ثبوتِ امامت
خدا کا تخت پانی پر تھا اور ہے
پانی پر عرش یا عرش کے نیچے پانی ہونے ۱۱: ۷ کی تاویل یہ ہے کہ گوہرِعقل جو عرشِ رحمان ہے وہ سرچشمۂ علم ہے، اس لئے بحرِعلم اس کے تحت ہے، یہ ہوا پانی پر عرش کا ہونا، پس صدر فتح علی حبیب اور ایڈوائزر گل شکر کے فرزندانِ دلبند نزار، رحیم اور فاطمہ کتنے نیک بخت ہیں کہ ان کو بچپن ہی سے تاویلی حکمت سکھائی جارہی ہے اور وہ بڑے شوق سے سیکھ رہے ہیں۔
دیباچۂ طبع سوم
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ وسلام علےٰ عبادہ الذین اصطفے۔
بندۂ خاکسار، ذرّۂ بے مقدار، مانندِ طفلِ شیر خوار، یا مثلِ ابرِنو بہار گریان ہو ہو کر بارگاہِ ایزدی میں سجدہ ریز ہوجانا چاہتا ہے تاکہ انتہائی عاجزی اور محویت و فنائیت کے عالم میں شکر گزاری کرسکے، اور اس حسنِ ظن سے کہ خدا کا شکر کیا دل کو تسکین ہوجائے۔
یہ سچ ہے کہ یہ حقیر بندہ (پرتوِ شاہ=نصیر الدین) حکیم پیر ناصر خسرو کا ایک ادنیٰ سا شاگرد ہے، لہٰذا یہ لازمی امر ہے کہ یہاں جتنی علمی کوششیں کی گئی ہیں ان میں سے جو عقلی اور منطقی چیزیں ہیں، یا جو حکمت کی باتیں ہیں وہ سب کی سب حضرتِ امامِ قدس و اطہر علیہ السلام اور پیرِ نامدار کی برکت سے ہیں، اور جو کچھ خام و ناتمام ہے، وہ یقیناً اس ادنیٰ غلام کا ہے۔
’’ثبوتِ امامت‘‘ اگرچہ ایک چھوٹی سی کتاب ہے اور یہ بہت پہلے ضبطِ تحریر میں آئی تھی، لیکن اہلِ علم حضرات اس کو بہت پسند کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا ’’نظریۂ افضلیت‘‘ بڑا عجیب و غریب
۵
اور بے حد دلکش ہے، اس میں مطالعۂ فطرت اور مشاہدۂ قدرت کا ایک انقلابی تصور موجود ہے اور جو دلائل و براہین اس چھوٹی سی کتاب میں ہیں وہ بے مثال کیوں نہ ہوں، کیونکہ وہ آفاق و انفس کی شہادتوں اور حقیقتوں پر مبنی ہیں۔
یہاں اپنے اصول کے مطابق کچھ علمی باتیں بھی ضروری ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہر چیز بدرجۂ انتہا حیران کن ہوا کرتی ہے،جیسے اس کی کتاب (قرآن) میں سب آسمانی کتابوں کا خلاصۂ بیان موجود ہے کائنات میں بے شمار کائناتیں اور نفسِ انسانی میں لاتعداد نفوس پوشیدہ ہیں، اسی طرح ہر عالمِ شخصی میں تمام عوالمِ شخصی پنہان ہیں، اور اس میں بحدِّ قوت امامِ مبینؑ کا عالم بھی ہے، پس عقل و دانش والوں کے لئے خدا کے اس کام میں بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اولادِ آدمؑ کو جو کچھ ازقسمِ امکانی دولت، خزانہ، سلطنت اور نور عطا ہوا ہے وہ حقیقت ہے اور ان تمام بڑی بڑی نعمتوں کو فعلاً دیکھنے کیلئے ہر مومن اور مومنہ علم و عبادت سے کام لیتے رہے۔
کرۂ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کے حق میں ہماری عملی خیر خواہی یہ ہوگی کہ اب ہم قرآن و اسلام کی ان پوشیدہ حکمتوں کو ظاہر کرنے کی سعی کریں، جن کی روشنی میں ہر دانش مند کو یہ یقین آتا ہے کہ خدا کسی بھی انسانی روح کو ضائع نہیں کرتا ہے، اگرچہ
۶
عارضی دوزخ بصورتِ جہالت موجود ہے اور اس کی مذمت بھی ضروری ہے، کیونکہ جہالت و نادانی خواہ دینی ہو یا دنیاوی، عقل و دانش کی دشمن ہے، پس علم والوں پر فرض ہے کہ وہ جہالت کے خلاف جنگ کریں، تاکہ عالمِ انسانیت میں علم و حکمت کی روشنی پھیل جائے۔
میں اس سال ۱۹۹۳ میں بفضلِ خدا اپنے بہت ہی عزیز و محترم دوست امام داد کریم کی پُرخلوص دعوت پر فرانس جیسے عظیم ملک کے مختصر دورہ پر جاسکا، میں ۲، اور ۷،جولائی کے درمیان اس خوبصورت شہر میں تھا، متعلقہ دلچسپ باتیں بہت زیادہ ہیں، جن کو کراماً کا تبین نے (۸۲: ۱۰ تا ۱۱) یقیناً ریکارڈ کرلیا ہوگا، لیکن ایک بات جو یہاں ضروری ہے، وہ بتادی جاتی ہے کہ جب فرانس کے ایک ریڈیو کے لئے میرا انٹرویو ہورہا تھا، تب میں نے سلسلۂ گفتگو کے دوران اپنا طریقِ کار ظاہر کرتے ہوئے یوں کہا:
میں ایک اسماعیلی خاندان میں پیدا ہوا ہوں، لہٰذا یہ قدرتی امر ہے کہ میں اسماعیلی جماعت کی کچھ خدمت کروں، میرا دین اسلام اور ملک پاکستان ہے، الحمدللہ مجھے دین و ملک کی خدمت بے حد عزیز ہے، اور بالآخر میں ایک انسان ہوں، پس میں عالمِ انسانیت کی حمایت اور خدمت کیوں نہ کروں۔
اسلام اور انسانیت کے درمیان کوئی تضاد کس طرح
۷
ہوسکتا ہے، چنانچہ جو کام دینی خدمت کے عنوان سے کیا جاتا ہے وہی کام دراصل عالمِ انسانیت کے لئے بھی مفید ہوتا ہے۔
قرآنِ پاک (۲: ۲۱۳) میں یہ حکمتی اشارہ اور مفہوم موجود ہے کہ انبیاء علیہم السّلام کی تشریف آوری سے قبل کے زمانے میں سارے لوگ ایک ہی امّت (جماعت) تھے، چاہے وہ واقعہ عالمِ شخصی میں ہوا ہو یا کرۂ ارض پر یا کسی دوسرے سیارے پر، خواہ یہ اجسامِ کیثف کا اتفاق و اتحاد ہو یا اجسامِ لطیف کی وحدت و سالمیت، بہر حال یہ دورِ انسانیت ہی کی بات ہوسکتی ہے۔
سورۂ بقرہ کے چوتھے رکوع میں حضرتِ آدمؑ و حضرتِ حوّاؑ اور ان کے بہت سے ساتھیوں کے بہشت سے ہبوط یعنی اترنے کا ذکر ہے، اس سلسلے میں اِھْبِطُوْا (تم سب اترو) کا حکم دو دفعہ (۲: ۳۶، ۲: ۳۸) آیا ہے، چنانچہ پہلے حکم پر وہ سب سیّارۂ بہشت سے پرواز کرکے زمین پر اتر آئے، اور ایک عرصے تک جسمِ لطیف ہی میں تھے، اس انتہائی عظیم خزانۂ اسرار کو حضرتِ قائم کے ظہور تک پوشیدہ رکھنے کی خاطر وہ سب کے سب جنّات کہلائے، اور پھر خدا کا دوسرا حکم (۲: ۳۸) ہوا، جس کی وجہ سے وہ جسمِ لطیف سے جسمِ کثیف میں تبدیل ہوگئے، یہ تھے وہ جنّات جو انسانوں سے قبل زمین پر رہتے تھے اور یہی تھے وہ لوگ جو دورِ انبیاء سے پہلے
۸
ایک جماعت کی حیثیت سے رہا کرتے تھے، جن کا اوپر ذکر ہوا۔
میں اسلام کی عظمت و جلالت کو جھک جھک کر سلام کرتا ہوں، میں انسانی شرافت کے لئے بے حد احترام کرتا ہوں، اور پھر اپنے تمام عزیزوں کو نہ معلوم کیوں اتنی شدّت سے اور ایسی کثرت سے یاد کرتا ہوں! شاید اس کے پس منظر میں خداوندِ قدوس کی مبارک ہدایات و رحمت ہے، تاکہ ہم سب جو اس مقدّس علمی خدمت سے منسلک ہیں خوشی اور شادمانی سے اپنا اپنا کام انجام دے سکیں۔
ہمارے عزیزان جو شرق و غرب میں رہتے ہیں وہ سب کے سب یہاں کی تصانیف و تراجم اور طباعت و اشاعت کو دیکھ کر بیحد مسرور و شادمان ہوجاتے ہیں، اس حقیقت کی ایک روشن مثال امریکا میں پیش آئی، چنانچہ عملداروں کی ایک خاص میٹنگ میں علمی خدمت کی زبردست تعریف کی گئی، اور چیف ایڈوائزر اکبر اے علی بھائی نے تجویز پیش کی کہ ان عظیم الشّان اور بے مثال علمی کارناموں پر اگر ہم آپ کو سونے یا چاندی کی ڈلیوں میں نہیں تول سکتے ہیں تو پھولوں میں ضرور تول سکتے ہیں، میں نے کہا عزیزِمن! اتنی بڑی عزّت اور شہرت کا بارِگران یہ درویش ہرگز نہیں اٹھا سکتا، اور یہ سارا کارنامہ تنہا اس ناچار کا نہیں، اس میں بہت سی اعلیٰ قوّتیں شریک ہیں، پس اگر آپ کوئی ایسا کام کرنا چاہتے
