حکمتِ تسمیہ اور اسمائے اہلِ بیت

فرمانِ مبارک

بذریعۂ رادیو، بنامِ جماعۂ ہونزہ و گلگت

بمبئی ۱۰ مارچ ۱۹۴۰ء

تمام جماعۂ شمالی سرحداتِ ہندوستان مثلاً چترال، ہونزہ، گلگت، و بدخشان تمام دوستداران و مخلصان رابد عائے خیر یاد میکنم، یقین دارید کہ نورِ محبت و لطفِ من برسائرِ جماعۂ ہونزہ مثلِ خورشید خواہد رسید۔ مرد و زن، صغیر و کبیر برنا و پیر ھمہ فرزندانِ روحانیٔ من ہستید، ہرگز ازشما فراموش نیستم و نخواہم کردہم در دنیا و ہم در آخرت۔

بہ آموختنِ علمِ فرزندانِ خود سعی نمائید و دانستنِ زبانہائے یورپ و زبانِ انگلیسی جہد کنید، اطاعتِ حاکمِ وقت کنید، برکوچکان و زیر دستان مہربان شوید۔

 

ارشاد از حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ

 

۱

 

ترجمہ

 

فرمانِ مبارک بذریعۂ ریڈیو بنامِ جماعتِ ہونزہ و گلگت

بمبئی ۱۰ مارچ ۱۹۴۰ء

شمالی سرحداتِ ہندوستان کی تمام جماعتوں مثلاً چترال، ہونزہ، گلگت، اور بدخشان کے تمام دوستداروں اور اخلاص مندوں کو نیک دعا میں یاد کرتا ہوں، یقین رکھو کہ میری محبت و عنایت کا نور ہونزہ کی پوری جماعت پر سورج کی طرح طلوع ہوجائے گا۔

مرد، عورت، چھوٹے، بڑے، جوان اور بوڑھے سب میرے روحانی فرزند ہیں، میں تم کو ہر گز فراموش نہیں کرتا، اور نہ کبھی فراموش کروں گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

اپنی اولاد کو علم سکھانے کے لئے کوشش کرتے رہنا، یورپ کی زبانیں اور انگلش سیکھنے کے لئے کوشان رہنا، اپنے وقت کے حاکم کے حکم کو ماننا، چھوٹوں اور ماتحتوں پر مہربان ہوجانا۔

ارشاد از حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ

 

۲

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

دیباچہ

 

زیرِ نظر کتابچہ حضرت علامہ نصیرالدین نصیرؔ ہونزائی صاحب کی پُرحکمت کتابوں میں سے ہے۔ اگرچہ ضخامت کے اعتبار سے مختصر ہی سہی لیکن عِلمی برتری کے اعتبار سے جتنا اہم ہے، اس کا اندازہ پڑھنے والے حضرات خود ہی کریں گے۔ أئمّۂ ھُدا علیھم السّلام کے اسمائے مبارک کی تعریف و توصیف کے اعتبار سے اس کتابچہ کا عنوان “حکمتِ تسمیہ اور اسمائے اہلِ بیتؑ” رکھا گیا ہے جو صوری و معنوی خوبیوں کا ایک بہترین مرقع اور آئینہ ہے۔ صوری لحاظ سے اس لئے کہ اس عنوان کے ذریعے اہلِ بیتِ اطہار صلوات اللہ علیھم کے اسمائے عظام کے معنی اور حکمتِ تسمیہ یعنی نام رکھنے سے متعلق بنیادی باتوں کو واضح کیا گیا ہے اور معنوی طور پر اس لئے کہ أئمّۂ پاک علیھم الصلوۃ والسّلام کے اسمائے مقدّسہ میں پوشیدہ علم و معرفت کے خزانوں کو حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

 

۳

 

چنانچہ اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ جاننا از بس ضروری ہےکہ دینِ حق میں اہلِ بیتِ اطہار علیھم السّلام انتہائی پاکیزگی، تقدّس، روحانیت اور نورانیت کے مالک ہیں، قرآن و حدیث میں جا بجا ان کی عظمت و بزرگی اور بشری کمالات کی شہادتیں ملتی ہیں اور یہ پاک و نورانی ہستیاں حضرت محمدؐ، حضرت علیؑ، حضرت فاطمۃ الزہراؑ، حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ ہیں، جن کے پاک و پاکیزہ گھر میں قرآن نازل ہوا اور جن کی برکت سے دنیا میں اسلام کی روشنی پھیل گئی۔

 

اہلِ بیت کے اس تصوّر میں عجیب طرح کی حکمت ہے، وہ یہ کہ پیغمبرِ اکرمؐ کے دو گھر تھے، ایک ظاہری و جسمانی اور دوسرا باطنی و روحانی، رسولِ خدا صلعم کے خانۂ ظاہر میں وہ سب افراد حاضر تھے، جو ظاہری لحاظ سے اہلِ خانہ تھے، مگر خانۂ روحانیت و نورانیت میں سب سے پہلے وہ حضرات موجود و حاضر ہوا کرتے ہیں جن کو خدائے بزرگ و برتر ہر طرح سے برگزیدہ فرماتا ہے، لہٰذا بحقیقت اہلِ بیت پنجتن پاک اور ان کی نسل سے أئمّہؑ ہیں۔

بالفاظِ دیگر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیغمبرؑ و امامؑ خانۂ روحانیت ہے جس کا اشارہ قرآنِ حکیم میں بیت یا بیوت کے عنوان سے کیا گیا ہے، یہی وہ حرمت والا گھر ہے جس میں نورِ خدا کا چراغ روشن ہے اور جو عظیم فرشتوں اور مقدّس روحوں کے لئے خانۂ خدا اور عبادت گاہ ہے۔

جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کا گھر زندہ ہے اسی طرح اس کے اسمائے

 

۴

 

مبارکہ بھی زندہ و گویندہ ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ انبیاء و أئمّۂ علیھم السّلام ہی ربّ العزّت کے زندہ و گویندہ اسماء ہیں۔ جس طرح کسی کا نام اس کی شخصیّت کی پہچان ہوا کرتا ہے، اسی طرح انبیاء و أئمّۂؑ جو خدا کے زندہ نام ہیں، خدا تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہیں۔

پس اسمائے اہلِ بیت روحانیت میں نورِ علم و حکمت کے سرچشموں کی حیثیت سے ہیں، جو اسرارِ خداوندی کے جواہر سے مملو اور ایقان و عرفان کی دولت سے بھرپور ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسم اپنی ہمہ گیر و ہمہ رس معنویّت اور جامعیّت کی وجہ سے ایک مکمل صحیفۂ آسمانی کی طرح ہے۔

کتابچۂ ہٰذا میں محترم علامہ بزرگوار نے نہ صرف ان اسماء کی لفظی تحلیل کی ہے بلکہ ان میں پوشیدہ باطنی حکمتوں کو بھی بڑے حسن و خوبی کے ساتھ بیان فرمایا ہے، جن کی چند مثالیں درجِ ذیل ہیں:

حضرت مولا مرتضیٰ علیؑ کے نام کی تشریح کرتے ہوئے موصوف اس طرح رقم طراز ہیں:

“علی کے معنی ہیں بلند، شریف، بلند مرتبہ، بلند قدر، “علی” کا یہ بابرکت نام خدا تعالیٰ کے اسمائے صفاتی میں سے ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں (انبیاء و أئمۂؑ) کو اپنی صورتِ رحمانی پر پیدا کرتا ہے، اپنا کوئی نام دیتا ہے، اپنازندہ اسمِ اعظم قرار دیتا ہے، اپنی

 

۵

 

مقدّس روح ان میں پھونک دیتا ہے اور اپنی خلافت سے ان کو سرفراز فرماتا ہے، پس یہ حقیقت ہے کہ محمدؐ و علیؑ کے پاک نام خدا کی طرف سے عطا ہوئے ہیں”۔

چونکہ مولا علیؑ امامت کا عنوان ہیں یعنی تمام أئمّہ مولاعلیؑ میں جمع ہیں اس لئے اس پاک نام کی باطنی حکمتوں کا اطلاق ہر امام پر ہوتا ہے۔ حضرت امام محمد مہدی علیہ السّلام جو خلافتِ فاطمیہ کے بانی بھی تھے، کے مبارک اسم کی تشریح میں بزرگوار نے اس طرح قلم رانی کی ہے:

“مہدی: ہدایت یافتہ، وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ حق کی طرف رہنمائی کرے، امامِ عالی قدرؑ کے اس نامِ مبارک کا عنوان ہدایت ہے، اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہر امامِ برحق سب سے پہلے مہدی (ہدایت یافتہ) ہے، اور اس کے بعد ہادی (رہنما) ہے، اگرچہ تمام حضراتِ أئمّۂ طاہرینؑ باطنی طور پر نور کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں تاہم خدائی پروگرام کے مطابق بعض اماموں کے زمانے میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوجاتے ہیں جیسے حضرت امام محمد مہدیؑ کے زمانے میں ہوا تھا”۔

 

سلسلۂ نورِ امامت میں اڑتالیسویں امام کا دور ظاہری و مادّی لحاظ سے، سائنس و تکنالوجی کی ترقی اور باطنی اعتبار سے، روحانی و عرفانی انقلاب کا دور تھا۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر موصوف نے “سلطان محمد شاہ” کے اسم کی تشریح میں اس طرح خامہ آرائی کی ہے:

 

۶

 

