دعا مغزِ عبادت
ایک خاص حسین عالم
عزیزانِ علمی، محترم جنت علی (حسینی غلام) ان کی فرشتہ جیسی نیک سیرت اہلیہ محترمہ شاہ بی بی، اور معزز افرادِ خاندان کی یہ ایک بہت بڑی سعادت ہے کہ ایک نامور علمی ادارے کی تاریخ میں ان کے حسنِ عمل کا ذکرِ جمیل (ان شاء اللہ) ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہے گا۔
مولائے پاک و مہربان کے فضل و کرم سے اس مشترکہ دنیا میں ہمارے عزیزوں کی پیاری پیاری کتابوں کا ایک انتہائی حسین عالم بھی ہے، اس میں جب اور جہاں “شاہ بی بی برانچ” یا کسی دوسری برانچ یا کسی عظیم کارکن کا نام اور تذکرہ آتا ہے تو اس مقام پر ہر ذی شعور انسان نہ فقط محوِ حیرت ہو جاتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس کے دل میں حقیقی عزت و احترام کا ایک بےمثال جذبہ بھی ابھرتا ہے۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
نصیر الدین ہونزائی ’’لسان القوم‘‘
۲۰ اکتوبر ۱۹۹۳ء
دیباچۂ طبعِ سوم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یا اللہ! اپنی قدیم ذات و صفات کی حرمت سے، یا الٰہی! اپنے اسماء الحسنیٰ اور کلماتِ التّامات کی حرمت سے، یا ربّ العزت! اپنے جملہ سماوی و ارضی فرشتوں کی حرمت سے، یا خداوندا! اپنی ساری آسمانی کتابوں اور نوشتوں کی حرمت سے، اے معبودِ برحق! اے دانائے مطلق! اپنے انبیائے کرام علی الخصوص حضرتِ محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی حرمت سے، اے خالقِ انس و جان! اے پروردگارِ عالمیان! آلِ محمدؐ کے أئمّۂ ھُدا کی حرمت سے۔
اے خلاقِ کون و مکان! دارندۂ زمین و آسمان! دانندۂ اسرارِ نہان! تیری ذاتِ پاک سے ہماری کوئی حالت پوشیدہ نہیں، تیرے عظیم احسانات و انعامات کی عاجزانہ شکرگزاری ہم سے کب اور کہاں ادا ہوگی، ہم آئینۂ دل کو تیرے ذکرِ جمیل کی تجلّیوں کے سامنے سے ہٹا کر اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں، اے آسمانی طبیب! اے عرشی ڈاکٹر! آ جا، آ جا، ہم ظاہراً و باطناً مریض ہیں، ازراہِ عنایت ہمارا علاج کر، اگر ہم سچ مچ مریض نہ ہوتے تو ذکر و عبادت کے دوران وسوسوں کے اژدھے کا لقمہ نہ بن جاتے، یا اللہ! اپنے نورِ منزل کے پاک عشق سے ہماری کل بیماریوں کا علاج کر، اے خداوندِ کریم! جب تو نے اپنے اس نورِ اقدس کو زمین پر نازل کر دینے سے دریغ
الف
نہیں فرمایا تو اب بےحد ضرورت اس بات کی ہے کہ ازراہِ بندہ پروری اس نورِ ہدایت سے ہمارے تنگ و تاریک دلوں کو وسیع و منور کر دے!
یا ربِّ غفور! تیری رحمت کا بحرِ بیکران کائنات و موجودات پر محیط ہے اور تیرے علم کا سمندر بحرِ رحمت پر حاوی ہے، اس سے ہمیں یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اگرچہ دوزخ (آتشِ جہالت) حق ہے، لیکن تو بالآخر سب کو بخشنے والا ہے، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دعا اور خیرخواہی کا دائرہ ہمہ رس اور ہمہ گیر ہو جائے، کیونکہ ہم نے قرآنِ پاک کی روشنی میں یہ دیکھا کہ فرشتے علم میں جتنے عظیم تر ہوتے ہیں، ان کی دعا کا دائرہ اتنا وسیع تر ہوتا ہے۔
یا ربّ العالمین! ہمیں ذکر و عبادت اور دعا کی بڑی سے بڑی حکمتوں کو سمجھنے کی ہمت و توفیق عطا کر دے، تا کہ اس کی خوبیوں سے جاذبیّت و کشش پیدا ہو سکے، کیونکہ حکمت دینِ حق کی سب سے بڑی دولت ہے، اور خیرِ کثیر (تمام تر خوبیاں) حکمت ہی سے وابستہ ہے، اور قرآنِ عظیم نے بڑی شان سے عقل و دانش کی تعریف کی ہے، پس مناسب نہیں کہ ہم کچھ سمجھے بغیر تقلید کی بندگی کریں، اس میں کوئی خاص فائدہ نہیں۔
میرے عزیز روحانی بھائیو اور بہنو! جملہ عبادات ضروری ہیں، لیکن دعا بےحد ضروری ہے، اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں بڑی کثرت سے دعا کا ذکر موجود ہے، اور اس میں اللہ کے برگزیدہ بندوں کی مقبول دعائیں بھی مذکور ہیں۔ دوسری دلیل: سورۂ فاتحہ کی اہمیّت و فضیلت سب پر عیان ہے کہ وہ ام الکتاب ہے جس کا نصفِ اوّل خدا کی حمد و ثنا
ب
پر مبنی ہے، اور نصفِ آخر میں نورِ ہدایت سے متعلق نہایت اہم دعا کی تعلیم دی گئی ہے۔
تیسری دلیل: اہلِ ایمان کے لئے بطورِ خاص حکم دیا گیا ہے کہ وہ امید و یقین کے ساتھ اللہ کو پکارا کریں۔ جیسے ارشاد ہے: وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ (۴۰: ۶۰) اور تمہارا ربّ کہتا ہے “مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا”۔ چوتھی دلیل: (ترجمہ:) اور (اے رسول!) جب میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتا دو کہ میں ان کے پاس ہی ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں، پس انہیں چاہئے کہ میرا ہی کہنا مانیں، اور مجھ پر (کماحقہ) ایمان لائیں، تا کہ وہ راہِ راست پر چل سکیں (۰۲: ۱۸۶)۔
پانچویں دلیل: قرآنِ حکیم کی دو پُرحکمت آیتوں (۰۶: ۵۲، ۱۸: ۲۸) کی روشنی میں یہ حقیقت معلوم ہو جاتی ہے کہ دینِ اسلام میں شروع ہی سے کچھ ایسے درویش صفت لوگ بھی موجود ہیں، جو دیدارِ خداوندی (وجھہ) کی غرض سے اجتماعی دعا پڑھتے ہیں، دیدارِ پاک کے اس انتہائی عظیم مقصد کی مناسبت سے ان کی درویشی اور صراطِ مستقیم پر روحانی ترقی کا ثبوت ملتا ہے۔ چھٹی دلیل: حدیثِ شریف ہے: الدعا مُخُّ العبادۃ = دعا مغزِ عبادت ہے (ترمذی: دعا)۔
ساتویں دلیل: کتاب الشّافی، جلدِ پنجم، کتاب الدّعا میں ہے: حضرتِ امام محمد باقر علیہ السّلام نے فرمایا: ۔۔۔۔۔ افضل العبادۃ الدعا = دعا
ج
سب عبادتوں سے افضل ہے، آپ سے اس آیۂ کریمہ کے بارے میں پوچھا گیا: اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ (۱۱: ۷۵) بے شک ابراہیم بڑا حلیم اور بہت آہیں بھرنے والا اور رجوع کرنے والا تھا۔ آپ نے جواب دیا کہ: وہ بہت زیادہ دعا کرنے والے تھے۔
الغرض اگر ہم دعا کی فضیلت پر دلائل لکھتے جائیں تو یہ دیباچہ اپنی حد سے زیادہ طویل ہو جائے گا، تاہم یہاں یہ ضروری سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ دعا میں اصل راز کیا ہے کہ قرآن و حدیث میں اس کی اتنی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا میں مناجات اور عاجزی کا موقع ہے، اور گریہ و زاری والی تسبیح پڑھی جاتی ہے، یہ بات الگ ہے کہ ہم آج کی مادّی ترقی کے طوفان میں دعا کی تمام شرطیں بھی پوری کر سکتے ہیں یا نہیں۔
دعا کی سب سے بڑی فضیلت یقیناً اس وجہ سے ہے کہ اس کا حکم اللہ، رسول، اور صاحبِ امر نے دیا ہے، اور یہی دین کا وہ حکم ہے، جس کے تحت ذکر و عبادت اور علم و عمل کی تمام خوبیاں آجاتی ہیں۔
اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ دینِ فطرت (یعنی اسلام) کی ہدایات و تعلیمات قانونِ فطرت کے مطابق ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ نہ صرف علوم ہی بلکہ عبادات بھی درجہ بدرجہ ہیں، کیونکہ قرآنِ کریم کی بہت سی آیاتِ مبارکہ میں صراطِ مستقیم کا ذکر ہے، اور اسی طرح دوسری متعدد آیات میں درجات کا تذکرہ ہے، پھر یہ امر لازمی ہے کہ درجات اور
د
کہیں نہیں بلکہ صراطِ مستقیم ہی پر ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ دینِ فطرت میں یقیناً ترقی ہے، جیسے درجِ ذیل حدیث سے ظاہر ہے:
“الشریعۃ اقوالی، و الطریقۃ افعالی، و الحقیقۃ احوالی، و المعرفۃ سری = شریعت میرے اقوال کا نام ہے، طریقت میرے اعمال کا، حقیقت میری باطنی کیفیت کا، اور معرفت میرا راز ہے”۔
سید امیر علی کی مشہور کتاب “سپرٹ آف اسلام” کا اردو ترجمہ “روحِ اسلام” ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ نے شائع کر دیا ہے، اس کے صفحہ ۳۰۵ کے آخر میں ایک حدیثِ نبوّی کا ترجمہ اس طرح سے درج ہے: “تم لوگ ایک ایسے دور سے گزر رہے ہو کہ اگر تم احکام کے دسویں حصے سے بھی تغافل برتو تو برباد ہو جاؤ گے، اس کے بعد ایک ایسا وقت آئے گا کہ اُس وقت جو احکام دیئے گئے ہیں اگر کوئی ان کے دسویں حصّے پر بھی عمل کرے گا تو اُسے نجات نصیب ہو جائے گی۔”
صفحہ ۳۰۶ پر اصل حدیث اس طرح ہے: عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انکم فی زمان من ترک منکم عشر ما امر بہ ہلک ثم یاتی زمان من عمل منھم بعشر ما امر بہ نجا۔ رواہ الترمذی۔ (بحوالۂ ترمذی و مشکوٰۃ)۔
اس کتاب کا نام اب “دعا مغزِ عبادت” مقرر ہوا ہے، یہ اس حدیثِ شریف سے لیا گیا ہے: الدعاء مخ العبادۃ (دعا عبادت
ہ
کے مغز کا درجہ رکھتی ہے) قبلاً فلسفۂ دعا کے نام سے شائع ہوئی تھی، میں یہاں اپنی جماعتِ باسعادت کے ہوش مند قارئین کو عاجزانہ و مخلصانہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ مقدّس دعا سے متعلق وسیع تر معلومات کی خاطر دو اور مفید کتابوں کو بھی پڑھ لیں، وہ جناب ڈاکٹر (پی۔ ایچ۔ ڈی) فقیر محمد صاحب ہونزائی کی کتاب “برکاتِ دعا” اور جناب الواعظ عالیجاہ کمال الدین صاحب کی کتاب “حکمتِ دعا” ہیں۔
علیٔ زمان صلواۃ اللہ علیہ و سلامہ کا مقدّس عشق تمام آسمانی محبتوں کا مرکز ہے، یعنی نور الانوار، آئینۂ حق و حقائق، مظہرِ عجائب و غرائب، غالب علیٰ کلِ غالب، میں سچ سچ بتاتا ہوں کہ گاہے گاہے یہ دل اس محبوبِ لاثانی و غیر فانی کے غلبۂ عشق سے مغلوب و بےچارہ ہو جاتا ہے، ایسے میں جی چاہتا ہے کہ نثر ہی میں شاعرانہ باتیں لکھوں، تا کہ جو کچھ خیال میں آئے وہ ظاہری ربط و ضبط کے بغیر بول سکوں، کیونکہ دائرۂ کائنات میں جتنی چیزیں موجود ہیں، ان میں ربط ہی ربط ہے، اسی طرح بحرِ علم و حکمت میں جیسے بھی نکات ہیں، ان میں کلّی طور پر ربط و وحدت ہے۔
میرے عزیزان جو مغرب میں رہتے ہیں، وہ امامِ عالی مقام کے اس علم سے کتنے خوش و خرسند ہیں، اس کی ایک زندہ مثال اس گفتگو سے مل سکتی ہے، کہا گیا: “آپ کو مولا نے ایسا رفیع الشّان علم دیا ہے کہ اس کے احترام میں اکیس توپوں کی سلامی بھی کم ہے، ہم اگر آپ کی
و
طویل علمی خدمات پر گولڈن جوبلی نہیں منا سکتے ہیں تو فلاور جوبلی ضرور منا سکتے ہیں”۔ میں نے گزارش کی خدارا، ایسی باتیں مت کیجئے، میں جماعت میں سب سے چھوٹا آدمی ہوں، اگر کچھ کرنا ہے تو “جشنِ خدمتِ علمی” کے عنوان سے کوئی کام کریں، تو اس کے لئے وہ راضی ہوگئے۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
میں ہوں: اہلِ جماعت خانہ کی خاکِ پا
ن۔ ن۔ (حبِّ علی) ہونزائی
کراچی رہائش گاہ
جمعرات ۱۸ شوال ۱۴۱۴ھ
۳۱ مارچ ۱۹۹۴ء
ز
دعا مغزِ عبادت
کے ساتھ یہ کتابچہ بھی ضروری ہے۔
حکمتِ تسمیہ اور اسمائے اہلِ بیّت
یکے از تصنیفاتِ
علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی
شائع کردہ
خانۂ حکمت ۔ ادارۂ عارف
۳۔ اے نور ویلا، ۲۶۹۔ گارڈن ویسٹ
کراچی ۳
تشکر
طبعِ دوم
اہلِ ایمان کے لئے اس حقیقتِ ثابتہ میں کوئی شک ہی نہیں کہ قادرِ مطلق اور حکیمِ برحق کی صفاتِ عالیہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ “مسبب الاسباب” ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ خدائے تعالیٰ خود ہی اپنی قدرتِ کاملہ سے اپنے بندوں کے نیک کاموں کے ذرائع و اسباب یکے بعد دیگرے مہیّا کر دیتا ہے، کیوں نہ ہو، کہ وہی حقیقی کارساز ہے، اور وہی اپنے قبضۂ قدرت سے خاص اور حقدار مومنوں کو ایسے نیک، مفید، اور ہمہ رس کاموں کی توفیق عطا فرماتا ہے کہ جن سے تمام اہلِ مذہب کو (خواہ وہ حال و مستقبل میں کہیں بھی ہوں) ہمیشہ ہمیشہ کے لئے طرح طرح کے فوائد حاصل ہوتے رہتے ہیں، مگر اس قسم کا کوئی عظیم کارنامہ، کہ جس سے ہمیشہ کے لئے دنیا بھر کے دینی بھائیوں اور بہنوں کو بلا فرق و امتیاز فائدہ ہی فائدہ ہو، صرف دینی علم کی تخلیقی یا تالیفی صورت میں ہو سکتا ہے، اور کسی ایسے کارنامے کی نیک نامی اور ابدی ثواب میں بحقیقت وہ خوش نصیب حضرات بھی شامل ہوسکتے ہیں، جو اس کی انجام دہی کی کسی بھی منزل میں امداد و معاونت کرتے ہوں، یعنی امداد کی علی التّرتیب بہت سی
