سو سوال
تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْءٍ (۱۶: ۸۹)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَنِّہٖ وَ اِحْسَانِہٖ خداوندِ ربّ العزّت کی بے پایان رحمتوں اور کرامتوں سے کتاب “سو سوال” ۱۹۷۸ء کی اشاعتِ اوّل سے اِس وقت تک مقبول سے مقبول تر ہوتی آئی ہے اور اس میں قرآنی تاویلات اور حکمتوں کی روشنی میں مشکل سوالات کے جو جوابات دیئے گئے ہیں ان سے مومنین و مومنات کے علمی عقدے حل ہو گئے ہیں۔
سوال و جواب کی صورت میں تعلیم قرآنِ کریم کا ایک اساسی قانون رہا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے
فَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِ إِن کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔ یعنی پوچھو اہلِ ذکر (یعنی أئمۂ طاہرین) سے جو کچھ تم نہیں جانتے (۱۶: ۴۳) اور اسی قانون کے مطابق صاحبِ سلونی مولانا علی علیہ السّلام فرماتے تھے، “سلونی قبل ان تفقدونی” یعنی پوچھو تم مجھ سے قبل اس کے کہ تم مجھے کھو دو گے۔
سوال ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کے “تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْءٍ” کی حیثیت میں نازل ہونے کے باؤجود أئمّۂ طاہرین سے پوچھنے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ اِس کا جواب خود قرآنِ کریم کی کئی آیات میں حکیمانہ طور پر دیا گیا ہے۔ منجملہ قرآن میں آیات
ج
(۰۲: ۱۲۹؛ ۰۲: ۱۵۱؛ ۰۳: ۱۶۴؛ ۶۲: ۰۲) پیغمبر کو قرآن اور اس کی حکمت کا معلم قرار دیا گیا ہے اور آیت (۱۶: ۴۴) میں خداوندِ ربّ العزّت فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ قرآن کے مُبَیِّن یعنی بیان کرنے والے ہیں۔ یہی مضمون آیت (۰۵: ۱۵) سے بھی ظاہر ہے کہ خدا نے لوگوں کی ہدایت کے لئے صرف کتاب نہیں بلکہ اس کا سماوی معلم ومُبَیِّن بھی بصورتِ نور بھیجا ہے۔
آیۂ قَدْ جَاءَ کُمْ (۰۵: ۱۵) کو پڑھ لیا کر جانِ من!
نورِ حق کی روشنی میں سب کو رہبر ہے کتاب
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے اسی قانون کے مطابق اپنے بعد دو بھاری چیزیں یعنی کتابِ خدا اور عترت چھوڑیں اور ان کو مضبوطی سے پکڑنے کے لئے تاکید فرمائی اور فرمایا کہ یہ دونوں گرانقدر چیزیں حوضِ کوثر تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اسماعیلی مذہب میں علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے یہ دو عظیم ترین سماوی وسائل حاضر و موجود ہیں۔ اس لئے یہاں پر کوئی ایسا سوال پیدا ہو ہی نہیں سکتا جس کا جوابِ با صواب نہایت آسانی کے ساتھ میسر نہ ہو۔ “سو سوال” کی اس کتاب میں بظاہر سو اور درحقیقت ہزاروں سوالوں کے باصواب جوابات ان سماوی وسائل سے حاصل کردہ علم و حکمت کی روشنی میں موجود ہیں اور ہمیں یقینِ کامل ہے کہ اس کتاب سے مؤمنین و مؤمنات کے لئے جو بھی مسائل پیدا ہوں گے، ان کے جوابات نہایت آسانی کے ساتھ حل ہوں گے۔ اِنْ شَاءَ اللّٰہ۔
انتساب: ۱
کتاب سو سوال کا یہ حصہ ادارۂ عارف کے صدر اور انچارج انٹرنیشنل
د
کیسٹ سیکشن اور ILG محمد عبدالعزیز، اور ان کی زوجہ محترمہ یاسمین محمد، ریکارڈ آفیسر اٹلانٹا ہیڈکوارٹر، انچارج ہائی ایجوکیٹر اور ILG کے قابلِ قدر والدین کے نام ہے۔
جناب محمد عبد العزیز کی والدۂ محترمہ کا نام شیرین خانم بنتِ شکور تھا، شیرین صاحبہ ایک دیندار اور خدمت کی دلدادہ خاتون تھیں، انہوں نے تقریباً ۳۰ سال تک لیڈیز والنٹیئر تنظیم میں خدمات انجام دیں اور کئی میڈلز بھی حاصل کئے جبکہ آپ کے والد محترم حضور موکھی عبدالعزیز ابنِ قاسم بڑے مذہبی اور خدا پرست انسان تھے، انہوں نے والٹیئر کی حیثیت سے نیز کسی مجلس کے موکھی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
محترمہ یاسمین صاحبہ کی والدۂ محترمہ شیرین حبیب املانی کو مذہبی امور اور جماعت کی خدمت سے بہت ہی دلچسپی تھی، ان کو کھارادر جماعت خانے میں ۱۵ سال تک والنٹیئر کیپٹن رہنے کے علاوہ تین سال تک بیت الخیال کی موکھیانی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دینے کا شرف حاصل ہے، جبکہ آپ کے والد محترم جناب حبیب املانی ایک سادہ لوح اور با اخلاق مؤمن تھے، ان کو بچپن ہی سے مذہب سے لگاؤ تھا، دعا و گنان پڑھنے سے بھی بہت دلچسپی تھی۔
انتساب: ۲
محترمہ شاہ بی بی جنّت علی حسینی (برانچ) آئی ایل جی، دانشگاہِ خانۂ حکمت اور ادارۂ عارف سے گذشتہ ۲۴ سالوں سے وابستہ ہیں، آپ کی طبیعت میں دستِ قدرت نے سنجیدگی، عالی ظرفی، اخلاص، یقین اور محبت کے جو عناصر گوندھے ہیں، ان کی ایک واضح جھلک آپ کے اخلاق و اعمال میں نظر آتی
ھ
ہے، آپ کی پرخلوص و فداکارانہ خدمات ادارے کی تاریخ میں تابان و درخشان رہیں گی۔
یہ دسترخوانِ علمی آپ کے خاندان کے مرحومین (محترمہ زینب گل محمد، محترمہ نور بانو حسن علی، زینب حسن علی اور نفیسہ حسن علی) کے حق میں تشنگانِ علم کے لئے آپ کے تعاون سے بچھایا گیا ہے۔
و
سو سوال
حصّہ اول
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ابتدائیہ
میرے پروردگار! تیرے بزرگ نام اور تیرے پاک ذکر کے روشن معجزات اور عظیم احسانات سے قربان ہو جاؤں، اے خداوندِ برحق! اے احکم الحاکمین! تیری قدرت و رحمت کے ظہورات کس قدر عجائبات و غرائبات سے بھرپور ہیں، تیری مدد اور دستگیری کمزوروں اور بے سہاروں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے، اور تیری توفیق و یاری ناتوانوں میں کس طرح کام کردیتی ہے۔
الحمدُ لِلّٰہ کہ خانۂ حکمت کے معزز ارکان اپنے مقدس ادارے کی خدمات اور ترقی سے جو ۱۹۷۷ء اور ۱۹۷۸ء کے چند مہینوں میں نصیب ہوئی ہے، بہت ہی خوش و خرسند اور مطمئن ہیں، وہ اپنے خداوندِ قدّوس کی بے پناہ رحمتوں اور مہربانیوں کے نتیجے میں قلبی طور پر شکرگزار ہونا چاہتے ہیں، کہ اس قلیل عرصے میں جتنی علمی خدمت انجام دی گئی ہے، وہ کافی مؤثر، بہت ہی مفید، بڑی نتیجہ خیز، نہایت دور رس اور انتہائی ہمہ گیر خدمت ہے۔
چنانچہ “سو سوال” کی کتاب جو چار حصوں پر مشتمل ہے اسی خدمت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں سو سوالات سے بحث کی گئی ہے اور ان کے مدلل جوابات دیئے گئے ہیں، اور اس کتاب کی تصنیف کا سبب یوں ہے کہ گزشتہ سال (۱۹۷۷ء میں) ہز ہائی نس دی آغا خان شیعہ امامی اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے کینیڈا کی “ایسٹرن کینیڈا ریجنل کمیٹی” نے مجھے وہاں کی نیکنام جماعت میں دورہ
۵
کے لئے مدعو کیا تھا، یہ دعوت نامہ جانِ عزیز جناب ڈاکٹر فقیر محمد صاحب ہونزائی کے توسط سے بھی اور آنریری سیکریٹری جناب ڈاکٹر شیراز اسماعیل صاحب کے ذریعے سے بھی موصول ہوا تھا، چنانچہ میں اس مبارک دعوت کے بموجب مورخہ ۷ دسمبر ۱۹۷۷ء کو کینیڈا کے عظیم ملک میں پہنچ گیا، اور وہاں خداوندِ برحق کے فضل و کرم سے اس بندۂ محتاج کو مذہبی، علمی اور روحانی خدمات کے لئے جو بہترین موقع ملا، وہ ہمیشہ ہمیشہ شکرگزاری اور قدردانی کے ساتھ یاد رہے گا۔
اس علمی خدمت کے دورہ کے دوران لیکچروں، سیمناروں اور چھوٹے بڑے مباحثوں میں جو جو سوالات کئے گئے وہ سب ملا کر ایک ہزار کے قریب تھے، جن کے جوابات بروقت دیئے گئے، مگر اس کے علاوہ میں یہ بھی چاہتا تھا کہ ان میں سے چیدہ چیدہ سوالات کے جوابات کو کتابی شکل میں پیش کیا جائے، چنانچہ اس منشاء کے مطابق پچیس پچیس کے چار حصوں پر مشتمل “سو سوال” کی کتاب مکمل کی گئی ہے، اور ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے حصّے ترتیب وار شائع ہو رہے ہیں۔
میں مشرقی کینیڈا کی مذکورہ ریجنل کمیٹی اور پوری جماعت کا شکرگزار ہوں کہ اُنہوں نے مجھے نہ صر ف ایسی نایاب جماعتی خدمت کے لئے موقع فراہم کر دیا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مجھ سے خاطر خواہ تعاون بھی کیا، میں ان کے تمام عملداروں کی حلیمی، صداقت اور شفقت کو فراموش نہ کر سکوں گا۔
مجھے اُس عزیز اور نیک نام جماعت کے تمام افراد کے حق میں ہمیشہ جان و دل سے دعاگو رہنا چاہئے، جنہوں نے مذہب اور علم کی باتوں کے لئے زیادہ سے زیادہ اعتماد کے ساتھ میری طرف توجہ دی، اور خصوصی دعائیں نہ صرف میری بلکہ پوری جماعت کی بھی اُن بابرکت گھروں کو حاصل ہوں، جن کی اعلیٰ سے
۶
اعلیٰ رہائش اور دفتری سہولتوں اور بے مثال خدمات کے بغیر میرا اور جانِ عزیز کا کوئی علمی کام مکمل نہیں ہو سکتا تھا، کاش کہ میں پوری پوری ترجمانی کر سکتا کہ اُن گھروں کے افراد کس کس درجے کے دیندار اور امامِ برحق کے کیسے جانثار ہیں اور ان کا ایمان کس قدر کامل و مکمل ہے۔
اس موقع پر جانِ عزیز جناب فقیر محمد صاحب ہونزائی کے ذکرِ جمیل کے بغیر مقصد کی باتیں مکمل نہیں ہو سکتی ہیں، میرے دوستوں اور عزیزوں کی اکثریت کو اِس حقیقت کی خبر ہے کہ میں صاحبِ موصوف کو اپنے لئے فرشتۂ رحمت سمجھتا ہوں، جس کی اگر ایک دو وجہیں ہوتیں تو فوراً ہی بتا دیتا وہ تو بہت ہی زیادہ ہیں، آپ ہی کی وجہ سے میرے مغرب کا سفر آسان اور کامیاب ہوا، اور آپ ہی نے شمالی امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں میرے دورے کو ممکن بنا دیا، اور پھر عرض کرتا ہوں کہ ان کے احسانات مجھ پر بہت زیادہ ہیں۔
اس تمہید کے اختتام پر ہماری یہ عاجزانہ دعا ہے کہ پروردگارِ عالم جملہ جماعت کو علم و عمل کے میدان میں آگے سے آگے بڑھنے اور دین و دنیا کے نیک کاموں میں ترقی کرنے کی اعلیٰ توفیق و ہمت عنایت فرمائے! آمین یا ربّ العٰلمین!!
فقط جماعت کا ایک علمی خادم
علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
مورخہ ۲۹ مئی ۱۹۷۸ء
۷
بسم اللہ الرحمن الرحیم
علم کا خاتمہ:
سوال نمبر ۱: آپ نے اپنے لیکچر کے دوران فرمایا تھا کہ علم ایک مقام پر جا کر ختم ہو جاتا ہے، یہ کس طرح ممکن ہے؟
جواب: قرآنِ پاک (۱۶: ۷۰) اور (۲۲: ۰۵) کو غور و فکر سے پڑھو تو معلوم ہو جائے گا کہ بندۂ مؤمن عالمِ روحانی میں علمی بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ کر ناکارہ ہو جاتا ہے، یعنی وہ اُس وقت علم کے بے پناہ سمندر سے گزر کر ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے، جہاں اس کے سامنے جاننے کے لئے یعنی جدید علمی تجزیہ و تحلیل کے لئے کچھ بھی نہیں بچتا، کیونکہ اُس نے اپنی روحانی عمر کے لمبے عرصے میں سب کچھ جان لیا ہے، لہٰذا اب اس کے نزدیک علم جو ایک عقلی اور فکری سفر تھا تمام اور ختم ہو چکا ہے۔
اس سلسلے میں دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ذاتِ خدا کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ ہلاک یعنی ختم ہو جاتا ہے (۲۸: ۸۸)۔ یہاں پر یہ حقیقت صاف ظاہر ہے کہ علم بھی ختم ہو جاتا ہے، لیکن یہ بات الگ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر چیز کو بار بار پیدا کر دیتا ہے، جیسے دن اور رات دوسری تمام چیزوں کی طرح ختم تو ہو جاتے ہیں، مگر خدا ان کو بار بار پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے دن رات اور زمانے کا سلسلہ لا انتہا ہو جاتا ہے۔
۸
علم چیزوں کو جاننے کا نام ہے، سو جب تک کائنات قائم ہے تب تک چیزیں باقی اور علم کا سلسلہ جاری ہے، جب آیۂ مذکورۂ بالا کے مطابق کائنات ختم ہوئی اور کوئی چیز باقی نہ رہی تو وہ علم بھی نہ رہے گا جو چیزوں کے تجزیہ و تحلیل کرنے سے حاصل ہوتا رہتا تھا، کیونکہ علم صفت ہے عالِم کی جو اس عالَم یعنی کائنات کو جاننے سے حاصل ہوتا ہے، ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ علم، عالَم (کائنات) اور عالِم بار بار ختم ہو جاتا ہے اور بار بار پیدا ہو جاتا ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر بار کے اعتبار سے علم ختم ہونے والا ہے اور بار بار کے سلسلے کے لحاظ سے کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
قرآن کی سورت ۱۳ آیت ۸ (۱۳: ۰۸) میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہر چیز خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک خاص مقدار میں ہے، اس کا اشارہ یہ ہے کہ اگرچہ فی الحال انسان کو بعض چیزیں لا علمی کی وجہ سے غیر محدود جیسی لگتی ہیں، لیکن جب وہ روحانیّت کی بلندیوں پر پہنچ کر نورِ الٰہی کی روشنی میں دیکھنے لگے گا، تو اُس وقت عین الیقین سے مشاہدہ کرے گا اور حقیقتِ حال اُس پر ظاہر ہو جائے گی کہ ظاہری اور باطنی چیزیں سب کی سب ایک مخصوص مقدار میں محدود ہیں (۱۳: ۰۸) اور اسی طرح کائنات کی عمر بھی محدود ہے اور عملی علم بھی، جس کا دارومدار اس ظاہری دنیا پر ہے (۱۱: ۱۰۷)۔ یہ تشریح ہے ہر چیز کے فنا ہو جانے کی، اور مکان کی مدتِ عمر یعنی دنیا کی بقا کا وقت ختم ہو جانے کی۔
خوب جاننا چاہئے کہ حقیقت کے جس پہلو سے خدا کی چیزیں کبھی ختم نہیں ہوتی ہیں وہ یہ ہے کہ ختم ہو جانے کے باوجود مسلسل یا وقفہ وقفہ کے بعد دوبارہ پیدا کی جاتی ہیں، جیسے موسمِ گرما و سرما کا آپس میں بدل بدل کر بار بار آنا وغیرہ۔
۹
رجعتِ روح:
سوال نمبر ۲: آپ نے سیمنار (Seminar) میں کہا کہ روح دنیا میں بار بار آتی رہتی ہے، ناکامی کے طور پر بھی اور کامیابی کی صورت میں بھی اور کامیابی کے بعد انسان اِس دنیا میں اس لئے آتا ہے کہ آٹھویں جنّت کے آخری مرحلے پر جانے کے بعد علمی نعمتوں کا سلسلہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے، لہٰذا بندۂ مؤمن علم و عمل کی تجدید کی خاطر دنیا کی طرف رجوع کرتا ہے، لیکن ہمارا سوال ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جنّت کی ابدی نجات اور دائمی راحت جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤمن کو حاصل ہوئی ہے، وہ پھر ایک وقت کے بعد ختم ہو، اور روحِ مؤمن اس کی تلاش میں دوبارہ دنیا میں آئے؟
جواب: دراصل یہ سوال بھی وہی ہے جس کا جواب اوپر دیا گیا ہے، تاہم مزید وضاحت کی جاتی ہے، کہ جب انسان معرفت کے درجۂ کمال پر پہنچ جاتا ہے تو اُس کو اس حقیقت کا پورا پورا یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ اس کی “انا” یعنی خودی دو درجوں میں ہے، وہ درجۂ اعلیٰ پر یک حقیقت (Monorealism) ہے اور درجۂ ادنیٰ پر انسان، وہ سورج کی طرح ہمیشہ ایک حال پر قائم بھی ہے اور چاند کی طرح گھٹتے بڑھتے ہوئے بار بار آتا جاتا بھی ہے، کیونکہ حکمت اور خیرِ کثیر کا تقاضا یہی ہے۔
۱۰
سورۂ یاسین کی آیت ۶۸ میں جیسے فرمایا گیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کو روحانی عالم میں بڑی سے بڑی عمر دی جاتی ہے اس کو اس دنیا میں کسی بڑے کارنامے کے لئے بھیجا جاتا ہے، آیۂ مبارکہ کا ترجمہ یہ ہے:
“اور جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کو (عالمِ امر سے عالمِ) خلق میں سرنگون کر دیتے ہیں، کیا وہ نہیں جانتے ہیں” (۳۶: ۶۸)
جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جس عمر کو لمبی قرار دیتا ہے وہ خدا ہی کے معیار کے مطابق لمبی ہے لہٰذا وہ اِس دنیا کے حساب سے بے پناہ ہے اور لفظ “سرنگون” کی حکمت یہ ہے کہ مثال کے طور پر عالمِ امر (روحانی عالم) اور عالمِ خلق (جسمانی عالم) ایک دوسرے سے مل کر ایک مکمل دائرے کا تصوّر پیش کرتے ہیں، جس میں اوپر کا نصف دائرہ عالمِ امر ہے اور نچلا نصف دائرہ عالمِ خلق، اس مثال میں جو شخص عالمِ ظاہر سے عالمِ باطن کی انتہائی بلندی تک جائے اس کا سر اوپر کی طرف ہو گا، اور جب وہ وہاں سے دنیا کی طرف آئے تو وہ سرنگون (Upside-Down =اوندھا) ہو کر آتا ہے۔
حضرتِ آدم علیہ السّلام اِس دنیا میں کہاں سے وارد ہوئے؟ کہاں سے تشریف لائے؟ عالمِ امر سے، عالمِ روحانی سے، بہشت سے، کس درجے کی بہشت سے؟ آخری درجے کی بہشت سے، کیا اس ہبوط (Descending) میں حضرتِ آدم تنہا تھے یا ان کے ساتھ اور بھی افراد تھے؟ ان کے ساتھ بی بی حوّا کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ تھے، کیا یہ درست ہے کہ آدم و حوّا اور ان کے ساتھیوں کی عمریں جنّت میں اِس حد تک پہنچ گئی تھیں
۱۱
کہ ان کو دنیا میں آنا ضروری ہو گیا تھا؟ ہاں یہ بات بالکل حقیقت ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی سنت و عادت اور قانونِ فطرت ہمیشہ ایک ہی ہے اور اُس میں کوئی تبدیلی نہیں تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آدم اور ان کے بہت سے ساتھیوں کی طرح کامل روحیں عالمِ بالا سے اِس دنیا کی طرف آتی رہتی ہیں؟ جی ہاں، یہ صحیح ہے۔
وَ کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ (۳۶: ۴۰)
اور ہر چیز ایک دائرے میں گردش کرتی رہتی ہے۔
قرآن و حدیث:
سوال نمبر۳: قرآن و حدیث کے درمیان کیا رشتہ ہے؟ کیا یہ درست ہے کہ پیغمبرؐ نے فرمایا کہ: اگر مسلمان دس فیصد حدیثوں کو نظر انداز کریں تو وہ (دینی طور پر) ہلاک
۱۲
ہو جائیں گے، اور ایک وقت آنے والا ہے کہ جس میں دس فیصد سے زیادہ حدیثوں پر عمل نہیں کیا جائے گا؟
جواب: قرآن و حدیث کا رشتہ یہ ہے کہ حدیث قرآن کی وضاحت و تشریح ہے کیونکہ وہ معلّمِ قرآن کا قول ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ حدیث صحیح ہو، موضوع نہ ہو، یعنی ایسی نہ ہو کہ وہ لوگوں نے اپنی غرض کے لئے بنائی ہے، تو اُس صورت میں جبکہ حدیث صحیح ہے قرآن کے بعد دین میں اسی کو اہمیت حاصل ہو گی، کیونکہ خدا کے کلام کے بعد رسولؐ کا کلام قابلِ تعظیم اور واجب العمل ہے، لیکن یہ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ حدیثِ ثقلین کے ارشاد کے بعد مسلمانوں کو صرف حدیثوں پر چھوڑ دیا جائے، جبکہ آنحضرتؐ اِس بات کو اچھی طرح سے جانتے تھے کہ لوگوں کے لئے یہ امر انتہائی مشکل ہے کہ وہ صحیح حدیث اور غیر صحیح کے درمیان فرق و امتیاز کریں، نیز اس میں بھی بڑا تعجب ہو گا کہ حدیثیں جن کا زیادہ سے زیادہ تعلق زمانۂ رسولؐ سے ہے جدید مسائل کو حل کرسکتی ہیں۔
ہمارے نزدیک خدا و رسولؐ اور اولواالامر کی اطاعت کے یہ معنی ہیں کہ امامِ زمان علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر برحقؐ کا نمائندہ اور خلیفہ مانیں، اس کے امر و فرمان کی روشنی میں قرآن و حدیث کے ظاہر و باطن کو سمجھیں اور عمل میں لائیں، اسی میں خدائے پاک اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خوشنودی ہے۔
اولواالامر:
سوال نمبر۴: دوسرے مسلمان “اولواالامر منکم” سے کیا مراد لیتے
۱۳
ہیں یا کس حد تک اس اصول کو قبول کرتے ہیں؟
جواب: گروہِ امامیہ کے سوا جو بھی ہیں وہ البتہ حکمرانوں کو اولواالامر مانتے ہیں، حالانکہ یہ نظریہ درست نہیں، کیونکہ اولواالامر سوائے أئمّۂ کرام علیہم السّلام کے اور کوئی نہیں ہو سکتا، اس لئے کہ امرِ خداوندی کے مالک ہونے کے لئے اعلیٰ ترین اوصاف چاہئیں، اور سب سے پہلے یہ کہ وہ خدا و رسولؐ کی جانب سے مقرر ہوں تا کہ نورِ ہدایت کے حامل ہو سکیں، وہ محمد و علی صلوات اللہ علیہما کے توسط سے آلِ ابراہیمؑ ہوں، ان کا سلسلہ نسلاً بعد نسلٍ چلا آیا ہو، تا کہ معلوم ہو کہ خدائی نور کا معجزہ انہیں کے ساتھ ہے، ایسے ہی سلسلے کے حضرات یقیناً اولواالامر ہیں، یعنی أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام۔
اِس اصول کے برعکس اگر مانا جائے کہ حاکمِ وقت اولواالامر کے مرتبہ پر ہے تو اِس عقیدہ سے اسلام کے اندر بیک وقت بہت سے ایسے اولواالامر پائے جائیں گے جو ایک دوسرے کے خلاف ہیں جو بعض دفعہ ایک دوسرے سے جنگ کرتے ہیں، اور وہ جنگ اسلام کی خاطر نہیں ہوتی بلکہ وہ ذاتی یا ملکی مفاد کے لئے ہوتی ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا شخص خدا اور پیغمبرؐ کا جانشین اور ولئ امر ہو جو اسلامی اور اخلاقی قانون کے بغیر مسلمانوں کا خون بہاتا ہے۔
مذہب اور سائنس:
سوال نمبر ۵: مذہب اور سائنس کے آپس میں کیا رشتہ ہے؟
جواب: جاننا چاہئے کہ جو مذہب صحیح ہے وہ حقیقی اسلام ہے
۱۴
اور جو سائنس غلط نہ ہو بالکل درست ہو وہ قانونِ فطرت ہے، اور اہلِ دانش جانتے ہیں کہ اسلام دینِ فطرت ہے یعنی یہ قانونِ قدرت کے خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ حقیقی اسلام اور درست و مکمل سائنس ایک ہی چیز ہے، جیسے ایک ندی کبھی دو شاخوں میں بٹ کر بہتی ہے اور کبھی مل کر بہتی ہے اور وہ ہر حالت میں ایک ہی ہے۔
اس وضاحت کا خلاصہ یہ ہے کہ اب وقت قریب آچکا ہے کہ سائنس اور مذہب آپس میں کلّی طور پر مل جائیں، جس کے نتائج سے دنیا کے بہت سے لوگوں پر قیامت گزرے گی، وہ یہ کہ دین شناسی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اُس وقت مایوس ہو جائیں گے، کیونکہ حدیثِ شریف میں فرمایا گیا ہے کہ یقیناً اسلام عجیب و غریب طرح سے شروع ہوا ہے اور آخر میں بھی یہ اس طرح عجیب و غریب ہو جائے گا۔ (صحیح مسلم، جلد اول، باب ۶۲، حدیث نمبر ۲۸۱)
سورۂ یاسین:
سوال نمبر ۶: سورۂ یاسین کے معنی اور تاویل کیا ہیں؟
جواب: میرے عزیز! میں سمجھتا ہوں کہ تم نے جو کچھ پوچھنا چاہا ہے وہ دراصل مختصر ہے، مگر یہاں جس طرح لکھا ہے وہ بہت ہی طویل بحث ہے، یعنی مسئلہ صرف “یاسین” کے نام ہی کا تھا لیکن تم نے پورے سورۂ یاسین کو سوال کی صورت میں پیش کیا ہے، بہرحال میں یاسین (یٰسٓ) ہی کے اسم کا جواب دوں گا جو حروفِ مقطعات میں سے ہے، اور وہ یہ ہے کہ عالمِ اسلام
۱۵
میں یہ حقیقت کسی اختلاف کے بغیر مسلمہ ہے کہ یاسین آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے مبارک القابات میں سے ہے، جیسے “طٰہٰ” کی مثال ہے کہ یہ بھی آنحضرتؐ کے وصفی ناموں میں سے ہے۔
چنانچہ حرف “ی” کا عدد ۱۰ ہے، جو ناطق یعنی حضرت محمد رسول اللہ کے لئے مقرر ہے، جیسے: ایک مستجیب کے لئے ہے، ۲ ماذونِ اصغر، ۳ ماذونِ اکبر، ۴ داعئ مکفوف، ۵ داعئ مطلق، ۶ حجتِ جزیرہ، ۷ حجتِ مقرب، ۸ امامِ زمان، ۹ اساس (علیؑ )، اور ۱۰ ناطق یعنی رسولِ مصطفیؐ کے لئے ہے، جیسے قرآن کا ارشاد ہے کہ :تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ (۰۲: ۱۹۶) یہ دس مکمل ہے، یعنی دس حدودِ جسمانی کی آخری حد ہے جو ناطقؐ ہے۔
دوسری طرف سے حرف “س” کو لیں جس کا عدد ۶۰ ہے، جس میں پہلا دس حضرتِ آدمؑ کے لئے ہے، دوسرا دس حضرتِ نوحؑ کے لئے، پھر حضرتِ ابراہیمؑ ، حضرتِ موسیٰؑ ، حضرتِ عیسیٰؑ اور حضرتِ محمدؐ کے لئے دس دس ہیں، اس کی تاویل یہ ہوئی کہ حرفِ “ی” کے لحاظ سے آنحضرتؐ چھوٹے دور کے مراتب میں مرتبۂ دہم پر ہیں اور بڑے دور کے اعتبار سے مرتبہ ششم پر۔
لاابتداء اور ابتداء:
سوال نمبر۷: کہتے ہیں کہ ہم حضرتِ آدمؑ اور حوّاؑ سے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہم پہلے پتھر، نباتات وغیرہ تھے، ان میں سے کون سا نظریہ صحیح ہے؟
۱۶
جواب: دونوں باتیں درست ہیں کیونکہ ہم آدمؑ و حوّاؑ سے ہیں اور وہ مٹی وغیرہ سے ہیں، یا یوں کہنا چاہئے کہ ہم آدمؑ اور حوّا کی نسل ہونے کے علاوہ جسم کی تکمیل کے لحاظ سے جمادات، نباتات اور حیوانات سے بھی ہیں، کیونکہ ہمارے والدین کی اور ہماری غذائیں انہی چیزوں سے تیار ہوتی ہیں، جن سے ہمارا جسم بنتا ہے۔
اگر اس سوال میں ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہو، تو وہ نظریہ میرے نزدیک درست نہیں، کیونکہ اس کے پس منظر میں لا دینیت کا تصوّر موجود ہے، یعنی اس میں خدا کی ہستی سے انکار اور اس کی قدرت کی نفی کرنے کے لئے کوشش کی گئی ہے، جبکہ مانا گیا ہے کہ کائنات اپنے آپ ایک حادثہ کے نتیجے پر پیدا ہوئی ہے، اور انسان بھی خودبخود ایک چیز سے دوسری چیز میں بدلتا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ بندر کی شکل میں تبدیل ہو گیا، اور پھر رفتہ رفتہ وہ انسان بن گیا۔
ڈارون سے ہماری کوئی دشمنی نہیں، مگر افسوس ہے کہ اُس نے عالمِ مافوق الفطرت اور اس کے بادشاہ کے بارے میں ذرا بھی نہیں سوچا اور آنکھیں بند کر کے صرف فطرت ہی کے سمندر میں چھلانگ لگائی اور اسی میں ڈوبتا گیا، اگر وہ اس سرحد سے آگے نکل جاتا جہاں سے اس کا نظریہ شروع ہو جاتا ہے تو شاید وہ اِس حقیقت کے سمجھنے میں کامیاب ہو جاتا کہ کسی ابتداء اور انتہاء کے بغیر ہمیشہ سے ایک بہت ہی عظیم زندہ طاقت موجود ہے، جس کی کارفرمائی کے بغیر کسی چیز سے کوئی حرکت اور کوئی کام نہیں ہو سکتا ہے۔
بنیادی سوال دراصل یہ ہونا چاہئے کہ آیا ہم وجود و عدم دونوں کو مانتے ہیں یا نہیں؟ اگر مانتے ہیں، تو یہ بھی پوچھنا ہو گا کہ وجود و عدم یا کہ ہستی اور نیستی پر
۱۷
خدا تعالیٰ کی بادشاہی اور حکمرانی ہے یا نہیں؟ اگر اس کا جواب اثبات میں ملتا ہے تو پھر یہ پوچھنا چاہئے کہ خالقِ ارض و سما نے وجود کو تو عدم سے بنایا اور عدم کو کس چیز سے بنایا تھا؟ یہ سوال اتنا مشکل ہے کہ دنیا اس کا جواب نہیں دے سکتی ہے، مگر اہلِ تائید کے پاس اس کا صحیح جواب موجود ہے وہ یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہستی کو نیستی سے پیدا کیا اسی طرح اُس قدرت والے نے نیستی کو ہستی سے بنائی، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی چیزیں ہونے کے بعد نہیں ہوتی ہیں اور بہت سی چیزیں نہ ہونے کے بعد ہو جاتی ہیں۔
اِس سے کسی شک کے بغیر یہ حقیقت روشن ہوئی کہ جس طرح دن سے رات اور رات سے دن پیدا ہونے کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح ہستی سے نیستی اور نیستی سے ہستی پیدا ہو جانے کا سلسلۂ لا متناہی چلتا رہتا ہے، اور یہ نظریہ قرآنی حکمت ہی کا ہے نہ کہ کسی اور کا۔
جاننا چاہئے کہ خدا کی بادشاہی میں عدم محض محال ہے یعنی ایسی نیستی ناممکن ہے جس کی کیفیت کچھ بھی نہ ہو، بلکہ یہ عدم مجازی ہے اور اس کی روشن ترین شہادت قرآن ہی سے مل سکتی ہے کہ اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا ہے:
(وہ ہر صفت سے) پاک صاف ہے جس نے زمین سے اُگنے والی چیزوں اور خود اُن لوگوں کے اور اُن چیزوں کے جن کا انہیں علم نہیں سب کے جوڑے پیدا کئے (۳۶: ۳۶)۔ مقصد یہ ہے کہ کوئی چیز جوڑے کے بغیر نہیں، خواہ وہ نباتات میں سے ہو یا کوئی جانور اور انسان، یا کوئی ایسی چیز جس کا تعلق عقل اور علم سے ہے، پھر اِس سے صاف صاف ظاہر ہے کہ ہستی اور نیستی بھی ان جوڑوں میں سے ہیں جن کو خدا نے بنایا ہے، جس کے معنی یہ ہوئے کہ جس طرح خدا نے ہستی کو نیستی سے ظاہر کیا ہے اسی طرح اُس نے نیستی کو ہستی
۱۸
سے اخذ کر کے پوشیدہ رکھا ہے، اور دونوں میں سے کوئی ایک آگے اور ایک پیچھے ہرگز نہیں، بلکہ کسی تقدیم و تاخیر کے بغیر یہ دونوں دائرۂ لا ابتداء پر واقع ہیں، تاہم اگر آپ چاہیں تو اس واقعۂ لا ابتداء کو کسی مصلحت کے تحت ابتداء کے طور پر پیش کر سکتے ہیں وہ یہ کہ ہمیشہ یہ کہتے رہیں کہ خداوند تعالیٰ نے ہستی کو نیستی سے پیدا کیا، پھر نیستی پر علم و حکمت کی روشنی نہ ڈالنا، اس کی حقیقت سے پردہ اُٹھانے کی کوشش نہ کرنا، خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ (۶۷: ۰۲) (اُس نے موت اور حیات کو پیدا کیا) کی تحقیق نہیں کرنا کہ خدا نے حیات کو تو مخلوق کیا اور موت کو کس طرح مخلوق کیا؟ کیا ہماری یہ جزوی حیات و ممات اس عظیم کائنات کی بقا و فنا کی دلیل ہو سکتی ہے؟ یعنی کیا ہم اپنی زندگی اور موت کی مثال سے وجود و عدم کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں یا نہیں؟ ایسے سوالات نہ کرنا کہ جن کی وجہ سے حقیقتِ حال سے پردہ اُٹھ جائے، تو یہ مصلحت کی بات ہوئی نہ کہ حقیقت کی، یہ شاید اِس لئے کہ دنیا ابھی اِس مرحلے پر نہیں پہنچی ہے، ورنہ ظاہر ہو جاتا کہ زمانے اور موجود و مخلوق کی اگر ابتداء ہے تو وہ جزوی ہے، لیکن کلی طور پر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز ایک دائرے پر واقع ہے اور دائرہ ہستی اور نیستی کے نوبت بہ نوبت آنے جانے سے بنا ہوا ہے جیسے دن رات کے چکر اور گردش سے لا ابتدائی اور لاانتہائی کا تصور قائم ہو جاتا ہے۔
امامِ مستودع:
سوال نمبر ۸: حضرتِ حسنؑ کو کئی مستند کتابوں میں امام مانا گیا ہے، ہمیں ان کو کس درجے میں ماننا چاہئے؟
۱۹
جواب: حضرتِ حسن علیہ السّلام کو امام تسلیم کرنا بالکل درست اور صحیح ہے، لہٰذا ہم ان کو امام مانتے ہیں اور آپ بھی مانیں، حضرتِ حسنؑ کو امام نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں، آپ امامِ مستودع تھے، اسماعیلی مذہب کی جتنی مستند کتابوں میں حضرتِ حسن کا ذکر آیا ہے، اُن سب میں ان کی امامت مسلّمہ ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ ایک اسماعیلی کو یہ سوال کیونکر پیدا ہوا ہے، اس لئے کہ زمانے کے امام کے شجرۂ نسب میں امام حسن علیہ السّلام کا نام نہیں ہے، کیونکہ یہ شجرہ صرف امامِ زمان کے آباواجداد ہی کا ہے نہ کہ امامت کے مختلف پہلوؤں کا، اور ان دونوں باتوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں صرف امامِ حاضر ہی کے آباواجداد کی امامت کو ثابت کرنا ہے اور دوسری صورت میں امامت کے مختلف مراتب کو بیان کرنا ہوتا ہے، چنانچہ اگر امامِ وقت کے شجرۂ نسب کو آگے سے آگے بڑھا دیا جائے تو یہ شجرہ حضرتِ اسماعیلؑ اور حضرتِ ابراہیمؑ سے ہوتا ہوا حضرتِ آدمؑ کی طرف چلا جائے گا، اور اس میں حضرتِ اسحاقؑ کی اور آپؑ کی اولاد کی امامت کا ذکر نہیں آئے گا، جس کی وجہ ظاہر ہے کہ امامِ زمان کو ابنِ امام ابنِ امام ابنِ امام ثابت کرنا الگ بات ہے، اور نورِ امامت کے مختلف ظہورات و درجات کی بات الگ ہے۔
اسماعیلی مذہب میں امام شناسی کا موضوع بنیادی اہمیت کا حامل ہوا کرتا ہے، جس کے بغیر دین کے میدان میں قدم قدم پر مشکلات سامنے آتی ہیں، لہٰذا اِس موضوع کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، جس کے سلسلے میں سب سے پہلے تاریخِ امامت کا گہرا مطالعہ نہایت ہی ضروری ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ امامت عام طور پر باپ سے بیٹے میں منتقل
۲۰
ہوتی رہتی ہے، مگر خاص حالات میں اس کے اور بھی امکانات ہیں، جیسے مولانا ہابیلؑ کی امامت مولانا شیثؑ کو ملی تھی، یہ بھائی سے بھائی میں امامت منتقل ہو جانے کی ایک روشن دلیل ہے اور یہی مثال حضرتِ حسنؑ کی امامت حضرتِ حسینؑ میں منتقل ہو جانے کی بھی ہے، یعنی وقت آنے پر امامِ مستودع کی نورانی فضیلتیں امامِ مستقر میں ایک ہو جاتی ہیں۔
سائنسی انقلاب کے اِس دور میں جہاں عقائد کے بارے میں نت نئے سوالات پیدا ہوتے رہتے ہیں، وہاں یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ بتاؤ بیک وقت ایک سے زیادہ امام ہو سکتے ہیں یا نہیں، جبکہ موجودہ وقت میں یا آگے چل کر اس کائنات کے کئی سیّاروں پر انسان بستے ہوں؟ اس کے لئے ایسا جواب چاہئے جس کا ثبوت دینِ حق میں پہلے سے موجود ہو، اور وہ یہ ہے جو بولا جائے کہ کیوں نہیں، جبکہ بیک وقت محمد رسولؐ ناطق تھے علیؑ اساس اور حسنؑ و حسینؑ امام، چنانچہ اگر اِس کائنات میں کسی بھی وقت ایک ساتھ کئی آباد دنیائیں پائی جائیں تو ان سب میں ایک ایک امام کا ہونا لازمی امر ہے، کیونکہ کسی بھی دنیا کا قیام امامِ حاضر کی موجودگی پر ہے، اس کے باوجود وہ ایک سے زیادہ أئمّہ نفسِ واحدہ کی طرح ایک ہوتے ہیں، اِس مدلل بیان میں حضرتِ حسن علیہ السّلام کی امامت کے ثبوت میں بہت سی روشن مثالیں موجود ہیں۔
قبر اور قیامت:
سوال نمبر ۹: کیا قیامت کے دِن ہماری روح سے اعمال کا
۲۱
حساب لیا جائے گا یا قبر میں پوچھا جائے گا؟ آیا مرنے کے بعد روح واپس آکر قبر میں داخل ہوتی ہے؟
جواب: ہم ترتیب کی وجہ سے یہاں سب سے پہلے قبر کے بارے میں بات کریں گے، کہ قبر ظاہری و باطنی دو قسم کی ہوتی ہے، ظاہری قبر کو تو سب لوگ جانتے ہیں، مگر باطنی یا روحانی قبر کا جاننا سب کے لئے کوئی آسان چیز نہیں، چنانچہ جاننا چاہئے کہ روحانی قبر انسانی جسم ہی ہے، حضرتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: “میری قبر اور میرے منبر کے درمیان بہشت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔” پیر ناصر خسرو اپنی مشہور کتاب “وجہِ دین” میں کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ کی قبر اساس یعنی علیؑ ہیں اور منبر قائم القیامت علیہ افضل التحیۃ والسّلام ہیں۔
جب یہ تاویل نظریۂ اسماعیلیت کے مطابق صحیح اور درست ہے کہ محمد رسول اللہ کی قبر آپؐ کے جانشین یعنی علی مرتضیٰؑ ہیں، تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر انسان کی روح کے لئے ایک زندہ قبر ہوا کرتی ہے یعنی ایک زندہ جسم، اپنا ہو یا دوسرے کا، اچھا ہو یا برا وہ تو اعمال کے مطابق ہو گا، بہرحال قبر کے بارے میں جتنے دینی ارشادات ہیں، ان کا تاویلی تعلق اس زندہ قبر سے ہے نہ کہ خالص مٹی کی قبر سے اس کا مطلب یہ ہوا کہ موت کے بعد آدمی کی روح فوری طور پر کسی زندہ جسم میں منتقل کر دی جاتی ہے، اور وہاں اُس سے شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر کچھ سوالات پوچھے جاتے ہیں، پھر جب قبروں سے روحوں کے اُٹھ جانے کا زمانہ آتا ہے، یعنی جب کوئی باطنی اور روحانی قیامت برپا ہو جاتی ہے تو اس وقت لوگوں کے اعمال کا حساب لیا جاتا ہے۔
۲۲
حاضر امام کا درجہ:
سوال نمبر ۱۰: ہم روحانیّت اور نورانیّت کے معنی میں امامِ زمان علیہ السّلام کو انتہائی عظیم مانتے ہیں، لیکن امام کے جسمانی تقدّس کا فلسفہ کس طرح پیش کیا جائے، جبکہ غیر اسماعیلی خصوصاً عیسائی ہم سے سوال کرتے ہیں؟
جواب:
۱۔ ہاں، آپ کا پوچھنا حق بجانب ہے کہ پیغمبرؐ اور امامؑ کی جسمانیت ہی لوگوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے، لیکن عوام اپنے خیال کے مطابق جو کچھ سمجھتے ہیں وہ حقیقت نہیں ہے، حقیقت خدا و رسول اور أئمّۂ ہدایت کے ارشادات کی روشنی میں ملتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جس طرح روحوں میں فرق ہے اسی طرح جسموں میں بھی فرق ہے، کہ ارواح اور اجسام میں سے کچھ تو پاک و پاکیزہ ہیں اور کچھ ناپاک و نجس، اور سب سے پہلے پاک و مقدس ظاہراً و باطناً وہ حضرات ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے پاک و پاکیزہ اِس لئے بنایا ہے کہ وہ لوگوں کو پاک کریں اور ہر قسم کی پلیدی و ناپاکی سے بچائیں، اس کے معنی یہ ہوئے کہ پیغمبر اور امام صلوات اللہ علیہما خود پاک ہیں اسی لئے وہ اپنے تابعداروں کو پاکیزگی کا درس دیتے ہیں اور ان کو ہر طرح سے پاک کردیتے ہیں۔
جیسا کہ قرآن کی بہت سی آیتوں میں رسولؐ کے اس کام کا ذکر آیا ہے کہ آنحضرت کس طرح لوگوں کو پاک کر دیتے تھے، اور سورۂ بقرہ کی آیت ۱۵۰ اور ۱۵۱ (۰۲: ۱۵۰ تا ۱۵۱) میں اللہ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے کہ خدا کی نعمت پوری ہو جائے گی اور آئندہ کے لئے باقی رہے گی تا کہ تمہاری ہدایت میں کوئی کمی واقع نہ ہو، پھر فرماتا ہے کہ یہ نعمت وہی ہے جیسے ہم نے تمہارے درمیان تم میں سے رسول پیدا
۲۳
کیا جو تمہیں ہماری آیتیں (آفاق و انفس سے) پڑھ کر سناتا ہے اور اِس وسیلے سے تم کو پاک کر دیتا ہے اور تمہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور نتیجے کے طور پر تم کو وہ علم سکھاتا ہے جو کہ تم نہیں جانتے تھے۔
اِس آیۂ کریمہ میں پیغمبر اکرمؐ اور امام برحقؑ کے اس فعل کا ذکر ہے جس سے کہ وہ لوگوں کو پاک کر دیتے ہیں، چنانچہ ظاہر ہے کہ رسولِ خداؐ اور امامِ زمانؑ پاک ہیں،جب مانا گیا کہ وہ پاک ہیں تو یہ بات بھی خودبخود حقیقت ثابت ہوئی کہ ان کی بشریّت کے تمام لوازم یعنی کھانا پینا شادی بیاہ وغیرہ تمام چیزیں پاک ہیں، پس پیغمبر اور امام نہ صرف روح اور نور کے لحاظ سے پاک ہیں بلکہ جسم کے اعتبار سے بھی نہایت ہی پاک ہیں، لہٰذا وہ نورِ الٰہی کے مظہر ہیں، اور آپ مظہرِ نورِ خدا کو جو بھی تعظیم کریں اور جتنا بڑا سمجھیں، وہ درست ہے، کیونکہ وہ خدا کے ظہور کا درجہ ہے۔
