سراج القلوب

کلِّ کلّیات

انتساب

۱۔ عنوانِ بالا کا مطلب ہے کلّیات کا کلّ، یعنی جتنے الگ الگ مجموعے ہیں ان سب کا مجموعہ، یا عوالم کا عالم، کائناتوں کی کائنات، آسمانوں کا آسمان (فلک الافلاک) زمینوں کی زمین، خزانۂ خزائن، سرّ الاسرار، اور اسم الاسما ء (اسم الاکبر) یہ کلِّ کلّیات بصورتِ جوہر حظیرۃ القدس ہے، جو حضرتِ امامِ مبینؑ (۳۶: ۱۲) کے عالمِ شخصی کے عقلی آسمان میں ہے، کیونکہ خداوندِ دانا و قادر کائنات و موجودات کی جملہ اشیاء کو جس طرح مادّیت میں پھیلا دیتا ہے، اسی طرح روحانیّت کے بعد عقلانیّت کے جوہر (گوہر) میں لپیٹ لیتا ہے۔

۲۔ اے نورِ چشمِ من! یہ سچ ہے کہ عارف کی اپنی ہی معرفت میں حضرتِ ربّ اور مربوب کی معرفت آجاتی ہے، یہ خدائے بزرگ و برتر ہی کی عنایت ازلی ہے کہ وہی مہربانی اہلِ حقیقت کو بطریقِ باطن عرفانی معجزات کا مشاہدہ کراتا ہے، اہلِ دل جانتے ہیں کہ دیدارِ پاک کے سوا معرفت کا کوئی تصوّر ہی نہیں، اور یہ بھی یقینی حقیقت ہے کہ دیکھنے والوں نے معرفت کے جملہ عجائب و غرائب کو امام علیہ السّلام ہی کے نورِ اقدس

 

۳

 

میں دیکھا، ایسے میں حضرتِ امامؑ کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ عارفین پر قرآنی تاویل کے اسرار و رموز کو بتدریج ظاہر کر دے۔

۳۔ ایک مرتبہ آنحضرتؐ نے مولا علیؑ سے فرمایا: اِنَّ لَکَ بَیْتاً فِی الْجَنَّۃِ وَاِنَّکَ لَذُ وْ قَرْ نَیْھَا ۔ کہ جنّت میں تمہارے لئے ایک خاص مکان ہے اور تم اس امت کے ذوالقرنین ہو۔ رسولِ اکرمؐ کا کوئی بھی ارشاد علم و حکمت کے جواہر سے خالی نہیں، لہٰذا اس حدیث کے حکیمانہ اشارے اس طرح ہیں: ۔

)۱( یہ اس حقیقت کی ایک روشن دلیل ہے کہ حضرتِ ذوالقرنینؑ اور حضرت علیؑ دینی اور روحانی اعتبار سے ایک جیسے تھے، (۲) ان دونوں عظیم المرتبت ہستیوں کی مماثلت کا پہلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو قصّۂ قرآن ذوالقرنین سے متعلق ہے، وہی قصّہ مولا علیؑ کے بارے میں بھی ہے (۳) چونکہ علی علیہ السّلام کبھی ظاہری اور جغرافیائی طور پر مغرب و مشرق نہیں گئے تھے، اس لئے یقیناً یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ سفر اور سارا قصّہ روحانی اور تاویلی ہی ہے، جو ذوالقرنینؑ اور علیؑ کا مشترکہ قصّہ ہے (۴) ان تمام باتوں سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ ذوالقرنینؑ امام تھا یا حجاب (امامِ مستودع) یا خلیفہ، ورنہ حضرتِ مولاعلی صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہ کس طرح اور کیونکر کسی ظاہری بادشاہ کے مثیل ہو سکتے ہیں۔

۴۔ خانۂ حکمت کے نائب صدر نصر اللہ قمر الدین رحیم اور ان کی فیملی کے فرشتہ جیسے افراد اس قابل ہیں کہ میں بصد خوشی اپنی اس عزیز کتاب

 

۴

 

کو ان سے انتساب کرتا ہوں، اس گھرانے کی بیش بہا خدمات عرصۂ دراز سے جاری ہیں، نصر اللہ میرے کراچی کے خاص دوستوں میں سے ہیں، یہ دوستی علمی خدمت جیسی مقدّس چیز کی بنیاد پر قائم ہے، نصر اللہ بڑے دانشمند شخص ہیں، ان کو روحانی علم کی اہمیّت اور قدرو قیمت معلوم ہے، یہی سبب ہے کہ نہ تنہا آپ بلکہ آپ کی فرشتہ خصال بیگم امینہ نصراللہ بھی اور تینوں پیارے بچے بھی اس علم سے بے حد دلچسپی رکھتے ہیں۔

بچوں میں سے پہلے یاسمین کا نام آتا ہے، محفل میں ان کی شرافت کو دیکھ کر یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ خدا نے ان کی ایمانی روح کے ساتھ ایک فرشتہ کو بھی رکھا ہوگا، ان کی بہن فاطمہ بھی ایسی ہی ہیں، نوعمری کے باوجود دل میں آسمانی محبّت کا ایک طوفان، سبحان اللہ! یہی ایک خوبی بے شمار خوبیوں کا سرچشمہ ہے، نصر اللہ اور امینہ کا تیسرا پیارا بچہ امین محمد ہیں، یہ نام کتنا عالی اور پسندیدہ ہے، ان کی گفتگو اور شاعری سے بزرگی کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔

اے پروردگار ! تو ہمیں توفیق عطا فرما تا کہ ہم ایسی عاجزانہ دعا کر سکیں جو تیری بارگاہِ اقدس میں منظور و مقبول ہو! آمین!!

 

ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

پیر ۹؍ ذی قعدہ ۱۴۱۵ ھ             ۱۰ ؍ اپریل ۱۹۹۵ ء

 

۵

 

آغازِ کتاب

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا (۳۳: ۴۵ تا ۴۶) اے پیغمبر! ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اور خدا کی طرف اسی کے اذن سے بلا نے والا (نورِ ہدایت کا) روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے ( سورۂ احزاب ۔ ۳۳: ۴۵ تا ۴۶)۔

۲۔ سراجِ منیر / چراغِ روشن:

اے نورِ عینِ من! میری باتوں کو کامل توجہ اور احساسِ ذمہ داری سے سن لینا ہے، کیا یہ سراجِ منیر (چراغِ روشن) سورج کے ساتھ ساتھ دنیائے ظاہر کی مادّی اشیاء پر روشنی ڈالنے کے لئے مقرر ہے یا عالمِ دین اور عالمِ دل کو منوّر کر دینے کے لئے؟ یہ سوال خود جواب بھی ہے، چراغِ روشن کا مطلب یقیناً نورِ ہدایت ہی ہے، تو کیا خدا کی خدائی میں بحقیقت دو چراغ یا دو نور ہوسکتے ہیں؟ اس کا جواب اہلِ معرفت کی طرف سے یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا نور ہمیشہ ایک ہی ہے، لیکن

 

۹

 

اس کے مظاہر اپنے اپنے وقت میں انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام ہوا کرتے ہیں، اسی معنیٰ میں فرمایا گیا: نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ (۲۴: ۳۵) نور پر نور ہے۔ یعنی سلسلۂ نور کی کڑی سے کڑی ملی ہوئی ہے۔

۳۔ سراجِ منیر / سراج القلوب:

اس میں کیا راز ہے کہ کتابِ ہذا کا نام “سراج القلوب” رکھا گیا؟ کیا اس میں آپ کا یہ مقصد ہے کہ آیاتِ نور کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے؟ خصوصاً آیۂ مصباح (۲۴: ۳۵) اور آیۂ سراج (۳۳: ۴۶) کی طرف؟ آیا یہ حقیقت ہے کہ اللہ، رسولؐ، اور امامؑ کا نور اصلاً ایک ہی ہے؟ کیا آپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آیاتِ نور اہلِ دانش کے نزدیک ہر طرح سے فیصلہ کن آیات ہیں؟ یہ سوالات بھی ہیں اور اشاراتی جوابات بھی۔

۴۔ مقامِ ہفت اسماء:

اگر قرآنِ حکیم کے کسی مقام پر پیغمبرِ اکرم صلعم کے اسمائے مبارک میں سے چند اسماء ایک ساتھ آئے ہیں تو اس میں علم و حکمت کا کوئی بڑا خزانہ ہوسکتا ہے، کیونکہ رسولؐ کے ہر بابرکت اسم میں نہ صرف آپؐ کی ذاتِ عالی صفات ہی کے کام کا بیان ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ آپؐ کے جانشین کا پر حکمت تذکرہ بھی ہے، چنانچہ سورۂ احزاب کی آیت ۴۵ اور ۴۶ کو ہم “مقامِ ہفت اسماء” کہہ سکتے ہیں، جہاں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سات مبارک ناموں کا ذکر فرمایا گیا ہے، اور وہ یہ ہیں: ۔

 

۱۰

 

۱۔ نبی           ۲۔ رسول       ۳۔ شاہد                   ۴۔ مبشر                  ۵۔ نذیر                   ۶۔ داعی ۔           ۷۔ سراجِ منیر۔ محبوبِ خدا سید الانبیاء و المرسلین کے ان پاک و پرحکمت اسماء میں عقل و دانش سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، عَلَی الخصوص سراجِ منیر میں، کہ یہ چراغِ روشن دراصل نورِ مطلق ہی ہے، جو عالمِ دین اور عالمِ شخصی کا خورشید انور ہے، جس سے چودہ طبق میں مسلسل نورِ ہدایت کی بارش برستی رہتی ہے۔

۵۔ قلبِ انسانی کی حقیقت:

چراغِ دلہا (سراج القلوب) کی مناسبت سے قلبِ انسانی کی حقیقت پر روشنی ڈالی جاتی ہے کہ قلب یا دل اوّل اوّل وہی صنوبری شکل کا زندہ لوتھڑا ہے جو سینے میں دھڑکتا ہے، اس کے بعد تجربۂ نفسانی موت اور اشارۂ قرآن (۳۳: ۱۰) سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ دل سے روح مراد ہے، کیونکہ وَبَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ (اور پہنچ گئے دل گلوں تک۔ ۳۳: ۱۰) میں یہ تذکرہ ہے کہ روح ہی گلے سے گزر کر دماغ میں ٹھہرتی ہے، اس حال میں یہ لوتھڑا کچھ دیر کے لئے مر ہی جاتا ہے، اس معجزۂ عزرائیل میں دماغ کے سوا تمام اعضاء بار بار مرتے اور بار بار زندہ ہو جاتے ہیں۔

۶۔ عقل کا ایک نام دل ہے:

ق ل ب کے مادّہ سے قلب ہے، اور قلب کے لفظ سے انقلاب ہے

 

۱۱

 

چنانچہ قلب (دل) کے معنی میں بار بار انقلاب آتا ہے، پس باطنی ترقی جب نورِعقل تک پہنچ جاتی ہے تو اس وقت عقل ہی کو دل کہا جاتا ہے، جیسے حدیث میں ہے کہ مومن کا دل چراغ کی طرح ہوتا ہے، جس سے نورِعقل مراد ہے، بعد ازن امام عالیمقامؑ خود مومن کا دل ہو جاتا ہے، اور آخر میں حضرتِ قائمؑ دل ہو کر فرماتا ہے: إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (۲۶: ۸۹) ہم نے قلبِ سلیم کی تاویلی حکمت بیان کر دی ہے، یہاں یہ سرِعظیم منکشف ہوا کہ عالمِ شخصی میں جس قلب کو عرشِ رحمان ہونےکا مرتبہ حاصل ہے وہ خود امام علیہ السّلام ہی ہے۔

۷۔ قلب اور عالمِ وحدت:

جو قلب عالمِ وحدت میں ہے وہ نہ صرف قلبِ واحد ہی ہے بلکہ نمائندۂ قلب بھی ہے، اور خود سراج القلوب بھی، کیونکہ وہاں کا قانوں عالم کثرت سے قطعاً مختلف ہی ہے، جبکہ وہ ایک ایسا آئینۂ تجلّی نما ہےکہ ہر بار اس میں ایک نئی تجلّی کا مشاہدہ ہوتا ہے، یہی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بے مثال قدرت کا کمال ہے۔

۸۔ نورِ ہدایت کی ہر سو اور ہمہ وقت ضو فشانی: سراجِ منیر جو نورِ ہدایت ہے، اس کی نمایان مثال اور دیدنی و قابلِ فہم تفسیر و تاویل جو سب کے سامنے روشن ہے، وہ خورشیدِ انور ہی ہے، جس کے چشمۂ مستدیر سے ہر سو اور ہر لحظ کرنوں کی طوفانی بارش کو دیکھ کر

 

۱۲

 

اہلِ دانش بڑی حیرت سے یہ اقرار کرتے ہوں گے کہ یقیناً عالمِ دین کے سورج کا دائمی عمل بھی ایسا ہی ہے، یعنی خدائے بزرگ و برتر نے جس طرح آفتابِ عالمتاب کو کائنات کا مرکز، روشنی کا سرچشمہ، طاقت و حرکت کا منبع، اور حیاتِ حیوانیہ کا ذریعہ بنایا، اسی طرح ذاتِ سبحان نے نورِ ہدایت اور آفتابِ علم و حکمت کو عالمِ دین اور عالمِ شخصی کی اخلاقی، روحانی، اور عقلانی تمام طاقتوں کا زبردست اور واحد مرکز بنایا، تاکہ لوگ نظامِ کائنات کو دیکھ کر نظامِ دین کو سمجھ سکیں، اسی مثال و ممثول کے قانون کو سمجھانے کی غرض سے یہ امر بے حد ضروری تھا کہ گھر کے چراغ کا قابلِ فہم نمونہ لوگوں کے سامنے لایا جائے، تاکہ اس وسیلے سے اہلِ دانش شمسِ ظاہر اور شمسِ باطن کے اسرار کو رفتہ رفتہ سمجھ سکیں۔

۹۔ چراغِ روش نور کی بہترین مثال:

خداوندِ علیم و حکیم نے اپنے نورِ اقدس کی تشبیہہ و تمثیل کے لئے تمام اشیائے ارضی میں سے جس مناسب ترین چیز کا انتخاب فرمایا وہ چراغِ روشن ہی ہے ( مصباح۔ ۲۴: ۳۵، سراجِ منیر۔ ۳۳: ۴۶) اللہ کی یہ پسندیدہ اور منتخب مثال اسرارِ عظیم کی حامل ہے، اس کی چند حکمتیں ذیل کی طرح ہیں: ۔

(الف) چراغِ روشن زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ سورج کسی بھی تصادم یا حادثے سے ازخود پیدا نہیں ہوا، بلکہ اس کو خدا نے اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے، کیونکہ کوئی چراغ خود بخود وجود میں نہیں آتا

 

۱۳

 

اور نہ وہ انسانی عمل کے بغیر روشن ہو سکتا ہے۔

(ب) اس جہان میں ایک طرف مادّہ ہے اور دوسری طرف روح یعنی انسان، اس میں چراغ کا اشارہ یہ ہے کہ جس طرح مادّہ کی آخری ترقی خاموش روشنی ہے، اسی طرح روحِ انسانی کا انتہائی عروج نورِعقل ہے۔

(ج) شعلۂ چراغ اگرچہ بظاہر ایک ہی ہے، لیکن قانونِ تجدّد کی رو سے اس کی بے شمار کاپیاں بن بن کر صرف ہو جاتی ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ روح الایمان کی لاتعداد کاپیاں ہوتی ہیں، ان کی وحدت بھی ہے اور کثرت بھی۔

۱۰۔ اس کتاب کے مضامین:

اللہ تبارک و تعالےٰ کا بہت بڑا فضل و کرم ہے کہ جیسے سراج القلوب بے حد پیارا اور دلنواز نام ہے، ایسے ہی اس کے پسندیدہ مضامین علم و حکمت کے جواہرِ گرانمایہ سے لبریز ہیں، چونکہ یہ بہشتِ برین کے عالی قیمت درّ و مرجان دراصل میرے نہیں، بلکہ مولائے زمان صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہ کے ہیں، اس لئے ان کی جتنی بھی تعریف و توصیف کی جائے کم ہے اور ان بے مثال نعمتوں پر ہم سب متعلقین جس قدر بھی شکر کریں قلیل ہے یہی وجہ ہے کہ اس معجزۂ اعظم کی ناشکری کے خوف سے ہم سب خادمین گاہ بہ گاہ گریہ و زاری اور مناجات کرتے ہیں، تاکہ وہ غفور رحیم ہماری خطاؤں سے درگزر فرما کر روحانی تائید کے دروازے کو مفتوح ہی رکھے، آمین یا ربّ العالمین!

 

۱۴

 

۱۱۔ پنج سالہ جشن:

جشنِ خدمتِ علمی کا منصوبہ سب سے پہلے امریکہ کے عزیزوں نے بنایا، پھر کنیڈا، لنڈن، فرانس اور پاکستان کے ساتھیوں نے اسے پسند فرمایا، اور بیحد مفید کتابوں کی تصنیف کی صورت میں یہ جشن جاری ہے، میرے خیال میں ہر نئی کتاب ایک ہمہ رس جشن ہے جس کی خوشی کبھی ختم نہیں ہو سکتی ہے۔

۱۲۔ حقیقی معنوں میں سلام:

اسلام میں نیّتِ خالص انتہائی ضروری شیٔ ہے، پس میں تمام اعزّہ و احبا کو سلام کرتا ہوں، اس نیّت سے یہ خدا کا مبارک نام ہے، یہ سلامتی بھی ہے، یہ سلامتی کا گھر (دار السّلام) بھی ہے، اس میں تائید کے معنی بھی ہیں، اس قلبِ سلیم، اسمِ سلیمان و سلمان کا مادّہ یعنی س ل م بھی ہیں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَا لَمِیْنَ۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعرات ۵؍ ذی قعدہ ۱۴۱۵ ھ                  /        ۶؍ اپریل ۱۹۹۵ ء

 

۱۵

 

سراج القلوب

 

۱۔ سراج القلوب (دلوں کا چراغ) حبیبِ خدا سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے اسمِ مبارک “سراجِ منیر” کا اصل ترجمہ ہے، کیونکہ یہ پُرحکمت اسم (سراجِ منیر) حضورِ پاکؐ کے قرآنی اسماء میں سے ہے (۳۳: ۴۶) جس سے نورِ ہدایت مراد ہے، جو نورِ نبوّت اور نورِ امامت ہے، پس جملہ علم و ہدایت اسی ربّانی روشن چراغ کی روشنی ہے۔

۲۔ یہ نورِ اقدس خدائے بزرگ و برتر کا نور ہے، اس لئے یہ اوّل بھی ہے آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، آپ رسولِ اکرم صلعم اور امامِ عالیمقامؑ کے مبارک اسماء میں ان ناموں کو دیکھ سکتے ہیں، پس اوّل و آخر اور ظاہر و باطن کی تاویلات میں سے ایک قابلِ فہم تاویل یہ ہے: انسانِ کامل کے عالمِ شخصی میں جہاں نورِعقل کا ظہور ہو جاتا ہے، اور جہاں ازل و ابد ایک ساتھ ہیں، وہاں مرتبۂ اوّل اور مرتبۂ آخر ایک ساتھ ہیں، اور شخصِ کامل کی شخصیّت ظاہر ہے اور اس کی روحانیّت و عقلانیّت باطن۔

۳۔ ہادیٔ برحق تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کا مصداق ہوتا ہے اس لئے آئینۂ دل میں اس کا ظہورِ کامل عجب نہیں، جس طرح آفتابِ

 

۱۶

 

عالمتاب کی ضوفشانی کے مختلف درجات ہوا کرتے ہیں، جیسے صبحِ کاذب، صبحِ صادق، نمودِ شفق، طلوعِ آفتاب، چاشت وغیرہ، اسی طرح باطن میں نورِ ہدایت کی روشنی کے بہت سے مراتب ہیں، اور آخری مرتبہ نور کا ظہورِ کامل ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:۔

وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالْقَمَرِ إِذَا تَلاَهَا (۹۱: ۰۱ تا ۰۲)  قسم ہے آفتاب کی اور اس کے چاشت کی اور قسم ہے ماہتاب کی جبکہ وہ سورج کے بعد طلوع ہو جاتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نورِ نبوّت اور اس کے ظہورِ کامل کی قسم کھاتا ہے، اور نورِ امامت کی قسم کھاتا ہے، جو پیغمبرِ اکرمؐ کا نمائندہ اور جانشین ہے، کیونکہ نبی و امام علیہا السّلام عالمِ دین کے شمس و قمر ہیں۔

۴۔ حدیث شریف میں ہے: اَلْمُوٗمِنُ مِراٰۃُ المُوٗمن۔

حکمتِ عام: ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہوا کرتا ہے،

حکمتِ خاص: حضرتِ امام علیہ السلام کا نام بھی مومن ہےجو آئینۂ عالمِ بالا ہے، اور مرید کا نام بھی مومن ہے، یہ عالمِ سفلی میں آئینہ ہو سکتا ہے، چنانچہ بندۂ مومن روحانی ترقی سے مرآتِ قلب میں امامِ اقدس کا دیدار کر سکتا ہے، اور عقلی ترقی سے اپنے چہرۂ جان کو امام کے آئینۂ نورانیت میں دیکھ سکتا ہے، یہ سب سے بڑا معجزہ علّیّین (۸۳: ۱۸ تا ۲۱) میں ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں ابرار کے نامۂ اعمال کی حیثیت سے امامِ اطہرؑ کا پاک نور موجود ہے، جو بے شمار معجزات کا حامل ہونے کی وجہ سے زندہ آئینے کا کام بھی کرتا ہے، اور ابرار میں سے صرف

 

۱۷

 

مقربین ہی دنیا کی زندگی میں اس کتابِ آئینہ صفت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں (یَشْھَدُہٗ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ ۸۳: ۲۱)۔

۵۔ یہاں شروع ہی میں سراج القلوب کی وضاحت ہوئی، لہٰذا تَیَمُّناً وَتَبَرُّکاً (برکت اور تبرک کے طور پر) یہ کتاب “سراج القلوب” کے اسم سے موسوم کی گئی ہے، اور شاید یہ نام اس لئے بھی مناسب ہے کہ اگر ہماری تمام کتابوں میں روحانی اور حقیقی علم کی کوئی روشنی پائی جاتی ہے تو وہ اسی پاک چراغ کی ضیا پاشی کا صدقہ ہے، یہ سچ ہے کہ میں علم میں بڑا غریب ہوں، اس لئے میں بار بار قرآن، حدیث، اور امامؑ سے بھیک مانگتا ہوں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ، توقع سے زیادہ خیرات ملتی رہتی ہے۔

۶۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا کتنا بڑا معجزہ اور کیسا عظیم احسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے معرفت کی آسانی کی غرض سے قرانِ حکیم اور رسولِ کریم دونوں کو “ذکر” کے اسم سے موسوم فرمایا (۱۵: ۰۹، ۶۵: ۱۰ تا ۱۱) نیز اپنے اسمِ اعظم کا دوسرا نام ذکر رکھا، جو قرآن میں ہے، اور قرآن اس میں ہے (۵۴: ۱۷) ساتھ ہی ساتھ خداوندِ قدوس نے أئمّۂ ھُداؑ کو اہلِ ذکر کے ٹائٹل سے نوازا (۲۱: ۰۷) پس أئمّۂ طاہرینؑ جو اہلِ ذکر ہیں، ان کے تین بے مثال مراتب ہیں:

۱۔ وہ اہلِ قرآن ہیں، کیونکہ قرآن ان کے ساتھ ہے اور وہ حضرات قرآن کے ساتھ ہیں۔

۲۔ وہ اہلِ رسولؐ ہیں، جبکہ وہ آلِ محمدؐ ہیں۔

 

۱۸

 

۳۔ وہ اہلِ اسمِ اعظم ہیں، اس لئے کہ انہی سے اسم اعظم کسی مومن یا مومنہ کو مل سکتا ہے۔

۷۔ بعض آیاتِ کریمہ میں کتاب کا مطلب خود کتابِ سماوی بھی ہے اور اسمِ اعظم بھی، کیونکہ اللہ قادرِ مطلق آسمانی کتاب کو اسمِ اکبر میں لپیٹتا ہے اور اسمِ اکبر کو کتاب میں پھیلاتا ہے، پس کتاب اسمِ اعظم ہے اور اسمِ اعظم کتاب، جیسا کہ سورۂ مریم (۱۹: ۱۲) میں ارشاد ہے: يَايَحْيَى خُذْ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ۔ اے یحیٰ ! کتاب (توریت / اسمِ اعظم) مضبوطی سے لو۔ یعنی اسمِ اعظم کی تلوار نفس اور شیطان کے وسوسوں کے خلاف بڑی مضبوطی، سختی، اور سرعت کے ساتھ استعمال کرو تاکہ سلسلۂ ذکر منقطع نہ ہو۔

خداوندِ دوجہان کے اس حکم کے مطابق جو سورۂ شعراء (۲۶: ۲۱۴) میں ہے، آنحضرت صلعم نے اپنے قریبی رشتہ داروں سے فرمایا: یا بنی عبد المطلب اطیعونی تکونوا ملوک الارض و حکامھا۔

اے اولادِ عبد المطلب! میری اطاعت کرو، تاکہ تم سب زمین کے بادشاہ اور حکمران بن جاؤ گے (دعائم الاسلام، جلد اول، مضمون: ولایتِ امیرالمومنین علیہ السّلام)۔

سوال: آیا رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت اس لئے ضروری ہے تاکہ ہر مطیع مومن کسی ظاہری ملک کا بادشاہ بن جائے؟ اگر ایسا ہے تو تمام اصحاب یا بعض کیوں بادشاہ نہیں ہوئے؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام میں جتنے بادشاہ ہو گزرے ہیں وہ سب کے سب

 

۱۹

 

رسولِ اکرمؐ کے حقیقی فرمانبردار تھے؟

جواب: اس ارشادِ نبوّی کا ظاہری پہلو مثال ہے اور باطنی پہلو ممثول، لہٰذا یہاں جس زمین کا ذکر ہے وہ عالمِ شخصی، بہشت اور نفسِ کلّی کی زمین ہے، جس میں ہر وہ مومن بادشاہ ہوسکتا ہے جو حقیقی معنوں میں فرمانبردار ہو، حدیث شریف میں ہے: اَلدُّنُیَا سِجْنُ الْمُؤْمنِ وَ جَنَّۃُ الْکَافِرِ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے بہشت ہے۔

۹۔ قرآنِ حکیم کی بہت سی آیاتِ مبارکہ میں بزبانِ حکمت روحانی سفر کا حکم موجود ہے، من جملہ اس آیۂ مقدّسہ میں غور کریں: قُلْ سِيرُوا فِي الأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِئُ النَّشْأَةَ الآخِرَةَ (۲۹: ۲۰) (اے رسول) تم کہہ دو کہ زمین (روحانیّت) میں آگے چل کر دیکھو کہ خدا نے کس طرح بارِ اوّل مخلوق کو پیدا کیا، اور کس طرح وہ آخری تخلیق کرتا ہے۔

۱۰۔ کتابِ ہٰذا کا نام “سراج القلوب” بڑا پسندیدہ، عزیز اور پُرحکمت ہے، جیسا کہ قبل ازین کچھ وضاحت ہوئی کہ یہ سراجِ منیر کا اصل ترجمہ ہے، یقیناً اس میں آیۂ مصباح کی تفسیر و تاویل بھی ہے، اور جس نے ہمیں اور آپ کو “غریبم قلبِ تُو” کہا یا کہہ رہا ہے، اس کو کیونکر بھلا سکتے ہیں، اس قلب اور اس قلب میں لا انتہا فرق ہے، کیونکہ وہ نورِ مطلق ہے اور یہ گوشت کا ایک لوتھڑا، قرآنِ حکیم میں حقیقی قلب سے متعلق جو عظیم الشّان حکمتیں ہیں، ان کو سمجھنے کے لئے سعی کیجئے۔

 

۲۰

 

۱۱۔ اگر عصرِ حاضر کے ڈاکٹرز بیمار دل کی جگہ صحت مند دل رکھنے میں کامیاب ہو رہے ہیں تو کیا یہ بات آسمانی طبیب کے لئے مشکل ہے کہ وہ اس “قلبِ مریض” کو اکھاڑ پھینکے اور اس کی جگہ “قلبِ سلیم” کو رکھے، اور قلبِ سلیم کی تعریف یہ ہے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے قلبِ مبارک جیسا ہوتا ہے ( ۳۷: ۸۴ ؛ ۲۶: ۸۹)۔