۷
صورتیں ہوا کرتی ہیں، کہ وہ خیرخواہی زبانی حوصلہ افزائی، عاقلانہ مشورہ، نیک دعا، قلمی تعاؤن اور ضروری عمل میں سے کسی بھی امکانی صورت میں ہوسکتی ہے۔
چنانچہ ربّ العزّت کی عنایتِ بےنہایت سے اس پُرمعلومات اور ضروری کتاب کی طبعِ ثانی کے لئے بھی ایک ایسا بہترین وسیلہ و ذریعہ پیدا ہوا، وہ اس طرح کہ ۱۹۶۷ء کے ماہِ نومبر میں جب کہ سرکارِ اقدس نور مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام پاکستان تشریف لائے، تو کراچی کھارادر کے مقام پر حضور پرنورؑ نے بالعموم تمام اسماعیلی جماعت کو اور بالخصوص اسماعیلی طلبا و طالبات کو پُرزور اور تاکیدی الفاظ میں فرمایا، کہ وہ اپنی اس موجودہ دعا کے معانی و مطالب کو اچھی طرح سے سمجھ لیا کریں، جو بطریقِ عبادت جماعت خانوں میں پڑھی جاتی ہے، نہ صرف اسی موقع پر بلکہ اس سے پیشتر بھی امامِ عالی مقام نے کئی دفعہ مختلف مقامات پر دعا کے معنی و حقیقت کی اہمیت کے بارے میں اسی طرح کے تاکیدی ارشادات فرمائے تھے۔
بنا برین اس کتاب کی طبعِ ثانی کی ضرورت زیادہ سے زیادہ محسوس ہونے لگی، اور اس بارے میں ہم اپنے علمی احباب کے ساتھ مشورہ کر رہے تھے، اس وقت علاقہ چترال کے اسماعیلی اہلِ علم حضرات اور واعظینِ گرامی میں سے ایک حقیقی مومن کراچی آئے ہوئے تھے، جنہوں نے قبلاً کتاب “فلسفۂ دعا” (دعا مغزِ عبادت) کا بغور مطالعہ و ملاحظہ کیا تھا، نیز انہوں نے امامِ زمانؑ کے مذکورہ ارشادِ گرامی کو سنتے ہی اپنے دل میں یہ ارادہ کر لیا تھا، کہ اگر خداوندِ عالمین کو منظور ہوا تو وہ اپنے امامِ برحقؑ کے مذکورہ ارشاد
۸
پر عمل کرنے کے سلسلے میں ذاتی مصارف سے کتاب “فلسفۂ دعا” کی طبعِ ثانی کرا دیں گے، کیونکہ امامِ زمانؑ کے فرمان کے بموجب دعا کے معانی و حقائق سمجھنے اور سمجھانے کا بہترین ذریعہ صرف کتاب ہی ہوسکتی تھی، پس انہوں نے ذاتی اخراجات سے اس کتاب کی دوسری طباعت و اشاعت کی ذمّہ داری لے لی، اسی طرح بحمد اللہ اس کتاب کا یہ دوسرا ایڈیشن آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔
لہٰذا مناسب، حق، اور خدمت شناسی کا اصول یہ ہے کہ میں قارئینِ کرام کو ان کا تعارف کرا دوں، چنانچہ وہ حقیقی مومن، جنہوں نے ایسی برمحل اور ہمہ رس دینی خدمت انجام دی، جناب عالی قدر الواعظ حاجی جنّت خان صاحب، ابنِ غلام حیدر خان، ابنِ رستم علی خان، ابنِ نصیر خان ہیں، ان کی پیدائش ماہِ دسمبر ۱۹۰۱ء میں ریاستِ ہونزہ کے صدر مقام بلتت میں ہوئی، انہوں نے سنِ شعور میں آتے ہی بلتت میں ابتدائی تعلیم شروع کی، پھر گلگت گورنمنٹ مڈل سکول میں تعلیم حاصل کرکے آٹھویں کی سند حاصل کر لی، اس زمانے میں وہاں یہی تعلیم کافی سمجھی جاتی تھی، جنّت خان صاحب اس کے بعد گلگت سول ہسپتال میں کمپاؤنڈری سیکھنے کے شوق میں ملازم ہوئے، مگر چار سال کے بعد کسی خاص ترقی کی امکانیّت نہ ہونے کی وجہ سے وہ وہاں سے مستعفی ہوکر بمبئی چلے گئے، اُس وقت اسماعیلی مذہب کا مرکز بمبئی میں تھا، وہ وہاں تقریباً تین سال تک خاندانِ امامت کی خدمتِ اقدس کا شرف حاصل کرتے رہے، ازان بعد وہ دربارِ امامت کی طرف سے بدخشان بھیج دیئے گئے، اور وہاں چند سال تک مرحوم جناب فضیلت مآب سید شاہ ابو المعانی صاحب ابنِ پیر سید شہزادہ لیث صاحب
۹
کی علمی و عرفانی صحبت سے مستفیض ہوتے رہے، اس کے بعد جناب موروثی موکھی سید عبد الجبار خان صاحب، ابنِ سید ابو المعانی صاحب کی جانب سے چترال کے متعلقہ اسماعیلیوں میں نمائندگی کرنے لگے۔
یہ امرِ واقعی ہے کہ صاحبِ موصوف نے اپنے امام اور مذہب کی صمیمانہ خدمات انجام دی ہیں، ان میں صبر و ضبط، سنجیدگی اور مردم شناسی کے اوصاف نمایان ہیں، وہ بطورِ خاص دینی کتب کے مطالعہ سے دلچسپی رکھتے ہیں، وہ بروشسکی، اردو، فارسی اور چترالی چار زبانوں میں مہارت سے گفتگو کر سکتے ہیں، واعظِ موصوف ہمارے چترال کے ان علمی اور دینی احباب میں سے ہیں، جن کی دوستی سے ہمیں دائمی فخر و خوشی محسوس ہوتی ہے۔
میں بحیثیتِ نمائندہ “دار الحکمت الاسماعیلیہ، ہونزہ، گلگت” (موجودہ خانۂ حکمت) اپنے اراکین و معاونین کی جانب سے موصوف کے اس قابلِ قدر تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اور ہم سب کی طرف سے مخلصانہ دعا ہے کہ خداوندِ قادرِ متعال انہیں دین و دنیا میں سرخروئی و سربلندی عطا فرمائے! آمین یا ربّ العالمین!! ثم آمین!!!
فقط دعا گو، نصیر ہونزائی، نمائندہ:
“دار الحکمت الاسماعیلیہ۔ ہونزہ۔ گلگت”
یوم عید الفطر، یکم شوال ۱۳۸۷ھ
بمطابق ۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔ کراچی۔ پاکستان۔
۱۰
عرضِ حال اور شکریہ
کسی بھی دینی خادم کے متعلق اس کے مذہب اور قوم کے تمام افراد کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی ہے کہ وہ ان کے لئے بہترین اور مفید ترین خدمات کرتا رہے، خصوصاً علما سے ان کے اہلِ مذہب کی یہی امید وابستہ ہوتی ہے، ہرعالمِ دین کو اس کے دین والے علمی خدمت کے مواقع دیتے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ ہر قسم کا تعاون کرتے رہتے ہیں، تب کہیں وہ عالم کوئی علمی خدمت پیش کر سکتا ہے، ورنہ یہ مشکل ترین کام ہے، خصوصاً اس زمانے میں جبکہ اقوامِ عالم کے آپس میں اتفاق و اتحاد زان بعد ترقی کا مقابلہ ہو رہا ہے، تاہم بحمد اللہ اس خادم کو کسی قسم کی مایوسی ہرگز نہیں، جس کی وجہ واللہ خدا کے نور کی خاص عنایت ہے، اس کے بعد تمام میرے پیارے دینی بھائیوں اور بہنوں کی ان نیک دعاؤں کا اثر ہے، جو اپنی حقیقی طاعت و بندگی دنیا بھر کے “دینی بھائیوں اور بہنوں” کے نام کر دیتے ہیں، اس کے علاوہ مخصوص دعائیں بھی میسر ہیں، پھر ان تمام تعلیم یافتہ اور ترقی پسند اسماعیلی حضرات کی طرف سے تحریری صورت میں یا زبانی طور پر اس خادم کی حوصلہ افزائی ہے، اور اس فقیر کے ہمکاروں، رفیقوں اور پیارے شاگردوں کی ہر طرح سے عملی امداد مہیا ہے، ان عزیزوں میں سے بعض تو “دار الحکمۃ” کی تشکیل میں اور بعض اس سے باہر رہ کر اس درویش کی
۱۱
ہر طرح سے مدد کر لیا کرتے ہیں، ان تمام حضرات کے نام ظاہر کرنے کے لئے ہمیں موقع اس وقت ملے گا، جب کہ ہم کوئی “نمبر” شائع کر سکیں گے، اور ان شاء اللہ یہ کام کیا جائے گا۔
چنانچہ مذکورہ اصول کے مطابق بتوفیق و تائیدِ خداوندی ایک جوانمرد، علم دوست اور حقیقی اسماعیلی نے، جن کی پرورش خاندانی طور پر دینی علوم کے ماحول میں ہوئی ہے، اس کتاب کی طباعت کے لئے کمربستہ ہوئے، انہوں نے علاقہ شیر شاہ کراچی کے صرف چند اسماعیلی عزیزوں سے ایک بہت چھوٹا سا چندہ جمع کیا، اور اس سے سات گنا زیادہ رقم اپنی طرف سے مخصوص کرکے اس کتاب کی کتابت، کاغذ، طباعت، اور بائنڈنگ کے اخراجات پورے کر دیئے، بلاشبہ ان کی اخلاقی خصوصیات قابلِ تعریف ہیں، میں نے ان کی اس دینی خدمت سے پیشتر ہی اپنے احباب کے کئی حلقوں میں ان کی روحانی صلاحیت کا ذکر کر دیا تھا، ہمیں اس کا تجربہ اس وقت ہوا جبکہ ہم کسی عزیز کی صحت یابی کے لئے فقیرانہ ذکر کر رہے تھے، جس میں وہ عزیز اور دوسرے چند عزیزان موجود تھے، وہ اس ذکر سے سوز و گداز کے ایک عجیب عالم میں تھے، اور دوسرے چند عزیزان بھی ان کے ساتھ شریکِ حال تھے۔
اس کے علاوہ کچھ عرصے سے ہمارے حلقۂ شاگردی میں بھی ہیں، بنا برین ہم ان کے دینی جذبات اور اخلاقی خصوصیات سے خوب واقف ہوچکے ہیں، مذکورہ خصوصیات کے حامل میرے دینی برادر بجانم برابر محترم عالمگیر ابنِ قلندر شاہ ابنِ علی موجود صاحب ہیں۔
۱۲
بیت:
بالائی سرش ز ہوشمندی
می تافت ستارۂ بلندی
پس میں ادارۂ “دار الحکمۃ الاسماعیلیہ، ہونزہ۔ گلگت” (موجودہ خانۂ حکمت) کی طرف سے اور اپنی طرف سے موصوف کی اس ضروری امداد کا شکریہ ادا کرتا ہوں، نیز جناب الواعظ میر باز خان صاحب کا بھی، کہ انہوں نے ازراہِ دین شناسی و علم دوستی اس کتاب کا ایک عالمانہ دیباچہ لکھا ہے، کسی کتاب کا اس طرح دیباچہ لکھنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اس کے نزدیک اس کتاب کے تمام نظریات بالکل درست اور صحیح ہیں، اور یہ اس وقت ہوسکتا ہے، جبکہ کتاب کے مسوّدہ کو کمالِ تدقیق و تحقیق سے پڑھا جائے، اور اس کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھ لیا جا سکے، یا یہ کہ مصنف کے عقائد و نظریات کے متعلق ذرّہ بھر بھی شک واقع نہ ہو، کیونکہ اگر کتاب میں کچھ نقائص پائے جائیں، تو اس صورت میں نہ صرف مصنف ہی کو ملامت کے تیروں کا نشانہ بنا لیا جاتا ہے، بلکہ ایسی کتاب کا دیباچہ لکھنے والے کو بھی انہی تیروں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس کے علاوہ اور بھی دشواریاں ہوتی ہیں جنہیں وہ قبول کرتا ہے۔
پس معلوم ہوا کہ جناب الواعظ فقیر محمد صاحب اور جناب الواعظ میر باز خان صاحب نے خود میری گزارش پر جس طرح میری دو کتابوں کا دیباچہ لکھا ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ میرے ہمکاروں کی اگلی قطار میں میرے ساتھ کام کرتے ہیں، اس لئے وہ میرے متعلق بڑی آسانی کے ساتھ اظہارِ خیال کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی ہے کہ جب بھی ضرورت پڑے تو
۱۳
میں اپنے تعلیم یافتہ اور ترقی پسند احباب سے خط و کتابت کے ذریعہ یا زبانی طور پر اپنے علمی کام کا مشورہ لے لیا کرتا ہوں، چنانچہ اس سلسلے میں بھی یہ دونوں صاحبانِ موصوف میرے ساتھ ہیں، بلکہ امرِ واقع یہ ہے کہ میں نے جو بھی کتاب اب تک کراچی کے اندر رہ کر مکمل کرلی، اور چھپوائی ہے، اس میں ہر ضروری مشورہ جناب فقیر محمد صاحب سے لیا جاتا تھا، اور اکثر صاحبِ موصوف مسودہ کی خوشخطی میں بھی مدد فرماتے تھے، اب بحمد اللہ ہمیں ایک اور لائق و فائق ہمکار ملا ہے، وہ جناب میر باز خان صاحب ہیں، ہمیں اپنے دین کے ہر تعلیم یافتہ فرد پر فخر ہے، خصوصاً ایسے افراد پر جو کسی نہ کسی طریقے سے دینی خدمت کرتے ہوں، ان شاء اللہ تعالیٰ اپنے اپنے وقت پر سب کی قدردانی کی جائے گی۔
فقط آپ کا دینی خادم نصیر ہونزائی
مورخہ ۲۱ مارچ ۱۹۶۷ء
۱۴
حرفِ آغاز
“It is the duty of the local people to see that every word of our prayer is understood by every member of our jamaat, such as for instance Qul Huwa’llahu Ahad”.
بنامِ خداوندِ بخشندۂ مہربان۔
لیجئے! علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی صاحب “فلسفۂ دعا” (دعا مغزِ عبادت) کے نام سے ایک اور اسم با مسمّیٰ کتاب اپنے مذہب اور دین سے دلچسپی رکھنے والے بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔
میں نے اس کتاب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے، جلیل القدر مصنف نے مذہب کے دلدادگان کے لئے اردو زبان میں اپنی نوعیت کی پہلی اور واحد کتاب لکھی ہے، جس میں شیعہ امامیہ اسماعیلیہ جماعت کی رائج الوقت دعا کی تشریح و توضیح کی ہے۔
دعا کی اہمیّت، قدر و قیمت اور ہماری روحانی زندگی میں اس کی ضرورت کے سلسلے میں مولانا حاضر امامؑ کے ان فرامین مبارک کو ذہن میں
۱۵
رکھنا چاہئے:
“There is only one sure key for happiness, that is prayer”.
’’خوشی و مسرت کے لئے صرف ایک ہی یقینی کلید ہے، اور وہ دعا ہی ہے۔‘‘
“A man without prayers is a man who has no use on this earth”.