“اس عظیم الشّان اور بابرکت نام میں سلطنتِ محمدیؐ کے معنی موجود ہیں، اور یقیناً حضرتِ مولانا سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی بیمثال شخصیّت روحانی بادشاہی کی مالک تھی، ویسے تو ہر امام اپنے وقت میں روحانی بادشاہ ہوا کرتا ہے، مگر خدا کے عظیم پروگرام کے مطابق تمام زمانے ایک جیسے نہیں ہوتے، چنانچہ حضرتِ امام سلطان محمد شاہ علیہ السّلام کا زمانہ بڑا اہم اور بہت خاص بلکہ سب سے عظیم تھا، کیونکہ قرآنی تاویل کی زبان میں آپؑ کی ذاتِ عالی صفات شبِ قدر تھی، جس میں تمام عالمِ امر کے فرشتوں اور روحِ اعظم اور دیگر ارواح کا نزول ہوتا ہے۔”

 

أئمّۂ طاہرین علیھم السّلام کے نام جہاں صوری لحاظ سے عقیدہ کے باعث مومنین کے لئے بے حد پسندیدہ ہوا کرتے ہیں وہاں ان ناموں کی بوقلمونی میں پوشیدہ رموز ان کے لئے خدا کے زندہ اسمِ اعظم کی معرفت کے گونا گون ذہنی و عقلی دروازے کھول دیتے ہیں، پس اسمائے اہلِ بیتؑ کی حکمت پر مسلسل غور و فکر ایک مومنِ عاقل کے لئے صبحِ روحانی کی نویدِ جانفزا لاسکتی ہے۔

 

مزید برآن ہر وہ مومن، جس نے عقیدت کی بناء پر اپنی اولاد کا نام انبیاء و أئمّۂ علیھم السّلام کے نام پر رکھا ہے یا رکھنا چاہتا ہے وہ ان اسماء میں پوشیدہ باطنی معنوں کو کما حقہٗ جان کر، اپنی اولاد کو انبیاء و أئمّہؑ کے پیچھے

 

۷

 

پیچھے صراطِ مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے، اپنی عقیدت کو ایک مضبوط علمی بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔

 

علمی خدمت گزار

یاسمین حبیب

یکم نومبر، ۱۹۸۹ ء

 

۸

 

حکمتِ تسمیہ۱ اور اسمائے اہلِ بیتؑ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ بندۂ عاجز و ناتوان، غلامِ غلامانِ امامِ زمانؑ، خاکِ پائے دوستان اس خاص موضوع کی صورت میں اپنے چند عظیم المرتبت، علم پرور اور دانشمند دوستوں کی اس تحریری فرمائش کی تعمیل کے لئے سعی کرتا ہے، جس میں انھوں نے ازراہِ علم گستری اہلِ بیتِ اطہار صلوات اللہ علیھم کے اسمائے مبارک کے معنی اور حکمتِ تسمیہ بیان کرنے کے لئے فرمایا تھا، چنانچہ بڑی انکساری سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے تسمیہ یعنی نام رکھنے سے متعلق کچھ بنیادی باتوں کا تذکرہ ضروری ہے، جو درجِ ذیل ہیں:

۱۔ اکثر دفعہ روایت یا دستور یا مذہبی عقیدہ کے بموجب لوگ

 

۱: تسمیہ: نام رکھنا

 

۹

 

اپنی اولاد کا نام کسی دینی یا خاندانی بزرگ یا کسی مشہور و معروف شخصیت کے نام پر رکھتے ہیں، اور اس عمل کا مقصد و منشا یہ ہوتا ہے کہ شاید بحکمِ خدا ان کی اولاد اسم با مسمیٰ ہوجائے۔

۲۔ اگر اتفاقاً کسی بڑی ہستی کا نام لغوی اعتبار سے عام یعنی معمولی نوعیت کا ہے، تو پھر بھی اصولی طور پر شخصیت کی خوبیوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بڑے شوق سے ایسے نام کا انتخاب کرلیتے ہیں، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا با برکت نام ہے، کہ لفظِ “موسیٰ” اگرچہ ظاہراً اپنی اصل (یعنی قبطی زبان) میں عام معنی رکھتا ہے، جیسے “مو” بمعنیٰ پانی، اور “سا” درخت ہے، یعنی “موسیٰ” کامطلب ہے درخت کے نیچے پانی سے لیا گیا، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ حصولِ برکت کی نیّت سے اس عظیم الشّان پیغمبر یعنی موسیٰؑ کے نام پر رکھا جاتا ہے، کیونکہ اس مثال میں نام کے لفظی معنی پر شخصیّت کی خصوصیات اور خوبیاں غالب آگئی ہیں۔

۳۔ اس سلسلے میں ایک رواج یہ بھی ہے کہ نومولود کے لئے کوئی ایسا نیا یا پرانا نام منتخب کیا جائے، جس کے معنی میں بچے یا بچی سے کوئی اچھی صفت منسوب ہوجائے، جیسے “شیر دل” اور “آفتاب بانو”۔

۴۔ بعض اوقات بچے کا نام زمان و مکان اور دیگر واقعات کی مناسبت سے رکھا جاتا ہے، جیسے نوروز علی، گلشن، حج بی بی

 

۱۰

 

وغیرہ، تاہم سب سے عمدہ بات تو یہ ہے کہ مومنین اپنے بچوں کے نام اہلِ بیت علیھم السّلام کے مبارک ناموں پر رکھیں، اور ہاں لڑکیوں کے ناموں کے لئے البتہ اجازت ہے کہ ستاروں، جواہر، اور پھولوں جیسی دلکش چیزوں میں سے کسی نام کو پسند کریں۔

 

اگرچہ ظاہر میں حضراتِ انبیاء و أئمّۂ علیھم السّلام کے اسمائے گرامی میں بھی یہی اصول کار فرما نظر آتا ہے، لیکن خدا تعالیٰ کے مقرب بندوں کی حیثیت سے ان حضرات کے مبارک ناموں میں علم و معرفت کے بڑے بڑے اسرار پوشیدہ ہیں، سو عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کے نام میں بھی ایک خاص تاویل سما دی ہو، کیونکہ علمِ تاویل اپنی لطافت و سازگاری کی قوّت میں پانی کی طرح ہے، اور الفاظ مختلف شکل کے ظروف جیسے ہیں، چنانچہ تاویل کا پانی ہر لفظ کے ظرف میں حسبِ شکل و صورت ہمیشہ سے موجود ہوا کرتا ہے، اب ہم اس تمہید کے بعد اصل موضوع کی طرف لوٹ آتے ہیں:

 

محمدؐ:

اس لفظ کا مادّہ ح م د ہے، محمد کے معنی ہیں نہایت تعریف کیا گیا، سراہا گیا، قرآنِ پاک میں لفظ محمدؐ چار دفعہ آیا ہے، اور احمدؐ ایک بار مذکور ہے، ویسے تو جملہ قرآن رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعریف و توصیف سے بھرا ہوا ہے، مصرع: “قرآن تمام وصفِ کمالِ محمدؐ است”۔

 

۱۱

 

قرآن کلی حیثیت میں کمالِ محمدی کی تعریف ہے، لیکن یہاں صرف اسمِ “محمدؐ ” کے معنی مقصود ہیں، لہٰذا یہ کہنا مناسب ہے کہ اس لفظ کا براہِ راست تعلق “مقامِ محمود” سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (۱۷: ۷۹)

بعید نہیں کہ تمھارا پروردگار تمھیں مقامِ محمود پر فائز کردے۔ یعنی تمھارا انبعاث مقامِ محمود پر ہوگا، جو کلمۂ باری اور سرچشمۂ عقل ہے، جو تعریف کیا گیا اور سراہا گیا ہے۔

 

محمدؐ کی عددی تاویل علیؑ ہے، وہ اس طرح: محمد = م (۴۰) + ح (۸) + م (۴۰) + د (۴) = ۹۲ = ۲ + ۹ = ۱۱ = ۱ + ۱ = ۲: جواب، علی= ع (۷۰) + ل (۳۰) + ی (۱۰) = ۱۱۰ = ۰ + ۱ + ۱ = ۲: جواب، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ محمدؐ کا جملِ اصغر ۲ ہے، جس سے علیؑ مراد ہے، کیونکہ علیؑ کا جملِ اصغر بھی ۲ ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد و علی صلوات اللہ علیھما نورِ واحد ہیں، اس لئے کہ نور ہمیشہ ایک ہی ہوا کرتا ہے، وہی ایک نور ہمہ رس، ہمہ گیر اور کافی ہے، اور دو نور کے تصوّر سے کمالِ نور کی نفی ہوجاتی ہے۔

مصطفیٰؐ:

اس کا مادّہ ص ف و ہے، اور اس کے معنی ہیں چنا ہوا، انتخاب کیا ہوا، برگزیدہ، پسندیدہ، مقبول، اور یہ آنحضرتؐ کا لقبِ مبارک ہے۔

 

علیؑ :

مادّہ ع ل و ہے،معنی ہیں بلند، شریف، بلند مرتبہ، بلند قدر، “علیؑ” کا یہ بابرکت نام خدا تعالیٰ کے اسمائے صفاتی میں

 

۱۲

 

