لعل و گوہر

انتساب

محترم قاسم علی وزیر مومن اور لاڈچی بائی قاسم علی مومن کے خاندان نے امام الوقت اور جماعت کے لئے طویل اور مخلصانہ خدمات بجا لائی ہیں۔ وہ مختلف مجالس کے موکھی کامڑیا بھی رہے ہیں۔ خوش بختانہ انکی نیک نام اولاد بھی محبت اور قربانی کی اس روایت میں انہی کے قابل تقلید نمونے پر عمل پیرا ہے۔

یوں تو ان بزرگوں کے سارے ہی بچے دیندار، علم دوست اور جانثار ہیں تاہم ان کے فرزندان میں سے خصوصاً غلام مصطفیٰ مومن، ظاہر علی مومن اور نورالدین مومن نے حقیقی علم کے فروغ کے لئے قابلِ ذکر کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔

محترم نورالدین مومن (تاریخ پیدائش: ۵ جون ۱۹۶۲ء) جواسی جذبۂ قربانی سے سرشار اور بااخلاص مذہبی خاندان کے چشم و چراغ ہیں، گونا گون طریقوں سے امام زمانؑ اور جماعت کی خدمت کر رہے ہیں، آپ دس سال تک جماعت میں والنٹیربھی رہے ہیں۔

آپ کی زوجہ محترمہ الماس (ناہید) مومن (تاریخ پیدائش: ۱۲ دسمبر ۱۹۶۷ء) نے بھی ۵ سال تک بحیثیت والنٹیر خدمات انجام دی ہیں۔ نور الدین

 

ج

 

اور الماس کا سات سالہ نورِ نظر فرزند زین العابدین (تاریخ پیدائش: ۷ اپریل ۱۹۹۱ء) اس وقت امریکہ میں ایک فعال لٹل اینجل کی حیثیت سے اپنی روحانی و علمی ترقی کے لئے سرگرمِ عمل ہے کتاب لعل و گوہر کی اشاعت اس نیک بخت خاندان کی طرف سے جماعت میں باطنی اور حقیقی علم پھیلانے کے لئے ایک اور اہم خدمت ہے۔ دعا ہے کہ یہ خدمت نور الدین مومن، الماس مومن اور ان کے سارے خاندان کے لئے برکات کا سرچشمہ ثابت ہو۔ آمین!

 

د

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

کلماتِ ابتدائیہ

 

۱۔ خداوندِ سبوح و قدوس کا حکمت آگین ارشاد ہے (ترجمہ): کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اورزمین کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں اور تم پر اپنی ظاہری و باطنی نعمتیں پوری کر دی ہیں؟ اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی علم ہو، یا ہدایت، یا روشن کتاب (۳۱: ۲۰) ۔

 

۲۔ قرآنی حکمت کی بیمثال خوبی اور سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جس آیۂ کریمہ میں بھی چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے، اسی کے آئینۂ معنی میں تمام آیات تجلی ریز ہونے لگتی ہیں، جیسے افرادِ بشر کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر شخص میں سب پوشیدہ ہیں، اور یہ بھی مانتے ہیں کہ عالمِ شخصی میں عالمِ اکبر پنہان ہے، اسی طرح ہم اس حقیقت کو بھی کیوں تسلیم نہ کریں کہ ہر آیۂ کریمہ میں تمام آیات کی معنوی اور حکمتی نمائندگی موجود ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے کہ: قرآن میں (بہت سی) مستقل کتابیں ہیں (۹۸: ۰۳) ۔

 

۳۔ جب بیانِ بالا سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ ہر آیۂ مبارکہ جواہرِ قرآن سے مملو ایک کتاب ہے، کیونکہ آیت معجزے کو کہتے ہیں، اور یہاں یہ معجزہ عقلی اور علمی حیثیت میں ہے، یعنی ہر آیۂ مقدسہ اہلِ بصیرت کے سامنے

 

۱

 

گونا گون معنوی تجلّیات سے ایک جامع الجوامع کتاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے، پھر ایسے میں یہاں شروع میں جو آیۂ شریفہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے متعلق درج ہوئی، اس کی عالم گیر معنوں کی کیا  شان ہو گی! مادّی اور روحانی کائنات کی ہر گونہ تسخیر، ظاہری اور باطنی نعمتوں کی فراوانی، نیز علم، ہدایت، اور روشن کتاب، یعنی داعی و حجت کا علم و ہدایت اور امامِ زمانؑ کی معرفت کا گنجِ اسرار، یہ احسانات پروردگارِ عالم کی طرف سے ایسے عالی قدر اور اتنے عظیم ہیں کہ کوئی بندہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس نے حقِ شکر گزاری ادا کیا، یا ادا کر سکے گا۔

 

۴۔ ہر آیۂ کریمہ میں تمام قرآنِ حکیم کس طرح سمایا ہوا ہے، اس کی مثال زیرِ بحث آیت سے پیش کی جاتی ہے کہ اس ارشاد میں پانچ بڑے اہم موضوعات آئے ہیں: اوّل تسخیرِ کائنات، دوم ظاہری اور باطنی نعمتیں، سوم علم، چہارم ہدایت، اور پنجم روشن کتاب، اب آپ کو یہ سوچنا اور جاننا ہوگا کہ ان میں سے کوئی موضوع ایسا نہیں، جس کے مختلف پہلوؤں پر جملہ آیاتِ قرآنی روشنی نہ ڈالتی ہوں، اور یہ امر اس صورت میں ممکن ہے، جبکہ ہر قرآنی موضوع میں ساری آیتوں کا مجموعی خلاصہ اور اشارہ موجود ہو، یقیناً ایسا ہی ہے، اور دوسری طرف سے ہر آیۂ شریفہ کی روح المعانی میں عالمِ قرآن سمایا ہو، جی ہاں، یہی حقیقت ہے، تاکہ قرآنِ حکیم اپنے معجزۂ علمی سے ہر آیت میں سمٹ بھی جائے، اور اپنے دائرۂ محیط میں پھیل بھی جائے، جس طرح ام الکتاب (سورۂ فاتحہ) کا مضمون سارے قرآن میں پھیلا ہوا ہے، اور پورا قرآن ام الکتاب میں سمٹا ہوا ہے۔

 

۵۔ یہاں ہم اس موقع پر مثلاً یہ تذکرہ بھی کر سکتے ہیں کہ نہ صرف عالمِ اکبر

 

۲

 

ہی بطورِ خلاصہ و جوہر عالمِ شخصی میں محدود و مجموع ہو جاتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ عالمِ شخصی بھی اپنی روحانی لہروں سے عالمِ اکبر کی آخری حدود تک پھیلتا رہتا ہے، ایسی قدرتِ خداوندی کا پُرحکمت اشارہ اس وقت ملتا ہے، جبکہ حضرتِ عزرائیل علیہ السّلام مسلسل سات رات آٹھ دن (تقریباً ایک سو اسی گھنٹے۱۸۰) (۶۹: ۰۷) تک عالمِ شخصی کی رو ح کو قبض کر کے کائنات میں پھیلا دیتا ہے، اور کائناتی روح کو عالمِ شخصی میں ڈالتا ہے، اور یہ عمل مذکورہ مدت میں لگاتاردہراتا رہتا ہے، جس میں بے شمار حکمتیں پنہان ہیں، من جملہ ایک حکمت یہ ہے کہ اس عملِ عظیم سے عالمِ شخصی کی ایسی ستر ہزار زندہ کاپیاں تیار ہو جاتی ہیں، جن میں سے ہر ایک میں بیرونی کائنات بھی مسخر ہے، پس آفاق و انفس کے اسی انتہائی عظیم مشترکہ عمل میں نہ صرف ارض و سما کی روحانی تسخیر اور ہر گونہ ظاہری و باطنی نعمتیں مہیا ہو جاتی ہیں، بلکہ ساتھ ہی ساتھ روحانی علم اور نورانی ہدایت بھی حاصل ہو جاتی ہے، اور اسرارِ معرفت کا سب سے بڑا خزانہ امامِ زمانؑ کا نورِ اقدس ہے، جس کا ایک نام کتابِ منیر ہے۔

 

۶۔ قرآنِ حکیم میں جس طرح جگہ جگہ حقیقی علم و حکمت کی تعریف و توصیف فرمائی گئی ہے، اس کی شان بڑی نرالی ہے، آپ قرآنِ مجید کی ان تمام آیاتِ مقدّسہ کا بغور مطالعہ کریں، جو علم کے موضوع سے متعلق ہیں، میرا پُرخلوص مشورہ ہے کہ آپ کم از کم ان آیاتِ کریمہ کو بار بار پڑھا کریں، جن میں علم و حکمت کی تعریف نمایان ہے، تاکہ آپ کی ایسی قابلِ قدر کوشش اور مشقت خدا کے فضل و کرم سے علمی عبادت قرار پائے، جس سے بطورِ اجرو صلہ آپ کو حقیقی علم سے زبردست دلچسپی ہو، یا بڑا شوق یا شدید عشق پیدا ہو جائے، اگر ایسا ہو سکا، تو آپ کو مبارک باد! کہ یہ آپ کی علم و دانش سے شدید محبت یا عشق دراصل (یعنی مقامِ

 

۳

 

روحانیّت پر) ایک فرشتۂ موّکل ہے، جو اللہ کی طرف سے مقرر ہوا، تاکہ وہ شب و روز بذریعۂ الہام آپ کو علم کی طرف متوّجہ اور مائل کرتا رہے۔

 

۷۔ کائنات و موجودات میں کوئی ایسی شیٔ نہیں، جو خزائنِ الٰہی سے نازل نہ ہوئی ہو (۱۵: ۲۱) لیکن خدا کے خزانوں کا تصوّر کس مثال پر ہو؟ آیا یہ ممکن نہیں کہ اللہ کا ہر خزینہ دنیا کی مثال کے برعکس کوئی عظیم فرشتہ ہو؟ یا کوئی بڑی روح؟ یا نورِ تابندہ؟ یا پیغمبر؟ یا امام؟ یہ تمام معانی آپس میں ملے ہوئے ہیں، یہاں ایک اور ضروری سوال ہے کہ آیا ربّ العزّت کے خزانوں سے ہمیشہ اعلیٰ اور عمدہ چیزیں برآمد نہیں ہوتیں؟ آیا اس میں کوئی شک ہو سکتا ہے کہ خدا کے دو بڑے خزانے دو عظیم فرشتے ہیں؟ یعنی عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ، جو بحرِ علم اور بحرِ رحمت ہیں؟ کیا ان دونوں سمندروں سے موتی اور مونگے نہیں نکلتے ہیں؟ (۵۵: ۱۹ تا ۲۳) ۔

 

۸۔ دریائے علم اور دریائے رحمت سے درّ و مرجان یعنی عقل و جان؟ جی ہاں، ایسا ہی ہے، کیونکہ ان دونوں سمندروں سے جو موتی اور مونگے نکلتے ہیں، ان میں ساری چیزوں کی نمائندگی ہے، لہٰذا وہ ہر عالم میں اس کی ضرورت، صلاحیت، اور مرتبت کے مطابق نازل ہوتے ہیں، جیسے عالمِ ملکوت، عالمِ ناسوت، عالمِ حیوان، عالمِ نبات، اور عالمِ جماد میں سے ہر ایک کے مختلف درجات ہیں، ایسے ہی ان دو دریاؤں کے موتیوں اور مونگوں سے فیوض و برکات حاصل ہوتی رہتی ہیں، یعنی ہر ہر چیز پر ایک گونہ علم و رحمت ثبت (تحریر) ہے، جیسا کہ سورۂ مومن میں ارشاد ہے: رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا (۴۰: ۰۷) پس کوئی ایسی چیز نہیں، جو

 

۴

 

رحمت و علم کی آئینہ داری نہ کرتی ہو، پھر علم و حکمت کی خصوصی نمائندگی میں عالمِ قرآن کی چیزوں کی کیا شان ہوگی۔

 

۹۔ عقلِ کلّی اور نفسِ کلّی ہی وہ دو دریا ہیں، جو باہم ملے ہوئے بھی ہیں، اور الگ الگ بھی، یہی عقل و نفس قلم اور لوحِ محفوظ بھی ہیں، جن کی تحریروں سے لؤلؤ اور مرجان پیدا ہو جاتے ہیں، اور سورۂ رحمان (۵۵: ۱۹ تا ۲۳) میں انہی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، سب کو معلوم ہے کہ دورانِ تحریر ایک جسمانی قلم تختی یا کاغذ کو بار بار چھوتا بھی ہے اور چھوڑتا بھی ہے، اور وصل و فصل کا یہ عمل نہ صرف ظاہری قلم اور کاغذ کے مابین لازمی ہے، بلکہ قلمِ الٰہی اور لوحِ محفوظ کے دودریاؤں کے درمیان بھی وصل وفصل کا برزخ (حدِ فاصل) موجود ہے، اور اسی نظام کی بدولت ان سے لؤلؤ اور مرجان پیدا ہو جاتے ہیں، اس کے برعکس نہ تو قلم و لوح کے قطعاً الگ ہو جانے سے کوئی تحریر بن سکتی ہے، اور نہ ہی ہمیشہ کے لئے ایک ہو جانے سے، اور اس میں بڑے دوررس اشارے پوشیدہ ہیں۔

 

۱۰۔ کتابِ “لعل و گوہر” خدا کے فضل و کرم سے ہم سب کو قرآنِ عزیز، روحانیّت، اور عقلانیّت کے خزائنِ اسرار سے بیحد محبت اور عشق ہے، اس لئے ہم نے ان خزانوں کے پُرنور جواہرات کا تصوّر کرتے ہوئے اپنی اس پیاری کتاب کو “لعل و گوہر” کے اسمِ گرامی سے موسوم کیا، دوسری وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ میں علم و ادب میں بہت ہی مفلس اور غریب ہوں، اور یہ بات ان حضرات سے ہر گز پوشیدہ نہیں، جو شروع ہی سے اس ناچار کو جانتے ہیں، چنانچہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس گدا کو ہمیشہ بادشاہِ روحانیّت انمول جواہر کا صدقہ دیا کرتا ہے، پس اگر ان تمام ہیروں اور موتیوں کو، جو شروع سے لیکر اب

 

۵

 

تک ملتے رہے ہیں، کسی ایک کتاب میں بھی لعل و گوہر کے نام سے یاد نہ کیا جاتا، تو بہت بڑی ناشکری اور ناقدری ہو جاتی، لہٰذا اس کتاب کا نام لعل و گوہر مقرر ہوا۔

 

۱۱۔ چونکہ ہمارے عزیزان اس کتاب کے اکثر مضامین قسط وار پڑھ چکے تھے، لہٰذا  جب اس کے پیارے نام “لعل و گوہر” کا اعلان ہوا، تو جتنےعزیزان یہاں حاضر تھے، ان میں زبردست مسرّت و شادمانی کی لہر دوڑنے لگی، پھر انہوں نے منگل ۲۳ مارچ کو ایک خاص پروگرام بنا کر اس کتاب کی خوبیوں کے بارے میں بڑی شاندار تقریریں کیں۔

 

ن۔ ن۔ ہونزائی، کراچی

منگل ۱۷ شوال المکرم۱۴۱۲ء

۲۱ اپریل ۱۹۹۲ء

سال ہمدونہ (بندر)

 

۶

 

 

شجرۂ کار

 

۱۔ شجرۂ کار سے یہاں خانۂ حکمت اور ادارۂ عارف مراد ہیں، یہ دونوں بہت ہی پیارے اور بہت ہی نیک نام ادارے (جن کو حضرتِ امامِ اقدس علیہ اسلام کی باطنی دعا حاصل ہے) باہم شیرو شکر ہو گئے ہیں کہ ان کا الگ نقشہ بنانا بیحد مشکل ہو گیا ہے، چلئے ٹھیک ہے، جب دنیا وحدت و سالمیت کے لئے مرتی ہے، تو پھر ہم اس نعمتِ خداوندی کا شکر کیوں نہ کریں، کہ ہمارے یہ ادارے دو بھی ہیں، اور یہی ایک بھی ہے، جس طرح آدمی کی آنکھیں دو ہیں، لیکن بصارت ایک ہو کر اپنا کام کرتی ہے، کان دو، مگر دونوں کی سماعت مل کر ایک ہو جاتی ہے، ناک بھی اسی قانونِ دوئی کے تحت ہے، اسی طرح ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضا بھی دو دو ہیں۔

 

۲۔ ہم نے اس شجرۂ کار میں صدر فتح علی حبیب خانۂ حکمت، اور صدر محمد عبد العزیز ادارۂ عارف کو نیز ان کے تمام عملداروں اور ممبروں کو درخت کا تنا قرار دیا ہے، اور کراچی کو درخت کا باغ، اور اس شجرِ پُرثمر کی عالی شان شاخیں جو شرق و غرب میں پھیل کر ہر موسم میں میوۂ علم دے رہی ہیں، ان کی تعداد فی الحال پندرہ ہے، ہر شاخ کی اہمیت اور قدروقیمت کا اندازہ کام اور مقام کی وجہ سے ہو سکتا ہے، سب جانتے ہیں کہ مہکتے ہوئے خوبصورت

 

۷

 

پھول اور خوشبودار شیرین پھل جھاڑ اور درخت کی شاخوں ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔

 

۳۔ ہمارے خداداد دوستوں میں کوئی ایسا منفرد اور معجزانہ شخص بھی ہو سکتا ہے، جو توفیق و تائیدِ خداوندی سے لاکھوں کے برابر علمی خدمات انجام دے رہا ہو، ان میں سے بعض خوش نصیب حضرات ایسے بھی ہیں کہ ان کا ہر فرد ہزاروں کی طرح کام کر رہا ہے، چنانچہ ہم نے اپنے عزیزوں کی اہلیت اور ضرورت کے مطابق کم افراد یا ایک فرد کو بھی برانچ کا درجہ دیا ہے، اسی طرح آج ۱۸ فروری ۱۹۹۲ء کو عزیزم “امام داد کریم برانچ” (فرانس) کا تقرر کیا جاتا ہے، کیونکہ امام داد کریم کی زرّین خدمات اس معنٰی میں بے مثال ہیں کہ وہ مرکزِ نورِ مجسم سے ظاہراً و باطناً بہت  ہی قریب ہیں، خداوندِ قدوس ان کو اور زیادہ ترقی اور نزدیکی  عنایت فرمائے! آمین!!

 

۴۔ کتاب “گل ہائے بہشت” ص۲۳۶ پر دیکھیں، وہاں آپ کو امام داد صاحب کے بارے میں ایک نورانی خواب کا تذکرہ ملے گا، جس کی تاویل میں نہ صرف ان کی ذات ہی کے لئے خوشخبری ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ حلقۂ احباب کو بھی نویدِ جانفزا مل رہی ہے، وہ عجیب و غریب پُرازحکمت خواب تھا، اس سے مکمل یقین آیا کہ محترم امام داد ہمارے دوسرے عزیزان، جو خانۂ حکمت اور ادارۂ عارف سے وابستہ ہیں، وہ سب کے سب بے حد خوش قسمت ہیں، کہ ان کی پاکیزہ روحیں حضرتِ قائم القیامت علیہ افضل التحیۃ والسلام کے روحانی لشکر میں شامل ہیں۔

 

۵۔ ہمارا شجرۂ کاریعنی عملی کام کا درخت یا نقشہ اس طرح ہے: سب سے

 

۸

 

پہلے کراچی مرکز ہے، جس کی آٹھ بڑی برانچوں میں سے چار مشرق میں اور چار مغرب میں ہیں، مشرق کی شاخوں میں اوّل گلگت برانچ کا نام آتا ہے، جس کی ذیلی شاخیں یہ ہیں: مسگار برانچ، التت۔ کریم آباد برانچ، حیدرآباد۔ علی آباد برانچ، مرتضیٰ آباد برانچ، اور اوشی کھنداس برانچ، اس کا نام پہلے حلقۂ ذکر تھا، اب اس کو ترقی دی گئی، یہ تو گلگت برانچ کا تذکرہ ہوا، اس کے بعد ہم شمالی علاقوں سے جب راولپنڈی آتے ہیں، تو وہاں اسلام آباد برانچ ہے، کراچی میں شاہ بی بی برانچ، اورکریم آباد برانچ ہیں، مغرب میں سب سے پیشتر لنڈن برانچ ہے، اس کے بعد امریکہ برانچ، جس کے تحت یاسین نور علی (Y-N) برانچ، اور ماہِ محل بدرالدین (M-B) برانچ ہیں، اب مغرب کی تیسری بڑی شاخ کا نام آتا ہے، جو ایڈمنٹن برانچ (کنیڈا) ہے، اورچوتھی بڑی شاخ امام داد برانچ ہے، جو فرانس جیسے اہم ملک میں ہے، خدا کرے کہ عزیزم امام داد کریم کے مبارک عالمِ شخصی میں ہمیشہ فرشتوں اور پاکیزہ روحوں کا ایک زبردست لشکر موجود ہو، تاکہ رفتہ رفتہ سب پر یہ حقیقت روشن ہو جائے کہ ہم کیوں تنہا ایک فرد کو برانچ یا ادارہ قرار دیتےہیں۔

 

۶۔ محترم احمد جامی سخی نہ صرف ایک مایۂ ناز نوجوان سکالر ہیں، بلکہ وہ ہمیشہ پیرِ خردمند کی طرح بڑی موثر اور دلنشین گفتگو بھی کرتے ہیں، ایک دفعہ انہوں نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: “وہ تنہا اپنی ذات ہی میں ایک بہت بڑا ادارہ ہیں۔” یہ حقیقت ہے، کیونکہ خدائے بزرگ و برتر نے انسان خصوصاً مومن کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے، اس لئے وہ بہت کچھ کر سکتا ہے، اب ذیل میں علم کی کچھ خاص اور بنیادی باتیں آتی ہیں:۔

۷۔ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: من اخلص العبادۃ

 

۹

 

للہ اربعین یومافتح اللہ قلبہ، و شرح صدرہ، واطلق لسانہ بالحکمۃ ولوکان اعجمیاً غلفاً۔ جو (مومن) شخص چالیس (۴۰) دن اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرے (جیسا کہ حق ہے) خدا اس کے دل کو کھول دیتا ہے، اور اس کے سینے کو کشادہ کر دیتا ہے، اور اس کی زبان کو حکمت بیان کرنے کی قوّت عطا کرتا ہے، اگرچہ وہ بولنے اور سمجھنے میں سخت کمزور ہو (اخوان الصفا، جامعۃ الجامعہ، ص۲۷۔ ۲۹) اس میں ہر مومنِ صادق و عاشق کے لئے بہت بڑا خزانہ پوشیدہ ہے، ہر دیندار شخص اپنے علم و عمل کے مطابق اس معیار سے فائدہ اٹھا سکتا ہے (ان شاء اللہ تعالیٰ)

 

۸۔ کتابِ دعائم الاسلام، جلدِ اوّل، کتاب الولایۃ (۱) ایمان، ص۴ پر دیکھیں: بروایتِ حضرتِ امام جعفر الصادقؑ ایمان کی تعریف یہ ہے: الایمان اقرار بالسان تصدیق بالقلبِ وعمل بالارکان۔ یعنی زبان سے اقرار کرنا دل سے تصدیق کرنا اور اعضاء سے عمل کرنا ایمان ہے۔ اس میں قلبی تصدیق وضاحت کی مقتضی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایمان کے بہت سے درجات ہیں، جن کا آغاز زبانی اقرار سے ہوتا ہے، اور قلبی تصدیق جو معرفت ہے، اس سے ایمان درجۂ کمال کی طرف آگے بڑھتا جاتا ہے، اور ایمان کے بارے میں ایک اور حدیثِ نبوّی اس طرح ہے: الایمان معرفۃ بالقلب واقرار باللسانِ وعمل بالا رکان۔ (دیدۂ) دل سے پہچاننا زبان سے اقرار کرنا اور اعضاء سے عمل کرنا ایمان ہے (المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۱۸، ص۳۳۵) ۔

 

۹۔ مذکورہ حدیثِ شریف سے یہ حقیقت سب کے سامنے روشن ہو جاتی ہے کہ معرفت کے سوا ایمان کا کامل اور مکمل ہو جانا محال ہے، اور

 

۱۰

 

معرفت کا براہِ راست تعلق نور سےہے، جس کی روشنی میں دل کی آنکھ سے دیکھا اور پہچانا جاتا ہے کہ ایمان اور اس کے متعلقات کیا ہیں، اسی لئے قرآنِ حکیم نے خدا، رسولؐ، اور نور پر ایمان لانے کا حکم دیا (۶۴: ۰۸) فامنو اباللہ ورسولہ والنور الذی انزلنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (۶۴: ۰۸)

 

ن۔ ن۔ ہونزائی، کراچی

جمعرات ۱۵، شعبان المعظم ۱۴۱۲

۲۰، فروری ۱۹۹۲ء

 

۱۱

 

شجرۂ کارِ “خانۂ حکمت” و “ادارۂ عارف”

 

۱۲

 

باقی رہنے والی نیکیاں

 

۱۔ سورۂ کھف (۱۸: ۴۶) او رسورۂ مریم (۱۹: ۷۶) میں باقیاتُ الصالحات یعنی باقی رہنے والی نیکیوں کی تعریف فرمائی گئی ہے، ان سے ایسے نیک کام مراد ہیں، جن کا ثواب ہمیشہ ملتا رہے، مثال کے طور پر ایک مومن شخص نے سکول تعمیر کرنے کے لئے اراضی (زمین) دیدی، تو یہ صدقۂ جاریہ باقیاتُ الصالحات میں سے ہے۔

 

۲۔ اگرچہ یہ ایک سوال رہا ہے کہ باقیاتُ الصالحات میں کون کون سے نیک اعمال شامل ہو سکتے ہیں؟ تاہم اس حقیقتِ حال کے سمجھنے میں کوئی خاص مشکل نہیں، کیونکہ ان کا تعین زمان و مکان کی ضرورت کے مطابق ہو سکتا ہے، جیسے ہمارے علاقے کا تجربہ ہے کہ وہاں زمانۂ ماضی میں باقیاتُ الصالحات کی مثالیں یہ تھیں (الف: ) کسی نہر پر کوئی بہت معمولی پُل بنا دینا۔ (ب: ) ضروری راستے کے کنارے پر ایک چھوٹا سا چبوترا قائم کرنا (ج: ) آب نوشی کے لئے کنواں بنانا (د: ) خانۂ ثواب تعمیر کرنا، جو صرف ایک ہی کمرہ ہوتا تھا (ھ: ) زمین پر جہاں ضروری ہو برآمدہ (سائبان) بنانا (و: ) آبادی میں یا پہاڑ پر کوئی پگ ڈنڈی بنانا (ز: ) کسی میوہ دار درخت کو خدائی (خدا کے نام پر) مقرر کرنا، وغیرہ۔

 

۱۳

 

۳۔ یہ تمام اعمالِ صالحہ، جن کا اوپر ذکر ہوا، اگلے زمانے کے ضرورت کے مطابق صدقۂ جاریہ اور باقیاتُ الصالحات میں سے تھے، لہٰذا (ان شاء اللہ) ان کا ثواب ہمیشہ ملتا رہا ہوگا، لیکن آج زمانہ یکسر بدل چکا ہے، اس لئے دیکھنا اور سوچنا پڑے گا کہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق کونسا نیک کام زیادہ سے زیادہ باعثِ ثواب ہو سکتا ہے؟

 

۴۔ ہمارے عظیم المرتبت پیروں نے دعوتِ حق کے سلسلے میں جیسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، جتنے باسعادت نفوس کو امامِ برحقؑ کے دامنِ اقدس سے وابستہ کیا، اور جو علم و حکمت کا انمول ورثہ (بصورتِ کتب اور گنان) چھوڑا ہے، یہ سب کچھ حقیقی معنوں میں صدقۂ جاریہ اور باقیات الصالحات میں سے ہے، اسی طرح اب بھی امامِ عالی مقامؑ کی نورانی تائید اور پیروں کے علمی صدقۂ جاریہ سے کچھ پُرحکمت کتابیں ہو سکتی ہیں، مگر اس انتہائی مشکل کام کو آگے بڑھانے کے لئے ہر گونہ ہمت افزائی اور ہر طرح کی مدد کی ضرورت ہے۔

 

۵۔ ہر وہ کتاب جس میں خدا، رسولؐ، اور امامؑ کی معرفت کی روشنی ہو، یقیناً صدقۂ جاریہ اور ہمیشہ باقی رہ جانے والی نیکی ہے، کیونکہ یہ مثلاً ہمہ رس گشتی سکول اور دنیا میں گھر گھر پہنچنے والی مفید لائبریری ہے، اس میں رحمانی علاج کے نسخے  ہیں، لہٰذا یہ شفا خانہ روحانی بھی ہے، ایک کامیاب کتاب گویا معاونِ جواہر کا پہاڑ ہے، یہ بہشت کے باغ و گلشن کی طرح ہے، جس پر خزان نہیں گزرتی، اور اس کے نظاروں سے دیکھنے والوں کا جی نہیں بھر جاتا۔

 

۶۔ اگر کوئی کتاب قرآن، حدیث، اور علمِ امامت سے مربوط ہے،

 

۱۴

 

تو سمجھ لیجئے کہ یہ سمندر ہے، آپ اس کی گہرائیوں سے انمول موتیوں کو حاصل کرنے کے لئے سعی کریں، کتاب کی ایک اور پسندیدہ مثال جوہری کی دکان ہے، جس میں گونا گون جواہر موجود ہوں، آپ کسی قیمت کے بغیر لعلِ شب چراغ کو یا گوہرِ شب تاب کو لے سکتے ہیں، یہاں کے یاقوتِ احمر کا نگینہ بیحد خوبصورت ہوا کرتا ہے، زبرجد کی رعنائی اور دلکشی کا کیا کہنا، اس دکان کے عقیق کی آب و تاب سے عقیقِ یمنی شرما رہا ہے، لاجوردبڑا حسین اور خوشنما ہے، یہاں گوہرہائے سفتہ (بندھے ہوئے موتی) بھی ہیں، اور دُردِ ناسفتہ (ان بندھے موتی) بھی، اور بادشاہوں کو کیا معلوم کہ اصل اور حقیقی دُرِ شہوار کہاں سے دستیاب ہو سکتا ہے۔

 

۷۔ کتاب کی تعریف دراصل علم کی تعریف ہے، اور علم ایسی عزت کی بلندی پر ہے کہ اس سے صرف ذاتِ سبحان برتر ہے، اور تمام چیزیں علم کے تحت ہیں، ایسے میں علم اور کتاب کی جتنی بھی توصیف کریں کم ہے، پس بڑے خوش نصیب ہیں وہ حضرات، جو علمی خدمت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔

۸۔ میں بڑی مسرّت و شادمانی سے یہ تاریخی جملے تحریر کر رہا ہوں کہ جناب نذیر صابر نامور کوہ پیما خانۂ حکمت برانچ اسلام آباد کے صدر مقرر ہوئے، آپ خاندانی طور پر ایک مثالی مومن اور بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں، جس سنجیدگی، سلیقہ مندی، اور خوش خلقی سے گفتگو کرتے ہیں، اس کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ اللہ کا نور کس طرح خاموشی سے اپنا کام کر رہا ہے، نذیرصاحب نے اپنے والد بزرگوار سعادت شاہ ابنِ رجب علی کو خانۂ حکمت کا تاحیات رکن بنا دیا، اور کتابِ “لعلِ گوہر” کی اشاعت میں بھر پور مدد دی،

 

۱۵

 

چونکہ سعادت شاہ صاحب صفِ اوّل کے مومنوں اور علیٔ زمانؑ کے جان نثار عاشقوں میں سے ہیں، لہٰذا ان کو بارہ سال خاموش خدمت کا اعزاز دے کر رکنیت۱۹۸۰ء سے درج کی گئی، سعادت شاہ صاحب قبیلۂ درِ امتگ سے تعلق رکھتے ہیں، اور علاقۂ ہونزا کے علی آباد جیسے پیارے گاؤں میں مقیم ہیں۔

 

۹۔ محترم سعادت شاہ کو میں اگرچہ ۱۹۳۹ء سے جانتا ہوں، جبکہ میں ابھی ابھی گلگت سکوٹس میں بھرتی ہوا تھا، اور آپ پہلے ہی بھرتی ہوئے تھے، لیکن عرصۂ دراز کے بعد ان کو بہت قریب سے دیکھنے کا شرف حاصل ہوا، کہ میں وادیٔ چپورسان کے دورہ کے سلسلے میں ایک دن ان کے دولت خانۂ رامنجی میں مہمان تھا، اعلیٰ قسم کی مہمان نوازی تو وہاں کی روایتی شان ہے، بات دراصل خوش اخلاقی کی ہے، یہ سچ ہے کہ میں جناب سعادت شاہ کے جملہ اوصافِ مومنی سے بیحد متاثر ہوا، اور پھر ہماری قلبی دوستی ہوگئی یہ شعر ان جیسے نیک بخت انسانوں کے بارے میں ہے:۔

این سعادت بزورِ بازو نیست

تانہ بخشد خدائے بخشندہ

ترجمہ: یہ نیک بختی قوّتِ بازو سے حاصل نہیں ہوتی ہے، جب تک خداوندِ مہربان خود مہربانی نہ دے۔

 