۹
ہیں تو ’’جشنِ خدمتِ علمی‘‘ کے عنوان سے کچھ کریں، جس میں تمام عملداروں اور ممبروں کو خوشی دینے کے لئے سعی کی جائے گی، اس کے لئے انہوں نے بخوشی منظور کیا۔
ایک درویش آدمی ، جو ۱۹۱۷ میں پیدا ہوا ہے، اس بیچارے کے لئے دور دراز ممالک کا جسمانی سفر کتنا سخت مشکل ہوگا، لیکن وہ بڑا عجیب وغریب سفر کتنا تیز، آرام دہ اور آسان ہے جو ہر شخص کے واسطے معجزانہ ہوسکتا ہے، درحالے کہ آج لوگ اس کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہے ہیں، وہ خیال، تصور، ذہن اور فکر کا سفر ہے، چنانچہ یہ بندۂ کمترین اپنے تخیّل وتصور سے، جو تمام انسانوں میں موجود ہے، ہر اس شہر و دیار کا سفر کرتا رہتا ہے، جہاں اس کے عزیزان رہتے ہوں، جیسے شمالی علاقہ جات، جہاں اس غریب کی جائے پیدائش بھی ہے، اسلام آباد، کراچی، لنڈن، فرانس، شکاگو، ایلینوی، یوسٹن، ڈالاس اور کینڈا کے کئی شہر، یہ صرف ان عزیزان کی بات ہے جو ہمارے اداروں سے منسلک ہیں، اس برق رفتار تخیّل وتصوّر کی رسائی سے تمام تر ملاقاتیں تازہ اور لطیف ہوجاتی ہیں، الحمدللہ۔
نوٹ: ادارے سے باہر جتنے علم دوست حضرات
۱۰
ہیں وہ اس اصول سے باخبر ہیں کہ یہاں کی حوصلہ افزائی بالکل درست اور بجا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ علم کی روشنی پھیلائی جاسکے۔
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
کراچی
بدھ ۲۷، ربیع الاول ۱۴۱۴
۱۵ ، ستمبر ۱۹۹۳
۱۱
وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ (۳۶: ۱۲)
اصولِ افضلیّت
یعنی آفاق و انفس سے ثبوتِ امامت کے دلائل و براہین
اگر کوئی باشعور انسان اس عالمِ کثرت کے ربط و نظام پر ذرا غور کرے تو وہ یہ حقیقت ضرور معلوم کرسکے گا کہ کائنات اور اس کی مخلوقات مختلف قسموں یا کہ حصوں پر مشتمل ہیں، پھر مخلوقات کا ہر بڑا حصہ کئی چھوٹی چھوٹی قسموں پر منقسم ہے اور ان میں یہ اصول پایا جاتا ہے کہ جس طرح مخلوقات کی بڑی قسموں میں سے ایک قسم افضل و اعلیٰ ہے، اسی طرح چھوٹی قسموں میں سے بھی ایک افضل و اعلیٰ ہے، یہاں تک کہ بے جان اور جاندار مخلوق کے افراد میں بھی یہی اصول کارفرما ہے، ہم یہاں اس اصول کو ’’اصولِ افضلیّت‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، اور اسی اصول کے مطابق امامِ زمان کے ثبوت، اس کی افضلیّت اور ہر زمانے میں اس مقدّس و
۱۲
متبرک ہستی کے حیّ و حاضر ہونے کی اہمیت کے دلائل پیش کرتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے کائنات و موجودات کے مجموعی عمل کے ذریعے سے انسان پیدا کیا، اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہے کہ کائنات و موجودات ایک انتہائی عظیم درخت کی مثال ہے اور اس کا پھل انسان ہے، چنانچہ حضرت حکیم ناصر خسرو قدّس اللہ سرّہ ’’روشنائی نامہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
درخت است این جہان و میوہ مائیم
کہ خرم بر درخت او برائیم
ترجمہ: (مثال کے طور پر) یہ کائنات ایک درخت ہے، اور ہم (انسان) ہی اس کا پھل ہیں، کیونکہ اس کائنات کے بہترین حاصل تو ہم ہی ہیں۔
پس کائنات میں جو کچھ مادّی طور پر پھیلا ہوا ہے، وہ انسان میں روحانی طور پر یکجا ہے، جس طرح درخت میں جو کچھ بالفعل ظاہر اور پھیلا ہوا ہے وہ پھل کے مغز میں بالقوّۃ پوشیدہ اور یکجا ہے، چنانچہ درخت سے پھل پیدا ہوتا ہے اور پھل سے درخت بنتا ہے۔
مذکورہ بالاحقائق کے انکشاف سے معلوم ہوا کہ کائنات اور انسان یا کہ آفاق و انفس کی تخلیقی صورت خدا کا قانون اور اس کی عملی کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، اس لئے کہ اس کی آیتیں عملی صورت میں اہلِ بصیرت کے لئے روشن اور واضح ہیں اور وہ کتاب، جس میں کوئی شک نہیں، بالآخر سب کے لئے ذریعۂ یقین ہو
۱۳
سکتی ہے، چنانچہ خدا وندِ عالم فرماتا ہے:
سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (۴۱: ۵۳)
(یعنی حق تعالےٰ نزولِ قرآن کے زمانے میں فرماتا ہے کہ) ہم آئندہ آفاق میں اور خود ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتے رہیں گے، یہاں تک کہ انہیں ظاہر ہوجائے کہ وہ برحق ہے۔
اب ہم خداوند جلّ وعلیٰ کی توفیق سے ذیل میں آفاق و انفس کی چند ضروری شہادتوں کا بیان کرتے ہیں کہ وہ کس حقیقت کے متعلق ہیں:
۱۔ آسمانوں کی شہادت
چنانچہ آسمان نو (۹) ہیں جو وسعت اور شرف دونوں اعتبار سے ترتیب وار اور درجہ وار ہیں، اور نواں آسمان سب سے وسیع اور سب پر مقدّم ہے، جو عرشِ الہی کہلاتا ہے، پس آسمانوں کے درجات میں سے ایک درجے کی افضلیّت کہ وہ مرتبۂ عرشِ الہی ہے، آفاق کی ایک ایسی آیت ہے جس کے معنی سے یہ شہادت روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے کہ عالمِ انسان میں بھی ایک ایسا فرد ہے جو تمام انسانوں سے افضل و اشرف ہے، اور وہ اپنے علم و حکمت سے دوسرے تمام انسانوں پر اِس طرح حاوی ہے جس طرح فلکِ نہم دوسرے تمام آسمانوں اور کائنات کی ساری چیزوں پر محیط ہے،اور وہ شخص عالم انسان اور عالمِ دین میں خدائے
۱۴
تعالےٰ کا عرش ہے اور آفاق کی یہ آیت قرآنِ پاک کی اس آیت کے عملی معنی ظاہر کرتی ہے، وہ ارشاد یہ ہے:
وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ (۳۶: ۱۲)
ترجمہ: اور ہم نے ہر چیز ( یعنی صورتِ کائنات اور اس کے تمام باشندوں کے متعلق کل علم و حکمت) کو امامِ ظاہر (امامِ ناطق) کی ذات میں محدود و ملفون کیا ہے۔
۲۔ اجرامِ فلکی کی شہادت
کائنات کی ترتیب میں آسمانوں کے بعد اجرامِ فلکی یعنی ستارے آتے ہیں، چنانچہ آسمان میں بہت سے ستارے ہیں، مگر ان میں ایک ایسا درخشان ستارہ ہے جو باقی تمام ستاروں کو اور پوری کائنات کو بے دریغ روشنی اور گرمی پہنچاتا رہتا ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روشن اور تابان ہے وہ نہ تو گھٹتا ہے اور نہ بڑھتا ہے، ایسا ستارہ سورج ہے جس نے اپنے بے پناہ نور میں تمام کائنات و موجودات کو مستغرق کردیا ہے، پس سورج آفاق کی آیتِ نور ہے، جس کے معنی سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ عالمِ دین میں بھی ایک ایسی پاک ہستی ہے جو خدا اور رسولؐ کا نور ہے اور وہ علم و حکمت اور حسن سیرت میں دنیا کے سارے لوگوں سے افضل و اعلیٰ ہے، جس طرح سورج دوسرے تمام ستاروں سے افضل و اعلیٰ ہے، یہ آسمانی حقیقت و شہادت قرآنِ پاک کی اُن آیتوں کی طرح ہے جن میں انسانِ کامل یعنی امامِ زمانؑ خدا کے نور ہونے کا ثبوت ہے۔
۱۵
۳۔ عناصرِ اربعہ کی شہادت