سے ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک اپنے برگزیدہ بندوں (انبیاء و أئمّہ) کو اپنی صورتِ رحمانی پر پیدا کرتا ہے، اپنا کوئی نام دیتا ہے، اپنا زندہ اسمِ اعظم قرار دیتا ہے، اپنی مقدّس روح ان میں پھونک دیتا ہے، اور اپنی خلافت سے ان کو سرفراز فرماتا ہے، پس یہ حقیقت ہے کہ محمدؐ اور علیؑ کے پاک نام خدا کی طرف سے عطا ہوئے ہیں، کیونکہ یہ اس کا ایک اٹل فیصلہ تھا کہ نورِ علم و ہدایت ہمیشہ کے لئے آلِ ابراہیمؑ سے وابستہ رہے گا (۰۴: ۵۴)۔

 

مرتضیٰؑ:

مادّہ ر ض ی ہے، اس کے معنی ہیں پسندیدہ، برگزیدہ، مقبول، چنا ہوا، منتخب، یہ مولاعلیؑ کا لقب ہے، جو خدا و رسولؐ کے منشا کے مطابق ہے۔

 

فاطمہؑ:

مادّہ ف ط م ہے، فاطمہ کے لغوی معنی ہیں وہ عورت جس نے مقررہ وقت پر بچے کا دودھ چھڑایا ہو، مگر جنابِ سیدہ سلام اللہ علیھا کا یہ پاکیزہ نام فاطمہ بنتِ اسد کے نامِ گرامی پر رکھا گیا ہے، اور اس میں لفظی معنی کی بجائے فاطمہ بنتِ اسد زوجۂ حضرت ابوطالبؑ کی شخصی خصوصیات ملحوظِ نظر ہیں، آپ اسد کی بیٹی، حضرت ہاشمؑ کی پوتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی پھوپھی تھیں، آپ میں کیا کیا خوبیاں تھیں اور آنحضرتؐ کی کفالت کے سلسلے میں کتنی محبّت و دلسوزی سے دیکھ بھال کی ہے، اس کا اندازہ متعلقہ تاریخ سے ہوسکتا ہے۔

 

۱۳

 

زہراؑ:

مادّہ ز ہ ر ہے، معنی ہیں درخشان، چمکیلا، روشن، تابان، زَہَرَ کہتے ہیں چراغ یا چاند یا چہرے کے چمکنے اور روشن ہونے کو، ازہر بھی یہی معنی رکھتا ہے، مگر وہ مذکر کے لئے بولا جاتا ہے، اسی مادّہ سے ایک دوسرا لفظ زُہْرَہْ ہے، جو حسن و جمال کے معنی میں مستعمل ہے، یہی زُہۡرَہ ایک ستارہ ہے، جس کو بعض قدیم لوگوں نے حسن و جمال کی دیوی مانا، غرض یہ ہے کہ فاطمۂ زہرا صلوات اللہ علیھا کی پاک و پاکیزہ ذات میں وہ تمام خوبیاں اور کمالات موجود تھے، جو خواتینِ جنّت کی ایک سردار خاتون میں ہونے چاہئیں، آپؑ عقلی، روحانی اور جسمانی طور پر بدرجۂ انتہا پاک و پاکیزہ تھیں، کیونکہ خداوندِ عالم نے آیۂ تطہیر میں اہلِ بیتِ رسولؐ کی کامل و مکمل طہارت و پاکیزگی کی ضمانت دی ہے (۳۳: ۳۳) اس دنیا میں مادّی چیزوں کی پاکیزگی کئی طرح سے ہوتی ہے، مگر سب سے اعلیٰ پاکیزگی سورج کی شعاعوں سے اور دوسرے درجے کی صفائی پانی سے ہوتی ہے، جب پانی سمندر تک پہنچتے پہنچتے آلودہ ہوجاتا ہے تو سورج اسے لطیف و پاک بناکر اٹھا لیتا ہے اور پاک پانی (۲۵: ۴۸) کی حیثیت میں دوبارہ برسا دیتا ہے، اس مثال سے یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ اہلِ بیتؑ کی پاکیزگی نور کی بارش سے ہوا کرتی ہے، جو سب سے اعلیٰ درجے کی پاکیزگی ہے۔

 

۱۴

 

حَسَنْؑ:

مادّہ ح س ن ہے، ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز، خوبصورت، جمیل، ارشادِ نبوّی ہے کہ : اَلْحَسَنُ والحسین اِماما حقٍّ قاما أو قَعَداوابوھُما خیرٌ منھما = حسن اور حسین دونوں برحق امام ہیں خواہ وہ کھڑے ہوجائیں یا بیٹھ جائیں، اور ان کے والد دونوں سے بہتر ہیں۔ یعنی حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ خواہ دعوت کریں یا نہ کریں امامِ مستودع اور امامِ مستقر ہیں، اور ان کے والد ان سے افضل ہیں اس لئے کہ وہ اساس ہیں۔

 

امام برحق کا نام جہاں علیؑ ہے، وہاں نورِ خدا کی بلندی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، اور جب یہ نور حَسَنؑ کے روپ میں ہے تو تب اس کے باطنی حسن و جمال کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے، حضرت یوسفؑ امامِ مستودع تھا، جس کو خدائے علیم و حکیم نے نورِ امامت کے روحانی جمال و جلال کی مثال بناکر پیش کیا ہے، تاکہ اہلِ ایمان میں حقیقی عشق کا غلبہ پیدا ہو۔

 

حُسَیْنْؑ:

مادّہ ح س ن ہے،اس کے معنی وہی ہیں جو لفظ حَسَنْ کے ہیں، مگر اس میں صرف لفظی فرق اتنا ہے کہ یہ اسمِ مصغّر ہے، جو پیار کی وجہ سے ہے، اس پُرحکمت نام سے اشارہ ملتا ہے کہ کچھ لوگ آلِ نبیؐ اولادِ علیؑ کو حقیر سمجھیں گے اور کچھ لوگ ان سے محبت کریں گے، کیونکہ اسمِ تصغیر کے یہی دو پہلو ہوا کرتے ہیں۔

 

۱۵

 

زین العابدینؑ:

مادّہ زی ن اور ع ب د ہے،آپؑ کا اصل نام علیؑ تھا، اور زین العابدین لقب، اس کے معنی ہیں عبادت گزاروں کی زینت، امامِ عالیمقامؑ کے اس مبارک لقب سے خدائے واحد کی عبادت کی اہمیت اجاگر ہوجاتی ہے، ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ عبادت کی روح تصوّرِ امامت میں ہے، کیونکہ امامِ زمانؑ ہی معرفت کا دروازہ ہوا کرتا ہے، اور معرفت عبادت کی جان ہے، قرآن میں لفظ “زین” نورِ ایمان کے لئے آیا ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے: وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ (۴۹: ۰۷) مگر خدا نے تمھیں ایمان محبوب کردیا اور اس کو تمہارے دلوں میں مزّین و منّور کر دکھایا۔

 

محمد باقرؑ:

اس کا مادّہ ہے ب ق ر،بَقَرَہ (ن) بَقْراً=پھاڑنا، کھولنا، وسیع کرنا، تَبقّرَ الرّجلُ =کسی کا وسیع العلم یا کثیر المال ہونا، انہی اصل الفاظ کے مطابق باقر کے معنی ہیں علومِ مخفی اور اسرارِ باطن کا کھولنے والا، اسی سبب سے آپؑ “باقر العلوم” کہلاتے تھے، مختصر یہ کہ آپؑ کے نام اور کام کی مثال سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ نورِ امامت ہمیشہ باطنی اور عرفانی حکمتوں کو ظاہر کرتا رہتا ہے۔

 

جعفر الصادقؑ:

مادّہ ج ع ف اور ص د ق ہے، جعفر کے معنی ہیں دریا، ندی، اور صادق

 

۱۶

 

سچ بولنے والے کو کہتے ہیں، اس مبارک نام سے یہ حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے کہ امامِ اقدس و اطہرؑ  حقیقی علم کا دریائے روان ہوا کرتا ہے، ہر امام اپنے زمانے کا “الصادق” ہوتا ہے، اور تمام حضراتِ أئمّہ “صادقین” کہلاتے ہیں، چنانچہ تمام زمانوں کے لوگوں سے فرمایا گیا: يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ   (۰۹: ۱۱۹)۔اے اہلِ ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ یعنی اپنے امامِ وقتؑ کے ساتھ منسلک ہوکر رہو، تاکہ تم کو حقائق و معارف کے خزائن سے مالا مال کردیا جائے۔ آپ اگر چاہیں تو یہاں خوب غور کرسکتے ہیں کہ ایک طرف سب ایمان والے ہیں، جن کو حقیقی ایمان اور تقویٰ سے کام لے کر صادقین کے ساتھ ہوجانا چاہئے، دوسری جانب صادقین ہیں، جو ایمان، تقویٰ اور صدق کے درجۂ کمال پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔

 

اسماعیلؑ:

یہ لفظ عبرانی میں “شماع ایل” ہے، شماع (سماع)سننا اور ایل (اللہ) لفظی معنی خدا کا سننا، امامِ برحقؑ کا یہ بابرکت نام حضرتِ ابراہیمؑ کے فرزندِ ارجمند حضرتِ اسماعیلؑ کے نام پر ہے، اس پر حکمت نام میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ سلسلۂ امامت آلِ ابراہیمؑ اور آلِ محمدؐ ہے، نیز اس سے ظاہری اور باطنی قربانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

 

محمد بن اسماعیلؑ:

امامِ پاکؑ کا یہ مبارک نام پیغمبرِ اسلامؐ کے اسمِ گرامی پر ہے، تاکہ أئمّۂ آلِ محمدؐ

 

۱۷

 

