حال
میں چلا دو قدم حرم دیکھا
ہے کوئی داستانِ رنج و عنا
جس طرح میں نے وہ ستم دیکھا
پھر ستم ہی سے میری آنکھ کھلی
محفلِ دل میں جامِ جم دیکھا
نغمۂ روح تھا کہ بادۂ جان
جس کی مستی میں زیر و بم دیکھا
جب سے نورِ نبیؐ طلوع ہوا
حلقۂ فقر نے کرم دیکھا
میں نے علم و عمل کی دنیا میں
ہر جگہ شاہِ محتشم دیکھا
عاشقِ نور کیوں نہ شاد رہے
جب تخیّل میں ہی اِرم دیکھا
یہ تعجب ! کہ ذاتِ قطرۂ ہیچ
چشمِ باطن سے میں نے یم دیکھا
عکسِ خورشیدِ نورِ عالمِ دل
جس نے دیکھا ہے صبحدم دیکھا
۵
مُصحفِ عشق میں تو کیا پڑھتا
خود حروف و نُقط میں فم دیکھا
جس طرف بھی مری نگاہ گئی
عشق کا خیمہ و عَلم دیکھا
جب مجھے ذوقِ عشقِ نور ملا
دل میں فردوس کے نِعَم دیکھا
سایۂ عشق ہے نصیر نہیں
دل میں جب اس نے وہ صنم دیکھا
۶
ایک تازہ جہان
عارف نے سنو دل میں اک تازہ جہان دیکھا
ہے جس کی طلب سب کو وہ گنجِ نہان دیکھا
یہ رازِ نہانی ہے اور ربّ کی نشانی ہے
آئی ہے جہاں سے جان وہ عالمِ جان دیکھا
ہاں نورِ ازل ہے وہ اور سِرِّ ابد ہے وہ
واں سب سے نہان دیکھا یاں سب سے عیان دیکھا
اسرارِ کتابُ اللہ انوارِ دلِ عارف
قرآنِ مقدّس میں اک گنجِ نہان دیکھا
جب آنکھ کھلی دل کی اسرار نظر آئے
حیرت زدہ ہوں بیحد جب گوہرِ کان دیکھا
میں اس میں؟کہ وہ مجھ میں؟ یہ سرِّ قیامت ہے!
ہاں برقی بدن میں تھا جب شاہِ شہان دیکھا
جب برق سوار آیا تب باب کھلا از خود
میں مرکے ہوا زندہ جب شاہِ زمان دیکھا
۷
عشاق سے میں اس کے قربانِ مسلسل ہوں
روحانی قیامت میں جب جانِ جہان دیکھا
اشعارِ نصیری میں اسرارِ نہانی ہیں
شاید کہ کبھی اس نے وہ نورِ قران۱ دیکھا
گزشتہ تاریخ: ہفتہ ۲۶، مئی ۲۰۰۱ء
موجودہ تاریخ: پیر ۲۲، ستمبر ۲۰۰۳ء
فٹ نوٹ: ۱وزن کو برابر کرنے کی غرض سے مدِّ الف کو حذف کیا گیا ہے۔
۸
ظہورات و تجلّیاتِ علیؑ
میں نے ہاں صِین میں علیؑ دیکھا
شکرِ حق چین میں علیؑ دیکھا
اس کا ہمسر نہیں ہے دنیا میں
نورِ یکتا ہے دین میں علیؑ دیکھا
نہ فقط ظاہراً علیؑ دیکھا
بلکہ حق الیقین میں علیؑ دیکھا
تو غریقِ بحرِ قرآن ہو کے دیکھ
حکمتِ برترین میں علیؑ دیکھا
عرش اک نور ہے کہ ہے وہ مَلک
سرِّ عرش برین میں علیؑ دیکھا
سین کو سر جھکا جھکا کے سلام!
میں نے اس سین میں علیؑ دیکھا
سین ہی ہے ہمارے دل کا سراج
میں نے پھر سین میں علیؑ دیکھا
شین کا شکریہ کروں گا سدا
میں نے حقّا کہ شین میں علیؑ دیکھا
۹
کون ہے نورِ جَبہۂ عارف
عارفوں نے جبین میں علیؑ دیکھا
وہ شہنشاہ ہے دونوں عالم میں
میں نے ہاں صین میں علیؑ دیکھا
رازِ نورِ مبین میں علیؑ دیکھا
رمزِ حبل المتین میں علیؑ دیکھا
عرش پانی پہ اس پہ مولا تھا
ایسے خوابِ حسین میں علیؑ دیکھا
اے نصیرِ ضعیف سب کو بتا
“میں نے ہاں چین میں علیؑ دیکھا”
ذوالفقار آباد، گلگت
منگل ۲۸،اکتوبر ۲۰۰۳ء
۱۰
ڈائمنڈ جوبلی
!(۱۹۴۶) کی رنگین و پر بہار یادیں
جس گھڑی شاہ علیؑ جانبِ میدان آیا
میرا دل کہنے لگا دیکھ کہ جانان آیا
رسنِ نورِ خدا سلسلۂ آلِ رسولؐ
شاہ علیؑ نام رکھا پھر شہِ مردان آیا
کثرتِ نورِ خدا کوئی تصور نہ کرے
نورِ یکتا ہے علیؑ بہرِ مریدان آیا
غمِ دل دور ہوا اُن کے تبسم سے مجھے
چمنِ آلِ نبیؐ کا گلِ خندان آیا
محوِ دیدار ہوئے اہلِ حقیقت یکسر
وارثِ مسندِ دین عالِمِ قرآن آیا
ان کے قدموں سے فدا کاش مری جان ہوتی!
جانبِ غرب سے اب یوسفِؑ کنعان آیا
مٹ گئی دل کی عنا اب غمِ وحشت نہ رہا
خانۂ دل میں مرا خضرؑ ہے مہمان آیا
۱۱
مست و بیخود ہیں مرید جامِ عقیدت پی کر
نورِ چشمِ شہِ دین حضرتِ سلطان آیا
عالمِ حسن و جوانی کو مُسخر کر کے
شاہِ خوبانِ جہان پرنس علی ایس خان آیا
لذّتِ عشق میں ہے حکمتِ عالم پنہان
دردِ الفت ہے مجھے مایۂ درمان آیا
سرِ تسلیمِ نصیرؔ خاک پہ تھا بہرِ نیاز
مجلسِ خاص میں جب اشرفِ انسان آیا
ایڈیٹنگ کی تاریخ: ۵، مئی ۲۰۰۱ء
۱۲
امامِ حاضرؑ کی تشریف آوری
مبارک سرورِ آلِ نبیٔ آخرین آیا
زمانے کا امامِ حق علیؑ کا جانشین آیا
ہوا جس نور سے عالَم برنگِ علم و فن روشن
مجسم بن کے عقلِ کلّ بشکلِ شاہِ دین آیا
وہ تاج و تختِ ملت کا شہِ مختارِ بااِجلال
حسینِ ظاہر و باطن ، نگارِ دل نشین آیا
لقب ہے نور مولانا کریم و اکرم و مکرم
جو حا و قاف و جیم و کاف کا حق الیقین آیا
یہ ان کا دورِ روحانی مبارک اے جہان والو
یہی ہے مہدیٔ موعود امام المسلمین آیا
کلامِ جانفزا ان کا جو سن سکتا مبارک ہو
وہ گنجِ گوہرِ علمِ حقائق کا امین آیا
صفاتِ کبریائی کا وہی آئینۂ مظہر
تجلّائی خدائی کا وہی عکسِ مبین آیا
۱۳
کمالِ عزِ انسانی ہے نورِ پاک سبحانی
جبین سے نور چمکاتا ہوا وہ مہ جبین آیا
دو عالم کے حسینوں کا شہنشاہِ سرور انگیز
جمال و حسن کا یکتا وہ رشکِ حورِ عِین آیا
یہ وہ نورٌ علیٰ نور اس خدائے پاک و یکتا کا
بلااوّل بلاآخر امامِ آخرین آیا
سُرورِ عیشِ روحانی یہیں سے ابتدا کر لوں
وہ شمعِ بزمِ وحدت ، ساقیٔ خلدِ برین آیا
خدا کا نور ہے الحق نہیں کوئی نظیر اس کا
وہ نورِ لامکانی جانِ عاشق کا مکین آیا
ہمارے رہبرِ دانا امامِ حیّ و حاضر ہے
دلوں کو خود قرین ہی تھا عیاناً بھی قرین آیا
ترا دامانِ اطہر ہے مثالِ عُروۃ الوثقیٰ
بلا فصلِ نسب تو معنیٔ حبل المتین آیا
نیازی میں نصیر الدین فتادہ ہے تیرے در پر
حصولِ عیش سرمد کا یہیں سے ہے یقین آیا
۱۴
دربارۂ توصیفِ کتاب
آفتاب و ماہتاب و چرخِ اخضر ہے کتاب
چشمۂ آبِ حیات و آبِ کوثر ہے کتاب
حسن و خوبی میں یگانہ دلکشی میں طاق ہے
باغ و گلشن کی طرح اک خوب منظر ہے کتاب
بے مثال و لازوال انمول تحفہ علم کا
اے عزیزان لے کے رکھنا گنجِ گوہر ہے کتاب
میں جہاں بھی رہ چکا دن بھر کتابوں میں رہا
بس مرا گھر ہے کتاب اور میرا دفتر ہے کتاب
اک جہانِ علم و حکمت ہے کتابِ مُستطاب
ہے اگر قرآن سے پھر سب سے برتر ہے کتاب
آیۂ قَد جَائَ کُم (۰۵: ۱۵) کو پڑھ لیا کر جانِ من!
نورِ حق کی روشنی میں سب کو رہبر ہے کتاب
تو ہے بھیدوں کا صحیفہ تو ہے کنزِ لامکان
قولِ مولانا علیؑ ہے: تیرے اندر ہے کتاب
ہے کتابِ حق تعالیٰ باتَکَلم ہر جگہ
ظاہر و باطن میں دیکھو میرا حیدر ہے کتاب
۱۵
معجزے ہی معجزے قرآنِ ناطق سے سنو
آج مولائے زمانہ ، روزِ محشر ہے کتاب
نورِ ایمان نورِ ایقان نورِ علم و معرفت
سر بسر انوار کی دولت سے بھر کر ہے کتاب
اس بہشتِ معرفت میں کیا نہیں ہے جانِ من!
کانِ راحت جانِ لذّت شہد و شکر ہے کتاب
مثلِ یارِ دلنشین محبوب ہے مجھ کو کتاب
دل کشا ہے جانفزا ہے روح پرور ہے کتاب
جب قلم لیتا ہوں آتا ہے تجلّی بن کے وہ
یہ نوازش ہے اسی کی تب میّسر ہے کتاب
باغ و گلشن کی سیاحت میں ذرا سا حظ تو ہے
سیرِ علمی کے لئے بس سب سے بہتر ہے کتاب
اے نصیر الدین تجھ کو سرِّ اعظم یاد ہے ؟
عالمِ علوی میں تنہا ایک گوہر ہے کتاب
ہفتہ ۷ جمادی الثانی ۱۴۲۰ھ ۱۸، ستمبر ۱۹۹۹ء
۱۶
زمزمۂ خدمت
یارو ! نہ فراموش کرو آیۂ خدمت
کونین میں ملتا ہے سدا میوۂ خدمت
خدمت کا شجر میوۂ شیرین سے لدا ہے
اور راحتِ جان سے ہے بھرا سایۂ خدمت
احباب ہزاروں کو میں تحفہ کیا دوں ؟
اک تحفۂ کلّی ہے خوشا ! تحفۂ خدمت
سردار جو دانا ہے وہ قوم کا خادم ہے
ہر شخص نہیں جانتا یہ مرتبۂ خدمت
جنّت کا خزانہ ہے جنت کا ترانہ ہے
یہ ولولۂ خدمت یہ زمزمۂ خدمت
خدمت جو عبادت ہے تو تب قبلہ بھی ہو گا
مولائے زمانہ ہے مرا قبلۂ خدمت
ہر چند کہ دنیا میں نعمات بہت سی ہیں
لیکن مزۂ خدمت ! یکتا مزۂ خدمت
کہتا ہے نصیر الدین اے لشکرِ ایمانی!
جاری ہی رکھو دائم یہ سلسلۂ خدمت
بدھ یکم اگست ۲۰۰۱ء
نوٹ: آیۂ خدمت =سورۂ محمد ۴۷: ۷
۱۷
اِستِمداد
المدد یا شاہِ مردان المدد!
المدد اے سرِّ یزدان المدد!
مظہرِ حق بادشاہِ ملکِ دین
اے کلیدِ گنجِ قرآن المدد!
تو امامِ حیّ و حاضر ہے بحق
نورِ سلطان نورِ سلمان المدد!
علم پانی اور تو ہی عرش ہے
اے سفینۂ نورِ رحمان المدد!
یا علیُ الوقت مولانا کریم
المدد یا شاہِ دوران المدد!
اے شہنشاہِ دُو عالم تاجدارِ نورِ حق
گنج بخشِ اسمِ اعظم جان و جانان المدد!
اسمِ اکبر ہے خدا کا تو امامُ المتقین
اے تو قرآنِ مجسم شاہِ شاہان المدد!
تیرے در پر سر رکھا ہے یہ نصیرِ بیقرار
عذر خواہان ہوگیا ہے اور گریان المدد!
منگل۱۸، نومبر ۲۰۰۳ء
۱۸
یہ تیرا عشق
یہ تیرا عشق مجھے ہے شراب سے بہتر
شمیمِ کوچۂ جانان گلاب سے بہتر
تم آ کے دل میں رہو میں حجاب ہو جاؤں
تو پھر بھی کیسے بنوں اس حجاب سے بہتر؟
وہی ہے گنجِ کرم اور وہی ہے کانِ عطا
نہیں ہے کوئی سخی آن جناب سے بہتر
ترا خیالِ حسین مجھ کو خوابِ راحت ہے
ہے کوئی خواب کہیں میرے خواب سے بہتر؟
جمال و حسن ترا اک کتابِ قدرت ہے
نہیں ہے بشری کتاب اس کتاب سے بہتر
اگرچہ چاند ستاروں میں مثلِ سلطان ہے
ہے میرے دل کا حسین ماہتاب سے بہتر
سوال ایسا کیا جس میں گنجِ حکمت ہے
کہ عقل جس کو کہے : ہر جواب سے بہتر
۱۹
زوالِ عہدِ جوانی سے مجھ کو غم نہ ہوا
کہ فکر و عقلِ کُہن سال شباب سے بہتر
خطابِ عشق و فنا گر کرے زراہِ کرم
یہی خطاب مجھے ہر خطاب سے بہتر
یہ دردِ عشق کی تلخی عجیب شیرین ہے
شرابِ عشق ہے یہ ہر شراب سے بہتر
عتاب میں بھی تجلّی تری عجیب و غریب
نہیں ہے کوئی عطا اس عتاب سے بہتر
وہی ہے نورِ ازل آفتابِ عالمِ دل
ہزار درجہ وہ اس آفتاب سے بہتر
حبابِ دل چہ عجب بحر اس پہ عرشِ خدا!
نہیں ہے بحر کوئی اس حباب سے بہتر
سنو کہ میرا صنم ہے بتوں کا شاہنشاہ
نہیں ہے کوئی مرے انتخاب سے بہتر
بگڑ گیا ہے اگر باغ پھر خراج نہیں
خرابِ عشق ہوں میں ہر خراب سے بہتر
عذابِ عشق نصیرا چہ خوب جنّت ہے!
یہی عذاب مجھے ہر ثواب سے بہتر
کراچی
گزشتہ تاریخ: جمعرات ۲۰، اگست ۱۹۹۸ء
موجودہ تاریخ: بدھ ۲۴،مئی ۲۰۰۳ء
۲۰
نوروزنامہ
مژدۂ نوروز
مارچ ۱۹۸۶ء
یہاں یہ نورِ یزدان ہے یہی ہے مژدۂ نوروز
کہ یہ خود روحِ قرآن ہے یہی ہے مژدۂ نوروز
یہ وہ نوروز ہے گویا خدا نے کر دیا برپا
اسی دن خیمۂ خضرا یہی ہے مژدۂ نوروز
ہوئی جس دن زمین پیدا وہی نوروزِ ارضی تھا
کہ ہر تارا ہے اک دنیا یہی ہے مژدۂ نوروز
ازل نوروزِ عقلی ہے الست نوروزِ روحی ہے
جنم نوروزِ ذاتی ہے یہی ہے مژدۂ نوروز
بمنشائے خداوندی پیمبرؐ نے علیؑ کو دی
امامت بھی نیابت بھی یہی ہے مژدۂ نوروز
علیؑ نورِ امامت ہے شہنشاہِ ولایت ہے
وہ بابِ علم و حکمت ہے یہی ہے مژدۂ نوروز
۲۱
وہی نوروز کا سلطان وہی ہے جان اور جانان
وہی ہے مایۂ ایمان یہی ہے مژدۂ نوروز
فروغِ صبح صادق ہے بہارِ جانِ عاشق ہے
وہی قرآنِ ناطق ہے یہی ہے مژدۂ نوروز
امامِ انس و جان ہے وہ ضیائے لامکان ہے وہ
کہ مولائے زمان ہے وہ یہی ہے مژدۂ نوروز
ظہورِ عالمِ ملکوت وہ نورِ عالمِ جبروت
وہ گنجِ گوہرِ لاہوت یہی ہے مژدۂ نوروز
قبائے انما اس کی ردائے ھل اتٰی اس کی
عطائے کبریا اس کی یہی ہے مژدۂ نوروز
وہی ہے بحرِ گوہر زا جمال و حسن کی دنیا
کتابِ عالمِ بالا یہی ہے مژدۂ نوروز
جہاں محبوبِ جان آیا وہ بن کر اک جہان آیا
اسی میں لامکان آیا یہی ہے مژدۂ نوروز
ترا دل جب منور ہو درخشان مثلِ خاور ہو
نشیمن گاہ مظہر ہو یہی ہے مژدۂ نوروز
خیال و فکر روشن ہو نظر اک باغ و گلشن ہو
طلب بھی گل بدامن ہو یہی ہے مژدۂ نوروز
۲۲
نویدِ جان فزا آئی امامت کی دعا آئی
مسرّت کی ہوا آئی یہی ہے مژدۂ نوروز
جو اک خورشیدِ تابان ہے وہی سلطانِ خوبان ہے
وہی پیدا و پنہان ہے یہی ہے مژدۂ نوروز
اگر مولا سے الفت ہے اگر اعزازِ خدمت ہے
یہی توفیق و ہمّت ہے یہی ہے مژدۂ نوروز
اطاعت کر عبادت کر درِ مولا کی خدمت کر
اسی سے تو محبّت کر یہی ہے مژدۂ نوروز
اگر وہ تجھ کو خدمت دے اسی کے ساتھ ہمّت دے
محبّت دے بصیرت دے یہی ہے مژدۂ نوروز
اسی خدمت میں حکمت ہے اسی میں تیری عزّت ہے
یہی اک زندہ دولت ہے یہی ہے مژدۂ نوروز
نصیرا! تو نہیں تنہا گدائے کوچۂ مولا
یہاں ہے اک جہان شیدا یہی ہے مژدۂ نوروز
مارچ ۱۹۸۶ء
۲۳
رازِ عشق
یا الٰہی! تو عطا کر دے مجھے فیضانِ عشق
تا کہ ہو جاؤں ہمیشہ بندۂ سلطانِ عشق
میں گدا ہوں اس کے در کا اور مریضِ عشق بھی
یا طبیبِ آسمانی! دے مجھے درمانِ عشق
اے حسینِ بے مثال! اے نورِ عشقِ باکمال!
جان فدا ہو تجھ سے ہر دم چونکہ تو ہے جانِ عشق
شاہِ خوبانِ دو عالم! نورِ چشمِ عاشقان!
غیرتِ حور و پری ہے جانِ عشق جانانِ عشق
ماہِ من! اے شاہِ من! تو حکم فرما دیجئے
ہے قبولِ جان و دل تیرا ہر فرمانِ عشق
یہ نہیں معلوم مجھ کو راز کیا ہے؟ رمز کیا؟
اس لئے ہوں میں ہمیشہ والہ و حیرانِ عشق
میں نہیں تنہا غریق تیرے بحرِ عشق میں!
ہیں سبھی غرقاب تجھ میں دیکھ اے طوفانِ عشق!
۲۴
عشق سے مر کر اسی میں زندہ ہے، ہاں زندہ ہے
یہ نصیرؔ تیرا گدا اے جانِ عشق جانانِ عشق!
اسلام آباد،
گزشتہ تاریخ: منگل ۲۹،مئی ۲۰۰۱ء
ایڈیٹنگ کی تاریخ: منگل ۲۳، ستمبر ۲۰۰۳ء
۲۵
شاہ! سلامٌ علیک
نام ہے تیرا کریمؑ شاہ سلام علیک
شان ہے تیری عظیم شاہ سلام علیک
تیرے سوا کون ہے آلِ نبیؐ و علیؑ
نورِ خدائے حکیم شاہ سلام علیک
ذکرِ خفی بن کے آ دیدہ و دل فرشِ راہ
مالکِ ملکِ قدیم شاہ سلام علیک
باغ و چمن کی بہار سَرو و سمن کا نکھار
تو ہے گلوں کی شمیم شاہ سلام علیک
برقِ تجلّیٰٔ طور حسنِ خدا کا ظہور
نور بچشمِ کلیم شاہ سلام علیک
مصحفِ ناطق ہے تو علمِ لدن تجھ سے ہے
تو ہی الف لام میم شاہ سلام علیک
تابشِ دیدار سے ظلمتِ غم ڈھل گئی
تیرے کرم سے کریم شاہ سلام علیک
۲۶
مظہرِ نورِ خدا آئینۂ حق نما
مصدرِ لطفِ عمیم شاہ سلام علیک
تیرے محبّت سے میں دیکھ کے پامال ہوں
رحم کر اے بو رحیم شاہ سلام علیک
عشق کا ہوں میں قتیل نفخۂ جان بخش بھیج
ہمرہِ بادِ نسیم شاہ سلام علیک
تجھ سے شفا پا گئے دردِ جہالت سے ہاں
ہم جو ہوئے تھے سقیم شاہ سلام علیک
پیکرِ نورِ خدا تو ہی تو ہے رہنما
سوئے رہِ مستقیم شاہ سلام علیک
مطلعِ رحمت ہے تو گوہرِ حکمت ہے تو
تو ہے صبور و حلیم شاہ سلام علیک
کون ہے تجھ سا شفیق ہم پہ یہاں اور وہاں
حامی و یارِ حمیم شاہ سلام علیک
اس دلِ ویران میں آ، کہ وہ آباد ہو
چونکہ ہے تیرا حریم شاہ سلام علیک
وصل ہے گویا بہشت راحتِ جان سے بھری
ہجر، عذابٌ الیم شاہ سلام علیک
نقطۂ بسمل میں ہے عارفِ حق کے لئے
ایک کتابِ ضخیم شاہ سلام علیک
۲۷
معجزۂ عشق سے مردہ دلوں کو جِلا
کون ہے تجھ سا حکیم شاہ سلام علیک
جب سے کہ آیا نصیرؔ تیری غلامی میں بس
ہے ترے در پر مقیم شاہ سلام علیک
۲۸
یارِ بدیعُ الجمال
جانِ جہان کون ہے؟ یارِ بدیعُ الجمال
دل میں نہان کون ہے؟ یارِ بدیعُ الجمال
جلوہ نما ہے ادھر حیرتِ اہلِ نظر
غیرتِ شمس و قمر یارِ بدیعُ الجمال
چہرہ مجھے یاد ہے حور و پری زاد ہے
شاد ہے آزاد ہے یارِ بدیعُ الجمال
پیکرِ حسن و جمال با ہمہ وصفِ کمال
دہر میں ہے بیمثال یارِ بدیعُ الجمال
جانِ بہار جانِ من رونقِ باغ و چمن
غنچہ دہن گلبدن یارِ بدیعُ الجمال
جلوہ دکھا جا ذرا دل میں سما جا ذرا
روح میں آ جا ذرا یارِ بدیعُ الجمال
سب میں اسی کا مکان سب ہیں اسی کے نشان
سب کی وہی جانِ جان یارِ بدیعُ الجمال
۲۹
نورِ سحر تجھ سے ہے علم و ہنر تجھ سے ہے
لعل و گہر تجھ سے ہے یارِ بدیعُ الجمال
عشق و فنا کی قسم! وصل عطا کر صنم
کل کو رہیں گے نہ ہم یارِ بدیعُ الجمال
عشق میں اک ساز ہے جس میں ترا راز ہے
اس پہ مجھے ناز ہے یارِ بدیعُ الجمال
اے مرے ماہِ منیر یاد تری دلپذیر
تجھ سے فدا ہے نصیرؔ یارِ بدیعُ الجمال
“حلقۂ اربابِ ذوق” گلگت کی خدمت میں۔
کراچی، جمعہ ۱۳، ربیع الثانی ۱۴۱۹ھ، ۷، اگست ۱۹۹۸ء
۳۰
علمی سفر کی تعریف و ترغیب
ہے دور بہت علمی سفر تیز چلا چل
پر امن ہے یہ راہ نہ ڈر تیز چلا چل
تو ربّ سے سدا ہمتِ عالی کو طلب کر
تاخیر نہ کر دیر نہ کر تیز چلا چل
ہے عمرِ گرانمایہ فقط علم کی خاطر
کر علم کی راہوں میں سفر تیز چلا چل
اس علمِ حقیقی کو سمجھ گنجِ خدا ہے
تاخیر نہ کر اس کا سفر تیز چلا چل
بے رنج کوئی گنج نہیں سارے جہان میں
گنجینۂ حکمت ہے جدھر تیز چلا چل
ہر علمی مسافر سے نصیرا تو کہا کر
اے نیک نصیب نیک سفر تیز چلا چل
کراچی، بدھ ۶، نومبر ۲۰۰۲ء
۳۱
اس نے کہا:
“میں تیرا دل ہوں”
سچ ہے کہ کہا اس نے اک گنجِ خدا ہے دل
جب عشقِ حقیقی سے ویرانہ پڑا ہے دل
ہر گونہ تسلی ہے دیدار کی دولت سے
ہر چند کہ ظاہر میں آہوں سے بھرا ہے دل
اس قالبِ خاکی میں دل عالمِ اکبر ہے
دل دائرۂ کل ہے اور ارض و سما ہے دل
اسرارِ شہِ خوبان اس دل کے خزانے ہیں
صد بار فدا ہے جان صد بار فدا ہے دل
در پردہ کہا اس نے دل میرے حوالے کر
اے جانِ جہان، واللہ! یہ لے کہ تیرا ہے دل
اس مرتبۂ دل کو عارف ہی سمجھتا ہے
گر پاک کرے کوئی تب عرشِ خدا ہے دل
دلدادۂ الفت ہوں اب مجھ میں کہاں ہے دل؟
دلبر نے لیا دل کو عاشق میں کجا ہے دل؟
۳۲
صد شکر کہ اب جانان خود میری خودی ہوگا
جب جان ہے فدا اس سے جب اس میں فنا ہے دل
اشعارِ نصیری میں اسرارِ نہانی ہیں
دل عقدۂ لاینحل اور عقدہ کشا ہے دل
بموقعِ ’علامہ نصیر الدین کے ساتھ ایک شام‘ زیرِ اہتمام حلقۂ اربابِ ذوق گلگت ،
۲۸ ، جوالائی ۱۹۹۸ء بمقامِ ریویریا ہوٹل۔
۳۳
السّلام یا نورِ یزدان السّلام
السّلام یا شاہِ شاہان السّلام!
السّلام یا نورِ یزدان السّلام!
السّلام! وا گنجِ پنہان السّلام!
السّلام وا جیندو قرآن السّلام!
السّلام می دین و ایمان السّلام!
السّلام می جان و جانان السّلام!
السّلام می نورے آسمان السّلام!
السّلام می عشقے سلطان السّلام!
اُن خدائے اسمِ اعظم با حضور!
بُٹ معظم بُٹ مکرم با حضور!
ذکرِ اعلیٰ ہم خفی و ہم جلی!
جانشینِ مصطفیٰ نورِ علی!
کراچی، منگل، ۲۰، جنوری ۲۰۰۳ء
۳۴
سلکِ مروارید
(موتیوں کی لڑی)
بموقعِ تشریف آوریٔ مولانا حاضر امام شاہ کریم الحُسینی صلوات اللہ علیہ و سلامہ
وہ مقدّس وہ مطّہر وہ امام
جانشینِ مصطفیٰ عالی مقام
دیکھ لو ! اس کو خدا کے حکم سے
عالمِ ملکوت کرتا ہے سلام
نورِ یزدان ہے وہ اولادِ علیؑ
جس کا دنیا کر رہی ہے احترام
شاہِ دین جس کو کہا جاتا ہے وہ
جو جہان میں ہے نہایت نیک نام
جو نگاہِ عشق میں اک جلوہ ہے
آسمانِ حسن کا ماہِ تمام
جو مسیحائے زمان ہے وہ طبیب
جس کا درشن زخمِ دل کا اِلتیام
وہ خدائے پاک کا ہے زندہ گھر
حاجیانِ عشق کا بیت الحرام
وارثِ علم نبی سلطانِ دین
بعدِ احمد ہے وہی خیرالانام
باتجمل باکرامت باوقار
وہ خدا کا چہرہ ہے مالاکلام
گنجِ قرآن کا جو ہے خازِن وہی
رہنما ہے جانبِ دارالسّلام
جس کی مِدحت ہے کلامِ پاک میں
کیوں نہ اس کو یاد کرلوں صبح و شام
بات اس کی حکمتوں سے ہے بھری
قابلِ صدہا ستائش اس کا کام
۳۵
علم زر ہے میں ہوں اس کا زرخرید
وہ مرا آقا ہے میں اس کا غلام
محفلِ عشاق ہے بزمِ طراب
یاد اس کی ہے شرابِ لالہ فام
میں بھی اِک سائل ہوں مولا اک نظر
اس طرف کر اے کریمِ خاص و عام
کچھ چہل قدمی کرو اور مسکراؤ
میرے باغِ دل میں آ کر خوش خرام!
یہ تبسّم ہے کہ جادوئے حلال!
پھول ہیں یا آ گئے جنّت کے جام
تیری الفت بھی کیا اکسیر ہے!
جس سے ہم کندن ہوئے اور شاد کام
منزلِ مقصود آئی ہے قریب
ساتھیو! آگے چلو بس چند گام
صبحِ انورکا طلوع ہے اے نصیرؔ
جاگ اٹھنا اب ہوا وقتِ قیام
۲۴،صفر ۱۴۰۶ھ۔ ۸،نومبر ۱۹۸۵ء
۳۶
مرکزِ علوم
(لائبریری)
قائم ہوا بفضلِ خدا مرکزِ علوم
راہِ عمل کی شمعِ ہُدا مرکزِ علوم
تھا نور مصطفیٰ و علیؑ مایۂ عقول
جب اس جہان میں کوئی نہ تھا مرکزِ علوم
اس نور سے جہان میں ہوا علم کا ظہور
پھر رفتہ رفتہ بن کے رہا مرکزِ علوم
توضیحِ راز علمِ سماوی فروغِ دین
میراثِ پاک آلِ عبا مرکزِ علوم
شاہنشہِ علوم و حِکَم ہے کریمِؑ دہر
الحق اسی نے ہم کو دیا مرکزِ علوم
روشن ہو دہر علمِ امامت سے دن بدن
یاں اس لئے ہوا ہے بِنا مرکزِ علوم
آثارِ علمِ ناصرِ خسرو قدس سرہُ تلاش کر
ہاں اس لئے ہوا ہے بپا مرکزِ علوم
۳۷
ناصر ق س کے علمِ دین سے دنیا بدل گئی
وہ تھا قرینِ نورِ خدا مرکزِ علوم
اس در سے آ کہ حکمتِ ناصر تجھے ملے
کوئی نہیں ہے اس کے سوا مرکزِ علوم
سرچشمۂ حیاتِ دوامی ہے علمِ دین
یعنی یہی ہے آبِ بقا مرکزِ علوم
علم و ہنر سے کوئی نہیں بے نیاز اب
مرجع برائے شاہ و گدا مرکزِ علوم
مانا کہ مرضِ جہل ہے دنیا میں بدترین
اس مرض کی یہی ہے دوا مرکزِ علوم
جس منزلِ مراد میں ہے نورِ کبریا
اس راہ کا ہے راہ نما مرکزِ علوم
ہے باعثِ سعادتِ دنیا و آخرت
اللہ کا ہے جود و عطا مرکزِ علوم
مانا کہ علمِ دولت پایندہ ہے مگر
آتا نہیں ہے علم بلا مرکزِ علوم
کرتا ہو کوئی علمِ حقیقت کی جستجو
تو اس کو روز روز دکھا مرکزِ علوم
علم و ادب کا گنجِ گراں مایہ مل گیا
اس وقت سے کہ ہم کو ملا مرکزِ علوم
۳۸
آنکھیں ہوئی ہیں خیرہ فروغِ علوم سے
جب سے ہوا ہے جلوہ نما مرکزِ علوم
قائم کیا ہے قوم نے امیدِ خیر میں
یا ربّ رہے ہمیشہ بجا مرکزِ علوم
مردِ حکیم کا ہے یہی قولِ مختصر
گنجینۂ گہر ہے سدا مرکزِ علوم
دیکھا نصیرؔ زار ہوا علم کا چراغ
زینت فزائے ارض و سما مرکزِ علوم
۳۹
توصیفِ لطیفِ مولانا حاضر امامؑ
مظہرِ نورِ خدا مولا کریم
جانشینِ مصطفیٰؐ مولا کریم
معدنِ جود و سخا کانِ کرم
چشمۂ آبِ بقا مولا کریم
وہ چراغِ کائناتِ عقل و جان
وہ ستون، زیرِ سماء مولا کریم
وہ ظہورِ نورِ شاہِ اولیاء
یعنی خود ہے مرتضیٰ مولا کریم
وہ خلیفہ ہے خدائے پاک کا
حیّ و حاضر ہے سدا مولا کریم
عالمِ شخصی میں جا کر دیکھ لے
کنزِ اسرارِ خدا مولا کریم
وہ امامِ عصرِ حاضر ہے بحق
بادشاہِ دُو سرا مولا کریم
تو کتابُ اللّٰہِ ناطق ہے ہمیں
تجھ سے حکمت ہے عطا مولا کریم
عاشقان تھے منتظر دیدار کے
مرحبا صد مرحبا مولا کریم
جان فدا کر اپنے آقا سے نصیرؔ!
جان و دل تجھ سے فدا مولا کریم
سنیچر۱۵، نومبر ۲۰۰۳ء
۴۰
ہمتِ مردان مددِ خدا
تائیدِ الٰہی ہے سدا ہمتِ مردان
ہے باعثِ انعامِ خدا ہمتِ مردان
مشکل ہی سہی منزلِ مقصود کی راہیں
ہے سہل جو ہو راہ نما ہمتِ مردان
آسان ہے ظلماتِ حوادث سے گزرنا
ہوجائے اگر نورِ ہدیٰ ہمتِ مردان
اقوام کے اس معرکۂ علم و عمل میں
دیکھو گے سدا قلعہ کشا ہمتِ مردان
گنجینۂ اقبال و سعادت تو یہی ہے
اللہ کا ہے جود و عطا ہمتِ مردان
کب جاگتی تعمیرِجہان خوابِ عدم سے
دیتی نہ اگر اس کو جگا ہمتِ مردان
یہ رونقِ تہذیب و تمدّن بھی نہ ہوتی
ہوتی نہ اگر جلوہ فزا ہمتِ مردان
معشوقِ ہنر بزمِ ثقافت میں نہ آتا
دیتی نہ اگر بانگِ درا ہمتِ مردان
ہمت سے گئے اہلِ ہنر سوئے کمالات
تم بھی تو بڑھو کرکے ذرا ہمتِ مردان
سمجھو گے اگر معجزۂ ہمتِ مردان
کرلو گے طلب کرکے دعا ہمتِ مردان
اے ہمتِ مردان کہ تو ہے دمِ عیسیٰ
ہر درد کی ہے تو ہی دوا ہمتِ مردان
اس گلشنِ امید میں تو موسمِ گل ہے
جو غنچہ کھلا تجھ سے کھلا ہمتِ مردان
سرمایۂ ایجاد ہے تو رُوئے زمین پر
تجھ ہی سے گئے سوئی سما ہمتِ مردان
ہر عارفِ کامل جو ہوا واصلِ یزدان
لاریب کہ وہ تجھ سے ہوا ہمتِ مردان
ہمت سے ہوئے جو بھی ہوئے زندۂ جاوید
مانا کہ تو ہے آبِ بقا ہمتِ مردان
۴۱
وہ عقدۂ مشکل کہ نہ کھلتا تھا کسی سے
فی الفور وہ تجھ ہی سے کھلا ہمتِ مردان
ہمت کے ترانے ہیں یہ اشعارِ نصیری
خود آکے ہوئی نغمہ سرا ہمتِ مردان
مرقوم ہے بس صفحۂ عالم پہ یہی قول
“تائیدِ الٰہی ہے سدا ہمتِ مردان”
۴۲
نشانہائے امامِ زمان علیہ السّلام
شہ کریم نورِ حق امامِ زمان
قدوۂ کاملانِ کون و مکان
سبطِ ختمِ رسل وہ آلِ علیؑ
نائبِ مرتضیٰ ؑ ولیٔ زمان
حیّ و حاضر ہے اس جہاں میں مدام
چونکہ ہے عقلِ عقل و مایۂ جان
فائض النّور دونوں عالم کا
مثلِ خورشید ہے عیان و نہان
مجھ سے گر پوچھے کوئی اس کا نشان
بے مثل ہے، کہ ہے خدا کا نشان
بے نشان بھی ہے بانشان بھی ہے
مظہرِ حق کی ذاتِ عالی شان
اک نشان یہ کہ حیّ و قائم ہے
از ازل تا ابد شہِ دوران
اک نشان یہ کہ ہے وہ آلِ نبیؐ
ہادیٔ دین قسیمِ نار و جنان
اک نشان یہ کہ جہد کرتا ہے
تاکہ ہو اس جہاں میں صلح و امان
علم و حکمت ہے اک نشان اس کا
چونکہ ہے پیشوای اہلِ جہان
حسنِ سیرت ہے اک نشان اس کا
جس کا ثانی نہیں چہ انس و چہ جان
بے نیازی ہے اک نشان اس کا
وہ نہیں مدّعی چنین و جنان
کشفِ باطن ہے اک نشان اس کا
تاکہ ظاہر ہو ہم پہ گنجِ نہان
۴۳
اک نشان یہ کہ ہے وہ دنیا میں
مثلِ کشتیٔ نوح و کشتیبان
اس کے صدہا نشان ہیں ایسے
جن کا مجھ سے نہ ہوسکا ہے بیان
حقِ توصیفِ شہ ادا نہ ہوا
معترف ہے نصیرِ بے سامان
ایڈیٹنگ کی تاریخ:۲۳،جولائی ۲۰۰۱ء
۴۴
لامکان کی کیفیّت
گرچہ برتر ہے مکان سے حدِ کیفِ لامکان
جلوہ گر ہے صورتِ عالم میں پیدا و نہان
ہے تصور لامکان کا بس عجیب و دلفریب
لاہیولیٰ و مسافت اک جہانِ جاودان
لوح و کرسی لامکان ہے رحمتِ کل لامکان
جانِ عالم لامکان ہے جانفزا و جانستان
جوہر حسن و تجمل مایۂ نقش و نگار
ذاتِ عرفان و حقائق اصلِ لذاتِ جنان
لامکان نورِ مجرد ہے محیطِ کل ہے وہ
غرقۂ صورت ہے اس سے کائنات اندر میان
جسمِ کلّی ہے مکان و نفسِ کلّی لامکان
پس مکان ہے لامکان اور لامکان میں ہے مکان
اب جہان کی زندہ صورت کو مجرّد مانیے
لامکان و لازمان ثابت ہوئی جانِ جہان
۴۵
اصل اوّل میں نقوشِ جملہ اشیا زندہ ہیں
پس اسی کو لامکان اور عالمِ تجرید جان
جیسے ہوتا ہے بشر کا اک جدا جسمِ لطیف
اس طرح ہے جانِ عالم بے مکان و بے زمان
عکس عالم ہے تخیّل میں ہیولیٰ کے بغیر
باجمالِ صورت و معنی و حیّ و بازبان
عالمِ خواب و تخیّل ہے مثالِ لامکان
پر نہیں یہ زندگی و روشنی مانند آن
مختلف درجات ہوتے ہیں مگر اس خواب کے
خوابِ غافل، خوابِ عاقل، خوابِ پاکِ عارفان
خوابِ عارف لامکان کا نسخۂ تحقیق ہے
خوابِ غافل ہے مثالِ ظلمتِ روح و روان
عالمِ خواب و تخیل ہے کتابِ ممکنات
اس میں سب کچھ ہے سمجھ لے اے حکیمِ نکتہ دان
لامکان کا ہر نمونہ آخرت کی ہر مثال
کچھ مناظر خوف کے اور کچھ مسرّت کے نشان
صورتِ کون و مکان و نقشۂ دہر و زمان
حالتِ روی زمین و کیفِ جوفِ آسمان
ماضی و مستقبل اس میں حال ہو کر رہ گئے
صورتِ پیری و طفلی دیکھ سکتا ہے جوان
۴۶
مردِ عارف کے خیال و خواب جب روشن ہوئے
قدرتِ حق نے دکھایا صد جہان اندر جہان
پھر خیال و خواب سے اک ایسی بیداری بنی
جو حقائق کے لئے ہوتی رہی ہے ترجمان
پس بشر کی ذات ہے آئینۂ ممکن نما
جب مُصَفّا ہو حقائق اس میں ہوتے ہیں عیان
اس طرح وہ واقفِ اسرارِ قدرت ہو گیا
کام اس نے وہ کیا جس کا نہ تھا وہم و گمان
اس نے یہ جانا کہ کوئی کام ناممکن نہیں
چونکہ وہ خود مظہرِ قدرت ہے بہرِ امتحان
گرچہ وہ اک قطرہ ہے لیکن سمندر ساتھ ہے
گرچہ وہ اک ذرّہ ہے سورج ہے اس میں ضوفشان
مقصدِ علمِ ضروری سِرِّ وحدت ہے نصیرؔ
علمِ فاضل ہے مثالِ آبِ بحرِ بیکران
دیکھنا یہ ہے کہ اس پانی پہ ہے عرشِ اِلہٰ؟
یا اسے اب چرخِ اعظم پر لئے ہیں حاملان
پوچھنا گر شرطِ دانش ہے تو سنیے اک سوال
قادرِ مطلق مَلک پر کیوں ہوا بارِ گران؟
۴۷
منقبتِ نورِ امامت
بصورتِ سوال و جواب
جواب سوال
کون ہوا پیشوا بعدِ رسولِ امین؟
جس کو خدا نے دیا نامِ “امامِ مبین”
منبرِ روزِ غدیر کس کے لئے تھا بنا؟
سِرِّ خدا کے لئے تا کہ بنے جانشین
پرچمِ دینِ نبی کس نے کیا تھا بلند؟
حیدرِ کرارؑ نے گونۂ شیرِ عرین
بعد خدا و رسول کس کی اطاعت ہے فرض؟
اسکی جو ہے نورِ حق صاحبِ دنیا و دین
نورِ امامِ مبینؑ کب سے ہوا ہے طلوع؟
یہ تو ازل ہی سے ہے جبکہ نہ تھی ما و طین
کون ہے دلدل سوار؟ کون ہے وہ نامدار؟
سرورِ مردان علی قاضیٔ روزِ پسین
خازنِ علمِ خدا کون ہے اس دہر میں؟
رہبرِ راہِ ھُدا ہادیٔ دینِ متین
باب علوم نبیؐ کون ہے اے ہوشمند؟
نورِ علیؑ ہے سدا بابِ رسولِ امینؐ
سلسلۂ نور کی کب سے ہوئی ابتدا؟
جبکہ ہوا بوالبشر نائبِ روئے زمین
فرض ملائک پہ کیوں سجدۂ آدم ہوا؟
آدمِ خاکی میں تھا نورِ علیؑ جاگزین
نفسِ رسولِ خدا کون ہے وہ ارجمند؟
والیٔ ملکِ ولا پیشروِ متقین
ہاں تو وہی ہے مگر جلوہ نما ہے کہاں؟
چشمِ بصیرت سے دیکھ دل میں ہوا ہے مکین
عرشِ اِلہٰ کا قیام جس پہ ہے وہ کون ہے؟
سلسلۂ نور ہے حاملِ عرشِ برین
کس کو خدا نے دیا خاتمِ حکمت نگین؟
مملکتِ ملکِ دین جس کو ہے زیرِ نگین
۴۸
کس کے احاطے میں ہے دائرہ کل شَیۡ؟
ذاتِ امامت میں ہے عالمِ نورِ یقین
ہے کوئی ایسا چراغ جو نہ بجھے دہر میں؟
نور امامت ہے وہ نورِ دلِ مومنین
کس نے کہا اے نصیرؔ! شاہ بہت دور ہے؟
جسم سے ہاں دور ہے دل سے مگر ہے قرین
۴۹
ترجمانیٔ زبانِ حالِ
مجیب الدین (مرحوم=بہشتی) ابنِ علی یار خان مرتضیٰ آباد
رشتہ دارو! فضلِ مولا پر رکھو محکم یقین
میں تو ہوں الحمدللہ ساکنِ خلدِ برین
موت میری تھی شہادت میں مریدِ شاہ تھا
پس بہشت میں شادمان ہوں تم نہ ہوجانا حزین
میری طوفانی خوشی کا تم کو اندازہ نہیں
تم نے دیکھی ہی نہیں ہے باغِ جنّت کی زمین
تم دعائیں کرکے مجھ کو کچھ تحائف بھیج دو
تاکہ راضی ہو ہمیشہ تم سے ربّ العالمین
ہر بہشتی شادمان ہے اور دائم ہے جوان
سب کو حاصل ہے لِقائے حضرتِ سلطانِ دین
مجلسوں میں حور و غلمان لعل و گوہر کی طرح
ہیں مناظر سب حسین اور اہلِ جنّت نازنین
علم و حکمت کی مجالس نور کا دیدار بھی
نغمہ ہائے مدحِ مولا دل نواز و دل نشین
خواب میں اے کاش تم جنّت کا منظر دیکھتے!
تاکہ تم ہر گز نہ ہوتے میرے بارے میں غمین
معرفت ہی معرفت ہے تیری باتوں میں نصیرؔ!
اس لئے اشعارِ شیرین ہیں مثالِ انگبین
ذوالفقار آباد، گلگت، جمعرات ۲۴ ۔مئی ۲۰۰۱ء
۵۰
تجسسِ فکر و نظر
کیا راز فتنہ ہے رخِ حسن و جمال میں؟
ہنگامہ ہوگیا ہے جہانِ خیال میں
اس رنگ و بوئے گل میں یہ سحرِ ستم ہے کیوں؟
بلبل کی زندگی ہے پڑی صد وبال میں
یہ ہے فنائے عشق جو پروانہ جل گیا؟
کیا رمز ہے چراغ کے اس اشتعال میں؟
آوازِ ساز کیسی بنی مستیٔ شراب؟
جو صوفیوں پہ چھائی ہے اس وجد و حال میں
گاتے ہیں جب طیورِ چمن نغمۂ بہار
آتے ہیں کیوں ادیب و سخنور جلال میں؟
اس آرزوئے منظرِ قدرت سے کیا مراد؟
کس کا ہے یہ پیام نسیمِ شمال میں؟
وہ سیرِ جوئبارِ شبِ ماہتاب میں
نقشِ فلک ہو جلوۂ آبِ زلال میں
۵۱
آنکھوں کو سیرِ باغ سے کیوں واسطہ پڑا
کانوں کو کیا ہے پردۂ حسنِ مقال میں؟
ذوقِ نگاہِ طفل کا عالم بھی دیکھئے!
مبہوت ہے نمونۂ رنگ و جمال میں
ان دلبرانِ دہر کا یہ فنِ دلبری؟
جادویٔ دل کشی تو نہیں خد و خال میں
عالم ہے رنگ برنگیٔ تصویرِ حسنِ یار
ہے جلوۂ صفات کچھ اور عینِ حال میں
کچھ آگے جاکے دیکھ جمالِ صفاتِ ذات
مت پوج ان بتوں کو جہانِ مثال میں
دیکھا نصیرِ زار کمالِ جمالِ دوست
ہر شے سے جلوہ گر ہے مقامِ وصال میں
۵۲
انا اور فنا
ہزاروں لعل و گوہر ہیں درونِ سنگ ہستی میں
نہ کر تاخیر اے نادان طریقِ خود شکستی میں
درختِ سربلندی سے تجھے گر بہرہ لینا ہے
خودی کے تخم کو اوّل گرا دے خاکِ پستی میں
پذیرائی نہ کر اَی نورِ آتش ہیزمِ تر کی
کہ وہ مغرور ظلمت ہے فریبِ خود پرستی میں
بہ شرطِ دین و دانش سعی کر تو زر بکف ہو جا
و گرنہ گنجِ لقمانی نہان ہے تنگ دستی میں
عصائے دین توانگر کے لئے از بس ضروری ہے
کہ گر جاتا ہے انسان نشۂ دولت کی مستی میں
اگر تو ہو نہیں سکتا فنا فی ہستیٔ اعلیٰ
بحالِ خود رہے گا تا قیامت اپنی ہستی میں
خودی کے دشتِ وحشت سے تعلق اب نہیں باقی
نصیرا! ہم تو رہتے ہیں ’’انا‘‘ سے پار بستی میں
۵۳
جمیلِ کلّ
جہان میں میرے صنم کی کوئی مثال نہیں
“جمیلِ کلّ” ہے وہی اور کہیں جمال نہیں
یہ دیکھ شمس و قمر کو زوال ہوتا ہے
جہانِ حسن کے خورشید کو زوال نہیں
کمالِ دلبری اس کو بہشت سے آیا
تو پھر جہاں میں کہیں اور یہ کمال نہیں
وصالِ شاہِ بتان اس جہاں میں مشکل ہے
جو کل بہشت میں ہے آج وہ وصال نہیں
مجھے ملالِ مسلسل نے خوب روند لیا
خدا کے فضل سے اب تو کوئی ملال نہیں
جوابہائے “حکم” سے بھرا خزانہ ہے
جوابہا تو بہت ہیں مگر سوال نہیں
وہ شاہِ “کونِ” حسینان حجاب دل میں ہے
حجاب کیسے ہٹاؤں مری مجال نہیں
۵۴
جہان میں اہلِ قلم کوئی بھی غریب نہیں
امیرِ علم و ادب ہے اگرچہ مال نہیں
خیال “طائرِ برقی” ہے اے نصیر الدین!
عظیم عطیۂ رحمان ہے خیال نہیں
گزشتہ تاریخ: بدھ ۲۳،مئی ۲۰۰۱ء
موجودہ تاریخ: بدھ ۲۴،ستمبر۲۰۰۳
۵۵
نعت
حضرتِ سیدالانبیاء و المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
وہ بادشاہِ انبیاء وہ تاجدارِ اولیاء
محبوبِ ذاتِ کبریاء یعنی محمد مصطفیٰ
وہ رحمتہ للعالمین سلطانِ پاکِ مُلکِ دین
وہ ہادیٔ حقُ الیقین یعنی محمد مصطفیٰ
اقدس ہے اس کا سلسلہ عالی ہے اس کا مرتبہ
قرآن ہے اس کا معجزہ یعنی محمد مصطفیٰ
وہ مفخرِ سب مسلمین وہ سرورِ سب کاملین
وہ رحمتِ دنیا و دین یعنی محمد مصطفیٰ
وہ پیشوائے مرسلین وہ ہے شفیعُ المذنبین
مقصودِ ربّ العالمین یعنی محمد مصطفیٰ
وہ تھا نبی وہ تھا صفی علمِ الٰہی میں غنی
محتاج اس کے ہیں سبھی یعنی محمد مصطفیٰ
جس شب گئے پیشِ خدا افلاک سب تھے زیرِپا
لولاک ہے اس کی ثناء یعنی محمد مصطفیٰ
۵۶
نورِ مجسّم وہ نبی خود اسمِ اعظم وہ نبی
سب سے مقدّم وہ نبی یعنی محمد مصطفیٰ
میں ہوں نصیرِ خاکسار اے سیدِ عالی وقار
راضی ہے تجھ سے کرد گار جنّت تجھی سے پر بہار
یعنی محمد مصطفی یعنی محمد مصطفی
اتوار ۱۳،جنوری ۲۰۰۲ء
۵۷
علمِ روحانی
عزیزو! جان و دل کرنا فدائے علمِ روحانی
کہ ہم آئے ہیں دنیا میں برائے علمِ روحانی
ہماری زندگانی کی غرض ہاں معرفت ہی ہے
مگر یہ آ نہیں سکتی سوائے علمِ روحانی
خودی کو اشکِ الفت میں ہمیشہ دھو لیا کرنا
اسی سے سن سکے گا دل صدائے علمِ روحانی
مریضِ جہل کا ہمدرد ہو جانا اگر چاہو
تو ہر قیمت پہ کر دینا دوائے علمِ روحانی
اسی میں رازِ قرآن ہے اسی میں نورِ یزدان ہے
کہ ہے سب سے بڑی رحمت عطائے علمِ روحانی
اسی کی قدر و قیمت ہے خداکی بادشاہی میں
بہائے دین و دینا ہے بہائے علمِ روحانی
غبارِ دہر اس کی رفعتوں کو چھو نہیں سکتا
فلک سے بڑھ کے عالی ہے فضائے علمِ روحانی
۵۸
فلک پر تم نہ جاسکتے، اسی کا شکر کرنا ہے
کہ خود جھک جھک کے آیا ہے سمائے علمِ روحانی
علاجِ دردِ نادانی نہیں ہوتا ہے دنیا میں
مگر یہ ہے کہ حاصل ہو شفائے علمِ روحانی
عروسِ روح کا سنگارِ کامل کس طرح ہوگا
نہ ہو جب تک اسے حاصل ردائے علمِ روحانی
وہ اک دنیا پہ مرتا ہے یہ اک عقبیٰ پہ مرتا ہے
تمہیں ہونا ہے جیتے جی فنائے علمِ روحانی
طلوعِ نورِ یزدان ہو فروغِ صبحِ عرفان ہو
ضیا پاشی کرے دل میں ضیائے علم روحانی
بہت ہیں نعمتیں لیکن نہیں ہے کوئی شی ایسی
کہ عاقل منتخب کر لے بجائے علمِ روحانی
وہ اک گنجینۂ دولت وہ اک سر چشمۂ لذت
وہ اک کانِ حلاوت ہے غذائے علمِ روحانی
خدا کی اک رضا صدہا رضائیں لے کے آتی ہے
عظیم ُ الشّان ہے سب سے رضائے علمِ روحانی
دلِ سنگین سے جاری ہوئے ہیں علم کے چشمے
مرے مولا نے مارا ہے عصائے علمِ روحانی
کہاں یہ دولتِ دنیا کہاں گنجینۂ عرفان
زہے قسمت کہ مل جائے غنائے علمِ روحانی
۵۹
تعجب ہے کہ اس محبوب کی از بس لقائیں ہیں
لقائے جانفزا اس کی لقائے علمِ روحانی
برسنے کو تلی بارش دلوں کے باغ و گلشن پر
وہ دیکھو بدلیاں لائیں ہوائے علمِ روحانی
امامِؑ وقت کے در کی غلامی کر نصیرالدین
یہیں پر بن کے رہنا ہے گدائے علمِ روحانی
۱۶۔ اگست ۱۹۷۹ء
۶۰
مناجات بدرگاہِ قاضیُ الحاجات
الہٰی شکرِ نعمت کے لئے اب چشمِ گریان دے
“فنائے عشق ہوجاؤں” یہی ہر لحظہ ارمان دے
اطاعت آنسوؤں سے ہو عبادت آنسوؤں سے ہو
محبت آنسوؤں سے ہو مجھے اک ایسا ایمان دے
مجھے یہ گریہ و زاری ہمیشہ تازہ رکھتی تھی
خدایا میری علّت کی یہی ہے کہنہ درمان دے
مناجاتوں میں سب احباب اکثر گڑگڑاتے ہیں
تو اپنے فضل سے ان کو الہٰی گنجِ قرآن دے
بھلی لگتی ہے بیحد آنسوؤں کی گوہر افشانی
خداوندا کرم کر ہم کو چشمِ گوہر افشان دے
ترے قرآنِ اقدس میں جواہر ہی جواہر ہیں
اسی دریائے رحمت سے خدایا درو مرجان دے
حبیبِ کبریا ہے وہ کہ تاجِ ابنیاء ہے وہ
محمد مصطفیٰؐ ہے وہ اسی کا ہم کو فرقان دے
۶۱
علیؑ قرآنِ ناطق ہے علیؑ ہی بابِ حکمت ہے
اسی کی رہنمائی سے دلوں کو نورِ عرفان دے
امام و حجتِ قائمؑ کہ سلطان بھی ہے جانان بھی
نصیرالدین کو یا ربّ ہمیشہ وصلِ جانان دے
ذوالفقار آباد، گلگت،۷۔ جون ۱۹۹۹ء
۶۲
وحدتِ انسانی اور امنِ عالم
جان فدا کردوں گا میں خود امنِ عالم کے لئے
تاکہ قربانی ہو میری ابنِ آدمؑ کے لئے
دل ہے زخموں سے بھرا اس انتشارِ قوم سے
میں کہاں جاؤں گا یاربّ! دل کے مرہم کے لئے
پرچمِ امن و امان دنیا میں کب ہو گا بلند؟
کون جان دیتا ہے دیکھو ایسے پرچم کے لئے؟
صلحِ کلّ کا اک زمانہ کب جہان میں آئے گا؟
کیا جہان پیدا ہوا ہے جنگ و ماتم کے لئے؟
اتحاد و امن کی کوشش کرو اہلِ قلم!
آگئے ہیں ہم جہاں میں سعیٔ پیہم کے لئے
عالمِ انسانیّت جب اس قدر بیمار ہے
رحم کیوں آتا نہیں ہے ابنِ مریمؑ کے لئے؟
اتفاقِ قوم میں ہیں برکتیں ہی برکتیں
نوجوانو! عہد کر لو صلحِ محکم کے لئے
۶۳
آبیاری ہے نہ بارش باغِ دل بس خشک ہے
رات بھر رونا پڑے گا اب تو شبنم کے لئے
عشق کا غم چاہیے مجھ کو نہ کوئی اور شے
میں تو پیدا ہوگیا ہوں عمر بھر غم کے لئے
اک نرالا یار ہمدم ہے وہی ہم راز ہے
مررہا ہوں جیتے جی میں اپنے ہمدم کے لئے
اے نصیرالدین اب دنیا کو یہ پیغام دو
“جان فدا کر دوں گا میں خود امنِ عالم کیلئے”
۱۲،اکتوبر ۱۹۹۹ء
۶۴
دعائے جماعت خانہ کے فیوض و برکات
مومن کو سدا رحمتِ رحمان دعا ہے
طاعت میں یہی مقصدِ قرآن دعا ہے
من احسن قولاً سے دعا ہی کو سراہا
اللہ نے، پس مایۂ ایمان دعا ہے
یہ میوۂ توفیق ہے یہ مغزِ عبادت
بس حاصل ایمانِ مسلمان دعا ہے
مولا کی اطاعت میں جھکا دو سرِ تسلیم
سمجھو کہ تمہیں ثمرۂ فرمان دعا ہے
تم راہِ حقیقت میں دعا ہی سے مدد لو
اس راہ میں جب شمعِ فروزان دعا ہے
گرجان میں ہے کوئی مرض یا کہ بدن میں
ہر درد و مرض کے لئے درمان دعا ہے
جب جلوۂ انوارِ الہٰی کی طلب ہو
دیکھو کہ تمہیں دیدۂ عرفان دعا ہے
۶۵
ہے عالمِ دل نورِ حقیقت سے منور
خورشیدِ ضیا بخشِ دل و جان دعا ہے
دنیا میں اگر رنج و الم ہے تو نہیں غم
صد شکر کہ یاں روضۂ رضوان دعا ہے
معلوم ہوئی توبۂ آدمؑ کہ دعا تھی
پھر نوحؑ کا وہ باعثِ طوفان دعا ہے
ہو جائے اگر آتشِ نمرود ہویدا
ہو کوئی خلیلؑ اب بھی گلستان دعا ہے
یونسؑ کو دعا ہی نے دلائی ہے خلاصی
ہر دور میں بس رحمتِ یزدان دعا ہے
ہاں خضرؑ ہوا زندۂ جاوید اسی سے
دنیا میں یہی چشمۂ حیوان دعا ہے
موسیٰؑ کو عصا اور یدِ بیضا کے نشانے
حاصل جو ہوئے وجہِ نمایان دعا ہے
عیسیٰؑ میں جو تھا معجزۂ روحِ مقدّس
اس معجزہ کی حکمتِ پنہان دعا ہے
احمد جو ہوئے گوشہ نشین غارِ حرا میں
مقصودِ نبیؐ شمعِ شبستان دعا ہے
مولائے کریم دہر میں ہے نورِ الہٰی
اس نور سے کچھ فیض کا امکان دعا ہے
۶۶
گر نورِ امامت بمثلِ راہِ خدا ہے
اس راہ میں بھی مشعلِ ایقان دعا ہے
عاشق نے جو کچھ دیکھ لیا دیدۂ دل سے
صد گونہ یہاں جلوۂ جانان دعا ہے
تو شام و سحر آکے یہاں ذکر و دعا کر
اخلاق و عقیدت کی نگہبان دعا ہے
جس راہ سے منزلِ وحدت کا سفر ہے
منزل کی طرف وہ رہِ آسان دعا ہے
اس نظمِ نصیری میں ہے اک گنجِ حقائق
گنجینۂ پر گوہرِ رحمان دعا ہے
شوال ۱۳۹۵ھ۔اکتوبر ۱۹۷۵ء
۶۷
نورِ مجسمؑ
خدائے ذوالجلال اپنے ارادوں پر جو قادر ہے
خدا کا نور امامِ حقؑ جہان میں حیّ و حاضر ہے
بچشمِ نور بین دیکھے اگر کوئی، علیٔ دہرؑ
درخشاں مہر کی مانند اس دنیا میں ظاہر ہے
کتاب اللہ کے علم و عمل کا ضامن و عالم
زمانے کے تقاضے پر وہ فرمانے کا ماہر ہے
کتاب اللہ میں احکام ہیں ہر اک زمانے کے
زمانے کا امامؑ اسرارِ قرآنی پہ قادر ہے
نبیوں کی شریعت کا وہی مقصودِ کلّی ہے
زمین و آسمان اس اشرف و اکمل کی خاطر ہے
خدا کا نور ہے وہ اس لئے ہر شیٔ پہ قادر ہے
وہی دانائے کلّ ہے عالِمِ ما فی الضمائر ہے
صلاحِ خلقِ عالم کے لئے آیا ہے دنیا میں
ہے جس کا آشیان عرشِ الہٰی پر وہ طائر ہے
۶۸
خدا کی آنکھ ہے وہ اس سے کوئی شے نہیں مخفی
وہ کل موجودِ کونین پر مدام الوقت ناظر ہے
خدا کی معرفت ہی ہے امامِ وقتؑ کی پہچان
جسے حاصل ہو اس کی معرفت شادان و فاخر ہے
نصیرؔ اپنا قلم رکھ اعترافِ عجز ہی بہتر
ثنا و مدح مولا کی تری طاقت سے باہر ہے
۶۹
علم و عمل کی افضلیّت
خورشیدِ عیان عالمِ جان علم و عمل ہے
معمارِ جہان گنجِ نہان علم و عمل ہے
تحقیق یہی ہو گئی ہے فکر و نظر سے
سرمایۂ اقوامِ جہان علم و عمل ہے
ہر فرد کی معراجِ ترقی بھی یہی ہے
ہاں مرتبۂ کون و مکان علم و عمل ہے
یہ خاصۂ انسان ہے یہ فضلِ خدا ہے
عزّت کے لئے روحِ روان علم و عمل ہے
پتھر کی نہ قیمت ہے نہ سودا کبھی ہوگا
بس بیش بہا گوہرِ کان علم و عمل ہے
فردوسِ برین جانِ چمن چہرۂ جانان
در عالمِ دل جلوہ کنان علم و عمل ہے
ہے اشرف و اعلائے خلائق وہی انسان
ہوجائے اگر اس سے عیان “علم و عمل” ہے
۷۰
جو چیز سدا باعثِ صد فخر و خوشی ہے
وہ میوۂ دل راحتِ جان علم و عمل ہے
اک بھید ہے اس عالمِ شخصی میں بڑا سا
وہ سرِّ ازل رازِ جنان علم و عمل ہے
اک نغمۂ قدسی ہے نہان ذاتِ بشر میں
وہ زمزمۂ پیر و جوان علم و عمل ہے
علیین میں اک زندہ کتاب بول رہی ہے
وہ معجزۂ شرح و بیان علم و عمل ہے
کچھ اور خزانہ نہیں مطلوب نصیرا!
دنیا میں فقط گنجِ گران علم و عمل ہے
گزشتہ تاریخ: ۳۰ جولائی ۱۹۹۵ء ، کراچی
موجودہ تاریخ: جمعہ ۱۹، ستمبر ۲۰۰۳ء
۷۱
انسان کے گونا گون اوصاف
سرِّ یزدان ہے تو انسان ہے
گنجِ پنہان ہے تو انسان ہے
حاصلِ معرفت حقیقتِ روح
رازِ قرآن ہے تو انسان ہے
زُبدۂ کائنات و اشرفِ خلق
جان و جانان ہے تو انسان ہے
صورتِ علم و پیکرِ حکمت
جانِ عرفان ہے تو انسان ہے
بانیٔ دین و کافرِ مطلق
کفر و ایمان ہے تو انسان ہے
عالمِ برزخ و جہیم و جنان
حور و غلمان ہے تو انسان ہے
جس کو سجدہ کیا فرشتوں نے
نورِ رحمٰن ہے تو انسان ہے
۷۲
نازنین و حسین و سرو بدن
ماہِ کنعان ہے تو انسان ہے
شاہِ وحش و طیور و جنّ و پری
گر سلیمانؑ ہے تو انسان ہے
عامۃ الناس تا ولیؑ و نبیؐ
نوعِ انسان ہے تو انسان ہے
رندِ بے باک و صوفیٔ صافی
ریب و ایقان ہے تو انسان ہے
دہری و بت پرست و صاحبِ دین
یا مسلمان ہے تو انسان ہے
حسنِ روئے جہان و جلوۂ جان
کونِ امکان ہے تو انسان ہے
اوّل و آخر و عیان و نہان
ملک و سلطان ہے تو انسان ہے
گر چہ یہ راز ہے کہ جنّ و مَلک
یا کہ شیطان ہے تو انسان ہے
الغرض اس بقائے کلّی کا
بحرِ عمان ہے تو انسان ہے
منقسم ہے بقا مدارج میں
ان کا پایان ہے تو انسان ہے
۷۳
یا بقا فی المثل ہوئی شب و روز
اس میں گردان ہے تو انسان ہے
فانی و باقی و عتیق و جدید
ذکر و نسیان ہے تو انسان ہے
وہ کہیں نور ہے کہیں ظلمت
راہ و رہدان ہے تو انسان ہے
وہ کہیں رنج ہے کہیں راحت
درد و درمان ہے تو انسان ہے
ہے حقیقت یہی بقولِ نصیرؔ
سرِّ یزدان ہے تو انسان ہے
موجودہ تاریخ: جمعہ ۱۹، ستمبر ۲۰۰۳ء
۷۴
ڈائمنڈ جوبلی
جشنِ ڈائمنڈ جوبلی کا ماہِ انور کون ہے؟
جس کو ہم ہیروں میں تولیں گے وہ دلبر کون ہے؟
سر پہ ہے تاجِ امامت علم گویا ذوالفقار
رونقِ تختِ خلافت زیبِ منبر کون ہے؟
نورِ حق آیا زمین پر تاکہ ہو فضل و کرم
ورنہ اس عالم میں ایسا بندہ پرور کون ہے؟
چودہ طبقوں کے نفوس اور عالمِ ارواح بھی
دیکھئے سجدے میں ہیں اللہ اکبر کون ہے؟
باغِ عالم میں تو وہ گل ہے جو مرجھاتا نہیں
جلوۂ نورِ خدائی! تجھ سے بڑھ کر کون ہے؟
آفتابِ نور ہے یا طور کی بجلی ہے تو
کون ہے پوچھو ذرا یہ پاک گوہر کون ہے؟
ہاں علیؑ اب بھی علیؑ ہے نورِ باطن دیکھ لو
میں بتاؤں دوستو اس وقت حیدرؑ کون ہے؟
۷۵
پہلے چاندی بعد میں سونے میں مولا تل گیا
اب تو ہیروں میں تلے گا ان کا ہمسر کون ہے؟
خلد میں ہرگز نہ جاؤں حشر کے دن میں کبھی
گر ترا در چھوڑ جاؤں مجھ سا کافر کون ہے؟
پردۂ دل سے سکھاتا ہے مجھے طرزِ غزل
کیا بتاؤں میں تمہیں اس دل کے اندر کون ہے؟
اس جہاں سے اس جہاں تک سب مراحل طے ہوئے
ہم کو شہ کی رہبری میں ایسا رہبر کون ہے؟
بزمِ شاہی میں نصیرا تو کیوں خاموش ہے؟
شعرِ رندانہ سنا تجھ سا سخنور کون ہے؟
ایڈیٹنگ کی تاریخ: ہفتہ ۵ مئی ۲۰۰۱ء
۷۶
فنا فی اللہ
تو ھو میں فنا ہو جا تب گنجِ نہان تو ہے
یوں ہو تو سمجھ لینا وہ جانِ جہان تو ہے
اسرارِ خودی کو تو اے کاش سمجھ لیتا
اس عالمِ شخصی میں اک شاہِ شہان تو ہے
ہر چیز تجھی میں ہے بیرون نہیں کچھ بھی
ہے ارض و سما تجھ میں اور کون و مکان تو ہے
تو ارض میں خاکی ہے افلاک پہ نوری ہے
یاں ذرّۂ گم گشتہ واں شمسِ عیان تو ہے
ناقدریٔ دنیا سے مایوس نہ ہو جانا
جا اپنا شناسا ہو جب گوہرِ کان تو ہے
اس آئینۂ دل میں اک چہرۂ زیبا ہے
اے عاشقِ مستانہ وہ چہرۂ جان تو ہے
اس عالمِ شخصی میں سلطانِ معظم ہے
تو اس میں فنا ہوجا پھر شاہِ زمان تو ہے
۷۷
آئینِ جہان دکھ ہے تو اس سے نہ گھبرانا
پیری سے نہ ہو غمگین جنّت میں جوان تو ہے
تو چشمِ بصیرت سے خود کو کبھی دیکھا کر
جو حسن میں یکتا ہے وہ رشکِ بتان تو ہے
بھرپور تجلّی سے باطن ہے ترا پرنور
ہر چہرۂ جنّت تو، جب رازِ جنان تو ہے
تو ساری خدائی میں اعجوبۂ قدرت ہے
تو معجزۂ حق ہے اور اس کا نشان تو ہے
تو خامۂ لاہوتی تو نامۂ جبروتی
پھر اس کی زبان تو ہے اور شرح و بیان تو ہے
اشعارِ حکیمانہ! ہے دل میں کوئی استاد؟
اے جان و دلِ حکمت! ہے میرا گمان تو ہے
کہتا ہے نصیرؔ تجھ کو اے عاشقِ آوارہ!
تو ھو میں فنا ہوجا تب گنجِ نہان تو ہے
پیر ۲، جمادی الاول ۱۴۱۷ھ۔ ۱۶، ستمبر ۱۹۹۴ء
۷۸
یہ خواب ہے یا بیداری؟
جواب: خواب نہ تھا، مدہوشی تھی
میں نے کل ظاہراً علی دیکھا
اس خفی نور کو جلی دیکھا
وہ امامِ مبینِ آلِ رسولؐ
قبلۂ عاشقانِ اہلِ قبول
سر جھکا کر غریب نے سلام کیا
آنسوؤں کی زبان سے کلام کیا
اے سر تو سجدہ کر کہ ترا فرض سجدہ ہے
انکارِ سجدہ جس نے کیا وہ تو راندہ ہے
اے آنکھ کہاں ہیں ترے اشکوں کے وہ گوہر
اب شاہ کے قدموں سے کرو انکو نچھاور
اے نارِ عشق تجھ کو سلام ہو ہزار بار
تیرے کرم سے عاشقِ بیدل کو مل گیا قرار
ہم مردہ تھے کہ اس نے ہمیں زندہ کر دیا
چہرے اداس تھے کہ تابندہ کر دیا
نورِ رحمت کی سخت بارش تھی
ہر طرح کی بڑی نوازش تھی
ہم کو اِک نئی حیات ملی
علم و حکمت کی کائنات ملی
دستِ پرنور میں کمالِ معجزہ ہے
خاک کو چھو کے زر بناتا ہے سنگ کو وہ گہر بناتا ہے
نورِعشقِ مرتضاؑ! ہر لحظہ ہو تجھ پر سلام
بندگانِ ناتمام تجھ ہی سے ہوتے ہیں تمام
میں ہوں نصیرِ خالی وہ ہے نصیرِ معنی
میں ہوں غلام و ناکس وہ ہے امامِ اقدسؑ
مرکزِ علم و حکمت، لندن
جمعرات ۲۱،جون ۲۰۰۱ء
ایڈیٹنگ کی تاریخ : بدھ ۲۹، اکتوبر ۲۰۰۳ء
۷۹
فکرِ قرآن
اس جہان میں جبکہ قرآن کنزِ رحمان آ گیا
رحمتوں اور برکتوں کا ایک طوفان آ گیا
بحرِ قرآن بحرِ گوہر زا ہے عقلا کے لئے
تاکہ ہر عاقل یہاں سے اپنے دامن کو بھرے
دین و دانش علم و حکمت فکرِ قرآنی میں ہے
راہِ جنت رازِ لذت فکرِ قرآنی میں ہے
برکتیں ہی برکتیں ہیں فکرِ قرآن میں سدا
عاشقانِ فکر را گو مرحبا صد مرحبا
یہ دوائے ہر مرض ہے آزما کر دیکھ لے
دور مت ہوجا عزیزا! اندر آکر دیکھ لے
چشمۂ لذّاتِ عقلی فکرِ قرآنی میں ہے
منبعِ نعماتِ روحی فکرِ قرآنی میں ہے
تا نہ بردی رنج ہا را کَی بیابی گنج را
عاقلان از فکرِ قرآن گنج ہا را یافتند
۸۰
فکرِ قرآنی سے لذّت گیر ہونا ہے تجھے
جب نہ ہو ایسا تو پھر دلگیر ہونا ہے تجھے
فکرِ قرآن ہے طریقِ کنزِ اسرارِ خدا
کنزِ اسرارِ خدا ہے گنجِ انوارِ خدا
فکرِ قرآن ہے یقیناً کلِّ کلّیاتِ علوم
ذرّۂ از علم و حکمت ہے نہیں باہر کہیں
راحتِ روح میوۂ جان فکرِ قرآنی میں ہے
چشمہ سارِ علم و عرفان فکرِ قرآنی میں ہے
فکرِ قرآن ہے تصوّف، اور اسی میں سائنس ہے
اور یہی ہے فیض بخشِ مکتبِ روحانی سائنس
تو تہی دامن ہے اب تک اے نصیرِ بے نوا
جبکہ قرآن درّ و مرجان کا سمندر ہے سدا
بدھ ۸، اکتوبر ۲۰۰۳ء
۸۱
جشنِ علمی
غنچۂ دل مسکرا کر کہہ رہا ہے بار بار
موسمِ گل سے ہوا ہے شہرِ گلگت لالہ زار
باغ و گلشن کے پرندے نغمہ ساز و نغمہ ریز
شاہِ مرغانِ چمن ہے یہ میون سب کو عزیز
نام اس کا اوریول اور بول اس کا پیچا پیچ
اسکے نغمے کے مقابل سارے نغمے ہیچ ہیچ
اک نرالی شان ہے اس جشنِ علمی کی یہاں
اجتماعِ اہلِ دانش پر ہے جنّت کا گمان
یول میں اک بار آتا ہے ہمارا اوریول
آگیا جشنِ بہاران تو خوشی کا چوغہ یول
علم ہے فضلِ خدا، ہاں علم ہے، نوروضیاء
علم ہے دائم یقیناً چشمۂ آبِ بقا
علم و حکمت کے لئے یہ جان بھی قربان ہو!
یا الہٰی یہ طلب عشاق کو آسان ہو!
۸۲
علم کی رنگینوں سے مست و حیران ہے نصیرؔ
عشقِ شاہنشاہِ حکمت نے کیا اس کو اسیر
ذوالفقار آباد، گلگت، پیر، ۱۳ مئی ۲۰۰۲ء
۸۳
مَستِ اَلَست
کثرتِ ذکرِ خدا سے قلب کو پُرنور کر
علم وحکمت کی ضیاء سے روح کو مسرور کر
عالمِ شخصی کو اپنا دن بدن آباد کر
نفس کے چنگل سے خود کو اے جری آزاد کر
خدمتِ خلقِ خدا! صحرائے اعظم درمیان
سر کے بل چلنا ہے تجھ کو اے قلم اے پہلوان!
گل فشانی ہو بطرزِ باغِ فردوسِ برین
تاکہ جس سے شادمان ہوں سب کے سب اہلِ زمین
روح کی پہچان میں جنّت بھی ہے دیدار بھی
تاج و تختِ سلطنت بھی علم کا دربار بھی
ہے شہنشاہِ دو عالم “نور” مولانا کریم
تو فنا ہو کر اسی میں دیکھ اسرارِ عظیم
میرے مولا نے مجھے لوگوں سے قربان کردیا
اس “خلیلی” کام سے دنیا کو حیران کردیا
میں نے نیّت کی عِیالُ اللہ کی خدمت کروں
گر رضائے حق ہے اس میں پھر یہی طاعت کروں
۸۴
چشمِ ظاہر میں نصیرالدین ہے شخصِ حقیر
باطناً مستِ ازل بھیدوں سے پُر ہے یہ فقیر
نصیرݺ عشقݺ کتاب عالمر فریش میمی
سروشݺ غیبݺ جہان ڎم خبر سوݳی لہ سبور
جمعہ ۱۹، ستمبر ۲۰۰۳ء
۸۵
جان نثارانِ علیؑ
دوستدارانِ علیؑ سے جان فدا کر اے نصیر!
جان نثارانِ علیؑ سے جان فدا کر اے نصیرؔ!
جان ہی کو روح سمجھ لے اے عزیزِ ہوشمند!
جان ہی ہے کنزِ عرفان اے حبیبِ ارجمند!
جان ہی ہے اک جہان اور جان ہی ہے آسمان
جان میں ہے عرشِ اعلیٰ اور خدائے ذوالجلال
خود شناسی معرفت ہے اے برادر آگے آ
جان میں جنّت ہے دیکھو، جان میں ملکِ خدا (۱)
عالمِ شخصی میں آ جا اے عزیزِ محترم!
تاکہ حاصل ہو یہاں سے گنجِ اسرارِ خدا
کس غرض سے آگئے ہو اس جہان میں یاد ہے؟
معرفت مقصودِ کلّی ہے نہ بھولو ساتھیو!
گنجِ اسرارِ خدا ہے عارفوں کے واسطے
کامیابی منتظر ہے عاشقوں کے واسطے
ذکرِ دائم ہے طریقِ سالکانِ راہِ حق
دامنِ مولا ہے یہ اس کو نہ چھوڑ اے نورِ عین!
۸۶
نورِعینی ہے اگر تو عالمِ شخصی میں آ
تاکہ دیکھے گا کہ اصلاً کس کا ہے تو نورِ عین
روح کو پہچان لو اور اسی سے عشق ہو!
دین و دانش کا تقاضا بس یہی ہے دوستو!
حق تعالیٰ کی تجلّی اے خوشا حکمت میں ہے
اس لئے حکمت یقیناً ہوگئی خیرِ کثیر (۲)
نورِ حق ظاہر نہ ہو جب عالمِ انسان میں
کوئی اندھا کس طرح کہلائے گا قرآن میں (۳)
ایک تن میں ایک جان کہنا غلط ثابت ہوا
جبکہ جانیں ہیں یقیناً بے حساب و بے شمار
شعرِ پر حکمت کہا کر اے نصیرِ دل فگار
تجھ پہ مولا کا کرم ہے اور تو ہے جان نثار
پیر، یکم مئی ۲۰۰۰ء
۱۔ (خدا کی بادشاہی)
۲۔ (۰۲: ۲۶۹)
۳۔ (۱۷: ۷۲)
۸۷
پیغامِ روحانی بزبانِ حال
مِن جانب ِغزالہ مرحومہ
اے قبلہ! نہ کر غم کہ یہاں زندہ ہوئی میں
یہ اس کی نوازش ہے کہ تابندہ ہوئی میں
ہیں حور و پری ساتھ کہ میں خود بھی پری ہو ں
اس انجمنِ نور میں خوشیوں سے بھری ہوں
میں دخترِ روحانیٔ مولائے زمان ہوں
شہزادیٔ عالم ہوں مگر سب سے نہان ہوں
ہم نور کی اولاد ابھی نور ہوئے ہیں
دنیا کی مصیبت سے بہت دور ہوئے ہیں
جنّت میں عجب شاہی محل ہم کو ملا ہے
ہم زندۂ جاوید ہوئے فضلِ خدا ہے
شاہوں کی طرح شاد ہیں ہم اس کا کرم ہے
بیماری نہیں، موت نہیں، اور نہ ہی غم ہے
ہاں تیری غزالہ پہ علیؑ سایہ فگن ہے
وہ اس لئے جنّت میں سدا زندہ چمن ہے
۸۸
صد گونہ خوشی ہے ہمیں دیدارِ علیؑ سے
گنجینہ ملا ہے ہمیں اسرارِ علیؑ سے
طوفانی خوشی ہے ہمیں، تم ہم پہ نہ رونا
ڈیڈی! ممی! تم کبھی بے صبر نہ ہونا
لینا ہے تمہیں علم و عبادت کا سہارا
ہے دینِ خدائی میں یہی شیوہ ہمارا
کس شان سے آیا ہے یہ پیغامِ غزالہ
روشن ہو زمانے میں سدا نامِ غزالہ
غزالہ بنتِ امام یاربیگ جنرل مینجر، آغاخان ہیلتھ سروسز، پاکستان، ناردرن ایریاز اینڈ چترال۔
غزالہ کی تاریخ پیدائش: ۱۵ جوالائی ۱۹۸۷ء، تاریخِ وفات: ۸، جنوری ۱۹۹۹ء
اِنا للہ و انا الیہ راجعون (۰۲: ۱۵۶)
۸۹
تحفۂ لازوال برائے لِٹل اینجلز
لٹل اینجلز سب کے سب بفضل اللہ ہمارے ہیں
مجھے حبِّ علی جیسے یقیناً سب پیارے ہیں
کیا یہ حور و غلمان ہیں مثالِ زندہ گلدستے؟
کتابیں ہیں؟ نوشتے ہیں ؟ نہیں اصلاً فرشتے ہیں
تمہارے ہر تبسم میں نرالی گل فِشانی ہے
نباتی گل فشانی میں عزیزو! کیا نشانی ہے؟
تمہارے شہر میں دیکھا ہمیشہ موسمِ گل ہے
پرندے مست نغمے ہیں صدائی سوزِ بلبل ہے
کمالِ علم و حکمت کو طلب کر ربُّ العزت سے
کہ مایوسی نہیں ہوتی خدا کے بحرِ رحمت سے
۹۰
تیاری حربِ علمی کی نہ بھولو لشکرِ قائمؑ!
جہان میں تادمِ آخر جہادِ علم ہے دائم
نصیرالدین کہتا ہے لٹل اینجلز ہمارے ہیں
مجھے حبِّ علی جیسے یقیناً سب پیارے ہیں
روزِ یک شنبہ ۲۴، دسمبر ۲۰۰۰ء
۹۱
لِٹل اینجلز کاترانہ
بموقع سالگرۂ حبِّ علی ثانی
تاریخِ ولادت: جمعۃ المبارک ۱۶ جنوری ۱۹۹۸ء
تم دہر میں آباد رہو میرے فرشتو!
خوش حال بنو شاد رہو میرے فرشتو!
مولائے کریم تم پہ سدا سایہ فگن ہو
گلزار ہو تم خانۂ حکمت کا چمن ہو
تم شمس و قمر جیسے حسین میری نظر میں
تم لعل و گہر جیسے حسین میری نظر میں
تم اپنے گھروں میں بخدا سکّۂ زر ہو
ڈیڈی و ممی کے لئے تم نورِ نظر ہو
تم ہی تو ہو مکتب کے گلوں میں گلِ رعنا
تم زیورِ حکمت سے سدا خود کو سجانا
تم شمس و قمر ہو کہ ستاروں کا فلک ہو!
بجلی کی چمک ہو کہ ست رنگی دھنک ہو!
آئینۂ قائمؑ ہو زمانے میں مبارک!
گنجینۂ دائم ہو زمانے میں مبارک!
۹۲
تم علم و عمل ہی سے بنو ایک نمونہ!
قائمؑ کی اطاعت سے بنو ایک نگینہ!
مولا کے کرم سے کبھی مایوس نہ ہونا
تم نیک دعاؤں میں کنجوس نہ ہونا
تم ہو گلِ سوری! کہ ہو تم گلِ میری؟
تم سیکھو نصیری اور سیکھو فقیری!
بدھ ۱۴، جنوری ۲۰۰۴ء
۹۳
توصیفِ قلم
اے قلم جنبشِ ازل ہے تو
قدرتِ ذاتِ لم یزل ہے تو
تجھ سے تحریرِ کائنات ہوئی
اے خوشا! حق کی تجھ سے بات ہوئی
ہے ہمارا قلم ترا سایہ
اس کو تجھ سے ملا ہے سرمایہ
وہ قلم اس جہان میں سلطان ہے
ذاتِ حق کی دلیل و برہان ہے
یہ قلم بادشاہِ دنیا ہے
جب سے علم و عمل کا چرچا ہے
اک قلم برفرازِ عرشِ برین
اک قلم بربسیطِ روئے زمین
علم کا اک جہان قلم میں ہے
رازِ کون و مکان قلم میں ہے
کام میں سر کے بل یہ چلتا ہے
جس سے دنیا زمانہ پلتا ہے
یہ سیاہی سے روشنی کر دے
دولتِ علم سے غنی کر دے
اس کا قطرہ مثالِ بحرِ عمیق
گنج گوہر رہا ہے جس میں غریق
اَسپِ تازی کہ تیز طوفان ہے
بلکہ یہ اک جہازِ پران ہے
چشمۂ علم و منبعِ حکمت
باعثِ فخر و مایۂ عزت
ارضِ جنّت ہیں اس کے مکتوبات
کیف آور ہیں جس کے مشروبات
چپکے چپکے قلم کلام کرے
ساری دنیا اسے سلام کرے
تو نہ شمشیر ہے نہ شیر ببر
پھر بھی طاقت میں تو رہا برتر
۹۴
یہ کتابیں اسی کی پیداوار
جن کی رونق ہے رشکِ باغ و بہار
یہ قلم ہے کہ ہے عصائے کلیم
شر کو نگلے یہ اژدھائے عظیم
ہیں مبارک تمام اہلِ قلم
جن پہ اللہ کا ہوا ہے کرم
خدمتِ قوم ہے رضائے خدا
کام کر کام کر برائے خدا
یہ قلم تیرے پاس امانت ہے
حق ادا گر نہ ہو خیانت ہے
اے نصیرؔ خامہ بہت پیارا ہے
چونکہ اللہ نے اتارا ہے
ذوالفقار آباد، گلگت، ۲۸، ذوالحج ۱۴۱۴ھ، ۹ جون ۱۹۹۴ء
۹۵
حاضر امام علیہ السّلام کی ایک پُر حکمت توصیف
اے نورِ الہٰی تو ہمیں اپنی لقا دے
اے خضرِ زمانؑ! بہرِ خدا آبِ بقا دے
اے آلِ نبیؐ نورِ علیؑ ساقیٔ کوثر
حقا کہ تو ہے اسمِ خدا اعظم و اکبر
اے وارثِ آدمؑ کہ تو ہے ربّ کا خلیفہ
تو معجزۂ عرش ہے اور سرِّ سفینہ
درویش کو یہ معجزۂ نور ہوا ہے
احباب گواہ ہیں کہ یہ مسطور ہوا ہے
آدمؑ سے یہی سلسلۂ نور چلا ہے
ہے دائم و قائم کہ یہی نورِ خدا ہے
قرآنِ مجسّم ہے یہی شاہِ زمانہ
خالق نے بنایا ہے اسے اپنا خزانہ
اسرارِ الہٰی کا یہی گنجِ نہان ہے
اولادِ علیؑ آلِ نبیؐ سب کو عیان ہے
یہ علمِ لدّنی کا معلم ہے یگانہ
تو نور سے خالی نہ سمجھ کوئی زمانہ
۹۶
اے جانِ جہان شکر کہ حاصل ہے ترا عشق
ہر شخص مسافر ہے کہ منزل ہے ترا عشق
یہ بندہ نصیرؔ تجھ سے شب و روز فدا ہے
مولائے زمانؑ جبکہ تو ہی نورِ خدا ہے
سنیچر ۲۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء
۹۷
جشنِ یومِ تکبیر
بلبل کو اگر عشق و محبّت ہے چمن سے
قربان نہ ہوجاؤں کیوں اپنے وطن سے
یہ پاک زمین قائدِ اعظم کا وطن ہے
یہ قلعۂ اسلام ہے یہ باغِ عدن ہے
افواجِ وطن! تم ہی تو ہو اس کے نگہبان
ہے تم کو وراثت میں ملی “ہمتِ مردان”
تم نعرۂ تکبیر سے دنیا کو ہلانا
اور لشکرِ ارواح و ملائک کو بلانا
ہوکر رہے آزاد اُدھر خطۂ کشمیر
جب معجزۂ فتح رہا نعرۂ تکبیر
بس میرے “دھماکے” کو فلک کہہ گیا آمین!
اور میرے دعاؤں کو ملک کہہ گیا آمین!
ہم اہلِ وطن لشکرِ جرارِ وطن ہیں
لوہے کی طرح سخت ہیں دیوارِ وطن ہیں
اس نعرۂ تکبیر میں ہے وحدتِ ملی
وحدت کے سوا کچھ بھی نہیں غیرتِ ملی
ہے نظمِ نصیرؔ ترجمۂ غلبۂ ملی
اور یہ بھی سہی اس کو کہیں نغمۂ ملی
کراچی، پیر ۲۳،محرم الحرام ۱۴۲۰ھ۔ ۱۰،مئی ۱۹۹۹ء
۹۸
ایک عارفانہ کلام
مولائے زمانؑ کی شانِ اقدس میں
وہ اسمِ خدا ہے تو وہی ذکرِ خدا ہے
عارف نے یہی مکتبِ باطن سے پڑھا ہے
وہ سلسلۂ نورِ ہدایت ہے ازل سے
وہ پاک و منزہ ہے سدا عیب و خلل سے
معراجِ فلک عرشِ الہٰ کرسیٔ اعظم
مسجودِ ملک مظہرِ حق قبلۂ آدمؑ
صد شکر کہ مولائے زمانؑ آلِ نبیؐ ہے
اولادِ علیؑ واحد و یکتا ولی ہے
اللہ کا ہے نورِ عیان چشمۂ اسرار
عشاق کے دل میں ہے سدا مطلعِ انوار
وہ دینِ خدا، کاشفِ اسرارِ قیامت
ہے مَصحفِ ناطق کہ سنیں اہلِ سعادت
اے اسمِ خدا آنکہ تو ہے اعظم و اعلیٰ
حقا کہ تو ہے نورِ علیؑ از ہمہ بالا
اے وارثِ سلطانِ محمد شہِ اکرمؑ
اے ابنِ علیشاہؑ شہنشاہِ دو عالم
۹۹
اے نورِ خلافت کہ تو ہے نورِ امامت
آدمؑ سے چلی آ گئی ہے تیری وراثت
خداوندا نصیرؔ اُنے ہݣ ڎم ھُکن بݳی
جماعتݺ غُم اݼݸݣ لُم تکݺ فکن بݳی
جمعۃ المبارک ۷،نومبر۲۰۰۳ء
۱۰۰
قانونِ بہشت
( ایک بہشتی کی زبانِ حال سے)
یہ ربّ کا کرم ہے کہ میں جنّت میں گیا ہوں
اک نور یہاں ہے کہ مجھے اس نے دیا ہے
(س) ہوگی کہ نہیں کل کو ہمیں تیری ملاقات؟
اے جان! بتا، ہم کو بتا جلدی یہی بات؟
(ج)وہ کیسی بہشت ہے کہ نہ ہو جس میں ملاقات
یہ کیسا سوال ہے! صد حیف ہے، ھیھات!
دانا ہیں وہی لوگ جو جنّت کو سمجھتے
آیات کے باطن سے وہ حکمت کو سمجھتے
قانونِ بہشت دیکھ کہ وہ رحمتِ کل ہے
واں کوئی نہیں خار فقط غنچہ و گل ہے
گزشتہ تاریخ:جمعرات ۲۴، اگست ۲۰۰۰ء
موجودہ تاریخ: بدھ ۲۴، ستمبر ۲۰۰۳ء
نوٹ: قانونِ بہشت سے وہ آیاتِ کریمہ مراد ہیں جو بہشت کی توصیف میں وارد ہوئی ہیں۔
۱۰۱
ابرِ گوہر ریز
کامیابی کا سبب یہ ہے کہ وہ شب خیز ہے
گریہ و زاری میں گویا ابرِ گوہر ریز ہے
حق تعالیٰ نے ہمیں جب دوستِ اعظم دے دیا
علم و حکمت کا نرالا ایک عالم دے دیا
علم کی نہریں بہا دو جا بجا بحرالعلوم!
تا کہ اک علمی قیامت ہو بپا بحرالعلوم!
تجھ کو مولا نے بنایا ساقیٔ آبِ بقا
تا نہ ہو کوئی کہیں بھی جہل و غفلت سے فنا
جو بھی ہو تیری نظر میں تشنۂ آبِ حیات
جام بھر بھر کر پلا دے ساقیٔ عالی صفات
یار کے مشکین قلم سے بوئے جنّت آ گئی
دل کی آبادی کی خاطر جوئے جنّت آ گئی
آبشارِ لعل و گوہر ہے مثالِ کلک یار
گنجِ گوہر میں جواہر آ گئے ہیں بے شمار
۱۰۲
ترجموں میں شک نہیں صمصام کا بھی ہاتھ ہے
شکر ہے صد شکر ہے ہاں وہ فرشتہ ساتھ ہے
جو فرشتہ ہو زمین پر معجزانہ کیوں نہ ہو
رحمتوں اور برکتوں کا اک خزانہ کیوں نہ ہو
اک فرشتہ ہے ظہیر بالقب “جانِ نصیر”
خوب خادم علم کا ہے، خوب ہے دانش پذیر
جو علی کی شان میں ہیں ان حدیثوں کی کتاب
رہتی دنیا تک رہے گا یہ خزانۂ لاجواب
اے فقیرِ نامور یہ آپ کا احسان ہے
ان حدیثوں میں ہماری جان ہے ایمان ہے
اے فقیر، روشن ضمیر! اے علم و حکمت کے شہیر!
اے عزیزوں کے عزیز اے دین و دانش کے امیر!
عاشقانِ مرتضیٰؑ سے کیوں نہ ہو جاؤں فدا
تو تو قربان ہوچکا ہے اے نصیرِ بے نوا
۳۰، ستمبر ۱۹۹۹ء
۱۰۳
جشنِ زرّین
از برائے جشنِ زرّین ماہ و انجم آ گئے
جب پیاپے یارِ جانی کے تراجم آ گئے
دلکشی میں ترجمے ہیں تازہ دلہن کی طرح
پُربہار و جانفزا ہیں باغ و گلشن کی طرح
ترجمے کو خود پڑھیں تو رو رہا تھا میں کبھی
وادیٔ حیرت میں از خود کھو رہا تھا میں کبھی
سجدۂ شکرانہ تھا جب زار و گریان گر گیا
میں فدای یارِ جانی مست و حیران گر گیا
ترجموں نے ان کتابوں کو تو مشہور کردیا
دوستوں کے دل کو از بس شاد و مسرور کردیا
ترجمے سے ان کتب کو روحِ جنّت مل گئی
یہ حقیقت ہے کہ مجھ کو اور عزّت مل گئی
وہ قلم سے گل فشان ہے اور زبان سے درفشان
علم و حکمت کے جہان میں کامیاب و کامران
اہلِ مغرب کے لئے اب گنجِ عرفان ہوگیا
جس نے دیکھا ہے خزانے کو وہ حیران ہوگیا
۱۰۴
وصفِ مولا سے بھری ہے ہر کتابِ مستطاب
کیوں نہ ہو پھر یہ خزانہ کل جہان میں لاجواب
عشق و مستی کی قسم! سب ایک ہیں اے دوستان
فتحِ عالم ہے سنو اب شادمان ہو شادمان
ان کی ہر تحریر سے آتی ہے خوشبوی گلاب
ہر عبارت دے رہی ہے عشقِ مولا کی شراب
فضل و احسانِ خدا ہے یہ فرشتہ آ گیا
ورنہ ہم ایسے کجا اور ایسے کارنامے کجا!
نامِ نامی ہے فقیر اور علم و حکمت میں امیر
تیرے اس علم و عمل کا صدقہ ہوجائے نصیرؔ
اک جہانِ علم ان کے ہاتھ سے آباد ہے
اس میں جو بھی بس رہا ہے شاد ہے آزاد ہے
جنگِ علمی میں نہ پوچھو ضربِ صمصام علیؑ
علم شمشیرِ علیؑ ہے دست ہے نام علیؑ
“یک حقیقت” نے بتایا ہم سبھی ہیں ایک جان
سب میں اک ہے ایک میں ہیں سب نہان
میرے عالم میں عزیزان میری روح کی کاپیاں
اس سے بڑھ کر ہیں سبھی اس پرفتوح (۱) کی کاپیاں
۵۔ جولائی ۱۹۹۷ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ پر فتوح،فتوح،فتح کی جمع، پر فتوح،فتح پر فتح کرنیوالا یعنی اما مؑ جو ہمیشہ روحانی فتوحات کرتا ہے۔
۱۰۵
مخمس درشانِ شہیدانِ کارگل
یہ ہمّت و جرأت کے چٹان لشکرِ ایمان
یہ غیرت و عظمت کے نشان لشکرِ ایمان
شیروں کی طرح حملہ کنان لشکر ایمان
منزل کی طرف روان دوان لشکرِ ایمان
ہیں زندۂ جاویدِ دو کون میرے شہیدان
یہ شوقِ شہادت ہے کہ بس تم کو ملا ہے
یہ لطف و نوازش ہے یہی فضلِ خدا ہے
اس جامِ شہادت میں بتاؤ کیسا مزا ہے
تم جان چکے ہو کہ یہی رازِ بقا ہے
ہیں زندۂ جاویدِ دو کون میرے شہیدان
یہ موت نہیں، موت یہاں زندہ ہوئی ہے
ہر موت اسی موت سے شرمندہ ہوئی ہے
ہاں جانِ شہید نور سے تابندہ ہوئی ہے
یہ فرطِ خوشی ہے کہ رخشندہ ہوئی ہے
ہیں زندۂ جاویدِ دو کون میرے شہیدان
اللہ رے! یہ مردِ مجاہد کی دلیری
خائف نہیں کرتی اسے شمشیر و اسیری
اللہ کے شیروں کی صفت کیوں نہ ہو شیری
درویشِ درونی ہیں بے دلقِ فقیری
ہیں زندۂ جاویدِ دو کون میرے شہیدان
جب ارض و سما لشکرِ غیبی سے بھرا ہے
ایسے میں اگر ڈر گئے ہم پھر یہ خطا ہے
ہوتا ہے وہی کام جسے حکمِ خدا ہے
آج جسمی بقا ہے تو کل روحی بقا ہے
ہیں زندۂ جاویدِ دو کون میرے شہیدان
۱۰۶
قربانِ وطن ہو گئے ہیں اہلِ سعادت
اک بندگیٔ خاصِ خدا ہے یہ شہادت
ہم کو بھی نصیب ہو کبھی ایسی عبادت
اللہ کرم کر کہ یہی ہے تری عادت
ہیں زندۂ جاویدِ دو کون میرے شہیدان
غازی ہے کوئی، کوئی شہید میرے جوانان
اللہ کا احسان ہے اللہ کا احسان
دشمن ہے پریشان انگشت بدندان
تم فاتحِ عالم ہو سنو لشکرِ ایمان
ہیں زندۂ جاویدِ دو کون میرے شہیدان
یہ نظمِ نصیری ہے شہادت کا ترانہ
یہ ملتِ اسلام کی وحدت کا نشانہ
یہ لشکرِ ایمان کی الفت کا خزانہ
گلدستۂ خوش رنگ ہے از باغِ زمانہ
ہیں زندۂ جاویدِ دو کون میرے شہیدان
۸۔ ستمبر ۱۹۹۹ء
۱۰۷
نعتِ حضرتِ خاتم الانبیاء
مُخمس
وہ پیغمبرِ خاصِ خدا وہ بادشاہِ انبیاء
وہ نورِ پاکِ اولیاء یعنی محمد مصطفاء
صلوا علیہ وآلہ
وہ رحمۃ للعالمین وہ ہادیٔ دنیا و دین
وہ سب حسینوں سے حسین وہ مَہ جبین وہ نازنین
صلوا علیہ وآلہ
خیرُ البشر ان کا لقب اور ہاشمی ان کا نسب
شاہِ عجم فخرِ عرب یعنی محمد مصطفا
صلوا علیہ وآلہ
قرآن کَونِ معجزات ہے چشمۂ آبِ حیات
تیری ہے ساری کائنات اے سیّدِ عالی صفات!
صلوا علیہ وآلہ
اے تاجدارِ دو جہان! تو نور کا ہے آسمان
ہر لحظہ تو ہے ضو فشان یعنی محمد مصطفا
صلوا علیہ وآلہ
۱۰۸
جانِ نصیرِ بے نوا تیرے غلاموں سے فدا
محبوب ذاتِ کبریا یعنی محمد مصطفا
صلوا علیہ وآلہ
یک شنبہ ۱۰، جون ۲۰۰۱ء
۱۰۹
مُسَدَّس
درویشِ ضعیف و بیمار ہوں
مظلوم و حزین و ناچار ہوں
کس کو سناؤں اپنا دکھ مولا؟
ظاہر میں بے یار و مددگار ہوں
اَلمَدَد یَا عَلِیُ الاَ علیٰ
اَلمَدَد یَا عَلِیُ الاَ علیٰ
خامہ عصائے پیری
قرطاس دشتِ اعظم
میرا سفر ہے جاری
دن ہو کہ رات ہر دم
اَلمَدَد یَا عَلِیُ الاَ علیٰ
اَلمَدَد یَا عَلِیُ الاَ علیٰ
کب ہوگی وہ قیامت
اے صاحبِ کرامت؟
ہے کوئی شرط اس کی ؟
یا ہے کوئی علامت؟
اَلمَدَد یَا عَلِیُ الاَ علیٰ
اَلمَدَد یَا عَلِیُ الاَ علیٰ
معلوم نہیں مجھ کو کس احمق نے دھکیلا
مولا نے کبھی مجھ کو نہ چھوڑا ہے اکیلا
یہ ارضی فرشتے ہیں سبھی میرے عزیزان
یہ فضل و کرم تجھ سے ہوا ہے شہ دوران!
اَلمَدَد یَا عَلِیُ الاَ علیٰ
اَلمَدَد یَا عَلِیُ الاَ علیٰ
پیر یکم دسمبر ۲۰۰۳ء
۱۱۰
www.monoreality.org
ذکرِ الٰہی
ذکرِ الٰہی
پیش لفظ
اے ربّ العزّت ! تیرے رسُولِ مقبول مُحمّد مصطفےٰ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور آنحضورؐ کی آلِ پاک کے أئمّۂ ہُدا صلوات اللہ علیہم کا میں ایک ادنیٰ سا غلام ہوں، لہٰذا اس پاک و پاکیزہ خاندان کی نسبتِ شریف کے طفیل سے اور اِسی مقدّس سلسلے کے وسیلے سے مجھے نصرت و تائید اور نورانی ہدایت دیجئے، تاکہ میری ہر نیّت قول اور عمل تیری رضا کے موافق ہو۔
میرے روحانی بھائیو اور بہنو! پروردگارِ عالم تمہارے دلوں کو نورِ معرفت کی روشنی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منوّر کردے! جیسا کہ بعض عزیزوں کو اس بات کا علم ہے کہ ذکر و عبادت میں کامیابی اور روحانی ترقی کی ضرورت کے پیشِ نظر حلقۂ احباب میں یہ گفتگو ہوئی تھی کہ ذکرِ الٰہی کے موضوع پر کوئی ایسی مفید کتاب لکھی جائے کہ اس میں متعلقہ مسائل سے بحث کی گئی ہو، یعنی اس میں
۵
ان سوالات کا تسلّی بخش حل بتادیا جائے کہ کس طرح ذکر میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے؟ عبادت میں یکسوئی کیوں نہیں ہوتی؟ خدا کی یاد شروع کرنے کے فوراً بعد طرح طرح کے دُنیاوی خیالات کیوں آتے ہیں، حالانکہ ہم نہیں چاہتے کہ ایسے خیالات پیدا ہوں؟ وغیرہ وغیرہ۔
چنانچہ وہ کتاب جس کی ضرورت شدّت سے محسوس کی گئی تھی، خُدائے علیم و حکیم کے فضل و کرم اور مُحمّد و آلِ مُحمّد صلوات اللہ علیہم کی ہدایت کی برکت سے مکمل ہو کر آپ کے سامنے ہے، میں اس کتاب کی تکمیل کے دوران تائیدِ خدا وندی کا سخت محتاج تھا اور حال و مستقبل میں بھی میری یہی حاجت اور دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کتاب میں کچھ ایسی برکتیں رکھیں کہ جن کہ وجہ سے اس کے پڑھنے والے مومنین کو روحانی اور علمی قسم کی مسرت و شادمانی حاصل ہو، ورنہ میں کیا ہوں اور میری کوشش کیا چیز ہوسکتی ہے۔
ذکرِ الٰہی کا موضوع جتنا ارفع و اعلیٰ ہے اتنا نازک اور مشکل بھی ہے، لہٰذا اس پر کچھ لکھنے کی ذمہ داری بارِ گران ثابت ہوسکتی ہے، لیکن میں زبانِ حال سے اپنے آقا و مولا کا بے حد شکر گزار
۶
ہوں کہ اُس شفیق و مہربان نے مجھے درویشی کی ایک بہت بڑی نعمت عطا کرکے میری ہر قسم کی مشکلات کو سہولتوں کا رنگ دے دیا ہے، یہ اسی مقدّس اور معجزانہ ہستی کی مہربانی ہے۔
اِس ضمن میں اپنے اُن عزیزوں کو جو اس کتاب کو پڑھیں گے یہ مشورہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو خُوب غور سے پڑھیں، ایک بار نہیں بلکہ کئی کئی بار اس کا گہرا مطالعہ کریں، اس میں سوچیں، اس کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں، شاید میرے احباب میں سے کوئی مجھ سے یہ سوال کرے کہ اس کتاب کو ایک دو دفعہ پڑھ چکنے اور اس کے مطالب کو سمجھ لینے کے بعد اور کیا چیز اس میں باقی رہ جاتی ہے، کہ اس کے حصُول کے لیے بار بار مطالعہ کیا جائے؟ اس کا جواب ذیل کی طرح ہے:
۱۔ چونکہ یہ کتاب ذکرِ الٰہی کا موضوع ہے، اور اس میں ذکرِ الٰہی کے متعلق ہدایتیں درج ہیں، ان کو ذہن نشین کرلینے کے لیے مسلسل مطالعہ اور متواتر کوشش کی سخت ضرورت ہے۔
۲۔ اس میں اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا علاج بتایا گیا ہے، اوریہ گویا اِس قسم کا ڈاکٹر ہے، تو مریض کو چاہئے کہ جب
۷
تک مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوتا، وہ اپنے مہربان ڈاکٹر سے رجوع کرتا رہے۔
۳۔ یہ ایک آئینہ ہے روح اور روحانیّت کا، سو مومن بار بار اس کو دیکھتا رہے گا کہ اس کے چہرۂ جان کے حسن و جمال کا کیا حال ہے؟ ترقی ہے یا تنزّل؟
۴۔ ذکرِ الٰہی کا احساس، ذکر کا کورس، ذکر کی باتیں، ذکر کی تیاری، اس کے متعلق اپنی کمزوریوں پر نادم ہوجانا اور ترقی کی امکانیّت دیکھ کر اس کے لیے عزمِ مصمّم کرلینا یہ سب چیزیں ذکر اور عبادت میں شامل ہیں، لہٰذا اسے بار بار پڑھنا چاہئے۔
۵۔ علمِ لدُنّی کی کوئی جھلک دیکھنے کے مختلف مواقع ہوتے ہیں اور ایک موقع یہ بھی ہے کہ مومن اپنے اندر مذہبی علم کا عشق پیدا کرے اور کسی اعلیٰ مطالب کی دینی کتاب کو بار بار پڑھتا رہے پھر یکا یک اس کو روحانی فیض کا تجربہ ہونے لگے گا، اور اس کے دل میں خوشی کی ایک لہر دوڑے گی، اور یہ کیفیت خاص کر اُس وقت ہوگی جبکہ وہ کسی جامع لفظ کے معنی اور حکمت کے لیے سنجیدگی سے غور کررہا ہو۔
۶۔ اکثر حضرات کو یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ ذکر و ریاضت
۸
تو خوب کرتے رہتے ہیں، مگر ان کی کوئی خاص روحانی ترقی نہیں ہورہی ہے، جس کی وجہ عموماً یہ ہوتی ہے کہ وہ ذکر و عبادت کے علم سے نابلد ہوتے ہیں، وہ عملی ریاضت نہیں کرتے اور وہ ریاضت یہ ہے کہ دینی کتابوں کے مغزِ حکمت تک پہنچنے کے لیے غور و فکر سے کام لیا جائے، خصوصاً ایسی کتاب پر یہ ریاضت کی جائے جو خود ذکر و عبادت کا موضوع ہے۔
۷۔ یہ بات تقریباً سب مانتے ہیں کہ”مرنے سے پہلے مرو” لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بہت کم لوگ اس کے مطلب کو سمجھتے ہوں گے، کیونکہ اس کے معنی کافی پیچیدہ ہیں، اور وہ یہ ہیں کہ اسی دنیا میں دوقسم کی زندگی ہے، عام زندگی جو نفسِ امّارہ میں جینے کا نام ہے، اور خاص زندگی جو روح الایمان میں حیات گزارنے کو کہتے ہیں مگر عملاً یہ بات اور زیادہ مشکل ہے کہ صرف عبادت ہی کے ذریعے نفسِ امّارہ کے ظالم دشمن کو شکست دی جاسکے، جب تک کہ حقیقی مومن علمِ حقیقت کے اسلحہ سے خود کو لیس نہ کرے، خصوصاً اس میں ایسے علم کی ضرورت ہے جو اسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہو۔
۸۔ جس طرح دنیا کا کوئی کام جان کے بغیر جسم نہیں کرسکتا ہے
۹
اور جسم کے بغیر جان بھی کوئی کام نہیں کرسکتی، اسی طرح دین میں عمل جسم ہے اور علم اس کی روح، چنانچہ جاننا چاہئے کہ عبادت عمل ہے اور یہ جسم کے درجے میں ہے جس کے لیے علم و حکمت کی روح چاہئے، تاکہ جسم و روح کے باہم ملنے سے مومنین کا دینی مقصد حاصل ہوجائے۔
۹۔ کتابِ ہٰذا کو بار بار پڑھنے کی مذکورۂ بالا ضرورتوں کے علاوہ ایک اور ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اس میں ذکر و عبادت سے متعلق قرآنی حکمت کے بہت سے اشارے درج کیے گئے ہیں، اس صورت میں اگر کوئی مومنِ مخلص عبادت و بندگی کے ساتھ ساتھ اس کا مطالعہ بھی کرتا رہے تو بہت ممکن ہے کہ ان اشارات کی روشنی میں وہ اپنی عبادت کی کمزوری ایسی بخوبی سمجھ پائے جو پہلے نہیں سمجھ سکتا تھا۔
میرا یقین ہے کہ اگر خدا و رسُولؐ اور امامِ زمانؑ کی روحانی تائید شاملِ حال رہی تو اِس کتاب سے قارئین کو کافی دلچسپی ہوگی اور مومنین کو اس سے علمی اور روحانی فوائد حاصل ہوں گے، یہی مقصد اِس کتاب کے مقاصد میں سب سے اعلیٰ و ارفع ہے، اور اگر یہی کچھ ہوا، جس کی میں قوّی امید رکھتا ہوں، تو خداوند عالم
۱۰
کے حضور میں انتہائی عجز و انکساری سے ایک بار پھر سجدۂ شکرانہ بجا لانے کی کوشش کروں گا، کیونکہ میں اور میرے تمام کام جو مکمل ہُوئے ہیں وہ بھی اور جو نامکمل ہیں وہ بھی رحمتِ خداوندی کے سخت محتاج ہیں۔
اس کتاب کا نام “ذکرِ الٰہی” رکھا گیا ہے، یعنی کتاب کو خود موضوع سے موسوم کیا گیا ہے، جس کے چھ حصّے بنائے ہیں، جن میں سے ہر حصّے کا ایک باب ہے اور ہر باب چند ذیلی عنوانات میں تقسیم ہوا ہے، تاکہ مضمون کے معانی و مطالب کے سمجھنے میں اُلجھن اور پیچیدگی نہ ہو، اور عنوانات کی مدد سے ہر مطلب کو الگ اور جدا کرکے سمجھ لیا جائے۔
عبارت کو ہر قسم کی لفّاظی اور غیر ضروری مشکل الفاظ کے تصنّع سے بچا کر سلیس اور عام فہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ پڑھنے والوں کے لیے اصل مطلب مبہم اور نارسا نہ ہو، اور کتاب کے حقائق و معارف سے بآسانی استفادہ کیا جاسکے۔
خیال تھا کہ اس ذکرِ الٰہی کے حِصّۂ دوم کو بھی لکھ کر تیار کیا جائے، لیکن چونکہ اس کے موضوع کا زیادہ تر تعلق ذکرِ الٰہی کے نتائج و ثمرات اور روح و روحانیّت کے عجائب و غرائب سے
۱۱
تھا، لہٰذا فی الحال مصلحتاً یہ کام زیرِ غور رہا، تا آنکہ حصّۂ اوّل کے تاثّرات سے یہ اندازہ ہوجائے کہ روحانی غذائیں کس حد تک ہضم ہوسکتی ہیں۔
اس مقام پر آکر میں اپنے اُن تمام روحانی بھائیوں اور بہنوں کو یاد کرتا ہوں جو اس کتاب کو پڑھیں گے یا سُنیں گے اور اُن عزیزوں کو تصوّر میں لاتا ہوں جو میری علمی خدمت میں میرے ساتھ ہیں، خواہ ان کی یہ حوصلہ افزائی نیک دُعاؤں، عمدہ خیالات اور روشن تصوّرات کی کیفیت میں ہویا ظاہری قول و عمل کی شکل میں، بہرحال میں ان کی اس طرح طرح کی ہمّت افزائی کے لیے جان و دل سے شکرگزار ہوں اور میری درویشانہ دُعا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر سب کو سعادتِ دارین کی دولت عنایت فرمائے! اور حقیقی علم کی لذّت و راحت نصیب ہو!
فقط جماعت کا علمی خادم
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
۲۲۔ فروری ۱۹۷۶ء
۱۲
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
باب اوّل
ذکر کے معانی و مطالب
ذکر کے کئی معانی و مطالب ہیں، جن کی یہاں الگ الگ توضیح و تشریح کی جاتی ہے تاکہ اس سے ہمارے ان بھائیوں، بہنوں، دوستوں اور عزیزوں کو ذکر کی گہری حقیقتیں سمجھنے میں کافی حد تک مدد مل سکے، جو اس عظیم الشّان، پُر اسرار اور مقدّس کام سے دلچسپی اور وابستگی رکھتے ہیں، جن کے لیے یہ کتاب تصنیف کی گئی ہے۔
ذکر کے لغوی معنی:
ذکرعربی لُغت میں یاد کو کہتے ہیں اور “یاد” ایک ایسا لفظ ہے، جس کا استعمال کسی چیز کے لیے صرف اور صرف اسی صورت میں درست اور صحیح ہوتا ہے، جبکہ وہ چیز انسان کے دائرۂ معلومات میں آنے کے بعد فراموش ہوگئی ہو، یا صرف توجّہ اِس سے ہٹ گئی
۱۳
ہو، اس کے برعکس اگر کوئی شے ایسی ہوکہ وہ نہ تو محسوس ہُوئی ہے اور نہ ہی معقول و معلوم، یعنی وہ اب تک انسان کے علم و معرفت میں نہیں آئی ہے، تو ایسی چیز کے متعلق “یاد” کا لفظ نہیں بولا جاتا، یہی مثال بُھول جانے کی بھی ہے کہ کسی شے کو بھول جانا ہرگز نہیں کہتے، جو سرّے ہی سے انسان کے علم و معرفت سے باہر ہو۔
یاد کی پانچ صورتیں:
۱۔ مثال کے طور پر زید کے نام سے ایک چھوٹا سا لڑکا تھا، اس نے اپنے استاد سے چار الفاظ کا ایک نیا سبق لے کر کچھ دیر تک دہرایا اور بزعمِ خود حفظ اور یاد کرلیا۔
۲۔ دوسرے دن جب اس نے کتاب کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کو صرف ایک ہی لفظ مکمل یاد تھا۔
۳۔ ایک اور لفظ بھول جانے کے بعد خود بخود اسے یاد آیا۔
۴۔ تیسرا لفظ اس کے غور کرنے کے نتیجے میں یاد آیا۔
۵۔ چوتھا لفظ بالکل ہی بھول چکا تھا، غور کرنے کے باؤجود بھی یاد نہیں آیا، اِس لیے اُس نے معلّم سے پوچھ کر اسےدوبارہ یاد کرلیا۔
۱۴
اِس مثال سے یہ حقیقت ظاہر ہُوئی کہ ذکر یعنی یاد کی کل پانچ صورتیں ہُوا کرتی ہیں، اب ہم ذیل میں ان پانچ صورتوں کی علیٰحدہ وضاحت کردیتے ہیں۔
یاد کی پہلی صورت:
انسان جو کچھ دیکھتا ہے، جن آوازوں کو سُنتا ہے، جیسے سونگھتا ہے، جو چیزیں چکھتا ہے اور جن اشیاء کو چُھو لیتا ہے، ان سب کے نتائج، تجربات اور معلومات کا ذخیرہ اس کی قوّتِ حافظہ کی تحویل میں محفوظ رہتا ہے، اس کے علاوہ فکری اور روحانی قسم کی معلومات بھی حافظہ ہی کی سپردگی و نگہداشت میں ہوتی ہیں، اس سلسلے میں قوّتِ ذاکرہ کے عمل اور یاد کی اوّلین صورت کی وضاحت یہ ہے کہ کسی چیز کو حواسِ ظاہری یا حواسِ باطنی کے توّسط سے محسوس اور معلوم کرکے قوّتِ حافظہ کے سپرد کردینا حفظ کہلاتا ہے اور پھر وہاں سے حفظ و یاد داشت کی پختگی اور تسلّی کے لیے قوّتِ ذاکرہ کے ذریعے اُسے دہراتے ہُوئے دل و زبان پر لانا یا صرف اس کا تصوّر کرنا ذکر اور یاد کی سب سے پہلی صورت ہے، جیسے زید نے پہلے دن اپنے سبق کو دہرا کر یاد کرنے کی کوشش کی تھی۔
۱۵
یاد کی دُوسری صورت:
کچھ باتوں کو پہلی بار حافظہ اور ذاکرہ کے ذریعے سے دہرا دہرا کر جب یہ سمجھا جاتا ہے، کہ اب یہ باتیں حافظہ کے ریکارڈ آفس میں محفوظ ہوگئیں، تو پھر انسان وہاں سے توجہ ہٹا کر دوسری مصروفیات میں لگ جاتا ہے، اور جس وقت بھی اسے ضرورت ہو تو وہ فوراً ہی اپنی قوّتِ ذاکرہ کو حافظہ کی طرف متوّجہ کرکے حکم دیتا ہے کہ کچھ وقت پہلے جو باتیں حفظ کی گئی تھیں وہ دل و زبان پر لاؤ، چنانچہ ذاکرہ حافظہ سے پوچھ لیتی ہے یا خود جھانک کر دیکھتی ہے اگر وہاں مطلوبہ باتیں محفوظ ہیں، تو وہ اس حکم کی تعمیل کرسکتی ہے، یہ عمل یاد کی دوسری صورت ہے، جس طرح مذکورۂ بالا مثال میں زید نے جب ذاکرہ سے کام لیا تو اسے ایک لفظ صحیح طور پر یاد آیا۔
یاد کی تیسری صورت:
بعض دفعہ آدمی اپنی یاد داشت کی کچھ باتیں بھول جاتا ہے اور حیرت ہے کہ کبھی کبھار ان میں سے کوئی بات خود بخود یاد آتی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ حافظہ، ذاکرہ وغیرہ کی قوّتوں کے کام پر انتہائی چھوٹے چھوٹے شعوری یا کہ نورانی ذرّات متعیّن ہیں،
۱۶
جن میں چھوٹی چھوٹی حیوانی روحیں کارفرما ہیں، ان میں سے وہ ذرّہ جس پر متعلقہ بات ریکارڈ کی گئی تھی، اپنی جگہ سے غیر حاضر ہوجانے کے بعد یکایک حاضر ہوتا ہے یا لاشعوری کے بعد شعور میں آتا ہے جس کے ساتھ وہ بات بھی دفعۃً یاد آتی ہے، جو اس ذرّہ کے ریکارڈ میں تھی، یہ یاد کی تیسری صورت ہے جس طرح کہ زید کو سبق کے بُھولے ہُوئے الفاظ میں سے ایک لفظ بغیر کسی غور کے خود ہی یاد آیا تھا۔
یاد کی چوتھی صورت:
یہ بھی ایک عام تجربے کی بات ہے کہ انسان غور و فکر کرکے بعض بھولی ہُوئی باتوں کی یاد تازہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اس کا سبب بھی جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے یہی ہے کہ دماغ میں مختلف قوّتوں کے کام کرنے کے لیے جو الگ الگ خانے بنے ہُوئے ہیں، ان کے شعوری ذرّات کسی سبب سے یا تو غیر حاضر ہوتے ہیں یا ان پر لاشعوری کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، چنانچہ جب غور و فکر کے ذریعے سے سارے دماغ میں شعوری و آگہی کی حرکت پیدا ہوتی ہے تو اس سے وہ ذرّات اپنے مقام پر آکر یا بیدار ہوکر کام کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں بُھولی ہُوئی
۱۷
باتیں دوبارہ یاد آتی ہیں، یہ یاد کی چوتھی صورت ہے جیسے زید کو غور کرنے کے بعد چوتھا لفظ یاد آیا تھا۔
یاد کی پانچویں صورت:
بھولی ہوئی باتوں کی بابت غور و فکر کرنے سے ہر بار کامیابی تو نہیں ہوسکتی کہ دماغ پر زور دے کر اُن کی یاد داشت بحال کی جائے کیونکہ کسی بات کے بھول جانے کی ایک وجہ نہیں بلکہ کئی وجوہ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ بعض حالات میں حاضر دماغی نہ ہونے کی وجہ سے یا توجہ نہ دینے کے سبب سے یا مشکل ہونے کی بنا پر شروع ہی سے وہ بات حافظہ میں نہیں ٹھہرتی یا وہ ذرّہ ہمیشہ کے لیے غائب ہوجاتا ہے جس کی روح میں اس بات کا ریکارڈ تھا، بہر حال جب سوچنے کے باوجود بھی وہ بات یاد نہیں آتی تو پھر سوائے اس کے کوئی چارہ ہی نہیں کہ اسی شخص سے رجوع کیا جائے جس نے پہلے وہ بات بتائی تھی تاکہ وہ ازسرِ نو اس بات کی یاد دلائے، یہ یاد کرنے کی پانچویں صورت ہے، جس کی مثال زید سے ملتی ہے کہ اس نے وہ لفظ جسے بالکل ہی بُھلا دیا تھا اپنے استاد سے پُوچھ کر دوبارہ یاد کرلیا۔
۱۸
ذکرِ الٰہی:
ذکرِ الٰہی کے معنی خُدا کی یاد ہیں جس کے کئی پہلو اور بہت سے درجات ہیں اور ان میں سب سے اونچا درجہ وہ ہے جہاں یادِ الٰہی معرفت کی روشنی میں کی جاتی ہے، خدا کی معرفت کا نظریہ تو تقریباً سارے مذاہب میں ہے البتہ اس کی تشریح میں اختلاف پایا جاتا ہے، بہرکیف خدا کی معرفت کے بارے میں قرآنِ حکیم کا جامع الجوامع ارشاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم کی روحوں سے پوچھا:
اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰي (۰۷: ۱۷۲)
آیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ انہوں نے عرض کیا کہ (یا خداوند) کیوں نہیں۔
اِس سے یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ ربّ اور رُبوبیّت کا بڑا اہم اور سب سے نازک اقرار لاعلمی، ناشناسی اور بے معرفتی کی تاریکی میں تونہیں ہوسکتا تھا، اور نہ ہی عدلِ خداوندی کی رُو سے یہ امرمنا سب تھا کہ ان کی جسمی، روحی اور عقلی ہر گونہ پرورش عمل میں لائے بغیر رُبوبیّت کی اَن دیکھی حقیقتوں کے بارے میں ان سے گواہی لی جائے، بلکہ قَا لُوْا بَلٰی کا یہ اقرار نورِ معرفت ہی کی روشنی میں کیا گیا تھا۔
۱۹
ذکر اور ہدایت:
اگر انسان نے ازل اور الست کے ان حقائق و معارف کو فراموش کردیا ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی حقّانی معرفت پنہان تھی، تو اس کا چارۂ کار یہی ہے کہ وہ خدا و رسُولؐ اور اولو الامرؑ کی اطاعت کو بجالائے تاکہ ان مراتبِ اطاعت کی ظاہری و باطنی ہدایات کی روشنی میں ذکر و عبادت اور حصولِ معرفت کرنے سے رفتہ رفتہ ہر چیز دوبارہ یاد آئے جیسا کہ قرآن پاک کا ارشاد ہے:
فَذَكِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ (۸۸: ۲۱)
پس (اے رسُولؐ) آپ یاد دلا دیجئے آپ تو بس یاد دلانے والے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ آنحضرتؐ اِس بات کے لیے مامور تھے کہ تمام اہلِ جہان کو راہِ حق کی دعوت و نصیحت کریں اور اپنی اُمّت کے افراد کو ہر وہ ضروری بات ان کی حیثیت کے مطابق یاد دلائیں، جو یہ بھول چکے ہیں یہاں تک کہ روزِ الست کی حقیقتوں اور معرفتوں کو بھی، مگر قانون یہ ہے کہ اسرارِ معرفت کا علم درجہ بدرجہ دیا جاتا ہے۔
اہلِ ذکر:
ذکر یادِ الٰہی کے علاوہ قرآنِ حکیم کا بھی نام ہے اور یہ رسولِ کریمؐ کا بھی اسمِ مبارک ہے، لہٰذا اہلِ ذکر
۲۰
کے تین معنی ہُوئے:
۱۔ وہ حضرات جو ذکر والے ہیں یعنی جو ذکر کا وسیلہ ہیں۔
۲۔ جو قرآن والے ہیں، یعنی جو قرآن کے علم و حکمت کے حامل ہیں۔
۳۔اور جو آلِ رسُولؐ ہیں۔
یہ تینوں خصوصیات صرف أئمّۂ آلِ محمّدؐ علیہم السّلام ہی کی ہیں، بناء برین سرورِ کائنات صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے بعد صرف أئمّۂ اطہارؑ ہی اس اعلیٰ درجے پر فائز ہیں کہ رُشد و ہدایت اور علم و حکمت کے جملہ مسائل میں ان سے رجوع کیا جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا مقدّس فرمان ہے:
فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (۱۶: ۴۳)
پس اہلِ ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے ہو۔
اِس سے صاف طور پر یہ معلوم ہوا کہ اہلِ ذکر حاملانِ نُورِ امامت ہی ہیں، کیونکہ یہی حضرات ہر سوال کا درست جواب دینے والے ہیں، ہر پوشیدہ حقیقت بتا سکتے ہیں اور ہر بھولی ہوئی بات خواہ کتنی بلند کیوں نہ ہو یاد دلاسکتے ہیں، چونکہ یہ حضرات ذکر اور مُذکِّر یعنی رسولؐ کے جانشین اور اہلِ ذکر ہیں، یعنی أئمّۂ
۲۱
طاہرین علیہم السّلام جو حضور انورؐ کے تمام علوم کے خزانہ دار اور امین ہیں جو ذکر و معرفت کے ذریعے خدائے قدوس کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔
ذکر اور خود شناسی:
دینِ اسلام کے بموجب انسان کی خود شناسی کےسوا پروردگار کی معرفت ناممکن اور محال ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ معرفت نہیں کہتے ہیں، مگر اس شناخت اور پہچان کو جو عارف کو چشمِ باطن کے مشاہدے سے حاصل ہوتی ہے، جبکہ پروردگار اپنی نورانی صفات کی تجلّیوں سے اس کی روحانی پرورش کرتا ہے اور یہ اُس صورت میں ممکن ہے کہ ایسا عارف اس مادّی دُنیا میں زندگی گزارے، کیونکہ اگر اس دنیا کے بغیر خدا کی بندگی کی آزمائش ہوسکتی اور حصولِ معرفت ممکن ہوتا تو یہ جہان بے حکمت اور فضول ہوجاتا۔
یہاں پر یہ مطلب بالکل واضح ہوگیا کہ ذکرِ الٰہی یعنی خدا کی یاد کا قرآنی مفہوم یہ ہے کہ دیدۂ دل کے سامنے سے پردۂ غفلت کو ہٹا کر واقعۂ الست کی ربّانی تجلّیوں کو عملی صورت میں یاد کیا جائے، کیونکہ ذکر و معرفت کی عملی صورت یہی ہے،
۲۲
اور ذکر کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔
ہم نے یہاں واقعۂ الست کی طرف بار بار توّجہ دلائی ہے کیونکہ وہ ایک ایسا عام فہم تصوّر اور ایک ایسی مسلّمہ حقیقت ہے کہ اس کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہوسکتا، چنانچہ اُس حال میں انسان اپنی روح کو کُلّی طور پر پہچانتا تھا اور اس کے نتیجے میں خدا کو بھی پہچانتا تھا، مگر بعد میں یہ وہ معرفت بھول گیا ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم کا یہ مبارک قول ہے کہ:
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ (۳۶: ۷۸)
اور اُس نے ہمارے لیے مثال دی اور اپنی خلقت بھول گیا۔ اس آیۂ مقدّسہ کا اشارہ یہ ہے کہ انسان اس سے بہت پہلے خود شناسی کی دولت سے مالا مال تھا، وہ اپنی خلقت کی حقیقتوں کو جانتا تھا، لیکن بعد میں وہ یہ سب کچھ بھول بیٹھا، اب اس کا علاج ذکرِ الٰہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
قرآن شریف کا ارشادِ مبارک ہے کہ:
وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ڰ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ (۰۷: ۱۱)
اس میں تو شک ہی نہیں کہ ہم نے تم کو پیدا کیا پھر
۲۳
تمہاری (روحانی) صورتیں بنائیں پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو سب کے سب جُھک پڑے سوائے ابلیس کے۔
اِس قرآنی حکمت کی تعلیم یہ ہے کہ انسان آج سے نہیں بہت پہلے سے موجود ہے اور یہ اس وقت بھی موجود تھا جبکہ فرشتوں نے آدم علیہ السّلام کو سجدہ کیا اور ابلیس منکر ہوگیا، مگر یہ واقعہ سوائے کامل انسان کے کسی کو یاد نہیں رہا، اور بہت کم لوگ ہیں جو عقیدہ کی حد میں اس کے متعلق باور کرسکیں مطلب یہ ہے کہ یہ معرفت کے بلند مقامات کی باتیں ہیں جن کا جاننا انسان کی اپنی ذات کی شناخت ہے، جس میں خدا کی معرفت پوشیدہ ہے، اور اس درجے کی تمام تر باتیں انسان بھول چکا ہے، جنہیں ذکرِ الٰہی کی روشنی میں دوبارہ یاد کرسکتا ہے اور ذکرِ خدا کا قرآنی مفہوم یہی ہے۔
قرآنِ حکیم میں فرمایا گیا ہے کہ: اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو خدا کو بُھلا بیٹھے پھر خدا نے ایسا کردیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے (۵۹: ۱۹) اس کے یہ معنی ہُوئے کہ جو شخص ذکرِ الٰہی سے دور ہوچکا ہو وہ اپنی روح کی ازلی حقیقتوں کو بھی بھول گیا ہے
۲۴
اور جو حضرات ذکر کے مختلف درجات پر ہیں وہ اپنے درجے کے مطابق اپنی روح کی گزشتہ اور آئندہ حقائق و معارف کا نورانی تصوّر کرسکتے ہیں۔
قانونِ الٰہی:
عالمِ روحانیّت کے بھولے ہوئے اسرار اور معرفت کے کھوئے ہوئے خزانے کس طرح دوبارہ حاصل کیے جاسکتے ہیں، اس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اٹل سُنت و عادت اور قانون ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک ہی ہے، یعنی جو قانون قرآنِ حکیم سے متعلق ہے وہی آفاق و انفس میں بھی کارفرما ہے، چنانچہ نہ صرف قرآنی آیات کے بارے میں بلکہ تمام کائنات اور جملہ موجودات کے ظاہر و باطن کی نشانیوں کی بابت بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: جب ہم کوئی نشانی منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اِس سے بہتر یا ویسی ہی نشانی لادیتے ہیں (۰۲: ۱۰۶)
اِس مقام پر بڑی سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، کہ کسی آیت یا نشانی کے منسوخ کرنے اور بُھلا دینے میں کیا فرق ہے، جبکہ قرآن کی کوئی آیت نازل ہوکر لوگوں کے سامنے آنے کے بعد پھر واپس نہیں لی گئی ہے کہ لوگ اسے بھول
۲۵
جائیں، اب اِس سے یہ حقیقت ناگزیر ہوگئی کہ منسوخ کا واسطہ قرآن کی تنزیل سے ہے، اور بھلا دینے کا تعلق تاویل سے ہے کہ خداوند حکیم بتقاضائے زمان و مکان ایک تاویل کو اُٹھا کر دوسری تاویل القاء فرما دیتا ہے، نیز منسوخ کرنا آسمانی کتب کی آیات کے لیے ہے، اور بُھلا دینا آفاق و انفس کی نشانیوں کے واسطے ہے، چنانچہ اگر خدائے علیم و حکیم کے اِس قانون کی رُو سے انسان حیات و کائنات کے بہت سے اسرار کو بھول چکا ہے، تو اس میں کوئی تعجب نہیں، کیونکہ وہ قادرِ مطلق ہے، لہٰذا وہ پھر اُن اسرار کی بہتر معرفت سے انسان کو آشنا کرسکتا ہے، یا سابقہ معرفت جیسی معرفت عطا کرسکتا ہے جس کا انحصار ذاکر کے ذکر پر ہے، پس ذکرِ الٰہی کے قرآنی معنی ہیں اُن اسرارِ معرفت کی بازیابی جو انسان کی یاد سے نکل گئے ہیں، جو ربّانی صفات کی تجلّیوں کے مشاہدے سے متعلق ہیں۔
۲۶
باب دوم
ذکر کی برکتیں
اِس باب میں ذکرِ الٰہی کی برکتوں کے بارے میں چند جامع مثالیں درج ہورہی ہیں، اِس سلسلے میں سب سے پہلے یہ بات ضروری ہے کہ لفظ برکت کے معنی کو بخوبی سمجھ لیا جائے، چنانچہ برکت کے معنی ہیں زیادتی، افزونی، افزائش، یعنی نعمت کی ترقی اور نیک بختی خواہ ظاہری ہو یا باطنی، جسمانی ہو یا رُوحانی۔
سرچشمۂ برکات:
ذکر حضرت ربّ العزت کے مبارک و مقدّس اسم کے ذریعے سے کیا جاتا ہے اور ارشادِ قرآنی کے مطابق پروردگارِ عالم کے بابرکت نام میں خیر و برکت، علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے بے پایاں خزانے اور لامحدود نعمتیں پوشیدہ و پنہان ہیں، برکت کے ایسے تمام معنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآنِ پاک میں فرمایا گیا ہے کہ:
۲۷
تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ (۵۵: ۷۸)
(اے رسولؐ)آپ کا پروردگار جو صاحبِ جلالت و کرامت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات اور تمام موجودات کو ظاہراً و باطناً جو جو رحمتیں اوربرکتیں مل رہی ہیں یا ملنے والی ہیں، اور جو انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام اور مومنین کے لیے مخصوص ہیں، ان سب کا لاانتہا سرچشمہ اور بے پایان خزانہ اللہ تعالیٰ کا پاک اسم اور اس کا ذکر ہے، چنانچہ ذیل میں اس حقیقت کے ثبوت کے طور پر نیز ذکر کے اوصاف و فوائد ظاہر کرنے کی غرض سے قرآن مجید کی چند پُرحکمت آیات کی طرف توّجہ دلائی جاتی ہے۔
ذکر اور حضرت آدمؑ:
یہ خدا تعالیٰ کے مبارک نام کے ذکر ہی کی برکتیں تھیں، کہ حضرت آدم علیہ السّلام علمِ اسماء اور حقیقتِ اشیاء کی دولت سے مالا مال ہوکر خلیفۂ روئے زمین اور مسجودِ ملائک ہوگئے، کیونکہ آپ کو جن اسماء کی تعلیم دی گئی تھی، وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی کے اسماء تھے، یہ تعلیم ان اسمائے بزرگ کے روحانی معجزات کی صورت میں مل رہی تھی، اور ان تمام برکتوں
۲۸
اور سعادتوں کا انحصار اسمِ اعظم کے ذکرِ اقدس پر تھا، جو حضرت آدمؑ کو سکھایا گیا تھا۔
علاوہ برآن جنّت سے ہبوط کے بعد بھی حضرت آدمؑ نے اپنے ربّ سے چند کلمات یعنی اسمائے بزرگ سیکھ لیے اور ان کا ذکر جیسا کہ چاہئے مکمل کرلیا، جس کی برکت سے آپ کی توبہ قبول ہوئی اور توبہ قبول ہونے کے یہ معنی ہیں کہ قبلاً جو آپ کی روحانیّت و نورانیّت تھی، وہ بالکل بحال ہوگئی، اور آپ نے سیّارۂ زمین پر اللہ تعالیٰ کی خلافت و نیابت کا عظیم الشّان فریضہ انجام دیا۔
ذکر اور حضرت نوحؑ:
اگر آپ سورۂ ہود (۱۱) کی آیت نمبر ۴۸ کا غور سے مطالعہ کریں تو یقیناً معلوم ہوگا کہ حضرت نوح علیہ السّلام کے ظاہری طوفان کے پس منظر میں روحانیّت کا ایک باطنی طوفان بھی تھا، چنانچہ قصّۂ قرآن میں ہے کہ:
فرمایا گیا کہ اے نوح (اب روحانیت کے طوفان سے) اترو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تم پر ہیں اور ان لوگوں پر بھی جو تمہارے ساتھ ہیں (۱۱: ۴۸)۔
۲۹
یہ تو اصول کی بات ہے جو ہم یقین کریں کہ حضرت نوحؑ کو یہ برکتیں خدا کے بزرگ ناموں کے ذکر کے نتیجے میں حاصل ہوئی تھیں نہ کہ ظاہری قسم کے طوفان کے انجام میں کیونکہ پروردگار کے اسم اور ذکر کے بغیر کوئی سلامتی اور برکت نہیں ہوسکتی، اور یہ امر لازمی ہے کہ خدا کی سلامتی اور برکات نوح علیہ السّلام پر اس وقت سے ہوں، جب سے کہ انہیں نبوّت ملی تھی۔
ذکر اور حضرت ابراہیمؑ:
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام کے بارے میں بھی یہی قرآنی ثبوت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چند کلماتِ تامّات پر آزمایا تھا، اور اُن کلمات سے اسمائے الٰہی مراد ہیں، یعنی حضرت ابراہیمؑ نے خدا کے اسمائے عظام کے مبارک ذکر کو کما حقّہٗ انجام دیا جس کے نتیجے میں آپؑ ذاتی طور پر اور اپنے سلسلۂ اولاد کی حیثیت میں دنیا بھر کے لوگوں کے لیے امام مقرر ہوئے اور تمام خداوندی برکتوں کا سرچشمہ قرار پاگئے، یہ سورۂ بقرہ کی آیت ۱۲۴ کا واضح مفہوم ہے (۰۲: ۱۲۴)۔
ذکر اور حضرت موسیٰ ؑ:
سورۂ نمل (۲۷) کی آیت نمبر ۸ میں ارشاد ہے کہ: غرض جب موسیٰ
۳۰
اس آگ کے پاس آئے تو ا ن کو آواز آئی کہ برکت دی گئی ہے اس کو جو اس آگ (یعنی نور) میں ہے اور اس کو جو اس کے گرد ہے اور وہ خدا جو جہانوں کا پروردگار ہے پاک و پاکیزہ ہے (۲۷: ۰۸)۔ یہ وہ نورِ ہدایت تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے ذکرِ الٰہی کے نتیجے پر چشمِ باطن سے دیکھا تھا، جس میں عقل و دانش، علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی برکتیں موجود تھیں اور اسی نور کے حضور سے موسیٰ علیہ السّلام کو بھی رحمتیں اور برکتیں حاصل ہوئی تھیں۔
ذکر اور حضرت عیسیٰ ؑ:
سورۂ مریم (۱۹) کی آیت نمبر ۳۱ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے فرمایا:
وَّجَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ(۱۹: ۳۱)
اور خدا نے مجھے جہاں بھی رہوں برکت والا بنایا۔ یہاں یہ جاننا از بس ضروری ہے کہ یہ پاک آیت بڑی پُرحکمت ہے اور اس میں بہت سی حقیقتوں کی کلیدیں پنہان ہیں ا س میں لفظ “اَیْنَ” کی اینیت کا اشارہ ظاہر و باطن کی دونوں حالتوں کی طرف ہے یعنی “میں جہاں بھی رہوں” میں حضرت عیسیٰؑ یہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی نبوّت کے پورے دور میں جسمانی طور پر یا روحانی کیفیت میں
۳۱
جن لوگوں کے درمیان رہونگا ان کے لیے مجھے برکت کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
اس ارشادِ قرآنی سے ایک تو یہ حکمت ظاہر ہے کہ اسمِ اعظم اور آسمانی کتاب سے خیر و برکت حاصل کرنے کا جو طریقہ مقرر ہے اس کی عمومی اور خصوصی ہدایت کا حصول ہادیٔ زمانؑ کے بغیر ناممکن ہے، اس کی دُوسری حکمت یہ ہے کہ جو دینی پیشوا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر ہے، اس کی قربت و نزدیکی اور صحبت و ہم نشینی دو طرح کی ہوا کرتی ہے، ایک جسمانی اور دوسری روحانی کیونکہ اگر ہم صرف یہی خیال کریں کہ حضرت عیسیٰؑ صرف انہیں لوگوں کے واسطے باعثِ برکت تھے، جو جسمانی طور پر ہمیشہ آپ کی صحبت میں رہا کرتے تھے، تو اس سے خداوندی فیوض و برکات پر مکان و زمان کی حد بندی لازم ہوگی، اور جس کے نتیجے میں ان رحمتوں اور برکتوں سے ایسے لوگ محروم ہوجائیں گے، جو بہت ایماندار اور تابعدار ہیں، مگر جسمانی طور پر اپنے پیشوا اور ہادی سے کہیں دُور رہتے ہوں اور تیسری حکمت اِس آیت میں یہ ہے کہ اسمِ اعظم، آسمانی کتاب اور ہادیٔ وقت کی روحانیّت و نورانیّت حقیقت میں ایک ہی ہے
۳۲
یہی سبب ہے کہ برکت کا سرچشمہ بعض دفعہ خدا کے نام کو قرار دیا گیا ہے بعض اوقات آسمانی کتاب کو اور بعض صورتوں میں ہادیٔ برحقؑ کو اور ان تینوں باتوں کا مطلب ایک ہی ہے کیونکہ روحانیّت کا یہی اصول ہے کہ ایک ہی حقیقت کے کئی نام ہوا کرتے ہیں۔
اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰؑ کا برکت والاہونا اس حقیقت کا ایک روشن ثبوت ہے، کہ ان کو یہ مرتبۂ اعلیٰ ذکرِ الٰہی کے نتیجے میں دیا گیا تھا کیونکہ خدا کے نامِ بزرگ اور ذکرِ مقدّس کے بغیر کوئی رحمت و برکت نہیں مل سکتی۔
ذکر اور حضرت محمد صلعم:
قرآنِ حکیم کے متعدّد ارشادات سے یہ حقیقت ثابت ہے کہ حضرت رسُولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کو اپنے پروردگار کے بابرکت اسمِ اعظم کے ساتھ روحانی تعلق اور نورانی وابستگی تھی، آپؐ نبوّت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی خدا کے اسی عظیم ترین اسم اور اس کے ساتھ والے اسمائے عظام کا ذکر کرلیا کرتے تھے، اور آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بزرگ ناموں کی روحانیّت
۳۳
و نورانیّت اور علم و حکمت کا خزانہ دار بنا دیا تھا۔
جاننا چاہئے کہ ذکر قرآن کو بھی کہا گیا ہے، جس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قرآن کے معنی ہیں پڑھنا (۷۵: ۱۷ تا ۱۸) اور ذکر کا مطلب ہے خدا کو یاد کرنا، آن حضورؐ اسمِ اعظم پڑھا کرتے تھے اور خدا کو یاد کیا کرتے، جس کے نتیجے میں آپؐ پر اللہ کی آخری کتاب نازل ہوئی، چنانچہ آنحضرتؐ کے نامِ خدا پڑھنے کی نسبت سے اِس پاک کتاب کو قرآن اور خدا کو یاد کرنے کی وجہ سے ذکر کے اسم سے موسوم کیا گیا۔
نیز قرآن مجید کو ذکر کہنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی ساری نصیحتیں، ہدایتیں، روح اور زندہ حقیقتیں مومنوں کی سہولت و آسانی کے لیے خدا کے مبارک نام اور پاک ذکر میں سمو دی گئی ہیں، جیسا کہ سورۂ قمر (۵۴: ۱۷) میں فرمایا گیا ہے کہ:
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ
اور ہم نے قرآن کو ذکر کے لیے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے جو ذکر کرے۔ قرآنِ حکیم کو انتہائی حد تک آسان کردینا یہ ہے کہ قادرِ مطلق نے اسے ایک زندہ روح اور ایک کامل
۳۴
نور قرار دے کر اپنے معجزاتی اسم کی روحانیّت میں سمو رکھا ہے اور یہ ارشاد اِس سورہ میں بار بار فرمایا گیا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ اہلِ علم و دانش اس عظیم حکمت کی طرف ضرور توّجہ دیں کہ قرآن مقدّس اپنے ظاہری و باطنی معنوں اور جملہ خوبیوں کے ساتھ اسمِ اعظم کے ذکر میں سموگیا ہے اس مثال سے مومنوں کو یہ اندازہ ہوسکتا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کے مبارک اسم اور پاک ذکرمیں کیسی لاتعداد رحمتیں اور برکتیں موجود ہیں۔
ذکر کے متعلق بحوالۂ قرآن (۶۵: ۱۰ تا ۱۱) یہ بھی ایک قرآنی حقیقت ہے کہ ذکر رسول اکرمؐ کے پاک ناموں میں سے ہے، کیونکہ حضورِ انورؐ اپنے مبارک عہد میں خدائے رحمان و رحیم کا زندہ اسمِ اعظم اور معجز نما یاد تھے، اور اس لیے بھی کہ آپؐ کا پاک نور اور قرآن کی قدسی روح کی حقیقت ایک ہی تھی۔
آنحضرتؐ کی دُعائے برکات:
خدائے رحمان و رحیم کی یہ شان ہے کہ اُس نے حضرت عیسیٰؑ کو اپنے وقت میں تابعدار لوگوں کے لیے مبارک یعنی برکتوں کا ذریعہ بنایا تھا، اسی طرح اللہ پاک نے
۳۵
سرورِ انبیاء صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کو اپنے عہد میں ذاتی طور پر اور مستقبل میں اپنے جانشین کے توّسط سے رحمتوں اور برکتوں کا سرچشمہ اور وسیلہ قرار دیا ہے، تاکہ دُنیا خدا کی رحمت و برکت سے خالی نہ ہوجائے۔
چنانچہ آنحضرتؐ کی دُعائے برکات کی ایک قرآنی مثال یہ ہے جو ارشاد ہوا ہے کہ: ہے کوئی جو خدا کو قرضِ حسنہ دے تاکہ خدا اس کے مال کو اس کے لیے کئی گنا بڑھادے (۰۲: ۲۴۵)۔
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک لوگوں سے قرضِ حسنہ کے عنوان سے کچھ مال لینا چاہتا ہے، اور ان کی اِس مالی قربانی کے عوض دین و دُنیا کی رحمتوں اور برکتوں سے انہیں نوازنا مقصود ہے، مگر ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ بذاتِ خود کوئی مادّی چیز نہیں لیتا، بلکہ اپنے رسولؐ کے ذریعے سے اور ادائے زکوٰۃ وغیرہ کے عوض میں کسی کو دعائے برکات بھی پیغمبر اکرمؐ ہی کے توّسط سے ملا کرتی ہے، چنانچہ سورۂ توبہ (۹) کی آیت نمبر ۱۰۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ:
(اے رسولؐ) آپ ان کے مال کی زکوٰۃ لیجئے تاکہ آپ
۳۶
ان کو (گناہوں سے) پاک صاف کردیں گے اور ان کے لئے دُعائے خیر و برکت کیجئے کیونکہ آپ کی دُعا ان لوگوں کے حق میں اطمینان (کا باعث) ہے (۰۹: ۱۰۳)۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر قسم کی خیر و برکت کا سرچشمہ بحکمِ خدا حضور اقدس کی مبارک دُعا ہے، اور آنحضرتؐ کے جانشینؑ کی دُعا بھی یہی شان رکھتی ہے۔
قرآن (۱۳: ۲۸) میں حضرت ربّ العزّت کا یہ فرمان ہے کہ: یاد رکھو کہ خدا ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوا کرتا ہے۔ اب اِس آیۂ پُرحکمت کے متعلق یہ سوال ضرور پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر کسی شرط کے بغیر صرف خدا کے ذکر ہی سے کسی کے دل کو اطمینان حاصل ہوسکتا تھا، تو پھر خدا نے آنحضرتؐ سے یہ کیوں فرمایا کہ آپؐ کی دُعا میں ان کے لیے اطمینان ہے؟ اس کا واحد جواب یوں ہے کہ یہاں اللہ کے جس ذکر کو دلوں کا اطمینان قرار دیا گیا ہے، وہ صرف اور صرف وہی ذکر ہے، جس کے متعلق حضور اکرمؐ نے یا آپؐ کے جانشینؑ نے اذن، ہدایت اور دعائے برکات دی ہو، ورنہ حقیقی اطمینان مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے۔
ذکر اور أئمّۂ اطہارؑ:
جیسا کہ بابِ اوّل میں مختصراً بتایا گیا، کہ اہلِ ذکر أئمّۂ اہل بیت
۳۷
علیہم السّلام ہی ہیں، اور یہ نام ان حضرات کے قرآنی القاب میں سے ہے، چنانچہ اہلِ ذکر کی معنویّت و حقیقت کے کئی پہلو ہیں،
۱۔ جیسے اہلِ رسُولؐ یا آلِ رسولؐ، یعنی وہ حضرات جو اہلِ بیتِ رسُولؐ ہیں، جو مدینۂ علمِ نبوّی کے باب کی حیثیت سے ہیں، جو خانۂ حکمتِ مُحمّدیؐ کے دروازے کا درجہ رکھتے ہیں اور جو اسرارِ دینیّہ سے کما حقّہٗ واقف و آگاہ ہیں۔
۲۔ اہلِ قرآن، یعنی وہ حضرات جنہیں خدائے پاک نے “الراسخون فی العلم” کے پیارے نام سے یاد فرمایا، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی محمد صلعم کے توّسط سے قرآن کی تنزیل و تاویل کا علم عطا فرمایا ہے اور جو آفاق و انفس کے تمام حقائق و معارف کے خزانہ دار ہیں۔
۳۔ نصیحت و ہدایت کرنے والے، جو خدا و رسولؐ کے بعد اولا الامر کی حیثیت سے لوگوں کی رہبری و رہنمائی کرنے والے ہیں، جن کی اطاعت لوگوں پر فرض کی گئی ہے۔
۴۔ ذکرِ الٰہی والے، یعنی خدا کی یاد کرنے والے اور خدا کی یاد دلانے والے، اسمائے عِظام سکھانے والے، ذکر کے تمام طریقوں کے پیشوا، ان کے جملہ رموز و اسرار کے واقف کار،
۳۸
منازلِ روحانیّت اور مراحلِ نورانیّت کے شناسا اور سبیلِ معرفت کے نورِ ہدایت۔
أئمّۂ پاک علیہم السّلام میں سے ہر امامؑ اپنےزمانے میں خداوند تعالیٰ کے اسمِ بزرگِ حیّ و حاضر اور ذکرِ خفی و قلبی کا خزانہ دار اور محافظ ہوا کرتا ہے، کیونکہ حضرت امام علیہ السّلام خدا اور رسولؐ کی خلافت و نیابت کے درجے پر ہوتا ہے، لہٰذا خدا و رسولؐ کی رحمتوں اور برکتوں کے بے پایان خزانے امامِ عالی مقامؑ ہی کے سپُرد ہوتے ہیں۔
خلافتِ جزوی:
حقیقی مومن کو اس بات کا جاننا از حد ضروری ہے کہ بنی نوع انسان کی اجتماعی اور انفرادی کیفیت کےاعتبار سے خدا کی دو خلافتیں ہوا کرتی ہیں، ایک تو کُلّی خلافت ہے، جس کا تعلق پوری دنیا سے ہے، جیسے حضرت آدم علیہ السّلام کی خلافت، اور دُوسری جزوی خلافت ہے، جو ایک مومن فرد کی اپنی ذات سے متعلق ہے، کُلّی طور پر خلیفہ اپنے اپنے زمانے میں انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام ہوا کرتے ہیں، اور جزوی طور پر خلیفہ ہر وہ حقیقی مومن ہو سکتا ہے، جو اپنے وقت کے ہادیٔ برحقؑ کی
۳۹
نورانی ہدایت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پاک اسم کا ذکر کرتا ہے، اور اس میں جیسا کہ چاہئے کامیابی ہوئی ہو، تو ایسا کامیاب و بامراد مومن اپنی ذاتی روحانیّت کی دُنیا میں خدا تعالیٰ کی خلافت و نیابت سے سرفراز ہوجاتا ہے، جس کا ظاہری نتیجہ علمِ حقیقت و معرفت کی صورت میں ہوتا ہے، یہ ذکرِ الٰہی کی برکات میں سے ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تم میں سے جن لوگوں نے ایمان لایا اور اچھے اچھے کام کیے اُن سے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انکو روئے زمین پر ضرور (اپنا) خلیفہ مقرر کرے گا جس طرح ان لوگوں کو خلیفہ بنایا جو ان سے پہلے گزر چُکے ہیں (۲۴: ۵۵)۔
یہ جو فرمایا “تم میں سے” اس سے ظاہر ہے کہ یہ خطاب ان سب لوگوں سے ہے جنہوں نے ایمان لایا، مگر جن سے خلافت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سب نہیں بلکہ ان میں سے بعض ہیں، وہ وہی ہیں جو صحیح معنوں میں ایمان لائے اور جو حقیقی معنوں میں اچھے کام کریں، ان کو زمینِ روحانیّت کی خلافت دی جائے گی، جس طرح سابقہ اُمتوں کے مومنوں کو یہ خلافت دی گئی تھی جو
۴۰
ظاہر نہیں، اسی طرح اب بھی ظاہر نہ ہوگی، کیونکہ یہ خلافت ذاتی ہے۔
برکت کی ایک مثال:
پرور دگارِ عالم کے مقدّس ذکر کی خیرات و برکات کی مثال اس صاف و شفاف پانی کی طرح ہے، جو آسمان یعنی بلندی سے برستا ہے، کیونکہ سورۂ قٓ (۵۰) کی آیت ۹ (۵۰: ۰۹) کے مطابق پانی جسمانی برکتوں کا سرچشمہ ہے، آپ اندازہ کریں کہ پانی کی بدولت کس طرح پوری دنیا آباد و سرسبز ہوتی رہتی ہے، کیسے کیسے عمدہ اور دلکش باغ و گلشن پیدا ہوتے ہیں اور کس طرح لہلہاتے ہوئے کھیتوں سے لوگوں کی روزی کے لیے اناج کا ذخیرہ جمع ہوتا ہے، نیز یہ بھی دیکھنا ہے کہ پانی کی برکت سے وہ شہر کس طرح زندہ ہوجاتا ہے، جو موسمِ سرما میں مرچکا تھا، پانی کی یہ مثال ذکرِ الٰہی کے فیوض و برکات کی حقیقتیں سمجھنے کے لیے ہے، جن سے ایمانی روح کی آبادی ہوتی ہے، اور مومن کی حقیقی زندگی بنتی ہے۔
آسمان و زمین کی برکات:
سورۂ اعراف کی آیت ۹۶ میں فرمایا گیا ہے کہ: اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور پرہیز گار بنتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں (کے ابواب) کو کھول
۴۱
دیتے (۰۷: ۹۶) جاننا چاہئے کہ اس آیۂ کریمہ کے معنی کا تعلق مادّی برکتوں سے کم اور روحانی برکتوں سے زیادہ ہے، اور ہر حالت میں فیوض و برکات کی کلیدیں اسمائے الٰہی میں ہیں اور ضروری ہدایات صاحبِ امر سے حاصل ہوسکتی ہیں۔
دونوں جہان کی برکات:
قرآن (۰۷: ۵۴) میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: آگاہ رہو کہ عالمِ خلق اور عالمِ امر (دونوں) اسی (خدا) کے ہیں وہ خدا جو عالموں کا پروردگار ہے بڑا برکت والا ہے۔ اس آیۂ مقدّسہ میں بطورِ اشارہ یہ فرمایا گیا ہے کہ پروردگارِ عالمین کی لاانتہا رحمتیں اور برکتیں عالمِ جسمانیّت اور عالمِ روحانیّت دونوں میں پھیلی ہوئی ہیں، جن کی کلید خداتعالیٰ کے مبارک و مقدّس اسم کے ذکر میں پوشیدہ ہے جس کا بیان ہوا۔
اس باب کے سلسلے میں شروع سے یہاں تک قرآن پاک کی روشنی میں جو خاص باتیں بتائی گئیں، اُن کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھاکہ اللہ تعالیٰ کے مبارک و مقدس اسم کے ذکر میں دین و دنیا اور ظاہر و باطن کی جملہ رحمتیں اور برکتیں سموئی ہوئی ہیں، لہٰذا کوئی دیندار یادِ الٰہی سے غافل نہ رہے اور جو ذکرِ الٰہی میں مصروف ہے،
۴۲
وہ اس کے تمام فوائد سے آگہی کے ساتھ عمل کرے تاکہ علم اور عمل دونوں کے یکجا ہونے سے جلد ہی کامیابی حاصل ہو۔
۴۳
باب سوم
ذکر کی قسمیں
یہ امر حقیقی مومنین کے فرائضِ ضرور یہ میں سے ہے، کہ وہ ذکرِ الٰہی کی مختلف قسموں کی کچھ مثالیں سمجھ لیں تاکہ وقت اور جگہ کے تقاضا کے مطابق ان سے دینی اور روحانی فائدہ اُٹھایا جاسکے کیونکہ قدرت و فطرت کا یہی قانون ہے کہ دین و دُنیا کی کوئی بھی چیز کُلّی طور پر مفید اور سود مند ثابت نہیں ہوسکتی، جب تک کہ اس کے متعلق پُورا پُورا علم حاصل نہ کیا جائے، لہٰذا یہ جاننا ضروری ہے، کہ مختلف اعتبارات سے ذکر کی کئی قسمیں ہیں، جن میں سے بعض اہم قسموں کو ہم یہاں بطور مثال زیرِ بحث لاتے ہیں، چنانچہ ذکرِ فرد، ذکرِ جماعت، ذکرِ جلی، ذکرِ خفی، ذکرِ کثیر، ذکرِ قلیل، ذکرِ لسانی، ذکرِ قلبی، ذکرِ بصری، ذکرِ سمعی، ذکرِ بدنی اور ذکرِ خواب۔
اقسامِ ذکر کا ثبوت:
اگر سنجیدگی سے غور و فکر کیا جائے تو مذکورۂ بالااقسام کے ذکر کی واضح مثالیں اِس آیۂ کریمہ سے ملتی ہیں، جو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
۴۴
فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا (۰۲: ۲۰۰)
پس تم اس طرح ذکرِ خدا کرو جس طرح تم اپنے باپ داداؤں کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بڑھ کے۔
چنانچہ سب سے پہلے اس ارشاد مبارک سے ایک شخص کے انفرادی ذکر کی مثال ملتی ہے کیونکہ اپنے باپ کی یاد کوئی ایک فرد بھی کرسکتا ہے، پھر اس سے جماعتی ذکر ثابت ہے، جبکہ چند بیٹے مل کر بھی اپنے آبا و اجداد کو یاد کرتے ہیں، اس کے بعد ذکرِ جلی کا اشارہ ہے، چونکہ کوئی شخص اپنے باپ داداؤں کی یاد و تعریف ترنّم اور قصیدہ خوانی کی صورت میں بھی کرتا ہے، جیسا کہ عرب کے لوگ شروع شروع میں کرتے تھے، بعد از ان ذکرِ خفی کا ثبوت ہے اس لیے کہ آدمی اپنے دل میں پوشیدگی سے بھی باپ دادا کو یاد کرتا ہے، ذکرِ کثیر اور ذکرِ قلیل کی مثال تو زیادہ واضح ہے، کہ انسان اپنے باپ کو زیادہ یاد کرتا ہے یا کم یاد کرتا ہے، ذکرِ لسانی کی مثال ذکرِ جلی کے ساتھ اور ذکرِ قلبی کی مثال ذکرِ خفی کے ساتھ ہی آگئی، ذکرِ بصری کی دلیل یہ ہے کہ ہر بیٹا اپنے باپ کو اور اس کی خاص چیزوں کو محبّت کی نگاہ سے دیکھتا ہے یا باپ کے دیدار
۴۵
کا مشتاق رہتا ہے، ذکرِ سمعی کا ثبوت یہ ہے کہ ہر انسان اپنے آباواجداد کی تعریف و تذکرہ شوق سے سُنتا ہے، ذکرِ بدنی کی مثال یہ ہے کہ ہر وہ آدمی جسے اپنے باپ کے پاس جانا ضروری ہو، جسمانی حرکت کرتا ہے اور محنت و مشقت برداشت کرتا ہے، اور ذکرِ خواب کی مثال یہ ہے کہ ہر نیک دل انسان اپنے پدرِ بزرگوار کو کبھی کبھار خواب میں دیکھتا ہے، جس کی وجہ سے باپ کی یاد و محبّت اور بھی قوّی ہوجاتی ہے۔
ذکرِ فرد:
ذکرِ فرد سے انفرادی ذکر مراد ہے، خواہ ذاکر کسی جماعت کے ساتھ ہو یا کہیں الگ، ہر حال میں جب وہ جماعت کی کسی پابندی اور ہم آہنگی کے بغیر اپنی مرضی اور آزادی سے ذکر کرتا ہو، تو یہ اس کا انفرادی ذکر کہلاتا ہے، بندۂ ذاکر کا انفرادی ذکر ہر جگہ اور ہر موقع پر مفید اور سود مند ثابت ہوتا ہے، لیکن جماعتی ذکر چھوڑ کر اس کو اختیار نہ کیا جائے، کیونکہ جماعتی ذکر کی فضیلت انتہائی عظیم ہے۔
ذکرِ جماعت:
جماعتی ذکر یا اجتماعی ذکر کی صورت یہ ہے کہ اس میں ایک سے زیادہ جتنے بھی ہوں مومنوں کی مجلس ہوا کرتی ہے، جس میں سب ہم آواز ہوکر ذکر کرلیا کرتے
۴۶
ہیں، اگر مجلسِ ذکر سے متعلق تمام شرائط اور آداب بجالائے جائیں تو اس میں ذکر و عبادت کے دوسرے طریقوں کی نسبت روحانی ترقی کے زیادہ امکانات موجود ہوتے ہیں، جس کی حکمت یہ ہے کہ ذکر خدا تعالیٰ کی نورانی رسّی ہے اور اس کو اجتماعی طور پر مضبوطی سے پکڑنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔
ذکرِ جلی:
ذکرِ جلی ایک فرد یا چند افراد کے اُس ذکر کا نام ہے، جو مؤثر آواز کے ساتھ کیا جاتا ہے، جس کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے کہ انسان کا دل غفلت اور غلط کاریوں کے سبب سے بہت جلد زنگ آلود اور تاریک ہوجاتا ہے اور ایسے دل میں ذکرِ خفی نہیں اُترتا، تاوقتیکہ ذکرِ جلی اور گریہ و زاری سے دل کی مکمل صفائی نہ ہو۔
یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے تمام اجزاء میں سے جو بھی جُز ہو جب اسے بلند اور پُر اثر آواز سے پڑھا جاتا ہے، تو وہ ذکرِ جلی کہلاتا ہے، مثلاً کسی جماعت کا بآواز بلند سبحان اللہ کی تسبیح پڑھنا وغیرہ، غرض جو بھی عبادت اونچی آواز کے ساتھ ہو وہ ذکرِ جلی ہے۔
ذکرِ خفی:
ذکرِ خفی کا مقصد پوشیدہ اور پنہان طریق پر ذکر کرنا ہے، جو کہ ذکرِ قلبی سے بہت قریب ہے۔ اس کا فائدہ
۴۷
یہ ہے کہ اس میں درویشی کی کوئی نمائش نہیں ہوتی، اور نہ ہی لوگ ایسے ذاکر کے خلاف چہ میگوئیاں کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ بتدریج دل میں اُتر کر ذکرِ قلبی کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
ذکرِ کثیر:
ذکرِ کثیر کا مطلب ہے خدا کو کثرت سے یاد کرنا، خواہ وہ یاد مختلف اذکار و عبادات کی حیثیت سے ہو یا ایک ہی ذکر کی صورت میں، وقفہ وقفہ سے ہو یا مسلسل طور پر، جلی ہویا خفی، بہرحال وہ ذکرِ کثیر ہی کہلائے گا، جبکہ مجموعی طور پر اس کی مقدار بہت زیادہ ہو۔
اس سلسلے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن پاک کی ایک آیت میں نہیں بلکہ متعدد آیات میں ذکرِ کثیر کا حکم دیا گیا ہے، جس سے یہ امر واجب اور لازم ہوتا ہے کہ مومن کو شب و روز زیادہ سے زیادہ یادِ الٰہی اور نیک کاموں میں مصروف رہنا چاہئے، کیونکہ انسان کے دل میں دو مخالف طاقتیں کار فرما ہیں، ایک تو خیر کی طاقت ہے اور دوسری شر کی، چنانچہ بندۂ مومن درست طریقے سے جتنی دیر تک خدا کو یاد کرتا رہتا ہے، اتنی مدّت کے لیے شر کی کارفرمائی بند اور خیر کی فرمائش آزاد ہوجاتی ہے، اس کے برعکس
۴۸
جب بھی انسان خدا کو بھول جاتا ہے، اس وقت خیر کی صلاحیت دب کر شر کی قوّت اُبھر آتی ہے، پس اگر شیطان اور نفسِ امّارہ کی تمام بُرائیوں کے جراثیم سے بچ کر رہنا مطلوب ہو تو اس کا چارۂ کار ذکرِ کثیر ہے۔
ذکرِ قلیل:
ذکرِ قلیل کا مطلب ہے بہت کم ذکر کرنا، اگر کم ذکر کرنے کی وجہ محض سُستی ہی ہے، تو یہ اچھی علامت نہیں، کیونکہ قرآن میں سُستی و کاہلی کی مذمت کی گئی ہے، اگر کوئی اور سبب سے کم ذکر کیا جاتا ہے اور اس میں اضافہ ہوجانے کا یقین ہے، تو خیر ہے۔
ذکرِ لسانی:
ذکرِ لسانی سے ہر وہ ذکر مراد ہے، جو زبان کی حرکت سے کیا جاتا ہے، خواہ اس میں آواز بلند ہو یا پست، اِس ذکر کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے نہ صرف ذاکر کا دل حقیقی محبّت کی طرف متوّجہ اور منتظر ہوجاتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ دوسروں کے سوئے ہوئے دلوں کو بھی خوابِ غفلت سے جگا دیتا ہے۔ کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے زبان اس لیے دی ہے کہ اس سے جتنا ہوسکے اس کا ذکر کیا جائے۔
۴۹
ذکرِ قلبی:
ذکرِ قلبی کا مطلب ہے دل کا ذکر، یہ ذکر تمام اذکار میں مخصوص ترین اور عجائباتِ روحانیّت کا حامل ہے، لیکن یہ جتنا خاص، معجزانہ اور پُرحکمت ہے، اتنا نازک اور مشکل بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ دوسرے تمام اذکار و عبادات اور نیک کاموں کے ذریعے سے اس کی مدد کی جاتی ہے، تاکہ اس کی ترقی ہو، اس کے لاتعداد فائدے ہیں اور بنیادی طور پر اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی باقاعدہ اور مسلسل مشق سے دل کی زبان کُھل جاتی ہے، جس کے نتیجے میں روحانیّت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کشادہ رہتا ہے۔
ذکرِ بصری:
بصری ذکر بندۂ مومن کی آنکھ کا ذکر ہے اور یہ کئی طرح سے ہوتا ہے، مثلاً خداوند تعالیٰ کے کسی بزرگ اسم کی دلکش تحریر کو آنکھوں کے سامنے اس غرض سے رکھنا کہ اس پر مسلسل نظر جمائے رکھنے کی مشق سے یہ مبارک اسم دل پر نقش ہوجائے، یا براہِ راست ایسے کسی اسم کا تصوّر کرنا یا قرآنِ پاک اور درجۂ اعلیٰ کی دینی کتابوں کا بغور مطالعہ کرنا نیز آیاتِ کائنات کا محقّقانہ مطالعہ کرنا آنکھوں کے اذکار میں سے ہیں۔
۵۰
ذکرِ سمعی:
یہ متبرک ذکر کان سے متعلق ہے، مثلاً اگر ایک شخص ذکر کررہا ہے اور دُوسرا شوق سے سُن رہا ہے تو یہ دونوں ذکر کررہے ہیں، اس میں پہلے کا ذکر لسانی ہے اور دوسرے کا سمعی، نیز اگر ایک مومن حسنِ قرأت کے ساتھ قرآن شریف پڑھتا ہے یا کسی بھی زبان میں خواہ منظوم ہو یا منثور، خدا کی حمد و ثنا کرتا ہے، تو یہ روح پرور آواز ایسے فرد یا افراد کے حق میں ذکرِ سمعی کا درجہ رکھتی ہے جو توّجہ اور انہماک سے سنتے رہتے ہیں۔
ذکرِ بدنی:
یعنی ایسا ذکر جس کا تعلق بدن سے ہے، اس کی بھی چند قسمیں ہیں، مگر یہاں صرف اتنا ہی بتا دینا ضروری ہے کہ ہر قسم کے ذکر اور ہر طرح کی عبادت کے سلسلے میں جو بھی محنت و مشقت لازمی طور پر اُٹھانی پڑتی ہے، وہ سب جسم ہی برداشت کرتا ہے اور خاص کر قوم اور جماعت کے حق میں جو فائدہ بخش دینی خدمت بجالائی جاتی ہے، وہ جسم ہی کی قوّتوں سے انجام پاتی ہے، جو ذکر کی ترقی کی جان ہے، بشرطیکہ یہ خدمت دنیاوی مقاصد کی تکمیل کے لیے نہ ہو، بلکہ محض خداوند تعالیٰ کی رضا جوئی کی نیت سے ہو۔
۵۱
ذکرِ خواب:
بعض دفعہ مومن ایسا نیک خواب بھی دیکھتا ہے کہ وہ اس میں ذکر و عبادت کرتا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس کیفیّت میں ایسی کوئی بندگی کرتا ہے، درست یا غلط؟ چنانچہ اگر وہ بحالتِ خواب کچھ وقت کے لیے مسلسل ذکر کرتا رہتا ہے اور اسے خوشی بھی محسوس ہوتی ہے، تو یہ اُس کی روحانی ترقی کی بشارت ہے، اگر اس کے برعکس خواب کے ذکر میں یا عبادت میں اسے دِقّت پیش آتی ہو اور سلسلہ بار بار ٹوٹ جاتا ہو تو سمجھنا چاہئے کہ وہ ذکر کے معاملے میں ہنوز کمزور ہے۔
۵۲
باب چہارم
ذکر کے عام شرائط
ذکر کے عام شرائط کی تعمیل و تکمیل یہ ہے کہ مردِ درویش اوّلًا اسلام و ایمان کی واضح اور ظاہری تعلیمات و ہدایات کے بموجب اخلاقِ حسنہ اور دینداری کی صفات سے خود کو آراستہ و پیراستہ کرلیتا ہے، یہ سب کچھ صرف نیک قول اور نیک عمل کی صورت میں کیا جاسکتا ہے، چنانچہ اِس باب میں اِسی سلسلے کے بعض اہم امور سے بحث کی جاتی ہے۔
نیکی کا ذریعہ:
جاننا چاہئے کہ نیکی کا ذریعہ ذاتی لحاظ سے نیّت ہے، پھر قول ہے اور آخر میں عمل ہے، چنانچہ ان تین ذریعوں سے ہر وہ نیکی انجام پاسکتی ہے، جو احکامِ دین کے حدود میں ہے، جو روحِ اسلام اور حکمتِ دین کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد و منشاء حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی اور خدا وند تعالیٰ کی رضا جوئی ہے، جس سے دین و ایمان کو تقویّت، علم کو فروغ، دل کو سکون اور روح کو راحت
۵۳
میسر ہو، جو نہ صرف فرد کی اخلاقی بلندی کا باعث ہے، بلکہ یہ قومی عزّت و آبرو اور ترقی و خوشحالی کا بھی ذریعہ ہے، جسے نیک نیتی، نیک قول اور نیک عمل کہا جاتا ہے، اور ایمان و عملِ صالح بھی یہی ہے، یہی تقویٰ اور عدل و احسان ہے اور اسی میں دین و دُنیا کی صلاح و فلاح پوشیدہ ہے، پس بندۂ ذاکر کو ہمیشہ نیکی پر لازم رہنا چاہئے، جس کا ذریعہ نیّت اور قول و عمل ہے۔
قول و عمل:
آپ اگر دین کی تشریح و تفصیل میں جانا چاہتے ہیں، تو اس کے سلسلے میں بہت سی باتوں کو پیشِ نظر رکھنا پڑے گا اور اگر آپ دین کی تعریف مختصر سے مختصر طور پر کرنا چاہتے ہیں تو وہ صرف دو لفظوں میں سمٹ جائے گی وہ یہ کہ دین قول و عمل ہے، یعنی پاکیزہ قول اور نیک عمل کا نام دین ہے، جیسا کہ قرآن حکیم کا ارشاد ہے:
اسی (خدا) کی طرف پاکیزہ قول چڑھ جاتا ہے اور نیک عمل ہی اسے اُٹھالے جاتا ہے (۳۵: ۱۰) یعنی عقیدہ و ایمان، عبادت، ذکر اور علم یہ سب قول ہیں، اور قول خواہ کچھ بھی ہو اس کا یہ حال ہے کہ وہ نیک عمل کے بغیر خدا کے حضور تک نہیں پہنچ سکتا، اس کے معنی یہ ہوئے کہ مومنِ ذاکر خدا کے ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ
۵۴
ضروری طور پر نیک کاموں کو بھی انجام دے تاکہ وہ خدا کے پاک نور کا تقرب حاصل کرسکے۔
قرآن حکیم میں ایسے بہت سے ارشادات ہیں جن سے اس حقیقت کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ دینِ اسلام کے تمام احکام قول و عمل میں مجموع و محدود ہیں، اور قول و عمل سے باہر کوئی چیز نہیں، اور اگر نیّت ہے تو وہ دل کے ارادے کا نام ہے، جو ان دونوں سے متعلق ہے یعنی پاکیزہ قول اور نیک عمل میں نیّت (دلی ارادہ) خود بخود شامل ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے:
اور بات میں اس شخص سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں (۴۱: ۳۳) یہاں “خدا کی طرف بلانے” میں دین کی تمام باتیں شامل ہیں، کیونکہ اسلام کی تمام باتوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جس میں بلاواسطہ یا بالواسطہ خدا کی طرف بلانے کا کوئی پہلو نہ ہو، اسی طرح “نیک عمل” میں دین کے بتائے ہوئے تمام کاموں کا تذکرہ ہے، غرض یہ کہ دین دو بڑی چیزوں کا مجموعہ ہے وہ قول اور عمل ہیں، چنانچہ ذکر نہ صرف اس معنی میں دعوت ہے کہ اس میں خدا کو پکارا جاتا ہے بلکہ یہ اس اعتبار سے بھی دعوت
۵۵
ہے، کہ اسکے ذریعے انسان اپنے نفس کو خدا کی طرف بُلاتا ہے، مگر یہ دعوت جس مقصد کیلئے بھی ہو اس وقت مقبول اور کامیاب ہوجاتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ نیک عمل بھی ہو۔
عمل اور خدا کی مدد:
ظاہر ہے کہ ذکر کے معنی میں خدا کو پکارا جاتا ہے۔ اب ضرور یہ دیکھنا ہے کہ مومنِ ذاکر خدا تعالیٰ کو کس مقصد سے پکارتا ہے، اگر وہ کسی قسم کی مدد کے لیےپکارتا ہے، تو قانونِ قدرت لازماً اسے یہ جواب دے گا کہ تم پہلے اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام تو کرو، پھر اس کے بعد مدد کے لیے پکارو، کیونکہ دنیاوی طور پر بھی یہی اصول ہے کہ کسی آدمی کی مدد اس وقت کی جاتی ہے، جبکہ وہ اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر انتہائی کوشش کے باوجود متعلقہ کام نہیں کرسکتا ہو۔
عمل اور خدا کی محبّت:
اگر ذکرِ الٰہی کا مقصد خدا کی دوستی و محبت ہے تو پھر بھی اعمالِ صالحہ کے بغیر ناممکن ہے، کیونکہ دوست کی دوستی و محبت صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہے، جبکہ اس کے حکم کے مطابق عمل کیا جائے، وہ جس کام کے لیے فرماتا ہے اسے بجا لایا جائے اور جس چیز کی ممانعت کرتا ہے اس کے پیچھے
۵۶
نہ چلا جائے، پس معلوم ہوا کہ ذکر سے پہلے یا اس کے ساتھ ساتھ دین کے تمام احکام پر عمل کرنا ضروری ہے۔
عمل اور خدا کی خوشنودی:
یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص اللہ کا ذکر کسی اور غرض سے نہیں بلکہ محض اس کی خوشنودی ہی کی نیّت سے کرتا ہو لیکن اسے یہ ضرور جاننا چاہئے کہ خدا کی خوشنودی اس کے امروفرمان پر عمل کرنے ہی سے حاصل ہوتی ہے، لہٰذا مومن کا قول اور عمل دونوں آئینِ دین کے مطابق ہونے چاہئیں۔
عمل اور عبادت:
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک سادہ لوح انسان ذکرِ الٰہی میں اس خیال سے مصروف رہا کرے کہ خدا کی جملہ عبادات بس اسی میں ہے اور صرف قول (ذکر) ہی کو لے کر گوشہ نشین ہو جائے، حالانکہ عبادت غلامی کو کہتے ہیں، اور کسی غلام کی صحیح غلامی وہ ہے جس میں وہ اپنے آقا کے حکم کے مطابق گھر اور باہر کا سب کام کرتا رہتا ہے، اسی طرح خدا کی عبادت بھی قول و عمل دونوں سے کی جاتی ہے، اس مثال سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی دین کے سارے اقوال اور تمام اعمال پر مشتمل ہے۔
۵۷
عمل اور روحانی ترقی:
یہ بالکل درست ہے کہ ذکرِ الٰہی کے بہت سے مقاصد میں سے ایک خاص مقصد روحانی اور اخلاقی ترقی ہے جس میں ہر اعلیٰ چیز خود بخود شامل ہوجاتی ہے، یعنی اس میں خدا کی مدد اور حقیقی محبت بھی ہے اور اس کی خوشنودی و عبادت بھی، لیکن یہاں پر بھی پھر وہی عمل کی بحث سامنے آجاتی ہے، کیونکہ روحانی ترقی جو دین کا سب سے بڑا کام ہے اعمالِ صالحہ کی انجام دہی کے بغیر ناممکن ہے، چنانچہ فرض کیجئے کہ ایک شخص معاشرہ اور خاندان سے الگ تھلگ ہوکر گوشۂ تنہائی میں چالیس سال تک ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتا ہے، تو ہم نے یہ مان لیا کہ ایسے آدمی نے خدا کے حقوق میں سے صرف ایک بڑے حق کو ادا کیا اور خدا کے باقی حقوق اس کی گردن پر رہ گئے، اور دوسری طرف سے خدا کے بندوں کے حقوق تو ویسے کے ویسے ہی رہ گئے، یعنی اس شخص نے بندگانِ خدا کے بہت سے حقوق میں سے ایک بھی ادا نہیں کیا، مثلاً والدین کا حق، بیوی بچّوں کے حقوق، گھر والوں کے حقوق، خویش و اقربا اور پڑوسیوں کے حقوق، یتیموں، غریبوں، محتاجوں اور بیماروں کے حقوق، زندوں اور مُردوں کے حقوق، معاشرہ،
۵۸
جماعت، قوم اور ملک و ملّت کے حقوق، پس کسی ایسے شخص کی روحانی ترقی کس طرح ہوسکتی ہے، جس نے ان تمام حقوق سے گریز کیا ہے جن کو خدا و رسولؐ نے مقرر فرمایا تھا، جن کی ادائیگی سے اعمالِ صالح مرتب ہوتے تھے۔ اس سے نہ صرف نیک کاموں کی اہمیّت و افادیّت ظاہر ہوئی، بلکہ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں رہبانیّت اس لیے ممنوع ہے کہ اس سے روحانی طور پر اتنا فائدہ نہیں جتنا کہ جماعت کے ساتھ مل جُل کر مذہبی زندگی گزارنے سے حاصل ہوسکتا ہے۔
عمل جسم ہے اور قول روح:
اس عالمِ ظاہر میں وجودِ انسانی کی تکمیل دو چیزوں کے یکجا ہونے سے ہوسکتی ہے، اگر ایسا نہ ہو تو نہ تنہا روح کوئی کام کرسکتی ہے اور نہ خالی جسم، اسی طرح اگر پاکیزہ قول دین کی روح کا درجہ رکھتا ہے تو نیک عمل اس کے جسم کی حیثیت سے ہے، پس بندۂ مومن کو چاہئے کہ ذکرِ الٰہی کی رُوح جتنی پاکیزہ ہے، اس کے مطابق نیک عمل کو بھی انجام دے تاکہ اس کے ملکوتی وجود کی تکمیل ہوکر ایک فرشتہ بن سکے۔
دینِ حق ایک انتہائی دانش مند، سالم الاعضاء اور
۵۹
صحت مند انسان کی مثال پر ہے، اب ہم یہ حقیقت واضح کریں گے کہ ذکرِ الٰہی جثّۂ دین کے دل و دماغ اور عقل و دانش کا مرتبہ رکھتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ دل کو سینہ ہی محفوظ رکھتا ہے اور دماغ کی حفاظت سر کرتا ہے، اسی طرح سینہ و سر بھی ہمیشہ دُوسرے تمام اعضاء کے لیے محتاج رہتے ہیں، جن میں سے ہر عضو اپنے مقام پر بڑی اہمیّت کا حامل ہوتا ہے، اس مثال سے یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ دین کے تمام اقوال و اعمال اسی طرح باہم مربوط اور ملے ہوئے ہیں، جس طرح انسان کی روحانی اور جسمانی قوّتیں اور حواسِ ظاہر و باطن ایک دوسرے کے ساتھ مربوط اور منظّم ہیں، چنانچہ اگر دین کے کسی قول کو یا کسی عمل کو نظر انداز کردیا گیا تو دین کا سارا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے، اس لیے دین کی ہر ہدایت پر عمل ضروری ہے۔
دین کی کوئی چیز فضول نہیں:
ایک ہوشیار انسان جب کسی جہاز یا گاڑی یا کسی مشین کے نظامِ ساخت پر غور کرتا ہے، تو وہ کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں فلان پرزہ یا فلان چیز فضول یا زائد ہے، کیونکہ اسے یقین ہے، کہ اس کے تمام چھوٹے بڑے اجزاءاپنی اپنی جگہ پر ضروری ہیں
۶۰
اور ان میں سے کوئی ایک چیز بھی غیر ضروری نہیں، یہی مثال امورِ دین کے اِس مقدس مجموعے کی بھی ہے، کہ اس میں چھوٹی بڑی جتنی چیزیں رکھی گئی ہیں وہ سب کی سب نتیجہ خیز اور مُفید ہیں اور ان میں سے کوئی چیز فضول نہیں، لہٰذا دین کے ہر حکم پر عمل کرنا واجب ہے۔
معلوم ہوا کہ دین کی کوئی چیز فضول نہیں، تاہم اسی حقیقت کی مزید تفہیم کے لیے دین کی ایک اور واضح مثال درخت سے دی جاتی ہے، چنانچہ درخت اپنے تمام اجزاء کا مجموعہ ہوتا ہے، اور پھل اس کا مقصد اعلیٰ ہے، لیکن پھل چھوٹی چھوٹی اور نازک نازک شاخوں میں لگتا ہے، جن کا قیام بڑی شاخوں پر ہے بڑی شاخوں کو تنا قائم رکھتا ہے، اور تنے کا انحصار جڑوں پر ہے، درخت کے نہ تو پتّے بیکار ہیں اور نہ ہی چھلکے فضول، جبکہ پھل پتّوں کے توڑنے سے ٹھیک طرح سے نہیں پکتا اور جبکہ چھلکے درخت کے لباس کا کام دیتے ہیں، اگر چھلکے نہ ہوں تو درخت سردی اور گرمی سے سوکھ جاتا ہے، یہی حال درختِ دین کا بھی ہے کہ اگرچہ ذکرِ خدا اس کا پھل اور مقصدِ اعلیٰ ہے، لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پُورے درخت کی پرورش و حفاظت کے بغیر عمدہ اور خوشگوار پھل حاصل کیا جائے، دینی درخت کا پھل مطلوب ہو یا
۶۱
پھول اور سایہ، ہر حالت میں اِس درخت کے تمام اجزاء کی محافظت و نگہبانی واجب ہوتی ہے۔
کشتی کی مثال:
اگر ایک انسان دین کے قول و عمل میں سے ایک کو بجا لاتا ہے اور دُوسرے کو پسِ پشت ڈالتا ہے تو اس کی مثال ایک ایسے ناواقف اور انجان ملاح کی طرح ہے جواپنی کشتی کو منزل کی طرف لے جانے کی غرض سے ایک ہی چپّو کو چلاتا ہے اور دوسرے کو استعمال نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں کشتی آگے بڑھنے کی بجائے چکّر کاٹتی رہتی ہے وہ اس گمان میں مبتلا ہے کہ کشتی منزل مقصود کی طرف بڑھ رہی ہے، آپ اس مثال سے بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ قول و عمل میں سے ایک کو لیے بیٹھنا اور دوسرے کو چھوڑ دینا کتنی بڑی غلطی اور ناکامی ہے، لہٰذا دانش مند مومن وہ ہے جو دین کی ہر بات اور کام کی قدر و قیمت کو سمجھ لیتا ہے اور اسے جیسا کہ چاہئے انجام دیتا ہے۔
۶۲
باب پنجم
ذکر کے خاص شرائط
ذکرِ الٰہی امورِ دین میں سے ایک ایسا امر ہے جو عوام میں عام اور خواص میں خاص ہے، یہی وجہ ہے جو گزشتہ باب میں ذکر کے عام شرائط درج کیے گئے اور اب اس باب میں خاص شرائط بیان کیے جاتے ہیں تاکہ ہر مومنِ ذاکر کو اِس عظیم الشّان کام کی باریکیوں اور نزاکتوں کا پختہ علم حاصل ہو، اور علم ہی کی روشنی میں حصولِ مقصد کے لیے عمل کیا جائے۔
ذکر اور اذن:
مومنین کو اس حقیقتِ ثابتہ پر مکمل یقین رکھنا چاہئے کہ ذکرِ الٰہی کی ترقی و کامیابی کا اصل راز اذن و اجازت میں پنہان ہے، اور اس کے سوا حقیقی روحانیت کا دروازہ نہیں کُھلتا، جیسے قرآن پاک کی پُرحکمت تعلیمات سے یہ مطلب ظاہر ہوتا ہے کہ اذن دینِ اسلام کے خاص اصولات میں سے ہے، چنانچہ خدائے پاک کا ارشاد ہے:
۶۳
(ترجمہ) سوائے اس کے نہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسُول پر ایمان لائے ہیں اور جب کسی مجمع کے موقع پر رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک رسول سے اجازت نہ لے لیں چلے نہیں جاتے۔ بیشک جو لوگ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں وہی تو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں پھر جب وہ تم سے اپنے کسی خاص کام کے لیے اجازت چاہیں تو ان میں سے تم جس کو چاہو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لیے خدا سے مغفرت طلب کیا کرو۔ (۲۴: ۶۲)
اس ارشاد مبارک سے یہ حقیقت صاف طور پر روشن ہوجاتی ہے کہ مرکزِ ہدایت سے اذن لینا نہ صرف حقیقی مومنوں کے اوصاف میں سے ہے، بلکہ یہ پروردگارِ عالم کا ایک خاص امر بھی ہے کہ آنحضرتؐ ایسے مومنوں میں سے جن کو چاہیں مخصوص قسم کے دینی کاموں کی اجازت دے دیا کریں، اور اس کے علاوہ ان کے گناہوں کی بخشش کے لیے خدا سے دُعا بھی مانگیں، تاکہ خداوند تعالیٰ انہیں ان کاموں میں کامیابی اور برکت عطا فرمائے۔
ظاہر ہے کہ یہ اجازت ایسے اقوال و اعمال سے متعلق ہے جو دائرہ دینِ متین کے اندر ہیں اور جن کے کرنے میں خدا و رسولؐ
۶۴
کی مرضی ہو اور اس سے یہ تخصیص بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہ چیز سب کو میّسر نہیں بلکہ یہ صرف ان مومنوں کے واسطے ہے جو صحیح معنوں میں ایمان لائے ہیں اور دل و جان سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی تابعداری کرتے ہیں، پس عجب نہیں کہ اس اجازت میں ذکرِ الٰہی جیسے عالی شان امر کی طرف بھی اشارہ ہو اور یقیناً ایسا ہی ہے، کیونکہ صرف ایسا ذکر سکونِ قلب کا ذریعہ بن سکتا ہے، جس میں رسُولِؐ خدا کی اجازت اور دُعا شاملِ حال رہے۔
قرآنِ حکیم (۵۸: ۱۲ تا ۱۳) میں اللہ تعالیٰ کا جو ارشاد ہے، اس کا مختصر مطلب یہ ہے کہ عہدِ نبوّت میں حضور انورؐ سے مومنین انفرادی طور پر خلوت میں یا سرگوشی کے انداز میں راز کی باتیں پوچھ لیا کرتے تھے، چنانچہ اس امرِ واقع سے کئی حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے ان میں سے ایک تو یہ کہ یہاں سے شریعت کے علاوہ طریقت، حقیقت اور معرفت کے مدارج کی تعلیمات بھی ثابت ہوجاتی ہیں کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اُن عمومی ہدایات و تعلیمات کے لیے جو ایک بار قانونِ شریعت کی حیثیت سے علی الاعلان تمام مسلمانوں کے سامنے رکھی گئی ہیں، آنحضرتؐ کو دوبارہ تکلیف دینے کی ضرورت ہی نہ ہوتی، لیکن چونکہ حضور اقدسؐ ہر شخص کو اجتماعی تعلیم کے
۶۵
علاوہ اس کے علم و عمل کی کیفیت اور اس کی طلب کے مطابق طریقت، حقیقت اور معرفت کی تعلیمات سے سرفراز فرما دیا کرتے تھے، اگر یہ خصوصی اور انفرادی تعلیم و ہدایت ان مومنوں کو اِس طرح کی راز داری کی صورت میں نہ دی جاتی، تو اس سے نہ صرف یہی کہ بعض ذہین اور مستعد افراد کی علمی اور روحانی پرورش ادھوری رہ جاتی بلکہ ساتھ ہی ساتھ رسُول محمد مصطفےٰ صلعم کے علم و حکمت کا ایک گران مایہ حصّہ نایاب ہوجاتا۔
چنانچہ حضرت مولانا امیر المومنین علی علیہ السّلام کے بارے میں معتبر تفاسیر کی یہ روایت ہے کہ آن جنابؑ اکثر رسُول اکرمؐ سے اِس راز جوئی کے طور پر خاص علوم دینیہ کی تعلیم لیا کرتے تھے، اِس سے یہ حقیقت واضح اور روشن ہوگئی کہ جو حقائق و معارف سرورِ انبیاءؐ سے مولانا علی علیہ السّلام نے حاصل کرلیے تھے، وہ أئمّۂ آلِ محمّد علیہم السّلام کے پاک سلسلے میں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوئے آج بھی اس دُنیا میں موجود ہیں، اور ذکرِ الٰہی کی خصوصی ہدایت و اجازت بھی انہی اسرار میں سے ہے۔
اگر کوئی شخص آیۂ نجوٰی کے بارے میں یہ خیال رکھتا ہو کہ اصحابِ رسُولؐ تخلیہ میں آنحضرتؐ سے جو راز کی باتیں پوچھ لیا
۶۶
کرتے تھے، وہ سب دُنیاوی صلاح و بہبود کی باتیں ہوتی تھیں، کیونکہ آنحضرتؐ نہ صرف اخروی نجات کے لیے مبعوث ہوئے تھے، بلکہ دُنیاوی صلاح و فلاح کی ہدایت بھی آپؐ ہی سے مل سکتی تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کی دُنیاوی بہتری اور ترقی بھی دین کی ظاہری اور عمومی ہدایات سے الگ نہیں ہوسکتی تھی، کیونکہ وہ تو ایک اجتماعی اور قومی مسئلہ تھا، تاہم اس سے انکار نہیں کہ اس رازداری کے سلسلے میں بہت تھوڑی مثالیں دُنیاوی قسم کی بھی ہوسکتی ہیں، مگر آیۂ نجویٰ کے نفسِ مضمون کی حکمت کے علاوہ اس کے ترجمہ و تفسیرسے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا زیادہ تر تعلق دینی امور سے ہے، خصوصاً اس کا اشارہ اسرارِ علوم اور مدارجِ روحانیت کی طرف ہے۔
اسی سلسلے میں اس آیۂ پُرحکمت پر غور کیا جائے، جو ارشاد ہے کہ:
فَذَكِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ (۸۸: ۲۱)
تم تو نصیحت کرتے رہو تم تو بس نصیحت کرنے والے ہو۔
یعنی اے رسُولؐ آپ تو انہیں یاد دلاتے رہیے آپ تو بس یاد دلانے والے ہیں، چنانچہ اس حکم کے مطابق یہ امر لازم آتا ہے کہ آنحضرتؐ اپنے عہد مبارک میں بعض خواص
۶۷
کو ذکرِ الٰہی کی اجازت دے کر کماحقہٗ عملی طور پر یاد دلائیں جن حقائق و معارف کی یاد مقصود تھی، کیونکہ “ذَکِّر” کا مطلب ہے یاد دلائیے، ذکر کرائیے اور ذکر کی اجازت کا ذریعہ مہیّا کیجئے، کیونکہ عدلِ خداوندی کا تقاضا یہ ہے کہ عہدِ نبوّت کے بعد جو زمانہ قیامت تک آنے والا تھا اس میں بھی آنحضرتؐ کا یہ فیض جاری و باقی رہے، اور وہ صرف اسی صورت میں ممکن تھا کہ حضور اقدسؐ ذکرِ الٰہی کی ہدایت و اجازت اپنے جانشین کے سپرد کردیں تاکہ لوگوں کی طرف سے خدا و رسولؐ پر کوئی ایسی حجت قائم نہ ہوسکے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے پیغمبرؐ نے صرف زمانۂ نبوّت ہی کے لوگوں کو سب کچھ عنایت کردیا تھا۔
سورۂ ابراہیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: (اے رسُولؐ) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک کلمے کی کیسی مثال بیان کی ہے کہ (پاک کلمہ) گویا ایک پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی ٹہنیاں آسمان میں لگی ہوں اپنے پروردگار کی اجازت سے ہمہ وقت پھل دیتا رہتا ہے اور خدا لوگوں کے واسطے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں (۱۴: ۲۴ تا ۲۵)۔
۶۸
اِس آیۂ کریمہ میں جو عظیم الشّان حکمتیں پوشیدہ ہیں، ان کی کلید لفظ “اذن” یعنی اجازت کے معنی میں پنہان ہے، وہ اس طرح کہ یہ پاک و پاکیزہ درخت اس کے باوجود کہ میوہ تو ہر موسم اور ہر فصل میں تیار اور موجود رکھتا ہے، لیکن یہ اپنا پھل کسی انسان کو صرف اُس وقت دے سکتا ہے جبکہ پروردگار دینے کے لیے حُکم دیتا ہے، اور اگر خدا کی اجازت نہ ہو تو نہیں دیتا، اس حال سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس شجرۂ طیبہ کو پہلے ہی سے خدا تعالیٰ کے اذن و اجازت کا علم دیا گیا ہے، یا یہ کہ اس کو ہر وقت خدا کی طرف سے نورانی توفیق و ہدایت ملتی رہتی ہے جس کی روشنی میں یہ خوب جانتا ہے کہ خداوند تعالیٰ یہ پھل کس کس کو دینا چاہتا ہے اور کس کس کو نہیں چاہتا۔
چنانچہ شیعہ امامیہ کی تفاسیر میں ہے کہ اس آیت میں شجرۂ طیبہ کا مطلب حضرت امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا کہ: یہاں وہ درخت مراد ہے جس کی جڑ جناب رسولِ خُدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور تنا جناب امیر المومنین علی علیہ السّلام اور شاخیں أئمّہ علیہم السّلام ہیں جو ان ہر
۶۹
دو بزرگواروں کی ذرّیت ہیں أئمّہ علیہم السّلام کا علم اس درخت کا پھل ہے اور ان حضرات کے شیعہ مومنین اس درخت کے پتّے ہیں۔
اسم کا تقرّر:
یہ حقیقت بجائے خود مانی ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں، ان میں سے جس نام سے بھی اسے پُکارا جائے، وہ سُنتا ہے اور ہر اسم سے ایک طرح کا ذکر ہوتا ہے، جو موجبِ ثواب ہے اور خدا کے سب نام اچھے اور بڑے ہیں، لیکن اس حقیقت کے باوجود بھی اسمِ اعظم کا جو تصوّر ہے وہ بالکل درست اور صحیح ہے، جس کی دلیل یہ ہے کہ زمان و مکان اور منازلِ روحانیّت کا جیسا بھی تقاضا ہو ویسا ہی کوئی نامِ خدا بزرگ ترین اسم قرار پاتا ہے۔
چنانچہ جب حضرت آدم علیہ السّلام بہشت سے بحکمِ خدا نکل آئے تو اس وقت وہ کچھ ایسے تو نہ تھے کہ خدا کے سب نام بھول گئے ہوں، لیکن موقع اور ضرورت کے اعتبار سے اس وقت اللہ کے ناموں میں سے کس نام کا ذکر کرنا چاہئے یہ بات البتہ وہ نہیں جانتے تھے، لہٰذا پروردگار عالم کی جانب سے حضرت آدمؑ کو اُس حالت کے عین مطابق اسم اور کلماتِ تامّات کا تقرّر ہوا، جس سے ان کی توبہ قبول ہوگئی، یعنی ان کا روحانی
۷۰
اور اصلی مرتبہ بحال ہوگیا۔
اگر قرآن حکیم کی روشنی میں احوالِ انبیاء علیہم السّلام پر جیسا کہ چاہئے غور کیا جائے، تو یقیناً صاف صاف معلوم ہوجائے گا کہ خدا کی طرف سے اسمِ اعظم کا تقرّر ان حضرات کے الگ الگ مواقع کے مطابق ہوتا تھا، چنانچہ یہ بات خدا و رسولؐ اور صاحبِ امرؑ ہی خُوب جانتے ہیں کہ کس وقت کون سا اسم ہونا چاہئے اور کس مومن کو کیا دینا چاہئے، جس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ اگر ایک غیر مسلم انسان حضور انور نبی محمد صلعم کی نبوّت کے لیےاقرار کیے بغیر چالیس سال تک اللہ کے تمام ناموں کا ذکر کرتے رہا کرے تو صاف ظاہر ہے کہ محض خدا کے ناموں کے وسیلے سے اس کو وہ نور نہ ملے گا جو دینِ اسلام میں ہے، اِس سے پھر وہی روشن حقیقت سامنے آئی کہ ہر ضرورت مند کے لیے اسمِ اعظم الگ مقرر ہوتا ہے، چنانچہ اگر وہ غیر مسلم شخص (جس نے خدا کے سب ناموں کا ذکر کیا اور کچھ نہ پایا) اِس بات پر پوری طرح سے عمل کرتا کہ خُدا کے آخری دین میں وہ اسمِ اعظم جسے سب سے پہلے اپنانا چاہئے محمّد رسُول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی ذات عالی صفات ہی ہے، تو پھر وہ سب کچھ پالیتا۔
۷۱
ذکر اور نیّت:
دینِ اسلام میں خلوصِ نیّت کے بغیر کوئی قول و عمل درست نہیں لہٰذا ذکرِالٰہی کے خاص شرائط میں سے ایک شرط نیّت کی پاکیزگی ہے، وہ یہ کہ روحانی ترقی اور خدا کی نزدیکی کی نیّت سے اور خاص کر خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے ذکر کیا جائے، اس کے برعکس اگر کوئی شخص کسی دُنیاوی مقصد کے حصول کی خاطر ذکر و عبادت کرتا ہو تواسے ذکر میں کوئی کامیابی نہ ہوسکے گی، اگر کچھ کامیابی ہوبھی گئی تو اِس سے دینی اور اُخروی طور پر کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
ذکر اور عقیدہ:
عقیدہ ایمان و ایقان کی اصل و اساس اور ابتدائی شکل ہے اور بعض معنوں میں یہ خود ایمان بھی ہے، اس لیے ذاکر میں عقیدۂ راسخ کا ہونا از حد ضروری اور لازمی ہے، کیونکہ جس آدمی کا عقیدہ اور اعتقاد کمزور ہو، وہ ذکر میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتا جس کا اعتقاد نہ ہو وہ ایک قسم کا بے دین ہوجاتا ہے، اور جس کا عقیدہ مضبوط ہو وہی دین میں ہر قسم کی ترقی کرسکتا ہے۔
۷۲
ذکر اور طہارت:
قرآنِ پاک نے متعدّد آیات میں طہارت یعنی ظاہری اور باطنی صفائی و پاکیزگی پر زور دیا ہے، ان میں سے ایک آیۂ مبارکہ کا ارشاد یہ ہے: بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے (۰۲: ۲۲۲) یہاں توبہ پہلے آئی ہے اور طہارت بعد میں، جس کی حکمت یہ ہے کہ جب تک گناہوں سے قطعی توبہ نہ کی جائے، اس وقت تک نہ تو دل کی پاکیزگی ہوسکتی ہے اور نہ ہی ظاہری طہارت و صفائی کام آسکتی ہے، لہٰذا مومنین پر فرض ہے کہ ظاہر و باطن کی دونوں صورتوں میں ہمیشہ پاک صاف رہنے کی عادت کو اپنائے رہیں۔
ذکر اور شب خیزی:
قرآنِ حکیم نے شب خیزی یعنی رات کے ذکر و عبادت کی بہت تعریف و توصیف فرمائی ہے اور خصوصاً سورۂ مزّمل میں جس پُرحکمت اور دل نشین انداز سے شب بیداری کی ترغیب دی گئی ہے، اس کا واضح مفہوم و مطلب یہ ہے کہ مستقل طور پر شبینہ ذکر و عبادت کی عادت ڈالنے سے نفسِ امّارہ مغلوب و پامال ہوجاتا ہے جس
۷۳
کے نتیجے میں نہ صرف ذکر کا تسلسل قائم رہتا ہے بلکہ اس سے انسان کی عقل و دانش اور طرزِ بیان میں بھی زیادہ سے زیادہ استقلال و استقامت پیدا ہوجاتی ہے۔
ذکر اور گریہ و زاری:
گریہ و زاری کا اصطلاحی مطلب ہے بندۂ مومن کا خداوند تعالیٰ کے حضور زار زار رونا، اپنے چھوٹے بڑے گناہوں کی پشیمانی کے ساتھ عجز و انکساری کا مظاہرہ کرنا اور بارگاہِ ایزدی سے عفوومغفرت اور ہدایت و رحمت کا خواستگار رہنا، یہی طریقہ نہ صرف ہر قسم کے گناہ سے توبہ کرنے کی صحیح عملی صورت ہے بلکہ یہی خود تقویٰ اور تواضع کی اصل و بنیاد بھی ہے اور غرور و تکبّر کا بہترین سدِّباب بھی۔
اگر کوئی شخص فوری طور پر قرآنی اور روحانی حکمتوں کی روشنی میں گریہ و زاری کی اخلاقی اور دینی قدروں کا مشاہدہ نہ کرسکتا ہو، تو وہ سنجیدہ قسم کے فلسفہ اور معیاری نفسیات کی روشنی میں اس کی اصلاحی کارکردگی کا جائزہ لے، یا کم از کم یہ پُرحکمت عمل بطور تجربہ خود ہی کرکے دیکھے۔
یہ بات علیٰحدہ ہے کہ کوشش کے باوجود کسی مومن سے
۷۴
بوقتِ ضرورت کوئی گریہ و زاری نہیں ہوتی، ایسی صورت میں اسے بڑی سختی کے ساتھ احساس ہونا چاہیے کہ ایسا شخص “قساوتِ قلبی” کے مرضِ روحانی میں مبتلا ہوچکا ہے، جو بیجا طور پر دل سخت ہوجانے اور خوفِ خدا نہ ہونے کی بیماری ہے، جس آدمی میں قساوتِ قلبی کی بیماری ہو وہ روحانیّت میں کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ ہی وہ درویش کہلاسکتا ہے۔
دینی علم کی باتیں سنتے وقت، عبادت و ریاضت کے دوران اور ذکرِ خفی و جلی کے موقع پر مومن کے دل میں رقّت و نرمی اور سوز و گداز کا پیدا نہ ہونا بدقسمتی ہرگز نہیں، بلکہ یہ انجام مومن کے اپنے ہی گناہوں کے سبب سے ہے، اس لیے اسے یہ امر ضروری ہوگیا ہے کہ اپنے تمام اقوال و اعمال اور عادات و اطوار کا نہایت ہی باریکی سے جائزہ لے کر ہر چھوٹے بڑے گناہ سے تائب ہوجائے اور ہر نادرست عادت کی درستی و اصلاح کرے۔
اب ہمیں ذرا گریہ و زاری کی عملی کیفیت و حقیقت پر غور کرنا چاہیے کہ یہ چیز انسانی دل و دماغ میں کس طرح ایک عظیم اصلاحی انقلاب برپا کر دیتی ہے، اور اس کی تاثیر کی کارفرمائی سے انسان کا ہر ارادہ، ہر بات اور ہرکام کیسے درست ہوسکتا ہے،
۷۵
چنانچہ مثال کے طور پر جاننا چاہیے کہ جب انسان اس دُنیا میں پیدا ہوتا ہے اور جب تک شیر خوارگی اور معصُومی کی زندگی گزارتا ہے اس وقت تک ایک عام آدمی کا دل و دماغ بڑی مشکل سے اصلی اور فطری حالت پر قائم رہ سکتا ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ “ہرمولود دینِ فطرت کے عین مطابق پیدا ہوتا ہے” پھر اس کے بعد جوں جوں اس کی عمر آگے بڑھتی جاتی ہے توں توں اس کے فطری دل کے اوپر ایک ایک غلاف چڑھتا جاتا ہے کچھ تو دُوسرے لوگوں کے غلط تاثرات کے سبب سے اور کچھ اس کے اپنے نفس کی خواہشات کی وجہ سے، چنانچہ رفتہ رفتہ انسان کے دل و دماغ پر زنگ و کدورت کے بہت سے غلاف چڑھے ہوئے ہوتے ہیں، اب اس کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں، کہ وہ توبہ کے طور پر بھی اور دیدارِ الٰہی کی شدّتِ شوق سے بھی گریہ و زاری کرلیا کرے تاکہ بتدریج یہ سب غلاف زائل ہوجائیں اور آئینۂ دل کا اصلی اور فطری نکھار اور چمک دمک ظاہر ہو۔
جب بندۂ مومن خدا کے حضور توبہ کی صورت میں یا نورانی دیدار کے جذب و شوق سے گریہ و زاری کرتا ہے اور گڑگڑاتے
۷۶
ہوئے دُعا مانگتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کی رحمت شاملِ حال ہوجاتی ہے اور روز روز کے اس عمل سے دل اور نفس کا تزکیہ ہوجاتا ہے اور اسے روحانی ترقی میں کامیابی حاصل ہوتی ہے یہ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے، کہ اگر انسان کا نفس میلا، زنگ آلود اور ناپاک نہ ہوجاتا، تو قرآن کبھی نہ فرماتا کہ جس نے اس (نفس = جان) کو پاک کیا وہ تو کامیاب ہوا اور جس نے اسے دبا دیا وہ نامراد رہا (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا ، ۹۱: ۰۹ تا ۱۰)اِس آیۂ مبارکہ کی حکمت اپنی پُرمایہ مثال سے مومن کی غیرتِ ایمانی کو جگا دیتی ہے کہ نفس یعنی جان گناہوں کے ڈھیر میں دب گئی ہے اسے جلد از جلد نکال کر پاک صاف کردیا جائے اور یہ بڑا مشکل کام صرف گریہ و زاری، توبہ و تواضع اور ذکر و عبادت سے انجام پاسکتا ہے۔
جو ہوش مند یہ سمجھتا ہو کہ وہ حقیقت میں ابھی تک روحانیّت کا جوان اور پہلوان نہ ہوسکا ہے، بلکہ وہ راہِ روحانیّت کا طفلِ شیر خوار یعنی چھوٹا بچّہ ہی ہے، تو پھر وہ اپنی روحانی پرورش اور باطنی نشو و نما کے لیے گریہ و زاری کرتا رہے، تاکہ دایۂ نُورِ الٰہی کو رحم آئے، اور اس کی معجزاتی پرورش و تربیت ہونے لگے۔
۷۷
وہ حقیقی مومنین، جو روحانیت کی ترقی پر ہیں، جب پچھلی رات کو مناجات، منقبت اور گنان کی صورت میں خوب گریہ و زاری اور دُعا کرکے نورانی عبادت میں لگ جاتے ہیں تو اس میں ان کا مقدّس ذکر پُرنور اور پُرمعجزہ بن جاتا ہے، ان کے دل میں حقیقی محبت کا سمندر موجزن ہونے لگتا ہے، اور اسی کامیاب اصول کے اپنانے سے ان کے گلشنِ روحانیّت میں ہر روز ایک نئی عظیم الشّان بہار اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ گریہ و زاری میں نہ صرف لغزشوں اور گناہوں سے توبہ اور طلبِ مغفرت کے معنی پوشیدہ ہیں بلکہ اس میں ایمان و ایقان کی ترقی و مضبوطی اور آئندہ خطرات و بلیّات سے بچنے کی پُرسوز اور مقبول دُعا بھی پنہان ہے۔
قرآن حکیم نے بڑے سے بڑے نقصانات اور شدید ترین مصائب و آلام کے موقع پر بھی رونے کی ممانعت فرمائی ہے اور ہر تکلیف و مصیبت کو صبر و استقلال سے برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے برعکس انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام اور درجۂ اوّل کے مومنین کی اُس گریہ و زاری کی بے حد تعریف کی گئی ہے کہ یہ گریہ و زاری وہ حضرات اکثر روحانی ترقی اور
۷۸
دیدارِ الٰہی کے حصول کی غرض سے کرلیا کرتے تھے۔
قرآن مقدّس میں حقیقی مومنین کی ایک اور خاص صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ جب جذبۂ ایمانی سے رویا کرتے ہیں تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرتے ہیں، یقیناً یہ عمل خدا کے نزدیک عاجزی و انکساری کی انتہائی حد ہے جس کے نتیجے میں خداوند عالم اہلِ ایمان پر اپنی بے پناہ رحمتوں اور برکتوں کی بارش برسا دیتا ہے۔
گریہ و زاری کی ایک اور حکمت یہ ہے کہ جب انسان ایک شیرخوار طفل ہوتا ہے تو اس وقت وہ کچھ بھی بول نہیں سکتا یعنی وہ بظاہر بے زبان سا ہوتا ہے، مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، کیونکہ انسان بچّہ ہونے کے باوجود بھی اشرف المخلوقات ہی ہے لہٰذا پروردگار عالم بچّے میں رونے کی صلاحیت و قوّت پیدا کردیتا ہے، تاکہ بچّہ بوقتِ ضرورت رو لیا کرے، اور بچّے کا یہی رونا ہر قسم کی حاجت طلبی ہے، جس کا مطلب مادرِ مشفقہ بآسانی سمجھ لیتی ہے اور ہر طرح سے اس کی خبر گیری و پرورش کرتی رہتی ہے۔
مختصر یہ کہ پروردگارِ عالم کے حضور میں گریہ و زاری کرنے سے بندۂ مومن کی نفسانی خواہشات اور باطل خیالات وقتی
۷۹
طور پر یکسر مٹ کر ذکر و عبادت کا جوہر کھلتا ہے اور اسی طریق پر بار بار کے عمل سے دانش مند مومن کو خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
ذکر اور دُعا:
ذکر کے اس موضوع میں یہ امر بھی زیادہ مناسب ہے کہ دُعا کی بابت چند بنیادی اور ضروری باتیں بتا دی جائیں کہ دُعا کی اہمیت و افادیت کیا ہے، کون کون سے اوقات و مواقع اس کے لیے موزوں ہوتے ہیں اس کا طریقِ کار کیا ہونا چاہیے وغیرہ، چنانچہ جاننا چاہیے کہ دُعا مومن کی ایک قابلِ قدر صلاحیت اور بہترین قوّت ہے اور یہ سب انسانوں کے لیے عام نہیں، بلکہ صرف مومنین ہی کے لیے خاص ہے، قرآنِ حکیم کی جو آیات دُعا کے موضوع سے متعلق ہیں، ان کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دُعا اہلِ ایمان کے لیے نہایت ہی ضروری ہے اور انہیں اِس سے ہر وقت اور ہر موقع پر فائدہ اُٹھانا چاہیے، خصوصاً سخت کاموں اور مشکلات کے سامنے آنے پر اور ہر کام کے آغاز میں بارگاہِ ایزدی میں گریہ و زاری اور عاجزی و محتاجی کے ساتھ دُعا کی جائے کیونکہ حقیقی مومن کی دُعا کبھی ضائع نہیں جاتی، وہ اِس طرح کہ اوّل تو وہی مقصد بلا تاخیر
۸۰
یا بدیر حاصل ہوتا ہے، جس کے لیے دُعا کی جاتی ہے، اگر خدا کے نزدیک اس مقصد کے حصول میں مومن کی بہتری نہ ہو تو دُعا کا پھل کسی اور صورت میں مل جاتا ہے، مثلاً گناہ کی معافی، خواہشاتِ نفس سے خلاصی، حسنِ توفیق، بُری عادات سے چھٹکارا، شوقِ عبادت، قلب کی صفائی، فہم و ادراک کی تیزی، حلیمی اور تواضع، گفتگو میں سنجیدگی، صبر و سکون، جذبۂ علم، دین سے دلچسپی، نجاتِ آخرت وغیرہ وغیرہ۔
چنانچہ بڑے خوش نصیب ہیں وہ مومنین جو اپنے تمام نیک کاموں میں اللہ تعالیٰ کی روحانی اور غیبی مدد کے لیے دُعا کرنے کے عادی ہیں،مثال کے طور پر وہ جب رات کے وقت اپنے کام کاج اور عبادت و بندگی سے فارغ ہوکر بستر پر لیٹ جاتے ہیں، تو ایسی دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو نیند کے دوران ہر بلا اور ہر بُرائی سے محفوظ اور سلامت رکھے، اور انہیں نُورانی عبادت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے وقت پر جاگنا نصیب ہو، وہ جب وقت پر جاگتے ہیں تو انتہائی مسرت و شادمانی سے خداوند تعالیٰ کا شکر بجالاتے ہیں اور دُعا مانگتے ہیں کہ سارا دن یادِ الٰہی اور نیک کاموں میں گُزرجائے جب وہ ذکر کی تیاری کرتے ہیں تو
۸۱
اپنی ہی زبان اور اپنے الفاظ میں آہستہ آہستہ مناجات کرتے ہوئے اُس طرف رحمان و رحیم کی بے پناہ رحمت اور اِس طرف اس قدر روحانی مفلسی، غربت، محتاجی، پس ماندگی، گناہ، غفلت، سستی، لاعلمی وغیرہ کا تصوّر کرکے گریہ و زاری اور سوز و گداز کے عالم میں جبینِ نیاز مندی زمین پر رکھ کر التجا کرتے ہیں کہ خُدائے قادرِ مطلق کی طرف سے معجزانہ طور پر ان کی دستگیری اور یاری و مدد حاصل ہو۔
یاد رہے کہ بندۂ مومن کو دُعا کے ذاتی پہلو کے علاوہ دوسرے تمام پہلوؤں سے بھی فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہے، یعنی رسُول اللہ صلعم، صاحبِ امرؑ اور مومنین کی اجتماعی و انفرادی دُعاؤں کا فیض بھی مل سکتا ہے، مگر شرائط کی بجا آوری کے بغیر یہ امر ناممکن ہے اور وہ شرائط دینداری اور ایمانداری کے اوصاف ہی ہیں، یعنی انسان عملاً مومن ہوکر دُعا کے ہر رُخ سے فیضان حاصل کرسکتا ہے یا مختصراً یُوں کہنا چاہیے کہ دُعا کی ہر قسم سے مستفیض ہونے کی واحد شرط فرمانبرداری ہی ہے، اور نافرمانی کی صورت میں کوئی بھی دُعا مفید نہیں ہوسکتی۔
ہمیں حضرت نوح علیہ السّلام کے قرآنی قصّے میں خوب غور و فکر کرنا چاہیے کہ آنجنابؑ نے اپنے نافرمان بیٹے کی نجات
۸۲
کے لیے خدا کے حضور کس قدر چاہت سے سفارش کی تھی، کیا ان کی ایسی خواہش میں دُعا کی رُوح پوشیدہ نہیں تھی، جبکہ دُعا کے معنی طلب کرنے کے ہوتے ہیں؟ لیکن اس وصف کے باوجود کہ آپ ایک خاص پیغمبر تھے، آپ کی یہ سفارش اور دُعا نا منظور ہوئی، اس لیے کہ دعا وہاں کام آتی ہے جہاں اس کے شرائط بجالائے گئے ہوں، دُوسری طرف حضرت نوحؑ نے اپنے وقت کے کافروں کو بد دُعا دی تھی، وہ تو غرق اور ہلاک ہوگئے، کیونکہ ان کافروں میں آپ کی بد دُعا کار گر ثابت ہوجانے کے شرائط پُورے ہوچکے تھے۔
اس پُورے بیان کا خلاصہ یہ ہوا کہ اپنی اور دُوسروں کی کوئی نیک دُعا اس وقت مفید ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ اس کی شرطیں پُوری کی گئی ہوں، غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جس جامعیّت سے طرح طرح کی صلاحیتوں اور قوّتوں کو مومن کے باطن میں سمودیا ہے، اُن سے کام نہ لینا، اپنے بس کی بات کسی اور کے ذمہ ٹھہرانا، اپنے اندر آرام طلبی اور کاہلی کی عادت ڈالنا اور عظیم الشّان فرائض منصبی سے گریز کر جانا بہت بڑی ناشکری اور عظیم گناہ ہے۔
۸۳
ذکر اور خوراک:
جو مومن ذکرِ الٰہی کے روحانی خزانوں تک رسا ہوجانا چاہتا ہے، اسے متعلقہ آداب کے سلسلے میں بڑی احتیاط سے یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس کے کھانے پینے میں جو جو چیزیں شامل ہیں وہ سب کی سب شریعتِ محمدیؐ کے مطابق حلال و جائز ہوں، کیونکہ مومن کبھی حرام خور نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ حلال ہی کھاتا پیتا ہے، وہ حلال میں بھی بڑا محتاط رہتا ہے، یعنی وہ اس طرح پیٹ بھر کر غذائیں نہیں کھاتا جس سے کہ ذکر و عبادت کے دوران سُستی، بے توجہی اور نیند کا غلبہ ہو، خصوصاً شام کے وقت اس کا زیادہ خیال رکھتا ہے تاکہ رات کو بروقت یادِ الٰہی کے لیے اُٹھ سکے اور خاطر جمعی سے ذکر کے تسلسل کو قائم رکھ سکے، ورنہ ذکر میں طرح طرح کی رکاوٹیں اور مزاحمتیں پیش آتی رہتی ہیں۔
ذکر اور نیند:
مومنِ ذاکر کے لیے جس طرح کھانے پینے میں احتیاط و اعتدال سے کام لینے کی سخت ضرورت ہے، اسی طرح اسے نیند کے بارے میں بھی محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ نیند کے عالم میں زیادہ دیر تک پڑے رہنے سے ایمانی روح بیحد کمزور ہوجاتی ہے، اس لیے کہ نیند ایک قسم کی
۸۴
مُردگی (موت) ہے جس میں مَلَکی طاقتیں قائم نہیں رہ سکتی ہیں، اور نہ اس میں روح الایمان ٹھہر سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پرہیز گاروں کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ بہت کم سویا کرتے ہیں (۵۱: ۱۷) اس تھوڑی سی نیند میں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے کہ اس سے انسان کا دل و دماغ دن بھر کے دُنیاوی خیالات و افکار سے کافی حد تک آزاد ہوجاتا ہے، ساتھ ہی ساتھ تھکاوٹ دُور ہوکر طبیعت میں تازگی پیدا ہوتی ہے، اس لیے کچھ دیر تک لیٹ کر آرام سے سوجانا چاہیے، چنانچہ اگر کسی خاص کام کی مجبوری نہ ہو، تو رات کو بروقت سوجانا ضروری ہے اور مقرّرہ وقت پر کسی تاخیر کے بغیر جاگ اُٹھنا چاہیے، مگر یہ بات علیٰحدہ ہے کہ بعض دفعہ ذکر و عبادت کی محفل شام سے لے کر صبح تک قائم رہتی ہے جس کا اشارہ قرآن (۷۶: ۲۶) میں موجود ہے۔
اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ: کیا یہ بہتر نہیں کہ ایک مومن بجائے اس کے کہ وہ رات کو بہت پہلے اُٹھ کر عبادت کرے، وہی عبادت یا اس سے کچھ زیادہ عبادت سونے سے قبل بجا لاکر سوجائے اور صبح دیر سے اُٹھے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کام کئی وجوہ سے درست نہیں، اوّل اس لیے کہ خُدا
۸۵
کا حُکم ایسا نہیں ، دوم یہ کہ رات بھر سوئے رہنے سے جیسا کہ اُوپر بتایا گیا مومن کی روح کمزور ہوجاتی ہے، سوم یہ کہ جو عبادت کچھ دیر سوجانے کے بعد اُٹھ کر کی جاتی ہے وہ شام کی عبادت سے بدرجہ ہا افضل ہوتی ہے، کیونکہ اس میں دن بھر کے دُنیاوی خیالات و افکار کا اکثر حِصّہ نیند کی بدولت انسان کے ذہن و خاطر سے مٹ جاتا ہے، پس یہی سبب ہے کہ سورۂ مزّمل میں عبادت کی غرض سے ذرا سوکر اُٹھنے کے لیے فرمایا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ صبح کے وقت توبہ کرنا پرہیزگاری کی علامت قرار دی گئی ہے۔ (قرآن ۵۱: ۱۸)
ذکر اور علم:
ذکر کی مثال سیر و سفر ہے، اور علم و ہدایت کی مثال روشنی اور بصارت (بینائی) چنانچہ اگر کوئی انسان ذکر کے ذریعے سے چل کر اپنی ذات کے عالمِ باطن میں بحکم “سِيْرُوْا فِيْهَا (۳۴: ۱۸)” سیر و سفر کرنے کا خواہشمند ہے تو اسے نہ صرف دینی ہدایت کی آنکھ چاہیے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ علم الیقین کی روشنی بھی ضروری ہے کیونکہ جب ایک آدمی منزل بہ منزل کسی دُور ملک میں جانا چاہتا ہے تو وہ صرف روشنی ہی میں آسانی اور خوشی سے سفر کرسکتا ہے، اور اس کے
۸۶
بغیر رات کی تاریکی میں چل نہیں سکتا، اور اگر وہ اندھوں کی طرح کچھ چل بھی سکتا ہو، تو رستے کے مناظرِ قدرت سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا، نہ ایسے سفر سے وہ چندان خوش ہوجاتا ہے، نہ اسے نشانِ منزل کی کوئی آگہی ہوتی ہے اور نہ سفر سے کچھ تجربات اور معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔
نیز یہ حقیقت جاننا چاہیے کہ یقینِ کامل جس اعلیٰ ترین معرفت کا نام ہے وہ تین درجوں میں ہے، ابتدائی درجہ علم الیقین کا ہے اس سے اُوپر کا درجہ عین الیقین کا ہے اور سب سے اوپر کا درجہ حق الیقین کا ہے اس سے یہ ثابت ہوا کہ علم الیقین کے بغیر عین الیقین تک پہنچنا ناممکن ہے جو روحانی مشاہدات کا مقام ہے، اور عین الیقین کے مرتبے کے بغیر حق الیقین محال ہے، پس معلوم ہوا کہ خصوصی ہدایت اور دینی علم کے بغیر ذکر کی کوئی ترقی نہیں۔
ذکر اور وقت:
قرآنِ حکیم کی کئی آیاتِ مقدّسہ میں یادِ الٰہی کثرت سے کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے، جس کے یہ معنی ہوتے ہیں، کہ دن رات کے تمام اوقات میں جس قدر بھی ہوسکے زیادہ سے زیادہ ذکر و عبادت
۸۷
کرنا چاہیے، دُوسری طرف سورۂ مزّمل میں رات ہی کو ذکر کے لیے مناسب و موزوں وقت قرار دیا گیا ہے (۷۳: ۰۶) اور اس کی وجہ بھی ظاہر کی گئی ہے کہ دن کے وقت بہت مشغولِ کار رہنا ہے (۷۳: ۰۷) ان دونوں مقدّس ہدایتوں میں یکجا طور پر غور کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو حکم شب و روز کثرت سے خدا کو یاد کرنے کے بارے میں ہے، اس کا مقصد ذکرِ کثیر ہی ہے، جو آسان اور عام ذکر ہے اور جس ارشاد میں شب یعنی پچھلی رات کے ذکر کے لیے تاکیدی امر ہوا ہے، وہ ذکرِ خفی اور ذکرِ قلبی ہے، جو مشکل اور خاص ذکر ہے اور آنحضرتؐ کو مخاطب کرکے یہ جو فرمایا گیا ہے کہ دن کے وقت تو تم بہت مشغولِ کار رہتے ہو (۷۳: ۰۷) اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حضور انورؐ کو دن کے وقت ذکر و عبادت کے لیے فرصت ہی نہیں ملتی تھی، جبکہ آنحضرتؐ خود سراپا ذکر تھے، یعنی آپؐ کی پیشانی مبارک میں نُورانی ذکر خود ہی بولتا رہتا تھا بلکہ اس کا مقصد تو یہ ہے کہ اس اشارے سے دن کے ذکر کو ذکرِ عام اور رات کے ذکر کو خاص قرار دیا جائے، تاکہ دن کے وقت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مومنین سے جس قدر بھی ہوسکے آسانی سے خدا کو بھی یاد کریں اور اپنے
۸۸
کام کو بھی انجام دیں، اور رات کے مخصوص وقت میں خاص ذکر کو پوری دل جمعی اور مکمل توّجہ سے بجا لائیں تاکہ رات کی خصوصی عبادت کو دن کی عمومی عبادت سے امداد و تقوّیت ملے، اور اسی طرح ذکر و عبادت کا ایک خاص مرکز قرار پائے، اور مومنین روحانی اور نورانی نتائج کے لیے اس مرکز کو دیکھتے رہا کریں۔
ایک بہت شریف اور متقی تاجر بڑے انہماک سے تجارت کا کام کررہا ہے، اس کا کاروبار خُوب چل رہا ہے اور دکان پر خریداروں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے، اس تاجر کے پاس اس کا ایک بہت بزرگ دوست بیٹھا ہے، دوکاندار بڑے اطمینان اور شریفانہ انداز سے کبھی خریداروں سے اور کبھی بزرگ دوست سے بات چیت کررہا ہے، جب یہ شخص کسی خریدار کی طرف یا کسی مطلوبہ چیز کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، تو اس وقت اس کے بزرگ دوست کو یہ احساس ہرگز نہیں ہوتا کہ اس کے دکاندار دوست نے اس کے ساتھ سلسلۂ گفتگو کو کیوں قائم نہیں رکھا اور کیوں بے توجہی کی گئی کیونکہ ان دونوں کے آپس میں گہری محبّت اور بڑا اعتماد ہے، لہٰذا بزرگ خوش ہے کہ اس کے دوست کا سب کام ٹھیک ہے اور دکان خُوب چل رہی ہے، چنانچہ یہ ایک مثال ہے اس
۸۹
امر کی کہ حقیقی مومن دُنیاوی کام کاج کے ساتھ ساتھ کسی بھی اسم میں ذکرِالٰہی بھی کرسکتا ہے، اور اگر ایسے عام ذکر کا سلسلہ بار بار ٹوٹ جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔
ذکر اور موقع:
حقیقی مومن کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ ذکر کے لیے جو خاص و عام اوقات مقرّر ہیں ان کے علاوہ بعض دفعہ اس کے خصوصی مواقع بھی ہوا کرتے ہیں جن کے آنے پر ذکر کو آگے سے آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے، چنانچہ جب اللہ تعالیٰ بندۂ مومن کو کسی مصیبت میں مبتلا کرکے آزمانے لگتا ہے تو اس وقت دانشمند مومن کےلیے یادِ الٰہی کا ایک خصوصی موقع فراہم ہوتا ہے، وہ اسے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، کیونکہ بموجب ارشادِ قرآنی ہر مصیبت میں تین چیزیں پوشیدہ ہوتی ہیں، وہ خدا کی طرف سے درود، رحمت اور ہدایت ہیں وہ ایسے صابروں کو ملتی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا کے ہیں اور ہم اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور پھر اس کی یاد کرتے رہتے ہیں۔ (۰۲: ۱۵۵ تا ۱۵۷)۔
یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ انسان کا اپنا نفسِ امّارہ ہی سب سے طاقتور اور بڑا چالاک دینی دُشمن ہے، جو ہر نیک
۹۰
کام میں خاص کر ذکر و عبادت میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتا رہتا ہے یہ مخالفت، دُشمنی اور بُری کوششوں سے ہرگز نہیں تھکتا اور اکثر غالب ہی رہتا ہے، مگر کچھ خاص مواقع ایسے بھی ہیں جن میں مومن اپنے نفس پر بآسانی غالب آسکتا ہے، وہ مواقع ہیں مصائب و آلام کے اوقات کہ اُن میں نفسِ امّارہ آفت زدگی کی کیفیت میں مایوس اور عاجز ہوکر رہ جاتا ہے، پس ایسے موقع پر ذکر و عبادت کے وسیلوں سے نفس کو مغلوب و پامال کرکے ذکر کو کسی اگلی منزل تک پہنچا دیا جاسکتا ہے۔
نفسِ امّارہ کے مغلوب ہوجانے کا ایک اور سنہرا موقع ہے وہ ہے حقیقی علم اور عشقِ الٰہی کی باتیں سُننے کا موقع، جس میں مومن کی روح الایمان اور عقل شادمان و محظوظ اور طاقتور ہوجاتی ہیں، جس کی بدولت نفسِ امّارہ کی کارفرمائی سُست اور کمزور ہوجاتی ہے اور ایسی صورت میں کچھ وقت ذکر کرنے سے کامیابی حاصل ہوجاتی ہے۔
۹۱
باب ششم
ذکر کا طریق کار
آپ کو ضرور اس بات کا یقین ہوگا کہ دینی دُنیاوی، ظاہری باطنی، رُوحانی جسمانی اور ذہنی و خارجی امور میں کوئی امر ایسا نہیں جو طریقِ کار کے بغیر انجام پاسکے، لہٰذا اس باب میں ذکرِ الٰہی کے متعلق اساسی باتیں اور مُفید معلومات فراہم کردی جاتی ہیں، تاکہ ذاکرین کو اِن سے مدد مل سکے۔
ذکر میں باقاعدگی:
قانونِ فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ حصولِ مقصد کے لیے باقاعدگی سے محنت و مشقّت برداشت کی جائے، اور اس کے سوا کوئی کامیابی نہیں، چنانچہ ذکرکے بارے میں اصل ورزش اور دُرست ریاضت یہی ہے کہ ذکر میں کسی وجہ سے بھی ناغہ نہ ہونے پائے، وقت کی پابندی ہو اور کسی بھی تکلیف سے گریز کیے بغیر مقرّرہ اوقات میں ذکر کیا جائے،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
۹۲
(ترجمہ) اور جن لوگوں نے ہمارے بارے میں مشقتیں برداشت کیں ہم ضرور انہیں اپنے رستے دکھلا دیں گے اور یقیناً اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے (۲۹: ۶۹) یہ تو سب جانتے ہیں کہ خدا کا رستہ یعنی دینِ حق ایک ہی ہے، لہٰذا یہاں جو ارشاد ہوا ہے کہ ہم اپنے رستے دکھا دیں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ راہِ خدا اگرچہ ایک ہی ہے مگر اس کی صورتیں بہت ہیں، مثال کے طور پر ایمان، ایقان، تقویٰ، خوفِ خدا، علم، عمل، اخلاص، عدل، احسان، تواضع، محبّت، فرمانبرداری، صبر، شکر، عبادت، تسلیم، رضا وغیرہ یہ سب دینداری اور مومنی کے ایسے اوصاف ہیں، کہ ان میں سے ہر ایک صراطِ مستقیم کی ایک گونہ صورت کا درجہ رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایک دُوسرے کے ساتھ مربوط اور ملے ہوئے ہیں، اور معنویّت کی گہرائیوں میں یہ سب ایک حقیقت کی حیثیت سے ہیں، یہی سبب ہے کہ قرآنِ حکیم کے مختلف موضوعات میں مومنی کے ان اوصاف میں سے ہر ایک کی اس طرح فضیلت بیان کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بس وہی صفت سب کچھ ہے، یہ بات دُرست ہے اور اسی میں حکمت ہے لیکن اندرونی طور پر دُوسرے تمام اوصاف بھی اس کے ساتھ منسلک ہیں۔
۹۳
اس کے یہ معنی ہوئے کہ جب مومن خُوب دل لگا کر ذکر و ریاضت کرنے کا عادی ہوگا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی بے پناہ رحمت سے اسے مومنی کے جملہ اوصاف سے متصف کردے گا، اور ان تمام اوصاف کی روحانیّت اور نُورانیّت اس پر منکشف ہوگی، یہ ہوا خدا تعالیٰ کا اپنے رستے دکھانا۔
حواسِ باطنی:
قرآنِ حکیم سورۂ بقرہ میں کافروں کے کفر و انکار اور اس کے نتائج کی مذمت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرماتا ہے: (ترجمہ) وہ گونگے ہیں بہرے ہیں اندھے ہیں پس وہ (اپنی اصل کی طرف) رجوع نہیں کرتے ہیں (۰۲: ۱۸) نیز اسی سورہ میں کافروں کی بابت فرمایا گیا ہے کہ: (ترجمہ) یہ لوگ گونگے ہیں بہرے ہیں اندھے ہیں پھر وہ کچھ بھی عقل نہیں رکھتے (۰۲: ۱۷۱) چنانچہ اِس حُکمِ خداوندی میں جہاں حواسِ باطنی سے کافروں کی مایوسی و محرومی کا تذکرہ ہے وہاں مسلمین و مومنین کو اُمیدِ رحمت اور توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ اِس حُکم میں کافروں سے الگ تھلگ ہیں، لہٰذا وہ دل کی زبان سے ذکر و عبادت کرسکتے ہیں، دل کے کان سے ہدایت سُن سکتے ہیں اور دل کی آنکھ سے عجائباتِ قدرت کا مشاہدہ کرسکتے ہیں، جس کا مقصد عقل و دانش اور علم و حکمت اور جس کا مقصد اللہ تعالیٰ
۹۴
کی طرف رجُوع ہوجانا ہے۔
دل کے کان:
ذکر کی ابتدائی منزل میں دل کے کان کی شناخت بھی ضروری ہے، وہ اس طرح سے ہے کہ نوآموز ذاکر ایک ایسی جگہ کچھ دیر تک انتہائی خاموشی اور سکوّت سے بیٹھے رہے، جہاں کوئی بھی آواز نہ ہو، پھر وہ اپنے دل و دماغ کی طرف خُوب متوّجہ ہوکر یہ کوشش کرے کہ زبان سے خاموش رہنے کے علاوہ دل میں بھی کچھ نہ کہے، چنانچہ جب وہ ظاہر و باطن میں خاموشی اختیار کرچکا ہوگا، تو اس وقت اچانک غیر ارادی طور پر اس کے ذہن میں کچھ تتّر بتّر سے خیالات پیدا ہونے لگیں گے، یہ نفسِ امّارہ کے وسوسے ہیں، جن کو حدیثِ نفسی بھی کہا جاتا ہے، ان چیزوں کا سُننا نہ صرف دل کے کان موجود ہونے کا ثبوت ہے، بلکہ یہ اِس حقیقت کی دلیل بھی ہے کہ جس طرح دل میں شر کی آواز آسکتی ہے، اسی طرح خیر کی آواز بھی آسکتی ہے۔
اگر چہ نفس کی آواز نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن وہ خاموشی کے اس تجربے میں خلل انداز ہوئی، جس کو دل کے کان نے نہایت ہی آہستگی کی ایک کیفیّت میں سُن لیا، اور یہی نفس کی باتیں ذکر و عبادت میں رخنہ ڈالتی رہتی ہیں، جن کو محسوس
۹۵
کرکے مومن کو سخت پریشانی اور بے چینی ہوتی ہے، لیکن اسے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ کچھ آگے چل کر اسی طرح عقل اور عشق کی باتیں بھی سنائی دے سکتی ہیں۔
دل کی زبان:
قلبی ذکر کی کوئی مشق شروع کرنے سے پیشتر دل کی زبان اور اس کی آواز سے واقفیت و آگہی لازمی ہوتی ہے، جب تک یہ نہ ہو تو دل سے ذکرِ الٰہی کا کام لینا بہت ہی مشکل ہے، چنانچہ دل یا کہ ضمیر کی آواز کی کیفیّت و حقیقت سمجھ لینے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مبتدی زبان کو بالکل بند کرکے دل ہی دل میں قرآنِ پاک کی کوئی چھوٹی سورت یا کوئی آیت یا خدا تعالیٰ کا کوئی اسم وغیرہ کچھ دیر کے لیے پڑھا کرے، ساتھ ہی ساتھ متوجہ ہوکر دل کے کان سے دل کی آواز کو سُنتا رہے، اس وقت اسے یقین ہوگا کہ وہ اس تجربے میں جو کچھ پڑھ رہا تھا، وہ ظاہری زبان سے نہیں بلکہ باطنی زبان سے پڑھا جارہا تھا، یعنی یہ آواز دل کی زبان کی تھی، جسے دل کے کان سے سُن رہا تھا، اس کا مطلب یہ ہُوا کہ دل میں بھی ایک زبان ہے جو ظاہری زبان سے بالکل الگ ہے، اور اسی سے ذکرِ قلبی کیا جاتا ہے۔
۹۶
دل کی آنکھ:
اسی سلسلے میں دل کی آنکھ کے وجود کی تحقیق اور روحانی مشاہدات کا تجربہ کرنا بھی نہایت ہی ضروری ہے، کیونکہ حواسِ باطنی کے اقرار اور شناخت نہ ہونے کی صورت میں روحانی ترقی تو درکنار اس کے انکار کی کیفیّت دل میں جڑ پکڑتی ہے چنانچہ دل کی آنکھ کی تحقیق و تجربہ اس طرح ہونا چاہئے کہ مبتدی ذکر کی مخصوص نشست میں نچنت اور بے فکر ہوکر بیٹھ جائے اور کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کرکے عالمِ خیال (یعنی اپنے باطن)کی طرف متوجّہ ہوجائے، پھر وہ خدا کے ناموں میں سے پانچ کو منتخب کرکے ہر ایک کی تحریر کا علیٰحدہ علیٰحدہ تصوّر کرے، یعنی وہ اپنے خیال میں ان ناموں کی تحریری شکل کو دیکھے اور پڑھے، اگر وہ ناخواندہ ہے تو یوں تصوّر کرے کہ ایک شخص اس کے سامنےقرآن شریف پڑھ رہا ہے، اب وہ غور سے دیکھے کہ وہ کون ہے، کیسے لباس ہیں وغیرہ، اس کے علاوہ کچھ دُوسرے آدمیوں کا تصوّر کرے، کیا وہ جس چہرے کو چاہتا ہے وہ سامنے آتا ہے؟ پھر کسی پھل یا پھول کا تصوّر کرے، علیٰ ہذا لقیاس، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اِس طریق پر بہت سی چیزوں کا تصوّر کرسکے گا، یعنی وہ جس چیز کو چاہے خیال میں لاکر اس کا روحانی مشاہدہ کرسکے گا،
۹۷
مگر شروع شروع میں باطنی روشنی اور دل کی بینائی بہت ہی کمزور بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوگی، بہرحال یہ اندازہ تو ہوہی گیا کہ یہ دل کی آنکھ کے دیکھنے کی ابتدائی صورت ہے، جو اگر ایک طرف سے دل کی آنکھ کے وجود کا ثبوت ہے تو دُوسری طرف سے عالمِ روحانیّت کی ہستی کی دلیل ہے۔
ذکر اور خوفِ خدا:
اگر مومنِ ذاکر کے دل میں خوفِ خدا جیسا کہ ہونا چاہئے موجود ہو تو ذکر کا کام بہت آسان ہوجاتا ہے، جاننا چاہئے کہ خدا کا ڈر مصنوعی بھی ہے اور حقیقی بھی، مصنوعی یہ کہ اپنی عقل کے مطابق خوفِ خدا کا ایک بناوٹی تصوّر کرلیا جائے، جو کسی حد تک مفید تو ہے مگر دیرپا نہیں، اور حقیقی خوف تقویٰ ہے، یعنی دائمی پرہیز گاری، چنانچہ اگر ذاکر متقی ہے تو ذکرِ الٰہی کے آغاز ہوتے ہی اس پر خوفِ خدا کی معجزانہ کیفیت طاری ہوجائے گی، پھر طرح طرح کے خیالات پیدا ہونے اور ذکر کا سلسلہ بار بار ٹوٹ جانے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا کیونکہ اس حقیقی خوف کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پوشیدہ ہے جس کی بدولت دل کی زبان اور کان کی مضبوط گرفت
۹۸
میں بحسن و خُوبی ذکر کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
جب بندۂ مومن ہر فکر و خیال اور ہر قول و فعل میں خدا کی اطاعت کرتا ہے اور اس کی نافرمانی سے ڈر جانے کا عادی ہوجاتا ہے، تو لازماً وہ ذکر کے موقع پر بھی بآسانی خوفِ خدا کی کیفیت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سلسلۂ ذکر کو صحیح و سلامت آگے بڑھا سکتا ہے، جیسا کہ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے:
(ترجمہ)اللہ تعالیٰ نے سب سے بہترین بات کتاب کی حیثیت سے نازل فرمائی جو متشابہ اور دہرائی گئی ہے اس کے ذکر سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اس ذکرِ الٰہی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں (۳۹: ۲۳) یہ سب سے بہترین بات اگر ایک طرف قرآن حکیم ہے تو دوسری طرف اسمِ اعظم ہے، جبکہ اسمِ اعظم قرآن ہی کی روحانیت و نورانیت ہے، اور ہر اسمِ اعظم بہت سے حقائق و معارف کے حامل ہونے کی نسبت سے متشابہ ہے اور ذکر میں دہرانے کی وجہ سے مثانی ہے، اس کے ذکر سے صرف متقی لوگوں کے رونگٹے اس لیے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ان کے جسم کے اندر جو کھربوں خلیّاتی روحیں سوئی ہوئی ہیں ان
۹۹
میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ذکرِ الٰہی کی آواز سے یکایک بیدار ہوجاتی ہیں، اس واقعہ کو عُرفِ عام میں رونگٹے کھڑے ہوجانا کہتے ہیں مگر جو لوگ متّقی نہیں، اُن پر ذکر سے ایسی کوئی کیفیت نہیں گزرتی، ہاں کسی دُنیاوی اور مادّی خوف سے ان کے رونگٹے ضرور کھڑے ہوجاتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ اور خوفِ خدا سے ذکر کا جوہر کھلتا ہے، اس لیے کہ اِس سے ذکر دل کی زبان پر چسپان ہوکر خُوب چلنے لگتا ہے اور دل کے کان میں اس کی گونج بہت سُریلی لگتی ہے، کیونکہ خوفِ خدا کا اصل مطلب ہمیشہ گناہوں کی آلائش سے پاک رہنا ہے اور پاک رہنے سے خدائے پاک کے خوف کا معجزہ رہنمائی کرتا ہے۔
ذکر اور اُمید:
مومنِ ذاکر کی ایک ایمانی قوّت اس بات میں بھی مضمر ہے کہ وہ رحمتِ خداوندی کی اُمید رکھے، اور مایوس نہ ہوجائے، کیونکہ خدا کی رحمت سے مایوس ہوجانا کُفر ہے، کیوں کہ جس طرح خوفِ خدا میں اہلِ ایمان کی بہتری اور فضیلت ہے، اسی طرح اُمیدِ رحمت میں بھی ان کے لیے صلاح و فلاح ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم کی بہت سی آیات
۱۰۰
کا یہ مفہوم ہے کہ بندۂ مومن دل میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی اُمید اور طمع رکھے اور محنت شاقہ سے عمل کرے۔
ذکر اور عاجزی:
نہ صرف ذکر سے پہلے اور ذکر کے دوران بلکہ ہمیشہ کے لیے اپنے اندر عجز و انکساری کی کیفیت و صفت پیدا کرلینا مومنِ ذاکر کی بڑی دانش مندی ہے، کیونکہ عاجزی حقیقی عِشق کی ابتدائی صورت اور اس کا پیش خیمہ ہے اور عاجزی ہی میں تکبّر سے بچ جانے کی ضمانت موجود ہے، جس کے بغیر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور ہدایت و رحمت قریب بھی نہیں آتی، لہٰذا ذاکر کو چاہیے کہ انتہائی حد کی سنجیدگی اور پستی اختیار کرلے، تاکہ ذکر کی آواز میں معجزانہ طور پر جاذبیت و دلکشی اور دیدۂ باطن کے سامنے روشنی پیدا ہوسکے۔
قانونِ قدرت کا ہمیشہ سے یہ عالم رہا ہے کہ وہ اس شخص کو ناچیز کردیتا ہے، جو خود کو کوئی چیز سمجھتا ہو اور اُس آدمی کو ہر چیز سے اعلیٰ و افضل بنا دیتا ہے، جو اپنے آپ کو ناچیز قرار دیتا ہو، پس جاننا چاہیے کہ بندۂ ذاکر کی کامیابی کا راز عجز و انکساری اور فروتنی میں پنہان ہے۔
۱۰۱
ذکر اور عشق:
خدائے قدّوس کی محبّت اور عشق ہی روحانیّت کا وہ مرتبہ و مقام ہے، جہاں مومنِ ذاکر کو نفسِ امّارہ کے گونا گون وسوسوں اور باطل خیالات سے کما حقّہٗ نجات مل سکتی ہے، کیونکہ عشقِ الٰہی ایک ایسی پُرحکمت آگ ہے جو ذکرِ خداوندی کے ماسوا خیالات و افکار کو جلا کر ختم کر ڈالتی ہے، حقیقی عشق خود ذکرِ الٰہی کی اصلی اور عملی صورت ہے، جس میں عاشقِ صادق سراپا ذکرِ مجسّم بن جاتا ہے، کیوں نہ ہو جبکہ عشق مثال کے طور پر ایک نہایت ہی شیرین قسم کا دردِ دل ہے، اور کسی دردِ دل میں سارے بدن کا شریک ہوجانا ایک فطری امر ہے، اس لیے کہ عشق دل و دماغ کی اس کیفیّت کو کہتے ہیں جس میں یادِ محبوب اور اشتیاقِ ملاقات درجۂ کمال پر ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ جسم کے ظاہر و باطن پر دل و دماغ ہی کی بادشاہی اور حکمرانی ہے، غرض یہ کہ عشقِ الٰہی کے مرحلے میں روح کے علاوہ جسم بھی ذکر میں ایک طرح سے مصروف و مشغول رہتا ہے۔
اگر کوئی یہ سوال کرے کہ عشق تو محض ایک ذہنی اور قلبی کیفیّت ہے وہ تمام جسم کو کس طرح متاثر و مجبور اور مطیع کرسکتی ہے؟ اس کے لیے جواب یہ ہے کہ انسان کا غُصّہ بھی صرف
۱۰۲
ایک ذہنی کیفیّت ہی ہے جس سے آدمی آگ بگولا ہوکر کانپنے لگتا ہے، جب وہ لوگوں کے درمیان سخت شرم کے احساس میں مبتلا ہوجاتا ہے، تو اس کے چہرے کا رنگ دفعتاً پیلا پڑتا ہے اور شرم کے مارے لرزہ براندام ہوکر پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے، اگر وہ شادمان ہوا، تو اس کا چہرہ خوشی سے دمکتا ہے اور اگر وہ غمگین ہے تو وہ پژمردہ ہوکر سُکڑ جاتا ہے، حالانکہ یہ سب ذہنی و قلبی کیفیات کے سوا کچھ بھی نہیں، مگر بات دراصل وہی ہے جو بتائی گئی کہ انسان کے پُورے جسم پر اس کے دل و دماغ کی حکمرانی ہے، بالفاظِ دیگر جسمِ انسانی رُوحِ حیوانی کے زیرِ اثر ہے، رُوحِ حیوانی رُوحِ انسانی سے متاثر ہوتی رہتی ہے، اور رُوحِ انسانی پر عقل اثر ڈالتی ہے، اس سے یہ ثابت ہوا کہ انسان کے دل و دماغ میں جو شعوری کیفیت گزرتی ہے، اس کی لہریں سارے بدن میں دوڑتی ہیں، چنانچہ درجۂ عشق میں جس طرح ذاکرِ عاشق کے تن بدن کا حال عشقِ الٰہی کے ادراک سے متغیر اور دگرگون ہوجاتا ہے اور جس شان سے عاشق سرتاپا مجسّم ذکر بن جاتا ہے وہ ایک حقیقت ہے، پس بندۂ مومن کوذکر کی جملہ مشکلات میں عشقِ حقیقی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اور اس کا مستقل طریقہ یہ ہے کہ ذکرِ الٰہی
۱۰۳
کے جتنے آداب و شرائط ہیں اور دینداری و مومنی کی جو صفات ہیں ان میں سب سے زیادہ اہمیّت عشقِ حقیقی کو دے دی جائے۔
ذکر اور توجّہ:
ذکر کی طرف توجّہ دینے کی بابت کچھ اہم باتیں اس سے پہلے بھی بتائی گئی ہیں، تاہم اِس بارے میں یہاں پر بھی چند ضروری نکات بیان کئے جاتے ہیں کہ دل کی تین قوّتیں خاص ہیں، کان، زبان اور آنکھ، جن کا بیان قبلاً ہوگزرا ہے، چنانچہ ذکر کی طرف مکمل توجّہ دل کی ان تینوں طاقتوں کے بغیر مشکل ہے، لہٰذا قلبی زبان پر زور دے کر مسلسل ذکر کرتے رہو، دل کے کان سے خُوب متوجہ ہوکر اپنے ذکر کو سُنتے جاؤ، اور باطنی آنکھ کو انتہائی کوشش سے اس بات پر مجبور کرو کہ ذکر کی روحانی تحریر پر نظر جمائے رہے، اور ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس فریضہ سے غافل نہ ہوجائے، یہ ذکر کی طرف کامل طور پر توجّہ ہوئی، اب اسی حال میں قوّتِ ارادی سے اپنے باطن میں زیادہ سے زیادہ عجز و انکساری کی کیفیّت پیدا کرنا، یعنی دل ہی دل میں خدا کے حضور رو رو کر دُعا مانگو کہ اس کی معجزانہ تائید و نصرت شاملِ حال ہو تاکہ ذکر کی طرف تینوں طاقتوں کی یہ توجہ قائم اور برقرار رہے اور غفلت و نسیان کے بادل چھٹ جائیں،
۱۰۴
پس اُمید رکھنا اور مایوس نہ ہوجانا کہ بار بار کے اس عمل کی ریاضت سے اس میں تمہیں کامیابی حاصل ہوگی۔
ذکر کی رفتار:
یہاں ایک بڑا اہم مسئلہ ذکر کی رفتار کے بارے میں ہے کہ ذکرِ قلبی کی رفتار کیا ہونی چاہئے؟ اور اس کا اندازہ کس طرح ہوسکتا ہے؟ یہ ایک ایسا ضروری سوال ہے کہ کوئی دانش مند ذاکر اس کو نظر انداز نہیں کرسکتا، چنانچہ جاننا چاہیے کہ سورۂ لقمان کے ایک اشارے کے بموجب ذکر کی چال درمیانی قسم کی ہونی چاہیے، یعنی وہ نہ تو بہت تیز ہو اور نہ بہت سُست، بلکہ وہ ایسی رفتار کا ہو جیسے کوئی مُسافر کسی منزل کی طرف درمیانی چال سے چلتا ہے مگر ہاں جب مُسافر کو رستے میں ایسا کوئی خطرہ در پیش ہو، مثلا وہاں ڈاکوؤں کے آنے کی امکانیّت ہے، یا بارش برسنے والی ہے، یا پہاڑ سے پتھر گررہے ہیں، یا کوئی زبردست دُشمن تعاقب کررہا ہے، یا رات کی تاریکی قریب ہے، تو لازمی طور پر تیز تیز چلنا پڑے گا، یہی حال راہِ روحانیّت کے مسافر کا بھی ہے کہ اگر ذکر کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہو یا طرح طرح کے خیالات پیدا ہوتے ہوں، یا نیند اور سُستی آتی ہو یا شیطان اور نفس کا کوئی غلبہ ہو، تو قوّتِ ارادی سے طبیعت پر دباؤ ڈال کر ذکر کی رفتار میں اضافہ
۱۰۵
کرنا چاہیے، جس کا اندازہ یہ ہے کہ اگر ذاکر کا اسم چار حرف کا ہے تو ایسا اسم ایک گھنٹے کے اندر اندر تقریباً دس ہزار مرتبہ پڑھا جانا چاہیے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ تین منٹ پینتالیس سیکنڈ میں ایسے اسم کو تقریباً چھ سو پچیس بار دہرانا چاہیے، یہ صرف ایک چار حرفی لفظ کا اندازہ ہے۔
ذکر کا سلسلہ:
اگر آپ ذکرِ قلبی مخصوص وقت میں اہتمام کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں، تو یہ مربوط اور سلسلہ وار ہونا چاہیے، جس کے لیے صحیح تلفظ کی ادائیگی از بس ضروری ہے اور صحیح تلفّظ پُوری توجہ اور مضبوط گرفت کے ساتھ دل کی زبان سے ذکر کا لفظ پڑھنے سے اور دل کے کان سے اسے سُنتے رہنے سے ادا ہوسکتا ہے، کیونکہ سلسلۂ ذکر ٹوٹ نہیں جاتا مگر اس وقت جبکہ اسے لفظ بلفظ دُرستی سے نہ پڑھا جائے، اور دل کے کان سے اس کی طرف کامل و مکمل توجہ نہ دی جائے، جیسے ظاہری گفتگو میں لغزش اس وقت آتی ہے، جبکہ بات کرنے والے کی توجہ کی گرفت ڈھیلی ہوجاتی ہے یعنی جب زبان کی گویائی اور کان کی سماعت میں سے کوئی ایک سُست ہوجاتی ہے، تو تقریر و گفتگو میں لغزش ہوتی ہے، اور قوّتِ سماعت ہی کے
۱۰۶
ذریعے سے معلوم ہوتا ہے، کہ ا س کی تقریر میں لغزش ہوئی ہے، یا فلان فلان الفاظ ٹھیک طرح سے نہ بولے گئے ہیں۔
چنانچہ ذکر کا سلسلہ قائم رکھنا اور اسے لمحہ لمحہ بھول جانے کی لغزشوں سے محفوظ رکھنا دل کی زبان اور دل کے کان دونوں کی ذِمّہ داری ہے کہ یہ سِلسلۂ ذکر کی ہر کڑی یعنی ہر لفظ صاف صاف بولے، اور وہ بڑی توجہ سے سُنتے رہے، بلکہ دل کی آنکھ سے بھی توجہ دی جائے تاکہ ذکرِ الٰہی کا سلسلہ کہیں سے بھی ٹوٹ نہ جائے۔
جس بندۂ مومن کے ذکرِ قلبی کا سلسلہ کوشش کے باوجود بار بار ٹوٹتا رہتا ہے اس کا سبب یا تو کوئی گناہ ہوسکتا ہے یا لاعلمی، پس اسے ان دونوں بیماریوں کا علاج کرنا چاہیے یعنی وہ ہمیشہ توبہ و تقویٰ سے کام لینے کے ساتھ ساتھ ذکر سے متعلق ضروری معلومات بھی فراہم کرتا رہے تاکہ وہ اپنے ذکر کو مربوط اور مسلسل بنانے میں کامیاب ہوسکے۔
ذکر اور محویت:
جب حقیقی مومن تمام متعلقہ آداب بجالا کر شائستگی سے ذکر کرنے لگتا ہے، تو اس کے ذہن میں رفتہ رفتہ لا تعلقی کی کیفیّت پیدا ہوتی ہے وہ نہ
۱۰۷
خواب کا عالم ہے نہ بیداری کا، بلکہ یہ محویّت کی منزل ہے جسے بیخودی بھی کہتے ہیں اس حالت میں ذاکر کے ذہن و شعور سے ظاہر و باطن کی ہر چیز مٹ جاتی ہے، مگر ذکر باقی و جاری رہتا ہے، مومنِ ذاکر ایسے میں اپنے آپ کو بھی قطعاً بھول جاتا ہے اور اسے یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں بیٹھا ہے، کہاں نہیں، کون سی جگہ ہے گھر ہے یا باہر، اس کو یہ تک احساس نہیں ہوتا کہ اس کا جسم موجود ہے یا کہیں غائب ہوگیا، گُم گیا، چنانچہ اگر مبتدی پر ایسی حالت گزرتی ہے تو یقین کرنا چاہیے کہ وہ روحانیّت میں رُو بہ ترقی ہورہا ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے، تو جاننا چاہیے کہ یہ ناکامی اس کی اپنی ہی خامیوں اور غلطیوں کی وجہ سے ہے اور دوسری کوئی وجہ نہیں۔
ختم شُد
۱۰۸
رُموزِ روحانی
رموزِ روحانی
ترجمۂ فرمانِ مبارک
مورخۂ ۹ اکتوبر ۱۹۶۱ء
میرے عزیز روحانی فرزند
مجھے تمہارا برقیہ موصول ہوا، اور میں تمہاری فداکارانہ خدمات کے عوض میں اپنی بہترین شفقت آمیز مبارک دعائیں دیتا ہوں، میں یہ جان کر بہت ہی خوش ہوا ہوں کہ تم نے ہونزائی زبان میں گنان کی کتاب مکمل کر دی ہے۔
تمہارا مشفق
آغا خان
الواعظ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
بمعرفتِ : ایچ۔ ایچ، آغا خان اسماعیلیہ کونسل
راولپنڈی
مغربی پاکستان
۵
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دیباچہ
خداوندِ پاک کی توفیق و تائید سے اس آیۂ پُرحکمت کی روشنی میں کتابچۂ ہٰذا کے دیباچے کا آغاز کیا جاتا ہے، جو ارشاد ہے کہ:
یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ ﱟ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌ یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (۰۵: ۱۵ تا ۱۶)
تمہارے پاس تو خدا کی طرف سے ایک نور اور ظاہر کتاب (یعنی قرآن) آ چکی ہے، جو لوگ خدا کی خوشنودی کے پابند ہیں ان کی تو خدا اس (نور و کتاب) کے ذریعے سے سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے اور اپنی مرضی سے تاریکی سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور (اسی طرح) انہیں راہِ راست پر چلاتا ہے۔
اس آیۂ کریمہ کی معنوی جامعیّت میں جہاں لاتعداد حکمتیں پوشیدہ
۶
ہیں وہاں پر یہ حکمت بھی موجود ہے کہ اگرچہ خدا کی راہ شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی ہے اور صراطِ مستقیم کو ہمیشہ کے لئے ایک ہی رہنا ہے، لیکن راہِ دین کی اس وحدت و سالمیّت کے باؤجود منازلِ راہ تو الگ الگ واقع ہیں، لہٰذا ایک ہی صراطِ مستقیم کے چاروں مراحل کو یکے بعد دیگرے چار راستے قرار دے کر فرمایا گیا کہ “خدا سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے۔” چنانچہ ظاہر ہے کہ سلامتی کے راستے شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت ہیں جو صراطِ مستقیم پر ہی ہیں، کیونکہ صراطِ مستقیم کے سوا گمراہی ہے اس لئے اس سے جدا ہدایت کا کوئی راستہ نہیں، اور یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے کہ اس سے کوئی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا، پس مومن کے لئے ضروری اور لازمی ہے کہ وہ راہِ شریعت کے علاوہ طریقت، حقیقت اور معرفت کے راستوں کا بھی سفر کرے جو صرف نور اور قرآن کی ہدایت و رہنمائی میں ممکن ہے۔
اس مقدّس راستے پر چلنا جو راہِ اسلام (صراطِ مستقیم) ہے، یعنی ان راہوں کا سفر کرنا جو شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت ہیں، جہاد کے بغیر ناممکن ہے، اور جہاد تین ہیں، کافروں سے جہاد کرنا، شیطان کے خلاف جہاد کرنا اور نفسِ امّارہ سے مجاہدہ
۷
کرنا، چنانچہ ارشادِ ربّانی ہے:
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا (۲۹: ۶۹) اور جو لوگ ہمارے لئے جہاد کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستے ضرور دکھائیں گے۔ یعنی ہم انہیں ظاہر و باطن میں دینِ اسلام کی شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی راہیں بتلائیں گے، تا کہ معرفت اور توحید کے وسیلے سے ان کو ابدی نجات و سکون میسر ہو۔
اس بیان سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے، کہ اسلام دینِ فطرت یعنی آفاقی دین ہے،یہ علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی روشنی اور روحانیّت کے عجائبات و معجزات سے بھرپور ہے، اس کے ظاہر و باطن میں اخلاقی، روحانی اور عرفانی طور پر ترقی ہی ترقی ہے، اور اس کی راہیں دنیا و عقبیٰ کی سلامتی کی راہیں ہیں، جو نور اور قرآن کی روشنی میں طے ہو سکتی ہیں، اور یہ سفر دراصل روحانی اور علمی ہے۔
سیر و سلوک یعنی روحانی سفر ہمیشہ سے عجیب و غریب مشاہدات و تجربات پر منتج ہوتا ہے، اور یہ کتاب ایسی انوکھی اور نرالی دلچسپ باتوں پر مشتمل ہے، جن کو اسرارِ روحانیّت کہا جاتا ہے، اور ان میں حیات و کائنات کی معرفت پوشیدہ ہے۔
۸
اکیس (۲۱) شعروں کی اس ہونزائی نظم (جو میرے بروشسکی دیوان میں سے ہے ) کا مختصر سا ترجمہ میں نے بہت پہلے ہی کر دیا تھا، جس کو دیکھ کر میرے کچھ دوستوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ میں اس کی مزید تشریح کے ساتھ شائع کروں، لہٰذا اب اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ حسبِ توفیق اس کی تشریح اس چھوٹی سی کتاب کی صورت میں ہو کر شائع ہو گئی۔
مجھے کامل یقین ہے کہ جس روحانیّت کی روشنی میں یہ اشعار کہے گئے ہیں اور جن ذاتی تجربات کی بناء پر ان کی وضاحت کی گئی ہے، اس کی وجہ سے یہ کتاب قارئینِ کرام کے لئے کافی حد تک دلچسپ اور مفید ثابت ہو سکتی ہے، خصوصاً ان حضرات کے لئے جو روحانیّت کے دلدادہ ہیں اور روحانی ترقی چاہتے ہیں۔
میں یوں سمجھتا ہوں کہ یہ کتابچہ باطنی فلسفہ اور روحانی علم کا ایک شارٹ کورس(Short – course) ہے، جس میں یقینی علم کے لاکھوں پھولوں سے عطر نکال کر پیش کیا گیا ہے، تا کہ اس سے غیر فانی طور پر روحانیّت کی خوشبو مہیا ہوتی رہے، ان کے عزمِ عمل کو تقویّت ملے اور اشتیاق میں اضافہ ہو کہ وہ خود اپنی باطنی آنکھوں سے چمنستانِ روحانیّت کا نظارہ کریں۔
۹
اگر ہم اس خوف سے روحانیّت کی تعریف و توصیف کو نظر انداز کریں، کہ مبادا اس سے خود ستائی جیسی بات ہو جائے، تو اس صورت میں ہم سے روحانیّت کی تعظیم و تکریم کا کوئی حق ادا نہ ہو گا، لہٰذا اس مقدّس چیز کی طرف مکمل توجہ دلانے کی غرض سے اس کی بعض خوبیوں پر روشنی ڈالنا ضروری ہے، اب رہا خود ستائی کے شک کا مسئلہ، تو اس کا ازالہ اس طرح کیا جا سکتا ہے جو کہوں کہ میں کون ہوں؟ یا میں کیا ہوں؟ کچھ بھی نہیں ہوں، ایک حقیر سی شے، ایک انتہائی کمزور، فنا پذیر اور ناچیز شخصیّت، کسی بزرگ ہستی کا ایک ایسا انتہائی محتاج غلام، جس کی عاجز نگاہیں ہمیشہ اپنے آقا کی مہربانیوں کی طرف متوجّہ رہتی ہیں، اور مجھے ایسی غلامی اور عاجزی بہت ہی پسند ہے۔
میں مسگر اور کراچی کے احباب اور عزیزوں کی جمعیّت کا بہت ہی شکر گزار اور ممنون ہوں کہ انہوں نے بغرضِ علم گستری بار بار مجھ سے تعاؤن کیا ہے، پروردگارِعالم انہیں دونوں جہان کی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے! (آمین یا ربّ العالمین)۔
فقط بندۂ عاجز
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
بروزِ شنبہ: ۱۸ جمادی الاول ۱۳۹۷ھ / ۷ مئی ۱۹۷۷ء
۱۰
بسم اللہ الرحمن الرحیم
روحانی رمزک
۱۱
ترجمۂ اشعار و تشریح
عرشِ دل :
ترجمۂ شعر نمبر ۱: کسی حقیقی مومن کے عرشِ دل پر خدائے رحمان کا نورانی ظہور ایک حیران کن امر ہے، ذکر کی وسعت پذیری کی بدولت نقطۂ دل کا آسمان بن جانا ایک تعجب خیز بات ہے۔
تشریح: یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان بحدِّ فعل یا بحدِّ قوّت اپنے آپ میں ایک روحانی کائنات ہے، چنانچہ اس باب میں قرآنِ مقدّس کا ارشادِ گرامی ہے کہ: سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّؕ (۴۱: ۵۳) ہم عنقریب ان کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں اس کائنات میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے نفوس میں بھی۔ اس آیۂ کریمہ سے یہ حقیقت آفتابِ عالمتاب کی طرح روشن اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جتنی نشانیاں اس ظاہری کائنات میں سموئی ہوئی ہیں، وہ سب کی سب اپنی روحانی شکل و صورت میں انسان کے باطن میں موجود
۱۴
ہیں، انہی معنوں میں فرمایا گیا ہے کہ انسان عالمِ صغیر ہے اور یہ بیرونی کائنات عالمِ کبیر، عالمِ صغیر یعنی نفسِ انسانی میں جس قدر اللہ تبارک و تعالیٰ کے روشن اور زندہ معجزات ہیں یا جتنی قدرت کی نشانیاں ہیں، ان میں سب سے بڑا معجزہ اور سب سے عظیم قدرت کی نشانی خود اللہ کا نورانی ظہور اور اس کا پاک دیدار ہے۔
دیدارِ الٰہی کا نہ صرف اشارہ بلکہ اس کا واضح ذکر قرآن و حدیث کے بہت سے ارشادات میں موجود ہے، من جملہ سورۂ نور (۲۴) کی آیت نمبر ۳۵ میں غور سے دیکھئے کہ: مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ (۲۴: ۳۵) میں ہادئ برحق کی مبارک پیشانی سے خدا کے نورِ اقدس طلوع ہو جانے کی مثال کس پرحکمت انداز سے بیان کی گئی ہے اس آیۂ مبارکہ کی تفسیر و تشریح سے کتابوں کے صفحات بھرے ہوئے ہیں، کہ ربّ العزّت کے نور کی نیابت و نمائندگی کا یہ شرف صرف انسانِ کامل ہی کو حاصل ہے، لیکن یہ بھی تو حقیقت ہی ہے کہ حقیقی مومن انسانِ کامل کے انتہائی قریب ہوتا ہے، لہٰذا اس مقدّس نور کا ایک مکمل نمونہ، ایک روشن مثال اور ایک زندہ عکس
۱۵
ایسے مومن کے دل کے تخت پر ہونا چاہئے، جو ایمان کے درجۂ کمال پر ہے، تو یہ ہوا کسی حقیقی مومن کے عرشِ دل پر رحمان کے پاک نور کا جلوہ گر ہونا۔
قدرتِ خداوندی اور معجزۂ الٰہی ہمیشہ سے تعجب خیز ہی ہوا کرتا ہے، اور اس تعجب و حیرت کے معنی میں یہ کیفیّت و حقیقت پنہان ہے، کہ انسانی عقل قدرت و معجزہ کی توجیہہ کرنے سے عاجز و قاصر ہو جاتی ہے اور وہ اس سلسلے کے غور و فکر میں ہر بار ناکام ہو کر رہ جاتی ہے، کیونکہ قادرِ مطلق کی قدرت اور معجزہ عقلِ جزوی کی سمجھ سے ماوراء ہے۔ ہاں اگر اس میں اللہ تعالیٰ کی نورانی تائید نے دستگیری کی تو وہ اور بات ہے۔
اگرچہ روح بذاتِ خود ایک ناقابلِ تقسیم جوہر ہے، لیکن یہ جہاں جسمِ لطیف یا اثیر (Ether) سے وابستہ ہے، وہاں ایسے فلکی جسم کے لاتعداد ذرّات روح کے ذرّات متصوّر ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک پر روح سوار ہے یا وہ روح کی گرفت میں ہے، لہٰذا وہ اڑتے ہوئے آتے جاتے ہیں اور ان میں سے بےشمار ذرّے قالبِ عنصری میں بھی سموئے ہوئے ہیں، چنانچہ نقطۂ دل یا نقطۂ روح سے وہ زندہ ذرّہ مراد ہے جو دل و دماغ کے
۱۶
ربط و اشتراک کے مقام یعنی شعور کے مرکز پر کام کرتا ہے، پھر جب ذکرِ الٰہی کا سلسلہ اپنی تمام شرطوں کی تکمیل کے ساتھ جاری رہتا ہے تو اس وقت نتیجے کے طور پر یہ لطیف ذرّہ، جو انسانی حیات و بقا کا مرکز ہے، روشنی میں تحلیل و تبدیل ہو کر دوسرے بہت سے ذرّات کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ روحانی روشنی کا دائرہ پھیلتا جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ دائرہ کائنات کی وسعتوں کو پا لیتا ہے، قرآنِ حکیم کی ۰۶: ۱۲۵، ۲۰: ۲۵، ۳۹: ۲۲، ۹۴: ۰۱، میں شرحِ صدر یعنی وسعتِ قلبی کے عنوان سے اس روحانی حقیقت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
نقطۂ قرآن :
ترجمۂ شعر نمبر ۲: قرآن کے تمام معنوں کا باہم مل کر ایک ہی نقطہ بن جانا حیرت انگیز حکمت ہے، پھر اسی ایک نقطے کے معانی کی کثرت سے قرآن بھر جانا بڑی عجیب بات ہے۔
تشریح: اس حقیقت میں کوئی شک ہی نہیں کہ قرآنِ مقدّس علم و حکمت کی ایک عظیم کائنات ہے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کتابِ الٰہی اتنی عظمت اور وسعت کے باؤجود اپنے نقطۂ آغاز میں سمو جاتی ہے، اس پُرحکمت اور معجزاتی نقطے کو روحِ قرآن تصوّر کریں، یا نور مان لیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر سمجھیں،
۱۷
جو حضورؐ نے خصوصی عبادت کے طور پر انجام دیا تھا، یا کہیں کہ بائے بسم اللہ کا نقطہ ہی ایسے معنی میں ہے، بہر صورت یہ حقیقت نکھر نکھر کر سامنے آئی کہ جس طرح قرآنِ مقدّس کا ایک رخ تفسیر و تشریح اور کثرتِ معانی کی طرف ہے، اسی طرح اس کا دوسرا رخ اسمائے عظّام اور کلماتِ تامّات کے ذریعے سے معنوی مرکزیّت اور وحدت کی جانب بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ ابراہیم (۱۴: ۲۴) میں قرآن اور نورِ قرآن (یعنی معلمِ کتاب) کی تشبیہہ ایک پاک درخت سے دی ہے، جس کا اشارہ یہ ہے کہ قرآن جہاں روحانیّت کے مقام پر حکمت ہے وہاں پر یہ میوہ اور مغز ہے اور جس جگہ یہ کتاب ہے اس جگہ قرآن درخت ہے، جیسا کہ خود قرآن میں کتاب اور حکمت دونوں چیزوں کا الگ الگ ذکر آیا ہے، اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح پورا درخت پھل اور مغز میں سمٹ سمٹ کر سمو جاتا ہے، بالکل اسی طرح قرآن کے تمام علم کو حکمت میں سمو دیا گیا ہے، اسی معنیٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ: و من یوت الحکمۃ فقد اوتی خیراً کثیراً (۰۲: ۲۶۹)
۱۸
اور جس کو حکمت دی گئی تو اس میں شک نہیں کہ اسے بہت سی خوبیاں دی گئیں۔
قرآنِ پاک کی ایسی مرکزیّت و جامعیّت کے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ ہے کہ اس کے تمام مطالب و حقائق ام الکتاب (سورۂ فاتحہ) میں مجموع ہیں اور اس کا لبِ لباب اور آخری مجموعہ بائے بسم اللہ کا نقطہ ہے، گویا “الحمد” درختِ قرآن کا میوہ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس میوہ کا مغز ہے اور حرف باء کا نقطہ مغز کا وہ ذرّہ ہے، جس کے اندر درخت اگانے کی روح پوشیدہ ہوتی ہے۔
قطرے کا سمندر بن جانا:
ترجمۂ شعر نمبر ۳: سمندر کا بادل اور بارش ہو کر ایک قطرے کی شکل اختیار کر لینا عجیب ہے، پھر ایک قطرے کا دریا کے ساتھ مل کر سمندر بن جانا عجیب ہے۔
تشریح: پانی کی یہ گردش کی مثال خصوصاً روح اور روحانیت کے گول سفر کے لئے ہے جو لا انتہا ہے، اور اس میں تعجب کی بات تو یہ ہے، کہ کُل کیوں جزو کی طرف آتا رہتا ہے! جیسے سمندر کہ وہ بادل، بارش، اور قطرات کی صورت اختیار کر کے
۱۹
اپنے آپ کی نمائندگی کرتا ہے، اور دوسری طرف عجیب واقعہ یہ ہے کہ ایک قطرہ جب ندی سے مل گیا، تو وہ زبانِ حال سے کہنے لگا کہ میں ندی ہوں، جب ندی آگے بہہ کر دریا کے ساتھ مل گئی تو قطرے نے دعویٰ کیا کہ اب میں دریا بن گیا، اور جس وقت دریا بہتے بہتے سمندر میں جا گرا تو قطرہ بول اٹھا کہ میں اس وقت سمندر ہوں اور اس سے پہلے بھی میں سمندر تھا، وہ گویا یہ بھی کہتا ہے کہ میں اس حال میں نہ صرف سمندر ہوں بلکہ وہ سب کچھ ہوں جو کچھ پانی کے اجزاء میں سے ہے یا جس میں پانی کا دخل ہے۔
پانی کا یہ دائمی چکر قانونِ فطرت کی ایک نمایان مثال ہے جو ہر چیز کے ایک محدود دائرے میں گردش کرنے کی دلیل ہے، جیسے قرآنِ مجید کا ارشاد ہے کہ: و کل فی فلک یسبحون (۳۶: ۴۰) اور تمام چیزیں ایک ایک دائرے میں گردش کرتی ہیں۔
سمندر قطرے میں:
ترجمۂ شعر نمبر ۴: سمندر میں قطرہ سمو جانے کی مثال تو میں نے واضح
۲۰
طور پر دیکھ لی ہے (اور اس میں مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا) لیکن قطرے کے تنگ وجود میں ایک سمندر کا سمو جانا عجیب بات ہے۔
تشریح: نفوسِ جزّوی قطروں کی مثال پر ہیں، اور نفسِ کلّی سمندر کی طرح ہے، سو نفوسِ خلائق کے نفسِ کلّیہ میں سمو جانے میں کوئی تعجب نہیں، مگر تعجّب اس بات میں ہے کہ کس طرح جزّو میں کُلّ سمو آیا! جبکہ عارف نے اپنی ذات ہی میں نفسِ کُلّ کا مکمل تصوّر کیا! جبکہ نورانیّت میں مشاہدہ اور دیدار ہوا! اور جبکہ معرفت یعنی شناخت حاصل ہوئی، یہ واقعہ ایسا معجزانہ ہے، جیسے قطرے کی چھوٹی سی ہستی میں سمندر سمو آیا ہو، چنانچہ حضرتِ امیر المومنین علی علیہ السّلام کا مبارک ارشاد ہے کہ:
و تحسب انک جرم صغیر
و فیک انطوی العالم الاکبر
ترجمہ: اور تو گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا جسم ہے، حالانکہ تجھ میں عالمِ اکبر لپٹا ہوا ہے۔
دل کی کائنات:
ترجمۂ شعر نمبر ۵: اس ظاہری وسیع جہان میں انسان کا سمو رہنا تو یقینی بات ہے، لیکن انسان کے اس مٹھی بھر دل میں ایک عظیم روشن دنیا کا وجود
۲۱
حیرت خیز ہے۔
تشریح: کسی شاعر نے کہا ہے کہ:
رفتم بسوی دریا دیدم عجب تماشا
دریا درونِ کشتی، کشتی درونِ دریا
یعنی جب میں دریا کی طرف گیا تو عجیب تماشا دیکھا کہ دریا کشتی کے اندر تھا اور کشتی دریا کے اندر تھی، چنانچہ انسان ہر چند کہ خود جسمانی اعتبار سے اس وسیع و عریض کائنات کی ایک انتہائی چھوٹی سی جگہ پر محدود ہے، لیکن اس کے دل کے نقطے میں ہمیشہ ایک عظیم عالم سمویا ہوا رہتا ہے، جس کا نام موقع اور وقت کے مطابق بدلتا رہتا ہے، اور وہ اس طرح کہ اگر انسان بیدار ہے یعنی جاگتا ہے تواس کی یہ باطنی دنیا عالمِ خیال، یا عالمِ تصوّر یا عالمِ تفکّر کہلاتی ہے، اگر وہ سویا ہوا ہے تو یہ عالم اس وقت عالمِ خواب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اور اگر آدمی خواب و خیال سے گزر کر روحانی کیفیّت میں مستغرق ہے تو اس وقت اس کے دل کی دنیا کو عالمِ روحانیّت کہا جاتا ہے۔
:بس نقطہ ہی نقطہ
ترجمۂ شعر نمبر ۶: (تعجب ہے کہ علم و حکمت کی بنیاد صرف ایک ہی نقطہ ہے
۲۲
اور بس، چنانچہ) نقطہ کی رفتار کی شکل سے حرف اور حروف کے ملانے سے لفظ (کا بننا) لفظ کا جملہ (بننا اور) جملے کا فرقانِ حکمت بن جانا از بس عجیب ہے۔
تشریح: یہ ایک عجیب حکمت ہے کہ تمام حروف کے ظاہر و باطن میں نقطہ ہی نقطہ ہے، کیونکہ سارے حروف کی ترکیب و ساخت صرف نقطے ہی سے ہے، جبکہ مختلف شکلوں میں نقطہ کے چلنے سے حروف بنتے ہیں، گویا سارے حروف نقطے کے نقوشِ پا ہیں، اور وہ اس طرح کہ جب کوئی لکھنے والا کسی حرف کی شکل بنانا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر قلم کی نوک کے دباؤ سے نقطہ بناتا ہے پھر رکے بغیر فوراً ہی اسی نقطے کو مختلف اطراف میں چلا کر حرف کی یا حروف کی شکلیں بناتا ہے، سو یہ ہوا نقطے کی رفتار کی شکل سے حرف بن جانا۔
اس شعر میں جو لفظ “فرقان” استعمال کیا گیا ہے، اس کے یہاں کم سے کم دو معنی مراد ہیں، وہ قرآنِ کریم اور کلمۂ نور ہیں، قرآنِ پاک کا مرتبہ تو سب پر ظاہر ہے، لہٰذا یہاں صرف کلمۂ نور کے بارے میں کچھ وضاحت کی جاتی ہے، کہ قرآنِ مجید کی ۰۴: ۱۷۴ ، اور ۰۵: ۱۵ میں جس نورِ مقدّس کا ذکر آیا ہے، وہ نور یقیناً آنحضرت
۲۳
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے حقیقی جانشین ہیں، چنانچہ ہادئ برحق کے اس نور کی روحانیّت اور معرفت کے سلسلے میں ایک انتہائی پرحکمت کلمہ سامنے آتا ہے، جس کو کلمۂ نور کہا جاتا ہے، جو انسانِ کامل کی مبارک آواز میں دہرایا جاتا ہے، پس یہی کلمہ حقیقی مومن کی ذاتی روحانیّت میں فرقان یعنی علم و حکمت کی باتوں میں تحقیق و تدقیق کرنے کا معجزہ ہے، اور ہادئ برحق کے نور کی عظیم ترین علامت ہے، یہی سبب ہے کہ اس کو کلمۂ نور کہا گیا ہے۔
نقطہ اور کتابِ کائنات:
ترجمۂ شعر نمبر ۷: حروف کا سرِ آغاز الف (ہے اور الف) کے سر پر نقطۂ توحید کو پہچان لے، نور کے ایک ہی نقطے سے کتابِ کائنات کی جو تخلیق و تکمیل ہوئی اس میں بڑی حیرت ہے۔
تشریح: آگے چل کر بھی اس کا ذکر آئے گا کہ ہر چیز کا وجود کئی نقطوں کے مجموعے پر قائم ہے، پس نقطہ ہی ہر وجود کی وحدت و سالمیّت کا ذریعہ ہے، اور نقطہ ہی روحانی اور جسمانی طور پر حقیقی عدل و انصاف اور مساوات کا وسیلہ ہے۔
نیز اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کتابِ کائنات بنائی تو اس میں قلمِ الٰہی کی مثال کے مطابق سب سے پہلے نور کا
۲۴
ایک ہی نقطہ بنایا گیا ، اور اسی کے ذریعے سے کائنات و موجودات کی تخلیق ہوئی، جیسے حروفِ تہجی کے آغازمیں الف ہے، اور الف کی چوٹی پر نقطۂ آغاز پوشیدہ ہے، جس سے تمام حروف کی ترکیب ہے اور ساری تحریر دراصل اسی ایک نقطے سے بنتی ہے۔
شخصی روحانیّت کے عالم میں بھی یہی مثال ملتی ہے، کہ اس کی تخلیق کا آغاز بھی نقطۂ نور ہی سے ہوتا ہے، اور یہاں نقطۂ نور سے میری مراد وہ اسمِ بزرگ یا پُرحکمت کلمہ ہے جو مرشدِ کامل اپنی زبانِ درفشان سے پڑھ کر مرید کو سناتے ہیں، اور یہی مقدّس تلفظ حقیقی مومن کی روحانی تخلیق کا نقطۂ آغاز ہوتا ہے، اور بندۂ مومن اسی مبارک اسم کے ذریعہ ذکرِ الٰہی کی طرف خصوصی طور پر متوجّہ ہو جاتا ہے۔
وحدت اور کثرت:
ترجمۂ شعر نمبر ۸: قلمِ قدرت کی نوک پر بھی توحید کا نقطہ تھا، وحدت کے فعل میں کثرت کا امکان ہونا تعجب خیز بات ہے۔
تشریح: جیسا کہ شعر نمبر ۷ کی تشریح میں اوپر بتایا گیا کہ قلمِ الٰہی نے لوحِ محفوظ پر جو کچھ لکھ دیا اس میں سب سے پہلے نقطۂ توحید
۲۵
وجود میں آیا یعنی جب عقلِ کلّی نے نفسِ کلّی کی تخلیق کا آغاز کیا تو سب سے پہلے نفسِ کُلّ کا نور وجود میں آیا، اور اس کے بعد اسی نور کے وسیلے سے وہ تمام چیزیں پیدا کی گئیں، جو لوحِ محفوظ (نفسِ کُلّی) پر قائم ہیں، تو یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ قلمِ الٰہی کا فعل بطورِ نمائندگی کے خدا کا فعل تھا، تو اس میں بجائے وحدت کے کثرت کیوں آگئی؟ یعنی وحدت سے وحدت کیوں نہ پیدا ہوئی کہ کثرت پیدا ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل وحدت سے کثرت پیدا ہوئی ہی نہیں، بلکہ وحدت سے وحدت ہی پیدا ہوئی ہے، کیونکہ جس کثرت کے متعلق یہاں سوال پیدا ہوا ہے وہ حقیقت میں کثرت نہیں، بلکہ وحدتِ کثرت نما ہے، یعنی وہ ایک ایسی وحدت ہے جو بظاہر کثرت نظر آتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے کہ: ما خلقکم و لا بعثکم الا کنفسٍ واحدۃٍ (۳۱: ۲۸) تم سب کا پیدا کرنا اور زندہ کرنا بس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا۔ اس فرمانِ خداوندی سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ ازل میں بھی اور ابد میں بھی نفسِ واحدہ (نفسِ کُلّی) کے ساتھ نفوسِ خلائق کی وحدت قائم ہے، کیونکہ یہ تمام نفوس اس کے
۲۶
اجزاء کی حیثیت سے ہیں، چنانچہ جب وہ پیدا ہوا تو یہ بھی پیدا ہوئے، اور جس وقت وہ عقلِ کُلّ کے درجے پر پہنچے گا تو یہ بھی اس مرتبے پر پہنچے گے، اور آیۂ مذکورۂ بالا کا مطلب یہی ہے۔
نقطۂ ابتداء اور نقطۂ انتہا:
ترجمۂ شعر نمبر ۹: نقطے ہی سے (ہر چیز کی) ابتداء اور نقطے ہی سے انتہا ہوتی ہے، نقطے ہی میں حد اور فاصلہ (کا راز) پنہان ہونا قابلِ تعجب ہے۔
تشریح: یہ امرِ واقعی ہے کہ جسم ہو یا کہ جان ہر چیز کی تخلیق کا آغاز نقطے ہی سے ہوتا ہے، پھر ذرّہ ذرّہ اور نقطہ نقطہ بڑھتے ہوئے اس کی تکمیل ہو جاتی ہے، اور پھر کسی نقطے پر جا کر اس کی انتہا ہو جاتی ہے، اسی طرح چیزوں کی تقسیم و تمیز اور کمی و بیشی کی حقیقی حد اور فاصلے کا صحیح تعین بھی نقطے ہی سے ہو سکتا ہے۔
قانونِ قدرت کے حساب کتاب اور لین دین کی نزاکت و باریکی بھی ذرّہ شماری تک پہنچ جاتی ہے، جیسا کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: فمن یعمل مثقال ذرۃٍ خیرا یرہ (۹۹: ۰۷) و من یعمل مثقال ذرۃٍ شرا یرہ (۹۹: ۰۸) سو جو شخص ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا اور جو شخص ذرّہ برابر بدی کرے
۲۷
گا وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اس کا اشارہ یہ ہے کہ ہر شخص کو اعمال نامہ زندہ معجزاتی ذرّات کی صورت میں دیا جائے گا، جیسے حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: و نخرج لہ یوم القیامۃ کتٰبا یلقہ منشورا (۱۷: ۱۳) اور قیامت کے دن ہم (نامۂ اعمال) اس کے لئے نکال لیں گے ایک بکھری ہوئی کتاب اس پر ڈالی جائے گی۔ یعنی روحانی ذرّات کی کتاب اس پر ڈالی جائے گی۔
نقطۂ تعلق :
ترجمۂ شعر نمبر ۱۰: نقطے میں روح اور جسم کا تعلق اور ملاپ ہے، نقطے ہی سے برابری، بیشی اور کمی کا تعین ہونا حیران کن امر ہے۔
تشریح: جسم کی دو قسمیں ہیں، جسمِ کثیف اور جسمِ لطیف، چنانچہ جسمِ کثیف سے روح کا تعلق چند روزہ اور عارضی ہے اور وہ بھی براہِ راست نہیں، مگر جسمِ لطیف کے ساتھ روح کی وابستگی مستقل اور دائمی ہے، لیکن یاد رہے کہ جسمِ لطیف کچھ نورانی ذرّات پر مشتمل ہے، لہٰذا اس شعر میں کہا گیا ہے کہ روح اور جسم کا تعلق نقطہ ہی میں ہوتا ہے، اور یہاں نقطے سے جسمِ لطیف کے ذرّات مراد ہیں، جو روحِ اعظم کے کائناتی سمندر میں بھی ہیں اور انسانی جسم میں بھی۔
۲۸
ہمارے اس جسمِ کثیف کے اندر جسمِ لطیف کے انتہائی چھوٹے چھوٹے لاتعداد ذرّات موجود ہیں اور روح کا تعلق براہِ راست انہی ذرّات سے ہے، جن میں روحِ نباتی، روحِ حیوانی، روحِ انسانی اور روحِ قدسی کی پذیرائی و قابلیّت موجود ہوتی ہے، جسمِ لطیف کے قرآنی ناموں میں سے ایک نام سلالہ ہے، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے کہ: و لقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین (۲۳: ۱۲) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ (جوہر) سے بنایا۔ یعنی جسمِ لطیف سے انسان کی مکمل خلقت ہوئی، چونکہ فرمایا گیا ہے کہ: “ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے بنایا۔”
تو ان مبارک الفاظ میں تخلیق کے تمام معنی آ گئے، یعنی اللہ تعالیٰ کے اسی حکم کے تحت آدم اور ابنِ آدم کی وہ شخصیت ثابت ہو گئی، جو فلکی اور لطیف جسم کی ہے اور جس کو مٹی کا جوہر کہنا بھی حقیقت ہے، کیونکہ مٹی کا جوہر فلکی جسم ہی ہے۔
پھر فرمایا گیا کہ: ثم جعلنٰہ نطفۃً فی قرارٍ مکینٍ (۲۳: ۱۳) پھر ہم نے اس کو نطفہ بنایا جو کہ (ایک مدتِ معیّنہ تک) ایک محفوظ مقام (یعنی رحم) میں رہا۔ یعنی انسان کی اس شخصیتِ لطیف کو بحال و برقرار رکھتے ہوئے پروردگارِ عالم نے اس کے کچھ لطیف
۲۹
ذرّات کو نطفے کی صورت دی جس طرح کہ قانونِ فطرت کا تقاضا ہے۔ اور یہ ساری حکمت کسی مخلوق کے بارے میں “خلق” کے بعد “جعل” آنے کے اصول میں پوشیدہ ہے، پس اس بیان سے نہ صرف یہ حقیقت روشن ہوئی کہ ہمارے جسمِ کثیف کے اندر جسمِ لطیف کے بے شمار ذرّات سموئے ہوئے ہیں جن میں سے ہر ایک کے ساتھ روح کی وابستگی ہے، جس کی وجہ سے ہمارا یہ جسم زندہ اور قائم ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ ہماری ایک اور شخصیّت بھی ہے جو فلکی جسم پر قائم ہے۔
نقطے سے ۔ جس سے ذرّہ مراد ہے ۔ برابری، کمی اور بیشی کا تعین ہونا اس طرح ہے، کہ لوگ چیزوں کی مقدار اور ظاہری مساوات کے سلسلے میں جہاں برابری تصوّر کرتے ہیں، وہ برابری ہرگز حقیقی نہیں ہے، یہ امر حقیقی تب ہو سکتا ہے جبکہ ایک ذرّہ بھی کم یا زیادہ نہ ہو، سو اس سے پتہ چلا کہ برابری، کمی اور بیشی کی حد دراصل ذرّہ اور نقطہ ہی ہے۔
ذرّاتِ لطیف کی بارش:
ترجمۂ شعر نمبر ۱۱: نقطوں سے آسمان اور زمین اور تمام موجودات (پیدا ہوئیں) نقطوں سے روحانی بارش برس کر طوفان کا برپا ہو جانا کس قدر انوکھی بات ہے۔
۳۰
تشریح: کائنات و موجودات کی ہر چیز کی ترکیب و تخلیق ذرّات کے مجموعے سے ہے، اور ان میں سے کوئی چیز یک لخت نہیں، خواہ پتھر کیوں نہ ہو، وہ اصل میں ذرّات پر مبنی ہے، چنانچہ آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، عناصر، جمادات، نباتات اور حیوانات سب کے سب ذرّات سے بنائے گئے ہیں۔
یہ بات روحانی حقیقتوں میں سے ہے کہ ہادئ برحق کی ہدایت و عنایت اور حقیقی مومن کی خصوصی عبادت و ریاضت کے نتیجے میں جب انفرادی اور ذاتی نوعیت کی قیامت قائم ہوتی ہے اور جس وقت صورِ اسرافیل کی حیرت انگیز آواز شروع ہو کر بلند سے بلند تر ہو جاتی ہے، اور جب کوئی پکارنے والا ایک عجیب نام سے روحوں کو پکارتا رہتا ہے، تو اس وقت جسمِ لطیف کے نہایت ہی چھوٹے چھوٹے ذرّات سے منسلک ہو کر آفاق و انفس کی لاتعداد روحیں امنڈ امنڈ کر مومن کی شخصیت میں داخل ہو جاتی ہیں، یہی واقعہ قرآنِ حکیم کی ایک مثال کے مطابق انتہائی سخت بارش اور طوفان کہلاتا ہے، چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ حضرت نوح علیہ السّلام کے آبی طوفان کے پس منظر میں روحانیّت کا ایسا طوفان بھی برپا ہوا تھا جیسے ارشادِ ربّانی ہے کہ:
۳۱
و قیل یا ارض ابلعی مائک و یا سمآء اقلعی (۱۱: ۴۴) اور حکم ہوا، کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان (برسنے سے ) تھم جا۔ یعنی اے شخصیّتِ نوحؑ! اب تو اپنی لاتعداد روحوں کو پہلے کی طرح اپنے اندر جذب کئے رکھ اور اے حدودِ روحانی! تم اب اپنی بے پناہ روحوں کو نوح کی طرف نہ بھیجا کرو۔ نیز ارشاد ہے کہ: “کہا گیا اے نوح (اب) اترو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں لے کر” (۱۱: ۴۸) یعنی روح اور روحانیّت کی شناخت کے نتیجے میں دونوں جہان کی سلامتی اور علم و حکمت کے فیوض و برکات کے ساتھ تنزیل کی بلندی سے تاویل کی زمین پر اترو۔
نقطۂ نور :
ترجمۂ شعر نمبر ۱۲: اس کے نور کا نقطہ میری رگِ جان سے بھی زیادہ مجھ کو قریب ہے، رب العزت کا میرے غریب دل میں مہمان ہونا حیرت کی بات ہے۔
تشریح: اس بیت کے پیش مصرع میں اس آیۂ کریمہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ: و نحن اقرب الیہ من حبل الورید (۵۰: ۱۶) اور ہم تو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ یعنی
۳۲
خداوند تعالیٰ کے نور کا عکس، جس کا ذکر شعر نمبر ۱ کی تشریح میں بھی ہو چکا، مومن کی “انا” سے انتہائی قریب ہے، پس اگر اس نمائندگی کی مثال میں پروردگارِ عزت میرے مفلس دل میں مہمان ہوا ہے تو تعجب ہی تعجب کیوں نہ ہو، جبکہ میرے غریب دل میں کوئی ایک چیز بھی اس کی شانِ عالی کے لائق نہیں۔
امرِ کن:
ترجمۂ شعر نمبر ۱۳: اُس وقت (یعنی ازل میں) جبکہ کوئی بھی فرمانبردار موجود نہ تھا تو امر کا نفاذ کس طرح ہوا؟ نیستی کی طرف “کُنۡ” (یعنی ہو جا) کہہ کر فرمان نافذ کر دینا تعجب خیز بات ہے۔
تشریح: یہ ایک ایسا اہم سوال ہے، کہ اس کے جواب کے ذریعے سے تخلیقِ کائنات کے عظیم بھیدوں سے پردہ ہٹایا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں آپ میری ایک کتاب “میزان الحقائق” کا مطالعہ کریں، خصوصاً اس مضمون کا جو امرِ “کُنۡ” کے بارے میں ہے، یہ سوال اس بناء پر کیا گیا ہے کہ پروردگارِ عالم کے “کُنۡ” کے فرمان کا اطلاق نیستی اور لا شیئیت( Non-existence and nothingness ) پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اطلاق کسی ایسی مخلوق پر ہوتا ہے جس کی جسمانی
۳۳
تخلیق مکمل ہو جانے کے بعد اسے روحانی صورت دینی ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت آدمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی جسمانی خلقت کے بعد ان کی روحانی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے کُنۡ فرمایا تھا، جس کے بارے میں ارشاد ہے کہ: اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ (۰۳: ۵۹) بے شک عیسیٰ (کی خلقت) کی مثال خدا کے نزدیک آدم (کی خلقت) کی طرح ہے کہ اس کو مٹی سے بنایا پھر اس سے کہا کہ ہو جا تو وہ ہو گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آدمؑ اور عیسیٰؑ دونوں کی پیدائش ایک طرح کی ہے، اب اس سلسلے میں آپ خود غور کریں کہ: “اس کو مٹی سے بنایا” کے اس ارشاد میں آدمؑ و عیسیٰؑ کی مکمل جسمانی تخلیق کا ذکر ہے یا صرف مٹی کے بے جان پتلا بنانے کا قصّہ ہے؟ آپ ضرور مان لیں گے کہ اس میں ان دونوں بزرگ پیغمبروں کی ظاہری اور جسمانی تخلیق “کُنۡ” کے امر سے پہلے مکمل ہو جانے کا ذکر ہے، اور پھر اس کے بعد “کُنۡ” فرمایا گیا ہے، پس اس سے معلوم ہوا کہ امرِ کُنۡ روحانی حیثیت کی تکمیل کے لئے ہے نہ کہ “لا شیٔ” کو شیٔ بنانے کے لئے اور نہ ہی نیستی سے کوئی چیز ہستی میں لانے کے
۳۴
لئے، اہلِ دانش کے لئے اتنا کچھ کہنا کافی ہے۔
:نقطۂ واسط
ترجمۂ شعر نمبر ۱۴: دراصل “کُنۡ” عالمِ خلق اور عالمِ امر کے درمیان نقطے (حد) کا فعل ہے، انسان کی روح اور جسم میں ہی “کُنۡ فیکون” کا واقعہ تعجب خیز بات ہے۔
تشریح: عالمِ خلق یہ ظاہری دنیا ہے، جو عالمِ اجسام ہے اور عالمِ امر عالمِ باطن ہے، جس کو عالمِ ارواح بھی کہا جاتا ہے، اگرچہ یہ دونوں جہان ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ جسم و جان کی طرح باہم مل کر ہیں کیونکہ یہ ایک دوسرے کے جسم و جان ہیں ہی، تاہم جس معنیٰ میں یہ دو ہیں، اس معنیٰ میں یہ دونوں عالم پہلو بہ پہلو ہیں، اور ان دونوں کے درمیان حدِ فاصل ہے، جس کو یہاں نقطۂ واسط کہا گیا ہے، اور یہی نقطۂ واسط وہ مقام ہے جہاں امرِ کن کا فعل وقوع میں آتا ہے، یہ مقام مثال کے طور پر “کن فیکون” کا دروازہ ہے جو عالمِ امر اور عالمِ خلق کے درمیان قائم ہے، چنانچہ جب عالمِ خلق کی کوئی چیز جسمانی اور روحانی طور پر مکمل ہو کر عالمِ امر سے واصل ہونے لگتی ہے تو اس نقطۂ واسط سے یا اس دروازے سے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر امرِ کُنۡ کا فعل واقع ہوتا ہے اور وہ آنِ واحد میں عالمِ امر کے ساتھ مل جاتی ہے۔
چونکہ انسان کی روح اور جسم ہی ہر طرح کی روحانیّت کی تجربہ گاہ
۳۵
ہے، لہٰذا کُنۡ فیکون کی تمام تر حکمتیں آدمی کی شخصیّت ہی میں پوشیدہ ہیں، پس مومن کو چاہئے کہ وہ اپنی شناخت کے خزانوں سے ان بھیدوں کو پانے کے لئے جدوجہد کرے، ان شاء اللہ تعالیٰ اسے کامیابی ہو گی۔
:معجزاتی کلمہ
ترجمۂ شعر نمبر ۱۵: (جو) ہمیشہ نورانی پھل دینے والا علم کا زندہ درخت (ہے اس کا ایک) پاکیزہ کلمے کی صورت میں ہو کر حکمت کی دلیل بن جانا ازبس متعجب ہے۔
تشریح: اس معجزاتی کلمے کا ذکر شعر نمبر ۶ میں بھی ہو چکا ہے جس کے متعلق قرآنی ارشاد سورۂ ابراہیم (۱۴) آیت نمبر ۲۴، ۲۵ (۱۴: ۲۴ تا ۲۵) میں ہے، چنانچہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ روحانیّت اور قرآن کے علم و حکمت کے خاص خاص مراکز ہوا کرتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے اسمائے بزرگ اور کلماتِ تامّات کی صورت میں ہوتے ہیں، اسمِ اعظم کے بارے میں آپ بہت سی باتیں جانتے ہوں گے، مگر کلمۂ تامّہ کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ آپ کچھ جانتے ہیں یا نہیں، بہرحال میں خداوند برحق کی توفیق سے اس کی بابت کچھ وضاحت کرتا ہوں کہ کلماتِ تامّات قرآن اور روحانیّت میں کچھ ایسے کلمے ہیں، جو
۳۶
ان میں سے ہر ایک علم و حکمت کی فراوانی کے اعتبار سے بجائے خود ایک مکمل صحیفہ یعنی کتاب ہے، اور ان کلمات کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ یہ حدودِ روحانی کے تصرّف میں ہوتے ہیں، تا کہ اس ذریعے سے حقیقی مومنین کو رشد و ہدایت کا زیادہ سے زیادہ فیض پہنچا دیا جائے، چنانچہ ارشاد ہے کہ: فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍ كِرَامٍۭ بَرَرَةٍ (۸۰: ۱۳ تا ۱۶) وہ (قرآن) ایسے صحیفوں (یعنی کلماتِ تامات) میں ہے جو مکرم ہیں عالی شان ہیں پاک ہیں جو ایسے لکھنے والوں (یعنی فرشتوں) کے ہاتھوں میں (رہتے) ہیں کہ وہ مکرّم (اور) نیک ہیں۔ یہ کلماتِ تامّات کی قرآنی تعریف و توصیف ہے، اور لکھنے والے فرشتوں کی تاویل یہ ہے کہ وہ روحانی حدود ان کلمات سے حقدار مومنین کو علم و حکمت کا فیض پہنچاتے رہتے ہیں، گویا وہ اسی معنیٰ میں مومنوں کے دل و دماغ میں لکھتے جاتے ہیں۔
:کلمۂ علیا
ترجمۂ شعر نمبر ۱۶: اثبات، نفی اور حق کے راز کی حکمت انتہائی عظیم ہے، ایک اعلیٰ کلمے (یعنی کلمۂ علیا) کا میزانِ حقائق (حقیقتوں کی ترازو) بننا حیرت انگیز ہے۔
۳۷
تشریح: واضح ہو کہ کلماتِ تامّات میں جو سب سے اونچا اور سب سے عظیم ہے، وہ کلمۂ باری تعالیٰ ہے اس کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ وہ کلمۂ امریہ ہے، اس لئے اس کا نام کلمۂ “کن” بھی ہے، اس کی ایک اور نشانی یہ ہے کہ اس میں نفی اور اثبات کے دونوں پہلو ہیں، جن میں لا ابتداء اور ابتداء کے پُرحکمت اشارات پوشیدہ ہیں، یہ کلمہ دراصل ایک علمی نور ہے، جو ازل و ابد، لامکان و مکان، لازمان و زمان، اور کائنات و موجودات کے آغاز و انجام جیسے اعلیٰ حقائق کے تصوّرات کے لئے خاص ہے، اسی مقام پر روحانیّت کی سب سے اونچی مثل (المثل الاعلیٰ، ۱۶: ۶۰) بھی جلوہ گر ہے، جو کلمۂ باری سبحانہ کی حقیقتوں کی تائید و تصدیق کرتی ہے، یہ “المثل الاعلیٰ” جو قرآنی نام ہے گوہرِ عقل سے معیّن ہو جاتی ہے۔
کلمۂ باری حقیقتوں کی بلند ترین میزان (ترازو) ہے کہ نفی و اثبات گویا اس کے دو پلے ہیں اور حق جو ان دونوں سے برتر ہے وہ ترازو کا دستہ ہے، یہاں “حق” ایک مخصوص اصطلاح کے طور پر آیا ہے، آپ اس کو ایسی حقیقت سمجھیں جو نفی اور اثبات دونوں سے بالاتر ہے۔
۳۸
:دائرۂ روح
ترجمہ شعر نمبر ۱۷: روح کے دائرے کا کوئی قرار نہیں (لیکن) مرکز میں سکون ہی سکون ہے (ان بے قرار روحوں کا) جہان سمیت پرکار کی طرح گردش کرنا حیرت کی بات ہے۔
تشریح: اس کائنات کے باطن میں کیا ہے؟ اور یہ آسمان کس وجہ سے ہمیشہ گردش کرتے رہتے ہیں؟ اس کائنات کے اندر نفوس طبعی کا ایک عظیم سمندر پنہان ہے، جو دائرۂ پرکار کی شکل کا ہے، چنانچہ نفسِ طبعی کا یہ سمندر ہمیشہ گھومتا رہتا ہے لہٰذا آسمان اس کی وابستگی کی بدولت گردش کرتے رہتے ہیں، اور ان طبعی نفوس کی اس حرکت کی وجہ یہ ہے کہ ان کی فطرت میں مرکز کی تلاش کا جذبہ رکھا گیا ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ یہ سب کچھ نفسِ کلّی کے دباؤ کے سبب سے ایسا ہوتا ہے، بہرحال اس دائرے کے مرکز میں سکون ہے، اور اس کے باہر بے قراری، حیرت اور دائمی گردش ہے۔
:وحدتِ نورانیت
ترجمۂ شعر نمبر ۱۸: وہ خود مدینۂ علم (یعنی علم کا شہر) بن کر روحانی نعمتوں کا بے دریغ عطا کر دینا (اور) خود ہی جسمانیّت کا طلسماتی جامہ پہن کر اس شہر کے دروازے کا محافظ بننا حیرت انگیز ہے۔
۳۹
تشریح: حضرت رسولِ مصطفی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مولا علی علیہ السّلام سے فرمایا کہ: انت منی و انا منک ، یعنی تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ نیز پیغمبرِ برحق کا ارشادِ گرامی ہے کہ: انا مدینۃ العلم و علی بابھا : میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ جس حیثیت میں علیؑ نبیؐ سے ہیں اور نبیؐ علیؑ سے ہیں تو اس میں جسمانیّت کی بات نہیں، بلکہ یہ وحدت علمیت، روحانیّت اور نورانیّت کی ہے، اسی طرح جہاں آنحضرتؐ شہرِ علم ہیں اور جناب مرتضیٰؑ اس کا دروازہ ہیں، تو یہ بھی علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے نور کی بات ہے اور اس میں کسی جسمانی اور مادّی چیز کی تعریف ہے نہیں، چنانچہ جب شہر نور کا ہے اور دروازہ بھی نور کا ہے تو: “نور علیٰ نور” کے مطابق یہ نور ایک ہو جاتا ہے، اور اس سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ نورِ نبوّت اور نورِ امامت ایک ہی ہے، اور اسی معنیٰ میں کہا گیا ہے کہ جو نور علم کے شہر کی صورت اختیار کر کے اہلِ ایمان کو عقل و دانش کی نعمت و راحت مہیا کر دیتا ہے، وہی نور دراصل جسم کے طلسماتی لباس میں ملبوس ہو کر اس شہر کا دروازہ
۴۰
اور محافظ بھی بن گیا ہے، پھر اس میں تعجب کیوں نہ ہو۔
انسانِ کامل کی جسمانیّت و بشریت کی تشبیہہ و تمثیل طلسمی نقشہ سے اس لئے دی گئی ہے کہ جس طرح ناتجربہ کار لوگ کسی خزینہ و دفینہ کو دیکھنے کے باؤجود اس کے طلسم (سحر کا کوئی خوفناک نقشہ وغیرہ) سے ڈر کر حاصل نہیں کر سکتے، اسی طرح جب بھی نابلد لوگ ہادئ برحق کی روحانیّت و نورانیّت کے خزانوں کے حصول سے ناکام ہوئے تو اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کی نظر انسانِ کامل کی صرف بشریّت تک ہی محدود رہی تھی۔
ایک پرحکمت مثال:
ترجمۂ شعر نمبر ۱۹: ایک بڑے بت کو چھوڑ کر تیرے دل کے تمام بتوں کو توڑ ڈال، ایک پاک و پاکیزہ بت کے (عشق کے) کفر میں ایمان کا پوشیدہ ہونا تعجب کی بات ہے۔
تشریح: یہاں حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے اس قرآنی قصّہ اور مثال کی تاویلی حکمت کی طرف اشارہ ہے، جس میں آپ بڑے بت کو چھوڑ کر باقی تمام بتوں کو توڑ دیتے ہیں، سو یہ مثال عقل و دانش والوں کے لئے عرفانی حکمتوں سے بھرپور ہے۔
حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کے اس عظیم الشّان کارنامہ کے
۴۱
ظاہر میں جو کچھ درسِ حکمت معلوم ہے، وہ تو مسلَّم ہی ہے، علاوہ برین اس میں یہ اشارہ بھی ہے، جس میں آپؑ نے بزبانِ حکمت بت پرستوں سے فرمایا کہ اگر ان مختلف بتوں سے تم متعدد خداؤں کو مراد لیتے ہو، تو تمہارا یہ نظریہ بالکل غلط ہے تم صرف اور صرف ایک ہی خدا کو مانو اور اگر تم انہیں ایک خدا کے بیک وقت کئی مظاہر کے طور پر مانتے ہو تو پھر بھی یہ عقیدہ قطعاً باطل ہے اور دیکھو تم خدائے واحد کا عقیدہ رکھو اور روئے زمین پر ایک وقت میں صرف ایک ہی خلیفۂ خدا کو تسلیم کرو اور صرف اسی ایک ہی کو مظہرِ نورِ خدا قرار دو اور بس، یہی تاویلی وجہ تھی جو خلیل اللہ نے فرمایا کہ: “بلکہ (باقی تمام بتوں کو توڑنے کا) یہ کام بڑے بت نے کیا۔” یعنی قانونِ یکتائی کا تقاضا یہی تھا، نیز بڑے صنم کی تاویل خود حضرت ابراہیمؑ کی شخصیّت ہے، اگر جناب ابراہیمؑ کے اس قول میں یہ تاویلی صداقت و حقیقت نہ ہوتی تو (نعوذ باللہ) آپ جھوٹ بولنے کے مرتکب ہو جاتے جو فرمایا کہ بڑے بت نے یہ کام کیا، حالانکہ بڑے بت نے بظاہر کوئی کام نہیں کیا تھا۔
اسی طرح انسانی دل و دماغ میں بھی دینی اور دنیاوی قسم کی بہت سی پیاری چیزوں کے تصوّرات موجود ہوتے ہیں، یہ گویا
۴۲
سب کے سب اصنام (بت) ہیں، جن میں آدمی کی محبّت جو ایک خصوصی طاقت ہے تقسیم ہو کر دینی مقصد کے حصول میں بری طرح ناکام ہو جاتی ہے، اسی لئے کہا گیا ہے کہ صرف خلیفۂ خدا اور خلیفۂ رسول کے تصوّر کو چھوڑ کر باقی تمام تصوّرات کو ختم کر دیا جائے تا کہ فوراً ہی روحانیّت میں ترقی ہو سکے۔
روح کی شناخت میں خدا کی شناخت :
ترجمۂ شعر نمبر ۲۰: کیا پروردگار اور نفسِ انسانی حقیقت میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں؟ (اگر نہیں تو) روح کی معرفت میں ذاتِ خدا کی معرفت کا مکمل ہو جانا تعجب کی بات ہے۔
تشریح: مولانا علی علیہ السّلام کا ارشاد ہے کہ: من عرف نفسہ فقد عرف ربہ ، جس نے اپنے آپ کو پہچانا یقیناً اس نے اپنے پروردگار کو پہچانا۔ اس مبارک فرمان سے جس نوعیّت کا سوال پیدا ہوتا ہے، وہ ظاہر ہے کہ انسان کی اپنی روح کی شناخت سے پروردگار کی شناخت اس وقت ہو سکتی ہے، جبکہ روح پروردگار کی مثال پر ہو، یہ سوال بڑی اہمیّت کا حامل ہے، جو نظریۂ یک حقیقت (Monorealism ) کی روشنی میں حل
۴۳
ہو سکتا ہے، مگر اس میں فوری وضاحت یہ ہے کہ روح آئینۂ جمال و جلالِ خداوندی ہے، جب روح کا یہ آئینہ مکمل طور پر صاف و روشن ہو جاتا ہے تو اس میں ربّ العزّت کی صفاتِ عالیہ کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے تا آنکہ ضروری معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔
انسان اپنی کس روح کے ذریعے سے خدا کی معرفت تک رسا ہو سکتا ہے، کیا وہ روحِ نباتی، روحِ حیوانی اور روحِ انسانی کے ذریعہ ذاتِ خدا کا عارف بن سکتا ہے یا اس میں کوئی اور روح چاہئے؟ ہاں اس کے لئے روحِ قدسی بھی چاہئے ورنہ معرفت ناممکن ہے، اور روحِ قدسی کے روحانی عجائبات کا مشاہدہ اور روحانیّت و نورانیّت کا دیدار انسانِ کامل کے وسیلے سے ہو سکتا ہے۔
اپنے آپ کی تجدید:
ترجمۂ شعر نمبر ۲۱: (جب بھی ضرورت ہوئی تو) میں آتشِ عشق سے پگھل کر اور حکمت کے سانچے میں ڈھل کر اپنے آپ کی تجدید کر لوں گا، اسی طرح نصیر کی علمی مشکلات کا آسان ہو جانا حیرت خیز بات ہے۔
تشریح: یہ حقیقی عشق ہی کا کمال ہے کہ بندۂ مومن کی ذہنی اور اخلاقی فرسودگی اور جمود کو دور کر کے بیداری، ہوشیاری، تقویٰ ، یقین، اور علم و حکمت جیسی نعمتیں عطا کر دیتا ہے، اور حقیقی عشق مرشدِ کامل
۴۴
کے بغیر حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ خدا و رسول کا خلیفہ اور نمائندہ وہی ہیں اور روحانیّت کے رہنما بھی وہی ہیں۔
۴۵
فرہنگِ الفاظ
دیباچہ:
تائید = روحانی مدد۔
خوشنودی = رضامندی، خوشی۔
معنوی = معنی سے منسوب، باطنی، اندرونی۔
جامعیّت = ہمہ گیری، جس میں سب کچھ آ گیا ہو۔
وحدت و سالمیت = ایک ہونا، سالم ہونا۔
منازل = منزل کی جمع۔
مراحل = مرحلہ کی جمع۔
ذی شعور = عقل مند، ہوشیار۔
مجاہدہ = نفس کُشی، ریاضت، جدوجہد۔
آفاقی = کائناتی، ساری دنیا کا، عالمگیر۔
مشاہدات = مشاہدہ کی جمع، دیکھنا۔
منتج = نتیجہ دینے والا۔
اسرار = سر کی جمع، بھید، راز۔
دلدادہ = عاشق، فریفتہ۔
غیر فانی = لازوال، ہمیشہ رہنے والا۔
مبادا = ایسا نہ ہو، خدا نخواستہ۔
خود ستائی = اپنی آپ تعریف کرنا، اپنے منہ میاں مٹھو بننا۔
فنا پذیر = فانی، مرنے والا۔
عرشِ دل:
عرش = تخت۔
بحدِ فعل = کام کی حد میں، عملاً۔
بحدِ قوت = امکانی طور پر۔
نفوس میں =
۴۶
جانوں میں۔
عالمِ صغیر = چھوٹی دنیا۔
عالمِ کبیر = بڑی دنیا۔
نیابت = نائب ہونا، قائم مقامی۔
عکس = تصویر۔
توجیہہ = وجہ بیان کرنا، سبب بتانا۔
قادرِ مطلق = پوری پوری قدرت رکھنے والا، خدائے تعالیٰ۔
ماورأ = علاوہ، سوا۔
جسمِ لطیف = آسمانی جسم، ایتھری جسم۔
متصور = تصور میں لایا ہوا، خیال کیا گیا۔
قالبِ عنصری = وہ جسم جو چار عناصر سے بنتا ہے۔
نقطۂ قرآن:
معانی = معنی کی جمع۔
اسمائے عظام = خدا کے بڑے بڑے نام جو معجزانہ ہیں۔
کلماتِ تامّات = ایسے کلمے جو تائیدِ الٰہی کا ذریعہ اور علم و حکمت کا سرچشمہ ہوا کرتے ہیں۔
لبِ لباب = خلاصے کا خلاصہ، عطر کا عطر، نہایت خالص۔
قطرے کا سمندر بن جانا:
لا انتہا = ختم نہ ہونے والا۔
سمندر قطرے میں:
نفوسِ جزوی = وہ جانیں جو کامل اور کل نہیں بلکہ جزو کی حیثیت سے ہیں۔
نفسِ کلی = کائناتی روح، تمام روحوں کا سرچشمہ۔
عالمِ اکبر =
۴۷
یہ ظاہری کائنات، سب سے بڑی دنیا۔
دل کی کائنات:
عالمِ تفکر = عالمِ تصور، عالمِ خیال۔
مستغرق = ڈوبا ہوا، نہایت مصروف۔
بس نقطہ ہی نقطہ:
نقوشِ پا = قدم کے نشانات۔
شعوری طور پر = جان بوجھ کر۔
لاشعوری طور پر = بغیر سوچے سمجھے۔
تحقیق و تدقیق = اصلیت معلوم کرنا اور باریک بینی سے کام لینا۔
نقطہ اور کتابِ کائنات:
سرِ آغاز = عنوان، عبارت کی پیشانی۔
شخصی = ذاتی، انفرادی۔
اسمِ بزرگ = اسمِ اعظم۔
زبانِ در فشان = موتی بکھیرنے والی زبان۔
وحدت اور کثرت:
عقلِ کلّی = عقلوں کا سرچشمہ، پہلا فرشتہ۔
نقطۂ تعلق:
جسمِ کثیف = یہ جسم جو ظاہر ہے اور کثافت والا ہے۔
جسمِ لطیف = آسمانی جسم جو عام طور پر نظر نہیں آتا اور لطافت والا ہے۔
۴۸
ذرّاتِ لطیف کی بارش:
ترکیب = مرکب کرنا، کئی چیزوں کو ملانا، بناوٹ ، ساخت۔
ذرّات پر مبنی ہے = اس کی بنیاد ذرات پر ہے، وہ ذرات کی بنیاد پر ہے۔
آفاق = ظاہری کائنات۔
انفس = نفس کی جمع، جانوں کی باطنی دنیا۔
آبی طوفان = پانی کا طوفان۔
نقطۂ نور:
رگِ جان = بڑی رگ، شاہ رگ۔
انا = خودی، انسان کی وہ حقیقت جس کو انسان ’’میں ‘‘ کہتا ہے۔
امرِ ’’کُنۡ ‘‘ :
اطلاق = کہنا، بولا جانا، منطبق ہونا۔
شیٔ = چیز۔
لا شیٔ = کوئی چیز نہ ہونا۔
لا شیئیت = کوئی چیز نہ ہونے کی صفت۔
نقطۂ واسط:
واسط = درمیانی چیز، وسط سے واسط اور واسطہ ہے۔
حدِ فاصل = وہ حد جو دو چیزوں کے درمیان آ کر ان کو ایک دوسرے سے جدا کر دے۔
واصل = ملنے والا ہے۔
معجزاتی کلمہ:
مراکز = مرکز کی جمع ( centers )، درمیانی حصہ، عین وسط۔
فراوانی = بہتات، بکثرت، بہت زیادہ۔
تصرف = قبضہ، اختیار، استعمال۔
۴۹
کلمۂ علیا:
علیا = اعلیٰ کی تانیث۔
اثبات = نفی کی ضد، ثبوت، ثبت کرنا۔
نفی = اثبات کی ضد، کسی چیز کے یا کسی صفت کے نہ ہونے کی دلیل۔
باری تعالیٰ = پیدا کرنے والا، خالق، اللہ تعالیٰ۔
لا ابتداء = وہ کیفیت جو کسی آغاز کے بغیر ہمیشہ موجود ہو۔
ازل = وہ گزشتہ زمانہ جس کی کوئی ابتداء یا حد نہ ہو۔
ابد = وہ آنے والا زمانہ جس کی کوئی انتہا اور کوئی حد نہ ہو۔
لامکان = وہ حالت و کیفیت جو مکان یعنی کسی مادی جگہ کے بغیر پائی جاتی ہے، جیسے عالمِ فکر و خیال، عالمِ خواب، دل کی دنیا اور عالمِ روحانیت۔
لازمان = وقت کی نسبت سے وہ کیفیت جس میں مادی دنیا کا وقت نہ ہو، یعنی جو ماضی ، حال اور مستقبل سے بے نیاز ہو۔
دائرۂ روح:
نفوسِ طبعی = ایسی روحیں جو مادّی چیزوں کی طبیعت میں موجود اور کارفرما ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ بظاہر جو چیزیں بے جان کہلاتی ہیں ان میں بھی ایک قسم کی روح پنہان ہے۔
وحدتِ نورانیّت:
وحدتِ نورانیّت = روح اور نور کی صفت میں ایک ہونا۔
نابلد =
۵۰
نا واقف۔
ایک پرحکمت مثال:
بت = مورت، صنم، معشوق، یہاں پیاری چیزوں کے خیالات و تصوّرات مراد ہیں۔
عرفانی = خدا شناسی سے متعلق۔
عرفانی حکمت = معرفت کی حکمت۔
مظہر = ظاہر ہونے کی جگہ، جائے ظہور۔
مظاہر = مظہر کی جمع۔
روح کی شناخت میں خدا کی شناخت:
مشابہ = مانند، مثل، نظیر، یکسان۔
یک حقیقت = ایک ایسی حقیقت کے خدا ہونے کا نظریہ، جس میں تمام حقیقتیں ایک ہوں۔
اپنے آپ کی تجدید:
تجدید= نیا بنانا، نئے سرے سے بنانا، کسی موجود چیز میں جدت و تازگی پیدا کرنا۔
آتشِ عشق = عشق کی آگ۔
فرسودگی = کہنگی، پرانا ہو جانے کی کیفیت۔
جمود= بے حسی۔
۵۱
روح کیا ہے؟
روح کیا ہے؟
روح کیا ہے؟ = عالمِ شخصی کیا ہے؟ = انسان کیا ہے؟
عنوانِ بالا کا کیا مطلب ہے؟ ج: اس کا مطلب یہ ہے کہ جوشخص روح کو پہچاننا چاہتا ہے، اس کو عالمِ شخصی کا سفر کرنا پڑے گا، جو اس کے باطن میں بحدِّ قوّت موجود ہے، پہلے وہ ہادیٔ زمان علیہ السّلام سے رجوع کرے، جیسا کہ رجوع کا حق ہے، پھر اپنے عالمِ شخصی کو حدِّ قوّت سے حدِ فعل میں لائے اور اس میں سیر و سفر کرے، اور اس انتہائی عظیم کام کی تمام سختیوں کو خوشدلی سے برداشت کرے۔
قرآنِ حکیم میں بزبانِ حکمت جگہ جگہ عالمِ شخصی کا تذکرہ موجود ہے یا تو آپ خود ریاضتِ حقّہ کر کے حکمت کے ساتھ قرآنِ حکیم کا مطالعہ کریں، یا دوسروں کی مشقت سے حاصل کردہ حکمت کو پڑھیں، آپ قرآن کو قرآنِ حکیم (حکمت والا قرآن) کہہ کر تو قرآنی حکمت کو مانتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ حکمت حاصل کرنے کے لئے کوشش نہیں کرتے ہیں، حالانکہ خیرِ کثیر حکمت میں ہے۔
ہماری عاجزانہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اہلِ ایمان کو اپنی کتابِ عزیز = قرآنِ حکیم کی حکمتِ بالغہ کی لازوال دولت سے مالامال فرمائے! آمین!
انتسابِ جدید:
میرے بہت ہی عزیز ساتھی اور مہربان دوست فتح علی حبیب جو آئی۔ ایل۔ جی۔
۳
اور پریسیڈنٹ کمیٹی کے سینیر رکن ہیں انہوں نے ہمارے ادارے کے لئے بے شمار خدمات انجام دی ہیں، چونکہ ان کی جملہ خدمات امامِ زمانؑ کے عشق میں ہیں، لہٰذا ایسے تمام عزیزوں کی اس عزت کی تعریف میں نہیں کر سکتا ہوں جو کل جنّت میں ان شاء اللہ ان سب کو ملنے والی ہے، فتح علی کی فرشتہ خصلت بیگم گل شکر بھی ہر خدمت میں ساتھ ساتھ ہیں، گل شکر ہماری خداداد بیٹیوں میں سب سے سینئر ہیں، آپ آئی۔ ایل۔ جی۔ نیز سینئر رکن پریسیڈنٹ کمیٹی اور ایڈوائزر بھی ہیں۔
عزیزم نزار فتح علی ٹریننگ آفیسر، آئی۔ ایل۔ جی۔ ، ٹرینی ممبر آف پی۔ سی۔ اور ہائی ایجوکیٹر نے نہایت خوبصورت کتابیں چھپوانے کی مہارت حاصل کر لی ہے، ساتھ ساتھ عزیزم رحیم فتح علی بھی ہے جو آئی۔ ایل۔ جی، ٹرینی ممبر آف پی۔سی۔ اور سکین انچارج (Scan-Incharge) بھی ہے، فاطمہ فتح علی آئی۔ ایل۔ جی۔، ممبر آف بورڈ آف میڈیکل ایڈوائزر اینڈ پیٹرن اور انچارج آف ایل۔ اے۔ ایس۔ ہے، نزارکی بیگم شازیہ علمی سولجر، ہائی ایجوکیٹر اور ویڈیو کیسیٹ انچارج ہے اور درِ ثمین نزار علی علمی سولجر اور ایل۔ اے۔ ایس۔ ہے۔
خداوندِ قدّوس اپنی رحمتِ بے پایان سے اس عزیز خاندان = فیملی کو دونوں جہان کی کامیابیوں سے نوازے، آمین یا ربّ العالمین!
ن۔ ن۔ (حبِّ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
کراچی، سنیچر ۱۵ رمضان المبارک ۱۴۲۲ھ
یکم دسمبر ۲۰۰۱ء
۴
روزنامہ جنگ کراچی (۳) جمعہ ۱۹ جون ۱۹۸۷ء
روح کیا ہے؟
(رئیس امروہوی)
علامہ نصیر الدین ہونزائی کا ذکر ان کالموں پر کیا جا چکا ہے، عجیب شخصیّت کے مالک ہیں ایک سو تیس کتابوں کے مصنف، بروشسکی، اردو، اور فارسی زبانوں پر کامل دست رس! تینوں زبانوں میں شعر کہتے ہیں، حضرتِ ہونزائی نے چین کے زندان خانوں میں عرفانِ خودی کی منزلیں طے کیں۔ اس ناکارہ پر خصوصیّت سے مہربان ہیں۔ احسان فرماتے ہیں اور اظہار نہیں کرتے۔ دلنوازی کی ادائیں کوئی ان سے سیکھے، کہتے ہیں کہ یہ لازوال دولت یعنی روحانیّت قرآنِ مجید کی ظاہری اور باطنی برکتوں سے حاصل ہوتی ہے۔ قرآنی برکتوں کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ طالبِ روحانیّت قرآنِ مجید کی آیات پر غور و تدبر کرے۔ روح کیا ہے؟ روح ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر آن اور ہر لمحہ جمالِ الٰہی اور جلالِ ربّانی کی ایک نئی تجلّی ظہور پذیر ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہر روز اس کی ایک نئی شان ہے (۵۵: ۲۹) اس آیۂ مبارکہ کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ روح کے آئینے میں پیہم تجلّیاتِ غیبی منعکس ہوتی رہتی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی قلبِ با صفا اپنی روح کو دیکھ سکتا ہے؟ دیکھ سکتا ہے تو کس آنکھ سے؟ چشمِ ظاہر سے یا دیدۂ باطن سے؟ روحِ انسانی بجائے خود ایک کائنات ہے۔ یعنی عالمِ صغیر! اس ننھی منی ان دیکھی کائنات (روح) میں
۵
تمام عالموں تمام کائناتوں اور تمام موجودات کی کیفیّت لطیف ذرّات کی شکل میں موجود ہوتی ہے ۔ روح ایک قائم بالذّات جوہر ہے۔ اس کی تجرید کے چار درجے ہیں۔ خیال، خواب، روحانیّت اور عقل۔ اور اس کی تجسیم (جسمانی حالت) کے بھی چار درجے ہیں۔ کثیف ذرّے، کثیف جسم، لطیف ذرّے، لطیف جسم! روح ناقابلِ تقسیم ہے۔ لیکن یہ لطیف اور کثیف جسم کے توسط سے لاتعداد مظاہر میں جلوہ پذیر ہوتی ہے۔ ہدایتِ قرآنی کے مطابق روح کا منبع و مرکز عالمِ امر ہے (۱۷: ۸۵) جس کے لاتعداد نورانی سائے، وجودِ انسانی کے آئینہ خانے میں منعکس (Reflect) ہوتے رہتے ہیں۔ انفرادی روح کا تعلق روحِ کلّ سے ہے۔ نباتات اور حیوانات بھی ذی روح ہیں۔ لیکن ان کی روحوں کی نوعیّت انسانی روح سے مختلف ہے۔ ہر روح مختلف ذرّات کا مجموعہ ہوا کرتی ہے۔ جنّات اور اس قسم کی دوسری نادیدہ مخلوقات بھی ذی روح ہے۔ علامہ نصیر الدین ہونزائی نے روح اور روحانیّت کے بارے میں اپنی کتاب روح کیا ہے؟ میں تفصیلی بحث کی ہے۔ ان کی فکر کا سرچشمہ قرآنِ مجید ہے۔ یہ موضوع بہت دقیق، نازک اور لطیف ہے۔ چند سطور یا ایک آدھ مضمون کے کوزے میں اس سمندر کو سمیٹ لینا ممکن نہیں۔ جو حضرات ان علمی بحثوں سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ علّامہ مؤلف کی کتاب (روح کیا ہے؟) کا مطالعہ کریں اس کتاب کو اے۔۳۔ نور ولا پلاٹ نمبر ۲۶۹ گارڈن ویسٹ کراچی ۳۔ فون ۷۲۲۴۹۲۰ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
۶
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حرفِ آغاز
“روح کیا ہے؟” جیسے سب سے مشکل موضوع پر “سو (۱۰۰) سوال و جواب” کی پرمغز و مفید کتاب جس طرح مکمل ہوئی ہے، وہ حقیقت میں اس بندۂ ناچیز کی کوششوں کا نتیجہ ہرگز نہیں، بلکہ یہ عنایاتِ خداوندی کا ایک علمی معجزہ ہے، جو دور و نزدیک کے بہت سے پاک و پاکیزہ دلوں کی پرخلوص دعاؤوں سے وجود میں آیا، یہ بات میرے بنیادی عقائد میں سے ہے کہ میں اہلِ ایمان کی قلبی دعا کو تائیدِ روحانی کا وسیلہ مانتا ہوں۔
امامِ عالی مقام کے اس غلامِ ناتمام کو چاہئے کہ یہ اپنی حقیر سی روح کے جملہ ذرّات کے ساتھ ہزار گونہ عاجزی و انکساری سے سر بسجود ہو کر خداوندِ مہربان کے عظیم الشّان احسانات کی شکرگزاری کرے، اگر یہ بندۂ کمترین اپنے جسم و جان کے بے شمار ذرّات کی ایسی ہم آہنگی حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جائے، تو پھر بھی میرے مالک و مولا کی پُرحکمت نعمتیں اتنی زیادہ، اس قدر گرانمایہ اور ایسی عالی شان ہیں، کہ ان کا حقِ شکرانہ کسی طرح سے بھی ادا نہیں ہو سکتا۔
بارانِ رحمت کے اس موسم میں بھی ہمیشہ کی طرح آسمانِ امامت نے ہم سب پر جیسی بابرکت بارش برسائی ہے، اور اس سے قلوبِ احباب کے باغ و چمن میں جو روحانی مسرّتوں اور امیدوں کی تازہ بہار آئی ہے، اس کے نتیجے میں ہم قدردانی اور احسان مندی کے جذبات سے سرشار تو ضرور ہیں،
۱۳
لیکن ان تمام مہربانیوں کی شکرگزاری کے لئے ہم اپنے آسمانی بادشاہ کے حضور میں کیا نذرانہ پیش کر سکتے ہیں اگر ہم اپنی حقیر جانیں اس کی راہ میں قربان کر دیں، تو پھر بھی حقیقت میں کیا کارنامہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ہماری جانیں بھی تو اسی کی ہیں۔
“روح کیا ہے؟” کی بحث بے حد دلچسپ بھی ہے، اور انتہائی مفید بھی، اور یہ سب سے عالی قدر موضوع ایسا ضروری ہے کہ اس کی طرف اہلِ دانش جس قدر بھی توّجہ دیں کم ہے، شاید کوئی دوست مجھ سے پوچھے گا کہ یہ بات اتنی اہمیّت والی کس وجہ سے ہو سکتی ہے؟ میں یہ عرض کروں گا کہ آیا معرفتِ روح معرفتِ خدا نہیں ہے؟ جیسا کہ مولا علی صلوات اللہ علیہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ:
“من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ”
“جس نے اپنی روح کو پہچان لیا یقیناً اُس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا۔” سو وہ اس مبارک فرمان کو ضرور قبول کرے گا۔
جب یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ مومن کی خود شناسی ہی میں خدا شناسی کا عظیم ترین خزانہ مل جاتا ہے، تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ خدا اور خدائی کا یہ خزانہ اسرارِ روح اور رموزِ روحانیّت سے بھرپور ہے، اس میں قرآن اور اسلام کی عقل و جان بھی ہے، اور نبوّت و امامت کا درخشندہ نور بھی، اللہ تعالیٰ کے عظیم اور پیارے بھیدوں کا یہ گنجِ گرانمایہ، جس میں ازل اور ابد کے تمام حقائق و معارف جمع ہیں، جب روحانیّت میں ہے، تو پھر روح کا موضوع کیوں اہم اور ضروری نہ ہو۔
اب ہم اس پیاری کتاب کے سوالات کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ یہ کس طرح مرتب ہوئے، قصّہ یوں ہے کہ عرصۂ دراز سے روح اور روحانیّت پر جو سوالات عام لفظوں میں ہوتے آئے ہیں ایک تو انہی کو منظم شکل دی گئی ہے،
۱۴
اور دوسرے یہاں وہ سوالات ہیں، جو ہمارے بہت ہی پیارے پریذیڈنٹ فتح علی حبیب، دیگر عملداران اور ارکان کی خواہش و فرمائش پر خانۂ حکمت نے بنائے ہیں، یاد رہے کہ عام اور غیر منطقی سوال کوئی بھی کر سکتا ہے، مگر ایسا سوال حقیقی اور روحانی علم کی بلندیوں کو چھو نہیں سکتا، اور نہ ہی وہ حقیقتوں اور معرفتوں کو گھیر سکتا ہے، چنانچہ درست سوال کسی مکان کے صحیح نقشے کی طرح ہے، جس پر پرحکمت جواب کی خوبصورت عمارت قائم ہو سکتی ہے۔
اس مقام پر میں اپنے دینی بھائیوں، دوستوں اور عزیزوں کو ایک ضروری مشورہ دینا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اس کتاب سے زیادہ سے زیادہ علمی فائدہ حاصل کرنے کے لئے خانۂ حکمت کی دوسری کتابوں کا بھی مطالعہ کیا جائے، خصوصاً ان کتابوں کا، جو روح اور روحانیّت سے متعلق ہیں، تا کہ اس وسیع مطالعے سے ایک طرف تو قاری پر اس کتاب کے تمام مطالب روشن ہو جائیں، اور دوسری طرف اس کے ذخیرۂ معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہو۔
یہ درویش جو دنیا کی گوناگون تکالیف سے تھکا ماندہ ہے، درختِ “خانۂ حکمت” کے زیرِ سایہ اپناحقیرانہ کام انجام دے رہا ہے، خداوندِ تعالیٰ اس پرمیوہ اور سایہ دار درخت اور اس کی سر سبز شاخوں کو دونوں جہان میں سدا بہار اور سربلند رکھے! اس کے لذیذ، خوشذائقہ اور خوشبودار پھلوں میں توقع سے زیادہ برکت پیدا کرے! اور اس کو ہر صبح و شام روئے زمین کے مومنین و مومنات کی نیک دعاؤوں سے حصّہ ملتا رہے!!
“خانۂ حکمت” ایک چھوٹا سا ذاتی نوعیّت کا ادارہ سہی، لیکن جب آپ حق پسندی اور علم پروری کی نظر سے اس کی اہمیّت و افادیّت کو دیکھیں گے، تو اس وقت آپ کو اس بات سے بڑا تعجب ہو گا کہ امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کی مصلحت و حکمت
۱۵
اور نورانی ہدایت پیاری جماعت کی ترقی اور مضبوطی کے لئے ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی کس طرح اپنا کام کرتی رہتی ہے، الحمدللہ ہم سب افرادِ جماعت اس بات کے قائل ہیں کہ ہمارا پاک مذہب باطنی اور روحانی ہے، لہٰذا ہم سرچشمۂ نورِ ہدایت کے ذریعۂ ظاہر کے علاوہ وسیلۂ باطن پر بھی یقین رکھتے ہیں، پس ہم فیضِ باطن اور توفیق و تائیدِ روحانی کے لئے ہر وقت دعا کرتے رہتے ہیں۔
خانۂ حکمت کے عہدہ داران اور ارکان پر خداوندِ مہربان کی نظرِ رحمت ہے، کہ وہ زیورِ اخلاق و ایمان سے آراستہ ہیں، اُن میں عجز و انکساری، جذبۂ ایثار و قربانی اور دینداری کی تمام تر خوبیاں موجود ہیں، ان کی سب سے بڑی آرزو اور خوشی اس بات میں ہے کہ وہ اپنے امامِ اقدس و اطہر کے پیارے مریدوں کی کوئی علمی خدمت کر سکیں، وہ اسی مقصدِ عالی کے پیشِ نظر سوچتے بھی ہیں اور عملاً کوشش بھی کرتے ہیں۔
اس موقع پر ہم ادارۂ “عارف” کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں، یہ بڑا پیارا ادارہ ہے، اس نے مغرب میں اسماعیلی جماعت کے لئے جو علمی کارنامے انجام دیئے ہیں، وہ بڑے تسلی بخش اور دور رس فوائد کے حامل ہیں، اس کے کارکن عالی ہمت اور حوصلہ مند ہیں، انہوں نے خوش بختی سے مولائے زمان صلوات اللہ علیہ سے اپنی اس بے لوث علمی خدمت کے لئے پرحکمت اجازت اور پاک دعا حاصل کر لی ہے۔
“عارف” کا یہ خوبصورت نام کتنا پیارا ہے، دیکھئے اس سے معرفت کی خوشبو آتی ہے، کیونکہ اس لفظ میں معرفت کا تصوّر ہے، اور اس کا رشتہ مولا علی علیہ الصلاۃ و السّلام کے مبارک کلام سے ہے، یعنی یہ “من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ” کی بنیاد پر قائم ہے، لہٰذا امید ہے کہ یہ ادارہ آگے چل کر بہت مفید
۱۶
ثابت ہو گا۔
اصل میں “خانۂ حکمت” اور “عارف” دو دوست ادارے ہیں، بلکہ کہنا چاہئے کہ یہ ایک ہی علمی وجود کے دو نام ہیں، وہاں بھی اور یہاں بھی اور عملدار و ارکان ہر وقت یہی چاہتے ہیں کہ فروغِ علمِ دین کا پھیلاؤ زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جب اس مذہب میں نورِ ہدایت کا سرچشمہ موجود ہے تو پھر یہاں کسی قسم کی جہالت و نادانی کی تاریکی کو کیوں رکھنا چاہئے۔
امامِ حیّ و حاضر کی مہربانی اور نوازش سے “خانۂ حکمت” اور “عارف” کے پاس اس وقت کل ملا کر سو (۱۰۰) کتابیں موجود ہیں ان میں سے تقریباً نصف کتابیں چھپ چکی ہیں، یہ کتابیں سب کی سب اسماعیلی مذہب پر ہیں، جو سب سے اہم موضوعات پر مبنی ہیں، جیسے تصوّرِ توحید، یک حقیقت (MONOREALISM)، قرآن کی حکمت و تاویل، اسمِ اعظم، ذکر و بندگی، معارفِ اسلام، حقائقِ نبوّت، اسرارِ امامت، نظریۂ قیامت، معرفتِ روح و روحانیّت، فلسفۂ خودی، مذہب اور سائنس، جماعتی خدمت، حقیقتِ نور، اثباتِ امامت، کیفیتِ معراج، وغیرہ، یہ کتابیں ان شاء اللہ تعالیٰ حال و مستقبل میں اہلِ علم کے لئے ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
آخر میں عاجزانہ دعا ہے کہ پروردگارِ عالم اپنی رحمتِ بے نہایت سے خانۂ حکمت اور عارف کے سعادت مند عملداروں اور ممبروں کو مذہب اور قوم کی علمی خدمت کے لئے ہر وقت نورانی توفیق اور اعلیٰ ہمت عنایت فرمائے! ان کو دنیا و عقبیٰ کی کامیابی اور سرفرازی عطا کرے! خداوندِ برحق جملہ جماعت کو روحانی علم اور نورانی معرفت کی لازوال دولت سے مالامال فرمائے! آمین ! !