عناصرِ اربعہ مٹی، ہوا، پانی اور آگ کو کہتے ہیں، یہ چار عناصر بھی درجہ وار ہیں، چنانچہ مٹی سب سے نیچے اور سب سے کثیف ہے، پانی نے مٹی کو گھیر لیا ہے اور مٹی سے لطیف ہے، ہوا پانی پر محیط ہے، اور پانی سے لطیف ہے، آگ ہوا پر محیط ہے اور ہوا سے لطیف ہے اور روشنی و گرمی میں سورج کی خاصیت رکھتی ہے، پس آگ جو بجلی وغیرہ کی صورتوں میں بھی ہے، چار عناصر میں سے افضل ہے، اور یہ حقیقت کائنات کی ایسی آیت ہے جس کے معنی سے یہ مطلب ظاہر ہے کہ عالمِ دین میں بھی ایک ایسا مرتبہ ہے جو ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، جس طرح بجلی ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی، اور عالمِ دین کا وہ مرتبہ امام اور اس کی امامت ہے کہ اس میں نورِ رحمت بھی ہے اور آتشِ قہر بھی ہے، جس طرح آگ اور بجلی کی مثال ہے اور کائنات کی یہ آیت قرآن کی اُن آیتوں کی تفسیر کرتی ہے جو مذکور ہیں کہ موسیٰ نے ایک آگ دیکھی اور موسیٰؑ کی قوم کے چیدہ چیدہ ستر رجال پر بجلی گری وغیرہ۔
۴۔ موالیدِ ثلاثہ کی شہادت
موالیدِثلاثہ جمادات، نباتات اور حیوانات کو کہتے ہیں،
۱۶
جن میں سے حیوانات کا گروہ افضل ہے، جس کا سبب روحِ حیوانیہ اور اس کے احساسات ہیں، اور حیوانات میں سے حیوانِ ناطق افضل ہے جس کی وجہ نطق و شعور ہے، حیوانِ ناطق کا دوسرا نام انسان ہے، جو جمادات، نباتات اور حیواناتِ صامت پر حکمرانی کرتا ہے، اسلئے کہ اس کی عقل و شعور ہے جوعقلِ کل کے اثر سے ہے، مگر باقی موالید میں یہ عقل و شعور نہیں، پس انسان آفاق کی آیتوں میں سے ایک ایسی آیت ہے جس کے معنی سے یہ مطلب ظاہر ہوجاتا ہے کہ عالمِ دین میں بھی ایک ایسا فرد ہے جو صاحبِ علم و حکمت اور مظہر عقلِ کل و نفسِ کل ہونے کے سبب سے خدا کا خلیفہ ہے اور اسی مرتبہ میں وہ خلائق کا بادشاہ ہے، ہر چند کہ اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ امامِ زمانؑ ان کا دینی اور روحانی بادشاہ ہے، جس طرح انسان جمادات، نباتات اور حیواناتِ صامت کا بادشاہ ہے، اگرچہ حیواناتِ صامت وغیرہ اس امر واقعہ کو نہیں سمجھتے کہ ان پر کوئی شخص بادشاہی کررہا ہے اور انسان یعنی بنی آدم دوسری تمام مخلوقات سے افضل و اشرف ہونے کی یہ آفاقی اور عملی آیت قرآنِ پاک کی اس آیت کی تفسیر ہے جس میں بنی آدم کی فضیلت بیان کی گئی ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
“بے شک ہم نے بنی آدم کو کرامت دی اور ان کو خشکی و تری میں اٹھایا اور انہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں اور اپنی بہت سی مخلوقات پر ان کو اچھی خاصی فضیلت دی‘‘۔ ۱۷: ۷۰
۱۷
اس آیت کی دلیل یہ ہے کہ لفظ ’’بنی آدم‘‘ کا اشارہ حضرت آدمؑ کی صَفوَت، علم و حکمت اور خلافت کی طرف ہے، دوسری طرف سے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص علم و حکمت میں آدم کے اوصاف سے قریب تر ہو وہی شخص صحیح معنوں میں ابنِ آدم کہلائے گا اور وہی شخص صحیح معنوں میں بنی آدم کی اس فضیلت کا حقدار ہوگا، پس وہ شخص پیغمبر اور امام علیہما السلام ہی ہیں۔
۵۔ مذاہبِ عالم کی شہادت
اس بات کی تحقیق کہ مذاہبِ عالم اپنی صورتِ حال سے کس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں؟ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جس کا کوئی بانی نہ ہوا ہو، اور اہلِ مذہب اس پر اعتقاد نہ رکھتے ہوں اس کو نہ چاہتے ہوں اور انکے اعتقاد و رسوم میں یہ معنی پوشیدہ نہ ہوں، کہ اگر وہ بانی یا اس جیسا یا اس سے کمتر دوسرا شخص اب بھی زندہ اور موجود رہ کر اس مذہب کی رہنمائی کرتا تو اہلِ مذہب نسبتہً زیادہ فائدے میں رہتے، نیز یہ کہ دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جس کی بنیادی ضرورتوں سے یہ دلیل نہ ملے کہ دین و دنیا کی ہدایت کے لئے ہادیٔ برحق کا موجود و حاضر ہونا انتہائی ضروری ہے، چنانچہ ہر مذہب میں اب بھی یہی اصول کار فرما ہے کہ لوگ دینی مسائل میں کسی نام نہاد دینی پیشوا کی طرف رجوع کرتے ہیں، پس مذاہبِ عالم کی یہ صورتِ حال
۱۸
اس حقیقت کی ایک روشن دلیل ہے کہ نظریۂ امامت بالکل صحیح ہے، اور اس میں وہ لوگ حق پر ہیں جن کا امام دنیا میں حیّ و حاضر ہے، اور ادیانِ عالم کا یہ قدرتی تقاضہ کہ ہادیٔ برحق کے وجود فائض الجود کا دنیا میں ہونا لازمی ہے، آفاق کی ایک ایسی آیت ہے جس کے معنی سے کوئی دانشمند انکار نہیں کرسکے گا، اور یہ آیت قرآن کی آیتِ ’’ھاد‘‘ کی تفسیر ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (۱۳: ۷)
(اے رسول!) آپ صرف انذار کے ذمہ دار ہیں، اور ہر قوم ( یعنی ہر زمانہ کے لوگوں) کے لئے ایک ہادی ہوا کرتا ہے۔
۶۔ سیاسی تنظیمات کی شہادت
دنیا کے ہر ملک میں ہمیشہ سے لوگوں کا کوئی نہ کوئی حاکمِ وقت ہوا کرتا ہے، خواہ وہ خود مختار سلطان ہو یا صدرِ جمہور، یا قبیلے کا سردار، خواہ دینی حیثیت کا ہو یا دنیاوی قسم کا، مگر ہر حال میں حاکمِ وقت کا ہونا لازمی ہے، ورنہ لوگوں کی عزت و آبرو، اہل و عیال، مال و جان اور ملک ہر وقت خطرے سے خالی نہ ہوگا، پس سیاسی تنظیمات کی ہستی اور اہمیت آفاق کی آیتوں میں سے ایک ایسی آیت ہے جس کی تفسیر یہ ہے کہ دینِ حق وہی ہے جس کا شاہنشاہ معجزانہ طور پر ہمیشہ حیّ و حاضر ہے، کیونکہ جب دنیا کی حفاظت دنیاوی حاکم کے بغیر ممکن نہیں، حالانکہ
۱۹
دنیا کے معاملات بہت آسان ہیں تو دین کی حفاظت دینی حاکم کے بغیر اس سے بھی زیادہ ناممکن ہے، اس لئے کہ دین کے معاملات بہت دشوار ہیں، پس یہ آفاقی آیت کی وضاحت کرتی ہے، جس میں روئے زمین پر خلیفۂ خدا موجود ہونے کا ذکر ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ (۳۸: ۲۶)
ترجمہ: اے داؤد! ہم نے تجھے روئے زمین پر خلیفہ مقرر کیا، پس لوگوں کے درمیان بالکل ٹھیک فیصلہ کرلیا کر۔
۷۔ انبیاء کی شہادت
یہ روایت مشہور ہے کہ خدا کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کرنے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں آئے ہیں، مگر خدا کی حکمت اور زمان و مکان کی ضرورت کے سبب سے سارے انبیاء فضیلت و مرتبت میں یکسان نہ تھے بلکہ خداوند تعالیٰ نےبعض پیغمبروں کو بعض پر فضل و شرف دیا تھا، چنانچہ ارشاد ہے:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ (۲: ۲۵۳)
ترجمہ: ’’ یہ سب رسول (جو) ہم نے (بھیجے) ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی‘‘۔
۲۰
چنانچہ حبیبِ خدا سردارِ انبیاء حضرت محمد مصطفےٰصلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر یہ فضیلت و مرتبت بطورِ کلّی منتہی ہے اور اس حقیقت کے اثبات کے لئے بہت سی دلیلیں موجود ہیں، منجملہ ایک دلیل یہ ہے جو خدا تعالےٰ فرماتا ہے:
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (۲۱: ۱۰۷)
ترجمہ: ’’ اور (اے رسول) ہم نے تو آپ کو سارے دنیا جہان کے لوگوں کے حق میں ازسرتا پا رحمت بناکر بھیجا‘‘۔