۱۲۔ امامِ عالی مقام صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہٗ نہ صرف عالمِ اسلام اور دنیائے انسانیّت کا دل ہے بلکہ ساری کائنات کا دل ہے، لیکن بے پناہ خوشی ہے کہ وہ نورِ معرفت کی روشنی میں ہر مومن اور مومنہ کا دل ہے، جیسے سورۂ مومنون میں ہے: وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ لَكُمْ السَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَةَ قَلِيلاً مَا تَشْكُرُونَ (۲۳: ۷۸) اور وہ (مہربان خدا) وہی ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کیا (مگر) تم لوگ ہو ہی بہت کم شکر کرنے والے، یعنی خدائے مہربان نے مقامِ روحانیّت پر نورِ ناطق سے تمہارے لئے کان بنایا، نورِ اساس سے آنکھیں اور نورِ امام / قائم سے دل بنایا ، مگر تمہاری شکرگزاری بہت ہی کم ہے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلاَمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ( ۳۷: ۱۸۰ تا ۱۸۲) ۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی، ہیڈ آفس

جمعہ ۲۲۔ شوال المکرم ۱۴۱۵ ھ / ۲۴؍ مارچ ۱۹۹۵ ء

 

۲۱

 

معراجِ روحانی

 

مقامِ اوّل:

سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۰۱) تاویلی الفاظ: اَسْریٰ = وہ رات کو لے گیا، یعنی وہ باطن اور روحانیّت میں لے گیا، کیونکہ رات کی تاویل باطن ؎۱ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی معراج بطریقِ روحانی واقع ہوئی تھی، المسجد الحرام ؎۲ = خانۂ کعبہ کی مسجد، اس سے وہ ابتدائی اسمِ اعظم مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے پیغمبرِ اکرمؐ کو عطا ہوا تھا، کیونکہ مسجد کا لفظ قرآنِ حکیم (۰۷: ۲۹، ۰۷: ۳۱) میں نماز و ذکر کے معنی میں بھی آیا ہے، المسجد الاقصا ؎۳ = نہایت دور کی مسجد، یعنی سب سے آخری اسمِ اعظم ، جس کا تعلق گوہرِعقل کی بےشمار برکتوں سے ہے۔

ارشاد ہے: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا  (۱۷: ۰۱) ترجمہ: پاک ذات ہے جو لے گیا اپنے بندہ کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک، جس کو گھیر رکھا ہے ہماری برکت نے، تاکہ

 

۲۲

 

دکھلائیں اس کو کچھ اپنی قدرت کے نمونے۔

تاویل: پاک و بے نیاز ہے وہ رات جو لے گیا اپنے بندہ کو بطریقِ باطن و روحانیّت ابتدائی اسمِ اعظم سے انتہائی اسمِ اعظم ؎۴ تک جس کا تعلق عالمِ بالا اور گوہرِعقل سے ہے، جہاں علم و حکمت کی بے شمار برکتیں ہیں، تاکہ ہم ان کو اپنے عظیم معجزات دکھائیں۔

مقامِ دوم:

سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۶۰) تاویلی لفظ: اَلرُّؤْیَا = خواب، نظارہ، مشاہدہ، چونکہ اس خواب کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے ہے، اس لئے یہ عام نہیں بلکہ پیغمبرانہ خواب ہے، جس میں بموجبِ حدیثِ شریف آنکھ سوجاتی ہے، مگر دل بیدار رہتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا خواب روحانیّت میں بدل چکا ہوتا ہے؎۵ ، اس معنیٰ میں حقیقت یہ ہے کہ حضورِ انورؐ کی معراج جسمانی نہیں، بلکہ روحانی ہے۔

وہ ارشاد یہ ہے: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ (۱۷: ۶۰)

ترجمہ: اور وہ خواب جو تجھ کو دکھلایا اس کو لوگوں کے لئے آزمائش کیا، اور اسی طرح وہ درخت جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔

تاویل: حدیثِ شریف ہے: یا عائشۃ انّ عینیّ تنا مان و لا ینام قلبی = اے عائشہ! میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں

 

۲۳

 

اور میرا قلب نہیں سوتا، دوسری حدیث یہ ہے: تنامُ عینایَ و لا ینامُ قلبی = میری دونوں آنکھیں سوجاتی ہیں، اور میرا قلب سوتا نہیں۔ اور تیسری حدیث اس طرح ہے: اِنّا معشرالانبیاء تنامُ اعیننا ولا تنام قلوبنا = ہم گروہِ پیغمبران (علیہم السّلام ) ایسے ہیں کہ ہماری آنکھیں سوجاتی ہیں لیکن ہمارے قلوب نہیں سوتے ؎۶ (کتاب احادیثِ مثنوی ص ۷۰ پر تمام حوالہ جات کے ساتھ درج ہیں)۔

وہ خواب (یعنی معراجِ روحانی) جو تجھ کو دکھلایا اس کو لوگوں کے لئے آزمائش قرار دیا ، اور اسی طرح وہ درخت بھی باعثِ امتحان ہے جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے ؎۷۔

مقامِ سوم:

سورۂ نجم (۵۳: ۰۱ تا ۱۸) یہاں یہ تذکرہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ظاہراً و باطناً دو دفعہ سب سے عظیم دیدار کس طرح حاصل ہوا ؎۸۔

ترجمہ: قسم ہے تارے کی جب گرے، بہکا نہیں تمہارا رفیق اور نہ بے راہ چلا، اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے، یہ تو بس وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے، اس کو سکھلا یا ہے سخت قوّتوں والے نے، زورآور نے، پھر سیدھا کھڑا ہوا، اور وہ تھا اونچے کنارہ آسمان کے، پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا، پھر رہ گیا فرق دو کمان کے برابر یا اس سے بھی نزدیک، پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو وحی بھیجی سو بھیجی، جھوٹ نہیں کہا

 

۲۴

 

رسول کے دل نے جو دیکھا، اب کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو اس نے دیکھا۔

تاویل: یہ شروع کی آٹھ آیاتِ کریمہ کا ترجمہ ہے، جس میں یہ بیان ہے کہ رسول اللہؐ نے روحانی معراج سے قبل ابداع و انبعاث کے معجزات کو دیکھا تھا؎۹، انہی عجائب و غرائب کی عظمت و جلالت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اللہ تعالےٰ آفتابِ عقل کی قسم کھاتا ہے، جبکہ وہ غروب ہو جاتا ہے، نیز یہ ظہورِ مبدِع اور مبدع کی قسم ہے، لفظِ رفیق (صَاحِبُکُمْ) میں یہ اشارہ ہے کہ ہر روح رسولؐ میں فنا ہو کر معراج تک جا سکتی ہے ؎ ۱۰ ، سخت قوّتوں والا اور زور آور اللہ ؎۱۱ ہے، سیدھا کھڑا ہونا ابداع بھی ہے، اور انبعاث بھی، ؎۱۲، کیونکہ وہ ایک ساتھ ہے، آسمان اور زمین کا اونچا کنارہ (اُفُقِ الْاَعْلیٰ) ظہورِ مبدِع اور مُبْدَع ہے ؎۱۳، جو نزدیک ہو کر زمین پر اتر آیا، پھر آنحضرتؐ کی انائے علوی اور انائے سفلی اس طرح ایک دوسرے سے مل گئیں، جس طرح دو کمانوں یعنی دو نصف دائروں کو ملانے سے ایک دائرہ بن جاتا ہے ؎۱۴ ۔

پھر بلند ترین وحی (اشارہ) کا ذکر ہے جو حضرتِ مُبدِع اور مبدَع کے دیدار وغیرہ سے حاصل ہوتی رہتی ہے ؎۱۵، یہ سب کچھ عالمِ ظاہر میں حضورؐ کے سامنے آیا، اب باقی چھ آیاتِ مقدّسہ میں روحانی معراج کا ذکر ہے، جس کا مشاہدہ آنحضرتؐ نے اپنے عالمِ شخصی میں کیا  ؎۱۶۔

ترجمہ: اور اس کو انہوں (آنحضرتؐ) نے ایک اور ظہور (یعنی معراج) میں دیکھا ہے، سدرۃ المنتہیٰ (نفسِ کلّی) کے پاس، اس کے پاس ہے بہشت آرام سے رہنے کی، جب سدرہ چھپا رہا تھا جو کچھ چھپا رہا تھا، بہکی نہیں نگاہ

 

۲۵

 

اور نہ حد سے بڑھی، بے شک دیکھے اس نے اپنے ربّ کے بڑے بڑے معجزے۔

تاویل: سرورِ عالم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو پہلے ظاہراً ابداعی دیدار ہوا، پھر آپؐ کو روحانی معراج پر لیا گیا، جس میں سدرۃ المنتہیٰ کے پاس یعنی نفسِ کلّی کے آسمان پر سب سے آخری اور سب سے عظیم دیدار ہوا، جبکہ سدرہ (نفسِ کلّی) گوہرِعقل کا مظاہرہ کر رہا تھا، جس میں علم و حکمت کے جملہ اشارات موجود ہیں؎۱۷۔

 

ن ۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی ،  منگل ۲۴؍ جمادی الثانی ۱۴۱۵ ھ          /        ۲۹ ؍ نومبر ۱۹۹۴ ء

 

۲۶

 

حاشیہ

؎۱: لیل (شب = رات) کی تاویل باطن و روحانیّت ہے، اور دن کی تاویل ہے ظاہر و جسمانیّت، آپ تاویلی کتب کو دیکھیں۔

؎۲، ؎۳: جب مسجد کے ایک معنی عام نماز و ذکر کے ہیں ( ۰۷: ۲۹، ۰۷: ۳۱) تو کسی شک کے بغیر یہاں المسجد الحرام سے ابتدائی اسمِ اعظم کی خصوصی عبادت مراد ہے، اور اسی مناسبت سے المسجد الاقصا ( نہایت دور کی مسجد) کی تاویل انتہائی اسمِ اعظم ہے۔

؎۴: اگر تاویلی حکمت کے بغیر سوچا جائے تو ہماری فکر مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدّس) سے آگے نہیں جا سکتی ہے، کیونکہ ظاہری قصّہ صرف وہاں تک نظر آتا ہے۔

؎۵: کاملین کا خواب ایک بڑی بابرکت روحانیّت ہے جس میں علم و معرفت کے عجائب و غرائب کا مشاہدہ ہوتا ہے۔

؎۶۔ نورکی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں خود بخود اسمِ اعظم کے ذکر کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے، اور اس عظیم عمل کے لئے دائمی بیداری ممد و معاون ہے اور خوابِ غفلت دشمن، لہٰذا انسانِ کامل کی آنکھ سوتی ہے مگر اس کا قلب اسمِ اعظم کے ذکرِ مسلسل سے ارض و سماء میں نور بکھیرتا رہتا ہے۔

 

۲۷

 

؎۷: یہ ایک قرآنی حقیقت ہے، جس کی کوئی تردید نہیں کہ خدائے علیم و حکیم تمام لوگوں کو آزماتا رہتا ہے، تاکہ ان کو حسبِ علم و عمل مختلف درجات پر فائز کر دے۔

؎۸: ظاہراً و باطناً دو دفعہ سب سے عظیم دیدار کا مطلب ہے: ظاہر میں جفت دیدار اور باطن میں ایک طاق دیدار۔

؎۹: ابداع و انبعاث کے معجزات دنیائے ظاہر میں وقوع پزیر ہوتے ہیں، لیکن ان کو صرف انسانِ کامل ہی دیکھ سکتا ہے۔

؎۱۰: ہادئ برحق کا روحانی سفر بحقیقت دوسروں کی رہنمائی کی غرض سے ہوتا ہے، جیسا کہ لفطِ “صَاحبکُم ” (تمہارا رفیق / ہادی) سے ظاہر ہے، اس کا اشارہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم میں فنا ہو کر بہت سی روحیں مرتبۂ معراج تک جا سکتی ہیں، ورنہ کسی کو خدا، رسولؐ اور امامؑ کی معرفت سے کیا خبر ہو گی، جبکہ تمام اسرارِ حقائق و معارف اسی مقام پر جمع ہیں۔

؎۱۱: یہ درست ہے کہ شرو ع شروع میں نبیٔ اکرمؐ اور حضرتِ ربّ کے درمیان پانچ وسائط تھے: قلم، لوح، اسرافیل، میکائیل، جبرائیل، لیکن جب ابداع و انبعاث اور معراج کا وقت آیا تو اس میں یہ تین فرشتے یا تو حضورؐ سے پیچھے رہ گئے یا آپؐ کے ساتھ ایک ہوگئے، پھر آنحضرتؐ کی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم لوح و قلم اور براہِ راست اللہ تعالیٰ سے ہوتی رہی، پس سرورِ انبیاء صلعم کا حقیقی معلّم ربِّ اکرم خود ہے، جبرائیل نہیں۔

؎۱۲: انسانِ کامل کی روحانی ترقی کے بعد اس کا جثّۂ ابداعیہ ظاہر

 

۲۸

 

ہوتا ہے اور ابداع و انبعاث اسی سے عبارت ہے، اور  یہی فَاسْتَوٰی کے معنی ہیں، کیونکہ ایسے میں عالمِ خلق اور عالمِ امر سے تعلق اِسْتَوٰی (معتدل و مستقیم ) ہو جاتا ہے۔

؎۱۳: اُفُقِ الْاَعْلیٰ کی تاویل ہے: جسمِ لطیف اور روحِ علوی کا سب سے بلند ترین درجہ، جس سے ظہورِ مبدِع اور مبدَع مراد ہے، یہ نکتہ خوب یاد رہے کہ جس طرح یک حقیقت (مونوریالٹی) میں لا تعداد حقیقتیں مرکوز ہو جاتی ہیں، اسی طرح بہت سی تاویلات آپس میں مل جاتی ہیں۔

۱۴: قوسِ علوی: ۔۔۔۔۔۔ ، قوسِ سفلی: ۔۔۔۔۔۔۔۔، قابَ قوسَین: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، اَوْ اَدْنیٰ: ۔۔۔۔۔۔۔۔

؎۱۵: انبیاء علیہم السّلام کے لئے سب سے اعلیٰ اور مسلسل وحی (اشارہ) دیدارِ الٰہی میں ہے، اس میں علم و معرفت کے جیسے اور جتنے بے شمار اشارے موجود ہیں، ایسے اشارات کہیں بھی نہیں۔

؎۱۶: آسمان، زمین، عرش اور کرسی عالمِ شخصی میں ہے، اس لئے معراج بھی اسی میں ہے۔

؎۱۷: قبضۂ قدرت میں کیا نہیں، خزائنِ الٰہی میں سب کچھ ہے، کتابِ مکنون میں ہر راز ہے، اور لوحِ محفوظ یعنی امامِ مبین کے گھیرے سے کوئی چیز باہر نہیں، والسلام۔

 

۲۹

 

انتساب بنامِ عزیزانِ گلگت

اعتکاف اور چلّہ

 

اعتکاف کے معنی ہیں: گوشہ نشینی، گوشہ گیری، گوشہ نشینیٔ عبادت خانہ،  اپنے کو منہیات سے باز رکھنا۔

چلّہ: یہ لفظ چل سے ہے جو چہل کا مخفف ہے، معنی ؛ چالیس ۴۰ دن کا عرصہ، چالیس دن کا زمانہ، چالیس دن کی گوشہ نشینی اور وظیفہ خوانی، چالیس ۴۰ روز کا عمل۔

حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے کوہِ طور پر اللہ کے حکم سے تیس ۳۰ دن کا اعتکاف کیا، خدا نے مزید دس دن عبادت کرنے کے لئے فرمایا، اس طرح چلّہ ہوگیا، اسی عظیم واقعہ کے پیشں نظر چالیس دن کی گوشہ نشینی اور ذکر و عبادت بہت بڑی اہمیّت کی حامل ہے، ہم نے کہیں اس کا ذکر کیا ہے۔

اعتکاف اور چلہ انبیائے کرام علیہم السّلام کی سنت ہے، اس لئے یہ عمل بڑا مبارک ہے، کہتے ہیں کہ اگر نیّت کی جائے تو کم سے کم اعتکاف ایک گھنٹے کا بھی ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امامِ عالی مقامؑ کے فرمانِ اقدس کے مطابق صبح نورانی وقت کی حضوصی بندگی ایک گھنٹے کی ہوا کرتی ہے۔

 

۳۰

 

اگر کوئی عزیز چلّہ یا اعتکاف کر رہا ہے تو وہ عوام کے سامنے ہرگز اس کا تذکرہ نہ کرے، کیونکہ یہ ایک عظیم راز ہے، بہت سے لوگ وقت سے پہلے راز کو فاش کر کے ناکام ہو جاتے ہیں، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جہاں بہت بڑی عاجزی کی ضرورت ہے، وہاں فخر کا مظاہرہ ہو سکتا ہے، جو بڑا نقصان دہ ہے۔

عزیزانِ من! یہ دورِ قیامت اور زمانۂ تاویل ہے، اس میں خصوصی عبادت اور حقیقی علم کے توسط سے حضرت قائم القیامتؑ کے عظیم اسرار کو حاصل کرنا ہے، جس کے لئے انقلابی ریاضت درکار ہے، عاجزی اور گریہ وزاری سے خود کو یکسر تبدیل کرنا ہوگا، اس میں امامِ زمانؑ کی شناخت اور محبت کلیدی وسیلہ ہے، اگر یہ پاک و پاکیزہ محبت بدرجۂ عشق پہنچ گئی ہے تو مبارک ہو! کیونکہ اس سے ذکر و عبادت کی راہ میں حائل ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔

 

ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

۱۲ ؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء

 

۳۱

 

صندوقِ سکینہ ۔۔۔ مجموعۂ روحانیّت

 

سورۂ بقرہ ( ۰۲: ۲۴۶ تا ۲۴۸) میں خوب غور سے دیکھ لیں، جہاں دینی بادشاہ (امام علیہ السّلام ) کا ذکر آیا ہے، جو علمِ لدنّی اور جثّہ ابداعیہ کا مالک ہوتا ہے، اور یہ علمِ محیط اور جسمِ بسیط مرتبۂ امامت کے دو عظیم معجزے ہیں، تاکہ خدا و رسولؐ کی جانب سے آفاق و انفس میں امامؑ کی بادشاہی قائم ہو۔

تابوتِ سکینہ بظاہر تبرکات کا ایک صندوق تھا، اور یہ مثال ہے، جس کا ممثول مجموعۂ روحانیّت ہے، کیونکہ حقیقت ایک ہی ہے، لیکن طرح طرح سے اس کی بے شمار مثالیں بیان کی گئی ہیں (۱۷: ۸۹، ۱۸: ۵۴) صندوقِ سکینہ کو ہمیشہ فرشتے ہی اٹھا رہے ہیں، کیونکہ وہ دراصل ایک روحانی چیز ہے۔

لغات الحدیث میں ہے: السّکینۃ ریحٌ تخرج من الجنّۃِ لھا صورۃٌ کصورۃِ الانسانِ تکون مع الانبیاء = سکینہ ایک پاکیزہ ہوا ہے جو بہشت سے نکلتی ہے، اس کی صورت آدمی کی سی ہے، وہ پیغمبروں کے ساتھ رہتی ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ تسکین روحانی علم ہی سے ہوتی ہے، روح کا دوسرا لفظ ریح ہے، جنّت میں کوئی چیز عقل و جان کے بغیر نہیں، جس ریح (ہوا) کی صورت آدمی کی سی ہے، وہ روح و روحانیّت ہے، جس کا تعلق انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام سے ہے۔

 

۳۲

 

مذکورہ لغات میں یہ بھی ہے: بعضوں نے کہا ایک صورت تھی زبرجد کی یا یاقوت کی، اس میں حضرتِ آدمؑ سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تک سب کی تصویریں تھیں۔ میں گزارش کروں گا کہ یہاں زبرجد اور یاقوت ٹھوس نہیں بلکہ اس سے نورِ اخضر اور نورِ احمر مراد ہے، جس میں صرف واحد تصویر ہے، مگر تجلّیات میں سب ہیں۔

المیزان جلد دوم ص ۲۹۹ پر ہے: اِنّ السَّکینۃ الّتی کانت فیہ ریحٌ ھفا نۃ من الجنّۃِ لھا وجہٌ کوجہ الانسان۔ عن علی علیہ السّلام ۔ صندوق میں تسکین کی چیز بہشت سے ایک خوشگوار ہوا تھی، جس کا انسان کی طرح ایک چہرہ تھا۔ حضرت علی علیہ السّلام ۔

 

۲۰ ؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء

 

۳۳

 

کتابِ ناطق

 

سورۂ مومنون (۲۳: ۶۲) میں ارشاد ہے: وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنطِقُ بِالْحَقِّ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُون۔ اور ہمارے پاس ایک کتا ب ہے جو سچ بولتی ہے، اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بولنے والی کتاب نامۂ اعمال ہے، جو علمی برتری اور شرف و عزّت کے معنی میں اللہ کے پاس ہے اور وہ حقیقت میں امام علیہ السّلام ہی ہے، جس کا ایک نام قرآنِ ناطق ہے، اس حقیقت کے دلائل ملاحظہ ہوں: ۔

۱۔ اس آیۂ مقدسہ میں “لاَ یُظْلَمُوْنَ” صیغۂ مضارع ہے، جس کا تعلق زمانۂ حال و مستقبل دونوں سے ہے، اس وجہ سے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کتابِ ناطق آج دنیا میں قرآنِ ناطق بھی ہے اور کل قیامت میں صحیفۂ اعمال بھی ہے۔

۲۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم زمانۂ نبوّت میں نورِ مجسم یعنی قرآنِ ناطق تھے (۰۵: ۱۵) اور قرآنِ صامت کی معلّمی کا یہ منصب ہرگز ایسا نہیں کہ کبھی اس کی ضرورت ہو اور کبھی یہ غیر ضروری ہو۔

۳۔ کتابِ ناطق کا مطلب ہے امامِ حیّ و حاضر علیہ السّلام کی مبارک

 

۳۴

 

شخصیّت اور روحانیّت و نورانیّت، جس کا دنیا میں کتابِ صامت کے ساتھ ساتھ موجود رہنا بے حد ضروری ہے، تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پر لوگوں کی کوئی حجت نہ ہو سکے (۰۴: ۱۶۵)۔

۴۔ جو زندہ، گویندہ اور دانندہ کتاب کرامت و فضلیت کے معنی میں خدا کے پاس ہے، اس کی خصوصیت سچ بولنا یعنی اعلیٰ حقائق و معارف بیان کرنا ہے، کیونکہ یہاں حق سے “حق الیقین” مراد ہے، جو علم و حکمت اور معرفت و یقین کا انتہائی بلند ترین مرتبہ ہے۔

۵۔ ظلم کے اصل معنی ہیں: وضع الشّیٔ فی غیر موضعہ المختص بہٖ۔ کسی شے کا جو اصل مقام ہے اسے وہاں سے ہٹا دینا اور دوسری جگہ رکھ دینا۔ چنانچہ قرآنِ ناطق کی یہ تعریف ہے کہ اس میں ہر حقیقت اور ہر معرفت اپنی خاص جگہ پر ہوتی ہے، اور وہ خاص مقام حظیرۃ القدس ہے۔

 

۲۰ ؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء

 

۳۵

 

حدیثِ ثَقلَیْن

 

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ: قد خلفتُ فیکم الثّقلین احد ھما اکبر من الاٰخر سبباً موصولاً من السّماءِ الی الارض: کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی، فانھما لن یفترقا حتّیٰ یردا عَلَیّ الحوض۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ (وسلم) نے فرمایا: میں نے تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑ دی ہیں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑھ کر ہے، ایک کتابِ خدا ہے جو آسمان سے زمین تک کھچی ہوئی رسی ہے، اور دوسری چیز میری عترت اور میرے اہلِ بیت ہیں، اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس وارد ہوں۔

حکمت ۱: “قد خلفتُ فیکم الثّقلین” کے مطابق اصل خلافت انہی دو گرانقدر چیزوں (قرآن اور اہلِ بیت) کو حاصل ہے۔

حکمت ۲: اللہ تعالیٰ کی کتاب نورِ ہدایت کی وہ رسی ہے جو عرشِ برین سے فرشِ زمین تک تانی (کھچی) ہوئی موجود ہے اور نورِ امامت بھی وہی رسی ہے، کیونکہ باطن میں ایک نور دوسرے نور سے الگ نہیں ہوتا، مگر ظاہر میں ہستی کے لحاظ سے کتاب الگ اور امام الگ ہے۔

 

۳۶

 

حکمت ۳: کتاب (قرآن) اور امامؑ کے نورِ واحد کی رسی کا بالائی سرا صاحبِ عرش کے ہاتھ میں ہے اور زیرین سرا اہلِ زمین کے پاس ہے۔

حکمت ۴: “وعترتی اہلِ بیتی” میں اہل بیتؑ تفسیر ہیں عترت کی، اور اہلِ بیت اولادِ علیؑ کے ہر امام کے لئے آتا ہے۔

حکمت ۵: جب تک دنیا میں قرآن موجود ہے، تب تک امامؑ بھی حاضر و موجود ہوگا، اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر یہ دونوں آنحضرتؐ کے پاس وارد ہو جائیں۔

حکمت ۶: حوضِ کوثر سے حضرتِ قائم القیامت علیہ السّلام مراد ہیں، اور کوثر اسی بزرگوارِ دو جہان کا علم ہے، یعنی علمِ تاویلِ محضِ مجرّد، اور گمراہی کا خطرہ بس یہاں تک رہتا ہے۔

 

۲۰ ؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء

 

۳۷

 

حاملانِ عرش

 

جَعَلَ الْعَرْشَ اَرْبَاعًا ۔ اللہ تعالیٰ نے عرش چار طرح کے نوروں سے بنایا (سبز نور، زرد نور، سرخ نور، اور سفید نور، اسی سے یہ چاروں رنگ دنیا میں ہیں۔ یہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا قول ہے)۔

تاویلی حکمت: عرش نورِعقلِ کلّ کا نام ہے، وہ سورج کی طرح بار بار طلوع ہوتا رہتا ہے، اور ہر بار رنگ و اشارہ کی ترجمانی تائید ہی کرتی ہے، چار رنگ البتہ بنیادی ہیں، جبکہ دنیا میں کئی رنگ ہیں۔

حَمَلَۃُ الْعَرْشِ ثَمَانِیَۃٌ۔ عرش اٹھانے والے آٹھ ہیں، چار تو ہم (آلِ محمدؐ) میں سے ہیں، اور چار جن میں سے اللہ چاہے۔

دوسری روایت میں ان کی تفسیر ہے، پہلے چار تو حضرتِ علی، حضرتِ فاطمہ، اور حسنین علیہم السّلام ہیں، اور دوسرے چار سلمان، مقداد، ابوذر اور عمار ہیں، رضی اللہ عنھم اجمعین (یہ بھی حضرتِ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے)۔

تاویلی حکمت: جب عرش سے نورِعقل مراد ہے، تو اس کا حامل ہر دور کے آغاز میں ایک ہی ہوتا ہے، پھر دو، تین، چار، پانچ، چھ، اور سات، یہ سب أئمّۂ علیہم السّلام ہی ہیں، پھر امامِ ہفتم علیہ السّلام

 

۳۸

 

کے زیرِ اثر کسی عالمِ شخصی میں مخفی قیامت برپا ہونے کی وجہ سے آٹھواں فرشتہ حاملانِ عرش میں شامل ہو جاتا ہے۔

تاویلی حکمت: قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں نورِ اقدس مومنین و مومنات سے متعلق ہے ( ۰۶: ۱۲۲، ۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹، ۵۷: ۲۸، ۶۶: ۰۸) وہاں وہ سب اپنے اپنے عالمِ شخصی میں حاملانِ عرش میں سے ہیں، کیونکہ عرش کی خاص تاویل نور ہے، یعنی نورِ عقل، نورِ ازل، نورِ الٰہ، نورِ یقین، نورِ عشق، نورِ علم، نورِ معرفت، نورِ ہدایت وغیرہ۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

منگل ۱۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۵ ھ        ۲۰؍ دسمبر ۱۹۹۴ء

 

۳۹

 

کائنات کی کاپیاں

 

ہرفردِ بشر میں بحدِّ فعل نہیں تو بحدِّ قوّت ایک کائنات پنہان ہے، کائنات کا دوسرا لفظ عالم ہے، جس کی جمع “عالمین” ہے، جس کا ذکر قرآنِ عزیز میں ۷۳ بار فرمایا گیا ہے ، اور عالمین جو عوالمِ شخصی ہیں، ان کی روحانی اور عقلی پرورش ایسی عظیم الشّان اور اہم ترین ہے کہ اللہ جل شانہٗ اس کا بیان ام الکتاب (الفاتحہ) کے شروع ہی میں فرماتا ہے: ۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۰۱: ۰۱)

سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے، جو سارے جہانوں (عوالمِ شخصی ) کا پالنے والا ہے۔ یعنی حضرتِ ربّ العزت کی جانب سے انسان کی پرورش اس طرح ہوتی ہے کہ اس سے نہ صرف جسم ہی بتدریج مکمل ہو جاتا ہے، بلکہ روح اور عقل کے حق میں یہ زیادہ سے زیادہ ضروری ہے، تاکہ انسان منازلِ روحانیّت اور مراحلِ عقلانیّت سے آگے جا کر درجۂ کمال حاصل کر سکے۔

اس حقیقت پر پہلے ہی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر شخص میں بحدِّ امکان سب کچھ رکھ دیا ہے، یہ بھی ایک مقولہ بن گیا ہے کہ “ہر ایک میں سب ہیں۔” یہ بات بھی اب پوشیدہ نہ رہی کہ ہر ستارہ ایک دنیا ہے، جس پر لطیف مخلوق کی بادشاہی کا امکان ہے، ایک بڑی عجیب

 

۴۰

 

بات یہ بھی ہوئی کہ انسانی بدن میں جتنے بے شمار خلیات ہیں وہ ایک ہی کائنات میں لاتعداد کائناتوں کی پوشیدہ موجودگی کی مثال ہیں۔

خدائے بزرگ و برتر نے حضرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے رحمتِ کل بنا کر بھیجا ہے (وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَاّ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۲۱: ۱۰۷) ظاہر ہے کہ عالمین سے عوالمِ شخصی مراد ہیں، کیونکہ حضورِ اکرمؐ صرف انسانی عوالم کی طرف بھیجےگئے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے: اے محمدؐ! کہو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے (۰۷: ۱۵۸)۔

اب یہاں یہ دیکھنا ہے کہ عالمِ شخصی میں کائنات کی کاپیاں کس طرح بن جاتی ہیں؟ اور اس کاپی سے لوحِ محفوظ یا امامِ مبین کا کیا لگاؤ (تعلق) ہے؟ کیا نامۂ اعمال بھی یہی ہے، یا وہ اس سے الگ ہے؟ معزز فرشتے صحیفۂ اعمال کس طرح درج کرتے ہیں؟ آیا جسمِ لطیف خود عالمِ شخصی اورا مام کی کاپی ہے یا کائنات کی کاپی ہے؟ کیا انفرادی قیامت اختیاری ہے یا اضطراری؟ انسان، فرشتہ، جنّ اور پری کے مابین کیا رشتہ ہے؟ ان جیسے بہت سے پیچیدہ اور سخت مشکل سوالات کے جوابات امامِ زمان علیہ السلام کے روحانی علم سے مل سکتے ہیں۔

سورۂ جاثیہ (۴۵: ۲۹) میں ارشاد ہے هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّؕ-اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (۴۵: ۲۹) یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اسے ہم لکھواتے جا رہے تھے، یہ ایک بڑے

 

۴۱

 

عالم کا ظاہری ترجمہ ہے، لیکن آیۂ کریمہ میں تقریباً تمام علمائےکرام کے لئے ایک انتہائی مشکل مسٔلہ اپنی جگہ موجود ہے، اور وہ ہے “نَسْتَنْسِخُ” جس کا اصل ترجمہ ہے: ہم تمہارے اعمال کو نقل (کاپی) کراتے تھے۔ یہ تو کسی اصل سے کاپی کرانے کی بات ہوئی، کیونکہ نَسْخٌ الکتاب کے معنی ہیں: کتاب کو حرف بحرف نقل کرنا۔

امامِ مبین صلوٰۃ اللہ علیہ کی ذاتِ اقدس میں تمام روحانی اور عقلانی چیزیں محدود ہیں، اس لئے کائناتی روح (نفسِ کلّی) اور لوحِ محفوظ آپؑ سے الگ نہیں، جب روحانی انقلاب یا ذاتی قیامت کا وقت آتا ہے اور اسرافیل اور عزرائیل دیگر فرشتوں کے ساتھ اپنا اپنا کام کرنے لگتے ہیں تو اس حال میں انہی کے عمل سے کائنات کی کاپیاں بنتی جاتی ہیں، جبکہ عالمِ شخصی کی روح کائنات میں پھیلائی جاتی ہے، اور کائناتی روح عالمِ شخصی کے سانچے میں ڈالی جاتی ہے، اسی طرح یہ عمل شب و روز جاری رہتا ہے، تاآنکہ کائنات کی اور مومنِ سالک کی ہزاروں کاپیاں ہو جاتی ہیں، یہ ہوا امامِ مبینؑ (لوحِ محفوظ) سے فرشتوں کا مومنین و مومنات کے نامہ ہائے اعمال کو نقل (کاپی) کرنا، کیونکہ امامِ عالیمقامؑ ہی کتابِ کلّ ہے اس لئے تمام اعمال سب سے پہلے اسی میں درج کئے جاتے ہیں، جیسا کہ سورۂ یاسین میں ہے:

انَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ (۳۶: ۱۲) ہم ہیں جو زندہ کرتے ہیں مردوں کو اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے

 

۴۲

 

پیچھے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک ظاہر پیشوا میں گھیر دیا ہے۔

یاد رہے کہ مومنین و مومنات کے نامہ ہائے اعمال امام علیہ السّلام کی ذاتِ پاک، اور اس کی کائناتی روح سے ہوکر اس لئے آتے ہیں کہ وہ سب صحیفے رحمت و برکت اور علم و حکمت کی دولتِ لازوال سے مالامال ہو جائیں، اور جب کسی مومن یا مومنہ کو مرتبۂ عقل پر اس کا نامۂ اعمال دیا جائے گا تو وہ کتابِ ناطق اور نور کی صورت میں ہوگا (۵۷: ۱۲، ۶۶: ۰۸) جو درجۂ حق الیقین کے علم و معرفت کو بیان کرے گا، کیونکہ ہر چیز خصوصاً قرآنِ حکیم کی ہر چیز اور ہر مثال میں دراصل رحمت و علم ہی کی جلوہ نمائی ہے (رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا۔ ۴۰: ۰۷)۔

قرآنِ عظیم درحقیقت ایک ہی ہے، جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر نازل ہوا، لیکن دنیائے اسلام میں اس کی بے شمار نقلیں (کاپیاں) موجود ہیں، اور اگر مانا جائے کہ ہر مومن اور مومنہ میں لوحِ محفوظ کی کاپی اسی طرح پوشیدہ ہے جس طرح دوسری تمام اشیاء اس کے عالمِ شخصی میں مخفی ہیں، تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس لوحِ محفوظ میں نورِ قرآن کا ایک روشن عکس ہو سکتا ہے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ۔

وَفِي الأَرْضِ آيَاتٌ لِلْمُوقِنِينَ وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلاَ تُبْصِرُونَ (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) اور یقین والوں (اہلِ معرفت) کے لئے زمین میں نشانیاں ہیں، اور خود تم میں بھی ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ آیات کے معنی ہیں نشانیاں اور معجزات، ویسے تو زمین میں قدرتِ خدا کی بے حساب نشانیاں موجود ہیں، لیکن سب سے عظیم معجزے قرآنِ پاک اور امامِ اطہرؑ ہیں، اور مذکورہ ارشاد کی

 

۴۳

 

حکمت یہ بتاتی ہے کہ جو کچھ زمین میں ہے وہ یقیناً عالمِ شخصی میں بھی ہے، اس سے یہ حقیقت کلّی طور پر روشن ہو گئی کہ روحِ قرآن کی کاپی اور نورِ امامت کا عکس عالمِ شخصی میں موجود ہیں، اور اس سرِعظیم کو آپ ہرگز ہرگز معمولی نہ سمجھنا۔

آفاق و انفس کی نشانیوں (معجزات) کے بارے میں ارشاد ہے: ۔

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (۴۱: ۵۳) ہم عنقریب ہی اپنی نشانیاں (معجزات) اطرافِ (عالم) میں اور خود ان میں بھی دکھا دیں گے، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی یقیناً حق ہے۔ قرآنِ حکیم کی اس پیش گوئی سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آفاق و انفس میں معجزات تو موجود ہیں، لیکن کچھ لوگ اقرار کرتے ہیں وہ اچھے ہیں، کچھ لوگ دیکھتے بھی ہیں، وہ بہت اچھے ہیں، اور کچھ لوگ انکار کر رہے ہیں ، وہ لوگ اچھے نہیں ہیں، اور ان میں یہی فرق ہے، پس علم الیقین ضروری ہے، تاکہ روشن دلائل سے یہ معلوم ہو سکے کہ عالمِ شخصی میں سب کچھ ہے۔

قرآنِ مجید کی ایک خاص تعلیم یہ بھی ہے کہ موجودات و مخلوقات کی چیزیں دو دو (جفت جفت) ہیں، چنانچہ اللہ جل شانہ کی بادشاہی میں روحانی تخلیق کے سانچے  (MOULDS) بھی دو ہیں، وہ کائنات (عالمِ کبیر) اور عالمِ شخصی ہیں، یہ دو قالب (سانچے) اس مقصد کے لئے ہیں کہ جب جب اللہ چاہے تو کارخانۂ قدرت کے اس سانچے (عالمِ شخصی) میں ڈھل کر کائنات کی روحانی کاپی انسانِ کامل کی طرح ہو جاتی ہے، اور اس سانچے (کائنات) میں ڈھل کر انسانِ کامل عالمِ کبیر جیسا ہو جاتا ہے۔

 

۴۴

 

یہ بات بھول نہ جائیں کہ روحانیّت کے تمام عظیم اسرار بڑے بڑے مضبوط پردوں کے پیچھے پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں، اس کی ایک مثال یہ ہے: سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍۙ-حُسُوْمًاۙ (۶۹: ۰۷) (رہے قومِ عاد تو وہ بہت شدید تیز آندھی سے ہلاک کئے گئے) خدا نے اسے سات رات اور آٹھ دن لگا تار اُن پر چلایا۔ یہ تباہ کن عذاب ان لوگوں پر نازل ہوا جو حضرتِ ہود علیہ السّلام کی دعوتِ حق سے انکار کر رہے تھے۔

اب یہ مجرّد تاویل بیان کرنا ہے کہ مذکورہ ۱۸۰ (ایک سو اسی) گھنٹے کی شدید آندھی بشکلِ روحانی عالمِ شخصی میں اس وقت پیدا ہو جاتی ہے جبکہ اسرافیل، عزرائیل وغیرہ پُرحکمت قبضِ روح کا عمل شروع کرتے ہیں، جس سے تمام مخالفانہ قوّتیں قومِ عاد کی طرح تباہ و برباد ہو جاتی ہیں، اور پھر سات رات اور آٹھ دن کی مدت میں مسلسل عالمِ شخصی اور کائنات کی روحانی نقلیں (کاپیاں) بنائی جاتی ہیں، اور اس عمل میں بے شمار حکمتیں مخفی ہیں۔

قرآنِ عزیز کے ۳۱ مقامات پر اَلَمْ تَرَ (کیا تو نے نہیں دیکھا؟) کا جملۂ سوالیہ آیا ہے، حالانکہ متعلقہ واقعات بظاہر سامنے نہیں ہیں، لیکن عالمِ شخصی میں سب کچھ موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمِ شخصی کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے خدا نے آنحضرتؐ سے پوچھا: اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحَابِ الْفِیْل (کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے ربّ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟)۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

۲۴ ؍ دسمبر ۱۹۹۴ ء

 

۴۵

 

عزیزانِ من

(انتساب)

 

مجھے اپنے شاگردوں کو “عزیزان” کہنا بے حد پسند ہے، یقیناً لفظِ شاگرد بہت ہی کم استعمال کرتا ہوں، الحمدللہ! میں اس بات کو توفیقِ الٰہی سمجھتا ہوں، لہٰذا اس کی ایک وجہ نہیں، بلکہ کئی وجہیں ہوسکتی ہیں، میں دنیوی تعلیم میں سب سے پیچھے ہوں، اور روحانی تعلیم میں بحقیقت ہم سب امامِ آلِ محمدؐ کے شاگرد ہیں، جو حدیثِ ثقلین کے مطابق قرآنِ مجید کے بعد زمین پر دوسرا عظیم عقلی معجزہ ہیں۔

میں اپنے عزیزوں کی صفِ اوّل سے شروع کر کے آخر تک قربان ہو جانا چاہتا ہوں، میں ان سب سے فدا ہوجاؤں! کیونکہ وہ تمام اس علمی خدمت میں شب و روز سخت محنت کر رہے ہیں، اور ہر فرد حسن و خوبی سے اپنا فریضہ انجام دے رہا ہے، تبھی تو یہ علمی خدمت خاص و عام کے نزدیک قابلِ توجہ ہو رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے عزیزوں کے گرانقدر تعاون سے قرآنِ پاک کی ایک اہم خدمت ہو رہی ہے، جو اسلام کی

 

۴۶

 

خدمت ہے، میں سمجھتا ہوں کہ عصرِ حاضر میں بقدرِ استطاعت قرآنی حکمت کو اجاگر کرنا بیحد ضروری ہے، ہر چند کہ قرآنِ عظیم کے دیگر علوم پر علمائے کرام نے بہت کام کیا ہے، لیکن سائنسی انقلاب کے جدید تقاضوں کے مطابق سوچنا بھی ازحد ضروری ہے۔

اگر مانا جائے کہ ہم علمی جہاد کر رہے ہیں، تو اس میں عسکر کی مثال ہوگی، جس میں جرنیل جیسے بڑے بڑے آفیسرز ہوں گے، یقیناً علمی جہاد کی عزت اس سے بھی بہت اعلیٰ ہے، جو لوگ اپنے نفس اور جہالت کے خلاف جنگ کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے ارضی جنود میں سے ہیں (۴۸: ۰۴، ۴۸: ۰۷) ان شاء اللہ تعالیٰ وہ فرد بہشت میں اپنے اپنے عالمِ شخصی اور ذاتی کائنات میں بادشاہ ہوں گے، آمین!!

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

اتوار ۲۸ ؍ رجب المرجب ۱۴۱۵ ھ     یکم جنوری  ۱۹۹۵ ء

 

۴۷

 

دوزخ کا ایک راز

 

یہ سورۂ مریم کی دو آیتیں ہیں:

وَإِنْ مِنْكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا (۱۹: ۷۱ تا ۷۲)

تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے ربّ کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو (دنیا میں) متقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔

اس آیت کی تفسیر میں بعضوں نے کہا کہ دوزخ پر سے گزرجانا ہے، اور بعضوں نے کہا کہ اس میں اترنا ہے، اور اولیاء اللہ اور صالحین بھی ایک مرتبہ دوزخ کی آگ میں داخل ہوں گے، لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا، بلکہ ان کی حالت حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی سی ہوگی کہ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا تو ان پر آگ کا کچھ بھی اثر نہ ہوا، چنانچہ قرآن میں ہے:

قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلاَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ ( ۲۱: ۶۹)

ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہو جا اور ابراہیمؑ پر (موجبِ) سلامتی (بن جا) ۔ (مفردات القرآن۔ مادّہ! ورد)۔

اس تصور کے مطابق یہ حدیث ہے: یأتی اقوامٌ ابوابُ الجنّۃِ فیقُولون ألم یعدِنا ربُّنا ان نَرِ وَلنّار؟ فیقال: مررتم

 

۴۸

 

علیھا وَھِیَ خَامِدَۃٌ۔ کچھ لوگ بہشت کے دروازوں پر آکر کہیں گے کہ آیا ہم سے ہمارے ربّ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تم آگ سے گزرو گے؟ تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اس سے گزر کر آئے درحالے کہ وہ تمہارے لئے بجھادی گئی ۔ مثنوی دفترِ دوم میں ہے:

 

مومنان درحشر گویند ای ملک                  نی کہ دوزخ بود راہِ مشترک؟

مومن و کافر برآن باید گذار                      ما ندیدیم اندر این رہ دود و نار

نک بہشت و بارگاہِ ایمنی                         پس کجا بود آن گذر گاہِ دنی

پس ملک گوید کہ آن روضۂ خضر            کان فلان جا دیدہ اید اندر گزر

دوزخ آن بود و سیاشگاہِ سخت                  برشما شد باغ و بستان و درخت

 

ترجمہ: مومنین قیامت کے دن (بہشت میں ) کہیں گے کہ اے فرشتہ! کیا دوزخ سب کے لئے مشترکہ راستہ نہ تھا؟ جس پر مومن اور کافر (دونوں) کو گذرجانا چاہئے، لیکن ہم نے اس راہ میں نہ کوئی دھواں دیکھا نہ آگ ، یہ تو بہشت اور بارگاہِ امن و آسائش ہی ہے، سو وہ بری گذرگاہ کہاں تھی؟ پس فرشتہ جواب دے گا کہ وہ سرسبزو شاداب باغ و گلشن جس کو تم نے فلا ن جگہ گزرتے ہوئے دیکھا تھا، وہی دوزخ اور عذاب کی جگہ تھی، لیکن دوزخ تمہارے حق میں باغ و گلشن اور گل و گلزار ہو گیا۔ (احادیثِ مثنوی ص: ۶۳۔ ۶۴)۔

حکیم پیر ناصر خسرو قدس اللہ سرہٗ کی مایۂ ناز اور شہرۂ آفاق کتاب “زاد المسافرین” کے آخری قول (بیست و ھفتم) کا عنوان ہے: اندر ایجادِ ثواب و عقاب۔ آپ اس کو بھی پڑھ لیں، خصوصاً مذکورہ دونوں آیتوں

 

۴۹

 

کی تفسیر و تاویل کے لئے از صفحہ ۴۷۹ تا ۴۸۲ کو دیکھ لیں، نیز کتابِ وجہِ دین ، کلام ۵ میں بہشت اور کلام ۷ میں دوزخ کا بیان ہے، آپ اس کا بھی مطالعہ کریں۔

 

یکم جنوری ۱۹۹۵ء

 

۵۰

 

خداوندِ کریم کا عشق

 

حدیثِ شریف ہے:

سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ، یا یوں فرمایا: طُوْبیٰ لِلْمُفَرِّدِیْنَ، قِیْلَ مَاالْمُفَرِّدُوْنَ؟ قَالَ الَّذِیْنَ ھْتَزُّوْ انِیْ ذِکْرِاللہِ تَعَالیٰ، یَا اِھْتَزُّوْ ا فِیْ ذِکْرِاللہِ تَعَالیٰ، آنضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: مفرد لوگ آگے بڑھ گئے، یا اس طرح فرمایا، خوشی اور مبارک بادی ہے مفرد لوگوں کے لئے، عرض کیا: مفرد لوگ کون ہیں؟ فرمایا، وہ لو گ جو اللہ کی یاد میں جھومتے رہتے ہیں۔ حضراتِ صوفیہ نے کہا: مفرد وہ لوگ ہیں جن کو خداوندِ کریم کا عشق ہے، ماسوٰی اللہ سے ان کو کچھ غرض نہیں (لغات الحدیث، جلدِ سوم، لفظِ فرد کے تحت)۔

رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے اس پُرحکمت ارشاد میں بڑی عجیب و غریب اور زبردست مفید روحانی سائنس پوشدہ ہے، وہ یہ کہ انسانی بدن بیشمار زندہ خلیات کا مجموعہ ہے، یہ خلیے کھاتے پیتے، سوتے اور جاگتے ہیں وہ ڈرتے بھی ہیں، شادمان بھی ہو جاتے ہیں، پس بدن کی نرم حرکت سے ان میں انبساط، خوشی اور عشق پیدا ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے ذکرِ الٰہی میں جھومنے والوں کی ایسی شاندار تعریف کی گئی ۔

 

یکم جنوری ۱۹۹۵ ء

 

۵۱

 

نعاس ایک راز

 

نعاس کی لفظی تحلیل:

اَلنُّعَاسُ کے معنی اونگھ یا ہلکی سی نیند کے ہیں، سورۂ انفال میں ہے: إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ (۰۸: ۱۱) جس وقت کہ ڈال دی اس نے تم پر اونگھ اپنی طرف سے تسکین کے واسطے ۔ اسی طرح آلِ عمران میں ہے: ثُثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ (۰۳: ۱۵۴) پھر تم پر اتارا تنگی کے بعد امن کو جو اونگھ تھی کہ ڈھانک لیا اس اونگھ نے بعضوں کو تم میں سے۔

ظاہری جہاد مثال ہے اور روحانی جہاد ممثول، ہادیٔ برحقؑ کی روشن ہدایات کے مطابق شب خیزی اور نورانی ذکر جہادِ اکبر ہے، اس میں قرآنِ عظیم اور امامِ مبینؑ کے بیحد و بے شمار معجزات پنہان ہیں، ان میں سے ایک مختصر ترین معجزہ جو چشمِ زدن میں رونما ہو جاتا ہے، نعاس ہے، وہ یوں کہ بعض دفعہ خصوصی ذکر کے دوران وسوسے یا پریشان خیالات مومنِ سالک کو تنگ کرنے لگتے ہیں، ایسے میں اگر خداوندِ قدوس کی عنایت ہوئی تو ایک معجزانہ اونگھ (نعاس) طرفۃ العین میں طاری ہو کر سارے وسوسوں کوختم کر ڈالتی ہے، البتہ اس میں قوّتِ عزرائیلیہ پوشیدہ ہے۔

 

۵۲

 

اَمَنَۃَّ مِّنْہُ، یہ اونگھ اللہ کی جانب سے دلجمعی کی خاطر تھی، ظاہر ہے کہ یہ عام نیند نہیں ہے، کیونکہ یہاں حق تعالیٰ کے احسان کا ذکر ہے، اور خدائے بزرگ و برتر کے احسان میں صرف خواص کے لئے کوئی خاص نعمت ہوا کرتی ہے، جو عوام کو نصیب نہیں ہوتی۔

 

یکم جنوری ۱۹۹۵ ء

 

۵۳

 

لفظِ اللہ کے بارے میں

 

بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں اِلٰہٌ ہے، ہمزہ یا الف (تخفیفاً) حذف کر دیا گیا ہے (۔لٰہ) اور اس پر الف لام (تعریف) لا کر (ال + لٰہ = اللہ) باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔

اِلٰہٌ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں، پہلا قول: بعض نے کہا ہے کہ یہ اَلَہَ (ف) یَأ لَہُ قُلَانٌ و ثَالَّہٗ سے مشتق ہے، جس کے معنی پرستش کرنے کے ہیں، اس بناء  پر اِلٰہُ کے معنی ہوں گے معبود۔

دوسرا قول: بعض نے کہا کہ یہ اَلِہَ (س) بمعنی تحیُّر (حیرت) سے مشتق ہے، اور باری تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور درماندہ ہیں، اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔

تیسرا قول: بعض نے کہا ہے کہ اِلٰہٌ اصل میں وِلَاہٌ ہے، واؤ کو ہمزہ (الف) سے بدل کر اِلَاہ (اِلٰہ) بنا لیا ہے، اور وَلِہَ (س) کے معنی عشق و محبت میں وارفتہ اور بے خود ہونے کے ہیں، اور ذاتِ باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے، اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔

چوتھا قول: بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل لَاہَ یَلُوْہُ

 

۵۴

 

لِیَاھاً سے ہے، جس کے معنی ہیں پردہ میں چھپ جانا، اور ذاتِ باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے۔ (مفردات القرآن۔ مادّہ: ال ہ)۔

اگر چہ ان میں سے ہر قول درست اور منطقی ہے، تاہم لفظِ اللہ میں جس طرح عشق و محبت کے معنی مثلِ خزانہ پوشیدہ ہیں، وہ بڑے عجیب و غریب ہیں، جب یہ حقیقت ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ عشق و محبت کا سرچشمہ ہے، تو اس کے ہر اسم اور قرآن کی ہر آیت میں عشقِ الٰہی کا راز پوشیدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ تمام اسما ء اسمِ “اللہ” کے تحت ہیں، اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، پس چشمِ بصیرت سے قرآن میں جہاں بھی دیکھا جائے وہاں عشق ہی عشق نظر آئے گا۔

 

۲؍ جنوری  ۱۹۹۵ ء

 

۵۵

 

ایک عظیم راز

 

ایک حدیثِ شریف ہے: نَزَلَ الْقُرْاٰنُ عَلیَ سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ۔ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے۔ سورۂ شوریٰ کے شروع (۴۲: ۰۱ تا ۰۲) میں ہے: حٰمٓ ۔ عٓسٓقٓ۔ جس کی ایک تاویل یہ ہے: ح م = محمد ۔ ع س ق = عشق، یعنی عشقِ محمد، دوسری تاویل: ح م = اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم۔ ع س ق = عشق، بمعنیٔ عشقِ علیِٔ زمان جو اللہ تعالیٰ کا اسمِ بزرگ (اَلحیُّ الْقَیُّوم) ہیں، اس کا اشارہ یہ ہے کہ پیغمبر اور امام علیھما السّلام کی اطاعت و محبت اور عشق سے کسی مرید کو روحانی و عرفانی کا میابی حاصل ہو سکتی ہے۔

مولا علی صلوٰۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے: انا و محمد نور واحد من نور اللہ۔ میں اورحضرتِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) خدا کے نور سے ایک ہی نور ہیں، آپؑ نے یہ بھی فرمایا: انا حاء الحوامیم۔ میں قرآنِ حکیم کے حوامیم کا حرفِ حاء (ح) ہوں۔ یعنی اَلْحَیّ القیّوم) جو خداوندِ عالم کا اسمِ اعظم ہے، حوامیم جمع ہے حٰمٓ کی، جو سات سورتوں کے شروع میں ہیں: ۱۔ غافر          ۲۔ حَمٓ السّجدہ

 

۵۶

 

۳۔ شوریٰ       زُخرف                   ۵ ۔ دخان                 ۶۔ جاثیۃ                  ۷۔ احقاف۔

حضرت امیر المومنین علی علیہ السّلام کے اس خطبۃ البیان کو بھی دیکھیں:

انا لؤلؤ الاھداف، انا جبل قاف، انا سر الحروف، انا نور الظروف۔ میں ہی گوہرِ مقاصدِ عالی ہوں، میں ہی باطنی کوہِ قاف ہوں، میں ہی حروفِ قرآن خصوصاً حروفِ مقطعات کا راز ہوں، اور میں ہی کاملین کے بواطن کا نور ہوں۔

کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت ۸۳ میں ہے: قال امام المعشوقین کرم اللہ وجھہٗ: انا الاسمُ الاعظمُ، وھو کٓھٰیٰعٓصٓ ( ۱۹: ۰۱) یعنی میں ہوں اسمِ اعظم کہ وہ  کٓھٰیٰعٓصٓ ہے ۔ یعنی حضرتِ امام عالی مقام اللہ تعالیٰ کا وہ اسمِ اکبر ہیں، جس میں ذاکرین کے لئے پانچ عظیم چیزیں ہیں: ک =کرم، ھ =ہدایت، ی = یقین، ع =عشق، ص= صدق۔

 

۵۷

 

سورۂ قمر

 

اس سورۂ مبارکہ میں سے چند تاویلی حکمتیں اس طرح ہیں: ۱۔ وَانْشَقَّ الْقَمَرْ (۵۴: ۰۱) اور چاند شق ہو گیا۔ اس میں بعض نے کہا ہے کہ اِنشقاق قمر آنحضرتؐ کے زمانہ میں ہوچکا ہے، اور بعض کا قول ہے کہ یہ قیامت کے قریب ظاہر ہوگا، اور بعض نے اِنْشَقَّ الْقَمَرْ کے معنی وَضَعَ الْاَمْرُ کئے ہیں، یعنی معاملہ واضح ہو گیا ۔ ( مفردات القرآن، مادہ: ش ق ق)

اصولِ حکمت کے مطابق دورِ امامت میں امام علیہ السّلام سورج اور حجّت چاند ہیں، جب مومنِ سالک امام سے واصل ہو جانے کے لئے حجّت تک پہنچ جاتا ہے تو وہ بھی چاند کہلاتا ہے، اور اس کی منجمد روح شقِ ہوکر انفرادی قیامت شروع ہو جاتی ہے۔

۲۔ حِکْمَۃٌ بَالِغَۃٌ (۵۴: ۰۵) درجۂ انتہا کی دانائی، ایسی انتہائی بلندی کی حکمت جس میں اسرارِ ازل و ابد کی خبر ہو، یہ تمام قرآنی حکمتوں کی تعریف ہے کہ ہر حکمت اسی شان کی ہوا کرتی ہے۔

۳۔يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِي إِلَى شَيْءٍ نُكُرٍ(۵۴: ۰۶) جس دن بلانے والا ایک اجنبی چیز کی طرف بلائے گا۔ اجنبی چیز حضرتِ امامؑ ہی ہے، کیونکہ اکثر لوگ اس کو نہیں پہچانتے ہیں، یہ داعی اسرافیل ہے جو آخراً

 

۵۸

 

