اسماعیلی
اصطلاحات

 

 

نعت

حضرتِ سیدُ الانبیاء و
المرسلین

 

وہ بادشاہِ انبیاء وہ
تاجدارِ اولیا
ء

محبوبِ ذاتِ کبریاء
یعنی محمد
مصطفیٰ

وہ رحمۃ للعالمین سلطانِ پاکِ ملکِ
دین

وہ ھادیٔ حق الیقین یعنی محمد مصطفیٰ

اقدس ہے اسکا سلسلہ عالی ہے اسکا
مرتبہ

قرآن ہے اس کا معجزہ یعنی محمد مصطفیٰ

وہ مفخرِ سب مسلمین وہ سرورِ سب
کاملین

وہ رحمتِ دنیا و دین یعنی محمد مصطفیٰ

وہ پیشوائے مرسلین وہ ہے شفیع
المذنبین

مقصودِ ربُ العالمین یعنی محمد مصطفیٰ

وہ تھا نبی وہ تھا صفی علمِ الٰہی میں
غنی

محتاج اس کے ہیں سبھی یعنی محمد مصطفیٰ

جس شب گئے پیشِ خدا افلاک سب تھے
زیرِپا

لولاک ہے اس کی ثنا یعنی محمد مصطفیٰ

 

۱

 

نورِ مجسم وہ نبی خود اسمِ اعظم وہ
نبی

سب سے مقدم وہ نبی یعنی محمد مصطفیٰ

میں ہوں نصیرِ خاکسار اے سیدِ عالی
وقار

راضی ہے تجھ سے کردگار جنت تجھی سے
پربہار

یعنی محمد مصطفیٰ یعنی
محمد
مصطفیٰ

 

ن۔ن (حبِ علی) ہونزائی (ایس۔آئی(

کراچی

اتوار ۱۳ ؍
جنوری
۲۰۰۲ء

 

۲

 

آغازِ کتاب

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔
اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا نہ شمار ہو سکتا ہے اور نہ اِحاطۂ بیان، جیسا
کہ قرآنِ پاک کا ارشاد ہے:
و اٰتکم من کل ما سالتموہ و ان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (۱۴: ۳۴) ترجمہ: اور پھر ہر چیز سے جو کچھ تم نے اس سے مانگا اس نے تمہیں وہی
کچھ دے دیا۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کا احاطہ نہ کر سکو
گے۔

          اس حقیقت میں کوئی شک ہی نہیں کہ ہم سب کے سب اس کی نعمتوں کے دریا
میں مستغرق ہیں۔

          اسماعیلی اصطلاحات کی یہ کتاب  یہاں تک مکمل ہوئی اگرچہ تمام اسماعیلی
اصطلاحات اس میں موجود نہیں ہیں، اور یہ کام عرصۂ قلیل میں ہو نہیں سکتا تھا، جب
جب کوئی خاص تاویلی راز کا انکشاف ہونے لگا تو میں نے اسی کی پیروی کو ضروری
سمجھا، بہ ہر کیف یہ کتاب اب آپ کے سامنے ہے، یہ کتاب میرے رب اور عالمِ شخصی کے
فرشتوں کی مدد سے تیار ہوئی ہے، فرشتے وہ جو باری باری سے حبل الورید کا کام کرتے
ہیں، بفضلِ مولا میں کبھی کا اپنے

 

۳

 

عزیزوں سے قربان ہو چکا ہوں۔

          ؎ زھر کم کمترم گربی تو باشم

               زگردون
برترم گر با تو باشم

 

نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

اتوار ۱۰،
اگست
۲۰۰۳ ء

 

۴

 

اس کتاب کے دو
نام

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔
سورۂ اعراف (
۷: ۱۸۰) کا ارشاد ہے: وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسنٰی فَادْعُوْہ بِھَا۔
واللہ! اسمِ اعظم ہی میں تمام اسماءِ حُسْنیٰ جمع ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا وہ بزرگ
ترین اسم یقیناً امامِ زمانؑ ہے (ارواحنا فِداہٗ)
!

          اس کتابِ عزیز کے دو پیارے نام ہیں، اس کا ایک نام ’’اسماعیلی
اصطلاحات‘‘ ہے، اور دوسرا نام ’’جنت کی سیڑھی‘‘، جیسا کہ مولای روم نے کہا: نردبانِ
آسمان است این کلام۔ شاید مثنوی کے بارے میں ہے: ترجمہ: یہ کلام آسمان کی
سیڑھی ہے۔ سیڑھی زبردست پرحکمت مثال ہے (
۷۰: ۱ تا ۴) معارج
= معراج کی جمع۔

          یہ بہت ہی پیاری کتاب ہمارے بیحد عزیز لٹل اینجلز کے اسمائے گرامی پر
ہے، خواہ ہمارے عالمِ شخصی کے یہ فرشتے اور دوسرے فرشتے مشرق میں ہیں یا مغرب میں؟
اس سے باطن میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے، کیونکہ ہم سب کو حضرتِ قائم علیہ السلام نے
اپنی بے پایان رحمت سے یک حقیقت کے سانچے میں ڈھال کر یک جان بنا دیا ہے، جس طرح
زرگر (سنار) سونے کے بہت سے ذرات کو پگھلا کر سونے

 

۵

 

کی ایک ڈلی بناتا ہے، ہماری ابدی
سعادت، کامیابی اور جنت اسی وحدت میں ہے۔

          کتابِ ہذا کو لٹل اینجلز کی جانب سے شائع کرنے کی تجویز ہمارے بہت
عزیز سابق کامڑیا حسن نے دی ہے، ہم اسی کتاب میں ان کی زرین خدمات پر چند کلمات
لکھنے والے ہیں، ان شاء اللہ العزیز۔

 

نصیر الدین نصیر (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

جمعہ ۱۵،
اگست
۲۰۰۳ ء

 

۶

 

انتساب

 

          دانش گاہِ خانۂ حکمت نے شرق و غرب کے تمام اپنے لٹل اینجلز کے نیک
بخت والدین کو ہائی ایجوکیٹرز کا باعزت نام دیا ہے، ’’ہم خرما و ہم ثواب‘‘ اپنے
بچوں کو دین و دنیا کے زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا ایک ہمہ جہت عظیم کارنامہ ہے،
ان شاء اللہ تعالیٰ۔

          آپ اپنی گریہ و زاری کی خاص دعاؤوں میں یہ دعا بھی کریں کہ آنے
والا زمانہ اور بھی زیادہ روشن اور بیش از بیش ترقی کا ہو! جس میں ہمارے ان فرشتوں
کو ہماری توقعات سے کہیں زیادہ دین و دنیا کی عزت اور نیک نامی نصیب ہو! آمین
!

          سابق کامڑیا حسن ابنِ حیدر علی چارانیہ (مرحوم) اور سابقہ کامڑیانی
کریمہ اہلیۂ حسن اور ان کا فرزندِ ارجمند سلمان ابنِ حسن، یہ تینوں عزیزان آئی۔
ایل۔ جی کا آنر رکھتے ہیں، کریمہ ڈالاس کے لئے سرپرستِ اعلیٰ کی پرسنل سیکریٹری
ہے۔

          ہمارے ہر عزیز کی زرین خدمات کا آسمانی ریکارڈ اس کی نورانی مووی میں
انتہائی خوبی کے ساتھ محفوظ ہے، ہمارے ساتھیوں کی گرانقدر خدمات اس قدر زیادہ
ہیں کہ ہم ان کا قلمی احاطہ ہرگز نہیں کرسکتے ہیں، مگر کراماً کاتبین

 

۷

 

کی نورانی مووی سے کوئی ذرہ بھر خدمات
بھی باہر ہو نہیں سکتی ہے، اس یقینِ کامل کے ساتھ میں تمام علمی خدمت کرنے والوں
کو مبارک باد! کہتا ہوں، آمین ! یارب العٰلمین
!

 

الٰہی چارۂ بیچارگان کن                          الٰہی رحمتی بر
مومنان کن

الٰہی رحمتت دریای عام است                   وزانجا قطرۂ مارا
تمام است

گناہ داریم بیش از کوہِ الوند                      گناہ ازبندہ و عوف از
خداوند

خداوندا سعادت یارِ ماکن                         زرحمت یک نظر برکارِ
ما کن

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

سنیچر ۱۶،
اگست
۲۰۰۳ء

 

۸

 

تحفۂ لازوال
برائے لٹل اینجلز

 

لٹل اینجلز سب کے سب بفضلِ اللہ ہمارے
ہیں

مجھے حبِ علی جیسے یقیناً سب پیارے
ہیں

کیا یہ حور و غلمان ہیں مثالِ زندہ
گلدستے ؟

کتابیں ہیں؟ نوشتے ہیں؟ نہیں اصلاً
فرشتے ہیں

تمہارے ہر تبسم میں نرالی گل
فشانی ہے

نباتی گل فشانی میں عزیزو! کیا نشانی
ہے؟

تمہارے شہر میں دیکھا ہمیشہ موسمِ گل
ہے

پرندے مستِ نغمے ہیں صدائی سوزِ
بلبل ہے

کمالِ علم و حکمت کو طلب کر رب العزت
سے

کہ مایوسی نہیں ہوتی خدا کے بحرِ
رحمت سے

تیاری حربِ علمی کی نہ بھولو لشکرِ
قائم
!

جہان میں تادمِ آخر جہادِ علم ہے
دائم

نصیر الدین کہتا ہے لٹل اینجلز ہمارے
ہیں

مجھے حبِ علی جیسے یقیناً سب پیارے
ہیں

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

روزِ یک شنبہ ۲۴،
دسمبر
۲۰۰۰ء

 

۹

 

اسماعیلی
اصطلاحات پر کتاب کی سخت ضرورت

         

          جناب محترم حاجی قدرت اللہ بیگ صاحب مرحوم اپنے وقت میں زبردست عالم
اور بڑے معروف دانا شخص تھے، انہوں نے مجھ سے اسماعیلی اصطلاحات پرایک کتاب
لکھنے کے لئے فرمایا تھا، لیکن مجھ سے یہ اہم کام بروقت نہ ہو سکا تھا، بعد میں
مجھے شدت سے محسوس ہونے لگا کہ یہ کام بے حد ضروری بھی تھا اور ازبس مفید بھی، لہٰذا
عرصۂ دراز کے بعد اب میں اپنے ترقی یافتہ شاگردوں کی مدد سے ان شاء اللہ ازبس
مفید کتاب لکھنا چاہتا ہوں، کیونکہ اب دانش گاہِ خانۂ حکمت میں بفضلِ خدا کافی
اہلِ قلم پیدا ہوئے ہیں۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

جمعرات ۲۰،
اپریل
۲۰۰۰ء

 

          نوٹ:

          اصطلاح کی جمع آوری کا طریقِ کار اورنمونۂ گوشوارہ وغیرہ جناب ڈاکٹر
(پی۔ ایچ۔ ڈی) فقیر محمد صاحب ہونزائی بحرالعلوم آپ کو بتائیں گے، کیونکہ ہم
اسماعیلی اصطلاحات پر ایک مستند کتاب موصوف ڈاکٹر کے مبارک ہاتھ سے لکھنا چاہتے
ہیں، ان شاء اللہ العزیز
!

 

۱۰

 

جدید مثالوں اور
اصطلاحات کی ضرورت

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قرآن حکیم (۱۵: ۲۱) کو اگر چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے تو یقین آتا ہے کہ زمانۂ آدمؑ سے
لے کر آج تک جو کچھ علوم و فنون انسانوں کو حاصل ہوئے ہیں، وہ سب کے سب خزائنِ الٰہی
سے آئے ہیں، پھر آج ہم جس روحانی حکمت کو روحانی سائنس کہتے ہیں وہ کوئی معمولی
چیز کس طرح ہو سکتی ہے؟ اگر ہم نامۂ اعمال کو ’’نورانی مووی‘‘ سے تعبیر و
تاویل کرتے ہیں تو بفضلِ خدا درست ہے۔ کیونکہ آپ پہلے قرآنِ پاک کا فیض صرف
کاغذی صورت میں ہی حاصل کر سکتے تھے، آج ظاہری سائنس کی برکت سے جو ہمارے رب
نے اپنے خزانوں سے نازل فرمائی ہے، کئی سمعی و بصری آلات بنے ہوئے ہیں جن کے
ذریعے سے آپ بآسانی قرآنِ حکیم کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پس ان شاء اللہ کل
بہشت میں آپ کی کتاب اعمال نورانی مووی کی صورت میں ہوگی، جس کو دیکھ کر آپ بیحد
شادمان ہوں گے، اس کے بارے میں آپ جو بھی سوال اٹھائیں اس کا جواب قرآنِ
عزیز میں موجود ہے۔

          ۶۹: ۱۹ کا ترجمہ ہے: پس رہا وہ شخص جس کو کتابِ اعمال اس کے دائیں ہاتھ
میں دی جائے گی تو وہ کہے گا لو میری کتابِ اعمال کو پڑھو۔

 

۱۱

 

یہ نورانی مووی ہے، جس کو ہر کوئی
دیکھ سکتا ہے، اس کو دیکھنا ہی پڑھنا ہے۔

؎ زدنیا تا
بعقبیٰ نیست بسیار
                          

ولی در رہ وُجودِ تست دیوار

(حضرتِ پیر)

          ترجمہ: دنیا سے عقبا =  آخرت
تک کچھ زیادہ مسافت نہیں، لیکن تیری اپنی ہستی درمیان میں دیوار بنی ہوئی ہے۔

         

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

بدھ ۱۳،
اگست
۲۰۰۳ء

 

۱۲

 

دربارۂ توصیفِ
کتاب

 

آفتاب و ماہتاب و چرخِ اخضر ہے کتاب


                       چشمۂ آبِ
حیات و آبِ کوثر ہے کتاب

حسن وخوبی میں یگانہ دلکشی میں طاق ہے


              باغ و گلشن کی طرح اک
خوب منظر ہے کتاب

بے مثال و لازوال انمول تحفہ علم کا


                       اے عزیزان لے
کے رکھنا گنجِ گوہر ہے کتاب

میں جہاں بھی رہ چکا دن بھر کتابوں
میں رہا


              بس مرا گھر ہے کتاب
اور میرا دفتر ہے کتاب

اک جہانِ  علم و حکمت ہے کتابِ مُستطاب


              ہے اگر قرآن سے پھر
سب سے برتر ہے کتاب

آیۂ قَد جَاءَ
کُم (
۵: ۱۵) کو پڑھ لیا کر جانِ من!