چنانچہ تمام انبیاء میں سے صرف آنحضرتؐ ہی رحمتِ کل ہیں، اور رحمت کا دوسرا لفظ مہربانی ہے اور خد اور رسولؐ کی مہربانی سب سے پہلے ہدایت کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آنحضرتؐ خلق اوّلین و آخرین کے لئے ہدایت کے مرکز تھے اور کسی کام کا مرکز درمیان میں ہونا درست ہے، اس لئے آنحضرتؐ دورِ نبوّت کے اخیر میں اور دورِ امامت کے شروع میں آئے اور ہدایت کے اس مرکز کی جانب سے خلقِ آخرین کی ہدایت أئمّہ علیہم السّلام نے کی، پس معلوم ہوا کہ آنحضرتؐ بلاشبہ سردارِ رسل اور ہادیٔ سبل ہیں۔
پس یہ حقیقت اظہرمن الشّمس ہے کہ ہر زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک ایسے دینی اور روحانی سردار کا ہونا ضروری ہے جو خدا کی جانب سے مقرر ہو، کیونکہ اگر قانونِ الہی میں یہ امر مناسب اور ممکن ہوتا کہ
۲۱
انسانوں کی کسی جمیعت کو یا کسی زمانے کے لوگوں کو روحانی سردار سے بے نیاز رکھا جائے اور ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی جائے تو سب سے پہلے یہ امر جمعیتِ انبیاء ہی میں ممکن ہوتا، اس لئے کہ وہ خود ہدایت یافتہ اور لوگوں کے سردار ہیں۔
اگرکوئی شخص یہ کہے کہ اس معاملے میں کتابِ سماوی ہی لوگوں کی ہدایت کرنے کے لئے کافی ہے، کیونکہ اس دینی سرداری سے ہدایت مراد ہے نہ کہ کوئی اور شے مقصود ہے۔ تو اس کے لئے میرا جواب یہ ہے کہ قرآن پاک آخری سماوی کتاب ہے اور یہ صرف حکمتِ بالغہ کے اصول پر ہدایت الہیہ کی ایسی بے نظیر کتاب ہے جس کے برابر کوئی کتاب جنّ و انس باہم مل کر بھی نہیں بناسکتے، اور یہی قرآن انہی اوصاف کے ساتھ معنوی طور پر اگلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں بھی تھا، چنانچہ ارشاد ہے:
وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ (۲۶: ۱۹۶)
ترجمہ: اور بے شک وہ (قرآن) اگلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں ( بھی موجود) ہے۔
وہ کتابیں ان امتوں کی اپنی اپنی زبانوں میں تھیں، مگر اس کے باوجود ان امتوں کے جو علماء ہادیٔ برحق کی نورانی ہدایت کے بغیر کتبِ سماوی کے حقائق و معارف سمجھنے کی سعی وکوشش کرتے تھے تو ان کی وہ کوشش نہ صرف بے سود ہی ثابت ہوجاتی بلکہ دراصل
۲۲
وہ لوگ خدا کے پیغمبروں کو جھٹلانے کے مرتکب بھی ہوجاتے تھے، جس کے اسباب حسبِ ذیل ہیں:
جب وہ لوگ ذاتی کوششوں سے کتب سماویہ کے حقائق تک نہ پہنچ سکے، تو انہوں نے گویا منطقی طور پر یہ کہا کہ ’’ کتابِ سماوی کے معنی بس یہی ہیں اور اس سے زیادہ کوئی چیز نہیں،‘‘ یا انہوں نے نتیجے کے طور پر یہ کہا کہ ’’ کتابِ سماوی کے معانی تو بہت سے ہیں مگر بتانے والاکوئی نہیں۔‘‘
پس انہوں نے ان دوصورتوں میں سے کسی بھی ایک صورت میں پیغمبروں کو جھٹلایا، پہلی صورت میں اس طرح کہ انہوں نے سطحی علم کے سوا باقی تمام علوم کو نیست قرار دیا، جس کی وجہ سے ان کے نزدیک کتبِ سماوی معجزانہ حکمت کے خزانوں سے خالی ہوکر رہ گئے، اور ساتھ ہی ساتھ انبیاء بھی ان کے نزدیک عام انسانوں کی طرح علمی معجزات سے خالی ہوگئے، پس اسی طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، اور دوسری صورتِ حال یہ ہے کہ اگر انہوں نے یہ کہا ہوکہ اب کتب سماوی کے معنی بتانے والا کوئی نہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ پیغمبروں نے اپنی آئندہ امتوں کے لئے ہدایت کا کوئی مستقل نظام قائم نہیں کیا، یعنی انہوں نے اپنی علمی پرورش سے کوئی ایسا شخص تیار نہ کرسکا جو کہ ان کے بعد امّت کی علمی پرورش کرسکے اور کتب سماویہ کے حقائق ومعارف سے لوگوں کو اُن کی حقداری کے مطابق واقف کرسکے۔
۲۳
چنانچہ پیغمبروں کو جھٹلانے والوں کے متعلق جو ارشاد ہے وہ حسبِ ذیل ہے:
وَكَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۙ وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ اٰتَيْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ (۳۴: ۴۵)
ترجمہ: اور جو لوگ ان ( منکرین) سے پہلے گزر گئے انہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا (جس کی وجہ یہ تھی کہ) ہم نے ان کو ( پیغمبروں کے توّسط سے) جو کتابیں دی تھیں وہ ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے، پس (اسی طرح) ان لوگوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا، تو (آپ نے دیکھا کہ) میرا عذاب اُن پر کیسے انوکھے انداز میں تھا۔
۸۔ اعداد کی شہادت
اقوامِ عالم کے اس قدرتی اتفاق میں بہت سے اسرارِ الٰہی پوشیدہ ہیں، کہ اعداد وشمار کی اساسی شکلیں سب کے نزدیک بلا اختلاف دس ہیں، وہ اشکال حسبِ ذیل ہیں:
پس یہی اشکال خود اعداد ہیں، اور اعداد چیزوں کی کمیت
۲۴
ظاہر کرتے ہیں جس طرح حروف چیزوں کی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔ اعداد اور حروف میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ اعداد میں سے ہر ایک عدد اپنی انفرادی شکل ہی میں بھی کسی چیز کی کمیت یعنی مقدار ظاہر کرتا ہے، مگر حروف میں یہ امکانیت بہت کم ہے۔ اس بیان سے مقصود یہ ہے کہ حقائق کی تحقیق کے سلسلے میں اعداد کی دلیلیں بہت مستحکم ثابت ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ اعداد کے تعیّن میں یقیناً قدرت کا ہاتھ ہے، اسی لئے اقوامِ عالم میں اس کی قدروں اور حساب کے اصولوں میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا ۔
چنانچہ اعداد میں سے صفر عالمِ روحانی کی مثال ہے، کیونکہ عالمِ روحانی کمیت سے بالاتر ہے، یعنی اس پر گنتی واقع نہیں ہوتی، کیونکہ روح ایک ایسا جوہر ہے جو قابلِ تقسیم نہیں، مگر اجسامِ مختلفہ سے متعلق ہونے کے بعد اس پر گنتی واقع ہوسکتی ہے، جس طرح صفر انفرادی طور پر کسی گنتی کو ظاہر نہیں کرتی، بلکہ اگر کوئی شخص گنتی کے کسی درجے کے بارے میں صفر کہے تو اس سے اس درجے کی کمیت کی نفی ہوجاتی ہے، ہاں جب یہ کسی دوسرے ہندسے کے ساتھ آجائے تو یہ اُس ہندسے کی مدد سے کسی مقدار کو ظاہر کرتا ہے۔ پس یہ حقیقت روشن ہوئی کہ صفر عالمِ روحانی کی مثال ہے۔
صفر کے بعد ایک آتا ہے جو نویں آسمان کی مثال ہے، کیونکہ نواں آسمان روحانیت اور جسمانیت کا درمیانی درجہ ہے، یعنی فلکِ نہم
۲۵
سے باہر روحانی کیفیت ہے اور فلکِ نہم کے اندر جسمانی کمیت ہے، جس طرح ایک سے آگے صفر ہے، جو عالم روحانی کی مثال ہے اور ایک کے بعد آٹھ اعداد ہیں، جو فلکِ نہم کے اندر آٹھ آسمانوں کی مثال ہیں، جن کے مجموعے کو عالمِ جسمانی کہا جاتا ہے۔