۱۰۔ عزیز و محترم سعادت شاہ ہر چند کہ عمر میں مجھ سے بھی بڑے ہیں، لیکن جب وہ مذہبی یا اخلاقی طور پر کسی سے ملاقات کرتے ہیں، تو اس وقت ان کا چہرہ حقیقی خوشی سے گلاب اور گُلِ سوری کی طرح شگفتہ ہوجاتا ہے، الحمد للہ، اگرچہ دنیا میں سیرو تفریح کے لئے حسین سے حسین تر باغات بھی ہیں، اور گلشن بھی، لیکن جہاں جہاں مومنانِ باصفا اور دوستانِ خدا کی بابرکت

 

۱۶

 

ملاقا ت نصیب ہوتی ہے، وہاں کی شادمانی سے ایمان کو تقویت ملتی ہے، اور یوں لگتا ہے کہ ذرا سا بہشت کا تجربہ ہو رہا ہے۔

 

ن۔ ن۔ ہونزائی، کراچی

ہفتہ ۲۱، شوال المکرم۱۴۱۲ھ

۲۵ اپریل ۱۹۹۲ء

 

۱۷

 

عقل اور علم کی اہمیت

 

۱۔ سورۂ زمر میں ارشاد ہے: قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ (۳۹: ۰۹) (اے رسولؐ) تم پوچھو تو کہ بھلا کہیں جاننے والے اور نہ جاننے والے لوگ برابر ہو سکتے ہیں؟ (مگر) نصیحت عبرت تو بس عقلمند ہی لوگ مانتے ہیں (۳۹: ۰۹) اس ربّانی اور قرآنی تعلیم میں جن علم والوں کی افضلیت و برتری کا ذکر ہوا ہے، وہ دراصل حضراتِ أئمّہ علھیم السّلام ہی ہیں، کیونکہ جملہ قرآن میں جس علم کی تعریف کی گئی ہے، وہ کسی شک کے بغیر روحانی علم ہی ہے، جو امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کے پاس مخزون ہوا کرتا ہے، تاکہ لوگ اطاعت و فرمانبرداری کے راستے سے آکر امامِ وقتؑ کے علمی خزانوں میں داخل ہو جائیں، اور ان پر بھی اس آیۂ کریمہ کا اطلاق ہو جائے۔

 

۲۔ اَخۡبَر ناعن ابی جعفر علیہ السّلام قال: لما خلق اللہ العقل استنطقہ ثمہ قال لہ: اقبل فاقبل ثمہ لہ: ادبر فادبر ثم قال: وعزتی و جلالی ماخلقت خلقاً ھواحب الی منک ولا اکملتک الا فی من احب، اما ایاک امر وایاک انھی و ایاک اعاقب، وایا اثیب۔ حضرتِ امام محمد باقرؑ سے روایت کی گئی ہے کہ

 

۱۸

 

آپؑ نے فرمایا: جب خدا نے عقل کو پیدا کیا تو اسے قوتِ گویائی دے کر فرمایا، آگے آ، وہ آگے آئی، پھر کہا، پیچھے ہٹ، وہ پیچھے ہٹی، پھر فرمایا، اپنے عزّت و جلال کی قسم میں نے تجھ سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں پیدا کی، اور میں نے تجھ کو صرف ایسے شخص میں مکمل کر دیا جس کو میں محبوب رکھتا ہوں، دیکھ میرے اوامر و نواہی تیرے لئے ہیں، اور عذاب و ثوات کا تعلق بھی تجھ ہی سے ہے۔

 

۳۔ آیا یہی تذکرہ عقلِ کامل اور عقلِ کُلّ کا نہیں ہے، جس کا ظہور انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام میں ہوتا ہے؟ کیا یہ عالمِ شخصی سے باہر کا کوئی قصّہ ہو سکتا ہے؟ کیا اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی ممکن ہے کہ اس نے عقلِ اوّل کو اور بعد کی عقول کو مختلف طریقوں سے پیدا کیا؟ یوں ماننا چاہئے کہ بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو تخلیق کا سلسلہ کسی ابتدا و انتہاء کے بغیر جاری ہے، مگر ہاں، عالمِ شخصی پر آغاز کا اطلاق ہو سکتا ہے؟

۴۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم: من سلک طریقاً یطلب فیہ علما سلک اللہ بی طریقاً الی الجنتہ وان الملائکتہ لتضع اجتھا لطالب العلمِ رضا بہ وانہ یستغفر لطالبِ العلم من فی السماءِ ومن فی الارضِ حتی الحوت فی البحر۔ حضرتِ رسولِ خداؐ نے فرمایا: جو شخص طلبِ علم کی خاطر راستہ طے کرتا ہے اللہ اس کو جنّت کی طرف لے جاتا ہے، اور فرشتے خوش ہو کر اپنے پروں کو طالب علم کے لئے بچھاتے ہیں اور آسمان و زمین کے رہنے والے حتی کہ دریا کی مچھلیاں طالبِ علم کے لئے طلبِ بخشش کرتی ہیں۔

 

۵۔ عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال: الناسُ ثلاثۃ: عالم ومتعلم وغثاء۔ حضرتِ امام جعفر الصادق علیہ السّلام نے فرمایا:

 

۱۹

 

لوگ تین قسم کے ہوا کرتے ہیں: عالم، متعلم، اور بیہودہ شخص۔

 

۶۔ موصوف امامؑ نے فرمایا: اغد عالما اومتعلما اواحب اھل العلم ولا تکن  رابعا فتھلک ببغضھم۔ تین اشخاص میں سے ایک ہو جاؤ، یا عالم یا متعلم یا اہلِ علم کے دوست، چوتھا شخص مت ہو جاؤ ورنہ تم اہلِ علم سے دشمنی میں ہلاک ہو جاؤ گے۔

 

۷۔ قرآنِ حکیم بار بار اس حقیقت کو دہراتا ہے کہ علم کا اصل سرچشمہ ایک ہی ہے، اور وہ وہی ہے، جس کو خدا و رسولؐ نے نورِ علم اور معلّمِ کتاب و حکمت بنایا ہے، یعنی امامِ برحقؑ، وہی بحقیقت عالمِ علمِ لدنّی ہے، جس کے تذکروں، اشاروں، اور مثالوں سے قرآن بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہی ہے: نورِ منزّل، خدا کی رسی، کتابِ ناطق، صراطِ مستقیم، دختِ علم (شجرۂ طیبہ) کوثر، آلِ ابراہیمؑ (آلِ محمدؐ) راسخون فی العلم، امامِ مبین، شاہد، مؤولِ قرآن، ہادی، وارثِ رسولؐ، بابِ علم و حکمت، اسمِ اعظم، نورِ علیؑ، ولیٔ امر، عروۃ الوثقیٰ، شاہِ ولایت، عالمِ لطیف، جثۂ ابداعیہ، کتابِ مکنون، انسانِ کامل، بہشتِ مجسم، وسیلۂ نجات، کشتیٔ نوح، جانِ جہان، نفسِ واحدہ، یوم الاآخر، وجہ اللہ، کوہِ قاف، حجرِ مکرم، قلبِ سلیم، خورشیدِ ازل، آسمان کی سیڑھی، صورِ عشق و فنا، چراغِ معرفت، کنزِ اسرار، وغیرہ۔

ن۔ ن۔ ھ، کراچی،

جمعہ ۲۷ شوال۱۴۱۲ء،

یکم مئی ۱۹۹۲ء

 

۲۰

 

بھیدوں کی بہشت

 

۱۔  سورۂ مائدہ کے رکوعِ ہفتم میں جس طرح تورات (۰۵: ۴۴) انجیل (۰۵: ۴۶) اور قرآنِ حکیم (۰۵: ۴۸) کا اساسی ذکر فرمایا گیا ہے، اس میں ہوشمند مومنین کو خوب غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اصل تورات کے ظاہر میں ہدایت اور باطن میں روشنی (نور) تھی، یہاں باطن سے روح و روحانیّت مراد ہے، اور انجیل میں بھی تحریفات سے پہلے ایسی ہی ہدایت اور روشنی تھی، یہ کلیدی حکمت ہمیشہ یاد رہے کہ ہر آسمانی کتاب کی روح، روشنی، اور باطنی حقیقت (تاویل) معلّمِ ربّانی میں پوشیدہ ہوتی ہے، مثال کے طور پر حضرتِ موسیٰؑ کی کتاب (تورات) تاویلی اعتبار سے حضرتِ ہارونؑ کی ذاتِ بابرکات میں تھی، پس اس معنیٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ کتابِ موسیٰؑ امام اور رحمت تھی (۱۱: ۱۷) ۔

 

۲۔ جیسا کہ سورۂ فرقان کا یہ ارشاد ہے (ترجمہ): اور البتہ ہم نے موسیٰؑ کو کتاب (تورات) عطا کی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارونؑ کو (ان کا) وزیر بنایا (۲۵: ۳۵) وزیر کے اصل معنی ہیں: بوجھ اٹھانے والا، چنانچہ مذکورہ حکم کے مطابق حضرتِ موسیٰؑ کے ساتھ بھی اور ان کے بعد بھی تورات کی روح و روحانیّت اور نور و نورانیّت کا بارِ گران حضرتِ امام ہارونؑ اٹھا رہے تھے، اور اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ناطق کے لئے ایک ایسا وزیر مقرر

 

۲۱

 

فرمایا ہے، جو ولایت اور وصایت کے مرتبے پر آسمانی کتاب کے نور کا حامل ہوتا ہے۔

 

۳۔ قرآنِ پاک اگلی آسمانی کتابوں کی نہ صرف تصدیق ہی کرتا ہے، بلکہ یہ ان کا محافظ (مھیمن) بھی ہے (۰۵: ۴۸) کیونکہ جس طرح قرآن روحانیّت میں کتبِ اوّلین میں تھا (۲۶: ۱۹۶) اسی طرح سابقہ کتبِ سماوی بھی روحِ قرآن کے خزانے میں ہیں، جبکہ درحقیقت تمام پیغمبروں کی کتابیں مل کر “الکتاب” (۰۲: ۲۱۳) کہلاتی ہیں، اس لئے کہ نورِ نبوّت باطن میں ایک ہی ہے، اگرچہ ظاہر میں انبیاء علیھم السّلام الگ الگ ہیں۔

 

۴۔ ہر چند کہ جنت آسمان و  زمین کے طول و عرض کے برابر ہے (۵۷: ۲۱،  ۰۳: ۱۳۳) اور وہ ایسے وسیع پھیلاؤ کی وجہ سے دور ہے، لیکن روحانیّت اور علم و حکمت کے بھیدوں میں بہشت نزدیک لائی گئی ہے (۲۶: ۹۰، ۵۰: ۳۱، ۸۱: ۱۳) کیا نور اور کتاب (قرآن) بھیدوں کی بہشت نہیں ہے (۰۵: ۱۵)؟ آیا عارفین و کاملین کے عالمِ شخصی میں یہ بہشت نہیں ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ نور اور قرآن وہ بہشت ہے، جس میں ہرگونہ عقلی اور روحی نعمتیں موجود ہیں، اور اس کی شناخت سے کل آخرت میں مومنین و مومنات کو ابدی جنت مل سکتی ہے (۴۷: ۰۶) ۔

 

۵۔ بھیدوں (اسرار) کا مقام کتنا بلند اور کیسا مشکل ہے، اس کا اندازہ اس حدیث سے ہو سکتا ہے: الشریعۃ اقوالی، والطریقۃ افعالی، والحقیقۃ احوالی، والمعرفۃ سری۔ شریعت میرے اقوال کا نام ہے، طریقت میرے اعمال کا، حقیقت میری کیفیتِ باطن ہے، اور معرفت میرا راز (بھید) ہے۔ یہی راہِ اسلام کی چار منزلیں ہیں:۔

 

۲۲

 

اخلاق۔ شریعت۔ طریقت۔ حقیقت۔ معرفت۔

۶۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس سے شروع شروع میں اخلاقِ حسنہ کا ظہور ہونے لگا، پھر پروردگارِ عالم نے آپؐ کو مرتبۂ نبوّت و رسالت سے سرفراز فرمایا، آپؐ نے خدا کے حکم سے لوگوں کے سامنے ایک ایسے کامل ومکمل دین کو پیش کیا، جو شریعت، طریقت، حقیقت، اور معرفت کا مجموعہ تھا، یہی دینِ فطرت اور اسلام ہے، اور اس کے یہ مدارج اس لئے مقرر ہیں کہ مومنین خدا کے حضور درجہ بدرجہ پہنچ سکتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے: هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِؕ (۰۳: ۱۶۳) وہ لوگ خدا کے نزدیک مختلف درجوں کے ہیں۔

 

۷۔ شریعت، طریقت، حقیقت، اور معرفت میں سے ہر ایک کے بہت سے ذیلی درجات ہیں، لہٰذاعجب نہیں کہ یہ وہی سیڑھیاں ہوں، جن سے چڑھنے میں فرشتوں اور روحوں کو پچاس ہزار برس کا زمانہ لگتا ہے (۷۰: ۰۳ تا ۰۴) لیکن خدا اپنی قدرتِ کاملہ سے زمان و مکان کی بے پناہ وسعتوں کو لپیٹتا بھی ہے۔

 

۸۔ معرفت کا ایک بہت بڑا راز”دائرۂ درود” ہے، جس کی گردش خدا کے حکم سے جاری ہو سکتی ہے، ورنہ نہیں، وہ اس طرح ہے کہ: خدا اور اس

 

۲۳

 

کے فرشتے پیغمبر (اور ان کی آل) پر درود بھیجتے ہیں (۳۳: ۵۶) تاکہ یہ آسمانی درود اسی پاک و پاکیزہ وسیلے سے مومنین ومومنات کو حاصل ہو، اور اہلِ ایمان کو یہ حکم ہے کہ وہ ہمیشہ کامل تابعداری کے ساتھ درود کے لئے اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ درخواست کرتے رہیں، یعنی “اللھم صلی علیٰ محمدٍ و آلِ محمد” کہا کریں، تاکہ پروردگارِ عالم اور اس کے فرشتے نورِ نبوّت اور نورِ امامت کے توسط و طفیل سے ایمانداروں پر درود نازل فرمائے (۳۳: ۵۶) ۔

 

۹۔ درود کا مذکورۂ بالا قانون اس ارشاد میں بھی ہے: (خدا) وہی تو ہے جو خود اور اس کے فرشتے (محمدؐ و آلِ محمدؐ کے وسیلے سے) تم پر درود بھیجتے ہیں، تاکہ تم کو (جہالت کی) تاریکیوں سے نکال کر (علم کی) روشنی میں لے جائیں (۳۳: ۴۳) یہی حقیقت اس ارشاد میں بھی روشن ہے: (اے رسولؐ!) تم ان کے اموال سے صدقہ لو تاکہ تم ان کو پاک صاف کردو گے اور ان کے حق میں دعائے خاص کرو (یعنی آسمانی تحفہ بھیجو) بیشک تمہاری یہ صلوٰۃ (جس میں خدا اور فرشتوں کا درود ہے۳۳: ۴۳) ان کے حق میں باعثِ اطمینان ہے (۰۹: ۱۰۳) ۔

 

۱۰۔ لفظِ صلاۃ یا صلوٰ ۃ (جس کی جمع صلوات ہے) درود، رحمت، دعا، اورنماز کے لئے آتا ہے، تاہم مذکورۂ بالا آیاتِ کریمہ کے علاوہ اس ارشاد میں بھی بلفظِ صلوٰۃ اہلِ ایمان کے حق میں درود کا ذکر ہے، وہ آیۂ مبارکہ یہ ہے: أُولَـئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُون (۰۲: ۱۵۷) ۔ ۔ ۔ انہیں لوگوں پر ان کے پروردگار کی طرف سے بہت سے دورد ہیں اور رحمت، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

 

۱۱۔ اہلِ لغت کے نزدیک صلٰوۃ کے اور بھی معنی ہیں، جیسے استغفار، بزرگی بیان کرنا، پاکی بیان کرنا، پاک کرنا، عبادت گاہ، پیچھے چلنا، وغیرہ، مگر یہاں

 

۲۴

 

جس معنی و مفہوم کو دورد کہا گیا ہے، وہ ایک آسمانی تعریف ہے، کہ ایمانداروں کی انائے علوی علّیّین میں ہے، جہاں سرچشمۂ عقل و جان اور کلمۂ تامّۂ امر میں بھیدوں کی سب سے بڑی بہشت موجود ہے، اور یہی تو خداوندِ قدّوس کی بیمثال قدرت ہے کہ اس بادشاہِ لایزال نے گنجِ ازل میں سب کچھ سما دیا ہے، کیونکہ وہی سرمایۂ دوجہان ہے، جس کی توصیف کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔

۱۲۔ قرآنِ حکیم کی تمام مثالیں  اور سارے الفاظ مغزِ حکمت سے مملو ہیں، چنانچہ بنی اسرائیل سے یہ فرمانا کہ: تم اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ (۰۲: ۵۸) یہ تاویلی معنی رکھتا ہےکہ تم قریۂ ہستی یعنی عالمِ شخصی میں داخل ہو جاؤ، اور فرمایا گیا: اس گاؤں میں سے جہاں چاہو فراغت سے کھاؤ (۰۲: ۵۸) ظاہر ہے کہ یہ باطنی اور روحانی نعمتوں کی بات ہے، اسی طرح سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہوجانے کے لئے فرمایا گیا ہے، جس کی تاویل یہ ہے کہ صاحبِ امر کی اطاعت ہی سے کوئی شخص روحانیّت میں جا سکتا ہے، اورحطۃٌ کی جگہ حنطۃ کہنے کہ مثال یہ ہے کہ اگر کوئی کمزور اور کم علم مومن وسوسے کے زیرِ اثر مخصوص وقت میں اسمِ اکبر کا صحیح تلفظ ادا نہیں کر سکتا ہے، تو وہ اس انتہائی عظیم عمل میں کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ حطہ اور حنطہ میں لفظی لحاظ سے کم مگر معنوی اعتبار سے بہت زیادہ فرق ہے، کہاں مغفرت چاہنا، اور کہاں گندم طلب کرنا، آپ سورۂ نسا (۰۴: ۱۴) اور سورۂ اعراف (۰۷: ۱۶۱) میں بھی دیکھیں۔

 

۱۳۔ سورۂ مائدہ کے رکوعِ چہارم کی حکمتوں میں خوب غور و فکر کریں: اس

 

۲۵

 

نے تم (میں سے ہر ایک) میں (بحدِّ قوّت) انبیاء بنائے (۰۵: ۲۰) یعنی ہر مومن کے لئے یہ امر ممکن بنا یا گیا ہے کہ وہ علم و عمل کے ذریعے سے اپنے عالمِ شخصی میں ظہورِ پیغمبران کے تجدّدِ امثال کا مشاہدہ کرے، اور حقائق ومعارف کی لازوال دولت سے مالا مال ہو جائے، نیز ارشاد ہے: اسی نے تم میں سے ہر ایک کو (عالمِ صغیرمیں) بادشاہ بنایا (۰۵: ۲۰) پھر حکم دیا جاتا ہے کہ: مقدّس زمین (عالمِ شخصی) میں داخل ہو جاؤ (۰۵: ۲۱) سے مخالف روحیں مراد ہیں، اور یہاں دو مرد تاویلاً قوّتِ جبرائیلہ اور قوّتِ میکائیلہ ہیں، جن کا کہنا ہے کہ: اس مقدّس زمین کو دروازے ہی سے داخل ہو کر فتح کر لو (۰۵: ۲۳) ، یعنی روحانیّت اور علم و حکمت کا دروازہ امامِ زمانؑ ہی ہے، لہٰذا سی کے وسیلے سے عالمِ شخصی کی عظیم سلطنت حاصل ہو سکتی ہے۔ والسلام۔

 

نصیر ہونزائی۔ کراچی

پیر۱۰ ربیع الثانی ۱۴۱۲ھ

۲۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء

 

۲۶

 

ستاروں کا گرنا

 

۱۔ انسان کی روح اگرچہ وحدت و سالمیت کے اعتبار سے ایک ہی ہے، لیکن وہ لاتعداد لطیف و زندہ ذرّات یعنی اجزاء پر مشتمل ہے، اسی طرح نفسِ کلّی یا عالمگیر روح ایک ہے، مگر اس کے بے شمار اجزاء ہیں، اور ان میں بڑے بڑے اجزاء ستاروں کی روحیں ہیں، کیونکہ ہر ستارہ ایک دنیا ہے، لہٰذا اس کی بڑی روح میں بے حساب جزوی روحوں کا ایک عالم پوشیدہ ہے، مثال کے طور پر سیّارۂ زمین کی ایک جداگانہ روح ہے، جس میں شروع سے لیکر آخر تک باشندگانِ زمین کی روحانی تصویریں (ارواح) موجود ہیں۔

 

۲۔ جب کسی مومنِ سالک کی انفرادی اور روحانی قیامت برپا ہو جاتی ہے، اور اسرافیل صور پھونکتا ہے، تو اس وقت اس کی ہستی پر لطیف ذرّات کی شکل میں ستاروں کی روحیں گر جاتی ہیں، کیوں؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کو عارف میں لپیٹنا چاہتا ہے، (۲۱: ۱۰۴) نیز یہ اس واقعہ کا تجدّد بھی ہے کہ فرشتوں نے حضرتِ آدمؑ کو کس طرح سجدہ کیا، جبکہ ارواحِ ستارگان فرشتے ہیں، چنانچہ یہ ہوا ستاروں کا گرجانا، مگر یاد رہے کہ یہ تجدّد مقامِ عقل پر بھی پیش آتا ہے، تاکہ آدمِ زمانؑ کی کامل معرفت حاصل ہو، جو سب سے عظیم واقعہ ہے، جس کے بارے میں خداوندِ عالم کا ارشاد ہے:۔

 

۲۷

 

فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ، وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ، إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ، فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ، لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (۵۶: ۷۵ تا ۷۹) میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی اگر تم جانوتو یہ بہت بڑی قسم ہے کہ وہ باکرامت قرآن ہے جو ایک پوشیدہ کتاب میں ہے، جس کو بجز پاکان (یعنی ائمّہ) کے کوئی چھو نہیں سکتا۔

 

۳۔ پروردگارِ عالم نے جس واقعہ کی قسم کھائی ہے، وہ بہت ہی بڑا ہے، اسی لئے یہ قسم بھی ازبس عظیم ہے، ساتھ ہی ساتھ وہ راز بھی نہایت عظیم ہے، جس کی طرف توجہ دلانے کی خاطر اللہ پاک نے قسم کھائی ہے، اور وہ سب سے بڑا بھید یہ ہے کہ قرآن جہاں کتابِ مکنون (نورِ امامت) میں ہے، وہاں وہ بڑا باکرامت اور زندہ معجزات کا سرچشمہ ہے، جس کو أئمّۂ مطہرین علیھم السّلام کے سوا کوئی ہاتھ میں لے نہیں سکتا، اس کے یہ معنی ہوئے کہ قرآن کی روح و روحانیّت امامِ زمان صلوات اللہ علیہ وسلامہ کے باطنِ اقدس میں موجود اور پوشیدہ ہے، درحالے کہ نورِ قرآن اور نورِ امامت بحکمِ “نورٌ علیٰ نور” ایک ہی ہے، اسی معنیٰ میں امامِ برحقؑ قرآنِ ناطق یا کتابِ ناطق  (۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹) کہلاتا ہے۔

 

۴۔ خدائے بزرگ و برتر نے جس عظیم واقعہ کی قسم کھائی ہے، اس کا دوسرا پہلو جیسا کہ ذکر ہوا ہے یہ ہے کہ ستاروں کی روحیں فرشتوں کی حیثیت سے ہیں، اور مومنِ سالک کی ذاتی قیامت میں ان روحوں کا سالک کی ہستی پر گرجانا ایک طرف سے ستاروں کا گر جانا ہے، اور دوسری طرف سے حضرتِ آدمؑ کیلئے فرشتوں کے سجدے میں گرنے کی مثال ہے، یا تجدّدِ امثال ہے، چنانچہ فرمانِ خداوندی ہے:

فاِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُ سَاجِدِينَ

 

۲۸

 

(۱۵: ۲۹، ۳۸: ۷۲) سو میں جب اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال دوں تو تم سب اس کے لئے سجدہ کرتے ہوئے گرجانا۔

 

۵۔ اصل معرفت اس کے سوا ممکن ہی نہیں کہ انبیاء علیھم السّلام کا ہر روحانی واقعہ عارفوں کے مشاہدے میں آئے، جیسا کہ اس قرآنی ارشاد سے ظاہر ہے:

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ (۰۷: ۱۱) اور ہم نے تم کو (جسمانی طور پر) پیدا کیا پھر ہم نے تمہاری (روحانی) صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو (۰۷: ۱۱) اس حقیقت سے کوئی دانشمند انکار نہیں کریگا کہ سب سے پہلے مومنِ سالک کی جسمانی تخلیق مکمل ہو جاتی ہے، پھر ذکر و عبادت اور علم و عمل سے روح کی خاص صورت بنتی ہے، اور یہی روحانیّت، قیامت، اور واقعاتِ انبیاء علیھم السّلام کا آغاز ہوا۔

 

۶۔ خلاصۂ مطلب کے طور پر یہ کہنا چاہئے کہ مقامِ روحانیّت پر بھی اور مرتبۂ عقلانیّت پر بھی ستاروں کا گرجانا، اور فرشتوں کا سجدۂ آدمؑ کے لئے گرجانا تاویل میں ایک ہی بات ہے، جو انتہائی عظیم واقعہ ہے، خدائے پاک نے جس کی قسم کھائی ہے، اور سجدے کی تاویل اطاعت و فرمانبرداری ہے، جس سے تسخیرِ کائنات مراد ہے، یعنی ستاروں کی عظیم روحیں (جو کائناتی فرشتے ہیں) اپنی ذات میں روحانیّت کی ایک ایک دنیا لے کر عارفوں میں سما جاتی ہیں، اسی باب میں ارشاد ہے: تم اپنے پروردگار کی ایک خاص مغفرت میں سبقت لے جاؤ اور ایسی جنت کے لینے میں بھی جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے (۵۷: ۲۱) پس جاننا چاہئے کہ آسمان اور زمین سے ستارے مراد ہیں، اور بہشت ستاروں کی روح و روحانیّت میں ہے، کیونکہ ہر ستارہ کی روح میں ایک روحانی

 

۲۹

 

سلطنت موجود ہے۔

 

نصیر ہونزائی،

۱۴ اگست۱۹۸۰ء

۲۶جنوری۱۹۹۲ء

 

۳۰

 

عبد الاحد کا اشارہ

 

۱۔ یہ اس عجیب و غریب وقت کا قصّہ ہے، جبکہ یہ عاجز بندہ ذاتی طور پر یارقند (چین) میں روحانی انقلاب سے گزر رہا تھا، انقلاب ظاہر میں ہو یا باطن میں، یا دونوں میں، بہ ہرحال اس کا مادّہ ق۔ ل۔ ب (یعنی قلب) ہے، قلب دل اور مرکز کا نام ہے، چنانچہ ہر چیز کاایک قلب ہوا کرتا ہے، سو قرآنِ پاک کا قلب سورۂ یاسین ہے، اور کائنات کا قلب انسانِ کامل، ملاحظہ ہو ڈایاگرام: قرآنی علاج ۱۴۲، لیکن آپ کو یہ جاننا از بس ضروری ہے کہ سورۂ یاسین اور انسانِ کامل (امامؑ) کا خصوصی رشتہ کیا ہے؟ اس کا جواب آپ کو اسی سورہ (۳۶: ۱۲) میں ملے گا۔

 

۲۔ انسانی دل کا نام کس وجہ سے “قلب” مقرر ہوا، اس کی وضاحت بھی کتابُ العلاج (قرآنی علاج) ۱۴۲ سے شروع کر کے دیکھ لیں، تاکہ ظاہری اور باطنی قلب و انقلاب کے بھیدوں سے واقفیت و آگہی ہو سکے، چنانچہ مادّی انقلاب مومنین کے لئے اللہ پاک کا وہی امتحان تھا اور ہے، جس کا ذکر سورۂ بقرہ (۰۲: ۱۵۵۔ ۔ ۔) میں فرمایا گیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف عبد الاحد ہی بلکہ بہت سارے اہلِ ایمان قبل از عبادت، بعد از عبادت اور بعض دفعہ بندگی کے ساتھ ساتھ گریہ وزاری کر لیا کرتے تھے، اس حال میں روحانی

 

۳۱

 

اعتبار سے خداوندِ قدوس کی کتنی بڑی رحمت تھی، ایک دن میں نے نورانی خیال اور نورانی خواب کے درمیان عبد الاحد کو دیکھا، وہ بڑا شادمان، خرسند، اور راضی مگر خاموش کھڑا تھا، وہ ہاتھ سے آسمان اور ستاروں کی طرف کچھ ایسے اشارے کرنے لگا کہ ان کے مفہومات خودبخود میرے دل میں اترتے رہے، و ہ اشاراتی زبان میں کہہ رہا تھا کہ ہم سیّارۂ زمین پر اراضی اور اموال کے چھن جانے سے کیوں روئیں، جبکہ ہمارے خداوند نے عظیم کائنات کی وسعتوں میں بے شمار ستاروں کی دنیائیں اور ان میں بہشت کی بڑی بڑی سلطنتیں بنائی ہیں۔

 

۳۔ عبد الاحد ایک مومن شخص تھا، جو دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح زمین اور جائداد سے محرومی پر آنسو بہارہا تھا، لیکن بارگاہِ الٰہی میں اور مناجات کے طرز پر روتا تھا، اس سے یقیناً پروردگارِ عالم نے اپنی رحمتِ بے پایان سے اسے فرشتہ بنا دیا، اور ایسی ہی رحمت دوسرے مومنین کے لئے بھی ہے، کیونکہ یہ ایسا موقع ہے کہ اس میں ایک ہی شخص سے سب کی یا بعض کی نمائندگی ہو سکتی ہے، اور نمونے کے لئے ایک ہی فرد کافی ہوتا ہے۔

 

۴۔ عبد الاحد کا تذکرہ قرآنی مینار، ص۹۱ پر بھی ہے، اور ایک خط میں بھی، جو جانِ عزیز کی خدمت میں لکھا گیا ہے، اس کے علاوہ حلقۂ احباب میں بھی اس کا یہ بعض دوسرے روحانی عجائب و غرائب کا ذکر ہوتا رہتا ہے، تاکہ روحانی علم و حکمت کے انمول جواہر سینوں اور سفینوں (بیاض، مجلد اوراق) میں محفوظ رہیں، ساتھ ہی ساتھ اس بیان سے تحدیثِ نعمت بھی مقصود ہے، تاکہ قرآن اور معلّمِ قرآن کے انعامات و احسانات کی شکر گزاری اور قدردانی کے لئے سعی جاری رہے۔

 

۵۔ “یارقند” کی وجہِ تسمیہ لوگوں کے نزدیک کچھ بھی ہو، اس سے

 

۳۲

 

کوئی بحث نہیں، لیکن میرے لئے اس نام کا یہ انتہائی مفہوم درست ثابت ہوا: یارقند = دوستِ شیرین، معشوقِ حقیقی، یعنی امامِ برحقؑ، جس کے پاک و پاکیزہ عشق و محبت اور دیدارِ باطن کی لذّتوں اور حلاوتوں کا اعلیٰ تجربہ مجھے اسی بابرکت شہر میں حاصل ہوا، اور میرے لئے ملکِ چین تھا، جہاں سے بفرمودۂ حدیث، روحانی علم ملنے کا امکان ہے، وہ حدیثِ شریف یہ ہے: اطلبواالعلم ولو بالصین۔ تم علم کی تلاش میں لگے رہو اگرچہ تمہیں (اس کی خاطر) چین جانا پڑے۔

 

۶۔ برادرِ محترم عزیز محمد خان بای (مرحوم) کے بارے میں قبلاً ایک مقالے میں کچھ ذکر ہو چکا ہے، وہ صفِ اوّل کے مومنین اور علیٔ زمانؑ کے جان نثار دوستوں میں سے تھے، آپ اس بات سے ان کی ایمانی اور روحانی ترقی کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ اتفاقاً میں ایک شب تھوڑی دیر کے لئے یکپا استادہ ذکر کر رہا تھا، جب صبح ملاقات ہوئی، تو انہوں نے ٹھیک ٹھیک بتا دیا کہ آپ رات کے وقت اس حال میں ذکر کر رہے تھے، اس زمانے میں ان پر ابتدائی روشنی کا کشف ہوا تھا، وہ علم کے بڑے قدردان اور عالمِ شخص تھے، آپ رات کا اکثر حصہ ذکر و عبادت اور گریہ وزاری میں گزارتے تھے۔

 

۷۔ وہاں کے راسخ العقیدت اور جان نثار مومنین میں سے ایک قبول آخون تھا، اگر میں ایسے سرفروش مومن کو قلمی طور پر یاد نہ کروں، تو البتہ ناشکری ہوگی، جس وقت کچھ لوگوں نے مجھے خدا کے گھر (جماعت خانہ) سے نکال کر بڑی سختی سے گرفتار کر لیا، اس وقت مرحوم قبول آخون جان کو جان نہ سمجھتے ہوئے میری حمایت کا مظاہر کر رہا تھا، میں کبھی آپ کو تفصیل سے بتاؤں گا کہ اصل قصّہ اور اس کا پس منظر کیا ہے، ہاں، صرف قبول آخون