امامِ وقت کا غلامِ کمترین
نصیر الدین نصیر ہونزائی
منگل ۲۰ شعبان ۱۴۰۱ھ
۲۳ جون ۱۹۸۱ ء سالِ مرغ
۱۷
بابِ اوّل:
روحِ نباتی:
سوال نمبر ۱: درخت، جھاڑ، گھاس اور ہر قسم کی اُگنے والی چیز (نبات) میں جو روح موجود ہوتی ہے، اس کا کیا نام ہے؟ کیا نباتات میں صرف ایک ہی روح ہوا کرتی ہے؟
جواب: ہر اُگنے والی چیز جو نبات کہلاتی ہے، اس میں روحِ نباتی ہوتی ہے، جس کو روحِ نامّیہ بھی کہتے ہیں، ہاں نباتات میں صرف ایک ہی روح ہوتی ہے۔
روحِ حیوانی:
سوال نمبر ۲: جانور جو حیوانِ صامت ہے، اس میں کتنی روحیں ہوتی ہیں؟ ان کے مرکز کہاں کہاں ہیں؟ ہر ایک کا نام اور کام بتائیے۔
جواب: جانوروں میں دو روحیں ہوتی ہیں، ایک کا مرکز جگر ہے، یہ روحِ نباتی ہے، جس کی بدولت جسم نشونما پاتا ہے، اور دوسری کا سنٹر دل ہے، جس سے روحِ حیوانی حِس و حرکت سے متعلق سارا کام کرتی ہے، روحِ حیوانی کا دوسرا نام روحِ حِسّی ہے۔
روحِ انسانی:
سوال نمبر ۳: انسان کی حیات و بقاء کتنی روحوں پر قائم ہے؟
۲۱
یہ روحیں کون کون سی ہیں، اور جسم کے کس کس عضو میں رہ کر کام کرتی ہیں؟
جواب: انسانی زندگی کا قیام تین روحوں پر ہے، وہ علی التّرتیب روحِ نباتی، روحِ حیوانی اور روحِ انسانی ہیں، روحِ نباتی کا مسکن جگر، روحِ حیوانی کا مقام دل، اور روحِ ناطقہ کا مرکز دماغ کا اگلا حصّہ ہے، پہلی روح سے جسم پروان چڑھتا ہے، دوسری روح حِس و حرکت کا سرچشمہ ہے، اور تیسری روح نطق و تمیز کا خزانہ۔
روحِ قدسی:
سوال نمبر ۴: ظاہر ہے کہ ایک عام انسان کیا بلکہ ہر درجے کا آدمی انسانِ کامل سے کمتر ہے، اس روحانی فرق کا کیا سبب ہے؟ آیا انسانِ کامل میں صرف روح کی پاکیزگی زیادہ ہے یا کوئی اعلیٰ اور خاص و پاک روح بھی ہے؟
جواب: عالمِ انسانیّت میں جس طرح انسانِ کامل منفرد و ممتاز ہے۔ اس کی وجہ روحِ قدسی ہے، جو انسانِ کامل کو عطا ہوتی ہے، جس سے لازمی طور پر روح کی پاکیزگی قائم رہتی ہے، کیونکہ روحِ مقدّس تو پاک ہونے اور پاک کر دینے کے تمام معنوں میں ہے، اس پاک روح کا قیام روحِ انسانی پر ہے، چنانچہ انسانی روح کے مرکز کے اوپر اس کا سنٹر ہے، یعنی پیشانی میں، جو انسان کی شخصیّت میں سب سے اعلیٰ مقام اور روحانی معجزات کی ظہور گاہ ہے۔
نوٹ: روحِ نباتی کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ: اور خدا ہی نے تم کو زمین سے بحیثیتِ نبات اگایا (۷۱: ۱۷)۔
۲۲
مسٔلۂ تقسیمِ روح:
سوال نمبر ۵: کیا انسانی روح اور دوسری چھوٹی بڑی روحیں سب کی سب ذرّات اور اجزأ پر مشتمل ہیں یا اُن میں سے ہر ایک ایسی وحدت و یکتائی رکھتی ہے کہ جس سے وہ ناقابلِ تجزیّہ و تقسیم قرار پاتی ہے؟
جواب: روح کوئی بھی ہو فی ذاتہٖ تقسیم نہیں ہوسکتی ، مگر جسمِ لطیف کے توسّط سے ہر درجے کی روح کے لاتعداد روحانی ذرّات ہوا کرتے ہیں، اور اس میں ہر ذرّہ اپنی نوعیّت کی ایک زندہ روح ہے، مثلاً کسی چھوٹے سے چھوٹے پودے میں روحِ نباتی کے بے شمار ذرّات موجود ہوتے ہیں، مگر وہ سب تقریباً ایک جیسے ہیں اور ان کا کام بھی ایک قسم کا ہے، لہٰذا کہا جاتا ہے کہ روحِ نباتی ایک ہے یا یوں سمجھ لیجئے کہ ان تمام ذرّات کی وحدت روحِ نباتی ہے، اور حیوان و انسان کی روح میں بھی یہی بات ہے۔
رُوح اور نُور:
سوال نمبر ۶ ۔ انسانِ کامل (یعنی پیغمبرؐ اور امامؑ) میں جو عظیم اور پاک روح موجود ہوتی ہے کیا وہی روح نور کہلاتی ہے یا نور اس کے علاوہ ہوتا ہے؟
نوٹ: بی بی مریم کی پاکیزہ شخصیت میں روحِ نباتی کا جو حسنِ کردار تھا، اس کی بابت فرمانِ خداوندی ہے کہ: خدا نے اسے حسن و خوبی سے اگایا (نشونما کی) و انبتھا نباتا حسنا (۰۳: ۳۷)۔
۲۳
ایسی عظیم الشّان روح کہاں سے آتی ہے؟
جواب: انسانِ کامل میں جو مقدّس روح ہے وہی نور بھی ہے، کیونکہ اسی عظیم روح کو خدائے علیم و حکیم نے علم و حکمت اور رشد و ہدایت کا نور بنایا ہے، یہ نور ہمیشہ سابِق سے لاحِق میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔
روحِ قرآن:
سوال نمبر ۷۔ آیا قرآنِ پاک کی کوئی عظیم روح ہے؟ اگر کہا جائے کہ قرآنِ حکیم کی ایک معجزاتی روح ہے، تو سوال اٹھتا ہےکہ وہ روح کہاں ہے، قرآن میں یا اور کہیں؟
جواب: ہاں، قرآنِ شریف کی روح ہے، جو زندہ اور تابندہ یعنی نور ہے، آپ اس بارے میں خود قرآن ( ۴۲: ۴۲ ) کی شہادت دیکھ سکتے ہیں، کہ خداوندِ عالم نے قرآن کو ایک عالی شان زندہ روح کی صورت میں آنحضرتؐ پر نازل فرمایا، اور اسی پاک روح کو نور قرار دیا، پس یہی نور روحِ قدسی بھی ہے، جس کا اس سے پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ وہ روح آنحضرتؐ کے بعد سلسلۂ أئمّۂ طاہرینؑ میں موجود و محفوظ ہے۔
رُوحِ خدا:
سوال نمبر ۸: کیا یہ صحیح ہے کہ خداوندِ تعالیٰ کی بھی ایک پاک و برتر
نوٹ: سابق سے ہر اگلا انسانِ کامل مراد ہے اور لاحق ملا ہوا، یعنی جانشین، حضرت آدم سے پہلے بھی سابق اور لاحق کا یہ سلسلہ چلتا تھا، کیونکہ دین کی اساسی چیزوں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، وہ خدا کی سنت (۱۷: ۷۷) کے مطابق اٹل ہیں۔
۲۴
اور ہمہ گیر روح ہے؟ نیز آپ یہ بتائیں کہ حضرتِ عیسیٰؑ کس معنیٰ میں روح اللہ (خدا کی روح) تھے؟ آیا یہ درجہ صرف حضرتِ عیسیٰؑ ہی کو حاصل تھا یا یہ مرتبہ تمام انبیائے کرامؑ میں مُشترک ہے؟
جواب: ہاں، یہ درست ہے کہ خدائے پاک کی روح ہے جو سب سے عظیم اور نورِ دائم ہے، مگر اس طرح نہیں کہ وجودِ باری تعالےٰ اِسی روح سے قائم ہو، کیونکہ ذاتِ سُبحان ہر چیز سے بے نیاز اور پاک و برتر ہے، بلکہ خدا کی روح اور نور کا درجہ کئی اعتبار سے حضراتِ انبیأ و أئمّہ صلوٰت اللہ علیہم ہی کو حاصل ہے، اور حضرتِ عیسیٰؑ اس حقیقت کی ایک مثال ہیں، جبکہ واقعاً ہر پیغمبر اور ہر امام روحِ خدا اور نورِ خدا کا مرتبہ رکھتا ہے۔
کائناتی روح:
سوال نمبر ۹: کہا جاتا ہے کہ اس کائنات کی ایک ایسی روح ہے جو اس پر محیط ہے، اس کا کیا نام ہے؟ آیا یہ حقیقت ہے کہ ہم کائناتی روح کے سمندر میں اس طرح قیام پزیر ہیں جس طرح پانی میں مچھلیاں رہتی ہیں؟
جواب: جی ہاں، یہ ایک مُسلّمہ حقیقت ہے کہ ارض و سماوات کی ایک عظیمُ الشّان رُوح ہے، جس کے کئی نام ہیں، جیسے نفسِ کُلّی، روحِ ارواح، کُرسیٔ خدا، لوحِ محفوظ وغیرہ، بیشک ہم عالمگیر روح کے گہرے سمندر میں مستغرق ہیں
۲۵
مگر روحانی وصال کا سوال اِس سے الگ ہے۔
ہر چیز میں روح:
سوال نمبر ۱۰: فرمایا گیا ہے کہ کوئی چیز روح کے بغیر نہیں، تو کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں، پتھر اور مٹی جیسی چیزوں کی بھی روح ہوا کرتی ہے؟ وہ روح کون سی ہے؟
جواب: یہ بالکل درست ہے کہ ہر بے جان چیز بھی اصل میں ایک جان رکھتی ہے، مگر یہ ہے کہ ایسی روح (جان) ان اشیاء کے اندر خاموش اور سوئی پڑی ہے، کیونکہ مصلحت و حکمتِ خداوندی اسی میں تھی، کہ روحِ نباتی سے نچلے درجے کی روح موت کی نیند سوتی رہے تا وقتیکہ یہ نباتات کی شکل میں زندہ نہ ہوجائے، یہ روح تکوینی اور معدنی ہے۔
روحِ ایمان:
سوال نمبر ۱۱: اسلام اور ایمان کی روح کون سی ہے؟ وہ کہاں رہتی ہے؟ آیا وہ بولنے والی ہے یا خاموش؟
جواب: اسلام اور ایمان کی روح بھی وہی ہے، جو قرآن کی روح ہے، اور وہ ہادئ برحقؑ میں قائم ہے، کیونکہ یہ اس کی پاک روح ہے، جو نورانیّت سے بھر پور ہے (اعنی وہ نور ہے، بحوالہ قرآن ۴۲: ۵۲)۔
۲۶
خواب اور رو ح:
سوال نمبر ۱۲: آدمی جب نیند کی کیفیّت میں ہوتا ہے، تو اس وقت اس کی روح کہاں ہوتی ہے؟ وہ جو خواب دیکھتا ہے، اس کا محلِ وقوع جسم ہے یا روح، یعنی عالمِ خواب کہاں ہے؟
جواب: آدمی جس وقت سو جاتا ہے، تو اس حال میں روح جسم کو کلّی طور پر نہیں چھوڑتی ہے، بلکہ بعض حواس سے اس کی گرفت ڈھیلی ہو جاتی ہے اور وہ اپنی ذات کی طرف متوجّہ ہو کر رہتی ہے، پس آدمی اپنی روح کے باطن ہی میں خواب دیکھتا ہے اور وہ اس کے لئے کہیں نہیں جاتا (دیکھئے: کتابِ مطالعۂ روحانیت و خواب)۔
ذکر اور روح:
سوال نمبر ۱۳: ذکر و بندگی سے روح پر جو پُرمسرت اثرات پڑتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے، اور غفلت و نافرمانی سے جو دل اُداس ہو جاتا ہے اس کا کیا سبب ہے؟
جواب: خدا کی پاک و پاکیزہ یاد اور مقدّس غلامی و فرمانبرداری روحِ مومن کے لئے امید و یقین کی بہشت ہے اور غفلت و نافرمانی اس کے برعکس خوف و جہالت کا جہنم ہے، اس سے دونوں متضاد کیفیّت پر روشنی پڑتی ہے کہ پہلی صورت میں کیونکر شادمانی ہو سکتی ہے اور دوسری صورت میں کیسے غم آسکتا ہے۔
۲۷
راہِ روح:
سوال نمبر ۱۴: خواہ جانور کا بچہ ہو یا انسان کا، جب شکمِ مادر میں ہوتا ہے تو اس وقت اس میں روحِ حسی یا روحِ حیوانی کس راہ سے داخل ہوتی رہتی ہے، اور جب یہی بچہ پیدا ہو کر ماں کا دودھ پینے لگتا ہے تو اس حال میں روحِ حیوانی کس راستے سے بچے میں آتی ہے؟ آیا یہ روح چند دنوں یا چند مہینوں میں مکمل ہو جاتی ہے یا یہ ایک لمبا سلسلہ ہے؟
جواب: جب کوئی حیوانی یا انسانی بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اس کی ناف کی راہ سے ماں کا خون بطورِ غذا داخل ہوتا رہتا ہے اور اسی میں روحِ حیوانی بھی آتی رہتی ہے، مگر جب وہ جنم لیتا ہے تو ناف کٹ جاتی ہے، اور وہ دودھ پینے لگتا ہے، پھر اس صورت میں روحِ حیوانی مُنہ سے داخل ہونے لگتی ہے، اور زندگی بھر جس طرح خوراک کا سلسلہ جاری ہے، وہ روحِ حیوانی کی تکمیل اور مرمّت ہی کا سلسلہ ہے۔
روحِ ناطقہ کا سرچشمہ:
سوال نمبر ۱۵: بچے میں روحِ ناطقہ (یعنی بولنے والی روح) جو انسانی روح ہے، وہ کس سرچشمے سے آتی ہے، اور کس راہ سے دماغ میں داخل ہو جاتی ہے؟ آیا یہ یکایک آتی ہے یا بتدریج مکمل ہو جاتی ہے؟
جواب: بچے کی روحِ ناطقہ کا سرچشمہ گھر کے وہ افراد ہیں، جو اکثر اس کے ساتھ محوِ گفتگو ہوتے ہیں، جیسے ماں، بہن، باپ،
۲۸
بھائی وغیرہ، چنانچہ اس بات چیت کے ساتھ روحِ ناطقہ کانوں کی راہ سے بچے کے دماغ میں داخل ہوتی رہتی ہے، اور بتدریج مکمل ہو جاتی ہے۔
ترتیبِ ارواح:
سوال نمبر ۱۶: انسان میں روحوں کے آنے کی کیا ترتیب ہے، یعنی پہلے کونسی روح آتی ہے، اعلیٰ روح یا ادنیٰ روح؟ بتائیے عقل پہلے آتی ہے یا روحِ ناطقہ؟
جواب: انسان میں سب سے پہلے اساسی طور پر روحِ نباتی آتی ہے، جو ایک قطرے میں موجود ہوتی ہے، پھر روحِ حیوانی، پھر روحِ انسانی اور آخر میں عقل آتی ہے، اس سے یہ ترتیب ظاہر ہے کہ پہلے ادنیٰ یعنی کمتر روح آتی ہے اور پھر اعلیٰ روح، اور یہ بھی عیان ہے کہ پہلے روحِ ناطقہ آتی ہے پھر عقل۔
نفس یا روح؟
سوال نمبر ۱۷: نفس اور روح میں کیا فرق ہے؟ قرآن میں انسانی نفس کے کتنے درجے مذکور ہیں؟
جواب: لوگوں کی عادت الگ ہے اور حقیقت الگ، سو حقیقت میں نفس اور روح کا ایک ہی مطلب ہے، چنانچہ جب “نفسِ امارہ” کہا جائے تو اس کے معنی پستی کی طرف آئیں گے، اور جب “نفسِ مطمئنہ” بولا جائے تو
۲۹
اس کے معنی بلندی کی طرف اُٹھیں گے اور یہی مثال “روحِ حیوانی اور روحِ انسانی” کی بھی ہے، اس سے ظاہر ہے کہ نفس ہو یا روح، اس کے درجات ہیں، قرآن میں انسانی نفس (یعنی جان) کے تین درجے مذکور ہیں، وہ نفسِ امّارہ، نفسِ لوّامہ اور نفسِ مُطمئنّہ ہیں (۱۲: ۵۳، ۷۵: ۰۲، ۸۹: ۲۷) ۔
روح اور عطیۂ خون:
سوال نمبر ۱۸: جب ایک آدمی کسی مریض کو بوقتِ ضرورت خون کا عطیہ دیتا ہے تو اس خون کے ساتھ کون کون سی روحیں بیمار آدمی میں منتقل ہو جاتی ہیں؟
جواب: اس خون کے ساتھ صرف روحِ نباتی اور روحِ حیوانی کے ذرّات کی کچھ تعداد منتقل ہو جاتی ہے نہ کہ روحِ انسانی کا کوئی حصّہ، کیونکہ انسانی روح خون سے نہیں بلکہ گفتگو سے منتقل ہو سکتی ہے، چنانچہ یاد رہے کہ علم و حکمت کی باتوں سے مومنین میں درجۂ اعلیٰ کی روح بنتی ہے جو پاک روح ہے۔
درجاتِ ارواح:
سوال نمبر ۱۹: جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان، یہ تو مخلوقات کے بڑے درجے ہیں، یا یہ بڑی تقسیم ہے، مگر ہمیں یہ پوچھ لینا ہے کہ آیا ان میں سے ہر درجے کے ذیلی درجے بھی ہیں یا نہیں؟ اگر مان لیا جائے کہ ان کے
۳۰
ذیلی درجات بھی ہیں، تو پھر روحِ نباتی، روحِ حیوانی اور روحِ انسانی میں سے ہر ایک کے بہت سے مراتب ہوں گے، اس کی وضاحت کیجئے۔
جواب: جی ہاں، جمادات کے مختلف درجات ہیں، نباتات اور حیوانات کے بھی، اور انسان بھی اخلاق و دینداری کے بہت سے درجوں پر ٹھہرے ہوئے ہیں، اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ روحِ نباتی، روحِ حیوانی اور روحِ انسانی میں سے ہر ایک کے لاتعداد درجات ہیں۔
روحِ معرفت:
سوال نمبر ۲۰: اگر روح کی شناخت خدا کی معرفت ہو سکتی ہے، تو بتائیے کہ یہ روح کون سی ہے؟
جواب: خدا کی معرفت روحِ قدسی کے بغیر مُحال ہے، لہٰذا اس سلسلے میں سب سے اوّل روحِ مقدّس کو حاصل کر کے اپنانا پڑتا ہے کیونکہ اسی روح کی پہچان خدا کی معرفت قرار پاتی ہے اور یہ روح انسانِ کامل کے توسّط سے مل سکتی ہے۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ انسانِ کامل دوسروں کو بھی کامل بنا سکتا ہے۔
۳۱
بابِ دوم:
لاتعداد روحیں:
سوال نمبر ۲۱ ۔ جَنین (بچۂ شکمِ مادر) میں روحِ حیوانی کب داخل ہو جاتی ہے؟ آیا یہ روح تخلیقِ بدن کے نقطۂ آغاز میں شروع ہی سے موجود نہیں ہوتی، جبکہ ڈاکٹری سائنس کی جدید ریسرچ (تحقیق) کے مطابق تخمِ حیات کے اُن تمام قطرات میں روحِ حیوانی کے ذرّات مجموعی طور پر کروڑوں سے بھی زیادہ ہوتے ہیں؟
جواب: ڈاکٹری سائنس کی یہ بات بالکل معقول اور صحیح ہے، اور اس سے ان روحانی مشاہدات کی تصدیق و تائید ہو جاتی ہے، جن کی روشنی میں قبلاً یہ کہا گیا تھا کہ ہر درجہ کی روح کے لا تعداد ذرّات ہوا کرتے ہیں، جو اُس روح کے مطابق زندگی رکھتے ہیں، اور یقین کرنا چاہئے کہ ہر ایک روح کی ایسی ذیلی تقسیم اور اتنی کثرت و فراوانی میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور رحمتیں بھی اس قدر زیادہ ہیں، بہر کیف جنین میں حرکت چار ماہ کے بعد نمایا ن ہو جاتی ہے، اسی اعتبار سے کہا گیا ہے کہ روحِ حیوانی چوتھے مہینے کے اختتام پر آتی ہے۔
لفظِ “روح” کتنی دفعہ؟
سوال نمبر ۲۲: قرآنِ حکیم میں لفظِ “روح” کتنی دفعہ آیا ہے، اور موضوعِ روح سے متعلق جملہ آیات میں کلیدی آیت کون سی ہے؟ مدلل وضاحت کیجئے۔
۳۵
جواب: اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو قرآنِ پاک سراسر روح کے تذکروں سے مملو ہے، اس کے علاوہ ظاہر میں روح کے مترادفات بھی بہت زیادہ ہیں، لیکن یہاں سوال صرف لفظِ “روح” کے بارے میں ہے، لہٰذا یہی بتانا کافی ہے کہ “روح” کا لفظ قرآن میں ۲۴ دفعہ مذکور ہے، اور روح کے باب میں اساسی و کلیدی آیت یہ ہے:۔
“اور (اے رسولؐ) تم سے لوگ “الرُّوح” کے بارے میں سوال کرتے ہیں تم کہدو کہ “الرُّوح” میرے پروردگار کے (عالمِ ) امر سے ہے اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے (۱۷: ۸۵ ) چنانچہ جاننا چاہیےکہ روح سے متعلق یہ قرآنی تعلیم بنیادی اور کلیدی اہمیّت کی حامل ہے، کیونکہ یہ سوال خواہ جیسا بھی کیا گیا ہو، مگر سب سے بڑی روح کے معنی میں لیا گیا ہے، جیسے اس میں “الرُّوح” کا لفظ آیا ہے، نیز اس کے حقائق و معارف کے لئے کلمۂ “کُن” اور عالمِ امر کا حوالہ دیا گیا ہے، تاکہ اہلِ دانش معرفتِ روح کے ان وسائل سے روحانی طور پر رجوع کریں۔
روح کی خاص صورت:
سوال نمبر ۲۳: کیا یہ بات صحیح ہے کہ روح کی شکلیں کائنات بھر کی مخلوقات کی طرح مختلف بھی ہیں اور اتنی زیادہ بھی؟ آیا ان تمام صورتوں میں سے روح کی کوئی خاص صورت بھی ہے؟ اگر اس کی کوئی مخصوص صورت ہے تو وہ کون سی ہے؟
جواب: جی ہاں، بالکل صحیح ہے، کائناتی روح اپنی تمامتر خوبیوں کے ساتھ کائنات کی شکل و شباہت رکھتی ہے، اور یہ حقیقت جنّت کے
۳۶
ذکر میں موجود ہے (۵۷: ۲۱ ) اور جُزوی رُوحیں بھی اجزائے کائنات اور مخلوقات کی سی شکل و صورت رکھتی ہیں، مگر روح کی سب سے خاص صورت یہ ہے کہ وہ انسانی شکل میں ہے، اور اس سے بھی آگے بڑھ کر انسانِ کامل کی صورت میں، جو صورتِ رحمان ہے۔
مُشاہدۂ روحانیّت:
سوال نمبر ۲۴: آپ جن ذرّاتِ روحانی کا اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں، آیا وہ مشاہدۂ روحانیّت اور معرفت کی بات ہے یا صرف قرآنی علم کی؟ اگر روح کا دیدار ممکن ہے تو وہ کس آنکھ سے ہوتا ہے، یعنی دیدۂ ظاہر سے یا دیدۂ باطن سے؟
جواب: ذرّاتِ روح کا تذکرہ مشاہدۂ روحانیّت و معرفت اور قرآنی حکمت کے بغیر ممکن نہیں، اور نہ ہی امامِ زمانؑ کی تائید کے سوا روحانیّت اور حکمتِ قرآن حاصل ہو سکتی ہے، دیدارِ روح کا تعلق چشمِ باطن سے ہے، مگر بعد میں ایسا وقت بھی آتا ہے کہ اس میں حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن باہم مل کر ایک ہو جاتے ہیں۔
تبادلۂ روح:
سوال نمبر ۲۵: آپ کے کہنے کے مطابق ایک ہی روح، مثلاً روحِ انسانی یا نفسِ ناطقہ لاتعداد روحوں کا مجموعہ ہے، پھر بتائیے کہ آیا یہ تمام روحیں
۳۷
زندگی بھر انسان کے جسم میں محبوس و مقیّد رہتی ہیں یا کہ ان کا تبادلہ اور آنا جانا ہوتا ہے؟
جواب: کوئی شک نہیں کہ ایک ہی روح کے نام سے بے شمار روحیں انسانی جسم میں رہتی ہیں، مگر یہ ہے کہ بہت سے مواقع پر ان کا ایسا تبادلہ اور آنا جانا ہوتا ہے کہ سوائے اہلِ روحانیّت کے اس کا کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا، مثال کے طور پر نیند کے دوران کچھ روحیں جاتی ہیں اور کچھ نئی روحیں آتی ہیں (۳۹: ۴۲ )۔
تجدید و تازگی:
سوال نمبر ۲۶: اگر معاملہ کچھ یوں ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مجموعی روحانیت میں تجدید و تازگی ہو، وہ یہ کہ آلودہ اور فرسودہ ذرّات چلے جائیں اور عمدہ عمدہ ذرّات ان کی جگہ لیں، اس کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
جواب: صاحبِ امر کی فرمانبرداری میں کامیاب عبادت و بندگی، مومنین کی خدمت اور عاجزی اختیار کرنے سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے، اور خداوندِ عالم نے تبادلہ کا یہ نظام اہلِ ایمان کی روحانی تر قی ہی کے لئے بنا یا ہے۔
روح کب سے ہے؟
سوال نمبر ۲۷: روح کب سے ہے اور کب تک قائم رہ سکے گی،
۳۸
بالفاظِ دیگر خداوند تعالیٰ نے روح کب پیدا کی تھی، اور کتنے عرصے کے لئے؟
جواب: اس سے پیشتر آیۂ کریمہ کی وضاحت ہو چکی ہے کہ روح عالمِ امر سے ہے، (یعنی عالمِ خلق سے نہیں) اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ روح ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے اور یہ خدا کی سب سے بڑی صفت ہے کہ اس کی بادشاہی میں ایسی چیزیں بھی ہیں جو قدیم ہیں، کیونکہ جو چیز عالمِ امر سے منسوب ہو وہ قدیم ہوتی ہے اور جو شیٔ عالمِ خلق کی ہو تو وہ حادث ہوتی ہے۔
نفسِ واحدہ:
سوال نمبر ۲۸: یہ تو بالکل درست ہے کہ سب سے بڑی روح ایک مثال میں “روحوں کا سمندر” ہے اور دوسری مثال میں “روح الارواح” ہے، لیکن ہم اس کے علاوہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ عظیم ترین روح کا کوئی قرآنی نام ہو، تاکہ یہ حقیقت اور زیادہ روشن ہو جائے، تو کیا آپ اِس باب میں قرآنِ حکیم سے کچھ بتا سکتے ہیں؟
جواب: قرآنِ پاک میں کائناتی روح کے کئی نام مذکور ہیں، اور ان میں سے ایک نام “نفسِ واحدہ” ہے (۳۱: ۲۸) جس میں تمام روحیں جمع ہیں، جہاں ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو سب لوگ بیک وقت اور معاً پیدا کئے گئے تھے اور وہ اسی طرح دوبارہ پیدا ہو جائیں گے۔
۳۹
اسمِ اعظم:
سوال نمبر ۲۹: مطالعۂ قرآن (۰۴: ۱۷۱ ) سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرتِ عیسیٰؑ خدا کا کلمہ تھے جو بی بی مریمؑ میں القاء کیا گیا، اور خدا کی طرف سے ایک خاص روح تھے، اس میں پوچھنا یہ ہے کہ آپؑ کس طرح کلمہ تھے اور کونسا کلمہ تھے؟ نیز یہ کہ کلمہ اور روح میں کیا مناسبت ہے، اور یہ روح کون سی تھی؟
جواب: اس کی حکمت یوں ہے کہ حضرتِ عیسیٰؑ جسمانی پیدائش سے قبل اور بعد میں بھی روحانی طور پر کلمۂ خدا تھے جو اسمِ اعظم ہے اور یہ اسمِ اعظم حضرتِ مریمؑ کو دیا گیا، کلمہ اور روح کا رشتہ یہ ہے کہ عظیم روح اسمِ اعظم (کلمہ) میں پوشیدہ ہوتی ہے، اور وہ روح القدس ہے، اور اسی طرح خدا وندِ عالم نے بی بی مریمؑ میں روحِ قدسی پھونک دی تھی۔
خدائی روح پھونک دینا:
سوال نمبر ۳۰: قرآنِ کریم (۳۲: ۰۹) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک روح آدمؑ میں پھونک دی، آیا یہ کوئی الگ طریقہ تھا یا اسمِ بزرگ کی تعلیم دینا ہی روح القدس پھونک دینا تھا؟
جواب: ہم نے کتابِ “پیر ناصر خسرو (ق س) اور روحانیت” میں تفصیل سے اس کا ذکر کیا ہے کہ ربّ العزّت نے اپنی روح حضرت آدمؑ میں اس طرح پھونک دی تھی کہ اس حکمت والے نے آدمِ صفی اللہ کو اسمِ اعظم کی تعلیم سے سرفراز فرمایا، اور کل اسماء کا علم بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔
۴۰
لفظِ “ارواح” کیوں نہیں؟
سوال نمبر ۳۱: قرآنِ پاک میں جہاں جہاں روح کا ذکر آیا ہے تو وہ سب صیغۂ واحد میں “روح” ہے مگر کہیں بھی صیغۂ جمع میں “ارواح” نہیں، سو اس میں کیا راز ہے؟ مثال کے طور پر تنزّ لُ الملٰئٓکۃ وا لرّوحُ فیھَا ( اس میں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور روح ۹۷: ۰۴) حالانکہ اس میں ظاہری تقاضا تو یہ ہے کہ قدر کی رات کے موقع پر جس طرح بہت سارے ملائکہ اترتے ہیں اسی طرح صرف ایک ہی روح نہیں بلکہ بہت سی ارواح نازل ہوں۔
جواب: اس میں مصلحت و حکمت اور راز یہ ہے کہ ایک ہی عظیم اور سردار روح میں بے حساب روحیں جمع ہوتی ہیں، چنانچہ ایک عظیم روح کا نازل ہونا ہی بہت سی ارواح کا نزول ہے اور اس کا ذکر سب کا ذکر ہے، جیسے فرمایا گیا ہے کہ: اس (خدا) کی طرف فرشتے اور روح چڑھتی ہے ایک دن میں جو پچاس ہزار برس کے برابر ہے (۷۰: ۰۴) یہ بات بہت ہی عجیب ہوگی اگر ہم صرف یہی خیال کریں کہ اتنے لمبے دور میں جو پچاس ہزار برس کا ہے صرف ایک ہی روح خداوندِ عالم کے حضورِ اقدس میں پہنچ سکتی ہے، مگر یہ بات نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سردار روح (جیسے انسانِ کامل کی پاک روح) تو ایک ہی ہوتی ہے، مگر اس میں کائنات بھر کی ارواح سمائی ہوئی ہوتی ہیں۔
۴۱
فرشتوں کا لشکر اور سردار: ۔
سوال نمبر ۳۲: روح سے متعلق اس بحث کے سلسلے میں شروع سے لے کر یہاں تک جس طرح بیان ہوا اس سے بہت سی حقیقتوں کے علاوہ ہم یہ اصول بھی سمجھ گئے کہ ہر درجہ کی روح میں بہت سی ارواح موجود ہوتی ہیں، اسی کے ساتھ ساتھ ہم فرشتوں کے بارے میں بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ایک سردار فرشتہ کے تحت بہت سے فرشتے کام کرتے ہیں یا نہیں؟
جواب: جی ہاں، فرشتوں کے متعلق بھی یہی تصوّر درست ہے کہ ہر کام کے لئے ایک سردار فرشتہ ہوا کرتا ہے اور اس کے تحت بہت سے فرشتے اور ہوتے ہیں جو بحکمِ خدا اس کے ساتھ متعلقہ کام کرتے ہیں، جیسے حضرت عزرائیلؑ کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ: “(اے رسولؐ) تم کہدو کہ ملک الموت (عزرائیل) جو تمہارے اوپر تعینات ہے وہی تمہاری روحیں قبض کرے گا (۳۲: ۱۱)” اور عزرائیل کے ماتحت فرشتوں کے متعلق یوں ارشاد ہے: “یہ وہ لوگ ہیں جن کی روحیں فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک و پاکیزہ ہوتے ہیں تو فرشتے ان سے کہتے ہیں تم پر سلامتی ہے ( ۱۶: ۳۲)” اس سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علہیم السّلام میں سے ہر ایک فرشتہ کے تحت بہت سے ذیلی فرشتے کام کرتے ہیں۔
روح اور فرشتہ: ۔
سوال نمبر ۳۳: روح اور فرشتہ کے درمیان کیا فرق ہے، اور نور
۴۲
کے ساتھ فرشتے کا کیا رشتہ ہے؟ کیا الگ الگ بہت سے انوار ہو سکتے ہیں یا کہ نور صرف ایک ہی ہوتا ہے؟
جواب: روح بعض دفعہ فرشتہ اور فرشتہ بعض اوقات روح کے لئے بولا جاتا ہے، اس صورت میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں، اور جہاں فرق ہے وہ یہ ہے کہ روحوں میں اچھی بھی ہیں اور بری بھی، مگر فرشتے سب کے سب اچھے ہیں، یعنی فرمانبردار (۱۶: ۵۰) چنانچہ ایسی روحیں جو فرمانبرداری کے درجۂ کمال پر پہنچ گئی ہوں، وہ فرشتے بن چکی ہیں، کیونکہ فرشتے ارواحِ مومنین و مومنات سے ہی بن جاتے ہیں، نور کے ساتھ فرشتے کا رشتہ یہ ہے کہ اگر فرشتہ عظیم ہے تو وہ نور ہوتا ہے، جس طرح بڑی روح نور کہلاتی ہے، نور کے چاند ستارے الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن وہ صرف سرچشمۂ نور یعنی آفتابِ دین میں ایک ہیں، بلکہ وہ اس روشنی میں بھی ایک ہیں، جو ان کے توسّط سے پھیل جا تی ہے۔
ترقی یافتہ روح: ۔
سوال نمبر ۳۴: یہ بات بڑی اہمیّت والی ہے جو بتائی گئی کہ کچھ روحیں جو خدا اور رسولؐ اور صاحبِ امرؑ کی اطاعت کرتی ہیں، وہ فرشتوں کی حیثیت سے ہیں یا کل فرشتے بن جانے والی ہیں، لہٰذا اس مطلب پر مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے، تاکہ یہ حقیقت زیادہ سے زیادہ روشن ہو جائے کہ ہر ترقی یافتہ روح فرشتہ ہے۔
جواب: جبرائیلؑ کے فرشتہ ہونے میں کسی کو کیا شک ہوسکتا
۴۳
ہے، فرشتہ فارسی لفظ ہے، اس کی عربی “مَلَک” ہے، آپ قرآن میں دیکھ سکتے ہیں کہ جبرائیل مَلَک (فرشتہ) ہے (۴۲: ۵۱) اور آپ یہ بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ حضرت جبرائیلؑ پاک روح ہے (۱۶: ۱۰۲) اور امانت والی روح ہے ( ۲۶: ۱۹۳) صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی آیات ہیں، جن میں لفظ “روح” فرشتہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، مثلاً اس آیت کو لیجئے: ۔
فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا(۱۹: ۱۷) تو ہم نے اپنی روح (جبرائیل) کو ان کے پاس بھیجا تو وہ اچھے خاصے آدمی کی صورت بن کر ان کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس سے صاف صاف ظاہر ہے کہ ہر اعلیٰ روح ایک فرشتہ ہے، اسی کے ساتھ ہم یہاں یہ بھی کہیں گے کہ جن آیات میں بہت سے فرشتوں کے ساتھ ایک خاص روح کا ذکر ہوا ہے (مثال کے طور پر ۱۶: ۰۲) تو اس میں حقیقت کے دو پہلو ہوا کرتے ہیں، ایک تو یہ کہ ایسے مقام پر “الملٰٓئکۃ” فرشتے ہیں، اور “الروح” عظیم فرشتہ ہے، دوسرا یہ کہ”الملٰٓئکۃ” کا مطلب ارواح ہیں، اور “الروح” سے سردار روح مراد ہے اور ہمیشہ یہ بھی یاد رہے کہ گوہرِ حقیقت کے جتنے بھی زیادہ پہلو ہوتے ہیں، اتنی زیادہ اس کی قدر و قیمت ہوا کرتی ہے۔
خاص روح: ۔
سوال نمبر ۳۵: یہ بالکل صحیح ہے کہ قرآنِ حکیم میں لفظ “روح” کُل ۲۴ مرتبہ مذکور ہے، ان تمام مقامات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ خاص روح کا ذکر ہے، عام روح کی بات نہیں، خاص اس لئے کہ
۴۴
اکثر روح کا اسمِ معرفہ (الروح) ہے، اور بہت کم جگہوں پر نکرہ ہے (یعنی روح) لیکن جہاں جہاں نکرہ ہے اس کو بھی خدا سے منسوب کر کے حقیقت کے اعتبار سے خاص کیا گیا ہے، جیسے: “۔۔۔۔۔۔۔ (۵۸: ۲۲) اور خدا نے اپنی طرف سے ایک روح سے ان کی تائید کی۔” اس ارشاد میں “بِرُوْحٍ” عام ہے، مگر “مِنْہُ” کے اعلان نے اسے ایک طرح سے خاص کر دیا ہے، تاہم “روحٍ” جو اسم ہے، اس کے ایک طرف سے خاص اور دوسری طرف سے عام ہونے میں بڑی حکمت پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ دین کا ہر مرتبہ خواہ وہ جبرائیل کا ہو یا کسی اور کا، دو حیثیتوں میں ہوتا ہے، ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ازلی و ابدی مرتبہ ہے، دوسری یہ کہ ہر زمانے میں کوئی عظیم شخصیت اور پاک روح اس مرتبۂ عالی پر فائز ہو جاتی ہے، چنانچہ جہاں دائمی منصب کا ذکر مقصود ہوتا ہے، تو اس میں الروح یا روح القدس جیسے اسمائے معرفہ لائے جاتے ہیں، اور جب اس شخصیت یا روح کی طرف اشارہ مطلوب ہو جو زمانے میں اس مرتبت پر متمکن ہے، تو اس صورت میں روحٍ یا روحاً جیسے اسمائے نکرہ لا کر پھر ان کو خدا سے منسوب کیا جاتا ہے، تاکہ حکمت کا جو تقاضا ہے وہ پورا ہو جائے۔
لفظِ “ذریّت” کی حکمت: ۔
سوال نمبر ۳۶: ہم لفظ ذریّت کے متعلق گہری معلومات چاہتے
۴۵
ہیں۔ چنانچہ سورۂ یاسین (۳۶) کی آیت نمبر ۴۱ کے دو ایسے ترجمے سامنے ہیں، کہ ان دونوں میں “ذریّت” کے معنی مختلف ہیں، آپ بتائیے کہ کون سا ترجمہ درست ہے؟ آیۂ مقدّسہ یہ ہے: ۔
و اٰیۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون۔ (۳۶: ۴۱)
پہلا ترجمہ: اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ دوسرا ترجمہ: اور ان کے لئے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کے بزرگوں کو (نوحؑ کی) بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔
جواب: ۔ ذریّت سے یہاں نہ اولاد مراد ہے اور نہ ہی بزرگان یعنی آباؤ اجداد، کیونکہ یہاں جس کشتی کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ کشتیٔ نوحؑ ہے، تو اس میں زمانۂ رسولؐ کے لوگوں کی اولاد کس طرح سوار ہوئی تھی، اور یہ بھی درست نہیں کہ ذریّت کے معنی آباؤاجداد کریں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ذریّت سے ذراتِ روح مراد ہیں، یعنی ان لوگوں کے روحانی ذرّات کشتیٔ نوح میں سوار شدہ مومنین کی پشتوں میں تھے، اور یہ قدرتِ خدا کی ایک نشانی ہے، یعنی معجزہ کہ یہ لوگ ذرّات کی صورت میں وہاں موجود تھے اور طوفان کا خوفناک منظر دیکھ رہے تھے، ذرّاتِ روحانی کی مزید تشریح آپ کو “امام شناسی حصّۂ اوّل” میں “پرہیزگاروں کے امام” کے عنوان کے تحت ملے گی۔
سفینۂ نوح اور ذراتِ روح: ۔
سوال نمبر ۳۷: آپ نے فرمایا کہ جو اہلِ ایمان سفینۂ نوح میں سوارتھے، ان کی پشتوں کے روحانی ذرّات نے طوفان کا منظر دیکھا تھا، اس
۴۶
میں سوال ہے کہ یہ ذرّات کے لئے کس طرح ممکن ہوا، حالانکہ ان میں شعور نہیں تھا؟
جواب: آج سیّارۂ زمین پر جتنے لوگ بستے ہیں، وہ اس سے پہلے بنی آدم کی پشتوں میں روحانی ذرّات تھے، ان کو پروردگارِ عالم نے وہاں سے اٹھا کر ایک ایسی شخصیّت کی روحانیّت میں حاضر کر دیا، جہاں نورِ خدا حقائق و معارف پر روشنی ڈال رہا تھا، چنانچہ خداوند تعالیٰ نے ان ذرّات سے پوچھا کہ آیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، تو انہوں نے جواب دیا، کیوں نہیں (۰۷: ۱۷۲) اس سے ظاہر ہوا کہ جہاں نورِ خداوندی کی روشنی پڑتی ہے وہاں نہ صرف روح کے ذرّات کو شعور ملتا ہے بلکہ تمام بے جان ذرّات بھی بول اٹھتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ قرآنی ہے: “وہ جواب دیں گے کہ جس خدا نے ہر چیز کو گویا کیا اسی نے ہم کو گویا کیا (۴۱: ۲۱)” چنانچہ سفینۂ نوحؑ میں نورِ نبوّت و امامت ذرّاتِ روح پر روشنی ڈال رہا تھا، اور تمام روحیں ایک طرح سے اس عظیم طوفان کو دیکھ رہی تھیں۔
ہم پہلے تھے یا آدمؑ؟
سوال نمبر ۳۸: اس آیۂ مبارکہ کی ترتیبِ بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اس میں کوئی عظیم راز پوشیدہ ہے، کیونکہ اگر ہم اس کو صرف نگاہِ ظاہر سے دیکھیں تو کئی مشکل سوالات پیدا ہوتے ہیں، وہ پاک آیت یہ ہے:۔
” وَلقد خلقنٰکم ثمّ صوّرنٰکم ثمَّ قلنا للملٰئکۃ اسجدوا لِاٰدم (۰۷: ۱۱)
۴۷
اور ہم ہی نے تم کو پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔” اس میں سوال یہ ہے کہ آیاتِ قرآن میں سلسلۂ بیان کی کڑیاں اپنی اپنی جگہ پر ہوتی ہیں، یعنی جو واقعہ ترتیبِ بیان میں آگے ہو، وہ زمانہ کے لحاظ سے بھی آگے ہوتا ہے، اور خصوصاً اس وقت جبکہ ایک چیز بیان ہونے کے بعد “ثُمَ” آتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہاں جو چیز پہلے مذکور ہوئی ہے وہ واقعاً پہلے ہی ہے، پھر آپ یہ بتائیں کہ آیا لوگ زمانۂ آدم سے پہلے موجود تھے؟ نیز اس کی وضاحت کریں آیا “خلقنٰکم” سے مخلوق کرنے کے معنی پورے نہیں ہوتے، کیا اس میں تخلیق کے تمام معنی موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے “ثُم صوّرنٰکم” فرمایا گیا؟
جواب: یقیناً اس بابرکت آیت میں ایک عظیم سِر پوشدہ ہے، ہم بتوفیقِ خداوند قدّوس یہاں اس کی حکمت بیان کریں گے، تاکہ عزیزوں کے تمام متعلقہ سوالات بحکمِ خدا حل ہو کر ان کی معلومات میں گرانقدر حصّے کا اضافہ ہو، وہ عظیم الشّان حکمت اس طرح ہے کہ:
وَلقَد خلقنٰکُم = اور ہم ہی نے تم کو (اس دور کے آدمؑ سے قبل) پیدا کیا (جیسا کہ جسمانیّت میں پیدا کرنا چاہئے) ثُمَّ صَوَّرْنٰکُم = پھر ہم نے تمہاری روحانی شکل و صورت بنائی (یعنی تم پر ایک روحانی دور گزر گیا) ثُمَّ قُلنا للملٰئکۃ اسجدو الِاٰدم = پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو (یعنی اس وقت تم بھی ذرّاتِ روح کی حیثیّت میں اور جمالی فرشتوں کی مرتبت میں وہاں موجود تھے) واضح رہے کہ “خلقنٰکم” میں جسمانی تخلیق کے پور ے معنی موجود ہیں۔ اور “صَوّرنٰکمُ” میں روحانی تکمیل کا ذکر ہے، کیونکہ انسان کے جسمِ کثیف کا تعلق عالمِ خلق سے ہے جو یہ جہان ہے، اور صورتِ
۴۸
لطیف (یعنی روح) کا تعلق عالمِ امر سے ہے جو دنیائے روحانیّت ہے، جس میں انسان شکل و صورت، حسن و جمال اور نورانیّت کے اوجِ کمال پر پہنچ جاتا ہے، کیونکہ وہ حقیقت میں صورتِ رحمان ہے۔
لوگ بابا آدمؑ سے قبل:
سوال نمبر ۳۹: روح شناسی سے متعلق سوالات کے اس سلسلے میں آپ نے بہت بڑا انقلابی تصوّر پیش کیا کہ آدم سے پہلے بھی لوگ موجود تھے، لیکن کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہوگا، کہ آپ ہمیں اس موضوع کی ایک اور آیت سے آگاہ کر دیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ کا مقدّس فرمان ہے کہ: ۔
“کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبین مبشرین و منذرین و انزل معھم الکتٰب (۰۲: ۲۱۳)
(پہلے تو سب) لوگ ایک ہی امت تھے تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈرسنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر کتاب نازل کی۔” اس سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ دورِ نبوّت سے قبل لوگ موجود تھے اور ان کا طریقہ ایک ہی تھا، پھر نبوّت کا دور شروع ہوا، جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السّلام کو تاجِ خلافت و نبوّت سے سرفراز فرمایا۔
۴۹
صورِ قیامت: ۔
سوال نمبر ۴۰: یہ سورۂ یاسین کی ایک حکمت آگین آیت کا ترجمہ ہے کہ: اور (جس وقت) صور پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ قبروں سے (نکل کر ) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے ( ۳۶: ۵۱ ) اس میں چند سوالات پیدا ہو جاتے ہیں، اوّل یہ کہ صورِ اسرافیلؑ کی کیفیت و حقیقت کیا ہے، اور اس میں حکمت کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ آیا اس ظاہری قبر میں روح مدفون ہوتی ہے یا اس کی کوئی تاویل ہے؟ تیسرا یہ کہ جب لوگ بڑی سرعت کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف جارہے ہوں گے تو اس وقت ان کی ہستی کس حالت میں ہوگی، حالتِ روحانی میں یا کیفیتِ جسمانی میں؟ چوتھا اور آخری سوال یہ ہے کہ خدائے واحد و یکتا جو مکان و لامکان سے پاک و برتر ہے اس وقت کہاں ظہور فرما ہوگا، کیونکہ ان روحوں کو تو اسی کے حضور میں حاضر ہوجانا ہے؟
جواب: (الف) صورِ اسرافیلؑ مقامِ روحانیّت کا ایک عظیم الشّان واقعہ اور ایک پراسرار آواز ہے، وہ نرسنگھا اور بگل نہیں بلکہ حق بات تو یہ ہے کہ وہ ایک بے مثال سریلی، بیحد رقت انگیز اور مسحورکن شہنائی اور بانسری کے مشابہ ہے، یہ آخری درجے کی دعوتِ حق ہے، یہ نغمۂ عشقِ حقیقی ہے، اور انبیاء و اولیاء اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس میں ایک طرف تو فنا ہے اور دوسری طرف بقا، یہ ملکوتی نغمہ بے انتہا روح پرور اور بے اندازہ دلنواز ہے، تاکہ لوگ جو دنیا پر فریفتہ ہیں، وہ آخرکار اس کو سن کر روحانیّت کے حقائق و معارف کے لئے یقین کریں، پس صورِ اسرافیلؑ میں اتنی زیادہ حکمتیں ہیں کہ ان کو احاطۂ بیان میں نہیں لایا جا سکتا۔
۵۰
(ب) یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ظاہری قبر میں ارواح مدفون نہیں ہوتیں، ہاں، اس مادّی قبر سے متعلق قرآن و حدیث میں جتنے ارشادات ہیں، ان میں تاویلی حکمتیں پوشیدہ ہیں، چنانچہ قبر اور قبرستان تاویلاً انسان کا زندہ جسم ہے، جس میں اتنی کثیر روحیں مدفون ہیں کہ ان کی تعداد خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا، کیا یہ درست نہیں ہے کہ انسان عالمِ صغیر یعنی روحانیّت کی کائنات ہے؟ اگر یہ بات آپ کے نزدیک بھی صحیح ہے، تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ عالمِ صغیر میں روحانی طور پر وہ سب کچھ ہے، جو دنیائے ظاہر میں مادّی طور پر موجود ہے، سو یقیناً اس میں قبریں بھی ہیں، کیونکہ جب کسی شخص پر موت واقع ہو جاتی ہے تو اس حال میں جسم سے روح الگ ہو جاتی ہے، جس کو تو ظاہری قبر میں دفن کیا جاتا ہے اور روح روحانی قبر میں مدفون ہو جاتی ہے، اور وہ کوئی زندہ شخصیّت ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ کتاب “وجہ دین” کلام نمبر ۱۹ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کا یہ فرمان درج ہے کہ: “میری قبر اور منبر کے درمیان بہشت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔” پس آنحضرتؐ کی قبر مبارک حضورؐ کے وصی یعنی علیؑ تھے، منبر قائم القیامتؑ اور باغ دعوتِ حق ہے۔
(ج) صورِ اسرافیل کے بجنے پر جب لوگ بڑی تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے، تو اس وقت وہ موجودہ جسم میں نہیں ہونگے، بلکہ وہ حالتِ روحانی اور جسمِ لطیف کے ذرّات سے وابستہ ہوں گے، جن کا ذکر اس سلسلۂ سوال وجواب کے علاوہ ہماری دوسری تحریروں میں بھی ہوتا رہا ہے۔
(د) کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ مکان و لامکان سے پاک و برتر ہے، مگر اس کا مقدّس نور دنیا میں ہمیشہ موجود و حاضر ہے اور یہی نور حضورِ خداوندی
۵۱
ہے، جہاں نور موجود ہے وہاں سے اسرافیل صور پھونکے گا اور لوگ ذرّاتِ روحانی کی شکل میں اسی آواز اورا سی بارگاہِ عالی کی طرف اڑتے ہوئے جائیں گے۔
۵۲
بابِ سوم:
روح کی عکاسی: ۔
سوال نمبر ۴۱: آپ نے اپنی ایک تصنیف پنج مقالہ نمبر۴ میں “ایک جوابی خط کا اہم حصہ” کے عنوان سے روح کے بارے میں بیحد عمدہ باتیں تحریر کی ہیں، جس کا خاص حصہ یہ ہے: ۔
” روح ایک حقیقت ہے، ایک جوہرِ بسیط، ایک لطیف زندگی، ایک عظیم دنیا، ایک باطنی شعور، ایک حقیقی بیداری، ایک بے مثال شے، ایک مخفی خزانہ، ایک لازوال سلطنت، ایک نورانی ہستی، ایک خدائی عکس، ایک قدیم ذات، ایک توحیدِ صفات، ایک نمونۂ حیات، ایک لطیف کائنات، ایک آئینۂ معجزات، ایک سرچشمۂ برکات، ایک جامعِ آیات، ایک مجموعۂ حالات، ایک مرکزِ عنایات، ایک وسعتِ جنّات، ایک رفعتِ درجات وغیرہ۔”
ان ۲۲ جملوں میں اوصافِ روح کی بہترین عکاسی کی گئی ہے، مگر ہم یہاں آخری آٹھ جملوں کی مزید وضاحت چاہتے ہیں، تاکہ روح کی شناخت میں زیادہ سے زیادہ آسانی ہو۔
جواب: یقیناً روح ایک لطیف کائنات ہے، جس میں ہر ہر چیز بشکلِ لطیف موجود ہے، روح ایک ایسا آئینہ ہے، جس میں حضرتِ ربّ العزّت کے تمام ازلی، ابدی، مکانی اور لامکانی معجزات کا مشاہدہ ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی برکتوں کا سرچشمہ ہے، جس میں آیاتِ قدرت جمع ہیں، وہ ماضی و مستقبل کے حالات و واقعات کا مجموعہ بھی ہے، خداوند نے روح کو اپنی مہربانیوں کا مرکز بنایا ہے، روح خود بفضلِ خدا جنّت ہے اور قرآن ( ۵۷: ۲۱) میں بہشت کی وسعت کا ذکر ہوا ہے، وہ دراصل روح کی وسعت ہے، اور روح وہ ہے
۵۵
جس میں اوّل تا آخر عزّت کے تمام درجات و مراتب موجود ہیں۔
محسوس یا معقول: ۔
سوال نمبر ۴۲: آپ ہمیں یہ بتائیں کہ روح محسوسات میں سے ہے یا معقولات میں سے؟ اس سلسلے میں اپنا نظریہ دلائل کی روشنی میں بیان کریں۔
جواب: روح ذاتی اعتبار سے معقول ہے، یعنی یہ حواسِ ظاہر سے نہیں بلکہ صرف عقل سے جانی پہچانی جاتی ہے، مگر جب اس کا رابطہ جسمِ لطیف یا جسمِ کثیف سے ہو جاتا ہے تو یہ ایک طرح سے محسوس بھی کہلا سکتی ہے، خصوصاً جسمِ لطیف کی صورت میں یعنی جب ہماری روح فلکی جسم کے لباس میں ملبوس ہو تو اس حال میں ہم اس کو تمامتر خوبیوں کے ساتھ سر کی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں، اس کی باتوں کو سن سکتے ہیں، اس کی خوشبوؤں کو سونگھ سکتے ہیں وغیرہ۔
جب حضرت مریم علیہا السّلام کے سامنے روح القدس کا ظہور ہوا تو اس وقت وہ پاک روح ایک کامل اور مکمل انسان کی صورت میں تھی (۱۹: ۱۷ ) خدا وند تعالیٰ کے امر سے بعض دفعہ فرشتے بشری لباس میں ملبوس ہو کر ظاہر ہو جاتے ہیں، دیکھئے سورۂ ہود کی آیت ۶۹ تا ۸۱ (۱۱: ۶۹ تا ۸۱)، مطلب یہ ہے کہ جہاں چھوٹی چھوٹی روحیں ذرّات کی شکل میں ظاہر ہو جاتی ہیں وہاں عظیم ارواح جو فرشتے ہیں مکمل انسانی شکل میں سامنے آتی ہیں۔
۵۶
رَوح اور رُوح: ۔
سوال نمبر ۴۳: آپ نے اس سے پیشتر یہ بتایا ہے کہ لفظِ “روح” قرآنِ حکیم میں ۲۴ دفعہ مذکور ہے، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں تین بار “رَوح” بھی شامل کیا گیا ہے، آیا رَوح میں بھی رُوح کے لغوی معنی ہیں یا یہ ایک تاویل ہے؟
جواب: اوّل یہ ہے کہ رَوح اور رُوح اصل میں ایک ہی ہیں، یعنی یہ ایک ہی لغت ہے، دوم یہ کہ اگر ہم اس کو الگ تصوّر کر کے اس کی تاویل کریں، تو پھر بھی یہی بات بنتی ہے، بہر لحاظ رَوح کا لفظ رُوح کے لئے ہے، کیونکہ دونوں کا مادّہ اور مطلب ایک ہے، چنانچہ اس آیۂ مبارکہ میں ذرا غور کر کے دیکھیں کہ جو لوگ مقرّب ہیں ان کو دنیا کی زندگی ہی میں خدا کی طرف سے روح اور روحانیّت حاصل ہو جاتی ہے، جس میں ہر قسم کے روحانی پھول اور پھل موجود ہیں:۔
فاما ان کان من المقربین فروح و ریحان و جنت نعیم (۵۶: ۸۸ تا ۸۹) پس اگر وہ مقربین میں سے ہے، تو (اس کے لئے زندگی ہی سے حقیقی ) روح اور خوشبودار پھول ہیں اور نعمت کے باغ۔
دوسرے مقام پر لفظ “رَوح” اس طرح ہے کہ: “و لا تایسوا من روح اللہ۔۔۔۔ ۱۲: ۸۷ اور خدا کی روح سے ناامید نہ ہو کیونکہ خدا کی روح سے سوائے کافر لوگوں کے کوئی نااُمید نہیں ہوا۔” اس آیت کی قرأت میں “رُوح” بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ قول حضرت یعقوب علیہ السّلام کی
۵۷
زبان سے ہے، اور آپؑ نے حضرت یوسف علیہ السّلام کے بارے میں فرمایا تھا کہ خدا کی روح (رحمت) سے نا امید نہ ہوجانا، یعنی حضرت یوسفؑ سے جو روح اللہ اور پیغمبر و امام تھے۔
امامؑ کا نام “الروح”:۔
سوال نمبر ۴۴: ویسے تو امام صلوات اللہ علیہ کے بہت سے نام ہیں، مگر علمِ روحانیّت کی زبان میں امام عالی مقام کا کیا نام ہے؟ اور اس کی کیا دلیل ہے؟
جواب: امام اقدس و اطہر کا ایک مبارک نام “الروح” اور روح اللہ ہے، جس کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ جب امام نور ہے تو روح ہے، کیونکہ نور ایک زندہ روح کی حیثیت سے ہوتا ہے، چنانچہ نوراللہ اور روح اللہ کے ایک ہی معنی ہیں اور دونوں لفظوں میں ذرہ بھر فرق نہیں، دوسری دلیل یہ ہے کہ مولا علی علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا کہ: اَنَا اَمْرُ اللّٰہِ و الرُّوْحُ۔ یعنی میں ہوں امرِ خدا اور اس کی روح۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ہے: قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَبیْ۔ کہدو (اے محمدؐ) کہ روح میرے پروردگار کے امر سے ہے۔ تیسری دلیل بھی مولا علیؑ کے ارشاد سے ہے کہ: من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ۔ یعنی جس نے اپنی روح (امام) کو پہچان لیا یقیناً اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا۔ انسان میں کئی روحیں ہوتی ہیں، نباتی، حیوانی اور انسانی، مگر جب تک چوتھی روح یعنی روحِ قدسی کا حصول اور شناخت نہ ہو، تو پروردگار کی معرفت ناممکن ہے، اور ظاہر ہے کہ چوتھی روح پیغمبرؐ اور امامؑ کا نور ہے، اور یہی
۵۸
روح انسان کی حقیقی روح بھی ہے، پس امامؑ ہماری حقیقی روح ہے، یعنی روحِ قدس، اور مذکورۂ بالا ارشاد کا مطلب یہی ہے۔
روح کے عاشق: ۔
سوال نمبر ۴۵: حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوٰت اللہ علیہ نے کچھ بزرگانِ دین کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ: “وہ اپنی روح کے عاشق تھے۔” اس سے کون سی روح مراد ہے؟ صراحت سے بتائیں۔
جواب: جو روح عام طور پر سب انسانوں میں پائی جاتی ہے اس پر کیا عاشق ہونا ہے، عاشق اس روح پر ہونا تھا جو ہادیٔ برحق میں ہے، جو عاشق اور معشوق دونوں کی مشترکہ روح ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دونوں کو ایک ہی وحدت عطا کر دیتی ہے، چنانچہ ماضی میں بزرگانِ دین جس پاک روح کے عاشق تھے، وہ ہادیٔ برحق (پیغمبرؐ اور امامؑ) کی روح تھی اور ان کی اپنی روح تھی، جس میں تجلّیوں کی دنیا تھی، پھر کیسے عاشق نہ ہوتے۔
روحِ مقدّس: ۔
سوال نمبر ۴۶: یہ تو عقیدت کی بات ہوئی، اس کو ہم بھی مانتے ہیں، لیکن اس کے بارے میں کوئی ایسی دلیل چاہئے جس میں عقلی طور پر بہت زیادہ وزن ہو، کیا آپ کوئی ایسی دلیل پیش کر سکتے ہیں؟ جس کی طرف اہلِ ہوش توجہ دیں؟
۵۹
جواب: خداوند تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے جمادات کے لئے عروج و ارتقاء کی روح نباتات میں رکھی ہے، چنانچہ جہاں کہیں مٹی کے ذرّات نباتات میں تحلیل و فنا ہو جاتے ہیں، تو وہاں قانونِ قدرت ان کو لازماً روحِ نباتی یعنی روحِ نامیہ عطا کر دیتا ہے۔
اسی طرح نباتات کی روحِ ترقّی حیوانات کے وجود میں ہے، اور اس کے حصول کی واحد شرط یہ ہے کہ نباتات اپنی ہستی کو حیوانوں کی غذا کی خاطر قربان کر دیں، تاکہ جانور انہیں کھا کر اپنی حیوانی روح کے ساتھ ایک کر لیں۔
اس کے بعد حیوانات کی بات آتی ہے، کہ ان میں سے جو حلال ہیں، ان کی ارتقائی منزل اور بالائی روح انسان میں رکھی ہوئی ہے، اور اس کو اپنانے کا طریقہ صرف اور صرف یہی ہے کہ حیوانات جان دے دیں، تاکہ انسانوں کے مقصدِ حیات کی تکمیل میں مدد ملے، اور ساتھ ہی ساتھ حیوانات ایک طرح سے انسانی روح میں زندہ ہو جائیں۔
یہ سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ اور بھی آگے بڑھ جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو اہلِ سعادت ہیں، وہ خود کو دینی اور روحانی اعتبار سے ہادیٔ زمانؑ کے سپرد کر دیتے ہیں، اور آپؐ کی مکمل پیروی، پر خلوص اطاعت اور کامل عشق میں اپنے نفسِ امّارہ کو فنا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں آپ آنجنابؑ ایسے برگزیدہ بندوں کو اپنی پاک روح میں متحد اور ایک کر لیتا ہے، پس اس قانونِ فطرت کی روشنی میں یہ حقیقت روشن ہو گئی کہ انسانِ کامل بنی آدم کی سب سے اعلیٰ اور سب سے آخری روح ہے۔
۶۰
جسمِ فلکی:۔
سوال نمبر ۴۷: آپ نے اپنی تحریروں کے متعدّد مقامات پر جسمِ فلکی، جسمِ لطیف، جثّۂ ابداعیہ، آسڑل باڈی وغیرہ جیسے ناموں کا ذکر کیا ہے، اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آیا ایسی کوئی چیز قرآنِ حکیم میں مذکور ہے یا یہ بات صرف ظاہری معلومات تک محدود ہے؟ اگر فی الواقع ایسی کوئی شے موجود ہے تو وضاحت کیجئے کہ وہ کس طرح ہے؟
جواب: جسمِ فلکی سے ایسا بدن مراد ہے، جس کا مادّہ سیّارۂ زمین کے عناصر سے مختلف ہے، کیونکہ وہ آسمانی مادّہ ہے، جسمِ لطیف بھی وہی ہے جو اپنی لطافت و پاکیزگی کی وجہ سے جسمِ خاکی سے ممتاز ہے، آسٹرل باڈی (ASTRAL BODY) کے معنی ہیں کوکبی یا نجمی بدن، جس سے وہی چیز مراد ہے، اور جثّۂ ابداعیہ بھی ہے تو وہی چیز، مگر اس کا مفہوم عظیم و اعلیٰ ہے، کیونکہ جثّہ کے معنی جسم ہیں اور ابداعیہ ابداع سے ہے، جو کلمۂ “کن” کا نتیجہ ہے، چنانچہ جثّہ ابداعیہ سے ایسا معجزاتی بدن مراد ہے، جس میں “کن فیکون” کی کارفرمائی اور عالمِ امر کی بادشاہی ہے، وہی تختِ بہشت اور سب کچھ ہے۔
جی ہاں! قرآنِ حکیم میں کئی طرح سے اس کا ذکر آیا ہے، کہ بقائے انسانی کے لئے موجودہ جسم کے علاوہ اور بھی چند اجسام ہیں، مثال کے طور پر اس قرآنی ارشاد میں خوب غور کیا جائے: ۔
“اور اسی (خدا ) نے تمہارے لئے کرتے بنائے جو تمہیں گرمی سے محفوظ رکھیں اور کُرتے جو تمہیں ہتھیاروں کی زد سے بچائیں (۱۶: ۸۱ )” یہ دنیا کے کرتے ہر گز نہیں جو کپڑے یا کسی اور چیز کے ہوسکتے ہیں، جن کو انسان بناتا ہے، اور یہ
۶۱
بات بھی قطعی ناممکن ہے کہ کچھ ایسے ظاہری اور مادّی کُرتے ہم کو ہر طرح کی گرمی اور ہر قسم کی جنگ کے اثر سے بچا سکیں، سوائے اجسامِ لطیفہ کے، جو روحانی کُرتے ہیں، جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے پُرقدرت ہاتھ سے بنایا ہے۔
قوّتِ جبریلیّہ: ۔
سوال نمبر ۴۸: قوّتِ “جبریلیّہ” کس چیز کا نام ہے، اور یہ کس درجے کے انسان میں ہوتی ہے، اس کے ساتھ ایک طرف سے جبرائیل ملا ہوا ہے، اور دوسری طرف سے ایک حقیقی مومن کی روح، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: میری ایک کتاب: “پنج مقالہ نمبر ۳” سے مضمون “تین سوال انڈیا سے۔”
روح اور جسم کی مشابہت: ۔
سوال ۴۹: آپ نے نمبر ۴۲ میں کہا ہے کہ جب ہماری روح فلکی جسم کے لباس میں ملبوس ہو تو اس حال میں اس کو تمام تر خوبیوں کے ساتھ سر کی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں، اس کی باتوں کو سن سکتے ہیں، اور اس کی خوشبوؤں کو سونگھ سکتے ہیں وغیرہ، اس میں یہ سوال ہے کہ آیا ہر آدمی اور اس کی
۶۲
روح شکل و صورت میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں یا مختلف؟ روح کس زبان میں گفتگو کرتی ہے؟ کیا تمام روحوں کی کوئی مشترکہ زبان ہے؟ روح کی خوشبو کیسی ؟
جواب: جی ہاں، نچلے درجات میں ہر شخص کی روح گویا اس کی روحانی تصویر ہے، لیکن آخری درجات میں، جہاں بہت سی حقیقتوں کی ازلی و ابدی وحدت ہے، ایسا نہیں ہے ، بلکہ وہاں روح انسانِ کامل کی صورت میں نظر آتی ہے، ہر آدمی اور اس کی روح کی زبان ایک ہی ہے، یعنی جس انسان کی جو مادری زبان ہے، وہی اس کی روح کی زبان ہے، روحوں کی کوئی مشترکہ زبان نہیں، ہاں، روح اور روحانیّت میں خوشبوؤں کی بڑی اہمیّت ہے، یہاں تک کہ اُدھر تو غذائیں بھی مختلف قسم کی خوشبوؤں کی شکل میں دی جاتی ہیں، وہاں نوالہ لے کر چبائی جانے والی غذا کوئی نہیں۔
پرندہ اور پھل کی تاویل: ۔
سوال نمبر ۵۰: “علم کے موتی” (آپ کی ایک کتاب) کا مطالعہ کر کے ہمیں بے اندازہ مسرّت و شادمانی حاصل ہوئی، اس میں (ما شاء اللہ ) آپ نے حقیقتِ عالیہ کی باتیں تحریر کی ہیں، مثال کے طور پر پرندوں اور پھلوں کی تاویل بڑی نرالی اور بیحد جانفزا ہے، کیا آپ اس بارے میں کوئی مزید نکتۂ دلپذیر بیان کریں گے؟
جواب: حضرت سلیمان علیہ السّلام جس طرح پرندوں کی بولی جانتے تھے (۲۷: ۱۶) اس کی تاویل یہ ہے کہ آپؐ تمام روحوں سے گفتگو کرتے تھے،
۶۳
جس میں جنّ و انس اور وحش و طیر سب کی ارواح تھیں، کیونکہ روح کو پرندہ اس معنیٰ میں کہا گیا ہے کہ یہ ذرّۂ لطیف کی شکل میں ہمارے اوپر آزادی سے اڑتی ہوئی آتی جاتی رہتی ہے۔
جنّت میں اگر گوشت ہے تو صرف پرندوں کا، کیوں؟ اس لئے کہ روح کی تشبیہ و تمثیل پرندے سے دی گئی ہے، اور بہشت میں پرندے کا گوشت تناول کرنا یوں ہے کہ کسی عمدہ پسندیدہ اور اعلیٰ روح کو اپناکر جزوِ ہستی بنا لیا جائے، دنیاوی نعمتوں کو کھانے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ ان کی بدولت جسمانی وجود قائم رہے۔
قرآنِ حکیم بار بار کہتا ہے کہ جنّت میں رزق ثمرات یعنی پھلو ں سے دیا جائے گا، اس میں بھی روحوں کی طرف اشارہ ہے، کہ کائنات و موجودات کی ہر ہر چیز کی روح اس کا پھل کہلاتا ہے، جس طرح درخت کی ساری خصوصیات، خوبیاں، قوّتیں اور لذّتیں پھل میں جمع ہو جاتی ہیں، اسی طرح چیزوں کی روح میں علم و حکمت کی تمامتر حلاوتیں اور مسرّتیں سموئی ہوئی ہیں، اور خوب یاد رہے کہ بہشت عقلی اور روحی نعمتوں سے بھر پور ہے۔
مُردوں کا دنیا دیکھنا: ۔
سوال نمبر ۵۱: جب کوئی آدمی مر جاتا ہے تو اسی وقت اس کی نگاہوں سے یہ دنیا اوجھل ہو جاتی ہے، اس لئے کہ اب اس میں وہ آنکھ نہ رہی، جس سے وہ اس عالم کو دیکھتا تھا، مگر اس کے باوجود وہ یہ چاہتا ہے کہ اس دنیا کو یا کم سے کم اپنے خاندان والوں کو دیکھا کرے، اور ان کو کچھ مدد دے، کیا یہ
۶۴
کام اس کے لئے ممکن ہے یا غیر ممکن ؟
جواب: اس میں اوّل تو یہ دیکھنا ہوگا کہ ایسا شخص بہشت میں ہے یا دوزخ میں؟ کیونکہ بہشت کی بات الگ ہے اور دوزخ کی حالت الگ، یعنی جنت میں ہر خواہش کی تکمیل ممکن ہے، آپ قرآن (۵۰: ۳۵) کو دیکھیں: “اس (جنّت) میں یہ لوگ جو چاہیں گے ان کے لئے حاضر ہے اورہمارے ہاں تو (اس سے بھی) زیادہ ہے۔”
مومنین جو جنّت میں ہوں گے، وہ کئی طرح سے دنیا کو دیکھ سکیں گے، مثلاً چشمِ روح سے نورِ الٰہی کی روشنی میں، جثّۂ ابداعیہ میں دنیائے ظاہر کی طرف متوجّہ ہو کر، وغیرہ، مگر کسی کو مدد دینے کا سوال اس سے قدرے مختلف ہے، کیونکہ اس سے قانونِ اختیار و امتحان میں مداخلت ہو جاتی ہے، تاہم جب خداوند تعالیٰ کی طرف سے کسی کی مدد منظور ہو تو یہ بھی ممکن ہے، بشرطیکہ روح فرشتے کے درجے میں ہو، جیسا کہ اہلِ ایمان کے لئے فرشتوں کی مدد کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ:۔
“ہم دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی تمہارے دوست (مددگار) ہیں ( ۴۱: ۳۱)” یہاں یہ بھی یاد رہے کہ فرشتے خدا کے حکم سے جو کچھ مدد کر سکتے ہیں، وہ صرف روحانی، علمی اور دینی مدد ہے، دنیا وی ہر گز نہیں۔
ذوالقرنین اور یاجوج و ماجوج: ۔
سوال نمبر ۵۲: ذوالقرنین کس درجے کی شخصیت تھے؟ ان کا سفر کس نوعیّت کا تھا؟ یاجوج اور ماجوج کیسی مخلوق ہیں، اور سدِّ سکندری کی حقیقت
۶۵
کیا ہے؟ اس سلسلے میں آپ ہمیں کچھ اہم حقائق بیان کر دیں۔
جواب: ذوالقرنین اپنے زمانے کے امامؑ تھے، آپؑ کا یہ سفر جس طرح قرآن (۱۸: ۸۳ تا ۹۸) میں مذکور ہے روحانیّت میں تھا، چنانچہ انہوں نے تمام روحانی منازل اپنی ذات ہی میں طے کیں، سورج ڈوبنے کی جگہ سے دو اصل جسمانی مراد ہیں، یعنی ناطقؐ اور اساسؑ، جو نورِ علم و حکمت کے مغرب ہیں، اور “عَینٍ حَمِئَۃٍ” سے حدود جسمانی کی شخصیتیں مراد ہیں، یعنی امام، حجت و داعی، کہ یہ حضرات ناطق اور اساس سے وابستہ ہیں اور چشمے کی طرح ان کا سلسلہ جاری ہے۔
اس مقام پر حضرت امام ذوالقرنین علیہ السّلام نے تمام دنیا والوں کی روحوں کو دیکھا، اور خداوند عالم نے جیسے امام کو اہلِ دنیا کے معاملے میں اختیار دے رکھا ہے اس کے متعلق ارشاد فرمایا۔
سورج نکلنے کی جگہ کے معنی ہیں دواصلِ روحانی، یعنی عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ، جو نورِ علم و حکمت کے مشرق ہیں، وہاں پر امامِ عالی مقامؑ نے ارواح و ملائکہ کا وہ عظیم الشّان اجتماع دیکھا جس پر آفتابِ نور کسی پردے کے بغیر ضیا پاشی کر رہا تھا، یہ اہلِ توحید کی روحیں تھیں۔
یاجوج و ماجوج کی کئی تاویلیں ہیں، آپ میری ایک کتاب “امام شناسی حصہ سوم کلید نمبر ۱۴ اور نمبر ۱۵” کو بھی دیکھیں، یا جوج و ماجوج ایک قسم کی روحیں ہیں، جس سے روحانی طور پر نقصان بھی ہے اور فائدہ بھی، مگر نقصان عارضی اور فائدہ مستقل ہے۔
ایک اعتبار سے عظیم ادوار تین ہیں، ایک بڑا زمانہ جو بہت پہلے گزرچکا ہے، دوسرا یہ جو موجود ہے اور قیامت تک پھیلا ہوا ہے، اور تیسرا عظیم
۶۶
دور قیامت کے بعد شروع ہونے والا ہے، چنانچہ ان تین بڑے ادوار سے متعلق حضرت ذوالقرنین امامؑ نے تین درجے کی ارواح کا مشاہدہ کیا، درجۂ اوّل کی روحیں نور کے مشرق میں تھیں، جن کا تعلق گزشتہ دور سے تھا، اور ان کو دائمی نجات مل چکی تھی، درجۂ دوم کی روحوں کا مشاہدہ پہلے ہی مغرب میں ہوا تھا، جن کی وابستگی موجودہ دور سے تھی، اور درجۂ سوم کی ارواح یعنی یاجوج و ماجوج کو مثلاً ایک ایسی وادی میں دیکھا جو مشرق و مغرب کے درمیان تھی، اس کی تاویل یہ ہے کہ ان کو نہ تو حدودِ روحانی سے ہدایت حاصل تھی، اور نہ ہی حدودِ جسمانی سے، اور یہی سبب ہے کہ یہ ارواح دین کی زبان نہیں جانتی تھیں، سو ان کی فطرت میں یہ تقاضا تھا کہ اپنی وادی سے نکل کر ایک عظیم انقلاب برپا کریں، تاکہ دنیا میں تیسرے عظیم دور کا آغاز ہو، جو انہی سے متعلق ہے، مگر قبل از وقت کوئی کام مناسب نہیں، لہٰذا روحانیت کی ایک مضبوط دیوار بنا کر ان کو روک دیا۔
روحانی غذا: ۔
سوال نمبر ۵۳: سورۂ مائدہ (۵) کی آیت نمبر ۶۶ میں فرمایا گیا ہے کہ: اور اگر یہ لوگ توریت اور انجیل اور جو کچھ ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کو قائم رکھتے تو ضرور وہ اوپر سے بھی رزق کھا لیتے اور پاؤں کے نیچے سے بھی (۰۵: ۶۶) آیا اس میں کوئی روحانی حکمت ہے یا اس کے صرف یہی معنی ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ فرمانبرداروں کو دنیاوی رزق بہت زیادہ ملے، اور نافرمان لوگ بھوکے مرجائیں؟
۶۷
جواب: اس مقام پر روحانی رزق کا ذکر فرمایا گیا ہے، اگر چہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس میں جسمانی رزق کی بات ہے، لیکن چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ دراصل روحانی غذا ہے۔
جاننا چاہئے کہ انسان کی مثالیں بہت زیادہ ہیں، اور ان میں سے ایک مثال درخت کی ہے، اس لئے کہ آدمی میں درخت والی روح (یعنی روحِ نباتی) بھی ہے، اور درخت کی پرورش دو طرح سے ہوتی ہے، یعنی جڑوں سے بھی اور شاخوں سے بھی، اسی طرح روحانیّت کے اعلیٰ مقامات پر غذا سے متعلق سماوی روحیں سر سے داخل ہو جاتی ہیں اور ارضی روحیں پاؤں سے اور حیوانی و انسانی روحیں سر سے داخل ہو جاتی ہیں۔
سر کی راہ سے جو لطیف غذائیں حاصل ہوتی ہیں، وہ بھی دو قسم کی ہیں، ایک وہ چیز ہے جو خلق سے اتر تی ہے مگر چبائی نہیں جاتی، کیونکہ وہ لطیف اور بہت خُرد ہے، یہ گویا روحِ حیوانی کا حصہ ہے، اور دوسری بہت سی غذائیں خوشبوؤں کی صورت میں ہیں، ان کو روحِ انسانی کا حصہ سمجھنا چاہئے۔
ظہورِ روح: ۔
سوال نمبر ۵۴: جب کوئی سعادت مند مومن دینِ اسلام اور ہادیٔ برحق کی ہدایات و تعلیمات کی روشنی میں ظہورِ روح و روحانیّت کے مقامات تک پہنچ جاتا ہے تو اس وقت اس کے سامنے روح یا ارواح کن کن حیثیتوں میں ظاہر ہو جاتی ہیں؟ اس بارے میں کچھ اصولی باتیں بتا دی جائیں۔
۶۸
جواب: سب سے پہلے روح محرّک تصاویر پر مبنی نورانیّت کی ایک خاموش دنیا بن کر دیدۂ دل کے سامنے آتی ہے، کچھ عرصے کے بعد اللہ کی رحمت و مہربانی سے مکمل روحانیّت کا دروازہ کھل جاتا ہے، پھر روح کے کامل ظہورات ہونے لگتے ہیں، چنانچہ روح با آواز اور بے آواز ذرّاتِ لطیف میں آتی ہے، اسماء اور کلمات میں بھی، صورت و صدا میں بھی، اشکالِ لطیفہ میں بھی، خواب و خیال اور بیداری میں بھی، وغیرہ وغیرہ ۔
تجلّیاتِ روح کا مقصد: ۔
سوال نمبر ۵۵: روح کے اس قدر کثیر ظہورات و تجلّیات کا خاص مقصد کیا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لئے کیا کچھ کرنا چاہئے، یا اس کی کیا کیا شرطیں مقرر ہیں؟
جواب: روحانی ظہورات و تجلّیات کا مقصدِ اعلیٰ علم و معرفت ہے، اور اس کے حصول کی شرطیں دو ہیں یقینی علم اور نیک عمل یعنی ایسا علم جو دین کی ہر ہر بات کو یقینی بنا دے اور ایسا عمل جس میں دین کے تمام کام جمع ہو جائیں۔
نور کی منتقلی: ۔
سوال نمبر ۵۶: پیغمبرِ اکرمؐ سے روح یا نورِ مولا علیؑ میں کس طرح منتقل ہوگیا؟ امام سے اس کے جانشین میں نور کیسے جاتا ہے؟ امام کے نور سے کوئی روشنی مرید میں آسکتی ہے یا نہیں؟ اگر آسکتی ہے تو کس طرح؟
۶۹
جواب: اس بارے میں سب سے اوّل یہ جاننا ضروری ہےکہ “کلمہ” کی اصطلاح حقائق و معارف کی کلید ہے، چنانچہ کلمہ کے چار حرف ہیں، جیسے ، ک۔ل۔م۔ہ، اسی طرح کلمہ سے چار قسم کے معنی مراد ہیں، یعنی اس کا مطلب امر بھی ہے، روح بھی، اسمِ اعظم بھی ہے اور تعلیم بھی، مثال کے طور پر قرآنِ پاک کہتا ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے اپنی روح بی بی مریمؑ میں پھونک دی (۶۶: ۱۲ ) اس کی تاویل یہ ہے کہ پیغمبریا امامؑ نے حضرت مریمؑ کو اسمِ اعظم دیا، آپ قرآنِ حکیم میں دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کلمۂ خدا اور اس کی روح کی حیثیت سے ان کی والدۂ محترمہ کی پیشانی میں بھیجے جاتے ہیں کہ نور کا مقام پیشانی ہے (۰۴: ۱۷۱)۔
اسی طرح رحمتِ عالمؐ نے مولا علیؑ کو کلمۂ خدا دیا، وہ کلمہ جو امرِ خدا بھی ہے اور اس کی روح بھی، اسمِ اعظم بھی ہے اور آسمانی تعلیم بھی، پس ہر امام اپنے جانشین میں اسی طرح نور منتقل کر دیتا ہے۔
امام کے مقدّس نور سے مریدوں کو عام طور پر بھی اور خاص طور پر بھی روشنی مل سکتی ہے، اور اس کا طریقہ قانونِ دین سے مختلف نہیں، مرید امام کے روحانی فرزند ہوا کرتے ہیں، اور اسی رشتۂ روحانی میں دونوں جہان کی سعادتیں پوشیدہ ہیں۔
قرابتوں کا خاتمہ: ۔
سوال نمبر ۵۷: “فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینہم یومئذ و لا یتسائلون(۲۳: ۱۰۱) پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان
۷۰
میں قرابتیں رہیں گی اور نہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔” سوال ہے کہ قیامت کے دن قرابتیں کیوں ختم ہوں گی، اور وہ بھی صورِ اسرافیل کے پھونکنے پر؟
جواب: اس میں دین اور روحانیّت کا ایک عظیم انقلابی راز پوشیدہ ہے، اگر بگویم ۔ مشکل ! اگر نہ گویم ۔ ہم مشکل! تاہم اشارہ ضروری ہے کہ اس کا جواب ایک ایسی آیت میں موجود ہے، جس میں نفخِ صور کا ذکر بھی ہے اور اس میں دوسرے الفاظ کے ساتھ ایک ایسا لفظ بھی ہے جس کی اصل ن، س، ل ہے، اس کے علاوہ شاید میں آپ عزیزوں سے زبانی بات کر سکوں۔
ہم نے اس کتاب میں قبلاً تین ادوار کا ذکر کرتے ہوئے اسی سرِّ عظیم کی طرف اشارہ کیا ہے، ہوشمند مومنین ان خاص بھیدوں کو سمجھ سکتے ہیں، خداوند عالم سب مومنین کو توفیق و ہمت عنایت فرمائے! آمین!!
پرندوں کی بولی یا ارواح کی زبان؟
سوال نمبر ۵۸: قرآنِ مقدس ( ۲۷: ۱۶ ) میں ارشاد ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السّلام پرندوں کی بولی جانتے تھے، آپ نے اس کی تاویل سوال نمبر ۵۰ کے تحت یہ بتایا ہے کہ سلیمان پیغمبرؑ روحوں کی زبان جانتے تھے، کیونکہ پرندوں سے ارواح مراد ہیں، ہم ضرور اس بات کو مانتے ہیں، مگر اس میں یہ ذیلی سوال باقی رہتا ہے کہ آیا جناب سلیمانؑ ظاہری پرندوں کی بولی بھی جانتے تھے یا نہیں؟ نیز یہاں آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ: “خدا نے ہر چیز کو گویا کیا (۴۱: ۲۱)” یعنی بولنے کی قوّت دی، تو یہ معجزہ کب اور کہاں ہوا، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے سوا جو بھی مخلوق ہے وہ ہمیشہ سے بے زبان اور بولنے سے قاصر ہے؟
۷۱
جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السّلام نہ صرف روحوں کی زبان جانتے تھے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ظاہری اور جسمانی پرندوں کی بولی بھی جانتے تھے اور جملہ انبیائے کرام و أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام اس معجزاتی اور روحانی علم میں یکسان ہیں، کیونکہ خدائی نور سے ان کامل انسانوں کی وابستگی کو علمی و عرفانی نتیجہ ایک جیسا ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ آپ کوئی پیغمبر یا امام ہر گز نہیں، مگر فرض کریں کہ خداوند تعالیٰ اپنی بے پایان رحمت سے آپ کو نورِ معرفت کی روشنی عطا فرماتا ہے، تو اس وقت آپ راہِ روحانیّت پر رسولِ خداؐ اور امامِ زمانؑ کے پیچھے پیچھے چلتے ہوں گے، درحالیکہ ہر قدم پر نورِ نبوّت و امامت کے عجائب و غرائب اور معجزات کا ایک نیا عالم آپ کے سامنے ہوگا، اس وقت آپ لاتعداد مافوق الفطرت SUPERNATURAL واقعات کا مشاہدہ اور مطالعہ کررہے ہوں گے، اور اسی سلسلے میں آپ زندوں اور مردوں کی ارواح سے گفتگو بھی کریں گے اور پرندوں کی بولی بھی سمجھ سکیں گے، اسی روحانیّت کے بغیر کوئی مکمل معرفت ہے نہیں، اور نہ ہی اس کے سوا کوئی اور راستہ ہے۔
جی ہاں، اللہ پاک نے ہر چیز کو گویا کیا، یعنی اس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ہر چیز کے بولنے کا معجزہ دکھایا، اور اس کی علمی شہادت (گواہی) ہمیشہ سے مقامِ روحانیّت پر موجود ہے، الغرض ہر بیجان اور بے زبان چیزدو طرح سے معجزانہ بات چیت کرتی ہے، ایک تو یہ ہے کہ اس گفتگو میں صرف اس چیز کی روح موجود ہوتی ہے، دوسرا یہ کہ وہ شے یعنی جانور وغیرہ جسمانی حالت میں سامنے ہوتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس میں روحِ قدسی کا ہاتھ ہوتا ہے، لہٰذا یہ ضروری نہیں کہ اگر کوئی بیجان چیز یا کوئی جاندار آپ کی
۷۲
روحانیّت کے مقام پر کچھ بول رہا ہے تو اس کو اپنے بولنے کا احساس و شعور بھی ہو۔
روحانی ہد ہد: ۔
سوال نمبر ۵۹: اب ہم آپ کے کہنے کے مطابق یہ مانتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ روحانی پرندوں کی بولی بھی جانتے تھے اور جسمانی پرندوں کی بولی بھی، مگر اس سے ایک اور سوال یہ پیدا ہو ا ہے کہ حضرت سلیمانؑ اور ملکۂ سبا (بلقیس) کے قرآنی قصّے میں جس ہد ہد کا ذکر ہے، وہ روحانی اور تاویلی طور پر تھا یا مادّی حالت میں؟ اس مرغِ سلیمانؑ نے شہرِ سبا کی شہزادی کے متعلق جو کچھ خبرلائی، جیسے حضرت سلیمانؑ کا خط ان کو پہنچا دیا اور اس سلسلے کے دوسرے واقعات، آیا یہ سب روحانیّت کی باتیں ہیں یا ظاہری معجزات ؟
جواب: جاننا چاہئے کہ یہ ہد ہد مادیّت میں نہیں بلکہ روحانیّت میں تھا، اور اس کا سارا کام باطنی اور روحانی تھا، قصّۂ ملکۂ سبا کے دو پہلو ہیں، ایک ظاہری اور ایک باطنی و تاویلی اور تاویلی بھی کئی طرح سے ہے، منجملہ ایک یہ ہے جو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں، کہ اس قصّے میں روحِ تجسس کا نام ہد ہد بتایا گیا ہے، کیونکہ مملکتِ سلیمانی دراصل روحانی حکومت ہے، جس میں رحمانی سلطنت کے تمام انتظامات مہیّا ہیں۔
حضرت سلیمانؑ کے لشکر جو جنّات، آدمی اور پرندوں سے تھے، وہ ارواح کی شکل میں تھے( ۲۶: ۱۷) ہَوا جو آپؑ کے لئے مسخر تھی یہ ایک روحانی معجزے کی بات ہے ( ۳۴: ۱۲) جنّات روحانیّت میں دوسرے بہت سے کاموں کے علاوہ روحانی مصوری بھی کرتے تھے (۳۴: ۱۳) عرش یعنی تخت کی
۷۳
تاویل یہاں انسان کی لطیف شکل و صورت اور روحانی ہستی ہے ( ۲۷: ۲۳) کیونکہ آدمی کی انا و خودی اس کی روح کے تخت پر قائم ہے اور روح اصل میں ایک لطیف نورانی تصویر ہے، اسی موقع پر اگر ہم عرشِ الٰہی کی بات بھی کریں تو بہتر ہوگا، اور وہ یہ کہ خداوند تعالیٰ کا عرش بھی انسانی شکل کا ہے، چنانچہ جب آپ روحانیّت کے اعلیٰ مقام پر دیدۂ باطن سے امامِ اقدس و اطہرؑ کی نورانی ہستی کا مشاہدہ کریں گے تو یہ مقامِ عرش ہوگا، قرآنِ حکیم میں جہاں ( ۲۷: ۲۳) میں ملکۂ سبا کے عرش کا ذکر ہوا ہے وہاں (۲۷: ۲۶) میں “العرش العظیم” یعنی لاہوتی بادشاہ کے تخت کا ذکر بھی فرمایا گیا ہے، تاکہ اہلِ دانش اس میں غور کریں۔
کون سی خصلت کس روح کی؟
سوال نمبر ۶۰: جب انسان میں روحِ نباتی، روحِ حیوانی اور روحِ انسانی مل کر ہیں، تو اس کی ایسی مخلوط و مرکب ہستی میں کیسے معلوم ہوگا کہ کون سی خصلت کس روح کی ہے اور کونسا فعل کس روح کا؟
جواب: ان باتوں کے جاننے کا اصول یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے درخت، حیوان اور انسان کے درمیاں جو فرق و امتیاز ہے، اس کو دیکھیں گے، یا یوں کہنا چاہئے کہ ہم درخت اور حیوان کی خصوصیات کے بارے میں ذرا غور کریں گے کہ کون سی چیز کس میں ہے درخت میں یا حیوان میں؟ تاکہ اسی طرح انسان کی روحِ نباتی اور روحِ حیوانی کی صلاحیتوں کی شناخت ہو جائے، اب اس کے
۷۴
بعد آدمی کی جو خصوصیات باقی ہوںگی، وہ ظاہر ہے کہ اس کی روحِ انسانی سے متعلق ہوںگی۔
۷۵
بابِ چہارم:
چراغ اور شعلۂ چراغ: ۔
سوال نمبر ۶۱: آپ اس سے پہلے یہ تو بتا چکے ہیں کہ روحُ اللہ اور نورُاللہ ایک ہی حقیقت ہے، جیسا کہ قرآنِ حکیم کی (۴۲: ۵۲) میں فرمایا گیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو روح حضور اکرمؐ کی طرف وحی کی گئی تھی، اسی کو نور قرار دیا گیا تھا، آیا ہم اس کے نتیجے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ جو خدا کی روح تھے وہ بطنِ مریمؑ میں بھی ہوتے ہوئے نورِ الٰہی تھے؟ کیا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ جب حضرتِ عیسیٰؑ کا جسمانی جنم ہوا تو بی بی مریمؑ روحِ خدا یعنی نورُاللہ سے خالی ہوگئیں، کیونکہ روحُ اللہ تو صرف حضرت عیسیٰؑ تھے؟ اس کے بارے میں وضاحت چاہئے۔
جواب: اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدّس نور کی تشبیہ و تمثیل ایک روشن چراغ سے دی ہے، چراغ ایک تو ظرف (برتن) ہے جس میں تیل اور بتی ہوتی ہے، اور دوسرا شعلہ، جو اس ظرف کے کنارے سے بلند ہوتے ہوئے روشنی بکھیرتا ہے، اسی طرح اگرچہ حضرت عیسیٰؑ کی جسمانی تکمیل شکمِ مادر میں ہورہی تھی، لیکن آپؑ کا نور بی بی مریمؑ کی پیشانی سے ضوفشانی کرتا تھا، اور نور کے کئی پہلو ہوتے ہیں، لہٰذا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ نور دونوں مقدّس ہستیوں سے متعلق تھا، جس وقت حضرتِ عیسیٰؑ جسمانی طور پر پیدا ہوئے، تو اس میں صرف جسم سے جسم الگ ہوا، مگر نور (روح) بسیط ہے، اس لئے یہ الگ نہیں ہوسکتا تھا، سو اگرچہ مرکزِ نور عیسیٰؑ تھے، مگر اس کا ایک مکمل عکس بی بی مریمؑ کی مبارک پیشانی میں باقی تھا۔
۷۹
حضرت موسٰی کی والدہ: ۔
سوال نمبر ۶۲: آیا حضرت موسٰیؑ کی والدہ کوئی پیغمبرانہ درجہ رکھتی تھیں؟ اگر نہیں تو ان کو خداوند تعالیٰ کی طرف سے وحی کیونکر آئی، جس کا ذکر قرآن ( ۶۸: ۰۷) میں موجود ہے؟ کیا ان کی اور بی بی مریمؑ کی روحانیّت ایک جیسی تھی؟ آیا حضرت موسٰیؑ بھی اپنے وقت میں روحُ اللہ تھے؟
جواب: حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کی والدۂ محترمہ نہ تو کوئی پیغمبر تھیں اور نہ ہی کوئی امام، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت یہ نہیں کہ کوئی عورت پیغمبر یا امام ہو، مگر باطنی اور روحانی طور پر مرد اور عورت دونوں نور سے واصل ہو سکتے ہیں، مادرِ موسٰیؑ کو جو وحی آئی تھی، وہ پیغمبرانہ نوعیّت کی نہ تھی، وہ ذاتی قسم کی تھی، جس کو روحانیّت اور الہام بھی کہا جا سکتا ہے، جو پیغمبر اور امام کے قرب کا نتیجہ ہے۔
جی ہاں، موسٰی علیہ السّلام کی والدہ اور بی بی مریم روحانی فضائل کے اعتبار سے ایک جیسی نظر آتی ہیں، کیونکہ دونوں مقدّس ہستیوں پر آسمانی ہدایت کی تابش یکسان ہے، اگر چہ مادرِ موسٰیؑ کے متعلق قرآن میں کوئی ایسی اعلانیہ تعریف نہیں، جیسی بی بی مریمؑ کے بارے میں ہے، تاہم ان کی ساری تعریف وہاں جمع ہے جہاں ان کو وحی ہوتی ہے، جی ہاں، حضرت موسٰیؑ بھی اپنے وقت میں خدا کی روح تھے۔
۸۰
ذیلی فرشتے: ۔
سوال نمبر ۶۳: ہم روحانیّت کے اس اصول پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر درجہ کی روح میں لاتعداد روحیں ہوا کرتی ہیں، اور یہی مثال روح القدس کی بھی ہے، اب ہمیں اس میں یہ پوچھنا ہے کہ زمانۂ نبوّت میں اگر روح القدّس یعنی جبرائیلؑ سلمان فارسی کی شکل میں آیا تھا، تو وہ لاتعداد فرشتے جو جبرائیل کے ہمراہ ہوتے تھے کن کن شکلوں میں ہوا کرتے تھے؟
جواب: ۔ قانونِ روحانیّت یہ ہے، کہ جہاں ایک اعلیٰ مومن کی روح جبرائیلؑ کا فریضہ انجام دیتی ہے وہاں دوسرے بہت سے مومنین کی ارواح (خواہ زندوں کی ہوں یا مردوں کی) طفیلی اور ذیلی فرشتوں کا کام کرتی ہیں، اور روح جس کی ہو اس کی ہمشکل ہو تی ہے۔
مومن کی پرواز: ۔
سوال نمبر ۶۴: “میں نے جعفر (بن ابی طالبؑ ) کو جنّت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا (حدیث)” کیا یہ فضیلت صرف حضرت جعفرؑ کے لئے مخصوص ہے یا ایک مشترکہ اعلیٰ درجہ ہے؟ آیا فرشتے پرندوں کی طرح پرواز کرتے ہیں یا کسی اور کیفیت میں؟
جواب: جنّت میں فرشتوں کے ساتھ اڑنے کا درجہ صرف حضرت جعفرِ طیارؑ ہی کے لئے مخصوص نہیں، مگر ضرور اتنا ہے کہ آپ اس فضیلت کے بارے میں تمام مومنین کے لئے مثال اور نمونہ ہیں، اور حصول کے
۸۱
لئے یہ درجہ سب کے سامنے ہے، فرشتوں کی پرواز پرندوں سے قطعی مختلف ہے، یہ تو روحانی اڑان ہے جو صرف ذکرِ الٰہی کے پروں سے ممکن ہے، جیسے قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ: فرشتوں کو (اپنا ) قاصد بنانے والا جنّ کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہوتے ہیں ( ۳۵: ۰۱) یعنی فرشتوں میں ایک ساتھ دو اسم کا ذکر بھی جاری رہتا ہے، تین کا سلسلہ بھی چلتا ہے اور چار بھی۔
بہشت میں عبادت :
سوال نمبر ۶۵: کیا بہشت میں عبادت و بندگی ہے؟ اگر نہیں تو وہاں فرشتوں کی پرواز ذکرِ خدا سے کیونکر ہو سکتی ہے؟ کیا بقولِ قرآن (۱۵: ۹۹) عبادت موت کے آنے تک محدود نہیں ہے؟
جواب: بہشت میں ایسی کوئی تکلیف کی عبادت ہرگز نہیں جو آج ہم دنیا میں خداوند تعالیٰ کی غلامی کے تصوّر سے کرتے ہیں، اور یہ بھی نہیں جو دوزخ کے ڈر اور جنّت کی طمع سے کی جاتی ہے، مگر ہاں، بہشت میں خاص اور اعلیٰ عبادت ضرور ہے، جو کسی زحمت کے بغیر انتہائی خوشی اور پروردگار کی محبت و دوستی میں کی جاتی ہے، ایسی عبادت یا ذکرِالٰہی جنت میں روحانیّت کی بلندی پر واقع ہے، وہ عارفانہ اور فرشتگانہ ذکر ہے، جو صرف ارادے اوراشارے سے خود بخود چلنے لگتا ہے، جس میں روحیں اور عقلی قسم کی لذّتیں، حلاوتیں اور مسرّتیں موجود ہیں، یہ غذائے عقل و روح کے طور پر ہے، اور اسماء و کلمات میں جو علمی و عرفانی خزائن پوشیدہ ہیں اور جو روحانیّت
۸۲
کے عجائب و غرائب ہیں ان کو دیکھنے کے لئے ہے، جیسے آنحضرتؐ کا ارشاد ہے کہ: “لاحولَ وَلا قُوّۃَ اِلّا بِاللہِ العلیّ العظیم۔ بہشت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے،” اس کے یہ معنی ہوئے کہ جنّت کے دوسرے خزانے بھی کچھ اس طرح اسماء اور کلمات کے ہیں۔
عبادت موت کے آنے تک نہیں، کیونکہ عبادت کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ موت آجائے اور موت حاصل ہو، اس کا مقصد یقین کا آخری درجہ ہے، یعنی حق الیقین، جو انتہائی بلند مرتبہ ہے، پس مذکورہ آیت (یعنی ۱۵: ۹۹ ) میں موت کا نہیں یقین کا ذکر ہے۔
جنت میں پرواز کیسی ؟
سوال ۶۶: اگر مانا جائے کہ بہشت جو عالمِ آخرت میں ہے وہ لامکان ہے، اور اس میں دنیائے ظاہر کی طرح مادّی قسم کی مسافتیں نہیں ہیں، تو پھر اس میں کسی پرندے کی طرح کیسی پرواز ہو سکتی ہے؟
جواب: یہ بات درست اور حقیقت ہے کہ بہشت روحانی اور لامکانی کیفیت میں ہے، اور اس میں مادّی اور مکانی مسافتیں نہیں، لہٰذا فرشتوں اور روحانیوں کی پرواز جسمانی اور دنیاوی اڑان سے بالکل الگ اور مختلف ہے، اور وہ یہ کہ جنّت کے عجائب و غرائب اور ظہورات و تجلّیات کا لا انتہا سلسلہ ذکرِ خدا سے وابستہ ہے، چنانچہ یادِ الٰہی اور تذکرۂ اسماء کے ساتھ ساتھ جنّت کے گونا گون جلوے اور طرح طرح کی نعمتیں خود بخود سامنے آتی رہتی ہیں۔
۸۳
ہمارے جواب کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہم بعض دفعہ عالمِ خواب میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پرواز کر جاتے ہیں حالانکہ خوابوں کی دنیا مکان نہیں بلکہ لامکان ہی ہے، اس سے ظاہر ہے کہ لامکان میں مکان کی غیر مادّی اور لطیف مثالیں بھی ہیں۔
اس کے علاوہ یہاں یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ اگر فرشتہ یا روح جسمِ لطیف یا ذرّۂ لطیف کے ساتھ ہے تو اس وقت وہ بیشک جسمانی طور پر پرواز کرتی ہے، جس طرح اڑن طشتری پُراسرار طریقے سے اڑتی ہے۔
اڑن طشتری: ۔
سوال نمبر ۶۷: اڑن طشتری (FLYING SAUCER) کیسی مخلوق ہے؟ کیا یہ کسی دوسرے سیّارے کا ترقی یافتہ انسان ہے یا فرشتہ یا جنّ؟ اس کے زمین کی طرف آنے کا مقصد کیا ہے؟ اس کے بارے میں آپ ہمیں کچھ مفید معلومات فراہم کریں۔
جواب: آج کل مغرب میں اڑن طشتری کو یو۔ایف۔ او (U.F.O)کہا جاتا ہے یعنی (UNIDENTIFIED FLYING OBJECT) جس کا مفہوم ہے ایک ایسی اڑنے والی چیز جس کی شناخت اب تک نہ ہو سکی ہے، ہم نے سوال نمبر ۴۷ کے جواب میں جو کچھ لکھا ہے، اس سے آپ کو اس سلسلے کی معلومات فراہم ہو سکتی ہیں، اس کے علاوہ آپ میری ایک کتاب “میزان الحقائق” کے صفحات از ۶۲ تا ۶۷ دیکھیں۔
میرا یقین ہے کہ اڑن طشتریاں وہی تسخیرِ کائنات کے مافوق الفطرت
۸۴
(SUPERNATURAL) زندہ کُرتے ہیں، جن کا ذکر قرآنِ حکیم (۱۶: ۸۱ ) میں فرمایا گیا ہے، اور اس ارشاد کا ترجمہ یہ ہے:۔
اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لئے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غار بنائے اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو (اسلحۂ) جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو (۱۶: ۸۱)۔
اس پراسرار زندہ کرتے کو ہم جسمِ فلکی، جسمِ لطیف، جثّۂ ابداعیہ، آسٹرل باڈی (ASTRAL BODY) وغیرہ بھی کہہ سکتے ہیں، اور دوسرے سیّارے کا ترقی یافتہ انسان فرشتہ اور جنّ بھی، کیونکہ یہ مقامِ ابداع ہے، اس کے زمین کی طرف آنا خدا کے حکم سے ہے، تاکہ دنیا میں روحانی انقلاب لایا جائے، اور اقوامِ عالم ایک ہو جائیں۔
عرش یا روح: ۔
سوال نمبر ۶۸: اس کائنات کو عرصۂ وجود میں لانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا عرش (تخت) پانی کے ایک بے پایان سمندر پر قائم تھا (وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلیَ الْمَآءِ ۱۱: ۰۷) اس وقت انسانی روح کہاں تھی؟
جواب: اس وقت روحِ انسان عرشِ عظیم کی شکل میں تھی، اور یہ عرش (تخت) شکل میں نہ تو مربع تھا، نہ مستطیل، اور نہ ہی گول، وہ نہ تو لعل و گوہر سے بنا تھا، نہ سونا چاندی سے، اور نہ ہی کسی دوسری بیجان چیز سے، بلکہ وہ عقل و جان کا سرچشمہ اور علم و حکمت کا بے پایان خزانہ تھا، اس لئے وہ
۸۵
نور بھی کہلاتا تھا اور قلم بھی، وہ سب سے عظیم فرشتہ تھا، مگر انسانِ کامل کی صورت میں، اور وہ سمندر جس پر خداتعالیٰ کا تخت قائم تھا علمِ الٰہی کا تھا، مادّی پانی کا نہیں۔
قرآنِ حکیم کی یہ تعلیم کہ: “خدا کا تخت پانی پر تھا۔” تاویلی حکمتوں سے بھرپور ہے، اس لئے لازم نہیں آتا کہ اس سے قبل کائنات و موجودات اپنی موجودہ شکل میں ظاہر نہ ہوں، مگر ہاں، اس تصوّر میں ربِّ کریم کی جانب سے ایک بہت بڑی علمی و عرفانی آزمائش ضرور مقصود ہے، کہ اہلِ ادیان و مذاہب “عرش” اور “پانی” کی حکمت کو سمجھتے ہی نہیں۔
جاننا چاہئے کہ تخت (عرش) کا اشارہ خداوند تعالیٰ کی اس بادشاہی کی طرف ہے، جس کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ کوئی انتہا، اور بادشاہی میں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔
دوسری حکمت “پانی” کے لفظ میں ہے، جو علم کے معنی میں ہے، اور علم عالَمْ (کائنات) کی موجودہ صورت و کیفیت میں ہے، اور اس کے بغیر علم کا وجود ہی نہیں بنتا، اگر ہم یہاں پانی کو تاویل کے بغیر ظاہری پانی ہی سمجھیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ تخت کس چیز کا تھا، جبکہ پانی کے سوا اور کوئی چیز وہاں موجود ہی نہ تھی؟ تخت کو کس نے بنایا تھا، جبکہ کوئی بادشاہ اپنا تخت خود نہیں بناتا ، بلکہ کسی اور کو حکم دے کر بنواتا ہے؟
رونگٹے کھڑے ہو جانا: ۔
سوال نمبر ۶۹: رونگٹے کھڑے ہو جانے کا یا کپکپی کا ذکر قرآنِ
۸۶
حکیم (۳۹: ۲۳ ) میں بھی ہے، اور ہم اسے اپنے آپ میں یا دوسروں میں بعض دفعہ دیکھتے بھی ہیں، تو کیا اس کے ظاہری اسباب کے علاوہ کوئی روحانی سبب بھی ہے؟ اگر روحانیّت میں اس کی کوئی وجہ ہے تو بیان کیجئے۔
جواب: ہاں، اس کیفیت کی ایک روحانی وجہ بھی ہے، مگر ہم پہلے اس کے ظاہری اسباب کے بارے میں کچھ الفاظ بیان کریں گے، کہ جب آدمی کی جلد کو سخت سردی لگتی ہے یا کسی شدید خوف کا احساس ہوتا ہے تو اس وقت اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے، جس کی وجہ روحِ حیوانی کے وہ بے شمار ذرّات ہیں، جو پورے جسم میں بھرے ہوئے ہیں کہ ان روحوں کو اس غیر مناسب اور ناگوار حالت سے اضطراب و پریشانی پیدا ہو جاتی ہے، لہٰذا یہ ذرّات آرام و سکون کی نیند سے بیدار ہوکر اپنی جگہ پر حرکت کرتے ہیں، جس کا نتیجہ رونگٹے کھڑے ہو جانے یا کپکپی طاری ہو جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔
اگر یہ واقعہ اپنی روحانی شکل میں ہے تو اس کی وجہ روحِ انسانی کے وہ لاتعداد ذرّات ہیں، جو انسان کی تمام ہستی میں موجود ہیں، کہ جب کوئی خوش نصیب مومن نورِ ہدایت کی روشنی میں کثرت سے ذکر و بندگی کرتا ہے، تو اس سے ان روحوں کو تقویّت و خوشی حاصل ہو جاتی ہے اور پھر روحِ قدسی کی شعاعوں کے برسنے سے ان میں بیداری اور اشتیاقِ وصال کی تڑپ پیدا ہو کر گویا رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں یا کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔
۸۷
جنّات اور انسان کا تعلق: ۔
سوال نمبر ۷۰: کیا آپ جنّ، پری اور شیطان کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں بتائیں گے؟ آیا ان سے انسان کا کوئی رشتہ و تعلق ہے یا یہ الگ مخلوقات ہیں؟ ابلیس اور شیطان میں کیا فرق ہے؟
جواب: “جن” کا لفظ عربی ہے اور پری اسی کا فارسی ترجمہ ہے، یعنی جنّ ہی میں وہ ساری باتیں ہیں جو پریوں سے متعلق ہیں، جنّ کے معنی پوشیدہ مخلوق کے ہیں، اور وہ پوشیدہ اس لئے ہے کہ لطیف ہے کثیف نہیں، جنّات کے مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی، یہ ظلم ہے کہ بعض لوگوں نے جنّات کو بھونڈی شکل میں پیش کیا، حالانکہ یہ بات غلط ہے وہ تو بڑے حسین و جمیل ہوا کرتے ہیں، اس لئے کہ وہ لطیف جسم رکھتے ہیں۔
خداوند عالم نے نہ صرف قرآنی آیات میں غور و فکر کرنے کے لئے فرمایا ہے، بلکہ اس کا فرمان یہ بھی ہے کہ ہم آفاق و انفس کی آیات میں بھی اس کی قدرتوں اور حکمتوں کا مطالعہ کریں، چنانچہ اس سلسلے میں ایک چھوٹا سا جانور ہمارے سامنے آتا ہے وہ ایک کیڑا ہے جو کچھ عرصے کے بعد پروانہ بن جاتا ہے، پھر اس پروانے کے انڈوں سے کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں اس میں یہ پُرحکمت اشارہ ہے کہ روحانی دور کے آنے پر مخلوقِ کثیف خدا کے حکم سے مخلوقِ لطیف بن جاتی ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ انسان جو آج جسم کے اعتبار سے کثیف ہیں، کل کو لطیف جسم میں ہوں گے، اور جسمِ لطیف کے مختلف درجات ہیں، مثلاً فرشتے، جنّات اور شیاطین، فرشتے تو سب کے سب اچھے ہیں، شیاطین تماماً برے ہیں، مگر جنّات میں اچھے
۸۸
بھی ہیں اور برے بھی، ابلیس شیاطین کے سردار کا نام ہے، الحمد اللہ، میں نے اس بیان میں جو اشارات سے بھر پور ہے آپ کے سوال کا مکمل جواب مہیا کر دیا۔
ٹیلی پیتھی:
سوال نمبر ۷۱: ٹیلی پیتھی (TELEPATHY) خیال رسانی یعنی اشراق کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟ آیا مستقبل میں کبھی اس کی ترقی ہو سکتی ہے؟ کیا اس کا تعلق مذہب سے ہے یا سائنس سے؟
جواب: خیال رسانی (ٹیلی پیتھی) یا اشراق پر میرا کامل یقین ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ذات میں بہت سی اعلیٰ صلاحیتیں پوشیدہ رکھی ہیں، اگر ان کو ترقی دے کر بروے کار لا یا جائے، تو آدمی بہت سے حیرت انگیز کارنامے انجام دے سکتا ہے، مستقبل میں ٹیلی پیتھی کی ترقی یقینی ہے، میرا نظریہ اصل مذہب اور اصل سائنس کے ایک ہوجانے کا ہے، اس لئے ٹیلی پیتھی دونوں میں مشترکہ ہے۔
آج مذہب اور سائنس کے درمیان جو دیوار کھڑی ہے وہ صرف الفاظ، اصطلاحات اور زبان کی ہے، کاش سائنس دان قرآنی حکمت کی زبان کو جانتے اور روحانیّت کو سمجھتے! کاش جو باتیں دل میں ہیں وہ ہم زبان پر لاسکتے! کاش کامل انسانوں کے بھیدوں کو سب لوگ جانتے !
آپ اس پر حکمت آیت میں غور کریں: فالھمھا فجورھا و تقوٰھا (۱۹: ۰۸) مفہوم یہ ہے کہ خدا نے روح کو بدکاری کا بھی اور پرہیز گاری
۸۹
کا بھی الہام کیا، مگر اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ اللہ پاک نے یہ کام بذاتِ خود نہیں کیا، کیونکہ وہ اس بات سے بہت ہی منزّہ اور برتر ہے کہ کس کو فسق و فجور کی تعلیم دے، لہٰذا یہ کام مضل (شیطان) نے کیا، جو شر کا ذریعہ ہے، اور خدا اس سے بھی پاک و برتر ہے کہ مضل کا مدِ مقابل بن کر کوئی کام کرے، پس اس پادشاہِ مطلق نے ہادیٔ برحق کو یہ قدرت دی کہ وہ خیر کا ذریعہ بنے اور پرہیز گاری کا الہام کرے۔
وسیلۂ روحانیّت: ۔
سوال نمبر ۷۲: آپ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ روحانیّت ایک ایسا وسیلہ ہے، جو زمانۂ نبوّت کی بولنے والی روح و نورانیّت اور زندہ حقیقتوں کو مستقبل کی طرف لاتا ہے، اور حال و مستقبل کے مومنین کو رسولِ برحق صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے ملا دیتا ہے، کیا آپ اپنے اس نقطۂ نظر پر قرآنِ پاک کی روشنی ڈال کر ہمیں سمجھائیں گے؟
جواب: عزیزانِ من! یہ بات بالکل درست اور حقیقت ہے، اور اس نظریے کی تشریح یہ ہے کہ حضور اکرمؐ وہ پاک نور ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے قرآن سے وابستہ کر کے بھیجا ہے (۰۵: ۱۵) تاکہ اہلِ ایمان اسی نورِ ہدایت کی روشنی میں قرآن پر عمل کرتے جائیں، چنانچہ آنحضرتؐ کا مقدّس نور آج سلسلۂ امامت میں موجود اور حاضر ہے، قرآن نے یہ تو اعلانیہ طور پر کہا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور اس کے نور کی مثال ایک طاق کی طرح ہے جس میں ایک روشن چراغ ہو (۲۴: ۳۵) پھر فرمایا گیا کہ روشن چراغ
۹۰
رسولؐ ہیں ( ۳۳: ۴۶) اللہ پاک کے نور کا جہاں ذکر ہوا وہاں یہ بھی ارشاد ہوا کہ نورِ خداوندی کا قابلِ فہم تصور “نُوْرٌ عَلیٰ نُوْرٍ (۲۴: ۳۵ )” ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ نور کا خلیفہ و جانشین صرف وہی شخص ہو سکے گا جو خود بھی پہلے ہی سے نور بن چکا ہو۔
الغرض امامِ زمانؑ میں خدا و رسولؐ کا مقدّس نور موجود ہے، اب اس بات کے لئے وسیلۂ روحانیّت چاہئے تاکہ ہم مدینۂ علم اور حکمت کے گھر میں داخل ہو سکیں اور چشمِ باطن سے نورِ نبوّت کے علمی و عرفانی معجزات کا مشاہدہ کریں، اور زمانۂ نبوّت کی بولنے والی قدسی روح و نورانیت اور زندہ حقیقتوں کو دیکھیں۔
ہم آپ کو آئندہ کسی مجلس میں سورۂ جمعہ کی ایک ایسی حیرت انگیز اور پُرمسرّت حکمت بیان کریں گے کہ جس سے آپ یقین کریں گے، کہ ہم نورِ امامت کے وسیلے سے مرتبۂ نبوّت کی شناخت حاصل کر سکتے ہیں اور اس بات میں تمام اشارے موجود ہیں۔
“دو ۲” کی اہمیّت: ۔
سوال نمبر ۷۳: آپ نے ایک دن اپنی علمی گفتگو میں کہا تھا کہ قرآنِ مقدّس میں “ایک” کے بعد “دو” کی اہمیّت کا اشارہ ہے، لہٰذا ہم یہ جاننا چاہئے ہیں کہ دو کی اہمیت قرآن میں کہاں کہاں ہے اور کس طرح یا کس معنی میں ہے؟
جواب: اس سلسلے میں سب سے پہلے ہم یہ کہیں گے کہ
۹۱
خداوند تعالیٰ ایک بھی ہے اور ایک سے برتر بھی، اس کے بعد ہم دو کی بات کرتے ہیں، کہ ذاتِ سبحان کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ دو دو کے جوڑوں میں ہے (۳۶: ۳۶) دنیا و آخرت دو ہیں ( ۰۲: ۲۰۱) اللہ تعالیٰ کی عبات کے لئے جنّ و انس دو مخلوق ہیں (۵۱: ۵۶) خیرو شر انسانی آزمائش کے ذریعے دو ہیں (۲۱: ۳۵) حکمت اسی میں ہے کہ بہشت کے پھل دو دو کے جوڑوں میں ملیں گے (۵۲: ۵۵) روحانی حکمت کی تعلیم وہاں ملتی ہے، جہاں دو دریا ایک دوسرے سے ملتے ہیں ( ۱۸: ۶۰) مشرق و مغرب دو دو ہیں (۵۵: ۱۷ ) ۔
آسمان و زمین یعنی بلندی و پستی دو ہیں (۲۴: ۳۵) نورو ظلمت دو ہیں (۳۵: ۲۰) زندگی اور موت دو ہیں (۶۷: ۰۲) دن اور رات دو ہیں (۱۷: ۱۲) نفوسِ خلائق دو دو کے جوڑے ہوں گے ( ۸۱: ۰۷) وغیرہ وغیرہ ۔
دو کے عدد میں بہت سی حکمتیں ہیں: یہ وحدت اور کثرت کے درمیان ہے، لاابتدائی اور لاانتہائی کا وسیلہ ہے، جفت اور جوڑے اسی عدد میں ہیں ، اضداد اسی سے بنتی ہیں، تاکہ ایک دوسرے کی شناخت ہو، نفی اور اثبات کی حکمت اسی میں ہے، یہ میزانِ عدل کی مثال ہے، اور آخری بات یہ ہے کہ مخلوقات میں کوئی چیز دو کی حکمت یا دو کے قانون کے بغیر نہیں، چنانچہ نفوسِ خلائق بھی دو دو ہیں، جیسے کہا گیا تھا کہ روح کے دو سِرے ہیں، یعنی ہم ایک انائے علوی رکھتے ہیں اور ایک انا ئے سفلی۔
نوٹ: انائے علوی اور انائے سفلی کی تفصیلات “میزان الحقائق” میں دیکھیں۔
۹۲
خدا کے ہاں ماضی و مستقبل نہیں: ۔
سوال نمبر ۷۴: مجھے یہ بات ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ میں نے مولانا روم کی مثنوی میں یا آپ کی کسی کتاب میں یہ دیکھ لیا تھا کہ خداتعالیٰ کے حضور میں نہ تو ماضی ہے اور نہ مستقبل، وہاں بس حال ہی حال ہے، کیا یہ روحانیّت کی بات ہے یا آخرت کی؟ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ کسی مقام پر ماضی بھی نہ ہو اور مستقبل بھی، صرف اور صرف زمانۂ حال موجود ہو؟
جواب: ماضی اس کا ہوتا ہے جس کی نگاہوں سے زمان و مکان کے واقعات آگے گزر چکے ہوتے ہیں یا یہ کہ اس کو مدّتِ مدید اور مسافتِ بعید کی وجہ سے قطعاً ماضی کی خبر ہی نہیں ہوتی ہے، اور مستقبل بھی اسی شخص کا ہوتا ہے کیونکہ آنے والے حالات اس تک ابھی نہیں پہنچے ہیں اور وہ ان تک رسا ہو جانے سے قاصر ہے، مگر خدا جو اپنے نور سے زمان و مکان پر محیط ہے، اس کے لئے کوئی ماضی اور مستقبل نہیں، اس کی نظر میں ہر غائب حاضر ہے اور ہر ماضی و مستقبل حال، یہ اس کا نور ہے جو کائنات و موجودات کے تمام واقعات و حالات کو اصل صورت میں محفوظ رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حضور سے روحانیّت مراد ہے، اور روحانیّت ہی وہ مقام ہے، جہاں زمانۂ گزشتہ اور زمانۂ آئندہ دونوں “حال” کی صورت میں حاضر ہیں، جس کی مثال یہ ہے کہ اگر آپ روحانیّت میں چلے جائیں تو واقعاتِ آدمؑ اور واقعاتِ قیامت کو آپ حال ہی میں دیکھیں گے، پس یہ حالت روحانیّت بھی ہے اور آخرت بھی۔
۹۳
دائرۂ لطیف و کثیف: ۔
سوال نمبر ۷۵: قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنّات کو انسانوں سے قبل آگ سے پیدا کیا ( ۱۵: ۲۷) لیکن آپ نے نمبر ۷۰ میں یہ تاویل کی ہے کہ انسانوں سے فرشتے، جنّات، اور شیاطین بن جاتے ہیں، وہ کس طرح ممکن ہے؟ ہمیں اس کی وضاحت چاہئے۔
جواب: آپ کے سوال کے پس منظر میں دو باتیں خاص ہیں، ایک ہے “قبل” اور ایک ہے “آگ” سو جاننا چاہئے کہ اس دنیا میں دن رات کی طرح ایک دوسرے کے پیچھے چلنے والے دو عظیم دور گردش کرتے ہیں ایک تو لطیف (روحانی) دور ہے، اور دوسرا کثیف (جسمانی) دور، اگر آپ پورے دائرے کو دیکھنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں دورِ لطیف اور دورِ کثیف میں سے کوئی آگے اور کوئی پیچھے نہیں، لیکن جہاں آپ جسمانی دور میں رہتے ہیں، تو اس حال میں روحانی دور کو قبل کا زمانہ کہنا صحیح ہے۔
اب رہا آگ کا سوال، تو یہ لطافت کے معنی میں ہے، یعنی جس وقت روحانی دور آتا ہے، اس وقت جو لوگ علم وعمل میں اعلیٰ ہیں، وہ درجہ بدرجہ فرشتے بن جاتے ہیں، جو درمیانی قسم کے ہیں، وہ مختلف درجات کے جنّات بن جاتے ہیں، اور جو شریر ہیں وہ شیاطین بن جاتے ہیں۔
جنّات اور انسان کی تخلیق کی مثال یوں ہے، جیسے کوئی حکیم کہتا ہو کہ کیڑے کو کثافت سے پیدا کیا گیا، اور پروانے کو اس سے پہلے لطافت سے پیدا کیا گیا، اس سے ہوشمند شخص مطلب کو سمجھ لیتا ہے کہ یہ لطافت کیڑے کی تھی اور کثافت پروانے کی۔
۹۴
حضرت آدمؑ، بی بی حوّاؑ اور ان کے لاتعداد ساتھی بہشت میں جانے سے پہلے کثیف جسم میں تھے، لیکن بہشت میں جاتے ہوئے لطیف بن گئے، جب بہشت سے نکالے گئے تو کثیف جسم میں بدل گئے، اور پھر واپس بہشت میں جا کر لطیف ہو گئے۔
ایک حیرت انگیز حکمت: ۔
سوال نمبر: آپ نے نمبر ۷۲ کے آخر میں یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ ہمیں سورۂ جمعہ کی ایک ایسی حیرت انگیز اور پُرمسرّت حکمت بیان کر دیں گے، کہ جس سے ہم کو کامل یقین ہو کہ نور امامت کے وسیلے سے ہم مرتبۂ نبوّت کی شناخت حاصل کر سکتے ہیں، کیا آپ وہ حکمت بیان کریں گے؟
جواب: جی ہاں، یہ وہی سلسلہ ہے، جس کے شروع میں کہا گیا تھا کہ روحانیّت کا وسیلہ ہی حال و مستقبل کے مومنین کو رسولِ برحقؐ سے ملا دیتا ہے، چنانچہ سورۂ جمعہ (۶۲) کی دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی ان بے شمار رحمتوں اور مہربانیوں کا ذکر ہوا ہے، جو زمانۂ نبوّت کے مومنین کو حاصل تھیں، مثلاً رسولِ اکرمؑ کا ان کے سامنے خدا کی آیتیں پڑھنا، ان کو پاک و پاکیزہ کر دینا، کتاب اور حکمت سکھا دینا، اور یہ سب دراصل روحانیّت کی باتیں ہیں۔
تیسری آیت میں “آخرین” کے بارے میں ذکر ہے، کہ جو اہلِ ایمان زمانۂ نبوّت میں ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے، وہ آئندہ زمانے میں پیدا ہو جانے کے باوجود نورِ ہدایت اور روحانیّت کے وسیلے سے زمانۂ رسولؐ کے مومنین سے جاملیں گے، یہ سب کچھ حکمت کی زبان میں ہے، جس کا ثبوت آیت کے آخر
۹۵
میں “العزیز الحکیم” ہے، یعنی وہ غالب حکمت والا ہے، اس لئے وہ ایسا کر سکتا ہے۔
چوتھی آیت میں اشارتاً فرمایا گیا ہےکہ یہ ہدایت و روحانیّت خداوند تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔
انتہائی عظیم راز: ۔
سوال نمبر ۷۷: “خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا (۳۹: ۰۶) اسی نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا کیا۔” عرصۂ دراز سے اس آیت میں سوچتے آیا ہوں، مگر کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ اگر یہاں نفسِ واحدہ سے آدمؑ مراد لیا جائے، تو تنہا ایک شخص سے اولاد کا پیدا ہونا اور بیوی کی پیدائش بعد میں، یہ ناممکن بات ہے، لہٰذا براہِ کرم آپ ہمیں بتائیں کہ اس میں راز کیا ہے؟
جواب: خداوند کی توفیق و یاری سے اور اسی کو کار ساز مانتے ہوئے کہتا ہوں کہ واقعی یہاں ایک انتہائی عظیم راز پوشید ہ ہے، وہ یہ کہ آیۂ مذکورۂ بالا میں نفسِ کلّی کا ذکر ہے، جس کے پس منظر میں لازمی طور پر عقلِ کلّی بھی ہے، اور یہ دونوں دینی حکمت کی زبان میں جفتِ بسیط اور آدم و حوّای معنیٰ کہلاتے ہیں، چنانچہ نفسِ واحدہ (یعنی عقلِ کل کی روحانی بیوی) سے سابقہ عظیم دور کے تمام نفوس پیدا ہو گئے، اور اس دور کے اختتام پر یہ نفسِ کلّ عقلِ کلّ کے درجے پر فائز ہو گیا، جس کی تاویلی مثال یہ ہوئی کہ یہ عظیم فرشتہ گزشتہ دور میں ماں کا درجہ رکھتا تھا اب مستقبل کے
۹۶
نفوس کا باپ بن گیا، اس لئے خدا نے اس سے اس کی بیوی کو پیدا کیا ، یعنی اس کے حدود میں سے ایک عظیم حد کو نفسِ کلّ بنا یا گیا، تاکہ ان دونوں عظیم فرشتوں کے اس روحانی ازواج سے روحوں کی ایک نئی دنیا وجود میں آئے۔
ستاروں کی روحیں: ۔
سوال نمبر ۷۸: جب ہر چھوٹی بڑی چیز کی ایک روح ہوا کرتی ہے، اور جہاں اس عظیم کائنات کی ایک ہمہ گیر روح ہے، تو کیا سیّارۂ زمین، چاند اور جتنے بھی ستارے ہیں، ان کی بھی جانیں ( ارواح) ہوتی ہیں؟ اگر آپ کہتے ہیں، کہ ہاں سیّاروں اور ستاروں کی روحیں ہیں، تو اس کی کوئی معقول دلیل پیش کی جائے۔
جواب: مجھے یہ سوال نہ جانے کیوں بہت ہی عمدہ اور خوبصورت لگ رہا ہے، شاید اس میں کوئی رحمتِ خداوندی ہے، عزیزانِ من! کائنات کی ہر چیز روحِ ارواح کے بحرِ محیط میں غرق ہے، اسی طرح تمام سیّارے اور ستارے ظاہراً و باطناً روح کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں سے ہر ایک کی روحانی شکل و صورت متعین ہو جاتی ہے، چنانچہ سیّارۂ زمین کی روحانی شکل زمین ہی کی طرح ہے، جیسے کسی عظیم فرشتے نے خدا کے حکم سے اس کی پر حکمت اور زندہ فلم بنائی ہو، یہ زمین کی روح کی ایک قابلِ فہم مثال ہے۔
ہوا کی شکل کا اپنے طور پر کوئی تعیّن نہیں ، مگر جہاں مشک میں ہے، تو وہ مشک کی طرح ہے، بوتل میں ہے تو بوتل جیسی، اور جب ٹائر میں ہے تو ٹائر
۹۷
کی مانند ہے، یہی حال ہر چیز یعنی ہر ستّارے کی روحانی شکل کا ہے، مگر اس میں ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ روحانی صورت ایک زندہ اور بولنے والی روح ہوا کرتی ہے، اور ہوا جہاں کہیں بھی ہو روحانی اوصاف سے عاری ہوتی ہے۔
خداوند عالم نے اپنی عزیز کتاب ( ۵۶: ۷۵ ) میں ستاروں کے گر جانے کی قسم کھائی ہے، یہ ستاروں کی روحیں ہیں، جو انفرادی قیامت میں مومن پر گر جاتی ہیں، اور یہ صرف ذرّات کی صورت میں ہوتی ہیں۔
دائرۂ کرم و پروانہ: ۔
سوال نمبر ۷۹: مخلوقِ کثیف (موجود انسان) اور مخلوقِ لطیف (فرشتہ وغیرہ) پر غور کرنے کے لئے آپ نے جو کیڑے اور پروانے کی مثال پیش کی ہے، وہ کتابِ فطرت کی ایک منہ بولتی آیت ہے، اور اس سے ہم بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں قرآنِ مقدّس کی روشنی میں کچھ سمجھائیں۔
جواب: خداوند تعالیٰ نے کائنات کو چھ دن میں بنایا، یعنی اس نے عالمِ دین کو چھ عظیم پیغمبروں کے زمانوں میں مکمل کر دیا، اسی طرح پروردگار نے انسان کے موجودہ جسم کی تخلیق و تکمیل چھ مراحل میں کی، وہ یہ ہیں،: سلالہ (مٹی کا خلاصہ) نطفہ، علقہ، مضفہ، عظام اور لحم، تو انسان جسمِ کثیف میں مکمل ہوا اور دنیاوی طور پر زندگی گزاری، پھر خداوند تعالیٰ نے اس کو خلقِ آخر (جسمِ لطیف ) بنایا ( ۲۳: ۱۲ تا ۱۴)۔
فتبٰرکُ اللہ احسن الخٰلقِین (۲۳: ۱۴ ) تو خدا بڑا بابرکت ہے جو
۹۸
سب بنانے والوں سے بہتر ہے، یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ “خلقِ آخر” سب سے اوپر کی تخلیق ہے، اور وہ جثّۂ ابداعیہ کی تخلیق ہے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس مقام پر اللہ کی بہت سی برکتوں اور خالقیت کی خوبیوں کی طرف اشارہ نہ ہوتا۔
یاد رہے کہ قرآنِ حکیم کے ربطِ معنوی کا اصول زبردست حکیمانہ ہے، لہٰذا ہم ثُمّ انشا نٰہُ خلقاً ٰخر (۲۳: ۱۴ ) میں سے “اَنشا نٰہٗ” کی تفسیر و تشریح کسی دوسری آیت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے یہ آیت ملتی ہے: اِنّا اَنشا نٰھُنّ اِنشآ ءً ۔ فجلنٰھُنَّ اَبْکاراً (۵۶: ۳۵ تا ۳۶) ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا جیسا کہ پیدا کرنے کا حق ہے، یعنی ان کو پہلے دنیا میں پیدا کیا اور زندگی کے مختلف مراحل سے گزار دیا، پھر ہم نے انہیں کنواریاں بنایا یعنی ان کو لطیف جسم دیا، پس اس سے یہ حقیقت بخوبی معلوم ہو جاتی ہے کہ دنیا کا جسم دنیا ہی میں رہ جاتا ہے اور آخرت کے لئے لطیف جسم ہے۔
سرے دو ہیں روح کے: ۔
سوال نمبر ۸۰: ہماری روح (جان) کے دو سِرے کس طرح ہیں، اور کس معنیٰ میں نفوس کے جوڑے ہیں؟
جواب: یہ بات خوب یاد رہے کہ ہماری روح کا اصل سرچشمہ عالمِ امر اور بہشت میں ہے، ہم وہاں سے کلی طور پر نہیں بلکہ جزوی طور پر یہاں آئے ہیں، جیسے سورج اپنے مقام پر قائم ہے، مگر اس کی کرنیں، روشنی اور حرارت سطحِ زمین تک پہنچتی رہتی ہیں، اگر ہم اپنے سامنے سورج کی روشنی میں
۹۹
کوئی آئینہ یا پانی کے ساتھ کوئی برتن رکھیں، تو اس میں سورج کا مدھم سا عکس نظر آئے گا، یہ ہماری روحانیّت اور جسمانیّت کی دو طرفہ ہستی کی ایک خوبصورت اور قابلِ فہم مثال ہے، اسی معنیٰ میں کہا گیا ہے کہ ہماری روح کے دو سِرے ہیں یا یہ کہ ہماری دو انائیں ہیں۔
قرآنِ حکیم (۰۶: ۹۸) کا مفہوم ہے کہ جب بحکمِ خدا تمام انسان نفسِ کلّی سے پیدا کئے گئے، تو اس وقت سب کو دو دو روحیں عنایت ہوئیں، ایک کا نام مستقر ہے اور دوسری کا نام مستودع، مستقر عالمِ امر میں ہے اور مستودع اس دنیا میں آئی، چنانچہ جو لوگ یہاں خدا اور رسولؐ اور صاحبِ امر کی اطاعت کا حق جیسا کہ چاہئے ادا کریں اور انہیں اپنے نفس کی معرفت حاصل ہو تو وہ لوگ اپنی روحِ مستقر سے جا ملیں گے، جیسا کہ رسولِ اکرمؐ نے اپنے آخری وقت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے “رفیقِ اعلیٰ” (روحِ مستقر) سے جا ملنے کے لئے دعا مانگی تھی، ہم نے اس بیان میں آپ کے سوال کا کافی جواب دیا ہے۔
۱۰۰
بابِ پنجم :
جسمِ خاکی دائم نہیں: ۔
سوال نمبر ۸۱: حضرتِ ادریسؑ کو خدا تعالیٰ نے جسمِ خاکی ہی کے ساتھ بہشت میں اٹھالیا (۱۹: ۵۷ ) حضرت خضرؑ اسی جسم میں ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں زندہ رہے اور خدا نے حضرت عیسیٰؑ کو اس جسم کے ساتھ زندہ ہی آسمان پر اٹھا لیا، آیا یہ مثالیں ہیں یا حقائق؟ حقیقتِ حال جیسی بھی ہو، اس کو کھول کر بیان کریں۔
جواب: یہ تو حکمت کی مثالیں ہیں، اور حکمت و حقیقت ان مثالوں کے سمجھنے میں پوشیدہ ہے، چنانچہ جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریسؑ کو اس دنیا کی زندگی ہی میں بہشتِ روحانیّت کا مشاہدہ اور تعارف کرایا، جس طرح ہمیشہ پروردگار کی رحمت سے روحانی جنّت کا یہ مشاہدہ انبیاء اولیاء اور نیک بندوں کو ہوتا رہا ہے (۴۷: ۰۶) اس سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ اللہ پاک نے حضرت ادریسؑ کو روحانیّت کے مقام پر اٹھا لیا تھا، پھر بحکمِ خدا وقت آنے پر آپؑ جسمِ عنصری کو چھوڑ کر دائمی جنّت میں داخل ہو گئے، کیونکہ اس جسم کے ساتھ طرح طرح کی تکالیف وابستہ ہیں، اس لئے یہ ابدی بہشت میں نہیں رہ سکتا، ہر چند کہ خدا کے خاص بندوں کو اسی جسم میں یعنی موت سے پہلے بہشت روحانیّت کا مشاہدہ، تجربہ اور تعارف ہو جاتا ہے۔
حضرت خصرؑ سے متعلق جہاں کوئی صحیح روایت یا کوئی مثال ہو، تو اس کی تاویل یہ ہے کہ آپؑ روحانی طور پر زندۂ جاوید ہو گئے ہیں، خداوند تعالےٰ یہ ہر گز نہیں چاہتا کہ اس کے برگزیدہ بندے مقررہ وقت سے زیادہ جسمِ عنصری کے بوجھ کو اٹھاتے پھریں، اسی بیان میں حضرت عیسٰےؑ سے متعلق سوال
۱۰۳
کا جواب بھی مہیا ہے، تاہم دیگر تفصیلات کے لئے آپ پنج مقالہ نمبر ۲ میں “حضرت عیسٰےؑ روح ہیں یا جسم؟” کے موضوع کا مطالعہ کریں۔
جنّت کی معرفت: ۔
سوال نمبر ۸۲: ابھی ابھی آپ نے بہشت کی معرفت کا ذکر کیا، دل چاہتا ہے کہ جنّت کی معرفت کے بارے میں مزید نکات سنیں، کیا آپ براہِ مہربانی ہماری معلومات میں اضافہ کریں گے؟
جواب: دینِ اسلام میں “معرفت” سب سے اعلیٰ اور انتہائی جامع اصطلاح ہے، لہٰذا تمام صفات اور حقیقتیں معنوی طور پر اس میں جمع ہو جاتی ہیں، اس کی پہلی مثال یہ ہے کہ اسلام کے جملہ ظاہری احکام دائرۂ شریعت میں موجود ہیں، انہی تمام خوبیوں کے ساتھ طریقت شریعت کا مغز ہے، حقیقت طریقت کا باطن ہے اور معرفت حقیقت کی روح اور روشنی ہے، اسی طرح دین کی ساری زندہ روح معرفت میں سمو گئی ہے۔
دوسری مثال یہ ہے کہ معرفت اصل میں خدا کی شناخت کو کہتے ہیں، یہ شناخت بغیر اس کے ممکن ہی نہیں کہ ظہوراتِ صفات میں خدا کا دیدار ہو، یہ سب سے بڑی سعادت اس وقت حاصل ہو جاتی ہے جبکہ مومن اپنی روح کو پہچان لیتا ہے، روح کی پہچان اور دیدارِ خداوندی جہاں میّسر آتی ہے وہ جنّت ہے، جنّت کا راستہ پیغمبرِ اکرمؐ کے اسوۂ حسنہ میں پوشیدہ ہے، جس کی کامیاب رہنمائی صرف امامِ زمانؑ ہی کر سکتے ہیں۔
قربان جائیں قرآنِ حکیم کے پُرحکمت الفاظ سے! کہ ہر حکیمانہ لفظ میں بہت
۱۰۴
سی حقیقتیں جمع ہو تی ہیں، چنانچہ مذکورۂ بالا تمام حقائق و معارف “عَرَّفَھَا لَھُمْ” میں یکجا ہیں (خدا نے ان کو اس جنّت سے شناسا کر رکھا ہے۔ ۴۷: ۰۶) اس بیان سے ظاہر ہوا کہ معرفت سب کچھ ہے جو جنّت ہے، اور اس کے حصول کی شرط یہ ہے کہ مومنین دین کی سلامتی اور ترقی کی خاطر ایسی ضروری خدمات انجام دیں، جیسی شہیدوں کی شہادت ماضی میں ضروری ہوتی تھی۔
نورِ منعکس: ۔
سوال نمبر ۸۳: نور کے لفظی معنی روشنی ہیں، لیکن ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اہلِ معرفت کی روحوں کو نورِ کامل سے منوّر کر دیتا ہے تو اس منعکس ہو جانے والی روشنی کی کیا حالت و کیفیت ہوتی ہے؟ آیا روحانی روشنی بالکل مادّی روشنی کی طرح ہے یا دونوں میں بڑا اختلاف پایا جاتا ہے؟
جواب: یہ درست ہے کہ نور کے لغوی معنی روشنی ہیں، مگر اس کی مراد مقامِ انسانیّت پر درجۂ کمال اور مرتبۂ اعلیٰ کی ہدایت ہے اور ہدایت کی تین شاخیں ہیں: عقل کی ہدایت، روح کی ہدایت اور جسم کی ہدایت، عقل کی ہدایت علم و حکمت اور آفاق و انفس کے اسرار سے آگہی کی صورت میں ہے، روح کی ہدایت ذوقِ بندگی، لذّتِ ذکر، جذبۂ دینداری اور توفیقِ نیکی جیسے میلانات میں ہے اور جسم کی ہدایت صلاحیتوں کے اجاگر ہو جانے میں ہے، یعنی صبر، ہمت، شجاعت اور مردانگی جیسی اعلیٰ صفات کا نمایان ہو جانا خدا کی ہدایت سے ہے۔
نور نچلے درجات میں مبہوت کر دینے والی رنگینیوں سے پر ہے اور
۱۰۵
اوپر کے درجات میں یا تو اعتدال پر ہے یا شکل و رنگ سے بے نیاز، اور اس رنگ و بے رنگ کیفیت کا نام “صِبْغَۃَ اللہ ( ۰۲: ۱۳۸)” ہے۔
ظاہری نور مثال ہے اور باطنی نور ممثول، لہٰذا مادّی روشنی اپنے ممثول کے مقابلے میں بہت ہی حقیر اور بیجان و بے حقیقت شے ہے، جبکہ باطنی نور عقل و جان کے اوصافِ کمال سے آراستہ ہے، “چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک۔” آپ کتاب “معراجِ روح” میں “نور کی کیفیت و حقیقت” کے مضمون کو بھی پڑھیں۔
عزرائیلؑ اور قبضِ روح:۔
سوال نمبر ۸۴: جب کسی آدمی کی موت کا وقت آتا ہے، تو اس میں آیا اس کی روح خود بخود جسم سے نکل جاتی ہے یا عزرائیلؑ اس کو قبض کر لیتا ہے؟ اگر مَلک الموت روح کو قبض کرتا ہے تو کس طرح؟ کیا عزرائیلؑ ایک ہے یا زیادہ ؟ خروجِ روح کا راستہ کونسا ہے؟
جواب: موت کے وقت روح خود بخود نہیں نکلتی، بلکہ حضرت عزرائیل علیہ السّلام اس کو قبض کر لیتا ہے، اور قبض کرنے کی کیفیت یہ ہے کہ ملک الموت مرنے والے کے کان میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کے ایک بزرگ نام کا مسلسل ذکر کرتا ہے اور عزرائیلؑ کی اسی معجزانہ آواز سے ذرّاتِ روح آدمی کے سر کی جانب حرکت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان میں مردگی (موت) کی کیفیت پاؤں سے شروع ہو جاتی ہے، اور روح بتدریج سر کے بالائی حصے سے خارج ہو جاتی ہے۔
۱۰۶
بعض لوگ آخری سانس کے ساتھ روح کے نکل جانے کا گمان کرتے ہیں، مگر ایسا نہیں، یہ صرف اس واقعہ کی علامت ہے کہ روح سینہ کو چھوڑ کے دماغ میں مرکوز ہو گئی، یہ سوال الگ ہے کہ روح کتنی دیر تک سر میں ٹھہرتی ہے۔
عزرائیل بحکمِ خدا صرف ایک ہی نعرہ سے بھی کسی کی جان کو یکایک قبض کر سکتا ہے، عزرائیل درجۂ اصل میں ایک ہے، لیکن اس کے لشکر میں ہر شخص کے لئے ایک عزرائیل موجود ہے۔
نفسانی موت اور جسمانی موت: ۔
سوال نمبر ۸۵: اگر یہ صحیح ہے کہ دین میں “موتوا قبل ان تموتوا (یعنی جسمانی طور پر مرنے سے پہلے نفسانی طور پر مرو)” کا حکم بھی ہے، تو کیا اس پر ایسی ذاتی نوعیّت کی قیامت قائم ہو جاتی ہے تو وہ ان احوالِ قیامت کا مشاہدہ کیسے کر سکتا ہے، جن کا تعلق دنیا بھر کے لوگوں سے ہے؟ کیا نکیرو منکر کے نام سے دوفرشتے حق ہیں؟
جواب: ہاں، حقیقی مومن کی کامیابی اسی میں ہے کہ تزکیۂ نفس کے وسیلے سے جسمانی موت سے قبل نفسانی طور پر مرجائے، اور ہاں یہ بھی درست ہے کہ اس صورت میں اس کی انفرادی قیامت برپا ہو جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ مومن قیامت کے ان تمام احوال کا مشاہدہ کر تا ہے، جو اجتماعی قیامت سے متعلق ہیں، کیونکہ خداوند تعالیٰ کے وہاں ایک عالمِ ذرّ بھی ہے جس میں نہ صرف تمام زمانوں کے لوگ بصورتِ ذرّہ موجود ہیں، بلکہ کائنات و موجودات کی ہر ہر
۱۰۷
چیز بھی ذرّی شکل میں حاضر ہے، چنانچہ ایسے بندے پر جو شخصی قیامت کا منظر دیکھ رہا ہے اجتماعی قیامت کے سارے احوال گزر جاتے ہیں۔
جی ہاں، نکیر و منکر دو فرشتے حق ہیں، مگر یہ نکتہ خوب یاد رکھیں کہ روحانیّت میں ایک ہی چیز کے کئی کئی نام اور کئی کئی کام ہوا کرتے ہیں، اس لئے یہ ضروری نہیں کہ یہ فرشتے صرف انہی ناموں سے آئیں۔
عالمِ ذرّ: ۔
سوال نمبر ۸۶: عالمِ ذرّ کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ وہ کہاں ہے؟ آیا وہ جسمانی ہے یا روحانی؟ اگر وہ کوئی جسمانی عالم ہے تو اسے ہر شخص کیوں نہیں دیکھ سکتا ؟
جواب: عالمِ ذرّ کے معنی ہیں ذرّات کی دنیا، جس سے ذرّاتِ ارواح مراد ہیں، وہ اسی دنیا میں موجود ہے، جو جسمِ لطیف اور روح دونوں سے مرکب ہے، اور اس کی ایسی صفت میں عظیم حکمت پوشیدہ ہے، اس کو ہر شخص نہیں دیکھ سکتا ہے، جب تک کہ دل کی آنکھ روشن نہ ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ نے عالمِ ذرّ ہی میں ارواحِ خلائق سے اپنی ربوبیّت کا اقرار لیا تھا کہ “آیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔” اور لوگوں نے عرض کیا کہ “کیوں نہیں ۰۷: ۱۷۲) ۔”
جنگِ روحانی: ۔
سوال نمبر ۸۷: یہ ایک قرآنی آیت ( ۰۶: ۱۱۲) کا مفہوم ہے کہ شیاطین
۱۰۸
نہ صرف جنّات میں سے ہوتے ہیں، بلکہ یہ انسانوں میں سے بھی ہوا کرتے ہیں، اور یہ ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے ہیں، تاکہ ایسی باتوں سے لوگوں کو فریب دے کر راہِ راست سے گمراہ کر سکیں، اور اسی مطلب کا یہ ایک خلاصہ ہے کہ خناس جو جنّات میں بھی ہے اور انسانوں میں بھی، وہ لوگوں کے دلوں میں براہِ راست وسوسہ ڈال سکتا ہے ( ۱۱۴: ۰۴ تا ۰۶) لیکن سوال ہے کہ آیا ارواحِ مومنین جو سمتِ مقابل میں ہیں وہ اس جنگِ روحانی میں کچھ بھی نہیں کر سکتی ہیں؟ تو پھر کیا ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ بدی کے ہاتھ تو روحانی میدان میں کشادہ اور آزاد ہیں، مگر نیکی کے ہاتھ سختی سے باندھے ہوئے ہیں؟
جواب: جی ہاں، جسمانی اور روحانی شیاطین یہ سب کچھ کر سکتے ہیں، لیکن اس کے باؤجود اہلِ ایمان کی روحانی صلاحیتوں کے بارے میں ذرا بھی مایوسی نہیں، کیونکہ مومنین حزب اللہ ہیں یعنی لشکرِ خدا، اور خدا ہی کا لشکر غالب رہتا ہے (۰۵: ۵۶)۔
قرآنِ مقدّس کی یہ مثال روحانیّت کی حکمتوں سے بھر پور ہے کہ مومنین لشکرِ خدا ہیں، اوراس میں سب سے اوّلین اشارہ تو یہ ہے کہ اس لشکر کی روحانی قوّتیں بفضلِ خدا طاغوتی قوّتوں سے بڑھ کر ہیں، یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ باطن اور روحانیّت میں ہمیشہ غالب رہتا ہے آپ حزبِ شیطان کے بارے میں بھی غور کر سکتے ہیں ( ۵۸: ۱۹) ۔
لشکرِ خدائی: ۔
سوال نمبر ۸۸: اللہ تعالیٰ کے لشکر کی مثال یقیناً بڑی ایمان افروز اور روح پرور ہے، اب ہم ان شاء اللہ ان آیاتِ کریمہ میں خوب غور کریں گے
۱۰۹
جو خدائی لشکر کے بارے میں ہیں۔ تاہم آپ یہ بتادیں کہ سورۂ فتح میں جس طرح خداوند عالم کے لشکر کا ذکر آیا ہے اس کا مومنین سے کیا ربط ہے، جبکہ یہ اللہ کے لشکر ہیں؟
جواب: اس سلسلے میں سورۂ فتح کا پہلا ارشاد یہ ہے: (خدا) وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر (روحانیّت کی) تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے(۴۸: ۰۴) آسمان سے روحانی عالم مراد ہے، اور “آسمانوں” کا اشارہ جمع میں روحانی درجات کی طرف ہے، اور زمین عالمِ جسمانی ہے، پس اس فرمانِ الٰہی میں خدا کے روحانی اور جسمانی لشکر (ارواحِ مومنین اور مومنین) کا ذکر اس لئے آیا ہے کہ ربِّ کریم کے حکم سے سردارِ لشکر (پیغمبرؐ اور امامؑ) اور لشکر ہی وہ وسیلہ ہیں کہ جس سے ہر مومن پر حسبِ علم و عمل روحانی تسلی نازل ہوتی ہے، جیسا کہ ہم قبلاً اس کتاب میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ وحی کے مقام پر روح القدس تنہا نہیں آتی، بلکہ وہ اپنے تمام لشکر کے ساتھ ہوتی ہے، جس میں ملائکہ بھی ہیں اور ارواح بھی، چنانچہ یہاں جس شان سے جنودِ الٰہی کا ذکر فرمایا گیا ہے، اس کا ربط مومنین سے یہ ہے کہ مومنین ہی ارواح و اجسام میں خدائے برتر کے لشکر ہیں، کیونکہ یہی لوگ باطن میں روحانیّت کے آسمانوں پر ہیں اور ظاہر میں جسمانیّت کی زمین پر۔
دوسرا ارشاد آیت نمبر ۷ میں ہے اور اس کے مبارک الفاظ بھی یہی ہیں، اور اس کا مقصد و منشاء بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ گروہِ مومنین سے ظاہر و باطن میں اپنے لشکر کا کام لیتا ہے۔
۱۱۰
شیطان کس ہتھیار سے ڈرتا ہے؟
سوال نمبر ۸۹: ایک بڑا اہم سوال یہ سامنے آیا ہے کہ اس دینی جنگ میں مومنین کے پاس جو اسلحہ مہیّا ہیں، ان میں سے شیطان کس ہتھیار سے زیادہ ڈرتا ہے، اور اس کے لئے وہ کس حیلے سے کام لیتا ہے؟
جواب: مومن کے پاس جو سب سے اعلیٰ اور طاقتور ہتھیار موجود ہے وہ ذکرِ خدا ہے، اسی سے شیطان بہت ہی خائف رہتا ہے، لہٰذا وہ ہر وقت اسی کوشش میں سرگردان رہتا ہے کہ کسی طرح سے مومن سے خدا کی یاد بھلا دے، تاکہ وہ اس پر حملہ آور ہو سکے (۵۸: ۱۹)۔
اس کی تاویلی حکمت یہ ہے، کہ نامِ خدا اور یادِ الٰہی امامِ زمان (صلوات اللہ علیہ ) ہیں، جو مومنین کی تمام ظاہری و باطنی قوّتوں کا سرچشمہ ہیں، اس لئے جسمانی اور روحانی شیاطین (۰۶: ۱۱۲) ہر وقت عقیدہ اور علم میں کمزور مومنین کے پیچھے لگے رہتے ہیں، تاکہ موقع پر امامِ اقدس و اطہر کے مبارک دامن سے کسی ایسے مرید کا ہاتھ چھڑا سکیں، یہی ہے مومن کا سب سے بڑا روحانی اور علمی ہتھیار، اور یہی ہے شیطان کی وجہ سے ذکرِ خدا بھول جانے کی تاویل۔
یومِ عقیم: ۔
سوال نمبر ۹۰: ویسے تو قرآنِ پاک میں قیامت کے صدہا نام ہیں، جن کا اندازہ قرآنی انڈیکس سے ہوسکتا ہے، اور ہر نام میں کئی کئی حکمتیں پوشیدہ ہو سکتی ہیں، مگر ہم یہاں صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قیامت کو جو
۱۱۱
“یَوْمٍ عَقِمٍ” کہا گیا ہے، اس کی کیا تاویل ہے؟
جواب: میرے عزیز! قیامت کا نام یومِ عقیم (۲۲: ۵۵) اس لئے ہے کہ اس وقت سب لوگوں کی نسلیں منقطع ہو جائیں گی، سوائے خاندانِ رسولؐ کے، کہ وہ روئے زمین پر چہرۂ خدا ہے، جس کا ذکر قرآن (۵۵: ۲۶ تا ۲۷) میں ہے، آپ اس کتاب میں نمبر ۵۲ اور نمبر ۵۷ کو اور سو سوال حصّۂ اوّل کے صفحہ ۴۵۔ ۴۶ کو دیکھیں۔
چار مرغِ ابراہیمؑ: ۔
سوال نمبر ۹۱: اگر پرندے کی تاویل روح ہے، جیسا کہ آپ نے نمبر ۵۰ میں بتایا ہے، تو پھر اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے چار پرندوں کی کیا تاویل ہے ( ۰۲: ۲۶۰) ؟ اس میں چار کے عدد کی کیا اہمیّت ہے؟
جوب: حضرت ابراہیمؑ کے چار پرندے جو زندہ ہو کر آگئے آپؑ کے چار مقرّب حجّتوں کی روحیں ہیں، اور یہی چار روحیں آپؑ کے جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرئیل علہیم السّلام تھے، جیسا کہ ہم اس سے پیشتر بتا چکے ہیں کہ پرندہ تاویل کی زبان میں روح اور فرشتے کو کہا جاتا ہے، چار کی اہمیت اس لئے ہے کہ مقرب فرشتے چار ہیں اور حضوری حجّت بھی چار ہیں، جن کا ذکر ہوا۔
مستجیب ہو یا مأذون بحدِّ قوّت پرندہ (روح = فرشتہ ) ہوتا ہے، ابراہیمؑ نے بحکمِ خدا ایسے درجات میں سے چار کو لے کر خصوصی تربیت اور اسرارِ روحانیّت کے لئے ان سے عہد لیا، یہ آپؑ کے چار پرندوں کو ذبح کرنے
۱۱۲
کی تاویل ہے، کاٹنا کوٹنا علمی اور روحانی طور پر آزمانے کو کہتے ہیں، پہاڑ پر رکھنا روحانی بلندی کا اشارہ ہے، یہ سب کچھ کرنے کے بعد جب حضرت ابراہیمؑ نے اپنی روحانیّت میں ان کو بلایا تو وہ مذکورۂ بالا چار درجوں میں آپؑ کی روحانی تائید کے لئے حاضر ہوئے، اللہ تعالیٰ کا یہ معجزہ کہ وہ مومنین کو غفلت و جہالت کی موت سے اٹھا کر روحانیّت کی بلندیوں پر مقرب فرشتوں کی زندگی عنایت کرتا ہے، اس سے بہت زیادہ بہتر ہے کہ کسی جسمانی مردے کو زندہ کرے۔
سلمان۔ دروازۂ بہشت: ۔
سوال نمبر: “اَ لسّلمانُ با بٌ مِنْ ابوابِ الجنَّۃِ، یعنی سلمان بہشت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔” آپ ہمیں اس حدیثِ شریف سے متعلق کچھ حکمتیں بیان کریں۔
جواب: جاننا چاہئے کہ زمین پر روحانیّت و نورانیّت کی زندہ بہشت بلباسِ بشریت ناطقؑ اوراساسؑ تھے، اور یہی سبب ہے کہ جنّت کے دروازے بھی زندہ اور گویندہ اشخاص کی صورت میں تھے، اور ان بابرکت ابوابِ جنّت میں سے ایک باب سلمانِ فارسی کی حیثیت میں تھا، دنیا کے کسی باغ و چمن میں یہ خوبیاں کہاں کہ اس کی زمین عقل و جان اور علم و حکمت کے عناصر رکھتی ہو، اور اس کے پھل پھول اسرارِ الٰہی کی لذّتوں اور وحدانیّت کی خوشبوؤں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پُربہار رہیں، مگر امامِ حیّ و حاضر کی شخصیّت میں محمدؐ و علیؑ کا پاک نور ہی وہ زندہ باغِ بہشت ہے، جس کی تعریف و توصیف احاطۂ بیان میں نہیں آسکتی۔
۱۱۳
سلمانِ فارسی اس پاک شخصیّت کی زندہ بہشت کا دروازہ اس معنیٰ میں تھا، کہ وہ دعوتِ حق کا ایک وسیلہ، نور کا راستہ، حقیقی محبّت کا نمونہ، علمِ امام کا ایک خزانہ، معرفت کا دفینہ اور روحانیّت کا آئینہ تھا۔
قرآن (۲۹: ۶۴) کا مفہوم یہ ہے آخرت کا گھر چاہے بہشت میں ہو یا دوزخ میں ہر حالت میں زندہ ہے، اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ دین کے چند اعلیٰ درجات (حدود) بہشت ہیں، یعنی عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطقؐ اور اساسؑ آٹھ بہشت ہیں، کہ ان میں سے ہر ایک کے دو درجے ہیں، دوسرے درجات دروازوں کی حیثیت سے ہیں، اور تیسرے درجات ان لوگوں کے ہیں، جو ان دروازوں سے بہشت میں داخل ہوں گے۔ آپ کتاب “وجہِ دین” میں اس موضوع کی تفصیلات کو دیکھیں۔
تصورِ تخلیق: ۔
سوال نمبر ۹۳: اگر اسلامی تصورِ آفرینش، جیسا کہ حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ (صلوات اللہ علیہ ) کا ارشاد ہے، ایک دائم اور مسلسل واقعہ ہے، تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ تخلیق کا غیر متناہی سلسلہ دائرے کی شکل میں چلتا رہتا ہے، کیا آپ اس باب میں قرآنِ حکیم کی کوئی روشن دلیل پیش کریں گے؟
جواب: قرآنِ پاک میں سورج چاند کے مسلسل طلوع و غروب اور دن رات کی دائمی گردش کی مثال پیش کرنے کے بعد قانونِ فطرت کے اس سب سے عظیم راز کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے: ۔
“و کل فی فلک یسبحون (۳۶: ۴۰) اور سب اپنے اپنے دائرے
۱۱۴
میں تیررہے ہیں۔” جاننا چاہئے کہ قرآن کریم میں ایک موضوع ایسا بھی ہے جس کو “قانونِ کل” کہنا چاہئے، کیونکہ اس میں کائنات و موجودات کے کلّیات کا ذکر ہے، اور اس سے متعلق آیات کی ایک عام علامت یہ ہے کہ ان میں “کل” کا لفظ موجود ہوتا ہے، چنانچہ مذکورۂ بالا آیت قانونِ کلّ کا ایک کلّیہ (عام قاعدہ) ہے، کہ ہر چیز ایک دائرے پر گردش کرتی رہتی ہے، اور روح بھی اسی قانون کے تحت ہے، مگر اس میں یہ سوال ایک ہے کہ کیوں اور کس طرح؟
خداوندِ عالم نے آیاتِ قرآن کے علاوہ جن آفاقی آیتوں میں غور و فکر کرنے کے لئے فرمایا ہے، ان سے بھی یہی حقیقت ظاہر ہے کہ ہر چیز کا لاانتہا سفر ایک دائرے پر جاری ہے (۰۲: ۱۶۴) جیسے دن رات کا مسلسل آنا جانا، کشتی کا بار بار دریا سمندر میں جاتے رہنا، بارش برسنے کا سلسلہ، ہر سال مری ہوئی زمین کا زندہ ہو جانا اور چھوٹے موٹے جانوروں کے سال بسال زندہ ہونے کا چکر، ہوا کی دائمی گردش اور بادلوں کا ہمیشہ سمندر سے پیدا ہو جانا، اور پھر دریاؤں کی شکل میں گھوم کر سمندر سے جا ملتے رہنا۔
قرآن کی روحانیّت:۔
سوال نمبر ۹۴: اگر قرآنِ پاک کی ایک عظیم روح ہے، جو علم و آگہی کی ایک تابناک دنیا لئے ہوئے ہے، تو اس کے فیوض و برکات حاصل کرنے کے لئے ہمیں کیا کیا کرنا چاہئے؟ آپ نے اس سلسلۂ سوال و جواب کے نمبر ۷ اور نمبر ۱۱ میں روحِ قرآن کے بارے میں جو ذکر کیا ہے، اسی سے یہ سوال متعلق ہے۔
۱۱۵
جواب: آپ اس کتاب کے نمبر ۱۵ میں دیکھیں کہ طفلِ شیر خوار میں روحِ ناطقہ کہاں سے آتی ہے، اور کس طرح؟ یہ حقیقت روشن ہے کہ بچے میں بولنے والی روح والدین اور افرادِ خانہ سے آتی ہے، بالکل اسی طرح قرآنِ پاک کی روحِ ناطقہ آپ کے روحانی باپ کے گھر سے مل سکتی ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ زید و بکر سے روحانی علم حاصل کر نے کا مدعی نہ بنیں، بلکہ خاندانِ رسولؐ یعنی امامِ زمانؑ کے پاک روحانی گھر کا دودھ پیتا بچہ بنیں، تاکہ آپ کے روحانی والدین کی پر شفقت گفتگو سے آپ میں بتدریج قرآنی روح آجائے، کیونکہ قرآن کی روح پیغمبرؐ کے بعد صرف امامِ زمانؑ ہی سے مل سکتی ہے۔
دوسری مثال یہ ہے کہ آپ اپنے آئینۂ دل سے زنگِ غفلت اور غبارِ جہالت کو دور کرکے اسے ایسا پاک و پاکیزہ بنالیں، کہ اس میں نورِ قرآن کی روشنی چمکنے، اور دل کی یہ پاکیزگی بھی صرف امامِ عالی مقامؑ ہی کے مبارک ہاتھ سے ہو سکتی ہے، جس طرح یہ ایک حقیقت ہے کہ زمانۂ نبوّت میں صرف رسولِ خداؐ ہی مومنین کو پاک و پاکیزہ کرتے تھے، جس کا ذکر قرآن کی کئی آیتوں میں موجود ہے۔
معجزۂ عیسٰیؑ: ۔
سوال نمبر ۹۵: اس کی کیا تاویل ہے کہ حضرت عیسٰےؑ مٹی سے چڑیا کی مورت بناتے تھے، پھر اس میں کچھ دم کر دیتے، تو خدا کے حکم سے وہ ایک چڑیا بن جاتی تھی؟
جواب: مٹی جس کو عربی میں “تراب” کہتے ہیں اور گارا جسے “طین”
۱۱۶
کہا جاتا، یہ مومنین کے دو درجے ہیں، ایک درجہ عقیدہ یا کہ ابتدائی نوعیّت کے ایمان کا ہے، جو اہلِ دعوت کے لئے بنیادی اہمیّت کا حامل ہے، جس کی مثال مٹی سے دی گئی ہے اور دوسرا ایمان قدرے علم کے ساتھ، جس کی تشبیہ گارے سے دی گئی ہے، چنانچہ جناب عیسٰےؑ گارا لے کر پرندے کی مورت بناتے تھے یعنی ایمان اور ذرا علم والے مومن کو مأذون کے لئے نامزد کرتے تھے، اس وقت وہ شخص اپنے مرتبے کی صرف ایک خاموش تصویر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا تھا، پھر اس مورت میں حضرت عیسٰیؑ کچھ دم کرتے تو بحکمِ خدا وہ ایک چڑیا بن جاتی تھی، اس کے یہ معنی ہیں کہ آپؑ اس مأذون میں رفتہ رفتہ تائیدی علم کی روح پھونک دیتے تھے، جس سے وہ روحانی پرندہ یعنی روح اور فرشتہ بن جاتا تھا۔
آنحضرتؐ نے مولا علیؑ کو ابی تراب (مٹی کے باپ) کا ٹائٹل دیا تھا، اور اس کی تاویل یہ ہے کہ آپؑ رسولِ خداؐ کے بعد مومنین و مومنات کے روحانی باپ ہیں، کیونکہ مٹی سے اہلِ ایمان مراد ہیں۔
درخت پر نور: ۔
سوال نمبر ۹۶: کیا یہ مثال ہے یا حقیقت، کہ حضرت موسیٰؑ جیسے ہی آگ کی تلاش میں نکلے تو یکایک ان کو خدا مل گیا؟ آیا انہوں نے نورِ خدا کا یہ مشاہدہ چشمِ ظاہر سے کیا یا دیدۂ باطن سے؟ اگر یہ واقعہ تادیلی قسم کا ہے تو درخت (جس پر نور تھا) کی کیا تاویل ہے؟
جواب: اس میں مثال کا پہلو نمایان ہے کہ آگ سے نور مراد ہے، درخت کا مطلب اسمِ اعظم (کلمہ = شجرہ ۱۴: ۲۴) ہے، اور صرف ایک
۱۱۷
دن میں اچانک نور کا مشاہدہ نہیں ہوا، بلکہ جنابِ موسیٰؑ پہلے ہی سے راہِ روحانیّت پر گامزن تھے، آپؑ کو مصر ہی میں ہجرت سے پہلے روحانی تربیت ملتی تھی، آپ کی روحانی ماں مصر میں حضرت شعیبؑ کا ایک داعی تھا، حضرت موسٰیؑ ہجرت کے بعد براہِ راست حضرت شعیبؑ سے بھی روحانیّت حاصل کر تے تھے۔
نورِ خدا کا مشاہدہ سر کی آنکھ سے نہیں دل کی آنکھ سے ہوا کرتا ہے، اور جب حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن ایک ہو جاتے ہیں، تو اس وقت کے مشاہدات بھی باطنی واقعات شمار ہوتے ہیں، اس کے معنی یہ ہوئے کہ انبیاء و اولیاء کے حواسِ ظاہر پر حواسِ باطن غالب رہتے ہیں۔
آسمانی آگ: ۔
سوال نمبر ۹۷: پنج مقالہ نمبر ۳ (علمی خزانہ) کے صفحہ ۱۵۲ پر تحریر ہے کہ “چنانچہ ہابیل نے ایک گوسفند پہاڑ پر لے جا کر رکھا اور قابیل نے کھیت سے کچھ بالیاں لے کر رکھ آیا، اس کے بعد حسبِ دستور آسمان سے آگ کا ایک شعلہ اترا اور ہابیل کی نذر (قربانی) کو کھا گیا۔” کیا مذکورہ آگ یہی مادّی آگ تھی، جو دنیا میں سب کے سامنے ظاہر ہے یا وہ کوئی اور چیز تھی؟ آیا روحانیّت میں ایسی کوئی مقدّس اور معجزانہ آگ ہو سکتی ہے؟ اگر اس قربانی میں تاویل ہے تو گوسفند سے کیا مراد ہے؟ آسمانی آگ کا یہ معجزہ کب تک چلتا رہا؟
جواب: جاننا چاہئے کہ قرآنی قِصَصْ تاویلی حکمتوں سے پُرہیں، دنیا کی آگ میں یہ شعور کہاں ہے کہ صرف متقی ہی کی قربانی کو قبول کر کے اس کی سچائی کی شہادت پیش کرے، چنانچہ یہ مادّی آگ نہ تھی بلکہ روحانیّت کی مقدّس اور
۱۱۸
معجزاتی آگ تھی، جو انبیا و أئمّہ علیہم السّلام کے روحانی معجزات میں شامل ہے (۰۳: ۱۸۳ ) گوسفند سے روحِ حیوانی مراد ہے، حضرت ہابیلؑ نے اپنے نفس کی قربانی پیش کی تھی، اور خدا کے دوست ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں، اس عظیم روحانی معجزے کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ آپ یا کوئی اور مومن کبھی کبھار علم و عبادت اور نیک خیالات کے زیرِ اثر اندر ہی اندر سے جلنے کا احساس رکھتا ہے، ایسے میں نہ تو وہ عقلی طور پر جلتا ہے اور نہ ہی روحانی لحاظ سے (یعنی روحِ انسانی سے) بلکہ صرف اس کے نفسِ حیوانی کی قربانی ہو جاتی ہے، جس سے ایسے شخص کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ پس آسمانی آگ کا یہ روحانی معجزہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے جاری ہے۔
ملکوت ۔ روحانیت: ۔
سوال نمبر ۹۸: ملکوت کے کیا معنی ہیں، اور یہ کون سی دنیا ہے؟ آیا اس کا ذکر قرآن میں ملتا ہے؟ اگر ملتا ہے تو کہاں ہے اور کس طرح ہے؟ اس سلسلے میں کچھ اصولی معلومات کی ضرورت ہے۔
جواب: ملکوت کے کئی معنی ہیں، مثلاً بزرگی، قدرت، غلبہ، عظمت، بادشاہی وغیرہ، اور اس سے ارواح و ملائکہ کا عالم مراد ہے، ملکوت کا ذکر قرآن کی (۰۶: ۷۵، ۰۷: ۱۸۵، ۲۳: ۸۸، ۳۶: ۸۳) میں موجود ہے۔
چنانچہ فرمایا گیا ہے کہ “اور اسی طرح ہم ابراہیمؑ کو آسمانوں اور زمین کی روحانیّت دکھاتے رہے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں ۰۶: ۷۵”
۱۱۹
اس روحانیّت کا مشاہدہ آپؑ چشمِ باطن سے اپنی ذات ہی میں کرتے تھے، اور یہی مقامِ عین الیقین ہے، جس کا مقصد حق الیقین ہے۔
ایک طرف آسمان اور زمین کی باطنی اور روحانی چیزیں ہیں، اور دوسری طرف ظاہری اور جسمانی چیزیں، سو خداوند عالم نے ایک ہی آیت میں دونوں چیزوں کا ذکر فرمایا تا کہ دانشمند مومنین ملکوت کا تصوّر الگ کریں، اور ناسوت کا الگ، آپ ۰۷: ۱۸۵ میں خوب غور کریں۔
۲۳: ۸۸ میں اشارہ ہے کہ ہر چیز کی روحانیّت (ملکوت) خدا کے ہاتھ میں ہے، اور پناہ و نجات اسی روحانیّت کی معرفت میں ہے۔
۳۶: ۸۳ کی حکمت یہ بتاتی ہے کہ جس پاک ذات کے قبضۂ قدرت میں ہر چیز کی روحانیّت محفوظ ہے، وہ خود تو ہر چیز سے پاک و بے نیاز ہے، اس لئے ملکوت بہر معنی مومنین کے لئے ہے، تمام چیزیں مادّی شکل میں ناسوت ہیں، اور ان کی روحانیّت ملکوت۔
عوالم یا دنیائیں: ۔
سوال نمبر ۹۹: ناسوت کے کیا معنی ہیں؟ جبروت و لاہوت کیا ہیں؟ عالمِ علوی کون سا عالم ہے، اور عالمِ سفلی کہاں ہے؟ عالمِ امر اور عالمِ خلق کے بارے میں کچھ حقائق بیان کریں۔
جواب: ناسوت لفظِ ناس (لوگ) سے ہے، جس سے یہی دنیا مراد ہے جس میں لوگ (ناس) رہتے ہیں، ملکوت روح و روحانیّت اور ملائک کا عالم ہے، جس کا ذکر ہو چکا، جبروت اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کا عالَم ہے، لاہوت کا مطلب ہے خدا کی خداوندی، عالمِ علوی روحانی عالم ہے اور عالمِ سفلی
۱۲۰
جسمانی عالم۔
عالمِ امر وہ عالم ہے، جو خدا کی بادشاہی کی حیثیت سے قدیم ہے، جہاں تمام چیزیں کسی ابتداء و انتہا کے بغیر ہمیشہ ہمیشہ موجود ہیں، اس لئے وہاں تخلیق کی کوئی گنجائش نہیں، اس میں تو صرف امر ہی سے بلا تاخیر چیزوں کے ظہورات ہوتے رہتے ہیں، یا یوں کہنا چاہئے کہ ارادہ اور توجّہ سے غائب چیزیں حاضر ہو جاتی ہیں، یہ باتیں بندوں کی نسبت سے ہیں نہ کہ خدا کی نسبت سے کیونکہ اس کی ذاتِ اقدس کے لئے ظہور و بطون اور حاضر و غائب یکسان ہیں۔
عالمِ خلق عالمِ امر کے برعکس ہے، اور وہ دنیائے ظاہر ہے، جو حادث ہے، یعنی قدیم نہیں، جس میں کوئی چیز ہمیشہ نہیں رہ سکتی، مختلف اوقات میں چیزیں پیدا ہو جاتی ہیں، پھر فنا ہو جاتی ہیں، تخلیق کا کارخانہ یہی دنیا ہے۔
یاد رہے کہ عالم صرف دو ہی ہیں، جو دنیا و آخرت ہیں، اور اس سلسلے کے جتنے بھی کثیر الفاظ ہیں، وہ یا تو ان دونوں کے مختلف نام ہیں، یا ان کے مراتب کو ظاہر کرتے ہیں۔
یَدُ اللہ کی حکمت: ۔
سوال نمبر ۱۰۰: یہ اختتام کا سوال ہے، اور شاید بڑا اہم بھی ہے، وہ یہ کہ “یَدُ اللہ” کی کیا تاویل ہے؟ اللہ کے ہاتھ میں ملک (۶۷: ۰۱) ملکوت (۳۶: ۸۳) اور خیر (۰۳: ۲۶) ہونے کا کیا اشارہ ہے؟ آیا تمام چیزیں لوحِ محجفوظ میں ہیں (۰۶: ۵۹) یا امامِ مبین میں (۳۶: ۱۲) ؟ کیا ہر شے ایک کتاب میں محدود نہیں ہے (۷۸: ۲۹) ؟
۱۲۱
جواب: خدا کے ہاتھ کی تاویل ہے قبضۂ قدرت، اختیار، کنٹرول، تصرف یعنی لینا دینا، چیزوں کو اپنے لئے یا دوسروں کے لئے استعمال کرنا، اشیاء کو جمع، مہیا اور حاضر رکھنا، وغیرہ۔ خدا کے ہاتھ کی جامع الجوامع تاویل پیغمبرِ اکرمؐ اور امامِ اطہرؑ ہیں، لہٰذا دستِ خدا کی ساری تاویلات انہی قدسی ہستیوں سے متعلق ہیں، کیونکہ ان کے مبارک ہاتھ پر بیعت کرنا اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرنا ہے (۴۸: ۱۰) ۔
پروردگارِ عالم کے ہاتھ میں ملک و ملکوت اور خیر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ تمام چیزیں پیغمبرِ اسلامؐ اور امامِ برحقؑ کی تحویل میں موجود ہیں، جبکہ بشری صورت کے یہی دو عظیم فرشتے خدا کے ہاتھ بھی ہیں اور خزائنِ الٰہی بھی (۱۵: ۲۱) ۔
لوحِ محفوظ، امامِ مبین اور کتاب ایک ہی حقیقت ہے، چنانچہ تمام چیزیں ایک ہی جگہ پر جمع ہیں، اور وہ مقامِ روحانیّت ہے، جو خدا تعالیٰ کے بابرکت ہاتھ کا درجہ رکھتا ہے، وہ محمدؐ و علیؑ کا پاک نور ہے، جس میں سب کچھ موجود ہے، ملک بھی ہے، اور ملکوت بھی، الحمد للہ علیٰ منّہٖ و احسانہٖ۔
بروزِ شنبہ، ۱۷؍ شعبان ۱۴۰۱ ھ ۲۰؍ جون ۱۹۸۱ ء
۱۲۲
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اللہ تعالیٰ کا خزانۂ خزائن ہی یہ سنگم ہے، ملاحظہ ہوسورۂ حجر(۱۵) کی آیت: ۲۱ (۱۵: ۲۱)۔
وہ حکمتِ بالغہ سے لبریز ارشاد یہ ہے: وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُہ‘ وَمَا نُنَزِّلُہ‘ٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ۔
تاویلی مفہوم: اس آیۂ شریفہ کے آغاز میں اِنْ=حرفِ نفی لَاکی جگہ پرہے، جس کا اشارہ ہے کہ ہرچیز پہلے “لا” ہوتی ہے، یعنی عالم ِنیستی =عالم ِابداع لا کی مثال ہے۔
پس یہاں خزانۂ کلمۂ کُنۡ(ہوجا) خود ازخود کام کررہا ہے، اور ہرلاشیٔ کو شی بنارہا ہے، چنانچہ معلوم ہواکہ اوّلین سنگم نیستی اور ہستی کا ہے۔ پس روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم عالمِ شخصی میں ہے۔ ان شاء اللہ ہم آپ کو بیان کریں گے۔
بدھ ۱۶؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
یہ ارشادِ مبارک سورۂ ذاریات(۵۱: ۴۷ تا ۴۹) میں ہے: وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰھَا بِاَیْدٍوَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۔ ۔ ۔ ۔
تاویلی مفہوم: اورعالمِ اکبرکو ہم نے اپنی قدرت اور قوّت سے بنایا ہے، اور ہم اس کو مسلسل وسعت دیتے رہتے ہیں۔
سورۂ فاطر(۳۵: ۰۱) میں ارشاد ہے: یُزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَایَشَآئُ=وہ اپنی مخلوق کی ساخت میں جیساچاہتا ہے اضافہ کرتا ہے۔ یقیناً اللہ ہرچیز پرقادر ہے۔
۱
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بندۂ درویش کو حکمتِ قرآن اور ظہورات و تجلّیاتِ گوہرِ عقل پرایسا یقینِ کامل حاصل ہوا ہے کہ انہی مبارک اشارات میں مادّی سائنس کی روح بھی ہونے کا یقین رکھتا ہے پھر بھی مادّی سائنس کی ممکنہ معلومات سے مدد کیلئے دو واقف کار اور دانشمند عزیزوں کو مقرر کیا ہے۔
جمعرات ۱۷؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ طلاق(۶۵: ۱۲) اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّؕ-یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﳔ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۔
تاویلِ باطن: صاحبِ دورِ اوّل آسمان، اس کا حجتِ اعظم زمین۔ صاحبِ دورِ دوم آسمان، اس کا حجتِ اعظم زمین۔ صاحبِ دورِ سوم آسمان، اس کا حجتِ اعظم زمین۔ صاحبِ دورِ چہارم آسمان، اس کا حجتِ اعظم زمین۔ صاحبِ دورِ پنجم آسمان، اس کا حجتِ اعظم زمین۔ صاحبِ دورِ ششم آسمان، اس کا حجتِ اعظم زمین۔ صاحبِ دورِ ہفتم آسمان، اس کا حجتِ اعظم زمین۔
یہ ہیں تاویلاً سات آسمان اور سات زمین۔ اور یہی حضرات مجموعاً کُل کائناتی بہشت ہیں۔
جمعرات ۱۷؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
یقیناً عالمِ دین کے سات آسمان اور سات زمین ہیں، بالکل اسی طرح عالمِ ظاہر کے بھی سات آسمان اور سات زمین ہیں۔
۲
جب خداوندِ قیامت=اَلْوَاحِدُ القَھَّار روحانی قیامت برپا کرتا ہے، تو اس وقت وہ قادرِ مطلق ظاہری اور باطنی آسمانوں اور زمینوں کودستِ راست میں لپیٹ کر گوہرِ عقل اور کتابِ مکنون کا سنگم بناتا ہے، قرآنی حوالہ سورۂ زمر(۳۹: ۶۷)، اگر آپ سچ مچ نور کے پروانوں میں سے ہوجانا چاہتے ہیں تو بسم اللہ اب بھی وقت ہے! اپنے دل کو حضرتِ مولا کے پاک عشق ومحبت سے معمور کرلیں۔
جمعۃ المبارک ۱۸؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
مولائے پاک ومہربان کے فضل وکرم سے ابھی ابھی اس بندۂ درویش نے دو عزیزوں کے ساتھ گریہ وزاری کی ہے، لہٰذا امید ہے کہ بارگاہِ عالی سے کوئی عجیب و غریب حکمت عطا ہو، وہ یہ ہے کہ بہشت دنیا اور آخرت کا سنگم ہے، یہاں دنیا سے مراد: دنیا کی زندہ اور لطیف صورت ہے۔ ان شاء اللہ، اس حقیقت کی قرآنی شہادتیں پیش کریں گے۔
سورۂ انعام (۰۶: ۷۳) میں غور کریں، یہاں کُنۡ (ہوجا) فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ خداوندِ تبارک وتعالیٰ عالمِ کثیف سے عالمِ لطیف بناتا ہے، تاکہ بہشت دنیا اور آخرت کا سنگم ہو، جنّت میں ہروہ نعمت موجود ہے جو اہلِ جنّت کو پسند ہو، اس بارے میں قرآنِ حکیم کی بہت سی آیاتِ کریمہ آپ کو معلومات فراہم کرسکتی ہیں۔
جمعۃ المبارک ۱۸؍مارچ ۲۰۰۵ ء
۳
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ بقرہ(۰۲: ۱۱۷) اور سورۂ انعام (۰۶: ۱۰۱) میں ارشاد ہے: بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ اس کی تاویل ہے: آسمانوں اور زمین کو عالمِ شخصی میں منتقل کرکے اس میں کائناتی بہشت بنانے والا۔ کائناتی بہشت کا حوالہ آلِ عمران(۰۳: ۱۳۳) اور سورۂ حدید (۵۷: ۲۱)، تسخیرِ کائنات کا یہ سب سے عظیم معجزہ روحانی قیامت میں ہوتا ہے۔
کائنات کو لپیٹنے کا ذکر سورۂ انبیاء (۲۱: ۱۰۴) میں ہے، گوہرِعقل اور کتابِ مکنون کا سنگم گویا لپیٹی ہوئی کائنات ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی مثالیں ہیں۔
جمعۃ المبارک ۱۸؍مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ مطففین(۸۳: ۱۸ تا ۲۸)، آپ ظاہری تراجم کو بھی ضرور پڑھیں۔
تاویلی مفہوم: یہ عِلِّیِّیْن=عِلِّیُّوْن مرتبۂ اَلْعَلِیُّ الْعَظِیْم اور اس کے نور کے ظہورات و تجلّیات کی بہشت، معروف: حظیرۂ قدس ہے، یہ آسمان اور عرش بھی ہے، بہشتِ آدم بھی، الغرض قرآن میں اس کے بہت سے نام ہیں، مگر حجاب میں۔ اَبرار کا نامۂ اعمال یہاں امامِ زمانؑ میں ہے، تاکہ کل بہشت میں حقیقی مومنین اور مومنات یہ دیکھ کر نہایت شادمان ہوجائیں کہ ہرنیک کام میں مولائے پاک ان کے ساتھ تشریف فرما تھا۔
قیامت کے دن بہت سے لوگ اپنے ربّ کے پاک دیدار سے محروم ہوجائیں گے (۸۳: ۱۵)۔
نوٹ: اَبرار: نیک لوگ، واحد بَرّ
سنیچر۱۹؍مارچ ۲۰۰۵ ء
۴
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ فتح کے اسرارِ باطن بڑے عجیب وغریب ہیں (۴۸: ۰۱)۔
تاویلی مفہوم: اے رسولِ محبوب ہم نے آپ کوروحانی قیامت =حربِ روحانی میں کُل کائناتی تسخیروفتح عطاکردی ہے۔ ہرروحانی قیامت میں اسی مبارک فتح کا تجد ّد ہوتے ہوئے آیا ہے۔
اسی سورہ (۴۸: ۲۰) میں یہ ارشاد ہے: وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً۔
تاویلی مفہوم: یہ بکثرت مالِ غنیمت یا اموالِ غنیمت کا وعدہ روحانی قیامت میں ہے، جبکہ بہشت دنیا اور آخرت کا سنگم ہے۔ یعنی دنیا کی نعمتیں لطیف ہوکر بہشت کی نعمتیں بن جاتی ہیں۔
سنیچر۱۹؍مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اے عزیزانِ دل وجان! دورِ قیامت کے سلسلۂ معجزاتِ روحانی پرمحکم یقین رکھنا! مولائے پاک کے بے پایان احسانات کی شکرگزاری گویا بہشت کی خوشحالی اور عیدِ سعید کی عبادت ہے۔
آپ کو علم وحکمت کی شادمانی کے ساتھ ساتھ یہ بھی جاننا ہے کہ جنّت میں حوران وغلمان اور فرشتوں کاجنم نہیں ہوتاہے، بلکہ خداوندِ تعالیٰ اپنی عنایتِ بے نہایت سے عالمِ ناسوت ہی میں جن کو چاہے فرشتے اور حوران وغلمان بناتا ہے۔ جیسے سورۂ واقعہ(۵۶: ۳۵ تا ۳۷)میں حکیمانہ اشارہ ہے کہ خداوندِ تعالیٰ دنیا ہی کی خواتین میں سے بہشت کی حوریں = پری عورتیں بناتا ہے۔ پس یقیناً بہشت دنیا اور آخرت کا سنگم ہے۔
۵
اور یہ بھی ایک روشن حقیقت ہے کہ اہلِ جنّت دنیا ہی کے لوگ ہوتے ہیں، اور وہ اپنی تمام تر امیدیں اور آرزوئیں دنیا ہی سے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
اتوار۲۰؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ تین (۹۵: ۰۱ تا ۰۸)ترجمۂ ظاہر کے بعد اساسی تاویل، کتابِ وجہِ دین میں پڑھ لیں۔ عقلِ کُلّ، نفسِ کُلّ، ناطق اور اساس، چار اصول کی مثال: حظیرۂ قدس میں موجود ہے، جبکہ گوہرِعقل اور کتابِ مکنون کا سنگم عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ کی مثال بھی ہے اور ناطق واساس کی مثال بھی۔
اس پُرحکمت سورہ میں یہ تاویلِ باطن ہے کہ خداوندِ تعالیٰ نے روحانی قیامت کی سیڑھی پرآدم اور بنی آدم کوجس احسن طریق سے پیداکیا ہے وہ یقیناً بے مثال ہے، کیونکہ اس طریقِ تخلیق میں حکمتوں کی گوناگونی ہے۔ اللّٰہ اَلواحِدُ الْقہّار نے روحانی قیامت کے ذریعے سے آدم وبنی آدم کو ایک ساتھ پیدا کیا تھا(۰۷: ۱۱)۔
پیر۲۱؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ بقرہ (۰۲: ۲۴۵)کے مطابق اللہ تعالیٰ القابض بھی ہے اور الباسط بھی ہے۔ یعنی وہ قادرِ مطلق کائنات کو جب چاہے لپیٹ لیتا ہے، اور جب چاہے پھیلا دیتا ہے۔ یہ حظیرۂ قدس میں مشاہدۂ باطن کا معجزہ ہے، اس کی مثال گوہرِعقل اور کتابِ مکنون ہے۔
خداوندِ تعالیٰ نے گوہرِعقل اور کتابِ مکنون میں ظاہری اور باطنی تمام مثالیں جمع کردی ہیں۔ خدا
۶
الواحد القہار عالمِ شخصی کوکائنات میں پھیلا دیتا ہے اور کائنات کو عالمِ شخصی میں لپیٹا ہے، اسی طرح وہ کائناتی بہشت کو بناتا ہے جو دنیا وآخرت کاسنگم ہے، جس میں بے شمار حکمتیں ہیں۔
پیر۲۱؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
عزیزانِ علمی و روحی! یہ اصولی حکمت آپ سب کو خوب یاد رہے آمین! کہ قانونِ تجدّد ظاہر میں بھی ہے اور باطن میں بھی۔
حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ اعظم الأئمّہ صلوات اللہ علیہ نے آیۂ مصباح: “اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ” (۲۴: ۳۵)کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے۔ آپؑ ہی کی باطنی اور نورانی ہدایت سے معلوم ہوا کہ اس آیۂ کریمہ کی زندہ نورانی تاویل حظیرۂ قدس کی تجلّیات میں موجود ہے۔ چنانچہ: طاقِ مقدّس=دہانِ قلبِ مبارکِ امامِ زمانؑ ہے، چراغِ روشن = اسمِ اعظمِ نورِ مجرّد، فانوس=اسمِ اعظمِ لفظی۔ کوکب کا گوہر کی طرح چمکنا=گوہرِعقل اور کتابِ مکنون کے ظہورات وتجلّیات ہیں جن کی الہامی تاویل نورِ اعظم کی طرف سے ہوتی رہتی ہے، درختِ زیتون= نفسِ کلّی، لَاشَرْقِیَۃٍ وَّلَاغَرْبِیَۃٍ = مرتبۂ لامکانی۔
نوٹ: اعظم الأئمّہ=لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ(۹۷: ۰۳)۔
ملاحظہ ہو کتابِ وجہِ دین ص ۳۲۰۔
بدھ۲۳؍مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ احقاف(۴۶: ۱۵)یہ آیتِ بابرکت وپُرحکمت آنحضرتؐ کی شان میں نازل ہوئی ہے،
۷
بحوالہ ٔ کتابِ سرائر، ص۲۱۷۔
اس کے ساتھ ساتھ یہاں دورِ قیامت کی ایک عظیم تاویل بھی ہے، وہ یہ ہے کہ جب حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ چالیس سال کو پہنچ گئے تو ان کے نورِ امامت پرخداوندِ قیامت کا نورِاعظم طلوع ہوگیا، جس کے فیوضات وبرکات سے روحانی سائنس اور مادّی سائنس کی انقلابی ترقی ہوئی، اسی وجہ سے ہم سنگم کی بات کرتے ہیں۔
گوہرِعقل اور کتابِ مکنون کی جامع الجوامع مثال میں روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا دائمی سنگم ہے۔
ڈالاس
جمعۃ المبارک۲۵؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ اعراف (۰۷: ۱۸۷) میں جس طرح روحانی قیامت کا ذکر آیا ہے، اس کی تاویلی حکمت بڑی عجیب وغریب ہے، البتہ اس میں خوب سوچ کر سمجھنے کی سخت ضرورت ہے، کہ قیامت حضرت قائم علینا سلامہٗ کا وہ نورِاعظم ہے جس کا حامل نفسِ کلّی ہے، جس کی گرفت میں کل کائنات محفوظ ہے۔
آپ جانتے ہونگے نفسِ کلّی کرسی بھی ہے، لوحِ محفوظ بھی ہے، حضرت قائمؑ کا نورِاعظم بھی ہے، روحانی قیامت کا سرچشمہ اور دونوں سائنسوں کا سنگم بھی ہے، آپ آیت الکرسی کوتاویلی حکمت کے ساتھ پڑھیں، نیز کتابِ زادالمسافرین میں نفسِ کلّی سے متعلق پُرحکمت بیان کو پڑھیں۔
ڈالاس
روزِ شنبہ۲۶؍مارچ ۲۰۰۵ ء
۸
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ حدید (۵۷: ۲۵) لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِۚ-وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِؕ-اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔
ارشاد ہے: ترجمہ: اور ہم نے لوہے کو نازل کیا جس میں شدید جنگ ہے اور لوگوں کیلئے منافع ہیں۔
حدید ظاہراً لوہا ہے، باطناً نورِحضرت قائم (ع ۔ س) ہے، جس میں قیامت کی شدید روحانی جنگ ہے اور لوگوں کیلئے بہت سے روحانی فائدے ہیں یعنی قائم شناس لوگوں کیلئے علم ومعرفت کے عظیم فائدے ہیں۔
ذوالقرنین نے کہا: اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ تاویل: مجھے حضرت قائم کے اسمِ اعظم سے قوّت پہنچادو(۱۸: ۹۶)۔
ڈالاس
روزِ یک شنبہ۲۷؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ حدید(۵۷: ۲۵):
ترجمہ: یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کوکھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا ہے اور ہم نے ان کے ساتھ ہی کتاب (امام) اور میزان (تاویل) نازل کی تاکہ لوگ انصاف پرقائم رہیں اور ہم نے لوہے کو نازل کیا( ظاہراً لوہے کی روح باطناً نورِ قائم) تاکہ اللہ ظاہر کردے کہ کون اس کی اور اس کے رسولوں کی بغیر دیکھے مدد کرتا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ طاقت والا زبردست ہے۔
لوہے کے نزول سے معلوم ہواکہ تمام معدنیات کی روح نازل ہوتی ہے، کیونکہ خزائنِ الٰہی(۱۵: ۲۱) میں ہرچیز کی روح موجود ہے۔
ڈالاس
روزِ یک شنبہ۲۷؍مارچ ۲۰۰۵ ء
۹
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۷
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ سبا(۳۴: ۱۰ تا ۱۱)میں ارشاد ہے: وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًاؕ-یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَۚ-وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَ اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ
ترجمہ: اور یقیناً ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بزرگی عطاکی(اور حکم دیاکہ) اے پہاڑو!اور اے پرندو!اس کے ساتھ تسبیح پڑھواور ہم نے اس کیلئے لوہے کو نرم کر دیا، کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیاں جوڑنے میں اندازہ کرواور نیک کام کرتے رہو یقیناً جو کچھ تم کرتے ہومیں اسے خوب دیکھنے والا ہوں۔
تاویلی مفہوم: حضرت داؤدؑ کے یہ معجزات خداوندِ روحانی قیامت کی طرف سے تھے، پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح خوانی بحالتِ عالمِ ذرّ صورِ اسرافیل میں ہے، لوہا نورِ قائم اور علمِ قائم ہے جوسخت مشکل ہے، جس کو خداوندِ قیامت نے حضرت داؤدؑ کیلئے آسان کردیاتھا۔
ڈالاس
دو شنبہ۲۸؍مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
حضرت قائم (ع۔ س)کے فضل وکرم سے اس بندۂ ناچیزکو گوہرِعقل اور کتابِ مکنون کا مقدّس مشاہدہ نصیب ہوا ہے، جس میں ہردو سائنس کے تمام اشارے موجود ہیں، ان شاء اللہ یہ حقیقت ان چھوٹے چھوٹے مقالوں میں آپ پرروشن ہوجائے گی۔
جب حضرت قائم (ع۔ س)اپنے کسی مومن پر روحانی قیامت برپا کرکے اسرافیلی اور عزرائیلی منزل
۱۰
کی سخت ریاضت کراتا ہے تواس وقت یقیناً روحِ مومن کو نہ صرف ساری کائنات میں نشر کرتا ہے، بلکہ حدودِ کائنات سے بھی باہر بسیط کر دیتا ہے، پھرجوہرِکائنات سمیت واپس بدن میں ڈال دیتا ہے۔
سورۂ نازعات (۷۹: ۰۱ تا ۰۵) کے ظاہر و باطن کو غور سے پڑھ لیں، یہاں “روحانی قیامت میں” قبضِ روح کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ کس طرح روح اور مادّۂ کائنات کا سنگم ہوتا ہے اور روح کو کہاں کہاں پھیلائی جاتی ہے اور کیوں؟ مگر یاد رہے کہ ان آیات کا ظاہری ترجمہ کافی نہیں۔
سابقات = روح کو کائنات سے باہر لے جانے والے فرشتے، مدبرات = روح کے حشر و نشر کے عمل کو دہرانے والے فرشتے۔
یہ حکمت بھی یاد رہے کہ آپ اور ہم انسانِ صغیر ہیں اور کائنات انسانِ کبیر، پھر بھی ہمارے اور اس کے درمیان دو سنگم ہیں، ایک جسمانی اور ایک روحانی۔
ڈالاس
دو شنبہ۲۸؍مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ فاطر (۳۵: ۴۱) کا پُرحکمت ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا وَلَىٕنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖؕ-اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا۔
یقیناً اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ وہ دونوں اپنے مقام سے ہٹ نہ جائیں اور اگر وہ دونوں ہٹ گئے تو اس (الواحد القہار) کے سوا کوئی بھی انھیں روک نہیں سکتا یقیناً وہ بہت بردبار بخشنے والا ہے۔
۱۱
تاویلی مفہوم: روحانی قیامت میں الواحد القہار کائناتِ ظاہر کو لپیٹ کر کائناتِ باطن کو پیدا کرتا ہے، جو بالکل کائناتِ ظاہر ہی کی طرح ہوتی ہے، مگر لطیف و روحانی ہے، جس میں دنیا کے سب لوگ موجود ہیں۔
کائناتِ ظاہر کو لپیٹنے کا قرآنی حوالہ: سورۂ انبیاء (۲۱: ۱۰۴)، سورۂ زمر (۳۹: ۶۷)۔
ڈالاس
دو شنبہ۲۸؍مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ تغابن (۶۴: ۰۸) میں ارشاد ہے: فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَاؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ
ترجمہ: پس تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس نور پرایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل کیا اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔
اس آیۂ شریفہ میں اللہ اور اس کے رسول اور نورِ منزل پرایمان لانے کا حکم ہے، نورِمنزل سے حضرت مولانا علیؑ بصورتِ ظہورات وتجلّیات مراد ہے۔
قرآنِ حکیم میں جتنی آیاتِ نور ہیں ان سب کے ساتھ یہ آیۂ کریمہ مربوط ہے۔
ڈالاس
سہ شنبہ۲۹؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
خداوندِ قیامت (ع۔ س) کے فضل وکرم سے زمانۂ یارقند میں جو معجزات ہوئے تھے ان کا ذکرِ جمیل باربار ہونا چاہئے، تاکہ تحدیثِ نعمت کی شکرگزاری ہو، وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
۱۲
ترجمہ: اور اپنے ربّ کی نعمتوں کاذکرکرتے رہنا (۹۳: ۱۱)۔
یقیناً ان تمام معجزات کی نورانی تاویل میں سنگم ہی سنگم ہے، جیسے تجلیٔ معکوس کا معجزہ ہے (۳۶: ۶۸) یعنی جونیک بخت نفوس حضرت قائمؑ میں فنا ہوکر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ ہوجاتے ہیں، ان کی ابدی بہشت میں دنیا بھی اور آخرت بھی ہوگی، کیونکہ کائناتی بہشت دنیا اور آخرت کا سنگم ہے۔
ڈالاس
سہ شنبہ۲۹؍مارچ ۲۰۰۵ ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ انعام (۰۶: ۷۳): هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّؕ-وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ ﱟ قَوْلُهُ الْحَقُّؕ-وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِؕ-عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِؕ-وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ۔
ترجمہ: وہی تو وہ ( خداہے) جس نے ٹھیک ٹھیک بہتیرے آسمان و زمین پیدا کیے، اور جس دن ( کسی چیز کو) کہتا ہے کہ ہوجا تو( فوراً) ہوجاتی ہے، اس کا قول سچا ہے، اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) خاص اسی کی بادشاہت ہوگی (وہی) غائب وحاضر (سب) کاجاننے والا ہے اور وہی دانا واقف کار ہے۔
تاویلی مفہوم: الواحد القہار نے آسمانوں اور زمین یعنی عالمِ ظاہرکوہمیشہ کیلئے پیدا کیا ہے، جب ایک روحانی قیامت مکمل ہوجاتی ہے تو حضرت قائم (ع ۔ س) عالمِ ظاہر کو کُنۡ(ہوجا) فرماتا ہے، جس سے عالمِ ظاہر اپنی تمام چیزوں کے ساتھ عالمِ شخصی میں تبدیل ہوجاتا ہے، جیسا کہ سورۂ ابراہیم ( ۱۴: ۴۸) میں ارشاد ہے۔
۱۳
اور جہاں کائنات کو لپیٹنے کا باطنی معجزہ ہے، وہ بطورِ اشارت اور علامت ہے کہ ظاہری کائنات عالمِ شخصی میں منتقل ہوچکی ہے اور اب عالمِ شخصی کائناتی بہشت ہے۔
ڈالاس
سہ شنبہ۲۹؍مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ مریم(۱۹) کے آغاز میں ک۔ ہ۔ ی۔ ع۔ ص کے حروفِ مقطّعات ہیں، جن میں پانچ اسمِ اکبرمخفی ہیں، تاہم اَلْعَلِیُّ الْعَظِیْم سب سے بلند ترین ہے، اس کو عشاق حضرت اسمِ اعظم کہتے ہیں، کیونکہ حضرتِ زکریاؑ نورانی وقت میں حضرتِ اسمِ اعظم کی خصوصی عبادت کرتا تھا، جس نے عالمِ شخصی کے مرتبۂ عقل پر یحییٰؑ کے نام سے نورانی جنم لیا۔
اسمِ اعظم کے ظہورات وتجلّیات گوناگون ہیں، حضرت اسمِ اعظم کی ایک تجلّی شیرکی صورت میں بھی دیکھی گئی ہے، قرآنِ حکیم جس خدا کو اَلْحَیّ کہتا ہے اسی کو عشاق حضرت اسمِ اعظم مانتے ہیں، کیونکہ خدا خود اپنا اسمِ اعظم اور اسمِ ذات ہے۔
ڈالاس
یوم الاربعۃ۳۰؍مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
خداوندِ روحانی قیامت کے فضل وکرم سے “سنگم” کے مضمون کے تحت کئی اسرار کا انکشاف ہوا ہے اور مزید انکشاف ہورہا ہے، الحمدللہ، ہرنبی اور ہر امامؑ عالمِ ناسوت اور عالمِ ملکوت کا سنگم ہے، اسمِ اعظمِ نورانی اور اسمِ اعظمِ لفظی کا سنگم ہے، حظیرۂ قدس میں مشرق اور مغرب کا سنگم ہے اور شمس وقمرکا بھی، گوہرِعقل اور کتابِ مکنون کا بھی، آسمان وزمین کا بھی۔
۱۴
آپ چار بجے کی نورانی عبادت خواب اور بیداری کے سنگم پرکرنے کی عادت بنالیں۔
بدھ۳۰؍مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
؎ جب قلم لیتا ہوں آتا ہے تجلّی بن کے وہ
انسان روحِ مستقر سے بہشت میں ہے، اور روحِ مستودع سے دنیا میں ہے۔ لہٰذا ہرمومن اور مومنہ کے دو روحانی سنگم ہیں، ایک بہشت میں اور دوسرا سنگم دنیا میں، یہ خداوندِ تعالیٰ کی بے پایان رحمت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔
نفوسِ خانۂ حکمت کی تعریف میں جوکچھ کہا گیا ہے وہ بظاہر میرا قول ہے، مگر اس کی حقیقت اور حکمت مولائے مہربان کی طرف سے ہے۔
امرِ کُنۡ (ہوجا) کے عالمِ امکان میں ہرممکن چیز ہے، عالمِ ذرّ میں، قلمِ اعلیٰ میں، لوحِ محفوظ میں، حظیرۂ قدس میں، امامِ مبین میں، قرآنِ حکیم میں، عالمِ شخصی میں، عالمِ اکبر میں۔ یہ دراصل حضرت قائم (ع۔ س) کی تجلّیات ہیں۔
نوٹ: آج ڈالاس سے واپس آکر تمام عزیزان کو مشورہ دیتا ہوں کہ حضرت اسمِ اعظم کے معجزات کو بڑی عمدگی سے ریکارڈ کریں۔
جمعرات ۳۱ مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
عالم ِ دین میں معلّم اور متعلّم (استاد وشاگرد) کا سنگم ہے اور حدودِ دین میں بھی یہی سلسلہ ہے۔
۱۵
؎ بُوَد زنجیر با زنجیر پَیوَند
سَرِ زنجیر در دستِ خداوند
مفہوم: حدودِ دین کو حلقہ در حلقہ زنجیرکی طرح سمجھو، اس زنجیرکا بالائی اورآخری سراخداوندِ قیامت کے دستِ مبارک میں ہے۔
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَلِیّ الْعَظِیْم وَبِحَمْدِہٖ۔
کتابِ وجہِ دین، ص ۲۵۵، بحوالۂ آیۃ الکرسی، اسمِ اعظم کی یہ تسبیح زبردست ہے۔ یہ گنجِ مخفی ہے، اس سے فائدہ حاصل کریں۔
جمعرات ۳۱ مارچ ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲۷
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اگرچہ عالمِ نباتات کی ہر چیز کا براہِ راست نادیدنی (Invisible) سنگم سورج کے ساتھ یقینی ہے، لیکن اس دنیا میں گُلِ آفتاب (سورج مکھی) وہ بڑا عجیب و غریب پھول ہے جو سورج کے ساتھ نمایان سنگم بناکر سب کو ورطۂ حیرت میں ڈالتا ہے، یقیناً اس کی الگ الگ توجیہات ہوسکتی ہیں تاہم میرے نزدیک اس میں عاشقانِ نورِالٰہی کی بڑی خوبصورت مثال ہے کہ نور کا بابرکت عشق جس دل میں ہو وہ خوش نصیب دل ہر وقت آفتابِ نور کی طرف متوجّہ رہتا ہے۔ چنانچہ میرے ایک بُروشسکی شعر کا یہ مفہوم ہے: اے محبوبِ جان! توآفتابِ نور ہے، میرا دل تیرے عشق کا یقیناً گُلِ آفتاب ہے، لہٰذا تیری تشریفِ مبارک جہاں بھی ہو، وہیں میرا دل اپنی طرف پھیرکر سیدھا رکھنا۔
جمعۃ المبارک یکم اپریل ۲۰۰۵ء
۱۶
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
آیۂ مصباح (۲۴: ۳۵) کے کئی اسرارہیں۔ اگر خداوندِ روحانی قیامت کی نورانی تائید نصیب ہوئی تو کوئی خاص تاویلی حکمت بیان ہوسکتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ عالم دو ہیں: عالمِ جسمانی اور عالمِ دین، پس آسمان اور زمین جسمانی بھی ہیں، اور روحانی = دینی بھی ہیں۔
چنانچہ حقیقت یہی ہے کہ ﷲ معبودِ برحق عزّ اسمہٗ عالمِ دین کے سات آسمانوں اور سات زمینوں (۶۵: ۱۲) کا نور ہے۔ اور وہ یہ ہیں: آسمانِ اوّل: آدمؑ، آسمانِ دوم: نوحؑ، آسمانِ سوم: ابراھیمؑ، آسمانِ چہارم: موسیٰؑ، آسمانِ پنجم: عیسیٰؑ، آسمانِ ششم: محمدؐ، آسمانِ ہفتم: حضرتِ قائم (ع۔ س)۔
پس ہر صاحبِ دورِ دینی آسمان اور اس کا حجتِ اعظم زمین ہے، اسی طرح حضرتِ قائم (ع۔ س) دین کا آسمانِ ہفتم اور حجّت اعظم اس کی زمین ہے۔ اب حقیقت بفضلِ مولا نکھر نکھر کر سامنے آگئی کہ معبودِ برحق عالمِ دین کے سات آسمانوں اور سات زمینوں (۶۵: ۱۲) کا نورِ عقل و جان ہے، الحمدللہ۔
جمعۃ المبارک یکم اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۲۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
یہی سنّتِ الٰہی ازل سے جاری و ساری ہے کہ آسمانی کتاب اور نورِ امامت کا سنگم ہے۔ سورۂ ھود(۱۱: ۱۷) کے ارشاد میں غور سے دیکھیں کہ حضرتِ موسیٰؑ کی کتاب سے نورِ امامت مراد ہے، اگر خدا کے نزدیک لفظِ “امام” تورات کیلئے ہوتا تو وہ پاک علیم و حکیم حضرتِ ابراہیم خلیلؑ کو امام نہ بناتا بلکہ کسی خاموش کتاب ہی کو امام بناتا، مگر اس کریمِ کارساز نے ابراہیمؑ ہی کو لوگوں کا
۱۷
امام بنا کر آسمانی کتاب کا زندہ نور بھی اسی کے نور میں رکھا اور اس حقیقت میں صاحبانِ عقل کیلئے کوئی شک ہی نہیں کہ ہر زمانے میں امامِ برحق وہی ہوتا ہے جس کے پاک نور میں آسمانی کتاب کا نور بھی ہوتا ہے تاکہ وہ کتابِ سماوی کا مؤوّ ِل اور ترجمان ہو۔
سنیچر ۲؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ حدید (۵۷: ۲۶) کا ارشاد ہے: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحاً وَّاِبْرٰھِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِھُمَاالنَّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ۔
ترجمہ: ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوّت اور کتاب رکھ دی۔ حکمت: کتاب سے نورِ امامت مراد ہے، جس میں لازماً آسمانی کتاب کا نور بھی ہوتا ہے اسی لئے امام کا نام قرآن میں “الکتاب” بھی ہے۔ جبکہ امامؑ کتابِ ناطق = قرآنِ ناطق ہے، امامِ عالیمقامؑ اور کتابِ سماوی کا سنگم تمام لوگوں کیلئے وسیلۂ نجات اور ذریعۂ رحمت ہے۔
اب میں آپ کو اس آیۂ شریفہ کا حوالہ بتاؤں گا جس میں یہ حکمت ہے کہ تمام انبیاء علیہم السّلام کے ساتھ نورِامامت موجود تھا وہ بابرکت ارشاد، سورۂ بقرہ (۰۲: ۲۱۳) ہے جس میں اگرچہ کئی حکمتیں ہیں لیکن ہم یہاں صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خدا نے اپنے تمام پیغمبروں کے ساتھ نورِامامت کو نازل کیا، جس کا نام اس آیت میں “الکتاب” ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَنِّہٖ وَاِحْسَانِہٖ۔
سنیچر ۲؍ اپریل ۲۰۰۵ء
۱۸
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
انبیائے قرآن کا تمام قصّہ دراصل روحانی قیامت ہی کا قصّہ ہے، امامِ زمانؑ کے باطنی معجزات کا دروازہ “بابِ حطّہ” کہلاتا ہے (۰۲: ۵۸) یہ حضرتِ اسمِ اعظم کے پاک نور و نورانیّت کا دروازہ ہے، یہاں سے اسرافیل اور عزرائیل کے سنگم کاآغاز ہوتا ہے۔ اور نفوسِ خلائق کا حشر و نشر عالمِ ذرّ کی صورت میں لگا تار ہوتا رہتا ہے، انتہائی عجیب معجزہ ہے کہ عالمِ ذرّ اور ناقور کا سنگم ہوتا ہے اور عالمِ ذرّ کی ہر ہر چیز صورِ اسرافیل کے ساتھ ہمنوا ہو کر ذاتِ سبحان کی تعریف میں ناقوری تسبیح کرتی ہے (۱۷: ۴۴)۔
آیۂ مصباح اور آیۂ سراجِ منیر کا سنگم ہے اور یہی نور مومنین و مومنات کا بھی ہے(تین مقام)۔
اتوار ۳؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اگر آپ حضرتِ اسمِ اعظم اور نورِ اقدم کے عاشقِ صادق ہیں، اور جیتے جی اس ذاتِ عالی صفات میں فنا ہوکر روحانی قیامت کے عظیم ظہورات و معجزات کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو حقیقی اطاعت سے یہ سعادتِ عظمٰی حاصل ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ذکر ہوا، سب سے پہلے، اسرافیل اور عزرائیل کا سنگم معجزہ ہوگا، یعنی آپ کی روحانی قیامت برپا ہوگی، اور عالمِ ذرّ آپ کے عالمِ شخصی میں داخل ہوگا اب آپ کی روح کا حشر و نشر کائنات بھر میں لگا تار اور بڑی سرعت سے ہوگا۔ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ روحانی قیامت کے اسرار بے پایان ہیں، ان کا علم صرف خداوندِ قیامت کے پاس ہے۔
اتوار ۳؍ اپریل ۲۰۰۵ء
۱۹
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
عالمِ ذرّ کا ظہور خزائنِ الٰہی (۱۵: ۲۱) سے ہوتا ہے، عالمِ ذرّ میں روح اور مادّہ کا سنگم ہے، یعنی اس میں ذرّۂ روح بھی ہے اور ذرّۂ مادّہ بھی ہے۔ یقیناً عالمِ ذرّ میں ہر معدنی چیز کی روح ہے۔ چنانچہ پتھر اور لوہے کی روح ہے، جیسا کہ خزائنِ الٰہی (۱۵: ۲۱) کا بیان ہے کہ ہر چیز کی ضرورت کے خزانے خدا کے پاس ہیں، صاحبانِ عقل جانتے ہیں کہ حضرتِ ربِّ تعالیٰ کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا خزانہ کلمۂ امر (کُنۡ = ہوجا) ہے۔
کلمۂ امرکی تفسیر سورۂ یٰسٓ (۳۶: ۸۲) میں ہے۔ یعنی ارادۂ الٰہی میں کلمۂ کُنۡ (ہوجا) کی حکمت موجود ہے۔ پس خدا کا کوئی ایسا کام نہیں جو پہلے ہی سے کیا گیا نہ ہو، کیونکہ خدا کی ذاتِ پاک اور اس کی ہر صفت قدیم ہے۔ اسی طرح اس کا فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (۱۱: ۱۰۷) ہونا قدیم ہے۔
پیر ۴؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
جب مومنِ سالک کی روحانی قیامت برپا ہوجاتی ہے اور اس کی روح کا حشر و نشر ہوتا ہے، تو حشر میں کائنات بھر سے ذرّاتِ روح آتے ہیں، آسمان، زمین، سمندر، پہاڑ وغیرہ سے۔ اور اسی طرح نشر میں روح کے بے شمار ذرّات کائنات اور اس کے چھوٹے بڑے اجزاء میں پھیل جاتے ہیں، گویا آسمانی طبیب سالک کی روح اور کائنات کو حکمت اور وحدت کی کھرل میں پیس پیس کر یکجان کردیتا ہے، اور اس میں علم و حکمت کے عجیب و غریب اسرار پوشیدہ ہیں۔
بنی اسرائیل (۱۷: ۵۰) میں ہے: قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًا= ان سے کہو: “تم پتھریا لوہا ہوجاؤ” یہ خدا و رسول کا امرِ امکان ہے، اس سے معلوم ہوا کہ خزائنِ الٰہی میں سے ایک خزانہ
۲۰
انسان ہے، جس سے بہت سی چیزیں بحکمِ خدا نازل ہوتی ہیں، یعنی ہر قسم کی معدنی روح عالمِ انسانیت کے خزانے سے نازل ہوتی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ روحانی سائنس اور سنگم کی حکمت کیسی عجیب و غریب ہے!
