عشقِ سماوی

آغازِ کتاب

۱۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ربّی! تیرا یہ بندۂ کمترین پہلے ہی سے عاجز و ناتوان تھا، اور اب تو بیش از بیش زار و ضعیف اور قابلِ رحم ہو چکا ہے، اے پروردگارِ دانا و بینا! المدد المدد، الغیاث الغیاث، یا ربّ العزّت! سب سے بڑی اور افسوسناک کمزوری یہ ہے کہ میں تیری لامحدود نعمتوں کی ذرا بھی شکرگزاری نہیں کر سکتا، اے کاش! آسمانی عشق کا مجھ پر کوئی ایسا غلبہ ہوتا کہ جس سے میں بےتحاشہ رو رو کر بار بار سجدے میں گر پڑتا تو شاید اس عاجزانہ عمل سے دل کا غبار دھل جاتا، اے ذاتِ سبحان! ہم اپنی کم علمی اور بےچارگی سے نالان ہیں کہ تیری حمد و ثنا سے عاجز و قاصر ہیں، اے رحمان و رحیم! تو ازراہِ عنایت آسمانی عشق ہم پر مسلط کر دے، تا کہ اس مقدّس عشق کی سرمستی میں جو کچھ بھی طفلانہ تیری تعریف کریں، وہ سب کچھ تیری نظرِ رحمت سے منظور ہو، ورنہ یا ربّ! ہم کہاں جائیں گے، یا طبیبی! بحرمتِ اسماء الحسنیٰ

 

۷

 

تو اپنے پاک و پُرلذّت عشق سے ہمارے جملہ ظاہری و باطنی امراض کا علاج فرما! آمین!!

 

۲۔ اے دوستانِ عزیز! میں سمجھتا ہوں کہ “عشقِ سماوی” کی یہ اصطلاح ہم سب کے لئے ایک بہت بڑا انعام ہے، لہٰذا ہم قلبی شکرگزاری کے ساتھ اس کی وضاحت کریں گے کہ عشقِ سماوی کے معنی ہیں: اللہ، رسول، اور امامِ زمانؑ کا نورانی اور معجزانہ عشق، کیونکہ اس کا عظیم الشّان ذکر اور فرضیت آسمانی کتاب (قرآن) میں ہے، قرآن و حدیث کی تحقیق و تصدیق سے ہر عاشقِ صادق کو یقیناً بےحد خوشی ہوگی کہ آسمانی عشق روح الایمان کے لئے غذا بھی ہے اور دوا بھی، اے دوستانِ عزیز! آپ سب کو امامِ حیّ و حاضر کا مقدّس عشق مبارک ہو! کہ یہی عشقِ رسول اور خدا کا عشق بھی ہے، پس اسی پاک و پاکیزہ دریائے عشق میں ہمیشہ مستغرق رہنا کہ اسی عمل میں سعادتِ دارین ہے، اور اسی میں روحانی ترقی اور عقلی روشنی ہے۔

 

۳۔ اس کتاب کا نام: کسی کتاب کے نام مقرر کرنے میں کبھی اتنی تاخیر نہیں ہوئی تھی، شاید اس میں بھی کوئی راز ہوگا، لیکن آخرکار اس کتاب کے مضامین کو دیکھا، ان میں ایک مضمون ہے: “آسمانی عشق کی حکمتیں” اسی سے خیال آیا کہ اس کتاب کا نہایت خوبصورت نام “عشقِ سماوی” ہونا چاہئے، ان شاء اللہ، دوستانِ عزیز اور قارئینِ کرام کو بھی یہ نام پسند ہوگا، یہ اسم اس وجہ سے نہیں کہ

 

۸

 

اس کتاب میں سر تا سر عشقِ سماوی ہی کا موضوع ہے، بلکہ اس کا وسیع تر مفہوم و اشارہ یہ ہے کہ میں نے بحیثیتِ مجموعی اپنی تحریروں خصوصاً نظموں میں عشقِ سماوی کا تذکرہ کیا ہے، اور میرا عقیدہ ہے کہ اسی نے میرے عالمِ شخصی کو معمور کیا، پس میں عشقِ سماوی کے اس مبارک نام سے تَیَمُّناً وَ تَبَرُّکاً. اپنی ایک پسندیدہ کتاب کا ٹائٹل بنا رہا ہوں، تا کہ اہلِ دانش اگر چاہیں تو تحقیق کر سکیں کہ اس نام کا پس منظر کیا ہے۔

 

۴۔ کتاب کے اس نام (عشقِ سماوی) میں ان حقائق کی طرف دعوتِ فکر ہے: حضرتِ داؤد علیہ السّلام کی زبور ظاہراً و باطناً عشقِ سماوی سے لبریز تھی، کاملین، عارفین، اور عاشقین کی باطنی قیامت میں ناقورِ عشق کا غلغلہ ہوتا ہے، بہشت کی بہت بڑی نعمت خداوندِ تعالیٰ کا عشق ہے جو شرابِ طہور وغیرہ کے نام سے ہے، اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا، لیکن وہ اس کے ایک محبوب بندے میں تھی، یعنی عقل عشقِ الٰہی سے پیدا ہوتی ہے، قرآن، حدیث، اور ارشاداتِ أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام میں آسمانی عشق و محبّت کی اہمیّت و فضیلت کو دیکھیں، حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے ۱۹۴۰ء میں اپنے جس نورِ محبّت کے طلوع ہو جانے کی پیش گوئی فرمائی تھی، وہ یقیناً لشکرِ اسرافیلی کے ناقورِ عشق سے طلوع ہو چکا ہے، یہی سبب ہے کہ میں ان سے بار بار فدا ہو جانا چاہتا ہوں۔

 

۹

 

۵۔ دانشگاہِ خانۂ حکمت کی ترقی: خداوندِ عالم کی عنایتِ بے نہایت سے ہمارے ادارے کی روز افزون ترقی ہو رہی ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے اسباب و ذرائع مہیا کر دیتا ہے، چنانچہ اُس ذاتِ پاک کی توفیق و ہدایت سے بہت سی عظیم ہستیوں نے اس ادارے میں شرکت و شمولیت اور رکنیت اختیار کی، پھر بعض کو عملداری دی گئی، بعد ازان گورنرز اور علمی لشکر مقرر ہوئے، جس سے ادارے کی بہت ترقی ہوئی، اور کتابوں کے انگریزی ترجمے سے تو انقلاب آ گیا، دوسری زبانوں میں بھی ترجمے ہیں، الحمد للہ۔

 

۶۔ انتسابِ جدید ۔ اوّل: میرے بےحد عزیز، جانی دوست، نہایت پیارے تلمیذ، اور روحانی بھائی امین کوٹاڈیا چیئرمین آف مرکزِ علم و حکمت لنڈن بڑے نیک بخت ہیں کہ ان کی برانچ نے زبردست ترقی کی ہے، اس برانچ کے لئے انہوں نے بےشمار خدمات انجام دی ہیں، ان کی فرشتہ خصلت بیگم مریم بھی ہر خدمت میں ان کے ساتھ ہیں، ان کے دونوں فرشتے جیسے فرزند سلمان اور ابو ذر مجھے از حد عزیز ہیں، یہ پیارے بچے ایامِ طفولیت ہی سے دین کی عمدہ عمدہ باتیں کرتے ہیں، ظاہری تعلیم میں بھی بہت ہی ذہین ہیں، یہ فیملی مولا کی محبّت اور ایمان کی دولت سے مالامال ہے۔

 

۱۰

 

۷۔ ہمارے بہت ہی عزیز امین کوٹاڈیا کے والدِ محترم کا اسمِ گرامی حبیب کوٹاڈیا ہے، وہ ہندوستان میں پیدا ہوئے، اور دس سال کی عمر میں مشرقی افریقہ گئے، امین کی والدہ صاحبہ کا نام روشن بانو حبیب ہے، ان کی جائے پیدائش یوگنڈا ہے۔

 

۸۔ حبیب کوٹاڈیا اور روشن بانو کی شادی خانہ آبادی ۱۴ نومبر ۱۹۴۱ء میں یوگنڈا کے شہر کمپالا میں نامدار پرنس علی خان کی نورانی موجودگی میں ہوئی تھی، ان کے پانچ صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہیں، امین کے والدین آج کل کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔

 

۹۔ امین کے والدین بڑے دیندار اور متقی ہیں، وہ ہمیشہ عبادت بندگی اور جماعت خانے کی حاضری میں پابند ہیں، نکورو میں سب سے پہلے جا کر صبح و شام جماعت خانے کا دروازہ کھولا کرتے تھے، وہ عرصۂ دراز تک کامڑیا اور موکھی رہ چکے ہیں، ان کو یہ سعادت اور اعزاز مشرقی افریقہ کے مختلف جماعت خانوں میں نصیب ہوا، اور حاضر امام صلوات اللہ علیہ نے ان کو ۱۹۵۷ء میں حضور موکھی کے ٹائٹل سے نوازا۔

 

۱۰۔ جناب حبیب کوٹاڈیا شب خیز مومن ہیں، بہت ہی سویرے جماعت خانہ جا کر عشق و محبت سے گنان شریف پڑھا کرتے ہیں، ان کو ایسے بہت گنان یاد ہیں، جو پُرمغز اور حکمت آگین ہیں، اگرچہ کینیڈا میں ان کا گھر جماعت خانہ سے کسی قدر دور ہے، لیکن پھر بھی وہ گھر سے جلدی ہی نکل جاتے ہیں، تا کہ ٹھیک وقت پر گنان

 

۱۱

 

خوانی کی سعادت نصیب ہو جائے، امین کوٹاڈیا کے والدین نے اپنے تمام بچوں کو نیک عادتیں سکھا دی ہیں، اس میں بنیادی چیز مولائے پاک کی مقدّس محبّت ہے، الحمد للہ۔

 

۱۱۔ انتسابِ جدید۔ دوم: ہمارے جوان سال اور جوانِ صالح دوست اور علمی رفیق سہیل رحمانی بڑے دیندار اور خدا پرست انسان ہیں، امریکہ میں ان کی ملاقات سے مجھے بےحد خوشی ہوئی، وہ حقیقی علم کے دلدادہ ہیں، ان میں علمی ترقی کی صلاحیت موجود ہے، مجھے امید ہے کہ وہ بہت ترقی کریں گے، اور علمی خدمت میں نمایان حصّہ لیں گے۔

 

۱۲۔ ان کے والدِ محترم کا نام شوکت علی رحمانی ہے، محترمہ والدہ کا نام زرینہ شوکت علی ہے، سہیل رحمانی کی تاریخِ پیدائش جولائی ۱۸، ۱۹۶۹ء ہے، جائے پیدائش کراچی، تعلیم انٹرمیڈئیٹ کامرس ہے، آپ اکتوبر ۱۹۹۵ء میں امریکہ تشریف لے گئے، جماعتی خدمت اور مذہبی تعلیم کا شوق ان کو والدین سے ورثے میں ملا ہے، آپ نے رحمانی گارڈن (کراچی) کے جماعت خانے میں چاندرات مجلس کے کامڑیا کے فرائض انجام دیئے، آپ ڈیکوریشن کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں، اور الازہر نائٹ اسکول (رحمانی گارڈن) میں ریلیجس ٹیچر بھی تھے۔

 

۱۳۔ فرمانِ اقدس اور عشقِ سماوی: حضرتِ مولانا امام

 

۱۲

 

سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ و سلامہ نے آسمانی عشق کے بارے میں در افشانی فرمائی ہے، آپ کے لئے بےحد ضروری ہے کہ ان مبارک ارشادات کا عقیدت و محبّت سے مطالعہ کریں، تا کہ اس باب میں آپ کو یقینِ کامل حاصل ہو جائے، کیونکہ امامِ عالی مقام علیہ السّلام کا پاک فرمان ہمارے لئے قرآن و حدیث کی حقیقی ترجمانی ہے، آپ اپنے مولائے پاک (روحی فداہ) کے اس نورانی فرمان میں ذرا غور کریں، ارشاد ہے:

 

دیکھو! پروانہ شمع کی روشنی دیکھ کر عشق و محبّت سے اپنی جان جلا دیتا ہے، اس کو اتنی (شدید) محبّت اور عشق ہے کہ بہت سے پروانے جان دے دیتے ہیں، آپ کو بھی ایسی محبّت خداوند تعالیٰ کے لئے رکھنی چاہئے، آپ ایسے عاشق بنیں، خداوند تعالیٰ سے عشق و محبّت کریں، عبادت اور بندگی بھی عشق و محبّت کے ساتھ کریں۔ آپ کو شاید معلوم ہو گا کہ حقیقی عشق کے باب میں مولائے پاک کے ارشادات بہت ہیں۔

 

۱۴۔ د۔ خ۔ ح۔ ریجنل برانچ، اسلام آباد: اللہ تعالیٰ کی بےشمار نعمتوں کا شکر ہے، کہ اُس کریمِ کارساز اور رحیمِ بندہ نواز کی بہت سی نوازشات ہیں، منجملہ یہ بھی اس کی ایک بہت بڑی رحمت ہے کہ اسلام آباد میں جو ہماری برانچ تھی، اس کی اب ترقی ہوئی ہے، اور وہ اب ’’دانشگاہِ خانہ حکمت، ریجنل برانچ، اسلام آباد‘‘

 

۱۳

 

کہلاتی ہے، جس کے ریجنل صدر بازگل ابنِ خلیفہ امان علی شاہ ہیں، جو بہت ہی دیندار اور مولا کے سچے عاشق اور حقیقی درویش ہیں، ان کی فرشتہ خو بیگم مسماۃ ماہرو ایڈوائزر مقرر ہوئی ہیں، میں نے ان جیسی ایماندار خواتین بہت ہی کم دیکھی ہیں، وہاں کے سیکریٹری عبد الکریم مہدی ابنِ صوبیدار (ر) محمد حیات ہیں جو بہت ہی قابل، ایماندار، حلیم الطبع، اور نہایت شریف انسان ہیں، الحمد للہ۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی۔ کراچی

جمعہ ۱۴ شعبان المعظم ۱۴۱۹ھ ، ۴ دسمبر ۱۹۹۸ء

 

۱۴

 

ترجمۂ ہزار حکمت: اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب ہزار حکمت کا ترجمہ عالمی زبان میں ہوا۔ اور یہ بہت بڑا کارنامہ میرے عظیم دوست نے سرانجام دیا، وہ میری جان کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ عزیز ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حقیقی علم کے بہت بڑے شیدائی اور بہت بڑے عالم ہیں، اس وصفِ کلّ کے تحت ان میں بہت سے اوصاف و کمالات جمع ہوگئے ہیں، وہ قوم کا بہت بڑا اثاثہ، امامِ عالی مقام کا ایک علمی خزانہ، پیروں کا گنجینہ، زندہ کتب کا نمونہ، دریائے علم کا گوہرِ یکدانہ، عالی ہمتی میں یگانۂ زمانہ، چراغِ نورِ امامت کا پروانہ، دوستوں کی کامیابی کا نشانہ اور سلطانی قلم کا نگینہ ہیں، یہ ذکرِ جمیل جناب ڈاکٹر (پی۔ ایچ۔ ڈی۔) فقیر محمد ہونزائی صاحب کا ہے۔

 

موصوف کی رفیقۂ حیات محترمہ صمصام رشیدہ نور محمد ہونزائی کی علمی شخصیّت بڑی حیران کن ہے، ان کا ہر لیکچر معنوی گل افشانی اور حقیقی درفشانی ہے، معجزۂ عشقِ مولا کی گلوگیر آواز میں علم کو بیان کرنا ہے تو کوئی نیک بخت یہ بےمثال ہنر صمصام سے سیکھے، لیکن یہ ہنر نہیں ہے، بلکہ معجزہ ہے، جو عطیۂ الٰہی ہے، ایسی پاکیزہ روحیں اور ایسے عظیم فرشتے عالمِ علوی سے اس دنیا میں اس لئے آئے ہیں کہ وہ سب مل کر کرۂ ارض پر قرآنی علم و حکمت کی روشنی پھیلائیں، الحمد للہ۔

 

۱۵

 

مرکزِ علم و حکمت لندن کے جملہ عزیزان کی روز افزون علمی ترقی سے ہمیں انتہائی شادمانی ہو رہی ہے، تاہم یہاں ریکارڈ آفیسر، لائف گورنر، ایم۔ ایس۔ آئی چیف ظہیر لالانی کی حوصلہ افزائی کا موقع ہے، ان کی بہت سی خوبیاں اور بہت سی خدمات ہیں، لہٰذا ان کی ایک زرین اور تابناک تاریخ بننے والی ہے، جناب ڈاکٹر فقیر محمد ہونزائی صاحب اور صمصام صاحبہ ان کی بہت تعریف فرماتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ عزیزم ظہیر لالانی علمی خدمت کی وجہ سے روحاً ایک فرشتۂ زمانہ ہو گئے ہیں، اب ان شاء اللہ ان کا گھر علم کا گہوارہ ہونے والا ہے۔

 

انتسابِ جدید: اس کتابِ مستطاب کے انتساب کی سعادت اٹلانٹا کی تین ایمانی فیملیز کو نصیب ہوئی، پہلی فیملی یہ ہے: موکھی نزار علی علی بھائی، موکھیانی الماس نزار علی ایل جی، نایاب نزار علی ایل جی، حنا نزار علی ایل جی، صبا نزار علی ایل جی، دوسری فیملی: نصیر الدین خان جی ایل جی، خیر النسا نصیر الدین ایل جی، حنا نصیر الدین ایل جی، کاشف نصیر الدین ایل جی، کومل نصیر الدین ایل جی، تیسری فیملی: سلطان علی لاڈجی ایل جی، شوکت بانو سلطان علی ایل جی، عظیم علی سلطان علی ایل جی۔

 

اس حقیقت میں کوئی شک ہی نہیں کہ ہر مفید کتاب علمی بہشت کا ایک سدا بہار اور پُرثمر باغ ہے، جس میں سے بےشمار مومنین

 

۱۶

 

و مومنات میوہ ہائے عقل و جان حاصل کرتے جائیں گے، اور اس کارِ خیر کا اجر و صلہ (ان شاء اللہ) علم و حکمت کی خدمت کرنے والوں کو ملتا رہے گا۔

 

ایمانی اور علمی دوستی و محبت بے مثال بھی ہے اور لازوال بھی، یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے، جب میں اٹلانٹا گیا تو خدا کے فضل و کرم سے اس نعمت میں بڑا زبردست اضافہ ہوا، شاگردوں کی محبت تارِ برقی کی طرح کام کرتی ہے، حقیقی تلامیذ اولاد ہی کی طرح بڑے پیارے ہوتے ہیں، اور اس میں بہت بڑی حکمت ہے، الحمد للہ۔

 

۲۳ جون ۱۹۹۸ء

 

۱۷

 

عالمِ جان و دل

 

۱۔ ایک ہے عالمِ آب و گل اور دوسرا ہے عالمِ جان و دل، یعنی دنیائے ظاہر اور عالمِ باطن یا عالمِ شخصی، جو لوگ دانا ہیں، وہ ہر چیز کو اس کے نام سے جانتے ہیں، خدا کے فضل و کرم سے ہمارے ساتھی سب کے سب وہ ہیں جو ہمیشہ عالمِ جان و دل کی باتیں پسند کرتے ہیں، جس کی کئی وجوہ ہیں۔

 

۲۔ یہاں قرآن اور امام کے معجزۂ علم نے بہت سے دلوں کو ایک کر دیا ہے، لہٰذا وہ ایک دوسرے کو بےحد چاہتے ہیں، میں بھی انہی میں سے ہوں، اس لئے میں جانتا ہوں کہ نور اور قرآن کے عشق و محبت میں کیسی کیسی نعمتیں ہوتی ہیں، چنانچہ جب جب ہمارے احباب عاشقانہ عبادت کے بعد فون پر یا سامنے سے گفتگو کرتے ہیں، تو ان کے کلام سے بہشت کی سی خوشبو آتی ہے، میں سچ کہتا ہوں، مجھے مولا نے سچائی کی دولت سے مالامال فرمایا ہے، پس مجھے سچ سچ حقیقی علم کی تعریف کرنی ہے، اور اس علم کے خادموں کی حوصلہ

 

۱۸

 

افزائی کرنی ہے۔

 

۳۔ جب آخرت کی کلّی بہشت میں اہلِ ایمان کی بہت بڑی تعریف ہونے والی ہے، تو دنیا کی جزوی بہشت (علم و عبادت) میں تھوڑی سی تعریف کیوں نہ ہو، جبکہ قرآنِ حکیم فرماتا ہے: اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو (۰۵: ۰۲) مدد کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں، ان میں سے ایک حوصلہ افزائی بھی ہے، ان شاء اللہ، ہم اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کوشش کریں گے۔

 

۴۔ ہمارے عالمِ جان و دل میں بہشت کا سا منظر ہے، وہاں ہر وہ مجلس نورانی موویز میں ریکارڈ ہے، جس میں ہمارے احباب علم کی باتیں سن رہے تھے، یا عاشقانہ عبادت ہو رہی تھی، یا مولا کی تعریف میں منظوم کلام پڑھا جاتا تھا، یا مناجات اور گریہ و زاری ہو رہی تھی، میں ان کی آواز سے قربان! میں ان کے آنسوؤں سے قربان! میں کیسے قربان نہ ہو جاؤں، کہ یہ روحانی آبادی کی بارش ہے، اور جبکہ یہ عاشقانہ عبادت ہے، اور کسی حد تک پیغمبرانہ عبادت بھی ہے۔

 

۵۔ خداوندِ قدّوس نے اپنے بندوں کے لئے عاشقانہ عبادت آسان بنا دی ہے، جبکہ عاقلانہ (عالمانہ) عبادت مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں، میں نے کئی ممالک میں مولائے پاک کے بہت سے

 

۱۹

 

عاشقوں کو دیکھا، وہ طرح طرح کی خصوصیات کے حامل تھے، تاہم مجھے خاموش گریہ و زاری کرنے والے عاشقوں پر رشک آیا، اشک پر رشک تعجب ہے، کیوں نہ ہو، یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے۔

 

۶۔ سورۂ انبیا (۲۱: ۱۰۴ تا ۱۰۷) میں دیکھیں، یہاں خلاصۂ مفہوم یہ ہے: ہر کامیاب مومن کے لئے ایک ذاتی قیامت اور کائنات کی ایک کاپی ہوگی، عبادت اور معرفت جن کی مکمل ہو جاتی ہے، ان کے نامۂ اعمال (زبور) میں خدا یہ لکھ کے رکھتا ہے کہ اس کے نیک بندے کائنات (ارض) کے وارث ہوں گے، اور خدا کا یہ بہت بڑا پیغام خصوصی عبادت کرنے والوں کو پہنچانا ہے، اور اسی مقصد کے پیشِ نظر خدا نے اپنے حبیب کو عوالمِ شخصی کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

 

۷۔ یہ حدیثِ شریف قبلاۛ مقالے میں درج کی گئی ہے: ان اللہ جمیل یحب الجمال = یقیناۛ اللہ تعالیٰ صاحبِ جمالِ باطنی ہے اس لئے وہ جل جلالہ باطنی جمال کو پسند فرماتا ہے۔ باطنی حسن و جمال علم و حکمت کے بغیر نہیں ہے، آپ یقین کر سکتے ہیں کہ علم و حکمت ہی وہ ارتقائی سیڑھی ہے، جس کے سوا کوئی شخص حسن و جمالِ باطن کو دیکھ ہی نہیں سکتا، اور نہ ہی وہ آئینۂ صورتِ رحمان میں اپنے آپ کو پہچان سکتا ہے۔

 

۸۔ الحمد للہ، یہ نویدِ جان فزا اور مژدۂ دل کشا ہے کہ ہمارے

 

۲۰

 

ساتھیوں نے اپنے زمانے کی علمی جنگ جیت لی ہے، کتنی بڑی سعادت ہے، جب یہ سچ اور حقیقت ہے تو اس بے مثال نعمت کی شکرگزاری کرنی ہو گی، اور دل میں سب کی خیرخواہی اور دعا ہو، بفضلہ و منہ۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

اسلام آباد

۱۴ ، اپریل ۱۹۹۸ء

 

۲۱

 

اللہ کا باطنی گھر

 

۱۔ اگرچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مکان و لامکان سے بے نیاز و برتر ہے، تاہم سب جانتے ہیں کہ عالمِ ظاہر میں اللہ کا ایک مقدّس گھر ہے، اور وہ خانۂ کعبہ ہے، جو خدا کے باطنی گھر کی مثال اور دلیل ہے، اور وہ ممثول و مدلول زمانے کا امام علیہ السّلام ہی ہے، جو خداوندِ قدّوس کا حقیقی اور نورانی گھر ہے، جس میں یقیناۛ رویّت اور معرفت کا کنزِ ازل موجود ہے۔

 

۲۔ قرآنِ حکیم اس حقیقت کی طرف پُرزور توجہ دلاتا ہے کہ کل چیزیں دو دو یعنی جفت جفت ہیں (۵۵: ۵۲، ۱۳: ۰۳، ۵۱: ۴۹، ۳۶: ۳۶) پس کسی شک کے بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ کے دو گھر ہیں، ایک ظاہر میں ہے جو مثال ہے، اور دوسرا باطن میں ہے جو ممثول ہے اور وہ حضرتِ امام علیہ السّلام ہے جو اللہ کا نورانی گھر یعنی بیت المعمور ہے، جس میں خداوند تعالیٰ کا سب کچھ ہے (۳۶: ۱۲)۔

 

۳۔ قرآنِ پاک کے بہت سے مقامات پر خدائے بزرگ و برتر

 

۲۲

 

کے باطنی گھر (امام) کی تعریف آئی ہے، جیسا کہ آیۂ مبارکہ کا یہ ترجمہ ہے: اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں، کیا ہم نے ان کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی، جہاں تمام چیزوں کے ثمرات کھچے چلے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے (۲۸: ۵۷) جو شخص امامِ عالی مقام کو نورانیّت میں پہچانتا ہے، وہ خدا کے حرم (پناہ گاہ) میں داخل ہو جاتا ہے، جہاں اس کے پاس ہر چیز کا میوہ خود بخود آتا ہے، یہ اللہ کے حضور سے خصوصی رزق ہے، ظاہر میں صرف چند درختوں کے سوا اور کسی چیز کا میوہ نہیں ہوتا ہے، لیکن باطن میں ہر چیز کی روح ہی اس کا میوہ ہے، جس میں کئی نعمتیں ہیں۔

 

۴۔ ذرّاتِ ارواح کا ہم نے اپنی تحریروں میں بار بار تذکرہ کیا ہے، قرآنِ حکیم میں ان کی کئی مثالیں ہیں، یہ ثمرات بھی ہیں، لوگ بھی، جنود بھی، پرندے بھی، یاجوج ماجوج بھی، فرشتے بھی، کُل شیٔ بھی ہیں، وغیرہ، چنانچہ حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام اپنے وقت میں امام اور بیت اللہ تھے، اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا: وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ۔۔۔ (۲۲: ۲۷) اور لوگوں میں حج کے لئے ندا کر دو کہ تمہاری طرف پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور (دراز) راستوں سے چلے آتے ہوں (سوار ہو کر) چلے آئیں (۲۲: ۲۷) اس

 

۲۳

 

حکم کی تعمیل اس طرح ہوئی کہ حضرتِ ابراہیم کی قوّتِ اسرافیلیہ نے صورِ قیامت پھونکا اور دنیا بھر کے لوگ بشکلِ ذرّات آپ کی زیارت (حج) کے لئے حاضر ہو گئے۔

 

۵۔ حضرتِ امام علیہ السّلام جو خداوندِ تعالیٰ کا باطنی گھر ہے، اس میں ذرّاتِ ارواح (یعنی لوگ) کئی مثالوں میں آتے ہیں، آپ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۱) میں دیکھیں: یوم ندعوا کل اناس بامامھم = جس دن ہم اہلِ زمانہ کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ یہ آیۂ شریفہ ایک طرف سے کلّیۂ امامت ہے اور دوسری طرف سے کلّیۂ قیامت، کہ ہر امام کے زمانے میں ایک باطنی اور روحانی قیامت برپا ہو جاتی ہے، اور ہر قیامت امامِ وقت سے وابستہ ہے، یہی قیامت حضرتِ ابراہیمؑ کی مثال میں حجِ باطن ہے، اور انہی ذرّاتِ ارواح کی بہت سی مثالیں ہیں۔

 

۶۔ حضرتِ ربِّ جلیل، رسول، اور امام کی معرفت، نیز عارف کی اپنی معرفت کا یہ سارا خزانہ عالمِ شخصی ہی میں ہے، لہٰذا یہ امر بےحد ضروری ہے کہ اہلِ ایمان علم الیقین کا درجۂ کمال حاصل کریں، تا کہ جس کے نتیجے میں وہ مرتبۂ عین الیقین کے دروازے سے داخل ہو سکیں، اور اس کے مشاہدات کے بعد حق الیقین کی طرف بلند ہو جائیں، مگر یہ انتہائی مشکل سفر ہادیٔ زمان کی رہنمائی کے سوا ممکن ہی نہیں، بہ ہر کیف علم الیقین

 

۲۴

 

از بس ضروری ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز۔ اسلام آباد۔

جمعرات ۱۸ ذوالحجہ ۱۴۱۸ھ

۱۶ اپریل ۱۹۹۸ء

 

نوٹ: جن عزیزوں کی گرانقدر خدمات ہیں، ان کے بارے میں چند تاریخی کلمات لکھنے کا منصوبہ ہے، چونکہ امریکہ بہت دور ہے، لہٰذا وہاں کے دوستوں کو اولیّت دیں گے، گورنرز اپنے قیمتی مشوروں سے ہماری مدد فرمائیں، شکریہ!