۲۔ عیسائیوں کے عقائد کا مطالعہ کیا جائے یا براہِ راست اُن سے پوچھا جائے کہ وہ حضرتِ عیسیٰؑ سے قبل کے بہت سے پیغمبروں کو مانتے ہیں یا نہیں؟ اگر وہ ان کو قبول کرتے ہیں تو اس کی یہ منطق بنتی ہے کہ جس طرح حضرتِ عیسیٰؑ سے پہلے ہدایت کا سلسلہ جاری تھا اسی طرح ان کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ پیغمبرؐ اور امامؑ عیسیٰؑ کی طرح درویش ہوں، مثال کے طور پر آپ اس بات میں ذرا غور کریں کہ عیسیٰؑ نے زندگی میں کبھی شادی نہیں کی تھی، اور اگر یہ صفت ہر شخص کے لئے ضروری اور امر و فرمان کی حیثیت سے ہے تو بطورِ سنت کے تمام عیسائی اس پر عمل کر کے دیکھیں، ظاہر ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ اس سے آئندہ نسل ختم ہو جاتی ہے، اور نہ وہ بحیثیتِ مجموعی عیسیٰؑ کی طرح درویش اور تارک الدنیا بننا چاہتے ہیں، اس بیان کا نتیجہ یہ نکلا
۲۴
کہ حضرتِ عیسیٰؑ کے اپنے وقت میں پیغمبرِ برحق ہونے میں کوئی شک نہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ سب پیغمبروں اور اماموں کی پیدائش، زندگی اور موت ایسی ہو جیسی عیسیٰؑ کی تھی۔
خدا تعالیٰ:
سوال نمبر ۱۱: (الف) کائنات و موجودات کے لئے کسی خدا کے ہونے کی کیا وجہ ہے؟
(ب) کیا یہ ممکن ہے کہ چھ دنوں کے اندر اندر ایک کائنات بنائی جائے؟
(ج) خدا ہمیں کیوں دکھائی نہیں دیتا؟
(د) دنیا میں ایسے لوگ کیوں موجود ہیں جو خدا کی ہستی سے منکر ہیں؟
جواب: یہاں پر چار سوال ہیں جو بہت عجیب اور بڑے دلچسپ ہیں، کیونکہ یہ اپنے پس منظر اور ماحول کی عکاسی کرتے ہیں، بہرحال بتانا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود و ہستی کے ثبوت کے لئے ہزاروں وجہیں اور ہزاروں دلیلیں ہیں تاہم یہاں جو گنجائش ہے اس کے مطابق بات کریں گے کہ :
(الف) پہلے سوال کا اشارہ یہ ہے کہ کائنات و موجودات خود بخود وجود میں آئی ہے اور ہر چیز خود از خود قائم و باقی ہے، تو پھر کسی خدا کے وجود کی کیا ضرورت ہے، حالانکہ یہ تصوّر سراسر غلط ہے، اس لئے کہ اگر خدا نہ ہوتا اور کائنات اپنے آپ پیدا ہوئی ہوتی تو ایسی فطرت کے اس قانون کے تحت دنیا میں کسی کاریگر کے بغیر خود بخود مصنوعات بنتی رہتیں، مگر سب دیکھتے ہیں کہ صنعت گر کے بغیر
۲۵
کوئی مصنوع نہیں بنتی ہے، اس سے ثابت ہے کہ خالق کے بغیر اس عالم کے وجود میں آنے کا نظریہ بنیاد ہی سے باطل اور قطعی طور پر غلط ہے اور صحیح یہ ہے کہ خدائے خالق نے اس کائنات کو وجود دیا ہے اور اسی نے ہر چیز پیدا کی ہے۔
اس منظم و مکمل کائنات کے خود بخود پیدا ہونے کا تصوّر اس قدر بے بنیاد اور بیہودہ ہے کہ ایک معمولی عقل والا انسان بھی اس کو پسند نہیں کرتا، کیونکہ یہ نہ کوئی کامیاب سائنسی ریسرچ کی بات ہے اور نہ ہی کوئی صحیح منطق، بلکہ یہ باطنی عقل کے اندھوں کا خیال ہے۔
(ب) دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ چھ دنوں کے اندر اندر اس عظیم کائنات کی تخلیق ناممکن نہیں، جبکہ خدا تعالیٰ نے اس عالم کو صرف “کُنۡ” کے امر سے چشمِ زدن میں پیدا کیا ہے، اور چھ دن سے چھ بڑے پیغمبروں کے ادوار مراد ہیں، جن میں بحیثیتِ مجموعی عالمِ دین پیدا کیا گیا، یعنی حضرتِ آدمؑ ، حضرتِ نوحؑ ، حضرتِ ابراہیمؑ ، حضرتِ موسیٰؑ ، حضرتِ عیسیٰؑ اور حضرتِ محمدؐ کے چھ ادوار اللہ تعالیٰ کے چھ دنوں کی مدت ہیں جس میں اُس نے عالمِ دین کو مکمل کیا، خدا کے یہ چھ دن اتوار سے شروع ہو کر جمعہ تک پورے ہوئے اور سنیچر یعنی حضرتِ قائم خدا کا وہ دن ہے جس میں کہ علم و معرفت کے تخت پر خدا کا ظہور ہوا۔
(ج) تیسرا سوال ہے: خدا ہمیں کیوں نظر نہیں آتا؟ اس کا جواب ہے کہ یا تو تم وہ آنکھ اپنے اندر پیدا کرو جس سے خدا کا دیدار کیا جا سکتا ہے یا ایسے مؤمنوں کی بات پر باور کرو جو خدا کو ہر جگہ عقل کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جس طرح کہ تم سائنس کے معاملے میں یا تو تھیوری کی تم خود ریسرچ کرتے ہو یا کسی کی
۲۶
تھیوری کو قبول کرتے ہو۔
تم آسمان کے سورج کو جو ظاہر ہے اچھی طرح سے دیکھ نہیں سکتے ہو، اس لئے تم چاہتے ہو کہ اسے پانی میں دیکھو، یا کسی ایسی عینک کے ذریعے سے، جو تم کو سورج کی اصل روشنی کم کر کے دکھائے، اور ستاروں کو جو تم سے بہت دور بلندی پر ہیں کسی طاقتور دوربین کے ذریعے سے دیکھنے کی خواہش رکھتے ہو، اس طرح خدا کو بھی دیکھنے کے لئے ایک خاص آنکھ کی ضرورت ہے۔
انسان کی جسمانی آنکھ اسی روز کھلتی ہے جبکہ وہ پیدا ہو جاتا ہے، مگر وہ اس آنکھ سے دیکھنے کے باؤجود دیکھ نہیں سکتا ہے، کیونکہ وہ ابھی بچہ ہی ہے جو شناخت کے لحاظ سے حیوان کے بچہ سے بھی کمزور ہوتا ہے، حیوان کا بچہ انسانی بچے سے زیادہ شناخت اس لئے رکھتا ہے کہ اس کی وہ محدود قوّت قدرتی اور پیدائشی طور پر اس کے ساتھ ہوتی ہے، مگر انسان کے بچے میں علم و معرفت کی ایک ایسی صلاحیت ہوتی ہے جو صرف تعلیم و تربیت ہی سے لامحدود ہو سکتی ہے، اور اگر بچوں کی تعلیم و تربیت مذہبی طور پر نہیں کی گئی یا اس میں بڑی حد تک کمی رہی تو پھر انسان پہلے ہی کی طرح حیوان سے کمتر رہتا ہے۔
(د) چوتھا سوال ہے دنیا میں ایسے لوگ کیوں ہیں جو خدا کی ہستی سے منکر ہیں؟ جواب ہے کہ کیوں نہ ہوں، جبکہ ایمان کے مقابلے میں کفر اور دن کے ساتھ ساتھ رات ہے، اور دنیا میں ہر چیز کی ضد کا ہونا لازمی ہے، تا کہ معرفت کا امتحان ہو۔
اگر تمہارے خیال کے مطابق کافروں کا وجود ہی خدا کے نہ ہونے کی دلیل ہو سکتی ہے، تو پھر دنیا والے سب کے سب خدا کی ہستی سے منکر اور کافر کیوں نہیں ہیں کہ بہت سے لوگ خدا کو مانتے بھی ہیں؟
۲۷
اگر سوال کا مطلب یہ ہو کہ: “خدا کا وجود ہوتا تو دنیا میں کافر کا نام و نشان نہ ہوتا اور ہر جگہ ایمان کا دور دورہ ہوتا۔” یہ بات بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ انسانوں کو اختیار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ دو گروہ ہو گئے ہیں، یعنی اس جہان میں مؤمن بھی ہیں اور کافر بھی۔
نورٌعلیٰ نور:
سوال نمبر ۱۲: جب ایک امام کے بعد دوسرا امام ہوتا ہے تو کیا اُس ہونے والے امام میں کوئی الگ روح ہوتی ہے؟ یا کہ وہ نورِ امامت کے جزو کی حیثیت سے ہوتا ہے؟ اگر مان لیا جائے کہ ہونے والا امام سابق امام سے مختلف ہوتا ہے، تو کیا نور کے ساتھ موجودہ امام کی روح کا کوئی رشتہ ہوتا ہے؟ یا کہ یہ روح ایک مؤمن کی روح کی طرح ہوتی ہے؟
جواب: اس سوال کا جواب سورۂ نور میں موجود ہے، جہاں آیت ۳۵ میں حکمت کی زبان میں فرمایا گیا ہے کہ نور کو اگر باطنی اور روحانی پہلو سے دیکھا جائے تو وہ ہمیشہ کے لئے ایک ہی ہے جو پوری کائنات کے لئے کافی ہے اور اگر ظاہری اور جسمانی اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ ایک نور پر دوسرا نور ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک امام کے بعد دوسرا امام ہوتا ہے، پس معلوم ہوا کہ ہونے والے امام پر بھی موجودہ امام کی روح یعنی نور کی روشنی پڑتی رہتی ہے، جس طرح کہ ایک چراغ سے دوسرا چراغ روشن کیا جاتا ہے یا جس طرح کہ سورج سے چاند کو روشنی ملتی رہتی ہے اور فرض کرو کہ چاند مکمل ہو جانے کے بعد سورج بن جاتا ہے، جیسا کہ قرآن (۷۵: ۰۹) میں سورج اور چاند کے ایک ہو جانے کا ذکر ہے مگر ظاہر
۲۸
ہے کہ دنیا کے سورج اور چاند ایک نہیں ہو سکتے، امام اور اس کا جانشین (یعنی ہونے والا امام) ایک ہو جاتے ہیں۔
ازل میں تمام روحیں ایک تھیں اور ابد میں بھی ساری روحیں ایک ہو جائیں گی جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے: تمہاری ابتدائی پیدائش اور تمہاری آخری بعثت ایک جان کی طرح ہے (۳۱: ۲۸)۔ جب عام روحوں کی وحدت کا یہ عالم ہے کہ وہ شروع میں بھی ایک تھیں اور آخر میں بھی ایک ہو جائیں گی، تو پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ امام اور امام کی دو الگ الگ روحیں ہوں، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمام أئمّہ کا نور ایک ہے اور روحِ امام سے نور مراد ہے۔
اسی جواب سے سوال کا باقی حصہ ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ اس میں سوال دُہرایا گیا ہے، تاہم بتا دیا جاتا ہے کہ اماموں کے اجسام الگ الگ ہیں مگر ان کا نور ایک ہی ہے، جسم نور کا جزو نہیں ہے مگر بعض دفعہ نور کی وجہ سے جسم کو بھی نور کہا گیا ہے، اور نورٌعلیٰ نور میں یہی بات ہے۔
ایک امام کا رشتہ دوسرے امام سے یہ ہے کہ دونوں کا نور ایک ہی ہے، امام کی روح مؤمن کی روح کی طرح نہیں ہے بلکہ نہایت ہی اعلیٰ ہے، ہاں مؤمن کی روح انتہائی ترقی کے بعد امام کے نور سے واصل ہو کر ہی امام کی روح کی طرح ہو سکتی ہے۔
صلوات:
سوال نمبر ۱۳: اگر پیغمبرؐ اور امامؑ نور ہیں تو صلوات میں ان کے لئے رحمت مانگنے کے کیا معنی ہیں؟
۲۹
جواب: یہ سوال صلوات کے عام معنی سے پیدا ہوا ہے، مگر صلوات کی تاویل ایسی نہیں، آپ کتابِ ’’وجہِ دین‘‘ حصہ دوم کلام نمبر ۵۰، فلسفۂ دعا صفحہ ۶۱ تا ۶۹ اور پنج مقالہ نمبر ۴ صفحہ ۲۷ تا ۲۹ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کی تاویل پر غور کر سکتے ہیں، کہ جہاں صلوات محمد و آلِ محمد کی شان میں ہوتی ہے وہاں اس کی مراد ہے ان حضرات کے وسیلے سے اپنے لئے درود مانگنا اور صحیح معنوں میں ان مقدّس رہنما ہستیوں کی پیروی کرنا۔
جاننا چاہئے کہ صلوات کے معنی اور تاویل کے کئی پہلو ہیں، جیسے (الف) اللہ تعالیٰ کی صلوات آنحضرتؐ کے لئے (۳۳: ۵۶)، (ب) فرشتوں کی صلوات حضورؐ پر (۳۳: ۵۶)، (ج) مؤمنین کی طرف سے صلوات پیغمبر اکرمؐ کے لئے (۳۳: ۵۶)، (د) اللہ پاک کی صلوات مؤمنین پر (۰۲: ۱۵۷، ۳۳: ۴۳)، (ہ) ملائکہ کی صلوات مؤمنین پر (۳۳: ۴۳)، (و) رسولِ خداؐ کی صلوات مؤمنین پر (۰۹: ۹۹، ۰۹: ۱۰۳)۔ چنانچہ صلوات میں کئی تاویلی حکمتیں پوشیدہ ہیں، بہرحال آپ کے سوال کا جواب اس بیان میں دیا گیا ہے۔
ذکر و بندگی:
سوال نمبر ۱۴: علامہ صاحب اگر آپ مہربانی سے ذکر و بندگی کے بارے میں کچھ بتاتے، مثلاً اِس کی ضرورت و اہمیت، طریقِ کار، ذکر پر ارتکازِ توجہ، ذکر کے ساتھ تنفس کی ہم آہنگی، اور خوراک کے سلسلے میں کچھ تذکرہ کرتے تو میں آپ کا بہت ہی شکرگزار ہو جاتا؟
جواب: یہ تو آپ نے ایک سوال نہیں کیا بلکہ ایک بڑا لیکچر دینے کے لئے فرمائش کی بہرحال بہتر یہ ہے کہ اِس موضوع کو اچھی طرح سے سمجھنے کے
۳۰
لئے “ذکرِ الٰہی” کو پیشِ نظر رکھیں، جو میری ایک کتاب ہے جو ذکر و عبادت کے سلسلے میں گائیڈبُک (Guidebook) کی حیثیت سے ہے، اس کے علاوہ میرے کینیڈا کے دورہ کے کیسٹوں کو سنیں، نیز میری کتاب پنج مقالہ نمبر ۲ میں سورۂ مزمل کی تفسیر و تاویل کو پڑھیں۔
کتاب “ذکرِ الٰہی” کو جانِ عزیز فقیر محمد ہونزائی اور محترمہ زین رحیم قاسم نے انگلش میں منتقل کیا ہے، لہٰذا یہ کتاب اب آپ کو انگلش میں بھی ملے گی۔
حضرتِ عیسیٰؑ اور حضرتِ محمدؐ:
سوال نمبر ۱۵: اگر حضرتِ محمد کو پہلے ہی سے پیغمبری کے لئے انتخاب کیا گیا تھا تو وہ جبرائیل کے وحی لانے کے وقت اتنا حیرت زدہ کیوں ہو گیا؟ حضرتِ محمدؐ حضرتِ عیسیٰؑ کی طرح کیوں پیدا نہیں ہوئے، جن کی ولادت کے وقت ایک شہابِ ثاقب کا طلوع ہوا تھا؟ حضرتِ محمدؐ وفات سے قبل تکالیف کے مراحل سے کیوں گزرے؟
جواب: آپ کے یہ تینوں سوالات غیرمنطقی اور بے حقیقت ہیں، اور ظاہر ہے کہ یہ عیسائی تبلیغ کی پیداوار ہیں، بہرحال ان کی تحلیل کی جاتی ہے، کہ ہر سوال کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہوا کرتی ہے، چنانچہ یہاں پہلے سوال کی بنیاد اس بات پر قائم کی گئی ہے کہ آنحضرتؐ پر نزولِ وحی قبول کیا گیا ہے پھر اسی وحی کے نتیجے میں رسولِ خداؐ پر اعتراض کیا گیا ہے، حالانکہ کسی ہستی کو پیغمبر تسلیم کرنے کے بعد اس پر اعتراض کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا اور یہ کوئی منطق ہی نہیں کہ خود جبرائیل کے وحی لانے کو دلیل بنا کر آنحضرتؐ کی نبوّت کی نفی کے لئے کوشش کی جائے،
۳۱
کیونکہ حضور اکرمؐ کو نبی اور رسول ماننے کے بعد یہ سوال خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف سے اس سوال کا مفہوم یہ ہے کہ سائل کے بقول اگر حضرتِ محمدؐ کو پہلے ہی سے اپنے انتخاب کا پتا ہوتا تو آپ کو نزولِ وحی سے حیرت نہ ہوتی، تو کیا یہ بھی کوئی دلیل ہو سکتی ہے کہ جس سے آنحضرتؐ کی نبوت کی تردید ہو، کیونکہ اگر ہم حضورؐ کی ایسی حیرت کو قبول بھی کریں تو اس کا نتیجہ صرف یہی نکلتا ہے کہ حضور کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے آپؐ کو نبوّت و رسالت کے لئے منتخب کیا ہے۔
اگر روحانی علم اور معرفت کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ بات غیریقینی ہو کر رہ جاتی ہے کہ آنحضرت کو جبرائیل کے وحی لانے سے کوئی حیرت ہوئی تھی، کیونکہ راہِ روحانیّت ایسی نہیں کہ ایک دن میں یکایک مقامِ وحی سامنے آئے، وہ تو بہت سے روحانی عجائبات و تجربات کے بعد آتا ہے، اور اس کے لئے خوب تیاری ہوتی ہے۔
ظاہری روایت اور عام تاریخی قصّوں کا سہارا لے کر وحی کی حقیقت سمجھنے کے لئے کوشش کرنا بہت بڑی نادانی ہے، اور اِس سوال میں ایسا کیا گیا ہے، لہٰذا اس میں جو کوشش کی گئی ہے وہ غلط اور باطل ہے۔
شہابِ ثاقب کو بہت بڑا معجزہ قرار دے کر ہر پیغمبر کی پیدائش کی علامت سمجھنا بھی کچھ چھوٹی غلطی نہیں، کیا کوئی یہ ثابت کر سکتا ہے کہ حضرتِ عیسیٰؑ سے قبل جتنے پیغمبر ہوئے ہیں اُن سب کی پیدائش کے وقت شہابِ ثاقب طلوع ہوتا رہا ہے، یا یہ ثابت کر سکتا ہے کہ جب بھی کوئی شہابِ ثاقب طلوع ہوتا ہے تو اس کا اشارہ یہ ہے کہ دنیا میں کسی پیغمبر کا ظہور ہوتا ہے، اہلِ دانش کے نزدیک ایسی باتیں بچگانہ طرز کی لگتی ہیں، کہ ان میں نہ تو کوئی دینی فلسفہ ہے اور نہ ہی کوئی سائنسی توجیہہ ہے۔
۳۲
یہی مثال اس سوال کی بھی ہے جو پوچھا گیا ہے کہ حضرتِ محمدؐ وفات سے قبل تکالیف کے مراحل سے کیوں گزرے؟ جبکہ اس کا جواب اس طرح سے دیا جا سکتا ہے کہ آنحضرتؐ نے بہت سی تکالیف اس لئے اُٹھائیں کہ انبیاء علیہم السّلام کو انسانی زندگی کا نمونہ پیش کرنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بحیثیتِ مجموعی پیغمبروں کی زندگی تکالیف سے پُر ہے، اور خود حضرتِ عیسیٰؑ کے بارے میں غور کیا جائے کہ وہ کس طرح درویشی کی زندگی گزارتے تھے، اور ان کی جسمانی موت بھی ایسی نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں، بلکہ وہ تختۂ دار پر ایک مکمل شہادت کی صورت میں واقع ہوئی تھی۔
نور کہاں سے آیا؟
سوال نمبر ۱۶: نور کا آغاز کس طرح سے ہوا؟ نور کہاں سے آیا؟
جواب: یہ کوئی ضروری اور لازمی نہیں کہ ہر چیز کا کوئی آغاز ہو اور وہ کسی خاص وقت میں پیدا ہو کر اپنا کام شروع کرے، کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی بھی ہیں جن کی کوئی ابتداء ہی نہیں، یعنی وہ کسی آغاز کے بغیر ہی ہمیشہ ہمیشہ موجود ہیں، انسان جس ماحول میں پلا ہے اور جیسی اِس ظاہری دنیا کے محدود زمان و مکان کے زیرِ اثر اس کی عادت بنی ہے، وہ ہمیشہ اِسی کے مطابق سوچتا اور سوال کرتا ہے، اُس نے مذہب کی عام سے عام ابتدائی تعلیم سے متعلق روایات یا تاویلی مثالوں کے ظاہری پہلو کے ذریعے سے یہ سمجھ رکھا ہے کہ شروع شروع میں خدا تعالیٰ کے سوا کچھ بھی نہیں تھا، اور وہ ایسی اوّلیت کو خداوندِ برحق کی سب سے بڑی صفت قرار دیتا ہے، حالانکہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے
۳۳
تو یہ بات اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس اور شانِ عالی کے خلاف ہے کہ ہم اس کو کسی ہم جنس کی طرح زمرۂ خلائق میں لا کر کوئی مشترکہ صفت بیان کریں، جیسے کسی شخص کا یہ کہنا کہ: “سب سے پہلے خدا تھا۔”
آپ خوب سنجیدگی سے دیکھیں کہ اِس بیان میں خدا کے تصور کو تمام موجودات و مخلوقات کے تصور کے ساتھ ملا کر شمولیت و شرکت کا مسئلہ پیدا کیا گیا ہے، اور اس کے بعد تقابلی تصوّر کی مدد سے ذاتِ سبحان کو اوّلیتِ زمانی دی گئی ہے، یہ ایک مثال ہے کہ عوام کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں کو باری تعالیٰ کی صفات سمجھتے ہیں۔
اب بیانِ مذکورۂ بالا کی روشنی میں یہ جاننا ضروری ہے کہ بنیادی تقسیم کے لحاظ سے عالم دو ہیں، جو عالمِ خلق اور عالمِ امر ہیں (۰۷: ۵۴)۔ عالمِ خلق حادث ہے اور عالمِ امر قدیم، حادث ہر اُس چیز کو کہتے ہیں جو ہمیشہ سے نہیں ہے بلکہ زمانہ کی حد کے اندر پیدا ہوئی ہے، اور قدیم وہ ہے جو حادث کے برعکس ہمیشہ سے موجود ہو، چنانچہ نور حادث نہیں قدیم ہے، لہٰذا وہ ہمیشہ سے ہے اور جو چیز ہمیشہ سے ہو، اُس کے آغاز کے بارے میں سوال پیدا نہیں ہو سکتا ہے، اب رہا سوال کہ:”کہاں سے آیا۔” سو اس کا جواب ہے کہ نور عالمِ امر سے ہے، یعنی عالمِ روحانی سے، جو قدیم ہے، اور نور کا دوسرا نام روح ہے جو حضرتِ آدم علیہ السّلام میں پھونکی گئی تھی، جس کا سرچشمہ عالمِ امر ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے:
۳۴
اور (اے رسولؐ) آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ روح (عالمِ خلق سے نہیں بلکہ یہ) میرے پروردگار کے (عالمِ) امر سے ہے اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے (اِس لئے تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے ہو) ۱۷: ۸۵۔
یہ قرآنی تذکرہ کامل روح یعنی روحِ قدسی کا ہے، جس کی وجہ سے آدمؑ کو فرشتوں نے سجدہ کیا تھا (۱۵: ۲۹)، یہی روح تھی جو خدا کی روح کہلائی، اسی روح کے سبب سے عیسیٰؑ کو روح اللہ کا درجہ دیا گیا (۰۴: ۱۷۱) اور یہی خداوندی روح حضرتِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی پاک و پاکیزہ شخصیت میں روحِ قرآن اور نورِ یزدان کی حیثیت سے کام کرتی تھی (۴۲: ۵۲)، پس روح اور نور ایک ہی حقیقت ہے جو قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے، اور اس کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ ہی کوئی انتہا، وہ عالمِ امر سے ہے۔
جن:
سوال نمبر ۱۷: آپ نے جنّ کے بارے میں تذکرہ کیا، سو اگر جنّات کی ایک الگ دنیا ہے اور وہ اس میں ہماری طرح رہ کر زندگی گزارتے ہیں تو کیا آپ اس کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟
جواب: آپ قرآنِ پاک کے کسی ترجمے کو سامنے رکھیں اور کسی عمدہ انڈیکس کی مدد سے دیکھیں تو آپ کو جنّات کے بارے میں بہت سی معلومات فراہم ہو جائیں گی، وہ عنوانات اس طرح سے ہیں:
جآنّ ۷ دفعہ، الجنّ ۲۲ دفعہ، جنّۃ ۱۰ دفعہ، اس کے علاوہ یہاں بھی چند باتیں بتائی جاتی ہیں کہ لفظ جنّ چھپنے اور چھپانے کے معنی میں آتا ہے، اس لئے جنّ اُس مخلوق کو کہتے ہیں جو ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے، جو جنّات سیّارۂ زمین پر رہتے ہیں وہ آدمیوں کے ساتھ ہیں ان کی کوئی الگ دنیا نہیں مگر بات صرف اتنی سی ہے کہ وہ اکثر غیر آباد مقامات پر رہنا پسند
۳۵
کرتے ہیں، جیسے پہاڑ، بیابان، صحرا وغیرہ، شاید اِس لئے کہ ان کو غذائیں صاف ہواؤں سے میسر آتی ہیں یا ایتھر سے، نیز ان کی الگ دنیائیں بھی ہیں یعنی وہ اُن سیّاروں پر بھی رہتے ہیں جو ہماری طرح کے انسانوں سے خالی پڑے ہیں، جب سیّارۂ زمین پر انسانوں کی آبادی نہیں ہوئی تھی تو اُس وقت یہاں جنّات کی کثرت تھی، کیونکہ قانونِ قدرت یہی ہے کہ ظرف خالی نہ رہے، برتن میں اگر دودھ نہیں تو پانی ہونا چاہئے، اگر پانی بھی نہیں ہے تو خودبخود اس میں ہوا بھر جائے گی، یہ وسیع و عظیم کائنات عالمگیر روح کے سمندر میں ڈوبی ہوئی ہے، اس لئے سوال پیدا نہیں ہوتا ہے کہ اتنی ساری روحیں کہاں سے پیدا ہوئیں کہ کسی نہ کسی شکل میں تمام ستاروں اور سیّاروں پر مخلوقات موجود ہوں۔
جنّ اور پری کا ایک ہی مطلب ہے، جنّ عربی ہے اور پری فارسی، جنّات شکل و صورت میں آدمیوں کی طرح ہیں، کیونکہ ان دونوں کی ذات ایک ہی ہے، اور وہ ایک ہی دائرے پر چکر لگاتے ہیں، وہ دائرہ دونوں جہان کے درمیان ہے۔
جنّات میں مؤمن بھی ہیں اور کافر بھی، جس طرح انسانوں میں اچھے بھی ہوتے ہیں اور بُرے بھی، جنّات کو آگ سے پیدا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ جسمِ لطیف میں ہیں، جس کو آسٹرل باڈی کہتے ہیں۔
اُڑن طشتریاں:
سوال نمبر ۱۸: خلائی کشتی اور اُڑن طشتریوں کے بارے میں بہت سے تضادات پیدا ہوئے ہیں، کیا اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ دوسرے
۳۶
ستاروں پر بھی کسی قسم کے لوگ رہتے ہیں؟
جواب: آپ کا سوال اگرچہ بہت بڑا سوال ہے (کیونکہ اگر سائنسدان اپنی بے پناہ ترقی کے ساتھ ساتھ یہ بھی جان لیتے کہ کون ہیں جو آسمان سے آرہے ہیں تو ان کے لئے خلا میں کوئی مشکل پیش نہ آتی) لیکن دینِ حق میں یہ سوال مشکل نہیں ہے، لہٰذا آپ میری ایک کتاب “میزان الحقائق” میں دیکھیں، اس کے علاوہ یہاں پر بھی مختصر ذکر کیا جاتا ہے، جیسا کہ سوال نمبر ۱۷ کے جواب میں جنّات کے تذکرہ کے سلسلے میں بتایا گیا کہ کوئی ستارہ مخلوقات سے خالی نہیں، چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ فلائنگ ساسرز آتی رہتی ہیں مگر لوگ پہچان نہیں سکتے ہیں کہ وہ کیا مخلوقات ہیں، سو جاننا چاہئے کہ وہ آسٹرل باڈی والے انسان ہیں، جو کسی ستارے پر یا بہت سے ستاروں پر رہتے ہیں، اور ہاں ان کی مذہبی اور سائنسی ترقی بہت آگے بڑھ چکی ہے، یہاں تک کہ وہ جسمِ لطیف کے ذرّات کو طرح طرح کی شکلوں میں جوڑ کر ہر چیز کو پیش کر سکتے ہیں، وہ ظاہر بھی ہو سکتے ہیں اور غائب بھی۔
یو ایف اوز (Unidentified Flying Objects) روحانی دور کے آغاز ہو جانے کی نشانیاں ہیں، آگے چل کر انسان ان آسمانی طاقتوں سے فائدہ اُٹھانے والا ہے، مگر خدا کی خدائی اور اس کی قدرت کے لئے اقرار کئے بغیر ان روحانی طاقتوں پر قابو پانا مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔
اگر وقت مل سکا تو ان شاء اللہ ہم یو ایف اوز پر ایک چھوٹی سی کتاب تصنیف کریں گے، جو روحانی تجربات اور قرآنی ارشادات کی بنیادوں پر مبنی ہو گی، تا کہ نہ صرف مذہبی طور پر مقبول ہو بلکہ سائنسی لحاظ سے بھی مفید ہو سکے، اس سلسلے میں “تبدلِ اجسام” کے مضمون کو بھی پیشِ نظر رکھنا، جو سوال نمبر ۴۲ کا جواب ہے۔
۳۷
قیامت:
سوال نمبر ۱۹: مہربانی کر کے “قیامت” کے موضوع پر کچھ روشنی ڈالیں، کیا قیامت کے لئے کوئی خاص دن مقرر ہے؟
جواب: جاننا چاہئے کہ قرآن اور اسلام میں “علمِ قیامت” سب سے مخفی علم ہے، اور اسماعیلیت میں بھی قائم القیامت اور قیامت روحانیّت کے بھیدوں میں سے ہیں، اور اس کے ایسے ہونے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی مصلحت و حکمت ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرتِ آدمؑ سے قبل کے دینی واقعات اور حالات قرآن میں پوشیدہ ہیں کیونکہ آدمِ صفی ؑ اُس زمانے کے قائم کا خلیفہ تھا، چنانچہ اگر اگلے دور کے قائم اور قیامت کا تذکرہ کیا جاتا تو پھر آئندہ قائم اور اس کی قیامت کے سارے بھید ظاہر ہو جاتے اور وہ ہرگز بھید نہ ہوتے، لہٰذا خدا تعالیٰ نے آدم اور قبلِ آدم کے واقعات کو یا تو انسانوں کے سامنے ہی نہیں لایا، یا پھر اس طرح سے ان کا ذکر کیا کہ صرف اہلِ دانش ہی سمجھیں اور عوام سے پوشیدہ رہیں۔
اس کے معنی یہ ہوئے کہ علمِ قیامت تاویلات میں سے ہے اور قیامت کی عملی تاویل کرنا یہ ہے کہ کوئی حقیقی مؤمن تزکیہ نفس اور روحانی ترقی کے وسیلے سے اپنے باطن میں واقعۂ قیامت کا مشاہدہ کرے، اگر کوئی خوش نصیب انسان اس مقصد میں کامیاب بھی ہو جائے، تو پھر بھی خوف ہے کہ وہ دوسروں کو سمجھا سکتا ہے یا نہیں۔
بہرکیف قیامت باطنی اور روحانی طور پر ہمیشہ جاری ہے، اور قرآن نے اسی معنیٰ میں ہر زمانے کے لوگوں سے کہا ہے کہ قیامت بہت ہی نزدیک ہے،
۳۸
روحانیّت کے لحاظ سے بھی اور موت کے اعتبار سے بھی، پس اگر “من مات فقد قامت القیامۃ” (جو مر جائے تو اس کی قیامت برپا ہو جاتی ہے) کو اصول بنائیں تو نتیجے کے طور پر یوں کہنا ہو گا کہ جسمانی موت سے پہلے نفسانی طور پر مر جاتا ہے اپنے باطن کو پاک کرتا ہے اس کی بھی قیامت برپا ہو جاتی ہے، اور اگر کسی ملک پر یا تمام دنیا والوں پر کوئی بڑے سے بڑا خوف مسلط رہے تو ان پر بھی نفسانی موت واقع ہو گی اور قیامت کا منظر سامنے ہو گا، اس بیان سے ظاہر ہے کہ قیامت ہمیشہ جاری بھی ہے اور اس کے خاص خاص اوقات بھی ہیں، تفصیل کے لئے میری ایک کتاب “میزان الحقائق” میں دیکھیں۔
دنیا میں کیوں آگئے؟
سوال نمبر ۲۰: ہمیں کس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا؟ یا ہمیں اِس دنیا میں کیوں بھیجا گیا؟
جواب: جاننا چاہئے کہ ہم کو پیدا کرنے اور اِس دنیا میں بھیج دینے کا صرف ایک مقصد نہیں بلکہ بہت سے مقاصد ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر بہت ضروری ہے، تاہم ان میں ایک سب سے اعلیٰ مقصد بھی ہے جو تمام دینی اور دنیاوی مقاصد پر محیط اور حاوی ہے، اور وہ عبادت و معرفت ہے، یہاں عبادت سے مراد وہ تمام نیک اعمال ہیں جن کے بغیر مؤمن کو دین اور ایمان کا درجۂ کمال حاصل نہیں ہو سکتا ہے اور اس معرفت میں تمام معرفتیں شامل ہیں اور اس معرفت سے کوئی معرفت باہر نہیں۔
علم و عمل اور عبادت و معرفت اس دنیا میں آنے کے بعد ممکن ہے اور
۳۹
اس کے بغیر ناممکن ہے، یہ حقیقت ہے کہ دنیا کھیتی باڑی ہے آخرت کے لئے، لہٰذا دنیا کے بغیر آخرت آباد نہیں ہو سکتی ہے، اگر دنیا کے بغیر آخرت چل سکتی تو ہم دنیا میں ہرگز نہ آتے، ظاہر بات ہے کہ دنیا میں آنا ضروری تھا اس لئے ہمیں یہاں بھیجا گیا۔
بہشت اور دوزخ:
سوال نمبر ۲۱: قرآن میں جو بہشت اور دوزخ کا ذکر آیا ہے اس کے بارے میں اسماعیلیت کا کیا نظریہ ہے؟
جواب: قرآنِ مقدّس میں بہشت و دوزخ کے سلسلے میں جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ حق ہے، مگر ہماری زیادہ سے زیادہ تسلی حکمت اور تاویل میں ہے، چنانچہ بہشت کائنات و موجودات کے باطن کی حیثیت سے ہے، یعنی وہ قرآنی ارشاد کے مطابق آسمان و زمین کے طول و عرض میں واقع ہے، جس میں بموجبِ آیۂ کریمہ: لَھُمْ مَّا یَشَآءُ وْنَ فِیْھَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ (۵۰: ۳۵) ان کے لئے اس (بہشت) میں سب کچھ ہو گا جو کچھ کہ وہ چاہتے ہیں اور ہمارے پاس اس کے علاوہ بھی ہے، وہ تمام نعمتیں موجود ہیں جن کی انسان خواہش رکھتا ہے اور وہ نعمتیں بھی ہیں جن کا شوق ابھی انسان میں پیدا نہیں ہوا ہے، جیسے جذبۂ دیدارِ الٰہی، اصل میں واصل ہو جانا، ازلی و ابدی سلطنت وغیرہ۔
جب جنّت کی نعمتیں خواہش کی بنیاد پر ہیں تو دیکھنا ہو گا کہ ہماری خواہش کی کتنی قسمیں ہیں، اگر ہم میں عشقِ حقیقی موجود ہے تو ہماری ہستی کا سب سے اعلیٰ عنصر ہے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں عشقِ حقیقی کی خواہشات، عقل کی خواہشات، روح
۴۰
کی خواہشات اور نفس کی خواہشات، خواہشات کی چار قسمیں ہیں اس لئے معلوم ہوا کہ جنّت کی نعمتیں سب سے پہلے دیدارِ خداوندی کی صورت میں ہیں، پھر عقلی و علمی نعمتیں ہیں، اس کے بعد روحانی لذّتوں کی حیثیت سے ہیں اور آخری نعمتیں نفسانی شکل کی ہیں مگر وہ بھی کثیف نہیں بلکہ لطیف۔
یہ بہشت باطنی اور روحانی ہے، لہٰذا اس میں مؤمن نہ صرف موت کے بعد داخل ہو سکتا ہے بلکہ وہ اس زندگی میں بھی جزوی طور پر جنّت کا مشاہدہ کر سکتا ہے، چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ جو مؤمنین خصوصی بندگی کے ذریعے سے روحانیّت کے اعلیٰ درجے تک ترقی کر چکے ہیں وہ دل کی آنکھ سے بہشت کو دیکھ رہے ہیں جب وہ اس دنیا سے فارغ ہو جائیں گے تو اس وقت وہ کلّی طور پر جنّت کو دیکھتے رہیں گے۔
قرآنی ارشاد (۲۹: ۶۴) کے مطابق آخرت کا گھر زندہ ہے، اور زندہ انسان اور حیوان ہے، اس سے ظاہر ہے کہ بہشت کے عقل و جان والے محلات پیغمبرؐ، امامؑ اور حقیقی مؤمنین ہیں، جن کے اندر اگر خدا کے نور کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ روحانیّت کی وہی بہشت موجود ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، اور دوزخ کے تنگ مکانات حیوانات ہیں اور جو لوگ قرآن کے (اُوْلٰئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلّ ۰۷: ۱۷۹ کے) فیصلے کے مطابق جانوروں میں شامل ہو چکے ہیں وہ بھی جہنم کے گھروں میں سے ہیں۔
اس مقام پر اگر میں اپنے روحانی مشاہدات و تجربات کی کوئی بات کروں تو شاید بیجا نہ ہو گا، اور وہ یہ ہے کہ جب میں ملکِ چین میں روحانیّت کا بھرپور کورس کر رہا تھا تو اس وقت میں نے اپنے گھر کے گیٹ کے سامنے ایک کتے کو دیکھا جو آہستہ آہستہ گزرتا تھا جس کے ساتھ لاتعداد روحیں وابستہ تھیں،
۴۱
یہ ادنیٰ روحیں کتے کی اپنی روح کے علاوہ تھیں، میں یہ حالت سامنے سے مشاہدہ کرتا تھا، اس وقت میری ظاہری آنکھ اور باطنی آنکھ مل کر ایک ہو گئی تھیں، دوسری دفعہ ایک بلی میں ایسا مشاہدہ ہوا کہ انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرّات پر سوار روحیں بلی سے خارج پھر داخل ہو جاتی تھیں، گویا وہ جہنم کے اُس تنگ مکان سے گریز کرنے کی ناکام کوشش کرتی تھیں، مگر کوئی قدرتی طاقت اُن کو واپس لاتی تھی، جب میں آخری دفعہ قید میں تھا تو ایک رات میں نے دل کی آنکھ سے مشاہدہ کیا کہ وہاں دور یا نزدیک اصطبل میں کوئی گھوڑا تھا یا گھوڑے تھے، اُن میں اسی طرح بے شمار روحوں کا آنا جانا نظر آتا تھا، حالانکہ میں قید کی چار دیواری میں تھا اور سامنے سے ظاہری طور پر دیکھنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
یاد رہے کہ انسانوں میں اور حیوانوں میں دو قسم کی روحیں رہا کرتی ہیں، ایک قسم کی روحیں ان کی اپنی روحیں ہیں جو انسانوں کو اور جانوروں کو زندہ رکھتی ہیں، اور دوسری روحیں ان کو مستقل یا عارضی گھر کے طور پر استعمال کرتی ہیں، چنانچہ جب کوئی نیک انسان خدا و رسول اور صاحبِ امر کی مرضی کے مطابق علم و عمل کے ذریعہ ریاضت کرتا ہے تو نتیجے کے طور پر اس میں اچھی روحیں آتی ہیں، اس کی اپنی روح بھی سدھر جاتی ہے، وہ ان روحوں کو دیکھ سکتا ہے اور یہ اس کی روحانیّت ہے، جس میں نہ صرف خدا کی معرفت ہے بلکہ بہشت اور دوزخ کا مشاہدہ بھی ہے۔
نظامِ ہدایت:
سوال نمبر ۲۲: کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پیغمبروں نے ہر زمانے
۴۲
میں بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کی ہے، لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ دنیا کے مختلف برِاعظموں کو ہدایتِ الٰہی کا کس طرح برابر برابر فائدہ ملا؟
جواب: یہ سوال بڑا اہم ہے اور اس کے جواب میں دین شناسی کی بہت سی مفید باتیں آسکتی ہیں، چنانچہ جاننا چاہئے کہ مذہب اور سائنس ایک دریا یا ندی کی طرح اصل میں ایک ہیں، لیکن زمانے میں آگے بڑھتے بڑھتے بعض دفعہ اس کی دو شاخیں بھی بنتی ہیں، یعنی ایک شاخ کا نام مذہب ہوتا ہے اور دوسری کا نام سائنس، کبھی مذہب میں زیادہ زور پیدا ہوجاتا ہے اور کبھی سائنس میں، مگر ہمیشہ کے لئے یاد رہے کہ جہاں مذہب اور سائنس ایک ہیں تو باطن اور ظاہر ایک ہیں اور جہاں یہ دونوں الگ الگ ہیں تو جاننا چاہئے کہ وہاں مذہب انسان کی ترقی کا باطنی اور روحانی پہلو ہے اور سائنس اس ترقی کا ظاہری اور مادّی پہلو ہے، اس منطق کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو بات یا جو کام انسان سائنس کی مادّیت سے کر سکتا ہے تو وہ مذہب کی روحانیّت سے بھی کیا جاسکتا ہے، مثلاً اگر آج سائنسی طاقت کے بل بوتے پر ہزاروں میل دور کے انسان آپس میں بات چیت کر سکتے ہیں، تو ہم کیوں یقین نہ کریں کہ رسول اللہ کے نور سے دنیا کے تمام ممالک میں ہدایت جاتی تھی، کیونکہ آپ اس کے بغیر کل جہانوں کے لئے رحمت نہیں ہو سکتے تھے، دنیا کے بارہ جزیروں میں آنحضرتؐ کے چوبیس (۲۴) حجّت تھے، اور آپ کے حضورؐ میں چار تھے، ان سب کا نام جاننا ضروری نہیں ہے، جس طرح ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا نام ضروری نہیں، مگر ان کے وجود کے لئے اقرار ضروری ہے، سوائے نبی اکرمؐ کے حجّتِ اعظم کے نام کے کہ وہ علیؑ ہے۔
ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی جو تعداد بتائی جاتی ہے وہ اس طرح
۴۳
سے نہیں کہ وہ یکے بعد دیگرے دنیا میں آئے ہوں، بلکہ وہ ایسے ہیں کہ زمانے میں کوئی ایک پیغمبر ہدایت کے مرکز کی حیثیت سے ہوا کرتا تھا باقی اس کے حجّتوں اور داعیوں کی حیثیت سے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہوتے تھے، اور ہادئ برحق کے مرکز سے ان حدودِ دین کو ان کے مرتبہ کے مطابق روحانی ہدایت ملتی رہتی تھی۔
سنی کہتے ہیں کہ معراج کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے آنحضرتؐ سے جو کلام کیا تھا وہ حضرتِ ابوبکر کی آواز میں کیا تھا، شیعہ کہتے ہیں کہ خدا کا وہ سارا کلام حضرتِ علیؑ کی زبان سے تھا، میں اس بارے میں ذاتی طور پر جو کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ تین درجوں میں ہے، اور میں دو درجوں کو محفوظ رکھ کر ابتدائی درجے کی بات کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ دونوں نے صحیح کہا کیونکہ قانونِ الٰہی بھی یہی ہے کہ جب بھی وحی ہوتی ہے تو وہ کسی نبی یا ولی کی زبان اور آواز سے ہوا کرتی ہے، کیونکہ خدا بیچون اور بے مثال ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر بڑے پیغمبر کو اس کے وزیر کی آواز میں آسمانی ہدایت ملتی ہے۔
دنیا کے تمام مذاہب والے اس بات کو مانتے ہیں کہ شیطان انسان کے نفسِ امّارہ میں بری باتیں ڈالتا ہے، تو کیا یہ خدا کے عدل و انصاف کے خلاف ہے جو ہم مانیں کہ ہادئ برحق انسان کی عقل میں اچھی اچھی باتیں ڈال سکتا ہے، کیونکہ اگر شیطان کو یہ طاقت پروردگار کی جانب سے ہے تو پیغمبر اور امام کو اس سے کہیں زیادہ خیر کی طاقت حاصل ہونی چاہئے، نیز اگر دنیا کے گوشہ گوشہ میں شیطان جا سکتا ہے اور اس کے علاوہ ہر مقام پر شیطان کا لشکر بھی ہے تو یقین کرنا ہو گا کہ ہادئ زمان بھی ہر جگہ پہنچ سکتا ہے کہ اس کا بھی جثّۂ ابداعیہ ہے اور اس کے بھی فلکی جسم میں لشکر ہیں جو ہدایت کے کام پر مامور ہیں، اور وہ حدودِ دین ہیں۔
۴۴
آج کل ٹیلی پیتھی (Telepathy) کے لئے کوشش کی جارہی ہے اور یہ ایک دن ضرور کامیاب ہو گی، اور اس وقت یہ چیز مذہب اور سائنس میں مشترک شمار ہو گی، پھر جو لوگ ہوشیار ہیں وہ سمجھ جائیں گے کہ انبیاء و اولیاء میں یہ چیز ہمیشہ سے موجود تھی۔
یہ آپ کے سوال کا مفصل جواب ہے جس میں آپ نے پوچھا تھا کہ زمانۂ قدیم میں جبکہ آج کی طرح مواصلات کے ذرائع نہ تھے، اگر کوئی پیغمبر کسی ملک میں آیا تو اس کی ہدایت سے پوری دنیا کو کس طرح خبر ہو سکتی تھی، جواب میں کہا گیا کہ اس پیغمبر کے تحت پوری دنیا میں حدودِ دین کا جال بچھا ہوا ہوتا تھا، جو کہ لوگوں کی سمجھ کے مطابق ہدایت کیا کرتے تھے اور حدودِ دین کو ہدایت کے مرکز سے روحانی تعلیم ملتی تھی وغیرہ۔ اِس بیان میں حقیقی مؤمنین کے لئے بہت سی حکمتیں ہیں۔
طریقِ عبادت:
سوال نمبر ۲۳: میں علامہ صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہمیں طریقِ عبادت کے موضوع پر لیکچر دیں۔
جواب: سوال نمبر ۱۴ کے جواب کو دیکھیں۔
بچوں کی پیدائش کا مسئلہ:
سوال نمبر ۲۴: اس دنیا کا خاتمہ کس طرح ہو سکتا ہے جبکہ ہر منٹ
۴۵
میں ہزاروں بچے پیدا ہوتے ہیں؟
جواب: میرے عزیز! آپ کا مسئلہ سب سے زیادہ دلچسپ ہے اور منطق بھی بہت ہی عجیب، کسی نے کہا ہو گا کہ دنیا ختم ہونے والی ہے، اور آپ کو خیال آیا کہ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کا کیا حشر ہو گا جو منٹ منٹ پر ہزاروں کی تعداد میں پیدا ہوتے رہتے ہیں، گویا آپ کے نزدیک بچوں کی پیدائش ہی اس جہان کے قیام و بقا کی ضمانت ہے، مطلب یہی ہے نا!