 

۳۳

 

کی بات ہو۔

 

۸۔ ہمیشہ کی طرح ایک شب محفلِ ذکر و تضرع کا اہتمام ہوا، ایسی ہر مجلس جماعت خانہ ہی میں ہوا کرتی تھی، جماعت کا ہر فرد مٹ مٹ کر خداوندِ تعالیٰ کو یاد کر رہا تھا، اور اگر گریہ وزاری کا اب تصوّر کروں تو عالمِ خیال میں یوں لگتا ہے جس طرح ابرِ نسیان سے موتیوں کی بارش برس رہی ہو، کیونکہ زبردست انقلاب کا زمانہ تھا، چنانچہ اس محفلِ گریہ وزاری میں عزیزم قبول آخون کے بدن خصوصاً سر اور گردن کی حرکت شدید تھی، چونکہ میں ہی ذکر کرا رہا تھا، اس لئے اس کے آداب سے متعلق تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہو جاتی تھی، سو میں نے دورانِ ذکر قبول آخون کی اپنے آپ پر حد سے زیادہ سختی اور تکلیف کا اندازہ کر لیا، لیکن کچھ سمجھانے کے لئے موقع نہیں ملا۔

۹۔ جب صبحِ صادق ہوئی اور میں گھر گیا، تو میری تنہائی میں حسبِ معمول موکل آیا اور قبول آخون کی حمایت کرتے ہوئے مجھ سے گلا کیا، اور کہا کہ تم نے قبول آخون کو ذکر کے قواعد و آداب سکھائے بغیر شدید مشقت میں ڈالا ہے، لہٰذا تم سے اس کا فدیہ لیا جاتا ہے، وہ یہ کہ تمہارے گھر میں چند نئی رضائیاں ہیں، ان میں سے ایک قبول آخون کو دو، پس میں نے کسی تاخیر کے بغیر اس حکم کی تعمیل کی، اور اس کے ساتھ قند کا ایک پیکٹ بھی دیا۔

 

۱۰۔ میرے نزدیک یہ بات اور اس جیسی دوسری تمام باتیں، جن کا تعلق روحانیّت سے ہے، غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں، پس عزیزم قبول آخون کی مثال سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ سب سے مفید ترین ذکر وہ ہے، جو سنجیدگی، عاجزی، اور اندرونی پُرسوز عشق کی اساس پر ہو، کیونکہ آدمی اگر کسی طرح

 

۳۴

 

سے اپنے بدن کو تکلیف دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ رونے لگتا ہے، تو یہ خالص عشقِ الٰہی کیسے ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کی پاک و پاکیزہ محبت و عشق کی روشنی اور روح انتہائی مشکل اور نازک چیز ہے، سو اس سلسلے میں میرے تمام مشورے آپ کو کتابِ “ذکرِ الٰہی” میں ملیں گے۔

 

ن۔ ن۔ ہونزائی، کراچی

۶فروری ۱۹۹۲ء

 

۳۵

 

قانونِ خزائن

(بجوابِ سوالےچند)

 

۱۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے خزانوں کا قانون یہ ہے: اور کوئی چیز نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور ہم نہیں اتارتے مگر (انسان کی) جانی ہوئی مقدار (۱۵: ۲۱) اس کی بروشسکی روحانی حکمت (تاویل) اس طرح ہے: اݹ منݳسن اپݵ (یعنی کوئی چیز ناممکن نہیں) ہر شیٔ ممکن ہے اور وہ خزائنِ خداوندی میں موجود ہے، مثال کے طور پر انسان ہی کو لیں، کہ اس کی عقل خزانۂ عقل میں ہے، جان خزانۂ روح میں، جسمِ کثیف خزانۂ عناصر میں، اور جسمِ لطیف خزانۂ دارالابداع میں ہے، پس جو چیزیں عقل و شعور سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے حصول کے لئے علم شرط ہے، اور علم جتنا اعلیٰ ہوگا، اتنی عالیشان چیزیں نازل ہوں گی، پس اگر کسی شخص کے پاس حقیقی علم ہے، تو اس کی نظر میں ہر چیز ممکن ہے، اݹ منݳسن اپݵ۔

 

۲۔ حکیم پیر ناصرِ خسرو (ق۔ س) کی تعلیمات میں ایک بڑی اہم بات یہ بھی ہے کہ ہم چشمِ بصیرت سے ہر “کل” کو دیکھا کریں، اور خوب پہچانیں، اور اسی قانونِ کلّ کی روشنی میں علمی مسائل کو حل کریں، جیسے آسمان عام طور پر دیکھنے سے نصف سے بھی کم نظر آتا ہے، اور اسی طرح زمین بھی، سو یہ جُز ہے، کُل نہیں، اگر کُل کو دیکھنا ہے تو ہم علم کی روشنی میں دیکھیں گے، یا مشاہدہ اور تجربہ کی خاطر

 

۳۶

 

ہوائی جہاز پر سیّارۂ زمین کے گردا گرد چکر لگائیں گے، یہ علم الیقین اور عین الیقین کی مثال ہے۔

 

۳۔ اب اسی قانونِ کُل اورقانونِ خزائن کی روشنی میں یہ سوچنا ہے کہ آیا: وَ  تِلْكَ  الْاَیَّامُ  نُدَاوِلُهَا  بَیْنَ  النَّاسِۚ (اور وہ دن ہیں، ہم لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں (۰۳: ۱۴۰) کا قانون صرف ہمارے ہی سیّارے کے لوگوں کےلئے ہے یا اس کا اطلاق کائنات بھر کے ستاروں پر ہوتا ہے؟ اس کا درست جواب یقیناً یہی ہوگا کہ یہ قانونِ کُل ہے، لہٰذا اس کا تعلق کثیف و لطیف تمام لوگوں سے ہے، جو کائنات کے ہر ستارے پر موجود ہیں، چاہے وہ ارواح کہلائیں، یا فرشتے، یا جنّات، لیکن دراصل وہ لوگ ہی ہیں، جن کے درمیان ایام یعنی ادوارِ اعظم کی تبدیلی لازمی ہے، تاکہ ہمیشہ ایک طرف درجات کا دائمی سلسلہ جاری رہے، اور دوسری طرف مساوات کا عرش قائم ہو۔

 

۴۔ قدیم ترین زمانے میں سیّارۂ زمین پر جنّات یعنی لطیف انسان بستے تھے، اگر یہ بات اکثریت اور غالبیت کے اعتبار سے کہی گئی ہو، تو کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت بعض لوگ یہاں جسمِ کثیف میں بھی تھے، مگر قلیل تعدا د میں، کیونکہ اب جبکہ زمین پر آدمیوں کا قبضہ ہے، تو پھر بھی یہ کہنا غلط ہوگا کہ آج ہماری دنیا میں جنّوں کا نام و نشان نہیں، درحالے کہ بحوالۂ قرآن جنّات دنیا میں موجود ہیں (۴۶: ۲۹) نیز یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ سب کے سب کثیف سے لطیف میں فنا یعنی تبدیل ہو جائیں (۵۵: ۲۶) ایسے میں اجسامِ کثیف کے نمونے کسی دوسرے سیّارے پر رہے ہوں گے، کیونکہ مادّی چیزوں کے لئے ستارے ہی خزائنِ الٰہی ہیں، پس ان میں سے کسی پر اجسامِ کثیف کا ہونا ضروری ہے، اس کی بڑی روشن دلیل یہ ہے کہ خداوندِ علیم وحکیم کسی چیز کو کبھی ختم نہیں کرتا، بلکہ اس کو ہمیشہ لپیٹتا اور پھیلاتا رہتا ہے، جیسا کہ بارہا اس کا ذکر ہو چکا ہے۔

 

۳۷

 

۵۔ ھبوطِ آدم و آدمی کی چار مثالیں: (۱) عالمِ غیب یا فردوسِ برین سے بطریقِ ابداع انسان کا زمین یا کسی اور سیّارے پر ظاہر ہونا، (۲) کسی آباد و ترقی یافتہ سیّارے سے نئے سیّارے پر اترنا۔ (۳) ہر ناطق اور ہر امام جو اپنے وقت کا آدم ہے (عالمِ شخصی میں) اس کا وہ نزول، جو روحانی اور عقلانی عروج کی لاتعداد برکتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ (۴) حضرتِ امامؑ بہشتِ برین اور سب سے معمور سیّارہ جیسا ہے، جب اس کی نورانی کاپی کسی عاشقِ صادق میں آئے، تو یوں کہنا تاویلاً درست ہوگا کہ آدم اور اس کے بہت سے ساتھی جنت الفردوس یا ستارۂ پُرنور سے اس دنیا میں نازل ہوگئے، کیونکہ امامِ مبین کی پُرحکمت کاپی اپنے ساتھ ایک بھر پور کائنات کو لیکر آتی ہے۔

 

۶۔ جیسا کہ مثال۲ میں یہ ذکر ہوا کہ آدم و آدمی ایک سیّارے سے دوسرے پر منتقل ہو سکتے ہیں، جس کے لئے ظاہری سائنس کا بہانہ ہو سکتا ہے، یا روحانی سائنس عام ہو سکتی ہے، مثلاً اڑن طشتریوں یا پرواز والے کُرتوں کا استعمال وغیرہ، اگر کسی سیّارے پر سائنس کی مدد سے کچھ ایسے لوگ اتر جائیں، جو خدا سے بیگانہ ہوں، تو پھر بھی اللہ اپنی حکمت سے ان کے ساتھ ایسے شخص کو بھیجے گا، جو ان سب سے بہتر ہوگا،  پھر خدائے غالب اصلاح کے بعد اس کے عالمِ شخصی میں امامِ عالی مقامؑ کی نورانی کاپی نازل فرمائے گا، جیسا کہ اوپر مثال ۴ میں اس کا ذکر ہوا، پس وہ بڑا نیک بخت انسان نورِ امامت کے طفیل سے وہاں کا آدم ہوگا۔

 

۷۔ جثّۂ ابداعیہ کا تعلق دارالسّلام سے ہے، لہٰذا وہ ہمیشہ زندہ اور سلامت ہے، اس کا ظاہری موت سے کوئی واسطہ نہیں، کیونکہ وہ عالمِ غیب سے ہے جو عالمِ امر ہے، اسی لئے وہ حاضر بھی اورغائب بھی ہو سکتا ہے،

 

۳۸

 

جس طرح آسمانی بجلی کوندتی ہےاورغائب ہو جاتی ہے، جیسے آفتابِ جہان تاب طلوع و غروب کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اپنا کام کر رہا ہے، لیکن برق و شمس کو کسی مخلوق سے کوئی خطرہ نہیں، اسی طرح قرطۂ ابداعیہ ہے، جس میں “کُن فیکون” کے معجزات ہیں، یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ دنیا میں کوئی آدمی جسمانی لحاظ سے یا تو کسی بیماری سے مر جاتا ہے، یا حادثہ، ہتھیار، وغیرہ سے، لیکن جامۂ جنّت (جسمِ لطیف) کو نہ کوئی بیماری لاحق ہو جاتی ہے، نہ حادثہ پیش آتا ہے، اور نہ کوئی ہتھیار اس کا کچھ بگاڑسکتا ہے، کیونکہ وہ تو ہر قسم کے ضرر اور گزند سے بچانے کیلئے ہے (۱۶: ۸۱) ۔

 

۸۔ جسمِ لطیف کی کم سے کم قسمیں دو ہیں، ایک کا تعلق خیر سے اور دوسرے کا شر سے ہے، پہلا ہادیٔ برحق کا ہے، اور دوسرا مضل یعنی گمراہ کُنۡ (شیطان، شیاطین) کا، پس عدلِ خداوندی کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح شیاطین جسمِ لطیف کی وجہ سے دنیا کے ہر ایسے شخص کے دل تک پہنچ سکتے ہیں، جو گمراہی پر تُلا ہو، تاکہ اسے گمراہ کردیں، اسی طرح ہادیٔ زمان (امامِ وقتؑ) کے حدودِ جسمانی (حجج، دعاۃ، وغیرہ) کو بھی جسمِ لطیف حاصل ہونا چاہئے، تاکہ یہ حدودِ دین اقوامِ عالم میں پھیل جائیں، اور جو شخص ہدایت کے قابل ہو، اس کے دل کے کان میں ہدایت کی باتیں کریں، اور یہی حقیقت ہے۔

 

۹۔ خیر و شر کے دو بڑے درجوں اور ذیلی درجات کے مذکورۂ بالا بیان سے بخوبی اندازہ ہوا کہ اجسامِ لطیف سب ایک جیسے نہیں ہیں، ان کے مابین بہت بڑا فرق ہے، چنانچہ حضرت قائم القیامت علیہ افضل التحیۃ والسّلام کا بابرکت جسمِ لطیف کائنات کی وسعتوں پر محیط ہے، جس کو جسمِ کلّی لطیف کہا جاتا ہے، وہی وہ زندہ بہشت ہے جو وسعت میں آسمان و زمین کے برابر

 

۳۹

 

ہے (۵۷: ۲۱، ۰۳: ۱۳۳) اسی کی جان نفسِ کُلّی اور اسی کی دانش عقلِ کلّی ہے، اور اس کے بعد حسبِ مراتب امامِ عالی مقامؑ، باب، حجت، اور داعی کے اجسامِ لطیف ہیں، اب ہر مومن کی ہمت، محنت اور علم و عمل پر منحصر ہے کہ وہ کس درجہ کے جسمِ لطیف تک رسا ہو جاتا ہے، جب تک آدمی جسمِ کثیف کی قید میں مقید ہے، تب تک جسمِ لطیف سے بھر پور فائدہ اٹھانا انتہائی مشکل کام ہے، تاہم دیکھیں کہ دورِ روحانیّت میں کیا انقلاب رونما ہوتا ہے، پھر بھی جسمانی موت کے بعد ہی اڑن طشتریوں کی مکمل تسخیر کا یقین ہے، اس حال میں اڑن طشتری کوئی بھی ہو، لیکن اس کے استعمال کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

 

۱۰۔ سورۂ مومنون (۲۳: ۱۷) کے مطابق سات رستے جو تمام انسانوں کے اوپر ہیں، وہ چھ ناطقوں اور قائم کے اجسامِ لطیف ہیں، مگر یہ سب حضرات نورٌعلیٰ نور کے حکم سے ایک ہوچکے ہیں، اور وہ ایک حضرتِ قائم القیامتؑ کا جثّۂ ابداعیہ ہے، دوسرے اعتبار سے سات بالائی راستوں کی تاویل ہر چھوٹے دور کے چھ اماموں اور قائم کے اجسامِ لطیف ہیں، اور یہ حضرات بھی حضرتِ قائم میں ایک ہیں، یہی تاویل۔  سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۔ کی بھی ہے (۶۷: ۰۳) اور۔ سَبْعًا شِدَادًا۔ کی بھی ہے (۷۸: ۱۲) ۔ پس مراحلِ روحانیّت کے آخر میں جب حضرتِ قائمؑ کا بدنِ کوکبی میں ظہور ہوتا ہے، تو اس میں سب ہوتے ہیں۔

۱۱۔ قرآنِ حکیم فرماتا ہے کہ اہلِ بہشت کے لئے وہاں کوئی موت نہیں، اس میں تجربہ تو دنیا ہی میں ہوچکا ہوتا ہے (۴۴: ۵۶) شاید یہاں یہ سوال بھی ہو کہ جنت میں شیطان نے آدم و حوّا کے کونسے کپڑے اتروائے (۰۷: ۲۷)؟ کیا وہ اسی دنیا کے ظاہری لباس تھے؟ یا جامہ ہائے جنّت (کوکبی بدن)؟ اگر جواباً یہ کہا جائے

 

۴۰

 

کہ وہ بہشت کے زندہ کپڑے (ابداعی جثّے) تھے، تو پھر بڑا عجیب و غریب اور انتہائی کلیدی سوال یہ پیدا ہوگا کہ آیا یہی وہ سرِ عظیم ہے، جس میں انسان کے اپنی انائے عُلوی سے ملنے اور پھر الگ ہو جانے کی حکمت پوشیدہ ہے؟ جی ہاں، یہی راز ہے، لیکن یہاں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ شاید جامۂ جان لباسِ ظاہر کی طرح جسم کی سطح پر ہوگا، ایسا نہیں، بلکہ اس کا تعلق باطن سے ہے، لہٰذا وہ روح کے ساتھ شیر و شکر ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ جسمِ لطیف بھی ہے، اور اعلیٰ روح بھی، اگر پھر بھی کسی مثا ل کا تقاضا ہو، تو جثّۂ ابداعیہ کی تشبیہہ و تمثیل جنّ و پری سے دی جا سکتی ہے، جو انسان کے دل و دماغ پر حاوی بھی ہو سکتے ہیں، اور چھوڑ کر جا بھی سکتے ہیں۔

 

۱۲۔ لنڈن سے، ۱۱ جنوری ۱۹۹۲ء کا ایک معزز و موقّر خط جن مبارک ہاتھوں نے تحریر کیا ہے، ان سے اور ان کے قلمِ مقتدر سے قربان ہو جاؤں! اس میں ضمناً اعلیٰ سطح کے چند عالمانہ سوالات درج کر کے پُرخلوص فرمائش کی گئی تھی کہ یہ بندۂ ناچیز ان سوالوں کو حل کرے، خاکسار نے ان ارضی فرشتوں کے روحانی صدقے کے لئے درخواست کر کے کوشش کی ہے، گر قبول افتد زہےعزوشرف۔

 

پیاری پیاری کتابوں کے انتہائی حسین و دل آویز تراجم خزائنِ لعل و گوہر سے زیادہ گرانقدر اور عالی ہیں، ان شاء اللہ، میری عاجز روح کے لاتعداد ذرّات ان تمام عزیزوں کے حق میں ہمیشہ پُرخلوص دعائیں کرتے رہیں گے، جو علمی خدمت کے مختلف شعبوں میں جان و دل سے کام کر رہے ہیں۔

 

ن۔ ن۔ ہونزائی۔

کراچی،

منگل ۲۹رجب المرجب۱۴۱۲ھ، ۴فروری ۱۹۹۲ء

 

۴۱

 

اسرارِ موت

 

۱۔ اس موضوع میں سب سے پہلے یہ بھید بڑا عجیب و غریب کیوں نہ ہو کہ موت ایک مخلوق ہے، جس طرح حیات (زندگی) ایک مخلوق ہے، اور یہ حقیقت ایسی نہیں، جس کی کوئی رد کر سکے، جبکہ یہ ایک قرآنی حقیقت ہے، جیسے سورۂ مُلک (۶۷: ۰۲) میں ارشاد ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ۔ (وہ ہر چیز پر قادر ہے) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل (کام) میں سب سے اچھا کون ہے (۶۷: ۰۲) ۔

 

۲۔ یہاں اس روشن حقیقت کو اچھی طرح سے دیکھ لینا ہے کہ “خلق الموت” کے صاف وصریح معنی ہیں: اس نے موت کو پیدا کیا، دوسرے الفاظ میں اس (یعنی خدا) نے موت کو مخلوق کیا، تو پھر موت کسی شک کے بغیر مخلوقات میں سے ایک “مخلوق؍ موجود معدوم (نیست کیا گیا) کے برعکس ہے، مذکورہ آیۂ شریفہ میں دوسری بڑی حکمت اس بات کے جاننے میں ہے کہ ترتیب کے لحاظ سے موت پہلے اور حیات بعد میں کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ موت پہلے پیدا کی گئی ہے، اور زندگی بعد میں، اس کی چند مثالیں

 

۴۲

 

ذیل میں درج کی جاتی ہیں:۔

 

۳۔  الف: زمانۂ نبوّت میں جتنے کافر مسلمان ہوگئے، سمجھ لو کہ وہ پہلے مردہ تھے، بعد میں انہیں زندگی دی گئی، اس سے ظاہر ہوا کہ موت پہلے ہے، اور حیات بعد میں، ب: اگر کوئی جاہل و نادان شخص ہے، تو اس کی جہالت و نادانی مردگی ہے، جب حقیقی علم کی روح اس میں پھونک دی جاتی ہے، تو وہ زندہ ہو جاتا ہے، ج: مومنِ سالک شروع شروع میں جسمانی زندگی کی منزلوں سے گزرتا ہے، یہ موت کی طرح ہے، اس کے بعد حیاتِ روحانیہ کے مراحل کو طے کرنے لگتا ہے، جو حقیقی زندگی ہے، د: جمادات سب سے پہلے ہیں مگر مردہ، نباتات کو زندہ کہہ سکتے ہیں، کیونکہ ان میں روحِ نباتی ہے، لیکن یہ حیوان کے سامنے مردہ ہیں، حیوان زندہ ہے، مگر انسان کے مقابلے میں بے بس اور مرا ہوا جیسا ہے، یہی فرق انسانوں کے بہت سے درجات میں بھی پایا جاتا ہے، تا آنکہ انسانِ کامل کا مرتبہ آتا ہے، جس کو خداوندِ تعالیٰ نے حقیقی معنوں میں زندہ کرکے ایک نور عنایت کر دیا ہے، جس سے وہ لوگوں کے باطن میں چل سکتا ہے (۰۶: ۱۲۲)

۴۔ ہم ایسی زندگی کو، جو ظاہراً زندگی اور باطناً مردگی ہو، زندگی نما موت کہہ سکتے ہیں، جیسا کہ سورۂ اعراف (۰۷: ۱۷۹) میں ہے: اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جنّات اور انسان ایسے ہیں، جن کو ہم نے جہنم ہی کے لئے پیدا کیا ہے، ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں، وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں (۰۷: ۱۷۹) پس ایسے بے شمار لوگ انسان نما حیوان

 

۴۳

 

اور زندہ نما مردے ہیں۔

 

۵۔ چونکہ “خلق الموت” میں ہر قسم کی موت کا ذکر ہوا ہے، لہٰذا لازمی طور پر ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ ہر طرح کی موت مخلوق ہے، اور ہر مخلوق عالمِ خلق میں ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موت صرف عالمِ خلق ہی میں ہے، عالمِ امر میں نہیں، پس عالمِ امر میں کوئی موت نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندہ ہے۔

 

۶۔ سورۂ بقرہ کی اس سماوی تعلیم میں تقلید سے نہیں تحقیق سے سوچنا چاہئے، وہ ارشاد یہ ہے: کیونکہ تم خدا کا انکار کر سکتے ہو، حالانکہ تم مردے تھے تو اسی نے تم کو زندہ کیا، پھر وہی تم کو موت دے گا، پھر وہی تم کو (دوبارہ) زندہ کرے گا، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے (۰۲: ۲۷) یہاں کنتم امواتا (تم مردے تھے) میں بہت بڑا راز ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان کچھ بھی نہ تھا، وہ تھا تو سہی، لیکن اس کی حالت موجودہ زندگی کے مقابلے میں مردگی جیسی تھی، جس کی بہت سی مثالیں ہیں، جیسے زمانۂ آدمؑ سے اس طرف ذرۂ ہستی کا پشت بہ پشت چلتے رہنا، وغیرہ۔

 

۷۔ لفظِ امواتا کوقرآنِ کریم (۰۲: ۲۸، ۰۳: ۱۶۹، ۷۷: ۲۶) میں دیکھ لیں، جو مردوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سورۂ آلِ عمران میں شہیدوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: وَ  لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  قُتِلُوْا  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  اَمْوَاتًاؕ-بَلْ  اَحْیَآءٌ  عِنْدَ  رَبِّهِمْ  یُرْزَقُوْنَ (۰۳: ۱۶۹) اور جو لوگ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے ہاں سے (طرح طرح کی) روزی پاتے ہیں، چونکہ امواتٌ اور امواتا ایک ہی لفظ کی دو صورتیں ہیں، اس لئے قرآنِ حکیم (۰۲: ۱۵۴، ۱۶: ۲۱، ۳۵: ۲۲) میں امواتٌ کو بھی دیکھ لیں۔

 

۴۴

 

۸۔ راہِ خدا میں شہادت دو طرح سے ہے: شہادتِ ظاہر اور شہادتِ باطنی، جس میں شہدائے ظاہر جسمانی طورپر قتل کئے جاتے ہیں، اور شہدائے باطن نفسانی طور پر، لیکن جسم یا نفسِ حیوانی کے قتل وموت سے مومن کی اصل روح نہیں مرتی، کیونکہ وہ عالمِ امر کے خورشیدِ انور میں موجود ہے، اور یہاں آئینۂ جسم میں صرف اس کا  عکس آیا ہے (۱۷: ۸۵) جیسے آئینہ میں سورج کی روشن تصویر ہوتی ہے، پس اگر کوئی شخص اس چھوٹے سے آفتاب کو، جو شیشہ میں نظر آتا ہے، ختم کرنا چاہے تو ختم نہیں کر سکتا، لیکن ہاں، یہ بات ہے کہ وہ آئینے کو توڑ سکتا ہے، یہ اس سوال کا بہترین جواب ہے کہ آیا موت کا اطلاق جسم پر ہوتا ہے، یا روح پر؟

 

۹۔ ارشادِ نبوی ہے کہ: ہر مومن شہید ہے اور ہر مومنہ حوراء، قرآن و حدیث کے الفاظ و جملے معنوی جامعیّت اور حکمت کے عوجِ کمال پر ہوا کرتے ہیں، چنانچہ “شھید” کے معنوں میں سے ایک معنی ہیں: “حاضر ہے۔” اب سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ ہر مومن کہاں حاضر ہے؟ تو اس حدیثِ شریف کے آخری حصّے سے بہ اشارۂ حکمت جواب ملتا ہے کہ ہر مومن آج بھی اور کل بھی (یعنی ہمیشہ) بہشت میں حاضر ہے، کیونکہ اس حدیث کا خاص موضوع بہشت سے متعلق ہے، جبکہ اس میں حوراء کا ذکر نمایان ہے، اور لفظِ شہید کے دوسرے معنی بھی اسی مقصد کے پیشِ نظر ہیں، جب اس بحث سے یہ انکشاف ہوا کہ مومنین و مومنات جو اس وقت دنیا میں موجود ہیں، وہ اپنی موت سے بہت پہلے ہی بہشت میں بھی حاضر ہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر موت کیا ہے؟ اس کا جوابی خلاصہ مضمون کے آخر میں ہوگا۔

 

۱۰۔ سورۂ عنکبوت (۲۹: ۵۷) میں ارشاد فرمایا گیا ہے: کل نفس ذائقۃ الموت

 

۴۵

 

ثم الینا ترجعون (ہر نفس موت کا مزا چکھنے والا ہے پھر تم سب آخر ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے (۲۹: ۵۷) اس آیۂ شریفہ کا اشارۂ حکمت اس طرح ہے کہ جسمانی موت نہیں، بلکہ صرف نفسانی موت ہی ایک انتہائی عجیب و غریب مزہ، اور ایک جامع الجوامع تجربہ ہے، اور خدا کی طرف لوٹ جانا بھی اسی موت کا نتیجہ ہے، یہ واقعہ دراصل نفسِ واحدہ (۳۱: ۲۸) پر گزرتا ہے، درحالے کہ سب لوگ بصورتِ ذرّات اسی کے عالمِ شخصی میں ہوتے ہیں، تاکہ وہ روحانیّت اور قیامت کی تمام تر مثالوں میں عالمِ ذرّ کی نمائندگی کرے، پس نفسانی موت عارفِ کامل کے نزدیک معجزات، مشاہدات، حقائق، اور معارف کی ایک عملی کتاب کی طرح ہے۔

۱۱۔ جیسا کہ قبلاً اس بات کا ذکر ہوچکا کہ جہالت و نادانی مردگی ہے، اب یہاں یہ بھی بتا دینا ہے کہ بے حسی اور خود فراموشی بھی موت یا فنا میں شامل ہے، جس کی مثال آدمی کی اس حالت سے دی جا سکتی ہے، جبکہ وہ پشتِ پدر میں جرثومۂ حیات، شکمِ مادر میں جنین، اور ماں کی گود میں طفلِ شیر خوار ہوتا ہے، دوسری مثال انسان کی نیند ہے، جس میں وہ اپنی بیداری کے احوال کو فراموش کر دیتا ہے، اور تیسری مثال بندۂ مومن کی وہ کامیاب ذکر و عبادت ہے، جس میں وہ کچھ دیر کے لئے مٹ کر فنا ہو جاتا ہے، یعنی وہ اپنی ذات و ہستی کو یکسر بھول جاتا ہے، ان مثالوں سے یہ دلیل ملتی ہے کہ بھول جانے کی صورت میں بھی کوئی موت و فنا پیدا کی گئی ہے، کیونکہ جب بھول جانے کے یہ اجزاء ہیں، جن کا ذکر ہوا، تو یقیناً ان کا کُل بھی کہیں موجود ہوگا۔

 

۱۲۔ اگرچہ انسان موت و فنا کی کئی قسموں سے گزرتا رہتا ہے، لیکن پھر بھی ان میں سے کوئی موت یا فنا ایسی نہیں، جس کو عدمِ محض (قطعی نیستی) کہا جائے،

 

۴۶

 

اور جس حالت کو نیستی کہا جاتا ہے، وہ بھی نیستیٔ محض نہیں، بلکہ یہ عالمِ غیب (عالمِ امر) کا ایک نام ہے، لہٰذا کبھی انسان کے موجود نہ ہونے یا مر کر ختم ہو جانے کا کوئی سوال ہی نہیں، لیکن یہ نکتہ دل و دماغ میں رہے کہ انسان کی کُلی زندگی کا دائرہ انتہائی عظیم ہے، جس پر وہ ہمیشہ کسی ابتدا و انتہاء کے بغیر روان دوان ہے، اس پُرحکمت دائرے پر کہیں علم و ذکر (یاد) کے مقامات آتے ہیں، اور کہیں لاعلمی ونسیان (فراموشی) کے مراحل، چنانچہ جب لاعلمی کا دور آتا ہے، تو انسان موصوف و مسمّا نہیں رہتا، پھر کوئی فرشتہ یا بشر اس کو کس نام سے اور کونسی صفت سے یاد کرے؟ اور وہ خود جب علم و معرفت نہیں رکھتا، اپنے آپ کو کیسے پہچانے اور کس طرح یاد کرے؟ پس وہ بھولی بسری ہوئی چیز کی طرح ہو جاتا ہے، جیسا کہ سورۂ دھر کے آغاز میں ارشاد ہے:۔

 

۱۳۔ کیا انسان پر دھر کے تحت وہ وقت (دوبارہ) آیا ہے جس میں وہ کوئی یاد کردہ چیز (شیئاً مذکوراً) نہ تھا (۷۶: ۰۱)؟ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا (۷۶: ۰۲) پہلی آیت کی حکمت اوپر بیان ہو چکی، دوسری آیت کی حکمت اس طرح ہے: ہر انسان خواہ آدمؑ ہو یا عیسیٰؑ اپنے جسمانی ماں باپ کے نطفۂ مخلوط سے پیدا ہوا ہے، اور مومنین کی بہت بڑی سعادت ہے کہ جسمانی تخلیق و تکمیل کے بعد وہ روحانی ماں باپ یعنی ناطق اور اساس سے پیدا ہوئے ہیں، جن کی تنزیل و تاویل کی مثال مرد عورت کا مخلوط نطفہ ہے، اس کے بعد راہِ روحانیّت میں بہت آگے چل کر بلکہ آخری منزل میں عقلانی ماں باپ سے مومنِ صادق کی عقلانی (نورانی) ولادت ہوتی ہے، وہ والدین عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ ہیں، ان کی تائید و ترکیب (تخلیق) گویا مخلوط نطفہ ہے، پس جو شخص اس آخری مقام پر پیدا ہو جائے، وہ نورِ ازل و ابد میں خود کو زندۂ جاوید پاتا ہے۔

 

۴۷

 

۱۴۔ سورۂ مریم (۱۹: ۲۳) میں فرمایا گیا ہے: مریم کہنے لگی: کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور بالکل بھولی بسری ہو جاتی (۱۹: ۲۳) تب جبرائیلؑ نے مریمؑ کے پائیں کی طرف سے پکار کر کہا کہ غم نہ کر تیرے ربّ نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے (۱۹: ۲۴) عالمِ شخصی کے اعتبار سے اس پُرحکمت قرآنی تعلیم کی ایک خاص تاویل یہ ہے: قصّۂ قرآن میں حضرتِ مریمؑ حجت، عارف، اور مومنِ سالک کی مثال ہے، کیونکہ ان حضرات میں سے ہر ایک اپنے عالمِ شخصی میں مریم کی طرح ہے، اس لئے وہ گویا ایک نورانی فرزند کو جنم دیتا ہے، دراصل یہ ایک زندہ اور بولتا کلمہ ہے (۰۴: ۱۷۱) جو نورِ اسمِ اعظم ہے، سو جب اس عقلی بچے کی ولادتِ نورانی کا وقت آتا ہے، تو قانونِ فطرت کے مطابق عارف کی مریمِ روح پر بڑی سختی گزرنے لگتی ہے، جو زلزلۂ شدید کی وجہ سے ہے (۰۲: ۲۱۴) اس وقت وہ فنائے کلّی کی آرزو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کاش میں اس سے بہت پہلے “فنا فی اللہ” ہو جاتا، تاکہ میں خود کو یاد نہ کرتا، نہ دوسرے مجھ کو یاد کرتے۔

 

