قرآنی حوالے کے لیے پہلے سورہ نمبر ٹائپ کریں، پھر کولن [ : ] پھر اِسپیس دے کر آیت نمبر۔ اگر ایک ہی سورہ کے ساتھ ایک سے زیادہ آیات ہو تو پہلی آیت نمبر کے بعد اسپیس دے کر   تا   ٹائپ کرے پھر اسپیس دے کر آخری آیت نمبر ٹائپ کریں۔ مثال کے طور پر سورہ نمبر ۳۳ کی آیت نمبر ۴۵ تا ۴۶ کو اس طرح ٹائپ کریں   ۳۳: ۴۵ تا ۴۶   واضح رہے کہ سورہ نمبر اور کولن [:] کے بیچ میں اسپیس نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ کسی لفظ کو سرچ میں ٹائپ کریں تو اعراب نہ لگائے، مثال کے طور پر آخرت کو اخرت ، عقلِ کل کو عقل کل ٹائپ کریں۔

آٹھ سوال کے جواب

علم چشمۂ شیرین

ان لوگوں کی بہت بڑی ازلی سعادت ہے، جو علم کے چشمۂ شیرین کی لذت کے دلدادہ ہیں، وہ اس آبِ زلال سے عالمِ شخصی کے ہر ملک و شہر اور ہر باغ و چمن کی آبادی وشادابی دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ ایک قرآنی حقیقت ہے کہ علم ہی کے پانی سے ہر چیز زندہ ہوسکتی ہے(۲۱: ۳۰) پس ایسی سعادت محترمہ کلثوم ناتھانی اور ان کی فیملی کو بہت بہت مبارک ہو۔

آمین!! ثم آمین!!!

ابتدائیہ

 بِسمِ اللہِ الرَّحمنِ الرَّحِیمِ الحَمدُ للّہِ رَبِّ العَالَمِین وَالعَاقبتہ لِلمُتقِینَ وَالصَلواة وَ السلام عَلیٰ رسُولہ وَ عَلیٰ آلہ الطاھِرِینَ۔

اہلِ دانش کے سامنے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح آشکار اور واضح ہے کہ متعلقہ علم کے سارے مضامین دین شناسی اور امام شناسی میں سموئے ہوئے ہیں، اس لیے دین اور امام کی شناخت اسماعیلیت میں نہایت ہی ضروری امر ہے، جس کے بغیر کسی اسماعیلی کو حقیقی سکون نہیں مل سکتا۔

علم و معرفت ہی سے مسائل حل ہوجاتے ہیں، شکوک و شبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے، ایمان کی روشنی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جان و دل کو تسکین ملتی ہے، اس سے مومن میں اولوالعزمی اور عالی ہمتی جیسی صفات پیدا ہوجاتی ہیں غرض آنکہ علم و معرفت میں سب کچھ ہے۔

سوال کب پیدا ہوتا ہے؟ اس وقت جبکہ تعارف نہ ہو یعنی جبکہ مذہب کی شناخت نہ ہو، جبکہ علم نہ ہو اور جبکہ لٹریچر نہ ملے، سوال اُس وقت اُٹھتا ہے جبکہ دینی علم کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔

۱

خیر بہر حال اگر کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو اس کے لیے جواب بھی مہیا کیا جاسکتا ہے، ایسا نہیں کہ سوال ہو اور جواب نہ ہو، لیکن جو کچھ بھی ہو حق و صداقت پر مبنی ہونا چاہیے، ورنہ اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔

چنانچہ اس کتابچہ میں آٹھ ایسے سوالات کا جواب دیا گیا ہے جو ہمارے سٹوڈنٹ میں سے ایک نے پیش کیے تھے، جہاں اس کام کے لیے ہم پر اعتماد کیا گیا تو وہاں یہ ہمارا فرض ہوتا ہے کہ متوقع خدمت کی انجام دہی کے لیے کوشان رہیں اور اللہ تعالیٰ سے توفیق و یاری چاہیں۔

میرے عقیدے میں اسماعیلیت کی حقانیت میں کسی بھی سوال کا جواب دینا مشکل نہیں بہت ہی آسان ہے، چنانچہ اگر لاکھوں سوالات ہوں تو بھی کوئی مشکل نہیں، کیونکہ ہم یہ ثابت کرکے دکھا سکتے ہیں کہ اسماعیلی مذہب سے متعلق جتنے بھی سوالات اُٹھتے ہیں، وہ سب باہم مل کر ایک بہت بڑے درخت کی صورت اختیار کرلیتے ہیں، اس لیے ہم درخت کے تنا پر بحث کرکے ساری باتوں کو سمجھا سکتے ہیں اور بڑی بڑی شاخوں کے بارے میں گفتگو کرکے تمام سوالات کا جواب بتا سکتے ہیں کہ اسماعیلی مذہب اور امامِ زمان حق ہے، یعنی سمجھنے والوں کے لیے صرف یہی بنیادی سوال کافی ہے جو پوچھنا چاہیے کہ امام کے حق ہونے کا کیا ثبوت ہے؟ کیونکہ متعلقہ تمام سوالات اِسی بڑے سوال کے تحت آتے ہیں، لیکن عوام الناس اس ترتیب کو کہاں ملحوظِ نظر رکھتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں جو بھی دل میں آئے، جو بھی چاہیں۔

کوئی شک نہیں کہ اسماعیلیوں کو ہمیشہ اپنے امام برحقؑ کی طرف دیکھنا چاہیے کہ امام کا منشاء کیا ہے یا ان کی واضح ہدایت کیا ہے، اور اسی اصُول کو قائم رکھتے ہوئے دینی علم کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

۲

جاننا چاہیے کہ سوال کا جواب یا تو بلاواسطہ دیا جاتا ہے یا بالواسطہ بہر حال جواب دینا ضروری ہوتا ہے، ورنہ جماعت کے بعض حلقوں میں بددلی پھیل جاتی ہے اور خاص کر نئی نسل کا عقیدہ متاثر ہو جاتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق شاملِ حال رہی تو آئندہ بھی ہماری یہی کوشش جاری رہے گی، اور کسی نہ کسی طریقے سے شکوک و شبہات کو دُور کردینے کی کوشش کی جائے گی۔

فقط جماعت کا علمی خادم

نصیرالدین نصیر ہونزائی

۳

Blank Page

آٹھ سوال

سوال نمبر ۱: جماعت خانے میں بعض دفعہ لڑکیاں کیوں دُعا پڑھاتی ہیں، جبکہ شریعت میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی؟ صفحہ نمبر۷۔

سوال نمبر۲: مختلف مجالس کے عنوانات سے اور جدا جدا مواقع پر جماعت خانے کے اندر جماعت سے کیوں پیسے لیے جاتے ہیں، کیونکہ وہ خدا کا گھر ہے، جہاں صرف عبادت ہونی چاہیے؟  صفحہ نمبر ۱۰۔

سوال نمبر۳: جماعت خانے میں جب کبھی کوئی دوسرا مسلم بھائی آنا چاہے، تو اسے کیوں نہ آنے دینا چاہیے؟ صفحہ نمبر۱۱۔

سوال نمبر۴: تمہارا شاہ کریم کس طرح امامِ برحق ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ وہ یورپ میں مغربی طرزِ زندگی گزارتے ہیں؟ صفحہ نمبر۱۳۔

سوال نمبر۵: تمہاری زکات شرعی زکات سے کیوں مختلف ہے؟ اور وہ براہِ راست غُرباء و مساکین میں کیوں تقسیم نہیں ہوتی؟ صفحہ نمبر ۱۷۔

۵

سوال نمبر۶: تمہاری مذہبی رسومات کس حد تک درست اور صحیح ہیں؟ خصوصاً ناندی کے بارے میں بتاؤ؟ صفحہ نمبر ۲۲۔

سوال نمبر۷: اسماعیلی جماعت میں صلاة پر کس حد تک عمل ہوتا ہے؟ اور ان کے نزدیک صلاة کے کیا معنی ہیں؟ صفحہ نمبر۲۵۔

سوال نمبر۸: پوچھا گیا ہے کہ جماعت خانہ میں مرد و عورت ایک ساتھ کیوں عبادت کرتے ہیں؟ صفحہ نمبر ۳۰۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ : یہ سوالات ماہ دسمبر ۱۹۷۶ء میں ایک اسماعیلی سٹوڈنٹ نے پیش کئے تھے۔

علامہ نصیرالدین نصیر ہونزائی

۲۴ ،  دسمبر ۱۹۷۶ء

۶

آپ کے آٹھ سوال

لڑکیوں کا دعا پڑھانا:

سوال نمبر ۱: جماعت خانہ میں بعض دفعہ لڑکیاں کیوں دُعا پڑھاتی ہیں، جبکہ شریعت میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی؟

جواب (الف) : اسلام صراطِ مستقیم ہے یعنی راہِ راست، جو اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے لیے مقرر ہے، جب دینِ حق اس مثال میں ایک راستے کے مشابہ ہے تو اس کی کچھ منزلیں بھی ہیں، جو کہ شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کہلاتی ہیں، چنانچہ جماعت خانہ اور اس کے آداب و رسومات اسی راہِ اسلام پر چل کر آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی ایک زندہ مثال ہیں جس طرح کہ تصوف اسلام کے ارتقاء کا ایک بین ثبوت ہے، اور ظاہر ہے کہ صوفیوں کے مسلک میں ہزاروں ایسی چیزیں ہیں جو کہ شریعت میں نہیں ہیں، اور وہ چیزیں شریعت میں کیونکرہوسکتی ہیں، جبکہ وہ طریقت کی چیزیں ہیں، اسی طرح جماعت خانہ کی چیزیں یعنی وہاں کے آداب و رسومات حقیقت کی ہیں، لہٰذا ان کو کسی اور معیار سے پرکھنا سراسر غلطی اور لا علمی کا ثبوت ہے۔

۷

جواب (ب) : نیز یہ کہ اگر مقامِ شریعت پر عورت شرعی نماز مردوں کو نہیں پڑھا سکتی ہے، تو اس کی وجہ ظاہر میں کچھ بھی نہیں سوائے اس کی تاویل کے، اس کے برعکس جماعت خانہ میں جو عبادت و بندگی ادا کی جاتی ہے، اس کی کوئی تاویل نہیں بلکہ وہ خود تاویل ہے، لہٰذا یہاں عورت دُعا پڑھا سکتی ہے۔

اگر پوچھا جائے کہ عورت کی امامت شرعی نماز میں جائز نہ ہونے کی کیا تاویل ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دین میں حضرت پیغمبرﷺ مرد کے درجے پر ہیں، اور تمام افرادِ امت عورت کے مقام پر ہیں، نیز امامِ عالی مقامؑ مرد ہیں اور مرید سب کے سب عورت ہیں، اسی طرح معلم مرد اور متعلم عورت ہے، پس اگر کوئی عورت نمازِ شریعت میں پیشوائی کرے تو اس کی تاویل یہ بتلانے لگے گی کہ (نعوذباللہ) رسولﷺ امت ہوکر پیچھے آئیں اور امت پیغمبر بن کر آگے بڑھیں، امامؑ مریدی اختیار کریں اور مرید امام بن جائیں نیز معلم شاگرد بن کررہے اور شاگرد اپنے استاد کے لیے استادی کرے، سو یہ تاویل ناممکن بات کی ترجمانی کرتی ہے، اسی لیے نمازِ شرعی میں مردوں کی امامت عورت نہیں کرسکتی ہے۔ مگر مقامِ حقیقت میں ایسی کوئی تاویل نہیں۔

جواب (ج) : اسلام دراصل نام ہے قرآن اور معلمِ قرا ٓن کی تعلیمات و ہدایات کا، اور اِن تعلیمات و ہدایات کے مختلف مدارج کو عملاً طے کرنا صراطِ مستقیم پر چلنا اور منزل بمنزل آگے بڑھنا ہے، پھر اِسی معنی میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں، کہ اسلام اپنے مراتبِ علم و عمل کے اعتبار سے ایک ایسی یونیورسٹی کی طرح ہے، جس کے تحت تعلیم کے بہت سے مدارج آتے ہوں، اب اِس مثال سے ظاہر ہے کہ دینِ اسلام کے اِن تمام علمی اور

۸

عملی درجات کے لیے الگ الگ معیار مقرر ہیں، اِسی لیے میں کہتا ہوں کہ اسماعیلیت کی رسومات کو غیر اسماعیلیت کی کسوٹی پر پرکھنا ہرگز درست نہیں ہوسکتا۔

جواب (د) : اگر اسلام صراطِ مستقیم ہے تو ماننا ہی پڑیگا کہ مسلم فرقے یا جماعتیں یکے بعد دیگرے اس طرح سے ہیں، جیسے کسی رستے کی مختلف منزلوں پر پھیلے ہُوئے مسافر، اگر دینِ حق اللہ تعالیٰ کی رسی ہے اور وہ خدا اور اس کے بندوں کے درمیان واقع ہے، تو اس میں بھی انکو درجہ وار اور سلسلہ وار پکڑنے کی جگہ ہے، جہاں خدا کی معرفت کی بلندیوں کی طرف عروج کر جانے کی مثال سیڑھیوں سے دی گئی ہے، (۷۰: ۳ تا ۴) وہاں اہلِ مذاہب الگ الگ زینوں پر ہیں، جس اعتبار سے دینِ مبین ایک عظیم یونیورسٹی کی طرح ہے، اُس اعتبار سے اس کے ماننے والے علم و عمل کے مختلف درجات پر ہیں اور جس وجہ سے دین فطرت کی تشبیہہ انسانی تخلیق اور زندگی کے مختلف مراحل سے دی گئی ہے، اسی وجہ سے لوگ ایسے درجہ وار ہیں، جیسے انسانی خلقت اور عمر کے جدا جدا مراحل ہوا کرتے ہیں، یعنی کچھ لوگ اس بچے کی طرح ہیں جو ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، کچھ نومولود بچے کی طرح، کچھ طفلِ شیر خوار کے مانند، بعض طفلِ مکتب جیسے، بعضے نوجوان کی طرح، کچھ تیس سال کے مکمل جوان کی طرح، کچھ چالیس سال والے کی طرح اور کچھ اس سے بھی بڑی عمر والے کی طرح، اور یہ مثال اس لئے ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، اور اسے ایک انسان کی طرح رفتہ رفتہ درجۂ کمال کو پہنچنا ہے، اور ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہُوا، کہ اسلام کی تعلیمات درجہ وار ہیں اور اس کی ہدایات بھی تدریجی صورت میں ہیں، پس کسی کا کسی پر اعتراض کرنا اسلامی تعلیمات کے مدارج سے نابلد ہونے کی وجہ سے ہے۔

۹

 جماعت خانہ میں مالی قربانی:

سوال نمبر۲: مختلف مجالس کے عنوانات سے اور جدا جدا مواقع پر جماعت خانے کے اندر جماعت سے کیوں پیسے لیے جاتے ہیں، کیونکہ وہ خدا کا گھر ہے، جہاں صرف عبادت ہونی چاہیے؟

جواب (الف) : جماعت خانہ ہو یا کہ مسجد اسمیں دنیاوی قسم کی تجارت وغیرہ جائز نہیں، مگر زکوٰة ، صدقہ اور ہر قسم کی مالی قربانی کے علاوہ اور بھی بہت سے نیک کام ایسے ہیں جن کو خدا ہی کے گھر میں انجام دینے میں زیادہ ثواب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: وَاِذجَعَلنَا البَیتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمناً (۲: ۱۲۵

 اے رسولﷺ)  وہ وقت بھی یاد دلاﺅجب ہم نے خانۂ کعبہ لوگوں کے ثواب اور پناہ کی جگہ قرار دی ۔ اس سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ خدا کا گھر مثابہ ہے یعنی ہر قسم کے ثواب کی جگہ اور خدا کا گھر سب سے پہلے خانۂ کعبہ ہے اور اس کے بعد مسجد اور جماعت خانہ خدا کا گھر ہے، پھر جب ثواب کا مرکز خدا ہی کا گھر ہے توبہت سے نیک کام وہاں کیوں نہ انجام دئیے جائیں۔ جبکہ یہ کام خدا ہی کے ہیں، تو خدا ہی کے گھر میں ہونے چاہئیں، جبکہ یہ عبادات میں سے ہیں، جبکہ یہ مالی قربانیاں اور اعمالِ صالحہ ہیں، تو یہ خدا کے گھر میں سب کے سامنے کیوں نہ ہوں تا کہ نیکی کرنے والے کو سب کی دعائیں حاصل ہوں، ساتھ ہی ساتھ یہ ایک عملی تعلیم بھی ہے تاکہ جماعت کے افراد اسے دیکھ کر اپنے اندر ایسی مالی قربانیوں کا جذبہ پیدا کرسکیں، اور یہی سبب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے عہدِ مبارک میں اکثر مالی قربانیاں مسجد ہی میں لی جاتی تھیں۔

۱۰

 جماعت خانہ اور غیر اسماعیلی:

سوال نمبر۳: جماعت خانے میں جب کبھی کوئی دُوسرا مسلم بھائی آنا چاہے، تو اسے کیوں نہ آنے دینا چاہیے؟

جواب (الف) : اس کے جواب کے لیے آپ دیکھیں میرے ایک مقالے میں جو  اسلام کی بنیادی حقیقتیں“ کے عنوان سے ہے، جو کتاب ”پنج مقالہ نمبر۱“ میں چھپ کر آنے والا ہے، نیز یہ ہے کہ ایسا کوئی بھائی جب آئے تو کیاوہ جماعت خانہ میں آنے کے تمام شرائط اور آداب و رسومات کو بالکل اسی طرح قبول کرے گا جس طرح کہ ایک اسماعیلی کرتا ہے؟اور اگر یہ بات نہیں ہوسکتی ہے، تو اس کے جماعت خانہ آنے میں کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا اس کا نہ آنا ہی بہتر ہے۔

جواب (ب) : دینِ اسلام میں کچھ مقدس عمارتیں سب مسلمانوں کے درمیان مشترک ہیں، اور کچھ عمارتیں مخصوص ہیں، جو مقاماتِ مقدسہ مشترک ہیں، اُن میں سب سے پہلے خانۂ کعبہ ہے، پھر مسجد ہے کیونکہ وہ اُس وقت سے ہے جس میں کہ سب مسلمان ایک تھے، تاہم بعض جگہوں میں مسجدیں بھی الگ الگ جماعتوں کے لیے یا جدا جدا نظریات کی بناء پر مخصوص ہوجاتی ہیں، اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ سختی کے ساتھ خانقاہ، امام باڑہ اور جماعت خانہ مخصوص ہیں، جن کی حرمت صرف وہی لوگ بجا لاسکتے ہیں جو بنیادی طور پر عقیدةً ان سے منسلک ہیں، اور دوسرے کسی کی ان میں کوئی شرکت نہیں۔

۱۱

جواب (ج) : مسجد کے معنی ہیں جائے سجدہ، محلِ عبادت اس لیے یہ لفظ گویا سب مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہاں جائیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے سر جھکائیں اور عبادت کریں، مگر لفظِ جماعت خانہ میں عبادت کا مفہوم و مطلب ظاہر نہیں بلکہ پوشیدہ رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ جماعت خانہ (خانۂ جماعت) یعنی جماعت کا گھرہے، جو سب کے لیے نہیں صرف ایک ہی جماعت کے لیے ہے، جس طرح خانقاہ کے معنی میں یہی فلسفہ پایا جاتا ہے کہ خانقاہ مُعَرب ہے خانگاہ (خانہ گاہ) کا اور خانگاہ کے معنی ہیں صوفیوں اور درویشوں کے رہنے کی جگہ، جس میں عبادت کا مفہوم پوشیدہ رکھا گیا ہے، اور اگر وہ چاہتے تو بڑی آسانی سے اس مطلب کے لیے کوئی ایسا نام منتخب کرتے جس سے کہ فوراً ہی عبادت و بندگی کے معنی ظاہر ہوجائیں، مگر جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا گیا، کیونکہ وہاں تو اسلام کی تعلیمات کسی پیرِ طریقت کے مخصوص نظریات و تشریحات کے مطابق دینی تھیں، اور اس میں عبادت و بندگی اور ریاضت اپنی نوعیت کی کرنی تھی، اور وہ خانقاہ بھی صرف اسی پیر یا شیخ کے مریدوں کے واسطے مقرر تھی، سو یہی مثال جماعت خانہ کی بھی ہے، اور جماعت خانہ شروع شروع میں تھا ہی خانقاہ، جس طرح صوفیوں کے تذکرے میں ملتا ہے کہ ”خواجہ بختیار کاکی کا جماعت خانہ“ پھر اس کے بعد جماعت خانہ اسماعیلیت میں اپنایا گیا، یہ تاریخی واقعہ اس امر کی ایک روشن دلیل ہے کہ شریعت کے باطن سے طریقت پیدا ہوتی ہے اور طریقت کے باطن سے حقیقت اور ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جماعت خانہ صرف امام حاضر ہی کے مریدوں کے لیے مخصوص ہے۔

۱۲

 امام کی جائے سکونت:

سوال نمبر۴: تمہارا شاہ کریم کس طرح امامِ برحق ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ وہ یورپ میں مغربی طرزِ زندگی گزارتے ہیں؟

جواب (الف) : یہی تو آپ کا بنیادی سوال ہونا چاہیے تاکہ ایک ہی جواب سے ثبوت یا عدمِ ثبوت ظاہر ہو کر ساری بحث ہی ختم ہوجائے گی، کیونکہ اگر امام ثابت ہوگئے تو کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ امام کو امام تسلیم کرتے ہوئے بھی اُن پر اعتراض اٹھائے، اور اگر امام ثا بت نہیں ہوئے تو پھر آپ مزید سوالات کی زحمت کیوں اٹھائیں کہ بحث ہی ختم ہوگئی، مگر یہاں سوالات دہرائے گئے ہیں، بہر حال آپ کا سوال کچھ اس طرح سے ہے کہ اگر ہم نے یہ ثابت کردیا کہ یورپ میں امام کی رہائش جائز اور روا ہے تو آپ شاہ کریم الحُسینی کو امام برحق مانیں گے، سوال کا مطلب یہی ہے نا؟

جواب ( ب) : اگر آپ کے نزدیک مغربی طرزِ زندگی غیر اسلامی ہے، جس کی وجہ سے آپ نے یہ سوال اٹھایا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اُس حکمِ قرآنی کو بھی ظاہر کرنا تھا جس کی روشنی میں آپ نے یہ پوچھنا مناسب سمجھا ہے، اور اب بھی آپ سے یہی سوال ہے کہ آیا قرآنِ حکیم میں کوئی ایسی آیت موجود ہے جس میں عصرِ حاضر کے اسلامی معاشرہ اور اس کے لوازم کی کوئی متعین شکل پیش کی گئی ہو؟ وہ اگر نہیں تو کیا کوئی قرآن سے یہ ثابت کرسکتا ہے کہ زمانہ نبوت میں مسلمان جن گھروں یا خیموں میں رہتے تھے، جس قسم کی غذائیں کھایا کرتے تھے، جو لباس وہ پہنتے تھے اور جیسے معاشرے میں زندگی گزارتے تھے

۱۳

اب بھی بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے؟ ظاہر ہے کہ ایسی بات کا قرآن سے ثابت ہوجانا تو درکنار اسے عقلِ سلیم بھی قبول نہیں کرتی ہے۔

جواب(ج): آپ کے سوال کے پس منظر میں کوئی خاص منطق نہیں سوائے اس کے کہ عہدِ نبوت کے مسلمانوں کی جو مادی حالت تھی، اسی پر آپ کا قیاس ٹھہرا ہوا ہے، حالانکہ وہ دینِ حق کا آغاز ہی تھا، اور پورے دور میں اسلام کی جو معاشی اور معاشرتی ترقی ہونے والی تھی وہ سب صرف ۲۳ سال کے عرصے میں کس طرح ہوسکتی تھی، الغرض آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ظہورِ اسلام کے وقت عرب کی جو مالی حالت تھی، وہی دنیائے اسلام میں اب بھی ہونی چاہیے، مگر افسوس ہے کہ آپ کے اس خیال کی مخالفت سب سے پہلے عرب کے مسلمان کررہے ہیں کیونکہ آج ان کی مادی حالت پہلے سے بہت بہتر ہوگئی ہے، اور ویسے بھی آپ کا خیال ہے بڑا خطرناک، کیونکہ آپ نہیں چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی دنیاوی اور مادی ترقی ہو، یہاں تک کہ فی الوقت عالمِ اسلام میں جو شہنشاہ، بادشاہ، حاکم، لیڈر، سربراہ،  امیر اور ترقی یافتہ لوگ ہیں وہ بھی آپ کے اس اعتراض سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں اور نہ اس سے آئندہ ترقی کی کوئی امید باقی رہتی ہے، اس لیے چلئے ہم قرآنِ مقدس کو پیشِ نظر رکھتے ہیں کہ اس بارے میں کیا حکم ہے: سورہ اعراف (۷) کی آیت نمبر ۳۲ میں ارشاد فرمایا گیا ہے: قُل مَن حَرَّمَ زِینَةَ اللّہِ الَّتِیَ اَخرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ  مِنَ الرِّزقِ قُل ہِی لِلَّذِینَ آمَنُوافِیالحَیَاةِ الدُّنیَا خَالِصَةً یَومَ القِیَامَة

ترجمہ: آپ فرمائیے کہ کس نے حرام کیا اللہ کی زینت کو جو اُس نے پیدا کی ہے اپنے بندوں کے واسطے اور رزق میں سے پاک چیزیں تو کہہ دیجئے کہ

۱۴

یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں خالص انہی کے واسطے ہیں دورِ قیامت میں۔ اس قرآنی حکم سے یہ حقیقت صاف طور پر روشن ہوئی کہ آپ کا سوال بے بنیاد ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی زینت اور رزق و روزی کی پاک چیزیں اس کے بندوں کے لیے ہیں اور دورِ قیامت میں یہ چیزیں مومنین کے لیے بطور خاص ہوں گی، پس یہ حقیقت پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ حضرت مولانا شاہ کریم الحسینی امام برحق ہیں کہ وہ اپنے طرزِ زندگی کے ذریعے سے اس بات کی خوشخبری دے رہے ہیں کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ بندگانِ خاص کے لیے پورا ہونے والا ہے، جس کا ذکر آیہ مذکورہ  بالا میں ہے۔

جواب (د): شاہ کریم الحسینی صلوات اللہ علیہ امام برحق ہیں، اور اس عظیم الشان امر کے ثبوت میں ہمارے پاس ہزاروں ایسے دلائل موجود ہیں، جن سے کوئی بھی حقیقت پسند انسان انکار نہیں کرسکتا، آپ اسماعیلی کتب میں اثباتِ امامت کے موضوعات کا مطالعہ کریں، اور یہاں یہ بھی سن لیں کہ اسلام میں تصورِ خلافت ایک مسلمہ حقیقت ہے، اور یہ ہمارا ایمان ہے کہ خدا اور رسول کا خلیفہ ہمیشہ دنیا میں موجود ہے اور وہ اس وقت نور مولانا شاہ کریم الحسینی صلو ات اللہ علیہ ہیں، اگر اس حقیقت کی تردید ممکن ہو تو کوئی کہے کہ نہیں نہیں ایسا خلیفہ تو فلان خاندان کا فلان شخص ہے جو اس وقت یورپ میں نہیں فلان جگہ پرہے یا کہے کہ اسلام میں کوئی خلافت نہیں یا بتائے کہ خلافت شروع شروع میں تھی تو سہی مگر بعد میں قرآن کے اس حکم کے بموجب خداوند عالم نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لی یا اسے ختم کردیا، ایسی کوئی تردید ناممکن ہے۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ شاہ کریم امامِ حاضرؑ ہیں۔

۱۵

جواب(ہ): میں کہتا ہوں کہ مولانا شاہ کریم الحسینی برحق امام اس لیے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نورِ ہدایت ہیں، اگر اس حقیقت کی تردید ممکن ہو تو کوئی شخص کہے کہ نہیں، نورِ ہدایت اور شمعِ ولایت اس وقت تو فلان حضرت ہیں، جنہوں نے دینِ اسلام کی اشاعت و ترویج کی خاطر فقروفاقہ کو اپنا شیوہ بنالیا ہے، جو دنیاوی ترقی سے گریزان ہیں، جن کا سلسلہ نسب رسول اللہ سے جا ملتا ہے، جن کے آباواجداد اپنے اپنے وقت میں خدا کے نورِ ہدایت کے درجے پر فائز تھے، میرے یقین میں ایسی تردید محال ہے، پس ظاہر ہے کہ شاہ کریم ؑ ہی اس وقت سلسلہ امامت کے حقیقی جانشین اور امام برحق ہیں اور ان کے سوا اس درجے پر کوئی نہیں۔

جواب(و): دنیا میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو دین کے کسی بڑے مرتبے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ اس میں بعض دفعہ کچھ وقت کے لیے کامیاب بھی ہوجاتے ہیں مگر یاد رہے کہ باطل زیادہ وقت کے لیے ٹھہر نہیں سکتا، اس لیے وہ چلا جاتا ہے لیکن حق ہمیشہ قائم رہتا ہے، دیکھئے قرآن: وَقُل جَاء الحَقُّ وَزَہَقَ البَاطِلُ اِنَّ البَاطِلَ کَانَ زَہُوقا (۱۷: ۸۱) ترجمہ : اور (اے رسولﷺ) آپ کہہ دیجئے کہ حق آگیا اور باطل چلاگیا یقیناً باطل جانے والا ہوتا ہے۔

اس آیہ کریمہ میں بزبانِ حکمت فرمایا گیا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کو جو خلافتِ الہٰیہ اور امامتِ عالیہ حاصل تھی وہ حق تھی، اس لیے وہ دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہے گی، اسی طرح اور اسی معنی میں حضورﷺ خدا کی طرف سے نورِ ہدایت تھے، اور نور حق ہی حق ہے، اور حق ہمیشہ کے لیے قائم رہتا ہے تو کہاں ہے وہ حق یعنی نورِ ہدایت بجز امام حق کے جو شاہ کریم الحسینیؑ ہیں

۱۶

اور اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ خدا کا نور مخالفین کے بجھانے کی کوشش کے باوجود ہرگز نہیں بجھتا کیونکہ وہ حق ہے باطل نہیں، تو میرے مولا کے برحق ہونے کے ثبو ت میں اس روشن دلیل کے علاوہ اور کیا ہو کہ وہ خدا و رسول کی طرف سے سرچشمہ ہدایت ہیں اور اسلام میں ایسے سرچشمے کا ہونا حق ہے جیسا کہ آنحضرتﷺ کے زمانے میں اور آپ کے بعد ہدایت کا یہی مرکز قائم تھا۔

 زکوٰة

سوال نمبر۵: تمہاری زکات شرعی زکات سے کیوں مختلف ہے؟ اور وہ براہِ راست غرباء و مساکین میں کیوں تقسیم نہیں ہوتی؟ کہ جمع کرکے امام کو دی جاتی ہے؟

جواب (الف): میں نے اس تحریر کی ابتدا ہی میں سوال نمبر ۱ کے جواب دیتے ہوئے دلیل دی ہے کہ شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے درمیان فرق ہے، مگر ان سب کا مقصدِ اعلیٰ ایک ہی ہے، چنانچہ اگر کوئی باشعور انسان ذرا غور سے دیکھے تو اسے صاف طور پر معلوم ہوجائے گا کہ زکوٰة کی جو روح اور جو آخری مقصد کی تکمیل اسلام میں ہونی چاہیے، وہ اسماعیلیت میں کلی طور پر ہوتی رہی ہے۔

جواب (ب): میں نے کہا کہ ہمارے یہاں طریقِ زکوٰة اسلامی روح کے تقاضے اور مقصدِ اعلیٰ کے عین مطابق ہے، اور یہاں زکوٰة سے جتنا فائدہ غربا ومساکین کو دلایا جاتا ہے اتنا کہیں بھی نہیں اور امام ایک اعتبار سے زکوٰة لیتے ہیں اور دوسرے

۱۷

اعتبار سے نہیں لیتے، چنانچہ اسماعیلیوں کے نظامِ زکوٰة کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق چلتا ہے، یعنی جس زمانے میں اور جس ملک میں جیسا تقاضا ہوتا ہے ویسا نظام بھی اس کے ساتھ مطابقت کرتا ہے اور محتاجوں کو زکوٰة سے زیادہ فائدہ دلانے کے یہ معنی ہیں کہ بجائے اس کے کہ ان کو ایک وقت کا کھانا کھلایا جائے یا ایک جوڑا کپڑوں کا دیا جائے یا کچھ نقد پیسے یا کوئی اور جنس ان میں تقسیم کر دی جائے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ جہالت و غربت کی لعنت کو بنیاد ہی سے ختم کرکے جماعت کے پس ماندہ افراد کو ہمیشہ کے لئے علم و ہنر کی دولت سے مالا مال کردیا جائے اور اس مقصد کے حصول کے لیے صحت اور تعلیم و تر قی کے مختلف اداروں کا قیام ضروری ہوتا ہے، لہذا امامِ زمان کی سرپرستی و رہنمائی میں زکوٰة کی جمع آوری ہوتی ہے، اور بس اسی معنی میں میں نے کہا تھا کہ امام ایک اعتبار سے تو زکوٰة لیتے ہیں اور دوسرے اعتبار سے نہیں لیتے یعنی جماعت سے امام کا زکوٰة لینا صرف اتنا ہی ہے کہ اس کے نظام کی سر پرستی کرتے ہیں، دعا دیتے ہیں اور جماعتی اداروں کے قیام و اجرا کے سلسلے میں اخراجات کی منظوری و ہدایت دیتے ہیں۔

جواب (ج):مذہب کی یکجہتی اور اتفاق و اتحاد کا فلسفہ یہی ہے کہ زکوٰة کی طاقت کو منتشر ہونے سے بچالیا جائے، وہ ایک ہی جگہ پر جمع ہو اور اس کا استعمال ہادی برحق کی ہدایت کے مطابق ہو، سو اسماعیلی مذہب میں یہی ہوتا ہے۔

زمانہ قدیم میں جن ثوابی کاموں کو ترجیح دی جاتی تھی وہ اس زمانے کے مطابق ضروری تھے، مثلاً غلاموں اور کنیزوں کو خرید کر آزاد کردینا، یتیموں، غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلانا

۱۷

یا کپڑے دینا وغیرہ اب زیادہ سے زیادہ ثواب اس میں ہے کہ ہر قسم کے کمزور اور مجبور انسانوں کو علم و ہنر کی لازوال دولت سے مالامال کردیا جائے دینی اور دنیاوی فلاح و بہبود کے ادارے قائم کئے جائیں تاکہ اس سے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں اضافہ ہو اور اسلام کی عالمگیر روح کو تقویت اور مدد ملے، امام عالی مقامؑ اسلام کے اسی منشاء کے مطابق زکوٰة سے کام لیتے ہیں۔

رسومات:

سوال نمبر۶: تمہاری مذہبی رسومات کس حد تک درست اور صحیح ہیں؟ خصوصاً ناندی کے بارے میں بتاؤ؟

جواب ( الف): ہماری مذہبی رسومات کے ثبوت میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے، تاہم یہاں چند ہی نکات پر اکتفا کیا جائے گا، اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دین اور دنیا کی اکثر اصلی اور قیمتی چیزیں ایسی ہیں، جن کا وجود و قیام کچھ دوسری بہت معمولی چیزوں کے اندر ہوتا ہے، مثلاً درخت کے تنا اور شاخوں کی حفاظت چھلکوں کی بدولت ہوتی ہے اسی طرح پھول پھل اور غلہ جات کا بھی کوئی غلاف، چھلکا وغیرہ ہوتا ہے تاکہ اس میں اصلی چیز محفوظ رہے اگر کوئی انجان آدمی تنا کے چھلکوں کو بیکار سمجھ کر چھیل پھینکے تو ظاہر ہے کہ درخت بہت جلد سوکھ جائے گا، چنانچہ کوئی شک نہیں کہ مذہبی رسومات ایک نا واقف انسان کی نظر میں عام اور معمولی چیزیں لگتی ہیں مگرجاننے والا ہی جانتا ہے کہ ان رسومات کے چھلکوں کے اندر عقائد اور ایمان کا درخت کس

۱۹

شان سے محفوظ ہے اور جب تک پھل درخت پر ہی تو ان کی پختگی اور حفاظت کے لیے چھلکے کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔ اس مثال سے ظاہر ہوا کہ اگر مذہبی رسومات نہ ہوں تو عقیدہ ختم ہوجائے گا۔

جواب (ب):  ہماری مذہبی رسومات کلی طور پر صحیح اور حق و صداقت پر مبنی ہیں کیونکہ یہ سر تا سر امامِ زمان ؑ کے امرو فرمان کے مطابق ہیں یا ان کے متعلق صاحبِ امر کی تصدیق کی سند موجود ہے، جبکہ امامِ برحق خدا و رسول کی جانب سے مختارِ دین ہیں، کیونکہ آپ نہ صرف اللہ اور اس کے رسولِ پاکﷺ کے فرمان گزار ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اولوالامر کی حیثیت سے خود بھی ہدایت کرنے والے ہیں، لہذا ہماری مذہبی رسومات کے حق بجانب ہونے میں ذرہ بھر شک نہیں۔

جواب (ج):  یہ حقیقت ہے کہ کسی ملک و قوم کی جائز اور مناسب رسومات تشریع کی اصل و اساس ہوا کرتی ہیں، اس کے یہ معنی ہیں کہ جب شریعت بنی تھی تو اس میں مفید رواج پیشِ نظر رہا ہے۔ اور جب بھی شریعت کے کسی گوشے میں تبدیلی آتی ہے تو وہ رواج کے تغیر و تبدل کی وجہ سے یوں ہوتی ہے، ملاحظہ ہو مولانا جعفر شا ہ پھلواروی کی کتاب" اسلام۔دینِ آسان" اور"اجتہادی مسائل"۔

جواب (د):  ناندی (منادی) کا مطلب ہے کسی نیک کام میں حصہ لینے کا اعلان، اور یہ رسم دینِ اسلام کے تصورِ مسابقت ( آگے بڑھنے میں مقابلہ کرنا) کے عین مطابق ہے، چنانچہ قرآن میں ہے کہ : وَیُسَارِعُونَ فِی الخَیرَات (۳: ۱۱۴)، اور وہ نیک کاموں میں

۲۰

دوڑ پڑتے ہیں، یعنی نیکی میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، نیز ارشاد ہوا ہے کہ: اُولَئِکَ یُسَارِعُونَ فِی الخَیرَاتِ وَہُم لَہَا سَابِقُون (۲۳: ۶۱) یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور بھلا ئیوں کی طرف (دوسروں سے) لپک کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ : فَاستَبِقُوا الخَیرَات (۵: ۴۸) سو تم نیکیوں میں سبقت لے جاﺅ۔ نیک کاموں میں سبقت لے جانا، ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرنا اور اپنے حسنِ عمل کے ذریعے سے دوسروں کو نیکی پر اُبھارنا یہ سب قرآنی تعلیما ت میں سے ہیں، لہذا ان کی کچھ مثالیں جماعت خانہ میں پیش کی جاتی ہیں تاکہ دین کی عملی صورت ہمیشہ جماعت کے سامنے رہے، چنانچہ رسولﷺ اکثر دفعہ مسجد ہی میں اعلان فرماتے تھے کہ فلان کام کے لیے مالی قربانی کی ضرورت ہے، جس میں اصحابِ کبار رضوان اللہ علیہم ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

صلاۃ:

سوال نمبر۷: اسماعیلی جماعت میں صلاة پر کس حد تک عمل ہوتا ہے؟ اور ان کے نزدیک صلاة کے کیا معنی ہیں؟

جواب (الف):صلاة کے معنی ہیں نماز، دعا، رحمت، درُود چنانچہ لفظ صلاة قرآن میں جہاں جہاں دعا، رحمت اور درُود کے معنی میں آیا ہے، اس میں البتہ کوئی سوال نہیں، لیکن جن مقامات پر یہ لفظ نماز کے لیے آیا ہے وہاں ایسی نماز بھی ہے، جس میں کوئی رکوع و سجود نہیں، جیسے نمازِ جنازہ اور پرندوں کی نماز (۹: ۸۴، ۲۴: ۴۱) سو جہاں صلاة

۲۱

کے معنی نماز کے ہیں وہاں ہم نے نہ صرف ماضی میں نماز قائم کی بلکہ حال میں بھی اس کا عملی نمونہ ، ثمرہ اور تاویلی حکمت ہمارے مذہب میں موجود ہے اور جہاں صلاة کے معنی دعا کے ہیں تو ہم اس کے لیے ہمیشہ جماعت خانہ میں دعا پڑھتے ہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ جس طرح صلاة کے معنی میں نماز بھی ہے اور دعا بھی، اسی طرح وہ عبادت و بندگی جو ہم جماعت خانے میں کرتے ہیں اگر ایک اعتبار سے دعا ہے تو دوسرے اعتبار سے نماز ہے، کیونکہ اس میں نماز کی روح اور غرضِ غایت پوری طرح سے موجود ہے اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے ملاحظہ ہو کتاب" گُلستانِ حدیث" از مولانا محمد جعفر شاہ پھلواروی۔

جواب (ب): نماز کی روح اور مقصد کب تک قائم رہ سکتا ہے، اس کے لیے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۳۹ میں بغور دیکھا جائے اور اس ارشاد کا ترجمہ یہ ہے

پھر اگر تم کو اندیشہ ہو تو کھڑے کھڑے (یعنی چلتے چلتے) یا سواری پر چڑھے چڑھے (نماز) پڑھ لیا کرو۔ اب اس صورت میں ظاہر ہے کہ نماز کی اصلیت و حقیقت اور مقصد اپنی جگہ پر قائم ہے باوجود اس کے کہ نماز کے تقریباً سب ظاہری آداب ساقط ہوگئے کیونکہ پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر جاتے ہوئے نماز پڑھنے میں نہ تو قبلہ کی شرط پوری ہوسکتی ہے اور نہ رکوع و سجود وغیرہ کی اور ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نمازِ خوف ہے جو کہا جاسکتا ہے کہ یہ حالتِ مجبوری ہے، لیکن یہ داصل جبر نہیں ہے بلکہ دین میں آسانی کی ایک صورت ہے، اور یہ اس حقیقت کا ثبوت بھی ہے کہ نماز کئی قسم کی ہے، اور ان تمام قسموں میں جو اصل حصہ ہے وہ دعا اور ذکرِ الٰہی ہے جس میں عبادت کی روح اور حصولِ مقصد کا جوہر پنہان ہے، یہی وجہ ہے کہ نمازِ خوف میں وہ تمام چیزیں اٹھائی گئی ہیں کہ جن کے بغیر بھی نماز کی روح ار مقصد برقرار رہ سکتا ہے، اب ایسی نماز کی صورت تقریباً

۲۲

تقریباً دعا، تسبیح اور ذکرِ الٰہی کی سی ہوجاتی ہے، اسی لیے میں نے کہا تھا کہ جماعت خانے کی عبادت نہ صرف دعا ہی ہے بلکہ وہ ایک طرح کی نماز بھی ہے۔

یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے پیشِ نظر رہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے حق میں آسانی و سہولت چاہتا ہے۔ دشواری و سختی نہیں چاہتا، جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے: یُرِیدُ اللّہُ بِکُمُ الیُسرَ وَلاَ یُرِیدُ بِکُمُ العُسر (۲: ۱۸۵) مگر اس میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حق تعالیٰ ہمارے واسطے آسانیاں اور سہولتیں مہیا کردینا چاہتا ہے اور دینی احکام میں کوئی دشواری نہیں چاہتا تو اس کی مشیت و قدرت کے ظہورِ فعل کے لیے کون سی چیز مانع ہوسکتی ہے؟ اور ایسی عظیم رحمت کے حصول کے لیے بندوں کو کیا کرنا چاہیے؟ سو اس کا جواب بھی خود قرآنِ پاک ہی سے ملتا ہے اور وہ اس فرمانِ خداوندی میں ہے

                 وَمَن یَتَّقِ اللَّہَ یَجعَل لَّہُ مِن اَمرِہِ یُسراً (۶۵: ۴)

اور جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا۔ آپ بھول نہ جائیں کہ یہ ارشاد زمانہ نبوت کا ہے اور اس میں یہ بشارت ہے کہ جو لوگ دینی احکام کی بجاآوری میں خوفِ خدا اور تقویٰ کو ملحوظِ نظر رکھیں ان کو آگے چل کر دین میں آسانیاں اور سہولتیں مہیا کردی جائیں گی، کیونکہ عبادات و معاملات میں جہاں دشواری اور ریاضت و محنت ہے اس کا مقصد سوائے تقویٰ کے کچھ بھی نہیں اور تقویٰ سب کچھ ہے۔

                 اسی مقصد کی تشریح اور وضاحت کے طور پر فرمایا گیا

                 سَیَجعَلُ اللَّہُ بَعدَ عُسرٍ یُسراً (۶۵: ۷)

خدا عنقریب ہی دشواری کے بعد آسانی پیدا کرے گا۔ یعنی شریعت کے باطن سے

۲۳

طریقت اور طریقت کے باطن سے حقیقت ظاہر کردے گا، اور تنزیل کے بعد تاویل کی حکمتوں سے روشناس کرے گا کیونکہ سب سے بڑی آسانی یہی ہے اور اس کی دلیل وہ چھوٹی چھوٹی آسانیاں ہیں جن کا تجربہ ہر نیک مسلمان اپنی روزمرہ کی زندگی میں کرسکتا ہے، مثلاً ہر قسم کی عبادت و ریاضت کی بجاآوری اور پابندی کے سلسلے میں دشواری کے بعد اللہ تعالیٰ کی مدد ویاری سے آسانی کا احساس ہوجانا، رفتہ رفتہ نیکی اور تقویٰ کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ رہنا وغیرہ۔

جواب(ج): مجھے پھلواروی صاحب کی اکثر باتیں بہت ہی پسند ہیں، وہ اپنی کتاب " گُلستانِ حدیث" کے صفحہ نمبر ۵ پر" چند کلماتِ نماز" کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ :"ہم لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ نماز ایک بندھی ٹکی سی چیز ہے جس کے کلمات معین اور حرکات مقرر ہیں، اس میں شک نہیں کہ نماز کا بہترین طریق ادا وہ ہے جو حضور ﷺ نے بتایا ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ دوسرے طریقے غلط ہیں، آدمؑ سے لے کر مسیحؑ بلکہ حضورﷺ تک جتنے پیغمبر بھی نماز ادا کرتے تھے ان کے طریقے خواہ مختلف ہوں لیکن تھی وہ سب ہی نماز۔ ان کی شکلیں جداگانہ تھیں، لیکن روح سب کی ایک ہی تھی، اور دراصل مطلوب و مقصود ہی روح ہے نہ کہ کوئی مخصوص شکل۔ یہ نماز جب با جماعت ادا کی جائے تو نظم و ضبط اور ڈسپلن کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ سب کی نماز میں یکسانی ہو، لیکن انفرادی نماز میں اگر ذوق و شوق عام اندازِ ادا پر غالب آجائے تو وہ کوئی نقصان کا سبب نہیں ہوتا۔ بعض اوقات تو جماعت کے اندر بھی معمولی اختلاف مضر نہیں ہوتا۔“ اس حقیقت بیانی کے بعد اور کوئی چیز قابلِ ذکر نہیں رہتی۔

۲۴

مرد عورت کی یکجا عبادت:

سوال نمبر۸: پوچھا گیا ہے کہ جماعت خانہ میں مرد و عورت ایک ساتھ کیوں عبادت کرتے ہیں؟

جوا ب (الف): تم وہ قرآنی آیت دکھاؤ یا پڑھ کر سناؤجس میں فرمایا گیا ہو کہ ایساکرنا حرام ہے یا ممنوع ہے یا مکروہ ہے، یا یہ ثابت کرو کہ رسولﷺ کے عہدِ مبارک میں مسلمان عورتیں مسجد میں نہیں جاتی تھیں۔

جواب(ب): اسلام کے آداب و ارکان صرف مردوں ہی کے لیے نہیں خواتین کے لیے بھی ہیں، جو لوگ عورت کو مقامِ عبادت سے دور اس لیے رکھنا چاہتے ہیں کہ اس کی موجودگی کے سبب سے نفسِ انسانی کی سرکشی میں اضافہ ہوجاتا ہے، تو ان کو تارک الدنیا ہو کر کسی جنگل میں چلے جانا چاہئے، کیونکہ عبادت میں خلل صرف عورت کی وجہ سے نہیں پڑتا، بلکہ اس کیلئے بہت سی چیزیں ہیں، جن کا مجموعی علاج مجاہدہ نفس اور تقویٰ ہے، یعنی نفسِ امارّہ کے خلاف جہاد کرتے ہوئے پرہیزگاری اختیار کرنا ہے، نہ کہ کسی ایک چیز کو یا چند چیزوں کو اس دنیا سے خارج کردینا۔

فقط جماعت کا علمی خادم

علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی

۹ جنوری ۱۹۷۷ء

۲۵

درجاتِ اسلام

(از قلم علاّمہ نصیرُالدّین نصیر ہونزائی)

دینِ اسلام صراطِ مستقیم (یعنی سیدھا راستہ) ہے اور ظاہر ہے کہ ہر طویل راستے کی چند منزلیں ہوا کرتی ہیں، جن کے نام ہیں: شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت، ہم ان چار منزلوں کو چار درجات بھی کہہ سکتے ہیں، مگر یہاں یہ اصول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یاد رہے کہ ان میں سے ہر درجے میں دو سے تین درجوں کے اجزاء بھی کم و بیش شامل ہیں، مثال کے طور پر جس منزل میں حقیقت ہے اس میں خالص حقیقت نہیں ہوسکتی ہے لہٰذا ایک اندازے کے مطابق حقیقت میں ۲۰ فیصد شریعت، ۲۵ فیصد طریقت، ۳۰ فیصد حقیقت اور ۲۵ فیصد معرفت کی باتیں ہوتی ہیں، یہی مثل باقی تین درجوں کی بھی ہے، اس مطلب کو درجِ ذیل نقشہ میں ظاہر کیا گیا ہے:۔

اجزائے چہارگانہ

مجموعہ معرفت

فیصد

حقیقت

فیصد

طریقت

فیصد

شریعت

فیصد

منازل شمار
۱۰۰ ۱۵ ۲۰ ۲۵ ۴۰ شریعت ۱
۱۰۰ ۲۰ ۲۵ ۳۰ ۲۵ طریقت ۲
۱۰۰ ۲۵ ۳۰ ۲۵ ۲۰ حقیقت ۳
۱۰۰ ۴۰ ۲۵ ۲۰ ۱۵ معرفت ۴

اسمٰعیلی اصطلاحات

 

نعت

حضرتِ سیدُ الانبیاء و المرسلین

وہ بادشاہِ انبیاء وہ تاجدارِ اولیاء

محبوبِ ذاتِ کبریاء یعنی محمد مصطفیٰ

وہ رحمۃ للعالمین سلطانِ پاکِ ملکِ دین

وہ ھادیٔ حق الیقین یعنی محمد مصطفیٰ

اقدس ہے اسکا سلسلہ عالی ہے اسکا مرتبہ

قرآن ہے اس کا معجزہ یعنی محمد مصطفیٰ

وہ مفخرِ سب مسلمین وہ سرورِ سب کاملین

وہ رحمتِ دنیا و دین یعنی محمد مصطفیٰ

وہ پیشوائے مرسلین وہ ہے شفیع المذنبین

مقصودِ ربُ العالمین یعنی محمد مصطفیٰ

وہ تھا نبی وہ تھا صفی علمِ الٰہی میں غنی

محتاج اس کے ہیں سبھی یعنی محمد مصطفیٰ

جس شب گئے پیشِ خدا افلاک سب تھے زیرِپا

لولاک ہے اس کی ثنا یعنی محمد مصطفیٰ

۱

نورِ مجسم وہ نبی خود اسمِ اعظم وہ نبی

سب سے مقدم وہ نبی یعنی محمد مصطفیٰ

میں ہوں نصیرِ خاکسار اے سیدِ عالی وقار

راضی ہے تجھ سے کردگار جنت تجھی سے پربہار

یعنی محمد مصطفیٰ یعنی محمد مصطفیٰ

ن۔ن (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔آئی(

کراچی

اتوار ۱۳ ؍ جنوری ۲۰۰۲ء

۲

آغازِ کتاب

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا نہ شمار ہو سکتا ہے اور نہ اِحاطۂ بیان، جیسا کہ قرآنِ پاک کا ارشاد ہے: و اٰتکم من کل ما سالتموہ و ان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (۱۴: ۳۴) ترجمہ: اور پھر ہر چیز سے جو کچھ تم نے اس سے مانگا اس نے تمہیں وہی کچھ دے دیا۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کا احاطہ نہ کر سکو گے۔

          اس حقیقت میں کوئی شک ہی نہیں کہ ہم سب کے سب اس کی نعمتوں کے دریا میں مستغرق ہیں۔

          اسماعیلی اصطلاحات کی یہ کتاب  یہاں تک مکمل ہوئی اگرچہ تمام اسماعیلی اصطلاحات اس میں موجود نہیں ہیں، اور یہ کام عرصۂ قلیل میں ہو نہیں سکتا تھا، جب جب کوئی خاص تاویلی راز کا انکشاف ہونے لگا تو میں نے اسی کی پیروی کو ضروری سمجھا، بہ ہر کیف یہ کتاب اب آپ کے سامنے ہے، یہ کتاب میرے رب اور عالمِ شخصی کے فرشتوں کی مدد سے تیار ہوئی ہے، فرشتے وہ جو باری باری سے حبل الورید کا کام کرتے ہیں، بفضلِ مولا میں کبھی کا اپنے

۳

عزیزوں سے قربان ہو چکا ہوں۔

          ؎ زھر کم کمترم گربی تو باشم

               زگردون برترم گر با تو باشم

نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

اتوار ۱۰، اگست ۲۰۰۳ ء

۴

اس کتاب کے دو نام

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ سورۂ اعراف (۷: ۱۸۰) کا ارشاد ہے: وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسنٰی فَادْعُوْہ بِھَا۔ واللہ! اسمِ اعظم ہی میں تمام اسماءِ حُسْنیٰ جمع ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا وہ بزرگ ترین اسم یقیناً امامِ زمانؑ ہے (ارواحنا فِداہٗ)!

          اس کتابِ عزیز کے دو پیارے نام ہیں، اس کا ایک نام ’’اسماعیلی اصطلاحات‘‘ ہے، اور دوسرا نام ’’جنت کی سیڑھی‘‘، جیسا کہ مولای روم نے کہا: نردبانِ آسمان است این کلام۔ شاید مثنوی کے بارے میں ہے: ترجمہ: یہ کلام آسمان کی سیڑھی ہے۔ سیڑھی زبردست پرحکمت مثال ہے (۷۰: ۱ تا ۴) معارج = معراج کی جمع۔

          یہ بہت ہی پیاری کتاب ہمارے بیحد عزیز لٹل اینجلز کے اسمائے گرامی پر ہے، خواہ ہمارے عالمِ شخصی کے یہ فرشتے اور دوسرے فرشتے مشرق میں ہیں یا مغرب میں؟ اس سے باطن میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے، کیونکہ ہم سب کو حضرتِ قائم علیہ السلام نے اپنی بے پایان رحمت سے یک حقیقت کے سانچے میں ڈھال کر یک جان بنا دیا ہے، جس طرح زرگر (سنار) سونے کے بہت سے ذرات کو پگھلا کر سونے

۵

کی ایک ڈلی بناتا ہے، ہماری ابدی سعادت، کامیابی اور جنت اسی وحدت میں ہے۔

          کتابِ ہذا کو لٹل اینجلز کی جانب سے شائع کرنے کی تجویز ہمارے بہت عزیز سابق کامڑیا حسن نے دی ہے، ہم اسی کتاب میں ان کی زرین خدمات پر چند کلمات لکھنے والے ہیں، ان شاء اللہ العزیز۔

نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

جمعہ ۱۵، اگست ۲۰۰۳ ء

۶

انتساب

          دانش گاہِ خانۂ حکمت نے شرق و غرب کے تمام اپنے لٹل اینجلز کے نیک بخت والدین کو ہائی ایجوکیٹرز کا باعزت نام دیا ہے، ’’ہم خرما و ہم ثواب‘‘ اپنے بچوں کو دین و دنیا کے زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا ایک ہمہ جہت عظیم کارنامہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

          آپ اپنی گریہ و زاری کی خاص دعاؤوں میں یہ دعا بھی کریں کہ آنے والا زمانہ اور بھی زیادہ روشن اور بیش از بیش ترقی کا ہو! جس میں ہمارے ان فرشتوں کو ہماری توقعات سے کہیں زیادہ دین و دنیا کی عزت اور نیک نامی نصیب ہو! آمین!

          سابق کامڑیا حسن ابنِ حیدر علی چارانیہ (مرحوم) اور سابقہ کامڑیانی کریمہ اہلیۂ حسن اور ان کا فرزندِ ارجمند سلمان ابنِ حسن، یہ تینوں عزیزان آئی۔ ایل۔ جی کا آنر رکھتے ہیں، کریمہ ڈالاس کے لئے سرپرستِ اعلیٰ کی پرسنل سیکریٹری ہے۔

          ہمارے ہر عزیز کی زرین خدمات کا آسمانی ریکارڈ اس کی نورانی مووی میں انتہائی خوبی کے ساتھ محفوظ ہے، ہمارے ساتھیوں کی گرانقدر خدمات اس قدر زیادہ ہیں کہ ہم ان کا قلمی احاطہ ہرگز نہیں کرسکتے ہیں، مگر کراماً کاتبین

۷

کی نورانی مووی سے کوئی ذرہ بھر خدمات بھی باہر ہو نہیں سکتی ہے، اس یقینِ کامل کے ساتھ میں تمام علمی خدمت کرنے والوں کو مبارک باد! کہتا ہوں، آمین ! یارب العٰلمین!

الٰہی چارۂ بیچارگان کن                          الٰہی رحمتی بر مومنان کن

الٰہی رحمتت دریای عام است                   وزانجا قطرۂ مارا تمام است

گناہ داریم بیش از کوہِ الوند                      گناہ ازبندہ و عوف از خداوند

خداوندا سعادت یارِ ماکن                         زرحمت یک نظر برکارِ ما کن

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

سنیچر ۱۶، اگست ۲۰۰۳ء

۸

تحفۂ لازوال برائے لٹل اینجلز

لٹل اینجلز سب کے سب بفضلِ اللہ ہمارے ہیں

مجھے حبِ علی جیسے یقیناً سب پیارے ہیں

کیا یہ حور و غلمان ہیں مثالِ زندہ گلدستے ؟

کتابیں ہیں؟ نوشتے ہیں؟ نہیں اصلاً فرشتے ہیں

تمہارے ہر تبسم میں نرالی گل فشانی ہے

نباتی گل فشانی میں عزیزو! کیا نشانی ہے؟

تمہارے شہر میں دیکھا ہمیشہ موسمِ گل ہے

پرندے مستِ نغمے ہیں صدائی سوزِ بلبل ہے

کمالِ علم و حکمت کو طلب کر رب العزت سے

کہ مایوسی نہیں ہوتی خدا کے بحرِ رحمت سے

تیاری حربِ علمی کی نہ بھولو لشکرِ قائم!

جہان میں تادمِ آخر جہادِ علم ہے دائم

نصیر الدین کہتا ہے لٹل اینجلز ہمارے ہیں

مجھے حبِ علی جیسے یقیناً سب پیارے ہیں

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

روزِ یک شنبہ ۲۴، دسمبر ۲۰۰۰ء

۹

اسماعیلی اصطلاحات پر کتاب کی سخت ضرورت

          جناب محترم حاجی قدرت اللہ بیگ صاحب مرحوم اپنے وقت میں زبردست عالم اور بڑے معروف دانا شخص تھے، انہوں نے مجھ سے اسماعیلی اصطلاحات پرایک کتاب لکھنے کے لئے فرمایا تھا، لیکن مجھ سے یہ اہم کام بروقت نہ ہو سکا تھا، بعد میں مجھے شدت سے محسوس ہونے لگا کہ یہ کام بے حد ضروری بھی تھا اور ازبس مفید بھی، لہٰذا عرصۂ دراز کے بعد اب میں اپنے ترقی یافتہ شاگردوں کی مدد سے ان شاء اللہ ازبس مفید کتاب لکھنا چاہتا ہوں، کیونکہ اب دانش گاہِ خانۂ حکمت میں بفضلِ خدا کافی اہلِ قلم پیدا ہوئے ہیں۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

جمعرات ۲۰، اپریل ۲۰۰۰ء

          نوٹ:

          اصطلاح کی جمع آوری کا طریقِ کار اورنمونۂ گوشوارہ وغیرہ جناب ڈاکٹر (پی۔ ایچ۔ ڈی) فقیر محمد صاحب ہونزائی بحرالعلوم آپ کو بتائیں گے، کیونکہ ہم اسماعیلی اصطلاحات پر ایک مستند کتاب موصوف ڈاکٹر کے مبارک ہاتھ سے لکھنا چاہتے ہیں، ان شاء اللہ العزیز!

۱۰

جدید مثالوں اور اصطلاحات کی ضرورت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قرآن حکیم (۱۵: ۲۱) کو اگر چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے تو یقین آتا ہے کہ زمانۂ آدمؑ سے لے کر آج تک جو کچھ علوم و فنون انسانوں کو حاصل ہوئے ہیں، وہ سب کے سب خزائنِ الٰہی سے آئے ہیں، پھر آج ہم جس روحانی حکمت کو روحانی سائنس کہتے ہیں وہ کوئی معمولی چیز کس طرح ہو سکتی ہے؟ اگر ہم نامۂ اعمال کو ’’نورانی مووی‘‘ سے تعبیر و تاویل کرتے ہیں تو بفضلِ خدا درست ہے۔ کیونکہ آپ پہلے قرآنِ پاک کا فیض صرف کاغذی صورت میں ہی حاصل کر سکتے تھے، آج ظاہری سائنس کی برکت سے جو ہمارے رب نے اپنے خزانوں سے نازل فرمائی ہے، کئی سمعی و بصری آلات بنے ہوئے ہیں جن کے ذریعے سے آپ بآسانی قرآنِ حکیم کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پس ان شاء اللہ کل بہشت میں آپ کی کتاب اعمال نورانی مووی کی صورت میں ہوگی، جس کو دیکھ کر آپ بیحد شادمان ہوں گے، اس کے بارے میں آپ جو بھی سوال اٹھائیں اس کا جواب قرآنِ عزیز میں موجود ہے۔

          ۶۹: ۱۹ کا ترجمہ ہے: پس رہا وہ شخص جس کو کتابِ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی تو وہ کہے گا لو میری کتابِ اعمال کو پڑھو۔

۱۱

یہ نورانی مووی ہے، جس کو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، اس کو دیکھنا ہی پڑھنا ہے۔

؎ زدنیا تا بعقبیٰ نیست بسیار                            ولی در رہ وُجودِ تست دیوار

(حضرتِ پیر)

          ترجمہ: دنیا سے عقبا =  آخرت تک کچھ زیادہ مسافت نہیں، لیکن تیری اپنی ہستی درمیان میں دیوار بنی ہوئی ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

بدھ ۱۳، اگست ۲۰۰۳ء

۱۲

دربارۂ توصیفِ کتاب

آفتاب و ماہتاب و چرخِ اخضر ہے کتاب

                            چشمۂ آبِ حیات و آبِ کوثر ہے کتاب

حسن وخوبی میں یگانہ دلکشی میں طاق ہے

                   باغ و گلشن کی طرح اک خوب منظر ہے کتاب

بے مثال و لازوال انمول تحفہ علم کا

                            اے عزیزان لے کے رکھنا گنجِ گوہر ہے کتاب

میں جہاں بھی رہ چکا دن بھر کتابوں میں رہا

                   بس مرا گھر ہے کتاب اور میرا دفتر ہے کتاب

اک جہانِ  علم و حکمت ہے کتابِ مُستطاب

                   ہے اگر قرآن سے پھر سب سے برتر ہے کتاب

آیۂ قَد جَاءَ کُم (۵: ۱۵) کو پڑھ لیا کر جانِ من!

                   نورِ حق کی روشنی میں سب کو رہبر ہے کتاب

تو ہے بھیدوں کا صحیفہ تو ہے کنزِ لامکان

                            قولِ مولانا علیؑ ہے: تیرے اندر ہے کتاب

ہے کتابِ حق تعالیٰ باتَکلُّم ہر جگہ

                            ظاہر و باطن میں دیکھو میرا حیدر ہے کتاب

۱۳

معجزے ہی معجزے قرآنِ ناطق سے سنو

                   آج مولائے زمانہ، روزِ محشر ہے کتاب

نورِ ایمان نورِ ایقان نورِ علم و معرفت

                            سربسر انوار کی دولت سے بھر کر ہے کتاب

اس بہشتِ معرفت میں کیا نہیں ہے جانِ من!

                   کانِ راحت جانِ لذّت شہد و شکر ہے کتاب

مِثلِ یارِدلنشین محبوب ہے مجھکو کتاب

                            دِل کُشا ہے جانفزا ہے روح پرور ہے کتاب

جب قلم لیتا ہوں آتا ہے تجلّی بن کے وہ

                            یہ نوازش ہے اسی کی تب میسّر ہے کتاب

باغ و گلشن کی سیاحت میں ذرا سا حظ تو ہے

                   سیرِ علمی کے لئے بس سب سے بہتر ہے کتاب

اے نصیرالدّین تجھ کو سِرِّ اعظم یاد ہے؟

                            عالمِ عُلوی میں تنہا ایک گوہر ہے کتاب

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

ہفتہ ۷ جمادی الثانی ۱۴۲۰ ھ

۱۸؍ ستمبر ۱۹۹۹ء

۱۴

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱)

          اسلام کی اسماعیلی شاخ کی ازلی اور قدیم اصطلاح لفظِ ’’امام‘‘ ہے، اس کا ایک ترجمہ پیشوا  = راہنما (ھادی) ہے، یہ ھادی جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی جانب سے مقرر ہے امامُ الناس بھی ہے (۲: ۱۲۴، ۱۷: ۷۱) امام المُتقین بھی (۲۵: ۷۴)، نیز کلام اللہ کے ارشاد (۳۶: ۱۲) کے مطابق امامِ مبین لَوْحِ مَحفُوظ بھی ہے کہ اس کے احاطۂ نور میں سب کچھ ہے، جیسا کہ مولا علیؑ کا ارشادِ مبارک ہے: اَنَا اللّوحُ المَحفُوظ = یعنی میں لوحِ محفوظ ہوں (کتابِ کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت ۸)۔

          امام اپنی نورانیت میں ازلی اور قدیم ہے، بحوالۂ کتابِ سرائر، ص ۱۱۷ اور کتابِ خزینۂ جواھر، ص ۳، امام علیہ السلام اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کا الحی = زندہ اسمِ اعظم ہے، لہٰذا وہ نورِ ازل اور اللہ کے تمام اسمائے صفات کا جامع اور مظہر ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن ، ۶؍ جون ۲۰۰۳ ء

۱۵

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲)

          آدم، خلیفۃ، خلیفۃُ اللہ، ناطق، صفی اللہ (۳: ۳۳)، ھابیلؑ (اساس) شیثؑ (اساس)، آدمِ اول (اس آدم سے وہ بیشمار سال پہلے تھا)، مولا علیؑ نے فرمایا آدمِ اول میرے ظہورات میں سے تھا، کیونکہ میں عالم میں قدیم یعنی ہمیشہ ہوں۔

          اے عزیزان! آدمِ سراندیبی کے آئینہ میں بے شمار آدموں کو پہچان سکتے ہو، وہ ایک مستجیب تھا، یعنی اس نے حدودِ دین میں سے کسی کے ذریعہ سے دعوتِ حق کو قبول کر لیا، پھر اس کو ذکرِ اعظم = اسمِ اعظم عطا ہوا تھا، وہ کارِ بزرگ میں بڑا سخت محنتی تھا، بحوالۂ کتابِ سرائر، ص ۲۲۔

          اسماعیلی مذہب میں جو نورانی عبادت ہے وہ انبیاء و اولیاء کی قدیم سنت ہے، یہ نردبانِ آسمان ہے، یعنی آسمان پر چڑھنے کی سیڑھی ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن، ۷، جون ۲۰۰۳ء

۱۶

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳)

خلیل، ہزار حکمت (ح: ۳۲۵)، (امامُ الناس اور امام المتقین)، امامِ مقیم، امامِ اساس، امامِ مستقر، امامِ متم، امامِ مستودع، امامِ قائم، حجتِ قائم، داعی، باب، ھادی، صاحبِ امر = ولیٔ امر، ولایتِ ولی (۵: ۵۵)، اھلِ بیت، پنجتنِ پاک، چہار مقرب، چہار کتبِ سماوی، صاحبِ امر، اور صاحبانِ امر کا حوالۂ قرآن (۴: ۵۹)۔

          ھُنَالِکَ الوَلاَ یَۃُ لِلّہِ الْحَقِّ (۱۸: ۴۴) یہ مولا علیؑ کی ولایت کا ذکر ہے، بحوالۂ سرائر، ص ۱۱۶ (ایک سو سولہ)، کلمۂ باقیہ (۴۳: ۲۸)، امامت جس میں اسمِ اعظم کا سب سے بڑا معجزہ ہے، تاکہ سب اس کی طرف رجوع کریں۔

          یہ حدیثِ شریف کتابِ سرائر  ص ۱۱۵ پر ہے:

علیؑ تم میں خلیفۃ اللہ ہے، وہ تم میں اس کتابِ ناطق کا خلیفہ ہے جو خدا کے پاس ہے (۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹) اور اللہ کی اس کتاب کا خلیفہ ہے جو تم پر نازل ہو چکی ہے یعنی قرآن کا ، اور علیؑ قرآن کا دروازہ اور حجاب ہے، جس کے سوا قرآن

۱۷

میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۸، جون ۲۰۰۳ء

۱۸

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۴)

          نامۂ اعمال = نورانی مووی، حظیرۂ قدس = عرفانی جنت، روحانی قیامت، ناقوری مناجات، فرشتۂ حبل الورید، ذکرِ اعظم = نردبانِ آسمان، منزلِ اسرافیلی و عزرائیلی، نفسانی موت قبل از جسمانی موت = عارفانہ موت۔ شبِ قدر (حجتِ قائم روحی فداہٗ) کے زمانے میں جو روحانی قیامت ہوئی اس کے ذریعہ سے تمام عیال اللہ = عالمِ انسانیت کو نجات مل گئی۔ کتابِ وجہِ دین میں شبِ قدر کی تاویل کو پڑھ لیں۔

          قرآنِ حکیم میں جس کثرت سے قیامت کا ذکر آیا ہے وہ سب کی سب صرف روحانی قیامت ہی ہے، حکیم پیر ناصرِ خسرو کے فرمانے کے مطابق بے پایان قیامات ہیں، کیونکہ جسمانی موت نفسانی موت کی مثال اور دلیل ہے، پس  كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (۲۹: ۵۷) کی تاویل نفسانی موت اور روحانی قیامت ہے۔

          عالمِ کبیر، عالمِ صغیر = عالمِ شخصی ، کائناتی بہشت، عالمِ ذر، ناسوت، ملکوت، جبروت، لاہوت۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن ۸، جون ۲۰۰۳ء

۱۹

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۵)

          ازل، ابد، قلمِ اعلیٰ ، لوحِ محفوظ، عقلِ کل، نفسِ کل، جد، فتح، خیال، عرش، کرسی، حاملانِ عرش، سفینۂ نوح، پانی پر عرش، عالمِ دین، عالمِ وحدت، نفسِ واحدہ، آدمِ زمانؑ، نورانی بدن = جسمِ لطیف، سرابیل، جثۂ ابداعیہ، کتابِ مکنون، گوہرِ عقل، کلمۂ باری = کُن = ہوجا، کُونُوا = ہو جاؤ۔

          تصوف کے چار عناصر: شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت، آفاق و انفس، ظاہر، باطن، ہفت ادوار، ہفت صاحبانِ ادوار۔

          روحِ نباتی، روحِ حیوانی، روحِ انسانی، روحِ قدسی، روحِ اعظم، روح الارواح، روحِ کلی = نفسِ کلی، فلکِ اعظم = کرسی، عالمِ علوی = عالمِ بالا، عالمِ خلق، عالمِ امر، عالمِ روحانی، عالمِ آخرت، علمِ لَدُنّی، علمُ الآخرت (۲۷: ۶۶)۔

          سلوک، سالک، عارف، انسانِ کامل، فنا فی الامام، فنا فی اللہ، بقا باللہ، سَیْر اِلَی اللہ، سَیْر فی اللہ، علمِ تاویل، مثال،

۲۰

ممثول۔

          ناطق، اساس = وصی، امام، باب، حجت، داعی، ماذون، مستجیب۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن، ۹؍ جون ۲۰۰۳ء

۲۱

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۶)

          درجاتِ یقین، مَؤَوِّل، راسِخ فِی العِلم =امامؑ ، اسمِ اعظم لفظی، اسمِ اعظمِ نورانی = امامِ زمانؑ، وزیرِ موسیٰؑ، وزیرِ محمدؐ، آنحضرتؐ کے علم و حکمت کا دروازہ = علیؑ صالِحُ المومنین و یعسُوب المُسلمین وَ حبل اللہ المتین، اَلْعُرْوَۃ الْوُثْقیٰ (۲: ۲۵۶) = محکم کڑا، اَیّامِ اللہ (۱۴: ۵) = عارف کی روحانی قیامت کا عرصہ جس میں معرفت کے اسرار ہی اسرار ہیں، یعنی جس میں چھ ناطق اور قائم کے اسرار ہوتے ہیں، جو اللہ کے سات دن ہیں، نیز اَیّامٍ معلوماتٍ (۲۲: ۲۸) میں سوچیں۔

          (۱۴: ۲۴) کی بے مثال حکمت کتابِ وجہِ دین میں پڑھو، اس آیۂ کریمہ میں پاک درخت سے مراد آنحضرتؐ ہیں، پاک کلمہ اسمِ اعظم ہے، درخت کی شاخ جو حظیرۂ قدس کے آسمان میں ہر وقت پھل دیتی رہتی ہے، امامِ زمانؑ کی نورانیت ہے۔

          علوم التاویل المحض المجرد = مشاہداتِ اسرار و انوارِ حق الیقین، کتا بِ سرائر، ص ۲۸۔

          آدمِ سراندیب  = آدمِ سراندیبی دارالضِّد (دشمن کے ملک)

۲۲

میں پیدا ہوا تھا، سرائر ص ۲۷، امام کے لاحق اور حجت اس کی روحانی پرورش کرتے تھے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۰؍ جون ۲۰۰۳ء

۲۳

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۷)

          نامۂ اعمال = نورانی مووی انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی، چنانچہ جب جب امامِ زمان (ارواحنا فداہٗ) کی بابرکت اور پرحکمت تشریف جماعتِ باسعادت میں آرہی ہوتی ہے اور اس کی بے پایان خوشی کے جو بے مثال انتظامات ہوتے ہیں اس کی لاکھ درجہ بہتر نورانی مووی ہوتی ہے، تاکہ جنت الاعمال کے حسین مناظر کا طُرَّۂ امتیاز ہو، الغرض حضرتِ امامِ زمانؑ کی ہر سالگرہ، ہر خوشی، ہر علمی اجتماع اور ہر چھوٹی بڑی روحانی مجلس کی نورانی مووی ہوتی ہے، جس کی لازوال حسن و جمال کو دیکھ کر اہلِ بہشت حیرت زدہ ہوں گے۔

          جس طرح مادی مووی انسان کو کثیف سے لطیف کر دکھاتی ہے اسی طرح نورانی مووی انسان کو ظلمانی سے نورانی اور لافانی بناتی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور غالب معجزہ ہے۔

          جب رحمتِ عالمؐ پر قرآن نازل ہوا اور اس میں خدا نے آفاق و انفس کے معجزات دکھانے کا وعدہ فرمایا تب ہی دنیا میں ظاہری سائنس کا انقلاب آیا، اس سے پہلے کوئی ایسا انقلاب کیوں نہیں آیا تھا؟ پھر کیا ظاہری سائنس اللہ کی نشانیوں میں سے نہیں ہے؟ کیا ہمیں اس کی

۲۴

مثالوں سے دین کی اعلیٰ حقیقتوں کو سمجھنا منع ہے؟ اگر اللہ کا منشا ایسا ہوتا تو وہ عَزّاِسمُہٗ پہلے انفس کی نشانیاں پھر بعد میں آفاق کی نشانیاں دکھاتا، ہم سوچ نہیں سکتے جس طرح سوچنے کا حق ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۲، جون ۲۰۰۳ء

۲۵

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۸)

          یک حقیقت = مونوریالٹی، اَلَسْتُ؟ = اَلَسْت، تَجَدُّد ، سُنَّتِ اِلھٰی، لاتبدیل، فِطْرَت اللّٰہِ (۳۰: ۳۰)، قانونِ تسخیر (۳۱: ۲۰)، قانونِ خزائنِ (۱۵: ۲۱)، نُورِ منزل (۵: ۱۵)، نورِ مومنین وَمومنات (۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹ ، ۶۶: ۸ )، دیکھو کتابِ سرائر، ص ۱۱۶: چہرۂ علیؑ (امامِ زمانؑ) کی طرف نظر کرنا عبادت ہے۔

          قرآن میں جہاں جہاں اللہ کے نور کا ذکر آیاہے، وہ تاویلاً امامِ زمانؑ کے نور کا ذکر ہے، آپ ما قیلَ فِی اللہ کے ارشاد کو ہرگز فراموش نہ کریں۔

          جو نور مومنین و مومنات سے منسوب ہے وہ بھی دراصل امامِ زمانؑ ہی کا نور ہے، حقیقتِ حال اس طرح سے ہے کہ جب جب کسی عالمِ شخصی کی روحانی قیامت برپا ہونے لگتی ہے تو اس میں امامِ زمان (ارواحنا فداہٗ) کا نور طلوع ہو جاتا ہے، کیونکہ ناقور امامِ زمان ہے، قیامت امامِ زمان ہے، اور قائم بھی امامِ زمان ہے، اور سب سے اول اللہ کا اسمِ اعظم امامِ زمان علیہ السلام ہے، الحمد اللہ۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن ۱۳، جون ۲۰۰۳ء

۲۶

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۹)

          امام علیہ السلام لوگوں پر خدا کی حجت ہیں، کتابِ وجہِ دین، کلام ؍۱، ص ۲۷۔ علم دراصل کس چیز کا نام ہے؟ اور اس کا حقیقی سرچشمہ کہاں ہے؟ کلام؍۳، ص ۵۱۔ عالمِ لطیف = عالمِ روحانی ، کلام ؍۴، ص ۵۳۔ بہشت، کلام ؍ ۵، ص ۶۱۔

          اللہ تعالیٰ کی جانب سےچھ ناطق، چھ وصی، اور حضرتِ قائم آئے، اس کی یہ تاویل ہے کہ عَزَّ اِسْمُہٗ نے ان چھ دنوں میں عالمِ دین کو پیدا کیا، پھر اس کے عرش کا ظہور بحرِ علم پر ہوا (۱۱: ۷)، پھر وہ عرش سفینۂ نجات بن گیا = بھری ہوئی کشتی (۳۶: ۴۱) اور اس کشتی میں خود کشتیبان ہی اصل = حقیقی اور نورانی کشتی تھا، اعنی امامِ زمان (روحی فداہٗ) جس میں تمام روحیں طَوْعاً وَ کَرْھاً فنا ہوچکی تھیں، یہ ہوا عرش پر مساواتِ رحمانی کا کام، خوب یاد رہے کہ ہر روحانی قیامت میں بحرِ علم پر ظہورِ عرش کا معجزہ ہوتا ہے۔

          کتابِ وجہِ دین میں تمام حدودِ دین کا بیان ہے، آپ اس کتاب کو عشقِ مولا کے ساتھ پڑھیں، اسی ریاضت سے اس کو آئینہ بنا کر اپنے آپ کو دیکھیں، عبادت عملی بھی ہے اور علمی بھی، دونوں ایک ساتھ

۲۷

ضروری ہیں۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۵؍ جون ۲۰۰۳ء

۲۸

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۰)

          اللہ سُبْحَانہٗ و تعالیٰ کی سنتِ قدیم کی معرفت میں اُولُوالالباب = صاحبانِ عقل کے لئے بے پایان فائدے ہیں، اور ترجمۂ آیت: تم خدا کی عادت میں ہرگز تغیرو تبدل نہ پاؤ گے (۳۳: ۶۲)، اللہ کی سنت کی معرفت بھی عالمِ شخصی کی بہشت میں ہے (۴۰: ۸۵)۔

          کتابِ سرائر ص ۱۳۴ پر حضورِ اکرم صلعم کا ایک مبارک نام قائم بھی ہے، اس میں عظیم و محیط حکمتیں اور اسرارِ غالب ہیں، بھلا یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ اسرارِ روحانی قیامت محبوبِ خداؐ کے احاطۂ علم و معرفت سے باہر ہوں اور یہ کیوں کر ممکن ہو سکتا تھا جبکہ خدا نے اپنے انبیاء کے سردارؐ کو نورانی ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تھا تاکہ یہ دین دیگر تمام ادیان پر غالب کر دے (۹: ۳۳، ۴۸: ۲۸، ۶۱: ۹)، آیا ایسے میں کوئی عاقل مومن یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرتِ خاتم الانبیاء کو اللہ نے جس مقصد کے لئے بھیجا تھا وہ حضورؐ کی پر حکمت زندگی میں پورا نہیں ہوا، نہیں نہیں، ایسا ہرگز نہیں، محمدؐ و علیؑ کا نور ایک تھا جس نے روحانی قیامت کو برپا کیا۔

          آپ نے روحانی قیامت کے احوال کو بار بار سنا ہے، لہذا

۲۹

آپ کو یقین کرنا ہوگا کہ روحانی قیامت کا بارہا تَجَدُّدْ ہوتا رہتا ہے، جس میں باطِناً دینِ حق بار بار غالب آتا ہے اور ظاہراً یوں لگتا ہے کہ ابھی قیامت بہت ہی دور ہے، اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت بڑی عجیب و غریب ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۰، جون ۲۰۰۳ء

۳۰

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۱)

          حضرتِ مولانا علی صلوات اللہ علیہ کی شان میں ایک حدیثِ شریف از کتابِ سرائر ص ۱۱۴۔۱۱۵ کو چند مرتبہ خوب غور سے پڑھیں تاکہ علمی عبادت بھی ہو اور اس میں جو عظیم پرحکمت اصطلاحات ہیں وہ بھی خوب یاد ہوں، اور آپ میں جو فرشتے ہیں وہ بھی شادمان ہو جائیں۔

          آنحضرتؐ کا ارشادِ مبارک ہے: تم میں سے ہر ایک راع = راجا = تھم = بادشاہ ہے، راع کے معنی مرحلہ وار ہیں: چَوپان = سردار = بادشاہ، اگر یہ حقیقت نہ ہوتی تو اس میں رعیت کا کوئی ذکر ہی نہ ہوتا، کیونکہ بھیڑ بکریاں رعیت کی مثال تو ہو سکتی ہیں لیکن انسانی رعیت نہیں ہوسکتی ہیں۔

          اے عزیزان! اب ’’قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت‘‘ کے حقائق و معارف کو سمجھنے کے بعد بہشت کے سلاطین کے بارے میں لاعلم رہنا بہت بڑی ناشکری نہیں تو پھر کیا ہے؟ آپ ہمارے مرکزِ علم و حکمت سے بھی ہمیشہ مدد حاصل کریں۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۵، جون ۲۰۰۳ء

۳۱

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۲)

          ناطقان، اساسان، امامان، حجتان، داعیان، معلمان، مستجیبان، قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت، ص ۱۵۵، قسط ۸۷ کو پڑھیں، ۳۱۳ کے سرِ عظیم میں کما حقہٗ غورو فکر کریں، امامِ زمان علیہ السلام کے نورِ اقدس کے معجزات بڑے عجیب و غریب ہیں۔

ز نورِ اُو تو ہستی ہمچو پَرتَو

حجاب از پیش بردار و تُو اُوشو

          اس کا مطلب یہ ہے کہ تو سب سے پہلے آئینۂ خورشیدِ نور بن جا، بعد ازان آئینۂ خودی و دوئی کو توڑ دے تاکہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے۔

          اے عزیزان! مولا کو ہمیشہ یاد کرو تاکہ یہ بابرکت اور پرحکمت یاد دل کی عادت اورخاصیت بن جائے اور اس اساسی معجزے کے لئے آپ باربار گریہ وزاری کریں، آمین!

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۷، جون ۲۰۰۳ء

۳۲

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۳)

          مولاعلیؑ کا نور عالم میں قدیم ہے، اللہ کا دین علیؑ ہے، علیؑ خلیفۃ اللہ اور خلیفۂ رسولؐ ہے، علیؑ وہ کتابِ ناطق ہے جو اللہ کے پاس ہے، علیؑ ہی ذالک الکتاب لَارَیبَ فِیہ ہے، علیؑ کا نور روحانی قیامت اور ناقور ہے، محمدؐ و علیؑ کا نور ازل سے ایک ہی تھا۔

          مولانے فرمایا میں آدمِ اول ہوں، پھر فرمایا میں عالم میں قدیم = ہمیشہ ہوں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مولا آدمِ قدیم ہے، مولا وَجْہٗ اللہ ہے، یعنی مولا کی معرفت ہی حضرتِ رب کی معرفت ہے، علیؑ کا نور یقیناً امامِ زمانؑ میں جلوہ گر ہے، پس جو لوگ امامِ زمانؑ کو خود امام کے نورِ باطن کی روشنی میں پہچانتے ہیں ان کی سعادت کا کیا کہنا!

          اے عزیزان! علم الیقین کو کمالِ عشق سے حاصل کرو اور عین الیقین کو جانب آگے بڑھو! آمین!!

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۹، جون ۲۰۰۳ء

۳۳

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۴)

          حدیثِ قدسی کا ارشادہے کہ اے آدمِ زمان = امامِ زمانؑ کا فرزندِ روحانی ! میری اطاعت کر تاکہ میں تجھ کو اپنی مثل بناؤں گا۔ اس حدیث قدسی میں صاحبانِ عقل کو یہ اشارہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے امامِ حقؑ کو ازل ہی میں اپنی مثل بنا لیا ہے، جیسا کہ قرآنِ حکیم فرماتا ہے کہ اس کی مثل جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں (۴۲: ۱۱) یعنی اللہ نے امام کو بے مثال اور لاجواب پیدا کیا ہے۔

          کتابِ سرائر ص ۱۱۶ پر بھی دیکھیں، یعنی جناب بحرالعلوم سے درخواست کریں ورنہ وہ کتاب آپ کے پاس کہاں ہے، شاید آن جناب حضرتِ شاہِ ولایت صلوات اللہ علیہ کے ان اسرارِ عظیم میں سے بعض اسرار کو بیان کریں، میں یہاں ان اسرارِ عظیم کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ شاہِ ولایت نے فرمایا ہے: وَاِنَّ وَلایَتِی وَلَایَۃُ اللہ = یقیناً میری ولایت اللہ کی ولایت ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ھُنَالِکَ الْوَلاَیَۃُ لِلّٰہِ الْحَقِّ (۱۸: ۴۴) مولا نے فرمایا ہے کہ یہ میری ولایت ہے اور اسی طرح میری ولایت اللہ کی ولایت ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۹، جون ۲۰۰۳ء

۳۴

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۵)

          آدمؑ صاحبِ فَترتِ اول، ادریسؑ صاحبِ فَترتِ دوم، سرائر ص ۶ (مقدمۃ) ۔ ھابیلؑ، شیثؑ اور ادریسؑ کی شریعت کی طرف نوحؑ اپنی قوم کو دعوت دیتے تھے، سرائر ص۶ (مقدمۃ) جعفربن منصور بابِ ابواب، ص ۷ (مقدمۃ)، امام کا حجت اور لاحق، ص ۲۸، غوامض العلوم، علوم التاویل المحض المجرد، ص ۲۸۔

          اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً (۲: ۳۰) وَھٰذا الخطاب مِن امامِ الزمان، ص ۲۹۔

          آدمِ سراندیبی کا اپنا خاص نام تخوم بن بجلاح بن قوامہ بن ورقۃ الرویادی تھا، ص ۳۱، قبیلہ کا نام ریاقۃ، صاحبِ زمان اور امام العصر کے حجت کا نام ھُنید تھا، ص ۳۲۔

          حدیثِ شریف ہے: اِنّ علم الدّین ھُوَ السَّحر الحلال، ص ۳۴۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۳۰، جون ۲۰۰۳ء

۳۵

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۶)

          قابیل نے ہابیلؑ کو جسمانی طور پر قتل نہیں کیا تھا، جبکہ قتل کی اور بھی قسمیں ہیں، کتابِ سرائر ص ۴۶۔۵۲، اور ہابیلؑ نے ایک ستر (حجاب) کو قائم کیا اور سخت تقیہ سے کام لینے لگا، اپنےکام کو خدا کے دشمنوں سے مخفی رکھا، اپنے داعیوں کو سری طریقے سے پھیلا دیا، تاکہ اللہ کی توحید قائم ہو، اور آپؑ کے بعد شیثؑ جانشین ہوا جو آدم کے لئے اللہ کا عطیہ = ھِبۃ اللہ تھا۔

          ہر انسان کے دل کے پاس ایک جن اور ایک فرشتہ ہیں یعنی نفس اور عقل ، چونکہ اللہ عَزَّاِسمہٗ کی ہر حکمت میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، اس لئے نفس اور عقل گویا دوسِیٹ بھی ہیں، لہٰذا آپ اپنے ایمانی اورعلمی دوستوں کو باری باری سے عقلی = مَلَکی سیٹ پر دعوت دے سکتے ہیں، یعنی ایسی نیت کر سکتے ہیں، میں بھی ایسا خیال کرتا ہوں، اسی طرح ہم اللہ کی قدرت و حکمت سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اَلحَمدُ لِلّٰہِ عَلیٰ مَنِّہِ وَ اِحْسانِہٖ۔

          نوٹ: مَلَکی = فرشتہ گانہ ANGELIC SEAT۔ حَبلُ الورید بھی یہی فرشتہ ہے، قانونِ بہشت کی تاویلی آیات قرآن میں بہت ہیں۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲، جولائی ۲۰۰۳ء

۳۶

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۷)

          کتاب سلسلۂ نورٌ عَلیٰ نُور، قسط ۳۸ میں مولانا علیؑ سے پہلے اماموں کے اسماء کو پڑھیں، کتابِ سرائر، ص ۸۰ پر یہ ذکر ہے کہ مولانا عبدالمُطلبؑ کے بارہ نقیبان تھے، ان میں سے پانچ آپؑ کے فرزند تھے: حارِث، حمزہ، الزبیر، ابو طالب = عبد مناف، اور عبد اللہ ، قرآنِ پاک (۵: ۱۲) میں بارہ نقیبان کا ذکر ہے۔

          عالمِ شخصی، عالمِ خیال، عالمِ خواب، عالمِ بیداری، عالمِ امر، عالمِ خلق، ناسوت، مَلَکوت، جَبَروت، لاھوت، کتابِ مکنون، گوہرِ عقل، کلمۂ امر، نفسِ واحدہ، لفیف۔

          تختِ سلمانؑ روحانی تھا، انگوٹھی سے اسمِ اعظم مراد ہے، سلیمانؑ کی سلطنت روحانی تھی۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۴، جولائی  ۲۰۰۳ء

۳۷

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۸)

          آدمِ سراندیبی، نفسِ واحدہ، خلیفۃ اللہ

          تجدد امثال کے بارے میں جاننا ازحد ضروری ہے، تجدد کا اشارہ قرآن میں بھی ہے، اسرافیل و عزرائیل کی منزل میں بھی، حظیرۂ قدس کی عرفانی بہشت میں بھی، اور حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ (روحی فداہ) کے فرمان میں بھی، لہٰذا آپ کو اس عظیم راز کے باب میں جاننا بیحد ضروری ہے۔

          مَجْمَعُ البَحْرَین، ذُوالقرنین، یاجُوج وَ ماجُوج (لشکرِ صاحبُ العصر) عالمِ ذر، علیین، مظہرِ نورِ الٰہی = امامِ زمانؑ = اللہ کا زندہ اسمِ اعظم = نورِ منزل ، ولیٔ امر، امامِ آلِ محمدؐ، قرآنِ ناطق، مظہر العجائب و الغرائب، ہمارے محبوب امامِ زمان صلوات اللہ علیہ و علی آبائہٖ۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۷، جولائی  ۲۰۰۳ء

۳۸

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۹)

          اسماعیلی تاریخ میں کس امام نے اعلان فرمایا تھا کہ قیامت روحانی ہے؟ یہ فرمانِ مبارک کس کتاب میں محفوظ ہے؟

          بسم اللہ کے کل ۱۹ حروف ہیں، اس میں کیا اشارہ ہے؟ بسم اللہ کی تاویلی حکمت کس کتاب میں ہے؟

          قرآنِ پاک میں ۱۹ فرشتوں کا ذکر کہاں ہے؟

          مَا قِیلَ فِی اللہ کس امام کا ارشادِ مبارک ہے؟

          خدا کی خدائی میں بے پایان قیامات ہیں، یہ کس حجت کا قول ہے؟ آیایہ پر حکمت قول حکیم پیر ناصر خسرو کا ہے؟

          کتابِ مستطابِ سرائر کس بزرگ ہستی کی تصنیف ہے؟ بڑا نامور قاضی نعمان کی کسی مشہور کتاب کا نام بتاؤ۔

          زنورِ اُو تو ھستی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مکمل شعر کیا ہے؟

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۸، جولائی  ۲۰۰۳ء

۳۹

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲۰)

          اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس کا کلام قرآن بھی حکیم ہے، اس کا رسولِ پاکؐ بھی حکیم ہے، اور امامِ زمانؑ بھی حکیم ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دین کی تمام خاص باتیں حکمت کی زبان میں ہیں، لہٰذا اہلِ ایمان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ حکمت کو سیکھیں تاکہ ان کو دونوں جہان میں بے شمار فائدے حاصل ہوں۔

          اللہ ہر وقت انسانوں کو آزماتا ہے اور اس کے قانون میں بار بار امتحان ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم میں بہشت کی تمام نعمتوں کا ذکر ہے، اور اس میں بہت بڑا امتحان ہے کہ کون کس نعمت کو زیادہ سے زیادہ چاہتا ہے؟ بہشت کی ان تمام نعمتوں کے تذکرے میں وہاں کی سلطنت کا بھی ذکر ہے، جب بہشت کی بادشاہی وہاں کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے تو پھر یہ نعمت کس طرح ناممکن ہو سکتی ہے؟ ہاں دنیا میں حقیقی ایمان اور حقیقی معنوں میں اعمالِ صالح ضروری ہیں۔

          آپ نے براہِ راست قرآن میں یا میری کسی کتاب میں ضرور پڑھا ہوگا کہ حضرتِ موسیٰؑ کے مومنین بہشت میں مُلُوک = سلاطین ہوئے تھے (۵: ۲۰) اگر چشمِ بصیرت سے قرآن میں دیکھا جائے تو ہر پیغمبر اور ہر

۴۰

امامِ حق کے فرزندانِ روحانی کے لئے بہشت میں دعوتِ حق کی بادشاہی = سلطنت ہے۔

          قرآنِ حکیم کا باطن اللہ سبحانہ و عزاسمہٗ کے علم و حکمت کا تجلیاتی معجزہ ہے، تجلیات یا ظہورات بہت بڑی اصطلاح ہے، ہم ان شاء اللہ اس کا کچھ بیان کریں گے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۱، جولائی  ۲۰۰۳ء

۴۱

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲۱)

          تجلی= تجلیات = ظہورات کی حکمتوں سے قرآنِ حکیم ظاہر و باطن میں لبریز ہے، کیونکہ اللہ کی ذاتِ پاک اور اس کی ہر صفت قدیم ہے، لہٰذا آپ اللہ کے کلامِ قدیم کی لامحدود حکمت کو زمان و مکان کی کسی چیز میں ہرگز محدود نہیں کر سکتے ہیں، جبکہ اللہ خود ہی اپنی قدرتِ کاملہ سے لامحدود چیزوں کو محدود کر کے دکھانے کا معجزہ کر سکتا ہے، کیونکہ عارف کی بصیرت دَفعَۃً اللہ تعالیٰ کے لامحدود اسرار پر حاوی نہیں ہو سکتی ہے، لہٰذا اللہ جل جلالہ کائناتِ پُراسرار کو بصورتِ کتابِ مکنون = گوہر عقل لپیٹتا ہے، اور اس کے سلسلۂ ظہورات و تجلیات سے ہر چیز عارفین کو سکھاتا ہے، الحمد للہ رب العٰلمین۔

          جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ ذات و صفات میں قدیم ہے تو اس کا قول و فعل بھی قدیم ہے، حادث = نیا نہیں، مگر اس میں تجددِ امثال ہے، اس کی وضاحت بار بار کی گئی ہے، پس قرآن میں جس آدم کا ذکر آیا ہے وہ کوئی جدید آدم ہرگز نہیں، بلکہ وہ آدموں کے سلسلۂ بے پایان کی ایک کڑی ہے، یا نورِ خلافت و امامت کے لا ابتداء و لا انتہاء ظہورات میں سے ایک ظہور تھا، اور مولا علی علیہ السلام نے

۴۲

فرمایا ہے کہ میں آدمِ اول ہوں، اس کا مقصد آدم کی کوئی ابتداء ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ لوگ آدم شناسی کی جس تقلیدی دیوار کے پاس کھڑے ہیں اس دیوار کو گرانا ہے، تاکہ لوگ بہت آگے جائیں، اور اس ارشاد میں یہ اشارہ بھی ہے کہ خلافت و امامت ایک ہی منصب ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۲، جولائی  ۲۰۰۳ء

۴۳

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲۲)

          ذکرِ کثیر (۳۳: ۴۱) ، ایک ہی مقام پر آنحضرتؐ کے سات بابرکت اسماء: نبی، رسول، شاھد، بشیر، نذیر، داعی، سراجِ منیر (۳۳: ۴۵ تا ۴۶)، درود (۳۳: ۵۶)، آیۂ تطھیر (۳۳: ۳۳) آیتِ معرفتِ بہشت (۴۷: ۶)، آیۂ بیعت: (۴۸: ۱۰)، آیۂ اطاعت (۴: ۵۹)، آیتِ نورِ منزل (۵: ۱۵)، امامِ زمانؑ صاحبِ روحانی قیامت ہے (۱۷: ۷۱)۔

          امامِ زمانؑ امامُ الناس بھی ہے (۲: ۱۲۴) اور وہ امام المتقین بھی ہے(۲۵: ۷۴)، امامِ زمانؑ (روحی فداہ) علیؑ کا نور ہے، لہٰذا علیؑ کی تعریف امامِ زمانؑ کی تعریف ہے، اور امامِ زمانؑ کی معرفت علیؑ کی معرفت ہے۔

          کتابِ سرائر ص ۱۱۵ پر جو حدیثِ شریف درج ہے اس میں سے چند بیحد شیرین حکمتیں تحریر کر کے آپ کو دی گئی ہیں، اس کا اصل اشارہ: علی خلیفۃ اللہ فیکم، وخلیفۃ کتاب اللہ فیکم، وخلیفۃ کتاب المنزل علیکم، وبابہ و حجابہ الّذی لا یوتی الا منہ، والقائم من بعدی، و القائم فیکم مقامی۔

۴۴

          خلاصہ : علیؑ خلیفۃ اللہ ہے، اور وہ اللہ کی کتاب ناطق کا بھی خلیفہ ہے (۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹)، اور وہ اللہ کی اس کتاب کا بھی خلیفہ ہے جو تم پر نازل ہوئی ہے، یعنی قرآن، اور وہ اس کا دروازہ اور حجاب ہے جس کے بغیر کوئی شخص قرآن میں داخل نہیں ہو سکتا ہے، اور وہ میرے بعد قائم (یعنی قائمِ قیامت)، اور تمہارے درمیان میرا جانشین ہے۔۔۔۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۳، جولائی  ۲۰۰۳ء

۴۵

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲۳)

          جیسا کہ ذکر ہوا، قصۂ آدم میں انتہائی عظیم اسرار پوشیدہ ہیں، پس آدم شناسی جتنی مشکل ہے اتنی ضروری اور فائدہ بخش بھی ہو سکتی ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ ہر حالت میں دین کا قصۂ آدمؑ سے اور آدمؑ کا قصہ خلافت سے شروع ہوتا ہے، آپ کو یہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن و حدیث کی حکمت میں آدمؑ اور بنی آدم ساتھ ساتھ ہیں، آپ سب سے پہلے نفسِ واحدہ کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش کریں، بفضلِ مولا دانش گاہِ خانۂ حکمت کی کتابوں میں ہر قسم کی ضروری معلومات موجود ہیں۔

          خداوند تعالیٰ اس ادارے کے فرشتہ خصلت عملداران اور ارکان سب کے سب پر نہایت مہربان ہے، ان نیک بخت لوگوں کو یہ خصوصی توفیق عطا ہوئی ہے کہ یہ حقیقی علم کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں، ہر نیک مراد کے موقع پر گریہ وزاری کے ساتھ بارگاہِ الٰہی سے رجوع کرتے ہیں، اسی لئے حق تعالیٰ نے ان کو آج عالمی = آفاقی نیک نامی اور لازوال شہرت و عزت عطا فرمائی ہے، اس کی دلیل ان کی وہ بے مثال شہرۂ آفاق کتاب ہے جو قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت کے پُرحکمت اسم سے موسوم ہو کر عالمی سطح پر ابھر رہی ہے، یہ کتاب دراصل اس روحانی اور قرآنی

۴۶

سائنس کا انقلابی ثبوت ہے جس کا قبلاً اسلام آباد میں ذکر ہوا تھا، الحمد للہ علیٰ منہ و احسانہٖ۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۴، جولائی  ۲۰۰۳ء

۴۷

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲۴)

          عالمِ شخصی میں روحانی قیامت کا نقطۂ آغاز سالک کے کان میں ایک باریک قدرتی آواز کے آنے سے شروع ہوتا ہے، جس کی مثال قرآن میں بَعُوضَۃً ہے ( ۲: ۲۶)، کتابِ کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت ۶۴ کے ارشاد کو پڑھیں کہ وہ مولا علی علیہ السلام کی مثالوں میں سے ہے، آپ دانش گاہِ خانۂ حکمت کی کتابوں کو پڑھیں تاکہ آپ کو روحانی قیامت سے متعلق علم الیقین حاصل ہو۔

          روحانی قیامت کے برپا ہونے میں بے پایان حکمتیں ہیں کہ ان کو صرف خدا ہی شمار کرسکتا ہے، اللہ نے اپنے جن حقیقی مومنین سے جس زمین کی خلافت کا وعدہ فرمایا ہے وہ بہشت میں دعوتِ حق کی زمین ہے، پس وہاں کا ہر خلیفہ بادشاہ ہوگا، اور ممکن ہے کہ وہ فرشتہ بھی ہو، اس میں غور کرنے کے لئے تین حوالے درج کئے جاتے ہیں: ۶: ۱۶۵، ۲۴: ۵۵، ۴۳: ۶۰۔

          اس کے علاوہ قرآنِ حکیم (۴: ۵۴) میں آلِ ابراہیمؑ اور آلِ محمدؐ کی عظیم سلطنت کا ذکر ہے اور انہی حضرات کی یہی عظیم سلطنت بہشت میں مُلْکاً کَبِیراً (۷۶: ۲۰) کےنام سے ہے، دنیا کی روحانیت میں بھی

۴۸

اور بہشت میں بھی حضرت امام علیہ السلام بادشاہوں کا بادشاہ یعنی شاہنشاہ ہے، لہٰذا (۴۰: ۱۶) میں بھی اسی شاہِ شاہان ہی کا ذکر ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۶، جولائی  ۲۰۰۳ء

۴۹

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲۵)

          سورۂ مریم (۱۹: ۹۶) کا ترجمہ ہے: یقیناً جو لوگ کَمَا کَانَ حَقَّہٗ ایمان لائے اور انہوں نے حقیقی معنوں میں نیک اعمال کئے، عنقریب رحمان لوگوں کےدلوں میں ان کی محبت پیدا کر دے گا۔

          تاویلی حکمت: خوب توجہ اور غور سے سن لیجئے! جب اللہ حکیم نے حقیقی مومنین کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے تو دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے، ہاں حقیقت یہی ہے کہ کل بہشت میں جب انہی اہلِ یقین کو بہشت کی خلافت و سلطنت عطا ہو گی، جس کی وجہ سے دنیا اور زمانہ بھر کے لوگ جو وہاں ہوں گے وہ ان سے محبت کریں گے، کیونکہ دنیا میں بھی لوگ اپنے بادشاہ سے محبت کرتے ہیں۔

          آپ کو یہ مفہوم قرآن میں جگہ جگہ ملے گا کہ اہلِ جنت جو نعمت چاہیں وہ وہاں ان کو مل سکتی ہے، بےشک وہاں درجات ہیں، کیونکہ وہاں کی بہت بڑی اکثریت روحانی قیامت کی زبردستی سے داخل کی گئی ہے، پس بہشت میں شاہِ شاہان کا کوئی روحانی فرزند بادشاہ ہونا چاہتا ہے تو ہوسکتا ہے۔

۵۰

          جو لوگ روحانی قیامت کی زبردستی سے بہشت میں لائے گئے ہیں وہ بہشت کی رعیت ہیں مگر ان کو دعوتِ حق کی تعلیمات میں بہت ترقی کرنی ہوگی، بہشت کی رعیت کو کوئی تکلیف ہرگز نہیں، بہشت میں کیونکر کسی کو تکلیف ہو سکتی ہے، مگر ہاں حقیقی علم ان کو سکھایا جائے گا تاکہ رفتہ رفتہ یہ بھی علم کے بادشاہ ہو جائیں۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۷، جولائی  ۲۰۰۳ء

۵۱

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲۶)

          حضرتِ آدم خلیفۃ اللہ علیہ السلام کی روحانی قیامت میں حق سبحانہ و تعالیٰ نے اہلِ یقین کو جس درجۂ عالیہ سے نواز کر سرفراز فرمایا تھا، اس کا ذکر سورۂ اعراف (۷: ۱۱) میں ہے، حضرتِ نوحؑ کے حقیقی فرزندانِ روحانی کی فضیلت کو سورۂ ھود (۱۱: ۴۸) میں غور سے دیکھیں، حضرتِ ابراہیمؑ کے فرزندانِ روحانی کی روحانی عزت و برتری کو ان پُرحکمت الفاظ میں دیکھیں: فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ  (۱۴: ۳۶)، حضرتِ موسیٰؑ کے اہلِ یقین کو (۵: ۲۰) میں دیکھیں، حضرتِ عیسیٰؑ کے اہلِ یقین کو دیکھیں کہ فرشتے بن رہے ہیں ( ۳: ۴۹، ۵: ۱۱۰)، حضرتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟ کیا آنحضرتؐ کے باطن میں تمام انبیا و رُسُل کے جملہ معجزات جمع نہیں تھے؟ کیوں نہیں!

          امام المتقین کے فرزندانِ روحانی کے بارے میں (۲۵: ۷۴) کو غور سے پڑھیں کہ جس طرح حضرتِ امامؑ کا جسمانی فرزند آپؑ کی پاک آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسی طرح آپؑ کے ہر روحانی فرزند کے حق میں بھی یہی دعا ہے، پس اطاعت و فرمانبرداری بے حد ضروری ہے۔

۵۲

          نورِ امامت کے ارشادات کو زمانۂ اساس سے لے کر آج تک پڑھیں، اور یہ علمی عبادت پابندی سے کریں، آمین!

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۸، جولائی  ۲۰۰۳ء

۵۳

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲۷)

          حدیثِ شریف ہے: کُلُّکُمْ راعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌعَنْ رَّعِیَّتِہٖ۔ بحوالۂ ہزار حکمت (ح: ۳۷۱)۔ قرآن و حدیث کے کئی ارشادات میں یہ ذکر آیا ہے کہ فرمانبردار اور کامیاب نفوس بہشت میں بادشاہ ہوں گے، اور جن کو یہ مرتبہ نہ ملے۔۔۔۔۔

          یہ فرمانِ رسولؐ دراصل فرمانِ الٰہی ہے، پس اگر دنیا کے سب لوگ حقیقی اطاعت کر کے خدا کے نزدیک بہشت اور اس کی سلطنت کے مستحق ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ سے ہر انسان کے عالمِ شخصی کو کائناتی بہشت بنائے گا، اور اس میں سب کچھ ہوگا۔

          آپ ہزار حکمت ص  ۲۱۸۔۲۱۹ پر مذکورہ حدیث کو تاویلی حکمت کے ساتھ پڑھیں اور اپنے علمی دوستوں کے ساتھ مذاکرہ بھی کریں کہ رعیت سے کیا مراد ہے؟ اور کس طرح دنیا کے لوگ رعیت بھی اور بادشاہ بھی ہوسکتے ہیں؟

          دیکھیں رحمتِ عالمؐ کے ارشاد میں کوئی ناممکن بات کیوں کر ہوسکتی ہے؟ آپ حقیقی علم حاصل کرتے جائیں اور اس کی اشاعت کرتے جائیں، اللہ کی رحمت سے مقصد حاصل ہوجائے گا، کیونکہ علم کا طریقہ بھی یہی ہے:

۵۴

حاصل کرنا، یاد کرنا، اور پھیلانا، یہ سب سے بڑا نیک کام انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے ہو سکتا ہے، اِنْ شَاءَ اللّٰہُ العَزیز!

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۰، جولائی  ۲۰۰۳ء

۵۵

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲۸)

          بحوالۂ ہزار حکمت ص ۳۹۷۔ ۳۹۸ حدیثِ شریف کا ترجمہ یہ ہے: تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک ساتھی جنوں میں سے ہے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے، پوچھا گیا: یا رسول اللہؐ! کیا آپ کا بھی ایسا ہے؟ فرمایا: ہاں میرا بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غلبہ بخشا، پس وہ تابعدار ہوگیا، یہی ہے بحقیقت سنتِ رسول اور یہی ہے آپ کی پاک زندگی کا بہترین نمونۂ عمل = اُسوَۂ حَسَنَہ (۳۳: ۲۱)۔

          اللہ جل شانہ نے جس دن روحانی قیامت میں اپنے محبوب رسولؐ کے لئے سارا جہان اور جملۂ کائنات کو مسخر کرتے ہوئے دینِ حق کو باقی تمام ادیان پر غالب کر دیا تھا، اسی روز ہی شیطان بھی تابعِ فرمان ہوگیا تھا، کیونکہ شیطان کو جو مہلت دی گئی ہے وہ روحانی قیامت کے قیام پر ختم ہو جاتی ہے، آپ دورِ حضرتِ قائم القیامت = دورِ تاویل = دورِ حکمت سے بھر پور فائدہ حاصل کریں، ورنہ بہت بڑی ناشکری ہو سکتی ہے، مولا آپ کی مدد فرمائے! آمین!!