پیر ۴؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ لقمان(۳۱: ۱۶) میں غور سے دیکھنا ہوگا، کہ آسمان اور زمین کے اجزاء اور ذرّات روح سے خالی نہیں ہیں، لہٰذا جب بھی کوئی روحانی قیامت قائم ہوتی ہے تو مومنِ سالک کے ساتھ ساتھ ذرّاتِ کائنات کا بھی حشر و نشر ہوتا ہے۔
سورۂ زمر (۳۹: ۶۸) میں دیکھیں: کہ مومنِ سالک کی روحانی قیامت جملۂ کائنات کے ساتھ سنگم قیامت ہے، پس اگر ماہرینِ فلکیات کو پچھلے تیس سالوں میں کچھ جدید ستارے نظر آئے ہیں تو خداوندِ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس روحانی قیامت کا ان سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟
پیر ۴؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ حجر(۱۵: ۲۱) اسرارِ حکمت و معرفت سے لبریز ارشاد ہے: وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآىٕنُهٗ٘-وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ تاویلی مفہوم: کائنات و موجودات کی کوئی چیز ایسی نہیں جس کی حاجت و ضرورت کے خزانے ہمارے پاس موجود نہ ہوں، (یعنی حدودِ روحانی اور جسمانی) خدا کی عندیت و قربت کا
۲۱
شرف حدودِ روحانی و جسمانی ہی کو حاصل ہے، لہٰذا خزائنِ الٰہی یہی ہیں۔ جن کے درجات بلند ہیں، اور انہی سے کائناتِ ظاہر اور عالمِ انسانیّت کو ضرورت کی چیزیں نازل ہوتی رہتی ہیں۔
اس آیۂ شریفہ کے آخر میں لفظِ “معلوم” آیا ہے اور یہی روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم ہے۔
منگل ۵؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳۷
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اﷲ معبودِ برحق اَلْحَیُّ القَیُّوم کی کرسی کے بارے میں ارشاد ہے: وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ (۰۲: ۲۵۵) اس کی کرسی (نفسِ کلّی)نے آسمانوں اور زمین کو گھیر لیا ہے۔
آسمان زمین کی کوئی چیز یک لخت نہیں، بلکہ ہر چیز ذرّات در ذرّات ہے، یہاں تک کہ ذرّۂ روح اور ذرّۂ مادّہ کا سنگم ہے، یعنی مادّہ کا انتہائی چھوٹا ذرّہ بھی روح کے بغیر نہیں، جبکہ نفسِ کلّی کے نورانی سمندر میں ساری کائنات مستغرق ہے۔
پس کائنات، اجزائے کائنات اور ذرّاتِ عالم کے آرپار نفسِ کلّی کا نور محیط ہے۔ نفسِ کُلّ = لوحِ محفوظ، بحرِ نور اور عظیم فرشتہ ہے۔
اگر آپ کو نفسِ کُلّ کے بارے میں جاننا ہے، توحکیم پیر ناصرخسرو (ق۔ س) کی شہرۂ آفاق کتاب زادالمسافرین کا مطالعہ کریں۔
منگل ۵؍ اپریل ۲۰۰۵ء
۲۲
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ بقرہ(۰۲: ۲۵۵) اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ
ترجمہ: معبودِ برحق ہی وہ ذاتِ پاک ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندۂ جاویدِ ازل و ابد ہے، اور سرچشمۂ حیاتِ ابدی بھی وہی ہے، وہ بذاتِ پاکِ خود قائم و دائم ہے، اور جہان و اہلِ جہان کا قیام بھی اسی سے ہے۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ = جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (غرض سب کچھ) اسی کا ہے۔
بدھ۶؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۳۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ (۰۲: ۲۵۵)=جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اس کے علمِ بے پایان میں سے کوئی چیز ان کی گرفتِ ادراک میں نہیں آسکتی اِلَّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے۔ اس کی کرسی (نفسِ کلّی) آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے جس کا ذکر ہوچکا، اور ان کی حفاظت اس کیلئے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے۔ بس وہی اَلْعَلیُّ الْعَظِیْم (بلند ترین اور بزرگ ترین) ہے۔
بدھ۶؍ اپریل ۲۰۰۵ء
۲۳
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اگر انسان راہِ حق پر چلتا ہے، تو اس کے واسطے فرشتوں کا سنگم ہے: (۴۱: ۳۰) اگر وہ راہِ باطل پرچلتا ہے، تواس کیلئے جانوروں کا سنگم ہے: ( ۲۵: ۴۴)۔ جب انسان عالمِ ذرّ میں تھا تو اس وقت وہاں ہر چیز کا سنگم تھا، اور یہ خداوندِ تعالیٰ کی بڑی عجیب و غریب حکمت ہے کہ ہم سب عالمِ ذرّ سے آئے ہیں۔ لیکن اکثر لوگوں کو یہ راز معلوم نہیں ہے۔ روحانی قیامت کے آغاز میں حضرتِ اسرافیلؑ کی دعوت پر بے شمار لشکرِ یاجوج و ماجوج مومنِ سالک کے عالمِ شخصی میں داخل ہونے لگتے ہیں (۱۷: ۹۴) نیز (۲۱: ۹۶) پس یہی محیرالعقول معجزہ عالمِ ذرّ اور یاجوج وماجوج کا سنگم ہے۔ سبحان ﷲ!
جمعرات ۷؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
خداوندِ قیامت کے اس کمترین غلام نے آج صبح تقریباً چھ بجے مقالہ ۴۰ کی تکمیل ہی کے ساتھ صوفہ پر ایک خفیف و لطیف نیند میں یہ خواب دیکھا، غالباً شمالی علاقہ جات کے کسی مقام پر چند معزز حضرات تھے، ان میں سے جناب (ر) برگیڈیر حسامُ ﷲ بیگ صاحب ابنِ قدرت ﷲ بیگ صاحب (مرحوم)کی صاف صاف شناخت ہوتی ہے، قریب ہی میں کچھ لوگ زور زور سے باتیں کرتے ہوتے ہیں، یہ بندۂ درویش بڑی عاجزی سے بار بار کہتا ہے: میں آپ سے قربان! میرا مشورہ سن لو! کوکبِ دُرّی بابِ اوّل میں روایت ہے کہ حضرتِ علی المرتضیٰؑ کی شان میں تین سو آیاتِ کریمہ نازل ہوئی ہیں، آپ ان سب کو خوش خطی لکھا کر نمایان کریں۔ اس کے بعد بیدار ہوکر دیکھتا ہوں کہ صوفہ ہی پر ہوں۔ پس میں نے اس خواب سے کچھ تاویلات اخذ کرلیں۔ الحمد ﷲ۔
جمعرات ۷؍ اپریل ۲۰۰۵ء
۲۴
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
قرآن و حدیث کے حکیمانہ اندازِ بیان کا نام جوامع الکلم ہے، آپ کو ضروری طور پر اس کا مطلب سمجھنا ہے، اعنی قرآنِ حکیم کی حکمت اور احادیثِ صحیحہ کی حکمت بالکل ایک جیسی ہے، جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ حدیث کے باطن میں ﷲ تعالیٰ کی وحی پوشیدہ ہے۔
اب اس بیان کے بعد، دعائے نور کو لیں، یہ پاک دعا اگرچہ رسولِ اکرمؐ کی زبانِ مبارک سے ہے، لیکن حقیقت میں یہ خدا ہی کا کلام ہے۔
اس پر حکمت دعا کے سولہ اجزاء اور سولہ سنگم ہیں۔ اور سولہ قسم کی بنیادی بیماریوں کے لئے اس میں شفاء ہے۔
اس دعائے پاک میں یہ اشارہ بھی ہے کہ رسولِ کریمؐ میں عالمِ ذرّ تھا۔
لندن
اتوار ۱۰ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
دعائے نور کا ترجمہ: بحوالۂ کتاب العلاج ص ۱۸۶: یا ﷲ! میرے لئے میرے دل میں ایک نور مقرر کردے، اور میرے کان، آنکھ، اور زبان میں بھی نور بنادے، میرے بال، کھال، گوشت، خون، ہڈیوں، اور رگوں میں بھی نور بنادے، اور میرے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، اوپر اور نیچے بھی نور مقرر فرما!
یہ دعا شروع ہی سے بہت ضروری رہی ہے، اور اب اس کی بیحد ضرورت ہے۔ آپ کو احساس ہو!
یہ وہی پاک نور ہے جس کا ذکرِ جمیل قرآنِ حکیم میں بار بار آیا ہے، یہ نورِ امامت، نورِ ہدایت اور
۲۵
نورِ قیامت ہے۔
ان شاء ﷲ ہم آپ کو دعائے نور کی کچھ تاویل آئندہ مقالے میں بیان کریں گے۔
لندن
پیر۱۱ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
دعائے نور کی تاویلی حکمت: یہ پاک و پاکیزہ دعا، ارشادِ قرآنی ہی کی طرح باطنی اسرار سے لبریز ہے۔ اگر اس دعا کی تفصیل اور تمام اجزاء کے بیان میں ضروری حکمت نہ ہوتی تو صرف دل ہی کیلئے ایک نور کی درخواست کافی ہوتی جبکہ دل پورا جسم اور تمام اعضا کا مرکز ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پُرحکمت دعا کے جیسے تفصیلی اجزاء ہیں، ان سب میں ضروری حکمت پوشیدہ ہے۔
اس بابرکت دعا میں جو نور مطلوب ہے، وہ نورِ امامت، نورِ ہدایت، نورِ قیامت، نورِ “شفاء” اور نورِ تجلّی ہے۔
آپ خدا کے دوستوں میں سے ہیں، لہٰذا آپ خزائنِ الٰہی (۱۵: ۲۱) میں سے ہیں، آپ میں عالمِ ذرّ موجود ہے، آپ کے بالوں میں نباتات کی روح ہے، آپ کی ہڈیوں میں معدنیات کی روح ہے، یعنی آپ کے عالمِ ذرّ میں کائنات کی ہر ہر ضروری چیز موجود ہے۔
لندن
منگل۱۲ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اس بندۂ درویش کو خواب یا خیال میں ایسا اشارہ ہوا جیسا کہ خانۂ حکمت تین برِّ اعظموں کا علمی سنگم ہورہا ہو، مولائے پاک نے ارشاد فرمایا تھا: “تم ہمارے ساتھ کام کرو، ہم تمہارے ساتھ کام کریں
۲۶
گے۔” اس مبارک فرمان کے بعد خانۂ حکمت کے تمام نفوس کو غیر معمولی علمی اور روحانی برکات حاصل ہونے لگیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَنِّہٖ وَ اِحسانِہٖ۔
تمام نفوسِ خانۂ حکمت، عوالمِ شخصی ہیں، ان میں سے ہر عالمِ شخصی کے حق میں ہم سب کی عاجزانہ دعا ہے کہ وہ بفضلِ مولا ایک کائناتی بہشت ہو! آمین!
یقیناً اسمِ اعظم اور نورِ اقدم کے تمام پروانے فرشتے ہیں، اور ان میں سے ہر فرشتہ ایک زندہ کائناتی بہشت ہے۔
لندن
منگل۱۲ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سُبْحَانَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّھَا(۳۶: ۳۶) مفہوم: پاک ہے وہ ذات جس نے تمام چیزوں کو سنگم سنگم پیدا کیا۔ بہشت کے ہر پھل کا سنگم ہے (۵۵: ۵۲)۔ باغاتِ بہشت بھی دو دو ہیں (۵۵: ۴۶)۔
ہر سنگم ناطق و اساس کا اشارہ ہے نیز قائم اور حجتِ اعظم کی دلیل ہے۔ دو یتیم لڑکے = تاویلاً: امامِ مستقر اور امامِ مستودع (۱۸: ۸۲)۔ ذوالقرنین = تاویلاً= دو نفخ والا= مولا علی = قائم (ع۔ س۔) (۱۸: ۸۳) مغرب الشّمس(۱۸: ۸۶)مطلع الشَمس (۱۸: ۹۰) یہ حظیرۂ قدس میں مغرب و مشرق کا سنگم ہے، یعنی آفتابِ نور کا مشرق و مغرب ایک ہی ہے۔ جہاں سورج اور چاند کا سنگم اور نجم و نجوم کا سنگم ہے۔
لندن
بدھ۱۳ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
۲۷
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴۷
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
آیتِ خزائنِ الٰہی (۱۵: ۲۱) میں کُلّ قرآن اور تمام روحانی قیامت کا قانون اور جملۂ کائنات کا نظام ہے۔ اگر آپ بحقیقت خدا کے دوستوں میں سے ہوچکے ہیں، تو وہ الواحد القہار سوئی کے ناکے سے اونٹ گزر جانے کا معجزہ آپ کو کرکے دکھا سکتا ہے۔
سورۂ اعراف(۰۷: ۴۰) کا با ترجمہ مطالعہ کریں۔
کائنات و موجودات تماماً گویا اونٹ ہے اور آپ کی ہستی سوئی کا ناکہ ہے اگر آپ اسمِ اعظم کے ذریعے سے روحانی قیامت کو برداشت کرسکتے ہیں توخداوندِ قیامت غیر ممکن کو فعلاً (عملاً) ممکن کرکے دکھائے گا۔ اور فرمائے گا: “اݹ مناسن اَپݵ” = یعنی کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔ کُلّ کائناتی بہشت آپ کے عالمِ شخصی میں داخل بھی ہوگی اور اپنی جگہ پر موجود بھی ہوگی۔ الواحد القہار آپ کے پاس بھی ہوگا اور آپ سے باہر اور بالاتر بھی ہوگا۔
زمانۂ یارقند میں حضرتِ مؤوِّل (روحی فداہ‘) نے فرمایا: یاجوج و ماجوج آدم و حوّاکے پُرحکمت نطفے سے عالمِ ذرّ ہیں۔ آدم و حوّا نورِ قائم میں مستغرق تھے۔ پس عالمِ ذرّ میں ہر چیز روح اور مادّہ کا ذرّہ = سنگم ہے۔
لندن
بدھ۱۳ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ یٰس(۳۶: ۴۱) کا تاویلی مفہوم ہے: اور ان کیلئے یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ ہم نے ان کے عالمِ ذرّ کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔
۲۸
آپ کو یاد ہوگا پانی پر ظہورِ عرش او سفینۂ نجات کا عظیم ترین معجزہ حضرتِ قائم (ع۔ س) کا نورِ پاک ہی ہے(۱۱: ۰۷) ہر روحانی قیامت میں عالمِ ذرّ کا تجدُّد ہوتا ہے۔ عالمِ ذرّ کے ذرّات کی الگ الگ کئی مثالیں ہیں:
۱۔ اَلْاَواحُ جُنُود’‘۔ ۔ ۔ ۔ (حدیث)۔
۲۔ ملائکہ ٔ آدمؑ (۰۲: ۳۴)۔
۳۔ یاجوج وماجوج (۱۸: ۹۴)۔
۴۔ سلیمانی لشکر (۲۷: ۱۷)۔
۵۔ چیونٹیوں کی وادی (۲۷: ۱۸)۔
۶۔ کُلَّ شَیئٍ (۰۶: ۱۱۱)۔
۷۔ لشکرِ حضرتِ قائم (ع۔س۔) (۲۷: ۳۷)۔
۸۔ ذرّیّتِ آدمؑ (۱۹: ۹۸)۔
لندن
جمعرات۱۴ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۴۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اﷲ تعالیٰ خود ہی اپنا اسمِ اعظم اور اسمِ ذات ہے، جیساکہ آیۃ الکرسی کا پُرحکمت ارشاد ہے۔ اب آپ کو اس حقیقت پر یقین رکھنا ضروری ہے کہ آنحضرتؐ اسمِ اعظم ہی کی تسبیح و ذکر کرتے رہتے
۲۹
تھے۔ سورۂ واقعہ (۵۶: ۷۴؛ ۵۶: ۹۶) میں ہے: فَسَبِّحْ بِاِسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ = پس اپنے عظیم ربّ کے نام کی تسبیح کرو۔ اہلِ حقیقت جانتے ہیں کہ حضورِ پاکؐ “اسمِ اعظم” کی عبادت کرتے تھے۔
سورۂ فرقان (۲۵: ۵۸ تا ۵۹) میں ارشاد ہے: ترجمہ: خَبِیْراً تک پڑھ لیں اور اس کی تاویلی حکمت میں بھی غور کرلینا اور پانی پر ظہورِ عرش کا معجزہ بھول نہ جانا۔
لندن
جمعۃ المبارک۱۵ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اللہ سبحان وتعالیٰ خود ہی اپنا اسمِ اعظم اور خود ہی اسمِ ذات ہے۔ جیسا کہ آیۃ الکرسی کا مبارک ارشاد ہے۔ کرسی ظاہراً فلک الافلاک، اور باطناً لوحِ محفوظ = نفسِ کلّی ہے جس کی زبردست ہمہ گیر گرفت میں سارے آسمان اور زمین محفوظ و محدود ہیں۔ جس طرح فلکِ اعظم جملۂ کائنات پر محیط ہے، اسی طرح آیۂ کرسی کائناتِ قرآن پر محیط ہے، جس کی وجہ اسمِ اعظم کے نورانی معجزات = ظہورات اور تجلّیا ت کی بے پایان وسعت ہے۔
کرسی ظاہر میں فلکِ اعظم = فلک الافلاک = آٹھواں آسمان ہے، باطن میں نفسِ کُلّی= روح الارواح، روحِ اعظم = جانِ مردُم = تمام لوگوں کی جان = علیُّ المرتضیٰؑ ہے۔
لندن
جمعۃ المبارک۱۵ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
جب سالک کے قیامِ قیامت کیلئے ناقورِ نورِ قائم پھونکا جاتا ہے، تو کائنات بھر سے عالمِ ذرّ
۳۰
یاجوج و ماجوج کے نام سے آنے لگتاہے (۳۶: ۵۱)۔ اس آیت میں ربّ حضرتِ قائم (ع۔ س) کا نورِ اعظم ہے۔ یَنْسِلُون یعنی ذرّاتِ ارواح سالک کی نسل = ذرّیّت قرار پاتے ہیں، یاجوج و ماجوج سالک کے عالمِ شخصی میں “تخریب برائے تعمیر” کا کام کرتے ہیں۔
سورۂ کہف(۱۸: ۹۴) اور سورۂ انبیاء (۲۱: ۹۶) میں یاجوج و ماجوج کا ذکر آیا ہے۔
جیسا کہ سابقہ مقالے میں یہ ذکر ہوچکا کہ یاجوج و ماجوج آدم و حوّا کے پُرحکمت نطفے سے عالمِ ذرّ ہیں۔ آدم و حوّا حدودِ دین اور خزائنِ الٰہی میں سے تھے۔
لندن
سنیچر ۱۶ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
حضرتِ اسمِ اعظم (ع۔ س) کے سفینۂ نجات میں ہم سب بفضلِ ﷲ نفسِ واحدہ ہوچکے ہیں۔ سورۂ روم (۳۰: ۰۱ تا ۰۷) سے متعلق جو نورانی تاویل کا معجزہ آسٹن میں ہوا، اس پر یقین نہ کرنا بہت بڑی ناشکری ہوسکتی ہے، لہٰذا ہمیں ان آیاتِ مبارکہ کی درست تاویل کو سمجھنا ہوگا۔ مقالہ (۵۰) میں پڑھیں: سارے آسمان اور زمین محدود و محفوظ ہیں۔ اور آخر میں پڑھیں: علیُّ المرتضیٰؑ کا نور ہے۔ کیونکہ مولا نے فرمایا: “میں لوحِ محفوظ ہوں۔”
سورۂ روم (۳۰: ۰۱ تا ۰۷) کی تاویل کا جاننا ازحد ضروری ہے۔
لندن
سنیچر ۱۶ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
کتابِ کوکبِ درّی بابِ سوم منقبت ۲۷ کی حکمت کے مطابق حضرتِ مولا علیؑ کا نور و نورانیت
۳۱
ہی روحانی قیامت ہے، آپ نے روحانی قیامت کا قصّہ سن لیا ہے اور حوالۂ قرآن کو بھی جگہ جگہ دیکھ لیں، قرآنِ حکیم سر تا سر قصّۂ قیامت سے لبالب = لبریز ہے۔ جب علیؑ اپنے نور کی تجلّیات میں قیامت اور قائم ہے، تو پھر قرآن میں قیامت کے جتنے اسماء ہیں، وہ سب کے سب علیؑ ہی کے اسماء ہیں۔
پس مومنِ سالک کی روحانی قیامت میں سب لوگ ہوتے ہیں، جن کے تین درجے ہوتے ہیں: بحوالۂ سورۂ واقعہ (۵۶: ۸۸ تا ۹۶)۔
لندن
اتوار۱۷ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
آسٹن کی ایک علمی بیٹی کے نورانی خواب میں قرآنِ حکیم کے ان مبارک الفاظ کی سماعت ہوئی: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ= یقینا خدا شرماتا نہیں ہے (۰۲: ۲۶) اس میں ہم سب کو اشارہ ہے کہ ہم قرآن کی کسی بھی مثال سے تاویل کے انکشاف کرنے سے نہ شرمائیں، یہ حضرتِ قائم (ع۔ س) کا حکم ہے۔
چنانچہ سورۂ واقعہ (۵۶: ۳۴ تا ۳۷) کی تاویلی حکمت کیلئے غور کریں۔ فُرُشٍ مَرفُوعَۃٍ کی یہ تاویل ہے کہ مومن اور مومنہ (میاں بیوی) کے زمانۂ نو عروسی کی نورانی موویز برائے بہشت بنالی جاتی ہیں۔ ۳۵ تا ۳۶ کی تاویل یہ ہے کہ دنیا ہی کی خواتین لطیف نورانی بدن میں جنّت کی حوریں بن جاتی ہیں۔ وہ اپنے شوہروں سے عشق رکھتی ہیں (۵۶: ۳۷)۔
بہشت کی حوروں = پری عورتوں میں نہ صرف جسمانی پاکیزگی ہے، بلکہ روحانی اور عقلی پاکیزگی بھی ان کو حاصل ہے (۰۲: ۲۵)۔
لندن
اتوار۱۷ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء
۳۲
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ مریم(۱۹: ۹۳) میں کنوزِ مخفی میں سے ایک کنزِ مخفی موجود ہے۔
اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْداً۔
ترجمہ: جتنے بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ سب کے سب رحمان (خداوندِ قیامت) کے روبرو غلام ہو کر حاضر ہوتے ہیں۔
تاویل: جب روحانی قیامت برپا ہوجاتی ہے تو مومنِ سالک کی جبین میں حضرتِ رحمان = اَلْحَیُّ الْقَیُّوم کا پاک نور طلوع ہوجاتا ہے۔ یہ نور اسمِ اعظم کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور آسمان و زمین کے تمام نفوس و ملائکہ غلام ہوکر حاضر ہوتے ہیں۔ روحانی قیامت کا قلمی اور زبانی قصّہ بار بار آپ کے سامنے آچکا ہے۔ اور یقیناً خداوندِ قیامت ہی رحمان ہے۔
لندن
پیر۱۸ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ محمد کی آیتِ ہفتم (۴۷: ۰۷) کی تاویل میں آپ کیلئے کیا فرمانِ عالی ہے؟ آپ کیلئے بڑا سپیشل فرمان ہے کہ آپ گریہ و زاری اور خصوصی مناجات سے خداوندِ قیامت کی مدد کریں، آپ انصارﷲ میں سے ہوجائیں۔ یہ آپ سے امتحان کا وقت ہے، سوچ لیں آپ کے پاس عاجزی، گریہ و زاری، عشقِ مولا، سجود، دعا، مناجات، ذکر، اسمِ اعظم وغیرہ کی بے مثال طاقتیں کس مقصد کیلئے رکھی ہوئی ہیں۔ آپ چہل درویش کیوں ہیں؟ آپ حضرتِ اسمِ اعظم (ع۔ س۔) کے حربی
۳۳
فرشتے کیوں ہیں؟ آپ کو یہ سب سے اعلیٰ معرفت کس مقصد کی خاطر عطا کی گئی ہے؟
آپ قرآنِ حکیم میں نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہ کی عظیم حکمت کو جان و دل سے پڑھ لیں (۶۱: ۱۴)۔
ﷲ کے مددگار بن جاؤ (۶۱: ۱۴) یہ تاویل کس کیلئے ہے؟
لندن
پیر۱۸ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵۷
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
قرآنِ حکیم حقیقی مومنین سے فرما رہا ہے کہ تم خداوندِ قیامت کے مددگار بن جاؤ (۶۱: ۱۴) سورۂ محمد (۴۷: ۰۷) بھی یہی فرمان پڑھ لیں۔ حضرتِ عیسیٰؑ کے انصار تاویلًا خدا کے مددگار تھے (۰۳: ۵۲)مہاجر اور انصار کے بارے میں بھی آیاتِ قرآن کو خوب غور سے دیکھیں (۰۹: ۱۰۰) نیز (۰۹: ۱۱۷)۔
سورۂ حج(۲۲: ۴۰) میں غور سے دیکھنا ہے، الغرض حقیقی مومنین میں خود ﷲ ہی کی طرف سے عطا کی ہوئی صلاحیتیں ہیں اگر ہم فرمانِ خداوندی کے مطابق ان سے کام نہیں لیتے ہیں تو یہ بہت بڑی نافرمانی اور ناشکری ہے۔
لندن
پیر۱۸ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۃُ المزمل (۷۳: ۱۷ تا ۱۸) فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْماً یَجْعَلُ الوِلْدَانَ شِیْباً۔
تاویلی مفہوم: اگر تم انکار کرتے ہو تو دورِ قیامت کی معجزانہ گرفت سے کیسے بچوگے، یہ وہ دور
۳۴
ہے جس میں بچوں پر بزرگانہ معجزات ہونے والے ہیں، جس طرح خانۂ حکمت کے بعض لٹل اینجلز پر یہ معجزات شروع ہوئے ہیں اور بعض بڑوں پر بھی شروع ہوئے ہیں یہ معجزات نورانی خواب میں بھی ہوئے ہیں اور بیداری میں بھی ہو رہے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ “D”، “D”، “D”۔
ژوین لݺ قیامت منی ڈالاسر گٹی منین!
بدھ ۲۰؍اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۵۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
کل بوقتِ شام، حضرتِ قائم (ع۔ س) کے عظیم معجزات میں سے ایک سمعی معجزہ ہوا، یہ سیل فون پر الفاظ سے مجرد ایک بہت مختصر بہشتی نغمہ تھا، جبکہ فون پر ڈاکٹر کریمہ جمعہ کے ساتھ گفتگو کررہا تھا کہ یہ بہشت کی بہت مختصر موسیقی شروع ہوئی۔ الحمدلِلّٰہ ربّ العٰلمین۔
زمانۂ یارقند میں خداوندِ قیامت کی بارگاہِ عالی سے اس بندۂ درویش کو یہ خبر ملی تھی کہ صوبیدار محمد رفیع روحانی ٹیلیفون پر مقرر کیا گیا ہے، عرصۂ دراز کے بعد اب مجھے اس سنگم کی تاویل آئی ہے کہ یہ اشارہ میرے دادا جان (محمد رفیع) کیلئے بھی تھا، معبودِ برحق کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
؎ خود را نمودی اے احد
اندر نقوشِ بے عدد
ترجمہ: اے واحد ویکتا! تو نے اپنے نور کی بے شمار صورتوں میں تجلّی کی ہے۔
(از کُلّیاتِ شمس تبریزی)
جمعرات ۲۱؍ اپریل ۲۰۰۵ء
۳۵
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
بحوالۂ کُلّیاتِ شمسِ تبریزی:
؎ بالابُدی مانندِ خور روشن ز نورت صد قمر
زیرآمدی اے شاہِ جان باہرگدا درساختی
ترجمہ: (اے محبوبِ جان!) تو سورج کی طرح آسمان پر تھا، تجھ سے صد ہا قمر منوّر ہو رہے تھے، اے بادشاہِ روحانی تو زمین پر آیا اور ہر گدا کے ساتھ ملنے جلنے لگا۔ مولائے روم کے اس شعرمیں زبردست خوبصورت حکمت ہے۔
؎ اے شاہِ شاہانِ جہان اللّٰہُ مولاناعلی
اے نورِ چشمِ عاشقان اللّٰہُ مولاناعلی
؎ حمداست گفتن نامِ تُو اے نُورِ فَرُّخ نامِ تُو
خورشیدومَہ ہِندُویِ تُو اللّٰہُ مولاناعلی
ترجمہ: اے دنیا کے تمام بادشاہوں کا دینی اور حقیقی شاہنشاہ! اللّٰہُ مولانا علی۔ اے عاشقانِ نور کا نورِ قلب و جان! اللّٰہُ مولانا علی! تیرا پاک نام لینا حمدِ خدا ہے، اے تیرا نام بڑا بابرکت نور ہے۔ سورج اور چاند تیرے غلام ہیں۔ اللّٰہُ مولانا علی۔
جمعرات ۲۱؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
حدودِ روحانی اور حدودِ جسمانی خزائنِ الٰہی(۱۵: ۲۱) ہیں۔ حضرتِ سلیمانؑ کی بادشاہی آلِ ابراھیمؑ
۳۶
اور آلِ محمدؐ کی عظیم بادشاہی (۰۴: ۵۴) ہے، اور بس بہشت کی بہت بڑی بادشاہی (۷۶: ۲۰) بھی اسی میں سے ہے۔
حدودِ دین میں سب سے اعلیٰ حد امامِ مقیم ہے اعنی قائم، چنانچہ نورِ قائم کے معجزۂ قیامت نے بڑی سرعت سے تختِ بلقیس کو سلیمان کے سامنے حاضر کیا تھا (۲۷: ۴۰) ملکۂ سبا کی عظیم سلطنت کے قصّۂ قرآن کی حقیقی تاویل حضرتِ مؤوّ لِ اعظم کے پاس ہے۔ ہمیں صرف یہ بتانے کی اجازت ہے کہ قصّۂ بلقیس میں بہشت کی خلافت و سلطنت کی ہمہ گیری اور برتری کی روشن مثال موجود ہے۔ اَلْحمدُلِلّٰہ رَبّ العالمین۔
جمعۃ المبارک ۲۲؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
آیۂ امامِ مبین (۳۶: ۱۲) کی تاویل بڑی عجیب و غریب اور زبردست حیران کن ہے، کہ اہلِ حق کے اعمال بھی اور آثار بھی امامِ مبینؑ = حظیرۂ قدس = بہشت = لوحِ محفوظ اور نامۂ اعمال = نورانی مووی میں محفوظ ہیں۔
مگر جو لوگ اپنے پروردگار سے کافر ہوئے ان کے اعمال گویا راکھ کا ڈھیر ہے۔ (۱۴: ۱۸)۔
خداوندِ عالم نے زمان و مکان کی ہر چیز کو امامِ مبینؑ کی تجلّیاتِ نور میں گھیر کر اور گن کر رکھا ہے۔
حدودِ دین میں، عقلِ کلّی آسمان، اور نفسِ کلّی زمین ہے۔
پس قرآن میں اہلِ حق سے جس زمین کی خلافت کا وعدۂ الٰہی ہے، وہ نفسِ کلّی کی نورانیّت کی زمین ہے، اور وہ کائناتی بہشت ہے۔
حضرتِ آدمؑ کو کائناتی بہشت کی خلافت عطا ہوئی تھی۔
جمعۃ المبارک ۲۲؍ اپریل ۲۰۰۵ء
۳۷
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ توبہ (۰۹: ۰۳) میں حکمتِ بالغہ سے لبریز ارشاد ہے: وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖٓ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ اَنَّ اللّٰہَ بَرِیْ ءٌ مِنَ الْمُشْرِکیْنَ۔ ترجمۂ قرآن میں دیکھ لیں۔
تاویل: حجِ اکبر سے روحانی قیامت مراد ہے، جس میں یہ اعلان ہوتا ہے کہ خدا اور اس کا رسولؐ مشرکین سے بالکل بیزار ہیں۔ قرآنِ حکیم (۲۲: ۲۷) میں غور سے دیکھ لیں۔ حضرت ابراہیمؑ کی روحانی قیامت کو حج کا نام دیا گیا ہے۔ کیونکہ انبیاء علیہم السّلام کا قصّۂ قرآن باطناً روحانی قیامت ہی ہے۔
اتوار ۲۴؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ آلِ عمران (۰۳: ۱۵۱) سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُواالرُّعْبَ بِمَآ اَشْرَکُوْابِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰناً۔ ۔ ۔ ۔
ترجمہ: ہم عنقریب آسمانی رعب کافروں کے دل میں ڈال دیں گے اس لئے کہ ان لوگوں نے خدا کا شریک بنایا، کسی آسمانی دلیل کے بغیر۔ یعنی معبودِ برحق وہ ہے، جس کا نور ہر وقت عارفین کیلئے آسمانی معجزات کرتا رہتا ہے۔
زمانۂ یارقند میں آسمانی رعب = یو۔ ایف۔ اوز کا معجزہ دیکھا تھا۔ بحوالۂ کتاب: جماعت خانہ ص ۱۱۰، یقیناً وہ بڑا شدید آسمانی رعب تھا۔ خداوندِ قیامت الواحد القہار جو کچھ کرتا ہے، اس میں بہت بڑی حکمت ہے۔
اتوار ۲۴ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
۳۸
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ روم (۳۰: ۲۳) : وَمِنْ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَاْبتِغَآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ اِنَّ فِیْ ذٰالِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَومٍ یَّسْمَعُوْن۔
ترجمہ: اور اس کے معجزات میں سے ہے تمہارا رات اور دن کو سونا اور خواب دیکھنا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور سے سنتے ہیں۔
جناب امیر ﷲ بیگ اور برادرم امیر حیات گویا دو فرشتے ہیں یا نور کے دو پروانے ہیں، الحمدﷲ وہ میرے خواب میں آئے دونوں پیارے نام اشارہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ میرے پیارے گاؤں کی نیکنام جماعت نے اپنی نیک دعاؤں میں اس بندۂ درویش کو یاد کیا، لہٰذا یہ دو فرشتے خواب میں آئے۔ مولا تمام جماعتوں پر نورِ رحمت کی بارش برسائے آمین!
اتوار ۲۴ ؍اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ زمر (۳۹: ۶۹) : وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّھَا وَوُضِعَ الْکِتٰبُ وَجِایْٓئَ بِالنَّبِیّٖنَ وَالشُّھَدَ آئِ وَ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْحَقِّ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ = اور زمین اپنے ربّ کے نور سے منوّر ہو جائے گی۔ ۔ ۔ ۔
منگل ۲۶ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء
۳۹
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶۷
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
میں دو رات خواب میں آیۃ الکرسی کی کوئی تعریف لکھنے کیلئے سوچتا رہا، جس کے نتیجے میں دو مثالیں سامنے آئیں۔ پہلی مثال: قرآنِ حکیم میں ننانوے اسمائے صفاتی علم و حکمت کے گرانمایہ خزانے ہیں، جن کی کلیدیں، اسمِ اعظم میں ہیں۔ دوسری مثال: اسمِ اعظم بہشت کا ایک نورانی سرچشمہ ہے اور تمام قرآن اس کی ایک پُرنور آبادی ہے۔
پس بڑے نیک بخت ہیں، وہ لوگ جن کو اسمِ اعظم کی معرفت حاصل ہے۔ اے دوستانِ عزیز! پاک و برتر اسمِ اعظم کی معرفت میں پیچھے ہرگز نہ رہنا! آمین!
منگل۲۶ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اعظمُ الۡاَسماء = اسمِ اعظم کے معجزات، ظہورات، تجلّیات اور بے شمار عجائب و غرائب کا نورانی مشاہدہ روحانی قیامت میں ہوتا ہے، سبحان اللہ!
پانی پرظہورِ عرش کا عظیم معجزہ اور رَفیعُ الدّرجٰتِ ذُوالعرش (۴۰: ۱۵) ایک سنگم ہے۔ لہٰذا یہاں الواحد القہار میں سب کے سب فنا ہو جاتے ہیں، عرش سے سفینۂ نجات کا ظہور اسی لئے تھا۔
ربِّ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کریں بار بار یاد کریں۔ قرآنِ حکیم (۱۱: ۰۷) میں بھی دیکھ لیں۔
بدھ ۲۷؍ اپریل ۲۰۰۵ء
۴۰
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۶۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اعظم الآیات اور اعظمُ الاسماء کا سنگم ہے، یعنی آ یۃ الکرسی اور اسمِ اعظم یکجا ہیں۔
اُمّ الکتاب اور علیؑ کا سنگم ہے (۴۳: ۰۴)۔
قرآنِ کریم اور کتابِ مکنون کا سنگم ہے (۵۶: ۷۷ تا ۷۸)۔
قرآنِ مجید اورلوحِ محفوظ کا سنگم ہے (۸۵: ۲۱ تا ۲۲)۔
علی ؑ = اَنَّ اللّٰہَ ھُوَالْعَلِیُّ الْکَبِیْر (۲۲: ۶۲)۔
علی ؑ = ھُوَالْعَلِیُّ الْکَبِیْر(۳۱: ۳۰)۔
علی ؑ = اَلْعَلِیُّ الْکَبِیْر(۳۴: ۲۳)۔
علی ؑ = اَلْعَلِیُّ الْکَبِیْر(۴۰: ۱۲)۔
علی ؑ = اَلْعَلِیُّ الْعَظِیْم(۴۲: ۰۴)۔
جمعرات ۲۸؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
الٰہی! شکرِ بیحد و بے پایان! یا ربّ العزۃ! تیری ہر ہر نعمت زبانِ حال سے بھی اور زبانِ قال سے بھی تیری ربوبیّت کی تعریف کرتی رہتی ہے۔
احدا! صمدا! قادرا! پروردگارا! اپنا ہر مقدّس معجزہ ہمیں یاد دلا، کرم پر کرم فرمانے والا صرف تو
۴۱
ہی ہے اور کوئی نہیں، تو واحد و لا شریک بے وزیر و بے نظیر ہے۔ تو قدیم اور علیم و حکیم ہے۔
اے خداوندِ برحق! اے قادرِ مطلق! ہمارے قلب کو ہمیشہ اپنے دریائے ذکر میں اور دریائے عشق میں مستغرق رکھ لے، تاکہ ہمیں نفس اور شیطان کے وسوسوں سے نجات حاصل ہو!
یا ﷲ! فضل و کرم فرما! تو خود ہمارا وکیل اور کارساز ہوجا! جیسا کہ قرآنِ حکیم (۲۵: ۵۸ تا ۵۹) میں تیرا پاک فرمان ہے۔
جمعۃ المبارک ۲۹ ؍ اپریل ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
قرآنِ حکیم میں سر تا سر سنگم کی عجیب و غریب حکمت مخزون و مکنون ہے، اور وہ طرح طرح سے ہے، مثلاً رجوع جیسے الفاظ میں بھی سنگم کی حکمت ہے۔
اے عزیزان! قرآنِ پاک عالمِ لاہوت سے اس لئے نازل ہوا ہے کہ آپ اس سے علم و حکمت اور ذکر و عبادت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں، پس آپ ان آیاتِ کریمہ کو بار بار پڑھنے کی عبادت کریں، جن میں دیدارِ نورانی اور خدا شناسی کا ذکرِ جمیل آیا ہے، جس کا نمونۂ اعظم (۷۵: ۲۲ تا ۲۳) نیز (۸۹: ۲۲) میں ہے۔
خدا پرستی اور خدا شناسی حضرتِ اسمِ اعظم اور نورِ اقدم کے پاک عشق میں ہے، الاسماءُ الحسنٰی کی سب سے کامیاب عبادت (۰۷: ۱۸۰) یہی ہے، جیسا کہ حضرتِ مولا علیؑ کے پاک ارشاد میں ہے۔
ڈالاس
دو شنبہ ۲؍ مئی ۲۰۰۵ء
۴۲
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
ہفت معزّز و محترم خاندان کیلئے حضرتِ اسمِ اعظم و نورِ اقدم خداوندِ روحانی قیامت جلّ جلالہ کے پُر نورباطنی معجزات جو ہو رہے ہیں، وہ بڑے زبردست اور محیر العقول ہیں، یہ مبارک و مقدّس معجزات قائم شناس عزیزوں سے شروع ہو رہے ہیں۔
“قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت” نامی کتاب کو اگر لوگ پڑھ لیتے تو خانۂ حکمت کی بے مثال خیر خواہی کا علم ہو جاتا!
خانۂ حکمت کے مراکز کیلئے جو عظیم معجزات ہو رہے ہیں، وہ قرآن و حدیث کی پُرحکمت پیش گوئی کے عین مطابق ہیں، اَلْحمدُللّٰہِ علٰی منّہٖ وَاِحسانِہٖ۔
ڈالاس
سہ شنبہ ۳؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ(۵۵: ۲۹)۔
تاویلی مفہوم: خدا کا یوم ہزار سال سے عبارت ہے (۲۲: ۴۷) پس یہ سچ اور حقیقت ہے کہ ہم سب عصرِ حاضر کے لوگ خدا کے یومِ ہفتم ( سنیچر) میں داخل ہو چکے ہیں، لہٰذا اس دور میں ایک عظیم روحانی قیامت برپا ہو چکی ہے، اور اس کے دُور رس نتائج ظاہراً وباطناً مرتّب ہو رہے ہیں، پس حضرتِ اسمِ اعظم و نورِ اقدم کا خانۂ حکمت کیلئے معجزات کرنا حق ہے، اور اس میں ہرگز کوئی شک نہیں، معبودِ برحق کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
ڈالاس
یوم الاربعہ۴؍ مئی ۲۰۰۵ء
۴۳
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۃ الزمر(۳۹: ۷۳ تا ۷۵) وَسِیْقَ الَّذِیْنَ سے رَبِّ العٰلَمِیْنَ تک خوب حکمت سے غور کرکے پڑھ لیں۔ بحوالہ ٔ کتابِ وجہِ دین ص ۶۳ ایک خاص تاویل کے مطابق اہلِ حق میں سے ستّرہزار کو مرتبۂ فرشتہ عطا ہوگا (۴۳: ۶۰)، یعنی الواحد القہار سلسلۂ روحانی قیامت میں جہاں اپنے نور کی تجلّی سے بیت المعمور بناتا ہے وہاں خدا کے اس گھر کی زیارت کرنے والے فرشتوں کی تعداد ستّرہزار ہے، پس یہ فرشتے حقیقی مومنین و مومنات ہی ہیں۔ درحالے کہ ایسا ہر فرشتہ ایک کائناتی زندہ بہشت = ایک بادشاہِ بہشت = اور ایک خلیفۂ خدا ہے۔ جیسے حضرتِ سلیمانؑ اپنے وقت میں خدا کا خلیفہ، عظیم بادشاہ، علم وحکمت کا فرشتہ اور عالمِ شخصی کے معجزۂ قیامت میں زندہ کائناتی بہشت کا ظہور اور سب کچھ تھا۔
جمعۃ المبارک ۶؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
خدا کی خدائی میں ہمیشہ دو قسم کے معجزات ہوتے آئے ہیں: یعنی بعض معجزات خوشخبری = بشارت دینے کیلئے ہوتے ہیں، اور بعض ڈرانے کی غرض سے ہیں۔ رسولِ پاکؐ کے تمام اسمائے صفات بَشیراً وَّ نذیراً (بشارت دینے والا اور ڈرانے والا) میں جمع ہیں۔
امامِ برحق علیہ السّلام مظہرِ نورِالٰہی اور خلیفۂ رسول ہے۔ لہٰذا ہر قسم کے باطنی معجزات اسی مظہرِ اقدس و اعلیٰ ہی سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔
یا مَظھَرالعَجائِبِ عَوْنًا لَنَا علی! یَدْعوکَ کُلّ ھَمٍّ وَغَمٍّ سَیَنْجَلِی۔
۴۴
ترجمہ: اے عجائب و غرائبِ الٰہی کے مظہر علیؑ! تو ہی یقیناً ہمارا مددگار ہے، ہر دردمند اور غمگین تجھ ہی کو پکارتا ہے، اور اس کی تکلیف ختم ہوجاتی ہے۔
سنیچر ۷؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
الاعراف(۰۷: ۱۸۹) : ھُوَالَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا۔
ترجمہ: وہ ﷲ ہی ہے جس نے تمھیں ایک جان (آدمؑ) سے پیدا کیا۔ سوال؟ ایک جان سے تمام نفوسِ انسانی کو پیدا کرنے کی کیا تاویل ہے؟ جواب: جب حضرتِ آدمؑ میں الٰہی روح بذریعۂ صور پھونک دی گئی تو اسی کے ساتھ آدم کی روحانی قیامت بھی قائم ہوئی اور ایک ساتھ بہت سے معجزات ظہور پذیر ہوئے۔ (۱)تمام انسانی روحوں کااس آدم کی نسل قرار پانا (۲) یاجوج و ماجوج کا خروج (۳) فرشتوں کا آدمؑ کے لئے سجدہ کرنا (۴) حشر و نشر (۵) ایک آدم کے بعد دوسرا آدم ہونے کی سنّتِ الٰہی(۶) روحانی قیامت کا تجدّد وغیرہ وغیرہ۔
سنیچر۷؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷۷
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
خداوندِ روحانی قیامت حضرتِ اسمِ اعظم اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے عزیزان کے لئے وہ پاک معجزات ہورہے ہیں، جن میں بشارت ہی بشارت ہے۔ دورِ قیامت اور دورِ کشف کے یہ معجزات بڑے عجیب و غریب اور محیر العقول ہیں۔
جس طرح حدیثِ شریف کے ارشادِ مبارک کے مطابق قرآن کاایک ظاہر اور ایک باطن ہے،
۴۵
اسی طرح امامِ زمانؑ تک رسائی دو قسم کی ہے، ایک ظاہری اور جسمانی ہے اور دوسری باطنی اور نورانی رسائی ہے۔ پاک مولا امامُ النّاس بھی ہے اور امام المتقین بھی ہے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مولائے پاک کس طرح تمام لوگوں کا امام ہے؟ تو خانۂ حکمت کی مشہور کتاب “قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیّت” کو عقل و دانش سے پڑھ لینا۔
اتوار ۸؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ ھود(۱۱: ۹۰) : وَاسْتَغْفِرُوْارَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْااِلَیْہِ اِنَّ رَبّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ۔
ترجمہ: دیکھو! اپنے ربّ سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقینا میرا ربّ رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے۔
الو دود = بہت محبت کرنے والا۔ دوستوں کا سب سے بڑا دوست، وہ ذات جو محب بھی ہے اور محبوب بھی۔ یعنی حضرتِ اسمِ اعظم جلّ جلالہ‘ (اسلامی انسائیکلوپیڈیا کو بھی دیکھنا)۔
تمام اسمائے صفات اسمِ اعظم میں جمع ہیں۔ اسمِ اعظم مولائے برحق(روحی فداہ‘) کے پاس ہے۔ بلکہ وہ خود ہی اسمِ اعظم اور اسمِ ذات ہے کیونکہ آیۃ الکرسی کا سرِّ اعظم یہی ہے۔
قرآنِ پاک کا حکیمانہ فیصلہ یہ ہے کہ معبودِ برحق اَلْحَیُّ القَیُّوْمْ ہے، اسی وجہ سے آیۃ الکرسی تمام قرآنی آیات کی سردار ہے۔
پیر ۹؍ مئی ۲۰۰۵ء
۴۶
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۷۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ فرقان (۲۵: ۲۵):
ترجمہ: آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اس روز نمودارہوگا اور فرشتے کثرت سے جوق در جوق نازل کیے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمان کی ہوگی۔
سورۂ فجر (۸۹: ۲۲)؛ سورۂ بقرہ (۰۲: ۲۱۰)؛ سورۂ اعراف (۰۷: ۵۳)؛ سورۂ قیامہ (۷۵: ۲۲ تا ۲۳)۔
کتابِ کوکبِ درّی بابِ اوّل منقبت ۳۸۔
منگل ۱۰؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
آیت ِ وَاعْتَصِمُوْا(۰۳: ۱۰۳) اورآیتِ وَاعْتَصِمُوْا(۲۲: ۷۸) کا سنگم۔
وَاعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًاوَّلَاتَفَرَّقُوْا(۰۳: ۱۰۳)۔
وَاْعتَصِمُوْابِاللّٰہِ ھُوَمَوْلٰکُمْ فَنِعْمَ اْلمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ(۲۲: ۷۸)۔
وَمَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْھُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (۰۳: ۱۰۱)۔
ان تینوں آیات ِکریمہ کا ایک ہی مطلب ہے، یعنی اَلْحَیُّ الْقَیُّوم سے وابستہ ہوجاؤ۔
؎ ز نورِ او تُو ہستی ہمچو پرتَو
حِجاب ازپیش برداروتُواُوشَو
۴۷
ترجمہ: حقیقت میں تواس کے نور کا عکس ہے۔ سامنے سے پردہ ہٹا کر تواس کے ساتھ ایک ہوجا۔
منگل ۱۱؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات ﷲ علیہ کا فرمانِ پاک ہے کہ تم نورانی بدن کے ساتھ بہشت میں جاؤ گے۔ معلوم ہو! کہ نورانی بدن جثّۂ ابداعیہ ہے، قرآنِ حکیم میں جس کے کئی نام آئے ہیں، قصّۂ طالوتؑ(۰۲: ۲۴۷) میں جثّۂ ابداعیہ سے متعلق ایک عالیشان حکیمانہ اشارہ موجود ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ وَزَادَہ‘ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ۔
پہلے اس کا ظاہری ترجمہ قرآن میں پڑھ لیں۔
تاویل: نورانی بدن حاصل کرنے کیلئے حقیقی علم و حکمت بیحد ضروری ہے۔
خداوندِ برحق اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم اگر آپ کو جثّۂ ابداعیہ عطا فرماتا ہے تو آپ کی دنیوی زندگی بھی بہشت کی زندگی میں بدل جاتی ہے، یہاں زَادَہ‘ میں ایک ایسا لطیف اشارہ پوشیدہ ہے۔ یعنی نورانی بدن میں نور ہے، اور نور میں ماضی اور مستقبل کی کلّی رسائی ہے۔ پس نورانی بدن میں آپ کی تمام زندگی کی کامیاب اور پسندیدہ نورانی مووی ریکارڈ ہے جو بہشت کا حصہ ہے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی مَنِّہٖ وَاِحْسَانِہٖ۔
منگل ۱۱؍ مئی ۲۰۰۵ء
۴۸
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سو رۂ رعد (۱۳: ۱۵) : وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰواتِ وَالْاَرضِ طَوْعاً وَّ کَرْھَاوَّظِلَا لُھُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۔
ترجمہ: وہی اللہ اَلْحَیُّ القَیُّوم ہے جس کو تمام ساکنانِ آسمان و زمین طوعاً و کرھاً سجدہ کررہے ہیں اور تمام چیزوں کے سائے صبح و شام اس کے آگے جھکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ فرشتوں نے آدمؑ کیلئے گرتے ہوئے سجدہ کیا، لیکن یہ راز صرف اہلِ معرفت ہی کو معلوم ہے کہ اس حال میں آدمؑ پر روحانی قیامت گزر رہی تھی۔ جس میں اَلْحَیُّ القَیُّوم کا پاک نور کار فرما تھا، لہٰذا فرشتوں کا سجدہ دراصل نورِ قائم القیامت ہی کیلئے تھا، یہ سچ ہے کہ بہشت کے پھل دو دو ہوتے ہیں یعنی دو حکمتوں کا سنگم ہوتا ہے (۵۵: ۵۲)۔
جمعرات۱۲؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ نحل (۱۶: ۸۹) میں ارشاد ہے: وَنَزَّلْنَاعَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًالِّکُلِّ شَیْئٍ وَّھُدًی وَّرَحْمَۃً وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ۔
ترجمہ: ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کر دی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے۔ اور ہدایت و رحمت و بشارت ہے ان لوگوں کیلئے جنھوں نے بحقیقت سرِ تسلیم خم کر دیا ہے۔ یعنی قرآن اپنے ظاہر اور باطن (تاویل)کے ذریعے سے ہر ہر چیز کی مکمّل وضاحت کرتا ہے۔
پس قرآن کی نورانی تاویل روحانی قیامت میں ہے، جس کو حضرتِ قائم (ع۔س۔) = اَلْحَیُّ القَیُّوْم برپا کرتا ہے (۰۷: ۵۳)۔
۴۹
اگرچہ یہ بندہ (راقم) سب سے حقیر ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس نے زمانۂ یارقند میں حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کی رحمت و عنایتِ بے نہایت سے حضرتِ قائم (ع۔ س۔) کو نورانیّت میں پہچان لیا ہے، اور آنجناب جو زندہ اسمِ اعظم اور نورِ اقدم ہیں، اپنے گونا گون معجزات کا دائرہ اپنے نور کے پروانوں میں وسیع ترکر رہے ہیں۔ الحمدللہ
جمعرات ۱۲؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
چون نمی گویم، مرا دلدار می گوید: “بِگُو” روحانی قیامت کا پہلا دروازہ اسمِ اعظم ہے اور دوسرا دروازہ مُوْتُوْا کے فرمانِ رسولؐ پر عمل کرنا ہے، مُوْتُوْ ا (مر جاؤ) کا حکم قرآن (۰۲: ۲۴۳) میں بھی ہے، پس روحانی قیامت میں بے شمار و بے پایان فائدے ہیں، اس میں خود شناسی بھی ہے اور خدا شناسی بھی۔ اس میں تمام مثالیں جمع ہیں، لہٰذا یہ جامع الامثال ہے۔ اور قرآنِ حکیم کی کوئی مثال اس سے خارج نہیں ہے، اس میں سب سے بڑی عجیب و غریب حکمت یہ ہے کہ جہاں قصّۂ آدم کی تاویل ہے وہاں شبِ قدر اور ظہورِ قائم کی مثال بھی موجود ہے۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ!
روحانی قیامت میں جہاں سے آپ کا اسمِ اعظم اسرافیل اور عزرائیل کے سنگم سے جاری ہونے لگتا ہے تو یہ حضرتِ قائم (ع۔ س) کی ذکری تجلّی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ناقورِ نورِ قائم میں عالمِ ذرّ کی زبان سے ناقوری تجلّی جاری ہوتی ہے، ڈالاس کے تاویلی معجزات میں یہ مشاہدہ بھی ہوا ہے کہ ایک نورانی لڑکی بہشت کی بانسری بجا رہی تھی یہ ایک اسرفیلی تجلّی تھی، تاکہ عزیزان کو یقینِ کامل حاصل ہو! آمین!
جمعۃ المبارک ۱۳؍ مئی ۲۰۰۵ء
۵۰
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اختصار کی غرض سے اسمِ اعظم کے بعد دوسرا دروازہ “مُوْ تُوْا” بتایا حالانکہ دوسرا دروازہ بیت الخیال ہے، اور تیسرا دروازہ نفسانی موت اور روحانی قیامت ہے۔ بیت الخیال اگرچہ روحانی قیامت کا ابتدائی سفر ہے، پھر بھی یہ روشن خیالی کی ایک کائنات ہے۔
جس کی تجلّیاتِ گوناگون بڑی عجیب و غریب ہیں۔ یہ فرشتۂ جبرائیل کا مقام (مرتبہ) ہے اور اس کا آخری حصہ میکائیل کا مرتبہ ہے۔ اور روحانی قیامت اس سے برتر ہے، جبکہ وہ اسرافیل اور عزرائیل کا درجہ ہے۔
جمعۃ المبارک ۱۳؍مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ زمر (۳۹: ۶۷ تا ۶۹) ترجمۂ ا رشادِ مبارک: ان لوگوں نے اللہ ( اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم ) کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ (اس کی قدرتِ کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ) روحانی قیامت کے روز پوری زمین اس کی مُٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دستِ راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ پاک اور برتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں اور اس روز صور پھونکا جائے گا اور وہ سب بے ہوش ہو جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، (یعنی اس روحانی قیامت سے بالکل بے خبر رہیں گے) سوائے ان لوگوں کے جن کو اَلْحَیُّ القیُّوم اس قیامت سے آگاہ کرنا چاہے۔ پھر تقریباً چالیس سے پچاس سال کے بعد ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔ زمین اپنے ربّ کے نور سے چمک اُٹھے گی۔
نوٹ: یہ ایک ظاہری ترجمہ ہے جس میں کلیدی تاویل کی گئی ہے۔
جمعۃ المبارک۱۳؍ مئی ۲۰۰۵ء
۵۱
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸۷
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
معجزۂ لطیفِ قلبی= باطن کے باطن کا معجزہ۔ آج بوقتِ سحر دل ہی د ل میں ایک لطیف و شیرین معجزہ ہوا، جان بار بار فدا ہو محبوبِ جان سے!
قرآنِ حکیم کی بعض سورتوں کے آخر میں خواتم ہوتے ہیں۔ چنانچہ سورۂ قمر (۵۴: ۵۵) میں ایک ایسا لاہوتی نگینہ موجود ہے۔ ترجمۂ ظاہر: حقیقی پرہیزگار لوگ یقیناً باغاتِ بہشت اور نہروں میں ہوں گے سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ (شہنشاہ) کے قریب۔
ملیک شہنشاہ(قاموس القرآن ص: ۵۴۷)۔
پس یہ عقیدہ بالکل درست ہے کہ شاہانِ بہشت بہت ہیں مگر وہاں کا شاہنشاہ ایک ہی ہے، اور وہ پاک و برتر اَلْوَاحِدُ الْقَھّار= اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم ہی ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ۔
ملیک بروزنِ فعیل بمعنیٔ فاعل وہ شاہنشاہِ حقیقی جو لوگوں میں سے بادشاہ بنا سکتا ہے کیونکہ وہ بادشاہوں کا سب سے بڑا بااختیار بادشاہ ہے۔
سنیچر ۱۴؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ ابراہیم (۱۴: ۴۸) کی تاویلی حکمت کو پھر ایک بار عشق سے پڑھ لیں۔ خداوندِ روحانی قیامت خانۂ حکمت کے حق میں تاویلی معجزات کر رہا ہے، لندن کی خصوصی ملاقات میں مولانا حاضر امام (روحی فداہٗ!) نے ارشاد فرمایاتھا: “تم ہمارے ساتھ کام کرو ہم تمہارے ساتھ کام کریں گے۔” اس فرمانِ مبارک کو جناب اعتمادی شفیق سچادینا صاحب اور جناب ڈاکٹر فقیر محمد ہونزائی
۵۲
صاحب نے سنا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں اس فرمان کے گواہ ہیں، اس ارشادِ مبارک کی رُو سے خانۂ حکمت مظہرِ حضرتِ قائم (ع۔س۔) کا ایک تاویلی ادارہ ہے، یہی سبب ہے کہ آج خانۂ حکمت کے بعض درویشوں پر تاویلی معجزات ہو رہے ہیں۔
چنانچہ زمانۂ یارقند میں چھت پھٹ جانے کامعجزہ ہوا تھا، یہ معجزۂ شق القمر(۵۴: ۰۱) کی تاویل اور تصدیق ہے۔
اور سورۂ انشقاق کے مطابق آسمان پھٹ جانے(۸۴: ۰۱ تا ۰۵) کی تاویل ہے۔
اتوار۱۵؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۸۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
رسولِ اکرم رحمتِ عالم صلعم کے اسمائے صفات سو سے بھی زیادہ ہیں، حضرتِ محمد مصطفی محبوبِ خدا کے تمام مبارک اسماء سات پاک ناموں میں جمع ہیں: (۳۳: ۴۵ تا ۴۶) پس آنحضرتؐ ایک جانب سے بشیر تھے (بشارت دینے والا) اور دوسری جانب سے نذیر = ڈرانے والا۔ چنانچہ جملۂ قرآن میں بہشت کی بشارت بھی ہے، اور دوزخ کا خوف بھی ہے، اسی قانون کے تحت معجزات بھی دو قسم کے ہیں: بشارت والے معجزے اور ڈرانے والے معجزے۔ اور یقیناً اسی قانونِ الٰہی میں بہت بڑی حکمت ہے۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّاکَآ فَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِ یْرًاوَّلٰکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ(۳۴: ۲۸) اور (اے نبیؐ)ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کیلئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
یوسٹن
پیر ۱۶؍ مئی ۲۰۰۵ء
۵۳
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ بلد (۹۰: ۰۱ تا ۰۴) : لَآاُقْسِمُ بِھٰذَاالْبَلَدِ۔ وَاَنْتَ حِلّ’‘بِھٰذَاالْبَلَدِ۔ وَ وَالِدٍ وَّمَاوَلَدَ۔ لَقَدْ خَلَقْنَاالْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ۔
تاویلی حکمتیں: ھٰذَاالْبَلَدِ=شہرِ (مکہ) = اساس۔ والِد=حجتِ قائم۔ وَلد= حضرتِ قائم (ع۔ س)۔ جوابِ قَسَم: مومن کی روحانی تخلیق سخت مشقت میں ہوسکتی ہے۔ عَقَبَۃ = دشوار گزار گھاٹی۔ فَکُّ رَقَبَۃٍ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا = اپنے آپ کو نفس کی غلامی سے چھڑانا۔
یوسٹن
منگل۱۷؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
خانۂ حکمت کے حقیقی درویشوں کے نورانی خوابوں کی معرفت قرآنِ حکیم اور حدیثِ شریف میں ہے، اَلْحَمْدُلِلّٰہ! ہم ایسی معرفت سے باخبر ہیں، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ تمام خواب اسی کریمِ کارساز کی ذاتِ عالی صفات کی طرف سے ہیں، اس میں کسی انسان کا کوئی دخل ممکن ہی نہیں، اس کا تعلق براہِ راست عالمِ لاہوت کے اس الٰہی پروگرام سے ہے جو دورِ تاویل یعنی دورِ قیامت کیلئے خاص ہے اور یہ بات صرف ان خوابوں کے اشارات ہی سے معلوم ہو جاتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ اہلِ معرفت کی مخالفت ہوتی رہی ہے، اور یہ بات قطعاً ناممکن ہے کہ فیصلۂ قیامت سے پہلے تمام لوگوں کا ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی مذہب ہو، اگر یہ بات ممکن ہوتی تو قیامت کا کوئی وعدہ ہی نہ ہوتا اور نہ قیامت کی کوئی ضرورت ہوتی۔
یوسٹن
چہار شنبہ ۱۸؍ مئی ۲۰۰۵ء
۵۴
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ روم (۳۰: ۲۳): وَمِنْ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَابْتِغَآئُ کُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۔
ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور (خواب دیکھنا) اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو (غور سے) سنتے ہیں۔
مَنَام = خواب، سونا اور خواب دیکھنا، بحوالۂ قاموس القرآن، ص ۵۵۶۔
آیہ = نشانی، حکم، معجزہ، آیات = نشانیاں = معجزات، بحوالۂ قاموس القرآن، ص ۲۰۔
پس خواب میں خدا کی نشانیاں یعنی معجزات ہیں، خوابوں کے معجزات آفاق و انفس کے معجزات ہیں (۴۱: ۵۳) ان کا آخری مقصد الواحدالقہار کی توحید و معرفت ہی ہے اور بس۔
یوسٹن
چہار شنبہ ۱۸؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
قرآنِ حکیم اور کلامِ مولا میں جمع برائے واحد کی مثالیں: پہلی مثال (۰۷: ۱۸۰)دوسری مثال(۰۵: ۵۵)تیسری مثال(۵۷: ۱۲ تا ۱۳)چوتھی مثال (۴۱: ۵۳) پانچویں مثال (۲۷: ۹۳) چھٹی مثال: کتابِ کوکبِ درّی، بابِ سوم، منقبت ۸۰:
اَنَااٰیاتُ اللّٰہِ وَاَمِینُ اللّٰہِ اَنَااُحْیٖ وَاُمِیتُ اَنَااَخْلُقُ اَنَاالسَّمِیْعُ اَنَاالْعَلِیْمُ اَنَاالنَّصِیرُ
۵۵
اَنَاالَّذِی اَجُوزُ السَّمٰوٰتِ السَّبْعَ وَالاَرضِینَ السَّبعَ فِی طُرفَۃِ عَینٍ۔
ترجمہ: میں ہوں رحمتِ خدا کی آیات، اور خدا کا راز دار، اور میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، اور میں پیدا کرتا ہوں اور رِزق دیتا ہوں، میں ہوں سننے والا، میں ہوں دانا، میں ہوں بینا ظاہر و باطن اشیاء کا، میں ہوں وہ شخص جو ساتوں آسمانوں اور زمین کے ساتوں طبقوں کی چشمِ زدن میں سیر کرتا ہے۔
یوسٹن
یومُ الخمیس ۱۹؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
بحوالۂ کتابِ جماعت خانہ، ص ۹۴، تاشغورغان میں اس بندۂ کمترین کی تاویلی قربانی خواب میں ہوئی تھی، جس کی ایک تاویل (۱۸: ۷۴) اور دوسری تاویل (۳۷: ۱۰۷) ہے، اور ذِبحٍ عظیم کی تاویل روحانی قیامت ہے، جس کا ذکر ہو چکا ہے۔
قبلہ اور مسجدالحرام کی تاویل جاننا سب سے ضروری ہے، جبکہ یہ تاویل خداوندِ قیامت سے متعلق ہے، معجزۂ اسرافیلی اور معجزۂ عزرائیلی کا سنگم اسمِ اعظمِ قیوم قیوم قیوم تا آخر ہے۔
ایک عظیم فرشتہ جو اسرافیل اور عزرائیل کا سنگم ہے، اس کا تصوّر انسان اور باز کا سنگم ہے، مرکزِ علم و حکمت لندن کے ایک فرشتۂ ارضی کے ایسے تصوّر کا مشاہدہ ہوا ہے۔
یوسٹن
یوم الجمعہ ۲۰؍مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
ہر روحانی قیامت میں کُلّ روحیں حاضر ہو جاتی ہیں، چنانچہ زمانۂ یارقند میں تمام عزیزان روحاً
۵۶
میرے ساتھ موجود تھے، الواحد قہار اپنی رحمتِ بے نہایت سے میرے عزیزان کو میری کاپیاں بنا رہا تھا، یہ سب سے عظیم معجزہ اسرافیلی اور عزرائیلی منزل میں ہوتا ہے، پس ہم سب یقیناً نفسِ واحدہ (۳۱: ۲۸)ہیں، خانۂ حکمت کے جس گھر میں اور جس فرد میں حضرتِ قائم (ع۔ س) کاجیسا بھی کوئی بابرکت معجزہ ہوتا ہے، اس میں ہم سب سربسجود حاضر ہیں، یہ اعلان نورانی خوابوں میں بھی ہو چکا ہے کہ ہم سب ایک ہیں، ہم سب ایک ہیں، ہم سب ایک ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اب وقت بہت ہی کم ہے، لہٰذا تمام عزیزان آخری بار روحانی ترقی کیلئے سخت سے سخت کوشش کریں، آمین!
یوسٹن
یوم الجمعہ ۲۰؍مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
جمع برائے واحد: سورۂ حدید(۵۷: ۱۲ تا ۱۳):
یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْۚ-قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًاؕ-فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌؕ-بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ۔
ترجمہ: اس دن جب کہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کانور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا، (اُن سے کہا جائے گا کہ)”آج بشارت ہے تمہارے لئے” جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے بڑی کامیابی۔ اس روز منافق مردوں اور عورتوں کاحال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے “ذرا
۵۷
ہماری طرف دیکھو تا کہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں” مگر ان سے کہا جائے گا “پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو” پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔
یعنی یہاں مومنین و مومنات کا نمائندہ سالک (عارف) ہے جو نورِ حضرتِ قائم (ع۔ س) کا دیدار کررہا ہے، مقام عالمِ شخصی اور درجہ حظیرۂ قدس ہے، اور مومنین و مومنات بحالتِ عالمِ ذرّ موجود ہیں۔
سورۂ تحریم (۶۶: ۰۸): رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَاۚ-اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔”
ترجمہ: اے ہمارے ربّ! ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کردے اور ہم سے درگزرفرما! تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
ڈالاس
یومُ الاحد ۲۲؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹۷
حضرتِ مولا (روحی فداہٗ) کا ایک عظیم تاویلی معجزہ:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
اَلْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ (۰۲: ۲۵۵)۔
اَلْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ (۲۲: ۶۲)۔
اَلْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ (۳۱: ۳۰)۔
اَلْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ (۳۴: ۲۳)۔
۵۸
اَلْعَلِیِ الْکَبِیْرِ (۴۰: ۱۲)۔
اَلْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ (۴۲: ۰۴)۔
عَلِیّ ’‘حَکِیْم’‘ (۴۲: ۵۱)۔
لَعَلِیّ ’‘حَکِیْم’‘ (۴۳: ۰۴)۔
عَلِیّاً کَبِیْرًا (۰۴: ۳۴)۔
لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیّاً (۱۹: ۵۰)۔
مَکَاناً عَلِیّاً (۱۹: ۵۷)۔
عِلِّیِّیْنَ =عِلِّیُّوْنَ (۸۳: ۱۸ تا ۱۹)۔
ڈالاس
یومُ الاثنین ۲۳؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
بحوالۂ سورۂ فرقان (۲۵: ۴۵)اس ارشادِ مبارک کی نورانی تاویل کا تعلق حظیرۃ القدس کی عرفانی بہشت سے ہے، جہاں عارفوں کو اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم کا پاک دیدار ہوتا ہے، اور ظلِّ علیؑ و ظلِّ فاطمہؑ یعنی عکسِ نورِعلی و عکسِ نورِ فاطمہ کا راز معلوم ہو جاتا ہے، پس عزیزان ظلِّ علیؑ اور ظلِّ فاطمہؑ کی حکمت کو سمجھنے کیلئے سعیٔ بلیغ کریں۔
یاد رہے کہ ظلِّ علی کے دو معنی ہیں، بفضلِ مولا ہمارے بعض عزیزان نے آئینۂ دل میں
۵۹
حضرتِ قائم کے نورِ پاک کو چشمِ باطن سے دیکھا ہے، یقینا قائم وہ بہشت ہے، جس کا ذکر سورۂ محمد (۴۷: ۰۶) میں ہے، اَلْحَمدُلِلّٰہ علیٰ مَنِّہٖ وَاِحسانِہٖ۔
ڈالاس
منگل ۲۴؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۹۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
الوَاحِدُ القَھَّارُ(۱۲: ۳۹)۔
الواحِدُ القَھَّارُ (۱۳: ۱۶)۔
الوَاحِدِ القَھَّارِ(۱۴: ۴۸)۔
الوَاحِدُ القَھَّارُ (۳۸: ۶۵)۔
الوَاحِدُ القَھَّارُ (۳۹: ۰۴)۔
الوَاحِدِ القَھَّارِ(۴۰: ۱۶)۔
اے عزیزان! قرآنِ حکیم کے ان حوالہ جات میں حضرتِ ملیک= شاہنشاہِ دو جہان کی پاک معرفت ہے، قرآن میں لفظِ شاہنشاہ = ملیک(۵۴: ۵۵)میں ہے۔
ڈالاس
منگل ۲۴؍ مئی ۲۰۰۵ء
روحانی سائنس اور مادّی سائنس کا سنگم
قسط: ۱۰۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْم۔
سورۂ حشر (۵۹: ۲۰ تا ۲۴): لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِؕ-اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-
۶۰
وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِۚ-هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰىؕ-یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۔
ترجمہ: دوزخ میں جانے والے اور جنّت میں جانے والے کبھی یکسان نہیں ہو سکتے، جنّت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں، اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ ﷲ کے خوف سے دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے، یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اسلئے بیان کرتے ہیں کہ وہ (اپنی حالت پر) غور کریں، وہ ﷲ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا، وہی رحمان اور رحیم ہے، وہ ﷲ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس، سراسر سلامتی، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا، اور بڑا ہی ہوکر رہنے والا، پاک ہے ﷲ اس شرک سے جو لوگ کررہے ہیں، وہ ﷲ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے، اس کیلئے بہترین نام ہیں، ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کررہی ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔
حاشیہ (۱۰۰) اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِینَ وَالعَاقِبَۃُ لِلّمُتَّقِین۔ زمانۂ یارقند (چین) میں حضرتِ اسمِ اعظم = نورِ اقدم کے جو جو عظیم معجزات ہوئے، ان سب میں قرآنِ حکیم کی تاویلات ہی تاویلات ہیں، اور یہ بھی تاویل ہی ہے کہ قرآن کے بعض مقامات یا الفاظ کی طرف اشارہ ہوتا تھا، ان اشارات میں لفظِ کَذَالِکَ بھی ہے، یہاں جس پہاڑ پر قرآن نازل کرنے کا ذکر آیا ہے، وہ کوہِ عقل = گوہرِعقل اور کتابِ مکنون کا سنگم ہے۔
۶۱
میں تمام قائم شناس عاشقوں سے بصدِ شوق قربان ہو جانا چاہتا ہوں، آمین!
ڈالاس
یوم الاربعہ ۲۵؍ مئی ۲۰۰۵ء
۶۲
روحانی سائنس کے عجائب و غرائب
روحانی سائنس کے عجائب و غرائب
(قسطِ اوّل)
آج سے تقریباً چودہ سو (۱۴۰۰) سال قبل قرآنِ پاک نے بڑے واضح الفاظ میں یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ لوگوں کو آفاق و انفس میں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھانے کا سلسلہ شروع کرے گا (۴۱: ۵۳) چنانچہ ہم کسی شک کے بغیر یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کی وہ نشانیاں یا عجائب و غرائب آج مادّی سائنس اور اس کے ایجادات کی شکل میں لوگوں کے سامنے ظاہر ہیں، اور قدرتِ خدا کی یہی نشانیاں کل بحیثیتِ روحانی سائنس عالمِ شخصی میں اپنا انتہائی حیرت انگیز کام کرنے والی ہیں۔
اگر قادرِ مطلق کی ظاہری و مادّی نشانیوں کو سائنس کا نام دیا جا سکتا ہے تو یقیناً اس کی باطنی و روحانی نشانیوں کو روحانی سائنس کہا جا سکتا ہے، کیونکہ آفاق و انفس اور ان میں ظہور پذیر ہونے والی آیات سب کی سب خدا ہی کی ہیں، تاہم ان آیات اور اس سائنس کی بہت بڑی اہمیّت و فضیلت ہوگی، جس کے حیران کن معجزات عالمِ شخصی میں رونما ہونے والے ہیں، کیونکہ انسان کا مرتبہ تمام کائنات و موجودات سے ارفع و اعلیٰ ہے۔
روحانی سائنس کے عظیم الشّان ظہور سے متعلق قرآنِ حکیم کی یہ پُرحکمت پیش گوئی عوام النّاس اور اکثریت کی نسبت سے فرمائی گئی ہے، ورنہ حضراتِ انبیاء و اولیاء علیہم السّلام اور عارفین و کاملین کے نزدیک روحانی سائنس انسانی تاریخ
۱
کی ابتداء ہی سے اپنا کام کرتی چلی آئی ہے، جس کی مثالیں کتبِ سماوی میں بکثرت ملتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ روحانی ترقی کی بدولت روحِ اعظم کے عظیم اسرار سے ہمیشہ استفادہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ خواجہ حافظ کا یہ مشہور شعر ہے
فیضِ روح القدس ار باز مدد فرماید
دیگران ہم بکنند آنچہ مسیحا می کرد
روح القدّس کا فیض اگر پھر سے مدد فرمائے، تو دوسرے لوگ بھی ایسے معجزے کریں گے جیسے حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کرتے تھے۔
اگر آج مجھ ایسا ایک ناچیز عام آدمی روحانی سائنس کے بھیدوں سے بحث کر رہا ہو تو ضروری طور پر آپ یوں سمجھ لیجئے کہ اب وہ بابرکت زمانہ آ رہا ہے جس میں مذکورۂ بالا قرآنی پیش گوئی کے مطابق خاص روحانی سائنس عوام کی خاطر عام ہونے والی ہے تا کہ حقیقی معنوں میں عالمِ انسانیّت کی مادّی، اخلاقی اور روحانی ترقی ہوسکے، جی ہاں، یقیناً یہ بات زرِّ خالص کی طرح صاف اور سچ ہے کہ جب تک روحانی سائنس کا عظیم الشّان انقلاب نہ آجائے تب تک دنیا والوں کے یہ تمام سخت پیچیدہ مسائل ختم نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی سیّارۂ زمین کی غربت و جہالت کا خاتمہ ہوسکتا ہے، کیونکہ صرف روحانی سائنس ہی ہے جس میں پروردگارِعالمین نے تمام لوگوں کے لئے بے حد و بے حساب علمی برکتیں رکھی ہیں، جس کی ایک روشن مثال مادّی سائنس ہے جس کی وجہ سے دنیا کی ظاہری ترقی ہوئی ہے۔
خدائے بزرگ و برتر نے ارض و سماء کی جملہ اشیاء کو انسان کے لئے بحدِّ فعل یا بحدِّ قوّت مسخر بنا دیا ہے۔ اس عظیم ترین احسان کا ذکر قرآنِ پاک کی متعدد آیاتِ کریمہ میں آیا ہے، اس ربّانی تعلیم میں ظاہری و باطنی دونوں قسم کی سائنس کی طرف بھرپور توجہ دلائی گئی ہے، اب ہم سطورِ ذیل میں روحانی سائنس کی بعض ایسی
۲
اہم اور عجیب و غریب چیزوں کا ذکر کر دیتے ہیں جن کا کسی ادارے کو مشاہدہ اور کسی حد تک تجربہ ہو چکا ہے۔
سب سے پہلے اس بے مثال حقیقت کی تصدیق کی جاتی ہے کہ انسان نہ صرف عالمِ شخصی (عالمِ صغیر) ہی ہے، بلکہ یہ خدا کی خدائی میں واحد روحانی عجائب گھر بھی ہے، اس عجائب خانۂ قدرت میں بے حد و بے حساب زندہ اور بولنے والے عجائب و غرائب موجود ہیں، منجملہ یہاں طرح طرح کی پُرحکمت مثالوں پر محیط ذی حیات ذرّات پائے جاتے ہیں، یہ آپ کو نہ صرف یاجوج و ماجوج اور روحانی لشکر کی حیران کن مثال پیش کر سکتے ہیں، بلکہ عالمِ ذرّ سے متعلق تمام عرفانی اسرار کا عملی مظاہرہ کرنا بھی انہی کا کام ہے، چنانچہ جسمِ لطیف اور روح پر مبنی ان چھوٹے چھوٹے لاتعداد ذرّات کا انوکھا قصّہ بڑا طویل ہے۔
اس سلسلے میں یہ بھی بتا دینا ضروری ہے کہ روحانی سائنس میں حواسِ ظاہر و باطن مل کر کام کرتے ہیں، لہٰذا ان کی روحانی تربیت بے حد ضروری ہے، جس طرح کسی قابل شخص کو خلا میں بھیجنے سے قبل شدید بدنی مشقیں کراتے ہیں، پھر اس کو سیّارۂ زمین کی کشش سے باہر جانا پڑتا ہے، اسی طرح روحانی سائنس کے تجربے کی خاطر انتہائی شدید ریاضت کے ساتھ ساتھ کرّۂ نفسانیّت کی کشش سے بھی بالاتر ہو جانے کی سخت ضرورت ہے، ورنہ ممکن ہے کہ کوئی آدمی یہ کہنے کی جرأت کرے کہ “روحانی سائنس” نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔
بابرکت روحانی سائنس کا ایک عظیم اور بڑا مفید تجربہ یہ بھی ہوا ہے کہ آدمی کی قوّتِ شامہ کو ایسی گوناگون خوشبوئیں حاصل ہو سکتی ہیں، جن میں لطیف جوہری غذائیں بھی ہیں اور مختلف بیماریوں کے لئے روحانی دوائیں بھی، اس مقام پر خوب غور و فکر کرنے سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ ہر چیز کی اصل جوہر کا خزانہ روح ہی ہے،
۳
یعنی ہر پھول، پھل اور جڑی بوٹی میں جیسا رنگ اور جس قسم کی خوشبو ہے، وہ روح کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ روح ہی کا کمال ہے جو رنگ و بو اور ذائقہ لے کر پھول، پھل، فصل اور دیگر نباتات میں آتی ہے۔
چلہ جیسے شدید حالات کسی درویشِ دلریش کے حق میں کتنے بابرکت ہوا کرتے ہیں، اس کا اندازہ صرف اہلِ دانش ہی کر سکتے ہیں، ایک ایسے گرانقدر وقت میں جبکہ بھوک اور پیاس بے حد عزیز لگ رہی تھی مؤکل نے پوچھا: بتاؤ کن کن خوشبوؤں کی کیفیّت میں لطیف غذا کا تجربہ چاہتے ہو؟ عرض کی گئی کہ میں روحانی دولت کے لئے بے حد محتاج اور غریب ہوں، لہٰذا چند ایسے پھولوں، پھلوں اور نباتات کی الگ الگ خوشبوؤں کا تجربہ چاہتا ہوں، تو ان خوشبوؤں کا تجربہ کرایا گیا، جس کو اگر روحانی سائنس کی خوشخبری قرار دی جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
روحانی سائنس کا ذاتی تجربہ بطورِ خاص اس منزل میں شروع ہو جاتا ہے، جہاں سالک پر جیتے جی نفسانی موت واقع ہو جاتی ہے، اس موت کے تجدّد کا سلسلہ سات رات اور آٹھ دن تک جاری رہتا ہے تا کہ اس کے عظیم الشّان معجزات اور عجائب و غرائب پر خوب غور و فکر کیا جا سکے، اُس حال میں کائنات و موجودات کا روحانی نچوڑ یا جوہر بشکلِ ذرّات سالک میں بھر دیا جاتا ہے، اور سالک کی روح کائنات میں پھیلا دی جاتی ہے، اور یہ عمل مذکورہ عرصے تک دہرایا جاتا ہے، اسی معنٰی میں دو سانچے مقرر ہو جاتے ہیں، ایک سانچا (قالب) عالمِ کبیر کا، دوسرا سانچا عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) کا، تا کہ کائنات انسانی سانچے میں ڈھل کر انسانِ کبیر ہو جائے، اور انسان کائناتی قالب میں ڈھل کرعالمِ اکبرہو جائے، جیسا کہ مولا علیؑ نے فرمایا
اے انسان! کیا تو گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے، حالانکہ
۴
تجھ میں عالمِ اکبر سمایا ہوا ہے، پس روحانی سائنس اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا عطیہ ہے جس سے نہ صرف عالمِ شخصی اور کائنات کی تسخیر ہو جاتی ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان دونوں کی بے شمار کاپیاں حاصل ہو سکتی ہیں۔
اب ایک بہت بڑا عالمی مسئلہ سامنے ہے، اور وہ ہے: یو۔ ایف۔ اوز سے متعلق سوال کہ وہ در حقیقت کیا چیزیں ہیں؟ یہ سوال جتنا مشکل اور جیسا ضروری ہے، اس کا جواب اتنا دلچسپ اور ایسا مفید بھی ہے، وہ یہ ہے کہ یو۔ ایف۔ او اُس ترقی یافتہ انسان کا عارضی نام ہے جو کسی سیارے سے آتا ہے یا اس دنیا میں رہتا ہے، کیونکہ انسان ہی ہے جو کثیف سے لطیف ہو کر پرواز کر سکتا ہے، اور انسان ہی سے جنّ و پری ہو جاتا ہے، اس لطیف مخلوق پر خدا ہم کو آزما رہا ہے، نیز اس کے ظہور سے یہ اشارہ بھی مل رہا ہے کہ روحانی سائنس کا زمانہ آ چکا ہے ، اور “یو۔ ایف۔ او” وہ انسان ہے جو وقت آنے پر فرشتہ ہو چکا ہے، اور بحکمِ خدا اپنے ظہور سے یہ سگنل دے رہا ہے کہ دیکھو زمانہ بدل گیا، اور روحانیّت کا دور آ گیا۔
کیا جمادات کی ترقی یافتہ صورت نباتات نہیں ہیں؟ کیا نباتات سے حیوانات کا وجود نہیں بنتا ہے؟ آیا حیوان کا خلاصہ انسان نہیں ہے؟ آیا انسان روحانی ترقی سے فرشتہ نہیں بنتا ہے؟ کیا فرشتہ پوشیدہ ہونے کے معنی میں جنّ نہیں کہلاتا ہے؟ کیا مخلوقات کے آپس میں ظاہراً رشتہ اور باطناً وحدت نہیں ہے؟ اس کا مجموعی جواب اور خلاصہ یہ ہے کہ یو۔ ایف۔ اوز حقیقت میں دوسرے سیّاروں کے ترقی یافتہ انسان ہیں، جن کی روحانی سائنس درجۂ کمال پر پہنچ چکی ہے۔
عالمی یا بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ قانونِ اخلاق یہی حکم دیتا ہے کہ ہر وہ ملک و
۵
قوم جس نے ترقی کی ہے، وہ پس ماندہ لوگوں کی مدد کرے، چنانچہ دوسرے سیّاروں پر رہنے والے انسانوں یا فرشتوں کا مقدّس فریضہ یہی ہے کہ وہ اپنے ان بھائیوں کو جو روحانی سائنس میں غریب ہیں، زمین سے اُٹھا کر دوسرے ستاروں پر پہنچا دیا کریں، اللہ کے حکم سے یقیناً ایسا ہی ہوگا، یہ اُڑن طشتریاں جہاز کی شکل میں کیوں نظر آتی ہیں؟ یہ اشارۂ حکمت ہے، جس میں ان کا یہ کہنا ہے کہ ہم تمہارے کائناتی جہاز ہیں تا کہ تم کو مستقبل میں کائنات کی سیاحت کرا دی جائے۔
عظمت و بزرگی اور سلطنت و سلطانی کا ایک عجیب منشا یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ بادشاہ کبھی کبھار بھیس بدل کر اپنے ملک میں گھومے پھرے، تا کہ یہ ظاہر ہو جائے کہ لوگ کسی بھی علامت و نشان سے اس کو پہچانتے ہیں یا نہیں، خصوصاً ایسا امتحان رات کے وقت ہوا کرتا تھا، رات لا علمی کی مثال بھی ہے اور یہ باطن بھی ہے چنانچہ ترقی یافتہ انسان یا فرشتے اُڑن طشتریوں کے بھیس میں آ کر دنیا کے بڑے دانشمندوں، سائنس دانوں اور بڑی بڑی قوموں سے امتحان لیا کرتے ہیں۔
“یو۔ ایف۔ او” دراصل وہ مافوق الفطرت بشر ہے جس کو جثّۂ ابداعیہ یا آسٹرل باڈی کہا جاتا ہے، نیز یہ وہ معجزاتی کرتا ہے جس کو پہن کر یعنی اس میں منتقل ہو کر آپ نہ سردی محسوس کریں گے نہ گرمی، اور نہ ہی کوئی جنگ اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔
نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی، لندن
۱۴ جولائی۱۹۹۵ء
۶
روحانی سائنس کے عجائب و غرائب
(قسطِ دوم)
اگر قصّۂ آدم پر روحانی سائنس کی روشنی ڈالی جائے تو یقیناً اس میں سے فائدۂ بنی آدم کے بہت سے اسرار منکشف ہو سکتے ہیں، مثال کے طور پر یہ سوال کیا جائے کہ خدا کے حکم سے جن فرشتوں نے پہلے پہل حضرتِ آدم علیہ السّلام کو سجدہ کیا وہ کونسے فرشتے تھے؟ ان کی ہستی کا تصوّر کیا ہے؟ سجود میں کیا حکمت پنہان تھی؟ آیا اس میں اولادِ آدم کے لئے بھی کوئی نویدِ جانفزا ہے یا نہیں؟
اس کے لئے روحانی سائنس میں یہ جواب ہے: سب سے پہلے عالمِ ذرّ کے ملائکہ نے حضرتِ آدمؑ کو سجدہ کیا، وہ ہستی کے اعتبار سے صرف ذرّات ہی تھے، وہ آدم کی ہستی میں گر رہے تھے اور یہی سجدے کی ظاہری شکل تھی، یہ فرشتے بظاہر ذرّات لیکن بباطن تسخیرِ ذات و کائنات کی کلیدیں تھے، لہٰذا سجود اظہارِ اطاعت کے معنی میں تھا کہ یہ فرشتے آدمؑ کے لئے عالمِ شخصی اور کائنات کو حقیقی معنوں میں مسخر کر دیں گے، جی ہاں، قانونِ رحمتِ الٰہی ہرگز ایسا نہیں کہ باپ کو تاجِ خلافت سے سرفراز فرما کر مسجودِ ملائک بنا دیا جائے، اور اولاد کو ہمیشہ کے لئے آتشِ دوزخ میں دھکیل دیا جائے، لہٰذا یہ ایک یقینی حقیقت ہے کہ حضرتِ ابو البشر کے لئے جس طرح فرشتوں نے عالمِ ذرّ میں بھی اور آگے چل کر عالمِ عقل میں بھی سجدۂ فرمانبرداری بجا لایا، اس میں اس کی اولاد کے لئے دو مرحلوں میں خوشخبری ہے۔
۷
مرحلۂ اوّل یہ کہ دورِ خواص میں فضائل و کمالاتِ آدمؑ صرف انبیاء و اولیاء (علیہم السّلام) ہی کو حاصل ہو جائیں گے، اور مرحلۂ دوم میں بشارت یہ ہے کہ دورِ عوام میں روحانی انقلاب کے آنے سے آدم کی روحانیّت عوام کے لئے بھی کام کرنے لگے گی، یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم میں بنی آدم کی کرامت و فضیلت بیان ہوئی ہے، اور ان کے لئے نصیحت بھی ہے۔
روحانی سائنس کی روشنی میں یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ فرشتوں نے حضرتِ آدم علیہ السّلام کے لئے دوسرا اور آخری سجدہ عالمِ عقل میں کیا، جس میں وہ سب کے سب ایک ہی عظیم فرشتہ تھے، جب روحانی اور عقلانی قوّتوں نے فرشتوں کی مثال میں سجدہ کیا تو حضرتِ آدمؑ کی خلافت کائناتی زمین میں فعلاً قائم ہوگئی، یہاں یہ ضروری نکتہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خلافت صرف سیّارۂ زمین تک محدود نہیں، بلکہ یہ کائنات بھر کی خلافت ہے، کیونکہ قرآنِ پاک کا فرمانا ہے کہ خلافتِ الٰہیہ کی زمین بے حد وسیع ہے (۲۴: ۵۵، ۲۹: ۵۶، ۳۹: ۱۰) اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ زمین (۱) نفسِ کلّ ہے (۲) کائنات اور اس کے سارے ستارے ہیں (۳) اور عوالمِ شخصی ہیں۔
قصّۂ آدم کے روحانی اسرار بہت سے ہیں، ان میں سے صرف چند مثالیں پیش کرنے کے بعد اب ہم اُس نویدِ جانفزا کی طرف آتے ہیں جو بنی آدم کے عوام کے لئے ہے، وہ یہ کہ جب خلافتِ آدم کا اعلان فرمایا گیا تو اس میں یہ ہمہ رس و ہمہ گیر خوشخبری تھی کہ یہ خلافت آدمؑ کی حیاتِ جسمانیہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے سلسلۂ وارثین (انبیاء و اولیا علیہم السّلام) میں یہ ہمیشہ جاری و باقی رہے گی، اور جب دورِ عوام آئے گا تو اس وقت خلافتِ آدم کے عظیم معجزات ظاہر ہو جائیں گے
۸
تا کہ عوام النّاس کو روحانی سائنس کے بے شمار فائدے حاصل ہو سکیں۔
اللہ جلّ جلالہ کے اسرارِ حکمت بڑے عجیب و غریب ہوا کرتے ہیں، وہ تعالیٰ شانہ لوگوں کو ظاہر میں اختیار دیتا ہے کہ کوئی اس کی عبادت کرے یا نہ کرے مرضی ہے، لیکن باطن میں سب لوگوں کو زبردستی سے ہدایت و عبادت کے راستے پر چلاتا رہتا ہے، اور یہ بڑا حیرت انگیز کام انسانِ کامل کے عالمِ شخصی میں ہوتا ہے، آپ سورۂ رعد (۱۳: ۱۵) میں دیکھ لیں: اور اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے۔ نیز سورۂ نور (۲۴: ۴۱) میں پڑھیں: سب کو اپنی اپنی دعا /نماز اور اپنی تسبیح معلوم ہے۔ اس نوعیت کی آیاتِ کریمہ اور بھی ہیں۔
جی ہاں، یہ بات سچ اور حقیقت ہے کہ عالمِ ذرّ میں تمام چیزوں کے نمائندہ ذرّات موجود ہیں، اور اس میں ہر خاص و عام انسان کا بصورتِ ذرّۂ نمائندہ حاضر رہنا از بس ضروری ہے، چنانچہ مذکورۂ بالا قرآنی حوالہ جات کے مطابق عالمِ ذرّ میں (جو شخصِ کامل میں ہے) اللہ ہی کے لئے سب کے سب عبادت اور سجدہ کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ مریم میں ہے۔
إِن کُلُّ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِیْ الرَّحْمَنِ عَبْداً = جتنے بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں سب کے سب خدا تعالیٰ کے روبرو غلام ہو کر حاضر ہوتے ہیں (۱۹: ۹۳)۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بہت سے مشکل اور پیچیدہ مسائل ایسے ہیں جن کی تحلیل صرف روحانی سائنس ہی سے ہو سکتی ہے، جس کا ظہور بتوسطِ عالمِ شخصی دورِ عوام میں ہونے والا ہے، جیسا کہ سورۂ زمر میں ربّ العزت کا ارشاد ہے:
وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّھَا = اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے
۹
روشن ہو جائے گی (۳۹: ۶۹)۔ یہ قیامت القیامات کا ذکر ہے، جس میں روحانی سائنس یعنی ربّانی علم و حکمت سے زمین منور ہو جانے والی ہے، اور یہاں زمین سے باشندگانِ زمین مراد ہیں، پس حسبِ وعدۂ الٰہی (۴۱: ۵۳) آفاق کے بعد انفس (عوالمِ شخصی) میں بھی آیاتِ قدرت کا ظہور ہوگا، اور اسی مجموعۂ معجزات کا نام روحانی سائنس ہے، جس کی مدد سے لوگ ایسی عجیب و غریب روحانی قوّتوں کو استعمال کر سکیں گے جو مادّی سائنس سے تیار کردہ آلہ جات کی مثال پر ہیں، لیکن ان سے بدرجہ ہا برتر اور بہتر ہیں، ایسی زبردست روحانی ترقی کے دور میں یہ امر ممکن ہے کہ ظاہری آلہ جات رفتہ رفتہ ختم ہوتے چلے جائیں، مثال کے طور پر اگر ٹیلی پیتھی (اشراق) کا رواج عام ہو جائے تو ظاہری ٹیلی فون کا دردِ سر کون مول لے گا، اگر اُڑن طشتریاں رام ہو جاتی ہیں تو پھر ہوائی جہاز کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔
انسانوں کی روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ سیارۂ زمین پر بڑی بڑی تبدیلیاں آنے کا ذکر ہے، سورۂ کہف (۱۸: ۰۷ تا ۰۸) ہم نے زمین پَر کی چیزوں کو اس کے لئے باعثِ رونق بنایا تا کہ ہم لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں زیادہ اچھا عمل کون کرتا ہے، اور ہم زمین پر کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان کر دیں گے۔ یعنی جب سارے انسانوں کو خوشبوؤں کی روحانی غذا ملتی رہے گی، اس کے نتیجے میں وہ جسمِ لطیف ہو جائیں گے، اور کھیتی باڑی کی ضرورت ہی نہ رہے گی، کیونکہ لوگ لطیف ہستی کی بہشت میں ہوں گے۔
قرآنِ حکیم فرماتا ہے: کَانَ النَّاسُ أُمَّۃً وَاحِدَۃ (۰۲: ۲۱۳) لوگ سب ایک ہی امت تھے (اور ہیں) یعنی تصوّرِ ازل و ابد اور عالمِ ذرّ میں تمام انسان ایک ہی جماعت ہیں، اور سب سے بڑی قیامت میں بھی سب ایک ہو
۱۰
جانے والے ہیں، لیکن وہ اس دور میں مختلف نظریات رکھتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ ظاہر میں لوگوں کو اختیار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ متفرق و منتشر ہو گئے ہیں، اور باطن میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا اختیار ہے، جس کے سبب سے وہ انسانِ کامل کے عالمِ شخصی میں سلکِ وحدت سے پروئے ہوئے ہیں۔
بعض قرآنی سورتوں کے آخر میں بطورِ خلاصہ زبردست علم و حکمت والی آیاتِ کریمہ وارد ہوئی ہیں، جن کو علمائے علوم القرآن “خواتم” کے نام سے جانتے ہیں، ایک ایسی پُر از علم و حکمت آیۂ شریفہ سورۂ نمل کے آخر میں ہے، جس کا ترجمہ یہ ہےاور آپ کہہ دیجئے کہ تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھلا دے گا سو تم ان کو پہچانو گے اور آپ کا ربّ ان کاموں سے بے خبر نہیں ہے جو تم سب لوگ کر رہے ہو (۲۷: ۹۳)۔ قرآنِ عظیم کا یہ حکمت آگین خطاب بتوسطِ حضرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم تمام انسانوں سے فرمایا گیا ہے، جس میں ظاہری اور باطنی سائنس کی شکل میں معجزاتِ قدرت کے ظہور، مشاہدہ اور معرفت کی پیش گوئی ہے، یہ ان عظیم آیات و معجزات کا ذکرِ جمیل ہے جن کے مشاہدۂ عین الیقین اور حق الیقین سے مؤمنِ سالک کو اپنی ذات اور حق تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔
میں یہاں اپنے مضمون کی دونوں قسطوں کے اصل مطلب کو واضح کر دینے کے لئے ایک بڑا اہم سوال کرتا ہوں، وہ یہ کہ خالقِ اکبر نے تمام لوگوں کو کس ارادے سے پیدا کیا؟ آیا خدا یہ نہیں چاہتا تھا کہ لوگ خوشی سے یا زبردستی سے اس کے پاس لوٹ جائیں؟ کیا حقیقت کچھ ایسی نہیں ہے کہ اگر ایک آدمی اپنے اختیار سے بڑا غلط کام کرتا ہے تو اس کو ایک وقت کے لئے سزا دی جاتی ہے، لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ کے
۱۱
ارادۂ ازل کے مطابق فیصلہ ہو جاتا ہے جس میں خیر ہی خیر ہے؟
اس کا پرحکمت جواب یہ ہے: الخَلقُ عِیالُ اللّٰہ، وَ اَحَبُ الخلقِ اِلَی اللّٰہِ مَن نَفَعَ عِیالَہ، وَ اَدْخَلَ السّرورَ عَلیٰ اَہلِ بَیتہ۔ ساری مخلوق (گویا) اللہ کا کنبہ ہے، لہٰذا خدائے بزرگ و برتر کے نزدیک سب سے محبوب و پسندیدہ شخص وہ ہے جو اُس کے کنبے کو زیادہ فائدہ پہنچائے اور اس کے اہلِ خانہ کو مسرور و شادمان کر دے۔
والسلام مع الاحترام
نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی
لندن
۱۸ جولائی۱۹۹۵ء
۱۲
روشنائی نامہ – نورِ عرفان
روشنائی نامہ – نورِ عرفان
گزارشِ احوال
عالمِ دین اور دُنیائے علم و ادب اس امر سے بخُوبی واقف و آگاہ ہے کہ حکیم نامور پیر سیّدنا ناصر خسرو قدس اللہ سرّہٗ کی حکیمانہ تعلیمات تحقیق و تدقیق اور حکمت و معنویّت کی ایک نرالی شان رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ہوش مند اور باشعور انسان آپ کے پیش کیے ہوئے اسرارِ روحانیّت سے بھرپور حقائق و معارف کی چاشنی اور لذّت سے ایک بار بہرہ ور اور لطف اندوز ہو جاتا ہے، تو پھر کبھی وہ ان روشن حقیقتوں اور اعلیٰ معرفتوں کی راہ و روش سے بے پرواہ نہیں رہ سکتا، تا آنکہ وہ دینی و روحانی علوم و حِکم سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ الغرض پیر صاحب کے علمی جاہ و جلال اور عرفانی فضل و کرم کا صحیح اندازہ اس وقت ہو سکتا ہے، جبکہ ان کی پُر حکمت اور پُر اسرار تصانیف کا بغور مطالعہ کیا جائے۔
زیرِ نظر کتاب موصوف حکیم کی ایک مشہور و معروف تصنیف
۳
“روشنائی نامہ” کی پہلی چوتھائی کے ترجمہ اور تشریح پر مشتمل ہے جو “نورِ عرفان” کے پیارے اسم سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور روشنائی نامہ کے مرادی معنی بھی یہی ہیں، اگرچہ اصل کتاب کے تقریباً نصف حصّے تک ترجمہ ہو چکا ہے۔ لیکن اس مصلحت کے پیشِ نظر کہ کتاب کی ضخامت کم ہو، اس چوتھائی پر اکتفا کیا گیا ہے، تاکہ قارئین خصوصاً نئی نسل کو اس کے مطالعے کے لیے وقت مل سکے۔ اور یہی بہتر ہے کہ چھوٹی چھوٹی کتابوں کی صورت میں دینی علوم پیش کیے جائیں۔
اس کتاب میں جو اصل کتاب کے کل ۵۹۱ حکیمانہ اشعار میں سے صرف ۱۶۲ شعروں کا ترجمہ و تشریح ہے۔ دو دلکش اور اعلیٰ موضوع سموئے ہُوئے ہیں۔ جن میں سے پہلے کا عنوان “حمد باری تعالیٰ” اور دُوسرے کا “نصیحت” ہے۔
آپ شاید باور کریں گے کہ میں نے ترجمہ و تشریح کے سلسلے میں کافی کوشش کی ہے، کہ پیر ناصر خسرو کے حکیمانہ کلام کے مفہومات کو شایانِ شان طور پر اُردو میں منتقل کیا جائے، لیکن مجھے اعتراف ہے کہ مجھ سے ایسا نہ ہو سکا ہے،
۴
جس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔
مجھے آخر میں ایچ۔ آر۔ دی آغاخان اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان کے افسروں، اہلکاروں اور اسکالروں کا بہت بہت شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اُنھوں نے از راہِ علم گستری میری اس کتاب کی مکمل سرپرستی قبول فرما کر اس کی طباعت و اشاعت کا اہتمام کیا، تاکہ ایسی کتابوں کے ذریعے جماعت کی علمی طاقت میں اضافہ ہو، دعا ہے کہ پروردگارِ عالم ہماری جماعت اور اس کے تمام اداروں کو علم و عمل کی نیک توفیق اور اعلیٰ ہمت عطا فرمائے! آمین یا ربّ العالمین
آپ کا ایک علمی خادم
نصیر اُلدّین نصیرؔ ہونزائی
۴/اپریل۱۹۷۶ء
۵
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(حمد باری تعالیٰ)
بنامِ آنکہ داریِ جہان است
خداوندِ تن و عقل و روان است
ترجمہ:اُس (خدا) کے نام سے (آغاز کرتا ہوں) جو کائنات کا نگہبان ہے، اور جسم و جان اور عقل کا مالک ہے۔
تشریح: حضرت پیر ناصر خسرو قدس اللہ سرّہٗ حکمت کی زبان میں فرماتے ہیں، کہ اگرچہ عام اعتقاد کے مطابق حق تعالیٰ ہر چیز کا نگہبان اور مالک ہے، لیکن حقیقت میں اس کی صفاتِ عالیّہ کے فیوض و برکات سے تمام مخلوقات یکسان طور پر مستفیض نہیں ہو سکتیں، بلکہ وہ حسبِ مراتب فیض یاب ہوتی رہتی ہیں، پس اللہ تعالیٰ کائنات کا نگہبان ہے اور انسانوں کا حقیقی مالک ہے، اور دونوں صفتوں میں جو کچھ فرق و تفاوت ہے، وہ یہ ہے کہ نگہبانی اور محافظت کی جانے والی مخلوق کے لئے یہ قید و شرط ضروری نہیں، کہ وہ اپنے نگہبان اور محافظ کو پہچانے اور اس کی فرمانبرداری کرے، مگر مملوک ہونے کے لیے یہ شرط
۶
لازمی اور ضروری ہے، کہ اپنے مالک کو پہچان لیا جائے اور اس کی فرمانبرداری کی جائے۔
خرد زا ادراکِ او حیران بماندہ
دل و جان در رہش بی جان بماندہ
ترجمہ: عقل و دانش اس کے پانے سے (قاصر ہو کر) حیران رہ گئی ہے، دل اور جان اس کی راہِ طلب میں بیدم اور پژمردہ ہو گئی ہے۔
تشریح: حضرت پیر اپنے اِس قول میں اِس آیۂ کریمہ کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ:
لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ٘-وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ(۰۶: ۱۰۳)
اُسے آنکھیں نہیں پا سکتیں وہ آنکھوں کو پا لیتا ہے۔ یہاں آنکھوں سے انسانی عقل و روح کی قوّتیں مراد ہیں، پس معلوم ہوا کہ عقل و روح کی قوّتیں خدا کو نہیں پا سکتیں، لیکن خدا خود ان قوّتوں کو پا لیتا ہے، جس کی مثال سورج کی طرح ہے، کہ حقیقت میں ہماری آنکھیں کروڑوں میل کی مسافت سے گزر کر سورج کو نہیں دیکھ سکتیں، بلکہ سورج خود بخود ہماری آنکھوں میں آ جاتا ہے، یہاں سوچنے اور تجربہ کرنے کی ضرورت ہے۔
۷
بہر وصفی کہ گویم زان فزون است
زہر شرحی کہ من دانم برون است
ترجمہ: میں جیسے بھی اس کی تعریف و توصیف کروں وہ اس سے بڑھ کر ہے، ہر اس تشریح سے، جو میں جانتا ہوں، وہ بالا و برتر ہے۔
تشریح: حکیم صاحب کا یہ شعر اِس قرآنی تعلیم کے مطابق ہے:
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَ(۳۷: ۱۸۰)
آپ کا پروردگار جو عزّت کا پروردگار ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں “رَبِّ الْعِزَّةِ” کے معنی ہیں عزّت کے کُل تقاضوں کو پورا کرنے والا، مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ عزّت کو انسانی صورت میں آگے بڑھا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ مجسمّہ عزّت انتہا کو پہنچتی ہے، پس تعریف و توصیف ذی عزّت کی ہے اور حق تعالیٰ تعریف و توصیف سے پاک و برتر ہے۔
بسی گفتند و می گویند ازین حال
ندانم تاکرا روشن شُد احوال
ترجمہ: بہت سے مدّعیوں نے اِس حال کے بارے میں قیل و
۸
قال کی ہے، اور کر رہے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ان میں سے کس پر حالات (حقائق) روشن ہوئے۔
تشریح: پیر ناصر خسرو کا یہ قول اُن لوگوں کے بارے میں ہے جو اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ وسیلہ اور واسطہ چھوڑ کر کسی غلط طریقے سے خدا شناسی کے مدّعی ہوا کرتے ہیں، اور اپنے گمان کے مطابق خدا کی حقیقت کے بارے میں قیل و قال کرتے رہتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی ایک ناکام کوشش ہے۔
ہزار ان سال اگر گویند و پویند
در آخر رُخ بخونِ دیدہ سویند
ترجمہ: اگر وہ ہزاروں سال اسی طرح قیل و قال کرتے چلے جائیں پھر بھی آخر کار وہ (ناکام ہو کر) خون کے آنسوؤں سے اپنا چہرہ دھو لیں گے۔
تشریح: حضرت پیر صاحب فرماتے ہیں، کہ خدا کی حقیقت سمجھنے کے لیے جن لوگوں کا نظریہ صحیح نہ ہو، تو وہ خواہ ہزاروں سال اپنے قول و عمل سے کوشش کیوں نہ کریں، یہ سب کچھ بے سود اور لا حاصل ہے، اور آخر کار وہ اپنی ناکامی پر خون کے آنسو بہائیں گے۔
۹
چنین گفتند رَو بشماس خود را
طریقِ کفر و دین و نیک و بدرا
ترجمہ: انہوں (یعنی پیغمبر اور امام علیھما السَّلام) نے یوں فرمایا: کہ جا تو اپنے آپ کو پہچان لیا کر، کفر و دین اور نیک و بد کا طریقہ سمجھنے کے لیے۔
تشریح: یہاں پیر صاحب کا اشارہ ”من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربّہ” نیز “اعرفکم بنفسہ اعرفکم بربّہ” کی طرف ہے، یعنی جس شخص نے اپنے آپ کو پہچان لیا پس تحقیق اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا، جو شخص تم میں سب سے زیادہ خود شناس ہو وہی شخص تم میں سب سے زیادہ خدا شناس ہے۔
پس اسی خود شناسی کے سلسلے میں دین و کفر اور نیک و بد کا تمام علم آ جاتا ہے، جیسا کہ قرآن پاک کی تعلیمات سے بھی ظاہر ہے، کہ خیر و شر کے دونوں راستے واضح کیے ہوئے ہیں، تاکہ نتیجے کے طور پر خدا کی طرف رجوع ہو¹۔
کزین رہ سوی یزدان است راہت
ترا بس باشد ایں معنی گواہت
__________________________
¹۔ ۲۱: ۳۵، ۷۶: ۰۳، ۹۰: ۱۰ وغیرہ
۱۰
ترجمہ: کیونکہ اسی (ذاتی معرفت کی) راہ سے تجھے خدا کی طرف راستہ میسّر ہے، اور یہی حقیقت تیرے لیے بطور گواہ کافی ہے۔
تشریح: موصوف حکیم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے، کہ انسان کی خود شناسی کا نتیجہ ہی خدا شناسی ہے، اور یہ ایک ایسی جامع حقیقت ہے، کہ تمام حقائق اسی میں سموئے ہوئے ہیں، پس ہر حقیقت کے لیے اسی سے استشہاد کیا جا سکتا ہے، کیونکہ خدا کی حکمتوں کی جیتی جاگتی نشانیاں صرف انسانی نفوس ہی میں پوشیدہ ہیں، جیسا کہ قرآن پاک کا قول ہے :
و فیٓ انفسکم افلا تُبصِرون ۵۱: ۲۱
اور تمہارے نفسوں میں بھی (نشانیاں یعنی معجزات) ہیں پھر کیا تم نہیں دیکھتے ہو۔
چو نادانی ندانی ہیچ ازیں حال
شود ضائع ترا روزمہ و سال
ترجمہ: چونکہ تو نادان ہے (اس لیے) تو اس حال کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا، تیرے دن، مہینے اور سال ضائع ہوتے جاتے ہیں۔
۱۱
تشریح: ارشاد ہوتا ہے کہ تیری اپنی نادانی کے سبب سے معجزاتِ معرفت کا حال اور اس کی قدر و منزلت اور اہمیّت و افادیّت تجھ پر پوشیدہ ہے، اگر تجھے ذرا بھی عقل ہوتی، تو حصولِ معرفت کے لیے تو مساعی اور کوشان رہتا، اور تیری گرانقدر عمر اور قیمتی اوقات اسی طرح بیکار اور لا حاصل ضائع نہ ہوتے۔
ز دانش زندہ مانی جاودانی
ز نادانی نیابی زندگانی
ترجمہ: دانش و معرفت ہی سے تو زندۂ جاوید رہے گا، نادانی و ناشناسی سے تجھے کوئی حیات و بقا حاصل نہ ہو گی۔
تشریح: حضرت پیر کا اشارہ اس قرآنی تعلیم کی طرف ہے:
کیا وہ شخص جو مردہ تھا پس ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایک نور قرار دیا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے، جو اندھیروں میں (پڑا) ہو جن سے وہ نکل ہی نہ سکے (۰۶: ۱۲۲) اس قرآنی تعلیم میں نور سے معرفتِ ذات مراد ہے، لوگوں میں نور کے ساتھ چلنے کے معنی ہیں ابدی طور پر زندہ رہنا، کیونکہ لوگ ہمیشہ پائے جاتے ہیں، اور اندھیرے جہالت و ناشناشی کی مثال ہیں، کیونکہ جہاں نور کے معنی علم و
۱۲
معرفت ہیں، تو وہاں ظلمت کے معنی جہالت و ناشناسی ہیں۔
اگر بشناختی خود را بتحقیق
ہم از عرفانِ حق یابی تُو توفیق
ترجمہ: اگر تو اپنے آپ کو بحقیقت پہچانے، تو (ساتھ ہی ساتھ) تجھے حق تعالیٰ کی معرفت کی توفیق بھی ملتی رہے گی۔
تشریح: ارشاد ہے کہ اگر تو اپنے آپ کو اس حد تک پہچانے، جس حد تک پہچاننے کا حق ہے، تو یہی پہچان نتیجے کے طور پر حق تعالیٰ کی پہچان (معرفت) ثابت ہو گی، کیونکہ اپنے آپ کو پہچاننے کا مطلب روح القدس کی پہچان ہے، جو خدا کا نور اور انسانِ کامل کی روح ہے، اور یہی روح درحقیقت انسان کی حقیقی خودی اور اصلی انائیّت ہے، بالفاظ دیگر کوئی انسان اپنے آپ کو نہیں پہچان سکتا جب تک کہ وہ انسانِ کامل میں فنا نہ ہو اور جب وہ انسانِ کامل میں فنا ہو کر اپنے آپ کو پہچاننے لگتا ہے، تو درمیان سے دوئی اٹھ کر ختم ہو جاتی ہے، اور وہ اب یقین رکھتا ہے کہ انسانِ کامل اس کی روح کی حیثیت سے ہے پس وہ شخص اپنے آپ کو انسانی کمالیّت کے بلند ترین درجے پر پہچان سکتا ہے، نیز اسی اثناء میں خدا کو بھی پہچانتا ہے۔
نماند بر تُو پنہاں ہیچ حالی
نبینی از جہان در دل ملالی
ترجمہ: (حصُولِ معرفت کے بعد) تجھ پر حقیقت کا کوئی حال
۱۳
پوشیدہ نہ رہے گا، نہ ہی تو اپنے دل میں دنیاوی تکالیف سے کوئی اکتاہٹ محسوس کرے گا۔
تشریح: اس قول کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ حقیقت مان لی جائے، کہ انسانِ کامل کی پاک روح نہ صرف خدا کے نور کی حیثیت سے ہے، بلکہ انسانی ارواح کی روحِ اعظم کا درجہ بھی رکھتی ہے پھر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہی پاک روح (روح القدس) حقیقت الحقائق ہے، یعنی ایک ایسی جامع حقیقت کہ جس میں تمام ذہنی و خارجی ممکنات کی حقیقتیں مجتمع ہیں، پس جب انسان خود شناسی کے عنوان سے حقیقت الحقائق کو سمجھ لیتا ہے، تو ضمناً ساری حقیقتیں خودبخود اس پر روشن ہو جاتی ہیں، اور ایسے عارف کو دنیا کی کوئی تکلیف نہیں ستا سکتی۔
بُوَد پیدا بر اہلِ علم اسرار
ولی پوشیدہ گشت از چشمِ اغیار
ترجمہ: اہلِ علم پر (حقائق کے) پوشیدہ بھید ظاہر ہیں، لیکن (یہ بھید) غیروں کی نظر سے پوشیدہ ہیں۔
تشریح: سِلسلۂ بیان سے ظاہر ہے کہ یہاں اہلِ علم سے اہلِ معرفت مراد ہیں، جن پر اسرارِ حقیقت ظاہر ہوتے ہیں،
۱۴
اور یہ بھی واضح ہے کہ معرفت کا سبب انسانِ کامل سے رشتہ قائم رکھنا اور اس کی فرمانبرداری کرنا ہے، اور جہالت (ناشناسی) کی وجہ اس سے رشتہ توڑنا اور اس کے فرمان سے روگردان ہونا ہے۔
بیا بکشای چشمِ دل و دین راہ
مگر از خویش و از حق گردی آگاہ
ترجمہ: آ جا اِس (معرفت کی) راہ میں دل کی آنکھ کھول کر دیکھ لیا کر، تاکہ تو اپنے آپ سے اور حق تعالیٰ سے واقف و آگاہ ہو سکے۔
تشریح: پیر صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ تجھے اپنی اصلیت اور خدا کی حقیقت کا مشاہدہ کرنے کے لیے سر کی آنکھ کافی نہیں ہو سکتی، اس کے لیے ضروری ہے، کہ تو اپنے دل کی آنکھ کھول کر دیکھ لیا کرے، تاکہ عین الیقین سے خود کو اور خدا کو پہچان سکے۔
در امروز اندرین عالم نبینی
دران عالم بصد حسرت نشینی
ترجمہ: اور اگر تو آج اس دنیا میں نہ دیکھ سکے، تو اس عالم میں تجھے صد ہا حسرتیں لے کر رہنا پڑے گا۔
تشریح: حُجّتِ خُراسان کا یہ ارشاد اس آیۂ کریمہ کے
۱۵
مطابق ہے:
وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا (۱۷: ۷۲)
اور جو کوئی اس (دنیا) میں اندھا رہا پس وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور بہت زیادہ گمراہ رہے گا۔
نہ بہرِ خواب و خور دی ہچو حیوان
بر ای حکمت و علمی تُو انسان
ترجمہ: تو حیوان کی طرح سونے اور کھانے کے لیے نہیں (موجود ہوا) ہے، تو علم و حکمت کے لیے انسان (پیدا کیا گیا) ہے
تشریح: جاننا چاہئے کہ ہر مخلوق کے پیدا کرنے کی ایک غرض و غایت ہوا کرتی ہے، چنانچہ خلقتِ انسانی کا مقصدِ اعلیٰ اکتسابِ علم و حکمت اور حصولِ روحانیّت و معرفت ہے۔
خطاب از حق بجُز تو نیست باکس
اگر دریا بی این معنی ترا بس
ترجمہ: حق تعالیٰ کے ساتھ ہمکلام ہونے کا شرف تیرے سوا اور کسی مخلوق کو حاصل نہیں، اگر تو سمجھ سکے، تو یہی حقیقت تیرے لیے کافی ہے۔
تشریح: حُجّت الحق فرماتے ہیں، کہ اے انسان! تو موجودات و مخلوقات میں سے وہ ہستی ہے کہ جس کے سوا اور کوئی مخلوق یہ صلاحیّت و اہلیّت نہیں رکھتی، کہ خدا کا کلام سنے اور قبول کرے، چنانچہ حق تعالیٰ انسان کے روحانی ارتقاء کی ابتدائی منزلوں میں انسانِ کامل اور فرشتہ کی وساطت سے
۱۶
کلام فرماتا ہے، اس کے بعد حجاب کے پیچھے سے اور آخری درجوں میں حجاب کے بغیر مگر اشاروں سے کلام فرماتا۱ ہے، اگر تو اِس حقیقت کو سمجھ سکے، تو بس تیرے لیے اسی میں سب کچھ ہے۔
زمین و آسمان بہرِ تو آراست
ازان بر خاستی با قامتِ است
ترجمہ: خدا نے زمین و آسمان تیرے لیے پیدا کر دیا، اسی سبب سے تو (پرورش پا کر) ایک سر و قد انسان بنا۔
تشریح: ارشاد ہوتا ہے کہ کائنات کی ساری قوّتوں اور نعمتوں سے مستفیض ہوئے بغیر انسان نہ تو پیدا ہو سکتا ہے، اور نہ ہی نشو و نما پا کر مکمّل ہو سکتا ہے، کیونکہ کائنات ایک ایسا درخت ہے کہ جس کا پھل انسان ہے، اور یہ پھل یعنی انسان اس درختِ کائنات کے بغیر اور کہیں سے حاصل نہیں آ سکتا، پس صحیح ہے، کہ آسمان و زمین کی تمام قوّتیں تیرے لیے ہی وقف ہیں، اور اسی سبب سے تو ایک سرو قد انسان بنا ہے۔
قیامت خاست زین قامت کہ داری
۲؎ دَیائت یار گشت و ہوشیاری
_______________________________________
۱؎ الشورای ۴۲۔ آیہ ۵۱ ۲؎ دَہائت: زیر کی، تیز ہوشی
۱۷
ترجمہ: تیرے اِس (متناسب اور موزون) قد و قامت (کی دلربائی اور فتنہ انگیزی) سے قیامت برپا ہوئی، (تجھے نہ صرف ایک نازنین جسم دے دیا گیا بلکہ) عقل و دانش نے بھی تیری ہی ہمراہی اختیار کی۔
تشریح: مطلب یہ ہے کہ انسان حسن و جمالِ صوری و معنوی سے آراستہ کیا گیا ہے، یعنی وہ جسمانی اور روحانی خوبیوں سے مالا مال ہے، جبکہ وہ ہر لحاظ سے اپنی اصلی حالت پر ہو، جیسے قرآن مجید کا ارشاد ہے :
وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (۶۴: ۰۳)
اور (خدا نے) تمہاری صورتیں بنائیں پس اس نے تمہاری بہت اچھی صورتیں بنا دیں۔ چنانچہ اس آیۂ کریمہ میں انسان کے ظاہری و باطنی حسن و جمال کا ذکر ہے، جس سے جسم، روح اور عقل کی تمام امکانی خوبیاں مراد ہیں۔
تُوئی فرزندِ این عالم چو آرم
خلف بر خیز چون آدم ز عالم
ترجمہ: تو حضرت آدمؑ کی طرح اس کائنات کا فرزند (یعنی ما حصل) ہے، لہٰذا حضرت آدم صفیؑ کی طرح تو اس
۱۸
عالم کا ایک لائق فرزند ثابت ہو جا۔
تشریح: آپ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السّلام کی جیسی تخلیق ہوئی تھی اور جس طرح ان کی تعظیم و تکریم کی گئی تھی، حقیقت میں تیری بھی وہی سب کچھ ہے، جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے:
وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ (۰۷: ۱۱)
اور یقیناً ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنا دی پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ پس تو بھی اپنی فطری صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے علم و فضل اور برگزیدگی میں حضرت آدمؑ کی طرح اس عالم کا ایک لائق و قابل فرزند ثابت ہو جا۔
بفضل و دانش و فرہنگ و گفتار
تُوئی در ہر دو عالم گشتہ مختار
ترجمہ: علمیت و فضیلت اور شعور و گفتگو کے سبب سے، تو دونوں جہان پر برگزیدہ ہے۔
تشریح: اس قول میں حق تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے :
وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ . . . . . تَفْضِیْلًا۠ (۱۷: ۷۰)
اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو بزرگی بخشی ہے اور ہم نے انہیں خشکی اور تری میں اٹھایا اور پاکیزہ چیزوں سے انہیں رزق دیا اور جن
۱۹
جن کو ہم نے پیدا کیا ان میں سے بہتوں پر ہم نے انہیں بڑی فضیلت بخشی۔
جہالت ظُلمتِ جان و جہان است
برِ اہل دل این معنی عیاں است
ترجمہ: جہالت و نادانی جان اور جہاں دونوں کے لیے تاریکی ہے، بزرگوں کے نزدیک یہ حقیقت واضح ہے۔
تشریح: بزرگوں پر یہ حقیقت روشن ہے کہ روحانی اور جسمانی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ جہالت و نادانی کی تاریکی ہے، پس اگر انسان اپنے لیے علم و عرفان کا چراغ روشن نہ کرے، تو وہ ہرگز شاہراہ ترقی پر گامزن نہ ہو سکے گا۔
کنون آرایمت بر گلستانی
کہ در ہر یک نظر یابی تُو جانی
ترجمہ: اب میں تجھے ایک ایسا گلشن آباد و آراستہ کردوں گا کہ اس ( کے نظاروں) کے مشاہدے سے ہر بار تجھے ایک نئی روح ملتی رہے گی۔
تشریح: حکیم صاحب کو اس کتاب کی تیاری کے بارے میں اِس بات کا پورا پورا یقین ہے کہ یہ کتاب ایک ایسے خوش منظر اور سدا بہار گلشن کی طرح ہو گی کہ جس کے دلکش اور ہوشر با حسین
۲۰
پھولوں کے نزدیک آنے اور مشاہدہ کرنے والوں کو ہر بار ایک تازہ روح ملتی رہے۔
نصیحت نامۂ ہمچون بہاری
گُلِ دل کاندر آ نجا نیست خاری
ترجمہ: (اس سے مراد) ایک نصیحت نامہ ہے جو ایک ایسے خوشگوار موسم بہار کی طرح ہے کہ جس میں دل کے پھول ہیں اور کانٹے نہیں پائے جاتے۔
تشریح: پیر صاحب اپنی پُرحکمت نصیحتوں کو ایک ایسے مسرت بخش موسمِ بہار سے تشبیہہ دیتے ہیں کہ جس کے آنے سے باغ و گلشن کچھ اس طرح سے سر سبز و آباد ہوا ہو کہ اس میں رنگ برنگ کے مہکتے ہوئے پھول کھلے ہیں اور طرح طرح کے پھل پک کر تیار ہیں، اور اس میں کہیں بھی کسی کانٹے کا نام و نشان نہیں ملتا چنانچہ علم و حکمت سے بھری ہوئی نصیحتیں مومنین کے حق میں روحانی بہار کی حیثیت رکھتی ہیں، جن پر عمل کرنے سے وہ دین و دنیا کی شادمانی اور کامرانی سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
ز بہرِ آن جہان این تو شہ بردار
کہ رہ بی زاد باشد سخت دُشوار
۲۱
ترجمہ: اُس عالم (کی طرف سفر) کے لیے تو یہی زادِ راہ لے لیا کر، کیونکہ راستہ زادِ راہ کے بغیر بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔
تشریح: یعنی انہی نصیحتوں پر عمل کر کے تقویٰ اور پرہیزگاری کو اپنا شعار بنا لے، اور یہی پرہیزگاری تجھے منزلِ مقصود کی طرف سفر کرنے میں زادِ راہ کا کام دے گی، کیونکہ سفر زادِ راہ کے بغیرانتہائی مشکل ہوتا ہے۔
بدین وہ روزۂ دُنیا چہ نازی
چو طفلان نیستی تا چند بازی؟
ترجمہ: تو دنیا کی اس چند روزہ زندگی پر کیا فخر و ناز کرتا ہے تو بچوں کی طرح (طفل) تو نہیں آخر کب تک کھیلتا رہے گا۔
تشریح: ناصر خسرو فرماتے ہیں کہ آخرت کی ابدی حیات و بقا کے مقابلے میں دنیاوی زندگی ایک انتہائی قلیل مدّت اور عالمِ روحانیّت کی حقیقتوں کے سامنے دنیا کے مشاغل بازیچۂ اطفال کی طرح ہیں، پس تجھے ایسی چند روزہ زندگی پر نازاں نہ ہونا چاہئے:
اور نہ ہی آخرت کو بھول کر ہر وقت دنیاوی مشاغل میں لگے رہنا چاہئے۔
بسی مہتر ز تو دید این زمانہ
بسی کہتر ز تو کرد اُو روانہ
۲۲
ترجمہ: اس زمانہ (یعنی دنیا) نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے، جو (مادّی طور پر) تجھ سے بھی بڑھ کر تھے، آخر کار اس نے ان کو تجھ سے بھی زیادہ حقیر کر کے یہاں سے اُٹھا لیا۔
تشریح: مطلب یہ ہے کہ دنیا پرست خواہ کتنا معمولی آدمی کیوں نہ ہو، خود کو بڑا ہوشیار اور برتر سمجھتا ہے، اور وہ اکثر اس خام خیالی کی وجہ سے خدا اور آخرت کو بھول جاتا ہے، حال آنکہ ہوشیاری اور برتری اسے موت سے نہیں بچا سکتی، کیونکہ زمانہ نے ان سب کو حقیر کر کے اٹھا لیا، جو دنیاوی طور پر اس سے بڑھ کر تھے۔
نہ صاحب گنج را بگذاشت درکار
نہ با مفلس بماند این رنج و تیمار
ترجمہ: زمانہ نے نہ تو خزانہ والے کو اپنے کام میں مصروف رہنے دیا، نہ مفلس اور نادار کے ساتھ ہمیشہ کے لیے یہ تکلیف اور غمخواری رہی۔
تشریح: یعنی موت سے نہ امیر جانبر ہو سکتا ہے نہ غریب بچ سکتا ہے، اس کے آنے اور واقع ہونے سے جس طرح امیر کی راحت کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں، اسی طرح غریب کی
۲۳
تکلیفات بھی یکسر مٹ کر ختم ہو جاتی ہیں۔
کسی دیگر خورد گنج او بر د رنج
بمعیارِ خرد این قول بر سنج
ترجمہ: وہ (مالک) رنج و مشقّت اٹھاتا ہے، اور خزانے سے فائدہ کوئی دوسرا شخص حاصل کر لیتا ہے، عقل و دانش کی کسوٹی پر اس قول کو پرکھ کر دیکھ لینا۔
تشریح: دنیوی دولت کی ناپائداری اور اس کے طلب گاروں کی بے بسی کا یہ حال ہے کہ کمایا کسی اور نے اور کھایا کسی اور نے، اگر تجھے اس حقیقت پر باور نہ ہو تو عقل و دانش کی کسوٹی پر میرے اس قول کو پرکھ کر بھی دیکھ لے۔
شُد آن گنج و بماند آن رنج در جان
مگر رحمت کند بر جانت یزدان
ترجمہ: (اسی طرح) وہ خزانہ تو چلا گیا اور اس کی تکلیف جان میں باقی رہی، مگر خدا تیری جان پر رحمت کرے (تو یہ اور بات ہے)
تشریح: فرماتے ہیں کہ وہ متمّول شخص جس کی نظر فقط دنیا پر ہو جب دولت چھوڑ جاتا ہے تو یہ دولت اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور اس کی حسرت و تکلیف اس کی روح میں باقی رہتی ہے مگر یہ دوسری بات ہے کہ خدا کسی وسیلے سے اس پر رحم فرمائے۔
۲۴
گراین جا بخش کرد آن جاش سود است
گر این جا کِشت کرد آن جادر و داست
ترجمہ: اگر انسان نے اس دنیا میں کوئی سخاوت اور مہربانی کر دی، تو اس عالم میں اس کو فائدہ ہے، اگر یہاں اس نے کچھ بو دیا تو وہاں اسے فصل کاٹ لینا ہے۔
تشریح: یعنی قرآن و حدیث میں حصولِ آخرت کے لیے دنیا استعمال کرنے کی بہت سی مثالیں بیان کی گئی ہیں، ان میں سے ایک مثال تجارت کی ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا فروخت کر کے اس کے عوض میں آخرت خریدی جائے، یعنی دنیا دے کر آخرت حاصل کر لی جائے، دوسری مثال زراعت کی ہے، کہ یہاں قولاً و عملاً نیکیوں کی کاشت کر کے وہاں اس کی فصل لے لی جائے۔
اگر کاری کنی مُز دی ستانی
چوبی کاری یقین بی مُزد مانی
ترجمہ: اگر تو کچھ کام کرے، تو تجھے اس کا کوئی صلہ ملے گا، جب تو کام کے بغیر ہے تو یقیناً تو بے صلہ رہے گا۔
تشریح: حجّتِ خراسان فرماتے ہیں کہ جس طرح دنیا میں اجر و صلہ اسی شخص کو دیا جاتا ہے، جو کسی کام کو انجام دیتا ہے اور جو شخص کچھ بھی نہیں کرتا تو اس کو کچھ بھی نہیں دیا جاتا ہے۔
۲۵
بالکل اسی طرح اگر تو دین میں کچھ کام کرے، تو تجھے اس کا اجر و صلہ دے دیا جائے گا، اگر کچھ بھی نہیں کیا، تو تُو معاوضہ اور بدلہ سے محروم رہے گا۔
ز خوابِ غفلت آخر سر بر آور
بحال و کارِ خود در نیک بنگر
ترجمہ: خوابِ غفلت سے آخر ذرا سر اٹھا لے، اپنے حال اور کام کو اچھی طرح سے دیکھ لے۔
تشریح: غفلت کو نیند سے تشبیہہ اس لیے دی جاتی ہے کہ غافل آدمی اور سو کر نیند میں محو ہوا انسان دونوں ایک جیسے ہیں، کیونکہ سویا ہوا آدمی دنیا سے اور غافل دین سے بے خبر ہیں، پس ارشاد ہوتا ہے کہ خوابِ غفلت سے آخر ذرا سر اٹھا کر اپنی اس حالت خوابیدگی کو اور اپنے دین کے ادھورے کاموں کو اچھی طرح سے دیکھ لے، تاکہ تجھے پیشمانی اور افسوس ہو، اور تو اس خوابِ غفلت سے ہمیشہ کے لیے چونک جائے۔
کہ بنیانِ تو بر آب است و برباد
بر آب و باد کس بنیاد ننہاد
ترجمہ: کیونکہ تیری بنیاد پانی اور ہوا پر ہے، پانی اور ہوا پر کسی نے بھی بنیاد نہیں رکھی ہے۔
۲۶
تشریح: پیر صاحب کا ارشاد ہے کہ تو نے اپنی ان چند روزہ اور نا پائدار دنیاوی خواہشات کی جو عمارت بنائی ہے، اس کی بنیاد ایسی ہلنے والی اتنی کمزور اور اس قدر نا پائدار ہے جیسے پانی اور ہوا پر کسی بنیاد کے لیے کوشش کی گئی ہو، پس ظاہر ہے کہ تیری دنیاوی خواہشات کی یہ عمارت بہت ہی جلد گر جانے والی ہے کیونکہ پانی اور ہوا پر کوئی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔
چو میدانی کزین جا رہگذاری
رہا وردت ببین تا خود چہ داری
ترجمہ: جب تو جانتا ہے کہ اس جگہ (یعنی دنیا) سے تو نے سفر کرنا ہے تو اپنے تحفہ کے لیے ذرا دیکھ کہ تیرے پاس کیا ہے۔
تشریح: حضرت پیر کے اس قول کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک کامیاب اور بامراد مسافر جب کسی سفر سے واپس گھر جاتا ہے تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور موجود ہوتا ہے جو اپنے عزیزوں کو پیش کرتا ہے چنانچہ پیر صاحب پوچھتے ہیں کہ جب تو دنیا کے اس سفر سے اپنے حقیقی وطن (آخرت) کی طرف واپس جا رہا ہے تو دیکھ لے کہ تیرے پاس کوئی تحفہ بھی ہے کہ نہیں تاکہ تو وہ تحفہ
۲۷
اپنے معشوقِ حقیقی یعنی خداوند عالم کے حضور میں پیش کر سکے۔
فصل فی النّصیحۃ
دمی از حق مشو غافل درین راہ
چو میدانی کہ آید مرگ ناگاہ
ترجمہ: (اے مخاطب! دین کی) اِس راہ میں خدا کی یاد سے لمحہ بھر کے لیے بھی غافل نہ ہو، جب تو یہ جانتا ہے کہ موت اچانک آتی ہے۔
تشریح: حضرت پیر ناصر خسرو ارشاد فرماتے ہیں کہ موت کسی کو قبل از وقت یہ اطلاع تو نہیں دیتی کہ میں فلاں وقت تجھ سے دوچار ہونے والی ہوں، لہٰذا مقررّہ مدّت کے اختتام تک تو اپنے لیے عالم آخرت کی خوب تیاری کر لے بلکہ وہ اس کے برعکس اچانک آ پہنچتی ہے اور جب تو یہ سب کچھ جان چکا ہے تو دین کے راستے میں ہر دم اور ہر لمحہ خدا کو یاد کرتا رہ تاکہ خدا کی معجزانہ یاد تجھ کو برائیوں سے بچا کر بھلائیوں کی ہمّت و توفیق بخشے گی اور موت کے یکایک آنے اور عالمِ آخرت کی تیاری نہ ہونے کا تجھے ہرگز کوئی اندیشہ نہ رہے گا۔
۲۸
از و خواہ استعانت در ہمہ کار
کہ چون اوکس نبا شد مر ترا یاد
ترجمہ: اسی سے تمام کاموں میں مدد طلب کر لیا کر، کیونکہ تجھ کو کوئی بھی شخص اس جیسا تمہارا مددگار نہیں۔
تشریح: اِس قول کی وضاحت اس طرح سے ہے کہ حق تبارک و تعالیٰ کی امداد و یاری (تائید) ہدایت کے ذرائع اور بندگی کے مراحل میں درجہ بدرجہ موجود ہے یعنی اخلاقی و روحانی ترقی کے راستے میں آگے سے آگے بڑے پیمانے پر اور معجزانہ طور پر خدا کی مدد اور تائید ملتی رہتی ہے جو فرمانبرداری، محبت، ذوق، توفیق، ہمّت، القاء، الہام، وحی وغیرہ کی صورتوں میں پائی جاتی ہے۔
توکّلُ در ہمہ کاری بر و کُن
ز غیرِ او بگرد ان رو در و کُن
ترجمہ: اسی پر ہر کام میں توکّلُ یعنی بھروسا اور اعتماد کر اس کے سِوا سے منہ موڑ لے اور صرف اسی کی طرف منہ کیے رہ۔
تشریح: اس شعر کی خاص باتیں دو ہیں، توکّل اور توجّہ، توکُّل کے ویسے تو بہت سے مقامات اور درجات ہیں، مگر یہ سب دو حصّوں میں ہیں، کیونکہ دین اور دنیا کے معاملات میں
۲۹
بندہ کچھ امور اختیار بھی رکھتا ہے اور کچھ امور کے اختیار سے بالاتر بھی ہیں اگر وہ ان امور کو جو اس کے دائرۂ اختیار میں ہیں خدا، رسولؐ اور صاحبِ امرؑ کی ہدایت کے مطابق انجام دیتا ہے، تو یہ ابتدائی درجات کا توکُّل ہے، جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے :
“بر توکّل زانوی اشتر ببند” یعنی اونٹ کی حفاظت کے بارے میں خدا پر توکُّل بس یہی ہے کہ اس کے گننھ باندھ لے تاکہ کہیں نہ چلا جائے اور جو امور بندہ کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں اگر وہ ان کے متعلق خدا پر بھروسا رکھتا ہے جیسا کہ بھروسا رکھنا چاہئے، تو یہ آخری درجات کا توکُّل ہے۔
توجّہ کی حقیقت یہ ہے کہ بالواسطہ اور بلاواسطہ خدا کی طرف منہ کیا جائے، بالواسطہ خدا کی طرف منہ کرنا یہ ہے کہ ہر وقت خدا کے فرامین کو پیشِ نظر رکھا جائے اور کسی وقت بھی ان سے تجاوز نہ کیا جائے اور بلاواسطہ خدا کی طرف منہ کیے رہنا یہ ہے کہ ذکرِ الٰہی کی کثرت کے نتیجے پر مومن کے دل و دماغ کی کیفیت روحانی طور پر اتنی گرم اور ایسی روشن ہو کر رہے جس
۳۰
طرح لوہا زبردست انگاروں کے درمیان نہ تو منہ پھیر سکتا ہے نہ ہی اس کو بھلا سکتا ہے۔
ثباتِ دولت و دین راستی دان
ز کذب این ہر دوراکم کاستی دان
ترجمہ: سچائی ہی کو اقبال مندی اور دین کی پائداری و بقاء کا ذریعہ سمجھ لے (اس کے برعکس) جھوٹ کو ان دونوں کے نقصان اور زوال کا سبب قرار دے۔
تشریح: یعنی اگر کسی آدمی کی دولت، عزّت اور دین و ایمان حقانیّت و صداقت پر مبنی ہے، اور حق و راست بازی کی مدد سے ہے، تو وہ ہمیشہ کے لیے برقرار اور قائم رہ سکتا ہے، اس کے برعکس اس میں اگر جھوٹے اور باطل ذرائع سے کام لیا گیا تو اس میں نقصان اور زوال آتا ہے، کیونکہ قرآن کا قول ہے کہ حق تو قائم رہتا ہے اور باطل چلا جاتا ہے (۸۱: ۱۷)
چو عہدی باکسی کر دی بجا آر
کہ ایمان است عہد از خویش مگزار
ترجمہ: جب تو نے کسی سے کوئی وعدہ کر لیا، تو اس کو بجا لایا کر، کیونکہ وعدہ (پر عمل کرنا) ایمان میں سے ہے (اس لیے اس کو) اپنے ہاتھ سے نہ جانے دے۔
۳۱
تشریح: اس شعر کے معنی و مطلب کے مطابق قرآن حکیم کا یہ ارشاد ہے :
وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۱۷: ۳۴)
اور عہد کو پورا کرو۔ بے شک عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا، یعنی قیامت کے دن ہر شخص سے ان وعدوں اور عہدوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، جو اس نے خالق سے اور مخلوق سے کیے تھے، لہٰذا اِس اہم فرض کی ادائیگی اور جوابدہی ہر انسان پر عائد ہوتی ہے۔
خرد بہتر بُوَد از زر کہ داری
کہ در زر کس نہ بیند ہوشیاری
ترجمہ: علم و دانش بہتر ہے اس سونے (یعنی دولت) سے جو تو رکھتا ہے، کیونکہ زرّ یعنی دولت میں کوئی شخص ہوشیاری نہیں دیکھ پاتا ہے۔
تشریح: اس قوّل میں علم و دانش کو مال و دولت پر ترجیح دی گئی ہے، اور اس کی یہ توجیہہ کی گئی ہے کہ مادّی دولت ایک بے جان اور مردار جیسی چیز ہے، یہ اپنے مالک کو ظاہری و باطنی خطرات و آفات سے بچانے کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتی، کیونکہ اس کی
۳۲
ذات میں عقل و ہوشیاری نہیں پائی جاتی، اس کے برعکس علم و دانش بذاتِ خود ایک پاک روح ہے، اور وہی خدا کا نور ہے، اور دین و دنیا کی ساری بہتری اور کامیابی اسی کے تحت ہے۔
اگر صبرت بدل در یار گردد
ظفر آخر ترا دلدار گر دد
ترجمہ: اگر صبر تیرے دل ہی کے اندر ساتھی بن جائے، تو آخر کار فتحمندی بھی تیری دوست بنے گی۔
تشریح: حقیقت میں صبر کے معنی ہیں خدا کی راہ میں مصائب و آلام کو برداشت کرنا، اور اس کے موقعے دو ہیں، ایک موقع وہ ہے جس میں خدا تعالیٰ اپنے کسی بندے کو کسی مصیبت کے ذریعہ آزما لیتا ہے، دوسرا موقع وہ ہے جس میں خود بندہ خدا کی خوشنودی کی خاطر کسی اعلیٰ و افضل عبادت اور خدمت کو اختیار کرتا ہے، اور اس کی لازمی محنتوں اور تکلیفوں کو برداشت کرتا جاتا ہے، چنانچہ کلامِ مجید میں جگہ جگہ صبر کی تعریف و توصیف کی گئی ہے، منجملہ یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ تم صبر اور عبادت سے خدا کی مدد طلب کر لیا کرو، پس اس کا مطلب یہ ہوا کہ صبر و عبادت کا پھل خدا کی مدد کی صورت میں ملتا ہے، اور اسی خدا کی مدد کو فتح و ظفر کہنا
۳۳
چاہئے۔
بہر سختی مکن فریاد بسیار
بنوش آن و مدہ دل را بتیمار
ترجمہ: ہر سختی میں زیادہ فریاد نہ کیا کر (بلکہ) اس کو برداشت کرتا رہ، اور دل کو کسی غمخواری کی طرف متوجہ نہ کیا کر۔
تشریح: انسانیّت کے اعلیٰ ترین اوصاف عالی ہمتی، اولوالعزمی، صبر، شکر وغیرہ ہیں اور خدا کی حکمت و مصلحت کے بموجب ان اوصافِ حمیدہ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی جسمانی زندگی کا اکثر حصّہ تکلیفات اور مصیبتوں میں گزرنا چاہئے، اسی لیے پیر صاحب فرماتے ہیں کہ سختی کے وقت فریاد نہ کی جائے اور نہ کسی غیر کی ہمدردی و غمخواری کی امید بندھی جائے۔
برا در آن بُوَد کہ روز سختی
ترا یاری کند در تنگ بختی
ترجمہ: بھائی وہ ہے جو سختی کے دن اور مصیبت کے موقع پر تیری مدد کرے۔
تشریح: یعنی سختی اور مصیبت نہ صرف اس امر کے لیے ذریعۂ آزمائش ہے کہ اس میں بندگانِ خدا دین اور ایمان کے سلسلے میں آزما لیے جاتے ہیں بلکہ یہ اُخوت و برادری اور قرابت و
۳۴
رشتہ داری کے سچے اور جھوٹے دعویداروں کے درمیان فرق و امتیاز کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔
نکوئی گر کنی منّت منہ زان
کہ باطل شُد ز منّت جود و احسان
ترجمہ: اگر تو کوئی نیکی کرے تو اس سے احسان نہ جتایا کر، کیونکہ احسان جتانے سے مہربانی اور نیکی باطل ہو جاتی ہے۔
تشریح: احسان جتانے سے کس طرح نیکی باطل ہو جاتی ہے، اس کی حقیقت خدا و رسول کے ارشادات کی روشنی میں معلوم کی جا سکتی ہے، چنانچہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :
اے ایمان والو! تم اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر باطل نہ کیا کرو (۰۲: ۲۶۴) اور رسول اللہ نے فرمایا کہ: ہر نیکی صدقہ ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نیکی صدقہ کا حکم رکھتی ہے، احسان جتلانے سے باطل ہو جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح کسی محتاج و مستحق انسان کو نیکی کر کے خوش کرنے سے خدا خوش ہوتا ہے اور اس اچھے عمل کی وجہ سے ثواب ملتا ہے، اسی طرح اس کو احسان جتلا کر اور حقیر سمجھ کر ناراض کرنے سے خدا ناراض ہوتا ہے اس برے عمل کے سبب سے گناہ ہوتا ہے، اور ایسے گناہ کی سزا
۳۵
یہ ہے کہ ایسے صدقے کو باطل قرار دیا جائے۔
بوقتِ صبحدم می باش بیدار
مگر در صبحدم بکشا یدت کار
ترجمہ: علی الصّباح یعنی بہت سویرے جاگ اٹھا کر، تاکہ صبح سویرے تیرا مشکل کام آسان ہو۔
تشریح: حضرت پیر کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ صبح سویرے اٹھ کر حق تعالیٰ کی عبادت و بندگی کا فریضہ ادا کیا جائے تاکہ جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو، اور دین و دنیا کے ہر مشکل کام کو آسانی سے کیا جا سکے، کیونکہ شب بیداری اور سحر خیزی میں بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے وہ اس طرح سے ہے کہ ایک عام انسان شروع شروع میں طبعاً صرف اپنے نفسِ امّارہ ہی کی غلامی میں ہمہ تن مصروف اور اسی کا عاشق رہتا ہے اور بس اسی کی خواہشات و فرمائشیات کی انجام دہی میں لذّت اور خوشی محسوس کرتا رہتا ہے، نتیجتاً اس کے دل و دماغ کی ساری قوّتیں اور صلاحیتیں نفسانی لذّتوں کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اس کے باطن میں حقیقی محبت و عشق کے لیے ذرا بھی خالی جگہ نہیں پائی جاتی، پس اللہ تعالیٰ نے اپنی لا انتہا رحمت سے بندوں کو کچھ ایسے اصلاحی
۳۶
اعمال کی ہدایت فرمائی کہ جن کی تکمیل و انجام دہی کے سلسلے میں مومنین عزم و ارادہ کی قوّت سے نفس کی فرمائشیات اور محبت کو ٹھکراتے جائیں، یہاں تک کہ وہ خاص خاص موقعوں پر نفس کو نظر انداز کر دینے اور طاقِ نسیاں پر رکھنے کے عادی ہو جائیں تاکہ جس سے رفتہ رفتہ حقیقی محبت و عشق خود بخود مومنین کے دل میں جا گزین ہو آئے، جیسا کہ حق جلّ و علا کا فرمان ہے کہ تم ہر گز نیکی کو نہیں پہنچو گے جب تک کہ تم اس چیز سے (راہِ خدا میں) خرچ نہ کرو گے جس سے تم پیار کرتے ہو۔
انسان جن جن مادّی چیزوں سے پیار و محبت کرتا ہے، اور لطف و لذّت اُٹھاتا ہے، ان میں آرام اور نیند بھی شامل ہے، پس اگر وہ شب بیداری اور سحر خیزی کے اصول سے اپنے آرام اور میٹھی نیند کو خدا کی راہ میں قربان اور صرف کرے تو وہ لازماً بہت بڑی نیکی کو پہنچے گا، اور اس کی تمام مشکلات حل ہو جائیں گی، کیونکہ وہ نیند کی محبت و لذّت کو اپنے دل سے جس قدر نکال دیتا ہو، تو اس قدر حقیقی محبت و مسّرت اس کے دل میں داخل ہوتی ہے جس کی مثال ایک ایسے گلاس سے دی جا سکتی ہے، جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور ایک
۳۷
شخص اس گلاس کے پانی کو قطرہ قطرہ کر کے گراتا رہتا ہے، تو ظاہر ہے کہ جتنی جگہ سے پانی خارج ہوا، تو اتنی جگہ میں ہوا داخل ہو گی، اور یہ دونوں کام کسی تقدیم و تاخیر کے بغیر ایک ساتھ ہی مکمل ہوں گے، اس لیے کہ مکان اور متمکن کے لیے اٹل قانون ہے کہ جس وقت کوئی چیز ایک جگہ سے ہٹنے لگتی ہے تو اسی وقت دوسری چیز اس جگہ کی طرف بڑھنے لگتی ہے اور جن لمحوں میں یہ وہاں پہنچتی ہے تو انہی لمحوں میں وہ بھی یہاں پہنچتی ہے۔
بلایِ آدمی باشد ز بانش
کہ دروَی بستہ شدُ سُود و زیانش
ترجمہ: آدمی کے لیے بلا خود اس کی زبان ہی ہے، کیونکہ اس کا نفع و نقصان بس اسی سے وابستہ ہے۔
تشریح: حضرت پیر کے ارشاد کے مطابق اِس بلا سے وہ ظاہری تکلیف مراد ہے، جو لوگوں کی طرف سے رنجش، اذیّت وغیرہ کی صورتوں میں پہنچتی ہے، جس کی وجہ دراصل آدمی کی اپنی زبان ہی ہوتی ہے، کیونکہ زبان ہی وہ ذریعہ ہے جس سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا اور نقصان بھی، یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے اس نقصان کے سدِّ باب کرنے کی ہدایت فرما دی :
۳۸
وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (۰۲: ۸۳)
اور سب لوگوں سے اچھی گفتگو کرو۔
خموشی مایۂ مردانِ راہ است
کہ در گفتن بسی شرّو گناہ است
ترجمہ: خاموشی اختیار کرنا راہِ حقیقت کے ہمت والوں کا سرمایہ ہے کیونکہ بولنے میں بہت سی برائی اور بہت سا گناہ شامل ہے۔
تشریح: انسان کو اپنی زبان کی برائیوں، گناہوں اور بلاؤں سے محفوظ رہنے کیلئے بظاہر دو ہی راستے بتائے گئے ہیں کہ وہ یا تو سب لوگوں سے اچھی گفتگو کرے یا خاموش ہی رہے، مگر یہ دونوں راستے بھی اشکال اور سختی سے خالی نہیں کیونکہ اچھی گفتگو کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں اور صحیح معنوں میں خاموش رہنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے، اس لیے کہ اگر انسان بمشکل زبان سے چپ ہو بھی رہا تو اس کے دل میں خود بخود باتیں شروع ہو جاتی ہیں جن پر وہ ہرگز قابو نہیں پا سکتا، پس ان تمام مشکلات سے منزلِ مقصود کی طرف گزر جانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ بندۂ مومن اپنے دل و زبان کو دائم الوقت خدا کی معجزانہ یاد سے وابستہ رکھے جیسا کہ خود حضرت پیر کا ارشاد
۳۹
گرامی ہے :
از و خواہ استعانت در ہمہ کار
کہ چون اوکس نبا شد مر ترا یار
ترجمہ: ہر کام میں اسی (خداوند) کی مدد طلب کر، کیونکہ تیرے لیے اس جیسا مدد گار ہے ہی نہیں۔
وگر گُوئی نکو گو ای برادر
کہ نیکو گوی با نفع است بے ضرر
ترجمہ: اور اگر تو کچھ بولنا چاہتا ہے، تو اے بھائی! اچھی گفتگو کرنا کیونکہ اچھی بات کہنے والا نقصان کے بغیر فائدے میں ہے۔
تشریح: حضرت پیر ناصر خسرو فرماتے ہیں کہ اگر تو خاموشی و سکون کو توڑ کر بولنا چاہتا ہے تو تجھے تمام زبانی گناہوں سے بچتے ہوئے اچھی گفتگو کرنی چاہئے کیونکہ اچھی گفتگو کرنے میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور اس میں ذرا بھی نقصان نہیں۔
نکوئی جامۂ تُست آن ہمی پوش
ہمیشہ در نکو نامی ہمی کوش
ترجمہ: نیکی گویا تیرا لباس ہے سو اسے پہن لیا کر ہمیشہ نیکنامی کے لیے کوشش کیا کر۔
تشریح: یہاں پیر صاحب نیکی اور نیکنامی کے لیے تاکید فرماتے ہیں اور اس کی مثال ظاہری لباس سے دیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے
۴۰
کہ جس طرح لباس انسان کے جسم کو ڈھانپ کر اس کو زیب و زینت بخشتا ہے، اسی طرح نیکی اس کی عقلی خامیوں اور اخلاقی کمزوریوں پر پردہ ڈال کر اس کو نیکنام بنا دیتی ہے۔
تواضع مر ترا دارو گرامی
زکر آید بدی در نیکنامی
ترجمہ: تواضع تجھ کو غیرت مند کر دیتی ہے، اور تکبر سے نیکنامی میں برائی (یعنی نقص) پیدا ہوتی ہے۔
تشریح: اِس ارشادِ گرامی کا مطلب یہ ہے کہ تواضع یعنی عاجزی اور فروتنی ایک ایسی اخلاقی طاقت ہے، جو انسان کو معزّز بنا سکتی ہے، اور تکبّر ایک ایسا اخلاقی نقص ہے کہ اس سے انسان کی نیکنامی میں زوال آتا ہے۔ چنانچہ جب حضرت آدم علیہ السَّلام نے تواضع سے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا تو حق تعالیٰ نے اسے برگزیدہ فرمایا، اور جب ابلیس نے تکبّر کیا تو اس کی عزت و نیکنامی میں زوال آیا۔
مودّت چون بخدمت استوار است
ازین بہتر ترا آخرچہ کار است
ترجمہ: جب دوستی خدمت ہی پر قائم ہوتی ہے تو تیرے لیے اس سے بہتر اور کونسا کام ہے۔
۴۱
تشریح: یعنی جب تجھے معلوم ہے کہ اخلاقی اور دینی قسم کی دوستی کا دارو مدار خدمت پر ہی ہے، تو تجھے خالق اور مخلوق کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے، پس خدمت کے سلسلے میں تاخیر اور کوتاہی نہ کیا کر۔
بخوش رُوئی و خوش خوئی درایام
ہمی رَوتا شوی خوش دل سر انجام
ترجمہ: خندہ پیشانی اور اچھی عادت کے ذریعہ زمانے میں آگے بڑھا کر تاکہ اس کے انجام میں تو شادمان ہو جائے۔
تشریح: شگفتہ رو اور ہنس مکھ ہونا خوش اخلاقی کی اوّلین صفت ہے، اور اس کے بغیر ہر دلعزیزی اور کامیابی مشکل ہے اسی سے انسان زمانے میں دینی اور دنیاوی طور پر ترقی کر سکتا ہے اور آخر کار ہر طرح سے کامیاب ہو کر ہمیشہ کے لیے شادمان رہ سکتا ہے۔
اگر بد باکسی در خاطر آری
مکن زود آنکہ نبود ہوشیاری
ترجمہ: اگر تیرے دل میں کسی شخص کے متعلق برا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو عجلت سے اس پر عمل نہ کیا کر، کیونکہ اس میں کوئی دانشمندی نہیں۔
۴۲
تشریح: حُجّت الحق فرماتے ہیں کہ انسانیّت اور دینداری کی شرط یہ ہے کہ اوّلاً دوسروں کے حق میں بدی اور برائی کا خیال اور جذبہ ہی دل میں نہ آنے دیا جائے، اگر ایسا کوئی خیال آ بھی رہا ہو، تو پھر اس کا سدِّ باب اس طرح سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کی پیروی اور عمل میں تاخیر کی جائے، کیونکہ ناجائز جذبہ اور غصّہ آگ کی طرح ہے، جو انسانی طبیعت کو جلانے لگتی ہے اور اس کے دھوئیں میں عقل کی روشنی یکسر گُم ہو جاتی ہے۔ پس ایسے میں انسان جو کچھ کرتا ہے وہ عقل کی روشنی کے بغیر ہوتا ہے۔
چو نیکوئی کنی زان عذر می خواہ
کہ نیکوئی دوکر دد باش آگاہ
ترجمہ: جب تو کوئی نیکی کرتا ہے تو اس میں (بطور ادب) معذرت خواہ ہو جا کیونکہ اس سے نیکی دگنی ہو جاتی ہے، آگاہ ہو!