’’وہ آدمی جو بغیر دعا کے ہو، ایک ایسا آدمی ہے، جس کے اس زمین پر ہونے کا کوئی فائدہ نہیں‘‘۔
لیکن جہاں تک حقیقت شناسی کا تعلق ہے، اس کے لئے ہمیں مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امامؑ کے اس فرمانِ مبارک کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے: “یہ دیکھنا مقامی لوگوں کا فرض ہے کہ ہماری جماعت کا ہر ممبر ہماری دعا کے ہر لفظ کو جانتا ہے، مثال کے طور پر “قل ھو اللہ احد”۔ اس فرمانِ مبارک کی رو سے اسماعیلی جماعت کے ہر فرد کو دعا کے حقیقی معنی کو کامل طریقے سے سمجھنا چاہئے۔”
یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ کسی چیز کے ترجمہ اور معنی میں بہت فرق ہے، مثلاً قرآن شریف کا ترجمہ ہر خواندہ آدمی پڑھ سکتا ہے، مگر ہر خواندہ آدمی قرآن کے اصلی معنی کو نہیں سمجھتا، اس لئے کہ حکمت کی بات
۱۶
کو سمجھنے اور اس کی حقیقت کو جاننے کے لئے اس بات کے معنی کی تہ تک پہنچنا ضروری ہے۔
مولانا حاضر امامؑ نے دعا کی حقیقت کو جاننے کے لئے ایک مثال “قل ھو اللہ احد” سے دی ہے، سورۂ اخلاص کا لفظی ترجمہ ہر خواندہ مسلمان جانتا ہے، مگر ہر خواندہ مسلمان اس کے حقیقی معنی کو نہیں سمجھتا، اس لئے کہ یہ سورت بظاہر نہایت مختصر ہے، مگر حقائق و معارف کا ایک اتھاہ سمندر ہے، اور دُرِّ معانی کا ایک بحرِ بےکنار ہے، اسی میں توحید کے اسرار و رموز مخفی ہیں، اور اسی میں تصوّف کا عظیم نظریۂ وحدت الوجود ہے، جس میں تمام حقائق پنہان ہیں، ایسے دقیق مگر ہمہ گیر مسائل پر خیال آرائی اور خامہ فرسائی کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں، اس کے لئے دینی علوم سے کامل واقفیت، ذہن رسا، قوتِ فکر و تخلیق اور قوتِ استدلال کی ضرورت ہے۔
علامہ نصیر الدّین نصیر ہونزائی صاحب نے مولانا حاضر امامؑ کے فرمانِ مبارک کے مطابق آیاتِ دعا کی عالمانہ تشریح و توضیح کر کے حقائق کو منظرِ عام پر پیش کیا ہے، اور جماعت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔
چونکہ نصیر صاحب نے اس کتاب میں حقائق و قرآن و حدیث اور دینی ہادیوں کے اقوال کی روشنی میں واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ذاتی اجتہاد سے بھی کام لیا ہے، اور دلائل و براہین کو اپنے حسنِ استدلال کے ذریعے منطقی انداز میں اس قدر جاذبیّت اور دلآویزی سے پیش کیا ہے کہ قاری کے قلب و نظر میں ایک طرح کی وسعت پیدا ہوتی ہے، اور نکات کی موشگافی یکے
۱۷
بعد دیگرے کچھ اس انداز سے کی گئی ہے کہ قاری کا دل چاہتا ہے کہ بس پڑھتا جائے، اور فی الواقع یہ کتابِ نو تعلیم یافتہ طبقہ کے لئے اپنے اندر جاذبیّت اور دلکشی کا کافی سرمایہ لئے ہوئے ہے۔
ترتیبِ نکات اور معانی کا ضابطہ نہایت مشکل اور اہم کام ہے، لیکن قابلِ قدر مصنف نے یہ فرض کمال و خوبی سے ادا کیا ہے۔
زیرِ نظر کتاب کے اندر عقائد سے متعلق آیات ہیں، اور ہر آیت اپنے اندر حقائق و معارف کا ایک مخفی خزانہ رکھتی ہے، ان آیات کی حکمت کو کماحقہ سمجھنا، پھر سہل طریقے سے اسے سمجھانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے، لیکن قابلِ قدر مصنف نے ہر عقدۂ لاینحل کی عقدہ کشائی کی ہے، اور ہر سربستہ راز کو منکشف کیا ہے، موصوف نے آیت کی تشریح کچھ اس قدر وسعت سے کی ہے کہ گویا وہ اپنی جگہ پر ایک تفسیر ہے، جہاں ایک طرف انہوں نے کثرتِ تشریح سے قطرے کو سمندر میں تبدیل کیا ہے، وہاں دوسری طرف حاشیہ نویسی کے ذریعے خلاصۂ تشریح کی نشاندہی کر کے پھر سمندر کو کوزے میں بند کیا ہے۔
نصیر صاحب دل و دماغ کی خداداد قابلیت کے مالک ہیں، وہ بیک وقت چار زبانوں: اردو، فارسی، بروشسکی اور ترکی کے قادر الکلام، اور شیوا بیان شاعر ہونے کے علاوہ ایک فصیح و بلیغ واعظ، بلند پایہ مصنف اور کامیاب مبلغِ دین بھی ہیں، موصوف کے افکار نے ریاستِ ہونزہ اور چینی ترکستان کی جماعت کے قلوب و اذہان میں ایک زبردست انقلاب پیدا
۱۸
کیا ہے، ان کے گنان ہر ایک کے وردِ زبان ہیں، اور ہر روحانی محفل میں نہایت ذوق و شوق اور سوز و گداز سے پڑھے جاتے ہیں، موصوف نے نظم و نثر دونوں پر یکسان قلم اٹھایا ہے، کئی منظوم اور منثور کتابیں قارئین کی نظر سے گذری ہیں، زیرِ نظر کتاب اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، قابلِ قدر مصنف نے زیرِ نظر کتاب کو اپنی خداداد، ذہنی اور فکری صلاحیت سے اسقدر اچھوتے اور دلکش انداز میں لکھا ہے، کہ دل و دماغ تازہ ہو جاتے ہیں۔
یہ کتاب خوبیٔ انداز کے علاوہ اپنی جامعیت، افادیت، اور دینی معلومات کے لحاظ سے ایک بیش بہا خزانہ ہے، جلیل القدر مصنف نے اسے دلچسپ، پرمغز اور پر از معلومات بنانے میں نہایت دقت اور کاوش سے کام لیا ہے۔
مجھے امید ہے، کہ مذہب کے دلدادگان اور دین کے پرستار اس کتاب کو ہر پہلو سے مفید پائیں گے، اور اس سے کماحقہ فائدہ اٹھا کر قابلِ فخر مصنف کے ذوقِ محنت اور شوقِ خدمت کی دل کھول کر قدردانی کریں گے، تا کہ آئندہ بھی قابلِ قدر مصنف سے اس سے بھی بڑھ کر دینی و علمی تصنیفات کی توقع ہو۔
اخیر میں میری دعا ہے کہ مصنف کے فکر و نظر میں وسعت اور قلمی کارناموں میں برکت پیدا ہو، اور ان کی زندگی سے قوم و ملت کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو! آمین!!
دعاگو
الواعظ میر باز خان، کراچی
۲۰ مارچ ۱۹۶۷ء
۱۹
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تعوذ کے حقائق کا انکشاف
طالبانِ علم و حکمت کے لئے یہ حقیقت واضح ہو کہ تعوذ یعنی “اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم” قرآنِ پاک کی تلاوت وغیرہ کے آداب میں سے ہے، اس کلمے کے علاوہ تعوذ کی چند دوسری صورتیں بھی منقول ہیں، مثلاً:
۱۔ استعیذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم
۲۔ اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم
۳۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، ان اللہ ھو السمیع العلیم
۴۔ استعیذ باللہ من الشیطان الرجیم
مگر ان تمام کلمات کا آخری مطلب اور مفہوم ایک ہی ہے، وہ یہ کہ ان کلمات کے پڑھنے والے سب کے سب شیطانِ رجیم کی برائی سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں، اور یہ ایک ایسے ارشاد پر عمل پیرا ہونے کے لئے کوشش ہے، جس میں حکیمِ مطلق
۲۰
) جلّ جلالہ) حضرت نبی محمد مصطفیٰ (صلعم) سے یوں مخاطب ہے:
” فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ” (۱۶: ۹۸(
ترجمہ: “جب قرآن کی قرأت کرو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کر لیا کرو، راندے ہوئے شیطان سے۔” مذکورہ آیت کا یہ ترجمہ تعوذ کے اس روایتی پہلو کے مطابق ہے، جس کے پیشِ نظر اکثرمفسرین نے اپنا خیال ظاہر کیا ہے، کہ تعوذ قرآنِ حکیم کی تلاوت و قرأت سے پہلے پڑھنا چاہئے، لیکن اس کے برعکس بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ تعوذ قرآن پڑھ چکنے کے بعد پڑھ لینا چاہئے، ان میں ابنِ کثیر بھی شامل ہے، جو سنّتِ رسولِ مقبولؐ سے متعلق ایک روایت کی دلیل کے ساتھ اس طرف مائل ہو جاتا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ ہم اس باب میں آپ کے سامنے کچھ حقائق پیش کریں گے، تا کہ آپ بآسانی سمجھ سکیں کہ مذکورہ ارشاد کا مقصد کیا ہے، اور اس پر عمل کرنے کے متعلق اختلاف کس وجہ سے پیدا ہوا، وغیرہ۔
جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فرامین اُس کے بندوں پر واقع ہونے کے تین مقاصد ہوتے ہیں: یا تو کسی عمل کے لئے فرمایا جاتا ہے کہ تم یہ کام کر لیا کرو، یا کسی قوّل کے لئے ارشاد ہوتا ہے کہ تم یہ بات کہا کرو، یا کسی علم کے لئے فرمان ہوتا ہے کہ تم اس واقعہ کے علم تک رسا ہو جایا کرو، کیونکہ بندے کا دائرۂ اختیار اپنی ہی ہستی کے ظاہر و باطن میں صرف عمل، قول، اور علم تک محدود ہے، جس میں عمل کا تعلق اس کے جسم سے، قول کا تعلق نفسِ ناطقہ سے اور علم کا تعلق عقل سے ہے۔
اب ہم مذکورہ بالا آیت کی تحقیق کرتے ہیں، کہ اس ارشاد کا اصلی مقصد کیا ہے، چنانچہ امرِ “فاستعذ” کے معنی ہیں “پناہ طلب کرو” جس کا اصلی مقصد ایک خاص عمل ہے، اور وہ بھی علم و حکمت کی صورت میں، کیونکہ اگر ہم یہ مانیں کہ امرِ “فاستعذ” کی تعمیل صرف کلمۂ “اعوذ باللہ” ہی کے پڑھ لینے سے ہوسکتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا، کہ یہ کلمہ اس سلسلے میں ایک دعا کی حیثیّت سے ہے، دران حال ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جس دعا میں فعل کی نسبت بندے کی طرف دی گئی ہو، تو اس کا اشارہ یہ ہوتا ہے کہ، اس دعا کی قبولیت کے لئے کوئی خاص علم و عمل لازمی ہے، مثلاً جب ہم اپنی مقررہ دعا میں یہ کہا کرتے ہیں، کہ “ایاک نعبد و ایاک نستعین۔ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں، اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔” تو ظاہر ہے کہ اس دعا میں شرطِ قبولیت کا ذکر لفظِ دعا سے پہلے آیا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھ لیا کریں، کہ کس طرح بلا شرکتِ غیر صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کر لی جا سکتی ہے، تو یہاں اس حقیقت کی کلید ملنے کا اشارہ عبادت کی طرف کیا گیا ہے گویا استعانت کی شرط عبادت بتائی گئی ہے، اور یہ عبادت بھی تو عامیانہ و جاہلانہ قسم کی عبادت نہیں، بلکہ اس مقام پر عبادت کی انتہائی درست صورت کا ذکر ہے، اور وہ عارفانہ طرز کی عبادت ہے، پس معلوم ہوا کہ ہر دعا کی قبولیت کے لئے کوئی نہ کوئی عملی شرط ہوا کرتی ہے، اس کا
۲۲
نتیجہ یہ نکلا کہ “فاستعذ” کے امر کا اصلی مقصد یہ نہیں کہ ہم صرف قول ہی کو اپنائے بیٹھیں، اور اس کے معنی میں جو علم و عمل مطلوب ہے، اس کو انجام نہ دیں۔
اب اس وضاحت کے بعد مذکورہ آیۂ استعاذہ کے اصلی ترجمہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، اور وہ یہ ہے: “پس جب تو قرآن پڑھ چکے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کر لیا کر شیطانِ رجیم سے” اس ترجمہ کے متعلق آپ دو سوال کر سکتے ہیں: پہلا سوال یہ کہ قرآن پڑھ چکنے کے بعد شیطان سے واسطہ پڑنے اور اس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کے کیا معنی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ شیطان راندے ہوئے کو اصل معنی ہی کی طرح رجیم کہنے کا مطلب کیا؟ تو پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ جس طرح وزن اور فعل کی واقعیّت ” فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ” (۹۴: ۰۷) (پس جب تو فارغ ہو جائے تو نصب کر لیا کر) میں ہے، اسی طرح فاذا قرات القرآن فاستعذ (جب پس تو قرآن پڑھ چکے تو پناہ طلب کر لیا کر) میں ہے، اور اس آیت کا یہی ترجمہ صحیح ہے، جس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ جس امر میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مخاطب ہوا ہے، تو اس کے معنی میں انسانوں کی انتہائی نجات کی ہدایت پوشیدہ ہوتی ہے، پس اس خطاب میں (جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول سے کیا ہے) شیطان کی تمام برائیوں سے قطعی طور پر بچ کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی پناہ حاصل
۲۳
کرنے کی ہدایت موجود ہے، اور اس اعلیٰ ترین مقصد میں کامیاب ہو جانے کی کلّی شرط یہ ہے کہ پہلے تو قرآن پڑھ لیا جائے، یعنی اس کی ضروری حقیقت کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ لفظ “قرآن” کے معنی “پڑھنے” کے ہیں، جیسے ارشادِ خداوندی ہے: ” اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِـعْ قُرْاٰنَهٗ (۷۵: ۱۷ تا ۱۸) یقیناً ہمارے ذمّہ ہے (آپ کے قلب میں) اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھنا، پھر جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو آپ اس کے پڑھنے کے تابع ہو جایا کیجئے۔”پس اگر ہم آیۂ تعوذ کے یوں معنی کر لیں: فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پس جب تو پڑھنا پڑھ چکے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کر لیا کر، شیطانِ رجیم سے” تو اس کا مطلب بھی ہوا کہ انسی و جنّی شیطان کے خطرات اور وسوسوں سے مومن عارضی طور پر اس وقت بچ سکتا ہے، جب کہ وہ اپنی روزانہ عبادت کی عام دعائیں یا خاص کلمات، اسماء وغیرہ پڑھ چکا ہو، کیونکہ “قرآن” کے معنی “پڑھنے” کے ہیں، چنانچہ اگر آج اس کلامِ الٰہی کا نام “قرآن” ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوا ہے، تو اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے، کہ جناب سیدِ کونین پر نبوّت کے آثار ظاہر ہونے سے پہلے حضور اسمِ اعظم پڑھا کرتے تھے، جس کا نتیجہ کلامِ الٰہی کی صورت میں ظاہر ہوا، لہٰذا کلامِ اقدس کا مبارک نام “قرآن” یعنی “پڑھنا” ہوا، تا کہ رسولِ مقبولؐ کی اس نتیجہ خیز عارفانہ
۲۴
عبادت کی ایک لازوال یادگار باقی رہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غارِ حرا اور دوسرے مقامات پر کر لیا کرتے تھے۔
کچھ عرصے کے بعد ان پر عجیب و غریب روحانی قسم کے پرحکمت واقعات گزرنے لگے، اور یہی سلسلہ جاری رہا، مگر ان عجیب واقعات پر خاطر خواہ غور و فکر کرنے کے لئے آنحضرتؐ کو اس لئے وقت نہیں ملتا تھا، کہ مکاشفہ اور مشاہدہ کا ایک بھرپور عالَم ان کے سامنے موجود تھا، یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے جبرئیل علیہ السلام باقاعدہ وحی لے کر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہونے لگا، بعد ازان کسی وقت میں آنحضرتؐ کو اپنی روحانیّت کی ابتدائی منازل کے متعلق ان حکمت آگین معلومات کے ضائع ہونے کی فکر ہوئی، تو اللہ تعالیٰ نے حضورِ پرنورؐ کو یہ فرما کر مطمئن کر دیا کہ یقیناً ہمارے ذمّہ ہے، اس سارے کلام کا (جو آپ کی روحانیّت کا نتیجہ ہے) آپ کے قلب یعنی نور میں یکجا کر دینا، اور اس کا پڑھنا۔ پس اس بیان کے نتیجے سے یہ ثابت ہوا کہ حقیقی مومن شیطان کے مسلسل حملوں سے بچ کراللہ تعالیٰ کی ابدی پناہ میں اُس وقت محفوظ رہ سکتا ہے، جبکہ وہ قرآنِ حکیم کی حقیقت و حکمت اور نورِ محمدیؐ کی معرفت تک رسا ہو چکا ہو۔