              نورِ حق کی روشنی میں
سب کو رہبر ہے کتاب

تو ہے بھیدوں کا صحیفہ تو ہے کنزِ
لامکان


                       قولِ مولانا
علیؑ ہے: تیرے اندر ہے کتاب

ہے کتابِ حق تعالیٰ باتَکلُّم ہر جگہ


                       ظاہر و باطن
میں دیکھو میرا حیدر ہے کتاب

 

۱۳

 

معجزے ہی معجزے قرآنِ ناطق سے سنو

آج مولائے زمانہ، روزِ محشر ہے کتاب

سربسر انوار کی دولت سے بھر کر ہے
کتاب

اس بہشتِ معرفت میں کیا نہیں ہے جانِ
من!

کانِ راحت جانِ لذّت شہد و شکر ہے
کتاب

مِثلِ یارِدلنشین محبوب ہے مجھکو کتاب

دِل کُشا ہے جانفزا ہے روح پرور ہے
کتاب

جب قلم لیتا ہوں آتا ہے تجلّی بن کے
وہ

یہ نوازش ہے اسی کی تب میسّر ہے کتاب

باغ و گلشن کی سیاحت میں ذرا سا حظ تو
ہے

سیرِ علمی کے لئے بس سب سے بہتر ہے
کتاب

اے نصیرالدّین تجھ کو سِرِّ اعظم یاد
ہے؟

عالمِ عُلوی میں تنہا ایک گوہر ہے
کتاب

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

ہفتہ ۷
جمادی الثانی
۱۴۲۰ ھ

۱۸؍
ستمبر ۱۹۹۹ء

۱۴

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۱)

 

          اسلام کی اسماعیلی شاخ کی ازلی اور قدیم اصطلاح لفظِ ’’امام‘‘ ہے، اس
کا ایک ترجمہ پیشوا  = راہنما (ھادی) ہے،
یہ ھادی جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی جانب سے مقرر ہے امامُ الناس بھی ہے (
۲: ۱۲۴، ۱۷: ۷۱) امام المُتقین بھی (۲۵: ۷۴)، نیز کلام اللہ کے ارشاد (۳۶: ۱۲) کے مطابق امامِ مبین لَوْحِ مَحفُوظ بھی ہے کہ اس کے احاطۂ نور میں
سب کچھ ہے، جیسا کہ مولا علیؑ کا ارشادِ مبارک ہے: اَنَا اللّوحُ المَحفُوظ = یعنی
میں لوحِ محفوظ ہوں (کتابِ کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت
۸)۔

          امام اپنی نورانیت میں ازلی اور قدیم ہے، بحوالۂ کتابِ سرائر، ص ۱۱۷ اور
کتابِ خزینۂ جواھر، ص
۳، امام علیہ السلام اللہ سبحانہٗ و
تعالیٰ کا الحی = زندہ اسمِ اعظم ہے، لہٰذا وہ نورِ ازل اور اللہ کے تمام
اسمائے صفات کا جامع اور مظہر ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن ، ۶؍ جون
۲۰۰۳ ء

 

۱۵

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲)

 

          آدم، خلیفۃ، خلیفۃُ اللہ، ناطق، صفی اللہ (۳: ۳۳)، ھابیلؑ (اساس) شیثؑ (اساس)، آدمِ اول (اس آدم سے وہ بیشمار سال
پہلے تھا)، مولا علیؑ نے فرمایا آدمِ اول میرے ظہورات میں سے تھا، کیونکہ میں
عالم میں قدیم یعنی ہمیشہ ہوں۔

          اے عزیزان! آدمِ سراندیبی کے آئینہ میں بے شمار آدموں کو
پہچان سکتے ہو، وہ ایک مستجیب تھا، یعنی اس نے حدودِ دین میں سے کسی کے ذریعہ سے
دعوتِ حق کو قبول کر لیا، پھر اس کو ذکرِ اعظم = اسمِ اعظم عطا ہوا تھا، وہ
کارِ بزرگ میں بڑا سخت محنتی تھا، بحوالۂ کتابِ سرائر، ص
۲۲۔

          اسماعیلی مذہب میں جو نورانی عبادت ہے وہ انبیاء و اولیاء کی قدیم سنت
ہے، یہ نردبانِ آسمان ہے، یعنی آسمان پر چڑھنے کی سیڑھی ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن، ۷،
جون
۲۰۰۳ء

 

۱۶

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳)

 

خلیل، ہزار حکمت (ح: ۳۲۵)،
(امامُ الناس اور امام المتقین)، امامِ مقیم، امامِ اساس، امامِ مستقر، امامِ متم،
امامِ مستودع، امامِ قائم، حجتِ قائم، داعی، باب، ھادی، صاحبِ امر = ولیٔ امر،
ولایتِ ولی (
۵: ۵۵)، اھلِ بیت، پنجتنِ پاک، چہار مقرب، چہار کتبِ سماوی، صاحبِ امر، اور
صاحبانِ امر کا حوالۂ قرآن (
۴: ۵۹)۔

          ھُنَالِکَ الوَلاَ یَۃُ لِلّہِ الْحَقِّ (۱۸: ۴۴) یہ مولا علیؑ کی ولایت کا ذکر ہے، بحوالۂ سرائر، ص ۱۱۶ (ایک
سو سولہ)، کلمۂ باقیہ (
۴۳: ۲۸)، امامت جس میں اسمِ اعظم کا سب سے
بڑا معجزہ ہے، تاکہ سب اس کی طرف رجوع کریں۔

          یہ حدیثِ شریف کتابِ سرائر  ص ۱۱۵ پر
ہے
:

علیؑ تم میں خلیفۃ اللہ ہے، وہ تم میں
اس کتابِ ناطق کا خلیفہ ہے جو خدا کے پاس ہے (
۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹) اور اللہ کی اس کتاب کا خلیفہ ہے جو تم پر نازل ہو چکی ہے یعنی قرآن
کا ، اور علیؑ قرآن کا دروازہ اور حجاب ہے، جس کے سوا قرآن

 

۱۷

 

میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۸،
جون ۲۰۰۳ء

 

۱۸

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۴)

 

          نامۂ اعمال = نورانی مووی، حظیرۂ قدس = عرفانی جنت، روحانی قیامت،
ناقوری مناجات، فرشتۂ حبل الورید، ذکرِ اعظم = نردبانِ آسمان، منزلِ
اسرافیلی و عزرائیلی، نفسانی موت قبل از جسمانی موت = عارفانہ موت۔ شبِ قدر (حجتِ
قائم روحی فداہٗ) کے زمانے میں جو روحانی قیامت ہوئی اس کے ذریعہ سے تمام عیال
اللہ = عالمِ انسانیت کو نجات مل گئی۔ کتابِ وجہِ دین میں شبِ قدر کی تاویل
کو پڑھ لیں۔

          قرآنِ حکیم میں جس کثرت سے قیامت کا ذکر آیا ہے وہ سب کی سب
صرف روحانی قیامت ہی ہے، حکیم پیر ناصرِ خسرو کے فرمانے کے مطابق بے پایان قیامات
ہیں، کیونکہ جسمانی موت نفسانی موت کی مثال اور دلیل ہے، پس  كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (
۲۹: ۵۷) کی تاویل نفسانی موت اور روحانی قیامت ہے۔

          عالمِ کبیر، عالمِ صغیر = عالمِ شخصی ، کائناتی بہشت، عالمِ ذر،
ناسوت، ملکوت، جبروت، لاہوت۔

         

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن ۸،
جون
۲۰۰۳ء

         

۱۹

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۵)

 

          ازل، ابد، قلمِ اعلیٰ ، لوحِ محفوظ، عقلِ کل، نفسِ کل،
جد، فتح، خیال، عرش، کرسی، حاملانِ عرش، سفینۂ نوح، پانی پر عرش، عالمِ دین،
عالمِ وحدت، نفسِ واحدہ، آدمِ زمانؑ، نورانی بدن =
جسمِ لطیف،
سرابیل، جثۂ ابداعیہ، کتابِ مکنون، گوہرِ عقل، کلمۂ باری = کُن = ہوجا، کُونُوا
= ہو جاؤ۔

          تصوف کے چار عناصر: شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت، آفاق و انفس، ظاہر،
باطن، ہفت ادوار، ہفت صاحبانِ ادوار۔

          روحِ نباتی، روحِ حیوانی، روحِ انسانی، روحِ قدسی، روحِ اعظم، روح
الارواح، روحِ کلی = نفسِ کلی، فلکِ اعظم = کرسی، عالمِ علوی = عالمِ بالا، عالمِ
خلق، عالمِ امر، عالمِ روحانی، عالمِ آخرت، علمِ لَدُنّی، علمُ الآخرت (
۲۷: ۶۶)۔

          سلوک، سالک، عارف، انسانِ کامل، فنا فی الامام، فنا فی اللہ، بقا باللہ،
سَیْر اِلَی اللہ، سَیْر فی اللہ، علمِ تاویل، مثال،

 

۲۰

 

ممثول۔

          ناطق، اساس = وصی، امام، باب، حجت، داعی، ماذون، مستجیب۔

         

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن، ۹؍
جون
۲۰۰۳ء

 

۲۱

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۶)

 

          درجاتِ یقین، مَؤَوِّل، راسِخ فِی العِلم =امامؑ ، اسمِ اعظم
لفظی، اسمِ اعظمِ نورانی = امامِ زمانؑ، وزیرِ موسیٰؑ، وزیرِ محمدؐ، آنحضرتؐ
کے علم و حکمت کا دروازہ = علیؑ صالِحُ المومنین و یعسُوب المُسلمین وَ حبل اللہ
المتین، اَلْعُرْوَۃ الْوُثْقیٰ (
۲: ۲۵۶) = محکم کڑا، اَیّامِ اللہ (۱۴: ۵) = عارف کی روحانی قیامت کا عرصہ جس میں معرفت کے اسرار ہی اسرار ہیں،
یعنی جس میں چھ ناطق اور قائم کے اسرار ہوتے ہیں، جو اللہ کے سات دن ہیں، نیز
اَیّامٍ معلوماتٍ (
۲۲: ۲۸) میں سوچیں۔

          (۱۴: ۲۴) کی
بے مثال حکمت کتابِ وجہِ دین میں پڑھو، اس آیۂ کریمہ میں پاک
درخت سے مراد آنحضرتؐ ہیں، پاک کلمہ اسمِ اعظم ہے، درخت کی شاخ جو حظیرۂ قدس کے
آسمان میں ہر وقت پھل دیتی رہتی ہے، امامِ زمانؑ کی نورانیت ہے۔

          علوم
التاویل المحض المجرد = مشاہداتِ اسرار و انوارِ حق الیقین، کتا بِ سرائر، ص ۲۸۔

          آدمِ سراندیب  = آدمِ
سراندیبی دارالضِّد (دشمن کے ملک)

 

۲۲

 

میں پیدا ہوا تھا، سرائر ص ۲۷،
امام کے لاحق اور حجت اس کی روحانی پرورش کرتے تھے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۰؍
جون ۲۰۰۳ء

 

۲۳

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۷)

 

          نامۂ اعمال = نورانی مووی انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی، چنانچہ جب
جب امامِ زمان (ارواحنا فداہٗ) کی بابرکت اور پرحکمت تشریف جماعتِ باسعادت میں آرہی
ہوتی ہے اور اس کی بے پایان خوشی کے جو بے مثال انتظامات ہوتے ہیں اس کی لاکھ درجہ
بہتر نورانی مووی ہوتی ہے، تاکہ جنت الاعمال کے حسین مناظر کا طُرَّۂ امتیاز ہو،
الغرض حضرتِ امامِ زمانؑ کی ہر سالگرہ، ہر خوشی، ہر علمی اجتماع اور ہر چھوٹی بڑی
روحانی مجلس کی نورانی مووی ہوتی ہے، جس کی لازوال حسن و جمال کو دیکھ کر اہلِ
بہشت حیرت زدہ ہوں گے۔