تشریح: جیسا کہ اس سے پہلے پیر نے فرمایا کہ احسان جتلانے سے نیکی برباد و ضائع ہو جاتی ہے، اسی طرح یہاں فرماتے ہیں کہ نیکی کر کے ادب کے اصول پر اس کی کمی و کوتاہی کے بارے میں معذرت چاہنے سے یہ دگنی ہو جاتی ہے اس کی وجہ یہ ہے، کہ نیکی کرنے والے کو برتری کا جو گھمنڈ ہوتا ہے، اس کا ازالہ وہ عذر خواہی سے کر سکتا ہے۔
۴۳
سخاوت پیشہ کن تُو از کم و بیش
کزان بیگا نگان گر دند چون خویش
ترجمہ: تو کچھ نہ کچھ سخاوت کی عادت اختیار کر لے، کیونکہ اس سے پرائے بھی اپنے ہو آتے ہیں۔
تشریح: آپ اس شعر میں سخاوت کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ تجھ میں کم و بیش سخاوت کی بھی عادت ہونی چاہئے کیونکہ یہ عادت اس قدر مؤثر اور ایسی نتیجہ خیز ہے کہ اس سے قرابت داروں کو جو خوشی ہوتی ہے، اس کا کیا کہنا ہے اس سے تو پرائے لوگ بھی اپنوں کی طرح خیر خواہ ہو جاتے ہیں۔
جمالِ مردمی در حِلم باشد
کمالِ آدمی در عِلم باشد
ترجمہ: انسانیّت کا حسن و جمال برداشت اور بردباری میں ہے اور انسانیّت کا فضل و کمال علم و دانش میں ہے۔
تشریح: اس شعر کے مرادی معنی یہ ہیں کہ قانونِ قدرت نے مخلوقات میں سے ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی خوبی اور کمالیّت مقرر کر دی ہے، چنانچہ انسانیت و آدمیت کی خوبی حلیمی اور بردباری میں ہے، اور اس کی کمالیّت علم و دانش میں ہے، پس آدمی کو چاہئے کہ حلم اور علم کے اوصاف سے متصف ہو جائے، تاکہ وہ
۴۴
حقیقت میں جمال و کمال کے درجے پر فائز ہو سکے۔
ثباتِ تن بما کو لات بینی
ثباتِ جان بمعلومات بینی
ترجمہ: تو دیکھتا ہے کہ جسم کا قیام و قرار کھانے پینے کی چیزوں پر ہے۔ (اسی طرح آئندہ) تو دیکھے گا کہ روح کا قیام و قرار معلومات پر ہے۔
تشریح: اِس شعر میں لفظ “بینی” جو فعلِ مضارع ہے، اپنے حال اور مستقبل کے دونوں معنوں کو ظاہر کرتا ہے، جس کی مناسبت و موزونیّت یہی ہے کہ پیر صاحب جسم کی مثال پر روح کی حقیقت سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تجھ سے یہ حال پوشیدہ نہیں کہ جسم کا انحصار کھانے پینے کی چیزوں پر ہے، اسی طرح آگے چل کر تجھے یہ بھی معلوم ہو گا کہ روح کا دار و مدار علم و معرفت پر ہے۔
اگر بر جہل یک ساعت کنی کار
بعلم جہل جاویدی تو بیدار
ترجمہ: اگر تو ذرا سے وقت کے لیے جہالت کا کوئی کام کرتا ہے تو (آگاہ ہو! کہ اس وقت) تو اپنی دائمی جہالت کو سمجھنے کے لیے جاگ اٹھتا ہے۔
تشریح: یعنی جاہل اپنی دائمی جہالت سے بے خبر اور خوابِ غفلت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے، جب وہ جہالت کا کوئی کام کر ڈالتا ہے، تو اس
۴۵
وقت اس کو جاگنے اور اپنی جہالت کو سمجھنے کا موقع میسر ہوتا ہے ورنہ وہ دوسرے اوقات میں اپنی جہالت کو کہاں سمجھ سکتا ہے۔
غنیمت ہمنشینی با خرد دان
کہ اہل عقل را بگزید یزدان
ترجمہ: دانش مند کی صحبت میں رہنا غنیمت سمجھ لے، کیونکہ حق تعالیٰ نے اہلِ دانش کو برگزیدہ کیا ہے۔
تشریح: اہل دانش سے انبیاء، اولیاء اور حکمائے دین مراد ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہی کو برگزیدہ فرمایا ہے، اور انہی کی ہمنشینی فرض کی گئی ہے۔ تاکہ علم و عمل کے فیوض و برکات حاصل ہوں۔
سخن کم گو و نیکو گوی در کار
کہ از بسیار گفتن مرد شُد خوار
ترجمہ: کام کی بات مختصر اور بہتر کر لیا کر کیونکہ زیادہ باتیں کرنے سے آدمی خوار ہو جاتا ہے۔
تشریح: ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر بات کرنے کی ضرورت ہے تو بے شک تو کر سکتا ہے، مگر مختصر اور مفید ہونی چاہئے، کیونکہ زیادہ اور بے فائدہ باتیں کرنے کا نتیجہ خواری اور ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
ترا پیرا یہ از دانش پدید است
کہ بابِ خُلد را دانش کلید است
ترجمہ: ظاہر ہے کہ تیرا زیور علم و دانش سے ہوتا ہے کیونکہ
۴۶
علم و دانش ہی بہشت کے دروازہ کے لیے کلید ہے۔
تشریح: قول ہٰذا کا مطلب یہ ہے کہ اگر تو اپنے آپ کو آراستہ و پیراستہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے علم و دانش کے زیور موجود ہیں، کیونکہ علم و دانش ہی حسن و جمال اور آرائش و زیبائش کے مقام یعنی جنّت کی کلید ہے۔
ز شرم ار با فرشتہ ہم نشینی
زبی شرمی تو با دیوان قرینی
ترجمہ: اگر ( یہ بات صحیح ہے کہ) تو شرم و حیا کی حالت میں فرشتہ کا ہمنشین ہے تو (یہ بھی صحیح ہے کہ) بے شرمی و بے حیائی کی حالت میں تو جنّات کا ساتھی ہے۔
تشریح: اس سے حضرت پیر کی مراد یہ ہے کہ بشریت کا دائرۂ اختیار و امکان اس قدر وسیع ہے کہ اس میں تمام موجودات و مخلوقات کے خواص و افعال سموئے ہوئے ہیں، پس انسان موجودہ شکل و صورت میں ہوتے ہوئے بھی جو کچھ بننا چاہے بن سکتا ہے کیونکہ انسان کی عادت جس مخلوق سے ملتی جلتی ہو اس کو حقیقت میں وہی مخلوق قرار دیا جاتا ہے۔
ترا گر دوستی با ید سزا وار
خرد را یار خودکن در ہمہ کار
۴۷
ترجمہ: اگر تجھے ایک لائق اور بہتر دوست چاہئے تو تمام امور میں عقل و علم ہی کو اپنا یار و مددگار بنا لے۔
تشریح: یعنی تیرے دل و دماغ میں جتنی صلاحیتیں اور جس قدر قوّتیں ہیں اور تیرے نفس کے اندر جتنے جذبات و خواہشات ہیں ان سب میں سے عقل و علم کو اپنا بہترین دوست قرار دے اور اسی کے فیصلے کے مطابق ہر کام کو انجام دیا کر۔
بہینِ دوستان را آن کسی دان
کہ او راہت نماید سُوی احسان
ترجمہ: دوستوں میں سب سے بہتر اسی شخص کو قرار دے جو تجھے صرف نیکی ہی کا راستہ بتا دیتا ہو۔
تشریح: یعنی تیرے دوستوں میں سب سے سچا دوست وہ ہے جو تجھے نیکی کی طرف رہنمائی کرے۔ اس کے برعکس جو دوست تجھے بدی اور برائی کا راستہ بتاتا ہے وہ تجھے ہلاکت اور بربادی کی طرف لے جانا چاہتا ہے، لہٰذا وہ حقیقت میں دوست نہیں بلکہ تیرے جسم و جان کا دشمن ہے۔
ز دشمن بدتر آن کس راہمی بین
کہ در بدمر ترا کردست تحسین
ترجمہ: (دوستوں میں سے) اس شخص کو دشمن سے بھی بدتر
۴۸
قرار دے جس نے تجھے برے کام میں شاباش دی ہے۔
تشریح: یعنی اگر تیرے دوستوں میں کوئی ایسا دوست بھی ہو کہ جب تو کوئی بری بات کہتا ہے یا کوئی برا کام کرتا ہے تو وہ تجھے اس سے منع نہیں کرتا بلکہ تجھے تحسین و آفرین کہتا ہے، پس تیرا ایسا دوست دشمن سے بھی بدتر ہے کیونکہ دشمن تو دشمنی ہی کے لباس میں ظاہرہے جس سے بچنا آسان ہے مگر یہ ایک ایسا دشمن ہے جو دوستی کے روپ میں چھپ کر تیری ہلاکت و بربادی کے لیے لگا ہوا ہے جس سے بچنا مشکل ہے۔
دلیلِ عقل مرد آمد سخن باز
چو آید در شخص پیدا شود راز
ترجمہ: گفتگو کرنا آدمی کی عقل و دانش کی دلیل (یعنی کسوٹی) ہے (کیونکہ) جب وہ بات کرتا ہے تو (فوراً اس کی اہلیت کا) بھید ظاہر ہو جاتا ہے۔
تشریح: اس مطلب کے بارے میں مولانا علی علیہ السَّلام کا کلام یہ ہے :
المرءُ فحبوءٌ تحتَ لِسانہ
انسان اپنی زبان (کے پردے) میں چھپا ہوا ہے یعنی انسان
۴۹
اپنی عقلی صورت اور علمی حیثیت میں خواہ کچھ بھی ہو گفتگو کے پردے میں پوشیدہ ہے جب وہ گفتگو کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس حیثیت میں ظاہر کر دیتا ہے۔
دوامِ شادمانی روی اخوان
کہ بی اخوان بود غمگین دل و جان
ترجمہ: (ہمخیال) بھائیوں کی ملاقات مسرّت و شادمانی کے ہمیشہ رہنے کا سبب ہے کیونکہ بھائیوں کے بغیر جان و دل غمگین ہوتے ہیں۔
تشریح: فرماتے ہیں کہ جب انسان کو کامیابی کے نتیجے پر خوشی کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ پھر بھی خوش نہیں رہ سکتا جبکہ وہ اپنے عزیزوں اور ہم جنسوں سے جدا اور دور رہتا ہو کیونکہ بھائیوں اور عزیزوں کے بغیر انسان کی خوشی ایک عارضی شے ثابت ہوتی ہے۔
چو دولت ساخت با نادان سر و کار
دلِ عاقل شود زین محنت افگار
ترجمہ: جب دولت و ثروت کا تعلق اور واسطہ نادان کے ساتھ ہونے لگتا ہے تو دانا کا دل اس امتحان سے زخمی ہو جاتا ہے۔
۵۰
تشریح: نادان وہ ہے جو اخلاقی اور دینی اعتبار سے گرا ہوا ہے جب ایسے نادان کو دولت و ثروت حاصل ہوتی ہے تو وہ اس کو انسانیت اور دیانت کے خلاف استعمال کرتا ہے جس سے دانشمند کو دکھ ہوتا ہے۔
اگر رنجی زنا گہ در دل آید
ز تسلیم و رضا کارت کشاید
ترجمہ: اگر یکایک کوئی تکلیف تیرے دل میں محسوس ہونے لگے، تو (خود کو خدا کی مرضی کے) سپرد کرنے اور اس سے راضی رہنے سے تیری مشکل کشائی ہو گی۔
تشریح: سیّدنا ناصر خسرو مصائب و آلام کے آنے پر تسلیم و رضا اختیار کرنے کی ہدایت فرماتے ہیں، تسلیم کا مطلب ہے اپنے آپ کو خدا کی مرضی کے سپرد کرنا یا خدا کے فیصلہ کے لیے قبول کرنا اور رضا کے معنی ہیں خدا کی مرضی کے لیے راضی رہنا چنانچہ حق تعالیٰ کے اس ارشاد سے تسلیم و رضا کی حقیقت ظاہر ہے :
الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ (۰۲: ۱۵۶)
وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم
۵۱
خدا ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
ذلیلی در طمع میدان بتحقیق
چو عزت را قناعت دان و توفیق
ترجمہ: طمع کو تحقیق و یقین کے ساتھ ذلت و خواری کا سبب قرار دینا یوں سمجھنا جس طرح قناعت اور توفیق باعثِ عزّت ہوتی ہیں۔
تشریح: مولانا علی علیہ السَّلام کا کلام ہے کہ :
اَ لطَّمَعُ رِقٌّ مُؤَ بَّدٌ
یعنی لالچ دائمی غلامی ہے اور غلامی ہی ذلت و خواری ہے اور قناعت کے بارے میں یہ کلام ہے کہ :
اَلْقَنَاعَۃُ مَالٌ لاَّ یَنْفَدُ
یعنی قناعت وہ مال ہے جو ختم نہیں ہوتا۔
چو ظلمی از تو آید نا سزا وار
ہمیشہ آن عمل را یاد میدار
ترجمہ: جب تجھ سے کسی کو کوئی ناحق نقصان پہنچ جائے تو ہمیشہ اس عمل کو (پیشمانی سے) یاد رکھنا۔
تشریح: پیر صاحب اس نصیحت میں فرماتے ہیں کہ اگر تو نے ناحق کسی کو نقصان پہنچایا ہے تو اپنی اس غلطی کو ہمیشہ یاد
۵۲
رکھ لینا تاکہ آئندہ ہرگز ایسی غلطی نہ ہو۔
چونا دان زہد و رزد ہست ظلمت
ز دانا ذلّت آید ہست رحمت
ترجمہ: جب نادان پرہیزگاری اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے لیے تاریکی ہے، اگر دانا سے (کبھی) کوئی لغزش ہو جائے تو یہ اس کے لیے رحمت ہے۔
تشریح: پرہیز گاری صفاتِ انسانیّت میں سب سے برتر ہے، مگر ایک نادان جو دیدۂ دل سے بے بہرہ ہے اس سے کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے چونکہ وہ خود چشمِ حقیقت بین سے نابینا ہے اس لیے پرہیزگاری اس کے نزدیک ایک تاریک شے سے زیادہ کوئی قدر و اہمیّت نہیں رکھتی۔ اس کے برعکس اگر دانا سے کوئی لغزش بھی ہو جائے تو اس کے لیے باعثِ رحمت ہے کیونکہ لغزش کہتے ہیں چلتے چلتے پاؤں پھسل جانے کو اور اس میں گر جانے کا ارادہ نہیں پایا جاتا اور لغزش سے کوئی ایسا گناہ مراد ہے جو بھول اور غلطی سے ہوا ہو، تو ایسے میں دانا چونکتا ہے اور گریہ و زاری سے توبہ کرتا ہے، پس اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما کر اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔
بباید عاقبت اندیش بودن
برون از خویش و ہم با خویش بودن
۵۳
ترجمہ: (تجھے) انجامِ کار کے متعلق سوچنے والا ہونا چاہئے، بے خود بھی ہونا چاہئے اور باخود بھی۔
تشریح: حضرت پیر کے اس شعر میں عاقبت اندیشی کی نصیحت فرمائی گئی ہے، جس کا مطلب ہے، ہر قول و فعل میں آخرت کو پیشِ نظر رکھنا اور ابدی فلاح و نجات کے متعلق سوچنا اس شعر کا پس مصرع اگلے مصرع کے اسی مطلب کی اس طرح سے وضاحت کرتا ہے کہ نہ صرف حصولِ دنیا ہی کی خاطر ہر وقت اپنے آپ میں ہوتے ہوئے رہنا چاہئے، بلکہ نجاتِ آخرت کے لیے سوچتے سوچتے اپنے آپ سے باہر بھی ہونا چاہئے۔
اگر بر کارِید لو داست بگذار
کہ آخر ہم ببدگر دد گرفتار
ترجمہ: اگر (کوئی شخص) برے کام سے باز نہیں آتا ہے تو تو اسے چھوڑ دے، کیونکہ آگے چل کر وہ خود بخود اسی برے کام کی وجہ سے گرفتار ہونے والا ہے۔
تشریح: “بگذار= چھوڑ دے” کے یہاں دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جب کوئی آدمی برا کام کر رہا ہے تو اسے کچھ نہ کہا جائے اور اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے، دوسرا یہ کہ اگر وہ برائی
۵۴
پر عمل کرتا جا رہا ہے اور تیری نصیحتوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو اسے چھوڑ دیا جائے، پس یہاں پہلا مطلب موزوں نہیں دوسرا مطلب درست ہے، کیونکہ اگلا مطلب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اصول کے خلاف ہے اور پچھلے مطلب میں اتمامِ حُجّت کے بعد اس کا جواز موجود ہے۔
بشادیٔ جہان دل را مکن شاد
کہ آن دارِ غرور آمدز بنیاد
ترجمہ: دنیاوی خوشی سے دل کو خوش نہ رکھا کر کیونکہ وہ شروع ہی سے دھوکا اور فریب کا گھر ہے۔
تشریح: غرور کے معنی فریب، دھوکا اور غرور کے معنی دھوکا باز ہیں یہاں شاید پہلا لفظ ہے دوسرا نہیں مطلب یہ ہے کہ دنیا تجھے جو خوشی دیتی ہے وہ دھوکا اور فریب دینے کے لیے ہے تاکہ وہ تجھے آخرت سے غافل کر سکے، شروع سے ہی یہی دھوکا بازی دنیا کی عادت رہی ہے کیونکہ یہ مکر و فریب کا گھر ہے۔
بخوی بد مرو گر ہوشیاری
کہ این رہ نیست راہ ہوشیاری
ترجمہ: اگر تو ہوشیار ہے تو کسی طرح بھی بری چال اختیار نہ کر کیونکہ یہ طریقہ ہوشیاری کا طریقہ نہیں۔
۵۵
تشریح: اس ارشاد کا مطلب ہے کہ ہوشیار اور دانا صحیح معنوں میں وہ شخص ہے، جو حُسنِ سلوک سے زندگی گزارے کیونکہ انسان کو جو عقل و دانش دی گئی ہے وہ اس لیے ہے کہ نیک و بد میں فرق و امتیاز کرے اور بد و بدی کو چھوڑ کر نیک اور نیکی کو اختیار کرے۔
زیارت کردنِ اصحاب و احباب
روان را تازگی بخشد زہر باب
ترجمہ: رفیقوں اور دوستوں سے ملاقات کرنا، روح کو ہر طرح کی تازگی و توانائی بخشتی ہے۔
تشریح: حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ ہمخیال رفیقوں اور دوستوں کی ملاقات ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے روح کو دینی اور دنیاوی ہر قسم کی مدد اور خوشی ملتی ہے۔
ضعیفان راز یارت کن زا کرام
کہ از اکرام برداری بسی کام
ترجمہ: مہربانی اور سخاوت کی صورت میں کمزوروں کی ملاقات کر لیا کر تاکہ تو مہربانی و سخاوت سے بہت سی کامیابی حاصل کر سکے۔
تشریح: غریبوں اور کمزوروں پر کچھ مہربانی کرتے
۵۶
ہوئے ان کی ملاقات کرنا دو طرح سے ہے ان کو بلا کر اور ان کے پاس جا کر مگر “زیارت کُن” کے اس صیغۂ امر سے یہ ظاہر ہے کہ پیر صاحب کے اس ارشاد کا مطلب ہے کہ غریبوں اور کمزوروں کے پاس جایا جائے اور ان کی ملاقات کرتے ہوئے انہیں کچھ دیدیا جائے، اِس صورت میں وہ کس قدر خوش ہوں گے اور ان کے بہت زیادہ خوش ہونے سے کسی مومن کو کتنی خوشی ہو گی اس کا اندازہ آپ خود کر سکتے ہیں۔
نہ فعلِ شخص حالِ شخص میدان
بتوشد حِلّ این اسرارِ پنہان
ترجمہ: آدمی کے (ظاہری) کام سے اس کا (اندرونی) حال معلوم کر لے تجھ پر (باطن بینی کے) یہ پوشیدہ بھید کھل گئے۔
تشریح: یعنی اگر کسی شخص کے بارے میں تجھے یہ جاننا ہو کہ اس کے باطن میں کیا ہے؟ نیکی ہے یا بدی؟ تو اس کے پرکھ لینے اور جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ تو اس کے ظاہری افعال کے آئینے میں اس کی اندرونی صورت حال دیکھ لیا کر اور باطن بینی کا فوری طریقہ یہی ہے۔
۵۷
سلامت دان کہ درکم گفتنِ تُست
چو صحت کان ہم از کم خفتن تُست
ترجمہ: سلامتی کے متعلق جان لے کہ یہ تیرے کم بولنے میں ہے، تندرستی کی طرح کہ وہ بھی تیرے کم سونے میں ہے۔
تشریح: سلامت کے معنی ہیں جسم و جان اور مال و اولاد کا ہر قسم کے نقص اور آفت سے محفوظ رہنا، پیر صاحب فرماتے ہیں کہ ایسی سلامتی کی دولت تیرے کم بولنے میں ہے، جس طرح صحت کہ وہ بھی تیرے کم سونے میں ہے کیونکہ ایک عام انسان کے زیادہ بولنے میں مذہبی اور اخلاقی طور پر غلطیوں اور لغزشوں کا امکان ہے جس میں روحانی اور جسمانی خطرات موجود ہیں جیسے انسان جب زیادہ سویا کرتا ہے تو وہ نہ صرف روح کے لحاظ سے بیمار ہو جاتا ہے، بلکہ ذہنیّت اور جسمانیّت کے اعتبار سے بھی وہ علیل ہو جاتا ہے۔
بزرگی جز بدانائی مپندار
کہ نادان ہمچو خاکِ راہ شد خوار
ترجمہ: دانائی کے بغیر (کسی اور شے کو) بزرگی نہ قرار دے کیونکہ نادان (مادّی طور پر جو کچھ بھی ہو) خاکِ راہ کی طرح خوار ہے۔
۵۸
تشریح: پیر صاحب اس قول کے پیش مصرع میں جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں اس کی دلیل پس مصرع میں دیتے ہیں یعنی دیکھا گیا ہے کہ مادّی لحاظ سے سب کچھ رکھنے والا نادان علم و دانش کے نہ ہونے سے خاکِ راہ کی طرح خوار ہو جاتا ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ بزرگی کسی اور شے کی وجہ سے حاصل نہیں آتی، مگر یہ علم و دانش کی بنا پر قائم ہے۔
خرد مند از تواضع مایہ گیرد
بزرگی از کرم پیرایہ گیرد
ترجمہ: دانشمند تواضع اور فروتنی سے قوّت حاصل کرتا ہے بزرگی کو بخشش اور سخاوت سے زیب و زینت ملتی ہے۔
تشریح: تواضع کا لغوی مطلب ہے کسی چیز کو نیچے رکھنا اور تواضع کے اصطلاحی معنی ہیں فروتنی اور انکساری کرنا، ان دونوں معانی کا اشارہ یہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر ابلیسیت کی بنیادی اور خطرناک خواہش بھی پائی جاتی ہے، جس کے سبب سے انسان اپنے آپ کو ہر وقت دوسروں پر فوقیت دیتا رہتا ہے، اس فعل کو تکبر کہتے ہیں، پس اخلاقی اور دینی لحاظ سے یہ امر ضروری ہوا کہ علاجِ بالضّد کے اصول پر مؤدبانہ پستی (تواضع) کی قوّت
۵۹
سے اپنی ذات کو فوقیت دینے کی خواہش کو ختم کر دیا جائے، یا کم از کم اُسے نشوونما نہ پانے دیا جائے۔
بکویِ معرفت گر تُو در آئی
زہیتہایِ عالم بر سر آئی
ترجمہ: اگر تو خود شناسی و معرفت کی گلی میں داخل ہو جائے تو تُو (اشیائے) کائنات کی تمام صورتوں پر غالب آئے گا۔
تشریح: پیر صاحب کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اے مخاطب تو اسی طرح اپنے آپ کو فوقیّت نہ دیا کر، اگر تو حقیقی معنوں میں فوقیّت چاہتا ہے، تو اس کے لیے مناسب چارۂ کار یہ ہے کہ تو سب سے پہلے پستی اختیار کر یعنی تواضع سے معرفت کی گلی میں داخل ہو جا، پھر اس کے بعد یقیناً تو اپنے آپ کو کائنات کی تمام روحانی صورتوں سے برتر پائے گا، یعنی حصولِ معرفت کے بعد ہر چیز تیری روحانی سلطنت کے نیچے آئے گی۔
شفای درد دلہا گشت عرفان
ز عرفان روشن آمد جا و دان جان
ترجمہ: معرفت دلوں کے درد کے لیے شفا ثابت ہو چکی ہے، معرفت ہی سے ہمیشہ جان روشن ہوتی چلی آئی ہے۔
تشریح: دل کا درد یعنی بیماری اور جان کی تاریکی جہالت و
۶۰
نادانی کی بے شمار مثالوں میں سے دو مثالیں ہیں اور معرفت ہی ہمیشہ سے اس درد کی دوا و شفا اور اس تاریکی کے لیے نور ثابت ہو چکی ہے۔
صلاحِ دین بُود پرہیز گاری
طمع دین را کشد در خاکِ خواری
ترجمہ: پرہیزگاری دین کے حق میں بہبودی و بہتری ہے، طمع دین کو ذلت و خواری کی مٹی میں ملا دیتی ہے۔
تشریح: دین کا تعلق قوم سے بھی ہے اور فرد سے بھی، پس اس قول میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ قوم کا ایک شخص پرہیزگاری کے ذریعہ اپنے دین کو بہتر اور برتر ثابت کر سکتا ہے اور دوسرا شخص طمع کی وجہ سے اپنے دین کو خوار بھی کر سکتا ہے۔
امیدار جُز بحق داری بگردان
کہ آن امید باشد عین نقصان
ترجمہ: اگر تو خدا کے ماسوا سے امید رکھتا ہے تو ایسی امید کو خدا کی طرف پھیر دے، کیونکہ ایسی امید (انجام میں) عینِ نقصان ثابت ہوتی ہے۔
تشریح: یعنی انسان کو دینی اور دنیاوی مقاصد کے حصول کے سلسلے میں صرف اللہ تعالیٰ ہی سے توقع رکھنی چاہئے، کیونکہ
۶۱
مسبب الاسباب وہی ہے یعنی اسباب و ذرائع اسی نے پیدا کیے ہیں، اور یہ ہرگز درست نہیں کہ اسباب و ذرائع پر بھروسا رکھ کر مسبب سے مایوس ہو جائے۔
چو جسم و جان و روزی ہرسہ او داد
بوَد جہل ارکنی از دیگری یاد
ترجمہ: جب (معلوم ہے کہ) جسم، جان اور روزی تینوں چیزیں اسی نے دی ہیں (پھر) اگر تو کسی اور کو یاد کرتا ہے تو یہ جہالت و نادانی ہے،
تشریح: پیر صاحب فرماتے ہیں کہ جب جسم و جان اور روزی کے پیدا کرنے میں خدا کے سوا کسی اور سے توقع نہیں کی جا سکتی تھی، پھر اگر اب تو کسی اور کو یاد کرتے ہوئے خدا کو فراموش کر دیتا ہے، تو یہ جہالت و نادانی نہیں تو اور کیا ہے۔
بخر سندی براور سرکہ رُستی
ز حرص اردو رگشتی بُت شکستی
ترجمہ: اگر تو حرص و ہوا سے دور ہو سکا، تو تُو نے بت کو توڑ ڈالا (اب) تُو مسرت و شادمانی سے سر اونچا کر کہ تُو رست گار ہوا۔
تشریح: پیر صاحب نے یہاں حرص کی ایک مثال بیان
۶۲
فرمائی ہے کہ حرص بت ہے اور جو شخص دنیاوی چیزوں کی حرص رکھتا ہے، وہ بت پرستی کرتا ہے، حرص کا بت بار بار روپ بدلتا رہتا ہے، یعنی نفسانی خواہشات کی مختلف صورتیں اختیار کرتے ہوئے دل و دماغ میں موجود رہتا ہے، پس اگر تو نے حرص کے اس بت کو توڑا، تو تُو رستگار ہوا۔
نصیحت بشنوار تلخ آید از یار
کہ در آخر بشیرینی رسد کار
ترجمہ: دوست کی نصیحت سن لیا کر ہر چند کہ تلخ و ناگوار گزرے کیونکہ بالآخر اس سے کام خوشگوار اور پُر لطف بن جاتا ہے۔
تشریح: نصیحت کرنے والا کسی شخص کو اس وقت نصیحت کرتا ہے جبکہ وہ عقل کی پسندیدہ راہ چھوڑ کر اپنے نفس امّارہ کی پیروی و غلامی کر رہا ہو، پھر نفس کو یہ نصیحت تلخ و ناگوار کیسے نہ گزرے، جبکہ اِس شخص کو اس کی غلامی سے چھڑایا جا رہا ہے۔
ہُنر جو زانک در عقل او نکوتر
کہ باشی در زمانہ طالبِ زر
ترجمہ: ہُنر کی جستجو کر اس لیے کہ عقل کے نزدیک وہی بہتر ہے، بنسبت اس کے کہ تُو عمر بھر دولت کا طلبگار رہے۔
۶۳
تشریح: اس شعر میں ہُنر کو دولت پر ترجیح دی گئی ہے، کیونکہ ہُنر کے بغیر دولت حاصل ہو آنے اور قائم رہنے کا کوئی اعتبار نہیں، مگر اس کے برعکس ہُنر کے ہونے میں سب کچھ ہے، اور سب سے بڑا ہُنر علم و دانش ہے۔
کسی کو قانع است او شہر یار است
گُلی دا رد کہ او بی زخم خار است
ترجمہ: جو شخص قناعت پیشہ ہو، تو وہی (دنیائے دل کا) بادشاہ ہے، اس کے پاس ایک ایسا پھول ہے جو کہ کانٹوں کی چُبھن اور خلش کے بغیر ہے۔
تشریح: یعنی اگر کوئی بادشاہ اپنی مملکت کے خزانوں سے اپنی خواہشات کی تکمیل کر کے حِظّ اٹھاتا ہو تو اس کے مقابلے میں ایک قناعت پیشہ فقیر یادِ الٰہی کے ذریعہ اپنے نفس کے بے شمار ارمانوں کو توڑ پھوڑ کر لذّت محسوس کرتا ہے پس قناعت ایک ایسا پھول ہے جس میں کوئی چبھن اور خلش نہیں۔
بدان کان تشنۂ دنیای غدّار
بتر از تشنۂ آبست بسیار
ترجمہ: جان لے کہ وہ شخص جو اس بے وفا دنیا کا پیاسا ہے پانی کے لیے ہمیشہ پیاسا رہنے والے سے بدتر ہے۔
۶۴
تشریح: اس قول میں حضرت پیر نے حصولِ دنیا کے لیے ہمیشہ پیاسا رہنے والے کی مثال استسقاء سے دی ہے، استسقاء وہ بیماری ہے جس میں دل اور جگر کی خرابی کی وجہ سے مریض کو ہمیشہ پیاس لگی رہتی ہے، یہی مثال حریصِ دنیا کی بھی ہے کہ حصولِ دنیا کے لیے اسے جو تشنگی محسوس ہو رہی ہے وہ کبھی بجھ نہیں سکتی۔
سخن را از درازی دار کو تاہ
کہ از بسیار گفتن گم شود راہ
ترجمہ: بات کو طول دینے سے بچا کر مختصر کر دے کیونکہ زیادہ بولنے سے (مقصد کا) راستہ گم ہو جاتا ہے۔
تشریح: ناصر خسرو فرماتے ہیں کہ گفتگو کرنا ادائے مطلب کے لیے ہے، اور ادائے مطلب مختصر طریقے سے بہتر رہتا ہے کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ زیادہ باتیں کرنے سے اکثر مطلب الجھ جاتا ہے۔
چو در رہ می روی منگر چپ و راست
نظر بر خویش کن کین سخت زیباست
ترجمہ: جب تو کسی راہ سے گزرتا ہے، تو دائیں بائیں نہ دیکھا کر اپنے آپ پر نظر رکھ کیونکہ یہ نہایت ہی اچھا ہے۔
تشریح: چلتے ہوئے دائیں بائیں متوجّہ ہو جانا کسی ضرورت کے بغیر شانِ بزرگی کے خلاف ہے، خصوصاً شہر و بازار اور محفلوں
۶۵
میں بلکہ چلتے ہوئے آدمی کو اپنے آپ پر نظر رکھنی چاہئے، یعنی اپنے آپ کو اخلاق و تہذیب کی حدود کے اندر رکھنا چاہئے۔
ز ہمّت چون تو در عالم بلندی
سزد کز ہر زہ بسیاری نخندی
ترجمہ: جب تو (انسانی) عزم و ہمّت سے کائنات پر فوقیّت رکھتا ہے تو تیرے شایانِ شان ہے کہ فضول باتوں سے زیادہ نہ ہنسا کرے۔
تشریح: بموجبِ ارشادِ قرآنی جب یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو تمام موجوداتِ عالم پر کرامت و فضیلت بخشی ہے، پھر یہ اس کے لیے ہر گز جائز نہیں کہ فضول باتوں میں ہنسی مذاق کر کے اپنی اصالت و شرافت اور عزّت و وقار کو یکسر ختم کر دے۔
عدویِ عاقلت بہتر بسی زان
کہ باشد مر ترا صد دوستِ نادان
ترجمہ: تیرا ایک دانا دُشمن اس سے بہت بہتر ہے کہ تیرے سو نادان دوست ہوں۔
تشریح: عاقل دشمن سے ایک شخص مراد ہے جو انسانی مرتبت کی اعلیٰ صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے تیرے مخالفت پر اترتا ہے، جس کے مقابلے کے لیے تجھے یہ موقع ملتا ہے کہ تو بھی اپنی اعلیٰ
۶۶
درجے کی صلاحیتوں کو اجاگر کرے، لیکن تیرے نادان دوست ہمنشینی کے اثر سے تجھے جہالت و نادانی کا درس پڑھاتے رہتے ہیں۔
ترا گر کو د کی یار است و عاقل
بہ از پیری بُوَد نادان و جاہل
ترجمہ: اگر ایک چھوٹا سا بچہ تیرا دوست ہو اور دانا ہو تو یہ بہتر ہے اس بوڑھے (دوست) سے جو نادان اور جاہل ہو
تشریح: بوڑھے آدمی کی بزرگی اس لیے مانی جاتی ہے کہ وہ اپنی طویل عمر میں بہت سے تجربات و معلومات حاصل کر کے عاقل اور دانشمند ہوتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ چھوٹا سا بچہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے، جو فطری صلاحیتوں یا علمی ماحول کی بنا پر ہوشیار اور دانا ہے۔
بنرمی گر سخن رانی ہمی ران
کہ از تیزی برنج آید دل و جان
ترجمہ: اگر تو نرمی سے بات کرتا ہے تو بیشک کرتے جا کیونکہ تیزی و تندی کے ساتھ بات کرنے سے دل و جان کو رنج ہوتا ہے۔
تشریح: بات اگر کسی قدر کُھردری بھی ہو تو قابلِ قبول ہو سکتی ہے، جبکہ انتہائی نرم لہجے میں ہے اور تیز و تند لہجے میں جو بات کی جاتی ہے، اُس سے غُصّہ اور تکبّر کی علامتیں ظاہر
۶۷
ہونے لگتی ہیں، لہٰذا اِس اندازِ گفتگو سے قدرتی طور پر لوگوں کو نفرت ہوتی ہے۔
ہم از نرمی بسی دل رام گردد
ز تُندی پختہا بس خام گردد
ترجمہ: نیز نرمی کی وجہ سے بہت سے دل تابعدار بن جاتے ہیں اور تُندی کے سبب سے بہت سی پختہ چیزیں خام و نا تمام ثابت ہو جاتی ہیں۔
تشریح: نرم لہجے میں بات کرنے سے انسانی شفقت، مہر اور ہمدردی کی علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں، جن کے سبب سے بہت سے دل تابعدار ہو سکتے ہیں، اس کے برعکس تیز و تند گفتگو کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے بنے بنائے کام بگڑ جاتے ہیں۔
حسد را سُویِ جان و دل مدہ بار
کہ حاسد را نبا شد ہیچ مقدار
ترجمہ: حسد کو جان و دل کی طرف (جانے کی) اجازت ہی نہ دینا کیونکہ حسد کرنے والے کی کچھ بھی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔
تشریح: حسد کا مطلب ہے کسی کی نعمت کا زوال چاہنا اور کسی کی ترقی سے جلنا یہ آدمی کو اسی طرح کھاتا ہے جس طرح گُھن لکڑی کو اندر ہی سے کھا کھا کر کھوکھلی بنا دیتا ہے، پس حسد
۶۸
کرنے والے کی کوئی مقدار نہیں رہتی ہے، جیسے بڑھئی کے نزدیک کھوکھلی لکڑی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے۔
با فراط ارکنی شہوت زیان است
ضعیفئی تن است و قطعِ جان است
ترجمہ: اگر تو شہوانی عمل کثرت سے کرتا ہے تو یہ مضر ہے (کیونکہ یہ) جسم و جان کی کمزوری اور رشتۂ جان کے ٹوٹ جانے کا باعث ہے۔
تشریح: اس سلسلے میں حرام کا تو ذکر ہی کیا، حلال میں بھی اعتدال سے کام لینے کی ضرورت ہے ورنہ آدمی کو اس کا چسکا لگتا ہے کہ خون کی کمی کے شکار ہونے کی بھی خبر نہیں ہوتی، پس شہوانی عمل کثرت سے نہ کیا جائے۔
ہمہ رنجِ جہان از شہوت آمد
کہ آدم زان برون از جنّت آمد
ترجمہ: دنیا والوں کی ساری تکالیف نفسانی خواہش کے سبب سے ہیں، کیونکہ آدمؑ کو اسی بنا پر جنّت سے نکال دیا گیا ہے۔
تشریح: انسان اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے سلسلے میں بہت سی تکالیف اور مشکلات سے دوچار ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اخلاقی دائرے
۶۹
میں محدود رکھنے اور نفس پرستی کے بیابان میں گُم گشتہ ہو جانے سے روکنے کے لیے ان کے گردا گرد بڑی بڑی اخلاقی اور مذہبی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں، مگر پھر کچھ لوگ نا جائز نفسانی لذّتوں کی تلاش میں ان رکاوٹوں سے ٹکرا ٹکرا کر تکلیف اور مصیبت اُٹھاتے ہیں۔
نشین با اہلِ علم ای دوست ماوام
کہ از دانش بہی یابی سر انجام
ترجمہ: اے دوست ہمیشہ اہلِ علم کے ساتھ رہا کر، بالآخر تجھے علم و دانش سے بہتری و بہبُودی حاصل ہو سکے۔
تشریح: ایک نیک فطرت انسان اکثر اہلِ علم کی صحبت میں رہ کر بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے جس کا سبب یہ ہے کہ مختلف موقعوں پر علم کے مختلف مباحث سامنے آتے ہیں، جن پر اہلِ علم آزادیٔ فکر کے ساتھ روشنی ڈالتے ہیں اور اسرار سر بستہ کی بہت سی باتیں بتایا کرتے ہیں۔
ہر آنک اونیست از توبہ بدانش
بصحبت ہمدم و محرم مدانش
ترجمہ: جو شخص علم و دانش میں تجھ سے بہتر اور بالاتر نہ ہو تو اس کو ہمنشینی کے لیے رفیق اور ہمراز نہ سمجھ لے۔
۷۰
تشریح: فیضِ صحبت اس وقت حاصل ہوتا ہے، جبکہ وہ شخص جس کی صحبت مطلوب ہے، علم و دانش میں تجھ سے بہتر اور بالاتر ہو، اور اگر وہ شخص بھی تیری طرح کا ہے تو اس کی صحبت میں رہنے سے تنہائی ہی بہتر ہے۔
مکن با اہلِ جہل ای یار صحبت
کہ زان صحبت رسی ہر دم بمحنت
ترجمہ: اے دوست جہالت والوں کے ساتھ ہمنشینی نہ کیا کر کیونکہ ایسی ہمنشینی سے تجھے ہمیشہ تکلیف ہوتی رہے گی۔
تشریح: یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ انسان پر صحبت کا اثر ہوتا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ جو لوگ جاہلوں کی صحبت اختیار کرتے ہیں وہ جاہل بن جائیں گے یا کم از کم ان کی جاہلانہ باتوں اور کاموں میں ملوث ہو کر تکلیف اُٹھائیں گے۔
اگر احسان کنی با مستحق کُن
نہ از بہرِ ریا از بہرِ حق کُن
ترجمہ: اگر تو کوئی نیکی کرتا ہے، تو حقدار کے لیے کر، دکھاوے کے لیے نہیں خدا کے لیے کیا کر۔
تشریح: حکیم پیر ناصر خسرو کا فرمانا ہے کہ اگر تو نیکی کرتا ہے اور وہ نیکی ہمہ رس نہیں بلکہ صرف چند افراد کو یا ایک فرد کو کافی
۷۱
ہو سکتی ہے، تو اس صورت میں تجھے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس نیکی کا اوّلین حقدار کون سا شخص ہے، پھر اس کا فیصلہ تُو قانونِ شریعت یا اصولِ حقیقت کی روشنی میں کر سکتا ہے، نیکی کی دوسری شرط یہ ہے کہ یہ محض خُدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیّت سے ہونی چاہئے نہ کہ دنیاوی طور پر نام و نمود کے لیے۔
چو پیش جاہلی نعمت نہی تو
چو تیغی شد کہ با دیوی دہی تو
ترجمہ: جب تو کسی جاہل کے سامنے نعمت (یعنی دولت) رکھ دیتا ہے، تو یہ ایک تلوار کی مثال ہوئی، جو تو ایک جنّ (بھوت) کو دیتا ہے۔
تشریح: پیر صاحب نے اگلے شعر میں فرمایا تھا کہ جب تو نیکی کرتا ہے تو اس میں حقدار کی ترتیب کو پیشِ نظر رکھنا، چنانچہ اسی ربط میں فرماتے ہیں کہ جاہل کو دولت و نعمت سے نواز کر قوّت دینا کسی شریر جنّ کے ہاتھ میں تلوار پکڑانے کے مترادف ہے۔
کہ چون نادان بیا بداز تُو قوّت
جہانی را در انداز بمحنت
ترجمہ: کیونکہ جب نادان کو تجھ سے قوّت حاصل ہو جائے، تو وہ ایک عالم کو مشقّت میں ڈالے گا۔
۷۲
تشریح: پیر صاحب اِس شعر میں اگلے شعر کے مطلب کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں، کہ جاہل کو دولت و نعمت سے قوّت دینا کسی شریر جنّ کے ہاتھ میں ایک ہتھیار پکڑانے کے برابر اس لیے ہے کہ جاہل تجھ سے یہ قوّت حاصل کر کے بہت سے لوگوں کو اذّیت و تکلیف پہنچا دیا کرے گا۔
ندا رد دین اگر مردی سخی نیست
اگر باشد سخی اور دوزخی نیست
ترجمہ: اگر کوئی آدمی سخی نہیں تو اس کا دین نہیں، اگر وہ سچی ہے، تو ہرگز وہ دوزخی نہیں۔
تشریح: حضرت مولانا علی علیہ السَّلام سخاوت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :
اَ لَّخَآ ءُ مَا کَانَ اِ بْتدِ آ ءً فَاَ مَّاَ مَا کَانَ عَن تَسْا ءَ لَۃٍ فَحَیآ ءٌ وَ تَذَ ھُّمٌ :
یعنی سخاوت یہ ہے کہ مانگنے سے پہلے عطا ہو، لیکن جو سوال کے بعد سخاوت کی جائے وہ سخاوت نہیں بلکہ وہ شرم (کا تحفظ) اور مذّمت سے بچاؤ ہے۔
مشو خود بین کہ آن باشد ہلاکت
و زان تیرہ بماند جانِ پاکت
۷۳
ترجمہ: خود بین اور خود نگر نہ ہو جا، کیونکہ یہ باعثِ ہلاکت ہے، اور اس سے تیری پاک جان تاریک رہ جاتی ہے۔
تشریح: خود بین کا مطلب ہے مغرور اور متکبّر، یعنی غرور اور تکبّر کرنے والا، اور ظاہر ہے کہ تکبّر روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار سے باعثِ ہلاکت ہے اور اس کی ابتدائی علامت یہ ہے کہ دل و جان میں ہر وقت تاریکی چھائی رہتی ہے۔
نمی بینی کہ ابلیس است خود بین
و زان آمد سزای طرد و نفرین
ترجمہ: کیا تو نہیں دیکھتا ہے، کہ ابلیس خود بین و خود نگر ہے اسی سبب سے وہ راندگی اور لعنت کا سزا وار ہوا۔
تشریح: اگر سوال ہو کہ نافرمانیوں اور گناہوں کی جڑ اور بنیاد کیا ہے؟ تو اس کا جواب بس یہی ہوگا کہ تکبر ہے کیونکہ ابلیس کی سرگزشت سے ظاہر ہے کہ وہ سب سے پہلے تکبّر کا شکار ہوا، جس کی وجہ سے اس نے یکے بعد دیگرے تمام گناہوں کا ارتکاب کیا، یہاں تک کہ دنیا میں کوئی گناہ نہیں چھوڑا۔
تواضع بندگان را ہست بہتر
تلطّف از ملوک آمد نکوتر
ترجمہ: بندوں کو تواضع اور انکساری اختیار کرنا بہتر ہے،
۷۴
بادشاہوں کی طرف سے مہربانی کا روّیہ زیادہ اچھا ہے۔
تشریح: پیر صاحب کی اِس تعلیم میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جس شخص کا جیسا مقدور اور استطاعت ہو اسی کے مطابق نیکی کر لیا کرے چنانچہ بندوں کے لیے مناسب ہے کہ تواضع کو اپنا شعار بنائیں، اور بادشاہوں کے شایان شان یہ ہے کہ وہ مہربانی کرنے کے خوگر ہو جائیں۔
کسی کو عاقل آمد نیست درویش
کہ درویش آنک بی عقل است و بی کیش
ترجمہ: جو کوئی عاقل و دانا ہو تو وہ (حقیقت میں) مفلس و نادار نہیں، کیونکہ مفلس و نادار وہ شخص ہے جس کی عقل اور دین نہ ہو۔
تشریح: یہ ایک مُسلّمہ حقیقت ہے کہ انسان صرف دُنیاوی زندگی تک محدود نہیں بلکہ وہ ابدی طور پر زندہ رہنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، دریں صورت صحیح معنوں میں امیر وہی شخص ہے، جو دین و ایمان اور عقل و دانش کی لازوال دولت رکھتا ہو اور جو آدمی اس کے بغیر ہو تو وہی حقیقت میں غریب اور مفلس ہے۔
مکن کذّاب را ہرگز کرامت
کہ از کذّاب دُور افتد سلامت
ترجمہ: جھوٹ بولنے والے کی عزّت نہ کیا کر، کیونکہ جھوٹ بولنے والے سے سلامتی دور رہتی ہے۔
۷۵
تشریح: یعنی حقیقی عزّت خدا کے لیے ہونی چاہئے، پھر اس کے رسولؐ اور ولیٔ امرؑ اور مومنین کے لیے دیکھئے قرآن (۶۳: ۰۸) ہاں بنی نوع انسان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا چاہئے، مگر پھر بھی جھوٹ بولنے والے کی عزّت لازم نہیں آتی، کیونکہ اگر اس کی عزّت کی جائے تو یہ اپنے صحیح مقام پر نہ رہے گی، اور کسی چیز کو اپنی جگہ پر نہ رکھنا ہی ظلم ہے۔
ہم از نماّم پرہیز ای برادر
کہ از نماّم جان افتد در آذر
ترجمہ: اے بھائی! چغلخور سے بچ کر رہنا، کیونکہ چغلخور کی وجہ سے جان آگ میں رہتی ہے۔
تشریح: چغلخور کے سبب سے جان میں آگ کس طرح لگتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چغلی کی باتیں جلانے کی لکڑی اور ایندھن کی طرح ہیں، اور غیض و غضب آگ کی مثال ہے، پس چغلی کی باتیں جس کو سنائی جاتی ہیں وہ بھی جلتا ہے اور جس کے متعلق یہ باتیں ہوتی ہیں وہ بھی جلتا ہے۔
ز خائن دُور باش ای دوست ہموار
کہ خائن رانبا شد دین بکیبار
ترجمہ: اے دوست، خیانت کرنے والے سے ہمیشہ دُور
۷۶
رہنا، کیونکہ خیانت کرنے والے کا قطعاً کوئی دین نہیں۔
تشریح: حضرت پیر کا اشارہ یہ ہے کہ دین کی بنیاد امانت گذاری پر ہے، جیسے آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہٖ و سلّم نے لوگوں کو دین اسلام کی دعوت کرنے سے قبل اپنے آپ کو امین ثابت کر کے امانت گذاری کی مثال پیش کی، اور اسی اخلاقی قوّت کی اساس و بنیاد پر دین کی عمارت قائم ہونے لگی، پس جو شخص امین نہ ہو، وہ خائن ہے اور جو خائن ہو اس کے دین کی کوئی بنیاد نہیں۔
ز نامحرم نظر ہم دُور می دار
کہ از دیگر نظر گردی گرفتار
ترجمہ: نا محرم (عورت) کی طرف دیکھنے سے نظر کو بچا لیا کر کیونکہ (قصد سے) دوسری بار دیکھنے سے تو (خدا کے نزدیک) ماخوذ ہو گا۔
تشریح: حدیث میں ہے کہ اگر ارادہ کے بغیر یکایک کسی نا محرم عورت پر نظر پڑتی ہے اور فوراً نظر بچالی جاتی ہے تو اس میں کوئی گناہ نہیں اور اگر اس غیر شعوری نظر کے بعد تجسس کی نگاہ سے عورت کی طرف دیکھا جاتا ہے، تو یہ گناہ ہے چنانچہ پیر کے اس قول میں یہی معنی پوشیدہ ہیں۔
۷۷
مکن عیبِ کسان تامی تو ا نی
کہ تُو ای دوست عیبِ خود ندانی
ترجمہ: جہاں تک تجھ سے ہو سکے لوگوں کی عیب جوئی نہ کیا کر کیونکہ اے دوست تو اپنے عیوب کو تو نہیں جانتا (یعنی تیرے اپنے عیوب اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کو شمار ہی نہیں کر سکتا)
تشریح: پیر صاحب اپنے مخاطب کو لوگوں کی عیب جوئی کرنے سے منع فرماتے ہیں، کیونکہ جو شخص کسی اصلاحی امر کے بغیر سب لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہو، وہی شخص اپنے اندر بہت سے عیوب پوشیدہ رکھتا ہے۔
مکن شادی ز مرگِ دیگران ہم
کہ زان شادی رس جانِ تراغم
ترجمہ: نیز دوسروں کی موت پر تو خوش نہ ہو کیونکہ ایسی ظاہری خوشی سے تیری روح کو رنج و غم پہنچتا ہے۔
تشریح: کسی دشمن یا مخالف شخص کی موت واقع ہونے سے خوش ہونا مذہب اور انسانیت کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے، اور ایسی خوشی سے روح کو غم پہنچتا ہے، کیونکہ قانونِ الٰہی یہ ہے کہ عمل کی برعکس صورت میں بدلہ ملا کرتا ہے، یعنی جو شخص ناجائز طور پر خوشی کرے، تو اسے غم ملتا ہے، اور جو خدا کی محبت میں
۷۸
یا اپنے گناہوں سے پریشان ہو کر گریہ وزاری کرے تو اسے روحانی طور پر خوشی ملتی ہے جو شخص یہاں خدا کی راہ میں رنج اٹھائے اسے قیامت میں راحت حاصل ہوتی ہے اور جو لوگوں کی غلطیوں سے درگذر کرے تو خدا اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔
چونیکو خواہ باشی برتنِ خود
دگر کس را چرا خواہی تو در بد
ترجمہ: جب تو اپنے آپ کے لیے بھلائی ہی چاہتا ہے تو تُو کسی دوسرے کے حق میں کیوں برائی چاہتا ہے؟
تشریح: پیر صاحب اپنے مخاطب پر اس طرح اعتراض اٹھاتے ہیں کہ جب تو اپنے آپ کے لیے کوئی بھی برائی نہیں چاہتا اور بھلائی ہی بھلائی چاہتا ہے تو پھر عدل و انصاف اور انسانیّت کے اصول سے ہٹ کر دوسرے کے حق میں کیوں برائی چاہتا ہے؟ حالانکہ جس طرح تو خیر و سلامت کا محتاج ہے، اسی طرح دوسرا بھی اس کا محتاج ہے۔
لیمان را مکن اکرام و اعزاز
کریمان را مدار از پیش خود باز
ترجمہ: بد سرشت لوگوں کی تعظیم و تکریم نہ کیا کر، نیک فطرت لوگوں کو اپنے سامنے سے نہ روک دیا کر۔
۷۹
تشریح: مطلب یہ ہے کہ بد سرشت لوگوں کی تعظیم و تکریم کرنے سے ان کی ہمت افزائی ہو گی، بجائے اس کے کہ تو ان کو قوّت دے، نیک فطرت لوگوں سے تعاون کیا کر تاکہ تو بدی سے خود کو بچا سکے اور نیکی میں شامل ہو سکے۔
بر اہلِ جہل رحمت ہیچ ماور
ولی بر اہلِ دانش صدق آور
ترجمہ: جہالت والوں پر کچھ بھی رحم نہ کیا کر لیکن اہلِ دانش کے ساتھ صداقت سے پیش آ۔
تشریح: جہالت و نادانی روحانی قسم کی تاریکی ہے، پس جاہل و نادان سے مہر و شفقت کا سلوک کر کے تاریکی و ظلمت نہ بڑھا دی جائے، اس کے برعکس علم و دانش روحانی قسم کی روشنی ہے لہٰذا اہلِ علم و دانش کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے کہ جس سے علم و دانش کی روشنی میں اضافہ ہو۔
اگر مالت خورد دانائی ہشیار
از و منّت بسی بر خویش می دار
ترجمہ: اگر ہوشیار دانا تیرا مال کھا جائے تو اس سے اپنے اوپر بہت سا احسان رکھا کر۔
تشریح: حضرت پیر علم و دانش کی تعریف کرتے ہوئے
۸۰
فرماتے ہیں کہ اگر حقیقی دانا پیر مریدی یا استادی و شاگردی یا دوستی اور برادری کے طریق پر تیرا مال خرچ کرتا ہے تو تجھے خوش ہونا چاہئے کہ دانا اسی طرح تجھ کو اپنا رہا ہے، اور تیرے مال کو راہِ خدا میں صرف کر رہا ہے۔
مدہ یاریٔ نادان تا توانی
کہ تادر رنجِ نادان نمانی
ترجمہ: جہاں تک تجھ سے ہو سکے، نادان سے تعاون نہ کیا کر، تاکہ تو نادانوں کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا نہ ہو جائے۔
تشریح: یعنی اگرچہ تو محض انسانی ہمدردی سے کسی نادان کی مدد کرتا ہے، تاہم لازمی ہے کہ وہ اپنی نادانی کے سبب خلافِ دین و آئین کوئی نہ کوئی غلط کام کر کے ماخوذ ہو گا، جس میں بسا ممکن ہے کہ تجھے بھی تکلیف ہو گی کہ تو اس کی مدد کر رہا تھا۔
اگر بد گوی نزدیکِ تو آید
بران اورا ز نزدیکت نشاید
ترجمہ: اگر بد گو تیرے پاس آئے تو اسے دور کر دے کیونکہ وہ تیرے پاس رہنے کے قابل نہیں۔
تشریح: یعنی جس شخص کی یہ عادت ہو کہ وہ جہاں کہیں بھی جائے لوگوں کی غیبت و شکایت کرتا ہے اور ان کو برا بھلا کہتا ہے،
۸۱
تو ایسے شخص کو اپنے پاس سے دور کر دے، ورنہ وہ اپنے معمول کے مطابق تیرے پاس لوگوں کی اور لوگوں کے پاس تیری بد گوئی کرے گا۔
از و مشنو سخنہای خرافات
کزان آید ترا در آخر آفات
ترجمہ: اس کی بیہودہ باتیں نہ سنا کر، کیونکہ ان باتوں سے آخر کار تجھ کو آفت آئے گی۔
تشریح: یعنی جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ بدگو تیرے پاس لوگوں کی بدگوئی کر کر کے لوگوں سے تیری دشمنی کرا دے گا، یہی نہیں پھر اس طرف سے لوگوں کو بھی تیری دشمنی پر آمادہ کر دے گا۔
چو خشم آری مشو چون آتشِ تیز
کز آتش بجز دان را ہست پرہیز
ترجمہ: جب تجھے غصّہ آتا ہے تو تیز آگ کی طرح مت ہو جا، کیونکہ اہلِ دانش آگ سے محتاط رہتے ہیں۔
تشریح: حجّت الحق فرماتے ہیں کہ غصّہ آگ کی طرح ہے، آگ سے لوگوں کو فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی، فائدہ اس وقت ہے جبکہ اس کو قابو میں رکھیں، اور نقصان اس وقت جبکہ اس کو آزاد چھوڑ دیں، یہی حال غصّے کا بھی ہے، چنانچہ استاد کے معمولی غصّے سے خام و نا تمام شاگرد علم و ہنر میں پختگی حاصل
۸۲
کر سکتا ہے، مگر تیز غصّہ سے اس کا ذہن جل جاتا ہے جیسے نرم آنچ سے سالن خوب پکتا ہے، مگر تیز آگ سے یا تو جل جاتا ہے یا جوش کھا کر چھلکتا چھلکتا ختم ہو جاتا ہے۔
کسی کو با تو نیکی کرد یک بار
ہمیشہ آن نکوئی یاد می دار
ترجمہ: جس شخص نے تیرے ساتھ ایک بار نیکی کی ہو اس کی نیکی کو ہمیشہ یاد کرتے رہنا۔
تشریح: یعنی قول و فعل کے ذریعہ نیکی کے عوض میں نیکی کر دی جائے اور اس کی نیکی کو دل سے فراموش نہ کر دیا جائے۔
مگو اسرارِ حالِ خویش بازن
کہ یابی راز فاش از کُوی و برزن
ترجمہ: اپنے احوال کے بھید عورت کو نہ بتا دیا کر (ایسا نہ ہو) کہ تو اپنا کھلا بھید گلی کوچے میں سنے۔
تشریح: یعنی اپنے پوشیدہ حالات کے بھیدوں کا تذکرہ عورت سے نہ کیا کر، ورنہ راز فاش ہونے کی نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ تو اپنی ان پوشیدہ باتوں کو گلی کوچے کے لوگوں سے بھی سننے لگے گا۔
زنان را لطف و خوش خوی است دو کار
چو طفلاں را بُوَد شفقت سزا وار
۸۳
ترجمہ: عورتوں کے حق میں صرف مہربانی اور خوش خلقی ضروری ہے، جیسے بچوں کے لیے محبت و شفقت درکار ہوتی ہے۔
تشریح: ارشاد ہے کہ جس طرح چھوٹے بچوں کو غیر ضروری باتیں نہیں بتائی جاتی ہیں، ان کے ساتھ محبت و شفقت کا سلوک کیا جاتا ہے، اسی طرح عورتوں پر پوشیدہ حالات کے بھید ظاہر نہ کیے جائیں صرف ان سے مہربانی اور خوش اخلاقی کا برتاؤ کیا جائے کیونکہ عورتیں بھی چھوٹے بچوں کی سی عادت رکھتی ہیں۔
سوی پیران بحرمت گر گرائی
تو در پیری ز پیران برسر آئی
ترجمہ: اگر تو بوڑھوں کی طرف عزّت و حرمت سے مائل ہو جائے تو تُو بڑھاپے میں سب بوڑھوں سے معزز ہو جائے گا۔
تشریح: قانونِ فطرت کا فیصلہ یہی ہے کہ جو شخص جیسا کرے گا ویسا پائے گا، اس کے مختلف اسباب ہیں اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم جس خاندان، جس قبیلے اور جس قوم کے بزرگوں کی عزّت کرتے ہو اس خاندان، قبیلے اور قوم کے لوگ بھی یہ چاہتے ہیں کہ بڑھاپے میں تمہاری عزت کریں۔
گناہِ بندگان پوشیدہ می دار
کہ تو ہم بندۂ حق را گنہگار
۸۴
ترجمہ: بندوں کے گناہ کو چھپا دیا کر کیونکہ تو بھی تو خدا کا ایک گنہ گار بندہ ہے۔
تشریح: جو لوگ از قسم نوکر وغیرہ تیرے ماتحت ہیں، ان کے گناہوں کو مشتہر نہ کر دیا کر بلکہ سن کے سب عیوب کو چھپا دیا کر کیونکہ آخر تو بھی ایک گناہگار بندہ ہے، اور تو چاہتا ہے کہ تیرا مالک یعنی خدا تیرے گناہوں کو چھپا دے۔
گنہ بخشا و عفو اندوز می باش
بخوش خوئی چو روشن روزی باش
ترجمہ: گناہ معاف کرنے والا اور بخشش حاصل کرنے والا ہو جا، خوش اخلاقی میں روزِ روشن کی طرح نمایان ہو جا۔
تشریح: یعنی لوگوں کے گناہ معاف کر اور اس کے عوض میں خدا کی بخشش حاصل کرتا رہ اور خوش خلقی میں روزِ روشن کی طرح آشکار ہو جا۔
مبین در ہیچ شخصی از حقارت
کہ نپذیرد دریں جا دل عمارت
ترجمہ: کسی بھی شخص کی طرف حقارت کی نظر سے نہ دیکھا کر، کیونکہ ایسے مقام میں دل کی تعمیر نہیں ہوتی۔
تشریح: فرماتے ہیں کہ کسی آدمی کی طرف حقارت کی نگاہ
۸۵
سے دیکھنے سے تیرے دل کی روحانی تعمیر نہ ہو سکے گی، جس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک انسان کسی دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے تو اس وقت اس کے دل میں تکبر موجود ہوتا ہے اور تکبر کے ہوتے ہوئے روحانی تعمیر و ترقی نہیں ہوتی۔
مدان مرخصم را خرد ای برادر
کہ سوز و عالمی یک ذرّہ آذر
ترجمہ: اے بھائی دشمن کو حقیر نہ سمجھ لے، کیونکہ آگ کا ایک ہی ذرہ ایک دُنیا کو جلا سکتا ہے۔
تشریح: کسی کو حقیر سمجھنا روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے، چنانچہ پیر صاحب نے اس سے پہلے شعر میں یہ بیان فرمایا کہ کسی کو حقیر سمجھنے سے روحانی طور پر کیا نقصان ہوتا ہے۔ اب اِس شعر میں جسمانی طور پر اس سے جو کچھ نقصان ہوتا ہے، اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ دشمن کو حقیر نہ سمجھ لیا جائے کیونکہ دشمنی کا معاملہ آگ کی طرح ہے اور آگ شروع شروع میں ایک چھوٹی سی چنگاری کی صورت میں پنہاں ہوتی ہے جب اسے ایندھن مل گیا تو یہ بڑھتے بڑھتے ایک دنیا کو جلا سکتی ہے۔
سخن ہای نکورا یا دمی دار
و زان در پیش خویش استا و می دار
۸۶
ترجمہ: اچھی باتوں کو یاد رکھا کر اور ان (کی مجموعی صورت) کو اپنے پاس استاد قرار دے۔
تشریح: یعنی اعلیٰ درجے کے ذرائع سے دینی اور دنیاوی علم کی باتوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ یاد رکھا کر اور اس کو اپنا استاد قرار دے کر ہمیشہ اُس سے استفادہ کرتا رہ۔
دلِ اہلِ دل است آن کعبۂ داد
مکن ویران مرا ور ادار آباد
ترجمہ: بزرگوں کا دل جو عطا و بخشش کا کعبہ ہے اسے ویران و خراب نہ کیا کر اُسے آباد رکھا کر۔
تشریح: خانۂ کعبہ ایک ظاہری مثال ہے تاکہ یہ حقیقت سمجھ لی جائے کہ خدا مکان و لامکان سے پاک و برتر ہونے کے باوجود ہر جگہ بھی موجود ہے اور اپنے لیے ایک مخصوص نورانی گھر بھی رکھتا ہے وہ گھر بالعموم بزرگوں کا دل اور بالخصوص بزرگوں کے بزرگ کا دل ہے اور ایسے دل کو جو عطا و بخشش کا کعبہ ہے، آباد رکھنا یہ ہے کہ تابعداری اور فرمانبرداری کی جائے۔
کہ حق راشد دلِ مردان نظر گاہ
ترا کردم ز حالِ کعبہ آگاہ
ترجمہ: کیونکہ اہلِ ہمّت کا دل خدا کے نظر کرنے کی جگہ ہے
۸۷
میں نے تجھے (حقیقی) کعبہ کے حال سے آگاہ کر دیا۔
تشریح: کعبہ کا مطلب بیت اللہ (خدا کا گھر) ہے، خدا کے گھر کا اشارہ خدا کے دیدار اور پہچان کی امکانیّت بتاتا ہے، پس اہل ہمّت کا دل خدا کا گھر ہے جس میں خدا کے نور کا مشاہدہ اور اس کی نظرِ رحمت کی جگہ ہے۔
مدہ بر عیبِ کس نا دیداہ اقرار
وگر بینی بپوستی بہتر ای یار
ترجمہ: دیکھے بغیر کسی شخص کے عیب کے متعلق اقرار نہ کر لے، اے دوست اگر تو نے (عیب کو) دیکھ بھی لیا تو تُو اسے چھپا دے تو بہتر ہو گا۔
تشریح: گناہ سے بچنے اور ثواب حاصل کرنیکا طریقہ یہ ہے کہ نہ کسی شخص کے عیب دیکھے بغیر اس سے بدظن ہوا جائے اور نہ ہی عیب دیکھنے کے بعد ظاہر کر دیا جائے۔
کہ تو ہم عیب داری عیب ناکی
خدا را شد سزا از عیب پاکی
ترجمہ: کیونکہ تیرے بھی عیب ہیں اور تو عیب ناک ہے، عیب سے پاک ہونا خدا ہی کے شایانِ شان ہے۔
تشریح: یعنی کسی کے عیب کے بارے میں بدظن نہ ہو جانا،
۸۸
اور اگر عیب معلوم بھی ہو تو اسے چھپا دیا کر، کیونکہ تو خود بھی عیب دار ہے اس لیے تجھے کوئی حق حاصل نہیں کہ دوسرے پر اعتراض اٹھائے اور صرف حق تعالیٰ کی ذات عیب سے پاک ہے۔
بنیکوئی بکن مرخصم را شاد
کزان اندیشۂ بد نا و رد یاد
ترجمہ: نیکی سے دشمن کو خوش رکھا کر تاکہ جس سے وہ (اپنی) بری تدبیر بھول جائے۔
تشریح: یہ امر دین و دانش کے خلاف ہے کہ تو ہمیشہ اپنے دشمن سے انتقام لینے کے درپے ہو جائے، بلکہ تجھے معاشرہ کی اس بیماری کو حسنِ تدبیر سے ختم کر دینا چاہئے تاکہ تُو مخالفت اور دشمنی کے بکھیڑوں میں پھنس کر دین و دُنیا کے مقاصد عالیہ حاصل کرنے سے باز نہ رہ جائے۔
مگو مدحِ خود و عیبِ دگر کس
وگر گوید کسی گو زین سخن بس
ترجمہ: اپنی تعریف کرتے ہوئے دوسرے کی عیب جوئی نہ کیا کر، اگر دوسرا کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اسے کہدے کہ یہ بات بس کر۔
تشریح: یعنی اپنی تعریف اور دوسرے کی عیب جوئی
۸۹
کرنا بیک وقت دوگنا کا ارتکاب ہے، کیونکہ انسان نہ تو تعریف کے قابل ہے اور نہ کسی کی عیب جوئی کا حق رکھتا ہے، نیز اسے اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ کسی شخص کی خودستائی یا اس کی طرف سے کسی اور کی عیب جوئی سنتا رہے۔
جوابِ ہر سوال اندیشہ می کُن
سکونت را دران دم پیشہ می کُن
ترجمہ: ہر سوال کا جواب سوچ کر بتا دے، اس وقت سکون و اطمینان کا پیشہ اختیار کر۔
تشریح: یعنی علمی طور پر غور و فکر کی گہرائیوں میں اتر جانا روحانی قوّتوں سے قریب تر ہو جانے کا ذریعہ ہے، مگر یہ کام سکون و اطمینان سے زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے، اور ہر سوال کا جواب اسی طریق سے دینا چاہئے۔
ہر آنچ دادی اندر دل میاور
چو بگذشتی ازان یکبارہ بگذر
ترجمہ: تو نے جو کچھ دیا ہے اس کو دل میں نہ لایا کر، جب تو اس واقعہ سے گزرنے لگے تو اسے یکبارگی بھول جا۔
تشریح: یعنی اگر تو نے خدا کی راہ میں کچھ دیا ہے اور ہر وقت اس کو یاد کرتا ہے تو بہت ممکن ہے کہ تجھ میں فخر و غرور پیدا
۹۰
ہو جائے یا جس کو دیا ہے اس سے کوئی دنیاوی بدلہ یا شکرگزاری کی توقع پیدا ہو، اس لیے بہتر یہ ہے کہ تو اس نیکی کو یکسر فراموش کر دے۔
بپر خور دن مکن عادت بکیبار
کزان دل تیرہ گر دد جانت افگار
ترجمہ: ایک ہی وقت میں زیادہ کھانے کا عادی نہ ہو جانا کیونکہ اِس سے تیرا دل تاریک اور جان رنجیدہ ہو جاتی ہے۔
تشریح: یعنی زیادہ غذا کھانے سے طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے حرکت قلب کی فضا تنگ ہو جاتی ہے، اور دل معمول سے زیادہ بوجھ اُٹھا اُٹھا کر تھک جاتا ہے، جس کے نتیجے پر روح کو بھی دکھ ہوتا ہے۔
ز طاعت جامۂ نو پوش ہر دم
کہ طاعت می کند اندوہِ جان کم
ترجمہ: طاعت و عبادت سے ہر بار ایک نیا (روحانی) لباس پہن لیا کر کیونکہ طاعت جان کا غم غلط کر دیتی ہے۔
تشریح: یعنی طاعت و عبادت سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے، جو روحانی لباس کی حیثیت سے ہے اور چشمِ باطن کے سامنے یہ حقیقت ایک مثال کی صورت میں نمودار ہو جاتی ہے چنانچہ آدمی جب خواب
۹۱
میں اپنے آپ کو پھٹے پُرانے کپڑوں میں دیکھتا ہے تو یہ اس کے لیے اشارہ ہوتا ہے کہ عبادت و پرہیزگاری میں کمزوری کی بنا پر اس کے روحانی لباس کا یہ حال ہوا ہے، یہی مشاہدہ خیال میں بھی ہو سکتا ہے، مگر یہ بات ہے کہ اس صورت میں خیال بھی اکثر تاریک رہتا ہے۔
چو آئی در نماز از پردۂ راز
دلِ خودرا زہر باطل بپر داز
ترجمہ: جب تو راز داری کے پردے سے داخل ہو کر نماز میں آتا ہے تو (اُس وقت) اپنے دل کو ہر قسم کے باطل (خیال) سے فارغ و خالی کر دے۔
تشریح: عبادت و بندگی مومن کے لیے ایک ایسا بہترین موقع ہے کہ جس میں وہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں کے خیالات دل سے نکال کر یکاّ و تنہا راز داری کے پردے میں اپنے حقیقی مالک کے سامنے ہو جاتا ہے اور اپنے آقا سے راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے اور خداوندِ عالم اس کی مناجات کو قبول فرما کر توفیق و ہدایت عطا کرتا ہے اس کے برعکس اگر مومن کے دل میں طرح طرح کے باطل خیالات لیے ہوئے ہیں تو کسی طرف سے بھی راز داری نہیں
۹۲
ہو سکتی۔
بپیشِ چون خودی کو ہست سلطان
نیاری دم زدن ازروی امکان
ترجمہ: اپنے مانند ایک انسان کے سامنے جو بادشاہ ہے تو (رعب کے مارے) امکانی پہلو سے بھی بات نہیں کر سکتا۔
تشریح: یعنی جب تُو کسی بادشاہ کے حضور میں ہوتا ہے تو اس وقت خوف اور ادب کے سبب سے تو بات کرنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا، حالانکہ وہ بھی تیری طرح کا ایک انسان ہے اور جب عبادت و بندگی کے دوران تُو خدا کے حضور میں ہوتا ہے تو اس وقت تیرے دل میں طرح طرح کے باطل خیالات موجود ہوتے ہیں پھر یہ کیسے جائز ہیں۔
ندا رد سوداگر حاضر نیائی
چو حاضر نیستی حق رانشانی
ترجمہ: اگر تُو (قلبی طور پر عبادت میں) حاضر نہیں ہے تو عبادت کا کوئی فائدہ نہیں، جب تُو حاضر نہیں تو تُو خدا (کی عبادت) کے قابل نہیں۔
تشریح: ذکر و عبادت کی لازمی شرط حضورِ قلب ہے یعنی دل کو خدا کے سامنے حاضر رکھنا اگر یہ نہ ہو، تو ذکر و عبادت نہ ہوئی
۹۳
کیونکہ انسان کی حقیقت جسم نہیں بلکہ دل ہے اور اللہ تعالیٰ دل ہی کو چاہتا ہے۔
بفکرت حاضرِ اوقاتِ خود باش
چہ باشی باکسان با ذاتِ خود باش
ترجمہ: فکری طور پر اپنے اوقات میں حاضر رہ تُو (خیال میں) لوگوں کے ساتھ کیوں رہتا ہے، اپنی ذات کے ساتھ رہ۔
تشریح: پیر صاحب کا مطلب ہے کہ انسان کو دنیاوی زندگی کو جو مختصر سا وقت دیا گیا ہے وہ اس کو غیر ضروری خیالات اور فضول اقوال و افعال میں صرف نہ کرے، وہ اپنی روح کی نجات کے لیے سوچا کرے۔
زیادِ مرگ غافل چون نشینی
چوبا افتادگان آخر قرینی
ترجمہ: تُو موت کی یاد سے کس طرح غافل رہتا ہے جب تُو آخر کار عاجزوں کے ساتھ (موت کے) نزدیک ہے۔
تشریح: موت کو پیش نظر رکھنے سے دنیا کی محبت کم اور آخرت کا کام درست ہو جاتا ہے ورنہ انسان کا نصب العین دنیاوی زندگی تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔
چہ داری عزمِ چندین استقامت
کہ ہم روزی بر اید بانگِ قامت
۹۴
ترجمہ: تُو (دنیا میں) اس قدر زیادہ رہنے کا ارادہ کیوں کرتا ہے کیونکہ کسی نہ کسی دن تیرے دنیا سے اٹھ جانے کی منادی ہونے والی ہے۔
تشریح: فرماتے ہیں کہ تیرا یہ ارادہ اور توقع سراسر قانونِ فطرت کے خلاف ہے کہ تو دنیا میں عرصۂ دراز تک رہنا چاہتا ہے حالانکہ ناگاہ کسی دن تیری موت واقع ہو کر تجہیز و تکفین کی منادی ہونے والی ہے۔
ببیں تا چون بُوَد حالت سر انجام
کہ باید رفت ازیں جا کام و نا کام
ترجمہ: آخر کار تیری جو کچھ حالت ہونے والی ہے تو اس کو پیشِ نظر رکھ کیونکہ یہاں سے تجھے کامیاب یا ناکام ہو کر چلے جانا ہے۔
تشریح: یعنی ہوشمندی یہ نہیں کہ تو اپنی موجودہ زندگی کی بہتری جانتا ہے بلکہ صحیح ہوشمندی یہ ہے کہ تو اپنے انجام یعنی آخرت کو پیشِ نظر رکھے کیونکہ تجھے دُنیا سے ہر حالت میں جانا ہی ہے۔
تو باشی وانچ کر دی جاودانی
نمیدانم چکردی آن تو دانی
ترجمہ: تُو بھی اور جو کچھ تو نے کیا وہ بھی ہمیشہ یاد رہے گا (لیکن) میں نہیں جانتا کہ تو نے کیا کام انجام دیا ہے وہ تو تُو خود جانتا ہے۔
تشریح: اس شعر میں حکیم ناصر خسرو اپنے مخاطب کو اس بات
۹۵
کی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اس دُنیاوی زندگی میں کچھ ایسے مفید کام کر کے جائے کہ جن کی وجہ سے لوگ اس کو ہمیشہ ہمیشہ یاد کرتے رہیں۔
برون کن از دل اندوہِ زمانہ
مگر خوشدل شوی زینجا روانہ
ترجمہ: اپنے دل سے زمانے کا غم نکال دے تاکہ تُو اس دنیا سے شادمان جا سکے۔
تشریح: یعنی جو شخص دنیا کے لالچ اور محبت میں پھنس جاتا ہے، وہ دنیا کی صدہا حسرتیں لے کر اور بہت ہی مایوسی کے ساتھ مرتا ہے اور جو شخص دُنیا سے فارغ و آذاد اور آخرت کا طلب گار ہو وہ موت کے آنے سے شادمان و مسرور ہو جاتا ہے۔
اگر خوشدل شوی در شادمانی
بماند آن شادمانی جاودانی
ترجمہ: اگر تُو (زمانے کا غم دل سے نکال کر) خوشدل ہو سکا تو سمجھ لے کہ تو شادمانی میں ہے اور یہ شادمانی ہمیشہ کے لیے رہ گئی۔
تشریح: پچھلے بیت میں پیر صاحب نے فرمایا تھا کہ اپنے دل سے زمانے کا غم نکال دے تاکہ تو اس دنیا سے شادمان جا سکے یہاں اسی سلسلے میں فرماتے ہیں کہ اگر تو اسی طرح خوشدل ہو سکا
۹۶
تو یہ ابدی نجات کا پیش خیمہ اور دائمی خوشی کی علامت ہے۔
بدانش شادگردی از دل و جان
کہ بی دانش بُوَد جاوید حیران
ترجمہ: علم و دانش سے تُو دلی اور جانی طور پر شادمان ہو گا کیونکہ بے دانش انسان ہمیشہ کے لیے حیران ہے۔
تشریح: جب یہ معلوم ہے کہ جاہل اور نادان ذہنی طور پر حیرت اور تکلیف میں ہے تو پھر اس حقیقت میں کوئی شک ہی نہیں کہ عالم اور دانشور قلبی اور روحانی طور پر مسرت و شادمانی میں ہے۔
ز راہِ دوستی این پند بنیوش
کہ رستی گر کنی این پند را گوش
ترجمہ: (اعتماد اور) دوستی کے طریق پر نصیحت سُن لیا کر اگر تُو نے کان دھر کر یہ نصیحت سُن لی تو تُو رستگار ہوا۔
تشریح: دانشمندوں سے علم و حکمت حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی شرط اُن سے دوستی و محبت ہے ورنہ دشمنی کی صورت میں ان کی باتوں پر عمل کرنا تو درکنار، باتوں کو سننا بھی ناگوار گزرتا ہے، اسی لیے حضرت پیر نے فرمایا کہ دوستی کے طریق پر یہ نصیحت سن لیا کر۔
ندانم کس چنین اسرار گفت است
ندانم کس چنین گو ہر کہ سفت است
۹۷
ترجمہ: میں نہیں سمجھتا کہ کسی انسان نے ایسے اسرار کا تذکرہ کر دیا ہے میں نہیں جانتا کہ کسی شخص نے ایسے موتی پرو دیئے ہیں۔
تشریح: اِس میں کوئی شک نہیں کہ اس کتاب کے شروع سے یہاں تک اور اس کے بعد کا حصہ دین، اخلاق اور انسانیت کی خیر و فلاح کی ایسی بہترین نصیحتوں، حقیقتوں اور حکمتوں سے بھرپُور ہے جو اب تک اسرارِ سربستہ کی حیثیت سے تھیں۔
مدار این مو عظت را خوار و آسان
کہ دروی درج کردم صورتِ جان
ترجمہ: اس نصیحت و موعظت کو حقیر اور آسان نہ سمجھنا، کیونکہ میں نے اس میں روح کی نقشہ کشی کی ہے۔
تشریح: فرماتے ہیں کہ اے مخاطب! ممکن ہے کہ تُو ان نصیحتوں کو حقیر اور معمولی سمجھے مگر یہ خود تیری نا سمجھی کی وجہ سے ہو گا، حالانکہ میں نے ان نصیحتوں کو جس ہمہ رس طریق سے پیش کیا ہے اُس میں روح کی مکمل تصویر موجود ہے پھر تُو اس کے ذریعہ اپنی روح کو پہچان سکتا ہے اور اس کی اصلاح کر کے ترقی دے سکتا ہے۔
۹۸
اگر رو کار بندی و کنی یاد
یقین شُد خانۂ جانِ تو آباد
ترجمہ: اگر تُو اس کے مطابق عمل کرتا رہے اور اسی کو ذہن میں رکھے تو یقیناً تیرا روحانی گھر آباد ہوا۔
تشریح: مطلب اس کا یہ ہے کہ آخرت کا گھر بنا بنایا نہیں ہوتا بلکہ جب مردِ مومن دنیا میں اچھے اعمال کرتا ہے تو اسی کے ساتھ ساتھ حسبِ عمل اس کا روحانی گھر اس کے دل میں اور آخرت میں تیار ہو جاتا ہے، چنانچہ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ اگر تو نے ان نصیحتوں پر عمل کیا اور ہمیشہ کے لیے ذہن میں رکھ لیا تو یقیناً تیرا روحانی گھر آباد ہُوا۔
بر اوراقِ زمان شد یادگاری
اگر تو کار بندی بختیاری
ترجمہ: (یہ نصیحت) صفحاتِ زمانہ پر ایک یادگار بن گئی، اگر تُو نے اس پر عمل کیا تو تُو بڑا سعادت مند ہے۔
تشریح: یہ پند نامہ یا کتاب اپنی خوبیوں کی وجہ سے صفحاتِ روزگار پر ایک یادگار کی حیثیت سے رہے گی، پس اے مخاطب اگر تُو نے اس کے مطابق عمل کیا تو تُو بڑا خوش نصیب اور سعادت مند ہے۔
۹۹
روشنائی نامہ – نورِ ایقان
روشنائی نامہ – نورِ ایقان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۔ باری سبحانہ و تعالیٰ کی توحید کے بارے میں
بنام کرد گار پاک داور
کہ ہست از وھم و عقل و فکر و برتر
ترجمہ:۔
باری سبحانہ و تعالیٰ کے نام سے (آغاز کرتا ہوں) جو وہم، عقل اور فکر (کی رسائی) سے بالاتر ہے۔
تشریح:۔
انسان اپنے احساس و ادراک کی قوتوں سے تمام ظاہری اور باطنی موجودات کو محسوس و معلوم کر سکتا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی قوت خدا کے علو شان تک رسا نہیں ہو سکتی، جب تک کہ خدا خود اپنی رحمت سے اس کے لئے ایک خاص نور مقرر نہ کرے۔
ہمو اول ہمو اَخر زمبدا
نہ اول بودہ ونی اَخر اورا
ترجمہ:۔
وہی مبدا (یعنی عقلِ کل کی نسبت) سے اول بھی ہے۔ اور وہی آخر بھی ہے (مگر اپنی ذات قدیم کی نسبت سے) نہ اس کی کوئی ابتداء ہے اور نہ ہی کوئی
۱
انتہا۔
خرد حیران شدہ از کنہ ذاتش
منزہ دان زا جرام و جہاتش
ترجمہ:۔
عقل و دانش اس کی ذات کی حقیقت سے حیران رہ گئی ہے، اس کو اجسام و اطراف (کے تعین) سے پاک و برتر سمجھ لے۔
تشریح:۔
اگر انسان کی اپنی جزوی عقل کے لئے یہ امر ممکن ہوتا، کہ وہ خدا کی برتری تک رسا ہو کر اس کی حقیقت کو علمی احاطہ میں لائے، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتبِ سماوی اور نورِ ہدایت کے ساتھ انبیاء و آئمہ علیھم السلام دنیا میں نہ آتے، ظاہر ہے کہ یہ عام انسانی عقل خدا کی حقیقت سمجھنے کے لئے ناکافی تھی، اس لئے راہِ حقیقت کے راہنما دنیا میں آئے، پس پیر صاحب کا یہ بیان انسان کی اس حالت کے مطابق ہے، جس میں کہ وہ خدا کے مقرر کردہ ہادیوں کی نورانی ہدایت پر عمل نہیں کرتا۔
کجا اورا بچشم سر توان دید
کہ چشم جان تواند جان جان دید
ترجمہ:۔
سر کی آنکھ سے اس کو کہاں اور کیسے دیکھا جا سکتا ہے (جب) کہ روحانی آنکھ سے صرف جان کی جان (یعنی نفسِ کلی) کو دیکھا جا سکتا ہے۔
تشریح:۔
انسانوں کی نہ صرف انفرادی جانیں ہیں، بلکہ ان کی ایک اجتماعی جان بھی
۲
ہے، یہ ان کی اجتماعی جان روح الارواح کہلاتی ہے، بمعنی جانوں کی جان، پس جانِ جان یا نفسِ نفس یا روحِ روح کا مطلب نفسِ کلی ہے، چنانچہ نفسِ کلی کا بیان اس کتاب کے باب ۳ میں ملاحظہ ہو۔
ورای لا مکانش اَشیان است
چگویم ہرچہ گویم بیش ازان است
ترجمہ:۔
اس کا مسکن لامکان سے بھی ماوراء ہے میں (اس کی توصیف میں) کیا کہوں ! جو کچھ بھی کہتا ہوں اس کی ذات اس سے بڑھ کر ہے۔
تشریح:۔
لامکان کے معنی ہیں جگہ سے بالاتر () جو طول و عرض و عمیق کے بغیر ہے یعنی غیر مادی عالم، جس طرح انسان خواب اور خیال میں ایک جیتی جاگتی دنیا دیکھتا ہے، جس میں غیر مادی طور پر سب کچھ پایا جاتا ہے، یہ کیفیت لامکان کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ چنانچہ حکیم ناصر خسرو کا کہنا ہے، کہ حق تعالیٰ مکان اور لامکان دونوں سے برتر ہے۔
صفات و ذات اوہر دو قدیم است
شدن واقف درو سیر عظیم است
ترجمہ:۔
اس کی ذات اور صفات دونوں قدیم ہیں، اس (حقیقت) کے بارے میں واقف و آگاہ ہو جانا عظیم ترین سیر و سلوک (کا نتیجہ) ہے۔
تشریح:۔
خدا کی ذات قدیم ہونے کے یہ معنی ہیں، کہ وہ کسی ابتداء و انتہا کے بغیر
۳
ہمیشہ سے ہے، اور اس کی صفات قدیم ہونے کا مطلب یہ ہے، کہ کسی وقت سے شروع کر کے نہیں بلکہ ہمیشہ سے اس کا فعل کائنات و موجودات میں جاری و ساری ہے، مثلاً اس میں خالقیت کی صفت اس طرح سے نہیں کہ پہلے وہ بغیر مخلوق کے خالق تھا اور بعد میں مخلوق بنا کر خالق ہوا ہو، ہر گز ایسا نہیں بلکہ اس کے تمام افعال (صفات) بھی اسی طرح قدیم ہیں، جس طرح اس کی ذات اقدس قدیم ہے۔
پیر صاحب فرماتے ہیں کہ اس حقیقت سے آگاہ ہو جانا کوئی آسان بات نہیں، بلکہ یہ روحانیت و معرفت کے طویل ترین سفر طے کرنے کے نتیجے میں ممکن ہے۔
بپای ما چہ رہ شاید بریدن
بدین مرکب کجا شاید رسیدن
ترجمہ:۔
(اگر ہم پیادہ ہیں تو) ہمارے انہی پیروں سے (اس بے پایان) راہ کی کیا مسافت طے ہو سکے گی! ( اگر ہم سوار ہیں تو) اسی گھوڑے پر (خدا تک) پہنچنا کہاں ممکن ہے!
تشریح:۔
خدا اور دین کے بارے میں عقیدہ رکھ کر اس پر عمل کرنا منزلِ نجات کی طرف پیادہ سفر ہے، ظاہری علم و دانش سے کام لینا اس سلسلے کی گھڑ سواری ہے، مگر پھر بھی رسائی کے یہ دونوں ذریعے راہِ حقیقت کی بے پایان مسافت طے کر کے خدا تک پہنچنے کے لئے ناکافی ہیں، جب تک کہ نورانی ہدایت کا معجزہ کسی شخص میں معرفت کے بال و پر نہ لگائے۔
بجیب عجز عقلم سرفرو بُرد
کہ باشم من کہ یارم نام اوبرد
۴
ترجمہ:۔
(جب) میری عقل ناتوانی کے گریبان میں منہ چھپاتی ہے تو میں کون ہوں جو (بجا طور پر) اس کا نام لے سکتا ہوں!
تشریح:۔
یعنی میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی حقیقت کا تذکرہ اور بیان کر سکتا ہوں، جبکہ میری عقل اس امر میں قاصر ہونے کی وجہ سے شرم کے مارے عاجزی کے گریبان میں منہ چھپاتی ہے۔
نیارم نام او بردن نیارم
من این سرمایہ در خاطر ندارم
ترجمہ:۔
میں اس کا نام (صحیح طور پر) نہیں لے سکتا، میں اس سے عاجز ہوں، میرے دل میں یہ علمی سرمایہ نہیں۔
تشریح:۔
حضرت پیر۔ حکیم ناصر خسرو۔ حق تعالیٰ کی توحید اور عظمت و جلالت کی تعریف و توصیف ایسے خاص اصول کے مطابق کرتے ہیں، جو اکثر بزرگان دین کے نزدیک پسندیدہ ہے، وہ اصول یہ ہے کہ وہ حضرات اپنے آپ کو اور اپنے علم کو حق تعالیٰ کی جلالت و کرامت کے سامنے کا لعدم قرار دیتے ہیں۔
زبان از یاد توحیدش زبون است
کہ ازحد و قیاس مابرون است
۵
زبان اس کی توحید کے تذکرہ کرنے سے عاجز و قاصر ہے، کیونکہ وہ ہماری حد بندی اور قیاس آرائی سے باہر اور برتر ہے۔
تشریح:۔
یعنی توحید کی حقیقت کو الفاظ میں لانا ایک انتہائی مشکل کام ہے، کیونکہ اگر ہم اپنی قیاس آرائی سے کچھ الفاظ میں یہ کہیں، کہ خدا ایسا ہے، تو یہ ہماری طرف سے خدا کے لئے الفاظ کی حد بندی مقرر ہو گئی، حالانکہ خدا ہماری قیاس آرائی اور حد بندی سے پاک و برتر ہے۔
نگویم صانع ھفت و چہار او ست
ولیکن عقل را پروردگار او ست
ترجمہ:۔
میں نہیں کہتا، کہ سات اور چار کا بنانے والا وہی (خدا) ہے، لیکن (یہ حقیقت ہے کہ) عقل کا پروردگار وہی ہے۔
تشریح:۔
موجودات کی تخلیق کے بارے میں پیر صاحب کا نظریہ یہ ہے، کہ باری سبحانہ و تعالیٰ نے صرف عقلِ کل ہی کو پیدا کیا، عقلِ کل سے نفسِ کل پیدا ہوا، اور نفسِ کل سے سات آسمان اور چار عناصر پیدا ہوئے، پس حق تعالیٰ وہ نہیں جس نے سات آسمان اور چار عناصر پیدا کئے، وہ تو حقیقت میں صرف عقلِ کل ہی کا پروردگار ہے۔
چہ مقداد آفتاب و آسمان را
بدو منسوب نتوان کرداَن را
۶
ترجمہ:۔
سورج اور آسمان کی کیا قدر و قیمت ہے، یہ اس سے منسوب نہیں کئے جا سکتے۔
تشریح:۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے سامنے سورج اور آسمان کچھ بھی نہیں ہیں، اس لئے ان کو خدا کی صنعت و حکمت کا مظہر اور نمونہ قرار دیکر نہیں کہا جا سکتا، کہ یہ باری تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں، اور یہ اسی سے منسوب ہیں۔
چرا گوئی زرو لعل و جواہر
ز خاک و آب و سنگ او کرد ظاہر
ترجمہ:۔
تو کیوں کہتا ہے، کہ سونا، لعل اور موتی اسی (خدا) نے مٹی، پانی اور پتھر سے پیدا کئے ہیں۔
تشریح:۔
جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے، کہ
فتبرک اللہ احسن الخالقین (۱۴: ۲۳)
پس بڑی برکت والا ہے اللہ تعالیٰ جو سب پیدا کرنے والوں سے بہترین ہے۔ اس آیۂ کریمہ سے ظاہر ہے کہ حکیم صاحب جو ارشاد فرماتے ہیں، وہ بالکل صحیح ہے۔
نبات از گل تو گوئی اوبر اَورد
نشاید این چنین اورا صفت کرد
۷
ترجمہ:۔
تو کہتا ہے کہ مرطوب مٹی سے وہی (خدا) نباتات اگاتا ہے، اس قسم کی صفت سے اس کو موصوف کرنا اس کے شایانِ شان نہیں۔
تشریح:۔
حضرت پیر ناصر خسرو نے یہاں تک علی الترتیب یہ بتلا دیا، کہ سات آسمان، چار عناصر، جمادات اور نباتات کے بارے میں یہ خیال نہ کیا جائے، کہ یہ مخلوقات حق تعالیٰ کی انتہائی قدرت و حکمت کے نمونے ہیں۔
کہ روح نامیہ این کار دارد
گل و شمشاد بر خاک ونگارد
ترجمہ:۔
کیونکہ یہ کام تو روحِ نامیہ ہی کا ہے، وہی مٹی پر پھول اور شمشاد کا درخت پیدا کرتی ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں، کہ یہ خیال کرنا غلط ہے، کہ نباتات خدا کی اگائی ہوئی ہیں، حالانکہ یہ کام روحِ نامیہ ہی کا ہے، روح نامیہ کے معنی ہیں نشوونما والی روح، جو نباتات میں اکیلی ہے، جانوروں میں روح حیوانیہ کے ساتھ ہے، اور انسانوں میں روح ناطقیہ اور حیوانیہ کے ساتھ۔
تو عقل و جان زحق دان سیم و زر چیست
مکُن صورت پرستی پاوسر چیست
۸
ترجمہ:۔
تو عقل اور جان کو حق تعالیٰ ہی سے سمجھ لے چاندی اور سونا کیا چیز ہے، صورت پرستی نہ کیا کر پاؤں اور سر کیا شے ہے۔
تشریح:۔
یعنی موجودات میں سے صرف عقل اور روح ہی دوا ایسے گرانمایہ گوہر ہیں، جو صحیح معنوں میں باری سبحانہ و تعالیٰ کی صفاتِ کمالیہ کے آئینہ دار ہو سکتے ہیں، اور صرف ان ہی کی شناخت سے خدا کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے۔
دگر بارہ تو گوئی صورت ما
ہم از آب منی او کردہ پیدا
ترجمہ:۔
پھر تو یہ کہتا ہے، کہ ہماری صورت (یعنی شخصیت) کو بھی آب منی سے اسی (خدا) نے پیدا کیا ہے۔
تشریح:۔
آسمان، عناصر، جمادات اور نباتات کے بعد انسانی جسم کی تخلیق کے تذکرہ میں پیر صاحب فرماتے ہیں، کہ تیرا یہ خیال بھی غلط ہے، جو تو سمجھتا اور کہتا ہے، کہ خدا ہی نے بذاتِ خود ہمارے جسم کو نطفہ سے پیدا کیا ہے۔
مگو زین سان ازیرا کاین ضائع
شداز تاثیر اجرام و طبائع
ترجمہ:۔
ایسا نہ کہا کر کیونکہ یہ صنعتیں (یعنی مخلوقات) اجرامِ فلکی اور چار طبائع کی
۹
تاثیر سے پیدا ہوئی ہیں۔
تشریح:۔
مذکورہ تخلیق کے بارے میں حکیم ناصر خسرو کی کتب سے یہ ظاہر ہے، کہ اجرامِ فلکی یعنی آسمانی اجسام اور گرمی، سردی، خشکی اور تری (طبائع) یہ سب نفسِ کلی کے وہ اوزار ہیں، جن سے وہ ہر وقت تخلیق کا کام لے رہا ہے۔
سپہر و عنصر و روح نمارا
خدا خوانی چنین کفر است مارا
ترجمہ:۔
تو آسمان و عناصر اور نشو و نما والی روح کو خدا مانتا ہے، ہمارے نزدیک ایسی بات تو کفر ہے۔
تشریح:۔
آسمان، عناصر اور روح نامیہ کو کس طرح خدا مان لیا جاتا ہے؟ اس طرح جبکہ یہ کہا جائے، کہ خدا وہی ہے، جس نے جمادات، نباتات، حیوانات پیدا کئے اور انسان کے اجسام بنائے، پس اس معنی میں آسمان، عناصر اور روح نامیہ کو خدا کہا گیا، کیونکہ یہ تخلیق تو ان ہی کی ہے۔
مکن در صنع مصنوعات رہ گم
زجو جو رویدو گندم ز گندم
ترجمہ:۔
مخلوقات کی تخلیق (سمجھنے میں) رستہ غلط نہ کر جانا (یہ بات یاد رکھ کہ) جو سے جو ہی اگتا ہے اور گندم سے گندم۔
۱۰
تشریح:۔
یعنی موجودات و مخلوقات کی حقیقت نہ سمجھنا گمراہی ہے، چنانچہ جب قانونِ قدرت یہی ہے، کہ گندم کے بونے سے گندم ہی پیدا ہوتا ہے اور اس سے جو ہرگز پیدا نہیں ہوتا، پھر کیا سبب ہے، کہ خدا کی وحدت سے خلق کی کثرت پیدا ہو گئی؟ یہ بات ایسی ہے جیسے گندم سے جو پیدا ہوا! حالانکہ وحدت سے وحدت ہی پیدا ہونی چاہیئے، اور خاص حکماء کا قول بھی یہی ہے۔
کہ جان آفرین دانندۂ راز
ندارد در خدائی ہیچ انباز
ترجمہ:۔
کیونکہ وہ جان کا پیدا کرنے والا اور بھیدوں کا جاننے والا اپنی خدائی میں کوئی شریک نہیں رکھتا۔
تشریح:۔
ظاہر ہے، کہ جمادات، نباتات، حیوانات اور انسانی جسم کی تخلیق میں مختلف اسباب و علل کے افعال کی شرکت پائی جاتی ہے، یعنی جیسا کہ قبلاً ذکر ہو چکا، کہ ان میں سے ہر ایک چیز اجرامِ فلکی طبائع اور روحِ نامیہ کی تاثرات کے نتیجے پر پیدا ہوتی ہے، مگر حق تعالیٰ نے جو عقل اور روح پیدا کی ہے، اس میں کسی اور ہستی کا فعل شریک نہیں۔
چہ گوئی کفر و توحیدش کنی نام
خبر نا یافتہ ز آغاز و انجام
ترجمہ:۔
تو کیوں کفر کی بات کر کے اس کا نام توحید رکھتا ہے، تجھے حقیقت کے
۱۱
آغاز و انجام کی کوئی خبر نہیں۔
تشریح:۔
فرماتے ہیں کہ جو بات توحید کی حقیقت سے ذرا بھی غلط ہو، تو وہ کفر ہے، اور غلطی کی توجیہہ کرتے ہوئے آغاز و انجام کی حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا، کہ جس شخص کے لئے حق تعالیٰ ازل و ابد کا پردہ نہ ہٹائے، تو وہ توحید کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا جیسے قول قرآن ہے: ”اور ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار کر دی اور ان کے پیچھے ایک دیوار کر دی پھر ہم نے انہیں ڈھانپ لیا پس وہ دیکھ نہیں سکتے“۔ (۹: ۳۶)
نگوید این چنین جز گبر گمراہ
ازین گفتارھا استغفر اللہ
ترجمہ:۔
ایسی باتیں گمراہ گبر کے سوا اور کوئی نہیں کرتا، ایسی باتوں کی بابت میں خدا سے مغفرت چاہتا ہوں۔
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ باری سبحانہ و تعالیٰ کو ناقص مخلوقات کا خالق قرار دینا غلط اور دینِ اسلام سے دور کی بات ہے۔
خداوند جہان دانای قاہر
یکی دان ویکی زو گشت ظاہر
ترجمہ:۔
کائنات کے مالک اور زبردست دانا کو، ایک ہی جان اور ایک ہی اس سے ظاہر ہوا۔
۱۲
یعنی کوئی شک نہیں کہ حق تعالیٰ کائنات و موجودات کا حقیقی مالک اور غالب دانا ہے، مگر وہ ہر ناقص چیز کا خالق نہیں، وہ جس طرح ایک ہے، اسی طرح اس نے ایک ہی کو پیدا کیا، یعنی عقلِ کل کو۔
۱۳
۲۔ عقلِ کلّ کے بارے میں
ز اول عقل کل راکرد پیدا
ورا عرش الٰہی گفت دانا
ترجمہ:۔
(حق تعالیٰ نے) اول سے عقلِ کل کو پیدا کیا، جس کا نام دانا نے خدا کا تخت (عرش رحمٰن) رکھا۔
تشریح:۔
یہاں اول سے حکیم ناصر خسرو کی مراد مبدع حق (۱؎) ہے، یعنی امرِ کل، جس سے عقلِ کل پیدا ہوا، پس امرِ کل اول یعنی ازل ہے، اور عقلِ کل ازلی ہے، جس کو دانا (خدا) نے عرشِ الٰہی کہا۔
گروہی علّت اولیٰ ش گفتند
گروہی آدم معنیٰ ش گفتند
ترجمہ:۔
ایک گروہ نے اسے سب سے پہلی علت کہا، اور ایک گروہ نے اسے حقیقی آدم کہا۔
تشریح:۔
یعنی ایک گروہ نے عقلِ کل کو وہ اولین سبب قرار دیا، جس سے کہ دوسری سب مخلوقات پیدا ہوئیں، اور دوسرے گروہ نے کہا، کہ عقلِ کل، ہی وہ آدم ہے جس کا ذکر قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ (پہلا گروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱؎ ملاحظہ ہو زاد المسافرین، صفحہ ۱۹۴
۱۴
حکمائی ظاہر اور دوسرا گروہ حکمائی دین ہو سکتے ہیں)
مراورا عالم جبروت نام است
کہ جبریل مکرم زان مقام است
ترجمہ:۔
اس (عقلِ کل) کا نام عالمِ جبروت ہے، اور باکرامت جبرائیل اسی مقام سے ہے۔
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو کے اس نظریے کے مطابق اگر عقلِ کل عالمِ جبروت ہے، تو اس کے اوپر امرِ کل عالمِ لاہوت ہے، اور اس کے نیچے نفسِ کل عالمِ ملکوت ہے اور سب سے نیچے انسان عالمِ ناسوت ہیں۔
ازیرا خامۂ یزدانش خوانند
رسول نامۂ یزدانش خوانند
ترجمہ:۔
اسی لئے اس (عقلِ کل) کو قلمِ الٰہی بھی کہتے ہیں، اور اس کو خط خداوندی کا پیغامبر بھی کہتے ہیں۔
تشریح:۔
حضرت پیر کی دوسری کتب سے بھی یہی مستفاد ہے، یعنی عقلِ کل کا نام عالمِ جبروت اور جبرائیل اسی عالم سے ہے، وہ اس طرح کہ جبرائیل میکائیل سے وحی لاتا ہے، میکائل اسرافیل سے، اسرافیل لوح (نفسِ کل) سے، اور لوح قلم (عقلِ کل) سے۔
۱۵
جیسا کہ حدیثِ شریف ہے:۔
”بینی و بین ربی خمس و سائط: جبریل و میکائیل و اسرافیل واللوح والقلم“
میرے اور میرے پروردگار کے درمیان پانچ واسطے ہیں، وہ جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، لوح اور قلم ہیں، اسی لئے عقلِ کل کو خدا کا قلم کہتے ہیں، کہ اسی نے لوحِ محفوظ پر یا صفحۂ کائنات پر حق تعالیٰ کی عرضی کے مطابق سب کچھ لکھدیا، نیز اسی لئے اس کو خط خداوندی کا پیغامبر کہتے ہیں، کہ اللہ جل شانہ کی طرف سے وحی و الہام کا لانے والا اور کتابِ کائنات کا ظاہر کرنے والا دراصل وہی ہے۔
نخست از آفرینش برگزیدہ
خدایش بی میانجی آفریدہ
ترجمہ:۔
حق تعالیٰ نے اسے پیدائش سے پہلے برگزیدہ کیا ہے، اور اس کو کسی واسطہ کے بغیر پیدا کیا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کا مطلب ہے کہ تخلیق میں اس کو دوسری تمام مخلوقات پر ترجیح دی گئی ہے اس کو مقدم رکھا گیا ہے، اور اس کو شرف و عزت بخشی گئی ہے، اور حق تعالیٰ نے اسے بذاتِ پاک خود پیدا کر دیا ہے، اور دوسری تمام موجودات کو اسی کے ذریعے سے پیدا کیا ہے، اگر یہاں یہ پوچھا جائے۔ جب ثابت کیا گیا، کہ عقلِ کل امرِ کل سے پیدا ہوا ہے، تو پھر کس طرح یہ مانا جا سکتا ہے، کہ خدا نے اسے بلاواسطہ پیدا کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے، کہ یقیناً عقلِ کل امرِ کل سے پیدا ہوا ہے اور امرِ کل کو خدا کی وحدت مانا گیا ہے۔
۱۶
ہر آنچ از افرینش روی بنمود
مراَن را واسطہ در عالم اوبود
ترجمہ:۔
مخلوقات میں سے جو کچھ بھی رونما اور ظاہر ہوا، اس کے لئے کائنات میں (پیدا ہونے کا) واسطہ وہی (عقلِ کل) تھا۔
پیر ناصر خسرو کا قول ہے، کہ آسمان و زمین کی ہر چیز نفسِ کل کی پیدا کردہ ہے، جس میں اس کو عقلِ کل کی تائید حاصل تھی، اور خود نفسِ کل عقلِ کل سے پیدا ہوا ہے، پس اس معنی میں تخلیق کا اولین واسطہ عقلِ کل ہی ہے۔
ز اول عقلِ کل چون شد مشہر
زیکدیگر بزادند اَن دو گوہر
ترجمہ:۔
جب اول (یعنی امر) سے عقلِ کل مشہور ہوا، تو وہ دونوں گوہر ایک دوسرے سے پیدا ہوئے۔
تشریح: یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کہ کس طرح یہ بات درست ہو سکتی ہے، کہ عقلِ کل ایک طرف سے امرِ کل سے پیدا ہوا، اور دوسری طرف سے دونوں گوہر یعنی عقلِ کل اور نفسِ کل ایک دوسرے سے پیدا ہوئے؟
اس کا جواب حق تبارک و تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے یہ دیا جا سکتا ہے، کہ عقل سے نفس کی تخلیق ہوئی اور نفس سے عقل کی تکمیل، یعنی باری سبحانہ و تعالیٰ کی مصلحت و حکمت اسی میں تھی کہ عقل کل نفسِ کل کی تائید و تربیت کرتے کرتے درجۂ کمال کو پہنچ گیا۔
۱۷
۳۔ نفسِ کُل کے بارے میں:
ز عقل کل وجود نفس کل زاد
ہمی حوای معنی خواندش استاد
ترجمہ:۔
عقلِ کل سے نفسِ کل کی ہستی پیدا ہوئی اُستادِ ازل نے اسے ”حقیقی حوّا“ کے نام سے پکارا۔
تشریح:۔
حقائق موجودات کے اس بنیادی اور فکر انگیز تصور سے، کہ عقلِ کل اور نفسِ کل حقیقی آدم و حوّا ہیں، علم و حکمت کا ایک خاص دروازہ کھل جاتا ہے، بشرطیکہ صحیح طور پر ابوالبشر کے قرآنی قصے پر سوچ لیا جائے۔
بدان گر جانت با عقل اَشنا شد
کہ این حوّا و اَن آدم چرا شد
ترجمہ:۔
اگر تیری جان عقل سے آشنا اور مانوسی ہوئی ہے، تو جان لے، کہ یہ (نفسِ کل) حوّا اور وہ (عقلِ کل) آدم کیوں ہوا؟
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو یہاں سوال کے انداز میں جو کچھ اشارہ فرماتے ہیں، اس کا مفہوم یہ ہے، کہ جس طرح سیارۂ زمین کی آبادی آدم و حوّا کے ہاتھ سے شروع ہوئی، اور جس طرح انسان کی روحانی و جسمانی تعمیر و ترقی کی ابتدا اس کی عقل اور
۱۸
جان کے ذریعے ہوئی، اسی طرح کائنات و موجودات کی تخلیق و تکمیل کا آغاز عقلِ کل اور نفسِ کل کے واسطہ سے ہوا، پس شخصی عالم (انسانی ہستی) کے آدم و حوّا عقل و جان ہیں، اور کائنات و موجودات کے آدم و حوا عقلِ کل اور نفسِ کل ہیں۔
اگر معنی نامش باز دانی
ورا جمع ملائک نام خوانی
ترجمہ:۔
اگر تو اس (نفسِ کل) کے نام کی حقیقت سمجھ سکے، تو تو اس کو فرشتوں کا جامع (یعنی عالمِ ملکوت) قرار دے گا۔
تشریح:۔
نفسِ کل کے معنی ہیں سب کی جان، یعنی تمام موجودات و مخلوقات کی مجموعی روح، اور موجودات میں سب سے پہلے ملائک ہیں، پھر بنی نوع انسان وغیرہ، پس نفسِ کل واحدہ ہے، جس نے ملائک اور ارواحِ خلائق کو ایک کر لیا ہے، اسی لئے اس کو عالمِ ملائکہ (ملکوت) عالمِ جان اور عالمِ ارواح کہتے ہیں۔
ہموشد فاعل افلاک و انجم
ہمو بحر محیط جان مردم
ترجمہ:۔
وہی آسمانوں اور ستاروں کا پیدا کرنے والا ہوا، وہی نفوسِ انسانی کا سمندر ہے۔
تشریح:۔
جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا، کہ نفسِ کل نفسِ واحدہ ہے، جس نے ساری کائنات پیدا کر دی، جو مثال کے طور پر نفوسِ انسانی کا سمندر ہے، اور تمام ارواح
۱۹
اسی سے آتی ہیں، اور شعوری و غیر شعوری طور پر اسی سے جا ملتی ہیں۔
ہمو لوح و ہمو کرسی یزدان
ہم انسان دوم ہم روح انسان
ترجمہ:۔
وہی لوح اور وہی خدا کی کرسی ہے، دوسرا انسان بھی اور انسان کی روح بھی وہی ہے۔
تشریح:۔
جہاں عقلِ کل کو قلم کہا جائے وہاں نفسِ کل لوحِ محفوظ ہے، جہاں وہ عرش ہے وہاں یہ کرسی ہے (عرش کے معنی تخت اور کرسی کے معنی چبوترہ ہیں) نیز جہاں عقلِ کل انسان کبیر اول ہے، وہاں نفسِ کل انسان کبیر دوم ہے (یہ حقیقی آدم و حوا ہوئے) اور جہاں وہ انسان صغیر کی حقیقی عقل ہے وہاں یہ انسان صغیر کی حقیقی روح ہے۔
ازان آمد فرود عقل دروای
کہ زیر تخت کرسی را بود جائی
ترجمہ:۔
اسی لئے وہ (نفسِ کلی) عقلِ کلی کے نیچے معلق ہے، کہ چبوترہ تخت کے نیچے ہی ہوتا ہے۔
تشریح:۔
خدا کی حقیقت سمجھانے کے لئے انسانوں کے سامنے یہ تصور پیش کیا گیا ہے، کہ کائنات کے سب سے بیرونی آسمان پر کرسی ہے، کرسی پر عرش اور
۲۰
عرش پر رحمان، جیسے زمین پر چبوترہ بنایا جاتا ہے، چبوترہ پر تخت رکھا جاتا ہے اور تخت پر بادشاہ بیٹھتا ہے، چنانچہ اس مثال میں جو کہا گیا ہے، کہ جسم کی زمین پر روح کا چبوترہ ہے، روح کے چبوترے پر عقل کا تخت ہے اور عقل کے تخت پر حقیقی بادشاہ بیٹھا ہوا ہے، اس کا مقصد یہ ہے، کہ جو عالی ہمت انسان خدا کو پہچاننا چاہے، تو وہ پہلے اپنی روح کو پہچانے اور اس کے نتیجے میں علم و عقل کے تخت کے نزدیک ہو جائے، اب یقینی ہے کہ وہ خدا کے نور کو عقل کے تخت پر دیکھے گا، اور اس کو پہچان لے گا۔
مسیحا گفت خواہم زی پدر شد
جہانی زین سخن زیر و زبر شد
ترجمہ:۔
عیسیٰ نے کہا کہ میں باپ کے پاس جاؤں گا، اس قول سے (نظریات کی) ایک دنیا تہ و بالا ہوئی۔
تشریح:۔
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب یہ کہا کہ میں اپنے باپ کے پاس جانے والا ہوں اور میرا باپ آسمان میں ہے، تو اس قول سے دنیائے نصرانیت نظریاتی طور پر تہ و بالا ہوئی۔ اور تثلیث کا نظریہ یہیں سے شروع ہوا، تثلیث جو باپ، بیٹا اور روح القدس تین کو ماننے کا عقیدہ ہے، توحید کے خلاف ہے۔
نکو گفت او ولی رہبان ندانست
کہ او فرزند نفسِ کل بجان است
ترجمہ:۔
اس (حضرت عیسیٰ) نے ٹھیک کہا، مگر راہب (پادری) نے نہیں سمجھا،
۲۱
کیونکہ وہ روحانی لحاظ سے نفسِ کل کا فرزند ہے ہی۔
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو کہا کہ میں اپنے باپ کے پاس جانے والا ہوں اور میرا باپ آسمان میں ہے تو یہ آنجناب نے نفسِ کل کے بارے میں کہا، اور ٹھیک کہا کیونکہ روح کے اعتبار سے وہ نفسِ کل کے فرزند ہیں، جیسے قرآنی ارشاد ہے کہ:
”خلقکم من نفس واحدۃ ۱/۴
اس نے تمہیں نفسِ واحدہ یعنی (نفسِ کل) سے پیدا کیا۔“
لیکن پادری نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول کے مطلب کو نہیں سمجھا، اس نے تو صرف یہ خیال کیا، کہ آسمان والا باپ خدا ہی ہے، اس غلط خیال کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ذاتِ سبحان کا بیٹا قرار دیا گیا اور تین (تثلیث) کا عقیدہ شروع ہوا۔
۲۲
۴۔ آسمانوں اور ستاروں کی پیدائش کے بارے میں۔
چو پیوستند عقل و نفس باہم
ازیشان زاد ارواح مجسم
ترجمہ:۔
جب عقل اور نفس ایک دوسرے سے متصل ہوئے، تو ان سے مجسم روحیں پیدا ہوئیں۔
تشریح:۔
عقلِ کل اور نفسِ کل کی باہمی پیوستگی سے ارواح مجسم پیدا ہوئیں، جن سے نو آسمان مراد ہیں، آسمانوں کو ارواح مجسم اس لئے کہا گیا، کہ ان میں سے ہر ایک میں روح اور عقل ہے، ارواح مجرد (یعنی جسم کے بغیر روحوں) کے بعد ارواح مجسم ہیں۔
یکی گردون اعظم آنکہ یکسر
برو گردند ہشت افلاک دیگر
ترجمہ:۔
(ان مجسم روحوں میں سے) ایک تو فلکِ اعظم ہے، جس کے ذریعے سے دوسرے آٹھ آسمان گردش کرتے رہتے ہیں۔
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو کا ارشاد ہے، کہ ان میں سے ایک مجسم روح سب سے بیرونی آسمان ہے، جو کہ فلک الافلاک کے نام سے مشہور ہے، جس
۲۳
کی گردش اس قسم کی ہے، کہ اس سے دوسرے سارے آسمان گردش کرتے ہیں۔
خلاف گردش این ہشت گردد
برو روز یکی رہ گشت گردد
ترجمہ:۔
وہ (فلک اعظم) ان آٹھ آسمانوں کے خلاف گردش کرتا ہے، اس کی گردش سے روزانہ ایک ہی رستہ بنتا رہتا ہے۔
تشریح:۔
آسمانوں کی مجموعی ہیئت و صورت ایک ایسے پیاز کی طرح ہے، جس کی جڑوں اور ڈنٹھل کی جگہ بھی معلوم نہ ہوا اور بالکل گول ہو، اب فرض کرو، کہ پیاز کے پرت (تہ) ایک دوسرے کے نیچے نو ہیں، ان میں سب سے بیرونی پرت اس طرح گھومتا ہے، کہ اپنی حرکت کے زور سے اپنے اندر کے آٹھ پرت کو سمت مخالف کی طرف گھماتا ہے۔
دگر چرخ دہ ود و خانہ باشد
ثوابت را در و کا شانہ باشد
ترجمہ:۔
دوسرا بارہ گھر (برج) والا آسمان ہے جس میں ساکن ستارے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
تشریح:۔
حکمائے متقدمین کے نزدیک آٹھواں آسمان فللک البروج کہلاتا ہے، جس میں بارہ برج ہیں، یعنی اس کے بارہ فرضی حصے ہیں، اس فرضی تقسیم میں
۲۴
ستاروں کے نشانات سے بھی کچھ مدد لی گئی ہے، تاکہ معلوم ہو کہ ایک برج کہاں سے کہاں تک واقع ہے۔
دگر کردون کہ باشد جای کیوان
دگر دارد در و زادوش ایوان
ترجمہ:۔
پھر (اس کے نیچے) وہ آسمان ہے جو زحل کا مقام ہے، پھر (اس کے تحت) مشتری اپنا مقام رکھتا ہے۔
تشریح:۔
ساتویں آسمان میں سیارہ زحل گردش کرتا ہے اور چھٹے میں مشتری، زحل کے معنی ہیں کام سے علیحدہ رہنے والا اور مشتری کے معنی خریدنے والا۔
دگر بہرام دارد وان دیگر شید
دگر دارد بہشت آباد ناھید
ترجمہ:۔
دوسرا (پانچواں آسمان) مریخ رکھتا ہے، اور وہ دوسرا (یعنی چوتھا آسمان) شمس رکھتا ہے، اور اس سے نچلا یعنی (تیسرا آسمان) جنت نظیر زہرہ رکھتا ہے۔
تشریح:۔
پانچویں آسمان میں سیارۂ مریخ ہے، مریخ کے معنی ہیں لمبا تیر یا نیزہ، چوتھے آسمان میں شمس یعنی سورج ہے، جو جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے، کہ سیارہ نہیں ساکن ہے، تیسرے آسمان میں سیارۂ زھرہ ہے، پیر صاحب زھرہ کو ”بہشت آباد“ کہتے ہیں، جس کے معنی ہیں بہشت کی طرح آباد، مگر یہ ظاہر نہیں
۲۵
کہ یہ تعریف اس سیارہ کے ”سعد“ ہونے کے بارے میں ہے، یا وہ ظاہری طور پر آبادی کا بہترین نمونہ بھی ہے، بہر حال زہرہ کے معنی ہیں حسین و روشن۔
دوئی دیگر یکی تیر و یکی ماہ
ترا از حال ہر نہ کر دم آگاہ
ترجمہ:۔
وہ (آسمان) اور بھی ہیں، ایک عطارد رکھتا ہے اور ایک قمر (چاند) میں نے تجھے نو آسمان کی حالت سے آگاہ کر دیا۔
تشریح:۔
دوسرے آسمان میں عطارد ہے اور پہلے آسمان میں چاند۔
گرفتہ ہر یکی عقلی و جانی
بکار خویشتن ہر یک جہانی
ترجمہ:۔
(ان میں سے) ہر ایک نے ایک عقل اور ایک جان حاصل کی ہے، اپنے مقررہ کام کے اعتبار سے (ان میں سے) ہر ایک ایک دنیا ہے۔
تشریح:۔
آسمانوں اور ستاروں میں سے ہر ایک میں عقل و جان ہے، تاکہ ہر ایک کے لئے جو مقررہ کام ہے، وہ ٹھیک طرح سے کیا جا سکے، جیسا کہ قول قرآن ہے
”ربنا وسعت کل شیء رحمۃً و علماً ۷/۴۰
”اے ہمارے پروردگار تو نے رحمت اور علم میں ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے۔“ یہاں رحمت سے روح اور علم سے عقل مراد ہے، اور ہر چیز کے ذکر میں
۲۶
سب سے پہلے آسمان اور ستارے آتے ہیں، پس اس کا مطلب یہ ہوا کہ آسمانوں اور ستاروں میں سے ہر ایک کو ایک روح (رحمۃ) اور ایک عقل (علما) گھیرے ہوئے ہے۔
یکی در ملک یزدان نیک بنگر
کہ اینہا ملک یزدانند یکسر
ترجمہ:۔
خدا کی بادشاہی کو غور سے دیکھ لے، کہ یہ (آسمان اور ستارے) سب خدا کی سلطنت ہیں۔
تشریح:۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے آگاہی اس وقت ہو سکتی ہے جب اس کی بادشاہی کو غور و فکر سے دیکھ لیا جا سکے۔
ہمہ نیک و بد ما ہست ازیشان
فنا را گشتہ کو تہ دست ازیشان
ترجمہ:۔
ہماری خیر و شر سب ان ہی سے ہے۔ موت کے لئے سبب (ہماری حفاظت سے) ان کی دست برداری ہے۔
تشریح:۔
خیر و شر سے راحت اور تکلیف مراد ہے یعنی یہی آسمان اور ستارے ہماری راحت اور تکلیف کے ذرائع ہیں اور ہم میں سے کسی کی موت بھی اس وقت واقع ہو سکتی ہے، جبکہ وہ اس کی نگہداشت سے ہاتھ کھینچ لیں۔
۲۷
شدہ حیران ہمہ درضع صانع
ہمہ سرگشتگان شوق مبدع
ترجمہ:۔
یہ سب حقیقی کاریگری میں محو حیرت ہیں۔ سب مبدع کے شوق میں بیقرار ہیں۔
تشریح:۔
مبدع کہتے ہیں ابداع کرنے والے کو یعنی کسی سابقہ مادہ اور مایہ کے بغیر ممکنات کو وجود دینے والا، جیسے قرآن پاک میں ہے:۔
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ ۱۱۷/۲
”وہ آسمانوں اور زمینوں کا بلا مادہ پیدا کرنے والا ہے اور جب کوئی امر مقرر ہوا تو وہ صرف ”کن“ (ہوجا) فرما دیتا ہے اور وہ ہو جاتا ہے۔“ اب یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسماعیلی حکماء کے نزدیک مبدع اور بدیع سے مراد امرِ کل ہے جس نے عقلِ کل کو آسمانوں اور زمینوں کی روحانی نورانی صورت میں پیدا کر دیا۔
ہمی گردند در عالم چو پرکار
پدید آرندۂ خود را طلبگار
ترجمہ:۔
سبھی کائنات میں پرکار کی طرح گھوم رہے ہیں اپنے پیدا کرنے والے کو طلب کرتے ہوئے۔
۲۸
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں کہ آسمان اور ستارے جو اس عالم میں پرکار کی طرح ہمیشہ گھوم رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ارواح مجسم ہیں اور اپنے فعل کے نتیجے کی صورت میں اپنے پیدا کرنے والے سے جا ملنا چاہتے ہیں۔
بگرد کرۂ کل در شب و روز
ہمی کردند چون شمع شب افروز
ترجمہ:۔
وہ دن رات کرۂ خاکی کے گردا گرد رات کو روشن کر دینے والے چراغ کی طرح گھومتے رہتے ہیں۔
تشریح:۔
زمین ایک محدود دائرے میں گردش کرتی رہتی ہے۔ اور آسمان اپنے وسیع دائرے میں زمین کے گرد گھوم رہے ہیں اور ستارے بھی کچھ تو آزادانہ طور پر اور کچھ آسمان کے ساتھ ساتھ گردش کرتے ہیں۔ مگر سورج کائنات کے وسط میں ساکن ہے۔
کند با ما ازاں گشتن اثر ہا
رسد مارا ازیشان خیر و شر ہا
ترجمہ:۔
اس گردش سے ہم پر اثر ہوتا ہے۔ ان (آسمان اور ستاروں) سے ہمیں خیر و شر پہنچتی ہے۔
۲۹
تشریح:۔
افلاک و انجم سے باشندگان زمین متاثر ہونے کے بارے میں پیر ناصر خسرو یہاں جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں وہ نظریۂ علم نجوم کی ترجمانی ہے۔ اس باب میں ان کا جو کچھ ذاتی نظریہ ہے وہ ان کے دیوان اور دیگر کتب کے مجموعی مطالعہ سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔
یکی از چاہ اَید برسر گاہ
یکی از گاہ افتد در بن چاہ
ترجمہ:۔
ایک کنوئیں سے (نکل کر) شاہی تخت پر آ بیٹھتا ہے ایک تخت شاہی سے کنویں کی تہ میں جا گرتا ہے۔
تشریح:۔
گردش فلکی سے جو دنیا میں اتفاقات و حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ سے کچھ انسانوں کو جس طرح عزت ملتی ہے، اسی طرح بعض آدمیوں کو ذلّت ملتی ہے۔
یکی رابی ہنر مال از عدد بیش
یکی باصد ہنر دل تنگ و دل ریش
ترجمہ:۔
ایک کے پاس بے ہنر ہونے کے باوجود بے حساب دولت ہوتی ہے۔ ایک سو ہنر کے باوجود (ناداری سے) دل تنگ اور آزردہ خاطر رہتا ہے۔
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو کا ذاتی نظریہ اس بارے میں یہ ہے:۔
۳۰
چوتو خود کنی اختر خویش رابد
مدار از فلک چشم نیک اختری را
ترجمہ:۔
جب تو خود اپنے ستارے کو نحس بناتا ہے تو تو آسمان سے نیک اختری (یعنی سعادت) کی امید نہ رکھا کر۔
زحجت این سخنہا یاد میدار
کہ دریمگان نشستہ پادشہ وار
ترجمہ:۔
حجت سے ان باتوں کو یاد رکھ لے جو یمان میں بادشاہ کی طرح بیٹھا ہوا ہے۔
تشریح:۔
حجت سے خود حکیم ناصر خسرو مراد ہیں جو اپنے وقت میں حضرت مولانا امام المستنصر باللہ علیہ السلام کی جانب سے خراسان و بدخشان کے حجت تھے۔ حجت کے کئی معنی ہیں اور اس کے بنیادی معنی ہیں بحث و دلیل میں غالب آنے والا۔ اس سے ہدایت کا ایک ایسا ذریعہ مراد ہے جس کے موجود ہونے کے بعد لوگ قیامت کے روز خدا کے حضور میں یہ عذر نہ کر سکیں کہ آپ نے ہمارے لئے دنیا میں کوئی وسیلہ مقرر نہیں فرمایا تھا۔ چنانچہ اس معنی میں خدا کے حجت رسولؐ ہیں۔ رسولؐ کے حجت امام زمان ہیں۔ امام زمان کے حجت وہ حضرات ہیں جن کو خود یہی حجت کا لقب دیا گیا ہے۔ ان کے حجت داعی ہیں اور ان کے حجت ماذون ہیں۔
۳۱
۵۔ ”چار عناصر اور ارکان کے بارے میں“
ازیشان گشت پیدا چار عنصر
زمن بشنو تو این معنیٔ چون دُر
ترجمہ:۔
ان ہی افلاک سے چار عناصر پیدا ہوئے یہ موتی جیسی حقیقت مجھ سے سن لے۔
تشریح:۔
چار عنصر یا کہ عناصر اربعہ آگ، ہوا، پانی اور مٹی ہیں۔ اور ارکان کا مطلب گرمی، سردی، خشکی و تری ہے اور ہر عنصر دو طبیعتوں سے مرکب ہے۔ چنانچہ آگ گرم و خشک ہے، ہوا گرم و تر، پانی سرد و تر اور مٹی سرد و خشک ہے۔
اثیر و پس ہوا پس آب پس خاک
کہ زاد ستند این ہر چار ز افلاک
ترجمہ:۔
آگ پھر ہوا پانی اور پھر مٹی ہے، کہ یہ چاروں آسمانوں سے پیدا ہوئے ہیں۔
تشریح:۔
یہ باتیں کرۂ زمین سے متعلق ہیں چنانچہ چار عناصر میں سب سے نیچے کرۂ خاک (مٹی) ہے۔ اس کے اوپر پانی ایک گول غلاف کی صورت میں اس طرح چھایا ہوا ہے کہ زمین کی سطح کی صرف ایک چوتھائی پانی سے خالی ہے۔ اس کے اوپر
۳۲
ہوا کا گول غلاف اس طرح سے ہے کہ سارا پانی اور زمین کا خشک حصہ ہر طرف سے اس کے گھیرے میں ہے اور ہوا کے اوپر اثیر (یعنی آگ) کا غلاف ہے۔
ازیشان گرم خشک و سرد تر ہست
چنانکہ سرد خشک و گرم تر ہست
ترجمہ:۔
ان عناصر میں خشک گرم اور تر سرد ہے جس طرح خشک سرد اور تر گرم ہے۔
تشریح:۔
خشک گرم آگ، تر سرد پانی، خشک سرد مٹی اور تر گرم ہوا ہے۔
شود پیدا ازیشان رنج و راحت
ازیشان مرہم و زیشان جراحت
ترجمہ:۔
ان ہی سے تکلیف و راحت پیدا ہوتی ہے اور ان ہی سے زخم بھی ہے اور مرہم بھی بنتا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کا فرمانا ہے کہ دنیا میں جسمانی تکلیف اور راحت کا زیادہ تر تعلق عناصر اربعہ سے ہے کیونکہ آفاق ہو یا انفس، اس میں گرمی، سردی، خشکی اور تری کے اعتدال سے راحت ہوتی ہے اور ان چار طبیعتوں کے توازن و اعتدال پر نہ ہونے سے تکلیف ہوتی ہے۔
۳۳
حکیمان این چنین گفتند باما
کہ این چار امہا تند اَن نُہ اَبا
ترجمہ:۔
حکماء نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ یہ چاروں عناصر مائیں ہیں اور وہ نو آسمان باپ ہیں۔
تشریح:۔
یہ حکماء یقیناً حکماء دین ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ تصور قرآنِ مجید کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ چنانچہ سورۂ یٰس کی آیت میں ارشاد ہے کہ: ”پاک ذات ہے جس نے زمین سے اگنے والی چیزوں کو جفت جفت پیدا کیا اور خود ان میں سے بھی اور ان چیزوں میں سے بھی جن کو وہ جانتے بھی نہیں“ یعنی تمام چیزیں کسی نہ کسی صورت میں جفت جفت ہیں۔
ازین چار و ازان نہ اے برادر
بشد موجود سہ فرزند دیگر
ترجمہ:۔
اے بھائی ان چار اور ان نو سے پھر تین فرزند پیدا ہوئے۔
تشریح:۔
یعنی نو آسمانوں سے جو باپ کی مثال ہیں اور چار عناصر سے جو ماں کی طرح ہیں تین بچے پیدا ہوئے۔
معادن پس نبات اَنگاہ حیوان
بہم بستند یکسر عہد و پیمان
۳۴
ترجمہ:۔
کانیں، اگنے والی چیزیں اور حیوانات (پیدا ہوئے) انہوں نے آپس میں عہد و پیمان باندھ لیا۔
تشریح:۔
آسمان اور عناصر کے ان تینوں فرزندوں کو موالید ثلاثہ کہتے ہیں۔ جو کانیں، نباتات اور جانور ہیں۔ اور یہ قدرتی طور پر ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔
بدریا درودرکان لعل و گوہر
کند درویش مردم راتونگر
ترجمہ:۔
دریا میں موتی اور کان میں لعل و جواہر ہوتے ہیں، جو غریب لوگوں کو امیر بناتے ہیں۔
تشریح:۔
پیر صاحب معدنیات کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ معدنیات وہ ہیں جو انسان کے لئے بہت مفید ہیں۔ مثلاً دریا سے موتی نکلتے ہیں اور کانوں سے لعل و جواہر اور یہ ایسی قیمتی چیزیں ہیں کہ اگر غریب لوگوں کو مل جائیں تو وہ فوراً امیر بن جائیں۔
غذای میوہ و نان ست کزوی
پدید اَید ہمی خون در رگ وپی
ترجمہ:۔
پھول اور روٹی کی غذا ہے کہ جس سے نسوں اور پٹھوں میں خون پیدا ہوتا ہے۔
۳۵
تشریح:۔
معدنیات کے بعد نباتات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان سے انسان کے لئے فائدہ یہ ہے کہ ان سے انسان کی غذا بنتی ہے جس سے اس کے جسم میں خون مہیا ہوتا ہے۔
ستور و گوسفند و گاؤ واشتر
کزیشان می شود روئی زمین پر
ترجمہ:۔
چوپائے گوسفند، گائے اور اونٹ ہیں جن (کی کثرت) سے زمین بھر جاتی ہے۔
تشریح:۔
معدنیات اور نباتات کے بعد حیوانات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہر قسم کے چوپائے، جانور اور مویشی ہیں جن کی کثرت سے زمین بھر جاتی ہے۔
ہمہ از بہر انسانند درکار
کشد او رایکی زین ویکی بار
ترجمہ:۔
یہ سب انسانوں کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک تو انسان کی سواری کے لئے زین اٹھاتا ہے اور ایک بوجھ اٹھاتا ہے۔
تشریح:۔
مولید ثلاثہ یعنی جمادات (معدنیات) کے بعد حیوانات کا ذکر ہے اس میں خود انسان بھی شامل ہے۔ کیونکہ حیوان کے معنی ہیں جاندار یعنی وہ
۳۶
مخلوق جو جان رکھتی ہے اور زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ حیوان کے ساتھ دو اور لفظ لگا کر یہ فرق ظاہر کر دیا گیا کہ ایک حیوان خاموش ہے اور دوسرا حیوان بولتا ہے چنانچہ زندہ اور خاموش مخلوق کو حیوانِ صامت اور دوسری مخلوق کو جو زندہ ہونے کے ساتھ ساتھ بولتی بھی ہے حیوانِ ناطق کہا۔
موالیدند ازین ہا جسم انسان
پدید آمد درین شش گوشہ ایوان
ترجمہ:۔
انہی سے انسانی اجسام پیدا ہوتے ہیں اور انہی سے اس دنیا کی آبادی ہوتی ہے۔
تشریح:۔
قانونِ قدرت کا نظام یہ ہے کہ ترتیب اور درجات میں ہر نچلی مخلوق اپنے سے ایک درجہ اوپر کی مخلوق میں فنا ہو کر اس کی حیثیت میں بقا پاتی ہے۔ چنانچہ جمادات یعنی بے جان چیزیں نباتات بن جاتی ہیں، نباتات حیوانات کے جسم بن جاتی ہیں اور حیوانات انسانوں کے جسم بن جاتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ استثنا بھی ہے کہ کوئی مخلوق اپنے سے اوپر کے چند درجات کو چھوڑ کر بالاتر بھی جا سکتی ہے۔ مثلاً پانی، ہوا، نمک اور دوسری بہت سی بے جان چیزیں دوا کی صورت میں انسان کا جزو بدن بن جاتی ہیں۔ جبکہ ان کے اوپر کے درجے نباتات اور حیوانات تھے اس طرح نباتات ہیں۔
درا ای حجت زیبا سخن گوی
کہ بردی از خلائق در سخن گوی
۳۷
ترجمہ:۔
آ جا اے پر لطف و پر کشش باتیں کرنے والے حجت، کہ تو کلام میں خلائق سے گوئی سبقت لے گیا۔
تشریح:۔
ویسے تو یہ رسم ہے کہ ہر شاعر کچھ نہ کچھ اپنی تعریف بھی کرتا ہے۔ مگر یہاں وہ بات ہرگز نہیں بلکہ حکیم ناصر خسرو جو کچھ فرماتے ہیں وہ یقیناً عین حقیقت ہے۔ کیونکہ آپ حکیم ربانی اور غواص بحر روحانی ہونے کے علاقہ وہ پہلے شاعر ہیں جس نے غزل نہیں کہی بلکہ اپنی تمام شاعری حکمت کے لئے مخصوص کر دی۔
۳۸
۶۔ متولدات کے بارے میں:۔
چہ گفتند آن حکیمان سخن گوئی
کہ بردند از ملائک در سخن گوئی
ترجمہ:۔
(سن لے کہ) کیا کہا ان سخن پرور حکماء نے، جو فصاحت و بلاغت میں فرشتوں سے بھی گوئی سبقت لے گئے ہیں۔
تشریح:۔
متولد کے معنی ہیں تولد ہونے والا، پیدا ہونے والا اور متولدات اس کی جمع ہے جس سے مراد انسان اور اس کی تخلیق و تولید ہے۔ چنانچہ حکیم صاحب حکمائی دین کے حوالے سے اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
کہ خون ما کہ آن اصل حیات ست
یکی فرزند حیوان و نبات ست
ترجمہ:۔
(حکماء نے فرمایا) کہ ہمارا خون جو کہ زندگی کی اصل و اساس ہے وہ حیوان اور نبات کی ایک اولاد ہے۔
تشریح:۔
خون کو انسانی جسم کی زندگی کی اصل و اساس اس لئے قرار دیا جاتا ہے کہ اسی میں روحِ حیوانی بصورتِ ذرات پائی جاتی ہے وہ حیوان اور نبات کے امتزاج سے پیدا ہوا ہے۔ یعنی جب ہمارا نفسِ حیوانی اناج، پھل، ترکاری وغیرہ سے بنی
۳۹
ہوئی غذائیں کھا لیتا ہے تو اس سے خون پیدا ہوتا ہے یا اس سے یہ مراد ہے کہ خون ہمارے جسم میں روحِ حیوانی اور روحِ نباتی کے عمل سے بنتا ہے۔
دگر رہ چون مصفا گردد آن خون
وزو خون سفید آید بہ بیرون
ترجمہ:۔
پھر واپس جب وہ خون صاف ہو جاتا ہے اور اس سے سفید خون خارج ہو جاتا ہے۔
تشریح:۔
خون میں یہ بھی صلاحیت ہے کہ روحِ حیوانی کے عوامل سے اس کی ایک مقدار صاف ہو کر سفید رنگ میں خارج ہو جاتی ہے۔
ورا خوانند نطفہ اہل معنی
کہ پالودہ ازاں خون ست یعنی
ترجمہ:۔
اس کو اہلِ حقیقت نطفہ کہتے ہیں۔ اس کے معنی ہیں کہ وہ خون سے صاف و پاک کیا ہوا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کا ارشاد ہے کہ اس سفید خون کو نطفہ اس لئے کہتے ہیں کہ نطفہ کے معنی صاف پانی ہیں۔
وزان پس در مشیمہ چونکہ افتاد
فگندش اوستاد چرخ بنیاد
۴۰
ترجمہ:۔
اور اس کے بعد وہ جب رحم میں جا گرتا ہے تو آسمان کا استاد اس کے لئے تخلیق کی بنیاد رکھتا ہے۔
تشریح:۔
یعنی جب مادۂ تولید مشیمہ (رحم) میں جاگزین ہوتا ہے تو خدا کے امر کے بموجب آسمان بحیثیت استاد اس نطفہ کی تعمیر و تخلیق کی عمارت قائم کرنے کی بنیاد رکھتا ہے۔
زحل یک ماہ او را تربیت کرد
دوم مہ مشتریش تقویت کرد
ترجمہ:۔
زحل نے ایک مہینے اس کی پرورش کی مشتری نے دوسرے مہینے اس کو قوت پہنچائی۔
تشریح:۔
قرآنِ پاک میں ارشادِ ربانی ہے:
وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ (۴۵: ۱۳)
”اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے سب کو تمہارے لئے مسخر کر دیا۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے جو فکر کرتے ہیں نشانیاں ہیں“۔ اس ارشادِ الٰہی سے اس حقیقت کی تصدیق ہوئی کہ ستارے انسان کے فائدے کی خاطر مصروف عمل ہیں۔
۴۱
بشد ماہ سوم بہرام یارش
چہارم ماہ خور صورت نگارش
ترجمہ:۔
تیسرے مہینے میں مریخ اس کا مددگار ہوا چوتھے مہینے میں سورج اس کا مصور (صورت بنانے والا) ہوا۔
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو نے آسمانوں اور ستاروں کی پیدائش کے باب میں افلاک و انجم کو ارواحِ مجسم کے نام سے موسوم فرمایا ہے اس کے معنی یہ ہوئے کہ انسانی جسم کی تخلیق کے سلسلے میں قانونِ قدرت کی طرف سے ستاروں کو جو خدمت سونپی گئی ہے وہ روحانی اور جسمانی دونوں طرح سے انجام پاتی ہے۔ چنانچہ سورج انسانی جسم کی تعمیر و تخلیق میں جو کام انجام دیتا ہے وہ بھی اسی طرح سے ہے۔
چو از خورشید تاباں زندگی یافت
دران جا قوت جنبندگی یافت
ترجمہ:۔
جب اس نے چمکنے والے سورج سے زندگی پائی تو وہاں پر اس کو ہلنے کی قوت مل گئی۔
تشریح:۔
حکماء سورج کو گرمی، روشنی اور دوسری کئی طاقتوں کے علاوہ روحِ حیوانی کا بھی سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ شاید یہی سبب ہے کہ ماں کے پیٹ کے بچے میں جو روحِ حیوانی کا داخل ہونا شروع ہوتا ہے وہ چوتھے ماہ میں ہے کیونکہ اس میں سورج کی خاص نگرانی رہتی ہے۔
۴۲
مہ پنجم کند زہرہ ورا کار
عطارد باشدش ماہ ششم یار
ترجمہ:۔
پانچویں ماہ میں زہرہ اس کے لئے کام کرتا ہے، چھٹے مہینے میں عطارد اس کا مددگار بنتا ہے۔
تشریح:۔
قرآنِ پاک کی تعلیمات میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ احسن الخالقین ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ حق تعالیٰ کی بادشاہی میں ظاہراً و باطناً تخلیق و تعمیر کی بہت سی قوتیں موجود ہیں۔ مگر حق تعالیٰ کی تخلیق ان سب سے بہترین ہے، پس اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہوا، کہ مختلف قوتوں کے ذریعے سے انسان کی تخلیق منزل بمنزل تکمیل پائی جاتی ہے اور اخیر میں روحانی تخلیق خدا ہی کے ہاتھ سے انجام پاتی ہے۔
(ملاحظہ ہو قرآن ۱۴/۲۳ اور ۱۲۵/۳۷)
بہفتم ماہ اورا ماہ باشد
بہشتم زو زحل آگاہ باشد
ترجمہ:۔
ساتویں مہینے میں چاند اس کا ساتھی ہوتا ہے۔ آٹھویں ماہ میں زحل اس کی خبر گیری کرتا ہے۔
تشریح:۔
بچے کی اس خدمت و حفاظت میں سات ستاروں کا جب پہلا دور ختم ہو جاتا ہے تو پھر دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے۔
۴۳
دران زندان تنگ اندر کشا کس
بود جائش میان آب و خون خوش
ترجمہ:۔
اس تنگ قید خانے میں (اور ایسی) کش مکش میں اس کی جگہ پانی اور خون کے درمیان (ہونے کے باوجود) اچھی محسوس ہوتی ہے۔
تشریح:۔
یہ بات خاص و عام سب جانتے ہیں کہ اس مادی زندگی میں انسان سانس لئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ تاہم کچھ حالات ایسے بھی ہیں جن میں سانس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے مثلاً جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں تھا نیز جبکہ روحانیت کی ایک خاص منزل سے گزرتا ہے اور یہی سبب ہے جو ائمہ علیھم السلام نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص پانی میں ڈوب کر مر جائے تو اس کو ایک دن اور ایک رات رکھ کر دفن کیا جائے اور اگر آسمانی بجلی گرنے سے کسی پر موت کی سی کیفیت طاری ہوئی ہو تو اس کو تین دن سے پہلے دفن نہ کیا جائے۔
پس از نہ ماہ زاووش خجستہ
برون آرد ورا زان راہ بستہ
ترجمہ:۔
نو مہینے کے بعد مبارک مشتری اس کو اس دشوار اور تنگ راستہ سے باہر لاتا ہے۔
تشریح:۔
ایک طرف انسان کی مادی تخلیق شکمِ مادر میں نو ماہ کے بعد مکمل ہو جاتی ہے، دوسری طرف سے اس کی روحانی تخلیق دعوتِ حق میں نو درجوں کی شناخت
۴۴
کے بعد مکمل ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہیں۔ مستجیب۱، ماذون محدود۲، ماذون مطلق۳، داعی محدود۴، داعی مطلق۵، حجتِ جزیرہ۶،حجتِ اعظم۷، امام۸،اساس۹۔
ازان تاریک دان آید درین جائی
جہان بیند خوش و خوب و دل آرائی
ترجمہ:۔
اس تاریک مقام سے اس ظاہری دنیا میں آتا ہے اور دنیا کو خوش منظر خوبصورت اور مسرت بخش دیکھتا ہے۔
تشریح:۔
قرآنِ کریم کا ارشاد ہے کہ رحمِ مادر میں جب بچے کی تخلیق ہوتی ہے اس وقت وہ تین قسم کی تاریکیوں میں پوشیدہ ہوتا ہے جس سے عقلانی، روحانی اور جسمانی تاریکی مراد ہے۔
سرائی بس فراخ و مسکن خوش
ہوائی بس لطیف و خوب و دلکش
ترجمہ:۔
ایک بہت وسیع گھر اور ایک خوش منظر مقام ایک انتہائی لطیف، عمدہ اور دل کش ہوا (کو دیکھتا ہے)۔
تشریح:۔
یعنی نو مولود بچہ اس دنیا کو ہر لحاظ سے بہتر اور دل کش پاتا ہے اور اپنی ماں کے پیٹ کی نسبت یکایک یہاں بڑا فرق دیکھتا ہے۔
۴۵
چنان پندارد آن مسکین درین جا
کزین خوشتر نباشد ہیچ ماوا
ترجمہ:۔
وہ بیچارہ اس دنیا میں آ کر ایسا گمان کرتا ہے کہ اس سے بہتر کوئی مقام نہیں ہو سکتا۔
تشریح:۔
پیر صاحب نومولود بچے کی زبانِ حال کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ جب شکمِ مادر کی تنگی سے آزاد ہو کر دنیا کی وسعت و کشادگی میں آتا ہے تو وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس سے بہتر کوئی جگہ نہیں بس یہی ہے جو کچھ ہونا چاہیئے۔
نمی داند کزین خوشتر سرائیست
کہ این در جنب آں تاریک جائیست
ترجمہ:۔
وہ نہیں جانتا کہ اس سے ایک بہتر گھر ہے جس کے مقابلے میں یہ ایک اندھیرا مقام ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کے اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ عالمِ سفلی یعنی دنیا ایک انتہائی تاریک اور گہرے کنوئیں کی طرح ہے، جبکہ عالمِ علوی یعنی آخرت ایک روشن دنیا کی مثال پر ہے۔ اگر واقعاً ایسا نہ ہوتا، تو قرآنِ مجید کی تعلیمات میں یہ مثال نہیں دی جاتی کہ ”اور تم سب لوگ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو اور متفرق نہ ہو“ اس سے یہ معلوم ہوا کہ دنیا ایک تاریک کنواں ہے جس سے نکل کر عالمِ بالا میں چڑھنے کا واحد ذریعہ اللہ کی وہ رسی ہے جو اس غرض کے لئے عالمِ علوی اور عالمِ
۴۶
سفلی کے درمیان قائم کر دی گئی ہے۔
نبات آسا بود یک چند حالش
بر آید زین تر و تازہ نہالش
ترجمہ:۔
کچھ عرصہ اس (بچے) کی حالت نبات کی طرح ہوتی ہے جس سے وہ خوب نشو و نما پاتا ہے۔
تشریح:۔
ایک بالغ اور عام انسان میں بیک وقت تین روحیں اپنا اپنا کام کرتی ہیں، مگر سب سے پہلے انسانی جسم بنانے کا کام روحِ نباتی آغاز کرتی ہے اسی طرح بچہ چار ماہ تک نباتات کی مثال میں نشو و نما پانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتا۔
وزاں پس ہمچو حیوان روزگاری
بجز خوردن ندارد ہیچ کاری
ترجمہ:۔
اور اس کے بعد روحِ حیوانی کے داخل ہونے سے تھوڑی سی حرکت بھی کرنے لگتا ہے اور جب وہ پیدا ہوتا ہے تو حرکت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے مگر ایک مدت تک حیوان کی طرح کھانے پینے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ یعنی بول نہیں سکتا لہٰذا اس عرصہ میں وہ حیوان سے ملتا جلتا ہے۔
سوم بارہ دران جان سخنور
شود پیدا و زوگردد منور
۴۷
ترجمہ:۔
تیسرے مرحلے پر اس میں روحِ ناطقہ پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ درخشاں اور روشن ہو جاتا ہے۔
تشریح:۔
یعنی جب وہ روحِ ناطقہ کے سبب سے باتیں کرنے لگتا ہے تو وہ اس وقت حیوانِ ناطق یا کہ انسان کی منزل میں قدم رکھتا ہے اور آہستہ آہستہ علم و ہنر کے آسمان کا ایک روشن ستارہ بن جاتا ہے۔
۴۸
۷۔ حشر کے بارے میں
دگر بارہ ازیں ویرانہ گلخن
گر اید سوئی آن آباد گلشن
ترجمہ:۔
پھر وہ اس اجڑے ہوئے چولھے (یعنی دنیا) سے اس آباد گلشن (یعنی آخرت) کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
تشریح:۔ پیر صاحب دنیا کو آخرت کے مقابلے میں ایک اجڑے ہوئے چولھے سے تشبیہہ دیتے ہیں، جس میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں وہ راکھ، کوئلہ، کاجل اور کالک کے سوا کچھ بھی نہیں۔
بدان رہ کامدست او باز گردد
ولی بایدکہ نیکو ساز گردد
ترجمہ:۔
وہ جس راہ سے آیا ہے اسی سے واپس ہو جاتا ہے۔ لیکن اسے خوب تیار ہو کر واپس جانا چاہیئے۔
تشریح:۔
یعنی وہ روحانی عالم کی راہ سے یہاں آیا ہوا ہے اور اسی راہ سے اس کو واپس جانا ہے لیکن اسے چاہیئے کہ علم و عمل کی بہترین تیاری کے ساتھ جائے۔
۴۹
کہ در ہر منزلی مشکل سوالی
کنند اورا ز دیگر گو نہ حالی
ترجمہ:۔
کیونکہ (آخرت کی) ہر منزل میں اس سے ایک عجیب قسم کا مشکل سوال کیا جائے گا۔
تشریح:۔
پیر صاحب کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ روحانیت کے طویل سفر میں بے شمار منزلیں آتی ہیں اور ہر منزل پر اس آخرت کی طرف واپس جانے والے سے علم و عرفان کا ایک عجیب سوال کیا جائے گا۔
اگر دارد جواب آن سوال او
رسد اندر سرائی بیزوال او
ترجمہ:۔
اگر اس کے پاس اس سوال کا جواب موجود ہے تو وہ (بہشت کے) لازوال گھر میں پہنچ سکتا ہے۔
تشریح:۔
قرآنِ مجید میں کئی آیتیں ہیں۔ جن سے اس حقیقت کی توثیق و تصدیق ہوتی ہے کہ عالم آخرت کے راستے میں مختلف سوالات کئے جائیں گے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:۔
و قفوھم انھم مسئولون (۲۴/۳۷)
اور انہیں ٹھہراؤ یقیناً ان سے سوال کئے جانے ہیں۔
۵۰
وگرنہ اندران منزل بماند
نخستین منزل اندر گل بماند
ترجمہ:۔
ورنہ وہ اسی منزل میں رہ جاتا ہے۔ سب سے پہلی منزل (یہ کہ) وہ مٹی میں رہ جاتا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں کہ اگر وہ ان سوالات کے جوابات دینے میں ناکام ہو جائے تو جس منزل میں ناکامی سے دوچار ہو وہیں رہے گا اور جس کے اعتبار سے پہلی منزل مٹی ہے۔
بدین سان میرود منزل بمنزل
گلشن سوئی گل آید دل سوئی دل
ترجمہ:۔
وہ اسی طرح سے ایک منزل سے دوسری منزل ہوتے ہوئے گزر جاتا ہے، اس کی مٹی (یعنی جسم) مٹی کی طرف لوٹتی ہے اور دل ( یعنی روح) دل (روح کل) کی طرف۔
تشریح:۔
یعنی اگر وہ جا سکے تو منزل بمنزل ہوتے ہوئے جاتا ہے، اس کا جسم تو مٹی میں جا ملتا ہے، مگر اس کی روح الارواح سے جا ملتی ہے۔
ازیدر گردلش کامل شودباز
رسد اورا بہشت و نعمت و ناز
۵۱
ترجمہ:۔
اگر یہاں سے اس کا دل کامل ہو کر لوٹ جائے تو اس کی بہشت اور ناز و نعمت حاصل ہوتی ہے۔
تشریح:۔
دل سے انسان کی ذات یعنی روح مراد ہے اور نور معرفت کا حصول ہی اس کی تکمیل ہے۔ چنانچہ ربانی ارشاد ہے:۔
ربنا اتمم لنا نورنا واغفرلنا ۸/۶۶
اے ہمارے پروردگار تو ہمارے لئے ہمارا نور کامل کر دے اور ہمیں بخش دے۔
وگر در باز گشتن نا تمام ست
بہ آتش در بماند زانکہ خام ست
ترجمہ:۔
اور اگر وہ لوٹ جانے میں ناتمام اور نامکمل ہے تو آگ ہی میں رہے گا، کیونکہ وہ کچا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کے اس کلام سے نیز ان کی دوسری کتب سے یہ ظاہر ہے کہ جہالت کی تاریکی آتشِ دوزخ ہے اور علم و معرفت کی روشنی بہشت ہے (دوزخ اور بہشت کی تفصیلی بحث کے لئے دیکھئیے کتاب ”وجہ دین“ کا اردو ترجمہ حصہ اول صفحہ ۴۳۔۴۴ نیز ۵۳۔۵۹)
۵۲
ہمین ست اعتقاد اندر قیامت
اگرچہ از خران یابم ملامت
ترجمہ:۔
قیامت کے بارے میں (میرا) اعتقاد ہی ہے اگرچہ بے وقوف لوگ مجھے ملامت کریں۔
تشریح:۔
پیر صاحب دوزخ اور بہشت کے متعلق اپنے اعتقاد اور نظریہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اس امکانیت کا بھی ذکر کرتے ہیں، کہ گدھوں کی طرح بے وقوف لوگ جو حقائق و معارف سے بالکل کورے ہیں اس بارے میں حرف گیری تو کریں گے مگر کسی بھی دلیل سے تردید نہیں کر سکتے۔
بہشت و دوزخت در آستین ست
چنین دانی اگر رایت رزین ست
ترجمہ:۔
تیری بہشت اور دوزخ تیرے ہاتھ میں ہیں اگر تیری رائے مستحکم اور گرانمایہ ہے تو تو ایسا ہی سجھے گا۔
تشریح:۔
اس مطلب کی وضاحت ہو چکی ہے کہ بہشت اور دوزخ علم و جہالت کی صورت میں ہیں جو انسان کے ہاتھ میں اور اسکے اختیار میں ہیں اور یہ اس کی خواہش و مرضی پر ہے کہ جہالت کو اپنائے یا علم کو۔
بہشت و دوزخ دیگر جز این نیست
جزاین داند کہ بارائی رزین نیست
۵۳
ترجمہ:۔
اس کے بغیر دوسری کوئی بہشت و دوزخ نہیں ہے۔ وہ شخص (ان دونوں کو ) اس کے سوا اور برعکس سمجھے گا جو استوار رائے نہیں رکھتا ہو۔
تشریح:۔
بہشت اور دوزخ اسی طرح ہیں جیسے ان کا ذکر کیا گیا۔ اس کے سوا کوئی بہشت و دوزخ نہیں ہے اور جو لوگ عقل و دانش میں مضبوط نہ ہوں، تو وہ لازماً ان دو جگہوں کو کچھ اور سمجھیں گے۔
۵۴
۸۔ ”انسانی روح کی حقیقت“
تو خود رامی ندانی کیستی تو
بگوتا درجہان بر چیستی تو
ترجمہ:۔
تو خود کو نہیں جانتا کہ تو کون ہے (اگر تو خود کو جانتا ہے تو) بتا دے کہ دنیا میں تیرا قیام کس چیز پر ہے۔
تشریح:۔
تو اپنے آپ کو نہیں پہچانتا کہ تو کون ہے۔ تیری ابتدائی حقیقت کیا تھی اور آخری حقیقت کیا ہو گی۔ اگر تو اپنے آپ کو پہچانتا ہے تو ہمیں بتا دے کہ اس دنیا میں تو کس بنیادی طاقت پر کھڑا ہے۔
توئی تو بگوتا خود کدام ست
تنی یا جان ترا آخر چہ نام ست
ترجمہ:۔
اپنی انتہائی خودی اور انا بتا دے کہ کونسی ہے؟ تو جسم ہے یا جان ہے آخر تیرا کیا نام ہے؟
تشریح:۔
انسان گفتگو میں جب اپنے کسی عضو یا اپنی کسی چیز کی طرف معنوی اشارہ کرتا تو کہتا ہے کہ ”میرا“ یا کہتا ہے ”میری“ جس میں وہ کسی عضو یا کسی چیز کو اپنی خودی اور انا سے منسوب کرتا ہے اور جب وہ اپنی خودی اور انائیت کی طرف
۵۵
اشارہ کرتا ہے تو ”میں“ کا لفظ استعمال کرتا ہے جس میں انسان کی اس آخری حقیقتِ واحدہ کا ذکر ہے جو بہت سی چیزوں کو اپنانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پھر ان سب کو چھوڑ کر مجرد اور بے تعلق ہو سکتی ہے۔
تو این ریش و سرو سبلت کا بینی
تو پنداری توئی نی نی نہ اینی
ترجمہ:۔
جب تو اپنی اس داڑھی، مونچھ اور سر کو دیکھتا ہے تو گمان کرتا ہے کہ بس تو یہی جسم ہے، نہیں نہیں، تو یہ نہیں ہے۔
تشریح:۔
جب تو اپنے جسم اور اس کے اعضاء کو دیکھتا ہے تو تیرا گمان ہوتا ہے کہ بس تو سب کچھ یہی جسم ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یوں نہیں، تو اپنی ابتدائی اصلیت اور آخری خودی میں جسم نہیں ہے۔ بلکہ تو کچھ اور حقیقت ہے۔
طلسم و بندوز ندان تو است ایں
بزوچشم خود بکشا و خودبین
ترجمہ:۔
پیر صاحب کا ارشاد ہے کہ (جسم اور اس کے حواس) تیرے لئے جادو، بندھن اور قید خانے کی حیثیت سے ہیں۔ پس جا اور دیدۂ دانش کھول کر اپنے آپ کو دیکھ لے۔
تشریح:۔
جسمانی لذتیں طلسم، بندھن اور قید خانے کی مثال ہیں کہ انسان ان سے نکل کر اپنی ذات کی معرفت تک پہنچ سکتا۔ لہٰذا جب تک علم و دانش کی
۵۶
آنکھ حاصل نہ کی جائے تو نہ ان رکاوٹوں سے نکل جانے کا کوئی راستہ دیکھا جا سکتا ہے اور نہ انسان کی آخری حقیقت معلوم ہو سکتی ہے۔
تو صورت نیستی معنی طلب کن
نظر در جسم و جان بوالعجب کن
ترجمہ:۔
تو ظاہریت نہیں ہے (بلکہ معنویت ہے۔ پس) تو معنویت طلب کر (اور اپنے اس) عجب جسم اور جان کو دیکھا کر۔
تشریح:۔
انسان کی ظاہریت بادام کے بیرونی چھلکوں کی طرح ہے اور اس کی معنویت یعنی جسمِ لطیف اور روحِ ناطقہ مغز بادام اور اس کے تیل کی طرح ہے پس تو اپنے جسمِ خاکی پر نظر نہ رکھ بلکہ اپنے اس عجیب اور معجزانہ جسمِ لطیف اور روحِ ناطقہ کا مشاہدہ کر۔
زہی نادان کہ خودرا جسمِ دانی
رہا کن این سخن زیرا کہ جانی
ترجمہ:۔
تو عجیب نادان ہے کہ اپنے آپ کو جسم سمجھتا ہے اس بات کو چھوڑ دے کیونکہ تو جان ہے۔
تشریح:۔
اگر انسان اپنی ساری کوششیں صرف جسم ہی کے لئے کر رہا ہو، تو گویا وہ اپنے آپ کو صرف جسم ہی سمجھتا ہے حالانکہ اسے یوں نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ وہ
۵۷
دراصل جان یعنی روح کی حیثیت سے ہے۔
کدا میں جاں؟ نہ این جان طبیعی
نکو بنگر کہ چیزی بس بدیعی
ترجمہ:۔
کون سی جان، یہ جان نہیں جو طبعی ہے، اچھی طرح سے دیکھ لے، کہ تو ایک عجیب چیز ہے۔
تشریح:۔
فرماتے ہیں، میں نے جو کہا کہ تو جسم نہیں بلکہ جان ہے، تو اس سے میری مراد وہ جان ہرگز نہیں جو طبعی قسم کی ہے یعنی یہ ہو نفس نہیں ہے جو خشکی، تری، سردی اور گرمی کے اعتدال پر زندہ رہ سکتا ہے۔ پس اچھی طرح سے اپنی حقیقت کا مشاہدہ کر، کیونکہ تو ایک انتہائی معجزانہ چیز ہے۔
توئی جان سخن گوئی حقیقی
کہ با روح القدس دارد رفیقی
ترجمہ:۔
تو بحقیقت وہ بولنے والی جان ہے جو روح القدس کے ساتھ رہا کرتی ہے۔
تشریح:۔
تو وہ روح ہے، جو بحقیقت بولنے والی ہے جس کو روحِ ناطقہ کہا جاتا ہے، جو روح القدس کی ہم نشین ہے۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ کلام کرنا اس روح کی خاصیت ہے تو اس کی رفاقت اور ہمکلامی کے لئے ایک اور روح کا ہونا لازم آتا ہے۔ پس درست ہے کہ روحِ ناطقی روح القدس کی ہمنشین اور ہمکلام ہے۔
۵۸
زجائی واز جہت ہستی منزہ
ببیں تاکیستی انصاف خود دہ
ترجمہ:۔
مکان اور طرف سے تو پاک ہے پس دیکھ لے اور خود ہی انصاف سے بتا دے کہ تو کون ہے۔
تشریح:۔
جب یہ مانا گیا کہ انسان بحقیقت جسم نہیں، بلکہ روح کی حیثیت سے ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان ایک لامکانی اور لاجہتی حقیقت ہے، کیونکہ روح مکان و زمان سے بالاتر ہے، پس معرفت کی آنکھ سے اپنے آپ کو دیکھ لے اور خود ہی انصاف سے بتا دے، کہ تو کون ہے اور تیری ہستی کی آخری حقیقت کیا ہے۔
بچشم سر جمالت دیدنی نیست
کسی کو دید رویت چشم معنی ست
ترجمہ:۔
سر کی آنکھ سے تیرا جمال دکھائی دینے والا نہیں وہ شخص جس نے تیرا (یہ روحانی) چہرہ دیکھا (کوئی نہ تھا، مگر) چشمِ حقیقت ہی ہے۔
تشریح:۔
اس ظاہری آنکھ سے تیرا جمال دکھائی دینے والا نہیں، وہ شخص جس نے تیرا (یہ روحانی) چہرہ دیکھا (کوئی نہ تھا، مگر) چشمِ حقیقت ہی ہے۔
تشریح:۔
اس ظاہری آنکھ سے تیرا روحانی حسن و جمال دیکھا نہیں جا سکتا، پھر ایسا کوئی شخص کہاں ہے جس نے اپنی ظاہری آنکھ سے اپنا یہ جلوہ دیکھا ہو، مگر یہی ہے کہ دیدۂ حقیقت بین سے یہ جلوہ دیکھا گیا ہے۔
نگر تادر گمان اینجا نیفتی
قدم بفشار تا از پانیفتی
۵۹
ترجمہ:۔
(چشمِ باطن سے) دیکھ لیا کر، تاکہ تو اس مقام پر ہی گمان میں گر نہ جائے قدم جما کر چل تاکہ تو گر نہ پڑے۔
تشریح:۔
معرفتِ ذات کی ابتدائی منزل علم الیقین ہے، درمیانی منزل عین الیقین ہے اور آخری منزل حق الیقین ہے اور علم الیقین سے پہلے جو راستہ آتا ہے وہ گمان ہی گمان ہے یعنی وہ ایک تاریک راستہ ہے اور اگر اس تاریکی میں خدا کے نور نے ہدایت نہ فرمائی تو انسان گر جانے کا خطرہ در پیش رکھتا ہے، پس انسان کو چاہئیے کہ دیدۂ دانش سے کام لے کر ذریعۂ ہدایت کو پہچان لیا کرے اور قدم جما کر منازلِ یقین کی طرف آگے بڑھتا جائے۔
صفتہایت صفتہائی خدائیست
ترا این روشنی زان روشنائیست
ترجمہ:۔
تیری (روحانی) صفات خدائے تعالیٰ کی صفات ہیں۔ تجھ کو یہ علم و دانش کی (روحانی) روشنی اسی (خدا کی ہمہ گیر و ہمہ رس) روشنی سے حاصل ہے۔
تشریح:۔
جب قرآن ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ خدائے تعالیٰ عقلانی اور روحانی طور پر کائنات و موجودات کا نور ہے۔ تو لازماً وہ مہربان مالک انسانی صفات کا بھی نور ہے، پس انسان کی یہ باطنی روشنی دراصل خدا ہی کی روشنی ہے اور اس روشنی کے زیرِ اثر انسان کی جو پسندیدہ صفات ہوتی ہیں وہ گویا خدا ہی کی اپنی صفات ہیں۔
۶۰
ہمی بخشد کزو چیزی نکاہد
ترا داد و دہد آنرا کہ خواھد
ترجمہ:۔
تجھ کو وہ (اپنی صفات سے صفات) کچھ اس طرح عطا فرماتا ہے کہ (اس کی صفات میں) کوئی کمی واقع نہیں ہوتی تجھے عطا فرمایا اور اسی طرح وہ جس کو چاہے عطا فرماتا ہے۔
تشریح:۔
جب خدائے تعالیٰ اپنی صفات اور اپنی روشنی میں سے اپنے خاص بندوں کو صفاتِ عالیہ اور نورِ ھدایت عطا فرماتا ہے۔ تو اس کی ذات و صفات میں ہرگز کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ اور اس کے اختیار میں ہے کہ وہ جس کو چاہے عطا کرے جس طرح خود تجھے یہ روحانی نعمتیں عطا کی گئی تھیں۔
زنورِ اوتو ہستی ہمچو پرتو
وجود خود بپر داز و تو اوشو
ترجمہ:۔
تو اس کے نور سے عکس (یعنی نور کی تصویر، مثلاً آئینے میں سورج) کی طرح ہے (پس) اپنی ہستی کو خالی کر دے، اور تو وہ (خدا) ہو جا۔
تشریح:۔
خدائے تعالیٰ گویا نورانیت کا سورج ہے، اور تو اس کا وہ عکس ہے، جو صاف و شفاف پانی میں یا آئینے میں نظر آتا ہے۔ پس اگر تو چاہتا ہے کہ یہ عکس سورج کے ساتھ ملکر ایک ہو جائے، تو اپنے وجود کے آئینے کو خالی بلکہ ختم کر ڈال۔ یعنی بطریق عبادت و ریاضت جب تیری خودی اور انائیت خدا کے نور تک پہنچ
۶۱
چکی ہے، تو اپنی ہستی کو مٹا دے تاکہ دوئی ختم ہو کر وحدت ہی وحدت باقی رہے۔
حجابت دور دارد گرنجوئی
حجاب از پیش برداری تو اوئی
ترجمہ:۔
اگر تو اس کی جستجو نہ کرے تو تیرے وجود کا پردہ تجھے (اس سے) دور رکھے گا۔ اگر تو اس پردے کو سامنے سے ہٹا دے تو (یہ حقیقت تجھ پر منکشف ہو گی کہ) تو خود ہی وہ (خدا) ہے۔
تشریح:۔
اگر تو اس کو نہ ڈھونڈے تو تیری نفسانی ہستی کا یہ پردہ ایسا ہے کہ تجھے خدا سے روز بروز دور کرتا رہے گا۔ اگر تو یہ پردہ ہٹا سکے، تو یہ حقیقت تجھ پر کھل جائے گی کہ فی الاصل تیری خودی اور انائیت خدا سے کبھی جدا ہی نہیں ہوئی ہے۔
ز دنیا تابعقبیٰ نیست بسیار
ولی در رہ وجود تست دیوار
ترجمہ:۔
دنیا سے آخرت تک کچھ زیادہ مسافت تو نہیں لیکن راستہ میں تیری اپنی ہستی ہی دیوار بنی ہوئی ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کا ارشاد ہے، کہ دنیا اور آخرت کے درمیان کچھ زیادہ فاصلہ اور مسافت نہیں۔ کیونکہ دنیا سے مراد جسمانیت اور آخرت سے مراد روحانیت ہے اور ان دونوں کے درمیان انسان کی اپنی ہستی اور خودی دیوار اور رکاوٹ بنی ہوئی
۶۲
ہے۔ پس جس شخص نے بموجب ارشاد:
موتوا قبل ان تموتوا
اپنی خودی مٹائی اس کی دنیا و آخرت مل کر ایک ہو گئیں۔
۶۳
۹۔ ”اعراض و جواہر کے بارے میں“
ہر آنچ آن ہست ز اعلیٰ تابا سفل
دو چیز آمد ز آخر تابہ اول
ترجمہ:۔
بلندی سے پستی تک جو کچھ موجود ہے (اس میں) آخر سے اول تک دو چیزیں پیدا ہوئی ہیں۔
تشریح:۔
آسمان سے لیکر زمین تک اور اول سے لیکر آخر تک جو کچھ کلی طور پر موجود ہے وہ دو چیزوں پر مشتمل ہے۔
یکی اعراض و آن دیگر جواہر
چنین گفتند استادان ماہر
ترجمہ:۔
ایک اعراض ہیں اور وہ دوسرے جواہر ہیں۔ ماہر استادوں نے یوں فرمایا ہے۔
تشریح:۔
اعراض عرض کی جمع اور جواہر جوہر کی جمع ہے۔ ارشاد ہے کہ جو کچھ موجود ہے وہ ان ہی دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ ایک چیز تو عرض ہے اور دوسری چیز جوہر۔
۶۴
چہ باشد جوہری؟ کوہست دائم
بذات خویشتن پیوستہ قائم
ترجمہ:۔
کوئی جوہر کیا ہوتا ہے؟ (یعنی جوہر کو کیوں جوہر کہتے ہیں؟) کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی ذات پر قائم ہے۔
تشریح:۔
فرماتے ہیں کہ جوہر وہ چیز ہے جو اپنی ذات پر قائم رہے اور قیام و بقا کے لئے دوسری چیز کا محتاج نہ ہو۔ جیسے روح، کہ وہ اپنی ذات پر قائم ہے۔
عرض قائم بذات جوہر آمد
خرد را این سخنہا باور آمد
ترجمہ:۔
عرض جوہر کی ذات پر قائم ہے۔ عقل ان باتوں پر اعتبار کرتی ہے۔
تشریح:۔
عرض کی تعریف یہ ہے، کہ وہ اپنے آپ پر قائم نہیں بلکہ اس کا قیام جوہر کی ذات پر ہے۔ پس جواہر اور عرض کے درمیان فرق یہی ہے کہ جوہر کا قیام اپنے آپ پر ہے اور عرض کا قیام جوہر پر۔
بود قابل عرض بے شک فنارا
ولی جوہر بود قابل بقارا
ترجمہ:۔
بےشک عرض فنا کے قابل ہے۔ لیکن جوہر بقا کے قابل ہے۔
۶۵
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں کہ عرض فنا کو قبولنے والا ہوا کرتا ہے۔ اور اس کے برعکس جوہر بقا کو قبولتا اور اپناتا ہے۔
توئی فرع عرض ہم اصل جوہر
ہمہ عالم توئی جان برادر
ترجمہ:۔
تو عرض کی شاخ بھی ہے (اور) جوہر کی جڑ بھی۔ بھائی جان! تو خود ہی ساری کائنات ہے۔
تشریح:۔
کوئی شک نہیں کہ کائنات میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں، وہ عرض اور جوہر کے سوا کچھ بھی نہیں، اور دوسری طرف سے یہ بھی ہے کہ تو عرض کی شاخ اور جوہر کی جڑ ہے۔ لہٰذا تو خود ہی ساری کائنات ہے۔
عرض جسم ست و زجان جوہری تو
ازان برہر دو عالم سروری تو
ترجمہ:۔
(تیرا) جسم عرض ہے اور روح کے لحاظ سے تو جوہر ہے۔ اسی وجہ سے تو دونوں جہاں کا سردار ہے۔
تشریح:۔
تیرا جسم عرض کی شاخ ہے یعنی چار عنصر سے بنا ہے اور عناصر عرض ہیں اور تیری روح جوہر کی جڑ ہے یعنی تیری روح کی وجہ سے جوہر کی جوہریت ثابت
۶۶
ہے۔ پس تو جسم سے دنیا کا سردار ہے کہ تیرا جسم مادی چیزوں سے افضل ہے اور روح سے عقبیٰ کا سردار ہے کہ تیری ذاتی آخرت تیری روح پر قیام رکھتی ہے۔
خرد مندان عالم راکہ گویند
ازین معنی جزاین ہر دو نجویند
ترجمہ:۔
دنیا کے دانشمندوں کے بارے میں تذکرہ کرتے ہیں کہ وہ اس حقیقت سے ان دونوں (جوہر اور عرض) کے سوا کسی اور چیز کو طلب نہیں کرتے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کا فرمانا ہے کہ شروع سے اب تک اس دنیا میں جتنے حکیم اور دانشمند ہوئے ہیں۔ ان کے متعلق بھی یہی کہا جاتا ہے کہ وہ جوہر و عرض کے سوا کسی اور مخلوق کا تصور ہی نہیں کرتے۔
ترا از ہر دو عالم آفریدند
ازان برہر دو عالم بر گزیدند
ترجمہ:۔
تجھ کو دونوں جہاں سے پیدا کیا گیا ہے۔ اسی لئے (تجھ کو) دونوں جہاں پر برگزیدہ کیا گیا ہے۔
تشریح:۔
تیری روح اُس جہاں سے اور تیرا جسم اس جہاں سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تیری تخلیق دونوں جہاں سے کی گئی ہے۔ یعنی تو دونوں عالم کا خلاصہ ہے۔ اس لئے تو دنیا و آخرت پر برگزیدہ ہے۔
۶۷
یعنی تو دونوں عالم کا خلاصہ ہے۔ اس لئے تو دنیا و آخرت پر برگزیدہ ہے۔
مسخر کن ہم آن را و ہم این را
حقیقت کن گمان را و یقین را
ترجمہ:۔
اس کو بھی اور اس کو بھی تابع بنا لے۔ گمان اور یقین دونوں کو حقیقت بنا لے۔
تشریح:۔
حق تبارک و تعالیٰ نے اپنی لا انتہا رحمت سے انسان کو یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ دنیا و آخرت کو اپنے زیر فرمان لا سکتا ہے۔ اور وہ اپنی ان تمام امیدوں کو جو اس کے گمان میں ہیں اور یقین میں ہیں۔ حقیقت بنا سکتا ہے۔
بدین این و بدان آن ہر دو بشناس
بتن جسم و بجان جان ہر دو بشناس
ترجمہ:۔
اس سے یہ اور اس سے وہ دونوں کو پہچان لے (یعنی) بدن سے جسم (دنیا) اور جان سے جان (آخرت) دونوں کو پہچان لے۔
تشریح:۔
اگر دنیا جسمانی اور آخرت روحانی ہے تو انسان بھی ایک طرف سے جسم اور دوسری طرف سے روح رکھتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے بدن کے ذریعے اس جسمانی عالم کو پہچان سکے اور اپنی روح کے توسط سے اس روحانی عالم کو پہچان سکے۔
۶۸
۱۰۔ ”حواسِ ظاہر و باطن کے بارے میں“
ترا این خان شش سو رہگذر شد
دریں خان خانۂ تو پنج در شد
ترجمہ:۔
تجھے اس شش پہلو کاروان سرا میں آنے کا اتفاق ہوا۔ اس کاروان سرائے میں تیرا گھر پانچ دروازوں مقرر ہوا۔
تشریح:۔
یعنی دنیا کا یہ شش پہلو مسافر خانہ جو تیرے آنے جانے کا راہ مقرر ہوئی ہے۔ اس میں تجھے جو گھر ملا ہے اس کے پانچ دروازے ہیں یعنی جسم جو تیری روح کا گھر ہے پانچ حواس رکھتا ہے۔
کشادہ ہردری در بوستانی
زہر درمی در آید کاروانی
ترجمہ:۔
ہر دروازہ ایک گلشن کی طرف کھلا ہے، ہر دروازے سے ایک قافلہ داخل ہوتا رہتا ہے۔
تشریح:۔
ہر حس کا دروازہ محسوسات کے ایک گلشن کی طرف کھلا ہے، اور ان پانچوں دروازوں سے محسوسات کا ایک ایک کاروان داخل ہوتا رہتا ہے۔
۶۹
اگرچہ اندرین خانہ غریبی
ازین ہر پنج درہا با نصیبی
ترجمہ:۔
اگرچہ تو اس (جسم کے) گھر میں نادار اور مفلس ہے (لیکن) ان پانچوں دروازوں سے تو بہرہ مند اور مستفید ہے۔
تشریح:۔
انسان عقل و شعور اور علم و عرفان کی دولت کو حاصل نہیں کر سکتا، مگر حواسِ ظاہر کے ذریعے سے، کیونکہ سب سے پہلے انسان کے حواسِ ظاہر پختہ ہو جاتے ہیں، پھر ظاہری علم حاصل کیا جا سکتا ہے اس کے ذریعے سے حواسِ باطن پختہ ہو جاتے ہیں، اور پھر باطنی علم کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔
یکی چشم است کو بیند عجائب
شود زان دیدنی رای تو صائب
ترجمہ:۔
ایک تو آنکھ ہے جو عجائبات دیکھتی ہے، اس مشاہدہ سے تیری رائے درست ہو جاتی ہے۔
تشریح:۔
جسم کے گھر کے پانچ دروازوں میں سے ایک تو آنکھ ہے، جس کا کام ہے عجائبات کا مشاہدہ کرنا، جس سے انسان کی رائے صحیح اور درست ہو سکتی ہے، یعنی انسان مادی چیزوں کے بارے میں جو کچھ سنتا ہے اور جو کچھ سمجھتا ہے، اس کی تصدیق ان چیزوں کے مشاہدہ ہی سے ہو سکتی ہے۔
۷۰
دگر گوشت کہ شہراہ کلام است
دلت زو بامعانی تمام است
ترجمہ:۔
دوسرا (دروازہ) تیرا کان ہے، جو کلام کی شاہ راہ ہے، تیرے دل کو اس سے مکمل معانی حاصل ہوتے ہیں۔
تشریح:۔
حواسِ ظاہر میں سے کان وہ دروازہ اور شاہراہ ہے، جس سے کلام کا قافلہ انسانی دل و دماغ میں داخل ہوا کرتا ہے، اور وہیں پر کلام کے معانی و حقائق سمجھ لئے جاتے ہیں۔
گہ از الحان مرغان گہ زا و تار
خبر آرند جانت راز اسرار
ترجمہ:۔
کبھی پرندوں کی آوازوں سے کبھی (سازوں کے) تار سے (تیرے کان) تیرے لئے بھیدوں کی خبر لاتے ہیں۔
تشریح:۔
مطلب یہ کہ ہر قسم کی آواز میں جو معنی اور حقیقتیں پوشیدہ ہیں، وہ کانوں ہی کے ذریعہ نفسِ انسانی تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔
دگر بینی کہ بوئی گل پذیرد
دماغ و دل ز بویش ذوق گیرد
۷۱
ترجمہ:۔
تیسرا (دروازہ) ناک ہے جو پھول کی بو سونگھتی ہے، دل و دماغ اس کی خوشبو سے لذت حاصل کرتا ہے۔
تشریح:۔
یعنی ناک کا کام یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی خوش بو اور بدبو کا احساس کرتی ہے، تاکہ خوش بو سے فرحت و مسرت حاصل ہو، اور بدبو سے بچاؤ کیا جائے۔
چہارم ذوق پنجم لمس باشد
نصیب لذتت زین خمس باشد
ترجمہ:۔
چوتھا (دروازہ) ذائقہ اور پانچواں لامسہ ہے، تیری لذت کا حصہ بس ان پانچوں سے ہے۔
تشریح:۔
یعنی چوتھا دروازہ چکھنے کی قوت اور پانچواں دروازہ چھونے کی قوت ہے، اور تجھے اس عالم میں مادی قسم کی لذتوں کا جو حصہ ملا ہے، وہ انہی پانچ حواسِ ظاہر کی بدولت ہے۔
حواسِ ظاہرند این پنج و باطن
بود پنج دگر ای یار محسن
ترجمہ:۔
یہ پانچ تو حواسِ ظاہر ہیں، اور دوسرے پانچ حواسِ باطن ہیں اے نیک کردار دوست!