دوسرا سوال لفظِ “رجیم” کے متعلق پیدا ہوا تھا، جس کا مفصل جواب یہ ہے کہ رجیم کے حقیقی معنی ہیں: سنگ سار کرنے والا یا پتھراؤ
۲۵
کرنے والا، یعنی لوگوں کو صراطِ مستقیم سے ہٹانے میں شیطان اپنی پوری طاقت کے ساتھ سوالات کی بوچھاڑ کرتا رہتا ہے، جن سے صرف قرآنی علم و حکمت کی سپر ہی کسی مومن کو بچا سکتی ہے، اور قرآنی علم و حکمت کی کلید رسولِ خدا کی حقیقی فرمانبرداری میں پوشیدہ ہے، اور جاننا چاہئے کہ سب سے بڑے رجیم کا نام ابلیس ہے، جس کی لاتعداد ذرّیات ہیں، ان میں سے کچھ تو جنّات (نادیدہ مخلوق) کی صورت میں پوشیدہ ہیں، اور کچھ حیوان و انسان کے بھیس میں ظاہر ہیں۔
اب فرض کیجئے کہ ایک شیطان صفت انسان کسی حقیقی مسلمان کو سیدھے راستے سے ہٹانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، اور وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے اُس حقیقی مسلمان پر بناوٹی علم کا اثر ڈال رہا ہے، جس میں جھوٹ، فریب، اور مکر کے سوا کچھ بھی نہیں، اب اس نمائندۂ ابلیس کی باتیں ظاہر میں خواہ کتنی نرم، میٹھی، اور خوش آئند کیوں نہ ہوں، مگر ان باتوں سے اُس حقیقی مومن کی “روح الایمان” جس طرح مجروح ہو رہی ہے، اس کے اعتبار سے حقیقت میں اس شیطان الانس کو رجیم یعنی پتھراؤ کرنے والا کہا جائے گا، ظاہر ہے کہ اس موقع پر مومن کے لئے صرف علمِ حقیقت ہی کام آسکتا ہے، اور ذکر و عبادت ہی اُسے فائدہ دے سکتی ہے، کیونکہ عبادت سے نہ صرف علمِ حقیقت کا جوہر کھلتا ہے، بلکہ معجزانہ قسم کا روحانی علم بھی اسی کے وسیلے سے ملتا
۲۶
رہتا ہے۔
پس یہ حقیقت پایۂ ثبوت پر آگئی کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا اصلی اور آخری مقصد، جس میں فرمایا گیا ہے کہ “پس جب تو قرآن پڑھ چکے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کر لیا کر شیطانِ رجیم سے” یہ ہے کہ خدا کے نور اور اس کی کتاب کے ذریعہ ہمیں یہ علم ہوا کہ ابلیس، شیطان وغیرہ کون ہیں؟ اور یہ کہاں کہاں سے حملہ آور ہو سکتے ہیں؟ اور کن کن ہتھیاروں سے ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟ یا یہ کہ ان سے بچ کر خدا کی پناہ میں آنے کا راستہ کون سا ہے؟ اور شیطان سے جنگ کرنے یا اس سے دور بھاگ کر خدا کی پناہ میں آنے کی باتیں اس لئے لازم آتی ہیں، کہ وہ بقولِ قرآن ہمارا کھلا دشمن ہی ہے، اور اس کے پاس لاتعداد فوج ہے۔
والسّلام
۲۷
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تسمیہ کے حقائق کا انکشاف
پروردگارِ عالمین سے توفیقِ خاص طلب کرتے ہوئے بیان کیا جاتا ہے کہ تسمیہ اس کلمۂ بسم اللہ کا نام ہے جو قرآنِ پاک کے ہر سورے کے آغاز میں لکھا ہوا موجود ہے، اور یہ پورا کلمہ یعنی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یقیناً اللہ تعالیٰ کے ان بابرکت کلماتی ناموں میں سے ہے، جو مفصل ہیں، اور معنوی فیوض و برکات سے بھرپور ہیں، جیسا کہ قرآنی ارشاد ہے: ” تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ (۵۵: ۷۸) بڑا بابرکت نام ہے، آپ کے ربّ کا جو جلالت و کرامت والا ہے۔” یہاں برکت سے خاص مراد علم و حکمت کی لاانتہائی ہے، یعنی مطلب یہ کہ پروردگار کے خاص ناموں کے مسلسل ذکر کرنے سے جو علمی عجائبات کا سلسلہ جاری رہتا ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا، اور اسی اعلیٰ ترین برکت کے تحت دوسری تمام روحانی و مادّی برکات بھی پائی جا سکتی ہیں، اور لفظِ برکت کے لغوی معنی بڑھاؤ اور زیادتی کے ہیں۔
۲۸
کتبِ تفاسیر و احادیث میں بسم اللہ کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں، اسی طرح دوسری متعلقہ کتب میں بھی اس قسم کی بہت سی روایات منقول ہیں، چنانچہ تفسیر بحرالدّر اور ریاض القدس کے حوالے کی بنا پر کوکبِ درّی بابِ پنجم کے شروع میں ابنِ فخری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز امیر المومنین علیہ السّلام نے فرمایا: “لو شئت لا وقرت بباء بسم سبعین بعیرا ۔ یعنی اگر میں چاہتا تو باء بسم اللہ کی تفسیر سے ستر اونٹ لاد دیتا۔”
پس معلوم ہوا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے کئی معنی ہیں، اور ان تمام معنوں کے خلاصے میں معبودِ برحق کے مبارک نام کی تعریف اور اس کے ذکر کی ہدایت ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ” وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ (۰۶: ۱۲۱) اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر (بوقتِ ذبح) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔” اب دو حقائق ہمارے سامنے آ گئے: ایک حقیقت یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے لفظی نام ہوتے ہیں، اسی طرح اس کے کلماتی نام بھی ہوا کرتے ہیں، اس لئے کہ حلال جانوروں کو ذبح کرتے وقت جو کلمہ (بسم اللہ و اللہ اکبر) پڑھا جاتا ہے، اس پورے کلمے کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نام قرار دیا، جس میں اس کا لفظی نام بھی ہے، اور ناموں کے ذکر کرنے کی ہدایت بھی ہے، اس حقیقت کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے آغاز میں جبرئیل نے آنحضرت سے کہا کہ: “اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ (۹۶: ۰۱(
۲۹
اپنے ربّ کا نام لے کر پڑھا کیجئے۔” تو اس کی تعمیل بہرحال کلمۂ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی صورت میں کی گئی۔ پس معلوم ہوا کہ بسم اللہ کی پوری آیت اللہ تعالیٰ کے کلماتی ناموں میں سے ایک ہے، اس لئے کہ قرآنِ پاک کی اوّلین سورت پڑھنے سے پہلے پروردگار کے جس نام کا پڑھنا مقصود تھا، وہ یہی بسم اللہ ہے۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کو ایک محدود اختیار دیا گیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ جبکہ اپنی اصلی اور قدرتی فطرت میں ہو تو نیکی اور بدی کے درمیان اس طرح ٹھہرا ہوا ہوتا ہے، جس طرح ایک منصف مزاج سنار سونا تولنے سے پہلے ترازو کی برابری دیکھنے کے لئے، اور سونا تولنے کے نتیجے پر سونے اور بٹے کی برابری دیکھنے کے لئے انتہائی ہوشیاری اور عدل سے ترازو کی سوئی کو بالکل سیدھی کر دیتا ہے، تا کہ سونے کے لین دین میں نہ لینے والے پر ظلم ہو، اور نہ دینے والے پر۔ اس مثال سے یہ معلوم ہوا کہ انسان جبکہ اپنی اصلی فطرت پر ہو، اپنی ارادی قوّت کی ذرا سی حرکت سے بڑی آسانی کے ساتھ نیکی اور بدی میں سے کسی ایک کی طرف جھک سکتا ہے، اب اس نے یہ ارادی حرکت اپنی ہی پسند سے کی، پس پسند کا دوسرا نام اختیار ہے۔
پھر اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ جب انسانی ارادے کی مثال ایک ایسے ترازو کی طرح ہے جس کے دونوں پلے آخری حد تک برابر
۳۰
کئے گئے ہیں، تو ایسے متوازن اور مساوی ارادے کے اندر اختلاف اور تضاد کہاں سے واقع ہوا، کہ ارادے کا یہ ترازو کبھی تو نیکی کی طرف جھکتا ہے، اور کبھی بدی کی طرف؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کا یہ ارادہ دو برابر کی مخالف اور متضاد طاقتوں کے زیرِ اثر ہے، اور وہ دو طاقتیں انسان کی عقل اور نفس ہیں، اس لئے اس کے ارادے پر کبھی تو عقل کا اور کبھی نفس کا تصرف ہوتا رہتا ہے۔
اسی طرح انسانی عقل و نفس کی یہ پوشیدہ جنگ ہمیشہ جاری رہتی ہے، اور یہ جنگ نہ صرف کسی ظاہری قول و عمل کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں واقع ہوتی ہے، بلکہ تفکّرات، تصوّرات، اور خالص ارادے میں بھی عقل و نفس کی جنگ یا کہ رسہ کشی ہوتی رہتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی رحمتِ کلّ کا یہ تقاضہ ہوتا ہے کہ عقل و نفس کی اس خانہ جنگی میں عقل کی مدد کی جائے، اور نفس کو ہر معاملہ میں عقل کا تابع بنا دیا جائے، اور جن لذّتوں کی طمع سے وہ عقل کی مخالفت کر رہا ہو، اس کو ان سے بےرغبت کر کے روحانی قسم کی بہترین لذّتوں اور مسرّتوں کی طرف راغب کر دیا جائے۔
پس اللہ تعالیٰ نے جو قادرِ مطلق اور حکیمِ برحق ہے، اپنے اسما ہی کو جن میں عقل کے لئے نورانی مدد اور نفس کے لئے روحانی مسرّت موجود ہے، انسان کے سامنے رکھ دیا، تا کہ انسان کو ان کے ذکر سے سکونِ قلب حاصل ہو سکے، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: “اَلَا بِذِكْرِ
۳۱
اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ (۱۳: ۲۸) آگاہ ہو، کہ اللہ تعالیٰ کی یاد ہی سے (جو اس کے حقیقی ناموں کے ذریعہ کی جا سکتی ہے) دلوں کو تسلی ملتی ہے۔” دل نفس کا دوسرا نام ہے، پس یادِ الٰہی سے انسانی نفس کو روحانی مسرّت ملتی رہتی ہے، اور وہ مزید خوشیوں اور مسرّتوں کی امید پر عقل کی تابعداری کرنے لگتا ہے۔
ایسے نفس کو جس نے عقل کی تابعداری میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور حقیقی ذکر سے آخری اطمینان اور روحانی سکون حاصل کر لیا ہو، اللہ تعالیٰ سے یہ ندا آتی ہے کہ: “یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُ ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ (۸۹: ۲۷ تا ۳۰) اے اطمینان یافتہ نفس! اب تو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کر، درحالیکہ تو اس سے خوش اور وہ تجھ سے خوش ہے پھر تو میرے (خاص) بندوں میں شامل ہو جا، اورمیری جنّت میں داخل ہو جا۔”
حضرت آدم علیہ السّلام کے بارے میں قرآنِ پاک کا یہ قصّہ مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے علم الاسماء (ناموں کا علم) سکھایا، مگر اس حقیقت کو اہلِ حکمت کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ اسے یہ تعلیم کس طریقے پر دی گئی؟ کیا آدم علیہ السلام کا وہ علم اکتسابی (ظاہری) نوعیّت کا تھا یا عطائی (معجزانہ) قسم کا؟ کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو البشر کو اسماء الاشیاء (چیزوں کے ناموں) کی تعلیم
۳۲
دی یا اسماء اللہ الحسنیٰ (اللہ تعالیٰ کے بزرگ ناموں) کی؟ کیا یہ درست نہیں کہ کائنات و موجودات کی ساری چیزوں کے نام اور ان کے متعلق تمام علوم اللہ تعالیٰ کے ناموں میں پوشیدہ ہیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ آسمان و زمین کے علمی خزانوں میں داخل ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کے سارے نام ہی نورانی کلیدوں کی حیثیت رکھتے ہیں؟ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ” لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ (۳۹: ۶۳) اسی کے اختیار میں ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں۔”
اگر حقیقت یہی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نام (اسماء) ہی آسمانوں اور زمینوں کے خزانوں کی کلیدیں ہیں تو اصولًا یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تمام کنجیوں کا بھی ایک علیٰحدہ خزانہ ہوگا، جس کی نایاب، گرانقدر اور واحد کلید نہ تو وقف ہوگی کہ جو شخص چاہے ان تمام خزانوں کو لٹا سکے، نہ یہ کسی اور خزانہ میں رکھی ہوگی، کیونکہ اگر یہ کلید کسی اور خزانے میں رکھی ہوئی ہوتی، تو پھر اس خزانے کی بھی ایک کلید لازم آتی، اور یہ سلسلہ یعنی کلید کی کلید ہونا کبھی ختم نہ ہوتا، اور نہ یہ کسی دوسرے کھلے مقام میں رکھی ہو گی، بلکہ یہ ایک ایسے شخص کے پاس رکھی ہوئی ہوگی جو حیّ و حاضر ہونے کے باوجود (بقول مولائی روم) سات سو پردوں کے اندر رہتا ہے، پس ایسا شخص انسانِ کامل یعنی امامِ زمانؑ ہے۔
پس یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے سارے نام جو
۳۳
بلندی و پستی (آسمان و زمین) کے علمی خزانے ہیں، اسمِ اعظم کے تحت ہیں، نیز یقین رکھنا چاہئے کہ ابو البشر کی تعلیم اسمِ اعظم کے ذکر کے نتیجہ میں معجزانہ طریقے پر ہوئی تھی، اور یہی طریقۂ تعلیم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دوسرے تمام انبیاء و اولیاء کے لئے مقرر تھا، اور مقرر ہے، تو معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا حقیقی نام ہی علم و معرفت کی کلید ہے، یہی وجہ تھی کہ جبرئیل علیہ السّلام نے سب سے پہلی بار وحی لاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا کہ: ” اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ۔ یعنی اپنے پروردگار کے نام کے ذریعے پڑھا کیجئے۔” (۹۶: ۰۱)
جب حضرت نوح علیہ السّلام کے زمانے میں طوفان شروع ہوا، تو انہوں نے اپنے فرمانبردار مومنوں کو کشتی میں سوار کرنے سے پہلے جو دعا زبان پر لائی وہ “بسم اللہ” کی صورت می تھی، چنانچہ قرآن کا ارشاد ہے: “وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَاؕ (۱۱: ۴۱) اور حضرت نوح نے فرمایا کہ اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا اللہ ہی کے نام سے ہے۔”
اس موقع پر یہ حقیقت سامنے لائی جاتی ہے کہ جو دعا، کلمہ یا اسم ذکرِ الٰہی کے طور پر پڑھنے کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہو تو اس کے اندر کچھ ایسے معانی اور حقائق مخفی ہوتے ہیں جن کا سمجھ لینا دوسرے حقائق کے بہ نسبت اتنا ضروری ہے، جتنا کہ دوسری عبادت کے
۳۴
بہ نسبت اس ذکرِ الٰہی کا پڑھنا ضروری ہے۔
مذکورۂ بالا بیان سے بسم اللہ کے معنی و حقیقت سمجھنے کی ضرورت و اہمیّت ظاہر ہوئی، چنانچہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے معنی ہیں:
“شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔” لیکن یہ اس کے سطحی معنی ہیں، اور اس کی تحقیق کرنے کے لئے ہمیں بسم اللہ کے متعلق ضروری آیات کو سامنے رکھ کر چشمِ بصیرت سے دیکھنا ہوگا، کہ بسم اللہ کی معنوی تعلیم اور امرِ آخرین کس چیز کے متعلق ہے، چنانچہ یہ حقیقت تو بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرئیل علیہ السّلام نے جب پہلی بار پیغام لایا، تو اس کے شروع میں کلمۂ بسم اللہ جزوِ کلام کی حیثیت سے لگا ہوا نہیں تھا، اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر بسم اللہ اس سورۃ کے آغاز ہی میں لگی ہوئی ہوتی، تو یہ نہ فرمایا جاتا کہ “اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھا کیجئے،” بلکہ صرف یہی فرمایا جاتا کہ “پڑھا کیجئے۔” چونکہ بفرض بسم اللہ اس سورہ کا حصہ تھی، جس کو پڑھنے کے لئے فرمایا گیا تھا تو پھر اس کا علٰحیدہ ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی، پس معلوم ہوا کہ کلمۂ بسم اللہ کسی بھی سورت کے شروع میں نہیں آیا ہے، بلکہ یہ کلمہ قرآنِ پاک کے متن کی ایک آیت ہے جس طرح کلمۂ اعوذ باللہ قرآنِ پاک کے متن کی ایک آیت ہے، مگر آداب کے طور پر قرآنِ مجید پڑھنے سے پہلے پڑھا جاتا ہے، اسی طرح بسم اللہ
۳۵
ہر سورے کے آغاز میں لکھی گئی، جس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ آنحضرتؐ سے فرمایا گیا کہ پروردگار کا نام لے کر قرآنِ پاک کی قرأت کیجئے، اور دوسری وجہ بسم اللہ کی معنوی اہمیّت ہے۔
پس بسم اللہ کہنے یعنی پروردگار کا نام لے کر قرآنِ پاک کی سب سے پہلی تنزیل پڑھنے کے بارے میں آنحضرتؐ کو جو کچھ ارشاد ہوا ہے ہم اسی سے بحث کرتے ہیں، چنانچہ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے: ” اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ (۹۶: ۰۱) (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) آپ پر (جو قرآن نازل ہونے لگا ہے) اسے اپنے ربّ کا نام لے کر پڑھا کیجئے۔” یعنی اپنے اس پروردگار کے “اسمِ اعظم” کے ذکر کی روشنی میں حقیقتِ تنزیل کو سمجھ لیجئے، جس کی پرورش سے آپ کی یہ روحانی تخلیق مکمل ہوئی ہے۔ “خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (۹۶: ۰۲) اسی نے انسان کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔” یعنی ذکر کے ایک ایسے سلسلے سے انسانِ کامل کو پیدا کیا جس کے الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح جمے ہوئے تھے، جس طرح خون کے قطرات کے آپس میں جمنے سے گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے، اور اس سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ ’’اقرا و ربک الاکرم الذی علم بالقلم (۹۶: ۰۳ تا ۰۴) (اس قرآن کو) پڑھا کیجئے، اور آپ کا پروردگار بہت بزرگ ہے، جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔” یعنی اسی ذکر کی روشنی میں حقیقت تنزیل
۳۶
کو پھر پڑھ لیجئے، کیونکہ آپ کا پرورگار بہت بزرگ ہے، جس نے آپ کو گوہرِعقل (قلم) کے ذریعے چند غور طلب رموز سکھائے ہیں۔ ” عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ (۹۶: ۰۵) جس نے انسان کو سکھایا، جو کچھ وہ نہیں جانتا تھا۔” یعنی اس نے روحانیّت کے انہی خاص طریقوں سے انسانِ کامل کو وہ ساری چیزیں سکھا دیں، جن کو وہ نہیں جانتا تھا۔
اب مذکورہ بالا حقیقت کی روشنی میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے حقائق و اسرار ملاحظہ ہوں: حرف “ب” استعانت کے لئے آیا ہے، جس کے معنی “ذریعہ” یا “سے” کے ہوتے ہیں، اور حرف “ب” کا اصلی نام “بیت” یعنی گھر تھا، کیونکہ اس حرف کی شکل ایک گھر کی شکل تھی، جس کے دروازے پر ایک کھڑا شخص ظاہر کر دیا گیا تھا، جیسے ، پھر رفتہ رفتہ بیت کا نام “با” سے بدل گیا، اور مکان کی شکل پڑی لکیر جیسی ہو گئی، اور وہ آدمی نقطہ بن کر رہ گیا۔
پس قرآن پاک کے شروع میں، ہر سورے کے آغاز میں، اور بسم اللہ جیسے خدا کے ایک بہت بڑے کلماتی نام کی ابتدا میں حرف “با” (ب) کے آنے کا اشارہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی جو مقدّس کتاب حقائقِ کائنات اور اسرارِ موجودات سے بھری ہوئی ہے، اس کی حکمت ایک خاص گھر سے مل سکتی ہے، اور اس مبارک گھر میں داخل ہونے کی اجازت ایک خاص شخص
۳۷
سے مل سکتی ہے، وہ مبارک گھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں، وہ عظیم ترین شخص جو اس پاک گھر کے دروازے پر دربان کی حیثیت سے ہے، حضرت مولانا مرتضیٰ علی علیہ السّلام ہیں، چنانچہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: “انا دار الحکمۃ و علی بابھا۔ میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔” نیز فرمایا: “انا مدینۃ العلم و علی بابھا فمن اراد العلم فلیات الباب۔ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، پس جو شخص علم کا طالب ہو اُسے چاہئے کہ شہر کے دروازے سے آئے۔” اور مولانا علی علیہ السلام نے اسی معنی میں فرمایا: “انا نقطۃ تحت باء بسم اللہ۔ میں وہ نقطہ ہوں جو باء بسم اللہ کے نیچے ہے۔”
بسم اللہ میں حرف “ب” کے بعد اسم آتا ہے، جس کی مراد اسمِ اعظم ہے، اللہ کے معنی معبودِ برحق کے ہیں، الرحمٰن خدائے تعالیٰ کا وہ اسمِ صفت ہے، جس میں وہ سارے انسانوں کے لئے جسمانی رحمتیں مہیا کر دیتا ہے، اور “الرحیم” خدائے تعالیٰ کا ایک ایسا نام ہے جس میں وہ صرف مومنوں کے لئے روحانی رحمتیں عطا کر دیتا ہے، اور یہ دونوں قسم کی رحمتیں دل کی نرمی سے شروع ہوا کرتی ہیں، کیونکہ رحمت (مہر) کے معنی رقتِ قلب یعنی دل کی نرمی کے ہیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بسم اللہ اس معنی میں پڑھا کرتے تھے: “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ معبودِ برحق کے اسمِ اعظم کے ذریعہ قرآن پڑھتا، اور
۳۸
سمجھتا ہوں جو رحمت والا ہے، جسمانی احتیاجات کے لئے، اور رحمت والا ہے روحانی ضروریات کے لئے۔”
اس بیان کا خلاصہ یہ ہوا کہ بسم اللہ کی معنوی واقعیّت ہر شخص کی علمیّت کے مطابق ہے، اور حقیقت یہی ہے کہ سب سے پہلے اس ارشادِ الٰہی پر غور کیا جائے، جس میں بسم اللہ پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے، یعنی “اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ” کے منشا و مطلب کو سمجھ لیا جائے، وہ یہ ہے کہ آنحضرتؐ سے فرمایا جاتا ہے کہ اپنے ربّ کے اُس نام کے ذریعہ قرآن پڑھا کیجئے، جس کے ذکر کی بدولت آپ کی روحانی پرورش و تخلیق مکمل ہو چکی ہے، پس یہ اشارہ اسمِ اعظم کی طرف ہے، پھر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسمِ اعظم کے ذکر کو نزولِ قرآن کے دوران بھی اسی طرح قائم و جاری رکھا، جس طرح یہ اس سے پہلے تھا، اور کلمۂ بسم اللہ کو جس میں اسمِ اعظم کی عملی تعریف موجود تھی، قرآن پاک کا سرنامہ بنایا، اور یہی سرنامہ ہر سورۃ کے آغاز میں رکھا گیا، تاکہ قرآنِ پاک کی ترتیب میں اسمِ اعظم کا ذکر سب سے پہلے آجائے۔
اس سے قبل بتایا جا چکا ہے کہ بسم اللہ قرآنِ حکیم کے متن کی ایک آیت ہے جو سورۂ نحل (۲۷) کی تیسویں (۳۰) آیت (۲۷: ۳۰) ہے، جو حضرت سلیمان علیہ السّلام کے قصّے کے سلسلے میں آتی ہے، چنانچہ ملکۂ بلقیس نے کہا کہ سردارو! میری طرف ایک باکرامت کتاب ڈالی گئی ہے
۳۹
وہ سلیمان کی جانب سے ہے، اور وہ “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” ہے۔ حکیمِ مطلق نے اس قصّے میں ملکۂ بلقیس کے عالمِ مکاشفہ کو “کتابِ کریم” قرار دیا، اور اس معجزاتی تصوّر و خیال کا دوسرا نام “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” بتایا، جو حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کی جانب سے اسمِ اعظم کے ذکرِ خفی کا ایک ذیلی معجزہ تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بسم اللہ (اللہ کے نام کے ذریعے) جس موقع پر بھی کہا ہو تو اس سے آنحضرتؐ کی مراد اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا معجزاتی نام یعنی اسمِ اعظم ہی تھا جو ہمیشہ زندہ اور ظاہر و باطن میں نورِ ہدایت کا سرچشمہ ہے، کیونکہ غور و فکر کرنے سے ہر دانشمند کے لئے یہ حقیقت روشن ہو سکتی ہے کہ لفظ “اللہ” اگرچہ اسم ہے، لیکن یہ یہاں دوسری بہت سی مثالوں کی طرح مسمّا کے طور پر آیا ہے، مثلًا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ میں “ربّ” مسمّا ہے، اس لئے اس ارشاد کی تعمیل میں یا ربّ یا ربّ نہیں کہا جائے گا، بلکہ دوسرا کوئی اسم پڑھا جائے گا، جس کا ذکر ہو چکا ہے، اسی طرح بسم اللہ میں اسم کی مراد اسمِ اعظم ہے، اور لفظ “اللہ” مسمّا کے طور پر آیا ہے، یعنی اس حکمت میں جو بسم اللہ ہے، لفظ “اللہ” کا کوئی بیان نہیں، کیونکہ وہ ذاتِ خدا کا قائم مقام ہے، بلکہ خدا کے نام کا بیان ہے، یہاں تک کہ “الرحمٰن الرحیم” میں بھی سر تا سر اسی نام یعنی اسمِ اعظم کی تعریف و توصیف سموئی ہوئی ہے، اس بیان کو ہر قسم کی تقلید سے بالاتر رہ کر پڑھنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت
۴۰
ہے، ورنہ اس کا مطلب سمجھ لینا دشوار ہے، مگر اس شخص کو اس حقیقت کا سمجھ لینا کوئی مشکل نہیں، جس کو خدائے تعالیٰ نے حقیقت پسندی کی توفیق عنایت فرمائی ہے۔
والسّلام
۴۱
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دعا حصّۂ اوّل
اُم الۡکتاب کے رموز و اسرار
سورۂ فاتحہ کے ناموں میں سے ایک نام “ام الکتاب” ہے، جس کے معنی ہیں “کتاب کی اصل۔” اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآنِ حکیم اور کتابِ کائنات کی ساری حکمتیں مختصر سے مختصر کر کے اس سورے میں سمو دی گئی ہیں، یا یہ کہ سارا قرآن سورۂ فاتحہ کی خدائی تفسیر و تشریح ہے، اور یہ دونوں واقعات صحیح ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌ (۴۳: ۰۴) اور وہ (قرآنِ پاک) ام الکتاب (سورۂ فاتحہ) میں ہے (اور وہی ام الکتاب نوری وجود میں) ہمارے پاس علی ہی ہے، حکمت والا” پس اہلِ دانش کے لئے
۴۲
یہ حقیقت مسلّمہ ہے کہ قرآن اگر ایک طرف سے سورۂ حمد میں سمویا ہوا ہے، تو دوسری طرف سے حضرت مولانا علی علیہ السّلام کے نور میں یکجا ہے، کیونکہ بقول نبیٔ اکرمؐ سورۂ فاتحہ تو ظاہری ام الکتاب ہے، اور مولانا علیؑ کا نور باطنی ام الکتاب ہے، اس مطلب کی مزید توثیق کے لئے کتابِ “وجہِ دین” گفتار ۱۹ کا آخری حصہ ملاحظہ ہو۔
سورۂ فاتحہ کے ام القرآن ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ سورۃ تمام قرآن کا خلاصہ ہے، یعنی قرآنِ پاک میں جس مطلب کی تشریح کی گئی ہے سورۂ فاتحہ میں اسی مطلب کا اختصار کیا گیا ہے، بالفاظِ دیگر سورۂ حمد کتابِ مجمل اور قرآن کتابِ مفصل ہے، سورۂ فاتحہ ہدایتِ الٰہی کی ایک جامع اور ہمہ رس مثال ہے، اور تمام قرآن اسی ہدایت کی ذیلی مثالوں کا مجموعہ ہے، نیز سورۂ فاتحہ حکیمانہ انداز پر مطلوبہ حقائق کی ایک ایسی فہرست ہے، جس کو بغور دیکھنے سے ہر خوش نصیب دانشمند یہ سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو اپنی پیاری کتاب میں کن کن ضروری حقائق کی تعلیم دینا چاہتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ سورۂ فاتحہ کی جملہ خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ قرآنی مضامین کی ایک مکمل فہرست کی حیثیت رکھتا ہے، چنانچہ ذیل میں اس امرِ واقع کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے:
۱۔ معرفتِ الٰہی کا بیان
۲۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف و ستائش
۴۳
۳۔ الوہیت
۴۔ ربوبیّت
۵۔ دنیائیں
۶۔ جسمانی رحمت
۷۔ روحانی رحمت
۸۔ خدا کی بادشاہی
۹۔ زمانہ
۱۰۔ دین اور قیامت
۱۱۔ اخلاص
۱۲۔ عبادت
۱۳۔ استعانت
۱۴۔ دعا سب سے پہلے کس چیز کے لئے ہو؟
۱۵۔ ہدایت
۱۶۔ سیدھا راستہ
۱۷۔ مختلف راستے
۱۸۔ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام
۱۹۔ وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا
۲۰۔ غضبِ الٰہیہ کسے کہتے ہیں؟
۲۱۔ گمراہی
ان مضامین کے علاوہ سورۂ فاتحہ میں اور بھی بہت سے عنوانات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، مثلًا نقطہ الف سے پہلے کیوں آیا؟ یعنی قرآن بسم اللہ کے نقطے سے کیوں شروع ہوا؟ حالانکہ الحمد الف سے شروع ہوئی ہے؟ قرآنِ حکیم کا سب سے پہلا لفظ “بسم” کیوں آیا؟ قرآنی حروف کی ترکیب میں سب سے پہلے “ب” اور “س” مل کر “بِس” ہونے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ بسم اللہ میں جو انیس حروف آئے ہیں ان کا کیا اشارہ ہے؟ سورت فاتحہ کی سات آیتیں کس حقیقت پر دلیل کرتی ہیں؟ اس کے شروع میں جو پنج حرفی لفظ “الحمد” آیا ہے، اس کا کیا اشارہ ہے؟ وغیرہ۔ لیکن یہ حقائق جس طرح حکمت کی گہرائیوں میں پنہان ہیں، اسی طرح عوام کے لئے ان کی فوری تلاش و تحقیق کی ضرورت بھی نہیں، نہ اس مختصر سی کتاب میں اس سے زیادہ تفصیل کی گنجائش ہے، پس اس باب میں سورۂ فاتحہ کے مذکورہ بالا مطلوبہ مضامین کی کچھ تشریح پر اکتفا کیا
۴۴
جاتا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
۱۔ معرفتِ الٰہی کا بیان:
الف لام عربی زبان میں “حرفِ تعریف” یا کہ “علامتِ معرفہ” ہے، کیونکہ ہر وہ اسم جس کے شروع میں یہ علامت لگی ہو، اسمِ معرفہ کہلاتا ہے، معرفہ کے معنی ہیں پہچانا ہوا، اور نکرہ کے معنی ہیں انجان جس کی عربی مثال الرجل اور رجل ہے، الرجل سے ایک ایسا مرد مراد ہے، جو مشاہداتی یا تحریری یا زبانی طور پر پہچانا ہوا ہو، اس کے برعکس رجل سے ایک ایسا مرد مراد ہے جو کسی طرح بھی نہ پہچانا گیا ہو۔ اب اگر حقیقت پسندی اور اسلامی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے اور عقل و انصاف سے سوچا جائے تو اس حقیقت سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکے گا، کہ اللہ تعالیٰ کی ستائش اور تعریف مسلمانوں کے لئے بصورتِ حمد نکرہ نہیں رہی، بلکہ اس میں الف لام لگ کر الحمد ہوئی اور معرفہ ہوئی، تو یقیناً خدا کی حمد کا تعارف حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی نے کرایا، اور یہی تعارف ان کے بعد ہر زمانے میں ان کے وصی نے کرایا۔ اندران صورت خدا کی حمد جو معنوی طور پر نکرہ سے معرفہ کی صورت میں آ کر بحقیقت الحمد ہوئی، تو گویا الحمد کے اس الف لام کے لانے والے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور علی علیہ السّلام ہیں، کیونکہ یہ دونوں حضرات اپنی تنزیل و تاویل کے
۴۵