۱۵۔ جب ہم دنیا کے لوگوں کو بحیثیتِ مجموعی دیکھتے ہیں، تو ان میں حیات و ممات دونوں کے سلسلے بیک وقت یوں جاری نظر آتے ہیں، جیسے کسی عظیم پُل پر شب و روز بڑی کثرت سے لوگوں کی آمدورفت جاری رہتی ہو، اس جزوی یا تدریجی موت سے دنیا کی آبادی کم نہیں ہوتی، بلکہ بڑھتی جا رہی ہے، مسلسل پیدا ہونے اور بار بار مرجانے کا یہی عمل ایک فرد کی ہستی میں بھی جاری و ساری ہے، وہ اس طرح کہ انسانی جسم بے شمار زندہ خلیات کا مجموعہ ہے، اس میں نہ صرف تخلیق و تعمیر ہی ہوتی رہتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شکست و ریخت کا قانون بھی چلتا رہتا ہے، کہتے ہیں کہ اس عمل سے آدمی کا پورا بدن چالیس دن میں ایک

 

۴۸

 

بار مر کر از سرِ نور زندہ ہو جاتا ہے، اس کو آپ نظامِ تجدید یا تجدّدِ امثال کہہ سکتے ہیں۔

 

۱۶۔ مولاعلیؑ نے ارشاد فرمایا: انا وجہ اللہ فی السموات والارض۔ کل شیءٍ ھالک الا وجھہ۔ میں آسمانوں اور زمین میں وجہ اللہ ہوں، چہرۂ خدا کے سوا ہر چیز ہلاک ہو جانے والی ہے (۲۸: ۸۸) دیکھئے: کتابِ کوکبِ دری، ص۲۳۲، منقبت ۶۹۔ اس آیۂ کریمہ کا دوسرا حصّہ یہ ہے: لہ الحکم ولیہ ترجعون۔ اسی کی حکومت ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے (۲۸: ۸۸) خدا نے کائنات اور اس کی تمام چیزوں کو کسی انتہائی عظیم مقصد کی خاطر بنایا ہے، لہٰذا اشیاء کا ہلاک ہو جانا معنی و مقصد کے بغیر ممکن نہیں، چنانچہ ظاہر میں یہ بات سب جانتے ہیں کہ جمادات رفتہ رفتہ نباتات کے وجود میں ہلاک و فنا ہو جاتے ہیں، نباتات بتدریج حیوانات میں ہلاک ہوتی رہتی ہیں، حیوان کا ارتقاء اسی میں ہے کہ وہ انسان ہی کے واسطے ہلاک و فنا ہوجائے، اور عالمِ انسانیّت کے تمام طبقات و درجات بالآخر طوعاً وکرھاً (چار و ناچار) اس ہادیٔ برحق کی ذاتِ عالی صفات میں فنا ہوجاتے ہیں، جس کو خدا اور رسولؐ نے مرکزِ ہدایت اور مرجعِ خلائق بنایا ہے، یہاں تک آ کر مذکورہ آیۂ شریفہ کی ایک تفسیر و تاویل مکمل ہوئی کہ ہر چیز ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہو جانے کے معنی میں ہلاک و فنا ہو جاتی ہے، مگر جس نورِ مجسم کا اسمِ اقدس “وجہ اللہ” ہے، وہ اپنے نورِ ازل میں غیر فانی، اور  لازوال ہے۔

۱۷۔ “اسرارِ موت” بڑا اہم موضوع ہے، میں سمجھتا  ہوں کہ یہ مضمون بڑی حد تک میری کتابوں میں پھیلا ہوا ہے، نہ جانے یہاں “موت” سے اتنی طویل

 

۴۹

 

بحث کیوں کی گئی ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ موت نے اپنی گوناگون صورتو ں میں اس عاجز درویش پر زبردست اثر ڈالا ہے، درحقیقت موت کی قسموں میں سے سوائے ایک کے (جو عنقریب آنے والی ہے) کوئی ایسی موت نہ تھی، جو اس غریب پر بڑی شدت سے حملہ آور نہ ہوئی ہو، سچ کہتا ہوں کہ میں موت کی ہر چکی میں پِس گیا، لیکن اب خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری ہر موت اس کی رحمت سے ایک حیات بن گئی، لہٰذا مجھے بطورِ شکرانہ موت کے تجربات ومعلومات کو بیان کرنا چاہئے، تاکہ اس سے قارئینِ کرام کو (ان شاء اللہ) علمی وعرفانی فوائد حاصل ہوں۔

 

۱۸۔ سوال: موت کیا ہے؟ یہ کہاں سے آتی ہے؟ اور اس کی کتنی قسمیں ہیں؟ جواب: موت کسی بھی وجہ سے روح کے جسم سے الگ ہوجانے کا نام ہے، موت آدمی کے ساتھ ہے، کیونکہ اس کا فرشتہ (عزرائیلؑ) بحیثیتِ مؤکل ساتھ رہتا ہے (۳۲: ۱۱) موت کی بڑی قسمیں تین ہیں، جسمانی، روحانی، عقلانی، کیونکہ موت کا تعلق مخلوقات سے ہے، اور وہ تین درجوں میں ہیں، تاہم موت کا خاص تعلق جسم سے ہے، اس لئے روحانی موت ہم روح کے اس عمل کو کہیں گے، جس میں وہ سوائے سر کے باقی بدن کو چھوڑ کر بار بار مردہ بناتی رہتی ہے، عقلی موت ایک زندہ انسان کی فراموشی، غفلت، بے حسی، اور جہالت کو کہتے ہیں، اور جسمانی موت کا اوپر ذکر ہو چکا، جس کی کئی ذیلی قسمیں ہیں، موت سے متعلق مزید معلومات کے لئے دیکھیں: موت کی عظیم حکمتیں (میوۂ بہشت) ابداع وانبعاث (گنج گرانمایہ) متفرق سوالات (روح کیا ہے؟ ) جراثیم اور قوّتِ عزرائیلی کتابُ العلاج (قرآنی علاج) ص۲۰۱، موت قبل ازموت، تجدّدِ امثال کتابُ العلاج (علمی علاج) ص۳۶۹ حکمتِ عزرائیلیہ، تجدّدِ امثال کے اشارات، قیامتِ صغرٰی

 

۵۰

 

کتابُ العلاج (روحانی علاج) ص۵۴۹ رجوع الی اللہ (حقائقِ عالیہ) وغیرہ۔

 

ن۔ ن۔ ہونزائی۔ کراچی

اتوار۱۱، شعبان المعظم ۱۴۱۲ھ

۱۶فروری ۱۹۹۲ء

 

۵۱

 

اشاراتی زبان

(SYMBOLICAL LANGUAGE)

 

قرآنِ حکیم اور دینِ فطرت (اسلام) میں رمزو اشارہ کی جو بنیادی اور سب سے بڑی اہمیت ہے، وہ اس بات سے ظاہر ہو جاتی ہے کہ “وحی” جو سب سے اعلیٰ اور عظیم الشّان آسمانی حقیقت ہے، جس پر دینِ حق کی اساس قائم و استوار کی گئی ہے، اس کے معنی ہیں: “اشارہ۔” جیسا کہ قرآنِ عزیز میں فرمایا گیا ہے: فاوحی الیھم (۱۹: ۱۱) پھر زکریاؑ نے ان سے اشارہ کیا۔

 

ہر دانشمند اس حقیقت کو قبول کرے گا کہ حکیمانہ اشارہ حکمتی زبان کا درجہ رکھتا ہے، اور زبانِ حکمت جو اشاراتی لسان ہے، اس کا نمایان ذکر سورۂ مریم میں ہے، جیسے ارشاد ہوا ہے: پھر اگر تم کسی آدمی کو دیکھو (اور وہ تم سے کچھ پوچھے) تو تم (اشارہ سے) کہہ دینا کہ میں نے خدا کے واسطے (خاموشی کے) روزہ کی نذر کی تھی تو میں آج کسی سے ہر گز بات نہیں کر سکتی (۱۹: ۲۶) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فاشارت الیہ (۱۹: ۲۹) پھر مریمؑ نے اس لڑکے (یعنی عیسیٰؑ) کی طرف اشارہ کیا۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی سنتِ مطہرہ سے ثابت ہے کہ حضورِ پُرنور نے بحالتِ نماز جب ضرورت ہوئی تو لوگوں سے اشارہ فرمایا ہے، صرف یہی نہیں، بلکہ آنحضرتؐ پر جو کامل ترین کتاب (قرآن) نازل کی گئی ہے، وہ

 

۵۲

 

بھی اور آپؐ کا ذاتی قول و فعل بھی علم و حکمت کے معنوی اشاروں سے معمور و مملو ہیں، اسی حقیقت کے پیشِ نظر پیغمبرِ خداؐ نے ارشاد فرمایا: بعثت بجوامع الکلم۔ میں “جوامع الکلم” کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ یعنی رحمتِ  عالمؐ یوں ہی نہیں بھیجے گئے ہیں، بلکہ ایک ایسی بے مثال ولاثانی کتابِ سماوی اور ایسا انتہائی پسندیدہ قول و فعل کے ساتھ مبعوث ہوئے کہ یہ کتابِ سماوی اور اسکی یہ قولی و فعلی ترجمانی دونوں چیزیں بدرجۂ انتہا جامعیّت رکھتی ہیں، اس کا خلاصہ اور مطلب یہ ہوا کہ نہ صرف قرآنِ حکیم بلکہ تمام احادیثِ صحیحہ بھی اشاراتِ حکمت سے مملو ہیں۔

 

اشارہ صرف آنکھ یا کان کے لئے مخصوص نہیں، بلکہ حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن میں سے ہر ایک کے لئے بہت سے اشارے مقرر ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو خداوندِ تعالیٰ لوگوں کو ان آیات میں غور و فکر کی دعوت ہی نہ دیتا، جو قرآن اور آفاق و انفس کے ظاہر و باطن میں ہیں (۳۸: ۲۹، ۴۱: ۵۳، ۵۱: ۲۰ تا ۲۱) چنانچہ جب بہت سے قرآنی ارشادات سے تفکر و تدبر کی خاص اہمیت پر روشنی پڑتی ہے، تو اس سے بطورِ نتیجہ یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ کائنات و موجودات کی ہر چیز کو اپنی مخصوص اشاراتی زبان میں انسان سے کچھ کہنا ہے، پس اشاراتی زبان ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، جس سے کوئی بھی ہوشمند آدمی انکار نہیں کر سکتا۔

 

اب ہم اشاراتی زبان سے متعلق کائناتِ ظاہر کی چند مثالیں پیش کرتے ہیں، تاکہ اس سے مومنین کو قانونِ دین کے سمجھنے میں مدد مل سکے، اور صحیفۂ عالم میں غور و فکر کا اصول معلوم ہو۔

 

۵۳

 

سورج کیا کہتا ہے؟

اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ سوال کہ: “سورج کیا کہتا ہے؟” بڑا دلچسپ بھی ہے اور بے حد مفید بھی، چونکہ اس جہان میں آفتابِ عالمتاب کو مادّی اہمیت و افادیّت کے لحاظ سے وہ اعلیٰ اور منفرد مقام حاصل ہے، جو انسانی جسم میں دل کو اور عالمِ دین میں ہادیٔ برحق کو حاصل ہے، لہٰذا اس پُرحکمت سوال کا جواب یوں شروع ہوتا ہے کہ نیّرِاعظم (سورج) اپنی گوناگون اشارتوں کی زبان سے بہت سی حکمت آگین باتیں کرتا رہتا ہے، جن کا احاطہ تو اس چھوٹے سے مقالے میں کجا، اگر خورشیدِ انور کی حکمتوں پر ایک بڑی ضخیم کتاب تصنیف کی جائے، تو پھر بھی ناکافی ہوگی، تاہم بطورِ مثال یہاں سورج کے چند اشارات درج کئے جاتے ہیں:۔

 

مثال نمبر۱: سورج اپنے دائمی وجود اور فعلِ مسلسل کے اشارہ و کنایہ سے ہر وقت کہتا رہتا ہے کہ جس طرح دنیائے ظاہر کی تمام چیزیں سورج کی مادّی برکتوں سے موجود اور قائم ہیں، اسی طرح عالمِ دین کی جملہ اشیا آفتابِ نورِ ہدایت کے فیوض و برکات سے بحقیقت وجود میں آسکتی ہیں، اور اس امرِ واقعی کی تصدیق و تائید قرآنِ حکیم کی بہت سی آیات سے ہو جاتی ہے، خصوصاً ان آیاتِ کریمہ سے، جو نور کے بارے میں ہیں، پس اگر وہ نورِ مجسّم نہ ہوتا، تو عالمِ دین کلّی طور پر تاریکی میں ڈوب جاتا۔

 

مثال ۲: جب کوئی شخص سرچشمۂ  آفتابِ جہانتاب کو ذرا دیر تک دیکھ لینے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ تجزیہ کرے کہ وہ کیا ہے اور کیسا ہے؟ تو سورج کی تیز شعاعیں اس کی آنکھوں کو خیرہ (چکاچوند) کر دیتی ہیں، اور اس عمل سے اس کی بصارت ضائع ہو جانے کا اندیشہ و خطرہ ہوتا ہے، مگر اس کے برعکس

 

۵۴

 

سورج سے خارج شدہ کرنوں کی روشنی میں دیکھنے سے بے شمار فائدے حاصل ہوتے ہیں، جبکہ بینائی کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچتا، چنانچہ اس اشارہ کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ زمانۂ ماضی کے جن لوگوں نے انبیاءؑ کی جسمانیّت و بشریّت کو ظاہری نظر سے دیکھا تو وہ ایک طرح سے نابینا ہوگئے، اگر وہ ہادیٔ برحق کی مبارک شخصیّت کو عقیدت و محبت کی نگاہ سے دیکھ لیتے، تو وہ ہرگز اندھے نہ ہوجاتے، نہ ہی ان کا یہ انجام ہوتا، جس کا ذکر قرآنِ پاک میں موجود ہے۔

 

مثال۳: سورج ہمیشہ سے کائنات کے وسط میں ایک ہی حال پر قائم ہے، اور ہر وقت ایک ہی شان سے جملہ اطرافِ عالم میں بیدریغ ضیا پاشی کرتا رہتا ہے، مگر یہ زمین ہی کی اپنی حرکت اور سورج سے کچھ نزدیکی و دوری کی وجہ سے ہے کہ اس کے مختلف حصوں پر کبھی تو روشنی پڑتی ہے، اور کبھی ظلمت چھا جاتی ہے، کبھی تازہ بہار اور گل و گلزار کا سماں ہوتا ہے، اور کبھی موسمِ خزان و باغ و گلشن کو لوٹ کر بے برگ و نوا اور قلاش و کنگال بنا دیتا ہے، اس مثال میں سورج کا یہ کہنا ہے کہ نورِ ہدایت کی طرف توجہ دینا اور قریب ہو جانا لاتعداد رحمتوں اور برکتوں کا باعث ہے، اور اس کی طرف پشت پھیرنا ظلمتِ نادانی اور روحانی مفلسی کا باعث ہے۔

 

مثال۴: رات کے وقت اگر مطع ابر آلود نہ ہو، صاف ہو، تو چاند یا ستارے سورج کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کی بدولت آفتاب کی ایک محدود روشنی اہلِ زمین کی جانب منعکس ہوتی رہتی ہے، اس صورتِ حال کا یہ اشارہ ہے کہ جس زمانے میں یا جس ملک میں مسلمین و مومنین کو نورِ ہدایت کے مرتبۂ  اعلیٰ تک رسائی نہ ہو سکے، تو ان پر واجب ہے کہ حدودِ دین سے رجوع کریں، تاکہ وہ دینی علم کے نور سے مستنیر و مستفیض ہو جائیں، اور اگر آسمان پر کالے کالے

 

۵۵

 

بادل ہونے کے سبب سے کوئی بھی روشی نظر نہ آتی ہو، تو یہ ایک ایسی مشکل حالت کی مثال ہے، جو حکمِ خداوندی کو نظر انداز کر دینے کے نتیجے میں سامنے آتی ہے، جس میں لوگ وسائلِ ہدایت کو نہیں دیکھ سکتے ہیں۔

 

بادل کیا کہتے ہیں؟

 

مثال ۵: جیسا کہ اہلِ علم اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب سطحِ سمندر پر سورج کی گرم کرنیں پڑتی رہتی ہیں، تو اس سے پانی کا کچھ حصہ پہلے تو بخارات کی صورت میں، پھر بادلوں کی شکل میں تبدیل ہو کر فضا میں بلند ہو جاتا ہے، اگر ہم اس واقعہ کو دوسرے لفظوں میں بیان کریں تو بھی غلط نہ ہوگا، اور وہ یہ کہ نورِ آفتاب کی بدولت پانی میں لطافت و پاکیزگی کے پر لگ جاتے ہیں، جن سے وہ فضا کی بلندیوں کی طرف پرواز کر جاتا ہے، چنانچہ بادل بزبانِ اشارت و حکمت کہتےجاتے ہیں کہ جو لوگ نورِ ہدایت کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں، ان کی نیک بخت روحیں جسمانی اور نفسانی کثافتوں سے پاک و آزاد ہو کر عالمِ عُلوی کی رفعتوں میں پرواز کرنے لگتی ہیں۔

مثال ۶: پانی جہاں جہاں سطحِ زمین پر ہے، وہ کہیں صاف و پاک بھی ہو سکتا ہے، اور کہیں گدلا اور گندہ بھی، مگر یہ جس وقت بادلوں سے برس رہا ہو، اس وقت بموجبِ حکیمِ قرآن (۲۵: ۴۸) پاک و پاکیزہ ہوا کرتا ہے، اس مثال میں زبانِ حکمت سے یہ کہا گیا ہے کہ دین کی وہ ساری باتیں، جو سلسلۂ روایات سے چل کر آئی ہیں، ان میں سے بعض صحیح بھی ہو سکتی ہیں، اور کچھ بناوٹی بھی، مگر جو علم قرآن اور اس کے معلم کے سرچشمہ ہدایت سے جاری ہے، وہ انتہائی پاک و پاکیزہ ہوتا ہے۔

 

۵۶

 

مثال ۷: برسنے اور برسانے والے بادلوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی صلاحیت بڑے اور اونچے پہاڑوں کو عطا ہوتی ہے، کہ ان پرہمیشہ برف و باران کی کثرت کے سبب سے آبی ذخائر جمع اور موجود رہتے ہیں، جن کی بدولت ہر وقت بستیوں کو پانی مہیا رہتا ہے، اس عمل کے رمز و کنایہ میں بادلوں کا کہنا یہ ہے کہ عظیم روحیں عالمِ روحانیّت کے سربفلک پہاڑ ہیں، جن کے ذخائرِ علمی سے لوگوں کو ہمیشہ فیض ملتا رہتا ہے۔

 

پانی کیا کہتا ہے؟

 

مثال۸: پانی بھی اس دنیا کی دوسری بڑی بڑی چیزوں کی طرح حکمتی اشاروں سے آراستہ اور بھر پور ہے، یہ گویا روح کے موضوع پر ایک عظیم متحرک اور پُرحکمت کتاب ہے، نیز یہ علم کا بھی ایک عمدہ نمونہ اور نمائندہ ہے، کیونکہ دراصل روح اور نورِ علم، جو زندہ ہے، ایک ہی حقیقت ہے، جس کی ایک قرآنی شہادت یہ ہے:

وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّؕ (۲۱: ۳۰) اس کے ظاہری معنی یہ ہیں: اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ اور تاویلی معنی یہ ہیں :۔ اور ہم نے (مقامِ روحانیّت پر علم کے) پانی سے ہر چیز کو زندہ کر دیا (۲۱: ۳۰) اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ پانی مثال ہے اور روحانی علم ممثول، جو حقیقی زندگی کا باعث ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ اس آیۂ مبارکہ میں کل چیزوں کو زندہ کر دینے کا ذکر ہے، لہٰذا اس کی واقعیّت و حقیقت تاویل ہی میں پوشیدہ ہے، اور وہ یہاں درج ہوئی، الغرض پانی روحانی علم کی مثال ہے، اور اس کی جملہ حرکات وخصوصیات میں اسی علم کی طر ف اشارے ہیں۔

 

۵۷

 

مثال ۹: پانی اپنے مرکز (سمندر) اور مرکزیّت کی مثال سے یہ اشارہ کرتا ہے کہ روح یا علم کا ایک عظیم مرکز ہے، اور روحانی علم کی بارش کا اصل سرمایہ و سرچشمہ وہی ہے، چنانچہ قرآنِ کریم (۴۹: ۱۰) میں ہے کہ (تمام پیغمبروں کے) مومنین بھائی بھائی ہیں (اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ، ۴۹: ۱۰) اور انبیاءؑ کا اتحاد اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وہ حضرات یقیناً نفسِ واحدہ (۳۱: ۲۸) اور نورٌعلیٰ نور کا مصداق ہیں اور اولیاء یعنی أئمّۂ طاہرینؑ ان سے الگ نہیں، پھر مومنین سلکِ اطاعت سے ان سے وابستہ ہیں، اور مخالفین وجہِ مخالفت سے ان کے حضور پیش کئے گئے ہیں، اسی طرح روحوں کا مرکز اور سمندر ہوتا ہے، پھر اس سمندر پر نورِ مطلق کی روشنی و تابش پڑتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں گویا روحانی بادل بن کر بارانِ علم و حکمت کے باعث ہو جاتےہیں، یعنی مذکورہ نور کے زیرِ اثر، جس کے بہت سے نام ہیں، مرکزِ ارواح سے ہر وقت عبادات، اذکار، دعاؤں، مناجاتوں، اور آہوں کے بادل عالمِ بالا کی طرف امنڈ جاتے ہیں، پھر وہاں سے رحمت و علم کی بارش برستی ہے۔

 

مثال ۱۰: دراصل سردار فرشتوں کے پاس ذکر و تسبیح اور امر کی بجا آوری کے سوا کوئی ذاتی شغل نہیں، مگر ہاں خداوندِ عالم کے حکم سے وہ اہلِ دنیا کے اقوال و اعمال پر نورانی علم کی روشنی ڈالتے ہوئے گفتگو کرتے ہیں، نورانی علم میں خداوندِ عالم کے ارشادات ہوتے ہیں، اور اس سے ایک حقیقی علم کا ظہور ہونے لگتا ہے، یہ واقعہ ایسا ہے جیسے بادل پستی سے بلندی پر جاکر پانی برساتے ہیں، اور اس کی مثال خود قرآن میں موجود ہے، کہ بہت سی آیاتِ شریفہ ایسی ہیں، جو سوال کے جواب کے طور پر یا قبولِ دعا کی صورت میں یا کسی قضیہ کے فیصلہ کے انداز میں نازل ہوئی ہیں، اس کے معنی یہ ہوئے کہ جب تک بحکمِ خدا زمین یعنی سمندر

 

۵۸

 

سے کچھ بادل نہ ہوں، تو آسمان سے کوئی بارش نہیں برستی۔

 

مثال۱۱: پانی ہر وقت بزبانِ حکمت لوگوں سے کہا کرتا ہے کہ تم اپنی روحوں کو حقیقی علم کے پاک پانی میں غسل دے کر اس طرح پاک و پاکیزہ کر لیا کرو، جس طرح تم اپنے جسموں کو ظاہری پانی میں دھو لیتے ہو، اور یہ بالکل سچ ہے، کیونکہ قانونِ رحمت کی رو سے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جسمِ خاکی کی صفائی کے لئے تو تمام ذرائع موجود و مہیّا ہوں، مگر روحِ عُلوی جو بدن میں ہے، اس کی پاکیزگی کے واسطے کچھ بھی نہ ہو۔

 

ہر چیز کیا کہتی ہے؟

 

مثال۱۲: اس باب میں اوّل تو یہ جاننا چاہئے کہ ہر چیز سے عقل، جان، اور جسم یا مادّہ مراد ہے، اور “ہر چیز= کل شیٔ” کا موضوع قرآنِ حکیم کے اعلیٰ ترین اور انتہائی پُرحکمت موضوعات میں سے ہے، ہم اس جامع الجوامع مضمون کو “قانونِ کل۔” بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ اس عنوان (کل) کے تحت جو کچھ فرمایا گیا ہے، وہ ایک ایسا کائناتی اور ہمہ گیر و ہمہ رس قانون ہے کہ اس کا اطلاق تمام چیزوں پر ہوتا ہے، سو اگر آپ مطالعۂ قرآن اور مشاہدۂ کائنات سے “قانونِ کل۔” کی کچھ حکمتوں کو سمجھ لیں تو کیا ہی اچھا ہوگا۔

 

سوال تھا کہ ہر چیز کیا کہتی ہے؟ اب اس کا جواب اگر قرآنِ پاک سے دینا ہے تو مذکورہ موضوع یعنی قانونِ کُل کو سامنے رکھنا ہوگا، اور اگر جواب برائے تجربہ کائنات سے چاہئے تو اس صورت میں کچھ ایسی مثالوں سے کام لینا پڑے گا، جو تمام چیزوں کے درمیان قدرِ مشترک کی حیثیت سے ہوں، تاہم بہتر یہ ہوگا کہ دونوں طرح سے جواب مہیا کر دیا جائے، تاکہ اس کا علمی

 

۵۹

 

فائدہ وسیع تر ہو سکے، چنانچہ قرآنِ حکیم کی کتابِ کُل (یعنی موضوعِ کُلۡ) میں ارشاد فرمایا گیا ہے: کل فی فلک یسبحون (۲۱: ۳۳) یعنی وہ تمام اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز ایک دائرے پر واقع ہے، اور وہ ہمیشہ اس پر گردش کر رہی ہے، یہ حکم صرف سورج، چاند، ستاروں، دن رات اور موسموں کی تبدیلی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اطلاق ہر چیز پر ہوتا ہے۔

 

مثال ۱۳: جب ہم کائنات و موجودات کی ہر چیز میں غوروفکر کرتے ہیں، تو کوئی چیز اپنی نوعیت کے دائرے پر گردش کے بغیر نظر نہیں آتی، آسمان اور اس کی ساری چیزیں، زمین، پانی، ہوا، دن رات، سرما، گرما، وغیرہ ہمیشہ اپنے اپنے دائرے پر چکر کاٹ رہے ہیں، اور بعض ایسی چیزیں بھی ہیں، جو بظاہر اپنی جگہ پر قائم ہیں، مگر بحقیقت وہ ایک طرح کی گردش میں ہیں، مثلاً درخت کو دیکھئے کہ وہ اپنی جگہ ساکن ہے، لیکن ذرا سوچئے تو سہی کہ وہ بھی سدا اپنے دائرۂ وجود پر گھوم رہا ہے، وہ اس طرح کہ درخت یوں تو اپنی قسم میں ایک دائرہ ہے، اور دائرے کا کوئی سرا نہیں ہوتا، تاہم برائے تفہیم ہم یہ کہیں گے کہ درخت پہلے پہل پھل کے مغز میں پوشیدہ ہوتا ہے، پھر یہ بیج زمین میں بویا جاتا ہے، اور وہاں سے شجر اپنے گول سفر میں بتدریج آگے بڑھ کر درخت، پھل، اور بیج کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اسی طرح اس کا ایک چکر مکمل ہو جاتا ہے، اور اگر اس کے ماضی و مستقبل پر نگاہ ڈالی جائے، تو درخت ہمیشہ اسی دائرے پر گردش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

 

مثال ۱۴: ہر انسان قانونِ فطرت کے مطابق ماں باپ ہی سے پیدا ہوتا ہے، اور اپنی ذات وحیات کے مراحل میں سے ایک مرحلے میں اس کی

 

۶۰

 

اولاد ہوتی ہے، اولاد والدین کی نمائندہ ہوا کرتی ہے، اسی معنیٰ میں اگر مجموعی طور پر انسانوں کو دیکھا جائے، تو وہ بھی اپنے دائرے پر روان دوان دکھائی دیتے ہیں، یہ کسی ایک فرد کی بات نہیں، عالمِ انسانیّت کی اجتماعی صورتِ حال کا تذکرہ ہے، کیونکہ ہمیں جزوی چیزوں کی معرفت کے بعد کلّی چیزوں کو پہچاننا بیحد ضروری ہے، تاکہ اس سے ہم اصل معرفت کو حاصل کر سکیں۔

 

مثال۱۵: آیا خدا کی خدائی یا بادشاہی کا جو زمانہ ہے، اس کی کوئی ابتداء یا انتہاء ہے؟ نہیں نہیں، ہرگز نہیں، اگر نہیں تو اس کی کیا دلیل ہے؟ دلیل تو بہت سے ہیں، مگر سب سے روشن اور سب سے زیادہ قابلِ فہم دلیل یہ ہے کہ قلمِ قدرت سے ہر چیز کے صفحۂ ہستی پر دائرۂ پُرحکمت کھینچا ہوا ہے، کیونکہ دائرہ: ، اور خط؍ لکیر:       میں آسمان زمین کا فرق ہے، وہ یہ کہ دائرہ اپنی شکل سے لاابتدائی اور لا انتہائی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ خط ایک سرے سے شروع ہو کر دوسرے سرے پر ختم ہو جاتا ہے، جو آغاز و انجام کی علامت ہے، پس ہر چیز اپنے دائرے پر گردش کرتی ہوئی اللہ کی تسبیح کرتی ہے (۱۷: ۴۴) اور کہتی ہے کہ خدا مخلوق کی صفات سے پاک ہے، جو دائمی سلطنت کا مالک ہے، اور “ہر چیز کیا کہتی ہے؟” کا جواب یہی ہے۔

 

مثال ۱۶: قرآنِ حکیم (۱۸: ۳۱، ۲۲: ۲۳، ۳۵: ۳۳، ۷۶: ۲۱، ۴۳: ۵۳) میں اہلِ جنّت کو سونے چاندی کے کنگن پہنانےکا ذکر آیا ہے، اور یہ اس کلمۂ تامّہ کے بھیدوں کو جاننے کا اشارہ ہے، جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا و آخرت پر مبنی ایک انتہائی عظیم دائرہ ہے، جس کی نہ تو کوئی ابتدا ہے، اور نہ ہی کوئی انتہا، مگر بات جہاں سے شروع کی جائے، وہیں سے ابتدا کا تعیّن بھی ہو سکتا ہے، اور قصّہ جہاں ختم ہوجائے، وہاں حدِ

 

۶۱

 

انتہا بھی مقرر ہو سکتی ہے، یعنی انسان کی زندگی دو طرح سے ہے: لامحدود جو کلّی ہے، اور محدود جو جزوی ہے، پس کلّی زندگی دھر ہے، اور جزوی زندگی حین (۷۶: ۰۱)

 

ن۔ ن۔ ہونزائی

تحریر، کراچی ۸۲۔ ۱۲۔ ۵

تحقیق، کراچی۹۲۔ ۲۔ ۲۵

 

۶۲

 

 

زندہ شہید

 

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم  کا ارشادِ گرامی ہے:

کل مومنِ شھید و کل مومنۃ حورا = ہر مومن شہید کا درجہ رکھتا ہے اور ہر مومنہ حورا ہے (دعائم الاسلام ؍ رسالۂ تجہیز و تکفین) یہ حدیثِ شریف اس آیۂ کریمہ کی تفسیر و توضیح ہے: وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ ﳓ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ-لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْؕ (۵۷: ۱۹) اور جو لوگ خدا اور اس کے رسولوں پر (حقیقی معنوں میں) ایمان لائے ہیں یہی لوگ اپنے پروردگار کے نزدیک صدیقوں اور شہیدوں کے درجے میں ہیں، ان کے لئے ان ہی (صدیقوں اور شہیدوں) کا اجر اور انہیں کا نور ہے (۵۷: ۱۹) یہاں یہ کلیدی حکمت بھی خوب یاد رہے کہ صدیق (تصدیق کرنے والا) ہر ناطق کا اساس ہے، اور شہید یا شاہد (گواہ) ہر زمانے کا امام۔

 

ایک تاریخی اور علمی خط: میرے عزیز نور علی مامجی، یاسمین نور علی، اور صدر الدین مامجی کے نام پر:۔ یاعلی مدد! خداوندِ قدوس آپ میری روح کے عزیزوں کو دونوں جہان کی سلامتیوں سے نوازے! سُرخروئی اور سرفرازی عنایت کرے!

 

 

۶۳

 

اور پروردگار کی ایسی عنایات میں آپ کے خاندان کے جملہ افراد بھی شامل ہوں! آمین یا ربّ العالمین!!

