قرآنِ پاک اسمِ اعظم میں
امامِ اوّلین و آخرین
(انتساب)
۱۔ اے نورِ عینِ من! (یعنی عزیز) مجھے یقین ہے کہ آپ علیٔ زمان صلواۃ اللہ علیہ وسلامہٗ کے علمِ باطن سے بیحد شادمان اور خرسند ہیں، کیوں نہ ہو جبکہ اسی علم میں دینِ اسلام کے اسرارِ عظیم پنہان ہیں اور اسی علم کے حصول سے اہلِ ایمان کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے، پس اے نورِ چشمِ من! آپ ان گرانمایہ حقیقتوں اور معرفتوں کو بھرپور توجہ اور شوق سے سن لیں۔
۲۔ حدیثِ شریف ہے: نَزَلَ الْقُرْاٰنُ عَلیٰ سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ یعنی قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ الاتقان میں ہے کہ اس حدیث کے معنی میں چالیس ۴۰ کے قریب مختلف اقوال آئے ہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ جن سات حرفوں پر قرآن نازل ہوا ہے وہ درجِ ذیل ہیں:
حرفِ اوّل حضرتِ آدمؑ، حرفِ دوم حضرتِ نوحؑ، حرفِ سوم حضرتِ ابراہیمؑ، حرفِ چہارم حضرتِ موسیٰؑ، حرفِ پنجم حضرتِ عیسٰیؑ، حرفِ ششم حضرتِ محمدؐ، اور حرفِ ہفتم حضرتِ قائمؑ، یہ قرآنِ حکیم کے وہ سات زندہ حروف ہیں،
۳
جن پر قرآن نازل ہوا، جس کی وضاحت اس طرح ہے:
مذکورہ حدیث میں حرف سے باطنی اور تاویلی معنی مراد ہیں، پس قرآن کے سات تاویلات ہیں: تاویلِ آدمؑ تاویلِ نوحؑ، تاویلِ ابراہیمؑ، تاویلِ موسیٰؑ، تاویلِ عیسیٰؑ، تاویلِ محمدؐ، اور تاویلِ قائمؑ، ہر تاویل سر تا سر قرآن عزیز میں پھیلی ہوئی ہے، جیسے سورۂ اسراء (۱۷: ۸۹) اور سورۂ کھف (۱۸: ۵۴) میں یہ مفہوم ہے کہ اللہ ایک ہی حقیقت کی طرح طرح سے مثالیں بیان فرماتا ہے۔
۳۔ قرآن کی روحانیّت و عقلانیّت شروع سے لے کر آخر تک ایک جیسی ہے، مگر اس کی بنیادی اور بڑی مثالیں صاحبانِ ادوار کے اعتبار سے ساتھ قسم کی ہیں، اور لازمی طور پر ان کی تاویلیں بھی سات ہیں، پس اسی وجہ سے فرمایا گیا کہ قرآن سات حرفوں (یعنی سات تاویلی معنوں) پر نازل ہوا ہے۔ چنانچہ ہم یہاں حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کی مثال کو دیکھتے ہیں کہ خداوند عالم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا:
قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا (۰۲: ۱۲۴) خدا نے (ابراہیمؑ سے) فرمایا کہ میں تم کو لوگوں کا امام (پیشوا) بنانے والا ہوں۔ یعنی نہ صرف حاضرین ہی کا امام بلکہ اوّلین و آخرین کا بھی، اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں امام کا ہونا لوگوں پر اللہ کا احسان تھا تو پھر اوّلین و آخرین پر یہ احسانِ عظیم کیوں نہ ہو، دوسری دلیل لفظِ “الناس” ہے، یعنی خدا کا حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کو لوگوں کے لئے امام بنانا،
۴
یہ لفظ درحقیقت محدود نہیں مطلق ہے، یعنی اس سے ہر زمانے کے لوگ مراد ہیں، چنانچہ اللہ جلّ جلالہٗ یہ چاہتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو نہ صرف محدود وقت کے لئے امام بنائے بلکہ حقیقت سے حجاب ہٹا کر یہ ظاہر کردے کہ اس کو اپنے آباؤ اجداد کی حیثیت میں بھی امامت عطا ہوئی تھی، اور آئندہ نسل میں بھی یہ مرتبہ ملنے والا ہے، پس یہ قرآنِ حکیم کی تیسری تاویل کی ایک روشن مثال ہے۔
۴۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے والدین کی نگاہوں میں کتنے حسین لگتے ہیں، یہ تو روضۂ آدمیّت کے دل آویز غنچے ہیں، اس لئے ان کو سب چاہتے ہیں، انارکلی ہو یا غنچۂ گل سرخ یا شگوفۂ گلِ سوری یا کچھ اور نو عروسانِ چمن (تازہ کلیاں) وہ خوش منظر اور دلکش ضرور ہیں، لیکن پیارے پیارے بچوں کی طرح ہرگز نہیں، ادارۂ عارف کے نائب صدر محیّ الدین (ابنِ شاہ صوفی ابنِ خلیفہ قدیر شاہ ابنِ حیدر محمد) کی سات سالہ بیٹی سارہ، پانچ سالہ بیٹا قدیر شاہ، اور دوسالہ بیٹی سدرہ کا ذکرِ جمیل ہے، الحمد للہ ان عزیز بچوں کی نعمت پر ان کے والدِ محترم اور دونوں فرشتہ خصلت مائیں بیحد شادمان اور شکر گزار ہیں۔
ن۔ن۔ (حبِّ علی) ھ۔
کراچی
چہار شنبہ ۱۱۔ ذی القعد ۱۴۱۵ھ
۱۲۔ اپریل ۱۹۹۵ء
۵
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سوالیہ تشویق و ترغیب
۱۔ کیا اسمِ اعظم اپنی باطنیّت و حقیقت میں ایک زندہ نور اور ایک علم و حکمت کی بولتی کائنات ہے؟ آیا یہ درست ہے کہ دراصل اسمِ اعظم کی روح و روحانیّت قرآنِ پاک ہی کی روح و روحانیّت ہے؟
۲۔ نزولِ قرآن کے کیا کیا مقاصد تھے یا ہیں؟ اور اس کا سب سے عظیم مقصد یا سب سے اعلیٰ مقصد کیا ہوسکتا ہے؟ یہاں تحصیل و تکمیلِ مقاصد کے لئے کیا کیا شرائط اور وسائل مقرر ہیں؟
۳۔ کلامِ الہٰی (قرآن) محدود ہے یا غیر محدود؟ قرآن مجید امرِ کلّ یعنی کلمۂ کُنۡ میں بھی ہے، عقلِ کلّ (قلمِ اعلیٰ) میں بھی، نفسِ کلّ (لوحِ محفوظ) میں بھی ہے، کیونکہ یہ کتابِ سماوی اور نورِ امامت بفرمودۂ رسولِ اکرمؐ اللہ وہ رسی ہیں جو بندوں کے عروج و ارتقاء اور وصال کی خاطر آسمان اور زمین کے درمیان لگائی ہوئی ہے (سَبَباً مَوْصُوْلاً مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ ۔ شرح الاخبار، جزء العاشر، ص ۴۸۱) جس کا آسمانی سرا خدا کے ہاتھ میں ہے اور زمینی سرا لوگوں کے سامنے، اس روشن بیان سے یہ یقین آیا کہ اللہ کی رسی جو قرآن اور امام کی
۷
حیثیت میں ہے اس سے کوئی بھی اعلیٰ مرتبہ جدا نہیں، نہ امرِ کُنۡ، نہ عقلِ کُلّ، نہ نفسِ کُلّ، نہ وحی کے دوسرے فرشتے، وغیرہ۔
۴۔ مذکورۂ بالا وضاحت کی روشنی میں کیا یہ حقیقت نکھر کر سامنے نہیں آتی کہ یہی رسی آسمانی سیڑھی بھی ہے اور صراطِ مستقیم بھی؟ یہی ھادیٔ برحق بھی ہے اور ہدایتِ حقہ بھی؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ جس طرح قرآنِ حکیم میں یقیناً اسمِ اعظم پوشیدہ ہے اسی طرح اسمِ اعظم میں قرآنِ عظیم لپٹیا ہوا ہو؟ کیونکہ عالمِ وحدت کی ہر چیز میں سب چیزیں جمع ہوتی ہیں۔
۵۔ اسمِ اعظم تمام اسماء سے بڑھ کر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ زندہ اور گویندہ ہے، جس سے پیغمبرؐ اور امامؑ مراد ہیں، جو جسماً، روحاً و عقلاً بے مثال ہیں، خدا کے ایسے اسمِ اکبر میں کئی بزرگ اسماء جمع ہو جاتے ہیں، لہٰذا اسمِ واحد کو قرآنِ کریم میں اسماءُ الحسنیٰ کہا گیا ہے، اسمِ اعظم کی تجلّیات، (ظہورات) میں ہر نوع کا باطنی، روحانی، عقلی، علمی، اور عرفانی حسن و جمال بدرجۂ کمال پایا جاتا ہے، اور یہ اسماءُ الحسنیٰ کی ایک مختصر تفسیر ہے۔
۶۔ اسمِ اعظم میں نہ صرف قرآن ہی پوشیدہ ہے بلکہ اس میں قیامت اور بہشت بھی پنہان ہے، جبکہ خدا کے اس نورانی نام کے ذکر میں قیامت خیز انقلاب اور روحانی و عقلانی ترقی پوشیدہ ہے، یہ عقلمندی سے سوچنے کی بات ہے کہ اگر قرآنِ حکیم اور دینِ اسلام میں اسمِ اعظم ایک مسلّمہ حقیقت ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ سب سے افضل و اعلیٰ
۸
ذکر اسمِ اعظم ہی ہے، اسی وجہ سے ارشاد ہوا:
وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۔ اور حسن و خوبی سے بھرے ہوئے (بزرگ) نام اللہ ہی کے خاص ہیں پس اُسے انہی ناموں سے پکارو (۰۷: ۱۸۰) پھر ذکر و عبادت اور گریہ و مناجات کی ہر چیز اسی وسیلے سے کیوں نہ ہو۔