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۲، جولائی  ۲۰۰۳ء

۵۶

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۲۹)

          جن ارضی فرشتوں کو مظہرِ نورِ خدا = امامِ حیّ و حاضر صلوات اللہ علیہ سے شدید محبت اور عشق ہے، وہ ہر وقت ظاہراً و باطناً اپنے پاک مولا کی بیحد شیرین اور پرحکمت یاد کرتے ہیں، جب آپ اور ہم جان و دل سے اس روشن حقیقت کو بصد احترام قبول کرتے ہیں کہ امام زمان علیہ السلام حق سبحانہ و تعالیٰ کا زندہ اسمِ اعظم ہے تو پھر ذاتِ سبحان کی سب سے عظیم اور سب سے اعلیٰ عارفانہ یاد کس طرح ہوسکتی ہے؟

          اے عزیزانِ من! دل کی زبان سے مولا کی یاد کرو، اسی میں بہت بڑی حکمت ہے، عاشقوں کے دل کی زبان روحانی اور آسمانی وائرلیس  WIRELESSہے، کیا آپ کو یاد نہیں لفظِ وائرلیس مولا کے پاک فرمان میں ہے؟ اس سے وہ فرشتہ مراد ہے جو آپ کے دو ساتھیوں میں سے ایک ہے، کیا فرشتہ وائرلیس سے کمتر ہے؟ نہیں نہیں، ہرگز ایسا نہیں، یہاں بہت بڑی ناشکری ہونے کا ڈر ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۴، جولائی  ۲۰۰۳ء

۵۷

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳۰)

          بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ حضرتِ مولا علی المرتضیٰ صلوات اللہ علیہ باب و حجابِ قرآنِ حکیم اور نقطۂ باءِ (ب) بسم اللہ ہیں، یہ دونوں لاہوتی حکمتیں خود از خود مل کر ایک ہوجاتی ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ اس میں لاکھوں حکمتوں کی طرف اشارہ ہے، اور وہ کئی طرح سے ہے: اول یہ کہ ہر چیز عالمِ ذر میں ایک ذرہ ہے اور اللہ قادرِ مطلق وہ ہے جو ایک ہی ذرہ میں عالمِ ذر کو محدود کر سکتا ہے۔

          دوسری مثال یہ ہے کہ صدہا آسمانی کتابوں کا علم قرآن میں ہے، قرآن کا جملہ علم ام الکتاب (الحمد) میں ہے، جس کا علم بسم اللہ میں ہے، اور اس کا جوہر نقطۂ باء میں اس طرح ہے، جس طرح عارفوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ بے مثال و لاجواب معجزہ دیکھا ہے کہ ’’دستے از غیب بِرُون آید و کارے بکند‘‘ کا حظیرۂ قدس میں مشاہدہ ہوتا ہے، عالمِ غیب سے ایک ہاتھ ظاہر ہو کر کائنات کے باطن کو لپیٹ کر گوہرِ عقل = کتابِ مکنون بناتا ہے، پھر اسے پھیلا کر ایک کائنات بناتا ہے۔

          تیسری مثال روح کی ہے کہ ہر روح میں سب روحیں ہو سکتی ہیں، کیونکہ روح لامکانی ہے، اس لئے وہ جگہ کو نہیں گھیرتی ہے، اس کی مثال

۵۸

علمُ الحساب میں صفر ہے کہ اگر آپ سو کروڑ صفر کو جمع کریں تو جواب ایک صفر ہوگا، پس مولا کا یہ فرمانِ پاک و پر حکمت حق ہے: ’’ مومن کی روح ہماری روح ہے۔‘‘

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

۲۷، جولائی  ۲۰۰۳ء

۵۹

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳۱)

          حضرتِ حکیم پیر ناصرِ خسرو (ق س ) کے دیوانِ اشعار میں ہے:

ھُوَ الاوّل  ھُوالآخر  ھُوَ الظّاھر  ھُو البَاطن

مُنَزَّہ مَالِکُ الملکی کہ بے پایان حشر دارد

          اس پُرحکمت اور حیرت انگیز شعر کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ روحانی قیامات بے پایان ہیں، یعنی جس طرح اللہ کی ذات قدیم ہے اور اس کی ہر صفت قدیم ہے، اسی طرح اس کی سنتِ جاریہ قدیم ہے، لہٰذا اللہ کی بے پایان بادشاہی میں بے پایان قیامات کا تصور بالکل درست ہے، پس مُوتُوا قبْلَ اَنْ تَمُوْتوا اور روحانی قیامت زندہ اسم اعظم = امامِ زمانؑ کے بغیر اصل اور کلی معرفت ممکن نہیں۔

          یہاں یہ بنیادی حکمت خوب یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کا زندہ اسمِ اعظم ناطق تھا، اور اللہ کا زندہ دین بھی جس میں روحاً سب لوگ داخل ہو چکے تھے (۱۱۰: ۱ تا ۲)، ناطق کے بعد اساس اسمِ اعظم اور خدا کا زندہ دین تھا، اور یہی مرتبہ ہر امامِ زمان کو حاصل ہوتا ہے، اور یہ حقیقت آیۂ امامِ مبین (۳۶: ۱۲) سے عیان ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

پیر، ۲۸؍ جولائی  ۲۰۰۳ء

۶۰

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳۲)

          بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ قرآنِ حکیم کے ہزار ہا نورانی ظہورات اور تجلیات ہیں کیونکہ وہ حق سبحانہ و تعالیٰ کے کلامِ قدیم کا معجزۂ بےمثال و لاجواب ہے، قرآن جس طرح مقاماتِ ظاہر پر ظاہر ہے، اسی طرح درجاتِ باطن میں بصورت تجلیات حجاب میں ہے، کیونکہ قرآن جہاں لوحِ محفوظ میں ہے، جہاں ام الکتاب میں ہے، کتابِ مکنون میں ہے، گوہرِ عقل، اور کلمۂ امر میں ہے، تو ان نورانی درجات میں قرآن کسی ظاہری خاموش کتاب کی طرح نہیں، بلکہ نورانی تجلیات کی صورت میں اپنا کام کر رہا ہے۔

          آیا جو کتابِ ناطق حضرتِ رب تعالیٰ کے پاس ہے اس کی مثال کوئی انسانی کتاب ہوسکتی ہے؟ نہیں نہیں، جو بولنے والی کتاب اللہ کے پاس ہے وہ ایک نور اور ایک فرشتہ ہے، مثال کے طور پر آفتابِ عالمتاب، مادی نور ہے، اس کے دائرۂ خاص میں اگر کوئی چیز ہے تو وہ اس کا اپنا نور ہے اور کچھ نہیں، اسی لئے اس کتاب میں تجلیات کی اصطلاح کی طرف بار بار توجہ دلائی جارہی ہے، یہاں یہ حکمت بھی خوب یاد رہے کہ خورشیدِ جہان آرا کی عندیت

۶۱

مکانی ہے، ذاتِ سبحان کی عندیت روحانی، نورانی اور لامکانی ہے۔

          اَلحَمْدُ للّہ علیٰ منِہٖ و اِحْسَانہٖ۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

۲۹، جولائی  ۲۰۰۳ء

۶۲

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳۳)

                   بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ اے عزیزانِ باسعادت! اے رفیقانِ فرشتہ خصلت! آپ پر مظہرِ نورِ خدا = علیِٔ زمان = ولیٔ امر صلوات اللہ علیہ وسلامہ کے بے شمار احسانات و انعامات ہوئے ہیں، ان میں یقیناً سب سے عظیم انعام وہ ہے جس سے ہم سب محوِ حیرت ہیں کہ اس کا شکرانہ کس طرح ادا ہوگا؟

          ’’اہلِ بیت‘‘ قرآن و حدیث کی خاص اصطلاحات میں سے ہے، اگر قرآنِ حکیم میں اسمِ ’’امام‘‘ واحد ہے تو وہ ادوار کے لحاظ سے جمع بھی ہے، جس طرح لفظِ روح واحد آیا ہے مگر افرادِ بشر کے پیشِ نظر وہ جمع بھی ہے۔

          آلِ ابراہیم = آلِ محمد = اہلِ ذکر = اولوالامر = عالمون (۲۹: ۴۳) = اَلرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْم (۳: ۷) = اولولْعِلْم (۳: ۱۸) = آلِ یاسین = آلِ محمد (۳۷: ۱۳۰)۔

          اسماعیلی اصطلاحات کے لئے جناب ڈاکٹر (پی۔ ایچ۔ ڈی) فقیر محمد ہونزائی بحرالعلوم کے تمام تراجم سے رجوع کریں، موصوف نے حال ہی میں حضرتِ مولاعلیؑ کے اپنے نورانی تعارف کے کلامِ حکمت نظام

۶۳

کا ترجمۂ لاثانی وغیرفانی یہاں کورس کے لئے عنایت کیا ہے، مرکزِ علم و حکمتِ لندن ہم سب پر مولائے پاک کے عظیم احسانات میں سے ہے، الحمد للہ رب العٰلمین و العاقبۃ اللمتقین!

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

جمعرات ۳۱، جولائی  ۲۰۰۳ء

۶۴

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳۴)

                   بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ بیت المعور = بھرا گھر، آباد گھر، اصطلاحاً خانۂ کعبہ کے عین اوپر آسمانوں پر خانۂ خدا جہاں فرشتے کثیر تعداد میں طواف اور عبادت کرتے رہتے ہیں (فیروز الغات ص ۲۵۱)، اس کی تاویلی حکمت کے لئے کتابِ وجہِ دین میں دیکھیں، نیز وہ مقالہ پڑھیں جو سرائر ص ۱۱۵ کے حوالے سے آپ کے پاس ہے، جس کی یاد دہانی اس طرح ہے کہ حضورِ اکرم صلعم نے سفرِ معراج کے دوران آسمانِ چہارم پر مولا علی المرتضیٰ کو بہت سے فرشتوں کے درمیان کرسئ کرامت پر بیٹھے ہوئے دیکھا تھا۔

          ہم کافی پہلے سے یہ مان چکے ہیں کہ معراج آنحضرتؐ کو اپنے پاک عالمِ شخصی کی نورانیت میں ہوئی تھی، پس ہم پر خود شناسی واجب ہوئی تاکہ ہم کو امامِ زمانؑ (ارواحنا فداہ) کی پاک معرفت حاصل ہو، جن عاشقوں کے عالمِ شخصی میں امامِ مبینؑ کا نور طلوع ہو جاتا ہے، یقیناً وہ معجزۂ اعظم اور معرفت کل ہے۔

          آپ کے لئے کونسی دینی نعمت غیر ممکن ہو سکتی ہے؟ آپ سب سے پہلے امامِ زمان علیہ السلام کے عشق و محبت اور حقیقی

۶۵

اطاعت کے ساتھ علم الیقین میں سعئی بلیغ کریں، ان شاء اللہ مولا کارساز و بندہ نواز ہے، او مناسن اپی = ناشدنی نیست۔ آمین ! یاربَّ العالمین! قرآن (۳۱: ۲۰)۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

جمعہ یکم اگست  ۲۰۰۳ء

۶۶

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳۵)

          حظیرۃ القدس کی اصطلاح بڑی عالی قدر اور عظیم الشان حکمتوں سے مملو ہے، کیونکہ یہ عالمِ شخصی کا آسمان = عرش = عرفانی بہشت اور ظہورگاہِ نورِ امامِ مبین صلوات اللہ علیہ ہے۔ جملۂ قرآنِ حکیم میں اسی کی تاویلی حکمتیں بھری ہوئی ہیں، ہر حکمتِ کاملہ کو حکمتِ بالغہ اس معنیٰ میں کہتے ہیں کہ وہ حظیرۂ قدس تک پہنچتی ہے، ہر پیغمبر کو حظیرۃ القدس میں معراج ہوئی تھی، یہاں مثال کے طور پر حضرتِ ادریسؑ کی معراج کا حوالہ درج کرتے ہیں: (۱۹: ۵۷) مَکَاناً عَلِیّاً حظیرۃ القدس کے ناموں میں سے ہے۔

          ہر نفسِ واحدہ کی روحانی قیامت میں آپ سب روحاً موجود تھے، ملاحظہ ہو ہزار حکمت میں لفظِ ’’ارواح‘‘۔ فرمانِ پاک میں جہاں جہاں روح کا کوئی بیان ہو اس کو غورسے پڑھیں، اور اس کی تاویلی حکمت کو اخذ کرلیں، جو شخص امامِ آلِ محمدؐ کا حقیقی عاشق ہے، وہ حضرتِ امام علیہ السلام کے ارشادات کو عشق و محبت سے پڑھے گا، اور جہاں جہاں امام کا علم پھیلا ہوا ہے، اس کو حاصل کرے گا، الحمد للہ رب العٰلمین۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

سنیچر۲، اگست  ۲۰۰۳ء

۶۷

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳۶)

          اے عزیزانِ سعادتمند و اہلِ علم الیقین! یہ اساسی اصطلاح خوب یاد رہے کہ دینی علم کی روشنی میں یہ حقیقت اظہرِ مِنَ الشمس ہےکہ صراطِ مستقیم امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کا نورِ پاک ہے، کیونکہ اسی نور کی ’’نورانیت‘‘ میں چلنا ان لوگوں کے راستے پر چلنا ہے جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا ہے (۴: ۶۹)۔

          ترجمۂ آیۂ شریفہ (۴: ۶۶) : اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے کہ اپنے نفسوں کو مار ڈالو۔۔۔۔۔۔ (الخ)۔ اللہ نے اپنے محبوب رسولؐ کی زبان سے یہ عمل فرض کر دیا اور وہ حکم یہ ہے: مُوْتُوا قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا۔ پس مومنِ سالک کی نفسانی موت اور روحانی قیامت امامِ زمانؑ کی نورانیت کی صراطِ مستقیم ہے، جبکہ مولا علیؑ نے فرمایا: ’’ میں قیامت ہوں‘‘۔

          دائم الذکر ایک بیحد خوبصورت اصطلاح ہے، یہ اس حقیقی مومنِ عاشق کا نام ہے، جو ہمہ وقت یادِ مولا میں مشغول رہتا ہے، اس کی قلبی زبان گونا گون طریقوں سے بھی اور کسی ایک طریق سے بھی پاک مولا کی انتہائی شیرین یاد میں لگی رہتی ہے، جب امامِ زمانؑ اللہ کا اسمِ اکبر ہے تو اس میں ضرور بے شمار معجزات ہوں گے جو احاطۂ بیان سے باہر ہو سکتے ہیں، مگر

۶۸

حکمت کا تقاضا تو یہی ہے کہ اول اول اس میں لذت و شیرینی ہو، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔

؎  گرتو صد خانہ کنی زنبور وار

من بیک دیدار ویرانت کنم

ترجمہ: اے عاشق اگر تو بھڑ کی طرح سو گھر بھی بناتا ہے تو میں اپنے ایک ہی دیدار سے ان سب کو ویران کردوں گا۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

پیر۴، اگست  ۲۰۰۳ء

۶۹

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳۷)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ آیۂ تطہیر (۳۳: ۳۳) پنجتن = اہلِ بیت = اور أئمۂ آلِ محمدؐ کی شان میں ہے۔ ھُوَ الَّذِی یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ ....... (الخ) (۳۳: ۴۳) اللہ تعالیٰ تم اہلِ ایمان پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی۔

          امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر دس دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر سو ۱۰۰ مرتبہ درود بھیجتے ہیں، اور جو شخص محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر سو ۱۰۰ مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر ہزار مرتبہ درود بھیجتے ہیں۔ اسی کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت (۳۳: ۴۳) میں ذکر فرمایا ہے۔ بحوالۂ تفسیر المتقین ص ۵۴۹ حاشیہ۔ ۳۔

          کشف = مُکاشَفہ۔ سِر، اسرار، سرِ اعظم، اسم، اسماء، اسمِ اعظم، ذکر، اذکار، ذکرِ اکبر، کل، کلیات، کلِ کلیات۔

          عرش ایک عظیم نورانی فرشتہ ہے اور کرسی بھی وہی ہے آپ آیۂ امامِ مبین (۳۶: ۱۲) کو عشق و محبت سے بار بار پڑھیں۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

منگل ۵، اگست  ۲۰۰۳ء

۷۰

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳۸)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمْ الإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ (۵۸: ۲۲) ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں (اللہ تعالیٰ نے) ایمان لکھ دیا اور ان کی مدد اپنی ایک روح سے کی، تاویلاً یہ کام خلیفۃ اللہ = امامِ زمانؑ نے کیا، حضرتِ امام باقرؑ کا ارشاد یاد کریں۔ اِخوانُ الصّفاء وَخُلّانُ الوَفاء میں بار بار اس آیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

          جب ہر شخص میں دو مخالف ساتھی مقرر ہیں: ایک جن = نفس = شیطان، اور ایک فرشتہ = عقل = نورِ ہدایت کی چنگاری (یعنی امامِ زمانؑ کے نور کی چنگاری ) تو پھر جس طرح انسان کے دل میں وسوسہ ممکن ہے، اسی طرح الہام بھی ممکن ہے،اگر دنیا اور عالمِ شخصی میں مُضِلّ = گمراہ کُن = شیطان ہرجگہ پہنچ سکتا ہے، تو پھر ھادیٔ برحق = امامِ زمانؑ کیونکر محدود ہوسکتا ہے؟ عدلِ خداوندی کا کیا تقاضا ہے؟

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

بدھ ۶، اگست  ۲۰۰۳ء

۷۱

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۳۹)

          بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ سورۂ انبیاء (۲۱: ۱۰۷) کی تاویلی حکمت دانش گاہِ خانۂ حکمت کی کتاب: ’’ قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت‘‘ میں بفضلِ مولا بیان کی گئی ہے، یہ کتاب سرتاسر اسی آیۂ شریفہ کی حکمتی تفسیر و تاویل ہے،لہٰذا آپ تمام عزیزان اس میں کما کان حقہ غور و فکر کریں، اور جب جب عشقِ مولا میں گریہ وزاری ہو، تو اس حال میں دعا کریں کہ یہ کتاب عالمِ انسانیت کے لئے مفید ثابت ہو! آمین!

          میں صرف اپنے عزیزوں اعنی شاگردوں سے سوال کرتا ہوں کہ جب حق سبحانہ و تعالیٰ شانہٗ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ کو تمام عوالمِ شخصی کے لئے رحمت بنا کر بھیجا تو اس وقت اللہ کی رحمت کا یہ پروگرام مکمل ہوا یا کسی وجہ سے ادھورا رہا ؟ کوئی بھی صاحبِ عقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ کا یہ پروگرام نامکمل رہا، اگر یہ بات ہے تو آئیں ہم حکمتِ قرآن کے مطابق یہ مانیں کہ زمانۂ نبوت ہی میں روحانی قیامت برپا ہوئی تھی جس میں ایک دیوار تھی اس میں ایک دروازہ تھا (۵۷: ۱۳) دروازے کے اندر رحمت تھی، اور اس سے باہر عذاب کا پہلو تھا، اور یہ روحانی قیامت کی ظاہری مشقت اور باطنی رحمت کا اشارہ بھی ہوسکتا ہے اور

۷۲

اس میں مزید حکمتیں بھی ہوسکتی ہیں۔

          قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت کی کتاب بفضلِ مولا سینکڑوں سوالات کا جوابِ شافی ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

جمعرات ۷، اگست  ۲۰۰۳ء

۷۳

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۴۰)

          بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (۴۸: ۱) یہی سورۂ فتح کا نام اور اس کا آغاز ہے، اسی ارشادِ مبارک کی حکمتِ بالغہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آنحضرتؐ کے لئے عالمی اور کائناتی فتح و تسخیرِ باطن عنایت کردی، یقیناً روحانی قیامت کا یہ عظیم معجزہ غارِ حرا کے ذکرِ اسمِ اعظم کے سلسلے میں ہوا، اور حضورِ پاکؐ کی اسی روحانی قیامت کا ذکر سورۂ نصر (۱۱۰: ۱۔۲) میں بھی ہے۔

          یہاں فتحِ مبین میں زبردست بلیغ اشارہ ہے جسکی وجہ سے فتح کے معنی فلکُ الافلاک سے بھی باہر جاتے ہیں۔ فَلَکُ الافلاک یا فَلَکِ اعظم کرسی ہے، جس میں سب آسمان اور زمین محدود ہیں (۲: ۲۵۵) ۔

          روحانی قیامت، اللہ =القابض اور الباسط کی زبردست اور غالب قوت کا نام ہے، پس زمانۂ نبوت ہی میں روحانی قیامت کے ذریعے سے تمام لوگ اللہ کے زندہ دین = آنحضرتؐ میں روحاً داخل ہو گئے تھے، اور سورۂ نصر (۱۱۰: ۱ تا ۲) کے یہی معنی ہیں، اور مولا علی علیہ السلام نے اسی معنیٰ میں فرمایا ہے اَناَ دِیْنُ اللّٰہِ حَقَّا، اَنَا نُفْسُ اللہ حَقَّا = یہ بات حق ہے کہ میں خدا کا دین ہوں، اور یہ بات حق ہے

۷۴

کہ میں نفسُ اللہ ہوں۔ کتابِ مستطابِ سرائر ص ۱۱۷۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

جمعتہ المبارک ۸ ، اگست  ۲۰۰۳ء

۷۵

روحانی اصطلاحات

(۱)

          عالمِ صغیر = عالمِ شخصی، خود شناسی = معرفتِ نفس، سالک، مومنِ سالک = اپنی ذات میں سفر کرنے والا مومن، ہجرت کرنا = اپنے باطن میں داخل ہوجانا، نفسِ حیوانی کی منزلِ تحلیل (۲: ۶۷ تا ۷۳)، کان بجنے کی منزل (بعوضہ ۲: ۲۶)، ابتدائی رنگ برنگ روشنیاں = رنگِ خدا (۲: ۱۳۸)، منزلِ نفخ = منزلِ اسرافیلی = منزلِ عزرائیلی = منزلِ قبضِ روح، منزلِ تسخیرِ کائنات = منزلِ حشرو نشر = منزلِ قبض و بسط، منزلِ فنا = منزلِ موت و بعث، قریۂ ہستی کا زیرو زبر ہونا (۲: ۲۵۹)۔

          واقعۂ قیامت کی روحانی اور تاویلی ہمہ رسی اور ہمہ گیری انتہائی عجیب و غریب اور بے حد حیرت انگیز ہے، یہ ایک بہت بڑی صاف و شفاف ندی کی طرح ہے، جس کا پانی قرآنِ حکیم کے ہر قصہ اور ہر مثال کے ظرف میں بھر کر بالکل اس کا ہم شکل ہوسکتا ہے، یہ ایک طرف سے قیامت و روحانیت کا سب سے عظیم معجزہ ہے، اور دوسری جانب سے قرآنِ حکیم کا سب سے بڑا معجزہ۔

          منزلِ اسمِ اعظم خود گو یا خود کار، منزلِ فنائے دوم، منزلِ فنائے سوم، عین الیقین ، حق الیقین، زلزلہ، برق، رعد۔

۷۶

          عالمِ شخصی کی زمین، پہاڑ، آسمان، کوہِ طور، عالمِ بالا، حظیرۂ قدس، ظہورِ ازل و ابد، کنزِ مخفی، بہشت برائے معرفت، لقاءُ اللہ، معجزۂ صورتِ رحمان، عقلانی پیدائش ، ابداع و انبعاث، کتابِ مکنون۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

پیر ۳، جولائی  ۲۰۰۰ء

۷۷

روحانی اصطلاحات

(۲)

عالمِ ذر = یاجوج و ماجوج (۱۸: ۹۴ نیز ۲۱: ۹۶) = جنودِ روحانی (لشکرِ غیب ۷۴: ۳۱) = لشکرِ آسمان و زمین (۴۸: ۷)۔

          اَلْاَرْوَاحُ جُنُودٌ مُّجَنَّدَۃٌ = روحیں ہمیشہ روحانی جنگ کے لئے تیار شدہ لشکر کی حیثیت سے ہوتی ہیں۔

          ثمراتُ کُلُّ شی ءٍ = ہر چیز کا میوہ = روح = جوہر = رازِ حکمت۔

          دآبَّۃُ الْاَرْض ( ۲۷: ۸۲)، ناقور = صور = نفخ، ساعت، آیاتُ اللہ = علیؑ، وجہُ اللہ = علیؑ = کتابِ ناطق (۲۳: ۶۲ نیز ۴۵: ۲۹)۔

          لوحٍ محفوظٍ (۸۵: ۲۲) = علیؑ (کوکبِ دری)، قلم = نورِ محمدی، لوح = نورِ علی، عرش = نورِ محمدی، کرسی = نورِ علی، عقلِ کل = نورِ محمدی، نفسِ کل = نورِ علی، شمس = محمدؐ، قمر = علیؑ، اسمِ اعظم = محمدؐ و علیؑ، مومنین و مومنات کے روحانی والدین = محمدؐ و علیؑ۔

          صاحبِ تنزیل = محمدؐ، صاحبِ تاویل = علیؑ، وزیرِ موسیٰؑ = ھارونؑ، وزیرِ محمدؐ = علیؑ، ہر امام کتاب، اور علیؑ ام الکتاب ہے۔

۷۸

          اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ مَنّہٖ وَ اِحْسَانِہٖ۔ اب ہماری روحوں کی اساسی پرورش کرنے والی کتابِ مستطاب ’’ گنجینۂ جواہرِ احادیث‘‘ زیورِ طبع سے آراستہ و پیرا ستہ ہو کر نورِ امامت کے پروانوں کو دستیاب ہو رہی ہے، جس مبارک ہاتھ نے اور جس بابرکت قلم نے ہمارے لئے یہ خزانۂ عشقِ امام جمع کیا ہے ہم اس کو صبح و شام بلکہ علی الدّوام سلامِ محبت و عقیدت کرتے رہیں گے۔ آمین یا ربّ العالمین!

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

پیر ۳ ،جولائی ۲۰۰۰ء

۷۹

روحانی اصطلاحات

(۳)

روحانیت کا قریب ترین آسمان (۶۷: ۵)، اللہ تعالیٰ نے اس آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے، اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے۔

          جسمِ لطیف = جسمِ مثالی = جسمِ فلکی = جثۂ ابداعیہ۔

          جسمِ لطیف کی ستر ہزار (۷۰۰۰۰) کاپیاں = عالمِ شخصی کی کاپیاں = کائنات کی کاپیاں = جنت کے ایک بازار میں صرف تصویریں ہی تصویریں ہیں۔

          بہشت میں ہر دل خواہ نعمت مل سکتی ہے، اور کوئی بھی نعمت غیر ممکن نہیں۔

          التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ (۲: ۲۴۸)۔

          منزلِ خوشبو = ریحِ یوسف (۱۲: ۹۴) = قمیصِ یوسف (۱۲: ۹۳)۔

          طیبات = اَلْمنّ و السّلویٰ (۲: ۵۷)، طیبات = روحانی غذا بصورتِ خوشبو (۲۳: ۵۱)، روحانی غذائیں بصورتِ خوشبو عظیم معجزات میں سے ہیں (۷: ۳۲)۔

          تابوتِ سکینہ سے سرتا سر امام کے تمام روحانی معجزات مراد ہیں،

۸۰

مائدہ عیسیٰ بھی تمام روحانی معجزات کا مجموعہ تھا، کیونکہ انسان ایک ایسی مخلوق کا نام ہے جو جسمِ کثیف و لطیف بھی ہے اور روح و عقل بھی، پس اگر اسے خوانِ نعمت کے معجزے سے اطمینان دینا ہے تو وہ تین قسموں میں ہوسکا ہے، اول: ایسی جسمانی غذا جو غیر معمولی ہو، وہ ہرقسم کی خوشبوؤں کی صورت میں ہے، دوم: روحانی غذا جو اللہ تعالیٰ کے پوشیدہ بزرگ ناموں میں ہے، سوم: عقلی غذا وہ جو اعلیٰ سے اعلیٰ علم و حکمت اور عظیم اسرارِ معرفت میں ہے۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

منگل ۴ ، جولائی ۲۰۰۰ء

۸۱

روحانی اصطلاحات

(۴)

          نفسِ لوّامہ = خود کو بہت ملامت کرنے والا نفس۔

          جب ہم سورۂ قیامہ کے شروع (۷۵: ۲) میں نفسِ لوامہ کی یہ فضیلت دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس طرح یومِ قیامت کی قسم کھاتا ہے، بالکل اسی طرح وہ علیم و حکیم نفسِ لوامہ کی بھی قسم کھاتا ہے، اس سے کسی مومن شخص کو ضرور یہ شوق پیدا ہوسکتا ہے کہ کاش! وہ اپنے نفسِ امارہ کو ملامت کرتے کرتے ایک دن نفسِ لوامہ بنانے میں کامیاب ہو سکتا ! لیکن سوال یہ ہے کہ آیا تنہائی میں کسی کا اپنے آپ کو سخت سے سخت ملامت کرنے سے یہ مرتبہ حاصل ہوسکتا ہے؟ یا کسی مجلس میں گریہ وزاری اور مناجات کے بہانے سے اپنے آپ کی ملامت کافی ہوسکتی ہے؟ یا ان تمام کوششوں کے ساتھ ساتھ استادِ کامل کی پرحکمت ملامت بھی بے ضروری ہے؟ تاکہ وہ اپنے شاگردوں کی اخلاقی بیماریوں کو چشمِ بصیرت سے دیکھتے ہوئے طبِ الٰہی سے علاج کر لیا کرے۔

          جب مذکورۂ بالا باتیں حقیقت پر مبنی ہیں، اور اخلاقی ترقی کے بغیر روحانی ترقی غیر ممکن ہے تو آؤ ساتھیو! ہم سب کے سب اولوالعزم لوگوں کی طرح عالی ہمتی سے کام لیں، اور مرتبۂ نفسِ لوامہ کو حاصل کرنے

۸۲

کی خاطر استادِ کامل کی تلخ ترین نصیحتوں کو بھی قبول کریں، ورنہ بعد میں ہم کو بہت ہی افسوس کرنا پڑے گا، جس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا، والسلام۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

بدھ ۵ ،جولائی ۲۰۰۰ء

۸۳

چند اصطلاحات

          عالمِ جمادات، عالمِ نباتات، عالمِ حیوانات، عالمِ انسان = ناسوت۔

          عالمِ ملکوت = عالمِ ارواح و ملائکہ۔

          جبروت = قدرت = بزرگی = عظمت = جاہ و جلال = اسمِ صفاتِ الٰہی۔

          لامکان = وہ عالم جو مکان اور جہات سے مبرا ہے۔

          لاھوت (تصوف) = وہ عالمِ ذاتِ الٰہی جس میں سالک کو فنا فی اللہ کا مقام حاصل ہوتا ہے۔

          عالمِ کبیر = عالمِ اکبر = کائنات = کل عالم۔

          عالمِ اصغر = عالمِ صغیر = عالمِ شخصی ۔

          عالمِ کثرت = جہاں لوگ بکھرے ہوئے ہیں۔

          عالمِ وحدت = جہاں ایک میں سب ہیں۔

          چہار ارکانِ تصوف = شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت۔

          چار آسمانی کتابیں = توراۃ، انجیل، زبور، فرقان۔

۸۴

          کل آسمانی کتابیں = ایک سوچار (۱۰۴) ۔

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

کراچی، ۲۲ ،جولائی ۲۰۰۰ء

۸۵

Little Angels: Coolness of the Eyes

The book "Ismaili Istilahaat" has been written with special reference to the LA (Little Angels) which is an institution that was created by Allama Sahib on 24th May 1998 during his memorable visit to London. The reason he gave for this name was that each and every person has an angel in them, and in the beginning this is a little angel. Therefore the institution of LA is a reminder that each of those children in their batin is a little angel.

In general all children are attractive to us, but in particular our own children hold a very special place for us. In fact Allamah Sahib has mentioned that our children are the "coolness of our eyes". In his writings he has given two reasons for this description. Firstly, that they have been born according to the law of religion (30:30). Secondly, that God has cast the shadow of His love not only on Hazrat Musa, but on all the Prophets and the awliya'. Since God has said that those who follow them will also receive the same blessings, then children in particular have been blessed with the love of God. Due to this natural attraction in Children, parents make a special effort to teach them true knowledge. In addition Allamah Sahib has also explained that in paradise pious parents will receive didar (the vision of God) in the image of their angelic children.

In 6:66 it is said: "O you who believe, save yourself and your families form the fire." The wise know that this fire of hell is none other than ignorance. The means of saving and being saved from this fire is therefore only through true knowledge.

It is for this reason that Allamah Sahib has created not just the institution of the LA (which includes all the children) but also the institution of the High Educator (which consists of the parents of those children) so that the above-mentioned duty may be carried out: that is, the parents may, through the dissemination of true knowledge, save themselves and their families from the fire of ignorance. However, it is incumbent upon the High Educators to first agree to this responsibility, and then implement it.

۸۶

When the LA was first created, it was difficult to understand the rationale behind it. But gradually, as Allamah Sahib has explained the reasons behind this act, it has been made clear that its basis is nothing other than our own spiritual progress.

Mawlana Hazir Imam has emphasized on meritocracy in his Farmans i.e. everyone should aim for nothing but the best in their education. This Holy guidance is for both the worlds, which implies that we should not confine ourselves to just secular education but we should also get the best religious knowledge. Together with our children, we have a golden opportunity to acquire deep religious understanding by reading and understanding what our Ustad has been writing so tirelessly. This Balance of the secular and religious and the training of the LA from a very young age will help develop a holistic personality.

Eshrat Zahir

Maryam Kotadia

۸۷

Little Angels in USA
Names of Little Angels Father's Name Mother's Name
Hubb-i Ali Hunzai Aminuddin Hunzai Irfat Ruhi Aminuddin
Durr-i Alawi Hunzai Aminuddin Hunzai Irfat Ruhi Aminuddin
Durr-i Fatimah Hunzai Aminuddin Hunzai Irfat Ruhi Aminuddin
Nadia Momin Ghulam Mustafa Momin Mumtaz Momin
Nayab Ali Nizar Ali Momin Almas Nizar Ali
Hina Ali Nizar Ali Momin Almas Nizar Ali
Sabah Ali Nizar Ali Momin Almas Nizar Ali
Nasir Panjwani Naushad Panjwani Rozina Panjwani
Eesarali Panjwani Naushad Panjwani Rozina Panjwani
Azim Sultanali Sultan Ali Ladji Shaukat Bano Ladji
Zohaib Rahim Zahir Rahim Yasmin Rahim
Farah Rahim Zahir Rahim Yasmin Rahim
Salman Rahim Zahir Rahim Yasmin Rahim
Hina Khanjee Nasiruddin Khanjee Khairunnisa Khanjee
Kashif Khanjee Nasiruddin Khanjee Khairunnisa Khanjee
Komal Khanjee Nasiruddin Khanjee Khairunnisa Khanjee
Gulab Rafique Dr. Rafique Jannat Ali Dr. Shah Sultana
Shafique Rafique Dr. Rafique Jannat Ali Dr. Shah Sultana
Sakina Chagani Imaran Chagani Afroza Chagani
Zainab Akber Nathani Akber G. Ali Nathani Parveen Akber Nathani
Jafar Ali Jooma Shamsuddin Jooma Karima Jooma
Salman Hasan Hasan Haider Ali Kanma Hasan
Farah Gillani Barkat Ali Gillani Rukhsana Gillani
Zahra Gillani Barkat Ali Gillani Rukhsana Gillani
Sana Ali Mehboob Ali Zarin Mehboob Ali
Shoaib Ali Mehboob Ali Zarin Mehboob Ali
Karim Lakhani Siraj Ali Lakhani Shaheena Lakhani
Muizz Lakhani Siraj Ali Lakhani Shaheena Lakhani
Ali Shan Chandwani Aziz Chandwani Shamshad Chandwani
Arsalan Chandwani Aziz Chandwani Shamshad Chandwani
Shamim Rupani Anwer Ali Rupani Rozina Rupani
Rahim Rupani Anwer Ali Rupani Rozina Rupani
Noorie Hussain Mohammad Ali Hussain Rukhsana Hussain
Neha Hussain Mohammad Ali Hussain Rukhsana Hussain

۸۸

Narmeen Rajpari Aziz Rajpari Nafisa Rajpari
Akil Rajpanri Aziz Rajpari Nafisa Rajpari
Sitra Rajpari Aziz Rajpari Nafisa Rajpari
Asad Ali momin Zahir Ali Momin Saira Zahir Ali Momin
Sinaan Ali Momin Zahir Ali Momin Saira Zahir Ali Momin
Mahjabeen Momin Nizar Ali Momin Anis Nizar Ali Momin
Arrafa Momin Salman Momin Anila Salman Momin
Zaibunnissa Momin Karim Momin Zarina Momin
Kiran Momin Qurban Momin Noorbanu Momin
Neelam Momin Qurban Momin Noorbanu Momin
Hussain Momin Qurban Momin Noorbanu Momin
Noman Momin Mustafa Momin Yasmeen Momin
Salman Momin Mustafa Momin Yasmeen Momin
Fareed Momin Liaqat Momin Zubeda Momin
Rehan Momin Liaqat Momin Zubeda Momin
Zain Momin Noordin Momin Almas Momin
Sakina Amin Amin M. Ali Nusrat Amin
Ahsan Merchant Meheraly Merchant Shanshahi Merchant
Azeem Marchant Meheraly Marchant Shanshahi Merchant
Sufia Charania Akber Ali Charania Shamsha Charania
Kashif Amin Charania Akber Ali Charania Shamsha Charania
Little Angels in UK
Markaz-e Ilm-o Hikmat
Names of Little Angels Father's Name Mother's Name
Nasiruddin Khizr-Ali Zahir Zahir Lalani Eshrat Zahir
Durr-I Maknun Zahir Zahir Lalani Eshrat Zahir
Zuhaa Jamani Zulfikar Jamani Farhat Jamani
Raziyyuddin Jamani Zulfikar Jamani Farhat Jamani
Farid Rener Rehman Rener Nimet Rener
Khalil Ali Rener Rehman Rener Nimet Rener
Abuzarr Ali Kotadia Amin Kotadia Mariam Kotadia
Salman Karim Kotadia Amin Kotadia Mariam Kotadia
Shazia Chatur Mehboob Chatur Firoza Chatur
Sara Lalani Faizal Lalani Haseena Faizal

۸۹

امام شناسی

امام شناسی

امام شناسی ہی کائناتی بہشت ہے۔

اہلِ معرفت کے لئے یہ حقیقت روشن ہے کہ امامِ زمان کی پاک معرفت اللہ تعالیٰ کا وہ زبردست معجزہ ہے، جس سے ساری کائنات بہشت بن جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث اور ارشاداتِ ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے بعد بزرگانِ دین کی حکیمانہ کتابوں میں بھی امام شناسی کی ضرورت و اہمیت کی طرف بار بار توجہ دلائی گئی ہے۔
انتسابِ جدیدی: میں بہت شکرگزار اور ممنون ہوں ان تمام عزیز ساتھیوں کا، جو کتابی اور علمی خدمت میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں، اور کتابوں کی سرپرستی کر رہے ہیں، نیک نام مؤمن مہدی علی قاسم علی دھنجی اور ان کے اہلِ خانہ نے جس طرح امام شناسی کی اس دینی کتاب کے موجودہ ایڈیشن میں بھرپور تعاون کیا ہے اس کا لازوال اجر و صلہ مولائے پاک عطا کرنے والا ہے، میں ایک خادم درویش کی حیثیت سے عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ خداوند قدوس ایسے تمام علم پرور اور علم گستر مؤمنین و مؤمنات کو دونوں جہان کی کامیابی اور سربلندی عطا فرمائے!
میں آئی۔ ایل۔ جی، سینئر ممبر پریسیڈنٹ کمیٹی دانشگاہِ خانۂ حکمت عزیزم نصر اللہ قمر الدین کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ایک ارضی فرشتے کو میرا دوست بنا دیا۔

املا از چیف ریکارڈ آفیسر                                         نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)
عرفت روحی امین الدین                                            کراچی، جمعۃ المبارک، ۳ مئی ۲۰۰۲ء

ج

مہدی علی قاسم علی دھنجی اور اہلِ خانہ

مہدی علی قاسم علی دھنجی ڈھاکہ بنگلہ دیش میں ۱۹۶۴ء میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی، ۱۹۷۱ء کے بعد آپ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کراچی منتقل ہو گئے، آپ کی والدہ کا نام نور بانو قاسم علی اور والد کا نام قاسم علی دھنجی ہے، مہدی علی نے کئی سال تک ناظم آباد جماعت خانے میں ایک والنٹیئر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، آپ گزشتہ ۸ سالوں سے نصر اللہ قمر الدین ، آئی۔ ایل۔ جی، سینئر ممبر پریسیڈنٹ کمیٹی دانشگاہِ خانۂ حکمت ، کے بزنس پارٹنر ہیں اور انہی کے توسط سے آپ خانۂ حکمت کی علمی کلاسس اور استادِ گرامی کی عالی قدر شخصیت سے متعارف ہوئے، اپنی طبیعت کی پاکیزگی، عشقِ مولا اور علم دوستی کی بناء پر آپ بہت جلد اس علم سے قلبی طور پر وابستہ ہو گئے، اپنی ذات کو روحانی طور پر منور کرنے کے ساتھ ساتھ آپ نے اس علم کو جماعت کے لئے عام کرنے کی اہمیت کو بھی سمجھ لیا اور علمی خدمت میں سبقت لے جاتے ہوئے امام شناسی جیسی اہم کتاب کی بارِ نو اشاعت کی سرپرستی کی ذمہ داری قبول کی۔

آپ کی زوجۂ محترمہ ناہید مہدی علی کراچی میں ۱۹۷۲ء میں پیدا ہوئیں، آپ کے والد ماجد کا نام حیدر علی حسن علی لاکھانی اور والدہ کا نام حبیبہ حیدر علی ہے، ناہید مہدی علی نے ابراہیم علی بھائی اسکول کریم آباد سے میٹرک پاس کیا،

د

آپ کو گارڈن جماعت خانے میں کچھ سالوں تک بحیثیت لیڈی والنٹیئر خدمت انجام دینے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ہے، خانۂ حکمت کی علمی محفل سے آپ کا تعارف آپ کے شوہرِ نامدار جناب مہدی علی قاسم علی کے توسط سے ہوا، اپنی سادہ، نیک اور مذہبی طبیعت کی وجہ سے آپ نے اس علم کی اثر پزیری کو قبول کیا اور امام کے حقیقی علم کے پھیلاؤ کے لئے مہدی علی کی کاوشوں کی بھرپور حمایت کی۔

آپ کے خاندان کے گلشن کو اپنی سدا بہار معصوم مسکراہٹوں اور فرشتگانہ احساسات سے معطر کرنے والا لٹل اینجل سولجر آپ کا ساڑھے تین سالہ فرزند رحیم مہدی علی ہے، رحیم ماما بے بی کیئر اسکول میں مونٹیسری کا طالبِ علم ہے۔

ہ

ایک مثالی خط

برادرِ بزرگ مہربان شاہ (مہربان) کے علمی ذوق و شوق کا یہ عالم تھا کہ دن ہو یا رات آپ ہمیشہ دینی کتب کا مطالعہ کرتے رہتے تھے اور اپنے خیالات کو سپردِ قلم بھی کرتے تھے، ان کے جذبۂ دینداری اور اوصافِ مؤمنی کی کوئی مثال نہیں، وہ عشقِ مولا میں خود کو فنا کر دینا چاہتے تھے، موصوف کے انتقال پر میں نے ان کے فرزندِ ارجمند موکھی سرفراز شاہ اور جملہ خاندان کی خدمت میں ’’ایک مثالی خط‘‘ تحریر کیا ہے، جو اس کتاب میں شامل ہے۔

و

ایک مثالی خط
عزیز و محترم موکھی سرفراز شاہ اور جملہ معزز خاندان

دلِ دردمند سے یا علی مدد کہتا ہوں، میں آہ و افسوس سے کہہ رہا ہوں کہ میرے بزرگ و محترم اور مشفق و مہربان بھائی، جن کا پیارا نام بھی ’’مہربان شاہ‘‘ ہے، جو آپ کے دولت خانہ میں قیام پذیر تھے، وہ کہاں تشریف لے گئے؟ اس سے پیشتر کہ آپ کچھ فرمائیں، قرآنِ حکیم ہی سے اس سوال کا جوابِ باصواب مل جاتا ہے کہ: انا للّٰہ و انا الیہ راجعون ۔ ۲: ۱۵۶، ( ہم تو خدا ہی کے ہیں اور ہم لوٹ کر اسی کی طرف جانے والے ہیں)۔
ان کے پاکیزہ دل میں خدا، رسول، اور امامِ زمان کی کتنی اور کیسی شدید محبت تھی! وہ قرآنِ پاک اور دینی علم کے بڑے شیدائی تھے، ایک شب خیز اور مناجاتی درویش، ایک باعمل اور پرسوز دعاگو، ایک مؤمنِ صادق، ایک عاشقِ مولا، ایک مخلص جماعتی عملدار، ایک بہادر سپاہی (ماضی میں) ایک متقی خلیفۂ پیرِ روشن ضمیر، ایک ہوشمند اور جفاکش زمیندار،

ز

امامِ عالی مقام کا ایک سرفروش اور جان نثار مرید، ایک دائم الذکر عابد، شمعِ نورِ امامت کا ایک پروانہ، جہادِ علمی کا ایک مجاہد، اور اہلِ بیت علیہم السلام کا ایک محب۔
ان کا دل جذبۂ ایمانی سے سرشار، آنکھیں آسمانی عشق سے اشکبار، زبان ذکرِ الٰہی میں مشغول، جبینِ سجدہ بار بار بر زمین، ہاتھ میں اکثر اوقات تسبیح، پیروں کو خدا کے گھر چلنے میں راحت، کان منقبت سننے کے لئے مشتاق، جان ہمیشہ مائلِ جانان، روح متصلِ جنان (بہشت) اور ان کی خوبیان اس تحریر سے بہت زیادہ ہیں۔
عزیزم سرفراز شاہ! دینی اعتبار سے یہی بہتر اور مفید تر ہے کہ آپ تمام عزیزانِ خاندان صبر اور شکر کے راستے پر ثابت قدم رہیں، کیونکہ آپ سب کا بہت بڑا امتحان ہوا ہے، اور سب سے بری عبادت اسی میں ہے، آپ ان شاء اللہ، انبیاء و ائمہ علیہم السلام کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں، الحمد للہ، مؤمن خدا پر توکل کرتا ہے، یعنی اللہ کو اپنا وکیل اور کارساز قرار دیتا ہے، آپ کو دین و دنیا کی سعادتیں حاصل ہو رہی ہیں۔
قانونِ روح کا مطالعہ کر کے دیکھیں کہ کوئی کہیں نہیں جاتا، سب موجود ہیں، مؤمن صرف کثیف سے لطیف ہو جاتا ہے، چنانچہ قرآن نے فرمایا کہ شہید دراصل مرتے نہیں ہیں (۳: ۱۶۹) رسولِ اکرم نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا

ح

کہ ہر مؤمن شہید کا درجہ رکھتا ہے، اور حضرتِ پیر نے فرمایا کہ دنیا سے آخرت تک کچھ زیادہ مسافت نہیں، لیکن درمیان میں تمہاری اپنی ہستی ہی دیوار بنی ہوئی ہے، وہ شعر یہ ہے:

ز دنیا تا بعقبیٰ نیست بسیار
ولی در رہ وجودِ تست دیوار

پس اگر ہم اپنی ہستی کی دیوار کو درمیان سے ہٹائیں، یا اسے شیشہ کی مانند صاف شفاف بنائیں، تو ہم تمام روحوں کو اس وقت بھی دیکھ سکتے ہیں۔

آپ کا دعاگو
ن۔ ن۔ (حبِ علی) ہونزئی ، کراچی
اتوار، ۱۶ جمادی الاول ۱۴۱۲ھ
۲۴ نومبر ۱۹۹۱ء

ط

امام شناسی
حصہ اول

پیش گفتار

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ان اللّٰہ و ملائکتہ یصلون علی النبی یایھا الذین اٰمنو صلوا علیہ و سلموا تسلیما ۔ (۳۳: ۵۶)۔ اللّٰھم صل علیٰ محمد و آل محمد ۔

۱۔ یہ کتابچہ ان آیاتِ مقدسہ کی توضیحات و تاویلات پر مشتمل ہے جن میں امام اور امامت کا صراحت سے تذکرہ موجود ہے۔ اگرچہ باطناً قرآنِ حکیم کی کوئی آیت امامت کے موضوع سے خالی نہیں، تاہم ظاہراً اس سلسلے میں ایسی آیتوں سے بحث کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔

۲۔ سورۂ یس (۳۶) آیت نمبر ۱۲  (۳۶: ۱۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر عقلی، روحی اور مادی چیز کو امامِ اکرم کے نور میں مستغرق کر کے گھیر رکھا ہے، پھر حکمتِ قرآن کے اصول سے ظاہر ہوا کہ جملہ موضوعات امامت کے موضوع میں اور سارے الفاظ امام کے لفظ میں سموئے ہوئے ہیں۔ پس ضروری اور لازمی تھا کہ ان آیاتِ کریمہ کا یکجا طور پر تاویلی بیان کیا جائے جن میں امام یا ائمہ کے الفاظ آئے ہیں۔

۳

۳۔ جن حقیقی مؤمنین کا دیدۂ دل روشن ہوا ہو وہ اس حقیقت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ کائنات و موجودات کی ہر چیز دنیا میں امام کے حی و حاضر ہونے کی گواہی دے رہی ہے، اور اس شہادت سے ظاہر و باطن کی کوئی شے خالی نہیں۔

۴۔ جب یہ ارشادِ الٰہی ظاہر ہے کہ ہر چیز امامِ مبین کے نورِ مقدس میں محدود و محصور ہے، پس یہ بات لازمی ہے کہ ہر شی امامِ عالی مقام کی نورانیت کے رنگ میں رنگی ہوئی نظر آئے چنانچہ دنیائے قرآن و حدیث کے علاوہ کائنات کی ہر چیز ایسی ہی رنگین نظر آتی ہے۔

۵۔ اگر بحکمِ حدیث یہ مان لیا جائے کہ خودشناسی کا نتیجہ خدا شناسی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو انسانِ کامل کی شناخت اس موضوع سے مستثنیٰ قرار نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ انسانِ کامل (امام) کی معرفت کے بغیر انسانِ ناقص کی اپنی معرفت خدا شناسی کا نمونہ نہیں بن سکتی۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ امام کی ابتدائی معرفت سے خود شناسی اور انتہائی معرفت سے خدا شناسی حاصل آتی ہے۔

۶۔ سورۂ قصص (۲۸) آیت نمبر ۸۸ (۲۸: ۸۸) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ کل شی ہالک الا وجھہ ۔ یعنی ہر چیز ہلاک و فنا ہونے والی ہے بجز س کے چہرہ کے۔ جاننا چاہئے کہ خدا کے چہرہ سے اس کی معرفت مراد ہے، اور خدا کی معرفت وہ حقیقت ہے جو امام کی معرفت میں

۴

پوشیدہ ہے۔ چنانچہ مولانا علی علیہ السلام نے فرمایا: انا وجہ اللّٰہ فی السمٰوٰۃ و الارض ۔ یعنی میں ہی آسمانوں اور زمین میں خدا کا چہرہ (معرفت) ہوں۔

۷۔ جب یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ امامِ عالی صفات کی معرفت خدا کی معرفت ہے، تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام علومِ الٰہی بھی اسی معرفت میں مجموع ہیں۔ یہی سبب ہے جو رسول اکرم صلعم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے امامِ وقت کی معرفت کے بغیر مر جائے وہ جاہلانہ موت میں مر جاتا ہے اور جاہل کا ٹھکانا آتشِ دوزخ ہے۔ یعنی وہ علمِ الٰہی کی جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔

۸۔ دینِ اسلام خدا سے جا ملنے کا راستہ ہے۔ جسے صراطِ مستقیم یعنی راہِ راست کہتے ہیں۔ اس کی چار منزلیں ہیں۔ جو شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے ناموں سے مشہور ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان میں منزلِ مقصود اور درجۂ کمال معرفت ہے۔
۹۔ روایت ہے کہ شریعت بمثل رات کے ہے، طریقت ستاروں کی روشنی کی طرح ہے، حقیقت چاند کی روشنی کی طرح ہے اور معرفت سورج کی روشنی کے مثل ہے پس نورِ معرفت کی روشنی میں ہر چیز کی اصلیت کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

۱۰۔ معرفت اور یقین کا ایک ہی مطلب ہے اور

۵

یقین کے تین درجے ہیں۔ علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین۔ پس ابتدائی معرفت علم الیقین میں ہے۔ درمیانی معرفت عین الیقین میں اور ا نتہائی معرفت حق الیقین میں۔ اور اس مطلب کی وضاحت یہ ہے کہ امامِ مبین کی ابتدائی معرفت ایک ایسے علم میں ہے جو شک سے بالاتر اور بالکل یقینی ہو۔ درمیانی معرفت ایسے دیدار اور مشاہدے میں ہے جو دیدۂ باطن سے کیا جاتا ہے، اور انتہائی معرفت اس روحانی معجزاتی تجربے میں ہے جس میں حقیقی مؤمن کی خودی امام کے نور کے درمیان اس طرح گم ہو جاتی ہے جس طرح کہ ایک چھوٹے سے کوئلے کی تاریکی اور سیاہی انگاروں کے درمیان کھو جاتی ہے۔

۱۱۔ امام شناسی کے بغیر پیغمبر صلعم کے نور کی معرفت ناممکن ہے اور پیغمبر کے نور کے بغیر خدا کی معرفت محال ہے۔ کیونکہ نبوت کا دروازہ امامت ہے اور الوہیت کا دروازہ نبوت۔

۱۲۔ زندہ موجودات کے لئے زندگی کے چار درجے مقرر ہیں۔ پہلا درجہ روحِ نباتی ہے، دوسرا روحِ حیوانی، تیسرا روحِ انسانی اور چوتھا روحِ قدسی۔ اور معرفت روحِ قدسی میں ہے، جو انسانِ کامل یعنی امام کی مبارک روح ہے۔

۱۳۔ اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ جب معرفت امام

۶

کی روح یعنی نور دیکھنے کو کہتے ہیں تو پھر یہ کیوں فرمایا گیا کہ جس نے اپنے آپ کو یعنی اپنی روح کو پہچان لیا تو بے شک اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو روح بحدِ فعل امام کی ہے وہی روح بحدِ قوت حقیقی مؤمن کی ہے۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ مؤمن کی پہلی روح نباتات سے حاصل ہوتی ہے، دوسری روح حیوانات سے تیسری روح انسانوں سے اور چوتھی روح یعنی روحِ قدسی امام سے حاصل کی جا سکتی ہے اور حقیقی مؤمن کو چاہئے کہ اپنی اس آخری روح کو حاصل کرے اور کماحقہ پہچان لیا کرے۔

۱۴۔ اگر مان لیا جائے کہ انسان کے لئے چار روحیں مقرر ہیں تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جسمِ انسانی میں ان کے آنے کے لئے راستے بھی چار ہی ہیں۔ یعنی روحِ نباتی اور روحِ حیوانی شروع شروع میں ناف کے راستے سے اور پھر منہ سے داخل ہوتی رہتی ہیں اور روحِ انسانی اور روح القدس پہلے سر کے کانوں سے پھر گوشِ ہوش سے داخل ہوتی رہتی ہیں۔

۱۵۔ جس طرح یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ مادی قسم کی غذاؤں کے بغیر روحِ نباتی اور روحِ حیوانی انسان کے جسم میں داخل ہو سکیں اسی طرح یہ امر بھی قطعی محال ہے کہ روحانی نوعیت کی غذاؤں کے بغیر روحِ انسانی اور روح القدس انسان کے دل و دماغ میں جاگزین ہوں اور روحانی غذا علم و حکمت کی باتیں ہیں۔

۷

۱۶۔ امام کے نورِ اقدس سے فیوض و برکات حاصل کر کے اپنی ذات میں معرفت والی روح یعنی روحِ قدسی پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ امامِ زمان کے علمی اور عملی فرامینِ مقدس پر عمل کیا جائے اور اس کی خوشنودی ہر چیز پر مقدم رکھی جائے۔

۱۷۔ امام شناسی کی بنیادی شرط عقیدہ ہے، کیونکہ جس کا عقیدہ درست نہ ہو وہ امام کی معرفت ہرگز حاصل نہیں کر سکتا۔ اور درست عقیدہ کے لئے عموماً بچپن میں مذہبی ماحول بہتر ہونا لازمی اور ضروری ہے۔

۱۸۔ امام شناسی کی دوسری شرط امام کی دوستی و محبت ہے۔ محبت عقیدہ کی ترقی یافتہ صورت کا نام ہے۔ اور ترقی امامِ زمان کی فرمانبرداری میں ہے۔

۱۹۔ امام شناسی کی تیسری ضروری شرط امامِ زمان کا عشق ہے جو محبت کی ترقی یافتہ شکل کا نام ہے اور اس کی ترقی اس بات میں ہے کہ امامِ زمان کی ظاہری اور باطنی خوبیوں سے آگاہی حاصل کی جائے۔ کیونکہ کوئی شخص کسی چیز پر عاشق نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے حسن و خوبی کو نہ دیکھے یا کسی سچ بولنے والے سے نہ سنے۔

۲۰۔ اگر مؤمن کے دل میں امامِ وقت کا عشق شعلہ زن ہونے لگے تو وہ خود ہی زبانِ حال اور زبانِ قال سے بتا دے گا کہ اب اس کے بعد امام شناسی کی راہ میں کس طرح

۸

آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

نکاتِ مذکورہ بالا کا ماحصل یہ ہے کہ امام شناسی کے بغیر اسماعیلیت سے روحانی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور اس پاک مذہب میں جو کچھ خوبیاں موجود ہیں وہ سب کی سب امام کی شناخت میں پنہان ہیں۔ نیز مذکورہ حقائق سے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ امام شناسی کا ذریعہ بھی خود امامِ حی و حاضر ہیں۔ کیونکہ مؤمن کی فرمانبرداری انہی کے لئے ہونا چاہئے۔

جیسا کہ بتایا گیا کہ کسی مؤمن کو امامِ وقت سے عشق اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ وہ امام کی بے مثال خوبیوں کو دیکھے یا کسی سچ بولنے والے سے سنے چنانچہ اس کتاب کو تصنیف کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حقیقی مؤمنین امامِ عالی مقام کے علم و فضل اور روحانیت و نورانیت سے آگاہ ہو جائیں تا کہ اس سے ان کو امامِ زمان علیہ السلام کا عشق حاصل آئے اور اس مقدس عشق سے امام شناسی حاصل کی جا سکے۔

اخیر میں پروردگارِ عالمین کے حضور عاجزانہ دعا ہے کہ ذاتِ کبریا اپنے بے پایان فضل و کرم سے جملہ مؤمنین و مؤمنات کو امام شناسی کی لا انتہا دولت سے مالامال فرمائے! ان کو فتنۂ آخر زمان سے بچائے رکھے! ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازے! اور دنیا و آخرت کی سرفرازی عنایت فرمائے!

۹

آمین یا رب العالمین!

فقط امامِ زمان کا ایک ادنیٰ غلام
نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی
بروز بدھ ۲۱ جمادی الثانی ۱۳۹۲ھ
۲ اگست ۱۹۷۲ء

۱۰

لفظِ امام کی قرآنی حکمت اور معنوی وسعت

’’امام‘‘ کا لفظ قرآنِ حکیم کے مختلف مقامات پر واحد اور جمع کے صیغوں میں کل بارہ دفعہ مذکور ہوا ہے، اگر ان تمام آیاتِ مقدسہ کو، کہ جن میں لفظِ امام اور اس کے معنی و مقصد کا تذکرہ موجود ہے، یکجا طور پر عقل و دانش سے دیکھا جائے، تو اس سے یقیناًاس امر کا بخوبی اندازہ ہو گا، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز میں امام شناسی کی حقیقتیں کس جامعیت کے ساتھ بیان فرمائی ہیں، اور اس نے امامت کے موضوع میں کس قدر بے پایان وسعتِ معنوی رکھی ہے، کہ قرآنی حکمت کی عظیم کائنات فی الاصل اسی امامت کے موضوع کے باطن میں واقع ہے، کیونکہ امامِ عالی صفات علیہ السلام کا پاک نور حقیقت الحقائق ہے، اس لئے امام کی حقیقتِ عالیہ کے تحت تمام موجودات کی حقیقتیں جمع ہو جاتی ہیں، چنانچہ ہم یہاں علی الترتیب ان بارہ آیتوں کی کچھ وضاحت کرتے ہیں، جن کے معانی و مطالب میں اسمِ امام کی بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

البقرہ (۲) کی آیت ۱۲۴ (۲: ۱۲۴) میں پروردگارِ عالم نے

۱۱

فرمایا ہے کہ: ’’ و اذا ابتلیٰ ابراہیم ربہ بکلمٰت فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماماً ۔ اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب کہ ابراہیم کے رب نے اس کا امتحان لیا چند کلمات سے تو اس نے انہیں پورا کر دیا تو خدانے فرمایا کہ میں تمہیں سب انسانوں کا امام بنانے والا ہوں۔‘‘

یہاں پر یہ سوال ضرور ہونا چاہئے، کہ اللہ تعالیٰ نے جن کلمات سے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا تھا وہ کس نوعیت کے کلمے تھے اور یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ آیا حضرت ابراہیم پیغمبر تھے یا کہ امام؟ اگر کہا جائے کہ آپ ان دونوں درجوں پر فائز ہوئے تھے، پھر سوال ہو گا، کہ آیا وہ پیغمبر پہلے ہوئے تھے یا امام؟ اگر جواب ملے کہ آپ پہلے پیغمبر پھر امام ہوئے تھے، تو پھر اس کی توجیہہ کرنی ہو گی، نیز یہ سوال بھی ہو، کہ حضرتِ ابراہیم دنیا بھر کے انسانوں کے امام کیسے ہوئے؟ یعنی سیارۂ زمین کے تمام بر اعظموں میں آپ نے کس طرح تبلیغ و دعوت کا کام انجام دیا، جب کہ اس زمانے میں پیغام رسانی کے ذرائع محدود تھے؟

جاننا چاہئے، کہ وہ کلمات، جن پر حضرتِ ابراہیم کو آزمایا گیا، جسمانی اور روحانی حدود کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے عظام تھے، مثلاً ابتدائی اسم میں حضرت آدم کی روحانیت تھی، دوسرے میں حضرت نوح کی روحانی

۱۲

مثالیں موجود تھیں، تیسرے میں خود حضرتِ ابراہیم کے ماضی و مستقبل پر روشنی ڈالی گئی تھی، چوتھے میں حضرتِ موسیٰ کے تمام روحانی واقعات و معجزات دکھائے گئے تھے، پانچویں اسم میں حضرت عیسیٰ کی روحانی زندگی مندرج تھی، چھٹے میں حضور اکرم کے روحانی کارنامے دکھائے گئے تھے اور ساتویں اسم یا کہ کلمہ میں حضرت قائم القیامت علیہ افضل التحیۃ و السلام کے روحانی معجزات پوشیدہ تھے، نیز ان میں سے ہر ایک اسم کے ساتھ ان حقیقتوں کی روحانی مثالیں بھی موجود تھیں، کہ عقلِ کل، نفسِ کل، جد، فتح اور خیال کس معجزانہ طریق سے انبیاء و ائمہ علیہم السلام کو تائید پہنچاتے رہتے ہیں۔

واضح رہے ، کہ خداتعالیٰ نے حضرتِ ابراہیم کو پہلے نبوت و رسالت کے منصبِ جلیلہ سے اور اس کے بعد امامت کے درجۂ عالیہ سے سرفراز فرمایا، چونکہ امامتِ عالیہ کے کئی درجات ہیں۔ جن میں سے بعض درجات نبوت سے پہلے اور بعض اس کے بعد آتے ہیں، تا کہ امام علیہ السلام مصلحتِ وقت کے مطابق ان میں سے کسی درجے میں ظہور فرمائے اور حاضر رہے۔

حضرتِ ابراہیم کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سارے انسانوں کے لئے امام مقرر ہونے کے کئی معانی ہیں، اول یہ کہ آپ زمانۂ آدم سے لے کر اپنے وقت تک ماضی میں سارے لوگوں کے امام تھے، دوسرے یہ کہ اپنی زندگی کے دورانِ حال میں

۱۳

امام تھے، تیسرے یہ کہ اپنے سلسلۂ اولاد کی حیثیت سے مستقبل میں امام ہوئے، آپ زمانۂ ماضی میں اسی طرح امام تھے، کہ دورِ آدم اور دورِ نوح کے تمام پیغمبروں اور اماموں کی روحانیت میں آپ کی روحانیت بالکل اسی طرح شریک اور شامل تھی، جس طرح کہ آپ کی روحانیت میں ان سب کی روحانیت ہمراز و ہمکار تھی، چنانچہ اسی معنیٰ میں ارشاد ہوا ہے: ’’ ان ابراہیم کان امۃ قانتا للّٰہ حنیفا و لم یک من المشرکین ۱۶: ۱۲۰، بے شک ابراہیم ایک فرمانبردار امت تھا بالکل ایک طرف کے ہونے والا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا‘‘۔ امت کے معنی امام بھی ہیں اور امت بھی، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے یہاں دونوں معنی درست اور موزون ہیں، کہ آپ راہنمائی کی حیثیت میں امام تھے اور حضراتِ انبیاء و ائمہ کی روح و روحانیت کا جامع ہونے کی وجہ سے ایک پوری امت تھے۔

آپ زمانۂ حال یعنی اپنے وقت میں دنیا بھر کے لوگوں کے امام اس طرح تھے، کہ کرۂ ارض کے بارہ حصے مانے گئے ہیں، اور ہر حصہ کو جزیرہ کہا جاتا ہے، جس کی جمع جزائر ہے، چنانچہ ان بارہ جزائر میں سے ہر جزیرے میں ایک حجتِ شب اور ایک حجتِ روز کے علاوہ تیس داعی ہمیشہ موجود ہوا کرتے ہیں، اور ہدایت کے مرکز سے خواہ پیغمبر ہو یا کہ امام، کرۂ ارض کے بارہ جزیروں کے تمام حجتوں کو معجزانہ ہدایت ملتی

۱۴

رہتی ہے، پس اسی معنی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے وقت میں دنیا کے سب لوگوں کے امام تھے، مگر پیغمبر اور امام کے ایسے معجزات کے لئے اقرار کرنا عوام الناس کے بس کی بات نہیں، جب تک کہ یہ حقائق ان کے مشاہدے میں نہیں آتے ہیں، اور جب تک کہ اس دنیا میں روحانیت کا دور دورہ نہیں ہوتا۔

قرآنِ حکیم میں یہ ارشاد ہے کہ خناس (شیطان) جو جنات اور انسان کی دونوں صورتوں میں ہے، وہ لوگوں کے سینوں میں وسوسہ (برے خیالات) ڈالا کرتا ہے، پس اگر یہ ممکن ہے، کہ شیطان دور و نزدیک کے لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈال کر گمراہ کر سکتا ہے، تو دوسری طرف سے یہ بھی ممکن ہے، کہ پیغمبر اور امام قریب و بعید کے کسی فرق کے بغیر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت پہنچا سکتے ہیں، کیونکہ شیطان مضل ہے یعنی گمراہ کر دینے والا، اور پیغمبر یا کہ امام ہادی ہے، یعنی رہنمائی کرنے والا، پس اگر قانونِ قدرت مضل کی آواز لوگوں کے دلوں تک پہنچا دیتا اور ہادی کی آواز کسی طرح سے بھی نہ پہنچا دیتا، تو اس صورت میں لوگوں پر بڑا ظلم ہوتا، اور قیامت کے روز لوگوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر یہ حجت قائم ہوتی، کہ اس نے دنیا میں کیوں گمراہی کے ذریعے کو ہمہ رس اور ہدایت کے وسیلے کو محدود کر رکھا تھا؟ مگر حقیقت کچھ اور ہے، وہ یہی کہ پیغمبر اور امام بارہ جزائر کے حجتوں کو روحانی اور نورانی

۱۵

ہدایت پہنچاتے ہیں، اور حجج (یعنی حجتان) اپنے اپنے داعیوں کے توسط سے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔

حضرتِ ابراہیم مستقبل میں تمام لوگوں کے امام اس معنی میں تھے، کہ جس طرح آپ کی ذاتِ عالی صفات میں زمانۂ سلف کے انبیاء و ائمہ علیہم السلام کی معجزاتی روحانیت موجود تھی، بالکل اسی طرح آپ کے سلسلۂ اولاد میں آپ کی زندہ روحانیت موجود اور حاضر تھی، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: ’’ واجعل لی لسان صدق فی الاٰخرین ۔ ۲۶: ۸۴ ، اور میرے لئے بعد میں آنے والے لوگوں کے درمیان سچائی کی ایک زبان مقرر فرما دے‘‘۔ یہ عرض حضرتِ ابراہیم نے خداوند عالم سے کی تھی، نیز ارشاد ہوا ہے کہ: ’’ و جعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون ، ۴۳: ۲۸۔ اور اس (یعنی ابراہیم) نے اسے (نبوت اور امامت کو) اپنی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ قرار دیا تا کہ وہ (اللہ تعالیٰ کی طرف) رجوع کرتے رہیں‘‘۔

یہاں اس بات سے کہ ابراہیم نے اپنی نبوت و امامت کو ایک پائندہ کلمے میں اپنی اولاد میں منتقل کر دی، اس حقیقت کی مزید تصدیق ہوئی، جو بتائی گئی تھی، کہ خداوند تبارک و تعالیٰ نے جن کلمات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا تھا، وہ اللہ تعالیٰ کے زندہ نام تھے، جو انبیاء، ائمہ اور ملائکہ کی روحانی صورت میں تھے۔

پس معلوم ہوا، کہ ابراہیم خلیل الرحمن اسی معنی میں

۱۶

سب دنیا جہان والوں کے امام ہیں، جب یہ نظریہ مانا گیا، کہ نورِ امامت ایک شخصیت سے دوسری شخصیت میں منتقل ہوتے ہوئے ہمیشہ دنیا میں موجود ہے، تو یہ بھی ماننا لازمی ہے، کہ اسی نورِ امامت سے دنیا کے تمام حجتوں کو، جو بارہ جزیروں پر منقسم ہیں، تائیدی ہدایت ملتی رہتی ہے۔

۱۷

لفظِ امام کے لغوی معنی

سورۂ توبہ (۹) کی بارہویں آیت کا ارشاد ہے کہ:
’’ و ان نکثوا ایمانھم من بعد عہدھم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم لعلھم ینتھون ۔ اور اگر انہوں نے اپنے عہد و پیمان کے بعد قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کی تو تم (بھی) کفر کے سرداروں کے خلاف جنگ کرو تا کہ وہ باز آجائیں، بے شک وہ ایسے ہیں، کہ ان کی قسم کچھ چیز نہیں‘‘ (۹: ۱۲)۔

اس ارشادِ الٰہی سے ظاہر ہے، کہ ائمہ، جو امام کی جمع ہے، کفر کے سرداروں کے لئے بھی آیا ہے، چنانچہ معلوم ہوا، کہ امام کے لغوی معنی سردار کے ہیں، اور کسی گروہ کے سردار سے ایک ایسا شخص مراد ہے، جو سب سے مقدم اور بڑا ہو، مثلاً اگر کہا جائے کہ فلان شخص کافروں کا سردار ہے، تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اس سے بڑھ کر کوئی کافر نہیں، اور کفر و کافری کا سبب اور ذریعہ وہی ہے، اور کافروں کی ساری نافرمانیوں اور گمراہیوں کی مسؤلیت بھی اسی پر ہے، اس کے

۱۸

مقابل میں اگر کہا جائے ، کہ فلان شخص مؤمنوں کا سردار ہے، اور یہ بات صحیح ہو، تو اس کا مطلب یہ ہو گا، کہ اس سے بڑھ کر کوئی مؤمن نہیں، اور ایمان و مؤمنی کا وسیلہ و ذریعہ وہی ہے، اور ساری ایمانداری اور ہدایت اسی کی وجہ سے ہے، اور امامِ زمان ہی ایسا شخص ہو سکتے ہیں۔

اس فرمانِ الٰہی کی تعلیم سے جب یہ حقیقت ثابت ہوئی، کہ کفر و کافری کے سردار ہوا کرتے ہیں، اور ان کے بغیر ظلمتِ کفر دنیا میں پھیل نہیں سکتی، تو دوسری طرف سے لازماً یہ بھی ماننا ہی پڑے گا، کہ ہمیشہ سے دین و ایمان کے بھی سردار ہوا کرتے ہیں، اور ان کے حاضر و موجود ہونے کے بغیر زمانے میں دین و ایمان کی روشنی جاری نہیں ہو سکتی ہے۔

حکمت کا ایک اور مفہوم اس آیۂ کریمہ میں یہ ہے، کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی حاضر و موجود سردار (امام) کے حکم کے تحت منظم اور متفق و متحد ہو جائیں، کیونکہ ارشاد ہے کہ ’’ تم (سب مسلمان) کفر کے سرداروں کے خلاف جنگ کرو‘‘۔ اور اس امرِ الٰہی پر عمل نہیں ہو سکتا، جبکہ کفر کے سردار کے مقابلے میں ایمان کے سردار موجود نہ ہوں اور دنیائے اسلام ان کے حکم کو قبول نہ کرے، اور اگر کہا جائے، کہ اس وقت ایمان کا کوئی ایسا سردار موجود نہیں جو سارے مسلمانوں کو منظم کر سکے، تو اس کے معنی یہ ہوں گے، کہ نعوذ باللہ منہا خدا خواہ مخواہ انہونی باتوں کے لئے بھی حکم دیتا ہے، یا اس

۱۹

کا مطلب یہ ہو گا کہ جہاد کا یہ حکم رسول اللہ کے زمانے سے متعلق و محدود ہے، لیکن یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے، کہ خدائے حکیم نے جہاد جیسے ایک اہم رکن کے بنیادی ذریعے کو اب دینِ اسلام سے اٹھا لیا ہو، آپ خود خداوندی عدل و انصاف کی روشنی میں سوچئے!

ظاہری جہاد نہ سہی علمی جنگ سہی بہر کیف سب مسلمانوں کے لئے سردار یعنی امام کی ضرورت ہے، آپ اس کرۂ ارض کے تمام مسلمین کی خستہ حالی اور بے چارگی کا تصور کر کے کوئی بنیادی سبب بتائیے، کہ آج مسلمان ہر جگہ مجبور کیوں ہیں؟ اور آپ اس کے سوا اور کیا بتائیں گے، کہ جو مسلمان رسولِ اکرم صلعم کے زمانے میں متفق و متحد تھے وہ آج متفرق و منتشر ہیں، اور ان کے اس افتراق و انتشار میں صدیاں گزر گئیں، حالانکہ پروردگارِ عالم نے اس خطرناک نافرمانی سے بچنے کے لئے بروقت ارشاد فرمایا تھا کہ و اعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعا و لا تفرقوا ۔ تم سب کے سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا اور فرقہ فرقہ نہ ہو جانا  (کیونکہ تمہارے ہاتھ اس رسی سے چھوٹ جانے کا خطرہ ہے)  اب فرقہ فرقہ ہو جانے کا الزام مسلمانوں ہی پر عائد ہوتا ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کی رسی پر، کہ اس نے کیوں ان کو زور و زبردستی سے ایک مرکز پر نہیں لایا، کیونکہ خداوندِ عالم نے یہاں یہ نہیں فرمایا، کہ میری رسی! تم سارے

۲۰

مؤمنین و مسلمین کو اپنی ذات کی معرفت سے وابستہ کئے رکھنا اور ان کو فرقہ فرقہ نہ ہونے دینا، بلکہ اس نے تو یہ فرمایا کہ اے گروہِ مسلمین! تم سب یکجا طور پر خدا کی مضبوط رسی کو بڑی مضبوطی سے پکڑے ہوئے رہنا اور فرقہ فرقہ نہ ہو جانا۔

۲۱

کیا کوئی آسمانی کتاب امام ہو سکتی ہے؟

سورۂ ہود (۱۱) آیت ۱۷ (۱۱: ۱۷)میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : افمن کان علیٰ بینۃ من ربہ و یتلوہ شاہد منہ و من قبلہ کتٰب موسیٰ اماما و رحمۃ ۔ تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو، اور اس کے پیچھے ہی پیچھے اسی سے ایک گواہ ہو اور اس کے قبل موسیٰ کی کتاب (توریت) جو (لوگوں کے لئے) امام اور رحمت تھی (اس کی تصدیق کرتی ہو وہ شخص بہتر ہے یا کوئی دوسرا)۔

اس آیۂ کریمہ کی تعلیم یہ ہے کہ آنحضرت صلعم اپنے رب کی طرف سے دلیلِ روشن پر ہیں یعنی آپ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں، اور علی مرتضیٰ جو آپ کا جزو ہیں، آپ کے پیچھے ہی پیچھے حضور کی حقانیت کا ایک گواہ ہیں، اور اس کے بارے میں ایک اور گواہ آنحضرت کے قبل حضرت موسیٰ کی کتاب توریت ہے، جو لوگوں کے لئے امام اور رحمت تھی، اور یہ ساری حقیقتیں مسلمہ ہیں مگر سوال کتابِ موسیٰ یعنی توریت کے بارے میں ہے، کہ وہ کس حیثیت میں امام تھی؟

۲۲

اس کا جواب یہ ہے، کہ یہ بات عربی زبان کے دستور میں شامل ہے، کہ بعض دفعہ کسی چیز کو دوسری ایسی چیز کے نام سے پکارا جاتا ہے، جو اکثر اس کے ساتھ ہو،مثلاً اس اونٹ کو، جو پانی کی مشکیں لادنے کے لئے مقرر ہو، مشک یا مشکیزہ کہا جاتا ہے، اور یہ مثال عربی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی مل سکتی ہے، چنانچہ اہلِ علم اس حقیقت سے آگاہ ہیں، کہ آنحضرت صلعم کو قرآنِ مجید (۶۵: ۱۰ تا ۱۱) میں ذکر کے اسم سے موسوم کیا گیا ہے، حالانکہ ذکر قرآن کا نام ہے، اور اس معنی میں حضورِ اکرم صلعم کو قرآن کہا گیا ہے، اور یہ بات کئی وجوہ سے درست ہے، جن میں سے کچھ وجہیں ظاہری اور کچھ باطنی ہیں، پس ثابت ہوا، کہ روحانی پیشوا (پیغمبر یا امام) کو کتابِ الٰہی اور کتابِ سماوی کو پیشوا یا امام کہا جاتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آسمانی کتاب یعنی توریت کو امام کے اسم سے موسوم کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے، کہ ہر الہامی کتاب فی الاصل ایک زندہ نور یعنی علم و حکمت کی روح کی حیثیت سے ہوتی ہے، اور وہ بحقیقت امام ہی کی روح ہے، الغرض مولانا ہارون علیہ السلام کی روحِ مقدس حضرت موسیٰ پر بصورتِ روحانی کتاب وحی کی گئی تھی، پھر ان روحانی حالات و واقعات کی کچھ ترجمانی کرتے ہوئے کاغذی تحریر کی توریت لکھی گئی تھی۔ مگر اصل توریت روحانی اور نورانی صورت میں موجود تھی، یعنی حقیقی توریت تو امامِ عالی صفات کے نور

۲۳

سے جدا نہ تھی، جیسا کہ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ: قل من انزل الکتٰب الذی جاء بہ موسیٰ نورا و ہدی للناس تجعلونہ قراطیس تبدونھا و تخفون کثیرا ،۶: ۹۱۔ (اے رسول) آپ کہہ دیجئے وہ کتاب جسے موسیٰ لے کر آئے تھے کس نے نازل کی تھی جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی جسے تم لوگوں نے کاغذات کی (تحریری) صورت دی ہے، جس میں کچھ تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر چھپاتے ہو۔

اس آیۂ مقدسہ کی حکمت یہ بتاتی ہے، کہ توریت دو صورتوں میں موجود تھی، چنانچہ پہلی اور اصلی صورت میں توریت علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے معجزاتی نور اور ہمہ گیر مقدس روح کی حیثیت سے ہارون اور موسیٰ علیہم السلام کے دل و دماغ میں موجود تھی، جس سے بمصداق ’’ ہدی للناس ‘‘ اس طرح لوگوں کو معجزانہ ہدایت ملتی تھی، کہ براہِ راست حجتانِ جزائر کو الہامی روشنی حاصل ہوتی تھی، پھر وہ اپنے اپنے داعیوں کے ذریعہ لوگوں کی ہدایت کرتے رہتے تھے، دوسری صورت میں توریت جو کچھ بھی تھی، اس کا حال آیۂ مندرجۂ بالا میں ظاہر اور واضح ہے۔

اب اس قرآنی حکمت کی تفصیل سے یہ حقیقت پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی، کہ توریت یقیناًاپنی اصلی حالت اور نوری کیفیت میں امام تھی، جس سے حضرت مولانا ہارون علیہ السلام

۲۴

کا پاک نور مراد ہے، اس حقیقت کی مزید تصدیق و توثیق کے لئے اس آیۂ مقدسہ پر ذرا غور کیا جائے کہ: ’’ و کذالک او حینا الیک روحا من امرنا ما کنت تدری ما الکتاب و لا الایمان و لٰکن جعلنٰہ نورا نھدی بہ من نشاء من عبادنا ، ۴۲: ۵۲۔ اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف (یہ کتاب بصورت) ایک روح نازل کی ہے، آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان (کا انتہائی کمال ) کیا چیز ہے لیکن ہم نے اس (روح) کو ایک نور بنایا جس کے ذریعے سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں‘‘۔ اس ارشادِ الٰہی سے یہ حقیقت ظاہر ہے ، کہ قرآن حکیم کی بھی ایک ایسی روحانی اور نورانی اصلیت و حقیقت موجود ہے، جس کو پیغمبر اور امام کا نور کہا جاتا ہے۔

اگر کوئی شخص الہامی کتاب اور نور کے مذکورہ حقائق و معارف کے باوجود، جو قرآنِ حکیم کی روشنی میں بیان ہوئے، یہ سوال کرے، کہ آسمانی کتاب پیغمبر اور امام کے نور میں کس طرح موجود ہو سکتی ہے؟ تو اس کا مفصل جواب پھر عقلی طور پر دیا جائے گا، کہ دیکھو جب تم اپنے کسی عزیز کو ایک خط لکھتے ہو، تو وہ اپنے دل و دماغ کی معلومات سے لکھتے ہو، اس میں کبھی ایسا نہیں ہوتا، کہ جتنی معلومات لکھی گئی ہیں، وہ تمہارے ذہن سے خارج ہو کر خط میں اس طرح محدود ہو جائیں، جس

۲۵

طرح کہ کوئی مادی چیز ایک برتن سے دوسرے برتن میں ڈالنے کے بعد پھر وہ چیز پہلے برتن میں پائی نہیں جاتی ہے، بلکہ وہ معلومات، جو خط میں تحریر ہوئی ہیں، تمہارے دل و دماغ میں اپنی اصلی حالت پر قائم ہیں، ان میں ذرا بھی کمی نہیں آئی، وہ جب تک انسانی ذہن میں ہیں، تو ان کی تحریری صورت نہیں ہوتی بلکہ وہ معلومات قلبی اور ذہنی کیفیت میں موجود ہوتی ہیں، اور یہ بات اس بحث سے علیحدہ ہے، کہ انسان اپنی قوتِ ارادی سے خیال میں بھی کوئی تحریر کر سکتا ہے۔ پس اس مثال و دلیل سے یہ حقیقت واضح ہو گئی، کہ قرآن کے علم و حکمت کا جو معجزاتی نور محمد و علی علیہما السلام کی ذاتِ اقدس میں طلوع ہوا تھا، وہ قرآن کے لکھنے سے کم نہیں ہو سکتا تھا۔

اب اگر یہاں یہ سوال بھی ہو، کہ قرآن پیغمبر اور امام کی معلومات میں سے نہیں لکھا گیا تھا، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ سے آنحضرت پر نازل فرمایا تھا، تو اس کا یہ جواب دیا جائے گا، کہ بے شک قرآن آنحضرت پر لوحِ محفوظ سے نازل کیا گیا ہے، لیکن یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے، کہ وہ کس طرح نازل ہوا ہے اور لوحِ محفوظ کیا ہے، چنانچہ جاننا چاہئے، کہ قرآن ایک زندہ روح کی حیثیت سے حضورِ اکرم کے قلبِ مبارک پر نازل ہوا ہے، اور نزولِ قرآن کا تذکرہ اسرارِ روحانیت سے مملو ہے، جس کے لئے جداگانہ کوئی مقالہ ہونا چاہئے، المختصر یہ ہے، کہ جو چیز دل میں نازل ہوتی ہے

۲۶

وہ معلومات اور معقولات کی صورت اختیار کر لیتی ہے، اور اگر دل پاک ہے تو معلومات و معقولات کا یہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جاتا ہے، تا آنکہ ساری کائنات و موجودات اس میں سمو آتی ہیں، چنانچہ قرآن کی روح جو حضورِ اکرم صلعم پر وحی کی گئی تھی، آپ کی ذاتِ اقدس میں عالمِ ملکوت (فرشتوں کا عالم) بن کر آ گئی تھی، وہ علم و حکمت اور کشفِ حقیقت کی ایک جیتی جاگتی روشن دنیا تھی، جس کے مشاہدات اور تجربات کی ترجمانی عربی زبان میں حضورِ انور صلعم نے فرمائی، اور اسی طرح قرآنِ پاک کی تحریری صورت جمع کی گئی، لیکن قرآن کی روح یا کہ نور بلا کم و کاست حضور کی ذاتِ شریف میں آخری وقت تک موجود تھا۔

اب رہا سوال کہ پھر یہ روح علئ مرتضیٰ میں کس طرح آئی؟ اس کے لئے جواباً تحریر کی جاتی ہے، کہ (بحکم: و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ۔ ) نورِ علی، امامِ مبین، کتابِ مبین، ام الکتاب اور لوحِ محفوظ ہے اور اس میں سب کچھ ہے، اور امام کے نور کے سوا دوسری کوئی چیز لوحِ محفوظ کے درجے میں نہیں ہو سکتی ہے، کیونکہ اگر لوح کے لفظی تصور سے یہ مان لیا جائے، کہ خدا کی ایک بہت بڑی تختی ہے، جس پر ہر چیز لکھی ہوئی موجود ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے، کہ اس ظاہری قسم کی تحریر اور لکھت میں ہر چیز نہیں آ سکتی ہے، مثلاً عقل، شعور، فہم، نطق، تمیز، خوشی،

۲۷

غم و غصہ، علم، حلم اور زندگی کے علاوہ عقول، نفوس، ملائکہ اور کائنات و موجودات کی ہر چیز نیز زمانہ اور اس کے بدلتے ہوئے حالات وغیرہ، یہ تمام باتیں ’’ کل شیء ‘‘ میں داخل ہیں، پس معلوم ہوا، کہ لوحِ محفوظ امام کے نور کا نام ہے، اور یہ نور کائنات و موجودات کے ظاہر و باطن پر محیط و حاوی ہے اور اسی طرح اس میں سب کچھ ہے۔

جاننا چاہئے، کہ عقلِ کل خدا کا زندہ قلم ہے اور نفسِ کل خدا کی زندہ تختی ہے، نیز یہ بھی جاننا چاہئے ، کہ عقلِ کل محمد کا نور ہے، اور نفسِ کل علی کا نور ہے، اور قرآن عقلِ کل کے قلم سے نفسِ کل کی لوح پر روحانی تحریر میں لکھا گیا ہے، اب آپ ہی بتائیے، کہ آنحضرت کی شخصیت پر جو روحانی تحریریں منکشف ہوئیں یا جو قرآن نازل ہوا، وہ کہاں سے ہوا، علئ عالی صفات کے نور سے، جو لوحِ محفوظ کے نام سے مشہور ہے، اگرچہ آنحضرت کا نور قلمِ الٰہی کی حیثیت سے تھا، لیکن قلم نے تو ازل میں خدا کے امر سے لوح پر سب کچھ لکھ دیا ہے، اور اب ہر چیز لوحِ محفوظ پر موجود ہے، نیز ظاہر ہے، کہ لکھنے کے لئے قلم کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، اور پڑھنے کے لئے تختی کی طرف، پس معلوم ہوا کہ آنحضرت نے علی کے نور کو ام الکتاب اور لوحِ محفوظ سے خدائی تحریروں کی حکمت کا مشاہدہ کیا تھا، اور یہیں سے یہ پاک قرآن حاصل آیا ہے۔

۲۸

امامِ مبین

سورۂ حجر (۱۵) آیہ ۷۹ میں ارشاد ہے کہ:
’’ فانتقمنا مھم و انھما لبامام مبین ۔ ۱۵: ۷۹۔ پس ہم نے ان سے بدلہ لیا اور یقیناًوہ دونوں (اجڑی ہوئی بستیاں) کھلی شاہراہ پر ہیں‘‘۔

اس آیۂ کریمہ کا ظاہری پہلو قومِ لوط اور قومِ شعیب اور ان دونوں کی بستیوں سے متعلق ہے، کہ وہ لوگ اپنے پیغمبروں کو جھٹلانے کے انجام میں عذابِ الٰہی سے ہلاک ہوئے تھے، اور ان دونوں کی بستیاں تباہ و برباد ہو چکی تھیں، چنانچہ قومِ لوط کی بستیاں سدوم وغیرہ اور قومِ شعیب کی بستی مدین تباہ و برباد ہو جانے کے آثار نشانات عرب سے شام کو جاتے ہوئے اب بھی نظر آتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہاں لفظِ امام لغوی لحاظ سے رستے کے معنی میں آیا ہے، اس میں ذرا بھی شک نہیں، کہ حکمت کے اعتبار سے بھی امام رستہ ہیں، یعنی صراطِ مستقیم اور سبیلِ خدا، اور رستے کے دوسرے اور بھی نام ہیں، جیسے مذہب، مسلک، شریعت، طریقت، منہاج وغیرہ، تو ان تمام الفاظ سے امامِ

۲۹

عالی صفات مراد ہے، کیونکہ دنیاوی اور مادی اعتبار سے راہ اور راہنما دو الگ الگ چیزیں ہوا کرتی ہیں، مگر دینی اور روحانی لحاظ سے ہدایت کے واحد نور کا نام راہ بھی ہے اور راہنما بھی، اس حقیقت کی ایک روشن دلیل قرآنِ پاک سے یہ ہے جو ارشاد ہوا ہے کہ: ’’ ان ربی علیٰ صراط مستقیم ۔ یقیناًمیرا پروردگار سیدھی راہ پر ہے‘‘۔ یعنی چراغِ ہدایت اور نورِ معرفت کی روشنی میں خدا ملتا ہے، یا اس مطلب کو سادہ الفاظ میں یوں ادا کرنا چاہئے ، کہ امامِ اقدس کا پاک نور ہی وہ سیدھا رستہ ہے جس پر کہ خدا ہے، اور بندگانِ خدا کے لئے خدا کا حقیقی تصور، دیدار و ملاقات اور معرفت اسی نور کے رستے پر یقینی ہے، اور نور کا یہ رستہ ہمیشہ کے لئے قائم و باقی ہے۔

اس آیۂ مقدسہ کی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے، کہ امامِ مبین کا مطلب جیسا کہ ذکر کیا گیا صراطِ مستقیم ہے، جو نور کا راستہ ہے، چنانچہ جب حقیقی مؤمنین امامِ مبین کی روحانیت و نورانیت کے رستے پر چلتے رہتے ہیں، تو وہ دیدۂ دل سے سابقہ امتوں کی بے شمار مثالوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، اور اس سلسلے میں قومِ لوط اور قومِ شعیب اور ان دونوں کی بستیوں کا حال بھی شامل ہے۔

نیز اس ارشادِ الٰہی میں ایک اور حکمت یہ بھی ہے، کہ عددی اصول کے اعتبار سے ’’ایک‘‘ کا عدد اللہ تعالیٰ

۳۰

کی وحدانیت پر دلیل ہے، اور اس کے بعد ’’دو‘‘ کا عدد آتا ہے، جو وحدت اور کثرت کے درمیان ہے، یعنی دونوں کے مابین واسطہ اور وسیلہ ہے، اور اس کی ایک خاصیت یہ ہے، کہ کثرت کو وحدت کے قریب لاتا ہے، پس دو کا عدد از روئے حکمت مخلوقات و موجودات میں سے ایسی دو ہستیوں کے لئے مقرر ہے، جو دونوں جہان میں خدا کے بعد انہی کا درجہ ہے، جس طرح اعداد و شمار میں ایک کے بعد دو آتا ہے، اور وہ دو ہستیاں ہیں عقلِ کل اور نفسِ کل، چنانچہ اب اس لحاظ سے ’’ و انھما لبامام مبین ‘‘ کی تاویل یہ ہے کہ: عقلِ کل اور نفسِ کل امامِ مبین کے ساتھ ہیں۔ کیونکہ عالمِ ہست و بود اور حدودِ روحانی میں سب سے عظیم دو فرشتے یہی ہیں۔

نیز جاننا چاہئے،کہ مراتبِ کائنات میں دو سب سے بڑی چیزیں عرش و کرسی ہیں، عالمِ علمِ الٰہی میں قلم و لوح ہیں، کونِ وحدت میں ربوبیت و عبودیت ہیں،دنیائے اسلام میں قرآن و حدیث ہیں، حدودِ جسمانی میں ناطق و اساس (محمد و علی علیہما السلام) ہیں، دائرۂ ہستی میں روحانیت و جسمانیت ہیں، مقاماتِ تعلیم میں مجمع البحرین یعنی دو ملے ہوئے سمندر ہیں، عرصۂ وجود میں دنیا و آخرت ہیں وغیرہ، چنانچہ ’’انہما‘‘ کی اس ضمیرِ تثنیہ میں مذکورہ دنیاؤں کی ان عظیم چیزوں کی طرف اشارہ ہے، کہ جن پر

۳۱

دو کے عدد کا بحقیقت اطلاق ہوتا ہے، پس یہ حقیقت واضح اور روشن ہوئی، کہ امامِ مبین اس ہستی کا نام ہے، جس کی ذاتِ عالی صفات سے کوئی حقیقت جدا اور دور نہیں۔

۳۲

امام کی دائمیت کا تصور

سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) آیت ۷۱ میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ یوم ندعوا کل اناس بامامہم ۔ ۱۷: ۷۱۔ جس دن ہم تمام (زمانوں کے) لوگوں کو اپنے اپنے امام کے ساتھ بلائیں گے‘‘۔ یاد رہے، کہ یہ آیت لفظی معنی کے لحاظ سے اس قسم کی ہے، جس طرح کہ: قد علم کل اناس مشربھم ۔ ۲: ۶۰۔ سب قبیلوں نے اپنا اپنا گھاٹ جان لیا۔ چنانچہ اس آیۂ کریمہ کی حکمت کے سلسلے میں یہاں سب سے پہلے لفظ ’’اناس‘‘ کا مطلب سمجھنا ضروری ہے، اور وہ اس طرح سے ہے، کہ اناس انس کی جمع ہے، اور اس کی دوسری صورت اناسی ہے، جو کہ قرآنِ کریم میں لوگوں کی چھوٹی تقسیم کے لئے آیا ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے لوگوں کو امتِ موسیٰ یا کہ قومِ موسی کہا جاتا ہے، اور انہیں کسی اضافت و نسبت کے بغیر ناس بھی کہا جاتا ہے، مگر سب کو ملا کر اناس نہیں کہا جاتا۔ کیونکہ اناس قرآن میں لوگوں کی چھوٹی تقسیم کے لئے استعمال ہوا ہے، یعنی حضرت موسیٰ کی قوم کے بارہ قبیلوں میں سے ہر قبیلے کو اناس کہا گیا ہے۔ اس کا

۳۳

مطلب یہ ہوا، کہ امامِ وقت کی نسبت سے انسانوں کو اناس کہا گیا ہے۔ جس طرح کہ پیغمبر کی نسبت سے لوگوں کو امت یا قوم کہا جاتا ہے، چونکہ ہر ناطق پیغمبر کے دور میں کئی امام ہوا کرتے ہیں، پس ہر امام کے زمانے کے لوگ امت اور قوم نہیں کہلائیں گے بلکہ اناس کہلائیں گے۔

حقائق بالا مظہر ہیں، کہ امامِ عالی مقام ہمیشہ سے دنیا والوں کے درمیان موجود و حاضر ہیں، اور یہی سبب ہے، کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی عدالت گاہ میں ہر زمانے کے لوگوں کو ان کے امامِ وقت کے ساتھ بلا لے گا۔ یہ اس لئے کہ خدا نے امام کو دنیا والوں کے لئے سرچشمۂ ہدایت اور وسیلۂ نجات بنایا ہے، مگر لوگوں نے اسے نہیں پہچانا، نیز اس لئے کہ امام علیہ السلام لوگوں کے اعمال پر گواہ ہیں، چنانچہ خدا تعالیٰ لوگوں کے اچھے اور برے اعمال کا فیصلہ نہیں فرمائے گا، جب تک کہ امام علیہ السلام ان کے اعمال کے متعلق گواہی نہ دے۔

اس اصول کا جاننا ضروری ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات پیغمبر اور امام علیہما السلام کی نسبت سے ہیں۔ اور ایسی صفات معلوم کر لینے کا طریقہ یہ ہے، کہ خدا تعالیٰ کے سو (۱۰۰) ناموں کو دیکھا جائے، پھر پیغمبر کے سو (۱۰۰) ناموں کو دیکھا جائے اور اس کے بعد امام کے سو (۱۰۰) ناموں کو دیکھا جائے، اب خدا کے جو جو اسمِ صفاتی پیغمبر اور امام کے اسماء میں آئیں

۳۴

گے، وہ خدا کے ایسے اسماء ہوں گے، جو پیغمبر اور امام علیہما السلام کی نسبت سے ثابت ہیں۔ مثلاً خدا کے اسمائے صفاتی میں سے ایک اسم الہادی ہے، یعنی ہدایت کرنے والا، یہی اسمِ صفت رسولِ اکرم کا بھی ہے اور امامِ اطہر کا بھی، پس دانشمندوں کے لئے ظاہر ہے، کہ خدا اس لئے ہادی ہے، کہ اس نے ہدایت کے لئے پیغمبر بھیجا اور پیغمبر اس لئے ہادی ہے، کہ اس نے اپنے وقت میں لوگوں کی ہدایت کی اور آئندہ لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنی آل سے امام مقرر فرمایا، اور کارِ ہدایت امام پر آ کر مکمل ہوا۔

اسی طرح خدا کے ناموں میں سے ایک نام الشہید ہے، یعنی ’’گواہ‘‘ نیز پیغمبر اور امام علیہما السلام کا بھی یہی نام ہے، اور اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ خدا نے پیغمبر کو گواہ کے طور پر بھیجا ہے، اور پیغمبر نے بحکمِ خدا امام کو اپنی جگہ میں لوگوں پر گواہ بنایا ہے، پس لوگوں کے اعمال پر گواہِ مطلق امامِ عالی مقام ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ خدا قیامت کے دن ہر زمانہ کے لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلا لے گا۔

۳۵

خدا امام سے ہر وقت مخاطب ہے

سورۂ انبیاء (۲۱) آیت نمبر ۷۳ میں خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ و جعلنٰھم ائمۃ یھدون بامرنا ۔ اور ہم نے ان کو (لوگوں کے ) ائمہ بنایا کہ وہ ہمارے امر کے بموجب لوگوں کو ہدایت کرتے تھے‘‘ (۲۱: ۷۳)۔

اس آیۂ کریمہ کی حکمت سے صاف طور پر ظاہر ہے، کہ ائمۂ برحق کا تقرر اللہ تعالیٰ خود ہی فرماتا ہے، اور حضراتِ ائمہ پروردگارِ عالم کے منشاء و امر کے مطابق لوگوں کو ہدایت کیا کرتے ہیں، نیز اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے، کہ امر و ارشاد فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ ہر وقت ائمۂ اطہار سے مخاطب ہوتا ہے، اس خطابِ الٰہی کو خواہ ہم توفیقِ خاص کہیں یا نورانی ہدایت یا وحی بہر حال امامانِ برحق کو خدا تعالیٰ کا امرو فرمان وقت اور جگہ کی ضرورت کے موافق تازہ بتازہ حاصل ہوتا رہتا ہے، چونکہ امرِ باری تعالیٰ انہی صاحبان کے لئے مخصوص ہے، یعنی یہ حضرات ایک طرف سے تو اللہ تعالیٰ کا امر و فرمان حاصل کرتے رہتے ہیں، اور دوسری طرف سے لوگوں کو نافذ کر دیتے ہیں اور اسی معنی میں یہ حضرات اولوا الامر کہلاتے ہیں۔

۳۶

ہر وہ دانشمند جو خدا کی ہستی کا قائل ہو، ذرا غور و فکر کر کر اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے، کہ خدا تعالیٰ کے قانونِ رحمت کی رو سے یہ بات قطعاً نا ممکن ہے ، کہ خدا جو رحمان و رحیم ہے، کسی وقت دنیا والوں سے اپنا ذریعۂ امر و ہدایت (یعنی امامِ زمان) اٹھا لے، نیز یہ بھی محال ہے کہ دنیا والے کسی وقت خدا کے سرچشمۂ ہدایت سے بے نیاز ہو جائیں، پس واجب و لازم ہے، کہ ہر زمانے میں امام بلباسِ بشریت لوگوں کے درمیان حی و حاضر ہو، خواہ نبوت کا دور ہو یا امامت کا۔

واضح رہے، کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک جو زمانہ گزر چکا ہے، اسے دورِ نبوت کہتے ہیں، اور آنحضرت سے قیامت تک جو زمانہ گرز رہا ہے اسے دورِ امامت کہا جاتا ہے، اور ان دونوں زمانوں میں یہ فرق ہے، کہ دورِ نبوت میں بعض ائمۂ کرام علیہم السلام خدا کے امر سے امامت کے ساتھ ساتھ کارِ نبوت کو بھی انجام دیتے تھے، لیکن دورِ امامت چونکہ دورِ قیامت ہے اس لئے اس میں آلِ محمد کے ائمۂ طاہرین صرف امورِ امامت سے متعلق فرائض کو انجام دیتے آئے ہیں۔

۳۷

پرہیزگاروں کے امام

سورۂ شعراء (۲۵) آیت نمبر ۷۴ میں لفظِ امام اس انداز میں آیا ہے کہ: و الذین یقولون ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریتنا قرۃ اعین و اجعلنا للمتقین اماما ۔ اور وہ لوگ جو (ہم سے) عرض کیا کرتے ہیں، کہ پروردگار ہمیں ہماری بیبیوں سے اور ہماری ذریت سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا دے (۲۵: ۷۴)۔

اس آیۂ مقدسہ کی حکمتوں میں سے ایک نمایان حکمت یہ ہے، کہ اس دعا کا زیادہ تر تعلق ائمۂ کرام علیہم السلام سے ہے، کیونکہ صرف وہی حضرات یہ شان رکھتے ہیں، کہ اپنی اولاد اور ذریات کی حیثیت میں بھی امام بن جائیں۔

اس آیۂ دعائیہ سے یہ حقیقت ظاہر ہے، کہ امامِ برحق اپنی اولاد و احفاد کی شخصیتوں میں بھی امام ہوتا ہے، چنانچہ اسماعیلیوں کا یہ عقیدہ درست ہے، جو کہتے ہیں کہ مولانا علی شاہ کریم الحسینی حاضر امام کے جامۂ بشریت میں موجود و حاضر ہیں۔

آیۂ مذکورہ بالا کے حکیمانہ انداز میں عقل و دانش والوں

۳۸

کے لئے سلسلۂ امامت کی لا انتہائی کا ذکر موجود ہے، وہ اس طرح کہ نہ صرف زمانۂ ماضی میں بلکہ حال اور مستقبل میں بھی ہر امام مذکورہ ارشاد کے مطابق اپنے پروردگار سے یہی درخواست کرے گا، کہ وہ اپنی شخصیت کے علاوہ اپنے بیٹوں اور آئندہ نسل کی حیثیت میں بھی پرہیزگاروں کا امام بنتا رہے، اور بغیر کسی انتہا کے یہی سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری رہے گا۔ اگر بہت سے زمانوں کے بعد سیارۂ زمین کی مدتِ عمر ختم ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نورِ امامت کو کسی دوسرے سیارے پر منتقل کر لے گا۔ جیسا کہ شروع میں یہ نور دوسرے سیارے سے نازل ہوا تھا جس کو ہبوطِ آدم کہتے ہیں۔

جاننا چاہئے کہ پرہیزگاروں کا امام بننے کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ امامِ عالی مقام کے وجودِ مبارک سے پہلے کچھ پرہیزگار لوگ موجود ہوں۔ پھر اس کے بعد امام پیدا ہو جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے، کہ امامِ زمان کی ہدایت کے نتیجے میں کسی کو پرہیزگاری حاصل آتی ہے اور پھر امام ان سے منسوب ہو کر ’’امام المتقین‘‘ کہلاتا ہے۔ یا یوں کہنا چاہئے ، کہ جب امام دنیا میں ہمیشہ سے ہیں تو نتیجے کے طور پر پرہیزگار بھی ہیں اور پرہیزگاری بھی۔

ایک اور عظیم حکمت یہاں لفظ ’’ذریت‘‘ میں پنہان ہے، ویسے تو لفظ ذریت میں ایک نہیں بلکہ بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ مگر ہم یہاں اختصار سے کام لیتے ہیں، کہ

۳۹

ذریت اور ذرہ ایک ہی مادہ کے الفاظ ہیں۔ جاننا چاہئے، کہ ذریت اور اولاد کے درمیان بڑا فرق ہے، اور وہ یہ ہے کہ ذریت نام ہے ذرۂ روح یا نقطۂ روح کا، جو انسان کے خون و خلیات میں ہے اور ابھی تولید کے مراحل سے نہیں گزرا ہے، اور اولاد ایسے ذرات کو اس وقت کہا جاتا ہے، جبکہ یہ تولید کے مراحل سے آگے گزر چکے ہوں، اس حقیقت کی ایک روشن دلیل، کہ جسمِ انسانی کے خوب اور خلیات کے اندر جو زندگی یا روحِ حیوانی کے بے شمار ذرات موجود ہیں، ان کا قرآنی نام ذریت ہے، :ارشادِ قرآنی کی صورت میں یہ ہے

’’ و اٰیۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون ۔ ۳۶: ۴۱۔ اور ان کے لئے یہ بھی ایک معجزہ ہے، کہ یقیناًہم نے ان کی ذریت (یعنی ان کی زندگی کے ذرات) کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا‘‘۔ یعنی جو مؤمنین کشتئ نوح میں بوقتِ طوفان سوار ہوئے تھے، ان کے خون و خلیات میں ان منکرین کی زندگی کے ذرات یعنی ذریت موجود تھی۔ نیز کلامِ پاک میں یہ بھی ارشاد ہے: ’’ و اذ اخذ ربکم من بنی آدم من ظہورہم ذریتھم ، ۷: ۱۷۲۔ اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت کو لیا‘‘۔ اس آیۂ کریمہ سے ظاہر ہے، کہ حضرت آدم کے بیٹوں کی پشتوں سے جو روحیں لی

۴۰

گئی تھیں، ان میں دنیا بھر کے لوگوں کی روحیں شامل تھیں، کیونکہ اس موقع پر خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی روحوں کو جس مقصد کے لئے بیدار کر دیا تھا، اس کا تعلق چند روحوں سے نہیں بلکہ ساری ارواح سے تھا، بہر کیف مذکورۂ بالا تینوں آیات کا خلاصہ یہ ہے، کہ ذریت ان بے شمار روحوں کا نام ہے، جو انسانی خون و خلیات کے اندر ایک قسم کی خوابیدہ حالت میں موجود ہیں، جن میں سے صرف چند روحیں قانونِ فطرت کے مطابق اولاد کی صورت میں نمودار ہوتی ہیں، اور باقی البتہ ویسے ہی خیال، توجہ، محبت، تعلیم ، دعائے خیر وغیرہ کی روحانی لہروں سے اپنوں اور بیگانوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں، یہی باتیں ائمۂ طاہرین کی مذکورہ دعا میں بھی پائی جاتی ہیں کہ ان حضرات کے نزدیک آنکھوں کی ٹھنڈک (یعنی فرزند) دو صورتوں میں ممکن ہے، چنانچہ پہلی صورت جسمانیت کی ہے، اور دوسری روحانیت کی، پس ’’ و من ذریتنا = اور ہماری ذریت سے‘‘ میں جسمانی اولاد کا تذکرہ نہیں، بلکہ اس سے روحانی فرزند مراد ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے جو دعا کی گئی ہے، اس میں حضراتِ ائمہ کی جسمانی بیبیاں شریک نہیں کی گئی ہیں۔

۴۱

امام کے روحانی فرزندوں کا درجہ

سورۂ قصص (۲۸) آیت نمبر ۵ میں لفظِ امام صیغۂ جمع میں اس طرح سے آیا ہے کہ: و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم ائمۃ و نجعلھم الوٰرثین ۔ اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ روئے زمین پر کمزور کر دئے گئے ہیں ان پر احسان کریں اور انہی کو (لوگوں) کے ائمہ بنائیں اور انہی کو اس (سرزمین) کے وارث بنائیں (۲۸: ۵)۔

آیۂ مذکورۂ بالا ظاہراً حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون اور ان کے فرمانبردار مؤمنین کے بارے میں ہے، اور باطناً تمام ائمۂ برحق اور ان کے سارے روحانی فرزندوں کے بارے میں ہے، اور اس آیت کا خلاصہ و نتیجہ یہ ہے، کہ دنیا میں امامِ عالی صفات اور اس کے ماننے والوں کو کمزور سمجھا جاتا ہے، ان پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جاتے ہیں اور ان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر خداوندِ عالم منکرین کے ایسے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتا ہے، اور امام اور اس کے حقیقی پیروؤں پر احسان کرتا ہے، درختِ امامت کو پھلنے پھولنے کا موقع عنایت کرتا ہے، امام اور اس کے روحانی فرزندوں

۴۲

کو ظاہری و باطنی مال و ملک کا وارث بنا دیتا ہے، اور ان کو دین و دنیا کی سرداری عطا کر دیتا ہے۔

ذرا غور و فکر کرنے سے آپ کو معلوم ہو گا، کہ اس آیۂ کریمہ نے حقیقی مؤمنین یعنی امام کے روحانی فرزندوں کو درجۂ امامت میں شامل کر دیا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں، اول اس لئے کہ دنیا کی کوئی فاتح قوم اپنا کوئی سردار منتخب کرتی ہے، تو یہ سرداری ساری قوم کی ہے، بالفاظِ دیگر پوری قوم سردار ہے، دوسرا اس لئے کہ اگر ایک شخص بادشاہ بننے میں کامیاب ہو گیا، تو اس کامیابی میں اس کے عزیز و احباب بھی شریک ہیں، اور تیسرا اس لئے کہ اگر باپ بادشاہ ہے، تو یقیناًبیٹا بھی بادشاہ ہو گا، یا کسی بڑے عہدے پر فائز ہو گا، بشرطیکہ لائق اور فرمانبردار ہو۔

سوال: اگر ایک ہندو اسلام قبول کر کے امامِ برحق کا مرید بنتا ہے تو وہ کس طرح امام کا روحانی فرزند ہو سکتا ہے جبکہ اس کی روح ہندوانہ تعلیم سے بنی ہوئی ہے؟

:جواب
ا۔ وہ اس طرح امام کا روحانی فرزند بن سکتا ہے، جس طرح کہ سلمان فارسی پیغمبر کا یا امام کا روحانی فرزند بن گیا تھا۔ حالانکہ وہ شروع شروع میں آتش پرست تھا۔

۲۔ اگر کوئی تالاب گندہ اور ناپاک پانی سے بھرا ہوا ہے، تو اس کو بڑی آسانی سے صاف اور پاک کر دیا جا سکتا

۴۳

ہے، وہ اس طرح کہ نہر سے تالاب میں پاکیزہ پانی بہا دیا جائے اور کچھ وقت کے لئے پانی کو جاری رکھا جائے۔ تا کہ یہ تازہ پانی اس گندے پانی کو مخرج اور نکاس سے نکال دے اور تالاب میں صاف و پاک پانی رہ جائے۔

۳۔ اس سے قبل یہ بات بتا دی گئی ہے، کہ روحیں خیال، توجہ، محبت، تعلیم، دعائے خیر وغیرہ کی روحانی لہروں سے بھی اپنوں اور بیگانوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں، جس میں تالاب کے گندے پانی کی جگہ صاف پانی بھر جانے کی طرح ناپاک روحوں کو نکال کر پاک روحیں قائم رہتی ہیں۔

۴۔ اگرچہ سب کے نزدیک یہ بات مشہور ہے، کہ انسان کے اندر تین روحیں ہیں، اور انسانِ کامل کے اندر چار روحیں ہوتی ہیں، تاہم یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے، کہ ان تینوں یا چاروں کے مجموعی ذرات بے شمار ہیں، اور سوائے خدا کے کوئی انسان ان کا شمار نہیں کر سکتا، پس ان لاتعداد روحوں میں سے ایک روح انسان کی خودی اور انائیت کے مرکز پر کام کرتی ہے باقی روحوں کا تعلق جس عضو سے ہو، وہی کام کرتی رہتی ہیں مگر سب کے سب اس بات کی متمنی ہوتی ہیں کہ وہ مرکز پر قبضہ کریں چنانچہ ذکر و عبادت کے نتیجے میں ان ذرات کو موقع میسر ہوتا ہے، کہ روح کا مرکزی ذرہ خدا کے نور میں تحلیل ہو جاتا ہے، اور قریب کا کوئی دوسرا ذرہ اسی وقت مرکز پر آتا ہے، اور عبادت سے ہی سلسلہ ہمیشہ کے لئے