 

عزیزانِ من! آپ کو دیکھ کر، آپ سے مل کر، آپ کو پہچان کر، اور آپ کی تمام خدمات و احسانات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں جس قدر خوشی وشادمانی ہو رہی ہے، اس کی مکمل وضاحت اگرچہ ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے، آپ سب کو خداوندِ تعالٰی نے جس طرح انسانیّت، شرافت، اور ایمان کی لازوال دولت سے مالا مال فرمایا ہے، اس کو دیکھ کر بڑی شدّت کے ساتھ جی چاہتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی شکر گزاری کرتے رہیں کہ آپ عزیزان جیسے فرشتہ سیرت مومنین ہمارے خاص شاگردوں میں سے ہیں، اور آپ نے ہمارے بیحد پیارے ادارے کی پُرخلوص خدمات انجام دی ہیں۔

عزیزم صدرالدین مامجی کا یہ ایک منفرد کارنامہ ہےکہ انہوں نے ۱۸، ستمبر۱۹۸۱ء کو خانۂ حکمت کے تقریباً پچاس ممبران کو کراچی سے حیدرآباد مدعو کر کے نہ صرف دولتخانہ میں بلکہ ایک عالیشان ہوٹل میں بھی عدیم المثال مہمان نوازی کی، اس پُرمسرت دن کو، جس میں ایمان افروز مجلس بھی تھی، اور نشاط آور تفریح بھی، ہمارے دوسرے عزیزان بہت یاد کرتے ہیں، میرا کامل یقین ہے کہ ایسی پیاری پیاری یادوں کی گہرائیوں میں خود بخود آپ کے احسانات کے عوض میں نیک دعائیں بھی ہوتی رہتی ہیں، کیونکہ اس  روز ہمارے بیحد پیارے ساتھی جس طرح اور جتنے خوش و خرسند تھے، اس کا اصل وسیلہ آپ ہی تھے، حقیقت میں یہ ایک ایسا پُرحکمت معجزہ دیکھنے میں آیا، جو آسمانی اشاروں پر مبنی تھا کہ: “دیکھو خدا مومنین کی نیکی میں کیسی کیسی کثیر برکتیں پیدا

 

۶۴

 

کرتا ہے، ایک ہی خیر خواہانہ پروگرام کی بدولت کس قدر نیکی پھیل گئی، اور جسم و روح دونوں کے لحاظ سے کتنے مومنین کو مسرّت و شادمانی حاصل ہوئی۔”

 

میں یہاں جو کچھ تحریر کر رہا ہوں، اس میں تنہا میں نہیں ہوں، بلکہ ہمارے بہت ہی عزیز صدرفتح علی حبیب، بہت ہی عزیز صدر محمد عبد العزیز، دیگر عملداران، اور جملہ ممبران بھی ہیں، یقیناً ہم سب کی مشترکہ خواہش یہی تھی کہ آپ تینوں عزیزان کے نام پر شکر گزاری کا ایک عمدہ خط لکھا جائے، الحمد للہ! کہ یہ کام کچھ وقت کے بعد مکمل ہوگیا، اور یہ واقعہ اس حقیقت کا ایک عملی ثبوت ہے کہ وقت خواہ کتنا طویل کیوں نہ ہو ہماری یاد داشت سے آپ کی مفید خدمات کو نہیں مٹا سکتا، خانۂ حکمت گویا ایک پہاڑ ہے، اس پہاڑ کے باطن میں جو جو خدمات روح کی طرح داخل ہو جاتی ہیں، وہ بحکمِ خدا انمول جواہرات کی شکل اختیار کرتی ہیں۔

 

عزیزانِ من! جیسا کہ شروع میں اس کا ذکر ہوا کہ قرآنِ حکیم نے حقیقی مومنین کو جیتے جی شہیدوں کا سا درجہ دیا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب خداوندِ قدوس کے حکم سے مومنین سے بیعت لی جاتی ہے (۴۸: ۱۰) اس معنیٰ میں کہ خدا نے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض میں خرید لیا (۰۹: ۱۱۱) اور وہ اس معاہدہ پر راضی ہونے کے ساتھ جذبۂ جان نثاری بھی رکھتے ہیں، تو اسی وقت سے ان کو شہیدوں کا درجہ دیا جاتا ہے، پس ہر مومن کو یہ جاننا چاہئے کہ دینی خدمت میں زندگی اور مال صَرف کرنے کی فضیلت بھی وہی ہوتی ہے، جو شہدا کی شہادت کی ہوتی ہے، اور شہید کا جو مرتبہ ہے، وہ قرآنِ پاک میں ظاہر اور نمایان ہے۔

جب ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ صاحبِ تاویل (مولاعلی) علیہ السّلام

 

۶۵

 

کے زمانے سے لیکر اب تک تاویلی جہاد جاری ہے، اور قیامۃ القیامات تک جاری رہے گا، پھر بطورِ نتیجہ یہ بھی قبول کیا جائے کہ زندہ شہیدوں کا عظیم مرتبہ سب سے پہلے ان حقیقی دینداروں کو حاصل ہو سکتا ہے، جو روحانی علم کی جنگ میں شریک ہیں، جبکہ حضرتِ امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ: “میں اب (لوہے کی ذوالفقار سے نہیں، بلکہ) علم کی ذوالفقار سے لڑرہا ہوں۔”

 

اہلِ ایمان کے لئے اس بات کے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں کہ دعوتِ حق دو مرحلوں سے گزر کر ہی مکمل ہو جاتی ہے، مرحلۂ اوّل پر تنزیلی جنگ ہے، جس کی سرپرستی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمائی، مرحلۂ دوم پر تاویلی جنگ ہے، جو امامِ اقدس و اطہرؑ کی ظاہری و باطنی ہدایت کی روشنی میں ہوتی رہتی ہے، چنانچہ امامِ حیّ وحاضرؑ کے ایسے تمام مرید جو یقینی علم کی تلوار سے جہالت کے خلاف جنگ کرتے ہیں، یا علمی اسلحہ وغیرہ بناتے ہیں، یا اس سلسلے میں کوئی مدد کرتے ہیں، تو وہ سب کے سب زندہ شہیدوں کا مرتبہ رکھتے ہیں۔

خداوندِ عالم کی بے پناہ رحمت کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی تعجب نہیں کہ مومنین کو مرجانے سے پہلے ہی مرتبۂ شہادت حاصل ہو، اس حقیقت کی ایک انتہائی خوبصورت او ر دل نشین مثال حضرتِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام کے فرزندِ ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی پاکیزہ زندگی سے مل سکتی ہے کہ آپ کو ذبیح اللہ (راہِ خدا میں ذبح کیا ہوا) کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے، ہر چند کہ آپؑ بظاہر فعلاً ذبح نہیں ہوئے تھے، لیکن آپؑ ہر وقت جذبۂ جان نثاری، عزمِ قربانی، اورشوقِ شہادت رکھتے

 

۶۶

 

تھے، لہٰذا آج آپؑ کو عالمِ اسلام کا ہر فرد ذبیح اللہ کے مبارک نام سے یاد کر رہا ہے، سو اس  عظیم الشّان واقعہ کی روشنی میں زندہ شہیدوں کی شہادت اور اس کی حکمت روشن ہو جاتی ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی، کراچی

تحریر: ۸۲؍۱؍۲۵

تحقیق: ۹۲؍۳؍۴

 

۶۷

 

قرآن اور اسلام میں سائنس کے اشارے

 

خداوندِ عالم کے بابرکت ناموں میں سے ایک نام “فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ   ( ۰۶: ۱۴،  ۱۲: ۱۰۱،  ۱۴: ۱۰،  ۳۵: ۱۰۰،  ۳۹: ۴۶،  ۴۲: ۱۱) ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا، اسی خالق کی تخلیق “فطرت” کہلاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہُوا کہ فاطِر خدا ہے، اور فطرت کائنات، اور دینِ اسلام کا نام بھی “فطرت” ہے، جیسا کہ ارشادِ نبوّی ہے: کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ اوینصرانہ ویمجسانہ=ہر بچہ فطرت (یعنی اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر والدین اس کو یہود یا نصاریٰ یا مجوسی بناتے ہیں۔ اس حدیثِ شریف سے یہ حقیقت کسی شک کے بغیر روشن ہو جاتی ہے کہ اسلام کا ایک پُرحکمت نام “فطرت” ہے، اور یہ ایک مکمل نام ہے، اور “دینِ فطرت” کہنا وضاحت کے طور پر ہے، جیسے “اسلام” اگرچہ دین کا مکمل نام ہے، تاہم “دینِ اسلام” بھی کہا جاتا ہے۔

 

۱۔ قرآن اور فطرت: قرآن اور فطرت (یعنی کائنات و دین) کا ربط و رشتہ یہ ہے کہ قرآن قولِ خدا ہےاور فطرت فعلِ خدا، اس لئے قرآنِ پاک، کائنات اور اسلام کے جملہ قوانین میں فی الاصل مکمل ہم آہنگی، کلی موافقت، اور قطعی مطابقت پائی

 

۶۸

 

جاتی ہے، پھر یہ بات کس طرح درست ہو سکتی ہے کہ سائنس بعنوانِ “مطالعۂ فطرت” صرف کائنات ہی میں محدود ہو، اور قرآن و اسلام میں نہ ہو، حالانکہ قرآنِ کریم اللہ پاک کا قول ہے، اور کائنات و اسلام اس کا فعل، اور خدا کے قول و فعل میں کبھی کوئی تضاد نہیں ہو سکتا، پس جو اصل سائنس اسرارِ کائنات میں پوشیدہ ہے، وہی قرآن و اسلام کی حکمت میں بھی پنہان ہے۔

 

۲۔ فطرت اور انسان: خالقِ اکبر نے لوگوں کو کائنات اور اسلام کے اصل قانون کے مطابق پیدا کیا ہے، جیسا کہ ارشادِ خداوندی کا ترجمہ ہے: تم حقیقی مؤحد بن کر چہرۂ جان کو دین کے لئے قائم کرو، خدا کی آفرنیش (کائنات اور دین) وہ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا، خدا کی آفرنیش میں کوئی تبدیلی نہیں (۳۰: ۳۰) یہ تعلیمِ سماوی بڑی صراحت سے بتاتی ہے کہ فطرت کے معنی میں عالمِ ظاہر، عالمِ دین، اور عالمِ شخصی سب ایک ہیں، اور سائنس کے اسرار ان سب میں ہیں۔

۳۔ قرآن میں ہر چیز کا بیان: قرآنِ حکیم اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ سب سے کامل ترین اور بے مثال کتاب ہے، جس کے احاطۂ بیان سے کوئی بھی ضروری چیز باہر نہیں (۱۶: ۸۹) اس حوالے سے قرآنِ کریم کے ظاہر و باطن دونوں میں غوروفکر کرنے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اس لاہوتی سرچشمۂ علم و حکمت سے بمقتضائے زمان و مکان ہمیشہ تدریجی ہدایت کا سلسلہ جاری وساری رہا ہے، پس ایسے میں یہ مفروضہ قطعاً ناممکن ہے کہ قرآنِ حکیم جیسی آفاقی، ہمہ گیر، اور انتہائی جامع کتاب میں ان بے شمار مسائل کا کوئی اساسی حل موجود نہ ہو، جو سائنسی انقلاب سے پیدا ہوئے ہیں، جن کے سخت گھیرے سے ہم کیسے نکل سکتے ہیں، جب

 

۶۹

 

تک ہم سائنسی ایجادات و مصنوعات میں خود کفیل نہ ہو جائیں۔

 

۴۔ خزائنِ الٰہی کی برکتیں: سورۂ حجر (۱۵: ۲۱) کی اس آیۂ کریمہ کو ہمیشہ قانونِ خزائن کے نام سے یاد کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں پروردگارِ عالم کے جملہ خزانوں کا قانون موجود ہے، وہ ارشادِ مبارک یہ ہے: وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآىٕنُهٗ٘-وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ = اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں (لوگوں کی) دانستہ مقدار میں نازل کرتے ہیں (۱۵: ۲۱) اس آیۂ مبارکہ میں حکمت کی کلید لفظِ “معلوم” میں ہے، جو علم سے اسمِ مفعول ہے، یعنی جانا ہوا یا دانستہ، اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ عقلی، روحانی، اور مادّی نعمتیں اللہ کے خزانوں سے آسکتی ہیں، لیکن اس کی شرط علم و عمل ہے، چنانچہ عصرِ حاضر میں جو قومیں سائنس اور ٹیکنالوجی (علمِ فنون صنعت) میں آگے ہیں، اس کی وجہ ان کی علمی کوشش اور خدا کی منظوری ہے، اور اس کے بغیر خدائی خزانوں کی کوئی برکت نازل نہیں ہو سکتی ہے۔

 

۵۔ ظاہری اور باطنی نعمتیں: سورۂ لقمان (۳۱: ۲۰) میں دیکھ لیں، تاکہ معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح انسان کے لئے کائنات کی ہر چیز کی مادّی اور روحانی تسخیر ممکن بنا دی ہے، جس کی شرط وہی علم و عمل ہے، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، اور اسی نوعیت کی تسخیر میں خداوندِ جہان کی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کی گئی ہیں: وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ۔ کیا یہ مشروط نعمتیں جو دنیاوی بھی ہیں اور اخروی بھی، مسلمانوں کے لئے نہیں ہیں، جبکہ قرآنِ پاک انہی سے خطاب

 

۷۰

 

فرما رہا ہے؟ لیکن جہالت و کسالت کو ختم کر کے علم و عمل کا شیوہ اختیار کرنا ہو گا۔

۶۔ علمِ کائنات یا علمِ سائنس: کہتے ہیں کہ قرآن میں متعلقاتِ سائنس پر ۷۵۰ آیات ہیں، لیکن میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ تعداد ان آیاتِ کریمہ کی ہوسکتی ہے، جن میں سائنس کا واضح اشارہ ملتا ہے، ورنہ کوئی آیت ایسی نہیں، جس کی معنوی گہرائی اور باطنی حکمت میں سائنس کا کوئی پہلو پوشیدہ نہ ہو، کیونکہ آیاتِ قرآنی کی مربوط حکمت اور مضامین کی موافقت و ہم آہنگی کے اعجاز کی یہ شان ہے کہ سات سو پچاس آیات جو کچھ کہہ رہی ہیں، باقی تمام آیتوں میں بھی اسی کی تصدیق و شہادت اور دلیل وبیان موجود ہے، اس لئے کہ دینِ فطرت (اسلام) اور سائنس کے درمیان کوئی تضاد نہیں، بلکہ ان میں کلی طور پر مطابقت ومماثلت پائی جاتی ہے، جبکہ دونوں کی اصل و اساس فطرت ہی پر قائم ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ یہ دونوں چیزیں فطرت کے معنی میں ایک ہیں، یعنی اسلام دینِ فطرت ہے بمعنیٔ قانونِ فطرت (پیدائش) اور سائنس اسی فطرت کا مطالعہ اور تجربہ ہے۔

 

۷۔ دینِ حق اور خلق کی مماثلت: اگر اس حدیثِ شریف میں خوب غور سے دیکھا جائے توا س موضوع سے متعلق بہت سے سوالات کا جواب مل سکتا ہے، وہ یہ ہے: ان اللہ اسس دینہ علیٰ مثال خلقہ لیستدل بخلقہٖ علیٰ دینہ و بدینہ علیٰ وحدانیۃ = یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنیاد اپنی آفرنیش کی مثال پر قائم کی تاکہ اسکی آفرنیش ہی سے اس کے دین کی دلیل ہو اور اس کے دین سے اس کی یکتائی کی دلیل ملے۔

 

۷۱

 

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے اس ارشادِ مبارک سے یہ حقیقت سب کے سامنے روشن ہو جاتی ہے کہ خلق (یعنی کائنات و موجودات) جو سائنس کا ظاہری سرچشمہ ہے، اور دین کے درمیان کلی مماثلت و ہم آہنگی بنائی گئی ہے، اور ان دونوں میں دراصل ذرہ بھر ناموافقت نہیں، پس اسی معنیٰ میں اسلام کا نام دینِ فطرت ہوا، بلکہ لفظِ “فطرت” ہی دینِ اسلام کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جس کا ذکر قبلاً اس حدیثِ شریف کے حوالے سے ہو چکا: کل مولود یولد علی الفطرۃ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر بچہ اسلام میں پیدا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

۸۔ آفاق و انفس اور سائنس:

جس زمانے میں آنحضرتؐ پر قرآن نازل ہورہا تھا، اس وقت بہت ساری قرآنی پیش گوئیوں کے ساتھ ایک بڑی اہم اور واضح پیش گوئی یہ بھی تھی جو آج حقیقت بن گئی ہے، اور وہ ارشادِ ربّانی یہ ہے: سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّؕ (۴۱: ۵۳) عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفوس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ حقیقت روشن ہو جائے کہ وہ (خدا) برحق ہے (۴۱: ۵۳) اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کی آفاقی آیات (نشانیاں، معجزات) سائنسی ایجادات کی صورت میں ظاہر ہو گئیں، اب نفسی (روحی) آیات و معجزات کا ظہور باقی ہے، آپ توجہ فرمائیں کہ اگر یہ آیاتِ قدرت جو آچکی ہیں سائنسی کہلاتی ہیں، تو لازماً ان نشانیوں (آیات) کو بھی سائنس کیوں نہ کہیں، جو نفسِ انسانی میں ظہور پذیر ہونے والی ہیں، مگر ہاں اس میں یہ فرق ضرور ہےکہ پہلی مادّی سائنس ہے، اور دوسری روحانی سائنس۔

 

۷۲

 

۹۔ روحانی سائنس کے عجائب و غرائب:

آپ نے ظاہری اور مادّی سائنس کے مختلف شعبوں میں دیکھا ہو گا کہ ایک ہی مشین یا آلہ سے ہر کام نہیں ہو سکتا، بلکہ کاموں کی نوعیت کے مطابق طرح طرح کی مشینیں اور گونا گون آلہ جات استعمال کئے جاتے ہیں، تب ہی مادّی سائنس کا کام چل سکتا ہے، اس کے برعکس روحانی سائنس کا معجزۂ کمال یہ ہے کہ وہ صرف انسانی دل و دماغ ہی سے ہر قسم کا کام کر سکتی ہے، کیونکہ وہ روح و روحانیّت بھی ہے اور روحانی سائنس بھی، جس کا عمل ہر لحظہ کن فیکون کا ایک نتیجہ ہے، جس کے عجائب و غرائب کا کوئی حساب و شمار ہی نہیں ہو سکتا، اور اس کا سب سے آخری اور سب سے عظیم مقصد یہ ہے کہ اس وسیلے سے لوگ خدا کو برحق مانیں گے۔

 

سوال: روحانیّت کو سائنس کا نام دینا کیونکر درست ہو سکتا ہے؟ کوئی بھی سائنس پروردگار کی معرفت کا ذریعہ کس طرح ہو سکتی ہے؟ اکثر لوگ سائنس کی بنا پر باری تعالیٰ کی ہستی سے کیوں منکر ہوجاتے ہیں؟

 

جواب: آفاق و انفس میں اللہ کی جن آیتوں یا نشانیوں کے ظہور کا ذکر فرمایا گیا ہے، وہ سب کی سب خدا کی آیات ہونے میں یکسان ہیں، اور اس میں کوئی فرق نہیں، اگر اس چیز کا نام مادّیت میں سائنس (علم و حکمت بر بنائے مشاہدہ و تجربہ) ہے تو پھر روحانیت میں بھی اس کا یہ اضافی نام ہو سکتا ہے، اور اس میں کوئی قباحت نہیں، اس مثال کی دوسری وجہ یہ ہے کہ مجرّد حقیقتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں، اور لوگ ان کو طرح طرح سے الفاظ کا جامہ پہناتے ہیں، اور تیسری وجہ یہ ہے کہ سائنس کی روح خدا کی طرف سے ہے، ہر چند کہ یہ آج دوسروں کے پاس ہے، لیکن جب یہ روحانیّت

 

۷۳

 

کی شکل میں ظہور پذیر ہو جائے، تو اس سے دینِ حق کے معجزات ظاہر ہونے لگیں گے، اور سیّارۂ زمین اسکی روشنی سے منوّر ہو جائے گا۔

 

کوئی بھی سائنس پروردگار کی معرفت کا ذریعہ کس طرح ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اہلِ دنیا سائنس سے نہ صرف بے حد متاثر ہو چکے ہیں، بلکہ وہ اس کو بہت زیادہ چاہتے بھی ہیں، اور کسی دوسرے علم کے مقابلے میں اس کی عملی مثالوں کو بڑی آسانی سے سمجھتے بھی ہیں، لہٰذا یہ امر ضروری ہوا کہ سائنس ہی کے وسیلے سے انہیں اللہ کی باتیں سکھا دی جائیں، اور یہ کام خدا خود کرے گا، اب سوال کا آخری حصّہ آتا ہے کہ اکثر لوگ سائنس کی بنا پر باری تعالیٰ کی ہستی سے کیوں منکر ہو جاتے ہیں؟ اس کا جواب یوں ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ شروع ہی سے اکثر لوگ جاہل اور خدا سے منکر ہوتے آئے ہیں، چنانچہ جو لوگ عقیدۂ الوہیت میں کمزور ہیں وہ سائنس جیسی بہت بڑی طاقت کو ایک آزاد چیز سمجھتے ہیں، جس سے ان کا انکار اور زیادہ قوّی ہو جاتا ہے، حالانکہ سائنس کے تمام معجزے خدا کی طرف سے ہیں، جس کا ذکر ہو چکا۔

 

۱۰۔ جنّ و انس اور سائنس:

سورۂ رحمان (۵۵: ۳۳) میں ارشاد ہے:  یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْاؕ-لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ (۵۵: ۳۳) اے گروہِ جنّ و انس اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ، مگر تم بغیر زور وغلبہ کے نکل ہی نہیں سکتے۔

 

ان شاءَ اللہ، آپ یقین کریں گے کہ اس آیۂ شریفہ میں انتہائی زبردست کلیدی حکمتیں پوشیدہ ہیں، وہ اس طرح کہ شروع شروع میں جنّات

 

۷۴

 

(اہلِ باطن) عالمِ شخصی کی زمین پر اور انسان (اہلِ ظاہر) کرۂ ارض پر محدود ہوتے ہیں، پھر خداوندِ عالمِ جنّ و انس دونوں کو ایک ساتھ حکم دیتا ہے کہ دیکھو میری بے پایان نعمتوں کے سلسلے میں آگے بڑھنے کے لئے روحانی اور مادّی سائنس (سلطان =غلبہ، زور، طاقت) سے کام لو اور کائناتِ ظاہر و باطن کو فعلاً اپنے لئے مسخر کر لو کہ خدا نے بحدِّ قوّت (بحدِّ امکان) ہر چیز تمہارے لئے مسخر کر دی ہے، پس سب سے پہلے اہلِ باطن اس حکم پر عمل پیرا ہونے کےلئے سعیٔ بلیغ کرتے ہیں، اور روحانی سائنس کی زبردست طاقت (یعنی ذکرِ سریع، انقلابی علم، شدید آسمانی محبت، وغیرہ) کو استعمال کر کے زمینِ حیوانیّت کی کشش سے ایکبار آزاد و بالاتر ہوکر عالمِ عُلوی کا پُرحکمت نظارہ کرتے رہتے ہیں۔

 

۱۱۔ سلطان کےمعنی:

اس مبارک لفظ کے معنی ہیں: تسلّط، بادشاہ، آپ کتابچۂ “حکمتِ تسمیہ” ۳۹، اور کتاب علمی خزانہ (پنج مقالہ ۵) ۲۵۳ پر بھی دیکھ لیں، نیز اس مضمون سے متعلق مزید معلومات کی خاطر قرآنی مینار میں “شبِ قدر کے معجزات” کو اور گل ہائے بہشت میں “قرآن اور اڑن طشتریاں” کو بھی پڑھیں، الغرض سورۂ رحمان (۵۵: ۳۳) میں جس حکیمانہ انداز سے لفظِ “سلطان” آیا ہے، اس میں وہ اپنے تمام معنوں کا مظہر ہے، چنانچہ یہ پُرحکمت لفظ دلیل و حکمت کے معنی میں علومِ جدید کو ظاہر کر رہا ہے، اور زور و طاقت کے معنی میں جوہری توانائی کو، اور انہی معنوں میں “سلطان”  کا اشارہ علومِ مخفی اور عملِ فنائیّت کی طرف  ہے۔

 

۷۵

 

۱۲۔ “عملِ فنائیّت” سب سے عظیم طاقت:

کائنات و موجودات میں سب سے بڑی طاقت “عملِ فنائیت” ہے، جس کی مثال مٹی سے شروع ہو جاتی ہے، جو جماد ہے، مٹی کے عملِ فنائیّت سے عالمِ نباتات وجود میں آتا ہے، جس میں نہ صرف مٹی کی بہت بڑی ترقی ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اوپر کے درجات کیلئے بھی اس میں لاتعداد فائدے ہیں، عروج و ارتقاء اور ہر طرف فائدہ ہی فائدہ کے انہی معنوں میں عالمِ نباتات عالمِ حیوانات میں اور عالمِ حیوانات عالمِ انسان میں مسلسل فنا ہوتا رہتا ہے، پھر اخلاقی اور مذہبی اعتبار سے انسانوں کے بیشمار درجات ہیں، اس ترتیب میں ہر نچلے درجے کو اپنے اوپر کے درجے میں فنا ہو جانا چاہئے، تاکہ بشریت کے آخری مقام (انسانِ کامل) پر پہنچ جانے کے بعد ہر شخص ملکوت میں فنا ہو سکے۔

 

۱۳۔ فنا کی چند واضح مثالیں:

گھر کا چراغ کس طرح ضیا پاشی کرتا ہے؟ تیل اور فتیلہ (بتی) کے بتدریج فنا ہو جانے سے، یاد رہے کہ جل جانا فنائیّت کی مثال ہے، ریل گاڑی کس قوّت سے چلتی رہتی ہے؟ ایندھن کی قوّتِ فنا سے، کوئی موٹر کس بناء پر دوڑتی ہےاور ہوائی جہاز کس طاقت سے پرواز کر سکتا ہے؟ پیٹرول کے لگا تار فنا ہو جانے سے، آتشین اسلحہ (FIREARM) یعنی بندوق، توپ، وغیرہ کی مار کی اصل طاقت کس چیز سے پیدا ہوتی ہے؟ بارود کے جلنے اور فنا ہو جانے سے، اور اسی طرح سورج ہے، جو ہماری کائنات کی مادّی طاقت کا سب سے عظیم سرچشمہ ہے، جس میں مسلسل فلکی ایندھن (ایتھرETHER = ) کے گرتے رہنے سے ایک ساتھ بے شمار قیامت خیز دھماکوں

 

۷۶

 

کا سلسلہ جاری رہتا ہے، یہ قدرتِ خدا کا عظیم ترین کرشمہ و معجزہ ہے کہ جس طرح اکثر یہ ذکر ہوتا رہتا ہے کہ سفرِ روح کے آخر میں منزلِ فنا آتی ہے، جس میں وجہ اللہ کا نور ہے، اسی طرح مادّہ  کا سفر سورج میں جا کر ایک بار ختم ہو جاتا ہے، اور یہ وہ مقام ہے، جہاں مادّہ فنا ہو کر نور کی کائناتی طاقت بن جاتا ہے، جیسے کوئی مومنِ سالک خدا میں فنا ہو کر سب کچھ ہو سکتا ہے۔

 

۱۴۔ کائنات سے باہر نکلنے کی حکمت:

رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری اور پیروی اگر حقیقی معنوں میں کی جائے، تو یہ عشق و محبت اور فنائیّت (۰۳: ۳۱) کی ایک ایسی کامیاب طاقت ہے، جو ہر مومن کو آنحضرتؐ کے نقشِ قدم پر آسمانوں سے باہر لے جاتی ہے، جہاں لامکانی اور لازمانی اسرار کے خزائن موجود ہیں، یہ تسخیرِ کائنات کا باطنی پہلو اور روحانی سائنس (علم و حکمت) ہے۔

 

خدا نے کوئی زمانہ ایسا نہیں چھوڑا، جس میں اس نے فرشتوں اور روح کے لئے فرش سے عرش تک ایک روحانی سیڑھی نہ لگائی ہو (۵۲: ۳۸، ۷۰: ۰۴) نہ کبھی وہ اپنے نورِ ہدایت کی رسی عرش سے فرش تک لٹکائے بغیر رہا (۰۳: ۱۰۳) یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ صاحبِ عرش جن کو چاہے اپنی طرف درجہ بدرجہ بلند کر لے (۱۲: ۷۶، ۴۰: ۱۵) ۔

 

یہ تو آپ جانتے ہیں کہ خداوندِ تعالیٰ کے چھ دن چھ ناطق ہیں، اورساتواں دن یعنی سنیچر حضرتِ قائم ہے، آپ نے عالمِ دین کی نسبت سے اس قرآنی تعلیم کی تاویل سن لی ہے، لہٰذا یہاں صرف عالمِ شخصی کے تعلق سے بات کی جاتی ہے کہ ہر عارف کی ذاتی کائنات (پرسنل ورلڈ) چھ روحانی

 

۷۷

 

منزلوں یا چھ چھوٹے ادوار میں مکمل ہو جاتی ہے، ان تمام منزلوں یا ادوار میں علی التّرتیب چھ عظیم پیغمبروں کی کامل روحانیّت ونورانیّت موجود ہے، چنانچہ ان چھ روحانی دنوں میں عارف کائنات کے اندر رہتا ہے، اور ساتوین دن (جس کو منزلِ ہفتم یا دورِ ہفتم بھی کہا جا سکتا ہے) عارف کو قید خانۂ کائنات سے باہر اور آسمانوں سے برتر ایک عالم میں لے جاتے ہیں، وہ عالمِ ابداع ہے۔

 

۱۵۔ عالمِ ابداع کی چند مثالیں:

عالم دو ہیں، ایک کا نام عالمِ خلق ہے، جو یہ جہان ہے، اور دوسرا عالمِ امر کہلاتا ہے (۰۷: ۵۴) جو مکان و زمان سے ماوراء ہونے کی وجہ سے عالمِ عُلوی یا عالمِ بالا کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، اور یہی خود عالمِ ابداع بھی ہےجس میں خدا کے امرِ کُنۡ یعنی “ہوجا” سے ہر چیز ہر نعمت اور ہر علم کا ظہور ہو جاتا ہے، دنیا میں ہر پسندیدہ شیٔ حاصل نہیں ہوتی، اگر کوئی چیز ممکن الحصول بھی ہو، تو اس کے لئے عمرِ گرانمایہ کا ایک حصّہ صرف ہو جاتا ہے، اور مشقت اس کے علاوہ ہے، اس کے برعکس عالمِ امر میں کوئی چیز ناممکن نہیں، نہ اس کے حاضر ہونے میں ذرہ بھر تاخیر ہوتی ہے، وہاں ماضی و مستقبل نہیں، صرف حال ہی حال ہے، کیونکہ اس میں زمانِ ناگزرندہ یعنی ٹھہرا ہوا زمانہ ہے، جس کو دھر (۷۶: ۰۱) کہا جاتا ہے، اس لئے وہاں ازل و ابد یکجا ہیں، پس ان مثالوں سے پتا چلا کہ مادّی سائنس کے مقابلے میں روحانی سائنس بڑی زبردست اور انتہائی عجیب و غریب ہے۔

 

۱۶۔ طبِ نبوّیؐ۔ دودریاؤں کا سنگم:

خداوندِ بزرگ و برتر نے حضرتِ آدم علیہ السّلام کو اسمِ اعظم کی نورانیّت میں جو علم الاسماء سکھایا تھا، وہ دراصل “علمِ

 

۷۸

 

حقائقِ اشیاء” تھا، جس کا ذکر قرآنِ حکیم (۰۲: ۳۱) میں موجود ہے، کیونکہ ہر چیز کا معنوی نام وہ ہے جو خدا نے اس کو دیا ہے، اور وہ اس چیز کی خاصیّت و حقیقت ہے، جس کی خاطر وہ دوسری چیزوں سے الگ پیدا کی گئی ہے، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ خلیفۃ اللہ کا یہ علم جملہ اشیائے کائنات پر محیط ہونے کی وجہ سے دوسرے تمام علوم کا سرچشمہ ہے، جس سے لازماً سائنس کی شاخ بھی پیدا ہوئی، اس حقیقت کی سب سے روشن دلیل طبِ نبوّیؐ ہے، کہ وہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے”علمِ کلّ” کی ایک برانچ کی حیثیت سے میڈیکل سائنس ہے، جس میں ظاہراً بدن کا علاج ہے، اور باطناً روح و عقل کا علاج، اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ طبِ نبوّیؐ ۔ دو دریاؤں کے سنگم کی طرح ہے۔

حلال و حرام کا موضوع بڑا وسیع اور اسلام کے ہمہ گیر موضوعات میں سے ہے، اس سلسلے میں شارعِ اسلامؐ کے حکم کے مطابق جو چیزیں حلال ہیں، اور جو اشیاء حرام، ان کے درمیان فرق و امتیاز طبّی تجزیہ و تحقیق کے بغیر کیسے ممکن ہو سکتا ہے، چنانچہ روحانی طبیبؐ نے چشمِ بصیرت سے ہر چیز کی خاصیّت و تاثیر کو دیکھ لیا، اور ظاہری و باطنی صحت کے پیشِ نظر مفید چیزوں کو حلال اور مضر چیزوں کو حرام قرار دیا، جیسے سورۂ اعراف (۰۷: ۱۵۷) میں ہے: اور (رسولؐ) جو پاک چیزیں ہیں وہ ان پر حلال اور ناپاک چیزیں ان پرحرام کر دیتا ہے (۰۷: ۱۵۷) چیزوں کی یہ پاکیزگی اور ناپاکی زیادہ سے زیادہ باطن میں ہے۔

 

ن۔ ن۔ ہونزائی۔ کراچی

منگل ۱۲ رمضان المبارک ۱۴۱۲ھ؍۱۷مارچ ۱۹۹۲ء

 

۷۹

 

 

عالمِ شخصی اور حدودِ دین

 