۷۔ دنیا میں ہمیشہ ہر ہوشمند شخص یہی چاہتا ہے کہ اس کا کام بہ (اچھا) سے بہتر اور بہتر سے بہترین ہو، جس کے لئے وہ بہترین طریقِ کار کو ڈھونڈ لیتا ہے، چنانچہ خداوندِ قدوس نے اپنے دوستوں کے لئے دین میں عمدہ سے عمدہ اور خاص سے خاص نعمتیں رکھ دی ہیں، اے نورِ عینِ من! آپ سب عزیزان ان تمام آیاتِ مبارکہ کو خوب غور سے پڑھ لیں جو احسن اور حسنیٰ کے موضوع سے متعلق ہیں، یہ دونوں اسمِ تفضیل ۵۳=۱۷+۳۶مقامات پر ملیں گے، کیونکہ اس لفظ (احسن/حسنیٰ) میں اسمِ بزرگ یعنی اسماءُ الحسنیٰ کی تعریف و توصیف بھی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ اس حقیقت کا ثبوت بھی ہے کہ دینِ فطرت (اسلام) میں قول و فعل اور علم کے درجات ہیں، تاکہ ہر آدمی درجہ بدرجہ روحانی ترقی کرسکے۔
۸۔ اے نورِ عینِ من! کیا دینِ اسلام کا ایک پیارا نام “صراطِ مستقیم” نہیں ہے؟ کیا اِس راہِ راست پر آگے سے آگے جانے اور ترقی کرنے کا حکم نہیں ہے؟ اے عزیزانِ من! آیا قرآنِ حکیم میں یہ ارشاد نہیں
۹
ہے کہ لوگ مختلف درجوں میں ہوا کرتے ہیں (۰۶: ۱۶۵)؟ یہ بات دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے درست ہے، اے نورِ چشمِ من! قرآن و حدیث میں سیڑھی (معراج) کی مثال بڑی پُرحکمت ہونے کے ساتھ ساتھ قابلِ فہم بھی ہے، چنانچہ ایک فردِ مسلّم کی مدتِ حیات اس کے روحانی عروج کے لئے سیڑھی ہے، لیکن یہ نہیں معلوم کے اس نردبانِ آسمان پر ہر شخص کی کیا ترقی ہے، اسی طرح امتِ مسلمہ کی عمر جو قیامت تک ہے وہ اس کی ارتقائی سیڑھی ہے۔
۹۔ اگر یہ حقیقت تسلیم کرلی جائے کہ کائنات کے بے شمار ستاروں پر لطیف زندگی اور بہشت موجود ہے تو اس صورت میں روحانی سیڑھی کی مثال زیادہ قابلِ فہم ہوجائے گی، آپ قرآن پاک میں سورۂ اعراف کی آیۂ چہلم (۴۰) کو خوب غور سے پڑھ لیں، جس میں ستاروں پر بہشت کی موجودگی اور جسمِ لطیف کی سلطنت کا پر حکمت اشارہ نمایان ہے،
ترجمۂ آیت:
بیشک جن لوگوں نے ہماری آیات (ھادیٔ برحق) کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا نہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہونے پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں ہوکر نکل جائے (۰۷: ۴۰) اس آیۂ شریفہ کی عظیم حکمتوں میں سے چند یہ ہیں:
(الف) یہاں خدا کی آیات سے ھادیٔ زمان مراد ہے جس کو بہت
۱۰
سے لوگ جھٹلاتے ہیں، کیونکہ وہ تکبر کرتے ہیں، یعنی وہ اس کو بے علم اور خود کو بڑا عالم سمجھتے ہیں۔
(ب) ایسے لوگوں پر آسمانِ روحانیّت کے ابواب مفتوح نہیں ہوتے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوسکتے ہیں۔
(ج) اونٹ یہاں بڑائی کی علامت ہے، سوئی امام کی مثالوں میں سے ہے کہ وہ اہلِ ایمان کے لئے جامۂ جنت (جسمِ لطیف) تیار کرتا ہے، پس اونٹ کا سوئی کے ناکہ میں ہوکر نکل جانا یہ ہے کہ ہر نیک بخت شخص دعوتِ حق کے لئے اپنی خودی اور بڑائی کو قربان کردیتا ہے تاکہ اس کی روح کو ذرات بناکر امام صلوات اللہ علیہ کے باطن اور عالمِ ذرّ میں داخل کردیا جائے۔
(د) دعوتِ حق قبول کرنے کے بعد عاجزی بھری ہوئی اطاعت، اور علم و عبادت کے نتیجے میں آسمانی سیڑھی (معراج) اور فتحِ ابوابِ سماء نصیب ہوجاتی ہے۔
۱۰۔ اے نورِ چشمِ من! بہشت مکانی بھی ہے اور لامکانی بھی، تو کیا سورۂ اعراف کی آیۂ چہلم ۴۰ (۰۷: ۴۰) سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ستاروں پر مکانی بہشت آباد ہے، جہاں جثہ ابداعیہ کے لئے ہر گونہ نعمتیں مہیا ہیں؟ یقیناً یہی حقیقت ہے، کیونکہ اس پر قرآن و حدیث اور عقل کی بہت سی دلیلیں ہیں، جیسے سورۂ ذاریات (۵۱: ۲۲) میں ارشاد ہے: وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ ۔ اور تمہاری روزی
۱۱
اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ آسمان میں ہے۔ اس کا اطلاق روحانی آسمان پر بھی ہوجاتا ہے۔
۱۱۔ اے دوستانِ عزیز! قرآنِ پاک کی زندہ روح و روحانیّت کی معرفت اسماءُ الحسنیٰ کے سوا ممکن ہی نہیں، یعنی اسمِ اعظم ہی ہے جس کے وسیلے سے اہلِ ایمان عالمِ باطن کا مشاہدہ کرسکتے ہیں، جب حضرتِ ربّ کی معرفت ممکن ہے تو پھر قرآن کی معرفت بھی ممکن ہی ہے، لیکن اللہ کو اس کے بزرگ ترین اسم سے اصولی طور پر یاد کرنے کے ساتھ ساتھ علم الیقین کی بھی سخت ضرورت ہے۔
۱۲۔ جب یہ روشن ترین اور فیصلہ کن حقیقت دل نشین ہوگئی کہ رسولِ اکرمؐ کے بعد زمانے کا امامؑ ہی خدا کا اسمِ اعظم ہوا کرتا ہے توپھر مولائے برحق علیہ السّلام کا عطا کردہ اسمِ اکبر آپ کے حق میں امامِ اقدس و اطہرؑ کا نور ہوگا، اور ایک نہ ایک دن یہ نور حدِّ قوّت سے حدِّ فعل میں آئے گا، پھر اس میں سے گونا گون ظہورات و معجزات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا، اے عزیزان! آپ میں سے بعض شاید اس حکمت کو جانتے ہوں گے کہ حضرت عیسیٰؑ خدا کا کلمہ (اسم) تھا جو مریمؑ کو برائے ذکر دیا گیا اور آن جنابؑ اللہ کی طرف سے ایک خاص روح کی حیثیت سے تھا (۰۴: ۱۷۱) اس کا اشارہ یہ ہوا کہ امامِ عالی مقامؑ کی جانب سے عطا شدہ اسمِ اعظم شروع شروع میں ایک لفظ /کلمہ ہوتا ہے مگر بعد میں اس سے روحِ قدسی کا ظہور ہوتا ہے، اور وہ حضرت امامؑ کا
۱۲
نور اور قرآنِ ناطق ہے، الحمدللّٰہ ربّ العالمین۔
ن۔ن۔(ح۔ع۔) ھ۔
کراچی
روزِ شنبہ ۲۸۔ذی القعد۱۴۱۵ھ
۲۹۔ اپریل ۱۹۹۵ء
۱۳
قرآنِ پاک اسمِ اعظم میں
یہ نکتہ روشن حقیقتوں میں سے ہے کہ قرآنِ مقدّس کا مقصد و منشاء علم و حکمت اور رشد و ہدایت ہے، یعنی قرآنِ مجید دنیا میں اِس لئے بھیجا گیا ہے کہ لوگ اِس کے ذریعے خدا و رسولؐ اور اولوالامرؑ کی اطاعت کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو جس میں جسم و جان کی سلامتی اور دونوں جہان کی صلاح و فلاح پوشیدہ ہے۔
آپ فراخدلی سے سوچیں کہ آیا قرآن کلامِ الہٰی ہونے کی حیثیت سے محدود ہونا چاہئے یا غیر محدود؟ اس سوال کا تسلی بخش جواب آپ کو سورۂ لقمان (۳۱) کی آیت نمبر ۲۷ (۳۱: ۲۷) اور سورۂ کہف (۱۸) کی آیت نمبر ۱۰۹ (۱۸: ۱۰۹) سے ملے گا، نیز آپ خوب سوچ کر یہ بتائیں کہ جو کچھ خداتعالیٰ کے پاس ہے آیا وہ کبھی ختم ہوجاتا ہے، مثلاً قرآن، جو اِس ظاہری دنیا میں نازل ہوا ہے؟ کیا یہ اب اللہ کے حضور میں بالکل اُسی طرح موجود نہیں، جیسے یہ ازل میں تھا؟ اس بارے میں قرآنِ کریم کا ارشاد تو یہ ہے کہ جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ تو ختم
۱۴
ہوجاتا ہے، اور جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ باقی رہتا ہے (۱۶: ۹۶) اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگرچہ قرآنِ مقدس کا نورانی ظہور سب سے پہلے قلمِ الہٰی کی صورت میں امرِ “کُنۡ” سے ہوا، لیکن اس کے باؤجود کلمۂ کُنۡ یعنی امرِ کُلّ میں قرآن کی امری کیفیت و اصلیت ویسی کی ویسی باقی و برقرار تھی، کیونکہ امرِ باری تعالیٰ ازلی و ابدی طور پر ممکنات کا سرچشمہ ہے، جو اشیائے ممکنہ سے کبھی خالی نہیں ہوتا۔
پھر قلمِ الہٰی کے ذریعے قرآنِ مجید لوحِ محفوظ میں درج ہوا جیسا کہ اس مقام پر درج ہونا چاہئے، لیکن کوئی دانشمند ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا کہ اب قلمِ قدرت میں قرآن نہیں رہا، اِس وجہ سے کہ وہ لوحِ محفوظ میں نازل ہوا ہے، اہلِ دانش کے تصوّر کے مطابق قلمِ الہٰی کی ذات میں قرآن بلا کم و کاست اِس معنیٰ میں موجود ہے کہ وہ قلم عقلی وجود رکھتا ہے، یعنی وہ عقلِ کلّی ہے، اور جب عقل کے سرچشمے سے کوئی چیز خارج ہوجاتی ہے تو اس کی کیفیت مادّیت کے برعکس ہوتی ہے، یعنی اس کی جگہ خالی نہیں ہوتی، بلکہ وہی چیز اصلاً وہاں پر بھی موجود ہوتی ہے، عقلِ کُل کی مثال قلم سے اس لئے دی گئی ہے کہ قلم میں لکھنے کی صفات کا جو خزانہ ہے وہ خرچ ہوتے ہوئے بھی کم نہیں ہوتا۔ ایک دفعہ قلم سے جو کچھ لکھا جائے وہی اگر چاہیں تو ہزار