۴۴

جاری رہتا ہے، اسی چیز کا نام صوفیوں کے نزدیک تحلیلِ نفس یا تزکیۂ نفس ہے۔

۴۵

امام سرچشمۂ ہدایت ہیں

سورۂ قصص (۲۸) آیت نمبر ۴۱ کا ارشاد ہے:
و جعلنٰھم ائمۃ یدعون الی النار و یوم القیامۃ لا ینصرون ۔ اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا۔ جو آگ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کو کوئی مدد نہ دی جائے گی (۲۸: ۴۱)۔

اس فرمانِ الٰہی سے یہ حکمت ظاہر ہے، کہ فرعون و ہامان اور ان جیسے کافر سردار لوگوں کے ایسے پیشوا تھے، جو لوگوں کو آتشِ دوزخ کی طرف بلاتے اور راہنمائی کرتے تھے، اس سے صاف طور پر معلوم ہوا، کہ نافرمانی، گمراہی، اور کافری اگرچہ آسان ہے، لیکن یہ چیز بھی بغیر سردار اور پیشوا کے ممکن نہیں، پس فرمانبرداری، ہدایت اور ایمان پیشوا یعنی امام کے بغیر کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔

نیز جاننا چاہئے ، کہ اگر قانونِ قدرت کے لئے یہ بات ضروری ہے، کہ لوگوں کے درمیان کوئی ایسا شخص ہمیشہ موجود ہو، جو کہ انہیں راہِ راست سے گمراہ کر کے دوزخ کا راستہ بتائے، پھر اس کے مقابلے میں یہ امر زیادہ ضروری ہے، کہ

۴۶

دنیا میں کوئی ایسا شخص بھی ہمیشہ موجود رہے، جو کہ صراطِ مستقیم پر لوگوں کی راہنمائی کرتے ہوئے انہیں بہشت میں پہنچا سکتے، اور ایسا شخص امامِ زمان ہی ہیں۔

پروردگارِ عالم جس شخص کو کفر کا سردار بناتا ہے، تو اس کو یوں ہی اور خالی خولی سردار نہیں بناتا بلکہ اسے ظاہری اور مادی قسم کے سامانِ تجمل اور طرح طرح کے مال یا ظاہری علم و ہنر دے دیتا ہے، تب ہی وہ لوگوں کو راہِ حق سے گمراہ کر کے جہنم کے راستے پر چلانے میں کامیاب ہو سکتا ہے، جیسا کہ قولِ قرآن ہے: و قال موسیٰ ربنا انک اٰتیت فرعون و ملاہ زینۃ و اموالا فی الحیٰوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک ۔ ۱۰: ۸۸۔ اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تحقیق تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامانِ تجمل اور مال دیا ہے، دنیوی زندگی میں اے ہمارے رب تا کہ وہ تیری راہ سے (لوگوں کو) گمراہ کریں۔ پس لازمی ہے کہ خداوندِ عالم ایمان کے سردار یعنی امام کو بھی کچھ مال و دولت عطا فرمائے، تا کہ وہ لوگوں کی ہدایت کر سکے، کیونکہ لوگ فطرتاً اس شخص کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو، چنانچہ پروردگارِ عالم نے امامِ برحق کو روحانی مال و ملک سے نوازا ہے، جو علم و حکمت کی صورت میں ہے، جس کے سبب سے عقل و دانش والے امام کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔

۴۷

آیۂ مذکورۂ بالا کی حکمتوں میں یہ بھی ارشاد ہے، کہ قیامت کے دن یعنی دورِ روحانیت میں کفر کے سرداروں کو کوئی مدد نہ دی جائے گی، پھر معلوم ہوا کہ اس حال کے برعکس ایمان کے سرداروں کو مدد دی جائے گی، یعنی فتح و نصرت اور غالبیت ائمۂ اطہار اور ان کے تابعین کی ہو گی۔

۴۸

امام کے صبر اور تیقن کے معنی

سورۂ سجدہ (۳۲) آیت نمبر ۲۴ میں ارشاد ہے:
و جعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا لما صبروا و کانوا باٰیٰتنا یوقنون ۔ اور ہم نے ان میں سے امام بنائے جبکہ انہوں نے صبر کیا جو ہمارے امر سے ہدایت کیا کرتے تھے اور وہ لوگ ہماری آیتوں (یعنی روحانی معجزات) کا یقین رکھتے تھے (۳۲: ۲۴)۔

اس آیۂ مقدسہ کی وضاحت یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کی جنس سے امام بنائے، جبکہ انہوں نے ظاہری اور باطنی امتحانات میں صبر اختیار کیا، پیغمبروں اور اماموں پر جو ظاہری امتحانات آتے ہیں، وہ سب کو معلوم ہیں، مگر ان سے جو باطنی امتحانات لئے جاتے ہیں، ان سے بہت کم لوگ واقف ہیں، جاننا چاہئے کہ وہ آزمائشیں خالص روحانی قسم کی ہوا کرتی ہیں، جو علم و حکمت اور رشد و ہدایت سے بھرپور ہیں، جن کے ذریعہ امام کا فرزند حدودِ دین کے مراتب سے ایک ایک کر کے عروج کرتا ہے، تا آنکہ درجۂ امامت پر فائز ہو جاتا ہے۔

اس ارشادِ الٰہی سے یہ بھی واضح ہے کہ امامِ برحق

۴۹

اللہ تعالیٰ کے امر سے لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں جس کا یہ مطلب ہوا، کہ امام علیہ السلام جو کچھ ہدایت فرماتے ہیں، وہ دراصل خدا کی طرف سے ہے، اور اس طرح خدا تعالیٰ کا امر و فرمان دنیا میں جاری و ساری ہے۔

جاننا چاہئے، کہ جو ہدایت خدا کے امر سے ہو، وہی صحیح ہدایت ہوتی ہے، اس میں منزلِ مقصود کی طرف صحیح راہنمائی، ہر مشکل سوال کا درست جواب اور زمان و مکان کے پیدا کردہ مسائل کے یقینی حل موجود ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر ایمان لانے اور ان پر یقین رکھنے میں بڑا فرق ہے، کیونکہ ایمان عام بھی ہے اور خاص بھی، مگر یقین عام نہیں خاص ہی ہے، چنانچہ آیۂ مذکورہ بالا کا یہ ارشاد ، کہ ائمۂ طاہرین اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا یقین رکھتے ہیں، اس امر کی دلیل ہے، کہ ائمۂ کرام علیہم السلام پر علم الیقین، عین الیقین، اور حق الیقین کی ساری حکمتیں اور حقیقتیں ظاہر اور روشن ہیں، اور خدا کی کوئی نشانی ان سے پوشیدہ نہیں۔

ان تمام باتوں کا تعلق امام شناسی سے ہے، یعنی یہ باتیں ان لوگوں کے لئے مفید ہیں، جو امامت کا عقیدہ رکھتے ہوں اور امام شناسی کی کسی نہ کسی منزل پر پہنچتے ہوں۔

۵۰

نورِ امامت میں تمام چیزیں محدود ہیں

سورۂ یاسین (۳۶) آیت نمبر ۱۲ میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: انا نحن نحی الموتیٰ و نکتب ما قدموا و اٰثارھم و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ۔ بے شک ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال جن کو لوگ آگے بھیجتے جاتے ہیں اور ان کے وہ اعمال جن کو پیچھے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر (روحانی و علمی) چیز کو امامِ مبین میں گھیر کر رکھا ہے (۳۶: ۱۲)۔

اس فرمانِ الٰہی کی تاویل یہ ہے، کہ جہالت و نادانی کی موت سے علم و حکمت کی روح میں زندہ ہو جانا اور دنیا و آخرت کی نعمتوں سے متمتع ہو جانا اس وقت ممکن ہے، جبکہ کوئی شخص امامِ مبین کی معرفت تک رسا ہو جائے کیونکہ خداوندِ تبارک و تعالیٰ نے پہلے مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر فرمایا پھر اعمالِ آخرت اور آثارِ دنیا کا، اور اس کے بعد فرمایا کہ یہ سب کچھ امامِ مبین کی ذاتِ با برکات میں مجموع ہے، پس معلوم ہوا، کہ امامِ مبین کی معرفت کی روشنی میں ان تمام حقیقتوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، کہ کس طرح مردہ زندہ ہو سکتا ہے،

۵۱

اور اعمالِ آخرت اور آثارِ دنیا سے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

امامِ مبین کے معنی ہیں ظاہر امام اور بیان کرنے والا امام یعنی امامِ حی و حاضر، جس کے نورِ مقدس نے عقلِ کل اور نفسِ کل کی صورت میں اپنے اندر دونوں جہان کو سموئے رکھا ہے، دونوں جہان میں سب کچھ ہے اور ان سے باہر کچھ بھی نہیں۔

مبین کے معنی میں امام دو صورتوں میں ظاہر ہیں اور دو صورتوں میں بولنے والا ہیں، وہ دو صورتیں جسمانیت اور نورانیت ہیں، یعنی امامِ عالی مقام بشری لباس میں بھی ظاہر ہیں اور پیکرِ نور میں بھی، وہ حدودِ جسمانی میں بھی بولنے والا ہیں اور درجاتِ روحانی میں بھی۔

۵۲

نورِ امامت خدا کی بولنے والی کتاب ہے

سورۂ احقاف (۴۶) آیت نمبر ۱۲ میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: و من قبلہ کتٰب موسیٰ اماما و رحمۃ و ھٰذا کتٰب مصدق لسانا عربیا لینذر الذین ظلموا و بشریٰ للمحسنین ۔ اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت، اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی، تا کہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنائے (۴۶: ۱۲)۔

حقیقی مؤمنین کو جاننا چاہئے، کہ حضرت مولانا امام ہارون کا مقدس و مبارک نور ہی حضرت موسیٰ کی اصلی کتاب تھا، چونکہ آسمانی کتاب وحی کی کیفیت میں ایک زندہ نور ہوتی ہے، اور اسی معنی میں موسیٰ کی کتاب لوگوں کے لئے امام اور رحمت تھی، اور امامِ عالی مقام کی روحِ مقدس یعنی نور کے کتاب ہونے کا ذکر اس کتابچہ میں اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔

اسماعیلی مذہب کی تاویلی کتابوں کے مطالعے میں یہ بات بار بار آپ کے سامنے آ جائے گی کہ علمِ تاویل کی

۵۳

زبان میں کتاب امام یا اساس کو کہتے ہیں، چنانچہ ہر ناطق پیغمبر کا اساس اس کی نورانی کتاب ہے، اس طرح ’’کتابِ موسیٰ‘‘ کا مطلب حضرت مولانا امام ہارون علیہ السلام ہیں، جن کے نورِ مبارک کا نام توریت تھا۔

مذکورہ حقیقت کے برعکس اگر ہم اس بات کو مانیں، کہ قرآن سے پہلے ظاہری توریت جس حالت میں بھی اپنے دور میں تھی، وہ لوگوں کے لئے پیشوا اور رحمت تھی، پھر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ یہودیوں نے اپنی آسمانی کتاب میں جو جو تحریفیں کی تھیں، اس میں خدا کی خوشنودی اور ہدایت و رحمت تھی، لیکن یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ ایسی توریت جس کی آیتوں میں لوگوں نے ہیر پھیر کر دیا ہو، وہ لوگوں کے لئے امام اور رحمت نہیں ہو سکتی، نہ ہی قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے۔

۵۴

امام شناسی
حصہ دوم

حرفِ آغاز

جب عوام و خواص کے نزدیک یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، کہ اس ظاہری کائنات کا نور باطنی عالم کے نور کی مثال کی حیثیت سے ہے، تو پھر ہمیں یہاں سب سے پہلے ظاہری اور مادی نور کی کچھ صفات بیان کرنا چاہئے، تا کہ سالکانِ راہِ حقیقت مثال میں غور و فکر کرنے کے نتیجے پر ممثول کی شناخت حاصل کر سکیں۔

چنانچہ سب جانتے ہیں، کہ جسمانی نور اس دنیا میں صرف ایک ہی ہے، اور اس کے سوا روشنی کا کوئی دوسرا سرچشمہ حقیقت میں ہے ہی نہیں، ایسا ظاہری اور مادی نور سورج ہے، اب رہا چاند، ستاروں اور روشنی کے دوسرے تمام ذریعوں کی روشنیوں کا سوال، سو وہ فی الاصل سورج کی پیداوار ہیں، اور اس جہان میں کوئی ایسی مادی چیز موجود نہیں ہو سکتی، جو سورج کی مختلف قوتوں سے پرورش پائے بغیر روشنی یا گرمی کا کوئی ذریعہ بن سکے، مادی نور یعنی سورج کے اوصاف صرف یہی نہیں، بلکہ یہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا وہ کارخانۂ قدرت ہے، جس کے عملِ تکوین ہی کے ذریعے اس عظیم کائنات میں

۵۷

ستاروں اور سیاروں کی دنیاؤں کو وجود دیا جاتا ہے، اور ان میں سے ہر دنیا میں مادی طور پر جو کچھ ہے، وہ اسی نور کے وسیلے سے موجود ہوا ہے۔

اسی طرح روحانی نور بھی عالمِ دین اور کونِ حقیقت میں ازل سے ایک ہی ہے، جس کے واسطے سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات کا ظہور ہوتا رہتا ہے، اور عالمِ روحانیت کی ہر چیز اسی نورِ مطلق کے ذریعے پیدا ہوئی ہے، مثلاً نور ہی سے حق تعالیٰ کا مقدس امر و فرمان صادر ہوتا رہتا ہے، نور ہی سے ربانی رشد و ہدایت دی جاتی ہے، نور ہی کی ایک خاص صورت عقل و دانش اور علم و حکمت ہے، نور ہی کا نام دیدۂ دل اور چشمِ بصیرت ہے، نور ہی میں حضرتِ رب العزت کے اسرارِ عجائب و غرائب اور رموزِ حقائق و معارف پنہان ہیں، نور ہی کرامات و معجزات کا منبع و مخرج ہے، نور ہی روح الارواح اور عقلِ کامل یا کہ عرش و کرسی کہلاتا ہے، نور ہی کو کتابِ منیر اور تاویلِ نورانی کہا جاتا ہے، نور ہی کا ایک دوسرا نام عالمِ علوی اور بہشتِ حقیقی ہے، نور ہی میں ہر چیز موجود اور محدود ہے، اور یہی نورِ مطلق سب کچھ ہے۔

بیانِ مذکورۂ بالا سے جب یہ ظاہر ہوا، کہ آفاق میں جسمانی نور کی بادشاہی ہے اور انفس میں روحانی نور کی سلطنت، تو آئیے کہ اب ہم دنیائے قرآن کے سورج کو دیکھیں، چنانچہ امامِ عالی مقام علیہ الصلوات و السلام نے اشارہ فرمایا ہے، کہ قرآنی

۵۸

علم و حکمت کے عالم کا سورج آیۂ مصباح، چاند آیۂ سراج اور ستارے دوسری آیاتِ نور ہیں، اور اس حقیقت کا جاننا ضروری ہے، کہ یہ تمام آیاتِ نور اپنے رشتۂ معنی میں آیۂ مصباح کے ساتھ ایسی منسلک ہیں، جیسے ستارے اور چاند روشنی کے سلسلے میں سورج سے وابستہ ہیں، اس حقیقت کی مثال یہ ہے، کہ رات کے وقت جب چمکتا ہوا چاند اور درخشان ستارے نظر آتے ہیں، تو اس وقت عام لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے، کہ شاید چاند اور ستاروں کی یہ روشنی ان کی اپنی ذات سے ہی، لیکن اہلِ بصیرت نے معلوم کر لیا ہے، کہ اس کی حقیقت کچھ اور ہے، وہ یہ کہ اگر ہم اسی وقت چاند اور ستاروں کی روشن دنیاؤں میں سے کسی ایک میں پرواز کر جائیں، تو اس دنیا میں رات نہیں بلکہ دن کا کوئی وقت ہو گا، اور وہاں سے آسمان کی طرف دیکھنے سے آفتابِ منیر نظر آئے گا، اس کا مطلب یہ ہوا، کہ چاند اور تمام ستاروں کی روشنی دراصل سورج ہی کی روشنی ہے۔

بالکل اسی طرح جس وقت ہم آیاتِ نور پر نظر ڈالتے ہیں، تو فوری طور پر ہمیں ان کے عام معانی میں انوارِ کثیرہ کا تصور ہوتا ہے، یعنی ایسا لگتا ہے جیسے کتبِ سماویہ ، انبیائے کرام، ائمۂ عظام اور بزرگانِ دین جدا جدا اور مختلف انوار ہیں، مگر جب غور و فکر اور تحقیق و تدقیق کے بعد حقیقی مؤمن کا تصور ان آیات کی معنوی بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے، تو وہاں یکایک شک و گمان کی رات ختم ہو کر یقینِ کامل کا دن نظر آتا ہے، یعنی حصولِ معرفت کے بعد معلوم

۵۹

ہوتا ہے، کہ دینی چاند اور ستاروں کا نور فی الاصل آیۂ مصباح کے سورج ہی کا نور ہے۔

جیسے نور کی ایک آیت میں ہے کہ: نورھم ، یعنی مؤمنین کا نور، تو اس کے ظاہری معنی یہ البتہ یہ گمان ہوتا ہے، کہ مؤمنین کا یہ نور خدا کے نورِ مطلق سے الگ تھلگ کوئی ذاتی نور ہو گا، جس طرح رات کے وقت درخشان ماہتاب اور چمکتے ہوئے ستاروں کے متعلق یہ گمان ہوتا ہے، کہ یہ روشنی ان کی اپنی اپنی ذات سے مہیا ہوتی رہتی ہے، حالانکہ ایسا نہیں، بلکہ روشنی کے اس بے پایان سمندر کا واحد منبع و مخرج سورج ہی ہے، یہی مثال اس نور کی بھی ہے، جو عالمِ دین کے چاند اور ستاروں سے منسوب کیا گیا ہے، کہ جب کوئی حقیقی مؤمن روحانی طور پر اپنے باطن کی روشنی کی بلندیوں تک رسائی حاصل کر کے مشاہدہ کرتا ہے، تو اس وقت معلوم ہوتا ہے، کہ مؤمن کا یہ نور اصلاً وہ نورِ مطلق ہے، جس کا ذکر آیۂ مصباح میں موجود ہے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ: خدا آسمان اور زمین کا نور ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات و موجودات کے باطن کے لئے ایک ایسا واحد، ہمہ رس، کافی اور جامع صفات نور ہمیشہ اور ہر جگہ حاضر و موجود ہے، کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے نور کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ حقیقتاً اس میں دوئی کی گنجائش ہے۔

متذکرۂ بالا مثالوں اور شہادتوں سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیان و ظاہر ہے، کہ آفاق و انفس اور دنیائے قرآن میں نور کا درجہ سب سے اعلیٰ ، اس کی اہمیت سب سے زیادہ اور اس کی موجودگی

۶۰

انتہائی ضروری ہے، لہٰذا یہ امر کیسے ممکن ہو سکتا ہے، کہ ہر عالم میں تو اس کے تقاضوں کے مطابق نور موجود و حاضر ہو، اور عالمِ انسانیت میں نور کا کوئی مستقل وجود نہ ہو، اگر یہ بات ممکن ہوتی، تو رب العٰلمین کے معنی میں ایک خاص چیز کی کمی یہ رہ جاتی کہ خدا ہر ہر عالم کی پرورش تو کر ہی دیتا ہے، مگر دنیائے انسانیت یا عالمِ بشریت اور انسانی عقل و روح کی ہدایتی اور علمی پرورش و تربیت اس طرح سے نہیں کرتا جس طرح کہ کرنا چاہئے، ظاہر ہے کہ یہ امر محال اور خدا کی ہدایت و رحمت کے منافی ہے، پس معلوم ہوا، کہ اللہ تعالیٰ کا نور ہمیشہ عالمِ دین میں حاضر اور موجود ہے، اور وہ امامِ برحق صلوات اللہ علیہ کے جامۂ بشریت میں موجود اور حاضر ہیں۔

چنانچہ جب یہ بات مسلمہ ہے، کہ امامِ عالی مقام نورِ مطلق کے مظہر کا درجہ رکھتے ہیں، تو یہ امر ہمارے لئے لازمی اور ضروری ہوا، کہ آیاتِ نور کی کچھ حقیقتیں بیان کر دی جائیں، تا کہ ان مقدس آیات کے یکجا مطالعہ اور مجموعی حکمت کی روشنی میں امام شناسی کی حقیقتیں ہر مؤمن کے لئے آسان اور قابلِ فہم ہو جائیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

فقط بندۂ احقر
نصیر الدین نصیر ہونزائی

۶۱

لفظِ نور

اللہ تعالیٰ کی اس عظیم حکمت میں خوب غور و فکر کیجئے، کہ لفظِ نور قرآن حکیم میں کل انچاس دفعہ استعمال ہوا ہے، جبکہ آلِ نبی و اولادِ علی کے پاک سلسلۂ امامت میں ہمارے سرکار نامدار حضرت مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام علیہ الصلاۃ و السلام بھی انچاسویں امام ہیں، چنانچہ خدا کی حکمت و قدرت میں یہ امر ناممکن نہیں، کہ لفظِ نور کی اس تعداد میں قرآنِ پاک کی یہ پیش گوئی ہو، کہ نورِ امامت کے انچاسویں جامہ کے مبارک زمانے میں باطنی اور ظاہری علم و حکمت سے دین بھی روشن ہو گا اور دنیا بھی، جیسا کہ ظاہر ہے، کہ موجودہ امامِ عالی مقام علیہ السلام کے عہدِ مبارک میں خاص طور پر ایٹمی دور کا آغاز ہوا اور تسخیرِ کائنات کے سلسلے میں انسان نے چاند پر فتح و کامیابی کا پرچم لہرایا۔

جب آیاتِ نور کی اس پیش گوئی سے ہمیں یقین ہوا، کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی روشنی کا زمانہ اور نور کا دور دورہ ہے،

۶۲

پس آئیے، کہ ہم حضرت پیر سید، ناصر خسرو قدس اللہ سرہ کی حکیمانہ تعلیمات کے مطابق مذکورہ انچاس آیتوں کی کچھ وضاحت کریں، جن میں نمایان طور پر نورِ امامت کا تذکرہ موجود ہے

حقیقی نور اور خود ساختہ نور:
البقرہ۔ ۲۔ آیت۔ ۱۷۔  (۲: ۱۷) میں حقیقی نور اور خود ساختہ نور یعنی اصلی ہدایت اور نقلی ہدایت کی جس طرح مثال دی گئی ہے، اس کا واضح مفہوم یہ ہے، کہ رات کی تاریکی میں دو مسافر جدا جدا کسی دور و دراز سفر کے لئے نکل گئے، ان میں سے ایک کے ہاتھ میں ایک بے مثال معجزانہ ٹارچ ہے، کہ اسے نہ کوئی ہوا بجھا سکتی ہے اور نہ کوئی بارش، دوسرے مسافر کے پاس صرف ماچس کی ایک ڈبیا ہے، اب ٹارچ والا بڑے اطمینان سے منزلِ مقصود کی طرف چلتا اور بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ وہاں پہنچ جاتا ہے، دوسرا شخص روشنی نہ ہونے کے سبب سے آگے نہیں بڑھ سکتا، وہ تاریکی سے تنگ آ کر بڑی مشقت سے بیابان میں ایک آگ جلاتا ہے، اور چاہتا ہے، کہ اس کی روشنی میں اپنے سفر کی کچھ مسافت طے کرے، مگر ایک ہی جگہ پر ٹھہری ہوئی آگ کی روشنی کہاں تک روشنی دے سکتی ہے، آخرکار وہ آگ بھی بجھ جاتی ہے اور وہ مسافر اندھیری رات میں پڑا رہتا ہے۔

۶۳

اس تمثیل کی تاویل یہ ہے، کہ اہلِ نجات کے لئے امامِ حی و حاضر کی معرفت اور نور ہی وہ بے مثال معجزاتی ٹارچ ہے، جس کو مخالفت و دشمنی کی کوئی ہوا اور حادثاتِ زمانہ کی کوئی بارش ہرگز ہرگز نہیں بجھا سکتی، کیونکہ یہ مقدس و مبارک نور خدائے قادر و توانا اور اس کے رسولِ برحق کا ازلی و ابدی نور ہے، جو کہ ہر آسمانی کتاب اور ہر پیغمبر کے ساتھ موجود تھا، اور آنحضرت کے بعد بھی اسی شان سے ہمیشہ کے لئے موجود و حاضر ہے، تا کہ اس کی روشنی میں صراطِ مستقیم کی ہدایت حاصل ہو سکے، اس حقیقی نور کے بغیر حصولِ ہدایت کے لئے جو بھی سعی و کوشش کی گئی ہے، اس کی مثال آیۂ مذکورۂ بالا میں بزبانِ حکمت بیان ہوئی ہے۔

نورِ ہدایت اور ظلمتِ گمراہی:
البقرہ۔ ۲۔ آیت ۲۵۷۔ (۲: ۲۵۷) میں حضرت احدیت کا جو ارشاد ہے، اس کا خلاصۂ مطلب یہ ہے، کہ اگر دنیا میں ایک طرف گمراہی کی ظلمت ہمیشہ سے ہے، تو دوسری طرف ہدایت کا نور بھی ہمیشہ سے موجود ہے، اگر ایسا نہ ہوتا اور دنیا میں کفر و ضلالت کے کالے بادل چھائے ہوئے ہوتے اور ایمان و ہدایت کا کوئی سورج نہ ہوتا، تو وہ قانونِ قدرت کی طرف سے دنیا والوں پر بہت بڑا ظلم و ستم ہوتا۔

۶۴

روشن کتاب:
آلِ عمران۔ ۳۔ آیت ۱۸۴۔  (۳: ۱۸۴) میں نور کا تذکرہ ’’الکتاب المنیر‘‘ یعنی روشن کتاب کے عنوان سے کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے، کہ حقیقی اور روحانی کتاب رسول اکرم اور امامِ برحق کے نورِ واحد کی حیثیت میں ہے، جو کتابِ ناطق یعنی خود گو کتاب ہے، اس روشن کتاب یعنی انسانِ کامل کے نور کو تاویل یا حکمت کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے (ملاحظہ ہو کتاب وجہِ دین حصۂ اول ص ۸۲۔۸۳) تاویل کو روشن کتاب اس معنی میں کہا جاتا ہے، کہ وہ روحانیت کے اعلیٰ ترین مقام پر اور کشف و مشاہدہ کے عالم میں موجودات کے حقائق و معارف کو واضح اور روشن کر کے دکھاتی اور بتاتی جاتی ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ وہی نور جو امامِ عالی صفات کی ذاتِ اقدس میں موجود ہے قرآنِ پاک کی زندہ اور بولنے والی روح ہے، جس میں قرآنِ حکیم کی عملی تاویل کی ایک جیتی جاگتی وسیع دنیا سموئی ہوئی ہے، چنانچہ ہمارے نامور پیروں اور بزرگوں نے امامِ وقت کی بتائی ہوئی عبادت اور ریاضت کے نتیجے پر اپنے دل و دماغ میں اس نور یعنی روشن کتاب کا کافی مشاہدہ اور مکمل تجربہ کر لیا، جس سے انہیں دونوں جہان کی زندہ حقیقتیں معلوم ہوئیں۔

۶۵

نورِ مبین:
النساء۔ ۴۔ آیت۔ ۱۷۴۔ (۴: ۱۷۴) میں نورِ مبین کا لفظ آیا ہے، جس کے دو معنی ہیں، ایک معنی ہیں ظاہر نور اور دوسرے معنی ہیں بولنے والا نور، اور اس آیت میں یہ دونوں معنی مناسب و موزون ہیں، جیسے سورۂ زخرف۔ ۴۳۔ آیت۔ ۱۸۔ (۴۳: ۱۸) میں مبین کا لفظ بولنے والے کے لئے استعمال ہوا ہے، پس معلوم ہوا کہ امامِ اطہر علیہ السلام کا پاک نور نہ صرف جسمانی صورت میں ظاہر اور بولنے والا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ روحانی کیفیت میں بھی معجزانہ ظہور اور کلام کرتا ہے۔

چنانچہ مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ میں ارشادِ ربانی ہے کہ: اے لوگو یقیناًتمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک دلیل آ چکی ہے اور ہم تمہارے پاس ایک ظاہر نور نازل کر چکے ہیں۔ پس یہاں مرتبۂ نبوت کو دلیل اور منصبِ امامت کو نورِ مبین کہا گیا ہے، اگر یہاں کوئی شخص یہ کہے کہ دلیل سے قرآنِ مجید مراد ہے اور نور کا اشارہ رسولِ اکرم کی طرف ہے، تو اس سے بھی نتیجے کے طور پر پھر وہی حقیقت ثابت ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کا نور بجھنے والا نہیں تھا، اس لئے وہ آنحضرت سے سلسلۂ امامت میں منتقل ہوا، اور وہ آج بھی امامِ حی و حاضر کے جامۂ بشریت میں جلوہ گر ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔

۶۶

نور اور کتابِ مبین:
المائدہ۔ ۵۔ آیت۔ ۱۵، ۱۶۔ (۵: ۱۵ تا ۱۶) میں پیغمبر اور امام علیہما السلام کو ایک ہی نور قرار دیا ہے، اور قرآن کو ظاہر کتاب کہا گیا ہے، یہاں پر شاید یہ سوال ہو سکتا ہے، کہ کبھی نور کو اور کبھی کتاب کو ظاہر کیوں کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے، کہ نور اور قرآن دونوں کی صفت یہ ہے کہ وہ ایک پہلو سے ظاہر ہیں اور دوسرے پہلو سے باطن، یعنی نور کی شخصیت اور قرآن کی تنزیل ظاہر ہیں، مگر نور کی روحانیت اور قرآن کی تاویل باطن ہیں، پس جہاں نور کی روشنی میں قرآن کی حکمت دیکھنے کی تعلیم دی گئی ہے وہاں شخصیت کے اعتبار سے نور کو ظاہر کہا گیا ہے اور اس کے برعکس جہاں قرآن کی مدد سے امام کی معرفت حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے، وہاں تنزیل کے لحاظ سے کتاب کو ظاہر کہا گیا ہے۔

توریت کا مقصد:
المائدہ۔ ۵۔ آیہ۔ ۴۴۔ (۵: ۴۴) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: تحقیق ہم نے توریت نازل کی، اس میں ہدایت اور نور ہے، انبیاء جو کہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے، اس کے مطابق یہود کو حکم دیا کرتے تھے، اور (اسی طرح) اہلِ اللہ اور علماء بھی (حکم دیا کرتے تھے) جن کو اللہ کی کتاب کی حفاظت سپرد کی گئی

۶۷

تھی، اور وہ اس کے گواہ تھے۔

مذکورۂ بالا آیت سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے، کہ توریت کا مقصد و منشاء ہدایت اور نور تھا، یعنی توریت سے ایسی ہدایت مقصود تھی، جس سے نورِ معرفت کا راستہ ملے اور امامِ زمان کی معرفت حاصل ہو۔

نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا، کہ خدا کی طرف سے انبیاء، اولیاء اور علماء مقرر ہو جانے کا مقصد بھی یہی تھا، کہ وہ لوگوں کو توریت کی ہدایت کے مطابق حکم دیا کریں، تا کہ اس ہدایت پر عمل کرنے کے بعد وہ نور کی معرفت تک رسا ہو جائیں۔

انجیل کا مقصد:
المائدہ۔ ۵۔ آیہ۔ ۴۶۔ (۵: ۴۶) میں ارشادِ ربانی ہے کہ: اور ہم نے عیسیٰ کو انجیل دی، جس میں ہدایت اور نور ہے اور وہ اپنے سے قبل کی کتاب یعنی توریت کی تصدیق کرنے والی ہے اور وہ پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا، کہ جو موضوع اور مقصد توریت کا تھا، وہی انجیل کا بھی ہے، اور وہ یہ کہ لوگوں کو ایسے قول و عمل کی ہدایت اور تعلیم دی جائے، کہ جس سے وہ نورِ امامت کا مشاہدہ کر کے معرفت حاصل کر سکیں۔

اس آیت کے اخیر میں حق تعالیٰ کا یہ فرمانا، کہ انجیل پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے، اس حقیقت کی

۶۸

روشن دلیل ہے، کہ انجیل کی ہدایت و نصیحت پر صرف وہی لوگ عمل پیرا ہوتے تھے، جو تمام نفسانی اور دنیاوی اغراض سے اپنے آپ کو بچانے والے تھے، تا کہ ہدایت کے ذریعہ نورِ امامت کا مشاہدہ کر سکیں اور اسے پہچان سکیں، اور ہر آسمانی کتاب کا مقصد و منشاء یہی ہے۔

قرآنِ حکیم کا مقصد:
المائدہ۔ ۵۔ آیت۔ ۴۸۔ (۵: ۴۸) میں رب العزت کا فرمان ہے کہ: اور ہم نے یہ کتاب آپ کے پاس بھیجی ہے جو خود بھی صداقت سے بھرپور ہے، اور اس سے پہلے جو کتابیں ہیں ان کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور ان کتابوں کی محافظ بھی ہے، تو آپ ان کے درمیان اسی بھیجی ہوئی کتاب کے مطابق حکم کیجئے۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کہ قرآنِ مجید کس طرح اگلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے؟ اور کس معنی میں ان کا محافظ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان اگلی آسمانی کتابوں کا جو مقصد تھا، وہی مقصد قرآنِ مجید کا بھی ہے، اس لئے قرآنِ پاک کے بنیادی موضوعات اور اصولی تعلیمات وہی ہیں، جو توریت، انجیل، وغیرہ کی تھیں، اسی طرح قرآنِ پاک نے اگلی سماوی کتابوں کی ایسی عملی تصدیق کی، کہ جس سے بڑھ کر کوئی دوسری تصدیق نہیں ہو سکتی۔

اب یہ بتائیں گے کہ قرآن کس معنی میں اگلی آسمانی

۶۹

کتابوں کا محافظ ہے، چنانچہ جاننا چاہئے ، کہ اگلی سماوی کتب میں جو حقائق و معارف بیان کئے گئے تھے، وہ سب کے سب قرآنِ پاک کے ظاہر و باطن میں محفوظ ہیں، پس ان دونوں باتوں سے کہ قرآن پاک اگلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، اور ان کا محافظ بھی ہے، یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس طرح توریت اور انجیل کا خصوصی موضوع ہدایت اور نور ہے، اسی طرح قرآنِ حکیم کا موضوع بھی ہدایت اور نور ہے، چنانچہ سورۂ نور۔ ۲۴۔ آیت۔ ۳۵۔ (۲۴: ۳۵) کے اس فرمانِ الٰہی پر ذرا غور و فکر کیجئے جو ارشاد ہوا ہے کہ: حق تعالیٰ جسے چاہے اپنے نور کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ جسے چاہے قرآن، پیغمبر اور امامِ زمانہ کے توسط سے (کہ یہی مقدس ہستیاں مشیتِ ایزدی اور ہدایتِ الٰہی کے ذرائع ہیں) اپنے مبارک و مقدس نور کی شناخت کرا دیتا ہے، پس معلوم ہوا، کہ توریت اور انجیل کی طرح قرآنِ مجید کا اصلی موضوع اور مقصدِ اعلیٰ ہدایت اور نور ہے۔

ظلمت کے مقابلے میں نور:
الانعام۔ ۶۔ آیت۔ ۱۔ (۶: ۱) میں ارشاد ہوا ہے کہ: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں، جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں کو اور نور کو بنایا پھر بھی کافر لوگ اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔

اس آیۂ مقدسہ میں اللہ تعالیٰ کی تعریف اس بناء پر

۷۰

کی گئی ہے، کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کے نیچے زمین کو پیدا اور ظلمتوں کو اور ان کے مقابلے میں نور کو مقرر فرمایا، جس کا مطلب یہ ہے، کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عالمِ دین کو پیدا کیا، جو اس ظاہری کائنات کی طرح اپنے اندر آسمان، زمین، ظلمت اور نور رکھتا ہے، اور نور کی یہ اہمیت ہے، کہ اگر یہ نہ ہو، تو عالمِ دین نیست و نابود ہو جائے گا، جیسا کہ یہ حقیقت سب جانتے ہیں، کہ اگر اس مادی کائنات کے وسط میں یہ جسمانی سورج نہ ہو تو یہ جہان درہم و برہم ہو کر فنا ہو جائے گا، کیونکہ اس عالم کے قیام و نظام کا انحصار سورج پر ہے، بالکل اسی طرح عالمِ دین کے قرار و ثبات کا دارو مدار نورِ امامت پر ہے جو جہانِ دین کا سورج ہے۔

نور اور ہدایت:
الانعام۔ ۶۔ آیت۔ ۹۱۔ (۶: ۹۱) میں فرمایا گیا ہے کہ: اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (قدرت و توانائی کی) قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا، جبکہ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی، آپ کہیئے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ لائے تھے، جس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ نور ہے اور لوگوں کے لئے وہ ہدایت ہے، جس کو تم ورق ورق کرتے ہو (یعنی نورانی کیفیت سے منتقل کر کے کاغذی تحریر کی صورت میں لاتے ہو) اور بہت سی باتوں

۷۱

کو چھپاتے ہو۔

اس آیۂ کریمہ میں آسمانی کتاب کی زندہ روح کے متعلق بہت سی حقیقتیں اور حکمتیں پوشیدہ ہیں، جن کو سمجھنے کے لئے وحی و الہام کی حقیقت و کیفیت سے آگاہی ضروری و لازمی شرط ہے، چنانچہ وحی و تنزیل ایک علمی نور اور ایک زندہ روح کی صورت میں واقع ہوتی ہے، جس کو روح القدس یا روح الامین کا نزول کہا جاتا ہے، نیز اس عقل و دانش کے نور اور علم و حکمت کی روح کو، جو بے شمار عجائب و غرائب اور کرامات و معجزات سے مملو ہے، حقیقی معنوں میں آسمانی کتاب کہا جاتا ہے، اگرچہ پیغمبر کی مبارک زبان اور کاتب کے قلم سے گزر کر کاغذ پر تحریری صورت میں نہیں آئی ہو۔

یاد رہے کہ آسمانی کتاب تحریر میں آنے کے بعد بھی بلا کم و کاست اپنی اصلی صورت و حالت پر پیغمبر اور پھر امامِ عالی مقام کی عظیم الشان روحانیت میں ہمیشہ کے لئے برجا و قائم رہتی ہے اور یہی کتاب امام علیہ السلام کا زندہ نور اور حقیقی ہدایت کہلاتی ہے۔

جاننا چاہئے کہ باطنی کتاب کا موضوع پہلے نور پھر ہدایت ہے، اور ظاہری کتاب کا مضمون اول ہدایت اوراس کے بعد نور ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ امام کے مقدس نور سے قرآن کے حقائق و معارف کا راستہ مل جاتا ہے، اور قرآن کے علم و حکمت کی ہدایت سے امام کے نورکی معرفت تک رسائی ہو سکتی ہے۔

۷۲

نور ملے تو ابدی زندگی ملتی ہے:
الانعام۔ ۶۔ آیت۔ ۱۲۲۔ (۶: ۱۲۲) میں پروردگارِ عالم کا ارشاد ہے کہ: ایسا شخص جو کہ پہلے مردہ تھا، پھر ہم نے اس کو زندہ بنا دیا اور ہم نے اس کو ایسا نور دیا کہ وہ اس کے ذریعہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کی حالت یہ ہو کہ وہ تاریکیوں میں ہے ان سے نکلنے ہی نہیں پاتا۔

اس آیۂ مقدسہ کی حکمت یہ ہے، کہ مردہ سے جاہل مراد ہے، زندہ کر دینے کی تاویل ہے علمِ حقیقت دینا، نور مقرر کر دینے کے معنی ہیں امامِ برحق کی معرفت اور نور کا حصول، اور نور کے ذریعے سے لوگوں میں چلنے پھرنے کا اشارہ ہے ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جانا اور لوگوں کی روحانیت میں داخل ہو جانا وغیرہ۔

رسول کے بعد نور کی پیروی:
الاعراف۔ ۷۔ آیت۔ ۱۵۷۔ (۷: ۱۵۷) میں یہ ارشاد ہے کہ: پس جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس کی مدد کرتے اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو اس (نبی) کے ساتھ بھیجا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

اس آیۂ مقدسہ کی حکمت یہ ہے، کہ مؤمنین رسولِ اکرم پر ایمان لانے اور ان کی حمایت و مدد کرنے کے ساتھ ساتھ قرآنِ مجید پر بھی ایمان لاتے ہیں، کیونکہ رسول کی رسالت قرآن

۷۳

ہی کی صورت میں ہے اور اس سے ہرگز جدا نہیں، اب رہا نور کا سوال، جس کی مؤمنین نے پیروی کی، تو یہ امامت ہی کا نور ہے، کیونکہ اسلامی دور کے دو حصے ہیں، پہلے حصے میں عہدِ نبوت ہے جس کا زیادہ تر تعلق تنزیلی امور سے ہے، دوسرے حصے میں عصرِ امامت ہے، جس میں اکثر تاویلی امور پیشِ نظر ہوتے ہیں، پس یہی سبب ہے، کہ مؤمنین زمانۂ تنزیل میں پیغمبر کی اطاعت کرتے ہیں اور زمانۂ تاویل میں امام کی اطاعت کرتے ہیں۔

نیز جاننا چاہئے کہ اس آیۂ کریمہ میں رسولِ اکرم کی اطاعت کے بعد نورِ امامت کی پیروی کا جو ذکر ہوا ہے، اس میں یہ پیشگوئی ہے کہ آنحضرت کے بعد غفلت و جہالت کی تاریکی پھیلنے والی ہے، جس کو صرف امامِ اطہر کا نور ہی دور کر سکتا ہے۔

نورِ الٰہی کے خلاف ناکام کوشش:
التوبہ۔ ۹۔ آیت۔ ۳۲۔ (۹: ۳۲) میں ارشادِ الٰہی ہے کہ: وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنے مونہوں (کی پھونکوں) سے بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ کو سوائے اس کے کچھ منظور نہیں کہ وہ اپنے نور کو پورا کر دے، اگرچہ کافروں کو برا لگے۔

اس آیۂ کریمہ کی حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ نورِ الٰہی کو بجھانے کی ناکام کوشش وہ شخص کرتا ہے، جو اس کو نہ پہچانے اور اس سے دشمنی کرے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا نور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

۷۴

کی طرح لباسِ بشریت میں لوگوں کے سامنے ظاہر ہے، مختصر یہ کہ پیغمبر اور امام علیہما السلام سے مخالفت و دشمنی رکھنے کا سبب سوائے اندھاپن اور جہالت کے کچھ بھی نہیں، کیونکہ دنیا میں کسی ایسے کافر کا ہونا ممکن نہیں، کہ وہ اول تو خدا کو مانے اس کے بعد کسی ہستی کے متعلق یہ باور کرے کہ خدا کا نور یہی ہے، اور پھر اس کو بجھا دینے کی کوشش کرے۔

اتمامِ نور:
یہاں پر ایک سوال یہ ہے، کہ خداوند تعالیٰ اپنے نور کو کس طرح پورا کرتا ہے؟ کیا اس کا نور ازلی و ابدی طور پر تمام و کمال کا درجہ نہیں رکھتا؟ اب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے شک خدا کا نور ہمیشہ سے تمام و کامل ہے اور فی نفسہٖ ہرگز ہرگز کوئی کمی نہیں، لیکن عالمِ دین میں خدا کی مصلحت کے مطابق چند ادوار مقرر ہوتے ہیں، ان میں سے ہر دور میں خدا کا مبارک و مقدس نور علم و عمل کے ذریعے سے پاک روحوں کی ایک کثیر تعداد کو اپنے ساتھ ایک کر لیتا ہے، پس تنویرِ ارواح کے اعتبار سے ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرے گا۔

سورج اور چاند کی نورانی وحدت:
سورۂ یونس ۔ ۱۰۔ آیت۔ ۵۔ (۱۰: ۵)  کا یہ پاک ارشاد ہے کہ: اللہ وہی ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو نورانی بنایا

۷۵

اور اس کی منزلیں مقرر کیں تا کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو۔

اس ربانی فرمان کی تاویل یہ ہے، کہ جس طرح سورج اور چاند جسم کے اعتبار سے دو اور روشنی کے لحاظ سے ایک ہیں اسی طرح پیغمبر اور امام جسمانیت میں دو اور روحانیت میں ایک ہیں، نیز دورِ امامت میں امام اور حجتِ اعظم (باب) عالمِ دین کے سورج اور چاند ہیں، جن کی ظاہریت جدا جدا اور باطنیت ایک ہے۔

اس آیۂ مقدسہ کی ایک تاویلی حکمت یہ بھی ہے، کہ جس طرح ظاہری سورج اور چاند سے دنیاوی سالوں، مہینوں، ہفتوں اور دنوں کا حساب و شمار معلوم ہوتا ہے، اسی طرح باطنی سورج اور چاند سے، جو کہ پیغمبر اور امام یا کہ امام اور باب ہیں، دینی اوقات بنتے اور معلوم ہو سکتے ہیں۔

اندھیرے اور نور:
سورۂ رعد۔ ۱۳۔ آیت ۔ ۱۶۔ (۱۳: ۱۶) میں ارشاد ہوا ہے کہ:
آپ کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہوا کرتے ہیں؟ یا کیا اندھیرے اور نور برابر ہوتے ہیں؟
یہاں قرآنِ حکیم اپنی مخصوص تاویلی زبان میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے، کہ جو شخص دین کے حقائق و معارف سے اندھا ہے، وہ اس شخص کا ہم پلہ ہرگز نہیں، جو چشمِ بصیرت اور دیدۂ دل کی نعمت سے نوازا گیا ہے، اور نہ کفر و جہالت کے اندھیرے اور

۷۶

انوارِ ایمان و عرفان برابر ہیں۔

جاننا چاہئے، کہ یہ نابینائی اور بینائی انسان کے دل سے متعلق ہے، جیسا کہ  ۲۲: ۴۶ کا ارشاد ہے کہ: پس تحقیق آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں، پس معلوم ہوا کہ روحانی ظلمت و نور کا تعلق بھی دل ہی کی آنکھوں سے ہے نہ کہ سر کی آنکھوں سے۔

کتاب، پیغمبر اور نور:
اللہ تعالیٰ کی عادت و سنت یہ ہے، کہ وہ جب چاہے آسمانی کتاب اپنے کسی پیغمبر پر نازل فرماتا ہے، تا کہ وہ پیغمبر اس کتاب کے ذریعے سے لوگوں کو غفلت و ناشناسی کی تاریکیوں سے نکال کر امام شناسی کے نور کی طرف لے آئے، پھر اس کے بعد بحکمِ خدا اپنے پورے دور میں اس نور یعنی امام کے توسط سے اللہ تعالیٰ کی طرف راہِ راست کی ہدایت کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلعم سے :فرمایا کہ
یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اس لئے اتاری ہے تا کہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے اندھیروں سے نور کی طرف نکال کر زبردست لائقِ حمد اللہ تعالیٰ کے راستے پر لگائیں۔ ۱۴: ۱۔

۷۷

ہادی اور نور:
سورۂ ابراہیم۔ ۱۴۔ آیت۔ ۵ ۔ (۱۴: ۵) کی مقدس تعلیم یہ ہے کہ: اور یقیناًہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نور کی طرف نکال اور انہیں اللہ تعالیٰ کے دن یاد دلا یقیناًاس میں ہر صبر کرنے والے شکر گزار کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔

قرآن پاک کی اس تعلیم میں یہ حکمت پنہان ہے، کہ جب اس دنیا میں ہمیشہ سے ایک طرف کفر و جہالت کا اندھیرا پایا جاتا ہے تو دوسری طرف دائم الوقت ایمان و ایقان کا نور بھی موجود ہے، لیکن لوگوں کی فطرت و عادت ایسی ہے، کہ وہ اپنے آپ اس ظلمت سے نکل کر نور میں داخل نہیں ہو سکتے، اس لئے اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں دے کر پیغمبر یا امام کی حیثیت سے ایک ہادی مقرر فرماتا ہے، تا کہ لوگ اپنے زمانے کے ہادی کو پہچانیں اور اس کی ہدایت کے مطابق اندھیرے کو چھوڑ کر نور کے راستے پر چل سکیں۔

یہاں پر یہ ضرور پوچھنا چاہئے ، کہ حضرت موسیٰ کے اس تذکرہ میں جو نشانیاں بتائی گئی ہیں، وہ ہر شخص کے لئے عام کیوں نہیں ہیں؟ اور اس کا سبب کیا ہے کہ یہ نشانیاں صرف صبر و شکر کرنے والوں کے لئے مخصوص ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صبر و شکر کرنے سے دیدۂ دل روشن ہو جاتا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے مشاہدے سے اس کا مقصد و منشاء معلوم ہو سکے، اور اس کے نور یعنی امامِ زمان کی معرفت حاصل کر لی جائے، اس کے برعکس جو شخص خود غرضی، نفسانیت، بے صبری

۷۸

اور ناشکری کا شکار ہو چکا ہو، تو اس کی چشمِ بصیرت پر پردۂ غفلت پڑ جاتا ہے، پھر وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتا، جو کتابِ سماوی میں ہیں یا پیغمبر اور امام کے ساتھ ہیں۔

امامِ زمان کا نور روشن کتاب ہے:
سورۂ حج (۲۲: ۸ تا ۹) میں پروردگارِ عالم نے فرمایا کہ: اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم اور بجز ہدایت اور بدونِ روشن کتاب جھگڑتا ہے، اپنی کروٹ موڑ کر تا کہ اللہ کی راہ سے بہکائے۔

اس تعلیمِ سماوی کی تاویل یہ ہے کہ کوئی شخص داعی، حجت، اور امامِ زمان علیہ السلام کی شناخت و معرفت کے بغیر خدا تعالیٰ کی معرفت کے بارے میں مباحثہ و مناظرہ نہیں کر سکتا، کیونکہ داعی علم، حجت ہدایت اور امام روشن کتاب ہیں، جبکہ داعی علم الیقین، حجت عین الیقین اور امام حق الیقین کے مراتب پر ہیں۔

اس حقیقت کی دلیل یہ ہے کہ داعی علم الیقین سے لوگوں کو دعوت کر کے حجت کے حوالے کر دیتا ہے، حجت عین الیقین سے انہیں ہدایت کر کے امام کی نورانی معرفت تک پہنچا دیتا ہے اور امام اپنے نور کی روشن کتاب سے ان پر ظاہری و باطنی موجودات کی تمام حقیقتیں واضح اور روشن کر دیتے ہیں۔

کائنات کا نور:
سورۂ نور (۲۴: ۳۵) میں حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:

۷۹

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں چراغ روشن ہو وہ چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں ہو وہ قندیل ایسی ہو گویا وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے وہ زیتون کے مبارک درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی قریب ہے کہ اس کا تیل (خود بخود) روشن ہو جائے، اگر اسے آگ نہ چھوئے وہ نور پر نور ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی راہ پر لگا دیتا ہے۔

مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ کی حکمت و تاویل یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ کا نور ظاہری و باطنی طور پر علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی صورت میں موجود ہے، جو امامِ حی و حاضر کے مبارک وجود سے طلوع ہو کر حدودِ روحانی کے آسمانوں اور حدودِ جسمانی کی زمینوں کو منور کر رہا ہے، یہ نور خانۂ حکمت (یعنی نبوت یا امامت کے گھر) سے تعلق رکھتا ہے، جس کے خاص افراد اہلِ بیت کہلاتے ہیں، جو اس نور کے لئے طاق (یعنی چراغ دان) کا درجہ رکھتے ہیں، آنحضرت کی خاندانی اصالت اور علمی مرتبت قندیل کی مثال پر ہے، جو ایک درخشان ستارے کی طرح ہے، جس کے اندر امامِ اطہر کی جسمانیت گویا اس معجزانہ چراغ کا ظرف ہے، امام علیہ السلام کی روحانیت کو زیتون کے تیل سے تشبیہہ دی گئی ہے، درختِ زیتون کا مطلب حضرت ابراہیم اور حضرت محمد کا پاک خاندان ہے، اس چراغ کے تیل میں نفسِ کل اور عقلِ کل یعنی امام کی مقدس روح اور ہمہ رس عقل بتی اور شعلے کی طرح ہیں، آگ کے معنی ہیں معجزانہ تائید اور

۸۰

نور پر نور کا مطلب ہے ایک امام کے بعد دوسرا امام ہونا۔

چنانچہ امامِ اطہر کی ہمہ گیر عقل کے شعلے سے جو ہدایت کی روشنی نکلتی رہتی ہے، وہ حدودِ روحانی و جسمانی کے توسط سے کائنات و موجودات کے ظاہر و باطن میں پھیل جاتی ہے، تا کہ اس سے آسمان، زمین، عناصر، جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان کی ہستی و بقا کا راستہ بنے رہے اور موجودات و مخلوقات میں سے ہر ایک اپنی صلاحیت و قابلیت کے مطابق یہ ہدایت حاصل کر سکے۔

ان حقائق کے مختصر دلائل:
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذاتِ پاک کو آسمانوں اور زمین کا نور یا کہ روشنی قرار دے دیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ جل شانہ اس کائنات کی بلندی و پستی کی کلی ہدایت کی روشنی ہے، یعنی خدا تعالیٰ کے نور نے آسمان و زمین اور ہر چیز کو نیستی کے اندھیرے سے نکال کر ہستی کی روشنی میں لایا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ آسمانوں، سیاروں اور عناصر میں جیسی بھی حرکت پائی جاتی ہے، یا جو چیز جس طرح سے ٹھہری ہوئی ہے، اس کا اصل سبب اللہ تعالیٰ کے نور کی رہنمائی ہے، نیز اس کائنات کی تمام تکوینی، تخلیقی اور حفاظتی قوتوں میں نور کی ہدایت کارفرما ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اس کائناتی نور کے معنی یہ بھی ہیں، کہ اس نور کی معرفت کی روشنی میں اسرارِ کائنات کا ظاہراً و باطناً مشاہدہ و مطالعہ کیا جا سکتا ہے، اور روحانی یا جسمانی طور پر کائنات کو مسخر کیا جا سکتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ خدا کا نور عقل و دانش ، علم و

۸۱

حکمت اور رشد و ہدایت کی صورت میں ہے، نہ کہ کسی مادی روشنی کی کیفیت میں۔

جب خدا کے نزدیک یہ کوئی عیب نہیں کہ آسمانوں کے علاوہ زمین بھی خدا کے نور کی روشنی میں مستغرق رہے، جس میں زمین پر رہنے والے ہر قسم کے جانور اور برے بھلے انسان سب شامل ہیں، پھر اس میں کیا شک ہو سکتا ہے، کہ اس کے نور کا مرکز امامِ اقدس کی ذاتِ عالی صفات میں موجود ہے۔

اگر اللہ تعالیٰ کے نور کا دیدار اور معرفت ناممکن ہوتی، تو وہ اپنے نور کی مثال کسی ایسی چیز سے نہیں دیتا جو دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر ہے، جب اس نے اپنے نور کی مثال ظاہری چراغ سے دی ہے تو ثابت ہوا، کہ نورانی دیدار اور اس کی معرفت ممکنات میں سے ہیں، اور یہ صرف امامِ اقدس ہی کے وسیلے سے ممکن ہے۔

اگر خدا کا نور ظاہر و باطن میں قریبی مشاہدہ سے برتر اور نارسا ہوتا، تو عدل و انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ خدا اپنے نور کو سورج سے تشبیہہ دے، مگر اس نے ایسا نہیں کیا ہے، بلکہ اس نے تو اپنے نور کی تشبیہہ گھر کے چراغ سے دی ہے، تو معلوم ہوا، کہ اس کا پاک نور انسانوں کے درمیان ہے جو انسانِ کامل یعنی امام حی و حاضر علیہ السلام کے جامۂ بشریت میں ہے۔

اگر خدا کا نور جسمانیت کا جامہ کبھی نہیں بدلتا اور سورج کی طرح ظاہر میں ایک حال پر رہتا، تو پھر اس صورت میں اس

۸۲

کی مثال سورج سے دی جاتی، اور چراغ سے نہیں دی جاتی۔

جس طرح اس کائنات کے لئے ایک سورج ہے، اور گھر کے لئے کوئی چراغ ہوتا ہے، اسی طرح دنیائے انسانیت کی تاریکی دور کرنے کے لئے انسانِ کامل یعنی امامِ زمان موجود ہے۔

اگر عقل و دانش کی نظر میں جہالت ایک قسم کی ظلمت و تاریکی اور علم و حکمت اس کے مقابلے میں نور ہے تو لازماً یہ بھی درست اور صحیح ہے کہ علم و حکمت اور رشد و ہدایت کا یہ نور بدرجۂ اتم انسانِ کامل میں موجود ہے۔

اگر دنیا ایک عالم ہے تو دین بھی ایک عالم ہے، اور اگر دنیاوی سورج مادی قسم کا ہے کہ اس میں عقل و روح نہیں، تو عالمِ دین کا نور عقل و روح رکھتا ہے اور وہ امام ہی ہے۔

یہ حقیقت تقریباً سب کے نزدیک مسلمہ ہے، کہ انسان انفرادی طور پر ایک چھوٹی سی دنیا ہے، اور اس میں روشنی کا ایک چھوٹا سا نمونہ بھی ہے، جو عقلِ جزوی کے نام سے مشہور ہے، چنانچہ سارے انسان بھی اجتماعی صورت میں ایک عظیم دنیا ہیں، اور اس میں ایک عظیم الشان نور بھی ہے جسے انسانِ کامل یا کہ امامِ زمان کہا جاتا ہے۔

جب انسان نظریں جما کر چمکتے ہوئے سورج کو دیکھنے لگتا ہے، تو فوراً روشنی کے ذرات کی تیز بارش کی زد سے اس کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، بالکل اسی طرح جو شخص امامِ عالی مقام کی ذات و صفات پر تبصرہ و تنقید کی نظر ڈالنے لگتا ہے، تو امام

۸۳

کی شخصیت سے طرح طرح کے خیالات پیدا ہو کر وہ عقل کی آنکھ سے اندھا ہو جاتا ہے۔

اگر انسان سورج کو براہِ راست دیکھنے کی بجائے علم و حکمت اور ظاہری سائنس کی نظر سے دیکھے تو وہ سورج کے متعلق بہت سی حقیقتیں سمجھ سکتا ہے، اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکتا ہے، اسی طرح جو آدمی امام علیہ السلام کو ظاہری نگاہ سے دیکھنے کی بجائے علم و معرفت کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش میں ہو، تو اس کی بہت بڑی سعادت مندی ہے۔

نور علیٰ نور:
اگر ہم یہ عقیدہ نہ رکھیں کہ امام کا نور ازل سے جامۂ بشریت میں اسی طرح موجود ہے جس طرح اس وقت ہے تو نور علیٰ نور کا مطلب کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا، کیونکہ نور علیٰ نور میں ایک ایسا تصور ہے، جیسے ایک نور پہلے ہی سے موجود ہو اور دوسرا نور اس کے بعد وجود میں آئے، پھر یہ دونوں نور باہم مل کر ایک ہو جائیں، اور یہ ایک حقیقت ہے، پس معلوم ہوا، کہ ایک امام کے بعد دوسرا امام ہونے کا یہ سلسلہ ہمیشہ سے چلے آیا ہے، اور یہ ایک ایسی جامع حقیقت ہے، کہ جس میں تمام حقیقتیں سموئی ہوئی ہیں۔

جب نور علیٰ نور کے تصور سے یہ معلوم ہوا، کہ نور بظاہر ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، مگر ان کی اصلیت و حقیقت ہمیشہ سے ایک ہی رہتی ہے، جیسے سورج کے علاوہ چاند اور تمام

۸۴

ستارے بھی مادی قسم کے نور ہیں، مگر یہ تمام انوار مقامِ وحدت پر یعنی سورج کی ذات میں ایک ہیں اور ان کا آخری مقصد بھی ایک ہے۔

علاوہ برآن نور کی یگانگت و یک رنگی اور وحدت کی ایک واضح مثال یہ بھی ہے کہ جب ہم کسی مکان میں مختلف رنگ کے چند بلب روشن کرتے ہیں، تو ان سب کی روشنی اور رنگت ایک ہو جاتی ہے، یہ مثال ایک طرف سے انوارِ الٰہی کی وحدانیت کی ہے، اور دوسری طرف سے ارواحِ مؤمنین کی یگانگت کی۔

نور علیٰ نور کی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے، کہ سب سے پہلے امام کا مبارک و مقدس جسم بنتا ہے، جو ظاہری اور جسمانی ہدایت کا نور ہے، اور وہ اس معنی میں نور ہے کہ ظاہری اور بنیادی ہدایت کی روشنی امام کے مبارک جسم کی بدولت ہے، پھر اس پر امام کی روحِ ناطقہ کا نور ہے، اس پر نفسِ کلی کا نور ہے اور اس پر عقلِ کلی کا نور قائم ہے، یہ ہوئے نور پر نور ہونے کے معنی۔

نور اور اللہ تعالیٰ کی مرضی:
سورۂ نور (۲۴: ۳۵) کی ربانی تعلیم ہے، کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی راہ پر لگا دیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشاء کے بغیر کوئی انسان اس کے نور کی شناخت اور پیروی نہیں کر سکتا۔

یہاں ایک طرف سے یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نور

۸۵

دنیا میں ہمیشہ موجود ہے، اور دوسری طرف سے یہ معلوم ہوتا ہے، کہ ہدایت کے مرحلے دو ہیں، پہلے مرحلے پر خدا کی ہدایت ہے، جس کی پیروی کرنے سے خدا کا نور مل جاتا ہے، دوسرے مرحلے پر خدا کے نور کی ہدایت ہے، جس پر چلنے سے سلامتی اور ابدی نجات مل جاتی ہے۔

جس کے لئے خدا نور مقرر نہ کر دے اس کے لئے کوئی نور نہیں:
مذکورۂ بالا سورہ کی آیت ۴۰  (۲۴: ۴۰) میں ارشاد ہوا ہے کہ: اور جس کے لئے اللہ تعالیٰ کوئی نور قرار نہ دے اس کے لئے تو کوئی نور ہی نہیں۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کا نور مقرر کر دینا اس طرح سے ہے، کہ وہ رسولِ اکرم صلعم سے فرماتا ہے اور آنحضرت جن لوگوں کے لئے اللہ کی مرضی ہو نور مقرر کر دیتے ہیں۔

اس آیۂ مبارکہ کے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ منکرین ایسے نہیں کہ ان کے اعمال نہ ہوں، اعمال تو ہیں مگر بے فائدہ، کیونکہ حقائق ان سے پوشیدہ ہیں اس لئے کہ خداوندِ عالم نے ان کے لئے نور مقرر نہیں فرمایا ہے، پس ان کے اعمال کی مثال ایک چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت کی طرح ہے، جس کو پیاسا آدمی دور سے پانی خیال کرتا ہے، مگر جب وہ قریب آ کر دیکھتا ہے تو کچھ بھی نہیں ریت ہی ریت ہے، یا ان کے اعمال کی مثال گہرے سمندر کے اندھیروں کی طرح ہے، کہ اس

۸۶

کو بڑی لہر نے ڈھانک لیا ہو جس کے اوپر دوسری لہر اور اس کے اوپر بادل ہیں غرض اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے ہیں، کہ اگر ایسی حالت میں کوئی انسان ہاتھ نکالے تو اسے دیکھنے کا احتمال بھی نہیں۔

عالمِ دین کے سورج اور چاند:
سورۂ فرقان (۲۵) کی آیت ۶۱ (۲۵: ۶۱) کی ہدایت یہ ہے: بہت برکت والا ہے جس نے آسمان میں بروج بنائے اور اس میں ایک چراغ یعنی سورج اور نورانی چاند بنایا۔

جاننا چاہئے کہ حقیقی برکت دنیاوی چیزوں میں نہیں بلکہ دینی چیزوں میں ہے، پس اللہ تعالیٰ بہت برکت والا اس معنی میں ہے، کہ اس نے عالمِ دین بنایا، جس کے آسمانِ روحانیت کے بارہ بروج بنائے یعنی بارہ حجت، اور اس میں سورج اور چاند بنایا یعنی پیغمبر اور امام دورِ نبوت میں، اور امام و حجتِ اعظم دورِ امامت میں۔

بروج اگرچہ بارہ ہیں لیکن شب و روز کے دو حصوں کے حساب سے وہی بارہ کے چوبیس ہوتے ہیں اور منزلوں کے حساب سے اٹھائیس ہوتے ہیں، اسی طرح امام علیہ السلام کے حجتانِ جزائر بارہ ہیں، حجتانِ لیلی و حجتانِ نہاری چوبیس اور حجتانِ مقرب کے ساتھ اٹھائیس ہوتے ہیں۔

۸۷

کتابِ منیر:
قرآنِ حکیم کی سورت ۳۱۔ آیت ۔۲۔ (۳۱: ۲) میں ارشاد ہے: اور لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں بغیر علم اور بغیر ہدایت اور بغیر کتابِ منیر کے جدل کرتا ہے۔

یہاں علم سے مراد دورِ نبوت میں حجت، ہدایت کا مطلب امام اور روشن کتاب کے معنی آنحضرت صلعم ہیں، اور دورِ امامت میں علم داعی، ہدایت حجت اور روشن کتاب امام علیہ السلام ہیں، جبکہ تاویلی درجات اور حدودِ دین زمان و مکان کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔

نیز اسی طرح جاننا چاہئے کہ دورِ امامت میں داعی علم الیقین ہے، حجت عین الیقین اور امام زمان علیہ السلام حق الیقین، پس ان حدودِ دین کے بغیر اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور اس کی معرفت و توحید کے بارے میں مباحثہ و مجادلہ کرنا باعثِ گمراہی ہے۔

ظلمات سے نور تک:
سورۂ احزات یعنی ۳۳ ویں سورت کی آیات ۴۱، ۴۲، ۴۳ اور ۴۴ میں ارشاد کیا گیا ہے کہ: اے ایمان والو! تم اللہ کو خوب کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تم پر

۸۸

رحمت بھیجتے ہیں، تا کہ خدا تم کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آوے، اور اللہ تعالیٰ مؤمنین پر بہت مہربان ہے، وہ (مؤمنین) جس روز اللہ تعالیٰ سے ملیں گے تو ان کی دعا سلامتی ہو گی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بہت بزرگ اجر تیار کر رکھا ہے (۳۳: ۴۱ تا ۴۴)۔

آیاتِ مذکورۂ بالا کی مجموعی حکمت یہ بتاتی ہے، کہ نور کی حقیقی پہچان اس وقت تک ناممکن ہے، جب تک انسان کا ایمان جیسا کہ چاہئے مکمل نہ ہو، اور کامل ایمان کی نشانی یہ ہے کہ مؤمن قلبی، زبانی اور عملی طور پر خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہے یہاں تک کہ وہ دائم الذکر ہو جاتا ہے، بصورتیکہ یہ ذکر روحانی مسرتوں سے بھرپور ہوتا ہے، اور وہ صبح و شام زبانِ حال اور زبانِ قال سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہے یعنی اس کا ظاہر و باطن اور گفتار و کردار سب پاک ہوتا ہے جبکہ وہ صبح و شام خدا کے حضور میں گریہ و زاری اور عجز و انکساری کرتے ہوئے اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے، پھر نتیجے کے طور پر اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے فرشتے ایسے خاص بندوں پر رحمت فرماتے ہیں جس سے رفتہ رفتہ ان کی ذات سے غفلت، جہالت اور معصیت کی تاریکیاں دور ہو جاتی ہیں، اور نبی و علی (صلوات اللہ علیہما) کا نورِ واحد اپنے علمی و عرفانی عجائبات و معجزات کے ساتھ ان کے دل و دماغ میں جلوہ گر ہونے لگتا ہے، اللہ تعالیٰ کی یہ خاص رحمت صرف حقیقی مؤمنین ہی کے لئے مخصوص ہے، جس روز کسی حقیقی مؤمن

۸۹

کو خداوند تبارک و تعالیٰ کے اس نورِ مقدس کا روحانی دیدار حاصل ہوتا ہے، اس وقت مؤمن زبانِ حال سے اپنی سلامتی کی دعا کرتا ہے، کہ وہ ابدی طور پر زندہ اور سلامت رہے جسے اللہ تعالیٰ منظور فرماتا ہے۔ بتوفیقِ الٰہی مذکورۂ بالا آیات کا تاویلی خلاصہ بتایا گیا۔

روشن چراغ:
سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۴۵ اور ۴۶ (۳۳: ۴۵ تا ۴۶) کا فرمانِ الٰہی یہ ہے کہ: اے نبی بے شک ہم نے آپ کو گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔

ان دونوں مقدس آیتوں کی حکمت سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ یہاں حضورِ اکرم صلعم کی بعض دائمی اور زندہ صفات بیان کی گئی ہیں، جن کی دلیل سے آنحضرت کی دوسری تمام صفات بھی زندہ اور پائندہ ثابت ہو جاتی ہیں، مثلاً جب مانا گیا کہ آنحضور اپنی تمام امت کے اعمال پر گواہ ہیں، جبکہ گواہ کا مطلب کسی معاملے کے سامنے حاضر و موجود ہونا ہے، تو سمجھ لینا چاہئے کہ آنحضرت کی یہ صفت ہمیشہ کے لئے زندہ اور باقی ہے اور لازماً آپ کی دوسری بہت سی صفات بھی اسی طرح لازوال ہیں۔

نیز خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے کو بھی بندوں کے اعمال کے سامنے حاضر و موجود رہنا چاہئے، تا کہ

۹۰

نکوکاروں کو خوشخبری دے اور بدکاروں کو ڈرائے، اسی طرح نبئ اکرم صلعم کی ایک اور زندہ صفت یہ بھی ہے کہ آپ اب بھی اسی طرح خدا کے حکم سے زمانے کے مطابق راہِ حق کی طرف دعوت کرتے ہیں جس طرح عہدِ نبوت میں اس وقت کے مطابق دعوت کرتے تھے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ حضور کی دعوت ہمیشہ سے وحئ الٰہی کی تابع ہوا کرتی ہے، جس کا لازمی نتیجہ صرف یہی نکلتا ہے، کہ پیغمبر صلعم کا مقدس نور امامِ زمان کی بشریت میں حی و حاضر ہے۔

یہی مثال روشن چراغ کی بھی ہے، کہ خدا کے نور کے اس پاک چراغ کو ہرگز نہیں بجھنا چاہئے اور اس کی صفت میں کوئی کمی اور کوئی زوال نہیں آنا چاہئے، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ یہ ارشاد ہوا ہے کہ خدا کا نور ایک لازوال حقیقت ہے، پس یہ تمام زندہ اور دائمی صفات آنحضرت کی رحلت کے بعد صرف آپ کے نور کی حیثیت میں باقی و برقرار ہیں، اور آپ کا یہ مقدس نور حضرت مولانا علی و آلِ علی کے سلسلۂ امامت میں ہمیشہ کے لئے قائم ہے۔

سراجِ منیر (روشن چراغ) قرآنِ حکیم میں نورِ نبوت و امامت کا ایک ایسا پرحکمت اور جامع اسمِ بزرگ ہے، کہ اس کی حقیقت و معنویت میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسمائے صفات کی قدرت و مظہریت سموئی ہوئی ہے، اس حقیقت کے ثبوت میں صرف اتنا کہنا کافی ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسی نورِ جامع صفات کے

۹۱

اعتبار سے، جو انسانِ کامل کے چراغِ ہستی سے طلوع ہو کر عالمِ دین اور دنیائے دل کو منور کر رہا ہے، آیۂ نور میں فرماتا ہے کہ:
’’خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں چراغ روشن ہو‘‘۔ اگرچہ حق سبحانہ و تعالیٰ کی ذاتِ بے چون کے اعتبار سے کوئی چیز اس کے مشابہ اور مثل نہیں ہو سکتی ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد کیا گیا ہے کہ: ’’کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے ۔ ۴۲: ۱۱‘‘۔

ظلمتِ جہالت اور نورِ معرفت:
سورۂ فاطر (۳۵) کی ۱۹ تا ۲۲ (۳۵: ۱۹ تا ۲۲) آیات میں ارشادِ ربانی ہے کہ: اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں اور نہ تاریکی اور روشنی، اور نہ سایہ اور دھوپ، اور زندے اور مردے برابر نہیں ہو سکتے۔ بے شک اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔

ان آیاتِ مقدسہ میں ایک طرف صحیح عقیدے کے اور دوسری طرف غلط نظریے کے نتائج کا تقابلی تذکرہ ہے، اور زبانِ حکمت میں فرمایا گیا ہے کہ غلط نظریہ کوردلی اور نادانی کا باعث بن جاتا ہے اور صحیح عقیدہ بصیرت و دانشمندی کا سبب ہوتا ہے، کور دلی یعنی دل کی نابینائی کا نتیجہ جہالت کی صورت میں نکلتا ہے اور قلبی بصیرت کا ماحصل نورِ معرفت ہے، نورِ معرفت کے نتیجے میں رشد و ہدایت کا سایۂ راحت حاصل ہوتا ہے اور جہالت کی

۹۲

تاریکی میں آوارہ گردی کے بعد گمراہی کا تپتا بیابان سامنے آتا ہے، نورِ معرفت اور رشد و ہدایت کے سایہ والے روحانی طور پر زندۂ جاوید ہو جاتے ہیں اور ضلالت کے سوزندہ ریگستان والے نفسانی طور پر ہلاک ہو جاتے ہیں، یہ جو سایۂ رحمت و ہدایتِ الٰہی میں روحانی طور پر زندہ ہو گئے وہ اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کی باتیں سن سکتے ہیں اور جو لوگ بیابانِ گمراہی میں ہلاک ہو گئے وہ نیستی و معدومیت کی قبروں میں دفنائے ہوئے ہیں انہیں علم و حکمت کی باتیں سنوائی نہیں جا سکتی ہیں۔

انبیاء کے معجزات، کتب اور تاویل:
مذکورہ سورہ کی پچیسویں آیت (۳۵: ۲۵) میں ارشاد کیا گیا ہے: اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی جھٹلایا تھا ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزات اور کتب اور روشن کتاب کے ساتھ آئے تھے۔

قرآنِ حکیم کی اس مقدس تعلیم سے ظاہر ہے، کہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ تین قسم کی عظیم الشان چیزیں ہوا کرتی ہیں، وہ ہیں معجزات ، کتابیں اور کتابِ منیر، لیکن اس باب میں یہ ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، کہ پیغمبروں کے معجزات اور کتابوں کے علاوہ کتابِ منیر (روشن کتاب) کون سی ہے یا کیا چیز ہوتی ہے؟ کیونکہ آیۂ کریمہ کے عربی الفاظ کے لحاظ سے بینات کے معنی ہیں معجزات، زبر زبور کی جمع ہے جس کا مطلب ہے کتابیں اور کتابِ منیر کا ترجمہ ہے

۹۳

روشن کتاب۔

چنانچہ سوال تھا کہ روشن کتاب کون سی ہے؟ نیز یہ بھی سوال ہو سکتا ہے، کہ آیا وہ روشن کتاب اب بھی ہے یا نہیں، جبکہ آنحضرت سے قبل کے جملہ پیغمبروں کے ساتھ ہمیشہ سے موجود تھی؟ ان سوالات کا سادہ اور آسان جواب یہ ہے، کہ روشن کتاب نورِ امامت کا نام ہے اور وہ پیغمبرِ آخر زمان کے ساتھ بھی تھا اور اب بھی موجود ہے، اور یہی نور تمام پیغمبروں کے آسمانی کتب کی عملی تاویل و حکمتِ بالغہ کی حیثیت سے ہے، کیونکہ نورِ امامت ہی وہ نور ہے جس میں روحانیت کے جملہ اسرار اور تاویلات کے جملہ روشن حقائق و معارف موجود ہیں۔

شرحِ صدر:
سورۂ زمر کی بائیسویں آیت کا ارشاد ہے کہ: پس جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا اور وہ اپنے پروردگار کے نور پر ہے (کیا وہ شخص اور اہلِ قساوت برابر ہیں) پس جن لوگوں کے دل خدا کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے تو ان کے لئے بڑی خرابی ہے یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں (۳۹: ۲۲)۔

یہ پاک آیت سب سے پہلے انسانِ کامل یعنی پیغمبرِ آخر زمان اور امامِ برحق علیہما السلام کی شان میں ہے، ان کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے حدودِ دین کے بارے میں بھی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا شدہ وسعتِ قلبی، اسلام یعنی اطاعت اور خدا کا

۹۴

نور انسانِ کامل کے وسیلہ اور توسط سے حدودِ دین کو بھی علیٰ قدرِ مراتب حاصل ہوتا ہے، اور انسانِ کامل کی ذاتِ اقدس میں یہ صفات اور دوسری تمام خوبیاں ہمیشہ کے لئے بدرجۂ اتم موجود ہوتی ہیں۔

اس آیۂ مقدسہ کی حکیمانہ تعلیم شرحِ صدر یعنی وسعتِ قلبی کے ذکر سے شروع ہو جاتی ہے، اور فرمایا جاتا ہے، کہ اسلام کو کماحقہ قبول نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو وسعتِ قلبی عطا نہ فرمائے، نیز لفظِ اسلام کے دوسرے معنوی پہلو کے اعتبار سے ارشاد ہے، کہ اگر خدا کی طرف سے کسی کو کشادہ دلی عنایت نہ ہوئی تو اس شخص سے اطاعت و فرمانبرداری نہیں ہو سکتی، کیونکہ اسلام کے معنی اطاعت و فرمانبرداری کے ہیں، پھر اس کے بعد فرمان ہے کہ جب خدا نے کسی آدمی کے دل کو کھول دیا تو وہی حقیقی اسلام یا کہ فرمانبرداری بجا لا سکتا ہے، جب اس نے ہادئ برحق کی فرمانبرداری کر لی، تو اس کے دل و دماغ میں بتدریج خدا کا نور جلوہ گر ہونے لگتا ہے، اور ذکرِ الٰہی خود بخود جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے قلب میں رقت و نرمی پیدا ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی معجزانہ صوتی ہدایات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

اس صورتِ حال کے برعکس، جس میں حقائق و معارف کے زندہ معجزات موجود ہیں، جن لوگوں کے دل تنگ و تاریک ہوں، وہ حقیقی اسلام قبول نہیں کر سکتے، جس کے سبب سے

۹۵

ان کے دل خدا کے نور کے قابل نہیں ہو سکتے، نہ ہی وہ خدا کے ذکر کو جاری رکھ سکتے ہیں، پھر وہ قساوتِ قلبی کے روحانی مرض میں مبتلا ہو کر گمراہی اور ضلالت کے بیابان میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔

زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی:
سورۂ متذکرۂ بالا میں پروردگارِ عالم کے نورِ مقدس یعنی نورِ امامت کے مختلف ظہورات کے بارے میں بطور پیش گوئی ارشاد ہوا ہے: اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا اور پیغمبروں اور گواہوں کو لایا جائے گا اور ان (یعنی لوگوں) کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ ہو گا ۔ ۳۹: ۶۹۔

اس آیۂ مقدسہ میں نزولِ قرآن کے دوران نورِ امامت اور روحانی واقعات کے بارے میں جو پیش گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق چار حالات سے ہے، انفرادی روحانیت، اجتماعی روحانیت یا کہ روحانی دور، انفرادی قیامت اور اجتماعی قیامت۔

حقیقی مؤمن کی انفرادی روحانیت میں نورِ امامت سے جو فیضان حاصل ہوتا ہے، اس کے متعلق اس آیۂ کریمہ کی پیشگوئی اس طرح سے ہے کہ پیغمبر کی تنزیلی ہدایات اور امامِ وقت کی تاویلی ہدایات پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہر حقیقی مؤمن کے دل کی زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی، اس کی روحانیت

۹۶

ایک زندہ کتاب کی حیثیت سے معجزانہ گفتگو کرے گی، پیغمبروں کی مقدس روحیں اپنے اپنے معجزات اور جملہ واقعات کے ساتھ اس کے روحانی مشاہدے میں آئیں گی، نیز گواہوں یعنی ائمۂ اطہار کے پاک انوار کے روحانی ظہورات ہوں گے اور اس مؤمن کے حق میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ ہو گا۔

اجتماعی روحانیت میں نورِ امامت اس طرح اثر انداز ہے، کہ اللہ تعالیٰ کا یہ نور جس ظاہری و باطنی ہدایت کی کیفیت میں پیغمبر صلعم کے بعد سلسلۂ امامت میں سے طلوع ہوتا رہا ہے اور جس انداز سے علم و حکمت کی مسلسل روشنی اس جہان والوں کو بخش رہا ہے اس کے نتیجے کے طور پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے، کہ اس میں دنیائے انسانیت، علم و ہنر، عقل و دانش اور شرافت و یگانگت کے اوجِ کمال پر پہنچ جائے گی، اور ہر قسم کی برائیاں نیست و نابود ہو جائیں گی، اسی وقت حق کو باطل پر فتح حاصل ہو گی اور حق و حقیقت کا دور دورہ ہو گا، غلط عقائد اور نظریات سب کے سب ختم ہو جائیں گے، اور جو سچا عقیدہ اور صحیح نظریہ ہے صرف وہی قائم رہے گا اور اسی کو فروغ حاصل ہو گا۔

یہ ہوا زمین کا اپنے رب کے نور سے روشن ہو جانا، کہ زمین کا مطلب یہاں انسانیت ہے، جو انبیاء و ائمہ کے انوار کے فیوضات کے لئے ہر وقت محتاج ہے، اور یہ ہوا مختلف عقائد و نظریات کے اعمال ناموں کو سامنے رکھ کر قانونِ الٰہی

۹۷

کا فیصلہ کر دینا، پیغمبروں اور اماموں کا حاضر ہو جانا، کیونکہ انبیاء و ائمہ علیہم السلام کا یہی ایک دین تھا، جس کی طرف ان تمام حضرات نے ظاہراً و باطناً لوگوں کو دعوت کی تھی، پس ایسا زمانہ انبیاء، ائمۂ ہدا اور ہر زمانہ کے مؤمنین کی فتح مندی اور کامیابی کا دن ہے، جس کی پیش گوئی قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ کی گئی ہے۔

انفرادی اور اجتماعی روحانیت کی مذکورہ دونوں حالتوں کو قیامت کے نام سے بھی ہم مان سکتے ہیں، ایسی قیامت انسان کی زندگی میں آتی ہے۔

اب رہا سوال نورِ امامت اور اس قیامت کے تعلق کا، جو انسان کی جسمانی موت کے بعد واقع ہونے والی ہے، جو انفرادی حالت میں بھی ہے اور اجتماعی صورت میں بھی، جس کی مثالیں مذکورۂ بالا تفصیلات سے مل سکتی ہیں، مگر اس میں یہ بات ضرور یاد رہے، کہ جسمانی زندگی میں جو بھی روحانیت یا قیامت پیش آتی ہے، وہ جزوی قسم کی ہے، اور مرنے کے بعد جو قیامت واقع ہو گی، وہ کلی۔ غرض یہ کہ امامِ اطہر کا نور ہی ہے جس کی روشنی کے لئے دنیا و آخرت والے ہمیشہ محتاج ہیں۔

نور کے عظیم اسرار:
سورۂ شوریٰ کے آخری رکوع کی زبانِ حکمت کا ایک پرمغز اور جامع مطلب یہ ہے، کہ پاکیزہ بشریت کے اعلیٰ ترین مقام پر اللہ تعالیٰ کے مقدس نور کا جلوۂ دیدار کچھ لمحات

۹۸

کے لئے حاصل ہوتا ہے، مگر اس اعلیٰ ترین دیدار کے ساتھ ساتھ کلامِ الٰہی میسر نہیں ہوتا، ہاں ایک حکمت آگین اشارہ ہو سکتا ہے، کلامِ الٰہی تو اس دیدار سے نچلے درجے میں حجاب کے پیچھے سے ہوتا ہے، اور اس ربانی کلام سے نچلے درجے میں فرشتے کے توسط سے وحی ہوتی ہے۔

اس کے معنی یہ ہوئے کہ روحانیت کا جتنا لمبا سلسلہ ہے، وہ تین درجات پر مشتمل ہے، چنانچہ سب سے نچلے درجے میں جبرائیل علیہ السلام وحی لاتا ہے، اس کے اوپر کے درجے میں نورِ الٰہی خود ہی حجاب کے پیچھے سے کلام فرماتا ہے اور سب سے اوپر کے درجے میں یہ نور رحمانی صورت میں چند سیکنڈوں کے لئے اپنا جلوہ دکھاتا ہے، مگر اس انتہائی دیدار کے موقع پر کلام نہیں ہوتا، ہاں ایک جامع قسم کا اشارہ ہوتا ہے۔

پس اسی قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے عالمِ امر سے ایک عظیم روح آنحضرت پر وحی فرمائی تھی، اور سرورِ کائنات اس واقعہ سے قبل آسمانی کتاب اور ایمان کے انتہائی درجات سے واقف نہ تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضورِ اکرم کی اس روحانیت کو، جو وحی بھی تھی اور روح بھی، نور بنایا، جس کی روشنی میں پیغمبرِ خدا سب کچھ جاننے لگے، اور اسی نور کی روشنی سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے ہدایت کرتا ہے۔

اس بیان کا خلاصہ یہ ہوا کہ نورِ امامت ’’ اوحینا الیک روحا ‘‘ کے معنی میں نہ صرف وحی اور قرآنِ ناطق

۹۹

کی حیثیت سے ہے، بلکہ یہ ایک عظیم روح بھی ہے، اور جہاں ’’ جعلنہ نورا ‘‘ کا ارشاد آیا ہے، وہاں نورِ امامت آسمانی کتاب یعنی قرآنِ صامت کے اسرارِ مخفی کے لئے روشنی بھی ہے، اور جو ارشاد ہوا ہے کہ: ’’ نھدی بہ من نشاء من عبادنا ‘‘ اس کے اعتبار سے ظاہر ہے کہ یہ نور وہی ہے، کہ جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضورِ اکرم سے قبل کے تمام انبیاء کو بھی وحی کر کے رہنمائی کی تھی ’’ و انک لتھدی الیٰ صراط مستقیم ‘‘ کی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسولِ خدا کو یہ نور حاصل ہوا تو آپ نے اپنے وقت میں اسی نور کے ذریعے سے راہِ راست کی ہدایت کی، اور مستقبل کی ہدایت کے لئے حضور نے بحکمِ خدا امام کو مقرر فرمایا پھر نور امام میں منتقل ہو گیا۔ الحمدللہ یہ حقائق و معارف قرآنی حکمت کی زبان سے اور روحانی مشاہدات و تجربات کی روشنی میں بتائے گئے۔

نورانی معجزات:
سورۂ حدید کی نویں آیت (۵۷: ۹) میں نور کے بارے میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: وہ (اللہ) ایسا ہے کہ اپنے بندے پر واضح نشانیاں اتارتا ہے تا کہ وہ تم کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکال دے اور بے شک اللہ تعالیٰ تم پر بڑا شفیق و مہربان ہے۔

یہاں عقل و دانش سے خوب سوچنے کا مقام ہے، کہ

۱۰۰

جن تاریکیوں میں سے ایک مسلمان یا ایک مؤمن ہادئ برحق کے بغیر بذاتِ خود نکل نہیں سکتا، وہ کس نوعیت کی تاریکیاں ہیں؟ کیا یہ بات درست ہو سکتی ہے، جو ہم کہیں کہ یہ وہی تاریکیاں ہیں جو جہالت و نادانی اور زمان و مکان کے پیدا کردہ مسائل کی الجھنوں سے انسان کے دل و دماغ میں پیدا ہوتی ہیں، ظاہر ہے کہ واقعاً ان تاریکیوں کا مطلب یہی ہے، پھر لازماً ہم کو یہ بھی ماننا ہی پڑے گا، کہ جہالت و نادانی اور مسائلِ نو کی تاریکیوں سے نکل جانے کا ذریعہ صرف ایک ایسی تازہ ترین ہدایت ہی ہو سکتی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہو، اور ایسی ربانی ہدایت آنحضرت صلعم کے بعد صرف امامِ وقت ہی کے وسیلے سے حاصل ہو سکتی ہے، پس یہی حکمت آیۂ مذکورہ بالا میں پوشیدہ ہے۔
قرآنِ حکیم کے ان مبارک الفاظ کی روشنی میں جو ارشاد ہوئے ہیں کہ: وہ (اللہ) ایسا ہے کہ اپنے بندے پر واضح نشانیاں نازل کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف خدا کا ایک خاص بندہ (انسانِ کامل) ہی ہر زمانے میں موجود ہوتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ خدا کا یہ فعل بھی ہمیشہ کے لئے جاری رہتا ہے، کہ وہ اپنے بندۂ خاص پر بدلے ہوئے حالات کی ہدایت نازل کرتا ہے، اور خدا تعالیٰ کے حقیقی عدل و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے نور کا سرچشمۂ ہدایت ظاہر و باطن میں ہمیشہ کے لئے جاری و ساری رہے، چنانچہ سرورِ کائنات صلعم پر عہدِ نبوت کے دوران قرآن پاک کی ظاہری نشانیاں (آیات) نازل

۱۰۱

ہوتی رہی ہیں، جن کو تنزیلی نشانیاں اور ظاہری ہدایت کہتے ہیں، اور ہر زمانے کے امامِ برحق پر قرآنِ حکیم کی باطنی نشانیاں نازل ہوتی رہتی ہیں، جن کو تاویلی نشانیاں اور باطنی ہدایت کہتے ہیں، تا کہ قیامت کے دن کسی زمانے کے لوگوں کو یہ عذر و بہانہ نہ ہو سکے کہ ان کے زمانے میں اللہ کی ہدایت کا کوئی آسان ترین ذریعہ موجود نہیں تھا۔

اگر آپ ذاتی طور پر بھی اس حقیقت کی مزید تحقیق کر کے مطمئن ہو جانا چاہتے ہیں، کہ کس طرح آسمانی کتاب کے مکمل نزول کے بعد زمانۂ دراز تک اس کی تدریجی تاویل نازل ہوتی رہتی ہے، اور کس طرح اس تاویل کے مکمل طور پر آنے کے ساتھ ساتھ قیامت برپا ہو جاتی ہے، تو اس کے لئے قرآنِ حکیم کی ان تمام آیات کے معنی میں غور کریں، جو تاویل سے متعلق ہیں، خصوصاً ، ۱۰: ۳۹، ۱۲: ۶، ۱۲: ۲۱، ۱۲: ۱۰۰، ۱۲: ۱۰۱میں، اور سب سے بڑھ کر ۵۳:۷ میں آپ غور کریں، پھر آپ کو یقیناًاس حقیقت کے متعلق اطمینانِ قلب حاصل ہو گا، کہ نہ صرف آسمانی کتاب کی نازل شدہ آیات کی تاویل بتدریج نازل ہوتی رہتی ہے، بلکہ دوسری بہت سی چیزیں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ جن کی تاویل عرصۂ دراز کے بعد ظاہر ہو جاتی ہے۔

پس جاننا چاہئے کہ امامِ زمان علیہ الصلوٰت و السلام کی پاک ہدایات سے جب حقیقی مؤمن کے دل سے جہالت و نادانی کی تاریکی دور ہو جاتی ہے، تو اس وقت امامِ عالی مقام کے نور کے علمی و عرفانی معجزات اس کے دل و دماغ میں ظہور پذیر ہوتے

۱۰۲

رہتے ہیں، اور وہ ہمیشہ اپنے باطن میں ایک عجیب و غریب علمی دنیا کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے، یہ ہوا اللہ تعالیٰ کا اپنے خاص بندے پر واضح نشانیاں نازل کرنا اور انسانِ کامل کا مؤمنین کو تاریکیوں سے نکال کر نورِ معرفت کی طرف لے آنا۔

مؤمنین، مؤمنات اور نور:
سورۂ حدید کی بارہویں آیت (۵۷: ۱۲) میں انفرادی روحانیت اور دورِ قیامت کے اہلِ ایمان اور نورِ امامت کے بارے میں ارشاد ہے کہ: جس دن آپ مؤمنین اور مؤمنات کو دیکھیں گے، کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف سعی کرتا ہو گا، آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں، ان میں تم ہمیشہ رہنے والے ہو یہی بڑی کامیابی ہے۔

آیۂ مقدسۂ بالا کا حکمت آگین اشارہ یہ ہے کہ ہر زمانے کی انفرادی روحانیت میں بھی اور دورِ قیامت میں بھی امامِ حی و حاضر کا پاک نور مؤمنین و مؤمنات کے ساتھ ان کی پیشانی یا داہنی طرف سے کلام کرتا رہے گا، اور ’’یسعیٰ‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ اس وقت اہلِ ایمان کی روحانیت کی بے شمار منزلیں اس نور کی روشنی و رہنمائی میں بڑی تیزی کے ساتھ طے ہو جائیں گی، نیز اس لفظ کے یہ معنی بھی ہیں، کہ یہ نور حقیقی مؤمنین کے دین و دنیا سے متعلق ہر قسم کی بہتری اور بھلائی کے لئے سعی کرے گا۔

یہاں البتہ یہ بات قابلِ ذکر ہے، کہ مختلف اعتبارات سے

۱۰۳

نورِ مطلق کی مختلف اضافتیں اور جدا جدا نسبتیں ہوا کرتی ہیں، یعنی قرآنِ حکیم میں کبھی اس پاک نور کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہوئے فرمایا جاتا ہے کہ ’’نور اللہ کا ہے‘‘ کبھی روشن چراغ وغیرہ جیسے الفاظ کے مفہومات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ’’نور پیغمبر کا ہے‘‘ بعض آیات اپنی زبانِ حکمت سے بتاتی ہیں کہ ’’نور امام کا ہے‘‘ اور یہاں آیۂ مذکورۂ بالا سے ظاہر ہے کہ ’’نور مؤمنین و مؤمنات کا ہے‘‘ پس حقیقی مؤمنین کو نورِ مقدس کے اس قانونِ وحدانیت اور نظامِ جامعیت پر خوب غور و فکر کرنا چاہئے، کہ نورِ واحد کی اس کثرت نمائی میں کیا راز ہے؟

بہر حال جاننا چاہئے، کہ نور کی یہ مختلف نسبتیں اپنی اپنی جگہ پر بالکل صحیح اور درست ہیں، اور ان میں ذرہ بھر بھی شک نہیں، نیز جاننا چاہئے، کہ ان جدا جدا اضافتوں کے باوجود نور ایک ہی ہے، اور اس میں کوئی دوئی نہیں، پس اس کے معنی، حقیقت اور صفاتِ کمالیہ بھی وہی ہیں جو ’’ اللہ نور السمٰوات والارض‘‘ کے مقام پر ہیں۔

منافقین، منافقات اور نور:
مذکورہ سورہ کی تیرہویں آیت (۵۷: ۱۳) میں منافقین، منافقات اور نورِ امامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے کہ: جس روز منافقین اور منافقات مؤمنین سے کہیں گے کہ ہمارا انتظار کر لو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں ان کو جواب

۱۰۴

دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر وہاں سے روشنی تلاش کرو۔

جاننا چاہئے کہ منافق لوگ نہ صرف دورِ قیامت (روحانی دور) میں اہلِ ایمان کی تیز رفتار روحانی ترقی پر رشک کریں گے، بلکہ ہر زمانے میں نورِ امامت کی شاندار رہنمائی اور مؤمنین کی ترقی اور کامیابی دیکھ کر منافقین کی روحیں زبانِ حال سے فریاد کرتی ہیں، کہ خدا کے لئے ذرا ٹھہرو تا کہ ہم بھی تمہارے امام کے نور کی ہدایت میں ظاہری و باطنی کامیابی کی منزلیں طے کریں، مگر ان کو زبانِ حال سے یہ جواب دیا جاتا ہے کہ تم تواریخ اور عقائد کے راستے میں ازسرِ نو تحقیق کرتے ہوئے اپنے پیچھے چلو، اور تم نے جس دوراہے پر آکر نور کا پاک دامن چھوڑا تھا، اس کے متعلق سوچو اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے اپنے تمام عقائد کی اصلاح کرو پھر ممکن ہے کہ نور ملے۔

نور حاصل ہونے کا درجہ:
سورۂ حدید کی انیسویں آیت (۵۷: ۱۹) میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا مبارک فرمان یہ ہے کہ: اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لا چکے ہیں (جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے) ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔

اس آیۂ کریمہ کے باطن میں بہت سی عظیم حکمتیں پنہان

۱۰۵

ہیں، من جملہ ایک حکمتِ بالغہ یہ بھی ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کہ شروع سے آخر تک ایمان کے بہت سے درجات ہیں، صداقت ایک ایسی صفت ہے جو ایمان کامل ہونے سے حاصل ہوتی ہے، اور صداقت کے بھی کثیر مراتب ہیں، جب صداقت درجۂ کمال پر پہنچے، تو اس وقت مردِ مؤمن میں جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت پیدا ہوتا ہے، اور شہادت کے بھی کئی رتبے ہیں، پھر اس کے بعد اجر و صلہ کے مراحل آتے ہیں اور اجر کی بھی بہت سی قسمیں ہیں، اور ان تمام خوبیوں کے نتیجے کی صورت میں نور کا دروازہ کھل کر رہتا ہے۔

پس معلوم ہوا کہ حقیقی مؤمن کی روحانیت کا سب سے اونچا درجہ وہ ہے جہاں اس کو امامِ برحق کے مبارک و مقدس نور کا معجزاتی دیدار اور روح افزا مشاہدہ ہو سکتا ہے، یہ وہ مقامِ وحدت ہے، جہاں پر حقیقی مؤمنین کی روحیں امامِ اقدس کے نور کے ساتھ مل کر ایک ہو جاتی ہیں، یہی سبب ہے، جو ارشاد ہوا ہے، کہ حقیقی مؤمنین، جنہوں نے خدا اور اس کے رسولوں پر جیسا کہ چاہئے ایمان لایا ہے، اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید جیسے ہیں، یعنی ایسے مؤمنین اساسوں اور اماموں کے نور سے واصل ہو چکے ہیں، کیونکہ تاویلی زبان میں صدیقین اساسوں کو کہتے ہیں اور شہداء اماموں کا نام ہے، اسی معنی میں کہ چھ ناطق پیغمبروں میں سے ہر ناطق پیغمبر کا ایک اساس ہوا ہے، چنانچہ حضرت محمد مصطفی صلعم کے اساس حضرت مولانا امام علی تھے،

۱۰۶

جنہوں نے نہ صرف شخصی اور ذاتی طور پر قرآن و شریعت کی تاویل کر کے حضورِ اکرم کی نبوت و رسالت کی تصدیق کی، بلکہ اپنی پاک اولاد کے سلسلۂ امامت کے توسط سے بھی تاویلات کا یہ دروازہ ہر بار کھول دیا، جس سے ہمیشہ کے لئے آنحضرت کی مرتبۂ پیغمبری کی تصدیق ہوتی رہی، اور اسی تاویلی تصدیق کی ضرورت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ناطق پیغمبر کے ساتھ ایک صدیق مقرر ہوا تھا اور صدیق کے معنی تصدیق کرنے کے ہیں، اور شہداء اماموں کا نام اس معنی میں ہے، کہ شہداء گواہوں کو کہتے ہیں، جس سے ائمۂ اطہار مراد ہیں، کیونکہ یہی حضرات دنیا والوں کے اعمال پر گواہ ہیں، چونکہ وہ سلسلہ وار دنیا اور زمانہ میں حی و حاضر ہوتے ہیں۔

نور سرچشمۂ ہدایت:
خدا کے مقرر کردہ نور کی موجودگی اور رہنمائی کے بغیر کوئی بھی نظریہ اور مذہب طولِ زمانہ کی پرخطر تاریکیوں سے سلامتی کے ساتھ گزر کر حوضِ کوثر پر وارد نہیں ہو سکتا، اور نہ کسی دین کا ابتدائی وجود ایک مجسم نور کو مانے بغیر ثابت ہو سکتا ہے، اسی حقیقت کے باب میں سورۂ حدید کی اٹھائیسویں آیت (۵۷: ۲۸) کا یہ ارشاد ہے کہ: اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد) پر ایمان لاؤ (تا کہ خدا) تم کو اپنی رحمت سے دو حصے عطا فرمائے گا اور تم کو ایسا نور مقرر کر دے گا کہ تم اس کے ذریعہ چل سکو گو اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

۱۰۷

اس متبرک آیت کی تفسیر یہ ہے کہ: اے ایمان والو! جو دائرۂ اسلام میں داخل ہو چکے ہو، اب خدا سے ڈرو، یعنی نیات، اقوال اور اعمال میں تقویٰ کو ملحوظِ نظر رکھو اور خدا کے رسول حضرت محمد صلعم پر مکمل طور سے ایمان لاؤ، یعنی حقیقی مؤمنین بنو، تا کہ اللہ تعالیٰ بذریعۂ رسولِ مقبول تم کو اپنی رحمتِ بے کران سے دو حصے عطا کرے گا، یعنی ظاہری ہدایت اور باطنی ہدایت کا وسیلہ پیدا کرے گا، اور تم کو ایسا نور یعنی امام مقرر کر دے گا، کہ اس کا سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا، تا کہ تم دینی اور دنیاوی طور پر زمانے کے ساتھ ساتھ منزل بمنزل آگے بڑھ سکو گے، یہاں تک کہ تم سلامتی کے ساتھ حوضِ کوثر پر وارد ہو جاؤ گے۔

پیغمبر اور امام کا نور خدا کا نور ہے:
اس کتابچہ کے موضوعات کے سلسلے میں یہاں تک آیاتِ نور سے جو کچھ حقائق و معارف بیان کئے گئے، ان سے آپ پر یہ حقیقت واضح اور روشن ہوئی ہو گی، کہ خدا کے مقدس نور کا مظہر انسانی ہدایت کے لئے بلباسِ بشریت ہمیشہ اس دنیا میں حاضر اور موجود ہے، جس کی حاضری و موجودگی کے بغیر عالمِ ادیان کی ہستی و بقاء قطعاً نا ممکن ہے، اس حقیقت کی ایک محکم اور روشن دلیل یہ ہے، کہ مادی نور یعنی سورج کے وجود کے بغیر اس مادی کائنات کا وجود او رنظام لمحہ بھر کے لئے بھی قائم نہیں

۱۰۸

رہ سکتا، کیونکہ یہ ساری کائنات اور اس کے اندر جو کچھ موجود ہے وہ سب سورج کی بے پناہ تکوینی قوتوں سے پیدا ہوا ہے، اور یہ سارا مادی نظام سورج ہی کی ہمہ گیر طاقتوں پر قائم ہے، یہ سب کچھ مظہرِ نورِ خدا کی مثال ہے، جو کبھی پیغمبر کی حیثیت سے اور کبھی امام کی صورت میں ہوتا ہے، جس کے ازلی وجودِ مبارک سے بتدریج عالمِ ادیان پیدا ہوا، اور اسی مظہر کی ذاتِ شریف کی طرف سے تمام ادیان کو علیٰ قدرِ مراتب ہدایت حاصل ہوتی رہتی ہے، پس اگر بفرضِ محال عالمِ دین میں یہ مظہر نہ ہو، تو سارے ادیان نیست و نابود ہو جائیں گے، اسی معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ: و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ امام کی نورانی ہستی کی بدولت ہر چیز محفوظ ہے، کیونکہ اس کی مقدس ہستی لوحِ محفوظ کی حیثیت سے ہے، کہ ہر چیز کو امام کے نور نے گھیر کر رکھا ہے۔

چنانچہ نورِ امامت کی اسی دائمیت اور اس کو بجھانے کے لئے کافروں کی ناکام خواہش و کوشش کے باب میں سورۂ صف کی آٹھویں آیت کا یہ ارشاد ہے کہ: وہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے (پھونک مار کر ) بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا ہر چند کہ کافر لوگ ناخوش ہوں۔

جاننا چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نور کا مظہر عالمِ ظاہر میں نہ ہوتا اور عالمِ باطن میں ہوتا، تو اس صورت میں کافر لوگ خدا کے

۱۰۹

نور کو بجھانے کا ارادہ ہی نہ کرتے، کیونکہ کافروں کا ارادہ صرف اس دنیا کی ظاہری چیزوں تک محدود ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی خواہش کی تردید کرتے ہوئے یہ نہ فرماتا، کہ میں اپنے نور کو درجۂ کمال تک پہنچا کر ہی رہوں گا، پس معلوم ہوا کہ خدا کا یہ نور اس دنیا میں ظاہر ہے۔

خدا، رسول اور نورِ امامت:
سورۂ تغابن کی آٹھویں آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ: پس تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے ایمان لاؤ اور اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے ۔ ۶۴: ۸۔

اس آیۂ کریمہ سے جو حقیقت صاف طور پر ظاہر ہوتی ہے، اس سے کوئی بھی دانشمند انکار نہ کر سکے گا، کہ اس میں تین مقدس ہستیوں کا جدا جدا ذکر کیا گیا ہے، اور ترتیب سے ان تینوں ذواتِ مقدسہ پر مکمل ایمان لانے کے لئے فرمان ہوا ہے۔

چنانچہ سب سے پہلے امر ہوا، کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ، اس حکم کے تحت وہ تمام نیک باتیں آ گئیں، جو خدا پر ایمان لانے سے متعلق ہیں، مثلاً حق تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرنا، اس کے اسماء و صفات پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں، کتابوں اور ان پیغمبروں پر ایمان لانا، جو آنحضرت سے قبل دنیا میں

۱۱۰

بھیجے گئے تھے۔

پھر ارشاد ہے کہ اس کے رسول یعنی حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر ایمان لاؤ، اس حکم میں مسلمانی کی تمام بنیادی باتیں آگئیں، جیسے آنحضرت کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا، قرآنِ پاک کو برحق ماننا، اسلام اور آنحضرت کی تمام تعلیمات کو قبول کرنا وغیرہ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ تم اس نور پر ایمان لاؤ، جو ہم نے نازل کیا ہے، ظاہر ہے کہ یہ پاک نور امامت ہی کا ہے، جو ازل سے موجود ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے ناطق کے آسمانِ نورانیت سے اساس کی زمینِ شخصیت پر نازل کر دیا، بالفاظِ دیگر یہ نور آنحضرت کی ذاتِ والا صفات سے حضرت مولانا علی کی مقدس ہستی میں منتقل ہو گیا، اور اولادِ علی کے سلسلۂ امامت میں تا قیامت قائم ہے، اور اس مبارک نور پر ایمان لانا یہ ہے، کہ مذکورہ سلسلے کے ائمۂ طاہرین کو ’’من عند اللہ‘‘ مان لیا جائے، یعنی یقین ہو کہ یہ امام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہوئے ہیں، اور ان کی ظاہری و باطنی ہدایات پر عمل کیا جائے، اور نور کے اشارے سے یہ سمجھنا مقصود ہے، کہ انسانیت اور مذہب کے دور و دراز راستے میں طرح طرح کی تاریکیاں اور گوناگون ظلمتیں آنے والی ہیں، جن کے لئے نورِ امامت کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

جاننا چاہئے، کہ اس آیۂ مقدسہ کا مقصد و منشاء بھی ایسا

۱۱۱

ہی ہے جیسا کہ آیۂ اطاعت کا، جو فرمایا گیا ہے کہ: اے ایمان والو تم اللہ تعالیٰ کا کہا مانو اور رسول کا کہا مانو اور صاحبانِ امر کا بھی جو تم میں سے ہیں ۔ ۴: ۵۹۔

پس معلوم ہوا کہ امامِ برحق کو امر اور نور دونوں کا مرتبۂ عالیہ حاصل ہے، یعنی جس طرح خدا اور رسول نے امامِ عالی مقام کو صاحبِ امر مقرر فرمایا، اسی طرح نور بھی اسی کے سپرد کر دیا گیا، کیونکہ نور کے بغیر خدا کی مرضی و خوشنودی کے مطابق امر و فرمان نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی امر و ہدایت سے بڑھ کر نور کا کوئی اور مقصد ہوتا ہے۔

نور ایک زندہ ذکر:
جاننا چاہئے کہ معجزہ ہمیشہ انتہائی عجیب و غریب ہی ہوتا ہے، اگر وہ ایسا نہ ہوتا، تو معجزہ ہی نہیں کہلاتا، چنانچہ بعض حقیقی مؤمنین کو اپنی ذات کی معرفت کے ایک اعلیٰ درجے پر اس حقیقت کا علم ہوتا ہے، کہ نورِ امامت نہ صرف اپنی ذاتِ اقدس ہی میں ایک نہایت ہی درخشندہ اور تابناک جہان ہے، بلکہ یہ ہر عارف کے باطن میں بھی ایک ایسا نورانی عالم بن کر مشاہدے میں آتا ہے، جس کی عقل و روح تو کلی، کائناتی اور ہمہ گیر و ہمہ رس درجے کی ہے ہی، مگر حیرت اس بات کی ہے، کہ اس عالمِ نور کی ہر چیز گویا ایک فرشتہ ہے، کہ اس میں ایک پاکیزہ روح بھی ہے اور ایک کامل عقل بھی۔

۱۱۲

بناء برین جاننا چاہئے، کہ نور کی لاتعداد صفات میں سے ہر صفت ایک عظیم زندہ فرشتے کی حیثیت سے ہے، چنانچہ اسی سلسلے میں نور کی ایک زندہ صفت ’’ذکر‘‘ بھی ہے، جس کے کئی معانی ہیں۔

اب ذکر جو نور کی صفت ہے، اس کے معانی یہ ہیں: ا۔ ذکر = یادِ الٰہی جس کی بہت سی قسمیں۔ ۲۔ ذکر = قوتِ ذاکرہ۔ ۳۔ ذکر = قرآنِ حکیم ۔ ۴۔ ذکر = نصیحت۔ ۵۔ ذکر = پیغمبر اور امام کا لقب۔

سوال: نور اگر ذکر ہے اور ذکر کے معنی یادِ الٰہی کے ہیں، تو بتاؤ کہ نور میں یادِ الٰہی کس طرح سے ہے؟ جواب: حقیقی مؤمنین کو یقین ہو، کہ نور کا سورج آسمانِ امامت میں بھی اور بحالتِ عکس عارف کے آئینۂ دل میں بھی ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے معجزانہ ذکر کا حامل ہوتا ہے، یعنی یہ نور کے معجزات میں سے ہے، کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے عظام میں سے کوئی ایک اسم خود بخود ایک قدرتی آواز بن کر دائمی اور مسلسل ذکر کی صورت اختیار کرتا ہے، جس کی ایک ظاہری مثال ایسی ہے، جیسے کوئی خلا نورد انسان اپنے راکٹ کے ذریعے جب سیارۂ زمین کے دائرۂ کشش سے باہر نکلتا ہے، تو اس وقت وہ راکٹ کو اڑائے یا نہ اڑائے، بہر حال وہاں کی لاوزنی کیفیت اس کو اور اس کے راکٹ کو اڑائے ہوئے گھماتی رہتی ہے، پس یہی حال اس عارف کا بھی ہے، جس کا ذکر خواہشاتِ نفسانیت کے دائرۂ کشش سے نکل کر نورِ

۱۱۳

امامت کے خلا میں پہنچ چکا ہو۔

سوال: مانا گیا کہ نور کا ایک نام ذکر بھی ہے، مگر نور ذکر کے معنی میں قرآن کس طرح ہے؟ جواب: نور ذکر کے معنی میں قرآن اس طرح سے ہے، کہ ذکر اگر ایک طرف سے نور ہے، تو دوسری طرف سے قرآن کی روح ہے، پس نور، ذکر اور روحِ قرآن ایک ہی حقیقت کے مختلف نام ہیں، اس کا ثبوت یہ ہے کہ قرآنِ حکیم کی ۴۲: ۵۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ قرآن وحی کی کیفیت میں اب بھی ایک عظیم روح اور نور ہے۔

نیز اسی روح اور نور کو ۲۲: ۵۴ میں ذکر کا نام بھی دیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہے کہ: اور ہم نے قرآن کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے کہ ذکر کر لے۔ قرآن کو ذکر کے لئے آسان کر دینے کا مطلب یہ ہے، کہ قرآن کی زندہ روح اللہ تعالیٰ کے اسمِ بزرگ میں ہے جو امامِ زمان کا نور ہے، حضورِ اکرم نبوت سے ہپلے اسی بزرگ اسم کا ذکر کر لیا کرتے تھے، اور اسی سے قرآنِ پاک کا ظہور ہوا، اور اب بھی قرآنِ حکیم کی روحانیت و نورانیت اسی اسم اور اسی ذکر میں موجود ہے۔

جیسا کہ بتایا گیا، کہ نور کے ناموں میں سے ایک نام ذکر بھی ہے، اور بیان ہوا کہ ذکر کے یہ یہ معانی ہیں، پس اسی حقیقت کے بارے میں سورہ طلاق کی دسویں اور گیارہویں آیت کا یہ ارشاد ہے کہ: تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف ایک ذکر نازل کیا ہے، ایک ایسا رسول جو تم کو واضح نشانیاں پڑھتا ہے تا کہ ایسے لوگوں

۱۱۴

کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کریں تاریکیوں سے نور کی طرف لے آئے۔

اس آیۂ حکمت آگین کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ خداوندِ عالم نے دنیائے اسلام میں ایک ایسا زندہ اور مجسم ذکر بھیجا، کہ اس میں ذکر کے تمام مذکورہ معانی اور اوصاف بدرجۂ اتم موجود تھے، جو رسولِ مقبول تھے، دوسری طرف سے اس کے باطنی معنی یا تاویل یہ ہے، کہ حقیقی مؤمنوں اور عارفوں کے پاکیزہ دل و دماغ میں اسمِ اعظم کا ذکر ڈالا گیا ہے، جس میں رحمتِ عالمین اور امامِ مبین کا نورِ واحد موجود ہے، جو ہمیشہ روحانیت، ہدایت اور علم و حکمت کی روشن آیات پڑھتا ہے، تا کہ مؤمنوں اور نکوکاروں کو جہالت و نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر اپنی ذات کی انتہائی معرفت کی روشنی کی طرف لے آئے۔

نور اور دورِ روحانیت:
سورۂ تحریم کے دوسرے رکوع کے شروع (یعنی ۶۶: ۸) میں ہے کہ: اے ایمان والو تم اللہ کی طرف خالص توبہ کرو، قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے برائیاں دور کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کر دے گا، جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں، اس دن اللہ تعالیٰ نبی (صلعم) کو اور جو مؤمنین (تابعداری کی رو سے) ان (یعنی پیغمبر) کے ساتھ ہیں، ان کو رسوا نہ کرے گا، ان کا نور ان کے داہنے اور ان کے سامنے سعی کرتا ہو گا، کہیں گے کہ

۱۱۵

اے ہمارے رب ہمارے لئے ہمارے اس نور کو پورا کر دے اور ہمیں معاف فرما بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

اس آیۂ مقدسہ کی حکمتوں کے سلسلے میں یہ ہے، کہ عموماً سب مسلمانوں سے اور خصوصاً عہدِ نبوت کے مسلمین سے فرمایا جاتا ہے کہ: ’’اے ایمان والو! تم اللہ کی طرف توبۂ نصوح کرو‘‘۔ یعنی اے لوگو! جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف خالص اور سچی توبہ کر لو، مطلب یہ کہ ظاہری اور باطنی گناہوں کو انتہائی ندامت کے ساتھ ترک کر دو اور اپنی نیت، قول، اور عمل کی واجبی طور پر اصلاح کرو، کیونکہ توبہ الی اللہ کے معنی دل و جان سے خدا کی طرف رجوع کرنے کے ہیں، جس کے لئے تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب کی ضرورت ہے۔

اس کے بعد جو الفاظ ارشاد ہوئے ہیں، ان میں نور اور روحانی دور کے انقلابات کی پیش گوئی کی گئی ہے، اور روحانی دور کی بابت یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت یہ کہ وہ باطنی طور پر ہمیشہ جاری و ساری ہے، اور دوسری صورت یہ ہے، کہ وہ ایک مقررہ وقت میں ظاہر ہو کر دنیا والوں کو متاثر کرے گا۔

اب اس مقام پر قرآنِ حکیم کی حکمت کا یہ اصول قابلِ ذکر ہے، کہ قرآنِ مجید میں جہاں کہیں دنیا والوں کی اجتماعی حالت کے بارے میں کوئی پیش گوئی کی گئی ہے، اس کے اندر لوگوں کی انفرادی حالت کی بھی پیش گوئی پوشیدہ ہے،

۱۱۶

مثال کے طور پر جن آیاتِ کریمہ میں ایسی قیامت کا ذکر آیا ہے جو موت کے بعد واقع ہونے والی ہے، ان میں انسانی افراد کی شخصی قیامتوں کا بھی تذکرہ موجود ہے۔

چنانچہ خالص اور سچی توبہ کے حکم کے بعد فرمایا گیا ہے کہ ’’قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے برائیاں دور کر دے گا‘‘۔ اس ارشاد سے ایک تو یہ معلوم ہوتا ہے، کہ نافرمانیوں اور گناہوں سے توبۂ نصوح کرنے کے بعد بھی مؤمنوں میں کچھ ایسی برائیاں باقی رہتی ہیں، جنہیں وہ خود دور نہیں کر سکتے، دوسرا یہ پتہ چلتا ہے، کہ خالص اور قلبی طور پر توبہ کرنے کے بعد امامِ وقت کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا دروازہ کھل جانے کی امید ہے۔

یہاں پر یہ ضروری سوال پیدا ہوتا ہے، کہ وہ کون سی برائیاں ہیں، جن کو مؤمن اپنی ذات سے توبۂ نصوح کرنے کے باوجود بھی دور نہیں کر سکتا؟ اس کا جواب یہ ہے، کہ انتہائی حد کی توبہ کرنے کے بعد نفسانی گناہوں کی امکانیت البتہ ختم ہو جاتی ہے، مگر مذہب سے متعلق باطل خیالات اور غلط نظریات ایسی چیزیں ہیں، جن کو مٹانے کے لئے تنہا توبۂ نصوح کافی نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کے ساتھ خصوصی ہدایت اور علمِ توحید کی ضرورت ہے، جو امامِ زمان کے وسیلے سے حاصل ہو سکتا ہے۔

بعد ازان ارشاد ہے کہ: ’’ اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کر دے گا، جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں‘‘۔ یہ بہشتِ روحانیت کے ان باغوں کا ذکر ہے، جن کا تعلق نہ صرف انسان کی دوسری

۱۱۷

ہی زندگی سے ہے، بلکہ اسی زندگی کی روحانیت میں بھی جزوی طور پر ان کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، جن میں انسانی عقل و جان کے لئے ہر قسم کی نعمتیں اور لذتیں موجود ہیں، ایسے باغوں کے نیچے تائیدِ الٰہی کی نہریں چلتی ہیں، یعنی ان روحانی درجات میں عقلِ کل کی تائید، نفسِ کل کی تخلیق، ناطق کی تنزیل اور اساس کی تاویل کی قوتیں جاری و ساری ہیں۔

پھر ارشاد ہوا ہے کہ: ’’اس دن اللہ تعالیٰ نبی (صلعم) کو اور جو مؤمنین (فرمانبردار کی رو سے) ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہ کرے گا‘‘۔ یہ واقعہ روحانی دور سے متعلق ہے، روحانی دور دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی، وقت سے پہلے انفرادی طور پر بھی ہے، اور وقت آنے پر اجتماعی حالت میں بھی، ایسے دور میں خدا تعالیٰ پیغمبر کو اور ان مؤمنین کو رسوا نہیں کرے گا، جو تابعداری، محبت اور روحانیت کے اعتبار سے اور نورِ امامت کی معیت کے لحاظ سے ( کہ امام کا نور پیغمبر کا نور ہے) پیغمبر کے ساتھ ہیں۔

’’ان مؤمنین کا نور ان کے داہنے اور ان کے آگے سعی کرتا ہو گا‘‘۔ یعنی ایسے دور میں ، جس کا اوپر ذکر کیا گیا نورِ امامت جو نورِ ایمان بھی وہی ہے، مؤمنین کے داہنے کان اور ان کی پیشانی سے خطاب کرے گا، جس میں ان کی دنیا و آخرت سے متعلق رشد و ہدایت اور علم و حکمت ہو گی، کیونکہ تاویل کی زبان میں داہنی طرف ظاہر کو کہتے ہیں، جس سے یہ دنیا مراد ہے،

۱۱۸

اور آگے کا مطلب آخرت ہے، کہ آخرت انسان کے مستقبل میں ہے۔

’’کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے لئے ہمارے اس نور کو پورا کر دے اور ہمیں معاف فرما‘‘۔ یعنی اس وقت مؤمنین کو اس بات کا احساس ہو گا، کہ وہ باوجود کم علمی اور محتاجی کے قبلاً اس رحمتِ بے پایان سے غافل تھے، لہٰذا وہ خداوند تبارک و تعالیٰ سے یہ دعا کریں گے، کہ اے پروردگار! ہمارے اس نور کو درجۂ کمال تک پہنچا دے! یعنی ہماری ذاتی روحانیت کو نور کی اصل سے واصل کر دے! اور ہم جو اس امکانی رحمت سے قبلاً غافل رہے ہیں، اس کے لئے ہمیں معاف فرما! اور ہمارے آئندہ گناہوں کو بھی بخش دے!