۱۔ اس حقیقت میں نہ تو کوئی شک ہے اور نہ ہی کوئی اختلاف کہ ہر کامیاب مومن اپنے باطن (عالمِ شخصی) ہی میں پروردگار کو پہچانتا ہے، کیونکہ بحکمِ من عرف۔ ۔ ۔ ۔ عارف کی اپنی روح کی معرفت میں حضرتِ ربّ کی معرفت پوشیدہ ہے، لیکن اس انتہائی عظیم سر الاسرار پر نہ صرف فرداً فرداً بہت زیادہ غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اہلِ دانش کی محفل میں بھی یہی گفتگو سوالاً وجواباً بیحد ضروری ہے، مثال کے طور پر سب سے پہلے یہ سوال ہو: یہ خدا شناسی یا معرفت جو خود شناسی سے حاصل ہوتی ہے، کس طرح کی ہے؟ علمی یا عملی؟ یا دونوں طرح سے ہے؟ کلی ہے یا جزوی؟ کیا اس شناخت کی خاطر بلاواسطہ یا بالواسطہ خداوندِ تعالیٰ کا دیدارِ اقدس ممکن ہے؟ اگر نہیں تو پھر معرفت کس معنیٰ میں ہوتی ہے؟ آیا معرفت کا تعلق اللہ کے قول و فعل سے بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟

 

۲۔ اس حدیثِ قدسی میں اگر ہم واجبی طور پر غور و فکر نہیں کرتے ہیں، تو بہت بڑی ناشکری ہوگی، وہ ارشاد یہ ہے: کنت کنزاً مخفیاً فاجبت ان اعرف فخلقت الخلق = میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پس میں نے چاہا کہ میری معرفت ہو تو میں نے خلق کو پیدا کیا۔ اس کی

 

۸۰

 

تشریح عالمِ شخصی کے مطابق یہ ہے: پروردگار ہمیشہ عالمِ شخصی کا گنجِ مخفی ہے، لیکن جب کوئی مومن حقیقی معنوں میں اس کو پہچاننا چاہے تو خدا بھی اس کے حق میں یہی چاہتا ہے، پھر اس کی روحانی اور عقلانی تخلیق مکمل کر دیتا ہے، اور اسی کے ساتھ ساتھ عارف کو ربّ کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔

 

سوال: اس حدیثِ قدسی کی جتنی بھی قدر کی جائے کم ہے، کیونکہ اس میں بڑا عجیب و غریب راز ہے، اور وہ ہے خدائے بزرگ و برتر کا اپنے آپ کو عارفین کی خاطر خزانۂ مخفی قرار دینا، اس مثال میں زبردست حکمتیں پوشیدہ ہیں، جن میں عارفوں کے لئے سب سے بڑی بشارت ہے، لیکن ہم اس کی گہرائی سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہاں “الخلق” سے کیا مراد ہے؟ اس کے معنی خاص ہیں یا عام؟ معرفت کے لئے جس مخلوق کی ضرورت تھی، اگر وہ یہی کائنات و موجودات کی ہر چیز اور ہر شخص ہے، تو پھر ہر شیٔ اور ہر آدمی کو خدا کی معرفت کیوں حاصل نہیں؟ جواب: الخلق سے درجۂ کمالیّت کی مخلوق مراد ہے، کیونکہ یہ لفظ یہاں خاص معنی میں آیا ہے، اور معرفتِ الٰہی کے بارِ گران کی متحمل صرف ایسی ہی مخلوق ہو سکتی تھی، جو تخلیق در تخلیق کے سلسلے میں بتائیدِ خداوندی روحانی اور عقلی منزلوں سے آگے گئی ہو، پس ایسی ہستی عارفوں ہی کی ہے۔

 

۳۔ حدودِ دین:

جب خدا شناسی عالمِ شخصی سے باہر غیر ممکن ہے، تو پھر حدودِ دین کی معرفت بھی اسی طرح مومن کی ذات ہی میں پوشیدہ ہو سکتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَاؕ (۲۷: ۹۳) اور تم کہہ دو کہ الحمد للہ وہ عنقریب تمہیں اپنی آیات دکھا دے گا تو تم انہیں پہچان لوگے (۲۷: ۹۳) اس

 

۸۱

 

بابرکت ارشاد میں آیات سے حدودِ دین مراد ہیں، اور “الحمد” عقلِ کلّ کا نام ہے، اس کا مختصر مطلب یہ ہوا کہ تم اپنی روح کی پہچان کے ساتھ ساتھ عقل کی روشنی میں حدودِ دین کو بھی دیکھو گے اور پہچان لو گے۔

 

۴۔ حدودِ دین کی اہمیت:

حدودِ جسمانی کا مرکز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ذاتِ عالی صفات ہی ہے، آپؐ اپنے جملہ حدود کے ساتھ لوگوں پر خداوندِ تعالیٰ کی کامل و مکمل اور منظم حجت ہیں، جیسے ارشاد ہے: لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِؕ (۰۴: ۱۶۵) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر کوئی حجت باقی نہ رہ جائے (۰۴: ۱۶۵) یعنی جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اپنے تمام نمائندوں (اساس، أئمّہ، ابواب، حجج، دعاۃ، وغیرہ) کے توسط سے پورے دور پر محیط ہیں، تو پھر قیامت کے دن کسی شخص کی یہ بات خدا کے سامنے کیونکر درست دلیل ہو سکتی ہے کہ اس کے زمانے میں ربّانی ہدایت کے لئے کوئی نہ تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی حجت کا نظام عالمگیر اور ہمہ رس ہے۔ (قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُۚ، ۰۶: ۱۴۹) ۔

 

۵۔ حدودِ دین کی ایک نمایان مثال:

یہ پرحکمت ارشاد سورۂ یوسف میں ہے: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ (۱۲: ۱۰۵) آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں  جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجّہ نہیں کرتے (۱۲: ۱۰۵) اس کا مقصد یہ ہے کہ قرآنِ پاک میں جن حقائق و معارف کا ذکر ہوا ہے، ان کی مثالی شہادتیں صحیفۂ کائنات میں موجود ہیں، چنانچہ حدودِ دین کی روشن مثال عالمِ جسمانی میں

 

۸۲

 

سورج، چاند، اور ستارے ہیں، اور قرآنِ کریم میں حضرتِ موسیٰؑ، حضرتِ ہارونؑ، بارہ نقیب (۰۵: ۱۲) وغیرہ ہیں، یعنی ہر ناطق کو اپنے وقت میں عالمِ دین کے سورج کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے، جبکہ اساس چاند اور تحتانی حدود ستارے کہلاتے ہیں، پھر ناطق کے بعد اساس سورج اور امام چاند ہوتا ہے، پھر اساس کے بعد امامِ وقت سورج اور باب چاند قرار پاتا ہے، یہی سنت بے بدل چلی آئی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو سکھائی تھی (۱۷: ۷۷)  ان شاء اللہ، اب ہم حدودِ دین کا ذکر ترتیب سے کرتے ہوئے بتائیں گے کہ عالمِ شخصی سے ان کا کیا تعلق ہے، اور اس میں ان کے کیسے کیسے علمی و عرفانی عجائب و غرائب ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔

 

۶۔ مستجیب:

یہ لفظ ج۔ و۔ ب کے مادّہ سے ہے، اس کے لفظی معنی ہیں: جواب دینے والا، قبول کرنے والا، اور مراد ہے اسماعیلی دعوت قبول کرنے والا، یعنی اس مذہب کی ابتدائی منزل سے تعلق رکھنے والا، خواہ پیدائشی ہو یا باہر سے آیا ہو، جیسا کہ قرآنِ پاک کا ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ (۰۸: ۲۴) اے لوگوجو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسولؐ  کی دعوت کو قبول کرو جب کہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں (روحانی) زندگی بخشنے والی ہے (۰۸: ۲۴) ۔

 

۷۔ ماذون:

لفظ  ا۔ ذ۔ ن کے مادّہ سے ہے، لغوی معنی ہیں اذن یافتہ، یعنی وہ شخص جس کو داعی کے تحت دعوت کرنے کی اجازت دی گئی ہو، ماذون دو ہوتے ہیں: ماذونِ اصغر (ماذونِ مکفوف) اور ماذونِ اکبر (ماذونِ مطلق) یہ اصطلاح آیۂ مبارکۂ سراج سے ہے،

 

۸۳

 

وہ ارشاد یہ ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا، وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا (۳۳: ۴۵ تا ۴۶) اے نبیؐ، ہم نے تم کو بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر، اللہ کی اجازت سے اس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ بنا کر (۳۳: ۴۵ تا ۴۶) ماذونِ اصغر  کو مکاسر بھی کہتے ہیں، کیونکہ وہ باطل کے بت کو توڑتا ہے۔

۸۔ داعی:

داعی کا لفظ د۔ ع۔ و کے مادّہ سے ہے، اس کے اصطلاحی معنی ہیں: دینِ حق کی طرف دعوت کرنے والا، جیسا کہ آیۂ سراج میں اس کا ذکر ہوا کہ داعی دراصل حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہی ہیں، تاہم اس کا اطلاق آپؐ کے نمائندوں پر بھی ہوجاتا ہے، داعی کو جناح بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ عالمِ شخصی میں قوّتِ جبریلیہ ہے، جس میں پرواز کی طاقت ہے، یا واضح طور پر یوں کہا جائے کہ داعی کی روح عالمِ شخصی میں خیال یعنی جبرائیل ہے، داعی دو قسم کے ہوا کرتے ہیں: داعیٔ محدود، اور داعیٔ مطلق، اسی طرح ہر جزیرے میں تیس ۳۰ دعاۃ دعوت کا فریضہ انجام دیتے ہیں، اور زمین کے بارہ جزیروں میں ۳۶۰ داعی کارِ دعوت کے لئے مقرر ہیں۔

 

۹۔ حجت:

لفظِ حجت کا مادّہ ح۔ ج۔ ج۔ ہے، حجت دلیل کو کہتے ہیں، اس سے وہ بہترین شخص مراد ہے، جس کو امامِ عالی مقامؑ مقرر فرماتا ہے، تاکہ علم و حکمت کا ذریعہ مہیا رہے، اور اس کی موجودگی سے لوگوں پر خدا، رسولؐ، اور امامؑ کی حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ عنوان۴ کے تحت اس کا ذکر ہو چکا، حجت کا دوسرا نام نقیب (قوم کا سردار، گواہ، اور حالات کا جاننے والا) ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم (۰۵: ۱۲) میں ۱۲ مثالی نقباء کا

 

۸۴

ذکر آیا ہے، یہی حضرات بارہ جزائر کے حجج ہیں، ان کے علاوہ بارہ باطنی حجج اور چار حضوری حجتان بھی ہیں، الغرض ہرجزیرہ میں ایک حجتِ روز ہے اور ایک حجتِ شب، نیز دو حجتِ روز اوردو حجتِ شب امام علیہ السّلام کے حضور میں کام کرتے ہیں، اسی طرح عالمِ دین میں کل حجتوں کی تعداد ۲۸ ہے، اور منازلِ قمر بھی ۲۸ ہیں۔

 

۱۰۔ بارہ جزائر:

زمانۂ نبوّت کے بارہ جزیرے یہ ہیں: عرب، حبش، چین، دیلم، اور بربر (تاویلِ دعائم، ۲، ص۷۴) ۔

 

جزیرہ کے معنی ہیں: وہ قطعۂ زمین جس کے چاروں طرف پانی ہو، یہ اس امر کی تاویلی مثال ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں ہادیٔ برحق علیہ السّلام کے حجج یا نقباء یا روحانی علم کے ادارے موجود ہوتے ہیں، اور ان تمام روحانی سمندروں کا اعلیٰ اور اصل سرچشمہ امامِ زمانؑ ہے، جیسا کہ یہ مشہور شعر ہے:

؎    از دلِ حجت بحضرت رہ بود

اوبتائیدِ دلش آگہ بود

ترجمہ: حجت کے دل سے حضرتِ امامؑ تک راستہ ہوتا ہے، اور وہ (یعنی امامؑ) اس کی قلبی تائید کے لئے باخبر ہے۔

 

۱۱۔ صاحبِ جثّۂ ابداعیہ: یہ اصطلاح آپ کو بزرگانِ دین کی  بعض کتابوں میں ملے گی، سب سے عظیم حکمت اور سب سے بڑی خوشی اسی میں ہے، کیونکہ یہ امامِ اقدس و اطہرؑ کا کوکبی بدن (ASTRAL BODY) ہے، اور قرآنِ عزیز میں اس کے کئی نام آئے

 

۸۵

 

ہیں، جیسے: طیر (۰۳: ۴۹) لباسِ تقویٰ (۰۷: ۲۶) سرابیل (۱۶: ۸۱) لبوس (۲۱: ۸۰) محاریب (۳۴: ۱۳) حدید (۵۷: ۲۵) وغیرہ، اور ہر حجت کے عالمِ شخصی میں سلیمانِ زمانؑ کی اجازت سے ستر ہزار سرابیل (ابداعی کرتے) بنتے ہیں، تاکہ ذیلی حدود کو عطا کئے جائیں۔

۱۲۔ محراب،عالمِ شخصی: بندۂ مومن کا اپنا عالمِ شخصی مدرسۂ معرفت ہے، لہٰذا وہ اگر کامیاب ہو جائے تو اسی میں نہ صرف اپنے آپ کو اور اپنے ربّ کو پہچانتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ حدودِ دین کی شناخت بھی حاصل کر لیتا ہے یہی سبب ہے کہ یہاں عالمِ شخصی اور حدودِ دین کا ایک ساتھ بیان ہو رہا ہے، چنانچہ یہاں اس سلسلے کا ایک اور تاویلی راز منکشف ہو رہا ہے، وہ یہ کہ جسمِ لطیف جس طرح روحانی قلعہ (محراب) ہے، اسی طرح وہ عالمِ شخصی بھی ہے، آئیے ہم آپ کو یہی انتہائی مفید راز قرآنِ حکیم میں بتاتے ہیں، آلِ عمران (۰۳: ۳۷) میں ارشاد ہے:۔

كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ-وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ (۰۳: ۳۷) جب کبھی زکریاؑ اس (مریمؑ) کے پاس محراب میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔

 

تاویلی حکمت: حضرتِ امام زکریا علیہ السّلام جب بھی مریمؑ کے عالمِ شخصی (محراب) میں داخل ہوتا اور سوالاً وجواباً علمِ امامت کا نور برساتا، اور یہی نور لازماً غیر معمولی طور پر مریمؑ کے قلب سے منعکس ہو رہا تھا، ایسے میں یہ امر بھی ضروری ہے کہ استاد اپنے شاگرد سے پوچھے کہ یہ جو تم نے بڑی عمدہ بات کہی، کہاں سے ہے؟ یہاں یہ بتانا از بس ضروری ہے کہ حضرتِ مریمؑ ہر حجت کی مثال ہے، اس لئے یہ انمول راز معلوم ہوا کہ امامِ عالی مقامؑ بہ لباسِ نورانی کس طرح اپنے حجتانِ جزائر کے عوالمِ شخصی (محاریب) میں تشریف فرما

 

۸۶

 

ہو جاتا ہے۔

۱۳۔ حجتانِ باطن یا جنّات: اللہ تعالیٰ نے آلِ ابراہیمؑ کو تین انتہائی بزرگ چیزیں عطا فرما کر نوازا ہے، وہ ہیں: کتاب، حکمت، اور روحانی سلطنت (۰۴: ۵۴) اس کا حکیمانہ اشارہ یہ ہے کہ تینوں چیزیں باہم وابستہ ہیں، اس لئے جب تک دنیا میں کتابِ سماوی یعنی قرآن موجود ہو، تب تک سرچشمۂ حکمت اور روحانی سلطنت بھی ہو گی، پھر لازماً روحانی سلطان بھی موجود ہوگا، اور وہ أئمّۂ آلِ محمدؐ کے سلسلے سے امامِ زمانؑ ہے، جس کے باطنی حجج پوشیدہ ہونے کی وجہ سے جنّات کہلاتے ہیں، مگر ان جنّوں کو فرشتوں کی طرح ماننا درست ہے، ورنہ حدودِ دین کی شناخت میں بہت بڑی غلطی ہوگی، کیونکہ صالحین جنّات فرشتے ہوا کرتے ہیں، اور شریر جنّات شیاطین۔

 

اگر حضرتِ سلیمانؑ کے قصّۂ قرآن کو نورِ معرفت کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس سے حدودِ دین کی روحانی طاقت اور علمی قدرومنزلت کا بخوبی پتا چلتا ہے، اور قوانینِ دین کے بہت سے اسرار منکشف ہو جاتے ہیں، اس سلسلے میں ہماری بعض کتابوں میں کافی معلومات درج ہیں، یہاں یہ بڑا اہم نکتہ ضرور بتاؤں گا کہ خداوندِ جہان جس پاک و پاکیزہ ہستی کو روحانی پادشاہ بناتا ہے، اس کے لئے نہ صرف حدودِ روحانی اور حدودِ جسمانی ہی اپنی بیمثال قوّتوں سے دن رات خدمت کرتے رہتے ہیں، بلکہ آسمان زمین کی جملہ ارواح وملائکہ بھی عملی اور روحانی تسخیر کے معنی میں اس کے کام پر مامور ہوتے ہیں، کیونکہ بادشاہ وہ شخص ہے، جس کے منشا یا حکم کے مطابق کام کیا جاتا ہے، اور وہ خود کام نہیں کرتا۔

 

۸۷

 

۱۴۔ جنّات یا فرشتے: حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کے جنّی حجج کے بارے میں ارشاد ہے: يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاء مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِیٰت (۳۴: ۱۳) وہ اس کے لئے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، مضبوط قلعے، تصویریں، بڑے بڑے تالاب جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں (۳۴: ۱۳) ۔

 

تاویلی حکمت: اس عظیم الشّان ربّانی تعلیم میں سب سے پہلے منزلِ عزرائیلی کی طرف اشارہ ہے، جس میں پرواز کرنے والے زندہ قلعے (محاریب) بنائے جاتے ہیں، پھر عالمِ شخصی کے روشن خیالات، تصوّرات، خاموش اور بولنے والی تصویروں کا ذکر ہے، جن میں مثال اور تصویری علم و حکمت کی خاطر ہر چیز پیش کی جاتی ہے، بعد ازان ایسی بڑی بڑی لگنوں کا تذکرہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک ظرفیت و گنجائش میں بڑے تالاب کی طرح ہے، ایسی لگنیں کلماتِ تامّات ہیں، اگر ان میں روحانی غذا ڈالی جائے تو دنیا بھر کے لوگوں کو کافی ہو سکتی ہے، اور آخر میں ایسی دیگوں کی مثال آئی ہے، جو ایک جگہ جمی رہنے والی ہیں، ان سے مرتبۂ عقل کے علمی وعرفانی سرچشمے مراد ہیں، جو ہمیشہ اسی جگہ قائم اور اٹل ہیں، جبکہ روحانی مسافر کے لئے وہی منزلِ آخرین ہے۔

 

۱۵۔ حضورِ اکرمؐ کے جنّی نمائندے: مومن جنّ کے قرآنی تذکروں میں روحانیّت اور معرفت کے بڑے بڑے اسرار پوشیدہ ہیں، اس لئے آپ تمام متعلقہ آیاتِ کریمہ کو غور سے پڑھ لیں، اور اس عنوان کی مناسبت سے خصوصاً سورۂ احقاف

 

۸۸

 

(۴۶: ۲۹ تا ۳۲) اور سورۂ جنّ (۷۲: ۰۱ تا ۱۵) میں بھر پور توجہ سے دیکھ لیں، نیز میری ایک تصنیف “قرۃ العین”  کا ضمیمہ بھی پیشِ نظر ہو، تاکہ آپ یقین کر سکیں کہ جنّ ایسا ہر گز نہیں، جیسا کہ عوام الناس سمجھ رہے ہیں، بلکہ وہ انسان کی بدنی اور روحانی عروج و ارتقاء کا نتیجہ ہے، جبکہ وہ مومن اور صالح جنّ ہو، وہ مخلوقِ لطیف ہونے کی وجہ سے روحانی علم کا خزانہ ہو سکتا ہے، دراصل یہی فرشتہ ہے۔

 

جیسا کہ ارشاد ہے: وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ (۴۶: ۲۹) اور (وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے) جب ہم نے جنّوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کیا، وہ کان لگا کر قرآن کو سننے لگے، پھر جب وہ اس کے پاس (یعنی قرآن کی روحانیّت میں) حاضر ہوئے تو کہنے لگے خاموش بیٹھے سنتے رہو، پھر جب (روحانی تلاوت اور مشاہدہ) تمام ہوا تو اپنی قوم کی طرف واپس گئے کہ (ان کو عذاب سے) ڈرائیں (۴۶: ۲۹) )

تاویلی حکمت: ظاہر ہے کہ یہ جنّات کسی وجہ سے بھی ازخود آنحضرتؐ کے پاس نہیں آئے تھے، بلکہ پروردگارِ عالم کی ہدایت کے مطابق یہاں آگئے، اورخدا کی جانب سے آفتابِ ہدایت حدودِ دین سے طلوع ہوتا رہتا ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ یہ حضرات حدود ہی کی سیٹرھی پر درجہ بدرجہ بلند کئے گئے تھے، تا آنکہ وہ رسول اللہؐ سے روحانی تلاوت سننے اور قرآن کے باطنی معجزات دیکھنے کے قابل ہوگئے، اور ایک عرصہ تک ان علمی و عرفانی مشاہدات و تعلیمات سے بہرہ ور ہو جانے کے بعد ہی یہ جنّات اپنی قوم کی طرف واپس گئے، تاکہ ان میں پیغمبر

 

۸۹

 

اکرمؐ کے لیلی (باطنی) حجتوں کا فریضہ انجام دیں، اس حقیقت کا ایک روشن ثبوت ان کا قرآن کی روح و روحانیّت میں حاضر ہو جانا ہے (حضروہ) جس میں قرآنِ کریم کے روحانی اور عقلی معجزات کے تجدّدِ امثال کا تفصیلی مشاہدہ ہوتا ہے۔

 

۱۶۔ باب یا حجتِ اعظم: لفظِ باب کا مادّہ ب۔ و۔ ب ہے، الباب ہر چیز میں داخل ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں، یعنی دروازہ، اس کی جمع ابواب ہے اور اسماعیلی اصطلاح میں باب وہ شخص ہے جس کے علم کے بغیر کوئی آدمی امامِ زمانؑ کی روحانیّت و نورانیّت میں داخل نہیں ہو سکتا، اور ایسا شخص حجتِ اعظم ہے، نیز امامؑ باب ہے، اساس کی معرفت میں جانے کے لئے، اور اساس باب (دروازہ) ہے ناطق کے علم و حکمت میں داخل ہو جانے کے لئے، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا۪ (۰۲: ۱۸۹) اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔

جیسے حضورِ اقدس و اطہرؐ نے ارشاد فرمایا: انا مدینۃ العلم و علیٌ بابھا۔ میں علمِ ربّانی کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا یہ ارشاد بھی از بس قابلِ توجہ ہے: انا دارالحکمۃ وعلیٌ بابھا۔ میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ نورِ نبوّت اور نورِ امامت کے باہمی ربط و رشتہ اور وحدت کی یہ دونوں عالیشان مثالیں اہلِ بصیرت کی نظر میں بدرجۂ انتہا حسن و جمالِ معنوی سے آراستہ، بیحد دلکش اور عجائب و غرائبِ اسرار سے مملو ہیں، کیونکہ یہ دونوں پُرحکمت حدیثیں اس آیۂ مبارکہ کی تفسیر و توضیح ہیں، جو کلیۂ امامت کی شان سے قلبِ قرآن (سورۂ یاسین۳۶: ۱۲)

 

۹۰

 

میں موجود ہے۔

 

۱۷۔ امامِ عالی مقام: اس لفظ کا مادّہ ا۔ م۔ م۔ ہے، امام کے لغوی معنی ہیں: پیشوا، یعنی ایسا شخص جس کی پیروی کی جائے، لیکن یہاں وہ خاص شخص مراد ہے، جس کی اطاعت و پیروی کا حکم خدا و رسولؐ نے دیا ہو، ایسے امام سے کوئی زمانہ نہ پہلے کبھی خالی تھا، نہ آئندہ کبھی خالی ہوگا، کیونکہ امام کی ذاتِ عالی صفات بہ مرتبۂ لوحِ محفوظ ازل سے موجود ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید کا ارشاد ہے: وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ (۳۶: ۱۲) اور ہم نے ہر چیز کو بیان (تاویل) کرنے والا پیشوا میں گھیر دیا ہے (۳۶: ۱۲) مبین کے ایک معنی ہیں: بولنے والا، بیان کرنے والا (۴۳: ۱۸) اور بیان تاویل کا دوسرا نام ہے (۷۵: ۱۹) جیسے سورۂ رحمان میں اشارہ ہے کہ حضرتِ رحمان انسانِ کامل کو درجاتِ روحانی میں بلند کرتے ہوئے قرآن سکھاتا ہے، اور اسی سے اس کی روحانی تخلیق بھی کرتا ہے، اور آخر میں مرتبۂ ازل پر تاویل (بیان) سکھاتا ہے، وہ آیاتِ کریمہ درج ذیل ہیں:

اَلرَّحْمٰنُ، عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ، خَلَقَ الْاِنْسَانَ، عَلَّمَهُ الْبَیَانَ، (۵۵: ۰۱ تا ۰۴) چنانچہ امامِ مبینؑ ایک ایسی عالی مرتبت ہستی ہے کہ اس کی معرفت خود اسی کے نور کی روشنی کے بغیر ناممکن ہے۔

 

۱۸۔ نورِ امامت کے مراتب: اگرچہ نورِ امامت فی الاصل یعنی مرتبۂ ازل پر ایک جیسا ہے، اور اس میں کوئی فرق و تفاوت نہیں، لیکن خدائی پروگرام اور مختلف زمانوں کے الگ الگ تقاضوں کے مطابق یہ نور مختلف مراتب میں اپنا کام کرتا ہے، چنانچہ جب نورِ امامت کسی ناطق کا استاد ہوتا ہے، تو اس وقت وہ امامِ مقیم

 

۹۱

 

کہلاتا ہے، جیسے ہی یہ ناطق کا شاگرد ہوا تو پھر اس کا نام اساس ہوتا ہے، چونکہ امام کی امامت نسل درنسل برقرار برجا رہتی ہے، اس معنیٰ میں وہ امامِ مستقر ہے، اس کے علاوہ کبھی کبھار ایسا امام بھی ہوتا ہے، جس کی امامت ایک پشت یا چند پشتوں کے بعد مستقر کی طرف لوٹتی ہے، تو وہ امامِ مستودع کے نام سے پہچانا جاتا ہے (۰۶: ۹۸) اور سلسلۂ امامت کا ہر امامِ ہفتم امامِ متم کہلاتا ہے (۶۱: ۰۸) ۔

 

۱۹۔ اساس: اس لفظ کا مادّہ ا۔ س۔ س ہے، اساس کے اصل معنی ہیں، بنیاد، کسی چیز کی ابتداء اصطلاحاً وہ امام، جس سے ناطقِ دور کے أئمّہ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اور ایسا امام ناطق کا وصی، وارث، اور جانشین ہوا کرتا ہے، نیز وہ ناطق کی کتاب و شریعت کا مؤول (تاویل کرنے والا) ہوتا ہے، اسی مناسبت سے ہر امام “صاحبِ تاویل” کا مرتبہ رکھتا ہے، یہ بات حدیثِ خاصف النعل کی روشنی میں ایک حقیقت ہے کہ آنحضرتؐ نے جب قرآن کی تنزیل پر جہاد کیا، تو اس میں آپؐ نے اپنے عسکر سے کام لیا، اسی طرح ہر زمانے کا امام قرآن کی تاویل پر جہاد کرنے کے لئے اپنے علمی لشکر کو استعمال کرتا ہے۔

 

۲۰۔ ناطق: یہ لفظ ن۔ ط ۔ ق کے مادّہ سے ہے، ناطق کا لفظی ترجمہ ہے: بولنے والا، اور اصطلاح میں ناطق ہر ایسے پیغمبر کو کہتے ہیں، جو صاحبِ کتاب وشریعت ہونے کی وجہ سے بولتا ہو، اور جس کی ہر بات آسمانی وحی کے زیرِ اثر ہو، جیسا کہ آنحضرتؐ کے بارے میں خداوندِ عالم کا ارشاد ہے: وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى  اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى (۵۳: ۰۳ تا ۰۴) وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتا، یہ تو ایک وحی ہے

 

۹۲

 

جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔ ناطق کی زندگی میں اساس بحیثیتِ مجموعی خاموش رہتا ہے، اس لئے اسے صامت کہا جاتا ہے، وہ اس معنیٰ میں بھی ظاہراً صامت (خاموش) نظر آتا ہے کہ وہ اپنی دعوت کا اکثر کام باطن اور روحانیّت میں کرتا ہے۔

 

۲۱۔ امامِ مقیم یا مربّی: ہر ناطق کی روحانی پرورش ایک امامِ مقیم نے کی ہے، اس لئے ہم امامِ مقیم کو مربّی کہیں گے، چنانچہ مولانا ھنیدؑ حضرتِ آدمؑ کا مربّی تھا، مولانا ھودؑ حضرتِ نوحؑ کا، مولانا صالحؑ حضرتِ ابراہیمؑ کا، مولانا ادؑ حضرتِ موسیٰؑ کا، مولانا خزیمہؑ حضرتِ عیسیٰؑ کا، اور مولانا عمرانؑ (ابوطالبؑ) آنحضرتؐ کا مربّی تھا۔

 

۲۲۔ حدودِ دین اور انفرادی قیامت: ہماری تحریروں میں انفرادی اور ذاتی قیامت سے متعلق کافی معلومات موجود ہیں، اس لئے یہاں بطورِ تبرک صرف ایک ہی شعر پر اکتفاء کیا جاتا ہے، جو حکیم پیر ناصرخسرو ق۔ س کے دیوان سے ہے، جس میں ایک قرآنی آیت کے الفاظ کے ساتھ خداوندِ عالم کی تعریف اس معنیٰ میں کی گئی ہے کہ اس کی خدائی اور بادشاہی میں کوئی ایک قیامت نہیں، بلکہ لاتعداد اور بے پایان قیامتیں ہیں، وہ شعر درج ذیل ہے:۔

ھو الاوّل ھوالآخر، ھو الظّاہر ھو الباطن

منزّہ مالک الملکی کہ بی پایان حشر دارد

ترجمہ: وہی (خدا) سب سے اوّل ہے وہی سب سے آخر، وہی سب سے آشکار اور وہی سب سے پوشیدہ ہے، وہ ایسا پاک و پاکیزہ (اور بے نیاز و غنی) بادشاہ ہے کہ اس کی لاتعداد و بے پایان قیامات

 

۹۳

 

ہیں، یعنی حدودِ جسمانی کے مراتبِ عالیہ میں ہمیشہ قیامتوں کا سلسلہ جاری ہے، یہ کبھی ختم ہونے والا نہیں، اور ختم کیوں کر ہو سکتا ہے، جبکہ وہ روح و روحانیّت، آخرت اور عالمِ لطیف ہے۔

 

۲۳۔ حجتِ قائمؑ: اگرچہ قبلاً حجت کا ذکر ہو چکا ہے، لیکن حجتِ قائمؑ خاص ہیں، کیونکہ وہ لیلۃ القدر کا ممثول ہے، یعنی اس کی ذات شبِ قدر کی تاویل ہے، اور ظاہراً قرآن و حدیث میں جس طرح شبِ قدر کی تعریف کی گئی ہے، وہ سب کی سب اسی عظیم المرتبت ہستی کی شان میں ہے، اسلئے کہ وہ حضرتِ قائم القیامت علیہ افضل التحیۃ والسّلام کا لاحق (حجت) ہے، اسی کے عالمِ شخصی میں نورِ قائمؑ کا نزول ہوا (۹۷: ۰۱) آپ کتابِ وجہ دین، کلام ۳۳ خصوصاً آخری حصّہ کو دیکھیں۔

 

۲۴۔ اسمِ اعظم شخصی اور اسمِ اعظم لفظی: خداوندِ عالمین کا سب سے بزرگ نام اسمِ اعظم کہلاتا ہے، جو دراصل شخصی (یعنی انسانی شکل میں) ہے، لفظی نہیں، اور ہاں اسمِ اعظم لفظی بھی ہے اس وقت، جبکہ خدا کا زندہ نام (امامِ زمانؑ) اس کو اپنا نمائندہ بناتا ہے، یعنی امامِ برحق صلوات اللہ علیہ (جو اسمِ اعظمِ شخصی ہے) جب کسی نیک بخت مومن کو خدا کا کوئی ظاہری نام عطا کرتا ہے، تو یہ اللہ کے اس اذن سے جو ولیٔ امر میں ہے اسمِ اعظمِ لفظی قرار پاتا ہے، اور اپنا معجزانہ کام کرنے لگتا ہے، چنانچہ مومنِ سالک روحانی سفر کے سلسلے میں جب دو دریاؤں کے سنگم (۱۸: ۶۱) پر پہنچ جاتا ہے، تو وہاں ذکر کی مچھلی زندہ ہو کر بحرِ روحانیّت میں داخل ہو جاتی ہے، اور اسی مقام پر خضرؑ بھی ہے،

 

۹۴

 

لفظ “خضر” خضر (سبز ہونا) سے ہے، جس سے روح الحیات (حقیقی زندگی والی روح) یعنی امامِ زمانؑ مراد ہے، جو معلّمِ روحانی ہے۔