نصیر الدین

 

۲۵

 

آدموں کا سلسلہ

 

۱۔ اللہ تعالیٰ کے بابرکت اسماء میں سے ایک مبارک و مقدّس اسم الحکیم ہے، جس کے معنی ہیں: دانا، پختہ کار، حکمت والا، اور قرآنِ پاک کا ایک نام بھی الحکیم ہے، جیسے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یٰسٓ  وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِ (۳۶: ۰۱ تا ۰۲) اے سیّد! قسم ہے پُرحکمت قرآن کی۔ اس سے ظاہر ہے کہ قرآنِ عظیم دائمی حکمت کا سرچشمہ ہے، جس سے مستفیض ہونے کے لئے حکمت کے اصولوں اور طریقوں کا جاننا از بس ضروری ہے، اور جس طرح قرآنِ عزیز میں خداوند تعالیٰ نے حکمت کی تعریف فرمائی ہے، وہ بےمثال ہے۔

 

۲۔ ربّ العزّت نے اپنے کلامِ پاک میں بہشتِ جاودانی کی لازوال نعمتوں کا پُرحکمت تذکرہ فرمایا ہے، جس میں بہشت کے چشموں اور نہروں کی تعریف و توصیف نمایان ہے، سوال ہے کہ آیا چشمہ اور نہر میں کبھی وقفہ، ٹھہراؤ یا جمود ہو سکتا ہے؟ خصوصاً بہشت کے چشموں اور نہروں میں؟ اگر نہیں تو اس روانی اور

 

۲۶

 

تسلسل میں کیا اشارۂ حکمت ہے؟ آیا یہ کہنا درست ہے کہ نورِ منزّل اور کتابِ مبین (قرآن) علم و حکمت کے دو سرچشمے ہیں؟ اگر یہ حقیقت ہے تو ان میں تمام زمانوں کے لئے تدریجی ہدایت اور جدید مسائل کا حل موجود ہوگا، اور یہ دلیل یقیناً بڑی منطقی ہے۔

 

۳۔ خدائے دانا و بینا کے فرمانِ اقدس (۴۱: ۵۳) کے مطابق عالمِ ظاہر اور عالمِ نفسی میں بھی آیات ہیں، جن کے مطالعے سے سنّتِ الٰہی اور قانونِ فطرت کا علم ہو سکتا ہے، چنانچہ قرآن اور آفاق و انفس کی روشن دلیلوں سے اس حقیقت کا پختہ یقین ہو چکا ہے کہ خدا کی خدائی میں آفرینش ہمیشہ کی چیز ہے، جس کی نہ تو کوئی ابتدا ہے اور نہ ہی کوئی انتہا، لہٰذا آدموں کا سلسلہ بھی ایسا ہی ہے کہ وہ ابتداء و انتہا کے بغیر ہمیشہ جاری و ساری ہے۔

 

۴۔ جس طرح بہشت سب سے اعلیٰ مقام ہے، اسی طرح اس کے بےمثال نعمتوں میں عظیم اسرار پوشیدہ ہیں، سب سے عجیب بات تو یہ ہے کہ جو چیز دنیا میں غیر ممکن ہو، وہ بہشت میں جا کر ممکن ہو جاتی ہے، جیسے بازارِ جنّت کی تصویروں کے اسرار، کہ جو شخص جس تصویر کی طرح ہو جانا چاہے تو اسی طرح ہو سکتا ہے، تصویریں البتہ بےجان نہیں، بلکہ ان سے حوران، غلمان، اور دیگر اہلِ جنّت مراد ہیں، کیونکہ بہشت میں بےجان اور بےعقل چیزیں

 

۲۷

 

نہیں ہوتی ہیں۔

 

۵۔ تاریخی کلمات: ہمارے بےحد عزیز شاگردوں میں سے بعض امریکہ جیسے عظیم ملک میں اسلامی اور ایمانی زندگی گزار رہے ہیں، وہ سب کے سب اس زمین پر خدائے واحد کے لئے سجدہ کرتے آئے ہیں، اور محمد و آلِ محمد پر صلوات پڑھتے ہیں، مزید برآن نورانی علم کی شمعیں روشن کر رہے ہیں، ان مومنین و مومنات پر یقیناً رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی رہتی ہیں، اب ہم سب مل کر ایک علمی ادارہ ہو گئے ہیں، جس کی بہت بڑی اہمیّت ہے، ایک دانشگاہ بھی، ایک علمی لشکر بھی، ایک عالمِ شخصی بھی، ایک کائنات بھی، ایک مجموعی نامۂ اعمال بھی، ایک قیامتِ صغریٰ بھی، ایک تصویرِ جانان بھی، ایک شمشیرِ بران بھی، اور بہت کچھ، بہت کچھ۔

 

۶۔ گورنرز اور علمی سولجرز خواہ مشرق میں ہوں یا مغرب میں، ان کے اسمائے گرامی ہمارے ادارے کے کارنامۂ زرین میں ہمیشہ کے لئے زندہ اور تابندہ رہیں گے، میرا یقین ہے کہ دنیا میں سب سے عظیم اور بےمثال خدمت صرف ایک ہی ہے، اور وہ ہے قرآنِ کریم اور امامِ مبین کے علم و حکمت کی روشنی کو پھیلانا، امیدِ واثق ہے کہ ہر ایسے خادم پر مولائے پاک بہت مہربان ہو گا، جس کی رحمت سے عزیزوں کی ہر نیک مراد پوری

 

۲۸

 

ہو گی، آمین!

 

۷۔ محترمہ شاہِ ناز سلیم ہونزائی کے زرنگار اور برق رفتار قلم نے ہمارے بعض ساتھیوں کے انٹرویو میں بڑا شاندار کام کیا ہے، اب انہیں اس کارنامے کو مزید آگے بڑھانا ہے، جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ تاریخ نویسی کا منصوبہ اور ابتدائی کام مختلف صورتوں میں بہت پہلے شروع ہوا تھا، مثلاً کسی عزیز کے لئے انتساب لکھنا، جو جدید طریقے پر ہونے کی وجہ سے طویل ہوتا ہے، ورنہ عام رواج کے مطابق ایک ہی جملے میں ختم ہو جاتا ہے، علمی خطوط کی روایت کو جاری کرنا، کتابوں کی رسمِ رونمائی کے موقع پر عزیزوں کے لئے لکھے ہوئے الفاظ، تصاویر اور ریکارڈنگ کے ذرائع، میٹنگیں، تقرریاں، مجالس، ویلکم، الوداع، وغیرہ، یہ ساری چیزیں وہ ہیں، جن سے تاریخ کی یادداشت مل سکتی ہے، چنانچہ ہم آپ کو ایک مکمل سوالنامہ بنا کر بھیجنے والے ہیں، آپ اپنی یادداشت وغیرہ سے اس کے جوابات مہیا کر کے رکھیں، کیونکہ آپ کے ادارے نے خاموش انقلاب کا سب سے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، اور اس کے انکشافاتِ روحانی، آفاقی، اور تاویلی بڑے عجیب و غریب ہیں، لہٰذا اس کی تاریخ لکھنے کا یہی وقت ہے، ورنہ آگے چل کر آپ بہت سی گرانقدر باتیں بھول جائیں گے، اور آپ مجھ کو بھی نہیں پائیں گے۔

 

۲۹

 

۸۔ شروع شروع میں ہمارا پیارا ادارہ بہت ہی چھوٹا، محدود، اکیلا، اور بےسہارا تھا، قدم قدم پر رکاوٹیں اور مشکلات آتی تھیں، لیکن مولائے مہربان کے دامنِ اقدس سے اس بندۂ کمترین کا ہاتھ کبھی نہیں چھوٹا، تا آنکہ رفتہ رفتہ آزمائشیں کم اور کمتر ہونے لگیں، اور اسی طرح خداوندِ قدّوس کی پوشیدہ عنایات نمایان ہونے کا وقت آ گیا، حضرتِ امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام کے علم و حکمت کے روشن چراغ نے خود بخود اپنے باخبر پروانوں کو بلا بھی لیا، جِلا بھی دیا، اور پُرنور حیاتِ سرمدی سے سرفراز بھی فرمایا۔

 

۹۔ ہمارے ادارے کے عظیم مقاصد یہ ہیں: ۱۔ اللہ اور اس کے محبوب رسول کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نورِ منزّل اور کتابِ مبین (قرآن) کے علم و حکمت کو پھیلانا، ۲۔ قرآن اور روحِ اسلام کی عظمت و برتری اور کائناتی حکمت کے ثبوت کے طور پر روحانی سائنس پر ریسرچ کرنا، ۳۔ اسماعیلی مذہب کے علمی و عرفانی تعارف کی ایک تجدید، تا کہ اس سے اتحاد بین المسلمین کی راہیں ہموار ہو سکیں، ۴۔ دینِ اسلام میں جو آفاقیت و انسانیّت ہے، اس کے بھیدوں کو اجاگر کرنا، وغیرہ۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

ہفتہ، ۲۰ ذوالحجہ ۱۴۱۸ھ

۱۸ اپریل ۱۹۹۸ء

 

۳۰

 

علمی خط بطرزِ جدید ۔ ۱

 

۱۔ ڈالاس (امریکہ) میں میرے عزیزان: یا علی مدد! علی نامِ خدا ہے، علی اسمِ مرتضیٰ ہے، علیٔ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم ہے، اور قرآنِ عزیز کا حکم ہے کہ تم اللہ کو اسمِ اعظم سے پکارا کرو (۰۷: ۱۸۰) چنانچہ ہم یا علی مدد کہہ کر خدا کو اسماء الحسنیٰ سے پکارتے ہیں، میں ایک علمی اور دینی خط لکھ رہا ہوں یا علمی عبادت کر رہا ہوں یا دونوں کام ایک ساتھ ہو رہے ہیں؟ اللہ کی جو بھی رحمت ہو، میں جب جب اپنے عزیزوں کو یاد کرتا ہوں تو میں طوفانی خوشی کے عالم میں ہوتا ہوں، اتنی شادمانی اور ایسی خوشی کہاں ہو سکتی ہے، مگر ہاں صرف بہشت میں، الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

۲۔ میرے جان و دل کے عزیزان شمس الدین جمعہ، کریمہ شمس، کامڑیا حسن اور کریمہ حسن یہ سب عملداران اور لائف گورنرز میرے دل کے لطیف باغات ہیں، جن میں بہت خوبصورت روحانی پھول

 

۳۱

 

اور بہت لذیذ میوے ہیں، وہ میرے پیارے، وہ میرے دلارے، وہ میرے سہارے ہیں، اور میرے بہت ہی عزیز سلمان، یہ سب میرے دل میں بستے بستے میری جان کا حصّہ بن چکے ہیں، ہر چہ در کانِ نمک رفت نمک شد۔

 

۳۔ حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام پر اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک معجزاتی محبّت کا پَرتَو ڈالا تھا (۲۰: ۳۹) تا کہ آسیہ (زنِ فرعون) کے پاکیزہ دل میں موسیٰ کے لئے خاص محبّت پیدا ہو، اسی طرح خداوندِ قدّوس جملہ عزیزان پر اپنی مقدّس اور بابرکت محبّت کا عکس ڈال رہا ہے، تا کہ مجھے ان سے ایسی شدید محبّت ہو، جس طرح مادرِ مشفقہ کو اپنے پیارے بچے سے بےحد محبّت ہوا کرتی ہے، تا کہ میں تندرستی میں بھی اور بیماری میں بھی ان کی علمی ترقی کے لئے کام کروں۔

 

۴۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین و مومنات کو امامِ زمان علیہ السّلام میں فنا کر کے زندۂ جاوید بنا دیا ہے، اور ان کو نور عطا فرمایا ہے (نورھم: ۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹، ۶۶: ۰۸) اور حضرتِ امام یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمام مرید جن کو اسمِ اعظم عطا ہوا ہے وہ خاص علم اور خاص عبادت کے ذریعہ اس نور کو دیکھیں، چنانچہ عارفین و کاملین نور کو روحانی قیامت کے ساتھ دیکھتے ہیں، جس کے کئی مقامات ہیں، اور نور کا اصل مقام حظیرۂ قدس ہی ہے، جہاں کنزِ مخفی ہے،

 

۳۲

 

جس میں تمام اسرارِ معرفت جمع ہیں۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

۲۳ اپریل ۱۹۹۸ء

 

۳۳

 

علمی خط بطرزِ جدید ۔ ۲

 

۱۔ شکاگو (امریکہ) میں میرے عزیزان: یاعلی مدد! حضرتِ امیر المومنین علی علیہ السّلام کا ارشاد ہے: انا الاسماء الحسنیٰ التی امر اللہ ان یدعیٰ بھا = یعنی میں خدا کے وہ اسماءِ حُسنیٰ ہوں جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کو ان اسماء سے پکارا جائے (کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت ۲۹) دورِ ششم کے اسماءُ الحسنیٰ میں سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ گرامی ہے، آپ کے بعد مولا علی اور دیگر تمام أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام اسماءُ الحسنیٰ ہیں، لیکن ایک میں سب ہوتے ہیں، لہٰذا امامِ اوّل (اساس = علی) نے اپنے اس ارشاد میں ہر امام کے مرتبۂ نورانیّت سے آگاہ کر دیا، پس جن عرفاء نے اپنے وقت کے امام کو چشمِ باطن سے دیکھا ہے، وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ زمانے کا امام خزانۂ الٰہی کا مرتبہ رکھتا ہے، جس میں خدا کی ہر چیز

 

۳۴

 

موجود ہوتی ہے۔

 

۲۔ شکاگو میں اگرچہ میرے عزیزان بہت ہیں، لیکن میں بطورِ نمونہ صرف چند عزیزوں کے اسماء کو یہاں درج کرتا ہوں، وہ یہ ہیں: نور الدین راجپاری لائف گورنر جن کی بہت خدمات ہیں، اور جماعت میں ان کی بڑی عزّت ہے، عبد المجید پنجوانی لائف گورنر، زینت پنجوانی لائف گورنر، برکت گیلانی، رخسانہ گیلانی، اکبر علی بھائی، شمسہ علی بھائی، مظہر علی عاشق علی، اور کریم عیسیٰ، میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ عزیزان مولائے پاک کے علمی لشکر میں سے ہیں، یہ مجھے بےحد عزیز ہیں، اس لئے بار بار انہیں یاد کرتا ہوں، اور یقیناً ایسی یادوں میں ایک خاص دعا بھی پوشیدہ ہوا کرتی ہے۔

 

۳۔ دنیا میں جب کوئی شخص سوال کرتا ہے، تب ہی اس کو جواب دیا جاتا ہے، لیکن قرآنِ حکیم میں ہر سوال کا جواب پہلے ہی سے تیار کیا ہوا موجود ہے، مثال کے طور پر بعض لوگوں کی زبان پر یا دل میں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اگر تمہارا امام برحق ہے تو اس کو خدا نے کیا کیا معجزے عطا کئے ہیں؟ اس کے ایک جواب کی بجائے کم از کم ہزار جوابات ہو سکتے ہیں، لیکن ہم یہاں صرف ایک ہی جواب پر اکتفا کریں گے، وہ یہ کہ ہر امام کے پاس خدا کی طرف سے ایک تو کائناتی علم ہوتا ہے، اور دوسرا کائناتی جثّۂ ابداعیہ (۰۲: ۲۴۷) ان دونوں معجزوں کو صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں، جو

 

۳۵

 

امام کے عارف ہو چکے ہیں۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

۲۴ اپریل ۱۹۹۸ء

 

۳۶

 

مدرّسِ عشقِ مولا

 

۱۔ “مدرّسِ عشقِ مولا” یہ کتنا پسندیدہ اور کیسا پیارا نام ہے! اس طرح کا عظیم الشّان نیچرل ٹائٹل کسی بہت ہی خوش نصیب مومن یا مومنہ کے لئے خداوندِ تعالیٰ کا بہت ہی بڑا انعام ہے، جس میں کسی مخلوق کی سفارش کا کوئی دخل ہی نہیں، اور نہ ہی اس میں کوئی تصنع (بناوٹ) ہے، بلکہ یہ ان تمام خوبیوں کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا ہوئی ہیں، آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں مولائے پاک کے ان عزیز بچوں اور بچیوں کی بجا طور پر تعریف و توصیف کرنا چاہتا ہوں جو اپنی بےحد لطیف و شیرین آواز سے ہر وقت پرمغز منقبت یا گنان پڑھتے رہتے ہیں، اس بےمثال عاشقانہ طریقِ عبادت سے جماعتِ باسعادت کو جیسا اور جتنا روحانی فائدہ مل رہا ہے، وہ ان شاء اللہ بےقیاس و بےاندازہ ہے۔

 

۲۔ میں تو ہر فرشتہ صفت منقبت خوان کو “مدرسِ عشقِ مولا” کہوں گا، کیونکہ وہ پیاری جماعت کے خوش بخت افراد کے قلوب کو

 

۳۷

 

پاک مولا کے عشق و محبّت کا پاکیزہ درس دے رہا ہے، لہٰذا وہ خود ایک زندہ مدرسہ بھی ہے، اور مدرّس بھی، ورنہ مدرسۂ عشقِ سماوی کہاں ہے؟ جبکہ آج کی مادّی دنیا میں ہر علم و فن کے لئے ایک مدرسہ یا کوئی ٹریننگ سنٹر ہوا کرتا ہے، لیکن خدا، رسول، اور امامِ زمانؑ کے مقدّس عشق و محبّت جیسی حکمت یا روحانی سائنس سکھانے کا ذریعہ کیا ہے؟ آیا مولا کی محبّت کے سوا دین کوئی اور چیز ہے؟

 

۳۔ حال ہی میں ایک بڑی اہم اور بہت ہی مفید کتاب “قانونِ کل” کے نام سے مکمل ہوئی ہے، جس کا مقصد ہے: کلّ یا کلّیات یا کلِّ کلّیات کے تصوّر کی مدد سے معلومات حاصل کرنا، مثال کے طور پر بحوالۂ قرآن (۳۶: ۱۲) امامِ مبین اپنے باطن میں لطیف آسمانی کلّ یا مجموعہ یا خزانہ ہے، ایسے میں بڑا عجیب و غریب حکمتی سوال یہ ہے کہ: آیا امامِ مبین میں دیگر تمام اہم چیزوں کے ساتھ ساتھ روحانی زبور بھی موجود ہے یا نہیں؟ ایسا انوکھا سوال کبھی کسی نے نہیں کیا ہوگا، بہرکیف اس کا جواب یقیناً یہی ہے: کیوں نہیں، روحانی زبور امامِ مبین کے عالمِ شخصی میں موجود ہوتی ہے، اس کی چند چیزیں یہ ہیں: فرشتۂ عشق (جدّ = اسرافیل) ناقورِ قیامت، پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح خوانی، وغیرہ، اس سے معلوم ہوا کہ حضرتِ داؤدؑ کی بولنے والی زبور روحانیّت میں تھی، اور خاموش زبور ظاہر میں،

 

۳۸

 

پس مقدّس موسیقی کے ساتھ عشقِ مولا کی منقبت خوانی زبورِ ظاہر و باطن کے عین مطابق ہے، الحمد للہ۔

 

۴۔ سورۂ سبا (۳۴: ۱۳) میں حق سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًاؕ-وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ = اے داؤد کی اولاد عملی شکرگزاری کرو کیونکہ میرے بندوں میں عملی شکرگزار تھوڑے ہیں۔ داؤد علیہ السّلام اپنے وقت کا امام تھا، لہٰذا اس آیۂ شریفہ کی حکمت (تاویل) داؤدِ زمان (امامِ زمان) علیہ السّلام اور اس کی روحانی اولاد سے متعلق ہو جاتی ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ امامِ وقتؑ میں تمام چیزیں موجود ہیں، اور وہ تمام روحانی نعمتیں بھی موجود ہیں، جو حضرتِ داؤدؑ کو عطا ہوئی تھیں، پس مومنین کے لئے حکم ہے کہ وہ اپنے روحانی باپ کے نقشِ قدم پر چل کر تمام روحانی نعمتوں کو حاصل کریں، اور اسی طرح عملی شکرگزاری کریں۔

 

۵۔ سورۂ صٓ (۳۸: ۲۶) میں ارشاد ہے: یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ= اے داؤد ہم نے تم کو (آدم کی طرح) زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ اس سے یہ حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے کہ ہر امام اپنے وقت میں کائناتی زمین و آسمان کا خلیفہ ہوتا ہے، کیونکہ کائناتی زمین سے نفسِ کلّی مراد ہے، اور کائناتی آسمان عقلِ کلّی ہے، یہ دونوں الگ الگ بھی ہیں، اور ایک بھی ہیں، پس آپ کو

 

۳۹

 

بھی اپنے روحانی باپ کی طرح خلیفۂ کائنات ہو جانا ہے۔

 

۶۔ عالمِ شخصی میں کتبِ سماوی کی روح موجود ہے، جیسے صحف، توریت، زبور، انجیل، الکتاب، وغیرہ، سورۂ انبیاء میں ارشاد ہے: اور ہم نے (عارف کے) ذکر و عبادت کے بعد زبور (کتابِ عالمِ شخصی) میں لکھ دیا ہے کہ میرے نیکوکار بندے کائناتی زمین کے وارث ہوں گے (۲۱: ۱۰۵) عالمِ شخصی کی کتاب کو زبور اس لئے کہا گیا کہ وہ حضرتِ داؤد کی زبور بھی ہے، جیسے میرے بروشسکی اشعار میں کہیں صورِ اسرافیل کا ذکر ہے، کہیں ناقور کا، اور کہیں پریلو (بانسری) کا تذکرہ ہے، جیسا کہ یہ شعر ہے: جݺ دَیلَم صورِ اسرافیل پُریلوݺ معجزا ہینن+ قیامتݺ گون دُوَرِلا خیر یݺ مُو دالِن لݺ ایرن دݣ= میں نے صورِ اسرافیل (کی آواز) کو سنا جونائے (عشق) کی معجزانہ موسیقی ہے، شاید اب صبحِ قیامت ہو چکی ہے ساتھیوں خواب غفلت سے بیدار ہو جاؤ۔

 

۷۔ میں نے بعض منقبت خوان ارضی فرشتوں کو دیکھا ہے، اور بڑی حیرت ہوئی کہ ان کی سریلی آواز میں جادوئے حلال ہے، یا یہ کہ ان کی مبارک آواز میں ناقورِ قیامت کا معجزہ ہے، چشمِ بد دور! ان کی فرشتگانہ خصلتوں میں کبھی کوئی کمی نہ ہو! بلکہ روز بروز اور زیادہ ترقی ہو! آمین!!

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

اتوار ۲۸ ذوالحجہ ۱۴۱۸ھ

۲۶ اپریل ۱۹۹۸ء

 

۴۰

 

علمی خط بطرزِ جدید ۔ ۳

 

۱۔ یوسٹن (امریکہ) میں میرے عزیزان: یاعلی مدد! خدا نے علیؑ سے رسولؐ کی مدد فرمائی تھی (کوکبِ درّی، بابِ دوم، منقبت ۱۶) حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ و سلامہ کے ارشادات کو جان و دل اور عشق سے پڑھو، ان میں روحانی ترقی کے لئے خصوصی ہدایت اور زبردست حوصلہ افزائی ہے، امام کی ظاہری ہدایات پر کاملاً عمل کرنے کے ساتھ ساتھ روحانی ترقی کا معجزانہ دروازہ کھل جاتا ہے، اور وہ باب القیامۃ ہے، جس کا تذکرہ قرآنِ پاک کے شروع سے لے کر آخر تک ہے، جیسا کہ سورۂ زمر (۳۹: ۶۷) میں ہے: اور انہوں نے خدا کی قدر شناسی جیسی کرنی چاہئے تھی نہیں کی، اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ یہ عالمِ شخصی کی زمین و آسمان کا بیان ہے، اور کائناتِ لطیف کا

 

۴۱

 

تذکرہ ہے۔

 

۲۔ میری پیاری روح کے پیارے پیارے اجزاء نور علی مومن، یاسمین نور علی، نادر نور علی، یاسمین نادر، نسرین دخترِ نور علی، ظاہر مومن، عرفان ہیمانی یہ سات عزیزان لائف گورنرز ہیں، امین قاسم اور ریاض بھی زرّین کارنامے انجام دے رہے ہیں، نور علی اور یاسمین کا گھر گویا میرا اپنا گھر ہے، اس لئے میں بار بار اس پیارے گھر کو نیک دعاؤں کے ساتھ یاد کرتا ہوں، میں عالمِ خیال میں اپنے سب عزیزوں کو دیکھنا چاہتا ہوں، خیال اور تصوّر مشکل نہیں، لیکن اس میں روحانیّت کی روشنی چاہئے۔

 

۳۔ میں اس خط میں تمام ساتھیوں کو ایک گرانقدر تحفہ پیش کر رہا ہوں، وہ یہ کہ قرآنِ حکیم میں دو قسم کی مثالیں آئی ہیں: مثبت اور منفی، آپ ہرگز یہ خیال نہ کرنا کہ مثبت مثالوں میں علم ہوتا ہے، مگر منفی مثالیں علم سے خالی ہیں، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ قرآنِ عظیم کی کوئی بھی چیز بدونِ علم و حکمت نہیں ہے، دیکھئے قرآن: ۰۶: ۸۰، ۰۷: ۸۹، ۲۰: ۹۸، ۴۰: ۰۷، جیسے قرآنِ حکیم میں یاجوج ماجوج کا قصّہ ہے (۱۸: ۹۴، ۲۱: ۹۶) جس کے ظاہر میں شر و فساد کے سوا کچھ نہیں، مگر باطن میں علم و حکمت کا ایک عجیب و عظیم خزانہ ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

پیر ۲۹ ذوالحجہ ۱۴۱۸ھ

۲۷ اپریل ۱۹۹۸ء

 

۴۲

 

علمی خط بطرزِ جدید ۔ ۴

 

۱۔ برمنگھم (امریکہ) میں میرے عزیزان: یاعلی مدد! حدیثِ شریف میں مولا علی کی تعریف و توصیف دو طرح سے ہے: براہِ راست اور بالواسطہ، بالواسطہ تعریف یہ ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے حضرت علیؑ کو مثیلِ ہارون قرار دیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآنِ حکیم میں جو جو اوصاف حضرتِ ہارونؑ کے ہیں، وہی اوصاف و کمالات حضرتِ علیؑ کے بھی ہیں، مگر یہ ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، اسی طرح رسولِ خدا نے جس درود کی تعلیم دی ہے اس کی رو سے آلِ محمدؐ اور آلِ ابراہیمؑ کا درجہ ایک جیسا ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ قرآنِ عزیز میں جو جو ارشادات آلِ ابراہیمؑ کے بارے میں ہیں، وہی ارشادات یقیناً آلِ محمدؐ کے بارے میں بھی ہیں، یہ ہے قرآن و حدیث کی حکمت کا ایک خاص طریقہ۔

 

۲۔ ہمارے قلب و جان کے عزیزان اور یک حقیقت (مونوریالٹی)

 

۴۳

 

کے قدر شناسان عزیز راجپاری، نفیسہ راجپاری، سابق صدر محمد عبد العزیز، یاسمین محمد، نصراللہ خان یہ پانچ عزیزان لائف گورنرز ہیں، بے شمار خدمات کی وجہ سے محمد اور یاسمین کو لائف گورنری کی ترقی دی گئی، اس برانچ میں کریمہ ناتھانی اور سہیل جیسے حقیقی علم کے پروانے بھی ہیں، سلمیٰ اسلم اور امین فاضل جیسے فرشتے بھی، الحمد للہ۔

 

۳۔ دل بار بار قرآن میں امام کے تاویلی معجزات دیکھنا چاہتا ہے، جب کوئی ایسا معجزہ ہوتا ہے تو فوراً عزیزان یاد آتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہم سب حکمت کی کھرل میں پس کر یکجان ہو گئے ہیں، سوائے روحانی طبیب کے ہماری جانوں کو کون کھرل کر سکتا ہے، جب رشتوں میں اتنا مزہ ہے تو وحدت میں کتنا مزہ ہو گا!