میرے پیارے! تم کتنے نیک اور سادہ لوح ہو، تمہاری سادگی سے قربان جاؤں، یہ لو تمہارے سوال کے لئے بھی ایک سادہ جواب موجود ہے مگر تعجب کی بات ہے کہ تمہاری اس سادہ لوحی میں بھی علم آتا ہے، چنانچہ سورۂ حج (جو ۲۲ نمبر کا سورہ ہے) کی آیت نمبر ۵۵ (۲۲: ۵۵) میں اشارہ ہے کہ قیامت البتہ پوشیدہ پوشیدہ آئے گی مگر آگے چل کر اس کے کئی نتائج ظاہر ہوں گے اس میں سے ایک تو یہ ہے کہ ایک زمانے میں سب عورتیں بانجھ ہو جائیں گی اور کسی کے ہاں کوئی بچہ نہیں ہو گا، اُس زمانے کو قرآن نے “یومِ عقیم” کہا ہے، یعنی بانجھ پن کا دن، اب شکر کرو کہ اگر دنیا کا خاتمہ ہوا تو اُس وقت چھوٹے چھوٹے بچے سامنے نہیں ہوں گے۔
حضرتِ عیسیٰؑ :
سوال نمبر ۲۵: کیا حضرتِ عیسیٰؑ کو سولی دی گئی تھی یا نہیں (قرآن سے ثبوت چاہئے)، نور کہاں سے آیا ہے؟
جواب: حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کے بارے میں میرا ایک مقالہ
۴۶
ہے جو پنج مقالہ نمبر ۲ میں چھپ گیا ہے، آپ اس کو دیکھیں، ہمارا اُصول یہ ہے کہ اگر کسی سوال کا جواب ہمارے پاس لکھا ہوا موجود ہے تو دوبارہ نہیں لکھتے ہیں، بوقتِ ضرورت صرف حوالہ دیتے ہیں، تاہم بطریقِ مختصر یہاں بھی کچھ اہم باتیں بتائی جاتی ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ اپنے دوستوں کو جو انبیاء و اولیاء ہیں دنیا کی سخت ترین مصیبتوں میں صبر و ثبات سے کام لینے اور اعلائے حق کے لئے خود کو قربان کر دینے کی ہمت دینے کی بجائے میدانِ مقابلہ سے بھاگ جانے کا ذریعہ مہیا کرے تو پھر جذبۂ قربانی اور ذوقِ شہادت کا وجود ہی نہ رہے گا، اور راہِ خدا میں کوئی شخص تکلیف اُٹھانے کے لئے تیار نہ ہو گا، اس منطق سے ظاہر ہے کہ حضرتِ عیسیٰؑ کا مبارک جسم دین کی خاطر قربان ہو گیا تھا۔
معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان شہیدوں کو جو راہِ خدا میں قتل کئے گئے ہیں زندہ قرار دیتا ہے (۰۳: ۱۶۹) اور کچھ لوگوں کو جو زندہ ہیں مردہ قرار دیتا ہے (۱۶: ۲۱) کیا ایسے واقعات کے دو دو پہلو نہیں ہیں، کیا اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ شہید جسم کے اعتبار سے مر تو جاتے ہیں مگر روح کے لحاظ سے زندہ ہیں، اور جو لوگ زندہ ہونے کے باوجود خدا کی نظر میں مردہ شمار ہوئے ہیں وہ جسمانی طور پر زندہ تو ہیں مگر روحانیّت میں مرے ہوئے ہیں، پس جاننا چاہئے کہ حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کو جسمانیّت میں سولی دے کر شہید کیا گیا تھا، مگر روحانیت میں خدا کے حضور وہ زندہ تھے، کیونکہ وہ روح اللہ تھے اور تمام انبیاء و اولیاء ایسے ہیں پھر خدا کی روح کو کون کیا کر سکتا ہے، حضرتِ عیسیٰؑ سے متعلق قرآنی آیتوں کا خلاصہ یہی ہے، آپ مزید تفصیلات کے لئے اس مقالہ کو دیکھیں جس کا ذکر ہو چکا ہے۔
اس سوال کے آخر میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ نور کہاں سے آیا؟ اِس سوال کے پس منظر میں یہ تصوّر ہے کہ نور اب جس مقام پر ہے گویا اس مقام پر
۴۷
وہ پہلے موجود نہیں تھا، حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ نور ہمیشہ ایک شان سے ہے، جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے کہ “اللہ تعالیٰ کائنات و موجودات کا نور ہے” (۲۴: ۳۵)۔
۱۔ اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین (یعنی کائنات و موجودات) کا نور ہے تو اس کے معنی یہ ہیں، کہ یہ پوری کائنات اور یہ ساری موجودات جو آج ہیں وہ سب ازل میں اپنی نورانی شکل و صورت میں خدا کے نور کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھیں، جن کو خدا تعالیٰ نے مادّی وجود میں ظاہر کیا۔
۲۔ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ عالمگیر روح ایک ایسی روشنی ہے جو کائنات و موجودات کی روحانی تحلیل سے ظہور پذیر ہو جاتی ہے، اور یہ حقیقت متعلقہ آیت کی تشریح سے باہر نہیں ہے۔
۴۸
سو سوال
حصہ دوم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حرفِ آغاز
پروردگارِ عالم کے اُس بابرکت اور مقدّس بزرگ نام سے جو زندہ و گویندہ ہے، جو علم و حکمت اور رشد و ہدایت کا سرچشمہ اور توفیق و تائید کا ذریعہ ہے، جس کو کماحقہ یاد کرنے سے قلبی سکون اور روحانی راحت حاصل ہوتی ہے اور جس میں عین الیقین کا نور اور حق الیقین کا مرتبہ پنہان ہے۔
“سو سوال حصہ دوم” کی تمہید لکھتے ہوئے دل میں مسرت و شادمانی اور شکرگزاری کے گوناگون جذبات اُبھر رہے ہیں، یہ شاید اس لئے کہ ہماری حقیر سی ہستی کی طرف سے جو کوشش ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر خداوندِ برحق کے احسانات و انعامات بہت ہی عظیم ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے “سو سوال” کی کتاب بہت بڑی اہمیّت و افادیت والی ثابت ہو گی، کیونکہ اِس میں عظیم کینیڈا کی ہماری عظیم جماعت کے خاص خاص سوالات کے لئے تسلی بخش جوابات درج ہوئے ہیں۔
آپ پر یہ حقیقت روشن ہے کہ انفرادی سوال آسان بھی ہو سکتا ہے اور مشکل بھی، مگر اجتماعی سوال ہر حالت میں مشکل ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ غور و فکر کے بہت سے مراحل سے گزر کر سامنے آتا ہے، تاہم امامِ برحقؑ کے توسط سے پروردگارِ عالم سے جو توفیق و تائید حاصل ہوتی ہے وہ بہت بڑی چیز ہوا کرتی ہے۔
یہاں سوال ہے کہ سوال کب اور کس موقع پر پیدا ہوتا ہے؟ یا کیونکر
۵۳
پیدا ہوتا ہے؟ سوال اُس وقت اُٹھتا ہے جبکہ علم و حکمت کے راستے میں چلتے چلتے کوئی رکاوٹ سامنے آئے، یا مذہب اور امام کی شناخت کے سلسلے میں کوئی شک پیدا ہو، یا کسی بحث کے نتیجے پر اس کی ضرورت محسوس ہوئی ہو، بہر حال ظاہر ہے کہ سوال کا جواب دانشمند کے نزدیک ضروری ہوا کرتا ہے، اور اس کے بغیر علم و دانش کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور نہ ہی علمی طور پر کسی کی مدد ہو سکتی ہے۔
اپنوں کو اور دوسروں کو علم پیش کرنے کے بہت سے طریقے ہیں، لیکن سب سے منظم طریقہ یہی ہے کہ سوال و جواب کے اصول سے کام لیا جائے، تا کہ علم کے ضروری پہلوؤں سے بحث ہو اور مطلوبہ باتیں آسانی سے ذہن نشین ہو جائیں۔
یہ کتنی اچھی بات ہے کہ ہم اپنے علمی مسائل کو خود ہی آپس میں سوال و جواب کے ذریعے سے حل کریں بجائے اس کے کہ یہی سوالات دوسرے لوگ ہم سے پوچھا کریں اور ہم ان کی بحثوں میں پڑیں۔
ان شاء اللہ تعالیٰ “سو سوال” کی کتاب، جو چار الگ الگ حصوں میں شائع ہو رہی ہے، بہت ہی سودمند اور مفید ثابت ہو گی، خصوصاً اُس وقت جب کہ اس کے ترجمے ہوں۔
اگر میں اس موقع پر خانۂ حکمت کے ہوشمند عملداروں اور سرگرم اراکین کے ذکرِ جمیل کو پسِ پشت ڈالوں تو یہ میری ایک ناشکری اور احسان فراموشی ہوگی، ظاہر بات ہے کہ علم کو کتابی شکل دے کر منظرِ عام پر لانے کے سلسلے میں بہت سی مشکلیں سامنے آتی ہیں، جن پر قابو پانے کے لئے ایک ایسی منظم جمعیت کی ضرورت ہے، جس کے افراد میں گوناگون قوّتیں
۵۴
اور طرح طرح کی صلاحیتیں پائی جاتی ہوں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ خانۂ حکمت کے اراکین میں یہ تمام صفات بدرجۂ اتم موجود ہیں۔
حق بات تو یہ ہے کہ ہمارے عزیزوں کی جمعیت علم کی اشاعت کے لئے بہت کچھ جدوجہد کر رہی ہے اور اس کا نتیجہ تسلی بخش ہے اور ان شاء اللہ اس نیک کام میں مزید ترقی کی امید ہے۔
جہاں علمی خدمت کا کوئی ذکر آئے وہاں جانِ عزیز ڈاکٹر فقیر محمد صاحب ہونزائی کا پرلطف تذکرہ ضرور ہونا چاہئے، اس کے بغیر نہ مجھے کوئی مزہ آتا ہے اور نہ میرے عزیزوں کو، جب میں موصوف کا نامِ گرامی لیتا ہوں تو اس سے میری مراد ایک علمی دنیا ہوتی ہے، جس میں علم و حکمت کی ہر شیٔ کے علاوہ مشرق و مغرب کے بہت سے علم دوست افراد سموئے ہوئے ہوتے ہیں، چنانچہ میں جانِ عزیز کے وسیلے سے سب عزیزوں کو یاد کرتا ہوں۔
میں یہاں ان حضرات، احباب اور عزیزوں کو بھی یاد کرتا ہوں جو پاکستان کے مختلف شہروں میں رہتے ہیں اور جو شمالی علاقہ جات میں بستے ہیں، جن کو میری کتابوں سے دلچسپی ہے، جن کے علمی ذوق و شوق کو دیکھ کر مجھے کام کا حوصلہ ملتا ہے، جو علم دوستی اور قدردانی جیسے اوصاف سے موصوف ہیں اور جو جان و دل سے علم کی روشنی پھیلانے کے خوہشمند ہیں۔
کاش کہ میں بہترین الفاظ میں کینیڈا کی نیک نام جماعت کا پرخلوص شکریہ جیسا کہ چاہئے ادا کر سکتا، کہ انہوں نے اس حقیر شخص میں امامِ عالی قدر کے روحانی علم پر اعتماد کرتے ہوئے ضروری سوالات کئے ورنہ “سو سوال” جیسی اہم کتاب عرصۂ وجود میں نمودار نہ ہوتی صرف یہی نہیں بلکہ اِس عظیم جماعت کے وسیلے سے ہمارا دائرۂ کار مشرق سے لے کر مغرب تک پھیل چکا ہے، جس
۵۵
کے لئے میں خصوصاً کینیڈا کے دوستوں اور عزیزوں کا شکر گزار اور ممنون ہوں۔
آخر میں عاجزانہ دعا ہے کہ خداوندِ عالم روحانی علم کی خدمت کرنے والوں کو اور اس علم سے دلچسپی رکھنے والوں کو دونوں جہان کی سلامتی اور کامیابی عطا فرمائے! ربّ العزّت ان جان نثار مؤمنین سے ہمیشہ راضی ہو! جو دینی علم کے فروغ و ترقی کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں دیتے رہتے ہیں! آمین یا ربّ العالمین!!
فقط بندۂ عاجز
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
بروزِ جمعہ ۲۸ شعبان ۱۳۹۸ھ، ۴ اگست ۱۹۷۸ء، سالِ اسپ
۵۶
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ظہوراتِ روح:
سوال نمبر ۲۶: روح کے دنیا میں بار بار آنے کے بارے میں اسماعیلیّت کا کیا عقیدہ ہے؟ کیا روح کے ہمیشہ مختلف ظہورات ہوتے رہتے ہیں؟
جواب: اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دینِ اسلام شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کا مجموعہ ہے، چنانچہ زمانۂ رسولؐ سے لے کر قیامت تک جتنا لمبا دور ہے وہ اسلام کے ان چاروں درجوں پر تقسیم ہے لہٰذا سب سے پہلے شریعت پر زور دیا جاتا ہے، اس کے بعد سب نہیں تو کچھ لوگ طریقت میں داخل ہو جاتے ہیں، تھوڑے سے لوگ حقیقت میں بھی پہنچ جاتے ہیں، اور معرفت تک بہت ہی کم لوگ رسا ہو جاتے ہیں، اس کے یہ معنی ہوئے کہ اسلام کی ظاہری تعلیمات پہلے آتی ہیں اور باطنی تعلیمات بعد میں، چنانچہ باطنی تعلیمات (یعنی حقیقت اور معرفت) کے مطابق روح دنیا میں بار بار آتی رہتی ہے، مگر روح کے بارے میں یہ سوال کافی نہیں ہے، کیونکہ ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ کیوں آتی ہے؟ اور کب آتی ہے؟ کس طرح آتی ہے؟ ناکامی کی صورت میں آتی ہے؟ یا کامیابی کی صورت میں یا دونوں طرح سے؟ پھر فرق کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
۱۔ اگر روح کا دنیا میں ظاہر ہو جانا رحمت ہے تو یہ رحمت بار بار کیوں نہ ہو، رحمتِ خداوندی تو لا انتہا ہوتی ہے۔
۵۷
۲۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے وجود و بقا کا تصور ایک دائرے کی طرح دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہر چیز ایک دائرے پر گردش کرتی رہتی ہے۔
۳۔ پیغمبرؐ کا ارشاد ہے کہ تمام امتوں کے مؤمنین بھائی بھائی ہیں اور تمام انبیاء ایک جان کی طرح ہیں۔ اگر سارے پیغمبر ایک جان کی طرح ہیں تو ان سب کا دنیا میں آنا ایک پیغمبر کے بہت سے ظہورات کی طرح ہیں، پس حقیقت کی رو سے یہ کیوں نہ کہیں کہ اگر تمام انبیاء ایک جان کی طرح ایک ہیں تو ان کے وہ سارے ظہورات دراصل نورِ محمدی کے تھے اور اماموں کی صورت میں بھی اسی ایک نور کے مختلف ظہورات ہیں، پس معلوم ہوا کہ روح کے بھی ظہورات ہوتے رہتے ہیں۔
۴۔ ہمارے تمام مسائل قرآنی حکمت ہی سے حل ہو سکتے ہیں، چنانچہ حکمت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ کائنات کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے اور خدا نے لوگوں کو اسی فطرت کے مطابق پیدا کیا ہے اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اس کائنات کی اور اس کے اندر جتنی چیزیں ہیں ان سب کی شکل اور چال یعنی گردش گول ہے اور اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اپنی شکل و صورت سے یا رفتار سے دائمی گردش کو ظاہر نہ کرتی ہو، مثلاً آسمان، سورج، چاند، سیارے، ستارے، ہوا، پانی، زمین وغیرہ اس سے ظاہر ہے کہ انسان بھی آتا جاتا رہتا ہے، مگر فرض کرو کہ سو لاکھ سو لاکھ سو لاکھ (تین کروڑ) برس میں جانا ہے اور سو لاکھ سو لاکھ سو لاکھ (تین کروڑ) برس میں آنا ہے، اور پورے دائرے کی مسافت چھ کروڑ برس کی ہے۔
اس کے علاوہ سوال نمبر ۱ اور سوال نمبر ۲ کے جواب کو بھی پڑھیں، تا کہ مطلب خوب ذہن نشین ہو جائے۔
۵۸
بنی آدم:
سوال نمبر ۲۷: کیا سارے انسان آدم و حوّا سے ہیں یا یہ کسی ایسے ارتقاء کی پیداوار ہیں، جیسا کہ مولائے رومی نے اس کا تصوّر پیش کیا ہے، کہ جمادات کی ترقی سے نباتات بن گئیں اور نباتات سے حیوانات بن گئے پھر انسان؟
جواب: اس سوال میں ڈارون اور مولائے رومی کے دو الگ الگ نظریوں کو خلط ملط کر کے پیش کیا گیا ہے، حالانکہ مولانا رومی کا نظریہ وہی ہے جو اسلام کا ہے اور اس میں ذرا بھی فرق نہیں، کہنا یوں ہے کہ رومی نے کب کہا ہے کہ دنیا کے انسان حضرت آدم کی اولاد نہیں ہیں؟ آپ ان کی کتابوں کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا۔
رومی نے جو کچھ کہا ہے اور جس طرح سے کہا ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، مولائے رومی نے قرآنِ حکیم کی روشنی میں انسانی تخلیق کے مختلف درجات کا ذکر کیا ہے، چنانچہ قرآن میں جگہ جگہ انسان کو مٹی سے پیدا کئے جانے کا ذکر موجود ہے، اور مٹی جمادات میں سے ہے، پھر ارشاد ہے کہ خدا نے تم کو زمین سے نباتات کی شکل میں اُگایا ہے (۷۱: ۱۷) نیز قرآن میں یہ بھی ہے کہ انسان حلال جانور کے دودھ کو پیتا ہے اور گوشت کھاتا ہے، اس سے ظاہر ہے کہ جمادات، نباتات اور حیوانات سے انسان کی شخصیت بنتی ہے اور حیوانی روح بنتی ہے، مولائے رومی نے انہی معنوں میں اپنے متعلق کہا ہے کہ وہ پہلے جمادات تھے، پھر نباتات ہو گئے بعد ازان حیوان میں آ گئے،
۵۹
اس کے بعد انسان میں بدل گئے اور جس معنیٰ میں انسان آدم کی اولاد ہیں وہ یہ ہے کہ آدمیّت اور انسانیت کی روح آدم و حوّا سے چلی آئی ہے اور پشت بہ پشت چلتی رہی ہے۔
انسانی تخلیق کے مختلف اعتبارات کیوں ہیں؟
اس لئے کہ انسانی وجود بہت سے عناصر سے مکمل ہو جاتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ انسان پوری کائنات و موجودات کا خلاصہ ہے، کیونکہ انسان کئی کئی تخلیقوں کے بعد مکمل ہو گیا ہے اور اس میں ہر چیز موجود ہے۔
سوال نمبر ۷ کے جواب کو بھی پیشِ نظر رکھو اور غور سے پڑھو تا کہ مطلب واضح ہو سکے۔
حضرتِ خضر:
سوال نمبر ۲۸: حضرتِ خضرؑ کون ہے اور دنیا میں اس کی دائمی موجودگی کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟
جواب: حضرتِ خضر علیہ السّلام اپنے وقت میں ایک پیغمبر تھا، اور وقت آنے پر دنیا سے رحلت کر گیا، مگر کسی نہ کسی طرح سے یہ ایک روایت بن گئی کہ خضر پیغمبرؑ نے آبِ حیات پی لیا تھا، لہٰذا وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہے، اِ س سلسلے میں لوگوں کو گمان تھا کہ دنیا کے کسی گوشے میں ظلمات (تاریکیاں) کے نام سے ایک مقام ہے، جہاں آبِ حیات کا چشمہ پایا جاتا ہے، جس کو اگر کوئی آدم زندگی میں ایک بار پی سکتا ہے، تو وہ کبھی نہیں مرتا بلکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہتا ہے، کہتے ہیں کہ اسکندر نے آبِ
۶۰
حیات حاصل کرنے کے لئے کوشش کی تھی، مگر وہ کامیاب نہیں ہوا، اِن ساری باتوں کی بنیاد کہانی پر قائم کی گئی ہیں نہ کہ حقیقت پر۔
مگر یہ بات درست ہے کہ اِس مشہور روایت سے مثال کا کام لے کر اکثر دفعہ تاویل پیش کی گئی ہے، چنانچہ ظلمات کی تاویل ہے جہالت و نادانی، کیونکہ معرفت اسی میں پوشیدہ ہوا کرتی ہے، آبِ حیات سے معرفت مراد ہے اور خضرؑ کے معنی ہیں ہادئ برحق جو ہر وقت دنیا میں حاضر ہے، چونکہ معرفت کے آبِ زندگانی کا رہنما وہی ہے، اور معرفت ہی حقیقی معنوں میں آبِ حیات ہے، جس کے حصول سے مؤمن روحانی طور پر زندۂ جاوید ہو جاتا ہے نہ کہ جسمانی طور پر۔
قرآنِ حکیم سختی کے ساتھ اس بات کی تردید کرتا ہے کہ کوئی نفس موت کا مزہ نہ چکھے (۲۹: ۵۷) اور کوئی جسم آنحضرتؐ سے قبل ہمیشہ کے لئے زندہ رہے(۲۱: ۳۴) پھر کس طرح حضرتِ خضرؑ اور حضرتِ عیسیؑ یا اور کوئی جسمانی طور پر ہمیشہ کے لئے زندہ رہ سکتا ہے۔
آج کل سائنس اور ٹیکنالوجی نے دین کی حقیقتیں سمجھنے کے لئے بڑی آسانیاں پیدا کر دی ہیں، چنانچہ ظاہر ہے کہ اس سیّارۂ زمین پر کہیں کوئی ایسا آبِ حیات نہیں پایا جاتا کہ جس کے پینے سے انسان ہمیشہ کے لئے جسمانی طور پر زندہ رہ سکے، پھر حضرتِ خضرؑ کی جسمانی زندگی کی روایت بغیر تاویل کے کس طرح درست ثابت ہو سکتی ہے۔
۶۱
نبوّت اور امامت:
سوال نمبر ۲۹: کسی پیغمبر اور امام کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے؟
جواب: نبوّت اور امامت ایک ہی حقیقت کے دو پہلو یا کہ ایک ہی نور کے دو رخ ہیں لہٰذا باطن کے باطن میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں، مگر ظاہر میں فرق ہے، اور وہ بھی ہمیشہ نہیں بعض دفعہ، جس کی وضاحت یہ ہے کہ زمانہ دو حصوں میں منقسم ہے ایک دورِ نبوّت ہے اور دوسرا دورِ امامت، چنانچہ اگر نبوّت کا دور ہے تو امام بعض دفعہ کسی نمایان پیغمبر کی حیثیت سے بھی ہو سکتا ہے، بعض اوقات کسی ایسے پیغمبر کی شخصیت میں بھی جس کو بہت کم لوگ جانتے ہیں اور بعض مرتبہ کسی مخفی کامل انسان کی صورت میں بھی، اور اگر امامت کا دور ہے تو امامِ عالی مقام حضرتِ پیغمبرؐ کا جانشین ہوا کرتا ہے، جیسا کہ اس زمانے میں ہے اس کے یہ معنی ہوئے کہ دورِ نبوّت میں امامت کا مرتبہ بحیثیتِ مجموعی پوشیدہ رہتا ہے اور دورِ امامت میں یہ مرتبہ آشکار ہو جاتا ہے۔
پیغمبرؐ کا دائمی معجزہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آسمانی کتاب کو حاصل کرتا ہے اور اس کی تنزیل بیان کرتا ہے اور امام کا معجزہ یہ ہے کہ وہ اس کتاب کی روحانیّت و تاویل سکھاتا ہے، رسولؐ اپنے وقت میں صرف انہی لوگوں کی ہدایت فرماتا ہے جو اقرارِ نبوّت کے دائرے میں داخل ہیں اور آئندہ ہدایت امام کے سپرد کر دیتا ہے، اور امام صرف انہی لوگوں کی ہدایت کرتا ہے جو اقرارِ امامت کے دائرے میں آ چکے ہیں۔
۶۲
پیغمبرؐ نے جس طرح ایک ایسی پُرحکمت کتاب لائی کہ اس کے ظاہر و باطن میں شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی تعلیمات موجود ہیں، امامِ عالی مقامؑ اسی طرح زمانے کی ترقی و تبدیلی کے ساتھ ساتھ قرآن اور اسلام کی ان تعلیمات میں لوگوں کو آگے بڑھاتا ہے اور صراطِ مستقیم پر منزل بمنزل ان کی رہنمائی کرتا ہے۔
حضرتِ حسنؑ :
سوال نمبر ۳۰: یہ تو مسلّمہ ہی ہے کہ حضرتِ حسنؑ پنجتنِ پاک کا ایک رکن ہیں اور اس کے علاوہ اسماعیلی نقطۂ نگاہ سے حضرتِ حسنؑ کا کیا درجہ ہے؟
جواب: جیسا کہ سوال نمبر ۸ کے جواب میں اس کا مفصل ذکر گزرا اور سوال نمبر ۳۲ کے جواب میں بھی اس کا مختصر ذکر کیا گیا ہے کہ حضرتِ حسن علیہ السّلام امام تھا، مگر امامِ مستودع، کیونکہ نورِ امامت زمان و مکان کے تقاضا کے مطابق مختلف درجات میں ظہور پذیر ہوتا ہے، مثلاً امامِ مقیم، امامِ اساس، امامِ متم، امامِ مستقر اور امامِ مستودع (دیکھو کتاب الامامۃ فی الاسلام صفحہ ۱۴۳)
امامِ مستودع امامِ مستقر کے علاوہ ہوتا ہے، جس کی امامت ایک پشت یا چند پشتوں کے بعد امامِ مستقر میں لوٹ جاتی ہے، چنانچہ حضرتِ ابراہیمؑ کے بعد حضرتِ اسماعیل ؑ امامِ مستقر تھا اور حضرتِ اسحاقؑ امامِ مستودع، جس کی امامت کئی پشتوں کے بعد آنحضرتؐ کے زمانے میں مستقر کی طرف لوٹ آئی تھی (ملاحظہ ہوں مذکورہ کتاب کے
۶۳
صفحات ۱۴۹، ۱۵۱، ۱۵۳ اور ۱۵۵)
وارثِ رسولؐ:
سوال نمبر ۳۱: اگر اہلِ سنت واقعۂ غدیرِ خم سے انکار کریں تو کس طرح کوئی شیعہ ثابت کر سکتا ہے کہ حضرتِ علیؑ ہی رسول کے حقیقی وارث اور حقدار جانشین تھے؟
جواب: یہ مسئلہ کوئی نیا تو نہیں، اس بنیادی اہم موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، لہٰذا آپ خود ان کتابوں کا غوروفکر سے مطالعہ کریں، تاہم آپ کی فوری خواہش کے پیشِ نظر یہاں پر بھی کچھ وضاحت کی جاتی ہے کہ:
(الف) وارثِ رسولؐ امام علی و أئمۂ اولادِ علی علیہم السّلام ہی ہیں، جن کو بموجبِ ارشادِ قرآنی (۳۵: ۳۲) اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتاب کی وراثت کے لئے برگزیدہ فرمایا ہے، تاکہ وہ آنحضرتؐ کے بعد اس ربّانی منشاء کا عملی نمونہ بن کر دنیا میں ہمیشہ حیّ و حاضر رہیں، اور حقدار مسلمین و مؤمنین کی بجا طور پر ہدایت و رہنمائی کریں۔
(ب) آپ نے سوال میں اتفاقاً لفظ “انکار” کو استعمال کیا ہے، جس کی مراد یہاں محکم دلائل کو قبول نہ کرنا ہے، اور یہ ایک ایسی منطق ہے کہ اس سے آپ کا سوال خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اور مزید پوچھنے کی گنجائش نہیں رہتی۔
(ج) اولادِ علیؑ کے أئمّۂ اطہار علیہم السّلام کے سلسلۂ امامت و ہدایت کا اسی طرح جاری و باقی رہنا جس طرح کہ شروع سے اب تک چلے آیا ہے خود اس
۶۴
حقیقت کا سب سے عظیم اور سب سے روشن ثبوت ہے کہ اہلِ بیتِ رسول ہی آنحضرتؐ کے حقیقی وارث ہیں اور اس پاک آسمانی وراثت کے حقدار یہی حضرات ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد ہی یہی ہے کہ دین میں ہمیشہ کے لئے نظامِ ہدایت اسی طرح قائم رہے جس طرح پیغمبرِ اکرمؐ کے زمانے میں تھا۔
(د) علیؑ و أئمّۂ اولادِ علیؑ کے سوا اور کون سا سلسلہ ہے جو حبل اللہ کا ممثول ہو سکے، کہ خدا کی رسی کبھی ٹوٹتی نہیں (۰۳: ۱۰۳)، خدا کا نور کہلائے کہ وہ ہرگز نہیں بجھتا (۶۱: ۰۸)، ایک پاک سدا بہار درخت کی طرح ہمیشہ اور ہر موسم میں پھل دیتا رہے کہ اس کی جڑ مضبوط اور شاخ آسمان میں جا لگی ہے (۱۴: ۲۴ تا ۲۵)، ولئ امر کی حیثیت سے خدا و رسولؐ کی نمائندگی کرے کہ دینی ہدایت کا مرکز ہمیشہ قائم رہتا ہے (۰۴: ۵۹) اور اس کے وسیلے سے آلِ ابراہیم اور آلِ محمدؐ کی عظمت و بزرگی برقرار رہے کیونکہ آسمانی کتاب و حکمت اور ملکِ عظیم (روحانی سلطنت) کی میراث کی فضیلت قیامت تک صرف اسی خاندان کو حاصل ہے (۰۴: ۵۴)۔
امام اسماعیل ؑ :
سوال نمبر ۳۲: فلان کتاب کے فلان صفحے پر مصنف نے لکھا ہے کہ امام اسماعیلؑ اپنے پدرِ بزرگوار امام جعفر الصادقؑ کی زندگی ہی میں انتقال کر گئے تھے، اور جناب موسیٰ کاظم حقیقی جانشین تھے، کیا آپ کچھ جوابی دلائل سے ہمیں یہ ثبوت مہیا کر دیں گے کہ امام جعفر الصادقؑ کے بعد امام اسماعیلؑ زندہ تھے، اور امامت کے حقیقی وارث بھی وہی تھے؟
جواب: مخالفانہ قسم کی کتابوں کو اہمیت دینا بہت بڑی کمزوری
۶۵
ہے، لیکن جاننے کے لئے سوال کرنا ضروری ہے سو جاننا چاہئے کہ قانون دین کا ہو یا دنیا کا، اس میں ہمیشہ یہی ہوا کرتا ہے، کہ وہ ایک طرف سے ایسے عام اصولات کا مجموعہ ہوتا ہے جو وہ ہر وقت ایک جیسے رہتے ہیں، اور دوسری طرف سے اس میں خصوصی واقعات اور مستثنیات کے لئے ہر وقت گنجائش بھی رہتی ہے، تا کہ بوقتِ ضرورت کوئی تنگی نہ ہو، چنانچہ کتابِ “وجہِ دین” حصّۂ اوّل کلام نمبر ۱۱ صفحہ ۱۱۲ پر تحریر ہے کہ شاہ اسماعیلؑ کی امامت ان کے والد کی موجودگی ہی میں محمد بن اسماعیلؑ میں منتقل ہو گئی تھی، جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ امام جعفر الصادقؑ نے وقت سے بہت پہلے اسماعیل کو امامت تفویض کر دی تھی اور امام اسماعیلؑ نے بھی ایسا ہی کیا تھا، یعنی انہوں نے اپنے والدِ ماجد کی موجودگی ہی میں امامت اپنے بیٹے محمد بن اسماعیلؑ پر نص کر دی تھی، اس سے وہ تاریخی سوال ختم ہو گیا کہ امام اسماعیلؑ کا انتقال کب ہوا تھا؟ باپ کی زندگی میں یا بعد کے کسی وقت میں؟ کچھ بھی ہو، بہر حال امامت کا سلسلہ اسماعیلؑ کے ذریعے سے جاری تھا نہ ان کے بھائی کے وسیلے سے، اور آج تک جبکہ امامت حضرتِ امام اسماعیلؑ کی نسل میں سے چلی آئی ہے تو ماننا پڑے گا کہ امام اسماعیلؑ ہی حق پر تھے۔
یہ درست ہے کہ امامت اکثر دفعہ امام کی جسمانی زندگی کے آخری ایام میں یا آخری لمحات میں منتقل ہو جاتی ہے، یہ دراصل صرف اختیار کی منتقلی کی بات ہے، ورنہ یہ سچ ہے کہ ہونے والا امام روحانیّت اور نورانیّت کی منزلیں بہت پہلے ہی طے کر لیتا ہے، کیونکہ نور مادّی چیز کی طرح ایسا نہیں کہ وہ صرف ایک ہی شخصیّت میں محدود ہو، بلکہ وہ بیک وقت کئی شخصیتوں میں موجود ہو سکتا ہے، چنانچہ پنجتن کی مثال لی جائے کہ نور اُن پانچ حضرات میں سے کس میں تھا؟ سب میں نا، اختیار کس کو حاصل تھا؟ ایک کو، جو آنحضرتؐ تھے، اس سے
۶۶
ظاہر ہے کہ نورِ امامت کی روشنی باپ کے علاوہ بیٹے اور پوتے میں بھی پہنچتی ہے، کیونکہ نور ایک دن میں منتقل نہیں ہو سکتا ہے اور جو چیز فوراً منتقل ہو سکتی ہے وہ دینی ہدایت کا اختیار ہے۔
قرآن میں یہ ذکر ہے کہ خدا کے نور کو کوئی نہیں بجھا سکتا لیکن اس کے معنی یہ ہرگز نہیں کہ کبھی کسی پیغمبر کو اور کسی امام کو شہید نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ خداوند تعالیٰ ایسا وقت آنے پر جس تدبیر سے اپنے نور کو دوسری شخصیّت میں تبدیل کرتا ہے اس کے بھید ایسے ہیں کہ ان کو ہر شخص نہیں پا سکتا، چنانچہ زمانے کے خطرات کے پیشِ نظر شاہ اسماعیلؑ کی امامت معجزانہ طور پر محمد بن اسماعیلؑ میں منتقل ہو گئی تھی۔
سیدنا قاضی نعمان کتاب “اساس التاویل” میں اور پیر ناصر خسرو قس کتاب “وجہِ دین” میں فرماتے ہیں کہ حضرتِ یعقوبؑ کی امامت بہت پہلے ہی حضرتِ یوسفؑ کو منتقل ہو گئی تھی، جس کی وجہ یوسفؑ کے بھائیوں کی دشمنی تھی، وہ نہیں چاہتے تھے کہ باپ کی نظرِ انتخاب ان کو چھوڑ کر یوسفؑ پر رہے۔
حضرتِ علیؑ کی شہادت سے پیشتر حضرتِ حسنؑ اور حضرتِ حسینؑ میں نورانیّت اور امامت کی صلاحیت آچکی تھی، جس کے بارے میں پیغمبرؐ نے ارشاد فرمایا تھا کہ “حسن اور حسین دونوں امام ہیں خواہ کھڑے ہو جائیں یا بیٹھیں اور ان کا والد ان سے بہتر ہے۔”
اسی طرح حضرتِ امام حسینؑ کی شہادت سے پہلے ہی امامت حضرتِ زین العابدین کو مل چکی تھی، کیونکہ قدرت وقت کے تقاضا کے مطابق اپنا کام کرتی ہے، پس یہ حقیقت اور زیادہ روشن ہوئی کہ حضرتِ اسماعیلؑ کی امامت وقت سے پہلے محمد بن اسماعیلؑ میں منتقل ہوئی تھی جس کا سبب اوپر بتایا گیا۔
۶۷
روحانی ترقی:
سوال نمبر ۳۳:روحانی ترقی کی بنیادی شرطیں کیا ہیں؟ اگر ایک مؤمن عرصۂ دراز سے باقاعدہ عبادت کرتا رہا ہے پھر بھی اس کی کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے تو ایسی پس ماندگی کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
جواب: روحانی ترقی کی بنیادی شرطیں امامِ زمانؑ کی حقیقی اور پوری پوری فرمانبرداری ہے، جو علم و عمل سے ہو سکتی ہے یعنی روحانی ترقی کی ایک بنیادی شرط دینی علم ہے اور دوسری شرط نیک عمل ہے، دینی علم سے مراد علم الیقین ہے، یعنی ایسا علم جس کے ذریعے سے تمام شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے اور سوالات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں، اور عمل یعنی اعمال ایسے کہ وہ امامِ زمانؑ کی مرضی کے مطابق ہوں، تاکہ روحانی ترقی ہو سکے۔
اگر مؤمن عرصۂ دراز تک باقاعدہ عبادت کرتا ہے تو اس کی روحانی ترقی ضرور ہو گی، لیکن یہاں مشکل یہ ہے کہ آپ نے ایسے مؤمن کو جس معیار سے پرکھ لیا ہے وہ بالکل عام معیار ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس عبادت کو آپ باقاعدہ کہتے ہیں وہ پھر بھی باقاعدہ نہیں ہے، کیونکہ اس میں علم الیقین کی کمی ہے اور اعمال کی خامی ہے، نیز ممکن ہے کہ “ذکر” کے طریقِ کار میں بھی فرق ہو، آپ دیکھیں میری کتاب “ذکرِ الٰہی” کو جس کا اردو سے انگلش میں ترجمہ جانِ عزیز ڈاکٹر فقیر محمد صاحب ہونزائی اور محترمہ زین رحیم قاسم نے کیا ہے۔
۶۸
حضرتِ آدمؑ :
سوال نمبر ۳۴: آپ یہ بتائیں کہ دنیا میں کتنے آدم ہو گزرے ہیں؟
جواب: اگر عام روایت اور ظاہری علم کو دیکھا جائے تو یوں لگے گا جیسا کہ صرف ایک ہی آدم اِس دنیا میں آیا ہو، لیکن جب کسی حقیقی مؤمن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکمت دی جاتی ہے تو وہ جانتا ہے کہ تخلیقِ آدم کا مسئلہ اور اس کی حقیقت کیا ہے، وہ سمجھ لیتا ہے کہ آدم ایک نہیں کئی ہیں بلکہ لاتعداد ہیں، کیونکہ آدم سے وہ انسانِ کامل مراد ہے، جس سے انسانیت اور مذہب کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہی میں، جو قدیم ہے، ہمیشہ ہمیشہ ایسے ادوار کا سلسلہ جاری ہے، جس کے معنی ہیں کہ اس وسیع و عریض کائنات میں سیّارۂ زمین کی طرح بہت سی دنیائیں بنتی اور مٹتی رہتی ہیں، اور ہر دنیا کی عمر میں کئی کئی آدموں کے ادوار گزرتے ہیں۔
ترمیم و تجدید:
سوال نمبر ۳۵: ہماری مقدّس دعا میں ترمیم و تجدید کیوں کی گئی؟ خصوصاً یہ سوال بعض بنیادی الفاظ کے بارے میں ہے؟
جواب: اسلام دینِ فطرت ہے اس لئے وہ اپنے ظاہر و باطن میں یہ گنجائش رکھتا ہے کہ زمانے کے بدلتے ہوئے حالات اور لوگوں کی
۶۹
ضرورت کے پیشِ نظر اس میں مناسب ترمیمات کی جائیں، تا کہ سچے دین پر عمل کرنے میں لوگوں کو کوئی دشواری پیش نہ آئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا مقدّس ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے وہ تم کو مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتا (۰۲: ۱۸۵)۔
خداوندِ برحق کے اس پاک فرمان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ مہربان یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ دین و مذہب کے معاملے میں کوئی غیر ضروری سختی اور دشواری لوگوں کے سامنے آئے، لہٰذا اُس نے اپنی بے پناہ رحمت سے ہادئ برحق کو امورِ دین میں یہ اختیار عنایت کر دیا ہے کہ جہاں اور جب ضرورت ہو وہ مناسب ترمیمات کر لیا کرے۔
اِس سلسلے میں یہ بحث بڑی مفید ہے کہ دینِ حق یعنی اسلام کب سے ہے؟ حضرتؐ کے زمانے سے بلکہ ازل سے، کیا یہ صحیح ہے کہ زمانۂ آدمؑ سے لے کر آنحضرتؐ کے عہدِ مبارک تک سچا دین (اسلام) جس طرح چلے آیا ہے اس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں زمانے کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ترمیمات ہوتی رہی ہیں؟ ہاں یہ حقیقت ہے، یہ ترمیمات کس طرح کی جاتی تھیں؟ وہ اس طرح کہ دین کے احکام دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک قسم میں ترمیم کی گنجائش ہوتی ہے اور دوسری قسم میں نہیں ہوتی، پس جن احکام میں ترمیم و تجدید کی گنجائش ہے انہی میں ترمیم و تجدید کی جاتی ہے، دوسری قسم کے احکام میں نہیں۔
کیسے پتا چلے کہ دین کی بعض چیزوں میں تبدیلی کا وقت آچکا ہے؟ نبوّت کے دور میں جب ایک پیغمبر کے بعد دوسرا پیغمبر آتا ہے اور امامت کے دور میں جب ایک امام کے بعد دوسرا امام مقرر ہو جاتا ہے تو تب پتا چلتا
۷۰
ہے کہ اب دین کی بعض باتوں میں رفتہ رفتہ ترمیمات ممکن ہیں، اور اس اصول میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں ہیں۔
شرائط و آدابِ عبادت:
سوال نمبر ۳۶: عبادت اور ذکر کس طرح ہونا چاہئے تا کہ کامیابی ہو؟
جواب: (الف) بندۂ مخلص حقیقی محبّت کے جذبات سے سرشار ہو کر خاص و عام عبادت کرے تا کہ روحانی ترقی ہو، قوم کی خیرخواہی اور خدمت لازمی شرط ہے۔
(ب) حقیقی مؤمن کو چاہئے کہ صبح و شام گریہ و زاری کر کے عملی طور پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرے، کیونکہ اگر ذرا بھی گناہ کا زنگ دل میں رہ گیا تو عبادت آگے نہیں بڑھتی ہے، دینی علم کے بغیر روحانی ترقی ناممکن ہے۔
(ج) بندۂ مؤمن کو دائم الذکر (یعنی ہمیشہ ذکر کرنے والا) ہونا چاہئے تا کہ رفتہ رفتہ اس کا دل پاک ہو، اور عبادت کامیاب ہو جائے، تقویٰ بہت ضروری ہے۔
(د) اگر آپ خصوصی عبادت کے وسیلے سے روحانی ترقی کرنا چاہتے ہیں، تو رات کو وقت سے پہلے اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور میں خوب مناجات اور گریہ و زاری کریں، نہایت ہی عاجزی سے بار بار سجدے میں جائیں اور دعا مانگیں۔
(ہ) آپ مکمل طور پر پرہیزگار بنیں، یعنی دین کے اوامر پر عمل کریں اور نواہی سے باز رہیں، اور اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے حواسِ ظاہر اور
۷۱
حواسِ باطن کو خدا تعالیٰ کے امر و فرمان کے مطابق استعمال کریں۔
نوٹ: اس سلسلے میں “ذکرِ الٰہی” (جو میری ایک کتاب ہے) کا مطالعہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
نورانیت کا وقت:
سوال نمبر ۳۷: اسمِ اعظم کے ذکر کے لئے کسی اور وقت کی بجائے صبح چار بجے سے پانچ بجے تک کا وقت کیوں منتخب کیا گیا ہے؟
جواب: یہ وقت اس لئے منتخب ہے کہ اس میں کم سے کم چار فضیلتیں ہیں:
(۱) صبح کا یہ وقت رات کا آخری حصہ ہے، اور رات پرسکون و کامیاب عبادت کے لئے دن کے مقابلے میں زیادہ مناسب اور موزون ہے۔
(۲) صبح کا وقت شام کے وقت سے زیادہ بہتر ہے، کیونکہ ایک بار سو کر جاگنے سے مؤمن کا دل و دماغ عبادت کے لئے ہر طرح سے تازہ دم اور تیار ہو جاتا ہے۔
(۳) صبح سویرے جاگنے میں حقیقی دوست کی طرف سے امتحان ہے کہ مؤمن کس حد تک دیدار کا جذبہ رکھتا ہے۔
(۴) اس میں وقت کی بچت اور کام کی عمدگی کا فلسفہ بھی ہے کہ یہ خصوصی عبادت رات کے آخری کنارے پر رکھی جائے تا کہ یہ عام عبادت سے قریب ہو کہ جس سے نہ صرف رات کا وقت آرام کے لئے اور دن کا وقت کام کے
۷۲
لئے بچے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ خاص و عام عبادت کی طاقت حاصل کرنے کے فوراً بعد دن کا کاروبار شروع کیا جائے تا کہ اس روحانی طاقت سے کام کاج میں مدد اور بہتری ہو۔
توحید:
سوال نمبر ۳۸: سورۂ اخلاص میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ پاک اس مادّی دنیا میں نہیں آیا ہے، کیا آپ اس سلسلے میں کچھ وضاحت فرمائیں گے؟
جواب: سورۂ اخلاص میں اللہ تعالیٰ کی ہویّت کے بارے میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے وہ ایسے الفاظ میں نہیں ہے، جن کو آپ نے استعمال کیا ہے، خیر ہے، بہرحال آپ کا مقصد خدائے بزرگ و برتر کی وحدانیّت کے بارے میں سوال کرنا ہے، یعنی آپ علمِ توحید کے باب میں بنیادی باتیں جاننا چاہتے ہیں، سو اس سوال کا مکمل جواب میری ایک تصنیف “پنج مقالہ نمبر ۴” کے آخری ۲۴ صفحات پر مشتمل ہے، آپ اس کا بغور مطالعہ کریں۔