’’بے تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔ یعنی جب مؤمنین روحانی دور میں اللہ جل شانہ کے لاتعداد معجزات اور بے شمار قدرتوں کا مشاہدہ کریں گے، تو اس وقت وہ زبانِ قال اور زبانِ حال دونوں سے کہا کریں گے، کہ بے شک تو ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، اور تیری قدرت میں ’’کوئی شی ناممکن نہیں‘‘۔

۱۱۹

آفتاب و ماہتاب:
قرآن حکیم کی ۱۰: ۵، ۲۵: ۶۱ اور ۷۱: ۱۶ میں سورج اور چاند کی روشنی کا ذکر اس انداز سے یکجا طور پر آیا ہے، کہ سورج اس کائنات کے لئے ظاہری اور مادی روشنی کا سرچشمہ ہے اور چاند اس کا مظہر ہے۔

یہ پرحکمت آیتیں ایک ہی موضوع یعنی نور کے مضمون اور بیان سے متعلق ہیں، جن کے مربوط مطالعہ اور غورو فکر کے نتیجے میں بہت سے حقائق و معارف سامنے آتے ہیں، جن سے نور اور مظہرِ نور کے تصور کے علاوہ توحید کے دوسرے انتہائی اعلیٰ تصورات جیسے ہمہ از وست یا ہمہ اوست وغیرہ کے سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔

چنانچہ سورۂ نوح کی پندرھویں اور سولہویں (یعنی ۷۱: ۱۵ تا ۱۶) میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں اور چاند کو نور قرار دیا ہے اور سورج کو چراغ ٹھہرایا ہے۔

جاننا چاہئے، کہ قرآنی حکمت کے اصولات میں سے ایک اصول یہ بھی ہے، کہ کسی بھی گوہرِ حقیقت کا مشاہدہ نہ صرف اس کے مختلف پہلوؤں سے کرایا جاتا ہے، بلکہ ہر پہلو کا مشاہدہ بھی مختلف زاویوں سے کرایا جاتا ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم کی ان آیاتِ کریمہ میں، جو سورج، چاند اور ان کی روشنی کے متعلق ہیں،

۱۲۰

کبھی ارشاد ہوا ہے، کہ سورج کی ذات چراغ ہے یعنی ایک خالی ظرف، کبھی ارشاد کیا گیا ہے، کہ وہ ایک روشن چراغ ہے اور کبھی فرمایا گیا ہے، کہ سورج گویا چراغ کا ظرف ہے اور چاند اس کا نور (یعنی شعلہ) ہے۔

پس حقیقی مؤمنین کے لئے واضح رہے کہ نور کی مذکورہ مثالوں کے ممثولات اس طرح سے ہیں، کہ قرآن پاک میں جہاں سورج کی مثال ایسے ظرفِ چراغ سے دی گئی ہے جس کو روشن کر دینے کے لئے تیل کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں نظریۂ ہمہ اوست (یک حقیقت) کی طرف اشارہ ہے، کہ جس طرح اجزائے کائنات کے تمام ذرات باری باری سورج کے مقام پر پہنچ کر روشنی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، اسی طرح ہر چیز کی روح جب خدا کی ذات سے واصل ہو جائے، تو وہ فنا ہو کر اس کی صفات کی روشنی بن جاتی ہے، یہ ہمہ اوست اور یک حقیقت کا نظریہ ہے۔

جہاں ارشاد ہوا ہے کہ سورج ایک ایسا روشن چراغ ہے جو کائنات میں روشنی پھیلا دیتا ہے، تو اس کے معنی ہمہ ازوست اور یک الٰہیت کے ہیں، کیونکہ جس طرح ہر چیز کا مادی وجود سورج سے بنتا ہے، اسی طرح ہر چیز کی روحانی ہستی خدا سے ہے۔ اور جہاں سورج کو چراغ اور چاند کو نور یعنی شعلۂ چراغ قرار دیا گیا ہے، اور یہ مثال رات کے لحاظ سے ہے، جس کا مطلب یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ برحق کی غیر مرئی صفات

۱۲۱

کا نور امامِ زمان سے ظاہر ہوتا ہے، چونکہ یہی انسانِ کامل ہے اور یہی خدا کا مظہر ہے۔

روشنی بلا واسطہ سورج کی ہو یا بالواسطہ چاند کی، ہر حالت میں ایک ہی روشنی ہے، اس میں کوئی دوئی نہیں، مگر اس میں یہ فرق ضرور ہے کہ رات کے وقت جو روشنی چاند سے زمین پر پڑتی ہے، وہ براہِ راست نہیں آتی، بلکہ چاند کی سطح سے ٹکرا کر آتی ہے، اس لئے وہ سورج کی روشنی کی طرح تیز اور گرم نہیں ہوتی، جس کی وجہ یہ ہے، کہ ہم رات کے وقت نہ صرف یہی کہ سورج سے دور ہو جاتے ہیں، بلکہ چاند بھی ہم سے بہت ہی دور رہتا ہے، پس اگر ہم اس وقت چاند کی سطح پر جائیں، تو وہاں اس وقت رات نہ ہو گی بلکہ دن ہو گا، اس لئے وہاں ہم کو براہِ راست سورج نظر آئے گا، اس مثال کی تاویل یہ ہے کہ جو انسان امامِ زمان کے لئے اقرار کرے، اس کے لئے امام کی شخصیت چاند ہے اور امام کی ہدایت چاند کی روشنی ہے، جب ایسا مؤمن منازلِ معرفت کو طے کر کے امام کی ذاتِ اقدس تک پہنچ جائے گا، تو اس وقت اس کے لئے امامِ زمان کی ہدایت خدا و رسول کی ہدایت ثابت ہو گی، جیسے چاند کی روشنی میں چاند پر پہنچ جانے کے ساتھ ساتھ چاندنی سورج کی روشنی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

۱۲۲

امام شناسی
حصہ سوم

حرفِ آغاز

حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت و بعثت سے قبل رب العزت نے جو تمام فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ: انی جاعل فی الارض خلیفۃ ۔ ۲: ۳۰۔ یعنی میں (ہمیشہ ) زمین پر ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں۔ اس فرمانِ خداوندی کا اصل مطلب یہ پیش گوئی اور یہ اعلان تھا، کہ خلافت و نیابتِ الٰہیہ کا مبارک و مقدس منصب آدم و اولادِ آدم کے انبیائے کرام اور ائمۂ عظام کے پاک سلسلے میں رہتی دنیا تک جاری و باقی رہے گا، چنانچہ اسی منشائے خداوندی کے مطابق پہلے دورِ نبوت میں یہی خلافتِ الٰہیہ پشت بہ پشت چلتی آئی تھی، اور اس کے بعد پھر دورِ امامت میں یہی ربانی منصب آج تک جامہ بجامہ جاری ہے، اور ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی یہی سلسلہ چلتا رہے گا۔

اس حقیقت کے بارے میں اگر کوئی دانشمند ذاتی طور پر بھی تحقیق و تدقیق کرنا چاہے، تو اسے سب سے پہلے لفظ جاعل کے معنی میں خوب غور کرنا چاہئے، کہ جاعل اسمِ فاعل ہے اور یہاں اس کی معنوی وسعت کا تعلق فی

۱۲۵

الارض کے ساتھ ہے، اور فی الارض سے وہ تمام لوگ مراد ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر قیامِ قیامت تک سیارۂ زمین پر بستے جائیں گے، اور لفظِ خلیفۃ سے اس حقیقت کا دو طرح سے ثبوت ملتا ہے، کہ خلیفۃ کے معنی ہیں ایک جانشین یا ایک نائب، جو ایک اعتبار سے حضرت آدم علیہ السلام خدا کا وہ واحد خلیفہ ہے، جس کی اولاد کے تمام انبیاء و ائمہ علیہم السلام اپنے اپنے وقت میں اسی کی خلافت کے وارث، ولی اور نمائندے تھے، اور دوسرے اعتبار سے یہ بھی درست ہے کہ ہر پیغمبر اور ہر امام اپنے زمانے میں خدا کا ایک خلیفہ ہے، اور یہ دونوں باتیں ایک ہی حقیقت کی حامل ہیں۔

اگر حضرت آدم کی خلافت ان کی اولاد کے پیغمبروں اور اماموں کے سلسلے میں قیامت تک جاری و باقی رہنے والی نہ ہوتی، تو فرشتوں نے امرِ خلافت پر اعتراض کیوں اٹھایا، اگرچہ وہ فرشتے حقائقِ اشیاء سے واقف و آگاہ تو نہیں تھے، لیکن دنیا میں پیش آنے والے واقعات کی ظاہری حالت کو کسی ذریعے سے جانتے تھے، اور ان کا اعتراض اس انداز میں ہے کہ اس سے دنیا میں ہمیشہ لوگوں کے درمیان خلیفۂ خدا کی موجودگی ثابت ہو جاتی ہے، جیسے انہوں نے کہا کہ: کیا تو ایسے شخص کو زمین میں خلیفہ مقرر کرتا ہے، جو اس میں فساد اور خونریزیاں کرے گا۔ ۲: ۳۰۔ اس کے جواب

۱۲۶

میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے۔

دنیا میں لوگوں کی ہدایت و رہنمائی اور حق و انصاف کی تائید و حمایت کے لئے اللہ تعالیٰ کی خلافتِ صوری و معنوی ہمیشہ قائم ہے، اسی لئے پروردگارِ عالم نے فرمایا کہ: یا داؤد انا جعلنٰک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ۔ ۳۸: ۲۶۔ اے داؤد تحقیق ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے سو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکم کرتے رہنا۔ اس آیۂ کریمہ سے یہ مطلب صاف طور پر ظاہر ہوا، کہ خدائے حکیم نے وہ حکم، جو زمین والوں سے متعلق تھا، تمام معنوں کے ساتھ اپنے برگزیدہ خلیفہ کے حوالے کر دیا ہے، ورنہ خلیفہ کا یہ لقب بے معنی ہو جاتا، قرآنِ پاک کی اس تعلیم کے بموجب جب حکم دینا خلافتِ الٰہی کے بغیر روا نہیں، تو امر کرنا خدا کی خلافت کے سوا کس طرح جائز ہو سکتا ہے، پس یہ حقیقت یقینی الفاظ میں ثابت ہوئی، کہ قرآنِ حکیم نے ائمۂ طاہرین صلوات اللہ علیہم کو اولو الامر اس لئے کہا ہے، کہ ان کو اللہ نے روئے زمین پر اپنی خلافت و نیابت کے شرف سے مشرف کر کے امر کا مالک اور مختار بنا دیا ہے۔

امام شناسی کی اس کتاب کے آغاز میں خلافتِ آدم کی بحث اس لئے کی گئی، کہ ان کی خلافت نہ صرف کارِ نبوت کی بنیاد ہے، بلکہ یہ کسی شک کے بغیر امرِ امامت کی

۱۲۷

بھی اساس ہے، پس ہم نے اس بیان میں حضرت آدم اور حضرت داؤد کی خلافت کی قرآنی دلیل سے یہ حقیقت واضح کر کے بتایا، کہ امام خدا کے خلیفۂ معنوی کی حیثیت سے ہمیشہ دنیا میں حاضر اور موجود ہیں، اور ان کی معرفت کا حصول ہر دیندار آدمی کے لئے انتہائی ضروری شی ہے، چنانچہ ہم نے اپنے اسماعیلی بھائیوں کے لئے امام شناسی کے مختلف موضوعات پر مشتمل کتابوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس میں قبلاً دو کتابیں تیار ہو چکی تھیں، اب خدا کے فضل و کرم سے زیرِ نظر کتاب اسی سلسلے کا تیسرا حصہ ہے، جو مکمل ہو کر آپ کے سامنے ہے۔

یہ کتاب ایسی آیاتِ قرآنی کی شہادتوں پر مبنی ہے، جن میں ’’کل‘‘ کا لفظ آیا ہے، ان آیتوں کو کلیات یعنی عام قوانین کے درجے میں مانتے ہوئے ہر کلیے کی حقیقتوں سے امام شناسی کی ضرورت و اہمیت ظاہر کر دی گئی ہے، اس کتاب میں مضامین کا یہ طریقہ اس لئے اختیار کیا گیا ہے، کہ قرآنِ حکیم میں امام شناسی کا ایک مشہور کلیہ ’’ و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین‘‘ ہے اور اس کے معنی ہیں کہ رب العزت نے ہر چیز کو امامِ مبین کی ذات میں گھیر کر رکھا ہے، جب یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امام ہر چیز پر محیط ہے، تو ماننا پڑے گا، کہ امام شناسی کا موضوع تمام موضوعات پر حاوی ہے، پس ہم نے یہ ثابت کر کے

۱۲۸

دکھانا تھا، کہ امام شناسی کے مذکورہ کلیے نے قرآن کے دوسرے تمام کلیات کو کس طرح گھیر لیا ہے، چنانچہ آپ اس کتاب کے مطالعے سے یہ معلوم کر سکتے ہیں، کہ واقعاً تمام کلیات امامِ مبین کے کلیے میں داخل ہیں اور قرآنِ حکیم کی ساری آیات مختلف کلیوں میں سموئی ہوئی ہیں۔

قرآن و حدیث کے علاوہ عقل بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے، کہ ہر چیز کا ایک دروازہ ہوا کرتا ہے، اسی طرح قرآن کی مختلف حکمتوں کے بھی خزانے ہیں، ان خزانوں کے مقفل دروازے ہیں اور ان قفلوں کی کلیدیں ہیں، جیسے قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ: افلا یتدبرون القرآن ام علیٰ قلوب اقفالھا ۔ ۴۷: ۲۴۔ تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں۔چنانچہ ہم نے اس کتاب میں (ان شاء اللہ تعالیٰ) امامِ برحق صلوات اللہ علیہ و سلامہ کے نورِ معرفت کی روشنی میں جن خاص خاص کلیدوں کو درج کر لیا ہے وہ حقیقی مؤمنین کے لئے واقعی امام شناسی اور قرآنی علم و حکمت کے گنجینوں کی کلیدیں ہیں۔

میں یہ کہتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں کرتا ہوں بلکہ اس سے مجھے بے اندازہ خوشی ہے کہ میں علم کا غنی نہیں، درویش ہوں اور امامِ عالی مقام کے دروازۂ روحانیت پر شب و روز شیء للہ کی صدا و صلا لگاتا رہتا ہوں، پس اگر میری تحریروں سے جماعت کی کوئی علمی خدمت ہو سکتی ہے،

۱۲۹

تو یہ اسی شاہِ ولایت و نورِ ہدایت کی مہربانی سے ہے، اور اگر ان قلمی کوششوں میں کچھ لفظی خامیاں ہیں، تو وہ میری اپنی نفسانی کدورتوں کے سبب سے ہیں۔

میں بالآخر گروہِ مؤمنین کی قلبی دعائیں چاہتا ہوں، تا کہ قادرِ متعال اپنے ولئ امر امامِ حی و حاضر کے وسیلے سے اس بندۂ ناچیز کو بیش از بیش علمی خدمت کی توفیق و ہمت عنایت فرمائے! آمین یا رب العالمین!!

فقط خاکسار مصنف
۷۴/۳/۱۲

۱۳۰

کلید نمبر ۱
قدرتِ کاملہ

اللہ تعالیٰ کی طاقت و توانائی کا نام قدرتِ کاملہ ہے، قرآنِ حکیم کے پر حکمت کلیات کے سلسلے میں سب سے پہلے وہ کلیہ آتا ہے، جو قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ کے متعلق ہے، جو سورۂ بقرہ کی بیسویں آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ: ان اللّٰہ علیٰ کل شیء قدیر (۲: ۲۰) یعنی یقیناًاللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

یہاں کل شیء کی وضاحت سب سے ضروری ہے، کہ کل شیء یعنی ہر چیز سے نہ صرف ممکنات مراد ہیں، بلکہ اس میں غیر ممکنات کا بھی تذکرہ موجود ہے، کیونکہ قادرِ مطلق کے لئے کوئی چیز ناممکن نہیں، جس کی ایک واضح اور روشن دلیل یہ ہے، کہ زمانۂ قدیم کے دنیاوی حکماء کے نزدیک جتنی چیزیں نا ممکن تھیں، ان میں سے اب بہت سی چیزیں سائنسی انقلاب کی بدولت ممکن ہو چکی ہیں، اور اس قسم کے انکشافات و ایجادات کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، پھر یہ اندازہ شاید غلط نہ ہو گا، کہ آنے والی چند صدیوں کے اندر اندر بے شمار ناممکن چیزیں ممکنات میں شامل ہو جائیں گی،

۱۳۱

اسی طرح رفتہ رفتہ ہو سکتا ہے، کہ غیر ممکن اور محال کا نظریہ قطعی طور پر ختم ہو جائے۔

پس اللہ تعالیٰ کے ہر چیز پر قادر ہونے اور اس کے لئے کوئی چیز ناممکن نہ ہونے کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو، کہ انسان، جو اس کی ایک مخلوق ہے، آئے دن کسی نہ کسی ناممکن چیز کو ممکن ثابت کرتا جا رہا ہے، یہ سب کچھ اسی قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ کی مہربانی سے ہے۔

اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے بیان کے ضمن میں انسان کی طاقت و توانائی کی بحث بھی چھڑ گئی ہے، اور یہ مسئلہ ایسا نہیں، کہ اس کو پسِ پشت ڈال دیا جائے، کیونکہ ’’ناممکن‘‘ کا تصور وہی تو ہے، جس نے دنیا کی بہت سی قوموں کے لئے علم و حکمت کے دروازے بند اور کامیابی کی راہیں مسدود کر دی ہیں، اس لئے جاننا چاہئے، کہ انسان، خواہ وہ مادیت کے میدان میں ہو یا روحانیت کے مقام پر، خدا تعالیٰ کی قدرت و توانائی کا مظہر ہے، کیونکہ خدائے حکیم کے سارے معجزات انسان ہی سے ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ مبارک ہے کہ:

سنریھم اٰیٰتنا فی الاٰفاق و فی انفسھم حتیٰ یتبین لھم انہ الحق ۔ ۴۱: ۵۳۔ ہم عنقریب ان کو آفاق میں بھی اور ان کے نفوس میں بھی اپنے معجزات دکھائیں گے، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ برحق ہے۔

۱۳۲

قرآنِ حکیم کی اس پیش گوئی سے دانا کے لئے ظاہر ہے، کہ پہلے تو اس دنیا میں ظاہری اور مادی قسم کے معجزات رونما ہونے والے تھے، جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے، اس کے بعد نفوسِ انسانی روحانی دور کی آمد سے متاثر ہونے والے ہیں، جس کے نتیجے میں روحانی قسم کے معجزات کا دور دورہ ہونے والا ہے، پس مؤمن کو چاہئے، کہ روحانیت کے انقلابی دور کے ساتھ سازگاری کے لئے اپنے آپ کو تیار کر کے رکھے، یہ تیاری کس طرح ہو سکتی ہے؟ یقینی درجے کے علم سے، امام شناسی کے علم سے اور ذاتی روحانیت کے تجربات سے، اس کے علاوہ قرآنِ حکیم کے ایسے کلیات میں غور و فکر کرنے سے، جن میں ہر چیز کے قوانین کا علم و حکمت اور ہر شی کی حقیقت و معرفت موجود ہے، تا کہ ایک طرف سے ’’ناممکن‘‘ کا تصور ختم ہو کر، ’’ممکن‘‘ کا نظریہ پیدا ہو سکے اور دوسرے طرف سے روحانی دور کے اثرات کے متحمل ہونے کی اہلیت پیدا ہو سکے۔

جب تک کوئی انسان مادیت کی تنگ و تاریک چار دیواری کے اندر مقید و محبوس، روحانی علم سے بے بہرہ اور امکانیت کی بے پناہ وسعتوں سے نا آشنا ہے، تو پھر وہ کیسے باور کر سکتا ہے، کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت اور علم نے انسان کے لئے ہر قسم کی امکانیت پیدا کر دی ہے اور کوئی چیز ناممکن نہیں، بلکہ ہر چیز، ہر بات اور ہر کام ممکن ہے، ہاں یہ بات

۱۳۳

ضرور ہے کہ ہر ممکن کے لئے ایک مناسب مقام اور ایک خاص موقع یا کہ کوئی ضروری شرط مقرر ہے، یعنی ازل سے ابد تک، دنیا سے آخرت تک اور مکان سے لامکان تک انسان کے لئے ہر چیز کی امکانیت کے بے شمار مواقع ملنے والے ہیں، اسی لئے ارشاد ہے کہ مایوسی کفر ہے اور اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ تم نے خدا سے مانگا تھا، اس نے وہ سب تم کو دے رکھا ہے۔

قدرتِ کاملہ اور ممکن و ناممکن کے اس بیان کے ساتھ ساتھ لازمی ہے، کہ انبیاء و ائمہ علیہم السلام کے ظاہری و باطنی اور علمی و عملی معجزات کا بھی بطریقِ اجمال کچھ تذکرہ کر دیا جائے، چنانچہ یہ جاننا ضروری ہے، کہ قادرِ مطلق نے جن کامل انسانوں کو نبوت یا امامت کے نورِ مقدس کا حامل بنا کر بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مقرر فرمایا ہے، ان کو اثباتِ حقانیت و صداقت کے طور پر طرح طرح کے معجزات کی روحانی طاقت سے بھی نوازا ہے، تا کہ ہادئ برحق کے متعلق باور کرنے والے مکمل طور پر باور کریں اور انکار کرنے والے یا تو باور کریں یا انتہائی حد کا انکار کریں، تا کہ ان کے بارے میں قانونِ الٰہی کوئی فیصلہ صادر کرے، ظاہری اور حسی معجزات کی کیفیت و حقیقت بس ایسی ہے، مگر بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے، کہ جن لوگوں نے شروع شروع میں معجزات پر ایمان لایا تھا، وہ بھی رفتہ رفتہ ان معجزات کے ایسے ہی عادی بن

۱۳۴

گئے، کہ معجزات ان کی نظر میں معجزات ہی نہ رہے، انہوں نے معجزات کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا، ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ ان میں قساوتِ قلبی پیدا ہوئی، یعنی دل کی سختی، جس کی وجہ سے ان کا ایمان روز بروز کمزور ہوتا گیا، اس واقعہ کی ایک مثال بنی اسرائیل کے قرآنی قصے میں موجود ہے۔

ان حالات کے برعکس ہادئ برحق کی حقیقی فرمانبرداری اور اس کی محبت و عشق میں ایمان و ایقان، اور علم و حکمت کے جو جو عجائبات اور معجزات پوشیدہ ہیں، ان کے بار بار سامنے آنے سے مؤمن کے ایمان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ان میں کوئی خطرہ نہیں۔

۱۳۵

کلید نمبر ۲
علمِ الٰہی

دوسرا قرآنی کلیہ اللہ تعالیٰ کے علم کے باب میں ہے، جو البقرہ کی انتیسویں آیت میں ہے کہ: و ھو بکل شیء علیم ۔ ۲: ۲۹۔ اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

اس حقیقت کے بارے میں مؤمنین و مسلمین کو ذرہ بھر شک و شبہ نہ ہو گا، کہ اللہ پاک ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے، اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ اس کے احاطۂ علمی سے کوئی چیز باہر ہے، لیکن جو اہلِ بصیرت خدا کی توحید و معرفت سے واقف و آگاہ ہیں، ان کے نزدیک علم کی یہ صفت حضرت رب العزت کے لئے کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ اس کی فرمانبرداری کے نتیجے میں قلمِ قدرت (عقلِ کل) اور لوحِ محفوظ (نفسِ کل) کو بھی ہر چیز کا علم اور ہر چیز کی قدرت دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک ایسی زندہ اور حقانیت و صداقت سے بولنے والی کتاب ہے، کہ اس میں دستِ قدرت نے روحانی اور نورانی تحریر سے ہر چیز کا احاطۂ علمی کر رکھا ہے، یہ حقیقت ان دونوں آیتوں کا

۱۳۶

ماحصل ہے: و لدینا کتٰب ینطق بالحق ۔ ۲۳: ۶۲۔ اور ہمارے پاس ایک ایسی کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے۔ و کل شیء احصینٰہ کتابا ۔ ۷۸: ۲۹۔ اور ہم نے ہر چیز کو ایک کتاب میں گھیر رکھا ہے۔ جب یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، کہ خدا کی اس نورانی کتاب میں تمام چیزیں موجود ہیں اور ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کتاب سے باہر ہو، پھر یہ بات لازمی ہے کہ خدا کی اپنی مخصوص چیزیں بھی اس معجزاتی کتاب میں ہوں، جبکہ یہ کتاب خدا ہی کی ہے، خدا کی خاص خاص چیزیں کون کون سی ہیں؟ خدا کی جملہ خوبیاں، یعنی تمام صفات ہیں، جن میں سب سے پہلے حیات، علم، ارادہ اور قدرت ہے، اس بیان سے جب یہ حقیقت صاف طور پر ظاہر ہو گئی، کہ خدا کی زندہ اور بولنے والی کتاب میں اس کی ساری خوبیوں کے خزانے پنہان ہیں، تو پھر اس حقیقت کے لئے بھی تسلیم کرنا چاہئے، کہ اللہ تعالیٰ کے مقدس نور کے سوا کوئی چیز ایسی کتاب نہیں ہو سکتی ہے، جو پروردگارِ عالم کی جملہ صفات سے متصف ہو۔

اللہ تعالیٰ کے نورِ پاک کے حامل صرف انبیاء و ائمہ علیہم السلام ہی ہیں، جنہیں خدا نے روئے زمین کی خلافت و نیابت کے لئے برگزیدہ فرمایا ہے، اور ان حضرات کی برگزیدگی فقط اسی معنی میں ہے کہ رب العزت نے ان کو اپنے اپنے وقت میں نورِ مطلق کا چراغ قرار دے دیا ہے

۱۳۷

تا کہ ان کی ہدایت و رہنمائی اور علم و حکمت کی ضیا پاشیوں سے عالمِ دین تابان و درخشان ہوتا رہے، جیسا کہ قرآن حکیم کی ۳۳: ۴۶ کے ارشاد سے ظاہر ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے وقت میں خدائی نور کے روشن چراغ تھے۔

یہ ہمارا اپنا عقیدہ اور ایمان ہے کہ خدا کے خلیفہ، قلمِ قدرت اور لوحِ محفوظ کا مظہر، کتابِ ناطق اور پیغمبرِ آخر زمان کا نور اور آپ کے جانشین امامِ مبین ہیں، یعنی امامِ زمان، ہمارے نزدیک امامِ مبین کا نظریہ ایک ازلی و ابدی حقیقت ہے، چنانچہ قرآنِ عظیم کا ارشاد ہے کہ: و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ۔ ۳۶: ۱۲۔ اور ہم نے ہر چیز کو امامِ ظاہر (کے نور) میں گھیر کر رکھا ہے۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ امامِ مبین سے لوحِ محفوظ مراد ہے، تو میں سوال کروں گا، کہ اچھا حضرت، یہ تو بتایئے کہ لوحِ محفوظ کس چیز سے بنی ہے؟ یعنی اس کے وجود کی کیفیت و حقیقت کیا ہے؟ کیا وہ قیمتی جواہرات میں سے کسی جوہر کی ہے؟ کیا وہ عقلی موجودات میں سے ہے یا روحانی موجودات میں سے؟ وہ ان تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ضرور کرے گا۔

اگر کہے کہ لوحِ محفوظ وجودِ عقلی رکھتی ہے، تو اس کا یہ جواب غلط ہو گا، کیونکہ ’’کل شیء‘‘ میں جب عقل، روح اور جسم تینوں کا ذکر ہے، تو مجرد عقل کی ایسی لوحِ محفوظ تمام

۱۳۸

چیزوں کی حامل کس طرح ہو سکتی ہے، جب تک کہ اس کی ہستی میں روح اور جسم کی شرکت نہ ہو۔

اگر وہ اپنے جواب میں کسی عظیم روح کو لوحِ محفوظ قرار دے، تو اس صورت میں بھی اس کا جواب درست نہیں ہو سکتا، کیونکہ عقل اور جسم کے بغیر خالص روح کی لوحِ محفوظ میں صرف روحانی چیزیں ہی ہو سکتی ہیں، مگر کل شیء میں صرف روحانی چیزوں کا ذکر نہیں بلکہ سب چیزوں کا بیان ہے۔

اگر وہ شخص اس طرح جواب دے، کہ لوحِ محفوظ جواہرات میں سے کسی جوہر کی بنی ہے، اور ایسی لوحِ محفوظ کی تاویل کا قائل نہ ہو جائے، تو پھر بھی اس کا جواب غلط ہو گا، کیونکہ جواہرات بغیر روح اور بغیر عقل کے ہوتے ہیں، اور خدا کے نزدیک ان کی کوئی کرامت و فضیلت نہیں، پس کوئی جوہر عقلی اور روحانی چیزوں کا حامل کس طرح ہو سکتا ہے۔

اس بیان سے یہ حقیقت پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی، کہ امامِ مبین کے معنی امامِ ظاہر کے ہیں، جن کی مبارک و مقدس ہستی میں عقل، روح اور درجۂ کمال کے انسانی جسم کی شرکت ہے، جس کے سبب سے امامِ مبین ہر لطیف چیز کے حامل ہیں، اور حقیقت میں لوحِ محفوظ بھی آپ کی ذاتِ اقدس ہی ہے۔

۱۳۹

علمِ الٰہی کے سلسلے میں علمِ غیب کی کچھ وضاحت بھی ضروری ہے، تا کہ نفسِ مضمون ادھورا نہ رہ جائے، چنانچہ حق تعالیٰ کا فرمانِ مبارک ہے کہ: عالمُ الغیب فلا یظھر علیٰ غیبہ احدا۔ الا من ارتضی من رسول ۔ ۷۲: ۲۶ تا ۲۷، غیب کا جاننے والا وہی ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اس شخص کے جس کو وہ رسولوں میں سے منتخب کرے۔

یہاں ’’علیٰ غیبہ‘‘ کے معنی قابلِ غور ہیں، جس کا مطلب ہے ’’اپنے تمام غیب پر‘‘ پس معلوم ہوا، کہ اللہ تعالیٰ اپنے تمام غیب پر کسی برگزیدہ پیغمبر کو بھی مطلع فرماتا ہے۔

علمِ الٰہی کے اس موضوع کے سلسلے میں یہاں تک جو کچھ بیان ہوا، اس کا خلاصہ یہ ہے، کہ علم کے بارے میں خداوند تعالیٰ کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے خاص خاص علوم کے عطیات سے اپنے برگزیدہ بندوں کو سرفراز فرماتا ہے، یہاں تک کہ علمِ غیب کو بھی اپنے لئے مخصوص نہیں رکھتا، جیسے و علم آدم الاسماء کلھا ۔ ۲: ۳۱  (اور خدا نے آدم کو تمام اسماء کی تعلیم دی) سے بھی یہ حقیقت ظاہر ہے، کہ خدا خود ہی حضرت آدم علیہ السلام کا معلم ہے، اور علم الاسماء کوئی کتابی اور ظاہری علم نہیں، بلکہ یہ غیب ہی کا علم ہے، جس کو سوائے اللہ تعالیٰ کے ملائک بھی نہیں جانتے تھے، پس اللہ نے ابو البشر کو غیب کا علم عطا کر دیا۔

۱۴۰

علمِ غیب کے بارے میں مزید حقائق کے لئے اس آیۂ کریمہ میں غور کیا جائے: و عندہ مفاتح الغیب۔۔۔ فی کتاب مبین ۔ ۶: ۵۹۔ اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسے بحر و بر کی سب چیزوں کا علم ہے اور کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری یا سوکھی چیز نہیں ہے مگر وہ روشن کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔ اس فرمانِ الٰہی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خداوند تعالیٰ کا علمِ غیب کتابِ ناطق میں ہے سب چیزوں کی زندہ اور بولتی تصویریں کتابِ مبین (بولنے والی کتاب یعنی ) نورِ امامت میں موجود ہیں۔

یاد رہے کہ آسمان و زمین اور ظاہر و باطن کی چیزوں کی پوشیدہ باتوں کا جاننا ہی علمِ غیب کہلاتا ہے، جب ایسا علم ظاہر ہو جاتا ہے تو وہ اس وقت علمِ غیب نہیں رہتا، بلکہ علمِ ظاہر کہلاتا ہے، مگر اس کی حکمت اور تاویل، جو ظاہر نہیں کی گئی ہو، وہ اب بھی علمِ غیب ہی ہے۔

چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضورِ انور کو بحکمِ خدا غیب کی کوئی بات بتانے کے بارے میں کنجوسی نہیں کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا کلامِ حکمت نظام ہے کہ: و ما ھو علی الغیب بضنین ۔ ۸۱: ۲۴۔ اور وہ (جبرائیل) غیب کی باتیں بتانے میں بخیل نہیں۔

۱۴۱

کتابِ ناطق یعنی قرآنِ ناطق میں علمِ غیب کا خزانہ پنہان ہونے کے بارے میں ارشاد ہے کہ: و ما من غائبۃ فی السماء و الارض الا فی کتاب مبین ۔ ۷۵:۲۷۔ اور آسمان و زمین میں کوئی ایسی مخفی چیز نہیں ہے مگر وہ بیان کرنے والی کتاب میں موجود ہے۔ اس بیان کرنے والی کتاب سے نورِ امامت مراد ہے۔

جاننا چاہئے کہ کتابِ ناطق یعنی امامِ مبین کے نور میں آسمان و زمین کی تمام چیزوں کی ایسی نورانی تصویریں موجود ہیں جو عقل و روح کی رنگینیوں سے بحکمِ صبغۃ اللہ (۲: ۱۳۸) بھرپور ہیں، اور خدا کے اذن سے ان میں سے ہر تصویر کائنات و موجودات کی متعلقہ چیز کی مثال پیش کر سکتی ہے اس حقیقت کا نام نورانی تاویل ہے، چنانچہ حضرت یوسف اپنے وقت میں کتابِ مبین کی حیثیت سے تھے، وہ اپنے باطن کی نورانی مثالوں سے کسی بھی مخفی چیز کا حال بتا سکتے تھے چنانچہ انہوں نے ہادئ برحق کے علمِ غیب کی طرف توجہ دلانے کے لئے قید خانے میں اپنے دونوں ساتھیوں سے فرمایا کہ: دیکھو جو کھانا تمہارے پاس آتا رہتا ہے، جو کہ تم کو کھانے کے لئے یہاں ملتا ہے میں اس کے آنے سے پہلے ہی اس کی حقیقت (تاویل) بتلا دیا کرتا ہوں یہ بتلا دینا اس علم کی بدولت ہے جو مجھ کو میرے رب نے تعلیم فرمایا ہے ۔ ۱۲: ۳۷۔

۱۴۲

علمِ تاویل دو قسم کا ہوتا ہے، ایک نورانی ہے اور دوسرا کتابی، انبیاء و ائمہ علیہم السلام کے پاس علمِ تاویل نورانی صورت میں ہوتا ہے، جس کو علمِ لدنی اور علمِ غیب بھی کہا جاتا ہے۔

۱۴۳

کلید نمبر ۳
ہر گروہ کا قبلہ

قرآن مجید کی ۲: ۱۴۸ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ: و لکل وجھۃ ھو مولیھا ۔ ۲: ۱۴۸۔ اس آیۂ پرحکمت کے کئی معنی ہیں، اول: اور ہر ایک فرقے کے لئے ایک سمت مقرر ہے جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں، دوم: اور ہر قوم کے لئے ایک شریعت مقرر ہے جس کی طرف وہ متوجہ رہتی ہے، سوم: اور ہر شخص کے لئے ایک دینی استاد ہے، جس کی طرف وہ رجوع کرتا ہے، چہارم: ہر روحانی طالب کا ایک مطلوب ہوا کرتا ہے، وہ اس کی تلاش میں لگے رہتا ہے، پنجم: ہر دینی درجہ کے لئے ایک اوپر کا درجہ ہوا کرتا ہے، وہ اس کا خواہشمند رہتا ہے، ششم: شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت میں سے ہر منزل کے لئے ایک قبلہ ہوا کرتا ہے، جس کے اہل اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، یعنی اہلِ شریعت کا قبلہ خانۂ کعبہ ہے، اہلِ طریقت کا قبلہ پیر و مرشد ہے، اہلِ حقیقت کا قبلہ پیغمبر اور امام ہیں، اور اہلِ معرفت کا قبلہ خدا کا نور ہے۔

۱۴۴

مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ میں اس ارشادِ مقدس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ: پس تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرتے رہو تم جہاں کہیں ہو گے خدا تم سب کو حاضر کرے گا، بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ ۲: ۱۴۸۔

اس آیۂ پاک کی حکمت کے اشارے نہ صرف ادیانِ عالم کی طرف ہیں، بلکہ افرادِ مذہب کی طرف بھی ہیں، کہ جس طرح ظاہری قبلہ کے بارے میں گروہوں کے حالات مختلف ہیں، اسی طرح باطنی توجہ کے باب میں بھی افراد کی کیفیت جدا جدا ہے، پس ان مختلف نظریات کو خدا کی توحید کے تصور کی طرف مرکوز کر دینے کا راز اس امر میں مضمر ہے کہ مسلمین و مؤمنین دوسرے ادیان والوں سے نیکی یعنی اعمالِ صالحہ میں سبقت لے جائیں، اور دنیا بھر میں نیکی کا نمونہ بن جائیں، تا کہ دعوتِ اسلام کا عملی صورت کارفرما ہو سکے، اور اس کے نتیجے میں دنیا والوں کو ضرور احساس ہو گا، کہ اسلام خدا کا آخری دین ہے اور حضرت محمد مصطفی خدا کے سچے رسول اور آخری نبی ہیں۔

اجتماعی قبلہ کے بیان میں انفرادی توجہ کا ذکر اس لئے آیا ہے، کہ قرآنِ حکیم میں جو ہدایت جماعتوں کے لئے آئی ہے اس میں افراد کے لئے بھی ہر قسم کی رہنمائی ہے، چنانچہ یہاں نیکی کا جو راستہ قوم کے لئے مفید ہے، وہ ایک فرد کے لئے بھی مفید ہو سکتا ہے، مثلاً ایک شخص کے دل میں

۱۴۵

عبادت کے دوران یکسوئی نہیں رہتی ہے اور اس کو طرح طرح کے خیالات پیدا ہونے کا احساس ہوتا ہے، تو وہ قرآنِ حکیم کی اس حکمت کی روشنی میں محسوس کرے، کہ اس میں نیکی کا مادہ کم ہو رہا ہے، پھر وہ اپنے آپ میں نیکیوں میں سبقت لے جانے کا جذبہ پیدا کرے اور عملاً ایسا کر کے دیکھے، پھر اس کے دل میں عبادت کی یکجہتی اور روحانی سکون پیدا ہو گا۔

۱۴۶

کلید نمبر ۴
موت کا تجربہ

ہم نے یہاں اس موضوع کو ’’موت کا تجربہ‘‘ کے عنوان سے معنون کیا ہے، لیکن موت کا تجربہ کس نے حاصل کر لیا ہے؟ جبکہ موت کے واقع ہو جانے کے ساتھ ساتھ متوفی کے تمام تجربات بھی ختم ہو جاتے ہیں! و لیکن ہاں، اموات میں ایک ایسی خصوصی موت بھی ہے، جو روحانیت اور ایقان و عرفان کے مشاہدات و تجربات سے بھرپور اور علم و حکمت کے مغز سے مملو ہے، جس کی حقیقت سے آگہی کے لئے آپ موضوعِ ذیل کا بغور مطالعہ کریں:

چنانچہ قرآنِ کریم کی (۳: ۱۸۵) میں موت کا کلیہ اس طرح ارشاد ہوا ہے کہ: کل نفس ذائقۃ الموت ۔ ۳: ۱۸۵۔ یعنی ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔

موت کے اس کلیہ کے بارے میں دو اہم سوال پیدا ہو جاتے ہیں، ایک یہ کہ جب وجودِ انسانی تین چیزوں کا مجموعہ ہے، یعنی عقل، نفس اور جسم، تو ان تینوں میں سے صرف نفس ہی کو موت کے واقعہ سے کیوں متعلق کیا گیا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے، کہ موت واقع ہونے کی

۱۴۷

تشبیہہ کسی چیز کے چکھنے کی طرح کیوں دی گئی ہے؟

ان میں سے پہلے سوال کا جواب یہ ہے، کہ اگرچہ انسان کی ہستی عقل، نفس اور جسم کے مجموعے سے ہے، لیکن حقیقت میں عقل موت سے بالاتر ہے، کیونکہ وہ مرتی نہیں، جیسے فرشتوں کا حال ہے کہ وہ عقل ہیں اور کبھی نہیں مرتے، اس کے برعکس حیوان جو نفس ہے وہ مر جاتا ہے، مگر پتھر وغیرہ جو جسم ہے وہ نہیں مرتا، اس سے معلوم ہوا، کہ موت کا براہِ راست تعلق نفس کے ساتھ ہے، مگر جسم پر براہِ راست موت واقع نہیں ہوتی، بلکہ نفس کے واسطہ سے ہوتی ہے، یعنی جسم کا جینا اور مرنا نفس ہی کے ذریعے سے ہے، پس یہی وجہ ہے جو قرآنِ حکیم نے اس کلیہ میں موت کو صرف نفس ہی سے متعلق کر دیا۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے، کہ موت کی مثال کسی مادی چیز کے چکھنے سے اس لئے دی گئی ہے، کہ وہ فی الواقع روحانی نوعیت کا ایک مزہ ہے، جو زیادہ سے زیادہ شیرین بھی ہے اور انتہائی درجے کا تلخ بھی، اس جواب کا دوسرا پہلو یہ ہے، کہ قرآنِ حکیم نے موت کا تصور کسی چیز کے چکھنے کی طرح اس لئے پیش کیا ہے، کہ خصوصی موت اہلِ معرفت کے نزدیک روحانی واقعات اور علمی و عرفانی تجربات کی حامل ہے، جو بموجب: ’’موتوا قبل ان تموتوا‘‘ طبعی موت سے پہلے ہی عبادت و ریاضت کے

۱۴۸

ذریعہ قبول کر لی جاتی ہے، جس کا مقصد معرفت ہے، جس میں روحانی سکون اور ابدی نجات کے اسرار پوشیدہ ہیں، پس نفسانی موت کے عنوان کے تحت حقائق و معارف کے جو معجزات سامنے آتے ہیں، ان کے لحاظ سے یہ حقیقت ہے، کہ موت کی مثال کسی چیز کو چکھ کر اس کے ذائقہ کا تجربہ حاصل کرنے سے دی جائے۔

نفسانی موت، جو ہادئ برحق کی ہدایات کی روشنی میں مخصوص عبادت و ریاضت اور نفس کشی کرنے سے واقع ہوتی ہے، روحانی واقعات و تجربات کا عنوان اس معنی میں ہے، کہ اس سے معرفتِ ذات کے جملہ ابواب کھل جاتے ہیں، اور اسی طرح یہ اختیاری موت روح اور روحانیت کے حقائق و معارف اور اسرارِ خدا شناسی کے حصول کا وسیلہ بن جاتی ہے۔

عام اور اضطراری موت سے پہلے انسان پر ایک خاص اور اختیاری یا کہ تجرباتی موت واقع ہونے کے بارے میں قرآنِ کریم کے بہت سے حکیمانہ اشارات موجود ہیں، جن کی ایک مثال یہ ہے، کہ انسان کے وجود میں نفس یا کہ جان ایک نہیں، بلکہ بے شمار جانیں ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نہایت ہی عجیب قدرت ہے، کہ انسان کے دل و دماغ کے علاوہ اس کا خلیہ خلیہ روحوں کا مسکن ہے، اور ان لاتعداد روحوں کی وحدت انسان کی ’’انا‘‘ ہے۔

۱۴۹

اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت بھی انتہائی عجیب ہے، کہ مختلف موقعوں پر انسانی وجود کے یہ نفوس قبض ہوتے جاتے ہیں، یعنی فرداً فرداً نکل جاتے ہیں، اور دوسری طرف سے نفوس کے داخل ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے، یا یوں کہنا چاہئے، کہ انسان جیتے جی ایک طرف سے مرتا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ دوسری طرف سے زندہ ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن ایسا بھی آتا ہے، کہ اس میں وہ پوری طرح سے مر جاتا ہے۔

مذکورۂ بالا موت کو جزوی موت کے نام سے یاد کرنا چاہئے، اسی جزوی موت کی بدولت ہر وقت انسانی نفس اور شخصیت کی اصلاح و تجدید اور تعمیرِ نو ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ چالیس دن کے بعد انسان کے نفس اور جسم کا کوئی پرانا ذرہ باقی نہیں رہتا، اس حساب سے وہ ہر سال اپنی ہی جگہ پر نو دفعہ پرانے جسم سے نئے جسم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

انسان کی زندگی و بقاء گویا ارواح و نفوس کی ایک ندی ہے، جو ملکوت کے پہاڑوں اور ناسوت کی گھاٹیوں سے آتی ہے اور ہر وقت بہتی رہتی ہے، مگر یہ بات ہے کہ یہ ندی کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتی ہے، بعض اوقات صاف و شفاف بہتی ہے اور گاہے بگاہے مکدر بھی ہو جاتی ہے۔

۱۵۰

اس مقام پر مجھے حضرت پیر ناصر خسرو قدس اللہ سرہ کا ایک شعر یاد آیا، آپ اپنی کتاب روشنائی نامہ میں فرماتے ہیں کہ:

ز دنیا تا بعقبیٰ نیست بسیار
ولی در رہ وجودِ تست دیوار

یعنی دنیا اور آخرت کے درمیان کچھ زیادہ مسافت تو نہیں، لیکن تیری ہستی ان دونوں کے درمیان دیوار بنی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب خاص عبادت اور سخت ریاضت سے کسی حقیقی مؤمن پر اختیاری موت آئے گی، اس وقت اس کی ہستی کی یہ دیوار درمیان سے ہٹائی جائے گی، اور اس صورت میں اس کو قیامت و روحانیت کے واقعات کا تجربہ کرایا جائے گا۔

سبحان اللہ! پیر صاحب کی یہ پرحکمت مثال اور یہ ارشاد کہ تمہارا اپنا نفسِ امارہ ہی دنیا اور آخرت کے درمیان دیوار اور پردہ بنا ہوا ہے، جب تم ہادئ برحق کے مقدس امر و فرمان کے مطابق خصوصی عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کے امتحان میں کامیاب ہو جاؤ گے، تو اس وقت تمہاری ہستی و خودی کی کثیف و مکدر دیوار سامنے سے ہٹا دی جائے گی یا صاف شیشے کی بنا دی جائے گی یا اس میں دروازہ بنے گا، پھر تمہیں اس حال میں نہ صرف موت ہی کے عجائبات کا تجربہ حاصل ہو گا بلکہ علمِ قیامت و روحانیت اور معرفتِ الٰہی کے خزانوں کے ابواب بھی ہمیشہ کے لئے کشادہ رہیں گے۔

۱۵۱

اب رہا یہ سوال، کہ آیا موت کے اس کلیہ سے کوئی نفس مستثنا بھی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب خود اس کلیے میں موجود ہے، کہ کوئی نفس یعنی کوئی فردِ بشر موت کے اس قانون سے باہر نہیں جا سکتا، جبکہ اختیاری موت کے بغیر روحانیت کا کوئی دروازہ نہیں کھل سکتا، جبکہ قرآنی ارشاد کے مطابق نیند میں بھی ایک قسم کی موت پوشیدہ ہے (۳۹: ۴۲) اور جبکہ جسمانی موت مؤمن کی مکمل روحانی آزادی ہے پھر آپ خود اندازہ کریں، کہ حقیقی مؤمنوں کے لئے موت کس قدر ضروری ہے، پس معلوم ہوا کہ موت عالمِ روحانیت کا دروازہ ہے، جس سے داخل ہوئے بغیر نہ روحانی ترقی ممکن ہے اور نہ بہشتِ جاودانی میسر ہو سکتی ہے۔

۱۵۲

کلید نمبر ۵
ہر چیز سے روحانی ملاقات

قرآن حکیم کے آٹھویں پارے کا سرنا مہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ: اور اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیتے اور مردے ان سے گفتگو کرتے اور سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے سوائے اس کے کہ اللہ کو منظور ہوتا لیکن اکثر ان میں سے جاہل ہیں۔ ۶: ۱۱۱۔

آپ حکمت کے اس اصول کو بھی ہمیشہ کے لئے یاد رکھیں، کہ قرآنِ حکیم انسان کے سامنے صرف انہی چیزوں کے تصورات پیش کرتا ہے، جو انسان کے لئے ممکنات میں سے ہیں، کیونکہ قرآن اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام ہے، اور اس میں انتہائی صداقت اور عدل کا سرمایہ موجود ہے، چنانچہ اگر فرشتوں، مردوں اور تمام چیزوں کی روحوں سے انسان کی روحانی ملاقات اور گفتگو ناممکن ہوتی، اور اللہ تعالیٰ نے کسی وقت میں بھی مؤمنوں اور کافروں سے واقعاً ایسے معجزات کا امتحان نہ لیا ہوتا، تو اندران حال اس معجزہ کے تذکرے میں (نعوذ باللہ)  نہ صداقت ہوتی، اور

۱۵۳

نہ عدل، پس ظاہر ہوا، کہ مذکورہ کلیہ میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے وہ ایک عملی حقیقت ہے، اور حقیقی مؤمنوں کے نزدیک کشفِ روحانیت اسی واقعہ کا نام ہے، البتہ خدا کی مصلحت سے بعض دفعہ کافروں پر بھی یہ معجزہ واقع ہوتا ہے، جس کا نام وہاں نزولِ عذاب ہے۔

جو حقیقی مؤمنین علم الیقین کی مدد سے روحانی ترقی کر کے عین الیقین کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں روحانیت کی ان حقیقتوں پر باور کرنا پڑے گا، کہ روح ظاہری اور مادی چیزوں کے برعکس ایک معجزاتی جوہر ہے، وہ عالمِ امر کے عجائبات میں سے ہے، جہاں ارادۂ ’’کن‘‘ سے ہر چیز ظہور میں آتی ہے، اس لئے روح میں تمام علمی عجائبات پیش کرنے کی خاصیت موجود ہے یہ ایک یقینی حقیقت ہے، کہ ہر خدا رسیدہ مؤمن کی روح کائنات و موجودات کی روحانی صورت اختیار کر کے قیامِ قیامت اور عالمِ آخرت کا نمونہ پیش کر سکتی ہے، ایسی حالت میں انسان اپنے آپ کو روحوں کے ایک طوفان خیز سمندر کے درمیان پاتا ہے، جو فرشتوں، مردوں، زندوں، یاجوج و ماجوج اور تمام چیزوں کی روحوں کے عنوان سے پیش آتی ہیں، یہاں تک کہ اس میں بے جان چیزوں کی روحیں بھی ہوتی ہیں، مگر یہ بات ضرور یاد رہے کہ روحانیت کے ایسے اعلیٰ تجربات حاصل کرنے کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔

۱۵۴

اگر یہاں یہ سوال ہو، کہ مؤمن کی روح اتنا بڑا کام کس طرح انجام دے سکتی ہے؟ اس کا جواب میرے پاس صرف ایک ہی جملے میں ہے، کہ مؤمن کی روح امام حی و حاضر کی حقیقی فرمانبرداری سے یہ عظیم کام مکمل کر سکتی ہے۔

پھر اگر سوال کیا جائے، کہ نورِ امامت، روح القدس اور مؤمن کی روح ان تینوں کا باہمی تعلق کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام عالی مقام علیہ السلام کے نور سے روح القدس جدا نہیں، اور نہ مؤمن کی روح بغیر روح القدس کے کوئی بڑا کام کر سکتی ہے، ان تینوں روحانی حقیقتوں کے باہمی تعلق کی مثال سورج، سمندر اور ندی کی طرح ہے، یعنی نورِ امامت سورج ہے، روح القدس سمندر اور مؤمن کی روح ندی ہے، ندی کا پانی کہاں سے آتا ہے؟ پہاڑوں سے جو برف اور بارش کا حاصل ہے، برف و بارش کا ذریعہ کیا ہے؟ بادل ہیں، جو سمندر سے پیدا ہوتے ہیں، سمندر سے بادل کس طرح پیدا ہوتے ہیں؟ سورج کی گرمی کے سبب سے۔

ندی کا پانی کم بھی ہو سکتا ہے اور اس کے زیادہ ہونے کا بھی امکان ہے، اس میں کمی اس وقت واقع ہوتی ہے جبکہ سورج کا نور اس کے پہاڑوں سے دور ہو، یا بغیر بارش کے بادلوں کے سائے پڑے رہیں، اسی طرح مؤمن کی روح میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، جو نورِ امامت سے دوری و نزدیکی کے سبب سے ہے۔

۱۵۵

جب سورج نزدیک آتا ہے اور آسمان صاف ہو جاتا ہے تو جگہ جگہ ندی پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں، اور اس کے پانی میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے، تاہم یہ سورج کا کوئی بڑا کرشمہ نہیں، ندی کو سورج کا ایک بڑا کرشمہ وہاں نظر آئے گا، جہاں یہ دریا کے ساتھ مل کر سمندر کی وحدت میں مدغم ہو جاتی ہے، کہ کس ہمہ گیر طریق پر بے پناہ سمندر سورج کی حرارت کی گرفت میں ہے، اور سمندر کا ایک عظیم حصہ، جو ساری دنیا کو سیراب کر کے فاضل دریاؤں کی صورت میں واپس بھی ہو، کس طرح بخارات اور بادلوں کی شکل میں آسمان کی بلندیوں کی طرف اڑاتا رہتا ہے۔

چنانچہ ہر حقیقی مؤمن کی روح کسی نہ کسی درجے میں امامِ زمان کا نورانی دیدار تو کر سکتی ہے، اور اس کی روحانیت میں ترقی بھی ہو سکتی ہے، مگر یہ کوئی بڑا دیدار اور کوئی عظیم معجزہ تو نہیں، ہاں، عظیم معجزہ اس مقام پر ہے، جہاں مؤمن کی روح پیروں اور بزرگوں کے علمی دریا پر سوار ہر کر روح القدس کے سمندر میں مل جاتی ہے، اس مقام کے بے شمار معجزات میں سے ایک یہ ہے، کہ ہادئ برحق کا نور روح القدس کے سمندر سے بے شمار ہدایتی روحیں اطرافِ عالم میں بھیجتا رہتا ہے، اور ہر گروہ، ہر طبقہ، ہر درجہ اور ہر فرد کی بدیہی اور فکری ہدایت اسی نہج پر ہوتی رہتی ہے، امامِ عالی صفات کے نورِ اقدس کو اس بات کی کوئی پرواہ ہی نہیں، کہ کوئی گروہ یا کوئی

۱۵۶

فرد اس کی عالمگیر ہدایت کا اقرار کرتا ہے یا نہیں، ہاں، اس میں یہ فرق ضرور ہے، کہ ہدایت حسبِ مراتب معرفت اور بمطابقِ ضرورت ہوا کرتی ہے، یا یوں کہنا چاہئے، کہ اس میں قبولِ ہدایت کی استطاعت لازمی شرط ہے۔

اس بیان کا خلاصہ یہ ہے، کہ تمام معجزات کا سرچشمہ روحِ قدسی ہے جو ہادئ برحق کے نور کے زیرِ اثر ہے، ہر معجزے کا نتیجہ دو طرح سے نکلتا ہے، یعنی اس میں روحوں کی آبادی بھی ہے اور بربادی بھی، اگر کوئی حقیقی مؤمن فرمانبرداری، عبادت، ریاضت اور علم الیقین سے اپنے آپ کو معجزات برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے، اور تدریجی معجزات میں آگے سے آگے بڑھتا جاتا ہے، تو اس کے لئے رحمت ہی رحمت ہے، اگر ایسا نہیں، بلکہ یکایک کوئی بڑا معجزہ کسی انسان کے سامنے آتا ہے تو یہ باعثِ ہلاکت ہے، ماسوائے اس کے کہ امامِ وقت ایسے حال میں بھی دستگیری کریں۔

۱۵۷

کلید نمبر ۶
انسی اور جنی شیاطین

سورۂ انعام کی ایک سو بارہویں آیت میں انبیاء کے بارے میں ایک کلیہ مذکور ہے کہ: اور اسی طرح ہم نے انسی اور جنی شیاطین کو ہر نبی کا دشمن بنا دیا وہ فریب دینے کی غرض سے چکنی چپڑی باتیں (روحانی طریق پر) ایک دوسرے کے دل میں ڈالتے ہیں۔ ۶: ۱۱۲۔

اس ارشادِ الٰہی سے اول یہ تعلیم ظاہر ہے، کہ شیاطین دو قسم کے ہوتے ہیں، پہلی قسم کے شیاطین انسانوں میں سے ہیں اور دوسری قسم کے شیاطین جنات میں سے، جو شیاطین انسانوں میں سے ہیں، ان کے متعلق عام طور پر یہ پتہ نہیں لگتا، کہ وہ واقعی شیاطین ہیں، کیونکہ وہ بظاہر کچھ عجیب شکل و صورت تو نہیں رکھتے، بلکہ وہ اپنی ظاہریت میں بالکل دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہیں، لیکن وہ حقیقت کی نظر میں انسی شیاطین ہیں، مگر یہ ضروری نہیں، کہ وہ خود کو پہچانتے بھی ہوں، کہ وہ ابلیس کے لشکر میں شامل ہو چکے ہیں۔

جو شیاطین جنات میں سے ہیں، وہ خاص خاص

۱۵۸

حالات کے سوا ہمیشہ ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں، کیونکہ وہ ایسے لطیف جسم کے لباس میں ملبوس ہیں کہ وہ نظر ہی نہیں آتا، مگر جب خدا کی مصلحت ہو۔

اس فرمانِ الٰہی کی دوسری تعلیم یہ ہے، کہ خدائے علیم و حکیم کی مصلحت و حکمت اسی امر میں پنہان تھی، کہ انسی اور جنی شیاطین کو نہ صرف ہر پیغمبر کا دشمن بنائے بلکہ اس طاغوتی گروہ کو ہر امام کے ساتھ بھی عداوت ہو، تا کہ بنی آدم کی اس امتحانگاہِ عمل میں ایک طرف ہمیشہ کے لئے رشد و ہدایت کے تمام وسائل مہیا رہیں، اور دوسری طرف اس کے مقابلے میں ضلالت و گمراہی کے سارے اسباب مکمل ہوں۔

اس کلیۂ حکمت آگین کی تیسری تعلیم یہ ہے، کہ خیر و شر کی اس دائمی جنگ میں، جو دورِ آدم سے قیامِ قیامت تک جاری و ساری ہے، جس طرح حق و باطل کا مقابلہ ہوتا رہتا ہے، اس میں نہ صرف شیاطینِ انسی و جنی ہی کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں بدی پھیلانے کی غرض سے روحانی طریق پر ایک دوسرے کے دل میں چکنی چپڑی باتیں ڈال سکیں، بلکہ پیغمبر اور امامِ برحق کے علاوہ حجت اور پیر جیسے مراتبِ عالیہ کو بھی اس بات کی امکانیت حاصل ہے، کہ وہ بھی روحانی طور پر ایک دوسرے سے مخاطبہ کر کے رحمانی طاقت اور نیکی کا ذریعہ بنائیں، اس بارے

۱۵۹

میں کسی عارف نے کیا خوب کہا ہے:

از دلِ حجت بحضرت رہ بود
او بتائیدِ دلش آگہ بود

یعنی حجت اور پیر کے دل سے حضرت امام کی ذاتِ اقدس تک روحانی راستہ ہے، اور امامِ زمان ان کے دل میں تائید و ہدایت القاء کرنے سے غافل نہیں۔

۱۶۰

کلید نمبر ۷
آسمانی کتاب میں ہر چیز کی تفصیل

سورۂ انعام کے انیسویں رکوع کے اخیر میں حق سبحانہ کا ارشاد ہے کہ: پھر ہم نے موسیٰ کو ایسی کتاب عنایت کی جو نیکوکاروں کے لئے (ہر طرح سے) مکمل تھی اور ہر چیز کی تفصیل تھی اور ہدایت و رحمت تھی تا کہ وہ اپنے پروردگار کے دیدار پر ایمان لائیں۔ (۶: ۱۵۴)۔

اس ارشادِ الٰہی سے یہ حقیقت واضح اور روشن ہو جاتی ہے، کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آسمانی کتاب (توریت) میں اس دور کے نیکوکاروں کے لئے دینی اور دنیاوی ہدایات کی کوئی کمی نہیں تھی، اس میں ہر چیز کا تفصیلی ذکر موجود تھا اور ہر قسم کی ہدایت و رحمت تھی، تا کہ وہ ان تمام چیزوں کے نتیجے میں اپنے پروردگار کی ملاقات کا یقین کریں۔

اب یہ اہلِ دانش کے لئے غور و فکر کا مقام ہے، کہ توریت کے مکمل و مفصل ہونے اور اس میں ہر قسم کی ہدایت و رحمت ہونے کے فوائد صرف نیکوکاروں کے لئے کس طرح مخصوص ہو سکتے ہیں، بجز اس کے کہ وہ حکمت اور تاویل کے بے پایان خزانے کی حیثیت رکھتی ہو، کیونکہ اگر

۱۶۱

اس میں حکمت و تاویل نہ ہوتی، تو وہ عوام و خواص کے لئے یکسان ہوتی، پس ظاہر ہوا کہ توریت حکمت و تاویل کی صورت میں مکمل، مفصل اور ہدایت و رحمت سے بھرپور تھی، اور یہ بات صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ خدا کی کتاب کے ساتھ ساتھ خدا کی طرف سے معلم بھی مقرر ہو، چنانچہ توریت کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی، کہ اس کی زندہ روح حضرت ہارون علیہ السلام کی ذاتِ شریف میں موجود تھی، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وزیر اور اس زمانے کے امام تھے۔

اب اس حقیقت کا کوئی واضح ثبوت چاہئے، کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے وزیر تھے، اس لئے توریت کی مقدس روح یعنی زندہ حکمتیں اور بولتی تاویلیں حضرت ہارون علیہ السلام کی روحانیت میں پوشیدہ تھیں، وہ ثبوت قرآن پاک کے اس ارشادِ مبارک میں ہے کہ: و لقد اٰتینا موسیٰ الکتٰب و جعلنا معہٗ اخاہ ہارون وزیرا ۔ ۲۵: ۳۵۔ بہ تحقیق ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب (یعنی توریت) دی تھی اور ہم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو ان کا وزیر بنایا تھا۔

اس فرمانِ خداوندی سے یہ حقیقت عیان ہوتی ہے، کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے کسی اور کام میں وزیر ہو یا نہ ہو، مگر سب سے پہلے اور سب سے ضروری طور پر

۱۶۲

توریت کی روحانی ہدایت اور حکمت و تاویل کے معاملے میں وزیر تھے، کیونکہ آیۂ مبارکہ کے صوری و معنوی ربط میں کتاب کے ساتھ ساتھ وزیر کا ذکر آیا ہے، اور وزیر کے معنی بوجھ اٹھانے والے کے ہیں، اس ربط اور اس مناسبت کی دلیل سے توریت کی تنزیل و تاویل کا بارِ گران حضرت ہارون علیہ السلام اٹھا رہے تھے، چونکہ ہر آسمانی کتاب فی الاصل ایک زندہ اور بولنے والی روح کی حیثیت سے ہوتی ہے، بالفاظِ دیگر یہ ایک نور ہوتا ہے، پس یہ روح یا کہ نور جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں توریت کے اسم سے موسوم تھا، حضرت ہارون علیہ السلام کے باطن میں پوشیدہ تھا۔

جب یہ مانا گیا کہ توریت صرف وہی نہیں تھی، جو ظاہری تحریر کی صورت میں خاموش تھی، بلکہ توریت وہ بھی تھی جو حضرت ہارون کی نورانیت ، روحانیت اور جسمانیت میں زندہ اور گویندہ تھی، پس یقین کرنا چاہئے، کہ انہی معنوں میں ارشاد ہوا ہے جو اس موضوع کے آغا ز میں درج ہے کہ: پھر ہم نے موسیٰ کو ایسی کتاب عنایت کی جو نیکوکاروں کے لئے (ہر طرح سے) مکمل تھی اور ہر چیز کی تفصیل تھی اور ہدایت و رحمت تھی تا کہ اپنے پروردگار کے دیدار پر ایمان لائیں۔ ۶: ۱۵۴۔

پھر اس کے بعد انہی حقائق سے مربوط ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ:

۱۶۳

و ھذا کتٰب انزلنٰہ مبٰرک فاتبعوہ و اتقوا لعلکم ترحمون ۔ ۶: ۱۵۵۔ اور یہ کتاب (قرآن) جس کو ہم نے نازل کیا ہے برکت والی (کتاب) ہے تو تم اس کی پیروی کرو اور متقی بنو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔

چنانچہ ’’برکت والی کتاب‘‘ کے معنی میں پھر وہی تمام حقیقتیں موجود ہیں جو اوپر توریت کے بارے میں بیان ہوئی ہیں، یعنی قرآنِ حکیم میں علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی فراوانی اور خیر و برکت کی کثرت اس طرح سے ہے کہ یہ تنزیل و تاویل کی حکمتوں سے بھرپور اور صلاح و فلاح سے مملو ہے، اور ہادئ برحق کے نورِ اقدس میں اس کے زندہ حقائق و معارف موجود اور محفوظ ہیں، یہ پاک کتاب اسی صورت میں ’’ تبیانا لکل شیء (۱۶: ۸۹) ‘‘ یعنی تمام چیزوں کا بیان کرنے والی ہے، پس معلوم ہونا چاہئے کہ آسمانی کتاب حقیقی معلم کی معیت میں ہر چیز کا بیان کرنے والی ہے۔

۱۶۴

کلید نمبر ۸
ہر شخص کی شناخت

امامیہ کتب میں آنحضرت صلعم اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے ارشاد کے حوالے سے مذکور ہے کہ:

و علی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم ( ۷: ۴۶) کا مطلب یہ یہ کہ معرفت کی بلندیوں پر ایسے مرد ہوں گے، جو سارے لوگوں کو ان کی پیشانیوں سے پہچان لیں گے، وہ مرد جو اعراف کی بلندیوں پر ہوں گے، حضرت مولانا مرتضیٰ علی اور آپ کے فرزندوں میں سے اوصیاء یعنی ائمۂ اطہار علیہم السلام ہیں (ملاحظہ ہو کتاب دعائم الاسلام جزء اول عربی صفحہ ۲۵)۔

جب یہ ایک قرآنی حقیقت ہے، کہ قیامت کے روز ہر زمانے کا امام اپنے وقت کے ان تمام لوگوں کو ان کے چہروں کی نورانیت سے پہچان لے گا جو دنیا میں اس کو پہچانتے تھے، تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وسیلۂ رحمت و ہدایت کا یہ قانون، یعنی دنیا والوں کے درمیان امام کا حاضر ہونا، نہ صرف پیغمبرِ آخر زمان کے دور کے لئے مقرر ہے، بلکہ شفاعت و نجات کا یہ ذریعہ جملہ انبیاء کے ادوار

۱۶۵

کے لئے یکسان ہے، پس اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر زمانے کے لوگوں کے درمیان امامِ وقت حاضر اور موجود ہوتا ہے، چنانچہ آیۂ درجِ ذیل سے اس حقیقت کی تصدیق و توثیق ہوتی ہے۔

یوم ندعوا کل اناس بامامھم ۔ ۱۷: ۷۱۔ جس دن ہم ہر زمانے کے لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ یعنی قیامت کے روز امامِ زمانہ کے بغیر لوگوں کے حق میں شہادت، عدالت، شفاعت اور نجات ممکن نہیں، پس معلوم ہوا، کہ آغازِ عالم سے حضرتِ آدم تک، حضرتِ آدم سے حضرت خاتم الانبیاء تک اور آنحضرت سے قیامِ قیامت تک امامت کا پاک سلسلہ قائم و دائم ہے۔

’’ یوم ندعوا کل اناس بامامھم ‘‘ کے یہ معنی بھی درست ہیں کہ خدا قیامت کے دن لوگوں کو ان کے امامِ وقت کے ذریعے سے بلائے گا، کیونکہ ائمۂ ہدا علیہم السلام خدا اور لوگوں کے درمیان واسطہ اور وسیلہ ہیں، یعنی خدا کا ہر کام جو امر و فرمان اور ہدایت سے متعلق ہو وہ صاحبِ امر کے توسط سے انجام پاتا ہے، اور لوگوں کا ہر کام جو خدا کی اطاعت اور اس کی خوشنودی کے بارے میں ہے وہ امام کے ذریعے سے مکمل ہوتا ہے۔

آیۂ اعراف کی تفسیر و تاویل کے ذیل میں جو حقیقتیں سامنے آئیں، ان سے ظاہر ہے، کہ امام شناسی ہی سے دونوں جہان کی سعادتمندی اور ابدی نجات کے دروازے

۱۶۶

کھل سکتے ہیں، جیسا کہ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ:

ان الذین کذبوا باٰیٰتنا و استکبروا عنھا لا تفتح لھم ابواب السمآء و لا یدخلون الجنۃ حتیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط ۔ ۷: ۴۰۔ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے۔ جاننا چاہئے کہ خدا کی آیات معجزات کے معنی میں بھی اور نشانیوں کے معنی میں بھی ائمۂ اطہار علیہم السلام ہیں، اور جو لوگ ان حضرات کو نہیں پہچانتے وہ ان سے تکبر کرتے ہیں، اور لفظ ’’استکبر‘‘ میں دو متضاد معنی پوشیدہ ہیں، یعنی خود کو بڑا اور دوسرے کو حقیر سمجھنا اور ان دونوں کا موقعِ استعمال ہم جنسیت کا مقام ہے، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آسمانی کتاب اور آفاقی آیات کی نسبت سے تکبر نہیں ہو سکتا، بلکہ لوگوں کو اپنے ہم جنس انبیاء و ائمہ علیہم السلام کے بارے میں تکبر ہوتا رہا ہے، اور ابلیس نے جو تکبر کیا وہ بھی ایک انسان تھا، جو علم میں مرتبۂ فرشتگی پر فائز ہو چکا تھا، اس نے اپنے ہم جنس بشر حضرت آدم علیہ السلام کو حقیر سمجھا اور خود کو بزرگ قرار دیا۔

اس کے علاوہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں ارشاد

۱۶۷

ہوا ہے، کہ فرشتے اپنے پروردگار کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے ہیں، اس کی تاویل یہ ہے کہ مؤمنین جو عالمِ معرفت کے فرشتے ہیں امامِ وقت کی فرمانبرداری سے، جو خدا کی عبادت ہے، سرتابی نہیں کرتے، کیونکہ امامِ زمان خدا کا سب سے بڑا نام ہے اور اس کی فرمانبرداری تاویلی زبان میں عبادت ہے۔

۱۶۸

کلید نمبر ۹
ہر چیز کی مقدار

سورۂ رعد کے دوسرے رکوع کے آغاز میں ارشاد ہوا ہے کہ: و کل شیء عندہ بمقدار (۱۳: ۸) اور ہر چیز خدا کے نزدیک ایک مقدار میں ہے۔

اس کلیہ کا یہ مطلب ہوا، کہ اگرچہ زمان و مکان کی بعض چیزیں انسان کو غیر محدود اور لاانتہا نظر آتی ہیں، مثلاً زمانہ اور کائنات، لیکن خدا کے نزدیک ہر چیز محدود اور ایک مقررہ مقدار میں ہے، اور ہر چند کہ دورِ جدید کے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ کائنات، جس میں لاتعداد سیاروں اور ستاروں کی دنیائیں موجود ہیں، بے پایان اور غیر محدود ہے، مگر کلیۂ مذکورۂ بالا کا ارشاد ہے کہ یہ عظیم کائنات بھی اس کی عظمت و وسعت کے باوجود قانونِ قدرت کی ایک معین مقدار کے مطابق ہے، اور زمانہ بھی اپنی بے پناہ طوالت کے باوصف ایک محدود مقدار میں ہے۔

چنانچہ اگر کوئی دانشمند اس کتاب کا چشمِ بصیرت سے مطالعہ کرے تو اس کے ہر کلیہ سے صاف طور پر

۱۶۹

ظاہر ہو گا، کہ اس میں جتنے کلیات درج ہوئے ہیں، وہ سب کے سب ایک دوسرے کی حقیقت پر دلیل ہیں، اسی طرح ان سب سے مذکورۂ بالا حقیقت کی بھی تصدیق و توثیق ہوتی ہے، کہ ہر چیز خدا کے نزدیک ایک معین مقدار میں ہے یعنی ہر چیز خدا کے نزدیک محدود ہے۔

جیسا کہ کلید نمبر ۱ میں ذکر ہوا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے، پھر اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے اور ہر چیز خدا کی قدرت میں محدود ہے، یہی مثال خدا کے علم کی بھی ہے جہاں امامِ مبین کے نور میں ہر چیز کے محدود ہونے کا ذکر ہوا ہے۔

اگر ہر چیز خدا کے نزدیک ایک معین مقدار میں ہے، تو جاننا چاہئے، کہ یہ حقیقت بھی امامِ مبین کے احاطۂ نور اور دائرۂ علمی سے باہر نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو امامِ مبین کی ذاتِ اقدس میں محدود اور محصور کر دیا ہے۔

اس حقیقت کے بعد یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اگرچہ ہر چیز اپنی جگہ پر محدود اور ایک مقررہ مقدار میں ہے، تاہم وہ فنا و بقا یا کہ تغیر و تبدل کے دائرے پر جو چکر کاٹتی رہتی ہے، اس کے اعتبار سے یہ کہنا درست ہے کہ ہر چیز لامحدود ہے، مثلاً دن رات دونوں محدود تو ہیں مگر ان دونوں کے تغیر و تبدل

۱۷۰

سے وقت کا جو دائرہ بنتا ہے وہ غیر محدود ہے، اسی طرح اس سے بڑا دائرہ سال کے چکر کا بنتا ہے، اس کے بعد بڑے بڑے زمانوں کے دائرے ہیں اور اخیر میں جا کر اس کائنات کے مٹ جانے اور پھر وجود میں آنے سے دائرہ بنتا ہے، جو لاانتہا ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر چیز اگر ایک اعتبار سے محدود ہے تو دوسرے اعتبار سے غیر محدود ہے، اور یہی قانونِ قدرت کی تعریف ہے، کہ اس میں ابتدائی و لاابتدائی اور انتہائی و لا انتہائی کی سب خوبیاں موجود ہیں۔

قرآنِ حکیم میں ایسی بہت سی آیات موجود ہیں جن کی گہری حکمتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز ایک محدود مقدار میں ہونے کے باوجود غیر محدود ہے، وہ حقیقت اس طرح سے ہے کہ تمام چیزوں کے جوڑے ہیں یعنی ہر چیز کی ایک ضد یا مقابل ہے، مثلاً دن رات، روشنی و تاریکی، دنیا و آخرت، جسمانیت و روحانیت، ہستی و نیستی وغیرہ، پھر ہر جوڑے کے گھومنے سے ایک دائرہ بنتا ہے، جیسے شب و روز کا گردش کرنا اور ماہ و سال کا بار بار آنا، اسی طرح کائنات کا وجود ایک بہت بڑا دن ہے اور اس کا مٹ جانا ایک بہت بڑی رات ہے، ان دونوں کی بھی ایک گردش ہے، یعنی کائنات و موجودات کے وجود و عدم کا بھی ایک چکر ہے جو تمام دائروں میں سب سے بڑا دائرہ ہے، جس کی

۱۷۱

لاانتہا گردش کے سبب سے ہر محدود چیز لامحدود ہو جاتی ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ ہم کلید نمبر ۲۲ میں اس حقیقت کی مزید وضاحت کریں گے۔

۱۷۲

کلید نمبر ۱۰
مؤمنین کو سب کچھ دیا گیا

سورۂ ابراہیم کے پانچویں رکوع کے اخیر میں ارشاد ہوا ہے کہ: اور جو کچھ تم نے خدا سے مانگا سب تم کو دیا اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہیں سکتے ہو اس میں تو شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف ناشکرا ہے۔ ۱۴: ۳۴۔

اس فرمانِ الٰہی سے ظاہر ہے، کہ حقیقی مؤمنین نے جسمانیت میں یا روحانیت میں بزبانِ قال یا بزبانِ حال پروردگار سے جو کچھ طلب کیا وہ سب اس نے انہیں دے رکھا ہے، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ چیز کون سی ہے جس میں سب کچھ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی ’’جامع الجوامع‘‘ چیز جس میں تمام چیزیں موجود ہیں امامِ مبین کی معرفت ہے، کیونکہ امامِ مبین کے نورِ اقدس میں سب کچھ ہے۔

قرآنِ مجید میں ہے کہ جنت کا طول و عرض بھی کائنات کے طول و عرض کی طرح ہے، جس کا اشارہ عالمگیر روح کی طرف ہے، یعنی عالمگیر روح ہی روحانی جنت ہے،

۱۷۳

جس میں سب کچھ ہے، جو امام کی روح یعنی نور ہے، اس سے وہ سوال ختم ہو جاتا ہے کہ سب کچھ بہشت میں ملنا چاہئے، یا کہ امام کی روح میں؟ کیونکہ بہشت، امام کی روح اور اس کی معرفت ایک ہی حقیقت ہے۔

چنانچہ قرآنِ کریم کا یہ ارشاد مذکورۂ بالا مطلب سے جدا نہیں کہ: و سخر لکم ما فی السمٰوٰت و ما فی الارض (۴۵: ۱۳) اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو تمہارے لئے مسخر کر دیا۔

یہ اصول ہمیشہ کے لئے یاد رہے کہ کسی بڑی چیز کے حاصل ہونے سے وہ تمام چھوٹی چھوٹی چیزیں جو اس سے وابستہ ہیں، خود بخود حاصل ہو جاتی ہیں، مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو باغ و گلشن دیا گیا تو پھر اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام چیزیں خود بخود مل جاتی ہیں، جو باغ و گلشن میں ہیں، جیسے ہر قسم کے میوے، خوش منظر مقام، آرام دو سائے، مہکتے ہوئے رنگ برنگ پھول وغیرہ۔

اسی طرح اگر کسی خوش نصیب انسان کو وہ سب سے عظیم خزانہ مل جائے، جس میں اللہ تعالیٰ کے تمام خزانوں کی کلیدیں ہیں، تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے سعادت مند آدمی کو خدائے جلیل و جبار کے سارے خزانے مل گئے، اللہ تعالیٰ کے سب خزانوں کے کلیدی

۱۷۴

حیثیت کا خزانہ امامِ مبین کی معرفت ہے، جس کے حصول سے ہر چیز حاصل ہو جاتی ہے۔

حدیثِ شریف کا ارشاد ہے کہ: من کان للّٰہ کان اللّٰہ لہ ، یعنی جو شخص خدا کا ہو کر رہے تو خدا بھی اسی کا ہو کر رہتا ہے، یعنی جو آدمی خدا کے ارشادات کی پیروی کرتے کرتے تن من دھن سے خدا ہی کی ملکیت بن جاتا ہے، تو پھر نتیجے کے طور پر خدا بھی ایسے شخص کا بے بہا خزانہ بن جاتا ہے، بے شک خدا تعالیٰ خزانۂ مخفی ہے، اور بموجبِ حدیثِ قدسی یہ خزانہ معرفت کے راستے سے مل سکتا ہے، مگر سب جانتے ہیں کہ پیغمبر کی معرفت کے بغیر خدا کی معرفت ممکن نہیں ہے، اور امامِ وقت کی معرفت کے بغیر پیغمبر کی معرفت ناممکن ہے، پھر وہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ امامِ مبین میں سب کچھ ہے۔

قرآنِ مجید کا ارشاد ہے کہ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون ۔ یعنی ہم خدا کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ایسا کہنے والے کون ہیں؟ صابرین ہی ایسا کہا کرتے ہیں، انہیں یقینِ کامل ہے، کہ وہ خدا کے حضور سے یعنی اس کے نور سے اس دنیا میں آئے ہیں، اس لئے وہ اس بات کے امیدوار ہیں، کہ وہ یہاں سے واپس جا کر پھر خدا کی وحدت میں مدغم ہو جائیں گے، اس حال میں ان کو روحانی بادشاہت کی صورت میں سب کچھ دیا ہوا

۱۷۵

ہو گا، لیکن یہاں یوں سوال ہے، کہ آیا کوئی شخص ’’ اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم ‘‘ کے فرمان پر عمل کئے بغیر صابر کہلا سکتا ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے، تو پھر ہمارا یہ دعویٰ حق بجانب ہو گا، کہ اسلام اور ایمان کی تمام خوبیاں امامِ مبین سے مل سکتی ہیں۔

انبیاء و ائمہ علیہم السلام دنیا میں اس لئے آتے ہیں، کہ وہ دنیا والوں کی صحیح ہدایت کریں، تا کہ لوگ صراطِ مستقیم پر ثابت قدمی سے چل کر خدا کے حضور پہنچ جائیں، وہ حضرات نہ صرف قولی ہدایت کرتے ہیں، بلکہ ہدایت کی پیروی کا عملی نمونہ بھی پیش کرتے ہیں اور اس ہدایت پر عمل کرنے سے جو کچھ صلہ ملنے والا ہے، وہ بھی برملا دکھاتے ہیں، وہ صلہ کیا ہے؟ پیغمبر اور امامِ زمان ہیں، جن کے نورِ اقدس میں سب کچھ موجود ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

و یدخلھم الجنۃ عرفھا لھم (۴۷: ۶) اور ان کو اس بہشت میں داخل کرے گا، جس کا انہیں (پہلے سے ) شناسا کر رکھا ہے۔

۱۷۶

کلید نمبر ۱۱
ہر چیز کے خزانے

قرآنِ حکیم کی ۱۵: ۲۱میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : اور ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم اس کو مقررہ اندازہ سے نازل کرتے رہتے ہیں۔

اس کلیۂ مقدسہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے، کہ البتہ مکانی لحاظ سے نہیں، بلکہ فضل و شرف اور علم و معرفت کے اعتبار سے خدا تعالیٰ کی کوئی قربت و نزدیکی ہے، جہاں ہر چیز کے خزانے موجود ہیں اور وہ خزانے امامِ مبین کے مقدس نور میں ہیں، اور اس حقیقت کی مثال ہم ظاہری سورج سے لے سکتے ہیں، کہ سورج میں اس عظیم کائنات کے تمام ستاروں اور سیاروں کی تکوینی دولت کے بے پایان خزانے موجود ہیں، یعنی مادی قسم کی دولت کے خزانے، کیونکہ نہ صرف ہر ستارہ اور ہر سیارہ بحکمِ خدا سورج کے فعل سے پیدا ہوتا ہے، بلکہ عناصر، پہاڑ، جمادات، معدنیات اور نباتات کے علاوہ حیوانات اور انسان کا جسم بھی سورج کی بدولت مکمل ہو جاتا ہے، پس اسی طرح عالمِ روحانیت کی تخلیقی دولت کے تمام خزانے

۱۷۷

امامِ مبین کے نورِ اقدس میں موجود ہیں۔

سورج کی اس عمدہ مثال کے بعد یہ بھی ہمارا علمی فرض ہے کہ آپ کو ثابت کر کے بتائیں، کہ سورج کی بے پناہ طاقتوں کی محرک روح کا سرچشمہ کہاں ہے، چنانچہ مذکورۂ بالا ارشاد سے ظاہر ہے کہ ہر چیز کے خزانے خدا کے پاس ہیں، جس کا مطلب بتایا گیا کہ اللہ کے یہ خزانے امامِ مبین کے نور میں موجود ہیں، اب جبکہ امامِ برحق علیہ السلام کے پاک نور میں خداوند تعالیٰ کے تمام خزانے موجود ہیں، اور پروردگار کے ان خزانوں سے کوئی شی باہر نہیں، تو معلوم ہوا کہ آفتابِ عالم تاب کی بے پناہ اور بے پایان طاقت کی محرک روح بھی امام کے نور کے خزانوں سے جاری و ساری ہے۔

اس حقیقت کی دوسری دلیل یہ ہے، کہ قرآنِ حکیم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلعم کو تمام عالموں کے لئے نورِ مطلق اور رحمتِ کل کی حیثیت سے بھیجا تھا، پھر جب سرورِ عالم ساری کائنات اور سب جہانوں کے حق میں نور اور رحمت تھے، تو لازمی طور پر آنحضرت سورج کے لئے بھی اسی حیثیت سے تھے، کیونکہ سورج بھی ایک عالم ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ حضورِ اکرم کی ذاتِ اقدس سے آفتابِ جہان تاب کو نور کی صورت میں طبعی ہدایت اور رحمت کی حیثیت سے متعلقہ روح ملتی رہتی تھی، پھر آپ کے

۱۷۸

بعد آپ کے وارث اور جانشین یعنی ائمۂ اطہار علیہم السلام سلسلہ وار اسی حیثیت سے ہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کی بے بدل عادت اور اس کا اٹل قانون ہے، کہ ہر زمانے میں اس کے نور اور رحمت کا ایک مظہر ہوا کرتا ہے، خواہ وہ پیغمبر ہو یا کہ امام، پس یہ حقیقت واضح اور روشن ہو کر سامنے آ گئی، کہ امامِ مبین کا نور سورج کے مادی فیوض و برکات کا بھی سرچشمہ ہے۔

۱۷۹

کلید نمبر ۱۲
شہد کی مکھی کی مثال

سورۂ نحل کے نویں رکوع میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ: ثم کلی من کل الثمرات فاسلکی سبل ربک ذللا (۱۶: ۸۹) اور ہر قسم کے میوے کھا اور اپنے پروردگار کے مسخر راستوں میں چلی جا۔

پروردگارِ عالم کا یہ خطاب ظاہر اور تنزیل کے اعتبار سے شہد کی مکھی کے لئے ہے مگر باطن اور تاویل کے لحاظ سے اس خطاب کا تعلق حجت اور پیر سے ہے، کہ وہی شخص جو امامِ زمان علیہ السلام کی جانب سے حجت، پیر، یا داعی کے لقب سے اور بعض دفعہ کسی اور نام سے بھی مقرر ہوتا ہے، شہد کی مکھی کا ممثول ہے، اور شہد کی مکھی اسی شخص کی مثال ہے، کیونک جس طرح شہد کی مکھی مختلف پھولوں اور پھلوں سے رس چوس کر اپنے بطن میں شہد بناتی ہے، اسی طرح امامِ برحق علیہ السلام کا علمی نمائندہ روحانیت کے پھولوں اور پھلوں سے اپنے باطن میں علمِ تاویل کا شہد تیار کرتا ہے، اس کے لئے علم و حکمت کے راستے ایسے صاف، مسخر اور آسان ہیں، جیسے شہد کی مکھی

۱۸۰

کے راستے، کہ وہ بڑی آسانی سے ایک پھول سے دوسرے پھول پر اڑ سکتی ہے۔

شہد کی مکھی جن مختلف پھولوں اور جدا جدا پھلوں سے شہد بناتی ہے ان سب کا ذائقہ مل کر شہد کا ایک ہی مزہ بن جاتا ہے، اور اس میں دوسرا کوئی ذائقہ باقی نہیں رہتا، اسی طرح حجت، جس کو امام حی و حاضر علیہ السلام کی روحانی تائید حاصل ہے، مختلف تنزیلات کی ایسی موافق تاویل کر سکتاا ہے، کہ وہ عقل کے نزدیک شہد کی طرح خوشگوار اور یقینی ہو جاتی ہے اور اس میں کوئی تضاد نہیں ہوتا۔

آیۂ مذکورۂ بالا میں بصورتِ تنزیل شہد کی مکھی سے فرمایا گیا ہے کہ: ’’اور ہر قسم کے میوے کھا اور اپنے پروردگار کے مسخر رستوں پر چلی جا‘‘۔ ہر دانا شخص اس مقام پر تاویل کی اہمیت سمجھ سکتا ہے ، کہ دنیا میں جہاں کہیں شہد کی مکھیاں ہوتی ہیں، وہاں ہر قسم کی میوے جمع تو نہیں ہوتے اور نہ ہر نوع کے پھول یکجا ہو سکتے ہیں، اس کے علاوہ پروردگار کے رستے باغوں اور جنگلوں میں ، جہاں شہد کی مکھیاں ہوں، نہیں پائے جا سکتے، پس اس سے ظاہر ہے، کہ ہم اس آیۂ مبارکہ کی جو تاویل کر رہے ہیں، وہ درست ا ور صحیح ہے، ہر چند کہ اس کی اور بھی تاویلیں ہیں۔

چنانچہ جسمانی اور ظاہری حالت میں یہ بات بالکل

۱۸۱

ناممکن ہی ہے کہ دنیا کے کسی ایک مقام پر ہر موسم اور ہر ملک کے تمام پھول اور پھل یکجا موجود ہوں، مگر اس کے برعکس روحانی اور باطنی صورت میں ہر قسم کے پھول اور ہر طرح کے میوے ایک ہی مرکز پر جمع ہو سکتے ہیں، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا پاک ارشاد ہے کہ:
کیا ہم نے ان کو امن و امان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس سے کھانے کو ملتے ہیں ولیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ ۲۸: ۵۷۔ جاننا چاہئے کہ حرم کی تاویل امامِ زمان ہے، کیونکہ امام ہی خدا کے پاک نور کا حقیقی گھر اور نہانخانۂ اسرارِ توحید ہیں، جہاں ہر قسم کے روحانی میوے کھنچے چلے آتے ہیں، اور یہ رزق دنیاوی نہیں بلکہ خدا کے حضور سے آتا ہے۔

اس سے یہ تاویل ظاہر ہوئی کہ مرتبۂ حجتی پر فائز ہونے والے سے فرمایا جاتا ہے کہ تم اپنے امامِ وقت کے روحانیت میں داخل ہو جاؤ اور تنزیل کے باغات کے پھولوں اور پھلوں کے ہر نمونے سے تاویل کا شہد بناؤ اور اپنے پروردگار کے علم و حکمت کے مسخر رستوں پر چلو پھرو۔

سورۂ نحل میں شہد کی مکھی کے بارے میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے اس کی مجموعی تاویل یہ ہے کہ : اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی، یعنی آپ کے پروردگار

۱۸۲

نے ہونے والے حجت سے مخاطبہ فرمایا، کہ تو پہاڑوں میں گھر بنا لے، یعنی تم سے قبل جو دوسرے حجت علم کے پہاڑ ہیں، ان کے ساتھ روحانی رابطہ رکھو، اور درخت میں بھی گھر بنا لے، یعنی حجتوں کے بعد اپنے امامِ وقت کی معرفت تک رسائی کرو جو امامت کا سدا بہار درخت ہے، یعنی شجرۂ طیبہ جو ہر وقت پھل دیتا ہے اور اس چیز میں بھی گھر بنا لے جو وہ بلند کرتے ہیں، یعنی امامِ زمان کی معرفت کی روشنی میں حدودِ علوی کی حکمتوں سے بھی فیض حاصل کرو، پھر ہر قسم کے پھلوں سے کھا لے، یعنی روحانی اور علمی میوؤں سے کھا لو، پھر اپنے رب کے صاف اور مسخر رستوں پر چلی جا، یعنی اپنے رب کے علم و حکمت کے میدان میں چلو پھرو کہ تمہارے لئے کوئی رکاوٹ اور کوئی الجھن نہیں، اس کے پیٹ میں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کی رنگتیں مختلف ہوتی ہیں یعنی حجت کے باطن سے گوناگون تاویلات ظاہر ہوتی ہیں، جو روحانی غذا ہے، کہ اس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے، یعنی حجت کی تاویلات کی بدولت لوگ نادانی اور جہالت کی بیماری سے شفایاب ہو جاتے ہیں، یقیناًاس میں فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں، یعنی جو لوگ عقل و دانش سے غور و فکر کرتے ہیں، وہ اس حقیقت کو جانتے ہیں، کہ یہ تمام چیزیں، جن کا ذکر ہوا، امامِ برحق کے روحانی اور علمی معجزات ہیں۔

۱۸۳

کلید نمبر ۱۳
تمام تمثیلات

سورۂ کہف کے آٹھویں رکوع میں ہے کہ:

و لقد صرفنا فی ہٰذا القرآن للناس من کل مثل ۔ ۱۸: ۵۴۔ اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔

اس کلیۂ مقدسہ کا واضح مفہوم یہ ہے، کہ پروردگارِ عالم نے قرآنِ حکیم میں ایک ہی حقیقتِ جامعہ کی مثالیں پھیر پھیر کر بیان کر دی ہیں، چنانچہ ہر مثال میں اسی حقیقتِ واحدہ کی ایک گونہ صورت پنہان ہے، اور جہاں مثل الاعلیٰ ہے، وہاں حقیقتِ واحدہ یا کہ حقیقت الحقائق ہے، پھر اس بیان کے یہ معنی ہوئے، کہ ساری مثالیں مثل الاعلیٰ کی مختلف تفصیلات ہیں اور تمام حقیقتیں حقیقتِ واحدہ کی جدا جدا تشریحات۔

چنانچہ مثل الاعلیٰ کے بارے میں خداوندِ عالم کا ارشاد ہے کہ: و لہ المثل الاعلیٰ فی السمٰوٰت و الارض و ھو العزیز الحکیم ۔ ۲۷:۳۰۔ اور آسمانوں اور زمین میں بلند ترین مثال اسی کی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

۱۸۴

اس آیۂ مبارکہ سے یہ حقیقت ظاہر ہے، کہ ہر چند کہ باری سبحانہ کی ذاتِ بے چون کی کوئی مثال نہیں، تاہم اس نے جملہ مثالوں میں سے ایک مثال کو اپنی ذاتِ پاک سے منسوب کرنے کے لئے منتخب فرمایا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے کہ: لیس کمثلہ شیء و ھو السمیع البصیر ۴۲: ۱۱۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سنتا دیکھتا ہے۔ اور اس کا تاویلی اشارہ ہے کہ حق تعالیٰ کی مثال جیسی کوئی شی نہیں، یعنی اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے مگر کوئی چیز اس اعلیٰ مثال کی مثال نہیں بن سکتی، اور یہ تمام اشارے کمثلہٖ میں پوشیدہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مثل الاعلیٰ تمام مثالوں میں سے ارفع و اعلیٰ اس لئے ہے، کہ یہ اپنی تمام معنوی اور تاویلی خوبیوں کی وجہ سے دوسری سب مثالوں سے ممتاز اور مخصوص ہے۔

جاننا چاہئے کہ مثل الاعلیٰ کا ذکر سورۂ نور میں کیا گیا ہے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: اللّٰہ نور السمٰوٰت والارض مثل نورہ کمشکوٰۃ فیھا مصباح ۲۴: ۳۵۔ خدا سارے آسمان و زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثل ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے جس میں ایک روشن چراغ ہو۔

پس وہ مثل الاعلیٰ جو کائنات و موجودات پر حاوی اور محیط ہے، یہی ہے، جس کا ذکر ہوا، اس کی تمام معنوی

۱۸۵

اور تاویلی خوبیوں کو کوئی فردِ بشر ضبطِ تحریر میں نہیں لا سکتا، اور اس کی بنیادی خوبی اس حقیقت میں ہے، جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کہ خدا، رسول اور امامِ مبین کا ایک ہی نور ہے، اور یہی ایک نور جملہ اوصافِ کمالیہ سے موصوف ہے، جبکہ حضرتِ باری تعالیٰ کی ذات ہر صفت سے پاک و منزہ ہے، جیسا کہ ارشاد ہے کہ:

سبحٰن ربک رب العزۃ عما یصفون ۔ ۳۷: ۱۸۰۔ آپ کا رب جو عزت کا پروردگار ہے ان تمام اوصاف سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ مطلب یہاں صاف طور پر واضح ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر صفت اور ہر وصف سے پاک و بے نیاز ہے، کیونکہ وہ عزت کا پروردگار ہے، یعنی حدودِ روحانی و جسمانی کی عزت کا بلند کرنے والا ہے، یہاں تک کہ عزت کی بلندی کی انتہا آئے مگر وہ خود ہر صفت سے پاک اور ہر چیز سے بے نیاز ہے۔

مذکورۂ بالا بیان کی روشنی میں اب یہ بتلا دینا آسان ہے ،کہ امامِ مبین کا نور کوئی محدود نور نہیں بلکہ وہی مطلق نور ہے وہی مثل الاعلیٰ کا ممثول اور وہی حقیقت الحقائق ہے، اور یہی مقدس نور انہی معنوں کے ساتھ خدا کا نور کہلاتا ہے، جس میں وہ تمام صفات موجود ہیں، جو خدا تعالیٰ سے منسوب کی جاتی ہیں۔

۱۸۶

اب جبکہ یہ حقیقت واضح ہو چکی، کہ نورِ مطلق ایک ہی ہے، جس کا حامل ہمیشہ سے امامِ مبین ہے، تو پھر ہم بیان کر دیں گے، کہ ایک ہی حقیقت کی کئی مثالیں یا کئی اعتبارات کس طرح ممکن ہیں، چنانچہ خداوند عالم نے آیۂ بیعت میں آنحضرت کے دستِ مبارک کو اپنا ہاتھ قرار دے لیا ہے، ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس مثال میں اس فعل کو بھی اپنا لیا ہے، جو حضورِ اکرم کے مبارک ہاتھ سے مکمل ہوا تھا، جیسا کہ ارشاد ہے کہ:

ید اللّٰہ فوق ایدیھم ۴۸: ۱۰۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ یعنی پیغمبر صلعم کا ہاتھ، جس نے مسلمانوں سے بیعت لیا، خدا کا ہاتھ ہے، اور رسول اللہ کے بیعت لینے کا جو فعل ہے، وہ بھی اسی نسبت سے خدا کا فعل ہے، پس آیۂ بیعت کے ان مبارک الفاظ سے نہ صرف یہ معلوم ہوا، کہ ایک ہی حقیقت کے کئی اعتبارات ہو سکتے ہیں، بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا، کہ اللہ تعالیٰ انسانِ کامل کے قول و فعل کو اپنا قول و فعل قرار دے سکتا ہے۔

نیز ارشاد ہے کہ: و ما رمیت اذ رمیت و لٰکن اللّٰہ رمیٰ ۔ ۸: ۱۷۔ اور (اے محمد) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اس ارشاد میں بھی پھر وہی حقیقت ہے کہ خدا نے انسانِ کامل کے فعل کو اپنا فعل ٹھہرا لیا ہے۔

۱۸۷

اس کے بعد آپ اس حقیقت پر غور کریں، کہ آیا پیغمبر کی مثال مثل الاعلیٰ کے ساتھ مل کر ایک ہو سکتی ہے یا نہیں؟ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
و داعیا الی اللّٰہ باذنہ و سراجا منیرا ۔ ۳۳: ۴۶۔ اور آپ خدا کی طرف بلانے والے ہیں اس کے حکم سے اور روشن چراغ ہیں۔ نیز خدا نے قرآن میں یہ بھی فرمایا، کہ آنحضرت ساری کائنات کے لئے رحمت تھے (۲۱: ۱۰۷) اب اگر ہم خدا کے اس روشن چراغ کی وسعتِ روشنی کا تصور کائناتی رحمت (رحمۃ اللعالمین) کے تقاضے کے مطابق کریں، تو سارے آسمانوں اور زمین میں اسی خدائی چراغ کی روشنی کے سوا اور کوئی روشنی تصور میں نہ آئے گی، پس معلوم ہوا، کہ پیغمبر اکرم کی مثال مثل الاعلیٰ کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

اب امامِ مبین کی مثال سنئے، جو ارشاد ہے کہ: اے ایمان والو خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا، اور تمہارے لئے ایک نور مقرر کر دے گا، جس کی روشنی میں تم چل سکو گے اور تم کو بخش دے گا۔ ۵۷: ۲۸۔ جاننا چاہئے کہ یہاں خدا سے کماحقہ ڈرنے اور رسول محمد پر جیسا کہ چاہئے ایمان لانے میں قرآن اور شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اب رہا اس کے اجر و صلہ کا سوال، جو ظاہر و باطن اور دنیا

۱۸۸

اور آخرت میں ملنا چاہئے، تو وہ اس طرح سے ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کے توسط سے مؤمنین کی ہدایت و رہنمائی کے لئے امام مقرر کر دے، تا کہ وہ امام کے نور کی روشنی میں چل سکیں۔

خدا و رسول نے مؤمنین کے لئے جس نور کا تقرر فرما دیا ہے، اس کے ظاہری معنی تو یہ ہوئے، کہ گروہِ مؤمنین کے لئے امام مقرر کر دیا گیا، یہ تو مانا گیا، لیکن اب اس کی تاویل کا سوال ہے، تو بتائیے، کہ اس کی تاویلی حقیقت کیا ہے؟

الجواب: حقیقی مؤمنین کے لئے خدا و رسول کے نور مقرر کر دینے کی تاویل یہ ہے، کہ حقیقی محبت و فرمانبرداری کے نتیجے میں مؤمنین کے طاقِ دل میں مصباحِ امامت کا نور جلوہ گر ہونے لگتا ہے، پھر ’’نور علیٰ نور‘‘ کے اصول کے مطابق اس کی علمی و عرفانی روشنی میں اضافہ ہوتا فاتا ہے، یہاں تک کہ وہ تمام کائنات و موجودات کو گھیر کر اپنے باطن میں محدود کر لیتا ہے، اسی معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ: و کل شیء احصیناہ فی امام مبین ۔ ۳۶: ۱۲۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک پوشیدہ امر ہے کہ تم ہر چیز کے لئے امامِ مبین کی طرف رجوع کرو، پس ثابت ہوا، کہ مثل الاعلیٰ کی تاویل میں خدا، رسول اور امامِ برحق کا ایک ہی نور ہے۔

۱۸۹

کلید نمبر ۱۴
ذوالقرنین

ذوالقرنین کون تھا؟ کیا وہ ایک جہانگیر بادشاہ تھا، یا پیغمبر، یا اپنے وقت کا امام؟ اس سوال کا صحیح جواب نہیں دیا جا سکتا، جب تک کہ اس کے بارے میں ان قرآنی حقائق کا انکشاف نہ ہو، جو ذوالقرنین کے قصے میں ہیں۔

چنانچہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: و یسئلونک عن ذی القرنین ۔ قل ساتلوا علیکم منہ ذکرا۔ ان مکنا لہ فی الارض و اٰتینٰہ من کل شیء سببا ۔ فاتبع سببا ۔ ۱۸: ۸۳ تا ۸۵۔ (اے محمد) وہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں اس کے بارے میں کچھ بیان کر دیتا ہوں۔ بے شک ہم نے اس کو زمین (روحانیت) میں قدرت دی تھی اور ہم نے اس کو ہر چیز کا سبب (رستہ) دیا تھا پس وہ ایک رستہ پر ہو لیا۔

اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادِ مبارک دانشمند مؤمنوں کو اس بات کی دعوت دیتا ہے، کہ وہ غور و فکر سے اس کی معنوی گہرائیوں تک رسا ہو کر اس کی حقیقتوں کو حاصل