          جس طرح مادی مووی انسان کو کثیف سے لطیف کر دکھاتی ہے اسی طرح نورانی
مووی انسان کو ظلمانی سے نورانی اور لافانی بناتی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ
کاملہ اور غالب معجزہ ہے۔

          جب رحمتِ عالمؐ پر قرآن نازل ہوا اور اس میں خدا نے آفاق و انفس کے
معجزات دکھانے کا وعدہ فرمایا تب ہی دنیا میں ظاہری سائنس کا انقلاب آیا، اس سے
پہلے کوئی ایسا انقلاب کیوں نہیں آیا تھا؟ پھر کیا ظاہری سائنس اللہ کی نشانیوں
میں سے نہیں ہے؟ کیا ہمیں اس کی

 

۲۴

 

مثالوں سے دین کی اعلیٰ حقیقتوں کو
سمجھنا منع ہے؟ اگر اللہ کا منشا ایسا ہوتا تو وہ عَزّاِسمُہٗ پہلے انفس کی
نشانیاں پھر بعد میں آفاق کی نشانیاں دکھاتا، ہم سوچ نہیں سکتے جس طرح سوچنے کا
حق ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۲،
جون ۲۰۰۳ء

 

۲۵

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۸)

 

          یک حقیقت = مونوریالٹی، اَلَسْتُ؟ = اَلَسْت، تَجَدُّد ، سُنَّتِ
اِلھٰی، لاتبدیل، فِطْرَت اللّٰہِ (
۳۰: ۳۰)، قانونِ تسخیر (۳۱: ۲۰)، قانونِ خزائنِ (۱۵: ۲۱)، نُورِ منزل (۵: ۱۵)، نورِ مومنین وَمومنات (۵۷: ۱۲، ۵۷: ۱۹ ، ۶۶: ۸ )، دیکھو کتابِ سرائر، ص ۱۱۶: چہرۂ علیؑ (امامِ زمانؑ) کی طرف نظر
کرنا عبادت ہے۔

          قرآن میں جہاں جہاں اللہ کے نور کا ذکر آیاہے، وہ تاویلاً امامِ
زمانؑ کے نور کا ذکر ہے، آپ ما قیلَ فِی اللہ کے ارشاد کو ہرگز فراموش نہ کریں۔

          جو نور مومنین و مومنات سے منسوب ہے وہ بھی دراصل امامِ زمانؑ ہی کا
نور ہے، حقیقتِ حال اس طرح سے ہے کہ جب جب کسی عالمِ شخصی کی روحانی قیامت برپا
ہونے لگتی ہے تو اس میں امامِ زمان (ارواحنا فداہٗ) کا نور طلوع ہو جاتا ہے،
کیونکہ ناقور امامِ زمان ہے، قیامت امامِ زمان ہے، اور قائم بھی امامِ زمان ہے،
اور سب سے اول اللہ کا اسمِ اعظم امامِ زمان علیہ السلام ہے، الحمد اللہ۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن ۱۳،
جون
۲۰۰۳ء

 

۲۶

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۹)

 

          امام علیہ السلام لوگوں پر خدا کی حجت ہیں، کتابِ وجہِ دین، کلام ؍۱، ص ۲۷۔
علم دراصل کس چیز کا نام ہے؟ اور اس کا حقیقی سرچشمہ کہاں ہے؟ کلام؍
۳، ص ۵۱۔
عالمِ لطیف = عالمِ روحانی ، کلام ؍
۴، ص ۵۳۔
بہشت، کلام ؍
۵، ص ۶۱۔

          اللہ تعالیٰ کی جانب سےچھ ناطق، چھ وصی، اور حضرتِ قائم آئے، اس کی یہ
تاویل ہے کہ عَزَّ اِسْمُہٗ نے ان چھ دنوں میں عالمِ دین کو پیدا کیا، پھر اس کے
عرش کا ظہور بحرِ علم پر ہوا (
۱۱: ۷)، پھر وہ عرش سفینۂ نجات بن گیا = بھری
ہوئی کشتی (۳۶: ۴۱) اور اس کشتی میں خود کشتیبان ہی اصل = حقیقی اور نورانی کشتی
تھا، اعنی امامِ زمان (روحی فداہٗ) جس میں تمام روحیں طَوْعاً وَ کَرْھاً فنا
ہوچکی تھیں، یہ ہوا عرش پر مساواتِ رحمانی کا کام، خوب یاد رہے کہ ہر روحانی قیامت
میں بحرِ علم پر ظہورِ عرش کا معجزہ ہوتا ہے۔

          کتابِ وجہِ دین میں تمام حدودِ دین کا بیان ہے، آپ اس کتاب کو عشقِ
مولا کے ساتھ پڑھیں، اسی ریاضت سے اس کو آئینہ بنا کر اپنے آپ کو دیکھیں، عبادت
عملی بھی ہے اور علمی بھی، دونوں ایک ساتھ

 

۲۷

 

ضروری ہیں۔

         

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۵؍
جون ۲۰۰۳ء

 

۲۸

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۱۰)

 

          اللہ سُبْحَانہٗ و تعالیٰ کی سنتِ قدیم کی معرفت میں اُولُوالالباب =
صاحبانِ عقل کے لئے بے پایان فائدے ہیں، اور ترجمۂ آیت: تم خدا کی عادت میں ہرگز
تغیرو تبدل نہ پاؤ گے (
۳۳: ۶۲)، اللہ کی سنت کی معرفت بھی عالمِ
شخصی کی بہشت میں ہے (
۴۰: ۸۵)۔

          کتابِ سرائر ص ۱۳۴ پر حضورِ اکرم صلعم کا ایک مبارک نام
قائم بھی ہے، اس میں عظیم و محیط حکمتیں اور اسرارِ غالب ہیں، بھلا یہ کیسے ہوسکتا
تھا کہ اسرارِ روحانی قیامت محبوبِ خداؐ کے احاطۂ علم و معرفت سے باہر ہوں اور یہ
کیوں کر ممکن ہو سکتا تھا جبکہ خدا نے اپنے انبیا
ء کے
سردارؐ کو نورانی ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تھا تاکہ یہ دین دیگر تمام
ادیان پر غالب کر دے (
۹: ۳۳، ۴۸: ۲۸، ۶۱: ۹)، آیا ایسے میں کوئی عاقل مومن یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرتِ خاتم الانبیاء کو
اللہ نے جس مقصد کے لئے بھیجا تھا وہ حضورؐ کی پر حکمت زندگی میں پورا نہیں ہوا،
نہیں نہیں، ایسا ہرگز نہیں، محمدؐ و علیؑ کا نور ایک تھا جس نے روحانی قیامت کو
برپا کیا۔

          آپ نے روحانی قیامت کے احوال کو بار بار سنا ہے، لہذا

 

۲۹

 

آپ کو یقین کرنا ہوگا کہ روحانی
قیامت کا بارہا تَجَدُّدْ ہوتا رہتا ہے، جس میں باطِناً دینِ حق بار بار غالب آتا
ہے اور ظاہراً یوں لگتا ہے کہ ابھی قیامت بہت ہی دور ہے، اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت
بڑی عجیب و غریب ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۰، جون ۲۰۰۳ء

 

۳۰

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۱۱)

 

          حضرتِ مولانا علی صلوات اللہ علیہ کی شان میں ایک حدیثِ شریف از کتابِ
سرائر ص
۱۱۴۔۱۱۵ کو چند مرتبہ خوب غور سے پڑھیں تاکہ علمی عبادت بھی ہو اور اس میں جو
عظیم پرحکمت اصطلاحات ہیں وہ بھی خوب یاد ہوں، اور آپ میں جو فرشتے ہیں وہ بھی
شادمان ہو جائیں۔

          آنحضرتؐ کا ارشادِ مبارک ہے: تم میں سے ہر ایک راع = راجا = تھم = بادشاہ
ہے، راع کے معنی مرحلہ وار ہیں: چَوپان = سردار = بادشاہ، اگر یہ حقیقت نہ ہوتی تو
اس میں رعیت کا کوئی ذکر ہی نہ ہوتا، کیونکہ بھیڑ بکریاں رعیت کی مثال تو ہو سکتی
ہیں لیکن انسانی رعیت نہیں ہوسکتی ہیں۔

          اے عزیزان! اب ’’قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت‘‘ کے حقائق و معارف کو
سمجھنے کے بعد بہشت کے سلاطین کے بارے میں لاعلم رہنا بہت بڑی ناشکری نہیں تو پھر
کیا ہے؟ آپ ہمارے مرکزِ علم و حکمت سے بھی ہمیشہ مدد حاصل کریں۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۵، جون ۲۰۰۳ء

 

۳۱

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۱۲)

 

          ناطقان، اساسان، امامان، حجتان، داعیان، معلمان، مستجیبان، قرآنِ
حکیم اور عالمِ انسانیت، ص
۱۵۵، قسط ۸۷ کو
پڑھیں،
۳۱۳ کے سرِ عظیم میں کما حقہٗ غورو فکر کریں، امامِ زمان علیہ السلام کے
نورِ اقدس کے معجزات بڑے عجیب و غریب ہیں۔

ز نورِ اُو تو ہستی ہمچو پَرتَو

حجاب از پیش بردار و تُو اُوشو

          اس کا مطلب یہ ہے کہ تو سب سے پہلے آئینۂ خورشیدِ نور بن جا، بعد
ازان آئینۂ خودی و دوئی کو توڑ دے تاکہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے۔

          اے عزیزان! مولا کو ہمیشہ یاد کرو تاکہ یہ بابرکت اور پرحکمت یاد دل
کی عادت اورخاصیت بن جائے اور اس اساسی معجزے کے لئے آپ باربار گریہ وزاری کریں،
آمین
!

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۷، جون ۲۰۰۳ء

 

۳۲

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۱۳)

 

          مولاعلیؑ کا نور عالم میں قدیم ہے، اللہ کا دین علیؑ ہے، علیؑ خلیفۃ
اللہ اور خلیفۂ رسولؐ ہے، علیؑ وہ کتابِ ناطق ہے جو اللہ کے پاس ہے، علیؑ ہی ذالک
الکتاب لَارَیبَ فِیہ ہے، علیؑ کا نور روحانی قیامت اور ناقور ہے، محمدؐ و علیؑ کا
نور ازل سے ایک ہی تھا۔

          مولانے فرمایا میں آدمِ اول ہوں، پھر فرمایا میں عالم میں قدیم = ہمیشہ
ہوں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مولا آدمِ قدیم ہے، مولا وَجْہٗ اللہ ہے، یعنی مولا کی
معرفت ہی حضرتِ رب کی معرفت ہے، علیؑ کا نور یقیناً امامِ زمانؑ میں جلوہ گر ہے،
پس جو لوگ امامِ زمانؑ کو خود امام کے نورِ باطن کی روشنی میں پہچانتے ہیں ان
کی سعادت کا کیا کہنا
!

          اے عزیزان! علم الیقین کو کمالِ عشق سے حاصل کرو اور عین الیقین کو
جانب آگے بڑھو! آمین
!!