 

۴۔ قرآن فرماتا ہے کہ جنّت کا طول و عرض کائنات کے برابر ہے (۵۷: ۲۱، ۰۳: ۱۳۳) اس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات کا جسمِ لطیف بہشت بھی ہے اور ارض اللہ بھی (۲۹: ۵۶، ۳۹: ۱۰) جس میں بےشمار لطیف سلطنتیں ہیں، کیونکہ بہشت کی سب سے بڑی نعمت وہاں کی بہت بڑی بادشاہی ہے (۷۶: ۲۰) اور یہی بادشاہی خلافت بھی ہے (۲۴: ۵۵) اس بیان سے معلوم ہوا کہ قرآنِ حکیم کے تمام اسرار باہم ملے ہوئے ہیں، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ حظیرۂ قدس میں جملہ حکمتوں کی یکجائی اور وحدت ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی۔

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

پیر ۲۹ ذوالحجہ ۱۴۱۸ھ

۲۷ اپریل ۱۹۹۸ء

 

۴۴

 

علمی خط بطرزِ جدید ۔ ۵

 

۱۔ اٹلانٹا (امریکہ) میں میرے عزیزان: یا علی مدد! حضرتِ مولانا علی علیہ السّلام کا مبارک ارشاد ہے: انا وجہ اللہ فی السماوات و الارض = میں آسمانوں اور زمین میں وجہ اللہ (چہرۂ خدا) ہوں (کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت ۶۹) سمیٹے ہوئے آسمان (مَطْوِیّٰت، ۳۹: ۶۷) حظیرۂ قدس میں ہیں، جہاں مولا علی بمرتبۂ مظہر چہرۂ خدا اور صورتِ رحمان ہے، اور زمین پر مولائے پاک چہرۂ خدا اس طرح سے ہے کہ بحوالۂ قرآن (۱۱: ۰۷) عالمِ شخصی جو عالمِ دین کا نمونہ ہے اس کی تکمیل کے بعد عرفاء کو ایک دن پانی پر ۔۔۔۔۔ کا مشاہدہ اور دیدار ہوتا ہے۔

 

۲۔ ہمارے دل و جان کے پسندیدہ ساتھی اور عزیزانِ علمی غلام مصطفیٰ مومن، ممتاز مومن، نادیہ دخترِ غلام مصطفیٰ، نوشاد پنجوانی، روزینہ نوشاد، نزار علی بھائی، الماس نزار علی، نایاب دخترِ

 

۴۵

 

نزار علی، حنا دخترِ نزار علی، صبا دخترِ نزار علی، بدر الدین، ماہِ محل بدر الدین، سلطان علی، یہ تیرہ عزیزان لائف گورنرز ہیں، مسز شوکت سلطان علی بہت دیندار شخصیّت ہیں، چشمِ بد دور کہ اس برانچ میں سب سے زیادہ گورنرز ہیں۔

 

۳۔ یہ تمام عزیزوں کے لئے بہت ہی بڑی اور بہت ہی عظیم انقلابی حکمت ہے کہ سمیٹے ہوئے آسمان (مطویّات، ۳۹: ۶۷) انسانِ کامل کے حظیرۂ قدس میں ہیں، جب حقیقت یہی ہے تو یقیناً ان جملہ آیاتِ مبارکہ کا باطنی تعلق عالمِ شخصی یا حظیرۂ قدس سے ہوگا، جن میں آسمان یا آسمانی چیزوں کا کوئی ذکر آیا ہو، اور ایسی آیاتِ کریمہ بہت بڑی تعداد میں ہیں۔

 

۴۔ اگرچہ فنا ایک سلسلہ ہے، لیکن بڑی فنائیں دو ہیں، ایک اسرافیلی اور عزرائیلی منزل میں ہے، اور دوسری فنا حظیرۂ قدس میں، فنائے اوّل میں تکلیف ہے، مگر فنائے دوم میں کوئی تکلیف نہیں، بلکہ راحت ہے، شاید اس لئے کہ یہاں بہشت ہے، کہ اس میں کوئی تکلیف ہو نہیں سکتی، پس وہاں فنا کے لئے صرف دیدارِ پاک چاہئے، کیونکہ دیدار ہی اصل سے واصل ہو جانا ہے، یہی رجوع ہے، حقیقی توبہ بھی یہی ہے، جب آپ نے عالمِ وحدت میں صورتِ رحمان (وجہ اللہ) کا مقدّس دیدار کیا تو اس کی خاصیّت یہ ہے کہ آپ اُس میں فنا ہو گئے، قرآن

 

۴۶

 

)۲۸: ۸۸، ۵۵: ۲۷(  میں دیکھئے کہ ہر چیز اور ہر شخص صورتِ رحمان یا چہرۂ خدا کے سامنے جا کر فنا ہو جاتا ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

بدھ ۲ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ

۲۹ اپریل ۱۹۹۸ء

 

۴۷

 

علمی خط بطرزِ جدید ۔ ۶

 

۱۔ سیاٹل (امریکہ) میں میرے عزیزان: یاعلی مدد! احادیثِ قدسی بھی قرآنی آیات ہی کی طرح بے انتہا مفید ہیں، چنانچہ جی چاہتا ہے کہ بار بار ان خزانوں کے جواہرات کا تذکرہ کریں، حق بات تو یہ ہے کہ ہر خزانہ حظیرۂ قدس میں نظر آتا ہے، جہاں خزینۃ الخزائن لقاءُ اللہ ہے، اس مقامِ عالی کو حاصل کرنے کے لئے علم و حکمت اور عاشقانہ عبادت کے ساتھ ساتھ بہت مفید خدمت چاہئے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کوئی روحانی ترقی ناممکن نہیں۔

 

۲۔ ہماری بہت ہی عزیز اسٹوڈنٹ بیٹی رابعہ امین نہ صرف تنہا فرشتۂ ارضی ہیں، بلکہ ان کے بھائی مراد، بہن شاہ نور، اور کریمہ شمس بھی فرشتگانِ ارضی میں سے ہیں، ہم نے چند سال پہلے کراچی میں محترمہ رابعہ کی ایک خاموش مثالی گریہ و زاری دیکھی تھی، وہ میرے تصوّر میں ناقابلِ فراموش ہے، رابعہ کے پاکیزہ دل

 

۴۸

 

میں ہمیشہ حضرتِ امام علیہ السّلام کی نورانی محبّت موجود ہوتی ہے، اس لئے آپ ہر وقت یادِ الٰہی کے ساتھ ساتھ جماعتی خدمات میں مصروف رہتی ہیں۔

 

۳۔ سورۂ طلاق آیتِ سوم (۶۵: ۰۳) کے شروع میں ہے: اور (خدا) اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا، جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو۔ یعنی قرآنِ کریم کی کوئی ایسی آیت نہیں جس کا ایک ظاہر اور ایک باطن نہ ہو، اور باطن میں کوئی غالب و زبردست حکمت نہ ہو، اس کے علاوہ آفاق و انفس کی آیات ہیں، جن میں اہلِ بصیرت کے لئے بہت کچھ ہے۔

 

۴۔ قرآنِ حکیم میں صورِ قیامت کے اسرار حضرتِ داؤد علیہ السّلام کے قصّے میں بھی ہیں، اور بعض دوسری آیات میں بھی ہیں، چنانچہ خدا نے پہاڑوں اور پرندوں (کی روحوں) کو حکم دیا کہ داؤد (خلیفۃ اللہ) کے ساتھ تسبیح کرو (۳۴: ۱۰) پس اس حکمِ الٰہی پر ہر چیز ناقورِ قیامت کے ساتھ ہم آہنگ ہوگئی، اور یہ سرِ اسرار بہت ہی عظیم ہے، جس سے دوسرے اسرار پر بھی روشنی پڑتی ہے، کہ ہر شیٔ صورِ اسرافیل کی ہم نوائی میں تسبیح کرتی ہے (۱۷: ۴۴) الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

جمعرات ۳ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ

۳۰ اپریل ۱۹۹۸ء

 

۴۹

 

علمی خط بطرزِ جدید ۔ ۷

 

۱۔ اٹلانٹا (امریکہ) میں میرے عزیزان: یاعلی مدد! یہ ایک مقدّس سلام و دعا ہے جو بڑی پسندیدہ روایت بھی ہے، اور روشن حقیقت بھی، اب ہم (ان شاء اللہ) کوئی علمی نکتہ بیان کریں گے: قرآنِ عزیز کے آٹھ مختلف مقامات (۱۳: ۰۵، ۱۴: ۱۹، ۳۲: ۱۰، ۳۴: ۰۷، ۳۵: ۱۶، ۵۰: ۱۵، ۱۷: ۴۹، ۱۷: ۹۸) پر “خلقِ جدید” کا تذکرہ موجود ہے، خلقِ جدید کے ظاہری معنی ہیں: مر جانے کے بعد از سرِ نو پیدا ہو جانا، مگر اس کی تاویلِ باطن ہے: قالبِ نورانی، جثّۂ ابداعیہ، جس میں بعد از موت مومن کی روح رکھی جاتی ہے (ہزار حکمت، ح ۶۷۲) اس لطیف اور زندہ جسم (جثّۂ ابداعیہ) کا نام خلقِ جدید اس لئے ہے کہ یہ ہمیشہ جدید اور تر و تازہ ہی رہتا ہے، جس کی وجہ دائمی تجدّد ہے، یعنی وہ ایک دائمی شعلۂ چراغ کی طرح ہے، جو لمحہ بہ لمحہ اپنی جدّت کو قائم رکھتا ہے، میرے نزدیک یہ انتہائی

 

۵۰

 

عظیم راز ہے، جس سے اہلِ بہشت کے ہمیشہ ہمیشہ جوان رہنے کا بھید بھی منکشف ہو گیا، یہی تاویل “تھݸݽ گٹݸ جݹ، مݶن شرݸ جݹ” میں بھی ہے۔

 

۲۔ میرے قلب و جان کے عزیزان اور دونوں جہان کے رفیقان ڈاکٹر رفیق جنّت علی، ڈاکٹر شاہ سلطانہ رفیق، شفیق ابنِ رفیق، گلاب خانم دخترِ رفیق، عمران فتح علی، چھوٹا فرشتہ نصیر الدین نوشاد، اور دیگر عزیزوں کی سلامتی اور ترقی کے لئے بہت سی دعائیں کرتا ہوں، دونوں ڈاکٹرز نے بہت سی خدمات انجام دی ہیں، اور عزیزم عمران کو بھی گوناگون خدمات کی وجہ سے یہاں سب یاد کررہے ہیں۔

 

۳۔ مولا علی علیہ السّلام کا ارشادِ مبارک ہے: انا الذی عندی خاتم سلیمان = یعنی میں ہوں وہ شخص جس کے پاس سلیمان کی انگوٹھی موجود ہے (کوکبِ درّی، بابِ سوم، منقبت ۶) اس انگوٹھی سے اسمِ اعظم مراد ہے، جو حضرتِ امامؑ کے پاس ہے، جس میں روحانی سلطنّت کا راز پوشیدہ ہوتا ہے، ہر امام سلیمانؑ ہی کی طرح اپنے وقت کا روحانی سلطان ہوتا ہے، کیونکہ بحوالۂ قرآن (۰۴: ۵۴) خدا نے روحانی سلطنت آلِ ابراہیمؑ اور آلِ محمدؐ کو عطا کیا ہے، آپ عالمِ شخصی میں جا کر اس کی مکمل

 

۵۱

 

معرفت حاصل کر سکتے ہیں۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

جمعہ ۴ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ

یکم مئی ۱۹۹۸ء

 

۵۲

 

علمی خط بطرزِ جدید ۔ ۸

 

۱۔ فرانس میں میرے عزیزان: یاعلی مدد! یہ بیان سورۂ حدید (۵۷: ۲۵) کے حوالے سے ہے: آسمانی کتاب کے لئے جس میزان (ترازو) کی ضرورت ہے، وہ امام ہے جو صاحبِ تاویل ہے (علیہ السّلام) اور خدا نے جس طرح لوہا نازل کیا، اس کی کم سے کم تاویلیں تین ہیں: (الف) لوہے کی معدنی روح نازل کی گئی، جس سے لوہے کی کان بن گئی، (ب) جو لوگ روحانیّت کے قابل ہیں، ان پر روحانیّت اتاری گئی، (ج) جو لوگ روحانی علم کی اہلیّت رکھتے ہیں، ان کو یہ علم دیا گیا، اس میں سخت (روحانی) جنگ ہے، اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں ۔۔۔۔۔

 

۲۔ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ داؤدؑ کے لئے لوہے کو مثلِ موم نرم کر دیا تھا (۳۴: ۱۰) یعنی لوہا، روحانیّت، اور علم، تا کہ مکمل زرہیں بنائی جائیں، اس سے معلوم ہوا کہ بکتر (زرّہ) تین قسم کے ہوتے

 

۵۳

 

ہیں: جسمانی، روحانی، اور عقلانی، پھر جنگیں بھی تین ہیں، ان میں سے دو جنگوں کی بہت بڑی اہمیّت ہے، وہ حربِ روحانی اور حربِ عقلی (علمی) ہیں۔

 

۳۔ میرے جانی اور جگری دوست، علمی ساتھی، اور روحی عزیز کریم امام داد اگرچہ فرانس میں اکیلا نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں تنہا نہیں ہیں، ان کے ساتھ روحوں کا بہت بڑا لشکر ہے، ان کی بہت بڑی خوش نصیبی ہے، کہ ان کو حضرتِ امامِ عالی مقام کا مقدّس دیدار ہوتا رہتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہم سب کی روحیں جا کر ان کی آنکھوں سے اپنے امام کا پاک دیدار کرتی ہیں، میں اپنے بہت ہی عزیز دوست کریم امام داد اور ان کے فرزندِ دل بند سلمان کی سلامتی اور ہر گونہ ترقی کے لئے دعا کرتا ہوں۔

 

۴۔ علمی جنگ سب سے بڑی اور سب سے آخری جنگ ہے، اسی لئے سارے قرآن میں ظاہراً و باطناً علم ہی کا ذکر ہے، پس ہوشمند مومن وہ ہے جو بار بار علمی دیدار کے لئے گریہ و زاری کرتا ہے، ہم بیچارے کون ہوتے ہیں کہ علم کے لئے مناجات و عاجزی نہ کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول سے فرمایا: وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا (۲۰: ۱۱۴) اور دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے!

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

ہفتہ ۵ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ

۲ مئی ۱۹۹۸ء

 

۵۴

 

علمی خط بطرزِ جدید ۔ ۹

 

۱۔ لنڈن میں میرے عزیزان: یا علی مدد! انبیا و اولیا علیہم السّلام اور کاملین و عارفین دنیا ہی میں قیامت، روحانیّت، آخرت، اور بہشت کو دیکھتے اور معرفت حاصل کرتے ہیں، اس کی بہت سی دلیلوں میں سے تین کے لئے دیکھیں: ۱۷: ۷۲، ۴۷: ۰۶، ۷۶: ۲۰، اس کے علاوہ حدیثِ نوافل اور فنا فی اللہ کا تصوّر بھی کریں، جب خدا اپنے بندے کی آنکھ ہو جاتا ہے تو اس حال میں ایسی کون سی چیز ہے جو دکھائی نہ دے؟ اس سے معلوم ہوا کہ خزائنِ الٰہی میں ہر نعمت موجود ہے، جس کو حاصل کرنے کے لئے ہمّت اور علم چاہئے، اور اللہ کی رحمت ہر چیز سے مقدم ہے۔

 

۲۔ بہشت کے لئے نفسِ واحدہ کا قانون اپنی جگہ اٹل ہے، وہ یہ کہ سب کی ولادتِ روحانی اور ولادتِ عقلانی اسی کے عالمِ

 

۵۵

 

شخصی میں ہوتی ہے (۳۱: ۲۸) یعنی لوگوں پر قیامت کے جملہ احوال نفسِ واحدہ کے باطن میں گزرتے ہیں، اور لوگوں سے اللہ کا یہ سوال: “کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟” بھی اسی کے حظیرۂ قدس میں ہوتا ہے، درحالے کہ لوگ پرورش کے اس مقام پر صورتِ رحمان میں فنا ہو کر یک حقیقت ہو جاتے ہیں۔

 

۳۔ یک حقیقت کی سب سے اعلیٰ تعریف یہ ہے کہ وہ صورتِ رحمان ہے، جو بازارِ جنّت کی تصویروں کی تاویل بھی ہے (ہزار حکمت ح ۵۱۲) لنڈن کے عزیزان کو خط لکھتے ہوئے یہ بےمثال تاویل بھی آ گئی کہ ہماری ازلی وحدت صورتِ رحمان ہے کہ وہی سب کی مونوریالٹی ہے، اور وہ حظیرۂ قدس میں موجود ہے، پس اب یہ کہنا قابلِ فہم ہو گیا کہ میں سب عزیزوں میں رہتا ہوں، اور وہ مجھ میں رہتے ہیں، تاہم بہشتِ کلّی میں یہ حقیقت نمایان اور معجزانہ ہو جائے گی۔

 

۴۔ لنڈن میں ہماری اپنی پیاری پیاری روحیں یہ ہیں: ڈاکٹر فقیر محمد صاحب ہونزائی، صمصام رشیدہ نور محمد ہونزائی، ظہیر لالانی، عشرت رومی ظہیر، درِ مکنون ظہیر، یہ پانچ فرشتے دوسرے اوصاف کے ساتھ ساتھ لائف گورنرز بھی ہیں، امین کوٹاڈیا، مریم امین، سلمان امین، ابو ذر امین، عبد الرحمان، نعمت رحمان، فرید رحمان، خلیل رحمان، محبوب چتور، فیروزہ محبوب، ذوالفقار جمانی،

 

۵۶

 

فرحت جمانی، رضی الدین جمانی۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

اتوار ۶ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ

۳ مئی ۱۹۹۸ء

 

۵۷

 

قصّۂ طالوت کا باطنی پہلو

 

۱۔ بحوالۂ سورۂ بقرہ (۲) آیاتِ کریمہ از ۲۴۶ تا ۲۵۱۔ (۰۲: ۲۴۶ تا ۲۵۱)۔ بیان بطورِ خلاصہ یہ ہے کہ القتال (جنگ = روحانی جنگ) قیامت ہے، اور وہ دینِ حق کی آخری دعوت بھی ہے، مَلِک (بادشاہ) امام ہے، جس کے سوا روحانی جنگ یعنی قیامت ممکن ہی نہیں (۱۷: ۷۱) اور بَعَثَ کا صیغہ بَعْث سے ہے، جس کے معنی ہیں: زندہ کرنا، اٹھا کھڑا کرنا، جی اٹھنا، بھیجنا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرتِ طالوت خدا کے حکم سے مر کر زندہ ہو گیا تھا، چنانچہ خدائے پاک اور اس کے نبی (شموئیل) نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ (امام) بنا دیا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو سات عظیم باطنی معجزے قبلاً و بعداً عطا ہوئے، جن کا تذکرہ ذیل کی طرح ہے:

 

۲۔ (الف) مر کر زندہ ہو جانا، یہ بہت بڑا معجزہ ہے، آپ ہماری کتابوں میں اس کی تفصیلات کو دیکھیں، (ب) کائناتی علم، (ج) کائناتی جسم، یعنی جثّۂ ابداعیہ کہ بسطۃ فی العلم و الجسم کا

 

۵۸

 

ارشاد ہے، (د) میراثِ انبیاء، جس میں عظیم روحانی چیزیں ہوتی ہیں، (ھ) امامت جو یکتا اور بےمثال ہوا کرتی ہے کہ زمانے میں امام کی طرح کوئی اور شخص ہو نہیں سکتا، (و) اللہ کی ہدایت، (ز) قیامت یا روحانی جنگ، جس سے ساری کائنات مسخّر ہو جاتی ہے۔

 

۳۔ سورۂ رعد (۱۳: ۰۸) میں ارشاد ہے: وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ= اور ہر چیز اس کے نزدیک ایک خاص اندازے (اور پیمانے) کے مطابق ہے۔ یعنی بہشت کا طول و عرض کائنات کے برابر ہے، علم کی وسعت کائنات کے برابر ہے، کہ اس سے باہر جاننے کے لئے کوئی چیز ہے ہی نہیں، جسمِ لطیف کی سیاحت حدودِ کائنات تک ہے، اور اس آیۂ کریمہ کا اشارہ یہ بھی ہے کہ خود کائنات یا کائناتیں مجموعاً ایک مقدار کے مطابق ہیں، اگرچہ وہ پھیلتی ہیں، لیکن واپس محدود بھی ہو جاتی ہیں، اور خدا وہ قادرِ مطلق ہے جو محدود شیٔ سے لامحدود شیٔ بناتا ہے، جیسے دن رات کے تجدّد سے ہفتہ، مہینہ، سال، صدی، اور بےپایان زمانہ بناتا ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

منگل ۸ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ

۵ مئی ۱۹۹۸ء

 

نوٹ: مذکورۂ بالا قرآنی حکمتیں امام شناسی کے لئے بےحد ضروری ہیں۔

 

۵۹

 

عالمِ شخصی کی سلطنت

 

۱۔ حدیثِ معرفت (من عرف) سے اہلِ دانش کو یقین آتا ہے کہ خداوند تعالیٰ نے اپنی رحمتِ بے نہایت سے عالمِ شخصی کو معرفتِ کلّی کا ذریعہ بنایا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ آسمانوں اور زمین (کائناتِ لطیف) کو عارف کے ع ش ؎۱ میں لپیٹ دیتا ہے تاکہ اس کو اپنی ذات ہی میں گنجِ معرفت حاصل ہو، اور یہ اپنے بندوں پر حضرتِ ربّ العزّت کا انتہائی عظیم احسان ہے، اگرچہ عنوانِ معرفت میں ظاہراً خود شناسی کا ذکر ہے، لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ مومنِ سالک سب سے پہلے فنا فی الامام کی عظیم سعادت حاصل کرے، تا کہ وہ اسی وسیلے سے فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ کے سب سے اعلیٰ مقصد کو حاصل کر سکے، اس وسیلے کے بغیر عالمِ شخصی اور کائنات کی تسخیر ممکن ہی نہیں۔

 

۲۔ حضرتِ مولا علی علیہ السّلام نے اپنے دیوان میں ارشاد

 

۶۰

 

فرمایا ہے: کیا تیرا یہ گمان ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے، حالانکہ تجھ میں (بحدِّ قوّت) عالمِ اکبر سمایا ہوا ہے؟ پس ہم یقین سے کہتے ہیں کہ جو نیک بخت سالکین “فنا فی الامام” جیسی انتہائی مشکل ریاضت میں کامیاب ہو جاتے ہیں، وہ چشمِ باطن سے قیامت کے تمام عظیم معجزات کو دیکھتے ہیں، ان کو حشر و نشر سے متعلق ہر سوال کا جواب عملی طور پر ہی مل جاتا ہے، الغرض قیامت ظاہری نہیں، بلکہ باطنی اور روحانی ہے، جس سے عالمِ شخصی میں سلطنتِ روحانی قائم ہو جاتی ہے۔

 

۳۔ عالمِ شخصی کی عجیب و غریب مثالوں میں روحانی سلطنت کی مثال بھی بہت بڑی اہمیّت کی حامل ہے، جو کئی ناموں سے ہے، چنانچہ سب سے پہلے سلطنتِ روحانی حضرتِ آدم علیہ السّلام کو عطا ہوئی، جو خلافتِ الٰہیہ کے نام سے تھی، کیونکہ دین کا ہر ضروری دستور سنّتِ الٰہی کے مطابق شروع ہی سے جاری ہوتا ہے، نہ آنکہ بعد میں پیدا ہو جاتا ہے، یعنی آلِ ابراہیم اور آلِ محمد کو خدا نے جو عظیم بادشاہی عطا کی (۰۴: ۵۴) وہ اللہ کی عنایت زمانۂ آدم ہی سے چلی آئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفے کو اہلِ زمانہ سے برگزیدہ کر کے سلطنتِ روحانی سے سرفراز فرمایا تھا (۰۳: ۳۳)۔

 

۴۔ علیٔ زمانؑ یقیناً محمد رسول اللہ کے علم و حکمت کا دروازہ ہے، لہٰذا جو مومنِ سالک امامِ مبین (۳۶: ۱۲) میں فنا ہو جاتا ہے، وہ اپنے

 

۶۱

 

عالمِ شخصی ہی میں حضرتِ امامِ عالی مقامؑ کی روحانی بادشاہی کے بے شمار عجائب و غرائب اور زبردست معجزات کو دیکھتا رہتا ہے، ہر معجزہ علم و حکمت سے لبریز ہوتا ہے، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ امام کے پاس قرآن کی روح و روحانیّت موجود ہے، اس معنیٰ میں وہ قرآنِ ناطق اور نور برائے کتابِ مبین ہے، پس حضرتِ امامِ اقدس و اطہر سے براہِ راست قرآنی تاویل کا گرانمایہ فائدہ حاصل کرنا ہے تو آپ عشق و محبّت اور علم و اطاعت سے اپنے امامِ وقت میں فنا ہو جائیں، یہی ایک فنا خوش بختی سے آپ کے لئے تین فناؤں کا کام کرے گی۔

 

۵۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ قصّۂ طالوت کے باطن میں کیسے کیسے کنوزِ جواہر پنہان ہیں! میں علیٔ زمان علیہ السّلام کے علمی معجزات کو بیان بھی کرتا ہوں، اور بہت ڈرتا بھی ہوں کہ کہیں ہم سب سے ان باطنی نعمتوں کی ناشکری اور بےقدری نہ ہو جائے، آپ سب کے سب نیک توفیق کے لئے دعا اور مناجات کریں، اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کے لئے انتہائی کوشش بھی کریں کہ علم میں بڑے مضبوط ہو کر سب کی پُرخلوص علمی خدمت انجام دے سکیں، تا کہ اسی طرح عملی شکرگزاری ہو۔

 

۶۔ حضرتِ امام علیہ السّلام مظہر العجائب و الغرائب ہے، اس کا فرمان ظاہر میں بھی ہے اور باطن میں بھی، قولاً بھی ہے اور فعلاً بھی،

 

۶۲

 

واضح الفاظ میں بھی ہے اور خاموش اشارات میں بھی، لہٰذا کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں کسی خاص کام کا حکم دیا گیا ہو، اور ہم غافل رہیں، یقیناً ہمیں بہت بڑی ذمّہ داری اور عظیم خدمت سونپی گئی ہے۔

 