کی نورانی اور خاندانی نسبت لوگوں پر واضح رہے، خداوندِ عالم نے اپنے محبوب پیغمبرِ اسلامؐ کو الکوثر (۱۰۸: ۰۱) یعنی مردِ کثیر ذریّہ عطا فرمایا ہے، اور وہ یقیناً مولاعلیؑ ہے، تاکہ رسول اللہؐ کے پیارے دین (اسلام) کا نظامِ ہدایت ہمیشہ کے لئے قائم رہے، چنانچہ امیرالمومنین علیؑ کی ذاتِ عالی صفات میں کوثر کے جملہ معانی مخفی تھے، کوثر کے دوسرے معنی حکمت ہیں، جس میں خیرِ کثیر ہے (۰۲: ۲۶۹) اور اس کے تیسرے معنی حوضِ کوثر ہیں، اور یہ سب حقیقتیں نورِ امامت میں پوشیدہ ہیں، حوضِ کوثر کی تاویل مرتبۂ قیامت ہے، جس کا مالک ہر امامِ ہفتم ہوا کرتا ہے، چنانچہ حضرت امام محمد بن اسماعیلؑ سات سات اماموں کے چھوٹے چھوٹے ادوار کے سلسلے میں پہلا صاحبِ قیامت تھا، یہی وجہ ہے کہ آپؑ میں نورِامامت غیر معمولی طور پر منتقل ہوا تھا۔

 

وفی احمدؑ:

مادّہ و ف ی اور ح م د، وفی: کامل، بہت وفا کرنے والا، حق دینے والا اور حق لینے والا، احمدؐ: بڑا سراہا ہوا، محمود، بہت تعریف کیا گیا، یہاں “احمدؐ” آنحضرتؐ کا پاک اسم ہے، چنانچہ “وفی احمدؐ” کے معنی ہیں آنحضرتؐ کی جانب سے حق دینے والا اور حق لینے والا، اور بہت وفا کرنے والا، اس متبرک نام سے یہ حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے کہ امامِ برحقؑ خدا و رسولؐ کی جانب سے ہوا کرتا ہے، یاد رہے کہ وفی کی صفت

 

۱۸

 

“وفا” بہت بڑی ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ جیسے جلیل القدر پیغمبرؑ کے تمام ظاہری اور باطنی کارناموں اور علم و معرفت کی تعریف اسی ایک لفظ سے فرمائی ہے، وہ ارشاد یہ ہے: وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ (۵۳: ۳۷) اور ابراہیم کے (صحیفوں میں) جنھوں نے پورا (وفا) کیا۔

 

تقی محمدؑ:

مادّہ و ق ی، تقی:صاحبِ تقویٰ، متقی، پرہیزگار، خدا ترس، باتقویٰ، یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نورِ امامت ہمیشہ سے ایک ہی ہے، صرف اس کے اسم و جسم کے ظہورات مختلف ہوا کرتے ہیں، لہٰذا درحقیقت ایک امام کے نام میں جو معنوی اشارے ہیں، وہ سب اماموں سے متعلق ہیں، جیسے تقی محمدؑ (محمدؐ کا متقی) اگرچہ ایک امام کا اسمِ مبارک ہے، لیکن اس لفظ کے معنی تمام أئمّہ علیھم السّلام میں مشترک ہیں، نیز یہاں یہ بھی یاد رہے کہ تقویٰ جس کی قرآن اور اسلام میں بہت بڑی اہمیّت ہے، وہ امامِ عالیمقامؑ کی ذاتِ بابرکات سے وابستہ ہے۔

 

رضی عبداللہؑ:

مادّہ ر ض ی اور ع ب د، رضی عبداللہ: وہ بندۂ خدا جو خوشنود یعنی راضی ہے، امام علیہ السّلام کے اس پاکیزہ نام کا موضوع رضا اور رضوان اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے، کیونکہ دینِ اسلام میں خداوند کی رضا سب سے بڑی چیز ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خاصانِ الٰہی ہر عبادت

 

۱۹

 

و اطاعت نہ تو دوزخ کے خوف سے کرتے ہیں اور نہ ہی بہشت کے شوق سے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کرنے کے لئے بجا لاتے ہیں، نیز وہ ہر حال میں راضی برضائے الٰہی رہتے ہیں، چنانچہ قرآنِ حکیم کہتا ہے کہ: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَه ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ (۰۲: ۲۰۷) اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان بیچ دیتا ہے اور خدا تعالیٰ ایسے بندوں پر بڑا ہی شفقت کرنے والا ہے۔ اس آیۂ کریمہ کے خاص و عام دو پہلو ہیں، اس کا خاص پہلو یہ کہ یہ امیر المومنین علی علیہ السّلام کی شان میں ہے، اور عام پہلو یہ ہے کہ اس میں سب کے لئے ہدایت ہے، تاکہ سمجھ لیا جائے کہ خدا کی خوشنودی کی خاطر بڑی سےبڑی قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔

 

محمد مہدیؑ:

مادّہ ھ د ی، مہدی: ہدایت یافتہ، وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ حق کی طرف رہنمائی کرے، امامِ عالیقدرؑ کے اس نامِ مبارک کا عنوان ہدایت ہے، اور اس کی وضاحت یہ ہے، کہ ہر امامِ برحقؑ سب سے پہلے مہدی (ہدایت یافتہ) ہے، اور اس کے بعد ہادی (رہنما) ہے، اگرچہ تمام حضراتِ أئمّۂ طاہرینؑ باطنی نور کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں، تاہم خدائی پروگرام کے مطابق بعض اماموں کے زمانے میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوجاتے ہیں، جیسے حضرت امام محمد مہدیؑ کے زمانے میں ہوا تھا۔

 

۲۰

 

قائم بامراللہؑ:

مادّہ ق و م اور ام ر،قائم بامراللہ: وہ شخص جو بحکمِ خدا کارِ دین کے لئے کھڑا ہوا ہو، ولیٔ امر، صاحبِ اختیار جو امام علیہ السّلام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ (۰۳: ۱۸) خدا نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام فرشتوں نے اور صاحبانِ علم (انبیاء و اولیاء) نے جو عدل پر قائم ہیں (یہی شہادت دی ہے)۔ اس آیۂ مقدّسہ میں شہادتِ توحید کے بارے میں خدا اور فرشتوں کے بعد جن حضرات کا ذکر فرمایا گیا ہے، وہ انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام ہیں، جو علم والے ہیں اور اپنے اپنے وقت میں عدل پر قائم ہیں، چنانچہ حضرت امام قائم بامراللہ علیہ السّلام خدا کے حکم سے روحانی علم و عدل کے لئے استادہ تھا، اور ہر امام ایسا ہے۔

 

نورِ خدا کا چراغ ہمیشہ کے لئے روشن ہے، وہ کبھی نہیں بجھتا، اس کا مطلب یہ ہے کہ علم و ہدایت کا یہ چراغ ایک پاک سلسلے میں قائم ہے،وہ سلسلہ دورِ نبوّت میں انبیائے کرامؑ پر اور دورِامامت میں أئمّۂ طاہرینؑ پر مبنی ہے، اور اسی پاک و پاکیزہ سلسلے کے مقدّس اشخاص اولوالعلم ہیں جو عدل پر قائم ہیں، اس کے برعکس اگر ایک زمانے میں علم و عدل کے کئی ذرائع ایک ساتھ موجود ہوتے اور دوسرے زمانے میں کوئی وسیلہ نہ ہوتا، تو اس صورت میں خدا کا علم تمام زمانوں پر محیط نہ ہوتا، اور اس کے

 

۲۱

 

عدل میں نقص پیدا ہوجاتا، مگر یہ بات نہیں۔

 

منصور باللہؑ:

مادّہ ن ص ر، منصور باللہ: وہ شخص جس کو خدا سے مدد مل گئی ہو، امامِ برحقؑ اپنے اس بابرکت نام کے معنوی اشارے سے یہ فرماتا ہے کہ ہر زمانے کے امام کو خداوند تعالیٰ سے مدد ملتی رہتی ہے، یہاں لفظ “مدد” کی وضاحت ضروری ہے، کیونکہ یہ کم سے کم بھی ہے اور زیادہ سے زیادہ بھی، لہٰذا ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ امامِ عالی مقام صلوات اللہ علیہ کو خدائے برتر و بے نیاز سے جو مدد ملی ہے وہ انتہائی عظیم ہے، اور وہ یہ کہ امامِ اقدس و اطہر میں خدا کا نور ہے، اور نور میں سب کچھ ہے۔

 

معزالدین اللہ:

مادّہ ع زز اور دی ن،معزالدین اللہ: وہ شخص جو خدا کے دین کو عزّت و تقوّیت دے، امامِ آلِ محمد علیہ السّلام کا یہ اسمِ گرامی عزّت کا موضوع بنا ہے، اور اس میں کسی مومن کو کیا شک ہوسکتا ہے، جبکہ ساری عزّت خدا و رسولؐ اور أئمّۂ طاہرینؑ کے لئے ہے، جیسا کہ فرمایا گیا ہے: وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ  (۶۳: ۰۸) حالانکہ (اصلی) عزّت خدا کی اور اس کے رسول کی اور مومنین (یعنی أئمّہّ) کی ہے، مگر منافق (اس بات سے) واقف نہیں۔ یہ نکتہ قرآنی حکمت کے اصولات میں سے ہے، کہ قرآن میں جہاں جہاں بطرزِ تعریف مومنین کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، وہاں اس تعریف

 

۲۲

 