امامِ عالی مقام حضرت مولانا سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کے ارشاداتِ گرامی میں انسان کی خود شناسی اور خدا شناسی کی بہت سی روشن حقیقتیں موجود ہیں، اور اس سلسلے کی آخری اور سب سے اعلیٰ تعلیم نظریۂ “یک حقیقت” سے متعلق ہے، جس کے سمجھنے سے نہ صرف توحید کے تمام سوالات ختم ہو جاتے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ دوسرے سب اونچے درجے کے حقائق بھی واضح اور روشن ہو کر کلّی طور پر اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔
۷۳
اگر یک حقیقت کا نظریہ درست ہے تو اس کا تجربہ سب سے پہلے اپنی ذات پر نہیں بلکہ انسانِ کامل پر کرنا ہوگا، کیونکہ وہی تو ہے جو کل حقیقتوں کے ازلی و ابدی طور پر ایک ہونے کا نمونہ ہیں، یعنی خود ہادئ برحق ہی تمام روحوں کی دائمی وحدت اور “یک حقیقت” کی مثال ہیں اور وہی اس کی جانب سے نمائندگی اور اس کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
قرآن اور اسلام میں حضورِ اکرمؐ کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ ابراہیمؑ کی خدا شناسی اور توحید کو سمجھنے، سمجھانے اور عملاً پیروی کرنے کے لئے بہترین مثال قرار دی گئی ہے (۰۶: ۷۶ تا ۷۹)۔ آپ ؑ نے علی التّرتیب ستارے کو پھر چاند کو اور سورج کو ربّ مانا، اور نتیجے کے طور پر آپؑ خالقِ کائنات کی معرفت کو پہنچ گئے، اس میں حدودِ دین کے وسیلے سے خدا کی وحدت یعنی یک حقیقت تک پہنچ جانے کا اشارہ ہے۔
اگر آپ مذاہبِ عالم اور خود اسلام کی تاریخ کو دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اپنے مرتبہ پر ہمیشہ ایک جیسی ہے، لیکن اس کی جو کچھ ترجمانی اور وضاحت کی گئی ہے اس میں ترقی ہوتی آئی ہے اور رفتہ رفتہ نکھار پیدا ہوا ہے، یہ واقعہ بالکل حضرتِ ابراہیمؑ کی مثال کی طرح ہے، کیونکہ دین بھی بحیثیتِ مجموعی ایک عام آدمی کی طرح نہیں بلکہ حضرتِ ابراہیمؑ کی طرح ہے، لہٰذا مذہب کی عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ حقیقت اور معرفت کی ترقی ہونی چاہئے۔
۷۴
تصویر:
سوال نمبر ۳۹: امام حاضر اور موجود ہے تو پھر تصویر جماعت خانہ میں کیوں رکھی جاتی ہے؟ کیا یہ بت پرستی نہیں ہے؟
جواب: اس سوال کا پہلا حصہ غیر منطقی ہے اور دوسرا حصّہ درست ہے، بہرحال اس کا جواب یہ ہے کہ امام کی تصویرِ مبارک ہرگز بت پرستی نہیں، کیونکہ امامِ زمانؑ خدا کا زندہ اسمِ اعظم ہے جو “الحی القیوم” ہے، اور تصویر اس میں اسمِ اعظم کی اشارت اور علامت ہے، جیسے “اللہ” خدا کا نام ہے اور لفظ “اللہ” کے حروف یعنی الف، لام، لام اور ہا (ا ل ل ہ) کچھ خدا تو نہیں ہیں مگر اشارت اور علامت ہیں، جن کی وجہ سے خدا کے نام کا تعیّن اور شناخت ہو جاتی ہے، لہٰذا نہ حروف فضول ہیں اور نہ لفظِ اللہ، اسی طرح امامِ برحق کی مبارک شخصیّت جس معنیٰ میں خدا کا سب سے بڑا نام ہے اسی معنیٰ میں اس کی تصویر سب سے بڑا نقش (تحریری شکل) ہے۔
فریضۂ حج اسلام کے سات ستون میں سے ہے، اور اگر اس کے آداب میں ظاہری نظر سے دیکھا جائے تو بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بت پرستی جیسی لگتی ہیں، مگر حقیقت میں وہ ایسی نہیں ہیں، کیونکہ خدا و رسولؐ نے اُن میں بہت سی تاویلی حکمتیں رکھی ہیں۔
قرآنِ حکیم (۰۲: ۱۵۸، ۰۵: ۰۲، ۲۲: ۳۲، ۲۲: ۳۶) میں شعائر اللہ کا ذکر آیا ہے، جس میں ان شعائر کی حرمت و تعظیم دل کی پرہیزگاری قرار دی گئی ہے، اور صاف طور پر ظاہر ہے کہ پیغمبرؐ اور امامؑ کی شخصیّت خود شعائر اللہ میں سے ہے، اور اگر یہ
۷۵
بات نہ ہوتی تو آنحضرتؐ نہ فرماتے کہ علیؑ کے چہرے کی طرف دیکھنا ایک عبادت ہے، حضورؐ نہ فرماتے کہ قرآن کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور امام کی طرف دیکھنا عبادت ہے، پس ان ارشادات سے معلوم ہوا کہ پیغمبر اور امام کی مقدّس شخصیت شعائر اللہ میں سے ہے لہٰذا امامِ زمانؑ کی تصویر قابلِ احترام ہے۔
مقصدِ تخلیق:
سوال نمبر ۴۰: اللہ تعالیٰ نے انسان کو کس لئے پیدا کیا؟ انسان اس دنیا میں کس مقصد کو پورا کرتا ہے؟
جواب: یہ سوال نمبر ۲۰ پر بھی آیا ہے، جس کا مختصر جواب وہیں حصّۂ اوّل میں دیا گیا ہے، اور یہاں بھی اُسی جواب کی کچھ مزید وضاحت کی جاتی ہے کہ روح اور روحانیّت کی پہچان جو ربّ العزّت کی معرفت کا ذریعہ ہے ایک بے مثال اور لازوال مخفی خزانے کی طرح ہے، اس تک رسائی اور شناخت انسان کے لئے انتہائی ضروری ہے، لہٰذا وہ اسی عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے دنیا میں آیا ہے، چنانچہ اگر اُس نے اپنی ذات کی معرفت میں خدا کی معرفت حاصل کر لی، تو وہ بے پایان اور غیر فانی مخفی خزانہ اس کو دیا جاتا ہے ورنہ نہیں، پس انسان کے اس دنیا میں آنے کا مقصدِ اعلیٰ یہی ہے۔
جس حدیثِ قدسی کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے اگر اس میں عقل و دانش سے خوب سوچا جائے، تو نتیجے کے طور پر یہ رازِ پنہان پردۂ اخفاء سے آشکار ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین سے جتنے وعدے کئے ہیں ان میں
۷۶
سب سے عظیم ترین وعدہ وہی ہے جس کا تعلق معرفت سے ہے، کہ جو شخص خداوند تعالیٰ کو کماحقہٗ پہچانے، اس کو پروردگار ایک بے مثال روحانی خزانے کی حیثیت سے ملے گا، اسی سے معرفت کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے اور اسی سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ تخلیق کا مقصدِ اعلیٰ معرفتِ خداوندی ہے۔
قیامت اور آخرت:
سوال نمبر ۴۱: روزِ قیامت کیا ہے؟ اور اگر موت کے بعد دوسری زندگی ہے تو وہ کس نوعیت کی زندگی ہو گی؟
جواب: اس سلسلے میں سوال نمبر ۹، ۱۹ اور ۲۱ کے جوابات میں کافی وضاحت کی گئی ہے، اور یہاں بھی کچھ صراحت کی جاتی ہے کہ انسان اس دنیا میں دو قسم کی زندگی گزارتا ہے، ایک اس کی ذہنی زندگی ہے اور دوسری خارجی، ذہنی زندگی کی تین شاخیں ہیں یا اس کے لئے تین دنیائیں ہیں، فکر و خیال کی دنیا، خواب کی دنیا، اور روحانیّت کی دنیا، اور دوسری طرف ان تینوں کے مقابلے میں خارجی زندگی ہے جو ظاہر ہے۔
تفکر و تخیل کی دنیا میں ایک انسان کس طرح زندگی کا تجربہ کر سکتا ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ آپ کچھ دیر کے لئے ظاہری حواس کے استعمال کو چھوڑ کر اپنے باطن کی طرف متوجّہ ہو جائیں، اور کچھ اچھے خیالات میں ڈوب جائیں، یعنی ظاہری طور پر دیکھنے، سننے، سونگھنے، بولنے (چکھنے) اور چھونے کی قوّتوں کو کام میں نہ لائیں، بلکہ اپنے دل و دماغ کی طاقتوں کو حرکت میں لا کر خود کو دنیائے فکر و خیال ہی میں محدود کریں، پھر خوب غور و فکر کر کے آپ خود بتائیں کہ آیا اس حالت میں بھی ایک زندگی نہیں ہے،
۷۷
جو ظاہری زندگی سے مختلف اور الگ ہے؟ اور اگر آپ اس کیفیت کو ایک قسم کی ذہنی زندگی تسلیم کرتے ہیں تو یہ اس حقیقت کی دلیل ہوئی کہ آدمی اس جسم کو چھوڑ جانے کے بعد بھی کسی طرح سے زندہ رہ سکتا ہے۔
اسی طرح خواب کی مثال لی جائے، کہ وہ زندگی بھی ظاہری زندگی سے نرالی اور جدا ہے، اور جسمانی موت کے بعد روحانی طور پر زندہ رہنے کا ایک بیّن ثبوت ہے، چنانچہ ایک با شعور انسان کو اچھی طرح غور کرنا چاہئے کہ آدمی جب عالمِ خواب میں چلا جاتا ہے تو وہ اس وقت اپنے آپ کو ظاہری وجود میں پاتا ہے یا باطنی وجود میں؟ وہ کس آنکھ سے دیکھتا ہے؟ جسمانی آنکھ سے یا روحانی آنکھ سے؟ ظاہری آنکھ تو سوئی پڑی ہے، وہ کس کان سے سنتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نیند کی حالت میں جسمانی کان کام نہیں کرتے ہیں، وہ خواب میں بولتا ہے کس ذریعے سے؟ یہ زبان تو بالکل خاموش ہی ہے، وہ خواب میں جہاں چلتا ہے تو جسم کے پیروں سے نہیں چلتا، وہ تو روحانی طور پر چلتا ہے، پھر اس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ سب انسانوں کے لئے روحانیّت میں بھی ایک دنیا ہے، جو آخرت کے نام سے ہے، جس میں وہ نہ صرف جسم کو چھوڑ جانے کے بعد زندہ رہ سکتے ہیں بلکہ اس زندگی میں بھی جزوی طور پر اس کا مشاہدہ اور تجربہ کر سکتے ہیں۔
اب رہا قیامت کا سوال، تو وہ روحانی ترقی کے لئے انقلاب اور دینِ حق کی روحانی جنگ کی حیثیت سے ہے، جس کی تفصیلات کا حوالہ اس جواب کے شروع ہی میں دیا گیا ہے۔
۷۸
تبدّلِ اجسام:
سوال نمبر ۴۲: کیا موت کے بعد کوئی زندگی ہے؟ آیا روح کے لئے یہ ممکن ہے کہ یکے بعد دیگرے بہت سے جسموں میں زندگی گزارے؟
جواب: موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں سوال نمبر ۴۱ کے تحت کافی بحث ہوئی ہے، اس لئے یہاں صرف اس سوال کے دوسرے حصے کا جواب دیا جاتا ہے، جو تبدلِ اجسام کے بارے میں ہے، اور اس سلسلے میں سب سے پہلے اثبات میں جواب دیتا ہوں، پھر چند روشن دلیلیں بطورِ ثبوت کے پیش کی جاتی ہیں:
دلیلِ اوّل: جاننا چاہئے کہ خدا کی روح اور خدا کا نور ایک ہی چیز ہے، چنانچہ جب آنحضرتؐ پر قرآن نازل ہو رہا تھا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میرا نور کبھی بجھنے والا نہیں، اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو خدائی روح آدمؑ میں پھونکی گئی تھی، وہ انبیاء اور أئمّہ کے سلسلے میں جسم بہ جسم چلتی آئی ہے، اس سے ثابت ہے کہ لوگوں کی روحیں بھی ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتی رہتی ہیں، کیونکہ خدائی روح نے اپنی عملی ہدایت میں یہی نمونہ پیش کیا ہے۔
دلیلِ دوم: قرآن کے مطابق ہم بنی آدم یعنی آدم کی اولاد ہیں اور جب نوحؑ کی کشتی طوفان میں تیرتی تھی تو اس وقت ہم نوح کے ساتھیوں کی پشتوں میں روح کے چھوٹے چھوٹے ذرات کی حیثیت سے تھے (۱۷: ۰۳) اور پشت بہ پشت یہاں آکر ظاہر ہوئے، سو یہ حقیقت ہے کہ روح
۷۹
جسم کو تبدیل کرتی رہتی ہے۔
دلیلِ سوم: قرآن کے ارشاد (۲۹: ۶۴) کے مطابق آخرت کا گھر زندہ ہے اور زندہ سب سے پہلے انسان ہے اور اس کے بعد حیوان ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان دنیا میں ظاہر ہونے سے پہلے بھی جسم میں تھا اور موجودہ جسم کو چھوڑ جانے کے بعد بھی کسی جسم میں منتقل ہو جاتا ہے، خواہ وہ جسمِ لطیف ہو یا کثیف، انسانی ہو یا حیوانی، پھر یہ بات صحیح ہے کہ روح ہمیشہ لباس کی طرح جسموں کو استعمال کرتی ہے۔
دلیلِ چہارم: ہمارا یہ جسم چالیس (۴۰) دن کے اندر اندر ذرّہ ذرّہ فرسودہ ہو کر پوری طرح سے ختم ہو جاتا ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ نئے ذرّات کے ذریعے سے اتنے عرصے میں مکمل طور پر بنتا بھی ہے، اس حساب سے ہمارا بدن سال میں نو مرتبہ بدل جاتا ہے، جس کا اندازہ بالوں اور ناخنوں کے بڑھنے سے لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح جسم ایک سرے سے بنتا رہتا ہے اور دوسرے سرے سے گھستا جاتا ہے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کا جسم ہمیشہ بدلتا رہتا ہے یعنی آدمی یکے بعد دیگرے اجسام کو بدلتا رہتا ہے۔
دلیلِ پنجم: قرآنِ مقدّس کے کئی مقامات پر خاص کر سورۂ یاسین (۳۶: ۳۶) میں ہے کہ خداوند تعالیٰ نے ہر چیز کو جوڑے میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ جوڑے کے بغیر اس کا کوئی قیام نہیں، جیسے جسم اور روح، اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ جسم کے بغیر روح ٹھہر نہیں سکتی ہے، اور روح کے بغیر جسم فنا ہو جاتا ہے، جیسے وہ بدن جس سے روح نکل چکی ہے، اور اس کائنات کے قائم رہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ایک عظیم روح ہے، جس کو عالمگیر روح یا نفسِ کلّی کہا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ روح بغیر جسم کے
۸۰
نہیں رہتی ہے بلکہ ایک جسم سے دوسرے میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
دلیلِ ششم: ہماری روح کے لئے تین قسم کے جسم ہیں، ایک خاکی ہے جو موجودہ جسم ہے، دوسرا نورانی ہے اور تیسرا ابداعی ہے، ان باتوں کا تعلق روحانیّت کے تجربے سے بھی ہے اور قرآنی حکمت سے بھی (۱۶: ۸۱) چنانچہ روح ہمیشہ ان جسموں سے وابستگی رکھتی ہے۔
کتابِ ناطق اور کتابِ صامت:
سوال نمبر ۴۳: جب پیغمبروں نے زمانۂ آدم سے لے کر آنحضرتؐ کے عہدِ مبارک تک لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا، اور اس کے بعد لوگوں کے ہدایت کے لئے امامت کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا، تو پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ساتھ خاموش (صامت) کتابیں کیوں بھیجیں، مثلاً توریت، زبور، انجیل ، اور قرآن؟
جواب: جاننا چاہئے کہ آسمانی کتاب، پیغمبر اور امام مل کر ایک ہی خدائی ادارہ ہیں، یہ کچھ الگ الگ متضاد چیزیں تو نہیں کہ تضاد پیدا ہونے کی وجہ سے سوال اُٹھے کہ “یا یہ ہونا چاہئے یا وہ۔” جبکہ کتاب پیغام ہے، رسول پیغام بر ہے اور امام اس کا جانشین۔
اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام جو کسی پیغمبر پر نازل ہوا ہے اور جو لوگوں کو پہنچایا گیا ہے وہ کتابِ صامت کی حیثیت سے آئندہ زمانے کے لئے بھی موجود ہونا چاہئے، تا کہ اس سے لوگوں کو نہ صرف یہ ثبوت ملے کہ جس شخص نے یہ پیغام لایا وہ برحق رسول تھا، بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ پیغام ذریعۂ عبرت اور وسیلۂ
۸۱
ہدایت بھی ہو، کیونکہ جہاں امام نور اور ولئ امر ہے وہاں اس کو اختیار حاصل ہے کہ آسمانی کتاب پر روشنی ڈالتے ہوئے ہدایت کرے یا ذاتی طور پر نورانی ہدایت کرے۔
قرآن (۰۴: ۵۴) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آلِ ابراہیمؑ کو کتاب اور حکمت عطا کی ہے اور ان کو عظیم (روحانی) سلطنت عنایت کر دی ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ پیغمبر ہو یا امام جو آلِ ابراہیمؑ ہیں ان کے ساتھ ہمیشہ آسمانی کتاب، حکمت اور عظیم روحانی مملکت موجود رہتی ہے۔
اگر قرآنِ صامت نہ ہو تو قرآنِ ناطق کی تعریف و توصیف خدا کے کس کلام سے ہو سکتی ہے، قرآن ہے اس لئے قرآن کا نور ہے، قرآن ہے لہٰذا معلّمِ قرآن ہے، قرآن موجود ہے اس لئے آج اُن لوگوں کا درجہ بلند ہے جو قرآن کے باطن کو یعنی تاویلی حکمت کو جانتے ہیں۔
اسمِ اعظم اور نبوّت:
سوال نمبر ۴۴: اگر ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ حضرتِ ابوطالب نے آنحضورؐ کو اسمِ اعظم دیا تھا، جس کے ذریعے آپؐ نے خصوصی ذکر کیا (اور نتیجے کے طور پر محمد مصطفیؐ کو نبوّت ملی) پھر کیا اس کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ آنحضرتؐ نے ذکر و عبادت کے وسیلے سے نبوّت کو خود ہی حاصل کر لیا تھا؟ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ ایسی خاص عبادت کے بغیر خدا آنحضرتؐ کو پیغمبر بناتا؟
جواب: (الف) اگرچہ دینِ اسلام کا مکمل ظہور آنحضرتؐ ہی کے زمانے میں ہوا، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس سے پہلے دینِ حق
۸۲
نہیں تھا، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السّلام نے خدائے واحد کے ایک ہی راستے کی دعوت کی تھی اور وہ دینِ فطرت یعنی اسلام ہی تھا، آپ قرآنِ حکیم میں حضرتِ نوحؑ (۴۲: ۱۳) اور حضرتِ ابراہیمؑ (۲۲: ۷۸) کے دین اور شریعت کے بارے میں ذرا غور کریں، تو صاف طور پر معلوم ہو جائے گا کہ آنحضرتؐ کے آباواجداد کے سلسلے میں نورِ امامت کا عظیم الشّان مرتبہ جاری تھا، چنانچہ ارشادِ ربانی ہے کہ: فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا (۰۴: ۵۴)۔ ہم نے تو ابراہیمؑ کی اولاد کو کتاب اور حکمت دی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت بھی دی ہے۔ جاننا چاہئے کہ آلِ ابراہیمؑ کی دو شاخیں ہیں، ایک حضرتِ اسماعیلؑ سے ہے اور دوسری حضرتِ اسحاقؑ سے اور اس آیۂ کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کا تعلق دونوں خاندانوں سے ہے۔
(ب) مذکورہ بیان سے یہ حقیقت ظاہر اور روشن ہو جاتی ہے کہ حضرتِ ابراہیمؑ اور حضرتِ اسماعیلؑ کی دعا کے مطابق اللہ پاک نے آلِ ابراہیمؑ کی دونوں شاخوں کے مخصوص افراد کو برگزیدہ فرمایا تھا (۰۲: ۱۲۷ تا ۱۲۸)چنانچہ اسماعیلیوں کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت ابو طالب علیہ السّلام اپنے زمانے میں امامِ مقیم کی حیثیت سے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ ہر طرح سے آنحضرتؐ کی حمایت کرتے تھے، (ملاحظہ ہو کتاب “الامامۃ فی الاسلام” ص۱۵۵)۔
(ج) اب سوال ہے کہ آیا حضورِ اکرمؐ نبوّت سے پہلے ذکر و عبادت کرتے تھے یا نہیں؟ اگر کرتے تھے تو کس مذہب کے مطابق؟ کیا اُن پر بچپن ہی میں یا نوجوانی میں وحی شروع ہوئی تھی یا آپؐ کا ظاہری طور پر بھی کوئی
۸۳
سکھانے والا تھا؟ اور اگر کہا جائے کہ آغازِ نبوّت سے قبل حضورؐ پر نہ تو کوئی وحی نازل ہوتی تھی اور نہ ہی آپؐ کو ظاہر میں کوئی دین سکھانے والاتھا، بلکہ آنحضرتؐ نے خود بخود اللہ تعالیٰ کی عبادت شروع کی، تو پھر آپؐ کے اسوۂ حسنہ اور سنّتِ مطہرہ کی پیروی کرنے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہر شخص کو بغیر کسی رہنما کی ہدایت کے خود بخود چلنا چاہئے، اور نتیجے کے طور پر یہ ایک ایسا نظریہ ہو گا کہ جس سے تمام انبیاء کے دنیا میں آنے کا مقصد فضول اور عبث ثابت ہو گا۔
(د) اگر عقل و دانش سے کام لے کر سوچا جائے تو آپ کے پورے سوال کے لئے اس سے بہتر کوئی جواب نہیں جو خود آنحضرتؐ کی تمام زندگی اور نمونۂ عمل کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَن کَانَ یَرْجُو اللَّہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللَّہَ کَثِیْراً (۳۳: ۲۱)
تمہارے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے جو اللہ اور روزِ آخرت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے ذکرِ الٰہی کرتا ہو رسول اللہ کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔ اس آیۂ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے نہ صرف نبوّت کے دوران اپنی حیاتِ طیبہ کو امت کی پیروی کے لئے بہترین نمونہ بنایا بلکہ اس سے پہلے بھی آپؐ کی مبارک زندگی انسانیّت و دینداری کے تمام فضائل و کمالات سے بھرپور تھی، کیوں نہ ہو جبکہ آپؐ تمام پیغمبروں کے سردار، خُلقِ عظیم (۶۸: ۰۴) کے مالک اور سب سے بہترین نمونۂ عمل تھے۔
(ہ) کیا پیغمبرِ خداؐ کی پاک زندگی کچھ اس طرح سے لوگوں کے لئے
۸۴
اسوۂ حسنہ، عمدہ نمونہ اور بہترین مثال ہو سکتی تھی کہ حضورِ اقدسؐ چالیس (۴۰) سال کی عمر تک انسانی اور اخلاقی خوبیوں کے علاوہ دینی صلاحیتوں کو بحدِّ امکان اجاگر نہ کرتے، نبوّت سے قبل مذہب اور روحانیّت کے جو جو مراحل ہوتے ہیں ان سے عملاً نہ گزرتے اور پھر یکایک شرفِ نبوّت سے مشرف ہو جاتے؟ یا یہی نظریہ درست ہے کہ آنحضرتؐ شروع ہی سے ملتِ ابراہیمی کے پابند تھے، آپؐ اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت کی امید رکھتے تھے اور کثرت سے ذکر کر لیا کرتے تھے؟ اگر ہم کہیں کہ اسمِ اعظم اور ذکر و عبادت کے نتیجے میں آنحضرتؐ کو یہ عظیم ترین مرتبہ ملا تھا، تو اس سے رحمتِ خداوندی کی ہرگز نفی نہیں ہوتی، جبکہ حضورؐ کی روحانی ترقی کے تمام وسائل اللہ تعالیٰ کی رحمت کے تحت آتے ہیں اور ہمارا یوں کہنا ایک ذیلی اور ضمنی حقیقت ہے، اس نظریے کے بغیر ہم کس طرح پیغمبرِ برحقؐ کی حیاتِ طیبہ سے مثال لے کر یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ ذکر و بندگی سے روحانی ترقی ہوتی ہے۔
دو کیوں؟
سوال نمبر ۴۵: ان دونوں نظریوں کے درمیان یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ نظریۂ “یک حقیقت” کو مانا جائے یا کہ نظریۂ “نورِ واحد” کو جبکہ آپ خود فرما رہے ہیں کہ نور ایک ہی ہے؟ اور منطق کے مطابق یہ سوال بھی ہے کہ دو مقدّس کتابوں کی ضرورت کیوں، یعنی کتابِ صامت اور کتابِ ناطق، جبکہ دو نہیں صرف ایک ہی کافی ہونے کا تصوّر تسلیم کیا گیا ہے؟
جواب: ہاں، نورِ مطلق ایک ہی ہے، وہی نورِ واحد اور یک حقیقت
۸۵
ہے، کیونکہ جو نور کامل اور کل ہے وہ ایک ہی ہے اور تمام حقیقتوں کی حقیقت (یک حقیقت) اس سے الگ نہیں ہے، پھر وہ سوال ختم ہو گیا جو “یک حقیقت” اور “نورِ واحد” کو جدا جدا فرض کرنے سے پیدا ہوا تھا، کیونکہ توحید کا نظریہ صرف ایک ہی ہو سکتا ہے، دو ہرگز نہیں ہو سکتے۔
یک حقیقت (MONOREALISM) اور نورِ واحد کا مطلب ایک ہی ہے، اور وہ نظریہ بھی دراصل ایک ہی ہے، دو الگ الگ نظریے نہیں ہیں، کیونکہ حقیقت کے معنی ہیں عقل و دانش اور علم و حکمت کا نور، اور کوئی دانشمند یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ حقیقت اور نور دو متضاد چیزیں ہیں۔
دوسرا سوال دو کتابوں کے بارے میں ہے، یعنی پوچھا گیا ہے کہ جہاں بولنے والی کتاب کا وجود ممکن ہے، وہاں خاموش کتاب کی ضرورت کیا ہے؟ اور کہا گیا ہے کہ پہلے سوال اور دوسرے سوال کا ایک ہی منطق ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ پہلے سوال میں ایک چیز کے دو مختلف نام ہیں اور دوسرے میں دو الگ الگ چیزیں ہیں، بہرحال سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ کتابِ ناطق اور کتابِ صامت دونوں کا ہونا صحیح ہے، وہ صرف ظاہر میں دو ہیں مگر باطن میں ایک ہیں، تا کہ ایک ہادئ برحق اور نور ہو اور دوسری کتاب، جیسا کہ قرآن میں ہے۔
مجالسِ دینی:
سوال نمبر ۴۶: کیا یہ درست ہے کہ ایک سیدھا سادہ اسماعیلی جو عقیدت مند ہو وہ محض عقیدہ ہی سے دین کا بہت سا فائدہ حاصل کر سکتا
۸۶
ہے جبکہ وہ دین کی مختلف مجالس میں حصہ لیتا ہے؟
جواب: ہاں یہ صحیح ہے کہ اگر ایک سادہ اسماعیلی اپنے مذہب پر مکمل عقیدہ رکھتا ہے اور اس کی باتوں پر عمل کرتا ہے تو وہ نجات کا حقدار ہے، اور اگر وہ اس کے ساتھ ساتھ علم الیقین کو بھی حاصل کرتا ہے تو وہ فرشتہ بھی بن سکتا ہے، یہاں مذہب کی مختلف مجالس میں حصہ لینے کی مراد دین کی تمام باتوں پر عمل کرنا ہے۔
اس سوال کے پس منظر میں ایک چیز نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آج کل مادّی علوم کی فراوانی ہے جن کے حصول کے بعد ہمارے بعض نوجوانوں کو مذہب کی کچھ رسومات پر تنقید کرنے کا خیال پیدا ہوتا ہے، حالانکہ یہ خیال غلط ہے، کیونکہ صرف ظاہری اور دنیاوی علم کی کسوٹی سے عقائد کو نہیں پرکھا جا سکتا، عقائد کی حکمتوں کو سمجھنے کے لئے دینی علم کی ضرورت ہے۔
خودی یا انا:
سوال نمبر ۴۷: آپ نے کہا ہے کہ انسانی جسم میں لاتعداد روحیں رہتی ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں انسان کی خودی یا انا جسے وہ “میں” کہتا ہے وہ کیا چیز ہے؟ آیا وہ ایک الگ روح ہے یا تمام روحوں کا مجموعہ ہے؟
جواب: یہ ایک مفید سوال ہے کیونکہ اس میں خودی اور خود شناسی کی اہم باتیں آسکتی ہیں، چنانچہ جاننا چاہئے کہ خودی اور انا جسے انسان “میں” کہتا ہے، وہ وجودِ انسانی میں ایک بے مثال حقیقت ہے، اس لئے کہ وہ نہ
۸۷
تو ایک الگ روح ہے اور نہ ہی تمام روحوں کا مجموعہ ہے بلکہ وہ اُن ساری روحوں اور قوّتوں کی وحدت ہے جو انسان کی ہستی میں موجود ہیں، اور یہ وحدت جو انسان کی خودی کی حیثیت سے ہے اللہ تعالیٰ کی وحدت کی مثال ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ یہ یک حقیقت (MONOREALISM) کی طرح ہے۔
جس طرح ایک کامیاب حکومت میں افراد آتے جاتے رہتے ہیں مگر قانون اور حکومت قائم اور برقرار رہتی ہے اسی طرح آدمی میں روحیں اور قوّتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر اس کی انا یعنی ذرّاتِ ہستی کی توحید وہی رہتی ہے جو کبھی تھی، اور علم و شعور ہمیشہ ذرّاتِ روح میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔
اختیار اور مقدر:
سوال نمبر ۴۸: انسان کے مختار ہونے یا مجبور ہونے کے درمیان جو سوال پیدا ہوتا ہے، وہ قرآن میں کس طرح حل کیا گیا ہے؟
جواب: یہ باتیں قرآن ہی کی روشنی میں ہیں جو سمجھنا چاہئے کہ مخلوق تین قسموں میں ہیں، فرشتہ، انسان اور حیوان، فرشتہ صرف عقل رکھتا ہے، حیوان صرف نفس رکھتا ہے اور انسان عقل و نفس دونوں رکھتا ہے۔
جب فرشتہ کو صرف عقل دی گئی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ نیکی پر مجبور ہے اور جہاں حیوان کو صرف نفس دیا گیا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ بدی پر مجبور ہے، اور جس طرح انسان کو عقل و نفس دونوں ملے ہیں، تو اس
۸۸
کا مطلب یہ ہوا کہ وہ فرشتہ اور حیوان کے درمیان ہے، اس لئے وہ عقل کے تقاضا کے مطابق نیکی بھی کر سکتا ہے اور نفس کی خواہش کے مطابق بدی بھی کر سکتا ہے، پس ان دونوں چیزوں کے درمیان کسی ایک کو پسند کرنے کو اختیار کہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ انسان مختار ہے۔
انسان مختار ہے مگر ایک محدود دائرے میں، اس کا اختیار صرف ان صلاحیتوں کے استعمال میں ہے جو اسے عطا کر دی گئی ہیں اور یہ بھی ہے کہ اس کا دائرۂ اختیار وسیع سے وسیع تر ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اس کا اختیار خدا کے اختیار سے مل کر ایک ہو جائے، جس کے معنی توکّل کے ہیں۔
قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ: اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا (۰۲: ۲۸۶) پھر فرمایا گیا ہے کہ: اور ہم نے اس کو (نیکی اور بدی کے) دونوں راستے دکھا دیئے (۹۰: ۱۰) نیز ارشاد ہے کہ: بلکہ انسان (ہر سطح پر) اپنے آپ کو دیکھتا ہے (۷۵: ۱۴) ان ارشادات سے معلوم ہوا کہ انسان مجبور نہیں بلکہ مختار ہے، کیونکہ “وسعت” کا اشارہ عقلی اور نفسی قوّتوں کے دائرۂ اختیار کی طرف ہے اور تکلیف کے معنی خداوندی اوامر و نواہی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر انسان کا دائرۂ اختیار اس کی عقلی و علمی حیثیت کے مطابق ہوا کرتا ہے اور ذمہ داری بھی اسی کے مطابق عائد ہو جاتی ہے، اور اگر آدمی کے سامنے خیر و شر کے دونوں راستے ہیں تو اس کے معنی بھی اختیار کے ہیں نہ کہ مجبوری کے، اگر مجبوری مقصود ہوتی تو صرف ایک ہی راستہ مقرر ہوتا، جس طرح فرشتوں اور حیوانوں کے لئے ایک ایک راستہ دکھایا گیا ہے، اور اگر انسان میں اپنے آپ کو دیکھنے کی صلاحیت موجود ہے اور عملاً وہ خود کو بھی دیکھ سکتا ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ وہ نیکی اور بدی دونوں کے آغاز و
۸۹
انجام کو خوب جانتا ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کو پسند کر کے اُس پر عمل کر سکتا ہے جس کے معنی اختیار کے ہیں۔
دوسری طرف سے مقدر یعنی تقدیر یا قسمت کی بات آتی ہے، حالانکہ یہ اصطلاحیں قرآنی نہیں ہیں، بہرحال یہ عقیدہ کہ “تقدیر اور قسمت میں جو کچھ ہے وہی ہو گا” درست نہیں ہے، جبکہ روشن دلیلوں سے واضح کیا گیا کہ انسان مجبور نہیں ہے، بلکہ وہ اخلاقی اور دینی اوامر و نواہی کے مخصوص دائرے کے اندر آزاد اور مختار ہے لہٰذا قسمت اور تقدیر کی بات خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
صلوات:
سوال نمبر ۴۹: صلوات کے صحیح معنی یا تاویل بتائیں، کیونکہ جب بموجبِ ارشادِ قرآن (۲۱: ۱۰۷) محمد رسول اللہ ؐ خود تمام جہانوں کے لئے سرچشمۂ رحمت ہیں، تو آنحضرتؐ پر رحمت نازل ہونے کی سفارش کیونکر مناسب ہو سکتی ہے؟
جواب: یہ سوال بہت پہلے کچھ عزیزوں نے پوچھا تھا، اور ان کو جس طرح جواب لکھا گیا تھا، وہ کتاب “پنج مقالہ نمبر ۴” کے صفحہ ۲۷ تا ۲۹ میں درج ہے، نیز کتابِ “وجہِ دین حصہ دوم” کلام نمبر ۵۰ اور “دعا مغزِ عبادت” کے صفحہ ۶۱۔۶۹ ملاحظہ ہو، اور کتابِ ہٰذا حصّۂ اوّل میں سوال نمبر ۱۳ کو بھی دیکھیں۔
۹۰
حاضر امامؑ :
سوال نمبر ۵۰: حاضر امامؑ کیا ہیں؟ اُن کا اعلی مرتبہ کیا ہے؟ اور اس بارے میں قرآن کا ارشاد کیا ہے؟
جواب: حاضر امام اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم ہے، وہ خدا کا چہرہ ہے، وہ اس کا نور اور مظہر ہے، وہ اس کا خلیفہ اور نمائندہ ہے، اس کا لقب امیر المؤمنین، اس کا مرتبہ ولئ امر، اس کی شان حیّ و قیوم، اس کی شاہنشاہیت عالمِ باطن اور روحانیّت، اس کی مہربانی علم و حکمت، اس کا انعام حقیقی محبت، اس کا معجزہ روحانی روشنی، اس کے برحق ہونے کا ثبوت ہمیشہ اس کا ظاہر و موجود رہنا، اس کا ظاہری نور کامیاب ہدایت، اس کا راستہ صراطِ مستقیم، اس کا مذہب دینِ فطرت، اس کی رہنمائی کی پیروی کا صلہ عالمِ ملکوت کی سلطنت، اور اس کی شناخت کا بدلہ تاجِ معرفت ہے۔
آپ حاضر امام کے بارے میں حصّۂ اوّل میں سوال نمبر ۱۰ کے جواب کو بھی پڑھیں اور “امام شناسی” کے تینوں حصّوں کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔
۹۱
سو سوال
حصہ سوم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نگارشِ آغاز
اے خداوندِ برحق! اے قادرِ مطلق! تو اپنی رحمتِ بے پایان سے اِس بندۂ کمترین کو نعمت شناسی اور شکرگزاری کی توفیق و ہمت عطا فرما، تا کہ یہ عاجز لفظی، معنوی اور عملی طور پر تیرے مقدّس دین کی ظاہری و باطنی نعمتوں کا کچھ شکر کر سکے، پروردگارا! ارواحِ مؤمنین پر شب و روز تیری عنایتوں کی جو بارش ہو رہی ہے وہ کتنی عجیب ہے! اور تیری نظرِ کیمیا اثر کس قدر معجزانہ ہے!
میرے مولا! مجھے عجز و انکساری کی مخفی دولت سے مالامال فرما، اپنی پُرلذت محبت کی منزلِ فنا میں ایک پُرسکون اور راحت بخش مقام عطا کر اور اسرارِ معرفت کے خزانے کا دروازہ کھول دے تا کہ میں تیری لازوال مہربانیوں کی شکرگزاری میں مصروف ہو کر دنیا کی اذیتوں کو کلی طور پر فراموش کروں۔
الحمدُلِلّٰہ کہ اب کتاب “سو سوال” کا تیسرا حصّہ بھی مکمل ہو گیا، اور کتابت و طباعت کے لئے تیار ہے، اور ان شاء اللہ تعالیٰ عنقریب حصّۂ چہارم بھی مکمل ہونے کو ہے، میرا یقین ہے کہ سو سوال کی کتاب میری کتابوں میں بہت اہمیت والی ہو گی، اس لئے کہ اس میں شمالی امریکا جیسے عظیم ملک کی عظیم جماعت کے منتخب سوالات کے لئے مدلل اور تسلی بخش جوابات موجود ہیں۔
حقیقی علم کا یہ پختہ اور زرین اصول ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد رہے کہ اگر کسی سوال کا جواب درست طریق پر دیا جاتا ہے، اور اس میں صحیح منطق اور علم و
۹۷
دانش کی بھرپور روشنی ہے، حکمت و تاویل ہے، اور وہ روحانی ہدایت کے مطابق ہے تو ایسے جواب سے نہ صرف وہی ایک مطلوبہ سوال حل ہو جاتا ہے بلکہ دانشمند اس کی روشنی میں کئی کئی مسائل کو حل کر سکتا ہے، چنانچہ میرا یہ دعویٰ حق بجانب ہے اور اس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں کہ سو سوال کی کتاب میں در حقیقت ہزاروں سوالات کا حل موجود ہے، کیونکہ حقیقی علم کا تصوّر ایک ایسے درخت کی طرح ہے، جس کا تنہ ایک ہے، اس کی موٹی شاخیں تھوڑی سی ہیں، پھر وہ درخت شاخ در شاخ ہو کر پھیل گیا ہے، درخت کی ترتیب و ترکیب کا یہی حال علم کا بھی ہے کہ اگر تنہ اور موٹی شاخوں کی طرح پختہ اور بنیادی علم سے جواب مہیا کیا گیا ہے تو سوالات کی لاتعداد شاخیں خود بخود حل ہو جاتی ہیں۔
اِس حقیقت کی ایک مثال یہ ہے کہ دانشمند کے نزدیک سوالات اصولی طور پر آپس میں مل جاتے ہیں، اس کا ثبوت آپ کو اُس وقت ملے گا جبکہ ایک عام آدمی کے کئی سوالات کی ایک فہرست آپ کے سامنے آئے، اگر آپ غور سے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ اُس نے بعض دفعہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے ایک ہی سوال کو کئی طرح سے پیش کیا ہے، حالانکہ بنیادی طور پر وہ ایک ہی سوال ہے۔
بہر کیف سو سوال کی کتاب میں جو کچھ علم و آگہی کی خوبیاں ہیں وہ میرے آقا و مولا امامِ زمان صلوات اللہ علیہ و سلامہ کی ہیں جو نورِ ہدایت کا سرچشمہ اور علم و حکمت کا وسیلہ ہیں، اور اگر اس میں کچھ خامیاں ہیں تو وہ میری اپنی وجہ سے ہیں، کیونکہ میں اس کی مہربانی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں۔
خانۂ حکمت اور عزیزوں کی جمعیت مجھ کو میرے خداوند کا ایک گرانقدر عطیہ ہے، پروردگارِ عالم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اِس مقدّس ادارے کی مدد سے علم گستری جیسی پاک و پاکیزہ خدمت کے لئے کوشان ہیں، اور ان شاء اللہ تعالیٰ
۹۸
ہماری سعادتِ دارین اسی میں ہے۔
ہمارے قابلِ قدر اور ہوشمند اراکین اِس حقیقت سے واقف و آگاہ ہیں کہ سوائے علم کے دنیا میں کوئی ایسی دولت نہیں جو کسی کمی کے بغیر سب کو پہنچ سکے اور جس کے صرف کرنے میں زیادہ سے زیادہ ثواب ہو، یقیناًصرف علم ہی ایسی دولت ہے جو ہمہ رس بھی ہے اور لازوال بھی۔
حقیقی علم کی روشنی پھیلانے سے نہ صرف مؤمنین و مسلمین ہی کو فائدہ ہو سکتا ہے بلکہ اِس سے تمام بنی نوع انسان کی ذہنی الجھنیں بھی دور ہو سکتی ہیں، جس کے لئے دنیا کی بڑی بڑی قومیں ریسرچ (تحقیق) کر رہی ہیں اور آگے چل کر اعلیٰ سطح پر یہ ریسرچ ہونے والی ہے۔
اب سائنسی ترقی کے نتیجے پر سیارۂ زمین کی مسافتیں سمٹ سمٹ کر نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہیں، دور و دراز کے ممالک ایک دوسرے سے بہت قریب ہو گئے ہیں، اور دنیا والے سب نئی روشنی میں ایک دوسرے کو پہچاننا چاہتے ہیں، تو کیا ایسے میں ہمیں خاموش بیٹھنا چاہئے۔
دنیا کی ہر قوم کے پاس کچھ نہ کچھ مفید و مخصوص مادّی چیزیں ہوا کرتی ہیں، مثلاً سونا، چاندی وغیرہ، اور ایسی چیزوں کو قومی سرمایہ قرار دے کر دنیاوی طور پر فائدہ اٹھایا جاتا ہے، مگر ہماری جماعت کے پاس جو خاص اور عظیم شے ہے وہ مادّی نہیں روحانی ہے، وہ حقیقی علم ہے جس کو نورانی ہدایت بھی کہتے ہیں، یہ علم اور ہدایت ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے، سو لازمی ہے کہ ہم اس کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دیں اور اِس سے فائدہ اٹھائیں اور فائدہ پہنچائیں۔
دعا ہے کہ قادرِ مراد رسان علمی خدمت میں شرکت کرنے والوں کو دین و دنیا کے نیک مقاصد میں کامیاب بنائے! یہ دعا صرف زبان کے بنائے ہوئے
۹۹
الفاظ ہی میں محدود نہیں بلکہ دل و جان کے لطیف ارمانوں میں بھی ہے، دعا ہے کہ کتاب کا ہر موضوع، ہر پیرا، ہر جملہ، ہر لفظ اور ہر حرف زبانِ حال سے یہ دعا کرے کہ الٰہی! تو اپنی رحمتِ بیکران سے ان عزیزوں کو دونوں عالم کی کامیابی اور سرفرازی عطا فرما، جنہوں نے اس سدا بہار گلشن کی آبادکاری میں حصہ لیا ہے! آمین یا ربّ العالمین!!