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۹، جون ۲۰۰۳ء

 

۳۳

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۱۴)

 

          حدیثِ قدسی کا ارشادہے کہ اے آدمِ زمان = امامِ زمانؑ کا فرزندِ
روحانی ! میری اطاعت کر تاکہ میں تجھ کو اپنی مثل بناؤں گا۔ اس حدیث قدسی میں
صاحبانِ عقل کو یہ اشارہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے امامِ حقؑ کو ازل ہی میں
اپنی مثل بنا لیا ہے، جیسا کہ قرآنِ حکیم فرماتا ہے کہ اس کی مثل جیسی کوئی چیز
ہے ہی نہیں (
۴۲: ۱۱) یعنی اللہ نے امام کو بے مثال اور لاجواب پیدا کیا ہے۔

          کتابِ سرائر ص ۱۱۶ پر بھی دیکھیں، یعنی جناب بحرالعلوم
سے درخواست کریں ورنہ وہ کتاب آپ کے پاس کہاں ہے، شاید آن جناب حضرتِ شاہِ ولایت
صلوات اللہ علیہ کے ان اسرارِ عظیم میں سے بعض اسرار کو بیان کریں، میں یہاں ان
اسرارِ عظیم کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ شاہِ ولایت نے فرمایا ہے: وَاِنَّ
وَلایَتِی وَلَایَۃُ اللہ = یقیناً میری ولایت اللہ کی ولایت ہے، جیسا کہ ارشاد
ہے: ھُنَالِکَ الْوَلاَیَۃُ لِلّٰہِ الْحَقِّ (
۱۸: ۴۴) مولا نے فرمایا ہے کہ یہ میری ولایت ہے اور اسی طرح میری ولایت اللہ
کی ولایت ہے۔

         

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۹، جون ۲۰۰۳ء

 

۳۴

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۱۵)

 

          آدمؑ صاحبِ فَترتِ اول، ادریسؑ صاحبِ فَترتِ دوم، سرائر ص ۶ (مقدمۃ)
۔ ھابیلؑ، شیثؑ اور ادریسؑ کی شریعت کی طرف نوحؑ اپنی قوم کو دعوت دیتے تھے، سرائر
ص
۶ (مقدمۃ) جعفربن منصور بابِ ابواب، ص ۷ (مقدمۃ)،
امام کا حجت اور لاحق، ص
۲۸، غوامض العلوم، علوم التاویل المحض
المجرد، ص
۲۸۔

          اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً (۲: ۳۰) وَھٰذا الخطاب مِن امامِ الزمان، ص ۲۹۔

          آدمِ سراندیبی کا اپنا خاص نام تخوم بن بجلاح بن قوامہ بن ورقۃ
الرویادی تھا، ص
۳۱، قبیلہ کا نام ریاقۃ، صاحبِ زمان اور امام العصر کے حجت کا نام ھُنید
تھا، ص
۳۲۔

          حدیثِ شریف ہے: اِنّ علم الدّین ھُوَ السَّحر الحلال، ص ۳۴۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۳۰، جون ۲۰۰۳ء

 

۳۵

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۱۶)

 

          قابیل نے ہابیلؑ کو جسمانی طور پر قتل نہیں کیا تھا، جبکہ قتل کی اور
بھی قسمیں ہیں، کتابِ سرائر ص
۴۶۔۵۲،
اور ہابیلؑ نے ایک ستر (حجاب) کو قائم کیا اور سخت تقیہ سے کام لینے لگا، اپنےکام
کو خدا کے دشمنوں سے مخفی رکھا، اپنے داعیوں کو سری طریقے سے پھیلا دیا، تاکہ اللہ
کی توحید قائم ہو، اور آپؑ کے بعد شیثؑ جانشین ہوا جو آدم کے لئے اللہ کا عطیہ =
ھِبۃ اللہ تھا۔

          ہر انسان کے دل کے پاس ایک جن اور ایک فرشتہ ہیں یعنی نفس اور عقل ،
چونکہ اللہ عَزَّاِسمہٗ کی ہر حکمت میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، اس لئے نفس
اور عقل گویا دوسِیٹ بھی ہیں، لہٰذا آپ اپنے ایمانی اورعلمی دوستوں کو باری باری
سے عقلی = مَلَکی سیٹ پر دعوت دے سکتے ہیں، یعنی ایسی نیت کر سکتے ہیں، میں بھی
ایسا خیال کرتا ہوں، اسی طرح ہم اللہ کی قدرت و حکمت سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتے
ہیں، اَلحَمدُ لِلّٰہِ عَلیٰ مَنِّہِ وَ اِحْسانِہٖ۔

          نوٹ: مَلَکی = فرشتہ گانہ ANGELIC SEAT۔ حَبلُ الورید بھی یہی فرشتہ ہے، قانونِ بہشت کی تاویلی آیات
قرآن میں بہت ہیں۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲، جولائی ۲۰۰۳ء

 

۳۶

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۱۷)

 

          کتاب سلسلۂ نورٌ عَلیٰ نُور، قسط ۳۸ میں
مولانا علیؑ سے پہلے اماموں کے اسماء کو پڑھیں، کتابِ سرائر، ص
۸۰ پر
یہ ذکر ہے کہ مولانا عبدالمُطلبؑ کے بارہ نقیبان تھے، ان میں سے پانچ آپؑ کے
فرزند تھے: حارِث، حمزہ، الزبیر، ابو طالب = عبد مناف، اور عبد اللہ ، قرآنِ پاک
(
۵: ۱۲) میں بارہ نقیبان کا ذکر ہے۔

          عالمِ شخصی، عالمِ خیال، عالمِ خواب، عالمِ بیداری، عالمِ امر، عالمِ
خلق، ناسوت، مَلَکوت، جَبَروت، لاھوت، کتابِ مکنون، گوہرِ عقل، کلمۂ امر، نفسِ
واحدہ، لفیف۔

          تختِ سلمانؑ روحانی تھا، انگوٹھی سے اسمِ اعظم مراد ہے، سلیمانؑ کی
سلطنت روحانی تھی۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۴، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۳۷

 

اسمٰعیلی اصطلاحات

(۱۸)

 

          آدمِ سراندیبی، نفسِ واحدہ، خلیفۃ اللہ

          تجدد امثال کے بارے میں جاننا ازحد ضروری ہے، تجدد کا اشارہ قرآن میں
بھی ہے، اسرافیل و عزرائیل کی منزل میں بھی، حظیرۂ قدس کی عرفانی بہشت میں بھی،
اور حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ (روحی فداہ) کے فرمان میں بھی، لہٰذا آپ کو
اس عظیم راز کے باب میں جاننا بیحد ضروری ہے۔

          مَجْمَعُ البَحْرَین، ذُوالقرنین، یاجُوج وَ ماجُوج (لشکرِ صاحبُ
العصر) عالمِ ذر، علیین، مظہرِ نورِ الٰہی = امامِ زمانؑ = اللہ کا زندہ اسمِ اعظم
= نورِ منزل ، ولیٔ امر، امامِ آلِ محمدؐ، قرآنِ ناطق، مظہر العجائب و الغرائب،
ہمارے محبوب امامِ زمان صلوات اللہ علیہ و علی آبائہٖ۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۷، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۳۸

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۱۹)

 

          اسماعیلی تاریخ میں کس امام نے اعلان فرمایا تھا کہ قیامت روحانی ہے؟
یہ فرمانِ مبارک کس کتاب میں محفوظ ہے؟

          بسم اللہ کے کل ۱۹ حروف ہیں، اس میں کیا اشارہ ہے؟ بسم
اللہ کی تاویلی حکمت کس کتاب میں ہے؟

          قرآنِ پاک میں ۱۹ فرشتوں کا ذکر کہاں ہے؟

          مَا قِیلَ فِی اللہ کس امام کا ارشادِ مبارک ہے؟

          خدا کی خدائی میں بے پایان قیامات ہیں، یہ کس حجت کا قول ہے؟ آیایہ
پر حکمت قول حکیم پیر ناصر خسرو کا ہے؟

          کتابِ مستطابِ سرائر کس بزرگ ہستی کی تصنیف ہے؟ بڑا نامور قاضی نعمان
کی کسی مشہور کتاب کا نام بتاؤ۔

          زنورِ اُو تو ھستی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مکمل شعر کیا ہے؟

         

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۸، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۳۹

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲۰)

 

          اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس کا کلام قرآن بھی حکیم ہے، اس کا رسولِ پاکؐ
بھی حکیم ہے، اور امامِ زمانؑ بھی حکیم ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دین کی تمام خاص
باتیں حکمت کی زبان میں ہیں، لہٰذا اہلِ ایمان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ
حکمت کو سیکھیں تاکہ ان کو دونوں جہان میں بے شمار فائدے حاصل ہوں۔

          اللہ ہر وقت انسانوں کو آزماتا ہے اور اس کے قانون میں بار بار
امتحان ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم میں بہشت کی تمام نعمتوں کا ذکر ہے، اور اس میں بہت
بڑا امتحان ہے کہ کون کس نعمت کو زیادہ سے زیادہ چاہتا ہے؟ بہشت کی ان تمام نعمتوں
کے تذکرے میں وہاں کی سلطنت کا بھی ذکر ہے، جب بہشت کی بادشاہی وہاں کی نعمتوں میں
سے ایک نعمت ہے تو پھر یہ نعمت کس طرح ناممکن ہو سکتی ہے؟ ہاں دنیا میں حقیقی
ایمان اور حقیقی معنوں میں اعمالِ صالح ضروری ہیں۔

          آپ نے براہِ راست قرآن میں یا میری کسی کتاب میں ضرور پڑھا ہوگا کہ
حضرتِ موسیٰؑ کے مومنین بہشت میں مُلُوک = سلاطین ہوئے تھے (
۵: ۲۰) اگر چشمِ بصیرت سے قرآن میں دیکھا جائے تو ہر پیغمبر اور ہر

 

۴۰

 

امامِ حق کے فرزندانِ روحانی کے لئے
بہشت میں دعوتِ حق کی بادشاہی = سلطنت ہے۔

          قرآنِ حکیم کا باطن اللہ سبحانہ و عزاسمہٗ کے علم و حکمت کا تجلیاتی
معجزہ ہے، تجلیات یا ظہورات بہت بڑی اصطلاح ہے، ہم ان شاء اللہ اس کا کچھ بیان
کریں گے۔

         

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۱، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۴۱

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲۱)

 

          تجلی= تجلیات = ظہورات کی حکمتوں سے قرآنِ حکیم ظاہر و باطن میں
لبریز ہے، کیونکہ اللہ کی ذاتِ پاک اور اس کی ہر صفت قدیم ہے، لہٰذا آپ اللہ کے
کلامِ قدیم کی لامحدود حکمت کو زمان و مکان کی کسی چیز میں ہرگز محدود نہیں کر
سکتے ہیں، جبکہ اللہ خود ہی اپنی قدرتِ کاملہ سے لامحدود چیزوں کو محدود کر کے
دکھانے کا معجزہ کر سکتا ہے، کیونکہ عارف کی بصیرت دَفعَۃً اللہ تعالیٰ کے
لامحدود اسرار پر حاوی نہیں ہو سکتی ہے، لہٰذا اللہ جل جلالہ کائناتِ پُراسرار کو
بصورتِ کتابِ مکنون = گوہر عقل لپیٹتا ہے، اور اس کے سلسلۂ ظہورات و تجلیات سے ہر
چیز عارفین کو سکھاتا ہے، الحمد للہ رب العٰلمین۔

          جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ ذات و صفات میں قدیم ہے تو اس کا قول و
فعل بھی قدیم ہے، حادث = نیا نہیں، مگر اس میں تجددِ امثال ہے، اس کی وضاحت بار
بار کی گئی ہے، پس قرآن میں جس آدم کا ذکر آیا ہے وہ کوئی جدید آدم ہرگز نہیں،
بلکہ وہ آدموں کے سلسلۂ بے پایان کی ایک کڑی ہے، یا نورِ خلافت و امامت کے لا
ابتدا
ء و لا انتہاء ظہورات میں سے ایک ظہور
تھا، اور مولا علی علیہ السلام نے

 

۴۲

 

فرمایا ہے کہ میں آدمِ اول ہوں، اس کا
مقصد آدم کی کوئی ابتدا
ء ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ لوگ آدم
شناسی کی جس تقلیدی دیوار کے پاس کھڑے ہیں اس دیوار کو گرانا ہے، تاکہ لوگ
بہت آگے جائیں، اور اس ارشاد میں یہ اشارہ بھی ہے کہ خلافت و امامت ایک ہی منصب
ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۲، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۴۳

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲۲)

 

          ذکرِ کثیر (۳۳: ۴۱) ، ایک ہی مقام پر آنحضرتؐ کے سات
بابرکت اسماء: نبی، رسول، شاھد، بشیر، نذیر، داعی، سراجِ منیر (
۳۳: ۴۵ تا ۴۶)، درود (۳۳: ۵۶)، آیۂ تطھیر (۳۳: ۳۳) آیتِ معرفتِ بہشت (۴۷: ۶)، آیۂ بیعت: (۴۸: ۱۰)، آیۂ اطاعت (۴: ۵۹)، آیتِ نورِ منزل (۵: ۱۵)، امامِ زمانؑ صاحبِ روحانی قیامت ہے (۱۷: ۷۱)۔

          امامِ زمانؑ امامُ الناس بھی ہے (۲: ۱۲۴) اور وہ امام المتقین بھی ہے(۲۵: ۷۴)، امامِ زمانؑ
(روحی فداہ) علیؑ کا نور ہے، لہٰذا علیؑ کی تعریف امامِ زمانؑ کی تعریف ہے، اور
امامِ زمانؑ کی معرفت علیؑ کی معرفت ہے۔

          کتابِ سرائر ص ۱۱۵ پر جو حدیثِ شریف درج ہے اس میں سے
چند بیحد شیرین حکمتیں تحریر کر کے آپ کو دی گئی ہیں، اس کا اصل اشارہ: علی خلیفۃ
اللہ فیکم، وخلیفۃ کتاب اللہ فیکم، وخلیفۃ کتاب المنزل علیکم، وبابہ و حجابہ الّذی
لا یوتی الا منہ، والقائم من بعدی، و القائم فیکم مقامی۔

 

۴۴

 

          خلاصہ : علیؑ خلیفۃ اللہ ہے، اور وہ اللہ کی کتاب ناطق کا بھی خلیفہ
ہے (
۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹)، اور وہ اللہ کی اس کتاب کا بھی خلیفہ ہے جو تم پر نازل ہوئی ہے،
یعنی قرآن، اور وہ اس کا دروازہ اور حجاب ہے جس کے بغیر کوئی شخص قرآن میں داخل
نہیں ہو سکتا ہے، اور وہ میرے بعد قائم (یعنی قائمِ قیامت)، اور تمہارے
درمیان میرا جانشین ہے۔۔۔۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۳، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۴۵

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲۳)