۱۵
بار بھی لکھا جاسکتا ہے، اِس مثال سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ قرآنِ پاک نہ صرف اِس ظاہری دنیا میں موجود ہے، بلکہ یہ کلمۂ کُنۡ، قلمِ الہٰی اور لوحِ محفوظ میں بھی ہے۔
قرآنِ حکیم کی امری کیفیت و حقیقت اور عقلی وجود کے بیان کے بعد اس کی روحانی تحریر کا ذکر آتا ہے، جو لوحِ محفوظ میں ہے، اور اس کے لئے سورۂ بروج (۸۵) کی اِن دو پُرحکمت آیتوں کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ:
بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ (۸۵: ۲۱) فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (۸۵: ۲۲)
بلکہ وہ ایک باعظمت قرآن ہے جو لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
ظاہر ہے کہ قرآن لوحِ محفوظ میں روح اور روحانیّت کے طور پر درج ہے نہ کہ ظاہری اور مادّی تحریر میں، کیونکہ لوحِ محفوظ نفسِ کُلّی ہے، چنانچہ اِس مقام پر ہم قرآن کے اِس روحانی وجود کو روحانی تحریر بھی کہہ سکتے ہیں، بہر حال یہ حقیقت تو واضح ہوگئی کہ قرآن روحانی طور پر لوحِ محفوظ میں ہمیشہ کے لئے موجود ہے، جبکہ لوحِ محفوظ کا مطلب کائناتی روح کا تختہ ہے، جس کے اندر نہ صرف قرآنِ مجید ہمیشہ کے لئے محفوظ ہے، بلکہ اس میں ہر چیز کی دائمی نگہداشت
۱۶
کی گئی ہے۔
اگر آپ کو اِس امرِ واقعی کے بارے میں سوال ہو کہ کس طرح قرآنی آیات کائناتی روح میں مکتوب و محفوظ ہیں، تو سورہ نمبر ۴۱ کی آیت نمبر ۵۳ (۴۱: ۵۳) میں ذرا غور و فکر کیجئے، جس کا مفہوم و مطلب یہ ہے کہ اس وسیع کائنات میں بھی اور نفوسِ انسانی میں بھی اللہ تعالیٰ کی آیات پوشیدہ ہیں جن کو عوام الناس دیکھ نہیں سکتے، لیکن اس کے باوجود ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے، کہ اس میں خدا ان کو اپنی یہ نشانیاں دکھادے گا، اس سے ثابت ہوا کہ کائنات کے ظاہر و باطن میں اور خود انسان کی ذات میں ربِّ کریم کی آیات (نشانیاں) درج ہیں، مگر خدائی تحریر انسانوں کی تحریر سے بالکل مختلف اور انتہائی اعلیٰ ہے، اور یہ بھی جاننا چاہئے کہ خداوند تعالیٰ کی تمام آیات، خواہ وہ آفاق میں ہوں یا انفس میں، قرآن ہیں، اگرچہ وہ آیات نشانیوں کے معنی میں ہوں یا زندہ معجزات کے معنی میں، جبکہ قرآن نشانۂ الہٰی بھی ہے اور معجزۂ قدرت بھی، یہ ایک واضح ثبوت ہے جو لوحِ محفوظ میں قرآنِ مجید کی روحانی تحریر کے بارے میں پیش کیا گیا۔
مزید برآن یہاں پر ایک عام فہم مثال بھی درج کی جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب ایک دانشور کوئی کتاب تصنیف کرتا ہے، تو وہ کتاب زمانۂ قدیم کی صورتِ حال کے مطابق بیک وقت کم سے کم چار
۱۷
مقامات پر موجود ہوتی ہے، یعنی دانشور کے دل و دماغ میں بھی، قلم میں بھی، دوات میں بھی اور کتاب کے صفحات پر بھی، ہر چند کہ کتاب کی شکل و صورت ان چاروں مراحل میں مختلف ہوتی ہے، چنانچہ کتاب مصنف کے دل و دماغ میں الگ الگ درجات کے افکار و خیالات کی حیثیت سے ہے، قلم میں حروف سے متعلق طرح طرح کی حرکات کی صورت میں ہے، دوات میں نقاطِ علم و حکمت کی وحدت کے طور پر ہے اور صفحات پر معیّن حروف کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے، سو اگر کوئی جلالی فرشتہ کتاب کی تکمیل سے پہلے یا اس کے بعد نورِ خداوندی کی روشنی میں دانشور کے ذہن و ضمیر پر نظر ڈالے تو اس کو فکری صورت میں وہی کتاب ملے گی جو خارجی طور پر معرضِ وجود میں آنے والی ہے یا وجود میں آچکی ہے، اسی طرح وہ قلم کی تمام حرکتوں کا بھی روحانی اور علمی مشاہدہ کرکے پوری کتاب کی باتیں بتا سکتا ہے، اور وہ خدا کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے سیاہی کے باطن سے بھی کتاب کی ساری تفصیلات پڑھ سکتا ہے، کہ کس طرح نقطۂ واحد نے____جو ہر بار دوات سے قلم کی نوک پر منتقل ہوتا رہا ____ اپنے مختلف ظہورات کی بدولت سارے حروف کی تشکیل کی۔
مذکورۂ بالا چار صورتوں کے علاوہ دورِ جدید کی ایسی بہت سی
۱۸
حقیقتیں ہیں، جن کی مدد سے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی کتاب نہ صرف ظاہری اور نمایان تحریر میں موجود ہوسکتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اُس کی اور بھی بہت سی صورتیں ہیں، جن میں سے بعض میں وہ بولتی ہے اور بعض میں خاموش ہے، مثلاً گراموفون کو لیجئے جس میں ریکاڑڈ ہونے کے بعد آپ چاہیں تو کتاب بولتی ہے ورنہ خاموش رہتی ہے، اور اس میں ایک طرح سے محفوظ بھی ہے، ٹیلیفون، وائرلیس اور ریڈیو پر غور کیجئے کہ آیا یہ چیزیں ایک قسم کی کتاب کا کام دے سکتی ہیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ ٹیپ ریکارڈر بھی کتاب کا کام دیتا ہے، سینما اور ٹیلی وژن تو روحانیّت کی زندہ کتاب کی ایک بہترین مثال ہیں، مائیکرو فلم اور فش فلم خود ایک قسم کی خاموش کتاب ہیں، لیکن یہ سب چیزیں بڑی عجیب و غریب ہونے کے باؤجود ظاہری، مادّی اور دنیاوی ہیں، اور یہ سب کچھ ایسے خام و ناتمام انسانوں کی کوششوں کی پیداوار ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے سامنے ہیچ ہیں، تو کیا پھر بھی ہم قلمِ قدرت اور لوحِ محفوظ کو مادّی اور انسان کی بنائی ہوئی چیزوں کی طرح عقل و جان کی صفاتِ عالیہ سے عاری سمجھیں؟ یا یہ کہ ہم قلم اور لوح کو دو عظیم فرشتے مانیں، جو عقلِ کُلّی اور نفسِ کُلّی اور محمدؐ و علیؑ کے نور ہیں؟ سو یہ حقیقت ہے کہ قلم نورِ محمدیؐ کا نام ہے اور
۱۹
لوحِ محفوظ نورِ علیؑ ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ قلم و لوح اور قرآن کی روح و روحانیّت کے متعلق علم الیقین حاصل کرنے کے لئے مذکورۂ بالا مادّی مثالوں سے بہت کچھ مدد مل سکتی ہے، لیکن یہاں یہ نکتہ بھی خوب یاد رہے کہ عقل و روح کی حقیقت اور مادّہ کی کیفیت کے درمیان آسمان زمین کا فرق پایا جاتا ہے، تاہم ظاہر سے باطن میں جانے کے لئے اور ادنیٰ کی مثال سے اعلیٰ کی حقیقت سمجھنے کے لئے یہی ایک راستہ ہے، تاکہ ہم قرآن کی روحانیّت و نورانیّت کی شناخت کے سلسلے میں علم الیقین سے عین الیقین کی طرف قدم بڑھا سکیں، جہاں پر کل حقیقتوں کا براہِ راست مشاہدہ ہوتا ہے، اور اسی طرح تمام عقلی اور روحانی چیزوں کو یقین کی آنکھ سے دیکھنے اور پہچاننے کا نام معرفت ہے، جس میں قرآن کے تمام درجات کی معرفت بھی شامل ہے، لیکن بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف خدا ہی کی پہچان معرفت ہے، اگر یہ بات مان لی جائے تو اس کے معنی یوں ہوں گے کہ ازل، ابد، لامکان، مکان، لازمان، زمان، قلم، لوح، روح، جنت، دوزخ اور کائنات وموجودات کی بقا و فنا کا مشاہدہ اور پہچان خدا کے دیدار اور معرفت سے زیادہ مشکل ہے، حالانکہ یہ تصوّر درست نہیں، اور
۲۰
درست یہی ہےجیسا کہ بتایا گیا کہ تمام معقولات کو عینِ یقین سے دیکھنے اور پہچاننے کا نام معرفت ہے۔
سورۂ زخرف کی آیت نمبر۳ و نمبر ۴ کا ارشاد ہے کہ:
اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (۴۳: ۰۳)
وَاِنَّهٗ فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌ (۴۳: ۰۴)
ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ (اے عرب) تم (آسانی سے) سمجھ لو اور وہ ہمارے پاس ام الکتاب میں بڑا عالیقدر اور حکمت والا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ قرآن جہاں ام الکتاب میں خدا کے حضور میں ہے وہاں اس سے بھی زیادہ عالی شان اور پُرحکمت ہے، یعنی کہ وہ روحانی تحریر اور خدائی زبان میں ہے جو حکمتی زبان ہے، بالفاظِ دیگر وہ زندہ اور گویندہ ہے، اور قرآن جس سر زمین میں نازل ہوا وہاں عربی زبان میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا پہلے سے یہی قانون رہا ہے کہ اُس نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا ہے (۰۴: ۱۴) چنانچہ ظاہری اعتبار سے زمانۂ رسولؐ کے عرب مسلمانوں کو مسلم قوم کی مرکز کی حیثیت حاصل ہے اور تمام مسلمان ایک ہی قوم ہیں اور ان کی قومی اور ملی لسان عربی ہے۔
حضرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ ام الکتاب ظاہر میں سورۂ فاتحہ کا نام ہے اور باطن میں ام الکتاب علیؑ ہیں، اور
۲۱
یہ دونوں حقیقتیں اپنی اپنی جگہ پر بجا اور صحیح و درست ہیں، لیکن یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ سورۂ الحمد کے احاطے میں جس قدر الفاظ سموئے ہیں وہ سب کے سب صرف اسی سورہ کے لئے ہیں اور باقی قرآن کا حصّہ اس کے بعد سینکڑوں صفحات پر پھیلا ہوا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم سورۂ فاتحہ میں تمام قرآن سموجانے کا تصوّر کریں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح کسی درخت کے پھل کی گٹھلی میں مغز ہوتا ہے اور مغز میں ایک عظیم درخت پیدا کردینے کی صلاحیت پنہان ہوتی ہے، اسی طرح ام الکتاب (سورۂ فاتحہ) میں معنوی طور پر پورا قرآن پوشیدہ ہے۔
نیز جس طرح سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۶۱ (۰۲: ۲۶۱) کی مثال ہےکہ ایک ہی دانۂ گندم سے سات خوشے اور ہر خوشہ میں سودانے پیدا ہوتے ہیں، اور اس حساب سے ایک ہی فصل میں ایک کے سات سو دانے بنتے ہیں، اور نتیجے کے طور پر اس میں اتنے اضافے کی گنجائش ہے کہ دنیا بھر کی کاشت کے لئے بیج کافی ہوجائیں، مگر اس کے لئے وقت چاہئے، اسی طرح لیکن کسی تاخیر کے بغیر ام الکتاب کے معنی میں ایک ساتھ تمام قرآن کے معانی سموئے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ سورۂ فاتحہ کے الفاظ اور مطالب اتنے جامع اور
۲۲
ایسے ہمہ گیر ہیں کہ اس میں قرآن کی ساری حقیقتیں اور حکمتیں سموئی ہوئی ہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت و عادت ہے کہ وہ اپنے کمالِ قدرت سے ایک پوری کائنات کو ایک انتہائی چھوٹی سی چیز میں سمودیتا ہے، اور پھر چھوٹی سی چیز کو عالم کی بے پناہ وسعتوں کے برابر پھیلا دیتا ہے، جیسا کہ وہ ہمیشہ سے “کُنۡ” کے ایک ہی کلمے سے پوری کائنات کو پیدا کرتا ہے اور پھر تمام کائنات و موجودات کو ایک لطیف گوہر بناکر اسی کلمۂ کُنۡ میں سمو دیتا ہے (۰۶: ۷۳)۔
یہاں تک اِس موضوع کے سلسلے میں جو حقائق و معارف بیان ہوئے، اُن سے صاف صاف ظاہر ہے کہ کلامِ الہٰی لا محدود ہے، اور اس کے کئی سرچشمے ہیں، چنانچہ قرآن کی امری کیفیت کلمۂ “کُنۡ” میں ہے، اس کی نورانی صورت اور عقلی وجود قلم الہٰی میں ہے، وہ روحانی طور پر لوحِ محفوظ میں ہے، جو نفسِ کُلّی ہے، اس کا معنوی مغز ام الکتاب میں ہے اور قرآن اپنی تنزیلی شکل میں جیسا کہ ہونا چاہئے دنیا میں ظاہر ہے، اور یہ راز سوائے اہلِ حقیقت کے اور کوئی نہیں جانتا کہ امامِ مقیم حضرت مولانا ابوطالب علیہ السّلام نے آنحضورؐ کو اسمِ اعظم کی تعلیم دی تھی، اور اسی ذریعے سے آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کا خصوصی ذکر کرلیا کرتے تھے، جس کے نتیجے میں آپؐ
۲۳
پر قرآن نازل ہوا جو شروع شروع میں قلم، لوح، اسرافیل، میکائیل اور جبرائیل کے توسط سے تھا۔
ہم اوپر بتاچکے ہیں کہ ظاہر میں سورۂ فاتحہ ام الکتاب ہے اور باطن میں مولانا مرتضےٰ علی علیہ السّلام ام الکتاب ہیں، کیونکہ امامِ مبین بھی اور لوحِ محفوظ بھی وہی ہیں، جبکہ نورِ نبوّت عقلِ کُلّی ہے اور نورِ امامت نفسِ کُلّی، اور جبکہ نورِ محمد عرشِ عظیم ہے اور نورِ علی کرسیٔ قدیم، پس معلوم ہوا کہ پروردگارِ عالم نے نورِ محمدیؐ کے قلم سے نورِعلیؑ کی لوحِ محفوظ پر قرآنِ مجید ثبت کردیا ہے، پھر قرآن بتدریج تنزیل و تاویل کی صورت میں آنحضرتؐ کی شخصیّت پر نازل ہوا اور آنحضرتؐ نے اسمِ اعظم کی تعلیم کے ذریعے سے قرآن کی روح اور روحانیّت یعنی عملی تاویل کی حکمتوں کو اپنے برحق جانشین مولا علیؑ کے سپرد کردی، اور یہ امرِ عظیم سلسلۂ امامت میں نسلاً بعد نسل جاری و باقی رہا، یعنی ہر امامؑ نے اپنے جانشین امام کو اسمِ اعظم کے توسط سے قرآن کی روح (نور) روحانیّت، نورانیّت اور عملی تاویل سونپ دی، یہ سنت نہ صرف حضورِ انورؐ اور آپؐ کے جانشین أئمۂ اطہارؑ کی ہے، بلکہ اِس سے پہلے حضرت ابراہیمؑ نے بھی اسی سنت کے مطابق عمل کیا تھا چنانچہ
۲۴
ارشاد ہے:
وَجَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ (۴۳: ۲۸)
اور ابراہیمؑ نے اُس (روحانیّت و امامت) کو اپنی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ (یعنی اسمِ اعظم) قرار دیا تاکہ لوگ (اسمِ اعظم کی وجہ سے) رجوع کرتے رہیں، یہی قانون خدا تعالیٰ کی سنت ہے جو تمام پیغمبروں کے لئے مقرر ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ:
اور جبکہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء سے کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آوے جو تصدیق کرنے والا ہوگا اس کا جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اُس رسول پر باور کرنا اور اس کی مدد کرنا فرمایا کہ آیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا وہ بولے ہم نے اقرار کیا ارشاد فرمایا پھر تم گواہ رہنا اور میں اس پر تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں (۰۳: ۸۱)۔
اِس ارشادِ مبارک سے ایک طرف تو اِس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ دورِ نبوّت میں انبیاء علیہم السّلام کا سلسلہ کُلّی طور پر پیوستہ اور کسی انقطاع کے بغیر چلے آیا تھا اور دوسری طرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے بعد کے پیغمبر پر نہ صرف باور کیا بلکہ اسمِ اعظم کی تعلیم دے کر ہر طرح سے اس کی مدد بھی کی، اور اسی مقصد کے لئے خداوند تعالیٰ
۲۵
نے انبیاء علیہم السّلام سے عہد لیا تھا۔
پیغمبروں کو اسی اسمِ اعظم کے وسیلے سے نور و نورانیّت اور کتاب و حکمت حاصل ہوئی تھی، کیونکہ خدائے بزرگ و برتر اپنے اچھے اچھے ناموں کے وسیلےسے سنتا ہے اور عقل و روح کی تمام برکتیں اللہ تعالیٰ کے اسمِ اعظم میں پوشیدہ ہیں، جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ:
تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ (۵۵: ۷۸)
بڑا بابرکت نام ہے آپ کے پروردگار کا جو جلالت والا اور کرامت والا ہے۔ جاننا چاہئےکہ یہاں ربّ کے نام سے اسمِ اعظم مراد ہے، اور اس کے بابرکت ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ تمام ظاہری و باطنی برکتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہیں اسمِ اعظم کے خزانوں سے ملا کرتی ہیں، اور انہی برکتوں میں حقیقی مومنین کے لئے آسمانی کتاب کا علم و حکمت بھی ہے، جس کے معنی ہیں قرآن کی پاک روح اور روحانیّت، یعنی عملی تاویل، چنانچہ سورۂ قمر (۵۴) کی آیت نمبر ۱۷، نمبر۲۲، نمبر ۳۲ اور نمبر ۴۰ میں اللہ تعالیٰ کا تاکیدی فرمان ہے کہ:وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ۔ (۵۴: ۱۷، ۵۴: ۲۲، ۵۴: ۳۲، ۵۴: ۴۰) اور ہم نے قرآن کو ذکر و نصیحت کے لئے آسان کردیا ہے سو کوئی یاد کرنے والا ہے۔ قرآن کو ذکر و نصیحت
۲۶