فقط بندۂ عاجز
مصنف
۵، اگست ۱۹۷۸ء
۱۰۰
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تسبیح کے دانے:
سوال نمبر ۵۱: ہم ننانوے تسبیح کے دانے کیوں رکھتے ہیں؟ اور اِس تسبیح میں ۳۳، ۳۳ کے تین حصے کیوں ہیں؟
جواب: تسبیح کے دانے دراصل سو ہوا کرتے ہیں، اور رشتۂ تسبیح میں ۳۳، ۳۳ کے تین حصے اس لئے بنائے گئے ہیں کہ عالمِ اسلام میں تسبیحِ فاطمہ کی بہت بڑی اہمیت ہے، اور وہ ہے: ۳۳ بار اللہ اکبر، ۳۳ بار الحمدللہ، ۳۳ بار سبحان اللہ، اور ایک بار لا اِلٰہ الا اللہ، چنانچہ اِس مبارک تسبیح کے مطابق دانے مرتب کئے گئے ہیں، جو ۳۳+۳۳+۳۳+۱ =۱۰۰ دانے ہوتے ہیں، ملاحظہ ہو اسماعیلی فقہ کی مشہور کتاب “دعائم الاسلام (عربی) جزءِ اول” صفحہ ۲۰۳۔
اسمِ اعظم:
سوال نمبر ۵۲: کیا اسمِ اعظم کے بغیر کسی کو نجات حاصل ہو سکتی ہے؟ کیا اسمِ اعظم کا لینا ضروری ہے؟
جواب: (الف) جہاں اسمِ اعظم کے معنی خود امامِ زمانؑ ہیں وہاں خدا تعالیٰ کے اِس زندہ اور بزرگ ترین نام کے بغیر نجات نا ممکن ہے، اور جہاں
۱۰۱
اسمِ اعظم سے کوئی قولی نام مراد ہے وہاں اس کے بغیر بھی نجات حاصل ہو سکتی ہے، کیونکہ ایسے لفظی بزرگ نام پر عمل کرنا اور اس میں کامیابی حاصل کرنا صرف ایک فضیلت ہے یعنی ایک زائد مرتبہ ہے۔
(ب) اگر لفظی اسمِ اعظم کے بغیر کوئی نجات نہ ہوتی تو امام ایسے بزرگ نام کو اپنے تمام مریدوں کے لئے ضروری اور لازمی قرار دیتے، سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ خصوصی عبادت مزید روحانی ترقی کے لئے ہے۔
(ج) کارِ بزرگ اُن اسماعیلیوں کو ضروری ہے جو امامِ زمانؑ کے روحانی معجزات دیکھنے کے خواہشمند ہیں یا یہ کام اُن معلّمین کو چاہئے جو روحانی علم حاصل کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔
مذہب اور سائنس:
سوال نمبر ۵۳: سائنس اور مذہب کے بارے میں: (الف) اگر ایک شخص کلّی طور پر سائنس کی پیروی کرے تو کیا ممکن ہے کہ اس کو وہی معرفت حاصل ہو جو مذہب کی پیروی کرنے سے ہوتی ہے؟ (ب) منزلِ مقصود تک رسائی کے لئے سائنس اور مذہب دونوں میں اتنے محنت طلب تجربوں کی کیوں ضرورت ہے؟
جواب: اگر ایک شخص مذہب کو چھوڑ کر کلّی طور پر سائنس کی پیروی کرتا ہے تو وہ حصولِ معرفت میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتا ہے وہ صرف سائنس میں کامیاب ہو سکتا ہے، کیونکہ معرفت دین کی آخری چیز ہے، جو روح اور خدا کی شناخت کو کہتے ہیں، اور سائنس اُس حکمت کا نام ہے جو مادّہ اور جسم
۱۰۲
کی تحقیق اور پہچان سے متعلق ہے، اگر سائنس کی مکمل پیروی سے کسی کو خدا ملتا اور معرفت حاصل ہوتی تو آج دنیا کی وہ مادّیت پرست قومیں خدا پرست بن جاتیں، جو سائنس کے میدان میں کافی حد تک کامیاب ہیں، لیکن سب جانتے ہیں کہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔
ہاں، اس میں کوئی شک نہیں کہ حق مذہب اور صحیح سائنس ایک دوسرے کے خلاف نہیں ایک ہیں، اس کے معنی یہ ہوئے کہ سچے مذہب کے وسیلے سے روح اور خدا کو پہچان لیا جائے اور درست سائنس کے ذریعے سے مادّہ اور جسم کی حقیقتوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا جائے، تاکہ انسان دونوں جہان کی تمام نعمتوں کو پائے اور کامیاب و کامران ہو۔
مذہب اور سائنس کے ایک ہونے کا اصل مطلب یہ ہے کہ جب ایک سعادت مند انسان کو بصیرت اور دین کی مکمل شناخت حاصل ہوتی ہے تو وہ اصل سائنس کو دینِ فطرت کے مطابق پاتا ہے، اس میں دینِ حق کی واضح شہادتیں اور روشن دلیلیں موجود ہوتی ہیں، اور ان تمام حقیقتوں کا انکشاف دین شناسی ہی سے ممکن ہے۔
اب رہا دوسرا سوال کہ: منزلِ مقصود تک رسائی کے لئے سائنس اور مذہب دونوں میں اتنے محنت طلب تجربوں کی کیوں ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ منزلِ مقصود جس کو آپ نے تسلیم ہی کر لیا ہے بہت ہی دور ہے، جس کے لئے سخت محنت درکار ہے، اور دونوں صورتوں میں وہ آخری منزل اِس قدر آرام دہ ہے کہ اُس تک رسائی کے لئے جتنے بھی محنت طلب تجربات کئے جائیں کم ہیں، کیونکہ منزلِ مقصود بہت ہی بڑی چیز ہے۔
۱۰۳
حقیقی مؤمن:
سوال نمبر ۵۴: حقیقی مؤمن کی کیا کیا نشانیاں ہوتی ہیں؟
جواب: حقیقی مؤمن کی نشانیاں قرآن سے باہر نہیں، اور وہ ایمانِ کامل اور عملِ صالح ہیں، ایمانِ کامل کا مطلب ہے خدا و رسولؐ کے بعد امامِ حیّ و حاضر پر ایمان لانا اور جان و دل سے اقرار کرنا، اور عملِ صالح کے معنی ہیں انہی تینوں درجات کے امر و فرمان کے مطابق عمل کرنا۔
اگر مؤمن کی نشانیاں تفصیل سے دیکھنا ہیں تو کتاب “پیر پندیاتِ جوانمردی” کو پیشِ نظر رکھیں، کیونکہ ادائے مطلب کے بہت سے طریقے ہیں، مگر معنی ایک ہیں۔
ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ حقیقی مؤمن کی نشانیاں امامِ زمانؑ کی محبت اور فرمانبرداری ہیں، جن میں دین کی تمام خوبیاں آجاتی ہیں، اور ان سے کوئی چیز باہر نہیں۔
ہندو مذہب:
سوال نمبر ۵۵: یہاں میرے ایک قریبی دوست نے چند ہندو بزرگوں کا نام لے کر پوچھا ہے کہ ان کے فلسفے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب: میرے بہت ہی عزیز دوست! آپ ہندو مذہب سے اس قدر کیوں متاثر ہوئے ہیں؟ آپ نے سب سے پہلے اسماعیلی مذہب کے
۱۰۴
عظیم فلسفے کا گہرا مطالعہ کیوں نہیں کیا ہے؟ پھر مذاہبِ اسلام کا اور آخر میں مذاہبِ عالم کا تقابلی مطالعہ کرتا، تاکہ آپ کو ایسے غیر ضروری سوال کرنے کی اہمیّت باقی نہ رہتی، اور اسماعیلی مذہب کی صداقت و حقیقت روشن ہو جاتی۔
میرا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ سوالات ہی نہ کئے جائیں، بلکہ میرا کہنا یہ ہے کہ اگر غیر اسماعیلیّت کے بارے میں ایسا کوئی سوال کرنا ہے تو اس کے لئے یا تو اسلام کے مختلف مذاہب پر نظر ڈالی جائے یا تمام مذاہبِ عالم پر، اور صرف ہندو مذہب کے بزرگوں کے فلسفے کو اتنی اہمیت کیوں دیں، جبکہ ہندو مذہب اختلافات اور تضادات سے بھرپور گیا گزرا مذہب ہے۔
صراطِ مستقیم:
سوال نمبر ۵۶: اگر ہمارا مذہب برحق ہے اور یہ ہم کو صراطِ مستقیم پر چلا کر خدا سے ملا دیتا ہے تو لوگوں کو اس کی دعوت و تبلیغ کیوں نہیں کی جاتی ہے، تا کہ مذہبی اختلافات اور تنازعات کے ختم کرنے میں مدد ملے اور خیر خواہی کا فریضہ انجام پائے؟
جواب: (الف) قرآن اور اسلام کی جو دعوت ہے وہ حکمت کی زبان میں اسماعیلیت کی دعوت ہے جو رسول اللہؐ کے زمانے سے قیامت تک دنیا میں جاری ہے، اب دینِ حق کی اس عملی دعوت کو قبول کر کے معلّمِ قرآن سے رجوع کرنا لوگوں ہی کی ذمہ داری ہے۔
(ب) جب اسلام اور اسماعیلیّت لوگوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں، وہ ہمیشہ اس کو موضوعِ بحث بنا لیتے ہیں تو پھر دعوت کے کیا معنی، اگر وہ آج اسماعیلی
۱۰۵
مذہب کو برا مانتے ہیں تو کیا کل قیامت کے دن وہ یہ عذر بھی کر سکیں گے کہ وہ دنیا میں اس مذہب سے بے خبر تھے؟
(ج) اس کے علاوہ ہمارے پیروں اور بزرگوں نے اپنے اپنے وقت میں امامِ زمان کے امر و فرمان کے مطابق بھرپور علمی کوششیں بھی کی ہیں، یعنی بہت سے لوگوں کو دینِ حق سے روشناس کر دیا ہے، جس کا اصل مقصد مخالفین کے حملوں سے دین کو بچانا اور مضبوط کرنا تھا نہ کہ دعوت کے سلسلے میں لوگوں پر اتمامِ حجّت۔
(د) حدیث ہے کہ: بندوں پر توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔ جاننا چاہئے کہ لوگوں کے لئے توبہ کا دروازہ دعوتِ حق ہے جو قیامت کے قریب بند ہو جانے والی ہے۔
(ہ) اگر اس سوال کا مطلب یہ ہو کہ علم و عمل کے ذریعے سے اسماعیلی مذہب کی تمامتر خوبیاں لوگوں پر ظاہر کیوں نہیں کر دی جاتی ہیں تا کہ اسلام کی حقیقی ہدایت روشن ہو جائے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ دینِ حق کی تمام خوبیوں کا مجموعہ امامِ زمانؑ ہے اور وہ دنیا والوں کے سامنے ظاہر اور آشکار ہے، پھر اس کے بعد کون سی چیز پوشیدہ رہتی ہے۔
ناندی کی حکمت:
سوال نمبر ۵۷: ہم جماعت خانے میں ناندی کیوں لاتے ہیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ ہم بجائے جنس کے نقد پیش کریں؟
جواب: اگرچہ اس کے لئے نقد کی بھی اجازت ہو سکتی ہے، لیکن
۱۰۶
ناندی کی حکمت یہ ہے کہ خدا کے گھر میں اس کے لانے سے بندۂ مؤمن کی طرف سے ادب، تعظیم اور عاجزی کا مظاہرہ ہوتا ہے، جس سے پُرخلوص غلامی کا ثبوت ملتا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ اس سے کچھ ضرورت مندوں کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے، لہٰذا اس میں نہ صرف انفرادی اعتبار سے دینداری کی فضیلتیں پوشیدہ ہیں بلکہ جماعتی لحاظ سے بھی یہ کام باعثِ برکت ہے۔
زمانۂ جدید کے بعض تعلیم یافتہ نوجوان ناندی جیسی رسومات سے کیوں شرم محسوس کرتے ہیں؟ کیا اس لئے کہ وہ خدا کے گھر میں خرید و فروخت کا معاملہ پسند نہیں کرتے؟ حالانکہ بیعت بھی جانوں کی خرید و فروخت ہے، اور قرآن میں مؤمنین کی جان و مال کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سودا ہو جانے کا ذکر ہے (۰۹: ۱۱۱) پس ایسا خالص دینی، اخروی اور مقدّس سودا خدا کے گھر میں نہ ہو تو کہاں ہونا چاہئے۔
نادِ علی:
سوال نمبر ۵۸: “نادِ علی” کے کیا معنی ہوتے ہیں؟
جواب: نادِ علی اور اس کا ترجمہ ذیل کی طرح ہے:
نَادِ عَلِیّاً مَظْہَرَ الْعَجَاءِبِ
تَجِدْہٗ عَوْناً لَکَ فِی النّوَاءِبِ
کُلُّ ہَمٍّ وَ غَمٍّ سَیَنْجَلِیْ
بِوَلَایَتِکَ یَا عَلِیْ یَا عَلِیْ
علی کو پکار جو (خدا کے) عجائب کا مظہر ہے، تو اس کو مصیبتوں میں
۱۰۷
اپنا مددگار پائے گا، وہ ہر تکلیف اور غم کو زائل کر دے گا، اپنی ولایت کی حرمت سے یا علی یا علی۔
تعجب ہے:
سوال نمبر ۵۹: اللہ کیوں ہے؟
جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ سوالات مختلف قسم کے ہوا کرتے ہیں، اچھے برے، موافق مخالف، اور انوکھے نرالے، مگر یہ سوال سب سے عجیب ہے، اس میں تعجب اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ کی ہستی سے انکار کیا گیا ہے، بلکہ عجیب بات تو یہ ہے جو کہا گیا ہے کہ “خدا ہے مگر کیوں؟”
اس میں ہمارے تعجب کی خاص وجہ یہ ہے کہ جب خدا کے وجود کو مانا گیا تو لازمی طور پر ان تمام اوصاف کے ساتھ مانا جاتا ہے، جو اس کے لئے بیان کئے جاتے ہیں، تو پھر ’’اللہ کیوں ہے؟‘‘ کا سوال ختم ہو جانا چاہئے، جبکہ خدا کے ہر وصف میں اس کا مکمل جواب موجود ہے، مثلاً اللہ اس لئے ہے کہ وہ خالق ہے، اس لئے کہ وہ رازق ہے، اس لئے کہ وہ مَلِک (بادشاہ) ہے، اس لئے کہ وہ رب ہے، اس لئے کہ وہ رحمان ہے وغیرہ۔
مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے سو ناموں میں سے ہر ایک نام خدا کی ہستی کی ضرورت و اہمیت کی ایک روشن دلیل ہے، اور جو لوگ خدا کے وجود کے لئے قائل ہو جاتے ہیں، وہ سب سے پہلے اس فلسفے کو خوب سمجھتے ہیں کہ ’’خدا تعالیٰ کو کس لئے ہونا چاہئے‘‘۔
۱۰۸
انسانی حقیقت:
سوال نمبر ۶۰: ہم شروع میں خدا تعالیٰ سے کیوں الگ یا جدا ہو گئے؟ اس کی وجہ اور مقصد کیا ہے؟
جواب: اس سلسلے میں آپ کے علم میں جو بھی باتیں آگئی ہیں وہ دینی تعلیمات کی ابتدائی باتیں ہیں، اور حق بات تو یہ ہے کہ ہم اپنی اصل انا میں خدا سے جدا نہیں ہوئے ہیں اور یہ سب سے بڑا خدائی بھید ہے کہ انسان کی سب سے اونچی حقیقت انائے علوی اپنے اصل مقام سے نیچے نہیں آتی ہے بلکہ اس کا ایک سایہ یہاں تک آیا ہے، سایہ سے مراد نچلے درجے کی خودی ہے۔
سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ انسان کیا ہے وہ عالمِ کثرت میں ایک جسم ہے، عالمِ ارواح میں ایک روح ہے، عالمِ عقول میں ایک عقل ہے اور عالمِ حقائق میں ایک حقیقت ہے، ہم عالمِ حقائق کو عالمِ وحدت بھی کہہ سکتے ہیں، اس سے ظاہر ہے کہ انسان کی اعلیٰ ترین حقیقت ازل میں جیسی تھی اب بھی ویسی ہے، کیونکہ وحدت سے وحدت جدا نہیں ہوتی ہے اور نہ حقیقت سے حقیقت جدا ہو سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ MONOREALISM (یک حقیقت) کا نظریہ صحیح ہے، جس کے مطابق دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی خودی کم سے کم دو درجوں میں ہے ایک درجۂ ادنیٰ ہے جو ظاہری اور جسمانی ہستی ہے اور دوسرا درجۂ اعلیٰ ہے جو انائے علوی اور حقیقتِ واحدہ ہے جو ہمیشہ اصل مقام پر قائم ہے، پس انسان اپنی ظاہری شخصیت کے اعتبار سے اس دنیا میں آیا ہے،
۱۰۹
لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ عالمِ وحدت میں ہے۔
نیاز اور فرشتہ:
سوال نمبر ۶۱: کیا یہ عقیدہ درست ہے جو مانا جاتا ہے کہ نیاز (یعنی آبِ شفاء) کے موقع پر کچھ فرشتے حاضر ہوتے ہیں؟
جواب: ہاں، بالکل درست ہے، آپ علم الیقین کی روشنی میں فرشتوں کے وجود اور ان کے کاموں کی حقیقت کو بخوبی سمجھ لیں تو معلوم ہو جائے گا، کہ جس جگہ عبادت و بندگی اور عقائد کی تعمیل ہوتی ہے وہاں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے فرشتے ہمیشہ حاضر ہوا کرتے ہیں، اور جہاں نورِ الٰہی ہوتا ہے وہاں فرشتے بھی موجود رہتے ہیں۔
تقیہ:
سوال ۶۲: اگر عیسائی اپنے دین کی ہر بات کو ظاہر کر سکتے ہیں تو ہم اپنے مذہب کے عقائد کو کیوں ظاہر اور آشکار نہیں کر سکتے ہیں؟
جواب: (الف) یہ کیونکر ضروری ہو سکتا ہے کہ جو طریقہ عیسائی اختیار کریں تو ہم بھی اسی پر چلیں، اور اسلام کے بنیادی اصولوں کو نہ دیکھیں۔
(ب) ہمیں بعض عقائد میں تقیہ سے کام لینے کی ضرورت ہے، تقیہ ہمارا دین ہے ہمارے اماموں کا دین ہے اور یہ رسولِ برحق ؐ کا دین ہے جو اسلام ہے۔
۱۱۰
(ج) قرآن و سنت اور پاک أئمہ کی مثالی زندگی میں ذرا غور سے دیکھو تو معلوم ہو جائے گا کہ دینِ اسلام کی بہت سی باتوں میں اصولِ تقیہ کار فرما ہے اور تقیہ کرنا بہتر ہے، کیونکہ اسی میں ہر طرح کی سلامتی ہے۔
(د) اسلام دینِ فطرت ہے لہٰذا اس کا قانون کائنات و موجودات کا قانون ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہر چیز اور ہر مخلوق کو گاہ بگاہ کے خطرات سے بچانے کی تدبیر کی گئی ہے چنانچہ تقیہ کا مطلب ہے دین کی ایسی باتوں کو ظاہر نہ کرنا جن کی وجہ سے مؤمنین کو خطرہ پیدا ہو جاتا ہو اور امام کے مریدوں کو غیر ضروری تکلیف پہنچتی ہو۔
(ہ) ہمیں اپنے اعمال و اقوال کو امامِ زمان کے مقدس امر و فرمان کے سانچے میں ڈھالنا چاہئے، نہ کہ کورانہ تقلید کے لئے دوسروں کی طرف دیکھنا چاہئے، جبکہ ہمارے پاس نورِ ہدایت موجود ہے، جو کسی کے پاس نہیں۔
(و) شروع سے لے کر اب تک ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے جو جو سوالات ایسے آئے ہوں کہ ان کا معیار غیر اسماعیلی عقیدہ ہے، تو وہ سوالات ہی بنیاد سے غلط ہیں، یعنی غیروں کے کسی عقیدے کو دیکھ کر یہ پوچھنا کہ: “فلان مذہب میں یہ ہے ہمارے یہاں کیوں ایسا نہیں۔” ہرگز درست نہیں، جس کی وجہ اوپر بتائی گئی ہے۔
نورِ واحد:
سوال نمبر ۶۳: قرآنِ مقدّس خدائی نور ہے، اور حاضر امام بھی ایسا ہی ہے، لیکن نور ناقابلِ تقسیم ہے، سو ہمارے پاس دو نور کیسے ہوئے؟۔۔۔
۱۱۱
جواب: آپ کے سوال کا جو حصہ درست تھا وہ میں نے یہاں لکھ دیا ہے اور اسی میں آپ کا مطلب بھی آ گیا ہے اور دوسرے الفاظ الجھے ہوئے تھے لہٰذا میں نے ان کو چھوڑ دیا ہے، اور اس سوال کا جواب ذیل کے نقشہ کے مطابق ہے:
یہ ایک معجزانہ نقشہ ہے جو خصوصی عطیات میں سے ہے، اور اس میں دیکھنے سے علم و حکمت کے بہت سے بنیادی اصولات کا پتا چلتا ہے، چنانچہ اس سے یہ حقیقت صاف طور پر روشن ہو جاتی ہے کہ نور ہمیشہ کے لئے ایک ہی ہے، وہ قرآنِ مقدّس اور امامِ زمانؑ کے درمیان ہے، اس لئے یہ دونوں پاک ہستیوں (یعنی قرآن اور امام) میں مشترک ہے۔
اگرچہ نور ایک لحاظ سے قرآنِ پاک اور امامِ برحق میں مشترک ہے، لیکن دوسرے لحاظ سے نور کا زیادہ سے زیادہ تعلق امامِ حیّ و حاضر سے ہے، کیونکہ نور بولتا ہے اور وہ ایک زندہ روح ہے، اور وہ امامت ہی کی روح ہے اور امام کا نور ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
قَدْ جَاءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَکِتَابٌ مُّبِیْنٌ (۰۵: ۱۵)
تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور ظاہر کتاب آچکی ہے۔ اس فرمانِ خداوندی سے ظاہر ہے کہ نور بہ حقیقت پیغمبرؐ اور امامؑ ہیں اور کتابِ مبین
۱۱۲
قرآن ہے، اگر قرآن ہی ذاتی طور پر نور ہوتا تو اس کو “کتابِ مبین” کہہ کر نور کا الگ ذکر نہ کیا جاتا۔
اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کتابِ مبین ہے اور امامِ زمان نور، کیونکہ نور ایک ہی ہے دو نہیں، اور اگر ہم قرآن کو بھی نور کہنا چاہتے ہیں تو وہ اس معنیٰ میں درست ہے کہ قرآن کی زندہ روح امام میں رہتی ہے اور امام ہی میں بول سکتی ہے ورنہ نہیں، نقشہ میں خوب غور سے دیکھ کر اس مطلب کو سمجھو۔
درجۂ عارف:
سوال نمبر ۶۴: اگر ایک آدمی انتہائی معرفت کو پہنچتا ہے اور وہ نور کو حاصل کرتا ہے، اور وہ کسی پیر پیغمبر اور قرآن کی طرح ہو جاتا ہے تو کیا وہ اس وقت انا الحق (میں خدا ہوں) کہہ سکتا ہے یا نہیں؟ اگر وہ اُس آخری درجے تک پہنچ سکتا ہے تو اس کا امام سے کیا رشتہ ہوتا ہے؟ اس میں وہی خدائی نور ہونے کے باوجود، جو امام میں ہے، وہ خود کو امام کے طور پر ظاہر نہیں کر سکتا، لیکن وہ (نور کے اعتبارسے) وہی درجہ رکھتا ہے، جیسے امام کا یا کسی پیغمبر کا، تو وہ اپنی امامت کا اعلان کیوں نہیں کر سکتا، محض اس لئے نا، کہ وہ نورانی فیملی (خاندانِ امامت) میں پیدا نہیں ہوا ہے، اور اگر یہی واقعہ ہے تو یہ کہاں کا انصاف ہوا، حالانکہ خدا تعالیٰ پاک اور رحمان و رحیم اور عادل ہے، تو پھر ان دونوں مظہروں کے درمیان یہ امتیازی سلوک کیوں روا رکھا گیا ہے؟
جواب: یہ درست ہے کہ ایک حقیقی مؤمن ہادئ برحق کی ہدایت کی روشنی میں کمالِ معرفت کو پہنچتا ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ وہ نور کو حاصل کرتا
۱۱۳
ہے، مگر نور کی اصل میں واصل ہو جاتا ہے نہ کہ اس سے الگ اور جدا کوئی نور حاصل کرتا ہے، کیونکہ نور تقسیم نہیں ہوتا ہے جیسا کہ سوال نمبر ۶۳ کے تحت اس کا نقشہ دیا ہوا ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ پیر پیغمبر کی روحانیّت کی پیروی کرتے کرتے آگے سے آگے چلا جاتا ہے، اور کوئی شک نہیں کہ اس دوران قرآن کی مکمل روحانیّت کو بھی پاتا ہے، لیکن یہ آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ “انا الحق” کا چیخ چیخ کر نعرہ لگانا بھی اس سلسلے کا ایک ضروری معجزہ ہے، حالانکہ یہ کلمہ منصور حلاج کے ذاتی جذبے کا نتیجہ ہے، آپ ہر عارف کی معرفت کو صرف اسی اناالحق کے معیار سے پرکھنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ بحیثیتِ مجموعی علم و عرفان کو دیکھیں۔
عارف کا امام سے رشتہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امام کے نور سے واصل ہو جاتا ہے، اس میں وہی خدائی نور امام سے الگ نہیں ہوتا بلکہ وہ خدا کے نور سے (جو امام میں ہے) امام ہی کے وسیلے سے جا ملتا ہے، اس میں کوئی دوسرا نور کہاں سے آیا یا اصل نور دو حصوں میں کب تقسیم ہوا کہ جس کی بناء پر یہ عارف دعویٰ کرے کہ یہ بھی ایک امام بن گیا ہے؟ سوال کا یہ حصہ بچگانہ ہے، آپ خوب سوچیں کہ اگر لوہے کا ایک ٹکڑا آگ میں رہ کر آگ بن سکتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ آگ سے الگ ہو کر بھی یہ دعویٰ کرے کہ میں آگ ہوں، یہ دعویٰ درست نہیں ہے، کیونکہ اگر وہ لوہا آگ ہے تو آگ کی بدولت ہے، آگ کے وسیلے سے ہے اور آگ کے اندر رہ کر صحیح ہے کہ وہ آگ ہونے کا دعویٰ کرے۔
دوسری مثال اُس غریب آدمی کی طرح ہے جو بادشاہ کا دوست بن جاتا ہے، بادشاہ رفتہ رفتہ اس پر بادشاہی کے تمام بھیدوں کو کھول دیتا ہے جس کا مقصد اس کو بھیدی بنانا ہے نہ کہ اس کو فی الفور تخت پر بٹھانا ہے، اس
۱۱۴
صورت میں اگر غریب آدمی ایک الگ بادشاہ بن جانے کی خواہش کرتا ہے تو بالکل غلط ہے، اگر وہ سوچتا ہے کہ وہ بادشاہ کا اتنا قریبی دوست ہو گیا ہے کہ بادشاہ گویا اس کی جان ہے اور بادشاہ اس کا ایک روپ ہے، لہٰذا یہ غریب شخص تصوّر کر سکتا ہے کہ وہ بادشاہ کی روح میں مل کر بادشاہ بن گیا ہے نہ کہ وہ بادشاہ سے الگ کوئی بادشاہ ہو گیا ہے۔
یہ فرق کیوں؟
سوال نمبر ۶۵: کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ صراطِ مستقیم پر آگے ہیں اور کچھ پیچھے، لیکن خدا کے نزدیک سب بچے برابر ہیں، تو پھر کچھ لوگ دوسروں سے پیچھے کیوں ہیں؟
مذہبی عقائد بچپن ہی میں پختہ ہو جاتے ہیں اور ایک آدمی ۱۸۔۲۵ برس کی عمر سے پہلے ہی مذہب کو اس کی گہرائی کی تحقیق کے بغیر اپنا لیتا ہے، پھر وقت اور موقع گزر جاتا ہے اور وہ اپنے مذہب کو تبدیل نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ یہ جو کچھ مذہب رکھتا ہے وہی صحیح ہے، اِس صورت میں اس کو روحانی عذاب کیوں ملنا چاہئے، جبکہ اُس نے ایسے لوگوں کے کہنے پر عمل کیا جن کو یقین تھا کہ وہ سچے ہیں؟
جواب: ہاں، درست ہے کہ قرآن و حدیث اور عقل و منطق کی نظر میں کچھ لوگ صراطِ مستقیم پر آگے ہیں اور کچھ پیچھے، کیونکہ جب دین خدا کی طرف چل کر نزدیک ہو جانے اور منزلِ نجات حاصل کرنے کا راستہ ہے تو لازمی ہے کہ نتیجے کے طور پر کچھ لوگ آگے بڑھیں کچھ پیچھے رہیں اور بعض
۱۱۵
بھٹک جائیں۔
جب آپ قبول کرتے ہیں کہ دینِ حق کی جو مثال راہِ راست سے دی گئی ہے وہ بالکل صحیح ہے، تو پھر آپ راہِ دین (صراطِ مستقیم) کے لوازم، نتائج اور عواقب کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں، اور وہ یہ ہیں کہ اہلِ مذاہب سب کے سب اسی راہ کے مسافر ہیں، چونکہ وہ ہادئ برحق کی پہچان، فرمانبرداری، سامانِ سفر اور ہر قسم کی تیاری کے لحاظ سے ایک جیسے اور برابر نہیں ہیں، اس لئے ان مذہبی مسافروں میں سے کچھ تو اگلی منزلوں میں پہنچے ہوئے ہیں، کچھ پچھلی منزلوں میں ہیں اور بعض بھٹک بھی گئے ہیں۔
جاننا چاہئے کہ فرشتہ کو نفس نہیں صرف عقل دی گئی ہے، حیوان کو عقل نہیں صرف نفس دیا گیا ہے، اور انسان کو مذکورہ دونوں مخلوق کے درمیان رکھ کر بطورِ امتحان و آزمائش کے دونوں قوّتیں عطا کر دی گئی ہیں، یعنی انسان میں عقل بھی اور نفس بھی، اور یہ روشن حقیقت ایسی معروف و مشہور ہے کہ اس سے کسی کو ہرگز انکار نہیں۔
جب اس میدانِ علم و عمل میں انسان کو آزمانا مقصود تھا اور جس کے لئے اُسے عقل و نفس کی دو متضاد قوّتیں دی گئیں تو اس کے ساتھ ساتھ رحمتِ خداوندی کا یہ تقاضا ہوا کہ انسان کو ایک تیسری قوّت بھی عنایت کی جائے تا کہ جس کے ذریعے سے انسان عقل و نفس دونوں پر بادشاہی کر سکے، وہ قوّت ارادہ یعنی اختیار کی تھی، اور یہاں ارادہ و اختیار کا مطلب ہے عقل اور نفس کی فرمائشوں میں سے کسی ایک کو چاہنا اور پسند کرنا، اگر انسان کو اپنے علم و عمل کے مطابق اختیار حاصل نہ ہوتا تو امتحان و آزمائش کا سوال ہی ختم ہو جاتا اور اس کی ذات میں دو مخالف طاقتوں کا ہونا بے معنی ہو کر رہ جاتا۔
۱۱۶
جب انسان کا اختیار اور امتحان ثابت ہوا تو اس کے نتائج بھی لازمی ہو گئے، اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ انسان نہ صرف تمام حیوانات پر بادشاہی کرے بلکہ وہ فرشتوں سے بھی افضل و اعلیٰ قرار پائے، اور دنیاوی طور پر بھی کسی سے بار بار امتحان لینے کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کو فضیلت و مرتبت میں آگے سے آگے بڑھا دیا جائے، لیکن اس سلسلے میں بہت سے لوگ ناکام بھی ہو جاتے ہیں۔
جہاں سارے انسانوں کی مثال خدا کے اہل و عیال کی طرح ہے تو وہ صرف اس معنیٰ میں صحیح ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ باپ کی طرح بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ لوگوں کی بھلائی اور بہتری چاہتا ہے، اب آپ نے خود ہی باپ بیٹوں کے اصول کو تسلیم کر لیا ہے، تو پھر اصول سے ہٹ کر ہرگز بات نہیں کرنا، اور وہ یہ کہ کسی باپ کے سارے بچے علم و ہنر میں اور امر و فرمان کی پابندی میں ایک جیسے تو نہیں ہو سکتے، کچھ فرمانبردار ہوتے ہیں اور کچھ نافرمان، اور یہ لازمی بات ہے کہ باپ کچھ بچوں سے راضی اور کچھ سے ناراض ہو اور جیسے خدا ایک مہربان اور خیر خواہ باپ کی طرح یہ نہیں چاہتا ہے کہ لوگ قانونِ قدرت کی خلاف ورزی کریں ویسے وہ ان کے غلط کاموں کی سزا سے بھی خوش نہیں، لیکن قانونِ فطرت جو خودکار (Automatic) قسم کا ہے خود بخود ہر قسم کے اعمال کا بدلہ دیتا رہتا ہے۔
آپ کا یہ نظریہ غلط ہے جس میں کہا گیا ہے کہ : “مذہبی عقائد بچپن ہی میں پختہ ہو جاتے ہیں۔” جبکہ عقیدہ ابتدائی ایمان کا نام ہے اور پختہ عقیدہ کی مراد ایمانِ کامل ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ عقیدہ کی اصلاح اور ایمان کی درستی و تکمیل کی مہلت موت کے وقت آنے تک ہے، کیونکہ بچپن کا عقیدہ تقلید کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور عقل و دانش کی پختگی کے بعد اس میں تحقیق کا تقاضا
۱۱۷
پیدا ہو جاتا ہے، سو یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے دین کی ہر بات میں اور ہر کام میں غور و فکر کے لئے زور دیا ہے، یہ دینِ اسلام کی وہ پُرحکمت دعوت ہے جو تقلید سے تحقیق کی طرف آنے کے لئے مقرر کر دی گئی ہے۔
اس سوال میں ایک ہی مطلب کو مختلف الفاظ میں دہرایا گیا ہے اور اپنی کم علمی یا سادگی کی وجہ سے غیر منطقی باتوں کی دلیل بنانے کی کوشش کی گئی ہے مثال کے طور پر یہ کہنا:”جبکہ اُس نے ایسے لوگوں کے کہنے پر عمل کیا جن کو یقین تھا کہ وہ سچے ہیں۔” آپ خود بھی اس میں ذرا غور کریں، آیا ہم اس بات کو حقیقت مانیں یا لوگوں کی ایک عام عادت کہ دنیا کے تمام مذاہب والے اپنے اپنے نظریات کو برحق مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو یقین ہے کہ ہماری بات سچ ہے، اور اگر لوگوں کا یوں کہنا کوئی دلیل ہے تو پھر تمام مذاہب حق پر ہیں، مگر یہ بات ممکن نہیں۔
دنیا میں تکالیف کیوں؟
سوال نمبر ۶۶: خدائے قدّوس جب رحمان و رحیم اور جواد و کریم ہے تو پھر اس دنیا میں ایسی بہت سی تکالیف کیوں ہیں؟ بچوں میں غربت و ناچاری کیوں ہے؟ اور جنگوں کا وجود کیوں ہے؟
جواب: (الف) اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کی جتنی تعریف و توصیف کی جائے کم ہے، کیونکہ تمام الٰہی علم و حکمت اور سارا قانونِ قدرت اسمائے خداوندی میں ہے جس کی تفصیل قرآنِ مقدّس ہے، اور دنیائے انسانیت میں جس قدر تکالیف پائی جاتی ہیں وہ خدا کی ذات و صفات کی خوبیوں کی نفی نہیں کرتی ہیں اور نہ ہی یہ قرآنی حکمت کے خلاف ہیں۔
۱۱۸
(ب) آپ نے بالغ انسانوں کو چھوڑ کر معصوم بچوں کی غربت و ناچاری اور بیماری کا سوال اس لئے اُٹھایا ہے تاکہ ہم بڑوں کے بارے میں یہ کہہ کر جواب کو نہ ٹالیں کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے، جبکہ چھوٹے چھوٹے بچے بے گناہ ہوا کرتے ہیں، سو آپ کا پوچھنا درست ہے، مگر یہ یاد رہے کہ تکلیف ہر بار گناہ کی وجہ سے نہیں آتی ہے، وہ بعض دفعہ اس کے بغیر کسی اور مصلحت کی بناء پر بھی آسکتی ہے، انبیاء علیہم السّلام کی مقدّس زندگی پر غور کریں، کیا وہ حضرات بچوں سے بھی زیادہ پاک و پاکیزہ نہیں تھے؟ کیا ان کو (نعوذ باللہ) اگلے جنم کی بداعمالی کی سزا مل رہی تھی؟انہوں نے انسانوں میں سب سے زیادہ تکلیف و مشقت کیوں اُٹھائی؟ اس باب میں خوب غور کیا جائے۔
(ج) یہ بھی یاد رہے کہ حکمتِ قرآن کے مطابق ایک ہی چیز کے کئی نام ہو سکتے ہیں، جیسے دنیاوی طور پر کسی سے کوئی نقد و جنس لینے کا نام جرمانہ بھی ہو سکتا ہے اور تحفہ بھی، اور یہ معاملہ جن کے درمیان ہو اور جن افراد کو اس کا علم ہو وہی بخوبی جانتے ہیں کہ جو کچھ لیا گیا وہ تحفہ کے طور پر تھا یا جرمانہ کی صورت میں، اسی طرح کوئی تکلیف و مصیبت نہ صرف سزا ہی ہو سکتی ہے، بلکہ بعض حالات میں یہ بندگی اور قربانی بھی ہو سکتی ہے۔
(د) دونوں جہان کا کوئی بادشاہ ہے اور وہی خدا ہے، اسی کی بادشاہی اور خدائی میں یہ سب کچھ ہے اور ہونا چاہئے، اور اگر حکمت کی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ نہ تو بیماری اور تکلیف فضول ہے اور نہ ہی جنگیں جو قدرتی طور پر ہوا کرتی ہیں، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بیماری کا علاج نہ کیا جائے، تکالیف کو دور کرنے کے لئے عقل و دانش سے کام نہ لیں اور جنگیں ہر حالت میں عبادت قرار دی جائیں، بلکہ بہت سی تکالیف کو ختم کر دینے کے لئے
۱۱۹
کوشش ضروری ہے، اور اگر ممکن نہ ہو تو اسے قدرتی قرار دے کر سمجھ لیا جائے کہ حکمت و مصلحت اسی میں ہے۔
(ہ) انسانی زندگی ایک عجیب و غریب شے ہے اور اس کے کئی کئی پہلو ہیں کیونکہ انسان نہ صرف اپنے آپ میں زندہ ہے بلکہ وہ دوسروں میں بھی جیتا ہے، وہ اگرچہ محدود نظر میں ذاتی اور انفرادی طور پر زندگی بسر کرتا ہے، اور ہر چند کہ اس کے خیالات و افکار اور اقوال و افعال کی ایک چھوٹی سی الگ دنیا ہے، جس کا حساب کتاب جداگانہ اور ذاتی نوعیت کا ہوا کرتا ہے، تاہم اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اس کی ایک گھریلو اور خاندانی زندگی بھی ہے، جس کا یہ حال ہے کہ کبھی تو وہ اہلِ خانہ کی وجہ سے تکلیف اُٹھاتا ہے اور کبھی ان کے سبب سے راحت پاتا ہے اور اس میں تعجب کیوں ہونا چاہئے کہ یہ خاندانی وحدت و سالمیت ہے اور گھر کے افراد ایک دوسرے کے اعضاء و اجزاء کی مثال پر ہیں، یہی مثال اہلِ حکمت کے نزدیک انسان کی اُس زندگی کی بھی ہے جو وہ قصبہ، شہر اور ملک والوں کے ساتھ مل کر گزارتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر درجہ کی اجتماعی زندگی کے مسائل سے لاتعلق اور بے غرض نہیں رہ سکتا، اور نہ ہی وہ اپنے ملک و ملت کی مجموعی اچھائی یا برائی کے نتائج و عواقب سے الگ تھلگ ہو سکتا ہے۔
(و) اسی طرح ہر معتقد انسان کی ایک جماعتی اور مذہبی زندگی بھی ہے، اور ہر قسم کے لوگوں کی سب سے آخری اور سب سے عظیم زندگی وہ ہے جس میں تمام لوگوں کو طوعاً و کرھاً رجوع ہو جانا ہے (۰۳: ۸۳) اور وہ ایسی کلی زندگی ہے کہ جس میں ازل سے ابد تک پائے جانے والے تمام نفوسِ خلائق ایک ہی ہیں (۵۶: ۴۹ تا ۵۰)۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے کہ:
مَّا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ إِلَّا کَنَفْسٍ وَاحِدَۃٍ (۳۱: ۲۸)۔ تم سب کا (ازل
۱۲۰
میں) پیدا کرنا اور (ابد میں) جِلا اُٹھانا ایک جان (یعنی نفسِ کلی) کی طرح ہے یعنی تم سب روحِ کلی میں ایک ہی ہو، اور اگر تم اپنے آپ میں چشمِ یقین پیدا کرو گے تو دیکھو گے کہ تم روح کا صرف ایک ہی قطرہ ہونے کے باوجود نفسِ کلی کے سمندر میں کس طرح ایک ہو۔
مذکورۂ بالا بیان کا خلاصۂ مطلب یہ ہوا کہ دینی اور دنیاوی اعتبار سے آدمی کی انفرادی اور ہر درجہ کی اجتماعی زندگیوں کے کارناموں کی تکمیل بغیر تکالیف کے ناممکن ہے، کیونکہ دنیا و آخرت میں انسان کے لئے سب سے زیادہ خوشی اور سب سے بڑا فخر اس بات میں ہے کہ وہ خدا کی راہ میں سخت سے سخت مشقتیں برداشت کرے اور اس کی مخلوق کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں پیش کی جائیں، اس لئے کہ اگرچہ خدا ناشناسی کی سنگین سزا اپنی جگہ پر حق ہے تاہم آخرکار ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ جس میں ہر مذہب کے لوگ خدا کی بے پناہ رحمت میں باہم ملنے والے ہیں۔
شریعت:
سوال نمبر ۶۷: کیا یہ بات درست ہے کہ جب کوئی آدمی طریقت یا حقیقت کی منزل میں پہنچتا ہے تو شریعت سے بے نیاز ہو جاتا ہے؟
جواب: نہیں نہیں، یہ بات درست نہیں ہے، کلی طور پر شریعت کو ترک کر دینا کہیں بھی نہیں ہے، کیونکہ دین کی ہر چیز کی تخلیق شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے چار عناصر سے ہے، مگر یہ بات ضرور ہے کہ اگر کسی چیز میں شریعت کا عنصر زیادہ ہے، تو دوسری میں طریقت کا عنصر غالب ہے،
۱۲۱
تیسری میں حقیقت کا اور چوتھی میں معرفت کا پہلو زیادہ ہے، اس مطلب کی وضاحت کے لئے آپ میری ایک کتاب “آٹھ سوال کے جواب” کے آخر میں دیکھیں۔
امامت اور عورت:
سوال نمبر ۶۸: اس کی کیا وجہ یا کیا تاویل ہے کہ انبیاء اور أئمّہ علیہم السّلام ہمیشہ مردوں میں سے ہوئے ہیں، اور کسی بھی زمانے میں کوئی عورت مرتبۂ نبوّت یا درجۂ امامت سے سرفراز نہیں ہوئی؟
جواب: قطعی جواب سے پیشتر عورت کے لئے دینِ اسلام میں جو مقام ہے اس کی طرف کچھ اشارے کئے جاتے ہیں کہ یہ بات اُن روشن حقیقتوں میں سے ہے جن کے بارے میں کوئی شک ہی نہیں کہ وہ ذات عورت ہی تھی، جس نے انبیاء کرام اور أئمّۂ عظام علیہم السّلام کو جنم دیا، وہی اُن پاک و پاکیزہ ہستیوں کی جسمانی اور اخلاقی تربیت و پرورش کا مقدّس فریضہ انجام دیتی رہی، اور اُسی نے دنیا بھر کی ماؤں میں سے ایک افضل ترین ماں کی حیثیت سے اُن کامل انسانوں کو، جو آگے چل کر لوگوں کی رہنمائی اور دستگیری کرنے والے تھے، اپنے پاک دامن میں اُٹھایا اور انتہائی شفقت و محبت کے ساتھ سینے سے لگا لیا۔
کتنی خوش قسمت اور عظیم المرتبت تھیں وہ بزرگ اور قابلِ قدر مائیں جن کی اولادوں میں سے کوئی پیغمبر یا زمانے کا امام ہوا، وہ خواتین بھی کس قدر نیک بخت، سعادت مند اور خداوند تعالیٰ کی برگزیدہ تھیں، جن کو پیغمبروں یا اماموں کی رفیقۂ حیات ہونے کا عظیم ترین شرف حاصل تھا، اور ان حضرات کی بہنوں اور
۱۲۲
بیٹیوں پر بھی پروردگارِ عالم کا کتنا بڑا فضل و کرم اور احسان تھا کہ وہ آسمانی علم و حکمت کے سرچشمہ کے انتہائی قریب رہتی تھیں۔
ایک مفید مشورہ تو یہ ہے کہ آپ خود قرآنِ حکیم کے اُن ارشادات کا ذرا غور سے مطالعہ کریں جو حضرتِ موسیٰؑ کی والدۂ محترمہ اور حضرتِ عیسیٰؑ کی مادرِ مشفقہ (بی بی مریمؑ ) کے بارے میں ہیں کہ کس طرح عورت ذات پر نزولِ وحی ممکن ہوا اور اُس سے فرشتوں نے کیسے کلام کیا، تا کہ آپ کو دینِ فطرت میں عورت کے مقام اور روحانی ترقی کا اندازہ ہو سکے۔
عالمِ اسلام میں اہلِ بیتِ اطہار یعنی پنجتنِ پاک صلوات اللہ علیہم کی عظمت و بزرگی اور تقدس و پاکیزگی ایک مسلّمہ حقیقت ہے، جس کے بارے میں کسی بھی نیک باطن مسلمان کو ذرّہ بھر شبہ نہیں، اور ظاہر ہے کہ پاک پنجتن میں سے ایک عالی گوہر فرد خاتون بھی ہے، جس کا مبارک نام فاطمۂ زہرا اور لقب خاتونِ جنّت ہے، آپ صلوات اللہ علیہا نورِ عالمِ قدسی کے ظہور کا وہ عالی شان نمونہ اور جمالِ اخلاقِ خداوندی کا ایسا پاکیزہ ترین آئینہ تھیں، جو کسی اولیائی درجے کی باکرامت خاتون کی جسمانیّت و بشریت میں ممکن ہے، تا کہ اس کی معرفت سے دیندار، پاک باطن اور فرشتہ سیرت خواتین کی خاطر خواہ ہمت افزائی ہو سکے۔
مذکورۂ بالا قسم کے بہت سے کمالات اور صفاتِ عالیہ کے باوجود کوئی برگزیدہ خاتون نبوّت یا امامت کے منصبِ جلیلہ پر فائز نہیں ہوسکی جس کی وجہ ظاہری نہیں بلکہ تاویلی ہے اور وہ ذیل کی طرح ہے کہ:
(الف) پیغمبر، امام اور معلم روحانی مرد ہیں، اور امت، مرید اور شاگرد روحانی عورت، چنانچہ اگر مردوں کے ہوتے ہوئے کوئی عورت بھی پیغمبر یا امام ہوتی، تو اس کا تاویلی اشارہ (نعوذ باللہ) یہ ہوتا کہ پیغمبر امت کی اطاعت کرے،
۱۲۳
امام مرید کا فرمان مانے اور معلم شاگرد سے تعلیم حاصل کرے، تو یہ بات قانونِ قدرت کے خلاف واقع ہوتی، لہٰذا کوئی خاتون پیغمبر یا امام نہیں ہوئی۔ آپ سو سوال حصۂ چہارم میں سوال یا عنوان نمبر ۹۷ کو بھی پڑھیں۔
مقامِ معرفت:
سوال نمبر ۶۹: ایک شخص مقامِ معرفت میں کب پہنچتا ہے؟ زندگی ہی میں یا مر جانے کے بعد؟
جواب: (الف) انسان کے دنیا میں آنے کا سب سے بڑا مقصد عبادت اور معرفت ہے تو یہ مقصد اسی دنیا میں پورا ہو جانا چاہئے نہ کہ مرنے کے بعد دوسرے جہان میں، کیونکہ اس میدانِ عمل میں بنیادی آزمائش یہی ہے کہ انسان کی بندگی اور شناخت کا اندازہ کیا جائے۔
(ب) قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے کہ جو کوئی اس دنیا میں اندھا ہوگا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور یہ بہت بڑی گمراہی کا نتیجہ ہوگا (۱۷: ۷۲) یہ اشارہ خدا شناسی اور روح شناسی کی طرف ہے، جس کو معرفت کہتے ہیں، اس سے یہ مطلب صاف ظاہر ہے کہ بنیادی معرفت دنیاوی زندگی ہی میں ممکن ہے۔
اسماعیلی جماعت:
سوال نمبر ۷۰: ہم بوقتِ ضرورت اپنا مذہب دوسروں کو کس طرح سمجھائیں؟ ہم اپنی جماعت میں غیر اسماعیلیوں کو کیوں نہیں آنے دیتے،
۱۲۴
جبکہ دوسرے لوگ ایسا نہیں کرتے ہیں؟
جواب: ہم زبانی زبانی کتنے لوگوں کو سمجھا سکیں گے اور کس طرح سمجھا دیں گے، جب تک کہ ہمارے پاس اپنے مذہب کی کافی کتابیں موجود نہ ہوں جس طرح کہ دوسرے لوگوں کی کتابیں ہوتی ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ہمارے پاس مختلف موضوعات کی کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہو تا کہ رفتہ رفتہ دین کا تعارف ہو، سوالات ختم ہوتے جائیں اور شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جائے، ظاہر ہے کہ کتاب سے جو کام ہوگا وہ زبانی نہ ہو سکے گا۔
اس کے علاوہ کتابوں ہی کی روشنی میں آپ کسی کو اپنے مذہب کا بہتر طریقے سے زبانی تعارف کرا سکتے ہیں اور کتابوں کے بغیر کچھ بھی نہیں۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ غیر اسماعیلیوں کو ہمارے خاص مذہبی حلقے میں (ہماری جماعت میں) آنے کی اجازت اس لئے نہیں کہ ہمارا مذہب باطنی، روحانی اور تاویلی ہے اس لئے اس کا سمجھنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، اس مذہب کی تمامتر خوبیاں بھیدوں میں پوشیدہ ہیں، کیونکہ اس میں زیادہ سے زیادہ حقیقت اور معرفت کے اسرار کی تعلیمات ہیں، لہٰذا ہمارے عقائد و رسومات میں شرکت کرنے سے غیر اسماعیلیوں کو کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی اس سے ہمیں کوئی فائدہ ہے۔
اسماعیلیّت کے سوا جو بھی مذاہب ہیں وہ باطنی، روحانی اور تاویلی نہیں ہیں، وہ تو ظاہری ہیں، اور جو چیز ظاہر ہو وہ سب کی نظر میں ہوتی ہے، لہٰذا اس کی پہچان مشکل نہیں آسان ہے، مگر اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور حکمت سب سے بڑی مشکل ہے۔
اس سلسلے میں ایک روشن ثبوت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت
۱۲۵
کا اقرار لوگوں کے لئے آسان ہے، مگر آنحضرتؐ کی نبوّت و رسالت پر ایمان لانا مقابلۃً مشکل ہے، پھر محمد رسول اللہ کی رسالت کو ماننا آسان ہے، مگر علیؑ کی ولایت و امامت کو تسلیم کرنا مشکل ہے، اسی طرح امامت اور اسماعیلی مذہب کے سلسلے میں جوں جوں ہم ماضی سے حال کی طرف چلے آتے ہیں توں توں یہ حقیقی مذہب لوگوں کے لئے مشکل نظر آتا ہے، جس کی مختلف وجوہ ہیں۔
متوفی کے لئے کپڑے:
سوال نمبر ۷۱: متوفی کے حق میں جو کپڑے اور سفرے پیش کئے جاتے ہیں ان کی کیا تاویل ہوتی ہے؟ کیا ایک روحانی (متوفی) اپنے اُن رشتہ داروں سے ملاقات کر سکتا ہے جو اُس سے پہلے مر چکے تھے؟
جواب: یہ عقیدہ اور رسم ہے اور متوفی کو ایصالِ ثواب کا ایک طریقہ ہے، مگر اس کے معنی یہ ہرگز نہیں کہ اُس روحانی (متوفی) کو کپڑوں اور کھانوں کی ضرورت ہوتی ہے، بلکہ یہ ایک ایسا صدقہ ہے جو دستیاب اور تیار چیزوں سے دیا جاتا ہے، اور مؤمنِ متوفی کی روح کے حق میں ثواب کے لئے دعا کی جاتی ہے۔
ہاں، نجات پانے کی صورت میں مؤمن اپنے عزیز و اقارب سے مل سکتا ہے، خواہ زندے ہوں یا مردے سب کو دیکھ سکتا ہے، کیونکہ وہاں روحانیّت ہے اور روحانیّت میں ہر چیز ممکن ہے کہ سب کی روح ہر جگہ حاضر ہے۔
۱۲۶
امام کے معنی:
سوال نمبر ۷۲: امام کے کیا معنی ہوتے، جبکہ ہماری اپنی کتابوں میں اس کا مطلب مذہبی پیشوا ہے؟
جواب: لفظِ امام کے لغوی معنی ہیں سردار، پیشوا یعنی جس کی پیروی کی جائے، نیز امام کے معنی ہیں راستہ، آپ قرآنِ پاک (۱۵: ۷۹) میں اس لفظ کے یہ معنی دیکھ سکتے ہیں، امام راستہ ہے تو کون سا؟ صراطِ مستقیم، جیسا کہ قاضی نعمان “اساس التاویل” کے صفحہ ۶۱۔۶۲ پر فرماتے ہیں:
والصراط فی اللغۃ الطریق، فمثل الامام ھٰہنا بالطریق لانّ من لزم الطریق لن یّضل، و کذالک من لزم الامام لن یّضل۔ والمراد بالطریق ھٰہنا الامام لا الطریق المسلوک فی الارض
ترجمہ: اور صراط کے لغوی معنی راستہ کے ہیں، پس یہاں امام کی مثال راستے سے دی گئی ہے کیونکہ جو آدمی راستے سے لازم رہے تو وہ ہرگز گمراہ نہیں ہو جاتا، اور اسی طرح جو شخص امام سے منسلک رہے تو وہ ہرگز گمراہ نہیں ہو جاتا، اور یہاں راستے سے مراد امام ہے نہ کہ وہ زمینی راستہ جس پر چلا جاتا ہے۔
پیر و مرشد:
سوال نمبر ۷۳: کیا کسی ظاہری گرو (پیر و مرشد) کی ضرورت ہوتی ہے؟
۱۲۷
جواب: آپ نے ایک نامکمل سوال پیش کیا ہے، یعنی اس میں یہ واضح نہیں کہ سوال امام کی اہمیّت کے بارے میں ہے یا پیر اور معلم کی ضرورت کے بارے میں، بہر حال ہم دونوں درجوں کا ذکر کرتے ہیں کہ اگر “گرو” سے آپ کی مراد امام ہے تو جواب ہے کہ امام کا ہونا ہمیشہ اور ہر حال میں انتہائی ضروری ہے، کیونکہ امامِ زمانؑ کے بغیر صراطِ مستقیم کی ہدایت نا ممکن ہے، اور اگر آپ کے نزدیک “گرو” کا مطلب امام کے بعد کا کوئی درجہ ہے تو وہ بھی ضروری ہے۔
اس کتاب میں جگہ جگہ امامِ زمانؑ کی اہمیّت و ضرورت کا ذکر آیا ہے، اور اِس مبارک و مقدّس ہستی سے دین کو جو رحمتیں اور برکتیں حاصل ہوتی رہتی ہیں، اس کے بارے میں حقیقی اسماعیلیوں کو کوئی شک و شبہ نہیں، مگر یہ سوال ضروری ہے کہ موجودہ زمانے میں امام کے بعد یعنی امام کے تحت معلّموں، استادوں، واعظوں اور عالموں کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور اس مقصد کے حصول کے لئے دنیائے اسماعیلیّت میں امام کی طرف سے بڑے بڑے ادارے چلتے ہیں یا نہیں؟ تو یقیناً اس کا جواب اثبات میں ملے گا، پھر اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہی جماعتی ادارے اور یہی افراد ہمارے ماضی کے حجّتوں، داعیوں اور پیروں کے جانشین ہیں، نام اور ٹائٹل کچھ بھی ہو مگر کام اور علمی خدمت کا فریضہ وہی ہے جو پہلے تھا، ماضی کی طرح اب بھی علمی اور روحانی ترقی کے دروازے کاملاً کھلے ہیں۔
اگر آپ حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کے اُن تمام مبارک ارشادات کو سامنے رکھیں جو حقیقی مؤمنین کی علمی اور روحانی ترقی کے بارے میں ہیں تو آپ کو کسی ٹائٹل کے بغیر بھی پیروں کی طرح آگے بڑھنے اور کام کرنے کا بھرپور جذبہ پیدا ہو گا۔
۱۲۸
لفظِ امام کا ہم معنی:
سوال نمبر ۷۴: کیا ویدی فلسفہ میں امام کا کوئی مترادف (یعنی کوئی ہم معنی لفظ) ہے؟
جواب: جاننا چاہئے کہ الفاظ الگ ہیں اور اصطلاحات الگ، چنانچہ لفظِ امام کے لغوی معنی کے لئے صرف ویدی فلسفہ میں نہیں بلکہ ہر مذہب اور ہر زبان میں مترادف الفاظ پائے جاتے ہیں، مگر “امام” کی اصطلاح سوائے دینِ حق کے کہیں بھی نہیں ہے، اس کی وجہ خدا کے قدیم دین میں نورِ امامت کی موجودگی ہے کہ جہاں امام تھا وہاں ایک مخصوص اصطلاح بنی ہے، اور دوسرے لوگ جب تک امامت کا تصوّر اور نظریہ نہ رکھتے تو کیسے یہ اصطلاح ان معنوں کے ساتھ قبول کر سکتے تھے، کیونکہ یہ اصطلاح امام کی ہستی جہاں ہو وہاں ہو سکتی ہے۔
مثال کے طور پر لفظِ رسول کے لغوی اور اصطلاحی دو معنی ہوتے ہیں چنانچہ اس کے لغوی معنی ایلچی کے ہیں جو قاصد، پیغام رسان اور سفیر کے لئے مستعمل ہیں، اور رسول کے اصطلاحی معنی اُس انسانِ کامل کے ہیں جو خدا کی طرف سے بھیجا ہو، یعنی پیغمبر جو کتاب بھی لائے، اب رسول کے جو لفظی معنی ہیں وہ تو ہر قوم اور ہر ملک میں استعمال ہوتے ہیں، مگر رسول کی جو اصطلاح ہے وہ نہ صرف اُن قوموں میں پائی جاتی ہے، جن کے وہاں کبھی خدا کی طرف سے کوئی پیغمبر آیا ہو، اس کے برعکس جو لوگ خدا کی ہستی سے منکر ہیں وہ کسی پیغمبر اور دین کے بھی قائل نہیں، لہٰذا اِن کے وہاں رسول کے اصطلاحی معنی موجود نہیں ہیں۔
۱۲۹
اسی طرح امام کی اصطلاح تمام معنوں کے ساتھ صرف اُس قوم میں ہے، جس میں واقعاً امام آتا رہا ہے، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ ویدی فلسفہ میں ایسی کوئی اصطلاح نہیں ہے، مگر ہاں یہ بات ضرور ہے کہ امامِ برحقؑ کی عام باطنی ہدایت کے نظام کے مطابق ہر مذہب میں کوئی پیشوا ہوا کرتا ہے، جو اُس مذہب کی سطح کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے، کیونکہ دنیا کے بارہ (۱۲) جزیروں میں امامِ عالی مقام کی جانب سے چوبیس (۲۴) لیلی اور نہاری حجت مقرر ہوا کرتے ہیں۔
غیر اسماعیلی:
سوال نمبر ۷۵: اگر ایک غیر اسماعیلی روحانیّت کے سب سے اونچے درجے کو حاصل کر سکتا ہے تو پھر امام کی ضرورت کیا ہے؟
جواب: آپ نے سوال میں جس امکانیّت کا ذکر کیا ہے اس کی مثال یا دلیل پیش نہیں کی ہے، نیز اِس سوال میں یہ منطقی نقص بھی ہے کہ آپ نے صرف ایک غیر اسماعیلی کی طرف اشارہ کیا ہے، اور نجات کے لئے یا روحانی بلندی کے لئے صرف ایک ہی شخص کو لیا ہے اور وہ بھی نا معلوم ہی ہے۔
اگر اس اشارے سے آپ کی مراد منصور حلاج جیسی شخصیت ہے تو اس کے لئے آپ کو تاریخی طور پر صحیح ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اسماعیلی تھا، اور اگر اس کو صرف صوفی مانا جائے تو اُس صورت میں بھی وہ امام کی عالمگیر ہدایت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ امامِ عالی مقام کی طرف سے اس دنیا میں بارہ لیلی حجّت اور بارہ نہاری حجت مقرر ہیں، جن کے وسیلے سے امام کی ہدایت اہلِ جہان کو درجہ بدرجہ ملتی رہتی ہے، اور اہلِ تصوّف تو خود اسماعیلیوں
۱۳۰
کے قریب ہیں۔
جب ہم مانتے ہیں کہ کارِ ہدایت کے سلسلے میں امامِ برحقؑ خدا و رسولؐ کا خلیفہ اور نمائندہ ہے، تو یہ بھی ماننا چاہئے کہ جس طرح خدا ربّ العالمین اور رسول رحمت اللعالمین ہیں اسی طرح امامِ زمانؑ تمام جہان والوں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے، لیکن دنیا کے مذاہب بھی اور اہلِ مذاہب بھی مختلف درجات پر ہیں، لہٰذا امام کی ہدایت ہر مذہب کو اور ہر شخص کو حسبِ حال ملا کرتی ہے۔
ہر چیز کو بنیاد سے دیکھنے ، سننے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے، چنانچہ سمجھ لیا جائے کہ خدا کے بغیر مخلوق نہیں، پیغمبر کے بغیر دین نہیں اور امامِ زمانؑ کے بغیر ہدایت نہیں، اور اگر امامِ زمانؑ کے بغیر ہدایت حاصل ہو سکتی تو رسولؐ کے بعد کسی جانشین کی ضرورت نہ ہوتی، اگر حق بات یہی ہے کہ رسولِ مصطفیؐ کا جانشین ضرور ہے تو دیکھنا ہو گا کہ کہاں ہے اور کون ہے؟ ظاہر ہے کہ ایسا برحق جانشین امامِ زمانؑ ہی ہے کیونکہ وہی ہر زمانے میں امامت و خلافت کی تمام خوبیوں کے ساتھ حاضر اور موجود ہے۔
۱۳۱
سو سوال
حصہ چہارم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سخنہائے گفتنی
شکر گزاری:
پروردگارِ عالمین کی توفیق و عنایت سے “سو سوال” کی کتاب مکمل ہو چکی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور نعمتوں کی شکر گزاری کے ساتھ حصّۂ چہارم کی تمہید کے سلسلے میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے بیحد مسرّت و شادمانی ہو رہی ہے، مگر دل بول اُٹھتا ہے کہ اے کاش، اس بندۂ خاکسار و ناچیز سے خداوندِ کریم کے ان عظیم احسانات و انعامات کا شکر جیسا کہ چاہئے ادا ہو سکتا!