کا مقصودِ اصلی حضراتِ أئمّہ ہوا کرتے ہیں، کیونکہ ایمان کے درجۂ کمال پر وہی صاحبان ہوتے ہیں، غرض یہ کہ دین کا ایک باطن ہے اور ایک ظاہر، دین کے باطن کو خدا نے امام سے وابستہ کرکے رکھا ہے، اور دین کے ظاہر کو لوگوں پر چھوڑ دیا، تاکہ فردائے قیامت ان سے پوچھا جائے۔

 

عزیزباللہؑ:

مادّہ ع ز ز، عزیز باللہ: وہ شخص جس کو خدا نے عزّت اور غلبہ عطا کردیا ہو، حضرت امام عزیزباللہ کے اس شاہانہ نام کے ساتھ ساتھ ایک درویشانہ نام بھی تھا، اور وہ “نزار” تھا، جو فارسی لفظ ہے، جس کے معنی عاجز و ناتوان ہیں، یہ نام سب سے پہلے حضرت مولانا امام قائم بامراللہؑ کی ذات سے متعلق نظر آتا ہے، امامِ حق کے ایسے دو متضاد ناموں کی حکمت یہ کہتی ہے کہ یقیناً ہمیشہ امامِ عالی مقامؑ کی مبارک ہستی کے دو پہلو ہوا کرتے ہیں، ایک نورانیّت اور دوسرا جسمانیّت، نور بیشک عزیز (غالب) اور محیط ہے، اور جسم نور کے بغیر عاجز و ناتوان ہے، چنانچہ جو لوگ امام کی نورانیّت کو سمجھتے ہیں، جیسا کہ سمجھنے کا حق ہے، تو ان کو جسمانیّت کا قانون کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، او رجو لوگ امام کی جسمانیّت و بشریت میں محدود ہوجاتے ہیں، تو وہ شکوک و شبہات کے طوفان میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔

 

امامِ عالی وقار کے ایسے نام میں یہ حکمت بھی ہے کہ اگرچہ مومن کو ہر وقت عاجز ہی رہنا ہے، تاہم کامیابی کے وقت اس کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تاکہ دل میں فخر کا کوئی دخل نہ ہو، اور شرطِ ادب کے

 

۲۳

 

ساتھ شکر گزاری ادا ہوسکے۔

 

حاکم بامراللہؑ:

مادّہ ح ک م،حاکم بامراللہ: خدا کے امر سے حکم اور فیصلہ کرنے والا، خدا کے امر سے حکومت کرنے والا، اس مقام پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ کہنے کو تو بہت سے لوگ کہا کرتے ہیں کہ وہ جو حکم یا فیصلہ کردیا کرتے ہیں خدا کے امر سے کرتے ہیں لیکن اس سیّارۂ زمین پر صرف امامؑ ہی ایک ایسا حاکم ہے، جو بحقیقت خدا اور رسولؐ کے امر و منشا کے مطابق فیصلہ کیا کرتا ہے، اور بس، چنانچہ ارشاد فرمایاگیا ہے: اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللّٰهُ (۰۴: ۱۰۵) اے پیغمبر! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو کچھ (روحانیّت میں) اللہ نے تمھیں دکھایا ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔  بِمَآ اَرٰىكَ اللّٰه (جوکچھ اللہ نے تمھیں دکھایا ہے) کا اشارہ قرآن کی روح اور روحانیّت کی طرف ہے، جو صرف پیغمبرؐ اور امامؑ کے لئے خاص ہے، لہٰذا خدا کے امر سے معلمِ قرآن اور فیصلہ کرنے والا امام ہی ہے۔

 

ظاہرؑ:

مادّہ ظ ہ ر، ظاہر: آشکار، مددگار، غالب، حضرت امام علیہ السّلام کا یہ حکمت آگین نام ان معنوں کے ساتھ دینِ خدا کی عزّت و تقویّت کے لئے تھا، اہلِ دانش جانتے ہیں کہ “الظاہر” خدا کے اسمائے صفاتی میں سے ہے، چنانچہ

 

۲۴

 

اگر کوئی شخص امامِ برحقؑ کو اللہ کا وہ نور مانتا ہے جو اس کی طرف سے دنیا میں ہدایت کے لئے مقرر ہے، تو پھر اس کے معنی یہ ہوئے کہ امامِ عالیمقامؑ خدا کا وہ نام ہے جیسے “النور” کہا جاتا ہے، اور اگر یہ صحیح ہے تو یہ بھی درست ہے کہ امامِ برحقؑ اللہ کا اسمِ صفت “الظاہر” ہے، کیونکہ نور اور ظاہر کا مطلب ایک ہی ہے۔

مستنصر باللہؑ:

مادّہ ن ص ر، مستنصر باللہؑ: خدا سے مدد چاہنے والا، مستنصر بامراللہؑ: اللہ کے امر سے مدد چاہنے والا، پاک و پاکیزہ امام علیہ السّلام کا یہ نام جو ہر طرح کی برکتوں سے پر ہے “تائید” کا عنوان ہے، اللہ تعالےٰ سے مدد چاہنے کے عام و خاص بہت سے مختلف درجات ہیں، یہاں تک کہ ایک ایسا مقام بھی آتا ہے، جہاں تائید پہلے ہی سے موجود ہے اور وہ خود بخود کام کرتی ہے، اور ایسا مقامِ عالی حضرت امام اقدس و اطہرؑ کا نور اور نورانیّت ہے۔

 

نزارؑ:

یہ لفظ فارسی ہے،اور اس کے معنی ہیں ناتوان، کمزور، عاجز، حضرت مولانا امام نزار صلوات اللہ علیہ کے اس بابرکت اور حکمت آگین نام سے ہدایت کی یہ روشنی ملتی ہے کہ بندۂ مومن کو عجز و انکساری کا شیوہ اختیار کرلینا چاہئے، کیونکہ صلاح و فلاح کی جملہ حکمتیں اسی میں پوشیدہ ہیں، مثال کے طور پر:

۱۔ جہاں دعا عبادت کا مغز ہے، وہاں اظہارِ عاجزی دعا کا ایک

 

۲۵

 

اہم عنصر ہے۔

۲۔ غرور سب سے بڑا اخلاقی اور روحانی روگ ہے اور اس کی پیش بندی صرف عجز و انکساری ہی سے ہوسکتی ہے۔

۳۔ توبہ روحانی طہارت (پاکیزگی) ہے، مگر اس کی جان عاجزی ہے۔

۴۔ نفس بڑا قوّی دشمن ہے اور اس کو صرف عاجزی ہی سے شکست دی جاسکتی ہے۔

۵۔ اگر کوئی چیز مومن کو فنائے نورانیت کے قریب لے جاسکتی ہے تو وہ عاجزی ہے وغیرہ۔

 

ہادیؑ:

مادّہ ہ د ی، ہادی: ہدایت کرنے والا، راہنما، رہبر، پیشوا، امام، حضرت مولانا امام ہادی علیہ السّلام کا مبارک نام نورِ امامت کے بڑے اہم اسماء میں سے ہے، کیونکہ ہدایت جو ہادیٔ برحقؑ  کی صفت ہے، وہ قرآن اور اسلام کا سب سے وسیع موضوع ہے، اس لئے کہ ہدایت علم بھی ہے اور نور بھی، یہ قول بھی ہے اور فعل بھی، یہ ظاہر میں بھی ہے اور باطن میں بھی، یہ چھوٹے درجات پر بھی ہے اور بڑے درجات پر بھی، اس میں خدا کی نمائندگی بھی ہے اور رسولؐ کی نمائندگی بھی۔

 

مہتدی  ؑ:

مادہ ہ د ی، مہتدی  ؑ: ہدایت پانے والا، ہدایت شدہ، ہدایت حاصل کردہ، حضرت امام مہتدی

 

۲۶

 

علیہ السّلام کا اسمِ گرامی بھی ہدایت سے متعلق ہے، یاد رہے کہ جس طرح ہر کام کا ایک آخری مقصد ہوا کرتا ہے اسی طرح ہدایت کا بھی ایک آخری مقصد ہے، اور وہ ہے صراطِ مستقیم کی انتہائی منزل یعنی منزلِ مقصود، جہاں مومن امرِکل سے واصل ہوجاتا ہے۔

 

قاہرؑ:

مادّہ ق ہ ر، قاہر: غالب، زبردست، خدا کے صفاتی ناموں میں سے ہے، جیسے ارشاد ہے: لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (۴۰: ۱۶) آج کس کی بادشاہی ہے؟ خدا کی ہے جو ایک (اور) زبردست ہے۔ اس میں زبردستی سے سب کو آخری مقام پر ایک کردینے کا اشارہ ہے، یعنی جس روز خدا کی روحانی سلطنت قائم ہوگی، اس وقت تمام لوگوں کو خدا کی زبردستی سے ایک کردیا جائے گا۔

یہاں امامِ عالی مقام صلوات اللہ علیہ کا پورا نام القاھِر بِقوّۃِ اللہ ہے، یعنی خدا کی قوّت سے غالب ہونے والا، خدا کی جانب سے زبردست، اس کا مطلب یہ ہے کہ امامِ برحقؑ اللہ کا زندہ نام ہوا کرتا ہے، لہٰذا امامؑ جملہ صفاتِ خداوندی کا مظہر اور آئینۂ انور ہے۔

 

حسن علیٰ ذکرہ السلامؑ:

نام حسن اور لقب علیٰ ذکرہ السّلامؑ ہے،حسن کے معنی جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے، عقل، روح اور جسم میں انتہائی خوبصورت اور جمیل

 

۲۷

 