۲۵۔ قبر اور منکر و نکیر: حدیثِ شریف میں ہے: اذا وضع المیت فی القبر اتاہ ملکان منکرٌ ونکیر۔ جب میّت قبر میں اتاردی جاتی ہے، تو اس کے پاس منکر و نکیر دو فرشتے آتے ہیں۔ آپ نے بہت پہلے ہی اس حقیقت کو قبول کر لیا ہے کہ عالمِ شخصی میں سب کچھ ہے، پھر یقیناً اس میں اپنی نوعیّت کی قبرستان بھی ہے، چنانچہ اہلِ معرفت کو منزلِ عزرائیلی میں یہ مشاہدہ ہوا ہے، کہ روح بار بارقبض کی جاتی ہے، اور بار بار واپس بدن میں ڈالی جاتی ہے، اس کا اشارہ یہ ہے کہ سالک مرگیا یا شہید ہو گیا، اور اس کو اپنی ہستی کی قبر میں اتارا گیا، اس وقت آواز کی کیفیت میں منکر اور نکیر آتے ہیں، جن کے کئی نام ہیں۔

 

منکر نکیر خداوندِ تعالیٰ کی وہ زندہ میزانِ عدل ہیں، جس میں لوگوں کے اعمال تولے جاتے ہیں، چنانچہ منکر بدی کا پلہ ہے اور نکیر نیکی کا پلہ، یہ دونوں فرشتے یا زندہ اور بولنے والے پلے ہر وقت آدمی کے تازہ عمل پر بحث کرتے رہتے ہیں، یعنی شر اور خیر کی ٹھیک ٹھیک نمائندگی کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ کا قانون ہے، پس اگر بدی کا وزن زیادہ ہے تو منکر کو مایوس کُنۡ باتیں کرنے کا موقع مل جاتا ہے، اور وہ سخت اعتراض کرنے لگتا ہے، جس سے انسان کے دل و دماغ میں غم چھا جاتا ہے، اس کے برعکس اگر نیکی کا پلہ بھاری ہوا، تو نکیر امید افزا باتوں کے ساتھ خوشخبری دیتا ہے، جس سے ذہن و خاطر میں خوشی کی لہر دوڑتی ہے۔

 

۹۵

 

۲۶۔ نفسِ واحدہ: قانونِ فطرت یہ ہے کہ ہر شخص میں بحدِّ قوّت عالمِ ذرّ موجود ہے، اور عالمِ ذرّ میں سب لوگوں کے ذرّات پائے جاتے ہیں، پس انسانِ کامل کی روحانی تخلیق اور ذاتی قیامت میں سب کی روحانی تخلیق اور اجتماعی قیامت پوشیدہ ہے، جیسا کہ سورۂ لقمان (۳۱: ۲۸) میں ہے: مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍؕ۔ تم سب کا پیدا کرنا اور پھر (مرنے کے بعد) جِلا اٹھانا ایک شخص کی طرح ہے (۳۱: ۲۸) لیکن علم و معرفت کے سوا کوئی آدمی انسانِ کامل کی ذاتِ عالی صفات سے پورا پورا فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔

 

۲۷۔ سنتِ الٰہی کے اسرار: قرآنِ حکیم میں جتنی آیاتِ کریمہ سنۃ اللہ (خدا کی عادت) کے بارے میں آئی ہیں، ان کی گہرائی میں حکمت کے عظیم اسرار پنہان ہیں، اس لئے یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ ہم سب ان آیتوں میں بار بار خوب غور و فکر سے دیکھا کریں، اللہ کی سنّت سے قانونِ دین مراد ہے، جو قانونِ فطرت ہے، جس میں اصولی اور بنیادی طور پر کوئی تبدیلی ممکن نہیں، مگر فروعی اور اوپری چیزوں میں گونا گونی ضروری ہے، جیسے آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، دن، رات اور موسم جیسی مستقل چیزیں ہمیشہ ایک طرح سے ہیں، اور ان کے بعد دنیا میں جتنی اشیاء عارضی ہیں، ان میں تبدیلی اور اختلاف کا ہونا لازمی ہے، پس کائنات وموجودات کی اسی مجموعی صورتِ حال سے سنتِ الٰہی کی تفسیر و تعبیر ہو سکتی ہے۔

 

۲۸۔ روحانیّت و عقلانیّت کا تجدّد: اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور کتابِ مبین کا نزول آنحضرتؐ

 

۹۶

 

کے مبارک باطن میں ہوا (۰۵: ۱۵) دراصل نور اور کتاب ایک ہی چیز ہے (۴۲: ۵۲) جس کی ظاہری اور تحریری صورت کتاب (قرآن) کے نام سے مشہور ہوگئی، لیکن جس طرح نور پیغمبرِ اکرمؐ سے امامِ عالی مقامؑ میں منتقل ہوا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اس میں کتاب بصورتِ اصل موجود تھی؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ہاں، تو اس کی کیا دلیل ہے؟ جواب: کیونکہ نور سے قرآنِ حکیم کی ایک ظاہری کتابت تو ہو سکتی تھی، جو ہوگئی، لیکن یہ بات غیر ممکن ہے کہ نور سے قرآن کی روح و روحانیّت اور نورانیّت الگ کی جائے، پس یہ کہنا حقیقت ہے کہ نور اب جس طرح معلّمِ قرآن کی ذات میں ہے، اس میں کاملاً قرآن کی نورانی صورت بھی ہے، الغرض یہاں یہ پُرحکمت نکتہ ہمیشہ یاد رہے کہ عالمِ شخصی میں سب کچھ ہے، کیونکہ اس میں قرآن اور امامؑ کی روحانیّت و عقلانیّت کا تجدّدِ امثال ہوتا ہے، جس میں امامِ عالی مقامؑ بادشاہ ہے، اور حدودِ دین ارکانِ مملکت کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

ن۔ ن۔ ہونزائی، کراچی

۳ شوال۱۴۱۲ھ

۷اپریل ۱۹۹۲ء

 

۹۷

 

صراطِ مستقیم

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ارشادِ باری تعالیٰ کا ترجمہ ہے: تم فرماؤ اگر آدمی اور جنّ سب اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اس قرآن  کی مانند لے آئیں تو اس کا مثل نہ لا سکیں گے اگرچہ ان میں ایک دوسرے کا مددگار ہو (۱۷: ۸۸) یہ روشن ترین دلیل ہے کہ قرآنِ حکیم عقل و دانش اور علم و حکمت کا دائمی معجزہ ہے، اور معجزہ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ دوسرے سب ایسا کر ہی نہیں سکتے، وہ عاجز و قاصر ہو جاتے ہیں۔

 

ام الکتاب۔ کلید ہائے معجزات: آیت کے معنوں میں سے ایک معنی ہیں معجزہ، چنانچہ قرآنِ کریم کی ہر آیۂ شریفہ اہلِ بصیرت کی نظر میں علم و حکمت کے عجائب و غرائب سے بھر پور ایک آسمانی معجزہ ہے، اور ام الکتاب یعنی سورۂ فاتحہ اور نورِ منزل کلید ہائے معجزات کا خزانہ ہے، اس میں “صراطِ مستقیم” ایک اصولی، اساسی، اور نورانی کلید ہے، کیونکہ ظاہری و باطنی ہر گونہ ہدایت کا انحصار اسی پر ہے۔

عقلِ جزوی کو حیرت: عقلِ جزوی کے لئے یہ ربّانی تعلیم بڑی حیرت انگیز ہے، جس میں ارشاد

 

۹۸

 

ہوا کہ: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ (۰۱: ۰۵) کیونکہ جب ایک مومن کو یہ توفیق عنایت ہوئی کہ جس سے وہ اللہ ربّ العالمین کی حمد و ثنا کرتا ہے، اس کو رحمان و رحیم اور روزِ جزا کا مالک و حقیقی بادشاہ مانتا ہے، اور صرف اسی خدائے واحد کی عبادت کرتا ہے، اور اسی سے مدد چاہتا ہے، تو کیا یہ راہِ راست یعنی دینِ خدا کی ہدایت نہیں ہے؟ اور مزید برآن کیا چاہئے؟

 

جواب: سورۂ فاتحہ کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہےکہ اس کے تمام الفاظ خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے بندوں کو تعلیم دینے، سکھانے، اور پھر علم و عمل سے بہرہ ور کر دینے کی غرض سے ہیں، اور یہیں سے قرآنی تعلیم کی بنیاد شروع ہو جاتی ہے، اور سب جانتے ہیں کہ کسی چیز کی صرف بنیاد کافی نہیں ہوا کرتی، بلکہ اس کے بعد بہت کچھ کیا جاتا ہے۔

 

“اھدنا” کا اصل مطلب: یہ دعا ایسے لوگوں کے لئے نہیں جو دینِ اسلام سے باہر رہتے ہیں، بلکہ ان خوش نصیب انسانوں کے لئے ہے، جو اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، لہٰذا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کا اصل مطلب ہے: (یا ربّ) ہمیں سیدھی راہ پر چلا، کیونکہ اس میں دینِ حق کی تشبیہہ و تمثیل ایک ہموار اور سیدھی راہ سے دی گئی ہے، جس پر ہر فردِ مسلّم کو سفر کرنا ہے، اور ہر ایسے مسافر کا توشہ (زادِ راہ) صرف تقویٰ ہی ہو سکتا ہے (۰۲: ۱۹۷) انبیاء و اولیاء علیھم السّلام نے زندگی ہی میں اس راستے کی منزلوں کو طے کر کے اللہ تعالیٰ کے قربِ خاص کو حاصل کر لیا ہے (۰۴: ۶۹) اور مذکورہ دعا کا مقصد ظاہر ہے کہ اہلِ ایمان کو انہیں حضرات کی راہ پر چل کر کامیاب ہو جانا ہے۔

 

۹۹

 

نورِ ہدایت کا مقصد: سورۂ حدید (۵۷) کی آیتِ مقدسہ ۲۸  (۵۷: ۲۸) میں خوب غور سے دیکھ لیجئے، آیا یہی وہ نورِ ہدایت نہیں ہے، جو مستقل اور دائمی ہے؟ جس کی روشنی میں صراطِ مستقیم پر اجتماع کو بھی اور افراد کو بھی چلنا اور آگے بڑھ جانا مقصود تھا؟ یقیناً اسلام وہ راہِ راست ہے، جس کی شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی منزلوں میں ہر مومنِ سالک بدرجۂ انتہا ترقی کر سکتا ہے۔

 

سبقت کا حکم: خداوندِ عالم کا ارشاد ہے: اور ہر کسی کے واسطے ایک جانب ہے یعنی قبلہ کہ وہ منہ کرتا ہے اس طرف سو تم سبقت کرو نیکیوں میں (۰۲: ۱۴۸) یعنی تم اہلِ کتاب سے قبلہ کی بحث کو چھوڑ کر نیک کاموں میں ان سے آگے بڑھ جاؤ) ظاہر ہے کہ علم و عمل کی یہ دوڑ اور سبقت صراطِ مستقیم ہی پر ممکن ہے، اس کے علاوہ سارعوا (۰۳: ۱۳۳) اور سابقوا (۵۷: ۲۱) میں بھی دیکھ لیں کہ کس طرح مسلمانوں کو راہِ مستقیم پر دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا حکم ہوا ہے۔

 

سابقون۔ سبقت کرنے والے: قرآنِ عظیم کی متعدد آیاتِ کریمہ میں ان خوش نصیب مومنین کی عالیشان تعریف فرمائی گئی ہے، جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں، یعنی صراطِ مستقیم پر دوسروں سے آگے نکل جاتے ہیں، کیونکہ یہ راہ ایسی ہے کہ اس کی منزلیں صرف علم و عمل ہی سے طے ہو سکتی ہیں، پس آج دنیا میں جو لوگ راہِ راست پر سابقون ہیں، وہی کل قیامت میں بھی سب سے آگے اور خدا کے مقرّب ہوں گے (۵۶: ۱۰ تا ۱۱) ۔

 

۱۰۰

 

سبقت کا سب سے عظیم ذریعہ: جیسا کہ کتابچۂ لبِّ لباب میں اس حقیقت کا ذکر ہوا ہے کہ عقل ہی نیکیوں کا سرچشمہ ہے، اور جس کی عقل و دانش نہیں، اس کی کوئی بھلائی نہیں، کیونکہ خیرِ کثیر (بہت سی نیکیاں) حکمت سے وابستہ ہیں (۰۲: ۲۶۹) جبکہ حکمت عقل ہی کے ناموں میں سے ہے، پس دوسروں سے آگے بڑھ جانے کا سب سے عظیم ذریعہ حکمت ہے، جس میں بے شمار خوبیوں کا خزانہ پوشیدہ ہے۔

 

انبیاءؑ کی پیروی: اس عنوان میں بھی بہت بڑی حکمت ہے، کیونکہ انبیاء وأئمّہؑ کا اتباع یعنی ان مقدّس ہستیوں کے پیچھے پیچھے چلنا کوئی عام بات ہرگز نہیں، جبکہ ان حضرات کی راہ (صراطِ مستقیم) اور اس کی منزلیں روحانیّت و نورانیّت اور علم و معرفت کے موتیوں اور ہیروں سے بھری ہوئی ہیں، اور ہادیٔ برحق کا فریضۂ منصبی ادا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے پیروؤں کو منزلِ مقصود یعنی خدا سے واصل نہ کر دے، اور اگر اس کے پیچھے چلنے والے کہیں ہمت ہار بیٹھتے ہیں، تو پھر اسکی حجّت خود ان پر ہوگی۔

 

صراطِ مستقیم اورحدیثِ تقرب: روحانیّت کی جو بھی ترقی ممکن ہے، وہ صرف اور صرف صراطِ مستقیم ہی پر ہوسکتی ہے، اور اس سے باہر سراسر گمراہی ہے، چنانچہ مومنِ سالک بحکمِ حدیثِ قدسی (جو تقرّب کے بارے میں ہے) راہِ راست پر بذریعۂ نوافل آگے بڑھتے اور ترقی کرتے ہوئے قربِ خداوندی کو اس حد تک حاصل کرتا ہے کہ خدا اس سے محبت کرنے لگتا ہے، یہاں تک کہ خدا اس

 

۱۰۱

 

کے کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں ہو جاتا ہے، اب وہ بندہ خدائی نور سے سنتا، دیکھتا، پکڑتا، اور چلتا ہے۔ اور یہ درجۂ فنا فی اللہ کی ایک گونہ تشریح ہے۔

 

سلامتی کی راہیں: سورۂ مائدہ (۵) کی آیۂ شریفہ۱۵ (۰۵: ۱۵) میں نور اور کتاب (قرآن) کا جس شان سے ذکر فرمایا گیا ہے، وہ ہزاروں سوالات کے لئے واحد جواب کافی و شافی ہے، اور اس کے بعد آیت ۱۶ (۰۵: ۱۶) کی حکمتیں بھی بڑی عجیب و غریب شان رکھتی ہیں، جس میں پہلے تو سلامتی کی راہوں کی ہدایت کا تذکرہ ہوا ہے، اور آخر میں صراطِ مستقیم کی ہدایت کا بیان، پس یہاں سوال اٹھتا ہےکہ آیا اللہ کے راستے ایک سے زیادہ ہو سکتے ہیں؟ نہیں تو سبل السّلام (سلامتی کی راہیں) کیونکر ہوئیں؟

پہلا جواب: سلامتی کی راہوں سے شریعت، طریقت، حقیقت، اور معرفت مراد ہیں، جو صراطِ مستقیم کی چار منزلیں اور چار ارکان ہیں، اس سے ظاہر ہوا کہ خدا کا راستہ ایک ہی ہے۔ دوسرا جواب: سلامتی کی راہیں تاویلی حکمت کے اعتبار سے چار مقرّب حجت ہیں، اور صراطِ مستقیم امامِ زمان علیہ السّلام ہے۔

 

ربّ سیدھی راہ پر:

سورۂ ہود میں یہ ارشاد بھی ہے: اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (۱۱: ۵۶) اس میں کوئی شک نہیں کہ میرا پروردگار سیدھی راہ پر ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ راہِ راست کی ہدایت کا کام ہمیشہ جاری ہے، جس میں رسولؐ نمائندۂ خدا، اور امامِ زمانؑ  نمائندۂ پیغمبرؐ ہیں۔

 

منذر اور ھادی:

سورۂ رعد (۱۳: ۰۷) میں ارشاد ہے: اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۔

 

۱۰۲

 

(اے رسولؐ) تم تو صرف (خوفِ خدا سے) ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک ہدایت کرنے والا ہے۔ یعنی ہر زمانے میں ایک امام ہوتا ہے، اور یہ امام علیہ السّلام جس طرح خدا کی کتابِ ناطق ہے، اسی طرح سے اس کی صراطِ ناطق بھی ہے، یعنی اللہ کی وہ سیدھی راہ جو زندہ ہے اور بولتی ہے، جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے: وَ  مَنْ  یَّعْتَصِمْ  بِاللّٰهِ  فَقَدْ  هُدِیَ  اِلٰى  صِرَاطٍ  مُّسْتَقِیْمٍ (۰۳: ۱۰۱) اور جو کوئی اللہ کو مضبوط پکڑے تو اس کی ہدایت ہوگئی۔ یہ آیۂ کریمہ متشابہات میں سے ہے، کیونکہ خدا کو پکڑنے کے ظاہری معنی نہیں ہو سکتے، لہٰذا اس کی تاویل ہے، وہ یہ کہ ہادیٔ برحق یعنی امامِ زمانؑ کے امر و فرمان پر بڑی مضبوطی اور سختی سے عمل کرنا گویا اللہ کو مضبوط پکڑنا ہے، کیونکہ یہی خدا کی رسی ہے۔

 

امامؑ صراطِ گوئندہ: حضرتِ امام جعفر الصادقؑ سے روایت ہے، آپؑ نے فرمایا: الصراط المستقیم امیر المومنین علی علیہ السّلام ہے، اور حضرتِ امام زین العابدینؑ سے روایت کی گئی ہے، آپؑ نے فرمایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نحن ابواب اللہ و نحن الصراط المستقیم، ہم أئمّہ خدا کے دروازے ہیں اور ہم ہی راہِ مستقیم ہیں (تاکہ اہلِ ایمان کو خدا تک پہنچائیں) ۔

 

نورِ ہدایت کی مثالیں:

نورِ منزل جو نورِ ہدایت ہے، اگرچہ اس کی بے شمار مثالیں ہیں، لیکن بنیادی مثالیں تین ہیں: راہِ راست، خدا کی رسی، اور سیٹرھی، اس میں صاحبانِ عقل کے لئے بہت بڑی حکمت ہے، کہ حبل اللہ کی جو تاویل ہے، وہی

 

۱۰۳

 

تاویل سیدھی راہ اور سیٹرھی کے لئے بھی ہے، کیونکہ خدائے واحد کی طرف جانے کا وسیلہ حقیقت میں ایک ہی ہے، ہر چند کہ مثالیں الگ الگ ہیں، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم زمانۂ نبوّت میں سیدھی راہ، خدا کی رسی، اورآسمانی سیڑھی تھے۔

 

انسانِ کامل۔ عالمِ شخصی: سورۂ احزاب کے اس بابرکت اور پُرحکمت ارشاد میں، جس میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا ذکر فرمایا گیا ہے، جہاں نیک بندوں کو زندگی ہی میں دیدارِ الٰہی اور  فنا فی اللہ کی قوّی امید اس شرط پر دلائی گئی ہے کہ وہ علم و عمل اور یادِ خدا کی کثرت سے رسول اللہؐ کی کامل پیروی کریں (۳۳: ۲۱) اسی آیۂ کریمہ میں اہلِ دانش کیلئے یہ دعوتِ فکر بھی ہے کہ نزولِ قرآن اور ظہورِ اسلام سے پیشتر ہی آنحضرتؐ کا قلبِ مبارک بحکمِ خدا ہدایت کی روشنی سے منور ہوگیا، آپ کی ذاتِ منبع البرکات میں یہی روشنی صراطِ مستقیم اور آسمانی رسی تھی، اورکچھ آگے چل کر اسی سے عرشِ معلیٰ کی سیڑھی (معراج) قائم ہونے والی تھی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہادیٔ برحق کے نورِ پاک میں بصورتِ نورانی ہر چیز موجود ہے، پس صراطِ مستقیم کے شروع سے لیکر آخر (منزلِ مقصود) تک حضورِ اقدسؐ کے اسوۂ حسنہ کی منزلیں ہیں، لہٰذا دعا ہے کہ ہر مومن کو ظاہراً و باطناً نور کی کلّی پیروی نصیب ہو!

 

صراطِ مستقیم اور قیامت: روحانیّت اور انفرادی قیامت کی منزلیں اس صراطِ مستقیم پر واقع ہیں، جو عالمِ شخصی میں پائی جاتی ہے، اور یہ راستہ پروردگار تک جاتا ہے (۵۳: ۴۲) کیونکہ سب کو اسی کے حضور حاضر ہوجانا ہے۔

 

۱۰۴

 

دینِ حق ہی صراطِ مستقیم ہے:

ارشاد ہے: اور یہ کہ دین میرا راستہ ہے، جو کہ مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ (راہیں) تم کو اس کی (یعنی اللہ کی) راہ سے جدا کر دیں گی (۰۶: ۱۵۳) اس حکمِ عالی سے ظاہر ہوا کہ اسلام فطری اور حرکی

دین ہے، اس میں ظاہری اور باطنی ترقی اور کامیابی کی صلاحیت موجود ہے، کیونکہ یہ آفاقی دین ہے۔

 

دعوتِ بابصیرت: سورۂ یوسف (۱۲) کی آیۂ کریمہ ۱۰۸ (۱۲: ۱۰۸) ہمارے اس موضوع پر بھر پور روشنی ڈال سکتی ہے کہ دینِ اسلام آنحضرتؐ کا وہ راستہ ہے، جس کی روحانی منزلوں کو آپؐ نے طے کر لیا، تب قالبِ اسلام وجود میں آیا، پھر ان بے شمار باطنی رحمتوں اور برکتوں کے پیشِ نظر رسولِ خداؐ اور آپؐ کے پیرو (یعنی امام علیؑ) نے دیدۂ دل کے مشاہدات کے مطابق راہِ اسلام کی دعوت کی، یعنی لوگوں کو دین کے ظاہر و باطن کی طرف بلایا، کیونکہ دعوتِ حق کا اصل مرکز باطن و روحانیّت ہی میں ہے۔

 

شریعت اور طریقت: قرآنِ پاک کا ارشاد ہے: لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًاؕ (۰۵: ۴۸) ہم نے تم میں سے ہر ایک کے واسطے ایک شریعت اور ایک طریقت مقرر کی ہے۔ ادیانِ عالم میں سے ہر الہامی دین کی ایک شریعت اور ایک طریقت رہی ہے، تاکہ لوگ شریعت کے ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے باطن یعنی طریقت پر بھی عمل کریں، شرعہ یا شریعت کے معنی ہیں شروعات، جیسے کہتے ہیں: شرع الامر (اس نے کام شروع کیا) طریقت راستہ ہے،

 

۱۰۵

 

حقیقت نورِ ہدایت، اور معرفت عارف کی منزلِ مقصود ہے۔

 

ایک سوال اور اس کا جواب: اگر کوئی یہ پوچھے کہ: حقیقت اور معرفت کا ذکر قرآنِ مجید میں کہاں ہے؟ اور کس طرح ہے؟ اس کا جواب یہ ہے: جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ طریقت راستہ ہے، اور اس پر چلنے کیلئے جس قسم کی روشنی ضروری ہے، وہ نورِ ہدایت ہے، جس کا دوسرا نام حقیقت ہے، اور یہ بات نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ (ایک نور جسکی روشنی میں تم چلو گے، (۵۷: ۲۸) کے حوالے سے ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ اس تذکرہ میں ایک تو راستہ ہے، جو چلنے کے لئے ہے، اور دوسرا نور، جس کا کام ہے روشنی ڈالنا، یعنی طریقت نورِ حقیقت کے بغیر آگے نہیں جاتی ہے، یہ تو معنوی لحاظ سے حقیقت کا ذکر ہوا، اور اب لفظی اعتبار سے سن لیں، کہ قرآنِ کریم میں لفظِ “حق” کثرت سے وارد ہوا ہے، جس کے معنی اکثر مقامات پر حقیقت کے ہیں، اور قرآنِ حکیم میں معرفت کا تذکرہ نمایان ہے، لہٰذا اس کے بارے میں چند حوالہ جات ہی کافی ہیں:۔ ۲۷: ۹۳،  ۰۲: ۲۴۶، ۰۶: ۲۰،   ۰۷: ۴۶، ۴۷: ۰۶۔

حدیثِ شریف اور معرفت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: اعرفکم بنفسہ اعرفکم بربہ (تم میں جو اپنے آپ کو سب سے زیاددہ پہچانتا ہے، وہی شخص تم میں اپنے پروردگار کو سب سے زیادہ پہچانتا ہے) نیز مولا علی علیہ السّلام کا ارشاد ہے: من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ۔ (جس نے اپنے آپ یعنی اپنی روح کو پہچان لیا اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا) پیغمبرِ اکرمؐ اور امامِ برحقؑ کی اس تعلیم سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ

 

۱۰۶

 

شریعت جڑ ہے، طریقت درخت، حقیقت سورج کہ موسمِ بہار و تابستان اسی کی برکت سے ہے، اور معرفت پھول اور پھل ہے۔

 

طریقِ معرفت: حضرتِ امام جعفر الصادق  علیہ السّلام کا ارشاد ہے: ھی الطریق الی معرفتہ اللہ، وھما صراطان صراط فی الدنیا  وصراط فی الآخرۃ، فاما الصراط فی الدنیا فھو الامامہ المفترض الطاعۃ، من عرفہ فی الدنیا واقتدٰی بھدٰہ مرعلی الصراط الذی ھو جسرجھنم فی الاخرہ۔ ۔ ۔ ۔ (المیزان فی تفسیر القراٰن، المجلداوّل۴۱) وہ یعنی صراطِ مستقیم خدا کی معرفت کی طرف راستہ ہے، اور وہ دو راستے ہیں ایک راستہ دنیا میں اور دوسرا آخرت میں، جو راستہ دنیا میں ہے وہ امام ہی ہے جس کی اطاعت فرض کی گئی ہے، جس نے اس کو دنیا میں پہچان لیا اور اس کی ہدایت کی پیروی کی تو وہ اس صراط سے گزر گیا جو آخرت میں دوزخ پر پُل ہے۔ ۔ ۔ ۔

 

عبادت کے ذکر میں معرفت کا اشارہ:

قرآنِ کریم میں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے، وہاں معرفت کا اشارہ بھی ہے، کیونکہ معرفت ہی صراطِ مستقیم کی غرض و غایت ہے، جیسا کہ سورۂ یاسین (۳۶: ۶۰ تا ۶۱) کا مفہوم ہے: خداوندِ عالم کی عبادت معرفت کی روشنی میں ہو تو یہی صراطِ مستقیم ہے، اس کے برعکس جہالت ونادانی سے شیطان کی عبادت ہو سکتی ہے۔

 

ن۔ ن۔ ہونزائی کراچی،

ہفتہ، ۲۷، رمضان المبارک ۱۴۱۱ھ،  ۱۳  اپریل ۱۹۹۱ء

 

۱۰۷

 

بعض کلیدی الفاظ و اصطلاحات

 

۱۔ کلمۂ باری: اس سے اللہ تعالیٰ کا وہ امر مراد ہے، جو کلمۂ کُنۡ (ہو جا) سے عبارت ہے، امرِ باری کی تین صورتیں ہیں: ارادہ، قول (کلمہ) اور فعل (مظہر) دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہیں گے: امرِ ارادی، امرِقولی، اور امرِ فعلی، پس امرِ ارادی عالمِ ابداع میں ہے، امر قولی قرآن میں ہے، اور امرِ فعلی امامِ زمان علیہ السّلام میں ہے، اسی معنیٰ میں امامِ اقدس و اطہرؑ کو ولیٔ امر یا صاحبِ امر کہا جاتا ہے (۰۴: ۵۹) جیسا کہ ارشاد ہے: وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا (۳۳: ۳۷) اور خدا کا امر (پہلے ہی) عمل میں لایا گیا ہے، یعنی امامِ مبین کے عالمِ شخصی میں امرِ کلّ  کا مظاہرۂ تجدّد اپنے تمام تر نتائج کے ساتھ موجود ہے، اسی لئے وہ مظہرِ امرکلّ کا مظاہرۂ تجدّد اپنے تمام تر نتائج کے ساتھ موجود ہے، اسی لئے وہ مظہرِ امر، یا امرِ فعلی، یا ولیٔ امر کہلاتا ہے، آپ اس کو امرِ مجسّم بھی کہہ سکتے ہیں، یاد رہے کہ جہاں امر ایک کلمہ ہے، وہاں وہ اس زبان میں ہوتا ہے، جو عالمِ شخصی میں بولی جاتی ہو، کیونکہ روحانیّت  اور نامۂ اعمال کی گفتگو ہر شخص کی اپنی زبان میں ہوتی ہے۔

 

۲۔ ابداع و انبعاث:

اگر آپ ابداع و انبعاث کے بارے میں عالمِ شخصی سے باہر سوچیں گے، تو غلط تصوّرات کا سلسلۂ لاانتہا  شروع ہو جائے گا، اس لئے آئیے ہم سب

 

۱۰۸

 

مل کر جذبۂ شکر گزاری سے گریہ کنان خدا کے حضور بار بار سجدہ کریں کہ اس نےاپنے نورِ ارضی (نورِ منزل۰۵: ۱۵) کے توسط سے ہم پر عالمِ شخصی کے اسرار منکشف کر دیئے، چنانچہ آپ باور کریں گے کہ ابداع و انبعاث ایک ہی مقام پر ایک ساتھ ہے، یعنی جب انائے عُلوی کا ظہور ہوتا ہے تو یہی ظہور ازل کے اعتبار سے ابداع ہے، اور ابد کے اعتبار سے انبعاث، اور یہ بات بھی خوب یاد رہے کہ ازل و ابد عالمِ شخصی میں ایک ہی مقام پر ہے، جس کے یہ دونام مقرر ہیں، جس کی تمثیل گھڑی سے دی جا سکتی ہے کہ اس پر جہاں بارہ بجتے ہیں، وہیں نقطۂ آغاز بھی ہے، اب سوال ہے کہ ایسے میں مبدِع اور مبدَع کا کیا تصوّر ہوگا؟ اس کا جواب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے: (الف) ایک لحاظ سے یہ ظہورِ مبدَع ہے، بغیر اس کے کہ مبدِع دکھائی دے (ب) دوسرے لحاظ سے یہی مبدِع بھی ہے اور مبدَع بھی، کیونکہ یہ یک حقیقت اور عالمِ وحدت کا مقام ہے۔

۳۔ عقلِ کُلّ: عقلِ کُلّ  جو ایک عظیم فرشتہ ہے، اس کے چند نام یہ ہیں: اوّل، سابق، قلم، عرش، آدمِ معنیٰ، مبدَع، وغیرہ، آپ میری ایک چھوٹی سی کتاب “لبِ لباب” کو بھی دیکھیں، اس کے جیسے کثیر نام ہیں، ایسے زیادہ کام بھی ہیں۔

 

۴۔ نفسِ کُلّ: یہ دوسرا عظیم فرشتہ ہے، اس کے مشہور اسماء یہ ہیں: ثانی، تالی، لوح، کرسی، حوّائے معنیٰ وغیرہ۔

 

۵۔ پانچ حدودِ روحانی: عقلِ کُلّ، نفسِ کُلّ، جدّ، فتح، خیال، یہ پانچ حدودِ روحانی ہیں، جو شریعت کی زبان میں قلم، لوح، اسرافیل، میکائیل، اور جبرائیل کہلاتے ہیں، یہ وہ پانچ وسائط

 

۱۰۹

 

فرشتے ہیں، جن کے توسط سے آنحضرتؐ پر وحی نازل ہوتی تھی، جیسا کہ ارشادِ نبوّی ہے: حدثنی جبرائیل عن میکائیل عن اسرافیل عن اللوح عن القلم۔

 

۶۔ پانچ حدودِ جسمانی: ناطق، اساس، امام، حجت، اور داعی، یہ پانچ حدودِ جسمانی ہیں، جو پانچ حدودِ روحانی کے مقابل ہیں۔

 

۷۔ پانچ اولوالعزّم: حضرتِ نوح، حضرتِ ابراہیم، حضرتِ موسیٰ، حضرتِ عیسیٰ، اور حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پانچ اولو العزم پیغمبر ہیں۔ مگر حضرتِ آدمؑ اولوالعزّم میں شامل نہیں، قرآنِ پاک (۴۶: ۳۵،  ۲۰: ۱۱۵) میں دیکھ لیں۔

 

۸۔ راہِ دین کی چار منزلیں: تصوّف کی بعض کتابوں میں یہ حدیث درج ہے: الشریعۃ اقوالی، والطریقۃ افعالی، والحقیقۃ احوالی، والمعرفۃ سری۔ شریعت میرے اقوال کا نام ہے، طریقت میرے اعمال کا، حقیقت میری باطنی کیفیت کا، اور معرفت میرا راز ہے۔

 