رہنمائی اور دستگیری:
میرے خداوندِ برحق! میرے مالک و مولا! تیرے علم سے حقیقتِ حال ہرگز پوشیدہ نہیں، کہ اگر تیری مقدّس ہدایت دین شناسی کی اس منزلِ مقصود کی طرف رہنمائی اور دستگیری نہ کرتی اور تیری رحمت شاملِ حال نہ ہوتی تو مجھ ایسے کمزور اور بیدست و پا بندے کہاں اور حصولِ مقصد کہاں، کیونکہ تیرے سہارے کے سوا
۱۳۷
اس مشکل راستے میں قدم ڈگمگا جاتے ہیں، اور تیری روحانی تائید کے بغیر دل و دماغ پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔
جذبۂ جستجو اور شوقِ تحقیق:
عزیزانِ من! کیا آپ نے کبھی اس بارے میں غور و خوض کیا ہے؟ کہ فطرتِ انسانی میں ہمیشہ جذبۂ جستجو اور شوقِ تحقیق کیوں پایا جاتا ہے کہ وہ ہر وقت ارض و سما کے عجائب و غرائب کو ایک ایک کر کے پوری توجہ سے دیکھنا اور جاننا چاہتا ہے؟ انسان کو یہ دعوت کس وجہ سے دی گئی ہے کہ وہ قرآن کے علاوہ آفاق و انفس کی نشانیوں میں بھی خوب غور و فکر کرے؟ اس کا اصل سبب کیا ہے کہ آدمی کو سیر و تفریح سے دلچسپی اور خوشی ہوتی ہے؟ اس میں کیا راز پوشیدہ ہے کہ آپ کو مناظرِ قدرت کے مشاہدے سے لطافت و لذّت محسوس ہوتی ہے؟ اس کا روحانی پس منظر کیا ہے یا اس میں حکمت کیا ہے کہ آپ باغ و گلشن کے نظاروں سے محظوظ و مسرور ہو جاتے ہیں؟ وہ کون سی طاقت ہے جو نہ صرف چھوٹے چھوٹے بچوں ہی کو بلکہ بڑوں کو بھی پوچھنے، سوالات کرنے، دریافت کرنے اور جاننے کے لئے آمادہ کر دیتی ہے؟ اور ان تمام حالات کو پیشِ نظر رکھنے سے ایسا کیوں لگتا ہے، جیسے انسان ہر بہانے سے اپنی کھوئی ہوئی دولت کی بازیابی کی تلاش میں لگا ہوا ہو؟
۱۳۸
ان مسائل کا جواب:
مذکورہ سوالات کا جامع اور واحد جواب یہ ہے کہ اس نوعیت کی بہت سی انسانی صلاحیتوں، قوّتوں اور امنگوں کے پسِ پردہ قدرتِ خداوندی خود ہی موجود اور کارفرما ہے اور وہی انسان کو ہر وقت اس بات کی ترغیب دیتی رہتی ہے کہ وہ اشیائے کائنات اور مظاہرِ قدرت کی باطنی حقیقتوں کو اور ان میں سے ذاتِ سبحان کے چھپے ہوئے بھیدوں کو پائے، تا کہ ان تمام اسرارِ باطن کے وسیلے سے ربّ العزّت کی معرفت حاصل ہو، کیونکہ معرفت میں دائمی زندگی اور ابدی نجات ہے، اور اسی میں عالمِ لامکان کی لازوال سلطنت ہے، اور لامکان وہ ہے جس میں ماضی و مستقبل کے بغیر ازلی و ابدی نعمتیں ہمیشہ حاضر اور موجود رہتی ہیں، اور یہ حقیقت ہے کہ ہادئ برحق علیہ السّلام کی نورانی ہدایت کے بغیر ان اسرارِ عظیم کو کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔
وسیلۂ ہدایت:
ان معنوں کی وضاحت یہ ہے کہ عقل و دانش اور علم و حکمت کی لازوال دولت سے صرف ایسے ہی لوگ مالامال ہو سکتے ہیں، جو اسرارِ فطرت اور رموزِ خلقت کو سمجھنے کا وسیلہ ڈھونڈتے ہیں، اور وہ وسیلہ جانشینِ رسولِ اکرمؐ ہے، جو ظاہری و باطنی ہدایت کا سرچشمہ ہے، اسی رہنمائے راہِ راست کی پیروی میں حیات و کائنات کے بھید اور کتابِ سماوی کے اسرار منکشف ہو جاتے
۱۳۹
ہیں، اور انہی رازوں میں خودی اور خدائی کی معرفت و شناخت کے انمول خزانے چھپائے ہوئے ہیں، تا کہ خاصانِ خدا ان مخفی ترین خزانوں کو حاصل کر کے اپنی “انائے علوی” کی ازلی و ابدی حقیقت کو پہچان لیں، وہ حقیقت ایسی انوکھی اور نرالی شان والی ہے جو کبھی حقیقتِ حقائق سے الگ نہیں ہوئی اور نہ کسی وقت جدا ہو سکتی ہے۔
خود شناسی اور خدا شناسی:
ہاں یہ حق بات ہے کہ خود شناسی اور خدا شناسی کا علم خاص ترین ہے، جو کتابِ سماوی اور کتابِ کائنات کے اسرار یعنی بھیدوں میں پوشیدہ ہے، ان کتابوں میں ایک مجمل ہے اور دوسری مفصل، اور ایک تیسری کتاب بھی ہے جو زندہ اور بولتی ہے، یہ کتابِ ذات یا کتابِ نفس ہے، اس کو کتابِ روح بھی کہتے ہیں، اور اسی کی شان میں فرمایا گیا ہے کہ: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاھَا (۹۱: ۰۹) (جس نے جان کو پاک رکھا وہ تو کامیاب ہوا) نفس اور روح کی طہارت و پاکیزگی اس لئے ضروری ہے، کہ یہ اپنی اصلی حالت میں ایک معجزاتی آئینہ ہے، جسے آئینۂ حقائق نما کہنا چاہئے، کیونکہ اسی میں آیاتِ رحمان اپنی پوری چمک دمک اور اصل تجلیوں کے ساتھ منعکس ہو جاتی ہیں، خواہ وہ آیتیں قرآن کی ہوں یا عالمِ جسمانی کی۔
اَعِزَّہ کے لئے شکریہ:
میں آخر میں اپنے “خانۂ حکمت” کے محسن اور معزز عملداران و ارکان کا انتہائی
۱۴۰
قدردانی کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، کہ ان حضرات نے اس ادارے کے علمی مقصد کو آگے بڑھانے اور پیاری جماعت کی ایک مستقل خدمت انجام دینے کی خاطر طرح طرح کی تکالیف اور زحمتیں برداشت کی ہیں، اور اپنی عمرِ گرانمایہ کے بہت سے اوقات کو جو زندگی کے اجزاء ہیں علمی خدمت کے لئے بصد شوق قربان کر دیا ہے، یہ میرے وہ عزیزان ہیں جو ایک منظم ادارے کی شکل میں شب و روز سخت محنت اور جانفشانی سے کام کرتے ہیں، ان روحانی احباب کے علاوہ کراچی، راولپنڈی، چترال، گلگت اور ہونزہ میں بھی بہت سے اَعِزَّہ ایسے ہیں، جن کو نہ صرف حصولِ علم ہی کا زبردست شوق ہے، بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ علمی خدمت سے بھی دلچسپی لیتے ہیں۔
جانِ عزیز جناب ڈاکٹر فقیر محمد صاحب ہونزائی کے جواہرات جیسے قیمتی مشوروں، موتیوں کی بارش جیسی مہربانیوں اور پہاڑ جیسی پشت پناہی کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے، مجھے ایسے شایانِ شان الفاظ نہیں ملتے کہ جن کے استعمال کرنے سے موصوف کے عظیم احسانات کا حقِ شکرگزاری ادا ہو سکے۔
میں انتہائی اخلاص و محبت کے الفاظ میں اور قدردانی و احسان شناسی کے انداز میں اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے کینیڈا کی نیکنام “ایسٹرن کینیڈا ریجنل کمیٹی” اور وہاں کی پیاری جماعت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کہ انہوں نے ہمیں علمی خدمت کا ایک نایاب زرین موقع عنایت کیا، اس سلسلے میں ان چند فرشتہ صفت خاندانوں کی پرخلوص مہمان نوازی اور بیمثال خدمات کی شکر گزاری بڑی خصوصیت کے ساتھ ہم پر واجب ہو جاتی ہے، جن کے بابرکت گھروں میں ہمارے لئے نہ صرف آرامگاہ کا اعلیٰ انتظام تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک
۱۴۱
صاف ستھرا دفتر اور ایک میٹنگ روم بھی مخصوص کیا جاتا تھا، تا کہ ہم خود کو اچھی طرح سے تیار کر کے گرد و نواح کے علاقوں کی جماعتوں میں دورہ کر سکیں اور دوسرے اوقات میں گھر بیٹھ کر خواہشمند افراد سے مذہبی گفتگو کریں، ہم ان شاء اللہ ان عزیزوں کے ممنون، احسانمند، شکرگزار اور دعاگو رہیں گے، اور ان کی اخلاقی بلندیوں، مذہبی خوبیوں اور ملکوتی صفات کو ہرگز فراموش نہ کریں گے۔
اب میں اُس قلمی اور علمی تعاون کی طرف اشارہ کروں گا جو وہاں پر انگلش اور فرنچ میں میری کچھ کتابوں کو منتقل کرنے اور ٹائپنگ کا کام کرنے کی صورت میں ہمیں حاصل ہے، اس مناسبت سے میں نیک خیالات، روحانی تصورات اور عجز و انکساری کی دعاؤں میں روئے زمین کے اُن فرشتوں کو بار بار یاد کرتا ہوں، کہ جن کی قلمی معاونت اس درویش کی ہمت افزائی کا باعث ہے۔
پس یہ میری انتہائی عاجزانہ دعا ہے کہ اے ربِّ عزّت! اِن تمام حقیقی دینداروں کو تیرے پسندیدہ اور برگزیدہ بندوں کی با اثر دعائیں حاصل ہوں! خداوندا! انہیں دونوں جہان کی سعادت و سلامتی اور کامیابی عطا فرما! ان کو زندگی اور عمر کی گرانمایہ دولت صرف کر کے زیادہ سے زیادہ علمی اور دینی خدمات انجام دینے کا حوصلہ عنایت کرنا! اور ان کی تمام نیک مرادیں پوری کر دیں! آمین یا ربّ العالمین!!
بندۂ عاجز نصیر ہونزائی
سنیچر ۲۱ رمضان ۱۳۹۸ھ، ۲۶ اگست ۱۹۷۸ء، سالِ اسپ
۱۴۲
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حقیقتِ معراج:
سوال نمبر ۷۶: حضورِ اکرمؐ کی معراج جسمانی طور پر ہوئی تھی یا روحانی کیفیت میں؟ نیز آپ یہ بتائیں کہ آنحضرتؐ کو مسجدِ اقصیٰ کی طرف لے جانا کیوں ضروری ہوا؟ خدا تعالیٰ کی طرف سے رسولِ برحقؐ کو جن معجزات کا دکھانا منظور تھا وہ مسجدِ حرام (خانۂ کعبہ) میں کیوں نہیں دکھائے گئے کہ مسجدِ اقصیٰ میں دکھائے گئے؟
جواب: (الف) معراج کشفِ باطن اور روحانیّت کے عروج کا نام ہے، جو ذکر و عبادت کا نتیجہ ہے، قربِ خداوندی باطنی اور روحانی طریق پر ہے نہ جسمانی طور پر، عالمِ علوی سے دنیائے روحانیّت مراد ہے، جو لامکانی حیثیت میں پائی جاتی ہے۔
(ب) جب اللہ تعالیٰ آسمان و زمین میں سموتا نہیں صرف بندۂ مؤمن کے دل میں سموتا ہے تو پھر اِس قلبی عرش کی ترجیح کے بعد دوسرے کسی عرش کا سوال پیدا نہیں ہو سکتا، اور وہ تمام قرآنی آیات تاویلی قرار پاتی ہیں، جن میں عرش پر اللہ پاک کے “استویٰ” کا ذکر ہے، اور اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ روشنی میں آنحضرتؐ نے دل کے عرش کے معجزات و عجائبات کا مشاہدہ کیا تھا اور معراج اسی صورت میں پیش آئی تھی۔
۱۴۳
(ج) آپ کا دوسرا سوال اُس ارشاد سے متعلق ہے جو سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) (۱۷: ۰۱) کے شروع میں ہے، جس میں حضورِ انورؐ کو معراج کے سلسلے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ کی طرف لے جانے کا ذکر ہے، سو جاننے کی ضرورت ہے کہ قرآن کی رو سے مسجد کے دو معنی ہیں، پہلے معنی ہیں سجدہ کرنے کی جگہ، جس کا مطلب مسجد اور عبادت خانہ ہی ہے، اور دوسرے معنی ہیں ذکر و عبادت، جیسے یہ لفظ سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۳۱ (۰۷: ۳۱) کے ارشاد میں آیا ہے، چنانچہ مسجدِ حرام سے وہ حرمت والا اسمِ اعظم مراد ہے، جو آنحضرتؐ کو شروع شروع میں دیا گیا تھا، اور مسجدِ اقصیٰ کا مطلب ہے وہ روحانیّت کی بلندی اور دور کی ترقی کا معجزانہ اسمِ اعظم جو حضورؐ کو بعد میں یعنی روحانی معراج کے وقت بتایا گیا، اسی معنیٰ میں یہ ذکرِ الٰہی مسجدِ اقصیٰ کہلایا، جس میں روحانیّت و نورانیّت کے بھرپور معجزات پوشیدہ تھے۔
(د) اسمِ اعظم کے تاویلی پس منظر میں نبوّت و امامت کے مراتب پوشیدہ ہوتے ہیں، چنانچہ معنویت کی گہرائی میں اسماعیلیّت کی مختلف تاویلات آپس میں مل جاتی ہیں، اور دانشمند کے نزدیک ان کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہوتا، میرا مقصد ہے کہ “وجہِ دین” میں مسجدِ حرام کی جو تاویل بتائی گئی ہے اس سے یہ تاویل اساسی طور پر مختلف نہیں ہے۔
نوٹ: معراج کے بارے میں مزید معلومات کے لئے میرے ایک مقالہ “معراجِ روح” کا مطالعہ مفید ہو گا، جس کا انگلش ترجمہ بھی ہو چکا ہے، یہ ترجمہ جانِ عزیز ڈاکٹر فقیر محمد صاحب ہونزائی کا ہے۔
۱۴۴
الکتاب:
سوال نمبر ۷۷: یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، لیکن اس بات کی وضاحت چاہئے کہ دین بھی ایک ہے، اور خدا کی کتاب بھی ایک ہے۔
جواب: (الف) جب آپ نے اس حقیقت کو یقین مانا کہ خدا ایک ہے، تو یہ امر بھی یقینی ہے کہ اللہ کا دین اور اس کی کتاب ایک ہے، کیونکہ خداوند تعالیٰ کی عادت و سنت اور قانون ایک ہی ہے اور دین قانونِ الٰہی کا دوسرا نام ہے، یہی حقیقت آسمانی کتاب کی بھی ہے کہ وہ دینِ حق کی روحانی اور تحریری صورت ہے اس لئے وہ دینِ واحد سے الگ نہیں ۔
(ب) قرآنی ارشادات میں جگہ جگہ اس حقیقت کا ذکر ہے کہ آسمانی کتاب اصل میں ایک ہے، دینِ فطرت یعنی اسلام شروع سے لے کر آخر تک ایک ہے، اور انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام بھی نفسِ واحدہ کی طرح ایک ہیں۔
(ج) قرآنِ حکیم میں فرمایا گیا ہے کہ: (پہلے) سب لوگ ایک ہی ا مت تھے پھر خدا نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا اور ان کے ساتھ برحق کتاب بھی نازل کی تا کہ جن باتوں میں لوگ جھگڑتے تھے (کتابِ خدا اس کا) فیصلہ کر دے ۔ (۰۲: ۲۱۳)
اِس آیۂ مقدسہ کی روشنی میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ بظاہر آسمانی کتابیں بہت سی ہیں، لیکن اصل میں ایک ہی کتاب ہے جس کی یہ مختلف زبانوں میں جدا جدا شکلیں ہیں، اور تنزیل و تاویل کے اعتبار سے یہ واحد کتاب تمام انبیاء و أئمّہ میں مشترک ہے، مطلب صاف روشن ہے کہ جب خدا کی کتاب
۱۴۵
حقیقت میں ایک ہے اور انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا مقصد ایک ہے تو دینِ حق بھی شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی ہے۔
سب سے بڑا گناہ:
سوال نمبر ۷۸: سب سے بڑا گناہ کون سا ہے جو معاف نہ ہو سکے؟ تفصیل سے بتا دیں۔
جواب: سب سے بڑا گناہ شرک ہے جو معاف نہیں ہو سکتا ہے، جیسا کہ اللہ کا فرمانِ اقدس ہے کہ: خدا بے شک اس کو نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی اور شریک بنایا جائے، ہاں اس کے سوا جو گناہ ہو جس کو چاہے بخش دے، اور (معاذ اللہ) جس نے کسی کو خدا کا شریک بنایا وہ تو بس بھٹک کے بہت دور جا پڑا (۰۴: ۱۱۶)
خوب جان لو کہ جس طرح شرک سب سے عظیم گناہ ہے اسی طرح اس سے بچ کر خدا کی شناخت اور توحید کا راستہ اختیار کرنا بہت بڑا ثواب ہے، چنانچہ اگر یہ دونوں باتیں عام اور قابلِ فہم ہوتیں جیسے عوام کا خیال ہے اور شرک و توحید کے کچھ بھید نہ ہوتے تو سب کے سب بڑی آسانی سے نجات پا سکتے اور کوئی گمراہ نہ ہو جاتا، ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ ان دونوں باتوں میں کچھ راز ہیں۔
اس آیۂ کریمہ میں تحقیق کرنے سے پتا چلتا ہے کہ شرک کا نتیجہ بہت دور کی گمراہی کی صورت میں نکلتا ہے، اور اس نسبت سے صراطِ مستقیم اور ہادئ برحق کا تصور سامنے آتا ہے، کیونکہ گمراہی کسی شخص کی اُس حالت و کیفیت کا نام ہے جو راہِ راست اور ہادئ زمان سے دور ہو جانے سے اُس پر گزرتی ہے،
۱۴۶
اس سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوا کہ شرک اور گمراہی کا ایک مطلب ہے اور دوسری طرف یہ کہ توحید اور ہدایت راہِ حق اور رہنمائے وقت سے جدا نہیں۔
اب دیکھنا ہو گا کہ دین میں خدا کی معرفت یعنی پہچان مسلّمہ ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان اس امر سے انکار نہیں کر سکتا، کیونکہ اسلام صراطِ مستقیم ہے یعنی دین خدا کے حضور جانے کا راستہ ہے اور اس راستے کی منزلیں چار ہیں، جو شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت ہیں، ان منازل میں آخری منزل معرفت اس معنی میں ہے کہ راہِ دین کی ساری مسافتیں طے کر چکنے کے بعد ہی خدا کی شناخت حاصل ہو جاتی ہے اور جب خدا کو اسی طرح پہچانا جاتا ہے تو شرک جو سب سے بڑا گناہ اور سب سے دور کی گمراہی ہے، اُس سے نجات ملتی ہے ورنہ نہیں، یہی وجہ ہے جو میں نے شروع میں کہا تھا کہ یہ دونوں باتیں یعنی شرک اور توحید ایسی نہیں ہیں جیسا کہ اُن کے بارے میں عوام کا خیال ہے۔
جب خدا و رسولؐ کے مقررکردہ ہادی کی ہدایت کی روشنی میں حصولِ معرفت برحق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حقیقی توحید معرفت کے بعد ہے تو مؤمنین پر واجب ہے کہ وہ ہمیشہ خدا شناسی کے علم کے لئے کوشان رہیں۔
اس کے علاوہ شرک کے بارے میں حکیم نامور حضرتِ پیر ناصر خسرو (قس) کی شہرۂ آفاق کتاب “وجہِ دین” کے کلام نمبر ۴۳ میں دیکھیں، آپ کے ارشادِ گرامی کا خلاصہ یہ ہے کہ امامِ برحق علیہ السّلام کی جگہ کسی اور کو امام تسلیم کرنا تاویل میں شرک کہلاتا ہے، ورنہ خدا کو خدا تسلیم کر لینے کے بعد کوئی شخص شرک کا تصوّر نہیں کر سکتا ہے۔
۱۴۷
فرشتے:
سوال نمبر ۷۹: فرشتہ کس قسم کی مخلوق کا نام ہے؟ اور اس کی خاصیّت کیا ہے؟
جواب: (الف) فرشتہ روحانی اور نورانی مخلوق کا نام ہے، وہ کامل انسانوں اور حقیقی مؤمنوں کی پاکیزہ روحوں کی حیثیت سے ہوا کرتے ہیں، اِس نسبت سے بعض دفعہ قرآنِ حکیم نے اعلیٰ درجے کے جسمانیوں کو بھی فرشتہ قرار دیا ہے، آپ قرآنِ پاک کی (۰۶: ۰۹، ۱۷: ۹۵، ۴۳: ۶۰) کے ارشادات کو خوب غور سے دیکھیں۔
(ب) فرشتوں کی بنیادی خصوصیات یہ ہیں کہ: وہ عبادت میں بڑائی نہیں کرتے ہیں، یعنی ان میں بدرجۂ انتہا عجز و انکساری کی کیفیت موجود ہوتی ہے، وہ ذکر و عبادت سے تھکتے نہیں، شب و روز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر لیا کرتے ہیں اور کاہلی نہیں کرتے، یہ صفات روحانی فرشتوں کے علاوہ جسمانی فرشتوں میں بھی ممکن ہے (۲۰: ۱۹ تا ۲۰) مزید برآن فرشتوں کی ایک خاصیت فرمانبرداری اور خوفِ خدا ہے (۱۶: ۵۰)۔
(ج) عظیم فرشتوں کا ایک خاص وصف علم و معرفت ہے، اور ان کو اسی وجہ سے حاملانِ عرش ہونے کا درجہ حاصل ہے کیونکہ ربّ العزّت کا عرشِ عظیم عقل و دانش اور علم و معرفت ہی کا ہے، چنانچہ جو فرشتے عرش کو اُٹھائے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ:
رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَۃً وَعِلْماً (۴۰: ۰۷)۔
۱۴۸
اے ہمارے پروردگار! تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ حاملانِ عرش نورِ علم و معرفت کی روشنی میں ذاتی طور پر اس حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ ظاہر و باطن کی ہر چیز رحمت اور علم کے گھیرے سے باہر نہیں ہے، اس سے ان عظیم فرشتوں کی علمی برتری و بزرگی ثابت ہو جاتی ہے کہ وہ دونوں جہان کی تمام چیزوں کو بیک نظر دیکھتے ہیں۔
(د) یہ حقیقت ہے کہ حاملانِ عرش سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم اور آپ کے بعد آپ کے اوصیاء یعنی أئمۂ اطہار علیہم السّلام ہیں، آپ اگر چاہیں تو اس مطلب کی مزید تحقیق کے لئے قرآن کے شیعی ترجموں، حاشیوں اور تفسیروں میں موضوعِ “عرش” کو دیکھ سکتے ہیں۔
ولایتِ علیؑ :
سوال نمبر ۸۰: حضرتِ علیؑ کی ولایت مؤمن کے لئے کیونکر ضروری ہو سکتی ہے؟ کیا قرآن و حدیث سے اس کا کوئی ثبوت مل سکتا ہے؟
جواب: (الف) حضرتِ مولانا علی علیہ السّلام کی ولایت و دوستی کی اہمیت و ضرورت اس لئے ہے کہ آپ کی ولایت خدا و رسول ؐ کی ولایت ہے، چونکہ آپ ؑ بحکمِ خدا پیغمبر اکرمؐ کے بعد ولی امر ہیں۔
(ب) حضرتِ مرتضیٰ علیؑ رسول اللہ کے حقیقی جانشین اور امامِ برحق ہیں، لہٰذا ان کی ولایت، محبت، دوستی اور اطاعت فرض ہے۔
(ج) قرآنِ حکیم کا ارشادِ مقدّس ہے کہ: (اے رسولؐ ان لوگوں سے) کہدو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا (بھی) تم کو دوست رکھے
۱۴۹
گا (۳۱: ۰۳) چنانچہ اِس فرمانِ خداوندی کے مطابق جب اللہ تعالیٰ کی اطاعت و محبت بلا واسطہ نہیں بالواسطہ ہے یعنی آنحضرتؐ کے ذریعے سے ممکن ہے تو پھر اِس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ بالکل اسی طرح پیغمبرِ خداؐ کی اطاعت و محبت علیؑ کے وسیلے سے میسر ہوتی ہے۔
(د) اللہ تعالیٰ کا پاک فرمان ہے کہ:
إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ (۰۵: ۵۵)
(اے ایماندارو!) تمہارے مالک سرپرست بس یہی ہیں خدا اور اس کا رسولؐ اور وہ مؤمنین جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔
اِس آیۂ کریمہ میں ولایت کے تینوں درجات کا ذکر ایک ساتھ اس لئے فرمایا گیا ہے کہ وہ درجے اصل میں ایک ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی ولایت پیغمبرؐ کے ذریعے سے ہے اور آنحضرتؐ کی ولایت علیؑ کے وسیلے سے، جس طرح اطاعت تین درجوں میں ہے: اللہ کی اطاعت، رسولؐ کی اطاعت اور اولی الامر کی اطاعت (۰۴: ۵۹) مگر یہ اطاعتیں حقیقت میں ایک ہیں۔
(ہ) یہ معتبر روایت مشہور ہے کہ مذکورۂ بالا آیت مولا علیؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے، کیونکہ حالتِ رکوع میں زکوٰۃ صرف امیر المؤمنینؑ ہی نے ایک سائل کو دی تھی، آپ متعلقہ کتب میں دیکھیں، اب رہا کسی شخص کا یہ سوال کہ اگر مذکورہ آیہ حضرتِ علیؑ کی شان میں ہے تو خدا و رسولؐ کے بعد جن کی ولایت کا ذکر ہوا ہے وہ صیغۂ جمع میں کیوں ہیں؟ یعنی اگر یہ اوصاف علیؑ کے ہیں تو پھر کیوں یہ واحد کے طور پر بیان نہیں ہوئے؟
۱۵۰
اِس کا پہلا جواب یوں ہے کہ اِس آیۂ مقدسہ میں جن لوگوں کو ولایت کی تعلیم دی گئی ہے وہ تو تمام مسلمین و مؤمنین ہیں، اور خدا و رسولؐ کے بعد جن حضرات کی ولایت فرض کی گئی ہے، وہ سارے مسلمانوں اور مؤمنوں سے مخصوص و ممتاز ہو کر الگ ہیں، چنانچہ اِس قرآنی تعلیم سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوا کہ یہاں اُس عام قسم کی محبت و دوستی کا ذکر نہیں جو ایک مسلم کو دوسرے مسلم سے ہونی چاہئے، اور دوسری طرف یہ پتا چلا کہ ایمان کے درجۂ کمال پر کچھ برگزیدہ افراد ہیں جن کی ولایت تمام اہلِ اسلام پر فرض ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ نماز کے دوران رکوع کی حالت میں اصحابِ کبار رضوان اللہ علیہم میں سے کسی فرد نے سائل کو زکوٰۃ نہیں دی ہے، مگر حضرتِ علی علیہ السّلام نے، اور یہ ایک پُرحکمت اتفاق ہے، چنانچہ ثابت ہے کہ یہ آیت علیؑ ہی کی شان میں ہے، اور پیغمبرِ اکرمؐ کے بعد علیؑ کی ولایت مسلّمہ ہے، اور علیؑ کے ولئ امر ہونے کے ثبوت میں یہی ایک نہیں بلکہ بہت سی آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبوّی وارد ہوئی ہیں، لہٰذا یہاں سوال اِس طرح ہونا چاہئے کہ اِس آیۂ مقدّسہ میں علی مرتضیٰؑ کا ذکرِ جمیل بہت سے افراد کی طرح کرنے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ اور یہ فردِ واحد کی طرح کیوں نہیں؟ تا کہ اس کا جواب ذیل کی طرح دیا جائے:
۱۔ یہی تو قرآنی حکمت کا ایک خاص اعجاز ہے کہ صحیح مقام پر ایک فرد کے بیان میں بہت سے افراد کا ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ سے حضرتِ علی صلوات اللہ علیہ کے فعل کو آپؑ کی نسل کے تمام أئمّۂ برحق علیہم السّلام کا فعل قرار دیا ہے، تا کہ اہلِ دانش پر یہ حقیقت ظاہر ہو کہ پاک أئمّہؑ سب کے سب نہ صرف مرتبۂ ولایت پر نفسِ واحدہ کی طرح متحد ہیں
۱۵۱
بلکہ وہ حضرات کارِ ہدایت کے اعتبار سے بھی ہمیشہ ایک ہیں، سو یہی وجہ ہے کہ آیۂ مذکورہ میں امیر المؤمنین علی علیہ السّلام کے اوصاف جمع کے صیغے میں بیان ہوئے ہیں۔
۲۔ ارشاد ہوا ہے کہ:
إِنَّ إِبْرَاہِیْمَ کَانَ أُمَّۃً قَانِتاً لِلّہِ حَنِیْفاً وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (۱۶: ۱۲۰)
اس میں شک ہی نہیں کہ ابراہیم خدا کی ایک فرمانبردار جماعت (یعنی ایک مطیع قوم کی حیثیت سے) تھا جو باطل سے کترا کر چلتا تھا اور مشرکین سے (ہرگز) نہ تھا۔ سو یہاں پر بھی وہی حقیقت ہے کہ حضرتِ ابراہیمؑ کا فعل آلِ ابراہیمؑ کے تمام انبیاء و أئمّہ کا فعل تھا، کیونکہ آپؑ اِن سب کے مورثِ اعلیٰ تھے، اور آپ کا مرتبہ انہی پیغمبروں اور اماموں کے سلسلے میں تا قیامت قائم رہنے والا تھا، جیسا کہ قرآنِ پاک کی (۰۴: ۵۴) کے ارشاد سے ظاہر ہے۔
۳۔ اس سلسلے میں ایک عام مثال بھی پیشِ نظر رہے کہ قرآنِ حکیم ماضی اور حال کے کافروں کو کس طرح ایک قرار دیتا ہے، جبکہ ان کے کفر و عصیان کا طریقہ ایک ہی ہے، چنانچہ فرمایا گیا ہے کہ: (اے رسولؐ) اُن سے یہ تو پوچھو کہ تم اگر ایماندار ہو تو پھر کیوں ماضی میں خدا کے پیغمبروں کو قتل کرتے تھے (۰۲: ۹۱)
ظاہر بات ہے کہ اِس آیۂ کریمہ کے مطابق جن لوگوں نے ماضی میں خدا کے بعض پیغمبروں کو قتل کیا تھا وہ تو رسول اللہؐ کے زمانے میں خود موجود نہیں، کیونکہ وہ بہت پہلے اس دنیا سے چل بسے تھے، مگر اُن کے ہم خیال اور نظریاتی جانشین یعنی بالکل اُن جیسے کافر موجود تھے، لہٰذا تمام اگلے اور پچھلے کافروں کو ایک قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ تم نے انبیاء کو کیوں قتل کیا۔
۱۵۲
(و) علی و أئمّۂ اولادِ علی صلوات اللہ علیہم اجمعین کی ولایت کے بارے میں ان قرآنی دلائل کے بعد ارشاداتِ نبوّی کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے کہ اس سلسلے میں آنحضرتؐ کے بہت سے فرمودات ہیں جن سے ان حضرات کی ولایت ثابت ہے، لیکن ہمیں یہاں سو سوالات کے سلسلے میں کسی بھی جواب کو حد سے زیادہ طول نہیں دینا ہے، لہٰذا یہاں صرف ایک ہی بڑی اہمیت والی حدیث پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا:
میں علیؑ سے ہوں اور علیؑ مجھ سے ہیں۔
اگر عقل و دانش کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت روشن ہو جائے گی کہ اِس ارشادِ نبوی میں بہت بڑی معنوی جامعیّت موجود ہے، اور وہ اس طرح کہ آنحضرتؐ سے علیؑ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ عقل و دانش، علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے تمام خزانے علیؑ کو نبی ؐ سے حاصل تھے، اور پھر علیؑ سے آنحضورؐ کے ہونے کا یہ مطلب ہے کہ حضرتؐ کا مقدس نور مولا علیؑ میں منتقل ہوا اور آلِ محمدؐ و اولادِ علیؑ کے سلسلۂ امامت میں یہ نور ہمیشہ کے لئے زندہ اور تابندہ ہے۔
لامکان:
سوال نمبر ۸۱: لامکان کہاں ہے؟ وہ کیا چیز ہے؟ اس کی کیفیت و حقیقت کیا ہے؟ تفصیل سے بتا دیں۔
۱۵۳
جواب: تمہارے سوال کا پہلا جملہ غلط ہے، جس میں تم نے پوچھا ہے کہ لامکان کہاں ہے، جبکہ لامکان (مکان نہیں) ایک غیرمکانی کیفیت ہے، وہ لامکان اس لئے ہے کہ مکان کی صفات کے برعکس ہے، باقی سوال ٹھیک ہے۔
جس طرح مادّہ اور جسم مکان میں ہے بلکہ یہ چیز خود مکان ہے اِسی طرح غیر مادّہ یعنی روح اور اس کا تصوّر لامکان ہے، چنانچہ عالمِ روحانی لامکان ہے، جس کا مشاہدہ نہ صرف مرنے کے بعد ہو سکتا ہے بلکہ زندگی میں بھی ممکن ہے۔
جیسے جسم سے مکان الگ نہیں ہو سکتا ہے بلکہ جسم اور مکان ایک ہی چیز ہے اسی طرح زمان بھی جسم کی گردش سے پیدا ہوتا ہے، چنانچہ اگر یہ کائنات نہ ہو تو اُس صورت میں نہ صرف جسم نہ رہے گا مکان و زمان بھی ختم ہو جائے گا، اس سے ظاہر ہے کہ مکان و زمان کا تعلق جسم سے ہے، اور روح جس طرح لامکان ہے اسی طرح لازمان بھی ہے۔
دانشمند کو لامکان کی حقیقت سمجھنے کے لئے ایک عام مثال عالمِ خواب ہے، کیونکہ انسان جب خواب دیکھتا ہے تو وہ اس کے لئے کہیں بھی نہیں جاتا مگر لامکانی کیفیت میں ہوتا ہے، یعنی وہ اپنی روح کی طرف متوجّہ ہوتا ہے جبکہ روح خود عالمِ لامکان ہے تو اس وقت اِس لامکان کی تمام چیزیں مادّیت کے بغیر پائی جاتی ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ عالمِ روحانی اور اصل لامکان میں مادّی چیزیں اس طرح نہیں ہوتی ہیں جس طرح وہ اِس دنیا میں ہیں، مگر ہاں ان کا جوہر یعنی ان کی روحانی شکلیں موجود ہوتی ہیں، جس طرح خواب میں ہر چیز جسم کو چھوڑ کر اپنی روحانی صورت میں حاضر ہوتی ہے۔
اصل لامکان سے عالمگیر روح مراد ہے جس کو نفسِ کلّی کہا جاتا ہے، وہی
۱۵۴
عالمِ روحانی اور آخرت ہے، اسی میں سب روحانی قسم کی چیزیں موجود ہیں، جنّت بھی اسی میں ہے، وہ جہان زندہ اور دانا ہے۔
ہم نے کہا تھا کہ جس طرح روح لامکان ہے اسی طرح وہ لازمان بھی ہے، اور اس کے معنی یہ ہیں کہ عالمِ روحانی کی ہر چیز زمانے کی قید سے بالاتر ہے، کہ وہاں نہ کوئی ماضی ہے اور نہ کوئی مستقبل، وقت کی جو کچھ کیفیت ہے وہ حال کی طرح ہے، اس لئے کہنا چاہئے کہ وہاں زمانِ ناگزرندہ ہے جسے دہر کہا جاتا ہے۔
اساسؑ اور صامت:
سوال نمبر ۸۲: اساسؑ اور صامت کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ اور وہ کتنے ہوئے ہیں؟ وضاحت سے بتا دیں۔
جواب: اساس کے لفظی معنی بنیاد کے ہیں اور اسماعیلی اصطلاح میں اساسؑ اُس امام کو کہتے ہیں جو کسی رسولِ ناطق کا وصی اور جانشین ہوا کرتا ہے، اور وہیں سے امامت کے ایک دور کا آغاز ہوتا ہے، اور صامت بھی اسی اساس کو اس نسبت سے کہتے ہیں کہ وہ رسولِ ناطق (یعنی آسمانی کتاب اور شریعت کی ترجمانی کرنے والا پیغمبر) کی موجودگی میں خاموش رہتا ہے، مگر یہی اساس بعد میں کتابِ صامت کی نسبت سے کتابِ ناطق کہلاتا ہے۔
حضرتِ آدمؑ کا پہلا اساس مولانا ہابیلؑ تھا، جب اُس کو قابیل نے شہید کر دیا، تو مولانا شیثؑ اساس مقرر ہوا، حضرتِ نوحؑ کا اساس مولانا سامؑ ، حضرتِ ابراہیمؑ کا مولانا اسماعیلؑ ، حضرتِ موسیٰؑ کا پہلے مولانا ہارونؑ اور ان کی وفات کے بعد مولانا یوشعؑ بن نون اساس ہوا، حضرتِ عیسیٰؑ کا اساس شمعونؑ تھا اور
۱۵۵
حضرتِ محمدؐ کا مولانا علی مرتضیٰؑ ۔ ان چھ ناطقوں کے یہ چھ اساس ہوئے۔
حضرتِ عمرانؑ :
سوال نمبر ۸۳: آپ وضاحت کر کے بتائیں کہ وہ عمران کونسا ہے جس کی آل کی برگزیدگی کا قرآنِ مقدّس میں ذکر کیا گیا ہے، جبکہ عمران ایک سے زیادہ ہیں؟
جواب: آپ کا سوال آیۂ اصطفا سے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ: بے شک خدا نے آدمؑ اور نوحؑ اور خاندانِ ابراہیمؑ اور خاندانِ عمرانؑ کو سارے جہان سے برگزیدہ کیا ہے (۰۳: ۳۳)
آپ کا یہ سوال درست اور بجا ہے، کیونکہ اس عمران کے تعین کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، جبکہ عمران اس سلسلے میں کئی ہیں، جیسے (۱) عمران جو حضرتِ موسیٰؑ کے والد تھے (۲) عمران بن ماثان جو دورِ موسیٰؑ کے چھٹے امام تھے (۳) عمران (بی بی مریمؑ کے باپ) (۴) عمران (ہاشم بن عبد مناف) اور (۵) عمران حضرتِ ابو طالب علیہ السّلام۔
چونکہ اِس آیۂ کریمہ میں انبیائے کرام اور أئمّۂ عظام کے سلسلۂ ہدایت کی برگزیدگی کا تذکرہ ہے اور ظاہر ہے کہ ہدایت کی ضرورت قیامت تک باقی ہے، لہٰذا پورے دور کو چار حصوں پر تقسیم کر کے فرمایا گیا ہے کہ یہ جہان اور زمانہ ربّانی ہدایت سے کبھی خالی نہیں رہا، اور نہ کبھی خالی ہو گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے دنیا والوں سے حضرتِ آدمؑ اور اس کی نسل کے جانشینوں کو منتخب کیا تا کہ وہ اپنے دور میں لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کریں، پھر اسی طرح
۱۵۶
حضرتِ نوحؑ اور اس کے سلسلے کے وارثوں کو، ان کے بعد حضرتِ ابراہیمؑ اور ان کی آل کو، اور اخیر میں حضرتِ عمران یعنی ابو طالبؑ کو اور آپ کی آلِ پاک کو برگزیدہ کیا تا کہ فیضِ ہدایت سے دنیا کبھی خالی نہ ہو اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری اور باقی ہے۔
اگر ہم اس کے برعکس آیۂ اصطفا میں مذکورہ عمران سے موسیٰؑ کے والد کو یا عیسیٰؑ کے نانا کو مراد لیں، تو یہ بات ہرگز درست نہ ہو گی، ایک تو اس لئے کہ برگزیدگی اور انتخاب کا یہ سلسلہ اور قصّہ آنحضرتؐ کے پاک خاندان سے الگ اور بہت پہلے ختم ہو جائے گا، حالانکہ ان چار برگزیدہ حضرات میں سے آخری شخص سرورِ انبیاء محمد مصطفیؐ کے خاندان سے ہونا چاہئے دوسری وجہ یہ ہے کہ جب کارِ ہدایت کے اِس خدائی پروگرام سے ظاہر ہے کہ پورے دور کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اسی طرح اس دور میں جو سلسلۂ ہدایت قیامت تک جاری و باقی ہے اس کے بھی چار حصّے کئے گئے ہیں، اور اس سلسلے کے ہر حصّے کے شروع میں ایک عظیم شخصیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تو یہ پھر کیسے ممکن ہے کہ ہدایت کا چوتھا اور آخری سلسلہ صرف انبیائے بنی اسرائیل میں محدود ہو اور اس جامع آیت میں خاندانِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کا کوئی ذکر نہ ہو۔
اگر کوئی شخص یہ کہتا ہو کہ حضورِ اکرمؐ اور آپؐ کے پاک خاندان کا ذکرِ جمیل یعنی برگزیدگی کا تذکرہ آلِ ابراہیمؑ کے ساتھ ساتھ آ چکا ہے، تو میں جواب دوں گا کہ اگر یہ بات تمہاری قطعی دلیل ہے تو اس کے بموجب بنی اسرائیل میں سے کوئی عمران یہ عمران نہیں ہو سکتا ہے جس کی آل کی برگزیدگی کا یہاں ذکر ہے، ظاہر ہے کہ معترض کا سوال غلط ہے، اور آنحضرتؐ کے آلِ ابراہیمؑ میں سے
۱۵۷
ہونے میں ذرا بھی شک نہیں، مگر یہاں برگزیدگی پر برگزیدگی ہوئی ہے۔
اب مناسب ہے کہ حضرتِ ابو طالب علیہ السّلام کی عظمت و بزرگی کے بارے میں کچھ ذکر کیا جائے، چنانچہ جاننا چاہئے کہ نظریۂ اسماعیلیت کے مطابق نورِ امامت کا ظہور بتقاضائے زمان و مکان کئی درجات میں ہوتا ہے، جیسے امامِ مقیم، امامِ اساس، امامِ متم، امامِ مستقر اور امامِ مستودع، اور ان درجات میں سے عظیم درجہ امامِ مقیم کا ہے۔