کے ہیں، علیٰ ذکرہ السّلام کا مطلب ہے: اس کی یاد پر سلام ہو، جیسے ہر امام کا اسم لیتے ہوئے کہا جاتا ہے: “صلوات اللّٰہ علیہ وسلامہ”۔ یعنی اس پر خدا کی صلوات و سلام ہو، سلام کی تاویل تائیدِ اعلیٰ ہے، یعنی نور کی بھر پور مدد۔

 

اعلیٰ محمدؑ:

مادّہ ع ل و، اعلیٰ: سب سے بلند، بلند ترین، اعلیٰ ۔ محمدؐ: وہ شخص جو خدا اور محمد رسول اللہؐ کی جانب سے اہلِ دنیا میں سب سے سربلند و ممتاز ہو، یعنی امامِ اقدس و اطہر صلوات اللہ علیہ، جو حاملِ نور ہونے کے سبب سے سب سے اعلیٰ و افضل ہے، جیسے امامِ آلِ محمدؐ و اولادِ علیؑ کو ہونا چاہئے۔

 

جلال الدین حسنؑ:

مادّہ ج ل ل، جلال الدین: دین کی عظمت و بزرگی، حضرت امامؑ کا نامِ مبارک حسن تھا اور لقب جلال الدین، اس لئے جلال الدین حسن کا مطلب ہے، ظاہر و باطن کی تمام خوبیاں رکھنے والا جو دین کی بزرگی ہے، یا یوں کہا جائے: حسن جو دین کی عظمت ہے، یہ بات سب ہی مانتے ہیں کہ اسلام دینِ فطرت ہے، مگر لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اس کا مطلب کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ آنحضرتؐ درختِ اسلام کے بیج کی طرح تھے، لہٰذا آپ ہی کی ذاتِ عالی صفات سے درختِ اسلام پیدا ہوکر پھلا پھولا چنانچہ آپؑ کی ذاتِ اقدس میں جتنی خوبیاں تھیں، وہ سب شجرۂ اسلام میں پھیل گئیں، اور پھر امامؑ اس درخت کا پھل تھا، اس لئے دینِ اسلام

 

۲۸

 

کی جملہ خوبیاں امامؑ کی ذات میں جمع ہوگئیں۔

 

علاء الدینؑ:

مادّہ ع ل و، علاء:بلندی، شرافت، علاء الدین: دین کی بلندی و شرافت، بلندی دوطرح کی ہوتی ہے: مادّی اور روحانی، یہاں جس بلندی کا ذکر ہے، وہ روحانی بلندی ہے، جو نورِعقل اور علم و عرفان کی بلندی ہے، امامِ اقدس و اطہر کا پورا نام علاء الدین محمدؑ ہے، جس کے معنی ہیں دین کی بلندی و شرافت محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہیں، نیز اس کے معنی ہیں وہ شخص جو خدا اور محمد رسول اللہؐ کی طرف سے دین کی بلندی ہے، یعنی امامِ عالی مقام۔

 

رکن الدین خورشاہؑ:

مادّہ ر ک ن، رکن: سہارا، ستون، قوّت کا سرچشمہ، رکن الدین: جس پر دین کا اعتماد ہو، یعنی دینی قوّت کا سرچشمہ، ستونِ دین، خور (خورشید=آفتاب) شاہ: بادشاہ جو سورج کی طرح ہے، یعنی امامِ عالی وقارؑ، جو دینی قوّت کا سرچشمہ اور بادشاہ مثلِ آفتاب ہے، سورج جو نورِ ہدایت کی مثال ہے دو طرح سے کام کرتا ہے، ایک یہ کہ براہِ راست روشنی بکھیرتا ہے، دوسرا یہ کہ چاند کے توّسط سے روشنی پھیلاتا ہے، چنانچہ زمانۂ نبوّت میں پیغمبرؐ  سورج اور اساسؑ چاند ہیں، عہدِ اساسؑ میں اساسؑ سورج اور امامؑ چاند ہیں، اور زمانۂ امامت میں امامؑ سورج اور باب (وارثِ امامت) چاند ہیں، اسی معنیٰ میں قرآن نے

 

۲۹

 

سورج کو ضیاء اور چاند کو نور کہا ہے (۱۰: ۰۵، ۷۱: ۱۶) یہاں ضیاء اور سراج اصل روشنی ہے، اور نور سے وہ روشنی مراد ہے جو منعکس (REFLECTED) ہو جاتی ہے۔

 

شمس الدین محمدؑ:

مادّہ ش م س، شمس: سورج، آفتاب، شمس الدّین: دین کا سورج- شمس الدّین محمد: محمدؐ دین کا سورج ہیں، نیز اس کے معنی ہیں وہ شخص جو خدا اور محمد رسول اللہؐ کی طرف سے دین کا سورج ہو، یعنی امامِ عالی مقامؑ، ہادیٔ برحقؑ کا یہ بابرکت نام ان آیاتِ قرآنی کے مطابق ہے، جن میں نورِ ہدایت کی تشبیہہ سورج سے دی گئی ہے، اس نوعیت کی آیات صرف لفظ “شمس” ہی کے ساتھ نہیں، بلکہ مشرق، مغرب، سماء، نور وغیرہ کے ساتھ بھی ہیں۔

 

قاسم شاہؑ:

مادّہ ق س م، قاسم: تقسیم کرنے والا، قاسم شاہ: وہ بادشاہ جو تقسیم کرتا ہے، یعنی امامِ برحقؑ جو بحکمِ خدا خزائنِ الٰہی کی تمام اشیاء تقسیم کرتا ہے، جیسے ارشاد فرمایا گیا ہے: کیا ان کے پاس تمھارے پروردگار کے خزانے ہیں یا وہ داروغہ ہیں (۵۲: ۳۷) اس کا مقصد یہ ہے کہ حضراتِ أئمّہ صلوات اللہ علیھم خدا کے خزانہ دار ہیں، اور اس معنیٰ میں ہر امام قاسم یعنی تقسیم کرنے والاہے۔

 

اسلام شاہؑ:

مادّہ س ل م، اسلام شاہ: بادشاہِ اسلام، شہنشاہِ دین، امامِ پاک صلوات اللہ علیہ کے لئے بادشاہ کی مثال ایک روشن حقیقت ہے، اس مطلب کا قرآنی لفظ

 

۳۰

 

مَلِکْ ہے، اور دوسرا لفظ مُلکْ ہے، نیز ملکوت وغیرہ ہے، خدا کے دین میں اگر زمانۂ نبوّت ہے تو پیغمبرؐ بادشاہ ہے اور امام وزیر، اور اگر زمانۂ امامت ہے تو امام بادشاہ اور اس کا وارث وزیر ہے۔

 

محمد بن اسلام شاہؑ:

حضرت امام صلوات اللہ علیہ کا یہ اسمِ گرامی سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے بابرکت نام پر ہے، کیونکہ امامؑ خدا و رسولؐ کا نور ہوا کرتا ہے، اس مقدّس نور کی کئی نسبتیں ہیں، جیسے نورِ قرآن، نورِ اسلام، نورِ ہدایت، نورِ علم، نورِ معرفت، نورِ وحدت، نورِ ایمان، وغیرہ، ایک ہی نور کے بہت سے نام ہونے میں کسی کو کیوں شک ہو، جبکہ خدا و رسولؐ کے بھی بہت سے نام ہیں۔

 

مستنصر باللہؑ:

مولانا امام مستنصر باللہ علیہ السّلام کا یہ مبارک نام اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے، یہاں صرف اتنا بتائیں گے کہ اللہ کی مدد رسولؐ اور امامِ عالی مقامؑ کے توّسط سے کسی کو مل سکتی ہے، اور خدا کی نصرت و تائید دین اور آخرت کے کاموں میں چاہئے، چنانچہ اللہ کی زندہ اور بولنے والی مدد امامِ زمان صلوات اللہ علیہ ہے۔

 

عبدالسلامؑ:

مادّہ ع ب د، عبد: بندہ، غلام، سلام: سلامت، سلامتی، خدا تعالیٰ کا نام، عبدالسلام: بندۂ خدا، سلامتی والے کا غلام، اگر کسی دوسرے شخص کا نام عبدالسّلام

 

۳۱

 

ہو، تو وہ لغوی معنی میں عبدالسّلام ہوگا، لیکن اس کے برعکس امام حقیقی معنی میں عبدالسّلام ہے، وہ یہ کہ امامِ برحقؑ خدا کا برگزیدہ بندہ ہے، لہٰذا وہ خدا کی سلامتی کو لوگوں تک لاتا ہے اور لوگوں کو خدا کی سلامتی تک پہنچا دیتا ہے، اس کے علاوہ امامِ عالی مقامؑ اپنی مبارک شخصیّت میں بدرجۂ انتہا عارف ہے، لہٰذا اس کی عبادت باکمال اور نورانیّت سے بھرپور ہے۔

 

غریب مرزاؑ:

مادّہ غ ر ب،غریب: اجنبی، وطن سے دور، انوکھا، عجیب، مرزا=امیر زادہ: شہزادہ، غریب میرزا: انوکھا شہزادہ، اجنبی شہزادہ، یقیناً امامِ اقدس و اطہرؑ اہلِ دنیا سے نرالا بھی ہے اور اجنبی بھی، کیونکہ لوگ اسے نہیں پہچانتے ہیں جیسے ارشادِ حدیث ہے کہ اسلام انوکھی صورت میں (غریب) شروع ہوا، اور آخر میں جاکر پھر غریب (انوکھا) ہوگا، پس اسلام اور امامؑ عجیب و غریب ہیں، یعنی ان کا باطن نورِ علم و حکمت کے عجائب و غرائب سے مملو ہے، اور امامؑ اجنبی اس معنیٰ میں ہے کہ اس کا وطن عالمِ بالاہے، نیز وہ اجنبی اس لئے ہے کہ لوگ اسے نہیں پہچانتے ہیں، جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے، اسی لئے فرمایا گیا: سلمان غریبم قلبِ تو۔۔۔۔