اس بیان سے بھی یہی حقیقت ظاہر ہوئی کہ ہر نوع کی چیزوں میں سے ایک چیز کی افضلیت قدرتی امر ہے، چنانچہ نوعِ انسان میں بھی ایک ایسا شخص موجود ہے جو انسانی اوصاف کی کمالیت میں یگانۂ روزگار ہے، جو قدرتی اور معجزانہ طور پر دوسرے تمام انسانوں کے لئے سرچشمۂ عقل و روح ہے، جس طرح عددِ واحد دوسرے تمام اعداد کے لئے باعثِ ہستی اور سببِ وجود ہے، کیونکہ ہر عدد کی اکائیوں کو عددِ واحد کے معنی کا سہارا ہے، پس وہ شخص جو یگانۂ روزگار ہے اور جس کی افضلیت اعداد کی مثال سے ظاہر ہوئی، انسانِ کامل یعنی امامِ زمان ہے اور آفاق کی یہ شہادت قرآنِ پاک کی اس شہادت کی تصدیق کرتی ہے جو ارشاد ہے:
قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ (۳۴: ۴۶)
(اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایک (حقیقت کے متعلق) نصیحت کرتا ہوں۔
۹۔ حروف کی شہادت
عربی زبان کے حروفِ تہجی اٹھائیس ہیں، ان میں سب سے پہلا
۲۶
حرف الف ہے، الف کی شکل ایسی ہے جیسے کوئی مرد حکیم اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتا ہے، پس اُس حکیم کا یہ اشارہ حسبِ ذیل معنوں پر مشتمل ہے:
۱۔ اگرچہ خدا ہر جگہ موجود ہے، تاہم علوِشان کے اعتبار سے یہ اشارہ ذاتِ واجب الوجود کی طرف جائز ہے۔
۲۔ نیز اس اشارے میں واحد کے معنی ہیں۔
۳۔ اس اشارے سے راستی اور سچائی بھی مراد ہوسکتی ہے۔
۴۔ اس اشارے سے عالمِ بالا کی طرف توجہ دلانا بھی مقصود ہوسکتا ہے۔
۵۔ اوّلیت اور آغاز کے معنی بھی ہوسکتے ہیں۔ پس جس حرف کی شکل کا اشارہ ایسے اعلیٰ ترین حقائق کی طرف ہو، وہ تمام حروف پر مقدّم ہے اور ایسا حرف صرف الف ہی ہے۔
اس اصول کے مطابق کہ ہر نوع کی چیزوں میں سے ایک چیز افضل و اعلیٰ ہوتی ہے، حروف میں بھی یہی حقیقت موجود ہے، چنانچہ یہ امر واقعہ اس بات کی شہادت ہے کہ انسانی افراد میں بھی ایک فرد افضل و اعلیٰ ہے، جس میں الف کے تمام اشارے ذیل کی طرح صحیح ہوتے ہیں:
۱۔ وہ فرمانبرداروں کو ذاتِ واجب الوجود سے واصل کردیتا ہے۔
۲۔ وہ مومنین کو توحید کی حقیقت سے آگاہ کردیتا ہے۔
۲۷
۳۔ وہ راستی اور صداقت کی ہدایت کرتا ہے۔
۴۔ وہ تابعین کو آخرت کی توجہ دلاتا ہے۔
۵۔ وہ عقلِ اوّل کا مظہر ہے، اس لئے اس کو تمام لوگوں پر اوّلیت اور افضلیت حاصل ہے۔
پس آفاق کی یہ آیت قرآنِ پاک کی اس آیت کی طرح ہے جو ارشاد ہے:
وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ اُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ ۵۶: ۱۰ تا ۱۱
ترجمہ: ’’ اور جو لوگ ( نیکیوں میں) سبقت لے جاتے ہیں، وہی لوگ (درجات میں بھی) آگے ہیں، اور وہی خدا کے مقرب ہیں۔‘‘
پس الف سابقون کی مثال ہے، کیونکہ یہ حرف دوسرے تمام حروف سے ترتیب میں بھی آگے ہے اور اپنے وسیع معنی میں بھی۔
۱۰۔ کتبِ سماوی کی شہادت
جس طرح آنحضرتؐ تمام پیغمبروں کے سردار ہیں اسی طرح وہ آسمانی کتاب بھی جو آنحضرت پر نازل ہوئی، تمام کتبِ سماوی سے افضل و اکمل اور جامع ہے جس کے بارے میں مسلمانوں میں کوئی اختلاف ہی نہیں، چنانچہ ذخیرۂ کتبِ سماویہ سے بھی یہ حقیقت ثابت ہوئی کہ ہر نوع کی چیزوں میں سے ایک چیز کی افضلیت قدرتی امر ہے، پس ظاہر ہے کہ نوعِ انسان میں بھی ایک فرد کی افضلیت کا یہی اصول کار
۲۸
فرما ہے، یعنی تمام انسانوں میں سے ایک شخص افضل و اعلیٰ ہے جو امام زمان اور ہادیٔ برحق ہے اور قرآنِ پاک کی طرح ذریعۂ ہدایت اور سرچشمۂ علم و حکمت ہے، بلکہ وہی قرآنِ کریم کی زندہ روح اور اس کا نور ہے اور یہ آنحضرتؐ کا ایک عظیم ترین معجزہ ہے کہ حضور کی کتاب کے ساتھ ساتھ زندہ نور بھی ہمیشہ کے لئے دنیا میں موجود ہے اور آفاق کی یہ آیت قرآنِ پاک کی اُس آیت کی تصدیق کرتی ہے جس میں ایک طرف سے آنحضرتؐ کی رسالت و نبوّت برحق ہونے کی شہادت ہے اور دوسری طرف سے اس حقیقت کا تذکرہ ہے کہ ہر زمانے میں ایک ایسے شخص کا موجود ہونا قدرتی امر ہے۔ جس کے پاس آسمانی کتاب کا علم ہے وہ ارشاد درج ذیل ہے۔
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ (۱۳: ۴۳)
ترجمہ: (اے رسول) آپ ( کافروں سے) کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان (میری رسالت کی) گواہی کے واسطے خدا اور وہ شخص، جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا علم ہے، کافی ہیں۔
مذکورہ بالا آیت سے یہ حکمتیں ظاہر ہوجاتی ہیں کہ اسلامی قانون کی رو سے ہر ضروری معاملہ میں دو ایسے معتبر اور عادل گواہ مقرر کر لئے جاتے ہیں، جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اس معاملہ کو تماماً دیکھ چکا ہو، چنانچہ آنحضرتؐ کی رسالت کے انتہائی عظیم واقعہ کا پہلا گواہ
۲۹
خود خدائے تعالیٰ تھا، اور دوسرا گواہ خدا و رسول کا نور تھا، جو آنحضرتؐ کے ان تمام عظیم روحانی واقعات کے رونما ہوتے وقت حاضر تھا، جو غارِ حرا سے مقامِ معراج تک اور معراج سے آخری وقت تک آنحضرتؐ پر گزر گئے تھے، وہ وہ مقدّس نور مولانا مرتضیٰ علی علیہ السّلام کی شخصیت میں جلوہ افروز تھا، اور وہی نور اب بھی بلباسِ امامِ زمان دنیا میں حیّ و حاضر ہے، اور یہ حکمت اسی آیت سے ظاہر ہے، کیونکہ اگر دنیا میں اب بھی آنحضرتؐ کی رسالت کے منکرین موجود ہیں تو حضورؐ کی رسالت کے وہ دونوں گواہ کیوں نہ ہوں، پس معلوم ہوا کہ امامِ زمان مولانا مرتضےٰ علی علیہ السّلام کا نور ہے، بس یہی نور قرآنِ پاک کی روح ہے، جس میں قرآن کے تمام علوم نورانی تصورات، مجرّد تخیلات، روحانی تمثیلات، بے دہن آواز اور کلماتِ تامّہ کے اشارات و رموز پر مشتمل موجود ہیں۔
پس مذکورہ تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات و موجودات کی کل چیزیں مختلف انواع و اقسام میں پائی جاتی ہیں، اور ان تمام اقسام میں سے صرف ایک ہی قسم اعلیٰ و افضل ثابت ہوجاتی ہے، جیسے تمام چیزوں کی قسموں میں سے صرف جاندار چیزوں کی قسم ہی افضل ہے، جس میں انسان بھی شامل ہے، پھر ان تمام اقسام میں سے ہر قسم کئی چھوٹی چھوٹی قسموں پر مشتمل نظر آتی ہے، اور ان چھوٹی چھوٹی قسموں میں سے بھی صرف ایک ہی قسم افضل ثابت ہوجاتی ہے، جیسے جاندار کہ وہ مخلوقات کے اقسام میں سے ایک بڑی قسم ہے، جس کی کئی چھوٹی
۳۰
چھوٹی قسمیں ہیں، جن میں سے انسانی قسم اعلیٰ و افضل ہے، چنانچہ اس کی مثال مندرجہ ذیل ہے:
۱۔ آسمانی کتابوں میں سے قرآنِ پاک افضل ہے اور قرآنِ پاک کی تمام سورتوں میں سے سورۃ فاتحہ افضل ہے، کیونکہ وہ ام الکتاب کے درجے میں ہے۔
۲۔ تمام عمارتوں میں سے مساجد و عبادت خانے افضل ہیں، اور ان میں سے خانۂ کعبہ افضل ہے، اس لئے کہ خدا نے اُسے بطورِ خاص اپنا گھر قرار دیا ہے۔
۳۔ تمام مہینوں میں ماہِ رمضان افضل ہے اور اس کے تیس دنوں میں شبِ قدر افضل ہے۔
۴۔ پتھروں سے جواہر افضل ہیں اور جواہر سے یاقوت افضل ہے۔
۵۔ چوپایوں میں سے حلال چوپائے افضل ہیں اور اُن سے اونٹ افضل ہے۔
۶۔ دانوں میں سے غلہ جات افضل ہیں اور اُن میں سے گندم افضل ہے۔
۷۔ درختوں میں سے پھل دار درخت افضل ہیں اور اُن میں سے کھجور افضل ہے۔