۷۲
تشریح:۔
باصرہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ اور لامسہ یا کہ دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا اور چھونا یہ پانچ حواسِ ظاہر ہیں اور دوسرے پانچ جن کا ذیل میں ذکر آئے گا، حواسِ باطن ہیں۔
خیال و وہم و فہم و حفظ دیگر
کہ حس مشترک خوانیش برسر
ترجمہ:۔
(حواسِ باطن) خیال، وہم، فہم، اور پھر حفظ ہے، جس کو تو سر پر حس مشترک کہتا ہے۔
تشریح:۔
حواسِ باطن میں سے خیال، وہم، فہم اور حفظ ہیں، اور حفظ کو حس مشترک کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ظاہری حواس کے نتائج اسی میں محفوظ ہوتے ہیں، اور یہیں سے لیکر ان نتائج پر باطنی حواس کام کرتے ہیں۔
دگر ذکرت کہ شہباز کلام است
دلت زوبا معانیہا تمام است
ترجمہ:۔
پھر تیرا ذکر ہے جو کلام کا شہباز ہے، جس کی بدولت تیرا دل معنوں سے بھرپور ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب نے قوتِ ذاکرہ کو شہباز کلام قرار دیا ہے، جس کے کئی اسباب
۷۳
ہیں، ایک سبب تو یہ ہے، کہ کلام کرنے کا جوہر اس وقت کھلتا ہے، جبکہ بڑی کثرت سے ذکرِ الٰہی کیا جاتا ہے، دوسرا سبب یہ ہے، کہ بہترین گفتگو اس وقت کی جا سکتی ہے، جبکہ ذاکرہ کی علمی پرورش صحیح طور سے ہوئی ہو۔
خطا بینند از این پنجگانہ
توانی راست بین شان کردیانہ
ترجمہ:۔
اگر یہ پانچ غلط دیکھنے والے ہیں، تو کیا تو ان کو صحیح دیکھنے والے بنا سکتا ہے یا نہیں؟
تشریح:۔
حواسِ باطن میں جو اصلی اور فطری صلاحیتیں ہوتی ہیں، وہ حواسِ ظاہر کی غلط کاریوں کے سبب سے تقریباً ختم ہو جاتی ہیں، لیکن جہاں کوئی بیماری ہو، وہاں اس کا کوئی علاج بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا سوال یہ ہے، کہ تو اپنے غلط کار حواسِ باطن کو درست کار بنا سکتا ہے یا نہیں؟
ریاضت کش مراین را راست بین کن
پس آنگاہی گمانت را یقین کن
ترجمہ:۔
ریاضت کر کے ان کو درست دیکھنے والے بنا لے، پھر اس کے بعد اپنے گمان کو یقین بنا لے۔
تشریح:۔
پیر صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ حواسِ باطن کی قدرتی صلاحیتوں کی بحالی
۷۴
اور درست کاری کے لئے یہ ضروری ہے، کہ تو عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کا رستہ اختیار کرے، تاکہ روحانی مشاہدات و تجربات کے متعلق تیرا جو گمان ہے، وہ یقین کی صورت میں بدل جائے۔
چو اینہا راست بین گردند زان پس
ترا سرمایہ این اندر جہان بس
ترجمہ:۔
جب اس کے بعد یہ (حواسِ باطن) درست دیکھنے والے ہونگے، تو تجھے یہی سرمایہ اس جہاں میں کافی ہے۔
تشریح:۔
تطہیر و تزکیہ کے نتیجے پر جب حواسِ باطن صحیح طور سے کام کرنے لگیں گے، تو اس وقت تجھے اس دنیوی زندگی میں جو کچھ عمل کرنا ہے، اس کے لئے یہی سرمایہ کافی ہے۔
کشادہ گردد آنگہ چشم بینی
ببینی از ورای آفرینش
ترجمہ:۔
اس وقت چشمِ بصیرت کھل جائے گی (اور) تو پیدائش سے قبل (کی حقیقت) دیکھے گا۔
تشریح:۔
یعنی حواسِ باطن کی اصلاح و تطہیر کے بعد دل کی آنکھ کھل جاتی ہے اور جس سے تو اس وقت کا یا عالمِ امر کا مشاہدہ کرے گا، جو عالمِ خلق سے برتر ہے۔
۷۵
۱۱۔ انسانی کمال کی صفت:۔
درخت است این جہان و میوہ مائیم
کہ خرم بر درخت او برآئیم
ترجمہ:۔
یہ جہاں درخت ہے اور (اس کا) میوہ ہم ہی ہیں، کیونکہ ہم اسی (جہاں کے) درخت پر تر و تازہ نشوونما پاتے ہیں۔
تشریح:۔
اگر چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے، تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ کائنات ایک درخت کی طرح ہے، اور اس کا پھل انسان ہے، کیونکہ کائناتی وحدت سے جو جو چیزیں پیدا ہوتی ہیں، ان سب کے فوائد انسان ہی کی طرف عائد ہوتے ہیں، یعنی تمام چیزوں کی تخلیق و تکمیل کے بعد ہی انسان کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، اور اس حقیقت کی مثال ایسی ہے، جیسے درخت کی تکمیل اور ساری تیاری کا مقصد پھل ہی ہوتا ہے۔
دگر ہستند برگ و ماہمہ بر
طفیل ما شدند اینہا سراسر
ترجمہ:۔
دوسری (مخلوقات) پتے ہیں اور ہم سب (انسان) پھل ہیں، یہ ساری (مخلوقات) ہمارے طفیل سے ہوئی ہیں۔
۷۶
تشریح:۔
درخت کا اصلی مقصد اور حاصل پھل ہی ہوا کرتا ہے، اگرچہ درخت کے اجزاء میں اور بھی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں، اور اگر غور و فکر سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا، کہ درخت کے تمام اجزاء پھل کی بدولت بنتے ہیں۔
شرف دارد درخت از میوہ آری
کہ باشد تاندارد ہیچ باری
ترجمہ:۔
ہاں درخت کو شرف و عزت پھل ہی سے حاصل ہے، ورنہ کون رہنے دیتا ہے، جبکہ اس کا کوئی پھل نہ ہو۔
تشریح:۔
ہر وہ انسان جو باغبانی کرتا ہے، پھل دار درخت کو بغیر پھل کے درختوں کے مقابلے میں عزیز رکھتا ہے، اور اس کی حفاظت و نگہداشت میں ہر وقت لگا رہتا ہے، اور ان تمام باتوں کی وجہ اس درخت کے پھل ہیں۔
زبوی و لذت خوش میوہ ہارا
شرف باشد چنانک از عقل مارا
ترجمہ:۔
خوشبو اور خوش ذائقہ ہونا پھلوں کے لئے باعثِ شرف و فضیلت ہے، جیسے ہم (انسانوں) کے لئے عقل و دانش سے (شرف و عزت) ہے۔
تشریح:۔
یعنی پھل جتنے زیادہ خوش بودار اور خوش مزہ ہوں، اتنی ان کی قدر و قیمت
۷۷
زیادہ ہوتی ہے، اسی طرح انسان کی عقل و دانش جس قدر زیادہ ہو، اس قدر اس کی شرافت و عزت زیادہ ہوتی ہے۔
نیا بد مرد جاہل در جہاں کام
ندارد بوئے و لذت میوۂ خام
ترجمہ:۔
ناداں آدمی دنیا میں مقصد حاصل نہیں کر سکتا، کچے پھل میں بو اور ذائقہ نہیں ہوتا۔
تشریح:۔
نادان اور جاہل آدمی کچے پھل کی طرح ہے، کیونکہ جس طرح کچا پھل خوشبودار اور خوش ذائقہ نہیں ہوتا، اسی طرح جاہل انسان میں عقل و دانش نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے وہ دنیا میں ناکام ہو جاتا ہے۔
مشو چون میوہ ہای نا رسیدہ
سقط ہرگز نہ باشد چوں گزیدہ
ترجمہ:۔
کچے پھلوں کی طرح نہ ہو جا (درخت سے) ناتمام گرا ہوا پک کر چنا ہوا پھل دونوں برابر نہیں ہوتے۔
تشریح:۔
بے شک تمام انسان درخت کائنات کے پھل ہیں، لیکن سب پھل یکساں نہیں ہوتے، ان میں کچھ تو مکمل طور سے پک کر خوشبودار اور خوش ذائقہ ہو جاتے ہیں، اور کچھ مکمل ہوئے اور پکے بغیر گر جاتے ہیں، خیر یہ پھل تو بے اختیار
۷۸
گر جاتے ہیں یا پک جاتے ہیں، مگر انسان جو اس کائنات کا پھل ہے، وہ اختیار سے اپنے آپ کو گراتا ہے یا عقل و دانش سے پختہ ہو جاتا ہے۔
سقط باشد درین باغ آنچہ خامند
حکیمان میوہ ہای خوش طعامند
ترجمہ:۔
اس باغ میں جو کچے ہیں، وہ سقط (ناتمام و نا پختہ گرئے ہوئے) ہیں، اہل حکمت خوش ذائقہ پھل ہیں۔
تشریح:۔
اس دنیا میں جو لوگ عقل و دانش کے اختیار سے خام و نا تمام ہیں، وہ ایسے پھل ہیں، جو کچے ہی گر کر ناکارہ ہو جاتے ہیں، مگر حکماء اپنے علم و حکمت کے لحاظ سے خوش بودار رسیلے میوے ہیں۔
درختی کان لطیف و میوہ دا راست
مرو را باغباں پروردگار است
ترجمہ:۔
جو درخت عمدہ اور پھلدار ہو، باغبان اسی کی (زیادہ سے زیادہ) پرورش کرتا رہتا ہے۔
تشریح:۔
جس طرح دنیاوی مثال میں باغبان اپنے باغ کے اس درخت کی سب سے زیادہ پرورش کرتا ہے، جو عمدہ قسم کا اور زیادہ پھل دینے والا ہو، اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت و رحمت کے فیضان سے حکمائے دین کو ہمیشہ نوازتا رہتا ہے۔
۷۹
نخواہد میوہ جز خوشبوئے و شیرین
بیندازد سقطہای بدآئین
ترجمہ:۔
(باغبان) خوشبودار اور میٹھے پھل کے بغیر نہیں چاہتا ہے، ناکارہ گرے ہوئے پھلوں کو پھینک دیتا ہے۔
تشریح:۔
یعنی باغبان کا مقصد یہ ہوتا ہے، کہ اس کے باغ کے درخت سراسر خوشبودار اور پُر ذائقہ پھل لائیں، اس کے سوا دوسرے پھلوں کو نہیں چاہتا، یہی سبب ہے کہ وہ کچے گرے ہوئے پھلوں کو پھینک دیتا ہے۔
سقط خوار است خواری را رہا کن
تمامی جوی و خود راپر بہا کن
ترجمہ:۔
ناتمام بے قدر ہے بے قدری کو چھوڑ دے، تمامیت کی جستجو کر اور اپنے آپ کو پر قیمت بنا لے۔
تشریح:۔
کچا گرا ہوا پھل بے قدر اور بے مایہ ہوا کرتا ہے، تو باغ دین میں اس جیسا پھل نہ بن جا اور بے قدری و بے مانگی کو چھوڑ دے، بلکہ انسانیت اور علم و دانش کا ایک پختہ اور پرلذت میوہ بن کر اپنی ذات کو گرانمایہ بنا لے۔
ہر آن میوہ کہ نہ بود طعم و بویش
نباشد باغبان در جستجویش
۸۰
ترجمہ:۔
ہر وہ پھل جس کی (کوئی) لذت اور خوشبو نہ ہو، باغبان اس کی طلب میں نہیں رہتا ہے۔
تشریح:۔
جس طرح ناقص پھل درخت سے خودبخود گر جاتے ہیں، یا باغبان انہیں تازہ پھلوں سے جدا کر کے پھینک دیتا ہے، کیونکہ نہ ان کے کھانے سے کوئی لذت حاصل ہوتی ہے، نہ ان کے سونگھنے سے کوئی خوشبو، اسی طرح ہر وہ انسان جو آخری دم تک اپنے اندر انسانیت، اخلاق اور دینداری کی کوئی لذت و خوشبو نہ رکھتا ہو، اس کو اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب ہی نہیں کرتی ہے۔
ترا لذت ز علم است از عمل بوی
کمالیت ز علم باعمل جوی
ترجمہ:۔
تیرے لئے علم سے لذت اور عمل سے خوشبو ہے (اسی طرح) اس علم سے جو عمل کے ساتھ ہو، تمامیت و کمالیت کو طلب کر۔
تشریح:۔
تجھ کو جو باغ دین کا ایک لذیذ اور خوشبودار میوہ بننا ہے تو اس کے لئے یہ ہے، کہ علم سے تجھ میں لذت اور عمل سے خوشبو پیدا ہو، اسی طرح تو اپنی شخصیت کے اس پھل کی تمامیت و پختگی حاصل کر سکتا ہے۔
گر از سر چشمۂ معنی خوری آب
شوی در باغ جنت میوۂ ناب
۸۱
ترجمہ:۔
اگر تو حقیقت کے سرچشمے سے پانی پیا کرے، تو تُو جنت کے باغ میں پاک و صاف میوہ بن سکتا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کے اس قول کا مطلب یہ ہے، کہ کسی درخت کے نشوونما پانے اور اس میں عمدہ پھل پیدا ہونے کے لئے معتدل اور موافق آب و ہوا کی ضرورت ہے، پس اگر تو جو باغ دین کا ایک درخت ہے، سرچشمۂ حقیقت سے سیراب ہو جایا کرے، تو بےشک تو باغِ جنت کا عمدہ پھل بن سکتا ہے۔
وگر باشی سقط در خاک مانی
معذب دربلای جاودانی
ترجمہ:۔
اور اگر تو گر جائے، تو تُو مٹی میں رہ جائے گا، دائمی مصیبت کا عذاب اٹھاتے ہوئے۔
تشریح:۔
انسان سے مخاطب ہو کر یوں فرماتے ہیں، کہ اے دینی درخت کے پھل! اگر تو درختِ دین پر جم کر نہ پکے اور خام و ناتمام گر جائے، تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا، کہ تو مٹی میں پڑے ہوئے دائمی عذاب میں مبتلا رہے گا۔
نہ باشی در خور خوان شہنشاہ
چو خاکی خوار باشی برسر راہ
۸۲
ترجمہ:۔
(اس صورت میں) تو شاہنشاہ کے دسترخوان کے قابل نہ ہو گا، رستے کی مٹی کی طرح حقیر و ذلیل ہو جائے گا۔
تشریح:۔
اس شعر میں کچے پھل کی مثال دے کر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب تک علم و معرفت سے انسان کی روحانی تکمیل و پختگی نہ ہو، تو وہ اپنے سے ایک برتر ہستی میں فنا اور واصل ہونے کے قابل نہیں ہوتا، اور اگر وہ اس مرحلے میں خام و ناتمام گر جائے، تو اس کے لئے بس ابدی عذاب یہی ہے۔
بر آتش ہمچو خار خشک سوزی
اگر چشم خرد را باز دوزی
ترجمہ:۔
تو آگ میں سوکھے کانٹوں کی طرح جلتا رہے گا، اگر تو دیدۂ دانش سئے رکھے گا۔
تشریح:۔
یعنی اگر تو اس دنیاوی زندگی ہی میں چشمِ بصیرت کھول کر خدا کی پہچان حاصل نہ کرے، تو اس غفلت و جہالت کا انجام یہی مقرر ہے، کہ تو حسرت و افسوس کی آگ میں سوکھے کانٹوں کی طرح جلتا رہے گا۔
چو خواہی تاکہ یابی دانش و ہوش
مکن پند حکیمان را فراموش
۸۳
ترجمہ:۔
جب تو چاہتا ہے، کہ تجھے عقل و شعور حاصل ہو، تو حکماء کی نصیحت نہ بھول جا۔
تشریح:۔
حجت خراساں کا ارشاد ہے کہ جب تک تیری خواہش یہ ہے، کہ تجھے عقل و دانش اور علم و عرفان حاصل ہو، تو تجھے حکماء دین کی پند و نصیحت یاد کرنا ہو گی، کیونکہ ان ہی حضرات کی نصیحتوں میں یہ سب کچھ موجود ہے۔
۸۴
۱۲۔ ”انسانوں کی قسمیں“
بنی آدمؑ گروھی بس لطیف اند
حقیقت ہم خسیس و ہم شریف اند
ترجمہ:۔
بنی آدم ایک انتہائی عجیب گروہ ہیں، حقیقت میں رذیل بھی ہیں اور اصیل بھی۔
تشریح:۔
یعنی چشمِ بصیرت سے دونوں جہاں کی مخلوقات و موجودات کو ذرا دیکھو تو سہی، کہ ان میں سب سے عجیب وغریب گروہ انسانوں کا ہے، کیونکہ مخلوقات کا ہر گروہ یا تو فرومایہ ہے، جیسے حیوانات، یا اصلیل ہے، جیسے فرشتے، مگر انسان فرومایہ بھی ہے اور اصیل بھی۔
تن از خاک اند و جان از جوہر پاک
شرف دارند بر خاصان افلاک
ترجمہ:۔
ان کے اجسام مٹی سے ہیں، اور جان پاک جوہر سے، وہ آسمانوں کے خواص (یعنی فرشتوں) پر فضل و شرف رکھتے ہیں۔
تشریح:۔
یعنی بنی آدم کی دو متضاد صفتیں (رذالت و اصالت) یہ ہیں، کہ وہ ایک طرف سے جسم ہیں، جو مٹی جیسی حقیر چیز سے ہے، اور دوسری طرف سے جان
۸۵
ہیں، جو ایک پاک جوہر سے ہے۔
ہم از نفس و ہم از عقل و ز اجرام
زچا روسہ کہ اول بردہ ام نام
ترجمہ:۔
نیز نفسِ کل و عقلِ کل اور اجرام سماوی سے ہیں، اور چار عنصر اور تین موالید سے جن کا میں نے قبلاً ذکر کیا ہے۔
تشریح:۔
انسانی جسم مٹی سے اس معنی میں ہے، کہ وہ اجرامِ فلکی کی تاثرات، عناصر کے امتزاج اور موالیدِ ثلاثہ کے خلاصے سے مکمل ہوا ہے، اور انسانی روح پاک جوہر سے اس طرح ہے، کہ وہ عقلِ کلی و نفسِ کلی کا اثر ہے۔
ہمہ در ذات انسان ہست حاصل
گلش ظلمانی نورانیش دل
ترجمہ:۔
سب کچھ انسان کی ذات و ہستی میں حاصل ہے، اس کا جسم تاریکی سے ہے اور اس کا دل نور سے۔
تشریح:۔
انسان ان تمام چیزوں کا خلاصہ ہے، جو اس عظیم کائنات کے ظاہر و باطن میں مادی، روحانی اور عقلی صورت میں پائی جاتی ہیں، چنانچہ اس کے جسم کی نسبت ظلمت سے ہے اور اس کے دل کی نسبت نور سے ہے۔
۸۶
مر این را عالم صغراش گفتند
مر آن را عالم کبراش گفتند
ترجمہ:۔
انہوں نے اس عالم کو عالمِ صغیر کہا، اور اُس کو عالمِ کبیر کہا۔
تشریح:۔
یعنی حکمای دین نے انسان کو عالمِ صغیر کہا اور کائنات کو عالمِ کبیر کہا، کیونکہ کائنات میں جو کچھ پھیلا ہوا ہے، انسان میں اسی کا خلاصہ اور حقیقت موجود ہے۔
شدہ بر آفرینش جملہ سالار
بمعنی ہم جہان و ہم جہاندار
ترجمہ:۔
وہ ساری کائنات پر سردار ہوا ہے، حقیقت میں وہ کائنات بھی ہے اور کائنات کا رکھوالا بھی۔
تشریح:۔
قرآنِ حکیم کی تعلیمات سے یہ حقیقت صاف طور پر واضح ہو جاتی ہے، کہ تمام کائنات انسان کے لئے مسخر کی گئی ہے، اور بےشک وہ اس معنی میں ساری مخلوقات پر سردار اور بادشاہ ہے، نہ صرف یہی بلکہ حقیقت میں وہ جملہ جہاں کی باطنی صورت میں ہے، اور اس کا رکھوالا بھی۔
پس و پیش و نہان و آشکار اوست
شناسائی خود و پروردگار اوست
۸۷
ترجمہ:۔
اول، آخر، باطن اور ظاہر وہی (انسان) ہے، اپنی ذات کا عارف اور پروردگار ہی ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں، کہ
ھوالاول والاخر الظاہر و الباطن ۳/ ۰۷
کے اس ارشادِ الٰہی میں انسانی حقیقت کا تذکرہ ہوا ہے، یعنی اول، آخر، ظاہر اور باطن ذاتِ انسانی کی صفات ہیں، چنانچہ وہ خود ہی اپنی ذات کا عارف اور خود ہی معروف، خود ہی رب اور خود ہی مربوب ہے، اور یہ اشارہ اس حدیثِ شریف کی حکمت کی طرف ہے کہ:
من عرفہ نفسہ فقد عرف ربہّ
یعنی جس نے اپنے آپ (ذات) کو پہچانا بیشک اس نے اپنے پروردگار کو پہچانا۔
ہمہ ہم محدث اند و ہم قدیم اند
ہمہ ہم جاہل اند و ہم حکیم اند
ترجمہ:۔
وہ سب حادث بھی ہیں اور قدیم بھی، وہ سب نادان بھی ہیں اور دانا بھی۔
تشریح:۔
انسان مجازاً کچھ اور ہے اور حقیقتاً کچھ اور، وہ اپنے وجود کے پیش منظر میں حادث ہے، یعنی وہ اس سے پہلے کبھی موجود ہی نہیں تھا، اور اب موجود ہے، لیکن
۸۸
وہ اپنے پس منظر میں قدیم ہے، یعنی ماضی، حال اور مستقبل کا کوئی ایسا وقت نہیں، جس میں انسان موجود نہ ہو، اور یہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں، کہ وہ حادث بھی ہے اور قدیم بھی، اسی طرح وہ ایک طرف سے نادان بھی ہے اور دوسری طرف سے دانا۔
ہمہ دارند استعداد ہر شی
بمعنی و بصورت میّت و حی
ترجمہ:۔
سب (انسان) پر چیز کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ ظاہر اور باطن میں مردہ اور زندہ ہیں۔
تشریح:۔
یعنی ہر انسان میں وہی فطری صلاحیتیں موجود ہیں، جو دوسرے سب انسانوں میں پائی جاتی ہیں، یعنی ہر انسان ناقص بھی رہ سکتا ہے اور کامل بھی ہو سکتا ہے۔
اگرچہ آفریدہ زان واینند
ز خود ہر لحظہ چیزی آفرینند
ترجمہ:۔
اگرچہ وہ اسی چیز سے اور اس چیز سے پیدا کئے ہوئے ہیں (لیکن) وہ ہر لمحہ اپنی ذات سے کوئی نہ کوئی چیز پیدا کرتے رہتے ہیں۔
تشریح:۔
آپ نے اخروٹ کے درخت اور اس کے پھل کو دیکھا ہو گا، کہ درخت کے لازمی اجزاء کی تکمیل کے بعد اخروٹ کا پھل پک کر مکمل ہو جاتا ہے، اور
۸۹
دوسری طرف سے یہ بھی ہے، کہ اسی پھل یعنی مغز سے یہ درخت پیدا ہوتا ہے، یہی مثال انسان کی بھی ہے، کہ وہ بہت سی چیزوں سے پیدا ہوتا ہے، پھر اس سے بہت سی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔
چنین اند انبیا و اولیاء شان
کہ ارزد ملک عالمِ خاک پاشان
ترجمہ:۔
وہ اولیاء اور انبیاء (علیھم السلام) ایسے ہی ہیں، کہ ساری دنیا کی سلطنت ان کے قدموں کی مٹی کی قیمت رکھتی ہے۔
تشریح:۔
یعنی یہاں انسان کی جس حقیقت کی تعریف و توصیف کی گئی ہے، وہ دراصل انبیاء اور ائمہ طاہرین علیھم السلام کی ذاتِ اقدس سے متعلق ہے، اس لئے کہ انسانیت کے درجۂ کمال پر وہی حضرات فائز ہو چکے ہیں، اور ان کی فضیلت و مرتبت کا یہ عالم ہے، کہ اگر کسی خوش نصیب کو ان کے قدموں کی مٹی مل جائے، تو یوں سمجھ لو کہ اس کو سلطنت روئے زمین مل گئی۔
۹۰
زبورِ عاشِقین
زبورِ عاشقین
علمی خدمت کی ایک جدید مثال
جن لوگوں کی نیک بخت اور پاکیزہ روحیں ہمیشہ مولائے برحق کے دریائے عشق میں مستغرق رہتی ہیں، ان کو یقیناً نیک توفیقات اور نورانی ہدایات کی نوازشات ہوتی رہتی ہیں، چنانچہ عزیزانم ظہیر لالانی، عشرت رومی، اور روبینہ برولیا، تینوں ریکارڈ آفیسرز نے اس علمی دسترخوان کے بچھانے میں اس وقت بھرپور تعاون کیا، جبکہ جمعہ ۴۔ فروری ۱۹۹۴ء کو عشرت رومی ظہیر لالانی کے نکاح میں آئیں، یہ (کتاب) گویا اس مبارک شادی کے موقع پر بچھایا ہوا، اعلیٰ اور عمدہ نعمتوں کا ایک دائمی دسترخوان ہے، اسی معنی میں کہا گیا کہ “یہ علمی خدمت کی ایک جدید مثال” ہے، پس ہماری عاجزانہ دعا ہے کہ ربِّ کریم نورِ علم کی روشنی پھیلانے والے تمام عزیزوں کو دین و دنیا میں جزائے خیر سے نوازے!
آمین!!
ن۔ن۔ (حبِ علی) ہونزائی
کراچی
۲۲/۲/۹۴
دیباچہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا (۱۷: ۴۴) اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کررہی ہیں جوان میں ہیں، کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے۔
۲۔ ہر چیز کس طرح اللہ تعالےٰ کی پاکی بیان کررہی ہے؟ یا تسبیح کر رہی ہے؟ کسی ایک مقام پر؟ یا کئی مقامات پر؟ کیا ہر بے جان اور بے عقل شیٔ ذاتِ سبحان کی حمدیہ تسبیح خود کررہی ہے؟ یا کسی نمائندگی میں؟ اگر یہ مانا جائے کہ ہر چیز ازخود اللہ جل جلالہٗ کی پاکی بیان کررہی ہے تو پھر یہ ضروری سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ آیا ایسی تسبیح علم و معرفت کے ساتھ ہے؟ یا اس کے بغیر؟ اس نوعیت کے بہت سے مسائل کا حل بفضلِ خدا اس کتاب میں
۶
موجود ہے، لیکن یہاں ایک وقتی اور فوری سوال یہ ہے کہ مذکورۂ بالا آیۂ مبارکہ کے قانونِ تسبیح کے تحت موسیقی اللہ تعالےٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے یا نہیں؟ حقیقت روشن ہے، لہٰذا اس سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا۔
۳۔ تمام انبیائے کرام علیہم السّلام مجموعاً پروردگارِ عالم کی ایک زندہ کتاب کی مرتبت میں ہیں، دورِ نبوّت کی اس بولنے والی کتاب میں ہر پیغمبر ایک باب کا درجہ رکھتا ہے، ہر ایسے باب میں جو کچھ تھا، وہ برائے ہدایت قرآنِ مجید اور دوسری آسمانی کتابوں میں موجود ہے، چنانچہ حضرتِ داؤد علیہ السّلام کتابِ نبوّت کا وہ باب ہیں، جس میں دوسرے کئی اہم موضوعات کے ساتھ ساتھ موسیقی کا موضوع بھی ہے، اور مقدّس موسیقی کی اہمیّت، افادیّت، اور کشش کا یہ عالم ہے کہ جب موسیقی کا مظاہرہ حضرتِ داؤد علیہ السّلام سے ہونے لگتا ہے تو موسیقی والی تسبیح میں شرکت و ہم آہنگی کے لئے جمادات، نباتات، اور حیوانات کی تمام روحیں نیز انسانی ارواح اور ملائکہ سب کے سب جمع ہوجاتے تھے، اور جب موسیقی کا ظہور صورِاسرافیل سے ہوجاتا ہے تو اس کی طرف طوعاً وکرھاً (خوشی سے یا زبردستی سے) تمام زندوں اور مردوں کی روحیں دوڑنے لگتی ہیں، اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ مقدّس موسیقی میں عشقِ الہٰی کی وہ سب سے زبردست طاقت پنہان ہے، جس کو ہم الواحد القھار (۴۰: ۱۶)
۷
کی قہرمانی (قہر و جلال) کی طاقت بھی کہہ سکتے ہیں۔
۴۔ ہماری اس بات سے شاید کسی کو تعجب یا سوال ہو کہ کس طرح نباتات اور حیوانات نے حضرتِ داؤدؑ کے نغمہ ہائے لاہوتی میں ہمنوائی کی، جبکہ قرآنِ حکیم میں صرف پہاڑوں کی ہم آہنگی کا ذکر ہے؟ نیز متعلقہ آیات کریمہ (۲۱: ۷۹، ۳۴: ۱۰، ۳۸: ۱۸) میں انسانوں اور فرشتوں کا ذکر کہاں ہے؟ میں بطورِ جواب عرض کروں گا کہ قرآنِ حکیم کا ہر بیان حکیمانہ جامعیّت و ایجاز کے ساتھ ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ہم ہی نے پہاڑوں (اور ان کی تمام چیزوں یعنی نباتات اور حیوانات) کو داؤد کے ساتھ مسخر کردیا کہ (پہاڑ اپنے جنگل اور جانور سمیت) تسبیح کیا کرتے تھے، اور اسی طرح پرندوں کو بھی مسخر کردیا (یعنی انسانی روحوں اور فرشتوں کو بھی ۲۱: ۷۹) یاد رہے کہ ظاہری پرندوں کا ذکر پہاڑی اور جنگلی جانوروں کے ساتھ ہے۔
۵۔ علم و معرفت کی غرض سے یہاں یہ سوال بھی ازبس ضروری ہے کہ حضرتِ داؤد علیہ السّلام کے پاس نبوّت تھی؟ یا امامت؟ اسکا درست جواب یہ ہے کہ جنابِ داؤد ظاہرمیں نبی تھے، اور باطن میں امامِ مستودع چونکہ مقصودِ اصلی امام شناسی ہی ہے، لہٰذا قرآنِ کریم کا ہر نمائندہ قصّہ اور ہر نمائندہ آیۂ کریمہ نورِ امامت کے بارے میں ہے، اور حضرتِ داؤد علیہ السّلام کی امامت کی ایک قرآنی دلیل یہ ہے: وَعَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ (۲۱: ۸۰)
۸
اور ہم ہی نے ان کو تمہاری جنگی لباس (کرتۂ ابداعیہ) کا بنانا سکھایا تاکہ تمہیں روحانی جنگ کی زد سے بچائے، تو کیا تم اس کے شکر گزار بنوگے؟
۶۔ ان شاء اللہ، حصولِ برکت کی غرض سے اس کتاب کا نام “زبورِ عاشقین” مقرر ہوا، زبور کے یہ معنی ہیں: فرشتہ، گروہ، کتاب، اور حضرتِ داؤدؑ پر نازل شدہ کتاب، اس سے چند سال قبل ہمارے عظیم دوست نے کتابِ مناجات کو زبورِ قیامت کے اسم سے موسوم فرمایا ہے الغرض اگر اس کارِ خیر میں ہماری نیّت خیر خواہی اور نیکی پر مبنی ہے تو یہ علمی خدمت بحکمِ خدا رفتہ رفتہ سب کے لئے مفید ثابت ہوگی، کیونکہ اصل خیر خواہی اور سب سے بڑی خدمت وہ ہے جو تمام لوگوں کے حق میں ہو، چنانچہ ہماری اس کتاب کا خاص موضوع عشقِ سماوی ہے، جس کی امکانی اور ابتدائی صلاحیّت سب میں پائی جاتی ہے، جس کی مثال اس ابتدائی چنگاری کی طرح ہے جو چقماق اور آتش زنہ سے نکلتی ہے، اب اگر اس چنگاری کو ٹھہرانے اور ترقی دینے کے لئے کوئی خاص علم و حکمت ہے تو اس سے بتائیدِ الہٰی سب کو فائدہ دلانا چاہئے۔
۷۔ موسیقی سے ہماری دلچسپی آج سے نہیں بلکہ شروع ہی سے رہی ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ میں جس علاقے میں پیدا ہوا، اس میں دو قسم کی موسیقی جاری تھی، دنیوی اور مذہبی، دنیوی موسیقی کے ایک سیٹ میں یہ آلے ہوتے ہیں: سرنای، ڈھول، اور نقارے، اسکے علاوہ
۹
سرنای چی کے پاس دو چیزیں اور ہوتی ہیں، وہ بانسری (نای) اور طوطیک (طوطک =الغوزہ) ہیں، مزید برآن کسی کے انفرادی شغل کے لئے ستار بھی ہوا کرتا تھا، اور مذہبی یا مقدس موسیقی کے صرف دو آلے مروج ہیں، جو دف و رباب ہیں، میں نے ساز و نواز کی دونوں محفلوں کو خوب غور سے دیکھا، اور بہت سے مفید نتائج اخذ کئے، مثلاً اہلِ دنیا اپنی موسیقی سے بے حد شادمان نظر آتے، اور اکثر لوگ روایتی انداز میں رقص کرنے کے عادی ہوا کرتے تھے، اس حرکت سے بلاشبہ ان کو بڑی حد تک ظاہری لطف و لذّت کا احساس ہوتا تھا۔
۸۔ اس چھائی ہوئی ثقافتی جنگ کو روکنے اور کم کرنے کے لئے مقدّس موسیقی کے سوا اور کون سا ہتھیار کام آسکتا تھا، پس امامِ اقدس و عالی صلواۃ اللہ علیہ کی روحانی تائید سے علاقائی زبان میں نورِ امامت کی پُرحکمت مدح سرائی کی گئی، جس میں خنجرِ عشق خود از خود کام کرنے لگا، اور عشق ہی نے پورے علاقے کو فتح کرلیا، اس سے پہلے جو حالت تھی اس کی چند مثالیں یہ ہیں:
کچھ ایسے مجازی عشقیہ گیت بنا کر پھیلا دینا، جو قواعدِ شاعری سے عاری ہونےکے علاوہ مخرب، غیر مہذب اور محبوبہ کے شوہر وغیرہ کی تحقیر اور گالی گلوچ سے آراستہ ہوں، گاؤں کی کسی چھت پر بانسری یا طوطیک یا ستار بجانا، یا ایسا کوئی ساز بجاتے ہوئے کسی کی گلی سے گزر
۱۰
جانا، وغیرہ، بعض جوانوں کی یہ حر کتیں ایسی تھیں، جن کو اچھے لوگ پسند نہیں کرتے تھے، لیکن ممانعت کا کوئی کامیاب طریقہ بھی تو نہ تھا، اسی لئے یہ چیزیں پھیل گئی تھیں۔
۹۔ دنیا میں بیماریوں کے دو طریقِ علاج مشہورہیں:
۱۔ علاج بالضد (Allopathy)
۲۔ علاج بالمثل (Homoepathy)
چنانچہ مذکورہ بیماری کے لئے علاج بالمثل سے کام لیا گیا، یعنی میرے مولا کی تعریفی نظموں نے مجازی گیتوں کو مارا، اور دف و رباب کی مقدّس موسیقی نے دنیوی موسیقی کو گھائل اور کمزور کردیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہی عمل خود علمی جہاد بھی ہے، اور اس لشکرِ جرار میں جو حضرات جرنیلی کا منصب رکھتے ہیں، وہ سپاہیوں کی طرح کام کررہے ہیں، کیونکہ ان کی شاندار وردی اور نشانیاں ظاہر نہیں، وہ کرتہ ہائے ابداعیہ اور جامہ ہائے جنّت ہیں۔
۱۰۔ جب تک یہاں آسمانی عشق کی کوئی عمدہ بات نہ ہو تو یہ دیباچہ نامکمل رہے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ قرآنِ پاک میں خزائنِ عشق بہت ہیں، ہم کس خزینے سے رجوع کریں؟ اس کے لئے دل کا کہنا ہے کہ خزانۂ خلیلی سے کوئی حکمت بیان کی جائے، چنانچہ خلیل کے معنی ہیں: (۱) درویش (۲) خالص دوست، مگر کیسے خالص دوست؟ حبیب، محب، عاشق،
۱۱
اور عاشق اس درجے کا کہ راہِ خدا میں فرزندِ جگر بند کو بھی قربان کردینے سے دریغ نہ رکھے، ایسے اعلیٰ اوصاف حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام کے تھے، آپؑ کو ربّ العزت نے تمام لوگوں کے لئے امام بنایا تھا (۰۲: ۱۲۴) اس لئے قرآنِ حکیم نے نمونۂ ہدایت کے طور پر یہ ذکر فرمایا کہ آپؑ اپنے روحانی سفر میں کس طرح مراتبِ عالیہ (ستارہ، چاند، سورج ۰۶: ۷۶ تا ۷۹) سے ہوتے ہوئے باری تعالیٰ کی وحدانیّت تک پہنچ گئے۔
۱۱۔ امامِ اقدس و عالی ہی عشق کا عنوان ہے، کیونکہ وہی وجہ اللہ کا درجہ رکھتا ہے، اور یہ ایک روشن دلیل ہے کہ چہرۂ زیباہی سرچشمۂ عشق ہوا کرتا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرتِ ابراہیمؑ کے حوالے سے ہر زمانے کا امامؑ خدا کا پر نور چہرہ یعنی صورتِ رحمان ہوا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک خاص تاویل کے اعتبار سے حضرتِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام نے کہا: میں اپنا چہرہ خالقِ کائنات کا نمائندہ چہرہ بناتا ہوں اور یہی آخری توحید اور فنائے مطلق ہے (۰۶: ۷۹)۔
۱۲۔ سورۂ رحمان میں فنائے عقلانی کا ذکر وہاں ہے، جہاں چہرۂ خدا کا ذکر آیا ہے (۵۵: ۲۶ تا ۲۸) پھر پروردگار کی جلالت و کرامت اور تمام نعمتوں کا بیان ہے، اس کی گرانمایہ اشارت و حکمت یہ ہے کہ جب کسی کامیاب عاشق کو تجدّدِ ازل و ابد کے مقام پر اپنے ربّ کے پاک دیدار کا شرف حاصل ہوجاتا ہے، تو اسی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے آپ
۱۲
کی فنافی اللہ و بقا باللہ کا عملی تجربہ اور مشاہدہ بھی کرتا ہے، اور اس پر باطنی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔
۱۳۔ حدیثِ قدسی: “کنت کنزا مخفیا” میں جس خزانۂ اسرارِ خداوندی کا ذکر ہوا ہے، وہ چھپا ہوا خزانہ بھی مرتبۂ فنا کے بعد ہی حاصل ہوجاتا ہے، دوسری حدیثِ قدسی: یَابْنَ اٰدمَ اَطِعْنِیْ اَجْعَلُکَ مِثْلِی …(اے اولادِ آدم! تو میری اطاعت کر، تاکہ میں تجھ کو اپنی مثال بناؤں گا…) کا وعدۂ الہٰی بھی اسی مقام پر پورا ہوجاتا ہے، حضرتِ امام باقر علیہ السّلام کے اس ارشادِ عالی کو بھی غور سے دیکھ لیں: ماقیل فی اللّٰہ فَھوفینا، وما قیل فینا فھوفی البلغاء من شیعتنا =جو بات اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہی گئی ہے وہ ہم پر صادق آتی ہے، اور جو بات ہمارے متعلق کہی گئی ہو، وہ ہمارے بلیغ شیعوں پر صادق آتی ہے۔ اور اسی گنجِ مخفی کی آخری تاویل یک حقیقت (مونوریالٹی = MONOREALITY) ہے، جو حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوٰۃ اللہ علیہ وسلامہ کی قیامت خیز نورانی تعلیمات میں سے ہے۔
۱۴۔ اس زمانے میں جہاں ظاہری علوم کی فروانی اور ترقی ہے، اور باطنی علوم کی کمی ہے، وہاں یہ بات بہت ممکن ہے کہ ہمارے کسی بھائی کو اپنی مذہبی روایت میں کوئی شک پیدا ہوا ہو، ایسے میں ہم پر واجب ہے کہ اس بھائی کی مدد کریں، اور اس کے پاس جو جو ناپرسیدہ سوالات ہیں،
۱۳
ان کے لئے علمی و عرفانی جوابات مہیا کردیں، الحمد للہ! یہ نیک کام اسی خیر خواہی کے جذبے سے کیا گیا ہے، اور اس میں کسی دوسرے سے کوئی بحث نہیں۔
۱۵۔ میں یہاں ایک مثالی سوال کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ کسی مومن کو مذہب کی کسی چیز میں کیوں شک پیدا ہوتا ہے؟ اسکا جواب یہ ہے: جب ذکر و عبادت میں کمی ہو، جب علم و معرفت نہ ہو، جب عشقِ مولا مفقود ہوجائے، جب اغیار کی باتوں کا اثر ہو، جب روحانی باپ کے مقدّس فرمان پر عمل نہ ہو، اور جب یہ معلوم نہ ہوجائے کہ شک خونِ گوسفند کی طرح حرام ہے۔
یاد رہے کہ شک یقین کے مقابلے میں ہے، چنانچہ اگر شک معمولی سی برائی کا نام ہوتا اور اسکا دائرہ بڑا وسیع نہ ہوتا تو اس کے ازالے کیلئے علم الیقین کا اتنا بڑا سمندر موجود نہ ہوتا ، یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جو شکوک و شبہات علم الیقین کے مقابلے میں ہیں، وہی سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔
۱۶۔ میرا ایمان، یقین اور عرفانی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بحکمِ نورٌعلیٰ نورٌ، امامِ مبین کے حظیرۃ القدس (احاطۂ نورانیّت) میں سب ہیں، اور حضرتِ داؤدؑ بھی ہیں، پس ہم تمام ساتھی جو علمی لشکر بھی ہیں اور اسرافیلی لشکر بھی، بے حد شادمان ہیں، اور ہماری اس طوفانی شادمانی کی کیفیّت میں ایک لطیف غیر ملفوظ شکر گزاری پوشیدہ ہے کہ خداوندِ عالم نے اپنی رحمتِ بے پایان
۱۴
سے ہمیں امامِ زمانؑ کے دامنِ اقدس سے وابستہ کر دیا، جس کی نورانی ہدایت کی روشنی میں ہمیں ہر گونہ نعمت عطا ہوئی، اور ایک بہت بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ آسمانی عشق نے ہمیں حضرتِ داؤد علیہ السّلام کی اصل یعنی روحانی زبور کی خوشبو سنگھا دی، جس کی مستی میں ہم نے اپنی نظموں کو زبورِ عاشقین کہا، اور اس کتاب کا یہ نام (زبورِ عاشقین) نمائندگی کے طور پر ہے۔
۱۷۔ میں اس دیباچہ میں ان تمام عزیز دوستوں کو یاد کرتا ہوں، جو حضرتِ شاہِ ولایت کی مدح سرائی و منقبت خوانی کرتے رہتے ہیں، جب خداوندِ تعالیٰ کا اصل اسمِ اعظم ہر وقت زندہ ہے اور وہ امامِ زمان علیہ السّلام ہی ہے تو پھر امامِ برحقؑ کی تعریف خدائے بزرگ و برتر کی تعریف ہوئی، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے: وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا (۰۷: ۱۸۰)اور اللہ کے نہایت ہی خوبصورت نام ہیں، پس تم انہی ناموں سے اس کو پکارو۔ یعنی جب روحانیّت کا دروازہ کھل جائے گا، اور شروع سے لے کر آخر تک نورِ امامت ہی کی تجلّیات ہوں گی، تو تب ہی کسی کو اندازہ ہوگا کہ امامِ زمانؑ جو اللہ تعالیٰ کا اسمِ اکبر ہے وہ بے قیاس حسین و جمیل ہے، اس میں عشق و جنون کی بہت بڑی دعوت ہے۔
۱۸۔ یہ کتاب میری نظر میں خزانۂ سیم و زر اور گنجِ لعل و گوہر سے بھی زیادہ قیمتی ہے، لہٰذا میں اسے “جشنِ خدمتِ علمی” کے عظیم پروگرام میں شامل کردیتا ہوں، اور تمام دوستوں کو ایسی حسین و دلنشین کتاب کے مکمل ہونے پر
۱۵
صمیمیّتِ قلب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، قبول ہو! اور میں چاہتا ہوں کہ فرداً فرداً سب کی دست بوسی کروں، اور ہر ایک کو دل میں بسانے کیلئے سینہ کھول دوں، آمین! بروشسکی شعر:
مصطفےٰ کے مرتضےٰ اُغرُم طعامن نوبلم
چوک میارر دیمی لیکن تازہ ہَک ٹݣ ٹݣ اݵسل
ترجمہ: حضرتِ محمد مصطفےٰؐ اور حضرتِ علیؑ مرتضیٰؑ مقدس کھانوں میں سے ایک طعام بطورِ تبرّک رکھا ہوا تھا، جو عرصۂ دراز کے بعد اب ہمیں نصیب ہوا، لیکن اس عظیم معجزے کو دیکھو تو سہی کہ یہ مبارک کھانا ہنوز تازہ بتازہ اور بالکل گرم ہی ہے، اور اس میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔
الحمد للّٰہ ربِّ العالمین
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
بروزِ یک شنبہ نہم رمضان المبارک ۱۴۱۴ھ
۲۰۔ فروری ۱۹۹۴ء
۱۶
چند روایات
مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی نے اپنی کتاب “اسلام اور موسیقی” کے صفحہ ۳۸ پر یہ روایت تحریر کردی ہے:
حضورؐ نے پوچھا: اس یتیمہ کا (جو عائشہؓ کے پاس تھی) کیا ہوا؟ عائشہؓ نے عرض کیا، ہم نے اسے اس کے شوہر کے پاس رخصت کر دیا، فرمایا: تم نے کوئی عورت اس کے ساتھ نہ کر دی جو ذرا گاتی، اور دف بجاتی ہوئی اس کے ساتھ جاتی، عرض کیا: ایسے گیت کے بول کیا ہونے چاہئیں تھے؟ فرمایا کہ یہ مصرعے گاتی ہوئی جاتی: (ترجمہ) ہم تمہارے گھر آئے، تم ہمارے دوارے آئے، تم ہم پر سلامتی بھیجو اور ہم تم پر، اگر زرِ سرخ نہ ہوتا تو تمہارے ہاں کوئی نہ آتا اور اگر گندمی رنگ کے گیہوں نہ ہوتے تو تمہاری لڑکیاں گداز بدن نہ ہوتیں۔
اسی طرح بخاری، ابوداؤد اور ترمذی کے حوالے سے لکھتے ہیں: جب میری (ربیع بنتِ معوذ کی) رخصتی ہوئی تو حضورؐ میرے غریب خانے پر رونق افروز ہوئے اور میرے ہی بستر پر بیٹھ گئے، چند لڑکیاں دف بجا بجا کر اپنے بدر میں شہید ہونے والے بزرگوں کی مدح سرائی کرنے لگیں، ایک نے کہیں یہ مصرعہ لگایا کہ (ترجمہ) “ہم میں ایک پیغمبر ایسا ہے جو یہ
۱۷
جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا؟” حضورؐ نے فرمایا یہ نہ کہو، وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں (یعنی گارہی تھیں)۔
مذکورہ کتاب میں حضرتِ عائشہؓ کی یہ روایت بھی ہے: حضورؐ میرے ہاں تشریف لائے، اسوقت دو لڑکیاں جنگِ بعاث کے گانے گا رہی تھیں، حضورؐ بستر پر لیٹ گئے، اور دوسری کروٹ بدل لی، اتنے میں حضرت ابوبکرؓ تشریف لائے اور مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا رسول اللہ کی موجودگی میں یہ شیطانی گیت؟ حضورؐ نے جناب ابوبکرؓ کی طرف متوجّہ ہوکر فرمایا… رہنے دو اِن بیچاریوں کو ….. یہ عید کا دن تھا…..
اس کے بعد مذکورہ کتاب میں درج ہے: اور یہ روایت تو سب ہی جانتے ہیں کہ ہجرتِ مدینہ کے دن عورتیں دف پر یہ گارہی تھیں:
طلع البدر علینا
من ثنیات الوداع
وجب لشّکر علینا
ما دعیٰ للہ داع
ایّھا المبوث فینا
جئت بالامرالمطاع
ترجمہ: ہم پر چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے، وداع کے ٹیلوں سے، ہم پر شکر واجب ہے، جب تک دعا کرنے والا دعا کرتا رہے، اے وہ جو ہمارے اندر بھیجے گئے، آپ تو وہ دین لائے جو واجب الاطاعت ہے۔
مذکورہ کتاب کے صفحہ ۴۱ پر ہے، چنانچہ جوہری طنطاوی لکھتے ہیں:
موسیقی ایک ایسا علم ہے، جس میں نغموں اور لہجوں کے قوانین سے
۱۸
بحث کی جاتی ہے، اور ان کا جواثر یقینی طور سے دلوں پر ہوتا ہے اس سے بحث ہوتی ہے……، ابو نصر فارابی، ابنِ سینا (بوعلی سینا) صفی الدین عبدالمومن، ثابت بن قرہ صابی، اور ابو الو فاجو زجانی نے اس پر کتابیں لکھی ہیں، اس فن کا فائدہ یہ ہے کہ کبھی تو اس سے روح میں انبساط، اعتدال یا تقویّت پیدا ہوتی ہے، اور کبھی اس میں سکیڑ پیدا ہوتا ہے، پہلی قسم کا فائدہ جشنوں، جنگوں اور مریضوں کے علاج کے موقعے پر حاصل ہوتا ہے، اور اسی کے ذریعے سخاوت یا شجاعت جیسے جوہر کھلتے ہیں، اور دوسری قسم کا فائدہ مواقعِ غم یا عبادت گاہوں میں حاصل ہوتا ہے، اسوقت یہ موسیقی دلوں کو اس عالمِ فانی سے ہٹا کر اس کے اصل مبداء کی طرف پھیر دیتی ہے، اور دل آخرت و انجام پر غور و خوض کرنے لگتے ہیں۔
۱۹
رسائلِ اخوان الصفاء میں موسیقی کا تذکرہ
۱۔مذکورہ کتاب کا تعارف:
رسائلِ اخوان الصفاء دخلان الوفاء مختلف علوم کی وہ شہرۂ آفاق کتاب ہے جس کی مثال نہیں ملتی، کیونکہ یہ کتابِ مستطاب بتقا ضائے زمان و مکان حضرتِ مولانا امام تقی محمد صلوٰۃ اللہ علیہ وسلامہٗ کے حکم و ہدایتِ کاملہ کے مطابق لکھی گئی ہے، یہ کتاب دراصل اپنے وقت کے علومِ متداولہ کا سب سے عظیم انسائیکلو پیڈیا ہے، جس کی ۴ جلدوں میں ۵۱ رسالے ہیں، اور آخری رسالہ جو خلاصہ اور نچوڑ کے طور پر ہے، اس کے ساتھ ملا کر کل ۵۲ رسالے ہیں، یہ عظیم الشّان علمِ و حکمت کا بے مثال ذخیرہ کس حد تک دنیائے دانش میں مشہور و معروف ہوسکا؟ کیسے کیسے بڑے سے بڑے علماء اور اسکالرز نے اس سے ہر گونہ دلچسپی لی؟ اور دنیا کی کن بڑی زبانوں میں اسکا ترجمہ ہوا؟ یہ معلومات ضروری ہیں، آپ عارف
۲۰
تامر کی تحقیق کردہ “جامعۃ الجامعۃ” میں بھی دیکھ سکتے ہیں، یہ مذکورہ کتاب کا آخری رسالہ ہے، جس کا اوپر ذکر ہوا، اور الگ چھپا ہوا ہے۔
۲۔ “اخوان الصفاء و خلان الوفاء:”
کے معنی ہیں: برادرانِ باصفا و دوستانِ باوفا، یہ اس پاکیزہ با کرامت، اور خاص علمی جماعت کا نامِ گرامی ہے، جس نے امامِ زمان علیہ السّلام کے امرو ارشاد کے مطابق اسی نام سے یہ انمول کتاب تصنیف کی، اس پُرحکمت نام میں اسماعیلی جماعت کی طرف بھی ایک لطیف اشارہ موجود ہے، الغرض اس انسائیکلوپیڈیا کے لکھنے میں چار عظیم داعیوں کے اسماء نمایان ہیں، اور وہ یہ ہیں: عبداللہ بن حمدان، عبداللہ بن سعید، عبداللہ بن ممیون، اور عبداللہ ابنِ مبارک۔
۳۔ رسالۂ پنجم: موسیقی کے بارے میں:
اس رسالہ میں تمہید کے بعد ۱۴ فصول ہیں، ہر فصل ایک مکمل مضمون ہے اور اس کے صفحات ۵۹ ہیں، یہ رسالہ موسیقی سے متعلق علوم و فنون، عجائب غرائب اور اسرارِ باطن سے مملو ہے، اس کی تفصیلات و معلومات بڑی حیرت انگیز ہیں، میرا یقین ہے کہ موسیقی کے بارے میں کوئی ایسا اساسی سوال نہیں ہوگا، جسکا جواب اس رسالے میں موجود نہ ہو، مثال کے
۲۱
طور پر:
(الف): موسیقی کو شروع شروع میں کس نے ایجاد کیا؟ وہ ایک عام آدمی تھا؟ یا کوئی حکیم؟ اگر اس فن کا موجّد کوئی حکیم ہو، تو یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ اس حکیم کے نزدیک اس فن کا کیا مقصد تھا؟
(ب): اصل حکمت اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ حقیقی حکیم تو وہی ہے، پھر اسی حکیمِ مطلق نے ایجاد کی یہ حکمت مجازی حکیم کو عطا کردی ہوگی؟
(ج): اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے کہ حضرتِ داؤد نبی علیہ السّلام اپنی آسمانی کتاب (زبور) کی قرأت موسیقی کے ساتھ کیا کرتے تھے؟
(د): آیا یہ صحیح ہے کہ موسیقی سے کئی قسم کے امراض کا علاج ہوسکتا ہے؟ پس اس نوعیت کے بہت سے سوالات کے تسلی بخش جوابات کے لئے آپ ضرور مذکورۂ بالا رسالہ پڑھیں۔
۴۔ آسمانوں کی حرکات میں نغمات:
فصلِ ہفتم میں روشن دلائل سے یہ انتہائی عظیم حقیقت ثابت کی گئی ہے کہ آسمانوں کی حرکتوں میں تو تسبیح ہے، وہ مقدّس نغمات کی صورت میں ہے، اس کی ایک چھوٹی سی مثال بحکمِ ضرورت نغمۂ عود (سارنگی) سے دی جا سکتی ہے، ان قدسی نغموں سے اہلِ سماوات کو لذّت و شادمانی حاصل ہوجاتی ہے،
۲۲
اور وہ خود جس طرح ہمیشہ ذکر و عبادت میں مصروف رہتے ہیں، اس کی بھی یہی شان ہے، اور ان کی نغماتی تسبیح داؤد کی قرأتِ زبور سے بھی زیادہ شیرین ہے۔
۵۔ رَوح و ریحان کی حکمت:
خداوندِ بزرگ و برتر کا یہ ارشاد سورۂ واقعہ میں ہے: فَاَمَّآ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ فَرَوْحٌ وَّرَيْحَانٌ ڏ وَّجَنَّتُ نَعِيْمٍ (۵۶: ۸۸ تا ۸۹) پس اگر وہ مقربین سے ہے تو (اس کے لئے) آرام و آسائش ہے، اور خوشبودار پھول اور پر نعمت باغ۔ روح، رَوح، ریح (ہوا) ریحان ایک ہی مادّہ کے الفاظ ہیں، لہٰذا ان کے آپس میں معنوی اشتراک ہے، یعنی ان میں سے ہر ایک میں چاروں کے معنی ہیں، مثال کے طور پر روح زندہ بھی ہے، راحت بھی، ہوا بھی ہے، اور خوشبو بھی، پس روح جہاں ہوا ہے، وہ وہاں نغمہ بھی ہے اور صورِ اسرافیل بھی، کیونکہ ہر ساز کی موسیقی ہوا سے بنتی ہے، لیکن یہ نکتہ یاد رہے کہ ہوائے بہشت قابلِ تعریف ہے۔
۶۔ ایک پر حکمت سوال:
اس میں کیا راز مخفی ہے کہ مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ کا رخ مقربین کی طرف کردیا گیا ہے، حالانکہ جسمانی موت کے بعد دوسرے تمام مومنین و مومنات کو بھی وہ ساری نعمتیں میسر ہوں گی، جن کا اوپر ذکر ہوا؟ جواب: اس کا
۲۳
اشارہ یہ ہے کہ مقربین ہی وہ لوگ ہیں جو دنیا کی زندگی میں جزوی طور پر، اور بہشت میں کلّی طور پر اس آیۂ مبارکہ کے مصداق ہوتے ہیں، جس طرح سورہ مطففین (۸۳: ۱۸ تا ۲۱) میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ مقربین ہی وہ لوگ ہیں جو جسمانی موت سے پیشتر بھی نامۂ اعمال کو علیین پر دیکھ سکتے ہیں، اور اس سے مشاہدۂ روحانیّت و عقلانیّت مراد ہے۔
۷۔ ستاروں پر بہشتِ برین:
مجھے یہاں اپنی تحریروں سے دوعنوان یاد آگئے، وہ ہیں: ستاروں پر لطیف زندگی (قرآنی مینار ص ۸۷) اور عبدالاحد کا اشارہ (لعل و گوہر ص۴۱) یقیناً ہماری ناچیز سی کوشش دینِ حق کی روشنی میں ہے، اب رسالۂ موسیقی کی فصلِ دہم سے چند حکمتیں بیان کی جاتی ہیں، وہ یہ کہ اس فصل میں بھی فصلِ ہفتم کی طرح آسمانی نغمات کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے، اور اس مقدّس موسیقی کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ انسان فرمانبرداری، ذکر و عبادت، اور علم و عمل کے ذریعے سے عالمِ علوی کی نعمتوں اور لذّتوں سے مالا مال ہو جائے، جس طرح حضرتِ ادریس علیہ السّلام نے جسمانی زندگی ہی میں عالمِ بالا تک روحانی رسائی حاصل کرلی تھی (۱۹: ۵۶ تا ۵۷)۔
آگے چل کر حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا پر حکمت اور مشہور ارشاد درج کیا گیا ہے اور وہ اس طرح ہے: من لم یولد ولا دتَیْنِ لم یصعد
۲۴
الیٰ ملکوت السماءِ ، یعنی جو شخص (جسمانی زندگی ہی میں) دو دفعہ جنم نہ لے وہ آسمان کی سلطنت کی طرف چڑھ ہی نہیں سکتا۔ اس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ ہر مومنِ سالک کے لئے یہ امر ازبس ضروری ہے کہ وہ منازلِ روحانی کے آغاز میں ایک بار مرکر زندہ ہوجائے، پھر آگے چل کر مراحلِ عقلانی کے شروع میں دوبارہ فنا ہوکر زندۂ جاوید ہو۔
۸۔ مناجات الباری:
رسالۂ موسیقی کی آخری فصل موسیقار کے سروں اور نغموں کی گونا گون تاثیرات کے بارے میں ہے، اس میں بڑے بڑے اسرار منکشف ہوئے ہیں، اور آپ کو یہ جان کر بڑی حیرت اور بے حد شادمانی ہوگی کہ اس کے آخر میں مناجاۃ الباری کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:
ویروی فی الخبرأن ألذّنغمۃٍ یجدھا اھل الجنّۃ، واطیب نغمۃ یسمعونھامناجاۃُ الباری، جلّ ثناؤہٗ، ذالک قولہ تعالیٰ: تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ-وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا (۳۳: ۴۴) “ویقال انّ موسیٰ، علیہ السّلام، لمّا سمع مناجاۃ ربّہ، داخلہ من الفرح والسّرور واللذّۃ مالم یتمالک نفسہ حتّٰی طرب و ترنّم و صَغُرَ عندہ بعد ذالک کُلُّ النّغماتِ والألحان والأصوات۔ وفّقک اللّٰہ ایّھا الأخ لفھم معافی ھٰذہٖ الاشارات اللّطیفۃ والاسراد
۲۵
الخفیّۃ، و بلَّغک بلاغھا وایّانا وجمیع اخواننا حیث کانوا وأین کانوامن البلاد، انّہ رؤفٌ بالعباد ۔
ترجمہ: حدیث میں روایت کی گئی ہے کہ وہ بیحد شیرین (لاہوتی) نغمہ جو اہلِ جنّت کو حاصل ہوتا ہے اور وہ انتہائی پاکیزہ (ربّانی) نظم جسے وہ سنتے ہیں حضرتِ باری تعالیٰ جلّ ثنا وہ کی پاک مناجات ہے، جیسا کہ قرآن پاک کا ارشاد ہے، جس دن وہ اس سے ملتے ہیں (اس دن) ان کی دعا (زندہ و) سلامت ہوجاتی ہے۔ یعنی اسمِ اعظم جو ان کے حق میں حیاتِ ابدی کی دعا ہے، وہ روحانی دیدار کی برکت سے خود گو اور خود کار ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السّلام نے اپنے ربّ کی مناجات سن لی تو اس سے ان کو ایسی فرحت، مسرّت اور لذّت حاصل ہوگئی کہ آپ اپنے آپ پر قابو نہ پاسکے، یہاں تک کہ خوشی کے مارے آپے سے باہر ہوگئے، اور گنگنانے لگے، اور اس کے بعد ان کے نزدیک ہر نغمہ، ہر لحن اور ہر آواز حقیر ہوگئی۔
اے بھائی ! اللہ تعالیٰ تمہیں ان اشاراتِ لطیف اور اسرارِ باطن کے معنوں کو سمجھنے کی توفیق عنایت فرمائے! اور ان کے پیغام کو آپ تک پہنچائے، اور ہمیں بھی، اور ہمارے تمام (روحانی) بھائیوں کو بھی، جس طرح بھی وہ بستے ہوں اور جن شہروں اور علاقوں میں بھی رہتے ہوں اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔
بحوالۂ رسائل اخوان الصفاء و خلا الوفاء فی الموسیقی
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی، کراچی
سنیچر یکم رمضان المبارک ۱۴۱۴ھ ۱۲۔ فروری ۱۹۹۴ء
۲۶
موسیقی سے علاجِ امراض
مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی اپنی مشہور کتاب “اسلام اور موسیقی” کے صفحہ ۱۱۷ پر عنوانِ بالا کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
موسیقی کی جن مفید تاثیرات کا مجمل ذکر امام غزالی نے کیا ہے، اسے دوسرے حکماء اور فلاسفر بھی بیان کرچکے ہیں، مثلاً افلاطون کہتا ہے:
غم زدہ آدمی کو اچھی آوازیں سننی چاہئیں، کیونکہ جب دل پر غم طاری ہوتا ہے تو اس کی روشنی بجھ جاتی ہے، لہٰذا جب وہ وجد و کیف پیدا کرنے والی چیزیں سنتا ہے تو بجھا ہوا جذبہ پھر بھڑک اٹھتا ہے، حکماء نے اس علم کو محض طفل تسلی اور کھیل کے لئے ایجاد نہیں کیا تھا، بلکہ اس کا مقصد تھا داخلی منافع، روح اور روحانیّت کی لذّتوں کا حصول، قلبی انبساط اور گردشِ خون، جس کو اس فن میں کوئی دخل نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ موسیقی کا مقصد بجز اس کے کچھ نہیں کہ کھیل تماشا ہو، دنیا کی خواہشوں کی ترغیب ہو، اور دنیا کی آرزؤوں کے دھوکے میں پڑا رہے۔
افلاطون کی ہدایت کے مطابق آج تک حکماء و اطباء نے بیسیوں طرح کے مریضوں کا علاج موسیقی کے ذریعے سے کیا ہے، “القدیم والحدیث”
۲۷
(کتاب) کے مؤلّف محمد کرد علی نے صفحہ ۲۲۴ پر ان امراض کی ایک فہرست دی ہے، جن میں موسیقی کی امداد کامیاب ثابت ہوئی ہے، وہ امراض یہ ہیں:
۱۔ مرگی۔ ۲۔ سَوۡدا۔ ۳۔ اشتیاقِ وطن (Home Sickness) ۴۔ وہ جنون جو کسی صدمے کی وجہ سے ہو۔ ۵۔ دمہ۔۶۔ کم عقلی۔ ۷۔ عام جنون۔ ۸۔ کند ذہنی۔ ۹۔نیند میں چلنا اور بولنا۔ ۱۰۔ کابوس۔ ۱۱۔ ہسٹریا۔ ۱۲۔سکتہ ۱۳۔ فالج۔ ۱۴۔ سرسام۔ ۱۵۔ دوسرے اعصابی امراض۔ ۱۶۔ مختلف قسم کے بخار۔ ۱۷۔ نقرس۔ ۱۸۔ عرق النساء۔ ۱۹۔ گنٹھیا۔ ۲۰۔ طاعون۔ ۲۱۔ تخمہ۔ ۲۲۔ زہرِ سگ۔ ۲۳۔ زجمہ ۲۴۔ زہرِ باد۔ ۲۵۔ سوءِ ہضم ۔۲۶۔ تنفس وغیرہ۔
اس کے بعد صاحب القدیم و الحدیث لکھتے ہیں:۔
موسیقی طِب کا ایک حصّہ ہے جس سے امراض دور کئے جاتے ہیں، قدیم زمانے میں شاعری، موسیقی، اور طب تینوں فنون کی واقفیت ایک شخص کے اندر ہونا کمال سمجھا جاتا تھا۔
بہت سے اقوال نقل کرنے کے بعد محمد کرد علی ص ۲۱۳ میں دوسرے اخلاقی اور روحانی فوائد کا یوں ذکر کرتے ہیں:۔
خوش آوازی روح میں صفائی اور دل میں کیف پیدا کردیتی ہے، بعض اوقات اس کے طفیل بزدل میدانِ جنگ میں شیر دل بن جاتا ہے، بخیل سخی ہوجاتا ہے، کثیف میں لطافت اور سخت دل میں نرم دلی پیدا
۲۸
ہوجاتی ہے، کمزور قوی اور ظالم عادل بن جاتا ہے، اور کمینہ شریف ہو جاتا ہے۔
ابنِ ساعد
ابنِ ساعد نے بڑے جامع الفاظ میں موسیقی کے فوائد کا یوں ذکر کیا ہے:
موسیقی کے مختلف فوائد ہیں، روح میں انبساط پیدا کرنا، اسے اعتدال پر لانا، اسے تقویّت پہنچانا اور اس میں انقباض پیدا کرنا، کیونکہ موسیقی جب روح میں حرکت پیدا کرکے روح کو اس کے اصل مبداء سے ہٹاتی ہے تو وہ سرور و لذّت پیدا کرتی ہے، اور سخاوت و شجاعت وغیرہ کے اوصاف بروئے کار لاتی ہے، اور اصل مبداء کی طرف لیجاتی ہے تو آخرت کی فکر اور اس کے لئے تیاری پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ موسیقی کا استعمال کبھی تو خوشی، جنگ اور مریض کے علاج کے لئے ہوتا ہے، اور کبھی مواقعِ غم پر اور کبھی عبادت گاہوں میں۔
ابنِ ساعدِ غزالی، شاہ ولی اللہ اور کرد علی وغیرہم نے موسیقی و مزامیر کو جو بعض جسمانی و روحانی امراض کا علاج بتایا ہے، وہ کوئی جدید تحقیق نہیں، سید نا داؤد نے بھی اس کا تجربہ فرمایا ہے، ملاحظہ ہو: سموئیل ب۱۶ آیت ۲۳:
۲۹
“سوجب وہ بری روح خدا کی طرف سے ساؤل پر چڑھتی تھی، تو داؤد بربط لے کر ہاتھ سے بجاتا تھا اور ساؤل کو راحت ہوتی، اور وہ بحال ہوجاتا تھا، اور وہ بری روح اس پر سے اتر جاتی تھی۔”
از کتابِ “اسلام اور موسیقی”
۳۰
مقدّس موسیقی سے علاج
۱۔چار ملکوتی قوّتیں:
اہلِ دانش کے لئے اس حقیقت میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ دنیائے ظاہر عالمِ کبیر کہلاتا ہے، اور اس کی نسبت سے انسان کا نام عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) ہے، اور یہی دو عالم قرآنِ پاک میں آفاق و انفس ہیں (۴۱: ۵۳) اس کے ساتھ ساتھ یقیناً آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ جو موجودات عالمِ کبیر میں ہیں، وہی موجودات ایک طرح سے عالمِ شخصی میں بھی ہیں، اور کوئی چیز ایسی نہیں جو آسمان میں یا زمین پر موجود ہو، مگر بحدِّ قوّت انسان کی ہستی میں نہ ہو، پس یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ہر آدمی کے باطن میں آسمان زمین، اور دین و دنیا کی ہر چیز بحدِّ قوّت موجود ہے، اور اسی آفاقی قانون کے مطابق اس میں چار ملکوتی قوّتیں بھی ہیں، یعنی قوّتِ جبرائیلیہ، قوّتِ میکائیلیہ، قوّتِ اسرافیلیہ اور قوّتِ عزرائیلیہ۔
۲۔ موت کا فرشتہ:
قرآنِ حکیم جو اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کا خزانہ ہے، فرماتا ہے:۔
۳۱
(ترجمہ): (اے رسولؐ) کہہ دو کہ ملک الموت جو تمہارے ساتھ مقرر ہے، وہی تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے (۳۲: ۱۱) یعنی وقت آنے پر قبضِ روح کی غرض سے عزرائیل کہیں باہر سے نہیں آتا، بلکہ ہر شخص کا ایک ذاتی عزرائیل یعنی قوّتِ عزرائیلیہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہے، اور اسی قوّت کی بدولت ہر وقت جزوی موت (نیند وغیرہ) کا کام بھی ہوتا رہتا ہے، پس قرآنِ پاک کے اس پر حکمت اشارے سے ہمیں یہ یقین آیا کہ انسان میں ایک ساتھ چاروں ملکوتی قوّتیں موجود ہیں، اور وہ ہیں: جبرائیلیہ، میکائیلیہ، اسرافیلیہ اور عزرائیلیہ۔
۳۔ کراماً کاتبین:
سورۂ انفطار (۸۲: ۱۰ تا ۱۱) میں ایسے معزز فرشتوں کا ذکر آیا ہے، جو انسانوں کے نگہبان بھی ہیں، اور ان کے نامہ ہائے اعمال میں اندراج بھی کرتے رہتے ہیں، فی الحال یہ بحث نہیں کہ یہ فرشتے کون ہیں؟ چہار مقرب ہیں؟ یا دوسرے؟ لیکن یہ تو معلوم ہوا کہ عالمِ شخصی فرشتوں سے خالی نہیں، اور یہاں یہ حکمت بھی یاد رہے کہ ایک ہی فرشتے کی صورت میں بے شمار فرشتے کام کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عظیم فرشتوں کا تعلق عالمِ وحدت سے بھی ہے۔
۴۔ عالمِ شخصی میں فرشتوں کا نزول:
یعنی حقیقی مومنین کی ہستی میں فرشتوں کی نمائندہ صلاحیتوں کا حدِّ قوّت
۳۲
سے حدِ فعل میں آنا، یہ نزولِ ملائکہ کا ایک خاص تاویلی راز ہے، اب ایک قرآنی ارشاد کا ترجمہ ملاحظہ ہو: جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا ربّ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں،اور ان سے کہتے ہیں کہ “نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہوجاؤ اُس جنّت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست ہیں، اور آخرت میں بھی (۴۱: ۳۰ تا ۳۱)” یہ خداوندِ تعالیٰ کے دوستوں کا ذکر ہے، نیز اس حقیقت کی ایک روشن مثال ہے کہ ہر آدمی میں دوسری لاتعداد صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ فرشتوں کی صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔
۵۔ فرشتوں کی دوستی:
فرشتے کہتے ہیں: نَحْنُ اَوْلِیٰؤُ کُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنُیَاوَفِی الْآخِرَۃِ =ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی (۴۱: ۳۱)۔ یہ اعلانِ رحمت دراصل اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہے، تاکہ اہلِ ایمان علم و عمل کے وسیلے سے آگے بڑھیں، اور فرشتوں کی دوستی سے فائدہ اٹھائیں، اس ربّانی تعلیم میں جتنے حکیمانہ اشارے ہیں، ان میں ایک خاص اشارہ یہ بھی ہے کہ ہم مقدّس موسیقی کے ذریعے سے اپنے اندر قوّتِ اسرافیلیہ کو اجاگر کریں، تاکہ ہم حضرتِ اسرافیل علیہ السّلام کی دوستی سے بہرہ ور ہوسکیں، اور یہاں یہ نکتہ بھی خوب یاد رہے
۳۳
کہ اسرافیلی قوّت کے ساتھ ساتھ عزرائیلی قوّت بھی ہر وقت مفید کام کررہی ہے ان شاء اللہ ہم یہاں اس کا ذکر کریں گے۔
۶۔ موسیقی سے علاج کا طریقہ:
یہ طریقہ کوئی نیا ہرگز نہیں، بہت قدیم ہے، کیونکہ گریہ و زاری اور مناجات حضرتِ آدمؑ سے شروع ہوئی، اور تمام انبیاءؑ کی یہی سنت رہی (۱۹: ۵۸) اور اس عاشقانہ و عارفانہ اور پیغمبرانہ عبادت میں حضرت داؤدؑ نے خدا کے حکم سے مقدّس موسیقی کا اضافہ کیا، اور اس طریقِ کار کو جس طرح زبور جیسی آسمانی کتاب میں مقام عطا ہوا، وہ بڑا اعلیٰ مقام ہے، اب مجھے کسی جھجک کے بغیر یہ کہنا ہے کہ اگر آپ پر دف و رباب کی موسیقی اور عارفانہ کلام کی نغمہ سرائی سے کوئی معجزانہ مستی طاری ہوجاتی ہے تو مبارک ہو! کہ یہ اسرافیل کا فیض ہے، اور یہی ہر گونہ بیماریوں کا روحانی علاج بھی ہے اور سدِ باب بھی۔
۷۔ تسخیرِ کائنات:
قرآن فرماتا ہےکہ خدا واندِ عالم نے انسان کے لئے آسمانوں، اور زمین کی تمام چیزوں (قوّتوں) کو مسخر کردیا ہے (۳۱: ۲۰، ۴۵ :۱۳) اس سے مراد یہ ہے کہ عالمِ اکبر کی ساری زندہ قوّتیں عالمِ اصغر میں گھیری ہوئی ہیں،
۳۴
جن میں فرشتوں کی قوّتیں بھی ہیں، یہی تذکرہ ملائکہ نے دوستی کے عنوان سے کیا ہے، پس ہمیں ایک طرف قوّتِ جبریلیہ و میکائیلیہ سے اور دوسری طرف قوّتِ اسرافیلیہ و عزرائیلیہ سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے، چونکہ مقدّس موسیقی کا موضوع ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اسرافیل اور عزرائیل سے متعلق کچھ حکمتیں بیان کریں۔
۸۔ صورِ اسرافیل کی قیامت خیز طاقت:
یہ دراصل خدائی طاقت ہے جو سراسر کائنات کو ہلا دیتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے یہ طاقت پیدا کرتا ہے، اس میں جملہ اشیائے کائنات کی حمدیہ تسبیح خوانی بھی ہے، ہر چیز کی نماز بھی (۱۷: ۴۴، ۲۴: ۴۱) آسمان زمین کی ہر مخلوق کا سجدہ بھی ہے (۱۳: ۱۵، ۱۶: ۴۹) نغمۂ لاہوتی بھی، دعوتِ حق بھی ہے، سب سے بڑا معجزہ بھی، تخلیقِ آدم اور سجودِ ملائکہ کا تجدّد بھی ہے، طوفانِ نوحؑ کی مثال بھی۔
۹۔ صور کی آواز اور اسماءُ الحسنیٰ:
آوازِ صور کے بے شمار معجزات میں سے ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ اس سے خزائنِ اسرار کے ابواب مفتوح ہوجاتے ہیں، اور اسماء الحسنیٰ کا بالفعل ظہور ہوتا ہے، جس کی بدولت ناقور کی گونج میں طرح طرح کی بے حساب
۳۵
برکتوں کا اضافہ ہوجاتا ہے، اسکا مطلب یہ ہوا کہ صور پھونکنے کے عمل میں صرف ایک آواز یا صرف ایک آسمانی بانسری یا محض بہشتی شہنائی نہیں، بلکہ اس میں آسمان زمین، اور عرش و کرسی کی تمام برکتیں بھی ہیں، جن کا اوپر ذکر ہوا، یہاں یہ نکتہ خوب یاد رہے کہ خدا ہر کائنات کو لپیٹتا بھی ہے، اور پھیلاتا بھی ہے، چنانچہ نغمۂ ناقور میں صوت و صدا کی کائنات لپیٹی ہوئی ہے، پس اس میں ہر فرشتہ، ہر مقدّس روح، ہر نبی، ہر ولی، ہر عارف، ہر عاشق ہر سالک، ہر درویش، ہر شب خیز مومن و مومنہ، ہر مسلمان، ہر مخلوق اور ہر شے کی عبادات و تسبیحات مرکوز و یکجا موجود ہیں، اور دف و رباب کی مقدّس موسیقی اسی عظیم الشّان آسمانی موسیقی کی نمائندگی کررہی ہے، اور یہ اسی کا سایہ (عکس = پرتو) ہے۔
۱۰۔ رباب کی موسیقی میں شفاء:
میرا کامل یقین اور عملی تجربہ یہ ہے کہ رباب کی ایسی موسیقی میں بہت سے امراض کا علاج ہے، جو خدا، رسولؐ، اور امامؑ کی محبت پر مبنی نظموں کے ساتھ سنائی جاتی ہے، ایسی موسیقی اور ایسی محبت ہر قسم کی بیماری کے لئے نسخۂ لاہوتی ہے، خاص کر نفسیاتی، اخلاقی، اور روحانی مریضوں کا علاج اسی رحمانی طب سے ہونا ضروری ہے، کیونکہ ہم خالی موسیقی کی بات تو نہیں کررہے ہیں، اور نہ ہی کوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ آوازِ ناقور صرف
۳۶
موسیقی ہی ہے، جبکہ اس میں عالمِ ذرّ کی ہر گونہ یادو عبادت موجود ہے، اور اسماءُ الحسنیٰ پڑھے جاتے ہیں، اور اللہ کے خوبصورت اسماء (۰۷: ۱۸۰) جن کے ذریعہ پکارنے سے وہ قبول فرماتا ہے، آنحضرتؐ اور أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام ہی ہیں، پس مقدّس موسیقی سے علاج کرنے میں جوشفائی معجزہ ہے وہ دراصل اسمِ اعظم کی برکت سے ہے، اور وہ امامِ زمان صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہٗ کی ذاتِ عالی صفات ہے، کیونکہ امامِ مبینؑ میں تمام اسمائے بزرگ جمع ہیں۔
۱۱۔ رباب کے ساتھ چند اذکار:
اذکار میں ایک قدیم نامی شمسی ذکر ہے، جو دعوتِ بقاء میں دف و رباب کے ساتھ کیا جاتا ہے، یہی ذکرِ جلی بھی ہے، اور ذکرِ اجتماعی بھی دعوتِ بقاء کا سب سے زور دار ذکر “بیتِ میدان” ہے، جو سب کے سب کھڑے ہوکر کرتے ہیں، جس میں گریہ و زاری مقصود ہوتی ہے، اسی دعوتِ بقاء کے دستور کے مطابق روحانی محفل بھی ہے، جو خرچ اور وقت کے اعتبار سے آسان بھی ہے، اور جمعیّت کے لحاظ سے خاص بھی، لہٰذا امامِ زمان علیہ السّلام کے چند عاشق مل کر خداوندِ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔
جب کسی ایسی محفل میں رباب کے ساتھ ترنم سے منا جات کیجاتی ہے،
۳۷
تو خدا کی رحمت سے بعض دفعہ مجلس میں ایک خوشگوار قیامتِ صغریٰ برپا ہو جاتی ہے، یعنی کچھ افراد کی گریہ وزاری ہوتی ہے، کچھ وجد میں آتے ہیں، کچھ پر کپکپی کی حالت گزرتی ہے، بعض مست ہوجاتے ہیں، بعض بے اختیار ہوکر غیر معمولی باتیں کرنے لگتے ہیں، بعض عالمِ خیال میں روشنی کو دیکھتے ہیں، وغیرہ، اب آپ بتائیں کہ دف و رباب کی اس حیران کن اثر انگیزی سے امراض کا علاج ہوگا یا نہیں؟ میرا خیال ہے کہ یہ آسمانی طبیب کے نورِ عشق کا معجزہ ہے، اگر ہم اس سے اپنی بیماریوں کا علاج نہ کریں تو بہت بڑی ناشکری ہوگی۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعہ ۱۵۔ شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ
۲۸۔ جنوری ۱۹۹۴ء
۳۸
صورِ اسرافیلؑ
۱۔ الصُّور کا بابرکت اور پُرحکمت لفظ قرآنِ حکیم کی ۱۰دس مختلف سورتوں میں آیا ہے، وہ یہ ہیں: انعام (۰۶: ۷۳) کہف (۱۸: ۹۹) طٰہٰ (۲۰: ۱۰۲) مومنون (۲۳: ۱۰۱) نمل (۲۷: ۸۷) یٰسٓ (۳۶: ۵۱) زمر (۳۹: ۶۸) قٓ (۵۰: ۲۰) حاقہ (۶۹: ۱۳) نباء (۷۸: ۱۸) اور دوسرا لفظ الناقور مدثر (۷۴: ۰۸) میں ہے۔
۲۔ جب امرِ واقعی اس طرح سے ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ روحانیّت اور انفرادی قیامت جیسی انتہائی عظیم تبدیلی صورِ اسرافیلؑ کی طاقت سے آسکتی ہے، تو پھر ہمیں اس سرِ عظیم سے متعلق حقائق و معارف کے لئے سوچنا از بس ضروری ہے، چنانچہ سب سے پہلے یہاں لفظِ “صور” کی لغوی تحلیل کی جاتی ہے، جسکا مادّہ ہے: ص و ر، اسی سے ہے: عربی آواز دینا، جھکانا، کاٹنا، جدا کرنا، الصُّور، نرسنگھا، بگل، الصورۃ: شکل، حلیہ، تصویر، خیالی تصویر، مصور الکائنات،: اللہ تعالیٰ، پس اس لفظ میں سوچنے کے لئے یہی چند مثالیں کافی ہیں۔
۳۔ اہلِ معرفت کے نزدیک صورِ اسرافیلؑ کا تصوّرنر سنگھا یا بگل سے دینا سوائے ایک حجاب کے کچھ بھی نہیں ہے، جبکہ وہ فرشتۂ جدّ (۷۲: ۰۳)
۳۹
کے توسط سے عشقِ الہٰی کا نغمۂ جان ستان و جان بخش ہے، یعنی وہ ایک ایسی زندہ اور بے مثال و بے نظیر پر نور ملکوتی بانسری یا شہنائی ہے، جو دوستانِ خدا کے لئے فنافی اللہ و بقا باللہ کا کام کرتی ہے، کیونکہ آپ نے اوپر کی مثالوں میں دیکھا کہ “صور” کے معنوں میں آواز دینا (دعوتِ حق) بھی ہے، جھکانا (عاجز بنانا) بھی ہے، کاٹنا (ذبح کرنا) بھی ہے، لیکن یہ ذبح لوہے کی چھری سے نہیں، بلکہ خنجرِ عشق سے مناسب ہے، جس طرح حضرتِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام کے فرزندِ دلبند حضرتِ اسماعیل علیہ السّلام خدا کی راہ میں اسی خنجرِ عشقِ خداوندی سے ذبح کئے گئے تھے، ورنہ ذبیح اللہ کے کچھ معنی نہ ہوتے۔
۴۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ صورِ اسرافیل کی انتہائی پرکشش آواز دینِ حق کی آخری دعوت بھی ہے، جیسا کہ قرآنی ارشاد کا تاویلی مفہوم ہے: “اس روز تمام لوگ ایسے روحانی داعی کی پیروی کریں گے جو دنیا کی ہر زبان میں بولتا ہے (… لَا عِوَجَ لَہٗ ۲۰: ۱۰۸)۔ کیونکہ رجوع الی اللہ خوشی سے بھی ہے اور لاچاری سے بھی (…. طَوْعًا وَّ کَرْ ھاً ….، ۰۳: ۸۳) پس ہمیں اس رازِ سربستہ سے بہت سے کلیدی حکمتوں کو جاننا چاہئے۔
۵۔ درخت قرآنی مثالوں میں سے ایک نمایان اور قابلِ فہم مثال ہے، جس کے تنا کے ساتھ اجزاء دوطرح سے مربوط ہیں، یعنی شاخوں کا ربط و تعلق ظاہر ہے اور جڑوں کا لگاؤ پوشیدہ، اسی طرح قرآنِ حکیم کا ہر موضوع
۴۰
گویا ایک انتہائی عظیم ثمردار درخت ہے، اور تمام الفاظ و معانی اسکی شاخیں اور جڑیں ہیں، چنانچہ جب کوئی عاشقِ صادق قرآنِ پاک کو عشقِ الہٰی کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے، اور اسی موضوع کو لیتا ہے تو کسی شک کے بغیر قرآنی علم و حکمت کی بہشت کے ہر مقام پر علمی دیدار ہوتا ہے ( فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ۰۲: ۱۱۵) چشم بکشا کہ جلوۂ دلدار + متجلّیست از درو و دیوار او بہ پیشِ تو ایستادہ چو سرو + سرفروبردۂ تو نرگس وار۔
۶۔ علمی دیدار کا مسئلہ سامنے آیا ہے، ہر چند کہ بارہا اس بے مثال نعمت کا تذکرہ ہوچکا ہے، تاہم یہاں بھی اس کا کچھ بیان ضروری ہے، وہ یہ کہ اگر نورِ امامت کی روشنی میں قرآنِ پاک کے باطن کو دیکھا جائے تو اس میں نورِ ازل کی علمی و عرفانی تجلّیات و ظہورات ہیں، اور ہر تجلّی کا مشاہدہ دیدار ہے۔
۷۔ دوستانِ عزیز! قرآنِ پاک کو نورِ منزل (۰۵: ۱۵) کی روشنی میں پڑھو، مثال کے طور پر سورۂ علق کے شروع کی پانچ آیاتِ کریمہ کو دیکھو، جو کچھ ترجمہ و تفسیر ہے، وہ بوجہِ ظاہر درست ہے، لیکن ہم اس کے باطن کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں، وہ اس طرح سے ہے:
پڑھو (اے محمد) اپنے ربّ کے زندہ و گویندہ اسمِ اعظم کے ساتھ جس نے (انسانِ کامل کو )جسمانی، روحانی، اور عقلانی طور پر پیدا کیا، اس نے انسانِ کامل کو روحانی محبت اور عشق کے تعلق (علق) سے پیدا کیا، پڑھو
۴۱
اور تیرا ربّ بے انتہا کریم (الاکرم) ہے، جس نے قلمِ ازل (نورِ عقل =کتابِ مکنون) کے ذریعہ سے علم سکھایا، اس نے کاملین کو ان تمام اسرار سے آگاہ کیا، جن کو وہ نہیں جانتے تھے (۹۶: ۰۱ تا ۰۵)۔
۸۔ قلمِ اعلیٰ (قلمِ الہٰی) عالمِ شخصی کے حظیرۃ القدس میں ہے، جہاں تمام اسرارِ حقائق و معارف بحکمِ آیۂ احصینٰہ (۳۶: ۱۲) مجموع و محدود ہیں، جب بندۂ مومن نورِ منزل کی روشنی میں اپنے آپ کو اور اپنے ربّ کو پہچان لیتا ہے، تو اسی کے ساتھ ساتھ نہ صرف قلم اور دوسری عظیم چیزوں کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے، بلکہ پروردگار جو الاکرم (بے انتہا کریم) ہے، وہ اپنے بندے کو قلمِ اعلیٰ یعنی نورِ عقل کے ذریعہ سے علم بھی سکھاتا ہے، پھر ایسے میں بندۂ مومن کو خدا سے عشق کیوں نہ ہو۔
۹۔ یہ قرآنی تعلیم بھی ہے اور کلیہ بھی کہ: “کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو (۱۷: ۴۴)۔” اہلِ ایمان کو اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ہمارے لئے کسی ایسی چیز کی تسبیح ممدّو معاون ثابت ہو سکتی ہے، جس کو ہم محسوس کرسکیں، جیسے طیور چمن کے نغموں کی تسبیح، یا صورِ اسرافیل جیسے دف و رباب کی تسبیح، یا منظرِ گلشن کی خاموش تسبیح، وغیرہ، کیونکہ انسان میں حقیقی عشق کی صلاحیت تو موجود ہے، لیکن وہ اس کو آسانی سے اجاگر نہیں کرسکتا، اس لئے اس کو کوئی سہارا چاہئے۔
۱۰۔ ربّ الاکرم کے حکمِ عالی سے حضرتِ داؤد علیہ السّلام کے ظاہر و
۴۲
باطن میں مسلسل صورِ اسرافیل بج رہا تھا، جس میں نغمۂ عشقِ الہٰی کا معجزہ ہونے کی وجہ سے کسی استثناء کے بغیر تمام چیزیں ہم آہنگ ہو کر تسبیح کرتی تھیں، جس میں پہاڑوں کی گونج اور پرندوں کی نغمہ سرائی نمایان تھی، جیسا کہ ارشادِ خداوندی کا ترجمہ ہے: اور ہم نے داؤدؑ کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا، جو تسبیح کرتے تھے (۲۱: ۷۹) ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا (۳۴: ۱۰) یہیں سے پتہ چلا کہ پہاڑ میں بھی روح کی کارفرمائی ہے۔
۱۱۔ اگرچہ اساسی اور باطنی طور پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائی جاتی (۴۸: ۲۳) اور انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کے روحانی اور عقلانی معجزات ایک جیسے ہوا کرتے ہیں، تاہم ظاہراً خداوندی پروگرام ایسا ہے کہ بتقاضائے زمان و مکان ہر پیغمبر اور ہر ولی (امام) کو ایک الگ کام دیا جاتا ہے، چنانچہ حضرتِ داؤدؑ کے حصے میں یہ کام آیا کہ آپؑ فرشتۂ جدّ کی نمائندگی کریں، اور ناسوت و ملکوت کے درمیان مقدّس موسیقی کا ایک مضبوط پل تعمیر کریں، تاکہ دینِ حق کی بے شمار نعمتوں میں خدا و رسولؐ اور امامؑ کے عشق کی عظیم نعمت بھی موجود ہو، اسی مقصدِ اعلیٰ کے پیشِ نظر حضرت داؤد علیہ السّلام نے زبور کے حمدیہ، دعائیہ وغیرہ گیتوں میں مختلف سازوں کی موسیقی کو شامل کرلیا۔
۴۳
۱۲۔ جب خداوندِ پاک کے امر سے مومنِ سالک کی ذاتی قیامت کا وقت آتا ہے، تو صورِ اسرافیل کے عجائب و غرائب کا آغاز اس آواز سے ہوجاتا ہے، جس کو “کان بجنا” کہتے ہیں، اور قرآنی حکمت میں اسکی مثال عربی (مچھر=اس کی آواز، ۰۲: ۲۶) ہے، جس کے بارے میں مولا علیؑ نے فرمایا کہ: میں وہ بعوضہ ہوں جس کی مثال اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمائی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ کان بجنے کی آواز صورِ اسرافیل کی بنیاد بھی ہے اور نورِ امامت کی ایک چنگاری بھی، پس یہی آواز رفتہ رفتہ بلند ہوکر ساری کائنات پر محیط ہوجاتی ہے، تاکہ تمام لوگ جس طرح قرآن میں ہے، فیصلۂ قیامت کے لئے جمع اور حاضر ہوجائیں۔
۱۳۔ سوال:
نغمۂ اسرافیل یعنی آوازِ صور کی سماعت ظاہری کان سے ہوتی ہے یا باطنی کان سے؟ جواب: دونوں سے، کیونکہ انفرادی قیامت کے شروع ہی میں یا جوج و ماجوج بشکلِ ذرّات پیدا ہوکر اس نفسانی دیوار یا حجاب کو چاٹ چاٹ کر کھا جاتے ہیں (۱۸: ۹۴، ۲۱: ۹۶) جو حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن کے درمیان ہے، پھر ہمیشہ یا کچھ وقت کے لئے ظاہری اور باطنی حواس ایک ہوجاتےہیں، نیز یہ بھی حقیقت ہے کہ صورِ قیامت کے دو پہلو ہیں، ایک لطیف جسمانی اور دوسرا روحانی۔
۴۴
۱۴۔ سوال:
آپ نے کہا کہ: انبیاء و اولیاءعلیہم السّلام کے روحانی اور عقلانی معجزات ایک جیسے ہوا کرتے ہیں، تو پھر آپ ہی بتائیں کہ حضرت آدمؑ کی ذات میں دورِ قیامت کا کون سا معجزہ تھا؟ جواب: حضرتِ آدم علیہ السّلام میں جو الہٰی روح پھونک دی گئی تھی (۱۵: ۲۹، ۳۸: ۷۲) اس کا عمل صورِ اسرافیل کے ذریعہ سے ہوا تھا، کیونکہ قرآنِ مجید میں ن ف خ کے جتنے صیغے ہیں، ان کی مثالیں اگرچہ ظاہر میں الگ الگ ہیں، لیکن تاویل ایک ہی ہے، اور وہ ہے صور پھونکنا۔
۱۵۔ سوال:
قرآنِ پاک میں ہےکہ: کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں… (۱۵: ۲۱) کیا ہم خدا کے خزانوں کو بہشت کہہ سکتے ہیں؟ اور یہ مان سکتے ہیں کہ موسیقی اور اس کے آلہ جات جنّت سے نازل ہوئے ہیں؟ جواب: بے شک خزائنِ الہٰی بہشت ہیں، اور دنیا کی تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی صورت جنّت میں چھوڑ کر مادّی طور پر دنیا میں آئی ہیں، یہ تو ہر چیز کی روحانی شکل اور جسمانی شکل کی بات ہے، بہر حال موسیقی کی اصل روح بہشت میں ہے، اور اس کا سایہ دنیا میں آیا ہے،
۴۵
پس بہشت کی نعمتوں کے سائے بھی نعمتیں ہیں مگر کمترین۔
۱۶۔ سوال:
جہاں حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام خدا کے اذن سے مردوں کو زندہ کرسکتے تھے (۰۳: ۴۹) وہاں یہ کام خالقِ اکبر کے لئے بڑا آسان ہے کہ وہ قادرِ مطلق قیامت کے دن سارے مردوں کو امرِ کن یا صرف ارادہ ہی سے زندہ کرے، لیکن اس میں کیا رازِ حکمت پوشیدہ ہے کہ اہلِ قبور میں روح پھونک دینے کا کام اسرافیلؑ کے ذمہ کردیا گیا؟ جواب: اس میں بہت بڑا راز اور عظیم حکمت آگین اشارہ یہ ہے کہ دین میں سب سے بڑی اور آخری طاقت خدا، رسولؐ، اور امامِ زمانؑ کا پاک عشق ہے، اور اس مبارک عشق کو حرکت میں لانے کا خاص ذریعہ مقدّس موسیقی ہے، تاکہ اس بے مثال قوّت سے قلبی مردگی دور ہوجائے، اور حقیقی زندگی ملنے لگے، پس صورِ اسرافیل کا پُرحکمت اشارہ یہی ہے، بشرطیکہ کوئی دانشمند اس میں غور و فکر کرے اور بھید کو سمجھ کر فائدہ اٹھائے۔
۱۷۔ سوال:
آیا اس بات کی کوئی قرآنی دلیل مل سکتی ہے کہ بہشت میں موسیقی اور نغمات ہیں؟ جواب: جی ہاں، اسکی کئی روشن دلیلیں ہیں، پہلی
۴۶
دلیل: صورِ اسرافیل ہے، کیونکہ وہ خدا کے حضور سے ہے، اور بہشت کی نعمتوں میں سے ہے، دوسری دلیل: جو لوگ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء اور صدیقین، اور شہداء اور صالحین، کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں (۰۴: ۶۹) اس سلسلے میں اہلِ ایمان بہشت میں حضرتِ داؤد علیہ السّلام کو بھی دیکھ کر از حد شادمان ہوں گے، کیونکہ ان کے نامۂ اعمال میں نغمہ ہائے زبور اور تمام متعلقہ موسیقی ہوگی۔
۱۸۔ سوال:
سورۂ زخرف میں ہے: اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ = تم اور تمہارے جوڑے جنّت میں جاؤ، جہاں تمہیں نغمے سنائے جائیں گے (۴۳: ۷۰) آیا اس آیۂ کریمہ کا یہ ترجمہ درست ہے، جو مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی کی کتاب “اسلام اور موسیقی” کے ص ۱۹ پر درج ہے؟ جواب: جی ہاں، یہ ترجمہ بالکل درست ہے۔
مذکورہ کتاب کے صفحہ ۲۰ پر بھی دیکھیں: فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِيْ رَوْضَةٍ يُّحْبَرُوْنَ =جو لوگ ایمان لائے اور اس کے مطابق عمل کئے وہ چمن میں نغمے سن رہے ہوں گے ( ۳۰: ۱۵)۔
۴۷
۱۹۔ سوال:
آپ یہ بتائیں کہ آیا اس حدیثِ شریف میں موسیقی کا کوئی اشارہ موجود ہے؟ اِنَّ اللّٰہَ اَسّٓسٓ دِیْنہٗ عَلیٰ اَمْثاَلِ خَلْقِہٖ لیُسْتَدلَّ بخلقِہٖ عَلیٰ دینہٖ وبدینہٖ علیٰ وحدانیّتِہٖ= یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنیاد اپنی آفرینش کی مثالوں پر رکھی تاکہ اس کی آفرینش سے اس کے دین کی دلیل لیجائے اور اس کے دین سے اس کی وحدانیت کا استدلال کیا جائے (وجہ دین، فارسی، ص ۶۶) جواب: جی ہاں، اس حدیث میں یہ واضح اشارہ ہے کہ جیسی جیسی ادنیٰ چیزیں دنیا میں ہیں، ویسی ویسی اعلیٰ چیزیں دین میں ہیں، پس دنیا میں جب کم درجے کی موسیقی ہے تو دین میں اعلیٰ درجے کی مقدّس موسیقی کیوں نہ ہو۔
۲۰۔ سوال:
کتابِ “کوکبِ دری” بابِ سوم منقبت نمبر ۵۶ میں حضرت مولا علیؑ کا ارشاد ہے: اناالنّاقور الَّذی قال اللّٰہ تعالیٰ: فَاِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُوْرِ (۷۴: ۰۸) یعنی میں ہوں وہ ناقور (صورِ اسرافیل) جس کا ذکر حق تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے، جبکہ صور میں پھونکا جائے گا۔ یہاں پوچھنا یہ ہے کہ امامِ عالیمقام علیہ السّلام کی ذاتِ بابرکات کس معنیٰ میں ناقور ہوسکتی
۴۸
ہے؟ اور کیوں ایسا ہونا ضروری ہے؟ جواب: آپ جس پاک ہستی کو نور مانتے ہیں، وہ حواسِ ظاہر و باطن کا نور ہے، یعنی نورِ امامت جو نورِ ہدایت ہے، وہ انسان کی ہر حس اور ہر مدرکہ کے مطابق ہے، دوسرے الفاظ میں یہ کہوں گا کہ ایک ہی نور کے کئی ظہورات ہیں، تاکہ آنکھ، کان، ناک وغیرہ کے لئے ہدایت بھی ہو، اور نعمت بھی، پس ظہورِ نور ناقور میں بھی ہے۔
۲۱۔ سوال:
سورۂ فصلت (حٰمٓ السجدۃ) میں ان الفاظِ مبارک کو غور سے دیکھ لیں: قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْٓ اَنْــطَقَ كُلَّ شَيْءٍ =وہ (کھالیں) جواب دیں گی “ہمیں اسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کردیا ہے (۴۱: ۲۱) یعنی ہر چیز خواہ وہ بے جان کیوں نہ ہو، خدا کے حکم سے بولتی ہے، یہ بہت بڑا معجزہ کب اور کہاں یش آتا ہے؟ جواب: جب اسرافیلؑ خدا کے دوستوں کے کان میں صور پھونکتا ہے، اور عزرائیلؑ بار بار ان کی روح کو قبض کرلیتا ہے، تو اس وقت ہر چیز کی گفتگو کے معجزات شروع ہو جاتے ہیں۔
۲۲۔ سوال:
اس آیۂ کریمہ کا ترجمہ اور تاویلی مفہوم بتائیں: اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ۔
۴۹
اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ (۳۷: ۴۰ تا ۴۱) جواب: مگر خدا کے برگزیدہ بندے ان کے واسطے (بہشت میں) مقرر روزی ہوگی، تاویل: مگر اللہ کے دین شناس اور مؤحد بندے وہ ہیں جن کو ایسا روحانی رزق ملے گا کہ وہ اسے دنیا میں بھی جانتے تھے۔ یعنی دین کی ہر گونہ نعمت، علم، حکمت، دیدارِ پاک، عشقِ مولا، روحانیّت، نور، سرور، اسرار، فتح، کامیابی، نغمہ ہائے روحانی، سروحدت وغیرہ، جیسا کہ سورۂ محمد (۴۷: ۰۶) میں یہ مفہوم ہے کہ دنیا ہی میں بہشت کی معرفت ہونی چاہئے۔
۲۳۔ سوال:
“رباب نے کیا کہا؟” کے عنوان کے تحت آپ نے تحریر کیا ہے کہ رباب نے کہا: “برائے دین، برائے دین” یعنی دین کے لئے، دین کے لئے، اس کا ایک مطلب تو آپ نے بتا دیا ہے، پھر بھی ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ آیا، اس میں مزید کوئی تاویلی حکمت ہوسکتی ہے؟ جواب: جی ہاں، اس کی دوسری تاویل یہ ہے کہ رباب دراصل ایک مقدّس ساز ہے، جس کا تعلق صورِ اسرافیل سے ہے، اس لئے اس کو صرف دین ہی کے لئے مخصوص کیا جائے، اور کوئی شخص اس کو دنیوی موسیقی کے لئے استعمال نہ کرے۔
۲۴۔ سوال:
بحوالۂ مضمون: “ایک عجیب نورانی خواب۔” آپ کا کہنا ہے کہ آپ کو نورانی خواب میں مولانا
۵۰
شاہ کریم الحسینی حاضر امام صلوٰۃ اللہ علیہ نے مئی ۱۹۸۲ء میں رباب کو ترقی دینے کے لئے حکم دیا تھا، اس پر آپ نے کس حد تک عمل کیا؟ جواب: میں بہت ہی عاجز اور قاصر ہوں، حکیم پیر ناصر خسرو قدس اللہ سرہٗ کا حلقۂ دعوت بڑا وسیع ہے، جس میں دف و رباب کی مقدّس روایت چلی آئی ہے، سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے، تاہم خداوندِ قدوس کی توفیق و یاری سے اپنی سی حقیر کوشش کی، اور کچھ نظمیں لکھیں، اور اب سعی کررہا ہوں کہ اس کی اہمیّت و افادیّت قرآن اور روحانیّت کی روشنی میں ظاہر کردی جائے، ان شاء اللہ تعالیٰ جو روایت جماعت کے لئے مفید ہو، وہ اپنی جگہ جاری و ساری ہی رہے گی۔
۲۵۔ سوال:
اس کی وجہ کیا ہے کہ ہر آدمی فطری طور پر ساز و سوز اور موسیقی کا دلدادہ ہوتا ہے؟ مگر یہ بات اس سوال سے الگ ہے کہ کوئی مذہب اس چیز کو نہیں چاہتا ہو؟ جواب: یہ سوال بڑا دلچسپ اور اساسی نوعیّت کا ہے، ربّ الاکرم کی بے مثال مصلحت و حکمت اسی امر میں پوشیدہ تھی کہ حضرتِ آدم علیہ السّلام کی طینت و سرشت میں موسیقی کا عنصر بھی داخل کردیا جائے، چنانچہ خالقِ اکبر نے ابوالبشر کو صلصال (کھنکھناتی ہوئی مٹی) سے پیدا کیا، قرآن (۱۵: ۲۶، ۱۵: ۲۸، ۱۵: ۳۳، ۵۵: ۱۴) میں صلصال کو دیکھئے، اور مستند عربی لغات میں بھی دیکھئے،
۵۱
اس لفظ کے معنی ہیں: سوکھی ہوئی بجنے والی مٹی، یور یا لگام کا آواز دینا، بادل کا گرجنا، گھنٹی کا گونجنا، تخلیقِ آدمؑ کا ظاہری قصّہ سب کو معلوم ہے، لہٰذا اس مقام پر ان کی روحانی تخلیق کی بات کی جاتی ہے، وہ یہ کہ صلصال سے صورِ اسرافیل کی گونج مراد ہے، جس سے حضرتِ آدمؑ کی روحانی آفرینش شروع ہوئی، چونکہ آدمؑ کی سرشت میں مقدّس موسیقی داخل ہوئی تھی، اسی وجہ سے خاندانی طور پر اولادِ آدمؑ کو موسیقی اور خوش الحانی مرغوب و دلپسند رہتی ہے۔
۲۶۔ سوال:
دنیا کی ہر گونہ موسیقی کا اصل سرچشمہ کہاں ہے؟ جواب: سورۂ حجر (۱۵: ۲۱) میں خوب غور سے دیکھ لیں، تاکہ اس حقیقت پر یقین ہو کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو خزائنِ الہٰی سے نازل ہوئی ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ لوگ اس نعمت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔
۲۷۔ سوال:
چونکہ آپ کا یہ مضمون موسیقی، خوش الحانی اور سماعی جمالیات سے متعلق ہے، اس مناسبت سے ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ گانے والے
۵۲
پرندوں میں سے کس کس کو زیادہ پسند کرتے ہیں؟ اور آپ نے کس پرند کی بولی میں کوئی معجزہ سنا؟ جواب: میں گانے اور چہچہانے والے تمام پرندوں کو پسند کرتا ہوں، سب سے پہلے مݳݵون (اوریول = ORIOLE) سنہری کوّا ہے، جس کی نغمہ سرائی ہمارے علاقے میں بیمثال ہے، پھر ٹیرو ہے، یعنی چنڈول (SKY LARK) پھر ڎیو=متُم ڞِن (کالی چڑیا) وغیرہ ہیں، تاہم خروسِ سحر نے اذان دیتے ہوئے جو کچھ کہا، وہ زبردست روحانی معجزہ تھا، یہ قرانگغو توغراق (یار قند) کی بات ہے۔
۲۸۔ سوال:
اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ زبور آسمانی اور الہامی کتاب ہے، لیکن اس کے شروع سے لیکر آخر تک حضرتِ داؤد علیہ السّلام ہی کا اپنا منظوم کلام ہے، اس میں کیا راز ہے؟ جواب: قرآنِ پاک (۰۴: ۱۶۳، ۱۷: ۵۵) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ داؤدؑ کو زبور عطا کردی۔ چونکہ حضرتِ داؤد خلیفۃ اللہ علیہ السّلام عاشقانہ گریہ و زاری سے بار بار فنا فی اللہ کا مرتبہ حاصل کرتے تھے، اور اس حال میں (جیسا کہ حدیثِ نوافل میں ہے) ربّ الاکرم ان کی زبان ہوکر کلام کرتا تھا، اور خدا کے لئے اس امر میں کوئی مشکل نہیں، پس زبور ظاہراً حضرتِ داؤدؑ کے حمدیہ، دعائیہ، وغیرہ
۵۳
گیتوں کا مجموعہ ہے، اور باطناً خدا کا کلام ہے، اور اس حقیقت کی قرآنی دلیل یہ ہے:
وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى (۰۸: ۱۷) اور (اے رسولؐ) تم نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی (۰۸: ۱۷) اس سے یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ پیغمبر اور امام کا قول و فعل خدا کا قول و فعل ہوجاتا ہے، پس زبور کسی شک کے بغیر آسمانی کتاب ہے۔
۲۹۔ سوال:
آپ کہتے ہیں کہ خداوندِ تعالیٰ نے انسان کو ایک کائنات کے طور پر پیدا کیا ہے، اس لئے اس میں سب کچھ ہے، اگر یہ بات حقیقت ہے تو اس میں قلم، لوح، اسرافیل، میکائیل اور جبرائیل کہاں ہیں؟ جواب: جی ہاں، یہ بات حقیقت ہے، لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ حدِّ قوّت سے حدِّ فعل تک جتنی روحانی منزلیں ہیں، آپ ان کو طے کرکے اپنے آپ کو کماحقہٗ پہچان لیں، تاکہ آپ کو مکمل یقین حاصل ہوکہ آپ کے عالمِ شخصی میں عقل قلم ہے، روح لوحِ محفوظ، قوّتِ عشقِ اسرافیل، قوّتِ فہم میکائیل، اور قوّتِ خیال جبرائیل ہے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا (۱۶: ۸۱) اور اللہ نے بنا دیئے تمہارے واسطے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے سائے (۱۶: ۸۱) یعنی تمہارے عالمِ شخصی میں
۵۴
ہر چیز کا زندہ سایہ (مظہر) ہے، خصوصاً پانچ حدودِ روحانی اور پانچ حدودِ جسمانی کے سائے (مظاہر)، وہ یہ ہیں: قلم، لوح، جدّ، فتح، خیال، ناطق، اساس، امام، حجّت، داعی۔
۳۰۔ سوال:
آپ کبھی کبھار اپنی گفتگو یا تحریر میں “آسمانی عشق” کے لفظ کو استعمال کرتے ہیں، اس سے کون سا عشق مراد ہے؟ اور ایسے عشق کا کیا فائدہ ہے؟ جواب: آسمانی عشق اُس انتہائی پاک و پاکیزہ اور شدید محبّت کا نام ہے، جو اہلِ ایمان کے دل میں خدا، رسولؐ، اور امامِ زمانؑ کے لئےہوتی ہے، جس کا حکم آسمانی کتاب (یعنی قرآن) کے بہت سے مقامات پر موجود ہے، دنیا اور آخرت میں اس کے بے شمار فائدوں کا کیا کہنا! اگر دین کا مقصد خیر خواہی ہے تو اس کی بہترین صورت عشق ہے، تمام دینی فرائض کی بجا آوری عشق ہی سے آسان ہوجاتی ہے، اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (۹۴: ۰۵) کی تفسیر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر مشکل کام عشق سے آسان ہوجاتا ہے، ذکرِ الہٰی کی کئی قسمیں ہیں، لیکن ذکرِعشق ذکرِاعظم اور ذکرِ اکبر ہے، اور وہ اعلیٰ سطح پر صورِاسرافیلؑ کے ساتھ ہوتا ہے، اور ابتدائی طور پر رباب کے ساتھ، ذکرِاعظم یہ ہے کہ اس میں نہ صرف زبان اور دل کا ذکر ہوتا ہے، بلکہ تمام ذرّاتِ روح اور جملہ خلیاتِ بدن بھی ہم آہنگ ہوکر خدا کو یاد کرتے
۵۵
ہیں، اور ایسے میں بندۂ مومن کی ہستی پر نورِ عشق محیط ہوجاتا ہے۔
۳۱۔ سوال:
سماوی یا حقیقی عشق کس طرح پیدا ہوجاتا ہے؟ اور کس وسیلے سے اس کی ترقی ہوسکتی ہے؟ جواب: یہ بات قرآن ہی کی روشنی میں ہے کہ اللہ کی محبت رسولؐ کی محبت سے، اور آنحضرتؐ کی محبت آپؐ کے قرابت داروں کی محبت سے حاصل ہوتی ہے (۰۳: ۳۱، ۴۲: ۲۳) پس امامِ زمانؑ ہی خدا کے اسمِ ودود (۱۱: ۹۰، ۸۵: ۱۴) کا مظہر ہے، ودود کے معنی ہیں محبت کرنے والا، چنانچہ امامِ حیّ و حاضر اپنی اس صفتِ مظہریّت میں لوگوں سے مختلف درجات پر محبت کرتا ہے، اگر تم اس سے خاص محبت کرو گے تو وہ بھی تم سے خاص محبت کرے گا، اگر تمہاری محبت بفضلِ خدا شدید ہے تو اس کا نام نارِ مقدّس یعنی آتشِ عشق ہوگا، اور یہ آسمان سے نازل ہوئی ہوگی، جس طرح یہ آگ حضرتِ ہابیلؑ کی گوسفندِ نفس کو قبولنے کے لئے آسمان سے آئی تھی (۰۵: ۲۷) یہاں یہ بڑا ضروری نکتہ یاد رہے کہ نور کا نام نار (آتشِ عشق) بھی ہے جیسے حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کے قصّۂ قرآن میں ہے کہ ظاہراً ان کو مادّی آگ کی ضرورت تھی اور باطناً آتشِ عشق کی تلاش (۲۷: ۰۷) اور آیۂ کریمہ کا تاویلی مفہوم یہ ہے کہ جب حضرتِ موسیٰؑ اس آگ کے پاس آئے تو آواز آئی کہ مبارک (برکت دیا گیا) ہے وہ جو آتشِ عشق (نورِ عشق=نورِ عقل) میں
۵۶
ہے، اور جو اس کے گرد ہے، اور اللہ اس مرتبہ سے پاک و برتر ہے، کیونکہ وہ عوالمِ شخصی کا پروردگار ہے (۲۷: ۰۸) یعنی وہ ان کی پرورش رفتہ رفتہ انتہائی اعلیٰ درجہ تک کرتا ہے۔
آسمانی محبّت اور عشق کی ترقی اس بات میں ہے کہ بندۂ مومن فرمانبردار اور متّقی ہو، وہ علم الیقین کی روشنی میں اپنے امامِ وقتؑ کی بے مثال خوبیوں کو دیکھے، عین الیقین سے اس کے باطنی حسن و جمال کی گونا گون تجلّیات کا مشاہدہ کرے، حق الیقین کی آخری منزل میں اس کی کامل معرفت حاصل کرلے، قرآن میں امام اور امامِ مبین میں قرآن کو دیکھے تو پھر یقیناً آسمانی عشق درجۂ کمال پر پہنچ جائے گا۔
۳۲۔ سوال:
کیا حکیم پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرہٗ کے حلقۂ دعوت کے علاوہ اسمٰعیلی تاریخ میں اور کہیں موسیقی کی کوئی روایت تھی؟ جواب: جی ہاں، اس سلسلے میں ہم ریسرچ کررہے ہیں، فی الحال ایک بڑی اہم روایت کا پتا چلا ہے، وہ یہ ہے کہ حضرتِ مولانا امام المعزالدّین اللہ علیہ السّلام سلطانِ مصر کے محل کے لئے ہر رات ایک ہزار محافظ ہوا کرتے تھے، جن میں پانسو سوار اور پانسو پیادہ ہوتے تھے، ان کا یہ کام تھا کہ شام سے لے کر صبح تک شاہی محل کے گرد اگرد گشت کریں، اور ساتھ ہی ساتھ
۵۷
ڈھول، نقارے اور شہنائی بجاتے جائیں، اس کے علاوہ اس شاہی جلوس میں بھی یہی باجے بجاتے تھے، جو ہر سال افتتاحِ خلیج (نہر) کے لئے نکلتا تھا (بحوالۂ سفر نامۂ ناصر خسرو)۔
۳۳۔ سوال:
سورۂ بنی اسرٓائیل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: (ترجمہ) اور (سارے جہان میں) کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو (۱۷: ۴۴) کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں کہ یہ حقیقت کس طرح ہے؟ جواب: یہ اسرارِ عظیم اسی آیۂ کریمہ (۱۷: ۴۴) میں ہیں کہ قلم (حمد =عقل) اللہ کی تسبیح کرتا ہے، لوحِ محفوظ تسبیح کرتی ہے، سات آسمان اور زمین اور ان میں جتنی چیزیں ہیں وہ سب اس کی تسبیح کررہی ہیں، قلم، لوح، سات آسمان، اور زمین دس کلیات ہوئے، پس ہر کل میں سب کی نمائندگی لازمی امر ہے، اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ماننا پڑے گا کہ ہر چیز غیر شعوری طور پر کم از کم دس مقامات پر ذاتِ سبحان کی تسبیح کررہی ہے، اور یہ تسبیح ہر مقام کے مطابق ہے، اور سب سے اعلیٰ تسبیح مرتبۂ عقل پر ہے، جس کا نام قلم بھی ہے، اور حمد بھی، چنانچہ تجدّدِ امثال کے معنی میں قلمِ الہٰی (حمد=عقل) ابھی ابھی کائنات و موجودات کی اشیاء کو لکھ رہا ہے، اور ایسے میں تمام چیزیں خدا کی حمد کے ساتھ یعنی عقل کے
۵۸
توّسط سے اللہ کی تسبیح کرتی ہیں، یعنی اس کو ہر چیز سے پاک و برتر قرار دیتی ہیں، اسی طرح ہر چیز لوحِ محفوظ (نفسِ کلّی) میں روحانی تحریر کی صورت کو قبول کرتے ہوئے تسبیح کرتی ہے، اور ہر آسمان کی کیفیّت و خاصیّت میں بھی، اور زمین پر جو چیز جیسی پیدا کی گئی ہے، اس حالت میں بھی تسبیح ہوتی رہتی ہے۔
چیزیں تین طرح سے تسبیح کرتی ہیں:
۱۔ زبانِ حال سے۔
۲۔ زبانِ قال سے۔
۳۔ اشارۂ عقل سے۔
ان تینوں میں سے ہر ایک دو قسموں میں ہے: ایک زبانِ حال خاموشی میں ہے، جیسے پتھر وغیرہ، اور دوسری آوازِ بے گفتگو میں، جیسے پرندوں کی آواز، ایک زبانِ قال معرفت کے بغیر ہے، اور دوسری زبانِ قال معرفت کے ساتھ، ایک اشارۂ عقل نمائندگی کے طور پر ہے، اور دوسرا ذاتی، پس تسبیح کے مقامات یا درجات دس سے زیادہ ہیں، اور اس کی قسمیں چھ ہیں۔
۳۴۔ سوال:
ہم مانتے ہیں کہ ہر چیز اپنے مقام اور اپنی کیفیّت کے مطابق تسبیح کرتی رہتی ہے، اور کوئی شیٔ تسبیح کے بغیر ٹھہر نہیں سکتی، لیکن اس کی کیا وجہ ہے
۵۹
کہ آپ موسیقی کے بعض آلہ جات کو زیادہ پسند کرتے ہیں؟ جیسے دف و رباب (چھردہ) وغیرہ؟
جواب: عقیدت و محبت دین کی سب سے بڑی بنیادی طاقت ہے، شروع شروع میں ہم علم جیسی بہت بڑی دولت سے بے بہرہ تھے، لیکن دف و چھردہ کے ساتھ جس طرح حضرتِ مولا کی منقبت سنائی گئی، وہ ہمارے لئے بہت بڑی کرامت ثابت ہوئی، اس سے ہم نہ صرف ایک راسخ العقیدت مومن ہوگئے بلکہ الحمدللہ! بہت سی عنایات ہوئیں، یقیناً مولائے برحقؑ کے پاک دین میں اور بھی کئی مقدّس روایات ہیں، لیکن میں جس حلقۂ دعوت میں پیدا ہوا، اسی کی روایت میں میرے لئے آسانی بھی تھی، اور افادیّت بھی، اور اس کے ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ میرا عقیدہ یا حسنِ ظن ہے کہ اس مقدّس روایت کو حکیم پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرہٗ نے امامِ وقت کے اذن سے اپنے حلقۂ دعوت میں رائج کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل اس بابرکت روایت کا آغاز ہوا، اور اب تک بفضلِ الہٰ شمالی علاقہ جات، چترال، افغانستان، تاجیکستان (روس) سریقول اور یار قند (چین) میں زندہ اور جاری ہے۔
۳۵۔ سوال:
کیا آپ یہ ثبوت پیش کرسکتے ہیں کہ حضرتِ مولا علی علیہ السّلام نے کبھی کسی موسیقی کی طرف توجہ فرمائی تھی؟ جواب: جی ہاں، آپ کتابِ
۶۰
کوکبِ دری، بابِ پنجم، منقبت نمبر ۳۳ کو پڑھیں، اس میں یہ روایت بہ اسنادِ خود درج ہے: حارث بن اعور کہتا ہے کہ میں امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ کے ہمراہ عیرہ میں جو کوفہ کے نزدیک ہے گیا، اسوقت ایک دَیرانی پر میرا گزر ہوا جو ناقوس (سنکھ) بجارہا تھا، مولاؑ نے فرمایا “اے حارث! تجھے معلوم ہے کہ یہ ناقوس کیا کہتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ خاتم الانبیاءؐ کا وصی بہتر جانتا ہے، فرمایا: وہ دنیا اور اس کی خرابی و بربادی کو ضرب المثل کے طور پر بیان کرتا ہے، پھر مولا علی علیہ السّلام نے ناقوس کے اشعار کو پڑھ کر سنایا جو مذکورہ کتاب میں ہیں۔
۳۶۔ سوال:
استادِ محترم! ہم آپ سے کوئی بحث و مناظرہ تو نہیں کرتے، مگر قیمتی معلومات کی غرض سے شاگردانہ سوالات کرتے ہیں، کیونکہ ہم اپنے مسائل کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، سو آپ بمہربانی یہ بتائیں کہ علاقۂ ہونزہ میں زمانۂ قدیم سے اب تک ڈھول، نقاروں، اور شہنای کی موسیقی کا جیسا رواج رہا ہے، اور اس پر مزید آپ کے گاؤں حیدر آباد میں فوجی بینڈ بھی ہے، آپ کے نزدیک اس کا کیا جواز ہے؟ اور اس میں عوام کے لئے کیا کیا فائدے ہیں؟ جواب: قرآنِ پاک میں خوب غور سے دیکھ لیں،اس میں جتنی چیزیں حرام ہیں، وہ تو حرام ہی ہیں، لیکن اللہ کی بنائی ہوئی زینت کس نے حرام کردی،
۶۱
آپ آیۂ زینت کو سورۂ اعراف (۰۷: ۳۲) میں گہری نظر سے پڑھ لیں، پس زینۃ اللہ جو ظاہری ہے وہ پانچ حواسِ ظاہر کے مطابق ہے: باصرہ کے لئے باغ و گلشن وغیرہ کا نظارہ ہے، سامعہ کے لئے موسیقی اور خوش الحانی، شامّہ کے لئے ہرگونہ خوشبو، ذائقہ کے لئے پاک و عمدہ غذائیں، اور لامسہ (بدن) کے لئے اچھا اور مناسب لباس ہے، چنانچہ ہر حس کے لئے ایک جداگانہ زینت ہے، جس کا یہاں ذکر ہوا، اب ہم یہ بتائیں گے کہ آج کل ہونزہ میں دیسی بینڈ خاص خاص مواقع پر بجاتے ہیں، جس میں عوام کا میدانی اجتماع ہوتا ہے، ایسے اجتماعات اکثر مذہبی تہواروں سے متعلق ہوتے ہیں، جس میں بچوں اور بڑوں کی کچھ تقاریر ہوتی ہیں، کچھ حصہ تفریحی ثقافت کا بھی ہوتا ہے، جس سے تھکے ہوئے زمیندار تازہ دم ہوجاتے ہیں، اور تمام حاضرین کو بے حد خوشی حاصل ہوجاتی ہے۔
اگر ایسا کوئی اجتماع کسی مذہبی جشن سے متعلق ہے، تو اس کے زیرِ اثر مرد و زن، صغیر و کبیر، برنا و پیر سب پگھل جاتے ہیں، کیونکہ وہ لوگ سب بڑے راسخ العقیدت مومنین و مومنات ہیں۔
۳۷۔ سوال:
آپ اپنی وسیع معلومات کی روشنی میں ہمیں یہ بتائیں کہ آیا موسیقی کے ذریعہ بعض بیماریوں کا علاج بھی ہوسکتا ہے؟ جواب: جی ہاں، اس
۶۲
سے علاج کا کام لیا جاسکتا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ ہر ایسی چیز بطورِ دوا استعمال ہوسکتی ہے، جس میں کم و بیش کوئی اثر موجود ہو، اور ہم دیکھتے ہیں کہ موسیقی میں زبردست تاثیر ہے، انسان تو انسان ہی ہے، اس سے بعض جانور بھی متأثر ہوجاتے ہیں، پس موسیقی سے علاج نفسیات کے بعض مریضوں کے لئے مفید ہوسکتا ہے، اور اگر دف و رباب (چھردہ) کی مقدّس موسیقی کی بات کریں تو یہ تمام روحانی، اخلاقی اور نفسیاتی بیماریوں کے لئے اکسیرِ اعظم کا کام کرتی ہے، پس یقیناً موسیقی میں علاج و شفاء کا راز پوشیدہ ہے۔
۳۸۔ سوال:
“عشق افضل ہے یا عقل” یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس پر بحثیں تو بہت ہوئی ہیں، مگر کوئی تسلّی بخش جواب نہیں، کیا آپ اس میں ہماری مدد کرسکتے ہیں؟ جواب: ان شاء اللہ، یعنی اگر خدا نے چاہا تویہ کام ہوسکتا ہے، ورنہ نہیں، عرض یہ ہے کہ بحوالۂ حدیثِ قدسی عشق گویا درخت ہے اور عقل اس کا پھل، کیونکہ خدا عقل کو صرف ایسے شخص میں کامل اور مکمل کردیتا ہے، جس کو وہ محبوب رکھتا ہے، اور وہ خدا کو محبوب رکھتا ہے، اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ عقل عشق کی پیداوار ہے، یا یوں کہا جائے کہ آتشِ عشق سے نورِعقل کا ظہور ہوتا ہے، یہاں مزید سوچنے کی ضرورت ہے کہ
۶۳
بے شک عقل ثمرۂ محبّت و عشق ضرور ہے، لیکن جب غور سے دیکھئے کہ ثمرِعقل کی گٹھلی میں کوئی پودا پنہان ہے، اور وہ ہے عشق کا پودا، پس عشق میں عقل پوشیدہ ہے، اور عقل میں عشق مخفی۔
۳۹۔ سوال:
آپ نے آیۂ زینت (۰۷: ۳۲) کی حکمت بڑی عمدگی سے بیان کی ہے، تاہم اس کلیدی حکمت کی اہمیّت و افادیّت کے پیشِ نظر کچھ مزید وضاحت کریں۔ جواب: یہ تو آپ جانتے ہوں گے کہ قرآنِ حکیم کی ایک آیت کی تفسیر دوسری آیت سے ہوتی ہے، چنانچہ لفظ “زینت” کی ایک تفسیر سورۂ طٰہٰ (۲۰: ۵۹) میں ملتی ہے کہ وہاں فرعون کے جشن (سالگرہ) کو یوم الزینۃ کہا گیا ہے، یعنی زینت کا دن، یہاں سے زینت کے معنی کا یقین آتا ہے کہ اس میں موسیقی اوّلین چیز تھی، ورنہ فرعون کا جشن نامکمل ہوجاتا، اس مثال کے علاوہ یہ حدیث ملاحظہ ہو: زَیَّنُوا الْقراٰن بِاَصْوَاتکُم =قرآن کو عمدہ آواز سے پڑھا کرو۔ پس یہاں یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ زینت میں کان کے لئے بھی برابر کا حصہ ہے۔
۴۰۔ سوال:
علامہ صاحب! آپ دف و رباب کے تقدّس کے قائل ہیں، حالانکہ
۶۴
آپ کے بعض دوستوں اور شاگردوں نے کچھ دوسرے سازوں کو بھی شروع کیا ہے، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب: میں ان سے قربان! یہی تو رباب کی ترقی ہے، جس کا حکم مولائے پاک نے اس بندۂ ناچیز کو خواب میں دیا تھا، کیونکہ رباب مرکز ہے، اور باقی چیزیں اسکی ترقی ہیں۔
جب کسی سالگرہ کے جشن میں دیسی بینڈ پر طغرا یا بحرِطویل بجاتے ہیں، تو میں غلبۂ عقیدت و محبّت سے پگھل جاتا ہوں، اور میرا دل مرغِ نیم بسمل کی طرح تڑپنے لگتا ہے، اور ایسے میں میری روح قفسِ عنصری سے نکل کر پرواز کرنا چاہتی ہے۔
۴۱۔ سوال:
پیارے سر!کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ بہشت میں خدا و رسولؐ، اور امامؑ کا عشق ہے یا نہیں؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ اصل اور پاک عشق تو جنّت میں ہے، تو پھر آپ کو اس کا قرآنی ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ جواب: دین و دنیا کی ہر چیز خدا کے خزانوں سے آتی ہے (۱۵: ۲۱) یہ بھرے ہوئے الہٰی خزائن بہشت میں ہیں، چونکہ عشقِ الہٰ کی ایک انتہائی ادنیٰ مثال شراب ہے، اس لئے قرآنِ مجید میں جہاں جہاں خمرِ بہشت کا ذکر آیا ہے، وہاں دراصل عشقِ حقیقی کا تذکرہ ہے، بہشت کا ہر چشمہ، چشمۂ عقل بھی ہے، چشمۂ علم بھی، اور چشمۂ عشق بھی ہے، کیونکہ وہاں اعلیٰ نعمتوں کی وحدت و سالمیت
۶۵
ہوا کرتی ہے، دنیا کی شراب پینے سے عقل زائل ہوجاتی ہے، لیکن شرابِ جنّت (جو شرابِ عشق ہے) کے پینے سے نئی روح اور تازہ عقل آتی ہے، چنانچہ بہشت کی بے شمار نہریں چار قسموں میں ہیں (۴۷: ۱۵) ان میں سے ایک قسم شراب کی نہروں کی ہے، اس سے حقیقی عشق کی تجلّیات مراد ہیں۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعہ یکم شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ
۱۴۔ جنوری ۱۹۹۴ء
۶۶
عالمِ ذرّ
۱۔ مادّہ اور ضروری مُشتقات:
ذ۔ر۔ر: الذّرُّ (واحد، ذرّۃ) چھوٹی چیونٹیاں، کرمک، ہوا میں مُنتشر غبار، مٹی کے وہ انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرّات جو کھڑکی سے آنے والی دھوپ میں نظر آتے ہیں، ذرّاتٌ (واحد، ذرّۃ) نسل، ذُرّیَّۃُ (جمع۔ ذرِّیَّاتُ) اولاد، نسل۔
۲۔ حقیقی بنی آدم:
اگرچہ ظاہری اعتبار سے سارے انسان بنی آدم کہلاتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ معلوم ہے کہ لوگوں کے بہت سے درجات ہیں، یعنی بہت سے لوگ حضرتِ آدم علیہ السّلام کے رشتۂ روحانی کو چھوڑ کر بہت دور چلے گئے ہیں، چنانچہ ابوالبشر سے روحانی رشتہ کے بارے میں یہ تین باتیں ہمیشہ کے لئے یاد رکھیں: (الف) خلیفۂ خدا (آدمؑ) کا رشتۂ روحانی قائم رہتا ہے، جس کی مثال انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام
۶۷
ہیں،اور یہی حضرات بحقیقت بنی آدم ہیں (ب) نافرمانی کی وجہ سے روحانی رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، جس کی مثال حضرت نوحؑ کا ایک بیٹا کنعان ہے (ج) روحانی رشتہ ٹوٹ جائے تو اسے جوڑ لیا جاتا ہے، جیسے یہ کام سلمان فارسی نے کیا، اس سے اہلِ دانش کے لئے یہ رازِ قرآن منکشف ہوگیا کہ بنی آدم حقیقی معنوں میں انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام اور ان کے مومنین ہیں، اور جو خود آدمِ دور ہے، وہ بھی ابنِ آدم ہے، کیونکہ آدموں کا سلسلہ لا ابتداء ولا انتہا ہے۔
۳۔ عالمِ ذرّ کہاں ہے؟:
یاد رہے کہ عالمِ شخصی ہی کا ابتدائی نام عالمِ ذرّ ہے، جس کو ربّ الاکرم بنی آدم کی پشت سے پیدا کرتا ہے، جن کا اوپر ذکر ہوا، اور اللہ تعالیٰ کے عظیم اسرارِ باطن بڑے عجیب و غریب اور انتہائی حیران کن ہیں، کہ عالمِ ذرّ میں ہر ہر چیز کی روح موجود ہے، یہاں تک کہ مٹی اور پتھر جیسی جمادات کی روح بھی وہاں ہوتی ہے، کیونکہ ہر چیز کو پہلے پہل بحالتِ ذرّہ خزائنِ الہٰی میں موجود ہونا ہے (۱۵: ۲۱) چنانچہ خالقِ اکبر ہر ابنِ آدم کی پشت سے اس کی ذرّیت اور دیگر تمام ذرّات کو بتوسطِ اسرافیل و عزرائیل اخذ (۰۷: ۱۷۲) کرکے ان سے عالم ذرّ بنا دیتا ہے، اور اس کی روحانی اور عقلانی پرورش اس حد تک کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے ارواح کے لئے اقرارِ
۶۸
ربوبیّت ممکن ہوجاتا ہے، یہی تذکرہ سورۂ اعراف (۰۷: ۱۷۲) میں موجود ہے۔
۴۔ بنی آدم کی تعریف و توصیف:
بنی آدم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ جب بھی ذکر و مناجات اور عبادت کرتے ہیں، اس وقت ان کی ذات میں نورِ الہٰی کی روشنی آجاتی ہے، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا: (ترجمہ) اے اولادِ آدم! ہر عبادت میں اپنی (روحانی) آرائش حاصل کرو (۰۷: ۳۱) یعنی تمہاری ہر نماز، ہر عبادت، اور ہر گریہ و زاری ایسی ہو کہ اس سے روح کے لئے کوئی بھی روشنی اور زینت پیدا ہوجائے۔
بنی آدم پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا سب سے بڑا کرم یہ ہے: (ترجمہ) اور ہم نے یقیناً آدم کی اولاد کو بڑی عزت دی اور خشکی و سمندر (جسمانیّت و روحانیّت) میں ان کو لئے لئے پھرے، اور انہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں (یعنی روحانی علم سے ان کی روحوں کو تقویّت بخشی) اور اپنی بہت سی مخلوقات (جن میں فرشتے بھی ہیں) پر ان کو اچھی خاصی فضیلت دی (۱۷: ۷۰)۔
۵۔ انبیاءؑ اور عالمِ ذرّ:
تمام پیغمبروں کے قصّے عالمِ ذرّ سے متعلق ہیں، چنانچہ حضرتِ آدمؑ کے لئے جن فرشتوں نے سجدہ کیا، وہ ظاہر میں مومنین تھے اور باطن میں عالمِ
۶۹
ذرّ کے تمام ذرّات، حضرتِ نوحؑ کی ایک کشتی مثال اور دوسری ممثول تھی، انہوں نے جن بے شمار چیزوں میں سے دو دو جوڑے اپنے ساتھ جس کشتی میں لئے، وہ تمام جمادات، ساری نباتات، جملہ حیوانات، اور کل انسانوں کے روحانی ذرّات تھے، اور وہ کشتی حضرت نوحؑ کی روح تھی (۱۱: ۴۰، ۲۳: ۲۷)۔
حضرتِ ابراہیمؑ نے اپنے وقت میں دنیا بھر کے لوگوں کو بیت اللہ کی زیارت (حج) کی دعوت دی، اور آپؑ خود خدا کا گھر تھے، اور دعوت صورِ اسرافیل کے ذریعہ سے کی جارہی تھی، اس لئے انسانوں کے علاوہ پتھر، درخت، حیوان، چرند و پرند کی روحیں بھی آپؑ کے عالمِ ذرّ میں آگئیں، اسی طرح ان سب کے انسانِ کامل کے حضور آکر روحانی ملاقات کرنے میں بڑی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں (۲۲: ۲۷، ۲۲: ۲۸)۔
حضرتِ موسیٰؑ نے مدین شہر میں حضرتِ شعیبؑ کے لئے آٹھ یا دس۱۰ سال تک بھیڑ بکریاں چرانے (چوپانی) کا کام کیا، یہ قصّہ ظاہر میں درست ہے (۲۸: ۲۷) اور اس کا تاویلی پہلو یہ ہے کہ آپؑ کے عالمِ ذرّ میں بے حساب و بے شمار روحیں آئی ہوئی تھیں، جن کی آپؑ پرورش اور حفاظت کرتے تھے۔
حضرتِ عیسیٰؑ خدا کے اذن سے پرواز کرنے والے بہشتی کُرتے بناکر ان میں صورِ اسرافیل کے توسّط سے عالمِ ذرّ پھونک دیتے تھے، اس
۷۰
تاویلی حکمت کے لئے آپ سورۂ آلِ عمران (۰۳: ۴۹) میں خوب غور کرسکتے ہیں۔
حضرتِ محمد مصطفےٰ، رسولِ خدا، سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کا مجسّم اور زندہ دین تھے، جب آنحضرتؐ کی ذاتی قیامت قائم ہوئی تو حسبِ وعدۂ الہٰی (۰۹: ۳۳، ۴۸: ۲۸، ۶۱: ۰۹) دنیا بھر کے لوگ بصورتِ ذرّات آپؐ کے عالمِ شخصی میں داخل ہوگئے (۱۱۰: ۰۱ تا ۰۳) سورۂ نصر میں لفظِ نصر اسرافیل کا نام ہے، فتح میکائیل ہے،ناس سے تمام لوگ مراد ہیں، دینِ اللہ، یعنی خدا کا دین آنحضرت صلعم ہیں، کیونکہ خدا کی ہر چیز زندہ ہوا کرتی ہے۔
۶۔ امامِ مبین اور عالمِ ذرّ:
عالمِ ذرّہر زمانے میں انسانِ کامل کی مبارک شخصیّت ہی میں رہ کر اپنا کام کرتا رہتا ہے، وہ دراصل عالمِ ارواح و ملائکہ ہے، کیونکہ حضرتِ آدمؑ کی مثال میں روحیں بھی تھیں، اور فرشتے بھی تھے، ان سب کا مجموعی نام نور ہے، یعنی بہت بڑی روح، یا نفسِ واحدہ، جس میں سب لوگ جمع ہیں، بلکہ کائنات و موجودات کی ساری چیزیں بھی ساتھ ہیں، اس لئے کہ کوئی چیز رحمت اور علم کے بغیر نہیں (۴۰: ۰۷) پس اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو امامِ مبین کی ذاتِ عالی صفات میں گھیر لیا (۳۶: ۱۲) اور خدا کے اس قانون سے عالمِ ذرّ باہر نہیں ہوسکتا۔
۷۱
۷۔ امامِ مبین کے معانی:
(الف) پیشوا جو ظاہر ہے، جو اس دنیا میں حاضر اور موجود ہے۔
(ب) امامِ ناطق (بولنے والا امام) کیونکہ قرآن بھی امام ہے، مگر وہ بولتا نہیں۔
(ج) امامِ مؤول (تاویل کرنیوالا امام) کیونکہ لفظِ مبین میں جو بیان ہے، وہ تاویل کو بھی کہتے ہیں۔
(د) نمایان اور واضح راستہ، یعنی صراطِ مستقیم، کیونکہ جس طرح امام اللہ کی رسی ہے، اسی طرح وہ خدا کا زندہ راستہ بھی ہے۔
۸۔ متعلقہ آیۂ کریمہ:
اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ (۳۶: ۱۲) ہم ہی یقیناً مردوں کو زندہ کرتے ہیں (مردے دو قسم کے ہوتے ہیں: نفسانی اور جسمانی) اور لوگوں کے اعمال و آثار کو لکھتے ہیں، اور ہم نے تمام چیزوں کو امامِ مبین میں گھیر لیا ہے (۳۶: ۱۲) یعنی امامِ زمان علیہ السّلام اللہ کا گھر ہے، جس میں خدا کی وجہ سے ساری خدائی (بادشاہی) موجود ہے، اب اگر میں یہ کہوں کہ
۷۲
امامِ مبین میں عرش، کرسی، قلم، لوح، آسمان، زمین، اور ان کی جزئیات ساری چیزیں موجود ہیں، تو یہ مزید تشریح ہوگی، الغرض خداوندِ عالم کل اشیاء کو ہر وقت لپیٹتا بھی ہے اور پھیلاتا بھی ہے (۰۲: ۲۴۵)۔
۹۔ جمادات اور عالمِ ذرّ:
یقیناً عالمِ ذرّ میں جملہ اشیائے کائنات و موجودات کے نمائندہ ذرّات موجود ہیں، اس لئے لازماً وہاں جمادات کے ذرّات بھی ہیں، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں پہاڑ کا ذکر آیا ہے، وہاں خوب غور سے دیکھنا ہوگا، پہاڑ اور پرندے کس طرح حضرتِ داؤد علیہ السّلام کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر اللہ کی تسبیح کرتے تھے؟ اپنی جگہ پر؟ یا جنابِ داؤدؑ کے عالمِ ذرّ میں؟ صورِ اسرافیل کی مدد سے؟ یا اس کے بغیر؟ (۲۱: ۷۹، ۳۴: ۱۰، ۳۸: ۱۸) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرکے اڑادے گا (۲۰: ۱۰۵) آیا یہ معجزہ ظاہر میں ہوگا؟ یا باطن میں؟ اس میں کیا راز ہے کہ پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے (۷۰: ۰۹)؟ یہ آپ کے لئے فکر انگیز اور نتیجہ خیز سوالات ہیں، آپ حقائقِ عالیہ ص ۳۳، اور قرآنی مینار ص ۲۲۳ پر “روح اور مادّہ” کے مضمون کو بھی پڑھیں۔
سورۂ لقمان کے اس ارشاد میں واضح طور پر ذرۂ روح کا ذکر فرمایا گیا ہے: (ترجمہ: لقمان نے کہا:) اے بیٹا! اس میں شک نہیں۔ اگر کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین
۷۳
میں کہیں چھپی ہوئی ہو اللہ اسے نکال لائے گا (۳۱: ۱۶) یعنی صورِ اسرافیل کی دعوت پر ایسی چیزوں سے بھی ذرّاتِ روح عالمِ ذرّ میں آنے لگتے ہیں، جن کو لوگ بے جان سمجھتے ہیں۔
۱۰۔ ان تجلّیات کا کیا اشارہ ہے؟:
یہ صرف ابتدائی روحانیّت کے احوال ہیں، مثال کے طور پر: عین الیقین کے مشاہدے میں ایک بڑا عجیب پُرنور منظر تھا، پھر یکایک دوسرا حسین و خوشنما منظر سامنے آیا، یہ روح کی تجلّیات ہیں، اب اس کا ظہور بہشت جیسے ایک خوبصورت باغ کی شکل میں ہوا، پھر لمحہ بھر میں یہ جلوۂ جانفزا بھی بدل گیا، اب ایک عجیب و غریب شہر نظر آرہا ہے، جس کی ہر گلی کوچے میں سیم و زرّ اور لعل و گوہر بکھرے پڑے ہیں، اتنے میں ایک عظیم الشّان پہاڑ پر نظر پڑتی ہے، جس میں جگہ جگہ ہر گونہ جواہر کی کانیں موجود ہیں، پھر ایک تابناک سمندر کا نظارہ ہوتا ہے، پس آغازِ روحانیّت کی ان گونا گون تجلّیوں کا یہ اشارہ ہے:
(الف) کائنات و موجودات کی ایک متحدہ روح ہے، جس کو عالمگیر روح کہتے ہیں۔
(ب) اس ہمہ گیر روح کے ذرّات سے کوئی چیز خالی نہیں۔
(ج) عالمِ ذرّ میں عالمِ ظاہر کی تمام اشیاء کی نمائندگی ہے۔
۷۴
(د) عالمِ ذرّ کسی مبارک ہستی میں اُس وقت پیدا ہوجاتا ہے، جبکہ اسرافیل خدا کے حکم سے اس کے لئے صور بجاتا ہے: الحمد للہ ربّ العالمین ۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی۔
منگل ۵۔ شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ
۱۸۔ جنوری ۱۹۹۴ء
۷۵
رباب نے کیا کہا؟
۱۔ حضرتِ حکیم پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرہٗ کے حلقۂ دعوت میں منقبت خوانی دف و رباب کی موسیقی کے ساتھ ہوتی ہے، اس کا رواج تقریباً ہزار سال قبل شروع ہوا، اس مقدّس روایت نے اتنے لمبے عرصے میں گویا مکتبِ عشق اور صورِ اسرافیل کا کردار ادا کیا، جس کے وسیلے سے یہاں کے بے شمار اسماعیلیوں کو امامِ برحق علیہ السّلام سے عقیدت و محبّت کی فضیلت حاصل ہوتی رہی، پس یہ اہلِ بصیرت کے نزدیک اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ایک خصوصی نعمت ہے، خدا ہمیں ایسا زمانہ نہ دکھائے، جس میں یہ پُرحکمت چیز ہم سے چھن گئی ہو۔
۲۔ یار قند (چین) کا ایک واقعہ ہے کہ جب یہ خاکسار درویش اپنے روحانی انقلاب کے مراحل سے گزر رہا تھا، اسی زمانے میں کسی شام کے وقت وہ گھر میں انفرادی ذکر کے دوران رباب کو چھیڑنے لگا (جس کے چھ تاروں میں سے ایک انتہائی زیر، دو درمیانی زیر، ایک انتہائی بم اور دو درمیانی بم ہوا کرتے ہیں) خدا وندِ تعالیٰ کی قدرت بڑی عجیب و غریب ہے، کہ میں نے جب مضراب سے رباب کے تاروں کو چھیڑا تو کچھ تار صاف
۷۶
آواز میں بولنے لگے، انتہائی بم نے کہا: “برائے دین، برائے دین” (یعنی دین کی خاطر، دین کی خاطر) اور درمیانی زیر کے دونوں تار نے کسی معجزانہ شخصیّت کے نام کو دہرایا، اس روحانی معجزہ کی دونوں باتوں سے مجھے بدرجۂ انتہا حیرت ہوئی، یقیناً اس معجزۂ امامت میں عقلمندوں کے لئے بہت سے اشارے موجود ہیں، نیز اس میں میرے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی بھی تھی۔
۳۔ صبح سویرے میں ٹھیک وقت پر جماعت خانہ گیا، ریاضت اور عبادت حسبِ معمول ادا ہوگئی، اور جماعت کے افراد اپنے اپنے گھروں کی طرف جاچکے تھے، مگر قبول آخوند جو بڑا مومن شخص تھا، وہ میرے پاس جماعت خانے میں آکر کہنے لگا: “غُوجم! (میرے خواجہ!) باہر کچھ لوگ آئے ہوئے ہیں۔” میں نے اس کے مغموم لہجے اور چہرے سے اندازہ کیا کہ وہ لوگ کچھ اچھی نیّت سے نہیں آئے ہیں، میں نے زائد دعا و تسبیح ختم کرلی اور آخری سجدہ بجالا کر باہر نکلا، تو گیٹ کے سامنے مخالفین کا ایک گروہ موجود تھا، جس کی تعداد شاید چالیس۴۰اور پچاس کے درمیان تھی، یہ لوگ مجھے گرفتار کرنے کی غرض سے آئے تھے، جس کا سبب یہ تھا کہ وہاں ہمارے جانے سے قبل ہماری جماعت پوشیدہ تھی، کیونکہ کہیں کوئی جماعت خانہ نہیں بنا تھا، لیکن ہم نے جیسے ہی کئی مقامات پر چند جماعت خانے بنوائے، تو اسی کے ساتھ اسماعیلی جماعت ظاہر
۷۷
ہوگئی، جس سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہونے لگی کہ نصیر الدین کوئی نئی تحریک چلانے کے واسطے یہاں آیا ہے، اس پر مزید مصیبت یہ کہ خود ہماری جماعت کے بعض بڑے لوگ بھی تعمیرِ جماعت خانہ کے مخالف تھے، اس لئے وہ میری شدید مخالفت کرتے تھے۔
۴۔ خداوند تعالیٰ اس حقیقتِ حال کا گواہ ہے کہ جب سے میں نے امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام کے روحانی معجزات دیکھے تھے، اور جب جب غلبۂ روحانیّت کی مستی طاری ہوتی تھی تو اس حال میں کسی بھی خطرے سے نہیں ڈرتا تھا، چنانچہ میں نے بڑی قہرمانی اور بے باکی کے ساتھ ان کے پارٹی لیڈر سے چند سوالات کئے، اور کہا کہ آیا تم نے اسماعیلی جماعت اور جماعت خانے کے خلاف یہ یہ کام کیا ہے یا نہیں؟ وہ بڑی کمزور اور مضطرب آواز میں “نہیں نہیں” بول رہا تھا۔
۵۔ کچھ دیر کے بعد ایک رائفل مین بھی وہاں حاضر ہوگیا، بڑا موٹا اور لمبا جوان تھا، جس کو دیکھتے ہی سب لوگ اٹھ کھڑے ہوگئے، اور ہر شخص نے گرم جوشی سے اس کے ساتھ مصافحہ کیا، میرے ضمیر نے جو شرابِ روحانیّت سے سرشار تھا، کسی آواز کے بغیر حکم دیا کہ اگر میری گرفتاری مطلوب ہے تو میں بکری کی طرح نہیں بلکہ شیر کی طرح گرفتار ہوجاؤں، چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھا، اور اس سپاہی یا پولیس کی رائفل کو سنگین کے پیچھے سے انتہائی سختی کے ساتھ پکڑ کر چھین لینے
۷۸
کی کوشش کی، اور قریب ہی تھا کہ رائفل میرے ہاتھ میں آئے، لیکن جب ان لوگوں نے یہ بڑا خطرناک منظر دیکھ لیا، تو فوراً سب کے سب مجھ پر حملہ آور ہوگئے، اور بڑی مشکل سے بندوق میرے ہاتھوں سے چھڑا لی گئی، مجھے یہ واقعہ بڑا عجیب لگتا ہے کہ مجھ میں اتنی زبردست طاقت کہاں سے آگئی؟ جس سے مقابلہ کرنے کے لئے اتنے سارے آدمیوں کی ضرورت ہو! اور یہ بھی بڑی حیرت کی بات ہے کہ اگر رائفل ہاتھ آتی تو میں اسے کیا کرتا! میرا کوئی منصوبہ ہی نہ تھا۔
۶۔ حملہ کرنے والوں نے بندوق کا مسئلہ حل کرکے فوراً ہی میرے دونوں ہاتھ پشت پر باندھ لئے، اب میں دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوچکا تھا، وہ مجھے اپنے مقام سے کہیں دور لیجانے والے تھے، راستے میں ایک نابکار آدمی نے (جو انقلاب سے پہلے میرے روحانی بھائی اور دوست عزیز محمد خان کا نوکر تھا) میرے پشت پر لات ماری اور بد زبانی کی، لیکن دوسرے لوگوں نے اس حرکت کی مذمت کرتے ہوئے منع کیا، آپ باور کریں گے کہ اُس وقت میرا بدن اضافی روحوں کی طاقت سے بھرپور تھا، لہٰذا ایسی کوئی چوٹ اثر انداز تو نہیں ہوسکتی تھی، تاہم نجانے میں نے کیونکر اپنے آقا سے اس گرفتاری اور اہانت کی شکایت کرلی، جس کے جواب میں ایک مقدّس اور پُرجلال آواز نے فرمایا کہ: “تم صبر کرو تمہارے نہیں میرے ہاتھ باندھ لئے ہیں۔” سبحان اللہ! یہ کتنی بڑی عنایت ہے۔
۷۹
۷۔ ہماری مقامی جماعت شاید اس مشکل مسئلہ کے حل کے لئے سوچ رہی تھی، مگر قبول آخوند جیسے عاشق کو کہاں صبر ہوسکتا تھا، وہ تو جان کی بازی لگا کر ان لوگوں کے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔
۸۔ دریائے زرافشان کے اس طویل پل کے قریب (جہاں سے یارقند کا راستہ قراغالیق اور خوتن کو جاتا ہے) مجھے ایک کھمبے کے ساتھ باندھا گیا، میں بار بار “اللہ اکبر” اور “یاعلی” کے حوصلہ مندانہ نعرے لگاتا رہا، اور دل میں خوف و ہراس جیسی چیز کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں تھی، ہر چند کہ رسی کی سخت بندش کے سبب سے ہاتھوں کی انگلیوں کے سروں سے خون ٹپکنا چاہتا تھا، مگر صبر و ہمّت کا روحانی معجزہ ساتھ تھا، یہ بھی ایک آزمائش تھی کہ اس دوران مجھے شدّت سے پیاس لگی تو میں نے پانی مانگا، لیکن اہلِ کربلا کی طرح مجھے پانی سے محروم رکھا گیا، بیچارہ قبول آخوند اپنے بے مثال جذبۂ جان نثاری کے تحت میرے پاس آنا چاہتا تھا، مگر مخالفین پتھراؤ کرکے اسے ہٹا رہے تھے، اور وہ بھی جواباً اُن پر سنگ باری کرتا تھا۔
۹۔ تقریباً چار یا تین گھنٹے تک یہ درویش اس جان گداز ستون کے ساتھ باندھا ہوا رہا، درین اثناء مخالفین نے وہاں سڑک کے بیگار (رجاکی) کرنے والے بہت سے لوگوں سے ساز باز کرکے میرے قتل کے لئے حکومت کو درخواست لکھ دی، پھر کچھ لوگوں نے مجھے پل کے پار ایک پولیس چوکی
۸۰
کے حوالہ کردیا، جہاں مجھے زندگی میں دوسری دفعہ گالی گلوچ اور ضربِ خفیف کا تجربہ ہوا، لیکن پوچھنے پر جب میں نے اپنی داستانِ ظلم و ستم اُن کو سنادی تو بظاہر وہ خاموش ہوگئے۔
۱۰۔ پت جھڑ کا موسم تھا، اس لئے رات طویل، بڑی ٹھنڈی اور وحشتناک تھی، مگر مومنین اور مجاہدینِ اسلام پر اللہ تعالیٰ کے احسانات ہوا کرتے ہیں، چنانچہ اس ابتلا و امتحان کے دوران عالمِ روحانیّت کی آوازیں اس ناچیز درویش کے ساتھ گفتگو کررہی تھیں، اس حال میں مجھے یوں تصوّر ہونے لگا کہ گونا گون آوازوں اور صداؤں کا ایک طوفانی فوارہ یا ستون میری ہستی سے بلند ہوکر کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، اس میں وہ غضبناک آوازیں بھی شامل تھیں، جو بموجبِ قرآن دوزخ والوں کے لئے مقرر ہیں، اور وہ رحمت آمیز آوازیں بھی، جو اہلِ جنّت کو نوازنے کے لئے ہوتی ہیں، نہ معلوم میں نے یہ بچگانہ گستاخی کس طرح کی اور کہا کہ: اے روحوں کے سردار! اب اسی وقت جبکہ آپ پوری کائنات سے مخاطب ہیں تو فرصت ہی کہاں کہ آپ مجھ ناچیز سے کچھ خطاب فرمائیں، سو پاک آواز فرمانے لگی کہ ایسا ہر گز نہیں، ہمیں ہر وقت فرصت ہی فرصت ہے، اور آناً فاناً مرکز سے پاکیزہ اور شیرین آواز کی ایک شاخ پیدا ہوکر مجھ سے مصروفِ گفتگو ہونے لگی، درحالے کہ مرکز کسی فرق کے بغیر اپنا کام کررہا تھا۔
۸۱
۱۱۔ جب صبح کا وقت ہوچکا تو مجھے واپس یارقند شہر کی جانب چلایا گیا، اور درمیان میں کسی دفتر میں رکنا پڑا، شام کا وقت ہوچکا تھا، وہ موقع ہی ایسا تھا کہ اکثر اوقات روحانیّت کے عظیم معجزات اور اسرار کا مشاہدہ ہوتا تھا، چنانچہ وہاں انگلیوں کے معجزے نمایان تھے، اس کا اشارہ یہ ہوا کہ جس طرح خدا کے دوستوں کی زبان کو تائید حاصل ہوتی ہے، اسی طرح ان کے ہاتھ کو بھی روحانی مدد حاصل ہوسکتی ہے، کچھ دیر کے بعد گاؤں کی جماعت کے دو مومن حکومت کی طرف سے رہائی کا حکم نامہ لے کر پہنچ گئے، اور خدا کے فضل و کرم سے میں بخیر و عافیت واپس گھر پہنچ گیا، جس گاؤں میں میرا قیام تھا، وہاں ہماری جماعت کے صرف ۴۵ گھر تھے، سب نے مل کر متفقہ طور پر حکومت سے درخواست کی تھی کہ ان کے عالمِ دین کو فوراً رہا کردیا جائے، نیز یہ کہ گاؤں میں حکومت کے ذمہ دار افسران آکر تفتیش کریں کہ تاجیک جماعت پر یہ ظلم و زیادتی کیوں ہورہی ہے۔
۱۲۔ لفظِ “تاجیک” تازی (عربی) مغیر ہے، جو چین، روس، اور افغانستان میں اسماعیلوں کے لئے استعمال ہوتا ہے، القصّہ مقامی حکومت کے سنٹر سے کچھ ذمہ دار افسران ہمارے گاؤں “قرانگغو توغراق” آگئے، جنہوں نے مسلسل نو (۹) دن تک واقعات و حالات کی تحقیقات کی، اور نتیجے کے طور پر یہ حکم صادر کیا گیا کہ تاجیک (اسماعیلی) اپنے مذہب کے معاملے میں آزاد ہیں، وہ دوسروں سے جماعتی طور پر الگ ہیں،
۸۲
ان کے جماعت خانے کی بے حرمتی اور جماعتی سکول پر قبضہ کرنے کی کوشش سراسر ظلم و ناانصافی ہے، اور اگر کوئی شخص اس حکم کے باوجود ان کے عقائد کو نقصان پہنچاتا ہے تو حکومت اس سے خبر لے گی۔
فقط آپ کا علمی خادم
نصیرؔ ہونزائی
۲۰۔ نومبر ۱۹۸۰ء
۸۳
ایک عجیب نورانی خواب
۱۔ جب بندۂ مومن کثرتِ ذکر و عبادت اور گریہ و زاری کے نتیجے میں کوئی عمدہ اور پُرحکمت خواب دیکھتا ہے تو وہ نورانی خواب کہلاتا ہے، یاد رہے کہ علم و بندگی کی ترقی کے ساتھ ساتھ خواب بھی حقائق و معارف کے مراحل میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، آپ چاہیں تو قرآنِ مقدّس کے اس مجموعہ آیاتِ کریمہ میں غور و فکر کرسکتے ہیں، جو خواب کی تاویلی حکمت سے متعلق ہے، اور وضاحت کے لئے دین کی کتب عالیہ کا بھی مطالعہ کرسکتے ہیں۔
۲۔ کینڈا، مونٹریال، جمی جناح کے گھر میں ہم چند روحانی احباب کسی شام کے وقت مل کر حسبِ معمول پروردگارِ عالمین کو یاد کرتے تھے، عزیزوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی، مگر میرے یقین کے مطابق ہر فرد بحدِّ قوّت ایک ارضی فرشتہ اور عاشقِ نور تھا، اس پر مزید یہ دعا کی گئی کہ : “یا الہٰی! تو اپنی قدرتِ کاملہ سے مشرق و مغرب کے ہمارے جملہ عزیزان کی پیاری اور پاکیزہ روحوں کو اس چھوٹی سی محفل میں یک جاکردے!” یقیناً یہ عاجزانہ دعا خداوندِ عالم کے حضور میں قبول ہوئی ہوگی کہ
۸۴
ہم سب کافی دیر تک دریائے ذکر وبندگی میں اس طرح ڈوب گئے کہ دنیا ومافیہا اس دوران ہم سے قطعاً فراموش ہوگئی، یوں محسوس ہورہا تھا کہ ہمیں منزلِ فنا مل رہی ہے، ہر فرد پگھلا ہوا نظر آتا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ یارانِ محفل اس معجزاتی بزمِ ذکر کو ہمیشہ کے لئے یاد رکھیں گے۔
۳۔ مجھے خیال آتا ہے کہ شاید زبانی تذکرے کے علاوہ کسی خط میں بھی معجزۂ رباب کا ذکر ہوا تھا، کہ شدید مصیبت کے وقت رباب نے کیا کچھ کہا، چنانچہ یہاں اس چھوٹی سی مجلس میں گویا رباب بھی اپنی خاص زبان میں خدا کی حمد و ثناء کا گیت گارہا تھا، جب محفل ختم ہوگئی تو عزیزان اپنے اپنے مقام کی طرف چلے گئے، اور یہ عاجز و ناتوان درویش خدا کا بابرکت نام لے کر سوگیا، رات کے آخری حصے میں بحالتِ خواب خود کو اپنے گاؤں حیدر آباد (ہونزہ) میں پاتا ہوں، اور کسی بڑے انتظام کے بغیر مولانا شاہ کریم الحسینی حاضرِ امام صلوات اللہ علیہ کی یکایک تشریف میری داہنی طرف سے آتی ہے، میں اپنی زمین کے اس کھیت میں رخ بشمال کھڑا ہوں، جو میرے بھائی لطفِ علی کے حصے میں شامل ہے، عجب ہے کہ وہاں پر اور کوئی نہیں ہوتا، مگر میرے عزیز بچوں کی والدۂ محترمہ عائشہ بیگم اور دوسری ایک نیک خاتون، جو میری بیگم کے آبائی خاندان (وزیر کذ) سے ہیں، میرے سامنے ہوتی ہیں۔
۸۵
۴۔ بندۂ کمترین کے ہاتھ میں وہی رباب تھا، جو اس شام کی مجلس میں بجایا گیا، جس کو میرے عزیز دوست محمد رضا بیگ عاشقِ رباب نے بنایا تھا، جو مسگار میں رہتے ہیں، مولا پاک بڑے خوش تھے، تبسم اور خوشنودی کی شعاعیں برسائی گئیں، اور موضوع فرمانِ اقدس رباب ہی تھا، فرمایا کہ: “اِدھر دو۔” تو بندۂ ناچیز نے بصد احترام رباب کو مولا کے حضور پیش کیا، حاضر امامؑ نے رباب کو دستِ مبارک میں لے کر چند لمحوں تک اس کا معائنہ فرمایا، بعد ازان فرمانے لگے کہ: “خوب ہے، اس کو مزید ترقی دو اور اگر اس کے بنانے کیلئے خرچے کی ضرورت ہو، تو میں اپنے خزانے ہی سے دیدوں گا۔”
۵۔ میں شادمانی اور حیرت کے عالم میں کھڑا تھا کوئی جواب مجھ سے نہیں بنتا تھا، اتنے میں عائشہ بیگم نے جرأت کی، اور مجھ سے کہا۔: “ارے تم مولا باپا سے صرف دعا اور روحانی تائید مانگو، اور یہ عرض کرو کہ اس چھوٹے سے کام کے لئے مولا سے خرچہ لینا ٹھیک نہیں، حاضر امام نے رباب کی اہمیّت کے پیشِ نظر یوں فرمایا ہے۔”
۶۔ اس عجیب نورانی خواب کے بعد میں بہت ہی خوش اور مطمئن تھا، اور اس کی تاویل کے لئے کئی طرح سوچا تو خاطر خواہ اور مفید نتائج سامنے تھے:
(الف) میری عقیدت اور دانست کے مطابق کسی پیش آنیوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولائے پاک نے رباب کو جہاں کہیں بھی ہو، ایک بار پھر بابرکت بنادیا، اور یہ اشارہ فرمایا کہ، وہ ان سب عاشقوں سے بہت راضی ہیں، جو
۸۶
رباب کے ساتھ منقبت پڑھتے ہیں اور سنتے ہیں، اور اس میں اشارہ بھی ہے کہ رباب کی شکل میں ترقی ہو۔
(ب) بیوی کا درجہ جسمانی طور پر کچھ بھی ہو، مگر اس کی روح کسی فرشتے کی نمائندگی کرسکتی ہے، کیونکہ ارواح، مومنین و مومنات ہی سے فرشتے بنتے ہیں۔
(ج) ناموں کی بھی تاؤیل ہوا کرتی ہے، لہٰذا لطفِ علی کے کھیت کا مطلب ہے: علیؑ کی مہربانی کی زمین (یعنی زمینِ دین=زمینِ روحانیّت) جس میں مولا تشریف فرما ہوگئے، اور اگر محمد رضا بیگ عاشقِ رباب کے نام کو بھی اس تاویل میں لیا جائے تو نور کی مدح سرائی کرنے والوں سے پیغمبرِ اکرمؐ اور امامِ برحق کے راضی ہوجانے کے معنی ہوجاتے ہیں۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
والسلام
نصیرؔ ہونزائی
مونٹریال۔ کینڈا
۱۷۔ مئی ۱۹۸۶ء
۸۷
چند چوٹی کی حکمتیں
۱۔ حکمتِ ظلّ:
ترجمۂ آیۂ کریمہ: اور اللہ نے بنا دیئے تمہارے واسطے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے سائے (۱۶: ۸۱) یعنی بہشت ہو یا دنیا، اس میں سایہ کے بغیر کوئی چیز نہیں، لیکن درحقیقت سائے درجات پر ہیں، جیسے سورج، چاند وغیرہ کا سایہ عکس کہلاتا ہے، جو تاریک نہیں، بلکہ روشن ہوتا ہے، چنانچہ انسان بھی اپنی انائے علوی کا سایہ ہے، اسی طرح یہاں جو مقدّس موسیقی ہے، وہ جنّت کے نغمۂ لاہوتی کا سایہ ہے۔
۲۔ حکمتِ ظلِّ الہٰی:
قدیم زمانے میں کسی مسلمان بادشاہ کو بھی ظلِّ الہٰی کہا جاتا تھا، معلوم نہیں یہ عقیدت تھی یا خوش آمدی، بہرکیف یہ تصوّر اصل حقیقت کیلئے ایک جستجو ہے، یا ایک سوال کہ آیا دنیا میں ظلِّ الہٰی یا ظلِّ سبحان (یعنی خدا کا سایہ) موجود ہوتا ہے، یا نہیں؟ اس کے جواب کے لئے یوں
۸۸
عرض کرنا ہوگا کہ جی ہاں، مظہرِ نورِ حق کا دوسرا نام ظلِّ الہٰی ہے، چنانچہ ارشادِ باری کا ترجمہ ملاحظہ ہو: (اے رسولؐ!) کیا تم نے اپنے ربّ کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے کیونکر سایہ کو دراز کردیا، اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا کردیتا، پھر ہم نے آفتاب کو اس کا رہنما بنا دیا، پھر ہم نے اسے آسانی سے مٹھی میں اپنے پاس لے لیا (یعنی لپیٹ لیا، ۲۵: ۴۵)
جب آنحضرتؐ کو معراج میں رؤیّت (دیدار) ہوئی تو حضورؐ نے دیکھا کہ ظلِّ الہٰی (نورِ امامت) علمِ روحانی اور جسمِ ابداعی (۰۲: ۲۴۷) کے توسط سے آفاق و انفس پر محیط تھا، اور اللہ تعالیٰ بار بار نورِ منزل کو پھیلاتا بھی ہے، اور لپیٹتا بھی ہے۔
۳۔ حکمت علّیّین:
علّیّین: علی کی جمع ہے، یہ جنّت کے اعلیٰ ترین درجہ کا نام ہے، لیکن جنّت اور اس کی ہر چیز عقل و جان رکھتی ہے، لہٰذا علّیّین سے انبیاء و أئمّہ علیہم السلام کا نُور مراد ہے، یہ نور مجموعۂ انوار بھی ہے، اور نورِ واحد بھی، عالمِ شخصی میں اس نور کا مقام پیشانی ہے، اس نور میں نیکو کاروں کا نامۂ اعمال موجود ہے، جس کو دنیا میں صرف مقربین ہی دیکھ سکتے ہیں (۸۳: ۱۸ تا ۲۱)۔
۸۹
۴۔ حکمتِ نامۂ اعمال:
سورۂ حاقہ (۶۹: ۱۹) میں ہے: (ترجمہ) اس وقت جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: لو دیکھو، پڑھو میرا نامۂ اعمال (۶۹: ۱۹) اس ربّانی تعلیم سے یہ بات یقینی ہوگئی کہ مقربین اور اصحاب الیمین کے نامہ ہائے اعمال اہلِ بہشت پر ظاہر کئے جائیں گے، اور اس مشاہدے سے سب کو خوشی ہوگی۔
۵۔ حکمتِ حشر:
صورِ اسرافیل کی آواز پر آسمان زمین کی تمام چیزیں بصورتِ ذرّات عالمِ ذرّ میں یکجا ہوجاتی ہیں، اس انتہائی عظیم واقعہ کی کلّی مثالیں بھی ہیں، اور جزوی مثالیں بھی، چنانچہ ایک کلّی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قبضۂ قدرت میں ساری کائنات کو لپیٹ لیتا ہے (۲۱: ۱۰۴) جس کی ایک جزوی مثال یہ ہے: وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ= اور جس وقت جنگلی جانور اکٹھے کئے جائیں گے (۸۱: ۰۵) یعنی قیامت کے دن عالمِ ذرّ میں دوسری تمام چیزوں کے ذرّات کے ساتھ ساتھ جنگلی جانوروں کے نمائندہ ذرّات بھی جمع کئے جائیں گے۔
اسی طرح سورۂ نحل میں ہے: وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ
۹۰
الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ (۲۷: ۱۷) ترجمۂ عام: اور سلیمانؑ کے سامنے ان کے لشکر جنّات اور آدمی اور پرند سب جمع کئے گئے تھے، پھر وہ ترتیب کے ساتھ کھڑے کئے جاتے تھے۔ترجمۂ خاص باعتبارِ عالمِ ذرّ: اور سلیمانؑ کے لئے ان کے لشکر جنّات اور آدمی اور پرند سب (بصورتِ ذرّات) جمع کئے گئے، پھر وہ (روحانی جہاد کے لئے) تیار کئے گئے، اس حکمت کی کلید لفظِ حُشِرَ میں موجود ہے، جس میں ذاتی قیامت(حشر) کے معنی پوشیدہ ہیں۔
ترجمۂ خاص باعتبارِ عالمِ ابداع: اور سلیمانؑ کے واسطے ان کے ذرّاتی لشکر جنّات اور آدمی اور پرند سب کے سب (بشکلِ جثۂ ابداعی) جمع کئے گئے، پھر روحانی جہاد کا منصوبہ ہوا۔ اب حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کے پاس صرف ایک زندہ مجموعہ تھا جو وہی سب کچھ تھا، یعنی ایک اکیلا جثّۂ ابداعیہ لشکرِ جنّات بھی تھا، عسکرِ انسانان بھی، اور فوجِ پرندگان بھی تھا۔
۶۔ حکمتِ یاجوج و ماجوج:
یہ وہی زندہ ذرّات ہیں، جن کا تعلق عالمِ ذرّسے ہوا کرتا ہے، قرآن و حدیث میں جس طرح یاجوج و ماجوج کا ذکر آیا ہے، وہ تنزیلی مثال ہے، چنانچہ یاجوج و ماجوج عام روحانی لشکر ہیں، جو عالمِ شخصی
۹۱
کی زمین میں فساد کرتے ہیں، تاکہ اس تخریب کے فوراً بعد تعمیرِ نو شروع ہوجائے، لیکن جہاں جہاں روحانی انقلاب کی تیاری نہ ہو، وہاں اس لشکر کو روکنا پڑتا ہے، لشکرِ ذرّات جن بلندیوں (۲۱: ۹۶) سے دوڑتے ہوئے آنیوالے ہیں، وہ امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام کے مراتبِ علمی ہیں، یعنی آپؑ کے روحانی اور جسمانی حدود، کیونکہ دنیا میں بہت بڑی اہمیت والے تین سو تیرہ (۳۱۳) مومنین ہر وقت موجود رہتے ہیں، اور ۴۷ (سینتالیس) امیدوار ہیں، تاکہ جب جب ۳۱۳ میں سے کسی کو مزید روحانی ترقی ہو، یا کوئی دنیا سے گزر جائے تو ۴۷ میں سے کسی کو اس کی جگہ پر لایا جائے، اور اگر ۳۱۳ کے ساتھ ۴۷ کو جمع کیا جائے تو ۳۶۰ کا عدد بن جاتا ہے، جو بارہ جزائر (۱۲x ۳۰ = ۳۶۰) کے داعیوں کا عدد ہے۔
۷۔حکمتِ کل شیٔ:
قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں کل شی ( ہرچیز) کا ذکر آتا ہے، وہاں ایسا نہ ہو کہ آپ ادنیٰ چیزوں کا تصوّر کریں اور اعلیٰ چیزوں کو بھول جائیں، مثال کے طور پر سورۂ یسٰین (۳۶: ۱۲)میں ہے کہ خدا نے ہر چیز امامِ مبین میں گھیر کر رکھی ہے، سو یہاں یہ سوچنا ہوگا کہ شی کا اطلاق کن کن مخلوقات پر ہوتا ہے، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ عرش و کرسی، اور قلم و لوح جیسی انتہائی عظیم چیزیں بھی امامِ مبین میں محدود ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی
۹۲
تجلّی بھی اسی آئینۂ خدا نما میں ہوتی رہتی ہے، اور اس حقیقت کے ثبوت پر دلائل بہت زیادہ ہیں۔
۸۔ حکمتِ دیدار:
بعض حضرات کا عقیدہ ہے کہ اللہ پاک کا دیدار ممکن ہی نہیں، بعض کا کہنا ہے کہ دیدارِ الہٰی صرف بہشت میں ہوگا، اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چشمِ بصیرت پیدا کرلو، اور دونوں جہان میں جلوۂ جانان کو دیکھو، کیونکہ یہ ناممکن بات ہے کہ ہم یہاں چشمِ معرفت حاصل نہ کریں، اور آخرت میں جاکر بڑی سے بڑی بصری نعمتوں کی لذّت و شادمانی کو پائیں (۱۷: ۷۲) پس قرآنِ پاک میں جگہ جگہ دیدارِ خداوندی کا ذکر آیا ہے۔
۹۔ حکمتِ سعی:
سعی کے معنی ہیں: محنت، دوڑ، کوشش، کمائی، حضرتِ ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السّلام امام اور وارثِ امام کے دونمونے تھے، چنانچہ جنابِ اسماعیلؑ کو اسمِ اعظم دیا گیا، آپ نے اس میں ترقی کی، اور جب روحانیّت میں اپنے والد کے ہمراہ سعی کرنے لگے، یعنی جب ذکر خود کار ہوگیا، اور اسرافیلی و عزرائیلی معجزات کا سلسلہ شروع ہوا، تو حضرتِ ابراہیمؑ نے کہا، بیٹا! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں
۹۳
ذبح کررہا ہوں (سورۂ صافات میں دیکھ لیں: ۳۷: ۱۰۰)۔
سعی (دوڑنا) ظاہر کے علاوہ منازلِ روحانیّت میں بھی ہے، اور مراتبِ عقلانیّت میں بھی، جس کے معنی ہیں برق رفتاری سے آگے بڑھ جانا، یہاں یہ راز بڑا عجیب اور قابلِ توجہ ہے کہ حضرتِ اسماعیلؑ کی قربانی تین طرح سے ہوئی تھی:
اوّل: خواب میں، جس کا ذکر حضرتِ ابراہیمؑ نے کردیا، اور بہت ممکن ہے کہ حضرتِ اسماعیلؑ نے خواب میں خود کو ذبیح (ذبح کیا گیا) دیکھا ہو۔
دوم: آن جناب کی ظاہری اور جسمانی قربانی کہ جس کو خدا نے قبول بھی فرمایا، اور گویا اپنی رحمت سے ان کو زندہ بھی کردیا، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ اسی نوعیت کی ظاہری قربانی کی بناء پر سب آپؑ کو ذبیح اللہ کہتے ہیں۔
سوم: بڑی قربانی (ذبحٍ عظیم) یہ ان کی نفسانی موت کی قربانی تھی، پس یہ حکمت خوب یاد رہے کہ حضرتِ اسماعیلؑ کی پہلی قربانی خواب میں ہوئی، دوسری بیداری میں، اور تیسری قربانی روحانیّت میں تھی، اور یہی سب سے عظیم ہے۔
۹۴
۱۰۔ حکمتِ ذبحٍ عظیم:
تین قسم کی جانی قربانیوں کی حکمت کے بعد اب ہمیں ذبحٍ عظیم کے بارے میں بھی سوچنا ہے کہ آیا اس میں بھی کوئی بڑی تعداد پوشیدہ ہے یا یہ صرف ایک ہی قربانی ہے؟ چنانچہ معلوم ہوا ہے کہ ذبحٍ عظیم بے شمار روحانی قربانیوں کا مجموعہ ہے، کیونکہ یہ ایک نہایت عجیب و غریب روحانی عمل ہے، جس میں صورِ اسرافیل اور خنجرِ عشق کے تحت بار بار قربان ہوجانا اور بار بار زندہ ہوجانا پڑتا ہے، اور یہ سلسلہ تقریباً ایک ہفتہ اور بارہ گھنٹوں تک جاری رہتا ہے، اور امامِ برحق صلواۃ اللہ علیہ و سلامہٗ کی یہ عظیم قربانی حسبِ مراتب سب کیلئے ہے۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۱۱۔ شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ
۲۴۔ جنوری ۱۹۹۴ء
۹۵
میری شاعری میں موسیقی کا تذکرہ
۱۔ زندہ پُریلو:
پُریل یا پُریلو (گبی) کا اردو نام بانسری ہے، دنیا کی ہر پُریلو بے جان ہے، اس لئے وہ کبھی ازخود نہیں بج سکتی، لیکن روحانی گبی وقت آنے پر خود بخود بجنے لگتی ہے، اگرچہ اس میں اور اِس میں آسمان زمین کا فرق ہے، تاہم روحانیّت اور بہشت میں جتنے ممثولات ہیں، ان کی پہچان کے لئے دنیا میں مثالیں موجود ہیں، اور یہی نظامِ فطرت ہے، چنانچہ صورِ اسرافیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا:
معشوق نصیرؔر نُمہ بَی زندہ پُریلو
روݺ بُرغوݺ سِر ہݵن
شرئیشݺ فرشتا روݺ باجا تِل اکولی
روݺ حرکتݺ گنݺ ہݵر
۹۶
ترجمہ: نصیر کے لئے محبوبِ جان کا ایک ظہور زندہ بانسری میں بھی ہے (اے سامع) روحانی بگل کے راز کو جان لے، فرشتۂ شادمانی اور سازِ روحانی کو بھول نہ جانا، اور اپنی روح کو حرکت میں لانے کے لئے آنسو بہانا۔
۲۔ بریشو برنڎل:
بروشسکی شعر ہے:
جا نرݺ کلمݣ ہین بجونݣ ہینس ان ڎم
جا بریشو بزنڎل اوغرا اس لو بم اݣگوؤ
ترجمہ: (اے جانِ جان!) تونے ہی مجھے قابلِ رحم گریہ و زاری اور گنگناہٹ سکھادی ہے، اے میرے دل کے مکین! تو نے ہی میری رگوں کے تاروں کو بجایا ہے۔
۳۔ شرائیشے طبُل:
طبل (ڈھول) کے لئے اصل بروشسکی لفظ ڈڈݣ ہے، تاہم اس زبان میں طبل کا لفظ بھی داخل ہوچکا ہے، چنانچہ شعر ہے:
شرائیشے طبل نیغر نصیر خوشیسے علم دیو
جا چھنم اسُ لو نورے ہلنڎ نے بسہ ئیڎم
۹۷
ترجمہ: اے نصیر! تو مسرّت و شادمانی کا ڈھول بجا بجا کر فتح و کامیابی کا پرچم بلند کرلے، کیونکہ میں نے اپنے تنگ و تاریک دل میں اب ایک نورانی چاند کی منزل دیکھ لی ہے۔
۴۔ روے شلے بزم لو ستار:
میں نے بچپن ہی میں دیکھا تھا کہ بعض افراد بڑے شوق سے ستار بجاتے ہیں، پس میں نے اس کا ایک اعلیٰ تصوّر کیا اور کہا:
اَس لو غرݺ جیݺ یار روݺ شلݺ بزمُ لو ستار
عشقݺ فرشتا اِچھݳر! جنتݺ حالݣݺ کتاب
ترجمہ: اے یارِ جانی! میرے دل میں کلام کر، تو روحانی محبّت کی محفل کا ستار ہے، تو فرشتۂ عشق (اسرافیلؑ) کی آواز یعنی نغمہ ہے، اور جنّت کے حالات بتانے والی (زندہ) کتاب ہے۔
۵۔ شُلے ہریپ:
ہریپ آوازِ ساز کا نام ہے، یعنی دھن، سر، نغمہ، چنانچہ ہریپ کا ذکر اس شعر میں ہے:
شلے ہریپ انے فوے انے المیݽے بی واخالی گبی!
نظمے دلتشکو مک ان ڎم بیسے واخالی ڈبی!
۹۸
ترجمہ: (شاعر اپنے آپ کو کہتا ہے): اے خالی خولی بانسری! یہ نغمۂ عشق اسی کی پھونک اور انگلیوں کی برکت سے بن رہا ہے، اے کھوکھلی ڈبیا! نظم کے یہ خوبصورت موتی (تجھ سے نہیں) اسی سے ہیں۔
۶۔ دوتارے ارشیم:
ستار (سہ ۳ تار) کے پہلے صرف تین تار ہوا کرتے تھے، اس لئے ستار کہلایا، دوتار کو میں نے یار قند اور کاشغر میں دیکھا، جس کے صرف دو تار ہوتے ہیں، چنانچہ دو تار پر یہ شعر ہے:
روݺ شہرݺ پادشا ہیہ شرئیش بُٹن اکھݶݽ
جا جیݺ بزمݺ مجلسݺ دوتارݺ ارشیم
ترجمہ: شہرستانِ روح کی سلطنت کی شادمانی بڑا عجیب و غریب ہے، میں بزمِ روحانی کی محفل کے نغمۂ دوتار سے مست ہوگیا۔
۷۔ شرائیشݣے مزمار:
مزمار (عربی)بانسری، باجہ، نَے، شعر ہے:
روݺ بزمݺ عجب جیند و ایم ھینݣے باجان
شرائیشݣݺ مزمار بیشل کلی تل ایالجم
ترجمہ: بزمِ روحانی میں ایک عجیب زندہ اور خوش الحان ساز بج رہا تھا، میں اس مسرّت انگیز ساز کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔
۹۹
۸۔ عشقے بُرغو:
بُرغو یا تُرُم یا تُرنرسنگھا کو کہتے ہیں، اور یہی بگل بھی ہے، اور شعر میں بُرغو سے صورِاسرافیل مراد ہے، وہ شعر یہ ہے:
عشقݺ بُرغو ولو فنا ھین دُسُو ژولے اسرافیل
جارفنا عیشے اُیم روݺ بسا پائندہ منݽ!
ترجمہ: آجا اے اسرافیل! نا قورِ عشق سے نغمۂ فنا بجا، مجھے فنا کی با راحت اور پر لذّت روحانی منزل ہمیشہ میسر رہے!