 

          جیسا کہ ذکر ہوا، قصۂ آدم میں انتہائی عظیم اسرار پوشیدہ ہیں، پس
آدم شناسی جتنی مشکل ہے اتنی ضروری اور فائدہ بخش بھی ہو سکتی ہے، آپ دیکھتے
ہیں کہ ہر حالت میں دین کا قصۂ آدمؑ سے اور آدمؑ کا قصہ خلافت سے شروع
ہوتا ہے، آپ کو یہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن و حدیث کی حکمت میں آدمؑ اور بنی
آدم ساتھ ساتھ ہیں، آپ سب سے پہلے نفسِ واحدہ کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش
کریں، بفضلِ مولا دانش گاہِ خانۂ حکمت کی کتابوں میں ہر قسم کی ضروری معلومات
موجود ہیں۔

          خداوند تعالیٰ اس ادارے کے فرشتہ خصلت عملداران اور ارکان سب کے
سب پر نہایت مہربان ہے، ان نیک بخت لوگوں کو یہ خصوصی توفیق عطا ہوئی ہے کہ یہ
حقیقی علم کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں، ہر نیک مراد کے موقع پر گریہ وزاری
کے ساتھ بارگاہِ الٰہی سے رجوع کرتے ہیں، اسی لئے حق تعالیٰ نے ان کو آج عالمی = آفاقی
نیک نامی اور لازوال شہرت و عزت عطا فرمائی ہے، اس کی دلیل ان کی وہ بے مثال شہرۂ
آفاق کتاب ہے جو قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت کے پُرحکمت اسم سے موسوم ہو کر
عالمی سطح پر ابھر رہی ہے، یہ کتاب دراصل اس روحانی اور قرآنی

 

۴۶

 

سائنس کا انقلابی ثبوت ہے جس کا قبلاً
اسلام آباد میں ذکر ہوا تھا، الحمد للہ علیٰ منہ و احسانہٖ۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۴، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۴۷

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲۴)

 

          عالمِ شخصی میں روحانی قیامت کا نقطۂ آغاز سالک کے کان میں ایک
باریک قدرتی آواز کے آنے سے شروع ہوتا ہے، جس کی مثال قرآن میں بَعُوضَۃً ہے (
۲: ۲۶)، کتابِ کوکبِ دری، بابِ سوم، منقبت ۶۴ کے
ارشاد کو پڑھیں کہ وہ مولا علی علیہ السلام کی مثالوں میں سے ہے، آپ دانش گاہِ
خانۂ حکمت کی کتابوں کو پڑھیں تاکہ آپ کو روحانی قیامت سے متعلق علم الیقین حاصل
ہو۔

          روحانی قیامت کے برپا ہونے میں بے پایان حکمتیں ہیں کہ ان
کو صرف خدا ہی شمار کرسکتا ہے، اللہ نے اپنے جن حقیقی مومنین سے جس زمین کی خلافت
کا وعدہ فرمایا ہے وہ بہشت میں دعوتِ حق کی زمین ہے، پس وہاں کا ہر خلیفہ بادشاہ
ہوگا، اور ممکن ہے کہ وہ فرشتہ بھی ہو، اس میں غور کرنے کے لئے تین حوالے درج کئے
جاتے ہیں:
۶: ۱۶۵، ۲۴: ۵۵، ۴۳: ۶۰۔

          اس کے علاوہ قرآنِ حکیم (۴: ۵۴) میں آلِ
ابراہیمؑ اور آلِ محمدؐ کی عظیم سلطنت کا ذکر ہے اور انہی حضرات کی یہی عظیم
سلطنت بہشت میں مُلْکاً کَبِیراً (
۷۶: ۲۰) کےنام
سے ہے، دنیا کی روحانیت میں بھی

 

۴۸

 

اور بہشت میں بھی حضرت امام علیہ
السلام بادشاہوں کا بادشاہ یعنی شاہنشاہ ہے، لہٰذا (
۴۰: ۱۶) میں بھی اسی شاہِ شاہان ہی کا ذکر ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۶، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۴۹

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲۵)

 

          سورۂ مریم (۱۹: ۹۶) کا ترجمہ ہے: یقیناً جو لوگ کَمَا
کَانَ حَقَّہٗ ایمان لائے اور انہوں نے حقیقی معنوں میں نیک اعمال کئے، عنقریب
رحمان لوگوں کےدلوں میں ان کی محبت پیدا کر دے گا۔

          تاویلی حکمت: خوب توجہ اور غور سے سن لیجئے! جب اللہ حکیم نے حقیقی
مومنین کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے تو دنیا میں
اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے، ہاں حقیقت یہی ہے کہ کل بہشت میں جب انہی
اہلِ یقین کو بہشت کی خلافت و سلطنت عطا ہو گی، جس کی وجہ سے دنیا اور زمانہ بھر
کے لوگ جو وہاں ہوں گے وہ ان سے محبت کریں گے، کیونکہ دنیا میں بھی لوگ اپنے
بادشاہ سے محبت کرتے ہیں۔

          آپ کو یہ مفہوم قرآن میں جگہ جگہ ملے گا کہ اہلِ جنت جو نعمت
چاہیں وہ وہاں ان کو مل سکتی ہے، بےشک وہاں درجات ہیں، کیونکہ وہاں کی بہت
بڑی اکثریت روحانی قیامت کی زبردستی سے داخل کی گئی ہے، پس بہشت میں شاہِ شاہان کا
کوئی روحانی فرزند بادشاہ ہونا چاہتا ہے تو ہوسکتا ہے۔

 

۵۰

 

          جو لوگ روحانی قیامت کی زبردستی سے بہشت میں لائے گئے ہیں وہ بہشت کی
رعیت ہیں مگر ان کو دعوتِ حق کی تعلیمات میں بہت ترقی کرنی ہوگی، بہشت کی رعیت کو
کوئی تکلیف ہرگز نہیں، بہشت میں کیونکر کسی کو تکلیف ہو سکتی ہے، مگر ہاں حقیقی
علم ان کو سکھایا جائے گا تاکہ رفتہ رفتہ یہ بھی علم کے بادشاہ ہو جائیں۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۷، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۵۱

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲۶)

 

          حضرتِ آدم خلیفۃ اللہ علیہ السلام کی روحانی قیامت میں حق سبحانہ و
تعالیٰ نے اہلِ یقین کو جس درجۂ عالیہ سے نواز کر سرفراز فرمایا تھا، اس کا
ذکر سورۂ اعراف (
۷: ۱۱) میں ہے، حضرتِ نوحؑ کے حقیقی فرزندانِ روحانی کی فضیلت کو سورۂ ھود (۱۱: ۴۸) میں غور سے دیکھیں، حضرتِ ابراہیمؑ کے فرزندانِ روحانی کی روحانی عزت
و برتری کو ان پُرحکمت الفاظ میں دیکھیں: فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ
مِنِّیْ  (
۱۴: ۳۶)، حضرتِ موسیٰؑ کے اہلِ یقین کو (۵: ۲۰) میں دیکھیں، حضرتِ عیسیٰؑ کے اہلِ یقین کو دیکھیں کہ فرشتے
بن رہے ہیں (
۳: ۴۹، ۵: ۱۱۰)، حضرتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں آپ کا
کیا عقیدہ ہے؟ کیا آنحضرتؐ کے باطن میں تمام انبیا و رُسُل کے جملہ معجزات جمع
نہیں تھے؟ کیوں نہیں
!

          امام المتقین کے فرزندانِ روحانی کے بارے میں (۲۵: ۷۴) کو غور سے پڑھیں کہ جس طرح حضرتِ امامؑ کا جسمانی فرزند آپؑ کی پاک
آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسی طرح آپؑ کے ہر روحانی فرزند کے حق میں بھی یہی دعا ہے،
پس اطاعت و فرمانبرداری بے حد ضروری ہے۔

 

۵۲

 

          نورِ امامت کے ارشادات کو زمانۂ اساس سے لے کر آج تک پڑھیں، اور یہ
علمی عبادت پابندی سے کریں، آمین
!

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۱۸، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۵۳

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲۷)

 

          حدیثِ شریف ہے: کُلُّکُمْ راعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌعَنْ
رَّعِیَّتِہٖ۔ بحوالۂ ہزار حکمت (ح:
۳۷۱)۔ قرآن و حدیث کے کئی ارشادات میں یہ
ذکر آیا ہے کہ فرمانبردار اور کامیاب نفوس بہشت میں بادشاہ ہوں گے، اور جن کو یہ
مرتبہ نہ ملے۔۔۔۔۔

          یہ فرمانِ رسولؐ دراصل فرمانِ الٰہی ہے، پس اگر دنیا کے سب لوگ حقیقی
اطاعت کر کے خدا کے نزدیک بہشت اور اس کی سلطنت کے مستحق ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ
اپنی قدرتِ کاملہ سے ہر انسان کے عالمِ شخصی کو کائناتی بہشت بنائے گا، اور اس میں
سب کچھ ہوگا۔

          آپ ہزار حکمت ص  ۲۱۸۔۲۱۹ پر
مذکورہ حدیث کو تاویلی حکمت کے ساتھ پڑھیں اور اپنے علمی دوستوں کے ساتھ
مذاکرہ بھی کریں کہ رعیت سے کیا مراد ہے؟ اور کس طرح دنیا کے لوگ رعیت بھی اور
بادشاہ بھی ہوسکتے ہیں؟

          دیکھیں رحمتِ عالمؐ کے ارشاد میں کوئی ناممکن بات کیوں کر ہوسکتی ہے؟
آپ حقیقی علم حاصل کرتے جائیں اور اس کی اشاعت کرتے جائیں، اللہ کی رحمت سے مقصد
حاصل ہوجائے گا، کیونکہ علم کا طریقہ بھی یہی ہے:

 

۵۴

 

حاصل کرنا، یاد کرنا، اور پھیلانا، یہ
سب سے بڑا نیک کام انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے ہو سکتا ہے، اِنْ
شَاءَ اللّٰہُ العَزیز
!

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۰، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۵۵

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲۸)

 

          بحوالۂ ہزار حکمت ص ۳۹۷۔ ۳۹۸
حدیثِ شریف کا ترجمہ یہ ہے: تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک ساتھی جنوں میں سے
ہے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے، پوچھا گیا: یا رسول اللہؐ! کیا آپ کا بھی
ایسا ہے؟ فرمایا: ہاں میرا بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غلبہ بخشا،
پس وہ تابعدار ہوگیا، یہی ہے بحقیقت سنتِ رسول اور یہی ہے آپ کی پاک زندگی کا
بہترین نمونۂ عمل = اُسوَۂ حَسَنَہ (
۳۳: ۲۱)۔

          اللہ جل شانہ نے جس دن روحانی قیامت میں اپنے محبوب رسولؐ کے لئے سارا
جہان اور جملۂ کائنات کو مسخر کرتے ہوئے دینِ حق کو باقی تمام ادیان پر غالب کر
دیا تھا، اسی روز ہی شیطان بھی تابعِ فرمان ہوگیا تھا، کیونکہ شیطان کو جو مہلت دی
گئی ہے وہ روحانی قیامت کے قیام پر ختم ہو جاتی ہے، آپ دورِ حضرتِ قائم القیامت =
دورِ تاویل = دورِ حکمت سے بھر پور فائدہ حاصل کریں، ورنہ بہت بڑی ناشکری ہو سکتی
ہے، مولا آپ کی مدد فرمائے! آمین
!!