۷۔ اے عزیزانِ من! اگر حضرتِ امامِ اقدس اپنے کسی مرید کو نورانی علم عطا کرتا ہے تو اس میں کوئی مصلحت و حکمت ہوگی، اور یہ پروگرام امام ہی کا ہوگا پھر ایسے مرید کو کسی چیز سے خوفِ بےجا کیوں ہونا چاہئے، ان شاء اللہ، علم کی روشنی پھیلانے سے مخالفانہ سوالات کم ہوتے جائیں گے، اور حقیقی علم سے دلچسپی رکھنے والوں کو کافی مدد ملے گی، الحمد للہ۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

بدھ ۹ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ

۶ مئی ۱۹۹۸ء

 

نوٹ: ؎۱ ع ش = عالمِ شخصی

 

۶۳

 

قصّۂ آدم میں دعوتِ باطن

 

۱۔ حضرتِ آدم علیہ السّلام (ناطقِ اوّل) کے قصّے میں دعوتِ حق کے بڑے بڑے اسرار پوشیدہ ہیں، جیسا کہ قرآنِ حکیم (۰۲: ۳۰) میں ارشاد ہے:وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ = اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں۔ حکمتِ اوّل: اس آیۂ شریفہ میں ہر آدم کا اشارہ بھی ہے اور آدمِ دور کا قصّہ بھی۔ حکمتِ دوم: “ارض” سیّارۂ زمین بھی ہے، عالمِ شخصی بھی، کائنات بھی ہے، نفسِ کلّی بھی ہے، اور عقلِ کلّی بھی۔ حکمت سوم: یہ بھی ایک بہت بڑا راز ہے کہ آدم کی خلافت آسمان پر بھی تھی، ان شاء اللہ ہم اس کی دلیل پیش کریں گے۔

 

۲۔ جب اللہ تعالیٰ کی سنتِ قدیم ایک جیسی ہے، اور اس میں کبھی کوئی تبدیلی ممکن نہیں، تو پھر خلافتِ الٰہیہ ہمیشہ کی چیز ثابت

 

۶۴

 

ہوتی ہے، یہ کبھی نبوّت کے نام سے ہے، اور کبھی امامت کے نام سے، لیکن خلافتِ کبریٰ کا سلسلہ دنیا میں ہمیشہ جاری ہے، کیونکہ اس کے دوام کی علامت “ارض” ہے، پس جب تک ارض (زمین، یعنی عالمِ انسانیت) موجود ہے، تب تک خلافتِ آدم کا سلسلہ جاری رہے گا، کیونکہ اس سے نورِ ہدایت مراد ہے، اور لوگوں کے لئے ہمیشہ ہدایت کی سخت ضرورت رہتی ہے۔

 

۳۔ سیارۂ زمین کوخلافتِ آدم و اولادِ آدم کے دوام کی علامت اور حد قرار دینا گویا درسِ اوّل کے طور پر درست ہے، اور اس سے آگے ترقی کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کی زمین مجموعاً بےنہایت وسیع ہے، کیونکہ ہر عالمِ شخصی، ہر سیّارہ، ہر ستارہ، فضائے محیط، کائنات، عالمگیر روح، اور عالمگیر عقل اس کی زمین ہے، اور کوئی شک ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی وہ زمین، جس کی وسعت کی تعریف قرآنِ حکیم خود فرماتا ہے یہی ہے (۲۹: ۵۶، ۳۹: ۱۰) پس خلافتِ کبریٰ درپردہ خدا ہی کی بادشاہی ہے، جو قدیم ہے، جس میں نہ صرف انسانوں ہی سے بلکہ فرشتوں سے بھی بہت بڑا علمی امتحان ہے۔

 

۴۔ آدم علیہ السلام کی تخلیق دوسرے انسانانِ کامل ہی کی طرح تین مرحلوں میں ہوئی: جسمانی تخلیق، روحانی تخلیق، اور عقلانی تخلیق، آخری (عقلی) تخلیق حظیرۂ قدس میں ہوئی، جس میں خدا نے اس کو

 

۶۵

 

صورتِ رحمان پر پیدا کیا، اب وہ آئینۂ صفاتِ الٰہی ہوگیا، اسی مقام پر وہ فرشتوں کو علم الاسماء کی تعلیم دیتا تھا، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں فرشتوں نے آدم کو آخری بار سجدہ کیا۔

 

۵۔ جب بموجبِ حدیثِ شریف یہ حقیقت ہے کہ قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن، تو پھر ہم باطن کی تلاش سب سے پہلے قصّۂ آدم میں کیوں نہیں کرتے ہیں؟ کیونکہ دعوتِ باطن کا آغاز یہیں سے ہو جاتا ہے، جبکہ ہر ناطق، ہر اساس، اور ہر امام اپنے اپنے وقت کے آدم ہیں، ان میں سے ہر ایک میں خدا اپنی روح پھونکتا ہے، جس طرح آدمِ دور میں اس نے اپنی روح پھونک دی تھی (۱۵: ۲۹، ۳۸: ۷۲) خدا کی روح سے اس کا نور مراد ہے، روح پھونکنے اور صور پھونکنے کے لئے ایک جیسا لفظ (نفخ) آیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب جب کسی کامل میں روحِ قدسی ڈالنے کا وقت آتا ہے تب حضرتِ اسرافیل علیہ السّلام صورِ قیامت پھونکتا ہے، یہی وہ سرِاعظم ہے جو عوام کے علم سے بالاتر ہے۔

 

۶۔ چار قسم کے فرشتوں کا پتا چلا ہے: ذرّاتی فرشتے، جسمانی فرشتے، روحانی فرشتے، اور کائناتی فرشتے (اجرامِ فلکی) ان سب فرشتوں نے آدم خلیفۃ اللہ کے لئے اپنے اپنے طور سے سجدہ کیا، اور سجدہ کے اصل معنی ہیں اطاعت کرنا، ہر پیغمبر اور ہر امام کے لئے جملہ ملائکہ سجدہ کرتے ہیں، یہ سجدہ اس روح

 

۶۶

 

کے لئے ہے، جس کا اوپر ذکر ہوا، اور وہ زندہ نور ہے، نور کی بہت بڑی تعریف یہ ہے کہ اس میں تمام صفاتِ الٰہیہ جمع ہیں۔

 

۷۔ سورۂ آلِ عمران (۰۳: ۳۳) میں دیکھئے: اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ = خدا نے آدم اور نوح اور خاندانِ ابراہیم اور خاندانِ عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا۔ اس سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ زمانۂ آدم میں بھی لوگ تھے، جن میں سے اللہ تعالیٰ نے آدم کا انتخاب فرمایا، جس کی مثال باقی حضرات کے انتخاب ہی کی طرح ہے، اگر آدم کے وقت میں لوگ نہ ہوتے تو یوں نہ فرمایا جاتا، اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کے لئے رشد و ہدایت اور علم و حکمت کا سرچشمہ جاری رہے۔

 

۸۔ قصۂ آدم میں دعوتِ باطن اس طرح سے ہے کہ جو خلافتِ کبریٰ حضرتِ آدم علیہ السّلام کو عطا ہوئی تھی، اس میں مرتبۂ نبوّت اور مرتبۂ امامت دونوں کے اسرارِ جمع تھے، سجدۂ فرشتگان ہر قسم کی اطاعت و فرمانبرداری کے معنی میں تھا، اور سجود و اطاعت کرنے والے فرشتے بطورِ خاص مومنین ہی تھے، اس سے معلوم ہوا کہ قصّۂ آدم میں نبیٔ پاک اور امامِ عالی مقام کے اسرار پوشیدہ ہیں۔

 

۹۔ آپ قرآنِ حکیم میں سنّتِ الٰہی کے مضمون کو خوب غور

 

۶۷

 

سے پڑھیں، اور سورۂ مومن کے آخر (۴۰: ۸۵) میں خاص طور سے دیکھ لیں، تا کہ یہ معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کی سنّت (عادت) کسی تبدیلی کے بغیر اس کے خاص بندوں کے عوالمِ شخصی میں ایک ہی شان سے چلی آئی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خلافتِ آدم کے زندہ حقائق و معارف آج بھی ہیں، ان کو جو مومنین و مومنات دیکھنا چاہیں تو اپنی ذات یعنی عالمِ شخصی میں دیکھ سکتے ہیں، اگرچہ یہ کام سخت مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔

 

۱۰۔ زمانۂ ماضی میں دنیوی بادشاہوں کو ظلِ الٰہی کہا جاتا تھا، اس میں کوئی حقیقت نہ تھی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر نبی اور ہر ولی (امام) اپنے وقت میں ظلِّ الٰہی (سایۂ خدا) ہوا کرتا ہے، مگر یہ نکتہ یاد رہے کہ اس سائے میں روشنی ہی روشنی ہے، کیونکہ جب خورشیدِ انور کا سایہ نہیں ہوتا، بلکہ عکس ہوتا ہے، تو معلوم ہوا کہ ظلِ الٰہی سے نورِ منزل (۰۵: ۱۵) مراد ہے، آپ ظلِ الٰہی سے متعلق آیۂ کریمہ کے لئے سورۂ فرقان (۲۵: ۴۵) میں دیکھیں، اور سورۂ نحل (۱۶: ۸۱) میں بھی، پس جس انسانِ کامل کو بحقیقت ظلِّ الٰہی کہنا چاہئے، وہی مظہرِ صفاتِ خدا اور آئینۂ جمالِ کبریا بھی ہے۔

 

۱۱۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا راز ہے کہ خداوندِ قدّوس نے حضرتِ آدمؑ کو ساری کائنات کی خلافت سے سرفراز فرمایا تھا، اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سارے آسمانوں اور زمین کو

 

۶۸

 

آدم کے عالمِ شخصی میں لپیٹ دیا، یہی تسخیرِ کائنات بھی ہے (۴۵: ۱۳) خداوندِ عالم نے حضرتِ آدمؑ کو علم الاسماء سکھایا تھا، جس کی روشنی میں وہ دیکھ رہا تھا کہ اسمائے صفاتی کس طرح کام کر رہے ہیں، مثلاً القابض کے فعل سے آسمان اور زمین باہم مل کر اللہ کی مٹھی میں آتے ہیں، اور الباسط کے مطابق واپس ہو کر اپنی اپنی جگہ پر پھیل جاتے ہیں، اس سے آسمان و زمین کے رتق و فتق (۲۱: ۳۰) کا سِرّ بھی منکشف ہو گیا۔

 

۱۲۔ خدائے بزرگ و برتر کی بےمثال اور لازوال بادشاہی میں دو انتہائی حیران کن چیزیں ہیں، وہ قانونِ درجات اور قانونِ مساوات ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ جب جب حظیرۃ القدس میں کائنات کو لپیٹتا ہے، تو اس سے گوہرِعقل میں سب کی مساوات (ہمسری = برابری = یک حقیقت) ہو جاتی ہے، اور جب اس کو پھیلاتا ہے تو بےشمار درجات ہو جاتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی خدائی میں نہ صرف درجات ہیں، بلکہ مساوات بھی ہے۔

 

۱۳۔ شیاطین دو قسم کے ہوا کرتے ہیں: شیاطینِ انسی اور شیاطینِ جنّی (۰۶: ۱۱۲) ان کو خدا نے ہر نبی کا دشمن بنا دیا تھا، اور اس میں بہت بڑی حکمت ہے، یہی قانون حضرتِ آدم علیہ السّلام کے لئے بھی مقرر تھا، شیاطین کی جنگ اگرچہ بڑی سخت اور مکر و فریب سے پُر ہوتی ہے، لیکن بالآخر کلّی فتح خدا کے دوستوں

 

۶۹

 

کی ہوتی ہے۔

 

۱۴۔ آدم و حوّا اور بہشت کی چند تاویلات میں سے ایک تاویل یہ ہے کہ عقل و روح عالمِ شخصی میں آدم و حوّا ہیں، اور حظیرۂ قدس بہشت ہے، پھر آپ قرآنِ پاک (۰۲: ۳۵) میں دیکھیں، آیۂ شریفہ کا ترجمہ یہ ہے: اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا، نہیں تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

 

۱۵۔ دائرۂ آب یعنی پانی کے بارے میں آپ نے سوچا ہوگا کہ وہ اپنے بہت سے اجزاء کا “کل”  ہے، اور کلّ کی بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کئی متضاد صفات کا حامل ہوا کرتا ہے، جیسے پانی کہ وہ بیک وقت بلند بھی ہو رہا ہے اور پست بھی، وہ کہیں ٹھنڈا ہے اور کہیں گرم، وہ ٹھہرا ہوا بھی ہے اور جاری بھی، وہ منجمد بھی ہے اور سیال بھی، وہ قطرہ بھی ہے اور دریا بھی، پس میں اس آفاقی دلیل کی روشنی میں یہ کہوں گا کہ حضرتِ آدم انائے سفلی میں بہشت سے باہر آیا، لیکن انائے علوی میں بہشت ہی میں تھا، یاد رہے کہ قصّۂ آدم سب سے بڑا امتحان ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

مارگلہ ٹاورز، اسلام آباد

پیر ۱۴ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ

۱۱ مئی ۱۹۹۸ء

 

۷۰

 

نورِ منزل اور کتابِ مبین

 

اے عزیزانِ با سعادت! اے عاشقانِ نورِ ہدایت! آپ نے بارہا نورِ منزّل کے بارے میں سنا ہے اور پڑھا ہے، البتہ ہر بار اس کی ایک نئی شان اور ایک جدید تجلّی تھی، یہی تو قرآنِ حکیم کی خاصیت ہے کہ اس کے عجائب و غرائب کبھی ختم نہیں ہوتے، اور آج بھی (ان شاء اللہ) ایسی ہی ہوگی، آئیے ہم یہاں کلامِ الٰہی کی روشنی میں اس بات کی تحقیق کرتے ہیں کہ آیا کتابِ ظاہر نور ہے یا صاحبِ کتاب؟ یا دونوں الگ الگ نور ہیں؟ یا باطن میں دونوں کا ایک ہی نور ہے؟ اس کا جوابِ شافی قرآنِ حکیم (۰۵: ۱۵) میں موجود ہے، وہ اس طرح سے ہے: قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌ = اللہ کی طرف سے تمہارے پاس نور اور واضح کتاب آئی ہے (۰۵: ۱۵) اس آیۂ شریفہ سے معلوم ہوا کہ معلّمِ کتاب (رسولِ پاک) نور ہیں اور قرآنِ مقدس کتاب، لیکن آنحضرت کے باطن میں قرآن بھی روح اور نور ہے (۴۲: ۵۲)۔

 

۷۱

 

۲۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نزولِ قرآن سے پہلے ہی نور ہو چکے تھے، بعد ازان آپ کے قلبِ مبارک پر بتدریج روحِ قرآن نازل ہوئی، اور خدا نے اسی زندہ روح سے قرآن کا باطنی نور بنایا، یہ حکمتی مفہوم سورۂ شوریٰ کے آخر (۴۲: ۵۲) میں ہے، جس کو سمجھنا از بس ضروری ہے، پس یہ حقیقت ہے کہ اللہ کا کلام (قرآن) ظاہراً ایک مقدّس کتاب اور باطناً ایک زندہ نور ہے، لیکن آپ یہ حقیقت کبھی بھول نہ جائیں کہ باطن میں جو کتاب کا زندہ نور ہے، وہ معلّمِ کتاب کے نورِ باطن کے ساتھ متحد ہے، کیونکہ انوار کے آپس میں وحدت ہوتی ہے۔

 

۳۔ یہ حکمت ہمیشہ کے لئے خوب یاد رہے جو بےحد ضروری ہے کہ آسمانی کتاب ناطق، اساس، اور امام کے باطن میں زندہ روح اور زندہ نور کی صورت  میں ہوتی ہے، یہی اشارۂ حکمت قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ موجود ہے، جیسے سورۂ مائدہ (۰۵: ۱۵، ۰۵: ۴۴، ۰۵: ۴۶) میں ہے، کہ قرآنِ عزیز سے پہلے تورات اور انجیل اسی طرح ناطق، اساس، اور امام کے باطن (عالمِ شخصی) میں نور تھیں، چنانچہ آیۂ کریمہ کا ترجمہ ہے: ہم نے (موسیٰ کے باطن میں) تورات کو نازل کیا جس میں ہدایت اور نور تھا، انبیا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا تھا اسی (باطنی تورات) کے مطابق یہودیوں میں فیصلہ کرتے تھے، اور (اسی طرح) ربّانیون

 

۷۲

 

(أئمّہ) اور احبار (دعاۃ = داعیان) بھی اس کتاب کے مطابق حکم کرتے تھے جو ان کے سپرد تھی اور وہ اس پر گواہ تھے ۔۔۔۔ (۰۵: ۴۴)۔

 

۴۔ آپ دعائم الاسلام (عربی) جلدِ اوّل، ص ۳۶ پر دیکھیں کہ ربّانیون اور احبار کا ترجمۂ بالا حضرتِ امام جعفر صادق علیہ السّلام کے ارشاد کے مطابق ہے، پس روحانی تورات، انبیاء، أئمّہ، اور دعاۃ کے عالمِ شخصی میں سپرد تھی، لہٰذا وہ حضرات اس کی روح و روحانیّت اور نور و نورانیّت کو دیکھ رہے تھے، اسی لئے وہ اس پر گواہ تھے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ناطق کے بعد اساس، امام، باب، حجّت، اور داعی کے آئینۂ دل پر نورِ قرآن کا عکس پڑتا رہتا ہے، یعنی یہ حدودِ دین وہ ہیں، جن میں اوپر سے نیچے کی طرف ایک روحانی انقلاب آتا ہے، جس میں قرآن کی باطنی نعمتیں بھری ہوئی ہیں۔

 

۵۔ انجیل کے بارے میں ارشاد ہے: اور ہم نے عیسیٰ کو انجیل دی جس میں ہدایت اور نور تھا (۰۵: ۴۶) یعنی جو انجیل حضرتِ عیسیٰؑ کے عالمِ شخصی میں تھی، اسی میں روحانی ہدایت اور بولنے والا نور تھا، نور کی سب سے بڑی تعریف یہ ہے کہ نور خود اللہ تعالیٰ ہے، جیسے ارشاد ہے: اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ (۲۴: ۳۵) یعنی خدا عالمِ شخصی کے آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ پس اللہ کا وہ پاک کلام نور تھا، جو باطن اور روحانیّت

 

۷۳

 

میں حضرتِ عیسیٰؑ کو سنائی دیتا تھا، کبھی کلام کی جگہ رویت کا اشارہ (وحی) ہوتا ہے، اور کبھی کلام کا مظہر فرشتہ، نبی، اساس، اور امام، یہ تجلّیاتِ نور کی ایک مختصر تعریف ہے۔

 

۶۔ سورۂ انبیاء (۲۱: ۴۸) میں ارشاد ہے: وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَ = اس فرمانِ خداوندی میں ان تین عظیم نعمتوں کا تذکرہ ہے جو اللہ جلّ شانہ کی طرف سے حضرتِ موسیٰ اور حضرتِ ہارون علیہما السّلام کو عطا ہوئی تھیں، وہ ہیں: فرقان (مجموعۂ معجزات) نور، اور ذکر (اسمِ اعظم = مجموعۂ اسماء الحسنیٰ = نصیحت) انہی معنوں میں باطنی تورات بھی پوشیدہ ہے، اور یقیناً یہ سب سے اعلیٰ نعمتیں حدودِ دین کو بھی درجہ وار حاصل ہوتی تھیں، کیونکہ متّقین سے حدودِ دین مراد ہیں۔

 

۷۔ سورۂ مائدہ (۰۵: ۴۸) میں ارشاد ہے: وَاَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ = اور اس کتاب کو ہم نے حق کے ساتھ تم پر نازل کیا جبکہ یہ گزشتہ کتب کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی محافظ اور نگہبان ہے۔ اگلی کتابوں کی اصل صورت باطن اور روحانیّت میں تھی، قرآن اسی صورت کی تصدیق کرتا ہے، نہ کہ کسی تحریف شدہ کتاب کی، اور اللہ تعالیٰ کی یہ پاک کتاب

 

۷۴

 

سابقہ کتبِ سماوی کی محافظ اس طرح سے ہے کہ ان کتابوں کی زندہ روح اور نور اس کتاب کی روح اور نور میں موجود اور محفوظ ہیں، کیونکہ روح میں روحیں ہو سکتی ہیں، اور نور میں انوار۔

 

۸۔ ناطق، اساس، اور امام کے نورِ اقدس میں کتبِ سماوی کی روحانیّت اور نورانیّت تجدّدِ امثال کا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں، جس سے ان حضرات کو ہر آسمانی کتاب کے جملہ اسرار روشن ہو جاتے ہیں، مگر سوال ہے باب، حجّت، اور داعی کے بارے میں کہ یہ صاحبان کتابِ سماوی کی زندہ روح اور زندہ نور کو دیکھتے ہیں یا نہیں؟ اگر دیکھتے ہیں تو کس حد تک؟ اس کا ایک اعلیٰ جواب تو آچکا ہے، پھر بھی مزید معلومات کی غرض سے بہت سے جوابات مہیا ہو سکتے ہیں، منجملہ مریم سلام اللہ علیہا کا قرآنی قصّہ بطورِ جواب بہت مناسب ہے، کیونکہ وہ واقعاً باب، حجّت، اور داعی کی مثال ہے، آپ درجِ ذیل قرآنی حقائق و معارف کو دیکھیں جو مریم سے متعلق ہیں:۔

 

۹۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مریم کو روحانی ترقی کی غرض سے اسمِ اعظم دیا گیا تھا، قرآنِ پاک (۰۴: ۱۷۱) میں اسمِ بزرگ کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ کہا گیا ہے، جس میں حضرت عیسیٰؑ کا نور تھا، دوسری بات: فرشتے صرف انبیاء و اولیاء علیہم السّلام سے کلام کرتے ہیں، مریم علیہا السّلام اولیاء اللہ میں

 

۷۵

 

سے تھی، اس لئے فرشتوں نے اس سے نہ صرف کلام کیا، بلکہ کئی بڑی بڑی بشارتیں بھی دیں، اور ان میں ایک بشارت یہ بھی ہے: اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! خدا نے تجھے چنا اور پاک کیا اور تمام جہان کی عورتوں پر برتری اور فضیلت دی (۰۳: ۴۲) یعنی خدا نے مریم کو تمام تر فضیلتوں کے ساتھ ساتھ خزانۂ علم و معرفت سے مالامال بھی فرمایا تھا، کیونکہ خدا جس کو پاک کرتا ہے، وہ جسماً، روحاً، اور عقلاً پاک ہو جاتا ہے، اور جو عقلی طور پر پاک کیا گیا ہو، وہ کتابِ مکنون کو ہاتھ میں لے سکتا ہے، جس میں آسمانی کتاب کے سارے اسرار جمع ہیں (۵۶: ۷۷ تا ۷۹)۔

 

۱۰۔ مریم سلام اللہ علیہا کا آسمانی ٹائٹل “صدیقۃ” ہے (۰۵: ۷۵) حکمت کی زبان میں اس کے معنی ہیں: ایسی عالی مرتبت خاتون جو کتبِ سماوی کی تاویل سے انبیاء علیہم السّلام کی تصدیق کرتی ہے، جیسا کہ سورۂ تحریم (۶۶: ۱۲) میں ہے: اسی طرح مریم بنتِ عمران کی مثال بیان فرمائی ہے جس نے اپنی (ظاہری و باطنی) شرمگاہ کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی روح میں سے پھونک دی (یعنی صورِ اسرافیل اور قیامِ قیامت سے یہ کام کیا گیا) اور اس نے اپنے ربّ کے کلماتِ تامّات (اور اسمائے عظام) اور اس کی کتابوں کی (تاویلی) تصدیق کی اور وہ (حقیقی) فرمانبرداروں میں سے تھی۔

 

۷۶

 

۱۱۔ مریم کے پاس نہ تو نبوّت تھی اور نہ ہی امامت، لیکن اس کی ذات میں باب، حجّت، اور داعی کی روشن مثالیں تھیں، ساتھ ہی ساتھ اس کی شخصیّت میں قرآن و حدیث کی عظیم المرتبت عورتوں کا نمونہ بھی تھا، مثلاً خدیجۃ الکبریٰ، فاطمۃ الزھرا، وغیرہ، چنانچہ قرآن و روحانیّت کی روشنی میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مریم کی روحانی ترقی منزلِ مقصود (حظیرۂ قدس) تک ہو چکی تھی (۲۳: ۵۰) اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرتِ عیسیٰ ابنِ مریمؑ اور ان کی والدہ کو اپنی آیت اور آخری منزل کا نشان بنا دیا تھا۔

 

۱۲۔ نورِ باطن کا یہ کام ہے کہ وہ پاک و پاکیزہ دلوں میں طلوع ہوتا رہتا ہے، اس مقالے کو اچھی طرح سے پڑھ کر آپ یہ بتائیں کہ نور میں کیا نہیں ہے؟ اگر آپ سب یہ کہتے ہیں کہ نور میں سب کچھ ہے، تو پھر قرآن، حدیث، اور فرمان کی روشنی میں علم الیقین حاصل کریں، تا کہ اس کے بعد عین الیقین اور حق الیقین حاصل ہو، تا کہ یہ مشاہدہ ہو سکے کہ یہی نور بالآخر مومنین و مومنات کا نور ہو جاتا ہے (۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹، ۶۶: ۰۸)۔

 

۱۳۔ جسمانی چیزیں اپنی اپنی جسامت کے مطابق جگہ گھیر لیتی ہیں، اس لئے کسی محدود جگہ میں تمام مادّی اشیاء سما نہیں سکتی ہیں، اس کے برعکس روحانی چیزیں لامکانی ہیں، ان کے

 

۷۷

 

لئے مکان (جگہ) کوئی مسئلہ نہیں، لہٰذا ایک ہی روحِ قرآن (۴۲: ۵۲) میں جملہ آسمانی کتابیں سما سکتی ہیں، اسی معنیٰ میں قرآنِ کریم کی صفت مھیمن (محافظ = نگہبان) ہے (۰۵: ۴۸) اور خدا کا ایک اسمِ صفت بھی مھیمن ہے (۵۹: ۲۳) اور قدرتِ خدا کے تمام معجزات پر یقین رکھنے کے لئے مرتبۂ امامت کا یہ کلّیہ ہے: وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ (۳۶: ۱۲) مولا علیؑ کا فرمان ہے: انا الذی عندی الف کتاب من کتب الانبیاء = یعنی میں ہوں وہ شخص جس کے پاس انبیا علیہم السلام کی کتابوں میں سے ہزار کتابیں موجود ہیں (کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت ۳۳)۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی، کراچی

ہفتہ ۱۹ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ

۱۶ مئی ۱۹۹۸ء

 

۷۸

 

ایل۔ اے۔ ایس۔

 

۱۔ LITTLE ANGELS’ SOLDIERS  یہ دانشگاہِ خانۂ حکمت کے بےحد پیارے اطفال کا ادارہ ہے، جس کی تاسیس آج ۲۴ مئی ۱۹۹۸ء کو ہوئی، کل کی بات ہے کہ جب ہم لنڈن کے ائیرپورٹ پر پہنچ گئے تو علمی لشکر کے سب سے اہم دستے نے بہترین اور خوبصورت ترین گلدستوں کے ساتھ ہم کو گھیر لیا، ہم یکایک ملاقات کی طوفانی خوشیوں میں مستغرق ہو گئے، یا اللہ! تو نے اپنے بندوں کے لئے کیسی کیسی پُرلذّت نعمتیں بنائی ہیں! اے خدا تو گواہ ہے کہ ادھر پاکستان کے تمام دوستوں نے بھی ہم کو شادمانی کی دولت سے مالامال فرمایا ہے، اور امریکہ کے احباب کے لئے جو توصیفی خطوط لکھے گئے تھے، وہ موجود ہیں۔

 

۲۔ لنڈن کے علمی پروانوں نے پھول اور گلدستے سب کے سب اپنے نہایت پیارے بچوں کے ہاتھوں میں دیئے تھے، جس سے خوبصورت بچوں کے آئینۂ رخسار میں بھی پھول ہی پھول نظر

 

۷۹

 