زبردستی دعوتِ حق کرتا ہے۔

۴۔ لوگ قبروں سے نکل پڑیں گے، گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں (۵۴: ۰۷) اس قیامت میں لوگوں کے نمائندہ ذرّات ہی ہوں گے ، جو ٹڈیوں کی طرح اڑتے ہوئے آئیں گے، دعوتِ حق کا مرکز اس شخص میں ہوگا، جس میں انفرادی قیامت برپا ہو رہی ہو۔

۵۔وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ (۵۴: ۱۷) اور ہم نے تو قرآن کو ذکر (عبادت و نصیحت) کے واسطے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے؟ یہ آیۂ مبارکہ اس سورہ میں چار مرتبہ آئی ہے، ظاہر ہے کہ اس میں بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ قرآنِ عظیم جو ظاہر ہے، وہ نورانی معلم (امامِ مبین ۳۶: ۱۲) اور اسمِ اعظم میں ذکر و نصیحت اور علم و عمل کے لئے آسان کردیا ہے۔

 

۳؍ جنوری ۱۹۹۵ ء

 

۵۹

 

رحمتِ کل

 

سورۂ انبیا ٔ کی اس پر حکمت آیۂ کریمہ میں زبردست ایمانی کشش موجود ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (۲۱: ۱۰۷) ہر چند کہ بہت سے مستند ترجمے ہیں، تاہم یہ مسئلہ حل طلب ہے کہ “عالمین” سے کون کون سی دنیائیں مراد ہیں؟ حالانکہ یہ جہان ایک ہے، اور عالمِ انسانیّت بھی ایک ہی ہے، پس اس کا درست جواب یہی ہے کہ عالمین سے عوالمِ شخصی مراد ہیں، کیونکہ بروایتِ حضرتِ امام جعفر الصادق علیہ السّلام عالمین سے صرف انسان ہی مراد ہیں، کہ ان میں سے ہر ایک فرد اپنی جگہ ایک مستقل عالم ہے، پس یقیناً حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کا نورِ اقدس زمانۂ آدمؑ سے لے کر قیامتِ کبریٰ تک تمام عوالمِ شخصی کے لئے رحمتِ کل ہے، جس میں ہر نبی اور ہر ولی کا عالمِ شخصی شامل ہے۔

نورِ اوّل اور شخصیتِ آخر:

حضرت محمد مصطفےٰ سردارِ انبیاء  اپنے نورِ اقدس میں سب پیغمبروں سے اوّل اور پاک شخصیّت میں ان سے آخر ہیں، لہٰذا یہ جو ارشاد ہوا: فَبِھُدٰ ھُمُ اقْتَدِہْ۔ تو تم انہیں (پیغمبروں ) کی ہدایت کی پیروی کرو

 

۶۰

 

( ۰۶: ۹۰) وہ ظہور شخصیّت کے اعتبار سے ہے، اور یہ بڑے کمال کی بات ہے کہ کوئی ہستی نورِ اوّل بھی ہو، قلمِ اوّل اور عقلِ اوّل بھی، اور انبیاء کا خاتم بھی ہو، وہ اپنی نورانی مرتبت میں ہادیوں کا ہادی ہو، اور پھر جسمانیّت میں ان کی پیروی بھی کرے، ایسے میں اس کا مرتبہ بڑا عجیب و غریب اور سب سے عظیم ہوگا۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سب سے پہلے انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کے عوالمِ شخصی کے لئے رحمت ہیں، اس لئے ہر نبی اور ہر ولی کی تعریف دراصل ہمارے پیغمبرِ اکرمؐ کی تعریف ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں سب مسلمان مانتے ہیں کہ حضرتِ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم سردارِ انبیاء و رسل ہیں، اور آپؐ ہی کی ذاتِ عالی صفات باعثِ تخلیق کائنات ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا: نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّا بِقُوْنَ ۔ ہم (اہلِ بیت) اگرچہ آخر میں آئے ہیں، لیکن ہم کو ہر اعتبار سے اولیّت و سبقت حاصل ہے، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے پہلے ہمارا نور پیدا کیا اور قیامت کے دن ہم سابقون کے سردار ہوں گے۔

قرآنِ حکیم اور حدیث شریف میں جہاں جہاں انبیاء و رسل علیہم السّلام کا یکجا تذکرہ آیا ہے وہاں ان مقدّس ہستیوں کی اعلیٰ جماعت اور سردار کا تصوّر ہے، اور وہ نامدار سردار حضرت محمد مصطفےٰ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہی ہیں، اس لئے کہ جب دین و دینا کا کوئی گروہ

 

۶۱

 

حق یا باطل سردار کے بغیر نہیں ہوسکتا تو گروہِ انبیاء سردار کے بغیر کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ خاص (حضرت محمدؐ) کو جو مرتبہ عنایت فرمایا ہے، اس کی سب سے روشن دلیل خود قرآنِ عظیم ہی ہے، جو عالمِ ہست و بود میں سب سے عظیم معجزہ ہے، جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، اور قرآنِ عزیز عالمِ انسانیّت کو جن خوبیوں اور کمالات کی تعلیم دیتا ہے، ان اوصاف کا بہترین نمونہ بھی حضورِاکرم صلعم ہی ہیں۔

خوب یاد رکھو کہ قرآنِ مجید نہ صرف آج دنیا میں ظاہر ہے، بلکہ یہ ازل سے بہ تحریرِ روحانی لوحِ محفوظ میں بھی موجود ہے (۸۵: ۲۱ تا ۲۲) اس صورت میں ہر ہوش مند کو یہ ماننا لازمی ہے کہ قرآنِ عظیم کے آفاقی قوانین تاریخِ انسانیّت کی ابتداء ہی سے جاری اور واجب العمل ہیں، مثال کے طور پر: ۔

قَدْ جَاءَكُمْ مِنْ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ (۰۵: ۱۵ بیشک تشریف لایا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور ایک کتاب ظاہر کرنے والی ) اس حکمِ الٰہی کا مفہوم و خلاصہ زمانۂ آدمؑ کی ہدایت میں موجود تھا، کیونکہ یہ آفاقی قوانین میں سے ہے۔

اس حقیقت کی پہلی دلیل: قرآنِ پاک کا خلاصہ یا جوہر اگلے پیغمبروں کی کتابوں میں بھی ہے (۲۶: ۱۹۶) دوسری دلیل: حضرتِ آدمؑ میں نبیٔ رحمتؐ کا نور تھا، جس کا دوسرا نام الٰہی روح ہے، اور کتاب ان کی روحانیّت تھی۔ تیسری دلیل: نورِ الٰہی کا مظہر نبی اور ولی (امام) ہوا

 

۶۲

 

کرتا ہے، اور آسمانی کتاب کی نورانیّت بھی اسی نور میں ہوتی ہے، چوتھی دلیل: اللہ جل جلالہ نے اپنے تمام پیغمبروں پر ایک مشترکہ کتاب نازل فرمائی، وہ کتابِ روحانیّت (الکتاب ۰۲: ۲۱۳) ہے، جس کے مختلف ظہورات ہوئے، اور اس کا ظہورِ کامل قرآنِ حکیم ہے، پس نور اور کتاب ہر زمانے میں موجود ہے۔

 

۴؍ جنوری ۱۹۹۵ ء

 

۶۳

 

وعدۂ خلافت

 

سورۂ نور ( ۲۴: ۵۵) میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ایک عظیم الشّان ارشاد ہے: (ترجمہ): ( اے ایمان والو) تم میں سے جن لوگوں نے ( حقیقی معنوں میں) ایمان لایا اور اچھے اچھے کام کئے ان سے خداوندِ قدوس نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کو روئے زمین پر ضرور (اپنا) نائب (خلیفہ) مقرر کرے گا، جس طرح ان لوگوں کو نائب بنایا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، اور جس دین کو اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے، اس پر انہیں ضرور پوری قدرت دے گا، اور ان کی (موجودہ) حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا، وہ (اطمینان سے) میری ہی عبادت کریں گے اور کسی کو میرا شریک نہ بنائیں گے، اور جو شخص اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں ( ۲۴: ۵۵)۔

اللہ جلّ شانہ کی بنائی ہوئی زمین صرف یہی نہیں، جس پر آج ہم سب لوگ رہتے ہیں، خدا کی بے پایان زمین دراصل ارضِ بہشت ہی ہے، جو اپنی بےشمار کاپیوں کے ساتھ کائنات کا ظاہر و باطن ہے، اور ذیلی طور پر ہر ستارہ ایک زمین ہے، جس پر اجسام لطیف کی زندگی اور خلافت کی بڑی سے بڑی گنجائش ہے، جیسا کہ سورۂ

 

۶۴

 

عنکبوت (۲۹: ۵۶) میں فرمایا گیا ہے: ۔

یٰعِبَادِیّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ آ اِنَّ اَرْضِیْ وَ اسِعَۃٌ فَاِ یَّا یَ فَاعْبُدُ وْنَ۔ اے میرے ایماندار بندو! میری زمین تو یقیناً ( بیحد) کشادہ ہے تو تم (نورِ معرفت کی روشنی میں) میری ہی عبادت کرو۔ اس میں مذکورۂ بالا خلافت کی طرف اشارہ ہے۔

سورۂ زخرف (۴۳: ۶۰) میں ہے: وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلاَئِكَةً فِي الأَرْضِ يَخْلُفُونَ۔ اگر ہم چاہیں تو تم سے فرشتے بنائیں جو زمین میں خلافت کریں ۔ اس آیۂ شریفہ میں یہ اشارہ ہے کہ جب مومنین و مومنات روحانی ترقی سے فرشتے بن جائیں گے تو تب ہی وہ ستاروں کی خلافت کر سکتے ہیں، اس سے پہلے نہیں، کیونکہ وہاں جسمِ فلکی کی سلطنت ہے، یادرہے کہ مومن آدمی سے مومن جنّ پیدا ہو جاتا ہے، اور کافر انسان سے کافر جنّ، پھر مومن جنّ کا دوسرا نام فرشتہ اور کافر جنّ کا دوسرا نام شیطان ہے۔

جس طرح زمین پر اپنی قسم کی مخلوقات ہیں، اسی طرح آسمان میں بھی اپنی نوعیت کی مخلوقات ہیں، جیسا کہ سورۂ شوریٰ میں ارشاد ہے: وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِنْ دَابَّةٍ وَهُوَ عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ (۴۲: ۲۹) اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے سارے آسمان و زمین کا پیدا کرنا، اور یہ جاندار مخلوقات جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں، وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کرسکتا (۴۲: ۲۹)۔

 

۶۵

 

یہ آئمۂ آلِ محمد صلوٰۃ اللہ علیہم کی نورانی تعلیمات و تائیدات کی برکات ہی ہیں کہ مشرق و مغرب کی ہماری بے حد پیاری کلاسوں میں (جس کی غرض نیک نام جماعت کی علمی خدمت ہے) بار بار عالمِ شخصی کا بیان ہوتا رہا، اور بالآخر کائنات کی کاپیوں سے متعلق اسرار بھی خداوندِ قدّوس کے فضل و کرم سے منکشف ہو گئے،الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

عالمِ شخصی اور کائنات کی کاپی سے یہ مراد ہے کہ خدائے برترو بے نیاز اپنے دوستوں اور خاص بندوں کو اس شان سے نوازنا چاہتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک ذاتی اور انفرادی کائنات کی خلافت و سلطنت عطا کی جائے، جس کی وجہ سے ہر بار “کُنۡ” فرما کر ایک جہانِ جدید کو پیدا کرتا ہے، کیونکہ بموجبِ قرآنِ حکیم اس کی صفتِ خالقیت کی تعریف نہ صرف خَلَقَ (پیدا کیا) ہی میں ہے بلکہ اس کی توصیف یَخْلُقُ (پیدا کرتا ہے) میں بھی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ۔

لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ۔ اللہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (۴۲: ۴۹) یعنی جب اللہ چاہے تو ایک نئی کائنات پیدا کر کے اس کی خلافت و سلطنت کسی بندۂ خاص کو عنایت کر سکتا ہے۔

 

ن۔ ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعرات ۳؍ شعبان المعظم ۱۴۱۵ ھ   /  ۵؍جنوری ۱۹۹۵ ء

 

۶۶

 

حضرتِ آدمؑ کا عالمِ شخصی

 

ارشادِ خداوندی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ  (۲۱: ۱۰۷) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر سارے عوالمِ شخصی کے لئے، اس آیۂ کریمہ سے ایک طرف تو یہ حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے کہ قرآنِ پاک میں جہاں جہاں رحمت کا ذکر آیا ہے، وہاں بلاشبہ آنحضرتؐ کی نورانی ہستی کا تذکرہ ہے، کیونکہ رحمتِ کل آپؐ ہی کا نورِ اقدس ہے اور دوسری طرف صاف طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا کے حکم سے نورِ محمدی نے بعنوانِ رحمت سب سے پہلے حضرتِ آدمؑ کے عالمِ شخصی میں کام کر دیا۔ کیونکہ قصّۂ آدمؑ میں جس خاص روح (۱۵: ۲۹، ۳۲: ۰۹، ۳۸: ۷۲) کا ذکر آیا ہے، اس سے نورِ محمدی مراد ہے۔

کتابِ کوکبِ دری، بابِ دوم، منقبت نمبر ۱ میں جو حدیث شریف ہے اس کو غور سے پڑھ لیں، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم میں محمد و علی کا مقدّس نور قائم کیا تھا، اور یہی نور انبیائے قرآن کے سلسلے میں چلا آیا، نور جہاں بھی ہو زندہ، گویندہ، اور دانندہ ہوتا ہے، اس کے افعال و اوصاف ہمیشہ متحرک اور جاری و ساری رہتے ہیں، جیسے سورج کے اندرونی دھماکے نہ کبھی خاموش ہو سکتے ہیں، اور نہ شعاعوں

 

۶۷

 

کا طوفان کبھی تھم سکتا ہے، اسی طرح نورِ مقدّس کے باطن میں خود بخود بولنے والے قیامت خیز اسماء الحسنیٰ ہیں، جن کی وجہ سے بے شمار روحیں کائناتی حرکت میں ہیں، تاکہ اس انتہائی عظیم عمل سے عالمی یا کائناتی زندگی کی لہر دوڑتی رہے۔

الغرض محمد و علی صلوٰۃ اللہ علیہما کا نورِ اقدس تھا، جس کو خدائے بزرگ و برتر نے رُوْحِیْ (۱۵: ۲۹، ۳۸: ۷۲) فرمایا، جس کے لئے فرشتوں نے مقامِ روحانیّت پر بھی اور مرتبۂ عقلانیّت پر بھی سجدہ کیا، خوب ذمہ داری سے یاد رکھو کہ مرتبۂ عقل ہی مرتبۂ معراج ہے، جہاں تمام حقیقتیں اور معرفتیں جمع ہیں، کیوں؟

۱۔ اس لئے کہ وہاں علم و حکمتِ الٰہی کے خزائن (۱۵: ۲۱) ہیں۔

۲۔ اس لئے کہ وہاں خداوندِ عالم نے آسمان زمین کے سارے اسرار کو لپیٹ کر رکھا ہے ۔ (۲۱: ۱۰۴، ۳۹: ۶۷)

۳۔ اس لئے کہ وہاں روحانی سفر ختم ہو جاتا ہے۔ (۲۰: ۱۲)

۴۔ اس لئے کہ وہاں حظیرۃ القدس ہے، یعنی احاطۂ اسرارِ ازل و ابد۔

۵۔ اس لئے کہ وہاں کتابِ مکنون ہے ( ۵۶: ۷۸)

۶۔ اس لئے کہ وہاں امامِ مبینؑ کا نورِ عقل ہے (۳۶: ۱۲)

۷۔ اس لئے کہ وہاں کُنْتُ کَنْزاً مَخْفِیّاً کے اسرار مکشوف ہیں۔

۸۔ اس لئے وہاں قریب لائی ہوئی عرفانی بہشت موجود ہے۔ (۲۶: ۶۴، ۲۶: ۹۰)

۹۔ اس لئے کہ وہاں ام الکتاب ہے (۴۳: ۰۴)

 

۶۸

 

۱۰۔ اس لئے کہ وہاں دواتِ دہنِ مبارک، قلمِ عقل، اور لوحِ محفوظ ہے (۶۸: ۰۱) ۔

۱۱۔ اس لئے کہ وہاں آسمانوں اور زمین کے تمام امور کا رجوع ہے۔ (۱۱: ۲۳)

۱۲۔ اس لئے کہ وہاں اللہ تعالیٰ کے بابرکت ہاتھ میں ہر چیز کا ملکوتی جوہر ہے ۔ (۲۳: ۸۸، ۳۶: ۸۳)

۱۳۔ اس لئے کہ وہاں وجہ اللہ کے سوا ہر شخص اور ہر چیز فانی ہے۔ (۵۵: ۲۷، ۲۸: ۸۸)۔

پروردگارِ عالمین نے حضرتِ آدمؑ اور بنی آدم (کاملین) کے روحانی عروج و ارتقاء کے ساتھ ساتھ ان کی پشتوں سے ذرّیت کو بھی پیشانی کی معراج پر اٹھا لیا، اور ان کو اپنی اصل روح کا مشاہدہ (دیدار) کرایا، اس وقت وہ سب یک حقیقت میں فنا ہو گئے تھے، یہ پرورش کا درجۂ کمال تھا، اس لئے پوچھا کہ آیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ وہ کہنے لگے، کیوں نہیں (۰۷: ۱۷۲)۔

اللہ تعالیٰ کی پاک و پُرحکمت سنّت ہمیشہ اس کے خاص بندوں یعنی انبیاء و اولیاء میں ایک جیسی رہی ہے، ان سب کے روحانی واقعات دراصل ایک جیسے ہیں، مگر ان کی مثالیں طرح طرح سے بیان کی گئیں، تاکہ لوگوں سے علم و معرفت کا امتحان لیا جائے، آپ سنّتِ الٰہی سے متعلق آیاتِ کریمہ کو بار بار خوب غور سے پڑھیں، اور اس قرآنی ہدایت میں بھی چشمِ بصیرت سے دیکھنا ہے: لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ (۰۲: ۱۳۶)

 

۶۹

 

ہم فرق نہیں کرتے ان سب (پیغمبروں ) میں سے ایک میں بھی۔ یہ فرق جغرافیائی، زمانی، لسانی وغیرہ تو ہے ہی ، اور درجات میں بھی فرق ہے (۰۲: ۱۵۳) مگر روحانیّت میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ سبھی صراطِ مستقیم پر چل کر منزلِ مقصود میں پہنچ گئے۔

اللہ کے حکم سے نورِ محمدی نے جملہ انبیاء کو معراج تک رہنمائی کی، پھر وہ سب اپنی اپنی امت کے لئے معارج (سیڑھیاں ۷۰: ۰۳) ہو گئے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر پیغمبر اور ہر امام اپنے وقت میں روحانیّت کی سیڑھی (معراج) بھی ہے، اللہ کی رسی بھی، اور صراطِ مستقیم بھی۔

 

۷۰

 

حضرتِ ابراہیمؑ کی معراج

 

اللہ جل شانہ کا مبارک ارشاد ہے: وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنْ الْمُوقِنِينَ (۰۶: ۷۵) ابراہیمؑ کو ہم اسی زمین اور آسمانوں کا نظامِ سلطنت دکھاتے تھے اور اس لئے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔ یعنی خداوندِ قدّوس نے اپنے خلیلؑ کو مرتبۂ حق الیقین کے اسرارِ معرفت کا مشاہدہ کرا کر عارفِ کامل بنایا تھا، اور یہیں منزلِ فنائے عقلی، گنجِ ازل، حظیرۃالقدس، فردوسِ برین، اور مرتبۂ معراج ہے۔

حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام نے چشمِ باطن سے ربِّ کریم کی پاک تجلّی کا مشاہدہ کیا، جس کے سوا یقین و معرفت کا درجۂ کمال ممکن ہی نہیں، اس کے کئی قرآنی ثبوت ہیں، پہلا ثبوت: آپؑ کو جب عالمِ شخصی کی معراج ہوئی تو اس وقت آپؑ نے دستِ حق میں جوہرِ ارض و سماء یعنی لؤلوئے عقل کو دیکھا، جس کے بے شمار اسماء میں سے ایک اسم “ملکوت” ہے، جیسا کہ سورۂ یٰسٓ (۳۶: ۸۳) میں فرمایا گیا ہے:

فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔ تو اس کی ذات پاک ہے جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا

 

۷۱

 

ملکوت ہے، اور تم سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سب لوگ اللہ کے حضور ہی سے آئے ہیں، جہاں کاملین کو معراج ہوتی ہے، اور سب کو لوٹ کر وہاں جانا ہے۔

دوسرا ثبوت: حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام اپنے روحانی سفر اور باطنی مشاہدات کے سلسلے میں ستارہ، چاند اور سورج سے نہ تو محبت کرتے ہیں اور نہ ہی مطمئن ہو جاتے ہیں (۰۶: ۷۶ تا ۷۸) لیکن جب آپؑ اسی مقام پر اپنا چہرۂ جان خالقِ ارض و سما کی طرف کرتے ہیں تو یکایک مطمئن نظر آتے ہیں، پھر اسی دیدارِ اقدس اور اعلیٰ معرفت کی روشنی میں شرک کی مذمت اور توحید کی تعریف کرنے لگتے ہیں، اس سے اہلِ بصیرت یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ یہی مقامِ معراج ہے، جہاں حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کو خداوندِ قدوس کا پاک دیدار ہوا، جس سے آپؑ خود شناسی اور خدا شناسی یعنی معرفت کے درجۂ کمال پر پہنچ گئے (۰۶: ۷۹)۔

تیسرا ثبوت: قرآنِ حکیم حضرتِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو موحدِّ اعظم قرار دیتا ہے، اس سے ہمیں یہ یقین آیا کہ آپؑ نے صورتِ رحمان میں اپنی انائے علوی کا دیدار کیا تھا، اور یہ اہلِ دانش کے نزدیک یک حقیقت (مونوریالٹی) کا سب سے عظیم راز اور معراج ہے۔

چوتھا ثبوت: قرآنِ پاک میں ہے: قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا (۰۲: ۱۲۴) خدا نے (ابراہیمؑ سے) فرمایا

 

۷۲

 

میں یقیناً تم کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں ۔ ظاہر ہے کہ جس کو اللہ پیشوا (امام) بنائے، وہ لوگوں کو نورِ ہدایت کی روشنی میں فرشِ زمین سے عرشِ برین تک لے جاسکتا ہے، پس حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کی قرآنی تعریف ہر امامِ حق کی تعریف ہے۔

پانچواں ثبوت: قرآنِ عزیز میں ایک مرتبہ “البْیْتُ المعمور” کا ذکر آیا ہے، اور یہ سورۂ طور (۵۲: ۰۴) میں ہے، بیتِ معمور یعنی اللہ کا زندہ اور تجلّیات سے معمور (آباد) گھر جو آسمانِ ہفتم پر ہے، جس سے حضرتِ امام علیہ السّلام کا نورانی مرتبہ مراد ہے جو کرسی اور عرش تک پاک و پاکیزہ ہستیوں کی ہدایت و رہنمائی کرنے کے لئے مقرر ہے، اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ نورِ امامت چاہے حضرت ابراہیمؑ میں ہو یا بعد کے کسی امامؑ میں، وہ علم و عبادت میں گداختہ مومنین کو دیدارِ الٰہی کے سب سے اعلیٰ مرتبے تک پہنچا دیتا ہے۔

چھٹا ثبوت: حضرتِ ربّ العزّت کا پاک و پر حکمت ارشاد ہے: فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا (۰۴: ۵۴) ہم نے تو ابراہیمؑ کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت بھی دی۔ یہ آیۂ کریمہ نمائندہ آیات میں سے ہے، کیونکہ اس میں قانونِ دین کا ایک بڑا جامع خلاصہ موجود ہے، جس میں ایسے پانچ عظیم الشّان مضامین ہیں جو عرشِ اعلیٰ کو چھو رہے ہیں، وہ یہ ہیں: ۱۔ حضرتِ ابراہیمؑ                   ۲۔ آلِ ابراہیمؑ             ۳۔ الکتاب                ۴۔ حکمت                ۵۔ عظیم سلطنت۔           الغرض صاحبِ عرش نہ صرف ہادیانِ

 

۷۳

 

برحق علیہم السّلام ہی کو مرتبۂ معراج اور دیدارِ اقدس سے نوازتا ہے، بلکہ ان کی رہنمائی میں عالی ہمت مومنین و مومنات کو بھی یہ سب سے بڑی دینی نعمت عطا فرماتا ہے۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

اتوار ۶؍ شعبان المعظم ۱۴۱۵ ھ    /  ۸؍ جنوری ۱۹۹۵ء

 

۷۴

 

آلِ ابراہیمؑ

 

کتاب دعائم الاسلام، جلد اوّل، کتاب الولایۃ کے تحت جو مضامین ہیں ان کو ضروری طور پر پڑھ لیں، اور خوب غور سے دیکھ لیں، اس میں آپ کو أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام کی تفسیری و تاویلی حکمتیں ملیں گی، ان مقدّس تعلیمات میں دینِ حق کی بہت سی اساسی حقیقتیں بیان کی گئی ہیں، وہ مضامین حسبِ ذیل ہیں: ۔

۱۔ ایمان                  ۲۔ اصولِ ایمان                  ۳۔ اسلام اور ایمان               ۴۔ ولایتِ امیرالمومنین علی ابنِ ابی طالبؑ               ۵۔ ولایتِ آئمۂ اہلِ بیتؑ                   ۶۔ محمد و آلِ محمدؐ پر صلوٰۃ کا بیان          ۷۔ آئمۂ آلِ محمد صلعم پر نص و توقیف کا بیان                   ۸۔ مسئلۂ امامت                  ۹۔ آئمۂ طاہرین علیہم السّلام کے درجات و منازل کا بیان            ۱۰۔ آئمۂ الہدیٰ کی وصیتوں کا بیان          ۱۱۔ حبِ اہلِ بیت کا بیان                    ۱۲۔ علم کی ترغیب اور طالبانِ علم کے فضائل کا بیان     ۱۳۔ کس سے علم حاصل کرنا اور کس سے نہ کرنا اور کس کے قول پر عمل نہ کرنا چاہئے۔

قرآنِ حکیم (۰۴: ۵۴) میں جس شان سے آلِ ابراہیمؑ کا ذکرِ جمیل فرمایا گیا ہے، اور اس میں جیسی عظیم حکمتیں عیان و پنہان موجود ہیں، وہ اہلِ دانش کے حق میں حقائق و معارف کا ایک لازوال خزانہ ہے، جبکہ آلِ ابراہیمؑ کا

 

۷۵

 

سلسلہ بصورتِ أئمّۂ آلِ محمد قیامۃ القیامات تک جاری و ساری ہے، کیونکہ رسالت و نبوّت تو اپنے وقت پر آکر ختم ہوگئی، لیکن کتاب، حکمت اور عظیم روحانی سلطنت کی وراثت خاندانِ محمدؐ کے أئمّہ (علیہ و علیہم السّلام ) سے وابستہ ہے، اور تمام لوگ بشرطِ پیروی اس خزانے سے بیش از بیش فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

شعوری بت پرستی سے ہر مسلمان دور رہتا ہے، مگر غیر شعوری اصنام پرستی میں بہت سے لوگ گرفتار ہو جاتے ہیں، حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام علمِ امامت کی روشنی میں ظاہری و باطنی اصنام سے سخت نفرت کرتے تھے، تاکہ عشق و محبّت خدا ہی کے لئے خالص رہے، اسی مقصد کے پیشِ نظر آپؑ نے فرمایا: (ترجمہ) پس جو شخص میری پیروی کرے تو وہ مجھ سے ہے۔ (۱۴: ۳۶)

 

۹؍ جنوری ۱۹۹۵ ء

 

۷۶

 

وادیٔ مقدّسِ طوٰی

 

طوٰی کے معنی: طَوَی  یَطَوی  طَیّاً ۔   الثوب، کپڑا لپیٹنا (المنجد) إِنَّكَ بِالْوَادِي الْمُقَدَّسِ طُوًى (۲۰: ۱۲) تم (یہاں) پاک میدان (یعنی طویٰ میں ہو، کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ طوی اسی وادی المقدّس کا نام ہے جہاں حضرتِ موسیٰ پہنچ چکے تھے، اور بعض کہتے ہیں کہ طویٰ اس مرتبہ کی طرف اشارہ ہے جس سے انہیں اجتباء کے طور پر نوازا گیا تھا، اگر وہ اس مرتبہ کو مساعی اور اجتہاد کی راہ سے حاصل کرنا چاہتے تو اس قدر طویل مسافت کو طے نہیں کر سکتے تھے، وادیٔ نبوّت تک پہنچنے کی تمام مسافتیں ان کے لئے لپیٹ دی گئیں (مفردات القران)۔