۱۹۰

کر لیں، چنانچہ ’’ و اٰتینٰہ من کل شیء سببا ‘‘ کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ذوالقرنین کو آسمان و زمین اور ظاہر و باطن کی سب چیزوں کے وسائل و ذرائع مہیا کر دیئے تھے، پس حقیقی مؤمنوں کے نزدیک اس فرمانِ الٰہی کا مطلب بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ’’ و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ‘‘ کا ہے۔

جس طرح کہ اس کتاب کے تمام موضوعات میں ایسی قرآنی آیات سے بحث کی گئی ہے، جن میں لفظ ’’کل‘‘ آیا ہے، اور ایسی آیات کو جو کلیات میں سے ہیں بطورِ ثبوت پیش کیا گیا ہے کہ ان میں جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ ظاہری اور باطنی قسم کی ساری چیزوں کے بارے میں ہے، اسی طرح آیۂ مذکورہ بالا میں ’’کل شیء‘‘ سے روحانیت اور جسمانیت کی تمام چیزیں مراد ہیں۔

یہاں اس حقیقت کی ایک اور مثال خود قرآنِ حکیم سے یہ ہے کہ: ام لھم ملک السمٰوٰت و الارض و ما بینھما فلیرتقوا فی الاسباب ۔ ۳۸: ۱۰۔ کیا ان کو آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان کے درمیان ہیں ان کی بادشاہی حاصل ہے (اگر ایسا ہے) تو ان کو چاہئے کہ سیڑھیوں سے آسمان پر چڑھ جائیں۔

جاننا چاہئے کہ یہ مثال ظاہر اور باطن میں غیر امکانیت

۱۹۱

اور امکانیت کے دو معنی رکھتی ہے، اور اس کی امکانیت یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ جن حضرات کو چاہے آسمانوں اور زمین کی روحانی بادشاہی عطا کرتا ہے، اور جن اسباب سے کائنات کی روحانی سلطنت مل سکتی ہے، وہ اسباب گویا آسمانوں اور زمین کی کلیدیں ہیں، جیسا کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: لہ مقالید السمٰوٰت و الارض و الذین کفروا باٰیٰت اللّٰہ اولٰئک ھم الخٰسرون ۔ ۳۹: ۶۳۔ اور اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی اور جو لوگ اللہ کی نشانیوں کو نہیں مانتے وہ بڑے خسارے میں ہیں۔ جاننا چاہئے کہ کسی مکان کا دروازہ، قفل اور کلید اس لئے ہوتی ہے کہ مالک جن کو چاہے اپنے مکان میں داخل کر دے اور جن کو نہ چاہے داخل نہ ہونے دے۔

چنانچہ قرآنِ پاک کی۶: ۷۵ میں ہے کہ: اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھاتے تھے تا کہ وہ اہلِ یقین میں سے ہو۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی روحانی بادشاہی دیکھنے کی کنجیاں عنایت فرمائی تھیں، یا یوں کہنا چاہئے ، کہ خدا نے اسے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کے اسباب یعنی رستے بتا دئے تھے۔ پس یہی مثال حضرت ذوالقرنین کی بھی ہے، کہ ان کو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کے باطنی رستے بتائے

۱۹۲

گئے تھے، کیونکہ ذوالقرنین اپنے وقت کے امام تھے۔

قرآنِ حکیم میں حضرت ذوالقرنین کا مختصر قصہ ہے وہ دراصل تاویل طلب ہے، مثلاً وہ سورج ڈوبنے کی جگہ پر پہنچ گئے جہاں سورج ایک کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا تھا، اس سے صاف طور پر ظاہر ہے ، کہ یہ سورج مادی اور دنیاوی سورج نہیں تھا، بلکہ یہ روحانی اور دینی سورج تھا جسے دوسرے الفاظ میں نورِ توحید کہا جاتا ہے، اور کیچڑ کے چشمے سے دو اصلِ جسمانی مراد ہیں، جو روحانی مغرب ہیں ، یعنی ناطق اور اساس، جیسے تخلیقِ آدم کے بارے میں ارشاد ہے کہ و لقد خلقنا الانسان من صلصال من حما مسنون ۔ ۱۵: ۲۶۔ اور ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی تھی پیدا کیا ۔ اور مشرق کی تاویل عقلِ کل اور نفسِ کل ہیں جہاں سے نورِ توحید طلوع ہو کر ناطق اور اساس میں غروب ہو جاتا ہے۔

کتاب ’’الامامۃ فی الاسلام‘‘ کے صفحہ ۱۴۸ سے معلوم ہوتا ہے، کہ حضرت ذوالقرنین علیہ السلام دورِ نوح کے سلسلۂ ائمۂ مستقر میں سے ہیں چنانچہ آپ کا شجرۂ نسب یہ ہے: ذوالقرنین بن عابر بن شالخ بن قینان بن ارفکشاد بن سام بن نوح، یعنی آپ حضرت نوح سے ساتویں پشت ہیں۔

مذکورۂ بالا حقائق سے ظاہر ہوا، کہ حضرت ذوالقرنین اپنے وقت کے امام تھے اور ان کے مشرق و مغرب کے سفر

۱۹۳

کا سارا قصہ روحانی اور تاویلی ہے۔
نیز حضورِ اکرم صلعم کے ایک مبارک ارشاد سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے کہ حضرت ذوالقرنین امام تھے، چنانچہ آنحضرت نے مولانا علی سے فرمایا کہ: یا علی ان لک کنزا من الجنۃ و انک لذوقرنینھا ۔ یعنی (یا علی) جنت میں آپ کے لئے ایک مکان مخصوص ہے اور آپ اس امت کے ذوالقرنین ہیں۔ سبحان اللہ ارشادِ نبوی کی معنوی شان کس قدر بلند ہے، کہ اس مبارک حدیث میں امام شناسی کے جملہ اسرار موجود ہیں، ان میں سے ایک یہ کہ اگر علی ذوالقرنین کی طرح ہیں تو ذوالقرنین بھی علی کی طرح ہیں، پس اگر علی امام ہیں تو ذوالقرنین بھی اپنے وقت کے امام تھے، دوسرا یہ کہ قرآن کے تاویلی قصے میں جو تعریف و توصیف ذوالقرنین کے متعلق ہے، اس کا تعلق علی سے بھی ہے، جبکہ علی ذوالقرنین کے ہمصفت ہیں، تیسرا یہ کہ جب تک دنیا میں آنحضرت کی امت ہے، تب تک علی بھی انہی اوصاف کے ساتھ جو مذکور ہوئے حاضر اور موجود ہیں، کیونکہ آنحضرت نے مذکورہ ارشاد میں اس امت کے درمیان ایک ذوالقرنین کا مبارک وجود لازمی قرار دے دیا ہے۔

۱۹۴

کلید نمبر ۱۵
یاجوج و ماجوج

یاجوج و ماجوج کے بارے میں ظاہری کتابوں میں مختلف قسم کی روایتیں پائی جاتی ہیں، جن کی کثرتِ اختلاف کے سبب سے حقیقت پر جو پردہ پڑا ہے، اس کا ہٹانا کوئی آسان بات نہیں ہے، لیکن امامِ زمان (جو خدا و رسول کی طرف سے ہادئ برحق ہیں) کی دستگیری اور تائید کے اعتماد پر اس موضوع کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔

قرآنِ حکیم میں یاجوج و ماجوج کا تذکرہ بطریقِ اجمال دو دفعہ آیا ہے، جو سورۂ کہف میں حضرت ذوالقرنین کے قصے کے سلسلے (۱۸: ۹۱ تا ۹۸) میں ہے اور سورۂ انبیاء (۲۱: ۹۵ تا ۹۷) میں ہے۔

چنانچہ امامِ وقت کی حیثیت سے حضرت ذوالقرنین پر عالمِ روحانی کے تمام دروازے کھلے ہوئے تھے، انہوں نے اپنی نورانیت میں تمام خلائقِ عالم کی روحوں کا مشاہدہ کیا، یہ روحیں تین قسموں میں تھیں، یعنی اہلِ دنیا کی روحیں جن کا دوسرا نام یاجوج و ماجوج ہے، اہلِ ادیان کی روحیں اور اہلِ اللہ کی روحیں، پس حکمت کا تقاضا یہ تھا، کہ سب سے

۱۹۵

پہلے دین والوں کی روحوں کا مشاہدہ ہو، چنانچہ ذوالقرنین نے ایسی قوم کو نورِ ہدایت کے مغرب میں دیکھا، ان میں بھلائی اور برائی دونوں کی صلاحیت موجود تھی، اس کے بعد آپ روحانیت کے مشرق میں پہنچ گئے، جہاں ان کے مشاہدے میں ایسی روحیں آ گئیں، جن پر ہر وقت نورِ ہدایت کا سورج بلا واسطہ طلوع ہوتا رہتا تھا، یہ اہلِ اللہ کی روحیں تھیں، جن میں سوائے نیکی کے کچھ بھی نہیں تھا، اخیر میں حضرت ذوالقرنین علیہ السلام روحانیت کے ایسے مقام پر پہنچے، جہاں خلیفۂ خدا یعنی پیغمبر اور امام کے لئے ممکن ہوتا ہے، کہ وہ اہلِ دنیا کی روحوں کے شر و فساد سے مؤمنوں کو محفوظ رکھیں، جس میں مؤمنین پر بھی انتہائی حد کی فرمانبرداری کا فریضہ واجب ہوتا ہے۔

چنانچہ اہلِ دنیا کی روحوں یعنی یاجوج و ماجوج کے شر و فساد سے بچنے کے لئے اس وقت کے مؤمنین نے حضرت ذوالقرنین سے یعنی امامِ وقت سے درخواست کی، پس آپ کے علمِ روحانی اور مریدوں کے عملِ جسمانی سے حفظ و امان کی ایک مضبوط روحانی دیوار یاجوج و ماجوج کے سامنے کھڑی کر دی گئی، جس کے اوپر سے وہ چڑھ نہیں سکتے تھے، اور نہ اس میں سوراخ کر سکتے تھے، ذوالقرنین نے فرمایا کہ یہ میرے پروردگار کی ایک رحمت و مہربانی ہے پھر جب میرے پروردگار کا وعدۂ قیامت آئے گا اس کو ریزہ ریزہ کر

۱۹۶

دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچ ہے۔

اس کے بعد قرآنِ حکیم کا یہ واضح اشارہ ہے، کہ دورِ قیامت یعنی دورِ روحانیت کے آغاز میں یاجوج و ماجوج (یعنی اہلِ دنیا کی روحوں) کو کچھ وقت کے لئے موقع دیا جائے گا، جس میں بعض روحیں جسمانی طریق پر اور بعض روحانی طور پر شر و فساد میں مصروف ہوں گی، پھر ایک زمانے کے بعد صور پھونکا جاوے گا، جس کی بدولت خلائقِ عالم کی جملہ ارواح ایک ہی ملی وحدت کے رشتے میں منسلک ہو جائیں گی

قرآنِ مجید کے دوسرے مقام پر یاجوج و ماجوج کا بیان اس طرح آیا ہے کہ: اور ہم جس بستی کو ہلاک کر چکے ہیں اس کے لئے ممانعت ہے کہ وہ رجوع کرے (یعنی جو لوگ عذابِ الٰہی سے روحانی طور پر ہلاک ہوئے ہیں ان کی روحوں کے لئے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ لوٹ کر پھر دنیا میں آئیں) یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوں گے (۲۱: ۹۵ تا ۹۶) یاد رہے کہ ہر بلندی کا مطلب یہاں ہر حقیقی مؤمن کی روحانیت ہے جو دنیا والوں سے بلند تر ہے، کیونکہ حضرت اسرافیل حقیقی مؤمنوں کی روحانیت میں سے صور پھونکے گا، اس لئے یاجوج و ماجوج اور دوسری تمام روحیں صور کی آواز کی طرف دوڑیں گی، جہاں سے وہ پھر دنیا میں منتشر ہو جائیں

۱۹۷

گی، جیسا کہ قولِ قرآن ہے کہ: و نفخ فی الصور فاذا ھم من الاجداث الیٰ ربھم ینسلون (۳۶: ۵۱) پھر جب صور پھونکا جائے وہ یکایک قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف دوڑنے لگیں گے۔ یعنی تمام روحیں جو انسانی جسم کی قبروں میں مدفون ہیں، وہ وہاں سے بحکمِ خدا اٹھ کر صورِ اسرافیل کے پاس، جو حقیقی مؤمنین میں ہے، جمع ہو جائیں گی، جہاں ان کے پروردگار کا نور اسمِ اعظم کی صورت میں موجود ہے۔

۱۹۸

کلید نمبر ۱۶
ہر چیز کی خلقت و ہدایت

قرآنِ مقدس کی (۲۰: ۵۰) میں فرمایا گیا ہے کہ: قال ربنا الذی اعطیٰ کل شیء خلقہ ثم ھدیٰ (۲۰: ۵۰) (موسیٰ نے ) کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو خلقت (یعنی مادی شکل و صورت) بخشی پھر راہ دکھائی۔

اس کلیۂ مقدسہ کی ان گنت حکمتوں میں سے جو باتیں قابلِ فہم ہیں ان کی یہاں وضاحت کی جاتی ہے، اول یہ کہ یہ آیتِ پاک حکمت کی زبان میں فرما رہی ہے، کہ ہر چیز عالمِ امر یعنی عالمِ روحانی میں ازلی و ابدی طور پر موجود ہے، جس کا وجود و صورت محض عقلی اور روحانی کیفیت میں ہے۔

دوم یہ کہ عالمِ امر کی حقیقتیں اشیاء کہلاتی ہیں، یعنی چیزیں، بلکہ چیزیں دراصل وہی ہیں، کیونکہ دنیا کی ہر مادی چیز آخرت کی اصلی چیز کا سایہ ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ’’کل شیء‘‘ میں بحقیقت عالمِ امر کی چیزوں کا ذکر ہے، ہاں یہ بات بھی درست ہے کہ جہاں کل شیء کا ذکر ہے وہاں تمام چیزوں کے سائے بھی شامل ہیں۔

سوم یہ کہ ہر چیز عالمِ امر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے

۱۹۹

موجود ہے ساتھ ہی ساتھ اس کو عالمِ خلق میں بھی ایک مادی وجود دیا جاتا ہے، یہ ہوا خدا کی طرف سے ہر چیز کو خلقت بخشنا، درحالیکہ چیزوں کا مادی وجود یعنی خلقی صورت بار بار مٹائی جاتی ہے اور بار بار بنائی جاتی ہے، جبکہ اشیاء کی امری صورت لافانی ہے۔

چہارم یہ کہ ہر چیز، جو بیک وقت دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی، اس کو اس کی ضرورت کے مطابق ہدایت دی گئی ہے یعنی راہ دکھائی گئی ہے، اور ان دونوں جہان کی اس ہمہ گیر و ہمہ رس ہدایت کا سرچشمہ خدا کا نور ہے، جیسے ارشاد ہوا ہے کہ: اللّٰہ نور السمٰوٰت والارض جس کا مفہوم ہے کہ خدا کائنات کے ظاہر و باطن کی ہر چیز کے لئے ہدایت کا نور ہے، مگر جسا کہ بتایا گیا، کہ ہدایت موجودات و مخلوقات کے درجات کے مطابق کارفرما ہوتی ہے۔

اب یہاں ہمیں عالمِ خلقی کی چیزوں کی ہدایت کے بارے میں کچھ مختصر بیان کرنا چاہئے، چنانچہ خدا کے اس نورِ مطلق کی طرف سے، جس کی معرفت کے موضوعات پر یہ کتاب لکھی گئی ہے، سب سے پہلی ہدایت آسمانوں، سیاروں اور ستاروں کو حاصل ہے، جس کی بدولت وہ نہ صرف وجود میں آئے، بلکہ اسی نورانی ہدایت کے بل بوتے پر وہ اپنے اپنے محدود دائروں میں گردش کرتے ہوئے مصروفِ عمل بھی ہیں۔

۲۰۰

دوسری ہدایت عناصرِ اربعہ کو ملی ہے، جو گرمی، سردی، خشکی اور تری کی طبعی کیفیت میں پنہان ہے، تیسرے درجے کی ہدایت موالیدِ ثلاثہ کو حاصل ہے، جو جمادات، نباتات اور حیوانات ہیں، اور ہدایت ان کے مختلف طبقات کے مطابق ہے، مثال کے طور پر جمادات کی ہدایت بھی ان کی طبعی کیفیت میں پوشیدہ ہے، نباتات کی ہدایت روحِ نامیہ کی قوتوں کی صورت میں ہے، حیوانات کی ہدایت روحِ حسی یعنی روحِ حیوانی کی حیثیت میں ہے اور انسانوں کی ہدایت روحِ ناطقہ کی شعوری طاقتوں کے توسط سے ہے۔

چونکہ روحِ ناطقہ یا کہ انسانی روح اگر ایک طرف سے حیوانی روح سے متصل ہے، تو دوسری طرف سے ملکی قوتوں سے بھی ملی ہوئی ہے، اس لئے انسانیت کے غیر معمولی وسیع دائرے میں مختلف نظریات کے بہت سے گروہ اور جدا جدا عادات کے بے شمار افراد داخل ہیں، پس یہ امر لازمی ہوا، کہ نورِ الٰہی کی طرف سے انسانوں کے لئے جس ہدایت کی ضرورت تھی، وہ لوگوں کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق درجہ بدرجہ حاصل ہوتی رہے اور امرِ واقعی ایسا ہی ہے۔

جب یہ بات حق ہے، کہ نورِ الٰہی کی جانب سے بنی آدم کے لئے جو ہدایت آتی ہے، اس کے بھی مختلف درجات ہوا کرتے ہیں، تو پھر اس بات کی تحقیق ضروری ہے، کہ

۲۰۱

ہدایت کا سب سے اعلیٰ درجہ کون سا ہے، اس کے بارے میں جب ہم قرآنِ حکیم کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے، کہ سب سے اونچی ہدایت عرفانی ہدایت ہے، جو امامِ مبین کی حقیقی معرفت اور نورِ ہدایت کی انتہائی قربت کا مرتبہ ہے۔

۲۰۲

کلید نمبر ۱۷
ہر چیز کا فنا ہو جانا

سورۂ قصص کے اخیر میں ہے کہ: کل شیء ہالک الا وجھہ ۔ لہ الحکم و الیہ ترجعون ۔ ۲۸: ۸۸۔ یعنی اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔

وجہ اللہ کے لفظی معنی ہیں خدا کا چہرہ، اور اس کا تاویلی اشارہ امامِ زمان کی طرف ہے، جیسا کہ مولانا علی کا مبارک فرمان ہے کہ: انا واللّٰہ وجہ اللّٰہ ۔ یعنی میں خدا کی قسم خدا کا چہرہ ہوں، نیز رسول اللہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ: من رانی فقد رای الحق ، یعنی جس شخص نے مجھ کو دیکھا، اس نے خدا کو دیکھا۔

جب اس بات میں کوئی تعجب نہیں، کہ حق تعالیٰ نے نبوت و امامت کے نور کو اپنی روح قرار دے دیا ہے، جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے کہ خدا نے اپنی روح آدم علیہ السلام میں پھونک دی، اور حضرت مریم علیہا السلام کے قرآنی قصے میں دیکھئے کہ اللہ نے روح القدس کو اپنی روح ٹھہرا لیا ہے، تو پھر اس امر میں کیا تعجب ہے، کہ خدا تعالیٰ امامِ

۲۰۳

زمان علیہ السلام کو اپنا چہرہ قرار دے، اس معنی میں کہ امام کا دیدار خدا کا دیدار ہے اور امام کی معرفت خدا کی معرفت ہے، جیسا کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا فرمانِ مبارک ہے کہ: انا وجہ اللّٰہ، انا جنب اللّٰہ ، انا ید اللّٰہ ، انا عین اللّٰہ، انا القرآن الناطق و انا البرہان الصادق و انا اللوح المحفوظ و انا القلم الاعلیٰ انا اآآ ذالک الکتاب، انا کھٰیٰعٓصٓ، انا طٰہٰ انا حاء الحوامیم و انا طاء الطواسین، انا الممدوح فی ہل اتیٰ۔ و انا النقطۃ تحت الباء ۔ میں خدا کا چہرہ ہوں، میری طرف متوجہ ہونا خدا کی طرف رخ کرنا ہے، میں ہی جنب اللہ ہوں، مجھ تک پہنچنا خدا کے پہلو میں بیٹھنا ہے، اور منتہائے قرب پر پہنچنا ہے، میں ید اللہ یعنی دستِ خدا ہوں، جو کچھ وہ کرتا ہے مجھ سے کرتا ہے، جو کچھ اس سے صادر ہوتا ہے، میرے ہاتھ سے ہوتا ہے، اور میں کرتا ہوں اس کا کہلاتا ہے، میں عین اللہ ہوں، اس کی آنکھ سے عالم کو دیکھتا ہوں، اور دنیامیرے لئے ایسی ہے جیسے کہ آنکھ میں تل، میں قرآنِ ناطق اور برہانِ صادق ہوں، میرا وجود حق اور دلیلِ وجود حق ہے، میں حاملِ اسرارِ الٰہی لوحِ محفوظ ہوں، میں ہی قلمِ اعلیٰ ہوں، جو کچھ صفحاتِ عالمِ امکان پر قدرت نے رقم کیا ہے وہ مجھ

۲۰۴

سے رقم کیا ہے، میں الم ذالک الکتاب ہوں، کتابِ فعلی اور کتابِ قولی دونوں میرا وجودِ حقیقی ہیں، میں ہی کھیعص ہوں، اور میں ہی طٰہٰ، میں ہی مبداء حوا میم ہوں، اور میں ہی راسِ طوا سین ۔ میں ممدوحِ ہل اتیٰ ہوں اور میں نقطۂ تحتِ باء ہوں، جس میں کل کتاب جمع ہے۔ (کوکبِ دری)۔

جب خدا کے لئے یہ کوئی عجیب کام نہیں کہ اس نے آنحضرت صلعم کے دستِ مبارک کو اپنا ہاتھ قرار دے دیا ہے حالانکہ خدا کوئی بشر تو نہیں کہ اس کا ہاتھ ہو، تو یہ امر بھی عجیب نہیں کہ امامِ برحق کو اپنا چہرہ قرار دے، اس معنی میں کہ امام خدا کا نور ہے۔

قرآنِ حکیم میں خدا کی پنڈلی کا ذکر آیا ہے (۶۸: ۴۲)۔ اگرچہ خدائے پاک اعضاء و جوارح سے مبرا و منزہ ہے، جب مثال اور تاویل کے لئے یہ بات درست ہے تو یہ بھی حق ہے کہ امامِ زمان خدا کا چہرہ ہیں، کیونکہ امام کے تصور میں خدا کی معرفت کے اسرار پنہان ہیں۔

قرآنِ پاک کی ۲۹: ۵۶ میں لفظی طور پر جنب اللہ (خدا کا پہلو) مذکور ہے، جب پروردگارِ عالم کے لئے پہلو کی نسبت منظور ہے، تو امامِ حی و حاضر کے وجہ اللہ او ر جنب اللہ ہونے میں کسی کو کیا شک ہو سکتا ہے۔

جب اس حقیقت کی وضاحت ہو چکی، کہ امامِ زمان وجہ اللہ ہیں، تو اب ہم بتوفیقِ الٰہی یہ بیان کر دیں گے

۲۰۵

کہ ہر چیز کے فنا ہو جانے کی تاویل کیا ہے، چنانچہ متعلقہ کلیۂ مقدسہ یہ تھا کہ: وجہ اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔

خوب جاننا چاہئے، کہ اس فرمانِ الٰہی کی تاویل کے کم از کم چار مقام ہیں، سب سے پہلے مقام کی تاویل یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ایسے خاص خاص بندے بھی ہوا کرتے ہیں، کہ ان کے نورانی تصور و تخیل میں یا ان کی چشمِ بصیرت کے سامنے کائنات و موجودات کی ہر چیز اسرارِ نورِ الٰہی کی بے پناہ تجلیوں میں فنا ہو جاتی ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک کا ارشاد ہے کہ: پس تم جس طرف بھی متوجہ ہو جاؤ وہیں خدا کا نور موجود ہے ۔ ۲: ۱۱۵۔ یہ ہوا کسی مؤمن کی انفرادی دنیا میں ہر چیز کا فنا ہو جانا، خدا کے نور کا باقی رہنا خدا کی بادشاہی کا دور آنا اور خدا کی طرف اس مؤمن کا لوٹ کر جانا۔

دوسرے مقام کی تاویل یہ ہے، کہ دنیا ہی میں ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے، جس میں روحانیت کا دور دورہ ہو گا، ہر جسمانی چیز روحانی طاقتوں کے نیچے مغلوب ہو کر نہ ہونے کے برابر رہے گی، وہ روحانی طاقت وجہ اللہ یعنی خدا کے نور کی ہو گی، اس وقت روئے زمین پر خدا کی ایک ہی حکومت ہو گی،اور اس حال میں مؤمنین خدا کی طرف رجوع کئے ہوئے ہوں گے، یہ ہوا مؤمنین کی اجتماعی دنیا میں

۲۰۶

ہر چیز کا فنا ہو جانا۔

تیسرے مقام کی تاویل یہ ہے، کہ جب بندۂ مؤمن اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے امامِ وقت کی روحانیت و نورانیت کی بہشت میں داخل ہو جاتا ہے ، تو اس وقت اس کے نزدیک امام کے نور کے سوا ہر چیز فنا ہو جاتی ہے، ایسے مؤمن کی اس ذاتی بہشت میں خدا ہی کی بادشاہی ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس حال میں وہ مؤمن خدا کی طرف رجوع کیا ہوا ہوتا ہے، یہ ہوا مؤمن کی انفرادی قیامت میں ہر چیز کا فنا ہو جانا۔

چوتھے مقام کی تاویل یہ ہے کہ کسی زمانے میں عالمِ جسمانی یعنی ساری کائنات کلی طور پر فنا ہو جائے گی، جیسا کہ کلید نمبر ۹ میں بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے، اور اس حال میں بندگانِ خدا اپنے آپ کو خدا کے نور میں زندہ پائیں گے، جو عالمِ روحانی اور بہشتِ جاودانی ہے، اس عالم میں خدا ہی کی بادشاہی ہو گی اور مؤمنین خدا کی طرف لوٹے ہوئے ہوں گے، یہ ہوا مجموعی قیامت میں ہر چیز کا فنا ہو جانا۔

مذکورۂ بالا تاویلات کی ایک واضح مثال یہ ہے، کہ ہر انسان جب خواب کے عالم میں ہوتا ہے، تو اس کے نزدیک عالمِ خواب کے سوا ہر چیز فنا ہو جاتی ہے، یعنی یہ ظاہری کائنات تمام موجودات اور مخلوقات کے ساتھ اس کی نظر سے غائب اور پوشیدہ ہو جاتی ہے، مگر اس کے

۲۰۷

خواب کی دنیا میں ہر چیز موجود ہوتی ہے، جس میں خواب کی حکمرانی ہے اور اس کا رجوع خواب کی طرف ہوتا ہے، یہی مثال انفرادی روحانیت و قیامت کے علاوہ اجتماعی روحانیت اور قیامت کی بھی ہے، لیکن بمصداق: چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک۔ کہاں خواب کی تاریک اور مردہ دنیا ، اور کہاں روحانیت و قیامت کا تابان و درخشان عالم، جس کی ہر چیز روحِ قدسی کی حیات و دانش سے معمور ہے۔

۲۰۸

کلید نمبر ۱۸
ہر چیز امامِ مبین میں

سورۂ یاسین کے رکوعِ اول کے اخیر میں پروردگارِ عالم کا یہ ارشاد ہے کہ: و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین ۔ ۳۶: ۱۲۔ اور ہم نے ہر چیز کو امامِ مبین (کی نورانیت) میں گھیر لیا ہے۔

سوال: اگر ’’امامِ مبین‘‘ کا یہ اسم حاضر امام ہی کے لئے ہے، تو ہمیں سمجھا دیجئے، کہ کائنات و موجودات کی ہر چیز یعنی تمام اشیائے ظاہر و باطن امام کی ذات میں کس طرح گھیری ہوئی ہیں؟

جواب: ہاں، امامِ مبین حاضر امام ہی کا اسمِ مبارک ہے، چونکہ آپ خدائے قدوس کے پاک نور کی مرتبت رکھتے ہیں، اور خدا کا نور وہ ہے، جس نے ارض و سماء کی وسعتوں کو اپنے اندر گھیر کر رکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے نورِ مطلق کی حیثیت سے امامِ زمان کون و مکان کی جملہ اشیاء پر کس طرح حاوی ہے، اس کے کئی تصورات ہیں، ان میں سے ایک یہ کہ امامِ برحق کے آئینۂ باطن میں اشیائے دو جہان کی عقلی و روحی (یعنی زندہ

۲۰۹

اور باشعور ) قسم کی عکاسی ہوتی رہتی ہے، بالفاظِ دیگر امام پاک کے ضمیرِ منیر کی لوحِ محفوظ پر ہر چیز کا زندہ نقش و صورت موجود ہے۔

دوسرا تصور یہ ہے کہ امام علیہ السلام اس عظیم کائنات کی روح اور عقل ہیں، وہ اس طرح کہ امام کی عقل عقلِ کلی ہے اور آپ کی روح نفسِ کلی، پس تمام عقول امام کی عقل میں مجموع ہیں اور ساری ارواح آپ کی روح میں محدود۔

تیسرا تصور یہ ہے، کہ امام خدا کی آنکھ ہیں، اس لئے ان کی نگاہ کے سامنے موجودات کے احوالِ ظاہر و باطن محدود و محصور ہیں، جیسے مولانا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ:انا عین اللّٰہ فی ارضہ و لسانہ الناطق فی خلقہ انا نور اللّٰہ الذی لا یطفیٰ انا باب اللّٰہ منہ یوتیٰ و حجتہ علیٰ عبادہ = یعنی میں زمین میں خدا کی آنکھ ہوں، اور اس کی مخلوق میں اس کی بولتی ہوئی زبان ہوں، میں وہ نورِ خدا ہوں جو نہیں بجھایا جا سکتا، میں باب اللہ ہوں کہ میرے ہی ذریعہ خدا تک پہنچا جاتا ہے اور اس کے بندوں پر اس کی حجت ہوں۔

چوتھا تصور امامِ مبین کی ذاتِ اقدس میں ہر چیز محدود ہونے کے بارے میں یہ ہے کہ امامِ عالی مقام کی مقدس روح نفسِ کلی، روحِ اعظم، روح الارواح اور عالمِ روحانی

۲۱۰

کی حیثیت سے ہے، اس لئے امامِ مبین تمام مخلوقات اور جملہ اشیاء کی روحوں کا سورج ہیں، اب ان روحوں کی مثال جو دنیا میں آئی ہیں، سورج کی ان کرنوں کی طرح ہے جو سطح زمین تک پہنچی ہوئی ہیں، اور جو روحیں دنیا میں آنے کے بعد اپنی اصل سے واصل ہوئی ہیں یا ابھی تک دنیا میں نہیں آئی ہیں، ان کی مثال روشنی کے اس مادہ کی طرح ہے جو سورج کے سرچشمے میں موجود ہے، پس جو روحیں امامِ مبین کے نورِ اقدس میں ہیں وہ بھی، اور جو روحیں دنیا میں آئی ہیں وہ بھی امامِ اکرم کی ذات میں محدود ہیں، جیسے سورج کی کرنوں کا حال ہے، کہ جو شعاعیں ابھی سورج سے نہیں نکلی ہیں وہ تو سورج کے نور میں محدود ہیں ہی، اور ان کے علاوہ جو کرنیں ایک بے پایان نورانی سمندر کی شکل میں کائنات و شش جہات میں پھیلی ہوئی ہیں وہ بھی سورج سے وابستگی کی وجہ سے سورج میں محدود ہیں۔

ان تصورات کے علاوہ اس سلسلے میں ایک اور قرآنی دلیل یہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے، کہ و ما ارسلنٰک الا رحمۃ للعٰلمین ۲۱: ۱۰۷۔ اور (اے رسول) ہم نے تم کو تمام عالموں (یعنی ساری کائنات) کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اس فرمانِ الٰہی سے ظاہر ہے کہ حضورِ اکرم

۲۱۱

خدا کی ہمہ رس اور ہمہ گیر رحمتِ کل کی حیثیت سے تمام کائنات و موجودات پر حاوی تھے، چنانچہ اگلے صفحات پر بھی اس حقیقت کا ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز یعنی کائنات کو اپنی رحمت اور علم میں سما لیا ہے، اور وہ قرآنی ارشاد یہ ہے: ربنا وسعت کل شیء رحمۃ و علما ۔ ۴۰: ۷۔ چونکہ امامِ مبین خلیفۂ خدا اور خلیفۂ رسول ہیں، اس لئے امام کی روحانیت خدا کی ہمہ رس رحمت ہے اور آپ کی نورانیت خدا کا ہمہ گیر علم ہے، پس معلوم ہوا، کہ امامِ مبین کی روحانیت اور نورانیت دونوں ارض و سماء کی وسعتوں پر محیط ہیں۔

اب ذیل میں اس حقیقیت کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، کہ امامِ مبین کے نور میں کون و مکان کی تمام چیزیں کس طرح گھیری ہوئی ہیں:

۱۔ سورج نے اپنی روشنی کے بے پناہ سمندر میں تمام کائنات کو غرق کر لیا ہے، حالانکہ وہ خود کائنات کے درمیان ایک محدود جسم ہے۔

۲۔ یہ ایک یقینی حقیقت ہے کہ بائے بسم اللہ کے نقطے میں قرآنِ حکیم کا جملہ ظاہر و باطن پنہان ہے۔

۳۔ درخت کے بیج میں مغز ہوتا ہے اور مغز کے درمیان ایک چھوٹا سا نقطہ ہے اور اسی نقطے میں ایک عظیم درخت پوشیدہ ہے۔

۲۱۲

۴۔ حضرت آدم کی پشت میں نفوسِ خلائق کی ایک بھرپور دنیا چھپی ہوئی تھی۔

۵۔ انسان کے دل و دماغ میں بہت سی لطیف دنیائیں سما گئی ہیں، مثلاً خواب کی دنیا، خیال کی دنیا، غور و فکر کی دنیا، عقل و دانش کی دنیا، تجربات کی دنیا، عشق و محبت کی دنیا وغیرہ۔

۶۔ بندۂ مؤمن کے قلب میں حکمت کا ایک نقطہ ہے، اور اس نقطے میں اس قدر زیادہ گنجائش ہے کہ حضرت رحمٰن اور اس کی تمام صفاتِ جلالیہ و جمالیہ کے لئے جگہ ہو سکتی ہے۔

۷۔ تمام پیغمبروں کے نفوسِ قدسیہ، کتبِ سماویہ، علمِ الٰہیہ اور ساری امتوں کی ایمانی روحیں آنحضرت کی ذاتِ بابرکات میں مجموع تھیں، ان تمام حقیقتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے آپ نے فرمایا کہ میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، پس اس کا مطلب یہ ہوا، کہ حضورِ اکرم کا نورِ مقدس، جس میں سب کچھ تھا، امامِ مبین میں موجود ہے۔

۸۔ یہ عظیم کائنات بہ امرِ خدا کاف و نون (کن) کے دو حرف سے وجود میں آئی ہے، اور بالآخر پھر کاف و نون میں داخل ہونے والی ہے۔

۹۔ انسان نے اپنے دل و دماغ میں عقل اور علم کو

۲۱۳

گھیر لیا ہے اور عقل و علم نے انسان کو گھیر لیا ہ ے، یعنی وہ اپنی معلومات کے دائرے میں محدود ہے۔

۱۰۔ قیامت کے دن ساری زمین خدا کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ ۳۹: ۶۷۔

۱۱۔ سیاہی کی ایک دوات میں امکانی طور پر دنیا بھر کے علوم سموئے ہوئے ہیں، یعنی اس میں سے ہر قسم کی تحریر اور ہر نوع کا علم ظاہر کیا جا سکتا ہے۔

پس مذکوۂ بالا دلائل اور مثالوں سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح اور ظاہر ہو گئی، کہ امامِ مبین کے احاطۂ نورانیت میں کائنات و موجودات کا ظاہر و باطن محدود ہے، اور یہ کلیہ الحمد للہ اس واحد خزانے کی کلید کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں آسمانوں اور زمین کے جملہ مخفی خزانوں کی کلیدیں محفوظ ہیں، جن کا ذکر کلید میں کیا گیا ہے۔

۲۱۴

کلید نمبر ۱۹
ہر چیز کا ملکوت

سورۂ یاسین کی آخری آیت ہے کہ: فسبحٰن الذی بیدہ ملکوت کل شیء و الیہ ترجعون ۔ ۳۶: ۸۳۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔

ملکوت کے معنی ہیں بادشاہی، سلطنت، روحانیت، عالمِ ارواح، عجائبات اور فرشتوں کا عالم، اور ملکوت کل شیء کا مطلب ہے ہر چیز کی روحانیت، ہر چیز کے روحانی عجائبات اور ہر چیز کی وہ روحانی شکل و صورت جو عالمِ امر میں ہے، جس میں ہر چیز مادی اور جسمانی کیفیت کے بغیر مجرد روحانیت میں موجود ہے، جس کی ایک مثال عالمِ خواب ہے، کہ اس کی تمام چیزیں بغیر جسم اور بغیر مادہ کے روحانی کیفیت میں ہوتی ہیں۔

نیز اس کے معنی ہیں ہر چیز کی ملکوتی بادشاہی اور روحانی سلطنت، کیونکہ کائنات و موجودات کی ہر چیز خدا کے قبضۂ قدرت اور اس کے اختیار میں تو ہے،

۲۱۵

لیکن وہ جسمانیت و مادیت کے عالم میں ظاہر ہے، اور لوگوں کی نگاہیں اس تک رسا ہو سکتی ہیں، اس حال کے برعکس ہر چیز کا روحانی وجود ایسا نہیں، کہ ہر شخص اس کے عجائبات کا ادراک کر سکے، پس اسی اختصاص کے سبب سے ارشاد ہوا ہے، کہ ہر چیز کی روحانیت خدا کے ہاتھ میں ہے، اور خدا کے ہاتھ سے ولئ امر مراد ہیں یعنی امامِ زمان، کیونکہ خدا کی طرف سے مؤمنین سے بیعت لینے والا ہاتھ پیغمبر صلعم کے بعد امامِ برحق ہی کا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا، کہ نبوت و امامت کے واحد نور کی روشنی میں تمام چیزوں کی روحانیت کا مشاہدہ ہو سکتا ہے، پھر ان اشیاء کی حقیقتوں اور معرفتوں کے نتیجے میں خدا کی طرف رجوع یعنی اس کی معرفت کا حصول ممکن ہے، آیۂ مذکورۂ بالا میں ربطِ الفاظ کا مطلب یہی ہے۔

اس کلیۂ مبارکہ میں خدا کے ہاتھ کا ذکر ہوا ہے، لیکن صاف ظاہر ہے کہ یہاں خدا کے تصورِ سبحانیت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے، اس لئے اگر ہم خدا کے ہاتھ سے خدا کا اختیار مراد لیں یا قبضۂ قدرت سمجھیں، بہر حال اس کی آخری تاویل ولئ امر ہی کو پہنچنے کے بغیر چارہ نہیں، چنانچہ صاحبِ امر یعنی امامِ مبین علیہ السلام کے نور میں ہر چیز کا ملکوت موجود ہے، اور ان کے نور سے کوئی چیز

۲۱۶

باہر نہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کی جانب سے اپنے وقت میں ولئ امر ہونے کے ساتھ ساتھ آسمانوں اور زمین کے ملکوت کا مشاہدہ کیا تھا، چونکہ آپ اپنے زمانے کے امام تھے، اور انہوں نے اپنے نور ہی میں دیدۂ باطن سے عالمِ ملکوت دیکھا تھا، اور آپ نے حکمت کی زبان میں فرمایا کہ جو شخص میری پیروی کرے وہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق ملکوت کا مشاہدہ کر سکتا ہے، یہ مطالب سورۂ انعام کے رکوع نہم اور سورۂ ابراہیم کے رکوع ششم میں ہیں۔ مگر ایمان و ایقان کی قوتوں کے بغیر ان حقیقتوں کے متعلق باور کرنا سخت مشکل ہے۔

قرآنِ حکیم کی کسی آیت کی حقیقتوں سے کوئی حقیقت اس وقت کماحقہ دلنشین ہو سکتی ہے، جبکہ اس حقیقت سے متعلق قرآنی موضوع کا بغور مطالعہ کیا جائے اور جبکہ امام کی نورانی تائید حاصل ہو۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی اور مشاہداتِ ملکوتی کے بارے میں ایک اور ارشاد یہ ہے کہ: بلاشبہ سب آدمیوں میں زیادہ خصوصیت رکھنے والے ابراہیم کے ساتھ البتہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کا اتباع کیا تھا اور یہ نبی صلعم ہیں اور یہ ایمان والے اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا حامی ہے ۔ ۳: ۶۸۔ یعنی سب لوگوں میں حضرت ابراہیم کے

۲۱۷

ساتھ زیادہ خصوصیت، زیادہ دوستی اور روحانیت اور نورانیت کا قریبی رشتہ رکھنے والے لوگ وہ تھے جنہوں نے حضرت ابراہیم کی حقیقی معنوں میں پیروی کی تھی، جیسے آلِ ابراہیم کے انبیاء و ائمہ علیہم السلام اور ان کے حقیقی مؤمنین، نیز نبئ اکرم اور امتِ محمدیہ کے اہلِ ایمان۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اتباع کی اس تعلیم سے چند حکمتیں ظاہر ہوتی ہیں، چنانچہ پہلی حکمت یہ ہے: جناب ابراہیم خلیل اللہ کی حقیقی پیروی یہ ہے، کہ آپ کے پیچھے پیچھے روحانیت و نورانیت کے اس رستے پر چلا جائے جس میں کہ انہوں نے آسمانوں اور زمین کے ملکوتی عجائبات کا مشاہدہ کیا تھا، جس کا زندہ ثبوت آلِ ابراہیم کے جملہ انبیاء و ائمہ علیہم السلام نیز بنئ محمد صلعم اور آپ کے خاندان کے تمام ائمۂ اطہار علیہم السلام ہیں۔

دوسری حکمت: حضرت ابراہیم کی پیروی ہو یا کسی اور پیغمبر کی، بہر حال پیروی کی دو صورتیں ہوا کرتی ہیں، اور تیسری کوئی صورت نہیں، پہلی صورت بلا واسطہ پیروی کی ہے اور دوسری صورت بالواسطہ پیروی کی، پیغمبر کی زندگی ہی میں جو پیروی کی جاتی ہے وہ بلا واسطہ ہے اور جو پیروی پیغمبر کی وفات کے بعد اس کی کتاب اور حقیقی

۲۱۸

جانشین کے ذریعے سے کی جاتی ہے وہ بالواسطہ ہے۔

تیسری حکمت: حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی پیروی کے لئے آپ کے فرزندِ ارجمند حضرت اسماعیل سے حضرت ابو طالب تک سلسلۂ امامت جاری تھا، جس کے بغیر ابراہیم کی حقیقی پیروی ناممکن تھی اور آپ کی آسمانی کتاب لوگوں کے سامنے موجود نہیں تھی۔

چوتھی حکمت: حضور اکرم صلعم اپنی بعثت سے قبل کے زمانے میں امامِ وقت کے توسط سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی پیروی کر لیا کرتے تھے۔

پانچویں حکمت: مذکورہ ارشادِ قرآنی میں ہے، کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کا ولی ہے، پس ولی کے معنی یہاں کارساز، دوست، حامی، مددگار، مختار، وارث وغیرہ جیسے بھی ہوں بہرحال اس کا مطلب یہی ہے، کہ خدا نے مؤمنوں کو کسی بھی زمانے میں امامِ مبین کے بغیر نہیں چھوڑا ہے، کیونکہ اس نے امامِ مبین کو ہر چیز پر حاوی اور محیط فرما دیا ہے، اس لئے ہر زمانے میں امام کی موجودگی لازم آتی ہے، جبکہ ظاہریت و جسمانیت میں ہر چیز زمان و مکان کے سوا نہیں ہو سکتی ہے۔

اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے، کہ جب امامِ مبین اپنے نورِ مقدس سے ہر چیز پر محیط ہے، تو یہ حقیقت ہے، کہ ہر چیز کا ملکوت بھی آپ کے پاک نور میں ہے، جیسے حضرت ابراہیم کی مثال سے ظاہر ہے، اور کوئی شک نہیں کہ آپ

۲۱۹

اپنے وقت میں امامِ مبین تھے، پس یہی سبب ہے، کہ قرآن کے جملہ موضوعات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے موضوع سے وابستہ کئے ہوئے ہیں، اور آنجناب کا موضوع امامِ مبین کے عنوان کے تحت ہے۔

۲۲۰

کلید نمبر ۲۰
ہر چیز کے لئے گنجائش رحمت اور علم میں

سورۂ مؤمن کی ساتویں آیت میں قرآنِ مقدس کا ارشاد ہے کہ: ربنا وسعت کل شیء رحمۃ و علما ۔ ۴۰: ۷۔ اے ہمارے پروردگار تو نے ہر چیز اپنی رحمت اور علم میں سمو رکھی ہے۔

اس آیۂ کریمہ کا اشارۂ حکمت اس حقیقت کی طرف ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی زندہ رحمت نفسِ کلی کی روحانیت ہے اور اس کا ذی حیات علم عقلِ کلی کی نورانیت، اور روحانیت و نورانیت کے دو سمندر میں کائنات و موجودات کی تمام چیزیں ڈوبی ہوئی ہیں، یہ امرِ واقعی اس طرح سے ہے ، کہ جسمِ کلی، جو آسمانوں ، ستاروں، سیاروں اور تمام مادی چیزوں کا مجموعہ ہے، نفسِ کل کی روحانیت میں غرق ہے اور نفسِ کل بمع ان تمام چیزوں کے (یعنی جسمِ کل کے ساتھ) عقلِ کل کی نورانیت میں مستغرق ہے، پس یہ ہوا ہر چیز کا رحمت اور علم میں سمو جانا۔

نیز اشیائے کائنات و موجودات کے رحمت و علم میں سمو جانے کی ایک خاص صورت بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ

۲۲۱

تمام چیزیں اپنی ظاہری اور مادی ہستی کے علاوہ رحمت میں روحانی طریق پر اور علم میں عقلی طور پر زندہ اور موجود ہیں، بالفاظِ دیگر ہر چیز بیک وقت تین صورتوں میں یا کہ تین مقامات پر موجود ہے، وہ جسمِ کل میں جسمانی طور، نفسِ کل میں روحانی حیثیت سے اور عقلِ کل میں عقلی صورت میں موجود ہے۔

اس حقیقت کی ایک روشن دلیل (کہ جس طرح ہر چیز عالمِ جسمانی میں مادی صورت میں موجود ہے، اسی طرح وہ عالمِ ارواح میں روحانی صورت میں اور عالمِ عقول میں عقلی صورت میں موجود ہے) یہ ہے کہ ازل میں عقلِ کل کے قلم نے بامرِ الٰہی اپنے وجود کے عالم کی جملہ اشیاء کی روحانی یعنی زندہ تصویریں نفسِ کل کی لوحِ محفوظ پر اتار دی تھیں، مگر عقلِ کل کے عالم کی چیزیں ویسی کی ویسی اپنی اپنی جگہ پر موجود تھیں، اسی طرح نفسِ کل یا کہ لوحِ محفوظ کے روحانی نقوش کے مطابق اس دنیا کی جسمانی چیزیں پیدا کی گئیں، بغیر اس کے کہ لوحِ محفوظ کی چیزوں میں کوئی کمی واقع ہو۔

بیانِ مذکورۂ بالا سے نہ صرف یہ ثبوت ملا، کہ ہر چیز رحمت اور علم میں سموئی ہوئی ہے، بلکہ اس سے یہ بھی معلوم ہوا، کہ رحمت نفسِ کل کی صفت ہے اور علم عقلِ کل کی صفت، نیز اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہوا، کہ ہر چیز بیک وقت عقل، روح اور جسم میں موجود ہے، گویا عقل کا

۲۲۲

سایہ روح ہے اور روح کا سایہ جسم۔

امامِ عالی مقام علیہ السلام کے مبارک فرمان میں ہے، کہ مؤمنین اپنی روحوں میں فرشتے ہیں اور جسموں میں انسان، پس یہ بات قابلِ یقین ہے کہ مؤمنوں کی روحوں کے فرشتوں کے بھی عقلی فرشتے ہیں، جس کا ثبوت انسان کا ظاہری وجود ہے، کہ اس میں تین چیزیں ہیں، یعنی جسم، روح اور عقل۔

جب یہ مانا گیا، کہ ہر وہ چیز جو جسمانی عالم میں ہے، وہ روحانی عالم میں بھی ہے اور عقلی عالم میں بھی، اور یہ بھی تسلیم کیا گیا، کہ روحانی عالم نفسِ کل ہے اور عقلی عالم عقلِ کل، پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عالمِ انسانیت کے سردار یعنی امامِ مبین کی روح وہ روحانی فرشتہ ہے، جو نفسِ کل کے اسم سے موسوم ہے، اور ان کی عقل وہ عقلی فرشتہ ہے، جس کو عقلِ کل کہا جاتا ہے، پس اس مضمون کا لبِ لباب یہ ہے کہ امامِ مبین کی روحِ اعظم کائنات کی رحمت کا سرچشمہ ہے اور آپ کی عقلِ کامل سارے جہانوں کے علم کا منبع ہے۔

۲۲۳

کلید نمبر ۲۱
ہر چیز کا بولنا

قرآنِ مجید کی ۴۱: ۲۱ میں فرمایا گیا ہے کہ: قالوا انطقنا اللّٰہ الذی انطق کل شیء ۔ ۴۱: ۲۱۔ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی۔

اس کلیۂ مبارکہ کی وضاحت کرنے سے قبل ہمیں نطق یعنی قوت گویائی کی حقیقت کے متعلق کچھ کہنا چاہئے، چنانچہ یہ جاننا ضروری ہے کہ اگرچہ بعض حکماء کے نزدیک قوتِ ناطقہ انسانی روح کا خاصہ ہے، لیکن حقیقتاً اس میں سبقت عقل ہی کو حاصل ہے، اور عقل ہی کے ذریعے سے بولنے کی طاقت روحِ انسانی کو حاصل ہوتی رہتی ہے۔

اس حقیقت کی پہلی دلیل، کہ انسانی روح کی یہ قوتِ ناطقہ عقل کے توسط سے حاصل ہوتی رہتی ہے، یہ ہے کہ عالمِ دین کی ترتیب میں سب سے پہلے اور سب سے اوپر کلمۂ باری کا مقام ہے، جس کو کلمۂ ’’کن‘‘ اور امرِ کل بھی کہا جاتا ہے، یہ فی المثل عالمِ دین کی قوتِ گویائی ہے، کن کے امر سے عقلِ کل کا فرشتہ وجود میں آیا، جو عالمِ دین کی عقل

۲۲۴

کی حیثیت سے ہے، عقلِ کل سے نفسِ کل کا فرشتہ پیدا کیا گیا، جو عالمِ دین کی جان یعنی روح کا درجہ رکھتا ہے، اس مثال سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ روحِ ناطقہ کی تعمیر عقل سے ہوتی ہے اور عقل کی تکمیل نطق سے۔

دوسری دلیل یہ ہے، کہ انسان کے جسم کا قیام روح پر ہے، روح کی محافظ عقل ہے اور عقل کا مربی نطق۔

تیسری دلیل: عقل نطق کے بغیر نہیں ہو سکتی، جس کا ثبوت فرشتہ ہے، مگر روح نطق کے بغیر ہو سکتی ہے، جس کی مثال حیوان ہے۔

چوتھی دلیل: علم خواہ لدنی مرتبت کا ہو یا اکتسابی قسم کا بہر حال نطق کی صورت میں آ سکتا ہے اور جو وحی کا اشارہ ہوتا ہے وہ بھی ایک طرح کا نطق ہے، جس کو سب سے پہلے عقل و شعور قبول کرتا ہے پھر یہ روح تک پہنچتا ہے۔

پانچویں دلیل: اگر کسی بچے کے کان شروع ہی سے سن نہیں سکتے، تو وہ بہرا کہلاتا ہے، جب وہ بہرا ہو گیا، تو اس سے گونگا بھی ہو جاتا ہے، پھر وہ اس کے نتیجے میں عقل کی دولت سے بے نصیب رہ جاتا ہے، اس کا سبب کیا ہے؟ بس یہی کہ جب وہ قوتِ سامعہ سے محروم ہو گیا، تو قوتِ ناطقہ اور عقل و دانش سے بھی محروم رہتا ہے، اس سے معلوم ہوا، کہ عقل کی تکمیل کا ذریعہ ناطقہ ہے۔

مذکورۂ بالا دلائل سے اس حقیقت کا بین ثبوت ملتا

۲۲۵

ہے، کہ جس طرح عالمِ دین میں کلمۂ باری یعنی ’’کن‘‘ کے امر سے عقلِ کل وجود میں آیا اور جیسے عقلِ کل سے نفسِ کل پیدا ہوا، اسی طرح مؤمن کے شخصی عالم میں امامِ زمان کے پرحکمت فرمان سے، جو کلمۂ باری کی مثال ہے، عقلِ جزوی کو کمال حاصل ہوتا ہے، پھر ایسی عقل سے روح الایمان پیدا ہوتی ہے۔

پھر اس کے نتیجے میں مؤمن کے حواسِ باطن زندہ ہو جاتے ہیں، تب وہ حقائقِ اشیاء کا مشاہدہ کر سکتا ہے، کہ تمام چیزوں کی جسمانی، روحانی اور عقلی تین تین ہستیاں ہیں، ہر چیز اپنے عقلی وجود اور روحانی وجود میں بولتی رہتی ہے، اس کے علاوہ اشیاء کا ظاہری وجود بھی معجزانہ نطق سے خالی نہیں۔

چنانچہ ظاہری اور جسمانی چیزیں دو طرح سے بولتی ہیں، یعنی زبانِ حال سے اور زبانِ قال سے، مگر یہاں زبانِ حال کی کیفیت بیان کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، ہم صرف زبانِ قال کی بات کریں گے، کہ اس کی بھی دو صورتیں ہیں، اول یہ کہ چیزوں کی آواز اور صوت و صدا روح القدس کے تصرف سے معجزانہ گفتگو اور ذکر و تسبیح میں تبدیل ہو جاتی ہے، دوم یہ کہ جن چیزوں کی کوئی آواز نہ ہو، ان سے ایسی معجزاتی آواز پیدا ہوتی ہے کہ اس کی کماحقہ توجیہہ نہیں ہو سکتی۔

جب آواز والی اور بے آواز والی جملہ چیزیں زبانِ نطق سے خدا کے ذکر و تسبیح کرنے لگتی ہیں، تو اس میں ہم

۲۲۶

ایک اعتبار سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ان چیزوں کو نطق دیا، دوسرے اعتبار سے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ مؤمن کی اپنی روحِ ایمانی کا کرشمہ ہے، تیسرے اعتبار سے یہ بھی مان سکتے ہیں، کہ یہ روح القدس کا معجزہ ہے اور چوتھے اعتبار سے یہ کہنا بھی حقیقت ہے ،کہ یہ سب کچھ امامِ مبین کے نور کی روشنی میں کشفِ روحانیت کا عالم ہے، پس یہ تمام باتیں اپنی اپنی جگہ پر حق اور صحیح ہیں اور ان میں سے کوئی بھی غلط نہیں، کیونکہ جہاں تمام حقیقتوں کی وحدت و یگانگت کا مقام ہے وہاں کی حالت و کیفیت کے مختلف اعتبارات ہوتے ہیں۔

۲۲۷

کلید نمبر ۲۲
تمام چیزوں کے جوڑے

قرآنِ عظیم کی ۵۱: ۴۹ میں حضرت تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: و من کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون ۔ ۵۱: ۴۹۔ اور ہر چیز کو ہم ہی نے جوڑا جوڑا بنایا تا کہ تم یاد رکھو۔

جیسا کہ کلید ۹ میں بطریقِ اختصار یہ ذکر ہوا تھا، کہ تمام چیزیں جوڑی جوڑی پیدا کی گئی ہیں، چنانچہ اسی مطلب کو یہاں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، کہ ہر چیز کی ایک ضد یا ایک مقابل ہے، جیسے مرد عورت، دن رات، روشنی تاریکی، خشکی تری، آسمان و زمین ، روحانی و جسمانی، خوشی و غم، امیری و غربت، دنیا و آخرت، وجود و عدم یا کہ ہستی و نیستی ، خلق و امر وغیرہ۔

یہاں یہ جاننا از بس ضروری ہے کہ چیزوں کے جوڑے دو قسم کے ہوا کرتے ہیں، ایک قسم وہ ہے جس کے ہر جوڑے کی دونوں چیزیں ایک ساتھ رہ سکتی ہیں، جیسے مرد عورت، دوسری قسم وہ ہے جس کے ہر جوڑے کی دونوں چیزیں یکجا نہیں ٹھہر سکتیں، جیسے دن رات۔

۲۲۸

چنانچہ اگر ہم اس کائنات کی بقا کو دن اور اس کی فنا کو رات قرار دیں، تو یہ بھی مذکورہ چیزوں کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا ہو گا، لیکن لازمی ہے کہ کائنات کی ہستی اور نیستی کے یہ دن رات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جاری ہوں، اور یہ حقیقت ہے کیونکہ دن رات تو ایک لا انتہا سلسلہ ہے۔

مذکورۂ بالا کلیہ کی روشنی میں چشمِ بصیرت سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات و موجودات کے وجود و عدم کے سلسلے کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ کوئی انتہا، بلکہ اس سے دائمیت کا ایک نہایت ہی وسیع دائرہ بنا ہوا ہے، جیسے دن رات کی مثال میں کائنات کی بقا و فنا کی لاانتہا گردش کی حقیقت ثابت کی گئی، اس کے برعکس اگر ہم صرف اسی بات کو مانیں کہ پہلے خدا کے سوا کچھ بھی نہیں تھا، پھر اللہ پاک کے امر سے یہ جہان پیدا ہوا، پھر ایک دن یہ جہان فنا ہو جائے گا، تو اس عقیدہ میں تین چیزیں ہو گئیں، یعنی پہلے نیستی، اس کے بعد ہستی ، پھر نیستی، اور یہ بغیر جوڑے کی بات ہوئی، حالانکہ مذکورۂ بالا کلیے کے مطابق ایسا ہونا چاہئے، کہ ہر نیستی کے بعد ایک ہستی ہو اور ہر ہستی کے بعد ایک نیستی، کیونکہ ذاتِ سبحان کے سوا کوئی چیز بغیر جوڑے کے نہیں ہو سکتی۔

علاوہ برآن اگر ہم ہستی کو چھوڑ کر صرف نیستی کی کیفیت کے بارے میں غور و فکر کریں، تو پھر وہی حقیقت نکھر کر

۲۲۹

سامنے آتی ہے، کہ قانونِ قدرت کے تصرف سے کوئی چیز مستثنا نہیں ہو سکتی، یعنی خلقنا زوجین کے حکم کا اطلاق ہر جوڑے کی دونوں چیزوں پر برابر ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہستی خدا کی بنائی ہوئی (مخلوق) ہے اسی طرح نیستی بھی اسی کی بنائی ہوئی (مخلوق) ہے، پھر جب ہم نے بحقیقت یہ تسلیم کر لیا کہ نیستی کوئی ایسی چیز یا کوئی ایسی کیفیت ہے نہیں، جو فعلِ قدرت کے تصرف کے بغیر خود بخود پائی جائے، بلکہ وہ جس حالت و کیفیت میں بھی ہو خدا ہی کی بنائی ہوئی ہے، تو اب ہمیں لازمی طور پر یہ بھی ماننا پڑے گا، کہ نیستی دراصل ہستی کی بدلی ہوئی ایک صورت ہے، جس طرح رات ایک بدلی ہوئی شکل ہے دن کی، پس اس کا نتیجہ یہ ہوا، کہ ایسی کوئی نیستی نہیں جس سے پہلے ایک ہستی نہ ہو اور نہ ایسی کوئی ہستی ہے جس سے قبل نیستی نہ ہو، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ یہ ارشاد ہے کہ خدا کے امر سے جس طرح رات کے اندر دن پوشیدہ ہے اور دن کے باطن میں رات پنہان ہے، بالکل اسی طرح نیستی میں ہستی چھپی ہوئی ہے اور ہستی میں نیستی مخفی ہے۔

بعض لوگوں کے عقیدے کے مطابق عدم اور نیستی ایک لاشیء اور بے مسما اسم ہے، مگر حقیقتِ حال اس کے برعکس ہے، جیسے قرآنِ پاک کا ارشاد ہے کہ: الذی خلق الموت والحیٰوۃ لیبلوکم

۲۳۰

ایکم احسن عملا ۔ ۶۷: ۲۔ یعنی خدا وہ ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا (یعنی مخلوق) کیا تا کہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے کام کرتا ہے۔ اس فرمانِ الٰہی سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے، کہ نیستی اور ہستی دونوں خدا کی مخلوقات میں سے ہیں، پس معلوم ہوا کہ نیستی ایک قسم کی مخلوق ہے جس کو خدا نے ہستی سے پیدا کیا ہے۔

ہم نفی اور اثبات کی دونوں حقیقتوں کو تسلیم کر لیتے ہیں، وہ یہ کہ بلا شک و شبہ ہر چیز فنا تو ہو ہی جاتی ہے، مگر فنا ہی سے پھر وہی چیز پیدا کی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا پاک فرمان ہے کہ: کیف تکفرون باللّٰہ و کنتم امواتا فاحیا کم ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیہ ترجعون ۔ ۲: ۲۸۔ کیونکر تم خدا کا انکار کر سکتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے تم کو زندہ کیا پھر تم کو موت دے گا اور پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

اس آیۂ کریمہ کی حکمت میں آپ ذرا ذہنی اور فکری صفائی کے ساتھ سوچئے، تو معلوم ہو گا، کہ انسان کی روح قدیم ہے، اس کی روحانی اور جسمانی زندگی بے پایان ہے، چنانچہ مذکورۂ بالا ارشاد میں فرمایا گیا ہے، کہ انسان بارہا بقا و فنا کے تجربات سے گذرتا رہا ہے، وہ ایک

۲۳۱

زمانے میں خدا کے حضور میں تھا، جہاں اس کے لئے حقیقی بہشت تھی، مگر وہ وہاں سے حضرت آدم کی طرح کسی بہانے سے نکل کر دنیا میں آیا، اور پھر آخر کار وہ لوٹ کر وہاں جانے والا ہے، خدا کے حضور جانا بہشت کے بغیر نہیں، اور نہ بہشت خدا کے حضور کے بغیر ہے۔

اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام چیزوں کے جوڑے ہیں اور ہر جوڑے سے ایک دائرہ بنتا ہے، جیسے دن رات کا ایک دائرہ ہے اسی طرح کائنات کی ہستی و نیستی کا بھی ایک دائرہ ہے جو سب سے بڑا دائرہ ہے، اور موجودات و مخلوقات اسی دائرے پر بقا و فنا سے گذرتی ہوئی گردش کرتی رہتی ہیں۔

الحمد للہ علیٰ احسانہ، کہ یہ تمام حکمت کی باتیں امامِ مبین کی معرفت کے خزانے میں موجود ہیں، اور اس معرفت سے کوئی چیز باہر نہیں، پس مؤمن کو چاہئے کہ وہ امام شناسی میں کامل ہو جائے، اور امام شناسی کی کتابوں کو اصول کے مطابق پڑھتا رہا کرے، تا کہ اس کے دل میں اسرارِ امامت کی روشنی پیدا ہو جائے۔

و السلام

۲۳۲

ایثار نامہ

انتسابِ جدیدی

خانۂ حکمت کی یہ روز افزون ترقی علی اللہ، خداوندِ قیامت کے بے پایان احسانات و نوازشات اور اسی کی توفیقات سے ہمارے تمام عزیزان کی درویشانہ دعاؤں کی وجہ سے ہے، ہمارے ادارے کی بے مثال ترقی اور لا زوال نیکنامی ہوئی ہے، اگرچہ ہمارے پاس شائع شدہ کتابوں کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ تو نہیں ہے، لیکن اندازہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں کتابیں پھیلائی گئی ہیں، ہماری علمی بیٹی کریمہ ناتھانی بھی اسی سردار خدمت میں، یعنی علمی خدمات میں شامل ہیں، یا علی اللہ! تمام قائم شناس علمی خدمت والوں کو بہشت میں حدودِ دین اور سلاطین بنانا! ان کو فنا فی القائم کر کے بہشت کے عظیم خلفا اور فرشتے بنانا! آمین!

نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

کراچی

بدھ ۲۹ ستمبر ۲۰۰۴ء

۱

انتسابِ کتابِ ہٰذا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سورۃ الملک (۶۷) کے آغاز میں ارشاد ہے: تبرک الذی بیدہ الملک و ھو علی کل شی قدیر الذی خلق الموت و الحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔

تاویلی مفہوم: حظیرۂ قدس کے معجزات کے دوران حضرتِ قائم کے دستِ مبارک میں گوہرِ عقل ہوتا ہے، یہ بہشت میں سلطنت عطا کرنے کا اشارہ ہے، وہ بے پایان برکات کا مالک ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا اور موت کی تمام قسموں میں ایک سردار موت ہے، وہ موتوا قبل ان تموتوا ہے تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے علم و عمل میں سب سے اچھا کون ہے؟ یہ ساری تعریف حضرتِ قائم (علی اللہ) کی ہے۔

میرے بہت ہی عزیز پسرزادے امین الدین ابنِ ایثار علی نے یہ مشورہ دیا کہ کتابِ ہٰذا کے ایڈیشن میں عائشہ بیگم (مرحومہ) کے حق میں دعاؤں کے ساتھ انتساب ہونا چاہئے، پس تمام اولین و آخرین کی دعاؤں کی سردار اور پادشاہ حاضر امام (روحی فداہ) کی دعا ہے، ملاحظہ ہو، کتابِ علمی بہار، ص ۴۔ محترمہ عائشہ بیگم (مرحومہ) کا آبائی نسب اس طرح ہے: عائشہ بیگم بنتِ اسد اللہ بیگ (عرف بلبل) ابنِ محمد رضا بیگ (فراج) ابنِ وزیر اسد اللہ بیگ ، ابنِ وزیر پونو۔ اور مادری شجرہ یہ ہے: عائشہ بیگم بنتِ تائفہ بانو، بنتِ ترنگفہ سلطان محمود، ابنِ غلامو، ابنِ سلطان بیگ، ابنِ خوش بیگ، ابن

۲

 جٹوری۔

عائشہ بیگم کا آبائی شجرۂ نسب ص ۶۶ پر ہے، از کتابِ تاریخِ عہدِ عتیقِ ریاستِ ہونزا از حاجی قدرت اللہ بیگ۔

نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

کراچی

جمعہ ۲۸ مئی ۲۰۰۴ء

۳

حقوق کیا کیا ہیں

حقوق دو قسم کے ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد، جو حقوق بندوں کے ہیں ان میں ایک حق یہ بھی ہے کہ ہم اپنے آباؤاجداد کے لئے دعا کریں، کیونکہ اگر ہم ان کی ذریت ہیں تو وہ ہماری روح کے ذرات تھے۔ (۳۶:۴۱)

پس میں اپنے تمام آباؤاجداد، امہات اور حجای غریب کے لئے انتہائی عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ پروردگار ان سب کو غریقِ رحمت کر دے! حجای غریب کو خاص طور سے اس لئے یاد کیا گیا کہ اس نے اپنے خاندان کا نام روشن کر دیا ہے۔

الحمد للہ علیٰ احسانہ

۴

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دیباچہ

زیرِ نظر کتاب حضرتِ علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی صاحب کے ان پرحکمت خطوط کا مجموعہ ہے، جو ان کے فرزندِ دلبند جناب ایثار علی مرحوم کے سانحۂ ارتحال کے موقع پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات کی جانب سے بھیجے ہوئے تعزیت ناموں کے جواب میں لکھے گئے تھے، مرحوم کے نام کی نسبت سے اس کا عنوان ’’ایثار نامہ‘‘ رکھا گیا ہے، یہ عنوان اسم با مسمیٰ اور صوری و معنوی خوبیوں کا ایک بہترین مرقع اور آئینہ ہے۔ صوری لحاظ سے اس لئے کہ اس عنوان کے ذریعے مرحوم کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا، اور معنوی لحاظ سے اس لئے کہ اس کتاب میں دنیا کی ناپائیداری، رنج و مصیبت کے روحانی پہلو، موت کی حقیقت، روحانی عالم کی عظمت، جزع و فزع کی مذمت، صبر و شکر کی فضیلت، اور سب سے بڑھ کر فلسفۂ ایثار و قربانی کو، جو قربِ خداوندی کا نزدیک ترین باعث ہے، جوابی خطوط کی صورت میں مختصر مگر جامع انداز میں پیش کیا گیاہے۔ ناچیز کی نظر میں کتابِ مذکور شدائد و مصائب میں مومنوں کے لئے ایک ایسی مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی روشنی میں بندۂ مومن بے صبری و ناشکری کے دردناک ذہنی اور روحانی عذاب سے نکل کر صبر و شکر کی ابدی رحمتوں اور نعمتوں سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ایک عام انسان کے لئے ایک وجیہہ و شکیل، نڈر، بے باک پچیس سالہ نوجوان بیٹے کی یکایک موت قیامتِ کبریٰ نہ سہی تو قیامتِ صغریٰ سے کم

۵

 نہیں، لیکن جہاں تک علامہ صاحب کا تعلق ہے، آپ کی روحانی مجالس میں شریک ہونے والوں، آپ کی وعظ و نصیحت کو گوشِ جان سے سننے والوں اور آپ کے دسترخوانِ علم و معرفت کی ریزہ چینی کرنے والوں کو یقینِ کامل تھا اور ہے، کہ آپ ایک فرزند کی جسمانی مفارقت کو کوئی ہنگامہ نہیں سمجھیں گے۔ اس لئے کہ آپ خاصانِ خداوند میں سے ہیں، اور علم و معرفت کے ایک ناقابلِ تسخیر پہاڑ کی حیثیت رکھنے کے باوجود جس منکسر المزاجی کے ساتھ جماعت کی روحانی اور علمی خدمت کرتے آئے ہیں، وہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں، حقیقت یہ کہ آپ ان مردانِ حق اور خاصانِ خدا میں سے ہیں، جن کی زندگی کا شعار یہ ہوتا ہے کہ:

درینجا مردانی کہ ایشان در رہِ فرمان

بکارِ دین، نیندیشند، ہیچ از جان و از کالا

نہ از جستن نہ از بستن نہ از کشتن نہ از مردن

نہ از خنجر نہ از زوبین نہ از سلطان نہ از غوغا

یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک اضطراری قربانی اور وہ بھی ایک جوان سال بیٹے کی قربانی پر راضی برضائے الٰہی رہ کر صبر و شکر کرنا پہلے سے ارادی طور پر تیار ہو کر خداوندی حضور میں قربانی پیش کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ اس لئے کہ پہلی صورت میں عالمِ روحانی کے اجرِ عظیم کو خوش کن تصویر سامنے رہتی ہے اور اس روحانی کیفیت میں دنیوی مال و متاع اور زن و فرزند کی چمک دمک کوئی اثر نہیں رکھتی، اس کے برعکس دوسری صورت میں یہ کیفیت نہیں ہوتی، لہٰذا دفعۃً اس پر قابو پانا زیادہ دشوار کام ہے، لیکن یہ بات بھی عام انسانوں کے لحاظ سے ہے، خاصانِ خدا اور عاشقانِ مولا ہمیشہ اپنے ارادے سے فانی اور ارادۂ حق میں باقی ہوتے ہیں، اس لئے ان کی باطنی اور روحانی

۶

 کیفیت باوجود بشری تقاضوں اور انسانی حالات کے لا خوف علیہم و لا ہم یحزنون کی رہتی ہے۔

علامۂ موصوف کی ذاتِ گرامی میں خاکسار کو ان معیاری صفات کا مشاہدہ رہا ہے، اور مجھے یقینِ کامل ہے کہ وہ تمام مومنین، جنہوں نے علامۂ موصوف کو دنیوی جاہ و حشمت، مال و متاع اور سیاسی و خاندانی تعلقات سے بالاتر ہو کر، محض دینی، علمی اور روحانی لحاظ سے پہچاننے کی کوشش کی ہے اور جو کریں گے ان کو یہ صفات اور یہ روحانی مرتبہ مشاہدہ کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں ہو گی اور نہ ہی آئے گی۔

موصوف کی زندگی ایک مردِ کامل کی حیثیت سے بڑی ہمہ گیر رہی ہے، آپ شبانی اور سپہ گری کی زندگی سے لے کر عالم، عاشقِ صادق اور عارف کی حیثیت تک گوناگون تجربات و معلومات کی زندگی گزارتے ہوئے آئے ہیں اور ان مختلف ادوار میں عشقِ حقیقی کا عنصر سب سے زیادہ کار فرما رہا ہے، اور چونکہ عشق نام ہی امتحانات کا ہے اور امتحان کا دوسرا نام قیامت ہے، لہٰذا آپ کی زندگی بھی بڑے بڑے امتحانات اور بار بار کی قیامات سے گزری ہے، جیسے خود فرماتے ہیں:

عشق دیدہ صد قیامت از قیامت پیشتر

از تو ہر دم صد قیامت نور مولانا کریم

لیکن عشقِ حقیقی میں ثابت قدمی کا اجرِ عظیم یہ ہے، کہ معشوقِ حقیقی کبھی اپنے عاشق کو بے نیل و مرام نہیں چھوڑتا، بلکہ زندگی کے ہرقدم میں اس کی رہنمائی کرتا ہے، اور اسی طرح عاشق عظیم سے عظیم امتحان میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے جیسا کہ خود علامہ صاحب فرماتے ہیں:

۷

عشقہ کاٹ لو منانکہ بیسنہ مہ کم

ای عقل میئمی مار امامِ زمان

یعنی اگر تم عشق کے عہد و پیمان پر ثابت قدم رہو گے تو تمہیں کسی چیز کی کمی نہ ہو گی، (اور اس حال میں) امامِ زمان خود تمہاری عقل کے استاد اور رہنما ہونگے۔

اکثر یوں ہوتا ہے کہ بزرگانِ دین کی اپنی زندگی کے دوران قدر شناسی کم ہوا کرتی ہے، لیکن اس لحاظ سے بھی علامہ صاحب نہایت سعادتمند ہیں، کہ آپ کی نہ صرف اسماعیلی جماعت میں قدر و منزلت ہے، بلکہ پوری مسلم برادری اور بالخصوص اہلِ علم حضرات آپ کو نہایت قدر و وقعت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور اسماعیلی جماعت میں خاص و عام کو آپ کے ساتھ جو والہانہ عقیدت و محبت ہے، اس کی مثال آپ خود ہیں۔ ذیل میں علامہ صاحب کی ہمہ گیر زندگی کے بارے میں چند اقتباسات خود آپ کے اپنے نوشتہ جات سے پیش کئے جاتے ہیں، جو سبق آموز بھی ہیں اور بصیرت افروز بھی۔

چنانچہ لکھتے ہیں ’’کہ میری زندگی کی کہانی انتہائی عجیب و غریب ہے جسمانی اور روحانی قسم کی آزمائشوں کا نتیجہ ! مسافرت و غربت کا قصہ! درویشی و فقیری کا خلاصہ! محنت و مشقت کا مجموعہ! گریہ و زاری کا سرچشمہ! اور صبر و شکر کا ایک ادنیٰ نمونہ!‘‘ ان گوناگون آزمائشوں کے دوران ان کے احساسات کیسے تھے؟ ان کی روحانی کیفیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ایک قسم کے احساسات وہ ہیں، جن کی اساس و بنیاد خدا و رسول اور ائمۂ برحق علیہم السلام کے مبارک و مقدس ارشادات پر ہے، دوسری قسم کے احساسات وہ ہیں، جن کا تعلق طبعی میلان، دنیاوی رسم و رواج اور ظاہری ماحول پر ہے، لیکن الحمد للہ ہمارے دینی احساسات ہر وقت دنیاوی احساسات پر غالب و

۸

 فاتح رہتے ہیں، یہ سعادت اس ذاتِ بابرکات کی تائید و نصرت کے بغیر ممکن نہیں جس کے قبضۂ قدرت میں سب کچھ ہے‘‘۔

سطورِ بالا یہ اندازہ لگانے کے لئے کافی ہیں، کہ امامِ زمانؑ اپنے خاص بندوں اور عاشقانِ صادق کے لئے بڑے بڑے امتحانوں اور ابتلاؤں میں کس طرح خود عقل بنتے ہیں، اور کس طرح ان کو ادنیٰ اور طبعی خواہشات و احساسات سے نکال کر اعلیٰ اور روحانی خواہشات کی طرف ہدایت فرماتے ہیں، اور بزرگانِ دین اور عاشقانِ مولا اس باطنی ہدایت و تائید کی بدولت مصائب و شدائد میں بھی مومنوں کے لئے صبر و شکر اور ہمت و استقامت کا مثالی نمونہ بن کر دینی امور کی انجام دہی میں کس طرح سینہ سپر ہو جاتے ہیں، چنانچہ علامہ صاحب کی ایسی ایسی مثال ملاحظہ ہو کہ موصوف ۱۳ دسمبر ۱۹۷۲ء کو سرکار مولانا حاضر امام کے مبارک یومِ ولادت کے موقع پر دوسرے لوگوں کی طرح اپنے عزیز فرزند کی رحلت کے غم میں خانہ نشین نہیں ہوئے بلکہ امامِ زمان کے مقدس فرمان یعنی کہ: ’’اگر کسی کا جوان بیٹا بھی فوت ہو جائے تو غم نہ کرے‘‘ کے مطابق جوانمردانِ دین کے ایک قائد کی حیثیت سے میدان میں نکل کر جماعت کی قیادت فرمائی اور یہ معلوم ہونے بھی نہیں دیا کہ جسمانی لحاظ سے ان کی زندگی کی عزیز ترین شے یعنی لختِ جگر ان سے جدا ہو گیا ہے، بے شک مردانِ حق اور بزرگانِ دین کا یہی شیوہ و شعار ہوتا ہے جو نہ صرف وعظ و نصیحت کرتے ہیں بلکہ عین موقع پر عملاً جماعت کو دکھاتے ہیں اور یہی فلسفۂ ایثار و قربانی ہے۔

جیسا کہ شروع میں کہا گیا ہے کہ یہ کتاب فلسفۂ ایثار و قربانی کا ایک آئینہ ہے، چنانچہ علامۂ موصوف اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’قربانی کا لفظ قرب سے نکلا ہے اور خدائے تعالیٰ کی قربت کے لئے قربانی کی ضرورت پڑتی ہے، اس

۹

 معنی میں قربانی ایک ایسی قیمتی چیز کو کہتے ہیں جو خدا کی راہ میں اس کی قربت و نزدیکی کی غرض سے نکالی گئی ہو‘‘۔ نیز قربانی کی قسموں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ مومنین سے دو قسم کی قربانی لیا کرتا ہے، ایک قربانی وہ ہے جو مومن سوچے سمجھے حال میں خدا کے حضور پیش کرتا ہے، دوسری قربانی وہ ہے جو خدا تعالیٰ اپنی مرضی سے مومن سے لیا کرتا ہے، اگر اس دوسری قربانی کے لئے مومن صابر و شاکر رہے تو یہ قربانی خدا کے نزدیک سب سے عظیم ہے‘‘۔

مجھے امید ہے کہ اس کتاب کو برابر پڑھنے اور سمجھنے کے بعد کوئی بھی حقیقی مومن مصیبت کو مصیبت نہیں بلکہ رحمتِ ایزدی ہی سمجھے گا، اس لئے کہ خدائے رحمان و رحیم ہماری اپنی جانوں سے زیادہ مہربان ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے جو کچھ کرتا ہے وہ یا تو سرزدہ گناہوں کے روحانی نقصان کی تلافی کے لئے کرتا ہے یا مزید روحانی ترقی کے لئے، اور ہر دو صورتوں میں رحمت ہی رحمت مقصود ہے، چنانچہ قرآنِ کریم میں آیا ہے: ۔۔۔ اولٰئک علیہم صلوٰت من ربھم و رحمۃ و اولٰئک ہم المھتدون (۲:۱۵۷)۔

فلسفۂ ایثار کی مزید وضاحت علامہ موصوف نے اس کتاب میں بار بار فرمائی ہے امید ہے کہ قاری جتنا زیادہ دقت کے ساتھ اس کو پڑھے گا اتنی زیادہ اس کی حقیقت کو پہنچے گا۔

اس کے علاوہ علامہ صاحب نے ’’سخنہائے گفتنی‘‘ میں بعض ناپسندیدہ اور مکروہ رسومات یعنی موت کے موقع پر زار و قطار رونا، مردے کی تعریف کرنا، خورد و نوش کی چیزیں لانے میں اسراف کرنا، ہفتوں مہینوں تعزیت کے لئے آنے وغیرہ سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے، امید ہے کہ اسماعیلی جماعت بالخصوص ان پر عقل و علم کی روشنی میں

۱۰

 عمل کرنے کی کوشش کرے گی، اس لئے کہ یہ رسومات اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں اور اندازہ ہوتا ہے، کہ ایسی رسوم اشاعتِ اسلام سے پہلے کے اثرات ہیں، اب جبکہ دن بدن امامِ زمان کے مبارک فرامین کے ذریعے دین کی حقیقت روشن سے روشن تر ہوتی جا رہی ہے تو جماعت کا فرض ہے  کہ بیہودہ رسومات کو ترک کرے اور امامِ زمانؑ کے مقدس فرامین پر عمل کرے، امید ہے کہ ان حقائق کو علامہ صاحب نے جس حکیمانہ انداز میں سمجھایا ہے، جماعت کماحقہ ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے گی۔

آخر میں دعا ہے کہ خداوندِ کریم و رحیم مرحوم کو اپنے جوارِ مغفرت و رحمت میں ابدی سکون و سعادت اور سرمدی مسرت و راحت نصیب کرے! مصنف کو صبر و شکر کا اجرِ غیر ممنون عنایت کرے اور جماعت کو ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تکالیف و شدائد میں صبر و شکر اور امامِ زمانؑ کی اطاعت و فرمان برداری میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا کرے!

فقیر محمد

معہد الدراساتِ الاسلامیہ

جامعۂ میکگل، مونتریال کنادا

۱۵ نومبر ۱۹۷۳ء

۱۱

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

محترم و مکرم قبلہ و کعبہ ہمارے بہت ہی شفیق بزرگوار دادا جان علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی (ایس۔ آئی) کے منشا پر عمل کرتے ہوئے ہم نے چند الفاظ قلم بند کرنے کی جسارت کی ہے۔ علامہ بزرگوار نے کتاب ’’ایثار نامہ‘‘ میں اپنے فرزندِ جگر بند ایثار علی (مرحوم) سے جو محبت کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے وہ کئی اعتبار سے مثالی اور دعائے جاریہ ہے۔ یہ ایک مردِ مومن کی آپ بیتی کا حصہ بھی ہے جس نے اس مشکل امتحان میں مذہبی تقاضوں کو نبھاتے ہوئے صبر و تحمل کی ایک نئی روایت رقم کی ہے تا کہ اس مثال کو اپناتے ہوئے ہر ذی شعور اور ایماندار انسان حکمِ خداوندی پر کما کان حقہ سرِ تسلیم خم کرے۔

دل بدست آور کہ حجِ اکبر است

از ہزاران کعبہ یک دل بہتر است

اس کتاب کی افادیت کے کئی پہلو ہیں جن میں سرِ فہرست یہ کتاب ایک دینی درس بھی ہے اور ایک اعلیٰ ادبی نسخہ بھی، کہ جس کو پڑھ کر قارئینِ کرام اپنے ذہنوں کو عالی ہمتی کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔

اولاد کی نعمت ایک فطری کشش کی حامل ہوا کرتی ہے۔ یہ عطیۂ خداوندی کائناتی نعمتوں میں سب سے شیرین اور دلفریب ہے۔ وہ جگر گوشے جو ماں باپ کے نورِ نظر اور دل کی ٹھنڈک ہوں یقیناً ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں مگر صد

۱۲

 افسوس کہ ایسی اموات جو بھرپور جوانی میں واقع ہوں، پسماندگان کے لئے قیامتِ صغریٰ ثابت ہوتی ہیں جو بڑے سے بڑے مضبوط انسان کو بھی شکستہ خاطر اور بے بس کر دیتی ہیں۔ مغموم و دل سوز لواحقین آہ و نالہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ہیں اور غمگین ہوتے ہیں۔ مگر یہ سوچنا اور سمجھنا از حد ضروری ہے کہ منشائے خداوندی کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ہم سب اسی کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اس کتاب کی مناسبت سے ہماری یہ دعا ہے کہ وہ تمام جانیں جو بھرپور جوانی میں دنیا سے چلی گئی ہیں، خداوندِ کریم و کارساز ان سب کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور تمام بنی نوع انسان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے! آمین یا رب العالمین!!

مخلصان

امین الدین ابنِ ایثار علی ابنِ نصیر الدین ابنِ حبِ علی

عرفت روحی اہلیۂ امین الدین

حبِ علی ثانی ابنِ امین الدین ابنِ ایثار علی ابنِ نصیر الدین ابنِ حبِ علی

درِ علوی بنتِ امین الدین ابنِ ایثار علی ابنِ نصیر الدین ابنِ حبِ علی

درِ فاطمہ بنتِ امین الدین ابنِ ایثار علی ابنِ نصیر الدین ابنِ حبِ علی

پیر ۲۴ مئی ۲۰۰۴ء

۱۳

ہماری امہات کے خاندانوں کا تذکرہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

میری والدۂ محترمہ (مرحومہ) روزی بائی بنتِ حیدر محمد کے آبائی خاندان بختہ کد ہیں، شجرۂ نسب ملاحظہ ہو: ص ۷۱۔۷۲، از کتابِ تاریخِ عہدِ عتیقِ ریاستِ ہونزا۔ میری نانی فضہ سلطان محمد کی بیٹی تھیں، سلطان محمد ہکل کد خاندان کا تھا، جو التت اور احمد آباد میں ہیں۔ میری دادی صاحبہ کا نام بھی روزی بائی تھا، جو درس علی (درویش علی) ابنِ قلی لسکر کی بیٹی تھیں۔ قلی لسکر اپنے زمانے کا بڑا بہادر اور نامور شخص تھا، ملاحظہ ہو ص ۹۵، از کتابِ مذکور۔

میری پر دادی گل بی بی (Gal Bibi) بنتِ خوش حال، کے خاندان خروٹنگ ہیں اور ہماری ایک دادی میلی بنتِ بڈو چبوی بُتی کی نسل سے تھی، چبوی بُتی گنش میں تھا، اسی کے نام سے چبوی کشل ہے، ہماری ایک دادی بل التت اسیکد خاندان سے تھی، اور بشوکد خاندان سے یکے بعدِ دیگرے ہماری دو یا تین دادیاں ہوئی ہیں، بشو کا شجرہ ملاحظہ ہو: ص ۶۵، از کتابِ مذکور۔

نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

جمعرات ۲۷ مئی ۲۰۰۴ء

۱۴

حضرتِ قائم (ع۔س) کے عظیم احسانات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

عائشہ بیگم کے لئے حضرتِ قائم (علی اللہ) کے حضورِ پر نور سے فوق العادہ عظیم انعامات ہوئے، ان کو کبھی کبھی خواب میں حضرتِ قائم علینا سلامہ کا حجابی دیدار ہوتا تھا یعنی کسی بزرگ کے عنوان سے دیدار ہوتا تھا (ملاحظہ ہو) کتاب علمی بہار ص ۱۶۔ ۲۰۔

عائشہ بیگم کے حق میں حضرتِ قائم (علی اللہ) کا ایک بہت بڑا معجزہ ہوا تھا، اب تک میں نے اس کی تاویل کو تو بیان کیا لیکن شخص کا نام نہیں بتایا، خوفِ بے جا لاحق ہوا تھا، اب میں اس امانت کو ادا کرنا چاہتا ہوں، کہ میں یارقند میں تھا اور میری اہلیہ عائشہ بیگم ہونزا میں تھی حضرتِ قائم علینا سلامہ کے نورانی معجزات جاری تھے، ایک دن ہمارے خداوند (علی اللہ) نے عائشہ بیگم کی نیک بخت روح کو اور نیک بخت مومنات کے ایک بڑے گروپ کا روحاً ملا کر ایک فرشتہ بنایا اور وہ فرشتہ کہہ رہا تھا: تھلا تھلا تھلا نی، تھلا تھلا تھلا ژو۔ یہ الہام حضرتِ خداوند کے حکم سے تھا، اس لئے یہ ایک تاویلی کلیہ بن گیا۔ (کتاب علمی بہار ص ۱۶ ۔ ۲۳ ملاحظہ ہو)

نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

۲۸ مئی ۲۰۰۴ء

۱۵

شبِ قدر اور ایک وفات

۱۔ شبِ قدر کی تنزیلی و تاویلی دُہری اہمیت و فضیلت ہے، کیونکہ وہ ظاہر میں ماہِ رمضان کی سب سے افضل رات ہے، جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے، اور باطن میں حجتِ قائم (علینا منہ السلام) ہے، جس میں صاحبِ قیامت اور جملہ اسرارِ قیامت پوشیدہ ہیں، چنانچہ جس کو حجتِ قائم (ع۔م۔س) کی معرفت حاصل ہو جائے، اس کو حضرتِ قائم اور قیامت کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے، اور گنجِ اسرارِ مخفی اسی بندۂ مومن کے نام پر یا ایسے مومنین و مومنات کے نام پر ہو جاتا ہے۔

۲۔ آپ تمام عزیزوں کے لئے از حد ضروری ہے کہ سورۂ قدر (۹۷:۱۔۵) کو بغور بار بار پڑھیں، اور اس کی تاویل کتابِ ’’وجہِ دین‘‘ میں دیکھیں، خاص کر گفتار سی و سوم (۳۳) میں، جس کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ حضرتِ قائم القیامت (ع۔س) کی شناخت نہیں ہو سکتی ہے، مگر پانچ حدود کے توسط سے، جیسے اساس، امام، باب، حجت، اور داعی۔

۳۔ خدا کے بارے میں ہمیشہ حسنِ ظن سے کام لینا بہت بڑی دانشمندی ہے، چنانچہ ہم یہ کہیں گے کہ: عائشہ بیگم (علامہ نصیر الدین کی اہلیہ) پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہوئی کہ عرصۂ دراز تک بیماری کی بندگی، ریاضت اور آزمائش کے بعد دار الفنا سے دار البقا کی طرف اٹھا لی گئیں، زہے نصیب کہ اس نیک بخت کی وفات یومِ شنبہ ۲۳ رمضان المبارک (۱۴۱۴ھ) ، ۵ مارچ (۱۹۹۴ء) کو ہوئی، جبکہ تدفین کے چند گھنٹے بعد آفتابِ عالمتاب لیلۃ القدر کی مبارک رات کے لئے غروب ہوا، اور یہ بڑا

۱۶

 عجیب حسنِ اتفاق یا پرحکمت موت کا پروگرام تھا کہ شبِ قدر کی تاویل ہے، حجتِ قائم، اور سنیچر کی تاویل ہے، حضرتِ قائم (ع۔س) اور اس کا اشارہ یقیناً یہی ہے کہ ان کے گھر میں حجت اور قائم (ع۔س) کی شناخت ہے۔

۴۔ محترمہ عائشہ بیگم (مرحومہ) کا پدری نسب اس طرح ہے: عائشہ بیگم بنتِ اسد اللہ بیگ (عرف بلبل) ابنِ محمد رضا بیگ (فراج) ابنِ وزیر اسد اللہ بیگ ابنِ وزیر پونو، اور مادری شجرہ یہ ہے: عائشہ بیگم بنتِ تائفہ بانو بنتِ ترنگفہ سلطان محمود ابنِ غلامو ابنِ سلطان بیگ ابنِ خوش بیگ ابنِ جٹوری۔

۵۔ عائشہ بیگم کی پیدائش کا سال ۱۹۲۲ء ہے، تقریباً سات سال کی عمر میں وہ میرے نکاح میں لائی گئی تھیں، اور میں شاید اس وقت بارہ برس کا لڑکا تھا، بڑی عجیب بات ہے کہ ایسی نو عمری میں یہ شادی ہوئی، اس کی وجہ البتہ یہی ہے کہ میرے والدین کسی اچھے خاندان سے اپنی بہو کا انتخاب کرنا چاہتے تھے۔

۶۔ میری رفیقۂ حیات عائشہ بیگم (مرحومہ) ہونزا کی ان عالی ہمت خواتین میں سے تھیں، جو جذبۂ جان نثاری اور کامل وفاداری سے لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈالتی ہیں، جبکہ ان کے شوہر عرصۂ دراز تک وطن سے دور کہیں ہوتے ہیں، ہونزا میں اس کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔

۷۔ میں نے اس واقعہ کو بہت غور سے سنا ہے، اور میں تصدیق کرتا ہوں کہ عائشہ بیگم کو کبھی کبھی نورانی خواب میں ایک باجلالت و باکرامت بزرگ کا دیدار ہوا کرتا تھا، میری تحقیق کے مطابق وہ نورِ امامت کی ایک تجلی ہوا کرتی تھی، لیکن میں اس معجزے کی بہت کم تعریف کرتا تھا، تا کہ بیگم غرور کا شکار نہ ہو جائیں، ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں یارقند (چین) میں تھا کہ عائشہ بیگم میرے متعلق لوگوں کی باتوں سے بہت

۱۷

 مغموم ہو رہی تھی، اندران حال انہوں نے خواب میں اپنے بزرگ کو دیکھا، جو فرما رہے تھے: ’’بیٹی! تم ہرگز غمگین اور مایوس مت ہو جاؤ، میرا بیٹا میرے دامنِ اقدس کے نیچے محفوظ و سلامت ہے، اور وہ آج سے تین مہینے کے بعد آنے والا ہے، تم کسی غریب عورت کو تین روز اپنا کھانا دینا‘‘۔ انہوں نے بزرگ کی ہدایت پر عمل کیا، اور یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔

۸۔ عائشہ بیگم نے زمانۂ غریبی کو دیکھ لیا تھا، اس لئے جب ہماری مالی حالت کچھ بہتر ہوئی تو آپ اپنی عادت کے مطابق گاہ و بے گاہ سخاوت کا مظاہرہ کرتی تھیں، یہاں تک کہ بعض دفعہ گھر کے استعمال کی کوئی ضروری چیز بھی کسی حاجت مند کو دینے سے دریغ نہیں کرتیں۔

۹۔ مرحومہ بڑی حد تک مذہبی ہونے کی وجہ سے جماعت خانہ اور روحانی مجلس کی شیدائی اور امامِ عالی مقام علیہ السلام کی منظومہ تعریف سننے کی دلدادہ تھیں، ان کے دل کو جوان سال فرزند (ایثار علی) کی اچانک موت نے مجروح اور بہت نرم بنا دیا تھا، بنا برین ذکر و مناجات کی محفل میں ان کی بہت گریہ و زاری ہوا کرتی تھی، بے شک دلِ مجروح کی مناجات حضرتِ قاضی الحاجات کو پسند آتی ہے، اور ہر مصیبت میں رجوع الی اللہ کی یہی حکمت و مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔

۱۰۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہر نیک عورت اپنے بچوں سے بہت زیادہ مادرانہ محبت رکھتی ہے، اسی طرح عائشہ بیگم اپنی ہر اولاد کو جانِ عزیز سے بھی زیادہ عزیز رکھتی تھیں، لیکن تعجب اس چیز میں ہے کہ وہ سیف سلمان خان کو بھی بڑی شدت سے چاہتی تھیں، ان کا سچے دل سے یہ کہنا تھا کہ آپ بے شک خدا کے دوست ہیں، لہٰذا یہ اسی کی توفیق اور حکمت تھی کہ آپ نے یارقند کی سخت مسافرت اور محبوس زندگی

۱۸

 میں دوسری شادی کا سہارا لیا، جس کا میوۂ شیرین آج ہمارے لئے ایثار علی کی جگہ پر سیف سلمان خان ہے، اور ہر وقت ان کا یہی اصرار ہوتا تھا کہ سلمان کو یہاں لائیں، چنانچہ خوش بختی سے گزشتہ سال سلمان مختصر وقت کے لئے پاکستان آیا، اور اس نے اپنی بیمار ماں کی پہلی اور آخری ملاقات کر لی، اور اس کو اس ادھوری خوشی سے زیادہ افسوس ہوا۔

۱۱۔ اب میں اجتماعی مفاد سے متعلق کوئی بات کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ میں ایسی رسمِ چراغ روشن کے حامیوں میں سے ہوں، جو سادہ، اور کم خرچ پر مبنی ہو، لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ ساتویں دن کی رسم کا پس منظر کیا ہے، اس لئے میں نے عائشہ بیگم کی وفات کے یومِ ہفتم (تھلے کد) کے اخراجات کو صدقۂ جاریہ کے طور پر پاک جماعت خانہ میں پیش کیا، اور امید ہے کہ (ان شاء اللہ) آئندہ ہوشمند لوگ ایسا ہی عمل کریں گے، موکھی صاحب نے اس مثالی کام کو بڑی فراخدلی سے سراہا، اور بہت ساری عمدہ دعائیں دیں، یہ مبارک دعائیں دراصل حضرتِ مولا کی تھیں، جو نامدار موکھی کی پاکیزہ زبان سے ادا ہوئیں، الحمد للہ۔

۱۲۔ مجھے پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ ہونزا وغیرہ سے بہت سے لوگ فاتحہ خوانی اور اظہارِ ہمدردی کے لئے گاڑیوں پر گلگت آئیں گے، جس کی وجہ سے جماعت یا قوم کے ہزاروں روپے خرچ ہوں گے، اور بالکل ایسا ہی ہوا، حالانکہ میں نے اعلان کیا تھا کہ ہم نے اس رسم کو محدود کرنا ہے، اس لئے دور سے لوگ نہ آئیں، میں نے علی آباد کے بعض اکابرین سے گزارش کی کہ اگر آپ حضرات گلگت آنے جانے کا ٹوٹل کرایہ کسی جماعتی کام میں خرچ کرتے، اور مجھے صرف ایک چھوٹا سا تعزیت نامہ لکھتے، تو بہت اچھی بات ہوتی، میں نے مزید عرض کی کہ آپ جماعت کو آئندہ کے لئے سمجھائیں کہ وہ بڑی تعداد میں دور دور تک فاتحہ خوانی کی غرض سے نہ جایا کریں (ہر قسم کی دعا اور فاتحہ

۱۹

 خوانی کی بہترین جگہ خدا کا گھر ہے) وہ دانا تھے، اس لئے یہ باتیں ان کو پسند آئیں۔

۱۳۔ انہی مجالس میں وقت کے موضوع پر بھی گفتگو ہوئی کہ وقت کیا ہے؟ وقت عمرِ عزیز کے ایک حصے کا نام ہے، اگر فرد کی زندگی انمول ہے تو قوم کی زندگی اس سے کہیں زیادہ انمول ہے، لہٰذا اجتماعی زندگی کے قیمتی ٹکڑوں (یعنی اوقات) کو غیر ضروری کاموں میں صرف نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ خرچ شدہ دولت مل سکتی ہے، لیکن صرف شدہ زندگانی واپس نہیں آ سکتی۔

۱۴۔ میں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ شمالی علاقہ جات میں ایصالِ ثواب کی یہ رسم بہت اچھی ہے، لیکن یہ کہاں کی ہمدردی ہے کہ غمزدہ خاندان کو ذرا بھی آرام کی اجازت نہیں ہے، صبح سے لے کر شام تک باادب اور ہوشیار بیٹھنا ضروری ہے، کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ دن کے تقریباً دو بجے تک لوگ آیا جایا کریں؟ ورنہ غمگین لوگوں کو حسبِ دستور تکلیف ہوتی رہتی ہے، پھر علم و ترقی اور ڈاکٹروں کے مشوروں کا کیا فائدہ، الغرض بعض روایات میں سوچ سمجھ کر ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔

۱۵۔ اس بندۂ عاجز نے ہونزا ریجنل کونسل کے صدر جناب ڈاکٹر اسلم صاحب کی خدمت میں ایک بہت اہم مسئلہ پیش کیا تھا، اب میں وہ دوسرے الفاظ میں عرض کرتا ہوں کہ ’’مومن آباد‘‘ کے نام کا مشورہ میں نے ہی دیا تھا، اور بفضلِ خدا وہ کامیاب ہو گیا، کیونکہ وہ ہمارے بہت ہی عزیز، روحانی بھائی، جو مومن آباد میں رہتے ہیں، بڑے راسخ العقیدہ مومنین ہیں، لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ ان کے ایمان اور اخلاص کی قدردانی نہیں کی جاتی ہے، کیا وہ اور ہم سب ایک ہی امام علیہ السلام کی روحانی اولاد نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو پھر ان کو ’’برادری اور برابری‘‘ کے حقوق کیوں حاصل نہیں ہیں؟ میں ان کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ پرامن طریقے سے نامدار کونسل سے

۲۰

 رجوع کریں، شاید اصلاحِ احوال کے لئے وقت لگے گا لیکن مسئلہ ان شاء اللہ حل ہو جائے گا۔

۱۶۔ خداوندِ قدوس کا شکر ہے کہ دعا کی غرض سے آئی ہوئی ہر جماعت کے سامنے علم کا کوئی نہ کوئی مناسب نکتہ بیان کیا، اور مجموعی طور پر البتہ علم و حکمت کی کافی باتیں ہوئیں، اس کے علاوہ بہت سے مومنین و مومنات کی پرخلوص دعاؤں کی سعادت و برکت بھی حاصل ہوئی، میں آخراً ان تمام افرادِ مومنین و مومنات کا قلبی گہرائی سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے عائشہ بیگم کی طویل علالت کے دوران بے مثال خدمات انجام دی ہیں، میں ان خواتین و حضرات کے حق میں عاجزانہ دعا کرتا ہوں جنہوں نے اس خدمت، عیادت اور تعزیت میں حصہ لیا، کہ رب العزت ان کو دین و دنیا کی لامحدود حسنات سے مالا مال فرمائے! آمین!! (بحوالۂ کتابِ علمی بہار، ص ۱۶ تا ۲۳)۔

نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

کراچی

جمعرات ۴ شوال ۱۴۱۴ھ، ۱۷ مارچ ۱۹۹۴ء

۲۱

فدائے مک کے یاسمین ۔ می اوشمکد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

ان دونوں عزیزوں نے میری بہت ہی عزیز پڑپوتی درِ علوی امین الدین کو بطورِ بیٹی گود میں لیا ہے، ہم تھم (راجہ) نہیں کہ قطعۂ زمین کا انعام دیتے، صرف دعا دی اور ان شاء اللہ درویشانہ دعائیں کرتے رہیں گے، اور علمی خدمت میں ان سے تعاون حاصل کیا، جس کا انعام ان کو اللہ کے حضور سے ملے گا۔ ایثار نامہ کے تیسرے ایڈیشن میں ان دونوں عزیزان نے ٹائپنگ کی خدمات انجام دی ہیں۔

تاریخِ عہدِ عتیقِ ریاستِ ہونزا، ص ۶۵ کے شجرہ کے مطابق جبلِ ایمان، جبلِ قوم، فاتحِ ایورسٹ، ستارۂ امتیاز جناب نذیر صابر صاحب، غلام قادر بیگ مومنِ عالی ہمت، میں، فدائے مک، اور یاسمین درم دلتس نامی شخص کی نسل میں سے ہیں، یعنی میری ایک دادی جو بشوکد کی بیٹی تھی وہاں میری نمائندگی کر رہی ہے۔

نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔ آئی)

بدھ ۳۰ جون ۲۰۰۴ء

۲۲

این سعادت بزورِ بازو نیست

ہدیۂ عقیدت و احترام

از: فدا علی سلمان البدخشانی

انسان فطری خصائص کا ایک سمند ہے اس سمندر میں اوصاف کے ان گنت انمول موتی پنہان ہیں جب تک حوادث کا کوئی طوفان اس سمندر میں تلاطم پیدا نہیں کرتا ان بے بہا موتیوں پر نظر نہیں جاتی۔ غالباً صدمۂ مرگ اور وہ بھی مرگِ جوانی طوفانِ حوادث میں قہرمان ترین صدمہ ہے اور انسانی اوصاف کے موتیوں میں ہمدری اور غم گساری کا وصف سرِ فہرست ہے جو ورود و اظہار کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں، مگر کبھی کبھی یہ تلازم کچھ اس انداز میں سامنے آتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ ایسے مواقع دراصل متاثر شخصیت کی عظمتِ ذاتی اور معاشرے میں اس کی اعلیٰ قدر و منزلت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ رشد و موعظت کا بھی ایک عظیم ذریعہ بن جاتے ہیں۔

عزیز مرحوم ایثار علی کی انتہائی جانکاہ حادثاتی جوانامرگی بھی ایک ایسا ہی صدمہ ہے جس نے دور و نزدیک کے تمام احباب، اعزا اور افرادِ جماعت کو جہاں ایک طرف متاثر کیا ہے وہاں دوسری طرف مرحوم کے عظیم والدِ بزرگوار جناب علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی صاحب کی عظمت و بزرگی کو بھی جو شروع سے صرف حلقۂ احباب و ارادت مندان میں ہی نہیں بلکہ محافلِ اغیار میں بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں

۲۳

’’نور علیٰ نور‘‘ کر دیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور خاص پہلو ہمارے سامنے آیا ہے کہ معمولاتِ عالم کے خلاف جس کے بارے میں زبان زدِ خاص و عام ہے کہ:

مصیبت کی گھڑی میں کون کس کے کام آتا ہے

کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا انسان بے رہتا ہے

آزمائش کی اس گھڑی میں پوری قوم نے مجموعی طور پر علامۂ موصوف کی ذات سے اپنی جس وابستگی کا اظہار کیا ہے اور ہمدردی کے جن انمول موتیوں کو بے دریغ نچھاور کیا ہے اسے موصوف کے کمالِ عظمت اور نیک بختی کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔ اس ذیل میں تاروں اور خطوط کے ایک بڑے انبار میں سے چند اقتباسات نمونتاً درج کئے جاتے ہیں۔

۱۔ مجھے آپ کے فرزند کے سانحۂ ارتحال کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صبرِ جمیل عنایت فرمائے!

میر آف ہونزا (تار)

۲۔ مجھے آپ کے فرزند کی حادثاتی موت کا سخت صدمہ ہوا۔ دلی تعزیت قبول کیجئے۔ مولا مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے!

وزیر غلام حیدر بندے علی کراچی (تار)

۳۔ آپ کے فرزند کی موت پر تمام جماعت غم و اندوہ کے ساتھ اظہارِ تعزیت اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کرتی ہے۔

اسماعیلیہ کونسل سکردو (تار)

۲۴

۴۔ عزیز ایثار علی کی شہادت کا سن کر سخت صدمہ ہوا۔ ہم سب کو مرحوم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں یہ ہم سب کا غم ہے۔ تعزیت قبول کیجئے، اللہ تعالیٰ آپ کو یہ صدمہ سہنے کی قوت اور مرحوم کو جوارِ رحمت مرحمت فرمائے!

جملہ جماعتِ مسگر (تار)

۵۔ مجھے جان کر انتہائی صدمہ ہوا کہ حالیہ ہوائی حادثے کے المیے کا شکار ہونے والوں میں آپ کے جوان سال عزیز فرزند بھی شامل تھے۔

ہم سب کو راضی بہ رضائے مولا ہونا ہی پڑتا ہے۔ مولا پاک مرحوم کی روح کو دائمی سکون اور آپ کو بمعہ متعلقین اس ناقابلِ تلافی نقصان کو جھیلنے کی سکت بخشے! آمین!

وزیر کیپٹن امیر علی کریم ابراہیم

اسٹیٹ ایجنٹ مولانا حاضر امام

کراچی (مراسلہ)

۶۔ مجھے جمعہ ۸ دسمبر ۱۹۷۲ء کو آپ کے فرزندِ عزیز کے المناک حادثاتی سانحۂ ارتحال کا جان کر سخت صدمہ ہوا۔ جس کے لئے ہماری دلی تعزیت قبول فرمائیں۔

آپ ایک نور رسیدہ شخص ہیں مجھے امید ہے کہ آپ راضی بہ رضائے مولا کو اپنا شعار بنائیں گے۔ ہم سب یہاں پر مولانا حاضر امام کے حضور دست بہ دعا ہیں کہ مولا مرحوم کی روح کو دائمی سکون اور آپ کو یہ عظیم نقصان سہنے کی طاقت و ہمت عطا

۲۵

 فرمائے! مجھے امید ہے کہ آپ کو ہمارا ۱۱ ماہِ روان والا تار ملا ہو گا۔

فقط

یا علی مدد

قاسم علی ایم جے

پریذیڈنٹ اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان۔ کراچی (مراسلہ)

۷۔ آپ کو معلوم ہے کہ کراچی میں مجھے والد صاحب کی وفات کی خبر ملی اس سے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے کہ سعادت خان جدا ہوا۔ مگر کیا کریں۔ کہاں جائیں۔ کس کو سنائیں، چارہ نہیں۔ علاج نہیں۔ اجل معین ہے۔ تقدیر کے قاضی کا فیصلہ اٹل ہے۔ تسلیم و رضا آخری حل ہے۔ دل تھام کے کہنا پڑتا ہے مرضیٔ مولا از ہمہ اولیٰ۔

زندگی انسان کی ہے مانندِ مرغِ خوش نوا

شاخ پر بیٹھا کوئی دم چہچہایا اڑ گیا

کیپٹن میر باز خان (اقتباس از مراسلہ)

۸۔ اصحابِ علم و دانش جن کو فلسفۂ زندگی سے کافی حد تک شناسائی ہے اس زندگیٔ ناپائدار پر کم اعتماد رکھتے ہیں اور ہر حالت میں کل شیء ہالک الا وجھہ (۲۸:۸۸) کے ارشادِ ربانی پر لبیک کہتے ہیں۔ گویا زخم ناقابلِ اندمال ہے اور یہ عظیم نقصان ناقابلِ تلافی، مگر سوائے صبر کے اور کوئی چارۂ کار باقی نہیں۔

محبوب علی کراچی (اقتباس از مراسلہ)

۲۶

۹۔ مرحوم عزیزم شادی شدہ تھا اور اس کے بچوں کی پرورش و کفالت بھی اب آپ کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ ان مصائب و آلام کوبرداشت کرنے کی مولا پاک آپ کو ہمت و استقامت عطا فرمائے! (آمین!)

تمام جماعتِ اسماعیلیۂ لائل پور (پنجاب) آپ کو بصد خلوص ہدیۂ تعزیت پیش کرتی ہےاور بارگاہِ رب العزت میں دست بہ دعا ہے کہ الہ العالمین مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور نورانی دیدار سے بہرہ ور فرمائے!