آتے تھے، اس پُرکشش منظر نے مجھے خصوصی دعوتِ فکر دی، جس کے نتیجے میں یہاں کے تمام عزیزان کو میری یہ تجویز بہت ہی پسند آئی کہ ہم اپنے ادارے کے بےحد پیارے اطفال کے لئے ایل۔ اے۔ ایس کے نام سے ایک چھوٹا سا جدید ادارہ بنائیں گے، جس کا آغاز مرکزِ علم و ادب لنڈن سے ہو گا، جس کے ارکان کے اسمائے گرامی درجِ ذیل ہیں:۔

 

۱۔ درِ مکنون ظہیر                     ۲ سال

۲۔ خلیل علی رحمان رینر            ۴ سال

۳۔ ابو ذر علی امین محمد              ۱۰ سال

۴۔ فرید رحمان رینر                    ۱۰ سال

۵۔ شازیہ محبوب چتور                 ۱۰ سال

۶۔ سلمان کریم امین محمد            ۱۳ سال

۷۔ رضی الدین ذوالفقار                 ۱۴ ماہ (کانڈیڈیٹ)

 

۳۔ مذکورۂ بالا میٹنگ میں میرا دوسرا مشورہ بھی پسند کیا گیا کہ اب ہم دانشگاہِ خانۂ حکمت کی ہر کلاس کو وزڈم سرچ (WISDOM SEARCH) کہا کریں گے، تا کہ یہ نام آئندہ تاریخ میں ہمارے بےحد عزیز ساتھیوں کی علمی ترقی کی علامت ہو، یہ ایک روشن حقیقت ہے، اور اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں، مولائے پاک کے فضل و کرم سے ہمارے تمام عزیزان قرآن اور اسلام کی حکمت کی بےمثال

 

۸۰

 

خدمات انجام دے رہے ہیں، اس حقیر و ناتوان خادم نے جہاں دس ہزار صفحات پر خامہ فرسائی کی ہے، وہاں ریسرچ کر کے ضرور دیکھنا ہو گا کہ خاص خاص حکمتیں کتنی ہیں؟ ہزار ہیں یا اس سے بھی زیادہ؟

 

۴۔ حکمت ایک ایسی اعلیٰ و ارفع شیٔ ہے کہ اسی کے ساتھ خیرِ کثیر کی وابستگی ہے، لہٰذا حکمت کی خدمت میں بہت سی خدمات جمع ہیں، پس ہر وہ انسان بڑا خوش نصیب ہے، جو حکمت کی تعلیم حاصل کرتا ہے اور اس کی خدمت کرتا رہتا ہے، آپ قرآنِ حکیم میں مضمونِ حکمت سے متعلق جملہ آیاتِ کریمہ کا بغور مطالعہ کریں، اور تفسیرِ حکمت کے طور پر ہماری تمام کتابوں کو پڑھیں، پس ہماری مجموعی کتابوں کا نام: تفسیرِ حکمت (ان شاء اللہ تعالیٰ) درست ہے۔

 

۵۔ حضرتِ امام علیہ السّلام کا ہر حقیقی مرید پروانۂ چراغِ امامت ہے، چنانچہ ہم نے جب لنڈن ائیرپورٹ پر نورِ عشق کے پروانوں کو دیکھا، تو دل کہنے لگا کہ تم ان تمام بچوں اور بڑوں سے یکبارگی قربان ہو جاؤ، بڑوں میں یہ عزیزان تھے:۔

 

۱۔ ڈاکٹر فقیر محمد ہونزائی صاحب، ۲۔ رشیدہ نور محمد ہونزائی، ۳۔ امین کوٹاڈیا، ۴۔ مریم کوٹاڈیا، ۵۔ رحمان رینر، ۶۔ نعمت رحمان رینر، ۷۔ فیروزہ محبوب چتور، ۸۔ ظہیر لالانی، ۹۔ عشرت رومی ظہیر۔

 

۸۱

 

الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

نوٹ: ہماری کتابوں کا مجموعی نام: “تفسیرِ حکمت” ہے، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی، لنڈن

۲۴ مئی ۱۹۹۸ء

 

۸۲

 

ہای ایجوکیٹرز

 

۱۔ سورۂ تحریم (۶۶: ۰۶) میں ارشاد ہے:  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا ۔۔۔۔ = اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو (جہالت و نادانی کی) آگ سے بچاؤ ۔۔۔۔۔ اہلِ دانش کو معلوم ہے کہ جہالت ہی آتشِ دوزخ ہے، جس سے بچنے اور بچانے کا ذریعہ علم ہی ہے، جیسے حدیثِ شریف کے یہ الفاظ ہیں: الجاہل فی النار = نادان (اس وقت بھی) آگ میں ہے۔

 

۲۔ بیانِ بالا سے ظاہر ہے کہ جہالت و نادانی دراصل آتشِ دوزخ ہے، جس سے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و اولاد کو علم کے وسیلے سے بچانا ہر مومن کا فرض ہے، پس اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دانشگاہِ خانۂ حکمت میں ہای ایجوکیٹرز کی ایک تعداد مقرر ہو رہی ہے، چونکہ یہ اہل۔ اے۔ ایس کو تعلیم دینے کا ادارہ ہے، لہٰذا اس میں سب سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے والدین

 

۸۳

 

کو اس کارِ خیر کی ذمّہ داری قبول کرنی ہو گی، اگرچہ ماں باپ خود بھی اپنے پیارے بچوں کی تعلیم کے لئے سعی کرتے رہتے ہیں، تاہم ادارے کی سرپرستی سے کئی فائدے ہو سکتے ہیں۔

 

۳۔ ایل۔ جی۔ حسن حیدر علی، وائس پریذیڈنٹ اور ایل۔ جی۔ کریمہ حسن کے فرزند لٹل اینجل سولجر سلمان نے یوسٹن کی ایک مجلس میں کئی تسبیحات پڑھ کر ایک حیرت انگیز کارنامہ قائم کیا، جس کی قدردانی اور ہمت افزائی کے طور پر ایک عالی قدر انعام (یعنی ایک قرآنِ پاک) دیا گیا، جس سے نہ صرف والدین بلکہ تمام عزیزان بےحد شادمان ہو گئے، اور یہی سبب ہے کہ ہمارے دل میں ہای ایجوکیٹر کی تنظیم کا خیال آیا، الحمد للہ۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی، لنڈن

۱۶ جون ۱۹۹۸ء

 

۸۴

 

پیغامِ روحانی بزبانِ حال

من جانبِ غزالہ مرحومہ

 

اے قبلہ نہ کر غم کہ یہاں زندہ ہوئی میں

یہ اُس کی نوازش ہے کہ تابندہ ہوئی میں

ہیں حور و پری ساتھ کہ میں خود بھی پری ہوں

اس انجمنِ نور میں خوشیوں سے بھری ہوں

میں دخترِ روحانیٔ مولائے زمان ہوں

شہزادیٔ عالم ہوں مگر سب سے نہان ہوں

ہم نور کی اولاد ابھی نور ہوئے ہیں

دنیا کی مصیبت سے بہت دور ہوئے ہیں

جنّت میں عجب شاہی محل ہم کو ملا ہے

ہم زندۂ جاوید ہوئے فضلِ خدا ہے

شاہوں کی طرح شاد ہیں ہم اس کا کرم ہے

بیماری نہیں، موت نہیں، اور نہ ہی غم ہے

ہاں تیری غزالہ پہ علی سایہ فگن ہے

وہ اس لئے جنّت میں سدا زندہ چمن ہے

صدگونہ خوشی ہے ہمیں دیدارِ علی سے

گنجینہ ملا ہے ہمیں اسرارِ علی ہے

طوفانی خوشی ہے ہمیں، تم ہم پہ نہ رونا

ڈیڈی! ممی! تم کبھی بےصبر نہ ہونا

لینا ہے تمہیں علم و عبادت کا سہارا

ہے دینِ خدائی میں یہی شیوہ ہمارا

کس شان سے آیا ہے یہ پیغامِ غزالہ

روشن ہو زمانے میں سدا نامِ غزالہ

 

غزالہ بنتِ امام یار بیگ، جنرل منیجر، آغا خان ہیلتھ سروسز، پاکستان، ناردرن ایریاز اینڈ چترال۔

غزالہ کی تاریخِ پیدائش: ۱۵ جولائی ۱۹۸۷ء ، تاریخِ وفات: ۸ جنوری ۱۹۹۹ء

 

اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ (۰۲: ۱۵۶)

 

۸۵

 

علمی خط برائے ایل۔ اے۔ ایس۔ ۱

 

۱۔ ہر بچہ والدین کی نظر میں غنچۂ نیم باز اور گلِ نو شگفتہ سے بہت زیادہ حسین و جمیل لگتا ہے، آیا آپ نے کبھی اس پر غور کیا ہے؟ کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ ماں باپ کے دل میں بچوں کی ایسی شدید محبّت کیوں پیدا کی گئی ہے؟ اس کے کئی مقاصد ہو سکتے ہیں، لیکن سب سے بڑا مقصد کیا ہے؟ ج: بچوں سے والدین کو جیسی بےحد محبّت ہوتی ہے، اس کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ اس قدرتی محبّت کی زبانِ حال سے ہر بچہ اپنے پیارے والدین سے کہتا ہے: اے میرے گرامی قدر ماں باپ! آپ نے میری تعلیم و تربیت کے لئے عزمِ مصمم کر لیا ہو گا، اور اس پر عمل کرنا بےحد ضروری ہے، کیوں کہ محبّت میں بہت سے معانی پنہان ہوتے ہیں، چنانچہ آپ کبھی کہتے ہیں: “میری جان” اگر یہ بات سچ ہے، تو اے مادرِ مشفقہ، اور اے والدِ محترم، اپنی جان یعنی

 

۸۶

 

فرزندِ عزیز کی دینی اور دنیوی بہتری کے لئے بہت کچھ کرنا پڑے گا، اسی طرح آپ کبھی کہتے ہیں: “میں تجھ سے قربان” آپ خوب سوچیں کہ اس کے کیا معنی ہوتے ہیں؟

 

۲۔ قرآنِ حکیم ایک بےمثال ہدایت نامۂ سماوی ہے، اس عظیم اور پاک کتاب میں پُرحکمت ہدایات کی فراوانی ہے، ربّانی رہنمائی کے اس سرچشمے میں اطفال کی بنیادی تعلیم و تربیت کو بہت بڑی اہمیّت دی گئی ہے، چنانچہ والدین کے لئے قرآنِ مجید میں یہ مثالی ہدایت موجود ہے کہ وہ باسعادت اولاد کے لئے ربِّ کریم سے عاجزانہ دعا کرتے رہتے ہیں، اور جب عورت کا حمل ٹھہرتا ہے، تب بھی اولاد کی نیکی کے لئے دعا کرتے رہیں، آپ ان پُرحکمت ہدایات کے لئے دیکھیں: سورۂ آلِ عمران (۰۳: ۳۵ تا ۳۸)، سورۂ مریم (۱۹: ۰۱ تا ۰۶)، سورۂ انبیا (۲۱: ۸۹ تا ۹۱)۔

 

۳۔ دعا کی ضرورت بہت پہلے سے ہوتی ہے، مگر بچے کی ظاہری تعلیم و تربیت پیدائش کے بعد اُس وقت شروع ہو جاتی ہے، جبکہ وہ حواسِ ظاہر سے ذرا ذرا کام لینے لگتا ہے، ماں جب اپنے پیارے بچے کو لوری سناتی ہے، اور بچہ جب اس کو محسوس کر سکتا ہے، ایسے میں اگر اس کو لوری کی طرح کوئی مذہبی نظم سنائی جائے تو اس ابتدائی تعلیم سے بہت برکت ہو سکتی ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

کراچی

۲۸، جون ۱۹۹۸ء

 

۸۷

 

علمی خط برائے ہای ایجوکیٹرز ۔ ۲

 

۱۔ الحمد للہ علیٰ منہ و احسانہ، بحیثیتِ مجموعی دانشگاہِ خانۂ حکمت کی بےحد ترقی ہو رہی ہے، ہمارے ساتھیوں اور دوستوں کی بہت بڑی سعادتمندی ہے کہ وہ اس علمی قحط کے زمانے میں حضرتِ قائم القیامت علیہ السّلام کے دسترخوانِ علم و حکمت کو جگہ جگہ پھیلا رہے ہیں، سبحان اللہ! ہمارے عزیزان کتنی عظیم الشّان اور کیسی عالی قدر خدمات انجام دے رہے ہیں! اس مشکل زمانے میں جبکہ ساری دنیا میں مادّی ترقی کا بہت بڑا طوفان برپا ہو چکا ہے، نہ معلوم اس میں اہلِ جہان کی کتنی بڑی اکثریت بہہ گئی اور ڈوب چکی ہے، ایسے میں قرآنی اور روحانی علم و حکمت کی تلوار سے جہالت و نادانی کے خلاف جہاد کرنا کوئی آسان کام تو نہیں۔

 

۲۔ ایل۔ اے۔ ایس۔ اور ہای ایجوکیٹرز کا مقصد ایک ہی ہے،

 

۸۸

 

لہٰذا یہ اس سلسلے کا دوسرا خط ہے، اس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک ایسی خاص ہدایت کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ نہ صرف چھوٹے چھوٹے بچوں کی ہرگونہ سلامتی کے لئے بےحد ضروری ہے، بلکہ بڑوں کو بھی اس کی بہت بہت ضرورت ہے، آنحضرتؐ کا وہ ارشادِ مبارک یہ ہے: اِنَّ قَوۡلَ “لَا حَوۡلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ” کنزٌ من کنوزِ الجنّۃ، و ھو شِفاء مِن تِسعۃ و تِسعینَ داء اوّلھا الھمّ = یہ قول: لَا حَوۡلَ وَ لَا قُوّۃَ اِلّا بِاللہِ العَلِیّ العظیم بہشت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، اور یہ ننانوے (۹۹) بیماریوں کے لئے دوا اور شفا ہے، اس شمار میں سب سے پہلے ھمّ (یعنی غم) ہے (کتاب دعائم الاسلام، عربی، جلدِ ثانی، ص ۳۳۱) کتابِ وجہِ دین کے آخر میں بھی دیکھیں۔

 

۳۔ بہشت کا خزانہ دنیا کے سارے خزانوں سے انتہائی گرانقدر ہوتا ہے، لہٰذا دانشمندی یہ ہے کہ اہلِ ایمان اس بابرکت قول کو کثرت سے پڑھ کر بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے بچوں کو بھی سکھائیں، اگر ہم ایمان اور ایقان میں کمزور ہیں تو ہمارے لئے اس کا کوئی بھی معجزہ ظاہر نہیں ہوگا، لہٰذا ہمیں خدا، رسول اور امام سے عشق ہونا چاہئے، تا کہ ہم ہر نورانی ہدایت سے پورا پورا فائدہ حاصل کر سکیں۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

کراچی

۲۹ جون، ۱۹۹۸ء

 

۸۹

 

عزیزوں کی شیرین یادیں

 

۱۔ الحمد للہ ربّ العالمین، اُس کی رحمتِ بےپایان کی گوناگونی بڑی عجیب شیٔ ہے، بحرِ رحمت کی ہر موج انتہائی حیران کن ہوا کرتی ہے، اسی سمندر میں ساری کائنات ڈوبی ہوئی ہے، اور بحرِ رحمت نورِ علم کے وسیع سمندر میں مستغرق ہے، جس طرح انسانی بدن کا خلیہ خلیہ روح میں غرق ہے، اور روح غریقِ حوضِ عقل ہے۔

 

۲۔ انبیاء و اولیاء علیہم السّلام نے اس خدا کی تعریف کی، جس نے اپنے کمالِ قدرت سے انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے، اس سلسلے میں سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ جو شخص اپنے مرتبۂ اعلیٰ کو پہچانتا ہے وہی اپنے پروردگار کو پہچانتا ہے، یقیناً سرِ اعظم اسی معرفت میں پوشیدہ ہے۔

 

۳۔ ہر مومن کی دانائی اس بات میں ہے کہ وہ حقیقی علم کی دولتِ لازوال کو حاصل کرنے میں ذرا بھی سستی نہ کریں، ورنہ افسوس ہوگا،

 

۹۰

 

بےحد افسوس ہو گا، جبکہ جنّت میں درجات ہوں گے۔

 

۴۔ ہمارے بےحد عزیز ساتھیوں نے حضرتِ امام علیہ السّلام کے باطنی علم و حکمت کی روشنی پھیلانے کے سلسلے میں جتنے کارنامے انجام دیئے ہیں وہ سب کے سب انتہائی انوکھے، نرالے، اور بےمثال ہیں، ان پر دنیا، زمانہ، اور اہلِ زمانہ گواہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں اپنے جملہ عزیزوں کو نہ صرف چاہتا ہوں، بلکہ ان سے روحانی اور علمی طور پر فدا (قربان) بھی ہو جاتا ہوں، کیونکہ وہ میرے مولا کے عشاق ہیں، میرے دل کے پیوند، اور روح کی کاپیاں ہیں، ان کی یادیں میرے لئے ازحد شیرین ہیں، لہٰذا میں بار بار ان کو یاد کرتا ہوں، الحمد للہ۔

 

۵۔ جب علمی خدمت تمام خدمات پر بادشاہ ہے تو علمی دوستی جملہ دوستیوں پر بادشاہ کیوں نہ ہو، ہاں اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ ہمارے آپس کی دوستی بادشاہ کی طرح عظیم اور بالانشین ہے، یہ نعمت بہشت میں جا کر لازوال ہو جائے گی۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

۸ جولائی ۱۹۹۸ء

 

۹۱

 

آپ سب عزیزان

 

۱۔ آپ سب عزیزان میرے لئے انعامِ خداوندی ہیں، اے میری جانِ شیرین کی کاپیو! تصوّرِ یک حقیقت کی روشنی میں بتاؤ کہ میرے نامۂ اعمال کے زندہ ابواب کون ہیں؟ میری علمی بہشت کے بولنے والے باغات کون سے لوگ ہو سکتے ہیں؟ میرے پاک مولا کے علمی لشکر؟ علیٔ زمان کے نورانی علم کے پروانو! بتاؤ، سچ سچ بتاؤ، زمانے میں حکمتِ قرآن کے عاشقین کون ہیں؟ علمی حرب کے فاتحین کون ہو سکتے ہیں؟ صفِّ اوّل کے مومنین؟ زمانے کے موحدین؟ بندگانِ سلطانِ دین؟ جان نثارانِ امامِ مبین؟ چونکہ یہاں ایک قیامتگاہ ہے اور معرفتِ حضرتِ قائمؑ کی دانشگاہ، لہٰذا دنیا بھر کی روحیں ایک بار پھر جمع ہو گئی تھیں۔

 

۲۔ اے عزیزانِ باسعادت! قرآنِ حکیم کے تمام مضامین کو حکمت کی روشنی میں پڑھنا، اور آزمائش و امتحان کے مضمون کو ضروری طور پر پڑھنا، کیونکہ مومن کی ساری زندگی امتحانی ہے،

 

۹۲

 

دوستانِ عزیز! دریائے علم میں شناوری تو آپ کرتے ہیں، پھر غواصی کون کرے گا؟ کوشش کریں اور عالی ہمتی سے کام لیں کہ اس بحرِ عمیق کی تہ میں درِ یتیم موجود ہے۔

 

۳۔ چشمِ معرفت نے اللہ تعالیٰ کے سب سے بڑے معجزے کو دیکھا ہے کہ وہ قادرِ مطلق بعنوانِ روحانی قیامت ساری کائنات کو قبلاً عالمِ شخصی میں لپیٹتا ہے، اور بعداً وہاں سے حظیرۂ قدس میں مرکوز کرتا ہے، اب وہاں کے عظیم اسرار انتہائی عجیب و غریب ہیں، سبحان اللہ! کاش! ہم گریہ و زاری کے ساتھ ان چوٹی کے اسرار کو بیان کر سکتے! وہ ان کے مقدس آنسو، وہ موتی جیسے آنسو جو عشقِ مولا میں برس رہے تھے، مجھے یاد ہیں، وہ نعرۂ “نارِ عشق نورِ عشق” مجھے یاد ہے، وہ محفل اور اہلِ محفل ہیں، الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

گلگت، ذوالفقار آباد

۹ جولائی ۱۹۹۸ء

 

۹۳

 

عزیزوں کا حق

 

۱۔ دینِ اسلام میں ایک جانب حقوق اللہ ہیں، اور دوسری جانب حقوق العباد، ان تمام حقوق کا تفصیلی بیان قرآنِ عزیز میں موجود ہے، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ نہ صرف استاد کا حق شاگردوں پر ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جان نثار شاگردوں کا بھی استاد پر یہ حق ہے کہ وہ ان کو تعلیم دینے کے علاوہ کچھ قدردانی اور حوصلہ افزائی کا اہتمام بھی کرے، تا کہ دانشگاہِ خانۂ حکمت پر تحقیق (ریسرچ) کرنے والے سکالرز کو یہ معلوم ہو سکے کہ اس عظیم ترین کارنامۂ علمی کے سامنے کتنی سخت سے بڑی سخت مشکلات حائل تھیں، اگر یہاں استاد کے دل میں شاگردوں یعنی عملداران اور ارکان کے لئے بے پناہ محبّت نہ ہوتی اور ان سب میں جذبۂ جان نثاری نہ ہوتا تو یہ ارادہ کبھی کامیاب نہ ہوتا۔

 

۲۔ میں دوسرے کاموں ہی کی طرح اس کام سے بھی نہایت مطمئن اور شادمان ہوں کہ میں نے اپنے عزیزوں کے انفرادی اور

 

۹۴

 

اجتماعی کارناموں کو تحریری صورت دی ہے، بعض تحریریں اگرچہ مختصر ہیں، لیکن ان میں بڑی جامعیّت موجود ہے، مثال کے طور پر ایک عزیز صدر بھی ہے، گورنر بھی، اور ہای ایجوکیٹر بھی ہے، تو اس کی تاریخ اس طرح سے لکھی جائے گی کہ وہ اس نیکنام ادارے میں تین قسم کی خدمات انجام دے رہا تھا۔

 

۳۔ علیٔ زمان علیہ السّلام ظاہراً و باطناً امام ہے، لہٰذا اس کا ایک دروازۂ ظاہر ہے اور ایک دروازۂ باطن، یہی وجہ ہے کہ اسماعیلی مذہب میں باطنی علم کی بہت بڑی اہمیّت ہے، یقیناً یہ مذہب کی جان ہے، خدا کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ آپ اور ہم اسی علم کے خادم بھی ہیں اور عاشق بھی۔

 

۴۔ جو باتیں ازحد ضروری ہیں، وہ آپ کو بار بار بتا دی جاتی ہیں، تا کہ آپ ان عظیم حکمتوں کو خوب یاد رکھیں، پس آپ درودِ شریف کو بڑی کثرت سے پڑھیں، کیونکہ وہ خلاصہ اور جوہرِ اسماء الحسنیٰ ہے، اس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقارآباد، گلگت

۱۰ جولائی ۱۹۹۸ء

 

۹۵

 

اسماء الحسنیٰ کے اَسرار

 

۱۔ قرآنِ حکیم اللہ تبارک و تعالیٰ کا سب سے بڑا خزانۂ علم و حکمت ہے، اہلِ دانش کے نزدیک یہ حقیقت کسی شک کے بغیر مسلّمہ ہے کہ قرآنِ پاک کی تعلیمات لوگوں کے مختلف درجاتِ عقل کے مطابق درجہ بدرجہ ہیں، تا کہ اولوا الالباب (صاحبانِ عقل) علم کی سیڑھی سے زینہ بزینہ بامِ عروج پر چڑھیں، بالفاظِ دیگر ان کو معراجِ یقین حاصل ہو، اور وہ حظیرۂ قدس میں داخل ہو جائیں، جہاں بہشت اور اس کی ہر نعمت موجود ہے۔

 

۲۔ ذکرِ جمیل اسماء الحسنیٰ ہی کا ہے، اور یہ حکمت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد رہے کہ خدا کی ہر چیز زندہ، گویندہ، اور دانندہ ہوا کرتی ہے، چنانچہ دورِ ششم کے اسماء الحسنیٰ محمد و آلِ محمد صلی اللہ علیہ وعلیہم اجمعین ہیں، جو حسن و جمالِ ظاہری و باطنی کے درجۂ کمال پر ہیں، یہی حضرات خداوندِ عالم کے اسمائے بزرگ ہیں، اور انہی مبارک ناموں سے خدا کو پکارنے کا حکم ہوا ہے (۰۷: ۱۸۰) اور قرآن و حدیث میں “محمد و آلِ محمد

 

۹۶

 

پر صلوات” کی بہت بڑی فضیلت اس معنیٰ میں ہے کہ یہ اسماء الحسنیٰ کا خلاصہ اور جوہر ہے، الحمد للہ۔

 

۳۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء دو قسموں میں ہیں: ۱۔ وہ اسماء جو حروفِ تہجی کی ترکیب سے ہیں، جن کو کاتب لکھتا ہے، وہ اپنی تحریز کو کسی وجہ سے مٹاتا بھی ہے، ۲۔ دوسرے وہ اسماء ہیں جو زندہ، بولنے والے، عاقل و دانا، اور اشرف و اعلیٰ ہیں، جیسے انبیاء، اوصیاء اور أئمّۂ معصومین علیہم السّلام (المجالس المؤیدیہ)۔

 

۴۔ آپ قرآنِ حکیم کے ان حوالہ جات میں اسماء الحسنیٰ کے مضمونِ مبارک کو پڑھ کر فیضِ علم و حکمت کو حاصل کریں: سورۂ اعراف (۰۷: ۱۸۰)، سورۂ اسراء (۱۷: ۱۱۰)، سورۂ طٰہٰ (۲۰: ۰۸)، سورۂ حشر (۵۹: ۲۴)۔ ان لوگوں کی کتنی بڑی سعادت ہے جو اسماء الحسنیٰ سےخدا کو پکارتے ہیں، پس یہی لوگ (ان شاء اللہ) بہشت کے بادشاہ ہوں گے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

۱۱ جولائی ۱۹۹۸ء

 

۹۷

 

خزینۃ الخزائن ۔ امامِ مبین

 

۱۔ اے برادران و خواہرانِ روحانی! آپ تمام جو نیک بختی سے عالمِ اسماعیلیّت میں رہتے ہیں، ایک بہت بڑی قرآنی حکمت کو سن لیں، میرا عقیدۂ راسخ ہے کہ یہ عظیم حکمت ہم سب کے لئے ایک بےمثال اور لازوال انعام ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے خزانۂ خزائن سے ہے، اور وہ جامع الجوامع خزانہ امامِ مبین علیہ السّلام ہی ہے (۳۶: ۱۲) آپ سورۂ حجر (۱۵: ۲۱) میں دیکھیں کہ خدا کے بڑے بڑے خزانے ہیں، اور قلبِ قرآن (۳۶: ۱۲) میں دیکھیں کہ سارے خزانے اور تمام چیزیں امامِ مبین میں گھیری اور گنی ہوئی ہیں، لہٰذا یہ کہنا حقیقت ہے کہ امامِ مبین یقیناً اللہ کا خزینۃ الخزائن ہے۔

 

۲۔ اللہ جلّ جلالہ ہر قیامت میں کائنات کو کہاں اور کس چیز میں لپیٹ لیتا ہے؟ امامِ مبین میں ۔ وہ قادرِ مطلق اُس وقت اپنے الگ الگ خزانوں کو کس مقام پر جمع کرتا ہے؟ حضرت امامِ اقدس و اطہر میں ۔ آیا خدا جسمانی کائنات کو

 

۹۸

 

امامِ زمان میں لپیٹتا ہے یا اس کے جوہر کو؟۔۔۔۔۔۔۔ جوہر کو ۔۔۔۔۔۔۔ کیا قدرتِ خدا کی اس لپیٹ سے کوئی چیز مستثنیٰ ہو سکتی ہے، جیسے عرش، کرسی، قلم، لوح، ملائکہ وغیرہ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں، کوئی چیز مستثناء نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں دیدارِالٰہی اور اس کی جملہ صفات کا تصوّر کہاں ہوتا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امامِ مبین ہی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