اس سلسلے میری عاجزانہ گزارش یوں ہوگی کہ ہر انسانِ کامل پر جب انفرادی قیامت گزرتی ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ عالمِ شخصی میں آسمانوں اور زمین کو لپیٹ لیتا ہے (نطوی: ۲۱: ۱۰۴، مطویات: ۳۹: ۶۷) یہی سرِعظیم حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کی وادیٔ مقدّسِ طویٰ میں بھی پنہان ہے، یہ مقامِ معراج ہے، جس میں تمام چیزیں بصورتِ جوہر لپیٹ دی جاتی ہیں، تاکہ قدرتِ خدا سے اسرارِ کون و مکان کا یکجا مطالعہ ہو جائے۔

سورۂ نازعات (۷۹: ۱۵ تا ۱۷) میں ہے: هَلْ أتَاكَ حَدِيثُ

 

۷۷

 

مُوسى۔ إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىاذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى (اے رسولؐ) کیا تمہارے پاس موسیٰ کا قصّہ بھی پہنچا ہے، جب ان کو ان کے پرودگار نے طوٰی کے میدان میں پکارا کہ فرعون کے پاس جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے۔

الوادی اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی بہتا ہو، اسی سے دو پہاڑوں کے درمیان کشادہ زمین کو وادی کہا جاتا ہے، مقدّس: پاک کیا ہوا، تقدیس سے اسم مفعول واحد مذکر، طوٰی کے معنی ہیں لپیٹنا۔

باطنی حکمت: وادیٔ مقدّسِ طویٰ مرتبۂ عقلِ اعلیٰ اور مقامِ معراج کے خاص ناموں میں سے ہے، جہاں ہمیشہ علمِ لدّنی کا پانی بہتا رہتا ہے، جس کا سرچشمہ کلمۂ باری ہے، دو پہاڑ عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ ہیں، وہاں تک صرف وہی ذوات پہنچ سکتی ہیں جو پاک کی گئی ہیں، اسی معنیٰ میں وہ مقام بڑا مقدّس ہے، اس مقام پر علم و حکمت کی کائنات اور باطنی سفر کی مسافت لپیٹی ہوئی ہے، پس لفظِ طویٰ کی تاویلی حکمت یہی ہے۔

 

۹؍جنوری ۱۹۹۵ء

 

۷۸

 

کاملِ ترین رہنمائی

 

سردارِ انبیاء و رسل ہادیٔ سبل حضرتِ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی کامل ترین ہدایت و رہنمائی اور بہترین نمونۂ عمل (اسوۂ حسنہ) کے بارے میں کسی مسلمان کو کیا شک ہو سکتا ہے، آنحضرتؐ نے صراطِ مستقیم کے شروع سے آخر تک علم و عمل سے چل کر اور معراجِ حق الیقین کی منزلِ مقصود میں پہنچ کر دینِ فطرت کا عملی نمونہ پیش کیا، حضورِ اقدسؐ نے مرتبۂ معراج پر نہ صرف حقائق و معارف اور اسرارِ ازل و ابد ہی کا مشاہدہ کیا بلکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا پاک دیدار بھی حاصل ہوا، پھر اس کے بعد خداوندِ عالم نے یہ حکم دیا:۔

قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنْ اتَّبَعَنِي (۱۲: ۱۰۸) (اے رسولؐ) ان سے کہہ دو “میرا راستہ تو یہ ہے میں (لوگوں کو) اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی چشمِ بصیرت سے دیکھ رہا ہوں اور میرا پیرو بھی۔” جس شخص نے بحقیقت حضورؐ کی پیروی کی اور بصیرت کے ساتھ دعوتِ حق میں آپؐ کی ہر گونہ مدد کی وہ حضرت مولا علیؑ ہی ہیں۔

کوئی قبول کرے یا نہ کرے لیکن یہ بابصیرت دعوت دیدارِ الٰہی

 

۷۹

 

کی طرف ہے، کیونکہ اِلیٰ (تک) حرفِ جر ہے جو معنی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے، یعنی دعوتِ حق مرتبۂ معراج، عرش اور دیدارِ خداوندی تک ہے، اگر دیدارِ پاک کسی طرح سے بھی نہ ہوتا تو اسلام میں منزلِ معرفت ہی نہ ہوتی، یعنی نہ خود شناسی ہوتی اور نہ خدا شناسی، اس حال میں کنزِ مخفی کس چیز کا نام ہوتا؟ اور سب سے بڑی نعمت کس شے کو کہا جاتا؟ اس مختصر بحث سے معلوم ہوا کہ رسولؐ اور امامِ برحقؑ کی حقیقی پیروی کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے دیدارِ اقدس کی انتہائی عظیم سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔

اگرچہ دیدارِ الٰہی کے ثبوت میں قرآنِ حکیم کی بہت سی آیاتِ کریمہ موجود ہیں، تاہم یہاں ایک ہی آیۂ پُرحکمت پر اکتفا کرتے ہیں: لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ (۰۶: ۱۰۳) نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ یعنی کسی کی چشمِ باطن کے لئے یہ ممکن نہیں کہ از خود خدا کو دیکھ سکے، لیکن جب اللہ اس کی چشمِ بصیرت ہو جاتا ہے تو یقیناً ربّ العزّت کا دیدار ہو جاتا ہے، اس کی ظاہری مثال سورج ہے کہ دراصل ہماری نظر سورج کے مقام تک نہیں جا سکتی، بلکہ آفتابِ عالم تاب ہماری آنکھ کے آئینے (پتلی) میں اپنا عکس ڈال رہا ہوتا ہے۔

ایک میں سب کو لپیٹنا:

سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۱۰۴) میں  یہ ارشاد ہے: فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا۔ پھر جب آخرت کا وعدہ

 

۸۰

 

آجائے تو ہم تم سب کو لپیٹ کر لے آئیں گے، یعنی ایک ہی عالمِ شخصی میں سب کو ملفوف و مجموع کیا جائے گا، جیسے پہلے ایک ہی شخص سے دنیا کے تمام نفوس کو پھیلا دیا تھا، یہ انفرادی قیامت ہے، جس میں سب کی غیر شعوری قیامت برپا ہو جاتی ہے۔

معراجی تصوّرات:

عارفین و کاملین کو معراج کی سعادت اس لئے نصیب ہو جاتی ہے کہ وہ بار بار اس کا تصوّر کریں، جیسا کہ ارشاد ہے: وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (۹۳: ۱۱)اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا ذکر کرتے رہنا۔ ہر باطنی نعمت کا ذکر تصوّر ہی کے ساتھ ہوتا ہے، پس ربِّ کریم کے جن خاص بندوں کو معراجی درجے کی نعمتیں حاصل ہیں، وہ ہر بار ان کو بیان کرتے وقت معراج کا تصوّر کرتے ہوں گے، اور اس کے علاوہ ذکر و فکر میں بھی معراجِ حق الیقین کا تصوّر لازمی ہے۔

حق الیقین کا مقام وہ آخری منزل ہے جس میں سارے الفاظ، اقوال اور کلمات جمع ہو جاتے ہیں، ان کے معانی یکجا ہوتے ہیں، جملہ اشارات کا ایک ہی جامع الجوامع اشارہ ہوا کرتا ہے، ساری مثالیں مثل الاعلیٰ میں داخل و شامل ہو جاتی ہیں، روحانی ستارے اور چاند سورج کے ساتھ مل کر ایک ہو جاتے ہیں، اس حال میں انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا ایک ہی نور ہوتا ہے، وہ نور چہرۂ خدا ہے، اسی میں سب کو فنا ہو کر زندۂ جاوید ہو جانا ہے، چونکہ یہی مقام منزلِ فنا ہے

 

۸۱

 

اس لئے میں، ہم ، تو، تم ، وہ (واحد)، وہ (جمع) یہ ضمیریں سب کی سب “ھو” میں فنا ہو جاتی ہیں، کیونکہ پہلے “ھو” تھا، اب بھی “ھو” ہے، اور آئندہ بھی “ھو” ہوگا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

 

۱۰؍ جنوری ۱۹۹۵ء

 

۸۲

 

قرآن اور بہشت

 

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ قرآنِ حکیم کا ہر بڑا اور چھوٹا مضمون براہِ راست یا بالواسطہ شروع سے لے کر آخر تک پھیلا ہوا ہے، اور پھیل سکتا ہے، اور بہشت کے موضوع کی اہمیّت و عظمت تو مسلّمہ ہے، چنانچہ جگہ جگہ اس کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، اور متقین کے لئے خوشخبری دی گئی ہے۔

یہ نکتہ قرآن و حدیث ہی کی روشنی میں ہے کہ بہشت لوگوں کی اکثریت کے اعتبار سے ایک نادیدہ و ناشناختہ جہان ہے، جبکہ وہ عالمِ آخرت ہے،  لیکن اس کی وجہ غفلت و جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں درحالیکہ اللہ اپنے دوستوں کی جنّت کی معرفت عطا کر دیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ  (۴۷: ۰۶) اور ان کو اس بہشت میں داخل کرے گا جس کا انہیں (پہلے سے) شناسا کر رکھا ہے۔

معرفت کے لئے تین درجے مقرر ہیں: علم الیقین ، عین الیقین اور حق الیقین، پس بہشت کی پہچان یقینی درجے کے علم سے شروع ہو جاتی ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے: ۔

كَلاَّ لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِلَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ

 

۸۳

 

لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ (تکاثر ۱۰۲: ۰۵ تا ۰۷) ہرگز نہیں، اگر تم علم الیقین جانتے تو دوزخ کو دیکھ سکتے، پھر تم اس کو عین الیقین سے دیکھ سکتے، اس کا اشارہ یہ ہے کہ اگر دنیا میں کسی کے پاس علم الیقین ہے تو وہ دوزخ اور بہشت دونوں کو دیکھ سکتا ہے، یہ جہالت اورعلم کو دیکھنے کی بات ہے، کیونکہ جہالت دوزخ ہے اور علم بہشت، دنیا ہی میں عین الیقین سے بھی دوزخ و بہشت کا مشاہدہ ممکن ہے۔

انسان دنیا میں اس لئے آیا ہے کہ وہ یہاں آخرت اور بہشت کے لئے چشمِ بصیرت پیدا کرلے، اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی گمراہی اور نامرادی ہے، جیسا کہ فرمایا گیا ہے: وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلاً (۱۷: ۷۲) اور جو شخص اس دنیا میں اندھا بنا رہا  تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا، آپ دیکھتے ہیں کہ چشمِ باطن صرف دنیا ہی میں پیدا ہوسکتی ہے اور کہیں بھی ممکن نہیں۔

آپ نے سورۂ تکاثر کی مذکورہ آیتوں میں خوب غور کیا ہوگا، کہ علم الیقین اگر حقیقی معنوں میں ہے تو اس کی روشنی میں دوزخ و بہشت دونوں کو دیکھا جا سکتا ہے، اور اس سے مرحلۂ عین الیقین میں داخل ہو جانے کی تیاری ہو جاتی ہے۔

حدیث شریف ہے: رجعنا من الجھاد الاصغر الی الجھاد الاکبر۔ اب ہم چھوٹے جہاد (یعنی کافروں کے ساتھ لڑنے) سے لوٹ کر بڑے جہاد کی طرف آئے (اب نفس سے جہاد کریں گے)

 

۸۴

 

اس حدیث کی حکمت: اگر اس جہادِ اکبر (بڑی جنگ) میں نفس مارا گیا تو مجاہد پر نفسانی موت واقع ہو گی، جس کے نتیجے میں جیتے جی اس کی ذاتی قیامت برپا ہوگی، زہے نصیب! اب وہ چشمِ باطن سے عالمِ آخرت اور بہشت کو دیکھے گا، اگرچہ سب نہیں تو تھوڑے سے مجاہدین جہادِ اکبر میں ضرور کامیاب ہوئے ہوں گے۔

جب تک قرآنِ حکیم میں جہادِ اکبر اور نفسانی موت کا ذکر یا اشارہ نہ ہو تو حدیث شریف میں اس کا تذکرہ کیسے ہوسکتا ہے، چنانچہ میرا کامل یقین ہے کہ اس آیۂ کریمہ میں جہادِ اصغر اور جہادِ اکبر دونوں کا ایک ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اس میں ظاہری جنگ مثال اور نفسانی جنگ ممثول ہے، وہ آیۂ مقدسہ یہ ہے: ۔

وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَتَمَنَّوْن الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ( ۰۳: ۱۴۳) ترجمۂ اوّل: اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے۔ ترجمۂ دوم: اور تم تو ( نفسانی طور پر) مرنے کی تمنا کر رہے تھے، اس (موت) سے دوچار ہونے سے پہلے سو اس کو تم نے دیکھ لیا، اور اب تم (چشمِ باطن سے) دیکھ رہے ہو۔

الغرض نفسانی موت ایک باطنی حقیقت ہے، جس کا حکیمانہ ذکر قرآنِ عظیم کی متعدد آیاتِ کریمہ میں موجود  ہے، جس کے بارے میں جزوی طور پر لکھا گیا ہے، اب ہم یہاں بہشت کی زبان کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وہاں اہلِ جنّت کی دنیا والی تمام زبانیں

 

۸۵

 

موجود ہوں گی، لیکن قرآنِ حکیم اور سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی مبارک لسان السنۂ بہشت کی سردار ہوگی، جیسا کہ آنحضرتؐ کا ارشاد ہے:

احبّم العرب لِثلاتِ فانیّ عربیّ والقراٰن عربیّ و لسان اھل الجنۃ عربیّ۔ ترجمہ: عربی زبان سے تین وجوہ کی بناء پر محبت کرنی چاہئے، ایک یہ کہ میں ( یعنی رسولِ کریمؐ) عربی ہوں، دوسرے قرآن عربی ہے، تیسرے اہلِ جنّت کی زبان عربی ہے (ملاحظہ ہو: المنجد عربی اردو، ص ۱۰) ۔

ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ اہلِ جنّت کی سردار زبان عربی ہی ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کی باطنی نعمتیں بہشت میں بھی ہیں، تاہم ذیلی طور پر اپنی اپنی زبان میں دوسری آسمانی کتابیں بھی موجود ہوں گی، نیز یہ بھی قرآنی حکمتوں میں سے ہے کہ ہر شخص کا نامۂ اعمال اس کی اپنی زبان میں ہوگا، وہ ذرّاتِ منتشر پر مبنی ہے (۱۷: ۱۳) وہ لکھا ہوا بھی ہے (۸۳: ۲۰) اور وہ صوتی شکل میں بھی ہے (۱۷: ۱۴)۔

سورۂ ابراہیم (۱۴: ۰۴) میں ہے: اور ہم نے ہر رسولؐ اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے، آپ نے قرآنِ پاک (۰۷: ۱۵۸) میں یہ حکم بھی دیکھا ہوگا کہ: تم فرماؤ، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں کہ آسمان اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ نہ صرف عرب و عجم کے مسلمان ہی بلکہ دنیا بھر کے لوگ بھی آنحضورؐ کی وہ قوم ہیں جس کی طرف آپ اللہ کے پیغمبر ہیں، پس آنحضرتؐ جہاں علم کا شہر اور حکمت کا گھر ہیں،

 

۸۶

 

وہاں بہشت کا نمونہ ہے، اور اس میں اللہ کا یہ معجزہ ہے کہ ہر شخص اپنی ہی زبان میں علم و حکمت کی باتیں سنتا ہے، یعنی وہاں رسول اللہؐ کا جو ترجمان ہے، وہ دنیا کی ہر زبان میں کلام کرتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ بہشت میں ہر زبان کا رواج زندہ ہے، اور ہر بولی، بولی جاتی ہے۔

ارشاد ہے: وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا (۷۸: ۲۹) اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر منضبط کر رکھا ہے (یعنی نامۂ اعمال) صحیفۂ اعمال سے متعلق شاید یہی قانون ہے کہ جو بات جس زبان میں ہو اور جو عمل جس طرح ہو اس قول و فعل کو اسی طرح لکھا جاتا ہے، ریکارڈ بھی ہوتا ہے، اور فلم بھی ہوتی ہے، پس بہشت میں دنیا کی ساری زبانیں موجود ہیں، یہاں تک کہ جو زبانیں دنیا میں مرچکی ہیں، وہ بھی جنّت میں محفوظ و موجود ہیں، اس کی دلیل وہ چند آیاتِ کریمہ ہیں جن میں یہ ارشاد ہے کہ اہلِ بہشت کے لئے وہاں ہر خواستہ اور مطلوبہ نعمت مہیا ہے ( ۱۶: ۳۱، ۳۹: ۱۶، ۳۵: ۳۴، ۴۲: ۲۲، ۵۰: ۳۵) یہ قدرتی امر ہے کہ ہر شخص اپنی مذہبی، قومی اور علاقائی زبان سے بہت محبت رکھتا ہے، لہٰذا وہ زبان کی تاریخ صحیح طور پر جاننا چاہتا ہے، اس کے پاس تخلیقِ السنہ کے بارے میں بہت سے سوالات ہیں، جن میں سے ہر ایک کا جوابِ باصواب بہشت ہی میں ملے گا، کیونکہ وہاں کی تمام تر نعمتیں عقلی اور علمی ہیں، لہٰذا جنّت میں معلومات کی فراوانی ہے۔

سورۂ بقرہ (۰۲: ۱۷۴) اور آلِ عمران (۰۳: ۷۷) کا یہ مفہوم ہے

 

۸۷

 

کہ قیامت کے دن ربّ العزّت مومنین سے کلام کرے گا اور کافرین سے کلام نہیں کرے گا، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اللہ پاک کا کلامِ حکمت نطام بندوں کی اپنی زبان میں ہوگا، کیونکہ خداوندِ تعالےٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور بندے عاجز ہیں، وہ جلّ جلالہ اہلِ ایمان کے حق میں آسانی چاہتا ہے (۰۲: ۱۸۵) یہی وجہ ہے کہ اس ذاتِ پاک نے ہر پیغمبر کو اپنی قوم کی زبان میں بھیجا۔

سورۂ نمل (۲۷: ۱۶) میں یہ ذکر آیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السّلام پرندوں کی بولی جانتے تھے، یہ روح القدّس کا وہ معجزہ تھا جس پر پرندوں کے علاوہ دیگر بہت سی آوازوں سے بھی معجزانہ بولی سنائی دیتی ہے، مگر آیت کا اصل اشارہ ارواح و ملائکہ کی گفتگو کی طرف ہے، کیونکہ روحوں اور فرشتوں کا ایک مخفی نام طیر ہے، پس یہ ساری باتیں حضرت سلیمانؑ کی اپنی زبان میں ہوتی تھیں۔

سورۂ یاسین (۳۶: ۵۵) میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ جنّت والے ایسے عالی مشاغل میں ہوں گے کہ ان سے وہ بے حد شادان و فرحان ہوں گے۔ سب جانتے ہیں کہ عظیم ترین مشغلہ عقل، علم، حکمت، معلومات، اور دوسروں کو تعلیم دینے سے متعلق ہے، پس بہشت میں اہلِ علم اعلیٰ درجات پر فائز ہو جائیں گے، اور ان پر بتدریج کائنات کے اسرار منکشف ہو جائیں گے۔

ستاروں پر لطیف لوگوں کی بہشت ہے، اس میں السنۂ عالم محفوظ ہیں، جب تک خدا کسی لسان کو نہ مٹائے، جیسا کہ سورۂ رعد

 

۸۸

 

کا یہ ارشاد ہے: یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ -وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ (۱۳: ۳۹) خدا جس (تحریر وغیرہ) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے، اور اس کے پاس اصل کتاب (لوحِ محفوظ = امامِ مبین) موجود ہے۔ یعنی کوئی ستارہ وقت آنے پر ختم بھی ہو جائے تو پھر بھی اس کے لطیف باشندے ختم نہیں ہو تے، کیونکہ ان کی انائے علوی امامِ مبین میں زندہ ہے۔

لسان کی تخلیق کے سلسلے میں ظاہری اسباب کچھ بھی ہوں ، لیکن اس کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کارفرمائی ہے، جیسے عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (۵۵: ۰۴) “خدا نے انسان کو بولنا سکھایا” کی عام تفسیر سے ظاہر ہے، اور اس ربّانی تعلیم میں بھی غور کریں: اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانشمند لوگوں کے لئے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس طرح ارض و سماء کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے اسی طرح لوگوں کی مختلف زبانوں ، گونا گون صورتوں اور الگ الگ رنگتوں کو بھی اسی نے بنایا ہے، اور اس میں اہلِ دانش کیلئے قدرتِ خدا کے بہت سے عجائب و غرائب پوشیدہ ہیں۔

سورۂ انفطار (۸۲: ۱۰ تا ۱۱) میں ہے: وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ كِرَامًا كَاتِبِينَ ۔ اور تم پر (تمہارے سب اعمال) محفوظ کرنیوالے معزز لکھنے والے مقرر ہیں۔ اس میں بہت بڑی حکمت ہے، میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ نامۂ اعمال کے عنوان سے آدمی کی پوری زندگی کی ایک

 

۸۹

 

مکمل روحانی مووی (زندہ متحرک تصویر) تیار ہو جاتی ہے، جیسے اعمالِ نیک و بَد کے نتیجے میں جو نورانی یا ظلمانی خواب دیکھا جا تا ہے، وہ کاغذی کتاب کی طرح نہیں بلکہ فلم کی طرح ہوتا ہے۔

سورۂ جاثیہ کے ایک ارشاد (۴۵: ۲۸) کے مطابق ہر امت کا نامۂ اعمال ہوا کرتا ہے، اب لفظِ امۃ کے معنی پر ذرا غور کریں:

اَلْاُمَّۃُ ، ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتۂ دینی ہو، یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں (مفردات القرآن)

اُمّۃ: جماعت، اُمّہ اُم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی “ماں” کے ہیں، ہر اس جماعت کو اُمّہ کہتے ہیں، جس میں کوئی مذہب یا وطن یا زمانہ مشترک ہو، گویا یہ مشترکہ چیز بمنزل ماں کے ہے، اور یہ جماعت بمنزلہ اولاد کے، (قاموس القرآن، از قاضی زین العابدین) یقیناً نامۂ اعمال انفرادی بھی ہے، اور کئی قسموں میں اجتماعی بھی۔

یہ ارشادِ مبارک سورۂ ابراہیم (۱۴: ۴۸) میں ہے: يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۔ جس دن یہ زمین غیر (مادّی) زمین سے بدل دی جائے گی، اور (اسی طرح) آسمان (بھی بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ یکتا زبردست خدا کے روبرو (اپنی اپنی جگہ سے) نکل کھڑے ہوں گے (۱۴: ۴۸) یعنی جب عالمِ شخصی میں نمائندہ قیامت برپا ہوگی تو اس وقت چشمِ باطن کے سامنے مادّی کائنات کی جگہ روحانی کائنات ہوگی، اور سب لوگ قبرستانِ ابدان سے ذرّات کی شکل میں نکل کر خدائے واحد و زبردست

 

۹۰

 

کے روبرو پیش ہوں گے۔

“الواحد القھار” میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عالمِ شخصی کی نمائندہ قیامت میں سب لوگوں کو زبردستی سے ایک کر دیتا ہے، اور یہ عالمِ انسانیت پر اس کے بے پایان احسانات کا آغاز ہے۔

ایک دفعہ کسی درویش نے کوّے کی عجیب سی آواز سنی، وہ درخت پر بیٹھا ہوا کہہ رہا تھا: “قھر قھر قھر” بے چارہ پہلے ڈر گیا، کیونکہ اس کے ذہن میں لفظِ قہر کے وہی معنی تھے جو عوام سمجھتے ہیں، یعنی غضب، لیکن سوچنے پر اس کو تسلی ہوئی کہ اس میں خوشخبری تھی، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے: ۔

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ(۰۶: ۶۱) اور وہی غالب ہے اپنے خاص بندوں پر اور تم پر حفاظت کرنے والے بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو (نفسانی) موت آتی ہے اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) قبض کرلیتے ہیں اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے (۰۶: ۶۱) اس کے مجموعی اشارے سے ظاہر ہے کہ یہ نفسانی موت ہے، ایسی پرازحکمت اور بابرکت موت کے عمل کے لئے جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، اور عزرائیل کے ساتھ تمام لشکرِ ارواح و ملائکہ موجود ہوتے ہیں۔

قرآنِ پاک میں جس طرح بہشت کی بے پایان نعمتوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، وہ آپ کے سامنے ہے لیکن میرا عاجزانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ

 

۹۱

 

قرآنی حکمت سے کام لیں تاکہ علم کی ہر مشکل آسان ہو جائے، اور گنجِ حکیم کا باب مفتوح ہو سکے۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعرات  ۱۷  ؍ شعبان المعظم ۱۴۱۵ ھ    /  ۱۹؍جنوری ۱۹۹۵ء

 

۹۲

 

دائرۂ نورِ عقل

 

اللہ جلّ جلالہ وعمّ نوالہ اور حضرتِ محمد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی جانب سے جو امامِ برحق علیہ السّلام کارِ ہدایت کے لئے مقرر ہے، یقیناً وہی نورِ زمانہ اور سرچشمۂ علمِ لدّنی ہے، اگر ہم بصد عاجزی و نیاز مندی اسی مہربانِ جان سے صدقۂ علمی و عرفانی حاصل کر سکتے ہیں، تو یہ ہماری بہت بڑی سعادت مندی ہے، لیکن جب جب اس دلِ نادان میں کوئی غفلت و سختی آتی ہے تو اس کا بابِ جود وعطا مغلق (بستہ) لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ درویشوں کو ہمیشہ گریہ وزاری اور مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات بہت ہی عزیز ہوتی ہے، پس اے عزیزانِ من! براہِ لطف و کرم آپ سب اپنے پاکیزہ دلوں سے دعا کریں کہ یہ قلب ہر لحظہ اہلِ بیّتِ اطہار علیہم السّلام کی پاک و پُرحکمت محبّت کی تپش سے پگھلتا رہے ! آمین!