۹۔ اسے باجا سݳ تھپ:
شعر ہے:
جا رݣݵلݸ گݷݸمارݸ اسقُر ڈوݣ کݺ اس ڎم اِیݽ اپا
بُٹ اُیم نرݺ کاٹݸ ہینن سݵبی اسݺ باجا سݳ تھپ
ترجمہ: میرا رنگین اور بارونق پھول (محبوب) میرے دل سے لمحہ بھر کے لئے بھی دور نہیں، (اس لئے اس کے عشق میں) میرے دل کا ساز شب و روز ایک بہت ہی شیرین اور درد انگیز ترانہ گارہا ہے۔
۱۰۰
۱۰۔ امامے شلے غرݣ میمیٔ:
شعر اس طرح ہے:
مُرید خوش نُمݳ ہلݣ میئمی اِمامݺ شُلݺ غرݣ میئمی
حقیقتݺ خاص برِݣ میئمی محبان شکرِ مولانا
ترجمہ: (مولائے پاک کی تشریف آوری سے) مرید شادمان ہو جائیں گے اور خوشی کے نعرے بلند ہوں گے، امامِ عالی مقامؑ کی محبت کے گیت گائے جائیں گے، اور علمِ حقیقت کی خاص خاص باتیں بتادی جائیں گی، پس اے دوستانِ علی! تم مولا کی شکر گزاری گرو۔
۱۱۔ بُرغوایغرچی:
یہ شعر بھی صورِ قیامت کے بارے میں عالیشان ہے:
شل گویوݺ قیامتݺ گنݺ بٹ اُلچن ایچمے بان
جا عشقݺ فرشتار ژو ایسوین بُرغو ایغرچی
ترجمہ: اہلِ محبّت شدّت سے قیامت کا انتظار کررہے ہیں، میرے فرشتۂ عشق کو بلالو تاکہ وہ صور بجائے۔
۱۰۱
۱۲۔ ان نورے پُریل:
اس شعر میں بھی آپ خوب غور کریں:
ژولے ذکرݺ حجابُ لو دُ کویل صورِ سرافیل
ان نورݺ پریل، شل گویومزمارݺ نݺ مست بان
ترجمہ: (اے عزیز ساتھی!) آجا ذکر و عبادت کے حجاب میں نغمۂ صورِ اسرافیل کو سن لے، وہ خود زندہ نور کی بانسری ہے، اس لئے عشاق اس ساز و سوز کی وجہ سے مست ہیں۔
۱۳۔ برغوݺ غربٹ ایم:
مجھے یقین ہے کہ آپ کو ان اشعار سے روحانی خوشی حاصل ہوگی، کیونکہ ان میں دراصل سلطانِ دین کے روحانی معجزات ہی کا تذکرہ ہے، جیسے یہ شعر ہے:
ژوین لݺ قیامت منی ذکرݺ دشرگٹی منین
ذاکرݺ التمل لو برغوݺ غر بٹ ایم
ترجمہ: (لوگو!) آؤ! قیامت برپا ہورہی ہے، اس لئے مقامِ ذکر پر جمع ہوجاؤ، کیونکہ ذاکر کے کان میں نغمۂ ناقور بیحد شیرین ہے۔
۱۰۲
۱۴۔ بٹ ایم نغمان جون:
اس شعر میں انسانی زندگی کی تشبیہہ و تمثیل بڑی خوبی کے ساتھ نغمۂ ستار سے دی گئی ہے، ملاحظہ ہو:
زندگی گویا ستار نݺ بٹ ایم نغمان جون
راحتݣ بڎ ازل جون، داغم کے فکرݣ بم جون
ترجمہ: زندگی مثلاً کسی ستار کے ایک بہت ہی شیرین و دلپذیر نغمے کی طرح ہے، چنانچہ نغمۂ زندگی کے لئے راحتیں زیر کا کام دیتی ہیں، اور غم و افکار بم کی طرح کار آمد ہیں۔ کسی بھی ساز کا کوئی کامل اور دلکش نغمہ و ترانہ زیر و بم کے بغیر وجود میں آہی نہیں سکتا۔
الغرض یہ سچ بات ہے کہ ظاہراً و باطناً موسیقی سے متاثر رہا ہوں، اس لئے یہ لازمی امر ہے کہ میری کتابوں میں دیگر بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ موسیقی کا تذکرہ بھی ہو، واضح رہے کہ میں نے اس کتاب سے پہلے بھی موسیقی پر بعض مقالے لکھے ہیں، ان شاء اللہ ان کا حوالہ اس کتاب کے دیباچے میں دیا جائے گا۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی۔ کراچی
پیر ۱۸۔ شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ
۳۱۔ جنوری ۱۹۹۴ء
۱۰۳
ساٹھ سوال
قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ (۰۵: ۱۵)
ساٹھ سوال
بچوں کے لیے سوالات و جوابات
حکمتِ نباتات
(انتساب)
۱۔ سورۂ نمل (۲۷: ۶۰) میں خوش منظر اور مسرت بخش باغوں کا ذکر آیا ہے (حَدَآىٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍۚ) یہ حسین و جمیل باغات جسم، روح اور عقل کے تین مقامات پر موجود ہیں، مگر ان میں اعلیٰ و ادنیٰ کا بے انتہا فرق پایا جاتا ہے، ظاہری باغ و گلشن اپنے خوبصورت اور پُربہار پھلوں اور پھولوں کے ساتھ کتنے جاذبِ نظر اور دلکش ہوتے ہیں کہ ہر روز آپ ایسے مناظر کا نظارہ کرتے رہتے ہیں، پھر بھی جی نہیں بھرتا، یہ واقعہ کیوں ایسا ہے؟ کیا آپ نے کبھی اس بارے میں غور و فکر کیا ہے؟ شاید سوچا نہیں ہے۔
۲۔ دنیا کے باغ و بوستان اور ان کی حسین و دل آویز چیزیں زبانِ حال سے کہتی رہتی ہیں کہ اے انسان! اچھی طرح سے دیکھو اور خوب غور کرو کہ ہم صرف مثالیں اور دلیلیں ہیں، اور ممثولات و مدلولات عالمِ روحانی میں ہیں، اور اعلیٰ نعمتیں بھی وہی ہیں، اس لئے اصل خوشی و لذّت بھی انہی میں ہے، پس تم مثال سے ممثول اور دلیل سے مدلول کی طرف جانے میں کامیاب
۳
ہو جاؤ۔
۳۔ سورۂ نوح (۷۱: ۱۷) میں ہے: اور اللہ نے تم کو بطورِ نبات زمین سے اُگایا۔ نیز حضرتِ مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں ارشاد ہے: اور اس کو ایک اچھی نبات کے طور پر اُگایا (۰۳: ۳۷) یعنی علم الیقین سے دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ والدین نباتات میں سے کھاتے ہیں، جس سے نطفہ بنتا ہے، اور اس سے اولاد پیدا ہو جاتی ہے، عین الیقین سے دیکھا جائے تو روحانیّت کے پھل، پھول، اور ہر قسم کی حسین ہریالی نظر آتی ہے، یہ اشارہ ہے کہ مومن مرتبۂ روحانیّت پر اپنے آپ کو اُگتے ہوئے دیکھ رہا ہے، اور اگر حق الیقین سے دیکھا جائے تو مرتبۂ عقل پر بھی زمین سے انسان کے اُگنے کی مثال موجود ہے۔ کیونکہ وہ المثل الاعلیٰ (۳۰: ۲۷) اور نمائندۂ کلّ ہے، جس میں تمام مثالیں سمیٹی ہوئی ہیں، اس لئے اس کا عالم گیر اشارہ بڑا عجیب و غریب ہے۔
۴۔ انتساب: نصیر فیملی کلینک اور نصیر میڈیکل سنٹر اینڈ میٹرنٹی ہوم کے مالک جناب ڈاکٹر رفیق جنت علی خانۂ حکمت کے چیف سیکریٹری بھی ہیں اور ہمارے میڈیکل پیٹرن بھی، ان کی باسعادت بیگم محترمہ ڈاکٹر شاہ سلطانہ خانۂ حکمت برانچ کریم آباد کی چیئرپرسن بھی ہیں اور میڈیکل پیٹرن بھی، ہمارے ان دونوں عزیزوں کو خداوند قدّوس نے اخلاقِ حسنہ، ایمان، ایقان، تقویٰ، علم و دانش، اور دینداری کی دیگر تمام صفات سے سرفراز فرمایا ہے، الحمد للہ ربّ العٰلمین۔
۴
۵۔ مکانی بہشت اور لامکانی بہشت (انتساب) کے عنوان کے تحت ان کے دونوں پیارے بچوں کا ذکرِ جمیل ہو چکا ہے، وہ بہت ہی عزیز بچے گلاب خانم رفیق اور شفیق ابنِ رفیق ہیں، ہم سب کو بچوں سے شدید پیار کا تجربہ ہے کہ وہ نورِ نظر اور لختِ جگر ہوا کرتے ہیں، وہ اگر کچھ وقت کے لئے ہماری آنکھوں سے دور ہیں، تو ناخواستہ ہمارے دل میں دردِ محبت پیدا ہو جاتا ہے، چنانچہ ڈاکٹر رفیق اور ڈاکٹر شاہ سلطانہ اپنے پیارے فرزند (مرحوم) شفیق کو بھی بہت یاد کرتے ہیں، جس کی تاریخِ پیدائش ۳، دسمبر ۱۹۹۲ء اور تاریخِ وفات ۳، مارچ ۱۹۹۳ء ہے، اور یہ بھول نہ جانے کی علامت ہے کہ مرحوم شفیق کا پیارا نام موجودہ بچے کو دے کر یادگار بنایا گیا ہے۔
۶۔ یہاں ایک علمی و عرفانی بات یاد آئی: دنیا کی ہر حکومت اپنے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی سے ڈر رہی ہے، کیونکہ لوگ یکطرفہ سوچتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ایک زمانہ وہ بھی آنے والا ہے جس میں سیّارۂ زمین لوگوں سے بھر جائے گا، لیکن انہوں نے خدا کے قانون یعنی سنتِ الٰہی کو نہیں سمجھا، کہ اللہ اگر ایک دور تک اپنی چیزوں کو پھیلا دیتا ہے تو وقت آنے پر ان کو لپیٹتا بھی ہے۔
۷۔ لوگ قانونِ فطرت کے مطابق کثیف سے لطیف ہونے والے ہیں، تب وہ موجودہ غذاؤں سے بے نیاز ہو جائیں گے، ان کو خوشبوؤں کی شکل میں بہشتی طعام ملنے والا ہے، روحانی سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ناک سے داخل ہو جانے والی لطیف خوراک کی فراوانی ہے، پس اہلِ بہشت، فرشتے، جنّات وغیرہ یہی غذا سونگھ لیتے ہیں۔
ن۔ن۔ (ح۔ع۔)ھ، کراچی۔ بدھ ۱۵، محرم الحرام ۱۴۱۶ھ، ۱۴ جون ۱۹۹۵ء
۵
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خدا تعالیٰ
سوال نمبر ۱: اس جہان کو کس نے پیدا کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔
سوال نمبر ۲: اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟
جواب: اُس کو کسی نے پیدا نہیں کیا کیونکہ وہ ہمیشہ سے موجود ہے۔
سوال نمبر ۳: خدا تعالیٰ کہاں ہے؟
جواب: وہ ہر جگہ موجود ہے۔
سوال نمبر ۴: توحید کا مطلب بتاؤ؟
جواب: خدا تعالیٰ کو ایک ماننا۔
سوال نمبر ۵: اللہ تعالیٰ نے جنّ و انس کو کس کام کے لئے پیدا کیا؟
جواب: عبادت اور معرفت کے لئے۔
سوال نمبر ۶: عبادت اور معرفت سے کیا مراد ہے؟
جواب: عبادت کا مطلب اللہ تعالیٰ کی پرستش و بندگی ہے اور
۷
معرفت اُس کی پہچان کو کہتے ہیں۔
سوال نمبر ۷: کیا اللہ تعالیٰ عبادت کے لئے محتاج ہے؟
جواب: نہیں وہ کسی چیز کا بھی محتاج نہیں بلکہ عبادت میں انسان کی اپنی بہتری ہے۔
سوال نمبر ۸: جو شخص خدا کی ہستی سے منکر ہو اُسے کیا کہتے ہیں؟
جواب: ایسے شخص کو کافر کہا جاتا ہے۔
فرشتہ
سوال نمبر ۹: فرشتہ کسے کہتے ہیں؟
جواب: فرشتہ ایک روحانی مخلوق ہے۔
سوال نمبر ۱۰: فرشتے کیا کام کرتے ہیں؟
جواب: وہ اللہ تعالیٰ کے سارے روحانی امور انجام دیتے ہیں۔
سوال نمبر ۱۱: فرشتے کتنے ہیں؟ اور کہاں کہاں ہیں؟
جواب: وہ بے شمار ہیں، اُن کی تعداد اللہ تعالیٰ اور اُس کے خاص بندوں کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ آسمان و زمین پر چھائے ہوئے ہیں۔
سوال نمبر ۱۲: کیا فرشتے ظاہر بھی ہو سکتے ہیں؟
۸
جواب: جی ہاں، وہ خدا کے حکم سے ظاہر بھی ہو سکتے ہیں۔
سوال نمبر ۱۳: چند بڑے فرشتوں کے نام بتاؤ؟
جواب: جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السلام۔
سوال نمبر ۱۴: ان چار فرشتوں کو کس نام سے یاد کیا جاتا ہے؟
جواب: ان کو چار مقرّب کہا جاتا ہے۔
سوال نمبر ۱۵: چار مقرّب کا مخصوص کام کیا ہے؟
جواب: جبرائیلؑ وحی اور الہام کے کام پر مقرر ہے، میکائیلؑ رزق و روزی تقسیم کرتا ہے، اسرافیلؑ صور پھونکتا ہے، اور عزرائیلؑ روحوں کو قبض کر لیتا ہے۔
سوال نمبر ۱۶: کیا چار مقرّب سے بھی بڑے فرشتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ ان سے بڑے فرشتے ہیں۔
خدا کی کتاب
سوال نمبر ۱۷: اسلام کی دینی کتاب کونسی ہے؟
جواب: اسلام کی پاک کتاب قرآن شریف ہے۔
سوال نمبر ۱۸: قرآن شریف کس کا کلام ہے؟
۹
جواب: یہ اللہ تعالیٰ کا مقدّس کلام ہے۔
سوال نمبر ۱۹: قرآن مجید کس پیغمبر پر نازل ہوا ہے؟
جواب: یہ پُرحکمت کتاب حضرتِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر اتری ہے۔
سوال نمبر ۲۰: قرآنِ عظیم کو اللہ تعالیٰ نے کیوں بھیجا؟
جواب: مسلمانوں بلکہ تمام دنیا والوں کی ہدایت کے لئے۔
سوال نمبر ۲۱: قرآنِ کریم کا حقیقی معلم کون ہے؟
جواب: رسولِ اکرمؐ اور امامِ برحقؑ۔
سوال نمبر ۲۲: کیا قرآن سے قبل کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی تھی؟
جواب: جی ہاں، اس سے پہلے کئی آسمانی کتابیں نازل ہو چکی تھیں۔
سوال نمبر ۲۳: چند مشہور سماوی کتابوں کے نام بتاؤ؟
جواب: صحفِ ابراہیمؑ، توریتِ موسیٰؑ، زبورِ داؤدؑ، انجیلِ عیسیٰؑ اور فرقانِ محمدؐ رسول اللہ۔
سوال نمبر ۲۴: خدا کی جو کتابیں قرآنِ مجید سے پہلے نازل ہوئی ہیں، ان کے بارے میں ہمارا کیا عقیدہ ہونا چاہئے؟
جواب: عقیدہ یہ ہو کہ سب آسمانی کتابیں اللہ کی طرف سے ہیں، تا کہ لوگوں کو ہدایت حاصل ہو، مگر اگلی کتابوں میں تحریفیں کی گئیں، اس لئے قرآن نازل ہوا، تا کہ سب لوگ اس کے
۱۰
احکام پر عمل کریں۔
رسولؐ
سوال نمبر ۲۵: رسول کسے کہتے ہیں؟
جواب: رسول پیغامبر کو کہتے ہیں یعنی وہ انسانِ کامل جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچا دیتا ہے۔
سوال نمبر ۲۶: دنیا میں کل کتنے پیغمبر ہوئے ہیں؟
جواب: دنیا میں کل ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ہیں۔
سوال نمبر ۲۷: اس دنیا میں سب سے پہلے کونسا پیغمبر آیا؟
جواب: حضرتِ آدم علیہ السّلام۔
سوال نمبر ۲۸: سب سے آخری پیغمبر کون ہے؟
جواب: حضرتِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔
سوال نمبر ۲۹: چند مشہور پیغمبروں کے نام بتاؤ؟
جواب: حضرتِ آدمؑ، حضرتِ نوحؑ، حضرتِ ابراہیمؑ، حضرتِ موسیٰؑ، حضرتِ عیسیٰؑ اور حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔
سوال نمبر ۳۰: کیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد بھی کسی نبی کا آنا درست ہے؟
۱۱
جواب: نہیں نہیں آنحضرتؐ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی رسول۔
سوال نمبر ۳۱: کیا رسول کے لئے بھی ایک رسول آتا ہے؟
جواب: جی ہاں، شروع شروع میں ہر پیغمبر کے لئے حضرت جبرائیلؑ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغامبر بن کر آتا ہے۔
سوال نمبر ۳۲: آیا ایک وقت میں کئی پیغمبر ہوئے ہیں؟
جواب: جی ہاں، جیسے حضرتِ ابراہیم اور حضرتِ لوط علیہما السلام ایک وقت میں تھے۔
امامؑ
سوال نمبر ۳۳:آنحضرت صلعم کی رحلت کے بعد لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ کون سا ہے؟
جواب: قرآنِ پاک اور امامِ برحق علیہ السّلام۔
سوال نمبر ۳۴: کیا امام دنیا میں ہمیشہ حاضر اور موجود ہوتا ہے؟
جواب: جی ہاں، امام ہر زمانے میں حاضر اور موجود ہوتا ہے مگر آنحضرتؐ سے پہلے امامت کا کام پوشیدہ تھا۔
سوال نمبر ۳۵: اگر ایسا ہے تو بتاؤ کہ حضرتِ آدمؑ کے زمانے کا امام
۱۲
کون تھا؟ اور حضرتِ نوحؑ کے عہد میں کون تھا؟
جواب: حضرت آدمؑ کے زمانے میں مولانا شیثؑ امام تھا اور حضرتِ نوحؑ کے زمانے میں مولانا سامؑ۔
سوال نمبر ۳۶: کیا امام اللہ تعالیٰ اور رسول کی طرف سے مقرر ہوتا ہے یا کہ لوگوں کی طرف سے؟
جواب: امام ہمیشہ خدا اور رسول کی طرف سے مقرر ہوتا ہے۔
سوال نمبر ۳۷: کیا امام علیہ السلام پر بھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی ہے؟
جواب: دورِ امامت میں یہ امر غیر ضروری ہے۔
سوال نمبر ۳۸: کیا امام علیہ السّلام دنیا بھر کے لوگوں کو ہدایت دینے کا ذمہ دار ہے؟
جواب: نہیں وہ تو ظاہر میں صرف اُن لوگوں کو ہدایت دینے کا ذمہ دار ہے جنہوں نے اس کی امامت کا اقرار کر لیا ہے۔ باقی لوگوں پر حجت ہے کہ انہوں نے اس کی امامت سے انکار کیا۔
سوال نمبر ۳۹: کیا امامِ زمانؑ کی فرمان برداری واجب ہے؟
جواب: جی ہاں، امامِ زمانؑ کی فرمان برداری واجب اور فرض ہے۔ کیونکہ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے: “اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری کرو اور رسول کی فرمان برداری کرو اور امر
۱۳
والوں کی فرمان برداری کرو جو تم میں سے ہیں” (۰۴: ۵۹)۔ چنانچہ یہ امر والے مختلف زمانوں کے امام ہیں۔
سوال نمبر ۴۰: تمہارا حاضر امام کون ہے؟
جواب: ہمارا حاضر امام حضرت مولانا شاہ کریم الحسینی صلوات اللہ علیہ ہیں۔
متفرقات
سوال نمبر ۴۱: تعوذ کس چیز کا نام ہے؟
جواب: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم کو کہتے ہیں۔
سوال نمبر ۴۲: تسمیہ پڑھو؟
جواب: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔
سوال نمبر ۴۳: کلمۂ طیبہ کون سا ہے؟
جواب: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّد رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔
سوال نمبر ۴۴: تمہارے دین کا کیا نام ہے؟
جواب: میرے دین کا نام اسلام ہے۔
سوال نمبر ۴۵: تمہارے مذہب کا کیا نام ہے؟
جواب: میرے مذہب کا نام اسماعیلی ہے۔
۱۴
سوال نمبر ۴۶: دینِ اسلام کی نسبت سے تمہارا کیا نام ہے؟
جواب: اسلام کی نسبت سے میرا نام مسلمان ہے۔
سوال نمبر ۴۷: اسماعیلیت کے لحاظ سے تمہارا کیا نام ہے؟
جواب: اس اعتبار سے میرا نام اسماعیلی ہے۔
سوال نمبر ۴۸: پنجتنِ پاک کے نام بتاؤ؟
جواب: حضرتِ محمد مصطفیؐ، حضرتِ علی مرتضیٰ، حضرتِ فاطمۃ الزہراء، حضرتِ حسن اور حضرتِ حسین علیہم السلام۔
سوال نمبر ۴۹: لا فتیٰ پڑھ کر سناؤ؟
جواب: لَا فَتیٰ اِلَّا عَلِیّ وَ لَا سَیْفَ اِلَّا ذْوْالْفَقَارِ۔
سوال نمبر ۵۰: بحیثیتِ مسلمان ہم کس طرح سلام کریں؟
جواب: السَّلام علیکم۔
سوال نمبر ۵۱: اس سلام کا کیا جواب ملے گا؟
جواب: و علیکم السلام یا و علیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ۔
سوال نمبر ۵۲: بحیثیتِ اسماعیلی کس طرح سلام کیا جائے؟
جواب: یا علی مدد کہا جائے۔
سوال نمبر ۵۳: یا علی مدد کا کیا جواب ہونا چاہئے؟
جواب: اس کا جواب مولا علی مدد ہے۔
سوال نمبر ۵۴: کیا امامِ زمانؑ کے فرمان میں قرآنِ حکیم کی حکمت پوشیدہ ہے؟
۱۵
جواب: جی ہاں، امامِ زمانؑ کا ہر فرمان قرآن کی حکمتوں سے بھرا ہوا ہے۔
سوال نمبر ۵۵: کلمۂ شہادت پڑھ کر سناؤ؟
جواب: اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ لَا شَرِیْکَ لَہ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہ وَ رَسُوْلُہ۔
سوال نمبر ۵۶: کیا امامِ زمانؑ کو نور کہنا درست ہے؟
جواب: جی ہاں! امامِ زمانؑ خدا کی ہدایت کا نور ہے۔
سوال نمبر ۵۷: خدا تعالیٰ انسانوں کی رہنمائی کس طرح کرتا ہے؟
جواب: پیغمبروں اور اماموں کے ذریعے سے۔
سوال نمبر ۵۸: قرآنِ پاک کس زبان میں ہے؟
جواب: قرآنِ مجید عربی زبان میں ہے۔
سوال نمبر ۵۹: قرآن کی حقیقت کون سکھا سکتا ہے؟
جواب: امامِ زمان سکھا سکتا ہے۔
سوال نمبر ۶۰: ہم امامِ زمانؑ سے قرآن کی حقیقت کس طرح حاصل کر سکتے ہیں؟
جواب: امامِ زمانؑ کی حقیقی فرمان برداری کے ذریعے سے۔
اتوار، ۱۰ شعبان المعظم ۱۴۰۹ھ، ۱۹ مارچ ۱۹۸۹ء
۱۶
سراج القلوب
سراج القلوب
کلِّ کلّیات
انتساب
۱۔ عنوانِ بالا کا مطلب ہے کلّیات کا کلّ، یعنی جتنے الگ الگ مجموعے ہیں ان سب کا مجموعہ، یا عوالم کا عالم، کائناتوں کی کائنات، آسمانوں کا آسمان (فلک الافلاک) زمینوں کی زمین، خزانۂ خزائن، سرّ الاسرار، اور اسم الاسما ء (اسم الاکبر) یہ کلِّ کلّیات بصورتِ جوہر حظیرۃ القدس ہے، جو حضرتِ امامِ مبینؑ (۳۶: ۱۲) کے عالمِ شخصی کے عقلی آسمان میں ہے، کیونکہ خداوندِ دانا و قادر کائنات و موجودات کی جملہ اشیاء کو جس طرح مادّیت میں پھیلا دیتا ہے، اسی طرح روحانیّت کے بعد عقلانیّت کے جوہر (گوہر) میں لپیٹ لیتا ہے۔
۲۔ اے نورِ چشمِ من! یہ سچ ہے کہ عارف کی اپنی ہی معرفت میں حضرتِ ربّ اور مربوب کی معرفت آجاتی ہے، یہ خدائے بزرگ و برتر ہی کی عنایت ازلی ہے کہ وہی مہربانی اہلِ حقیقت کو بطریقِ باطن عرفانی معجزات کا مشاہدہ کراتا ہے، اہلِ دل جانتے ہیں کہ دیدارِ پاک کے سوا معرفت کا کوئی تصوّر ہی نہیں، اور یہ بھی یقینی حقیقت ہے کہ دیکھنے والوں نے معرفت کے جملہ عجائب و غرائب کو امام علیہ السّلام ہی کے نورِ اقدس
۳
میں دیکھا، ایسے میں حضرتِ امامؑ کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ عارفین پر قرآنی تاویل کے اسرار و رموز کو بتدریج ظاہر کر دے۔
۳۔ ایک مرتبہ آنحضرتؐ نے مولا علیؑ سے فرمایا: اِنَّ لَکَ بَیْتاً فِی الْجَنَّۃِ وَاِنَّکَ لَذُ وْ قَرْ نَیْھَا ۔ کہ جنّت میں تمہارے لئے ایک خاص مکان ہے اور تم اس امت کے ذوالقرنین ہو۔ رسولِ اکرمؐ کا کوئی بھی ارشاد علم و حکمت کے جواہر سے خالی نہیں، لہٰذا اس حدیث کے حکیمانہ اشارے اس طرح ہیں: ۔
)۱( یہ اس حقیقت کی ایک روشن دلیل ہے کہ حضرتِ ذوالقرنینؑ اور حضرت علیؑ دینی اور روحانی اعتبار سے ایک جیسے تھے، (۲) ان دونوں عظیم المرتبت ہستیوں کی مماثلت کا پہلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو قصّۂ قرآن ذوالقرنین سے متعلق ہے، وہی قصّہ مولا علیؑ کے بارے میں بھی ہے (۳) چونکہ علی علیہ السّلام کبھی ظاہری اور جغرافیائی طور پر مغرب و مشرق نہیں گئے تھے، اس لئے یقیناً یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ سفر اور سارا قصّہ روحانی اور تاویلی ہی ہے، جو ذوالقرنینؑ اور علیؑ کا مشترکہ قصّہ ہے (۴) ان تمام باتوں سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ ذوالقرنینؑ امام تھا یا حجاب (امامِ مستودع) یا خلیفہ، ورنہ حضرتِ مولاعلی صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہ کس طرح اور کیونکر کسی ظاہری بادشاہ کے مثیل ہو سکتے ہیں۔
۴۔ خانۂ حکمت کے نائب صدر نصر اللہ قمر الدین رحیم اور ان کی فیملی کے فرشتہ جیسے افراد اس قابل ہیں کہ میں بصد خوشی اپنی اس عزیز کتاب
۴
کو ان سے انتساب کرتا ہوں، اس گھرانے کی بیش بہا خدمات عرصۂ دراز سے جاری ہیں، نصر اللہ میرے کراچی کے خاص دوستوں میں سے ہیں، یہ دوستی علمی خدمت جیسی مقدّس چیز کی بنیاد پر قائم ہے، نصر اللہ بڑے دانشمند شخص ہیں، ان کو روحانی علم کی اہمیّت اور قدرو قیمت معلوم ہے، یہی سبب ہے کہ نہ تنہا آپ بلکہ آپ کی فرشتہ خصال بیگم امینہ نصراللہ بھی اور تینوں پیارے بچے بھی اس علم سے بے حد دلچسپی رکھتے ہیں۔
بچوں میں سے پہلے یاسمین کا نام آتا ہے، محفل میں ان کی شرافت کو دیکھ کر یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ خدا نے ان کی ایمانی روح کے ساتھ ایک فرشتہ کو بھی رکھا ہوگا، ان کی بہن فاطمہ بھی ایسی ہی ہیں، نوعمری کے باوجود دل میں آسمانی محبّت کا ایک طوفان، سبحان اللہ! یہی ایک خوبی بے شمار خوبیوں کا سرچشمہ ہے، نصر اللہ اور امینہ کا تیسرا پیارا بچہ امین محمد ہیں، یہ نام کتنا عالی اور پسندیدہ ہے، ان کی گفتگو اور شاعری سے بزرگی کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔
اے پروردگار ! تو ہمیں توفیق عطا فرما تا کہ ہم ایسی عاجزانہ دعا کر سکیں جو تیری بارگاہِ اقدس میں منظور و مقبول ہو! آمین!!
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۹؍ ذی قعدہ ۱۴۱۵ ھ ۱۰ ؍ اپریل ۱۹۹۵ ء
۵
آغازِ کتاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا (۳۳: ۴۵ تا ۴۶) اے پیغمبر! ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اور خدا کی طرف اسی کے اذن سے بلا نے والا (نورِ ہدایت کا) روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے ( سورۂ احزاب ۔ ۳۳: ۴۵ تا ۴۶)۔
۲۔ سراجِ منیر / چراغِ روشن:
اے نورِ عینِ من! میری باتوں کو کامل توجہ اور احساسِ ذمہ داری سے سن لینا ہے، کیا یہ سراجِ منیر (چراغِ روشن) سورج کے ساتھ ساتھ دنیائے ظاہر کی مادّی اشیاء پر روشنی ڈالنے کے لئے مقرر ہے یا عالمِ دین اور عالمِ دل کو منوّر کر دینے کے لئے؟ یہ سوال خود جواب بھی ہے، چراغِ روشن کا مطلب یقیناً نورِ ہدایت ہی ہے، تو کیا خدا کی خدائی میں بحقیقت دو چراغ یا دو نور ہوسکتے ہیں؟ اس کا جواب اہلِ معرفت کی طرف سے یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا نور ہمیشہ ایک ہی ہے، لیکن
۹
اس کے مظاہر اپنے اپنے وقت میں انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام ہوا کرتے ہیں، اسی معنیٰ میں فرمایا گیا: نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ (۲۴: ۳۵) نور پر نور ہے۔ یعنی سلسلۂ نور کی کڑی سے کڑی ملی ہوئی ہے۔
۳۔ سراجِ منیر / سراج القلوب:
اس میں کیا راز ہے کہ کتابِ ہذا کا نام “سراج القلوب” رکھا گیا؟ کیا اس میں آپ کا یہ مقصد ہے کہ آیاتِ نور کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے؟ خصوصاً آیۂ مصباح (۲۴: ۳۵) اور آیۂ سراج (۳۳: ۴۶) کی طرف؟ آیا یہ حقیقت ہے کہ اللہ، رسولؐ، اور امامؑ کا نور اصلاً ایک ہی ہے؟ کیا آپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آیاتِ نور اہلِ دانش کے نزدیک ہر طرح سے فیصلہ کن آیات ہیں؟ یہ سوالات بھی ہیں اور اشاراتی جوابات بھی۔
۴۔ مقامِ ہفت اسماء:
اگر قرآنِ حکیم کے کسی مقام پر پیغمبرِ اکرم صلعم کے اسمائے مبارک میں سے چند اسماء ایک ساتھ آئے ہیں تو اس میں علم و حکمت کا کوئی بڑا خزانہ ہوسکتا ہے، کیونکہ رسولؐ کے ہر بابرکت اسم میں نہ صرف آپؐ کی ذاتِ عالی صفات ہی کے کام کا بیان ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ آپؐ کے جانشین کا پر حکمت تذکرہ بھی ہے، چنانچہ سورۂ احزاب کی آیت ۴۵ اور ۴۶ کو ہم “مقامِ ہفت اسماء” کہہ سکتے ہیں، جہاں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سات مبارک ناموں کا ذکر فرمایا گیا ہے، اور وہ یہ ہیں: ۔
۱۰
۱۔ نبی ۲۔ رسول ۳۔ شاہد ۴۔ مبشر ۵۔ نذیر ۶۔ داعی ۔ ۷۔ سراجِ منیر۔ محبوبِ خدا سید الانبیاء و المرسلین کے ان پاک و پرحکمت اسماء میں عقل و دانش سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، عَلَی الخصوص سراجِ منیر میں، کہ یہ چراغِ روشن دراصل نورِ مطلق ہی ہے، جو عالمِ دین اور عالمِ شخصی کا خورشید انور ہے، جس سے چودہ طبق میں مسلسل نورِ ہدایت کی بارش برستی رہتی ہے۔
۵۔ قلبِ انسانی کی حقیقت:
چراغِ دلہا (سراج القلوب) کی مناسبت سے قلبِ انسانی کی حقیقت پر روشنی ڈالی جاتی ہے کہ قلب یا دل اوّل اوّل وہی صنوبری شکل کا زندہ لوتھڑا ہے جو سینے میں دھڑکتا ہے، اس کے بعد تجربۂ نفسانی موت اور اشارۂ قرآن (۳۳: ۱۰) سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ دل سے روح مراد ہے، کیونکہ وَبَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ (اور پہنچ گئے دل گلوں تک۔ ۳۳: ۱۰) میں یہ تذکرہ ہے کہ روح ہی گلے سے گزر کر دماغ میں ٹھہرتی ہے، اس حال میں یہ لوتھڑا کچھ دیر کے لئے مر ہی جاتا ہے، اس معجزۂ عزرائیل میں دماغ کے سوا تمام اعضاء بار بار مرتے اور بار بار زندہ ہو جاتے ہیں۔
۶۔ عقل کا ایک نام دل ہے:
ق ل ب کے مادّہ سے قلب ہے، اور قلب کے لفظ سے انقلاب ہے
۱۱
چنانچہ قلب (دل) کے معنی میں بار بار انقلاب آتا ہے، پس باطنی ترقی جب نورِعقل تک پہنچ جاتی ہے تو اس وقت عقل ہی کو دل کہا جاتا ہے، جیسے حدیث میں ہے کہ مومن کا دل چراغ کی طرح ہوتا ہے، جس سے نورِعقل مراد ہے، بعد ازن امام عالیمقامؑ خود مومن کا دل ہو جاتا ہے، اور آخر میں حضرتِ قائمؑ دل ہو کر فرماتا ہے: إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (۲۶: ۸۹) ہم نے قلبِ سلیم کی تاویلی حکمت بیان کر دی ہے، یہاں یہ سرِعظیم منکشف ہوا کہ عالمِ شخصی میں جس قلب کو عرشِ رحمان ہونےکا مرتبہ حاصل ہے وہ خود امام علیہ السّلام ہی ہے۔
۷۔ قلب اور عالمِ وحدت:
جو قلب عالمِ وحدت میں ہے وہ نہ صرف قلبِ واحد ہی ہے بلکہ نمائندۂ قلب بھی ہے، اور خود سراج القلوب بھی، کیونکہ وہاں کا قانوں عالم کثرت سے قطعاً مختلف ہی ہے، جبکہ وہ ایک ایسا آئینۂ تجلّی نما ہےکہ ہر بار اس میں ایک نئی تجلّی کا مشاہدہ ہوتا ہے، یہی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بے مثال قدرت کا کمال ہے۔
۸۔ نورِ ہدایت کی ہر سو اور ہمہ وقت ضو فشانی: سراجِ منیر جو نورِ ہدایت ہے، اس کی نمایان مثال اور دیدنی و قابلِ فہم تفسیر و تاویل جو سب کے سامنے روشن ہے، وہ خورشیدِ انور ہی ہے، جس کے چشمۂ مستدیر سے ہر سو اور ہر لحظ کرنوں کی طوفانی بارش کو دیکھ کر
۱۲
اہلِ دانش بڑی حیرت سے یہ اقرار کرتے ہوں گے کہ یقیناً عالمِ دین کے سورج کا دائمی عمل بھی ایسا ہی ہے، یعنی خدائے بزرگ و برتر نے جس طرح آفتابِ عالمتاب کو کائنات کا مرکز، روشنی کا سرچشمہ، طاقت و حرکت کا منبع، اور حیاتِ حیوانیہ کا ذریعہ بنایا، اسی طرح ذاتِ سبحان نے نورِ ہدایت اور آفتابِ علم و حکمت کو عالمِ دین اور عالمِ شخصی کی اخلاقی، روحانی، اور عقلانی تمام طاقتوں کا زبردست اور واحد مرکز بنایا، تاکہ لوگ نظامِ کائنات کو دیکھ کر نظامِ دین کو سمجھ سکیں، اسی مثال و ممثول کے قانون کو سمجھانے کی غرض سے یہ امر بے حد ضروری تھا کہ گھر کے چراغ کا قابلِ فہم نمونہ لوگوں کے سامنے لایا جائے، تاکہ اس وسیلے سے اہلِ دانش شمسِ ظاہر اور شمسِ باطن کے اسرار کو رفتہ رفتہ سمجھ سکیں۔
۹۔ چراغِ روش نور کی بہترین مثال:
خداوندِ علیم و حکیم نے اپنے نورِ اقدس کی تشبیہہ و تمثیل کے لئے تمام اشیائے ارضی میں سے جس مناسب ترین چیز کا انتخاب فرمایا وہ چراغِ روشن ہی ہے ( مصباح۔ ۲۴: ۳۵، سراجِ منیر۔ ۳۳: ۴۶) اللہ کی یہ پسندیدہ اور منتخب مثال اسرارِ عظیم کی حامل ہے، اس کی چند حکمتیں ذیل کی طرح ہیں: ۔
(الف) چراغِ روشن زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ سورج کسی بھی تصادم یا حادثے سے ازخود پیدا نہیں ہوا، بلکہ اس کو خدا نے اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے، کیونکہ کوئی چراغ خود بخود وجود میں نہیں آتا
۱۳
اور نہ وہ انسانی عمل کے بغیر روشن ہو سکتا ہے۔
(ب) اس جہان میں ایک طرف مادّہ ہے اور دوسری طرف روح یعنی انسان، اس میں چراغ کا اشارہ یہ ہے کہ جس طرح مادّہ کی آخری ترقی خاموش روشنی ہے، اسی طرح روحِ انسانی کا انتہائی عروج نورِعقل ہے۔
(ج) شعلۂ چراغ اگرچہ بظاہر ایک ہی ہے، لیکن قانونِ تجدّد کی رو سے اس کی بے شمار کاپیاں بن بن کر صرف ہو جاتی ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ روح الایمان کی لاتعداد کاپیاں ہوتی ہیں، ان کی وحدت بھی ہے اور کثرت بھی۔
۱۰۔ اس کتاب کے مضامین:
اللہ تبارک و تعالےٰ کا بہت بڑا فضل و کرم ہے کہ جیسے سراج القلوب بے حد پیارا اور دلنواز نام ہے، ایسے ہی اس کے پسندیدہ مضامین علم و حکمت کے جواہرِ گرانمایہ سے لبریز ہیں، چونکہ یہ بہشتِ برین کے عالی قیمت درّ و مرجان دراصل میرے نہیں، بلکہ مولائے زمان صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہ کے ہیں، اس لئے ان کی جتنی بھی تعریف و توصیف کی جائے کم ہے اور ان بے مثال نعمتوں پر ہم سب متعلقین جس قدر بھی شکر کریں قلیل ہے یہی وجہ ہے کہ اس معجزۂ اعظم کی ناشکری کے خوف سے ہم سب خادمین گاہ بہ گاہ گریہ و زاری اور مناجات کرتے ہیں، تاکہ وہ غفور رحیم ہماری خطاؤں سے درگزر فرما کر روحانی تائید کے دروازے کو مفتوح ہی رکھے، آمین یا ربّ العالمین!
۱۴
۱۱۔ پنج سالہ جشن:
جشنِ خدمتِ علمی کا منصوبہ سب سے پہلے امریکہ کے عزیزوں نے بنایا، پھر کنیڈا، لنڈن، فرانس اور پاکستان کے ساتھیوں نے اسے پسند فرمایا، اور بیحد مفید کتابوں کی تصنیف کی صورت میں یہ جشن جاری ہے، میرے خیال میں ہر نئی کتاب ایک ہمہ رس جشن ہے جس کی خوشی کبھی ختم نہیں ہو سکتی ہے۔
۱۲۔ حقیقی معنوں میں سلام:
اسلام میں نیّتِ خالص انتہائی ضروری شیٔ ہے، پس میں تمام اعزّہ و احبا کو سلام کرتا ہوں، اس نیّت سے یہ خدا کا مبارک نام ہے، یہ سلامتی بھی ہے، یہ سلامتی کا گھر (دار السّلام) بھی ہے، اس میں تائید کے معنی بھی ہیں، اس قلبِ سلیم، اسمِ سلیمان و سلمان کا مادّہ یعنی س ل م بھی ہیں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَا لَمِیْنَ۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعرات ۵؍ ذی قعدہ ۱۴۱۵ ھ / ۶؍ اپریل ۱۹۹۵ ء
۱۵
سراج القلوب
۱۔ سراج القلوب (دلوں کا چراغ) حبیبِ خدا سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے اسمِ مبارک “سراجِ منیر” کا اصل ترجمہ ہے، کیونکہ یہ پُرحکمت اسم (سراجِ منیر) حضورِ پاکؐ کے قرآنی اسماء میں سے ہے (۳۳: ۴۶) جس سے نورِ ہدایت مراد ہے، جو نورِ نبوّت اور نورِ امامت ہے، پس جملہ علم و ہدایت اسی ربّانی روشن چراغ کی روشنی ہے۔
۲۔ یہ نورِ اقدس خدائے بزرگ و برتر کا نور ہے، اس لئے یہ اوّل بھی ہے آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، آپ رسولِ اکرم صلعم اور امامِ عالیمقامؑ کے مبارک اسماء میں ان ناموں کو دیکھ سکتے ہیں، پس اوّل و آخر اور ظاہر و باطن کی تاویلات میں سے ایک قابلِ فہم تاویل یہ ہے: انسانِ کامل کے عالمِ شخصی میں جہاں نورِعقل کا ظہور ہو جاتا ہے، اور جہاں ازل و ابد ایک ساتھ ہیں، وہاں مرتبۂ اوّل اور مرتبۂ آخر ایک ساتھ ہیں، اور شخصِ کامل کی شخصیّت ظاہر ہے اور اس کی روحانیّت و عقلانیّت باطن۔
۳۔ ہادیٔ برحق تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کا مصداق ہوتا ہے اس لئے آئینۂ دل میں اس کا ظہورِ کامل عجب نہیں، جس طرح آفتابِ
۱۶
عالمتاب کی ضوفشانی کے مختلف درجات ہوا کرتے ہیں، جیسے صبحِ کاذب، صبحِ صادق، نمودِ شفق، طلوعِ آفتاب، چاشت وغیرہ، اسی طرح باطن میں نورِ ہدایت کی روشنی کے بہت سے مراتب ہیں، اور آخری مرتبہ نور کا ظہورِ کامل ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:۔
وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالْقَمَرِ إِذَا تَلاَهَا (۹۱: ۰۱ تا ۰۲) قسم ہے آفتاب کی اور اس کے چاشت کی اور قسم ہے ماہتاب کی جبکہ وہ سورج کے بعد طلوع ہو جاتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نورِ نبوّت اور اس کے ظہورِ کامل کی قسم کھاتا ہے، اور نورِ امامت کی قسم کھاتا ہے، جو پیغمبرِ اکرمؐ کا نمائندہ اور جانشین ہے، کیونکہ نبی و امام علیہا السّلام عالمِ دین کے شمس و قمر ہیں۔
۴۔ حدیث شریف میں ہے: اَلْمُوٗمِنُ مِراٰۃُ المُوٗمن۔
حکمتِ عام: ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہوا کرتا ہے،
حکمتِ خاص: حضرتِ امام علیہ السلام کا نام بھی مومن ہےجو آئینۂ عالمِ بالا ہے، اور مرید کا نام بھی مومن ہے، یہ عالمِ سفلی میں آئینہ ہو سکتا ہے، چنانچہ بندۂ مومن روحانی ترقی سے مرآتِ قلب میں امامِ اقدس کا دیدار کر سکتا ہے، اور عقلی ترقی سے اپنے چہرۂ جان کو امام کے آئینۂ نورانیت میں دیکھ سکتا ہے، یہ سب سے بڑا معجزہ علّیّین (۸۳: ۱۸ تا ۲۱) میں ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں ابرار کے نامۂ اعمال کی حیثیت سے امامِ اطہرؑ کا پاک نور موجود ہے، جو بے شمار معجزات کا حامل ہونے کی وجہ سے زندہ آئینے کا کام بھی کرتا ہے، اور ابرار میں سے صرف
۱۷
مقربین ہی دنیا کی زندگی میں اس کتابِ آئینہ صفت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں (یَشْھَدُہٗ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ ۸۳: ۲۱)۔
۵۔ یہاں شروع ہی میں سراج القلوب کی وضاحت ہوئی، لہٰذا تَیَمُّناً وَتَبَرُّکاً (برکت اور تبرک کے طور پر) یہ کتاب “سراج القلوب” کے اسم سے موسوم کی گئی ہے، اور شاید یہ نام اس لئے بھی مناسب ہے کہ اگر ہماری تمام کتابوں میں روحانی اور حقیقی علم کی کوئی روشنی پائی جاتی ہے تو وہ اسی پاک چراغ کی ضیا پاشی کا صدقہ ہے، یہ سچ ہے کہ میں علم میں بڑا غریب ہوں، اس لئے میں بار بار قرآن، حدیث، اور امامؑ سے بھیک مانگتا ہوں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ، توقع سے زیادہ خیرات ملتی رہتی ہے۔
۶۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا کتنا بڑا معجزہ اور کیسا عظیم احسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے معرفت کی آسانی کی غرض سے قرانِ حکیم اور رسولِ کریم دونوں کو “ذکر” کے اسم سے موسوم فرمایا (۱۵: ۰۹، ۶۵: ۱۰ تا ۱۱) نیز اپنے اسمِ اعظم کا دوسرا نام ذکر رکھا، جو قرآن میں ہے، اور قرآن اس میں ہے (۵۴: ۱۷) ساتھ ہی ساتھ خداوندِ قدوس نے أئمّۂ ھُداؑ کو اہلِ ذکر کے ٹائٹل سے نوازا (۲۱: ۰۷) پس أئمّۂ طاہرینؑ جو اہلِ ذکر ہیں، ان کے تین بے مثال مراتب ہیں:
۱۔ وہ اہلِ قرآن ہیں، کیونکہ قرآن ان کے ساتھ ہے اور وہ حضرات قرآن کے ساتھ ہیں۔
۲۔ وہ اہلِ رسولؐ ہیں، جبکہ وہ آلِ محمدؐ ہیں۔
۱۸
۳۔ وہ اہلِ اسمِ اعظم ہیں، اس لئے کہ انہی سے اسم اعظم کسی مومن یا مومنہ کو مل سکتا ہے۔
۷۔ بعض آیاتِ کریمہ میں کتاب کا مطلب خود کتابِ سماوی بھی ہے اور اسمِ اعظم بھی، کیونکہ اللہ قادرِ مطلق آسمانی کتاب کو اسمِ اکبر میں لپیٹتا ہے اور اسمِ اکبر کو کتاب میں پھیلاتا ہے، پس کتاب اسمِ اعظم ہے اور اسمِ اعظم کتاب، جیسا کہ سورۂ مریم (۱۹: ۱۲) میں ارشاد ہے: يَايَحْيَى خُذْ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ۔ اے یحیٰ ! کتاب (توریت / اسمِ اعظم) مضبوطی سے لو۔ یعنی اسمِ اعظم کی تلوار نفس اور شیطان کے وسوسوں کے خلاف بڑی مضبوطی، سختی، اور سرعت کے ساتھ استعمال کرو تاکہ سلسلۂ ذکر منقطع نہ ہو۔
خداوندِ دوجہان کے اس حکم کے مطابق جو سورۂ شعراء (۲۶: ۲۱۴) میں ہے، آنحضرت صلعم نے اپنے قریبی رشتہ داروں سے فرمایا: یا بنی عبد المطلب اطیعونی تکونوا ملوک الارض و حکامھا۔
اے اولادِ عبد المطلب! میری اطاعت کرو، تاکہ تم سب زمین کے بادشاہ اور حکمران بن جاؤ گے (دعائم الاسلام، جلد اول، مضمون: ولایتِ امیرالمومنین علیہ السّلام)۔
سوال: آیا رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت اس لئے ضروری ہے تاکہ ہر مطیع مومن کسی ظاہری ملک کا بادشاہ بن جائے؟ اگر ایسا ہے تو تمام اصحاب یا بعض کیوں بادشاہ نہیں ہوئے؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام میں جتنے بادشاہ ہو گزرے ہیں وہ سب کے سب
۱۹
رسولِ اکرمؐ کے حقیقی فرمانبردار تھے؟
جواب: اس ارشادِ نبوّی کا ظاہری پہلو مثال ہے اور باطنی پہلو ممثول، لہٰذا یہاں جس زمین کا ذکر ہے وہ عالمِ شخصی، بہشت اور نفسِ کلّی کی زمین ہے، جس میں ہر وہ مومن بادشاہ ہوسکتا ہے جو حقیقی معنوں میں فرمانبردار ہو، حدیث شریف میں ہے: اَلدُّنُیَا سِجْنُ الْمُؤْمنِ وَ جَنَّۃُ الْکَافِرِ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے بہشت ہے۔
۹۔ قرآنِ حکیم کی بہت سی آیاتِ مبارکہ میں بزبانِ حکمت روحانی سفر کا حکم موجود ہے، من جملہ اس آیۂ مقدّسہ میں غور کریں: قُلْ سِيرُوا فِي الأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِئُ النَّشْأَةَ الآخِرَةَ (۲۹: ۲۰) (اے رسول) تم کہہ دو کہ زمین (روحانیّت) میں آگے چل کر دیکھو کہ خدا نے کس طرح بارِ اوّل مخلوق کو پیدا کیا، اور کس طرح وہ آخری تخلیق کرتا ہے۔
۱۰۔ کتابِ ہٰذا کا نام “سراج القلوب” بڑا پسندیدہ، عزیز اور پُرحکمت ہے، جیسا کہ قبل ازین کچھ وضاحت ہوئی کہ یہ سراجِ منیر کا اصل ترجمہ ہے، یقیناً اس میں آیۂ مصباح کی تفسیر و تاویل بھی ہے، اور جس نے ہمیں اور آپ کو “غریبم قلبِ تُو” کہا یا کہہ رہا ہے، اس کو کیونکر بھلا سکتے ہیں، اس قلب اور اس قلب میں لا انتہا فرق ہے، کیونکہ وہ نورِ مطلق ہے اور یہ گوشت کا ایک لوتھڑا، قرآنِ حکیم میں حقیقی قلب سے متعلق جو عظیم الشّان حکمتیں ہیں، ان کو سمجھنے کے لئے سعی کیجئے۔
۲۰
۱۱۔ اگر عصرِ حاضر کے ڈاکٹرز بیمار دل کی جگہ صحت مند دل رکھنے میں کامیاب ہو رہے ہیں تو کیا یہ بات آسمانی طبیب کے لئے مشکل ہے کہ وہ اس “قلبِ مریض” کو اکھاڑ پھینکے اور اس کی جگہ “قلبِ سلیم” کو رکھے، اور قلبِ سلیم کی تعریف یہ ہے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے قلبِ مبارک جیسا ہوتا ہے ( ۳۷: ۸۴ ؛ ۲۶: ۸۹)۔
۱۲۔ امامِ عالی مقام صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہٗ نہ صرف عالمِ اسلام اور دنیائے انسانیّت کا دل ہے بلکہ ساری کائنات کا دل ہے، لیکن بے پناہ خوشی ہے کہ وہ نورِ معرفت کی روشنی میں ہر مومن اور مومنہ کا دل ہے، جیسے سورۂ مومنون میں ہے: وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ لَكُمْ السَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَةَ قَلِيلاً مَا تَشْكُرُونَ (۲۳: ۷۸) اور وہ (مہربان خدا) وہی ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کیا (مگر) تم لوگ ہو ہی بہت کم شکر کرنے والے، یعنی خدائے مہربان نے مقامِ روحانیّت پر نورِ ناطق سے تمہارے لئے کان بنایا، نورِ اساس سے آنکھیں اور نورِ امام / قائم سے دل بنایا ، مگر تمہاری شکرگزاری بہت ہی کم ہے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلاَمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ( ۳۷: ۱۸۰ تا ۱۸۲) ۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی، ہیڈ آفس
جمعہ ۲۲۔ شوال المکرم ۱۴۱۵ ھ / ۲۴؍ مارچ ۱۹۹۵ ء
۲۱
معراجِ روحانی
مقامِ اوّل:
سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۰۱) تاویلی الفاظ: اَسْریٰ = وہ رات کو لے گیا، یعنی وہ باطن اور روحانیّت میں لے گیا، کیونکہ رات کی تاویل باطن ؎۱ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی معراج بطریقِ روحانی واقع ہوئی تھی، المسجد الحرام ؎۲ = خانۂ کعبہ کی مسجد، اس سے وہ ابتدائی اسمِ اعظم مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے پیغمبرِ اکرمؐ کو عطا ہوا تھا، کیونکہ مسجد کا لفظ قرآنِ حکیم (۰۷: ۲۹، ۰۷: ۳۱) میں نماز و ذکر کے معنی میں بھی آیا ہے، المسجد الاقصا ؎۳ = نہایت دور کی مسجد، یعنی سب سے آخری اسمِ اعظم ، جس کا تعلق گوہرِعقل کی بےشمار برکتوں سے ہے۔
ارشاد ہے: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا (۱۷: ۰۱) ترجمہ: پاک ذات ہے جو لے گیا اپنے بندہ کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک، جس کو گھیر رکھا ہے ہماری برکت نے، تاکہ
۲۲
دکھلائیں اس کو کچھ اپنی قدرت کے نمونے۔
تاویل: پاک و بے نیاز ہے وہ رات جو لے گیا اپنے بندہ کو بطریقِ باطن و روحانیّت ابتدائی اسمِ اعظم سے انتہائی اسمِ اعظم ؎۴ تک جس کا تعلق عالمِ بالا اور گوہرِعقل سے ہے، جہاں علم و حکمت کی بے شمار برکتیں ہیں، تاکہ ہم ان کو اپنے عظیم معجزات دکھائیں۔
مقامِ دوم:
سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۶۰) تاویلی لفظ: اَلرُّؤْیَا = خواب، نظارہ، مشاہدہ، چونکہ اس خواب کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے ہے، اس لئے یہ عام نہیں بلکہ پیغمبرانہ خواب ہے، جس میں بموجبِ حدیثِ شریف آنکھ سوجاتی ہے، مگر دل بیدار رہتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا خواب روحانیّت میں بدل چکا ہوتا ہے؎۵ ، اس معنیٰ میں حقیقت یہ ہے کہ حضورِ انورؐ کی معراج جسمانی نہیں، بلکہ روحانی ہے۔
وہ ارشاد یہ ہے: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ (۱۷: ۶۰)
ترجمہ: اور وہ خواب جو تجھ کو دکھلایا اس کو لوگوں کے لئے آزمائش کیا، اور اسی طرح وہ درخت جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔
تاویل: حدیثِ شریف ہے: یا عائشۃ انّ عینیّ تنا مان و لا ینام قلبی = اے عائشہ! میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں
۲۳
اور میرا قلب نہیں سوتا، دوسری حدیث یہ ہے: تنامُ عینایَ و لا ینامُ قلبی = میری دونوں آنکھیں سوجاتی ہیں، اور میرا قلب سوتا نہیں۔ اور تیسری حدیث اس طرح ہے: اِنّا معشرالانبیاء تنامُ اعیننا ولا تنام قلوبنا = ہم گروہِ پیغمبران (علیہم السّلام ) ایسے ہیں کہ ہماری آنکھیں سوجاتی ہیں لیکن ہمارے قلوب نہیں سوتے ؎۶ (کتاب احادیثِ مثنوی ص ۷۰ پر تمام حوالہ جات کے ساتھ درج ہیں)۔
وہ خواب (یعنی معراجِ روحانی) جو تجھ کو دکھلایا اس کو لوگوں کے لئے آزمائش قرار دیا ، اور اسی طرح وہ درخت بھی باعثِ امتحان ہے جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے ؎۷۔
مقامِ سوم:
سورۂ نجم (۵۳: ۰۱ تا ۱۸) یہاں یہ تذکرہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ظاہراً و باطناً دو دفعہ سب سے عظیم دیدار کس طرح حاصل ہوا ؎۸۔
ترجمہ: قسم ہے تارے کی جب گرے، بہکا نہیں تمہارا رفیق اور نہ بے راہ چلا، اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے، یہ تو بس وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے، اس کو سکھلا یا ہے سخت قوّتوں والے نے، زورآور نے، پھر سیدھا کھڑا ہوا، اور وہ تھا اونچے کنارہ آسمان کے، پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا، پھر رہ گیا فرق دو کمان کے برابر یا اس سے بھی نزدیک، پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو وحی بھیجی سو بھیجی، جھوٹ نہیں کہا
۲۴
رسول کے دل نے جو دیکھا، اب کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو اس نے دیکھا۔
تاویل: یہ شروع کی آٹھ آیاتِ کریمہ کا ترجمہ ہے، جس میں یہ بیان ہے کہ رسول اللہؐ نے روحانی معراج سے قبل ابداع و انبعاث کے معجزات کو دیکھا تھا؎۹، انہی عجائب و غرائب کی عظمت و جلالت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اللہ تعالےٰ آفتابِ عقل کی قسم کھاتا ہے، جبکہ وہ غروب ہو جاتا ہے، نیز یہ ظہورِ مبدِع اور مبدع کی قسم ہے، لفظِ رفیق (صَاحِبُکُمْ) میں یہ اشارہ ہے کہ ہر روح رسولؐ میں فنا ہو کر معراج تک جا سکتی ہے ؎ ۱۰ ، سخت قوّتوں والا اور زور آور اللہ ؎۱۱ ہے، سیدھا کھڑا ہونا ابداع بھی ہے، اور انبعاث بھی، ؎۱۲، کیونکہ وہ ایک ساتھ ہے، آسمان اور زمین کا اونچا کنارہ (اُفُقِ الْاَعْلیٰ) ظہورِ مبدِع اور مُبْدَع ہے ؎۱۳، جو نزدیک ہو کر زمین پر اتر آیا، پھر آنحضرتؐ کی انائے علوی اور انائے سفلی اس طرح ایک دوسرے سے مل گئیں، جس طرح دو کمانوں یعنی دو نصف دائروں کو ملانے سے ایک دائرہ بن جاتا ہے ؎۱۴ ۔
پھر بلند ترین وحی (اشارہ) کا ذکر ہے جو حضرتِ مُبدِع اور مبدَع کے دیدار وغیرہ سے حاصل ہوتی رہتی ہے ؎۱۵، یہ سب کچھ عالمِ ظاہر میں حضورؐ کے سامنے آیا، اب باقی چھ آیاتِ مقدّسہ میں روحانی معراج کا ذکر ہے، جس کا مشاہدہ آنحضرتؐ نے اپنے عالمِ شخصی میں کیا ؎۱۶۔
ترجمہ: اور اس کو انہوں (آنحضرتؐ) نے ایک اور ظہور (یعنی معراج) میں دیکھا ہے، سدرۃ المنتہیٰ (نفسِ کلّی) کے پاس، اس کے پاس ہے بہشت آرام سے رہنے کی، جب سدرہ چھپا رہا تھا جو کچھ چھپا رہا تھا، بہکی نہیں نگاہ
۲۵
اور نہ حد سے بڑھی، بے شک دیکھے اس نے اپنے ربّ کے بڑے بڑے معجزے۔
تاویل: سرورِ عالم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو پہلے ظاہراً ابداعی دیدار ہوا، پھر آپؐ کو روحانی معراج پر لیا گیا، جس میں سدرۃ المنتہیٰ کے پاس یعنی نفسِ کلّی کے آسمان پر سب سے آخری اور سب سے عظیم دیدار ہوا، جبکہ سدرہ (نفسِ کلّی) گوہرِعقل کا مظاہرہ کر رہا تھا، جس میں علم و حکمت کے جملہ اشارات موجود ہیں؎۱۷۔
ن ۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی ، منگل ۲۴؍ جمادی الثانی ۱۴۱۵ ھ / ۲۹ ؍ نومبر ۱۹۹۴ ء
۲۶
حاشیہ
؎۱: لیل (شب = رات) کی تاویل باطن و روحانیّت ہے، اور دن کی تاویل ہے ظاہر و جسمانیّت، آپ تاویلی کتب کو دیکھیں۔
؎۲، ؎۳: جب مسجد کے ایک معنی عام نماز و ذکر کے ہیں ( ۰۷: ۲۹، ۰۷: ۳۱) تو کسی شک کے بغیر یہاں المسجد الحرام سے ابتدائی اسمِ اعظم کی خصوصی عبادت مراد ہے، اور اسی مناسبت سے المسجد الاقصا ( نہایت دور کی مسجد) کی تاویل انتہائی اسمِ اعظم ہے۔
؎۴: اگر تاویلی حکمت کے بغیر سوچا جائے تو ہماری فکر مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدّس) سے آگے نہیں جا سکتی ہے، کیونکہ ظاہری قصّہ صرف وہاں تک نظر آتا ہے۔
؎۵: کاملین کا خواب ایک بڑی بابرکت روحانیّت ہے جس میں علم و معرفت کے عجائب و غرائب کا مشاہدہ ہوتا ہے۔
؎۶۔ نورکی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں خود بخود اسمِ اعظم کے ذکر کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے، اور اس عظیم عمل کے لئے دائمی بیداری ممد و معاون ہے اور خوابِ غفلت دشمن، لہٰذا انسانِ کامل کی آنکھ سوتی ہے مگر اس کا قلب اسمِ اعظم کے ذکرِ مسلسل سے ارض و سماء میں نور بکھیرتا رہتا ہے۔
۲۷
؎۷: یہ ایک قرآنی حقیقت ہے، جس کی کوئی تردید نہیں کہ خدائے علیم و حکیم تمام لوگوں کو آزماتا رہتا ہے، تاکہ ان کو حسبِ علم و عمل مختلف درجات پر فائز کر دے۔
؎۸: ظاہراً و باطناً دو دفعہ سب سے عظیم دیدار کا مطلب ہے: ظاہر میں جفت دیدار اور باطن میں ایک طاق دیدار۔
؎۹: ابداع و انبعاث کے معجزات دنیائے ظاہر میں وقوع پزیر ہوتے ہیں، لیکن ان کو صرف انسانِ کامل ہی دیکھ سکتا ہے۔
؎۱۰: ہادئ برحق کا روحانی سفر بحقیقت دوسروں کی رہنمائی کی غرض سے ہوتا ہے، جیسا کہ لفطِ “صَاحبکُم ” (تمہارا رفیق / ہادی) سے ظاہر ہے، اس کا اشارہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم میں فنا ہو کر بہت سی روحیں مرتبۂ معراج تک جا سکتی ہیں، ورنہ کسی کو خدا، رسولؐ اور امامؑ کی معرفت سے کیا خبر ہو گی، جبکہ تمام اسرارِ حقائق و معارف اسی مقام پر جمع ہیں۔
؎۱۱: یہ درست ہے کہ شرو ع شروع میں نبیٔ اکرمؐ اور حضرتِ ربّ کے درمیان پانچ وسائط تھے: قلم، لوح، اسرافیل، میکائیل، جبرائیل، لیکن جب ابداع و انبعاث اور معراج کا وقت آیا تو اس میں یہ تین فرشتے یا تو حضورؐ سے پیچھے رہ گئے یا آپؐ کے ساتھ ایک ہوگئے، پھر آنحضرتؐ کی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم لوح و قلم اور براہِ راست اللہ تعالیٰ سے ہوتی رہی، پس سرورِ انبیاء صلعم کا حقیقی معلّم ربِّ اکرم خود ہے، جبرائیل نہیں۔
؎۱۲: انسانِ کامل کی روحانی ترقی کے بعد اس کا جثّۂ ابداعیہ ظاہر
۲۸
ہوتا ہے اور ابداع و انبعاث اسی سے عبارت ہے، اور یہی فَاسْتَوٰی کے معنی ہیں، کیونکہ ایسے میں عالمِ خلق اور عالمِ امر سے تعلق اِسْتَوٰی (معتدل و مستقیم ) ہو جاتا ہے۔
؎۱۳: اُفُقِ الْاَعْلیٰ کی تاویل ہے: جسمِ لطیف اور روحِ علوی کا سب سے بلند ترین درجہ، جس سے ظہورِ مبدِع اور مبدَع مراد ہے، یہ نکتہ خوب یاد رہے کہ جس طرح یک حقیقت (مونوریالٹی) میں لا تعداد حقیقتیں مرکوز ہو جاتی ہیں، اسی طرح بہت سی تاویلات آپس میں مل جاتی ہیں۔
۱۴: قوسِ علوی: ۔۔۔۔۔۔ ، قوسِ سفلی: ۔۔۔۔۔۔۔۔، قابَ قوسَین: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، اَوْ اَدْنیٰ: ۔۔۔۔۔۔۔۔
؎۱۵: انبیاء علیہم السّلام کے لئے سب سے اعلیٰ اور مسلسل وحی (اشارہ) دیدارِ الٰہی میں ہے، اس میں علم و معرفت کے جیسے اور جتنے بے شمار اشارے موجود ہیں، ایسے اشارات کہیں بھی نہیں۔
؎۱۶: آسمان، زمین، عرش اور کرسی عالمِ شخصی میں ہے، اس لئے معراج بھی اسی میں ہے۔
؎۱۷: قبضۂ قدرت میں کیا نہیں، خزائنِ الٰہی میں سب کچھ ہے، کتابِ مکنون میں ہر راز ہے، اور لوحِ محفوظ یعنی امامِ مبین کے گھیرے سے کوئی چیز باہر نہیں، والسلام۔
۲۹
انتساب بنامِ عزیزانِ گلگت
اعتکاف اور چلّہ
اعتکاف کے معنی ہیں: گوشہ نشینی، گوشہ گیری، گوشہ نشینیٔ عبادت خانہ، اپنے کو منہیات سے باز رکھنا۔
چلّہ: یہ لفظ چل سے ہے جو چہل کا مخفف ہے، معنی ؛ چالیس ۴۰ دن کا عرصہ، چالیس دن کا زمانہ، چالیس دن کی گوشہ نشینی اور وظیفہ خوانی، چالیس ۴۰ روز کا عمل۔
حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے کوہِ طور پر اللہ کے حکم سے تیس ۳۰ دن کا اعتکاف کیا، خدا نے مزید دس دن عبادت کرنے کے لئے فرمایا، اس طرح چلّہ ہوگیا، اسی عظیم واقعہ کے پیشں نظر چالیس دن کی گوشہ نشینی اور ذکر و عبادت بہت بڑی اہمیّت کی حامل ہے، ہم نے کہیں اس کا ذکر کیا ہے۔
اعتکاف اور چلہ انبیائے کرام علیہم السّلام کی سنت ہے، اس لئے یہ عمل بڑا مبارک ہے، کہتے ہیں کہ اگر نیّت کی جائے تو کم سے کم اعتکاف ایک گھنٹے کا بھی ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امامِ عالی مقامؑ کے فرمانِ اقدس کے مطابق صبح نورانی وقت کی حضوصی بندگی ایک گھنٹے کی ہوا کرتی ہے۔
۳۰
اگر کوئی عزیز چلّہ یا اعتکاف کر رہا ہے تو وہ عوام کے سامنے ہرگز اس کا تذکرہ نہ کرے، کیونکہ یہ ایک عظیم راز ہے، بہت سے لوگ وقت سے پہلے راز کو فاش کر کے ناکام ہو جاتے ہیں، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جہاں بہت بڑی عاجزی کی ضرورت ہے، وہاں فخر کا مظاہرہ ہو سکتا ہے، جو بڑا نقصان دہ ہے۔
عزیزانِ من! یہ دورِ قیامت اور زمانۂ تاویل ہے، اس میں خصوصی عبادت اور حقیقی علم کے توسط سے حضرت قائم القیامتؑ کے عظیم اسرار کو حاصل کرنا ہے، جس کے لئے انقلابی ریاضت درکار ہے، عاجزی اور گریہ وزاری سے خود کو یکسر تبدیل کرنا ہوگا، اس میں امامِ زمانؑ کی شناخت اور محبت کلیدی وسیلہ ہے، اگر یہ پاک و پاکیزہ محبت بدرجۂ عشق پہنچ گئی ہے تو مبارک ہو! کیونکہ اس سے ذکر و عبادت کی راہ میں حائل ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
۱۲ ؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء
۳۱
صندوقِ سکینہ ۔۔۔ مجموعۂ روحانیّت
سورۂ بقرہ ( ۰۲: ۲۴۶ تا ۲۴۸) میں خوب غور سے دیکھ لیں، جہاں دینی بادشاہ (امام علیہ السّلام ) کا ذکر آیا ہے، جو علمِ لدنّی اور جثّہ ابداعیہ کا مالک ہوتا ہے، اور یہ علمِ محیط اور جسمِ بسیط مرتبۂ امامت کے دو عظیم معجزے ہیں، تاکہ خدا و رسولؐ کی جانب سے آفاق و انفس میں امامؑ کی بادشاہی قائم ہو۔
تابوتِ سکینہ بظاہر تبرکات کا ایک صندوق تھا، اور یہ مثال ہے، جس کا ممثول مجموعۂ روحانیّت ہے، کیونکہ حقیقت ایک ہی ہے، لیکن طرح طرح سے اس کی بے شمار مثالیں بیان کی گئی ہیں (۱۷: ۸۹، ۱۸: ۵۴) صندوقِ سکینہ کو ہمیشہ فرشتے ہی اٹھا رہے ہیں، کیونکہ وہ دراصل ایک روحانی چیز ہے۔
لغات الحدیث میں ہے: السّکینۃ ریحٌ تخرج من الجنّۃِ لھا صورۃٌ کصورۃِ الانسانِ تکون مع الانبیاء = سکینہ ایک پاکیزہ ہوا ہے جو بہشت سے نکلتی ہے، اس کی صورت آدمی کی سی ہے، وہ پیغمبروں کے ساتھ رہتی ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ تسکین روحانی علم ہی سے ہوتی ہے، روح کا دوسرا لفظ ریح ہے، جنّت میں کوئی چیز عقل و جان کے بغیر نہیں، جس ریح (ہوا) کی صورت آدمی کی سی ہے، وہ روح و روحانیّت ہے، جس کا تعلق انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام سے ہے۔
۳۲
مذکورہ لغات میں یہ بھی ہے: بعضوں نے کہا ایک صورت تھی زبرجد کی یا یاقوت کی، اس میں حضرتِ آدمؑ سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تک سب کی تصویریں تھیں۔ میں گزارش کروں گا کہ یہاں زبرجد اور یاقوت ٹھوس نہیں بلکہ اس سے نورِ اخضر اور نورِ احمر مراد ہے، جس میں صرف واحد تصویر ہے، مگر تجلّیات میں سب ہیں۔
المیزان جلد دوم ص ۲۹۹ پر ہے: اِنّ السَّکینۃ الّتی کانت فیہ ریحٌ ھفا نۃ من الجنّۃِ لھا وجہٌ کوجہ الانسان۔ عن علی علیہ السّلام ۔ صندوق میں تسکین کی چیز بہشت سے ایک خوشگوار ہوا تھی، جس کا انسان کی طرح ایک چہرہ تھا۔ حضرت علی علیہ السّلام ۔
۲۰ ؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء
۳۳
کتابِ ناطق
سورۂ مومنون (۲۳: ۶۲) میں ارشاد ہے: وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنطِقُ بِالْحَقِّ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُون۔ اور ہمارے پاس ایک کتا ب ہے جو سچ بولتی ہے، اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بولنے والی کتاب نامۂ اعمال ہے، جو علمی برتری اور شرف و عزّت کے معنی میں اللہ کے پاس ہے اور وہ حقیقت میں امام علیہ السّلام ہی ہے، جس کا ایک نام قرآنِ ناطق ہے، اس حقیقت کے دلائل ملاحظہ ہوں: ۔
۱۔ اس آیۂ مقدسہ میں “لاَ یُظْلَمُوْنَ” صیغۂ مضارع ہے، جس کا تعلق زمانۂ حال و مستقبل دونوں سے ہے، اس وجہ سے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کتابِ ناطق آج دنیا میں قرآنِ ناطق بھی ہے اور کل قیامت میں صحیفۂ اعمال بھی ہے۔
۲۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم زمانۂ نبوّت میں نورِ مجسم یعنی قرآنِ ناطق تھے (۰۵: ۱۵) اور قرآنِ صامت کی معلّمی کا یہ منصب ہرگز ایسا نہیں کہ کبھی اس کی ضرورت ہو اور کبھی یہ غیر ضروری ہو۔
۳۔ کتابِ ناطق کا مطلب ہے امامِ حیّ و حاضر علیہ السّلام کی مبارک
۳۴
شخصیّت اور روحانیّت و نورانیّت، جس کا دنیا میں کتابِ صامت کے ساتھ ساتھ موجود رہنا بے حد ضروری ہے، تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پر لوگوں کی کوئی حجت نہ ہو سکے (۰۴: ۱۶۵)۔
۴۔ جو زندہ، گویندہ اور دانندہ کتاب کرامت و فضلیت کے معنی میں خدا کے پاس ہے، اس کی خصوصیت سچ بولنا یعنی اعلیٰ حقائق و معارف بیان کرنا ہے، کیونکہ یہاں حق سے “حق الیقین” مراد ہے، جو علم و حکمت اور معرفت و یقین کا انتہائی بلند ترین مرتبہ ہے۔
۵۔ ظلم کے اصل معنی ہیں: وضع الشّیٔ فی غیر موضعہ المختص بہٖ۔ کسی شے کا جو اصل مقام ہے اسے وہاں سے ہٹا دینا اور دوسری جگہ رکھ دینا۔ چنانچہ قرآنِ ناطق کی یہ تعریف ہے کہ اس میں ہر حقیقت اور ہر معرفت اپنی خاص جگہ پر ہوتی ہے، اور وہ خاص مقام حظیرۃ القدس ہے۔
۲۰ ؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء
۳۵
حدیثِ ثَقلَیْن
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ: قد خلفتُ فیکم الثّقلین احد ھما اکبر من الاٰخر سبباً موصولاً من السّماءِ الی الارض: کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی، فانھما لن یفترقا حتّیٰ یردا عَلَیّ الحوض۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ (وسلم) نے فرمایا: میں نے تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑ دی ہیں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑھ کر ہے، ایک کتابِ خدا ہے جو آسمان سے زمین تک کھچی ہوئی رسی ہے، اور دوسری چیز میری عترت اور میرے اہلِ بیت ہیں، اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس وارد ہوں۔
حکمت ۱: “قد خلفتُ فیکم الثّقلین” کے مطابق اصل خلافت انہی دو گرانقدر چیزوں (قرآن اور اہلِ بیت) کو حاصل ہے۔
حکمت ۲: اللہ تعالیٰ کی کتاب نورِ ہدایت کی وہ رسی ہے جو عرشِ برین سے فرشِ زمین تک تانی (کھچی) ہوئی موجود ہے اور نورِ امامت بھی وہی رسی ہے، کیونکہ باطن میں ایک نور دوسرے نور سے الگ نہیں ہوتا، مگر ظاہر میں ہستی کے لحاظ سے کتاب الگ اور امام الگ ہے۔
۳۶
حکمت ۳: کتاب (قرآن) اور امامؑ کے نورِ واحد کی رسی کا بالائی سرا صاحبِ عرش کے ہاتھ میں ہے اور زیرین سرا اہلِ زمین کے پاس ہے۔
حکمت ۴: “وعترتی اہلِ بیتی” میں اہل بیتؑ تفسیر ہیں عترت کی، اور اہلِ بیت اولادِ علیؑ کے ہر امام کے لئے آتا ہے۔
حکمت ۵: جب تک دنیا میں قرآن موجود ہے، تب تک امامؑ بھی حاضر و موجود ہوگا، اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر یہ دونوں آنحضرتؐ کے پاس وارد ہو جائیں۔
حکمت ۶: حوضِ کوثر سے حضرتِ قائم القیامت علیہ السّلام مراد ہیں، اور کوثر اسی بزرگوارِ دو جہان کا علم ہے، یعنی علمِ تاویلِ محضِ مجرّد، اور گمراہی کا خطرہ بس یہاں تک رہتا ہے۔
۲۰ ؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء
۳۷
حاملانِ عرش
جَعَلَ الْعَرْشَ اَرْبَاعًا ۔ اللہ تعالیٰ نے عرش چار طرح کے نوروں سے بنایا (سبز نور، زرد نور، سرخ نور، اور سفید نور، اسی سے یہ چاروں رنگ دنیا میں ہیں۔ یہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا قول ہے)۔
تاویلی حکمت: عرش نورِعقلِ کلّ کا نام ہے، وہ سورج کی طرح بار بار طلوع ہوتا رہتا ہے، اور ہر بار رنگ و اشارہ کی ترجمانی تائید ہی کرتی ہے، چار رنگ البتہ بنیادی ہیں، جبکہ دنیا میں کئی رنگ ہیں۔
حَمَلَۃُ الْعَرْشِ ثَمَانِیَۃٌ۔ عرش اٹھانے والے آٹھ ہیں، چار تو ہم (آلِ محمدؐ) میں سے ہیں، اور چار جن میں سے اللہ چاہے۔
دوسری روایت میں ان کی تفسیر ہے، پہلے چار تو حضرتِ علی، حضرتِ فاطمہ، اور حسنین علیہم السّلام ہیں، اور دوسرے چار سلمان، مقداد، ابوذر اور عمار ہیں، رضی اللہ عنھم اجمعین (یہ بھی حضرتِ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے)۔
تاویلی حکمت: جب عرش سے نورِعقل مراد ہے، تو اس کا حامل ہر دور کے آغاز میں ایک ہی ہوتا ہے، پھر دو، تین، چار، پانچ، چھ، اور سات، یہ سب أئمّۂ علیہم السّلام ہی ہیں، پھر امامِ ہفتم علیہ السّلام
۳۸
کے زیرِ اثر کسی عالمِ شخصی میں مخفی قیامت برپا ہونے کی وجہ سے آٹھواں فرشتہ حاملانِ عرش میں شامل ہو جاتا ہے۔
تاویلی حکمت: قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں نورِ اقدس مومنین و مومنات سے متعلق ہے ( ۰۶: ۱۲۲، ۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹، ۵۷: ۲۸، ۶۶: ۰۸) وہاں وہ سب اپنے اپنے عالمِ شخصی میں حاملانِ عرش میں سے ہیں، کیونکہ عرش کی خاص تاویل نور ہے، یعنی نورِ عقل، نورِ ازل، نورِ الٰہ، نورِ یقین، نورِ عشق، نورِ علم، نورِ معرفت، نورِ ہدایت وغیرہ۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
منگل ۱۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۵ ھ ۲۰؍ دسمبر ۱۹۹۴ء
۳۹
کائنات کی کاپیاں
ہرفردِ بشر میں بحدِّ فعل نہیں تو بحدِّ قوّت ایک کائنات پنہان ہے، کائنات کا دوسرا لفظ عالم ہے، جس کی جمع “عالمین” ہے، جس کا ذکر قرآنِ عزیز میں ۷۳ بار فرمایا گیا ہے ، اور عالمین جو عوالمِ شخصی ہیں، ان کی روحانی اور عقلی پرورش ایسی عظیم الشّان اور اہم ترین ہے کہ اللہ جل شانہٗ اس کا بیان ام الکتاب (الفاتحہ) کے شروع ہی میں فرماتا ہے: ۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۰۱: ۰۱)
سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے، جو سارے جہانوں (عوالمِ شخصی ) کا پالنے والا ہے۔ یعنی حضرتِ ربّ العزت کی جانب سے انسان کی پرورش اس طرح ہوتی ہے کہ اس سے نہ صرف جسم ہی بتدریج مکمل ہو جاتا ہے، بلکہ روح اور عقل کے حق میں یہ زیادہ سے زیادہ ضروری ہے، تاکہ انسان منازلِ روحانیّت اور مراحلِ عقلانیّت سے آگے جا کر درجۂ کمال حاصل کر سکے۔
اس حقیقت پر پہلے ہی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر شخص میں بحدِّ امکان سب کچھ رکھ دیا ہے، یہ بھی ایک مقولہ بن گیا ہے کہ “ہر ایک میں سب ہیں۔” یہ بات بھی اب پوشیدہ نہ رہی کہ ہر ستارہ ایک دنیا ہے، جس پر لطیف مخلوق کی بادشاہی کا امکان ہے، ایک بڑی عجیب
۴۰
بات یہ بھی ہوئی کہ انسانی بدن میں جتنے بے شمار خلیات ہیں وہ ایک ہی کائنات میں لاتعداد کائناتوں کی پوشیدہ موجودگی کی مثال ہیں۔
خدائے بزرگ و برتر نے حضرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے رحمتِ کل بنا کر بھیجا ہے (وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَاّ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۲۱: ۱۰۷) ظاہر ہے کہ عالمین سے عوالمِ شخصی مراد ہیں، کیونکہ حضورِ اکرمؐ صرف انسانی عوالم کی طرف بھیجےگئے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے: اے محمدؐ! کہو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے (۰۷: ۱۵۸)۔
اب یہاں یہ دیکھنا ہے کہ عالمِ شخصی میں کائنات کی کاپیاں کس طرح بن جاتی ہیں؟ اور اس کاپی سے لوحِ محفوظ یا امامِ مبین کا کیا لگاؤ (تعلق) ہے؟ کیا نامۂ اعمال بھی یہی ہے، یا وہ اس سے الگ ہے؟ معزز فرشتے صحیفۂ اعمال کس طرح درج کرتے ہیں؟ آیا جسمِ لطیف خود عالمِ شخصی اورا مام کی کاپی ہے یا کائنات کی کاپی ہے؟ کیا انفرادی قیامت اختیاری ہے یا اضطراری؟ انسان، فرشتہ، جنّ اور پری کے مابین کیا رشتہ ہے؟ ان جیسے بہت سے پیچیدہ اور سخت مشکل سوالات کے جوابات امامِ زمان علیہ السلام کے روحانی علم سے مل سکتے ہیں۔
سورۂ جاثیہ (۴۵: ۲۹) میں ارشاد ہے هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّؕ-اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (۴۵: ۲۹) یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اسے ہم لکھواتے جا رہے تھے، یہ ایک بڑے
۴۱
عالم کا ظاہری ترجمہ ہے، لیکن آیۂ کریمہ میں تقریباً تمام علمائےکرام کے لئے ایک انتہائی مشکل مسٔلہ اپنی جگہ موجود ہے، اور وہ ہے “نَسْتَنْسِخُ” جس کا اصل ترجمہ ہے: ہم تمہارے اعمال کو نقل (کاپی) کراتے تھے۔ یہ تو کسی اصل سے کاپی کرانے کی بات ہوئی، کیونکہ نَسْخٌ الکتاب کے معنی ہیں: کتاب کو حرف بحرف نقل کرنا۔
امامِ مبین صلوٰۃ اللہ علیہ کی ذاتِ اقدس میں تمام روحانی اور عقلانی چیزیں محدود ہیں، اس لئے کائناتی روح (نفسِ کلّی) اور لوحِ محفوظ آپؑ سے الگ نہیں، جب روحانی انقلاب یا ذاتی قیامت کا وقت آتا ہے اور اسرافیل اور عزرائیل دیگر فرشتوں کے ساتھ اپنا اپنا کام کرنے لگتے ہیں تو اس حال میں انہی کے عمل سے کائنات کی کاپیاں بنتی جاتی ہیں، جبکہ عالمِ شخصی کی روح کائنات میں پھیلائی جاتی ہے، اور کائناتی روح عالمِ شخصی کے سانچے میں ڈالی جاتی ہے، اسی طرح یہ عمل شب و روز جاری رہتا ہے، تاآنکہ کائنات کی اور مومنِ سالک کی ہزاروں کاپیاں ہو جاتی ہیں، یہ ہوا امامِ مبینؑ (لوحِ محفوظ) سے فرشتوں کا مومنین و مومنات کے نامہ ہائے اعمال کو نقل (کاپی) کرنا، کیونکہ امامِ عالیمقامؑ ہی کتابِ کلّ ہے اس لئے تمام اعمال سب سے پہلے اسی میں درج کئے جاتے ہیں، جیسا کہ سورۂ یاسین میں ہے:
انَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ (۳۶: ۱۲) ہم ہیں جو زندہ کرتے ہیں مردوں کو اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے
۴۲
پیچھے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک ظاہر پیشوا میں گھیر دیا ہے۔
یاد رہے کہ مومنین و مومنات کے نامہ ہائے اعمال امام علیہ السّلام کی ذاتِ پاک، اور اس کی کائناتی روح سے ہوکر اس لئے آتے ہیں کہ وہ سب صحیفے رحمت و برکت اور علم و حکمت کی دولتِ لازوال سے مالامال ہو جائیں، اور جب کسی مومن یا مومنہ کو مرتبۂ عقل پر اس کا نامۂ اعمال دیا جائے گا تو وہ کتابِ ناطق اور نور کی صورت میں ہوگا (۵۷: ۱۲، ۶۶: ۰۸) جو درجۂ حق الیقین کے علم و معرفت کو بیان کرے گا، کیونکہ ہر چیز خصوصاً قرآنِ حکیم کی ہر چیز اور ہر مثال میں دراصل رحمت و علم ہی کی جلوہ نمائی ہے (رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا۔ ۴۰: ۰۷)۔
قرآنِ عظیم درحقیقت ایک ہی ہے، جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر نازل ہوا، لیکن دنیائے اسلام میں اس کی بے شمار نقلیں (کاپیاں) موجود ہیں، اور اگر مانا جائے کہ ہر مومن اور مومنہ میں لوحِ محفوظ کی کاپی اسی طرح پوشیدہ ہے جس طرح دوسری تمام اشیاء اس کے عالمِ شخصی میں مخفی ہیں، تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس لوحِ محفوظ میں نورِ قرآن کا ایک روشن عکس ہو سکتا ہے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ۔
وَفِي الأَرْضِ آيَاتٌ لِلْمُوقِنِينَ وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلاَ تُبْصِرُونَ (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) اور یقین والوں (اہلِ معرفت) کے لئے زمین میں نشانیاں ہیں، اور خود تم میں بھی ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ آیات کے معنی ہیں نشانیاں اور معجزات، ویسے تو زمین میں قدرتِ خدا کی بے حساب نشانیاں موجود ہیں، لیکن سب سے عظیم معجزے قرآنِ پاک اور امامِ اطہرؑ ہیں، اور مذکورہ ارشاد کی
۴۳
حکمت یہ بتاتی ہے کہ جو کچھ زمین میں ہے وہ یقیناً عالمِ شخصی میں بھی ہے، اس سے یہ حقیقت کلّی طور پر روشن ہو گئی کہ روحِ قرآن کی کاپی اور نورِ امامت کا عکس عالمِ شخصی میں موجود ہیں، اور اس سرِعظیم کو آپ ہرگز ہرگز معمولی نہ سمجھنا۔
آفاق و انفس کی نشانیوں (معجزات) کے بارے میں ارشاد ہے: ۔
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (۴۱: ۵۳) ہم عنقریب ہی اپنی نشانیاں (معجزات) اطرافِ (عالم) میں اور خود ان میں بھی دکھا دیں گے، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی یقیناً حق ہے۔ قرآنِ حکیم کی اس پیش گوئی سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آفاق و انفس میں معجزات تو موجود ہیں، لیکن کچھ لوگ اقرار کرتے ہیں وہ اچھے ہیں، کچھ لوگ دیکھتے بھی ہیں، وہ بہت اچھے ہیں، اور کچھ لوگ انکار کر رہے ہیں ، وہ لوگ اچھے نہیں ہیں، اور ان میں یہی فرق ہے، پس علم الیقین ضروری ہے، تاکہ روشن دلائل سے یہ معلوم ہو سکے کہ عالمِ شخصی میں سب کچھ ہے۔
قرآنِ مجید کی ایک خاص تعلیم یہ بھی ہے کہ موجودات و مخلوقات کی چیزیں دو دو (جفت جفت) ہیں، چنانچہ اللہ جل شانہ کی بادشاہی میں روحانی تخلیق کے سانچے (MOULDS) بھی دو ہیں، وہ کائنات (عالمِ کبیر) اور عالمِ شخصی ہیں، یہ دو قالب (سانچے) اس مقصد کے لئے ہیں کہ جب جب اللہ چاہے تو کارخانۂ قدرت کے اس سانچے (عالمِ شخصی) میں ڈھل کر کائنات کی روحانی کاپی انسانِ کامل کی طرح ہو جاتی ہے، اور اس سانچے (کائنات) میں ڈھل کر انسانِ کامل عالمِ کبیر جیسا ہو جاتا ہے۔
۴۴
یہ بات بھول نہ جائیں کہ روحانیّت کے تمام عظیم اسرار بڑے بڑے مضبوط پردوں کے پیچھے پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں، اس کی ایک مثال یہ ہے: سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍۙ-حُسُوْمًاۙ (۶۹: ۰۷) (رہے قومِ عاد تو وہ بہت شدید تیز آندھی سے ہلاک کئے گئے) خدا نے اسے سات رات اور آٹھ دن لگا تار اُن پر چلایا۔ یہ تباہ کن عذاب ان لوگوں پر نازل ہوا جو حضرتِ ہود علیہ السّلام کی دعوتِ حق سے انکار کر رہے تھے۔
اب یہ مجرّد تاویل بیان کرنا ہے کہ مذکورہ ۱۸۰ (ایک سو اسی) گھنٹے کی شدید آندھی بشکلِ روحانی عالمِ شخصی میں اس وقت پیدا ہو جاتی ہے جبکہ اسرافیل، عزرائیل وغیرہ پُرحکمت قبضِ روح کا عمل شروع کرتے ہیں، جس سے تمام مخالفانہ قوّتیں قومِ عاد کی طرح تباہ و برباد ہو جاتی ہیں، اور پھر سات رات اور آٹھ دن کی مدت میں مسلسل عالمِ شخصی اور کائنات کی روحانی نقلیں (کاپیاں) بنائی جاتی ہیں، اور اس عمل میں بے شمار حکمتیں مخفی ہیں۔
قرآنِ عزیز کے ۳۱ مقامات پر اَلَمْ تَرَ (کیا تو نے نہیں دیکھا؟) کا جملۂ سوالیہ آیا ہے، حالانکہ متعلقہ واقعات بظاہر سامنے نہیں ہیں، لیکن عالمِ شخصی میں سب کچھ موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمِ شخصی کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے خدا نے آنحضرتؐ سے پوچھا: اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحَابِ الْفِیْل (کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے ربّ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟)۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
۲۴ ؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء
۴۵
عزیزانِ من
(انتساب)
مجھے اپنے شاگردوں کو “عزیزان” کہنا بے حد پسند ہے، یقیناً لفظِ شاگرد بہت ہی کم استعمال کرتا ہوں، الحمدللہ! میں اس بات کو توفیقِ الٰہی سمجھتا ہوں، لہٰذا اس کی ایک وجہ نہیں، بلکہ کئی وجہیں ہوسکتی ہیں، میں دنیوی تعلیم میں سب سے پیچھے ہوں، اور روحانی تعلیم میں بحقیقت ہم سب امامِ آلِ محمدؐ کے شاگرد ہیں، جو حدیثِ ثقلین کے مطابق قرآنِ مجید کے بعد زمین پر دوسرا عظیم عقلی معجزہ ہیں۔
میں اپنے عزیزوں کی صفِ اوّل سے شروع کر کے آخر تک قربان ہو جانا چاہتا ہوں، میں ان سب سے فدا ہوجاؤں! کیونکہ وہ تمام اس علمی خدمت میں شب و روز سخت محنت کر رہے ہیں، اور ہر فرد حسن و خوبی سے اپنا فریضہ انجام دے رہا ہے، تبھی تو یہ علمی خدمت خاص و عام کے نزدیک قابلِ توجہ ہو رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے عزیزوں کے گرانقدر تعاون سے قرآنِ پاک کی ایک اہم خدمت ہو رہی ہے، جو اسلام کی
۴۶
خدمت ہے، میں سمجھتا ہوں کہ عصرِ حاضر میں بقدرِ استطاعت قرآنی حکمت کو اجاگر کرنا بیحد ضروری ہے، ہر چند کہ قرآنِ عظیم کے دیگر علوم پر علمائے کرام نے بہت کام کیا ہے، لیکن سائنسی انقلاب کے جدید تقاضوں کے مطابق سوچنا بھی ازحد ضروری ہے۔
اگر مانا جائے کہ ہم علمی جہاد کر رہے ہیں، تو اس میں عسکر کی مثال ہوگی، جس میں جرنیل جیسے بڑے بڑے آفیسرز ہوں گے، یقیناً علمی جہاد کی عزت اس سے بھی بہت اعلیٰ ہے، جو لوگ اپنے نفس اور جہالت کے خلاف جنگ کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے ارضی جنود میں سے ہیں (۴۸: ۰۴، ۴۸: ۰۷) ان شاء اللہ تعالیٰ وہ فرد بہشت میں اپنے اپنے عالمِ شخصی اور ذاتی کائنات میں بادشاہ ہوں گے، آمین!!
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
اتوار ۲۸ ؍ رجب المرجب ۱۴۱۵ ھ یکم جنوری ۱۹۹۵ ء
۴۷
دوزخ کا ایک راز
یہ سورۂ مریم کی دو آیتیں ہیں:
وَإِنْ مِنْكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا (۱۹: ۷۱ تا ۷۲)
تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے ربّ کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو (دنیا میں) متقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔
اس آیت کی تفسیر میں بعضوں نے کہا کہ دوزخ پر سے گزرجانا ہے، اور بعضوں نے کہا کہ اس میں اترنا ہے، اور اولیاء اللہ اور صالحین بھی ایک مرتبہ دوزخ کی آگ میں داخل ہوں گے، لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا، بلکہ ان کی حالت حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی سی ہوگی کہ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا تو ان پر آگ کا کچھ بھی اثر نہ ہوا، چنانچہ قرآن میں ہے:
قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلاَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ ( ۲۱: ۶۹)
ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہو جا اور ابراہیمؑ پر (موجبِ) سلامتی (بن جا) ۔ (مفردات القرآن۔ مادّہ! ورد)۔
اس تصور کے مطابق یہ حدیث ہے: یأتی اقوامٌ ابوابُ الجنّۃِ فیقُولون ألم یعدِنا ربُّنا ان نَرِ وَلنّار؟ فیقال: مررتم
۴۸
علیھا وَھِیَ خَامِدَۃٌ۔ کچھ لوگ بہشت کے دروازوں پر آکر کہیں گے کہ آیا ہم سے ہمارے ربّ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تم آگ سے گزرو گے؟ تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اس سے گزر کر آئے درحالے کہ وہ تمہارے لئے بجھادی گئی ۔ مثنوی دفترِ دوم میں ہے:
مومنان درحشر گویند ای ملک نی کہ دوزخ بود راہِ مشترک؟
مومن و کافر برآن باید گذار ما ندیدیم اندر این رہ دود و نار
نک بہشت و بارگاہِ ایمنی پس کجا بود آن گذر گاہِ دنی
پس ملک گوید کہ آن روضۂ خضر کان فلان جا دیدہ اید اندر گزر
دوزخ آن بود و سیاشگاہِ سخت برشما شد باغ و بستان و درخت
ترجمہ: مومنین قیامت کے دن (بہشت میں ) کہیں گے کہ اے فرشتہ! کیا دوزخ سب کے لئے مشترکہ راستہ نہ تھا؟ جس پر مومن اور کافر (دونوں) کو گذرجانا چاہئے، لیکن ہم نے اس راہ میں نہ کوئی دھواں دیکھا نہ آگ ، یہ تو بہشت اور بارگاہِ امن و آسائش ہی ہے، سو وہ بری گذرگاہ کہاں تھی؟ پس فرشتہ جواب دے گا کہ وہ سرسبزو شاداب باغ و گلشن جس کو تم نے فلا ن جگہ گزرتے ہوئے دیکھا تھا، وہی دوزخ اور عذاب کی جگہ تھی، لیکن دوزخ تمہارے حق میں باغ و گلشن اور گل و گلزار ہو گیا۔ (احادیثِ مثنوی ص: ۶۳۔ ۶۴)۔
حکیم پیر ناصر خسرو قدس اللہ سرہٗ کی مایۂ ناز اور شہرۂ آفاق کتاب “زاد المسافرین” کے آخری قول (بیست و ھفتم) کا عنوان ہے: اندر ایجادِ ثواب و عقاب۔ آپ اس کو بھی پڑھ لیں، خصوصاً مذکورہ دونوں آیتوں
۴۹
کی تفسیر و تاویل کے لئے از صفحہ ۴۷۹ تا ۴۸۲ کو دیکھ لیں، نیز کتابِ وجہِ دین ، کلام ۵ میں بہشت اور کلام ۷ میں دوزخ کا بیان ہے، آپ اس کا بھی مطالعہ کریں۔
یکم جنوری ۱۹۹۵ء
۵۰
خداوندِ کریم کا عشق
حدیثِ شریف ہے:
سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ، یا یوں فرمایا: طُوْبیٰ لِلْمُفَرِّدِیْنَ، قِیْلَ مَاالْمُفَرِّدُوْنَ؟ قَالَ الَّذِیْنَ ھْتَزُّوْ انِیْ ذِکْرِاللہِ تَعَالیٰ، یَا اِھْتَزُّوْ ا فِیْ ذِکْرِاللہِ تَعَالیٰ، آنضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: مفرد لوگ آگے بڑھ گئے، یا اس طرح فرمایا، خوشی اور مبارک بادی ہے مفرد لوگوں کے لئے، عرض کیا: مفرد لوگ کون ہیں؟ فرمایا، وہ لو گ جو اللہ کی یاد میں جھومتے رہتے ہیں۔ حضراتِ صوفیہ نے کہا: مفرد وہ لوگ ہیں جن کو خداوندِ کریم کا عشق ہے، ماسوٰی اللہ سے ان کو کچھ غرض نہیں (لغات الحدیث، جلدِ سوم، لفظِ فرد کے تحت)۔
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے اس پُرحکمت ارشاد میں بڑی عجیب و غریب اور زبردست مفید روحانی سائنس پوشدہ ہے، وہ یہ کہ انسانی بدن بیشمار زندہ خلیات کا مجموعہ ہے، یہ خلیے کھاتے پیتے، سوتے اور جاگتے ہیں وہ ڈرتے بھی ہیں، شادمان بھی ہو جاتے ہیں، پس بدن کی نرم حرکت سے ان میں انبساط، خوشی اور عشق پیدا ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے ذکرِ الٰہی میں جھومنے والوں کی ایسی شاندار تعریف کی گئی ۔
یکم جنوری ۱۹۹۵ ء
۵۱
نعاس ایک راز
نعاس کی لفظی تحلیل:
اَلنُّعَاسُ کے معنی اونگھ یا ہلکی سی نیند کے ہیں، سورۂ انفال میں ہے: إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ (۰۸: ۱۱) جس وقت کہ ڈال دی اس نے تم پر اونگھ اپنی طرف سے تسکین کے واسطے ۔ اسی طرح آلِ عمران میں ہے: ثُثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ (۰۳: ۱۵۴) پھر تم پر اتارا تنگی کے بعد امن کو جو اونگھ تھی کہ ڈھانک لیا اس اونگھ نے بعضوں کو تم میں سے۔
ظاہری جہاد مثال ہے اور روحانی جہاد ممثول، ہادیٔ برحقؑ کی روشن ہدایات کے مطابق شب خیزی اور نورانی ذکر جہادِ اکبر ہے، اس میں قرآنِ عظیم اور امامِ مبینؑ کے بیحد و بے شمار معجزات پنہان ہیں، ان میں سے ایک مختصر ترین معجزہ جو چشمِ زدن میں رونما ہو جاتا ہے، نعاس ہے، وہ یوں کہ بعض دفعہ خصوصی ذکر کے دوران وسوسے یا پریشان خیالات مومنِ سالک کو تنگ کرنے لگتے ہیں، ایسے میں اگر خداوندِ قدوس کی عنایت ہوئی تو ایک معجزانہ اونگھ (نعاس) طرفۃ العین میں طاری ہو کر سارے وسوسوں کوختم کر ڈالتی ہے، البتہ اس میں قوّتِ عزرائیلیہ پوشیدہ ہے۔
۵۲
اَمَنَۃَّ مِّنْہُ، یہ اونگھ اللہ کی جانب سے دلجمعی کی خاطر تھی، ظاہر ہے کہ یہ عام نیند نہیں ہے، کیونکہ یہاں حق تعالیٰ کے احسان کا ذکر ہے، اور خدائے بزرگ و برتر کے احسان میں صرف خواص کے لئے کوئی خاص نعمت ہوا کرتی ہے، جو عوام کو نصیب نہیں ہوتی۔
یکم جنوری ۱۹۹۵ ء
۵۳
لفظِ اللہ کے بارے میں
بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں اِلٰہٌ ہے، ہمزہ یا الف (تخفیفاً) حذف کر دیا گیا ہے (۔لٰہ) اور اس پر الف لام (تعریف) لا کر (ال + لٰہ = اللہ) باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔
اِلٰہٌ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں، پہلا قول: بعض نے کہا ہے کہ یہ اَلَہَ (ف) یَأ لَہُ قُلَانٌ و ثَالَّہٗ سے مشتق ہے، جس کے معنی پرستش کرنے کے ہیں، اس بناء پر اِلٰہُ کے معنی ہوں گے معبود۔
دوسرا قول: بعض نے کہا کہ یہ اَلِہَ (س) بمعنی تحیُّر (حیرت) سے مشتق ہے، اور باری تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور درماندہ ہیں، اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔
تیسرا قول: بعض نے کہا ہے کہ اِلٰہٌ اصل میں وِلَاہٌ ہے، واؤ کو ہمزہ (الف) سے بدل کر اِلَاہ (اِلٰہ) بنا لیا ہے، اور وَلِہَ (س) کے معنی عشق و محبت میں وارفتہ اور بے خود ہونے کے ہیں، اور ذاتِ باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے، اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔
چوتھا قول: بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل لَاہَ یَلُوْہُ
۵۴
لِیَاھاً سے ہے، جس کے معنی ہیں پردہ میں چھپ جانا، اور ذاتِ باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے۔ (مفردات القرآن۔ مادّہ: ال ہ)۔
اگر چہ ان میں سے ہر قول درست اور منطقی ہے، تاہم لفظِ اللہ میں جس طرح عشق و محبت کے معنی مثلِ خزانہ پوشیدہ ہیں، وہ بڑے عجیب و غریب ہیں، جب یہ حقیقت ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ عشق و محبت کا سرچشمہ ہے، تو اس کے ہر اسم اور قرآن کی ہر آیت میں عشقِ الٰہی کا راز پوشیدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ تمام اسما ء اسمِ “اللہ” کے تحت ہیں، اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، پس چشمِ بصیرت سے قرآن میں جہاں بھی دیکھا جائے وہاں عشق ہی عشق نظر آئے گا۔
۲؍ جنوری ۱۹۹۵ ء
۵۵
ایک عظیم راز
ایک حدیثِ شریف ہے: نَزَلَ الْقُرْاٰنُ عَلیَ سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے۔ سورۂ شوریٰ کے شروع (۴۲: ۰۱ تا ۰۲) میں ہے: حٰمٓ ۔ عٓسٓقٓ۔ جس کی ایک تاویل یہ ہے: ح م = محمد ۔ ع س ق = عشق، یعنی عشقِ محمد، دوسری تاویل: ح م = اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم۔ ع س ق = عشق، بمعنیٔ عشقِ علیِٔ زمان جو اللہ تعالیٰ کا اسمِ بزرگ (اَلحیُّ الْقَیُّوم) ہیں، اس کا اشارہ یہ ہے کہ پیغمبر اور امام علیھما السّلام کی اطاعت و محبت اور عشق سے کسی مرید کو روحانی و عرفانی کا میابی حاصل ہو سکتی ہے۔
مولا علی صلوٰۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے: انا و محمد نور واحد من نور اللہ۔ میں اورحضرتِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) خدا کے نور سے ایک ہی نور ہیں، آپؑ نے یہ بھی فرمایا: انا حاء الحوامیم۔ میں قرآنِ حکیم کے حوامیم کا حرفِ حاء (ح) ہوں۔ یعنی اَلْحَیّ القیّوم) جو خداوندِ عالم کا اسمِ اعظم ہے، حوامیم جمع ہے حٰمٓ کی، جو سات سورتوں کے شروع میں ہیں: ۱۔ غافر ۲۔ حَمٓ السّجدہ
۵۶
۳۔ شوریٰ زُخرف ۵ ۔ دخان ۶۔ جاثیۃ ۷۔ احقاف۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السّلام کے اس خطبۃ البیان کو بھی دیکھیں:
انا لؤلؤ الاھداف، انا جبل قاف، انا سر الحروف، انا نور الظروف۔ میں ہی گوہرِ مقاصدِ عالی ہوں، میں ہی باطنی کوہِ قاف ہوں، میں ہی حروفِ قرآن خصوصاً حروفِ مقطعات کا راز ہوں، اور میں ہی کاملین کے بواطن کا نور ہوں۔
کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت ۸۳ میں ہے: قال امام المعشوقین کرم اللہ وجھہٗ: انا الاسمُ الاعظمُ، وھو کٓھٰیٰعٓصٓ ( ۱۹: ۰۱) یعنی میں ہوں اسمِ اعظم کہ وہ کٓھٰیٰعٓصٓ ہے ۔ یعنی حضرتِ امام عالی مقام اللہ تعالیٰ کا وہ اسمِ اکبر ہیں، جس میں ذاکرین کے لئے پانچ عظیم چیزیں ہیں: ک =کرم، ھ =ہدایت، ی = یقین، ع =عشق، ص= صدق۔
۵۷
سورۂ قمر
اس سورۂ مبارکہ میں سے چند تاویلی حکمتیں اس طرح ہیں: ۱۔ وَانْشَقَّ الْقَمَرْ (۵۴: ۰۱) اور چاند شق ہو گیا۔ اس میں بعض نے کہا ہے کہ اِنشقاق قمر آنحضرتؐ کے زمانہ میں ہوچکا ہے، اور بعض کا قول ہے کہ یہ قیامت کے قریب ظاہر ہوگا، اور بعض نے اِنْشَقَّ الْقَمَرْ کے معنی وَضَعَ الْاَمْرُ کئے ہیں، یعنی معاملہ واضح ہو گیا ۔ ( مفردات القرآن، مادہ: ش ق ق)
اصولِ حکمت کے مطابق دورِ امامت میں امام علیہ السّلام سورج اور حجّت چاند ہیں، جب مومنِ سالک امام سے واصل ہو جانے کے لئے حجّت تک پہنچ جاتا ہے تو وہ بھی چاند کہلاتا ہے، اور اس کی منجمد روح شقِ ہوکر انفرادی قیامت شروع ہو جاتی ہے۔
۲۔ حِکْمَۃٌ بَالِغَۃٌ (۵۴: ۰۵) درجۂ انتہا کی دانائی، ایسی انتہائی بلندی کی حکمت جس میں اسرارِ ازل و ابد کی خبر ہو، یہ تمام قرآنی حکمتوں کی تعریف ہے کہ ہر حکمت اسی شان کی ہوا کرتی ہے۔
۳۔يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِي إِلَى شَيْءٍ نُكُرٍ(۵۴: ۰۶) جس دن بلانے والا ایک اجنبی چیز کی طرف بلائے گا۔ اجنبی چیز حضرتِ امامؑ ہی ہے، کیونکہ اکثر لوگ اس کو نہیں پہچانتے ہیں، یہ داعی اسرافیل ہے جو آخراً
۵۸
زبردستی دعوتِ حق کرتا ہے۔
۴۔ لوگ قبروں سے نکل پڑیں گے، گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں (۵۴: ۰۷) اس قیامت میں لوگوں کے نمائندہ ذرّات ہی ہوں گے ، جو ٹڈیوں کی طرح اڑتے ہوئے آئیں گے، دعوتِ حق کا مرکز اس شخص میں ہوگا، جس میں انفرادی قیامت برپا ہو رہی ہو۔
۵۔وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ (۵۴: ۱۷) اور ہم نے تو قرآن کو ذکر (عبادت و نصیحت) کے واسطے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے؟ یہ آیۂ مبارکہ اس سورہ میں چار مرتبہ آئی ہے، ظاہر ہے کہ اس میں بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ قرآنِ عظیم جو ظاہر ہے، وہ نورانی معلم (امامِ مبین ۳۶: ۱۲) اور اسمِ اعظم میں ذکر و نصیحت اور علم و عمل کے لئے آسان کردیا ہے۔
۳؍ جنوری ۱۹۹۵ ء
۵۹
رحمتِ کل
سورۂ انبیا ٔ کی اس پر حکمت آیۂ کریمہ میں زبردست ایمانی کشش موجود ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (۲۱: ۱۰۷) ہر چند کہ بہت سے مستند ترجمے ہیں، تاہم یہ مسئلہ حل طلب ہے کہ “عالمین” سے کون کون سی دنیائیں مراد ہیں؟ حالانکہ یہ جہان ایک ہے، اور عالمِ انسانیّت بھی ایک ہی ہے، پس اس کا درست جواب یہی ہے کہ عالمین سے عوالمِ شخصی مراد ہیں، کیونکہ بروایتِ حضرتِ امام جعفر الصادق علیہ السّلام عالمین سے صرف انسان ہی مراد ہیں، کہ ان میں سے ہر ایک فرد اپنی جگہ ایک مستقل عالم ہے، پس یقیناً حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کا نورِ اقدس زمانۂ آدمؑ سے لے کر قیامتِ کبریٰ تک تمام عوالمِ شخصی کے لئے رحمتِ کل ہے، جس میں ہر نبی اور ہر ولی کا عالمِ شخصی شامل ہے۔
نورِ اوّل اور شخصیتِ آخر:
حضرت محمد مصطفےٰ سردارِ انبیاء اپنے نورِ اقدس میں سب پیغمبروں سے اوّل اور پاک شخصیّت میں ان سے آخر ہیں، لہٰذا یہ جو ارشاد ہوا: فَبِھُدٰ ھُمُ اقْتَدِہْ۔ تو تم انہیں (پیغمبروں ) کی ہدایت کی پیروی کرو
۶۰
( ۰۶: ۹۰) وہ ظہور شخصیّت کے اعتبار سے ہے، اور یہ بڑے کمال کی بات ہے کہ کوئی ہستی نورِ اوّل بھی ہو، قلمِ اوّل اور عقلِ اوّل بھی، اور انبیاء کا خاتم بھی ہو، وہ اپنی نورانی مرتبت میں ہادیوں کا ہادی ہو، اور پھر جسمانیّت میں ان کی پیروی بھی کرے، ایسے میں اس کا مرتبہ بڑا عجیب و غریب اور سب سے عظیم ہوگا۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سب سے پہلے انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کے عوالمِ شخصی کے لئے رحمت ہیں، اس لئے ہر نبی اور ہر ولی کی تعریف دراصل ہمارے پیغمبرِ اکرمؐ کی تعریف ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں سب مسلمان مانتے ہیں کہ حضرتِ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم سردارِ انبیاء و رسل ہیں، اور آپؐ ہی کی ذاتِ عالی صفات باعثِ تخلیق کائنات ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا: نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّا بِقُوْنَ ۔ ہم (اہلِ بیت) اگرچہ آخر میں آئے ہیں، لیکن ہم کو ہر اعتبار سے اولیّت و سبقت حاصل ہے، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے پہلے ہمارا نور پیدا کیا اور قیامت کے دن ہم سابقون کے سردار ہوں گے۔
قرآنِ حکیم اور حدیث شریف میں جہاں جہاں انبیاء و رسل علیہم السّلام کا یکجا تذکرہ آیا ہے وہاں ان مقدّس ہستیوں کی اعلیٰ جماعت اور سردار کا تصوّر ہے، اور وہ نامدار سردار حضرت محمد مصطفےٰ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہی ہیں، اس لئے کہ جب دین و دینا کا کوئی گروہ
۶۱
حق یا باطل سردار کے بغیر نہیں ہوسکتا تو گروہِ انبیاء سردار کے بغیر کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ خاص (حضرت محمدؐ) کو جو مرتبہ عنایت فرمایا ہے، اس کی سب سے روشن دلیل خود قرآنِ عظیم ہی ہے، جو عالمِ ہست و بود میں سب سے عظیم معجزہ ہے، جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، اور قرآنِ عزیز عالمِ انسانیّت کو جن خوبیوں اور کمالات کی تعلیم دیتا ہے، ان اوصاف کا بہترین نمونہ بھی حضورِاکرم صلعم ہی ہیں۔
خوب یاد رکھو کہ قرآنِ مجید نہ صرف آج دنیا میں ظاہر ہے، بلکہ یہ ازل سے بہ تحریرِ روحانی لوحِ محفوظ میں بھی موجود ہے (۸۵: ۲۱ تا ۲۲) اس صورت میں ہر ہوش مند کو یہ ماننا لازمی ہے کہ قرآنِ عظیم کے آفاقی قوانین تاریخِ انسانیّت کی ابتداء ہی سے جاری اور واجب العمل ہیں، مثال کے طور پر: ۔
قَدْ جَاءَكُمْ مِنْ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ (۰۵: ۱۵ بیشک تشریف لایا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور ایک کتاب ظاہر کرنے والی ) اس حکمِ الٰہی کا مفہوم و خلاصہ زمانۂ آدمؑ کی ہدایت میں موجود تھا، کیونکہ یہ آفاقی قوانین میں سے ہے۔
اس حقیقت کی پہلی دلیل: قرآنِ پاک کا خلاصہ یا جوہر اگلے پیغمبروں کی کتابوں میں بھی ہے (۲۶: ۱۹۶) دوسری دلیل: حضرتِ آدمؑ میں نبیٔ رحمتؐ کا نور تھا، جس کا دوسرا نام الٰہی روح ہے، اور کتاب ان کی روحانیّت تھی۔ تیسری دلیل: نورِ الٰہی کا مظہر نبی اور ولی (امام) ہوا
۶۲
کرتا ہے، اور آسمانی کتاب کی نورانیّت بھی اسی نور میں ہوتی ہے، چوتھی دلیل: اللہ جل جلالہ نے اپنے تمام پیغمبروں پر ایک مشترکہ کتاب نازل فرمائی، وہ کتابِ روحانیّت (الکتاب ۰۲: ۲۱۳) ہے، جس کے مختلف ظہورات ہوئے، اور اس کا ظہورِ کامل قرآنِ حکیم ہے، پس نور اور کتاب ہر زمانے میں موجود ہے۔
۴؍ جنوری ۱۹۹۵ ء
۶۳
وعدۂ خلافت
سورۂ نور ( ۲۴: ۵۵) میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ایک عظیم الشّان ارشاد ہے: (ترجمہ): ( اے ایمان والو) تم میں سے جن لوگوں نے ( حقیقی معنوں میں) ایمان لایا اور اچھے اچھے کام کئے ان سے خداوندِ قدوس نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کو روئے زمین پر ضرور (اپنا) نائب (خلیفہ) مقرر کرے گا، جس طرح ان لوگوں کو نائب بنایا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، اور جس دین کو اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے، اس پر انہیں ضرور پوری قدرت دے گا، اور ان کی (موجودہ) حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا، وہ (اطمینان سے) میری ہی عبادت کریں گے اور کسی کو میرا شریک نہ بنائیں گے، اور جو شخص اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں ( ۲۴: ۵۵)۔
اللہ جلّ شانہ کی بنائی ہوئی زمین صرف یہی نہیں، جس پر آج ہم سب لوگ رہتے ہیں، خدا کی بے پایان زمین دراصل ارضِ بہشت ہی ہے، جو اپنی بےشمار کاپیوں کے ساتھ کائنات کا ظاہر و باطن ہے، اور ذیلی طور پر ہر ستارہ ایک زمین ہے، جس پر اجسام لطیف کی زندگی اور خلافت کی بڑی سے بڑی گنجائش ہے، جیسا کہ سورۂ
۶۴
عنکبوت (۲۹: ۵۶) میں فرمایا گیا ہے: ۔
یٰعِبَادِیّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ آ اِنَّ اَرْضِیْ وَ اسِعَۃٌ فَاِ یَّا یَ فَاعْبُدُ وْنَ۔ اے میرے ایماندار بندو! میری زمین تو یقیناً ( بیحد) کشادہ ہے تو تم (نورِ معرفت کی روشنی میں) میری ہی عبادت کرو۔ اس میں مذکورۂ بالا خلافت کی طرف اشارہ ہے۔
سورۂ زخرف (۴۳: ۶۰) میں ہے: وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلاَئِكَةً فِي الأَرْضِ يَخْلُفُونَ۔ اگر ہم چاہیں تو تم سے فرشتے بنائیں جو زمین میں خلافت کریں ۔ اس آیۂ شریفہ میں یہ اشارہ ہے کہ جب مومنین و مومنات روحانی ترقی سے فرشتے بن جائیں گے تو تب ہی وہ ستاروں کی خلافت کر سکتے ہیں، اس سے پہلے نہیں، کیونکہ وہاں جسمِ فلکی کی سلطنت ہے، یادرہے کہ مومن آدمی سے مومن جنّ پیدا ہو جاتا ہے، اور کافر انسان سے کافر جنّ، پھر مومن جنّ کا دوسرا نام فرشتہ اور کافر جنّ کا دوسرا نام شیطان ہے۔
جس طرح زمین پر اپنی قسم کی مخلوقات ہیں، اسی طرح آسمان میں بھی اپنی نوعیت کی مخلوقات ہیں، جیسا کہ سورۂ شوریٰ میں ارشاد ہے: وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِنْ دَابَّةٍ وَهُوَ عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ (۴۲: ۲۹) اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے سارے آسمان و زمین کا پیدا کرنا، اور یہ جاندار مخلوقات جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں، وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کرسکتا (۴۲: ۲۹)۔
۶۵
یہ آئمۂ آلِ محمد صلوٰۃ اللہ علیہم کی نورانی تعلیمات و تائیدات کی برکات ہی ہیں کہ مشرق و مغرب کی ہماری بے حد پیاری کلاسوں میں (جس کی غرض نیک نام جماعت کی علمی خدمت ہے) بار بار عالمِ شخصی کا بیان ہوتا رہا، اور بالآخر کائنات کی کاپیوں سے متعلق اسرار بھی خداوندِ قدّوس کے فضل و کرم سے منکشف ہو گئے،الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
عالمِ شخصی اور کائنات کی کاپی سے یہ مراد ہے کہ خدائے برترو بے نیاز اپنے دوستوں اور خاص بندوں کو اس شان سے نوازنا چاہتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک ذاتی اور انفرادی کائنات کی خلافت و سلطنت عطا کی جائے، جس کی وجہ سے ہر بار “کُنۡ” فرما کر ایک جہانِ جدید کو پیدا کرتا ہے، کیونکہ بموجبِ قرآنِ حکیم اس کی صفتِ خالقیت کی تعریف نہ صرف خَلَقَ (پیدا کیا) ہی میں ہے بلکہ اس کی توصیف یَخْلُقُ (پیدا کرتا ہے) میں بھی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ۔
لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ۔ اللہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (۴۲: ۴۹) یعنی جب اللہ چاہے تو ایک نئی کائنات پیدا کر کے اس کی خلافت و سلطنت کسی بندۂ خاص کو عنایت کر سکتا ہے۔
ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعرات ۳؍ شعبان المعظم ۱۴۱۵ ھ / ۵؍جنوری ۱۹۹۵ ء
۶۶
حضرتِ آدمؑ کا عالمِ شخصی
ارشادِ خداوندی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (۲۱: ۱۰۷) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر سارے عوالمِ شخصی کے لئے، اس آیۂ کریمہ سے ایک طرف تو یہ حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے کہ قرآنِ پاک میں جہاں جہاں رحمت کا ذکر آیا ہے، وہاں بلاشبہ آنحضرتؐ کی نورانی ہستی کا تذکرہ ہے، کیونکہ رحمتِ کل آپؐ ہی کا نورِ اقدس ہے اور دوسری طرف صاف طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا کے حکم سے نورِ محمدی نے بعنوانِ رحمت سب سے پہلے حضرتِ آدمؑ کے عالمِ شخصی میں کام کر دیا۔ کیونکہ قصّۂ آدمؑ میں جس خاص روح (۱۵: ۲۹، ۳۲: ۰۹، ۳۸: ۷۲) کا ذکر آیا ہے، اس سے نورِ محمدی مراد ہے۔
کتابِ کوکبِ دری، بابِ دوم، منقبت نمبر ۱ میں جو حدیث شریف ہے اس کو غور سے پڑھ لیں، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم میں محمد و علی کا مقدّس نور قائم کیا تھا، اور یہی نور انبیائے قرآن کے سلسلے میں چلا آیا، نور جہاں بھی ہو زندہ، گویندہ، اور دانندہ ہوتا ہے، اس کے افعال و اوصاف ہمیشہ متحرک اور جاری و ساری رہتے ہیں، جیسے سورج کے اندرونی دھماکے نہ کبھی خاموش ہو سکتے ہیں، اور نہ شعاعوں
۶۷
کا طوفان کبھی تھم سکتا ہے، اسی طرح نورِ مقدّس کے باطن میں خود بخود بولنے والے قیامت خیز اسماء الحسنیٰ ہیں، جن کی وجہ سے بے شمار روحیں کائناتی حرکت میں ہیں، تاکہ اس انتہائی عظیم عمل سے عالمی یا کائناتی زندگی کی لہر دوڑتی رہے۔
الغرض محمد و علی صلوٰۃ اللہ علیہما کا نورِ اقدس تھا، جس کو خدائے بزرگ و برتر نے رُوْحِیْ (۱۵: ۲۹، ۳۸: ۷۲) فرمایا، جس کے لئے فرشتوں نے مقامِ روحانیّت پر بھی اور مرتبۂ عقلانیّت پر بھی سجدہ کیا، خوب ذمہ داری سے یاد رکھو کہ مرتبۂ عقل ہی مرتبۂ معراج ہے، جہاں تمام حقیقتیں اور معرفتیں جمع ہیں، کیوں؟
۱۔ اس لئے کہ وہاں علم و حکمتِ الٰہی کے خزائن (۱۵: ۲۱) ہیں۔
۲۔ اس لئے کہ وہاں خداوندِ عالم نے آسمان زمین کے سارے اسرار کو لپیٹ کر رکھا ہے ۔ (۲۱: ۱۰۴، ۳۹: ۶۷)
۳۔ اس لئے کہ وہاں روحانی سفر ختم ہو جاتا ہے۔ (۲۰: ۱۲)
۴۔ اس لئے کہ وہاں حظیرۃ القدس ہے، یعنی احاطۂ اسرارِ ازل و ابد۔
۵۔ اس لئے کہ وہاں کتابِ مکنون ہے ( ۵۶: ۷۸)
۶۔ اس لئے کہ وہاں امامِ مبینؑ کا نورِ عقل ہے (۳۶: ۱۲)
۷۔ اس لئے کہ وہاں کُنْتُ کَنْزاً مَخْفِیّاً کے اسرار مکشوف ہیں۔
۸۔ اس لئے وہاں قریب لائی ہوئی عرفانی بہشت موجود ہے۔ (۲۶: ۶۴، ۲۶: ۹۰)
۹۔ اس لئے کہ وہاں ام الکتاب ہے (۴۳: ۰۴)
۶۸
۱۰۔ اس لئے کہ وہاں دواتِ دہنِ مبارک، قلمِ عقل، اور لوحِ محفوظ ہے (۶۸: ۰۱) ۔
۱۱۔ اس لئے کہ وہاں آسمانوں اور زمین کے تمام امور کا رجوع ہے۔ (۱۱: ۲۳)
۱۲۔ اس لئے کہ وہاں اللہ تعالیٰ کے بابرکت ہاتھ میں ہر چیز کا ملکوتی جوہر ہے ۔ (۲۳: ۸۸، ۳۶: ۸۳)
۱۳۔ اس لئے کہ وہاں وجہ اللہ کے سوا ہر شخص اور ہر چیز فانی ہے۔ (۵۵: ۲۷، ۲۸: ۸۸)۔
پروردگارِ عالمین نے حضرتِ آدمؑ اور بنی آدم (کاملین) کے روحانی عروج و ارتقاء کے ساتھ ساتھ ان کی پشتوں سے ذرّیت کو بھی پیشانی کی معراج پر اٹھا لیا، اور ان کو اپنی اصل روح کا مشاہدہ (دیدار) کرایا، اس وقت وہ سب یک حقیقت میں فنا ہو گئے تھے، یہ پرورش کا درجۂ کمال تھا، اس لئے پوچھا کہ آیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ وہ کہنے لگے، کیوں نہیں (۰۷: ۱۷۲)۔
اللہ تعالیٰ کی پاک و پُرحکمت سنّت ہمیشہ اس کے خاص بندوں یعنی انبیاء و اولیاء میں ایک جیسی رہی ہے، ان سب کے روحانی واقعات دراصل ایک جیسے ہیں، مگر ان کی مثالیں طرح طرح سے بیان کی گئیں، تاکہ لوگوں سے علم و معرفت کا امتحان لیا جائے، آپ سنّتِ الٰہی سے متعلق آیاتِ کریمہ کو بار بار خوب غور سے پڑھیں، اور اس قرآنی ہدایت میں بھی چشمِ بصیرت سے دیکھنا ہے: لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ (۰۲: ۱۳۶)
۶۹
ہم فرق نہیں کرتے ان سب (پیغمبروں ) میں سے ایک میں بھی۔ یہ فرق جغرافیائی، زمانی، لسانی وغیرہ تو ہے ہی ، اور درجات میں بھی فرق ہے (۰۲: ۱۵۳) مگر روحانیّت میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ سبھی صراطِ مستقیم پر چل کر منزلِ مقصود میں پہنچ گئے۔
اللہ کے حکم سے نورِ محمدی نے جملہ انبیاء کو معراج تک رہنمائی کی، پھر وہ سب اپنی اپنی امت کے لئے معارج (سیڑھیاں ۷۰: ۰۳) ہو گئے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر پیغمبر اور ہر امام اپنے وقت میں روحانیّت کی سیڑھی (معراج) بھی ہے، اللہ کی رسی بھی، اور صراطِ مستقیم بھی۔
۷۰
حضرتِ ابراہیمؑ کی معراج
اللہ جل شانہ کا مبارک ارشاد ہے: وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنْ الْمُوقِنِينَ (۰۶: ۷۵) ابراہیمؑ کو ہم اسی زمین اور آسمانوں کا نظامِ سلطنت دکھاتے تھے اور اس لئے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔ یعنی خداوندِ قدّوس نے اپنے خلیلؑ کو مرتبۂ حق الیقین کے اسرارِ معرفت کا مشاہدہ کرا کر عارفِ کامل بنایا تھا، اور یہیں منزلِ فنائے عقلی، گنجِ ازل، حظیرۃالقدس، فردوسِ برین، اور مرتبۂ معراج ہے۔
حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام نے چشمِ باطن سے ربِّ کریم کی پاک تجلّی کا مشاہدہ کیا، جس کے سوا یقین و معرفت کا درجۂ کمال ممکن ہی نہیں، اس کے کئی قرآنی ثبوت ہیں، پہلا ثبوت: آپؑ کو جب عالمِ شخصی کی معراج ہوئی تو اس وقت آپؑ نے دستِ حق میں جوہرِ ارض و سماء یعنی لؤلوئے عقل کو دیکھا، جس کے بے شمار اسماء میں سے ایک اسم “ملکوت” ہے، جیسا کہ سورۂ یٰسٓ (۳۶: ۸۳) میں فرمایا گیا ہے:
فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔ تو اس کی ذات پاک ہے جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا
۷۱
ملکوت ہے، اور تم سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سب لوگ اللہ کے حضور ہی سے آئے ہیں، جہاں کاملین کو معراج ہوتی ہے، اور سب کو لوٹ کر وہاں جانا ہے۔
دوسرا ثبوت: حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام اپنے روحانی سفر اور باطنی مشاہدات کے سلسلے میں ستارہ، چاند اور سورج سے نہ تو محبت کرتے ہیں اور نہ ہی مطمئن ہو جاتے ہیں (۰۶: ۷۶ تا ۷۸) لیکن جب آپؑ اسی مقام پر اپنا چہرۂ جان خالقِ ارض و سما کی طرف کرتے ہیں تو یکایک مطمئن نظر آتے ہیں، پھر اسی دیدارِ اقدس اور اعلیٰ معرفت کی روشنی میں شرک کی مذمت اور توحید کی تعریف کرنے لگتے ہیں، اس سے اہلِ بصیرت یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ یہی مقامِ معراج ہے، جہاں حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کو خداوندِ قدوس کا پاک دیدار ہوا، جس سے آپؑ خود شناسی اور خدا شناسی یعنی معرفت کے درجۂ کمال پر پہنچ گئے (۰۶: ۷۹)۔
تیسرا ثبوت: قرآنِ حکیم حضرتِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو موحدِّ اعظم قرار دیتا ہے، اس سے ہمیں یہ یقین آیا کہ آپؑ نے صورتِ رحمان میں اپنی انائے علوی کا دیدار کیا تھا، اور یہ اہلِ دانش کے نزدیک یک حقیقت (مونوریالٹی) کا سب سے عظیم راز اور معراج ہے۔
چوتھا ثبوت: قرآنِ پاک میں ہے: قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا (۰۲: ۱۲۴) خدا نے (ابراہیمؑ سے) فرمایا
۷۲
میں یقیناً تم کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں ۔ ظاہر ہے کہ جس کو اللہ پیشوا (امام) بنائے، وہ لوگوں کو نورِ ہدایت کی روشنی میں فرشِ زمین سے عرشِ برین تک لے جاسکتا ہے، پس حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کی قرآنی تعریف ہر امامِ حق کی تعریف ہے۔
پانچواں ثبوت: قرآنِ عزیز میں ایک مرتبہ “البْیْتُ المعمور” کا ذکر آیا ہے، اور یہ سورۂ طور (۵۲: ۰۴) میں ہے، بیتِ معمور یعنی اللہ کا زندہ اور تجلّیات سے معمور (آباد) گھر جو آسمانِ ہفتم پر ہے، جس سے حضرتِ امام علیہ السّلام کا نورانی مرتبہ مراد ہے جو کرسی اور عرش تک پاک و پاکیزہ ہستیوں کی ہدایت و رہنمائی کرنے کے لئے مقرر ہے، اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ نورِ امامت چاہے حضرت ابراہیمؑ میں ہو یا بعد کے کسی امامؑ میں، وہ علم و عبادت میں گداختہ مومنین کو دیدارِ الٰہی کے سب سے اعلیٰ مرتبے تک پہنچا دیتا ہے۔
چھٹا ثبوت: حضرتِ ربّ العزّت کا پاک و پر حکمت ارشاد ہے: فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا (۰۴: ۵۴) ہم نے تو ابراہیمؑ کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت بھی دی۔ یہ آیۂ کریمہ نمائندہ آیات میں سے ہے، کیونکہ اس میں قانونِ دین کا ایک بڑا جامع خلاصہ موجود ہے، جس میں ایسے پانچ عظیم الشّان مضامین ہیں جو عرشِ اعلیٰ کو چھو رہے ہیں، وہ یہ ہیں: ۱۔ حضرتِ ابراہیمؑ ۲۔ آلِ ابراہیمؑ ۳۔ الکتاب ۴۔ حکمت ۵۔ عظیم سلطنت۔ الغرض صاحبِ عرش نہ صرف ہادیانِ
۷۳
برحق علیہم السّلام ہی کو مرتبۂ معراج اور دیدارِ اقدس سے نوازتا ہے، بلکہ ان کی رہنمائی میں عالی ہمت مومنین و مومنات کو بھی یہ سب سے بڑی دینی نعمت عطا فرماتا ہے۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
اتوار ۶؍ شعبان المعظم ۱۴۱۵ ھ / ۸؍ جنوری ۱۹۹۵ء
۷۴
آلِ ابراہیمؑ
کتاب دعائم الاسلام، جلد اوّل، کتاب الولایۃ کے تحت جو مضامین ہیں ان کو ضروری طور پر پڑھ لیں، اور خوب غور سے دیکھ لیں، اس میں آپ کو أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام کی تفسیری و تاویلی حکمتیں ملیں گی، ان مقدّس تعلیمات میں دینِ حق کی بہت سی اساسی حقیقتیں بیان کی گئی ہیں، وہ مضامین حسبِ ذیل ہیں: ۔
۱۔ ایمان ۲۔ اصولِ ایمان ۳۔ اسلام اور ایمان ۴۔ ولایتِ امیرالمومنین علی ابنِ ابی طالبؑ ۵۔ ولایتِ آئمۂ اہلِ بیتؑ ۶۔ محمد و آلِ محمدؐ پر صلوٰۃ کا بیان ۷۔ آئمۂ آلِ محمد صلعم پر نص و توقیف کا بیان ۸۔ مسئلۂ امامت ۹۔ آئمۂ طاہرین علیہم السّلام کے درجات و منازل کا بیان ۱۰۔ آئمۂ الہدیٰ کی وصیتوں کا بیان ۱۱۔ حبِ اہلِ بیت کا بیان ۱۲۔ علم کی ترغیب اور طالبانِ علم کے فضائل کا بیان ۱۳۔ کس سے علم حاصل کرنا اور کس سے نہ کرنا اور کس کے قول پر عمل نہ کرنا چاہئے۔
قرآنِ حکیم (۰۴: ۵۴) میں جس شان سے آلِ ابراہیمؑ کا ذکرِ جمیل فرمایا گیا ہے، اور اس میں جیسی عظیم حکمتیں عیان و پنہان موجود ہیں، وہ اہلِ دانش کے حق میں حقائق و معارف کا ایک لازوال خزانہ ہے، جبکہ آلِ ابراہیمؑ کا
۷۵
سلسلہ بصورتِ أئمّۂ آلِ محمد قیامۃ القیامات تک جاری و ساری ہے، کیونکہ رسالت و نبوّت تو اپنے وقت پر آکر ختم ہوگئی، لیکن کتاب، حکمت اور عظیم روحانی سلطنت کی وراثت خاندانِ محمدؐ کے أئمّہ (علیہ و علیہم السّلام ) سے وابستہ ہے، اور تمام لوگ بشرطِ پیروی اس خزانے سے بیش از بیش فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔
شعوری بت پرستی سے ہر مسلمان دور رہتا ہے، مگر غیر شعوری اصنام پرستی میں بہت سے لوگ گرفتار ہو جاتے ہیں، حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام علمِ امامت کی روشنی میں ظاہری و باطنی اصنام سے سخت نفرت کرتے تھے، تاکہ عشق و محبّت خدا ہی کے لئے خالص رہے، اسی مقصد کے پیشِ نظر آپؑ نے فرمایا: (ترجمہ) پس جو شخص میری پیروی کرے تو وہ مجھ سے ہے۔ (۱۴: ۳۶)
۹؍ جنوری ۱۹۹۵ ء
۷۶
وادیٔ مقدّسِ طوٰی
طوٰی کے معنی: طَوَی یَطَوی طَیّاً ۔ الثوب، کپڑا لپیٹنا (المنجد) إِنَّكَ بِالْوَادِي الْمُقَدَّسِ طُوًى (۲۰: ۱۲) تم (یہاں) پاک میدان (یعنی طویٰ میں ہو، کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ طوی اسی وادی المقدّس کا نام ہے جہاں حضرتِ موسیٰ پہنچ چکے تھے، اور بعض کہتے ہیں کہ طویٰ اس مرتبہ کی طرف اشارہ ہے جس سے انہیں اجتباء کے طور پر نوازا گیا تھا، اگر وہ اس مرتبہ کو مساعی اور اجتہاد کی راہ سے حاصل کرنا چاہتے تو اس قدر طویل مسافت کو طے نہیں کر سکتے تھے، وادیٔ نبوّت تک پہنچنے کی تمام مسافتیں ان کے لئے لپیٹ دی گئیں (مفردات القران)۔
اس سلسلے میری عاجزانہ گزارش یوں ہوگی کہ ہر انسانِ کامل پر جب انفرادی قیامت گزرتی ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ عالمِ شخصی میں آسمانوں اور زمین کو لپیٹ لیتا ہے (نطوی: ۲۱: ۱۰۴، مطویات: ۳۹: ۶۷) یہی سرِعظیم حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کی وادیٔ مقدّسِ طویٰ میں بھی پنہان ہے، یہ مقامِ معراج ہے، جس میں تمام چیزیں بصورتِ جوہر لپیٹ دی جاتی ہیں، تاکہ قدرتِ خدا سے اسرارِ کون و مکان کا یکجا مطالعہ ہو جائے۔
سورۂ نازعات (۷۹: ۱۵ تا ۱۷) میں ہے: هَلْ أتَاكَ حَدِيثُ
۷۷
مُوسى۔ إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىاذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى (اے رسولؐ) کیا تمہارے پاس موسیٰ کا قصّہ بھی پہنچا ہے، جب ان کو ان کے پرودگار نے طوٰی کے میدان میں پکارا کہ فرعون کے پاس جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے۔
الوادی اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی بہتا ہو، اسی سے دو پہاڑوں کے درمیان کشادہ زمین کو وادی کہا جاتا ہے، مقدّس: پاک کیا ہوا، تقدیس سے اسم مفعول واحد مذکر، طوٰی کے معنی ہیں لپیٹنا۔
باطنی حکمت: وادیٔ مقدّسِ طویٰ مرتبۂ عقلِ اعلیٰ اور مقامِ معراج کے خاص ناموں میں سے ہے، جہاں ہمیشہ علمِ لدّنی کا پانی بہتا رہتا ہے، جس کا سرچشمہ کلمۂ باری ہے، دو پہاڑ عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ ہیں، وہاں تک صرف وہی ذوات پہنچ سکتی ہیں جو پاک کی گئی ہیں، اسی معنیٰ میں وہ مقام بڑا مقدّس ہے، اس مقام پر علم و حکمت کی کائنات اور باطنی سفر کی مسافت لپیٹی ہوئی ہے، پس لفظِ طویٰ کی تاویلی حکمت یہی ہے۔
۹؍جنوری ۱۹۹۵ء
۷۸
کاملِ ترین رہنمائی
سردارِ انبیاء و رسل ہادیٔ سبل حضرتِ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی کامل ترین ہدایت و رہنمائی اور بہترین نمونۂ عمل (اسوۂ حسنہ) کے بارے میں کسی مسلمان کو کیا شک ہو سکتا ہے، آنحضرتؐ نے صراطِ مستقیم کے شروع سے آخر تک علم و عمل سے چل کر اور معراجِ حق الیقین کی منزلِ مقصود میں پہنچ کر دینِ فطرت کا عملی نمونہ پیش کیا، حضورِ اقدسؐ نے مرتبۂ معراج پر نہ صرف حقائق و معارف اور اسرارِ ازل و ابد ہی کا مشاہدہ کیا بلکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا پاک دیدار بھی حاصل ہوا، پھر اس کے بعد خداوندِ عالم نے یہ حکم دیا:۔
قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنْ اتَّبَعَنِي (۱۲: ۱۰۸) (اے رسولؐ) ان سے کہہ دو “میرا راستہ تو یہ ہے میں (لوگوں کو) اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی چشمِ بصیرت سے دیکھ رہا ہوں اور میرا پیرو بھی۔” جس شخص نے بحقیقت حضورؐ کی پیروی کی اور بصیرت کے ساتھ دعوتِ حق میں آپؐ کی ہر گونہ مدد کی وہ حضرت مولا علیؑ ہی ہیں۔
کوئی قبول کرے یا نہ کرے لیکن یہ بابصیرت دعوت دیدارِ الٰہی
۷۹
کی طرف ہے، کیونکہ اِلیٰ (تک) حرفِ جر ہے جو معنی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے، یعنی دعوتِ حق مرتبۂ معراج، عرش اور دیدارِ خداوندی تک ہے، اگر دیدارِ پاک کسی طرح سے بھی نہ ہوتا تو اسلام میں منزلِ معرفت ہی نہ ہوتی، یعنی نہ خود شناسی ہوتی اور نہ خدا شناسی، اس حال میں کنزِ مخفی کس چیز کا نام ہوتا؟ اور سب سے بڑی نعمت کس شے کو کہا جاتا؟ اس مختصر بحث سے معلوم ہوا کہ رسولؐ اور امامِ برحقؑ کی حقیقی پیروی کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے دیدارِ اقدس کی انتہائی عظیم سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔
اگرچہ دیدارِ الٰہی کے ثبوت میں قرآنِ حکیم کی بہت سی آیاتِ کریمہ موجود ہیں، تاہم یہاں ایک ہی آیۂ پُرحکمت پر اکتفا کرتے ہیں: لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ (۰۶: ۱۰۳) نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ یعنی کسی کی چشمِ باطن کے لئے یہ ممکن نہیں کہ از خود خدا کو دیکھ سکے، لیکن جب اللہ اس کی چشمِ بصیرت ہو جاتا ہے تو یقیناً ربّ العزّت کا دیدار ہو جاتا ہے، اس کی ظاہری مثال سورج ہے کہ دراصل ہماری نظر سورج کے مقام تک نہیں جا سکتی، بلکہ آفتابِ عالم تاب ہماری آنکھ کے آئینے (پتلی) میں اپنا عکس ڈال رہا ہوتا ہے۔
ایک میں سب کو لپیٹنا:
سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۱۰۴) میں یہ ارشاد ہے: فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا۔ پھر جب آخرت کا وعدہ
۸۰
آجائے تو ہم تم سب کو لپیٹ کر لے آئیں گے، یعنی ایک ہی عالمِ شخصی میں سب کو ملفوف و مجموع کیا جائے گا، جیسے پہلے ایک ہی شخص سے دنیا کے تمام نفوس کو پھیلا دیا تھا، یہ انفرادی قیامت ہے، جس میں سب کی غیر شعوری قیامت برپا ہو جاتی ہے۔
معراجی تصوّرات:
عارفین و کاملین کو معراج کی سعادت اس لئے نصیب ہو جاتی ہے کہ وہ بار بار اس کا تصوّر کریں، جیسا کہ ارشاد ہے: وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (۹۳: ۱۱)اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا ذکر کرتے رہنا۔ ہر باطنی نعمت کا ذکر تصوّر ہی کے ساتھ ہوتا ہے، پس ربِّ کریم کے جن خاص بندوں کو معراجی درجے کی نعمتیں حاصل ہیں، وہ ہر بار ان کو بیان کرتے وقت معراج کا تصوّر کرتے ہوں گے، اور اس کے علاوہ ذکر و فکر میں بھی معراجِ حق الیقین کا تصوّر لازمی ہے۔
حق الیقین کا مقام وہ آخری منزل ہے جس میں سارے الفاظ، اقوال اور کلمات جمع ہو جاتے ہیں، ان کے معانی یکجا ہوتے ہیں، جملہ اشارات کا ایک ہی جامع الجوامع اشارہ ہوا کرتا ہے، ساری مثالیں مثل الاعلیٰ میں داخل و شامل ہو جاتی ہیں، روحانی ستارے اور چاند سورج کے ساتھ مل کر ایک ہو جاتے ہیں، اس حال میں انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا ایک ہی نور ہوتا ہے، وہ نور چہرۂ خدا ہے، اسی میں سب کو فنا ہو کر زندۂ جاوید ہو جانا ہے، چونکہ یہی مقام منزلِ فنا ہے
۸۱
اس لئے میں، ہم ، تو، تم ، وہ (واحد)، وہ (جمع) یہ ضمیریں سب کی سب “ھو” میں فنا ہو جاتی ہیں، کیونکہ پہلے “ھو” تھا، اب بھی “ھو” ہے، اور آئندہ بھی “ھو” ہوگا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
۱۰؍ جنوری ۱۹۹۵ء
۸۲
قرآن اور بہشت
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ قرآنِ حکیم کا ہر بڑا اور چھوٹا مضمون براہِ راست یا بالواسطہ شروع سے لے کر آخر تک پھیلا ہوا ہے، اور پھیل سکتا ہے، اور بہشت کے موضوع کی اہمیّت و عظمت تو مسلّمہ ہے، چنانچہ جگہ جگہ اس کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، اور متقین کے لئے خوشخبری دی گئی ہے۔
یہ نکتہ قرآن و حدیث ہی کی روشنی میں ہے کہ بہشت لوگوں کی اکثریت کے اعتبار سے ایک نادیدہ و ناشناختہ جہان ہے، جبکہ وہ عالمِ آخرت ہے، لیکن اس کی وجہ غفلت و جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں درحالیکہ اللہ اپنے دوستوں کی جنّت کی معرفت عطا کر دیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (۴۷: ۰۶) اور ان کو اس بہشت میں داخل کرے گا جس کا انہیں (پہلے سے) شناسا کر رکھا ہے۔
معرفت کے لئے تین درجے مقرر ہیں: علم الیقین ، عین الیقین اور حق الیقین، پس بہشت کی پہچان یقینی درجے کے علم سے شروع ہو جاتی ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے: ۔
كَلاَّ لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِلَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ
۸۳
لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ (تکاثر ۱۰۲: ۰۵ تا ۰۷) ہرگز نہیں، اگر تم علم الیقین جانتے تو دوزخ کو دیکھ سکتے، پھر تم اس کو عین الیقین سے دیکھ سکتے، اس کا اشارہ یہ ہے کہ اگر دنیا میں کسی کے پاس علم الیقین ہے تو وہ دوزخ اور بہشت دونوں کو دیکھ سکتا ہے، یہ جہالت اورعلم کو دیکھنے کی بات ہے، کیونکہ جہالت دوزخ ہے اور علم بہشت، دنیا ہی میں عین الیقین سے بھی دوزخ و بہشت کا مشاہدہ ممکن ہے۔
انسان دنیا میں اس لئے آیا ہے کہ وہ یہاں آخرت اور بہشت کے لئے چشمِ بصیرت پیدا کرلے، اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی گمراہی اور نامرادی ہے، جیسا کہ فرمایا گیا ہے: وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلاً (۱۷: ۷۲) اور جو شخص اس دنیا میں اندھا بنا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا، آپ دیکھتے ہیں کہ چشمِ باطن صرف دنیا ہی میں پیدا ہوسکتی ہے اور کہیں بھی ممکن نہیں۔
آپ نے سورۂ تکاثر کی مذکورہ آیتوں میں خوب غور کیا ہوگا، کہ علم الیقین اگر حقیقی معنوں میں ہے تو اس کی روشنی میں دوزخ و بہشت دونوں کو دیکھا جا سکتا ہے، اور اس سے مرحلۂ عین الیقین میں داخل ہو جانے کی تیاری ہو جاتی ہے۔
حدیث شریف ہے: رجعنا من الجھاد الاصغر الی الجھاد الاکبر۔ اب ہم چھوٹے جہاد (یعنی کافروں کے ساتھ لڑنے) سے لوٹ کر بڑے جہاد کی طرف آئے (اب نفس سے جہاد کریں گے)
۸۴
اس حدیث کی حکمت: اگر اس جہادِ اکبر (بڑی جنگ) میں نفس مارا گیا تو مجاہد پر نفسانی موت واقع ہو گی، جس کے نتیجے میں جیتے جی اس کی ذاتی قیامت برپا ہوگی، زہے نصیب! اب وہ چشمِ باطن سے عالمِ آخرت اور بہشت کو دیکھے گا، اگرچہ سب نہیں تو تھوڑے سے مجاہدین جہادِ اکبر میں ضرور کامیاب ہوئے ہوں گے۔
جب تک قرآنِ حکیم میں جہادِ اکبر اور نفسانی موت کا ذکر یا اشارہ نہ ہو تو حدیث شریف میں اس کا تذکرہ کیسے ہوسکتا ہے، چنانچہ میرا کامل یقین ہے کہ اس آیۂ کریمہ میں جہادِ اصغر اور جہادِ اکبر دونوں کا ایک ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اس میں ظاہری جنگ مثال اور نفسانی جنگ ممثول ہے، وہ آیۂ مقدسہ یہ ہے: ۔
وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَتَمَنَّوْن الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ( ۰۳: ۱۴۳) ترجمۂ اوّل: اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے۔ ترجمۂ دوم: اور تم تو ( نفسانی طور پر) مرنے کی تمنا کر رہے تھے، اس (موت) سے دوچار ہونے سے پہلے سو اس کو تم نے دیکھ لیا، اور اب تم (چشمِ باطن سے) دیکھ رہے ہو۔
الغرض نفسانی موت ایک باطنی حقیقت ہے، جس کا حکیمانہ ذکر قرآنِ عظیم کی متعدد آیاتِ کریمہ میں موجود ہے، جس کے بارے میں جزوی طور پر لکھا گیا ہے، اب ہم یہاں بہشت کی زبان کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وہاں اہلِ جنّت کی دنیا والی تمام زبانیں
۸۵
موجود ہوں گی، لیکن قرآنِ حکیم اور سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی مبارک لسان السنۂ بہشت کی سردار ہوگی، جیسا کہ آنحضرتؐ کا ارشاد ہے:
احبّم العرب لِثلاتِ فانیّ عربیّ والقراٰن عربیّ و لسان اھل الجنۃ عربیّ۔ ترجمہ: عربی زبان سے تین وجوہ کی بناء پر محبت کرنی چاہئے، ایک یہ کہ میں ( یعنی رسولِ کریمؐ) عربی ہوں، دوسرے قرآن عربی ہے، تیسرے اہلِ جنّت کی زبان عربی ہے (ملاحظہ ہو: المنجد عربی اردو، ص ۱۰) ۔
ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ اہلِ جنّت کی سردار زبان عربی ہی ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کی باطنی نعمتیں بہشت میں بھی ہیں، تاہم ذیلی طور پر اپنی اپنی زبان میں دوسری آسمانی کتابیں بھی موجود ہوں گی، نیز یہ بھی قرآنی حکمتوں میں سے ہے کہ ہر شخص کا نامۂ اعمال اس کی اپنی زبان میں ہوگا، وہ ذرّاتِ منتشر پر مبنی ہے (۱۷: ۱۳) وہ لکھا ہوا بھی ہے (۸۳: ۲۰) اور وہ صوتی شکل میں بھی ہے (۱۷: ۱۴)۔
سورۂ ابراہیم (۱۴: ۰۴) میں ہے: اور ہم نے ہر رسولؐ اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے، آپ نے قرآنِ پاک (۰۷: ۱۵۸) میں یہ حکم بھی دیکھا ہوگا کہ: تم فرماؤ، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں کہ آسمان اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ نہ صرف عرب و عجم کے مسلمان ہی بلکہ دنیا بھر کے لوگ بھی آنحضورؐ کی وہ قوم ہیں جس کی طرف آپ اللہ کے پیغمبر ہیں، پس آنحضرتؐ جہاں علم کا شہر اور حکمت کا گھر ہیں،
۸۶
وہاں بہشت کا نمونہ ہے، اور اس میں اللہ کا یہ معجزہ ہے کہ ہر شخص اپنی ہی زبان میں علم و حکمت کی باتیں سنتا ہے، یعنی وہاں رسول اللہؐ کا جو ترجمان ہے، وہ دنیا کی ہر زبان میں کلام کرتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ بہشت میں ہر زبان کا رواج زندہ ہے، اور ہر بولی، بولی جاتی ہے۔
ارشاد ہے: وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا (۷۸: ۲۹) اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر منضبط کر رکھا ہے (یعنی نامۂ اعمال) صحیفۂ اعمال سے متعلق شاید یہی قانون ہے کہ جو بات جس زبان میں ہو اور جو عمل جس طرح ہو اس قول و فعل کو اسی طرح لکھا جاتا ہے، ریکارڈ بھی ہوتا ہے، اور فلم بھی ہوتی ہے، پس بہشت میں دنیا کی ساری زبانیں موجود ہیں، یہاں تک کہ جو زبانیں دنیا میں مرچکی ہیں، وہ بھی جنّت میں محفوظ و موجود ہیں، اس کی دلیل وہ چند آیاتِ کریمہ ہیں جن میں یہ ارشاد ہے کہ اہلِ بہشت کے لئے وہاں ہر خواستہ اور مطلوبہ نعمت مہیا ہے ( ۱۶: ۳۱، ۳۹: ۱۶، ۳۵: ۳۴، ۴۲: ۲۲، ۵۰: ۳۵) یہ قدرتی امر ہے کہ ہر شخص اپنی مذہبی، قومی اور علاقائی زبان سے بہت محبت رکھتا ہے، لہٰذا وہ زبان کی تاریخ صحیح طور پر جاننا چاہتا ہے، اس کے پاس تخلیقِ السنہ کے بارے میں بہت سے سوالات ہیں، جن میں سے ہر ایک کا جوابِ باصواب بہشت ہی میں ملے گا، کیونکہ وہاں کی تمام تر نعمتیں عقلی اور علمی ہیں، لہٰذا جنّت میں معلومات کی فراوانی ہے۔
سورۂ بقرہ (۰۲: ۱۷۴) اور آلِ عمران (۰۳: ۷۷) کا یہ مفہوم ہے
۸۷
کہ قیامت کے دن ربّ العزّت مومنین سے کلام کرے گا اور کافرین سے کلام نہیں کرے گا، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اللہ پاک کا کلامِ حکمت نطام بندوں کی اپنی زبان میں ہوگا، کیونکہ خداوندِ تعالےٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور بندے عاجز ہیں، وہ جلّ جلالہ اہلِ ایمان کے حق میں آسانی چاہتا ہے (۰۲: ۱۸۵) یہی وجہ ہے کہ اس ذاتِ پاک نے ہر پیغمبر کو اپنی قوم کی زبان میں بھیجا۔
سورۂ نمل (۲۷: ۱۶) میں یہ ذکر آیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السّلام پرندوں کی بولی جانتے تھے، یہ روح القدّس کا وہ معجزہ تھا جس پر پرندوں کے علاوہ دیگر بہت سی آوازوں سے بھی معجزانہ بولی سنائی دیتی ہے، مگر آیت کا اصل اشارہ ارواح و ملائکہ کی گفتگو کی طرف ہے، کیونکہ روحوں اور فرشتوں کا ایک مخفی نام طیر ہے، پس یہ ساری باتیں حضرت سلیمانؑ کی اپنی زبان میں ہوتی تھیں۔
سورۂ یاسین (۳۶: ۵۵) میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ جنّت والے ایسے عالی مشاغل میں ہوں گے کہ ان سے وہ بے حد شادان و فرحان ہوں گے۔ سب جانتے ہیں کہ عظیم ترین مشغلہ عقل، علم، حکمت، معلومات، اور دوسروں کو تعلیم دینے سے متعلق ہے، پس بہشت میں اہلِ علم اعلیٰ درجات پر فائز ہو جائیں گے، اور ان پر بتدریج کائنات کے اسرار منکشف ہو جائیں گے۔
ستاروں پر لطیف لوگوں کی بہشت ہے، اس میں السنۂ عالم محفوظ ہیں، جب تک خدا کسی لسان کو نہ مٹائے، جیسا کہ سورۂ رعد
۸۸
کا یہ ارشاد ہے: یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ -وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ (۱۳: ۳۹) خدا جس (تحریر وغیرہ) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے، اور اس کے پاس اصل کتاب (لوحِ محفوظ = امامِ مبین) موجود ہے۔ یعنی کوئی ستارہ وقت آنے پر ختم بھی ہو جائے تو پھر بھی اس کے لطیف باشندے ختم نہیں ہو تے، کیونکہ ان کی انائے علوی امامِ مبین میں زندہ ہے۔
لسان کی تخلیق کے سلسلے میں ظاہری اسباب کچھ بھی ہوں ، لیکن اس کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کارفرمائی ہے، جیسے عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (۵۵: ۰۴) “خدا نے انسان کو بولنا سکھایا” کی عام تفسیر سے ظاہر ہے، اور اس ربّانی تعلیم میں بھی غور کریں: اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانشمند لوگوں کے لئے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس طرح ارض و سماء کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے اسی طرح لوگوں کی مختلف زبانوں ، گونا گون صورتوں اور الگ الگ رنگتوں کو بھی اسی نے بنایا ہے، اور اس میں اہلِ دانش کیلئے قدرتِ خدا کے بہت سے عجائب و غرائب پوشیدہ ہیں۔
سورۂ انفطار (۸۲: ۱۰ تا ۱۱) میں ہے: وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ كِرَامًا كَاتِبِينَ ۔ اور تم پر (تمہارے سب اعمال) محفوظ کرنیوالے معزز لکھنے والے مقرر ہیں۔ اس میں بہت بڑی حکمت ہے، میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ نامۂ اعمال کے عنوان سے آدمی کی پوری زندگی کی ایک
۸۹
مکمل روحانی مووی (زندہ متحرک تصویر) تیار ہو جاتی ہے، جیسے اعمالِ نیک و بَد کے نتیجے میں جو نورانی یا ظلمانی خواب دیکھا جا تا ہے، وہ کاغذی کتاب کی طرح نہیں بلکہ فلم کی طرح ہوتا ہے۔
سورۂ جاثیہ کے ایک ارشاد (۴۵: ۲۸) کے مطابق ہر امت کا نامۂ اعمال ہوا کرتا ہے، اب لفظِ امۃ کے معنی پر ذرا غور کریں:
اَلْاُمَّۃُ ، ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتۂ دینی ہو، یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں (مفردات القرآن)
اُمّۃ: جماعت، اُمّہ اُم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی “ماں” کے ہیں، ہر اس جماعت کو اُمّہ کہتے ہیں، جس میں کوئی مذہب یا وطن یا زمانہ مشترک ہو، گویا یہ مشترکہ چیز بمنزل ماں کے ہے، اور یہ جماعت بمنزلہ اولاد کے، (قاموس القرآن، از قاضی زین العابدین) یقیناً نامۂ اعمال انفرادی بھی ہے، اور کئی قسموں میں اجتماعی بھی۔
یہ ارشادِ مبارک سورۂ ابراہیم (۱۴: ۴۸) میں ہے: يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۔ جس دن یہ زمین غیر (مادّی) زمین سے بدل دی جائے گی، اور (اسی طرح) آسمان (بھی بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ یکتا زبردست خدا کے روبرو (اپنی اپنی جگہ سے) نکل کھڑے ہوں گے (۱۴: ۴۸) یعنی جب عالمِ شخصی میں نمائندہ قیامت برپا ہوگی تو اس وقت چشمِ باطن کے سامنے مادّی کائنات کی جگہ روحانی کائنات ہوگی، اور سب لوگ قبرستانِ ابدان سے ذرّات کی شکل میں نکل کر خدائے واحد و زبردست
۹۰
کے روبرو پیش ہوں گے۔
“الواحد القھار” میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عالمِ شخصی کی نمائندہ قیامت میں سب لوگوں کو زبردستی سے ایک کر دیتا ہے، اور یہ عالمِ انسانیت پر اس کے بے پایان احسانات کا آغاز ہے۔
ایک دفعہ کسی درویش نے کوّے کی عجیب سی آواز سنی، وہ درخت پر بیٹھا ہوا کہہ رہا تھا: “قھر قھر قھر” بے چارہ پہلے ڈر گیا، کیونکہ اس کے ذہن میں لفظِ قہر کے وہی معنی تھے جو عوام سمجھتے ہیں، یعنی غضب، لیکن سوچنے پر اس کو تسلی ہوئی کہ اس میں خوشخبری تھی، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے: ۔
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ(۰۶: ۶۱) اور وہی غالب ہے اپنے خاص بندوں پر اور تم پر حفاظت کرنے والے بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو (نفسانی) موت آتی ہے اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) قبض کرلیتے ہیں اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے (۰۶: ۶۱) اس کے مجموعی اشارے سے ظاہر ہے کہ یہ نفسانی موت ہے، ایسی پرازحکمت اور بابرکت موت کے عمل کے لئے جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، اور عزرائیل کے ساتھ تمام لشکرِ ارواح و ملائکہ موجود ہوتے ہیں۔
قرآنِ پاک میں جس طرح بہشت کی بے پایان نعمتوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، وہ آپ کے سامنے ہے لیکن میرا عاجزانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ
۹۱
قرآنی حکمت سے کام لیں تاکہ علم کی ہر مشکل آسان ہو جائے، اور گنجِ حکیم کا باب مفتوح ہو سکے۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعرات ۱۷ ؍ شعبان المعظم ۱۴۱۵ ھ / ۱۹؍جنوری ۱۹۹۵ء
۹۲
دائرۂ نورِ عقل
اللہ جلّ جلالہ وعمّ نوالہ اور حضرتِ محمد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی جانب سے جو امامِ برحق علیہ السّلام کارِ ہدایت کے لئے مقرر ہے، یقیناً وہی نورِ زمانہ اور سرچشمۂ علمِ لدّنی ہے، اگر ہم بصد عاجزی و نیاز مندی اسی مہربانِ جان سے صدقۂ علمی و عرفانی حاصل کر سکتے ہیں، تو یہ ہماری بہت بڑی سعادت مندی ہے، لیکن جب جب اس دلِ نادان میں کوئی غفلت و سختی آتی ہے تو اس کا بابِ جود وعطا مغلق (بستہ) لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ درویشوں کو ہمیشہ گریہ وزاری اور مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات بہت ہی عزیز ہوتی ہے، پس اے عزیزانِ من! براہِ لطف و کرم آپ سب اپنے پاکیزہ دلوں سے دعا کریں کہ یہ قلب ہر لحظہ اہلِ بیّتِ اطہار علیہم السّلام کی پاک و پُرحکمت محبّت کی تپش سے پگھلتا رہے ! آمین!
میں یقین سے کہتا ہوں کہ حقائق و معارف سے متعلق ہر مشکل مسٔلے کے حل کے لئے “تصوّرِ کل” زبردست کار آمد اور بے حد مفید ثابت ہوسکتا ہے، چنانچہ عنوانِ بالا (دائرۂ نورِعقل) میں خود یہی عظیم تصوّر ہے، جس کا قرآنی حوالہ آپ کو سورۂ حدید (۵۷: ۱۲) اور سورۂ تحریم (۶۶: ۰۸) میں ملے گا، جہاں سرِّ اسرار کی طرف اشارہ موجود ہے کہ مومنین و مومنات کے عالمِ شخصی کے
۹۳
آسمانِ نہم میں آفتابِ عقل اپنے دائمی طلوع و غروب سے دائرۂ نور بناتے ہوئے تصوّرِ کلّ پیش کرتا ہے، جس میں سب کچھ موجود ہے، کیونکہ وہ دائرۂ مبارک حظیرۃ القدّس (مقدّس چیزوں کا احاطہ) ہے، جس میں گنجِ اسرارِ ازل و ابد ہے، اسی خزانے سے کلمۂ باری، عقلِ کلّی، اور نفسِ کلّی کا تعلق ہے۔
سوالِ اوّل: اگر انائے علوی کا تعلق مقامِ عقل یا نفسِ واحدہ کے ساتھ ہو تو انائے سفلی کا تعلق جسمِ کثیف اور لطیف دونوں کے ساتھ ہے یا اس کا تعلق جسمِ کثیف تک محدود ہے؟ اگر اس کا تعلق جسمِ کثیف تک محدود رہا تو بہشت میں تعلیم دینے میں مساواتِ رحمانی کا کیا تصوّر ہوگا؟
جواب: قربان از جمیعِ دوستان و عزیزان! دونوں انائیں نفسِ واحدہ سے ہیں ( ۰۶: ۹۸) جبکہ انائے علوی کا تعلق نفسِ واحدہ اور دائمی بہشت سے ہے، تاکہ خلود کی تصدیق ہو جائے، اور انائے سفلی کا عارضی تعلق جسمِ کثیف و لطیف سے ہے، اور دائمی تعلق نفسِ واحدہ سے، کیونکہ جب کوئی چیز عالمِ امر سے عالمِ خلق میں آکر چاہے لاکھوں ، کروڑوں سال کے بعد بھی واپس ہو جائے تو لامکان میں جو ٹھہرا ہوا زمان ہے، اس میں سے چشمِ زدن کا لمحہ بھی نہیں گزرتا ، جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ہے: ۔
وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ(۱۶: ۷۷) اور قیامت کا واقع ہونا تو ایسا ہے جیسے پلک کا جھپکنا، بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ بہشت کی تعلیمات کا تصوّر اپنی جگہ درست ہے۔
۹۴
سوالِ دوم: صاحب ! شاید اسی مسٔلے سے متعلق خلود کا تصوّر! صاحب! بہشت میں انائے علوی کے خلود کے بارے میں از راہ مرحمت و عنایت بہت تصریحات فرمائی ہیں، چونکہ قرآن میں کافروں کے لئے “خالدین” یعنی دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا ذکر آیا ہے، اگر دوزخ عارضی ہے جیسے کہ بزرگوار نے خود قرآن کی روشنی میں صراحت فرمائی ہے، تو اس میں خلود کے معنی کو کس طرح سمجھیں گے؟
جواب: قربانت شوم ! قرآنِ حکیم (۱۱: ۱۰۵ تا ۱۰۸) اور معرفت کی روشنی میں معلوم ہوا ہے کہ دوزخیوں کا دوزخ میں ہمیشہ رہنا (خلود) دوزخ کی عمر بھر کے لئے ہے، اور اس کی عمر کائنات کی عمر کے برابر ہے، اور کائنات دوزخ و بہشت کے ساتھ انسانِ کامل کی نمائندہ قیامت میں لپیٹ لی جاتی ہے، یہ ایک باطنی عمل ہے، درحالے کہ کائنات ظاہراً اپنی جگہ قائم رہتی ہے، قربانت شوم! کائنات (ارض و سماء) کو مرحلہ وار عالمِ شخصی میں لپیٹ لیا جاتا ہے، پہلے عالمِ ذرّ میں، اور اس کے بعد دائرۂ نورِعقل میں، قیامت کے اس عظیم الشّان عمل سے دوزخ بہشت میں بدل جاتا ہے، اور کائناتی بہشت عالمِ شخصی میں نزدیک آتی ہے۔
سوالِ سوم: صاحب! تیسری گزارش معراج کے سلسلے میں سورۂ نجم میں آیت (۵۳: ۱۳) وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى کی تاویل کے بارے میں ہے۔
جواب: قربانت شوم! ایک مقالہ بعنوانِ “معراجِ روحانی”
۹۵
آن مہربان کی خدمتِ عالی میں پہنچ چکا ہوگا، عرض یہ ہے کہ وَلَقَدْ رٰاہُ تَرْلَۃً اُخْریٰ = اور پیغمبرؐ نے اس (حضرتِ ربّ) کو دوسرے ظہور میں بھی دیکھا، یعنی روحانی معراج میں، نَزْلَۃً اُخْریٰ = دوسری بار اترنا ، یعنی دوسرا ظہور، کیونکہ اس سے قبل بھی حضورِ پاکؐ کو ربّ العزّت کا دیدارِ اقدس ہوا تھا، اور وہ رویتِ ظاہری تھی۔
تصوّرِ کلّ:
کلّ اور کلّیات کا عاقلانہ تصور ازبس مفید ہے، دینی اعتبار سے ایسا کوئی ضروری موضوع کون سا ہو سکتا ہے، جو قرآنِ حکیم کے موضوعات میں شامل نہ ہوا ہو، یقیناً قرآنِ عظیم میں بہت بڑی اہمیّت کے ساتھ تصوّرِکلّ کا موضوع موجود ہے، وہ خود اسی لفظِ “کلّ” میں ہے، جو کثیر مقامات پر آیا ہے، اگرچہ کلّ کا لفظ چند چیزوں کے مجموعے کیلئے بھی آتا ہے لیکن یہاں اس کلّیہ یا قانونِ کلّ کی بات ہور ہی ہے، جس کا تعلق تمام اشیاء سے یا سارے انسانوں سے یا جملہ ارواح و ملائکہ سے ہے، جس کی ایک مثال اس ارشاد سے مل سکتی ہے، جو سورۂ مریم (۱۹: ۹۳ تا ۹۵) میں ہے: ۔
إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ إِلاَّ آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا لَقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا ۔ ترجمۂ اوّل: جتنے بھی کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا تعالیٰ کے غلام ہو کر آتے ہیں ، (اور) اس نےسب کو گھیر کر رکھا ہے
۹۶
اور سب کو شمار کر رکھا ہے، اور قیامت کے روز سب کے سب اس کے پاس تنہا تنہا آئیں گے، ترجمۂ دوم: کوئی نہیں آسمانوں اور زمین میں جو نہ آئے رحمان کا غلام (بندہ) ہو کر، اس نے سب کو (امامِ مبین میں) گھیر کر رکھا ہے، اور ان کو ایک خاص طریقے سے گن کر رکھا ہے (یعنی سب کو ایک کر دیا ہے، اس لئے) سب فردِ واحد کی حیثیت سے قیامت کے دن (مقامِ عقل پر) اس کے پاس آئیں گے۔
سوالِ الف: اس پُرحکمت ارشاد میں منجملہ اسماء اللہ اسمِ الرحمان مذکور ہے، اس میں کیا اشارہ ہوسکتا ہے؟ جواب: اس کا اشارۂ حکمت یہ ہے کہ یہاں جو کچھ فرمایا گیا ہے، اس میں خدائے رحمان (بڑے مہربان) کی مہربانی کے معنی ہیں۔
سوالِ ب: آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اور سب لوگ کب ، کہاں، اور کس معنیٰ میں غلام ہو کر رحمان کے پاس آتے ہیں؟
جواب: نمائندہ قیامت کے آغاز ہونے پر، عالمِ شخصی میں، اور صورِ اسرافیل کے زیرِ اثر سجدہ، تسبیح اور عبادت کے معنی میں۔
سوالِ ج: یہاں امامِ مبین میں سب کو گھیر کر رکھنے کی کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ اور کس طرح ممکن ہے کہ شمار کرنے سے سب کا مجموعہ فردِ واحد ہو جائے؟ جواب: سورۂ یٰسین (۳۶: ۱۲) میں ہے: اور ہم نے ہر چیز کو امامِ مبین میں گھیر دیا ہے۔ یہی سب سے روشن دلیل ہے کہ ہر قیامت میں اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو امامِ مبین میں گھیر دیتا ہے، یاد رہے کہ لوگ اپنی چیزوں کو شمار کرتے ہیں، کیونکہ ان کو علم نہیں کہ وہ کتنی ہیں، لیکن
۹۷
خدائے علیم و حکیم کو ہر چیز کا علم ہے، اس لئے اس کے شمار کرنے کی حکمت یہ ہے کہ وہ چیزوں اور لوگوں کو ایک کر دیتا ہے، اور جس کے ساتھ سب کو ایک کیا جاتا ہے، وہ انسانِ کامل ہی ہے۔
سوالِ د: اس آیۂ کریمہ کی حکمت بیان کریں: مَا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ (لقمان ۳۱: ۲۸) تم سب کا پیدا کرنا اور پھر (مرنے کے بعد) جِلا اٹھانا ایک جان کی طرح ہے۔ جواب: واحدہ، معنیٔ اوّل ایک، معنیٔ دوم ایک کرلینے والی یا ایک کرلینے والا، پس نفسِ واحدہ ایسے عالمِ شخصی کی جان ہے، جس میں اسرافیلؑ کی دعوت پر خلائق کے نمائندہ ذرّات جمع ہو جاتے ہیں، ان کو نفسِ واحدہ کی وحدت و سالمیّت میں نفسانی موت کا مزہ چکھایا جاتا ہے، پھر زندہ کیا جاتا ہے، پھر ایک بار موت سے گزار کر ان کو ہمیشہ کے لئے زندہ کیا جاتا ہے۔
سوالِ ھ: حکیم پیر ناصر خسرو (ق س) کے اس شعر کی حکمت بیان کریں:
ھو الاوّل ھوالآخر ھوالظاہر ھوالباطن منزہ مالک الملکی کہ بی پایان حشردارد
جواب: وہ سب سے اوّل بھی ہے، وہ سب سے آخر بھی ہے، وہ سب سے ظاہر بھی ہے، وہ سب سے باطن بھی ہے، وہ پاک ایسا صاحبِ سلطنت ہےکہ اس کی (بادشاہی میں لاتعداد اور) بے انتہا قیامات ہیں۔ حضرتِ پیر کے اس قول میں سب سے عظیم حکمت یہ ہے کہ زمانۂ آدمؑ ہی سے نمائندہ قیامتوں کا سلسلہ چلا آیا ہے، کیونکہ الوھیّت (معبودیّت) نبوّت، امامت، اور آخرت کے اسرارِ عظیم کا
۹۸
جاننا تجربۂ قیامت کے سوا ممکن ہی نہیں۔
سوالِ و: اس آیۂ مبارکہ کی تفسیرو تاویل بتائیں: بَلْ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الآخِرَةِ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْهَا بَلْ هُمْ مِنْهَا عَمُونَ( ۲۷: ۶۶) جواب: بلکہ آخرت کے بارے میں ان کے علم کا خاتمہ ہوگیا ہے، بلکہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہیں، بلکہ اس سے یہ لوگ اندھے بنے ہوئے ہیں۔
حکمت: آخرت کی عمدہ مثال روحانیّت ہی ہے، جس میں آخرت کی معرفت پوشیدہ ہے، لیکن جن کے پاس اصل اور حقیقی علم نہ ہو تو ان کا معمولی علم تھک کر ختم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے شکوک پیدا ہو جاتے ہیں، اور پھر ایسے لوگ کُورباطن ہو جاتے ہیں۔
۲۳؍جنوری ۱۹۹۵ء
۹۹
سورۂ کوثر کی حکمت
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ (اے رسولؐ) بے شک ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا ہے، تو تم اپنے ربّ کے لئے نماز پڑھو، اور قربانی کرو، یقیناً تمہارا دشمن ہی مقطوع النسل ہے۔ (۱۰۸: ۰۱ تا ۰۳)
۱۔ کَوْثَرْ بروزنِ فَوْعَلْ صیغۂ مبالغہ ہے، جو کثرت سے مشتق ہے، کثیر زیادہ، اکثر بہت زیادہ ، کُثار بہت ہی زیادہ، اور کوثر بے حد زیادہ ، جو خلق کی عقل و فہم سے وراء ہے، اس سے عالمِ ذرّ مراد ہے، جو حضورِ اکرمؐ سے آپؐ کے وصی مولا علیؑ میں منتقل ہوگیا، اس طرح سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی پاک ذرّیت جاری و باقی رہی ، جیسے ارشادِ نبویؐ ہے: ۔
اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ جَعَلَ ذُرِّیَّۃَ کُلِّ نَبِیٍّ فِیْ صُلْبِہٖ وَجَعَلَ ذُرِّیَّتِیْ فِیْ صُلْبِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ (خدا نے ہر نبی کی اولاد اس کے صُلب سے قرار دی ہے، لیکن میری اولاد صُلبِ علی سے ہے)۔ کوثر کے ایک معنی مردِ کثیر اولاد کے ہیں، اور وہ حضرت علی علیہ السّلام ہی ہیں، کیونکہ ان کی پشتِ مبارک میں عالمِ ذرّ آیا ، جس میں کثیر ذرّیت اور کوثر کے دوسرے
۱۰۰
تمام معانی شامل ہیں۔
حکیم پیر ناصر خسرو ق س کے دیوانِ اشعار میں ہے:
ایزد عطاش داد محمد را نامش علی شناس و لقبش کوثر
خداوندِ قدوس نے حضرت محمد صلعم کو (جانشین) عطا کر دیا، جس کا اسمِ گرامی علیؑ اور لقب کوثر ہے، کتاب وجہِ دین، کلام نمبر۱ میں سورۂ کوثر کی یوں تفسیر و تاویل کی گئی ہے:۔
(اے محمد صلعم) ہم نے آپ کو بہت سی اولاد والا مرد عطا کر دیا ہے (جس سے اللہ تعالیٰ کی مراد اساس یعنی علیؑ ہیں) پس آپ اپنے پروردگار کے لئے نماز قائم کیجئے (یعنی دعوتِ حق برپا کیجئے) اور نحر کے طریقے پر اونٹ ذبح کیجئے (یعنی اساس کا عہد لیجئے) کیونکہ آپ کا دشمن دم بریدہ ہے (یعنی وہ بے اولاد ہے، اس لئے امامت اس میں نہ رہے گی، بلکہ وہ آپ ہی کی ذرّیت میں باقی رہے گی)۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
منگل ۲۲ ؍ شعبان المعظم ۱۴۱۵ ھ
۲۴؍ جنوری ۱۹۹۵ء
۱۰۱
ایک عظیم مترجم کا جشنِ سیمین
اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ دنیائے علم و ادب میں مصنّفین و مؤلّفین ہی کی طرح مترجمین بھی بڑے نیک نام، قابلِ احترام اور آئندہ تاریخ میں زندۂ جاوید ہو جاتے ہیں، مترجم کا احسانِ عظیم ایک طرف زبان و اہلِ زبان پر ہے اور دوسری طرف مصنف اور اس کے ہم خیال احباب پر، کیونکہ جو سکالرز دینی کتب کا ترجمہ کرتے ہیں وہ حضرات اپنے مبارک قلم سے گویا علم و حکمت کے جدید شہروں کو آباد کرتے ہیں، جن کی آبادی رہتی دنیا تک قائم رہنے والی ہے۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ علم خدا کی خدائی میں سب سے اعلیٰ و عظیم شیٔ ہے، لہٰذا علمی خدمت بے مثال اور تمام خدمات کی سردار اور بادشاہ ہے، پس کتنی بڑی سعادت ہے ان اہلِ قلم حضرات کی جو اپنے عمدہ و شیرین ترجموں کے توسّط سے پیاری جماعت کے سامنے علیٔ زمان علیہ السّلام کا علمی دسترخوان بچھا دیتے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ اس نوعیّت کی دینی خدمات میں مولائے پاک کی خوشنودی ہے۔
جہاد جو دینِ اسلام کا ایک مقدّس فریضہ ہے، وہ نہ صرف شمشیرِ برّان ہی سے ہوتا رہا، بلکہ علم و حکمت کی زبان سے بھی ہے، تاہم عصرِ حاضر میں
۱۰۲
قلمی جہاد کی بہت بڑی اہمیّت ہے، کیونکہ یہ بڑا دور رس اور دائم العمل ہے اس لئے مترجمین حضرات کو ہم سب بصداحترام و ادب تحفۂ مبارکباد پیش کرتے ہیں، قبولِ ہو!
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جماعت میں جتنے اہلِ قلم کام کر رہے ہیں، وہ سب کے سب حضرتِ امامِ زمان علیہ السّلام کے علمی لشکر ہیں، جو اپنے آقا کی ظاہری مدد کر رہے ہیں، اور مولا ان کی باطنی مدد فرما رہا ہے، آپ یقین کریں کہ ظاہری مدد ایک قرآنی حقیقیت ہے، جیسا کہ سورۂ آلِ عمران (۰۳: ۵۲) میں ہے: (ترجمہ)جب عیسٰیؑ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا “کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہوتا ہے؟ “حوّاریوں نے جواب دیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں۔‘‘
نیز سورۂ محمد (۴۷: ۰۷) میں غور سے دیکھ لیجئے: (ترجمہ) اے لوگو: جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا۔ درحقیقت یہ دینِ حق کی مدد ہے، لیکن اس کی بہت بڑی اہمیّت اور عظمت کی وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ کی مدد قرار پاتی ہے۔
جوں جوں زمانہ بدلتا جاتا ہے توں توں اندرونی و بیرونی کثیر سوالات کی یلغار ہو جاتی ہے، ایسے میں امامِ عالی مقام علیہ السّلام کے علم و حکمت سے آراستہ و پیراستہ کتابیں ہی کام آسکتی ہیں، جن میں پہلے ہی سے ہر قسم کے سوالات کے لئے معقول جوابات مہیا ہوتے ہیں، اور کامیاب علمی خدمت وہی ہے جس میں جوابات کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہو۔
۱۰۳
آج ہم یہاں خانۂ حکمت، ادارۂ عارف، اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کراچی کے عملداران و ارکان بے حد مسرور و شادمان ہیں، اس لئے کہ ہم اپنے ایک بڑے محسن اور عظیم گجراتی مترجم کے ۲۵ ترجموں کے جشنِ سیمین منا رہے ہیں، یہ عزیز ومحترم اور بڑا نیک نام سکالر جناب اکبر حبیب راجن صاحب ہیں، آپ نے ترجمے کا یہ مقدّس کام ۱۹۸۱ء میں شروع کیا تھا، اور انہوں نے اب تک ہماری کتابوں میں سے پچیس ۲۵ کا حسن و خوبی سے گجراتی میں ترجمہ کر دیا ہے، سب کہتے ہیں کہ ترجمے بہت سی خوبیوں کا حامل ہے۔
روحانی اور قرآنی علم و حکمت پر مبنی اعلیٰ کتابوں کا حقیقی معنوں میں ترجمہ کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، جب تک کہ خداوندِ قدّوس کی طرف سے عنایاتِ ازلی کسی نیک بخت ہستی کی دستگیری نہ کریں، جیسا کہ قول ہے:
این سعادت بزورِ بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
یہ سعادت ایسی نہیں جو زورِ بازو سے حاصل ہو جائے، جب تک خداوندِ کریم و مہربان خود عطا نہ فرمائے۔
جناب اکبر راجن صاحب کی اس بے مثال کامیابی سے ہم کو یہ یقین آتا ہے کہ آپ سے مولائے برحق راضی ہے، اسی وجہ سے آپ نے ایسا عظیم کارنامہ انجام دیا، جس میں نیک نام جماعت کے لئے علم و معرفت کے دائمی میوے موجود ہیں، جن سے عقل و جان کی پرورش ہوتی رہتی ہے۔
۱۰۴
ہمارے پاک مذہب میں خدا، رسولؐ، اور امامؑ کی مقدّس محبت و عقیدت کے بہشت جیسے باغات موجود ہیں، جن کے گردا گرد مضبوط حفاظتی دیوار ایسی کتابوں سے بنائی جا سکتی ہے کہ ان میں امامِ زمانؑ کا روحانی علم ہو، کیونکہ کوئی باغ چار دیواری کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتا، اور نہ کوئی قلعہ حصار (فصیل) بغیر ہوتا ہے، پس مترجمین حضرات کا کردار جہاں بھی ہو بڑا عالیشان ہے۔
ہر کتاب حضرتِ امام علیہ السّلام کا ایک گلدستۂ صد رنگ ہے، نیز یہ ایک علمی و عرفانی باغ ہے، یا جواہرات کی دکان ہے یا چشمۂ آبِ شرین ہے، یا تحفہ از جانبِ محبوبِ جان ہے، اگر یہ کسی دور جگہ بھیج دی جاتی ہے تو ایلچی یا سفیر ہے، تخلیق کے اعتبار سے یہ پیارا بیٹا ہے، یا عزیز بیٹی ہے، یہ نامۂ اعمال کی مثال بھی ہے، علمی جنگ کے لئے سولجر بھی ہے اور ہتھیار بھی، روحانی طاقت کے لئے غذا بھی ہے، اور صحت کے لئے دوا بھی، ہر دینی کتاب میں قرآن، حدیث، اور فرمان کی خوشبوئیں ہیں۔ الحمد للہ ربّ العٰلمین۔
جو دانشور ہماری کتابوں کا ترجمہ کرتے آئے ہیں، اور جو عزیزان ہماری تعلیمات کی ترجمانی کر رہے ہیں، اور ان کے علاوہ جو ساتھی ہمارے تینوں اداروں میں کام کررہے ہیں، ان سب سے میں قربان ہو جاؤں، اور یہ سچ ہے کہ میں روحانی انقلاب میں قربان و فدا ہوچکا ہوں، آپ اس عمل کی حکمت کو سمجھتے ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اب اس مختصر مقالے کے خاتمے پر آپ سب پرخلوص دعا کریں
۱۰۵
کہ حضرتِ ربِّ العزت ہمارے عظیم مترجم جناب اکبر حبیب راجن صاحب کی سلور جوبلی کو باعثِ برکات بنا دے ! آپ کو اور آپ کے نیک بخت خاندان کے ہر فرد کو دین و دنیا کی کامیابی، عزّت اور سر بلندی نصیب ہو! اور یہی دعا دوسرے مترجمین اور جملہ معاونین کے حق میں بھی ہے، آمین!