۳۔ پروردگارِ عالم نے کائناتِ لطیف کے ساتھ ساتھ جملہ معجزاتِ قیامت کو بھی امامِ مبین میں گھیر کر رکھا ہے (۳۶: ۱۲) جیسا کہ آیۂ شریفہ (۱۷: ۷۱) کا مفہوم ہے کہ ہر امام کے زمانے میں قیامت کا تجدّد ہوتا ہے، یہاں یہ سرِعظیم منکشف ہوگیا کہ تذکرۂ قیامت نہ صرف صیغۂ مستقبل ہی میں ہے، بلکہ صیغۂ ماضی اور صیغۂ حال میں بھی ہے، آپ قرآنِ عزیز میں خوب غور سے دیکھیں، مگر یہ سب کچھ تاویل اور حکمت کی زبان میں ہے، جیسے سورۂ یٰسٓ (۳۶: ۱۲) میں ماضی کی بےشمار قیامات کا ذکر ہے کہ ہر امام کے ساتھ ایک قیامت تھی، اور خدا اس کے عالمِ شخصی میں تمام چیزوں کو گھیر کر رکھتا تھا۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

۱۳ جولائی ۱۹۹۸ء

 

۹۹

 

جیتے جی قیامت

 

۱۔ اگر کوئی مضمون نہایت اہم ہے، تو اس پر بار بار کیوں نہ لکھیں، مضمونِ قیامت انتہائی اہمیّت کا حامل اس وجہ سے ہے کہ اس میں دیگر تمام مضامین سمیٹے ہوئے ہیں، کیونکہ قیامت وہ بڑا عجیب و غریب دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ ساری کائناتِ لطیف کو دستِ قدرت میں لپیٹ لیتا ہے، ایسے میں سب علمی مضامین معجزانہ طور پر مضمونِ قیامت ہو جاتے ہیں، اور اس حقیقت میں کسی دانشمند کو کیا شک ہو سکتا ہے۔

 

۲۔ کاملین و عارفین پر جیتے جی قیامت گزرتی ہے، کیونکہ روحانی قیامت کے سوا نہ تو کوئی کمال حاصل ہو سکتا ہے، اور نہ ہی معرفت ممکن ہے، ہاں تمام مومنین و مومنات کے لئے علم الیقین کی دولت عام ہو سکتی ہے، تاہم عین الیقین اس سے برتر ہے، اور حق الیقین سب سے اعلیٰ ہے، جہاں کنز الکنوز ہے۔

 

۳۔ جیتے جی جو باطنی قیامت واقع ہوتی ہے، اس کے بارے

 

۱۰۰

 

میں یہ حدیثِ شریف ہے: من مات فقد قامت قیامتہ = جو کوئی مرتا ہے اس کی قیامت برپا ہو جاتی ہے (احیاء العلوم، جلدِ چہارم، دوسرا باب) یعنی جو شخص نفسانی طور پر مر جاتا ہے اس کی روحانی قیامت برپا ہو جاتی ہے، اس قیامت کا دوسرا نام فنا فی الامام، فنا فی الرسول، اور فنا فی اللہ ہے، جس میں اہلِ ایمان کے لئے بےشمار فائدے ہیں۔

 

۴۔ اس فنا کے عظیم اسرار اور روحانی معجزات کیسے ہوں گے؟ ایسے میں عالمِ شخصی کی کیا شان ہوگی؟ ارواح و ملائکہ کس طرح کلام کرتے ہوں گے؟ ذکر یا اذکار کا کیا عالم ہوگا؟ دیدار کہاں کہاں جلوہ نما ہوتا ہوگا؟ یہاں یہ ضروری سوال بھی ہے کہ قیامت کے ساتھ علم الیقین کا کیا رشتہ ہے؟ آیا یہ عین الیقین اور حق الیقین کی پیداوار ہے؟

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

۱۴ جولائی ۱۹۹۸ء

 

۱۰۱

 

علامہ نصیر کی بروشسکی نظموں پر سوالات

 

۱۔ آپ یہ بتائیں کہ نصیر کی اوّلین بروشسکی نظم کونسی ہے؟ یہ کس کی شان میں ہے؟ اور کب لکھی گئی تھی؟

۲۔ دیوانِ نصیری میں کل کتنی نظمیں ہیں؟ اشعار کی کیا تعداد ہے؟ بہشتݺ اسقرݣ میں کتنی نظمیں درج ہیں؟ اور اس میں کتنے اشعار ہیں؟

۳۔ ان دونوں کتابوں کا مجموعی موضوع کیا ہے؟ حمد؟ نعت؟ منقبت؟ کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ ان میں لفظِ امام کل کتنی دفعہ آیا ہے؟ سلطان کتنی بار؟ اور کریم کتنی دفعہ ہے؟

۴۔ نصیر الدین کے اس عارفانہ کلام میں کتنی نظمیں امام سلطان محمد شاہ کی توصیف میں ہیں؟ اور کتنی حاضر امام کی تعریف میں ہیں؟

۵۔ آیا اس کلام میں تاریخی نوعیت کے اشعار بھی ہیں؟ کیا ان

 

۱۰۲

 

نظموں میں جشنِ سیمین (سلور جوبلی) کا ذکرِ جمیل بھی ہے؟ ایسی نظموں کی نشاندہی کریں۔

۶۔ امامِ عالی مقام کی تشریف آوری اور پاک دیدار کے بارے میں کون سی نظمیں ہیں؟ مولائے زمان کے پاک حضور میں کب ایسی کوئی نظم یا چند اشعار پڑھے گئے تھے؟ ان اشعار کو گلگت اور ہونزہ میں کن افراد نے پڑھا تھا؟

۷۔ آیا نصیر الدین کے مجموعۂ اشعار میں صوفیانہ کلام بھی ہے؟ اگر ایسی نظمیں بھی ہیں تو عنوانات بتائیں؟

۸۔ اس شاعری میں دعائیہ نظمیں کون کون سی ہیں؟ مطلع پڑھ کر بتائیں؟ کیا آپ نے وہ نظم پڑھی ہے جو آبِ شفا کی توصیف میں ہے؟ اور وہ نظم جو شاہِ زمان کے فرمانِ اقدس کے بارے میں ہے؟

۹۔ امامِ زمان علیہ السّلام نے ان نظموں کو جس طرح شرفِ قبولیت بخشا ہے، آیا اس کے بارے میں کوئی پاک فرمان بھی ہے؟ وہ کس نامدار کونسل کے توسط سے ملا تھا؟ اور کس کتاب میں محفوظ ہے؟

۱۰۔ کہتے ہیں کہ علامہ نصیر کی بروشسکی شاعری سے علاقے میں ایک خاموش انقلاب آیا ہے، کیا یہ سچ ہے؟ آپ اس کی کچھ مثالیں بیان کریں۔

۱۱۔ ان پرکشش بروشسکی نظموں میں کیا کیا موضوعات ہیں؟ آیا یہ بات درست ہے کہ بعض نظموں کے اشعار میں مضامین کی

 

۱۰۳

 

گوناگونی ہے، اور بعض کا مضمون شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی ہے؟

۱۲۔ علاقے کے دانشوروں کا کہنا ہے کہ علامہ نصیر ہونزائی کی بروشسکی شاعری لاجواب، بےمثال، اور لازوال ہے، اس میں نہ صرف جماعتِ باسعادت کے لئے ان گنت فائدے ہیں، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اہلِ زبان اور دنیا کے محققین کے لئے بھی اس میں بےحد دلچسپی ہو سکتی ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

۱۳۔ کیا آپ نے حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کے ان مقدّس ارشادات کو پڑھا ہے جو تمام جماعت کی علمی اور روحانی ترقی کے بارے میں ہیں؟ پس جب حضرتِ امامؑ کو جماعت کی ترقی بےحد عزیز ہے، تو ہمارے نامور اور عظیم پیروں کو بھی یہی بات عزیز رہی ہوگی، اور اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ ماں باپ ہمیشہ اپنی اولاد کی ترقی چاہتے ہیں۔

۱۴۔ آپ یہ بتائیں کہ آیا اس مجموعۂ کلام میں کئی پیش گوئیاں اور بشارتیں بھی ہیں؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ہاں ہیں، تو ان کی کچھ مثالیں پیش کریں۔

۱۵۔ یہ کوئی اہتمام اور پروگرام کی بات نہیں، بلکہ حسنِ اتفاق سے ایسا ہوا کہ نصیر کی اوّلین بروشسکی نظم کو مولا کے جن عاشقوں نے پہلی بار پڑھ کر افتتاح کرنے کی عظیم سعادت حاصل کر لی، وہ

 

۱۰۴

 

گلگت سکاؤٹس کے دو نامور حوالدار تھے، جن کا تعلق قبیلہ درمتݣ سے تھا، کیا آپ ان کے نام بتا سکتے ہیں؟

۱۶۔ علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کے اشعار کا پس منظر قرآن اور روحانیّت ہے، لہٰذا اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ ان کی ہر نظم کے ترجمہ و تشریح سے ایک کتاب ہو سکتی ہے، اس حقیقت کا ایک روشن ثبوت “رموزِ روحانی” ہے، کیا آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے؟

۱۷۔ خداوند تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ بڑی عجیب و غریب ہے، اس نے اپنے بعض بندوں کو لحنِ داؤدی کی بےحد شیرین و دلنواز نعمت عطا کی ہے، چنانچہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوا، جس میں ایک اسرافیلی لشکر سازِ عشق اور سوزِ عشق سے جملہ جماعت کی مقدّس خدمت کر رہا ہے، کیا آپ اس حقیقت پر روشنی ڈالیں گے؟

۱۸۔ ایک بہت خوبصورت اور دلکش تاریخی نظم ایسی بھی ہے جو مولانا حاضر امام کے سفرِ چین کی یاد کو تازہ کرتی رہتی ہے، آپ یہ بتائیں کہ اس کا عنوان کیا ہے؟ اور اس کے کل اشعار کتنے ہیں؟

۱۹۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہر منقبت خوان عشقِ مولا کا مدرّس بھی ہے، ایک زندہ مدرسہ بھی، اور ایک عجیب خوش الحان خدمتی ادارہ بھی ہے، کیا آپ کے نزدیک یہ بات درست ہے؟

۲۰۔ یہ لشکرِ اسرافیلی کون ہیں، جن کے ساز و آواز سے محفلِ عشاق میں قیامتِ صغریٰ برپا ہو رہی ہے؟ یہاں استادِ معظم کا ایک

 

۱۰۵

 

شعر یاد آیا، جس کا ترجمہ اس طرح ہے: ارے ساتھیو! آؤ، قیامت برپا ہو رہی ہے (اس لئے) مقامِ ذکر میں جمع ہو جاؤ، اور سنو کہ ذاکر کے کان میں نغمۂ اسرافیل بےحد شیرین ہے۔ آپ اس کا اصل بروشسکی شعر پڑھ کر سنائیں۔

۲۱۔ اگر آپ نے زبورِ عاشقین کا بغور مطالعہ کیا ہے تو یہ بتائیں کہ اس کا موضوع کیا ہے؟ اور اس میں کن مسائل سے بحث کی گئی ہے؟

۲۲۔ استادِ معظم نے صورِ قیامت کو “عشقے برغو” (ناقورِ عشق) کہا ہے، اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اور صاحبِ صور کو شرئیشے اسرافیل (شادمانی کا اسرافیل) کہہ کر یاد کیا ہے، کیوں؟ حالانکہ قیامت اور اس کی بہت سی چیزیں بڑی خوفناک ہیں؟

۲۳۔ علامہ ہونزائی نے حقیقی عشق سے سرشار ہو کر اپنی ہستی کو بانسری سے تشبیہہ دی، اور کہا کہ بانسری کا کوئی نغمۂ محبت از خود نہیں بنتا ہے، بلکہ یہ بجانے والے کی پھونک اور انگلیوں کا کرشمہ ہے، آپ یہ بتائیں کہ اس مفہوم کا اصل شعر اور ترجمہ کیا ہے؟

۲۴۔ بروشسکی میں بانسری کے دو نام ہیں؟ گبی، پریلو، ہر چند کہ دنیا میں صورِ اسرافیل کی کوئی مثال ہے ہی نہیں، لیکن کسی حد تک نغمگی کی مشابہت و مطابق کی وجہ سے صورِ قیامت کو گبی یا پریلو کہا گیا ہے، جیسا کہ علامہ کا یہ شعر ہے: جہ دیلم صورِ اسرافیل پریلوݺ معجزا ہینن + قیامتݺ گݸن دورلا خݶر یہ مݹ دالن لے ایرن دݣ۔ آپ اس شعر کا ترجمہ کریں۔

 

۱۰۶

 

۲۵۔ اسماعیلی مذہب معرفت کے جواہر سے بھرا ہوا ہے، معرفت امام شناسی کا دوسرا نام ہے، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ استادِ معظم کی ہر کتاب اسی دولتِ لازوال سے مالامال ہے، چنانچہ شعر ہے: نصیرؔ مینہ ایلتران قرآنہ برکݽ؟ زمانا رہنما الحمد للہ۔ قرآنہ برکݽ = خزانۂ قرآن، یہ کتابِ مکنون میں ہے، آپ یہ بتائیں کہ آیۂ کتابِ مکنون قرآنِ پاک میں کہاں ہے؟

۲۶۔ خدا، رسول، اور امام کا عشق و محبّت دین کی اصل و اساس ہے، جس کے بغیر کوئی عبادت و نیکی قبول نہیں ہو سکتی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس مقصدِ عالی کے حصول کی خاطر یہاں نظم و نثر میں بےحد مفید کام ہوا ہے، آپ یہ بتائیں کہ آیا حمد، نعت، اور منقبت جو مغزِ علم و حکمت سے مملو ہو، وہ دینی عشق و محبّت کا بہترین ذریعہ نہیں ہے؟

۲۷۔ خدا کا قولی فرمان بھی ہے، اور فعلی فرمان بھی، جب اللہ پاک اپنے کسی بندے کو علم کی لازوال دولت سے مالامال فرماتا ہے تو اسی کے ساتھ یہ حکم بھی ہے کہ وہ علمی زکات دیتا رہے، اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو ظالموں میں سے ہو جائے گا، کیونکہ جو علم اس کو دیا گیا ہے، وہ پھیلانے کی غرض سے ہے، آیا یہ بات درست نہیں ہے؟

۲۸۔ اہلِ دانش پر یہ حقیقت روشن ہے کہ مرضِ جہالت کے

 

۱۰۷

 

لئے صرف اور صرف علم ہی دوا ہے، اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ علم دوا بھی اور عقلی غذا بھی ہے، پس یقیناً ان بروشسکی نظموں میں حقیقی عشق بھی ہے اور روحانی علم بھی، اس باب میں آپ کا کیا خیال ہے؟

۲۹۔ کیا بروشسکی بولنے والوں اور اس کے سمجھنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا ایک خاص احسان نہیں ہوا ہے؟ آیا یہ خدا کی رحمتِ بےپایان نہیں ہے کہ بروشسکی ایک ادبی زبان ہو رہی ہے؟ کیا بروشسکی علاقائی زبانوں میں شامل نہیں ہے؟

۳۰۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پیارے علاقے کی تمام زبانوں کی خاطر خواہ ترقی ہو، اس سلسلے میں علامہ نصیر نے جس طرح انتہائی جانفشانی سے زبان کی بےشمار خدمات انجام دی ہیں، وہ سب بےمثال کیوں نہ ہوں، تاہم اب بھی اور آئندہ بھی ہر دانا شخص اپنی مادری زبان کی مفید خدمات انجام دے سکتا ہے، کیا یہ کام غیر ممکن ہے؟

۳۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو نیک اعمال کی توفیق دے! اسی کا بزرگ نام بلند ہو! اور اہلِ ایمان کو آسمانی عشق کی نورانیّت نصیب ہو! آمین!!

 

دانشگاہِ خانۂ حکمت، گلگت مرکز

۲۱ جولائی ۱۹۹۸ء

 

۱۰۸

 

آسمانی عشق کی حکمتیں

 

حکمت۔۱: آسمانی عشق وہ ہے، جس کا نور آسمان سے نازل بوا ہے، جس کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے سب سے خاص وسیلہ بنا دیا ہے، وہ ہے خدا، رسول، اور امامِ زمانؑ کا مقدّس عشق، جس کا ذکرِ جمیل قرآنی حکمت میں جا بجا موجود ہے، اور اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ جہاں حکمت ہے، وہاں اس کے ساتھ خیرِ کثیر ہے، اور خیرِ کثیر کی جان آسمانی عشق و محبّت ہی ہے۔

 

حکمت۔۲: اگر ہم عشقِ سماوی کی تعریف کے لئے حقیرانہ اور عاجزانہ سعی نہ کریں، تو یہ بہت بڑی ناشکری ہوگی، ہاں دوستانِ عزیز! یہ سچ ہے کہ خدا اور رسولِ کریم کے عشق و محبّت کا واحد وسیلہ امامِ زمانؑ ہی ہے، کیونکہ مرتبۂ “فنا فی اللّٰہ” کسی سالک کے لئے ممکن ہی نہیں، جب تک کہ “فنا فی الرسول” کا مرتبہ حاصل نہ ہو، اور نبیٔ اکرمؐ کا دروازہ صرف امامِ زمانؑ ہی ہے، اس لئے

 

۱۰۹

 

تمہیں اوّل اوّل امامؑ کے عشق میں فنا ہو جانا بےحد ضروری ہے، جس کے سوا فنائے دوم اور فنائے سوم محال ہے۔

 

حکمت۔۳: حدیثِ قدسی جو نوافل کے عنوان سے ہے، اس میں انقلابی حکمتیں ہیں، اس میں اولوا الالباب (صاحبانِ عقل) کے لئے بہت بڑی روشنی ہے، تصوّف کی بڑی بڑی کتابیں اس کے تذکرہ اور حوالہ کے بغیر نہیں ہیں، اور یہ سب کچھ عشقِ سماوی کا نتیجہ ہے، جس کا اوپر ذکر ہوا، خدا کی قسم! یہ اللّٰہ، رسول، اور امام کے مقدّس عشق کا سب سے بڑا معجزہ ہے، آپ “عملی تصوّف اور روحانی سائنس” میں دیکھیں، کہ خدا اپنے خاص بندوں کو کس طرح نوازتا رہتا ہے، یہی ہے فرائض و نوافل کا نتیجہ، یہی ہے عشق و محبّت کا میوہ، یہی ہے اللہ سے دوستی کا ثمرہ، اور یہی ہے اسرارِ معرفت کا خزانہ۔

 

حکمت۔۴: آپ کو یہاں ٹھہر کر خوب سوچنا ہوگا کہ جب خدا اپنے عاشق کا کان ہو جاتا ہے تو اس حال میں عاشق کیا سنتا ہے؟ کس کے کلام کو سنتا ہے؟ اللّٰہ کے کلام کو؟ جب حضرتِ ربّ اس کی آنکھ ہو جاتا ہے تو عاشق کو کیا کیا چیزیں دکھائی دیتی ہیں؟ کیا ایسے میں اس کو اللّٰہ کا پاک دیدار بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی ازحد ضروری سوال ہے کہ جس وقت خداوند تعالیٰ اپنے عارف (عاشق) کا ہاتھ ہو جاتا ہے، تو اس کیفیّت میں وہ کس چیز کو پکڑتا ہے؟ کس

 

۱۱۰

 

کائنات کو تخلیق کرتا ہے؟ اور آخری سوال ہے کہ جب اللّٰہ اپنے بندۂ عاشق کا پاؤں ہو جاتا ہے، تو وہ طرفۃ العیّن میں آسمان زمین، دنیا و آخرت، اور مکان و لامکان کی سیر کرتا ہوگا، کیا یہی بات درست ہے؟

 

حکمت۔۵: مذکورۂ بالا مثالوں سے یہ معلوم ہوا کہ ہم لوگوں نے حدیثِ نوافل کی عجیب و غریب حکمتوں میں ٹھیک طرح سے نہیں سوچا ہے، حالانکہ اس میں ایک انتہائی گرانقدر خزانہ پوشیدہ ہے، پس آپ حالتِ “فنا فی اللّٰہ” کے بارے میں خوب سوچ لیں، یہ مرتبہ اللّٰہ کے سچے عاشقوں کو اسی جہان میں حاصل ہو جاتا ہے، یہ معجزہ جسمانی طور پر مر جانے کے بعد ہرگز نہیں، کیونکہ قرآنِ حکیم واشگاف الفاظ میں فرماتا ہے: وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا  (۱۷: ۷۲) اور جو اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا اور راستہ پانے میں سب سے زیادہ گمراہ قرار پائے گا۔

 

حکمت۔۶: صحیح بخاری، جلدِ سوم، کتاب الاستئذان میں یہ مشہور حدیثِ شریف ہے: خلق اللہ اٰدم علیٰ صورتہ = اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی (رحمانی) صورت پر پیدا کیا۔ آدم کی جسمانی پیدائش زمین پر ہوئی تھی، روحانی پیدائش عالمِ شخصی میں، اور عقلی پیدائش حظیرۂ قدس (بہشتِ جبین) میں، جہاں اس کو

 

۱۱۱

 

صورتِ رحمان عطا ہوئی، اور مذکورہ کتاب کے اسی مقام پر یہ حدیثِ شریف بھی ہے: کل من یدخل الجنۃ علیٰ صورت اٰدم = ہر وہ شخص جو (اپنی جبین کی) بہشت میں داخل ہوتا ہے وہ آدم (کی طرح رحمان) کی صورت پر ہو جاتا ہے۔ یہی حقیقت فنا فی اللّٰہ بھی ہے۔

 

حکمت۔۷: سورۂ یونس کی آیتِ ہفتم (۱۰: ۰۷) کا ترجمہ ہے: حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے (یعنی دیدار) کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو ہماری آیات سے غافل ہیں ۔۔۔ اس کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ جو لوگ مظہرِ نورِ خدا کے عاشق ہیں، وہ کبھی ملاقاتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہوتے ہیں، وہ دنیوی زندگی سے نہیں بلکہ دینی زندگی سے راضی اور مطمئن ہیں، اور وہ آیاتِ الٰہی یعنی امام علیہ السّلام سے غافل نہیں ہیں۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

۲۵ جولائی ۱۹۹۸ء

 

۱۱۲

 

اُس نے کہا:

“میں تیرا دل ہوں”

 

سچ ہے کہ کہا اس نے اک گنجِ خدا ہے دل

جب عشقِ حقیقی سے ویرانہ پڑا ہے دل

ہر گونہ تسلّی ہے دیدار کی دولت سے

ہر چند کہ ظاہر میں آہوں سے بھرا ہے دل

اس قالبِ خاکی میں دل عالمِ اکبر ہے

دل دائرۂ کل ہے اور ارض و سما ہے دل

اسرارِ شہِ خوبان اس دل کے خزانے ہیں

صد بار فدا ہے جان صد بار فدا ہے دل

در پردہ کہا اس نے دل میرے حوالے کر

اے جانِ جہان، واللّٰہ! یہ لے کہ تیرا ہے دل

 

۱۱۳

 

اس مرتبۂ دل کو عارف ہی سمجھتا ہے

گر پاک کرے کوئی تب عرشِ خدا ہے دل

دلدادۂ  الفت ہوں اب مجھ میں کہاں ہے دل؟

دلبر نے لیا دل کو عاشق میں کجا ہے دل؟

صد شکر کہ اب جانان خود میری خودی ہوگا

جب جان ہے فدا اس سے جب اس میں فنا ہے دل

اشعارِ نصیری میں اسرارِ نہانی ہیں

دل عقدۂ  لاینحل اور عقدہ کشا ہے دل

 

بموقعِ  ’علامہ نصیر الدین کے ساتھ ایک شام‘  زیرِ اہتمام حلقۂ اربابِ ذوق گلگت ،

۲۸ ، جوالائی ۱۹۹۸ء بمقامِ ریویریا ہوٹل۔

 

۱۱۴

 

بروشسکی کے رشتے

 

۱۔ ہونزہ، نگر، اور یاسین میں زمانۂ قدیم سے بروشسکی زبان بولی جاتی ہے، بروشسکی اور شنا زبان کے بہت سے الفاظ مشترک ہیں، اس کے علاوہ ہونزہ کی یہ روایت بھی رہی ہے کہ قومی سطح پر تمام تر توصیفی گیت ݽنݳ زبان میں گائے جاتے تھے، جیسے میرانِ ہونزہ کے تعریفی ترانے، شادی بیاہ کے گانے، جنگی بہادروں کے اوصاف پر مبنی گیت، اور کاہن (بٹن، SHAMAN) کی پیش گوئی کے گیت۔

 

۲۔ ہونزہ اور بلتستان کے درمیان بھی لسانی اور ثقافتی رشتے مضبوط ہیں، چونکہ یہاں کی زبانوں کے بہت سے الفاظ آپس میں مخلوط ہیں، لہٰذا علاقائی زبان کے میدانِ عمل میں سب سے بڑی کامیابی ممکن ہی نہیں جب تک کہ بروشسکی لغات کے ساتھ ساتھ ݽنݳ لغات، وخی لغات، بلتی لغات، اور کھوار لغات نہ ہوں، پس میرا عاجزانہ مشورہ یہ ہے کہ اس عظیم منصوبے کو سر انجام

 

۱۱۵

 

دینے کے لئے علاقے کے تمام معزز سکالرز ایک ہی عزم کے ساتھ اپنا اپنا کام شروع کریں، ان شاء اللہ، بہت ہی کم عرصے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

 

۳۔ یہ ایک بڑا اہم سوال ہے کہ آیا زبان کی تخلیق لوگ ہی کرتے ہیں یا یہ ایک قدرتی چیز ہے؟ اس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ ہر زبان آیاتِ قدرت میں سے ہے، اور قرآنِ حکیم کی تعلیم یہی ہے، آپ سورۂ روم (۳۰: ۲۲) میں غور سے دیکھیں، پس زبان اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے۔

 

۴۔ میں نے نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے تک بروشسکی پر ریسرچ کا کام کیا، اس منجمد اور انتہائی مشکل زبان میں اوّلین شاعر کی حیثیت سے شاعری کی، اور خدا کے فضل و کرم سے بڑی نیکنامی نصیب ہوئی، اس دوران مجھے اپنی مادری زبان کے بےشمار عجائب و غرائب کا انکشاف ہوا، یہ سچ ہے کہ اس کے گرامر کے بعض قواعد غیر معمولی ہیں۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

۳۱ جولائی ۱۹۹۸ء

 

۱۱۶

 

لشکرِ اسرافیلی

 

۱۔ قرآنِ حکیم کے بہت سے ارشادات میں اللّٰہ تعالیٰ کے لشکر کا ذکر آیا ہے۔ جیسے سورۂ فتح (۴۸: ۰۴، ۴۸: ۰۷) میں فرمایا گیا ہے: وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ = اور آسمان و زمین کے (تمام) لشکر اللّٰہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ یعنی خداوند تعالیٰ کی بادشاہی میں روحانی اور جسمانی ہر قسم کے لشکر موجود ہیں، اور ان میں اسرافیلی لشکر بھی ہیں، چنانچہ آج یہاں ہم لشکرِ اسرافیلی کا کچھ تذکرہ کریں گے۔

 

۲۔ اسرافیلی لشکر وہ خوش نصیب اور نیک بخت مومنین و مومنات ہیں، جن کو ربِّ کریم نے لحنِ داؤدی کی نعمتِ عظمیٰ سے نوازا ہے، جن کے توسط سے ہمیشہ اہلِ ایمان کے لئے غذائے روحانی مہیا ہوتی رہتی ہے، ان کی شیرین اور سریلی آواز گویا صورِ اسرافیل کا معجزہ ہے، کیونکہ وہ اپنی خداداد صلاحیّت سے ہوا جیسی بےجان چیز میں نغمگی کی روح ڈال کر اس کو زندہ کر دیتے ہیں،

 

۱۱۷

 

اور یہ پُرحکمت عمل آیاتِ قدرت میں سے ہے، لہٰذا اس میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 