الواعظ عزیز علی فدائی لائل پور

(اقتباس از مراسلہ)

۱۰۔ اس اندوہناک حادثے نے ہمارے ہوش و حواس اڑا دئے ہیں اور اظہارِ ہمدردی اور قلبی کیفیت واضح کرنے کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں اگر ہوتے بھی تو ہم انہیں آپ کے پاس کیسے ادا کرتے کیونکہ آپ مصائب و آلام و ہمارے لئے ایک پناہ گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمارے دکھ سکھ کی گتھیاں آپ کے علم و عقل سے کھلتی ہیں۔ ہاں البتہ اتنا کہہ سکتے ہیں کہ آپ ابتلا کی کٹھن گھڑی میں ہمارے لئے صبر و شکر کا ایک اچھا معیار قائم کریں گے۔

(ہونزا کی مختلف جماعتوں اور کونسلات کے مراسلات سے اقتباس)

۱۱۔ آپ کے عزیز فرزند کی حادثاتی موت سے بہت دکھ پہنچا۔ یقین کیجئے اس آزمائش میں آپ تنہا نہیں ہیں ہم سب کے دل آپ کے ساتھ ہیں اگرچہ فاصلوں کے لحاظ سے ہم دور ہیں۔

(چند انفرادی مراسلات کا مجموعی تاثر)

۲۷

۱۲۔ دنیا دین سے وابستہ ہے آپ ایک عالمِ دین اور صاحبِ معرفت شخص ہیں ہم نے دینی شعور آپ ہی سے سیکھا ہے اور نیک و بد کی تمیز بھی۔ ایسے کڑے وقت کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے اس کے بہترین مظاہرے کی ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں۔ ہم دلی اور روحانی طور پر آپ کے ساتھ شریکِ غم ہیں۔

(چند انفرادی خطوط کا مجموعی تاثر)

میں ذاتی طور پر علامہ صاحب کے مداحوں میں سے ہوں۔ جس وقت ہوائی حادثے کی خبر یہاں موصول ہوئی اور پھر جس وقت شہید ایثار علی کا جسدِ خاکی یہاں پہنچا ایک قیامت کا سماں تھا۔ میں تو یہی سمجھ رہا ہوں کہ جن راہوں سے جنازہ گزرا ہے پتھر بھی رو پڑے ہوں گے، مگر آفرین ہے اس مردِ جلیل کے صبر و استقامت پر۔ کیا مجال ہے جو ذرا کمزوری دکھائی ہو، تمام پروگراموں میں برابر شریک ہوتے رہے، نہ صرف یہی بلکہ عقیدت مندوں، احباب اور اعزا میں سے جو لوگ غم سے مغلوب ہوئے بزرگوارِ موصوف نے بطورِ پند ہر ایک کو حوصلہ دیا۔ اور صبر و شکر کی تلقین کرتے رہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ وابستگان، عقیدتمندان اور احباب نے جس والہانہ انداز میں اپنی وابستگی، عقیدتمندی اور محبت کا اظہار کیا ہے، وہ انہی کا حق ہے اور انہی کا حصہ۔

میری دعا ہے کہ مولائے کائنات متاثر خاندان کو ظاہری و باطنی عنایات سے نوازے اور تلافیٔ نقصان میں جسمانی و روحانی نعم البدل عطا فرمائے!

الشریک فی الغم و الداعی للنعم

فدا علی سلمان البدخشانی

۲۸

سخنہائے گفتنی

۱۔ مومنین میں سے جو افراد مشیتِ ایزدی کی لاتعداد حکمتوں کا یقین رکھتے ہیں، وہ البتہ دنیا کی کسی بھی بڑی مصیبت سے واویلا اور جزع و فزع نہیں کرتے۔

۲۔ مومن کی زندگی فی الواقع دہری ہے، یعنی ایک تو چھلکے کی طرح ظاہر ہے اور دوسری مغز کی طرح باطن، اب اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی انسان کو باطن منظور ہو چکا ہے تو اس کے لئے چھلکے کو چھوڑنا اور ظاہر سے گزرنا پڑے گا، پھر اس پر کسی عزیز کو کوئی شکایت نہ ہونی چاہئے۔

۳۔ ہر انسان کی زندگی ہی میں کوئی نہ کوئی کارنامہ ہوا کرتا ہے، مگر اس عام اصول کے برعکس میرے عزیز فرزند ایثار علی کا ایک بڑا کارنامہ اس کی ناگہانی موت کے مکمل ہوا ہے، مثلاً ایک ایسے مردِ درویش کو اپنے عزیز بیٹے کی حادثاتی موت کے ابتلا و امتحان میں رکھنا جو صبح و شام کی عاجزانہ دعاؤں میں دوسرے مقاصد کے ساتھ ساتھ یہ بھی چاہتا تھا کہ اس پر کوئی ایسا امتحان نہ آئے، سارے خاندان بلکہ پوری قوم کو خون کے آنسو رلانا، چند قیمتی جانوں کی اتفاقیہ موت سے اتفاق کر کے چہ ہونزا و چہ گلگت اور پاکستان بلکہ پوری دنیا کو یکبارگی ہمدرد بنا لینا، اور مردِ درویش کی اس مصیبت کے بارے میں بعض معتقدین کا پوشیدہ تعجب کہ جہاں خوفِ خدا سے ہمیشہ گریہ و زاری ہوتی رہتی ہے، وہاں بھی خدا کا امتحان آ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس درویش کے ہر قول و فعل کی طرف جماعت اور قوم کا متوجہ ہونا کہ اب دیکھیں کہ وہ عین مصیبت کے وقت کیا کرتا ہے، صبر و شکر کا مظاہرہ کر رہا

۲۹

 ہے یا خود بے صبری اور نا شکری کا نمونہ بن رہا ہے، یہ تمام باتیں میرے عزیز بیٹے کی موت سے پیدا ہوئی ہیں، اس لئے میں ایثار علی کی موت کو اس کے حق میں قدرتی کارنامہ قرار دیتا ہوں۔

۴۔ میں ایک مصیبت زدہ باپ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک درویش بھی ہوں، ان دونوں صورتوں کے نتیجے میں میرے دل کے اندر جیسی جیسی عجیب و غریب کیفیات واقع ہوئی ہیں، وہ میں نے تعزیت کے جوابی خطوط میں بالکل صحیح طور پر ظاہر کر دی ہیں، پھر ان جوابی خطوط کو کتابی صورت دی گئی ہے، تا کہ ایک طرف سے تو یہ کتاب مسلمین و مومنین کے لئے پند و نصیحت کا ایک ذریعہ بن کر موجبِ ثواب ہو اور دوسری طرف سے اس پیاری روح کی یادگار باقی رہے جو پیارے ایثار علی کے نام سے میرے غریب خانے میں رہ چکی ہے۔

۵۔ یہ بات تقریباً سب جانتے ہیں کہ اولاد کی محبت ایک فطری امر اور ایک پیدائشی حقیقت ہے، اور ایک جوان بیٹے کی ناگہانی موت انسان کے لئے سب سے بڑا صدمہ ہے، لیکن انسان کیا کر سکتا ہے، کیا وہ قانونِ قدرت کے خلاف احتجاج کر سکتا ہے؟ کیا وہ خدا کے امتحان سے راہِ فرار اختیار کر سکتا ہے؟ نہیں نہیں وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا، اس لئے بہتر تو یہی ہے کہ صبر و شکر جیسا کہ حق ہے اختیار کیا جائے تا کہ اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور دونوں جہان میں رحمتِ خداوندی شاملِ حال رہے۔

۶۔ جماعت اور مسلم برادری کی طرف سے جو گہری ہمدردی مجھ سے کی گئی ہے، میرے خیال میں اس کی کوئی مثال نہیں اور جس خلوص اور دلسوزی سے دور و نزدیک کے عوام و خواص نے مجھے تعزیت دی ہے، اس کا تذکرہ کرنا میرے بس کی

۳۰

 بات نہیں، اور تعزیت نامے اس قدر زیادہ موصول ہوئے کہ میں ان سب کو اس کتاب میں درج نہیں کر سکتا تھا، لہٰذا میں نے کوشش کی صرف ان کے مختصر جوابات شائع کئے جائیں، پھر بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید کچھ خطوط مجھے نہ مل سکے، لہٰذا ان کا جواب میرے لئے ناممکن تھا، نیز بعض خطوط اس کتاب کے مکمل ہو جانے کے بعد موصول ہوئے تھے۔

۷۔ اب مجھ پر واجب ہے کہ میں پھر ایک بار ان تمام حضرات کا قلبی طور پر شکریہ ادا کروں، جنہوں نے جلکوٹ کے جنگل میں میرے عزیز بیٹے کی لاپتا لاش کی تلاش کی، اسے یہاں لا کر سپردِ خاک کر دیا، مجھے اور تمام خاندان کو سہارا دیا اور سنبھالا، انہوں نے مجموعی طور پر اپنے قیمتی وقت سے ہزاروں گھنٹے ہماری تعزیت کی خاطر صرف کر دئے، مگر افسوس کہ ان میں سے بعض چیزیں حد سے بڑھ جانے کی صورت میں بت پرستی بن جاتی ہیں، میں نے اس سلسلے میں چند ایسی چیزیں بھی محسوس کی ہیں جو مذہبی نقطۂ نظر سے ناپسندیدہ اور مکروہ بلکہ بت پرستی ہیں، اگر میں یہاں ان کے تذکرہ سے گریز کروں تو نصیحت کی امانت میں خیانت ہو گی، وہ چیزیں یہ ہیں:

الف۔ بعض سادہ لوح مردوں اور خصوصاً عورتوں کا زار زار رونا اور آہ و فغان کرنا اور مردے کی تعریف و توصیف بیان کرنا، ب۔ دور دراز علاقوں سے تعزیت کے لئے آنا، ج۔ وقت گزر جانے کے بعد عرصۂ دراز تک تعزیت دیتے رہنا، د۔ زخم پر نمک پاشی کرنا یعنی لواحقین کے پاس بار بار متوفی کا تذکرہ کرنا، ہ۔ موت کی ناجائز رسومات کو جاری رکھنا اور اس سلسلے کی فضول خرچی یعنی وقت یا پیشہ بے جا طور پر استعمال کرنا۔

اب مجھے اخیر میں ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جن کو مجھ سے ہر قسم

۳۱

 کی جسمانی ہمدردی کے علاوہ علمی تعاون بھی ہے، ان میں سے جناب پروفیسر فقیر محمد صاحب بی۔ اے (آنرز) ایم۔ اے (فلسفہ) ایم۔ اے (عربی) ایم۔ اے (فارسی) ڈبلیوم (جرمن) سرِ فہرست ہیں، جن کے گوناگون احسانات کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا، ان کی رفاقت سے میرے حوصلے بلند ہوئے ہیں، ان کی دوستی سے میری روح کو قوت ملی ہے، ان کی علمی تصدیق سے میری دور اندیشی کا ثبوت ملا ہے، آپ کی مایہ ناز شخصیت قوم کے لئے محنت و جفا کشی اور پھر کامیابی کا عملی نمونہ ہے، آپ کی ایمانی ذات خود شرافت و اصالت کی بہترین مثال ہے، آپ تحریر و تقریر دونوں میدان کے شہسوار ہیں، الحمد للہ علی احسانہ کہ یہ سب کچھ اسی حقیقی مالک کی مہربانی سے ایسا ہے تا کہ قوم اورجماعت زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھ سکے۔ پس میں صاحبِ موصوف کا بطریقِ اخص شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس کتاب کا ایک ایسا جامع اور دلکش دیباچہ تحریر فرمایا ہے کہ اس میں کتاب ’’ایثار نامہ‘‘ کے جملہ مطالب یکجا و واضح ہو چکے ہیں۔

پھر میں جناب فدا علی سلمان صاحب گوہر افشان کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی انوکھی اور بے مثال قابلیت اور جذبۂ اخوت سے میری مصیبت کے دوران نہ صرف جوابی خطوط میں میری معاونت فرمائی ہے بلکہ انہوں نے تمام تعزیت ناموں پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک پرمایہ پیش لفظ بھی لکھا ہے جس کی بدولت اس کتاب کی قدر و منزلت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

فدا علی سلمان صاحب کی علمی مرتبت کی مثال ایک ایسے گنجگاہ کی طرح ہے جس کے متعلق لوگوں کو کوئی گمان نہیں کہ وہاں ایک گرانقدر خزانہ چھپا ہوا ہے، مگر ایسا خزانہ بھی ہمیشہ کے لئے مخفی نہیں رہ سکتا، وہ ایک نہ ایک دن ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔

۳۲

میں اپنے پگھلے ہوئے دل میں یہ دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہ العالمین ان دونوں صاحبانِ علم و ادب کو اور دوسرے تمام ہمدرد حضرات کو علم و ہنر کے فیوض و برکات عطا فرمائے اور انہیں دونوں جہان کی کامیابی اور رو سپیدی عنایت کیجئے !!

آمین یا رب العالمین!!!

فقط

ذرۂ بے مقدار

نصیر ہونزائی

۳۳

گلگت

۱۳ دسمبر ۱۹۷۲ء

برادرانِ روحانی

جماعت ۱۔ حیدرآباد

۲۔ مرتضیٰ آباد

یا علی مدد!

میرے نوجوان فرزند کی ناگہانی اور اتفاقی موت اور اس ناقابلِ تلافی نقصان پر جس قدر خلوص اور دل کی گہرائیوں سے آپ سب نے ہمدردی کا اظہار کیا اور تعزیت کے متعدد پیغامات بھیجے ہیں اس کا میں تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔ خداوندِ تعالیٰ  کی شاید یہی مرضی تھی۔ اس کے حضور سرِ تسلیم خم ہے اور جیسا کہ آپ روحانی بھائیوں نے میرے لئے صبر و استقامت کی دعائیں مانگی ہیں مجھے یقین ہے کہ مولائے کریم آپ سب بھائیوں کی دعاؤں کے طفیل اس عظیم آزمائش میں مجھے ثابت قدم رکھے گا۔

ایک دفعہ پھر آپ سب روحانی بہن بھائیوں چھوٹے بڑے اور تمام خیرخواہوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میری عاجزانہ دعائیں ہیں کہ مولائے کریم تمام جماعت کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ظاہری و باطنی فیوض و برکات سے نوازے! (آمین!)

والسلام

آپ کا روحانی بھائی

نصیر ہونزائی

۳۴

گلگت

۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء

ملک جی!

سلام و دعائیں! واقعی انسانیت کا معیار غمخواری ہے، مبارک ہے وہ آدمی جو دوسروں کا درد محسوس کرتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کر و بیان

میرے عزیز لختِ جگر کی بے ہنگام مفارقت کا عظیم صدمہ اگر میں سہہ گیا ہوں تو محض اس برتے پر کہ آپ جیسے غم گسار موجود ہیں حکیم خیام فرماتے ہیں:

بیگانہ اگر وفا کند خویش من ست

ور خویش جفا کند بد اندیش من ست

گر زہر موافقت کند تریاق ست

ور نوش مخالفت کند نیش من ست

ایک وہ تھا چوتھائی صدی پہلے کا معصوم بے بس بچہ! میرے جگر کا ٹکڑا، میرے جوان بازوؤں کے مضبوط حصار میں شدائدِ ایام سے محفوظ پلتا رہا اور آج جبکہ اسے میرے بڑھاپے کی لاٹھی بننا تھا تو عین ضعیفی کی عمیق کھائی کے کنارے مجھے ہکا بکا چھوڑ گیا، نہ آگے کو سوجھتا ہے اور نہ پیچھے مڑ سکتا ہوں، ایک آپ ہیں سینکڑوں میل دور ہوتے ہوئے بھی میرا درد بانٹ رہے ہیں اس کا صلہ میں کیا دے سکتا ہوں وہ دے

۳۵

 دے جس کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا! آمین!

خیام ہی نے فرمایا ہے:

مردانہ در آ ز خویش و پیوند ببر

خود را تو ز بندِ زن و فرزند ببر

ہر چیز کہ ہست سدِ را ہست ترا

با بند چگونہ رہ روی بند ببر

یہ دنیا اگر فانی ہے تو یہاں کی ہر چیز فانی ہے۔ آنی جانی چیزوں کا غم کرنا بے سود ہے اور لاحاصل۔ راہِ سلوک میں بڑے کڑے مقام آتے ہیں راستے میں آنے والے مقامات سے گزر کر ہی کوئی راہی منزلِ مقصود تک پہنچ سکتا ہے، یہ کیسے کہا جا سکتا کہ منزل بھی ملے اور راستہ بھی طے نہ کرنا پڑے۔ سپاہی کو میدانِ جنگ میں نہ بھیج کر جنگ جیتنے کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہے، ہاں البتہ ضروری اسلحہ مہیا کرنے سے نہ صرف جنگ جیتنے کی امید ہو سکتی ہے بلکہ یقین کی حد تک سپاہی کی حفاظت بھی ہو جاتی ہے۔ کیا حیاتِ انسانی خیر و شر کی جنگ نہیں ہے اس جنگ کو جیتنے کے لئے دو بڑے ہتھیار ہیں یعنی صبر و شکر۔ میں نے انہی ہتھیاروں سے کام لینے کا فیصلہ کیا ہے آپ میرے لئے ثبات کی دعا کیجئے۔ مولا اجر دے گا۔

فقط

آپ کا خیر اندیش

نصیر ہونزائی

۳۶

جناب محترم شاہ زمان صاحب ڈورکھنڈ، ہونزا

یا علی مدد! اگرچہ یہ سانحہ آپ اور آپ کے خاندان کے لئے بلکہ ساری قوم اور جماعت کے لئے بہت ہی بڑا ہے، کہ اس جہاز کے حادثہ میں بیک وقت آپ کے چھ عزیز افراد جان بحق ہو گئے، امرِ الٰہی کے سامنے انسان کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے، پس بہتر یہی ہے کہ اب صبر و شکر کا راستہ اختیار کیا جائے اور اس آیۂ کریمہ کی حکمت پر عمل کیا جائے کہ: ’’قالوا انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ یعنی حقیقت میں ہم اپنی ذات کے لئے نہیں ہیں، بلکہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں، وہ ہمیں جس طرح استعمال کرے، اسی میں حکمت اور بہتری ہے اور اسی سے ہم کو دنیا و آخرت میں حق تعالیٰ کی قربت و نزدیکی حاصل ہو سکتی ہے۔

خدا تعالیٰ کے قرب کے لئے قربانی کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ قربانی کا لفظ قرب سے نکلا ہے، اسی معنی میں قربانی ایک ایسی قیمتی چیز کو کہتے ہیں، جو خدا کی راہ میں اس کی قربت و نزدیکی کی غرض سے نکالی گئی ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ حقیقی مومنین سے دو قسم کی قربانی لیا کرتا ہے، ایک قربانی وہ ہے جو مومن سوچے سمجھے حال میں خدا کے حضور میں پیش کرتا ہے، دوسری قربانی وہ ہے، جو خدا تعالیٰ خود اپنی مرضی پر مومن سے لیا کرتا ہے، اگر اس دوسری قربانی کے لئے مومن صابر و شاکر رہے، تو یہ قربانی خدا کے نزدیک سب سے عظیم ہے۔

اس کے علاوہ اگر یہ حقیقت مان لی جائے، کہ روح کی لا انتہا زندگی کے مقابلے میں جسم کی دو روزہ زندگی نہ ہونے کے برابر ہے، ساتھ ہی ساتھ اگر اس بات پر بھی یقین رکھا جائے کہ مومن کے لئے دنیا میں رنج وغم کے سوا کچھ بھی نہیں اور آخرت میں اس کے لئے راحت ہی راحت ہے۔ پھر اس صورت میں ہمیں اس مختصر سی جسمانی زندگی

۳۷

 کی ناگوار تلخیوں کو ضروری طور پر برداشت کرنا ہو گا۔

پس دعا ہے کہ خدائے علیم و حکیم اس حادثہ میں گزرے ہوئے مومنین کی ارواح کو شہیدانِ اسلام کا درجہ عنایت فرمائے! اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق و ہمت عطا فرمائے ! آمین ثم آمین !!

فقط

آپ کا خیر اندیش

نصیر ہونزائی

۱۸ دسمبر ۱۹۷۲ء

۳۸

جنابِ محترم ماسٹر سلطان علی صاحب غلکنی

یا علی مدد! میں آپ اور آپ کے جملہ خاندان کا نیز موکھی علی شفا صاحب اور غلکن کی نیک نام جماعت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کہ آپ صاحبان نے مجھے اس جان گداز مصیبت پر ایک صبر آموز اور حوصلہ بخش تعزیت نامہ لکھا ہے۔

آپ اس حقیقت سے باخبر ہیں، کہ یہ دنیا دارالفنا ہے دارالبقا نہیں، اور ہم میں سے ہر ایک کو کسی بھی وقت یہاں سے کوچ کر جانا ہے، لہٰذا ہمیں موت کی اس تلخ حقیقت کو گوارا کرنا ہو گا۔

ہم پس ماندگان میں سے عزیزم ایثار علی کی والدہ کے لئے اپنے فرزندِ جگر بند کی مفارقت ناقابلِ برداشت نظر آ رہی تھی، مگر ہم نے بفضلِ مولا صد ہا نصیحتوں سے اس بارِ غم کو ہلکا کر دیا ہے۔

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۱۹ دسمبر ۱۹۷۲ء

۳۹

اس حادثہ کے جملہ مصیبت زدہ خاندانوں کی خدمت میں

السلام علیکم! حضرات میں آپ سے معذرت خواہ ہوں کہ ان جوابی خطوط کی تیاری میں اب تک تماماً اپنی ہی مصیبت کا ذکر کرتے آیا ہوں، حالانکہ یہ میرا اسلامی اور انسانی فرض تھا کہ سب سے پہلے ان تمام قیمتی جانوں کی مجموعی موت کے بارے میں کچھ تحریر کرتا، جو یکایک اس حادثہ کا شکار ہو چکی ہیں۔

بہر حال مجھے اپنے درد کے قیاس پر آپ صاحبان کے درد کا بھی احساس ہے، لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کہ ہم سب اپنے اس دردِ بے درمان کا کوئی دوسرا علاج نہیں کر سکتے، بجز آنکہ ہم صبر و شکر کا راستہ اختیار کریں، بے شک خلقِ اولین و آخرین میں یہی ایک نسخہ رہا ہے، جو مرضِ مصیبت میں نہایت ہی موثر ہے۔

صاحبان! آئیے ہم سب مل کر بارگاہِ ایزدی میں دعا و التجا کریں، کہ پروردگارِ عالم ہمارے ان عزیزوں کو، جو ہم سے جدا ہو کر عالمِ آخرت کو سدھارے ہیں، اپنے جوارِ رحمت میں مقام عنایت کرے! اور ہم سب پس ماندگان کو صبر و شکر اور عرفان و ایقان کی اعلیٰ توفیق و ہمت عطا کرے!! آمین ثم آمین!!!

فقط

نصیر ہونزائی

۱۹ دسمبر ۱۹۷۲ء

۴۰

جناب حاجی عزیز محمد خان صاحب راولپنڈی

یا علی مدد! آپ کے تعزیتی خط کا شکریہ! بے شک میرا عزیز فرزند آپ کو بھی بہت عزیز تھا، لیکن موت کے لئے کیا چارہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کی مصیبتوں کا آپ کو بھی خوب تجربہ ہے، اور کوئی انسان مصائب و آلام سے خالی نہیں، پس ہمیں اس قانونِ قدرت میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، بلکہ ایسے امتحانات کے وقت صبر و شکر کر کے روحانی طور پر فائدہ اٹھانا چاہئے، جیسا کہ قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ اس مطلب کا تذکرہ موجود ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم یہ یقین کر سکتے ہیں، کہ جب ہم اس دنیا کی زندگی سے فارغ ہو جائیں گے، تو ہمیں روحانی عالم میں اپنے تمام عزیزوں کی ملاقات حاصل ہو گی، پھر ہم مایوسی میں کیوں روئیں۔

فقط

آپ کا روحانی بھائی

نصیر ہونزائی

۱۹ دسمبر ۱۹۷۲ء

۴۱

گلگت

۲۰ دسمبر ۱۹۸۲ء

عزیز الواعظ نظر شاہ صاحب گلمت

مولا آپ کو خوش رکھے! میرے عزیز فرزند کی حادثاتی موت پر آپ نے جس انداز سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے، میں اس سے آپ کی محبت کا اندازہ کر سکتا ہوں، ایک فقیر کے پاس محبت کے جواب میں دعا کے سوا اور کیا ہوتا ہے۔ سو میں دعا کرتا ہوں کہ مولا پاک آپ کو روحانی سکون عطا کرے!

جیسا کہ آپ نے آیتِ مبارکہ کا حوالہ دیا ہے، اگر ہمارا کوئی عزیز اپنے مرکز کی طرف لوٹتا ہے اور کامیاب لوٹتا ہے تو اس میں خوشی ہونی چاہئے نہ کہ رنج۔ آپ سب کو جو اس سانحہ کے وقت میری طرف نگران ہیں میرا پرخلوص مشورہ ہے کہ ایسے مواقع پر صبر و شکر اظہارِ عبودیت کا بہترین ذریعہ ہے، میں مولا کی مرضی پر راضی ہوں آپ میرے لئے استقامت کی دعا کیجئے، مولا پاک مجھ ناچیز کو اس عظیم نعمت کا اہل ہونے کی توفیق بخشے! مجھ فقیر کی دعا ہے کہ مولا پاک ہر درد مند دل کو حقیقی راحت عطا فرمائے!

فقط

دعا گو

نصیر ہونزائی

۴۲

گلگت

۲۰ دسمبر ۱۹۷۲ء

عزیزانِ محترم امیر گل صاحب و امیر احمد صاحب مسگر

آپ کا ہمدردیوں بھرا تار موصول ہوا۔ دلوں کی قربت فاصلوں کی دوری مٹا دیتی ہے یہ ایک امرِ واقعہ ہے۔ اس ابتلا کے وقت آپ جیسے احباب کی ہمدردیاں میرے صبر و تحمل کی گرتی دیوار کے لئے عظیم سہارا ہیں۔

خدا کی کمالِ مہربانی کا یہ بھی ایک عظیم اظہار ہے کہ قوموں پر آنے والی ابتلا کی خبر پہلے یا تو اجتماعی تکلیف کی صورت میں یا اس کے سرکردہ افراد پر ناگہانی آزمائشات کی شکل میں مل جایا کرتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ قومیں جو وقت اور حالات سے نصیحت پکڑتی ہیں۔ میں نے مختلف مواقع پر اپنی قوم کو آنے والے کڑے وقت سے خبردار کیا ہے۔ اب بھی میں یہی کہتا ہوں اے  میری قوم ہوشیار! خبردار!! بندہ بہرحال بندہ ہے۔ مادی طمطراق اور خورد و نوش کی آسائشوں کی خاطر اپنا منشائے تخلیق مت بھولو۔ دیکھو ایک دن اچانک ہم میں سے ہر ایک کو موت کا کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا۔ اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا۔ اے عزیزو! وہ وقت بہت ہی کٹھن ہے۔ مولا ہر مومن کو اس روز اپنے دامنِ عفو و کرم میں جگہ دے! آپ کی ہمدردیوں کے لئے بہت ہی شکر گزار ہوں۔

فقط

دعا گو

نصیر ہونزائی

۴۳

گلگت

۲۰ دسمبر ۱۹۷۲ء

عزیز بھائی موکھی غلام قادر صاحب حیدرآباد

فرزندِ عزیز ایثار علی کی حادثاتی موت پر آپ نے جن دلی جذباتِ ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے۔ اس پر میں آپ کا بہت ہی ممنون ہوں۔ اس خانۂ دودر میں جو آیا ہے اسے یہاں سے جانا لازمی ہے اس پر رنج و غم بے معنی ہے۔ انسانی فطرت کی کمزوری بعض دفعہ ناگہانی صدمات پر ہمیں دل برداشتہ ضرور کر دیتی ہے۔ تاہم عقل کی کسوٹی پر جو انسانی شرف کا واحد سبب ہے حالات کو پرکھا جائے تو حقیقتِ حال واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا ۔ ہم کیسے اس حقیقت کو جھٹلائیں نعوذ باللہ من ذالک۔ ابراہیم نبی سے اپنے نورِ نظر کی حلقوم پر چھری چلوائی اور فرمایا: انی جاعلک للناس اماما۔ اس حکیمِ مطلق کی حکمتوں کا شمار کون کرے۔ روحانی طور پر مجھے ایک گونہ طمانیت محسوس ہوتی ہے کہ میں بھی اپنے محبوب کی نظر میں ہوں۔ میرا محبوب یہ نذرانہ قبول فرمائے اور مجھے اس دریا کو عبور کرنے کی ہمت ودیعت فرمائے ! میرے ساتھ آپ نے جو ہمدردی فرمائی ہے، مولا آپ کو اس کا اجر بخشے ! آمین!

فقط

دعا گو

نصیر ہونزائی

۴۴

گلگت

۲۰ دسمبر ۱۹۷۲ء

عزیزِ من موکھی علی رہبر صاحب مرتضیٰ آباد

ارشادِ ربانی ہے: و کل نفس ذائقۃ الموت۔ جو پیدا ہوا ہے اسے آخر ایک دن مرنا بھی ہے۔ لیکن بعض دفعہ حیاتِ انسانی کا یہ لازمی نتیجہ کچھ اس طرح سامنے آتا ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ ایسا ہونا تھا انسان کچھ دیر اچنبھے میں پڑ جاتا ہے کہ ’’ہائیں! یہ کیا ہوا؟‘‘ مگر عزیزِ من! ہمیں بحیثیتِ بندگانِ پروردگار یہ فرمانِ خداوندی ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ: لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

دیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر

پیارے ایثار علی نے جس انداز سے داغِ مفارقت دیا وہ ایک گران بار صدمہ تو ہے مگر روحانیت کی نظر سے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا منزلِ حقیقت آنا ہی چاہتی ہے۔ اور محبوبِ حقیقی پردۂ مجاز کی اوٹ سے بنظرِ امتحان مشاہدہ کر رہا ہے کہ جسے میں نے اپنے لئے چن لیا ہے وہ میری طرف سے امتحان و ابتلا میں کتنا ثابت قدم رہتا ہے۔ میں راضی برضا ہوں آپ ہی میرے لئے استقامت کی دعا کیجئے۔

آپ نے اس عظیم ابتلا کے وقت جس اپنائیت کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے وہ میرے لئے بہت تقویت کا باعث ہے۔ مجھ دل شکستہ فقیر کی دعا ہے  کہ مولا پاک آپ کو اور تمام جماعت کو اپنے حفظ و امان میں رکھے! آمین!

اور درویش کی دعا کیا ہے

فقط

دعا گو

نصیر ہونزائی

۴۵

گلگت

۲۰ دسمبر ۱۹۷۲ء

عزیزانِ من ولایت خان و نیت شاہ مرتضیٰ آباد

اپنے روحانی بھائی کی ناگہانی مفارقت پر آپ نے جس اندازِ یگانگت سے اور جن خوبصورت الفاظ میں میری اور میری بیگم کی دلجوئی کی ہے۔ مولا پاک ہر دو جہان میں اس کا بدلا آپ کو مرحمت فرمائے!

یہ دنیا دارالفرار ہے دارالقرار نہیں۔ دل کی دھڑکن، گزرتے لمحات، بدلتے دن رات اور ماہ و سال کی گردش سے جو خاموش سبق ہمیں ملتا ہے جب ہم اس سے غافل ہو جاتے ہیں تو نظامِ قدرت جو بندوں پر بے انتہا مہربان ہے ایسے حوادثات کے ذریعے ہمارے سوتے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر جگانے کا بندوبست کرتا ہے۔ بڑی سے بڑی ابتلا قدرت کی طرف سے بڑے سے بڑا انعام ہے۔ ہاں! البتہ دنیاوی بندھنیں ایسے مواقع پر ہمارے اذہان کو قدرے مکدر ضرور کر دیتی ہیں۔ سو اس کے لئے ہمیں پروردگار سے معافی کا طالب ہونا چاہئے۔

میں اپنے تمام عزیزوں، دوستوں، شاگردوں اور عموم جماعت کو ایسے مواقع پر صبر و شکر کی تلقین کرتا آیا ہوں۔ آج جب کہ میں خود امتحان میں ہوں تو آپ مجھ سے بہتر رویہ اور مثالی کردار کی توقع کر سکتے ہیں میرے لئے دعا بھی کیجئے کہ مولا ہمت عطا فرمائے! مولا پاک آپ سب کو حقیقی راحت و دائمی سکون عنایت فرمائے!

فقط

دعاگو

نصیر ہونزائی

۴۶

گلگت

۲۰ دسمبر ۱۹۷۲ء

بہت ہی پیارے مجیب!

پیارے ایثار نے اچانک اس طرح ہمیں چھوڑ دیا کہ بے ساختہ کہنا پڑا:

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے!

کیا خوب! قیامت کا بھی ہو گا کوئی دن اور؟

آپ نے جس اندازِ یگانگت سے ہماری دلجوئی کی ہے میں اس کی بہت قدر کرتا ہوں اور مرحوم کے بارے میں آپ نے جن اچھے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ مولا پاک آپ کو اس کا اجر بخشے! مگر میں آپ پر واضح کر دوں کہ انسان یہی کچھ نہیں ہے کہ:

پیدا ہوا، کھایا پیا، اور مر گیا

بلکہ حقیقت میں انسان وہ ہے جو مر کر جیے، وہاں اس دائمی منزل میں جہاں ابدیت ہے، ایک لافانی عالم، جو انسان کی حقیقی آسودگاہ ہے۔ پھر یہ دنیا تو آنی جانی ہے اس کا کیا غم، اور جو عزیز اس دارِ محن سے جس قدر جلد چھٹکارہ پائے اسی قدر خوشی کا مقام ہے۔ البتہ بشر کی فطری کمزوری آڑے آتی ہے۔ آپ جیسے غمگساروں کی موجودگی میرے لئے بڑی تقویت کا باعث ہے۔ میرے لئے صبر و استقامت کی دعا کیجئے۔ مولا کی مرضی پر جان قربان! یہ میرے الفاظ نہیں ہیں بلکہ میرے دلی جذبات کا اظہار ہے میں نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا:

جا ھیرسٹہ مشغول گمنس با کہ یہ آور

ان خوش گمنس نا جہ یہ جا اسلوبم اکگو

۴۷

اگر میرے مولا کو میرے چمنِ زندگی کا بہترین پھول پسند آیا تو یہ میرے لئے فخر اور خوشی کا مقام ہے نہ کہ رنج اور افسوس کا:

بے وجہ نہیں گرمیٔ حالت میرے دوست

کچھ تو ہے پسِ پردہ نہان میرے لئے بھی

آپ کی ہمدردیوں کا ایک بار شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کی والدہ بھی بہت دعائیں دیتی ہے۔

فقط

دعاگو

نصیر ہونزائی

۴۸

میرے روحانی عزیزانِ مرتضیٰ آباد

یا علی مدد! آپ کی ہمدردیوں اور غمگساریوں کا بہت بہت شکریہ! کہ آپ نے میرے مرحوم فرزند کی مغفرت اور ہمارے صبر و استقلال کے لئے بارہا دعائیں کی ہیں۔

جاننا چاہئے کہ حق تعالیٰ اپنے دوستوں سے سب سے پیاری چیز کی قربانی چاہتا ہے، تا کہ اس امتحان سے اس کی سچی دوستی ثابت ہو جائے۔

ظاہر ہے کہ مومن اکثر اپنے آقا و مولا کے لئے فدا اور قربان جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے، لیکن جب کوئی قدرتی قربانی اور فدیہ واقع ہوتا ہے تو اس میں جزع و فزع کرنے لگتا ہے، پس کسی بھی موت پر کوئی افسوس نہیں، بلکہ انسان کی پست ہمتی پر بہت افسوس ہے۔

فقط

آپ کا استاد

نصیر ہونزائی

۲۱ دسمبر ۱۹۷۲ء

۴۹

بخدمتِ ممبران نامدار کونسل حیدرآباد۔ ہونزا

یا علی مدد! آپ صاحبان کی طرف سے مجھے نامۂ تعزیت موصول ہوا، ماتم پرسی اور اظہارِ افسوس کا بہت بہت شکریہ!

قرآنِ حکیم کے ارشادِ گرامی کے بموجب ہم اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، جب حقیقت یہی ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں، تو بندۂ مومن کے لئے کسی عزیز کی موت پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے، جبکہ مومن کی موت اللہ تعالیٰ کی قربت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

آپ صاحبان نے جس خلوص و محبت سے میرے نورِ نظر کے لئے مقدس عبادت خانہ میں دعائیں مانگی ہیں، میں اس کا ممنون ہوں، یقین ہے کہ آپ کی دعاؤں سے میرے عزیز فرزند کو ثواب اور مجھے صبر و سکون ملے گا۔

فقط آپ کا دینی خادم

نصیر ہونزائی

۲۱ دسمبر ۱۹۷۲ء

۵۰

بخدمتِ موکھی صاحب، کامڑیا صاحب

اور جماعتِ خروکشل حیدرآباد

یا علی مدد! میرے فرزندِ دلبند کی جدائی پر آپ صاحبان نے جس دل سوختگی اور ہمدردی سے اظہارِ افسوس کیا ہے، میں اس کے لئے قلبی طور پر شکرگزار ہوں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس صدمۂ جانکاہ میں میرا سخت امتحان ہو رہا ہے لیکن میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں، کیونکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ میں ایک حقیقی مسلمان اور امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کے سچے مریدوں میں سے ہوں، لہٰذا میں حق تعالیٰ کی ذاتِ اقدس پر توکل کرتا ہوں۔

آپ نے میرے عزیز ایثار علی کے حق میں جو بار بار دعا کی اور تسبیح پڑھی، اس کا صلہ و بدلہ خداوندِ تعالیٰ دونوں جہان میں عطا فرمائے گا۔

فقط

آپ کا اپنا

نصیر ہونزائی

۲۱ دسمبر ۱۹۷۲ء

۵۱

میری عزیز جماعتِ بر بر حیدرآباد

یا علی مدد! آپ نے جناب غلام قادر کے توسط سے مجھے جو تعزیت نامہ لکھا ہے اور جس یگانگت سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے، میں اس کا دل و جان سے احسان مند ہوں۔ جیسا کہ آپ میرے متعلق یہ توقع رکھتے ہیں، کہ میں اس ابتلا و آزمائش کے موقع پر صبر اور شکر سے کام لوں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ میں ایسا ہی کروں گا، کیونکہ میرے دین و دنیا کے فوائد اسی عمل میں پوشیدہ ہیں۔

معلوم ہوا کہ آپ نے اپنے پاک عقیدے کے مطابق میرے لختِ جگر کی مغفرت اور ثواب کے لئے دعائیں اور تسبیحیں پڑھی ہیں، یقین ہے کہ اس کے اجرِ عظیم میں سے آپ کو بھی ایک بڑا حصہ ملے گا۔

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۲۲ دسمبر ۱۹۷۲ء

۵۲

بخدمتِ شاہین والنٹیئرز حیدرآباد، ہونزا

یا علی مدد! مجھے سب سے پہلے آپ کی دینی خدمات کا اعتراف کرنا چاہئے کہ آپ کے کارنامے بے مثال ہیں، بعد ازان میں صمیمیتِ قلب سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اور حیدرآباد کی تمام جماعت نے میری اس مصیبت کے موقع پر نہ صرف دعائیں پڑھی ہیں، بلکہ ساتھ ہی ساتھ ہمدردی اور شرکتِ غم کے خطوط بھی بھیجے ہیں۔

میں آپ کی امید کے مطابق ان شاء اللہ تعالیٰ صابر و شکر رہوں گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے اسی میں مومن کی بہتری ہے، ہمیں دنیا کے مقابلے میں آخرت کی زیادہ ضرورت ہے، پس حصولِ آخرت کے لئے ایک عزیز پچیس سالہ جوان بیٹے کی قربانی ضروری ہوئی۔

آپ کا دعاگو فقیر

نصیر ہونزائی

۲۳ دسمبر ۱۹۷۲ء

۵۳

محترم عباد اللہ بیگ صاحب گلگت، ہونزا نیشنل گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی راولپنڈی

السلام علیکم و یا علی مدد! میں آپ کا نہایت ہی شکرگزار ہوں کہ آپ نے میرے ساتھ عملی ہمدردی میں کوئی کسر فروگذاشت نہیں کی، بے شک ایک حقیقی مومن کا شیوہ و شعار ایسا  ہی ہونا چاہئے، میں آپ کے ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ جماعت اور بنی نوع انسان کی خدمت کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔

فی الواقع پیارے ایثار علی کی اچانک موت سے اس کے والدین اور اقربا کے لئے بہت بڑا صدمہ ہوا، لیکن جب ہم حقیقت کی روشنی میں دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ جسمِ خاکی فانی ہے اور روحِ پاک باقی ہے، اور طائرِ روح کے قفسِ عنصری کو چھوڑنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں، پس اگر ہم روحانیت کے قائل ہیں، تو ہمیں اپنے عزیز فرزند کی روحانی ملاقات پر یقین رکھنا چاہئے۔

آپ کا روحانی بھائی

نصیر ہونزائی

۲۳ دسمبر ۱۹۷۲ء

۵۴

محترم میر جہان شاہ صاحب

نیشنل گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی

یا علی مدد! میں آپ کے مکتوب کا شکرگزار ہوں، جو میرے غم کو کم کرنے کی غرض سے لکھا گیا تھا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے کہ: لا تقنطوا من رحمۃ اللہ یعنی تم خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی سخت ترین مصیبت میں بھی خدا کی رحمت سے مایوسی نہ ہونی چاہئے، چنانچہ اگر ہم پس ماندگان میں سے کوئی فرد اس لئے روتا ہے کہ اب ایثار علی کا دیدار نہ ہو گا، تو یہ خیال آیۂ مذکورۂ بالا کی رو سے غلط ہے کیونکہ آیت بزبانِ حکمت اعلان کر رہی ہے کہ اللہ کی رحمت سے عزیزوں کی ملاقات ہونے والی ہے، اوروہ روحانی عالم میں ہو گی۔

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ء

۵۵

بخدمتِ شناکی جماعت مقیم کراچی

ممبران شناکی ملٹی پرپز سوسائٹی کراچی

یا علی مدد! آپ روحانی بھائیوں نے جس ہمدردی اور اخوت سے میری ماتم پرسی کی ہے، میں اس کا واجبی طور پر شکریہ ادا نہیں کر سکتا ہوں، خداوندِ تعالیٰ خود آپ کو اس نیکی کا اجر عطا فرمائے گا۔

اگرچہ میرے نورِ نظر ایثار علی نے اپنی جدائی سے میرے ناچار دل کو پارہ پارہ کر دیا ہے، تاہم حکمِ مولا کے سامنے سرِ تسلیم خم کر رہا ہوں، البتہ یہ امتحان میرے لئے لازمی تھا، کیونکہ میں نے مولا کی عاشقی کا دعویٰ کیا تھا، اور میں نے یہ راستہ آسان سمجھا تھا، بقولِ حافظ شیرازی کہ عشق آسان نمود اول ولی افتاد مشکلہا۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ء

۵۶

بخدمتِ موکھی صاحب، کامڑیا صاحب اور

جماعتِ مرکزی جماعتخانہ ہونزا حیدرآباد

یا علی مدد! آپ کا تعزیت نامہ موصول ہوا، جس میں میرے جگر پارہ فرزند ایثار علی کے حادثۂ جان گسل پر اظہارِ افسوس کیا گیا تھا، میں آپ کے اس نامہ کا احسان مند ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیارے ایثار علی کی جدائی ہمیں بہت ستا رہی ہے لیکن اس زخمِ دل کا مرہم صبر اور شکر کی صورت میں ہے اس کے سوا اور کوئی دوا نہیں۔

صبر اور شکر حقیقی معنوں میں ہو، تو فی الواقع مرہم ہی ہے، ورنہ سطحی صبر و شکر سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔

آپ کا

ایک علمی خادم

نصیر ہونزائی

۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ء

۵۷

میری روحانی بہنیں لیڈی والنٹیئرز حیدرآباد ہونزا

یا علی مدد! آپ مہربان بہنوں نے جن الفاظ میں مجھے تعزیت نامہ لکھا ہے، اور جس اخلاص سے دعا کی ہے، میں اس کا شکرگزار ہوں۔

اگرچہ جوان لڑکے کی اچانک موت ہر انسان کے لئے ایک بہت بڑا صدمہ ہے، تاہم حقیقی مومن کو تسلیم و رضا پر عمل پیرا ہونا چاہئے، چنانچہ میں اس بڑی آزمائش میں پروردگارِ عالم سے عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور میرے خاندان کو صبر و ثبات کی توفیق و ہمت عنایت فرمائے! ہم میں سے کسی کی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکلے جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنے!

شکر ہے کہ محبوبِ حقیقی نے میری مسرتوں کے گلشن سے ایک تازہ گلاب کے پھول کو پسند فرمایا۔

آپ کا

روحانی بھائی

نصیر ہونزائی

۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ء

۵۸

بخدمتِ جناب صدر و سیکریٹری

نامدار لوکل کونسل علی آباد ہونزا

یا علی مدد! آپ صاحبان نے اپنی نامدار کونسل اور نیکنام جماعت کی جانب سے مجھے جس ہمدردی اور دلسوزی سے تعزیت نامہ لکھا ہے، میں اس کا شکرگزار ہوں۔

جیسا کہ آپ اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، پس اگر خدا تعالیٰ اپنی کسی امانت کو واپس لیتا ہے، تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، مجھے شکر کرنا چاہئے کہ ایک امانت پھول پچیس سال تک میری خوشیوں کے گلشن کی زینت بنا رہا۔

اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روحانی عالم ایک ایسا مقام ہے جہاں ہمیں اپنے تمام عزیزوں کی ملاقات میسر ہونے والی ہے، پھر ہمیں اس ابتلا میں صبر و شکر کرنا ازبس ضروری ہے۔

فقط

آپ کا قومی خادم

نصیر ہونزائی

۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ء

۵۹

عزیزم درویش علی حیدرآباد ایمان زیاد باد!

بعد دعائے یا علی مدد واضح آنکہ عزیز کا خط ملا اور آپ کی ہمدردیوں کا شکریہ ادا کیا، ظاہر ہے کہ آن عزیزان ہماری خوشی میں خوش اور ہمارے غم میں غمگین ہوتے ہیں، جس کی وجہ آپ کا دین اور ایمان ہے، خداوندِ عالم جملہ عزیزوں کے نورِ ایمان میں اضافہ فرمائے! آمین!!

ثانیاً معلوم ہونا چاہئے کہ جو شخص مومنی اور عاشقی کا دعویٰ کرتا ہے، خدا تعالیٰ اس سے طرح طرح کا امتحان لیا کرتا ہے، تا کہ ظاہر ہو جائے کہ وہ شخص فی الواقع مومن و عاشق ہے یا جھوٹا مدعی۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۲۵ دسمبر ۱۹۷۲ء

۶۰

عزیزم صحت علی کراچی ایمان زیاد باد!

یا علی مدد! میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، نیز عزیزانم سلیمان شاہ، صفت خان، علی مدد، مولا مدد، شیر اللہ، شاہ غریب، محمد ضمیر، مبارک شاہ، احمد بیگ وغیرہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ عزیزوں نے میرے فرزندِ جگر بند کے انتقالِ پر ملال پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

آپ عزیزان سے پوشیدہ نہیں کہ حقیقی مومنوں سے ایسے امتحانات لئے جاتے ہیں، تا کہ ظاہر ہو جائے کہ مال و اولاد پیاری ہے یا کہ خدا کی خوشنودی عزیز ہے۔

یہ مجھ سے نہ پوچھا جائے کہ ایثار علی مجھے کس قدر عزیز تھا، مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہئے کہ میرے خزانوں میں سے ایک گرانقدر خزانہ خدا کی راہ میں صرف ہوا، جبکہ اولاد سے بڑھ کر کوئی چیز قیمتی نہیں۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۲۵ دسمبر ۱۹۷۲ء

۶۱

محترم کامڑیا ایوب صاحب مسگر

یا علی مدد! آپ نے جن پیارے الفاظ میں ہمیں تعزیت نامہ لکھا ہے اور جس ہمدردی سے اظہارِ افسوس کیا ہے، ہم اس کے شکرگزار ہیں، دعا ہے کہ پروردگارِ عالم آپ کو، آپ کے عزیزوں کو اور تمام جماعت کو دونوں جہان کی کامیابی عنایت فرمائے! آمین!!

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سانحہ ہمارے لئے بہت بڑا ہے، کیونکہ ایثار علی ہمارے جگر کا ٹکڑا تھا اور دل کا پیوند، لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہمیں مولا کی خوشنودی اس سے زیادہ عزیز اور عظیم ہونی چاہئے۔

ایک دین شناس شخص کی حیثیت سے مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہئے، کہ اس نے امتحان کے لئے مجھے انتخاب فرمایا اور قربانی کے لئے میرے پیارے نوجوان بیٹے کو۔

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۲۵ دسمبر ۱۹۷۲ء

۶۲

جناب غلام محمد خان صاحب نمائندۂ جماعتِ مسگر

یا علی مدد! میرے اس غم و الم کے موقع پر آپ نے مسگر کی نیک نام جماعت کی طرف سے جس شانِ اخلاص و محبت اور ہمدردی سے خط لکھا ہے اور جس شفقت و الفت سے میری تسلی و تشفی کی گئی ہے، میں اس کے لئے شکر گزار ہوں۔

برادرِ محترم! جیسا کہ آپ پر یہ حقیقت روشن ہے، کہ معشوقِ حقیقی اپنے عاشقوں سے ایک محبوب ترین چیز کی قربانی طلب کرتا ہے، چنانچہ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام سے اپنے عزیز اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اسی اصول کے مطابق مانگی گئی تھی، پس مجھے شکرگزار رہنا چاہئے، کہ مجھ سے بھی اپنی حیثیت کے مطابق ایک قربانی طلب کی گئی۔

دعا ہے کہ خداوندِ عالم تمام جماعت کو دین و دنیا کی کامیابی اور سرخروئی عطا فرمائے! آمین یا رب العالمین!!

فقط

آپ کا بھائی

نصیر ہونزائی

۲۵ دسمبر ۱۹۷۲ء

۶۳

جناب صدر صاحب لوکل کونسل گلمت۔ ہونزا

یا علی مدد! میں آپ کا اور آپ کی کونسل کے جملہ اراکین کا نیز آپ کی متعلقہ جماعتوں کا شکرگزار ہوں، کہ آپ نے ان تمام کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے میرے دردِ فراق میں مجھ سے ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے۔

اے میرے دیرینہ دوست! میرا دل تو فطری طور پر اپنے عزیز فرزند کی جدائی کے خنجر سے پارہ پارہ ہو چکا ہے، اور اگر میں اپنی اندرونی کیفیت بیان کروں، تو دنیا کا سب سے بڑا سنگ دل انسان بھی رونے پر مجبور ہو جائے گا، لیکن آپ یقین کیجئے کہ میں نے اس سانحہ سے بہت پہلے اپنے خداوند سے عہد کر لیا ہے کہ میں دنیا کی کسی بھی مصیبت پر ہرگز آنسو نہ بہاؤں گا، پس الحمدللہ میں اپنے عہد پر قائم ہوں، یہ مہربانی اس ذاتِ اقدس کی ہے، جس کے قبضۂ قدرت میں سب کچھ ہے، ہاں اس میں شک نہیں کہ میں جب بھی موقع ہو خدا کے حضور میں درویشانہ انداز میں گریہ و زاری کرتا رہتا ہوں، یہ میری روحانی آبادی کے لئے بارانِ بہار کا حکم رکھتی ہے۔

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء

۶۴

میرے عزیز ماسٹر صاحب علی پناہ گلمت ہونزا

یا علی مدد! آپ نے جو مجھے تسلی و تسکین کے لئے خط لکھا ہے۔ میں اس کا ممنون و شکرگزار ہوں، پروردگارِ عالم آپ کو دینی اور دنیاوی طور پر کامیابی عطا فرمائے!

امید ہے کہ آپ میری باتوں پر اعتماد کریں گے، کہ میں ایک درویش آدمی ہوں، اور سچے درویش کو اللہ تعالیٰ ہر قسم کی مصیبتوں کا متحمل بنا دیتا ہے، چنانچہ میں اپنے جوان اور خوبصورت بیٹے کی ناگاہ موت کے سنگین بوجھ کو صبر و شکر کے ساتھ اٹھا رہا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے متعلق قوم و جماعت کی نیک دعا سن لی ہے۔

آپ اپنے قبلہ اورخاندان کے ہر فرد کو میری دعا اور تسلیم پہنچا دیں اور محترم غلام الدین صاحب کو بھی اسی طرح سے۔

خداوندِ تبارک و تعالیٰ جملہ جماعت کو دین و دنیا کی کامیابی اور سربلندی عطا فرمائے! کہ اس نے ہر موقع پر اس درویش سے تعاون کیا۔

آپ کا دعا گو

نصیر ہونزائی

۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء

۶۵

برادرِ محترم دولت شاہ صاحب بر بر حیدرآباد

یا علی مدد! آپ نے جس دلسوزی اور ہمدردی سے مجھے تعزیتی خط لکھا ہے اور جن ناصحانہ الفاظ میں خطاب کیا ہے، میں اس کے لئے بے حد ممنون ہوں، ہمشیرہ صاحبہ کو ہمارے متعلق یقین دلانا کہ ہم صابر و شاکر ہیں۔

واضح رہے کہ معشوقِ حقیقی نے میری خوشیوں کے باغ سے ایک ایسے خوبصورت اور خوشبودار پھول کو چن لیا، جو نہ تو غنچہ تھا اور نہ مرجھایا ہوا، بلکہ پوری طرح سے کھل گیا تھا، پھر کیا میں اپنے معشوق کے اس انتخاب پر کوئی اعتراض کر سکتا ہوں؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں۔

اے پروردگار! میرے اس روحانی پھول کو جنت الفردوس کے پھولوں کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تر و تازہ رکھنا! اور ہمیں فردائے قیامت اس کے رنگ و بو سے مستفیض ہونے کی سعادت بخشنا! اے خداوندِ عالم! جملہ جماعت کی نیک مرادیں پوری کر دے! آمین یا رب العالمین!

فقط

آپ کا بھائی

نصیر ہونزائی

۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء

۶۶

محترم کامڑیا دولت علی صاحب، بلتت ہونزا

یا علی مدد! آپ کا نوشتہ جو میرے زخم خوردہ دل کی تسکین کے لئے تھا، موصول ہوا۔ میں صمیمیتِ قلب سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، خدائے حکیم آپ کو نیک مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے!

آپ نے مشہور انبیاء علیہم السلام کے حالاتِ زندگی کا خوب مطالعہ کیا ہے، جبکہ ان حضرات میں سے ہر ایک کی زندگی ہمارے لئے ہدایت نامۂ عمل کی حیثیت سے ہے، پس پیغمبروں کی مجموعی زندگی اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ انسان کی دنیاوی اور جسمانی زندگی مصائب و آلام سے کبھی خالی نہیں ہو سکتی ہے، لہٰذا ہمیں اس نقصان پر نالان نہ ہونا چاہئے، بلکہ صبر اور شکرجیسے اوصاف کو اپنانا چاہئے۔

میں پوری قوم اور جماعت کا شکرگزار ہوں، کہ میرے مرحوم بیٹے کے لئے جگہ جگہ دعائیں مانگی گئیں۔

آپ کا بھائی

نصیر ہونزائی

۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء

۶۷

عزیزم ولایت علی (برادرزادہ) کراچی

یا علی مدد! عزیز کا تعزیتی خط موصول ہوا، اظہارِ ہمدردی کا بہت شکریہ! جاننا چاہئے کہ درجۂ اول کی بلائیں انبیاء و ائمہ علیہم السلام پر آتی ہیں، اس کے بعد بزرگانِ دین اور حقیقی مومنین پر، الحمدللہ کہ اگر خدا کو منظور ہوا تو ہم بھی آج ان مومنین میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ امتحان لیا کرتا ہے، پھر صبر و شکر کے بعد ان کو نوازتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سی نعمتیں عطا فرمائی ہیں، آج اگر ان میں سے ایک نعمت امتحاناً ہم سے واپس لی گئی، تو پھر بھی ہمارے پاس بہت سی نعمتیں موجود ہیں، پس ہمیں شکر کرنا چاہئے تا کہ ان باقی ماندہ نعمتوں میں برکت پیدا ہو۔

فقط

آپ کا چچا

نصیر ہونزائی

۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء

۶۸

جنابِ عزت مآب وزیر امیر علی صاحب کریم ابراہیم کراچی

یا علی مدد! میرے جگر پارہ فرزند کے انتقالِ پرملال پر آپ نے جس شانِ شفقت و محبت اور جن معنی خیز الفاظ میں اظہارِ ہمدردی فرمایا ہے، میں اس کے لئے بہت ہی شکرگزار ہوں۔

جنابِ عالی! میں اپنے ان احساسات کی بابت جو اس وقت مجھ میں پائے جا رہے ہیں، اظہارِ خیال کرنا چاہتا ہوں کہ انسان تو انتہائی درجے کی ایک حساس مخلوق ہے، حیوان بھی اپنی اولاد کی جدائی سے رنج و غم محسوس کرتے ہیں، لہٰذا فطرتاً یہ لازمی تھا کہ اپنے عزیز جوان بیٹے کی اچانک موت سے ہم پر رنج و غم کا ایک عظیم پہاڑ ٹوٹ پڑے، لیکن اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنا کرشمہ دکھاتی رہتی ہے، چنانچہ ہم نے اس کمرشکستگی کے عالم میں تائیدِ غیبی کے لئے دعا کی، پس اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہماری اور جملہ مومنین کی دعا قبول ہوئی، کہ ہم بھی صحیح معنوں میں صبر و شکر کرنے لگے۔

امید ہے کہ ہم اپنی زندگی کے آخری ایام تک حسبِ معمول اپنے دینی فرائض کی انجام دہی کرتے رہیں گے، ہمارے لئے مزید دعا کیجئے۔

فقط

آپ کا تابعدار

نصیر ہونزائی

۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء

۶۹

گلگت

۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء

برادر دوست و محترم آقای دارا بیگ صاحب روزگارتان خوش باد!

نمی توانم احوالِ خود را شرح دہم و مآل این صدمۂ جانکاہ را بیان کنم۔ آرے از وصالِ ناگہانیٔ لختِ جگرم جگرم لخت لخت شدہ و جنگ فلک نا ہنجار کہ ہموارہ پے جورِ بے سبب میگردد برجانِ منِ ناتوان سخت تر از سخت۔ مگر با اینکہ بر استخوان ہائے پیرم بارے بس گران افتادہ مطمننم، بدو وجہ، اول این کہ این دنیا را بقائے نیست ہر کہ درین خانۂ دودر آمدہ باید کہ روزے ازین جا برود و بقولِ سعدی:

من این جا دیر ماندم خور گشتم

عزیز از ماندنِ دانم شود خوار

ہر کہ دیر تر زید خوارتر گردد بقولِ خدائے تعالیٰ: و من نعمرہ ننکسہ فی الخلق۔ از روی عقل ہر کہ ازین جا زود تر برود از خواریٔ بسیار ایمن میگردد۔ من سپاس میگونم خداوندِ عالمین  را کہ عطیۂ کہ بصورتِ پسر بر من ارزانی فرمودہ بود۔ پیشتر ازین کہ ناشکریٔ درین خصوص از من سرزد گردد دادۂ خود را بخود باز گرفت و ہمچنین دو نعمت مزید برین بندۂ سر افگندۂ خود عنایت نمود کہ رہاند مرا از

۷۰

ناشکریٔ عطا و فرزندِ مرا از ازدیادِ خطا کہ بصورتِ زندگانی درین عالمِ فانی واجبِ انسان است۔

دوم اینکہ سرکار سلطان محمد شاہ روحنا فداہ فرمودہ است ’’خوش نصیب است کسے کہ اندرین عالم دوستانِ غمگسار دارد کہ ایشان وقت تنگی از حال او بے خبر نمی مانند و پیٔ چارۂ آن میکوشند‘‘۔ برادران و دوستان مثل شما برای یکی ہمچو منِ پامالِ غم عطائے الٰہی ہستند۔ من نمی توانم جزائے این غم خواری را بدہم۔ خدائے تان دہاد! و صد گونہ دہاد!! از شما دعائے صبر و استقامت را جویانم و ہمشیرۂ خویش را بیشتر ازین چہ گویم کہ:

درین دنیا کسی بے غم نباشد

اگر باشد بنی آدم نباشد

فقط

برادر غمزدۂ تان

نصیر ہونزائی

۷۱

محترم ایکس حوالدار شاہ زرین صاحب تمغۂ جرات بلتت

یا علی مدد! میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے میری اس مصیبت پر بڑی ہمدردی سے اظہارِ افسوس کیا ہے اور صبر و سکون کا مشورہ دیا ہے۔

آپ کا فرمانا بجا ہے، کہ چند سال قبل آپ سے بھی انتہائی سخت امتحان لیا گیا تھا، ایک بار نہیں دو بار، آپ کی دوسری مصیبت پر میں نے ذیل کے اشعار کہے تھے جن کی معنی میں میری طرح کے مصیبت زدہ انسانوں کے لئے کافی نصیحت و عبرت موجود ہے، وہ عنوان اور اشعار یہ ہیں: پیغام از زبانِ حالِ نیت زرین (۱۹۳۶ ۔ ۱۹۶۸) بہ پدرِ گرامی شاہ زرین صاحب تمغۂ جرات:

۱۔ روح را بشناس و تن را در گذار

تا شوی در ہر دو عالم کامگار

۲۔ من کہ روحم جسم را بگذاشتم

تا رسم در روضۂ دار القرار

۳۔ تو مرا فردا بہ بینی اے پدر

اشکِ غم از دیدۂ حسرت مبار

۴۔ نیستم امروز ہم از تو جدا

در خیال و خواب تو اے غمگسار

۵۔ پیش و پس اولادِ تو خدامِ تو

زان توئی در این و آن چون شہریار

۶۔ پس چرا غمگین شوی اے شیر مرد

رحمتِ حق چون بود انجامِ کار

۷۲

۷۔ ای پدر گر خیرِ ما خواہی مدام

در دعائے خیر ما را یاد دار

۸۔ از زبانِ حالتِ نیت زرین

این نصیحت باد دائم یادگار

ترجمہ: ۱۔ روح کو پہچان لے اور جسم کو چھوڑ دے، تا کہ تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جائے۔

۲۔ میں نے جو روح ہوں جسم کو چھوڑ دیا، تا کہ میں دارالقرار (جنت) کے باغ میں پہنچ سکوں۔

۳۔ اے میرے باپ! تو مجھے کل (قیامت کے دن) دیکھے گا، غم کے آنسو حسرت کی آنکھ سے نہ بہا۔

۴۔ آج بھی میں تجھسے جدا نہیں ہوں، تیرے خیال اور خواب میں اے غمخوار!

۵۔ تیرے آگے اورپیچھے یعنی دنیا و آخرت میں تیری اولادیں تیرے خدمتگار ہیں، اس لئے تو دونوں جہان میں پادشاہ کی طرح ہے۔

۶۔ اے شیر مرد! تو کیوں غمگین ہے، جبکہ اس کام کا نتیجہ خدا کی رحمت ہے۔

۷۔ اے باپ! اگر تو ہمیشہ ہماری بہتری چاہتا ہے، تو نیک دعا میں ہمیں یاد رکھنا۔

۸۔ نیت زرین کی زبانِ حال سے، یہ نصیحت ہمیشہ کے لئے یاد رہے۔

۷۳

خلاصۂ مطلب یہ ہے، کہ جسم کی کوئی اہمیت نہیں، اصل حقیقت روح ہے، روح ہی بہشت میں پہنچ سکتی ہے، کسی عزیز کی موت پر افسوس و غم کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ قیامت کی ملاقات برحق ہے، اس حیات میں بھی روح ہمارے ساتھ ہے، یہ مومن کی خوش بختی ہے کہ کچھ اولادیں اس کے آگے بھی جائیں، متوفی کے حق میں دعا ضروری ہے۔

فقط

آپ کا روحانی بھائی

نصیر ہونزائی

۳۰ دسمبر ۱۹۷۲ء

۷۴

محترم نائب صوبیدار صاحب نظر صاحب عطا آباد

یا علی مدد! آپ کی جانب سے تعزیت نامہ موصول ہوا، میری اس مصیبت کے متعلق آپ نے اظہارِ افسوس و ہمدردی کے لئے جو مشفقانہ الفاظ استعمال کیے ہیں اور جس محبت و یگانگت سے نیک مشورے اور دعائیں دی ہیں، میں ہمیشہ اس کا احسانمند رہوں گا۔ میں اس وقت اپنے ما فی الضمیر کو واضح کر دینا چاہتا ہوں، کہ انسانی فطرت کے نزدیک دنیا میں اولاد سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں ہو سکتی ہے، خصوصاً ایک جوان، ہوشیار اور خوبصورت بیٹاۛ! لیکن حقیقی مومن کے نزدیک بموجب یہ قول: ’’امرِ مولا از ہمہ اولیٰ‘‘ مولا کا حکم ہر چیز سے برتر اور عزیز تر ہے، الحمد للہ میں خود بھی یہی عقیدہ رکھتا ہوں۔

دعا ہے کہ خداوندِ برتر و توانا ساری قوم اور جماعت کے افراد کو دونوں جہان کی سعادتمندی عطا فرمائے! کہ انہوں نے اس موقع پر میرے مرحوم فرزند کے ثواب کے لئے کچھ دعائیں کی ہیں۔

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۳۰ دسمبر ۱۹۷۲ء

۷۵

مومنینِ بایقینِ جماعتِ خیر آباد (رامنج)

یا علی مدد! آپ حقیقی مومنین نے میرے فرزندِ دلبند کی ناگہانی موت پر جس جذبۂ ہمدردی سے متاسفانہ پیغام بھیجا ہے اور جس خلوصِ ایمانی سے دعا و نصیحت کی ہے، میں اس کا ہمیشہ معترف اور شاکر رہوں گا۔

اے میری عزیز قوم! اس میں کوئی شک نہیں، کہ میرا ایثار علی مجھے بہت ہی عزیز تھا، اتنا عزیز کہ میں بیان نہیں کر سکتا، لیکن خدا و رسول صلعم اور ائمۂ اطہار علیہم السلام کی ان پرحکمت ہدایتوں سے میں کس طرح چشم پوشی کر سکتا ہوں، جو مصائب و آلام میں صابر و شاکر رہنے کے لئے فرمائی گئی ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کی یہ مشہور ہدایت: انا للہ و انا الیہ راجعون یقیناً ہم اللہ کے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، یعنی ہم اللہ کی ملکیت ہیں وہ ہمیں جس طرح استعمال کرے اسی میں ہماری بہتری ہے اور اسی سے ہم دنیا اور آخرت میں اللہ کے نزدیک ہو سکتے ہیں۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۳۰ دسمبر ۱۹۷۲ء

۷۶

گلگت

۳۱ دسمبر ۱۹۷۲ء

عزیز بھائی غلام محمد جی!

ہاں! ہونہار جوان سال بیٹا ایک باپ کے لئے جس پر بیک وقت کئی ذمہ داریاں لاگو ہوں نہ صرف عزم و ہمت کی ڈھال ہے آلامِ زمانہ سے مقابل ہونے کے لئے بلکہ ایک ایسی دو دھاری تلوار بھی ہے جو ایک طرف اغیار کی مخاصمانہ نگاہوں کو اپنی چمک سے خیرہ کر دیتی ہے تو دوسری طرف مختلف ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا کر ایک رو بہ پیری باپ کے لئے یادِ خدا کے لئے یکسوئی کے اوقات مہیا ہو جاتے ہیں، جو ایک انسان کے لئے حقیقی نعمت ہیں۔

مگر میرے عزیز! مالک فرماتا ہے: عسی ان تکرھوا شیئا و ھو خیر لکم (۲:۲۱۶)۔ میرے لختِ جگر کی نگہانی موت میری کمرِ ہمت پر ضرب کاری ضرور ہے مگر میں نے عزم کر لیا ہے کہ اس چوٹ کو سہا جائے نہ صرف یہ بلکہ صبر و شکر کے مرہم سے اس چوٹ کا مداوا بھی کیا جائے۔ الرحمٰن الرحیم خدا کو اپنے بندوں کا بھلا ہی مطلوب ہوتا ہے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا میرا پیارا ایثار میرے آس پاس کہیں موجود ہے اور چپکے چپکے، ہولے ہولے، مجھے ایثار و قربانی کی تلقین کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے، ’’ابو! آپ نے ایک دن کہا تھا کہ سفرِ زندگی میں مرد کی نظر ہمالیہ کی چوٹی پر ہونی چاہئے۔ کہا تھا نا ابو! مجھے وہ بات ہمیشہ یاد رہی۔ دیکھیے نا! امی کی نرم اور گرم گود سے میں نے جس سفر کا آغاز کیا تھا، اسے یخ بستہ برف پوش پہاڑوں کے پتھریلے آغوش میں انجام کو پہنچایا۔ ابو! سچ ابو! اس دنیا میں میری آخری نظر نانگا پربت کی سب سے اونچی چوٹی پر تھی۔ ہاں! مجھے یاد ہے آپ نے پھر ایک دن کہا تھا انسان اس دنیا میں

۷۷

 سیکھنے اور سکھانے کے لئے آیا ہے۔ ابو! میری جانکاہ جدائی نے آپ کو جو سبق دیا ہے کیا اسے آپ صبر و استقلال کا مظاہرہ کرکے دوسروں کو جو اس وقت آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں نہیں سکھائیں گے؟ میرے اچھے ابو!‘‘ احساسات کے سمندر میں طوفان اٹھتا ہے جس میں ڈولتی ہوئی میرے صبر و ہمت کی کشتی ڈوبتے ابھرتے، ڈوبتے ابھرتے، دور، بہت دور جذبات کے افق کے اس پار نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے، اور سکوت کے اس عالم میں جبکہ دل کی دھڑکن تک سنائی دیتی ہے میری سوچوں کی رسی کا آخری سرا بھی گم ہو جاتا ہے۔ اور پھر دل کے ساز پر وہ لاہوتی دھن چھڑ جاتی ہے۔ جس سے روح جھوم اٹھتی ہے: و لنبلوکم بشی من الخوف و الجوع و نقص من الاموال و الانفس و الثمرات و بشر الصابرین الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالوا انا للہ و انا الیہ راجعون (۲:۱۵۵۔۱۵۶)۔

جذبات کی رو میں مجھے یاد ہی نہیں رہا آپ کا تعزیتی تار ملا تھا۔ تار نہیں تھا، ہمدردیوں اور اظہارِ برادری کا ایک دیوان تھا جس سے میری بہت ہمت بندھی۔ مولا پاک آپ کو اجر بخشے! آمین!

فقط

آپ کا بھائی

نصیر ہونزائی

۷۸

گلگت

۳۱ دسمبر ۱۹۷۲ء

ضیاء

پیارے!

غالب نے کہا ہے:

کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیرِ نیم کش کو

یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

موت سے مفر نہیں مرے بغیر گذر نہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ زندگی کا انجام موت ہی ہے دل اس حقیقت کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ مرنے والا چین سے مر جاتا ہے مگر اپنے پیچھے غم و آلام کے وہ بگولے چھوڑ جاتا ہے جو آن کی آن برسوں کی بڑی محنت اور شوق و آرزو سے سجائی ہوئی زندگی کو تہ و بالا کر چھوڑتے ہیں۔ تمہارے ماموں زاد بھائی کی موت نے میری بوڑھی کمر پر جو لات ماری اس کا درد تم سے زیادہ کون محسوس کرے گا۔ تم میری ماں جائی کے نورِ نظر ہو نا آخر:

پیر میں جب چبھ جائے کانٹا آنکھ بچاری روتی ہے

پھانس سا جب لگ جائے دل میں آنکھ بچاری روتی ہے

سارے بدن کا درد اسی کو رونے پر مجبور کرے

ہر تکلیف میں ہر مشکل میں ۔۔۔ آنکھ بچاری روتی ہے

مگر میرے عزیز! جب انجامِ کار فنا ہے تو اس کے لئے آہ و بکا کیوں؟ غم پالنے

۷۹

 سے بڑھتا ہے اور پھر کوئی فائدہ بھی تو نہیں دیتا۔ کیوں نہ ایسی فضول چیز کو صحرائے نسیان میں دل بدر کر دیا جائے۔ سندِ فضیلت امتحان کا مرحلہ طے کر کے ہی ملتی ہے، اور و بشر الصابرین کی سند لینے کے لئے تو لازماً بڑا کڑا امتحان دینا ہو گا۔ دعا کرو مولا ثبات بخشے! ہاں! تمہارا تار ملا میری ہمت بندھی۔ سچ جانو تم مجھے اپنے مرحوم بھائی سے کم عزیز نہیں ہو اور مجھے تمہارا اتنا ہی مان ہے۔

فقط

تمہارا اپنا ماموں

۸۰

مقامی نامدار کونسل اور اسماعیلی نیک نام جماعت سکردو

یا علی مدد! آپ کی طرف سے ہمیں تعزیتی ٹیلیگرام موصول ہوا، ہم آپ کی اس ہمدردی اور تعزیت کے بے حد ممنون و شکرگزار ہیں۔

فی الوقت مناسب ہے کہ میں دین کی کوئی حقیقت بیان کروں، اور وہ یہ ہے کہ مصیبتیں یا کہ اللہ کے امتحانات پانچ ہیں: ہر قسم کا خوف، ہر قسم کی بھوک، ہر قسم کا مالی نقصان، ہر قسم کا جانی نقصان اور ہر قسم کے پھلوں کا نقصان، ظاہر ہے کہ ان سب میں سے جانی نقصان بڑا ہے، چنانچہ اس کے صبر و شکر کا ثواب و صلہ بھی انتہائی عظیم ہے، پھر اموات میں بھی فرق ہے، چنانچہ سب سے بڑی موت جوان کی موت ہے، پس آپ دعا کریں کہ میرے اس عظیم امتحان میں مجھے کامیابی حاصل ہو! آمین!

آپ کا

علمی خادم

نصیر ہونزائی

یکم جنوری ۱۹۷۳ء

۸۱

میرے عزیز ضعیف اللہ بیگ صاحب اورسیئر ای۔ ایم سکردو

یا علی مدد! آپ کا ٹیلیگرام اور خط موصول ہوا، آپ کی یہ انتہائی ہمدردی یقینی ہے کیونکہ ایثار علی اور اس کے مصیبت زدہ والدین آپ ہی کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ کو پیارے ایثار علی کی جوان سالی کی ناگاہ موت سے بڑا صدمہ ہوا ہے، اور میرے رنج و غم کے متعلق آپ کو فکر لاحق ہوئی ہے، لیکن اگر بہ نگاہِ حقیقت دیکھا جائے تو ماننا ہی پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا روحانی اور حقیقی وکیل ہے، ہمارے لئے وہ جو کچھ کرے اسی میں ہماری سعادتمندی پوشیدہ ہے، وہ جو کچھ کرتا ہے اس میں ہماری اخروی فلاح اور ابدی نجات پیشِ نظر رہتی ہے۔ دعا ہے کہ ہر حقیقی مومن کو صبر و شکر کی حکمت سمجھنے کی توفیق نصیب ہو!

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

یکم جنوری ۱۹۷۳ء

۸۲

محترم غلام محمد خان صاحب اور محترم محمد رضا بیگ صاحب مسگر

یا علی مدد! آپ کی اور آپ کے خاندان کی طرف سے ہمیں تعزیتی تار موصول ہوا، جس کے لئے ہم آپ کے شکرگزار ہیں، خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو دونوں جہان کی کامیابی اور سرفرازی عطا فرمائے! آمین یا رب العالمین!!

آپ کو اس بات کا یقین ہے، کہ یہ فقیر امام علیہ السلام کے عاشقوں میں سے ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور بسا اوقات جان قربان اور روح فدا کے نعرے لگاتا رہا ہے، اب جبکہ ایک جانی قربانی کا امتحان لیا گیا ہے، تو پھر گھبرانا عبث ہے، اس میں تو صبر اور شکر کی ضرورت ہے۔

فقط

آپ کا قومی خادم

نصیر ہونزائی

یکم جنوری ۱۹۷۳ء

۸۳

برادرِ محترم مجیب اللہ بیگ صاحب، کراچی

یا علی مدد! آپ کے حوصلہ بخش تعزیت نامہ کا بہت بہت شکریہ! ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اور میری عزیز بھانجی اس رنج و غم میں ہمارے ساتھ برابر کے شریک ہیں، لیکن ہمیں صابر و شاکر رہنا چاہئے، تا کہ حق تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو۔

دعائم الاسلام جزء اول صفحہ ۲۲۶ پر شہادت کی قسموں کا تذکرہ کیا گیا ہے، جس میں ’’صاحب الھدم‘‘ کے عنوان سے اس شخص کو بھی شہید قرار دیا گیا ہے، جو کسی مکان، دیوار وغیرہ کے گرنے سے مر جائے، نیز یہی مطلب ’’لغات الحدیث‘‘ جلدِ ششم کتاب الھاء میں بھی مذکور ہے، پس خدا کا شکر ہے، کہ میرے عزیز! ایثار علی کو بھی شہادت کے درجات میں سے ایک درجہ ملا ہے۔

فقط

آپ کا بھائی

نصیر ہونزائی

۲ جنوری ۱۹۷۳ء

۸۴

جناب پریذیڈنٹ صاحب اسماعیلیہ ایسوسی ایشن کراچی

یا علی مدد! میرے فرزندِ دلبند کے انتقالِ پرملال پر آپ نے اپنی جمعیت کی طرف سے اور اپنی جانب سے ٹیلیگرام کے بعد جو تعزیت نامہ بھیجا ہے اور جس پرحکمت انداز سے مجھے حوصلہ بخش مشورہ دیا گیا ہے، میں اس کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے شکرگزار اور احسان مند رہوں گا۔

آپ کی جمعیت کا ہر فرد اورآپ خود اولاد کی بے پناہ محبت کا تجربہ رکھتے ہیں، کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، لیکن اس تلخ حقیقت کے لئے کیا کیا جائے، کہ حقیقی مومنین سے بڑی بڑی قربانیوں کے امتحانات لیے جاتے ہیں، ہاں! بس یہی کہ صبر کیا جائے، اور صبر ہی سے یہ تلخی بھی شیرینی کی صورت میں بدل سکتی ہے:

’’صبر تلخ است و لیکن برِ شیرین دارد‘‘۔

فقط

آپ کا تابعدار

نصیر ہونزائی

۳ جنوری ۱۹۷۳ء

۸۵

میرے بہت ہی عزیز برکت علی۔ این۔ بھامانی، کراچی

یا علی مدد! آپ نے اپنی طرف سے نیز اپنے احباب اور ماں جی کے گروپ کی طرف سے جو تعزیتی پیغام بھیجا ہے اور جو دعا کی گئی ہے میں اس کا بے حد شکرگزار اور ممنون ہوں، مولائے حکیم آپ سب کو دونوں جہان کی کامیابی عطا فرمائے! ایک حقیقی اسماعیلی ہونے کی وجہ سے مجھے اپنے عزیز بیٹے کی ناگہان موت پر آنسو نہ بہانا چاہئے، بلکہ مجھے یہ یقین رکھنا چاہئے، کہ بحکمِ کلامِ مولانا علیؑ: کل مومن شہید (ہر مومن شہید کا درجہ رکھتا ہے) میرا عزیز ایثار علی آج (ان شاء اللہ) شہید ہے، چنانچہ مولا نے فرمایا ہے: ای میتۃ مات بھا المومن فھو شہید (مومن جس موت سے بھی مرے وہ شہید ہے) اور قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے: و الذین امنوا باللہ و رسلہ اولٰئک ھم الصدیقون و الشھداء عند ربھم (۵۷:۱۹) اور جو لوگ خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے یہی لوگ اپنے پروردگار کے نزدیک صدیقوں اور شہیدوں کے درجے میں ہیں۔

فقط

آپ کا استاد

نصیر ہونزائی

۳ جنوری ۱۹۷۳ء

۸۶

میرے بہت ہی عزیز علی مدد سارجنٹ، کراچی

یا علی مدد! میرے فرزندِ ارجمند کے بارے میں آپ نے پریشانی سے تار دیا تھا، لیکن ہم کس زبان سے جواب دے سکتے تھے، کہ ایثار علی خیریت سے ہے، افسوس کہ یہ پیارا جملہ ۸ دسمبر ۱۹۷۲ء کے بعد ہم پھر کبھی استعمال نہ کر سکیں گے۔

اے میرے عزیز! مذکورہ باتیں جسمانیت سے تعلق رکھتی ہیں، مگر روحانی حقائق اس کے برعکس ہیں، جن کی طرف سابقہ ایک خط میں اشارہ کیا گیا ہے، امید ہے کہ میرے جملہ عزیز اب ایثار علی کی جسمانی حیثیت کے تصور کو بتدریج بھول جائیں گے، اور اس کو ایک روحانی مخلوق سمجھیں گے، پس بحکمِ حدیث: المومن حی فی الدارین (مومن دونوں گھروں میں، یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی زندہ ہے) میرا ایثار روحانی کیفیت میں زندہ ہے، کاش میرے عزیزوں میں سے ہر ایک کو روحانیت کا وہ مقام حاصل ہوتا، جس میں کہ ارواح کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، آپ اور میری بیٹی فدا بی بی کو اس حقیقت کا یقینِ کامل ہونا چاہئے

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۳ جنوری ۱۹۷۳ء

۸۷

جنابِ محترم و معظم فقیر محمد صاحب کراچی

یا علی مدد! اے میرے محسنِ عظیم! میں آپ کی بے مثال ہمدردیوں اور شفقتوں کی صحیح ترجمانی کے لئے ایسے بہترین الفاظ کا انتخاب نہیں کر سکتا، جیسے کہ چاہئیں، اور نہ میں آپ کے احسانات کا کوئی حساب و شمار کر سکتا ہوں، اے رب العزت! تو ہی میرے دل کی صداقت کا گواہ ہے۔

اے علم و فضل کے آسمان کے درخشندہ و تابان ستارے! یہ بات بہت پہلے ہی سے آپ کو معلوم ہے، کہ ایثار علی مجھے کس قدر عزیز تھا، لیکن میں نے شاید آپ سے اس بات کا تذکرہ ہی نہیں کیا تھا، کہ میرا نورِ نظر ایک خاص اسماعیلی عقیدے کے مطابق مہمانی نامزد کیا گیا تھا، یہ عظیم مہمانی ۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۲ء کے اخیر تک میرے پاس امانت تھی، مگر اب بروزِ جمعہ ۸ دسمبر کو یہ امانت یکایک مجھ سے واپس لی گئی ہے، آپ خود جانتے ہیں، کہ ایثار علی کی معنوی نسبت بھی ایثار و قربانی سے لازمی تھی۔

اے پروردگارِ عالم! تو ہی میرے دل کی کیفیت کا گواہ ہے کہ میں اس عظیم ابتلا و امتحان میں صابر و شاکر ہوں، پس اے خداوندِ تبارک و تعالیٰ! تو ہی دونوں جہان میں ہمارا مددگار اور کارساز ہے۔

اخیر میں ایک بار پھر آپ کے احسانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اپنی طرف سے اور نامدار اسماعیلیہ ایسوسی ایشن کے بہت سے حضرات کی طرف سے مجھے اور میرے خاندان کے ہر فرد کو اس سانحہ کے موقع پر ہر قسم کی ہمت دہانی فرمائی ہے، دعا ہے کہ خداوندِ کریم آپ کو اور ان حضرات کو اپنے جملہ

۸۸

عزیزوں کے ساتھ دنیا و عقبیٰ کی کامیابی سے نوازے! آمین!!

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۴ جنوری ۱۹۷۳ء

۸۹

عزیز ترینِ من جوہر علی حیدرآباد ہونزا

یا علی مدد! آپ کے پیغامِ تعزیت کا بہت ہی شکریہ! اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو دین و دنیا کی سعادتوں اور برکتوں سے نوازے! آمین!!

اے میرے عزیز! میری مصیبت سے شاہ زمان صاحب کی مصیبت بہت بڑی ہے کہ اس کے خاندان کے چھ افراد اس بدقسمت جہاز میں سوار تھے، جن کی لاشیں اگر مل جاتیں اور سپردِ خاک ہو جاتیں، تو شاہ زمان اور ان کے خاندان کے افراد کس قدر شکرگذار رہتے، پس اگر میں اللہ تعالیٰ کا شکر نہ کروں اور ناشکری کروں، تو کافر بن جاؤں گا، اور کافر بن جانا کہیں دور نہیں بلکہ شکر نہ  کرنا ہی کفر ہے۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۴ جنوری ۱۹۷۳ء

۹۰

برادرِ محترم پلشیر بیگ صاحب حیدرآباد

یا علی مدد! آپ کے تعزیتی پیغام اور گہری ہمدردی کا بہت ہی شکرگزار ہوں، فقیرانہ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو سعادتِ دارین عطا فرمائے! اور آپ کے عزیزوں کو بھی۔

یہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ میری زندگی کی کہانی انتہائی عجیب و غریب ہے، جسمانی اور روحانی قسم کی آزمائشوں کا نتیجہ! مسافرت و غربت کا قصہ! درویشی و فقیری کا خلاصہ! محنت و مشقت کا مجموعہ! گریہ و زاری کا سرچشمہ! اور صبر و شکر کا ایک ادنیٰ سا نمونہ!

الحمد للہ میری پرمشقت زندگی کی اس مرحلے میں مجھ سے جو عظیم امتحان لیا گیا ہے اس میں بھی صبر و شکر کر رہا ہوں۔

فقط

آپ کا قومی خادم

نصیر ہونزائی

۴ جنوری ۱۹۷۳ء

۹۱

محترم سیکریٹری سلطان پناہ صاحب اشکومن

یا علی مدد! آپ کا تعزیت نامہ موصول ہوا، آپ نے میرے فرزندِ جگر بند کے انتقالِ پر ملال پر جس اخوت و یگانگت سے اور جن محبت انگیز الفاظ میں افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا ہے، میں اس کا قلبی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں، خداوندِ کریم آپ کو اپنے عزیزوں کے ساتھ دین و دنیا کی سلامتی و عافیت سے نوازے!! آمین یا رب العالمین! اے مہربان! قانونِ قدرت کی بالادستی اور موت کے بہانے کا حال ذرا سنیے، کہ شروع شروع میں ہمارے گھر کا معمول یہ رہا تھا، کہ جب کبھی ہمارا عزیز ایثار علی کسی سفر پر جانے لگتا، تو اسلامی عقیدہ اور اس کی والدہ کی خواہش کے مطابق میں اپنے فرزندِ دلبند کی سلامتی کے لئے خدا کے حضور میں گڑگڑاتے ہوئے دعا کرتا تھا، اور سب سے باہر کے دروازے کے سامنے تک ایثار علی کے آگے آگے قرآن نکالتا تھا، تا کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کی برکت سے اور اپنی عزیز کتاب کی حرمت سے ہمارے بیٹے کو بخیریت و عافیت گھر واپس پہنچا دے، نیز ایثار علی کی ماں درِ بلا کی نیت سے کسی چیز کا صدقہ نکالتی تھی، مگر افسوس کہ بعد میں یہ معمول یکسر بدل گیا، جس کی وجہ یہ ہوئی کہ چند سالوں سے اس طرف عزیزم ایثار (احسان نصیر) ہر کام کو میری مصلحت کے بغیر اپنی مرضی سے کرنے کا عادی ہو گیا، اور سفر بھی اکثر مجھ سے چھپے چھپائے کرنے لگا، چنانچہ مرحوم کے اس آخری سفر کے متعلق بھی مجھے کوئی علم نہیں تھا، جس سے کہ بموجبِ قانونِ اجل میرا عزیز پھر کبھی واپس گھر نہیں آ سکتا تھا۔

ان تمام افسوسناک صدمات کے باوجود یہ درویش بتائیدِ الٰہی صبر و شکر کے راستے پر ثابت قدمی سے چل رہا ہے، آپ دعا کیجئے کہ آئندہ بھی اس کے قدم میں کوئی

۹۲

 لغزش نہ آئے!

فقط آپ کا خیر اندیش

نصیر ہونزائی

۷ جنوری ۱۹۷۳ء

۹۳

محترم محمد شفیع صاحب گرین جنرل سٹور چیلاس

یا علی مدد! آپ کے تعزیتی پیغام کا ممنون و احسان مند ہوں، جس میں آپ نے اپنی طرف سے اور اپنے خاندان کی طرف سے میرے جگر پارہ ایثار علی کی ناگہانی موت پر رنج و الم اور افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا تھا، عاجزانہ دعا ہے کہ قادرِ مطلق آپ کو دونوں جہان میں سلامت اور خوش و خرم رکھے! آمین یا رب العالمین!! اے میرے مشفق و مہربان! میرے دل اور جگر کے زخموں پر صبر و شکر کی مرہم پٹی تو ہو رہی ہے، لیکن میری بیوی کے یہ زخم کچھ لاعلاج نظر آ رہے ہیں، ہر چند کہ میں اسے طرح طرح کی نصیحتوں سے علاج کے لئے کوشش کر رہا ہوں، تاہم مجھے مایوس بھی نہ ہونا چاہئے، آخرکار پروردگارِ عالم اسے بھی توفیق و ہمت عطا فرمائے گا۔

میں تو یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤں، کہ اس نے مجھے نیستی سے نکال کر ہستی میں لایا، پھر اس نے مجھے یکا بعد دیگرے طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا، یہاں تک کہ اس کی نعمتوں کا حساب و شمار نہیں ہو سکتا، اب اگر امتحاناً ایک نعمت ہم سے واپس لی گئی ہے تو ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کہ اس کے متعلق گلہ کریں۔

اے پروردگارِ عالم! ہمیں اور جملہ مومنین کو ہر آزمائش پر صابر و شاکر رہنے کی توفیق و ہمت عنایت فرما! آمین یا رب العالمین!!

فقط

آپ کا خیر اندیش

نصیر ہونزائی

۸ جنوری ۱۹۷۳ء

۹۴

محترم ماسٹر غلام حیدر صاحب مسگر

یا علی مدد! آپ کا رقیمہ جو میرے دردِ دل پر دل سوزی، ہمدردی، افسوس اور دعائے خیر کے معنوں سے مملو تھا، موصول ہوا، ان شاء اللہ تعالیٰ میرا دل آپ کی اس ہمدردی اور جذبۂ یگانگت کو ہرگز فراموش نہ کرے گا۔

اے میرے عزیز! اس مصیبت کے وقت ہمارے باطن میں دو طرح کے احساسات پائے جاتے ہیں، ایک قسم کے احساسات وہ ہیں، جن کی اساس و بنیاد خدا و رسول اور ائمۂ برحق علیہم السلام کے مبارک و مقدس ارشادات پر ہے، دوسری قسم کے احساسات وہ ہیں، جن کا تعلق طبعی میلان، دنیاوی رسم و رواج اور ظاہری ماحول پر ہے، لیکن الحمد للہ ہمارے دینی احساسات ہر وقت دنیاوی احساسات پر غالب و فاتح رہتے ہیں، یہ سعادت اس ذاتِ بابرکات کی تائید و نصرت کے بغیر ممکن نہیں جس کے قبضۂ قدرت میں سب کچھ ہے۔ میں اپنے تمام خاندان کی طرف سے ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں اور فقیرانہ دعا ہے کہ خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو اور جملہ جماعت کو دین و دنیا کی برکتوں اور سعادتوں سے نوازے! آمین یا رب العالمین!!

فقط

آپ کا استاد

نصیر ہونزائی

۹ جنوری ۱۹۷۳ء

۹۵

جناب کیپٹن میر باز صاحب حیدرآباد

یا علی مدد! آپ نے جن درد انگیز الفاظ میں تعزیت نامہ لکھا ہے، اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے، بے شک ایثار علی آپ کو بے حد عزیز تھا، لہٰذا آپ کے نزدیک ایسے دردمندانہ جذبات کا اظہار صحیح ہے۔

مگر میں جیسا کہ آپ کو یقین ہے ایک ایسا درویش آدمی ہوں، جس کے ہاتھ پاؤں رضائے مولا کی رسی سے بندھے ہوئے ہیں، اس لئے اس فیصلۂ الٰہی کے خلاف کوئی فکری حرکت تک نہیں کر سکتا ہوں، مجھے اب بس طوعاً یا کرھاً صبر اور شکر کرنا چاہئے۔

جہاں تک میرے ایثار کی غریب ماں کا سوال ہے، اسے تو میں نصیحت کر کر کے تھک جاتا ہوں، مگر وہ نالہ و فغان سے نہیں تھکتی، آپ دعا کریں کہ خدا اسے ہلاکت سے بچائے، کیونکہ اس کے نظامِ قلب میں خرابی پیدا ہو رہی ہے۔

فقط

آپ کا اپنا

نصیر ہونزائی

۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء

۹۶

جناب میجر شاہ مکین صاحب نومل

یا علی مدد! آپ نے جو رقیمہ اظہارِ افسوس اور میری ہمدردی میں لکھا تھا، میں اس کی قدر اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہوائی جہاز کا یہ حادثہ واقعاً سب کے لئے بڑا درد ناک تھا۔

میجر صاحب! میں تو اپنے عزیز، جوان، اور ہنرمند فرزند کی ناگہانی موت کے بارِ غم کو صبر اور شکر کے ساتھ اٹھائے جا رہا ہوں، مگر افسوس صد افسوس کہ میری اہلیہ سے یہ سنگین بوجھ اٹھایا نہیں جا رہا ہے، حالانکہ میں شروع ہی سے اسے صد گونہ نصیحتیں کرتے آیا ہوں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:

ان اللہ اشتریٰ من المومنین انفسہم و اموالھم بان لھم الجنۃ (۹:۱۱۱)

بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے، کہ ان کو جنت ملے گی۔ پس معلوم ہوا کہ مومنین کی جانیں اور ان کے اموال اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، اور اگر خدا تعالیٰ اپنی کوئی امانت واپس لیتا ہے، تو اس پر پشیمان و نالان ہونا سراسر نادانی اور جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء

۹۷

جناب غازی جوہر خان صاحب

اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خپلو

یا علی مدد! میں آپ کی روحانی اخوت و یگانگت اور دینداری کی بے حد قدر و تکریم کرتا ہوں، کہ آپ نے باندازِ کریمانہ قلمی طور پر اس بندۂ مصیبت زدہ کی دلجوئی فرمائی ہے۔

آپ اس فلسفے کو بخوبی جانتے ہیں، کہ غم حقیقت میں زوالِ نعمت کا تصور ہے، جس کا علاج دو طرح سے ہو سکتا ہے، یا ہمیں نعمت کا امانت سمجھنا چاہئے، تا کہ امانت کی واپسی پر ہمارا کوئی اعتراض نہ ہو سکے، یا نعمت کے زوال کو عارضی قرار دیتے ہوئے یوں سمجھنا چاہئے کہ اگر اس چند روزہ زندگی میں ہم سے کوئی نعمت اٹھائی جاتی ہے، تو پھر وہ ہمیں ابدی زندگی میں بصورتِ احسن واپس ملنے والی ہے۔

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء

۹۸

محترم محمد شفیع صاحب

یا علی مدد! آپ نے میری شدتِ درد کو کم کر دینے اور مجھے تسلی و تسکین دینے کے لئے جو تعزیت نامہ لکھا تھا، وہ انسانی اور قومی ہمدردی کا ایک صحیح مظہر تھا، میں آپ کی اس ہمدردی کو ہرگز فراموش نہ کروں گا۔

اے دوستِ مہربان! جگرپارہ کی جدائی کا امتحان واقعی بڑا سخت ہے، لیکن اب اس خدائی امتحان سے میرے لئے گریز کی کوئی راہ نہیں ملتی، لہٰذا اس میں مجھے صبر و شکر جیسے اعلیٰ اوصاف سے کما کان حقہ فائدہ اٹھانا چاہئے، ورنہ گرانمایہ موتیوں کا خزانہ لٹ جانے کے ساتھ ساتھ اس کا ثواب بھی ضائع ہو جائے گا۔

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء

۹۹

عزیزانِ من صدر و اراکینِ اسماعیلیہ ہونزا کواپریٹو کریڈٹ سوسائٹی کراچی

یا علی مدد! آپ کا تعزیتی خط، جس میں مشفقانہ الفاظ سے میرے زخمِ دل پر مرہم لگانے کی کوشش کی گئی تھی، موصول ہوا، میں آپ کی اس ہمدردی اور سعیٔ صالحہ کے لئے نہایت ہی شکرگزار اور ممنون ہوں۔

اگرچہ ظاہری طور پر میرا نوجوان اور خوبرو بیٹا میری مسرتوں کا خزانہ تھا، اور اس کی ناگاہ موت کے ہاتھوں میری مادی خوشیوں کا یہ خزانہ لٹ گیا، تاہم میں دینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا ہوں، کہ میں بدقسمت ہوں، بلکہ میں عرفان و ایقان کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں خوش قسمت ہوں، کہ خداوندِ تبارک و تعالیٰ کے عطا کردہ خزانوں میں سے ایک گرانقدر اور بیش بہا خزانہ حصولِ آخرت کے امتحان میں صرف ہوا، آپ سب اس عظیم امتحان میں میری کامیابی کے لئے دعا کیجئے۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء

۱۰۰

عزیزِ من حسام الدین

یا علی مدد! میرے پیارے ایثار نے بموجبِ امرِ الٰہی یکایک نوجوانی میں ہی اس دنیائے ناپائدار کو خیرباد کہا ہے، ایسے حال میں ظاہری طور پر ہمیں اور آپ کو صدمہ ہونا لازمی تھا، لیکن تعجب کی بات ہے، کہ اس موقع پر ہمارے ساتھ ایک وسیع دنیا شریکِ غم ہے اور سبھی دعا کرتے ہیں، اور دعا بھی ایسی کہ وہ زبان کی نوک سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے ہے، پس بڑا نیک بخت ہے وہ مومن جوان جو اپنے داغِ مفارقت سے انسانی ہمدردی کا ایک عظیم الشان انقلاب لائے اور نیک دعاؤں کی ایک ابدی دنیا بسائے۔

بڑھاپے کی موت کے نتیجے میں نہ کسی کو کوئی درد ہوتا ہے نہ ہمدردی، نہ یہ کوئی خاص امتحان ہے نہ آزمائش، اور نہ اس کے صبر و شکر کا کوئی خاص پھل ہے، اس میں محدود دعائیں ہوتی ہیں وہ بھی صرف رسمی طور پر۔

فقط

آپ کا اپنا

نصیر ہونزائی

۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء

۱۰۱

عزیز جماعتِ حسین آباد

یا علی مدد! آپ کی ہمدردیوں اور دعاؤں کے لئے شکرگزار اور ممنون ہوں، خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو ان نیک خیالات کے عوض اجرِ عظیم عطا فرمائے! آمین یا رب العالمین!!

یہ حقیقت واضح رہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے امتحان و ابتلا کے لئے موت اور زندگی بنائی ہے، تا کہ یہ ظاہر ہو کہ خوبیٔ عقیدہ اور حسنِ عمل کے اعتبار سے کون آگے ہے اور کون پیچھے، پس مومنین پر واجب و لازم ہے کہ وہ حیات و ممات کے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں۔ آپ سب دعا کریں کہ خدا تعالیٰ جملہ مومنین کو نیک توفیق عنایت کرے!

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء

۱۰۲

محترم الواعظ غلام الدین صاحب التت

یا علی مدد! آپ نے تعزیت نامہ میں جس خلوص و محبت سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے، وہ قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہے، خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو دونوں جہان کی سربلندی عطا فرمائے! آمین یا رب العالمین!!

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین سے پانچ چیزوں میں امتحان لیا کرتا ہے، وہ ہیں خوف، بھوک، مال کا نقصان، جان کا نقصان اور ثمرات کا نقصان، ان میں سب سے بڑا امتحان جانی نقصان ہے، اور کامیابی کی صورت میں اس کا اجر و صلہ بھی انتہائی عظیم ہے، پس آپ ہمارے حق میں دعا کیجئے، کہ ہم اس عظیم ابتلا و امتحان میں کامیاب ہو سکیں۔

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۲۸ جنوری ۱۹۷۳ء

۱۰۳

محترم غلام الدین صاحب گلمت

یا علی مدد! آپ کا تعزیتی مراسلہ موصول ہوا، میں آپ کی اور آپ کے خاندان کی اعلیٰ انسانیت، سچی دینداری اور پرخلوص ہمدردی پر یقین رکھتا ہوں، خدائے برتر و توانا آپ اور جملہ مومنین کو دونوں جہان کی کامیابی عطا فرمائے! آمین ثم آمین!!

میرے عزیز فرزند ایثار علی کی بے ہنگام موت اگرچہ ایک ناقابلِ فراموش صدمہ ہے، تاہم مجھے اپنے مولا پر بھروسہ ہے، کہ اس نے مجھ سے یہ امتحان ایک عظیم اجر کے لئے لیا ہو گا، جیسے اس سے قبل مجھ سے طرح طرح کے امتحان لیے گئے ہیں۔

فقط

آپ کا دعا گو

نصیر ہونزائی

۲۹ جنوری ۱۹۷۳ء

۱۰۴

عزیزِ من حمید اللہ بیگ سکردو

یا علی مدد! میرا لختِ جگر ایثار علی یقیناً آپ کا بھی عزیز تھا لیکن موت کا پیغام ایسا ہے کہ اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا، لہٰذا اب ہمیں صبر و شکر کی حکمتوں کا سہارا لینا چاہئے اور ہمیں یقین رکھنا چاہئے، کہ ہماری جسمانی زندگی چند روزہ ہے، اور ہماری روحانی حیات لاانتہا ہے، جب ایسا یقینِ کامل ہمارے دنیاوی احساسات پر غالب آئے تو اسی وقت ہمیں تائیدِ الٰہی حاصل ہو سکتی ہے۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۲۹ جنوری ۱۹۷۳ء

۱۰۵

محترم محبوب علی صاحب کریم آباد کراچی

یا علی مدد! میرے دل و دماغ کے درد سے آپ نے جو ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا ہے، میں اس کا قلبی طور پر شکرگزار ہوں، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو اور آپ کے جملہ عزیزوں کو روحانی اور جسمانی سلامتی و کامیابی کی نعمتوں سے نوازے! آمین!!

آپ اس واقعہ کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ میرے سامنے صرف ایک نوجوان اور ہوشیار فرزند کی ناگاہ موت اور داغِ مفارقت کا امتحان نہیں ہے بلکہ اس امتحان نے کئی اور امتحانات جنم دئے ہیں، جن کی تفصیل کے لئے اس مختصر سے خط میں کوئی گنجائش نہیں ان تمام مصائب و آلام کے باوجود میں نے رب العزت کے حضور میں سر بسجود ہو کر مناجات کی ہے، کہ اگر وہ میری ان مصیبتوں سے خوش ہے تو میں بھی خوش ہوں، صرف اتنا ہے کہ وہ مجھے اس بارِ غم کو خندہ پیشانی سے اٹھانے کی قوت و ہمت عنایت فرمائے! آمین!!

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۲۹ جنوری ۱۹۷۳ء

۱۰۶

حضور امیر صاحب ہونزا

یا علی مدد! آپ نے ٹیلیگرام اور خط کے علاوہ بنفسِ نفیس تشریف لا کر جس عنایت و مہربانی سے میرے اس دردِ بے درمان پر افسوس و ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے، اور جن شفقت آمیز الفاظ  میں دعا و نصیحت فرمائی ہے، میں اسے (ان شاء اللہ تعالیٰ) ہمیشہ ہمیشہ قدردانی سے یاد کروں گا۔

میرا مرحوم فرزندِ جگر بند کس قدر خوش نصیب تھا، کہ اس کی مغفرت اور روحانی سکون کی دعا کرنے کے لئے بادشاہِ وقت تشریف فرما ہوئے، شاہی خاندان کی بہت سی معزز ہستیوں نے اس میں حصہ لیا، جناب ریزیڈنٹ صاحب تشریف لائے، جناب پولیٹیکل ایجنٹ صاحب اور دوسرے بہت سے اعلیٰ افسروں نے شرکت کی، غرض کہ ہمدردی کی ایک بھرپور دنیا جوش و خروش کے ساتھ حرکت میں آ گئی، جس میں ہر نوع، ہر صنف اور ہر درجہ کے لوگ موجود تھے۔

جنابِ عالی! ہمیں ہر ابتلا و امتحان میں صبر اور ہر حالت میں شکر کرنا چاہئے کیونکہ ہم اپنے حقیقی مالک کے بندے یعنی غلام ہیں، اور ہماری روحانی اور جسمانی فلاح و بہبود صرف اسی امر میں پوشیدہ ہے کہ اپنے مالک و آقا کی فرمانبرداری اور غلامی کرتے ہوئے اس کی خوشنودی و رضا حاصل کریں۔

دعا ہے کہ خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو اور ہم سب کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق دینی اور قومی خدمت کا اعلیٰ ترین جذبہ و شوق اور توفیق و ہمت عنایت کرے! آمین یا رب العالمین!!

فقط آپ کا تابعدار

نصیر ہونزائی، یکم فروری ۱۹۷۳ء

۱۰۷

عزیزِ من امام یار بیگ لاہور

یا علی مدد! ایثار علی کے بے وقت موت سے مجھے جو طرح طرح کی تکالیف اٹھانا پڑی ہیں، ان میں آپ بھی شریک ہیں، لیکن میرا عقیدہ مجھے یہ بتاتا ہے، کہ اپنی انہیں تکالیف کو صبر اور شکر کی قوت سے اٹھانے میں حکمت ہے اب اس کے سوا فلاح و نجات کا کوئی راستہ نہیں۔

مومنین کے لئے مایوسی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا، کہ اس دنیا میں مومن سے جو کچھ لیا جاتا ہے، آخرت میں وہ ہزار ہا درجہ بہتر بنا کر واپس کر دیا جاتا ہے۔

فقط

آپ کا اپنا

نصیر ہونزائی

یکم فروری ۱۹۷۳ء

۱۰۸

محترم الواعظ عزیز علی فدائی صاحب لائل پور (پنجاب)

یا علی مدد! آپ کا تعزیت نامہ، جو محبت و یگانگت اور اخوت و ہمدردی کا آئینہ دار تھا، موصول ہوا، میں آپ کی اس ناقابلِ فراموش ہمدردی و محبت کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔

واعظ صاحب! جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کہ حقیقی مومنین کی موت دراصل شہادت کے سوا کچھ نہیں، اور شہادت کا نتیجہ خوشی ہونا چاہئے، نہ کہ غم، ہر چند کہ انسانی نفس اس امر کے لئے ہرگز تیار نہیں، کہ ایک نوجوان، عزیز اور ہر طرح سے مستعد بیٹے کی موت کے غم کو شہادت کی خوشی کی صورت دے کر مطمئن ہو جائے، مگر جس عقل کی صحیح پرورش امامِ برحق علیہ السلام کی مقدس ہدایات سے ہوئی ہے، اس کے لئے یہ امر مشکل نہیں، والسلام۔

فقط

آپ کا روحانی بھائی

نصیر ہونزائی

۷ فروری ۱۹۷۳ء

۱۰۹

محترم میجر مستی بیگ صاحب

یا علی مدد! آپ کا مکتوب جس میں آپ نے میرے نورِ نظر کے انتقالِ پرملال پر افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا تھا، اور مہر و محبت سے میری دلجوئی کی تھی، موصول ہوا، خداوندِ تبارک و تعالیٰ آپ کو دین و دنیا کی سعادت مندی عنایت فرمائے! آمین ثم آمین!!

جیسا کہ آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ میں ایک درویش آدمی ہوں، اور میرے نزدیک دنیا و ما فیہا کی چندان اہمیت نہیں، اور اگر اس کی کوئی اہمیت ہے، تو وہ صرف یہی کہ یہاں کی ہر چیز کو راہِ مولیٰ اور طریقِ عقبیٰ میں قربان کر دیا جائے، اور قربانی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر پیاری چیز سے دل اٹھا کر ذاتِ یگانہ کی طرف متوجہ کر دیا جائے۔

میرا ایثار علی مجھے نہایت ہی عزیز تھا، لیکن اب میں نے اپنے پیارے بیٹے کی محبت کو صبر اور شکر کی صورت میں فنا کر کے راہِ مولیٰ میں قربان کر دیا ہے۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۱۰ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۰

محترم افتخار حسین صاحب اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول بلتت ہونزا

یا علی مدد! آپ نے پیغامِ تعزیت میں جس دوستانہ طریق سے اور جن پیارے الفاظ میں میرے دردِ دل کے متعلق افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا ہے، میں اس کا ہمیشہ شکرگزار رہوں گا، خداوندِ کریم دائم الوقت آپ کے لئے علم و حکمت کے ابواب کشادہ رکھے! اور آپ کو دونوں جہان کی سرفرازی و کامرانی نصیب ہو!!

آپ اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں، کہ پیارے ایثار علی کے چالیس دن ابھی پورے نہیں ہوئے تھے، کہ عزیزم شیر سلمان نے میرے داغے ہوئے دل کو پھر داغ دیا، مگر رضائے الٰہی کے خلاف کسی بندے کی مرضی لمحہ بھر بھی ٹھہر نہیں سکتی، اس لئے بہتر یہی ہے، کہ اس طوفانِ غم سے بچنے کے لئے صبر اور شکر کی کشتی بنا لی جائے۔

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۱۱ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۱

محترم موکھی عصمت اللہ صاحب چپورسن

یا علی مدد! آپ کا تعزیتی خط جو خلوص و محبت کے پیرایہ میں مرقوم تھا ملا، پروردگارِ عالم اس ہمدردی و دلسوزی کے عوض آپ کو اور تمام جماعت کو دین و دنیا میں ہزار ہا نیکیاں عطا فرمائے!

نیکنام موکھی صاحب! بظاہر میرا پیارا ایثار علی دینی و دنیاوی کاموں میں میرے ہاتھ بٹانے سے گریز کر گیا، مگر حقیقتِ حال کچھ اور ہے، وہ یہ کہ میرے فرزندِ دلبند کی روح ایک روحانی کیفیت بن کر میری حقیقی ہستی میں موجود ہے، اس روحانی کیفیت سے مجھے بہت مدد ملتی رہتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا ہے: لا تقنطوا من رحمۃ اللہ (اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ)۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۱۲ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۲

عزیزِ من دولت شاہ خروکشل حیدرآباد

یا علی مدد! ہاں عزیز مجھے خوف تھا کہ میرے اس غم کی وجہ سے جماعت کے بے شمار افراد کو دکھ ہو گا، لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے، تو غم کا کوئی مستقل وجود نہیں، کیونکہ عوام کے نزدیک غم کا سبب کسی پیاری چیز کا فوت ہو جانا ہے مگر خواص کے نزدیک ہر چیز امامِ برحق کے نور کی روشنی میں حاضر اور موجود ہے (بحکمِ: وکل شی احصینٰہ فی امام مبین)۔

جاننا چاہئے، کہ ہر چیز کی دو ہستیاں ہیں، ایک ہستی چیز ہے اور دوسری ہستی اس کا سایہ ہے، چنانچہ روح چیز ہے اور جسم اس کا سایہ، سایہ کا وجود کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا، مگر چیز سایہ نہ ہونے کی صورت میں بھی موجود ہوتی ہے، اسی طرح پیارے ایثار علی کی روح جسم کے سایہ نہ ہونے کے باوجود امامِ عالی مقامؑ کے نور کی روشنی میں موجود ہے۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۱۳ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۳

جناب صوبیدار میجر عبد الحکیم صاحب سکردو

یا علی مدد! میرے دل و دماغ کے اس گہرے زخم پر آپ نے جو افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا ہے، میں اس کا شکرگزار اور ممنون رہوں گا، خداوندِ تعالیٰ آپ کی عزتِ دینی و دنیاوی میں ہر دم اضافہ کرے! آمین ثم آمین!!

یہ ایک فطری امر ہے کہ عزیز جوان اور ہر طرح سے مستعد بیٹے کی یکایک موت سے ایک حساس انسان زندہ درگور ہو جاتا ہے، مگر چونکہ مجھے رحمت کے فرشتوں نے پہلے ہی سے اس بات کے لئے تیار کر رکھا تھا، کہ میں ہر آنے والی مصیبت کو برداشت کروں اور یہ سمجھوں کہ مصیبت میں ایک عظیم حکمت پنہان ہے، پس میں پیارے ایثار علی کے داغِ مفارقت سے اُف تک نہ کر سکتا ہوں۔

فقط

آپ کا علمی خادم

نصیر ہونزائی

۱۸ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۴

محترم رحمت اللہ بیگ صاحب بلتت

یا علی مدد! آپ کا تعزیت نامہ موصول ہوا، آپ کی ہمدردی اور دعا کا شکرگزار ہوں، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو دونوں جہان کی کامیابیاں عطا فرمائے!

آپ جانتے ہیں کہ موت خاص کر ایک جوان بیٹے کی موت دنیاوی نظر کے سامنے ایک عظیم مصیبت ہے، لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے، تو موت روحانیت کا دروازہ ہے اور حقیقی مومن کے لئے یہ خوشی کے پھولوں کا گلدستہ ہے، نیز اس میں ایک سرِ مگو یہ بھی ہے، کہ روح خدا تعالیٰ کے نور کی کرن کی حیثیت سے قدیم ہے، یعنی یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، اس میں روح کے دنیا میں آنے اور یہاں سے جانے کی کوئی ابتداء و انتہا نہیں، جیسا کہ مولائے روم صرف ایک دور کے متعلق فرماتے ہیں:

گر ہمی پرسی ز حالِ زندگی

نُہ صد و ہفتاد قالب دیدہ ام

ترجمہ: اگر تو میری زندگی کا حال پوچھتا ہے، تو وہ یہ ہے کہ میں نے اس دفعہ نو سو ستر (۹۷۰) اجسام دیکھے ہیں، یعنی میں اس دور میں نو سو ستر مرتبہ دنیا میں پیدا ہوا ہوں۔

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۲۰ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۵

عزیزم غلام حیدر مسگر

یا علی مدد! آپ کا تعزیت نامہ جو دلسوزی و ہمدردی سے مملو تھا، موصول ہوا، میں آپ عزیزوں کی اس بے لوث و بے غرض محبت کا اعتراف کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ اس دردمند کے ہمدردوں کو ہر قسم کی سلامتی و کامیابی عطا فرمائے! آمین یا رب العالمین!!