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۲، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۵۶

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۲۹)

 

          جن ارضی فرشتوں کو مظہرِ نورِ خدا = امامِ حیّ و حاضر صلوات اللہ علیہ
سے شدید محبت اور عشق ہے، وہ ہر وقت ظاہراً و باطناً اپنے پاک مولا کی بیحد شیرین
اور پرحکمت یاد کرتے ہیں، جب آپ اور ہم جان و دل سے اس روشن حقیقت کو بصد احترام
قبول کرتے ہیں کہ امام زمان علیہ السلام حق سبحانہ و تعالیٰ کا زندہ اسمِ
اعظم ہے تو پھر ذاتِ سبحان کی سب سے عظیم اور سب سے اعلیٰ عارفانہ یاد کس طرح
ہوسکتی ہے؟

          اے عزیزانِ من! دل کی زبان سے مولا کی یاد کرو، اسی میں بہت بڑی حکمت
ہے، عاشقوں کے دل کی زبان روحانی اور آسمانی وائرلیس
 WIRELESSہے، کیا آپ کو یاد نہیں لفظِ وائرلیس مولا کے پاک فرمان میں ہے؟ اس
سے وہ فرشتہ مراد ہے جو آپ کے دو ساتھیوں میں سے ایک ہے، کیا فرشتہ وائرلیس
سے کمتر ہے؟ نہیں نہیں، ہرگز ایسا نہیں، یہاں بہت بڑی ناشکری ہونے کا ڈر ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

یوسٹن

۲۴، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۵۷

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳۰)

 

          بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ حضرتِ مولا علی المرتضیٰ
صلوات اللہ علیہ باب و حجابِ قرآنِ حکیم اور نقطۂ باءِ (ب) بسم اللہ ہیں، یہ
دونوں لاہوتی حکمتیں خود از خود مل کر ایک ہوجاتی ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ اس
میں لاکھوں حکمتوں کی طرف اشارہ ہے، اور وہ کئی طرح سے ہے: اول یہ کہ ہر چیز
عالمِ ذر میں ایک ذرہ ہے اور اللہ قادرِ مطلق وہ ہے جو ایک ہی ذرہ میں عالمِ ذر کو
محدود کر سکتا ہے۔

          دوسری مثال یہ ہے کہ صدہا آسمانی کتابوں کا علم قرآن میں ہے، قرآن
کا جملہ علم ام الکتاب (الحمد) میں ہے، جس کا علم بسم اللہ میں ہے، اور اس کا جوہر
نقطۂ باء میں اس طرح ہے، جس طرح عارفوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ بے مثال و لاجواب
معجزہ دیکھا ہے کہ ’’دستے از غیب بِرُون آید و کارے بکند‘‘ کا حظیرۂ قدس
میں مشاہدہ ہوتا ہے، عالمِ غیب سے ایک ہاتھ ظاہر ہو کر کائنات کے باطن کو
لپیٹ کر گوہرِ عقل = کتابِ مکنون بناتا ہے، پھر اسے پھیلا کر ایک کائنات بناتا ہے۔

          تیسری مثال روح کی ہے کہ ہر روح میں سب روحیں ہو سکتی ہیں، کیونکہ روح
لامکانی ہے، اس لئے وہ جگہ کو نہیں گھیرتی ہے، اس کی مثال

 

۵۸

 

علمُ الحساب میں صفر ہے کہ اگر آپ سو
کروڑ صفر کو جمع کریں تو جواب ایک صفر ہوگا، پس مولا کا یہ فرمانِ پاک و پر حکمت
حق ہے: ’’ مومن کی روح ہماری روح ہے۔
‘‘

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

۲۷، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۵۹

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳۱)

 

          حضرتِ حکیم پیر ناصرِ خسرو (ق س ) کے دیوانِ اشعار میں ہے:

ھُوَ الاوّل  ھُوالآخر
ھُوَ الظّاھر  ھُو البَاطن

مُنَزَّہ مَالِکُ الملکی کہ بے پایان
حشر دارد

          اس پُرحکمت اور حیرت انگیز شعر کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ روحانی قیامات
بے پایان ہیں، یعنی جس طرح اللہ کی ذات قدیم ہے اور اس کی ہر صفت قدیم ہے، اسی طرح
اس کی سنتِ جاریہ قدیم ہے، لہٰذا اللہ کی بے پایان بادشاہی میں بے پایان قیامات کا
تصور بالکل درست ہے، پس مُوتُوا قبْلَ اَنْ تَمُوْتوا اور روحانی قیامت زندہ اسم
اعظم = امامِ زمانؑ کے بغیر اصل اور کلی معرفت ممکن نہیں۔

          یہاں یہ بنیادی حکمت خوب یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کا زندہ اسمِ اعظم ناطق
تھا، اور اللہ کا زندہ دین بھی جس میں روحاً سب لوگ داخل ہو چکے تھے (
۱۱۰: ۱ تا ۲)، ناطق کے بعد اساس اسمِ اعظم اور خدا کا زندہ دین تھا، اور یہی مرتبہ
ہر امامِ زمان کو حاصل ہوتا ہے، اور یہ حقیقت آیۂ امامِ مبین (
۳۶: ۱۲) سے عیان ہے۔

         

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

پیر، ۲۸؍
جولائی 
۲۰۰۳ء

 

۶۰

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳۲)

 

          بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ قرآنِ حکیم کے ہزار ہا
نورانی ظہورات اور تجلیات ہیں کیونکہ وہ حق سبحانہ و تعالیٰ کے کلامِ قدیم کا
معجزۂ بےمثال و لاجواب ہے، قرآن جس طرح مقاماتِ ظاہر پر ظاہر ہے، اسی طرح درجاتِ
باطن میں بصورت تجلیات حجاب میں ہے، کیونکہ قرآن جہاں لوحِ محفوظ میں ہے، جہاں ام
الکتاب میں ہے، کتابِ مکنون میں ہے، گوہرِ عقل، اور کلمۂ امر میں ہے، تو ان
نورانی درجات میں قرآن کسی ظاہری خاموش کتاب کی طرح نہیں، بلکہ نورانی تجلیات کی
صورت میں اپنا کام کر رہا ہے۔

          آیا جو کتابِ ناطق حضرتِ رب تعالیٰ کے پاس ہے اس کی مثال کوئی انسانی
کتاب ہوسکتی ہے؟ نہیں نہیں، جو بولنے والی کتاب اللہ کے پاس ہے وہ ایک نور اور ایک
فرشتہ ہے، مثال کے طور پر آفتابِ عالمتاب، مادی نور ہے، اس کے دائرۂ خاص میں اگر
کوئی چیز ہے تو وہ اس کا اپنا نور ہے اور کچھ نہیں، اسی لئے اس کتاب میں تجلیات کی
اصطلاح کی طرف بار بار توجہ دلائی جارہی ہے، یہاں یہ حکمت بھی خوب یاد رہے کہ
خورشیدِ جہان آرا کی عندیت

 

۶۱

 

مکانی ہے، ذاتِ سبحان کی عندیت
روحانی، نورانی اور لامکانی ہے۔

          اَلحَمْدُ للّہ علیٰ منِہٖ و اِحْسَانہٖ۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

۲۹، جولائی  ۲۰۰۳ء

 

۶۲

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳۳)

 

                   بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ اے عزیزانِ باسعادت! اے
رفیقانِ فرشتہ خصلت! آپ پر مظہرِ نورِ خدا = علیِٔ زمان = ولیٔ امر صلوات اللہ
علیہ وسلامہ کے بے شمار احسانات و انعامات ہوئے ہیں، ان میں یقیناً سب سے
عظیم انعام وہ ہے جس سے ہم سب محوِ حیرت ہیں کہ اس کا شکرانہ کس طرح ادا ہوگا؟

          ’’اہلِ بیت‘‘ قرآن و حدیث کی خاص اصطلاحات میں سے ہے، اگر قرآنِ حکیم
میں اسمِ ’’امام‘‘ واحد ہے تو وہ ادوار کے لحاظ سے جمع بھی ہے، جس طرح لفظِ روح
واحد آیا ہے مگر افرادِ بشر کے پیشِ نظر وہ جمع بھی ہے۔

          آلِ ابراہیم = آلِ محمد = اہلِ ذکر = اولوالامر = عالمون (۲۹: ۴۳) = اَلرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْم (۳: ۷) = اولولْعِلْم (۳: ۱۸) = آلِ یاسین = آلِ محمد (۳۷: ۱۳۰)۔

          اسماعیلی اصطلاحات کے لئے جناب ڈاکٹر (پی۔ ایچ۔ ڈی) فقیر محمد ہونزائی
بحرالعلوم کے تمام تراجم سے رجوع کریں، موصوف نے حال ہی میں حضرتِ مولاعلیؑ کے
اپنے نورانی تعارف کے کلامِ حکمت نظام

 

۶۳

 

کا ترجمۂ لاثانی وغیرفانی یہاں کورس
کے لئے عنایت کیا ہے، مرکزِ علم و حکمتِ لندن ہم سب پر مولائے پاک کے عظیم احسانات
میں سے ہے، الحمد للہ رب العٰلمین و العاقبۃ اللمتقین
!

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

جمعرات ۳۱،
جولائی 
۲۰۰۳ء

 

۶۴

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳۴)

 

                   بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ بیت المعور = بھرا گھر، آباد
گھر، اصطلاحاً خانۂ کعبہ کے عین اوپر آسمانوں پر خانۂ خدا جہاں فرشتے کثیر
تعداد میں طواف اور عبادت کرتے رہتے ہیں (فیروز الغات ص
۲۵۱)، اس
کی تاویلی حکمت کے لئے کتابِ وجہِ دین میں دیکھیں، نیز وہ مقالہ پڑھیں جو
سرائر ص
۱۱۵ کے حوالے سے آپ کے پاس ہے، جس کی یاد دہانی اس طرح ہے کہ حضورِ اکرم
صلعم نے سفرِ معراج کے دوران آسمانِ چہارم پر مولا علی المرتضیٰ کو بہت سے
فرشتوں کے درمیان کرسئ کرامت پر بیٹھے ہوئے دیکھا تھا۔

          ہم کافی پہلے سے یہ مان چکے ہیں کہ معراج آنحضرتؐ کو اپنے پاک عالمِ
شخصی کی نورانیت میں ہوئی تھی، پس ہم پر خود شناسی واجب ہوئی تاکہ ہم کو امامِ
زمانؑ (ارواحنا فداہ) کی پاک معرفت حاصل ہو، جن عاشقوں کے عالمِ شخصی میں امامِ
مبینؑ کا نور طلوع ہو جاتا ہے، یقیناً وہ معجزۂ اعظم اور معرفت کل ہے۔

          آپ کے لئے کونسی دینی نعمت غیر ممکن ہو سکتی ہے؟ آپ سب سے پہلے
امامِ زمان علیہ السلام کے عشق و محبت اور حقیقی

 

۶۵

 

اطاعت کے ساتھ علم الیقین میں سعئی بلیغ
کریں، ان شاء اللہ مولا کارساز و بندہ نواز ہے، او مناسن اپی = ناشدنی نیست۔ آمین
! یاربَّ العالمین! قرآن (
۳۱: ۲۰)۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

جمعہ یکم اگست  ۲۰۰۳ء

 

۶۶

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳۵)

 

          حظیرۃ القدس کی اصطلاح بڑی عالی قدر اور عظیم الشان حکمتوں سے
مملو ہے، کیونکہ یہ عالمِ شخصی کا آسمان = عرش = عرفانی بہشت اور ظہورگاہِ نورِ
امامِ مبین صلوات اللہ علیہ ہے۔ جملۂ قرآنِ حکیم میں اسی کی تاویلی حکمتیں بھری
ہوئی ہیں، ہر حکمتِ کاملہ کو حکمتِ بالغہ اس معنیٰ میں کہتے ہیں کہ وہ حظیرۂ قدس
تک پہنچتی ہے، ہر پیغمبر کو حظیرۃ القدس میں معراج ہوئی تھی، یہاں مثال کے طور پر
حضرتِ ادریسؑ کی معراج کا حوالہ درج کرتے ہیں: (
۱۹: ۵۷) مَکَاناً عَلِیّاً حظیرۃ القدس کے ناموں میں سے ہے۔

          ہر نفسِ واحدہ کی روحانی قیامت میں آپ سب روحاً موجود تھے، ملاحظہ ہو
ہزار حکمت میں لفظِ ’’ارواح‘‘۔ فرمانِ پاک میں جہاں جہاں روح کا کوئی بیان ہو اس
کو غورسے پڑھیں، اور اس کی تاویلی حکمت کو اخذ کرلیں، جو شخص امامِ آلِ محمدؐ کا
حقیقی عاشق ہے، وہ حضرتِ امام علیہ السلام کے ارشادات کو عشق و محبت سے پڑھے گا،
اور جہاں جہاں امام کا علم پھیلا ہوا ہے، اس کو حاصل کرے گا، الحمد للہ رب
العٰلمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

سنیچر۲،
اگست 
۲۰۰۳ء

 

۶۷

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳۶)

 

          اے عزیزانِ سعادتمند و اہلِ علم الیقین! یہ اساسی اصطلاح خوب یاد رہے
کہ دینی علم کی روشنی میں یہ حقیقت اظہرِ مِنَ الشمس ہےکہ
صراطِ مستقیم امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کا نورِ پاک ہے، کیونکہ اسی
نور کی ’’نورانیت‘‘ میں چلنا ان لوگوں کے راستے پر چلنا ہے جن پر اللہ تعالیٰ کا
انعام ہوا ہے (
۴: ۶۹)۔

          ترجمۂ آیۂ شریفہ (۴: ۶۶) : اور اگر ہم ان
پر یہ فرض کر دیتے کہ اپنے نفسوں کو مار ڈالو۔۔۔۔۔۔ (الخ)۔ اللہ نے اپنے محبوب
رسولؐ کی زبان سے یہ عمل فرض کر دیا اور وہ حکم یہ ہے: مُوْتُوا قَبْلَ اَنْ
تَمُوتُوا۔ پس مومنِ سالک کی نفسانی موت اور روحانی قیامت امامِ زمانؑ کی نورانیت
کی صراطِ مستقیم ہے، جبکہ مولا علیؑ نے فرمایا: ’’ میں قیامت ہوں‘‘۔

          دائم الذکر ایک بیحد خوبصورت اصطلاح ہے، یہ اس حقیقی مومنِ عاشق کا
نام ہے، جو ہمہ وقت یادِ مولا میں مشغول رہتا ہے، اس کی قلبی زبان گونا گون طریقوں
سے بھی اور کسی ایک طریق سے بھی پاک مولا کی انتہائی شیرین یاد میں لگی رہتی ہے،
جب امامِ زمانؑ اللہ کا اسمِ اکبر ہے تو اس میں ضرور بے شمار معجزات ہوں گے
جو احاطۂ بیان سے باہر ہو سکتے ہیں، مگر