۳۔ وہ پاکیزہ نفوس بڑے باسعادت ہیں، جو ساز و آواز کے اسلحہ سے لیس ہو کر نفسانیّت، جہالت، اور غفلت کے خلاف جہاد کرتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے مولائے پاک کے عاشقوں کو گریہ و زاری اور محویّت و فنائیّت کی عظیم نعمت حاصل ہو جاتی ہے، ہم سب لشکرِ اسرافیلی کے شکرگزار اور ممنون ہیں کہ وہ ہم کو بار بار پگھلاتے ہیں، ترجمۂ آیۂ شریفہ ہے: کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو (۱۷: ۴۴) یقیناً ہر چیز اپنی جگہ پر زبانِ حال سے بھی تسبیح پڑھتی ہے، اور انسانِ کامل میں آکر زبانِ قال سے بھی تسبیح خوانی کرتی ہے، جیسا کہ آیۂ کریمہ کا ترجمہ ہے: ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے (۴۱: ۲۱) یعنی جہاں انسانِ کامل میں روحانی قیامت برپا ہو جاتی ہے، وہاں صورِ اسرافیل کی ہمہ رس آواز سے تمام چیزیں زندہ ہو کر جمع ہو جاتی ہیں، اور ناقور کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر تسبیح خوانی کرتی رہتی ہیں، آپ حضرتِ داؤد علیہ السّلام کے قصّے میں بھی دیکھیں: ۲۱: ۷۹، ۳۴: ۱۰، ۳۸: ۱۸۔

 

۴۔ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے (۲۴: ۴۱) کائنات کی ہر چیز اللہ کے لئے سجدہ کرتی ہے (۱۶: ۴۹) اس سے معلوم ہوا کہ

 

۱۱۸

 

ساز و آواز میں بھی عبادت کا راز ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرتِ داؤد علیہ السّلام زبور کو مختلف سازوں کے ساتھ پڑھا کرتے تھے، اسی لئے زبور کو مزامیرِ داؤد کہتے ہیں: مزامیر کے معنی ہیں: مزمار کی جمع، بانسریاں، مطربوں کے ہر قسم کے ساز، راگ، گیت، راگ میں کی جانے والی دعائیں۔

 

۵۔ زبور میں شریعت کے احکام نہ تھے، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ بنی نوع انسان کو آسمانی عشق کی تعلیم دی جائے، اور قانونِ فطرت کے مطابق یہ امر بھی ضروری تھا کہ سازوں کی حکمت سے نفس کو فنا کر دیا جائے، اگر یہ بات نہ ہوتی تو قرآنِ حکیم زبور کے ساتھ موسیقی کے استعمال پر تنقید کرتا، جس طرح توریت اور انجیل میں تحریف و آمیزش کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔

 

۶۔ حضرتِ داؤد علیہ السّلام آسمانی عشق کی کتاب (زبور) کو مختلف سازوں کی موسیقی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے، یقیناً ان کا یہ طرزِ عمل اللّٰہ تعالیٰ کی خوشنودی کے مطابق تھا، کیونکہ ربِّ کریم نے ہر پیغمبر کو ایک خاص معجزہ عطا کیا تھا، اگرچہ باطن اور روحانیّت میں سارے معجزات جمع ہو جاتے ہیں، تاہم ظاہر میں ایسا نہیں، پس معلوم ہوا کہ حضرتِ داؤد (ع) ناقورِ قیامت کی نمایان مثال تھے، تا کہ لوگ اللّٰہ کے پیغمبروں کی طرف دیکھیں، اور ان کے نمونوں سے فائدہ اٹھائیں۔

 

۱۱۹

 

۷۔ جو لشکرِ اسرافیلی ہیں، وہ خود کو اور اپنے کام کو خوب جانتے ہیں، ان پر خداوندِ قدّوس کا بہت بڑا احسان ہے، ہم سب ان کو بہت بہت چاہتے ہیں، وہ ہماری روح (جان) ہیں، کیونکہ ہم سب ایک ہی بادشاہ کے لشکر ہیں، اور مل کر ایک عظیم فتح حاصل کرنی ہے، ان شاء اللّٰہ، ہم فتحیاب ہو جائیں گے۔

 

۸۔ لشکرِ اسرافیلی کو ہم سب سلامِ محبّت پیش کرتے ہیں، پُرخلوص دست بوسی بھی قبول ہو! یاد رہے کہ اہلِ ایمان کے لئے بہشت میں سب کچھ ہے، ہر چیز ہے، ہر خزانہ ہے، اور ہر مرتبہ ہے، اور وہاں کوئی بھی نعمت غیر ممکن نہیں۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

یکم اگست ۱۹۹۸ء

 

۱۲۰

 

یارِ بدیعُ الجمال

 

جانِ جہان کون ہے؟ یارِ بدیعُ الجمال

دل میں نہان کون ہے؟ یارِ بدیعُ الجمال

جلوہ نما ہے ادھر حیرتِ اہلِ نظر

غیرتِ شمس و قمر یارِ بدیعُ الجمال

چہرہ مجھے یاد ہے حور و پری زاد ہے

شاد ہے آزاد ہے یارِ بدیعُ الجمال

پیکرِ حسن و جمال با ہمہ وصفِ کمال

دہر میں ہے بیمثال یارِ بدیعُ الجمال

جانِ بہار جانِ من رونقِ باغ و چمن

غنچہ دہن گلبدن یارِ بدیعُ الجمال

جلوہ دکھا جا ذرا دل میں سما جا ذرا

روح میں آ جا ذرا یارِ بدیعُ الجمال

 

۱۲۱

 

سب میں اسی کا مکان سب ہیں اسی کے نشان

سب کی وہی جانِ جان یارِ بدیعُ الجمال

نورِ سحر تجھ سے ہے علم و ہنر تجھ سے ہے

لعل و گہر تجھ سے ہے یارِ بدیعُ الجمال

عشق و فنا کی قسم! وصل عطا کر صنم

کل کو رہیں گے نہ ہم یارِ بدیعُ الجمال

عشق میں اک ساز ہے جس میں ترا راز ہے

اس پہ مجھے ناز ہے یارِ بدیعُ الجمال

اے مرے ماہِ منیر یاد تری دلپذیر

تجھ سے فدا ہے نصیرؔ یارِ بدیعُ الجمال

 

“حلقۂ اربابِ ذوق”  گلگت کی خدمت میں۔

 

نصیر الدین نصیر ہونزائی

کراچی

جمعہ ۱۳، ربیع الثانی ۱۴۱۹ھ،  ۷، اگست ۱۹۹۸ء

 

۱۲۲

 

اسمِ اعظم بحدِّ قوّت

 

۱۔ اسمِ اعظم عالمِ دین میں بحدِّ قوّت ہمیشہ موجود ہے، اور یہ ہر اس مومن کے لئے حدِّ قوّت سے حدِّ فعل میں آتا ہے، جو اس کے احکام و شرائط کو بجا لاتا ہے، جاننا چاہئے کہ حقیقی اور زندہ اسمِ اعظم امامِ زمان علیہ السّلام ہی ہے، اور جو علامتی اسماء الحسنیٰ قرآنِ حکیم میں ہیں، وہ حضرتِ امامِ عالی مقام کی طرف اشارے اور دلیلیں ہیں، مثلاً قرآنِ پاک کے تین مقامات پر “الحی القیوم” کے دو تحریری اسم ایک ساتھ آئے ہیں، ان کا اشارہ یہ ہے کہ حقیقی اسمِ اعظم وہ ہے جو ہمیشہ زندہ، بولنے والا، اور دانا ہوتا ہے نیز وہ ہمیشہ قائم ہے اور قیامت کو برپا کر سکتا ہے۔

 

۲۔ قرآنِ مقدّس بار بار اس حقیقت کو سمجھاتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جملہ اشیاء کو جفت جفت بنایا ہے، یعنی ایک چیز مثال ہے، اور دوسری ممثول، یا ایک شیٔ دلیل ہے، اور دوسری مدلول، چنانچہ جو اسمِ اعظم لفظی اور تحریری ہے وہ مثال اور دلیل ہے، اور جو

 

۱۲۳

 

اسمِ بزرگ شخصی اور نورانی ہے، وہ ممثول اور مدلول ہے، جیسے قرآنِ عظیم کی سات سورتیں حٰمٓ سے شروع ہو جاتی ہیں: ۴۰: ۰۱، ۴۱: ۰۱، ۴۲: ۰۱، ۴۳: ۰۱، ۴۴: ۰۱، ۴۵: ۰۱، ۴۶: ۰۱، حٰمٓ الحی القیّوم کا مخفف ہے، اس سے حجتِ قائم اور حضرتِ قائم علیہما السّلام مراد ہیں، کہ وہ کارِ قیامت میں دونوں ایک ہیں، مگر شخصیّت میں دو، جس طرح حٰمٓ ایک ہے، جس کا عدد ۴۸ ہے، مگر الحیّ القیّوم دو اسم ہیں۔

 

۳۔ اگر آپ کو سچ مچ امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام سے عشق ہے، تو آئینۂ علم و حکمت میں اس کی تجلّیات کو دیکھ لیں، اس کی ہر تجلّی میوۂ بہشت ہے، آپ ہمیشہ علم الیقین کے باغ و گلشن ہی میں رہنے کی عادت بنالیں، تا کہ عین الیقین کا راستہ آسان ہو۔

 

۴۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح دو دو کا قانون بنایا ہے، وہ بڑا مضبوط اور اٹل ہے: ۵۵: ۵۲، ۱۱: ۴۰، ۱۳: ۰۳، ۵۱: ۴۹، ۳۶: ۳۶، تاکہ اہلِ دانش پر یہ حقیقت روشن ہو جائے کہ قرآن کے ساتھ زندہ نور بھی ہے (۰۵: ۱۵) رسول کے ساتھ وصی بھی ہے (۱۰۸: ۰۱) ظاہر کے ساتھ باطن بھی ہے (۳۱: ۲۰) اور مثال کے ساتھ ممثول بھی ہے (۰۳: ۱۰۳) یہ قانون ایسا ہے کہ اس سے کوئی دانا انکار نہیں کر سکتا ہے۔

 

۵۔ خدا کی خدائی میں قانونِ درجات بھی ہے اور قانونِ مساوات بھی، ان دونوں حقیقتوں کی دلیلیں الگ الگ ہیں،

 

۱۲۴

 

درجات کے ثبوت کے لئے دیکھ لیں: خود لفظِ  “درجات” جو قرآنِ پاک میں چودہ (۱۴) دفعہ مذکور ہے، اور مساوات کا ذکر اکثر وہاں ملتا ہے، جہاں عرشِ الٰہی کا بیان آیا ہے، اس کی کئی مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے: اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى (۲۰: ۰۵) خدائے رحمان نے عرش پر مساوات کا کام کیا۔ یہ مونوریالٹی کا عظیم راز ہے۔

 

۶۔ عرش کے چند معنی ہیں، ان میں سے ایک معنی چھت کے ہیں، چھت پر مساوات (برابری) ہے، اور درجات کی سیڑھی اس کے نیچے ہے، نیز یہ حقیقت بھی یاد رہے کہ علم کے سمندر پر اللّٰہ کا عرش (تخت، ۱۱: ۰۷) دوسری مثال میں بھری ہوئی کشتی ہے (۳۶: ۴۱) جس میں اہلِ ایمان کی روحیں سوار ہیں، تو یہ مونوریالٹی (یک حقیقت) کا واضح ثبوت ہے، آپ سورۂ ملک (۶۷: ۰۳) میں بھی دیکھیں کہ جو روحیں مساواتِ رحمانی میں ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔

 

۷۔ اللہ تعالیٰ القابض بھی ہے اور الباسط بھی، لہٰذا وہ جل شانّہ ہمیشہ لوگوں کو انسانِ کامل (نفسِ واحدہ) میں لپیٹ کر مساوات بھی کرتا ہے، اور پھیلا کر درجات بھی بناتا ہے، اور یہ حکمت بڑی عجیب و غریب ہے۔

 

۸۔ جہاں عرشِ اعلیٰ کو ایک عظیم فرشتہ ماننا حقیقت ہے، وہاں

 

۱۲۵

 

وہ لازماً ایک جیسی مقدّس روحوں کی کائنات اور بھری ہوئی کشتی ہے، وہ امامِ عالی مقام کی مبارک ہستی ہے، جو حدیثِ شریف کے مطابق کشتیٔ نوح ہے، جس میں جتنے بھی سوار ہیں، وہ سب کے سب ناجی ہیں، اور عجب نہیں کہ اس میں قانونِ مساوات کے مطابق بالآخر کل نفوس جمع ہو جائیں، کیونکہ جب درجات میں سب آتے ہیں، تو مساوات بھی سب کے لئے ہے، جبکہ خدا کی لپیٹ سے کوئی چیز باہر نہیں ہو سکتی ہے۔

 

۹۔ ہم مانتے ہیں کہ الخلق عیال اللہ کے ارشادِ نبوّی میں آخری اور انقلابی تعلیم ہے، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ قرآنِ حکیم میں ایسی تعلیمات نہ ہوں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز کا ذکر سب سے پہلے قرآن میں ہے، اور اس کے بعد بطورِ تفسیر حدیثِ شریف میں۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

کراچی

پیر ۱۶، ربیع الثانی ۱۴۱۹ھ

۱۰ ، اگست ۱۹۹۸ء

 

۱۲۶

 

یہ تیرا عشق

 

یہ تیرا عشق مجھے ہے شراب سے بہتر

شمیمِ کوچۂ جانان گلاب سے بہتر

تم آ کے دل میں رہو میں حجاب ہو جاؤں

تو پھر بھی کیسے بنوں اس حجاب سے بہتر؟

وہی ہے گنجِ کرم اور وہی ہے کانِ عطا

نہیں ہے کوئی سخی آن جناب سے بہتر

ترا خیالِ حسین مجھ کو خوابِ راحت ہے

ہے کوئی خواب کہیں میرے خواب سے بہتر؟

جمال و حسن ترا اک کتابِ قدرت ہے

نہیں ہے بشری کتاب اس کتاب سے بہتر

اگرچہ چاند ستاروں میں مثلِ سلطان ہے

ہے میرے دل کا حسین ماہتاب سے بہتر

 

۱۲۷

 

سوال ایسا کیا جس میں گنجِ حکمت ہے

کہ عقل جس کو کہے : ہر جواب سے بہتر

زوالِ عہدِ جوانی سے مجھ کو غم نہ ہوا

کہ فکر و عقلِ کُہن سال شباب سے بہتر

خطابِ عشق و فنا گر کرے زراہِ کرم

یہی خطاب مجھے ہر خطاب سے بہتر

یہ دردِ عشق کی تلخی عجیب شیرین ہے

شرابِ عشق ہے یہ ہر شراب سے بہتر

عتاب میں بھی تجلی تری عجیب و غریب

نہیں ہے کوئی عطا اس عتاب سے بہتر

وہی ہے نورِ ازل آفتابِ عالمِ دل

ہزار درجہ وہ اس آفتاب سے بہتر

حبابِ دل چہ عجب بحر اس پہ عرشِ خدا!

نہیں ہے بحر کوئی اس حباب سے بہتر

سنو کہ میرا صنم ہے بتوں کا شاہنشاہ

نہیں ہے کوئی مرے انتخاب سے بہتر

بگڑ گیا ہے اگر باغ پھر خراج نہیں

خرابِ عشق ہوں میں ہر خراب سے بہتر

 

۱۲۸

 

عذابِ عشق نصیرا چہ خوب جنت ہے!

یہی عذاب مجھے ہر ثواب سے بہتر

 

کراچی

جمعرات ۲۰، اگست ۱۹۹۸ء

 

۱۲۹

 

انسانی حقیقت اور اس کا سایہ

 

یہ سچ ہے اور اس میں ذرا بھی شک و شبہ نہیں کہ انسان کی اصل حقیقت عالمِ علوی میں ہے، اور اس کا سایہ (جسمِ خاکی) عالمِ سفلی میں، اور اس امرِ واقعی کی روشن دلیلیں درجِ ذیل ہیں:۔

 

دلیلِ اوّل: قرآنِ حکیم کے کئی ارشادات میں یہ ذکر آیا ہے کہ جملہ اشیائے موجودات پیدائش ہی سے دو دو ہیں، اور کوئی چیز اس قانونِ دوئی سے مستثنا ہو کر ایک اکیلی نہیں ہو سکتی ہے، جبکہ صرف ذاتِ سبحان ہی واحد اور طاق ہے، اور دوسری کوئی شیٔ ہرگز ایسی نہیں۔

 

دلیلِ دوم: سورۂ نحل (۱۶: ۸۱) میں اللّٰہ تعالیٰ کا یہ فرمانِ اقدس ہے کہ اس نے اپنی ہر مخلوق کا ایک سایہ بھی پیدا کیا، تا کہ اس سے انسان کو فائدہ ہو۔ یعنی اس قادرِ مطلق نے عالمِ امر میں انسانی روح کو پیدا کیا، اور عالمِ خلق میں جسم کو اس کا سایہ بنایا، جس طرح قلمِ اعلیٰ کا مظہر (سایہ) رسولِ پاک ہیں، اور لوحِ

 

۱۳۰

 

محفوظ کا مظہر (سایہ) امامِ مبین، ہاں اس آیۂ شریفہ میں مظہریّت کی حقیقت بھی ہے کہ روحِ لطیف جو بہشت (عالمِ علوی) میں ہے اس کا بدنِ کثیف بطورِ مظہر (سایہ) اس جہان میں ہے۔

 

دلیلِ سوم: مذکورۂ بالا آیت ہی میں یہ اشارۂ حکمت بھی ہے کہ ہر کامیاب مومن اور مومنہ کو معجزاتی پیراہن مل سکتا ہے، یہ انسان کی اصل حقیقت اور روح کا علوی سرا ہے جو بہشت میں ہے، چنانچہ جب کوئی نیک بخت شخص اس نورانی پیراہن (جامۂ بہشت) کو پہن لے گا، تو وہ اپنے آپ کو بہشت میں دیکھے گا، یہ ہے آدمی کا اپنی اصل حقیقت سے واصل ہو جانا۔

 

دلیلِ چہارم: آپ یقیناً دو دو ہیں، یعنی آپ میں سے ہر ایک بیک وقت بہشت میں بھی ہے اور یہاں اس دنیا میں بھی، اور اس کی روشن دلائل میں سے ایک دلیل ہزار حکمت کی ابتدا ہی میں ہے، جیسا کہ ارشادِ قرآنی کا ترجمہ ہے: اور دیا تم کو ہر چیز میں سے جو تم نے مانگی (۱۴: ۳۴) یہ فرمانِ الٰہی آپ کی اُس پاکیزہ اور لطیف ہستی کے پیشِ نظر ہے، جو بہشتِ برین میں مطمئن ہے، نہ کہ دنیوی وجود کے اعتبار سے، اور ہر دانا اس دلیل کی بہت قدر کرے گا۔

 

دلیلِ پنجم: آپ قرآنِ حکیم میں دیکھتے ہیں کہ لوگِ نفسِ واحدہ / آدمِ زمانؑ سے پیدا کئے جاتے ہیں، اور پھر اسی میں وہ

 

۱۳۱

 

لپیٹ لئے جاتے ہیں، اس کا یہ مطلب ہوا کہ یہی مرتبۂ علیّا ہی ہر شخص کی انائے علوی اور روح کا بالائی سرا ہے، جو بہشت میں ہے۔

 

دلیلِ ششم: اللّٰہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں قدیم ہے، اس لئے وہ جلّ جلالہ ہمیشہ ہمیشہ کل اشیا کو مرکز میں لپیٹتا بھی ہے اور پھیلاتا بھی ہے، اس سے تمام چیزوں کا وہ جوہرِ وحدت مرکز سے کبھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ نقشِ ازل کی حیثیت سے باقی و برقرار رہتا ہے، جیسے قرآنِ حکیم جب لوحِ محفوظ سے اس دنیا میں نازل ہوا، تو اس کے لئے یہی قانون تھا کہ عالمِ امر کے مطابق وہاں بھی رہے، اور عالمِ خلق کے مطابق یہاں بھی آئے (۸۵: ۲۱ تا ۲۲)۔

 

دلیلِ ہفتم: قرآنِ عزیز میں جہاں اللّٰہ کی رسی کی مثال آئی ہے (۰۳: ۱۰۳) وہاں وہ کوئی معمولی بات ہرگز نہیں ہے، بلکہ اس کی حکمت میں انتہائی جامعیّت ہے، اور اس کا ایک واضح اشارہ یہ ہے کہ انسانی روح بھی حبل اللّٰہ سے وابستہ ایک چھوٹی سی رسی ہے، رسی میں سالمیّت بھی ہے، اور اس کے دو سرے بھی ہیں، اس کا بالائی سرا بہشت میں ہے، اور زیرین سرا دنیا میں، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی اصل حقیقت بہشت میں ہے۔

 

دلیلِ ہشتم: ارشاد ہے: من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ = جس نے اپنے آپ (یا اپنی روح) کو پہچان لیا، یقیناً اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔ مگر یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی

 

۱۳۲

 

آدمی اپنی روحِ نباتی، روحِ حیوانی، اور عام روحِ انسانی کے قیاس پر اپنے ربّ کو پہچانے؟ ہاں یہ حقیقت ہے کہ نفسہ (اپنے آپ = اپنی روح) سے انسانِ کامل مراد ہے کہ عارف کی اصل جان (نفس = روح) وہی ہے، اور اسی کی معرفت حضرتِ ربّ کی معرفت ہے، دران حالے کہ حقیقی مرشد کی روح (نور) مرید میں آ کر رہنمائی کرتی رہتی ہے، کیونکہ انسانِ کامل وہ ہے جو خدا کے عطا کردہ نور کے ذریعے سے لوگوں کے باطن میں چل سکتا ہے (۰۶: ۱۲۲) اس سے پتا چلا کہ امامِ عالی مقام عموماً تمام لوگوں اور خصوصاً مریدوں کی چوتھی روح ہے، جس میں بہشت ہے، اسی معنیٰ میں آپ بہشت میں بھی ہیں، اور دنیا میں بھی۔

 

دلیلِ نہم: سورۂ فرقان کی اس آیۂ کریمہ کی طرف بہت سے صوفیوں اور عارفوں کی نگاہیں جاتی رہی ہیں کہ یہ سایہ کون سا ہے؟ عام ہے یا خاص؟ یا خاص الخاص؟ سبحان اللّٰہ! یہ ظلِّ الٰہی ہے (۲۵: ۴۵) کیونکہ یہ سوال مقامِ دیدار (حظیرۂ قدس) سے متعلق ہے، اور یہ سب سے بڑا راز ہے کہ جب سورج کا کوئی سایہ نہیں، تو ظلِ الٰہی کیونکر ممکن ہو سکتا ہے؟ لیکن یہ نکتۂ دلپذیر یاد رہے کہ عکسِ خورشید ہی اس کا سایہ ہے، اور اسی طرح مظہرِ نورِ خدا ہی ظلِّ الٰہی ہے، اور وہ آپ کی انائے علوی ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

پیر یکم جمادی الاوّل ۱۴۱۹ھ

۲۴ اگست ۱۹۹۸ء

 

۱۳۳

 

سورۂ تین کے تاویلی اسرار

 

سورۂ تین (۹۵: ۰۱ تا ۰۸) کا ترجمہ: بنامِ خدائے رحمان و رحیم۔ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی، اور طورِ سینا کی، اور اس امن والے شہر کی، یقیناً ہم نے انسان کو بہترین تقویم میں پیدا کیا، پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پلٹا دیا، سوائے ان لوگوں کے جو (بحقیقت) ایمان لائے اور (علم کے ساتھ) نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لئے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے، پھر تم کو روزِ جزا کے بارے میں کون جھٹلا سکتا ہے؟ کیا خدا سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟

 

تاویل: تاویل کے تین درجات ہیں: علم الیقین، عین الیقین، اور حق الیقین، آپ علم الیقین کو بزرگانِ دین کی گرانمایہ کتابوں سے حاصل کرتے رہیں، یہی ابتدائی اور کلیدی تاویل ہے،  علمِ تاویل کا ایک بہت بڑا خزانہ “وجہِ دین” کے نام سے ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سورہ کے آغاز میں جن چار چیزوں کی قسم کھائی ہے، وہ عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق اور اساس ہیں، تفصیل کے لئے

 

۱۳۴

 

دیکھیں: وجہِ دین، گفتار (کلام) ۱۱۔

 

اس عظیم الشّان سورہ کی ایک خاص کلیدی حکمت لفظِ “تقویم” میں پوشیدہ ہے، تقویم کا لفظی ترجمہ ہے: سیدھا کرنا، درست کرنا، لیکن آیتِ پنجم! “پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پلٹا دیا” میں سوچنے سے معلوم ہوا کہ تقویم کا مفہوم ارتقائی سیڑھی ہے، یعنی انسانِ کامل کی روحانی تخلیق بہترین ارتقائی سیڑھی پر ہوتی ہے، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ روحانی سیڑھیوں کا مالک ہے (۷۰: ۰۳) اور حضرتِ محمد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صاحبِ معراج ہیں۔

 

سورۂ احزاب (۳۳: ۲۱) میں رسولِ پاک کے اسوۂ حسنہ سے متعلق جو ارشاد ہے، اس کی حکمت کو سمجھنا بےحد ضروری ہے، اس کا ایک ترجمہ یہ ہے: درحقیقت تم لوگوں کے لئے اللّٰہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللّٰہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللّٰہ کو یاد کرے (۳۳: ۲۱) اس پُرحکمت ارشاد کی تفسیر حدیثِ نوافل ہے، کہ یہاں ارتقائی سیڑھی پر کاملین کی روحانی تخلیق کا ذکر ہے، جبکہ پیغمبرِ اسلام کا بہترین نمونہ اسی مقصد کے پیشِ نظر ہے، ہاں معراج کی رات رسول اللّٰہ کو فنا فی اللّٰہ کا انتہائی عظیم مرتبہ حاصل ہوا تھا، اس کے معنی یہ ہوئے کہ حضورِ انور کو لامکان میں صورتِ رحمان عطا ہوئی، لیکن اس کے باوجود ظاہری اعتبار سے زمین پر تشریف لے آئے، پس آپ نورانیّت

 

۱۳۵

 

میں آسمان پر تھے، اور جسمانیّت میں زمین پر۔

 

آپ کو قرآن و حدیث اور عقل و منطق کی روشنی میں ٹھیک ٹھیک سوچنا ہوگا کہ جو لوگ فنا فی الامام، فنا فی الرسول، اور فنا فی اللّٰہ ہو جاتے ہیں، ان کی روحانی ترقی کا کیا عالم ہوگا؟ کیا وہ ارتقائی سیڑھی سے عروج کر کے حظیرۂ قدس میں داخل نہیں ہوں گے؟ آیا ان کو صورتِ رحمان عطا نہیں ہوگی؟ یہاں حدیثِ نوافل کو بھول نہ جائیں، خدا جو گنجِ مخفی ہے اس کا بھی تصوّر کریں، اس خزانۂ غیب میں اسرار ہی اسرار ہیں، اگر آپ بہشتِ جبین میں جا کر صورتِ رحمان پر ہو جاتے ہیں، تو بتائیں کہ یہ واقعہ زمان و مکان کے تحت ہوگا یا اس سے بالاتر؟ یہ سوال اس لئے ضروری ہے، کہ اگر آپ کو صورتِ رحمان لامکان میں عطا ہو جاتی ہے تو یہ اسرارِ ازل میں سے ہے اور سرِ قدیم ہے۔

 

خداوند تعالیٰ ہر انسانِ کامل کی ذاتی اور روحانی قیامت کے دوران تمام روحوں کو ارتقائی سیڑھی سے چڑھا کر اپنی ربّوبیّت کا اقرار بھی لیتا ہے: کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ یہ عالمِ شخصی کی بادشاہی کی چیزیں ہیں، جو محفوظ رہتی ہیں، لیکن ظاہری اعتبار سے لوگ سب کے سب عالمِ سفلی کی طرف لوٹا دئے جاتے ہیں، کیونکہ دنیا کشت گاہِ آخرت ہے۔

 

اس سے اگلے مقالے (انسانی حقیقت اور اس کا سایہ) کو

 

۱۳۶

 