۸۔ پھولوں میں سے وہ پھول افضل ہیں جو خوشبودار ہیں، اور
۳۱
ان میں سے گلاب افضل ہے۔
۹۔ معدنیات میں سے دھات افضل ہیں اور ان میں سے سونا افضل ہے۔
۱۰۔ حیوانی جسم ڈھانپنے کے لئے اون، بال، رواں اور پروں کے مقابلے میں انسانی لباس افضل ہیں، اور ان میں ریشمی لباس افضل ہیں۔
۱۱۔ سونگھی جانے والی چیزوں میں سے خوشبویات افضل ہیں اور ان میں کستوری افضل ہے۔
۱۲۔ انسان کے باطنی اعضاء میں سے اعضائے رئیسہ افضل ہیں، جو دل، دماغ، کلیجہ، پھیپڑے، پتا، تلی اور گردے ہیں، اور ان میں دل افضل ہے۔
۱۳۔ انسان کے ظاہری اعضاء میں وہ اعضاء افضل ہیں جو حواسِ خمسہ کے مراکز ہیں اور ان میں آنکھیں افضل ہیں۔
۱۴۔ انگلی والے اعضاء میں دونوں ہاتھ افضل ہیں اور ان میں دایاں ہاتھ افضل ہے۔
۱۵۔ ہاتھوں کی انگلیوں میں سے دائیں ہاتھ کی انگلیاں افضل ہیں، اور ان میں انگوٹھا افضل ہے۔
۱۶۔ انسان کی باطنی قوّتوں میں عقلی قوّتیں افضل ہیں، اُن میں قوّتِ ذکر افضل ہے، کیونکہ روحانی معجزات اسی میں پوشیدہ ہیں اور اسی سے دوسری تمام قوّتیں پرورش حاصل کرتی ہیں۔
۳۲
پس معلوم ہواکہ کائنات وموجودات اصولِ افضلیت کے تحت قائم ہیں، چنانچہ خدائے تعالیٰ نے اسی اصول کے مطابق سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السّلام کو ثبوت و امامت کے لئے برگزیدہ کیا، اور یہ سلسلہ حضرت آدمؑ کی نسل میں حضرت نوح علیہ السلام تک چلا، حضرت نوحؑ کی نسل میں حضرت ابراہیمؑ تک چلا، حضرت ابراہیمؑ کی نسل میں حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تک چلا اور آنحضرت پر نبوّت کا سلسلہ تمام ہوا۔ مگر سلسلۂ امامت آنحضرتؐ کی آلِ پاک میں تا قیامت جاری و باقی ہے، چنانچہ حق تعالےٰ کا ارشاد ہے:
فَقَدْ اٰتَيْنَآ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاٰتَيْنٰھُمْ مُّلْكًا عَظِيْمًا ۴: ۵۴
ترجمہ: ’’ بے شک ہم نے ابراہیمؑ کی اولاد کو (قیامت تک) کتاب اور حکمت (کی وراثت) دی اور ان کو ایک عظیم سلطنت دی۔‘‘
پس مذکورہ ارشادِ الہٰی سے آلِ ابراہیمؑ یعنی آلِ محمدؐ کی افضلیت ظاہر ہے، وہ یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی تاویل اور حکمت تا قیامت انہی کے ذریعے سے کسی کو مل سکتی ہے اور وہ اسی سبب سے روحانیت کی عظیم سلطنت کے مالک ہیں، چونکہ آسمانی کتاب کی تاویل اور حکمت ہمیشہ کے لئے ضروری ہے، اس لئے امام جو ابراہیمؑ اور محمدؑ کے خاندان سے ہے دنیا میں ہمیشہ حیّ و ناضر ہوتا ہے ، اور خود مختار بادشاہ ایک ہوتا ہے۔ اس لئے امامِ مستقر جو دینی بادشاہ ہے ایک ہوتا ہے،
۳۳
اور دورِ نبوّت میں امام بظاہر اس روحانی سلطنت کے وزیر کی حیثیت سے ہوتا ہے، چنانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے زمانے میں دینی بادشاہ تھے، اور مولانا مرتضےٰ علی علیہ السلام ان کے وزیر تھے۔
حقدار مومنین کے لئے اصولِ افضلیت کا ذکر کیا گیا ۔ بفضلہٖ ومنّہٖ والسّلام۔
۳۴
منقبتِ نورِ امامت
بصورتِ سوال و جواب
جواب سوال
کون ہوا پیشوا بعدِ رسولِ امین؟
جس کو خدا نے دیا نامِ “امامِ مبین”
منبرِ روزِ غدیر کس کے لئے تھا بنا؟
سِرِّ خدا کے لئے تا کہ بنے جانشین
پرچمِ دینِ نبی کس نے کیا تھا بلند؟
حیدرِ کرار نے گونۂ شیرِ عرین
بعد خدا و رسول کس کی اطاعت ہے فرض؟
اسکی جو ہے نورِ حق صاحبِ دنیا و دین
نورِ امامِ مبین کب سے ہوا ہے طلوع؟
یہ تو ازل ہی سے ہے جبکہ نہ تھی ما و طین
کون ہے دلدل سوار؟ کون ہے وہ نامدار؟
سرورِ مردان علی قاضیٔ روزِ پسین
خازنِ علمِ خدا کون ہے اس دہر میں؟
رہبرِ راہِ ہدا ھادیٔ دینِ متین
باب علوم نبیؐ کون ہے اے ہوشمند؟
نورِ علیؑ ہے سدا بابِ رسولِ امینؐ
سلسلۂ نور کی کب سے ہوئی ابتدا؟
جبکہ ہوا بوالبشر نائبِ روئے زمین
فرض ملائک پہ کیوں سجدۂ آدم ہوا؟
آدمِ خاکی میں تھا نورِ علیؑ جاگزین
نفسِ رسولِ خدا کون ہے وہ ارجمند؟
والیٔ ملکِ ولا پیشروِ متقین
ہاں تو وہی ہے مگر جلوہ نما ہے کہاں؟
چشمِ بصیرت سے دیکھ دل میں ہوا ہے مکین
۳۵
عرشِ اِلہٰ کا قیام جس پہ ہے وہ کون ہے؟
سلسلۂ نور ہے حاملِ عرشِ برین
کس کو خدا نے دیا خاتمِ حکمت نگین؟
مملکتِ ملکِ دین جس کو ہے زیرِ نگین
کس کے احاطے میں ہے دائرہ کل شَی؟
ذاتِ امامت میں ہے عالمِ نورِ یقین
ہے کوئی ایسا چراغ جو نہ بجھے دہر میں؟
نور امامت ہے وہ نورِ دلِ مومنین
کس نے کہا اے نصیرؔ! شاہ بہت دور ہے؟
جسم سے ہاں دور ہے دل سے مگر ہے قرین
۳۶
آپ کے تعاون کا شکریہ
حق تعالےٰ کا فرمان ہے:
وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى (۵: ۲)
ترجمہ:’’اور تم نیکی و تقویٰ (کے کاموں) میں ایک دوسرے کا تعاون کیا کرو‘‘۔
اس ارشادِ الہی سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ نیکی و پرہیز گاری کے تمام کاموں میں مومنین کی باہمی امداد دین کے ضروری فرائض میں سے ہے، مگر امکاناً یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ سب سے عظیم نیکی اور سب سے بڑی پرہیزگاری کون سی ہے کہ جس کی تعمیل میں مومنین باہمی امداد کرکے زیادہ ثواب حاصل کرسکتے ہوں؟
اس کا سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ سب سے عظیم نیکی وہ ہے جو تمام نیکیوں پر حاوی ہو اور سب سے بڑی پرہیزگاری وہ ہے جو ساری پرہیز گاریوں پر محیط ہو، اور ایسی نیکی و پرہیزگاری تو صرف علم ہی ہے۔
چنانچہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَسِعَ رَبِّيْ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۭ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ (۶: ۸۰)
۳۷
ترجمہ: میرے پروردگار نے علم کو ہر چیز پر حاوی کردیا ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے ہو۔
پس معلوم ہوا کہ دینی قسم کی علمی خدمت ہی سب سے عظیم نیکی اور سب سے بڑی پرہیزگاری ہے، اور جس میں مومنین کا باہمی تعاون کرنا عظیم ترین ثواب ہے، کیونکہ علم ہی کے ذریعہ بھلائی اور برائی میں فرق و امتیاز کرکے اپنے اور دوسروں کے حق میں بھلائی کی جاسکتی ہے اور برائی سے پرہیز کیا جاسکتا ہے، اور صرف علم ہی ایک ایسی لامحدود اور ہمہ رس دولت ہےجس سے حال اور مستقبل میں قوم ومذہب کے ہر فرد کو کافی حصہ مل سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ علم خدا کی رحمت ہے جس میں دین و دنیا کی سرخروئی، سر بلندی اور شادمانی پنہان ہیں۔