 

۶۸

 

حکمت کا تقاضا تو یہی ہے کہ اول اول
اس میں لذت و شیرینی ہو، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔

؎  گرتو صد خانہ کنی زنبور وار

من بیک دیدار ویرانت کنم

ترجمہ: اے عاشق اگر تو بھڑ کی طرح سو گھر
بھی بناتا ہے تو میں اپنے ایک ہی دیدار سے ان سب کو ویران کردوں گا۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

پیر۴،
اگست 
۲۰۰۳ء

 

۶۹

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳۷)

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔
آیۂ تطہیر (
۳۳: ۳۳) پنجتن = اہلِ بیت = اور أئمۂ آلِ محمدؐ کی شان میں ہے۔ ھُوَ
الَّذِی یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ ……. (الخ) (
۳۳: ۴۳) اللہ تعالیٰ تم اہلِ ایمان پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی۔

          امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص محمدؐ اور آلِ
محمدؐ پر دس دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر سو
۱۰۰
مرتبہ درود بھیجتے ہیں، اور جو شخص محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر سو
۱۰۰
مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر ہزار مرتبہ درود بھیجتے
ہیں۔ اسی کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت (
۳۳: ۴۳) میں ذکر فرمایا ہے۔ بحوالۂ
تفسیر المتقین ص
۵۴۹ حاشیہ۔ ۳۔

          کشف = مُکاشَفہ۔ سِر، اسرار، سرِ اعظم، اسم، اسماء، اسمِ اعظم، ذکر،
اذکار، ذکرِ اکبر، کل، کلیات، کلِ کلیات۔

          عرش ایک عظیم نورانی فرشتہ ہے اور کرسی بھی وہی ہے آپ آیۂ امامِ
مبین (
۳۶: ۱۲) کو عشق و محبت سے بار بار پڑھیں۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

منگل ۵،
اگست 
۲۰۰۳ء

 

۷۰

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳۸)

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔
أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمْ الإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ (
۵۸: ۲۲) ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں (اللہ تعالیٰ نے) ایمان لکھ دیا
اور ان کی مدد اپنی ایک روح سے کی، تاویلاً یہ کام خلیفۃ اللہ = امامِ زمانؑ نے
کیا، حضرتِ امام باقرؑ کا ارشاد یاد کریں۔ اِخوانُ الصّفاء وَخُلّانُ الوَفاء میں
بار بار اس آیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

          جب ہر شخص میں دو مخالف ساتھی مقرر ہیں: ایک جن = نفس = شیطان، اور
ایک فرشتہ = عقل = نورِ ہدایت کی چنگاری (یعنی امامِ زمانؑ کے نور کی چنگاری ) تو
پھر جس طرح انسان کے دل میں وسوسہ ممکن ہے، اسی طرح الہام بھی ممکن ہے،اگر دنیا
اور عالمِ شخصی میں مُضِلّ = گمراہ کُن = شیطان ہرجگہ پہنچ سکتا ہے، تو پھر ھادیٔ
برحق = امامِ زمانؑ کیونکر محدود ہوسکتا ہے؟ عدلِ خداوندی کا کیا تقاضا ہے؟

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

بدھ ۶،
اگست 
۲۰۰۳ء

 

۷۱

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۳۹)

 

          بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ سورۂ انبیاء (۲۱: ۱۰۷) کی تاویلی حکمت دانش گاہِ خانۂ حکمت کی کتاب: ’’ قرآنِ حکیم اور
عالمِ انسانیت‘‘ میں بفضلِ مولا بیان کی گئی ہے، یہ کتاب سرتاسر اسی آیۂ شریفہ
کی حکمتی تفسیر و تاویل ہے،لہٰذا آپ تمام عزیزان اس میں کما کان حقہ غور و
فکر کریں، اور جب جب عشقِ مولا میں گریہ وزاری ہو، تو اس حال میں دعا کریں کہ یہ
کتاب عالمِ انسانیت کے لئے مفید ثابت ہو! آمین
!

          میں صرف اپنے عزیزوں اعنی شاگردوں سے سوال کرتا ہوں کہ جب حق سبحانہ و
تعالیٰ شانہٗ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ کو تمام عوالمِ شخصی
کے لئے رحمت بنا کر بھیجا تو اس وقت اللہ کی رحمت کا یہ پروگرام مکمل ہوا یا کسی
وجہ سے ادھورا رہا ؟ کوئی بھی صاحبِ عقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ کا یہ پروگرام
نامکمل رہا، اگر یہ بات ہے تو آئیں ہم حکمتِ قرآن کے مطابق یہ مانیں کہ
زمانۂ نبوت ہی میں روحانی قیامت برپا ہوئی تھی جس میں ایک دیوار تھی اس میں ایک
دروازہ تھا (
۵۷: ۱۳) دروازے کے اندر رحمت تھی، اور اس سے باہر عذاب کا پہلو تھا، اور یہ
روحانی قیامت کی ظاہری مشقت اور باطنی رحمت کا اشارہ بھی ہوسکتا ہے اور

 

۷۲

 

اس میں مزید حکمتیں بھی ہوسکتی ہیں۔

          قرآنِ حکیم اور عالمِ انسانیت کی کتاب بفضلِ مولا سینکڑوں سوالات کا
جوابِ شافی ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

جمعرات ۷،
اگست 
۲۰۰۳ء

 

۷۳

 

اسمٰعیلی
اصطلاحات

(۴۰)

 

          بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ
فَتْحًا مُبِينًا (
۴۸: ۱) یہی سورۂ فتح کا نام اور اس کا آغاز
ہے، اسی ارشادِ مبارک کی حکمتِ بالغہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آنحضرتؐ کے
لئے عالمی اور کائناتی فتح و تسخیرِ باطن عنایت کردی، یقیناً روحانی قیامت کا یہ
عظیم معجزہ غارِ حرا کے ذکرِ اسمِ اعظم کے سلسلے میں ہوا، اور حضورِ پاکؐ کی اسی
روحانی قیامت کا ذکر سورۂ نصر (
۱۱۰: ۱۔۲) میں
بھی ہے۔

          یہاں فتحِ مبین میں زبردست بلیغ اشارہ ہے جسکی وجہ سے فتح کے معنی
فلکُ الافلاک سے بھی باہر جاتے ہیں۔ فَلَکُ الافلاک یا فَلَکِ اعظم کرسی ہے، جس
میں سب آسمان اور زمین محدود ہیں (
۲: ۲۵۵) ۔

          روحانی قیامت، اللہ =القابض اور الباسط کی زبردست اور غالب قوت کا نام
ہے، پس زمانۂ نبوت ہی میں روحانی قیامت کے ذریعے سے تمام لوگ اللہ کے زندہ
دین = آنحضرتؐ میں روحاً داخل ہو گئے تھے، اور سورۂ نصر (
۱۱۰: ۱ تا ۲) کے یہی معنی ہیں، اور مولا علی علیہ السلام نے اسی معنیٰ میں فرمایا
ہے اَناَ دِیْنُ اللّٰہِ حَقَّا، اَنَا نُفْسُ اللہ حَقَّا = یہ بات حق ہے کہ میں
خدا کا دین ہوں، اور یہ بات حق ہے

 

۷۴

 

کہ میں نفسُ اللہ ہوں۔ کتابِ مستطابِ
سرائر ص
۱۱۷۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

جمعتہ المبارک ۸ ،
اگست 
۲۰۰۳ء

 

۷۵

 

روحانی اصطلاحات

)

 

          عالمِ صغیر = عالمِ شخصی، خود شناسی = معرفتِ نفس، سالک، مومنِ
سالک = اپنی ذات میں سفر کرنے والا مومن، ہجرت کرنا = اپنے باطن میں داخل ہوجانا،
نفسِ حیوانی کی منزلِ تحلیل (
۲: ۶۷ تا ۷۳)، کان بجنے کی
منزل (بعوضہ
۲: ۲۶)، ابتدائی رنگ برنگ روشنیاں = رنگِ خدا (۲: ۱۳۸)، منزلِ نفخ = منزلِ اسرافیلی = منزلِ عزرائیلی = منزلِ قبضِ روح،
منزلِ تسخیرِ کائنات = منزلِ حشرو نشر = منزلِ قبض و بسط، منزلِ فنا = منزلِ موت و
بعث، قریۂ ہستی کا زیرو زبر ہونا (
۲: ۲۵۹)۔

          واقعۂ قیامت کی روحانی اور تاویلی ہمہ رسی اور ہمہ گیری انتہائی عجیب
و غریب اور بے حد حیرت انگیز ہے، یہ ایک بہت بڑی صاف و شفاف ندی کی طرح ہے، جس کا
پانی قرآنِ حکیم کے ہر قصہ اور ہر مثال کے ظرف میں بھر کر بالکل اس کا ہم شکل
ہوسکتا ہے، یہ ایک طرف سے قیامت و روحانیت کا سب سے عظیم معجزہ ہے، اور دوسری جانب
سے قرآنِ حکیم کا سب سے بڑا معجزہ۔

          منزلِ اسمِ اعظم خود گو یا خود کار، منزلِ فنائے دوم، منزلِ فنائے
سوم، عین الیقین ، حق الیقین، زلزلہ، برق، رعد۔

 

۷۶

 

          عالمِ شخصی کی زمین، پہاڑ، آسمان، کوہِ طور، عالمِ بالا، حظیرۂ قدس،
ظہورِ ازل و ابد، کنزِ مخفی، بہشت برائے معرفت، لقاءُ اللہ، معجزۂ صورتِ رحمان،
عقلانی پیدائش ، ابداع و انبعاث، کتابِ مکنون۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

پیر ۳، جولائی  ۲۰۰۰ء

 

۷۷

 

روحانی اصطلاحات

(۲)

 

عالمِ ذر = یاجوج و ماجوج (۱۸: ۹۴ نیز ۲۱: ۹۶) = جنودِ روحانی (لشکرِ غیب ۷۴: ۳۱) = لشکرِ آسمان و زمین (۴۸: ۷)۔

          اَلْاَرْوَاحُ جُنُودٌ مُّجَنَّدَۃٌ = روحیں ہمیشہ روحانی جنگ کے لئے
تیار شدہ لشکر کی حیثیت سے ہوتی ہیں۔

          ثمراتُ کُلُّ شی ءٍ = ہر چیز کا میوہ = روح = جوہر = رازِ حکمت۔

          دآبَّۃُ الْاَرْض ( ۲۷: ۸۲)، ناقور = صور = نفخ، ساعت، آیاتُ
اللہ = علیؑ، وجہُ اللہ = علیؑ = کتابِ ناطق (
۲۳: ۶۲ نیز ۴۵: ۲۹)۔

          لوحٍ محفوظٍ (۸۵: ۲۲) = علیؑ (کوکبِ دری)، قلم = نورِ محمدی،
لوح = نورِ علی، عرش = نورِ محمدی، کرسی = نورِ علی، عقلِ کل = نورِ محمدی، نفسِ
کل = نورِ علی، شمس = محمدؐ، قمر = علیؑ، اسمِ اعظم = محمدؐ و علیؑ، مومنین و مومنات
کے روحانی والدین = محمدؐ و علیؑ۔

          صاحبِ تنزیل = محمدؐ، صاحبِ تاویل = علیؑ، وزیرِ موسیٰؑ = ھارونؑ،
وزیرِ محمدؐ = علیؑ، ہر امام کتاب، اور علیؑ ام الکتاب ہے۔

 

۷۸

 

          اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ مَنّہٖ وَ اِحْسَانِہٖ۔ اب ہماری روحوں کی
اساسی پرورش کرنے والی کتابِ مستطاب ’’ گنجینۂ جواہرِ احادیث‘‘ زیورِ طبع سے
آراستہ و پیرا ستہ ہو کر نورِ امامت کے پروانوں کو دستیاب ہو رہی ہے، جس
مبارک ہاتھ نے اور جس بابرکت قلم نے ہمارے لئے یہ خزانۂ عشقِ امام جمع کیا ہے ہم
اس کو صبح و شام بلکہ علی الدّوام سلامِ محبت و عقیدت کرتے رہیں گے۔ آمین یا
ربّ العالمین
!