پھر سے پڑھیں، یہ سچ ہے کہ انسان کی اصل حقیقت عالمِ علوی میں ہے، اور اس کا سایہ زمین پر، اسی تصوّر سے البتہ سورۂ تین کی حکمت سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے، پس دوستانِ عزیز کو میرا پُرخلوص مشورہ یہ ہے کہ وہ علم الیقین سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں، کہ اس میں حق الیقین کے اسرار ہوتے ہیں، پس آپ علم الیقین کے عنوان سے حق الیقین کے جواہر کو حاصل کرتے رہیں، کتنا بڑا امتحان ہے کہ بعض لوگ اس علم سے بھاگ جاتے ہیں۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعہ ۵ جمادی الاول ۱۴۱۹ھ

۲۸ اگست ۱۹۹۸ء

 

۱۳۷

 

ایک عجیب و غریب خط

 

حبِّ علی ہونزائی (ایل۔ جی) لٹل اینجلز سولجرز کے مقدّس ادارے میں شامل ہے، اس کی تاریخِ پیدائش ہے: یومِ جمعہ ۱۶ جنوری ۱۹۹۸ء، یہ ننھا بچہ اس بندۂ حقیر (نصیر) کا پڑپوتا ہے، جو خداوندِ قدوس کی عنایات میں سے ہے، یہ پیارا بچہ زبانِ حال سے یوں کہتا ہے:

 

دادا جان! آپ مجھ سے اتنی زیادہ محبت کرتے ہیں، اور ہر روز میری سلامتی اور بہتری کی نیّت سے لا حول و لا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم پڑھا کرتے ہیں، تو آپ ہمارے تمام لٹل اینجلز سے بھی محبت کریں نا، اور لاحول سب کو سکھائیں نا، پیارے دادا جان! آپ اپنے سب سے چھوٹے ادارے کی ترقی کے لئے دعا بھی کرنا، اور کچھ تعلیم بھی دینا۔

 

دادا جانو! میرے والدین بہت زیادہ خوش ہیں، لیکن ان کی دانائی یہ ہو گی کہ وہ میری سلامتی اور ترقی کے لئے ہر وقت دعا کرتے رہیں، اگر میں ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں، تو وہ بڑی کثرت

 

۱۳۸

 

سے خداوند تعالیٰ کا شکر کرتے رہیں۔

 

میری جان دادا! میرے والدین کو نرم نصیحت ضرور کرنا، لیکن کبھی دل سے ناراض نہ ہو جانا، وہ آپ کی پیاری اولاد ہیں، ہمیشہ آپ کی خدمت کرتے رہتے ہیں، ان شاء اللّٰہ وہ اب دین، ایمان، اور حقیقی علم میں ترقی کریں گے، کیونکہ وہ پہلے بچے تھے، اب خدا کے فضل و کرم سے والدین ہو گئے۔

 

دادا جان! یہ بھی آپ کا انوکھا اور نرالا طریقہ ہے کہ آپ بچوں کی محبّت کے ذریعے سے بھی کچھ مفید باتیں کرتے ہیں، الحمد للّٰہ، لیکن دادا، دادا! ہم دونوں مل کر کبھی کبھی لٹل اینجلز کو کوئی مفید خط لکھیں گے، اور ان کے والدین سے گزارش کریں گے کہ وہ ہائی ایجوکیٹرز کا فریضہ حسن و خوبی سے انجام دیں، اور امید ہے کہ جناب ڈاکٹر فقیر محمد ہونزائی صاحب بھی مدد فرمائیں گے۔

 

میں (نصیر الدین) کہتا ہوں کہ “زبانِ حال” سب سے پہلے ایک قرآنی حقیقت ہے، لہٰذا یہ بھی علم کے میدانوں میں سے ایک خوبصورت میدان ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعرات ۱۱ جمادی الاول ۱۴۱۹ھ

۳ ستمبر ۱۹۹۸ء

 

نوٹ: ہمارے ہر عزیز کو پہنچا دینا ضروری ہے۔

 

۱۳۹

 

پیغمرانہ یا اولیائی موت

 

۱۔ قرآنِ حکیم میں اکثر جسمانی موت کے پس منظر میں نفسانی موت کا بیان ہے، اور ظاہری شہادت کی مثال میں باطنی شہادت کی حقیقت پنہان ہے، یہ اس لئے ایسا ہے کہ تمام چیزیں  دو دو (جفت جفت) پیدا کی گئی ہیں، تا کہ ایک شیٔ مثال ہو، اور دوسری ممثول، یا ایک چیز دلیل ہو، اور دوسری مدلول، جیسے ارشاد ہے: كُلُّ  نَفْسٍ   ذَآىٕقَةُ  الْمَوْتِؕ = ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے (۰۳: ۱۸۵) آپ تحقیق کر سکتے ہیں کہ ذائقہ (چکھنا) تجربہ کے معنی میں ہے، اور موت کا زیادہ سے زیادہ تجربہ وہ شخص حاصل کر سکتا ہے، جو جیتے جی مر کر زندہ ہو جاتا ہے، اور اس کارنامۂ عظیم میں بےشمار فائدے ہیں، اس کلّیہ سے معلوم ہوا کہ انبیاء و اولیاء علیہم السّلام نہ صرف قیامتی موت کے جملہ احوال سے باخبر ہوتے ہیں، بلکہ عالمِ شخصی کے تمام مراحل سے آگے جا کر مرتبۂ فنا فی اللّٰہ کی سب سے بڑی معرفت کو بھی حاصل کرتے ہیں۔

 

۱۴۰

 

۲۔ اسی طرح ظاہری شہادت کے بیان میں باطنی شہادت کا تذکرہ پوشیدہ ہے، مثال کے طور پر دیکھ لیں: ترجمہ: اور خبردار راہِ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں (۰۳: ۱۶۹) یہ ارشاد ایک جانب سے شہدائے ظاہر کے بارے میں ہے، اور دوسری جانب سے شہیدانِ باطن کے بارے میں، جس میں باطنی شہادت کی تعریف اس طرح سے ہے: کہ وہ مر کر بھی نہیں مرے ہیں، نیز ان کو نورانی بدن میں ابدی زندگی مل رہی ہے، اور ان کو علمِ لدنی حاصل ہو رہا ہے، یہ روحانی شہید بھی ہیں، اور ذبیح بھی۔

 

۳۔ آیۂ مبارکہ (۰۲: ۲۱۳) کے ان الفاظ میں غور کریں: بَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ َ = پہلا ترجمہ: پھر خدا نے پیغمبروں کو بھیجا۔ دوسرا ترجمہ: پھر خدا نے انبیا کو (تجربۂ موت کے بعد) دوبارہ زندہ کیا۔ اس معنی کے بغیر کسی شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اللّٰه  تعالیٰ نے اپنے جن خاص بندوں کو تاجِ نبوّت سے سرفراز فرمایا، وہ ظاہراً کہیں دور سے نہیں آئے تھے، بلکہ وہ اپنی اپنی قوم ہی میں تھے، جیسے ہمارے پیغمبرِ اکرم صلی اللّٰه علیہ و آلہ و سلم، پھر بھیجنے کے معنی میں کیا راز ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر پیغمبر اپنی حیات ہی میں موت کا عجیب و غریب تجربہ حاصل کرتا ہے، اور روحانیّت کے جملہ مراحل سے گزر کر فنا فی اللّٰه کی معراج تک

 

۱۴۱

 

پہنچ جاتا ہے، اور خدا کے اُسی قربِ خاص سے اُس کو لوگوں کی طرف بھیجا جاتا ہے یا نازل کیا جاتا ہے، کیونکہ محولہ آیۂ مبارکہ (۰۲: ۲۱۳) میں ہے: وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ  = اور ان کے ساتھ کتاب نازل کی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ انبیا علیہم السّلام کا روحانی مرتبہ بھی عالمِ علوی سے آتا ہے۔

 

۴۔ راہِ روحانیّت میں تمام کاملین و عارفین دو دفعہ مرکر زندہ ہو جاتے ہیں، سب سے پہلے منزلِ اسرافیلی و عزرائیلی میں، اور آخراً مرتبۂ عقل میں جا کر، جہاں تمام حقائق و معارف مرکوز ہو جاتے ہیں، پس یہی ہے پیغمبرانہ یا اولیائی موت جو بڑی پُرحکمت اور معجزاتی ہے۔

 

۵۔ قاموس القرآن میں ہے: بعث = زندہ کرنا، اٹھا کھڑا کرنا، جی اٹھنا، بھیجنا، اور خود قرآنِ حکیم میں ہے:  یَوْمِ الْبَعْثِ٘ = جی اٹھنے کا دن (۳۰: ۵۶) جیسے سورۂ لقمان (۳۱: ۲۸) میں ہے: مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍؕ = تم سب کی خلقت اور تم سب کا دوبارہ زندہ کرنا سب ایک ہی آدمی جیسا ہے۔ یعنی تمہاری غیر شعوری قیامت نفسِ واحدہ میں گزرتی ہے، اور شعوری قیامت نفسِ واحدہ کی طرح ہوتی ہے۔

 

۶۔ مولانا جلال الدین رومی کی شہرۂ آفاق کتاب “مثنوی” کے دفترِ ششم میں یہ حدیثِ شریف درج ہے: موتوا قبل

 

۱۴۲

 

ان تموتوا = مر جاؤ قبل اس کے کہ مرو۔ اس کے بعد بطورِ سند حکیم سنائی کا یہ بیت بھی ہے: بمیر اے دوست پیش از مرگ اگر می زندگی خواہی + کہ ادریس از چنین مردن بہشتی گشت پیش از ما = اے دوست! مرنے سے پہلے مر جا، اگر تو زندگی چاہتا ہے، کیونکہ ادریس ہم سے پہلے ایسے مرنے سے بہشتی بن گئے ہیں۔

 

۷۔ حضرتِ ادریس علیہ السّلام کے بارے میں ارشاد ہے: وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا = اور ہم نے ان کو بلند مقام تک پہنچا دیا (۱۹: ۵۷) اللّٰه تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر پیغمبر، ہر ولی، اور ہر عارف کو قیامت خیز موت کا تجربہ ہوتا ہے، جو مرگِ جسمانی سے پہلے آتی ہے، مذکورہ آیۂ شریفہ میں اسی موت اور اسی ذاتی اور روحانی قیامت کا ذکر ہے کہ خداوند تعالیٰ نے حضرتِ ادریس کوعالمِ شخصی کے تمام درجات سے بلند کر کے علیّین (حظیرۂ قدس) تک پہنچا دیا، علیّین یا علیّون مقام جبین کی بہشت ہے، وہ زندہ ہے، وہ بولنے والی کتاب ہے، وہ کامل بھی ہے اور کاملین بھی، وہ واحد بھی ہے اور جمع بھی، وہ عاشق بھی ہے اور معشوق بھی، وہ مکان بھی ہے اور لامکان بھی، وہ سب کچھ ہے، کیونکہ وہ خزانۂ الٰہی اور امامِ مبین ہے (۳۶: ۱۲)۔

 

۸۔ ارشادِ قرآنی کا ترجمہ ہے: اور ان کے لئے ہماری ایک نشانی (معجزہ) یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کے (روحانی) ذرّات کو

 

۱۴۳

 

بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا (۳۶: ۴۱) آپ کو بفضلِ خدا بھری ہوئی کشتی کا انتہائی عظیم راز معلوم ہے، یہ ہر نبی اور ہر ولی کے عالمِ شخصی میں اپنے وقت پر ظاہر ہوتی ہے، اس مقدّس کشتی کی کئی مثالیں اور تاویلیں ہیں: ۱۔ یہ سفینۂ نوح ہے جو سفینۂ نجات ہے، ۲۔ یہ اہلِ بیتِ محمدؐ میں سے امامِ زمانؑ کی مثال ہے، ۳۔ یہ الجاریۃ (۶۹: ۱۱) ہے، یعنی علمی طوفان کی غرقابی سے بچانے والی کشتی، ۴۔ نیز دیکھیں اس کی جمع الجوار (۴۲: ۳۲، ۵۵: ۲۴)، ۵۔ یہ بحرِعلم پر حضرتِ ربّ کا عرش ہے، کہ عرش زندہ ہے جو ایک فرشتہ ہے یا انسانِ کامل ہے، جو مظہرِ یک حقیقت ہے۔

 

۹۔ سورۂ رحمان (عروس القرآن) کی اس عالی قدر آیت کے معنی میں خوب غور کریں: وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٴٰـتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ (۵۵: ۲۴) پہلا ترجمہ: اسی کی ہیں بلند کی ہوئی کشتیاں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح کھڑی رہتی ہیں۔ دوسرا ترجمہ: اسی کی ہیں وہ تربیت و ترقی دادہ (زندہ) کشتیاں جو (علمی) سمندر میں سرداروں کی طرح ہیں۔ اس میں تمام عوالمِ شخصی کا عرفانی تذکرہ ہے۔

 

۱۰۔ مُنْشَـأتُ: انشأ سے ہے، اس کے معنی کسی چیز کی ایجاد اور تربیت کے ہیں، عموماً یہ لفظ زندہ چیز ۔۔۔۔ کے متعلق استعمال ہوتا ہے (مفردات القرآن)۔ العَلَم: ۱۔ کپڑے کا نقش،

 

۱۴۴

 

جھنڈا، قوم کا سردار، ج: اعلام۔ العَلَم: ۲۔ راہ کا نشان، اونچا پہاڑ، علامت، نشان، منارہ، ج: اَعْلَام و علام۔ (المنجد)۔

 

۱۱۔ وہ سب جوان زندہ کشتیوں میں ہیں فنا ہو جانے والے ہیں (۵۵: ۲۶) صرف تیرے ربّ کا چہرہ (صورتِ رحمان) جو صاحبِ جلال و اکرام ہے وہی باقی رہتا ہے (۵۵: ۲۷) اس سے معلوم ہوا کہ جو روحیں بھری ہوئی کشتیوں میں ہیں، ان کی فنائیّت اور وحدت صورتِ رحمان میں ہے، وجہ اللّٰہ یا صورتِ رحمان امامِ زمانؑ ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

کراچی

پیر، جمادی الاول ۱۴۱۹ھ

۷ ستمبر ۱۹۹۸ء

 

۱۴۵

 

روحانی شہد = علمِ تاویل

 

۱۔ ظاہری اور جسمانی نعمتوں میں سب سے عجیب و غریب اور سب سے لذیذ و لطیف نعمت شہد ہی ہے، جو بہترین غذا بھی ہے اور مفید ترین دوا بھی، آپ نہ صرف طب کی مستند کتابوں میں شہد کے خواص (تاثیرات) کو دیکھ سکتے ہیں، بلکہ قرآن و حدیث کی مقدّس طب میں بھی یہ ایک بہترین دوا ہے، قدرتِ خدا کی کارفرمائی سے شہد کی مکھیاں جس طریقِ کار سے شہد بناتی ہیں، وہ بڑا حیرت انگیز اور بےمثال ہے، شہد کی مکھیوں کا سارا نظام انوکھا، نرالا، حیران کن، اور لاجواب اس وجہ سے ہے، کہ یہ ایک عظیم روحانی معجزے کی مثال ہے، اور وہ ہے روحانی شہد بنانے کا سب سے بڑا معجزہ۔

 

۲۔ معجزۂ تنزیل ناطق کا ہے، اور معجزۂ تاویل اساس کا، کہ وہ حجّتِ ناطق ہے، امام میں بھی یہ معجزہ ہے، کہ حجّتِ اساس ہے، اور باب میں بھی یہ معجزہ ہے کہ وہ حجّتِ امام ہے، تا کہ علم و حکمت کا دروازہ کبھی بند نہ ہو جائے، پس شہد کی مکھی جس کا ذکر سورۂ نحل

 

۱۴۶

 

(۱۶: ۶۸ تا ۶۹) میں ہے وہ حدودِ مذکور کی مثال ہے، تاہم روحانیّت میں تاویلی شہد بنانے کی ساری خدمت کا موقع مومنین و مومنات ہی کی روحوں کو حاصل ہے، جیسے ظاہری شہد کی مکھیوں کا نظام ہے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ حقیقی مومنین ظاہراً و باطناً تاویل سے اس طرح وابستہ ہیں کہ وہ کبھی اس سے الگ نہیں ہو سکتے۔

 

۳۔ ترجمۂ ارشاد: اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کو اشارہ دیا کہ تو پہاڑوں میں گھر بنا لے اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتوں میں جو لوگ بنا لیتے ہیں (۱۶: ۶۸) پھر ہر پھل میں سے تو کھا اور اپنے پروردگار کے مسخر کردہ راستوں پر چلی جا، اسی مکھی کے پیٹ سے ایک شربت رنگ برنگ کا نکلتا ہے جس میں آدمیوں کے لئے شفا ہے، بے شک غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں ایک نشانی (موجود) ہے (۱۶: ۶۹)۔

 

۴۔ تاویل: تمہارے ربّ نے اساس کو الہام کیا کہ تم تاویلی حکمت کی غرض سے حظیرۂ قدس کے پہاڑوں میں اپنا گھر بنا لو اور وہاں کے درختوں میں اور وہاں کی چھتوں (عروش) میں، پھر ہر میوۂ علم و حکمت میں سے کھا لو اور اپنے ربّ کے تائیدی علم کا سرچشمہ ہو کر چلو، صاحبِ تاویل کے باطن سے مختلف تاویلات ظاہر ہوتی ہیں، جن میں لوگوں کے امراضِ روحانی کے لئے

 

۱۴۷

 

شفائے کلّی ہے، یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں عظیم معجزہ ہے۔

 

۵۔ سوال: علمِ تاویل کے لئے حظیرۂ قدس کی طرف رجوع کیوں ضروری ہے؟ جواب: کیونکہ وہ علیّین ہے، اس میں خزائنِ الٰہی ہیں، عرش و کرسی اور قلم و لوح ہیں، کتابِ کلّ شیٍٔ ہے، وہاں ساری کائنات لپیٹی ہوئی موجود ہے، اس میں خدا قبض و بسط کرتا ہے، وہ مقامِ حق الیقین ہے، یہ نزدیک لائی ہوئی بہشت ہے، یہاں عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق اور اساس کا نورِ واحد ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں پاک درخت پھل دیتا رہتا ہے، وہاں کتابِ مکنون ہے، گنجِ مخفی بھی، اَسرارِ ازل و ابد بھی، درختِ طوبیٰ بھی، درختِ سدرہ بھی، درختِ زیتون بھی، وہاں مثل الاعلیٰ بھی ہے اور کلمۂ باری بھی، دیدارِ خداوندی بھی ہے اور فنا فی اللّٰہ بھی۔

 

۶۔ عالمِ علوی بھی ہے اور یک حقیقت بھی کوہِ طور بھی ہے اور کوہِ عقل بھی، مظاہرۂ گوہرِعقل بھی ہے اور عالمِ وحدت بھی، وہاں ام الکتاب بھی ہے اور عالمِ امر بھی، بیت العتیق بھی ہے اور بیت المعمور بھی، یہ مقامِ ابراہیم بھی ہے اور مقامِ معراج بھی، وہاں وجہ اللّٰہ کی رویّت و معرفت بھی ہے اور ید اللّٰہ کی بے مثال فیاضی بھی، آئینۂ روحِ قرآن بھی ہے، گنجینۂ اسرارِ فرقان بھی، وہاں نورِ محمدؐ کی اولیّت بھی ہے اور نورِ علی کی حقیقت بھی، وہاں علم کا شہر

 

۱۴۸

 

بھی ہے اور حکمت کا گھر بھی، عالمِ شخصی کا مرکز بھی ہے اور مقامِ الست بھی، الغرض یہ امامِ مبینؑ میں تمام چیزیں محدود ہونے کی ایک بہت مختصر تفسیر ہے۔

 

۷۔ یہ صندوقِ جواہر نوادر جملہ احباب کے لئے تحفہ ہے، جو عزیز روحانی علم کا جتنا عاشق ہوگا، وہ اس گرانمایہ صندوق سے اتنا خوش ہوگا، خدا کرے کہ سب میں علمی عشق پیدا ہو! سب کو جگائے، سب کو تڑپائے، اور بالآخر یہ سب کو نصیب ہو! آمین! یا ربّ العالمین!!

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

کراچی

۹ ستمبر ۱۹۹۸ء

 

۱۴۹

 

ایک انمٹ یاد

 

میرے بےحد عزیز جانی بھائی نیاز علی کی انمٹ یاد میں

 

جان نثار خلیفہ نیاز علی سابق موکھی، ابنِ خلیفہ عافیت شاہ ابنِ خلیفہ محمد رفیع ہم کو غموں کے سپرد کر کے جنّت کی طرف چلے گئے، وہ وہاں خندان ہم یہاں گریان، وہ ہر قسم کی ذمہ داریوں سے سبکدوش، ہم بارِ گران کی سنگینی سے بےہوش، وہ بہشت کی لطیف زندگی سے شادمان، ہم آئے دن بیماریوں سے نالان، انہیں ہر قسم کی مسرّت، ہمیں ہر طرح کی حسرت، وہ روحانیوں کے ساتھ شرابِ عشقِ مولا سے سرشار، ہم دنیوی وسوسوں میں گرفتار اور خوار و زار، ہم میں اور ان میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے؟ ج: اس لئے کہ وہ جسمِ لطیف میں منتقل ہو گئے۔

 

س۔ کیا نیاز علی اپنے خاندان کے افراد اور دوستوں کو دیکھ سکتے ہیں؟ ج: جی ہاں، دیکھ سکتے ہیں، کیونکہ وہ اب (ان شاء اللّٰہ)

 

۱۵۰

 

جسمِ لطیف میں ہیں، س: کیا وہ اتنی جلدی قیامت اور حساب سے فارغ ہو گئے؟ ج: وہ ان لوگوں میں سے تھے، جن کو قیامت کی سختی اور حساب کے بغیر فوراً ہی بہشت کی نعمتیں ملنے لگتی ہیں، آپ قرآن (۰۳: ۳۷) اور حقیقی علم کی کتابیں پڑھیں، س: بہشت میں موکھی نیاز علی کا خاص شغل کیا ہوگا؟ ج: وہ بےشمار لوگوں کو اسلامی تعلیم دیتے ہیں، س: لیکن ان کے پاس اتنا زیادہ علم کہاں تھا؟ ج: ٹھیک ہے میں مانتا ہوں، ان کے پاس جو بھی علم تھا، وہ قانونِ اجر کے مطابق بڑھا کر دس گنا کر دیا گیا (۰۶: ۱۶۰)۔

 

س: کیا موت سے روح کو نقصان پہنچتا ہے یا جسم کو؟ ج: مومن کی روح نہیں مرتی ہے، بلکہ دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، جس میں اس کو قالبِ نورانی اور بہشت کی دائمی نعمتیں ملتی ہیں، س: مومنین اور مومنات کے نامۂ اعمال کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟ ج: اس کی سب سے عظیم یا بےمثال خوبی یہ ہے کہ وہ کتابِ ناطق (بولنے ولی کتاب) ہے جو خدا کے پاس ہے، یعنی خود امامِ زمان علیہ السّلام ہی اہلِ ایمان کے لئے نامۂ اعمال ہو جاتا ہے، الحمد للّٰہ ربّ العالمین۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

کراچی

اتوار ۱۲ جمادی الثانی ۱۴۱۹ھ

۴ اکتوبر ۱۹۹۸ء

 

۱۵۱

 

عجیب و غریب خط ۔ ۲

 

حبِّ علی ہونزائی ایل۔ جی۔، ایل۔ اے۔ ایس۔ کی جانب سے تمام پیارے پیارے ننھے منھے ساتھیوں اور جملہ بزرگوں کو پرخلوص یا علی مدد قبول ہو! معلوم ہوا کہ ہمارا اگلا خط پسند کیا گیا، لیکن کیا کریں خواہش اور فرمائش کے باوجود میرے پیارے دادا جان کو بہت کم فرصت ملتی ہے۔

 

ہم سب لٹل اینجلز سولجرز بڑے خوش نصیب ہیں کہ ہمارے ادارے کے قیام کے بعد دانشگاہِ خانۂ حکمت کی بہت بڑی ترقی ہوئی، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔

 

میری اپنی جان کی طرح عزیز دادا جان ہر روز میرے سامنے خدا کا نام لیتے ہیں، میں اگرچہ ایک شیرخوار بچہ ہونے کی وجہ سے نہیں سمجھتا ہوں، لیکن میرا فرشتہ اس کو ٹھیک ٹھیک سنتا ہے، اور مجھ پر ایک عجیب خوشگوار روحانی اثر ڈالتا ہے، اگر دادا جان کی یہ سعیٔ جمیل جاری رہی اور میرے لئے اسی عمر سے مذہبی ماحول مہیا ہو سکا تو ان شاء اللّٰہ

 

۱۵۲

 

فائدہ ہوگا۔

 

ننھے ساتھیو! ہم سب کتنے خوش نصیب ہیں، اسلام میں پیدا ہو گئے، اسماعیلیّت میں، عظیم امام کے زمانے میں، اچھے اچھے مذہبی گھرانوں میں، بےمثال حکمتی کتابوں کے خزانوں میں، اور ابھی سے ہمیں مذہبی تعلیم دینے کی فکر ہو رہی ہے۔

 

عزیز ساتھیو! غصّہ نہیں کرنا، مت روٹھنا، مت رونا، ممی اور پپا / ڈیڈی  کی بات کو ماننا، مارا ماری والی فلم کو نہ دیکھنا، مولا باپا کی تصویرِ مبارک کو پیار کرنا، جماعت خانہ جانا، وقت پر سو جانا، اور سو جانے سے پہلے تسبیح پڑھنا، اچھی عادتیں سیکھنا، تا کہ گھر والے سب آپ سے محبّت کریں، میرے گھر والے سب مجھ سے محبت کرتے ہیں۔

 

میں اپنے “حبِ علی” کے اس پیارے نام سے بہت ہی شادمان ہوں، جو شخص علی کی وجہ سے اس نام کو پسند کرے اور علی کی محبت کی طرف مائل ہو جائے، یقیناً اس میں بھلائی ہو گی، ان شاء اللّٰہ۔

 

میں (نصیر الدین) کہتا ہوں کہ “زبانِ حال”  قرآنی بھیدوں میں سے ایک بھید ہے، لہٰذا اسے اجاگر کرنا ضروری ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعرات ۱۵ رجب المرجب ۱۴۱۹ھ

۵ نومبر ۱۹۹۸ء

 

۱۵۳

 

عزیز راجپاری

 

بہت ہی عزیز و محترم عزیز راجپاری

خلوص و محبت کے ساتھ یا علی مدد!

 

آپ کی پُراز معلومات ای۔ میل۔ مل گئی، بہت بہت شکریہ! آپ کی ہر کوشش قابلِ تعریف ہے، آپ جب ۱۹۹۵ء میں گلگت آئے تھے، اس وقت بھی آپ کی دانشمندی سے لوگ تعجب کرتے تھے، اور مجھے ڈگری ملنے پر آپ کو جو خوشی مل رہی تھی، وہ بھی غالب تھی، رفتہ رفتہ آپ کی اور ہماری دوستی بہت مضبوط ہوگئی، یہ دوستی آپ کے برادرِ بزرگ نور الدین راجپاری کا تحفہ ہے کہ انہی کی وجہ سے آپ سے ملاقات ہوئی تھی، الحمد للّٰہ۔

 

ہمارے تمام شاگرد جو امریکہ میں ہیں، وہ علم میں بہت ہی ترقی کر رہے ہیں وہ مزید ترقی کریں گے، دنیا میں حقیقی علم کا کوئی ایسا گروپ نہیں ہے، جیسے مشرق و مغرب میں ملا کر ہمارے عزیزوں کا گروپ ہے۔

 

۱۵۴

 

جب یہ علم کسی شک کے بغیر امام علیہ السّلام ہی کا ہے تو اس کی تعریف کیوں نہ ہو، اگر یہ معلوم ہو جائے کہ سچ مچ یہ علم حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کا ہے تو ہمارے عزیزوں کو بہت بہت بہت مزہ آئے گا۔

 

تمام عزیزوں کو یا علی مدد اور دست بوسی!

 

آپ کا دعاگو

 

نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی

کراچی

۲۸ اگست ۱۹۹۷ء

 

۱۵۵