ذریعے اگر لوگوں کو خدا کی ستائش سے تعارف نہ کراتے تو لوگ اگرچہ بظاہر الحمد للہ کہہ سکتے، لیکن بحقیقت ان کی یہ تحمید ناشناختہ ہو جاتی، یعنی اس کی معنوی صورت تو نکرہ ہی کی طرح رہتی، پھر لازماً ان کے اس تلفظ کے الف لام معنوی طور پر موجود ہی نہ ہوتے، مگر اب امرِ واقع ایسا نہیں، بلکہ دینِ اسلام میں خدا کی حمد شناختہ ہے، کیونکہ نبی و علی (علیہما و علیٰ آلِ ہما السّلام) نے جب خدا کی حمد کا تعارف کرایا، تو الحمد لفظی اور معنوی دونوں صورتوں میں معرفہ ہوئی اور وہ دونوں حضرات الف لام کے حقیقی معنی ہوئے، اس لئے کہ جس طرح ظاہری الف لام نے لفظِ حمد کو نکرہ سے معرفہ بنا دیا ہے، اسی طرح ان دونوں حضرات نے معنوی الف لام کی حیثیت سے حمد کے ناشناختہ معنی کو شناختہ کرا دیا ہے، پس اس دلیل سے الحمد کے الف لام کے معنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت علی علیہ السّلام ہوئے، اور سورۂ فاتحہ میں جو قرآنِ پاک کے ابواب کی فہرست کی حیثیت رکھتا ہے، سب سے پہلے معرفتِ الٰہی کا عنوان (ال) آیا، جس سے خدا شناسی کی اہمیّت اور اس کے وسیلے کی ضرورت ظاہر ہوئی۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف و ستائش:
الحمد کے معنی میں اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات اور اس کی ساری خوبیوں کا ذکر ہے، اور اسی اعتبار سے الحمد کا ترجمہ “سب تعریفیں”
۴۶
لکھتے ہیں، اور ان میں سے ہر صفت اور ہر خوبی عربی زبان میں اپنے خاص موقع پر الف لام کے ساتھ آتی ہے، مثلًا الخالق، الرّزاق، العلیم، السّمیع، وغیرہ، اور ہر خوبی کی بھی یہی مثال ہے، چنانچہ الجمال، الکمال، الثنا، البقا، وغیرہ، اور ان تمام معارف (شناختہ صفات اور خوبیوں) میں وہی الف لام کی علامتِ معرفہ موجود ہے، اور اس علامت کے حقیقی معنوں کے اسباب و علل بھی وہی حضرت محمد اور حضرت علی علیہما السّلام ہیں، اور اس امرِ واقع کی مثال قبلًا بیان کی گئی ہے، اب یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کیا یہی معرفت پروردگار کی آخری معرفت ہے جس کا ذکر ہوا؟ تو کہنا ہو گا کہ نہیں بلکہ یہ عام اور ابتدائی نوعیّت کی معرفت ہے، جو مذاہبِ عالم کے مقابلے میں دینِ اسلام کو حاصل ہے، جس کے بعد جماعتی معرفت اور اخیر میں انفرادی معرفت آتی ہے، لیکن معرفت کے ان تمام مراحل میں مذکورۂ بالا مثال کے مطابق وہی نبیٔ اکرمؐ اور اس کے وصیٔ برحقؑ باعثِ معرفت ہوتے ہیں، اور ہر اگلے مقام پر الحمد کے معنی اور الف لام کی معرفت خاص سے خاص تر ہوتی جاتی ہے، اس لئے کہ معرفت کے معنی پہچان اور شناخت کے ہیں، جس کے بہت سے درجات متعیّن ہیں، جن کے سلسلے میں سارے انسانوں کو آگے بڑھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کو اپنے آخری نبی کی حیثیت سے
۴۷
بھیجا ہے، اور آنحضرتؐ نے خدا کے امر سے مولانا علی علیہ السّلام کو اپنا وصی مقرر فرمایا ہے، تا کہ اس کا لازوال نور امامِ زمانہؑ کی حیثیت سے قیامت تک سرچشمۂ ہدایت اور ذریعۂ معرفت ہو جائے۔
۳۔ الوہیّت:
سورۂ فاتحہ کا تیسرا باب الوہیّت کے متعلق ہے، یہ مطلب لفظ “اللہ” میں پوشیدہ ہے، لفظ “اللہ” فی الاصل الالٰہ تھا جو الٰہ کا معرفہ ہے، لیکن کثرتِ استعمال کی وجہ سے یہ لفظ “اللہ” ہوا، اس لئے یہ اسم جامد نہیں بلکہ الٰہ سے نکلا ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ لفظ “اللہ” اکثر ذاتِ واجب الوجود کے لئے مخصوص ہو جاتا ہے، اور بعض اوقات یہ لفظ معبود کے معنی رکھتا ہے، اور اس کے اصلی معنی تو یہی ہیں، چنانچہ ارشاد ہے:
“وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِؕ (۰۶: ۰۳) آسمانوں اور زمینوں میں صرف وہی معبود ہے۔” پس لفظِ اللہ الوہیّت یعنی معبودیّت اور عبودیّت کا موضوع ہے، یعنی اس میں خدائی اور بندگی کا بیان پوشیدہ ہے، وہ اس طرح کہ اللہ کے معنی معبود کے ہوئے، اور معبود وہ ہے جس کی عبادت کی جاتی ہے، پھر لازماً یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ معبودِ برحق کی معرفت کا ذریعہ کیا ہے؟ اور اس حقیقی عبادت کی طریقہ کیا ہے جس سے خدا کی رضا حاصل
۴۸
ہو سکتی ہے؟ پھر اس اہم سوال کے مفصل جواب کی ضرورت سے ان تمام آیاتِ قرآنی کا تعلق ثابت ہو جاتا ہے، جن میں الوہیّت، معرفت اور عبودیّت کی تفصیل آئی ہے، اور ہر تفصیل کی کلید ان حضرات سے مل سکتی ہے، جن کی طرف الف اور لام اشارہ کر رہے ہیں، جن کا ذکر ہو چکا ہے۔
۴۔ ربوبیّت:
ربوبیّت ربّ کی صفت ہے، اور یہ لفظ فارسی میں پروردگاری ہے، اس لئے کہ ربّ کے معنی پروردگار اور مالک کے ہیں، اور ربوبیّت کے معنی پروردگاری اور مالکیّت کے ہیں، اور ربّ ایک ایسا اسمِ صفت ہے جو خاص بھی ہے اور عام بھی، یعنی یہ اسم عربی زبان میں حق تعالیٰ کے لئے بھی آتا ہے، اور موقع پر انسان کے لئے بھی، مگر یہ اسم سورۂ فاتحہ میں بطورِ خاص آیا ہے، کیونکہ اس میں باری سبحانہٗ کی اس صفت کا ذکر ہے جو موجودات و مخلوقات کی پرورش کی مقتضی ہے، حق تعالیٰ کی جانب سے مخلوقات کی یہ پرورش یا تربیت تین درجوں میں پائی جاتی ہے: پہلے درجے کی پرورش عقلانی ہے، جس سے ذی عقل موجودات کی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں، دوسرے درجے کی پرورش روحانی ہے جس سے ذی روح مخلوقات کی احتیاجات پوری ہو جاتی ہیں، اور تیسرے درجے
۴۹
کی پرورش جسمانی ہے جس سے جمادات، نباتات، اور حیوانات کے اجسام کی تخلیق و تکمیل ہو جاتی ہے۔ پرورش کے ان تینوں درجات میں سے ہر ایک میں بےشمار ذیلی درجات ہیں، جن کے تحت بےشمار قسم کی موجودات و مخلوقات پلتی ہیں۔
۵۔ دنیائیں:
ام الکتاب کی پہلی آیت “العالمین” پر تمام ہو جاتی ہے، اور الحمد للہ ربّ العالمین” کا مفہوم اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب تعریف و ستائش اللہ ہی کے لئے شایان ہے، اس لئے کہ وہی تمام دنیاؤں کی پرورش کرتا ہے، خدا کی اس تعریف و ستائش سے لوگوں کو متعارف کرانے والے محمدؐ اور آلِ محمدؐ ہی ہیں، جو الحمد کے الف لام کے حقیقی معنی ہیں، اور تعریف و معرفت کے حقائق کی طرف جانے کا راستہ وہ عبادت ہے، جو انہی کی ہدایت کے مطابق کی جائے، اس لئے کہ الفاظ کی ترتیب میں چوتھا لفظ اللہ ہے، جو عبادت کا مقتضی ہے، کیونکہ اس کے معنی معبودِ برحق کے ہیں، اور عبادت کا پھل علم و معرفت کی صورت میں ملنا چاہئے، کیونکہ آیت کا پانچواں لفظ ربّ ہے، جس کے خاص معنی عقلانی و روحانی پرورش کرنے والے کے ہیں، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علم و معرفت کے بارے میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ علم و معرفت اس تحقیق کا نام ہے
۵۰
جس میں چشمِ دل سے یہ دیکھا جائے کہ پروردگار کس طرح انسانی عقل اور روح کی پرورش کر رہا ہے؟ وہ مشہور حدیث یہ ہے: “من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ۔ جس نے اپنی ذات یعنی عقل و نفس کی حقیقت اور ان کی پرورش دیکھ پائی تو اس نے تحقیق کے اس سلسلے کے اخیر میں اپنے پالنے والے کو پہچان لیا۔”
پس یہاں ظاہر ہوا کہ حصولِ علم و معرفت کے لئے حق تعالیٰ کی اس صفت کا حوالہ دیا گیا ہے، جو اسم “ربّ” میں موجود ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی نفس یا خودی کی معرفت (پہچان) اور علم، عقلانی و روحانی قسم کی تربیت و پرورش کی صورت میں حاصل ہوا کرتا ہے، دران حال عارف چشمِ سِرّ سے خدائے تعالیٰ کی تمام صفات کی ایک ایک مثال دیکھ پاتا ہے، اور یہ مثالیں نہایت پرنور، انتہائی دلکش، بےحد عشق انگیز، ازبس عجیب اور ناقابلِ فراموش ہوا کرتی ہیں، اس لئے عارف اپنے نفس (خودی) اور اپنے پروردگار کوپہچاننے کے بعد پھر کبھی اس علم و معرفت کو بھلا نہیں سکتا، اور ربّانی پرورش کا اطلاق سب سے پہلے انسان پر ہوتا ہے، اس لئے کہ عقلانی، روحانی اور جسمانی پرورش کا اوّلین مستحق اور سب سے زیادہ ضرورتمند تو انسان ہی ہے۔ مزید برآن اللہ تعالیٰ کی جس تعریف و ستائش کا یہاں تذکرہ ہو رہا ہے، اس کی وجہ کائنات و موجودات کی پرورش ہے، یعنی عوالم کی پرورش کرنا ہی اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی صفت
۵۱
ہے، جس میں اس کی دوسری تمام صفات بھی شامل ہیں، کیونکہ خدا کے سارے ناموں میں خدائی رحمت کی بےدریغ فیاضی اور انسان کی حاجت مندی کے معنی پائے جاتے ہیں۔
ربّ العالمین یعنی عالموں یا دنیاؤں کا پروردگار کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ربّ العزّت کے لاتعداد عوالم ہیں، اور بعض حکمائے دین کے قول کے مطابق ان کی تین بڑی قسمیں ہیں، یعنی عوالمِ لطیف (خالص روحانی دنیائیں) عوالمِ کثیف (خالص جسمانی دنیائیں) اور عوالمِ تالیف (جسم اور روح سے مرکب دنیائیں) یعنی انسانی شخصیتوں کی دنیائیں۔
اب جو خالص روحانی دنیائیں ہیں، وہ زمان و مکان سے برتر اور زندۂ جاوید فرشتے ہیں، کیونکہ اس قول کے مطابق اگر انسانی روح و جسم سے مرکب ایک عالم ہو سکتا ہے، تو لازماً فرشتہ بھی ایک خالص روحانی عالم ہو سکتا ہے، اور خالص جسمانی دنیاؤں کے بارے میں کوئی شک ہی نہیں کہ وہ تو سیارات اور کواکب ہی ہیں، پھر عناصر، نباتات، اور جانور ہیں، جن میں جسمانیّت کا حصہ زیادہ ہے، اس لئے وہ جسمانی عوالم ہی میں شامل ہیں۔
پس معلوم ہوا کہ ربّ العالمین کے معنی میں خصوصاً انسانی عوالم کی عقلانی، روحانی اور جسمانی پرورش کا ذکر ہے، کیونکہ مذکورہ تین قسم کے عوالم میں سے خالص روحانی عوالم یعنی فرشتے تو پرورش کی اتنی ضرورتیں نہیں رکھتے جتنی کہ انسان رکھتے ہیں، اور خالص جسمانی
۵۲
عوالم جن میں عقل و شعور نہیں، ربّانی پرورش حاصل کرنے کی اتنی صلاحیت نہیں رکھتے، جتنی کہ انسان میں پائی جاتی ہے۔
مزید برآن یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ لفظِ عالمین قرآنِ پاک میں لوگوں کے معنی میں زیادہ مستعمل ہوا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: “وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (۲۱: ۱۰۷) اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا، مگر انسانی عوالم کے لئے ایک رحمت کی حیثیت سے بھیجا۔” تو معلوم ہوا کہ “ربّ العالمین” میں جس ربّانی پرورش کا ذکر آیا ہے، وہ خاص طور پر انسانی عوالم کی پرورش ہے، اور عام طور پر دوسرے عوالم کی پرورش ہے، کیونکہ اگر ہم صرف یہی مانیں کہ اس کائنات کو خدائی پرورش حاصل ہے، تو اس پرورش کے نتیجے میں کائنات کا کوئی پھل ہونا چاہئے، اور وہ پھل اگر ہے تو انسان ہی ہے، پھر اس صورت میں بھی ربّانی پرورش کا ثمرہ انسان ہی ہوا، اور ربّانی پرورش اسی کے لئے مخصوص ثابت ہوئی، جس طرح درخت کی پرورش بحقیقت پھل کی پرورش ہے۔
ام الکتاب کے پُرحکمت الفاظ جو قرآنی تفصیلات کے عنوانات کے درجے میں بےپایان معنی رکھتے ہیں، جن کی اس سے زیادہ تشریح اس چھوٹی سی کتاب میں سموئی نہیں جا سکتی ہے، لہٰذا جن الفاظ کے مطالب میں اختلاف پایا نہ جاتا ہو، تو ہم ان کی تشریح بہت مختصر کر دیتے ہیں۔
۵۳
۶۔ جسمانی رحمت: ۷: روحانی رحمت۔ ۸: خدا کی بادشاہی:
چنانچہ جسمانی رحمت اور روحانی رحمت کے بارے میں کسی کو کوئی شک ہی نہیں، جو الرحمٰن الرحیم کے معنی ہیں، نہ خدا کی بادشاہی سے کوئی اہلِ دین انکار کر سکتا ہے۔
۹۔ زمانہ: ۱۰۔ دین اور قیامت:
مگر “مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ” (۰۱: ۰۳) کے معنی میں یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ “یومِ دین” کے ساتھ خدا کی بادشاہی یا مالکیّت کی تخصیص کرنے میں کیا راز پوشیدہ ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ساری کائنات و موجودات کا حقیقی مالک اور یکتا بادشاہ ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حقیقی مالک ہے، اور کائنات و موجودات کا یکتا بادشاہ ہے، لیکن اس کے باوجود اس قادرِ مطلق اور دانائے برحق کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر نو آباد سیّارے کے باشندوں کو ایک خاص زمانے تک کچھ اختیار بھی عطا فرماتا ہے، جب ان کی یہ مہلت ختم ہو جائے تو قادرِ مطلق اپنی طرف سے ان پر روحانی طاقتیں مسلط کر کے ان کے اس جزوی اختیار کو اپنے قبضۂ قدرت میں واپس لیا کرتا ہے۔
پس معلوم ہوا کہ نو آباد سیّارے کے باشندوں پر دو قسم کے
۵۴
زمانے گزرتے ہیں: پہلا دور وہ ہے جس میں ان کو ایک محدود اختیار دیا جاتا ہے، اور دوسرا دور وہ ہے جس میں یہ اختیار ان سے واپس لیا جاتا ہے، کیونکہ مالک کے آخری معنی صاحبِ اختیار کے ہیں، یوم ایک خاص وقت یعنی روحانی دور کے لئے آیا ہے، اور دین کے چند معنوں میں سے یہاں زیادہ موزون مذہب بدلہ اور حساب ہیں، پس روحانی دور میں، جو مذہب، بدلہ اور حساب کا دین ہے، لوگوں کے تمام اختیارات جو ان کو بطورِ امانت دیئے گئے تھے، حقیقی مالک کے تصرّف میں لئے جائیں گے، جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگوں کے درمیان جو نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں، وہ سب اٹھ جائیں گے، چنانچہ ارشاد ہوا ہے: “لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ-لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (۴۰: ۱۶) آج کے روز کس کی حکومت ہو گی؟ بس اللہ ہی کی ہو گی، جو یکتا (اور) غالب ہے۔” اللہ کی حکومت سے مراد حقیقی اسلامی حکومت ہے، یکتا کا اشارہ عالمی وحدت اور ملی سالمیّت کی طرف ہے، اور غالب کا ایماء روحانی طاقتوں کے انکشاف کے لئے ہے۔
۱۱۔ اخلاص:
سورۂ فاتحہ کی چوتھی آیت میں سب سے پہلے اخلاص کا بیان آتا ہے، یعنی وحدانیّت کے متعلق اپنے عقیدے کو ماسوا اللہ سے خالص اور پاک کر دینے کا ذکر ہے، اور اخلاص کے معنی کسی چیز
۵۵