میرے عزیز! اگر یہ فقیر صبر و شکر جیسا کہ چاہئے، کر سکے تو اس کے اپنے پیارے سے صبر و شکر کا وہ اجرِ عظیم بدرجہا افضل و اعلیٰ اور عزیز ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا اور آخرت میں اسے ملنے والا ہے۔

فقط

آپ کا دعاگو

نصیر ہونزائی

۲۴ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۶

برادرِ محترم جوہر بیگ صاحب راولپنڈی

یا علی مدد! آپ کے خط سے ظاہر ہے، کہ عین عالمِ شباب میں عزیزم ایثار علی کی ناگہانی اور حادثاتی وفات سے آپ کو ذہنی طور پر سخت تکلیف محسوس ہوئی ہے ہمیں اس میں ذرہ بھر شک نہیں، کیونکہ میرا فرزندِ جگر بند آپ کے عزیزوں میں سے تھا، لیکن اب ہمارے لئے صحیح راستہ یہ ہے کہ ہم صبر اور شکر پر عمل کریں، تا کہ بموجبِ ارشادِ الٰہی ہمیں صلوات، رحمت اور ہدایت حاصل ہو۔ اولٰئک علیہم صلوٰت من ربھم و رحمۃ و اولٰئک ہم المھتدون (۲:۱۵۷)۔

فقط

آپ کا بھائی

نصیر ہونزائی

۲۵ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۷

عزیزِ من امان اللہ خان لاہور

یا علی مدد! عزیز کا پیغامِ تعزیت موصول ہوا، اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے نورِ چشم ایثار علی کے انتقالِ پرملال سے آن عزیز کو بھی بڑا رنج ہوا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے بعد نہ کسی کا کوئی چارہ ہے اور نہ کوئی اعتراض، چنانچہ حق تعالیٰ حدیثِ قدسی میں ارشاد فرماتا ہے کہ: ’’جو شخص میرے فیصلہ کے لیے راضی نہ ہو اور میری آزمائش پر صبر نہ کرے، تو اسے چاہئے، کہ میرے سوا کسی دوسرے پروردگار کو ڈھونڈ لے اور میرے آسمان کے نیچے سے نکل جائے‘‘۔

پس ہم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر اپنی خوشنودی کو قربان کر دیتے ہیں اور وہ ہم سے جو کچھ امتحان لینا چاہے، ہم اس پر اس سے مدد چاہتے ہوئے صبر کرتے ہیں۔

فقط

عزیز کا اپنا

نصیر ہونزائی

۲۷ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۸

محترم غلام محمد صاحب و محترم محمد علی صاحب سکردو

یا علی مدد! آپ صاحبان کے اظہارِ افسوس اور ہمدردی کا بہت بہت شکریہ! آپ جانتے ہیں کہ عقل و نفس کے نام سے انسان کے باطن میں دو متضاد قوتیں موجود ہیں، عقل ہمیشہ دینی ہدایات کے مطابق عمل کرنے کی خواہان ہوتی ہے اور نفس ہر وقت عقل کے خلاف چلتا ہے، چنانچہ جب عقل صبر و قناعت اختیار کرتی ہے، تو نفس بے صبری اور طمع کو لیتا ہے، پس اگر میں اپنے عزیز فرزند کی موت پر صبر کروں تو یہ ہدایت کے مطابق عقل کا کام ہو گا اور اگر میں جزع فزع کروں تو یہ نفس کا عمل ہو گا، جو امرِ الٰہی اور عقل کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں اور جملہ مومنوں کا ہدایاتِ مقدسہ اور عقلِ سلیم کے مطابق عمل کرنے کی توفیق و ہمت عنایت کرے! آمین یا رب العالمین!!

فقط

آپ کا مخلص

نصیر ہونزائی

۲۷ فروری ۱۹۷۳ء

۱۱۹

میرے عزیز بھائی صوبیدار یوسف علی صاحب

یا علی مدد! ہاں، میرا نورِ چشم دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف کوچ کر گیا، اس فرزندِ ارجمند سے میری بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن اللہ کو کچھ اور امر منظور تھا، لہٰذا اب ہمیں ماننا چاہئے، کہ امرِ مولیٰ از ہمہ اولیٰ۔

عزیز بھائی! میرا ایثار علی کتنا خوش قسمت تھا! کہ دنیا کی ہرگونہ الجھنوں سے فارغ ہو اور آزاد ہو کر جوانی ہی میں انتقال کر گیا، بے شمار ہمدردیاں اور لاتعداد دعائیں حاصل کر لیں، بہت سے جماعت خانوں میں تسبیحِ مغفرت پڑھی گئی، گھر میں قرآن خوانی اور دوسری ثوابی رسموں کے علاوہ روحانی مجلسیں منعقد کی گئیں، ہر درجہ کے بے شمار انسانوں اور بہت سی جلیل القدر شخصیتوں نے تحریری یا ذاتی طور پر ماتم پرسی کی اور بے حساب آنکھوں نے اس کے غم میں آنسو بہائے۔

فقط

آپ کا بھائی

نصیر ہونزائی

۲۷ مارچ ۱۹۷۳ء

۱۲۰

بخدمتِ نیکنام صدر صاحب و ممبران نامدار مقامی کونسل گلگت مرکز

یا علی مدد! آپ کی جماعت اور ملحقہ جماعتوں کے اولواالعزم اور فرمانبردار اسماعیلیوں نے ایک زندہ قوم کی حیثیت سے اپنے تاریخ ساز کارناموں کے سلسلے میں جہاں اسلام، پاکستان اور جماعت کی بے شمار و دور رس خدمات انجام دی ہیں، وہاں ان کی ایسی لاتعداد خدمتوں اور امدادوں کی مثالیں بھی موجود ہیں، جو ضرورت مند یا مصیبت زدہ خاندانوں اور مستحق افراد کے لئے کی گئی ہیں، میں اپنے اس مختصر خط میں ان حقیقی اسماعیلیوں کی ان گوناگون قربانیوں کا مفصل بیان نہیں کر سکتا، جو نہ صرف اسماعیلیوں کے جماعتی دائرے تک محدود ہیں، بلکہ ان کی بدولت اسلام اور پاکستان کی مقامی ضرورتوں کو بھی پورا کیا گیا ہے۔

چنانچہ آپ حضرات نے میرے فرزند ایثار علی کے انتقال پر جس گہری ہمدردی سے اظہارِ افسوس کیا، جس خلوص و محبت سے میرے ساتھ شریکِ غم ہوئے اور جس عزت و تکریم سے مجھے اور میرے خاندان کو سہارا دیا، میں اس کا شکریہ، جیسا کہ اس کا حق ہے ادا نہیں کر سکتا ہوں، اور نہ ہی یہ امر میرے لئے آسان ہے کہ میں ان جماعتی اداروں اور تمام افراد کی شب و روز کی انتھک خدمات کی تفصیلات بیان کروں، جو مقدس مذہب کو تقویت پہنچانے اور امامِ برحقؑ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر انجام دی گئی ہیں۔

چنانچہ مثال کے طور پر مرد اور خواتین والنٹیئرز کی بے لوث اور خالص خدمات کی طرف اشارہ کرتا ہوں، کہ انہوں نے شروع ہی سے نہ صرف مذہبی اجتماعات کی خدمت کو اپنا فریضہ سمجھا، بلکہ اپنی جماعت کے کسی گھر کو بھی اس بات کی فکر کرنے کا موقع ہی نہیں دیا، کہ اب ہم اپنے گاؤں اور برادری سے دور اس مصیبت

۱۲۱

میں کیا کریں گے، دونوں قسم کے والنٹیئرز کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، امیدِ واثق ہے کہ جماعتی خدمت کی قدر و قیمت جہاں کہیں بھی ہو روز بروز بڑھتی جائے گی۔

اس کتاب کے آخر میں عاجزانہ اور درویشانہ دعا ہے کہ پروردگارِ عالم ان تمام جماعتی خدمت گزاروں کے دلوں کو اپنے پاک نور کی روشنی سے منور فرمائے! انہیں دونوں جہان کی سعادت مندی عطا ہو! اور جملہ جماعت کو نیک توفیق، بلند ہمت اور فلاحِ دارین عنایت ہو!!!

فقط

آپ کا دعاگو درویش

نصیر ہونزائی

۱۲۲

ترجمانیٔ زبانِ حالِ مجیب الدین (مرحوم = بہشتی) ابنِ علی یار خان مرتضیٰ آباد

رشتہ دارو! فضلِ مولا پر رکھو محکم یقین

میں تو ہوں الحمد للہ ساکنِ خلدِ برین

موت میری تھی شہادت میں مریدِ شاہ تھا

پس بہشت میں شادمان ہوں تم نہ ہو جانا حزین

میری طوفانی خوشی کا تم کو اندازہ نہیں

تم نے دیکھی ہی نہیں ہے باغِ جنت کی زمین

تم دعائیں کر کے مجھ کو کچھ تحائف بھیج دو

تا کہ راضی ہو ہمیشہ تم سے رب العالمین

ہر بہشتی شادمان ہے اور دائم ہے جوان

سب کو حاصل ہے لقائے حضرتِ سلطانِ دین

مجلسوں میں حور و غلمان لعل و گوہر کی طرح

ہیں مناظر سب حسین اور اہلِ جنت نازنین

۱۲۳

علم و حکمت کی مجالس نور کا دیدار بھی

نغمہ ہائے مدحِ مولا دل نواز و دل نشین

خواب میں اے کاش تم جنت کا منظر دیکھتے!

تا کہ تم ہرگز نہ ہوتے میرے بارے میں غمین

معرفت ہی معرفت ہے تیری باتوں میں نصیر!

اس لئے اشعارِ شیرین ہیں مثالِ انگبین

ذوالفقار آباد، گلگت

جمعرات ۲۴ مئی ۲۰۰۱ء

۱۲۴

پیغامِ روحانی بزبانِ حال

من جانبِ غزالہ مرحومہ

اے قبلہ! نہ کر غم کہ یہاں زندہ ہوئی میں

یہ اس کی نوازش ہے کہ تابندہ ہوئی میں

ہیں حور و پری ساتھ کہ میں خود بھی پری ہوں

اس انجمنِ نور میں خوشیوں سے بھری ہوں

میں دخترِ روحانیٔ مولائے زمان ہوں

شہزادیٔ عالم ہوں مگر سب سے نہان ہوں

ہم نور کی اولاد ابھی نور ہوئے ہیں

دنیا کی مصیبت سے بہت دور ہوئے ہیں

جنت میں عجب شاہی محل ہم کو ملا ہے

ہم زندۂ جاوید ہوئے فضلِ خدا ہے

شاہوں کی طرح شاد ہیں ہم اس کا کرم ہے

بیماری نہیں، موت نہیں اور نہ ہی غم ہے

۱۲۵

ہاں تیری غزالہ پہ علیؑ سایہ فگن ہے

وہ اس لئے جنت میں سدا زندہ چمن ہے

صد گونہ خوشی ہے ہمیں دیدارِ علیؑ سے

گنجینہ ملا ہے ہمیں اسرارِ علیؑ ہے

طوفانی خوشی ہے ہمیں، تم ہم پہ نہ رونا

ڈیڈی! ممی! تم کبھی بے صبر نہ ہونا

لینا ہے تمہیں علم و عبادت کا سہارا

ہے دینِ خدائی میں یہی شیوہ ہمارا

کس شان سے آیا ہے یہ پیغامِ غزالہ

روشن ہو زمانے میں سدا نامِ غزالہ

غزالہ بنتِ امام یار بیگ جنرل منیجر، آغا خان ہیلتھ سروسز، پاکستان، ناردرن ایریاز اینڈ چترال۔

غزالہ کی تاریخِ پیدائش: ۱۵ جولائی ۱۹۸۷ء

تاریخِ وفات: ۸ جنوری ۱۹۹۹ء

انا للہ و انا الیہ راجون (۲:۱۵۶)

۱۲۶

قانونِ بہشت

(ایک بہشتی کی زبانِ حال سے)

یہ رب کا کرم ہے کہ میں جنت میں گیا ہوں

اک نور یہاں ہے کہ مجھے اس نے لیا ہے

(س) ہو گی کہ نہیں کل کو ہمیں تیری ملاقات؟

اے جان! بتا ہم کو بتا جلدی یہی بات؟

(ج) وہ کیسی بہشت ہے کہ نہ ہو جس میں ملاقات

وہ کیسا سوال ہے! صد حیف ہے، ھیھات!

دانا ہیں وہی لوگ جو جنت کو سمجھتے

آیات کے باطن سے وہ حکمت کو سمجھتے

قانونِ بہشت دیکھ کہ وہ رحمتِ کل ہے

واں کوئی نہیں خار فقط غنچہ و گل ہے

جمعرات ۲۴ اگست ۲۰۰۰ء

نوٹ: قانونِ بہشت سے وہ آیاتِ کریمہ مراد ہیں جو بہشت کی توصیف میں وارد ہوئی ہیں۔

۱۲۷

پیر پندیات جوانمردی

 

پیر پندیاتِ جوانمردی

دیباچۂ طبعِ دوم

          پروردگارِ عالمین کے اس عظیم فضل و احسان کا شکر بجا لانے سے ہماری زبان عاجز و قاصر ہے، کہ اس نے اپنی لا انتہا رحمت سے ہمیں توفیق و ہمت عطا فرمائی، جس سے یہ مبارک و مقدس کتاب فارسی سے فہم اور سلیس اردو میں منتقل کر دی گئی، جو سرچشمۂ رشد و ہدایت اور گنجینۂ علم و حکمت کی حیثیت رکھتی ہے، اور اسی ذاتِ پاک کے خاص لطف و کرم سے وسائل و ذرائع مہیا ہوگئے، جن کی بدولت حضرتِ امامِ عالیمقام علیہ السلام کے پاک ارشادات کے اس پر حکمت مجموعے کو طباعت و اشاعت کی مختلف منزلوں سے گزار کر عاشقانِ نورِ ہدایت تک پہنچا دیا گیا۔

          أئمۂ طاہرینؑ کے علم کی اہمیت:

          اسماعیلی اصول کے مطابق أئمۂ آلِ محمد (صلی اللہ علیہ و علہیم اجمعین) صاحبانِ امر کہلاتے ہیں، اور یہ حضرات بحوالۂ قرآنِ حکیم (۴: ۵۹، ۴: ۸۳ ) اولی الامر ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدائے تعالیٰ اور اس کے رسولِ برحقؐ کے امر و فرمان کی مکمل وضا حت بمقتضائے زمان و مکان أئمۂ طاہرین کی ترجمانی سے ہوتی آئی ہے، یہی وجہ ہے، جو قرآنِ پاک میں فرمایا گیا ہے: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں (۴: ۵۹) ۔

          اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ اولوالامر أئمۂ آلِ محمدؐ ہی ہیں،

۷

 آپ پاک اماموں کے علم و حکمت سے بھر پور فائدہ اٹھائیں، اور امامِ زمان کے امرو فرمان کا کامل اطاعت کریں، اور قرآن و حدیث کی روشن و تابناک دلائل کبھی بھول نہ جائیں، جو بڑی کثرت سے ہیں، مثال کے طور پر: جب تک دنیا میں قرآنِ پاک موجود ہے، تب تک اس کے ساتھ نورِ منزل بھی موجود ہے (۵: ۱۵) لوگوں کو امام کی ضرورت نہ صرف ظاہر میں ہے، بلکہ باطن میں بھی ہے کہ خدا لوگوں کو امام ہی کے وسیلے سے بلاتا ہے (۱۷: ۷۱) لوگ نہیں سمجھتے ہیں کہ ان کو امام کی ضرورت ہے، لیکن حکمت والے خدا نے حضرتِ ابراہیمؑ سے جس طرح فرمایا کہ میں تم کو لوگوں کا امام بنانے ولا ہوں (۲: ۱۲۴) اس سے اہلِ دانش کو ظاہر ہے کہ اہلِ جہان کے لئے امام کا ہونا بیحد ضروری ہے، اگرچہ امامت کے مختلف درجات ہوتے ہیں، لیکن حضرتِ ابراہیمؑ کا مرتبۂ امامت عظیم تھا۔

          حضرتِ امام جعفر الصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ خدا وند تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیمؑ کو نبی مقرر کرنے سے پہلے اپنا عبد مقرر فرمایا، اور رسول بنانے سے پہلے اپنا نبی بنایا، اور خلیل بنانے سے پہلے رسول مقرر کیا، اور امام بنانے سے پہلے اپنا خلیل بنایا (المیزان، جلدِ اول، ص ۲۷۶، بحوالۂ تفسیر کافی) اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرتِ ابراہیمؑ کا عظیم الشان قرآنی قضہ در اصل امامت ہے، جس کے ظاہر و باطن میں جواہر علم و معرفت ابھرے ہوئے ہیں، الحمدللہ یہ پر نور تصور علی زمانؑ کے عظیم علمی معجزات اور عجائب و غرائب میں سے ہے۔

اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اہلِ ایمان آیاتِ قرآنی میں غورو فکر سے کام لیا کریں، تاکہ ان کو قرآنِ حکیم کی پوشیدہ حکمتوں سے آگہی ہو، مثال کے طور پر: حضرتِ آدمؑ کے بارے میں فرشتوں سے فرمایا: إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً=میں ایک خلیفہ زمین میں بنانے والا ہوں (۲: ۳۰)

۸

اور حضرتِ ابراہیمؑ سے فرمایا: إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا: میں تم کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں (۲: ۱۲۴) اب آپ سے یہ سوال ہے کہ آیا خدا کے دین کا نظام خلافت ہے یا امامت؟ یا کبھی وہ ہے اور کبھی یہ؟ یا دونوں لفظوں کی ایک ہی حقیقت ہے؟ آپ خوب سوچیں اور درست جواب دیں۔

          قرآن و حدیث کی روشنی میں میرا یقین یہ ہے کہ خلافت اور امامت الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ خلافت ایک تشریح ہے کتابِ امامت کی، اور تمہید ہے، جیسا کہ آپ نے حضرتِ ابراہیمؑ کی امامت کا تذکرہ سنا، کہ اس میں بڑی زبردست جامعیت ہے، اور قانونِ قیامت (۱۷: ۷۱) کو دیکھا کہ لوگوں کی کوئی قیامت ہی نہیں، مگر امام کے ساتھ، نیز قلبِ قرآن میں دیکھیں کہ خداوند تعالیٰ کس طرح امامِ مبین میں کل کائنات کو لپیٹ لیتا ہے (۳۶: ۱۲ ) یہ بات ایسی ہے جیسے خدا نے قلمِ قدرت سے لوحِ محفوظ میں سب کچھ لکھ دیا ہے۔

          حدیثِ شریف ہے: اِنَّ اَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ الْقَلَمَ، فَقَالَ اکُتُبْ، قَالَ مَااَکْتُبُ؟ قَالَ اَکْتُبِ الْقَدْرَ مَا کَانَ وَ مَا ھُوَ کَائِنٌ اِلیٰ الْاَبَدٍ = اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور حکم دیا کہ لکھو، اس عرض کیا، کیا لکھوں؟ فرمایا: اندازہ، جو گزر چکا اور جو ابد تک ہونے والا ہے (جامعِ ترمذی، جلدِ اول، ابواب القدر)۔ اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ عالمِ شخصی کے اعتبار سے پہلے پہل انسان کی جسمانی تخیلق ہوتی ہے، بعد ازان روحانی پیدائش، اور آخر مین وہ عقلی طور پر پیدا ہو جاتا ہے، لیکن یہ آخر درحقیقت اول ہے، کیونکہ حقیقی زندگی اب شروع ہو گئی، اسی معنیٰ میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم / عقل / نورِ محمدی کو پیدا کیا۔

۹

          س: قلم اندازۂ گزشتہ و آئندہ کو کب لکھتا ہے؟ ۔۔۔ ج: اس وقت جبکہ عارف صورتِ رحمان میں فناہو چکا ہوتا ہے، س: ایسے میں قلمِ عقل کی تحریروں سے عارف کو کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے؟ ۔۔ ج: یہ کتابِ مکنون بھی ہے، جس میں مطالعۂ اسرارِ معرفت کے بے شمار فائدے ہیں، س: اس حدیث کا کیا مطلب ہے: جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا اَنْتَ لَاقٍ = اس چیز کو لکھ کر قلم سوکھ گیا جس سے تو ملنے والا ہے؟ ۔۔۔ ج: قلمِ قدرت حظیرۂ قدس کی بہشت میں لکھ رہا ہے، لہٰذا وہ بشارت ار علم و حکمت کے سوا اور کچھ نہیں لکھتا ہے۔

۱۰

چند اساسی حکمتیں

          سورۂ قلم کی آیتِ اول (۶۸: ۱) کی تفسیر و تاویل ہے جو حضرتِ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: قَالَ: وَاَمَّا’’ن‘‘ فَھُوَ نَہْرٌ فیِ الْجَنَّۃِ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَ جَلَّ: اُجْمُدْ فَجَمَد فَصَارَ مِدَادًا، ثُمَّ قَالَ لِلْقَلَمِ: اُکْتُبْ فَسَطَرَ الْقَلَمُ فِی اللَّوْحِ الْمَحْفُوْظِ مَا کَانَ وَمَاھُوَ کَائِنٌ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَالمِدَادُ مِدَادٌ مِّنْ نُوْرٍ، وَالْقَلَمُ قَلَمٌ مِّنْ نُوْرٍ، وَاللَّوْحُ لَوْحٌ مِّنْ نُوْرٍ = فرمایا کہ نون جنت کی ایک نہر (ندی) ہے، خداوند تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ جم جا، وہ جم گئی اور روشنائی بن گئی، پھر خدا نے قلم کو حکم دیا کہ لکھ پھر قلم نے جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا تھا وہ سب لوحِ محفوظ میں لکھ دیا، پس وہ روشنائی نور کی روشنائی ہے، اور وہ قلم بھی نور کا قلم ہے، اور لوح بھی نور کی لوح ہے۔

          پوچھنے پر امام علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا: فَنُوْ نُ مَلَکٌ یُؤَدِّیْ اِلیَ الْقَلَمِ وَ ھُوَ مَلَکٌ، وَ الْقَلَمُ یُؤَدِّیْ اِلیَ اللَّوحِ وَھُوَ مَلَکٌ، وَاللَّوْحُ یُؤَدِّیْ اِلیَ جِبْرَائِیْلِ وَ جِبْرَائِیْلُ یُؤَدِّیْ اِلیَ الْاَ نِبْیَاءِ وَ الرُّسُلِ = نون ایک فرشتہ ہے جو قلم کو خبر یں دیتا ہے اور قلم بھی ایک فرشتہ ہے جو لوح تک حکم پہنچا دیتا ہے، اور لوح بھی فرشتہ ہے، جو اسرافیل کو

۱۱

پیغام دیتا ہے، اور اسرافیل میکائیل کو اور میکائیل جبرائیل کو اور جبرائیل نبیوں اور رسولوں کو اطلاع دیتے ہیں۔ (المیزان، جلد ۱۹، ص ۳۷۶)۔

          نمونۂ عالمِ دین:

          دین سب سے اہم اور سب سے عظیم عالم ہے، جو سات بڑے ادوار پر محیط ہے، وہ ادوار یہ ہیں: دورِ ناطقِ اول، دورِ ناطقِ دوم، دورِ ناطقِ سوم، دورِ ناطقِ چہارم، دورِ ناطقِ پنجم، دورِ ناطقِ ششم، اور دورِ حضرتِ قائم جو دورِ ہفتم ہے، یہ ایا م اللہ ہیں ( ۱۴: ۵) ،  ۴۵: ۱۴) یعنی خدا کے سات زندہ دین، ان میں سے اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں عالمِ دین کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور سنیچر کے دن اسرارِ عرش کا کام کیا، اور ان میں ایک بہت بڑا راز مساواتِ رحمانی ہے۔

          خداوندِ قدوس نے اپنی قدرت ِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے نہ صرف عالمِ دین بلکہ عالمِ ظاہر کو بھی عالمِ شخصی میں لپیٹ دیا ہے، تاکہ دینی معرف کی کوئی چیز مکانی اور زمانی مسافتوں کی وجہ سے دور نہ رہے، اور تمام قرآنی قصے، واقعات اور معجزات عارف کی چشمِ باطن کے سامنے ہوں، اسی معنیٰ میں یہ کہنا حقیقت ہے، کہ عالمِ شخصی نمونۂ عالمِ دین ہے، بلکہ یہ آئینۂ عالمِ دین ہے، بلکہ یہ اس کی روحانی اور نورانی مووی (MOVIE)ہے، جس کے زریعے سے دین شناسی جیسی سب سے بڑی سعادت نصیب ہو جاتی ہے۔

          سورۂ ھود کی آیتِ ہفتم (۱۱: ۷) کے سرِ اعظم کے بارے میں آپ نے سنا ہوگا، اس آیۂ کریمہ کی تین تفسیریں ہوسکتی ہیں: اول ظاہری کائنات کے پیشِ نظر ، دوم عالمِ دین کے اعتبار سے، سوم عالمِ شخصی کے لحاظ سے، تاہم حصولِ معرفت کی غرض سے تیسری تفسیر زیادہ ضروری ہے، وہ آیۂ مبارکہ یہ ہے: وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ

۱۲

أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً=اور وہ تو وہی (قادرِ مطلق) ہے جس نے (عالمِ شخصی کے) آسمانوں اور زمین کو چھ دین (چھ سب سے چھوٹے ادوار) میں پیدا کیا، اور اس کا تخت پانی (بحرِ علم) پر ظاہر ہوا، تاکہ تم لوگوں کو آزمائے کہ تم میں بہ اعتبارِ (علم و ) عمل زیادہ اچھا کون ہے (۱۱: ۷) ۔

          عرش مثال در مثال ہے: عرش آسمان پر بھی ہے، اور زمین (پانی) پر بھی، مگر یہ مثال در مثال اور حجاب در حجاب ہے، جبکہ زمین پر سمندر ہے، سمندر پر ایک تخت ہے جو کشتی بھی ہے، اس میں شخصِ کامل ہے، اور اس میں سے خود بخود اسمِ اعظم کا معجزاتی ذکر ہو رہا ہے، اب آپ ٹھیک طرح سے سوچ کر بتائیں کہ ان حقائق و معارف میں اصل عرش کونسا ہے جو بھری ہوئی کشتی بھی ہے؟ شخصِ وحدت؟ یا نور (اسمِ اعظم)؟ کیا عرش ایک عظیم فرشتہ ہے؟ آیا کرسی دوسرا عظیم فرشتہ ہے؟ کیا یہ سچ ہے کہ شخصِ وحدت عرش و کرسی بھی ہے، قلم و لوح بھی، اور بھری ہوئی کشتی بھی؟

          انتسابِ جدید:

          میرے علمی سفر کے رفقاء، میرے دل کے احبا ٔ (واحد حبیب) میری روح کے عزیزان، اور میرے عالمِ شخصی کے فرشتے وہ ہیں، جو بار بار مجھے یاد آتے رہتے ہیں، ان کی لطیف و شیرین یادیں میری جانِ حقیر کے لئے ایسی فرحت انگیز اور مسرت بخش ہیں، جیسے عمدہ سے عمدہ پھول اپنی دل آویز خوشبوؤں سے روحانی غذاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مثلاً گلاب، گلِ سوری، گلِ داؤدی، گلِ سنجد (گنڈورے اسقر) وغیرہ، اس موقع پر مجھے روحانی انقلاب کا زمانہ بھی یا دآیا، جس میں

۱۳

روحانی خوشبوؤں کا دروازہ کھل گیا تھا، میرے جملہ عزیزان (تلامیذ) ظاہری اور باطنی عطریات کی طرح پسند یدہ اور پیارے ہیں، میری بے شمار جانیں ان سے فدا !

          اس شادمانی کے عالم میں ایک جانی اور ایمانی دوست کا ذکرِ جمیل کرنا چاہتا ہوں، جو حقیقی علم کے مثالی شیدائی اور عاشق ہیں، ان کا پاکیزہ چہرہ علم و عبادت کے خاموش معجزے سے ہر دم منور و تابان رہتا ہے، یہ خاندانی طور پر امامِ عالیمقام علیہ السلام کے جان نثار عاشق ہیں، علمی خدمت کے تقدس و عظمت کو جانتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہیں، ان کا بہت ہی پیارا نام طاہر علی ابنِ قاسم علی ہے، آپ ہمارے یوسٹین (امریکہ ) ہیڈکوارٹر کے آنریری خزانچی اور لائف گورنر ہیں، ظاہر علی بہت سی خداداد صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک ہیں۔

          ان کی نیک خصلت بیگم سارہ (سائرہ) بڑی مذہبی اور بہت دیندار خانون ہیں، مزاج میں سادگی، دل علم و عبادت کے نور سے منور، قلب و لسان ذکرِ الٰہی میں مصروف ، بار بار صلوٰت پڑھنے کی عادی، حضرتِ رب العزت کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے لئے شکرگزار، اور لائف گورنری کے عہدے سے سرفراز، یہ ہیں عزیزم ظاہر علی کی بیگم سارہ، ان کے دو بہت پیارے بچے بڑے باسعادت ہیں، اسد ظاہر علی کا تولد ۴ ؍ اگست ۱۹۹۳ ء کو ہوا، اور سنان ظاہر علی کی تاریخِ پیدائش ۷؍ اکتوبر ۱۹۹۵ ء ہے، ان لٹل اینجلز کی بڑی نیک بختی ہے کہ بوقتِ خفتن تسبیحات پڑھتے ہیں، اور دونوں لائف گورنرز ہیں، پروردگار اپنی رحمتِ بے پایان سے اس باسعادت فیملی اور دیگر تمام عزیزان کو دونوں جہان کی کامیابی، سرخروئی ، اور سرفرازی عنایت کرے! آمین!!

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی ) ھونزائی۔ کراچی

بدھ ۱۰ ؍ جمادی الاول ۱۴۱۹ ھ    ۲ ؍ ستمبر ۱۹۹۸ ء

۱۴

پندیات

بسم اللہ الر حمٰنِ الر حیم۔

          ۱۔ [ یہ کتاب جو معرفت کا خزانہ ہے اور رحمت کا ٹھکانا ہے، پندیاتِ ؎ ۱ جوانمردی کے نام سے موسوم ہے، جس میں سرتا سر صرف حضرت مولانا مستنصر باللہ ثانی کے فرامین مبارک ہی درج کئے گئے ہیں، اور اس کتاب کو آنجناب نے اپنے عہدِ امامت میں جماعتِ ناجیہ کے لئے اپنے حجت (یعنی پیر ) کے مرتبے پر مقرر فرمایا ہے، حسبنا و کفیٰ مولانا۔

          ۲۔ یہ کتاب ایک پرانے نسخے سے نقل کی گئی، جو مقام تُنگ دارالخلافۂ سریقول میں لکھا گیا تھا، جس کے شروع اور اخیر کی چند سطور کہنگی و فرسودگی کی وجہ سے مٹ گئی تھیں]۔

          ۳۔ ۔۔۔۔ ابدی طور پر، آمین! اما بعد مولانا مرتضیٰ علی علیہ السلام کے راستے پر چلنے والوں کے آفتاب صفت نورانی ضمیر سے پوشیدہ نہ رہے، کہ امام ِ زمان حضرت مولانا شاہ مستنصر باللہ ( علیہ السلام ) کی درگاہِ معلی کے اس خادم کا کہنا ہے، کہ پندیاتِ جوانمردی کا سببِ تالیف یہ ہے، کہ مجھے جس مجلس، جس اجتماع اور جس اجلاس کے موقع

؎۱: پندیاتِ جوانمردی کے معنی ہیں عالی ہمتی کی نصیحتیں۔

۱۵

پر آنجناب کے حضور پر نور میں حاضر رہنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور ان موقعوں پر امامِ عالیمقام علیہ السلام نے مومنین کی جماعت اور تمام پیروؤں کے لئے امر، نہی، اخلاق، صفات اور سلوک کے بارے میں جو پندیات و نصائح فرمایا کرتے تھے، اور انسانیت، دینداری، عبادت اور مومنین کے دنیوی فیض اور اخروی سعادت کے لئے محنت و ریاضت کے متعلق جو کچھ ارشاد فرماتے تھے، ان سب کو میں نے کتاب کی صورت میں لکھ دیا، تاکہ سننے اور عمل کرنے والوں کے لئے یہ کتاب و سیلۂ نجات ہو، اور میں نے اس کتاب کا نام ’’پندیات‘‘ رکھا، کیونکہ اس میں ایک طویل پند، دو مختصر پند اور عالی ہمتی کے بارہ اصول مندرج ہوئے ہیں۔

۱۶

حقیقی مومن کے اوصاف (۱)

بسمِ اللہ الرَّ حمٰنِ الرَّ حیم۔

          ۱۔ جان لے، کہ ہمارے آقا امام زمان حضرت مولانا شاہ مستنصر باللہ جلت حکمۃ  نےاپنی زبانِ مبارک سے فرمایا: ۔

          ۲۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے مال (یعنی آمدنی) سے دسواں  ؎۱ حصہ جو امامِ حاضر کا حق ہے، صدقِ دل سے اور مکمل طور پر جدا کرتا ہے، اور اپنے امامِ زمان کےحوالے کر دیتا ہے، اس اصول سے، کہ وہ اپنی ان تمام مالی منفعتوں اور آمدنیوں کے، جو اسے حاصل ہوا کرتی ہیں، دس حصے کرتا ہے، اور اپنے اس رزق و روزی کے بھی، جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے، اور ان دس حصوں میں سے ایک حصہ امامِ زمان  کی ملکیت ہے، جس کو حقیقی مومن جدا کر دیتا ہے، اور اس حصے کو حضرت مولانا شاہِ مردان مرتضیٰ علی علیہ السلام کے حضور میں، جو حی و حاضر ہیں، بلا کم و کاست پہنچا دیتا ہے۔

؎۱۔ دہ یک کا ترجمہ دسواں حصہ (۱۰/ ۱) ہے،  جو اب دسوند کہا جانے لگا ہے، اس موضوع کی فقہی اصطلاح ’’ زکوٰۃ‘‘ ہے، جس کے چند ذیلی موضوعات ہیں، مثلا: قرضِ حسنہ، صدقہ، نذرانہ وغیرہ، تفصیل کے لئے دیکھئے: دائم الاسلام جز ؤ اول ص: ۲۴۰۔ ۲۶۷، نیز وجہ دین حصہ دوم ( اردو) ص: ۳۴ ۔ ۸۱، اور ص: ۲۱۳ ۔ ۲۱۹۔

۱۷

 

          ۳۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو شریعت سے طریقت میں اور طریقت سے حقیقت میں، جو شریعت کا باطن ہے، داخل ہو جاتا ہے، کیونکہ شریعت ایک شمع کی مثال ہے، طریقت راستے کی مشابہ ہے، اور حقیقت منزلِ مقصود کی طرح ہے، مومن کو کوشان رہنا چاہئے، تاکہ شمع کی روشنی میں سیدھے راستے پر چل سکے، اور خانۂ حقیقت میں داخل ہو جائے، اور حقیقت کی بنیاد امامِ زمان علیہ السلام کو پہچاننا ہے، اور ہر چیز کا مقصد اس کی اندورنی اصلیت ہی ہے، کیونکہ چیز کا نچوڑ، مغز اور رس تو وہی ہے، پس شریعت سے پیغمبر صلعم کی غرض اس کا اندورنی مطلب ہی ہے، جس کا نام حقیقت ہے، جو امامِ وقت کی پہچان (معرفت پر قائم ) ہے۔

          ۴۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو عالی ہمت ہوتا ہے، اور حقیقی مومن وہی ہے جو بارہ مہینے یعنی سال بھر اچھے کام اور اعمالِ صالح بجا لا تا ہے، ہمیشہ حق تعالیٰ کی یاد میں رہتا ہے، حق بات کہتا ہے، حق بات سنتا ہے، حق پر قائم رہتا ہے، راہِ حق پر چلتا ہے، اس کا قلب پاک ہوتا ہے، اور اس کا دل سچا اور صاف ہوتا ہے۔

          ۵۔ حقیقی مومن وہی ہے، جس کا ضمیر (نفس) حق پسند ہوتا ہے، وہ برے کام کے پیچھے نہیں جاتا، اور حرام کا تعاقب نہیں کرتا ہے۔

          ۶۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو حق دیکھنے والی آنکھ رکھتا ہے، جس سے وہ جائز کو دیکھتا ہے، اور ناجائز کی طرف نظر نہیں کرتا ہے، جیسے لوگوں کا مال اور ان کی عورتیں۔

          ۷۔ حقیقی مومن وہی ہے، جس کے الفاظ سچ ہوتے ہیں وہ بدزبانی نہیں کرتا، غیبت نہیں کرتا ہے، گالی گلوچ نہیں بکتا اور جو کچھ اپنے لئے مناسب نہیں سمجھتا، تو وہی دوسرے کے لئے بھی مناسب نہیں

۱۸

سمجھتا۔

          ۸۔ حقیقی مومن وہی ہے، جس کی بات ایک ہوا کرتی ہے، جو سیدھی ہوتی ہے ار ٹیڑھی نہیں ہوتی۔

          ۹۔ حقیقی مومن وہی ہے، کہ جب وہ وعدہ کرتا ہے، تو وعدہ خلافی نہیں کرتا، اور اس کا وعدہ سچا اور پورا ہوا کرتا ہے، اور اس نے اپنے خداوند کے ساتھ جو عہد کیا ہوا ہے اس کو بھی پورا کرتا ہے۔

          ۱۰۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو جائز اور حلال کا لقمہ کھاتا ہے، حرام سے پرہیز کرتا ہے، اپنے حق پر قانع ہوتا ہے، اپنے حصے پر راضی رہتا ہے، وہ طمع نہیں رکھتا، حرام کا لقمہ اپنے منہ میں نہیں ڈالتا، اور اپنے منہ کو حرام خوری سے ناپاک نہیں کرتا۔

          ۱۱۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو سچا ہوتا ہے، اپنے دل میں دشمنی اور نفرت نہیں رکھتا، جلد ناراض نہیں ہوتا، غصہ نہیں کرتا اور اپنے دل کو صاف اور سچا ہی محفوظ رکھتا ہے۔

          ۱۲۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو نیکو کار اور مخلص ہوتا ہے، وہ لوگوں کے مال اور عورتوں کی طرف دست دارزی نہیں کرتا، اور اپنے ہاتھ کو ناجائز طور پر پھلانے سے روک لیتا ہے۔

          ۱۳۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے نفس کو دوسروں کی بیویوں سے محفوظ رکھتا ہے اور ان کی طرف مائل نہیں ہوتا، جو شخص دوسروں کی بیویوں کی طرف مائل ہوتا ہے، وہ گویا اپنی ماں کی طرف مائل ہو جاتا ہے، اور جس شخص کی بیوی کی طرف دست درازی کرتا ہے، تو یہ ایسا ہے، جیسا کہ وہ اپنی ماں کی طرف دست درازی کرتا ہو، اور اگر وہ بد نظری کرتا ہے، تو اس کی بھی یہی مثال ہے، (یاد رکھو کہ) تم جس شخص

۱۹

کے حق میں جو کچھ کرو گے، تو تمہارے حق میں بھی وہی کیا جائے گا، ایسا معاملہ گویا تم نے خود ہی اپنے حق میں کیا ہے، اور جس راستے سے تم آئے ہو، پھر اسی راستے سے تمہیں واپس جانا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اسی کو تم دیکھ پاؤ گے۔

          ۱۴۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو حقانیت کے راستے پر قدم رکھتا ہے، اور طریقِ حق پر سچائی اور حسنِ سلوک سے چلتا ہے، وہ لوگوں کے مال اور ان کی عورتوں کے پیچھے ہر گز نہیں جاتا۔

          ۱۵۔ حقیقی مومن وہی ہے جو سراپا سچا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے ، کہ سچی بات کرتا ہے، سچی بات سنتا ہے، سچے راستے پر چلتا ہے، سچی مجلس میں بیٹھتا ہے اور سچے موقع پر اٹھتا ہے۔

          ۱۶۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو حق اور باطل کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے، حلال و حرام کے درمیان فرق و امتیاز جانتا ہے، اور ان کو ایک دوسرے سے جدا کر سکتا ہے۔

          ۱۷۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو نہیں ہنستا، کیونکہ ہنسی غفلت (یعنی خدا کی یاد بھول جانے) سے پیدا ہوتی ہے، اور قہقہہ مار کر ہنسنا تو شیطان کی صورت ہے، اور بے موقع ہنسنا حرام ہے، تو اس وقت ہنس لیا کر، جبکہ ہلاک کر دینے والے خطرات سے تجھے نجات مل چکی ہو، ورنہ جس شخص کو مرنا درپیش ہے، تو صحیح معنوں میں اس کی ہنسی کس طرح آسکتی ہے، اور اگر بھول سے وہ ہنس بھی لیا تو یہ کیا کام آسکتی ہے، اور اس خوشی سے فائدہ ہی کیا ہوا، جس (کے متعلق معلوم ہو، کہ اس ) کے بعد غم آرہا ہے، اور اس آسائش سے کیا حاصل ہوا، جس میں کچھ عرصہ کے بعد زوال آنے والا ہے۔

          ۱۸ ۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو ہمیشہ حق تعالیٰ کی یاد میں لگے رہتا

۲۰

ہے، اور ہمیشہ یا تو خدا کے ڈر سے یا اس کے دیدار کے شوق میں گریہ وزاری کرتا رہتا ہے۔

          ۱۹۔ حقیقی مومن وہی ہے، کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اور جو کچھ بھی نیک کام کرتا ہو، تو سب سے پہلے اس کو رحمت والے خداوند کی یاد کرنا چاہئے، ہمیشہ حق تعالیٰ کے خیال میں رہنا چاہئے اور لوگوں کی بیویوں اور بیٹیوں کو اپنی بہنیں سمجھنا چاہئے۔

          ۲۰۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو ہمیشہ ذکر، فکر اور خداوندِ ذوالجلال کی شناخت سے خالی نہیں رہتا ، قیامت کے دن کا خوف رکھتا ہے اور روزِ محشر کی ہولناکی سے آگاہ رہتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے۔

          ۲۱۔ حقیقی مومن وہی ہے، کہ روزِ قیامت کے حساب سے، جو حق تعالیٰ اس سے لینے والا ہے، ڈرتا ہے، اور اس حساب سے پیشتر روزانہ خود ہی اپنا حساب کرتا رہتا ہے۔

          ۲۲۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو ہمیشہ اپنی موت کو یاد کرتا ہے، اور قیامت کے دن کو اپنے نزدیک دیکھتا ہے، اور اس سے ڈرتا رہتا ہے۔

          ۲۳ ۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو خدا سے ڈرتا ہے، اس سے شرماتا ہے، کفر کی باتیں نہیں کرتا، اور حق تعالیٰ سے غافل نہیں رہتا ۔

۲۴ ۔ حقیقی مومن وہی ہے،  جو آخرت سے آگاہ رہتا ہے اور اپنی موت نہیں بھول جاتا ۔

          ۲۵۔ حقیقی مومن وہی ہے،  جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فرمان اور اس کے حکم کی تابعداری کرتا ہے۔

          ۲۶ ۔ حقیقی مومن وہی ہے جو خدائے غفار کو ہمیشہ اپنے سامنے حاضر و ناظر، روبرو اور اپنے آپ سے بھی زیادہ نزدیک سمجھتا ہے۔

          ۲۷۔ حقیقی مومن وہی ہے، کہ جو کام اور شغل کرے، اس میں وہ اپنے خداوند کو اپنے پاس حاضر سمجھتا ہے۔

۲۱

          ۲۸۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے خداوند کو پہچانتا ہے، سچائی کے راستے پر چلتا ہے، اور اپنے دل میں اور زبان پر ایک ہی طرح کا قول رکھتا ہے۔

          ۲۹۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو مومنوں اور نیک لوگوں کی صحبت میں رہ کر علم کی باتیں سن لیا کرتا ہے اور انہیں یاد کرتا ہے۔

          ۳۰ ۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے آپ کو مردہ اور نیست تصور کرتا ہے اور حقانیت و کمالیت کے ساتھ سر سے لیکر پاؤں تک اپنے تمام اعضا ٔ کو حق تعالیٰ کے فرمان کے تابع رکھتا ہے۔

          ۳۱ ۔ حقیقی مومن وہی ہے،  جو اپنے گناہوں پر نظر کر کے خدا سے ڈرتا ہے اور توبہ کرتا ہے۔

          ۳۲۔ ۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو جفاکش، محنتی، خاموش اور کم بولنے والا ہوتا ہے۔

          ۳۳۔ حقیقی مومن وہی ہے،  جو ہمیشہ صابر، سچا اور پرہیزگار ہوتا ہے، برے کاموں سے دور رہتا ہے، نیکو کار، پاک، صاف دل اور بے کینہ ہوتا ہے۔

          ۳۴۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے اعمال و احوال سے باخبر رہتا ہے، غافل نہیں رہتا، موت کی تکلیف اور جان نکل جانے کی سختی سے بھی آگاہ رہتا ہے، عذاب اور نکیرو منکر کے سوال و جواب سے بھی ڈرتا رہتا ہے اور اسے نہیں بھول جاتا ہے۔

          ۳۵۔ حقیقی مومن وہی ہے،  جو حضرت امام مہدی عبد اللہ صاحب زمان علیہ السلام ( یعنی امامِ وقت  علیہ السلام ) کو جانتا پہچانتا ہے، کیونکہ آنجناب دنیا میں حاضر ہے، تمہیں اس کا طالب رہنا چاہئے، تمہیں اس کو ڈھونڈنا، دیکھنا اور پہچاننا چاہئے، اور اس مولا کے مالی حق کو

۲۲

آنجناب کے حضور پرنور میں پہنچا دینا اور حوالہ کرنا چاہئے، اور اس کی محبت اختیار کرنا چاہئے۔

          ۳۶۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو دائم خدا کی یاد میں رہتا ہے، اور اس کی زبان پر یادِ الٰہی کے سوا کوئی اور چیز، کوئی اور بات نہیں ہوتی۔

۲۳

حقیقی مومن کے اوصاف ۔۲

          ۱۔ جان لو اے ایمان والو اور اے صداقت والو! جس شخص کا دل صاف اور بے کینہ ہو، تو وہی ہمیشہ خدا کی فکر و ذکر میں رہا کرتا ہے، اور اس کی زبان ہر وقت خدا کی تعریف میں مصروف رہتی ہے، اور خدا کا مخلص بندہ وہی ہے، جو خوفِ خدا سے ہمیشہ گریہ وزاری اور عجز و انکساری کرتا رہتا ہے، یقیناً اس کے گناہ گرتے جاتے ہیں، (جس طرح موسم خزان میں کسی درخت کے پتے گرتے ہیں) جس طرح آسمان سے برف پڑتی ہے، اور سورج کی گرمی سے پگھل جاتی ہے، جو شخص قیامت سے ڈر جائے، تو اس کے گناہ اسی طرح گرتے جاتے ہیں، اور جو شخص بے ترتیب ، بے موقع اور بغیر سوچے سمجھے بات کرتا ہو، فحش باتیں کرتا ہو، فضول گوئی کرتا ہو، مسخرہ کرتا ہو، غفلت اختیار کرتا ہو، اوروں کی بیویوں کی خوبیان بیان کرتا ہو یا ان کے عیوب گنتا ہو، یا لوگوں کی بیویوں کی طرف دیکھاکرتا ہو، یا ان کا عاشق بنتا ہو، یا کوئی ایسی عورت بیگانہ مرد کی عاشق بنتی ہو، پس خدا کے غضب سے نعوذ باللہ! کہ ایسے شخص نے اپنی تمام عمر میں جو کچھ نماز اور عبادت کی ہے اور جو کچھ نیک کام کیا ہے، وہ سب برباد ہو جاتا ہے، اور سب ضائع ہو جاتا ہے، اس شخص کی طرح جس نے ایک پاک طعام میں چوہے کی لینڈی یعنی گوہ یا کوئی اور غلاظت ملادی ہو، اور سب کو ناپاک کر دیا

۲۴

ہو، خدائے تعالیٰ ایسے شخص سے ناراض اور ناخوش ہو جاتا ہے، اور اس شخص کے کام میں نقصان آتا ہے، اور وہ دربدر، حیران، پریشان اور سرگردان ہو گا، دنیا و آخرت میں اس کے لئے تاریکیاں اور ظلمتیں ہوں گی، اور آخرت میں عذابِ دوزخ میں گرفتار ہوگااور مایوسی کی آگ میں جلتا رہے گا، بد فعلی اور بد عملی ہی کی وجہ ہے، جو بہت سے لوگ ہمیشہ دنیا میں خوار و زار اور دربدر اور آخرت میں روسیاہ اور دوزخی ہو جاتے ہیں۔

          ۲۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو ہمیشہ صابر، نیکو کار، سچا، راست باز، دیندار، پرہیزگار، متقی، بے کینہ، بے بغض اور صاف دل ہوتا ہے، اور ہر ایک کام میں اپنے خداوند کو اپنے سامنے حاضر و ناظر سمجھتا ہے اور ہمیشہ حق تعالیٰ کی یاد میں رہتا ہے، اور جو بندہ ایسا ہو، تو اس کے لئے دنیا میں نور اور فیض حاصل ہو گا، اور آخرت کے دن بہشت میں اپنے آقاو مولا علی علیہ اسلام کے دیدار سے مشرف ہوگا۔

          ۳۔ حقیقی مومن وہی ہے، جس کا قول و قرار ایک اور سچا ہوتا ہے، اس بندے کے دل کا خیال بھی سچا ہوتا ہے، اس کا وعدہ بھی سچا ہوتا ہے، اس کی محبت و عاشقی بھی سچی ہوتی ہے، اور وہ بندہ سرتاپا مخلص اور سچا ہوتا ہے، وہ شیرین کلام اور نرم گو ہوتا ہے، اور اس کی روح صداقت ولی ہوتی ہے، اور وہ دائم الذکر ہوتا ہے، ہمیشہ خدا کے ذکر و فکر اور اس کے وصف، تعریف اور معرفت میں مصروف رہتا ہے، اور اس کے اعمال و کردار اچھے ہوتے ہیں، وہ اپنے خداوند اور پیر کی فرمانبرداری کرتاہے، اس کی زبان پر پنج تن کا نام جاری رہتا ہے، خدا کی یاد و تسبیح سے اس کی محبت ہوتی ہے، اپنے آقا حضرت صاحب الامر امامِ زمان کو پہچانتا ہے، اور آن جناب تک رسا ہو کر فرمانبرداری اور اطاعت کرتا

۲۵

ہے، اور اپنے آپ کو اور اپنے تمام دینی اور دنیوی امور کو آن مولا علیہ السلام، جو امامِ زمان اور جہان و اہلِ جہان کے مالک ہیں، کے حوالے کر دیتا ہے۔

          ۴۔ حقیقی مومن وہی ہے جو اپنے تمام کاروبار، تجارت اور آمدنی و منافع کو حساب کر کے دہ یک (یعنی دسواں حصہ) مالِ واجبات کے طور پر جدا کر دیتا ہے، اور سچے اعتقاد، کامل محبت، اخلاق، شوق اور عشق سے اس دسویں حصے کو اپنے امامِ وقت کے حضور میں پہنچا دیتا ہے، اور اگر پاک اعتقاد، سچائی اور کامل طور پر پہنچا دے، تو اس کو دنیا میں فیض و برکت اور آخرت میں سعادت حاصل ہوگی، اور حق تعالیٰ اس سے راضی ہوگا، کیونکہ اس نے خداوند کا حق ادا کر دیا، اور یہی مومنی، خدا دوستی اور اخلاص مندی کی علامت و نشانی ہوا کرتی ہے، اور صرف ایسا شخص ہی صابر، سچا، نکوکار، راست باز، پاک فطرت، پرہیزگار، منکسرالمزاج اور درویش صفت ہوتا ہے، اور اپنے آپ کو نیست سمجھتا ہے، اور اپنے آپ کو سراسر گناہ گار تصور کرتا ہے، وہ خود بینی اور غرور نہیں کرتا، نہ وہ خود نگر اور خود بین ہوتا ہے۔

          ۵۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو دل میں بغض و عداوت نہیں رکھتا، ہمیشہ اپنے پروردگار کے ذکر و فکر میں رہتا ہے، اس کے دل و زبان ایک ہوتے ہیں، تمام مومنین کے ساتھ ہمیشہ اس کی ملاقات اور محبت ہوتی ہے، وہ آخرت کی فکر میں رہتا ہے اور علم کی باتوں کو یاد کر لیا کرتا ہے، حق تعالیٰ کی راہ میں روز بروز آگے بڑھتا رہتا ہے، خدا کی راہ میں چلنے سے نہیں تھکتا، راہِ حق میں اسے جو تکالیف پیش آتی ہیں، ان سے رنجیدہ نہیں ہوتا، وہ دین میں ناشکری اور سستی نہیں کرتا، بلکہ شوق و محبت سے دینداری میں مصروف رہتا ہے، اور

۲۶

روز بروز اس کا یہ عشق و شوق بڑھتا جاتا ہے، اور دن بدن اس کے اخلاق، اوصاف، اقوال اور اعمال بہتر ہوتے جاتے ہیں، اور روز بروز اس کا ایمان کامل تر ہوتا جاتا ہے، جیسے کوئی مریض روز بروز صحت یاب ہو رہا ہو، یہاں تک کہ اسے شفائے کلی ملتی ہے، وہ ہمیشہ خدا کی راہ میں ہوشیار رہتا ہے، خدا کی محبت میں آنسو بہاتا ہے اور بہت کم ہنسا کرتا ہے، اور اپنے آپ کو غفلت اور شیطنت کی ہنسی سے بچاتا ہے، ہر وقت اپنے خدا کی طرف متوجہ رہتا ہے، دائم حق تعالیٰ کی یاد کرتا ہے، قیامت کے دن سے ڈرتا ہے، خدائے غفار کی، اپنے امام علیہ السلام کی، جو صاحب الزمان ہیں، اور اپنے پیر کی ہمیشہ یاد کرتا ہے، اور اپنے پیر کے دامن کو پکڑا ہوا ہوتا ہے، کیونکہ یہی پیر قیامت کے روز تم مومنین کی فریاد کو پہنچے گا، اور دوسرا کوئی شخص تمہارا عذر نہیں سنے گا۔

          ۶۔ اے مومنو! اور اے نکوکارو! حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے آپ مومنین و صالحین کی خاکپا سمجھتا ہے، ایسا مومن ہی مخلص اور حقیقی ہوتا ہے، اور ایسا مومن ہی خدا تک پہنچتا ہے، خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے اور خدا اس سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔

          ۷۔ اے مومنو اور اے صادقو! خاص بندوں کے لئے دین کا کام آسان ہے، بشرطیکہ کوئی بجالائے، خدا وند تعالیٰ کی محبت اور عشق مومنوں کے لئے آسان بھی ہے اور انتہائی پر لطف بھی، خدا کا عشق مومنوں کے لئے سہل بھی ہے اور پرلذت بھی، پروردگارِ عالم نے اپنے عشق کو پاکبازوں کی روحانی غذا بنائی ہے، اور غافلوں اور غفلت کے مارے ہوؤں کے لئے یہ امر بہت بھاری اور مشکل ہے، غفلت والے اور غفلت زدہ لوگ دنیوی عشق رکھتے ہیں، ان میں سے ہر شخص

۲۷

کسی نہ کسی دنیوی چیز کا عاشق بن کر اس کے پیچھے چلتا ہے، حالانکہ مجازی قسم کا عشق درحقیقت عشق نہیں، ایک مہلک شی ہے، بلکہ یہ ایک دائمی بیماری ہے، اور ایسی عشق بازی عاشق کو جہنم میں پہنچا دیتی ہے، اور جو کوئی اپنے پروردگار کے دیدار کا طالب اور اس کی ملاقات کا عاشق ہو، تو خدا وند عالم اپنے ذکر کو اس کے دل و زبان پر قرار دیتا ہے، اور ایسا بندہ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔

          ۸۔ اے مومنو! سچا مذہب ہی صراطِ مستقیم ہے  ؎۱، یعنی امامِ وقت کی معرفت اور اس کی پیروی ہی سیدھی راہ (صراطِ مستقیم؎۱) ہے، سو جتنا بھی ہوسکے، تم راہِ راست پر آگے بڑھنے کی کوشش کرو، تاکہ منزلِ حقیقت میں، جو امام ِزمان علیہ السلام کی معرفت ہے، پہنچ سکو، اور تم جوانی میں ایسا کام کرو، کہ جس سے اپنے دین و ایمان کو کامل کرسکو، اور منزلِ مقصود میں پہنچ سکو، کیونکہ بڑھاپے میں حرص زیادہ اور عقل کم ہو جاتی ہے، اس وقت (اکثر لوگ) دنیا کے لئے حریص ہو کر غفلت میں رہ جاتے ہیں، پس اب تم اس فریضہ کو سمجھ سکتے ہو اور بجا لا سکتے ہو، اور جس وقت تم اس کو سمجھنے کے قابل نہ رہو گے، تو تمہاری کوشش لا حاصل اور بے سود ہوگی۔

؎۱ فالنبی، (ص) فی عصرہ ھو الصراط المستقیم و الوصی بعدہ کذالک، ثم ینتظم فی امام بعد امام، کل منہم یسند الیٰ من تقد مہ ویشیر الیٰ من تاء خرعنہ ۔۔۔ پس نبی (صلعم) خود ہی اپنے عصر میں ’’ صراط امستقیم‘‘ ہیں، ان کے بعد وصی ایسے ہی ہیں، پھر ایک امام کے بعد دوسرے امام میں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، اور ان میں سے ہر امام اگلے امام کی تصدیق و تائید کرتا ہے اور آنے والے امام کے متعلق اشارہ کرتا ہے۔

(المجالس المستنصریہ ص: ۱۶۹ ۔۱۷۰)

۲۸

          ۹۔ اے مومنو! غفلت سے خدا بچائے، کہ خدا سے غافل ہونا آفت ہے، جہاں تک تم سے ہوسکے، تو ذکرِ الٰہی سے غافل نہ ہونا، اور حق تعالیٰ کی یاد سے غفلت نہ کرنا، کیونکہ جو غافل ہوا، تو وہ ہار گیا، اور جو شخص حق تعالیٰ کو فراموش کرے، تو خدا اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے، اور خدا ایسے شخص کو قیامت کے دن فراموش کر دیتا ہے، پس تم غافل نہ رہنا، بلکہ اپنے تمام حالات سے باخبر رہنا۔

۲۹

سخاوت اور بخالت

نیز امام علیہ السلام نے فرمایا: ۔

          ۱۔ اے مومنو اور اے عزیزو! سخی و عالی ہمت شخص اور بخیل آدمی کے اوصاف سنو اور اپنے ذہن میں رکھ کر سمجھو کہ: ۔

          ۲۔ عالی ہمت اور بلند حوصلہ شخص وہ ہے، جو عالی ہمتی کرتا ہے، راست باز اور سچا ہوتا ہے، اس کے باطن میں ظاہر کی نسبت حقیقی محبت زیادہ ہوتی ہے، اور وہ ہر شخص سے دوستی اس لئے رکھتا ہے، کہ خدا کی خوشنودی حاصل ہو، نہ اس لئے کہ دنیا کا کوئی مطلب اور فائدہ حاصل ہو۔

          ۳۔ عالی ہمت اور بہادر شخص وہ ہے، جو نیک کاموں میں دوسروں سے سبقت لے جاتا ہے، بھلائی کے کاموں کے لئے کوشان رہتا  اور ان کا بانی ہوتا ہے، اپنے کام پر دینی بھائی کے کام کو ترجیح دیتا ہے، اور طعام و آرام میں دوسروں کو مقدم رکھتا ہے، جہاں تک ہو سکے دیتا ہے لیتا نہیں، اگر اس کا دینی بھائی کھائے، تو یوں سمجھتا ہے، جیسا کہ اس نے کھایا، اور مومن بھائی کی شادمانی سے شادمان ہوتا ہے، اور اس کی غمگینی سے غمگین۔

          ۴۔ عالی ہمت اور حوصلہ مند شخص وہ ہے، جو نہ دنیوی فائدے

۳۰

سے خوش ہوتا ہے، اور نہ نقصان سے غمناک، پتھر اور جواہر اس کے نزدیک ایک جیسے ہوتے ہیں، اس کے خیال میں کھانا اور نہ کھانا یکسان ہے، اس لئے کہ وہ عاقل اور دانشمند ہوتا ہے۔

          ۵۔ عالی ہمت اور سخی شخص وہ ہے جو مہمان نواز ہوتا ہے، نہ یہ کہ وہ ہمیشہ دوسروں کا مہمان بنے، وہ شیر کی طرح (دوسروں کو بھی کھلانے والا) ہوتا ہے، نہ لومڑی کی طرح (دوسروں) کا کھانے والا) وہ ہمیشہ ہنس مکھ ہوتا ہے، اس میں امامِ وقت کا حقیقی عشق اور کامل اعتقاد ہوتا ہے، وہ یہ کوشش کرتا ہے، کہ خود کہ لازوال دولت تک، جو امامِ زمان کی معرفت ہے، پہنچا دے، وہ خیر خواہ اور نیک خصلت ہوتا ہے، اور جناب مولا علیہ السلام کے دوستوں اور عاشقوں کے حق میں جو کچھ مہربانی اور حسنِ سلوک ممکن ہو، کر دیتا ہے۔

          ۶۔ عالی ہمتی اور فیاضی (کی برکت) یہ ہے، کہ ایسے مومن کے تمام کام وقت پر ہی انجام پاتے ہیں، تمام بلائیں اس سے دور رہتی ہیں، دشمن اس پر قابو نہیں پا سکتے، رزق و روزی کا دروازہ اس کے لئے کھلا رہتا ہے، وہ خیرو برکت سے بھرپور ہوتاہے، اس کے تمام کام حسبِ منشا تکمیل پاتے ہیں، اس کے فرزند سلامت رہتے ہیں اور نیکو کار ہوتے ہیں، اس کا گھر آباد ہوتا ہے، ہر نیک کام کے لئے اسے موقع ملتا ہے، اور خدائے غفار اس کا مددگار ہوتا ہے، اور خدا کا مددگار ہونا یہ ہے، کہ اس کے دل کا آئینہ صاف و روشن ہو جاتا ہے، اس کا ایمان مستحکم اور کامل ہوتا ہے، اس کی کمائی اور آمدنی حلال کی ہوتی ہے، اور حلال آمدنی کی علامت یہ ہے، کہ وہ خدا کی راہ میں صرف ہوتی ہے، جس کا ثواب حقیقی مومنوں اور نکوکاروں کی پاک ارواح کو ملتا رہتا ہے، اور حلال مال منافقوں کی قسمت میں نہیں، اور ( حرام مال خرچ کرنے

۳۱

سے) منافقوں کی ناپاک ارواح کو نہیں پہنچتا ہے، حلال مال ہی ہے، جو ایمان و یقین والے مومنوں کے مولائے حاضر کے حضور پر نور میں اور اس کی مبارک درگاہ و دربار میں پہنچ سکتا ہے، خداوند عالم ایسے بندے سے راضی ہوتا ہے، اور اس بندے کو خیروبرکت ملتی ہے، خدائے قادر و توانا اس بندے سے خوشنود ہوتا ہے، اس کا دین کامل ہوتا ہے، اس کے دل کا آئینہ درخشان اور معجز نما ہوتا ہے، اس کی جان و روح روشن ہوتی ہے، اس کی عقل و دانش بھی روشن ہوتی ہے، اور آخرت میں عزت والا خدا اسے اپنا عزیز دیدار عطا فرماتا ہے۔

          ۷۔ عالی ہمتی کی صفات سے حقیقی مومنوں کے لئے اتنے درجات و کمالات حاصل ہوتے ہیں، عالی ہمت کو چاہئے، کہ کم بولنے والا، سچا اور حلیم ہو، اسے اپنے تمام امور میں صبر و تحمل اور خدا وند تعالیٰ پر بھروسا ہونا چاہئے، اسے تمام کاموں میں صابر اور حوصلہ مند رہنا چاہئے، مگر دو کاموں میں صبر نہیں کرنا چاہئے، اور جلد از جلد ان کو انجام دینا چاہئے، اور صبر و تحمل نہیں کرنا چاہئے بلکہ صبر کرنا اس موقع پر حرام اور کفر ہے۔

          ۸۔ پہلا: پروردگار کے دیدار کی خواہش و آرزو کرنے اور اس کی ملاقات تک رسا ہوجانے میں، جو تمام کاموں سے زیادہ ضروری اور لازمی ہے ( صبر و تاخیر کرنا کفر ہے) کیونکہ ان امور میں صبر کرنا و بال ، گمراہی کی بنیاد اور ابدی نقصان کا سبب ہے۔

          ۹۔ دوسرا: حق تعالیٰ کے مبارک امر و فرمان کے بجالانے میں ، کہ خدا کی اطاعت واجب ہے اور اس میں صبر (تاخیر) و سستی کرنا کفر کا سرمایہ ہے۔

          ۱۰۔ مذکورہ دونوں کاموں میں صبر نہیں کیا جاسکتا ، اور نہیں کرنا چاہئے، پس تجھے چاہئے، کہ مولا کی محبت پر اکتفا ٔ کرے، اور اس کی

۳۲

محبت کے ماسوا سے اپنے آپ کو بچالے، کیونکہ دوسری چیزوں کی محبت (معجزانہ طور پر ) تیرے دل کو حقیقت کی طرف نہیں لے جاسکتی۔ نہ ہی اپنا طالب بنا سکتی ہے، جب حق تعالیٰ کی عبادت و بندگی کا وقت آئے، سو تو جس دنیوی کام میں بھی مصروف ہے، اور جو کچھ بھی کام تیرے ہاتھ میں ہو، خواہ وہ کام ضروری ہو یا غیر ضروری ، فوراً ہی اسے چھوڑ دے اور جلدی سے حق تعالیٰ کی بندگی کی طرف چلا جا، اور کسی تاخیر کے بغیر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر میں مصروف ہوجا، یہ ہیں عالی ہمتی کے اوصاف جو مذکور ہوئے۔

          ۱۱۔ اب بخیلوں کے حالات سنو، کہ بخیل کا دل ہمیشہ تنگ و تاریک اور سیاہ رہتا ہے، بخیل بدخصلت ہوتا ہے، اس کا خیال ہمیشہ لقمے پر رہتا ہے، وہ دائم تکلیفات اور مشکل کاموں میں گرفتار رہتا ہے، ہر وقت دنیوی نفع و نقصان کے حساب میں لگے رہتا ہے، ہمیشہ اس کے دل کا چراغ بجھا ہوا اور اس کا دل و دماغ بصیرت سے کورا رہ جاتا ہے، اس کی عقل قاصر اور فہم زائل ہو جاتی ہے، وہ نفسانیت کی تاریکی میں گرفتار اور جہالت کے کنوئیں میں اوندھا رہتا ہے، وہ دولت فراہم کرنے، کمانے اور اسے رکھنے کے سوا نیز دنیوی اعتبار سے اپنے آپ کو دیکھنے کے سوا کچھ بھی نہیں جانتا، وہ صرف اسی دنیا کو جانتا ہے، مگر دوسرے جہان سے بے خبر ہے، کسی ایسے کیڑے کی طرح، جو مٹی کے نیچے یا کسی اور جگہ ہوتاہے، جو اپنی محدود جگہ کے سوا دوسری جگہوں سے بے خبر ہے، اور جو رزق وہ کھاتا ہے، اس کے متعلق اس کا گمان ہے، کہ اس کے سوا کوئی رزق ہی نہیں، اور بخیل جس کا دل اکتا یا ہوا اور غمگین ہے، جو ہمیشہ منہ بنائے اور تیوری چڑھائے رہتا ہے، اس کی دعا خدا کے حضور میں مقبول و مستجاب نہیں ہوتی، اس کی روح تاریکی

۳۳

اور ظلمت میں ہے، بخیل کے دل میں مہر و محبت نہیں ہوتی، بخیل مومن سے دوستی نہیں رکھتا، اور اللہ تعالیٰ ایسا سبب بناتا ہے، کہ بخیل ظالموں اور بدکاروں سے دوستی رکھتا ہے، کیونکہ اس کی روح وہیں سے ہے۔

          ۱۲ ۔ بخیل سرگردان اور خوار و زار ہوتاہے، اس کے اخراجات (منشا سے ) زیادہ ہوتے ہیں، اس کو کوئی ثواب نہیں ملے گا، گناہ کے بغیر اس کا کوئی وقت نہیں گزرتا، چونکہ خداوند تعالیٰ اس سے راضی نہیں بلکہ ناراض ہے، اسے ظالموں سے آشنا کردیا ہے، اور یہ سب کچھ اس سبب سے ہے، کہ بخیل پروردگار کو نہیں پہچانتا ، جب بخیل کے دل میں حقیقی مہر و محبت اور عشق نہیں ، اور اس کا مال خدا کی راہ میں خرچ و استعمال نہیں ہوتا ہے، تو لازماً کسی منافق کی روح کے لئے صرف ہوتا ہے۔

          ۱۳۔ بخیل کا دل شیطان کا گھر ہے، اور شیطان لعین منافق کے دل میں ہے، اور جب منافق راضی ہوا، تو سمجھ لو، کہ شیطان راضی ہوا کیونکہ منافق ان چیزوں سے خوشنود ہوتا ہے، جن سے شیطان خوشنود ہوتا ہے، شیطان اور منافق کے دل ایک ہیں، یہ دونوں خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے شریک ہیں، پس جب بھی تم منافق کو خوشحال دیکھتے ہو، گویا شیطان کو خوشحال دیکھتے ہو، اور جو شخص کوئی ایسا کام کرتا ہے، کہ جس میں شیطان کی خوشی ہے، تو ایسے شخص کے دل میں تاریکیاں اور ظلمتیں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے دل کے مکانات میں تاریکی چھا جاتی ہے، اور اس کی عقل و دانش بھی تاریک ہو جاتی ہے، اور اس کے سب کام مشکل ہو کر اسے پریشانی و سرگردانی پیدا ہوتی ہے، اور اس کا منہ اداس ہو جاتا ہے، اور منافق وہ شخص ہے، جو اپنے ولی ٔ نعمت ؎۱

؎۱: ولی نعمت۔ نعمت کا مالک۔

۳۴

کو، جو امامِ وقت ہیں، نہیں پہچانتا، اور جو شخص اپنے حقیقی ولیٔ نعمت کو نہیں پہچانتا ہو، لوگوں کو تکلیف دیتا ہو، مومن کی دل آزاری کرتاہو، اور لوگوں کا بدخواہ ہو، تو منافق وہی ہے۔

          ۱۴۔ اگر کوئی شخص ہزاروں اعمالِ صالحہ کرے، اور دائم خدا کی یاد و فکر اور تعریف و توصیف کرے، ہمیشہ استغفار پڑھتا رہے اور ہزاروں عبادات کو بجا لائے، جب تک اپنے وقت کے امامِ عالی مقام کو، جو دنیا میں حاضر ہیں، نہ پہچانے، تو نہ اس کی نماز و طاعت قبول ہوتی ہے اور نہ اس کی کوئی نیکی۔

          ۱۵۔ اے مومنو اور اے صداقت والو! تم نے منافقوں کی صفات سن لیا، کہ منافق کا خوش ہونا اس کی تاریکی اور روسیاہی کا سبب ہو جاتا ہے، پس منافق کے خوش ہونے سے تاریکی پیدا ہو تی ہے، اور مومنوں کے خوش ہونے سے نور حاصل آتا ہے، کیونکہ منافق شیطان کا سپاہی ہے اور مومنین رحمان کے لشکر ہیں۔

          ۱۶۔ اے مومنو! تم متوجہ اور ہوشیار رہو، تاکہ تم راستہ غلط نہ کرو۔

          ۱۷۔ اے مومنو اے نیکوکارو اور اے عزیزو! بخیل اور سخی کے اوصاف ایسے ہیں جو بیان کئے گئے، اور جن کو تم نے سن لیا، ابھی تم کو چاہئے کہ راہ حق پر، جو صراطِ مستقیم ہے، ثابت قدم ہونے کے لئے کوشش کرو، تاکہ تم (اپنا راستہ) بھول نہ جاؤ، بخیل و منافق خدا کے دشمن ہیں، اور سخی مومن خدا کا دوست ہے۔

۳۵

بدنظری

         ۱۔ اے مومنو اے صداقت والو! وہ مرد جو دوسروں کی عورتوں کو تاکتا ہے، وہ گویا اپنی ماں بہن کو تاکتا ہے، ہم بتا چکے، کہ جب کوئی مرد دوسروں کی عورتوں کو نفسانی خواہش سے گھورتا ہے، تو وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے اپنی ماں بہن پر بد نظر کیا، بے شک دوسروں کی عورتیں اپنی ماں بہن جیسی ہیں، تمہیں بدنظر نہیں کرناچاہئے، تاکہ تمہاری آنکھ ناپاک و نجس نہ ہو، اور لوگوں کی عورتوں کو اپنی مائیں سمجھو۔

          ۲۔ بد نظری کے معنی یہ ہیں، کہ وہ غیر عورتوں کو نفسانی خواہش کی نظر سے گھورتا ہے، اور یہ نہیں جانتا کہ اگر وہ دوسروں کی عورتوں کو بری نظر سے گھورتا ہے، تو یہ ایسا ہے جیسا کہ وہ اپنی ماں بہن کو گھور رہا ہو، اور اس جیسا ایک غلط کار (بیہودہ) شخص پیدا ہو سکتا ہے، جو اس کی عورت کو بھی بری نظر سے گھورا کرے، یہ صفات بدعملی ہیں، اور بد نظری اسی کو کہتے ہیں، حق تعالیٰ اس آدمی پر یعنی اس ناپاک شخص پر قہر کی نظر ڈالتا ہے، دنیا میں اس کا کام تباہ اور آخرت میں وہ خود روسیاہ ہوگا، وہ گرفتار، سرگردان اور دربدر ہوگا، اور وہ ہمیشہ دنیا میں دل تنگ، لوگوں کے نزدیک خوار و شرمسار ہوتا ہے، اور اس کا کام حسبِ منشا نہیں بنتا، او راس کا چہرہ اداس اور بے نور ہوجاتا ہے، پس تم ہر گز ہرگز لوگوں کی عورتوں کو نفسانی خواہش سے نہ دیکھو، کیونکہ یہ بد عملی ہے، اور یہ شیطان

۳۶

کے وسوسے کی وجہ سے ہے، اور یہ سب کام شیطان کے ہیں، اور وہ شخص جہنمی ہے، اور بدنظری بہت بری شے ہے، نعوذ باللہ منھا، پس اس قوم اور اس شخص سے، جو ایسے کام کرتے ہوں، بچنا چاہئے۔

          ۳۔ اے مومنو اور اے عزیزو! اگر کوئی دختر چشمِ بد سے کسی نامحرم مرد کو دیکھے، تو یہ ایسا ہے، جیسا کہ اس نے اپنے باپ اور بھائی کو چشمِ بد سے دیکھا، اس لئے کہ نامحرم مرد اس کے باپ اور بھائی کے مانند ہے، پس اس کے دل کی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ اگر اس کی حالت بدل جائے، تووہ نادان حق تعالیٰ کی راہ سے بھٹک کر دور اور سرگردان ہو جاتی ہے، اور وہ اپنے (دینی) مقصد تک نہیں پہنچ سکتی، پس اگر وہ مردوں پر بدنظری کرتی ہے، تو گویا اس نے اپنے باپ اور بھائی پر بدنظری کی، اور ایسی عورت پر خدا وند قہر کی نظر ڈالتا ہے، اور وہ بیچاری سرگردان، دربدر اور کندذہن ہو جاتی ہے، اس کے دل کا آئینہ تاریک اور ناخوش رہتا ہے، وہ پریشان حال اور لوگوں کی نظر میں خوار و زار ہو جاتی ہے، اور وہ مفلس و تنگدست ہو جاتی ہے، یعنی وہ اپنی تمام عمر میں حسرت میں رہتی ہے، ہمیشہ اس کے کاموں میں مشکلات پیش آتی ہیں، اور دنیا میں حیران و سرگردان رہتی ہے، اور اس کے لئے کوئی ٹھکانا اور کوئی قرار نہیں اور آخرت میں اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔

          ۴۔ نعوذ باللہ بد عملی کا انجام یہی ہے، بد عملی اور برائی کے سب کاموں کا نتیجہ انتہائی برا ہوا کرتا ہے، خواہ وہ کسی مرد سے صادر ہوا ہو یا کسی عورت سے، اور جو شخص بد عملی کرتا ہے، حق تعالیٰ اس کے اس کام کے متعلق بڑا قہر کرتا ہے، اور ایسا شخص دنیا میں خوار و زار، سرشکستہ اور روسیاہ ہوتاہے، اور آخرت میں بھی روسیاہ اور دوزخی ہو تا ہے، اور لوگوں کے درمیان

۳۷

بھی ذلیل و رسوا، خوار و زار، سرشکستہ، حیران اور سرگردان ہوتا ہے، اور قیامت کی سختی میں ساتویں دوزخ کی آگ کے عذاب میں گرفتار ہو کر جلتا رہتا ہے، اور دوسری بات یہ ہے ، کہ جس گھر میں ایسی کسی عورت کا قدم پڑے، تو وہ گھر ویران اور اس کے اہل پریشان ہو جاتے ہیں، اور وہ گھر دوبارہ کبھی آباد نہیں ہو سکے گا۔

          ۵۔ اے مومنو، اے صداقت والو اور اے عزیزو! جان لو، کہ جس گھر میں برا کام واقع ہو جائے، تو اس گھر والوں کا زمانہ تاریک و تباہ ہو تا ہے، اور وہ خوار و زار اور ذلیل ہو جاتے ہیں، اور اپنی پیشمانی میں کچھ ایسے لوگوں کے مانند ہو جاتے ہیں، جن کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور وہ اسی طرح خوار ہوتے ہیں۔

۳۸

حقیقی مومن کے اوصاف ( ۳)

          ۱۔ اے مومنو، اے صداقت والو اور اے عزیزو! حقیقی مومن وہی ہے، کہ دائم الوقت حق تعالیٰ کے خیال میں رہتا ہے، اور ہمیشہ نیک کام کی فکر میں رہتا ہے۔

          ۲۔ حقیقی مومن وہی ہے، جو علم و معرفت رکھتا ہے، اپنے امام زمان علیہ السلام کی اطاعت کرتا ، نافرمانی و خلاف و رزی نہیں کرتا، ہمیشہ نیک خصلت، خوش معاملہ، نیکو کار اور خوش سلوک ہوتاہے، دائم خداوند ِ کریم کی یاد میں رہتا ہے، اور ہر وقت پروردگار کے ذکر و فکر، ثناو صفت اور تمجید و شناخت میں لگے رہتا ہے، اور مدام الوقت اپنے گناہوں سے پشیمان ہو کر رویا کرتا ہے، اور خدا کے خوف یا اس کے  دیدار کےشوق میں گریہ وزاری کرنا موسمِ بہار کی بارش کی طرح ہے، جو باغ و چمن کے ہنسنے کا باعث ہوتی ہے، اور دوسرے موقعوں پر رونا بیجا اور بے موقع بارش کی مثال ہے۔

          ۳۔ حقیقی مومن کے دل میں ہمیشہ خوفِ خدا ہونا چاہئے، اور اسے (زندگی کی) راہ میں احتیاط سے چلنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ اس سے کوئی گناہ و خطا صادر ہو جائے ، یا اس سے کوئی برا قول و فعل واقع ہو جائے۔

          ۴۔ حقیقی مومن کو ہمیشہ شیطان سے بچنا چاہئے، اس کے دل میں وسوسہ نہ ہونا چاہئے، فتنۂ آخرزمان سے خوف رکھنا چاہئے، اور کفر کے

۳۹

زمانوں سے، جو دنیا میں آتے ہیں، ڈرنا چاہئے، شیطان کے پیروؤں سے دور رہنا چاہئے، اور جو شخص شیطان کی مدد کرتا ہو، اسے شیاطینِ انس میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ ( یہ شیاطینِ جن اور شیاطینِ انس) ایک دوسرے کی ہمت افزائی کرتے ہیں، اور یہ جہالت کی ہمت افزائی ہے، اس کام سے دور رہنا چاہئے اور ان سے دوستی و آشنائی نہیں رکھنی چاہئے، تاکہ وہ (خدا کے حفظ و) امان میں رہے، اور بہت سے لوگ ایسے ہیں، جو شکل و صورت سے آدمی نظر آتے ہیں، مگر باطن میں دیو ( یعنی شیاطین) ہیں، اور لوگوں کا تعاقب کر رہے ہیں، اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے، مگر جو مومن اپنے خدا، پیغمبر اور پیر کو پہچانے، اور ان کے حقوق ادا کرے، اور اپنے آپ کو خدا، پیغمبر اور پیر کے حوالے کر دے، اور امر و فرمان بجالائے، تو ڈاکو ( یعنی شیطان ) اس پر غلبہ نہیں پاسکے گا، اور جو شخص خدا وند تعالیٰ، پیغمبر اور اپنے پیر کی فرمانبرداری میں رہے، تو ہرگز وہ ڈاکو اور دشمن ( یعنی شیاطین) ایسے مومنوں کے نزدیک نہیں آسکیں گے، لیکن یہ ڈاکو ایسے لوگوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، جو اپنے خداوند، پیغمبر اور پیر کو اپنے سامنے نہیں دیکھتے ہیں، اور وہ جو کچھ کرتے ہیں، پیر کے امر و فرمان کے بغیر کرتے ہیں، پس یہ ڈاکو ایسے لوگوں کے تعاقب کر رہے ہیں۔

          ۵۔ اے مومنو اور اے نیکوکارو! اب یہ وقت آیا ہے، کہ تم دین کی مدد کرو، اور ایک دوسرے کی یاری کرو، حصولِ علم کے لئے کوشش کرتے رہو، دین ( کی ترقی) کے لئے کوشان رہو، ایمان کو کامل بنانے میں جدوجہد کرو، اور ایمان امامِ وقت کی اطاعت و پیروی کرنے سے کامل ہوتا ہے، اچھے کام کرو، اچھا کام یہ ہے، کہ تم امام کے فرمانبردار ہو، جو کچھ امام علیہ السلام کی مبارک زبان سے سنو، اسے بلا تاخیر بجالاؤ ، تبھی چھٹکارا ملے گا، پس اپنے

۴۰

پیرو پیغمبر کا دامن پکڑو، اور اپنے خدا کی اطاعت کرو اور اپنے امامِ وقت کا پاک دامن پکڑو، تاکہ امامِ زمان تمہیں اپنی پناہ میں رکھ کر مدد اور فتح و کشائش عطا فرمائیں، اور اپنے پیر کا دامن پکڑو، اور پیر کی ہمنیشنی کو غنیمت سمجھو، پیر اور امام علیہ السلام کے فرمان کو یاد رکھو اور ا س پر عمل کرو، جس تک رسا ہونا دوا میسر ہونے کی مثال ہے، اور پیرو مرشد یعنی امام کا قول سن کر اس پر عمل کرنا اور اس کی تعلیم حاصل کرنا اور اس کو بجالانا باطنی بیماریوں کے دفع ہونے، شفا پانے اور دل روشن ہونے کا سبب ہے، اور معلموں کی تعلیم دل کے آیئنے کو صاف اور روشن کر دیتی ہے۔

          ۶۔ اے مومنو، اے صداقت والو اور اے عزیزو! جب کوئی مومن خداوند کے ذکر میں مصروف ہوتا ہے، یا اپنے گھر میں کسی اور جگہ خداوند کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے، اس وقت ایک نادان، جو خدا کی عبادت میں شک رکھتا اور اس کو اس میں کوئی ذوق نہیں، کہتا ہے، کہ تم کس چیز میں مشغول ہو، اور اس بندے کو ذکر نہیں کرنے دیتا ، یا طنز کے طور پر کہتا ہے، کہ فلان شخص عابد ہوا ہے، یا شخ ہوا ہے، یا ان کی عبادت اور ملاقات سے دشمنی کرتا ہے اور طعنہ دیتا ہے، تو ایسے روسیاہ حاسد پر خداوند قہر کی نظر ڈالے گا، کیونکہ اس نادان نے اس عزیز بندے کو طعنہ دیا ہے، اور خداوند ایسے نادان گدھے کے لئے قہر کرتا ہے، کہ اے بدعمل اور مکار غافل ! میرے عزیز مومن بندے کے میری عبادت کرنے میں تم نے کیوں عیب جوئی کی، اور میرے بندے کو دل شکستہ کر کے ذکرو عبادت سے کیوں روک دیا؟ اور تم خود جبکہ عبادت نہیں کرتے ہو، اور منافق و دل سیاہ ہوگئے ہو، تو تمہیں خدا سے ڈرنا چاہئے اور شرمانا چاہئے کیونکہ خدائے تعالیٰ توانا و برتر (ایسے میں) سخت قہر کرتا ہے۔

          ۷۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے، کہ میں نے لوگوں کو اس لئے پیدا کیا ہے،

۴۱

کہ وہ مجھ کو یاد کرلیا کریں، اور اپنے دل و زبان پر میرا نام جاری رکھا کریں، اور پڑھتے رہیں، پس تم نے کیوں طنز اور عیب جوئی سے اس بندے کو عبادت میں ملامت کیا، اب جبکہ تم نے اس مخلص بندے کو عبادت کے متعلق طعنہ دیا، تو تم شیطان کی ظاہریت و صورت بن گئے ہو، اور دوزخ والوں سے ہو جاؤ گے۔

          ۸۔ یہ حالات و واقعات شیطان کے پیروؤں سے متعلق ہیں، جو خدا کی راہ سے بھٹک گئے ہیں، اور شیطان کے پیرو اور مطیع ہوئے ہیں، جو رحمان کی نعمت کھاتے ہیں اور شیطان کی اطاعت کرتے ہیں، لیکن جو لوگ اللہ والے ہیں، وہ تو خداوند کو پہچانتے ہیں۔

۴۲

منافق کی علم دشمنی

          ۱۔ اے مومنو اور اے عزیزو! دوسرا مطلب یہ ہے ، کہ جب عالم (ایک مجلس میں ) علم بیان کرتا تھا، تو اس میں اچانک ایک منافق آملا، اور وہ جاہل منافق خدا اور علم سے بےخبر تھا، اس نے کچھ نہیں سنا تھا، اور وہ اچھے اور برے میں تمیز نہیں کرسکتا تھا، ایسا شیطان صفت اور گمراہ شخص اس مجلس میں پیدا ہوا، اور اس کے خیال میں یہ بات تھی، کہ اس مجلس سے نکل جانے کے بعد اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر اس عالم کی زبان سے کچھ باتیں کرے، تاکہ اس عالم پر ہنسی اڑائی جائے، اور وہ عالم صاف دلی سے علم کی باتیں سنا تا اور بیان کرتا تھا، اور بیچارہ عالم اس شیطان، منافق اور منکر شخص کے کھوٹے دل سے آگاہ نہیں تھا، اور نہیں جانتا تھا، کہ یہ شخص شیطان صفت ہے، اور دل میں حیلہ و مکر رکھتا ہے، اور اگر وہ منافق اسی گھڑی علم کا مسٔلہ اس عالم سے پوچھ لیتا، کہ علم میں یہ بات کہی گئی ہے، اس کے کیا معنی ہوتے ہیں، تو بہتر تھا، تاکہ اسی وقت فوراً ہی وہ عالم اس نادان کو لفظ کے معنی اور علم کا مطلب بتا دیتا، اور اسے آگاہ کرتا، اور اس گمراہ شخص کے دل کو روشن اور (علم کے لئے ) بیقرار کردیتا، لیکن چونکہ وہ بے وقوف نادان، پرکینہ اور گدھا تھا، اس لئے اس نے علم کا مسٔلہ عالم سے نہیں پوچھا، نہ وہ خود جانتا تھا، اور اس کے بعد کہ وہ عالم وہاں سے چلا گیا، اور

۴۳

مجلس والے سب کے سب اپنے اپنے کام کے پیچھے چلے گئے، یہ عام نادان گدھے کہیں بیٹھ گئے، اور دوسرے چند گدھوں (یعنی نادانوں) کو بھی اپنے گرد جمع کر لیا، اور ان تمام شیطان کے فوجیوں نے اس عالم کی غیبت کے لئے زبان کھولی، اور اس عالم کی بدگوئی اور عیب جوئی کرنے لگے۔

          ۲۔ اے مومنو اور اے عزیزو!جو شخص معلم کی عیب جوئی کرتا ہے، ایسا ہے جیسا کہ وہ خدا کی عیب جوئی کرتا ہو، وہ گناہِ کبیرہ میں داخل ہو جاتا ہے، اور جو شخص (اعتقاد سے) عالم کا کلام سنتا ہے، گویا خدا کا کلام سنتا ہے، اور جو لوگ عالم کی غیبت کرتے ہیں، اس کی وجہ دشمنی، کینہ اور حسد ہے، اور اپنے دلوں میں بغض رکھتے ہیں، خدا کی لعنت ہو شیطان پر اور شیطان صفت لوگوں پر اور اہلِ حسد پر۔

          ۳۔ اے عزیزو! اگروہ نادان اور بیوقوف دل میں حسد نہیں رکھتا اور حق کی طرف مائل ہوتا، تو اسی گھڑی اس معلم سے کلام کی حقیقت پوچھ لیتا ، اور معلم کلام کی حقیقت سے اس کو آگاہ کر دیتا ، اور اس حقیقت سے اس نادان کا دل روشن، ملائم اور نرم ہو کر راہِ حق کا طالب ہوجاتا، پھر وہ حقیقت سے آگاہ ہوجاتا، اس کے دل کو سکون و قرار آجاتا، اور وہ اہلِ حق میں سے ہوتا، کیونکہ وہ شخص نادان اور خرتھا، اس نے خود علم کی حقیقت نہیں سنی تھی، اور نہیں جانتا تھا، اور اسے گمان نہیں تھا، کہ وہ عالمِ حقیقت سے باخبر ہے، یہی سبب تھا، جو عالم سے نہیں پوچھا، اور عالم کے چلے جانے کے بعد اس کی غیبت شروع کی، اور وہ دل میں راہِ حقیقت کے علما ٔ کی دشمنی و کینہ رکھتا تھا، اسی سبب سے ایسے لوگوں سے آخر کار گناہِ کبیرہ سرزد ہو کر دوزخی ہو گئے، یہ لوگ بہت ہی نادان اور خر تھے، اور بسببِ جہالت راہِ حق

۴۴

سے بھٹک گئے، ورنہ شروع شروع میں سب لوگ راہِ حق پر تھے، اور اپنی جہالت کی بنا پر ہر زمانے میں ایک ایک فرقہ ہو کر جدا ہوتے گئے، حضرت خاتم الانبیا صلعم سے قبل اور بعد میں اب تک جو لوگ سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، اس کا سبب جہالت، حسد اور دشمنی ہے، انہوں نے کتنے موقعوں پر حقیقی امام علیہ السلام کو چھوڑ کر غیر امام کی پیروی کی اور فرقہ فرقہ ہوگئے، اور اسی اپنی جہالت میں اب بھی سرگردان ہیں۔

          ۴۔ وہ حق کو چھوڑ کر باطل کے پیرو ہوئے، اور یہ دانشمندوں کا راستہ نہیں، اہلِ دانش تو امامِ علیہ السلام ہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ یہ کہ تم اپنے امامِ وقت کے امرو فرمان کی اطاعت کرو، اور دائرۂ وجود کے اس مرکز کے حکم کے تحت رہو، اور یہ کہ امامِ وقت کی معرفت حاصل کرو، علم کی حقیقت جانو، دینی علما سے پوچھ لیا کرو، علمی مجلس میں بیٹھا کرو، عالم سے پوچھو، سنو اور اس پر عمل کرو، تب ہی علم کی حقیقت جاننے والے تم کو بتا سکتے ہیں، سمجھا سکتے ہیں ، اور کام حسبِ منشا ہو سکتا ہے، اور کوئی شخص گمراہ نہ ہوگا۔

          ۵۔  اے مومنو ، اے عزیزواور اے صداقت والو!تمہیں غافل نہیں ہونا چاہئے، حق بات کی طرف توجہ دو، سیدھی راہ اور سچی بات کے طلبگار رہو، تحقیق و تصدیق سے راہِ حق کو قبول کرو، حق و صدق کی باتوں میں بحث نہ کیا کرو اور کلام (یعنی قرآن) کے معنی و حقیقت سمجھ لیا کرو، اور اس کی تعلیم دو اور اس کو سنو۔

          ۶۔ اے مومنو! حقیقی مومنین، جو ایمان کے مکمل ہوتے ہیں، وہ ہیں، جو دینداری سے متعلق احکام اور مطالب یعنی کام، افکار، رفتار و سلوک اعمال و احوال، جو مومن کی صفات ہیں، دینی علما ٔ سے ، جو معلمانِ صادق ہیں، پوچھ لیا کرتے ہیں، اور واقفیت حاصل کرکے

۴۵

ان کو بجا لاتے ہیں، کیونکہ اول علم پھر عمل ہے، اور جو لوگ راہِ حق کے طالب ہیں، وہ روز بروز راہِ حق سے زیادہ مانوس ہو تے ہیں، اور آگے بڑھتے ۔

۴۶

دیدار کے لئے قربانیاں (۱)

                   ۱۔ اے مومنو!مومنین آخرت کے لئے ستم و سختی جھیلتے ہیں، اور مومنین پر یہ ظلم و سختی منافقین کی طرف سے آتی ہے، اور مومنین منافق لوگوں کے درمیان خوار و بیمقدار ہوتے ہیں، دشمنانِ دین مومنین کو اذیتیں پہنچاتے ہیں، اور مومنین ہر حالت میں صبر اختیار کرتے ہیں، نہ اذیت سے غمگین ہوتے ہیں، اور نہ ہی حمایت سے شادان، وہ دنیا کے غم اور خوشی سے متاثر نہیں ہوتے، کیونکہ نہ دنیا کا غم ہمیشہ رہ سکتا ہے اور نہ اس کی خوشی، اور مومن صرف اپنے پروردگار کی خوشنودی کا طالب رہتا ہے، اور مومنین نے اخروی نجات کے لئے محنت، مشقت اور زحمت اٹھائی ہے، اور گریہ وزاری کی ہے۔

          ۲۔ مومنین نے خداوند کے دیدار کی خاطر اپنی آمدنی کا دسواں حصہ، جو امام علیہ السلام کا حق ہے، بطورِ واجبات بلا کم و کاست اور پوری طرح سے حضور کو پہنچا دیا ہے، مومنین امام علیہ السلام کے دیدار کے لئے اپنے مال، بیوی، اولاد اور زندگی سے دست بردار ہوئے، مومنین نے دیدار کی غرض سے اپنے سر، فرزند، مال و ملک کو فروخت کر ڈالا، اور آنجناب کی راہ میں صرف و قربان کر دیا، مومنین نے حصولِ دیدار کے لئے دور و دراز خشکی اور دریائی راستوں کو طے کیا، طوفانوں سے گزرے، اخراجات اور تکالیف برداشت کیں، یہاں تک کہ مقصد کو پہنچ

۴۷

گئے، مومنین مولا کے دیدار کے لئے کس قدر دور ممالک سے آئے، کتنی تکالیف اٹھا کر اور کتنے اخراجات برداشت کر کے آئے اور مالِ و اجبات لائے، مومنین نے دیدار کی خاطر نیک کام انجام دیئے اور خیر خواہی کی، مومنین نے دیدار کی غرض سے نیک کام، سچائی، سادگی، امانت گزاری، پاک نظری، صاف دلی اور دینداری اختیار کی، مومنین نے دیدار کے لئے عبادت، بندگی اور ریاضت کی، جس سے مقصود کو پہنچ گئے، مومنین نے دیدار کے لئے خداوند کی یاد میں کوشش کی، دائمی ذکر اختیار کیا، وہ دن رات لحظہ بھر کے لئے بھی خدا کی یاد سے غافل نہ رہے اور انہوں نے ذوق و شوق سے بندگی کی، مومنین نے دیدار کی خاطر اپنے سرو جان کی کوئی پرواہ نہیں کی۔

          ۳۔ مومنین نے دیدار کے لئے حق تعالیٰ کے امرو فرمان کو بجا لایا، مومنین دیدار کی غرض سے حقیقی مومنین کی مجلس میں رہے اور دینی علما ٔ سے علمی سوالات کئے اور سن کر اس پر عامل ہوئے، مومنین نے دیدار کے لئے اپنے غریب دینی بھائیوں کی مالی امداد کی اور انہیں توانگر بنایا، مومنین نے دیدار کے لئے فیاضی کی اور راہِ دین میں بہت سے خیراتی کام کئے، مومنین نے دیدار کے لئے اپنے مال سے اپنے مومن بھائی کو حصہ دیا، اس کے ساتھ برادرانہ سلوک کیا، اسے شفقت کی نظر سے دیکھا، محتاج مومنوں کے لئے نیکی اور سخاوت کا دروازہ کھول رکھا، اور ان پر کسی دنیاوی غرض، طمع اور ریا کے بغیر مہربانی کی، اور مومنین نے دیدار کے لئے مومنین اور نادار دینی بھائیوں کی دلجوئی کی۔

          ۴۔ اے مومنو!راہِ حقیقت کی قدردانی کرو، کہ راہ نجات ہے، جو شخص اس راہ پر چلتا ہے، وہ منزلِ مقصود تک پہنچ سکتا ہے، جو دیدار کا مشاہدہ ہے، پس جہاں تک تم سے ہو سکے کوشان رہو، تاکہ منزلِ مقصود

۴۸

تک رسا ہوجاؤ، جو امام علیہ السلام کا پاک دیدار ہے، اور جو شخص امام علیہ السلام کا طلبگار ہو، تو امام علیہ السلام بھی اس کے طلبگار ہوتے ہیں، جو کوئی امام علیہ السلام کو سارے جہان پر برگزیدہ مانے، تو امام علیہ السلام بھی اس کو ممتاز کر دیتے ہیں، جو شخص امام علیہ السلام کے لئے قبول کرتا ہے، تو امام علیہ السلام بھی اسے قبولتے ہیں، لیکن جو شخص امام علیہ السلام کے لئے قبول نہ کرے، تو امام علیہ السلام بھی اس کی پذیرائی نہیں کرتے، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں، اور جس شخص کا دل اور آنکھ پا ک ہو، اور وہ امام علیہ السلام کے دیدار کا طلبگار ہو، اور اسی خواہش کی بنا پر تمام دنیاوی خواہشات سے دست بردار ہو جائے، تو امام علیہ السلام اس کو دیدار بخشتے ہیں، خواہ وہ دنیا میں کہیں بھی ہو۔

۴۹

خدا کا محل اور تخت

          ۱۔ اس کے علاوہ تم یہ جان لو، کہ جب کسی دیندار مومن کا دل خرسند، شادمان اور راضی ہوجاتا ہے، تو سمجھ لو، کہ خدا راضی ہوا، کیونکہ مومن کا دل خدا کا گھر ؎۱ ہے، اور خدا وندکریم کے نظر کرنے کی جگہ ہے۔

          ۲۔ اے مومنو اور اے پرہیزگارو! خداوند ہر اس شخص کے دل میں اپنا مقام رکھتا ہے، جو مومن اور پاکباز ہو، جس میں کینہ، عداوت اور دنیوی محبت نہ ہو۔

          ۳۔ اے مومنو! جن دلوں میں کینہ اور پلیدی بھری ہوئی ہے، جس کا سبب تاریکیوں اور باطل خیالات کے نتیجے پر شکوک کا پیدا ہونا ہے، ان دلوں میں شیطان اور جنات کی جگہ ہے، اس کے برعکس، وہ دل، جو صاف، پاک اور حقیقی محبت والے ہیں، جن میں کسی سے کینہ و عداوت اور دنیاوی محبت نہیں، اور خدا کے خیال کے سوا کوئی اور خیال نہیں، تو ایسے دل عرشِ الٰہی اور مقامِ ملائکہ ہیں۔

          ۴۔ پس اے مومنو اپنے دل ہی میں خدا کا مشاہدہ کر لیا کرو، اپنے

؎۱: حدیثِ قدسی ہے کہ: لا یسعنی ارضی ولا سمائی ولکن یسعنی قلب عبدی المومن۔

میں اپنی زمین اور آسمان میں نہیں سماتا ہوں، لیکن اپنے مومن بندے کے دل میں سماتا ہوں۔

نیز حدیثِ نبوی ہےکہ: قلب المومن عرش اللہ تعالیٰ۔ مومن کا دل اللہ تعالیٰ کا عرش یعنی تخت ہے۔

۵۰

دل کو ہمیشہ صاف و پاک رکھا کرو، آئینۂ دل سے شک اور نفاق کے زنگ و غبار کو یقین کے جھاڑن کے ذریعہ پونچھ لو، اور علم و حکمت کے پانی سے اسے دھولیا کرو، تاکہ تم اپنے دل کے آئینے میں خدا دیکھ سکو، اگر تم خدا سے دوستی رکھنا چاہتے ہو، تو تم سیاہ دل منافقوں کی طرف مائل نہ ہو جاؤ، ایسا نہ ہو، کہ منافق تمہیں اپنے مانند بنالیں، اور خدائے تعالیٰ نے منافقوں سے اپنا چہرہ پھیر لیاہے۔

۵۱

حاضر و ناظر کے معنی

          ۱۔ جو کوئی خدا سے دوستی رکھتا ہو، اسے چاہئے کہ بے ایمان منافقوں سے اپنا منہ موڑ لے، جس طرح مومنین خدا سے دوستی کرتے ہیں، اسی طرح خدا بھی مومنین سے دوستی کرتا اور ان کی مدد کرتا ہے، اور جو کوئی خدا سے دوستی کرتا ہو، اس کو پہچانتا ہو اور اس کی عبادت کرتا ہو، تو خدا وند اس کو ساری آفتوں سے محفوظ رکھتا ہے، اور وہ زمانے میں خدا کا خاص بندہ اور حقیقی مومن بن جاتا ہے، کیونکہ وہ ہر جگہ اپنے خدا کو حاضروناظر؎ جانتا ہے، اور غافل نہیں ہوتا، وہ جانتا ہے، کہ اس کے تمام حالات سے، خواہ وہ پوشیدہ ہوں یا ظاہر، خداوند مہربان باخبر ہے، وہ جس کام میں بھی مصروف ہو (یقین رکھتا ہے کہ ) خدا کے حضور میں اور اس کے روبرو ہے، اور خدا اس کے پوشیدہ اور ظاہر کاموں سے، اس کے دل کے خیالات سے اور اس کی نیت سے باخبر ہے، اور ذرہ بذرہ اس کی تمام چیزوں سے آگاہ ہے، اگرچہ تو خدا کو نہیں دیکھتا، تاہم خدا تجھے دیکھتا ہے ( بندے کو) یقین کرنا چاہئے، کہ وہ جو کچھ کام کرتا ہو، اور

؎۱: خدا کے حاضر ہونے کے معنی یہ ہیں، کہ وہ اپنے ظہورِ نور کے اعتبار سے لوگوں کے سامنے ہے، اور ناظر کے معنی یہ کہ وہ بندوں کے احوالِ ظاہر و باطن کو دیکھتا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: ’’فلنقصنّ علیھم بعلم و ماکنا غائبین ۷: ۷ اور ہم (قیامت میں ان کے احوال کے) علم کے ساتھ ان سے ضرور بیان کر دین گے اور ہم (کچھ ) غائب تو تھے نہیں۔‘‘

۵۲

ہر بد یا نیک خیال جو وہ دل میں رکھتا ہو، اس سے خدائے عادل کے سوا دوسرا کوئی آگاہ نہیں، اور خدائے تعالیٰ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے، اور اس کی تمام کمیت و کیفیت پر مطلع ہے، تو غافل اور بے خبر ہے، اور جو شخص بے خبر ہو، تو وہ ڈرتانہیں اور خدا کو فراموش کرتا ہے، اور شیطان اس کے دل میں برے کام کا وسوسہ ڈالتا ہے، اس وقت وہ غافل خدا کے سامنے ہی کسی برے کام میں مصروف ہوتا ہے، یا کسی کو تکلیف دیتا ہے یا کسی کی غیبت کرتا ہے، ایسا شخص آخرت میں رسوا ہوگا، حضرت باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ۔

          ۲۔ مخلص بندہ وہ ہے، کہ جو کچھ کام کرے، اور جہاں کہیں جائے، تو اس میں ہم کو اپنے سامنے حاضر و ناظر جانتا ہے، اور ہم سے شرمایا کرتا ہے، اگر کسی آدمی کے دل میں کوئی برا خیال پیدا ہو، یا وہ حرام خوری کی طرف مائل ہو، اور وہ اس وقت ہماری طرف التجا کرے، تو ہم اس کو اس وسوسۂ شیطانی سے، اور اس فعلِ بد سے، جو اس کے لئے عذابِ آخرت کا باعث ہے، نجات بخشیں گے، اور اس کے دل میں نیک کام ( کی خواہش) ڈالیں گے، جس سے وہ اچھے کام اور اعمالِ صالح انجام دے گا، جن سے وہ آخرت میں رستگار اور مسرور ہوگا، اور وہ خوشی سے دنیوی زندگی بسر کرے گا، اور آخرت میں بھی وہ خوش رہے گا۔

۵۳

حقیقی مومن کا درجہ

          ۱۔ مومن کو چاہئے، کہ ہمیشہ خدا کے خیال میں رہے، موت کو اپنے نزدیک سمجھے، آخرت کی فکر و کاروبار میں رہے، اس کی توجہ اس بات کی طرف ہو، کہ وہ اپنی آخرت کو آباد کرے، اور ہمیشہ صرف دنیا ہی آباد کرنے میں پا بہ زنجیر نہ ہو، قوت لایموت ؎۱ کی ضرورت کے مطابق صرف اس قدر کمائے، کہ جس سے لوگوں کے درمیان دینداری کر سکے، اور اپنے دین کو مکمل کرے نہ کہ دنیا کو۔

          ۲۔ مومن کو چاہئے، کہ اپنے وقت کے پیر کی پیروی کرے اور اس کا دامن پکڑے، خدا وندِ ذوالجلال نے فرمایا ہے، کہ جو شخص مجھے (دنیا میں) اپنا بزرگ اور مہربان برادر سمجھے، تو میں اسے آخرت میں اپنا چھوٹا بھائی قرار دوں گا، اور اپنا دیدار اسے نصیب کروں گا، وہ میرے نورانی دیدار کا مشاہدہ کرے گا۔

          ۳۔ اے مومنو! اپنی قدرو قیمت سمجھو، کہ تم کل قیامت کے دن (گزشتہ زمانے کے) مومنوں اور نیکوکاروں کے ہمسر ہوجاؤ گے، حوروں کی معیت میں بہشت کی نعمتوں سے حظ اٹھاؤ گے، ان کے ہمنشین بن جاؤ گے، اور تمہیں اپنے مولا کی دوستی و برادری حاصل ہوگی، اور وہ ہر جگہ تمہارا پشت پناہ رہے گا۔

؎۱: قوتِ لایموت۔ اس قدر قلیل خوراک ، جو صرف بھوک کی موت سے بچائے۔

۵۴

          ۴۔ اے مومنو! میں نے تم کو پیدا کیا ہے، تاکہ تم ہمیشہ میری ہی یاد میں رہو، اس صورت میں دوسرے کسی کی یاد تمہیں جائز نہیں، اور ہر قسم کی سختیوں میں میری ہی طرف التجا کرو اور مجھ ہی سے مدد چاہو، کیونکہ میرے ماسوا سے التجا کرنا اور کسی غیر سے حاجت طلب کرنا روا نہیں، تمہیں پوری طرح سے باادب رہنا چاہئے، تاکہ تم سے کوئی غلطی سرزد نہ ہو، اور میرا نام اپنے دل و زبان پر جاری رکھا کرو، تاکہ میں تم سے راضی رہوں، میں نے اپنی رحمانی صفت سے تم کو نیستی کے بھنور سے چھڑا کر وجود کے ساحل پر پہنچا دیا، زندگی کے تمام ذرائع مہیا کر دیئے، اور تمہاری سہولت کی خاطر میں نے تم کو راحت و آسائش بخشی، تاکہ تم میری عبادت کرسکو، اور جس کام کا میں نے امر ؎۲ کیا ہے، اسے بجا لا سکو ، اور جس کی نہی ؎۳ کی ہے، اسے ترک کر سکو، تاکہ تم بھی میرے مانند ہو سکو اور زندۂ جاوید رہو گے، اور تمہیں علم و قدرت عطا کر دوں ؎۴ گا، پس اگر تم میری فرمانبرداری کرو، تو اس کا فائدہ تم ہی کو حاصل ہوگا، مجھ کو نہیں، کیونکہ میں تو بے نیاز ہوں اور تم محتاج، پھر تم دیکھ لو اور سوچو، کہ میں تم سے بھی زیادہ تمہارا خیر خواہ ہوں ( اور تم جس قدر اپنا لحاظ و رعایت کرتے ہو) میں اس سے بھی بڑھ کر تمہارا لحاظ و رعایت کرتا ہوں، پس اگر فی الواقع تم خود اپنا دشمن نہیں بنتے ہو، اور اپنی ابدی راحت کے طلبگار ہو، تو

؎۱: امر۔ فرمان وہ حکم جو کسی کام کے کرنے کے لئے ہو۔

۲۔ نہی۔ منع، ممانعت، روک، وہ حکم جو کسی کام کے نہ کرنے کے لئےہو۔

۳۔ تورات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ( أطعنی یا بن آدم اجعلک مثلی حیاً لاتموت، عزیزاً لا تذل، غنیاً لا تفتقر) اے ابنِ آدم! میری اطاعت کر تاکہ میں تجھ کو ایسا زندہ کروں گا کہ تو کبھی نہیں مریگا، ایسا معزز بناؤں گا کہ تو کبھی ذلیل نہیں ہوگا، اور ایسا امیر بناؤں گا کہ تو کبھی محتاج نہیں ہوگا (بحوالۂ تاویل الدعائم  ص ۴۲، تحقیق کردۂ محمد حسن الاعظمی)

۵۵

مجھے یاد کرتے رہا کرو، اور میری آشنائی اختیار کرو، کیونکہ کوئی دوسرا شخص تم کو خطرات و مہلکات سے چھڑا نہیں سکتا، بلکہ وہ خود تم سے بھی زیادہ عاجز ہوگا۔

          ۵۔ اے مومنو! جو کوئی میرا دیدار کرنا چاہتا ہو، تو اس کو چاہئے کہ وہ مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ قریب سمجھے اور مجھے حاضرو ناظر مانے، ہر حال میں اور ہر جگہ مجھے حاضر و موجود جانے، روزِ قیامت کے حسابات سے خوف رکھا کرے، اور اپنی موت سے غافل نہ ہو جایا کرے، اور جو شخص میری فکر میں رہے، تو میں بھی اس کی فکر کر لیا کروں گا۔

۵۶

پیر اور معلم

          ۱۔ اے عزیزو! سن لو، تمہیں حصولِ علم کے لئے کوشان رہنا چاہئے، تم عالم کی باتوں کی حاصل کرو، ان کو خوب اپنے ذہن و شعور میں رکھا کرو، خداوند کریم کے علم کی حقیقت معلم سے سیکھ لیا کرو، اور اس پر عمل کئے جاؤ، تاکہ تم درجۂ کمال تک پہنچ سکو، اور دنیا و آخرت کے فیوض و برکات حاصل کرسکو گے، اور معلم جو کچھ تمہیں تعلیم دیتا ہے، اسے بجا لایا کرو، اور دیکھو کہ علم کے مقام پر پیر نے کیا ارشاد فرمایا ہے، تم اسی پر عامل رہو، معلم تمہیں پیر شناسی اور دین شناسی سکھاتا ہے اور منزلِ معرفت تک پہنچا دیتا ہے، امامِ عالیمقام علیہ السلام جو کچھ فرماتے ہیں، اس پر ثابت قدم اور قائم رہو، اور آنجناب جو حکم فرمائیں، اسی کے مطابق عمل کرو، ہر لمحہ اس کے امر کے لئے منتظر رہو، اور ہر دم اس کے فیض کے لئے امید وار رہو۔