آپ چاہیں تو اس مطلب کے لئے کتاب “الامامۃ فی الاسلام” کے صفحہ ۱۴۳ کو دیکھیں، اسی کتاب کے صفحات ۱۴۵، ۱۴۷، ۱۴۹، ۱۵۱، ۱۵۳ اور ۱۵۵ پر تحریر ہے کہ زمانۂ آدمؑ کے امامِ مقیم مولانا ہنید علیہ السّلام تھے، نوحؑ کے عہد میں مولانا ہودؑ ، ابراہیمؑ کے وقت میں مولانا تارحؑ ، موسیٰؑ کے ساتھ مولانا اُدؑ، عیسیٰؑ کے لئے مولانا خزیمہؑ، اور آنحضرتؐ کے واسطے امامِ مقیم حضرتِ عمران تھے یعنی ابو طالبؑ، ان میں سے ہر امامِ مقیم نے اپنے دور کے پیغمبرِ ناطق کو روحانی تعلیمات سے آراستہ کر کے تیار کیا، امامِ مقیم کے معنی میں غور کیا جائے۔
سلیمان پیغمبرؑ :
سوال نمبر ۸۴: کہا جاتا ہے کہ حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کو ایک ایسی معجزانہ انگوٹھی دی گئی تھی کہ اس کی وجہ سے آپؑ جنّ و انس اور وحش و طیر پر سلطنت کرتے تھے اور آپ کا تخت ہوا پر چلتا تھا، یہ باتیں کہاں تک درست ہیں؟
جواب: (الف) یہ باتیں سب کی سب صحیح ہیں مگر تاویلی صورت میں،
۱۵۸
اور وہ یہ کہ انگوٹھی سے اسمِ اعظم مراد ہے جو نہ صرف حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کو حاصل تھا بلکہ ہر پیغمبر اور ہر امام کے پاس ہوتا ہے، جنّ و انس وغیرہ پر بادشاہی اور تخت کا ہوا پر چلنا روحانیّت میں تھا، نہ کہ ظاہر میں، اور تمام انبیاء و أئمّہ کی روحانیّت ایسے عجائبات سے بھرپور ہوتی ہے۔
(ب) قرآنِ حکیم کا اشارہ (۰۲: ۲۸۵) یہ ہے کہ بڑے بڑے پیغمبروں اور اماموں کی روحانیّت میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے بلکہ ان کی روحانیّت مشترک ہوا کرتی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ایک دوسرے کے مرتبے سے بے خبر ہوتے اور معرفت کے الگ الگ ٹکڑے ہوتے اور کسی ایک کی بھی روحانیّت و معرفت کامل نہ ہوتی۔
(ج) انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام تو روحانیّت کے شاہنشاہ ہوا کرتے ہیں ان کی کامل اور مکمل روحانیّت کے بارے میں کسی دانشمند کو کیا شک ہو سکتا ہے، ہم صرف ایک حقیقی مؤمن کی روحانیّت کا ذکر کریں گے، کہ وہ نہ تو کوئی پیغمبر ہے اور نہ ہی کوئی امام، مگر وہ صراطِ مستقیم کا ایک مسافر تھا، اس نے معرفت کے درجۂ کمال کو حاصل کر لیا، چونکہ معرفت انبیاء و أئمّہ کے بعد مؤمنین کے لئے وقف ہے، اب آپ خود اندازہ کریں کہ اِس مؤمن کی کامل اور مکمل معرفت کے کیا معنی ہوتے ہیں، معرفت پہچان کو کہتے ہیں اور پہچان مشاہدات کا نتیجہ ہوا کرتی ہے، پھر سوال ہے کہ اُس عارف نے جو معرفت حاصل کی اس کا احاطہ کیا ہے اور اس احاطے میں کس کس کی معرفت آ گئی اور کون سی معرفت باقی رہ گئی، ظاہر ہے کہ جب یہ معرفت کامل ہے تو کوئی معرفت اس سے باہر نہ رہی۔
(د) اس بیان کا اشارہ یہ ہے کہ پیغمبروں اور اماموں کی روحانیت اور کہیں نہیں صرف اور صرف صراطِ مستقیم پر واقع ہے، لہٰذا جو مؤمنین ان کی مکمل پیروی
۱۵۹
کرتے ہیں تو وہ اُن تمام روحانی واقعات کو دل کی آنکھ سے دیکھتے ہیں جو انسانِ کامل کے مرتبے سے متعلق ہیں، اور کامل معرفت کے یہی معنی ہیں۔
(ہ) یہ اُصول یاد رہے کہ روحانیّت دراصل اپنی جامعیّت میں ایک ہی ہے، لیکن بمقتضائے حکمت انبیاء علیہم السّلام کے ایک جیسے معجزات کو نمایان کرنے کے لئے جدا جدا تشریحات کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ظاہر میں یوں لگتا ہے، جیسے صرف حضرتِ آدمؑ ہی کو فرشتوں نے سجدہ کیا، کشتی صرف حضرتِ نوحؑ کی تھی، آگ سے گلشن نہیں بنا مگر حضرتِ ابراہیمؑ کو، لاٹھی کا معجزہ صرف حضرتِ موسیٰؑ کا تھا، حضرتِ عیسیٰؑ کے سوا اور کوئی مُردوں کو نہیں جِلا سکتا تھا اور واقعۂ معراج کا تعلق صرف آنحضرتؐ سے ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ روحانیّت مشترک ہوا کرتی ہے، اور سب معجزات اصل میں ایک ہیں، مگر ان کی تشریحیں الگ الگ ہیں۔
کتبِ سماوی:
سوال نمبر ۸۵: اِن آسمانی کتابوں کے لفظی اور تاویلی معنی کیا ہوتے ہیں: صحف، تورات، زبور اور انجیل؟
جواب: (الف) صحف صحیفہ کی جمع ہے، اور صحیفہ کے بنیادی معنی ان الفاظ میں موجود ہیں: الصحیفُ (روئے زمین) الصحیفۃُ (پھیلی ہوئی چیز) صحیفۃُ الوَجہِ(چہرے کا پھیلاؤ) الصحیفۃُ (بڑا پیالہ، پھیلا ہوا چوڑا پیالہ) البتہ اسی کشادگی اور پھیلاؤ کی مناسبت سے صحیفہ کے معنی لکھی ہوئی چیزیعنی کاغذ، ورق کے ہوئے اور صحف کے معنی ہوئے لکھے ہوئے اوراق۔
۱۶۰
صحف کی تاویل (پھیلی ہوئی چیز اور لکھے ہوئے اوراق کے اعتبار سے) روح اور روحانیّت کے کلماتِ تامّات ہیں، جن میں سے ہر کلمہ ایک عظیم اور پاک روحانی ورق ہے، جس کی معنوی اور تاویلی وسعت و کشادگی بہت زیادہ ہے۔
(ب) تورات کے لغوی معنی کی بابت دو قول ہیں، ایک قول کے مطابق یہ (تورات) لفظ تَوْرَہْ کا معرب (عربی بنا لیا گیا) ہے اور تورہ کے معنی عبرانی میں شریعت اور حکم کے ہیں، تورات اس کی جمع ہے بمعنئ احکام و شرائع۔
دوسرے قول کے اعتبار سے یہ لفظ وَرْیٌ سے مشتق سے، اور اس مادّہ میں چھپنے اور ظاہر ہونے کے دونوں معنی پائے جاتے ہیں جیسے کہ ان لفظوں سے یہ :مطلب ظاہر ہے
حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ (۳۲: ۳۸) (یہاں تک کہ پردے میں چھپ گیا) یُوَارِی ۳۱: ۰۵ (چھپائے) اَلنَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ (۷۱: ۵۶) (وہ آگ جسے تم روشن کرتے ہو) فَالْمُوْرِیٰت قَدْحاً (۱۰۰: ۰۲) (وہ گھوڑے جن کے ٹاپ مارنے سے آگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں) حدیث میں ہے: انّ النّبی صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلّم کان اذا اَرادَ غزواً وَرَّیَ بغیرہٖ (کہ آنحضرت جب کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تو “تَوْرِیْہ” سے کام لیتے، اور توریہ یہ ہے کہ اصل بات کو چھپا کر اسے کسی اور طریقہ سے ظاہر کیا جائے اس طور پر کہ جھوٹ بھی نہ ہو اور اصل مقصد بھی ظاہر نہ ہونے پائے) وَرای الزَّنْدُ (چقماق سے آگ نکلی) وَرّٰیَ تَوْرِیۃً (چھپانا، دکھانا)۔
مذکورہ مثالوں سے یہ بات متحقق ہو جاتی ہے کہ تورات کے معنی ظاہر و باطن کے ہیں، یعنی حضرتِ موسیٰؑ کی آسمانی کتاب نہ صرف ظاہر میں تھی بلکہ وہ باطن: میں بھی موجود تھی، اور تورات کا جو پہلو باطنی اور روحانی تھا، اسی میں ہدایت اور
۱۶۱
نور تھا، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے
ہم نے توریت نازل کی جس میں ہدایت اور نور ہے (۰۵: ۴۴)
(ج) زبور کتاب کو کہتے ہیں، جیسے: اَلزَّبْرُ (لکھنا) مِزْبَرٌ (قلم) زَبِیْرٌ (تحریر) زِبرج زُبُوْر (کتاب، عقل)، زَبُور، مَزْبُوْر (لکھی ہوئی چیز، کتاب) اس کی جمع زُبُرٌ ہے، بعض کا کہنا ہے کہ زبور کتبِ الٰہیہ میں سے ہر اس کتاب کو کہتے ہیں جس پر واقفیت دشوار ہو، اور بعض کہتے ہیں کہ زبور اُس کتاب کا نام ہے جو صرف حِکَمِ عقلیہ (عقلی حکمتوں) پر مشتمل ہو اور اس میں احکامِ شرعیہ نہ ہوں اور الکتاب ہر اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو احکام و حِکَم دونوں پر مشتمل ہو، اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرتِ داؤد علیہ السّلام کی زبور میں کوئی حکم شرعی نہیں ہے۔ (راغب)
اس سے معلوم ہوا کہ زبور وہ آسمانی کتاب ہے جس سے واقفیت و آگہی مشکل ہے کیونکہ اس میں عقلی حکمتوں پر زور دیا گیا ہے، اور اس سلسلے کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ زبور میں خودی اور خدائی کے عظیم اسرار پوشیدہ تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے حضرتِ داؤدؑ کو زبور اس طرح دی کہ روحانی اور نورانی قوّتوں کے تحت آپؑ کے دل و دماغ سے کام لے کر آپ ہی کی زبان سے یہ آسمانی کتاب کہلائی گئی، اور اس امر میں معرفت کے بہت سے بھید پنہان ہیں، اس حقیقت سے متعلق :قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے
بنی اسرائیل میں سے جو لوگ کافر ہوئے اُن پر داؤدؑ اور عیسیٰؑ ابنِ مریم کی زبانی لعنت کی گئی ہے یہ اس وجہ سے کہ ان لوگوں نے نافرمانی کی اور حد سے بڑھ جاتے تھے (۰۵: ۷۸)۔ اِس فرمانِ خداوندی سے کئی حکمتیں اُجاگر ہو جاتی ہیں، سب سے پہلے یہ کہ حضرتِ داؤد علیہ السّلام اپنے وقت میں خدا کی بولنے والی زبان تھے،
۱۶۲
چنانچہ ایسی خدائی زبان کو یہ ہرگز مناسب نہیں کہ وہ صرف نافرمانوں پر لعنت ہی کے لئے مقرر ہو بلکہ ہونا یہ چاہئے کہ دوسری جانب سے فرمانبرداروں پر رحمت بھی اسی سے ہو، یقیناً ہادئ برحق جو لسان اللہ کا عظیم مرتبہ رکھتا ہے وہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے، پس ظاہر ہے کہ زبور حضرتِ داؤدؑ کی زبان سے کہلائی گئی تھی۔
(د) انجیل کے بارے میں بعض اہلِ لغت کا کہنا ہے کہ یہ لفظ یونانی لفظ اِوَنْجَلْیُوْنُ کا معرب ہے، جس کے معنی مسرت انگیز خبر یا بشارت ہیں، بعض اس کو نَجَلَ کے عربی مادّہ کے تحت لکھتے ہیں، اور نَجَلَ کے ویسے تو بہت سے معانی ہیں، لیکن بعض کے مطابق یہی صحیح ہے کہ اَلْاِنجِیْلُ، نَجَلْتُ الشَیْءَ سے ہے جس کے معنی ہیں میں اِس چیز کو ظاہر کر دیا، اور اس کے مفہوم میں پھر وہی بات ہے جو تورات سے متعلق ہے اور وہ یہ کہ کتابِ سماوی کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہوا کرتا ہے، جیسا کہ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے:
وَأَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہُ ظَاہِرَۃً وَبَاطِنَۃً (۳۱: ۲۰) اور خدا نے تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کر دی ہیں۔ چنانچہ انجیل جب تک آسمانی کتاب کی حیثیت سے کسی تحریف کے بغیر اپنی اصلی حالت میں تھی تب تک اس کے ظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہونے میں کسی دیندار کو کیا شک ہو سکتا ہے، کیونکہ ربّ العالمین کی عظیم نعمتیں تو علم و حکمت ہی کی صورت میں ہوا کرتی ہیں۔
نیز فرمایا گیا ہے کہ: اور (اے مریمؑ ) خدا اس (عیسیٰؑ ) کو الکتاب و حکمت اور تورات و انجیل سکھا دے گا (۴۸: ۰۳) یہاں پر یہ حقیقت روشن ہے کہ پروردگارِ عالم کی جانب سے یہ ساری تعلیمات حضرتِ عیسیٰؑ کو صرف باطنی اور روحانی طریق پر حاصل تھیں، چونکہ آپ کو روح القدّس کی تائید روحانیّت کے وسیلے سے
۱۶۳
میسر ہوتی رہتی تھی۔
امامؑ کا دیدار:
سوال نمبر ۸۶: اسماعیلی مذہب میں امامِ زمانؑ کے ظاہری دیدار کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟ اس میں کیا فضیلت ہے؟
جواب: (الف) جب پیغمبرِ برحقؐ خلیفۂ خدا ہیں اور امامِ زمان خلیفۂ رسول، تو امام کا پاک دیدار آنحضرتؐ کا دیدار ہے اور حضورِ اکرمؐ کا دیدار خدا تعالیٰ کا دیدار۔
(ب) جن حضرات کے امر و فرمان کی اطاعت اللہ پاک کی اطاعت ہو تو ان کا دیدار بھی اللہ تعالیٰ کے دیدار کا قائم مقام ہوتا ہے، آپ قرآن میں امر اور اطاعت کے موضوع کو ذرا غور سے پڑھیں۔
(ج) سیدنا قاضی نعمان نے کتاب الھمّہ فی آدابِ اتباعِ الأئمہ کے صفحہ ۴۶ پر یہ حدیثِ مرفوع درج کیا ہے کہ:
النّظرُ اِلیٰ وجہِ الامام عبادۃٌ،
وَالنّظرُ اِلی المصحفِ عبادۃٌ
یعنی چہرۂ امام کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور قرآن کی طرف دیکھنا عبادت ہے، ظاہر ہے کہ عقیدت و محبت سے امام اور قرآن کی طرف دیکھنے میں عبادت ہے۔
(د) قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن مؤمنین کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا، لیکن سوال ہے کہ یہ پاک دیدار کس طرح ہو گا، کیونکہ ذاتِ سبحان بیچون اور غیر مرئی ہے یعنی وہ دکھائی دینے والا نہیں؟ سو اس کا جواب ہے کہ یہ عالی شان دیدار پیغمبرؐ اور امامؑ کی
۱۶۴
پاک صورت میں ہو گا، اس لئے کہ انسانِ کامل کی صورت رحمان کی صورت قرار پاتی ہے۔
(ہ) یہ واقعہ مشہور ہے کہ آدمؑ (جو اپنے وقت کا انسانِ کامل تھا) کو رحمان کی صورت پر پیدا کیا گیا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرتِ آدمؑ اور ان کے قبل کے انسانِ کامل کی صورت کو خدا کی صورت کا درجہ دیا گیا ہے اور اس کے معنی یہ نہیں کہ کسی انسان کی طرح رحمان کی کوئی مخصوص شکل تھی جس کے مطابق آدم کو پیدا کیا گیا۔
(و) قرآن کا ارشاد ہے کہ خدا نے اپنی روح آدم میں پھونک دی، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خدا تعالیٰ کی اپنی کوئی روح ہے، وہ تو ہر چیز سے برتر و بے نیاز ہے، اس لئے اس کے معنی یہ ہیں کہ آدم سے پہلے جو پیغمبر اور امام تھا اس کی روح خدا کی نمائندگی کے اعتبار سے گویا خدا کی روح تھی، وہی روح آدم میں پھونکی گئی تھی۔
(ز) حضرتِ عیسیٰؑ کو روح اللہ کہا جاتا ہے، مگر یہ حقیقت جاننا چاہئے کہ ہر پیغمبر اور ہر امام روح اللہ ہے، اسی طرح ہر پیغمبر اور ہر امام چہرۂ خدا بھی ہیں، اور ان کا دیدار خدا کا دیدار ہے۔
(ح) ان تمام باتوں سے یہ حقیقت پایۂ ثبوت پر پہنچ گئی کہ مظہرِ نورِ الٰہی کے دیدار کی بہت بڑی اہمیت ہے اور اس میں بہت بڑی فضیلت ہے، لہٰذا بڑے مبارک ہیں وہ حضرات جن کو امامِ زمانؑ کے دیدارِ ظاہر اور دیدارِ باطن کا بھرپور شوق و جذبہ ملا ہے۔
۱۶۵
خانۂ کعبہ:
سوال نمبر ۸۷: خانۂ کعبہ کن معنوں میں خدا کا گھر کہلاتا ہے؟ جبکہ وہ ایک جسمانی مکان ہے اور اللہ تعالیٰ مکان و لا مکان سے برتر و بے نیاز ہے؟ اور قبلہ کی طرف منہ کرنے کی کیا تاویل ہوتی ہے؟
جواب: (الف) خانۂ کعبہ اللہ پاک کا گھر اس لئے ہے کہ ربّ العزّت نے خود ہی قرآنِ حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ یہ میرا گھر ہے، پس اس مبارک و مقدّس مقام کے خانۂ خدا ہونے میں کوئی شک نہیں۔
(ب) یقیناً ذاتِ سبحان خود مکان اور لامکان سے برتر اور بے نیاز ہے، مگر “بیت اللہ” کی اس مثال میں خدا شناسی کی جو حکمتیں پوشیدہ ہیں وہ اتنی عظیم اور اس قدر اعلیٰ ارفع ہیں کہ ان کے جاننے سے مؤمن کو خدا مل جاتا ہے، معرفت کے اِن بھیدوں کا جاننا ایسا ہے جیسے صحیح معنوں میں خدا کے گھر میں داخل ہو جانا، لہٰذا یہ پاک مقام اس معنیٰ میں خانۂ خدا ہے۔
(ج) خانۂ کعبہ کا سب سے بڑا راز، اصل اشارہ اور بنیادی خوبی یہ ہے کہ وہ خدا کے حقیقی اور معمور گھر کی مثال ہے، جو زندہ اور علم و حکمت کا سرچشمہ اور رشد و ہدایت کا مرکز ہے، جس میں واقعی نورِ خداوندی جلوہ افروز ہے اور یہیں سے خدا کی معرفت یعنی پہچان حاصل ہوتی ہے، اور وہ تمام چیزیں ملتی ہیں جو اللہ کے حقیقی گھر سے ملنے والی ہیں، خدا کا ایسا گھر عہدِ نبوّت میں پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم تھے اور آپؐ کے بعد ہر زمانے میں امامِ وقت علیہ السّلام کو یہ درجہ حاصل ہے۔
۱۶۶
(د) حدیثِ قدسی کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ تو آسمان اپنے اندر سمو سکتا ہے اور نہ ہی زمین، مگر صرف بندۂ مؤمن کا دل ہی اس کو سمو لیتا ہے، اِس ارشاد سے دو حقیقتیں روشن ہو کر سامنے آتی ہیں، ایک تو یہ کہ جب حق تعالیٰ آسمان و زمین میں نہیں سموتا تو وہ عرش اور خانۂ کعبہ میں بھی نہیں سموتا ہے، اور دوسری یہ کہ اگر وہ کسی مؤمن کے قلب میں سموتا ہے تو سب سے پہلے مؤمنوں کے سردار اور انسانِ کامل یعنی امامِ برحق کے پاک و پاکیزہ دل میں ضرور اور یقیناً سمو جاتا ہے، اس سے یہ مطلب صاف طور پر ظاہر ہے کہ صحیح معنوں میں انسانِ کامل ہی خدا کا وہ گھر ہے جس میں کہ خدا تعالیٰ کا سب کچھ موجود ہے۔
(ہ) جب خانۂ کعبہ اس معنیٰ میں امام کی تاویلی مثال ہے اور امامِ زمان اس کا ممثول ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا کا شرعی گھر قبلۂ ظاہر ہے اسی طرح اس کا حقیقی گھر قبلۂ باطن ہے، چنانچہ امورِ شریعت میں خانۂ کعبہ کی طرف منہ کر لینے کی یہ تاویل ہے کہ امورِ حقیقت میں قبلۂ باطن کی طرف توجہ دی جائے اور قبلۂ باطن امامِ زمان صلوات اللہ علیہ ہیں۔
یوسفؑ کا کرتا:
سوال نمبر ۸۸: آپ ہمیں حضرتِ یوسف علیہ السّلام کی قمیص کے بارے میں کچھ مفید باتیں سمجھا دیجئے کہ وہ کیا چیز تھی؟ آیا وہ واقعاً ایک عام ظاہری کرتا تھا؟ یا بہشت کا کوئی لباس؟
جواب: جاننا چاہئے کہ حضرتِ یعقوب علیہ السّلام اپنے زمانے میں امامِ مستودع تھے، اور جیسا کہ قصّۂ قرآن سے ظاہر ہے کہ حضرتِ یوسف علیہ السّلام نے بچپن میں ایک خواب دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور
۱۶۷
چاند آپ کو سجدہ کر رہے تھے، جس کی تاویل ہے کہ عنقریب اور وقت سے پہلے یعنی والدِ محترم کی زندگی ہی میں مرتبۂ امامت ان کو ملنے والا تھا، کیونکہ آپ کو گیارہ ستاروں کے سجدہ کرنے کے معنی ہیں کہ کل بارہ حجّتوں میں سے ایک حجّت آپ خود تھے اس لئے گیارہ نے آپ کی تابعداری کی یعنی آپ اُن تمام حجّتوں سے آگے بڑھ گئے، پھر چاند نے سجدہ کیا، یعنی باب (حجّتِ اعظم) نے تابعداری کی اور آخر میں سورج نے سجدہ کیا، یعنی امامِ سابق نے نورِ امامت اپنے فرزند کو دے کر اس کے اختیار کو تسلیم کر لیا، یہ ہوئی وہ تاویل جو حضرت یوسفؑ کو گیارہ ستاروں، چاند اور سورج کے سجدہ کرنے سے متعلق ہے۔
خوب یاد رہے کہ یوسف علیہ السّلام کی قمیص سے جسمِ لطیف مراد ہے، ہم نے اپنی تحریروں میں جگہ جگہ جسمِ لطیف کا ذکر کیا ہے، جسمِ لطیف دراصل امامِ زمان ہی کا ہے، جو تمام ظاہری و باطنی معجزات کا مرکز ہے، وہ انتہائی چھوٹے چھوٹے لاتعداد ذرّات پر مشتمل ہے، اس کا ذرّہ ذرّہ زندہ اور بولتی روح ہے، یہ معجزانہ قمیص چاہے تو انسانِ کامل کی صورت میں مشخص ہو جاتی ہے مگر اکثر ذرّات کی شکل میں منتشر رہتی ہے۔
جسمِ لطیف کے بہت سے نام ہیں، اور اس کا ایک نام جثّۂ ابداعیہ ہے، جثّہ جسم کو کہتے ہیں اور ابداع ایسے پیدا کرنے کو کہتے ہیں جس میں تخلیق کی طرح کوئی وقت نہیں لگتا، کیونکہ وہ “کن فیکون” کا مقام ہے، ابداع صرف امر ہی سے ظہور پذیر ہو جاتا ہے، چنانچہ جسمِ لطیف جثّۂ ابداعیہ ہے یعنی ہر طرح کی معجزاتی صلاحیتوں سے بھرپور۔
قرآنی حکمت کی زبان سے ظاہر ہے کہ حضرتِ یعقوبؑ امامِ وقت کے نورانی دیدار کے لئے ایک مدت تک رویا کرتے تھے اور اس سے ان کی
۱۶۸
آنکھیں سفید سفید ہوئی تھیں، جس کی تاویل ہے کہ ان کی باطنی آنکھوں کے سامنے دیدار کے بغیر سفید روشنی تھی، اور جب ان کے چہرے پر یوسفؑ کی قمیص ڈالی گئی تو وہ بینا ہو گئے، یعنی جب امامِ زمانؑ کا پیکرِ نورانی (جسمِ لطیف) ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اس کا دیدار حاصل کر لیا۔
اگر ہم اس تاویلی حکمت کے بغیر قصّہ اور روایت کے ظاہری پہلو پر نظر رکھیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ (نعوذ باللہ) انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام بھی عام آدمیوں کی طرح اپنی اولاد کی جسمانی جدائی پر رو رو کر بینائی کو کھو بیٹھتے ہیں، اور اگر یہ واقعہ درست ہو تو وہ حضرات کس طرح بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کر سکتے ہیں، اس سے ظاہر ہے کہ اصل واقعہ تاویل میں پوشیدہ ہے اور وہ اس طرح سے ہے جیسے اوپر اس کا ذکر ہوا۔
آدابِ دعا:
سوال نمبر ۸۹: کیا آپ آدابِ دعا کی مختلف حرکتوں کے بارے میں کچھ وضاحت کریں گے؟
جواب: دورانِ دعا ہم جس طرح دونوں ہتھیلیوں کو کھول کر ہاتھ اٹھاتے ہیں، وہ ہماری طرف سے خدا کے حضور میں اظہارِ محتاجی کی علامت ہے۔
دعا کے ہر حصے کے اختتام پر سجدہ کرنا اس بات کی نشانی ہے کہ بندۂ مؤمن بہت ہی عاجز ہے، نیز اس کے معنی ہیں کہ یہ خاکسار بندہ مٹی سے بنایا گیا ہے اور جسم کے اعتبار سے مٹی میں جانے والا ہے، اور اس کی تاویل یہ بھی ہے کہ پیغمبر کے زمانے میں پیغمبرؐ کی اطاعت ضروری ہے اور امام کے
۱۶۹
دور میں امامِ زمان کی اطاعت لازمی ہے، کیونکہ سجدہ کی تاویل پیغمبر اور امام کی اطاعت ہے (کتابِ “وجہِ دین” کی تاویلات کو دیکھو)۔
جب مقدس دعا اپنے تمام اجزاء کے ساتھ مکمل ہو جاتی ہے تو آخری سجدہ سے پہلے “شاہ دیدار” کہتے ہوئے مصافحہ کرتے ہیں، جس کی تاویل ہے امامِ زمانؑ کا دیدار، جو دیدارِ الٰہی کا مظہر ہے اور یہ شاہ دیدار دائیں بائیں والے ساتھیوں کے ساتھ اس لئے کیا جاتا ہے کہ دینی بادشاہ کے مقدّس دیدار کا تصوّر عہدِ نبوّت میں بھی تھا اور زمانۂ امامت میں بھی ہے، چونکہ دائیں طرف کا اشارہ ہے پیغمبر اور بائیں طرف کی تاویل ہے امام۔
نیز اس دونوں طرف کے “شاہ دیدار” میں بزبانِ حکمت یہ فرمایا گیا ہے کہ تم شاہنشاہِ دین کے دیدارِ باطن اور دیدارِ ظاہر دونوں کو مانو اور دونوں کو حاصل کرو، کیونکہ دائیں طرف کی تاویل ہے باطن جو پیغمبر کا مرتبہ ہے اور بائیں جانب کی تاویل ہے ظاہر، جو امام کا درجہ ہے۔
اس کے بعد مؤمن کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے دائیں ہاتھ سے یہ اشارہ کرتا ہے کہ آفاق و انفس (عالمِ جسمانی اور عالمِ روحانی) دونوں گواہ رہیں، کہ وہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت، حضرتِ محمدؐ کی نبوّت و رسالت اور حضرتِ مولانا علیؑ کی ولایت و امامت کے برحق ہونے کی گواہی دے رہا ہے، کیونکہ اس انداز میں زمین کو چھونا آفاق کو گواہ بنانا ہے، اور چہرے پر ہاتھ پھیر لینا عالمِ نفسی کو شاہد بنانا ہے، جیسا کہ قرآنِ حکیم (۱۸: ۵۱) میں اس کا اشارہ ملتا ہے۔
نیز اس کی یہ تاویل بھی ہے کہ بندۂ مؤمن نے دنیا میں آکر خدا و رسولؐ اور امامِ برحقؑ کے لئے اقرار کیا، اور پھر اس اقرار کے مطابق عمل کر کے دین و دنیا کے فیوض و برکات کا خواستگار ہوا، کہ زمین کو چھونے کا اشارہ دنیا میں
۱۷۰
آنے کی طرف ہے اور منہ پر ہاتھ پھیر لینے کے معنی ہیں فیوض و برکات کا خواستگار ہو جانا۔
آخر میں دائیں بائیں جانب کو “حی زندہ۔ قیوم پائندہ” کہا جاتا ہے، جس کی عظیم حکمت یہ ہے کہ قرآن (۰۲: ۲۵۵) میں اللہ تعالیٰ کے دو سب سے بزرگ ناموں کی تعریف و توصیف کی گئی ہے جو “الحی القیوم” ہیں، جن کے بارے میں یہاں حکمت کی زبان میں یہ کہا گیا ہے کہ خداوند تعالیٰ کا وہ اسمِ اعظم جو “الحی” کہلاتا ہے، دنیا میں زندہ اور حاضر و موجود ہے، اور “القیوم” جو خدا کا دوسرا اسمِ اعظم ہے وہ بھی ہمیشہ دنیا میں موجود ہے، اور حکمت کے یہ دونوں اشارے امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کی طرف ہیں۔
ہونزائی گنان:
سوال نمبر ۹۰: یہاں تو پیروں کے گنان پڑھے جاتے ہیں، لیکن میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہونزہ میں کس زبان کے گنان پڑھے جاتے ہیں؟ کیا وہاں ہونزائی زبان میں گنان پڑھتے ہیں؟
جواب: ہونزہ میں پہلے تمام گنان منقبت، قصیدہ وغیرہ کے نام سے فارسی میں پڑھے جاتے تھے، لیکن آج کل یہ گنان اکثر ہونزائی زبان میں پڑھتے ہیں، اور یہ سلسلہ ہونزہ کے علاوہ گلگت کے اُن مقامات میں بھی جاری ہے جہاں کے اسماعیلی ہونزہ سے آکر آباد ہوئے ہیں۔
اگرچہ قدیم ہندوستان کی اسماعیلی دعوت سے منسلک جماعتوں کے لئے یہ ایک شاندار اور کامیاب روایت رہی ہے کہ صرف پیروں ہی کے
۱۷۱
منظوم کلام کو بطورِ گنان پڑھا جائے، تاہم جن ممالک میں پیر ناصر خسرو (قس) کی دعوت کو فروغ حاصل ہوا ہے وہاں ایسا کوئی اختصاص نہیں ہے، بلکہ امام اور مذہب کی شان میں جو بھی عمدہ اور قابلِ فہم نظم ہو وہ جماعت خانے میں بطورِ منقبت یا بطورِ گنان پڑھی جاتی ہے۔
میرا اس بات پر پورا پورا یقین ہے کہ مذکورۂ بالا دونوں قسم کی روایتیں امامِ برحقؑ کی نظر میں پسندیدہ اور منظور ہیں اور ان میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں جن کی وضاحت اس سوال کی حد سے باہر ہے۔
تصورِ امامت:
سوال نمبر ۹۱: کیا آپ اسماعیلی نقطۂ نگاہ کے مطابق تصورِ امامت اور امام کے کردار کے بارے میں کچھ وضاحت کریں گے؟ اس کے علاوہ یہ بھی واضح ہو کہ عام طور پر اسماعیلی ہونے کے کیا معنی ہوتے ہیں؟
جواب: (الف) ظاہر ہے کہ یہاں تین سوال کئے گئے ہیں، مگر ان کی بنیاد ایک ہی ہے، سو جاننا چاہئے کہ دینِ اسلام میں امامت خلافتِ الٰہیہ کا دوسرا نام ہے، لہٰذا تصورِ امامت تصورِ خلافت ہے، جس کا ذکر قرآن میں نمایان طور پر فرمایا گیا ہے، چنانچہ خود حضرتِ آدم علیہ السّلام کی خلافت ہی امامت تھی، کیونکہ ان دونوں لفظوں کے اصطلاحی معنی ایک ہی ہیں اور ان کا مقصد بھی ایک ہی ہے وہ اس طرح کہ حقیقت میں جو شخص خدا کا نائب و جانشین (خلیفہ) ہوتا ہے صرف وہی شخص لوگوں کا سردار اور پیشوا (امام) ہو سکتا ہے۔
۱۷۲
(ب) حضرتِ آدم علیہ السّلام اپنے وقت میں خدا کا خلیفہ تھا اور لوگوں کا امام، اور ان دونوں اصطلاحوں کا مطلب ایک ہی ہے، اسی طرح حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام اپنے زمانے میں لوگوں کا امام تھااور خدا کا خلیفہ، کیا آپ قرآنِ پاک میں نہیں دیکھتے ہیں کہ آدمؑ کو خلیفہ اور ابراہیمؑ کو امام کہا گیا ہے، اس کا اشارہ یہ ہے کہ جس طرح ابراہیمؑ میں خدا کی نمائندگی (خلافت) اور لوگوں کی پیشوائی (امامت) ایک ہے اسی طرح مان لیا جائے کہ آدم میں بھی یہ دونوں نام یعنی خلافت و امامت ایک ہیں۔
(ج) اگر حضرتِ آدمؑ اور حضرتِ نوحؑ اپنے اپنے وقت میں خدا کے نزدیک لوگوں کے سردار یعنی امام نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ (جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ہے ۰۳: ۳۳) ان کو مصطفی یعنی برگزیدہ نہ کرتا، آپ کو جاننا چاہئے کہ خداوند تعالیٰ لوگوں میں سے جس کو منتخب کرتا ہے وہی لوگوں کا سردار یعنی امام ہوتا ہے، کیونکہ امام کے معنی سردار ہیں اور سردار وہی ہوتا ہے جو حقیقت میں منتخب ہونا چاہئے۔
(د) کیا آپ غور نہیں کرتے ہیں کہ جب ہم عام طور پر امامؑ کو آنحضرتؐ کا جانشین مانتے ہیں اور امامت کو پیغمبرؐ کی جانشینی قرار دیتے ہیں تو اس صورت میں بھی اس کی وہی منطق بنتی ہے کہ امامؑ خلیفۂ رسولؐ ہے اور رسولؐ خلیفۂ خدا، پھر امامؑ بواسطۂ پیغمبرؐ خدا کا خلیفہ ہوا، اور امامت خلافتِ الٰہیہ ہوئی یہ حقیقت ہے کہ تصورِ امامت اصل میں خلافتِ الٰہیہ ہے۔
(ہ) فرشتوں نے جس فساد و خونریزی کی پیش گوئی کرتے ہوئے خلافتِ آدمؑ پر اعتراض اٹھایا تھا اس میں اس جنگ و جدل کی طرف اشارہ تھا جو حق و باطل یعنی خلیفۂ خدا اور اس کے ضد کے درمیان واقع ہو کر قیامت تک جاری رہنے والی تھی، اس سے ظاہر ہے کہ اس اعتراض کے پسِ پردہ حکمت
۱۷۳
کی زبان سے یہ کہا گیا ہے کہ آدمؑ کا وہ مرتبۂ خلافت و امامت دنیا میں قیامت تک جاری و باقی رہے گا، چنانچہ مسئلۂ خلافت و امامت کے بارے میں فساد و خونریزی کا پہلا واقعہ خود حضرتِ آدمؑ کے زمانے میں پیش آیا، آپ قرآن (۰۵: ۲۷ تا ۳۲) میں ہابیل اور قابیل کا قصہ پڑھیں، امام ہابیل علیہ السّلام حق پر تھا اور قابیل باطل پر، لیکن قابیل نے حضرتِ ہابیلؑ کو شہید کر دیا، پھر بھی حق کی فتح اور باطل کی شکست ہوئی، وہ اس طرح کہ حق سے مراد وہ نور ہے جو امام ہابیلؑ میں جلوہ گر تھا، وہ خدا کے حکم سے حضرتِ شیث علیہ السّلام میں منتقل ہو گیا، اور ہمیشہ کے لئے زندہ اور باقی رہا، مگر قابیل جو ظلمت و تاریکی اور باطل کا مجسمہ تھا وہ ہابیلؑ کے نورِ مقدس پر قابض نہ ہو سکا اور نہ ہی اُس کو بجھا سکا، بلکہ راندۂ درگاہ اور لعنت کا مستحق قرار پایا۔
(و) اب ہم امامِ عالی مقامؑ کے کردار کے بارے میں کچھ مختصر بیان کرتے ہیں کہ زمانہ اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق امام کے الگ الگ مراتب ہوتے ہیں، جیسے امامِ مقیم، امامِ اساس، امامِ متم، امامِ مستقر اور امامِ مستودع، لہٰذا اُن میں سے ہر درجے میں امامؑ کا کام ظاہری طور پر مختلف ہوا کرتا ہے، جس کی تفصیل میں جانے کے لئے یہاں گنجائش نہیں ہے، مختصر یہ کہ اگر نبوّت کا دور ہے تو امامؑ بعض دفعہ اپنے سلسلۂ نسب میں پیغمبری کا درجہ بھی رکھتا ہے، مگر دورِ امامت میں یعنی حضرتِ خاتم الانبیاءؐ کے بعد ایسا نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف خلیفۂ رسولؐ کی حیثیت سے ہوا کرتا ہے اور ہر حالت میں یعنی براہِ راست ہو یا بواسطۂ رسولؐ جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے، امامؑ خلیفۂ خدا کا عظیم درجہ رکھتا ہے جس کے معنی ہیں کہ امامِ برحقؑ امورِ دین کی ظاہری و باطنی ہدایت میں بحیثیتِ صاحبِ امر مختار و سرپرست ہوا کرتا ہے۔
۱۷۴
(ز) اب سوال کا آخری حصہ آتا ہے کہ: عام طور پر اسماعیلی ہونے کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ جس کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ اسماعیلی ایک ایسے مسلمان اور مؤمن کا نام ہے جو خدا و رسولؐ اور اولی الامر یعنی أئمۂ پاک کے امر و فرمان کے مطابق قرآن اور اسلام پر عمل کرتا ہے (۰۴: ۵۹) وہ یقین رکھتا ہے کہ خلیفۂ رسولؐ یعنی امامِ زمانؑ جو نورِ ہدایت ہے وہ اس دنیا میں ہمیشہ حاضر اور موجود ہے، اور اس کی مبارک ہستی کے بغیر دین کا کام نہیں چل سکتا ہے (۵۷: ۲۸) اس کا پختہ عقیدہ ہے کہ امامِ وقت نہ صرف قرآن کے نور (۰۵: ۱۵) اور معلّم کی حیثیت سے ہے (۰۲: ۱۵۰ تا ۱۵۱) بلکہ وہ خود قرآنِ ناطق بھی ہے (۴۵: ۲۹)۔
چند اشارات:
سوال نمبر ۹۲: اِن امور کی کیا تاویل ہے: (الف) شاہ دیدار کرنا؟ (ب) ہاتھ کو زمین پر مسح کرنے کے بعد منہ پر پھیر لینا؟ (ج) دائیں بائیں طرف کو “حیّ” زندہ “قیوم” پائندہ کہنا؟ (د) اگر بتی جلانا؟ (ہ) اور موم بتی روشن کر کے رکھنا؟
جواب: آپ کے سوال کے اجزاء الف، ب، ج کی تاویلات سوال نمبر ۸۹ کے تحت بیان کی گئی ہیں، اب یہاں صرف “اگر بتی” اور “موم بتی” کے بارے میں کچھ وضاحت کی جاتی ہے کہ “اگر بتی” جلانے کا مقصد ظاہراً یہ ہے کہ اس کی خوشبو سے جماعت اور روحانی محفل کا ماحول خوشگوار ہو اور خانۂ خدا کی فضا مکدر ہوا سے صاف اور مرغوب و پسندیدہ ہو جائے، اور اس کی باطنی حکمت یہ ہے کہ بندۂ مؤمن اپنی مالی، جسمانی اور دماغی قوّتوں کو قربان کر کے دوسروں کے لئے راحت و خوشی مہیا کر دے جس طرح اگر بتی اپنی ہستی کی قربانی دے
۱۷۵
کر اہلِ مجلس کے دل و دماغ کو تروتازہ کر دیتی ہے۔
خوشبو ایک ایسی عمدہ، مفید اور لطیف چیز ہے، جس کو سب پسند کرتے ہیں، اور اس سلسلے میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو خوشبوئیں بہت پسند تھیں، کیونکہ اس میں جسمانی راحت و لذّت کے علاوہ حکمت کے اعلیٰ اشارے بھی موجود ہیں۔
خوشبو کا مادّہ کچھ زیادہ تو نہیں ہوا کرتا، مگر وہ بہت سے لوگوں کو خوش کر سکتا ہے، اسی طرح مؤمن کا ذرا سا قول و عمل جو نیک ہو سب کو خوش کر دیتا ہے، اور نیک گفتار و کردار کی خوشبو پوری دنیا میں پھیل کر قائم رہتی ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتی۔
اعلیٰ کام، ترقی اور خدمت کسی جماعت کی طرف سے ہو یا افراد کی جانب سے، گلشن کی خوشبوؤں کی طرح ہے، اور اس کی شہرت پھیلانے والے لوگ اُس ہوا کی طرح ہیں جو باغ و چمن کی خوشبوئیں لے کر اطراف میں پھیل جاتی ہے اور قرب و جوار میں رہنے والوں کے دماغ کو معطر کر دیتی ہے۔
ایک حقیر سی اگر بتی کی چھوٹی سی قربانی کتنے آدمیوں کے لئے کافی ہوتی ہے، وہ تو جل جل کر فنا ہو جاتی ہے، مگر اس کی خوشبو کا احساس اور تأثر بہت سے دماغوں میں باقی رہتا ہے، اس میں یہ درسِ حکمت ہے کہ چیزوں کے فنا ہو جانے کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہ قطعی طور پر نیست و نابود ہو جاتی ہیں، بلکہ فنا کے معنی یہ ہیں کہ اس میں چیزیں ایک حالت سے دوسری حالت میں بدل جاتی ہیں۔
ایسے ہی اشارے موم بتی کے جل کر روشنی بن جانے میں بھی ہیں، اور اُن میں سے ایک تو یہ ہے کہ جس طرح صرف چند ہی چیزوں کے جل جانے
۱۷۶
سے خوشبو مہیا ہوتی ہے یا روشنی پیدا ہوتی ہے اور ہر چیز میں یہ خاصیت نہیں ہے، اسی طرح حقیقی مؤمنین ہی ہیں جن کی قربانیاں مذہبی اور روحانی طور پر مقبول اور مفید ثابت ہو سکتی ہیں، اور صرف وہی افراد ہیں جو اپنی خودی کو نورانیّت میں فنا کر سکتے ہیں، جس طرح موم بتی خود کو فنا کر کے روشنی بن جاتی ہے۔
سات آسمان اور سات زمین:
سوال نمبر ۹۳: سات آسمان اور سات زمین کے کیا معنی ہوتے ہیں؟
جواب: آپ کا یہ سوال قرآنِ پاک کی (۶۵: ۱۲) کے تحت ہے، چنانچہ جاننا چاہئے کہ روحانی اور ظاہری علم کی نئی تحقیق کے مطابق سورج اس کائنات کے عظیم گلوب کے عین وسط میں واقع ہے، اور اس کے گردا گرد چودہ فرضی دائرے مقررہ ہیں، جو پیاز کے پردوں یا تہوں کی طرح باہر کی جانب بڑے سے بڑے اور اندر کی طرف چھوٹے سے چھوٹے ہیں، جن میں سے باہر کے سات دائرے آسمان اور اندر کے سات دائرے زمین کہلاتے ہیں، اور ان کو کائناتی آسمان اور کائناتی زمین کہنا چاہئے۔