کو آمیزش اور ملاوٹ سے صاف اور خالص کر دینے کے ہیں، چنانچہ ہر وہ چیز خالص کہلاتی ہے جس میں ملاوٹ اور کھوٹ تو ممکن ہو، مگر وہ واقعاً صاف اور پاک ثابت ہو جائے، جیسے خالص سونا، چاندی وغیرہ، مگر دینی اصطلاح میں اخلاص دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کی قلبی توجہ صرف خدا ہی کی طرف لگی رہے، اور اس کیفیّت میں ذرّہ بھر بھی دوسرے خیالات و افکار کی آمیزش نہ ہو، اس بارے میں خود قرآنِ حکیم کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے: “فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَﳛ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَ (۲۹: ۶۵)۔ پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں، پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو وہ فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں۔” اس آیۂ کریمہ کا مطلب صرف حکمت ہی سے واضح ہو سکتا ہے، کیونکہ خدا کے ماننے والوں میں سے اکثر لوگ جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں، تو ظاہراً خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے نہیں لگتے ہیں نہ وہ خشکی پر اترنے کے بعد فوراً خلافِ معمول بت پرستی کرنے لگتے ہیں، مگر یہ ضرور ہے کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں، تو خوف و ہراس کے نتیجے میں فطری طور پر وہ دل ہی دل میں خدا کی طرف کچھ ایسے متوّجہ ہوتے ہیں کہ ان کی اس قلبی توّجہ کو دنیا کی کوئی چیز خدا سے اس طرف
۵۶
موڑ نہیں سکتی۔ پھر جب یہ لوگ خشکی پر اتر جاتے ہیں تو ان کے قلب کی وہ کیفیت، جس کا نام خدا کے نزدیک “خالص اعتقاد” تھا، فوراً ہی غائب ہو جاتی ہے، اور ان کے دل میں طرح طرح کے دنیاوی خیالات و افکار جاگزین ہونے لگتے ہیں، اور دل کی ایسی کیفیت بقولِ خدا شرک کہلاتی ہے، پس اخلاص دل کی اس کیفیّت کا نام ہے، جس میں انسان کی قلبی توجہ صرف خدا ہی کی طرف لگی رہے، بالکل اسی طرح جس طرح کسی خطرناک سمندر پر چلنے والے کشتی کے سوار خدا کی طرف متوّجہ ہوتے رہتے ہیں۔
۱۲۔ عبادت:
عبادت، دعا اور ذکر کی پہلی شرط اخلاص ہے جس کا ذکر ہو چکا، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: “اِیَّاكَ نَعْبُدُ” (۰۱: ۰۴) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ یعنی ہم تیری عبادت کو فکری بت پرستی کی آلائشوں سے پاک و خالص کرتے ہوئے گزارتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں عارفانہ طریقِ عبادت کی تعلیم دی گئی ہے، تاکہ بتدریج ہر مومن عبادت و معرفت کے اس اعلیٰ ترین مقام پر پہنچ سکے، مگر یہاں پر سوال یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے مومن کا اخلاص اتنی ترقی کر جائے کہ عبادت کے وقت اس کے دل میں صرف خدا ہی کی توجہ قائم رہے، اور باقی سب کچھ
۵۷
بھول جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے سرکش نفس کو اس کی عقل کے تابع و فرمانبردار بنانے کے لئے دو ذرائع پیدا کئے ہیں، ایک ذریعہ خوف ہے اور دوسرا ذریعہ امید ہے، جس طرح ایمان کی تعریف میں فرمایا گیا کہ: “الایمان بین الخوف و الرجا۔ ایمان خوف اور امید کے درمیان پایا جاتا ہے۔” اب جس طرح خوف کے معنی میں وحشت و نفرت پوشیدہ ہے، اسی طرح امید کے معنی میں محبت و عشق مضمر ہے، چنانچہ ذریعۂ خوف کی ایک قرآنی مثال میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس سے انسان کا سرکش نفس کس حد تک مرعوب ہو کر عقل کے مشورے پر کام کرنے لگتا ہے، اور اس کے نتیجے میں انسان کا عملی اخلاص کس طرح نفس کی دنیاوی خواہشات کو رد کر دیتا ہے، اور خدا کی طرف انسان کی قلبی توّجہ اور دعاؤں کا سلسلہ کس قدر مضبوط اور اٹوٹ ہو جاتا ہے، جب تک کہ خوف باقی ہے۔
یہی حال ذریعۂ امید یعنی حقیقی محبت و عشق کے نتیجے کا بھی ہے، بلکہ مومن کا وہ اخلاص جو حقیقی محبت و عشق پر مبنی ہو، زیادہ مستحکم اور زیادہ فائدہ بخش ہوتا ہے، بہ نسبت اُس اخلاص کے جس کی اساس خوف و ہراس پر قائم ہوئی ہو، مگر پھر بھی سوال کا ایک پہلو باقی ہے، وہ یہ کہ مومن کے لئے خدا سے حقیقی محبت و عشق پیدا ہونے کا ذریعہ کیا ہے؟ تو اس بنیادی اور اہم ترین سوال کا تسلی بخش
۵۸
جواب سب سے پہلے قرآنِ کریم ہی سے ہونا چاہئے، وہ یہ ہے جو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (۰۳: ۳۱) آپ فرما دیجئے کہ اگر تم خدائے تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری پیروی کرو، کہ خدا بھی تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کر دے گا، اور خدائے تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا بڑی عنایت فرمانے والا ہے۔”
پس ظاہر ہوا کہ جو لوگ اپنے طور پر خدا سے محبت رکھتے ہیں تو خدا ان سے محبت نہیں رکھتا، جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی اور اس سے محبّت نہ کرتے ہوں، اور جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی اور اس سے محبت کرنے لگیں تو خدا بھی ان سے محبت کرنے لگتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے سارے گناہ اسی زندگی میں معاف کر دیئے جاتے ہیں، تا کہ وہ اس حد تک پاک ہو سکیں کہ خدائے تعالیٰ کی پاک محبّت و عشق کا ان سے ظہور ہونے لگے، پس معلوم ہوا کہ خدا سے حقیقی محبّت و عشق کا ذریعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی اور اس کی محبّت ہی ہے۔
اب اگر کوئی شخص یہ پوچھے کہ بقولِ قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حقیقی پیروی کا ذریعہ کیا ہے؟ تو اسے یہ بتا دیا جائے
۵۹
کہ حضرتِ رسولؐ کی پیروی کا واحد ذریعہ آنحضرتؐ کے قرابت داروں کی محبّت اور دوستی ہے، چنانچہ خدائے تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: “قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ (۴۲: ۲۳) ۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغِ رسالت) کا کوئی صلہ نہیں مانگتا، سوائے قرابت داروں کی دوستی کے۔”
اس آیۂ کریمہ کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرابت داروں سے دوستی رکھنا، اگرچہ ہر دیندار پر ایک ضروری فرض ہے، تاہم اس حقیقت پر عقل و دانش سے غور کرنا چاہئے کہ رسول اللہ کے قرابت داروں کی یہ دوستی ایسی نہیں کہ تبلیغِ رسالت کے بعد یہ دوستی کسی گروہ یا کسی فرد پر بطورِ اجرت زبردستی سے لازم کر دی جائے، یا کوئی شخص حقیقت و منفعت سمجھے بغیر اس کو اپنائے اور قبول کر سکے، اور یہ دوستی وہی ثابت ہو سکے جسے خدا و رسول چاہتا ہے، بلکہ یہ دوستی ایسی ہے کہ تبلیغِ رسالت کے آغاز ہی سے رسولِ خدا کے ساتھ ان کے قرابت داروں کی نورانی قرابت اور روحانی نزدیکی کی حقیقت سمجھ لی جائے، کیونکہ رسول اللہ سے علی، فاطمہ، حسن، حسین اور ان کی اولادِ پاک یعنی ائمۂ برحق علیہم السّلام کی یہ قرابت داری نہ صرف جسمانی ہی ہے، بلکہ اس سے پیشتر اور اس سے اعلیٰ مقام پر ان کی قرابت نورانی اور روحانی قسم کی ہے۔
پھر رسول اللہ کے ان نورانی قرابت داروں کی محبّت اور دوستی
۶۰
کے یہ معنی ہوئے کہ خدا اور رسول کے درجے کے بعد ان کی فرمانبرداری اور پیروی کی جائے، کیونکہ دینی مراتبِ عالیہ سے محبّت رکھنے کے معنی ان مراتب کی فرمانبرداری کرنے کے ہیں، اور ان مراتبِ عالیہ کی مومنوں سے محبت و دوستی رکھنے کے معنی مومنوں کو ہدایت دینے اور ان پر رحمت کرنے کے ہیں، چنانچہ آیۂ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ ۔۔۔ (۰۳: ۳۱) کے حقائق کا ایک مفہوم یہ ہے: “آپ فرما دیجئے کہ اگر تم بزعمِ خود خدائے تعالیٰ سے دوستی رکھتے ہو تو اس کی صورت یہ ہونی چاہئے کہ تم لوگ میری پیروی کرو، جس کے نتیجے میں خدا بھی تم سے محبّت کرنے لگے گا اور تم سے خدا کی دوستی یہ ہو گی کہ وہ تمہارے سب گناہ معاف کر دے گا۔”
پس معلوم ہوا کہ خدا، رسول اور اس کے قرابت داروں سے مومنوں کی محبّت اور دوستی فرمانبرداری کی صورت میں ہو سکتی ہے، اور اسی وجہ سے رسولؐ کی محبّت حاصل ہونے کا ذریعہ رسولؐ کے قرابت داروں سے محبت رکھنا ہے، اور خدا کی محبت حاصل ہونے کا ذریعہ رسولؐ سے محبّت رکھنا ہے، اور خدا کی حقیقی محبّت اور عشق کا یہ معجزانہ اثر ہے کہ حقیقی معنوں میں خدا کی عبادت کرنے کے لئے اس سے مومن کو بہت بڑی مدد ملتی ہے، اور یہی حقیقی محبّت مومن کے لئے ذریعۂ امید اور وسیلۂ اخلاص ہے، جس سے بوقتِ عبادت مومن کی قلبی توجہ خدائے تعالیٰ کی طرف مرکوز رہتی ہے، اس لئے
۶۱
کہ اس قسم کی عبادت اور توّجہ میں اعلیٰ قسم کی روحانی مسرّت اور نورانی تسکین موجود ہوتی ہے۔
۱۳۔ استعانت:
مذکورۂ بالا عارفانہ قسم کی عبادت کے بیان کے بعد سورۂ الحمد میں استعانت یعنی خدائے تعالیٰ سے ہر نیک کام میں مدد طلب کرنے کا ذکر آتا ہے، اس لئے کہ خدائی مدد بڑے پیمانے پر اور نمایان طور پر عبادت کے بعد مل سکتی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ: وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ (۰۱: ۰۴) اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ یعنی اے اللہ! ہم تیری وحدت کو کثرت کی شرکت سے مجرّد کر کے، اور تیری معرفت کو یکتا کر کے صرف تجھ ہی سے روحانی قسم کی معجزانہ مدد طلب کرتے ہیں، جو تیرے خاص بندوں کے ساتھ ہمیشہ شاملِ حال رہتی ہے۔
۱۴۔ سب سے پہلی دعا:
اللہ تبارک و تعالیٰ سے عملی طور پر روحانی مدد طلب کرنے کے بعد حقیقی مومن خدائی تعلیم کے مطابق سب سے پہلے جس چیز کے لئے دعا کرتا ہے، وہ ہدایت ہے، کیونکہ “اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ” (۰۱: ۰۱) میں حقیقی مومن نے خدا کی تعریف و توصیف کی، “الرَّحْمٰنِ
۶۲
الرَّحِیْمِ” (۰۱: ۰۲) میں اس نے خدا کی جسمانی اور روحانی رحمت کا اقرار کر لیا، “مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ” (۰۱: ۰۳) میں اس نے قیامت یعنی روحانی دور کے آنے اور اس میں مومنوں کے سربلند ہونے کے متعلق امید ظاہر کی، اور “اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ” (۰۱: ۰۴) میں اس نے عارفانہ قسم کی عبادت کی، اور عملی طور پر روحانی مدد طلب کر لی۔ اب ہدایت کے لئے جس طرح وہ دعا کرتا ہے، اس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ خاص ہدایت مومن کے اختیار سے بالاتر ہے، کیونکہ وہ صرف خدا کے اختیار میں ہے، نیز یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآنِ پاک کی سب سے پہلی دعا ہدایت طلب کرنے کے لئے ہے، اور اس حقیقت کی دلیل کہ خاص ہدایت خدا کے اختیار میں ہے، یہ ہے کہ الحمد سے لے کر نستعین تک تقریباً نصف سورے میں جو امور تھے، ان کے متعلّق مومن کو کچھ اختیار دیا گیا تھا، جن پر اس نے اپنی طاقت کے مطابق عمل کیا، نیز اس نے ان امور کی اصلاح کرنے کے لئے خدا سے عملی مدد طلب کر لی، مگر اھدنا سے لے کر الضالین تک جو امور مذکور ہیں، ان میں مومن کو اختیار حاصل نہیں، اس لئے ان میں سے بعض چیزوں سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے اور بعض سے بچنے کے لئے دعا کر رہا ہے۔
۱۵۔ ہدایت:
یاد رہے کہ عربی زبان دنیا کی وسیع ترین زبان ہے، قرآنِ حکیم
۶۳
اسی زبان کے چیدہ چیدہ الفاظ میں نازل ہوا ہے، اور ام الکتاب یعنی سورۂ فاتحہ قرآن کے چنے ہوئے الفاظ میں ہے، الفاظ کے ان انتخاب کا مطلب معنوی وسعت ہے۔ مزید برآن حکمت کا ایک خاص طریقہ یہ بھی ہے کہ جب کسی لفظ کے معنی میں زیادہ سے زیادہ وسعت پیدا کرنا مقصود ہو، تو اس لفظ کے لغوی معنی کو ایک موزون ترین مثال کی صورت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے ایسے لفظ کے معنی زیادہ سے زیادہ ہو جاتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ کائنات و موجودات کے بہت سے حقائق ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں، اندران حال یہ مثال یکسان طور پر بہت سے حقائق کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔
اسی طرح لفظِ ہدایت بھی ایک مثال ہے، جس کے لغوی معنی کسی شخص کو دنیاوی طور پر ایک مقام سے دوسرے مقام تک راستہ دکھانے کے ہیں، چنانچہ دین میں بھی ایک ایسی کیفیّت ہے، جو اس دنیاوی راستہ دکھانے کی کیفیّت سے ملتی جلتی ہے، وہ دین و دنیا کے متعلّق ایک ایسی باطنی یا ظاہری تعلیم ہے، جس کے ذریعے انسانوں کو ایک درجے سے دوسرے درجے میں بڑھاتے ہوئے آخری حد تک خدا سے ملا دیا جاتا ہے، پس دینِ حق کی مثال سیدھے راستے سے دی گئی، حقیقی تعلیم دینے والے کی مثال راستہ دکھانے والے سے دی گئی، اور تعلیم کی مثال راستہ دکھانے سے دی گئی۔
۶۴
۱۶۔ سیدھا راستہ:
قرآنِ حکیم کی وہ اوّلین مثال، اور سب سے پہلی دعا، جس میں سارے مسلمین اللہ تعالیٰ سے یہ تعلیم و توفیق طلب کرتے ہیں کہ انہیں دینِ حق کی معرفت حاصل ہو جائے، اور وہ اس میں آگے بڑھ سکیں، انہی الفاظ سے شروع ہو جاتی ہے:
” اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ (اے اللہ) ہمیں سیدھا راستہ دکھائیے۔” (۰۱: ۰۵) یعنی اے اللہ! ہمیں حقیقی اسلام کی تعلیم و توفیق کے ظاہری و باطنی ذرائع سے بہرہ مند فرمائیے، تا کہ ہم ان تمام نئے مسائل کو حل کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیں، جو زمانہ کے حالات اور واقعات سے یا ذہنی ترقی سے پیدا ہوتے ہیں، سیدھا راستہ دیکھ پانے اور اس پر چل سکنے کے لئے اس مقام پر جو تعلیم، توفیق، اور ہمت طلب کی جا رہی ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ فی الواقع دینِ حق ایک انتہائی سیدھے راستے سے ملتا جلتا ہے، جس کی طول و مسافت باعتبارِ روحانی ارتقاء ازل سے ابد تک ہے، باعتبارِ جسمانی ارتقاء دورِ آدم سے قیامت تک ہے، باعتبارِ ہر امت ایک صاحبِ شریعت سے دوسرے صاحبِ شریعت کے آنے تک، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آمد سے قیامت تک ہے، شخصی زندگی کے پیشِ نظر سیدھے راستے کی طول و مسافت ہر شخص کی پیدائش سے اس کی موت تک، اور تصوّف و حقیقت کے پیشِ نظر ہر شخص کی پیدائش سے اس کی خود شناسی کے وقت تک ہے۔
۶۵
پس معلوم ہوا کہ دینِ حق ایک سیدھے راستے سے مشابہت رکھتا ہے، جس کو دیکھ پانا اور اس پر چلنا جس قدر آسان ہے اسی قدر مشکل بھی ہے، آسان اس لئے ہے کہ اس ذاتِ یگانہ نے جس کی مہربانیوں کی تعریف و توصیف الحمد سے لے کر نستعین تک کی گئی ہے، اپنی عنایت و رحمت سے اس سیدھے راستے کو دیکھ پانے اور اس پر چلنے کے تمام ذرائع پیدا کئے ہوئے ہیں، اور اس سلسلے میں ذرہ بھر بھی کوئی کمی نہیں، اور مشکل اس لئے ہے کہ ایک بڑا زبردست مکار، پرحیلہ اور جادوگر دشمن یعنی شیطان جو کبھی تو انسان کے بھیس میں نظر آتا ہے، اور کبھی جنّات کے لباس میں چھپ جاتا ہے، اسی سیدھے راستہ پر ہی تاک لگا کر بیٹھا ہے، تا کہ وہ اپنی بےشمار سوار اور پیادہ افواج کی مدد سے اس راستے کی طرف رخ کرنے والوں پر، نیز اس پر چلنے والوں پر یکایک حملہ کر سکے، اور ہر گروہ اور ہر فرد کو اس راستے سے بھگا سکے، اس مطلب کے لئے سورۂ الاعراف رکوع دوم (۰۷: ۲۰۲) اور سورۂ بنی اسرائیل رکوع ہفتم کی تعلیم پر غور کیجئے۔