          ۲۔ اے مومنو! اگر تم خدا شناسی میں کامل ہونا چاہتے ہو، اور خدا کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہو، تو اپنے وقت کے پیر کے امر کو قبول کرو، اور پیر تمہیں جو کچھ فرماتے ہیں، اسی کے مطابق عمل کرو، امر سے تجاوز نہ کرو، اور ہمیشہ فرمانبردار رہو، تاکہ تم اہلِ کشف میں سے ہوسکو۔

          ۳۔ پیر وہ شخص ہے، جس کو امامِ زمان علیہ السلام ایک ایسا درجہ عطا فرماتے ہیں، کہ جس سے وہ لوگوں میں اشرف ترین ہو جاتا ہے،

۵۷

اور جب کبھی امام کسی پیر کا تعین و تقرر فرماتے ہیں، تو اس وقت تفصیلی معرفت لازمی ہوتی ہے، اور تجھے چاہئے کہ انہی ( پیر ) کے ذریعہ امام شناسی کو مکمل کرے، اور جب امام علیہ السلام پیر کا تقرر نہ فرمائیں، تو امام اہلِ علم میں سے جس کو ہدایت و دعوت کے لئے مامور فرمائیں، تجھے اس شخص کی دعوت و ارشاد سے امام کی معرفت حاصل کرنی چاہئے، تاکہ تو گمراہی میں نہ رہے، اور اس شخص کے علم کی روشنی سے تو امام کی معرفت میں پہنچ سکے، اور پیر کے ہونے سے یہ ہوتا ہے، کہ پیر اور امام علیہ السلام کے امرو فرمان کے بموجب اور پیر کی اجازت سے معلمین دعوت کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔

          ۴۔ پس اے مومنو! تم پر لازم ہے، کہ پیر کی پیروی کر لیا کرو، ان کی فرمانبرداری سے روگردان نہ ہو جاؤ، اور پیر تمہیں جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں، اس پر پابند رہو، اور اسے عمل میں لاؤ، پیر تم سے کوئی اجرو صلہ نہیں مانگتے ہیں، اور میں خود انہیں عوض دیا کرتا ہوں، اور تم پیر کی جتنی بھی اطاعت کرو گے، ان شاء اللہ پیر روزِ قیامت تمہاری سفارش کر ینگے۔

          ۵۔ قیامت کے دن اگلے اور پچھلے تمام لوگوں کا حساب مولانا علی ذکرہ الشفا ء ؎۱ کے ہاتھ میں ہوگا ، اور آنجناب علیہ السلام ہی اپنے بندوں کو طلب فرمائیں گے، ان کے طلبگار ہوں گے، دریافت فرمائیں گے اور مخلص مومنین کو نوازیں گے، اور نافرمان منافقین صحرائے محشر کی گرم دھوپ میں خود بخود گرفتار ہوں گے، وہ وہاں روسیاہ اور شرمسار ہونگے، عذاب جھیلتے ہوئے نالہ و فریاد کریں گے، ہر شخص خود بخود گرفتار ہوگا، اور جو کوئی دنیا میں پیر کا فرمانبردار رہا ہو، اس ہولناک روز اپنے

؎۱: ذکرہ الشفاء۔ اس کی یاد شفاء ہے، مراد یہ ہے، کہ مولانا علی علیہ السلام کی یاد روحانی بیماریوں کے لئے دوا و شفاء ہے (مترجم)

۵۸

وقت کے پیر کے سائے میں رہے گا، اور خوشیاں منائے گا۔

          ۶۔ روزِ قیامت (ہر شخص کے لئے ) بے شمار لوگوں کے سامنے اپنے سامان (یعنی اعمال ) ظاہر کرنے کا دن ہے، ہر شخص جو کچھ اچھی جنس رکھتا ہو، وہ بازارِ محشر میں حاضر کرے گا، اور اس بازار میں خود اللہ تعالیٰ ہی ان چیزوں کا خریدار ہوگا، پس اب تو نے سمجھ لیا اور حساب کے بارے میں آگاہ ہوا اور جان لیا کہ تیرا خریدار کون ہے، پھر عمدہ اجناس اور نفیس اشیا ٔ ( مہیا کرنے ) کی فکر میں رہا کر، جو انمول اور گرانمایہ ہوں، وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ پاک روح، پاکیزہ دل، امامِ وقت کا عشق، اور اس کی کلی معرفت، اس کے خوف و امید میں جان دینا اور اس کی رضاجوئی۔

          ۷۔ اے مومنو! قیامت کے دن پیرِ کامل کے سوا باقی سب پیر، امیر اور ان جیسے لوگ کاپنتے لرزتے ہوئے کھڑے رہیں گے، اور ان میں سے کوئی شخص بھی بولنے کی جرأت نہ کر سکے گا، اور اپنی بات کوظاہر نہ کر سکے گا، مگر تمہارا پیر ہی، جنہوں نے دنیا میں تمہاری دستگیری کی ہے، آخرت میں بھی تمہاری دستگیری اور سفارش کریں ؎۱گے، پس ان کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو، چونکہ تم دراصل اس جہان والے ہو، لازماً تم اس جہان میں خوشیاں کرو گے اور عیش و راحت سے رہو گے، پس تم اس دنیا کی خوشی، دولت، عزت، رتبہ اور بڑائی میں مقید نہ رہا کرو، تم روز بروز زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کی، اپنے پیر کی اور امام کی محبت اور خدمت کر لیا کرو، اور اس دنیا میں نہ پھنس جاؤ، کیونکہ یہ جہان فانی اور بے قدر و منزلت ہے، تم دنیوی آلائشوں سے بچکر رہو، کیونکہ یہ تمہیں غفلت

؎۱: جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے۔’’ يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلاَئِكَةُ صَفًّا لاَ يَتَكَلَّمُونَ إِلاَّ مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا(۷۸: ۳۸) جس دن روح اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہونگے، وہ بات نہیں کرسکیں گے، مگر وہ جسے رحمان اذن دے اور وہ ٹھیک بات کہے۔‘‘

۵۹

میں ڈال دیتی ہیں، جب تم غفلت میں پڑتے ہو، تو آپس میں جھگڑا فساد کر کے مرتے دم تک ایک دوسرے سے انتقام لینے کے درپے ہوتے ہو، اس وقت مفلس، شرمسار ار پشیمان ہو جاتے ہو، پس کوئی چیز آخرت میں کام نہیں آتی، صرف یہی، کہ اگر تم سے ہو سکے، تو اپنے مال کو اپنے امامِ وقت کی خوشنودی میں صرف کیا کرو، کیونکہ دنیوی طور پر جو کچھ خرچ کرتے ہو، یا خزانہ کر کے رکھتے ہو، اسے تم دوبارہ نہ دیکھ سکو گے، بلکہ وہ تمہارے لئے باعثِ عذاب ہوگا، اور جو کچھ تم راہِ مولا میں دیتے ہو، وہ تمہارے لئے آخرت میں باقی رہے گا، جس کی مثال گندم کی طرح ہے، کہ جو خرچ کئے جاتے ہیں، وہ تو ختم اور فانی ہی جاتے ہیں، اور جو تخم ریزی کے طور پر کھیت میں بکھیر دیتے جاتے ہیں، وہ غیر فانی ہیں، اور آخرت میں تمہارےلئے اپنے  ہی وقت کا پیر زیادہ کارآمد اور ہمدرد ہوں گے، جو شخص اپنے زمانے کے پیر کافرمانبردار نہ ہو، اور ان کا حکم نہ سنے، تو اس کے لئے آہ و افسوس! کہ وہ دنیا و آخرت میں ہمیشہ سرنگون و سرگردان ہوگا، پس لازمی ہے، کہ تم پیر کے دامن کو پکڑے رہو، کہ پیر ہی تم کو امام علیہ السلام کی تفصیلی معرفت سمجھا سکتے ہیں۔

          ۸۔ اگر تم چاہتے ہو، کہ اپنے دل کو حق تعالیٰ کے عشق و محبت سے پر مسرت اور زندہ کر سکو، اور خدا وند عالم کا عشق تمہارے دل میں ہمیشہ قائم رہے، اور یہ عشق تمہیں اپنے پروردگار کی ملاقات کے لئے بیقرار اور اس کے دیدار کے لئے طلبگار کرتا رہے تو اس کے لئے یہ ہے، کہ تم اپنا دل ماسوا ؎۲ اللہ سے پھر دو، خداوند کی طرف متوجہ ہو جاؤ، پروردگار،

؎۱۔: ما سوا اللہ ۔ خدا کے سوا جو کچھ ہے۔

۶۰

پیر اور رہنما سے التجا کرو، باطل اور غیر ممکن خیالات کو چھوڑو، اور دنیوی محبت کو قطعی طور پر دل سے نکال دو، تب ہی خدا وند تعالیٰ کا عشق تمہارے دل میں ٹھہرے گا، اور تمہیں حقیقی دیدار کے لئے بے قرار کر دے گا۔

۶۱

کشتیٔ نجات

          ۱۔ انہیں اپنے نوحِ وقت کی کشتی ؎۱ میں سوار ہونا چاہئے، کیونکہ دوسری سب کشتیاں غرق ہو جانے والی ہیں، پس تم اپنے رئیس اور سردار کا دامن پکڑو، خانۂ حقیقت میں رہا کرو، اورا پنے نوحِ زمان کی کشتی میں داخل ہو جاؤ، تاکہ تم سلامتی سے ساحلِ نجات پر پہنچ سکو، اور وہ رئیس اور نوحِ زمان تمہارے امامِ وقت شاہ عبد السلام شاہ علیہ السلام ہیں، انہی کی شناخت حاصل کرلو اور کشتیٔ نوح میں داخل ہو جاؤ، یعنی ان کے طریقِ دعوت میں، تاکہ تمہارا ایمان مکمل ہو اور تمہاری روح آفتوں سے سلامت رہے۔

          ۲۔ جو گھر روشن دان اور کھڑکی کے بغیر ہو، وہ تاریک رہتا ہے، اسی طرح جس شخص کا خانۂ دل امامِ زمان علیہ السلام سے، جو وقت کے سورج ہیں، مستفیض نہ ہو، تو وہ تاریک اور بے نور ہے، اس میں کوئی روشنی نہیں، اور کینہ و عداوت کی تاریکیوں میں ہے، پھر تاریکی میں کسی چیز سے ٹکرا جانا، راستے سے بھٹک جانا اور گمراہ ہو جانا لازمی ہے۔

؎۱: اس باب میں آنحضرت صلعم کا ارشاد یہ ہے: مثل اھل بیتی فیکم کمثل سفینۃ نوح فی قومہ من رکبہا نجیٰ و من تخلف عنہا غرق۔ تم میں میرے اہلِ بیت سفینۂ نور کی مثل ہیں، جو ان کی قوم کے لئے تھی، جو اس پر سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے مخالف ہوا غرق ہوا ( ارجح المطالب، ص ۳۲۹)۔

۶۲

          ۳۔ جو شخص راہ راست سے بھٹک گیا، تو وہ خواہ چلے یا ٹھہرے منزل میں نہیں پہنچ سکتا، اگر تو اسے راہِ راست بتائے، تو وہ باور نہیں کرتا، وہ شک و نفاق میں ہے، رد کیا گیا ہے، پر کھ نہیں سکتا، ایسے لو گ گمان کرتے ہیں، کہ وہ خود راہِ راست پر ہیں، حالانکہ وہ گمان کے پردے میں ہیں، وہ سرگردان رہے، اور نہیں جانتے ہیں، کہ سیدھی راہ ( اور دینِ حق) وہی ہے، کہ جس راہ کے پیشوا اور جس دین کے مالک امامِ حی و حاضر علیہ السلام ہیں۔

          ۴۔ پیغمبروں کے زمانے میں بھی جو شخص اپنے وقت کے نبی کی راہ پر چلا، تو وہ ناجی ہوا، اور جو شخص (اگلی) شریعت پر عامل رہا، اور اس نے اپنے وقت کے پیغمبر کی فرمانبرداری نہ کی، تو ایسے لوگ ضلالت و گمراہی میں رہے، ہر چند کہ انہوں نے اس شریعت کی رو سے خدا کے حکم اور گزشتہ زمانے کے انبیأ کے فتویٰ کے مطابق عمل کیا، اور اب بھی دورِ ولایت (میں ایسا ہی ) ہے۔

۵۔ جب کبھی کوئی شخص اپنے ولیٔ زمان کو نہیں پہچانتا ، نہیں مانتا، اور ان کے فرمان کو علمِ ظاہر کے ذریعہ پرکھتا، اور (آنجناب کے ) امام ہونے کے متعلق علمائے ظاہر سے تقلید کے طور پر پوچھتا ہو، اور اس پر عمل کرتا ہو، تو اس کا یہ عمل باطل اور اس کی تکلیف ضائع ہو گی، اور آخر کار وہ دوزخ والوں میں سے ہوگا، کیونکہ قرآن اور صحیح حدیث کے معنی امام علیہ السلام کے پاس ہیں، اور پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ جو شخص میری عترت (آل) اور خدا کی کتاب (قرآن) کو پکڑے رہے، تو وہ ہر گز گمراہ نہ ہوگا، اور میری عتر ت امام علیہ السلام ہیں‘‘ کہ (یہ حقیقت) ذریۃ بعضھا من بعض ؎۱ کے مطابق ہے، اور امام ہی کے ذریعہ امام کو پہچاننا چاہئے، امام خود ہی اپنی اولاد میں سے جس کو امام مقرر فرمائیں، وہی امام ہوگا،

۶۳

اور اس کے سوا کوئی امام نہ ہوگا، اور لوگ امام مقرر نہیں کر سکتے ہیں، اور (امامِ سابق) اپنی اولادوں میں سے جس کو نورِ امامت کے لئے مقرر فرمائیں اور جس کو اسرارِ امامت حوالہ کریں، تو وہی شخص امام ہے، اور وہی آلِ نبی ہیں، اور باقی سب دوسرے فرزند اگر (امام) کی اطاعت کریں، تو وہ اہلِ نجات میں سے ہیں۔

          ۶۔ پس امام کی پیروی کرو، تاکہ تم نسلاً بعد نسل امام کے راستے پر قائم رہ سکو، اور جو لوگ امام کے راستے پر نہیں، اس کا سبب یہی ہے، کہ انہوں نے امام علیہ السلام کی مخالفت کی اور آنجناب علیہ السلام سے عداوت کی، اور امام علیہ السلام نے اپنے آپ کو ان سے پردے  میں

؎۱: اس مطلب کی پوری آیت یہ ہے: إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ ۔ ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (۳: ۳۳ تا ۳۴) بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام اور آلِ ابراہیم علیہ السلام اور آلِ عمران علیہ السلام ( یعنی آل ابو طالب) کو تمام جہانوں پر مصطفیٰ (پاک و صاف) کیا ہے یہ ایک دوسرے کی نسل میں سے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا (اور ) جاننے والا ہے‘‘ اس آیۂ مقدسہ سے خوب واقف و باخبر ہونے کے لئے اس حقیقت کا سمجھ لینا ضروری ہے، کہ جب حضرتِ نوح علیہ السلام کے ایک بیٹے کنعان نے اپنے والد کے دینِ برحق میں داخل ہونے سے صاف انکار کیا، تو قانونِ الٰہی نے اسے حضرتِ نوح علیہ السلام کی اولادوں سے خارج قرار دیا، چنانچہ قرآن کا ارشاد ہے: ’’( خدانے ) کہا اے نوح یقیناً وہ (بیٹا) تیرے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس نے اچھا کام نہیں کیا (۱۱: ۴۶)‘‘ اب اگر کنعان کی کوئی نسل باقی رہتی، تو حقیقت میں نوح علیہ السلام کی زریت نہیں کہلاسکتی، چونکہ یہ ذریت صرف کنعان ہی کی نسبت سے نوح علیہ السلام سے منسوب ہوسکتی تھی، پس آدم علیہ السلام ، نوح علیہ السلام ، آلِ ابراہیم علیہ السلام اور آل عمران علیہ السلام ایک دوسرے کی اولاد سے ہونے اور پاک و صاف ہونے کے معنی یہ ہیں، کہ ان حضرات کے غیر منقطع سلسلۂ ذریت کے پاک اشخاص میں نورِ خدا تاقیامت جاری و باقی ہے۔

۶۴

رکھا، اور لوگوں نے ظاہری علما ٔ کی پیروی کی، اسی سبب سے یہ لوگ گمراہ ہیں، اور انہی علمائے ظاہری کے ساتھ باقی رہے، یہ لوگ تقلیدی طور پر عبادت و دینداری کرتے تھے، یہاں تک کہ یہی تقلیدی عمل ان کا موروثی دین بن گیا، جس طرح زمانۂ جاہلیت میں تھا۔

          ۷۔ علمائے ظاہر بھی جانتے ہیں، کہ دنیا امام سے ایک طرفۃ العین کے لئے بھی خالی نہیں اور نہ کبھی خالی ہوگی، کیونکہ اگر دم بھر کے لئے وہ امام موجود نہ ہو، تو زمین اور اس کے باشندے ہلاک ہو جائیں گے، مگر دینوی سرداری اور اقتدار نے ان کو اس بات پر مجبور کردیا ہے، کہ وہ اس حقیقت کو چھپالیں اور منکر ہو جائیں، آخر انہوں نے انبیا ٔ و اولیا ٔ سے جو تنازعات کئے، ان کا سبب بھی یہی تھا، کہ وہ لوگوں میں معزز و محترم ہو جائیں۔

۶۵

اصلی مسرت کا مقام

          ۱۔ اے مومنو! تعجب ہے ان لوگوں سے، جو امام کے رستے پر نہیں اور وہ ہنسی خوشی کر رہے ہیں، اور اس سے بھی زیادہ تعجب ان لوگوں سے ہے، جو امامِ وقت سے انکار اور دشمنی کرتے ہیں، ان کی مثال اس چھوٹی بچے کی طرح ہے، جو پن چکی کے پرنالے پر یا گھر کی چھت پر یا ہاتھ میں ایک سانپ لئے ہوئے خوش ہورہا ہے (حالانکہ وہ سخت خطرے میں ہے) یہ غیر مناسب ہنسی اور بیجا و بے موقع خوشی، جو عوام کرتے ہیں، تو دیکھے گا کہ یکایک یہ ان کی ہلاکت، عذاب اور غم کا سبب بن جائے گی۔

          ۲۔ اے مومنو اور اے صداقت والو! ہنسی خوشی اس وقت کرو، جبکہ تم خطرات و آفات سے نجات پا چکے ہو، اور غرقابی سے (بچکر) ساحل پر اور سفر سے (سلامتی کے ساتھ) منزل پر پہنچ چکے ہو، یہ اس وقت حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ تم اپنے امامِ وقت  علیہ السلام کی معرفت میں پہنچ چکے ہو، امام علیہ السلام  کی غلامی (بندگی) و فرمانبرداری کر رہے ہو، آنجناب  علیہ السلام کی فرمانبرداری و یاد سے تم دم بھر کے لئے بھی غافل نہیں ہو، اور آنجناب علیہ السلام کی معرفت سے تمہارا ضمیر روشن ہو چکا ہو، ایسا وقت ہی تمہارے لئے مسرت و شادمانی کا وقت ہے۔

          ۳۔ پس قہقہہ مار کر ہنسنے سے، جو ناپائدار ملمع چیزوں کے سبب سے

۶۶

ہے، جن کی مثال بچوں کے کھلونوں کی طرح ہے، بہت ڈرا کرو، کیونکہ یہ ہنسی شیطان کی صورت ہے، اور یہ ہنسی بے ایمان شخص کا فعل ہے، ہنسی اپنے مالک کو خوار کر دیتی، انسان کو لوگوں کے نزدیک بے وقار، بے آبرو اور ھلکا کردیتی ہے، اور ہنسی غفلت سے ہے، اور غفلت بے وقوفی سے ہے، اگر ہنسنے والا بے وقوف نہ ہوتا، تو وہ یہ بات سمجھ لیتا، کہ امرأ، حکما یا کسی معزز شخص کے پاس لوگ نہیں ہنس سکتے ہیں، پس وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہنسی، بے ادبی، فحش، غیبت اور فعلِ بد کرتا ہے، وہ اپنے کام کی سزا پائےگا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

۶۷

برائی کا انجام

          ۱۔ اے مومنو! تم اپنے قول، سلوک اور عمل میں سچے رہو، اور ہر گز جھوٹی، فضول اور بیجا باتیں نہ کیا کرو، اور کم گوئی اختیار کرو، اور جو باتیں نہ پوچھی جائیں، وہ نہ بتایا کرو، ہمیشہ خدا کی راہ میں رہو، خدا کی راہ سے دست بردار نہ ہوجاؤ، اور جو کچھ حضرت خداوند اور پیر فرماتے ہیں، اسے سنو اور عمل میں لاؤ، اگر تم حق تعالیٰ سے رحمت چاہتے ہو، تو خدا تعالیٰ کے کام میں حاضر رہو، اور دینداری کے شائق رہو، کیونکہ تمہارے لئے حق تعالیٰ کے عدل و انصاف کا ایک وقت آئےگا، اور فصل کاٹنے کا وقت آنے والا ہے، جس میں ہر شخص اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹے گا، اور ہرشخص کو اپنے عمل کا بدلہ ملے گا، پس آخرت کے حساب کے خیال میں رہو، اگرچہ بہت سے کام ایسے ہیں کہ جن کا بدلہ لوگوں کو صرف قیامت میں ملتا ہے، تاہم بدی دنیا میں بھی تین چیزوں میں سے کسی ایک کو تباہ کردیتی ہے، یا مال کو یا عمر کو یا ایمان کو پس برے کام انتہائی احتیاط کے ساتھ پرہیز کرو، کہ برائی بہت ہی خطرناک ہے، برائی سے بہت سی برائیاں پیدا ہو تی جاتی ہیں۔

۶۸

زندہ سمندر

          ۱۔ حقیقی مومن کو سمندر کی طرح ہونا چاہیے، جو کمی بیشی سے اس میں تغیر نہیں آتا، اور اس میں گد لایا گندہ پانی کے داخل ہونے سے، یا کسی نجاست کے پڑنے سے اس کے رنگ و بو اور طبیعت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، پس مومن کو بھی چاہئے، کہ دنیوی مال کی کمی بیشی سے یا کس شخص کی برائی سے یا اس کی فحش باتوں سے یا ڈا کا مارنے سے یا بد زبانی و بدسلوکی سے متغیر نہ ہو جائے، ان چیزوں سے حقیقی مومن کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے، لہٰذا اس کا دل اپنے مولا کی محبت میں برقرار ہے، اور لوگوں کی برائی اور بھلائی اس ( امتحان کے) لئے ہے، کہ مومن غیض و غصہ نہیں کرتا، وہ اپنی قوتِ شہوانیہ اور قوتِ غضبیہ پر غالب آچکا ہے، اسی لئے مومن فحش گالی نہیں دیتا۔

          ۲۔ مومن بد زبان و تلخ کلام نہیں ہوتا، وہ بد معاملہ و بد سلوک نہیں ہوتا، بد فعل و بد کردار نہیں ہوتا، مومن بخیل نہیں ہوتا، وہ امامِ زمان  علیہ السلام سے غافل نہیں رہتا، ہمیشہ اپنے امام کا فرمان بردار اور اس کی رضا کا طلبگار رہتا ہے، مومن غیبت نہیں کرتا، وہ لوگوں کے مال اور عورتوں کی طرف خیانت کا ہاتھ نہیں بڑھاتا، اور شرم وحیا کے اوصاف رکھتا ہے۔

          ۳۔ پس اے مومنو! بری بات کرنے سے ڈرو، کیونکہ برائی آدمی کو بے ایمان بنا دیتی ہے، برائی لوگوں کے ایمان کو زائل کر دیتی ہے،

۶۹

اور ان کو دوزخی اور روسیاہ کر دیتی ہے۔

          ۴۔ اے مومنو! جس آدمی کی طبیعت میں غصے کا مادہ ہو، اس کے غصے کی آگ بھڑکتی ہے، جب وہ غصے کے زور سے گرم ہو جاتا ہے، تو اسی گرمی سے (اس کی ہستی میں) آگ لگ جاتی ہے، اور اس کے ایمان، نیک کام، ثواب، بندگی، دل کی روشنی، چہرے کی رونق، فہم و فراست کو یکسر جلادیتی ہے، اور اسی حرص کی آگ سے نفسانی خواہشات کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، جو پرلذت غذاؤں کی خواہش، مال، عزت و اقتدار ، لوگوں کی عورتوں کی خواہش اور عمدہ غذا و نفیس لباس کی خواہش ہے، یہ حرص گویا دوزخ ہے، جو تجھے خوار اور کنویں میں نگو نسار (اوندھا) کرے گی، پس جس حد تک تم سے ہو سکے، اپنی غضبی قوت اور شہوانی قوت کو قابو میں کر رکھو، تاکہ یہ تم کو لغزش و حرکت نہ دے سکے، تم کو نہ گرمائے تم میں کوئی تغیر نہ لائے اور تمہاری طبعی حالت نہ بدلائے، کیونکہ جب حرص نے کسی کی انسانی طبیعت و خصلت بدل دی ، تو وہ انسان حیوانِ بےایمان بن جاتا ہے۔

۷۰

دیدار کے لئے قربانیاں (۲)

          ۱۔ اے مومنو اور اے عزیز و! حقیقی مومنین حصولِ آخرت کے لئے غلط راستے کو چھوڑ کر صحیح راستے پر گامزن ہوئے، اور ٹیڑھے راستے سے دست بردار ہو کر سیدھے راستے پر ہولئے، انہوں نے خود بخود آخرت کی خاطر دیندار مومن بھائی کی خدمت اختیار کر لی، اور روشن ضمیر پیروں کی خدمت اختیار کر لی، اور اپنے معلم سے حق باتیں پوچھ کر ان پر عمل کیا، نیک لوگ حصولِ آخرت اور امامِ وقت کے دیدار کے لئے تختِ شاہی سے دست بردار ہوئے، یہ سب کچھ ان کی فطرت کے تقاضے سے ہے، کیونکہ بہت سی فطرتیں اس قابل ہیں، جو دینوی چند روزہ بادشاہی، سرداری اور عزت سے دست بردار ہوسکتی ہیں، اور نیک لوگ امام کے دیدار کے لئے ظاہری سرداری سے گذر کر (باطنی اور) ابدی سرداری کو پہنچتے ہیں، اور بہت سی ایسی خبیث فطرتیں بھی ہیں، جو امام علیہ السلام کے دیدار کو چھوڑ کر دنیوی سرداری طلبگار رہتی ہیں، وہ لوگ نور چھوڑ کر ظلمت کے طلبگار ہوتے ہیں، اور پانی چھوڑ کر آگ میں چلے جاتے ہیں۔

          ۲۔ نیک لوگوں نے دیدار کے لئے اپنے رشتہ داروں اور قومیت والوں کو چھوڑ دیا، انہوں نے دیدار کی غرض سے مال، ملکیت، بیوی، اولاد، عزت اور اقتدار سب کچھ چھوڑ دیا، اور نیک لوگوں کے پاؤں

۷۱

میں، امام علیہ السلام کے عشق اور دیدار کی تلاش میں، چھالے پڑپڑ کر پھوٹ گئے، انہوں نے آخرت کے لئے مجالس میں دینی بھائیوں کی خدمت کی، اور نیک لوگوں نے ایمان مکمل کر لینے کے لئے مومنوں کی مجلس میں شرکت کی، اور عبادت و بندگی کی، اپنے معلموں سے علمِ حقیقت کے سوالات کئے، علم یاد کرلئے، علم سیکھ لئے، بیٹھے اور سن لئے، اور حفظ کر کے عمل کر لئے، اور وہ سب دینِ حق کے عاشق ہیں۔

          ۳۔ اے مومنو! تم سب علیہ السلام کے پاک دین کا عاشق بنو، کلام اور علم سے واقف ہو جاؤ اور اپنے احوال و افعال سے غافل نہ رہا کرو، کیونکہ حق سے غافل ہونا آفت ہے۔

۷۲

اسرار امامت

          ۱۔ اے حقیقی مومنو! جہاں تک ہوسکے، اپنے حضرتِ خداوند کے راز (بھید) کو پوشیدہ رکھو، تاکہ نااہل اس سے واقف نہ ہو، اور جواہرات کو نادان سے مخفی رکھنا چاہئے، چنانچہ خداتعالیٰ نے پیغمبر صلعم سے فرمایا، کہ حقیقت کے اسرار (بھیدوں) کو زمانہ کے جاہلوں سے پوشیدہ رکھ لیجئے۔

          ۲۔ اے حقیقی مومنو! حضرت مولانا شاہ مستنصر باللہ ( علیہ السلام )فرماتے ہیں، کہ تم میرے اور اپنے امام شاہ عبدالسلام شاہ  علیہ السلام کے نام کو بے ایمان جاہلوں کے پاس، جن کو رسالت اور امامت سے فطری دشمنی ہے، زبان سے ظاہر نہ کیا کرو، تمہیں دل میں اور نہایت آہستگی سے پڑھنا چاہئے، اور ہمارے راز کو زمانہ کے غیر دین والوں سے پوشیدہ اور مخفی رکھا کرو، تاکہ تم فیض اور حیاتِ طیبہ کے درجۂ کمال کو پہنچ سکو، اور خداوند کریم تم اخلاص والوں سے راضی ہوگا، تمہارے دل روشن اور پرنور ہوں گے، اور تم شادمان رہو گے۔

۷۳

باہمی امداد و اتفاق

          ۱۔ اے مومنو! حقیقی دیندار وہ شخص ہے، جو آخرت کی نجات چاہتا ہو، اسے چاہئے کہ اپنے حقیقی دیندار بھائی کی مدد کرے، تاکہ وہ اہلِ نجات میں سے ہو، حقیقی مومنین وہ ہیں، جو اپنے دینی بھائیوں میں باہمی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کی یاری کرتے ہیں، جو کچھ میسر ہو مل کر کھاتے ہیں، غم اور خوشی میں ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں، ان کے دل میں ہرگز کینہ اور عداوت نہیں، ہوتی، ان کا ظاہر و باطن ایک ہوتاہے، یہ مومن شکم سیر ہو، تو وہ مومن خود کو شکم سیر سمجھتا ہے، وہ بھوکا ہو، تو یہ اپنے آپ کو بھوکا متصور کرتاہے، جب یہ کھائے تو وہ خوش ہوتا ہے، اور جب وہ کھائے تو یہ خوش ہوتا ہے، ایسے مومنین دنیا میں بھی متحد ہیں، اور آخرت میں بھی خداوند کے حضور میں متحد ہوں گے۔

          ۲۔ جو شخص انسان ہو، وہ اپنے دینی بھائی کے ساتھ متفق و متحد ہے، کیونکہ انسانی روح متحد ہے، اور حیوانی روح متفرق ہے، اور ضدیت و مخالفت حیوانی روح کی وجہ سے ہے، حیوانی روح کی زندگی غذا سے میسر ہوتی ہے، اسے غذا نہ ملتے ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرتا، کہ وہ ہلاکت ہو جاتی ہے، اور انسانی روح امام علیہ السلام کی معرفت اور اہلِ حق کی محبت سے زندگی حاصل کرتی ہے، اگر یہ دونوں چیزیں میسر نہ ہوں تو

۷۴

یہ ہلاک ہو جاتی ہے۔

          ۳۔ پس اے مومنو! اگر تم چاہتے ہو، کہ دونوں جہان میں زندہ رہو، تو ایمان کو مکمل کرلو، کیونکہ نورِ ایمان کے ذریعہ ابدی حیات تک رسا ہوسکتے ہیں، اور ایمان امامِ وقت  علیہ السلام  کی شناخت و معرفت اور فرمانبرداری سے، اور آنجناب کے پیروؤں کی محبت سے حاصل اور کامل ہو جاتا ہے، پس اپنے امام کی پیروی کرو، اور ایک دوسرے سے راضی اور متحد رہو، تاکہ تم دونوں عالم میں زندہ ہو سکو، اور آخرت میں نیک لوگوں اور انبیا ٔ علیہم السلام و اولیا ٔ علہیم السلام کے ساتھ اور امام علیہ السلام کے حضور میں اٹھائے جاؤ گے، اور انتہائی مسرت سے ایک دوسرے کو دیکھو گے۔

          ۴۔ پس اے مومنو! آخرت کے کام خواہ اچھے ہوں یا برے، دنیا ہی میں مکمل ہو تے ہیں، پس تمہیں دنیا میں باہمی صاف دلی اور محبت ہونی چاہئے، اور ایک دوسرے سے دوستی ہونی چاہئے، تاکہ کل قیامت کے روز تم امامِ زمان صاحب الامر علیہ السلام کے مقدس حضور پُرنور میں اور آنجناب علیہ السلام کے تخت کے نزدیک انتہائی مسرت و شادمانی سے ایک دوسرے کے ساتھ رہو گے۔

          ۵۔ اے مومنو! کسی شرم کے بغیر ایک دوسرے کی خدمت کر لیا کرو، اور اس میں ننگ و ناموس نہ کیا کرو، کیونکہ (بیجا ننگ و ناموس کرنے کے باعث) تم فیض سے دور رہ جاتے ہو، تم ایک دوسرے کے حال احوال سے آگاہ ہو جاؤ، ایک دوسرے کے گھروں میں آیا جایا کرو، اور تمہارا خیال ایک دوسرے کا مال کھانے کے لئے نہ ہو، ایسا نہ ہو کہ تم منافقوں کی طرح ایک دوسرے کی برائی کرنے لگو، بلکہ تیرا خیال یہ ہونا چاہئے، کہ تو اپنا کھانا اپنے مومن بھائی کو کھلائے، اور وہ اس خیال میں ہو، کہ اگر اس

۷۵

سے ہوسکے، تو وہ تجھے کھلا دے، اگر تم سے ہو سکے، تو اس خیال میں رہو، کہ اپنے کام پر مومن بھائی کے کام کو ترجیح دو، ہمیشہ تم جس کام اور معاملہ میں بھی ہو، جب مومن بھائی مطمئن ہوا تو تم مطمئن ہو جاؤ، اگر تمہارا کام بن گیا اور مومن بھائی کا کام ادھورا رہا، تو تم اطمینان سے نہ رہا کرو، یوں سمجھو جیسا کہ تمہارا اپنا کام ادھورا رہا ہو، اور اگر مومن بھائی کا کام بن گیا، یا اسے زیادہ فائدہ حاصل ہوا، یا ( اس کا مالِ تجارت) زیادہ اور اچھی قیمت پر بک گیا، تو تم اسے اپنے کام بن جانے کی نسبت زیادہ خوش ہو جایا کرو، اور اگر مومن بھائی کو فائدہ ہوا، تو یوں سمجھ لو کہ گویا تمہیں فائدہ ہوا، اسی صورت میں تم سب کو برکت، سلامتی اور خوشحالی حاصل ہوگی، تمہارا دل روز بروز روشن تر ہو تا جائےگا، تمہاری خوشی بڑھتی جائےگی، اور تمہارا اعتقاد کامل تر ہوتا جائےگا، اور اگر تم نے اپنے کام کو (مومن بھائی کے کام پر) ترجیح دی، اور اس خیال میں رہے، کہ تمہارا اپنا منافع زیادہ ہو، یا اس کے مال کو کھانا اور لے جانا غنیمت سمجھے اور تمہارا خیال یہ ہو، کہ تم اس کے مال کو لے کر اپنا مال بڑھا سکو، ایسے میں لازماً تمہارے مال سے خیروبرکت اٹھ جاتی ہے، اور تم خدا کی رحمت کو نہیں پہنچو گے۔

          ۶۔ جب کبھی تم دینی بھائی ایک دوسرے کے دوست اور خیر خواہ ہوتے ہو، تو خدا بھی تم سے راضی اور خوش رہتا ہے، اور بدی ہر گز نہ دیکھو گے، اور اگر تم ایک دوسرے کے دشمن اور بدخواہ ہوگے، تو خدا تم سب سے بیزار ہے، اور اگر بدی صرف ایک ہی طرف سے ہو، تو صرف وہی ایک فریق برائی میں گرفتار اور نگونسار ہوگا۔

۷۶

کشت گاہِ آخرت ؎۱

          ۱۔ اے بھائیو اور اے عزیزو! اگر کوئی شخص بیج نہ بوئے، تو وہ کیا حصول اٹھائے گا، تم جو کچھ بوتے ہو وہی اگتا ہے، پس نیکی کے بیج بودو، یعنی نیک کام کرو، تاکہ آخرت میں تم کو اچھا حصول ملے، تم دنیا کے معاملے میں جو کچھ خرچ کرتے ہو، وہ فنا اور ختم ہو جاتا ہے، اور راہِ خدا میں جو کچھ دیتے ہو، تو اسی کے ذریعہ آخرت میں تمہاری دستگیر ی ہوتی ہے، جو کچھ تم اپنے مولا کی راہ میں دیتے ہو، اس کا عوض دنیا میں سو گنا اور آخرت میں ہزار گنا تمہیں حاصل ہو جاتا ہے، پس کوئی زراعت اور کوئی تجارت اس سے بہتر نہیں، کہ تم اپنے حلال مال کو اپنے مولا کی راہ میں صرف کرو، اور اس سے برتر کوئی دولت ہی نہیں، کہ تمہیں اپنے امامِ وقت علیہ السلام  کا راستہ مل جائے، اور اس سے بالاتر کوئی عبادت نہیں، کہ تم ہمیشہ اپنے امامِ زمان علیہ السلام کے ذکر میں لگے رہو، زہے نیک بختی، اس شخص کی، جس کو یہ مطلب حاصل ہو، جو ایسی لازوال نعمت کو پہنچے اور جس کو یہ ایسی دولت نصیب ہو۔

          ۲۔ جس کا دل اور زبان ایک ہو، تو صرف اسی کو خدا کے حضور میں کوئی قربت و منزلت میسر ہوسکتی ہے، اور جس کا دل و زبان ایک نہ ہو،

؎۱: آخرت کی کھیتی، چنانچہ حدیثِ شریف ہے: الدنیا مزرعۃ الاخراۃ۔ یعنی دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔

۷۷

تو وہ کسی مقام کو نہیں پہنچ سکتا، حقیقی مومن وہی ہے، جس کا دل اور زبان ایک ہو۔

          ۳۔ دیندار مومن وہی ہے، جو ہمیشہ خداوند کے ذکر میں ہو، اس کا دل خداتعالیٰ کے عشق میں اور اس کی زبان حق تعالیٰ کی توصیف و ثنا میں ہو، راہِ حق کے رہنماؤں کی نصیحت سنتا ہواور اس پر عمل کرتا ہو، اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہو، نیک کام کو اول خود انجام دیتا ہو اور اس کے بعد دوسروں کو اس کی ترغیب دیتا ہو۔

۷۸

خدا کی معرفت

          ۱۔ انسان اپنے پروردگار کی معرفت اس وقت حاصل کر سکتا ہے، جبکہ اس نے اپنے آپ کی معرفت حاصل کر لی ہو، اول؎۱ چاہئے کہ تو اپنے جسم کو جزو جزو پہچان لیا کرے، اس کےبعد تجھے جان لینا چاہئے، کہ تو خود بخود پیدا نہیں ہوا ہے، کسی دوسرے نے تجھے پیدا کر دیا ہے، پھر تجھے غور و فکر کرنا چاہئے ، کہ کس نے تجھے پیدا کر دیا ہے؟ اور اس دنیا میں کیوں لایا ہے؟ اور کہاں لے جانے والا ہے؟

          ۲۔ اس کے بعد تجھے معلوم ہوگا، کہ اگر تیرا بدن اعتدال پر ہے، تو وہ بیماریوں سے سلامت ہے، اگر اعتدال پر نہیں، تو بیمار پڑتا ہے، اس وقت انسان خود کو ناموافق غذاؤں سے بچاتاہے، اور وہ خود کو ظاہر سے باطن کی طرف لے جاتا ہے( یعنی جسم سے روح کی مثال لیتاہے) کہ اگر اپنے آپ کو افراط و تفریط ؎۲ سے بچائے، اس کا ہر کام اعتدال پر ہو، افراط و تفریط نہ کرے اور اخلاق کی اصلاح و درستی کرے،

؎۱۔ یہ اشارہ ہے، اس حدیثِ شریف کی طرف: من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔ جس نے اپنے وجود یعنی چار نفوس: نفسِ نباتی، نفسِ حیوانی، نفسِ ناطقی اور روحِ قدسی کو پہچانا، پس اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا۔

۲۔ افراط: بیشی ، تفریط، کمی۔ پس افراط و تفریط کا مطلب ہے غیر معتدل حالت، یعنی جس میں کمی بیشی ہو۔

۷۹

یہاں تک کہ اپنی ذات سے چوپایوں اور درندوں کی عادات کا خاتمہ کرے، اور انسان صفات سے متصف ہو جائے اور اپنے نفس کو پاک و صاف کر دے، جونہی اس کا دل پاک ہوا، شک و نفاق اس کے دل میں نہ رہا، اپنے امامِ زمان علیہ السلام کی معرفت پر یقین کیا، اور امام علیہ السلام کو ہر جگہ اپنے روبرو حاضر و ناظر دیکھا، تو اس وقت وہ علم الیقین میں پہنچتا ہے، اور حق الیقین کے مرتبے میں اس وقت پہنچتا ہے، جبکہ اس کا قلب نورِ یقین سے روشنی ہو جاتا ہے، اور وہ اپنی جان کو نورِ یقین کی روشنی میں دیکھنے لگتا ہے، اس کے بعد جہاں (یعنی جس مرتبے میں) اس کا پروردگار ہے، عین الیقین سے اس کا مشاہدہ کرتاہے، یہ سب کچھ اس وقت حاصل ہوتا ہے، جبکہ تو اپنے پیر اور رہنما کے فرمان پر عمل کرے، اور ایسے لوگوں کی پیروی کرے، جو راہِ حق پر چلے ہیں، یہ وہ راہنماہیں، جو امام علیہ السلام کی راہ کے سوا از خود کوئی راہ نہیں دیکھاتے، راہِ حقیقت میں صادق اور باخبر ہیں، یہ دنیوی اغراض سے آزاد ہوئے ہیں، اور امام علیہ السلام ، پیر اور معلم کے معاملات میں سرکشی اور چون و چرا نہیں کرتے، کیونکہ دینی بزرگ اور باخبر حضرات یعنی امام علیہ السلام ، حجج، دعاۃ؎۲ اور طریقِ حق کے معلمین ؎۳ کی مثال طبیبوں، دانشمندوں، استادوں اور داناؤں کی طرح، شفیق ناصح کی طرح اور دایوں کی طرح ہے، اور باقی سب لوگ مریض اور شیر خوار بچوں کی مانند (محتاجِ پرورش) ہیں، مریض اور شیر خوار بچوں کو لازمی ہے، کہ وہ اپنے طبیب اور پالنے والے کی اطاعت کریں، اور ان کا سب سے بڑا فائدہ اسی میں ہے، اگر وہ مخالفت اور انکار کریں، تو اس طریقِ کار سے ان کو نہایت ہی نقصان پہنچے گا، اور آخرکار ان پر ملامت آئے گی۔

؎۳۔ حجج۔ حجت کی جمع، دعاۃ۔ داعی کی جمع

۴۔ معلمین۔ معلم کی جمع

۸۰

          ۳۔ پس راہرو کے لئے لازمی ہے، کہ وہ راہبر کی پیروی کرے، تاکہ سلامتی سے منزل میں پہنچ جائے، پس جو لوگ ہماری محبت میں رہنا چاہتے ہوں، تو ان کی زبان سچی ہونی چاہئے، وہ جھوٹ بولنے والے اور غیبت کرنے والے نہ ہوں، ان کی آنکھیں پاک ہوں، اور غیر عورتوں اور مالِ بیگانہ کی طرف حسرت و خیانت کی نگاہ سے نہ دیکھیں، ان کا دل پاک ہو، ان کے دل میں دنیا اور مال و متاع کی محبت، عزت و اقتدار کی آرزو اور میٹھے کھانوں کا شوق نہ ہو، وہ عمل میں راست باز ہوں، ان کا منہ پاک ہو، حرام لقموں کے کھانے سے اور دسواں (دہ یک) جو امام زمان علیہ السلام کا مال ہے، کے نہ دینے سے، اور یتیم کے مال پر قبضہ کرنے سے اپنے منہ کو گندہ نہ کرتے ہوں، خاموش رہتے ہوں، ان کا خیال دنیوی آرائشوں کی طرف نہ ہو، ان کا خیال اپنے امام حاضر الوقت علیہ السلام کی جانب ہو، امام زمان علیہ السلام کے دیدار کے سوا کوئی چیز ان کے دل میں اور ان کی نظر میں جلوہ گر اور جاذب نہ ہو، ان کا خیال دنیا و آخرت کی طرف نہ ہو، بلکہ امام علیہ السلام کے دیدار اور آنجناب کی خوشنودی کی طرف ہو، سچائی سے حقیقت کی راہ پر چلیں، کارِ حرام کے پیچھے نہ جائیں، اور پاکیزہ و پرہیز گار رہیں، یعنی (حرام و حلال) تمام چیزوں سے پرہیز کر کے امام علیہ السلام کی معرفت کی طرف بڑھ جائیں، اس لئے کہ امام علیہ السلام کے سوا محسوسات اور غیر محسوسات کی ہر چیز ، خواہ بری ہو یا اچھی، فی الواقع آگ کی سی آفت ہے، پس جس طرح تم کاٹنے اور پھاڑنے والے جانوروں سے پناہ کی طرف دوڑتے ہو، اور (جس طرح دوسری تمام) بلاؤں سے خود کو بچاتے ہو، اسی طرح تمہیں دنیا اور تمام اہلِ دنیا سے بچ جانا چاہئے، اور دنیا کے مالک کے حضور میں پناہ لینی چاہئے، کیونکہ مکمل امن و آسائش کا مقام یہی ہے۔

۸۱

          ۴۔ پس اے مومنو! حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنا منہ نافرمانیوں سے موڑ لیتا ہے، اور حقیقی بادشاہ کی اطاعت کرتا ہے، حق تعالیٰ کی طرف رخ کر لیتا ہے، پیر کے امر کو بجا لاتا ہے، جس طرح پیر مولا کے امر کو بجالاتے ہیں، جس طرح پیر امام علیہ السلام کے فرمان کے تحت ہیں اور امر سے تجاوز نہیں کرتے، اس طرح معلموں کو بھی پیر کے امر و فرمان کے تحت رہنا اور تجاوز نہیں کرنا چاہئے، تاکہ مراد کو پہنچیں، اور مومنین بھی معلم کے فرمان سے تجاوز نہ کریں، اور اس سے تعلیم حاصل کریں، امام علیہ السلام کی معرفت اور احکامِ دین سیکھ کر ان پر عمل کریں تاکہ مراد کو پہنچیں۔

          ۵۔ پس مرشد اور رہبر جو کچھ تمہیں تعلیم دیتا ہے، جو تم کو پند، وعظ اور نصیحت کرتا ہے، اور تمہیں صحیح و سلامت امامِ حاضر علیہ السلام کی حقیقت و معرفت میں پہنچا دیتا ہے، تم جان و دل سے اس کے لئے قبول کرو، اور اس نعمت کا شکر کرو، کہ اگر انسان ایک سیدھی راہ کے درمیان چل رہا ہو، اور اس کے ساتھ ایک روشن چراغ ہو، تو وہ نہایت ہی سلامتی اور آسائش سے اپنے وطن میں پہنچ جاتاہے۔

          ۶۔ پس ہر کاروبار اور ہر معاملے میں جب کوئی دانا اور تجربہ کار شخص موجود ہو، تو وہی معیوب اور غیر معیوب جنس میں فرق و امتیاز کر سکتا ہے، اصل و نقل کو پہچانتا ہے، وہ اس میں دھوکا نہیں کھاتا، اور بے عیب اصلی جنس خریدتا ہے، پس معلمِ صادق کی دانش، جو کامل اور باخبر مرشد ہے، تجھے غلط راستے سے صحیح راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے، گمراہی  کے کنویں سے نکال دیتی ہے، ہلاکت کے بیابان سے بچاؤ کی آبادی میں منتقل کر دیتی ہے، گمراہی کے دریا سے نجات کے ساحل پر پہنچا دیتی ہے، اور پر آفت جگہ سے اور جانوروں، درندوں، گزندوں اور

۸۲

جنات کے دست و چنگل سے (چھڑا کر) مقامِ امن، جو امام علیہ السلام کی شناخت ہے، میں لے جاتی ہے۔

          ۷۔ اے مومنو! جب کوئی شخص مذاق اور بیہودہ باتیں کرتا ہو اور ہنسا نے کی باتیں کرتا ہو، اور دوسرے لوگ اس کے سامنے کھڑے (یا بیٹھے) ہوئے ہنس رہے ہوں، تو وہ سب کے سب شیطان ہیں۔

۸۳

تقلید کے نتائج

          اے مومنو! سنو اور حق بات کو اپنے دل و دماغ میں محفوظ رکھو، حق تعالیٰ کے فرمان کو یاد رکھو، اور حقیقی علم کی باتوں کو سن لو اور اپنے دل میں رکھو، کیونکہ بہت سے لوگ خود رائی، خود پسندی اور بے تعلیمی سے گمراہ ہو گئے ہیں، وہ قیل و قال، جھوٹے قول اور تقلید؎۱ میں رہ گئے ہیں، انجام سے بے خبر ہیں، وہ اپنی فرضی اور برائے نام دانش سے اور اپنی سرداری اور مالِ دنیا سے مغرور ہوچکے ہیں، روزِ قیامت میں جلادینے والا سورج ان پر طلوع ہوگا، اور سخت ترین حساب کی جگہ کھڑے کئے جائیں گے، اور یہ عوام علم کا کوئی حصہ نہیں رکھتے، تقلید میں گمراہ ہو جاتے ہیں، ان کی نکیل (یعنی اختیار) ڈاکو چھلاؤں؎۲ (جنات) کے ہاتھ میں ہے، جنہوں نے سب کو راہِ حق سے نکال دیا ہے، اور سب گمراہی کے سمندر میں غرق ہوئے ہیں، مگر وہ اپنی گمراہی کا کوئی احساس نہیں رکھتے، سب فرقہ فرقہ ہوئے ہیں، وہ اپنے غلط کام سے بے خبر ہیں، وہ نہیں جانتے کہ ان کے کام کا کیا انجام ہونے والا ہے، سب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، اور مرنے کے

؎۱: تقلید دینی معاملات میں ایسی پیروی کو کہتے ہیں، جو تحقیق کئے اور سوچے سمجھے بغیر کی جاتی ہے۔

؎۲: چھلاوہ غول بیابانی کا ترجمہ ہے، جو ایک قسم کا جن متصور کیا جاتا ہے۔

۸۴

بعد ان کو خبر ہوگی، مگر اس وقت ان کے باخبر ہونے میں کوئی فائدہ نہیں، اور وہاں پشیمانی و حسرت کے سوا ان کے لئے کوئی چیز نہیں۔

          ۲۔ مومن کو دنیا ہی میں قیامت سے اور اپنے کام کے انجام سے باخبر رہنا چاہئے، عوام اور ان کے پیشواؤں کی مثال بوڑھی گائیوں اور قصاب کی طرح ہے، کہ قصاب (آخر کار) چھری کی دھار سے ان سب کا چمڑا اتار لیتا ہے، اور وہ گائیں اس انجامِ کار سے بے خبر رہتی ہیں، پس ہر گز ہر گز تم اہلِ تقلید میں سے نہ ہوجانا، اور علمائے جور کی پیروی نہ کرنا جو علمائے ظاہری ہیں، جو امامِ وقت کے موجود ہونے سے، آنجناب کی  راہ پر چلنے سے اور ان کے حضور میں مشرف ہونے سے منکر ہیں، اور اگر کوئی شخص کہے کہ ’’امام حی و حاضر ہیں، تجھے اس کی راہ حاصل کرنی چاہئے‘‘ تو اس بیچارے استاد کے متعلق کفرو بے دینی کا فتویٰ دیتے ہیں، اور اسے سنگسار کرتے ہیں۔

          ۳۔ ان خود پرست علما سے خدا کی پناہ لو، کہ انہوں نے اپنے لئے عجیب قسم کا خیالی پلاؤ پکایا ہے، اور اپنے لئے عجیب طرح کا پانی نہر میں بہا دیا ہے، کہ انہوں نے اسی جملے کے ذریعے سے لوگوں کی زبان بند کرادی ہے، جو کہتے ہیں، کہ ’’تم کفر کی باتیں کرتے ہو‘‘ اور انہوں نے ایک عام نادان شخص کو اپنا پیر قرار دیا ہے، اور ہر پاکیزہ فطرت شخص، جو امام سے واقف ہوتا ہے، وہ ان خود پرست دشمنوں کے باعث کچھ کہہ نہیں سکتا۔

          ۴۔ ان ریاست و سرداری کے طلبگاروں نے یہ دیکھ لیا، کہ جس وقت بھی انہوں نے خدا کے نور کو بجھانے کے لئے امامِ وقت کو ایذائیں پہنچائیں اور آنجناب کے خلاف جنگیں لڑیں، تو وہ ناکام ہی رہے، آخر انہوں نے عاجز آکر مکر اور جھوٹ سے کام لیا، اور کتابوں میں لکھ

۸۵

دیا کہ امام صرف آخرزمان میں کچھ کہے گا، اور لوگ (اس وجہ سے) امام علیہ السلام کی راہ دیکھ پانے سے رہ گئے، اور سارے عوام نے اس جھوٹی بات پر باور کر لیا، یہاں تک کہ وہ سب امامِ وقت علیہ السلام کے دیدار سے بے نصیب ہو گئے، حالانکہ امام علیہ السلام سورج کی طرح دنیا میں ظاہر ہیں، اور وہ لوگ از خود امام علیہ السلام کے دشمن اور ظہور کے منتظر ہیں، انہوں نے علمائے ظاہر کی فرمانبرداری اور تقلید میں اپنی زندگی برباد و ضائع کر دی ہے۔

۸۶

سب سے بڑی دولت

          ۱۔ اے مومنو اور اے صداقت والو! شکر کرتے رہو، کہ تم اس دولت سے مستفیض ہو گئے ہو، اور تمہاری سعادتمندی اور خوش نصیبی تھی، جو یہ (لازوال دولت ) تمہارے ہاتھ آگئی، اور وہ لوگ تم پر غالب نہ آسکے، (یعنی وہ تم کو گمراہ نہیں کرسکے) اور محتاط رہو، اور ہمارے بھید کو ان نااہلوں سے پوشیدہ رکھو، اور ان آدمی نما جنات سے ڈرتے رہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو ہلاک کر ڈالیں اور جس طرح وہ خود کھچے ہوئے ہیں اسی طرح تم کو بھی بدبختیوں کی تاریکیوں میں کھینچ نہ لے جائیں۔

          ۲۔ اے مومنو! خدا کا راستہ اختیار کرو، اور خدا کے راستے میں خیرات و عطیات دیا کرو، اور گریہ و زاری اور عبادت کرتے رہو، اور اس نعمت کی قدردانی کرو، مبادا کہ تم ہار جاؤ، اور بیش بہا موتی کی حفاظت کرنی چاہئے، تم دیکھتے ہو، کہ جس شخص کے پاس کوئی اچھا مال و متاع ہو، تو وہ کس قدر اس کا خیال رکھتا ہے، پس دینِ حق اور امامِ وقت علیہ السلام کی معرفت سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں، اور اپنے پیرکا دامن پکڑو، تاکہ طوفانوں سے بچکر رہو، اور شیطان کا ہاتھ تم پر نہ پہنچ سکے۔ اور حرام خوری سے اپنے آپ کو بچاؤ، تاکہ تمہارا دل کالا نہ ہو، اور جس شخص کا دل ذکر کرتے وقت بھاری، سخت اور سیاہ محسوس ہوتا ہو، تو یہ اس کے شوق نہ ہونے اور سستی آنے کی وجہ سے ہے، جو حرام خوری اور مالِ واجبات

۸۷

نہ دینے کے سبب سے ہے، پس مالِ واجبات پہنچا دیا کرو، اور امام علیہ السلام کے امر کو قبول کرتے رہو، کسی سے بدی نہ کرو، خیرخواہی اختیار کرو، نیک افعال، نیکی اور پرہیزگاری کے لئے آپس میں امداد اور ترغیب دیتے رہو، تاکہ تمہارا دل روشن ہو، اور اپنے مولا کے ذکر سے تمہاری تمام مشکلات آسان ہو جائیں۔

۸۸

مالِ واجبات

          ۱۔ اے مومنو! جو شخص شاہ (یعنی امام علیہ السلام ) کے مال کو روک لیتا ہو، اور اس کو اپنے مال سے جدا نہ کر دیتا ہو، اور اس کی آنکھ اور دل میں یہ مال اچھا لگتا ہو، تو اس کا دل کالا ہو جاتا ہے، اور وہ بدکار و بد عمل ہو جاتا ہے، اور اخیر میں اپنے آپ کو دوزخی کر دیتا ہے۔

          ۲۔ اے مومنو! آگاہ رہو اور غافل نہ ہوجاؤ، کہ (مالِ واجبات کھانا) بہت ہی مشکل اور بھاری لقمہ ہے، اور بہت سی تکالیف اٹھانے کے باوجود بھی یہ لقمہ گلے سے نہیں اترے گا، یہ باطنی قسم کی بیماریوں کا باعث ہو جاتا ہے، مالِ واجبات کا کھا لینا آخر کار آدمی کو ہلاک کردیتا ہے، اور اس دہ یک (یعنی دسواں) کے حساب میں بہت سی حکمتیں اور بے شمار آزمائشیں پوشیدہ ہیں، اور اس کے نہ دینے میں بہت سی آفتیں اور بلائیں پنہان ہیں اور یہ بہت ہی مشکل کام ہے، تم اسے ہلکا اور آسان مت سمجھنا، کیونکہ یہ بڑا سنگین اور بھاری بوجھ ہے (واجبات) دینے اور لینے والے کو چاہئے، کہ سچائی سے اور مکمل طور پر مولانا کے دربار میں پہنچا دیں۔

۸۹

امام کی شناخت

          ۱۔ اے مومنو! خبردار ہو، تاکہ تم سے غلطی نہ ہو، کیونکہ اس راہ میں بہت ہی دقت اور باریک بینی سے (کام لیتے ہوئے) چلنے کی ضرورت ہے، یہ ایک مشکل نعمت ہے، جو آسانی سے نہیں دی جاتی ہے، جب ظاہری نعمت اتنی دشواریوں کے بعد حاصل ہوتی ہے، تو باطنی نعمت کیونکر آسانی سے ہاتھ آئے، پس باطنی نعمت کے لئے، جو امام علیہ السلام کی شناخت ہے، جان دینی چاہئے، پس تم اس لازوال اور بے پایان نعمت کی قدر دانی کرو اور اپنے مولا کے شکر گزار رہو، کہ اس نے تمہیں عطا فرمائی ہے اور اپنی معرفت کی تعلیم دی ہے، ورنہ ان جنوں، آفتوں اور بلاؤں کے ہوتے ہوئے اور اس تمام قذاقی اور ڈکیتی کے باوجود تم سے کہاں ہو سکتا تھا، کہ امام علیہ السلام کا راستہ دیکھ پاؤ، انہوں نے کوئی ایسی دیوار کھڑی نہیں کر دی ہے، کہ بیچارہ عوام اس سے آگے بڑھ سکیں، انہوں نے ایک ایسی گانٹھ لگا رکھی ہے، جس کے کھولنے سے عوام عاجز رہ گئے ہیں، انہیں حیران و سرگردان ہو کر حسرت و ارمان بھرے دل کو مٹی میں لے جانا پڑے گا، مگر ان کو امام علیہ السلام کا دیدار نصیب نہ ہوگا۔

۹۰

مشاہدۂ نور

          ۱۔ ہوشیار رہو، کہ میں نے تمہیں ایک بہترین راستہ دکھایا، اور جو کچھ تمہاری نجات، آخرت کی رستگاری اور تمہاری دنیا و عقبیٰ کی صلاح کا سبب تھا، وہ سب میں نے تم کو بتا دیا ، اور تمہاری عقل کے مطابق اور تمہاری سمجھ بوجھ کے موافق میں نے تم سے بات کی، اور جو کچھ تمہاری حدِ قوت میں تھا جسے تم حدِ فعل میں لا سکتے تھے، میں نے اس کے متعلق کوئی ہدایت فروگذاشت نہیں کی، اب تم پر فرمانبرداری لازمی ہے، اور تمہیں سیدھی راہ پر لایا، جو صراطِ مستقیم ہے، پس اپنی راہ پر گامزن ہو جاؤ، اپنے وقت کے امامِ حاضرعلیہ السلام کی خوشنودی کے طلبگار رہو، اپنے امام علیہ السلام کو دیکھا کرو، کہ وہ سورج کی طرح ظاہر ہیں، اور دل و دیدہ (آنکھ) کو کدورت و آلائش اور زمانہ کی رنگینیوں سے پاک کئے رکھو، تاکہ تم علیہ السلام کے پاک نور کا مشاہدہ کر سکو، اور ان کے جانشین کو، جو امام علیہ السلام کے وصی اور آل ہیں، قبول کرو، اور ان کے متعلق اختلاف نہ کیا کرو، جس طرح گزشتہ زمانے میں کیا، انہوں نے امام علیہ السلام کو چھوڑا، اور غیر امام کو امام علیہ السلام کی جگہ قرار دیا، آخر کار خالی ہاتھ رہ گئے۔

۹۱

بنیادی غلطی

          ۱۔ میرے بزرگوار دادا حضرت شاہ حسین (علیہ السلام)کے زمانے میں بعض لوگ امام علیہ السلام کو چھوڑ کر محمد حنفیہ کی طرف گئے، شاہ زین العابدین (علیہ السلام) کے زمانے میں بعض لوگوں نے امام علیہ السلام کو چھوڑ کر زید کو لیا، میرے جد شاہ جعفر الصادق ( علیہ السلام) کے زمانے میں کچھ لوگ امام علیہ السلام کو چھوڑ کر موسیٰ کاظم کے معتقد ہوئے، بعض عبد اللہ (کی امامت) کے قائل ہوگئے، اسی طرح میرے دادا شاہ مستنصر باللہ علیہ السلام کے عہد میں کچھ لوگ امام کو چھوڑ کر مستعلی کے پیرو ہوگئے، آخرکار یہ سب سرگردان اور امام علیہ السلام کے دیدار سے محروم رہ گئے، یہ سب کچھ ان کی غفلت کی وجہ سے اور اس قدر ان کی غلط روایات کے سبب سے ہوا، انہوں نے اپنے باطن اور اپنے دل کو صاف نہیں کیا اور قدردانی نہیں کی (اس لئے) ان کی نعمت زوال ہوگئی، ان کے لئے ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ جن سے ان کی یہی صورتحال ہوئی۔

          ۲۔ پس ناشکرگزاری نعمت زوال ہو جانے کا باعث بن جاتی ہے، پس قدردانی کرو، اور جو کچھ فرمایا گیا وہ جواہر کی طرح اپنے کان میں لو، اور جو کچھ پیر امر کرتے ہیں، اس پر قائم رہا کرو، اور معلم کے فرمان پر عمل کرو، اور حاضر جامہ ؎۱ کی اطاعت، جو رائج

۹۲

سکے ؎۲ کی مثال ہے، شرعاً و عقلاً  ؎۳ واجب ہے۔

          ۳۔ یہ تمام پندیات حضرت مولانا شاہ مستنصر باللہ (علیہ السلام) نے مجلسوں اور محفلوں میں جماعت کو وعظ و بیان فرمائی ہیں، اور جماعتوں، خیر خواہوں اور طالبوں کو (یہ پندیات) بار بار نصیحت فرمائی ہیں، اس حقیر نے جو کچھ الفاظ سن لئے تھے، ان کو اپنے حفظ میں محفوظ رکھ لیا تھا، یہاں تک کہ یہ الفاظ رشتۂ تحریر میں آگئے، تاکہ ان شاء اللہ آنے والوں کے لئے باقی رہیں، کیونکہ ہر زمانے کے مومنین پڑھ لیا کریں گے، یا سن کر عمل کریں گے، تاکہ وہ اگلے مومنین کی طرح اہلِ نجات ہوں، بعون اللہ الملک المنان و علیہ التکلان۔؎۴۔

تمام شد پندیات بزرگ

؎۱: حاضر جامہ علیہ السلام ۔ نورِ امامت کا موجودہ لباس، یعنی حاضر امام علیہ السلام

؎۲: رائج سکہ۔ چلتا ہوا سکہ۔

؎۳: شرعاً و عقلاً۔ شرعی طور پر (بھی) اور عقلی طور پر (بھی)۔

؎۴: اللہ تعالیٰ کی مدد سے جو بہت احسان کرنے والا بادشاہ ہے اور اسی پر بھر و سہ ہے۔

۹۳

پندیاتِ کوچک

          ۱۔ دوسری یہ پندیات بھی مولانا شاہ مستنصر باللہ (علیہ السلام) نے مومنوں کی جماعت، طالبوں اور فرمانبرداروں کو وعظ فرمائی ہیں، جو کچھ ان کی زبانِ مبارک سے سن لیا تھا، میں نے اس کو بھی لکھ کر کتابی صورت میں لایا، تاکہ مومنوں، طالبوں اور عمل کرنے والوں کے لئے نجات کا سبب و سیلہ بن جائے، اور ایک یادگار رہے، اور قدر کرنے والے اہلِ دل نیکی کے بانیوں اور خیر خواہوں کے حق میں دعائے خیر فرمایا کریں گے، اور میں نے ان نصیحتوں کا نام ’’پندیاتِ کوچک‘‘ رکھا۔ و علیکم بالسسماع و المطاع و التشکر والتحمید بہٰذہ النعمتہ و ما توفیقی الا باللہ الملک المنان  ۱؎ علی الزمان۔

؎۱: اور اس کو سن کر عمل کرنا اور اس نعمت کی شکرگزاری میں خدا کی تعریف و توصیف کرنا تم پر واجب ہے، اور میری تائید تو خدا کے سوا اور کسی سے ہو ہی نہیں سکتی، جو بہت احسان کرنے والا بادشاہ ہے، علی الزمان۔

۹۴

فرمانبرداری کی برکات

اللّھم یا مولانا مددی

          ۱۔ فرمایا خداوندِ زمان، صاحبِ دوجہان اور امامِ عصرو زمان مولانا مستنصر باللہ (علیہ السلام) جلت حکمۃ و تعالیٰ شانہ العزیز نے:

          ۲۔ اے مومنو اور اے صداقت والو! مومن کو چاہئے، کہ حق تعالیٰ کے فرمان میں رہے، اور جو کچھ خدا کا فرمان ہے، اس کو احسان شناسی سے سر آنکھوں پر رکھنا چاہئے، ہر وہ بندہ جو حق بات سنتا ہے اور اسے بجالاتا ہے، دیکھ لینا کہ اس بندے کو کیسے کیسے فیوض پہنچتے ہیں، بلائیں اس بندے سے دور ہو جاتی ہیں، اس کے دشمن کو ر رہ جاتے ہیں، اس بندے کے لئے فتحمندی اور روزی کے دروازے کھل جاتے ہیں، خدا سے اس بندے کو فتح و نصرت ملتی رہتی ہے، اس کی نیکی اور عبادت و بندگی قبول ہو جاتی ہے، اس کی نیکی میں برکتیں پیدا ہو جاتی ہیں، اس کا تمام کام حسب منشا ہوتاہے، اس کے فرزند اور خویش و اقربا آفتوں، بلاؤں اور تکلیفوں سے سلامت رہتے ہیں، اس کا گھر آباد ہوتا ہے، وہ پریشان و سرگردان نہیں ہوتا، تمام کام میں اس کو فرصت ہوتی ہے، وہ خوشحالی میں مسرت و شادمانی سے رہتا ہے، خدائے مہربان اس کا یار، مددگار اور غمخوار ہوتا ہے، وہ خدا کے امان میں رہتا ہے، حق تعالیٰ اسکا دستگیر

۹۵

ہوتا ہے، وہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی فیوض و سعادات پاتا ہے، وہ ظاہری و باطنی اور دنیوی و اخروی دولت کو پہنچتا ہے، اور دنیا و آخرت کی دولت اسے میسر اور حاصل ہوتی ہے، آخرت کی دولت کا قصہ سنو جو اسے عطا کر دی جاتی ہے، مومنین آخرت میں حضرت پروردگار کے دیدار اور ملاقات سے مشرف ہوں گے، حق تعالیٰ مومن بندے کو آسمانوں میں سلطنتیں بخشے گا، وہ وہاں رنگ برنگ کے لباس پہنے گا، اور جس بندے نے عبادت و خدمت زیادہ کی ہو، اور (ثواب وصلہ کا) زیادہ حقدار ہوا ہو، تو وہ ساتویں آسمان میں خوشیاں منائے گا، اور سیر و سیاحت کرےگا، اور بخشش کے پروں کے ذریعہ پرواز کرے گا، تاجِ کرامت سر پر رکھے ہوئے اور عافیت کے لباس میں ملبوس ہو کر انبیأ علیہم السلام و اولیا علیہم السلام کے ساتھ سیر کرے گا، ساقی ٔ کوثر کے مبارک ہاتھ سے شرابِ طہور نوش کرےگا، اور وہ فضل و کمال کے محلات کی تصوراتی حوروں تک پرواز کرے گا، اور پاک دل اور دیندار مومنین سب ایک ہوں گے، وہاں کمی بیشی نہیں، اور مومن کے لئے کوئی اندوہ، غم، خرابی، درد، تکلیف، موت اور سختی نہیں۔

          ۳۔ اے مومنو! اس شخص کے لئے، جو دنیا میں اپنے امامِ وقت کے فرمان کو سمجھتا اور سن کر عمل کرتا ہے، آخرت میں اس قدر نعمتیں، دولتیں، راحتیں، اور آسائشیں میسر ہیں، پس مومن کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فرمان میں رہنا چاہئے، اور جو کچھ اس کے لئے امر ہو، تو اسی امر کو فوراً شوق سے بجالانا چاہئے، اور مومن کو دنیا میں اول چاہئے، کہ اپنے امامِ وقت علیہ السلام کو پہچانے اور اس کی اطاعت کرے۔

۹۶

حلال طعام و لباس

          ۱۔ پہلا فرمان، جو مومن کے لئے ارشاد ہوتا ہے، یہ ہے کہ اول چاہئے، کہ اس کا کھانا اور لباس پاک، حلال اور جائز ہو، اور ان چیزوں کا حلال ہونا اس بات سے ہے، کہ اول تجھے چاہئے، کہ ایمانداری سے اپنی تمام آمدنی اور منافع کو حساب کرے، اور اس کا دسواں حصہ، جو مالِ واجبات ہے، سچائی، درستی اور اخلاص سے امامِ زمان علیہ السلام کے دربار میں، جو دنیا و آخرت کے مالک ہیں، پہنچا دیا کرے، اور تو نہایت ہی کوشش کرے، کہ یہ پوری طرح سے ادا ہو جائے، اس مال سے ہر گز ہر گز نہ کھانا، کیونکہ اس فرض کی ادائیگی میں بہت سی حکمتیں اور بے شمار فیوض ہیں، اسی دسواں کے دینے سے تم بڑے درجے میں پہنچتے ہو اور اس کے نہ دینے سے گمراہی کی وادی میں رہ جاؤ گے، اور دسواں کے دینے سے عبادات قبول ہو جاتی ہیں، اور اس کے نہ دینے سے قبول نہیں ہوتی ہیں، یہ اس لئے کہ عبادت اس وقت مقبول ہو تی ہے، جبکہ غذائیں اور ملبوسات حلال، پاک اور جائز ہوں، وہ یہ کہ تو اپنے امامِ زمان علیہ السلام کو پہنچانے اور اپنے مال کا دسواں ٹھیک طرح سے دیدیا کرے، تبھی تیرا کھانا اور لباس حلال اور جائز ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد دوسری تمام عبادات مقبول ہو جاتی ہیں، اور اس کے علاوہ دوستی کا امتحان مال میں ہوا کرتا ہے نماز میں نہیں، نماز تو آسان ہی ہے، جسے ہر بیوہ عورت بھی پڑھ سکتی ہے، پس نماز پڑھنا

۹۷

عورتوں کا کام اور صفت ہے، اور مرد کی صفت و تعریف یہ ہے، کہ حقیقی معشوق کے لئے مال و جان دینے سے دریغ نہ کرے، پس نماز بیوہ عورتوں کا کام ہے، اور مال دینا مردوں کا کام ہے، چنانچہ فنا ہونے والی چیزوں کے لئے جب تک تو قیمت ادا نہ کرے، تو تجھے کوئی چیز نہیں دی جاتی ہے، پس باقی رہنے والی نعمتیں بلا قمیت کس طرح مفت دی جاسکتی ہیں، پھر مالِ (واجبات) کو مقدم کرو نہ نماز کو، یعنی اول مال دو اس کے بعد عبادت کرو، تاکہ قبول ہو جائے۔

          ۲۔ اس عمل کے بعد لوگوں کے مال کو اپنے مال میں ہر گز شامل نہ کرو، غنیمت کے قصد میں لوگوں کا مال نہ کھاؤ اور خیانت نہ کیا کرو، اپنے حلال و جائز حقوق سے مال حاصل کر لیا کرو، اور لوگوں کے مال سے ایک دھاگا بھی اپنے لباس میں شامل نہ کیا کرو، اور اپنے مال کو (کوئی حرام چیز ملا کر) ناجائز نہ کردو، اور دشمنی و سزا کے طور پر کسی سے کوئی چیز نہ لیا کرو، اور اپنے بدن کو، جو روح کا لباس ہے، باطنی نجاستوں سے پاک کئے رکھو، مثلاً تکبر، کینہ، عداوت، حسد، دنیوی محبت، شیطانی صفات اور مردم آزاری سے، کیونکہ یہ سب نجاستیں ہیں، اور یہ باطن کو نجس کر دیتی ہیں، ان سب سے بچنا اور دور رہنا دانشمند پر واجب ہے۔

۹۸

نافرمانی کا انجام

          ۱۔ دوسرا یہ کہ فرمانبرداری میں چست اور ہوشیار رہو، اور خدمت گزاری میں حاضر و قائم رہو، اور خداوند نے وعدہ فرمایا ہے، کہ جو شخص خدمت میں بے دریغ اور بے ریاہو، تو آخرت میں لاانتہا دولت کو پہنچےگا۔

          ۲۔ حضرت مولانا مستنصر باللہ (علیہ السلام)نے فرمایا: افسوس ہے ان لوگوں کے لئے ، جو نافرمانی اور کاہلی کرتے ہیں، اور جو کوئی فرمانبرداری کے معاملے میں ٹیڑھا ہو، تو ایسے اشخاص کے لئے سخت عذاب اور آتشِ دوزخ میں ٹھکانا ہے، وہ دردناک عذاب میں گرفتار، روسیاہ اور شرمسار ہوں گے، اور اس سب سے بڑی گھبراہٹ ؎۱ میں وہ گناہگار پیاس کی شدت سے پانی کے لئے روئے گا، اس وقت ’’ویل‘‘ ؎۲ کے کنویں سے، جو دوزخیوں کے میل اور پیپ سے بھرا ہوا ہے، مالکِ دوزخ اس گناہگار کو مشروبہ دے گا، جس کو ماء حمیم؎۳ یعنی گرم پانی کہتے ہیں، جو

؎۱: سب سے بڑی گھبراہٹ سے قیامت کی ہولناکی مراد ہے، اس مطلب کا قرآنی لفظ ’’الفزع الاکبر‘‘ ہے (۲۱: ۱۰۳)۔

؎۲۔ ویل کے معنی بربادی و ہلاکت ہیں۔

؎۳: اس مطلب کا اشارہ قرآن کی ان آیات کی طرف ہے:

( ۶: ۶۰، ۱۰: ۴، ۳۷: ۶۷ ، ۳۸: ۵۷،  ۴۷: ۱۵، ۵۶: ۵۴، ۷۸: ۲۵)

۹۹

دوزخیوں کا میل، ذرداب اور خوناب ہے، جو دوزخ کی تپش سے ابلتا رہتا ہے، جس سے بدبو آتی ہے۔

          ۳۔ اس شخص کے لئے، جو امام کی فرمانبرداری نہ کرے، بہت سے عذاب ہیں اور اسے کوئی خوشی نہیں ملے گی، پس نافرمانی، تکبر اور غرور سے کنارہ کش ہوجاؤ، اور دیکھو کہ تکبر اور غرور کے سبب سے کیسی حقارتیں، مسخر گیاں، خواریاں اور مشقتیں عزازیل کے سر پر آگئیں، جو درگاہِ الٰہی کا معزز و مقرب فرشتہ تھا، اور تمام فرشتے اس کا احترام کرتے تھے، اور وہ خدا کی بندگی و عبادت میں مصروف رہتا تھا، اور گھڑی بھر کے لئے بھی بندگی سے غافل نہیں رہتا، اس اثنا میں لعنت کا ایک طوق معلق دیکھا گیا، اور خدا کی طرف سے فرشتوں کی ندا آئی، کہ اے فرشتو! یہ لعنت کا طوق اس شخص کے لئے ہے، جو فرمانِ الٰہی سے سرکشی کرے، اس کلام کے سنتے ہی تمام فرشتے کانپنے اور گریہ وزاری کرنے لگے، عزازیل نے ان سب کو تسلی دی، اور کہا، کہ تم میں سے جس کسی کو بھی (یہ طوقِ لعنت) آئے، تو میں اس کو نجات دلاؤں گا، وہ اپنی عبادت اور معرفت پر اس قدر مغرور تھا، کہ اپنے متعلق نافرمانی کا گمان ہی نہیں کرتا تھا، اور اس نے یہ نہیں سمجھا کہ ناشناس لوگ ہی غیر شعوری طور پر نافرمانی کرتے ہیں، یہاں تک کہ حضرتِ احدیت نے آدم ابوالبشر علیہ السلام کو پیدا کیا اور فرشتوں کو امر فرمایا کہ اس کو سجدہ کرو، تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے، جس نے سجدہ کرنے سے تکبر و انکار کر دیا، اور خدا وند نے فرمایا، کہ تو نے کیوں سجدہ نہیں کیا؟ عرض کی کہ تو نے فرمایا تھا، کہ میرے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرنا، نیز یہ بھی ہے کہ میں آدم علیہ السلام سے بہتر

۱۰۰

ہوں، کیونکہ وہ مٹی سے ہے اور میں آگ سے ہوں؎۱ ، پس تکبر و نافرمانی کی وجہ سے اس کے تمام اعمال اور عبادات برباد و ضائع ہو ئیں، اور پروردگارِ عالم کے استغنا و بے نیازی کی آگ میں جل کر نیست و نابود ہو گئیں، اور اس واقعہ کی بنیاد نافرمانی تھی، نافرمانی کی وجہ ناشناسی تھی (کسی عابد کی) وہ عبادت جو معرفت کے بغیر ہو، اس عابد کے لئے باعثِ جرمانہ ہے، اور اس کا کوئی خریدار نہیں، پس وہ عبادت، جو قبول ہو جاتی ہے، ایک ایسی عبادت ہے ، کہ جس میں تو دین کے مالک کو پہچانے اور اس کے فرمان کے بموجب عبادت کرے، اور جو کچھ امر ہو، تو اس کو کسی چون و چرا کے بغیر قبول کرے، کیونکہ معرفت کے بغیر عبادت غلطی و خطا کی ایک تقلید ہے، ہر چیز اور ہر شخص کی تقلید میں غلطی و خطا واقع ہوتی ہے، اور جو شخص تقلید میں رہے، تو وہ توحید میں نہیں پہنچتا ہے۔

          ۴۔ پس حقیقی مومن وہی ہے، جو اپنے امامِ وقت علیہ السلام کی پیروی کرے، اس کے امر کے لئے منتظر رہے، جو کچھ زمانے اور امر کے مالک علیہ السلام فرماتے ہیں، اسی کو سنے اور عمل کرے، اور اسے اپنا مالِ واجبات ٹھیک طرح سے دینا چاہئے۔ اور وہ ہر رات سوچے، کہ مجھ پر کچھ مالِ واجبات باقی بھی ہے یا میں نے سب دے کر ادا کر دیا ہے؟ اور اگر اس کو یاد آئے، کہ مالِ واجبات میں سے کچھ اس کے مال کے درمیان اور اس کے ذمے میں باقی ہے، تو وہ اسے فوراً ادا کردے، اور جبکہ تم اپنے مال کا دسواں دیتے ہو، تو شکر گزار رہو اور خوشیاں مناؤ، کہ تم کو توفیق دی گئی اور تم نے امام علیہ السلام کے حق کو امام علیہ السلام تک پہنچا دیا۔

؎۱: حضرت آدم اور ابلیس کا پورا قصہ قرآن مجید کی ان آیتوں میں ہے: ۔

(۲: ۳۵ تا ۳۶، ۷: ۱۱ تا ۲۵، ۱۵: ۲۸ تا ۴۲، ۱۷: ۶۱ تا ۶۵، ۱۸: ۵۰، ۲۰: ۱۱۵ تا ۱۲۳، ۳۸: ۷۱ تا ۸۵)

۱۰۱

آخرت پر یقین

          ۱۔ اے مومنو! دنیا کی بے اعتباری اور بے قدری کے بارے میں ذرا سوچو تو سہی، کہ یہ کسی کی دلی مراد کے لئے کافی نہیں ہوسکی، بلکہ اس نے تو اپنے طلبگار کو ناکام ہی بنا دیا ، تم چلو پھرو اور دیکھو، کہ روئے زمین پر کیسے کیسے اشخاص تھے، جو دنیا کے طلبگار ہوئے، اور انہوں نے جنگیں لڑیں آخر کارگذر گئے اور ختم ہوگئے، مگر انبیا و اولیا علہیم السلام میں سے کسی نے بھی اپنے آپ کو دنیا سے آلودہ نہیں کیا، اور (اس کے برعکس) ظاہری بادشا ہوں نے سرداری کی غرض سے کتنی کوششیں کیں، کیا کچھ نہیں کیا اور آخرکار کس قدر حسرت و افسوس کے ساتھ مرکر ختم ہوگئے، اور تمہارے آباواجداد بھی چل بسے، اب یہ تمہاری باری ہے۔

          ۲۔ اے مومنو! تم کیوں غم کے موقع پر بے غم بیٹھے ہو، اور دنیا کے درمیان خوابِ غفلت میں مدہوش اور آخرت سے بے خبر ہو گئے ہو، اور بے فکری و نادانی کی وجہ سے خیال نہیں کرتے ہو کہ بہت سے لوگ تن پروری اور جسم کی فربہی کے خیال میں لگے رہتے ہیں، وہ آخرت اور بڑے عذاب؎۱ سے بے خبر ہیں، اور (تم دیکھتے رہنا کہ یہ لوگ) آخر کار خود کو خوب موٹا اور چکنا کردیں گے، پس حقیقی مومن وہی ہے، جو آخرت کی

؎۱: بڑے عذاب کی قرآنی اصطلاح ’’العذاب الاکبر‘‘ ہے (۳۲: ۲۱ )

۱۰۲

فکر میں رہتا ہے، اور غم و غصہ (برداشت کر کر کے) لاغر اور کمزور ہو جاتا ہے، تاکہ اس کے گناہ بخش دیئے جائیں، اور (خیال رکھنا کہ ایمان کی) راہ میں بہت سے حملہ آور اور دشمن موجود ہیں، پس تمہیں چاہئے کہ شب و روز آخرت کی فکر میں رہو، جو شخص آخرت پر اعتقاد اور یقین رکھتا ہو، وہ کوئی گناہ نہیں کرتا، جس کا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کے متعلق کوئی شک نہیں رکھتا، اور جو لوگ بڑے اور چھوٹے گناہوں سے کنارہ کشی نہیں کرتے ہوں، تو اس کی وجہ یہ ہے، کہ قیامت کے بارے میں شک رکھتے ہیں، اور وہ گمان کرتے ہیں، کہ (مرنا اور زندہ ہو جانا درست نہیں، بلکہ) وہ نیست اور معدوم ہو جانے والے ہیں، وہ جانتے نہیں کہ آخرت سے آگاہی اور اس پر یقین امام علیہ السلام ہی کے قول سے حاصل ہو جاتا ہے، جبکہ کوئی شخص عبادت و ریاضتِ کاملہ اور اشیا ٔ کی حکمت و حقائق سے آگاہی کے ذریعہ امامِ وقت علیہ السلام تک رسا ہو چکا ہو۔

          ۳۔ علمائے ظاہر نے سدِ سکندر کی طرح شریعت کی ظاہریت اپنی سرداری کے لئے ایک دیوار بنا رکھی ہے، اور یہ بیچارہ عوام یا جوج و ماجوج ؎۲ کی طرح بجز خرابی اور بگاڑ کے اور سوائے شب و روز کھانے، سونے اور دنیوی محبت کے کچھ بھی نہیں جانتے ، یہ لوگ تقلید کی کمند میں بندھے ہوئے ہیں، اور موت کے وقت تک اس واقعہ سے بے خبر ہیں، کہ صرف تقلید کے طور پر آخرت کا اقرار کرتے ہیں۔

          ۴۔ اے مومنو! تحقیق سے جان لو، کہ تم خدا کے حضور سے اور عالمِ باطن سے، جو پاک اور آسمانی عالم ہے، اس عالمِ فانی میں، جو عالمِ خاکی کہلاتا

؎۲۔ یاجوج و ماج اور سدِ سکندر کا مختصر سا قصہ قرآن کے (۱۸: ۹۳ تا ۱۰۱) میں موجود ہے، نیز یاجوج و ما جوج اور قیامت کا ذکر قرآن کے (۲۱: ۹۴ تا ۹۷) میں ہے۔

۱۰۳

ہے، آگئے ہو، اور پھر خداوند تعالیٰ کی طرف واپس چلے جاؤ گے، پس کچھ کام کرو، تاکہ دوست کی طرف جاتے وقت خالی ہاتھ نہ ہو جاؤ، سرفراز ہو جاؤ، خجل و شرمسار نہ ہو جاؤ، پس دنیا کی حرص چھوڑ دو، اور آخرت کے کام کو مکمل کرلو۔

          ۵۔ جس وقت اللہ تعالیٰ پوچھے؎۱ گا، کہ میں نے دنیا میں تمہیں جو نعمتیں عطا کردی تھیں، تم نے انہیں کہاں کہاں صرف و خرچ کردیں؟ میری شناخت اور میری عبادت کے سلسلے میں، یا تم میری نعمت کھا کر میری مخلوق کو اذیت دینےمیں مصروف رہے، اور شیطان کی اطاعت میں لگے؟ اور میں نے تم کو آنکھ، عقل، ہوش اور اعضائے صحیح دیئے تھے، ان سے تم نے کیسے کیسے کام لئے؟ کیا تم نے ہاتھ مال (کما کر) میری راہ میں صرف کرنے کے لئے استعمال کیا، یا لوگوں کے مال اور عورتوں میں خیانت کرنے اور لوگوں کو مارنے کے لئے؟ کیا تمہارے کان حق بات سن لیا کرتے تھے یا باطل؟ کیا تمہاری زبان میرا ذکر کرتی رہتی تھی یا میرے بندوں کی غیبت؟ کیا تمہارا دل میری محبت میں تھا یا دنیا کی محبت میں؟ کیا تمہاری خواہش میری طرف تھی یا دنیا کی طرف؟ کیا تمہاری آنکھیں حق دیکھنے والی تھیں یا باطل؟ کیا تم نے اپنے لئے یہاں نیک بختی لائی ہے یا بدبختی؟ تم کو وہاں جواب دینا پڑے گا، اور کوئی چیز وہاں سود مند نہ ہوگی بجز پاک قلب ؎۲ کے پس دل کو دنیوی محبت سے پاک کرلو۔

؎۱: قیامت میں انسان کے اعمال کے متعلق سوال و پرسش ہونے کا ذکر قرآن مجید کی ان آیتوں میں ہے: (۱۶: ۹۳، ۱۷: ۳۶، ۲۱: ۱۳ ، ۲۱: ۲۳، ۳۷: ۲۴، ۱۰۲: ۸۔

؎۲: اس کا اشارہ قرآن کے ۲۶: ۸۸ تا ۸۹ کی طرف ہے۔

۱۰۴

روحانی ترقی کا راز

          ۱۔ اے مومنو! یحییٰ پیغمبر علیہ السلام کا قصہ سنو، کہ آپ دن رات رویا کرتے تھے اور آرام نہیں لیتے، ایک دن حق تعالیٰ کی طرف سے یحییٰ پیغمبر علیہ السلام پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوا، اور کہا، اے یحییٰ پیغمبر علیہ السلام ! پروردگارِ عالمین فرماتا ہے، کہ تو اس قدر کیوں روتا ہے، مجھے تجھ پر بہت رحم آرہا ہے، اگر تو بہشت کے لئے روتا ہے، تو میں نے وہ تجھے عنایت کر دی، اور اگر تو دوزخ کے خوف سے روتا ہے، تو میں نے وہ تجھ پر حرام کر دیا، یحیٰ پیغمبر علیہ السلام نے عرض کی، کہ میں نہ تو بہشت کے لئے روتا ہوں اور نہ ہی دوزخ کے خوف سے، بلکہ تیری ملاقات اور دیدار کے لئے گریہ وزاری کرتا ہوں، اس وقت پروردگارِ عالم نے فرمایا، کہ اگر تو میرے دیدار کے لئے گریہ و زاری کرتا ہے، تو اس سے بھی زیادہ گریہ وزاری کرتا رہ، تاکہ تو اپنی مراد کو پہنچے، جب تک تو اس دنیائے فانی میں ہے، تو اطمینان سے نہ بیٹھ اور بہت سی گریہ و زاری؎۱ کر۔

          ۲۔ اے مومنو! دیدار و جلوہ دیکھنا مشکل ترین کام ہے، لیکن تم مومنوں

؎۱: مذکورہ قسم کی گریہ وزاری کی فضیلت و حکمت ان قرآنی آیات میں بیان کی گئی ہے:

۶: ۴۲ تا ۴۳، ۶: ۶۳، ۷: ۵۵، ۷: ۲۰۵ تا ۲۰۶، ۹: ۸۲، ۱۷: ۱۰۷ تا ۱۰۹، ۱۹: ۵۸، ۵۳: ۵۹ تا ۶۲

۱۰۵

کے لئے پیرِ حاضر نے دیدارِ الہٰی آسان کر دیا ہے، اے مومنو اس کی قدر دانی کرو، غافل نہ ہو اور اپنے حاضر علیٔ زمان علیہ السلام کو یاد کرو، تاکہ وہ تمہاری دستگیری کریں، اور ان کے نام کو اپنی جانی حفاظت کے لئے دل میں اور زبان پر جاری و ساری رکھا کرو، تاکہ بلاؤں سے خداوندِ زمان کے امن امان میں رہو گے۔

تمام شد پندیاتِ کوچک

۱۰۶

دوازدہ جوانمردی

(عالی ہمتی کے بارہ اصول)

          ۱۔ بارہ جوانمردی، جو حضرت صاحب الزمان مولانا شاہ مستنصر باللہ علیہ السلام نے اپنی مبارک زبان سے فرمائی ہیں، جو کچھ میں نے سن لیا تھا، اسے لکھ دیا، اور وہ یہ ہے، جو حضرت مولانا شاہ مستنصرباللہ نے فرمایا: ۔

          ۲۔ جو شخص اہلِ حقیقت ہو، اس کا قول و فعل حقیقی ہوتا ہے، اس کی توجہ ہماری طرف رہتی ہے، وہ دنیا ہی میں ہم کو (چشم)ِ معرفت سے دیکھتاہے، اور وہ آخرت میں بھی اپنے پروردگار کا دیدار و جلوہ دیکھے گا، اور حضرت مولانا مستنصر باللہ علیہ السلام نے فرمایا، کہ جو شخص مجھے دوست رکھتا ہو، تو اس کو چاہئے، کہ بارہ جوانمردی بجا لائیں، تاکہ عاقبت میں اسے فیوض و برکات حاصل ہوں اور اپنے دل کی مراد کو پہنچے۔

۱۰۷

دل کی پاکیزگی

          ۱۔ پہلی جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ اول (وہ شخص) اپنے امامِ وقت، جو دنیا و آخرت کے مالک ہیں، کی فرمانبرداری میں کوشان رہے، شاہ (یعنی امامِ زمان علیہ السلام ) کی دوستی میں ثابت قدم، مستحکم اور قائم رہے، حق تعالیٰ کے فرمان کو بجالائے، اس کا دل پاک و صاف ہو، تم بخیل اور تنگدل نہ ہونا، اور کینہ و عداوت کو اپنے دل میں نہ رکھنا، کیونکہ امامِ زمان علیہ السلام، جو قلم و لوح اور ظاہر و باطن کے مالک ہیں (تم کو) دیکھتے ہیں، پس تم کوئی ایسا کام کرو، کہ جس سے تمہارے دلوں میں نقصان دہ باتیں اور فاسد خیالات جاگزین نہ ہوں، تم اپنے دل کو شیطان کا گھر نہ بناؤ، بلکہ اپنے قلب کو حقیقی علم کے پانی سے (دھو کر) پاک کرلو، تاکہ یہ رحمان کی جگہ ہوسکے، اور جس دل میں رحم ہو، وہ رحمان کی جگہ ہے، اور بے رحم و سیاہ دل شیطان کا ٹھکانا اور جنات کا مقام ہے۔

۱۰۸

دسواں حصہ

۱۔ دوسری جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ تو اس کام اور فعل میں، کہ جس سے حق تعالیٰ راضی ہو، مشغول رہا کرے، خدا کے حکم کی خلاف ورزی نہ کرے، اور جو کچھ تیری آمدنی ہو، اس کا دسواں، جو مالِ واجبات ہے، اپنے مال سے نکالے، اور اپنے مولا کی درگاہ میں، جو مرتضیٰ علی علیہ السلام  اور دنیا و آخرت کے مالک ہیں، بلاکم و کاست پہنچادے، انتہائی سچے عشق و محبت سے اور شگفتہ رو ہو کر خوشی سے، اس لئے کہ دسواں کا مال تمہارے مولا کے حضورِ انور میں پہنچا اور قبول ہوا ہے، اس وقت (تیری آمدنی کے) وہ باقی نو حصے تجھ پر حلال ہوتے ہیں، اور تجھے فیض و برکت ملے گی، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

          ۲۔ اگر تو مالِ واجبات نہ دے، تو یہ ایک ایسے شخص کی مثال ہوگی، جو (اپنے کھیت میں ہل تو چلا دیتا ہے مگر) تخم ریزی نہیں کرتا، اور اگر تو اپنا مالِ واجبات دوسرے شخص کو دیتا ہے، تاکہ وہ پہنچا دے، اور وہ شخص مولا علیہ السلام کے حضور میں نہ پہنچا دیتا ہو، تو اس کی مثال ایسے بیجوں کی طرح ہے، جو تو دہقان کو دیتا ہے، وہ ان بیجوں کو کھا لیتا ہے اور کھیت میں تخم ریزی نہیں کرتا، اس وقت دہقان اور زمین کا مالک دونوں خالی ہاتھ رہیں گے (یعنی ان کو زمین سے کوئی حصول نہیں ملے گا۔

          ۳۔ پس لازم اور واجب ہے، کہ تو مالِ واجبات کو فوراً مکمل طور پر

۱۰۹

اور سچائی سے امامِ وقت علیہ السلام کے دربار میں پہنچائے، اور اگر (کوئی شخص) دہ یک (دسواں) کو، جو مالِ واجبات ہے، اپنے مال سے نہ نکالے، تو یہ ایک ایسے گوسفند کی مثال ہے، جس کو ذبح کر کے خون نہ بہایا جائے، اور حرام، مردار ار ناپاک کر کے کھا لیا جائے، پس اگر تو نے دسواں دیا، تو وہ باقی ماندہ نوحصے تیرے لئے حلال ہوتے ہیں، اور اگر تو نے نہیں دیا تو وہ دہ یک (۱: ۱۰) آگ بن کر ان دوسرے نو حصوں کو جلا ڈالتا ہے، اور خیروبرکت اور سلامتی تجھ سے اور تیرے مال سے چلی جاتی ہے، اور دس حصوں میں سے ایک حصہ خداوند کا مال ہے، اور حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، کہ ہمیشہ بندوں کو یہ بتا دیا جائے، کہ وہ غافل نہ ہو جائیں، اور ہمیشہ حساب کر کے دہ یک کو، جو خداوند کا مال ہے، اداکریں، تاکہ وہ حلال کھانے والے رہیں اور یہ دہ یک کا اصول حضرت شاہ مردان مرتضیٰ ( علیہ السلام )نے مقرر فرمایا ہے، چنانچہ مولانا علی علیہ السلام نے اہلِ حقیقت کے لئے ارشاد فرمایا، کہ جو شخص اہلِ حقیقت میں سے ہو اور میرے دیدار کی آرزو رکھتا ہو، تو وہ اپنے مال کا دسواں ، جو میرا حق ہے، مجھے پہنچا دیا کرے، تاکہ وہ (میرا روحانی) دیدار کر سکے، اہلِ شریعت اس حکم اور اس رمز سے بےخبر ہیں، پس ہر زمانے میں جس شخص کو امامِ زمان کا راستہ مل جائے، تو اس پر واجب ہے، کہ اپنے مال کا دسواں، جو امامِ وقت کا حق ہے، پہنچا دیا کرے، اور امام کے فرمان کے بموجب اپنے مال و جان کو قربان کر دے۔

          ۴۔ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے، کہ میرے بندے مجھے جس قدر اور جو کچھ دیا کریں، تو میں جو کہ پروردگار ہوں، ایک کےعوض میں انہیں لاکھ دوں گا، اور اپنا دیدار ان کو عطا کروں گا، اور ان کو آسمانوں میں محلات، مقامات، سیاحتیں، نظارے اور خوبصورت مکانات دیدوںگا، اور جو شخص اس دنیا سے گزر جاتا ہے، وہ دراصل (غیر شعوری طور پر پلِ ) صراط سے گزرا ہوا ہوتا

۱۱۰

ہے، جو شخص حق تعالیٰ کے لئے کام کرتا ہو، وہ فی الواقع اپنے لئے کام کرتا ہے، اور جو شخص اپنے لئے کام کرتا ہو، تو وہ درحقیقت بے کار ہے، اور اس کی کوئی عزت نہیں، کیونکہ لوگوں کی خودی اور ان کی ہر چیز کا مالک خدا ہے، اگر (بندے نے) دہ یک دیدیا، تو وہ نو حصے جو باقی رہتے ہیں، اس پر حلال ہوتے ہیں، اور اگر اس نے دسواں نہیں دیا، تو اس کا تمام مال اس کے لئے حرام ہے۔

          ۵۔ حقیقت کے تمام امور پوشیدہ اسرار کی حیثیت سے ہیں، جو پیغمبر علیہ السلام نے وحدت شناس مومنوں کے لئے معراج سے بطورِ تحفہ لائے ہیں، یہ مطالب ان ہزار اسرارِ نا گفتنی میں سے ہیں، جن کے متعلق حق تعالیٰ نے رسول علیہ السلام سے فرمایا، کہ آپ ہمارے ان اسرار کو نا اہلوں پر ظاہر نہ کریں، اور یہ وہ نصیحتیں ہیں، جو پیغمبر علیہ السلام نے اہلِ حقیقت کے لئے معراج سے لائی ہیں، اور ان نصیحتوں کو، جو اہلِ شریعت کےلئے ہزار گفتنی باتوں میں سے تھیں، سارے لوگ سمجھ گئے، لیکن مومنِ موحد کے سوا حقیقت کے ان اقوال سے کوئی شخص واقف نہیں، پیغمبرعلیہ السلام نے (یہ اسرار) مومنین کے حوالے کردیئے، اور تاکید فرمائی کہ انہیں نااہلوں سے پوشیدہ رکھو، جس طرح میں نے ان کو پوشید ہ رکھا اور یہ بھی انہیں پوشیدہ باتوں میں سے ہیں، جو فرمایا، کہ حقیقی مجلس میں شامل ہو جایا کرو، اور یہ دینِ حقیقت خدا وندتعالیٰ نے پاک سیرت لوگوں کے لئے مقرر فرمایا ہے، جس شخص کو اس دین کی توفیق دی گئی ہے، اسے ضرور چاہئے، کہ اس کی قدردانی کرے، اور تم پیرکا دامن پکڑے رہو، اور تمہیں صاحبِ دین کے امر پر قائم رہناچاہئے۔

۱۱۱

تسلیم و رضا

          ۱۔ تیسری جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ قضاو قدر؎۱ کے مالک کے حکم میں رضا و تسلیم ہونی چاہئے، اور حق تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ پیش آئے، اس پر تمہیں راضی ہونا چاہئے، جس کام سے حق تعالیٰ راضی ہوتا ہے، بندہ بھی اس میں راضی ہو، اور جس چیز سے خدا راضی نہیں، تو بندہ بھی اس میں راضی نہ ہو، اور امامِ حاضر علیہ السلام کی فرمانبرداری میں رہے، اور اپنے دل کو امام علیہ السلام کے عشق میں زندہ کر دے، تاکہ وہ دونوں جہان میں زندۂ جاوید ہو سکے۔

؎۱: قضافعلست در فطرت قدر منطق بامرحق

خرد عرشست درحکمت معانی و حی و کرسی آن

وضاحت: ’’قضا و قدر‘‘ کے معنی فعل و قول ہیں، جو حق تعالیٰ کے امر کے بموجب فطرت میں جاری ہے، ’’عرش‘‘ حکمت میں عقل و دانش کو کہتے ہیں اور ’’وحی‘‘ معنی و حقیقت کو، جو اس عرش کی کرسی ہے۔

                                                       دیوان ِ اشعار، ص: ۳۵۶

                                                از حکیم پیر ناصر خسرو (ق س)

۱۱۲

حق دیکھنے والی آنکھ

          ۱۔ چوتھی جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ بندے کو چاہئے کہ وہ ہر جگہ خدا کو دیکھے (یعنی اس کو حاضر و ناظر جانے) اور کسی کی بھی برائی نہ کرے، جو لوگ کسی چیز کی یا کسی شخص کی برائی کرتے ہوں، تو اس کا سبب یہ ہےکہ وہ پردے میں ہیں، ان پر جہالت چھا گئی ہے ، اور حقیقتِ اشیا ٔ سے بے خبر ہیں، پس اے حقیقت شعار مومنو! خدا کو ہر جگہ حاضر و موجود جانو، خدا کی مخلوق کو اچھی سمجھو اور جن چیزوں کو دیکھتے ہو، ان سب کو اچھی نظر سے دیکھا کرو، اپنے آپ میں حق دیکھنے والی آنکھ پیدا کرو اور باطل دیکھنے والے نہ ہو جاؤ، دل میں اپنے خداوند کی تعریف و توصیف کرتے رہو، اور تم پر جو کچھ واقعہ گزرتا ہے، وہ اگر اچھا ہے، تو خدا کی طرف سے ہے، جو تمہاری عقل کی روشنی سے (پیدا کیا گیا) ہے، اور اگر واقعہ برا ہے، تو یہ تمہارے نفس کی تاریکیوں ؎۱ سے ہے، چنانچہ جو تکلیف تم پر آتی ہے، وہ قضا و قدر سے سمجھو، جس میں تمہارے برے اعمال کی سزا اور بلاؤں سے بچاؤ ہے، تاکہ (فیصلہ اور سزا و جزا کا یہ معاملہ) آخرت تک نہ آگے بڑھے، اور تم اپنے دل کو پاک کر رکھو، اور خدائے مہربان سے محبت کئے رہو،

؎۱: جو بھلائی تمہیں پہنچی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور جو تکلیف پہنچی وہ تمہارے نفس کی طرف سے ہے (القرآن ۴: ۷۹)

۱۱۳

تاکہ وہ تم کو دوست رکھے، اور ہمیشہ دل میں اپنے امام کی محبت رکھو، تاکہ تمہار دل حق تعالیٰ کے نور سے روشن ہو۔

۱۱۴

نعمت اور اس کا زوال

          ۱ ۔ پانچویں جوانمردی کا مطلب یہ ہے، کہ تم دنیوی فائدے سے شادمان نہ ہوجاؤ، نہ ہی اس کے نقصان سے غمگین ہو جاؤ، بلکہ تمہارا دل ایک حال پر قائم رہنا چاہئے، اگر تمہیں کوئی تکلیف پیش آئے، تو شکر کرنا، کیونکہ یہ مصیبت تمہاری خطا کے بدلے میں ہے اور تمہاری گناہ کا کفارہ ہے، اور یہ خداوند تعالیٰ کی جانب سے اس کے بندوں پر اتری ہوئی نہیں، بدی خود بندے ہی کی طرف سے ہے، اور خدا تعالیٰ جب کوئی نعمت عطا کردے، تو وہ اس کو تغیر اور زائل نہیں کرتا، تغیر اور زوال بندے کی وجہ سے ہے، پس جو شخص راہِ حق میں گامزن ہوا، تو اس نے امام کی شناخت کو، جو عظیم ترین نعمت ہے، حاصل کرسکا ہے، تمہیں اس کی قدر دانی کرنی چاہئے، تاکہ تم کو نہ ہرا دیا جائے، اور جو بھی راحت یا مصیبت آتی ہو، تم اس میں صبر و سکون سے کام لیتے ہوئے حقیقی دوست کا طلبگار رہو، دنیا کی بھلائی اور برائی کو پیشِ نظر نہ رکھو، جب خداوند تعالیٰ تمام بندوں کے حال سے باخبر ہے، تو جو کچھ تیرے اخروی کام کی صلاح و بہبود ہو وہ تجھے عطا کر دیتا ہے، کچھ اس طرح کہ تو (آخرت میں) راضی ہو جائے۔

۱۱۵

خدا کی خوشنودی

          ۱۔ چھٹی جوانمردی یہ ہے، کہ اگر تم حق تعالیٰ کے طلبگار ہو، تو بزرگوں کے طلبگار رہو، کیونکہ خد ااپنے برگزیدہ بندوں کے پاک دل میں موجود ہے، تم کسی کے بھی دل کہ نہ دکھاؤ، کسی کی بھی دل شکنی نہ کرو، اور کسی کو بھی رنجیدہ اور دل آزردہ نہ کرو، کیونکہ مومن کا دل خدا کا گھر ہے، اور نادان (اس حقیقت سے) بے خبر ہے، اگر تم چاہتے ہو، کہ اپنی طرف سے خدا کو خوش اور راضی کر سکو، تو تم اپنی طرف سے مومن کو خوش اور راضی کر دو، کیونکہ مومن کی خوشنودی خدا کی خوشنودی ہے، اگر مومن کو کسی شخص سے کوئی تکلیف پہنچتی ہو، تو خداتعالیٰ اس شخص سے راضی نہیں، حق تعالیٰ اس ظالم سے کس طرح اور کب راضی ہے، جس نے بندۂ مومن کو تکلیف دی ہو، پس جہاں تک تم سے ہوسکے، مومن کو اپنی طرف سے خوش کر دینا، تاکہ تمہیں فیوض و برکات ملیں۔

۱۱۶

دینی و اخلاقی مائیں اور بہنیں

          ۱۔ ساتویں جوانمردی یہ ہے، کہ تم بیگانہ عورتوں کو اپنی بہنیں سمجھ لینا، اور اگر کوئی بیگانہ عورت تیرے پاس آجائے، تو تیری حالت و کیفیت ہر گز دگر گون نہ ہو، تو ایسا خیال کرنا ( جیسا ) کہ تیری ماں اور بہن تیرے پاس آئی ہے، اور اگر کوئی شخص تیرے پاس کسی عورت کا نام لیتا ہے اور کچھ کہتا ہے، تو تیرا دل برے خیال کی طرف مائل نہ ہو اور اس میں کوئی تبدیلی نہ آئے، اور اگر کسی بیابان میں یا کسی ایسے مکان میں، جہاں کوئی بھی نہ ہو، تو نے کسی بیگانہ عورت کو دیکھا، تو ہر گز برا خیال مت کرنا، ہر چند کہ وہاں کوئی بھی نہیں، لیکن خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے، پس تو یوں سمجھ لے کہ یہ تیری ماں یا بہن ہے، اور اپنے دل کو پاک اور وسوسوں سے خالی رکھ، ایسی صورت میں تجھ پر خدا کی مہربانی و عنایت نازل ہوتی ہے، اور تیرا دل حق تعالیٰ کی وحی (اترنے) کا مقام بن جاتا ہے۔

۱۱۷

غیبت کی بدبو

          ۱۔ آٹھویں جوانمردی یہ ہے، کہ تمام گناہوں سے کنارا کشی کی جائے، اور کسی کی غیبت نہ کی جائے، خصوصاً مومن کی (غیبت نہ کی جائے) جو شخص مومن کی غیبت کرتا ہے، وہ (گویا) میت کا گوشت کھاتا ؎ ۱ ہے، اور جو کوئی غیبت کرتا ہے یا جھوٹ بولتا ہے تو اس کے گھورا ؎۲ جیسے منہ سے ایک قسم کی بد بو نکلتی رہتی ہے، جس سے فرشتوں کو تکلیف پہنچتی ہے، اور اس بدبو سے شیطان کے دل کو قوت ملتی ہے، اور آخرت میں ایک ایسی حالت میں اس کا حشر ہوتاہے، کہ اس کے منہ سے بد بو اور گندگی ظاہر ہوتی ہے، سب لوگ اس سے پرہیز کرتے اور اپنے قریب نہیں آنے دیتے، اور وہ اپنے منہ کی بدبوئی اور گندگی کے باعث اپنے آپ سے بیزار ہو جاتا ہے، جب کبھی کوئی شخص کسی کی غیبت کرتا ہے، تو وہ یہ گمان کرتا ہے، کہ (فلان شخص ) برا آدمی ہے، حالانکہ تمام لوگوں کے باطن کو صرف خدا ہی جانتا ہے، اور اگر ( جس کی غیبت کی گئی) وہ اپنے باطن میں اچھا آدمی ہو، تو اس صورت میں ( غیبت کرنے والنے سے دو گناہ سرزد ہوتے ہیں) کہ اس

۱؎: قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ: اور (اے مومنین!)تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرے، کیا تم میں سے کوئی اسے پسند کرتا ہے، کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، پس تم اس سے (ضرور) نفرت کرو گے ۳۹: ۱۲۔

۲؎۔ گھورا۔ وہ جگہ جہاں کوڑا کرکٹ اور گندگی و غلاظت پھینکی جاتی ہے۔

۱۱۸

نے تہمت بھی کی اور غیبت بھی، پھر اس پر افسوس ہے، پس تجھے مومن کے حق میں اچھی بات کہنی چاہئے، اور اس کو اپنی طرف سے راضی کر دے، جس قدر بھی تو اپنے دل کی حفاظت اور صبر کرے، اس قدر تو آخر کا رشادمان ہو جائےگا، اس وقت آخرت میں تجھے معلوم ہوگا، کہ جس کام کے متعلق دنیا میں تیرا یہ خیال تھا، کہ اگر وہ کام بن جاتا یا اگر تو اسے کر سکتا، تو تیرے حق میں اچھا ہوتا ( مگر اس کے برعکس آخرت میں تو کہے گا کہ) اچھا ہوا جو فلان کام نہیں بنا اور میں نہیں کر سکا (پس سمجھ لے) کہ خدا تعالیٰ تیری صلاح و بہبود کو تجھ سے بہتر جانتا ہے، تجھے اپنے دل سے فضول اور بیہودہ خیالات کو نکال دینا چاہئے۔

۱۱۹

روزۂ باطن

          نویں جوانمردی یہ ہے، کہ تم سال بھر روزہ دار رہا کرو، جس طرح اہلِ ظاہر ایک ماہ کے لئے روزہ رکھتے ہیں، روزہ سے ریاضت مراد ہے (پس اپنے آپ کی ) نگرانی کرتے رہو، اپنے آپ کو بری صفات ، برے افعال، نازیبا حرکات اور شیطنت سے بچائے رکھو، تاکہ رفتہ رفتہ آئینۂ دل کو پاک و صاف کرسکو، دوسرا یہ جان لو، کہ ان تیس دنوں میں، جن میں اہلِ ظاہر روزہ رکھا کرتے ہیں، روزہ (دراصل) ایک روز