کے لئے آسان بنا دینا یہ ہے کہ وہ مختصر سے مختصر ہوکر اسمِ اعظم میں سمویا ہوا ہے تاکہ حقیقی مومنین بآسانی اس کا ذکر کرلیا کریں، اور نتیجے کے طور پر اس کی روحانیّت سے قرآن کی زندہ اور منہ بولتی حقیقتیں سامنے آئیں اور یہی قرآن کی حکمت اور عملی تاویل ہے۔
حق تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو جو علمِ اسماء عطا کیا تھا، وہ دراصل اسمِ اعظم کے نتائج و ثمرات کی شکل میں تھا، اور آدم علیہ السّلام نے ناموں کے متعلق فرشتوں کو جو آگہی دی تھی وہ بھی کوئی ظاہری تعلیم نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے بزرگ ہی کی تعلیم تھی، جو حضرت آدمؑ کی آسمانی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔
دورِ نبوّت میں زمانے کا پیغمبر ہی خدا تعالیٰ کے نورانی اسمِ اعظم کی حیثیت سے ہوتا ہے، اور دورِ امامت میں امامِ وقت یہی مرتبہ رکھتا ہے، اور حضراتِ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام میں سے ہر ایک اپنے وقت کے بعض حقیقی مومنوں کو کوئی لفظی اسمِ اعظم عطا کردیتا ہے، اور اس سلسلے میں جب ایسے مومنین کی ترقی اور کامیابی ہوتی ہے تو انہیں روحانیّت کے مختلف ذرائع سے قرآنی علم و حکمت کا فیضان حاصل ہونے لگتا ہے، بزرگانِ دین نےحقائق و معارف کے جو موتی بکھیر دیئے ہیں، وہ اسی اسمِ اعظم کی بدولت ہیں۔
۲۷
اسمِ اعظم خدا و رسولؐ اور امامِ زمانؑ کا نور ہے، یہی نور قرآن کی روح اور روشنی ہے، یہی روح نورِ ہدایت اور نورِ ایمان ہے، یہی مومنین کا نور ہے، اور یہی نور سراجِ منیر (یعنی روشن چراغ) ہے، اسی سے اہلِ ایمان کی دنیائے دل روشن ہوجاتی ہے اور یہی نور کائنات کی بلندی و پستی کی روشنی ہے۔
جب اللہ تعالیٰ کے اسمِ بزرگ کی خصوصی عبادت و ریاضت میں کوئی بندۂ مومن اعلیٰ درجے پر کامیابی حاصل کرتا ہے، تو اس کے لئے رحمتِ خداوندی کے ابواب کشادہ ہوجاتے ہیں، مومن سے روح اور روحانیین کی مخاطبت ہوتی ہے ایک ایسی بے مثال کائنات جو روحانیّت اور نورانیّت سے معمور ہے، جس کا ہر ذرّہ اپنی ہزار گونہ جلوہ نمائی اور بے پناہ ضوفشانی سے دیدۂ دل کو خیرہ کردیتی ہے، وہ شب و روز مومن کے سامنے رہتی ہے، وہ اِس ظاہری اور مادّی دنیا کے برعکس ہے، کیونکہ اس کے چار عناصر عقل و جان اور تنزیل و تاویل کے ہیں، وہ ایک ایسی دنیا ہے جس کی ہر چیز ایک بولتی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے، کیوں نہ ہو جبکہ وہ عالمِ روحانیّت اور اسمِ اعظم کی نورانیّت ہے، اور جبکہ وہ قرآنی علم و حکمت کی جنت ہے۔
انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کے نقشِ قدم پر مومن کی روحانی ترقی،
۲۸
جو اسمِ اعظم کے وسیلے سے ہوسکتی ہے، اِس موضوع کی تفصیلات کے مطابق ہے جو بیان کی گئیں، لیکن میں نہیں کہہ سکتا ہوں کہ مجھ سے قرآنِ مقدّس اور اسمِ اعظم جیسی دو عظیم الشّان حقیقتوں کا حق تعریف و توصیف ادا ہوسکا۔
۲۹
ریکارڈ
کینیڈین اسمٰعیلی جنوری ۱۹۷۸
نیوز لیٹر جلد۲، نمبر ۷
نیوز (اسٹاف رپورٹر)
تین سو افراد نے قرآنِ حکیم کے موضوع پر منعقد سیمینار میں حاضری دی
امامت کا آغاز حضرت علیؑ کے زمانے سے قبل ہوا اور پہلے امام حضرت ہنیدؑ تھے۔ علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی نے یہ بات تاویلاتِ قرآن پر منعقد ایک سیمینار میں کہی۔ جس کا اہتمام ۲۴ دسمبر تا ۳۱ دسمبر ۱۹۷۷ء کے اختتامِ ہفتہ کے دوران چیف جماعت خانے میں کیا گیا تھا۔
اس سیمینار میں اسمٰعیلی نقطۂ نظر سے قرآن حکیم کا ایک جائزہ پیش کیا گیا۔ پروگرام کو اسمٰعیلیہ ایسوسی ایشن کی ایسٹرن کینیڈا کی ریجنل کمیٹی نے ترتیب دیا تھا۔ اِس سیمینار نے بہت سے حاضرین کو اپنا گرویدہ کرلیا ہے۔ حاضرین نے علامہ صاحب سے قرآنِ حکیم اور دین و ایمان سے متعلق سوالات بھی پوچھے۔
وہ مترنم اردو میں گفتگو کرتے ہیں، اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے چارٹ اور ڈائیگرام بھی استعمال کئے اور وضاحت فرمائی کہ کس طرح قرآنِ حکیم کی ہر آیت اشارہ کرتی ہے کہ نبوّت اور امامت آپس میں ملے ہوئے
۳۰
ہیں اور امامت کا آغاز حضرت آدمؑ سے بھی پہلے ہوا تھا۔ جنہوں نے اس سیمینار میں حاضری دی وہ ان عالی شان باتوں سے مجذوب ہوگئے۔ وہ پچپن سالہ ایک اسمٰعیلی عالم کو انتہائی محویّت کے ساتھ سنتے رہے۔ وہ ایک واحد اسمٰعیلی عالم ہیں جنہیں “علامہ” کا خطاب حاصل ہے۔ کیونکہ وہ قرآنِ شریف کے باطنی مطالب کی وضاحت کرتے ہیں۔
علامہ صاحب کے ان تمام لیکچروں کا اردو ترجمہ مونٹریال کے ایک الواعظ فقیر محمد ہونزائی صاحب نے کیا۔
بعد ازان امامت اور عبادت کے موضوعات پر چیف (Chief) اور دنداس ویسٹ (Dundas West) کے جماعت خانوں میں مذاکرات بھی ہوئے۔ افرادِ جماعت نے علامہ صاحب کے لیکچروں کو بہت ہی دلچسپ پایا اور اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں (NOT TO BE MISSED) خیال کیا۔ کیونکہ علامہ صاحب امامت سے متعلق بہت سے نئے تصوّرات پر گفتگو کرتے ہیں۔
کینیڈین اسمٰعیلی کا رسالہ اس نامور شخصیّت کا ایک خصوصی انٹرویو جو آپ سے موجودہ دورے کے دوران لیا گیا ہے، اپنے آنے والے جریدے نورز ۱۹۷۸ء میں شائع کرے گا۔ اس وقت علامہ صاحب اسمٰعیلیہ ایسوسی ایشن کے مہمان ہیں۔ آپ ایسٹرن کینڈا کے بہت سے جماعتی مراکز کا دورہ کریں گے۔ اور جماعت کے افراد کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس کرتے ہیں۔
مترجم: شاہدہ محی الدین
۳۱
علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی صاحب سے شرقی کینیڈا کی جماعت کے لیکچر ٹور (دسمبر ۱۹۷۷ ۔ مارچ ۱۹۷۸) کے دوران لئے جانے والے انٹرویو کا عکس
اردو ترجمہ: شہناز سلیم
انٹرویور: کینڈین اسمٰعیلی کمیونل پیر یاڈیکل کے جناب
علاؤالدین دامجی
شرقی کینیڈا کی جماعت کے لیکچر ٹور کے حالیہ پروگرام کے لئے کینیڈا تشریف لانے پر کینڈین اسمٰعیلی کمیونل پیریاڈیکل کو علّامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی صاحب سے انٹرویو لینے کا شرف حاصل ہوا۔ علامہ صاحب جیسا کہ ان کے اس خطاب (کے مفہوم) سے ظاہر ہے، ایک بڑے عالمِ دین ہیں۔ آپ ایک پُرنویس مصنف اور شاعر بھی ہیں۔ جہاں تک ان کی کتب کا تعلق ہے ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ تخلیقات
۳۲
ہمارے ماضی کے چند عظیم داعیوں کی تصانیف کی طرح قابلِ احترام قرار پائیں۔ اسلام اور اصولِ اسلام کی وسیع و عمیق سمجھ پر جامعۂ میکگل کینیڈا کے کلیۂ تعلیماتِ اسلامی کے اساتذہ پہلے ہی ان کو خراجِ تحسین پیش کرچکے ہیں۔
علامہ صاحب نو ۹ زبانوں یعنی عربی، فارسی، ترکی، اردو، شنا، بروشسکی، چترالی، پنجابی اور انگریزی میں گفتگو کرسکتے ہیں۔ آپ نے اردو اور فارسی کی بنیاد پر ہونزہ کی زبان بروشسکی کے حروفِ تہجی بھی تخلیق کئے ہیں۔ یہ حروفِ تہجی اردو کے اصل حروفِ تہجی کے علاوہ آٹھ زائد حروف پر مشتمل ہیں۔
علامہ صاحب ہمیشہ اپنے روایتی لباس (شلوار کرتا اور ٹوپی) میں ملبوس نظر آتے ہیں۔ یہ لباس ان کو ایک عالمِ دین کی حیثیت سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کے لباس کے بارے میں استفسار کرنے پر انہوں نے فرمایا “میں اس مسئلے پر کافی غور و فکر کررہا تھا کہ اپنے شمالی امریکہ کے دورے پر مجھے اپنا یہ روایتی لباس پہننا چاہئے یا نہیں۔ لیکن میرے فرزند اور بیگم نے اصرار کیا کہ میں یہی لباس پہنوں لہٰذا میں اسی پر قائم ہوں۔” بیشک علامہ صاحب کا لباس ان کے علم کی طرح ان کی شخصیت کو بھی نمایان کرتا ہے۔