 

 

ابوذر علیؑ:

مادّہ اب و اور ذرر، ابو:باپ، ذرّ: ذرّہ، جس کی جمع ذرّات ہے، ابوذرعلیؑ: علیؑ جو ذرّات کا باپ ہے، یعنی امامِ اطہرؑ جو ذرّاتِ ارواح کا باپ ہے، جس کی ذات عالمِ ذرّ ہے یعنی جس میں تمام روحیں بصورتِ ذرّاتِ لطیف جمع ہیں، تاکہ روحوں

 

۳۲

 

کی وحدت و کثرت کی مثال ہو، یاد رہے کہ انسان میں تین بنیادی مثالیں موجود ہیں، عقل میں وحدت کی مثال ہے جو سب سے اوپر ہے، جسم میں کثرت کی مثال ہے جو سب سے نیچے ہے، اور روح میں دونوں کی مثالیں (یعنی وحدت بھی اور کثرت بھی) ہیں، کیونکہ یہ درمیان میں ہے، لہٰذا روح ایک بھی ہے اور کثیر بھی۔

 

مراد مرزاؑ:

مادّہ ر و د، مراد:ارادہ کیا گیا، چاہا گیا، مطلوب، مقصود، مراد مرزا: وہ شہزادہ جو مطلوب ہو، یعنی امامِ اقدس و اکرمؑ جو سب کا مطلوب و مقصود ہے، اس میں کوئی شبّہ ہی نہیں کہ مومن مرید (چاہنے والا)ہے، ارادتمند ہے اور پاک امامؑ مراد (چاہاگیا) ہے، یعنی مقصودِ جان ہے، ویسے تو اہلِ ایمان کی دینی اور دنیوی مرادات بہت زیادہ ہیں اور ان کی ترتیب بھی ہے، مگر جملہ مرادوں کی مراد یا سب سے آخری اور اعلیٰ مراد امامِ زمانؑ ہے، کیونکہ وہی اسرارِ الٰہی کا جامع الجوامع خزانہ ہے۔

 

ذوالفقار علیؑ:

مادّہ ذو اور ف ق ر،ذو: والا، صاحب، ذوالفقار: وہ تلوار جس کی پشت ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہو، جیسے کہا جاتا ہے: سیف مفقّر = وہ تلوار جس کی پشت پر ہموار خراشے ہوں، ذوالفقار علیؑ : علیؑ کی ذوالفقار، امامِ آلِ محمدؐ کا یہ پاک نام تنزیلی اور تاویلی جہاد کی علامت ہے، تنزیلی

 

۳۳

 

جہاد کو تو سب جانتے ہیں، مگر تاویلی جہاد کو اس کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ سمجھنا عوام کے بس کی بات نہیں، جبکہ یہ ظاہر میں بھی ہے اور باطن میں بھی، عقلی بھی ہے اور علمی بھی، جانی بھی ہے اور مالی بھی، آسمانی لشکر کی مدد سے بھی ہے اور زمینی لشکر کے ذریعے سے بھی۔

نورالدّین علیؑ:

مادّہ ن و ر، نور: روشنی، نورالدّین:دین کی روشنی، نورالدّین علیؑ: علی دین کی روشنی ہے، وہ شخص جو علی کی طرف سے دین کی روشنی ہے، یعنی آلِ محمدؐ و اولادِ علیؑ کا امامؑ، حضرت امامِ عالی مقامؑ کا یہ پُرحکمت نام بڑا اہم ہے، کیونکہ “نور” قرآن میں سب سے روشن موضوع ہے، جس میں مجموعی طور پر ایک ہی نور کا ذکر ہے، تاہم حقیقتِ نور کے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے آیۂ مصباح (۲۴: ۳۵) میں اللہ کا تصوّر ہے، آیۂ سراج (۳۳: ۴۶) میں رسولؐ کا اور آیۂ مصابیح (۴۱: ۱۲، ۶۷: ۰۵) میں حضراتِ أئمّہ کا تصوّر ہے۔

 

خلیل اللہ علیؑ:

مادّہ خ ل ل، خلیل:فقیر، محتاج، خالص دوست، خلیل اللہ: خدا کا فقیر، یعنی ایسا شخص جس کو خدا نے اپنی عنایات کے لئے خاص فقیر ٹھہرایا ہو، خدا کا خالص دوست، حضرت ابراہیمؑ کا لقب، خلیل اللہ علیؑ: علیؑ جو خدا کا فقیر اور خالص دوست تھا، وہ امامؑ جو علیؑ کی اولاد سے خدا کا فقیر اور خالص دوست ہے، ہر امامِ حقؑ عطیاتِ نورانیّت کا فقیر اور

 

۳۴

 

اللہ کا مخلص دوست ہے، جیسے حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: وَاتَّخَذَ اللّٰه اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا  (۰۴: ۱۲۵) اور خدا نے ابراہیمؑ کو اپنا فقیر قرار دیا، نیز یہ ترجمہ بھی درست ہے: اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنالیا۔ حضرت موسیٰؑ کے بارے میں فرمایا گیا ہے: رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ (۲۸: ۲۴) اور (موسیٰ نے) دعا کی کہ پروردگار! جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کردے میں اس کا محتاج ہوں۔ پس خدا کے فقیر کے معنی اسی سطح کے مطابق ہیں۔

 

نزارؑ:

اس سے پیشتر لفظ نزار کے بارے میں عرض کی گئی ہے کہ ہادیٔ برحقؑ کا یہ مبارک نام اہلِ ایمان کو عجز و انکساری کا درس دیتا ہے، کیونکہ ساری حکمت کسرِ نفسی میں ہے، نفس کی شکست اور عقل کی فتح اسی میں ہے، کہ تواضع اور فروتنی اختیار کی جائے، چنانچہ فرمایا گیا ہے: اور (اے پیغمبر!) عاجزی کرنے والے بندوں کو (روحانیّت) کی خوش خبری سنا دو (۲۲: ۳۴)۔

 

سیّد علیؑ:

مادّہ س ا د، سیّد: سردار، پیشوا، حضرت فاطمہ صلوات اللہ علیھا کی اولاد اور نسل والے، آلِ رسولؐ، سید علیؑ: علیؑ سردار ہے، وہ شخص جو علیؑ کی طرف سے سید و سردار یعنی امام ہے، لفظ “سیّد” کے یہ معنی دینی علم کے علاوہ مستند کتبِ لغت کے بھی مطابق ہیں، اور مستند لغات بڑی منطقی چیز ہوا کرتی ہے، چنانچہ جب یہ بات مسلّمہ ہے کہ سیّد یعنی سردار اور آلِ رسولؐ صرف اس

 

۳۵

 

شخص کو کہا جاتا ہے، جو جناب فاطمہ زہراؑ کی اولاد ہو، تو پھر کیا ایسے حضرات جو آلِ محمدؐ ہیں، وہ آیۂ اصطفا (۰۳: ۳۳) کی برگزیدگی میں شامل نہیں ہوسکتے ہیں؟ ضرور ہوسکتے ہیں، کیونکہ “آلِ محمدؐ”  کی یہ اصطلاح آلِ ابراہیمؑ اور آلِ عمرانؑ کی توضیح و تشریح ہے۔

 

حسن علیؑ:

حسن:خوبصورت، جمیل، حسن علیؑ: علیؑ یہ حسن ہے جو نورِ خدا کی خوبیوں کے ساتھ انتہائی خوبصورت ہے، اور یہ حسن، علیؑ کی طرف سے ہے، اور نور کے اعتبار سے خود علیؑ ہے، ربّانی حُسن و جمال کا سرچشمہ نور ہے، پھر روح ہے اور جسم صرف ایک سایہ ہے۔

 

قاسم علیؑ:

قاسم: تقسیم کرنے والا، قاسم علی: تقسیم کرنے والا علیؑ ہے، یعنی بحکمِ خدا علیؑ دوزخ اور بہشت کے درکات و درجات کا تقسیم کرنے والا ہے، نیز آج دنیا میں بھی علیؑ ہی ہے جو نورِ خداوندی کی حیثیت میں عقلی اور علمی رزق بانٹتا ہے، پس حضرت امام قاسم علیؑ کا بابرکت نام اسی نظریہ کو تازہ کرتا ہے۔

 

ابوالحسن علیؑ:

ابوالحسن علیؑ: علیؑ ابوالحسن ہے، یہ امام ابوالحسن علیؑ کا تقرر علیؑ کی طرف سے ہے، اور علیؑ کی اولاد سے ہے، نیز ابوالحسن کی کنیت بھی مولا علیؑ کی ہے، چونکہ علیؑ ہی مرکزِامامت ہے، لہٰذا یہ امر ضروری ہے کہ أئمّۂ اولادِ علیؑ کے مبارک اسماء اصل اور مرکز کی طرف لوٹ جائیں، اور ہر اسم میں نور کے کسی پہلو کا ذکر ہو۔

 

۳۶

 

خلیل اللہ علیؑ:

اس پاک نام میں سب سے پہلے اللہ کی یاد ہے جس کا مقصد تصوّرِ وحدانیّت ہے، پھر خدا کی تعریف ہے کہ اس نے حضرت ابراہیمؑ کو اپنا خلیل بنا کر نور کی دولت سے مالا مال فرمایا، پھر علیؑ کے ذکر میں یہ اشارہ ہے کہ نور کا سلسلہ ابراہیمؑ کی آل میں تاقیامِ قیامت جاری ہے اور وہ آلِ محمدؐ اور اولادِ علیؑ میں ہے، حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اپنے وقت میں یوں دعا کی تھی: اے میرے ربّ! مجھ کو حکمت عطا فرما، اور صالحین سے میرا الحاق کردے، اور میرے لئے آئندہ لوگوں میں ایک سچ بولنے والی زبان بنادے (۲۶: ۸۳ تا ۸۴) قانونِ حقیقت یہ کہتا ہے کہ خدا نے ابراہیمؑ کو حکمت دے کر اپنی آل کے سلسلۂ نورِ ہدایت سے واصل کردیا، وہ اس نور میں زندہ ہے، اور ہادیٔ برحقؑ کو اس کی زبان قرار دیا گیا ہے، اور سچ بولنے والی زبان کا مقصد علم و حکمت بیان کرنا ہے۔

 

حسن علی شاہؑ:

شاہ کا یہ پسندیدہ اور پیارا لقب تقریباً سب اماموں کے لئے استعمال ہوتا ہے، کیونکہ امام بحقیقت بادشاہ ہے، اور تختِ روحانیت کے بادشاہ کی محبت بڑی پُرلطف ہوتی ہے، شاہ کا قرآنی لفظ “مَلِک” ہے، جس کی جمع ملوک ہے، اور حقیقی مومنین کے لئے امامؑ کے بادشاہ ہونے کے تصوّر سے بیحد خوشی اس لئے ملتی ہے کہ اس میں ایک بہت بڑا راز ہے، جو اس آیۂ کریمہ میں پوشیدہ ہے: یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا

 

۳۷

 

تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تمھیں عطا کی تھی، اس نے تم میں نبی پیدا کئے اور تم کو ملوک (بادشاہ) بنایا (۰۵: ۲۰) یہ راز اس طرح سے ہے کہ امتِ موسیٰؑ کے سچے مومنین اپنے اپنے امامِ وقتؑ کے نور میں بادشاہ تھے، کیونکہ امامِ زمانؑ مومنین کی روحِ اعظم کا نام ہے، جو انسانِ کامل کی حیثیت سے مجسم ہے اور یہ عظیم نعمت تمام زمانوں کے لئے یکسان ہے۔

 

نورِ مقدّس کے اسی جامۂ مبارک سے “آغا خان” کا لقب شروع ہوا ہے، اس لفظ کی ایک صورت “آقا خان” بھی ہے، آقا: بزرگ، سرور، خان: رئیس، امیر، لفظ کے دونوں حصّے ترکی ہیں، آقا خان کے اصطلاحی معنی بہت اعلیٰ اور بے مثال ہیں، جس کی وجہ ظاہر ہے کہ امامؑ نے اسے بطورِ لقب اپنایا ہوا ہے۔

 

علی شاہ داتارؑ:

اس مقدّس نام کا مطلب یہ ہے: حضرت امیر المومنین علیؑ بڑا سخی بادشاہ ہے، یہ امامِ عالی مقام جس کا نامِ نامی “علی شاہ داتارؑ” ہے بحقیقت مرتضیٰ علی بادشاہؑ ہے جو بڑا فیاض تھا، داتار: فیاض، سخی، داتا: عطا کرنے والا، بخشنے والا، چونکہ امام اور پیغمبر صلوات اللہ علیھما خدا کے ہاتھ ہیں، اس لئے خدا تعالیٰ اپنے ان ہاتھوں سے لوگوں کو انعامات دیتا ہے، سو امامؑ بمرتبۂ دستِ خدا جو کچھ عنایت کردیتا ہے، وہ سب چیزوں سے اعلیٰ اور لازوال ہوا کرتا ہے، جیسے ایک قرآنی مفہوم (۰۲: ۲۴۸) ہے کہ: امام کے روحانی بادشاہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ تمھارے پاس صندوقِ روحانیت آئے

 

۳۸

 

گا جس میں تمہارے ربّ کی طرف سے سکونِ قلب کی چیزیں ہیں، نیز اس میں آلِ موسیٰؑ اور آلِ ہارونؑ (نبوّت و امامت) کا علم و حکمت ہے، صندوق کو فرشتے اٹھاکر لائیں گے، یعنی یہ صرف ایک روحانی چیز ہے، مادّی نہیں، یہ ہے امامِ برحقؑ کی روحانی سلطنت کی ایک روشن دلیل، جو آیۂ آلِ ابراہیم (۰۴: ۵۴) کے مطابق ہے۔

 

سلطان محمد شاہؑ:

مادّہ س ل ط، سلطان:دلیل، حجّت، زور، غلبہ، بادشاہ، سلطان محمد: اس عظیم الشّان اور بابرکت نام میں سلطنتِ محمدیؐ کے معنی موجود ہیں، اور یقیناً حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی بے مثال شخصیّت روحانی بادشاہی کی مالک تھی، ویسے تو ہر امام اپنے وقت میں روحانی بادشاہ ہوا کرتا ہے، مگر خدا کے عظیم پروگرام کے مطابق تمام زمانے ایک جیسے نہیں ہوتے، چنانچہ حضرت امام سلطان محمد شاہ علیہ السّلام کا زمانہ بڑا اہم اور بہت خاص بلکہ سب سے عظیم تھا، کیونکہ قرآنی تاویل کی زبان میں آپؑ کی ذاتِ عالی صفات شبِ قدر تھی، جس میں تمام عالمِ امر کے فرشتوں اور روحِ اعظم اور دیگر ارواح کا نزول ہوتا ہے، ملائکہ اور ارواح کے نزول کا مقصد دو طرفہ ہوا کرتا ہے، ایک یہ کہ لوگوں کے ماضی سے حساب لیا جائے، دوسرا یہ کہ مستقبل کے لئے ایک عظیم پروگرام بنایاجائے، سو اس “زندہ شبِ قدر” کے زمانے میں اللہ کا وہ وعدہ عمل میں

 

۳۹

 

آچکا ہے جس کا ذکر قرآن (۹۷: ۰۱ تا ۰۵) میں فرمایا گیا تھا۔

 

یاد رہے کہ فرشتہ ہو یا روح، وہ کئی سطحوں پر پائی جاتی ہے، یعنی ملائکہ اور ارواح مقامِ معرفت پر اپنی حقیقی صورت میں ہوتی ہیں جنھیں کوئی عارف وہاں دیکھ کر پہچان سکتا ہے، مگر نچلی سطحوں پر اہلِ دنیا کو جیسے فرشتے آتے ہیں اور جو روحیں ملتی ہیں وہ منجمد ہوا کرتی ہیں، یعنی دنیاوی علم و ہنر اور سائنس کی ہر چیز اپنی اصل اور بنیاد میں ایک منجمد فرشتہ یا روح ہوا کرتی ہے، جیسے پانی اپنے دائرۂ کل کے ہر مقام پر پانی نہیں ہوتا، وہ بھاپ یعنی بخارات، بادل، برف و بارش، یخ وغیرہ بھی ہے، چنانچہ آج کے زمانے میں سائنس دانوں نے ذرّہ (ATOM) کا تجزیہ کرکے برق پاروں کی صورت میں منجمد روح کو پایا ہے، اسی طرح اڑن طشتریاں ایک قسم کے منجمد فرشتے ہیں، اور یہ سب کچھ اس انتہائی عظیم خدائی پروگرام کے مطابق ہے جس کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ فرمایا گیا ہے، جو شبِ قدر اور حضرت قائم القیامت علیہ افضل التحیتہ والسّلام سے متعلق ہے۔

 

شاہ کریمؑ:

مادّہ ک ر م، کریم: بخشش کرنے والا، درگزر کرنے والا، مکرّم و معظّم، معزّز، خدا کا ایک نام، اور متعلقہ ایک پوشیدہ بزرگ نام: “الاکرم الاکرم الاکرم …..” نور مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امامؑ: نور کے معنی ہیں عقلی، روحانی اور اخلاقی روشنی، مولانا کا مطلب ہے ہمارے آقا و مولا، شاہ کریم الحسینی کی وضاحت ہے حسینی نسل کا فیاض بادشاہ، حاضر امام کا مطلب ہے، وہ امام جس کی پہچان اور اطاعت اہلِ زمانہ پر فرض ہے، اور اس

 

۴۰

 

کے بغیر اگلے اماموں کی ولایت کا م نہیں آسکتی ہے، یہ امام اکرم و اعظم جو سلسلۂ پاکِ امامت میں ساتواں ہفتم ہے ایٹمی دور کا امام ہے، جس کی امامت کے پس منظر میں ایک عظیم قیامت برپا ہوچکی ہے، جس کو اہلِ جہان نے صرف عالمِ ذرّ میں دیکھا، مگر دنیائے ظاہر میں نہیں دیکھا، جس کی وجہ وہ دیوار ہے جو ظاہر و باطن کے درمیان قائم کی گئی ہے۔ والسّلام …..۔

 

فقط خادمِ ناتوان

نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی

۲۴۔ستمبر، ۱۹۸۳ ء

 

۴۱