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

پیر ۳
،جولائی
۲۰۰۰ء

 

۷۹

 

روحانی اصطلاحات

(۳)

 

روحانیت کا قریب ترین آسمان (۶۷: ۵)، اللہ تعالیٰ نے اس آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے،
اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے۔

          جسمِ لطیف = جسمِ مثالی = جسمِ فلکی = جثۂ ابداعیہ۔

          جسمِ لطیف کی ستر ہزار (۷۰۰۰۰) کاپیاں = عالمِ شخصی کی کاپیاں = کائنات
کی کاپیاں = جنت کے ایک بازار میں صرف تصویریں ہی تصویریں ہیں۔

          بہشت میں ہر دل خواہ نعمت مل سکتی ہے، اور کوئی بھی نعمت غیر ممکن
نہیں۔

          التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ (۲: ۲۴۸)۔

          منزلِ خوشبو = ریحِ یوسف (۱۲: ۹۴) = قمیصِ یوسف (۱۲: ۹۳)۔

          طیبات = اَلْمنّ و السّلویٰ (۲: ۵۷)، طیبات = روحانی
غذا بصورتِ خوشبو (
۲۳: ۵۱)، روحانی غذائیں بصورتِ خوشبو عظیم
معجزات میں سے ہیں (
۷: ۳۲)۔

          تابوتِ سکینہ سے سرتا سر امام کے تمام روحانی معجزات مراد ہیں،

 

۸۰

 

مائدہ عیسیٰ بھی تمام روحانی معجزات
کا مجموعہ تھا، کیونکہ انسان ایک ایسی مخلوق کا نام ہے جو جسمِ کثیف و لطیف بھی ہے
اور روح و عقل بھی، پس اگر اسے خوانِ نعمت کے معجزے سے اطمینان دینا ہے تو وہ تین
قسموں میں ہوسکا ہے، اول: ایسی جسمانی غذا جو غیر معمولی ہو، وہ ہرقسم کی خوشبوؤں
کی صورت میں ہے، دوم: روحانی غذا جو اللہ تعالیٰ کے پوشیدہ بزرگ ناموں میں ہے،
سوم: عقلی غذا وہ جو اعلیٰ سے اعلیٰ علم و حکمت اور عظیم اسرارِ معرفت
میں ہے۔

         

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

منگل ۴ ، جولائی
۲۰۰۰ء

 

۸۱

 

روحانی اصطلاحات

(۴)

 

          نفسِ لوّامہ = خود کو بہت ملامت کرنے والا نفس۔

          جب ہم سورۂ قیامہ کے شروع (۷۵: ۲) میں نفسِ لوامہ
کی یہ فضیلت دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس طرح یومِ قیامت کی قسم کھاتا ہے، بالکل
اسی طرح وہ علیم و حکیم نفسِ لوامہ کی بھی قسم کھاتا ہے، اس سے کسی مومن شخص کو
ضرور یہ شوق پیدا ہوسکتا ہے کہ کاش! وہ اپنے نفسِ امارہ کو ملامت کرتے کرتے ایک دن
نفسِ لوامہ بنانے میں کامیاب ہو سکتا ! لیکن سوال یہ ہے کہ آیا تنہائی میں کسی کا
اپنے آپ کو سخت سے سخت ملامت کرنے سے یہ مرتبہ حاصل ہوسکتا ہے؟ یا کسی مجلس میں
گریہ وزاری اور مناجات کے بہانے سے اپنے آپ کی ملامت کافی ہوسکتی ہے؟ یا ان تمام
کوششوں کے ساتھ ساتھ استادِ کامل کی پرحکمت ملامت بھی بے ضروری ہے؟ تاکہ وہ اپنے
شاگردوں کی اخلاقی بیماریوں کو چشمِ بصیرت سے دیکھتے ہوئے طبِ الٰہی سے علاج کر
لیا کرے۔

          جب مذکورۂ بالا باتیں حقیقت پر مبنی ہیں، اور اخلاقی ترقی کے بغیر
روحانی ترقی غیر ممکن ہے تو آؤ ساتھیو! ہم سب کے سب اولوالعزم لوگوں کی طرح عالی
ہمتی سے کام لیں، اور مرتبۂ نفسِ لوامہ کو حاصل کرنے

 

۸۲

 

کی خاطر استادِ کامل کی تلخ ترین نصیحتوں
کو بھی قبول کریں، ورنہ بعد میں ہم کو بہت ہی افسوس کرنا پڑے گا، جس سے کچھ
فائدہ نہیں ہوگا، والسلام۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

بدھ ۵
،جولائی
۲۰۰۰ء

 

۸۳

 

چند اصطلاحات

 

          عالمِ جمادات، عالمِ نباتات، عالمِ حیوانات، عالمِ انسان = ناسوت۔

          عالمِ ملکوت = عالمِ ارواح و ملائکہ۔

          جبروت = قدرت = بزرگی = عظمت = جاہ و جلال = اسمِ صفاتِ الٰہی۔

          لامکان = وہ عالم جو مکان اور جہات سے مبرا ہے۔

          لاھوت (تصوف) = وہ عالمِ ذاتِ الٰہی جس میں سالک کو فنا فی اللہ
کا مقام حاصل ہوتا ہے۔

          عالمِ کبیر = عالمِ اکبر = کائنات = کل عالم۔

          عالمِ اصغر = عالمِ صغیر = عالمِ شخصی ۔

          عالمِ کثرت = جہاں لوگ بکھرے ہوئے ہیں۔

          عالمِ وحدت = جہاں ایک میں سب ہیں۔

          چہار ارکانِ تصوف = شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت۔

          چار آسمانی کتابیں = توراۃ، انجیل، زبور، فرقان۔

 

۸۴

 

          کل آسمانی کتابیں = ایک سوچار (۱۰۴) ۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حبِ علی) ہونزائی
(ایس۔ آئی)

کراچی، ۲۲
،جولائی
۲۰۰۰ء

 

۸۵

 

Little Angels: Coolness of the Eyes

The book "Ismaili
Istilahaat" has been written with special reference to the LA (Little
Angels) which is an institution that was created by Allama Sahib on 24th May
1998 during his memorable visit to London. The reason he gave for this name was
that each and every person has an angel in them, and in the beginning this is a
little angel. Therefore the institution of LA is a reminder that each of those
children in their batin is a little angel.

In general all children are
attractive to us, but in particular our own children hold a very special place
for us. In fact Allamah Sahib has mentioned that our children are the
"coolness of our eyes". In his writings he has given two reasons for
this description. Firstly, that they have been born according to the law of
religion (30:30). Secondly, that God has cast the shadow of His love not only
on Hazrat Musa, but on all the Prophets and the awliya’. Since God has said
that those who follow them will also receive the same blessings, then children
in particular have been blessed with the love of God. Due to this natural
attraction in Children, parents make a special effort to teach them true
knowledge. In addition Allamah Sahib has also explained that in paradise pious
parents will receive didar (the vision of God) in the image of their angelic
children.

In 6:66 it is said: "O you who
believe, save yourself and your families form the fire." The wise know
that this fire of hell is none other than ignorance. The means of saving and
being saved from this fire is therefore only through true knowledge.

It is for this reason that Allamah
Sahib has created not just the institution of the LA (which includes all the children)
but also the institution of the High Educator (which consists of the parents of
those children) so that the above-mentioned duty may be carried out: that is,
the parents may, through the dissemination of true knowledge, save themselves
and their families from the fire of ignorance. However, it is incumbent upon
the High Educators to first agree to this responsibility, and then implement
it.

 

۸۶

 

When the LA was first created, it
was difficult to understand the rationale behind it. But gradually, as Allamah
Sahib has explained the reasons behind this act, it has been made clear that
its basis is nothing other than our own spiritual progress.

Mawlana Hazir Imam has emphasized on
meritocracy in his Farmans i.e. everyone should aim for nothing but the best in
their education. This Holy guidance is for both the worlds, which implies that
we should not confine ourselves to just secular education but we should also
get the best religious knowledge. Together with our children, we have a golden
opportunity to acquire deep religious understanding by reading and
understanding what our Ustad has been writing so tirelessly. This Balance of
the secular and religious and the training of the LA from a very young age will
help develop a holistic personality.

Eshrat Zahir

Maryam Kotadia

 

۸۷

 

Little Angels in USA

Names
of Little Angels

Father’s
Name

Mother’s
Name

Hubb-i
Ali Hunzai

Aminuddin
Hunzai

Irfat
Ruhi Aminuddin

Durr-i
Alawi Hunzai

Aminuddin
Hunzai

Irfat
Ruhi Aminuddin

Durr-i
Fatimah Hunzai

Aminuddin
Hunzai

Irfat
Ruhi Aminuddin

Nadia
Momin

Ghulam
Mustafa Momin

Mumtaz
Momin

Nayab
Ali

Nizar
Ali Momin

Almas
Nizar Ali

Hina
Ali

Nizar
Ali Momin

Almas
Nizar Ali

Sabah
Ali

Nizar
Ali Momin

Almas
Nizar Ali

Nasir
Panjwani

Naushad
Panjwani

Rozina
Panjwani

Eesarali
Panjwani

Naushad
Panjwani

Rozina
Panjwani

Azim
Sultanali

Sultan
Ali Ladji

Shaukat
Bano Ladji

Zohaib
Rahim

Zahir
Rahim

Yasmin
Rahim

Farah
Rahim

Zahir
Rahim

Yasmin
Rahim

Salman
Rahim

Zahir
Rahim

Yasmin
Rahim

Hina
Khanjee

Nasiruddin
Khanjee

Khairunnisa
Khanjee

Kashif
Khanjee

Nasiruddin
Khanjee

Khairunnisa
Khanjee

Komal
Khanjee

Nasiruddin
Khanjee

Khairunnisa
Khanjee

Gulab
Rafique

Dr.
Rafique Jannat Ali

Dr.
Shah Sultana

Shafique
Rafique

Dr.
Rafique Jannat Ali

Dr.
Shah Sultana

Sakina
Chagani

Imaran
Chagani

Afroza
Chagani

Zainab
Akber Nathani

Akber
G. Ali Nathani

Parveen
Akber Nathani

Jafar
Ali Jooma

Shamsuddin
Jooma

Karima
Jooma

Salman
Hasan

Hasan
Haider Ali

Kanma
Hasan

Farah
Gillani

Barkat
Ali Gillani

Rukhsana
Gillani

Zahra
Gillani

Barkat
Ali Gillani

Rukhsana
Gillani

Sana
Ali

Mehboob
Ali

Zarin
Mehboob Ali

Shoaib
Ali

Mehboob
Ali

Zarin
Mehboob Ali

Karim
Lakhani

Siraj
Ali Lakhani

Shaheena
Lakhani

Muizz
Lakhani

Siraj
Ali Lakhani

Shaheena
Lakhani

Ali
Shan Chandwani

Aziz
Chandwani

Shamshad
Chandwani

Arsalan
Chandwani

Aziz
Chandwani

Shamshad
Chandwani

Shamim
Rupani

Anwer
Ali Rupani

Rozina
Rupani

Rahim
Rupani

Anwer
Ali Rupani

Rozina
Rupani

Noorie
Hussain

Mohammad
Ali Hussain

Rukhsana
Hussain

Neha
Hussain

Mohammad
Ali Hussain

Rukhsana
Hussain

 

۸۸

 

Narmeen
Rajpari

Aziz
Rajpari

Nafisa
Rajpari

Akil
Rajpanri

Aziz
Rajpari

Nafisa
Rajpari

Sitra
Rajpari

Aziz
Rajpari

Nafisa
Rajpari

Asad
Ali momin

Zahir
Ali Momin

Saira
Zahir Ali Momin

Sinaan
Ali Momin

Zahir
Ali Momin

Saira
Zahir Ali Momin

Mahjabeen
Momin

Nizar
Ali Momin

Anis
Nizar Ali Momin

Arrafa
Momin

Salman
Momin

Anila
Salman Momin

Zaibunnissa
Momin

Karim
Momin

Zarina
Momin

Kiran
Momin

Qurban
Momin

Noorbanu
Momin

Neelam
Momin

Qurban
Momin

Noorbanu
Momin

Hussain
Momin

Qurban
Momin

Noorbanu
Momin

Noman
Momin

Mustafa
Momin

Yasmeen
Momin

Salman
Momin

Mustafa
Momin

Yasmeen
Momin

Fareed
Momin

Liaqat
Momin

Zubeda
Momin

Rehan
Momin

Liaqat
Momin

Zubeda
Momin

Zain
Momin

Noordin
Momin

Almas
Momin

Sakina
Amin

Amin
M. Ali

Nusrat
Amin

Ahsan
Merchant

Meheraly
Merchant

Shanshahi
Merchant

Azeem
Marchant

Meheraly
Marchant

Shanshahi
Merchant

Sufia
Charania

Akber
Ali Charania

Shamsha
Charania

Kashif
Amin Charania

Akber
Ali Charania

Shamsha
Charania

Little Angels in UK
Markaz-e Ilm-o Hikmat

Names
of Little Angels

Father’s
Name

Mother’s
Name

Nasiruddin
Khizr-Ali Zahir

Zahir
Lalani

Eshrat
Zahir

Durr-I
Maknun Zahir

Zahir
Lalani

Eshrat
Zahir

Zuhaa
Jamani

Zulfikar
Jamani

Farhat
Jamani

Raziyyuddin
Jamani

Zulfikar
Jamani

Farhat
Jamani

Farid
Rener

Rehman
Rener

Nimet
Rener

Khalil
Ali Rener

Rehman
Rener

Nimet
Rener

Abuzarr
Ali Kotadia

Amin
Kotadia

Mariam
Kotadia

Salman
Karim Kotadia

Amin
Kotadia

Mariam
Kotadia

Shazia
Chatur

Mehboob
Chatur

Firoza
Chatur

Sara
Lalani

Faizal
Lalani

Haseena
Faizal

 

۸۹