دوسرے آسمان و زمین کوکبی ہیں، وہ اس طرح کہ اس کائنات کے اندر جتنے سیّارے اور ستارے ہیں، وہ مادّہ جسم، روح اور زندگی کے عروج و ارتقاء کے اعتبار سے کل چودہ درجوں پر منقسم ہیں، ان میں سے اوپر کے سات درجے آسمان اور نچلے سات درجے زمین ہیں۔
علاوہ برآن سات ناطق روحانیّت کے سات آسمان ہیں اور ان کے سات اساس سات زمین، اس مطلب کے لئے تاویل کی کتابیں دیکھو، اور
۱۷۷
دوسرے لحاظ سے سات امام اور ان کے سات حجّت روحانیّت کے آسمان و زمین ہیں۔
نیز انفرادی روحانیّت کے چودہ مراحل ہیں، کہ اُن میں سے شروع کے سات مراحل زمین کی طرح ہیں اور بعد کے سات مراحل آسمان جیسے ہیں۔
علیؑ کا ایمان لانا:
سوال نمبر ۹۴: بعض کتابوں میں حضرتِ علی علیہ السّلام کے ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے، اس کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ کیا (نعوذباللہ) علیؑ شروع شروع میں غیر مسلم تھے؟ اگر بات کچھ ایسی ہے تو کیا کوئی پیغمبر یا کوئی امام پہلے غیر مسلم بھی ہو سکتا ہے؟
جواب: آپ کا سوال بڑا اہم اور بہت مفید ہے کیونکہ اس کے جواب میں ایمان، مرتبۂ نبوّت اور درجۂ امامت کی بنیادی باتیں آتی ہیں، چنانچہ جاننا چاہئے کہ ایمان لانے کی مختلف صورتیں ہوا کرتی ہیں جیسے کسی کافر کا ڈر کے مارے ایمان لانا یا دنیاوی فائدے کی طمع سے ایمان لانا یا حق بات کو سمجھ کر ایمان لانا، اور ایک ایسے مؤمن کا ایمان لانا جو پہلے سے ہی مؤمن تھا، یا یوں کہنا چاہئے کہ ایمان لانے والوں کا احوال اور درجات ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں، کیونکہ ایمان لانے کے کئی معنی ہیں، جیسے باور کرنا، اقرار کرنا، تصدیق کرنا وغیرہ۔
قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے کہ: جب خدا نے پیغمبروں سے اقرار لیا کہ ہم تم کو جو کچھ کتاب اور حکمت دیں اس کے بعد تمہارے پاس کوئی رسول آئے اور جو کتاب تمہارے پاس ہے اس کی تصدیق کرے، تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور
۱۷۸
ضرور اس کی مدد کرنا (اور) خدا نے فرمایا کیا تم نے اقرار کر لیا؟ اور ان باتوں پر جو ہم نے تم سے اقرار لیا تم نے میرے (عہد کا) بوجھ اُٹھا لیا؟ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا (۰۳: ۸۱)۔
اس قرآنی تعلیم سے یہ مطلب صاف طور پر ظاہر ہو جاتا ہے کہ خدا کے حکم سے تمام انبیاء ایک دوسرے پر ایمان لاتے ہیں، لیکن اس کے معنی ہرگز یہ نہیں کہ وہ اپنے وقت میں یا اپنی طرف سے دیندار نہیں ہوتے اور ذاتی طور پر دین و ایمان کو حاصل نہیں کر سکتے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر پیغمبر آنے والے نبی کو برحق مانتا ہے اور سابق پیغمبر کی تصدیق کرتا ہے، تا کہ اس سے انبیاء کی دعوت کو تقویت ملے اور لوگوں کی صحیح رہنمائی ہو، کیونکہ جاہل لوگ اکثر اس وقت گمراہ ہو جاتے ہیں جبکہ ایک پیغمبر کے بعد دوسرا پیغمبر آتا ہے۔
سورۂ صف (۶۱) کی آیت نمبر ۶ میں مذکورۂ بالا حکمِ خداوندی کی تعمیل کا ایک عمدہ نمونہ موجود ہے کہ حضرتِ عیسیٰؑ نے بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر فرمایاکہ: اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے جو پہلے توراۃ (آ چکی) ہے میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں جن کا نامِ (مبارک) احمد ہو گا میں ان کی بشارت دینے والا ہوں (۶۱: ۰۶)۔
ایک حقیقی مؤمن احوالِ انبیاء کی روشنی میں أئمّۂ طاہرین کی بہت سی حقیقتیں سمجھ سکتا ہے، چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ مولا علیؑ نے جس طرح آنحضرتؐ پر ایمان لایا وہ اعلیٰ سطح پر تھا، یعنی آپؑ نے رسولِ خداؐ کو برحق مانا اور حضور کی نبوّت و رسالت کی تصدیق کی، درحالیکہ ملتِ ابراہیمی کا چراغ حضرتِ ابو طالب امامؑ کے گھر میں روشن تھا۔
جب خدا تعالیٰ نے اپنے نور کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تو نورٌ
۱۷۹
علیٰ نور ہے یعنی ایک چراغ سے دوسرے چراغ کو روشن کیا جاتا ہے۔
تو سوال اُٹھتا ہے کہ آنحضرتؐ کی مبارک شخصیت کے چراغ کو کس قریب ترین چراغ سے روشن کیا گیا؟ ہمارے پاس بس یہی ایک اٹل جواب ہے کہ حضرت ابو طالب علیہ السلام ہی اپنے زمانے کے امامِ مقیم تھے۔
آپ سورۂ نساء کی آیت نمبر ۱۳۶ (۰۴: ۱۳۶) میں خوب غور و فکر سے دیکھیں کہ اہلِ اسلام کے ایمان لانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان جاری ہے کہ:
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اٰمِنُوْا(اے ایمان والو تم ایمان لاؤ) ظاہر ہے کہ یہ ایمان کافروں کے ایمان لانے کی طرح نہیں کہ اس میں انکار کے بعد اقرار ہوتا ہے اور اس کے برعکس یہاں ایمان لانے کے بعد بھی ایمان لانا ہے، اور اس حکم میں اگرچہ لفظ “ایمان” ایک ہی ہے، لیکن جن لوگوں کو ایمان کی ترقی چاہئے وہ تو راہِ مستقیم کے الگ الگ مراحل میں ہیں، لہٰذا ایمان لانے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کی تشریح ایک جیسی نہیں ہو گی، بلکہ اس کی تشریح ایمان کے مختلف درجات کے مطابق ہو گی، کیونکہ لوگ ایمان کے سلسلے میں ایک جیسے نہیں ہو سکتے، جبکہ ایمان صراطِ مستقیم کے شروع سے لے کر اخیر تک قدم بہ قدم بڑھتا چلا جاتا ہے اور جہاں معرفت درجۂ کمال کو پہنچتی ہے وہاں ایمان بھی اپنے اوجِ کمال پر پہنچتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ حضرتِ مولانا مرتضیٰ علی علیہ السّلام نے رسولِ خداؐ پر جو ایمان لایا وہ نورِ معرفت کی روشنی میں تھا، آپؑ نے آنحضرتؐ کو پیغمبرِ برحقؐ مانا، آپؑ نے حضورؐ کی تائید و تصدیق کی، جس طرح حضرتِ ہارونؑ نے حضرتِ موسیٰؑ پر ایمان لایا تھا اور ان کی نبوّت و رسالت کی تائید و تصدیق کی تھی، جس کا ذکر اس موضوع میں قبلاً گزر چکا۔
۱۸۰
میت پر چھانٹا:
سوال نمبر ۹۵: (الف) کیا مر جانے کے بعد پھر سے زندہ ہو جانا ہے؟ (ب) کیا بہشت اور دوزخ واقعاً موجود ہیں؟ (ج) جب موکھی صاحب تم کو مر جانے کے بعد چھانٹا دیتے ہیں، اور اگر موکھی کے اس عمل سے تمہارے سب گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، تو پھر تمہیں زندگی میں اچھے اعمال انجام دینے کی کیا ضرورت ہے؟
جواب: (الف) جی ہاں، مر جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہو جانا ایک قرآنی حقیقت ہے جس پر ایک مسلم کو ایمان رکھنا چاہئے۔
(ب) ہاں، بہشت اور دوزخ کا وجود بھی حق ہے اور اس سے انکار کرنے والا کافر ہے۔
(ج) اگر موکھی صاحب بعض جگہوں میں میت پر چھانٹا ڈالتا ہے، تو یہ ایک عامیانہ عقیدہ اور معمولی سی رسم ہے نہ کہ اصولات کی کوئی بات، اور اگر یہ چیز اصولات میں سے ہوتی تو خدا و رسولؐ اور أئمّۂ اطہار کے ارشادات میں اس کا کوئی تاکیدی حکم ملتا مگر ایسا نہیں ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عقیدہ اور مذہبی رسم میں بھی ایک مصلحت اور حکمت ہے، مگر اس کا فائدہ صرف انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے، جو مؤمن، نکوکار اور پرہیزگار ہیں، اور جو لوگ ان کے سوا ہیں ان کو عقیدہ اور رسم موت کے بعد کوئی نجات نہیں دلا سکتی ہے۔
چھانٹا ہمارے مذہب کا ایک عمدہ عقیدہ ہے، عقیدت کا خوشگوار اور نتیجہ خیز اثر مؤمن کی زندگی ہی میں زیادہ سے زیادہ کام کر سکتا ہے، اور مر جانے
۱۸۱
کے بعد اس کی کوئی خاص نفسیات نہیں بنتی، یعنی وہ اس عمل سے نہ تو خوابِ غفلت سے جاگ سکتا ہے اور نہ ہی توبہ کر سکتا ہے، جیسا کہ زندگی میں چھانٹے کا یہ مقصد پورا ہو سکتا تھا، مگر ہاں، اس کا فائدہ صرف اتنا ہی ہے کہ جب بہت سارے مؤمنین اعتقادی طور پر خیال کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اس گزشتہ مؤمن کے حق میں یہ عمل مفید ہے تو ان کی یہ عقیدت ایک دعا کی صورت بن جاتی ہے۔
اہلِ نجات:
سوال نمبر ۹۶: کیا ایک غیر اسماعیلی کے لئے نجات حاصل کرنا اور خدا تعالیٰ سے واصل ہو جانا ممکن ہے؟ اگر نہیں تو کس وجہ سے دنیا کے اتنے سارے لوگوں کو چھوڑ کر صرف ایک بہت ہی قلیل تعداد کو نجات کا حق حاصل ہوا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا قانون عدل و انصاف کی خوبیوں سے بھرپور ہے؟
جواب: ہم آپ کو بطریقِ آسان سمجھانے کے لئے اس سوال کے تین حصے کرتے ہیں، اور وہ اس طرح سے کہ:
(الف) دینِ اسلام میں نجات کا وسیلہ کیا ہے؟
(ب) انبیاء علیہم السلام کی دعوتِ حق کے نتیجے پر تھوڑے ہی لوگوں کو نجات ملی ہے یا سب لوگوں کو؟
(ج) خدائی عدل و انصاف کی حقیقت کیا ہے؟
چنانچہ اِس میں پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ دینِ اسلام میں وسیلۂ نجات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم ہیں، اور حضورؐ کے بعد آپؐ کے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السّلام اسی درجہ پر فائز ہیں، اور اہلِ بیت سے أئمّۂ ہدا
۱۸۲
مراد ہیں، جیسا کہ ارشادِ نبوّی ہے کہ: مثل اہلِ بیتی مثل سفینۃ نوحٍ من رکبھا نجا و من تخلّف عنھا غرق (احادیثِ مثنوی صفحہ ۱۶۶) میرے اہلِ بیت کی مثال سفینۂ نوح کی مانند ہے جو اس میں سوار ہو گیا نجات پا گیا اور جس نے خلاف ورزی کی وہ غرق ہو گیا۔
اب جبکہ وسیلۂ نجات پیغمبرِ اکرمؐ کے بعد حضورِ انورؐ کے اہلِ بیت (صلوات اللہ علیہم) ہیں تو ظاہر ہے کہ اطاعت و فرمانبرداری کے نتیجے میں نجات صرف انہی لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو زمانے کے امام کو مانتے ہیں کہ اہلِ بیتِ رسولؐ سے یہی امامِ زمان مراد ہیں، کیونکہ پیغمبرِ خداؐ کا وہ گھر جو علم و حکمت سے معمور تھا اب امام حیّ و حاضرؑ ہی کی تاویل و ہدایت کی بدولت آباد ہے، اس لئے کہ “اہلِ بیت” کا پُرحکمت کلمہ اپنے اندر جو جو معانی رکھتا ہے، وہ معانی ہیں کہ آنحضرتؐ کے روحانی اور نورانی اقربا، علم و حکمت اور رشد و ہدایت میں آپؐ کے نمائندے، جانشین اور اولواالامر ہیں، جن کی اطاعت خداورسولؐ کی اطاعت کے بعد فرض ہے۔
دوسرا سوال ہے کہ آیاانبیاء علیہم السّلام کی دعوتِ حق کے نتیجے پر تھوڑے ہی لوگوں کو نجات ملی ہے یا سب کو؟ اس کا جواب ظاہر اور صاف ہے کہ دعوتِ انبیاء کے نتیجے پر تھوڑے ہی لوگوں کو نجات ملی ہے اور بہت سے لوگ دعوتِ حق قبول نہ کرنے کی وجہ سے وسیلۂ نجات سے محروم ہو گئے ہیں، جس کا مفصل حال قرآنِ حکیم میں مذکور ہے، اب اس سے اصل سوال کا جواب سمجھنا آسان ہو گیا کہ ہر زمانے میں اہلِ نجات صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو زمانے میں ہادئ برحق کی اطاعت کرتے ہیں۔
تیسرا اور آخری سوال تھا کہ خدا کے عدل و انصاف کی حقیقت کیا ہے؟ اس
۱۸۳
کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون اوّل میں بھی اور آخر میں بھی عدل و انصاف کی خوبیوں سے پُر ہے، کہ خدا نے اپنے اِس قانون کے مطابق کسی بھی زمانے میں دنیا کو نورِ ہدایت سے خالی نہیں رکھا، اس کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا والوں کو نہ تو دورِ نبوّت میں ہدایت سے محروم رکھا اور نہ ہی زمانۂ امامت میں، سو جنہوں نے ہدایت کے اِس سرچشمے کو پہچان لیا، تو ان کو سفینۂ ہدایت میں جگہ ملی اور وہ اہلِ نجات میں سے ہو گئے اور جو لوگ ہادئ برحق سے منکر ہوئے وہ کشتئ نجات سے محروم ہو کر طوفانِ ضلالت میں ڈوب گئے اور ہلاک ہو گئے۔
جب اسلام دینِ فطرت ہے تو اس میں جو کچھ بھی واقع ہو گا وہ ہمیشہ قانونِ فطرت کے عین مطابق ہو گا، اور وہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جو چیز اعلیٰ و ارفع ہے وہ تعداد اور مقدار میں کم ہوا کرتی ہے، اور اس کے برعکس جو چیز ادنیٰ و پست ہے وہ بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کی مثال قانونِ قدرت کے ہر مقام پر مل سکتی ہے، چنانچہ آپ مخلوقات میں سے جمادات، نباتات، حیوانات اور انسانوں کی ترکیب و ترتیب میں غور کریں، کہ کس طرح جمادات سے نباتات اور نباتات سے حیوانات اور اخیر میں انسان بنتے ہیں، اور اس جسمانی تخلیق کے سلسلے میں دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ چیزیں نیچے سے نیچے زیادہ اور اوپر سے اوپر کم ہوتی چلی جاتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر دنیا میں اہلِ نجات دوسروں کے مقابلے میں بہت ہی کم تعداد میں ہیں تو یہ قانونِ قدرت کے خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے۔
مخلوقات میں عروج و ارتقا کی دوسری مثال یہ ہے کہ اگر کھیت میں یا باغ میں گھاس اُگائی جاتی ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ زمین کی ساری مٹی گھاس بن جائے، اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ گائے جتنی گھاس کھاتی ہے اُتنا دودھ پیدا
۱۸۴
ہو، یہ بھی انصاف سے دور ہے کہ سارا دودھ آدمی ہی اُٹھا لے اور بیچارے بچھڑے کو کچھ بھی نہ چھوڑے، پھر سب دودھ کی ملائی کب بنتی ہے، یہ بھی ظاہر ہے کہ ملائی سے مکھن کم ہوتا ہے، سب جانتے ہیں کہ مکھن کے صاف تیل بنانے سے اس میں اور بھی کمی واقع ہوتی ہے، جب تیل میں کھانے کی کوئی چیز بھون لی جاتی ہے تو تیل کا ایک اور حصہ جل جاتا ہے یا کہ اُڑ جاتا ہے، جس وقت انسان تیل میں بُھنی ہوئی غذا کھا لیتا ہے تو اُس تیل میں سے تھوڑی سی انرجی (Energy) بنتی ہے اور اس میں سے بہت تھوڑی انرجی مفید ثابت ہو سکتی ہے، یہی قانونِ فطرت ہے اور دین کی بھی یہی مثال ہے کہ عقائد و نظریات اور علم و ہدایت میں لوگوں کی رسائی کے مطابق درجات مقرر ہیں اور ان درجات میں اوپر سے اوپر لوگوں کی تعداد کم ہوتی چلی جاتی ہے۔
عورت اور امامت:
سوال نمبر ۹۷: کوئی عورت کیوں امام نہیں بن سکتی ہے؟
جواب: یہ مسئلہ “سو سوال” کے سلسلے میں دو دفعہ ہمارے سامنے آیا ہے، چونکہ یہ سوال بڑا دلچسپ اور نتیجہ خیز ہے، لہٰذا ہم اس کے جواب کو بھی دو دفعہ لکھتے ہیں۔
کسی عزیز نے نہ معلوم سوچ سمجھ کر یا اتفاقاً بڑی عجیب منطق سے یہ سوال کیا ہے، کیونکہ ہر دانشمند کے نزدیک ان دونوں سوالوں میں بہت کچھ فرق ہے، ایک یہ سوال کہ “کوئی عورت کیوں امام نہیں بن سکتی ہے؟” جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ خاص و عام سب عورتوں میں سے کسی ایک کو بھی امامت کیوں نہیں ملتی ہے؟ اور کیوں یہ ہمیشہ مردوں ہی کو ملا کرتی ہے؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر مرد کے لئے
۱۸۵
یہ ممکن ہے کہ وہ امام ہو، جبکہ ان کے مقابلے میں سب عورتیں اِس رتبۂ عالیہ سے محروم ہیں، حالانکہ یہ سوال اس طرح درست نہیں۔
دوسرا سوال ہے کہ: “کبھی کسی امام کی کوئی بیٹی کیوں امام نہیں بن سکتی ہے؟” یا یوں کہنا چاہئے کہ: خاندانِ امامت کی کسی عورت کو کیوں امامت نہیں مل سکتی ہے؟ یہ سوال اس طرح سے اس لئے ہونا چاہئے کہ امامت کا منصبِ عالی ایسا نہیں کہ کوئی بھی اس کو حاصل کر سکے، بلکہ وہ ایک مخصوص خاندان میں ہے، اور وہ خاندانِ رسولؐ ہی ہے۔
چنانچہ اب ہم یہاں مذکورہ دو قسم کے سوالوں میں سے دوسرے کے جواب کو لکھ دیتے ہیں کہ:
(الف) قانونِ قرآنی کے مطابق باپ کی چھوڑی ہوئی میراث میں سے بیٹے کو دو حصے ہیں اور بیٹی کو ایک حصہ، اس سے ظاہر ہے کہ عورت سے مرد افضل ہے، لہٰذا امام کا بیٹا ہی تختِ امامت کا وارث ہوا کرتا ہے نہ کہ امام کی بیٹی۔
(ب) شانِ امامت کے برحق ہونے کے ثبوت میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک زبردست معجزہ ہے اور سورۂ کوثر کے علاوہ بہت سی قرآنی آیات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ أئمۂ آلِ محمدؐ کے ہاں مسندِ امامت کے وارث بن جانے کے لئے ہمیشہ بیٹے کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے، اور یہ بات قطعاً نا ممکن ہے، کہ امامِ برحقؑ کی نرینہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے لڑکی کو امامت دے دی جائے۔
(ج) قانونِ امامت بہت سی باتوں میں قانونِ نبوّت ہی کی طرح ہے، چنانچہ جب خواتین میں سے کوئی خاتون پیغمبر نہیں ہوئی ہے، تو کوئی امام زادی امام نہیں ہو سکتی ہے۔
(د) اسلام دینِ فطرت ہے، اور قانونِ فطرت کی رو سے مرد کے مقابلے میں
۱۸۶
عورت کئی اعتبارات سے کمزور اور مجبور ہے، مثلاً ماہواری، حمل، زچگی وغیرہ، یہ حالات ایسے ہیں کہ ان میں عورت کا دائرۂ کار بہت ہی محدود ہو جاتا ہے، لہٰذا عورت جسمانی طور پر منصبِ امامت پر فائز نہیں ہو سکتی ہے۔
(ہ) جب عورتوں کی ایک جماعت ہوتی ہے، اور ان کو شرعی نماز پڑھانے کے لئے کوئی مرد نہیں ہوتا تو شریعت کا حکم ہے کہ ایک قابل عورت ایسی حالت میں اُن سب عورتوں کی امامت کرے کہ وہ اگلی صف میں رہے اور کسی مرد پیش نماز کی طرح سب سے الگ ہو کر آگے نہ ہو جائے، جس کا تاویلی اشارہ یہ ہے کہ خاندانِ نبوت و امامت کی بیٹیاں اگرچہ مرتبۂ ظاہر میں نبوت و امامت کی وارث نہیں بن سکتی ہیں تاہم باطن میں نورِ ہدایت کے مرکز سے مل کر ہیں۔
(و) مردوں اور عورتوں میں سے جتنے امام کے مرید ہیں وہ سب امامِ عالی مقام کی بیٹیوں کی طرح ہیں، کیونکہ ان کو میراثِ دین کا صرف ایک حصہ مقرر ہے اور وہ باطن میں امامِ برحق کے نور تک رسا ہو جانا ہے، جبکہ مرید امامِ زمان کی صرف روحانی اولاد ہیں، مگر امامِ وقت کا جو فرزند جانشین ہونے والا ہے وہ ہر اعتبار سے امامِ عصر کا بیٹا ہے، اِس لئے اس کو دین کی میراث کے دو حصے مقرر ہیں کہ وہ ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی امام کے نور کا وارث ہو جاتا ہے، اس لئے کہ وہ روحانی اور جسمانی دونوں صورتوں میں امامِ برحق کا فرزند ہے، سو یہی وجہ ہے کہ عورت کی امامت شرعی نماز میں صف ہی کے اندر پوشیدہ اور محدود ہوتی ہے اور مرد کی امامت کی طرح آگے نکل کر نمایان نہیں ہوتی، اور یہ صورتِ حال نورِ امامت کے مرتبۂ باطن کی دلیل ہے، جس کو روحانی طور پر امام کے سب مرید اپنی اپنی قابلیت کے مطابق حاصل کر سکتے ہیں۔
(ز) سورۂ نساء کی آیت نمبر ۳۴ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: مرد حاکم ہیں عورتوں
۱۸۷
پر اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے (۰۴: ۳۴)۔ اس قرآنی اصول سے یہ حقیقت روشن ہے کہ عورت کا ظاہر میں امام بن جانا محال ہے، کیونکہ امام کو حاکم اور افضل ہونا ہے نہ کہ محکوم اور مفضول۔
امام کی شادی:
سوال نمبر ۹۸: کیا یہ بات درست ہے جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ امامِ برحق کسی اسماعیلی لڑکی سے اِس لئے شادی نہیں کرتے ہیں کہ مریدی کی لڑکیاں آپ کی روحانی بیٹیوں کی حیثیت رکھتی ہیں اور کسی رہنما کو اپنی روحانی بیٹی سے شادی نہیں کرنی چاہئے؟
جواب: یہ بات قطعاً غلط ہے اور اس کو حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں، جو مانا جائے کہ امام علیہ السّلام کو اسماعیلی لڑکی سے نکاح جائز نہیں، اگر کوئی شخص اس مسئلے کو مکمل وضاحت کے ساتھ جاننا چاہتا ہے تو وہ اسماعیلی فقہ کی کتاب “دعائم الاسلام” کے بابِ نکاح کو دیکھے، نیز سنتِ رسولِ مقبولؐ اور أئمۂ طاہرین ؑ کے مجموعی کردار پر نظر ڈالے تا کہ اس معاملے سے متعلق بنیادی باتوں کا علم ہو سکے۔
یہاں سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام میں نکاح اور حلال کا ایک دائرہ مقرر ہے، اور اس میں اُن تمام عورتوں کا ذکر ہے کہ جن میں سے کسی ایک کو نکاح کے لئے کوئی مسلمان منتخب کر سکتا ہے، اب اگر ایک شخص اپنی ثوابدید اور مصلحت کے مطابق دائرۂ حلال کی کسی عورت سے نکاح کرتا ہے، تو کوئی آدمی کس طرح یہ نظریہ قائم کر سکتا ہے کہ جس نے جو کچھ نکاح کیا بس اس کے لئے
۱۸۸
یہی کچھ حلال تھا؟
چنانچہ اگر امامِ برحقؑ بعض دفعہ اسماعیلی خاندانوں کو چھوڑ کر کسی اور خاندان کی لڑکی سے شادی کرتے ہیں، تو یہ امامِ عالی مقام کی حکیمانہ مرضی اُس دائرۂ اختیار و انتخاب کے اندر ہے جو قانونِ اسلام نے مقرر کر دیا ہے، جس کا اوپر ذکر ہوا۔
نہ معلوم یہ غلط بات کہاں سے پیدا ہوئی ہے کہ “امام اپنے مریدوں کی کسی لڑکی سے نکاح نہیں کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ تو امام کی روحانی بیٹی کی حیثیت سے ہے۔” حالانکہ کسی پیغمبر، امام، پیر اور مرشد کے لئے ایسا نکاح کبھی ممنوع نہیں ہوا ہے، کیونکہ وہ رشتہ روحانی ہے اور یہ نکاح جسمانی، چونکہ روحانیت الگ ہے اور جسمانیت الگ۔
سوائے حضرتِ نوحؑ اور حضرتِ لوطؑ کی بیویوں کے باقی تمام انبیاء کی بیویاں مسلمان دیندار اور اپنے اپنے شوہروں کی روحانی بیٹیوں کی حیثیت سے تھیں، اور جملہ أئمّہ کی بیویاں بھی اسی حیثیت سے ہوا کرتی ہیں، یہی مثال حضرتِ مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام کی اہلیۂ محترمہ کی بھی ہے۔
مزید وضاحت کی جاتی ہے کہ جس شادی کا یہاں ذکر ہو رہا ہے وہ جسمانی شادی ہے اور جن معنوں میں اسماعیلی لڑکیاں امام کی بیٹیاں قرار پاتی ہیں وہ تو روح اور روحانیّت کی باتیں ہیں، پھر کس طرح جسمانی نکاح اور شادی روحانی بیٹی سے ناجائز اور ممنوع ہو سکتی ہے، جبکہ ہر حالت میں امام کی اہلیہ خود بخود روحانی بیٹی بن جاتی ہے، اور جبکہ ہم سب کی بیویاں ہماری روحانی بہنیں ہوتی ہیں۔
کچھ لوگوں نے غلطی سے یہ سوچا ہو گا کہ جب امام کسی غیر اسماعیلی خاندان کی لڑکی سے شادی کرتے ہیں، تو اس کا مقصد یہ ہے کہ امامِ اقدس و اطہر کی بیگم صاحبہ غیر اسماعیلی ہی رہیں، مگر یہ خیال صریحاً غلطی پر مبنی ہے، کیونکہ امامِ عالی وقار
۱۸۹
کی بیگم شادی سے پہلے یا بعد میں اسماعیلیت کو قبول کر لیتی ہے اور خود بخود امامِ برحق صلوات اللہ علیہ کی روحانی بیٹی قرار پاتی ہے، اور حق بات یہ ہے کہ حضرت بیگم سلیمہ صاحبہ کے بارے میں یہی عقیدہ رکھا جائے، کیونکہ آپ نظریۂ اسماعیلیت کے مطابق امامِ زمانؑ کے خاندانِ نورانیت میں سے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے مولانا مرتضیٰ علی علیہ السلام سے فرمایا کہ: “اے علی میں اور تم مؤمنین (و مؤمنات) کے ماں باپ ہیں۔” رسولِ برحقؐ کے اس ارشاد سے ظاہر ہے کہ حضورؐ کی قابلِ قدر ازواج آنحضرتؐ کی روحانی بیٹیوں میں سے تھیں اور حضرتِ فاطمۂ زہراؑ بھی مولا مشکل کشا کے لئے روحانیّت میں اسی حیثیت سے تھیں، اسی طرح ہر زمانے کے امام اور باب یعنی حجّتِ اعظم تمام مؤمنین و مؤمنات کے ماں باپ کا درجہ رکھتے ہیں، اور یہ صرف روحانی اعتبار سے ہے نہ جسمانی لحاظ سے۔
اس بیان سے یہ حقیقت کلّی طور پر روشن ہو گئی کہ جب کبھی امام کسی غیر اسماعیلی خاندان کی لڑکی سے شادی کرتے ہیں تو اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی مرید کی لڑکی سے شرعاً نکاح نہیں کر سکتے، بلکہ امامِ عالی وقار کے اس پرحکمت کام میں مریدوں کے علاوہ عالمِ اسلام اور دنیائے انسانیت کے لئے بھی بہت سی مفید مصلحتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جن کو اہلِ دانش کے بغیر کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے، اور ان کی وضاحت اس جواب میں ضروری نہیں ہے۔
قربانی:
سوال نمبر ۹۹: قرآن میں حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کے کس
۱۹۰
فرزند کی قربانی کا قصہ ہے؟ حضرتِ اسماعیلؑ کا یا حضرتِ اسحاق ؑ کا؟ نیز یہ بتائیں کہ اس میں تاویلی حکمت کیا ہے؟
جواب: قرآنِ پاک (۳۷: ۹۹ تا ۱۰۷) میں حضرتِ اسماعیل علیہ السّلام کی قربانی کا ذکر فرمایا گیا ہے، یہ قرآن کی تنزیل کی بات ہے مگر قربانی کی تاویل میں :جناب اسماعیلؑ اور جناب اسحاقؑ دونوں اس عظیم امتحان میں شامل ہیں، اس کی وضاحت ذیل کی طرح ہے
(الف) اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیم خلیلؑ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اپنے فرزندِ جگربند حضرتِ اسماعیلؑ کو راہِ خدا میں ذبح کر دیں اور اس فرمانِ خداوندی کی بجا آوری کے لئے عظیم باپ بیٹے نے بہ رضا و رغبت تیاری کی اور حضرتِ اسماعیلؑ کے مبارک گلے پر والد بزرگوار کی تیز چُھری پھرنے لگی، لیکن پروردگارِ عالم نے اِس بیمثال جسمانی قربانی کو روحانی قربانی کی صورت میں بدل دیا۔
(ب) ارشادِ خداوندی ہے کہ: وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ (۳۷: ۱۰۷) اور ہم نے اس کے بدلے میں ایک عظیم قربانی دی۔ یعنی اس کی شخصیت کی قربانی روحانی قربانی کی شکل میں بدل گئی، کیونکہ “ذبحٍ عظیم” کا مطلب روحانی قربانی ہے جو جسمانی قربانی سے بہت بڑی ہے، اور روحانی قربانی کے مختصر معنی یہ ہیں کہ حضرتِ اسماعیل علیہ السّلام سے مرتبۂ امامت کا عہد لیا گیا، اور اس کی وضاحت یہ ہے جناب اسماعیلؑ کو طرح طرح کی سخت روحانی آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور انہوں نے روحانیّت کی تمام منزلوں میں ایک ایک قربانی پیش کی، تا کہ کارِ امامت میں صبر کے معنی ہر لحاظ سے درست ہوں، جیسا کہ ارشادِ قرآنی ہے: اور ہم نے ان میں سے أئمّہ بنائے جو ہمارے امر کے مطابق ہدایت کیا کرتے تھے جبکہ وہ صبر میں کامل تھے (۳۲: ۲۴)۔
۱۹۱
(ج) کہا جاتا ہے کہ حضرتِ اسماعیلؑ کے بدلے میں جس دُنبے کو ذبح کیا گیا تھا، وہی دنبہ “ذبحٍ عظیم” ہے، لیکن عقل و دانش کے نزدیک حضرتِ اسماعیلؑ سے دنبہ کس طرح عظیم ہو سکتا ہے، لہٰذا ذبحٍ عظیم سے روحانی قربانی مراد ہے، جو حضرتِ اسماعیلؑ کے علاوہ حضرتِ اسحاقؑ نے بھی پیش کی کہ دونوں حضرات علی الترتیب امامِ مستقر اور امامِ مستودع تھے، اور ہر امام خواہ وہ مستقر ہو یا مستودع اس عظیم روحانی قربانی کے بعد ہی درجۂ امامت پر فائز ہو جاتا ہے۔
(د) حضرتِ اسماعیلؑ کی شخصیت کی قربانی سے اُن کی روحانیّت کی قربانی اس لئے انتہائی عظیم ہے کہ آپؑ کی نسلِ پاک سے سرورِ انبیاء حضرتِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم پیدا ہوئے، اور آنحضرتؐ کی ظاہری و باطنی قربانیوں کی برکت سے دینِ اسلام ظاہر اور قائم ہوا۔
(ہ) اگر اسماعیلؑ کی قربانی صرف شخصیت ہی میں محدود ہوتی یعنی اگر ان کو اسی وقت ذبح کیا جاتا جبکہ وہ اس کے لئے تیار تھے تو وہ لاتعداد روحانی قربانیاں نہ ہوتیں جو آپؑ نے اس کے بعد زندہ رہ کر پیش کیں اور آپؑ کے سلسلے میں أئمّۂ برحق نے انجام دیں اور امامت کے ساتھ ساتھ قیامت تک یہ قربانیاں جاری ہیں، لہٰذا خداوند تعالیٰ نے جسمانی قربانی کو روحانی قربانی کی صورت میں تبدیل کرتے ہوئے عظیم باپ بیٹے پر نہ صرف احسان ہی کیا بلکہ ساتھ ہی ساتھ ان کے ثواب میں بھی بدرجۂ انتہا اضافہ کر دیا۔ پس انہی معنوں میں روحانی قربانی کا نام ذبحٍ عظیم ہے۔
(و) یاد رہے کہ عوام کے لئے جسمانی قربانی یعنی شہادت بہت بڑی چیز ہے کیونکہ وہ روحانی قربانی کو نہیں پہنچ سکتے ہیں، جو انبیاء، أئمّہ اور اعلیٰ درجے کے حقیقی مؤمنین کے لئے مخصوص ہے، اور خواص کے نزدیک روحانی قربانی
۱۹۲
انتہائی عظیم ہے۔
(ز) قرب سے قربان اور قربان سے قربانی کا لفظ ہے، جس سے کوئی ایسا وسیلہ مراد ہے کہ وہ انسان کو خدا کے قریب کر دے، چنانچہ ہادئ برحق کی ظاہری و باطنی ہدایت سب سے عظیم قربانی ہے کہ جس سے بندگانِ خدا اپنے ربّ کے نزدیک ہو جاتے ہیں۔
(ح) “وجہِ دین” جو پیر ناصرِ خسرو کی شہرۂ آفاق تاویلی کتاب ہے، اس میں جہاں جہاں ذبح اور قربانی کا ذکر آیا ہے، وہاں خوب غور سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت روشن ہو جائے گی کہ ان دونوں لفظوں کی تاویل کیا ہے اور کس طرح ناطق کی قربانی اساس ہے، کن معنوں میں اساس کی قربانی امام ہے؟ کس حیثیت میں امام کی قربانی حجّت ہے؟ اور کس صورت میں حجّت کی قربانی داعی؟
(ط) جاننا چاہئے کہ ہر ناطق اپنے خاندان کے ایک قریبی فرد سے اساس ہونے کا عہد لیتا ہے اور یہ عہد تاویلی اعتبار سے قربانی کے کسی جانور کو ذبح کرنے کی طرح ہے، اور اس کو اپنا جانشین مقرر کرتا ہے تا کہ وہ امت کے مؤمنین کو خدا سے قریب تر کر دے، اسی طرح اساس اپنے وارث سے امامت کا عہد لے کر اپنے بعد قربِ الٰہی کا ذریعہ بنا دیتا ہے، امام حجت کی قربانی پیش کرتا ہے یعنی اس سے عہد لے کر اور روحانی دولت سے مالا مال کر کے علم و حکمت کا سرچشمہ قرار دیتا ہے تا کہ وہ بندگانِ حق کے لئے ذریعۂ معرفت ہو، اور اسی طرح حجّت اپنے درجے کے مطابق داعی کی قربانی پیش کرتا ہے، یہ ہیں حدودِ دین کی قربانیاں، کہ ہر درجے کی قربانی حدود میں سے وہ حد ہے جو اس کے نیچے ہے۔
(ی) حضرتِ اسماعیلؑ کے قصّۂ قربانی میں یہ حکمت بھی ہے، کہ اگرچہ روحانی قربانی ہی ہر اعتبار سے افضل و اعلیٰ ہے، لیکن مادّی قربانیوں کے بغیر یہ امر محال ہے
۱۹۳
کہ کوئی شخص روحانیّت کی عظیم قربانی کے درجے پر فائز ہو سکے، چنانچہ ہر دانشمند مؤمن عظیم روحانی قربانیوں سے پہلے اپنے آپ میں ظاہری اور مادّی قربانیوں کی عادت ڈالتا ہے، تا کہ وہ اس وسیلے سے سب سے عظیم قربانی دینے کے قابل ہو سکے۔
امامؑ اور قربانی:
سوال نمبر ۱۰۰: آپ نے ایک سوال کے جواب میں امام کی قربانی کا ذکر کیا ہے، لیکن امام پر کس طرح قربانی کا اطلاق ہو سکتا ہے جبکہ وہ خدا کے نور کا مظہر ہے؟ کیا نور اس قربانی سے بے نیاز نہیں ہے؟ کیا نور میں ترقی اور اضافے کی گنجائش ہے؟
جواب: (الف) جاننا چاہئے کہ امام اور امامت میں دو چیزیں خاص ہیں وہ شخصیت اور نور ہیں، اب اچھی طرح سے سمجھ لو کہ شخصیت کے دو پہلو ہیں: ایک ظاہر اور دوسرا باطن اور اسی طرح نور کے بعد بھی دو پہلو ہیں: ایک وہ جس کا تعلق ازل کے ساتھ ہے، دوسرا وہ جس کا لگاؤ شخصیت کے باطن سے ہے، چنانچہ قربانی کے حقیقی معنوں کا اطلاق امام کی شخصیت کے ظاہر و باطن پر ہوتا رہتا ہے، ہر چند کہ ایک اعتبار سے نور پر قربانی کا اطلاق نہیں ہوتا، لیکن دوسرے اعتبار سے نور کی بھی قربانی ہوتی رہتی ہے۔
(ب) ہمارے سامنے انبیاء و أئمہ علیہم الصلات و السّلام کی جسمانی قربانیوں کی کئی مثالیں موجود ہیں، جن کی دلیل سے ہم یقین کر سکتے ہیں کہ ہر پیغمبر اور امام کی مبارک ہستی ظاہری و باطنی قربانیوں کا سرچشمہ ہوا کرتی ہے۔
(ج) سیدِ شہداء حضرتِ امام حسین علیہ السّلام نے اعلائے حق و حقیقت
۱۹۴
کی خاطر اپنی مقدس شخصیت کی قربانی پیش کر دی، اس سے دو حقیقتیں کھل کر ہمارے سامنے روشن ہو جاتی ہیں، ایک تو یہ کہ حضرتِ اسماعیلؑ کی قربانی کچھ دکھاوے کے لئے نہیں تھی بلکہ ممکن تھا کہ وہ قطعی طور پر ذبح ہو جائے، اور دوسری حقیقت یہ کہ امام اپنی شخصیت کے ظاہری و باطنی پہلو کے اعتبار سے قربانیوں سے بے نیاز نہیں، مگر ہاں نور کے لحاظ سے وہ اس سے بے نیاز ہے۔
(د) نور کا ازلی پہلو فعال نہیں خاموش ہے مگر نور کا جو پہلو انسانِ کامل کے باطن سے متعلق ہے، وہی کلی طور پر حرکت میں ہے، جس طرح ایک روشن چراغ کا اُبھرتا ہوا شعلہ متحرک اور فعال ہوتا ہے جو مسلسل روشنی پر روشنی بکھیرتا رہتا ہے، مگر وہ روشنی جو مکان کی صاف و شفاف دیواروں پر نظر آتی ہے خاموش اور ساکن ہے، اس مثال میں چراغ کا ضوفشان شعلہ نور کے متحرک پہلو کی ترجمانی کرتا ہے جو ہادئ زمان کی روحانیّت میں ہے، اور دیوار کی سطح پر جو روشنی خاموش ہے وہ نور کے غیر متحرک پہلو کو ظاہر کرتا ہے جو ازل کی طرف ہے۔
(ہ) ازل کا واضح اور روشن تصوّر بھی امامِ وقت ہی کے نور کی روشنی میں ممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے یہاں امام کے نورِ فعال کی مثال چراغ کے شعلے سے دی ہے اور اس کے ازلی نور کی مثال دیوار کی ساکن روشنی سے دی ہے۔
(و) ہم نے کہا تھا کہ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو نور کی بھی قربانی ہوتی رہتی ہے اور حق بات تو یہ ہے کہ نور کی قربانیاں سب سے عظیم ہیں، سورج کے بارے میں خوب غور کرو، کب سے موجود ہے؟ اور کب تک قائم رہے گا؟ اور اندازہ کرو کہ مادّی نور کا یہ سرچشمہ ہر لحظہ کسی سرعت سے اس کائنات کی بے پناہ وسعتوں کو اپنی تازہ ترین روشنی سے بھر دیتا ہے، یہ مادّی
۱۹۵
نور کی قربانیوں کی مثال ہے اور روحانی نور کی قربانیاں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔
(ختم شُد)
۱۹۶