حق تعالےٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہماری قوم کے اکثر علم دوست اور ترقی پسند حضرات دینی علم کے احیاء و اشاعت کے سلسلے میں ہر قسم کا تعاون کرلیا کرتے ہیں، جن کی کثیر تعداد وادیٔ ہنزہ کے تقریباً تمام مقامات اور گلگت ایجنسی کے علاقہ جات میں ہے، جن میں اوشی کھنداس اور دنیور کے دینی احباب قابلِ ذکر ہیں، اسی طرح نومل اور رحیم آباد کے عزیزان بھی ہیں، پنیال، اشکومن، گوپس اور یاسین کے اسماعیلوں میں بھی علم گستری کی قدر کرنے والے بہت سے حضرات ہیں، جیسے میرے عزیز نوجوان واعظین جو فی الحال کراچی کے علمی مرکز میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور جیسے میرے دوست فقیر یاسین
۳۸
خلیفہ محمد آباد صاحب۔
گلگت میں الواعظ جناب شہزادہ سلطان خان صاحب (مرحوم) تھے، جنہوں نے بارہا اپنے شیرین اور پر اثر کلام سے اس خادم کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے، ان کے علاوہ وہاں میرے بہت سے ایسے عزیز دوست ہیں جن کی دینی اور روحانی دوستی کی مسرتیں میرے دل و دماغ کو قوت بخشتی ہیں۔
اوشی کھنداس اور دنیور کے علاوہ نومل اور رحیم آباد میں بھی ایسے حقیقی مومنین اور میرے پیارے شاگرد ہیں جن کی خوشی حاصل کرنے کی امید نے مجھ میں ایک خاص قسم کی بیداری پیدا کردی ہے، بالکل یہی تذکرہ خضر آباد، حسین آباد، مایون، خان آباد اور ناصر آباد کے حقیقی اسماعیلیوں کے متعلق بھی ہے کہ جب بھی میں ذرا اُن مومنین کے درمیان رہا تو میرے دل و دماغ میں ایمان و اخلاص کی ایک نئی روشنی آجاتی ہے اور میرے باطن میں علمی خدمت کا ایک تازہ ترین جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔
مرتضیٰ آباد بالاو پائین کے حقیقی مومنین اور میرے خاص شاگردوں نے کمالِ خلوص و محبت سے مجھے بہت کچھ متاثر کردیا ہے ان کا اور دوسرے مقامات کے بعض عزیزان کا یہ حال ہے کہ بس ان کی روحانی اور مادّی طاقتیں میرے بھیس میں علمی خدمت کرتی ہیں۔
حسن آباد کے مومنین بڑے مخلص اور عقیدت مند ہیں، اِس خوش نصیب گاؤں کے اسماعیلیوں میں بعض بڑی لائق و فائق ہستیاں پیدا ہوئی ہیں، جن سے ہم کو طرح طرح کی معاونت حاصل ہے۔
۳۹
علی آباد کے تذکرہ ہی سے میرا دل و دماغ باغ باغ ہوجاتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یقیناً یہی ہے کہ علی آباد علی کے مبارک نام کے طفیل سے ایک ایسا گاؤں ہے کہ دینی اتفاق و اتحاد میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، وہاں کے اہلِ علم حضرات جو ہر وقت اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کی جدوجہد کرتے رہتے ہیں، وہاں کے سوشل ورکرز، جو ہمیشہ اپنی قوم اور مذہب کی خدمت سے تھک نہیں جاتے، وہاں کے مدرسین جو انتہائی جانفشانی سے قوم کے بچوں اور بچیوں کو تعلیم دیتے ہیں، وہاں کے کاریگر اور تمام اسماعیلی افراد جو قومی عمارتوں کی تعمیر کی خدمت انجام دیتے ہیں وہ سب اپنی مثال آپ ہیں، بلاشبہ علی آباد نہ صرف میری ہی قوّتِ بازو ہے بلکہ علی آباد نے زمانۂ قدیم سے ہر اسماعیلی سید، ہر عالمِ دین، ہر فقیر اور ہر خادمِ دین کی حمایت و یاری کی ہے۔
ڈورکھن کی اسماعیلی جماعت بھی شاہراہِ ترقی پر گامزن ہورہی ہے اس کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ وہاں کے چند نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے جو آگے چل کر نہ صرف اپنے گاؤں ہی کی ترقی کریں گے بلکہ پوری قوم اور مذہب کے لئے بھی کارہائے نمایان انجام دے کر ملک و ملت کو روشن کردیں گے، میں نے کئی دفعہ رسمی طور پر ڈورکھن کے اسماعیلیوں سے مذہبی گفتگوکی ہے، وہ بڑے ہوشیار، نکتہ شناس اور فہیم ہیں اور اپنے علماء کی عزت و تکریم میں کوئی بھی کمی نہیں کرتے۔
حیدر آباد کے عناصر سے میرا یہ ناتوان جسم بنایا گیا ہے، اس لئے
۴۰
میں اس گاؤں کے احسانات کا ممنون ہوں، کوئی شک نہیں کہ حیدرآباد کی اسماعیلی جماعت نے بھی مذہبی اور قومی امور میں کافی ترقی کرلی ہے، کیونکہ وہاں کے اسماعیلی افراد سب کے سب بڑے مخلص اور بڑے دیندار ہیں، ان کے قومی کارکنوں اور رضا کاروں نے مفید کاموں کی مثالیں پیش کرنے کے سلسلے میں بڑی جانفشانی دکھائی ہے۔
گنش اور گریلت کے اسماعیلیوں کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب پر انتہائی مضبوطی سے قائم ہیں، وہ اپنی خداداد قابلیت کی بناء پر دینی باتوں کے متعلق سوال و جواب کا اصول خوب جانتے ہیں، مجھے چند بارگریلت کے اسماعیلی جماعت کے جذبۂ ایمان سے لطف اندوز ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
بلتت ریاستِ ہنزہ کا دینی اور دنیاوی مرکز ہے، جہاں بڑے بڑے صاحبِ منصب اور ذمہ دار حضرات رہتے ہیں، اس کے علاوہ بلتت کی آبادی بڑی گنجان ہے، ان اسباب کی بنا پر وہاں کی ترقی قدرتی امر ہے، بلتت میں کل آٹھ جماعت خانہ ہیں، مجھے وہاں کے اکثر جماعت خانوں میں جانے کی سعادت نصیب ہوئی ہے اور بہت سے حقیقی مومنین کے نور ایمان سے میرے قلب میں اخلاص و یقین کا انعکاس و ادراک ہوا ہے، بلتت میں میرے بہت سے عزیز و احباب رہتے ہیں جن سے ہمیشہ میری علمی خدمت کی معاونت ہوتی رہتی ہے۔
التت کے اسماعیلی حضرات مذہبی عقائد میں بڑے مستحکم ہیں،
۴۱
اور خدا کے فضل و کرم سے اب ان میں چند علماء بھی پیدا ہوئے ہیں، کچھ نوجوانوں نے دنیا وی تعلیم میں بھی کافی ترقی کرلی ہے، میں نے کئی دفعہ التت کے اہلِ علم حضرات کے ساتھ مذہبی مذاکرہ کیا ہے، جس میں ان کی ذہانت و ہوشیاری دیکھ کر مجھے انتہائی خوشی حاصل ہوئی ہے، وہ بڑی سنجیدگی اور اخلاق سے بات کرتے ہیں، التت میں میرے بہت سے روحانی احباب ہیں جن کی محبت سے مجھے روحانی قسم کی تسکین ملتی ہے۔
احمد آباد کی جماعت بھی قابلِ تعریف ہے، خوش قسمتی سے مجھے وہاں کے تمام مومنین کے ساتھ ایک دفعہ شب بیداری اور عبادت کرنے کا شرف حاصل ہوا، مجھے وہاں کے چند خوش الحان قصیدہ خوانوں کی لطیف آواز نے بے حد مسرت بخشی اور میں جماعت کی دینداری سے بہت متاثر ہوا۔
گلمت علاقۂ گوجال کا صدر مقام ہے، وہاں کے حقیقی اسماعیلی دینی آداب کی بجا آوری میں بے مثال ہیں، علاقۂ گوجال کے اسماعیلیوں کے قلوب میں دینی اخلاص و محبت بھری ہوئی ہے، گلمت، حسینی، فاسو، خیبر، مورخون اور سوست بالاو پائین کی جماعتیں یکسان طور پر انتہائی دیندار اور بڑے حلیم الطبع ہیں،البتہ مورخون اور سوست بالاو پائین اور خدا آباد کی جماعتوں میں اس دفعہ ایک مزید خوبی دیکھی گئی، وہ خوبی عبادت اور ذکرِالہی میں اپنے آپ کو محو کردینے کے متعلق تھی۔
مسگار کے مخلص اور حقیقی مومنین کے دینی جذبات اور ذکر و عبادت
۴۲
کے نتیجے میں روحانی واقعات انتہائی حیرت انگیز اور ازبس تعجب خیز ہیں، یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میں مہینوں اور ہفتوں کے لئے مختلف موقعوں پر بار بارمسگار کے اسماعیلوں کے درمیان رہا، جس کی مجموعی مدت کم از کم تین ہزار گھنٹوں کی ہے اور حق بات یہ ہے کہ میں نے ہر بار ان کو دینی صلاح و فلاح میں روز افزون ترقی پر دیکھا، اور خصوصاً اس سال!