میں یقین سے کہتا ہوں کہ حقائق و معارف سے متعلق ہر مشکل مسٔلے کے حل کے لئے “تصوّرِ کل” زبردست کار آمد اور بے حد مفید ثابت ہوسکتا ہے، چنانچہ عنوانِ بالا (دائرۂ نورِعقل) میں خود یہی عظیم تصوّر ہے، جس کا قرآنی حوالہ آپ کو سورۂ حدید (۵۷: ۱۲) اور سورۂ تحریم (۶۶: ۰۸) میں ملے گا، جہاں سرِّ اسرار کی طرف اشارہ موجود ہے کہ مومنین و مومنات کے عالمِ شخصی کے

 

۹۳

 

آسمانِ نہم میں آفتابِ عقل اپنے دائمی طلوع و غروب سے دائرۂ نور بناتے ہوئے تصوّرِ کلّ پیش کرتا ہے، جس میں سب کچھ موجود ہے، کیونکہ وہ دائرۂ مبارک حظیرۃ القدّس (مقدّس چیزوں کا احاطہ) ہے، جس میں گنجِ اسرارِ ازل و ابد ہے، اسی خزانے سے کلمۂ باری، عقلِ کلّی، اور نفسِ کلّی کا تعلق ہے۔

سوالِ اوّل: اگر انائے علوی کا تعلق مقامِ عقل یا نفسِ واحدہ کے ساتھ ہو تو انائے سفلی کا تعلق جسمِ کثیف اور لطیف دونوں کے ساتھ ہے یا اس کا تعلق جسمِ کثیف تک محدود ہے؟ اگر اس کا تعلق جسمِ کثیف تک محدود رہا تو بہشت میں تعلیم دینے میں مساواتِ رحمانی کا کیا تصوّر ہوگا؟

جواب: قربان از جمیعِ دوستان و عزیزان! دونوں انائیں نفسِ واحدہ سے ہیں ( ۰۶: ۹۸) جبکہ انائے علوی کا تعلق نفسِ واحدہ اور دائمی بہشت سے ہے، تاکہ خلود کی تصدیق ہو جائے، اور انائے سفلی کا عارضی تعلق جسمِ کثیف و لطیف سے ہے، اور دائمی تعلق نفسِ واحدہ سے، کیونکہ جب کوئی چیز عالمِ امر سے عالمِ خلق میں آکر چاہے لاکھوں ، کروڑوں سال کے بعد بھی واپس ہو جائے تو لامکان میں جو ٹھہرا ہوا زمان ہے، اس میں سے چشمِ زدن کا لمحہ بھی نہیں گزرتا ، جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ہے: ۔

وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ(۱۶: ۷۷) اور قیامت کا واقع ہونا تو ایسا ہے جیسے پلک کا جھپکنا، بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ بہشت کی تعلیمات کا تصوّر اپنی جگہ درست ہے۔

 

۹۴

 

سوالِ دوم: صاحب ! شاید اسی مسٔلے سے متعلق خلود کا تصوّر! صاحب! بہشت میں انائے علوی کے خلود کے بارے میں از راہ مرحمت و عنایت بہت تصریحات فرمائی ہیں، چونکہ قرآن میں کافروں کے لئے “خالدین” یعنی دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا ذکر آیا ہے، اگر دوزخ عارضی ہے جیسے کہ بزرگوار نے خود قرآن کی روشنی میں صراحت فرمائی ہے، تو اس میں خلود کے معنی کو کس طرح سمجھیں گے؟

جواب: قربانت شوم ! قرآنِ حکیم (۱۱: ۱۰۵ تا ۱۰۸) اور معرفت کی روشنی میں معلوم ہوا ہے کہ دوزخیوں کا دوزخ میں ہمیشہ رہنا (خلود) دوزخ کی عمر بھر کے لئے ہے، اور اس کی عمر کائنات کی عمر کے برابر ہے، اور کائنات دوزخ و بہشت کے ساتھ انسانِ کامل کی نمائندہ قیامت میں لپیٹ لی جاتی ہے، یہ ایک باطنی عمل ہے، درحالے کہ کائنات ظاہراً اپنی جگہ قائم رہتی ہے، قربانت شوم! کائنات (ارض و سماء) کو مرحلہ وار عالمِ شخصی میں لپیٹ لیا جاتا ہے، پہلے عالمِ ذرّ میں، اور اس کے بعد دائرۂ نورِعقل میں، قیامت کے اس عظیم الشّان عمل سے دوزخ بہشت میں بدل جاتا ہے، اور کائناتی بہشت عالمِ شخصی میں نزدیک آتی ہے۔

سوالِ سوم: صاحب! تیسری گزارش معراج کے سلسلے میں سورۂ نجم میں آیت (۵۳: ۱۳) وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى کی تاویل کے بارے میں ہے۔

جواب: قربانت شوم! ایک مقالہ بعنوانِ “معراجِ روحانی”

 

۹۵

 

آن مہربان کی خدمتِ عالی میں پہنچ چکا ہوگا، عرض یہ ہے کہ وَلَقَدْ رٰاہُ تَرْلَۃً اُخْریٰ = اور پیغمبرؐ نے اس (حضرتِ ربّ) کو دوسرے ظہور میں بھی دیکھا، یعنی روحانی معراج میں، نَزْلَۃً اُخْریٰ = دوسری بار اترنا ، یعنی دوسرا ظہور، کیونکہ اس سے قبل بھی حضورِ پاکؐ کو ربّ العزّت کا دیدارِ اقدس ہوا تھا، اور وہ رویتِ ظاہری تھی۔

تصوّرِ کلّ:

کلّ اور کلّیات کا عاقلانہ تصور ازبس مفید ہے، دینی اعتبار سے ایسا کوئی ضروری موضوع کون سا ہو سکتا ہے، جو قرآنِ حکیم کے موضوعات میں شامل نہ ہوا ہو، یقیناً قرآنِ عظیم میں بہت بڑی اہمیّت کے ساتھ تصوّرِکلّ کا موضوع موجود ہے، وہ خود اسی لفظِ “کلّ” میں ہے، جو کثیر مقامات پر آیا ہے، اگرچہ کلّ کا لفظ چند چیزوں کے مجموعے کیلئے بھی آتا ہے لیکن یہاں اس کلّیہ یا قانونِ کلّ کی بات ہور ہی ہے، جس کا تعلق تمام اشیاء سے یا سارے انسانوں سے یا جملہ ارواح و ملائکہ سے ہے، جس کی ایک مثال اس ارشاد سے مل سکتی ہے، جو سورۂ مریم (۱۹: ۹۳ تا ۹۵) میں ہے: ۔

إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ إِلاَّ آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا  لَقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا   ۔ ترجمۂ اوّل: جتنے بھی کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا تعالیٰ کے غلام ہو کر آتے ہیں ، (اور) اس نےسب کو گھیر کر رکھا ہے

 

۹۶

 

اور سب کو شمار کر رکھا ہے، اور قیامت کے روز سب کے سب اس کے پاس تنہا تنہا آئیں گے، ترجمۂ دوم: کوئی نہیں آسمانوں اور زمین میں جو نہ آئے رحمان کا غلام (بندہ) ہو کر، اس نے سب کو (امامِ مبین میں) گھیر کر رکھا ہے، اور ان کو ایک خاص طریقے سے گن کر رکھا ہے (یعنی سب کو ایک کر دیا ہے، اس لئے) سب فردِ واحد کی حیثیت سے قیامت کے دن (مقامِ عقل پر) اس کے پاس آئیں گے۔

سوالِ الف: اس پُرحکمت ارشاد میں منجملہ اسماء اللہ اسمِ الرحمان مذکور ہے، اس میں کیا اشارہ ہوسکتا ہے؟ جواب: اس کا اشارۂ حکمت یہ ہے کہ یہاں جو کچھ فرمایا گیا ہے، اس میں خدائے رحمان (بڑے مہربان) کی مہربانی کے معنی ہیں۔

سوالِ ب: آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اور سب لوگ کب ، کہاں، اور کس معنیٰ میں غلام ہو کر رحمان کے پاس آتے ہیں؟

جواب: نمائندہ قیامت کے آغاز ہونے پر، عالمِ شخصی میں، اور صورِ اسرافیل کے زیرِ اثر سجدہ، تسبیح اور عبادت کے معنی میں۔

سوالِ ج: یہاں امامِ مبین میں سب کو گھیر کر رکھنے کی کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ اور کس طرح ممکن ہے کہ شمار کرنے سے سب کا مجموعہ فردِ واحد ہو جائے؟ جواب: سورۂ یٰسین (۳۶: ۱۲) میں ہے: اور ہم نے ہر چیز کو امامِ مبین میں گھیر دیا ہے۔ یہی سب سے روشن دلیل ہے کہ ہر قیامت میں اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو امامِ مبین میں گھیر دیتا ہے، یاد رہے کہ لوگ اپنی چیزوں کو شمار کرتے ہیں، کیونکہ ان کو علم نہیں کہ وہ کتنی ہیں، لیکن

 

۹۷

 

خدائے علیم و حکیم کو ہر چیز کا علم ہے، اس لئے اس کے شمار کرنے کی حکمت یہ ہے کہ وہ چیزوں اور لوگوں کو ایک کر دیتا ہے، اور جس کے ساتھ سب کو ایک کیا جاتا ہے، وہ انسانِ کامل ہی ہے۔

سوالِ د: اس آیۂ کریمہ کی حکمت بیان کریں: مَا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ (لقمان ۳۱: ۲۸) تم سب کا پیدا کرنا اور پھر (مرنے کے بعد) جِلا اٹھانا ایک جان کی طرح ہے۔ جواب: واحدہ، معنیٔ اوّل ایک، معنیٔ دوم ایک کرلینے والی یا ایک کرلینے والا، پس نفسِ واحدہ ایسے عالمِ شخصی کی جان ہے، جس میں اسرافیلؑ کی دعوت پر خلائق کے نمائندہ ذرّات جمع ہو جاتے ہیں، ان کو نفسِ واحدہ کی وحدت و سالمیّت میں نفسانی موت کا مزہ چکھایا جاتا ہے، پھر زندہ کیا جاتا ہے، پھر ایک بار موت سے گزار کر ان کو ہمیشہ کے لئے زندہ کیا جاتا ہے۔

سوالِ ھ: حکیم پیر ناصر خسرو (ق س) کے اس شعر کی حکمت بیان کریں:

ھو الاوّل  ھوالآخر  ھوالظاہر  ھوالباطن               منزہ مالک الملکی کہ بی پایان حشردارد

جواب: وہ سب سے اوّل بھی ہے، وہ سب سے آخر بھی ہے، وہ سب سے ظاہر بھی ہے، وہ سب سے باطن بھی ہے، وہ پاک ایسا صاحبِ سلطنت ہےکہ اس کی (بادشاہی میں لاتعداد اور) بے انتہا قیامات ہیں۔ حضرتِ پیر کے اس قول میں سب سے عظیم حکمت یہ ہے کہ زمانۂ آدمؑ ہی سے نمائندہ قیامتوں کا سلسلہ چلا آیا ہے، کیونکہ الوھیّت (معبودیّت) نبوّت، امامت، اور آخرت کے اسرارِ عظیم کا

 

۹۸

 

جاننا تجربۂ قیامت کے سوا ممکن ہی نہیں۔

سوالِ و: اس آیۂ مبارکہ کی تفسیرو تاویل بتائیں: بَلْ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الآخِرَةِ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْهَا بَلْ هُمْ مِنْهَا عَمُونَ( ۲۷: ۶۶) جواب: بلکہ آخرت کے بارے میں ان کے علم کا خاتمہ ہوگیا ہے، بلکہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہیں، بلکہ اس سے یہ لوگ اندھے بنے ہوئے ہیں۔

حکمت: آخرت کی عمدہ مثال روحانیّت ہی ہے، جس میں آخرت کی معرفت پوشیدہ ہے، لیکن جن کے پاس اصل اور حقیقی علم نہ ہو تو ان کا معمولی علم تھک کر ختم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے شکوک پیدا ہو جاتے ہیں، اور پھر ایسے لوگ کُورباطن ہو جاتے ہیں۔

 

۲۳؍جنوری ۱۹۹۵ء

 

۹۹

 

سورۂ کوثر کی حکمت

 

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ (اے رسولؐ) بے شک ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا ہے، تو تم اپنے ربّ کے لئے نماز پڑھو، اور قربانی کرو، یقیناً تمہارا دشمن ہی مقطوع النسل ہے۔ (۱۰۸: ۰۱ تا ۰۳)

۱۔ کَوْثَرْ بروزنِ فَوْعَلْ  صیغۂ مبالغہ ہے، جو کثرت سے مشتق ہے، کثیر زیادہ، اکثر بہت زیادہ ، کُثار بہت ہی زیادہ، اور کوثر بے حد زیادہ ، جو خلق کی عقل و فہم سے وراء ہے، اس سے عالمِ ذرّ مراد ہے، جو حضورِ اکرمؐ سے آپؐ کے وصی مولا علیؑ میں منتقل ہوگیا، اس طرح سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی پاک ذرّیت جاری و باقی رہی ، جیسے ارشادِ نبویؐ ہے: ۔

اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ جَعَلَ ذُرِّیَّۃَ کُلِّ نَبِیٍّ فِیْ صُلْبِہٖ وَجَعَلَ ذُرِّیَّتِیْ فِیْ صُلْبِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ (خدا نے ہر نبی کی اولاد اس کے صُلب سے قرار دی ہے، لیکن میری اولاد صُلبِ علی سے ہے)۔ کوثر کے ایک معنی مردِ کثیر اولاد کے ہیں، اور وہ حضرت علی علیہ السّلام ہی ہیں، کیونکہ ان کی پشتِ مبارک میں عالمِ ذرّ آیا ، جس میں کثیر ذرّیت اور کوثر کے دوسرے

 

۱۰۰

 

تمام معانی شامل ہیں۔

حکیم پیر ناصر خسرو ق س کے دیوانِ اشعار میں ہے:

ایزد عطاش داد محمد را                 نامش علی شناس و لقبش کوثر

خداوندِ قدوس نے حضرت محمد صلعم کو (جانشین) عطا کر دیا، جس کا اسمِ گرامی علیؑ اور لقب کوثر ہے، کتاب وجہِ دین، کلام نمبر۱ میں سورۂ کوثر کی یوں تفسیر و تاویل کی گئی ہے:۔

(اے محمد صلعم) ہم نے آپ کو بہت سی اولاد والا مرد عطا کر دیا ہے (جس سے اللہ تعالیٰ کی مراد اساس یعنی علیؑ ہیں) پس آپ اپنے پروردگار کے لئے نماز قائم کیجئے (یعنی دعوتِ حق برپا کیجئے) اور نحر کے طریقے پر اونٹ ذبح کیجئے (یعنی اساس کا عہد لیجئے) کیونکہ آپ کا دشمن دم بریدہ ہے (یعنی وہ بے اولاد ہے، اس لئے امامت اس میں نہ رہے گی، بلکہ وہ آپ ہی کی ذرّیت میں باقی رہے گی)۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

منگل ۲۲  ؍ شعبان المعظم ۱۴۱۵ ھ

۲۴؍ جنوری ۱۹۹۵ء

 

۱۰۱

 

ایک عظیم مترجم کا جشنِ سیمین

 

اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ دنیائے علم و ادب میں مصنّفین و مؤلّفین ہی کی طرح مترجمین بھی بڑے نیک نام، قابلِ احترام اور آئندہ تاریخ میں زندۂ جاوید ہو جاتے ہیں، مترجم کا احسانِ عظیم ایک طرف زبان و اہلِ زبان پر ہے اور دوسری طرف مصنف اور اس کے ہم خیال احباب پر، کیونکہ جو سکالرز دینی کتب کا ترجمہ کرتے ہیں وہ حضرات اپنے مبارک قلم سے گویا علم و حکمت کے جدید شہروں کو آباد کرتے ہیں، جن کی آبادی رہتی دنیا تک قائم رہنے والی ہے۔

یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ علم خدا کی خدائی میں سب سے اعلیٰ و عظیم شیٔ ہے، لہٰذا علمی خدمت بے مثال اور تمام خدمات کی سردار اور بادشاہ ہے، پس کتنی بڑی سعادت ہے ان اہلِ قلم حضرات کی جو اپنے عمدہ و شیرین ترجموں کے توسّط سے پیاری جماعت کے سامنے علیٔ زمان علیہ السّلام کا علمی دسترخوان بچھا دیتے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ اس نوعیّت کی دینی خدمات میں مولائے پاک کی خوشنودی ہے۔

جہاد جو دینِ اسلام کا ایک مقدّس فریضہ ہے، وہ نہ صرف شمشیرِ برّان ہی سے ہوتا رہا، بلکہ علم و حکمت کی زبان سے بھی ہے، تاہم عصرِ حاضر میں

 

۱۰۲

 

قلمی جہاد کی بہت بڑی اہمیّت ہے، کیونکہ یہ بڑا دور رس اور دائم العمل ہے اس لئے مترجمین حضرات کو ہم سب بصداحترام و ادب تحفۂ مبارکباد پیش کرتے ہیں، قبولِ ہو!

ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جماعت میں جتنے اہلِ قلم کام کر رہے ہیں، وہ سب کے سب حضرتِ امامِ زمان علیہ السّلام کے علمی لشکر ہیں، جو اپنے آقا کی ظاہری مدد کر رہے ہیں، اور مولا ان کی باطنی مدد فرما رہا ہے، آپ یقین کریں کہ ظاہری مدد ایک قرآنی حقیقیت ہے، جیسا کہ سورۂ آلِ عمران (۰۳: ۵۲) میں ہے: (ترجمہ)جب عیسٰیؑ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا “کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہوتا ہے؟ “حوّاریوں نے جواب دیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں۔‘‘

نیز سورۂ محمد (۴۷: ۰۷) میں غور سے دیکھ لیجئے: (ترجمہ) اے لوگو: جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا۔ درحقیقت یہ دینِ حق کی مدد ہے، لیکن اس کی بہت بڑی اہمیّت اور عظمت کی وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ کی مدد قرار پاتی ہے۔

جوں جوں زمانہ بدلتا جاتا ہے توں توں اندرونی و بیرونی کثیر سوالات کی یلغار ہو جاتی ہے، ایسے میں امامِ عالی مقام علیہ السّلام کے علم و حکمت سے آراستہ و پیراستہ کتابیں ہی کام آسکتی ہیں، جن میں پہلے ہی سے ہر قسم کے سوالات کے لئے معقول جوابات مہیا ہوتے ہیں، اور کامیاب علمی خدمت وہی ہے جس میں جوابات کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہو۔

 

۱۰۳

 

آج ہم یہاں خانۂ حکمت، ادارۂ عارف، اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کراچی کے عملداران و ارکان بے حد مسرور و شادمان ہیں، اس لئے کہ ہم اپنے ایک بڑے محسن اور عظیم گجراتی مترجم کے ۲۵ ترجموں کے جشنِ سیمین منا رہے ہیں، یہ عزیز ومحترم اور بڑا نیک نام سکالر جناب اکبر حبیب راجن صاحب ہیں، آپ نے ترجمے کا یہ مقدّس کام ؁۱۹۸۱ء میں شروع کیا تھا، اور انہوں نے اب تک ہماری کتابوں میں سے پچیس ۲۵ کا حسن و خوبی سے گجراتی میں ترجمہ کر دیا ہے، سب کہتے ہیں کہ ترجمے بہت سی خوبیوں کا حامل ہے۔

روحانی اور قرآنی علم و حکمت پر مبنی اعلیٰ کتابوں کا حقیقی معنوں میں ترجمہ کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، جب تک کہ خداوندِ قدّوس کی طرف سے عنایاتِ ازلی کسی نیک بخت ہستی کی دستگیری نہ کریں، جیسا کہ قول ہے:

این سعادت بزورِ بازو نیست           تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

یہ سعادت ایسی نہیں جو زورِ بازو سے حاصل ہو جائے، جب تک خداوندِ کریم و مہربان خود عطا نہ فرمائے۔

جناب اکبر راجن صاحب کی اس بے مثال کامیابی سے ہم کو یہ یقین آتا ہے کہ آپ سے مولائے برحق راضی ہے، اسی وجہ سے آپ نے ایسا عظیم کارنامہ انجام دیا، جس میں نیک نام جماعت کے لئے علم و معرفت کے دائمی میوے موجود ہیں، جن سے عقل و جان کی پرورش ہوتی رہتی ہے۔

 

۱۰۴

 

ہمارے پاک مذہب میں خدا، رسولؐ، اور امامؑ کی مقدّس محبت و عقیدت کے بہشت جیسے باغات موجود ہیں، جن کے گردا گرد مضبوط حفاظتی دیوار ایسی کتابوں سے بنائی جا سکتی ہے کہ ان میں امامِ زمانؑ کا روحانی علم ہو، کیونکہ کوئی باغ چار دیواری کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتا، اور نہ کوئی قلعہ حصار (فصیل) بغیر ہوتا ہے، پس مترجمین حضرات کا کردار جہاں بھی ہو بڑا عالیشان ہے۔

ہر کتاب حضرتِ امام علیہ السّلام کا ایک گلدستۂ صد رنگ ہے، نیز یہ ایک علمی و عرفانی باغ ہے، یا جواہرات کی دکان ہے یا چشمۂ آبِ شرین ہے، یا تحفہ از جانبِ محبوبِ جان ہے، اگر یہ کسی دور جگہ بھیج دی جاتی ہے تو ایلچی یا سفیر ہے، تخلیق کے اعتبار سے یہ پیارا بیٹا ہے، یا عزیز بیٹی ہے، یہ نامۂ اعمال کی مثال بھی ہے، علمی جنگ کے لئے سولجر بھی ہے اور ہتھیار بھی، روحانی طاقت کے لئے غذا بھی ہے، اور صحت کے لئے دوا بھی، ہر دینی کتاب میں قرآن، حدیث، اور فرمان کی خوشبوئیں ہیں۔ الحمد للہ ربّ العٰلمین۔

جو دانشور ہماری کتابوں کا ترجمہ کرتے آئے ہیں، اور جو عزیزان ہماری تعلیمات کی ترجمانی کر رہے ہیں، اور ان کے علاوہ جو ساتھی ہمارے تینوں اداروں میں کام کررہے ہیں، ان سب سے میں قربان ہو جاؤں، اور یہ سچ ہے کہ میں روحانی انقلاب میں قربان و فدا ہوچکا ہوں، آپ اس عمل کی حکمت کو سمجھتے ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اب اس مختصر مقالے کے خاتمے پر آپ سب پرخلوص دعا کریں

 

۱۰۵

 

کہ حضرتِ ربِّ العزت ہمارے عظیم مترجم جناب اکبر حبیب راجن صاحب کی سلور جوبلی کو باعثِ برکات بنا دے ! آپ کو اور آپ کے نیک بخت خاندان کے ہر فرد کو دین و دنیا کی کامیابی، عزّت اور سر بلندی نصیب ہو! اور یہی دعا دوسرے مترجمین اور جملہ معاونین کے حق میں بھی ہے، آمین!

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

منگل ۶  ؍رمضان المبارک ۱۴۱۵ ھ    /  ۷؍فروری ۱۹۹۵ء

 

۱۰۶

 

روحانی ترقی سے متعلق معلومات

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّ حْمٰنِ الرَّحِیْم۔  روحانی ترقی کے لئے سب سے بنیادی چیز حسنِ اخلاق ہے، پھر عقیدہ، بندگی اور علم الیقین، ساتھ ہی ساتھ تقویٰ کا ہونا بیحد ضروری ہے، کیونکہ یہ ایمانی وصفِ کمال اخلاق و دینداری کے تمام نتائج و ثمرات کا جوہر ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے ایسے تقویٰ کو بزرگی کا معیار قرار دیا جو حقیقی علم کے ساتھ ہو (۳۹: ۱۳ ؛ ۳۵: ۲۸) اس میں کوئی شک نہیں کہ تقویٰ مومنین و مومنات کو اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے۔

۲۔ اگر اس دنیا میں آپ کو علم و عمل اور عشقِ مولا کے کچھ نمونے مل سکتے ہیں تو ان کی ہم نشینی بہت بڑی نعمت ہے، کیونکہ جب خدا کی خدائی میں کوئی چیز رحمت و علم کے سوا نہیں ہے (۴۰: ۰۷) تو پھر دوستانِ خدا اس سے کیونکر خالی ہو سکتےہیں، مصرع:

صحبتِ صالح ترا صالح کند

۳۔ آپ کا مرتبۂ علمی جیسا بھی ہو، ہر حال میں دوسروں کو کچھ علم دیتے رہیں، کیونکہ اس سے قدرتی طور پر علم میں حرکت اور برکت پیدا ہو جاتی ہے، وہ اس طرح کہ آپ اپنے دل و دماغ کے ذخیرۂ علم سے صرف ونشر بھی کریں گے،

 

۱۰۷

 

وہ کم بھی نہیں ہوگا، اس میں نکھار بھی آئے گا، اور نزولِ برکت سے اس میں اضافہ بھی ہوگا، جبکہ یہ عمل تقویٰ کے ساتھ ہو۔

۴۔ علم دینے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں، مثلاً عام مجلس یا اجتماع میں، اور خاص مجلس میں، تاکہ ہر کسی کو اس کی سمجھ بوجھ کے مطابق سمجھانے کا موقع فراہم ہو، ساتھ ہی ساتھ آپ کے علمِ عام اور علمِ خاص میں برکت پیدا ہو۔

۵۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا راز ہے کہ آپ کی عبادت کے لئے سب سے بابرکت اور سب سے باکرامت مقام جماعت خانہ ہی ہے، کیونکہ وہ حقیقت میں خدا کا گھر ہونے کی وجہ سے ہر گونہ ثواب اور امن کی جگہ ہے (۰۲: ۱۲۵) مزید بران باہر بھی عبادت کریں کہ اللہ کی پُرحکمت یاد کے بغیر رہنا غافلوں کا کام ہے، حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرتؐ کے لئے ساری زمین مسجد اور پاک بنائی گئی تھی، وہ ارشاد یہ ہے: جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مُسْجِدً اوَّ طَھُوْراً = میرے لئے ساری زمین نماز کی جگہ (جائے سجدہ = مسجد) اور پاک بنائی گئی ہے۔

۶۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کو حکم دیا تھا کہ مصر میں چند گھر اپنی قوم کے لئے مہیا کرو، اور اپنے ان گھروں کو قبلہ ٹھہرا لو، اور نماز قائم کرو، اور اہلِ ایمان کو بشارت دے دو (۱۰: ۸۷) جبکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے لئے ساری زمین سجدہ گاہ اور پاک بنائی گئی۔

۷۔ جماعتی خدمت سے بہت بڑی حد تک روحانی ترقی میں مدد مل سکتی ہے، اور یہ مقدّس خدمت جتنی دور رس اور وسیع ہوگی، اتنا اس کا ثواب عظیم ہوگا، اس سلسلے میں یقیناً علمی خدمت ہی سب سے

 

۱۰۸

 

زیادہ مفید ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ چیز نہ صرف ایک جماعت کے لئے مخصوص ہے بلکہ سراسراسلام اور تمام انسانیّت کے واسطے بھی ازحد ضروری ہے، اس لئے کہ زمانۂ حال سے بھی کہیں زیادہ مستقبل میں اس کی اہمیّت اور قدرو قیمت کا احساس اور ادراک ہونے والا ہے۔

۸۔ نیّت، قول، اور عمل کی تشبیہہ و تمثیل اگر کسی عمارت کی تعمیر سے دی جائے تو نیّت بنیاد ہے، قول ادھوری تعمیر، اور عمل مکمل مکان ہے، چنانچہ نیّت اوّلین باطنی چیز ہے، جس میں پاکیزگی اور جذبۂ خیرخواہی کا ہونا ازبس ضروری ہے، تاکہ اس کے نتیجے میں قول و عمل خود بخود درست اور نیک ہو سکیں۔

۹  اگر کسی کے اعمال پاک نہیں ہوتے ہیں تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی زبان پاک نہیں ہے، اور اگر زبان پاک نہیں تو جاننا چاہئے کہ دل یعنی نیّت پاک نہیں، یہی سبب ہے کہ پیغمبرِ برحق صلعم نے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالِنِّیَّاتِ = اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہوتا ہے۔ اس سے دل کی اہمیّت کا پتہ چلتا ہے کہ اچھی اور بری ہر قسم کی کلیدیں دل ہی کے سپرد کی گئی ہیں، کیونکہ قلب (دل) ہی تمام انسانی قوّتوں کا مرکز ہے۔

۱۰۔ ذکر و عبادت میں انقلابی ترقی بھی ممکن ہے، تدریجی ترقی بھی ہوسکتی ہے، اور کچھ ملی جلی ترقی کا بھی امکان ہے، الغرض بندگی آگے سے بھی آگے جانے کے لئے ہے۔

۱۱۔ روحانی ترقی تواضع، حلیمی، انکساری اور عاجزی کے بغیر ناممکن ہے، تکبر سے انسان بری طرح سے خوار و ذلیل ہو کر گرجاتا ہے۔

 

۱۰۹

 

۱۲۔ ذکرِ الٰہی کے کئی طریقے ہیں، آپ امامِ زمان صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہٗ کی پاک ظاہری و باطنی ہدایات سے رجوع کریں، کیونکہ امامِ وقتؑ ہی اسمِ اعظم اور مجموعۂ اسماء الحسنیٰ ہے، پس آپ حضرتِ امامِ عالی مقام علیہ السّلام کو اللہ کا بزرگ ترین اسم مانتے ہوئے کسی لفظی اسم کا ورد کریں یا کوئی تسبیح پڑھیں، بہت سے اسماء بہت سی تسبیحات اور بہت سے کلماتِ تامّات گویا بہشتِ برین کے گونا گون پھل ہیں، اور مومنین و مومنات با فراغت ان سب میووں میں سے کھا سکتے ہیں۔

۱۳۔ جس طرح قرآنِ پاک کے شروع (۰۲: ۳۵) میں حضرتِ آدمؑ کے بارے میں ارشاد ہے: پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی دونوں جنّت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، دراصل یہ روحانی اور عقلانی غذاؤں کی بات ہے، یعنی کثیر اسماء ، مختلف تسبیحات، اور کئی کلماتِ تامّات سے روح اور عقل کی خوراک حاصل کرلینے کا ذکر ہے۔

۱۴۔ ذکرو عبادت کے مختلف اشغال میں سے ایک شغل اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثناء ہے، ایک شغل اس کی نعمتوں کی شکرگزاری ہے، ایک شغل یہ کہ بندہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے، ایک عاشقانہ شغل دیدارِ الٰہی کے لئے آنسو بہانا ہے، اور ایک شغل ایسی دعاؤں پر مبنی ہے کہ جس میں اپنے لئے اور دوسرے سب کے لئے بہتری اور بھلائی کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

۱۵۔ ہم میں سے ہر ایک کی عادت ایسی ہونی چاہئے کہ بار بار ہاتھ اٹھا کر خدا کے حضور دعا کیا کرے، ہر عاجزانہ دعا مغزِ عبادت ہے،

 

۱۱۰

 

لہٰذا گڑگڑاتے ہوئے اور مناجات و گریہ زاری کرتے ہوئے دعا کیجائے، تاکہ جس سے خدا کی رحمت شاملِ احوال ہو۔

۱۶۔ شیطان جو انسان کا دینی دشمن ہے، وہ آدمی کی خواہشاتِ نفسانی کی دعوت کے بغیر آہی نہیں سکتا، ہاں، نفس ہی ہے جو صرف شیطان کو بلانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کی سواری کے لئے گدھا بھی ہو جاتا ہے، جس پر سوار ہو کر شیطان آرام سے اپنا کام کر سکتا ہے، اس کے برعکس اگر انسان اپنے نفس کو مغلوب و مقہور بنائے تو شیطان کبھی اسے فریب نہیں دے سکتا ہے۔