۹۔ یقین کے تین درجات: علم الیقین، عین الیقین، اور حق الیقین، سب سے پہلے علم الیقین کا مرحلہ ہے، جس میں حقیقی اور یقینی علم کی سخت ضرورت ہے، اگر ایسا علم حاصل ہوا اور اس پر عمل بھی کیا گیا تو پھر عین الیقین کی منزل تک رسائی ہو سکتی ہے، جس میں چشمِ باطن کھل جاتی ہے، اور عالمِ شخصی ہی میں حقیقتوں کا مشاہدہ ہونے لگتا ہے، اگر ان منازل میں بھی کامیابی ہوتی تو بالآخر حق الیقین کا مقام آتا

 

۱۱۰

 

ہے، جہاں سب سے اعلیٰ درجے کے اسرار ہیں۔

 

۱۰۔ چالیس۴۰ سال کی حکمت: آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو چالیس ۴۰ برس کی عمر میں نبوّت عطا ہوئی، اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ آپؐ سے پہلے عالمِ دین میں چالیس حدود نے کام کیا تھا، وہ پانچ ادوار میں سے ہر دور کا ناطق، اساس، اور چھ ائمّہ ہیں، اور اسی طرح (۸x۵=۴۰) کل چالیس۴۰ حدود کا زمانہ گزر گیا تھا، جیسے قرآنِ حکیم میں ہے: حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةًۙ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (۴۶: ۱۵) ۔

 

۱۱۔ تاویلِ محضِ مجرد: وہ خالص اور آزاد تاویل یا وہ باطنی علم جو کسی کو عالمِ شخصی میں عطا ہو جاتا ہے، جس میں روحانیّت و عقلانیّت کے اصل ظہورات و معجزات کا تذکرہ جامۂ تمثیل اور حجابِ تشبیہہ کے بغیر ہوتا ہے، یہ علم سب سے پہلے حضرتِ آدم علیہ السّلام کو دیا گیا تھا۔

 

۱۲۔ حارث بن مرّہ: جس شیطانِ جنّی نے حضرتِ آدمِ سراندیبی کےلئے سجدۂ اطاعت کرنے سے انکار کیا، اس کا نام حارث بن مُرّہ مشہور ہے، وہ حدودِ دین اور اہلِ باطن میں سے تھا، اس لئے جنّ کہلایا، اہلِ باطن کی باطنی مرتبت عام لوگوں سے پوشیدہ ہے، اس لئے قرآن نے ان کو جنّ کہا۔

 

۱۳۔ لفظِ شیطان اور ابلیس: شیطان کا لفظ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونے کے ہیں، کیونکہ شیطان خود بھی حقیقت سے دور ہو چکا ہے اور دوسروں کو بھی دور کر دیتا ہے، لہٰذا اس کا نام شیطان ہوا، بعض اہلِ لغت

 

۱۱۱

 

نے کہا کہ لفظِ شیطان میں نون زائدہ ہے، اور دراصل یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں: غصہ سے سختہ ہو جانا، لیکن یہاں یہ کہنا ہے کہ شیطان میں ایسے بہت سے برے معنی جمع ہیں، اس لئے دونوں معنی درست ہو سکتے ہیں، اب ہم لفظِ ابلیس کا تجزیہ کرتےہیں کہ یہ اَبلس من رحمۃ اللہ (خدا کی رحمت سے مایوس ہونا) کے معنی میں ہے۔

 

۱۴۔ لفظِ عزازیل: کلمۂ عِبری (عبرانی) ہے، جس کے معنی ہیں: خدا کا عزیز (معزز، گرامی) یہ ابلیس کے راندہ ہونے سے قبل کا لقب ہے، کہ وہ مقربین میں سے تھا، یہ نام فارسی ادبیات میں شیطان کے لئے باقی رہا ہے (فرہنگِ فارسی، عمید) ۔

 

۱۵۔ حظیرۃُ القدس: اس کے لفظی معنی ہیں: احاطۂ مقدّس، اور مرادی معنی ہیں: دائرۂ عقلِ اوّل، دارالابداع، مقامِ اسرارِ ازل وابد، گنجِ حقائق و معارف، سرچشمۂ نور الانوار، بہشتِ عالمِ شخصی، اور مرتبۂ حق الیقین۔

 

۱۶۔ مکان و لامکان کا باہمی تعلق: مکان عالمِ جسمانی کو کہتے ہیں، اور لامکان (جس میں مکانیّت کی تخصیص نہیں) عالمِ روحانی کا نام ہے، ان دونوں کی جائے تعلق یا سنگم بندۂ مومن کا دل و دماغ ہے، جس میں عالمِ لامکان کا تصوّر اور مشاہدہ ہو سکتا ہے، جب مولا علی علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا کہ: “آیا تیرا یہ گمان ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے، حالانکہ تجھ میں عالمِ اکبر سمایا ہوا موجود ہے۔” تو پھر حصولِ علم کی غرض سے پوچھنا چاہئے کہ عالمِ شخصی کا کوہِ طور کونسا ہے، اورعرش کہاں ہے؟ تاکہ بتا دیا جائے کہ پیشانی میں ہے، جو نہ صرف

 

۱۱۲

 

کوہِ طور اور غارِ حرا ہی ہے، بلکہ وہ عرش بھی ہے، اگرچہ قلب کی بہت بڑی اہمیت ہے، تاہم کئی طرح سے قلب کے اعلیٰ معنی جبین (پیشانی) میں مرکوز ہو جاتے ہیں، مثال کے طور پر روحانی سفر کے دوران جب معجزۂ عزرائیلی کا مرحلہ آتا ہے، تو اس وقت قبضِ روح کے عمل سے وہ دل جو (بشکلِ صنوبری) گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، وہ بیچارہ بار بار بیجان اور مردہ ہو جاتا ہے، مگر پیشانی جو روحِ انسانی اور عقل کا مرکز ہے، وہ اس قیامتِ صغریٰ میں زندہ رہ کر تمام واقعات وحالات کا مشاہدہ کرتی رہتی ہے۔

 

۱۷۔ قلب کی تاویل: قلب کی اہمیت کی خاص وجہ اس کی تاویل  ہے کہ قلب سے امام علیہ السّلام مراد ہے، کیونکہ مومن کے جس پاک و پاکیزہ دل کو عرشِ رحمان ہونے کا انتہائی عظیم مرتبہ حاصل ہے، وہ امامِ زمانؑ کا نورِ اقدس ہی ہے، جو بحدِّ فعل نہیں تو بحدِّ قوّت مومن کی پیشانی میں ہے، جس کا ثبوت جیسا کہ اوپرذکر ہوا یہ ہے کہ تاویلی موت کے دوران عالمِ شخصی کی زمین (جس میں قلبِ صنوبری بھی ہے) کئی کئی مرتبہ فنا ہو جاتی ہے، مگر سر جو آسمان ہے، اور جبین جو مقامِ عرش ہے، جس پر وجہ اللہ یعنی امامِ زمانؑ جلوہ گر ہے، اس کو کچھ نہیں ہوتا، اور یہ بہت بڑا راز اسرارِ مخزون یعنی خزینۂ خاص کے بھیدوں میں سے ہے (۵۵: ۲۶ تا ۲۷) الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

ن۔ ن ہونزائی، کراچی

منگل ۱۰ شوال المکرم ۱۴۱۲ھ

۱۴ اپریل ۱۹۹۲ء

 

۱۱۳

 

 

اولجی سان ئیذم

 

۱۱۴

 

تجاہلِ عارفانہ: یعنی جان بوجھ کر انجان بننا، اس نظم میں ادبی، علمی، اور عرفانی جتنی خوبیاں مجتمع ہوئی ہیں، ان میں ایک تازہ ترین خوبی بار بار یہ بھی جھلک رہی ہے کہ اس کی ردیف (بما؟ بییم) میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ تجاہلِ عارفانہ سے کام لیا گیا ہے، جس کی بدولت نظم میں ایک نرالی ادبی جدّت پائی جاتی ہے، یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ بروشسکی میں “بم” (وہ (مرد) تھا) سے سوالیہ کیلئے: بما (کیا وہ (مرد) تھا؟ ) ہوتا ہے، اور “بییم” مخفف ہے “بہ ہییم” (میں کیاجانوں؟ ) کا، چنانچہ بما

سوال ہے، اور بییم جواب، مگر یہاں یہ جواب ہر بار تجاہل کو ظاہر کر رہا ہے۔

 

۱۔ میں نے خواب میں ایک عجیب آفتابِ عالمتاب کو دیکھا، کیا یہ نورِ خداوندی کا کوئی جلوہ تھا؟ میں اس بھید کو کیا جانوں، اس سورج کے ظاہر و باطن میں بے شمار آیاتِ قرآنی درج تھیں، تو کیا وہ ہمارے قرآنِ نورانیّت کا کوئی ظہور ہی تھا؟ میں اس راز کو کیا جانوں۔

۲۔ کل لشکرِ غیبِ سماوی کے ساتھ ایک بادشاہ کا درودِ مسعود ہوا تھا،

 

۱۱۶

 

اسکی شان و شوکت بڑی عجیب وغریب تھی، آیا یہ ممکن ہے کہ ایسی تشریف حضرتِ شاہِ مردان کی ہو؟ مجھے معلوم نہیں۔

 

۳۔ دنیائے عشق کے تمام باشندے بس اسی محبوبِ جان کی طرف قلب کو متوجہ کئے ہوئے تھے، آیا جہان بھر کے عاشقوں کا ایسا قبلہ دراصل ہمارا ہی جانان تھا؟ میں کہاں اور یہ سرِ عظیم کہاں۔

 

۴۔ اس کے دوستدار عشق و محبت کی سیڑھیوں سے چڑھتے ہوئے عالمِ علوی میں پہنچ رہے تھے، تو کیا اس ارتقاء کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ چراغِ ہدایت اپنے دوستوں کے دلوں میں جاگزین وضوفگن تھا؟ یہ معرفت میری رسائی سے بالا تر ہے۔

۵۔ نورانی محفل میں محبانِ مولا جتنے بھی تھے، وہ سب کے سب مست و مدہوش ہو گئے تھے، آیا اس کا سبب یہ تھا کہ وہاں (ان کی نگاہ میں) آبِ کوثر یعنی نورانیت کے پانی کا ساقی جو ماہِ خوبان ہے، وہ جلوہ گر تھا؟ میں ناچیز کیا جانتا ہوں۔

 

۶۔ میں اس کے جلوؤں کے عجائب و غرائب کو دیکھ کر دریائے حیرت و مدہوشی میں ڈوب رہا ہوں، یہ صاحبِ کمالات وکرامات کون تھا؟ اللہ تعالیٰ کے نورِ اقدس کا مظہر اور اس کے سرِ عظیم؟ یہ مجھے معلوم نہیں۔

 

۷۔ تم نے میرے محبوبِ جان، کانِ جواہر، اوربحرِ گوہر زا (موتیوں کو پیدا کرنے والا سمندر) کو دیکھ لیا نا؟ کیا سچ مچ ہمارا خزانۂ علم، سرچشمۂ نور، اور گنجِ مخفی یہاں آیا تھا؟ مجھ خاکسار کو علم نہیں۔

 

۸۔ طلوعِ فجر سے قبل میں نے دل کی روشنی اور بے پناہ شادمانی کے عالم میں ایک سرِ باطن کو دیکھا، کیا ایسے میں وہ تاجدارِ ملکِ ولایت میرے

 

۱۱۷

 

دل میں مہمان تھا؟ اس بندۂ حقیر سے کیا پوچھنا۔

 

۹۔ میں نے اپنے دل کی معموریت و آباد ی کا نظارہ کیا، یہاں کا ہر درخت اور ہر پھول بدرجۂ انتہا جاذبِ نظر اور دلکش ہوا کرتا ہے، کیا اس کا پس منظر یہ نہیں کہ باغاتِ روح کو آراستہ و پیراستہ کرنے والا باغبان ہی میرے دل کو معمور کرتا رہا ہے؟ اس خام و ناتمام سے کیا پوچھتے ہو۔

 

۱۰۔ اس کا دیدارِ شیرین میرے دردِ دل کے لئے دوائے کلّی ہے، اور اس کا ہجر علتِ قلب کا باعث، اگر ایسا ہے تو کیا وہ طبیب جو میرے لئے آسمان سے نازل ہوا بذاتِ خود ہر درد کے واسطے دوا تھا میں اس بات سے لاعلم ہوں۔

۱۱۔ روح میں ایک لطیف کائنات تھی، اوراس کا ایک علمی آسمان تھا، کیا یہ درست ہے کہ دین کا عظیم المرتبت بادشاہ بہ نفسِ نفیس وہ عقلی آسمان تھا؟ مجھے یہ راز کیسے معلوم ہو سکتا ہے۔

 

۱۲۔ علم کے پانی کی فراوانی اور ہمہ رسی کی بدولت احباب کی روحانی جاگیریں آباد ہو رہی ہیں، آیا  اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہمارا علیٔ زمانؑ خود ہی دریائے علم ہے؟ مجھ ناچیز قطرے کو دریائے علم کی کیا خبر۔

 

۱۳۔ آئینۂ روح میں قرآنِ مجید کا ایک مکمل عکس جلوہ افروز تھا، جو حیّ و گویا تھا، تو کیا ہمارے زمانے کا بادشاہ خود ہی وہ نورانی فرقان نہ تھا؟ یہ بندۂ کمترین کیا جانے۔

 

۱۴۔ ایک نورانی شہسوار نے غیب و نادیدہ راہوں سے آ کر تمام روئے زمین کا دورہ کر لیا ہے، کیا وہ بہادر اور کامل شخص حضرت علیؑ تھا، جو حیدرِ صفدر ہے؟ یہ راز میرے بس کی بات نہیں۔

 

۱۱۸

 

۱۵۔ اس کی تشریف آوری سے عاشقوں کا دین اور ایمان کامل اور منور ہو رہا ہے، خداوندا! یہ تیرا کتنا بڑا کریمانہ معجزہ ہے! اے دل کیا وہ (معشوقِ حقیقی) بذاتِ خود نورِ ایمان تھا؟ اس عقلِ جزوی سے کیا پوچھنا ہے۔

 

۱۶۔ کل وہ (محبوب) عوالمِ روحانیّت کی سلطنتوں کو اپنے ساتھ لیکر وارد ہوا تھا، وہ ایک انتہائی سخی بادشاہ تھا، اسی مناسبت سے یہ سوال  ہے کہ آیا وہی حضرت ہمارا اپنا دینی سلطان تھا؟ بادشاہ کا راز اس ناچار غلام کو کیامعلوم۔

 

۱۷۔ جس طرح طلوعِ آفتاب سے پیشتر اس کی بالواسطہ روشنی پھیلنے لگتی ہے، اسی طرح اس کی تشریف آوری سے قبل ہی دوستوں نے اپنے دل میں باغِ بہشت کا دل آویز منظر دیکھا، اگر ایسا ہے تو اس کو دیدۂ عقل سے دیکھنا ضروری ہے کہ شاید وہ رضوان فرشتہ ہو؟ واللہ اعلم

۱۸۔ میں نے مشاہدہ کیا کہ میرے قلب کی رحل پر ایک نورانی قرآن رکھا ہوا تھا، تو کیا اے جانِ جان! اے یارِ جانی! تو خود ہی قرآنِ پاک کا یہ معجزۂ پُرحکمت اور نورِ معرفت تھا؟ یہ راز سربستہ ہے۔

 

۱۹۔ کیا یہ امرِ واقعی ہے کہ ایک عظیم فرشتۂ ارضی تمہارے لئے لاتعداد رحمتیں لیکر آیا تھا؟ جس کو حاضرینِ مجلس نے دیکھا، آیا وہ ہمارا عظیم الشّان بادشاہ نہ تھا؟ بہ ھییم یعنی میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔

 

۲۰۔ اے نصیرؔ! توجو دین کے محلِ شاہنشاہی کا غلام ہے، لیکن تیری یہ نظم بڑی عجیب و غریب حکمتوں سے مملو ہے، اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ آیا ملکِ چین میں کہیں تجھے دین کے لقمانِ حکیم نے بطریقِ راز اور رمزوکنایہ حکمت کی تعلیم دی تھی؟ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

 

۱۱۹

 

نوٹ: مذکورۂ بالا نظم ۴جمادی الاوّل۱۴۰۹ھ؍ ۱۵دسمبر ۱۹۸۸ء میں تیار کی گئی تھی، جبکہ جمعرات کا دن تھا، اور شبِ جمعہ ٹیکری پر شمالی علاقہ جات کے اسماعیلیوں کی ایک عظیم الشّان محفلِ روحانی منعقد ہوئی تھی، میرے عقیدے میں صرف ایسی مجالس ہی مومنین کو دنیوی افکار کی الجھنوں سے نجات دلا سکتی ہیں، پس خوش نصیب مومن وہی ہے، جو مذہبی محفلوں کو بہت بڑی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے کہ ہم میں سے ہر شخص دین کی کسی چیز کو عظیم سمجھتا ہے یا حقیر؟ اگر دین کی بعض چیزیں عظیم حکمتوں کی حامل ہونے کے باوصف چھوٹی چھوٹی لگتی ہیں، تو یہ حضرتِ موسیٰؑ کے بابِ صغیر (چھوٹا دروازہ، ۰۲: ۵۸)  کی طرح ہیں جس سے جھکتے ہوئے داخل ہو جانے کا حکم تھا، اس کا اشارہ یہ ہے کہ خدا کے لئے عشق یا عقیدہ کے کسی درجے میں جھکنا  ضروری ہے، اور جو شخص نہ جھکے تو اس کو جھکایا جائیگا۔ والسلام۔

 

نصیرالدین نصیرؔ ہونزائی

کراچی، ۹جمادی الاول ۱۴۰۹ھ

۲۰ دسمبر ۱۹۸۸ء

 

۱۲۰

 

توصیفِ حضرتِ حکیم پیر ناصرِ خسرو (ق۔ س)

کتب میر بِرکرک اوسای

 

۱۲۱

 

ترجمہ:

۱۔ (حکیم ناصرِ خسرو) اپنے وقت کا پیرِ کامل تھا (اسی مرتبت میں) اس نے ہمارے لئے کتابیں بطورِ خزائن چھوڑ دی ہیں، وہ (حضرتِ امامؑ کے) نور سے واصل تھا (اس حیثیت میں) اس نے ہمیں کتابوں کے خزانے رکھ دیئے ہیں۔

 

۲۔ وہ علم و دانش کی ایک کائنات تھا، ایک عظیم فرشتہ اور ایک نورانی ہستی تھا، ہر مرید کی روح کے لئے ایک چشمۂ آبِ حیات تھا، جس نے ہمارے لئے خزائنِ کتب چھوڑ دیئے ہیں۔

۳۔ وہ بہت سے علوم سے آراستہ تھا، اس حکیم نے بے پایان حکمت حاصل کر لی تھی، اسی وجہ سے اس نے کیا خوب کتابیں تصنیف کی ہیں جو ہمارے لئے بطورِ خزائن چھوڑ دی ہیں۔

 

۱۲۳

 

۴۔ وہ امامِ عالی مقامؑ کی طرف سے علم کا ایک سرچشمہ تھا، وہ حقیقت کا ایک آسمان تھا، وہ بہت سے لوگوں (یعنی اپنے تمام مریدوں) کی جانوں کی جان تھا، جس نے ہمارے لئے گنجینہ ہائے کتب چھوڑ دیئے ہیں۔

 

۵۔ اس کی گرانمایہ کتابیں گویا بازارِ لعل و گوہر ہیں، جن کی روشنی سے نورانی مسرّتیں حاصل ہوتی ہیں، جو ہمارے قلب کے لئے عقلی زیب و زینت کا باعث ہیں، اس نے (اسی درجہ کی) کتابیں ہمارے واسطے بطورِ خزائن چھوڑ دی ہیں۔

 

۶۔ (یہ انتہائی عظیم کارنامہ ازخود نہیں ہو سکتا، بلکہ) اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت، رسولِ اکرمؐ کے نورِ اقدس کی برکت، اور امامِ زمانؑ کے امرِ پاک کی حکمت سے اس نے ہمیں کتابیں بمرتبۂ کنوز رکھ دی ہیں۔

 

۷۔ مریدوں کے لئے پیرِ روشن ضمیر ہی دریائے علم ہے، کوئی شک نہیں کہ پیر علمِ اسما یعنی علمِ آدم کے بغیر نہیں ہوتا، اور جس علم و دانش کی زمانے کو ضرورت ہوتی ہے، اس میں پیرمنفرد ہوتا ہے، (ایسی تمام صفات سے متصف ہوکر) اس نے ہمیں کتابوں کے خزینے دیئے ہیں۔

 

۸۔ وہ جوانی میں بھی اور کہن سالی میں بھی مرتبۂ پیری پر فائز تھا (جبکہ وہ حجت تھا) وہ دین کے کام میں بڑا سخت اور زبردست دلیر تھا، وہ راہِ خدا کا ایک شیر تھا، جس نے ہمیں خزائنِ کتب سے مالا مال کر دیا ہے۔

۹۔ (ان کتابوں میں) خزینۂ قرآن کے درّ و گوہر بھرے ہوئے ہیں (یہ کتابیں) نورِ معرفت سے منور ہیں، اور ان میں اللہ کے سرِاعظم (اور دیگر بھیدوں) کا بیان ہے (انہی معنوں میں) اس نے ہمیں کتبِ گرانقدر کے خزانے دیئے ہیں۔

 

۱۲۴

 

۱۰۔ حق بات تو یہ ہے کہ وہ امامِ اقدسؑ کے نور کی روشنی تھا، قرآنی علم و حکمت سے واقف و آگاہ، اور دینِ قائم کی عقل کی مرتبہ رکھتا تھا، جس نے ہمارے لئے خزائنِ کتب کا قیمتی ورثہ چھوڑا ہے۔

 

۱۱۔ اس نے ایسے پہاڑ کے نیچے سے اوپر تک راستے بنا دیئے ہیں، جو بالکل سیدھا اور ناگزار تھا، اس نے شبِ تاریک میں ہمیں بہت سے چراغ روشن کر دیئے ہیں، اس نے دشت و بیابان کو باغ و گلشن بنا دیا ہے، اس نے ہمیں کتابیں بصورتِ خزائن چھوڑ دی ہیں۔

 

۱۲۔ سن لے اے شخص!ہم تو غافل تھے اسی نے ہم کو حقیقت سے آگاہ کر دیا، ہماری مردہ روحوں کے حق میں اسی نے صورِ قیامت پھونک دیا ہے، اور وہی ہے جس نے ہم پر ثمراتِ بہشت برسا دیئے ہیں، اور اسی نے ہمیں ذخائرِ کتب کے کنوز دیئے ہیں۔

 

۱۳۔ بہت سی محنت و مشقت سے گزر جانے کے بعد نامدار حجت کو سرمایۂ حکمت حاصل ہوا تھا، مگر اس مہربان نے اس ساری روحانی دولت کو جمع کر کے کتابوں کے خزانے ہمارے لئے رکھ دیئے ہیں۔

 

۱۴۔ وہ کبھی خانۂ کعبہ کے طواف میں مصروف رہتا تھا، کبھی عبادت و اعتکاف میں مشغول، اور کبھی خود کو روحانی کوہِ قاف تک رسا کر دیتا تھا، اسی موصوف و ممدوح نے کتابوں کے یہ انمول خزانے ہمیں دیئے ہیں۔

 

۱۵۔ اس کے دہنِ مبارک سے لعل و گوہر جیسی باتوں کا آبشار ایک طرف، اور دوسری طرف اس کے بابرکت قلم میں علم و حکمت کی ایسی غالب طاقت، دوستو! آؤ ہم اس باکرامت غارِ ظاہر و باطن کو دیکھیں (جس میں ہمارے پیرِ نامور پر کرامات گزرتی تھیں) حضرتِ پیر نے اپنی گرانقدر کتابوں کے

 

۱۲۵

 

خزانے ہمیں چھوڑ دیئے ہیں۔

 

۱۶۔ وہ اپنے وقت میں نورِ امامت کا دروازہ تھا، وہ یقیناً دینِ حق کا ایک اہم حصہ تھا، اور شمشیرِ جہاد کی تیز دھار تھا، جس نے ہمیں کتابوں کا بطورِ خزائن ورثہ چھوڑا ہے۔

 

۱۷۔ اگرچہ پیر گزر گیا ہے لیکن اپنے علمی کارناموں میں زندۂ جاوید ہے، کیونکہ پیر اب بھی حکیموں کا بادشاہ ہے، اب یہ راز ہم کیوں چھپائیں کہ پیر حضرتِ آدمؑ کی طر ح ہے، جس نے ہمارے لئے ذخائرِ کتب کے خزانے رکھ دیئے ہیں۔

۱۸۔ اے شخص! ہم سب کنکریاں اور وہ ایک عظیم پہاڑ ہے، وہ دریائے حقیقت (کی تیراکی اور غوطہ زنی) کا مرغابی ہے، ہمارے لئے پیر گنجِ علم و حکمت ہے، جس نے ہمیں خزائنِ کتب کا ورثہ چھوڑا ہے۔

 

۱۹۔ دیکھ لے کہ وہ ایک عجیب عقلی کوہِ طور ہے! دیکھ لے کہ وہ نورِ امامت کا ایک ذیلی نور ہے! دیکھ لے کہ وہ روحِ کلی کے ظہورات میں سے ایک عجیب ظہور ہے! جس نے ہمارے لئے کتابوں کے گنجینے چھوڑ دیئے ہیں۔

 

۲۰۔ ہم سب کی طرف سے اس سردارِ علم وحکمت پر سلام ہو! اس (روحانی اور عرفانی) بھیدوں کے خزانے پر سلام ہو! ہمارے (شفیق و مہربان اور) غمخوار پیر پر سلام ہو! جس نے ایسی پُر مغز کتابوں کے خزانے ہمارے لئے چھوڑدیئے ہیں۔

 

۲۱۔ یہ حقیقت ہے کہ نصیرؔ الدین ہمارے پیرِ نامدار کا (بالواسطہ) شاگرد ہے،  اسی وجہ سے یہ اس کے علم وحکمت کے درِ دولت پر ہمیشہ حاضر رہتا ہے، اور وہ اس نعمت کے لئے ہزار بار شکر گزار ہے کہ پیر نے

 

۱۲۶

 

ہمارے لئے اپنی گرانمایہ کتابوں کے عظیم خزانے رکھ دیئے ہیں۔

 

نوٹ: مذکورۂ بالا نظم بہت بڑی تاریخی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ یہ نامدار طریقہ بورڈ کے اس عظیم الشّان سیمینار میں پڑھی گئی تھی، جو منگل ۱۷؍ ستمبر۱۹۹۱ء کو قریۂ حیدرآباد (ہونزہ) میں حکیم پیر ناصر خسرو (ق۔ س) پر منعقد ہوا تھا۔

 

۱۲۷

 

شکرو منش یا خدا

(بموقعِ تشریف آوریٔ امامِ زمانؑ)

 

۱۲۸

 

ترجمہ:

۱۔ امن و سلامتی کا بادشاہ آرہا ہے، یااللہ تیرا شکر ہے، وہ محبوب، محبت اور عشق کی قیامت بن کر آرہا ہے، خدایا تیرا شکر ہے۔

 

۲۔ ہم سب کو حضرت (امامؑ) کا دیدارحاصل ہونے والا ہے، انوار کی مسرت و شادمانی میسر ہونے والی ہے، رحمتوں اور برکتوں کا دربار منعقد ہونے والا ہے، یا اللہ تیرا شکر ہے۔

 

۳۔ ایک نورانی بہار آ رہی ہے، کوئی یارِ جانی بہشت سے آرہا ہے، ایک شہسوار عالمِ غیب سے ظاہر ہو رہا ہے، یا اللہ تیرا شکر ہے۔

 

۱۳۰

 

۴۔ دیکھ لے کہ وہ میرے دل میں ایک (سدا بہار) گلاب ہے، دیکھ لے کہ وہ شرابِ عشق (بن کر میری ہستی پر محیط) ہے، دیکھ لے کہ وہی (میرے دماغ میں) کتابِ عقل بھی ہے، یا اللہ (ان عظیم نعمتوں پر) تیرا شکر ہے۔

 

۵۔ (وہ ہمارے) نورانی باغوں کا باغبان ہے، عاشقوں کی جان کی جان ہے، وہ ایسا آسمان ہے کہ اس میں آفتابِ عقل طلوع ہو جاتا ہے، یا اللہ تیرا شکر ہے۔

 

۶۔ اب (موسمِ سرما کے بعد) سورج شمال کی طرف حرکت کر رہا ہے (جس کی وجہ سے) بیدِ مُشک سبز پوش ہو رہا ہے، اور درختوں پر پرندے نغمہ سرا ہیں، یا خدا تیرا شکر ہے۔

 

۷۔ اب آلِ نبیؐ (یعنی امامِ زمانؑ) کی تشریف آرہی ہے، جو ہماری آنکھوں کی روشنی اور علیؑ کا نور ہے، جو وقت اور زمانے کا سخی ہے، خدایا تیرا شکر ہے۔

۸۔ میرے محبوب کی محبت ازبس لذیذ ہے، اس کی خوشبو کا عطربہت ہی شیرین ہے، اس کی عظمت کے پہاڑ کا چشمہ (یعنی علم) نہایت میٹھا ہے، خداوند تیرا شکر ہے۔

 

۹۔ علم کا سمندر آرہا ہے، روحانی لشکر کا افسر تشریف لا رہا ہے، ساقیٔ کوثر (آبِ کوثر پلانے والا) آرہا ہے، یا خداوند تیرا شکر ہے۔

 

۱۰۔ اہلِ محبت (دیدار کیلئے) بیقرارتھے، ان کو بہت پہلے سے انتظار تھا، اب ہمارا جانی محبوب آرہا ہے، یا اللہ تیرا شکر ہے۔

 

۱۱۔ اب ہمارے دل کے (روحانی) باغ شاداب ہو جائیں گے، جان

 

۱۳۱

 

کی کیاریاں تروتازہ ہو جائیں گی، اور چراغ ہائے عقل تابان و درخشان ہوں گے، پروردگار تیرا شکر ہے۔

۱۲۔ ابوابِ نور کو ہمارے روحانی باپ نے ہمیشہ ہمیں کھول کے رکھا ہے، تو میں ایسے سخی کو کس طرح بھول سکتا ہوں، اے اللہ تیرا شکر ہے۔

 

۱۳۔ وہ وہ مقدّس کوہِ طور ہے، جو میرے دل میں نظر آیا تھا، وہ آیاتِ نور کا مصداق ہے، وہ عشق کی بانسری والی زبور ہے، یا خداوند تیرا شکر ہے۔

 

۱۴۔ اب میرے قلب میں (خوشخبری کا) کوئی تار آئیگا، عالمِ دل سے ستار جیسا کوئی ذکر سنائی دیگا، اور محبوبِ روحانی تشریف فرما ہو رہا ہے، خدایا تیرا شکر ہے۔

 

۱۵۔ (اے عاشق!) اب تو روٹھ نہ جا کیونکہ معشوق آرہا ہے، اب ہماری ہی عزت کی نوبت آرہی ہے، اور عشق و محبت کی بارش (یعنی گریہ و زاری) ہونے والی ہے، یا خداوند تیرا شکر ہے۔

۱۶۔ میں (اس کے دربار کا) پا انداز اور فرشِ راہ ہوا ہوں، اس کے مقدس عشق میں جل جل کر سرخ آنگارا ہو چکا ہوں (اور تعجب ہے کہ اسی سے) میں اس کے پہاڑ کا باز ہو گیا ہوں، اے اللہ تیرا شکر ہے۔

 

۱۷۔ اس نے مجھے (اپنے دستِ مبارک سے) نورانی غذا کھلا دی ہے، اس نے مجھے آبِ حیات پلا دیا ہے، اور اس نے مجھے خلعتِ علمی پہنایا ہے، خدایا (ایسی بیشمار نعمتوں پر) تیرا شکر ہے۔

 

۱۸۔ اس نے مجھے عالمِ روحانی کا مشاہدہ کرایا ہے، خزینۂ قرآن سے واقف کر دیا، اور اسی نے مجھ پر اسرارِ سر بستہ منکشف کر دیئے ہیں، یا اللہ تیرا شکر ہے۔

 

۱۳۲

 

۱۹۔ امامؑ امرکا مالک ہے، امامؑ کمندِ نورانی (خدا کی رسی) ہے، اور امامؑ نورِ پنجتنِ پاک ہے، یا اللہ تیرا شکر ہے۔

۲۰۔ آیا میرے دل میں کوئی شاہنشاہ موجود ہے؟ کیا  وہی میری جان ہے اور میرا معشوق ہے؟ کیا وہ میرا محبوب ہے، جو حسینوں کا بادشاہ ہے؟ اے اللہ تیرا شکر ہے۔

 

۲۱۔ دوستو! اب ہم کثرتِ ذکر کا سہارا لیں گے، گریہ وزاری سے مناجات کریں گے، تاکہ ہم دل میں ملاقات کر سکیں، خدایا تیرا شکر ہے۔

 

۲۲۔ کیا وہ ماہِ کامل یہاں آگیا؟ جو”پیرشاہ” کے نام سے دستگیر ہے؟ جس کو دیکھ کر نصیرؔ فدا ہو جاتا ہے، خدایا تیر ا شکر ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی

۹۱؍۱۰؍۳۱

 

۱۳۳