علامہ صاحب کی شخصیت کے بارے میں جو بات ہمیں سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ ان کی فطرت کی سادگی ہے۔ وہ مجھے اپنے
۳۳
کمرے تک لے گئے جہاں ایک چھوٹی سی میز، جس پر ان کے کاغذات اور کتابیں رکھی ہوئی تھیں اور ایک کرسی پر مشتمل ان کا دفتر بھی موجود تھا۔ انہوں نے اپنی میز کو صاف کیا اور اس کے پیچھے کی طرف (کرسی پر) براجمان ہوگئے۔ اب سوالات کے جوابات کے لئے پوری تیاری گویا مکمل ہوچکی تھی۔ ان کے وجود کی گرمجوشی میں کوئی بھی انسان انتہائی اطمینان محسوس کرسکتا ہے۔ ان کی شخصیت جو کسی بھی قسم کے منفی انسانی جذبات سے اس قدر پاک ہے کہ آپ کے جاننے سے پہلے ہی وہ آپ کا اعتماد حاصل کرچکے ہوتے ہیں اور نتیجتاً آپ ان کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کے خواہشمند ہوجاتے ہیں۔
علامہ صاحب کے لئے کوئی بھی سوال مشکل یا ناممکن نہیں ہے۔ کچھ ہی دیر میں ان کا کمرہ علمِ حق کے متلاشی نوجوانوں سےبھر گیا۔ ان میں سے کچھ یونیورسٹی کے زیرِ تعلیم طلبا ہیں جو اپنے مسائل اور سوالات کے جوابات پانے کے لئے ہر وقت حتیٰ کہ دورانِ سفر بھی علامہ صاحب کے ساتھ ساتھ لگے رہتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات دے کر علامہ صاحب کو بہت ہی خصوصی خوشی حاصل ہوتی ہے جیسا کہ انہوں نے خوشی سے کہا: “مانٹریال میں، میں کئی یونیورسٹی کے طلباء سے ملا جن کو دین کے بنیادی عقائد و تصوّرات کے لئے میں نے سائنسی خطوط پر جوابات مہیا کرکے دین کی حقانیّت کا قائل کیا اور وہ طلباء ان جوابات سے بے حد مسرور اور مطمئن ہوئے۔”
۳۴
سوال نمبر۱:علامہ صاحب! یہ کہا جاتا ہے کہ آپ ایک ایسے خاندان کے چشم و چراغ ہیں جس کے لئے خدمتِ امام ایک قدیم روایت رہی ہے۔ کیا آپ ہمارے قارئین کو اپنے پس منظر کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے؟
علامہ صاحب:جی ہاں یہ درست ہے، میرے دادا جان جماعتی معاملات کی خبر گیری کے لئے پیر کے نمائندے یعنی خلیفہ مقرر کئے گئے تھے۔ یہ عہدہ جو ایک موروثی عہدہ ہے پچھلی تین نسلوں سے ہمارے خاندان میں رہا ہے۔ میں مئی ۱۹۱۷ء میں حیدر آباد ہونزہ میں پیدا ہوا ۔ مذہب سے میری دلچسپی بہت چھوٹی عمر ہی سے رہی ہے۔ میں نے تیسری اور چوتھی جماعت ایک ہی سال میں مکمل کی اور جو کچھ علم میں نے حاصل کیا ہے وہ کسی رسمی تربیت کی بجائے ذاتی مطالعے کا ثمرہ ہے۔
بائیس سال کی عمر میں میں فوج میں بھرتی ہوا اور فوجی ملازمت کا یہ عرصہ سات سال بعد ۱۹۴۶ء میں دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر انجام پذیر ہوا اور ۱۹۴۶ء میں ڈائمنڈ جوبلی کی تقریبات کے موقع پر میں بمبئی پہنچا۔
سوال نمبر ۲: کیا یہ درست ہے کہ آپ کسی دینی مشن پر چین تشریف لے گئے تھے؟ کیا آپ کو حضرت امام سلطان محمد شاہ نے
۳۵
وہاں بھیجا تھا؟
علامہ صاحب:جی ہاں میں اپنی جماعت کے ایک لیڈر کے ساتھ بحیثیتِ نائب چین گیا تھا جنہیں امام سلطان محمد شاہ کی جانب سے چین جا کر مقامی جماعات کے لئے جماعت خانے اور مذہبی اسکول قائم کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ بہر حال (حالات کچھ ایسے ہوئے کہ) انجامِ کار وہ تمام کام میرے کندھوں پر آن پڑا۔
سوال نمبر ۳: علامہ صاحب یہ بتائیں کہ ہماری جماعت چین کے کس حصے میں قیام پذیر ہے۔ ان کی تعداد کیا ہے اور ان کا تعلق کس قوم سے ہے؟
علامہ صاحب: ہماری جماعت چینی صوبے سنکیانگ کے دو شہروں، یار قند اور سریقول میں تقریباً پچاس ہزار (۵۰۰۰۰) کی تعداد میں آباد ہے۔ جماعت کا کچھ حصہ بدخشان سے ہجرت کرکے چین آنے والوں پر مشتمل ہے جبکہ اکثر افراد چینی ترکستان سے تعلق رکھنے والے ترک ہیں۔
سوال نمبر۴: آپ چین میں کتنا عرصہ قیام پذیر رہے کیا آپ اپنا مقصد پانے میں کامیاب ہوئے؟
علامہ صاحب: میں ۱۹۴۹ سے ۱۹۵۴ تک تقریباً چھ سال چین میں رہا۔ قبلاً ۱۹۴۹ سے کئی سال پیشتر ۱۹۲۲ میں پیر سبز علی کو ایک
۳۶
ایسے ہی دینی مشن پر چین بھیجا گیا تھا مگر اس وقت کے مشکل حالات کے پیشِ نظر متوقع کامیابی حاصل نہ ہوسکی تھی۔ ۱۹۴۹ء میں جب ہم وہاں پہنچے تو اس وقت چین کے اسمٰعیلی دینی معاملات میں تقیہ کرتے تھے۔
میرے چین پہنچنے کے ایک سال ہی کے دوران ہم نے کافی جماعت خانے قائم کرلئے اور اسی کے ساتھ اسمٰعیلی اسلام کے دوسرے فرقوں اور عوام میں اسمٰعیلی مسلم کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔
سوال نمبر ۵: کیا یہ درست ہے کہ اس شاندار کامیابی کے ساتھ ساتھ بہر حال آپ کو سخت مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا؟
علامہ صاحب: جی ہاں! یہ درست ہے۔ جب میری سرگرمیوں کا علم غیر اسمٰعیلیوں کو ہوا تو انہوں نے اسے نا پسند کیا اور نتیجتاً میری نگرانی کی جانے لگی۔ مگر آخر کار مجھے تمام جھوٹے الزامات سے بریُ الذّمہ قرار دیا گیا اور اپنا مشن پورا کرنےکے بعد مجھے چین چھوڑنے کی اجازت مل گئی۔
سوال نمبر۶: کیا اس مشکل تجربے سے آپ کی زندگی میں تلخی پیدا ہوئی؟
علامہ صاحب: جی نہیں، بالکل نہیں۔ اس کے برعکس اس دوران میں نے ارفع ترین روحانی تجربے کو حاصل کیا۔ لہٰذا آپ باور کرسکتے ہیں کہ بعض اوقات دنیوی مصائب و آلام بہت ہی مفید
۳۷
ثابت ہوتے ہیں خصوصاً اس شخص کے لئے جو حق کا متلاشی ہو۔
سوال نمبر۷: علامہ صاحب یہ بتائیں کہ چین کی جماعات کے لئے آپ نے اور کونسی خدمت انجام دی؟
علامہ صاحب: میں نے چین کی جماعت کے لئے مناقب یا مذہبی نظمیں بھی تحریر کی ہیں جن میں امام کی تعریف و توصیف اور عظمت و بزرگی کا بیان ہے۔ یہ مناقب آج تک چین کی جماعات میں پڑھی جاتی ہیں۔
سوال نمبر۸: کیا یہ درست ہے کہ آپ کی کہی ہوئی کچھ نظمیں مولانا حاضر امامؑ نے بطورِ گنان قبول کی ہیں؟
اس سوال کے جواب پر علامہ صاحب نے مولانا حاضر امامؑ کے مورخہ ۱۹۔ اکتوبر ۱۹۶۱ کے خط کی اصل کاپی ہمیں دکھائی جس میں حاضر امام نے ان کے کام کو گنان بک کی حیثیت سے قبول کیا ہے) یہ گنان بروشسکی زبان میں ہیں جو گلگت، ہونزہ اور اردگرد کے دیگر علاقوں میں پڑھے جاتے ہیں۔
سوال نمبر ۹:علامہ صاحب یہ بتائیے کہ ان گنانوں میں کن باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے؟
علامہ صاحب: بنیادی طور پر یہ میرے روحانی تجربات کا بیان ہے یہ میرے دورۂ چین سے قبل اور دورۂ چین کے بعد کے حالات پر مشتمل ہیں۔ یہ گنان ۱۹۶۱ میں مکمل ہو کر نغمۂ اسرافیل کے نام سے
۳۸
شائع ہوئے۔
سوال نمبر ۱۰: یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ اسمٰعیلی کمیونٹی کے پہلے سب سے زیادہ پُرنویس ادیب ہیں۔ کیا آپ اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنا پسند فرمائیں گے؟
علامہ صاحب: جی ہاں یہ درست ہے۔ آج تک میں نے کوئی ۶۵ کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے چند البتہ پیر ناصر خسرو کی تصانیف کے ترجمے ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں سے ایک معروف کتاب وجہ دین یعنی “دین کا چہرہ” تھے۔ میری دیگر تصانیف سے چند جو مجھ کو اس وقت یاد ہیں وہ ذکرِ الہٰی، سلسلۂ نورِ امامت اور میزان الحقائق ہیں۔
سوال نمبر۱۱: کیا یہ درست ہے کہ میزان الحقائق کا انگریزی ترجمہ Scale of Realities یعنی “حقائق کا میزان” ہے۔
علامہ صاحب: جی ہاں، یہ درست ہے۔
سوال نمبر۱۲: مغرب میں اس وقت سیّارۂ زمین کے باہر ذی فہم مخلوق کی موجودگی کے بارے میں کافی قیاس آرائیاں ہیں۔ کیا یہ حقیقت ہے یا یہ محض کسی کی خیال آرائیاں ہیں۔ کیا یہ حقیقت ہے یا یہ محض کسی کی خیال آرائی ہے؟