۱۷۔ لذّتیں دو قسم کی ہیں:

۱۔ حلال ظاہری و باطنی

۲۔ حرام ظاہری و باطنی

چنانچہ جب تک حرام ظاہری و باطنی لذّتوں کا تصوّر ترک اور حلال ظاہری نعمتوں کو کم نہ کیا جائے تو روحانی اور عقلی نعمتیں ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی ہیں۔

۱۸۔ کسی مومن کی روحانی ترقی میں جب بھی کوئی بڑی رکاوٹ ہوتی ہے تو اس کا سبب سوائے گناہ کے اور کیا ہو سکتا ہے، چاہے وہ کوئی ایک بڑا گناہ ہو یا کئی چھوٹے چھوٹے گناہوں کا بڑا مجموعہ، بہرحال ترازو اور وزن کی مثال ہے۔

۱۹۔ ایک مومن کہتا تھا کہ “میری روحانی ترقی کیوں نہیں ہوتی ہے حالانکہ میں کوئی گناہ نہیں کرتا ہوں، عبادت، بندگی، ادائے زکات،

 

۱۱۱

 

وغیرہ کا پابند ہوں۔”میں نے کہا کہ یہ امر ممکن ہی نہیں کہ کوئی نیک شخص اچھے اعمال کے سبب سے روحانی ترقی کا حقدار ہو چکا ہو، پھر بھی خداوندِ کریم اس کو روحانی ترقی نہ دے، اس میں کوئی کوتاہی ضرور ہوگی، یا کچھ شرائط کی کمی ہوسکتی ہے، ہم عاجزو خاکسار بندوں میں سے کسی کا یہ حق نہیں کہ وہ خود کو بےگناہ سمجھے۔

۲۰۔ یہ معلوم کر لینے کے لئے کہ دل میں تقویٰ ہے یا گناہ، ہوشمند مومن کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس سے ہر قسم کے دینی فرائض ادا ہوتے ہیں یا نہیں؟ ذکر و عبادت بتدریج آگے بڑھتی جارہی ہے یا مزہ ہی نہیں آرہا ہے؟ دینی علم کا شوق بڑھ رہا ہے یا نہیں؟ کیا دل میں عشقِ مولا کا کوئی درد ہے؟ کوئی سوزش ہے؟ کیا اس کمی کی وجہ سے کبھی اپنے آپ پر رونا آتا ہے؟ اگر اس نوعیّت کی ایمانی علامتیں نہیں ہیں، یا کمزور ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ گناہ ہے، گناہ درختِ ملعون ہے، اس کی شاخ بڑی ہو جانے سے وہ اور بڑھ جائےگا، اس لئے اس کی جڑوں کو کاٹنا چاہئے، تاکہ وہ سوکھ کر ختم ہوجائے۔

۲۱۔ لفظی توبہ سے کچھ نہیں بنے گا جب تک کہ عملاً توبہ نہ کر لی جائےاور عملی توبہ علم کی روشنی میں آسان ہو سکتی ہے۔

۲۲۔ عبادت خداوندِ تعالیٰ کی غلامی کا نام ہے، اور غلامی میں آقا و مالک کی ہرگونہ خدمت کی جاتی ہے، تاہم سب سے اعلیٰ خدمت وہ ہے جو آقا کی مرضی کے مطابق ہو، اور جس کی انجام دہی

 

۱۱۲

 

سب سے زیادہ ضروری ہے۔

۲۳۔ یہ بات قرآنی حکمت ہی کی روشنی میں ہے کہ حقیقی علم طہارت یعنی باطنی پاکیزگی بھی ہے، علم عبادت بھی ہے، یہ زکات بھی ہے، روزہ بھی، حج بھی، جہاد بھی، اور ولایت بھی ہے، کیونکہ علم میں سب کچھ ہے۔

۲۴۔ اگر آپ براہِ راست یا بالواسطہ لوگوں کو علم دے سکتے ہیں تو گویا کسی نابینا کو آنکھ دیتے ہیں یا کسی بہرے کو کان عطا کرتے ہیں، کسی گونگے کو زبان عنایت کرتے ہیں، کسی ٹُنڈے کو ہاتھ بخشتے ہیں، کسی لنگڑے کو پاؤں کا عطیہ دیتے ہیں، ننگے کو عمدہ لباس پہناتے ہیں، بھوکے کو ہمیشہ کے لئے خوراک کا بندوبست کر دیتے ہیں، مفلس کو گنجِ بے رنج سے نوازتے ہیں، گدائے بے نوا کو بادشاہ بناتے ہیں، جاہل کو عاقل بناتے ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰؑ کی طرح مُردوں کو زندہ کر دیتے ہیں۔

۲۵۔ اگر کوئی عالی ہمت مومن نیّت کر کے راہِ مولا میں اپنے نفس کے خلاف جہاد کر سکتا ہے، چالیس ۴۰ مرتبہ سخت غصہ کو پی لیتا ہے، چالیس ۴۰ دفعہ نفس کی خواہشات کو ٹھکراتا ہے، چالیس ۴۰ ایسے مومنین کے حق میں نیک دعائیں کرتا ہے، جن کے متعلق اس کا گمان ہو کہ وہ اچھے نہیں ہیں، چالیس ۴۰ اچھی عادتوں کو اپنی ذات میں استوار کر لیتا ہے، اور چالیس ۴۰ دن کا پوشیدہ اعتکاف یا بڑی کامیاب مناجات و گریہ و زاری کرتا ہے تو ان شاء اللہ اس مومن کی غیر معمولی ترقی ہوگی۔

 

۱۱۳

 

۲۶۔ مومن ضرور یہ کوشش کرے کہ وہ ہر روز نیکی کمائے، نیک کاموں میں وقت گزارے، روزانہ کچھ علم حاصل کرے، دینی کتابوں کا مطالعہ جاری رکھے، نیک لوگوں سے ملے، اور کامیاب عبادت سے شادمانی حاصل کرے۔

۲۷۔ روحانی ترقی شروع ہونے کی بعض علامتیں یہ ہیں: ذکر وعبادت سے سخت عشق پیدا ہو جاتا ہے، نورانی عبادت کے لئے شب خیزی سے مزہ آتا ہے، دل میں بے حد نرمی ہونے کی وجہ سے بار بار گریہ وزاری ہو جاتی ہے، ذکر کا سلسلہ اٹوٹ ہو جاتا ہے، زیادہ سنجیدگی اور اندر ہی اندر سکون پیدا ہو جاتا ہے۔

۲۸۔ مذکورۂ بالا علامات کے ظہور کے بعد دل (عالمِ شخصی) میں روشنی پیدا ہو سکتی ہے، جس میں بے حد خوشی ہے، اگرچہ ابتدائی قسم کی روشنی ہے جو مادّی روشنی جیسی لگتی ہے، تاہم وہ ظاہری روشنی سے بدرجۂ انتہا خوش رنگ اور دل آویز ہے، اور رفتہ رفتہ بےحد تیز ہو جاتی ہے۔

۲۹۔ اس مقام پر اگرچہ یہ روشنی روحانی اور عقلی نہیں، بلکہ طبیعی ہے، تاہم اس کے مشاہدے میں طوفانی خوشیاں موجود ہیں، شاید اس لئے کہ اس ابتدائی منزل میں مومن یا مومنہ کی باطنی آنکھ کھل جاتی ہے، اور خود شناسی و خدا شناسی کا آغاز ہو جاتا ہے۔

۳۰۔ جس طرح عالمِ ظاہر میں سورج، چاند، ستاروں، وغیرہ کی مادّی روشنی ہے جو ہر زندہ مخلوق کی ظاہری آنکھ کے لئے ضروری ہے، اور قدیم و جدید علم و ہنر کی روشنی ہے، جو انسانی دل و دماغ کے ظاہری

 

۱۱۴

 

پہلو کے لئے لازمی ہے، اسی طرح تین درجوں میں باطنی روشنی ہے، اوّل طبیعی، دوم روحانی ، اور سوم عقلی یا عقلانی، جو دل و دماغ کے باطنی پہلو کے لئے چاہئے۔

۳۱۔ قرآنِ پاک اور روحانیّت کی روشنی میں روحانی سائنس سے متعلق بہت سے غیر معمولی انکشافات ہوئے ہیں، ان میں سے ایک انتہائی عظیم انکشاف یا معجزہ جسمِ لطیف ہے، جس کے کئی شاندار نام ہیں، اور ہر نام کے معنی میں ایک بے مثال کام پوشیدہ ہے، جیسے: ۔

(الف): کوکبی بدن: یعنی یہ کسی ستارے سے آتا ہے۔ (ب: ) جسمِ فلکی: یہ عناصرِ اربعہ سے بالاتر ہے، کیونکہ اس میں طبیعتِ پنجم ہے۔ (ج: ) فرشتہ: اس کی پاکیزہ زندگی اور ساری خوشی اللہ کی یاد و تسبیح اور فرمانبرداری میں ہے۔ (د: ) جنّ / پری: بڑا طاقت ور اور پرواز کرنے والا ہے، نیز یہ پوشیدہ ہے۔ (ھ: ) جثّۂ ابداعیہ: اس کا تعلق عالمِ ابداع (امرِ کُنۡ) سے ہے۔ (و: ) جامۂ جنّت: یہ اہلِ بہشت کا زندہ لباس ہے۔ (ز: ) محراب: یہ جہادِ روحانی کی غرض سے آسمانی لشکر کا قلعہ ہے۔ (ح: ) طَیر: یہ روحانی پرند اور انسانِ کامل کی کاپی ہے۔ (ط: ) لَبُوس: پوشاک ، یعنی روحانی بکتر (زرہ) ۔ (ی: ) پیراہنِ نورانی: پیراہنِ یوسفی۔ (ک: ) ریش ؎۱: پردار لطیف بدن۔ (ل: ) جسمِ مثالی: جیسے فرشتہ مریمؑ کے سامنے

 

؎۱: الرَّیش: پرندے کے پر (FEATHERS)اس سے طاقتِ پرواز مراد ہے (القرآن: ۷: ۲۶) لفظی معنی کے لئے المنجد میں دیکھیں ۔

 

۱۱۵

 

ایک کامل و مکمل انسان کی شکل و مثال میں ظاہر ہوا تھا۔ (۱۹: ۱۷) اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَنِّہٖ وَاِحْسَانِہٖ۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعہ یکم شوال المکرم (عید الفطر)  ۱۴۱۵ ھ    /  ۳ ؍ مارچ  ۱۹۹۵ء

 

۱۱۶

 

دینِ خدا کے باطنی معجزات

 

۱۔ اہلِ دانش کو اس حقیقت پر کامل یقین ہے کہ دینِ حق کے دائمی اور عقلی معجزات باطن میں ہیں، کیونکہ ان کا تعلق حواسِ ظاہر سے نہیں، بلکہ حواسِ باطن سے ہے، اس لئے کہ اگر صرف ظاہری حواس کو دیکھا جائے تو وہ حیوانوں میں بھی ہیں، لیکن حیوانِ صامت اور اس کے حواس کا عقل سے کوئی تعلق نہیں، یہاں یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ انسان اپنے ظاہری حواس میں بھی حیوان سے افضل و اعلیٰ اس لئے کہ اس کے باطن میں عقل موجود ہے، مگر جانور میں کوئی عقل نہیں۔

۲۔ انسان کا بدن ظاہر ہے اور عقل و جان باطن، آدمی کے بیرونی اعضاء کا فعل ظاہر ہے دل و دماغ کی کارفرمائی باطن، سمندر ظاہر ہے درِّ ثمین و شہوارِ باطن، پہاڑ ظاہر ہے یاقوتِ احمر باطن، گلِ سرخ ظاہر ہے اس کا عطر باطن، پھل ظاہر ہے مغز باطن، معادن باطن ہیں معدنیات ظاہر، دنیا ظاہر ہے آخرت باطن، قرآن کی تنزیل ظاہر ہے تاویل باطن، الفاظ ظاہر ہیں معانی باطن، کتابِ مبین ظاہر ہے اور نور باطن۔

 

۱۱۷

 

۳۔ ارشادِ نبوی ہے: اِنَّ لِلْقُرْاٰنِ ظَھْرًا وَ بَطْناً وَ لِبَطْنِہٖ بَطْناً اِلیٰ سَبْعَۃِ اَبْطُنٍ۔ یقیناً قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے اور باطن کا بھی باطن ہے، اور اسی طرح قرآن کے سات بواطن ہیں۔ ایسے میں علمی سفر کا رخ ظاہر سے شروع ہو کر باطن کی طرف ہوگا، اور یہ ٹھیک ٹھیک سوچنے کی بات ہے۔

۴۔ دینِ اسلام کی ظاہری و باطنی نعمتوں کے ثبوت میں ایک فیصلہ کن آیۂ کریمہ جس سے ہر قسم کی مایوسی ختم ہو جاتی ہے یہ ہے: أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً  کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمانبردار بنادیا ہے تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، اور تمام کر دی ہیں اس نے تم پر ہر قسم کی نعمتیں ظاہری بھی اور باطنی بھی (سورۂ لقمان ۳۱: ۲۰)۔ اس ربّانی تعلیم کا خاص تعلق اہلِ ایمان سے ہے، کیونکہ قرآنِ پاک کا خطاب انہی سے ہے، پس عارفین و کاملین اس آیۂ پُرحکمت کے مصداق ہیں، جنہوں نے مراتبِ عالیۂ روحانیّت و عقلانیّت پر چشمِ بصیرت سے دیکھ لیا کہ ذاتِ سبحان نے عالمِ شخصی پر بحدِّ فعل اور بحدِّ قوّت کیسے کیسے انتہائی عظیم احسانات کئے ہوئے ہیں۔

۵۔ تسخیرِ ارض و سماء کے معنی یہ ہیں کہ کائنات و موجودات کی زندہ، باشعور اور مکمل کاپی انسان میں رکھی ہوئی ہے، اور اللہ کی اسی بے پایان رحمت ہی کی وضاحت یہ ہے کہ اس نےاپنی ظاہری و باطنی نعمتیں

 

۱۱۸

 

اہلِ ایمان پر تمام کر رکھی ہیں، اس کلّی بیان سے کوئی باطنی نعمت مستثنا نہیں، نہ باطنی ترقی، نہ روحانیّت، نہ باطنی عجائب و غرائب اور معجزات، نہ علمِ لدّنی، نہ حکمت، نہ تاویل، نہ اسرار، نہ معرفت، نہ فنا، نہ دیدارِ اقدس، اور نہ بہشت کی شناخت۔

۶۔ الغرض تمام باطنی نعمتیں جن کا حسین تذکرہ سورۂ رحمان میں بھی ہے، انسان ہی کے لئے پیدا کی گئی ہیں، ہر باطنی نعمت ایک آیت ہے، اور ہر آیت ایک دائمی باطنی معجزہ، کیونکہ خدا کی ہر چیز معجزہ ہے، اور معجزہ دکھانا دراصل خدا ہی کا کام ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ آیاتِ قرآن، آیاتِ آفاق، اور آیاتِ انفس سب کی سب اللہ تبارک و تعالیٰ کے بے مثال معجزات ہیں، انہی میں علم و معرفت کے درجات مقرر ہیں۔

۷۔ خطبۃ البیان میں حضرت امیرالمومنین علی علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا: اَنَا آیَاتُ اللہِ الْکُبْرٰی = میں اللہ تعالیِ کے عظیم معجزات ہوں۔ یعنی میرے عالم شخصی میں خدا کے تمام معجزات موجود ہیں، کیونکہ امام مبینؑ میں باطنی ارض و سما محدود و محصور ہوتا ہے، جس سے کوئی چیز باہر نہیں ہو سکتی، پس حضرتِ امامِ عالی مقامؑ کے نور میں باطنی معجزات کا مشاہدہ ہو جاتا ہے، جیسے حکیم پیر ناصر خسرو ق س نے اپنے پُرحکمت دیوان میں فرمایا:

برجانِ من چو نورِ امام الزّمان بتافت          لیل السّرار بودم شمس الضحیٰ شدم

 

۱۱۹

 

میں قبلاً قمری مہینے کی آخری رات کی طرح تاریک تھا، لیکن جب میرے باطن میں امامِ وقت کا نور طلوع ہوگیا تو اس سے میں آفتاب چاشت کی طرح تابان و درخشان ہو گیا۔

۸۔ امامِ عالی مقام صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہٗ کا نورِ پاک عظیم المرتبت پیروں، بزرگوں اور عالی ہمت مریدوں کے پاکیزہ باطن میں طلوع ہوتا رہا ہے، کیونکہ یہی وہ نورِ واحد ہے جو خداوندِ عالم اور پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی جانب سے تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے مقرر ہے، یہاں یہ ضروری نکتہ بھی یاد رہے کہ اسلام کی ہدایت دو قسم کی ہے، قسمِ اوّل کا تعلق لوگوں کے اختیار اور خوشی سے ہے، اور قسمِ دوم میں زبردستی کی ہدایت ہے، ان دونوں ہدایتوں کے نمونے زمانۂ نبوّت کی تاریخ میں موجود ہیں، چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے: ۔

وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (۰۳: ۸۳) اور حق تعالیٰ کے سامنے سر افگندہ ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں، خوشی سے اور بے اختیاری سے اور سب خدا ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

۹۔ ربّ العزّت کا ارشادِ گرامی ہے: يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ (۱۷: ۷۱) اس دن (کو یاد کرو) جب ہم اہلِ زمانہ کو ان کے امام (پیشوا) کے توسط سے بلائیں گے۔

اے برادران و خواہرانِ دینی! میرا خطاب آپ ہی سے ہے، میں کسی اور سے مخاطب نہیں کہ “نَدعُوْا” اس آیۂ کریمہ میں فعلِ

 

۱۲۰

 

مضارع ہے، آپ اس میں خوب غور کریں، تاہم آپ سب پر یہ سرِعظیم منکشف ہو چکا ہے کہ ہر امام کے زمانے میں ایک قیامتِ صغریٰ برپا ہو جاتی ہے، اس میں قیامتِ کبریٰ اس طرح لپیٹی ہوئی ہے جس طرح عالمِ صیغر میں عالمِ کبیر، بہر کیف نمائندہ قیامت اسلام کی زبردستی دعوت ہے تاکہ اہلِ زمانہ اس عظیم الشّان وسیلے سے بہشت میں داخل ہو سکیں۔

۱۰۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے علم کو عوام سے مخفی رکھا ہے (۲۰: ۱۵) تاکہ اللہ و رسولؐ کی طرف سے جو علم کا خزانہ دار ہے، اس سے رجوع کیا جائے، جب رجوع ہو جاتا ہے تو اس حال میں پہلے علم الیقین کا مرحلہ آتا ہے، پھر تمام شرائط کی تکمیل پر عین الیقین کا دروازہ کھل جاتا ہے، مگر روحانی انقلاب اس درجہ سے بہت آگے ہے، اور حق الیقین اس سے بھی بہت آگے ہے، تاہم منزلِ مقصود وہی ہے، اس لئے اگر اللہ نے چاہا تو “فَناَ فِی الْاِمَامْ” غیر ممکن نہیں، جس میں فنا فی الرسول بھی ہے اور فنا فی اللہ بھی، نیز مرتبۂ حق الیقین بھی یہی ہے، جس کا مقصد و منشا کنزِ اسرارِ ازل کا حصول ہی ہے۔

۱۱۔ آپ یہ بات بھول نہ جائیں کہ جو اصل تصوف ہے اس کے علم کا منبع و سرچشمہ بھی نورِ امامت ہی ہے، کیونکہ بمرتبۂ جانشینِ رسولؐ مولا علیؑ نے شریعت کے ساتھ ساتھ طریقت (تصوف)، حقیقت، اور معرفت کی تعلیمات کا آغاز کیا، چنانچہ فنا فی اللہ و بقا باللہ کے بارے میں اچھی طرح سوچنا ہوگا کہ جو عارفین و کاملین اس مرتبۂ آخرین پر فائز و نائل

 

۱۲۱

 

ہو جاتے ہیں ان میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ ان کو مومنین کیسے پہچان سکتے ہیں؟ اور وہ حضرات لوگوں کو کیا چیز دے سکتے ہیں؟

۱۲۔ تصوف کی دوسری بہت بڑی اصطلاح “سیر فی اللہ” ہے، یعنی خدا کی ہستی میں چلنا، جو سیرِ الی اللہ اور فنا فی اللہ کے بعد ہی ممکن ہے، جیسے حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہ نے ارشاد فرمایا ہے: ۔

کہا جاتا ہے کہ ہمارا و جود خدا میں ہے، ہم خدا ہی میں رہتے اور حرکت کرتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ حکیم میں اکثر یہی تصور ظاہر فرمایا گیا ہے، یقیناً ان الفاظ میں نہیں بلکہ بے حد خوبصورتی اور نہایت موزونیت کے ساتھ بیان ہے۔

۱۳ ۔ قرآنِ کریم کا پُرحکمت اشارہ ہے کہ علم الاسرار کا سب سے بڑا خزینہ مجمع البحرین کے مقام پر ہے، یعنی جہاں ید اللہ روحانی و علمی کائنات کو بار بار لپیٹتا اور پھیلاتا رہتا ہے، اور المثل الاعلیٰ (۳۰: ۲۷) کا مظاہرہ بڑی سرعت سے ہوتا رہتا ہے، جس کے سبب سے ازل و ابد کے امور یک جا ہو جاتے ہیں، اور لپیٹ کی وجہ سے تمام متضاد حقیقتیں ایک دوسرے کے انتہائی قریب آجاتی ہیں، ایسے میں مومنِ سالک کی ازلی پیدائش اور آخری رجوع (ابداع و انبعاث) ایک ساتھ ہو جاتا ہے، وہ جسماً دنیا میں اور مکان و زمان کی حدود میں ہوتا ہے، مگر روحاً آسمان بہشت، لامکان، اور لازمان میں ہوتا ہے۔ا َلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَنِّہٖ وَاِحْسَانِہٖ۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

اتوار ۱۰  ؍شوال المکرم  ۱۴۱۵ ھ    /  ۱۲؍مارچ  ۱۹۹۵ء

 

۱۲۲

 

حکمتِ جہادِ اکبر

 

۱۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: اَلْمُجَاھِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ ۔ بڑا مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے (جیسا کہ جہاد کا حق ہے) حضورِ اکرم صلعم نے اس سلسلے میں یہ بھی فرمایا: رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلیَ الْجِھَادِ الْاَکْبَرِ۔ اب ہم چھوٹے جہاد (یعنی کافروں کے ساتھ لڑنے) سے لوٹ کر بڑے جہاد کی طرف آئے (اب نفس سے جہاد کریں گے)۔

۲۔ اس تعلیمِ نبوّی سے یہ حقیقت اہلِ بصیرت کے سامنے روشن ہو جاتی ہے کہ نفس کے خلاف جنگ کرنے کا نام جہادِ اکبر اس معنیٰ میں ہے کہ وہ انتہائی ضروری امر ہے ، کیونکہ عالمِ شخصی کی سلطنت پر گویا دشمن کا قبضہ ہے جس کا سبب نفس کے سوا اور کون ہوسکتا ہے، جیسےرسولِ اکرمؐ کا ارشاد ہے: اَعْدٰی عَدُوِّکَ نَفْسُکَ الَّتِیْ بَیْنَ جَنْبَیْکَ۔ تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا وہ نفس ہے جو تیرے دو پہلوؤں کے درمیان ہے۔

۳۔ مولانا رومی کی مثنوی یقیناً قابلِ تعریف اور لائقِ تحسین ہے اسی لئے یہ بیت مشہور ہے:

 

۱۲۳

 

مثنویٔ مولویٔ معنوی           ہست قرآنِ در زبانِ پہلوی

رومی نے اپنی مثنوی کے دفترِ ششم میں حدیثِ “مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا” کے حوالے سے نفسانی موت کا ذکر فرمایا ہے، اس حدیث کی منظومہ تفسیر کے عنوان میں حکیم سنائی قدسِ سرہ کا یہ دلآویز شعر درج ہے:

بمیر اے دوست پیش از مرگ اگر می زندگی خواہی

کہ ادریس از چنین مردن بہشتی گشت پیش ازما

اے دوست! جسمانی موت سے پہلے (نفسانی طور پر ) مرجا، اگر تو زندگی چاہتا ہے، کیونکہ ادریسؑ اسی طرح مرنے سے ہم سے بہت پہلے بہشت میں جا چکا ہے۔

۴ ۔ اس مناسبت سے حضرتِ ادریس علیہ السّلام کا مختصر قصّہ یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنّتِ عالیہ کے مطابق عارفین و کاملین ہی کی طرح نفسانی موت کا عظیم معجزہ دکھایا، جس میں قیامتِ صغریٰ کا آغاز ہوتا ہے، پھر رفتہ رفتہ منازلِ روح سے مرتبۂ عقل پر بلند فرمایا (سورۂ مریم ۱۹: ۵۶ تا ۵۷) یہی مرتبہ حقائق و معارف کا جامع الجوامع ہے، بہ این وجہ اس کے بے شمار اسماء ہیں، یقیناً اسی مقام پر حضرت آدم علیہ السّلام کو علم الاسماء کی تعلیم دی گئی تھی، مگر یہاں یہ نکتہ خوب یاد رہے کہ مرتبۂ عقل پر مساواتِ رحمانی ہی ہے، اس لئے وہاں سب کے سب برابر ہیں۔

۵۔ خزائنِ قرآن کے جواہر کبھی ختم نہیں ہوتے، چنانچہ یہ ایک

 

۱۲۴

 

بہت بڑا علمی گوہر ہے، جس کی روشنی میں نفسانی موت ایک یقینی حقیقت ثابت ہو جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے بچھڑے کو معبود مان کر اپنے آپ پر شرک کا بہت بڑا ظلم کیا تو اس وقت سزا اور باری تعالیٰ کی طرف لوٹ جانے کےلئے ان پر نفس کشی لازم کی گئی، اور فَاقْتُلُوْ آاَنْفُسَکُم ( ۰۲: ۵۴) کے اصل معنی یہی ہیں، کیونکہ توبہ آدمی کا ذاتی عمل ہے، جس میں دوسرے کی تلوار کا کوئی دخل نہیں، نیز توبہ کے حقیقی معنی ہیں رجوع الی اللہ، یعنی مراحلِ روحانیت سے آگے چل کر اللہ تعالیٰ کے قربِ خاص کو حاصل کرنا، پس “فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ” میں بنی اسرائیل کی مثال کے حجاب میں خواص کو یہ حکم ہے کہ وہ اضطراری موت سے قبل اختیاری موت کے ثمرات سے فائدہ اٹھائیں۔

۶۔ بے جان چیزیں (جمادات) جب تک نباتات میں فنا نہ ہو جائیں تو ان کو روحِ نباتی نہیں ملتی ہے، جو نباتات حیوان کی غذا نہیں بنتیں، وہ حیوانی روح میں زندہ نہیں ہوسکتی ہیں، حیوان وہی خوش نصیب ہے جو انسان کی خوراک ہو کر انسان بن جاتا ہے اور آدمی وہی بڑا نیک بخت ہے جو حقیقی پیروی سے انسانِ کامل میں فنا ہو کر انسانِ کامل جیسا ہو جاتا ہے، یہ بیان اتنا روشن اور ایسا مدلّل ہے کہ اس کو کوئی شخص رد نہیں کرسکتا ہے۔

۷۔ آپ نے قانونِ فطرت کی مذکورۂ بالا مثالوں میں سوچا ہوگا کہ ہر فنا کے بعد ایک بقا اور ہر موت کے بعد ایک ولادت

 

۱۲۵

 

ہے، پس کوئی شخص ہرگز یہ نہ سمجھے کہ نفسانی موت برائے موت ہے اور بس، بلکہ یہ برائے پیدائشِ روحانی ہے، جیسے حکیم پیر ناصر خسرو ق س کے پرحکمت دیوان میں ہے: ۔

گرچت یکبار زادہ اند بیابی             عالم دیگر اگر دوبارہ بزائی

ترجمہ: اگرچہ تجھ کو (فی الحال) ایک بار جنم دیا گیا ہے (لیکن) تجھ کو ایک اور عالم ملے گا اگر تو دوبارہ پیدا ہو جائے۔ یعنی جب تجھے جسمانی ولادت سے یہ مادّی دنیا ملی ہے تو روحانی ولادت سے عالمِ شخصی کی سلطنت کیوں نہ ملے، یہ اسی زندگی کا امکانی معجزہ ہے، چنانچہ مثنوی میں ہے: ۔