اس دفعہ مسگار کی جماعت کی جانب سے وہاں کے تعلیم یافتہ حضرات نے مجھے ایک ایسا سپاس نامہ عنایت کردیا ہے کہ جس سے میری بہت حوصلہ افزائی ہوئی، جس کے مضمون کی علمیت و قابلیت دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسگار پر علم و ادب کا کوئی ستارہ طلوع ہورہا ہے۔ اس کتابچے کی یہ ہزار جلدیں مسگار کی تمام حقیقی اسماعیلی جماعت کے قابل قدر تعاون کے ثمرات میں سے ہیں، میں انکی اس ہمہ رس دینی خدمت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دل و جان سے اعتراف کرتا ہوں کہ مسگار کی جماعت کے خواندہ طبقہ اور حقیقی اسماعیلیوں نے ہر بار ’’خانۂ حکمت و ادارۂ عارف سے تعاون کیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مرتضیٰ آباد، اوشی کھنداس وغیرہ میں بھی کافی عرصے سے جدید قسم کے روحانی تجربات کے لئے ذکرِ جلی کی مخصوص مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ عام روحانی مجالس میں بھی کسی نہ کسی خوش نصیب مومن کو ذکرِ الہٰی میں مست و مدہوش یا عجزو نیاز میں لرزہ براندام دیکھا گیا ہے، مگر مسگار کے حقیقی مومنوں نے قدرتی
۴۳
اور معجزانہ طور پر سوز و گداز اور محویت کے جس انداز کا مظاہرہ کیا ہے وہ میرے لئے ایک ایسا فرحت بخش اور قابلِ یاد واقعہ ہے، جس کو بفرضِ محال اگر میں فراموش کردینا چاہوں تو غیر ممکن ہے کہ فراموش کرسکوں۔
چترال کے اسماعیلیوں نے قومی اور ملی اعتبار سے کافی ترقی کرلی ہے، انہوں نے تعلیم و تنظیم کے بہت سے ادارے قائم کئے ہیں اور وہاں ہیلتھ سینٹر کی شاخیں کھولی گئی ہیں، وہاں کے اسماعیلی اعلیٰ درجے کے عقیدتمند اور مخلص ہیں، ان کے قومی کارکنوں میں ہمت و جرات کا خاصہ موجود ہے چترال کے اسماعیلیوں میں بھی میرے بہت سے ایسے احباب ہیں جن سے میری ہر طرح کی ہمت افزائی اور معاونت ہوتی رہتی ہے۔
راولپنڈی اور سرگودھا کے اسماعیلیوں میں میرے چند خاص احباب ہیں جو علمی خدمت میں ہمیشہ میرا تعاون کرتے رہتے ہیں، جن کی دوستی سے مجھے فخر و خوشی حاصل ہے۔
کراچی کے اسماعیلیوں میں بھی میرے بہت سے عزیز و احباب ہیں جن سے مجھے طرح طرح کی امداد حاصل ہے، مجھے تعلیم یافتہ اور ترقی پسند حضرات بہت ہی عزیز ہیں، جن کی دوستی و محبت سے مجھے ہر وقت خوشی حاصل ہوتی ہے، اور اکثر یہی خوشی میرے کاموں میں ممد ومعاون ثابت ہوجاتی ہے۔ والسلام۔
فقط آپ کا مخلص: نصیرؔ ھنزائی
مورخہ ۷، ذیقعد ۱۳۸۷
۷، فروری ۱۹۶۸
۴۴
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سپاسنامہ
پنہان اسی میں جذبِ محبت کا راز ہے
اللہ کے عاشقوں کا یہی امتیاز ہے
اس عشق کا یہ جذبۂ سوزو گداز ہے
دردِ فنا کے جام سے جو بے نیاز ہے
محترم عالی قدر جناب علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی
یاعلی مدد
جنابِ والا! آپ اپنی گونا گون مصروفیات کے باوجود اپنا قیمتی وقت نکال کر مولانا حاضر امامؑ کے مقدس مذہب اور قوم کی دینی و دنیوی ہدایت اور بہتری کی خاطر ہمارے ہاں تشریف لائے اور مختصر سی مدت میں راہِ نجات دکھا کر اپنی پراثر صبحت سے مستفیض فرمایا، جس کے ہم نہایت شکر گزار ہیں۔ جناب یہ دینی خدمات آج سے نہیں بلکہ عرصۂ دراز سے سرانجام دیتے آئے ہیں، اور آپ کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ آپ دنیا کی رنگین لذّتوں کو خیرباد کہہ کر اپنی قوم بلکہ پورے اسماعیلی عالم میں ان لوگوں کو جو دورِحاضر کے روحانی نور سے بے خبر ہیں،
۴۵
مشعلِ راہ بن کر راہِ نجات دکھانے کیلئے کمربستہ ہیں، خدا کی قربت قلب و نظر کے سکون کے لئے بلاشبہ متاعِ گران کی ضمانت دیتی ہے، مگر یہ کس طرح حاصل ہو؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو بے علم انسان کے لئے ایک عقدۂ لاینحل کی حیثیت رکھتا ہے، اور جس کی عقدہ کشائی ایک ذی علم وعمل عارف کی بصیرت افروز وعظ و نصیحت ہی سے ممکن ہے یعنی دنیا کے جادو اثر فریبوں کی پردہ دری کرنا، بھلائی اور برائی کی سوجھ بوجھ پیدا کرنا اور تزکیۂ نفس کی کہکشانی راہوں پر چلنا سکھانا ایک باعمل اور روشن ضمیر عارف کا کام ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ اس مصیبت بردوش وقت میں ایک صاحبِ علم وعرفان کی حضوری ہمیں گھر بیٹھے نصیب ہوئی، جن کی درویشانہ صفات کے اثر سے ہم جہالت کی تاریکیوں سے نورِ معرفت کی طرف آئے اور قلب و ذہن کے گوشے گوشے تک مقدّس نور کی روشنی پھیلتی ہوئی محسوس کررہے ہیں، جن کا حقیقت پر مبنی اور معرفت سے معمور کلام متین اور سخنِ شیرین ہماری روحوں کے لطیف پردوں سے ٹکرا ٹکرا کر ایک مقدّس و منزہ سرور کو جنم دے رہا ہے اور جن کے دل گداز اندازِ تخاطب سے فیوض کے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور جن کی روح پرور روحانی کیفیت دیکھ کر اقبالؔ کا یہ شعر از خود زبان پر جاری ہوجاتا ہے کہ:
۴۶
نگاہ بلند، سخن دل نواز جان پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کاروان کے لئے
یہ دیکھ کر خدا کے بے نیازی پر ہزار بار قربان ہونے کو جی چاہتا ہے کہ قدرت ہم جیسے گناہوں کی گہری دلدل میں پھنسے ہوئے انسانوں کی بھی اپنی رحمتِ بے پایان کے نورانی دامن تلے چھپالینا چاہتی ہے، کیا یہ اس کی شانِ بے نیازی نہیں؟ اور ہم جیسے جنم جنم کے مریضوں کے کے لئے حکیم بھی ایسا منتخب کیا ہے جو دورِ حاضر کے روحانی معالجوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، جیسا کہ شاعر کہتا ہے:
اہلِ نظر، اہلِ کمال، اہلِ قلم ہم جیسے
ڈھونڈ کے تم دیکھ لو دنیا میں کہاں ملتے ہیں
مولاناحاضرامامؑ کونین میں جناب کو اس خدمت کا صلہ عطا کرے سچ ہے کہ آپ بحیثیت ایک نامور دینی فقیر کے اپنی جان کی قربانی سے دریغ نہ کرکے اپنے شہنشاہِ دوعالم کی خدمات میں تکالیف جھیلتے ہیں۔ جناب یہ مذہبی اور قومی خدمات آپ کے شایانِ شان ہے آفرین صد آفرین، آپ کی ابتدائے پیدائش بھی سعادت مندی ہے اور آخری مرحلہ بھی!
عالیجاہ! آج ہمارے چہروں پر اداسی کی لکیریں کیوں پھیلتی جا رہی ہیں؟ آج ہماری روحیں اپنے دنیاوی ویران گوشوں ہی میں
۴۷
روحانی بہاروں کے دل آویز نشیمن بنانے کے باوجود کیوں غمناک ہیں! آج ہمارے ایمان کے نور سے چمکتے ہوئے قلب کیوں مدھم ہورہے ہیں؟ آج ہماری خوشی کے لبریز پیمانے غم کی تلچھٹ سے کیوں چھلک رہے ہیں؟ کیا اس لئے کہ ہمارے عظیم محسن ہمیں صراطِ مستقیم پر گامزن کرکے اور کسی تاریکی میں ڈوبی ہوئی بستی کو جگمگانے کے لئے جارہا ہے اور ہمیں ان کی جدائی گوارا نہیں، مگر اس پر تو ہمیں افسردہ خاطر نہیں ہونا چاہئے، بلکہ دین کی پھیلتی ہوئی روشنی کی ایمان افروز لہروں کو لب و نگاہِ عقیدت سے سو سو بار چومنا چاہئے۔ اے ہمارے عظیم میرِ کاروان! آپ ہم جیسے اور گم کردہ راہ قافلوں کو بھی صحیح رہگذر منزل کا پتہ بتانے کے لئے ضرور جائیے، مگر دیکھئے گا کہ اپنے اس قافلے کی خبر نہ بھولئے گا جو منزل کی سمت روان دوان ہے۔
یہ تمنا ہے کہ آئے آپ لاکھوں باریوں
جھوم کر آتا ہے جیسا ماہِ خندان ماہ بہ ماہ
آخرمیں جماعت بارگاہِ خداوندی میں دست بہ دعا ہیں، کہ مولانا حاضر امام آپ کو دین و دنیا میں سر فراز و سر بلندرکھے، آپ کو سکھی و آباد رکھے ! مولانا حاضر امام آپ کو دنیوی آفتوں سے محفوظ رکھے، ہمیشہ ان کی نظرِ رحمت آپ پر پڑےاور اپنے نورانی ظاہر و باطن دیدار سے مدام مشرف کرے! آمین!
(از طرفِ اہالیانِ مسگر ہونزہ سٹیٹ)
۲۷، اگست ۱۹۶۷
۴۸