علامہ صاحب: اس میں یقیناً سچائی کا کوئی عنصر ضرور ہے۔
سوال نمبر ۱۳: اس طرح گویا آپ اس نظریے کی تائید کرتے ہیں کہ
۳۹
سیّارۂ زمین کے علاوہ دوسرے سیّاروں پر ذی فہم مخلوق کی زندگی کے آثار موجود ہیں۔
علامہ صاحب: جی ہاں! یقینی طور پر ایسا ہی ہے۔
سوال نمبر ۱۴: کیا آپ ہمیں اس زندگی کی نوعیت کے بارے میں کچھ بتائیں گے۔
علامہ صاحب: وہ مخلوق ہم سے کئی لحاظ سے مختلف ہے ان میں خون نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کو ہماری طرح سانس لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کے کھانے پینے کی عادات بھی ہم سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔
سوال نمبر ۱۵: یہ انکشاف میرے لئے اور یقیناً کئی قارئین کے لئے بھی انتہائی حیرت ناک ہے کیونکہ ہم نے اپنے روحانی امور کو کماحقہ اہمیت نہیں دی ہے۔
علامہ صاحب: اس کے لئے آپ کو اپنی روحانی زندگی کو منظم کرنے کا کام شروع کرنا چاہئے کیونکہ میری معلومات کے مطابق عنقریب اس دنیا میں ایک روحانی انقلاب آنے والا ہے تاہم آپ کو یہ باور کرنا چاہئے کہ جس روحانی انقلاب کی میں بات کررہا ہوں وہ ایک طویل عرصے کا عمل ہے جس کا دورانیہ ایک سال سے ایک سوسال تک پھیلا ہوا ہوسکتا ہے۔ میرا یقین ہےکہ اس انقلاب کا آغاز ہوچکا ہے۔ اگر آپ نے
۴۰
کتاب Psychic Discovery Iron Curtain پڑھی ہے تو آپ یقیناً میری باتوں کا مطلب سمجھ رہے ہوں گے۔ روحانی انقلاب کے ظہور کی بات کوئی عجیب چیز نہیں بلکہ یہ سب کچھ خدا کی منشا کے مطابق ہے جیسا کہ قرآن کی سورہ نمبر ۵۳ کی آیت ۴۱ (۵۳: ۴۱) میں خدا فرماتا ہے کہ “عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھادیں گے، آفاق میں اور انفس میں بھی یہاں تک کہ ان کو یقین ہوجائے کہ وہ خدا حق ہے۔” اس (انقلاب کے ظہور کے) وقت روحانی طور پر حقیقی معنیٰ میں زندہ لوگ روحانی زندگی نظر انداز کرنے والے لوگوں کی بنسبت زیادہ مستفیض ہوسکیں گے۔
سوال نمبر ۱۶: آپ کے خیال میں روحانی ترقی کے کیا فوائد ہیں؟
علامہ صاحب: اس کے فوائد دو گونہ ہیں۔ ذاتی سطح پر روحانی ترقی کا مطلب حصولِ علم ہے اور علم ہی میں نجات مضمر ہے جبکہ قومی سطح پر روحانی ترقی ایک مومن کو افرادِ جماعت کی خدمت کرنے کے قابل بناتی ہے۔ مثال کے طور اسی روحانی ترقی کی بدولت میں کئی لوگوں کو روحانی ترقی کی امکانیات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان کو اپنی روحانی ترقی کی کوشش کرنے کے لئے آمادہ کرچکا ہوں۔
سوال نمبر ۱۷: آپ کی جملہ تصانیف سے آپ اپنی کس کتاب کو بہترین قرار
۴۱
دیتے ہیں؟
علامہ صاحب: رموزِ روحانی کو، کیونکہ یہ زیادہ تر روحانی رازوں کے بارے میں ہے۔
سوال نمبر ۱۸: کیا یہ درست ہے کہ کتاب “ایثار نامہ” آپ کے ذاتی المیہ تجربے کی پیداوار ہے؟
علامہ صاحب: جی ہاں یہ درست ہے۔ یہ کتاب میرے فرزند ایثار کے لئے وقف کی گئی ہے جس کی افسوسناک وفات دسمبر ۱۹۷۲ میں ہونے والے ہوائی حادثے میں ہوئی۔ یہ کتاب دراصل میرے ان تعزیتی خطوط کا مجموعہ ہے جو میرے دوستوں نے مجھے اس موقعہ پر لکھے تھے۔ یہ خطوط مسائل زیست و موت اور دوسری متعلقہ باتوں پر مشتمل ہیں۔
سوال نمبر ۱۹: آپ کے اس جواب سے میرا ذہن پھر انسانی زندگی میں مصائب و آلام کی طرف جاتا ہے کیا آپ اس پر مزید روشنی ڈالیں گے؟
علامہ صاحب: یہ مصائب و آلام مومن کی ذاتی تکمیل کرنے اور روحانی بصیرت کی چوٹی کو پانے کے لئے اسے ضروری حوصلہ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دیکھئے کہ آج اگر میں وہ کچھ ہوں جو کچھ کہ میں ہوں تو یہ دراصل میری زندگی کے
۴۲
ان کلّی تجربات، جو بعض اوقات مجھے انسانی مصائب کی اتھاہ گہرائیوں تک لے گئے کا نتیجہ ہے۔ میری زندگی مصائب و آلام اور مشقتوں سے بھر پور رہی ہے۔ میں نے طویل عرصے تک انتہائی شدید انسانی اور روحانی جذبات کے طوفان بھی جھیلے ہیں۔ لیکن پھر بھی میرے پاس مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ اموات اور دنیوی اشیاء کی حصولی سے میں متاثر نہیں ہوتا ہوں۔ اور نہ ہی میں نے کبھی ان چیزوں کے لئے اشک بہائے ہیں۔ بہر حال مومن کو چاہئے کہ مشکلات کو ہمیشہ رحمت سمجھے کیونکہ اکثر ان ہی میں اس کی روحانی ترقی (کا راز) مضمر ہوتا ہے۔
سوال نمبر ۲۰: وہ کیا خاص بات ہے علامہ صاحب جو آپ کی تحریروں کو انفرادیت بخشتی ہے؟
علامہ صاحب: یہ تحریریں یکتا ہیں کیونکہ ان میں خداوندی تائید شاملِ حال رہی ہے۔
سوال نمبر ۲۱: یہ کافی دلچسپ بات ہے۔ کیا آپ ہمیں اس بارے میں کچھ اور بتائیں گے کہ یہ خداوندی تائید کس طرح کام کرتی ہے؟
علامہ صاحب: (میرے خیال میں) زندگی بذاتِ خود ایک تائید ہے۔
۴۳
مجھے لکھنے سے محبت ہے۔ لکھتے وقت میں بالکل محو اور خوشی سے بھر پور ہوجاتا ہوں۔ آہ! لکھنا …. جب خامشی اور آرام ہو تو لکھنے کے لئے کامل موڈ بن جاتا ہے میں اپنی آنکھوں کو اس طرح بند کرکے اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح رکھ لیتا ہوں۔ (علامہ صاحب میز کے کونے میں رکھی ہوئی کرسی پر آرام سے بیٹھتے ہیں۔ آنکھیں نرمی سے بند ہیں۔ ہاتھ گود میں باندھے ہوئے رکھے ہیں۔ ان کے چہرے پر ہلکی مسکراہت کے ساتھ مکمل سکون جھلک رہا ہے) بالکل اسی طرح۔ یہ فکری عبادت ہے۔ اس طرح۔ (علامہ صاحب ابھی تک آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں) اور پھر میں اپنے قلب و روح کی آواز کو سنتا ہوں وہ مجھ سے گفتگو کرتے ہیں۔ میرے تصوّر میں ایک دھندلا سا خاکہ ابھرتا ہے پھر وہ وسیع تر اور واضح تر یعنی الفاظ کے قالب میں ڈھلتا چلا جاتا ہے (علامہ صاحب آہستگی سے آنکھیں کھول کر مسکراتے ہیں) میں اس کام سے انتہائی درجے کی خوشی محسوس کرتا ہوں۔ میں جماعت کے لئے بہت زیادہ محبت کے جذبات رکھتا ہوں اور جماعت کے لئے لکھتے ہوئے از بس شادمان ہوتا ہوں اور بعض اوقات لکھنے کی خواہش اتنی شدید تر ہوتی ہے کہ میں
۴۴
عبادت کے لئے بھی نہیں بیٹھتا ہوں۔ عام طور پر میں صبح دو بجے اپنے بستر سے نکل کر اپنے پنجوں پر آہستگی سے اپنی میز کی طرف آتا ہوں تاکہ میری حرکات سے گھر میں موجود افراد کا آرام خراب نہ ہو۔ اس طرح مجھے اپنی تحریری سرگرمی سے بے انتہا خوشی ہوتی ہے۔
سوال نمبر ۲۲: آپ کی شاعری کے مجموعوں کے مطالعے اور مشاہدے کے بعد قارئین نے اسے “عارفانہ شاعری” قرار دیا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟
علامہ صاحب: عارفانہ شاعری وہ شاعری ہے جو اپنے اندر حقیقت و معرفت کے اسرار و رموز سموئے ہوئے ہو۔
سوال نمبر ۲۳: آپ کی تمام تحریریں زیادہ تر اردو میں ہیں جو حالانکہ بذاتِ خود ایک خوبصورت زبان ہے مگر بدقسمتی سے مغرب کی جماعات اسے لکھنے یا پڑھنے سے قاصر ہیں۔ کیا ان کتابوں کو انگریزی میں ترجمہ کرنے کی کوئی کوشش آپ کے علم میں ہے؟
علامہ صاحب: میری خواہش ہے کہ کچھ جماعتی علماء (SCHOLARS) میری کتابوں کا انگریزی اور گجراتی میں ترجمہ کریں۔ میرے شاگردِ رشید جناب (ڈاکٹر) فقیر محمد ہونزائی صاحب نے محترمہ زین قاسم کی مدد سے میری چند کتب جیسے آٹھ سوال
۴۵
کے جواب اور قرآن اور روحانیّت کے علاوہ باطنی معنی پر مشتمل چند مقالوں کا ترجمہ کرنا شروع کیا ہے۔ علاوہ ازین کراچی کے ہمارے ایک دوست جناب خان محمد صاحب پہلے ہی امام شناسی حصّۂ اوّل کا ترجمہ کرچکے ہیں۔ میری امید ہے کہ بالآخر میری تمام کتب کا انگریزی ترجمہ کیا جائے گا۔