زادۂ ثانی ست احمد درجہان            صد قیامت بود او اندر عیان

دنیا میں حضرتِ محمدؐ کی دوسری ولادت ہے، آپ صلعم کھلم کھلا سو۱۰۰ قیامتیں تھے۔ یعنی حضورِ اکرمؐ روحانی ولادت اور عقلی ولادت کی سب سے روشن اور سب سے عظیم مثال ہے۔

۸۔ چونکہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن  ……..، اس لئے ہمارا یہ یقین ہے کہ قرآنِ مجید میں جہاں جہاں جسمانی موت کا ذکر آیا ہے وہاں نفسانی موت کی حکمت بھی مذکور ہوئی ہے، اور کئی آیاتِ کریمہ میں جن شہیدوں کی تعریف فرمائی گئی ہے، وہ بھی ظاہری و باطنی دو قسم کے ہیں، اس حقیقت کی ایک مثال یہ ہے:۔

 

۱۲۶

 

أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكُّمْ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ  (۰۴: ۷۸) تم چاہے کہیں بھی ہو وہاں ہی تم کو موت آ دبا دے گی، اگرچہ تم مضبوط میناروں ہی میں ہو۔ اس کا ظاہری مطلب سب پر عیان ہے، لیکن باطنی حکمت مخفی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب قیامتِ صغریٰ کے لئے صور پھونکا جاتا ہے، اس وقت لوگ اپنے اجسام کی قبروں سے نکل کر روحانیّت کے مضبوط میناروں (ٹاورز) میں پناہ لیتے ہیں، لیکن پھر بھی نفسانی موت ان پر واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ ان کے حق میں بے حد مفید ہے، اور روحانیّت و عقلانیّت کے مضبوط مینار یہ ہیں: امامؑ ، باب، حجج، اور دعاۃ۔

۹۔ سورۂ لقمان کے آخر میں ارشاد ہے: وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ (۳۱: ۳۴) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ اس حکم کا زیادہ سے زیادہ تعلق نفسانی موت اور حشر سے ہے، کیونکہ کوئی آدمی یہ نہیں جانتا کہ اس کی نفسانی موت حدودِ جسمانی میں سے کس میں آئے گی۔

۱۰۔ اللہ تعالیٰ جس شخص کو نفسانی موت کے بعد زندہ کر کے ایک نور عطا کرتا ہے، وہ اس نور کے ذریعے سے عوالمِ شخصی میں چل پھر سکتا ہے، مگر اس معجزانہ عمل پر موجودہ زندگی میں حجاب ہے، وہ اپنے اس انتہائی عظیم کارنامے کو بہشت میں جاکر دیکھ لے گا (۰۶: ۲۲)۔

۱۱۔ جہاں ہادیٔ برحقؑ کا نورِ ہدایت ہے وہاں زندہ بہشت ہے، چنانچہ کسی مومن یا مومنہ کا باطن اس نور سے منور نہیں ہو سکتا جب تک

 

۱۲۷

 

کہ آنحضرت صلعم کے اس پُرحکمت ارشاد پر عمل نہ ہو، وہ یہ ہے: ۔

تَخَلَّقُوْ ا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ۔ تم اللہ کی صفات سے متصف ہو جاؤ۔ کیونکہ حدیثِ قدسی میں یہ بھی ہے کہ اللہ اپنے ہر خاص بندے کا کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں ہو جاتا ہے، اور یہ اشارہ ہے کہ دوستانِ خدا فنا فی اللہ ہو کر تَخَلَّقُوْ ا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کے مصداق بن جاتے ہیں، اور اس میں کیا شک ہو سکتا ہے، کہ جبکہ نورانی بہشت میں کوئی مرتبہ غیر ممکن نہیں ، اور ربّ العزّت وہ خزانۂ ازل ہے جس کو ہر عارف معرفت کے درجۂ کمال پر حاصل کرکے اپنا سکتا ہے، اور یہ اس کی لامحدود عنایت و نوازش ہے۔

۱۲۔ جسمانی پیدائش اور جزوی موت و حیات طویل سلسلے سے قطع نظر ایک مکمل انسان اپنے باطن میں دو مرتبہ مرکر دو مرتبہ زندہ ہو جاتا ہے، یعنی نفسانی طور پر مر جانے کے بعد روحانیّت میں زندہ ہو جاتا ہے، پھر روحانی طور پر مر کر عقلانیّت میں زندہ ہو جاتا ہے، اسی باطنی عروج و ارتقاء کے بارے میں حضرت عیسیٰؑ کا یہ ارشاد مشہور ہے: ۔

لَنْ یَلِجَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ مَنْ لَمْ یُوْ لَدْ مَرَّتَیْنِ۔ جو شخص دو دفعہ پیدا نہ ہو جائے وہ ہرگز آسمانوں کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔

۱۳۔ ظاہری جہاد میں مومن یا تو غازی ہوسکتا ہے یا شہید، لیکن روحانی جہاد بڑا عجیب معجزہ ہے کہ اس میں جو شہید ہے وہی غازی بھی ہے، اس کی وجہ اور عظیم حکمت یہ ہے: وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (۰۳: ۱۶۹)

 

۱۲۸

 

اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے ربّ کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔ اس آیۂ کریمہ میں شہادت کے دونوں درجوں کا ذکر فرمایا گیا ہے:

۱۔ شہدائے ظاہر کی نشانی یہ ہے کہ وہ جسماً مرجاتے ہیں، مگر روحاً زندۂ جاوید ہو جاتے ہیں۔

۲۔ شہدائے باطن کی یہ علامت ہے کہ وہ نفساً مر کر فنا فی اللہ کا درجہ رکھتے ہیں، اس لئے ان کے پاس اعلیٰ رزق یعنی علم ہوتا ہے۔  عِنْدَ رَبِّھِمْ کا مطلب فنا فی اللہ ہے، کیونکہ عالمِ وحدت میں دوئی ٹھہر نہیں سکتی، جیسے ذرۂ آہن مقناطیس سے یا تو دور رہ سکتا ہے یا مل کر، مگر انتہائی قریب ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ سُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی،    ہفتہ ۱۶؍ شوال المکرم  ۱۴۱۵ ھ    /  ۱۸؍ مارچ  ۱۹۹۵ء

 

۱۲۹

 

حکمتی سوال و جواب

 

سوال۔ ۱: سورۂ ہود (۱۱: ۰۷) میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: (ترجمہ) اور وہ تو وہی (قادرِ مطلق) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ آپ اس آیۂ کریمہ کی تاویلی حکمت بیان کریں۔

جواب: (الف) اللہ تعالیٰ نے عالمِ دین کے باطنی آسمانوں اور زمین کو چھ ناطقوں کے ادوارِ کبیر میں پیدا کیا اور پھر اس کا عرش یعنی مرتبۂ حضرتِ قائم علیہ السّلام ساتویں دور میں بحرِ علوم پر اپنا کام کرنے لگا۔ (ب) خدائے بزرگ و برتر نے عالمِ شخصی کے آسمانوں اور زمین کو چھ ادوارِ صغیر میں مکمل کر دیا، اور بعد ازان اس کا عرش یعنی نورِ قائم القیامت بحرالعلوم پر مساواتِ رحمانی کے امور کو انجام دیتا رہا۔

سوال۔ ۲: سورۂ طٰہٰ (۲۰: ۰۵) میں ارشاد ہے: الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى۔ اس کے کیا معنی ہیں؟ اور اس میں کیا راز ہے؟

جواب: جاننا چاہئے کہ عرش فرشتۂ عقلِ کلّ کی صورت میں حضرتِ قائم علیہ السّلام کا نور ہی ہے، جس پر اللہ تبارک و تعالیٰ

 

۱۳۰

 

اپنی صفتِ رحمانیّت کی تجلّی ڈالتا ہے، تاکہ ہر عارف اپنے عالمِ شخصی ہی میں کُنْتُ کَنْزاً کے عظیم اسرار کو حاصل کر سکے۔

سوال ۔ ۳: اس حدیثِ شریف کی تاویلی حکمت بتائیں: خلق اللہَ اٰدم علیٰ صورتہٖ ۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی (رحمانی) صورت پر پیدا کیا۔ یہ حدیث کس آیت کی تفسیر کر رہی ہے؟

جواب: ہر پیغمبر اور ہر امام آدم کی طرح نفسِ واحدہ کہلاتا ہے اور سب کے حق میں سنتِ الٰہی کا عمل ایک جیسا ہوا کرتا ہے، پس آدم ہو یا اور کوئی انسانِ کامل جب وہ فانی فی اللہ و باقی باللہ ہو جاتا ہے تو اس وقت رحمانی صورت پر اس کی عقلی تخلیق ہوتی ہے، اور یہی مرتبت عقلی ولادت بھی ہے، اس  سرِعظیم سے متعلق خاص آیۂ کریمہ سورۂ رحمان (۵۵: ۲۶ تا ۲۷) میں ہے، اس پرحکمت آیت کا ایک مفہوم یہ ہے: عالمِ شخصی میں جتنے بھی نفوس ہیں وہ سب کے سب شخصِ کامل میں جذب و فنا ہو جاتے ہیں، اور وہ عالمِ شخصی کا آدم چہرۂ ربّ کے نور میں فنا ہو کر صورتِ رحمان ہو جاتا ہے۔

سوال۔ ۴: حدیثِ شریف میں یہ بھی ہے کہ: اہلِ ایمان اپنے باپ آدم کی صورت (یعنی رحمانی صورت) پر بہشت میں داخل ہو جائیں گے، یہ کس طرح ممکن ہے، جبکہ آدمؑ مسجودِ ملائک اور خلیفۃ اللہ ہیں؟

جواب: اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو غیر ممکن ہو، جو کچھ

 

۱۳۱

 

حدیثِ صحیحہ میں ارشاد ہوا ہے وہ حق اور حقیقت ہے، پس صراطِ مستقیم دنیا کی کسی جرنیلی سڑک کا نام ہے نہیں، یہ تو انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کی راہِ روحانیت ہی ہے، جو روحانی اور عقلانی عجائب و غرائب اور عظیم معجزات سے بھرا ہوا راستہ ہے، جس کی منزلِ مقصود فنا فی اللہ و بقا باللہ ہے، ظاہر ہے کہ ایسے میں ہر مومنِ سالک چہرۂ خدا کا عکس ہو جائے گا، کیونکہ فنا دیدارِ اقدس کے زیرِ اثر ہے۔

سوال۔ ۵: سورۂ کہف (۱۸: ۸۲) میں ہے: اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے، اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا، اس لئے تمہارے ربّ نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ آپ عالمِ شخصی کی تاویل کی روشنی میں بتائیں کہ وہ دیوار کیا ہے؟ یہ دونوں یتیم لڑکے کون ہیں؟ اور اس خزانے میں کس نوعیت کا مال ہے؟

جواب: یہ دیوار وہی ہے جو ظاہر و باطن کے درمیان بنائی گئی ہے (۵۷: ۱۳) تاکہ خزانۂ اسرارِ باطن اغیار سے محفوظ رہے، دو یتیم لڑکے سالک کی عقل و جان ہیں، اس مثال کے مطابق سالک خود نفسانی جہاد میں شہید بھی ہوچکا ہے اور زندہ بھی ہے، اور اس کے دونوں بچے بالغ ہو کر یعنی عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ سے رجوع ہو کر اپنے خزانۂ علم و معرفت کو حاصل کریں گے۔

سوال ۔ ۶: حضرتِ مولا علی صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہٗ نے ارشاد

 

۱۳۲

 

فرمایا: اَنَا ذَالِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہِ ۔ میں وہ کتاب ہوں جس میں کسی قسم کا شک و ریب نہیں ہے۔ ایسے میں کتابِ ناطق کی ظاہری خصوصی اور باطنی نورانی ہدایت متقین کے لئے مقرر ہو گی، پھر یہاں یہ سوال ہے کہ اس قرآنِ ناطق یا نورِ امامت کی نسبت سے متقین کون ہیں؟ اور ان کے کیا کیا اوصاف ہیں؟

جواب: متقین سے اساس (علیؑ) کے حجج مراد ہیں اور حجت کی تعریف یہ ہے:

از دلِ حجّت بحضرت رَہ بُوَد          او بتائیدِ دلش آگہ بُوَد

ترجمہ: حجّت کے دل سے حضرتِ امامؑ تک (باطنی) راستہ ہوا کرتا ہے، اور وہ (امامؑ) اپنے حجّت کے دل میں تائید پہنچانے کے لئے آگاہ ہے۔

ان متقین کے اوصاف و کمالات یہ ہیں: روحانیّت و عقلانیّت غیب ہے، وہ عین الیقین سے دیکھتے ہوئے اس پر ایمان رکھتے ہیں، نماز یعنی دعوتِ حق کا فریضہ انجام دیتے ہیں، رزق یعنی علمِ لدّنی جو اللہ کے حضور سے عطا ہوا ہے اسی سے لوگوں کو فیض بخشتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو آنحضرتؐ کی کتاب (قرآن) اور اگلی کتابوں پر ظاہراً و باطناً ایمان رکھتے ہیں، چونکہ یہ نفسانی طور پر مر چکے ہیں اور ان کو روزِ قیامت کا مشاہدہ ہوا ہے لہٰذا یہ لوگ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں، اور یہ ساری برکات قرآنِ ناطق کی ہیں، یہی لوگ اپنے ربّ کی طرف سے روشن ہدایت پر ہیں، اور یہی

 

۱۳۳

 

لوگ کلّی طور پر کامیاب ہیں۔

سوال ۔ ۷: حدیثِ شریف میں ہے: اِذَ ا وُضِعَ الْمَیِّتُ فِی الْقَبْرِ اَتَاَ ہُ مَلَکَانِ مُنُکَرٌ وَّ نَکِیْرٌ۔ جب میّت قبر میں اتار دی جاتی ہے، تو اس کے پاس منکر و نکیر دو فرشتے آتے ہیں۔ آیا اس میں کوئی تاویل ہے؟

جواب: جی ہاں، اس میں تاویل ہے، اور وہ یوں ہے کہ جب سالک منزلِ عزرائیلی میں نفسانی طور پر مر جاتا ہے تو اس وقت اس کو اپنے جسم کی زندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور ان دونوں فرشتوں کے کئی اچھے نام بھی ہیں، چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ دوستانِ خدا کے حق میں منکر اور نکیر دوست فرشتوں میں سے ہو جاتے ہیں۔

چونکہ سالک (انسانِ کامل) کی مذکورہ موت نمائندہ قیامت کے سلسلے میں ہے، اس لئے اہلِ زمانہ بھی اس میں شریک ہوتے ہیں، مگر غیر شعوری طور پر، اور ان کے نمائدہ ذرّات کی قبریں بھی شخصِ کامل ہی میں ہوا کرتی ہیں، لہٰذا مذکورہ بالا حدیث کا اطلاق سب پر ہوتا ہے، پس ظاہری قبر مثال ہے اور روحانی قبر اس کی حقیقت، قیامتِ صغریٰ کے علاوہ جب بھی کوئی آدمی مر جاتا ہے تو اس کی روح عالمِ شخصی کی زندہ قبر میں دفنائی جاتی ہے۔

سوال۔ ۸: لغات الحدیث میں ہے: القلوب اربعۃ ۔ دل چارطرح کے ہیں (ایک تو وہ دل جس میں ایمان اور نفاق دونوں ہوتے ہیں، دوسرا منکوس یعنی مشرک کا دل، تیسرا مطبوع یعنی منافق کا دل، چوتھا

 

۱۳۴

 

روشن اور صاف، وہ مومن کا دل ہے، جو روشن چراغ کی طرح ہوتا ہے)۔ کیا آپ کوئی ایسی قرآنی آیت بتاسکتے ہیں جس سے مذکورہ حقیقت مزید روشن ہو جائے؟

جواب: ان شاء اللہ، آیۂ کریمہ کی نشاندہی کی جاسکتی ہے، وہ سورۂ انفال (۰۸: ۲۴) میں ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کی دعوت کو مان لو جب کہ رسولؐ تم کو حیات بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں اور اس بات کا علم حاصل کرو کہ اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔

اس آیۂ شریفہ میں اسمِ اعظم سے ملنے والی حیاتِ طیبہ اور روحانی علم کی دعوت دی گئی ہے تاکہ خاص مومنین عین الیقین سے دیکھ سکیں کہ کس طرح حق تعالیٰ کا نور ان کے آئینۂ دل میں جلوہ نما ہو رہا ہے۔

سوال ۔ ۹: قرآنِ حکیم میں قیامت کے بہت سے اسماء آئے ہیں، ہر اسم حکمت سے مملو ہونے کی وجہ سے اپنے اندر ایک مضمون لئے ہوئے ہے،  چنانچہ قیامت کا ایک بڑا شاندار نام ہے: یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ  (۸۶: ۰۹) جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی۔ اس کی کیا وضاحت ہو سکتی ہے؟

جواب: ہمارے حساب کا ہزار سالہ دور خدا کے نزدیک ایک دن شمار ہوتا ہے (۲۲: ۴۷) پس قرآنِ پاک میں جگہ جگہ روزِ قیامت کے عنوان سے دورِ قیامت کا ذکر آیا ہے، جو دورِ تاویل کہلاتا ہے، جس میں لوگوں سے اسرارِ معرفت اور رموزِ حکمت کی آزمائش ہے، اور

 

۱۳۵

 

وہ یہی زمانہ ہے، ظاہری سائنس کی جیسی شاندار ترقی ہوئی ہے، وہ بھی زبانِ حال سے کہہ رہی ہے کہ دیکھو باطن میں روحانی علم کا جدید طوفان آیا ہے۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

منگل ۶ ۲ ؍شوال المکرم ۱۴۱۵ ھ    /  ۲۸؍ مارچ  ۱۹۹۵ء

 

۱۳۶

 

قرآن میں محنت و سبقت کا حکم

 

۱۔ جلدی کرو:

وَسَارِعُوْآ (۰۳: ۱۳۳) اور جلدی کرو اپنے ربّ کی بخشش اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جیسی ہے۔ یہاں آیۂ شریفہ میں صیغۂ امر”سَارِعُوْا” ہے، جس کا ترجمہ علمائے کرام نے اس طرح کیا ہے: جلدی کرو، تیزی سے دوڑو، دوڑ کر چلو، دوڑ پڑو، وغیرہ، بہ ہرکیف مطلب ایک ہی ہے، وہ یہ کہ اہلِ ایمان علم و عمل کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کے لئے سخت محنت اور جانفشانی سے کام لیں، وہ تمام دینی فرائض کو درست اور ٹھیک وقت پر انجام دیں، غفلت و سستی کو دل میں نہ آنے دیں، ہمہ وقت خدا کو یاد کرتے رہیں، نیّت، قول اور عمل میں اخلاص و پاکیزگی کا جوہر پیدا کریں، اور ہمیشہ خوفِ خدا کی حکمت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے رہیں۔

۲۔ آگے بڑھو / سبقت کرو:

سَابِقُوْآ (۵۷: ۲۱) دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے

 

۱۳۷

 

کی کوشش کرو، اپنے ربّ کی مغفرت اور اس کی جنّت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے۔ قرآنِ حکیم کا ہر حکم ایسی بےمثال جامعیّت کا حامل ہے کہ اس کے آئینۂ معنویت میں دیگر تمام احکام کے چہرے بھی نظر آتے ہیں، اس نظام کے ساتھ ساتھ سبقت کا یہ حکم براہِ راست بھی ہمہ گیر قسم کا ہے کہ اس کا اطلاق جملہ نیات، اقوال، اور اعمال پر ہوتا ہے، یعنی اس میں مجموعی اعمال کی قدرو قیمت کی بناء پر سبقت کرنے کا امر ہے۔

۳۔ خدا ہی کی طرف بھاگو:

فَفِرُّ وْآاِلَی اللہِ: (۵۱: ۵۰) تو خدا ہی کی طرف بھاگو۔ (الف) تاکہ نفس اور شیطان کے خطرات سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ گاہ میں داخل ہو سکو (ب) تاکہ تمہاری کوشش کے مطابق درجات مرتب ہوسکیں (ج) اور تم میں سے جو لوگ کلی سبقت لے جائیں ان کو بہشت بنا دیا جائے، پس دوڑنے کے حکم میں ایسے اشارے پوشیدہ ہیں جن کے سمجھنے میں حکمت اور خیر کا فائدہ ہے۔

۴۔ سات شدید آسمان:

سَبْعاً شِّدادًا ( ۷۸: ۱۲) اور ہم نے تمہارے اوپر سات شدید آسمان بنائے (اور ہم ہی نے روشن چراغ بنایا۔  ۷۸: ۱۳) یعنی عالمِ شخصی کے سات آسمان جو صاحبانِ ہفت ادوار کے روحانی مراتب

 

۱۳۸

 

ہیں، ان سے گزر کر روشن چراغ (نورِعقل) تک رسا ہو جانا سالک کے لئے انتہائی شدید مشکل سفر ہے، تاہم وہ اللہ کی عنایت سے صاحبِ عرش میں فنا ہو سکتا ہے۔

۵۔ تم تو بغیر قوّت اور غلبہ کے نکل ہی نہیں سکتے:

لاَ تَنفُذُونَ إِلاَّ بِسُلْطَانٍ (۵۵: ۳۳) اے گروہِ جنّ و انس! اگر تم میں قدرت ہے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل سکو تو نکل جاؤ (مگر) تم تو بغیر قوّت اور غلبہ کے نکل ہی نہیں سکتے۔ حضرتِ آدم، حضرتِ نوح، حضرتِ ابراہیم، حضرتِ موسیٰ ، حضرت عیسیٰ ، حضرت محمد، اور حضرتِ قائم علیہم السّلام عالمِ دین اور عالمِ شخصی کے سات آسمان اور ان کے حجج سات زمین ہیں ( وَمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَھُنَّ ۔ ۶۵: ۱۲) یہی مراتب چودہ طبق ہیں، ان سے ہوتے ہوئے اوپر جا کر عالمِ وحدت میں فنا ہو جانا جنّ و انس کے لئے انتہائی مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ یہاں سلطان سے روحانی تائید کا غلبہ مراد ہے، جس کے بغیر چودہ طبق سے گزر کر عالمِ وحدت میں فنا ہو جانا محال ہے۔

۶۔ تم درجہ بدرجہ ( رتبۂ اعلیٰ پر) چڑھو گے:

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ (۸۴: ۱۹) سو قسم کھاتا ہوں شام کی سرخی کی، اور رات کی اور جو کچھ وہ ڈھانک لیتی ہے، اور چاند کی جب پورا ہو جائے کہ تم درجہ بدرجہ ( رتبۂ اعلیٰ پر) چڑھو گے۔ یعنی تم کو رجوع الی اللہ کے لئے

 

۱۳۹

 

چودہ طبق سے اوپر چڑھنا ہے۔

۷۔ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے:

لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي كَبَدٍ(۹۰: ۰۴)  مجھے اس شہر (مکہ) کی قسم اور تم تو اسی شہر میں رہتے ہو اور باپ اور اس کی اولاد کی قسم کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے۔ اس شہر سے اساس مراد ہے، جس میں نورِ ناطق منتقل ہونے والا تھا، اور وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ   (۹۰: ۰۲) (اور تم اس شہر میں اترنے والے ہو) کا یہی مطلب ہے، اور اساس کی قسم کے بعد باپ اور اولاد کی قسم ہے، جو عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ ہیں، اس کے بعد جوابِ قسم کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی روحانی تخلیق و تکمیل اس کی اپنی محنت و ریاضت کی متقاضی ہے، جس کے سوا روحانی ترقی ممکن نہیں۔

۸۔ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے:

وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعَى ( ۵۳: ۳۹) اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے، اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائیگی، پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور یہ کہ تمہارے پروردگار کے پاس پہنچنا ہے۔ اس ربّانی تعلیم میں انسانی کوشش کی اہمیّت اور قدر و قیمت ظاہر کی گئی ہے، معلوم ہے کہ کوشش اور محنت جسمانی، روحانی اور عقلی قوّتوں سے سخت کام لینے کا نام ہے، تاہم نورانی ہدایت

 

۱۴۰

 

ہر حال میں ضروری ہے۔

۹۔ انسان سرعت سے پیدا کیا گیا ہے:

خُلِقَ الإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (۲۱: ۳۷) انسان سرعت سے پیدا کیا گیا ہے ( یعنی دارالابداع میں اس کی تخلیق امرِ کُنۡ سے ہوئی ہے) اگر عالمِ جسمانی میں سرعت کا کوئی چھوٹا سا کرشمہ دیکھنا ہے تو محنت سے ذکرِ سریع کا تجربہ کریں،          ۱۔ یہ قانونِ فطرت ہے         ۲۔ یہ خدا کی طرف دوڑنا ہے         ۳۔ یہ جہادِ اکبر ہے     ۴۔ یہ اسپِ مجاہد کی دوڑ ہے (۱۰۰: ۰۱)            ۵۔ یہ بجلی گھر کی طرح ہے                   ۶۔ یہ ہوائی جہاز کے انجن کی طرح ہے          ۷۔ یہ کائناتی بھٹی کی مثال ہے، یعنی سورج کی طرح ہے۔

۱۰۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو:

فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ  (۱۸: ۹۵) آپ سورۂ کہف ( ۱۸: ۸۳ تا ۹۹) میں قصّۂ ذوالقرنین کو پڑھیں، یہ دراصل امام عالی مقامؑ ہی کا روحانی تذکرہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی یہ بڑی عجیب و غریب حکمت بھی سن لیجئے کہ یاجوج و ماجوج روحانی ذرّات کا عظیم لشکر ہے، جو عالمِ شخصی کی فنا برائے بقا کے لئے مقرر ہے، تاہم قبل از وقت فساد سے ان کو روکنا بھی ضروری ہے، جس کے لئے باطنی مدد خدا کے حکم سے امامؑ کرتا ہے اور ظاہری محنت مومنین کرتے ہیں۔

 

۱۴۱

 

۱۱۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو:

اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (۳۳: ۴۱) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو، وہ وہی تو ہے جو خود تم پر دورد بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تم کو (جہالت کی) تاریکیوں سے نکال کر (علم کی) روشنی میں لے آئے اور خدا مومنین پر بڑا مہربان ہے۔

اگر خداوندِ قدوس کا ذکر (یاد) کثرت، سرعت، محبت اورعشق سے ہے تو ان شاء اللہ ایسے اہلِ ایمان کو درودِ الٰہی کی روشنی اور سبقت نصیب ہوگی، آسمانی درود میں دو عظیم نعمتیں ہوا کرتی ہیں، وہ رحمت اور علم ہے۔

۱۲۔ انکے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے:

كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمْ الإِيمَانَ (۵۸: ۲۲) ان کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے، اور اپنی ایک خاص روح سے ان کی مدد کی ہے۔ اگر اس پوری آیۂ کریمہ کو نورِ معرفت کی روشنی میں دیکھا جائے تو کئی اسرارِ باطن منکشف ہو سکتے ہیں، چونکہ یہ سورۂ مجادلہ کی آخری ایت ہے، لہٰذا اس میں بکھرے ہوئے جواہر کا خزانہ جمع کیا گیا ہے، جس میں میری چھوٹی سی عقل کے مطابق بارہ مقفل صندوق رکھے ہوئے ہیں جو عقل و

 

۱۴۲

 

دانش اور علم و حکمت کے گونا گون جواہر سے مملو ہیں، اور وہ ان ناموں سے ہیں: ۔

۱۔ خدا، رسولؐ، اور امام کی دوستی ۲۔ خدا نے لکھا                  ۳۔ قلوب        ۴۔ ایمان         ۵۔ تائید                   ۶۔ روحِ خاص یا تائیدی روح                   ۷۔ جنّات        ۸۔ بہشت کی نہریں    ۹۔ خلود                   ۱۰۔ اللہ کی خوشنودی          ۱۱۔ اہلِ جنّت کی خوشنودی            ۱۲ ۔ حزبُ اللہ (خدا کا گروہ)۔

مثالی سوال: اللہ جلّ جلالہٗ نے اپنے دوستوں کے دلوں میں کس قلم سے ایمان لکھ دیا؟ کس عالم میں؟ کس مقام پر؟ کب یہ فعل واقع ہوا؟ کس نے اس کا مشاہدہ کیا؟ اللہ کی یہ تحریر کس نوعیّت کی ہوتی ہے؟

جواب: خداوندِ عالم نے قلمِ عقل سے ایمان لکھ دیا، عالمِ شخصی میں، مقامِ عقل پر یہ کام ہوا، جب عارف مرتبۂ عقل پر پہنچ گیا، ہر عارف اس سرِ عظیم کا مشاہدہ کرتا ہے، یہ تحریر روحانی، عقلی، اور اشارتی قسم کی ہوا کرتی ہے۔

 

ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

پیر ۲؍ ذی قعدہ   ۱۴۱۵ ھ    /  ۳؍ اپریل  ۱۹۹۵ء

 

۱۴۳