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
منگل ۶ ؍رمضان المبارک ۱۴۱۵ ھ / ۷؍فروری ۱۹۹۵ء
۱۰۶
روحانی ترقی سے متعلق معلومات
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّ حْمٰنِ الرَّحِیْم۔ روحانی ترقی کے لئے سب سے بنیادی چیز حسنِ اخلاق ہے، پھر عقیدہ، بندگی اور علم الیقین، ساتھ ہی ساتھ تقویٰ کا ہونا بیحد ضروری ہے، کیونکہ یہ ایمانی وصفِ کمال اخلاق و دینداری کے تمام نتائج و ثمرات کا جوہر ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے ایسے تقویٰ کو بزرگی کا معیار قرار دیا جو حقیقی علم کے ساتھ ہو (۳۹: ۱۳ ؛ ۳۵: ۲۸) اس میں کوئی شک نہیں کہ تقویٰ مومنین و مومنات کو اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے۔
۲۔ اگر اس دنیا میں آپ کو علم و عمل اور عشقِ مولا کے کچھ نمونے مل سکتے ہیں تو ان کی ہم نشینی بہت بڑی نعمت ہے، کیونکہ جب خدا کی خدائی میں کوئی چیز رحمت و علم کے سوا نہیں ہے (۴۰: ۰۷) تو پھر دوستانِ خدا اس سے کیونکر خالی ہو سکتےہیں، مصرع:
صحبتِ صالح ترا صالح کند
۳۔ آپ کا مرتبۂ علمی جیسا بھی ہو، ہر حال میں دوسروں کو کچھ علم دیتے رہیں، کیونکہ اس سے قدرتی طور پر علم میں حرکت اور برکت پیدا ہو جاتی ہے، وہ اس طرح کہ آپ اپنے دل و دماغ کے ذخیرۂ علم سے صرف ونشر بھی کریں گے،
۱۰۷
وہ کم بھی نہیں ہوگا، اس میں نکھار بھی آئے گا، اور نزولِ برکت سے اس میں اضافہ بھی ہوگا، جبکہ یہ عمل تقویٰ کے ساتھ ہو۔
۴۔ علم دینے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں، مثلاً عام مجلس یا اجتماع میں، اور خاص مجلس میں، تاکہ ہر کسی کو اس کی سمجھ بوجھ کے مطابق سمجھانے کا موقع فراہم ہو، ساتھ ہی ساتھ آپ کے علمِ عام اور علمِ خاص میں برکت پیدا ہو۔
۵۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا راز ہے کہ آپ کی عبادت کے لئے سب سے بابرکت اور سب سے باکرامت مقام جماعت خانہ ہی ہے، کیونکہ وہ حقیقت میں خدا کا گھر ہونے کی وجہ سے ہر گونہ ثواب اور امن کی جگہ ہے (۰۲: ۱۲۵) مزید بران باہر بھی عبادت کریں کہ اللہ کی پُرحکمت یاد کے بغیر رہنا غافلوں کا کام ہے، حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرتؐ کے لئے ساری زمین مسجد اور پاک بنائی گئی تھی، وہ ارشاد یہ ہے: جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مُسْجِدً اوَّ طَھُوْراً = میرے لئے ساری زمین نماز کی جگہ (جائے سجدہ = مسجد) اور پاک بنائی گئی ہے۔
۶۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کو حکم دیا تھا کہ مصر میں چند گھر اپنی قوم کے لئے مہیا کرو، اور اپنے ان گھروں کو قبلہ ٹھہرا لو، اور نماز قائم کرو، اور اہلِ ایمان کو بشارت دے دو (۱۰: ۸۷) جبکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے لئے ساری زمین سجدہ گاہ اور پاک بنائی گئی۔
۷۔ جماعتی خدمت سے بہت بڑی حد تک روحانی ترقی میں مدد مل سکتی ہے، اور یہ مقدّس خدمت جتنی دور رس اور وسیع ہوگی، اتنا اس کا ثواب عظیم ہوگا، اس سلسلے میں یقیناً علمی خدمت ہی سب سے
۱۰۸
زیادہ مفید ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ چیز نہ صرف ایک جماعت کے لئے مخصوص ہے بلکہ سراسراسلام اور تمام انسانیّت کے واسطے بھی ازحد ضروری ہے، اس لئے کہ زمانۂ حال سے بھی کہیں زیادہ مستقبل میں اس کی اہمیّت اور قدرو قیمت کا احساس اور ادراک ہونے والا ہے۔
۸۔ نیّت، قول، اور عمل کی تشبیہہ و تمثیل اگر کسی عمارت کی تعمیر سے دی جائے تو نیّت بنیاد ہے، قول ادھوری تعمیر، اور عمل مکمل مکان ہے، چنانچہ نیّت اوّلین باطنی چیز ہے، جس میں پاکیزگی اور جذبۂ خیرخواہی کا ہونا ازبس ضروری ہے، تاکہ اس کے نتیجے میں قول و عمل خود بخود درست اور نیک ہو سکیں۔
۹ اگر کسی کے اعمال پاک نہیں ہوتے ہیں تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی زبان پاک نہیں ہے، اور اگر زبان پاک نہیں تو جاننا چاہئے کہ دل یعنی نیّت پاک نہیں، یہی سبب ہے کہ پیغمبرِ برحق صلعم نے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالِنِّیَّاتِ = اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہوتا ہے۔ اس سے دل کی اہمیّت کا پتہ چلتا ہے کہ اچھی اور بری ہر قسم کی کلیدیں دل ہی کے سپرد کی گئی ہیں، کیونکہ قلب (دل) ہی تمام انسانی قوّتوں کا مرکز ہے۔
۱۰۔ ذکر و عبادت میں انقلابی ترقی بھی ممکن ہے، تدریجی ترقی بھی ہوسکتی ہے، اور کچھ ملی جلی ترقی کا بھی امکان ہے، الغرض بندگی آگے سے بھی آگے جانے کے لئے ہے۔
۱۱۔ روحانی ترقی تواضع، حلیمی، انکساری اور عاجزی کے بغیر ناممکن ہے، تکبر سے انسان بری طرح سے خوار و ذلیل ہو کر گرجاتا ہے۔
۱۰۹
۱۲۔ ذکرِ الٰہی کے کئی طریقے ہیں، آپ امامِ زمان صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہٗ کی پاک ظاہری و باطنی ہدایات سے رجوع کریں، کیونکہ امامِ وقتؑ ہی اسمِ اعظم اور مجموعۂ اسماء الحسنیٰ ہے، پس آپ حضرتِ امامِ عالی مقام علیہ السّلام کو اللہ کا بزرگ ترین اسم مانتے ہوئے کسی لفظی اسم کا ورد کریں یا کوئی تسبیح پڑھیں، بہت سے اسماء بہت سی تسبیحات اور بہت سے کلماتِ تامّات گویا بہشتِ برین کے گونا گون پھل ہیں، اور مومنین و مومنات با فراغت ان سب میووں میں سے کھا سکتے ہیں۔
۱۳۔ جس طرح قرآنِ پاک کے شروع (۰۲: ۳۵) میں حضرتِ آدمؑ کے بارے میں ارشاد ہے: پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی دونوں جنّت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، دراصل یہ روحانی اور عقلانی غذاؤں کی بات ہے، یعنی کثیر اسماء ، مختلف تسبیحات، اور کئی کلماتِ تامّات سے روح اور عقل کی خوراک حاصل کرلینے کا ذکر ہے۔
۱۴۔ ذکرو عبادت کے مختلف اشغال میں سے ایک شغل اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثناء ہے، ایک شغل اس کی نعمتوں کی شکرگزاری ہے، ایک شغل یہ کہ بندہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے، ایک عاشقانہ شغل دیدارِ الٰہی کے لئے آنسو بہانا ہے، اور ایک شغل ایسی دعاؤں پر مبنی ہے کہ جس میں اپنے لئے اور دوسرے سب کے لئے بہتری اور بھلائی کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔
۱۵۔ ہم میں سے ہر ایک کی عادت ایسی ہونی چاہئے کہ بار بار ہاتھ اٹھا کر خدا کے حضور دعا کیا کرے، ہر عاجزانہ دعا مغزِ عبادت ہے،
۱۱۰
لہٰذا گڑگڑاتے ہوئے اور مناجات و گریہ زاری کرتے ہوئے دعا کیجائے، تاکہ جس سے خدا کی رحمت شاملِ احوال ہو۔
۱۶۔ شیطان جو انسان کا دینی دشمن ہے، وہ آدمی کی خواہشاتِ نفسانی کی دعوت کے بغیر آہی نہیں سکتا، ہاں، نفس ہی ہے جو صرف شیطان کو بلانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کی سواری کے لئے گدھا بھی ہو جاتا ہے، جس پر سوار ہو کر شیطان آرام سے اپنا کام کر سکتا ہے، اس کے برعکس اگر انسان اپنے نفس کو مغلوب و مقہور بنائے تو شیطان کبھی اسے فریب نہیں دے سکتا ہے۔
۱۷۔ لذّتیں دو قسم کی ہیں:
۱۔ حلال ظاہری و باطنی
۲۔ حرام ظاہری و باطنی
چنانچہ جب تک حرام ظاہری و باطنی لذّتوں کا تصوّر ترک اور حلال ظاہری نعمتوں کو کم نہ کیا جائے تو روحانی اور عقلی نعمتیں ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی ہیں۔
۱۸۔ کسی مومن کی روحانی ترقی میں جب بھی کوئی بڑی رکاوٹ ہوتی ہے تو اس کا سبب سوائے گناہ کے اور کیا ہو سکتا ہے، چاہے وہ کوئی ایک بڑا گناہ ہو یا کئی چھوٹے چھوٹے گناہوں کا بڑا مجموعہ، بہرحال ترازو اور وزن کی مثال ہے۔
۱۹۔ ایک مومن کہتا تھا کہ “میری روحانی ترقی کیوں نہیں ہوتی ہے حالانکہ میں کوئی گناہ نہیں کرتا ہوں، عبادت، بندگی، ادائے زکات،
۱۱۱
وغیرہ کا پابند ہوں۔”میں نے کہا کہ یہ امر ممکن ہی نہیں کہ کوئی نیک شخص اچھے اعمال کے سبب سے روحانی ترقی کا حقدار ہو چکا ہو، پھر بھی خداوندِ کریم اس کو روحانی ترقی نہ دے، اس میں کوئی کوتاہی ضرور ہوگی، یا کچھ شرائط کی کمی ہوسکتی ہے، ہم عاجزو خاکسار بندوں میں سے کسی کا یہ حق نہیں کہ وہ خود کو بےگناہ سمجھے۔
۲۰۔ یہ معلوم کر لینے کے لئے کہ دل میں تقویٰ ہے یا گناہ، ہوشمند مومن کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس سے ہر قسم کے دینی فرائض ادا ہوتے ہیں یا نہیں؟ ذکر و عبادت بتدریج آگے بڑھتی جارہی ہے یا مزہ ہی نہیں آرہا ہے؟ دینی علم کا شوق بڑھ رہا ہے یا نہیں؟ کیا دل میں عشقِ مولا کا کوئی درد ہے؟ کوئی سوزش ہے؟ کیا اس کمی کی وجہ سے کبھی اپنے آپ پر رونا آتا ہے؟ اگر اس نوعیّت کی ایمانی علامتیں نہیں ہیں، یا کمزور ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ گناہ ہے، گناہ درختِ ملعون ہے، اس کی شاخ بڑی ہو جانے سے وہ اور بڑھ جائےگا، اس لئے اس کی جڑوں کو کاٹنا چاہئے، تاکہ وہ سوکھ کر ختم ہوجائے۔
۲۱۔ لفظی توبہ سے کچھ نہیں بنے گا جب تک کہ عملاً توبہ نہ کر لی جائےاور عملی توبہ علم کی روشنی میں آسان ہو سکتی ہے۔
۲۲۔ عبادت خداوندِ تعالیٰ کی غلامی کا نام ہے، اور غلامی میں آقا و مالک کی ہرگونہ خدمت کی جاتی ہے، تاہم سب سے اعلیٰ خدمت وہ ہے جو آقا کی مرضی کے مطابق ہو، اور جس کی انجام دہی
۱۱۲
سب سے زیادہ ضروری ہے۔
۲۳۔ یہ بات قرآنی حکمت ہی کی روشنی میں ہے کہ حقیقی علم طہارت یعنی باطنی پاکیزگی بھی ہے، علم عبادت بھی ہے، یہ زکات بھی ہے، روزہ بھی، حج بھی، جہاد بھی، اور ولایت بھی ہے، کیونکہ علم میں سب کچھ ہے۔
۲۴۔ اگر آپ براہِ راست یا بالواسطہ لوگوں کو علم دے سکتے ہیں تو گویا کسی نابینا کو آنکھ دیتے ہیں یا کسی بہرے کو کان عطا کرتے ہیں، کسی گونگے کو زبان عنایت کرتے ہیں، کسی ٹُنڈے کو ہاتھ بخشتے ہیں، کسی لنگڑے کو پاؤں کا عطیہ دیتے ہیں، ننگے کو عمدہ لباس پہناتے ہیں، بھوکے کو ہمیشہ کے لئے خوراک کا بندوبست کر دیتے ہیں، مفلس کو گنجِ بے رنج سے نوازتے ہیں، گدائے بے نوا کو بادشاہ بناتے ہیں، جاہل کو عاقل بناتے ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰؑ کی طرح مُردوں کو زندہ کر دیتے ہیں۔
۲۵۔ اگر کوئی عالی ہمت مومن نیّت کر کے راہِ مولا میں اپنے نفس کے خلاف جہاد کر سکتا ہے، چالیس ۴۰ مرتبہ سخت غصہ کو پی لیتا ہے، چالیس ۴۰ دفعہ نفس کی خواہشات کو ٹھکراتا ہے، چالیس ۴۰ ایسے مومنین کے حق میں نیک دعائیں کرتا ہے، جن کے متعلق اس کا گمان ہو کہ وہ اچھے نہیں ہیں، چالیس ۴۰ اچھی عادتوں کو اپنی ذات میں استوار کر لیتا ہے، اور چالیس ۴۰ دن کا پوشیدہ اعتکاف یا بڑی کامیاب مناجات و گریہ و زاری کرتا ہے تو ان شاء اللہ اس مومن کی غیر معمولی ترقی ہوگی۔
۱۱۳
۲۶۔ مومن ضرور یہ کوشش کرے کہ وہ ہر روز نیکی کمائے، نیک کاموں میں وقت گزارے، روزانہ کچھ علم حاصل کرے، دینی کتابوں کا مطالعہ جاری رکھے، نیک لوگوں سے ملے، اور کامیاب عبادت سے شادمانی حاصل کرے۔
۲۷۔ روحانی ترقی شروع ہونے کی بعض علامتیں یہ ہیں: ذکر وعبادت سے سخت عشق پیدا ہو جاتا ہے، نورانی عبادت کے لئے شب خیزی سے مزہ آتا ہے، دل میں بے حد نرمی ہونے کی وجہ سے بار بار گریہ وزاری ہو جاتی ہے، ذکر کا سلسلہ اٹوٹ ہو جاتا ہے، زیادہ سنجیدگی اور اندر ہی اندر سکون پیدا ہو جاتا ہے۔
۲۸۔ مذکورۂ بالا علامات کے ظہور کے بعد دل (عالمِ شخصی) میں روشنی پیدا ہو سکتی ہے، جس میں بے حد خوشی ہے، اگرچہ ابتدائی قسم کی روشنی ہے جو مادّی روشنی جیسی لگتی ہے، تاہم وہ ظاہری روشنی سے بدرجۂ انتہا خوش رنگ اور دل آویز ہے، اور رفتہ رفتہ بےحد تیز ہو جاتی ہے۔
۲۹۔ اس مقام پر اگرچہ یہ روشنی روحانی اور عقلی نہیں، بلکہ طبیعی ہے، تاہم اس کے مشاہدے میں طوفانی خوشیاں موجود ہیں، شاید اس لئے کہ اس ابتدائی منزل میں مومن یا مومنہ کی باطنی آنکھ کھل جاتی ہے، اور خود شناسی و خدا شناسی کا آغاز ہو جاتا ہے۔
۳۰۔ جس طرح عالمِ ظاہر میں سورج، چاند، ستاروں، وغیرہ کی مادّی روشنی ہے جو ہر زندہ مخلوق کی ظاہری آنکھ کے لئے ضروری ہے، اور قدیم و جدید علم و ہنر کی روشنی ہے، جو انسانی دل و دماغ کے ظاہری
۱۱۴
پہلو کے لئے لازمی ہے، اسی طرح تین درجوں میں باطنی روشنی ہے، اوّل طبیعی، دوم روحانی ، اور سوم عقلی یا عقلانی، جو دل و دماغ کے باطنی پہلو کے لئے چاہئے۔
۳۱۔ قرآنِ پاک اور روحانیّت کی روشنی میں روحانی سائنس سے متعلق بہت سے غیر معمولی انکشافات ہوئے ہیں، ان میں سے ایک انتہائی عظیم انکشاف یا معجزہ جسمِ لطیف ہے، جس کے کئی شاندار نام ہیں، اور ہر نام کے معنی میں ایک بے مثال کام پوشیدہ ہے، جیسے: ۔
(الف): کوکبی بدن: یعنی یہ کسی ستارے سے آتا ہے۔ (ب: ) جسمِ فلکی: یہ عناصرِ اربعہ سے بالاتر ہے، کیونکہ اس میں طبیعتِ پنجم ہے۔ (ج: ) فرشتہ: اس کی پاکیزہ زندگی اور ساری خوشی اللہ کی یاد و تسبیح اور فرمانبرداری میں ہے۔ (د: ) جنّ / پری: بڑا طاقت ور اور پرواز کرنے والا ہے، نیز یہ پوشیدہ ہے۔ (ھ: ) جثّۂ ابداعیہ: اس کا تعلق عالمِ ابداع (امرِ کُنۡ) سے ہے۔ (و: ) جامۂ جنّت: یہ اہلِ بہشت کا زندہ لباس ہے۔ (ز: ) محراب: یہ جہادِ روحانی کی غرض سے آسمانی لشکر کا قلعہ ہے۔ (ح: ) طَیر: یہ روحانی پرند اور انسانِ کامل کی کاپی ہے۔ (ط: ) لَبُوس: پوشاک ، یعنی روحانی بکتر (زرہ) ۔ (ی: ) پیراہنِ نورانی: پیراہنِ یوسفی۔ (ک: ) ریش ؎۱: پردار لطیف بدن۔ (ل: ) جسمِ مثالی: جیسے فرشتہ مریمؑ کے سامنے
؎۱: الرَّیش: پرندے کے پر (FEATHERS)اس سے طاقتِ پرواز مراد ہے (القرآن: ۷: ۲۶) لفظی معنی کے لئے المنجد میں دیکھیں ۔
۱۱۵
ایک کامل و مکمل انسان کی شکل و مثال میں ظاہر ہوا تھا۔ (۱۹: ۱۷) اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَنِّہٖ وَاِحْسَانِہٖ۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعہ یکم شوال المکرم (عید الفطر) ۱۴۱۵ ھ / ۳ ؍ مارچ ۱۹۹۵ء
۱۱۶
دینِ خدا کے باطنی معجزات
۱۔ اہلِ دانش کو اس حقیقت پر کامل یقین ہے کہ دینِ حق کے دائمی اور عقلی معجزات باطن میں ہیں، کیونکہ ان کا تعلق حواسِ ظاہر سے نہیں، بلکہ حواسِ باطن سے ہے، اس لئے کہ اگر صرف ظاہری حواس کو دیکھا جائے تو وہ حیوانوں میں بھی ہیں، لیکن حیوانِ صامت اور اس کے حواس کا عقل سے کوئی تعلق نہیں، یہاں یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ انسان اپنے ظاہری حواس میں بھی حیوان سے افضل و اعلیٰ اس لئے کہ اس کے باطن میں عقل موجود ہے، مگر جانور میں کوئی عقل نہیں۔
۲۔ انسان کا بدن ظاہر ہے اور عقل و جان باطن، آدمی کے بیرونی اعضاء کا فعل ظاہر ہے دل و دماغ کی کارفرمائی باطن، سمندر ظاہر ہے درِّ ثمین و شہوارِ باطن، پہاڑ ظاہر ہے یاقوتِ احمر باطن، گلِ سرخ ظاہر ہے اس کا عطر باطن، پھل ظاہر ہے مغز باطن، معادن باطن ہیں معدنیات ظاہر، دنیا ظاہر ہے آخرت باطن، قرآن کی تنزیل ظاہر ہے تاویل باطن، الفاظ ظاہر ہیں معانی باطن، کتابِ مبین ظاہر ہے اور نور باطن۔
۱۱۷
۳۔ ارشادِ نبوی ہے: اِنَّ لِلْقُرْاٰنِ ظَھْرًا وَ بَطْناً وَ لِبَطْنِہٖ بَطْناً اِلیٰ سَبْعَۃِ اَبْطُنٍ۔ یقیناً قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے اور باطن کا بھی باطن ہے، اور اسی طرح قرآن کے سات بواطن ہیں۔ ایسے میں علمی سفر کا رخ ظاہر سے شروع ہو کر باطن کی طرف ہوگا، اور یہ ٹھیک ٹھیک سوچنے کی بات ہے۔
۴۔ دینِ اسلام کی ظاہری و باطنی نعمتوں کے ثبوت میں ایک فیصلہ کن آیۂ کریمہ جس سے ہر قسم کی مایوسی ختم ہو جاتی ہے یہ ہے: أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمانبردار بنادیا ہے تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، اور تمام کر دی ہیں اس نے تم پر ہر قسم کی نعمتیں ظاہری بھی اور باطنی بھی (سورۂ لقمان ۳۱: ۲۰)۔ اس ربّانی تعلیم کا خاص تعلق اہلِ ایمان سے ہے، کیونکہ قرآنِ پاک کا خطاب انہی سے ہے، پس عارفین و کاملین اس آیۂ پُرحکمت کے مصداق ہیں، جنہوں نے مراتبِ عالیۂ روحانیّت و عقلانیّت پر چشمِ بصیرت سے دیکھ لیا کہ ذاتِ سبحان نے عالمِ شخصی پر بحدِّ فعل اور بحدِّ قوّت کیسے کیسے انتہائی عظیم احسانات کئے ہوئے ہیں۔
۵۔ تسخیرِ ارض و سماء کے معنی یہ ہیں کہ کائنات و موجودات کی زندہ، باشعور اور مکمل کاپی انسان میں رکھی ہوئی ہے، اور اللہ کی اسی بے پایان رحمت ہی کی وضاحت یہ ہے کہ اس نےاپنی ظاہری و باطنی نعمتیں
۱۱۸
اہلِ ایمان پر تمام کر رکھی ہیں، اس کلّی بیان سے کوئی باطنی نعمت مستثنا نہیں، نہ باطنی ترقی، نہ روحانیّت، نہ باطنی عجائب و غرائب اور معجزات، نہ علمِ لدّنی، نہ حکمت، نہ تاویل، نہ اسرار، نہ معرفت، نہ فنا، نہ دیدارِ اقدس، اور نہ بہشت کی شناخت۔
۶۔ الغرض تمام باطنی نعمتیں جن کا حسین تذکرہ سورۂ رحمان میں بھی ہے، انسان ہی کے لئے پیدا کی گئی ہیں، ہر باطنی نعمت ایک آیت ہے، اور ہر آیت ایک دائمی باطنی معجزہ، کیونکہ خدا کی ہر چیز معجزہ ہے، اور معجزہ دکھانا دراصل خدا ہی کا کام ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ آیاتِ قرآن، آیاتِ آفاق، اور آیاتِ انفس سب کی سب اللہ تبارک و تعالیٰ کے بے مثال معجزات ہیں، انہی میں علم و معرفت کے درجات مقرر ہیں۔
۷۔ خطبۃ البیان میں حضرت امیرالمومنین علی علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا: اَنَا آیَاتُ اللہِ الْکُبْرٰی = میں اللہ تعالیِ کے عظیم معجزات ہوں۔ یعنی میرے عالم شخصی میں خدا کے تمام معجزات موجود ہیں، کیونکہ امام مبینؑ میں باطنی ارض و سما محدود و محصور ہوتا ہے، جس سے کوئی چیز باہر نہیں ہو سکتی، پس حضرتِ امامِ عالی مقامؑ کے نور میں باطنی معجزات کا مشاہدہ ہو جاتا ہے، جیسے حکیم پیر ناصر خسرو ق س نے اپنے پُرحکمت دیوان میں فرمایا:
برجانِ من چو نورِ امام الزّمان بتافت لیل السّرار بودم شمس الضحیٰ شدم
۱۱۹
میں قبلاً قمری مہینے کی آخری رات کی طرح تاریک تھا، لیکن جب میرے باطن میں امامِ وقت کا نور طلوع ہوگیا تو اس سے میں آفتاب چاشت کی طرح تابان و درخشان ہو گیا۔
۸۔ امامِ عالی مقام صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہٗ کا نورِ پاک عظیم المرتبت پیروں، بزرگوں اور عالی ہمت مریدوں کے پاکیزہ باطن میں طلوع ہوتا رہا ہے، کیونکہ یہی وہ نورِ واحد ہے جو خداوندِ عالم اور پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی جانب سے تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے مقرر ہے، یہاں یہ ضروری نکتہ بھی یاد رہے کہ اسلام کی ہدایت دو قسم کی ہے، قسمِ اوّل کا تعلق لوگوں کے اختیار اور خوشی سے ہے، اور قسمِ دوم میں زبردستی کی ہدایت ہے، ان دونوں ہدایتوں کے نمونے زمانۂ نبوّت کی تاریخ میں موجود ہیں، چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے: ۔
وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (۰۳: ۸۳) اور حق تعالیٰ کے سامنے سر افگندہ ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں، خوشی سے اور بے اختیاری سے اور سب خدا ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
۹۔ ربّ العزّت کا ارشادِ گرامی ہے: يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ (۱۷: ۷۱) اس دن (کو یاد کرو) جب ہم اہلِ زمانہ کو ان کے امام (پیشوا) کے توسط سے بلائیں گے۔
اے برادران و خواہرانِ دینی! میرا خطاب آپ ہی سے ہے، میں کسی اور سے مخاطب نہیں کہ “نَدعُوْا” اس آیۂ کریمہ میں فعلِ
۱۲۰
مضارع ہے، آپ اس میں خوب غور کریں، تاہم آپ سب پر یہ سرِعظیم منکشف ہو چکا ہے کہ ہر امام کے زمانے میں ایک قیامتِ صغریٰ برپا ہو جاتی ہے، اس میں قیامتِ کبریٰ اس طرح لپیٹی ہوئی ہے جس طرح عالمِ صیغر میں عالمِ کبیر، بہر کیف نمائندہ قیامت اسلام کی زبردستی دعوت ہے تاکہ اہلِ زمانہ اس عظیم الشّان وسیلے سے بہشت میں داخل ہو سکیں۔
۱۰۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے علم کو عوام سے مخفی رکھا ہے (۲۰: ۱۵) تاکہ اللہ و رسولؐ کی طرف سے جو علم کا خزانہ دار ہے، اس سے رجوع کیا جائے، جب رجوع ہو جاتا ہے تو اس حال میں پہلے علم الیقین کا مرحلہ آتا ہے، پھر تمام شرائط کی تکمیل پر عین الیقین کا دروازہ کھل جاتا ہے، مگر روحانی انقلاب اس درجہ سے بہت آگے ہے، اور حق الیقین اس سے بھی بہت آگے ہے، تاہم منزلِ مقصود وہی ہے، اس لئے اگر اللہ نے چاہا تو “فَناَ فِی الْاِمَامْ” غیر ممکن نہیں، جس میں فنا فی الرسول بھی ہے اور فنا فی اللہ بھی، نیز مرتبۂ حق الیقین بھی یہی ہے، جس کا مقصد و منشا کنزِ اسرارِ ازل کا حصول ہی ہے۔
۱۱۔ آپ یہ بات بھول نہ جائیں کہ جو اصل تصوف ہے اس کے علم کا منبع و سرچشمہ بھی نورِ امامت ہی ہے، کیونکہ بمرتبۂ جانشینِ رسولؐ مولا علیؑ نے شریعت کے ساتھ ساتھ طریقت (تصوف)، حقیقت، اور معرفت کی تعلیمات کا آغاز کیا، چنانچہ فنا فی اللہ و بقا باللہ کے بارے میں اچھی طرح سوچنا ہوگا کہ جو عارفین و کاملین اس مرتبۂ آخرین پر فائز و نائل
۱۲۱
ہو جاتے ہیں ان میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ ان کو مومنین کیسے پہچان سکتے ہیں؟ اور وہ حضرات لوگوں کو کیا چیز دے سکتے ہیں؟
۱۲۔ تصوف کی دوسری بہت بڑی اصطلاح “سیر فی اللہ” ہے، یعنی خدا کی ہستی میں چلنا، جو سیرِ الی اللہ اور فنا فی اللہ کے بعد ہی ممکن ہے، جیسے حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہ نے ارشاد فرمایا ہے: ۔
کہا جاتا ہے کہ ہمارا و جود خدا میں ہے، ہم خدا ہی میں رہتے اور حرکت کرتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ حکیم میں اکثر یہی تصور ظاہر فرمایا گیا ہے، یقیناً ان الفاظ میں نہیں بلکہ بے حد خوبصورتی اور نہایت موزونیت کے ساتھ بیان ہے۔
۱۳ ۔ قرآنِ کریم کا پُرحکمت اشارہ ہے کہ علم الاسرار کا سب سے بڑا خزینہ مجمع البحرین کے مقام پر ہے، یعنی جہاں ید اللہ روحانی و علمی کائنات کو بار بار لپیٹتا اور پھیلاتا رہتا ہے، اور المثل الاعلیٰ (۳۰: ۲۷) کا مظاہرہ بڑی سرعت سے ہوتا رہتا ہے، جس کے سبب سے ازل و ابد کے امور یک جا ہو جاتے ہیں، اور لپیٹ کی وجہ سے تمام متضاد حقیقتیں ایک دوسرے کے انتہائی قریب آجاتی ہیں، ایسے میں مومنِ سالک کی ازلی پیدائش اور آخری رجوع (ابداع و انبعاث) ایک ساتھ ہو جاتا ہے، وہ جسماً دنیا میں اور مکان و زمان کی حدود میں ہوتا ہے، مگر روحاً آسمان بہشت، لامکان، اور لازمان میں ہوتا ہے۔ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَنِّہٖ وَاِحْسَانِہٖ۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
اتوار ۱۰ ؍شوال المکرم ۱۴۱۵ ھ / ۱۲؍مارچ ۱۹۹۵ء
۱۲۲
حکمتِ جہادِ اکبر
۱۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: اَلْمُجَاھِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ ۔ بڑا مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے (جیسا کہ جہاد کا حق ہے) حضورِ اکرم صلعم نے اس سلسلے میں یہ بھی فرمایا: رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلیَ الْجِھَادِ الْاَکْبَرِ۔ اب ہم چھوٹے جہاد (یعنی کافروں کے ساتھ لڑنے) سے لوٹ کر بڑے جہاد کی طرف آئے (اب نفس سے جہاد کریں گے)۔
۲۔ اس تعلیمِ نبوّی سے یہ حقیقت اہلِ بصیرت کے سامنے روشن ہو جاتی ہے کہ نفس کے خلاف جنگ کرنے کا نام جہادِ اکبر اس معنیٰ میں ہے کہ وہ انتہائی ضروری امر ہے ، کیونکہ عالمِ شخصی کی سلطنت پر گویا دشمن کا قبضہ ہے جس کا سبب نفس کے سوا اور کون ہوسکتا ہے، جیسےرسولِ اکرمؐ کا ارشاد ہے: اَعْدٰی عَدُوِّکَ نَفْسُکَ الَّتِیْ بَیْنَ جَنْبَیْکَ۔ تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا وہ نفس ہے جو تیرے دو پہلوؤں کے درمیان ہے۔
۳۔ مولانا رومی کی مثنوی یقیناً قابلِ تعریف اور لائقِ تحسین ہے اسی لئے یہ بیت مشہور ہے:
۱۲۳
مثنویٔ مولویٔ معنوی ہست قرآنِ در زبانِ پہلوی
رومی نے اپنی مثنوی کے دفترِ ششم میں حدیثِ “مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا” کے حوالے سے نفسانی موت کا ذکر فرمایا ہے، اس حدیث کی منظومہ تفسیر کے عنوان میں حکیم سنائی قدسِ سرہ کا یہ دلآویز شعر درج ہے:
بمیر اے دوست پیش از مرگ اگر می زندگی خواہی
کہ ادریس از چنین مردن بہشتی گشت پیش ازما
اے دوست! جسمانی موت سے پہلے (نفسانی طور پر ) مرجا، اگر تو زندگی چاہتا ہے، کیونکہ ادریسؑ اسی طرح مرنے سے ہم سے بہت پہلے بہشت میں جا چکا ہے۔
۴ ۔ اس مناسبت سے حضرتِ ادریس علیہ السّلام کا مختصر قصّہ یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنّتِ عالیہ کے مطابق عارفین و کاملین ہی کی طرح نفسانی موت کا عظیم معجزہ دکھایا، جس میں قیامتِ صغریٰ کا آغاز ہوتا ہے، پھر رفتہ رفتہ منازلِ روح سے مرتبۂ عقل پر بلند فرمایا (سورۂ مریم ۱۹: ۵۶ تا ۵۷) یہی مرتبہ حقائق و معارف کا جامع الجوامع ہے، بہ این وجہ اس کے بے شمار اسماء ہیں، یقیناً اسی مقام پر حضرت آدم علیہ السّلام کو علم الاسماء کی تعلیم دی گئی تھی، مگر یہاں یہ نکتہ خوب یاد رہے کہ مرتبۂ عقل پر مساواتِ رحمانی ہی ہے، اس لئے وہاں سب کے سب برابر ہیں۔
۵۔ خزائنِ قرآن کے جواہر کبھی ختم نہیں ہوتے، چنانچہ یہ ایک
۱۲۴
بہت بڑا علمی گوہر ہے، جس کی روشنی میں نفسانی موت ایک یقینی حقیقت ثابت ہو جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے بچھڑے کو معبود مان کر اپنے آپ پر شرک کا بہت بڑا ظلم کیا تو اس وقت سزا اور باری تعالیٰ کی طرف لوٹ جانے کےلئے ان پر نفس کشی لازم کی گئی، اور فَاقْتُلُوْ آاَنْفُسَکُم ( ۰۲: ۵۴) کے اصل معنی یہی ہیں، کیونکہ توبہ آدمی کا ذاتی عمل ہے، جس میں دوسرے کی تلوار کا کوئی دخل نہیں، نیز توبہ کے حقیقی معنی ہیں رجوع الی اللہ، یعنی مراحلِ روحانیت سے آگے چل کر اللہ تعالیٰ کے قربِ خاص کو حاصل کرنا، پس “فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ” میں بنی اسرائیل کی مثال کے حجاب میں خواص کو یہ حکم ہے کہ وہ اضطراری موت سے قبل اختیاری موت کے ثمرات سے فائدہ اٹھائیں۔
۶۔ بے جان چیزیں (جمادات) جب تک نباتات میں فنا نہ ہو جائیں تو ان کو روحِ نباتی نہیں ملتی ہے، جو نباتات حیوان کی غذا نہیں بنتیں، وہ حیوانی روح میں زندہ نہیں ہوسکتی ہیں، حیوان وہی خوش نصیب ہے جو انسان کی خوراک ہو کر انسان بن جاتا ہے اور آدمی وہی بڑا نیک بخت ہے جو حقیقی پیروی سے انسانِ کامل میں فنا ہو کر انسانِ کامل جیسا ہو جاتا ہے، یہ بیان اتنا روشن اور ایسا مدلّل ہے کہ اس کو کوئی شخص رد نہیں کرسکتا ہے۔
۷۔ آپ نے قانونِ فطرت کی مذکورۂ بالا مثالوں میں سوچا ہوگا کہ ہر فنا کے بعد ایک بقا اور ہر موت کے بعد ایک ولادت
۱۲۵
ہے، پس کوئی شخص ہرگز یہ نہ سمجھے کہ نفسانی موت برائے موت ہے اور بس، بلکہ یہ برائے پیدائشِ روحانی ہے، جیسے حکیم پیر ناصر خسرو ق س کے پرحکمت دیوان میں ہے: ۔
گرچت یکبار زادہ اند بیابی عالم دیگر اگر دوبارہ بزائی
ترجمہ: اگرچہ تجھ کو (فی الحال) ایک بار جنم دیا گیا ہے (لیکن) تجھ کو ایک اور عالم ملے گا اگر تو دوبارہ پیدا ہو جائے۔ یعنی جب تجھے جسمانی ولادت سے یہ مادّی دنیا ملی ہے تو روحانی ولادت سے عالمِ شخصی کی سلطنت کیوں نہ ملے، یہ اسی زندگی کا امکانی معجزہ ہے، چنانچہ مثنوی میں ہے: ۔
زادۂ ثانی ست احمد درجہان صد قیامت بود او اندر عیان
دنیا میں حضرتِ محمدؐ کی دوسری ولادت ہے، آپ صلعم کھلم کھلا سو۱۰۰ قیامتیں تھے۔ یعنی حضورِ اکرمؐ روحانی ولادت اور عقلی ولادت کی سب سے روشن اور سب سے عظیم مثال ہے۔
۸۔ چونکہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ……..، اس لئے ہمارا یہ یقین ہے کہ قرآنِ مجید میں جہاں جہاں جسمانی موت کا ذکر آیا ہے وہاں نفسانی موت کی حکمت بھی مذکور ہوئی ہے، اور کئی آیاتِ کریمہ میں جن شہیدوں کی تعریف فرمائی گئی ہے، وہ بھی ظاہری و باطنی دو قسم کے ہیں، اس حقیقت کی ایک مثال یہ ہے:۔
۱۲۶
أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكُّمْ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ (۰۴: ۷۸) تم چاہے کہیں بھی ہو وہاں ہی تم کو موت آ دبا دے گی، اگرچہ تم مضبوط میناروں ہی میں ہو۔ اس کا ظاہری مطلب سب پر عیان ہے، لیکن باطنی حکمت مخفی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب قیامتِ صغریٰ کے لئے صور پھونکا جاتا ہے، اس وقت لوگ اپنے اجسام کی قبروں سے نکل کر روحانیّت کے مضبوط میناروں (ٹاورز) میں پناہ لیتے ہیں، لیکن پھر بھی نفسانی موت ان پر واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ ان کے حق میں بے حد مفید ہے، اور روحانیّت و عقلانیّت کے مضبوط مینار یہ ہیں: امامؑ ، باب، حجج، اور دعاۃ۔
۹۔ سورۂ لقمان کے آخر میں ارشاد ہے: وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ (۳۱: ۳۴) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ اس حکم کا زیادہ سے زیادہ تعلق نفسانی موت اور حشر سے ہے، کیونکہ کوئی آدمی یہ نہیں جانتا کہ اس کی نفسانی موت حدودِ جسمانی میں سے کس میں آئے گی۔
۱۰۔ اللہ تعالیٰ جس شخص کو نفسانی موت کے بعد زندہ کر کے ایک نور عطا کرتا ہے، وہ اس نور کے ذریعے سے عوالمِ شخصی میں چل پھر سکتا ہے، مگر اس معجزانہ عمل پر موجودہ زندگی میں حجاب ہے، وہ اپنے اس انتہائی عظیم کارنامے کو بہشت میں جاکر دیکھ لے گا (۰۶: ۲۲)۔
۱۱۔ جہاں ہادیٔ برحقؑ کا نورِ ہدایت ہے وہاں زندہ بہشت ہے، چنانچہ کسی مومن یا مومنہ کا باطن اس نور سے منور نہیں ہو سکتا جب تک
۱۲۷
کہ آنحضرت صلعم کے اس پُرحکمت ارشاد پر عمل نہ ہو، وہ یہ ہے: ۔
تَخَلَّقُوْ ا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ۔ تم اللہ کی صفات سے متصف ہو جاؤ۔ کیونکہ حدیثِ قدسی میں یہ بھی ہے کہ اللہ اپنے ہر خاص بندے کا کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں ہو جاتا ہے، اور یہ اشارہ ہے کہ دوستانِ خدا فنا فی اللہ ہو کر تَخَلَّقُوْ ا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کے مصداق بن جاتے ہیں، اور اس میں کیا شک ہو سکتا ہے، کہ جبکہ نورانی بہشت میں کوئی مرتبہ غیر ممکن نہیں ، اور ربّ العزّت وہ خزانۂ ازل ہے جس کو ہر عارف معرفت کے درجۂ کمال پر حاصل کرکے اپنا سکتا ہے، اور یہ اس کی لامحدود عنایت و نوازش ہے۔
۱۲۔ جسمانی پیدائش اور جزوی موت و حیات طویل سلسلے سے قطع نظر ایک مکمل انسان اپنے باطن میں دو مرتبہ مرکر دو مرتبہ زندہ ہو جاتا ہے، یعنی نفسانی طور پر مر جانے کے بعد روحانیّت میں زندہ ہو جاتا ہے، پھر روحانی طور پر مر کر عقلانیّت میں زندہ ہو جاتا ہے، اسی باطنی عروج و ارتقاء کے بارے میں حضرت عیسیٰؑ کا یہ ارشاد مشہور ہے: ۔
لَنْ یَلِجَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ مَنْ لَمْ یُوْ لَدْ مَرَّتَیْنِ۔ جو شخص دو دفعہ پیدا نہ ہو جائے وہ ہرگز آسمانوں کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔
۱۳۔ ظاہری جہاد میں مومن یا تو غازی ہوسکتا ہے یا شہید، لیکن روحانی جہاد بڑا عجیب معجزہ ہے کہ اس میں جو شہید ہے وہی غازی بھی ہے، اس کی وجہ اور عظیم حکمت یہ ہے: وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (۰۳: ۱۶۹)
۱۲۸
اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے ربّ کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔ اس آیۂ کریمہ میں شہادت کے دونوں درجوں کا ذکر فرمایا گیا ہے:
۱۔ شہدائے ظاہر کی نشانی یہ ہے کہ وہ جسماً مرجاتے ہیں، مگر روحاً زندۂ جاوید ہو جاتے ہیں۔
۲۔ شہدائے باطن کی یہ علامت ہے کہ وہ نفساً مر کر فنا فی اللہ کا درجہ رکھتے ہیں، اس لئے ان کے پاس اعلیٰ رزق یعنی علم ہوتا ہے۔ عِنْدَ رَبِّھِمْ کا مطلب فنا فی اللہ ہے، کیونکہ عالمِ وحدت میں دوئی ٹھہر نہیں سکتی، جیسے ذرۂ آہن مقناطیس سے یا تو دور رہ سکتا ہے یا مل کر، مگر انتہائی قریب ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ سُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی، ہفتہ ۱۶؍ شوال المکرم ۱۴۱۵ ھ / ۱۸؍ مارچ ۱۹۹۵ء
۱۲۹
حکمتی سوال و جواب
سوال۔ ۱: سورۂ ہود (۱۱: ۰۷) میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: (ترجمہ) اور وہ تو وہی (قادرِ مطلق) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ آپ اس آیۂ کریمہ کی تاویلی حکمت بیان کریں۔
جواب: (الف) اللہ تعالیٰ نے عالمِ دین کے باطنی آسمانوں اور زمین کو چھ ناطقوں کے ادوارِ کبیر میں پیدا کیا اور پھر اس کا عرش یعنی مرتبۂ حضرتِ قائم علیہ السّلام ساتویں دور میں بحرِ علوم پر اپنا کام کرنے لگا۔ (ب) خدائے بزرگ و برتر نے عالمِ شخصی کے آسمانوں اور زمین کو چھ ادوارِ صغیر میں مکمل کر دیا، اور بعد ازان اس کا عرش یعنی نورِ قائم القیامت بحرالعلوم پر مساواتِ رحمانی کے امور کو انجام دیتا رہا۔
سوال۔ ۲: سورۂ طٰہٰ (۲۰: ۰۵) میں ارشاد ہے: الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى۔ اس کے کیا معنی ہیں؟ اور اس میں کیا راز ہے؟
جواب: جاننا چاہئے کہ عرش فرشتۂ عقلِ کلّ کی صورت میں حضرتِ قائم علیہ السّلام کا نور ہی ہے، جس پر اللہ تبارک و تعالیٰ
۱۳۰
اپنی صفتِ رحمانیّت کی تجلّی ڈالتا ہے، تاکہ ہر عارف اپنے عالمِ شخصی ہی میں کُنْتُ کَنْزاً کے عظیم اسرار کو حاصل کر سکے۔
سوال ۔ ۳: اس حدیثِ شریف کی تاویلی حکمت بتائیں: خلق اللہَ اٰدم علیٰ صورتہٖ ۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی (رحمانی) صورت پر پیدا کیا۔ یہ حدیث کس آیت کی تفسیر کر رہی ہے؟
جواب: ہر پیغمبر اور ہر امام آدم کی طرح نفسِ واحدہ کہلاتا ہے اور سب کے حق میں سنتِ الٰہی کا عمل ایک جیسا ہوا کرتا ہے، پس آدم ہو یا اور کوئی انسانِ کامل جب وہ فانی فی اللہ و باقی باللہ ہو جاتا ہے تو اس وقت رحمانی صورت پر اس کی عقلی تخلیق ہوتی ہے، اور یہی مرتبت عقلی ولادت بھی ہے، اس سرِعظیم سے متعلق خاص آیۂ کریمہ سورۂ رحمان (۵۵: ۲۶ تا ۲۷) میں ہے، اس پرحکمت آیت کا ایک مفہوم یہ ہے: عالمِ شخصی میں جتنے بھی نفوس ہیں وہ سب کے سب شخصِ کامل میں جذب و فنا ہو جاتے ہیں، اور وہ عالمِ شخصی کا آدم چہرۂ ربّ کے نور میں فنا ہو کر صورتِ رحمان ہو جاتا ہے۔
سوال۔ ۴: حدیثِ شریف میں یہ بھی ہے کہ: اہلِ ایمان اپنے باپ آدم کی صورت (یعنی رحمانی صورت) پر بہشت میں داخل ہو جائیں گے، یہ کس طرح ممکن ہے، جبکہ آدمؑ مسجودِ ملائک اور خلیفۃ اللہ ہیں؟
جواب: اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو غیر ممکن ہو، جو کچھ
۱۳۱
حدیثِ صحیحہ میں ارشاد ہوا ہے وہ حق اور حقیقت ہے، پس صراطِ مستقیم دنیا کی کسی جرنیلی سڑک کا نام ہے نہیں، یہ تو انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کی راہِ روحانیت ہی ہے، جو روحانی اور عقلانی عجائب و غرائب اور عظیم معجزات سے بھرا ہوا راستہ ہے، جس کی منزلِ مقصود فنا فی اللہ و بقا باللہ ہے، ظاہر ہے کہ ایسے میں ہر مومنِ سالک چہرۂ خدا کا عکس ہو جائے گا، کیونکہ فنا دیدارِ اقدس کے زیرِ اثر ہے۔
سوال۔ ۵: سورۂ کہف (۱۸: ۸۲) میں ہے: اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے، اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا، اس لئے تمہارے ربّ نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ آپ عالمِ شخصی کی تاویل کی روشنی میں بتائیں کہ وہ دیوار کیا ہے؟ یہ دونوں یتیم لڑکے کون ہیں؟ اور اس خزانے میں کس نوعیت کا مال ہے؟
جواب: یہ دیوار وہی ہے جو ظاہر و باطن کے درمیان بنائی گئی ہے (۵۷: ۱۳) تاکہ خزانۂ اسرارِ باطن اغیار سے محفوظ رہے، دو یتیم لڑکے سالک کی عقل و جان ہیں، اس مثال کے مطابق سالک خود نفسانی جہاد میں شہید بھی ہوچکا ہے اور زندہ بھی ہے، اور اس کے دونوں بچے بالغ ہو کر یعنی عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ سے رجوع ہو کر اپنے خزانۂ علم و معرفت کو حاصل کریں گے۔
سوال ۔ ۶: حضرتِ مولا علی صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہٗ نے ارشاد
۱۳۲
فرمایا: اَنَا ذَالِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہِ ۔ میں وہ کتاب ہوں جس میں کسی قسم کا شک و ریب نہیں ہے۔ ایسے میں کتابِ ناطق کی ظاہری خصوصی اور باطنی نورانی ہدایت متقین کے لئے مقرر ہو گی، پھر یہاں یہ سوال ہے کہ اس قرآنِ ناطق یا نورِ امامت کی نسبت سے متقین کون ہیں؟ اور ان کے کیا کیا اوصاف ہیں؟
جواب: متقین سے اساس (علیؑ) کے حجج مراد ہیں اور حجت کی تعریف یہ ہے:
از دلِ حجّت بحضرت رَہ بُوَد او بتائیدِ دلش آگہ بُوَد
ترجمہ: حجّت کے دل سے حضرتِ امامؑ تک (باطنی) راستہ ہوا کرتا ہے، اور وہ (امامؑ) اپنے حجّت کے دل میں تائید پہنچانے کے لئے آگاہ ہے۔
ان متقین کے اوصاف و کمالات یہ ہیں: روحانیّت و عقلانیّت غیب ہے، وہ عین الیقین سے دیکھتے ہوئے اس پر ایمان رکھتے ہیں، نماز یعنی دعوتِ حق کا فریضہ انجام دیتے ہیں، رزق یعنی علمِ لدّنی جو اللہ کے حضور سے عطا ہوا ہے اسی سے لوگوں کو فیض بخشتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو آنحضرتؐ کی کتاب (قرآن) اور اگلی کتابوں پر ظاہراً و باطناً ایمان رکھتے ہیں، چونکہ یہ نفسانی طور پر مر چکے ہیں اور ان کو روزِ قیامت کا مشاہدہ ہوا ہے لہٰذا یہ لوگ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں، اور یہ ساری برکات قرآنِ ناطق کی ہیں، یہی لوگ اپنے ربّ کی طرف سے روشن ہدایت پر ہیں، اور یہی
۱۳۳
لوگ کلّی طور پر کامیاب ہیں۔
سوال ۔ ۷: حدیثِ شریف میں ہے: اِذَ ا وُضِعَ الْمَیِّتُ فِی الْقَبْرِ اَتَاَ ہُ مَلَکَانِ مُنُکَرٌ وَّ نَکِیْرٌ۔ جب میّت قبر میں اتار دی جاتی ہے، تو اس کے پاس منکر و نکیر دو فرشتے آتے ہیں۔ آیا اس میں کوئی تاویل ہے؟
جواب: جی ہاں، اس میں تاویل ہے، اور وہ یوں ہے کہ جب سالک منزلِ عزرائیلی میں نفسانی طور پر مر جاتا ہے تو اس وقت اس کو اپنے جسم کی زندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور ان دونوں فرشتوں کے کئی اچھے نام بھی ہیں، چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ دوستانِ خدا کے حق میں منکر اور نکیر دوست فرشتوں میں سے ہو جاتے ہیں۔
چونکہ سالک (انسانِ کامل) کی مذکورہ موت نمائندہ قیامت کے سلسلے میں ہے، اس لئے اہلِ زمانہ بھی اس میں شریک ہوتے ہیں، مگر غیر شعوری طور پر، اور ان کے نمائدہ ذرّات کی قبریں بھی شخصِ کامل ہی میں ہوا کرتی ہیں، لہٰذا مذکورہ بالا حدیث کا اطلاق سب پر ہوتا ہے، پس ظاہری قبر مثال ہے اور روحانی قبر اس کی حقیقت، قیامتِ صغریٰ کے علاوہ جب بھی کوئی آدمی مر جاتا ہے تو اس کی روح عالمِ شخصی کی زندہ قبر میں دفنائی جاتی ہے۔
سوال۔ ۸: لغات الحدیث میں ہے: القلوب اربعۃ ۔ دل چارطرح کے ہیں (ایک تو وہ دل جس میں ایمان اور نفاق دونوں ہوتے ہیں، دوسرا منکوس یعنی مشرک کا دل، تیسرا مطبوع یعنی منافق کا دل، چوتھا
۱۳۴
روشن اور صاف، وہ مومن کا دل ہے، جو روشن چراغ کی طرح ہوتا ہے)۔ کیا آپ کوئی ایسی قرآنی آیت بتاسکتے ہیں جس سے مذکورہ حقیقت مزید روشن ہو جائے؟
جواب: ان شاء اللہ، آیۂ کریمہ کی نشاندہی کی جاسکتی ہے، وہ سورۂ انفال (۰۸: ۲۴) میں ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کی دعوت کو مان لو جب کہ رسولؐ تم کو حیات بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں اور اس بات کا علم حاصل کرو کہ اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
اس آیۂ شریفہ میں اسمِ اعظم سے ملنے والی حیاتِ طیبہ اور روحانی علم کی دعوت دی گئی ہے تاکہ خاص مومنین عین الیقین سے دیکھ سکیں کہ کس طرح حق تعالیٰ کا نور ان کے آئینۂ دل میں جلوہ نما ہو رہا ہے۔
سوال ۔ ۹: قرآنِ حکیم میں قیامت کے بہت سے اسماء آئے ہیں، ہر اسم حکمت سے مملو ہونے کی وجہ سے اپنے اندر ایک مضمون لئے ہوئے ہے، چنانچہ قیامت کا ایک بڑا شاندار نام ہے: یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ (۸۶: ۰۹) جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی۔ اس کی کیا وضاحت ہو سکتی ہے؟
جواب: ہمارے حساب کا ہزار سالہ دور خدا کے نزدیک ایک دن شمار ہوتا ہے (۲۲: ۴۷) پس قرآنِ پاک میں جگہ جگہ روزِ قیامت کے عنوان سے دورِ قیامت کا ذکر آیا ہے، جو دورِ تاویل کہلاتا ہے، جس میں لوگوں سے اسرارِ معرفت اور رموزِ حکمت کی آزمائش ہے، اور
۱۳۵
وہ یہی زمانہ ہے، ظاہری سائنس کی جیسی شاندار ترقی ہوئی ہے، وہ بھی زبانِ حال سے کہہ رہی ہے کہ دیکھو باطن میں روحانی علم کا جدید طوفان آیا ہے۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
منگل ۶ ۲ ؍شوال المکرم ۱۴۱۵ ھ / ۲۸؍ مارچ ۱۹۹۵ء
۱۳۶
قرآن میں محنت و سبقت کا حکم
۱۔ جلدی کرو:
وَسَارِعُوْآ (۰۳: ۱۳۳) اور جلدی کرو اپنے ربّ کی بخشش اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جیسی ہے۔ یہاں آیۂ شریفہ میں صیغۂ امر”سَارِعُوْا” ہے، جس کا ترجمہ علمائے کرام نے اس طرح کیا ہے: جلدی کرو، تیزی سے دوڑو، دوڑ کر چلو، دوڑ پڑو، وغیرہ، بہ ہرکیف مطلب ایک ہی ہے، وہ یہ کہ اہلِ ایمان علم و عمل کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کے لئے سخت محنت اور جانفشانی سے کام لیں، وہ تمام دینی فرائض کو درست اور ٹھیک وقت پر انجام دیں، غفلت و سستی کو دل میں نہ آنے دیں، ہمہ وقت خدا کو یاد کرتے رہیں، نیّت، قول اور عمل میں اخلاص و پاکیزگی کا جوہر پیدا کریں، اور ہمیشہ خوفِ خدا کی حکمت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے رہیں۔
۲۔ آگے بڑھو / سبقت کرو:
سَابِقُوْآ (۵۷: ۲۱) دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے
۱۳۷
کی کوشش کرو، اپنے ربّ کی مغفرت اور اس کی جنّت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے۔ قرآنِ حکیم کا ہر حکم ایسی بےمثال جامعیّت کا حامل ہے کہ اس کے آئینۂ معنویت میں دیگر تمام احکام کے چہرے بھی نظر آتے ہیں، اس نظام کے ساتھ ساتھ سبقت کا یہ حکم براہِ راست بھی ہمہ گیر قسم کا ہے کہ اس کا اطلاق جملہ نیات، اقوال، اور اعمال پر ہوتا ہے، یعنی اس میں مجموعی اعمال کی قدرو قیمت کی بناء پر سبقت کرنے کا امر ہے۔
۳۔ خدا ہی کی طرف بھاگو:
فَفِرُّ وْآاِلَی اللہِ: (۵۱: ۵۰) تو خدا ہی کی طرف بھاگو۔ (الف) تاکہ نفس اور شیطان کے خطرات سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ گاہ میں داخل ہو سکو (ب) تاکہ تمہاری کوشش کے مطابق درجات مرتب ہوسکیں (ج) اور تم میں سے جو لوگ کلی سبقت لے جائیں ان کو بہشت بنا دیا جائے، پس دوڑنے کے حکم میں ایسے اشارے پوشیدہ ہیں جن کے سمجھنے میں حکمت اور خیر کا فائدہ ہے۔
۴۔ سات شدید آسمان:
سَبْعاً شِّدادًا ( ۷۸: ۱۲) اور ہم نے تمہارے اوپر سات شدید آسمان بنائے (اور ہم ہی نے روشن چراغ بنایا۔ ۷۸: ۱۳) یعنی عالمِ شخصی کے سات آسمان جو صاحبانِ ہفت ادوار کے روحانی مراتب
۱۳۸
ہیں، ان سے گزر کر روشن چراغ (نورِعقل) تک رسا ہو جانا سالک کے لئے انتہائی شدید مشکل سفر ہے، تاہم وہ اللہ کی عنایت سے صاحبِ عرش میں فنا ہو سکتا ہے۔
۵۔ تم تو بغیر قوّت اور غلبہ کے نکل ہی نہیں سکتے:
لاَ تَنفُذُونَ إِلاَّ بِسُلْطَانٍ (۵۵: ۳۳) اے گروہِ جنّ و انس! اگر تم میں قدرت ہے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل سکو تو نکل جاؤ (مگر) تم تو بغیر قوّت اور غلبہ کے نکل ہی نہیں سکتے۔ حضرتِ آدم، حضرتِ نوح، حضرتِ ابراہیم، حضرتِ موسیٰ ، حضرت عیسیٰ ، حضرت محمد، اور حضرتِ قائم علیہم السّلام عالمِ دین اور عالمِ شخصی کے سات آسمان اور ان کے حجج سات زمین ہیں ( وَمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَھُنَّ ۔ ۶۵: ۱۲) یہی مراتب چودہ طبق ہیں، ان سے ہوتے ہوئے اوپر جا کر عالمِ وحدت میں فنا ہو جانا جنّ و انس کے لئے انتہائی مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ یہاں سلطان سے روحانی تائید کا غلبہ مراد ہے، جس کے بغیر چودہ طبق سے گزر کر عالمِ وحدت میں فنا ہو جانا محال ہے۔
۶۔ تم درجہ بدرجہ ( رتبۂ اعلیٰ پر) چڑھو گے:
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ (۸۴: ۱۹) سو قسم کھاتا ہوں شام کی سرخی کی، اور رات کی اور جو کچھ وہ ڈھانک لیتی ہے، اور چاند کی جب پورا ہو جائے کہ تم درجہ بدرجہ ( رتبۂ اعلیٰ پر) چڑھو گے۔ یعنی تم کو رجوع الی اللہ کے لئے
۱۳۹
چودہ طبق سے اوپر چڑھنا ہے۔
۷۔ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے:
لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي كَبَدٍ(۹۰: ۰۴) مجھے اس شہر (مکہ) کی قسم اور تم تو اسی شہر میں رہتے ہو اور باپ اور اس کی اولاد کی قسم کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے۔ اس شہر سے اساس مراد ہے، جس میں نورِ ناطق منتقل ہونے والا تھا، اور وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ (۹۰: ۰۲) (اور تم اس شہر میں اترنے والے ہو) کا یہی مطلب ہے، اور اساس کی قسم کے بعد باپ اور اولاد کی قسم ہے، جو عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ ہیں، اس کے بعد جوابِ قسم کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی روحانی تخلیق و تکمیل اس کی اپنی محنت و ریاضت کی متقاضی ہے، جس کے سوا روحانی ترقی ممکن نہیں۔
۸۔ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے:
وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعَى ( ۵۳: ۳۹) اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے، اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائیگی، پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور یہ کہ تمہارے پروردگار کے پاس پہنچنا ہے۔ اس ربّانی تعلیم میں انسانی کوشش کی اہمیّت اور قدر و قیمت ظاہر کی گئی ہے، معلوم ہے کہ کوشش اور محنت جسمانی، روحانی اور عقلی قوّتوں سے سخت کام لینے کا نام ہے، تاہم نورانی ہدایت
۱۴۰
ہر حال میں ضروری ہے۔
۹۔ انسان سرعت سے پیدا کیا گیا ہے:
خُلِقَ الإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (۲۱: ۳۷) انسان سرعت سے پیدا کیا گیا ہے ( یعنی دارالابداع میں اس کی تخلیق امرِ کُنۡ سے ہوئی ہے) اگر عالمِ جسمانی میں سرعت کا کوئی چھوٹا سا کرشمہ دیکھنا ہے تو محنت سے ذکرِ سریع کا تجربہ کریں، ۱۔ یہ قانونِ فطرت ہے ۲۔ یہ خدا کی طرف دوڑنا ہے ۳۔ یہ جہادِ اکبر ہے ۴۔ یہ اسپِ مجاہد کی دوڑ ہے (۱۰۰: ۰۱) ۵۔ یہ بجلی گھر کی طرح ہے ۶۔ یہ ہوائی جہاز کے انجن کی طرح ہے ۷۔ یہ کائناتی بھٹی کی مثال ہے، یعنی سورج کی طرح ہے۔
۱۰۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو:
فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ (۱۸: ۹۵) آپ سورۂ کہف ( ۱۸: ۸۳ تا ۹۹) میں قصّۂ ذوالقرنین کو پڑھیں، یہ دراصل امام عالی مقامؑ ہی کا روحانی تذکرہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی یہ بڑی عجیب و غریب حکمت بھی سن لیجئے کہ یاجوج و ماجوج روحانی ذرّات کا عظیم لشکر ہے، جو عالمِ شخصی کی فنا برائے بقا کے لئے مقرر ہے، تاہم قبل از وقت فساد سے ان کو روکنا بھی ضروری ہے، جس کے لئے باطنی مدد خدا کے حکم سے امامؑ کرتا ہے اور ظاہری محنت مومنین کرتے ہیں۔
۱۴۱
۱۱۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو:
اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (۳۳: ۴۱) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو، وہ وہی تو ہے جو خود تم پر دورد بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تم کو (جہالت کی) تاریکیوں سے نکال کر (علم کی) روشنی میں لے آئے اور خدا مومنین پر بڑا مہربان ہے۔
اگر خداوندِ قدوس کا ذکر (یاد) کثرت، سرعت، محبت اورعشق سے ہے تو ان شاء اللہ ایسے اہلِ ایمان کو درودِ الٰہی کی روشنی اور سبقت نصیب ہوگی، آسمانی درود میں دو عظیم نعمتیں ہوا کرتی ہیں، وہ رحمت اور علم ہے۔
۱۲۔ انکے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے:
كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمْ الإِيمَانَ (۵۸: ۲۲) ان کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے، اور اپنی ایک خاص روح سے ان کی مدد کی ہے۔ اگر اس پوری آیۂ کریمہ کو نورِ معرفت کی روشنی میں دیکھا جائے تو کئی اسرارِ باطن منکشف ہو سکتے ہیں، چونکہ یہ سورۂ مجادلہ کی آخری ایت ہے، لہٰذا اس میں بکھرے ہوئے جواہر کا خزانہ جمع کیا گیا ہے، جس میں میری چھوٹی سی عقل کے مطابق بارہ مقفل صندوق رکھے ہوئے ہیں جو عقل و
۱۴۲
دانش اور علم و حکمت کے گونا گون جواہر سے مملو ہیں، اور وہ ان ناموں سے ہیں: ۔
۱۔ خدا، رسولؐ، اور امام کی دوستی ۲۔ خدا نے لکھا ۳۔ قلوب ۴۔ ایمان ۵۔ تائید ۶۔ روحِ خاص یا تائیدی روح ۷۔ جنّات ۸۔ بہشت کی نہریں ۹۔ خلود ۱۰۔ اللہ کی خوشنودی ۱۱۔ اہلِ جنّت کی خوشنودی ۱۲ ۔ حزبُ اللہ (خدا کا گروہ)۔
مثالی سوال: اللہ جلّ جلالہٗ نے اپنے دوستوں کے دلوں میں کس قلم سے ایمان لکھ دیا؟ کس عالم میں؟ کس مقام پر؟ کب یہ فعل واقع ہوا؟ کس نے اس کا مشاہدہ کیا؟ اللہ کی یہ تحریر کس نوعیّت کی ہوتی ہے؟
جواب: خداوندِ عالم نے قلمِ عقل سے ایمان لکھ دیا، عالمِ شخصی میں، مقامِ عقل پر یہ کام ہوا، جب عارف مرتبۂ عقل پر پہنچ گیا، ہر عارف اس سرِ عظیم کا مشاہدہ کرتا ہے، یہ تحریر روحانی، عقلی، اور اشارتی قسم کی ہوا کرتی ہے۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۲؍ ذی قعدہ ۱۴۱۵ ھ / ۳؍ اپریل ۱۹۹۵ء
۱۴۳
سلسۂ نورِ امامت
سلسلۂ نورِ امامت
ہمہ رس علمی خدمت
خانۂ حکمت کے صدر فتح علی حبیب کی تجویز ہے کہ ہم ادارۂ عارف کے صدر محمّد عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ سیکریٹری یاسمین کی قابلِ قدر خدمات پر کوئی سرٹیفکیٹ دیں، اور اسی طرح دوسرے کئی عزیزوں کو بھی، جو علمی خدمت میں پیش پیش ہیں، لیکن میری گزارش یہ ہے کہ سرٹیفکیٹ سے کچھ کام نہیں بنے گا، اس لئے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے ایسے عزیزوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً کتابوں میں لکھیں گے، تاکہ ان کے زرّین کارناموں کو سب دیکھ سکیں، اور ان سے آئندہ نسل کو درسِ عالی ہمتی مِلتا رہے۔
صدر محمد عبد العزیز اور ان کی نیک بخت بیگم سیکریٹری یاسمین زمین پر چلنے والے فرشتوں میں سے ہیں، ان کی گرانقدر خدمات کی فہرست بڑی طویل ہے، یہ انہی کا وسیلہ اور احسان تھا، جس سے مجھے امریکا کی جماعت میں ایسے عزیز و عظیم دوست ملے، جو حقیقی علم کے بڑے قدردان ہیں، اور امید ہے وہ عزیزان وہاں اس علم کی روشنی کو پھیلائیں گے، عزیزانم محمد عبدالعزیز اور یاسمین کا ایک اور زرّین کارنامہ تقریباً ڈیڑھ ہزار (۱۵۰۰) آڈیو کیسیٹوں کا ریکارڈ ہے، اگر ریکارڈنگ کا یہ انتظام نہ ہوتا، تو کم از کم ایک ہزار گھنٹے کی مفید تقریر ہوا میں بکھر جاتی۔
حرفِ آغاز
بسمِ اللہ الرحمٰن الرحیم۔
المائدہ کے اس ارشادِ مبارک میں دین اسلام کی اساسی ہدایت کا ذکر فرمایا گیا ہے: قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ = تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور بیان کرنے والی کتاب آگئی ہے (۰۵: ۱۵)
سوال: اس میں کیا راز ہے کہ آیۂ کریمہ کی ترتیب میں نور کا ذکر پہلے آیا ہے، اور کتاب یعنی قرآن کا ذکر بعد میں ہوا ہے؟
جواب: اس کا راز یہ ہے کہ پہلے پہل حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نورِ نبوّت کی روشنیوں سے منوّر ہوگئے، اور اس کے بعد نزولِ قرآن کا آغاز ہوا۔
سوال: نور اور کتاب کے اس یکجا بیان میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟
جواب: اس کا اشارۂ حکمت ایک تو یہ ہے کہ نور اور کتاب باطن میں ایک چیز ہے، اور ظاہر میں دو چیزیں ہیں، یعنی شخصیّتِ نور، اور کتابِ سماوی، دوسرا اشارہ یہ ہے کہ کتاب کے ساتھ ہمیشہ معلّمِ ربّانی مقرّر ہوتا ہے، اور یہی زندہ نور ہے، جس کی روشنی میں آسمانی کتاب
۷
کا نام کتابِ مبین (بیان کرنے والی کتاب) ہے۔
سوال: مذکورۂ بالا ارشاد سے ماقبل اور ما بعد کی ایک ایک حکمت بیان کریں، تاکہ یہ حقیقت کلّی طور پر یقینی ہوجائے کہ خدا نے ہر آسمانی کتاب کے لئے ایک نورانی معلّم ( نور) مقرّرفرمایا ہے۔
جواب: آیۂ کریمہ (۰۵: ۱۵) کے شروع میں ایک مفہوم یہ ہے کہ تورات اور انجیل جب اہلِ کتاب کے عام مُعملّوں کے ہاتھ آئیں تو انہوں نے آسمانی کتاب کے حقائق و معارف کو خیانت سے بھی اور ناشناسی سے بھی چھُپا لیا، کیونکہ ان میں نور نہیں تھا، اور مابعد (۰۵: ۱۶) کی ایک حکمت یہ ہے:
خدا نور اور کتابِ مبین کے ذریعے سے ان لوگوں کو جو بہشت سے بھی بڑھ کر اس کی خوشنودی کے طالب ہیں سلامتی کی راہوں (شریعت، طریقت، حقیقت، اور معرفت) پر چلاتا ہے، اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اور صراطِ مستقیم کی منزلِ مقصود تک پہنچا دیتا ہے (۰۵: ۱۶)۔
“سلسلۂ نورِ امامت” میری اوّلین تصنیف ہے، ادبی اعتبار سے جیسی بھی ہو، لیکن اس کو بہت بڑی سعادت نصیب ہوئی کہ حضرتِ امامِ زمان صلوات اللہ علیہ وسلامہٗ کے حضورِ اقدس میں پیش کی گئی، اور نظرِ نورانی سے مشرف ہوئی، یہ وہ مبارک سال تھا جس میں مولانا حاضر امامؑ تختِ امامت پر جلوہ گر ہوئے تھے( یعنی ۱۹۵۷)۔
۸
میں مظہرِنورِ خدا، آلِ مصطفےٰؐ ، جانشین علیؑ مُرتضےٰؑکے مقدّس در پر بڑی غریبی، حاجت مندی اور عاجزی سے حاضر ہوا تھا، اس لئے جھولی بھردی گئی، حق بات کو کسی بھی وجہ سے چُھپانے سے دوستوں اور بھائیوں کا علمی نقصان ہوسکتا ہے، اس لئے میں انتہائی عاجزی سے عرض کرتا ہوں کہ میں نورِ امامت کے اصولی معجزات کا عرصۂ دراز سے مشاہدہ کرتا رہا، یہی وجہ ہے کہ میں ہر بار نور کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھنے کے لئے سعی کرتا ہوں۔
بعض بھائیوں کا یہ خیال ہے کہ روحانیّت اور نورِ امامت کے اسرار کا برملا تذکرہ نہیں کرنا چاہئے، قربان جاؤں ان کی خیر خواہی سے، بے شک ہر مبتدی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے، جب تک کہ اس میں علم کی پختگی نہیں آتی، اور قرآنی حکمت سے آگاہ نہیں ہوتا، اس کے برعکس اگر کوئی شخص نور اور قرآن کے روحانی اور عقلانی عجائب و غرائب اور علم و حکمت کے معجزات کا مشاہدہ کرکے خاموش رہتا ہے تو کیا ایسا شخص قارون کی طرح نہیں ہوگا، جو مالی زکات نہ دینے کی وجہ سے ہلاک ہوگیا؟ کیونکہ مالی زکات مثال ہے، اور علمی زکات ممثول (۲۸: ۷۶) اور علم و حکمت کی یہ روشنی ایک گواہی بھی ہے جس کو اگر کوئی شخص چھپائے تو وہ بہت بڑا ظالم قرار پاتا ہے (۰۲: ۱۴۰)۔
نور سلسلۂ انبیاء کے بعد سلسلۂ آئمّہ میں چلا آیا ہے، اس امرِ
۹
واقعی کے مطابق اس کتاب کا نام “سلسلۂ نورِ امامت” مقرّر ہوا، کتاب کی اہمیّت کے پیشِ نظرعظیم دوستوں نے انگلش میں اس کا ترجمہ بھی فرمایا ہے۔
اس میں علمِ حدودِ دین کا ایک حصّہ بھی ہے، کیونکہ تاویلی حکمت کے ابواب انہی حدود کی کلیدوں سے مفتوح ہوجاتے ہیں، اور اس کی اہمیّت سے یہ بحث الگ ہے کہ اب حدودِ دین کی کیا کیفیّت ہے؟ کیا حضرتِ امامؑ پیدائش کے دن ہی امام ہوتے ہیں یا حدودِ دین کی سیڑھی سے چڑھ کر اپنی مرتبت پر فائز ہوجاتے ہیں؟ بہر حال حدودِ دین کی تاریخی اہمیّت بھی ہے اور ان کے اسماء اصطلاحات بھی ہیں۔
حدیثِ شریف ہے:
ان اللہ مائۃ الف نبی و اربعۃ و عشرین الف نبی من ولد آدم الی القائم۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زمانۂ آدمؑ سے قائم تک (پورے دور کے لئے) اللہ کی طرف سے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ہیں (سرائرو اسرار النطقاء ۲۰۰) ان تمام حضرات کے طویل سلسلےکا تذکرہ قرآنِ حکیم کے صرف تین الفاظ میں آیا ہے، وہ پُرحکمت الفاظ یہ ہیں: نورٌ علیٰ نور = ایک نُورپر دوسرا نورہے (۲۴: ۳۵) یعنی نور کی ایک شخصیت کے بعد دوسری شخصیت ہوتی ہے، پس نورِ نبوّت کے بعد نورِ امامت کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور کوئی وقت ایسا نہیں، جس میں نور نہ ہو۔
۱۰
یہ تاویلی مثال ہے: نور کو سرچشمہ اور مرکز میں دیکھنا ہے تو سورج کو دیکھ لو، نمائندۂ واحد میں دیکھنا ہو تو چاند کو دیکھ لو، کثیرِمظاہر میں دیکھنا ہے تو ستاروں کو دیکھو، اور اگر نور کو گھر لاکر قریب ہی سے دیکھنا اور پہچاننا ہے تو گھر کا چراغ روشن کرو، چراغِ خانہ سے نورِ معرفت مراد ہے، جو قلب میں ہوتا ہے، یہ چراغ بھی ہے اور آفتاب بھی، یہی سبب ہے کہ نورِ الہٰی کی تشبیہہ و تمثیل گھر کے چراغ سے دی گئی ہے (۲۴: ۳۵)۔
تاویل کی زبان میں ظاہر کو دن اور باطن کو رات کہا گیا ہے، یعنی تنزیل دن ہے اور تاویل رات، چنانچہ نورِ نبوّت آفتاب ہے، یعنی وہ روشنی، جو ظاہر و تنزیل کے لئے چاہئے، اور نورِ امامت ماہتاب ہے یعنی ایسی روشنی، جو باطن و تاویل کے واسطے ضروری ہے، اب یہاں یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ اگر چہ تمام ستارے اپنی اپنی جگہ سورج ہی کے نمائندے ہیں، لیکن صرف چاند ہی وہ واحد نمائندہ ہے، جو قریب ہونے کی وجہ سے اہلِ زمین کو بھرپور روشنی دے سکتا ہے، اسکی تاویلی حکمت یہ ہے کہ آٔئمّہ سلف علیہم السّلام مسافتِ زمان کی وجہ سے ستاروں کی طرح رسائی سے بالاتر ہیں، لیکن امامِ وقت صلوات اللہ علیہ وسلامہٗ چاند کی طرح نزدیک ہے، جو روحانی علم اور تاویلی حکمت کا وسیلۂ واحد ہے۔
۱۱
جس طرح ظاہری سائنس اور ریسرچ ہے، اسی طرح روحانی سائنس اور اس کی ریسرچ ہے، مثال کے طور پر یہاں خدا کے فضل و کرم سے یہ تحقیق کی گئی ہے کہ کائنات کے اکثر ستاروں پر انتہائی ترقّی یافتہ انسان رہتے ہیں، وہ کوکبی بدن (Astral body)رکھتے ہیں، اس جسمِ لطیف کے کئی نام ہیں، جیسے جسمِ مثالی، نورانی پیکر، جثّۂ ابداعیہ وغیرہ، اللہ کی قسم! قرآن اور روحانیّت میں علم و معرفت کی ہر چیز موجود ہے۔
چونکہ “جشنِ خدمتِ علمی” کی آمد آمد ہے، اس لئے میں اپنے تمام ساتھیوں کو جو بےحد عزیز ہیں صمیمیّتِ قلب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، اور انتہائی عاجزی سے دعا ہے کہ پروردگارِ عالم آپ عزیزان کی علمی کوششوں کو کامیابی عطا فرمائے! اور وہ دانا و بینا اپنی رحمتِ بیکران سے آپ کی اِس بے لَوث خدمت کو سب کے لئے مفید بنائے! آمین!!
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
پیر ۲، ربیع الثّانی ۱۴۱۴
۲۰، ستمبر ۱۹۹۳، کراچی
۱۲
بحسنِ دگر
یارِمن! جامۂ نوپوش و بحسنِ دگرآ
باجہان سازوبراندازِ زمان پر ہنر آ
قصرِشاہانۂ تن ساختہ چون قصرِ بہشت
بتوزیباست شہا زود درین قصردرآ
ہمچو خورشید پسِ کرّۂ گل دیر مکن
برق وار از افقِ مشرقِ دین زود برآ
بتوزیبا نبوُدَ آنکہ نشینی بر خاک
نورِ چشمِ دلِ ما! آبنشین در نظر آ
یار و اغیار ہمہ منتظرِ دورِ تو اند
ای تو استادِ قدیم باصفتِ تازہ تر آ
۱۳
دیدہ ام دیدۂ دل مردمکِ دیدہ تُو ای
باہمان جلوہ دگر بار مرا در نظر آ
جز بدیدارِ تو این تلخیِ جان می نرود
ای تو شیرینیِ جان! باہمہ قند وشکر آ
گرچہ من راہ نشیم تو شہنشاہِ دو کون
شفقت و مہر نما وزپیِ ماچون پدرآ
تاہمہ ماہ رخان عاشقِ رُویِ توشوند
نورِ رویت بنما مایۂ شمس و قمر آ
با جلالت بنشین برسرِ مسندکہ شہ ای
باہمہ عظمتِ شاہانہ و باکرّ و فر آ
تو کہ داری زازل تجربۂ جنگِ فلک
شاہِ مردان! توبی جوشن و تیغ و سپر آ
باہمین بال و پرت کی برسی ازپیِ او
بازگرد ای کہ تو خوا ہی! بدگر بال و پرآ
جستجویٔ کن و مفتاحِ سعادت دریاب
پس بگنجینۂ اسرار شو و پُر گہرآ
۱۴
پیشِ آن شاہ کہ خوانندۂ لوحِ دلِ توست
از خود آگاہ شود با ادب و باخبر آ
گر تو از جورِفلک عرضِ شکایت داری
از رہِ صدق و صفا پیشِ شہ داد گر آ
زان درختی کہ بُوَد پاک و پُر ازمیوہ مدام
خوش بخور میوۂ دانش، ہلہ زیرِ شجر آ
شادی و خرّمی ای دل! شہِ دیدار رسید
ای غمِ ہجر! ازین بیش مرنجان بسر آ
بی پناہِ تو ہمہ مُلکِ دَ لم رفتہ زدست
باز با لشکرِ جان باہمہ فتح و ظفر آ
تو لطیفی و ہنر ہایِ فرا وان داری
گر بظاہر نرسی نور شوو در نظر آ
دلم ازبی اثری آہنِ پُر زنگ شدہ
باہمان معجزِ داؤدؑ تو باصد اثر آ
دررہِ عشق چو دریوزہ گری بنشینم
ای مہِ چاردہ! ہر بار ازیں رہ گزرآ
تا نصیرؔ بہرِ نثارِ قدمت جان بدہد
ای شہ و جانِ جہان! باز بحُسنِ دگر آ
۱۵
نور مولانا کریم
مشرقِ انوارِ یزدان نور مولانا کریم
مطلعِ اسرارِ عرفان نور مولانا کریم
کسوتِ دیگر ہمی پوشید آن یارِ قدیم
جلوہا بنمود در جان نور مولانا کریم
تو ہمان سلطانِ دینی امتحان ازما مگیر
حاضرِ ہر عصر و دوران نور مولانا کریم
مخزنِ علمِ حقائق معدنِ نور و صفا
عالمِ اسرارِ قرآن نور مولانا کریم
چشمِ دل بکشا و برقِ رُویِ زیبائش ببین
تاشناشی جان و جانان نور مولانا کریم
ظاہراً آلِ محمّدؐ ہم ز اولادِ علیؑ
اکمل و اشرف ز انسان نور مولانا کریم
رہبرِ اسلام امامِ ما شہِ دین نور حق
شاہِ مردان ماہِ خوبان نور مولانا کریم
۱۶
حاتمِ روحی سخّی جان و دل نورِ عقول
مصدرِ اکرام و احسان نور مولانا کریم
جوہرِ روحِ مقدّس گوہرِ امرِ الٰہ
نائب و فرزندِ سلمان نور مولانا کریم
عروۃ الوثقیٰ کتاب اللہ وحبل اللہ بحق
مظہرِ آیاتِ رحمان نور مولانا کریم
پادشاہِ عالمِ دین والیِ دُنیایِ دل
تاجدار ملکِ ایمان نور مولانا کریم
اخترِ برجِ تجمّل ماہِ گردونِ خیال
آفتابِ کونِ رخشان نور مولانا کریم
ای نسیمِ جان فزایِ باغِ فردوسِ برین
نورِ رویِ حور و غلمان نور مولانا کریم
بحرِ گوہر زایِ جانہا آسمانِ فیض بار
چشمہ سارِ آبِ حیوان نور مولانا کریم
عقل کُلّ و روحِ کُلّ ہم مصطفیٰ ہم مرتضیٰ
مجمعِ پیدا و پنہان نور مولانا کریم
۱۷
یوسفِ حسنِ زمان ای شاہِ خوبانِ جہان
ای بہارِ باغِ رضوان نور مولانا کریم
منبعِ دریایِ رحمت مخرجِ علم و اَدب
فیض بخشِ ابرِ نیسان نور مولانا کریم
حامی دینِ محمدؐ در لباسِ مرتضےٰؑ
کافران را تیغِ برّان نور مولانا کریم
پنجتن رایکتنی ای مقصد و مطلوبِ کُل
مذہب و دینِ مریدان نور مولانا کریم
با اُمید آمد بدر گاہت نصیرِؔ ناتوان
تاکنی ھر مشکل آسانِ نور مولانا کریم
۱۸
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-یُحْیٖ وَ یُمِیْتُۚ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۔ (۵۷: ۰۱ تا ۰۳)
ترجمہ: اللہ کی تسبیح کرتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور وہی ہے عزّت و حکمت والا۔ اس کی ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ سب چیز پر قادر ہے۔ وہی ہے سب سے اوّل اور سب سے آخر اور سب سے آشکار اور سب سے پنہان۔ اور وہ سب چیز جانتا ہے۔
۱۹
حقیقتِ شُکر
منعمِ حقیقی کی مخصوص انسانی نعمتوں کا معنوی شکر بشری وسعت کی کسی حد تک اس وقت ادا ہوسکتا ہے جبکہ شاکر کا طریقۂ شکرگزاری ولیِ نعمت کی مرضی کے مطابق ہو۔ ورنہ ممکن ہے کہ وہ شکر قبول منعم نہ ہوسکے ۔اصلیّت میں شکر نعمت کے بعد واجب ہوتا ہے۔ چنانچہ آیتِ مبارکہ شاہد ہے:
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ (۳۱: ۱۲)
ترجمہ: “اور ہم نے لقمان کو حکمت دی کہ اللہ کا شکر کر۔”
اس لئے شکر کے معنی ہیں نعمت کے حقائق سے منعم کی غرض معلوم کرنا اور اس کی مرضی کے مطابق نعمت کو استعمال کرنا۔ معنوی شکر گزاری کی تفصیل یہ ہے:
ہر نعمت کی وضعیّت، باطنیّت اور غرض غایت پر غور و فکر سے تبصرہ کرنے کے نتیجوں میں علمِ حقائق الاشیاء (ہر چیز کی حقیقت کا علم) کا حاصل کرنا، ہر نعمت کو منعمِ حقیقی کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا، نعمت کی خوبیوں کے قیاس و دلائل سے منعمِ حقیقی کے اوصاف و کمالات کا جاننا اور اس کی معرفت تلاش کرنا، اس کی دی ہوئی نعمت کو احسانِ
۲۰
محض تصوّر کرنا اور اس کے عوض میں اپنے حق میں اور خلقِ خدا کے حق میں نیکی کرنا اور سب سے آخر درجوں پر اس بات کا یقین رکھنا کہ صانعِ حکیم نے اپنی حکمتِ بالغہ سے کل جسمانی و روحانی لذّتوں کو رشتۂ کائنات میں بترتیب فضیلتِ لذّت اس لئے پرویا ہے تاکہ دانا انسان خدائے ذُوالکرام سے وہ نعمت اور وہ لذّت شب و روز طلب کرے جس میں اپنی لاثانی وغیرفانی اور لاانتہا لذتوں کے علاوہ بحیثیتِ کُل دیگرساری لذّتیں بھی موجود ہیں۔ وہ لذّتِ کُل دیدارِ الٰہی ہے۔ نعمت شناسی اور قدر دانی بحقیقت اسی مقام پر ہوسکتی ہے۔ نعمت ہر اس چیز کا نام ہے جو جسمانی یا روحانی طور پر انسان کے لئے خوشی، راحت اور لذّت کا موجب بن سکے۔ مگر ہر ایک نعمت میں یہ بات ضرور پائی جاتی ہے کہ وہ قدر و قیمت اور لذّت میں پچھلی والی نعمت سے بہتر اور اگلی والی نعمت سے کمتر ہوتی ہے۔ مثلاً موالیدِ ثلاثہ یعنی نباتات، حیوانات اور انسان کی غذاؤں پر قیاس لگائیے کہ نباتات کی غذا مٹی، پانی، ہوا اور آتشی اثرات ہے جو کہ قدر و قیمت اور لذّت میں حیوانوں کی غذا سے بہت کم ہے۔ حیوانات کی غذا ان کی نوعیّت کے مطابق ہے۔ مثلاً گھاس، پات، پھل، دانے، گوشت وغیرہ۔
پھر حیوانوں کی یہ غذا نباتات کی غذا سے قدروقیمت اور لذّت کے لحاظ سے بدرجہا بہتر ہے اور انسان کی غذا سے بدرجہا کمتر ہے۔ لیکن جانور روحِ حیوانی کی فوقیّت سے نباتات اور اس کی غذا پر بھی تصرف
۲۱
کرتا ہے، اس لئے حیوانات کو نباتات کا بادشاہ کہا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ بعض جانور عناصر سے بھی غذا حاصل کرتے ہیں اور اکثر حیوانات نباتات پر پلتے ہیں۔
اسی طرح انسان کی خوراک قدر و قیمت، ذائقہ اور منفعت میں حیوان کی غذا سے بدرجہا بہتر ہے اور فرشتوں کی غذائے جلالی سے بدرجہا بدتر اور خسیس تر ہے اور انسان بلاشبہ حیوانات، نباتات و جمادات اور دنیا کی ساری چیزوں پر بادشاہ ہے۔ حیوانات، نباتات وغیرہ سے جو چیز منفعت بخش ہو اسے اپنی غذا بنا لیتا ہے۔ لیکن روحانیّت کے طلب گاروں کے لئے یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ انسانی جملہ اقسام کی غذائیں باوجود تمام خوبیوں کے حقیقتاً حیوانوں کی غذائیں کہلاتی ہیں۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ غذا کا سوال روح کی حد میں پیدا ہوتا ہے۔ اور روح تین قسم کی ہوتی ہے۔ یعنی روحِ نامّیہ جس میں نشوونمائی کی طاقتیں ہوتی ہیں اور وہ ہر قسم کے نباتات و اشجار میں ہوتی ہے۔ اس کی خوراک کا ذکر نباتات کے بیان میں ہوچکا۔ دوسری قسم کی رُوح، روحِ حیوانیہ ہے یہ جملہ اقسام کے جانوروں میں ہوتی ہے۔ اس کی خوراک کا ذکر حیوانوں کے ذکر میں ہوچکا ہے۔ تیسری قسم کی روح، نفسِ ناطقہ یا کہ روحِ انسانی کہلاتی ہے۔ لیکن انبیاء و اولیاء کی پاک روح یعنی روح القدّس روحِ انسانی سے بالاتر اور اس میں سے مزید ہے۔
(ملاحظہ ہو کتاب زاد المسافرین)
۲۲
روح کی ظاہری ترکیب میں روحِ نامیہ سب سے نیچے ہونے کی وجہ سے ہر نبات میں صرف ایک ہی روح ہے۔ اور ہرجانور میں اپنی روح کے علاوہ روحِ نامیہ بھی ہے اور ہر انسان میں اپنی روح کے علاوہ اپنے دونوں ماتحت (حیوان و نبات) کی ارواح بھی ہیں۔ یعنی انسان میں تین ، حیوان میں دو اور نبات میں ایک رُوح ہے۔
اب روحِ ناطقہ کی غذا کے متعلق یہ ہے کہ اس کی غذائے مخصوص جس میں حیوان شریک نہیں ہوسکتا، نطق، تمیز، علم و حکمت اور معرفت وغیرہ ہے۔ یعنی موالیدِ ثلاثہ کی غذائے حدِ فاصل اوپر کی طرف سے ہے، چنانچہ نباتات کی غذا کی حد اتنی تک ہے جتنی کہ وہ غذا حاصل کرسکتی ہے۔ اور حیوانوں میں سے ہر ایک حیوان کی اپنی اصلی غذا وہ ہے جو وہ کھا سکتا ہو۔ اس لئے حیوانوں کی اوپر والی غذائے حدِ فاصل وہاں تک ہے جہاں تک وہ کھا سکتے ہیں۔ پھر درست ہوا کہ انسان ہمیشہ ایک حیوانِ مرکب پر سوار ہے۔ جس پر سے موت سے پہلے اترنا سخت مشکل ہے۔ لہٰذا وہ جس قدر بھی پُرلذّت غذائیں تناول فرماتا ہو وہ سب اپنے اس مرکبِ حیوانی کا حصّہ ہے جس کا نام نفسِ حیوانی ہے۔ لیکن انسان کی اپنی اصلی غذا وہ ہے جس سے روحِ ناطقہ اور عقل کو قوّت ملے۔ حکیم ناصر خسرو قدس اللہ روحہٗ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:
چیزی کہ ستوران و ددان با تو شریک اند
منّت ننہد با تو بدان ایزد داور
۲۳
یعنی جس چیز میں چرنے والے جانور اور درندے بھی تیرے ساتھ شریک ہوں تو اس کے بارے میں خدائے عادل تجھ پر ہرگز احسان نہیں رکھتا ہے۔
نعمت نبود آنچہ ستوران بخورندش
نے ملک بود آنچہ بدست آردش قیصر
یعنی نعمت وہ نہیں جسے جانور بھی کھا سکتے ہوں اور نہ وہ بادشاہی ہے جسے قیصر بھی حاصل کرسکتا ہو۔
انسانی نعمت اور شکر کی حقیقت کی مزید معلومات کرنے کی غرض سے قرآنِ حکیم کی اس آیت کی دقیقہ سنجی فرمائیے۔ قولہٗ تعالیٰ:
مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيْمًا (۰۴: ۱۴۷)
ترجمہ: “کیا کرے گا اللہ تمہیں عذاب کرکر۔ اگر تم شکر کرو اور مانو اور اللہ قدردان ہے۔ جاننے والا۔”
لیکن لوح التاویل میں اس آیت کے معنی اسی طرح ہے۔ نہیں کرتا (فعل) اللہ تمہارے عذاب (ریاضت) پر (ذریعے سے) اگر تم نعمت جانو اور یقین حاصل کرو۔ اللہ شکر کرانے اور علم سکھانے والا ہے۔ یعنی اگر ہم حقیقی معنوں میں شکر کریں اور کما کان حقہ ایمان لائیں تو اللہ ہماری تکلیف کے ذریعہ سے اپنا فعل نہیں کرے گا۔ بلکہ ہماری راحت ہی میں اس کا فعل ہم پر واقع ہوگا۔ جو کہ دونوں صورتوں میں خدا کا
۲۴
فعل صرف ہماری روحانی عروج کے لئے ہے۔ ازروئے تاویل کئی دلیلوں سے یہی معنی بہتر ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس عذاب کو آخرت کے ابدی عذاب تصوّر کریں تو اللہ ہمیں عذاب سے آگاہ کرنے کے بعد اپنی قدردانی اور علم پروری کی صفات کی طرف ہمیں متوجّہ نہ فرماتا۔ اس لئے کہ قرآنِ حکیم کی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر آیت کے آخر میں جیسے الفاظ یا اسماء ہوں ان کے مطابق آیت کا معنی نکلتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو، یہ تو احکم الحاکمین کا کلامِ حکمت نظام ہے۔ جزوی مثال میں بھی کوئی معمولی شعور والا انسان دوسرے انسان کو تکلیف دینے کے بعد اپنی صفت یا فعل مناسب حال الفاظ میں ظاہر کرتا ہے۔ مثلاً یا تو کہتا ہے کہ “اس میں میرا کوئی قصور نہیں اس کی اپنی غلطی ہے۔” یا یوں کہتا ہے “چکھ لیا! سزا۔”
اس بارے میں یہی ایک دلیل کافی ہے۔ لیکن اس بیان میں جو حقیقت شکر کے متعلق ہے۔ یہ بات باقی رہی ہے کہ جس طرح میں نے ہر موقعہ پر علم و حقیقت کی اہمیّت ظاہر کی، اسی طرح اس بیان کے آخر میں بھی بتوفیقِ خداوند علوم و حقائق اس بات کو دلیلوں سے محکم کرتا ہوں کہ اللہ نے انسانوں کو دنیا میں علم کی غرض سے پیدا کیا ہے اور یہی انسان کی غرض و غایت ہے۔ پھر خدائے تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے علم کو ہر قسم کی نعمتوں کی شکل میں جسمانی و روحانی طور پر موجود کیا ہے۔
ان تمام اقوال و اعمال میں بھی علم رکھا گیا ہے جس کے لئے انسان
۲۵
مامور ہوا ہو۔ غرضیکہ کوئی ایسی شۓ نہیں جس میں علم نہ ہو۔ خدائے عزّوجلّ حضرت ابراہیمؑ کی طرف سے فرماتا ہے:
وَسِعَ رَبِّيْ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۭ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ (۰۶: ۸۰)۔
یعنی “سمو رکھی ہے میرے ربّ نے ہر چیز کو علم میں۔ کیا تم دھیان نہیں کرتے؟” اس سلسلے میں ایک اور حقیقت آپ کی نگاہ کے سامنے رکھتا ہوں۔ جس سے یہی ایک مسئلہ نہیں بلکہ بہت سے مسئلے حل ہوسکتے ہیں۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ خدائے علیم و حکیم نے ہر مذکور پیغمبر کی ایک مخصوص خوبی قرآن میں ظاہر کی ہے۔ یعنی حضرت آدمؑ کو خلیفہ و مسجودِ ملائک اور صفی کے خطاب سے نوازا۔ حضرت نوحؑ کو شکور کے نام سے یاد کیا۔ ابراہیمؑ کی توحید پرستی کی تعریف کی۔ حضرت موسیٰؑ کو کلیم اللہ کہلایا۔ حضرت عیسیٰؑ کو اپنی رُوح قرار دی۔ حضرت یوسفؑ کو صدیق بتایا۔ حضرت ایوبؑ میں صبر کی حد بتائی۔ حضرت داؤدؑ کو خلافت عطا کی اور حضرت سلیمانؑ کی مملکت کا ذکر کیا۔ اسی طرح ہر پیغمبرؑمیں ایک مخصوص چیز ہونے کا ذکر کیا اور سب سے اخیر میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سردارِ انبیاء کو معراج کی رات میں اپنی خلوت گاہِ خاص میں لے جانے کی بشارت امتِ محمدیہ کو سنا دی۔ امنّا و صدّقنا۔ یہ سب حقیقت ہے۔ اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ لیکن آپ یہ خیال ہرگز نہ کرنا کہ جوچیز جس پیغمبرؑ کو دی گئی تھی وہ وہیں پر ختم ہوئی تھی۔ اور دوسرے پیغمبر اس چیز سے محروم رکھے گئے تھے۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا ہے۔
۲۶
بلکہ حکیمِ مطلق نے پیغمبروں کی ان خاصیتوں کے پسِ پردہ ایک زبردست حکمت پوشیدہ رکھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ تمام پیغمبرؐ اپنی اپنی خصوصیات کی بناء پر ایک خدائی مقدّس کتاب کے عنوانات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاکہ حقیقت تلاش کرنے والوں کو سہولت ہوسکے۔ اس قانونِ الٰہی کی بناء پر ہم شکر کی مزید حقیقت حضرت نوحؑ کی تواریخ سے معلوم کرلیتے ہیں۔ کلامِ خدائے جلیل وجبّار:
اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا (۱۷: ۰۳)۔
“اے وہ نسل! جو تم کو نوح کے ساتھ ہم نے اٹھایا۔ وہ بہت شکر کرنیوالا ایک بندہ تھا۔ یعنی اس کے پاس بہت سی روحانی نعمتیں ہیں اور وہ ان کی پوری حقیقت جانتا ہے۔”
(کَانَ: تھا، ہے) بغیر تنوین کے ( نوح) وہی نوح جو پہلے ہوگزرا ہے اور تنوین کے ساتھ ( نوح) کوئی بھی شخص جو جملہ وجوہات سے گذشتہ نوح کی مانند ہو۔ اور کشتی کی حقیقت سنئے: –
قولِ خداجلّ جلالہٗ:
وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا (۱۱: ۳۷)۔
“یعنی بنا کشتی کو ہمارے مشاہدات اور ہماری وحی کے ذریعے سے۔” یعنی عالمِ آفاق و عالمِ نفس کے معلومات سے سفینۂ نجات تیار کر۔ بس کشتی علم کے سوا اور کسی چیز سے نہیں بنائی گئی تھی۔ اگر کوئی شخص سوال کرے کہ نوحؑ کی کشتی تو اب تلک فلان حکومت کے عجائب گھر میں
۲۷
موجود ہے۔ میرا جواب یہ ہوگا کہ درست ہے لیکن اس آیت میں صرف اسی کشتی کا ذکر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ:
قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ (۱۱: ۴۰)۔
ترجمہ: “ہم نے کہا چڑھا دے اس میں کل سے جفت دواور اپنے اہل کو۔”
یعنی نوحؑ نے جب دنیا کی ساری چیزوں کو حکمت کی نظر سے دیکھا اور ہر چیز میں صانعِ حکیم کی لاانتہا حکمتیں موجود پائیں اورکل اشیاء میں حسبِ ترکیب روح موجود ہونے کی دلیل ثابت ہوئی اور اسے یہ بھی تحقیق ہوئی کہ عالمِ روحانی کی نورانیّت میں یہ ساری چیزیں کس قدر باعثِ لذّت نعمتیں بن سکتی ہیں۔ پھر حضرت نوحؑ نے غنیٔ مطلق کے حکم سے پانچوں حدود سے جو امامِ زمان میں تھیں، ہر ایک جفتِ روحانی کو حاصل کرکے سفینۂ علم میں سما رکھی۔ یعنی حدِّ وحدت حدود (امرکلّ) حدِّ عدل (عقلِ کلّ) حدِّ ترکیب (نفس کلّ) حدِّ تالیف (خود اس واقعہ کے بعد ناطق بنا) حدِّ تاویل (اساس) پھر عقل اور نفس والی ساری چیزیں جفت ہوئیں۔ یعنی عقل کی ساری چیزیں نراور نفس کی ساری چیزیں مادہ تھیں۔ اس لئے وہ سب آپس میں جفت ہوئیں۔ جسے “زَوْجَیْنِ” کہتے ہیں۔ اسی طرح ناطق کی نر چیزیں اساس کی مادہ چیزوں کے ساتھ جفت بن کر اِثْنَیْنِ کہلائیں۔ اور جو ارواح امر سے ملی
۲۸
تھیں وہ ایک چیز ہوئی۔ یعنی ان کا ایک وجود ہوا۔ یہی ہے شکر کی حقیقت جو حضرت نوحؑ نے کیا تھا۔
رسولِؐ خُدا کی وصیّت
حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی آخری وصیّت یہ تھی:
اِنّی تَارِک فِیْکُم الثَّقَلَیْنِ کتابُ اللّٰہِ وَعِتْرَتِی اَھْلَ بیتی۔
ترجمہ: یعنی “میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ جانے والا ہوں۔ خدا کی کتاب اور امام۔”
خدا و رسول کا قول ہمیشہ حکمت خیز ہی ہوتا ہے۔ اس حدیث کی پہلی حکمت: دو چیزوں میں سے ایک بدرجہ غایت مشکل کتاب ہے۔ دوسرا ہر مشکل کو نہایت ہی آسان بنا دینے والا شخص ہے۔ پھر جب مشکل کے ساتھ مشکل آسان بھی دیا جائے تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ مشکل کا چارہ صرف مشکل کشا ہی کرسکتا ہے۔ یعنی امامؑ قرآن کی تاویل کا ذمّہ دار ہے۔
دوسری حکمت: حدیث کے ربطِ الفاظ میں پہلے کتاب ہے۔ پھر امام، اس قسم کے ربطِ الفاظ کا یہ اشارہ ہے کہ پہلے قُرآن تنزیل سے تم خود پڑھو۔ پھر اس کی تاویل امام سے ملے گی۔
تیسری حکمت: رسول، قرآن اور امام دونوں کو بھاری چیزیں
۲۹
بتاتا ہے۔ لیکن ظاہراً دیکھا گیا کہ قرآن شریف اسقدر ہلکا ہے کہ چھوٹا سا بچہ بھی اُسے اٹھا سکتا ہے۔ اور امام بھی جسمانی طور پر اوسطاً وہی وزن رکھتا ہے جو دوسرے انسان رکھتے ہیں۔ گو امام ہر ایک انسان سے ظاہراً زیادہ بھاری ہرگز نہیں ہوتا ہے۔ پھر اس صورت میں دونوں چیزوں میں سے ایک پر بھی انہیں بھاری بتانے کا قول صادق نہیں آسکتا ہے۔ اندر آن حال، ہم اپنی بھولی بھالی اور بیچاری عقلِ جزوی کو امامِ زمان کے حضور میں روانہ کرتے ہیں۔ تاکہ وہ وہاں اس کے بھاری پن کا کسی نہ کسی طرح تجربہ کر کے آئے۔ وہ عقلِ خام و نا تمام، ناکام واپس آتی ہے۔ کیونکہ بھاری پن سے یہاں اور کچھ مراد نہیں ہے، سوائے اس کے کہ انسانی عقل، بذاتِ خود قرآن کی تاویل حاصل نہیں کرسکتی ہے۔ اور نہ امامِ زمان کو پہچان سکتی ہے۔اور لفظ “ثقلین” میں اس حدیث کا یہی فیصلہ ہے۔
چوتھی حکمت: لفظ “ثقلین” کے مباحث سےمعلوم ہوا کہ قرآن شریف اور امامِ زمان کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک ظاہری حیثیت اور دوسری باطنی۔ اور یہ بھی دلیلاً ثبوت ہوا کہ ابتداء میں انسان کی عقلی رسائی، ان دونوں کی باطنیت تک نہیں ہوسکتی ہے۔ اس لئےہم قرآن شریف اور امامِ زمان کو رسول کے حکم کے مطابق پہلے ظاہری طور پر مانیں گے، یعنی کلّی طور پر ہم امامِ زمان کی اطاعت کریں گے۔اگر کوئی حقیقت پسند دانا اس حدیث پر تبصرہ کرے تو امامِ زمان
۳۰
کی بے حد توانائی کا کچھ اندازہ کرسکتا ہے۔اس چیز سے کہ کروڑوں انسانوں کی رہبری روحانی و جسمانی طور پر کرسکنے کے علاوہ خدائے سبوح و قدوس کے اس کلامِ حکمت نظام کے جملہ حقائق و اسرار سے با خبر ہونا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ رسولِ پاکؐ نے قرآن شریف اور امامِ زمان کو بیک وقت ویک لفظ کس چیز کے تناسب سے بھاری کہا ہے۔ ان دونوں کی طاقت اور بھاری پن روحانی تھا۔ اِس لئے روحانی کا تناسب روحانی سے ہوتا ہے۔ لہٰذا زمین آسمان سے بھی بھاری کہنا درست نہیں۔ کیونکہ ان کو بھی رُوح نے اٹھایا ہے۔ خدا وندِ کریم فرماتا ہے:
“کہہ اگر جمع ہوویں آدمی اور جنّ اس پر کہ لادیں آیتِ قرآن۔ نہ لاسکیں گے آیت اگر وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے بھی رہیں۔ (۱۰: ۸۸)
معلوم ہوا کہ قرآنِ حکیم کی حقیقی تاویل جنّ جانتے ہیں نہ انس۔ پھر یہی تناسب ہے جس کی نسبت سے قرآن و علی ہر زمان کو عقل کے لحاظ سے بھاری کہا گیا ہے۔ یہاں فیصلہ یہ ہوا کہ جنّ و انس کا کوئی فرد قرآن کی پوری حقیقت نہیں جانتا ہے۔ پھر اگر کوئی شخص عالم القرآن ہو، جس کی خدائی شہادت مل سکتی ہو تو وہ شخص دلیلاً نہ جنّ میں سے ہے اور نہ انس میں سے ۔ جب ایسا شخص جنّ و انس سے نہ ہو تو محکم دلیل ہے کہ وہ فرشتۂ جمالی بھی نہیں بلکہ فرشتۂ جلالی ہے۔ وہ شخص جو فرشتہ ہے۔
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ
۳۱
عِلْمُ الْكِتٰبِ (۱۳: ۴۳) یہی امامِ زمان اپنے تابعین کے لئے بامقتضائےزمانہ اعمال کا وہ طریق مقرر کرتا ہے جو قرآنِ پاک کی اس گہری حکمت کے بعینہٖ مطابق ہو۔ تاکہ انہیں بالکل تاویل کے قریب رہنا پڑے۔
اصل الاصول
اللھم یا مولانا یا عَلی مَدد
طالبانِ حقیقتِ اسماعیلیّت سے مخفی نہ رہے کہ اس مقدّس مذہب کی اصل الاصول “امرِ کل” یعنی کلمۂ باری سبحانہٗ ہے۔ جو مختلف اسماء سے موسوم ہے۔ چنانچہ امر کن کاف ونون، وحدت، مبدع، بہشتِ حقیقی، معاد وغیرہ باری سبحانہٗ نے اسی امرِکل کے کلمۂ واحدہ سے بمثلِ عقلِ کل موجود کیا۔ جوکہ ہماندم کلمۂ کُنۡ میں مل کر ایک ہوا۔ امرِکل کے معنوں میں سے ایک معنی حکم یعنی فرمان ہے۔ اس لئے اگرچہ عالمِ امر کے لئے ایک ہی کلمۂ فرمان کافی تھا۔ لیکن عالمِ خلق کے لئے ہمیشہ امر کی ضرورت پڑنے کی و جہ سے فرمانِ امامِ زمان امرِکل کا مظہر ہوا۔ امرِکلّ کی روحانی عمل گاہ انسانی ارادہ ہے۔
اصُولِ دین
اصولِ دین چارہیں، عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق اور اساس۔
۳۲
ان میں سے دواصل عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ روحانی ہیں۔ دو اصل ناطق اور اساس جسمانی ہیں۔
اصول کے معنی درخت کی جڑیں ہیں۔ یعنی دین کے درخت ۔ جسکا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:
اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِي السَّمَاۗءِ ۔ تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَا ۭ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (۱۴: ۲۴ تا ۲۵)۔
اللہ تعالیٰ حقیقت شناسوں کی تعلیم کے لئے اپنے پیارے رسول حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے مخاطب ہو کر یوں فرماتا ہے کہ: “آیا اے محمد! تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک پاک کلمہ کی مثال کس طرح بیان فرمائی ہے( وہ کلمہ) ایک پاک درخت کی طرح ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ پھل دیتا ہے ہر موسم میں اپنے پروردگار کے حکم سے۔ اور اللہ لوگوں کو مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ علمی ذکر کریں۔”
پس معلوم ہوا کہ اس آیتِ شریفہ میں دو پاک چیزوں کا ذکر ہے جو کہ نفع رسانی اور ہر صفت میں ایک دوسرے کی مانند ہیں۔ یعنی جو صفت اس پاک درخت میں موجود ہے وہ صفت اس پاک کلمہ میں بھی موجود ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے تو پاک کلمے کا ذکر چھیڑا، پھر
۳۳
اس کی مثال پاک درخت سے دی۔ اور عقل مندوں کے لئے واضح کردیا کہ جس طرح پاک درخت ہر وقت اور ہر موسم میں اپنا پھل دیتا ہے۔ اسی طرح پاک کلمہ بھی عرفانی منفعت بخشتا ہے۔ اب آپ ذراغور کرکے یہ بتائیے کہ دنیا میں کہیں ایسا درخت بھی ہے جو ازل سے اپنی جڑوں پر مضبوطی سے کھڑا رہتا ہو۔ اور اَبد تک کبھی نہیں گرتا ہو اور اس کی شاخیں آسمان میں جالگی ہوں۔ جس کے پھل پکنے کی کوئی دیر اور کوئی موسم نہ ہو۔ بلکہ ہر سال، ہرماہ، ہرروز، ہر ساعت، ہرمنٹ اور ہر سیکنڈ پکا ہوا میوہ تیار ہو۔ میوہ بھی کبھی ختم نہ ہو، آپ ہرگز یہ نہیں بتا سکیں گے کہ دنیا میں فلان جگہ اس قسم کا ایک درخت ہے۔ پس سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا درخت نہیں۔ بلکہ یہ ایک مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ خود بھی فرماتا ہے کہ یہ لوگوں کو سمجھانے کی ایک مثال ہے۔ پس اس کا ممثول یہ ہے کہ یہ پاک کلمہ، کلمۂ باری سبحانہٗ ہے، جس کا ذکر بطریقِ اختصار ہوچکا۔ اور یہ درخت شجرۂ نبوّت و امامت ہے، یعنی درختِ دین جس کے چاراصولوں کا ذکر کیا گیا ، اب اسی درخت کی شاخوں کا ذکر سُنیے!
فروعِ دین
فروعِ دین چھ ہیں:
۳۴
۱- جّد۔
۲- فتح۔
۳- خیال۔
۴- امام۔
۵- حجّت۔
۶- داعی۔
ان میں سے تین فرع: جدّ، فتح اور خیال روحانی ہیں۔ اور تین فرع: امام، حجّت اور داعی جسمانی ہیں۔ جدّ اسرافیل، فتح میکائیل اور خیال جبرائیل کے نام ہیں۔ امام سے مراد امامِ زمانؑ، حجّت کا مطلب اٹھائیس حجتوں میں سب سے بڑا یعنی باب یا امام کا وہ فرزند جو لاحق نور ہو، اور داعی سے مراد تین سو ساٹھ داعیوں میں سے وہ داعی ہے جو حجتِ اعظم کا لاحق ہو۔
اصُولِ دین کی تشریح
اصلِ اوّل عقلِ کُلّ:
عقلِ کلّ کے مختلف نام: آدمِ حقیقی، علّت اولیٰ، عرشِ الٰہی، قلم، اوّل، خزینۂ الٰہی، ملکِ خدا، مجوہرالجواہر، اور عال وغیرہ۔
۳۵
عقلِ کلّ اس فرشتے کو اس لئے کہتے ہیں کہ عقل اور علم کا یہی سرچشمہ ہے اور تمام عقول اور علوم اس کے نیچے ہیں۔ کوئی شۓ ایسی نہیں جو یہ نہ جان سکے۔ کوئی علمِ اس سے باہر نہیں، تمام اشیاء پر یہ محیط ہے۔ آدمِ حقیقی اس لئے کہتے ہیں کہ یہ علم الاسماء کے عالم اورکل فرشتوں کا مسجود ہے۔ علّتِ اولیٰ اس لئے کہتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ موجود ہوا، اور اس سے دوسرے موجودات، یعنی نفسِ کلّ اور اس کے ذریعے تمام موجودات پیدا ہوئیں۔ اس کو عرشِ الٰہی اس لئے کہتے ہیں کہ کوئی موجود اس سے بڑھ کر اشرف اورافضل نہیں کہ وہ خدائے تعالیٰ کے تخت بننے کے لائق ہوسکے سوائے عقلِ کلّ کے، اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ کے یہ مستقر اور تخت ہے۔ قلم اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے ذریعے سے علم سکھایا “عَلَّمَ بِالْقَلَم۔” اوّل اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی خلقت سب سے پہلے ہوئی۔ حدیث:
اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اَلْقَلَمَ۔ اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اَلْعَقَلَ۔ اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالیٰ نُوْرِیْ۔
اسے خزینہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں سب چیز موجود ہے۔
اَوْاَلْقٰی عَلَیْہِ کَنُزٌ۔
ترجمہ: یا کیوں نہ ڈالاگیا اس پر کوئی خزینہ (۱۱: ۱۲)۔
یعنی اس کو کیوں عقلِ کلّ سے تائید نہیں ملتی ہے۔ اسے ملکِ خدا
۳۶
یعنی اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اس لئے کہتے ہیں کہ ملکِ خدا میں کوئی تفاوت نہیں پائی جاتی۔
مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۔ (۶۷: ۰۳)
” پس اس میں کوئی تفاوت نہیں۔”
مجوہر الجواہر اس لئے کہتے ہیں کہ جواہرِ علوی و سُفلی کو اسی نے جوہر بنایا ہے۔ عالؔ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ علّت کے بانی ہے۔ یعنی علّت بنانے والاہے۔ حمدؔ اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تحمید و تعریف و ستائش اسی سے ہوتی ہے۔
اصلِ دوم نفسِ کُل:
نفسِ کُل وہ فرشتہ ہے جو تمام نفوس و ارواح کے لئے مخرج اور مرّجع کی حیثیت رکھتا ہے۔ حوائے معنٰی ہونے کی وجہ سے یہ عقلِ کل کی جفت ہے۔ اسے کرسی کہتے ہیں:
وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (۰۲: ۲۵۵)۔
ترجمہ: اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمینوں کو اپنے اندر سمویا ہوا ہے۔
آسمانوں اور زمینوں کو نفسِ کلّ نے اپنی وسعت میں سموکر گھیر لیا ہے۔ لوحِ محفوظ اسے اس لئے کہتے ہیں کہ عقل کے قلم سے لکھے ہوئے صنعت کے نقوش نفسِ کلّ میں ہمیشہ محفوظ ہیں۔
بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (۸۵: ۲۱ تا ۲۲)۔
۳۷
یعنی بلکہ وہ قرآن ہے ایک محفوظ تختے میں۔ یعنی نفسِ کلّ میں جوہر چیز کے حفاظتی تختہ کی حیثیت رکھتا ہے اسے نفس واحدہ بھی کہتے ہیں۔ یعنی ایک نفس یا کہ نفوس کو ایک کرنے والا۔ اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں لیکن اسقدر تشریح کفایہ ہوگی۔
اصل سوم ناطق:
ہر دورمیں جو چھ ہزار سال کا ہو، چھ ناطق ہوتے ہیں۔ اس دور کے ناطقوں کے نام یہ ہیں: آدمؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔ آخری ناطق حضرت محمدؐ ہیں۔ ناطق کے لغوی معنی گویندہ یعنی بولنے والے کو کہتے ہیں اور اصطلاحِ دین میں ناطق اس نبیٔ مرسل کو کہتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب نازل ہوئی ہو۔ اور اللہ کے حکم سے اس نے اس کتاب کے مطابق اپنی نئی شریعت کے ذریعہ سے اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی ہو۔ خدا تعالیٰ اپنے پیارے ناطق کے بارے میں فرماتا ہے:
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى -اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى (۵۳: ۰۳ تا ۰۴)۔
یعنی “وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا ہے۔ وہ اور کچھ نہیں مگر اسے وحی نازل ہوتی ہے۔:”
اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
وَلَدَيْنَا كِتٰبٌ يَّنْطِقُ بِالْحَقِّ (۲۳: ۶۲)۔
۳۸
یعنی ہمارے پاس ایک ایسی کتاب بھی ہے جو بغیر کسی کے پڑھے وہ خود سچائی سے بولتی ہے۔ ایسی خود بولنے والی کتابِ ناطق یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔
اصلِ چہارم اساس:
اساس بنیاد کا نام ہے۔ اور اصطلاحِ دین میں حضرت مولانا مرتضیٰ علی کو کہتے ہیں۔ اس لئے کہ امامت انہیں سے ظاہر ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ:
اَنْتَ مَعَ الْاْنُبِیَآئِ سِرًّا وَّمَعِیَ جَھُرًا
یعنی مولانا علیؑ تمام پیغمبروں کے ساتھ تھے مگر عوام الناس ان کو نہیں جانتے تھے لیکن حضرت محمد صلعم کے زمانے میں آشکار ہوئے۔
اساس کو صدیق بھی کہتے ہیں۔ صدیق کے معنی ہیں تصدیق کرنے والا۔ اس لئے کہ مولانا علیؑ اپنی تاویل سے حضرت محمد صلعم کی تنزیل کی تصدیق کرتے تھے۔ چنانچہ آنحضرتؐ نے اسی بارے میں فرمایا کہ:
یَاعَلِیُّ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزَلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسیٰ
یعنی آپ میرے لئے ایسے ہیں جیسے ہارون موسیٰ کے لئے تھے۔ اور موسیٰ کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: قولہٗ تعالیٰ:
وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ
۳۹
اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ (۲۸: ۳۴)۔
یعنی موسیٰ نے کہا کہ میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ خوش بیان ہے پس اس کو میرے ساتھ مدد کے لئے بھیج دے تاکہ وہ میری تصدیق کرے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیا کریں گے، یعنی فرعون اور اس کی قوم۔
پھر خدائے تعالیٰ اور اس کے رسول کے قول سے یہ ثابت ہوا کہ مولانا علی ہر طرح سے رسول اللہ کی مدد اور اس کی تنزیل کی تصدیق کرنے والے تھے۔ شریعت اور تنزیل کی تصدیق صرف تاویل سے ہوسکتی تھی۔ چنانچہ رسول اللہ نے فرمایا:
اِنَّ مِنْکُمْ مَّنْ یُّقَاتِلُ بَعْدِ یْ عَلَی التّاوِیْلِ کَمَا قَاتَلْتُ عَلَی الّتنْزِیُلِ فَسْئَل النَّبّیُ مَنْ ھُوَ فَقَالَ خَاصِفُ النَّعْلِ یَعْنِیْ اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ۔
حضرت نبی کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے صحابۂ کرام سے مخاطب ہوکر فرمانے لگے کہ “تم میں وہ شخص بھی ہے جو کہ میرے بعد تاویل پر لڑے گا، جس طرح میں تنزیل پر لڑا تھا۔” پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ “وہ شخص کون ہے؟” آپؐ نے فرمایا کہ “وہی شخص جو تمہارے سامنے اپنے جوتے ٹھیک کر رہا ہے یعنی امیرالمومنین۔”
کوئی بھی عاقل اس حقیقت سے انکار نہیں کرے گا کہ کسی چیز کی تصدیق اس وقت بحقیقت ہوسکتی ہے جب اس چیز کی پوری اصلیت معلوم ہوجائے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
۴۰
وَكَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۙ وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ اٰتَيْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ (۳۴: ۴۵)۔
ترجمہ: اور جھٹلایا ان سے اگلوں نے بھی اور وہ نہ پہنچے تھے اس چیز کے دسویں حصے تک جو ہم نے ان کو دی تھی۔ یعنی “کتاب” پھر اس وجہ سے انھوں نے ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ پھر کیسی ناشناسی تھی۔
نکیر بروزنِ فَعِیْل یعنی فاعل برابرش ناکر ضِد عارف بمعنی ناشناس۔
اس آیت کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ظاہراً آسمانی کتاب کو تو پڑھتے تھے لیکن کتاب کی حقیقت یا تاویل کی نسبت سے ان کی رسائی کم از کم اتنی بھی نہ تھی کہ وہ تاویل کے دسویں حصّہ تک پہنچ سکے۔ پھر یہی ان کی نارسائی حقیقتاً ان سے اپنے پیغمبروں کی تکذیب ہوئی۔
بہرحال خدا و رسولؐ کے اقوال کی تاویل کے لئے مولانا مرتضیٰ علی اساس تھے اور ہر وقت بہ لباسِ دیگر و باسمِ دیگر دنیا میں حاضر ہیں۔ جو کچھ وہ فرماتے ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں وہی تاویل ہے، کیونکہ یہی قرآنِ مجید روحانی خصوصیت کے ساتھ امامِ زمان کی ذاتِ والا صفات میں ہمیشہ موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قول:
اَلْقُرْاٰنُ مَعَ عَلِیٍّ وَّعَلِیٌّ مَعَ الْقُرْاٰنِ ۔
ترجمہ: “قرآن علی کے ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ ہے۔”
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مولانا علیؑ ہر وقت قرآنِ شریف
۴۱
کو اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں، بلکہ اس کی اصلیت کچھ اور طرح کی ہے۔ اس حدیث کی مثال سے آپ اس مطلب کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا:
اَنَامَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا۔
یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔
اگر واقعی علیؑ بابِ نبیؐ ہے تو علیؑ کے اندر نبیؐ بھی ہے اور وہ تمام علوم بھی ہیں جو آنحضرت صلعم ہی جانتے تھے۔ کیونکہ شہر تو دروازہ کے اندر ہوتا ہے اور اس کے بغیر کوئی شخص شہر میں داخل نہیں ہوسکتا ہے۔ نیز دروازہ کسی شہر کا اس وقت ہوتا ہے، جبکہ ہر شخص کو اپنے اختیار سے شہر میں داخل نہ ہونے دینا مقصود ہو۔ اس صورت میں شہر کے گرداگرد ایک مضبوط فصیل بھی ہوتی ہے۔ میں کہوں گا کہ اس شہر کی فصیل بھی مرتضیٰ علیؑ ہیں۔ یعنی وہ تمام حقائق و معارف جو رسولؐ کے پاس تھے وہ سب علیؑ کی ذاتِ شریف میں موجود ہیں۔ کیونکہ رسولؐ بھولنے والوں میں سے نہیں اور جملہ قرآنِ مجید اس کے مبارک دل میں موجود تھا:
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى (۸۷: ۰۶)۔
” یعنی قرآنِ مجید ہم تمہیں پڑھ کر سنائیں گے اور تو ہرگز اسے نہیں بھولے گا۔”
پھر جب علیؑ کے نور میں محمدؐ کا نور موجود ہے اور علیؑ کا نور
۴۲
امامِ زمانؑ میں ہے تو یقینی ہے کہ قرآنِ مجید بھی اس نور میں ضرور موجود ہے۔ اس مثال کی حقیقت اسی طرح سمجھنا رسول اللہؐ کے حق میں بہتر ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ کوئی شخص اس علم و حقائق سے معمور شدہ شہر کو اجاڑ تصوّر کرے۔ یہ اس لئے کہ خدا اور اس کے رسولؐ کو یہ ہرگز زیبا نہیں کہ وہ ایک ایسی چیز کی تعریف و توصیف کریں جو چند دنوں کے بعد فنا ہونے والی ہو۔
پھر یہی حقیقت مکرر بتلائی جاتی ہے کہ علیؑ اساس اور تاویل کے مالک بحالِ یک نوری امامِ زمانؑ میں موجود ہے اور وہ اب بھی بالکل اسی طرح شہرِ علم کا دروازہ ہیں جس طرح پہلے تھے۔ مولانا مرتضیٰ علیؑ اپنے ایک خطبہ میں یوں فرماتے ہیں کہ “اگر میں موت سے مروں تو ہرگز نہیں مرتا۔ اور اگر مجھے قتل کردیا جائے تو میں ہر گز نہیں قتل ہوتا ہوں۔” اس خطبے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ مولانا علیؑ اپنے جسمِ مبارک کو لافانی قرار دیتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی جسم غیر فانی نہیں اور ان کے بیان کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ عالمِ روحانی میں زندہ ہیں۔ کیونکہ وہاں والے تو سب زندہ ہیں۔ اور جو صفت سب میں پائی جاتی ہے۔ دانا شخص اس پر فخر نہیں کرتا۔ لیکن جب چاہے کہ اپنی خصوصیات سے لوگوں کو آگاہ کرے تو وہ خصوصیات ظاہر کرتا ہے جو دوسروں میں موجود نہ ہو۔
۴۳
فروع کی تشریح
فرعِ اوّل جدّ:
جدّ اسرافیل کا نام ہے۔ قرآنِ مجید کی اس آیت میں اس کا کچھ ذکر ہے:
وَّاَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّلَا وَلَدًا (۷۲: ۰۳)۔
“اور یہ کہ بہت بلند ہے ہمارے پروردگار کا وہ فرشتہ جس کا نام جد ہے۔” اسی طرح دعائے قنوت میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جدّ کی بلندی بیان فرماتے ہیں:
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَجَلَّ ثَنَآؤُکَ وَلَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ اللّٰہُ اَکْبَرْط
ترجمہ: بارِ خدایا تو پاک ہے۔ اور حدِّ اوّل سے ہی تیرے لائق تحمید ہوسکتی ہے۔ اور حدِّ ثانی سے جو تیرا نام ہے تیری معرفت حاصل ہوسکتی ہے اور حدِّ ثالث یعنی جدّ سے تیری برتری کا اقرار کیا جاسکتا ہے اور رابع سے تیری بزرگی عیان ہے اور خامس پر تیری عبادت قبول ہوجاتی ہے اور اللہ حدودِ روحانی اور جسمانی سے بہت بڑا ہے۔
۴۴
اس بیان کا خاص مطلب جدّ کا ذکر ہے۔
چونکہ جدّ فروعِ روحانی میں سے بالاترین فرع ہے۔ نیز یہ فرشتۂ عشقِ حقیقی ہے۔ لہٰذا اسے برتر قرار دیا گیا ہے۔ ازانکہ درخت کے تنا سے شاخ بالاتر ہوتی ہے، لیکن اس کا قیام تنا پر ہے۔ پس بلاشک معلوم ہوکہ جس وجہ سے ان تین فرشتوں کو درختِ دین کی شاخیں مان لیتے ہیں اسی وجہ سے جدّ برتر ہے۔ اس فرشتے کا فیضِ عام ہر انسان کے لئے قوّتِ نطق ہے۔
فرعِ دوم فتح:
میکائیل کا دوسرا نام فتح ہے۔ فتح کے معنی کھولنا۔ کشودن ہے، یعنی کسی بھی بند چیز کو کھولنا۔ لیکن یہاں اس فتح سے مراد روحانی کشود ہی ہے۔ اس کا مصداق یہ آیۂ شریفہ ہے:
قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بِالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ (۳۴: ۲۶)۔
ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا۔ پھر کھولے گا ہمارے درمیان سچائی سے۔ اور وہ کھولنے والا جاننے والا ہے۔
یہاں جمع کرنے سے مراد دینِ محمدی میں داخل ہونا اور کھولنے سے مراد تنزیل کو تاویل میں بیان کرنا ہے۔ پس فتح یعنی میکائیل کی حد سے تاویل شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ قول مشہور ہے کہ میکائیل دنیا والوں کو رزق تقسیم کرنے والا فرشتہ ہے۔ پھر درست ہے
۴۵
کہ رزق دوطرح کا ہوتا ہے۔ جسمانی اور روحانی۔ روحانی رزق تاویل ہے اور تاویل کی حد غایت فتح یعنی میکائیل ہے۔ عام حالت میں ہر انسان کو اس فرشتہ سے قوّتِ فہم ملتی ہے۔
فرعِ سوم خیال:
خیال جبرائیل کو کہتے ہیں اور یہ تنزیل کا فرشتہ ہے، اور اس کو خیال اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا روحانی عمل انسانی تخیّل میں ہوتا ہے۔ طالبِ روحانیّت کے تخیّل سے حجابِ ظلمانی کا اٹھانا اسی فرشتے کا کام ہے ۔ جس طرح انسانی مدرّکات کی ترتیب میں حواسِ خمسۂ ظاہری کے بعد خیال ہے، جو کہ وہ مدرکۂ خمسۂ باطنی کی پہلی مدرکہ ہے۔ اسی طرح پنج حدِّ جسمانی کے بعد فرشتۂ خیال ہے۔ جو کہ وہ پنج حدِّ روحانی کی پہلی حدّ ہے یعنی روحانیّت خیال سے شروع ہوتی ہے۔ جبرائیل کے متعلق مزید تفصیل اس آیۂ شریفہ سے مل سکتی ہے۔ قولہٗ تعالیٰ:
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ (۰۲: ۹۷)۔
ترجمہ: کہہ جو کوئی جبرائیل کا دشمن ہو، حالانکہ اس نے اللہ کے اذن سے تیرے دل پر اتاری ہے اُس چیز کو جس پر پہلی چیز کی تصدیق ہوسکتی ہے اور مومنوں کے لئے اس میں راہ یابی و خوشخبری ہے۔
۴۶
اس آیت میں جبرائیل سے دشمنی رکھنے کے نقصاناتِ روحانی بیان کئے ہیں۔ ظاہری طور پرجبرائیل سے کسی کی دشمنی ممکن نہیں۔ فی المثل اگر کافروں کے متعلق یہ ٹھہرائیں کہ کافر لوگ جبرائیل کے دشمن اس لئے ہوتے تھے کہ وہ خدائے تعالیٰ سے حضرت محمدؐ پر وحی نازل کرتا ہے۔ پھر یہ بات محال ہوگی۔ کیونکہ اس قسم کی بات میں خدا کی ہستی اورجبرائیل کے واسطے سے حضرت محمد صلعم پر وحی نازل ہونے کے لئے اقرار ہے۔ اسی طرح جو لوگ خدا کی ہستی کو نہیں مانتے انہیں ازروئے قانونِ منطق خدا کے دشمن نہیں کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ کسی چیز سے دوستی یا دشمنی رکھنے سے پہلے اس چیز کی ہستی کے لئے اقرار کرنا ضروری ہے۔ مثلاً زیدؔ نے کہا کہ “بکر میرا دشمن ہے۔ یا میں بکر کا دشمن ہوں” تو اس جملہ میں سب سے پہلے زیدؔ اپنے دشمن بکر کی ہستی کا، پھر اس کے فعل کا اور آخر میں مخالفت کا اقرار کرتا ہے۔
پھر جبرائیل سے دشمنی کی حقیقت اسی طرح ہے کہ کوئی شخص ایسے اعمال کا مرتکب ہوجائے جن کی وجہ سے اس شخص کے دل میں جبرائیل کے روحانی فعل وقوع میں نہ آسکے۔ خواہ اس شخص کے برے اعمال کی وجہ کچھ بھی ہو۔ اس صورت میں مثال کے طور پر جبرائیل اس سے دور رہے گا۔ دور رہنا اور بھاگنا دشمنی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دشمنی ان معنوں پر حاوی ہے۔ کسی چیز کا برا لگنا، اسے نہ چاہنا،
۴۷
اپنا مخالف سمجھنا، اسے ختم یا اپنا تابع کرنے کے لئے کوشش کرنا، اس سے گریز کرنا، اور دل میں ہر قسم کے برے اندیشے رکھنا وغیرہ۔ لیکن فرشتے ان چیزوں سے پاک ہوتے ہیں۔ فرشتوں کا فعل اسی طرح پاک ہے، جس طرح سورج آسمان پر سے روشنی ڈالتا ہے، ہر اس چیز پر جو سورج سے اپنے آپ کو نہ چھپاتا ہو۔ اور جو چیز اپنے لئے کوئی پردہ بنا کر اس پردہ میں رہتا ہو، تو وہ چیز اپنے دشمن ہونے کی وجہ سے سورج کا بھی دشمن ہے۔ کیونکہ وہ چیز سورج سے دور رہتی ہے اور ان تمام الفاظ کا اس پر اطلاق ہوتا ہے، جو دشمنی کے معنی میں آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے دوسرے فرشتوں سے پہلے ہی جبرائیل سے دشمنی رکھنے کی مذمت بطریقِ حکمت بیان فرمائی۔ معلوم ہوا کہ مومنوں سے عملاً جبرائیل کی دوستی چاہتا ہے۔ اس کی وجہ جملہ وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ روحانیّت اور معرفتِ نفس جو کہ پروردگار ہی کی معرفت ہے، اور اس کا پہلا دروازہ روحانی لحاظ سے خیال یعنی جبرائیل ہے، اس لئے مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ اسی زندگی میں ہی کم از کم ایک دفعہ روحانیّت کی ہستی کوماننے کے لئے اس فرشتہ کی دوستی سے عملاً فیض حاصل کریں، اور یہ کام ناممکن نہیں۔ بلکہ اس کی امکانیّت اس آیت کے لفظِ “ہدایت اور بشارت” میں موجود ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ “جبرائیل نے تو تیرے دل پر وحی نازل کی ہے،
۴۸
دل کی حقیقت جاننے اور اسے ہر قسم کی آلائشوں سے صاف رکھنے کا اشارہ ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ سنے کہ بادشاہ یا اور کوئی عزت مند بزرگ اس کے گھر آنے والاہے تو ضروری ہے کہ وہ اپنے مکان کو صاف اور آراستہ کرنے کے لئے کوشش کرے گا۔ اور اس بات کا بھی خیال رکھے گا کہ گھر کے اندر کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے اس عزیز مہمان کو نفرت ہو۔
علاوہ ازین اس قسم کی روحانیّت حاصل کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ “تمہیں رسول کی چال سیکھنی اچھی تھی۔ جوکوئی اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔” (۳۳: ۲۱)۔
یعنی جس طرح رسولؐ روحانیّت میں تمہارے آگے چلتا تھا، تمہیں بھی اس کے پیچھے چلنا سیکھنا اچھا تھا۔ اور یہ اس شخص کے لئے ہے جو اللہ اور روحانیّت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہو۔
یوم الآخر کا ترجمہ روحانیّت سے کیا گیا ہے۔ کیونکہ روحانیّت ہی میں یوم الآخر موجود ہے۔ اس آیت میں بھی روحانیّت حاصل کرنے کی امکانیّت اور اس کے شرائط ہیں۔
فرعِ چہارم امام:
فروعِ جسمانی میں سب سے اوّل امام ہے۔ امام کے چھوٹے اور
۴۹
بڑے بہت سے مراتب ہیں، جن کا مفصّل بیان اسی کتاب کے ایک علیحدہ باب میں کیا جائے گا۔ امام کے معنی پیشوا، سردار، ہر چیز کی اصل اور دینی امور میں آگے رہنے والا وغیرہ ہیں۔ اگرچہ عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق اور اساس کو دین کے درخت کی جڑوں کی حیثیت سے اور امام کو اس درخت کی شاخ کی حیثیت سے مانتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی قابلِ تسلیم ہے کہ پھل صرف درخت کی شاخوں سے حاصل ہوسکتا ہے۔ شاخ کی وابستگی تو تنا اور جڑوں سے ضرور ہے مگر میوہ شاخ میں لگتا ہے، یعنی درخت کے اتحادی عمل کا نتیجہ اور اس کی قدر وقیمت کا اندازہ درخت کی شاخ پر نمایان ہوتا ہے۔ اسی طرح امامِ زمان ہے، جس کے علمِ تاویل سے عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق اور اساس کی شرافت و عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ نیز جس طرح درخت کے پھل لانے کا عمل اُس کی شاخ میں ظہور ہوتا ہے۔ اسی طرح چار اصول یعنی عقل کلّ، نفس کلّ، ناطق اور اساس کے روحانی عمل بھی امامِ زمان ہی سے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ کیونکہ امامِ زمان ہمیشہ دنیا میں موجود اور حاضر ہے۔ اور ہر زمانہ میں امامِ زمان روحانی و جسمانی طریقے پر دنیا والوں کو علیٰ حسب المراتب فیض بخشتا ہے۔ روحانی فروع یعنی جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل سے بلاواسطہ فیض حاصل کرنا دشوار ہے۔ اس لئے امامِ زمان کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔ تاکہ اس واسطہ سے روحانیّت آسانی سے حاصل ہوسکے۔ جس میں پہلے علمِ حدود پھر علمِ توحید کا دروازہ کھلنا ممکن ہے۔
۵۰
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاهِدُوْا فِيْ سَبِيْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۰۵: ۳۵)۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک وسیلہ ڈھونڈو، اور جدوجہد کرو اس کی راہ میں ، تاکہ تم رستگار ہوجاؤ۔
شکل تمثیلیٔ اصول و فروعِ دین بخطوطِ وحدانی
برائے تفہیم یکیٔ ہمگیٔ حدود اندرامرِکل ونسبتہائے ہمجنسی و ترکیبی و مقابلتیٔ ہریک:
۵۱
دربیانِ نعمتِ ظاہری و باطنی قولہٗ تعالیٰ:
اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّبَاطِنَةً ۭ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ (۳۱: ۲۰)۔
ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے کام پر لگائے تمہارے، جو کچھ ہیں آسمان و زمین میں۔ اور بھردی تم کو اپنی نعمتیں کھلی اور چھپی۔ اور بعض آدمی ایسے ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کے بارے میں۔ نہ سمجھ رکھیں نہ سوجھ۔ نہ کتاب چمکتی۔
شکلِ تمثیلیٔ عالمِ عُلوی، عالمِ سفلی، و عالمِ دین برائے تفہیمِ فیض رسانی
اصول و فروعِ دینِ ہر سہ عالم مانندِ درختِ چہار بیخ و شش شاخ:
۵۲
قولہٗ تعالیٰ:
وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيْنَ ۙوَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ (۱۵: ۱۶ تا ۱۷) ۔
ترجمہ: اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج اور رونق دی اس کو دیکھنے والوں کے لئے اور بچا رکھا اس کو ہر شیطانِ رجیم سے۔
۵۳
فرعِ پنجم حجّت:
حجّت دلیل کو کہتے ہیں۔ یعنی مناظرے یا بحث میں حقانیت پر کسی چیز کو نفی یا اثبات کرنے کے لئے جو معقول بات ہو اسے حجّت کہتے ہیں۔
فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ (۰۶: ۱۴۹)۔
یعنی پکی دلیل اللہ کی ہے۔
حجّت کو حجّت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ نفی اور اثبات کی دلیلیں کلّی طور پر جانتا ہے اور کبھی بھی کسی مناظرے میں عاجز نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ علمِ تاویل جانتا ہے۔ حجّت کے دوسرے معنی علمی جنگ، یعنی بحث ہے۔ اور تیسرے معنی وہ شخص جو کسی کی طرف سے جواب دہی کی ذمّہ داری رکھتا ہو۔ چنانچہ قرآنِ شریف کی یہ آیت:
لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (۴۲: ۱۵) کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی قوۡلی جھگڑا نہیں۔ دوسرے معنی میں آئی ہے:
رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا (۰۴: ۱۶۵)۔
ترجمہ: بہت سے پیغمبر خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے، تاکہ لوگوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر پیغمبروں کے بھیجے جانے کے بعد کوئی جواب دہی کی ذمّہ داری نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔
۵۴
یعنی ہر زمانے میں یہی عمل جاری رکھتا ہے۔ اس آیت میں حجّت کے تیسرے معنی مراد ہیں۔ مذکورہ بالا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن کسی کی یہ شکایت نہیں ہوگی کہ ہمارے زمانے میں کوئی رسول یا ہادی نہیں تھا جو زمانے کے مطابق ہمیں راستہ دکھاتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ظاہر کیا ہے کہ دین اور دنیا میں اسے جو کچھ ذرائع اور اسباب پیدا کرنا تھا وہ لوگوں کے لئے مہیا کرکے رکھا ہے، یعنی اس کی طرف سے لوگوں پر حجّت ہے، یعنی امام زمانہ دنیا میں ہمیشہ اس لئے ہے کہ فردائے قیامت خداتعالیٰ پر لوگوں کی حجّت نہ ہو۔ پس معلوم ہوا کہ خدا و رسول کی طرف سے حجّت لوگوں کے لئے امامِ زمان ہے اور یہ امام کے اختیار میں ہے کہ وہ بذاتِ خود دینی نظام چلائے۔ یا حجتّوں اور داعیوں کے واسطے سے چلائے۔ یہاں صرف حجّت کا ذکر ہے۔ حجّت امام کے بعد کے درجے ہیں، جس میں کل ۲۸ حجّت ہوتے ہیں، وہ اس طرح کہ دنیا کے بارہ حصّے گنے گئے ہیں۔ ہر حصّے کو جزیرہ کہا جاتا ہے۔ ہر جزیرے میں دو حجّت ہوتے ہیں۔ جن میں سے ایک کو حجّتِ روزاور دوسرے کو حجّتِ شب کہا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ امامِ زمانؑ کے حضور میں چار حجّت ہوتے ہیں۔ وہ بھی دو حجّتِ روز اور دو حجّتِ شب ہوتے ہیں۔ ان چاروں میں سے جو سب سے بڑا ہو اسے حجّتِ اعظم یا باب کہا جاتا ہے۔ جو کہ امامِ زمانؑ کا وہ فرزند ہوتا ہے۔جوامامِ روزگار کے بعد امام بننے والا ہو۔ باب دروازے کو کہتے ہیں۔
۵۵
رسولِ خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا
یعنی میں علمِ توحید کا شہر ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہیں۔
حضرت مولانا علی حضرت محمد صلعم کا حجّت اعظم یعنی باب تھا۔ اس لئے کہ دورِ ناطق کا حجّتِ اعظم امام خود ہی ہوتا ہے۔
واضح ہو کہ ۲۸ حجّت کو عالمِ دین کے اٹھائیس منازل اور بارہ حجّت کو بارہ بروج کہا جاتا ہے۔ بارہ حجّت اس طرح ہوتے ہیں، کہ دنیا کے صرف بارہ جزیرے یعنی حصّے ہیں۔ اگر بارہ جزیروں میں سے ایک ایک حجّت گنا جائے تو کل بارہ ہوئے۔ اور یہ بارہ حجّت عالمِ دین کے بارہ برج ہیں۔
حجّت کی روحانی اور علمی قابلیت کا اندازہ معلوم کرنے کے لئے اتنا کہنا کافی ہوگا کہ سلمان الفارسی، شمس تبریز، حکیم ناصر خسرو، پیر صدرالدّین، پیر حسن کبیرالدّین وغیرہ جیسے بہت سے باکرامت پیر اور بزرگ اپنے اپنے زمانے کے حجّت تھے۔ اور باقی حجّت بھی علم و کرامت اور بزرگی میں بالکل اسی طرح تھے، جس طرح یہ تھے۔ لیکن یہ دوسری بات ہے کہ اگر وقت کی ضرورت کے مطابق بعض حجّتوں نے اپنے علم و کرامت کوظاہر کیا ہو، اور بعضوں نے مصلحتاً پوشیدہ رکھا ہو۔ کسی بزرگ کی اس بیت سے بھی حجتوں کی روحانیّت ملاحظہ ہو: بیت
ازدلِ حجّت بحضرت رہ بُوَد او بتائیدِ دلش آگہ بُوَد
۵۶
یعنی حجّت کے دل سے امامِ زمان تلک روحانی صاف راستہ ہوتا ہے۔ اور امامِ زمان اپنے حجّت کے دل میں روحانی بات پہنچانے سے ایک پل بھی غافل نہیں رہتا۔
حجّت روحانی عروج کی وہ حد ہے جہاں حقائق الاشیاء کے جملہ علوم و معارف موجود ہیں۔ یہ وہ بلند مقام ہے جس پر سے چڑھنے والے کو کون و مکان کی حقیقت چشمِ باطن سے بخوبی دکھائی دیتی ہے۔ معرفتِ نفسِ انسانی جو دراصل وہی پروردگار کی معرفت ہے، بدرجۂ کمال حجّت کی حد میں حاصل ہوسکتی ہے۔ کتب سماوی اور مختلف شرائع کی تاویل بھی پوری امکانیّت کے ساتھ حجّت کو میسرہوسکتی ہے۔ حجّت اور فتح یعنی میکائیل ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں۔
فرعِ ششم داعی:
داعی بلانے والے یعنی سچے دین کی طرف دعوت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا (۳۳: ۴۶)۔
یعنی: اے محمد ( صلعم) ہم نے تجھے اللہ کی طرف اس کے اذن سے بلانے والے اور اجالے چراغ کی حیثیت میں بھیجا ہے۔
اس آیت میں آنحضرتؐ کو داعی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ خود بھی دعوت کرتے تھے اور اپنی نگرانی میں بھی دعوت کراتے تھے۔ لیکن آنحضرتؐ
۵۷
کی طرف سے دعوت کرنے والے تو ضرور موجود تھے۔ کیونکہ رسول اللہؐ کا خاص کام نبوّت ہے۔ اور دعوت نبوّت کی نگرانی میں ہوتی ہے۔
پس معلوم ہو کہ اسماعیلی مذہب کے اعتقاد کے مطابق حجّت کے بعد داعی ہے۔ ان کی تعداد ہر جزیرے میں تیس اور بارہ جزیروں میں کل تین سو ساٹھ ہے۔ جو متوسط سال کے دنوں کے برابر ہوتی ہے۔
علم و فضل کے لحاظ سے داعیوں کے بھی مراتب ہوتے ہیں ۔اور عام طور پرداعی دوقسم کے ہوتے ہیں، داعیٔ مطلق اور داعیٔ محدود، یا مکفوف۔ ان دونوں داعیوں میں جو فرق ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ داعیٔ مطلق روحانی لحاظ سے اپنے سے اوپر کے درجوں میں مل جاتا ہے۔ لیکن ظاہری کام ایک داعی کی طرح کرتا ہے۔داعیٔ محدود یا داعیٔ مکفوف ظاہراً و باطناً صرف حدِّ دعوت کے لائق ہوتا ہے۔ ان تمام داعیوں کو اپنے اپنے جزیروں کے حجّتوں سے علم و معرفت روحانی اور جسمانی دونوں طریقوں سے ہر وقت ملتی رہتی ہے۔ داعی اور خیال ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں ۔
قولہٗ تعالیٰ:
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ (۰۹: ۳۶)۔
ترجمہ: مہینوں کی گنتی اللہ کے پاس بارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ، جس دن پیدا کئے آسمان و زمین۔ ان میں چار امن کے ہیں۔
۵۸
یہی ہے دینِ قیّم۔
دربیانِ مراتب حدودِ دین
۱ مستجیب محرم
۲ ماذونِ محدود صفر
۳ ماذونِ مطلق ربیع الاوّل
۴ داعیٔ محدود ربیع الثانی
۵ داعیٔ مطلق جمادی الثانی
۶ حجّت جمادی الثانی
۷ باب رجب
۸ امام شعبان
۹ اساس رمضان
۱۰ ناطق شوّال
۱۰۰ نفسِ کُل ذیقعد
۱۰۰۰ عقلِ کُل ذوالحجّہ
حدودِ دین مستجیب سے شروع ہوتے ہیں۔ مستجیب دینی دعوت کو قبول کرنے والے مرید کا نام ہے۔ یعنی یہ اس مرید کی حد ہے جو محض
۵۹
فیض لینے والا ہو، خود سیکھتا ہو۔ جس طرح قرآنِ مجید میں ذکر ہے:
اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ (۰۶: ۳۶)۔
یعنی صرف وہی لوگ مانتے ہیں جو سنتے ہیں اورمردوں کو اللہ بعث دے گا۔ پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
مستجیب میں دعوت کرنے کی قابلیّت پیدا ہونے پر اسے دعوت کرنے کے لئے اذن ملتا ہے۔ اور وہ اس وقت ماذون کہلاتا ہے، دونوں قسم کی ماذونی کے فرائض کی انجام دہی کے بعد وہ داعیٔ مکفوف پھر داعیٔ مطلق پھر حجتِ جزیرہ کے مرتبے تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی زندگی میں مومن کی روحانی عروج کی آخری حد صرف درجۂ حجّتی ہے۔
دربیانِ ایّامِ عالمِ دین
جس طرح دنیاوی ہفتے میں سات دن ہوتے ہیں، اسی طرح دینی ہفتے کے بھی سات دن ہیں۔ کیونکہ عالمِ ظاہر اور عالمِ دین بالکل ایک دوسرے کی مانند ہیں۔ مگر فرق اتنا ضرور ہے کہ عالمِ ظاہر عالمِ دین کے مقابلے میں مردے کی طرح ہے اور عالمِ دین عالمِ ظاہر کے مقابلے میں زندہ کی طرح ہے۔ اس قول کی سچائی کی دلیل اس آیت سے ملے گی۔
قولہٗ تعالیٰ: وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (۲۹: ۶۴)۔
۶۰
ترجمہ: اور یقیناً آخرت کا گھر وہی ہے جو زندہ ہے۔ اگر وہ جانتے ہوں۔
اس آیت کے تخصیصِ بیان سے یہ ثابت ہوا کہ صرف آخرت ہی زندہ ہے، اور دنیا مردہ ہے۔ اس لئے کہ اگر دنیا بھی آخرت کی طرح زندہ ہوتی تو یہ نہ کہتا کہ آخرت کا گھر زندہ ہے۔ کیونکہ پہلی چیز دوسری چیز سے مخصوص اس وقت کی جاتی ہے جب دوسری چیز میں پہلی چیز کی وہ خاصیت موجود نہ ہو۔ اب بلاشبہ ثابت ہوا کہ آخرت زندہ اور دنیا مری ہوئی ہے۔ اب یہ جاننا ضروری ہے کہ آخرت کا گھر کس طرح زندہ ہے؟ اس حقیقت کو ہم اسی لفظ “حَیَوان” کی معنوی گہرائیوں سے نکال سکتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے یہ بھی یاد رکھئے کہ قرآنِ مجید اَحسن القصص ہونے کی وجہ سے مشترک معنی الفاظ سے پر ہے۔ اور یہ اس کی لاانتہا خوبیوں میں سے ایک ہے۔ یعنی لفظ مشترک المعنی وہ ہے جس کے کئی معنی ہوں۔ قرآنِ شریف چونکہ احکم الحاکمین کا کلام ہے اس لئے یہ جملہ علوم و اصطلاحات کے مطابق حکمت خیز معنی دینے والی کتاب ہے۔ اب پھر لفظ “حیوان” کی طرف توجّہ ہو۔ اس لفظ کے تین معنیٰ ہیں:
۱- زندہ
۲- حیوانِ صامت
۳- حیوانِ ناطق
اب حیوان کے ان تینوں معنوں کا استعمال اس طرح ہوگا۔ آخرت
۶۱
کا گھر زندہ ہے۔ آخرت کے گھر میں جان ہوتی ہے۔ یعنی وہ گھر چلنے پھرنے، حس و حرکت کرنے والا ہوتا ہے۔ آخرت کا گھر ایک انسان ہے۔ اس لئے وہ گھر اپنے اندر قیام کرنے والوں سے بات چیت کرتا ہے۔ اور اس میں قیام کرنے والے بھی اپنے مکان سے بات چیت کرتے ہیں۔
اس مطلب کا خلاصہ یہ ہوا کہ عالمِ دین ہی آخرت ہے۔ یعنی عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق، اساس، جدّ، فتح، خیال، امام، حجّت، داعی اور دیگر حدودِ دین عالمِ دین ہے اور دارالآخرت ہے۔اور یہی زندہ ہے، پھر واضح ہوکہ عالمِ دین کی تمام چیزیں زندہ ہیں۔ اسی طرح عالمِ دین کے ایّام ہیں، یعنی وہ زندہ ہیں۔ چنانچہ آدمؑ یک شنبہ، نوحؑ دوشنبہ، ابراہیمؑ سہ شنبہ، موسیٰؑ چہار شنبہ، عیسیٰؑ پنجشنبہ، محمدؐ آدینہ اور قائم علینا منہ السّلام یومِ شنبہ ہیں۔ ظاہری طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں عالَم کو پیدا کردیا اور ساتویں دن عرش پر قرار کیا۔ اوریہ بھی قرآنِ شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہمارے حساب کے ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ جس طرح قرآنِ شریف میں ذکر ہے:
وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (۲۲: ۴۷)۔
ترجمہ: اور تحقیق تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔
اس حساب سے وہ چھ دن چھ ہزار برس ہوئے۔ جن میں اللہ تعالیٰ نے عالم کو پیدا کیا ۔دوسری طرف یہ بھی قرآنِ شریف میں فرمایا
۶۲
ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو بطورِ ابداع پیدا کیا ہے۔
چنانچہ ارشاد ہوا کہ:
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ (۰۲: ۱۱۷)۔
یعنی آسمانوں اور زمین کو بغیر مادّے کے اور بغیر کسی دیر کے پیدا کرنے والا۔
یعنی خلق اور ابداع میں یہ فرق ہوتا ہے کہ خلق میں ایک چیز سے دوسری چیز پیدا کی جاتی ہے اور اس کے لئے کم یا زیادہ وقت لگتا ہے اور ابداع میں بغیر کسی چیز کے اور بغیر کسی دیر کے ایک چیز بنائی جاتی ہے۔
اب اگر اس کی حقیقت تلاش کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ چھ دن میں عالمِ دین کو پیدا کیا ہے اور اس جہان کو “کُنۡ” کے امر سے پیدا کیا ہے۔ جسے ابداع کہتے ہیں۔ اور وہی اللہ تعالیٰ کے چھ دن جن میں اس نے عالمِ دین بنایا ہے، انسانی حساب سے چھ ہزار برس ہوتے ہیں۔ اور وہ چھ ناطقوں کے چھ ہزار برس کا دور ہے۔ جن میں عالمِ دین ہر طرح سے مکمل ہوچکا ہے۔ ساتواں دن دورِ قائم ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے عرش پر قرار کیا ۔ یعنی قائم میں ظہور ہوا۔
۶۳
خلاصۂ مطلب
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ (۰۷: ۵۴)۔
ترجمہ: تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا، پھر تخت پر بیٹھا۔
۶۴
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ (۰۷: ۵۴)۔
ترجمہ: تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا، پھر تخت پر بیٹھا۔
۶۵
امامِ زمانؑ کی پہچان اور اس کی اطاعت کےبیان میں
ترجمہ از کلام حضرت حکیم سیّد شاہ ناصْر خسروقدس اللہ سرہٗ
اس دنیا کی تمام مخلوقات و موجودات میں سے انسان اشرف و اعلیٰ اس لئے ہوا کہ اسے دوسرے جانوروں کو مستثنےٰ رکھتے ہوئے عقل جیسی شریف چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہوئی، یہ محض وہ عقل تھی جو نشوونما کی ابتدائی منزل سے ہمیشہ پروشِ علمی کی محتاج ہوتی ہے۔ پھر یہ کس طرح ممکن تھا کہ حکمت اور جود والا خدا اس پیاری چیز یعنی عقل کو بغیر پرورش کے چھوڑ دیتا، بلکہ ازروئے قانونِ عقل یہ لازم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ایک خاص الخاص لوگوں کی طرف بھیجے تاکہ وہ ان کی عقول کی پرورش اپنے علم سے کرے، کیونکہ کسی حاجت مند کو پیدا کرنا اور اس کی حاجت روائی کرنے والے کو پیدا نہ کرنا محض بخالت ہوتی ہے۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ بخالت سے دور ہے۔ اگر ہم اس کائناتی کتاب سے اس حقیقت کی مزید تلاش کریں تو ہمیں ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب حیوانوں کو گھاس پات کھانے والی روح دی گئی تھی تو اس کے ساتھ ساتھ آسمانوں، ستاروں اور عناصرِ اربعہ کو بھی ان کے لئے گھاس اگانے پر مقرر کئے گئے تھے، کیونکہ اس قسم کی نباتاتی اشیاء میں جانوروں کی جسمانی پرورش ہے۔ پھر اس خدائی قانون سے یہ ثابت ہوا کہ لوگوں میں ایک ایسا
۶۶
پالنہار ضرور ہوگا جو کہ ہر وقت انسانوں کی عقول کو اس علم سے پالتا رہے جس علم کے لئے انہیں ضرورت ہوتی رہتی ہے۔
یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ جس طرح یہ ابتدائی عقل بلا شرکت تمام حیوانات کے صرف انسان کو ملی ہے بلکہ یہ تمام حیوانات سے مستشنیٰ اسے ایک عطائے الہیٰ ہے، تو اسی طرح خدائی عادت سے یہ لازم ہوتا ہے کہ جس قسم کے علم کے لئے انسانوں کی ابتدائی عقول محتاج ہوں وہ علم صرف ایک شخص کے پاس عطائی (تلاش کے بغیر) ہو اور اکتسابی یعنی کمایا ہوا نہ ہو کیونکہ اگر وہ علم اکتسابی ہوتا تو ہر شخص اپنی کوششوں سے اس علم کو حاصل کرسکتا، پھر اِس صورت میں اللہ کی طرف سے کسی پیغمبر یا ہادی کے آنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
جب تمام حیوانوں سے صرف انسان ہی اس ابتدائی عقل کی عطا کے لئے مخصوص ہوا، باوجود یکہ وہ حیوان کی ایک نوع ( قِسم) تھا، پھر یہ لازمی ہے کہ تمام انسانوں میں سے بھی صرف ایک ہی شخص کے بغیر اور کسی کو عقل پروری عطا نہیں ہوئی ہو، تاکہ کائنات سے مثال جوئی کے طریقے پر یہ ترتیب دلیلاً ٹھیک ہوسکے۔ کیونکہ نوع یعنی چھوٹی قسم جنس یعنی بڑی قِسم کے نیچے ہوتی ہے۔ اور شخص یعنی اس سے بھی چھوٹی قسم کے نوع کے نیچے ہوتی ہے۔ مثلاً حیوان اجناس میں سے ایک جنس ہے حیوانِ ناطق اور حیوانِ صامت اس کی دو نوع ہیں تمام انسان اپنی نوع یعنی حیوانِ ناطق کے افراد یا کہ اشخاص ہیں، اسی طرح تمام جانور اپنی نوع یعنی حیوانِ صامت کے افراد یعنی اشخاص ہیں۔
۶۷
جب حیوان کی جنس میں سے اس کی ایک نوع یعنی انسان فائدہ حاصل کرنے والی عطا یعنی ابتدائی عقل کے لئے مخصوص ہوا۔ تو یہ بھی لازم ہے کہ انسان کی نوع میں سے اس کے ایک شخص عطائی عقول پروری کیلئےمخصوص ہو، تاکہ یہ ترتیب از روئے دلیل درست ہوسکے اور جو شخص عطائی عقول پروری کے لئے مخصوص مِن عند اللہ ہوا ہے، پیغمبر ہے، اور جب تمام حیوانات میں سے انسان کی نوع عقل کے لئے مخصوص ہونے میں کیا تعجّب ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے:
اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰي رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ (۰۷: ۲۳)
ترجمہ: کیا تمہیں یہ تعجّب ہوا کہ نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہیں مل جائے ایک مرد پر جو وہ تم میں سے ہوتا کہ وہ تمہیں ڈرائے۔
وہی ایک شخص اپنے دَور کا پیغمبر ہوتا ہے اور اس کا وصی یہی کام اپنے عصر میں کرتا ہے اور ہر زمانے میں امامِ زمانؑ اسی طرح مخصوص ہے، جب تک دنیا قائم ہو، تو انسان کی نوع اسی ایک شخص سے جو اس مرتبے کے لئے مخصوص ہے خالی نہیں ہوگی، جس طرح حیوان کی جنس انسان کی نوع سے خالی نہیں ہے اور نہ ہوگی۔ خلقت اور کل عالم سے صانعِ حکیم کی جو غرض ہو وہ صرف وہی شخص جانتا ہے۔ پیغمبر اور اس کے وصی کی روحانی صلاحیّت کا اندازہ اسی طرح پر نہیں کہ جس طرح ایک شخص دوسرے
۶۸
شخص سے زیادہ دانا ہو، یا ایک گائے دوسری گائیوں کی نسبت زیادہ موٹی ہو، کیونکہ وہ صرف اس فرق کے بل بوتے پر ایک مرد کی طرح دوسری گائیوں کو درندوں سے نہیں بچاسکتی ہے، اور نہ وہ انہیں مقررہ وقت پر چَرا کر واپس لاسکتی ہے۔ پھر یہ ثابت ہوا کہ ہمیشہ دنیا اُسی ایک شخص سے خالی نہیں رہتی جس کے بغیر انسان کو کوئی چارہ نہیں ہوسکتا، اور وہی اکیلا شخص خلق کی اصلاح کو بچا سکتا ہے، جس طرح انسان کی نوع مویشیوں کی اصلاح بچا سکتی ہے۔ اس قول کی سچائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس حدیث سے ملے گی۔
اُمِرْتُ لِصَلَاِح دُنْیَا کُمْ وَنَجَاتِ اٰخِرَتِکُمْ
کہ مجھے تمہاری دنیوی بہتری اور اخروی آزادی کے لئے فرمایا گیا ہے۔ اگر یہی ایک شخص دنیا سے چلا جائے تو لوگوں کے درمیان سے صلاح بھی چلی جائے گی۔ فی المثل اگر تمام حیوانات میں سے انسان کی نوع وہمی طور پر اٹھائی جائے تو تمام جانور بھی نہ رہیں گے۔ اور وہ تمام جانور جن کی اصلاح انسان سے وابستہ ہے درندوں کی زَد سے مر کر ختم ہو جائیں گے۔
اسی طرح دنیا میں ہمیشہ امامِ زمان کی موجودگی اور اس کی شناخت و اطاعت کی اہمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اس حدیث سے بغور ملاحظہ ہو:
مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زمَانِہٖ مَاتَ مینۃ
۶۹
جَاھِلِیَّۃٍ وَالْجَاھِلُ فِی النَّارِ
ترجمہ: جو شخص مرجائے اور اس نے اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانا ہو تو وہ نادانی کی موت مرتا ہے۔ اور نادان آتشِ دوزخ میں ہے۔
اس حدیثِ شریف کی گہری حقیقت پر تبصرہ کرنے کیلئے حدیث کے دوسرے معنوی پہلو کو بھی بذریعۂ الفاظِ اضداد دکھائی گئی ہے۔ تامل سے ملاحظہ ہو:
۷۰
۱- تمام انسانوں میں سے۔
۲- موت جسمانی امام شناسی و نا شناسی کی حدِّ زمانی ہے۔
۳- دنیاوی زندگی کا مقصد امامِ زمان کی معرفت ہے۔
۴- وہ امام جس کی پہچان خدا کی پہچان ہو۔
۵- صرف اپنے زمانے کا امام جو حاضر ہو۔
۶- موت و حیات دو قسم کی ہے، روحانی اور جسمانی۔
۷- رُوح سے زندہ ہوچکا تھا، مگر جسم خارج تھا۔
۸- روحانی زندگی کے لئے عقل صرف امام سے حاصل ہوتی ہے۔
۹- عاقل کا سبب عقل، عقل کا سبب معرفتِ امامِ زمان۔
۱۰- بہشت ملنے کا سبب عاقل ہونا۔
مذکورہ حدیث کا فلسفہ:
اگر عقل سے پوچھا جائے کہ انسان کو کس لئے پیدا کیا گیا ہے؟ بتائے گی کہ خدا کی عبادت کے لئے! پھر عبادت کے لغوی معنی پوچھنے پر بتائے گی کہ لفظ عبادت عبد (غلام، نوکر) سے مشتق ہے، اس لئے عبادت کے معنی غلامی اور نوکری ہے، اگر اس لفظ کو فارسی میں لیا جائے تو پھر بھی یہی مطلب نکلتا ہے، مثلاً عبد بمعنی بندہ یعنی غلام، اور عبادت کے معنی بندگی یعنی غلامی یا نوکری ہے۔ لفظ عبادت کے اصلی معنی ظاہر کرنے کے لئے اتنا کہنا کافی ہوگا کہ یہ لفظ قرآنِ شریف
۷۱
میں تسبیح و تقدیس، تحمید، تمجید، نماز، سجود، رکوع، دعا، ثناء، اور ذکر کے معنوں سے بالکل جُدا ہے، لیکن یہ دوسری بات ہے کہ اگر ہم انسانوں نے اپنی عام اصطلاح میں باری سبحانہٗ کی صفاتِ جلالی و جمالی بیان کرنے کا نام عبادت رکھا ہو، مگر احکم الحاکمین انسان کی غلط اصطلاحوں کی تقلید کرنے سے بہت برتر ہے، بلکہ خدائے پاک نے اپنی حکمتِ بالغہ سے ضروری الفاظ کی حفاظت ان کی اصل میں کی ہے، یعنی ہر لفظ کا اصلی مصدربطریقِ احسن ظاہر کیا ہے، تاکہ کوئی گروہ اپنی اصطلاح سے قرآنِ مجید کے معنی نہ بدل سکے، اور تلاشِ حکمت کے لئے خود قرآنِ مجید ہی اپنے الفاظ کی حقیقی لغات اور خود تفسیر و تفصیل بن سکے، چنانچہ لفظِ “عبادت” کی اصل یعنی مصدر عبد ہے اور اس کی ایک حفاظت گاہ اس آیت میں ہے کہ:
وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكُمْ (۰۲: ۲۲۱)۔
یعنی ایک مومن غلام ایک مشرک سے بہتر ہے۔ اگرچہ تمہیں خوش آویں۔
پھر اس دلیل کی بناء پر یہ کہنا درست ہوگا کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ عبادت کو اپنے لئے منسوب کریں تو اس عبادت سے ایک ایسا عمل مقصود ہے جو کہ اس کے حکم کے مطابق ہو۔ اس قسم کے عمل قبول کرنے کے بعد عمل کے معنی علم بھی آئے گا، کیونکہ پہلے عمل پھر علم ہے، جس طرح پہلے جسم بنتا ہے، پھر روح۔ عمل جسم کی مانند ہے اور علم روح کی مانند ہے، اس لئے فرمایا: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا
۷۲
لِيَعْبُدُوْنِ (۵۱: ۵۶)۔
ترجمہ: “اور میں نے جنّ اور انس کو پیدا نہیں کیا مگر اپنی عبادت کیلئے۔”
بھلا یہ سوچئے کہ! عبادت جس کا مطلب ہے عمل کرنا، اللہ تعالیٰ کا، جو غنیٔ مطلق ہے، کیا واسطہ ہے؟ بلکہ اس کی حقیقت اسی طرح ہے کہ عبادت یعنی عمل کرنا نفس کلّ کے لئے ہے، کیونکہ نفسِ کُلّ نے جو کہ خدائے تعالیٰ کا ایک عظیم فرشتہ ہے، دنیا اور مخلوقات کو پیدا کیا ہے، اس لئے کہ عمل اس کے لئے ضرورت ہے، اور نفسِ کُلّ کا مظہر امامِ زمان ہے۔ لہٰذا امامِ زمان کی غلامی یعنی بندگی ہی نفسِ کُلّ کی اصلی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ آیت میں انسان کی دنیاوی زندگی کا سبب بتایا گیا ہے، جوکہ وہ سبب صرف عبادت ہے۔ اور مذکورہ حدیث میں انسان کی اخروی زندگی کا سبب بیان کیا گیا ہے، جو کہ صرف معرفت ہے، یعنی خدا نے جس چیز کے آغاز کا ذکر کیا تھا رسول اللہ نے اسی چیز کے انجام کا ذکر کیا ہے، ورنہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول میں اختلاف ہرگز نہیں پایا جاتا ہے، بلکہ آیت اور حدیث میں ایک ہی چیز کی اہمیت ظاہر کی گئی ہے، نیز یہی کہنا حقیقت ہے کہ جس شخص کو عبادت کی وجہ سے جسمانی زندگی ملی ہواسی شخص کو معرفت کی وجہ سے روحانی زندگی ملے گی۔
حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر زمین امامِ زمان سے ایک گھنٹہ کے لئے خالی رہ جائے تو وہ
۷۳
اپنے اوپر بسانے والوں کے ساتھ نیست ہوجائے گی۔
حدیث: وَلَوْ خَلَتِ الْاَرْضُ مِنْ اِمَامِ اْلوَقْتِ سَاعَۃً لَمَادَتْ بِاْھْلِھَا
پھر جب زمین ہمیشہ سے اپنے اوپر مخلوقات کو اٹھائے ہوئے فضا میں معلق ٹھہری ہوئی ہے اور ٹھہرے گی تو کوئی ایسا وقت لازم نہیں ہوتا جس میں امامِ زمانؑ ظاہراً و باطناً لوگوں کو فیض پہنچانے کے لئے موجود نہ ہو۔
کیونکہ اس حدیث کے کُھلے مفہوم کے مطابق زمین کا ٹھہراؤ اور ذی حیات کی زندگی کا دار و مدار امامِ زمانؑ کی موجودیّت پر ہے۔ یہ مسئلہ بہت گہری حقیقت رکھتا ہے کہ زمین اور اس کے اہالیان کی ہستی اور نیستی امامِ زمان سے کیوں وابستہ ہے؟
اصلیت ڈھونڈنے والوں کو یہ جاننا ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ بذاتِ خود فاعل نہیں بلکہ وہ بادشاہِ مطلق ہے، اس لئے اس کا فعل حدودِ علوی وسفلی کی نسبت سے ہے، لہٰذا رسولِ پاکؐ اور امامِ زمانؑ کا فعل ہی خدا کا فعل ہے، ان کی اطاعت خدا کی اطاعت اور ان کی محبّت خدا کی محبّت ہے، قولہٗ تعالیٰ:
مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ …..(۰۴: ۸۰)۔
یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ پھر جس نے رسول کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔
۷۴
اسی طرح سورۂ فتح کی دسویں آیت میں یہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ کا ہاتھ خدا کا ہاتھ تھا اور رسولؐ کی بیعت خداکی بیعت تھی۔ خلاصۂ سُخن یہ ہے کہ رسولؐ کی گفتار اور کردار خدا کے حکم سے ہونے کی وجہ سے خدا کی طرف منسُوب تھا، بحکم:
وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى (۰۸: ۱۷)۔
یعنی “تونے جس وقت کافروں کی طرف کنکر پھینکا، وہ پھینکنا تیرا نہیں تھا بلکہ اللہ نے پھینکا۔”
یعنی پہلے جملہ میں کہتا ہے کہ جس وقت تُو نے پھینکا، پھر کہتا ہے تُو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔ جب ظاہری فعل رسولؐ نے خدا کے حکم سے کیا تو خدا کا کرنا ہوا، یعنی کہ نسبت خدا کی ہوئی اور کرنے والے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تھے۔
اسی طرح مولانا مرتضیٰ علیؑ رسُول اللہؐ کے جانشین تھے، اوران کی اطاعت رسول اللہؐ کی اطاعت تھی، چونکہ وہ رسول اللہؐ کے وصی تھے، اور ہر زمانے میں امامِ زمان حاضر اس لئے ہے کہ اس کے ذریعے سے خدا اور رسولؐ کی اطاعت مومنوں سے قبول ہوسکے۔ چنانچہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر زمانے کے لوگوں کو ان کے زمانے کے امام کی زبان اور اس کی آواز سے اپنے پاس بلائے گا اور امامِ زمان کی شکل و صورت میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، جنہوں نے دنیا میں دیدۂ حقیقت سے نہیں دیکھا ہو، وہ وہاں بھی نہیں دیکھ
۷۵
سکیں گے، قولہٗ تعالیٰ:
يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ (۱۷: ۷۱) ۔
ترجمہ: “جس دن سارے لوگوں کو ان کے امام سے بلائیں گے۔”
“كُلَّ اُنَاسٍ” ناس کی جمع الجمع ہے اور اس سے مُراد اوّلین و آخرین یعنی کُل زمانوں کے انسان ہیں۔ جب ہر زمانہ والوں کو اُن کے امام سے بلانا ہے تو کوئی زمانہ ایسا نہیں جس میں امام نہ ہو، کیونکہ اللہ نے لوگوں کو قیامت کے لئے بلانے کا قانون ظاہر کیا کہ وہ صرف ان کے امام کے ذریعہ سے بلائے گا، جب اللہ کا بلانا امام کے ذریعہ سے ہے تو کلام بھی امامِ زمانؑ کی زبان سے ہوگا اور آواز بھی امامؑ کی ہوگی، پھر بالضرورت شکل و صورت بھی نورانیت میں امام کی ہوگی، کیونکہ بعضوں کا خیال ہے کہ اللہ پاک بذاتِ خود مشخص و مشکل نہیں ہے اور وہ بذاتِ یکتائی خود فعل و صفت و صورت و مادّہ اور سب چیزوں سے منزّہ و پاک ہے، لیکن قرآنِ شریف کی بہت سی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے دیدار پر یقین نہ رکھنے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔ بہرحال امامِ زمانؑ کا نورانی دیدار بتدریج لوگوں کو بھی دکھایا جائے گا۔
واضح ہوکہ اس آیت میں حرف “باء” لفظِ امام کے شروع میں آیا ہے، اسے عربی قواعد میں “بائے استعانت” کہتے ہیں، اس کے ہم معنی حرف “وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ” (۱۶: ۱۶) کا باء ہے، یعنی وہ ستاروں سے راہ پاتے ہیں، یا کہ ستاروں کے ذریعے سے راہ پاتے ہیں۔ اسی طرح ’’وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ (۱۵: ۷۹) اور وہ دونوں یعنی عقلِ کُلّ و
۷۶
نفسِ کُلّ ظاہر امام کے ذریعے سے ہیں، کیونکہ کسی عام انسان کی عقل و جان کو عقلِ جزوی و نفسِ جزوی کہتے ہیں اور زمانے کا انسانِ کامل پیغمبر یا امام کی عقل و جان کو عقلِ کُلّی و نفسِ کُلّی کہتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح امام کی یا پیغمبر کی شخصیت تمام شخصیتوں سے اشرف و اقدس ہوتی ہے، اسی طرح ان کی روح اپنی کُلّ قوّتوں سے آراستہ ہوتی ہے، اسی طرح ان کی کُلّی عقل جو ازل سے موجود تھی انہیں مستفیض کرتی ہے۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے میرا نُور پیدا کیا، یعنی عقلِ کل۔ پھر آنحضرتؐ اپنے اس نُور سے رسالت ملنے کے بعد سے مستفیض ہونے لگے، اگرچہ اس سے پہلے بھی تمام لوگوں میں سے اشرف تھے، پھر کس قدر ضروری ہے کہ پیغمبر اور امامِ زمانؑ کی نورانی شناخت ان لوگوں کے لئے جو ان کی پیروی کرتے ہیں۔
تفسیر وجُہ اللہ
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جِس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے اللہ کو دیکھا۔ اس حدیث میں مَنْ رَأنِیْ فَقَدْ رَاَللّٰہَ۔ اب ذرا غور و فکر سے کام لینے کی ضرورت ہے کہ اس حدیث کی تہہ میں کِس قسم کی حکمت پوشیدہ ہے،
۷۷
اور اس حکمت تک ہماری عقل کی رسائی کس طرح ہوسکتی ہے۔ اگر سچ پوچھنا ہے تو انسان از خود کچھ بھی نہیں ، جَب تک خداوندِ تاویل مدد نہ فرمائے، اس لئے خازنِ حقائق سے توفیق مانگتے ہیں۔ اس پُرحکمتِ حدیث کے غیر معمولی وسیع معنی سے بمثالِ قطرہ ازدریائے فراوان یوں بیان کی جاتی ہے کہ دیکھنا یعنی دیدار تین قسم کا ہوتا ہے مثال کے طور پر دائیں آنکھ سے دیکھنا، بائیں آنکھ سے دیکھنا اور دونوں آنکھوں سے دیکھنا۔ اگر آپ سے یہ پوچھا جائے کہ دیکھنے کے ان تینوں طریقوں میں سے کون سا طریقہ بہترین ہے؟ تو بلاتامّل آپ بتاسکیں گے کہ دونوں آنکھوں سے کسی چیز کو دیکھنا بہترین طریقہ ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے، اس کا ممثول یہ ہے کہ دائیں آنکھ کہتے ہیں دیدارِ جسمانی کو، بائیں آنکھ کہتے ہیں دیدارِ روحانی کو، اور دونوں آنکھوں سے مُراد جسمانی و روحانی ہے، جِس نے رسُول اللہؐ کو صرف جسمانیّت میں دیکھا اس نے حقیقت میں اپنی بائیں آنکھ بند کرلی اور جس نے رسول اللہؐ کوصرف روحانیّت میں دیکھا تو اس نے اپنی دائیں آنکھ بند کرلی، جس نے جسمانیّت اور روحانیّت دونوں حالتوں میں اپنے رسول پاکؐ کی شناخت حاصل کرلی اس کی دونوں آنکھیں کُھلی رہیں۔
اب یہ بتا دوں گا کہ ہر حالت میں دیدار کے دو بڑے مقصد ہیں، یعنی جمال اورشناخت۔ نورانیّت اور جسمانیّت میں جمال و شناخت
۷۸
کے نتیجوں سے کشش ہوسکتی ہے، اور یہ سب کچھ چہرے سے ہوسکتا ہے، از انکہ جملہ صفاتِ بشریّت کا متحمّل چہرہ اور سر کے سوا اور کوئی عضو نہیں ہے، پھر رسولِ پاکؐ نے اس حدیث کی حکمت میں داناؤں کو یہ ضرور کہا ہوگا کہ مجھے ظاہر و باطن میں دیکھو، میں خدا کا چہرہ ہوں، اس لئے میرا دیدار خدا کا دیدار ہے، میرا جمال بھی جمالِ الٰہی ہے، میری شناخت خدائے برتر کی شناخت ہے، جس نے مجھے دیکھا اور نہیں پہچانا وہ بہت خسارے میں رہا، کیونکہ نبیٔ رحمت کا یہ کہنا کہ “جِس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے اللہ کو دیکھا۔” بہت معنی رکھنے کے علاوہ دیدار کی ترغیب دیتا ہے۔ نیز اس حدیث کی عمقیّت سے زمانے کے پیغمبر اور امام کی شناخت اور ان کی فرمانبرداری و محبّت کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، اور آخر میں یہ خلاصہ نکلتا ہے کہ رسول اللہؐ اپنے زمانے میں خدا کا چہرہ تھے۔ جب وہ خدا کا چہرہ تھے تو ضرور وہ خدا کی زبان، آنکھیں، کان وغیرہ سب کچھ تھے۔ مومنوں کے لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ نبیٔ رحمت اپنے زمانے میں خدا کا چہرہ اور خدا کا دیدار تھے، اسی طرح مولانا علیؑ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا کہ “اَنَا وَجْہُ اللّٰہِ” (میں اللہ کاچہرہ ہوں)۔
ہمیں یقین ہے کہ وہی اللہ کا ایک چہرہ ہے اور ہمیشہ دنیا میں موجود ہے۔ جس شخص سے خُدا کی معرفت حاصل ہوجائے وہی خدا کا چہرہ ہے۔ اور ایسا شخص جس پر خدا کی معرفت ہوسکتی ہو، اپنے
۷۹
اپنے زمانے میں پیغمبر اور امام ہیں، چونکہ خدا کا چہرہ لافانی ہے، اس لئے امامِ زمان ہمیشہ دنیا میں زندہ اور حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلامِ مجید میں فرماتا ہے:
كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ(۲۸: ۸۸)۔
ترجمہ: “ہر چیز فنا ہونے والی ہے اس کے چہرے کے سوا ، حکم اس کا ہے اور تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔”
ہر چیز کی بے بقائی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اپنے چہرے کو اس بے بقائی سے مستثنےٰ کرنے سے معلوم ہوا کہ اس کا چہرہ ایک لحاظ سے ان چیزوں کے ساتھ اور اسی عالم میں ہے جہاں دوسری بے بقاء چیزیں ہیں، کیونکہ کُلُّ شی کے بعد حرفِ اِلّاَ کا آنا اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ وجہہٗ بھی شۓ کی جنس سے ہے اور عالم اشیاء میں ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ چہرہ کے متعلق بعضوں کو فنا کا شُبہ پڑتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے چہرے کو غیر فانی بتایا ۔ چیزوں کا یہ ہلاک ہونا صرف جسمانی موت تھی، پھر حکم اور فیصلہ کے اور پھر اس کی طرف واپس جانے کے نتیجوں سے واضح ہوا کہ سب انسان مرجاتے ہیں اور ان کے فیصلہ ہونے پر معاد کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن خدا کا چہرہ جو امام ہے ہمیشہ دنیا میں زندہ اور غیر فانی ہے۔ اگرچہ ظاہراً یہ بھی ان جملہ انسانوں کی جنس میں سے ہے جو وہ بعد از انقضائے
۸۰
وقتِ معیّن فنا ہونے والے ہیں، لیکن امامِ زمانؑ خدا کا چہرہ اور اس کا نُور ہونے کی خصوصیت سے دوسرے ہم جنسوں سے جدا گانہ اپنے جسمانی لباس بدلتے ہوئے دنیا میں ہمیشہ موجود اور حاضر ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ احکم الحاکمین کی اس باحکمت آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چہرۂ خدا کی نسبت ایک وجہ سے ان تمام فنا پذیر اشیاء کے ساتھ ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اسے بھی پہلے کُلّ شیْ میں ذکر کیا۔ اور دوسری وجہ سے چہرۂ خدا کی ان سے کوئی نسبت نہیں، اس لئے پھر اللہ پاک نے اسے حرفِ استثنےٰ سے علیٰحدہ کردیا، لیکن پہلی نسبتِ عامہ اور دوسری نسبتِ خاصہ ہے، پھر دُنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی، جس میں آیتِ مذکورہ کی خصوصیات موجود ہوں۔ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ جملہ صفات کے ساتھ خدا کا چہرہ کہلانے کا حقدار ہوسکے۔
دوسری خصوصیت، جسمانی نسبت سے جسمانیوں کے نزدیک رہ سکے اور ان کو اپنے نزدیک کرسکے۔
تیسری خصوصیت، جسمانی نزدیکی کے نتیجوں پر ان کو نورانیّت اور بقاء کے نزدیک لاسکے۔ قولہٗ تعالیٰ:
يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ وَهُوَ الرَّحِيْمُ الْغَفُوْرُ (۳۴: ۰۲؛ ۵۷: ۰۴) ۔
وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْحُبُكِ (۵۱: ۰۷)۔
قولہٗ تعالیٰ: قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ
۸۱
يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَيَهْدِيْهِمْ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ(۰۵: ۱۵ تا ۱۶)۔
ترجمہ: تمہیں آیا ہے اللہ کی طرف سے نور اور بولنے والی کتاب جس سے اللہ راہ دکھاتا ہے جو کوئی پیروی کرے اس کے رضوان کی۔ تائید کے راستوں پر اور ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے روشنی کی طرف اپنے حکم سے اور ان کو چلاتا ہے سیدھی راہ پر۔
&n