سوال نمبر ۲۴: علامہ صاحب آپ کا تعلق علاقۂ ہونزہ سے ہے جو اس امر کے لئے مشہور ہے کہ اس کے باشندے ضعیفی میں بھی بہت اچھی صحت کے مالک ہوتے ہیں۔ کیا آپ اس کے متعلق ہمارے قارئین کو کچھ بتانا پسند فرمائیں گے؟
علامہ صاحب: جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہونزہ پہاڑی علاقہ میں واقع ہے لہٰذا جس ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں وہ نسبتاً زیادہ پاک و صاف ہے۔ ویسے بھی وہاں کی زندگی کافی سادہ ہے اور مغرب اور دنیا کے دوسرے ممالک میں صنعتوں کی فراوانی کے باعث فضا کی آلودگی کا جو مسئلہ ہے وہ بھی ہمیں درپیش نہیں ہے۔ ہونزہ میں لوگوں کی اکثریت زراعت پیشہ ہے اور ان کی غذا بہت سے پھل اور سبزیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ بہرحال زیادہ تفصیلات حاصل کرنے
۴۶
کے لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ رینے ٹیلر (Renee Taylor) کی کتاب “Hunza Health Secret” پڑھیں۔ اس کتاب کے مصنف نے یقیناً ہونزہ کے بارے میں مکمل ریسرچ کی ہوگی لہٰذا اس کتاب سے آپ کو بہت اچھی اور مفید معلومات حاصل ہونی چاہئیں۔
سوال نمبر ۲۵: علامہ صاحب یہ بتائیں کہ مادّی محبت اور روحانی محبت کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟
علامہ صاحب : میرے خیال میں محبت کی دونوں ہی قسمیں اہم ہیں کیونکہ مادّی محبت ایک ایسا پل ہے جو روحانی محبت یا حقیقت تک لے جاتا ہے۔ روحانی بصیرت رکھنے والے مومن کے قلب میں بنی نوع انسان کے لئے عمومی اور مومنین کے لئے خصوصی محبت جاری و ساری رہتی ہے وہ جان لیتا ہے کہ امام اور اس کے روحانی بچوں کی یہ پُرسوز محبت نے اسے غلام بنالیا ہے اور یہی دراصل دنیا میں بہترین غلامی ہے۔
سوال نمبر ۲۶: علامہ صاحب آپ کو کس قسم کی چیزوں سے محبت ہے؟
علامہ صاحب : مجھے محبت ہے جماعت اور تمام بنی نوع انسانوں سے …. محبت ہے تبلیغِ علم سے …. علما اور علمِ دین سے، دلچسپی
۴۷
رکھنے والے مومنین سے علمی مذاکرات کرنے سے …. اس خواہش سے جو علمی محفل منعقد کرنے کے بارے میں ہو …. اور مجھے محبت ہے عبادت میں مستغرق مومنین کے مقدّس چہروں کے منظر سے …. ان تمام چیزوں سے مجھے بے حد محبت ہے اور اس سے مجھے بے انتہا خوشی ملتی ہے۔
سوال نمبر ۲۷: علامہ صاحب ماضی میں آپ اسمٰعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان (اسمٰعیلی طریقہ اینڈ ریلیجس ایجوکیشن بورڈ) سے ایک ریسرچ ایسوسیٹ کی حیثیت سے منسلک رہے ہیں۔ کیا آپ اپنے لئے حال ہی میں افتتاح کئے جانے والے انسٹی ٹیوٹ آف اسمٰعیلی اسٹڈیز (معہدالدراسات الاسمٰعیلیہ) لندن، یو۔کے۔ میں ایسی ہی خدمات سرانجام دینے کی کوئی امکانیت پاتے ہیں۔
علامہ صاحب: جی ہاں یہ درست ہے کہ میں اسمٰعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان میں ۱۵سال تک کام کرتا رہا اور حال ہی میں مَیں نے ریسرچ ایسوسیٹ کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔
جہاں تک آپ کے سوال کے دوسرے حصّے کا تعلق ہے آپ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ میرے کام کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ میرے لئے آزادی سے اس کام کو اسی طرح جاری
۴۸
رکھنا بہتر ہے۔ البتہ مجھے یہ امید ہے کہ مستقبل میں انسٹی ٹیوٹ آف اسمٰعیلی اسٹڈیز لندن اور دوسرے علمی مراکز میں نوجوان علماء میرے کاموں کو اسمٰعیلی مذہب کے لئے ماخذ کے طور پر استعمال کریں گے۔
سوال نمبر ۲۸: اس علمی کام کے لئے مالی وسائل کی فراہمی یقیناً آپ کے لئے ایک مسئلہ رہی ہوگی۔ کیا ہم اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد کرسکتے ہیں تاکہ یہ خزانۂ علمی دنیا بھر کے زیادہ سے زیادہ اسمٰعیلیوں تک پہنچ سکے؟
علامہ صاحب: آپ کا اندازہ درست ہے۔ مالی وسائل کی فراہمی مسئلہ رہا ہے۔ وہ علم دوست حضرات جو اس علم کے پھیلاؤ کے خواہشمند ہیں کسی بھی وقت ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ شاید باہمی مشاورت و مذاکرات کے ذریعے ہم کوئی ایسا طریقۂ کار وضع کرسکتے ہیں جس کے تحت میں آپ کو اپنی کتب شائع کروانے کے حقوق دے سکوں۔ اس وقت میرے لئے کتب کے تراجم اور مالی وسائل کی فراہمی دو مسئلے ہیں۔ تاہم جہاں تک کتب کے ترجمے کئے جانے کا تعلق ہے میرے نزدیک یہ امر انتہائی اہم ہے کہ ان ترجموں میں میری تحریر کا مفہوم بعینہ بیان ہو اور اصل معنی مجروح نہ ہوں۔ اس وقت بھی میری
۴۹
کوئی پانچ کتابیں پاکستان کے ایک پریس میں ہیں جس کی نگرانی میرے فرزند اور طلباء کر رہے ہیں۔
سوال نمبر۲۹: مشرقی کینیڈا میں اپنے اس مختصر قیام کے عرصے میں آپ ان بے شمار جماعتی افراد سے ملے جو دور دراز سے آپ کے مختلف لیکچرز، سیمینارز اور نجی محفلیں اٹینڈ کرنے کے لئے آئے۔ ان کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟
علامہ صاحب: مجھے یہ کہنے دیجیے کہ میں جماعتیں لیڈرز اور بذاتِ خود جماعات سے مل کر بہت ہی متاثر اورمسرور ہوا ہوں۔ میرا اندازہ ہے کہ آنے والے سالوں میں کینیڈا کی جماعت میں دنیا بھر کے اسمٰعیلیوں کی خدمت کرنے کی بے شمار صلاحیتیں پنہان ہیں۔ مجھے بہت خوشی اور کامل اعتماد ہے کہ آپ کی جماعت سے یہ دینی دوستی مجھے نسبتاً زیادہ لوگوں تک اپنا علم پہنچانے کے قابل بناسکے گی۔
سوال نمبر ۳۰: ہمارے یہاں کے نوجوانوں کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟
علامہ صاحب: مجھے آپ کے نوجوانوں سے مل کر اور گفتگو کرکے بے انتہا خوشی ہوئی ہے۔ دینی علم کے لئے میں ان میں آمادگی اور
۵۰
ذوق و شوق پاتا ہوں اور یہ دیکھ کر مجھے انتہائی خوشی حاصل ہوتی ہے۔نوجوانوں کے سوالات کے جوابات مہیا کرنے کے لئے ایک مرکز ہونا چاہئے جہاں وہ مذہب کے بارے میں کوئی بھی سوال کرسکیں اور میرے خیال میں کینیڈا میں ایک ایسا ادارہ ضرور کامیابی سے کام کرے گا۔
سوال نمبر ۳۱: موجودہ دور میں انسانی باہمی تعلقات میں ایک عجیب سی لاتعلقی کا جو عنصر شامل ہوگیا ہے اس کے بارے میں آپ کا نکتۂ نظر کیا ہے؟
علامہ صاحب: ہمارا اخلاقی لائحۂ عمل (Code of Conduct) ہمارے تمام اعمال کو متاثر کرتا ہے۔ اگر ہمارے اخلاقی لائحۂ عمل میں کسی قسم کی کمی ہے تو نتیجتاً یہ ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہوگی۔ اس لئے مذہب کو ہماری زندگیوں میں بالادستی حاصل ہونی چاہئے کیونکہ مذہب ہمیں زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ بتاتا ہے۔ ویسے دنیوی طور پر مادّی ترقی کے اس دور کے تسلسل کے کچھ وقت کے بعد تمام لوگ کسی ایک لائحۂ عمل کو متفقہ طور پر قبول کرلیں گے۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ اخلاقی اقدار کی پیروی ضرور کی جانی چاہئے اولاً اس لئے کہ رسول اکرمؐ نے
۵۱
ہمیں اخلاقی بنیادوں پر استوار ایک مذہب کی تعلیم دی اور ثانیاً اس لئے کہ ہم ایک ایسے وقت کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ روحانی انقلاب وقوع پذیر ہونے والا ہے۔
انٹرویو کے اختتامی کلمات
شکریہ علامہ صاحب! ہم پُرخلوص امید کرتے ہیں کہ اس شمارے کے ذریعے کینڈا اور دیگر جماعتوں کی توجہ آپ جیسی ولولہ انگیز شخصیّت کی طرف مبذول ہوگی۔ ہمیں امید ہے کہ جماعات آپ کو وہ اخلاقی اور مالی سہارا دیں گی جو پوری دنیا کو آپ کے علم و ہنر کا فائدہ پہنچانے کے لئے ضروری ہے۔
دلچسپی رکھنے والے اسمٰعیلی حضرات علامہ بزرگوار سے اس پتے پر رابطہ قائم کریں:
علامہ نصیر الدین ہونزائی
۳۔ اے، نور ولا، ۲۶۹۔ گارڈن ویسٹ
کراچی پاکستان
۵۲