جب یہ حقیقت مانی گئی کہ شیطان ہمیشہ دنیا میں موجود ہے، اور وہ قیامت تک لوگوں کو سیدھے راستے سے گمراہ کرتا رہے گا، تو عدلِ الٰہی کے قانون سے یہ لازم آتا ہے کہ اس کے برعکس ہمیشہ دنیا میں ایک ایسا ذریعہ بھی موجود ہو، جو لوگوں کو قیامت تک راہِ راست کی ہدایت کرتا رہے، یہ ذریعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اور
۶۶
اس کی آل یعنی امامِ زمانؑ ہے، جو نبیؐ و علیؑ کا نور ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (۱۳: ۰۷) اے محمد! آپ صرف ڈرانے والے ہیں، اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہوا کرتا ہے۔” تو ظاہر ہے کہ ڈرانا (جو ظہورِ معجزات اور نزولِ بلیات یا خالص تبلیغ کے ذریعے ممکن ہوتا ہے) پیغمبروں کا کام ہے، اور ظاہر و باطن کی پوشیدہ ہدایت اماموں کا کام ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جب تک دنیا میں کوئی قوم رہتی ہے، تب تک ہادی موجود اور حاضر ہے، اس لئے کہ مذکورہ آیت کے بموجب ہادی اور قوم یعنی اہلِ زمانہ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں، اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ آپ تو صرف قرآن اور اپنی سنّت کے ذریعے اپنی قوم کو قیامت تک ڈرانے والے ہیں، مگر اس قوم کی ہدایت تو ہادی ہی کرے گا، یعنی علیؑ اور اس کی اولاد کے أئمّۂ کرام یہ کام انجام دیں گے۔
۱۷۔ مختلف راستے:
صراطِ مستقیم یعنی سیدھے راستے کے سوا جو دوسرے مختلف راستے ہیں، وہ ٹیڑھے اور تکلیف دہ ہونے کے علاوہ منزلِ مقصد کی طرف بھی نہیں جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود ان راستوں پر چلنے والوں کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ ان راستوں سے ہٹ کر
۶۷
شاہراہِ مستقیم پر گامزن ہو جائیں، چنانچہ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے: ” وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآىٕرٌؕ-وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ (۱۶: ۰۹) اور سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے، اور اسی سے (نکل جانے کے) ٹیڑھے راستے بھی ہیں، اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو مقصود تک پہنچا دیتا۔”
۱۸۔ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام:
ام الکتاب میں خدا کی جس بڑی نعمت کا یا جس بڑے انعام کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے وہ سیدھے راستے کی ہدایت ہے، اس لئے کہ ہدایت کے معنی میں علم، معرفت، حکمت، اور خدا کی خوشنودی پوشیدہ ہیں، ہدایت عقل اور روح کی روشنی کا نام ہے، اور ہدایت خدا کے نور تک راستہ پانے کا نام ہے، چنانچہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے: ” یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ (۲۴: ۳۵) اللہ تعالیٰ اپنے نور تک جس کو چاہتا ہے راہ دے دیتا ہے۔” یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے امامِ زمانؑ کی معرفت عطا فرماتا ہے، کہ امامِ زمانؑ ہی خدا کا نور ہے، اور امامِ زمانؑ ہی کے ذریعے خدا کی ظاہری و باطنی ہدایت لوگوں کو مل سکتی ہے۔
۶۸
۱۹۔ وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا:
یہ سیدھا راستہ اور اس کی ہدایت ان لوگوں کے لئے ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے، اور وہ پانچ گروہ ہیں:
۱۔ نبیّین
۲۔ صدّیقین
۳۔ شہداء
۴۔ صالحین
۵۔ تابعین
(النساء کی آیت ۶۹ ملاحظہ ہو، ۰۴: ۶۹)
یعنی ناطقان، اساسان، أئمّہ، حجّتان اور داعیان، یہی ہیں وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے، اور یہی لوگ دوسروں کے لئے سیدھے راستے کی ہدایت کر سکتے ہیں، کیونکہ جو لوگ خود ہدایت یافتہ ہیں، وہی لوگ دوسروں کی بھی ہدایت کر سکتے ہیں، اس آیت میں جس کا یہاں صرف خلاصہ لیا گیا ہے، پہلے ناطقوں کا نام آیا ہے، ان کے بعد صدّیقین یعنی اساسوں کا نام لیا گیا ہے، اس لئے کہ ہر ناطق کی تنزیل کی تصدیق کے لئے ایک صدیق یعنی اساس ہوا کرتا ہے، جو اپنی تاویل کے ذریعے اس تنزیل کی تصدیق کرتا ہے، ان کے بعد اماموں کا ذکر کیا گیا ہے، اور اماموں کو یہاں گواہ (شہداء) کہا گیا ہے، کیونکہ ہر امام اپنے زمانے کے لوگوں پر
۶۹
گواہ ہوتا ہے، اور کوئی وقت ایسا نہیں جس میں امامِ زمانؑ حاضر اور گواہ نہ ہو، پھر حجّتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ صالحین سے مراد روئے زمین کے بارہ حجّت ہیں، جو دنیا بھر میں امامِ زمانؑ کی ہدایت کے بموجب اصلاح کرتے ہیں، پھر دعاۃ کا ذکر ہوا ہے، کیونکہ تابعین سے مراد دعاۃ ہیں، جو ان چاروں جسمانی حدود کی تابعداری کرتے ہیں، نیز یہی دعاۃ ہی ہیں جو لوگوں سے امامِ زمانؑ کی تابعداری اور بیعت لیتے ہیں۔
پس یہی لوگ ہیں جو راہِ راست پر ہدایت یافتہ ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے مقرر کئے گئے ہیں، اور اس دعا میں لوگوں کو انہی سے ہدایت حاصل کرنے اور انہی کے راستے پر چلنے کی تعلیم دی جاتی ہے: “صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ۔ (۰۱: ۰۶) ہمیں ان لوگوں کا راستہ دکھا دیجئے جن پر آپ نے انعام فرمایا ہے۔”
۲۰۔ غضبِ الٰہیہ کسے کہتے ہیں؟
ام الکتاب میں دوسرے بہت سے ضروری عنوانات کے ساتھ خدا کے غیض و غضب کا عنوان بھی ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ قرآنِ حکیم کے مضامین میں سے ایک اہم مضمون خدا کے غصہ و غضب کے متعلق ہے، پھر ہمیں یہاں اس کے بارے میں کچھ مختصر بیان کر دینا چاہئے، وہ یہ ہے کہ خدا کا غضب خدا کی ذاتِ پاک
۷۰
سے وابستہ نہیں، بلکہ وہ قانونِ الٰہی میں شامل ہے، اور قانونِ الٰہی کائنات و موجودات کی مجموعی فطرت کا نام ہے، اور اسی فطرت کا خلاصہ انسان ہے، پس انسانی فطرت قانونِ الٰہی کے ایک نمونے اور ایک کتاب کی حیثیت سے ہے، بالفاظِ دیگر انسان کے اندر قانونِ الٰہی موجود ہے، اور یہ قانون خودکار قسم کا ہے، یعنی یہ “Automatic Law” ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار سے جو کچھ نیت کرتا ہے، جو کچھ کہتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے تو اس کے اچھے یا برے اثرات اور نتائج سب سے پہلے اور اخیر میں خود اسی پر واقع ہوتے ہیں۔
پھر آپ لازماً یہ سوال کریں گے کہ اگر حقیقت یہی ہے کہ انسان کو نیکی اور بدی دونوں پر برابر اختیار حاصل ہے، اور وہ اپنی مرضی سے نیکی یا بدی جو کچھ کرتا ہے، قانونِ الٰہی اس کو اس نیکی اور بدی کا بدلہ دیتا جاتا ہے، تو پھر خدائے تعالیٰ کی ننانوے یا کہ سو صفات کے افعال کس مخلوق پر واقع ہوتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ انسان اس اختیار سے جو خدا نے اسے عطا کر دیا ہے جتنی نیکی کر سکتا ہے اتنی بدی بھی کر سکتا ہے، اندران حال مناسب یہ تھا کہ اس کو نیکی اور بدی دونوں کا برابر بدلہ ملے، مگر فی الواقع ایسا نہیں ہوتا بلکہ بدی کا بدلہ اس کی بدی ہی کے برابر دیا جاتا ہے، اور نیکی کا بدلہ اس کی نیکی سے دس گنا زیادہ دیا جاتا ہے، تو ظاہر
۷۱
ہے کہ اس میں نو گنا بدلہ اللہ کی صفات کی بدولت ہے، اور باقی ایک بدلہ انسان کے اختیار کی وجہ سے ہے، چنانچہ قولِ قرآن کی شہادت ہے: “جو شخص نیک کام کرے گا اس کو دس گنا بدلہ ملے گا، اور جو شخص برا کام کرے گا سو اس کو اس کے برابر سزا ملے گی، اور ان پر ظلم نہ ہو گا (۰۶: ۱۶۰)۔
اس بیان سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے صفات میں غیض و غضب کا کوئی مستقل نام نہیں، اور جو قاہر یا قہار کا اسم ہے اس میں غضب و غصے کے معنی نہیں بلکہ اس کے معنی غالب آنے کے ہیں، اور اگر لوگ لفظِ قہر کو غصہ یا غضب کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، تو یہ لوگوں کی غلط عادت کی بات ہے۔
اب یہ حقیقت پایۂ ثبوت پر آ گئی کہ غضبِ الٰہیہ ایک اٹل قانون کی حیثیت سے انسان کی فطرت میں پوشیدہ ہے، اور وہ انسان کی اپنی جہالت اور غفلت کی صورت میں ہے، چنانچہ جو فرد یا قوم خدا کے امر کی تابعداری نہ کرے، اور اس کی بندگی سے منہ موڑے، تو اس کو لازماً وہ علم نہیں ملے گا جو اس امر میں پوشیدہ تھا، اور اس کی روح کو وہ خوراک نہیں ملے گی جو اس عبادت میں پنہان تھی، پس اس کی جہالت اور غفلت بڑھ جائے گی، یہاں تک کہ اس کی عقل اور روح مسخ ہو جائے گی، یعنی اس میں حقیقی علم و دانش حاصل کرنے کی، اور ذکر و عبادت سے حظ اٹھانے کی جو
۷۲
صلاحیت موجود تھی، وہ یکسر ختم ہو جائے گی، درحالیکہ وہ شکل و صورت میں انسان ہی رہے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ (۳۶: ۶۷) اور اگر ہم چاہتے تو ان کو اپنی جگہ پر ہی مسخ کر ڈالتے، جس سے یہ لوگ نہ آگے کو چل سکتے، اور نہ پیچھے کو لوٹ سکتے۔” یعنی اگر ہم چاہتے تو ان کو انسانی جسم ہی میں مسخ کرکے کسی جانور کی خاصیت و عادت میں بدل ڈالتے، جس سے وہ لوگ نہ تو انسانیت کی کوئی ترقی کر سکتے، اور نہ اپنے بچپن کے اس مقام کی طرف لوٹ سکتے، جہاں پر ان کی فطری صلاحیتیں کھو گئی ہیں۔
۲۱۔ گمراہی:
سورۂ فاتحہ کا یہ بیان ہے کہ ہر زمانے کے لوگ دین و آئین کے اعتبار سے چار بڑے گروہوں میں منقسم ہوتے ہیں، جن میں سے پہلا گروہ وہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص عنایتوں سے ہدایت یافتہ ہے، صراطِ مستقیم پر خود چلتا ہے، اور دوسروں کو بھی اس سیدھے راستہ پر چلنے کی ہدایت کر سکتا ہے، دوسرا گروہ وہ ہے جو صراطِ مستقیم پر چلنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اس کے لئے ہمیشہ دعا کرتا رہتا ہے، تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن پر خدا کا غصہ و غضب واقع ہوا ہے، اب انہوں نے جو راستہ اختیار کر
۷۳
لیا ہے وہ ایسا نہیں کہ صراطِ مستقیم سے جا ملے، اور چوتھا گروہ ان لوگوں کا ہے جو راہِ راست سے گم ہو گئے ہیں، اور اب وہ جس راستے پر چل رہے ہیں، وہ اس قابل نہیں کہ منزلِ مقصود تک پہنچ جائے۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: “غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۔ نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گیا ہے، اور نہ ان لوگوں کا جو راہِ راست سے گم ہو گئے ہیں۔” (۰۱: ۰۷)
فصل صلوٰۃ کے الفاظ کے بارے میں
“سجد وجھی الیک۔ اے اللہ! میری نیت، توجہ، اور چہرے نے تیرے حضور میں عاجزی اور خاکساری سے سجدہ کیا۔” سجدہ کے معنی عاجزی و خاکساری سے جھکنے کے ہیں۔ وجہ کے معنوں میں سے یہاں نیّت، توجہ، اور چہرہ مقصود ہے، اور الیک کا ترجمہ یہاں “تیرے حضور میں” درست ہے۔ “و توکلت علیک۔ اور میں نے تجھ پر ہی توکل کیا” یعنی اپنے اختیار سے بالاتر امور کو تیرے ہی سپرد کر دیا، اور تجھ پر ہی بھروسہ کیا۔ “منک قوّتی۔ تجھ ہی سے میری قوّت مہیا ہوتی ہے۔” یعنی اگر میں اپنے دائرۂ اختیار میں روحانی و جسمانی طور پر کچھ کر سکتا ہوں، تو یہ بھی تیرے ہی دیئے
۷۴
ہوئے ذرائع سے ہے۔ “و انت عصمتی یا ربّ العالمین۔ اور تو ہی میری پناہ اور بچاؤ ہے، اے پروردگارِ عالمین!” یعنی اپنی روحانی و جسمانی ہدایت اور معجزانہ قدرت کے ذریعے گناہوں اور بلاؤں سے مجھے محفوظ رکھنے والا تو ہی ہے، کیونکہ تو عالموں کا پالنے والا ہے، اور پالنے والے کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جو زیادہ حاجت مند ہو اور جو زیادہ رویا کرے، وہ اسی کی زیادہ پرورش و حفاظت کرتا رہتا ہے۔
“اللھم صل علیٰ محمد المصطفیٰ ۔ اے اللہ! تو رحمت نازل فرما، اپنے برگزیدہ محمد (رحمت للعالمین ۲۱: ۱۰۷) کے وسیلے سے” جس کو تو نے دنیا جہان والوں کے لئے رحمتِ کل کی حیثیت سے بھیجا ہے۔ “و علیٰ علی المرتضیٰ۔ اور اپنے پسندیدہ علی کے وسیلے سے۔” جس کو تو نے الکوثر کا خطاب دے کر حضرت محمدؐ کا فرزند قرار دیا ہے۔ “و علی الائمۃ الاطہار۔ اور سارے پاک و برحق اماموں کے وسیلے سے” جو حضرت محمدؐ اور الکوثر (علیؑ) کی نورانی و جسمانی اولاد ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہی أئمّہ علیہم السّلام کو رسولِ اکرمؐ کی اولاد، اس کے حقیقی وارث و جانشین، اور اس کے نورِ ہدایت کے حامل قرار دیتے ہوئے سورۃ الکوثر میں اس کافر کے قول کی تردید فرمائی ہے، جس نے کہا تھا کہ محمدؐ کی کوئی مردانہ اولاد نہیں ہے، اور اس کافر کا نام بعض روایتوں میں عاص
۷۵
بن وائل تھا، بعض میں ہے کہ یہ شخص عقبہ بن ابو معیط تھا، اور ابنِ عباس وغیرہ کا قول ہے کہ یہ بات کعب بن اشرف اور جماعتِ قریش سے تعلق رکھتی ہے۔
“و علیٰ حجۃ الامر صاحبِ الزمان و العصر امامنا الحاضر الموجود مولانا شاہ کریم الحسینی۔ اور رحمت نازل فرما ہمارے حاضر و موجود امام مولانا شاہ کریم الحسینی کے وسیلے سے، جو تیرے امر کی حجت (دلیل) اور زمانہ ظاہر و عصرِ باطن کے مالک ہیں” امر کی حجّت کی تشریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی زمانے میں بھی اس جہان کو ہادی سے خالی نہیں رکھا ہے، کیونکہ خدا اہلِ زمانہ کے درمیان اگر کوئی ہادی مقرر نہ فرماتا تو قیامت کے دن لوگ یہ کہا کرتےکہ اے پروردگار! ہمارے زمانے میں آپ کی طرف سے کوئی ہادی حاضر و موجود نہ تھا، اور ہم آپ کی کتاب کا آخری مقصد نہیں سمجھ سکتے تھے، تو اس صورت میں ان کا یہ کہنا از روئے عدل صحیح ہو گا، اور اس کی دلیل و حجّت (جواب دہی) خدا پر رہے گی، مگر حقیقت یہ ہے کہ دلیل و حجّت تو لوگوں ہی پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں لوگوں کی ہدایت کے لئے کوئی نہ کوئی رسول بھیجا ہے، پھر اس کا کوئی حقیقی جانشین مقرر کر دیا ہے، تا کہ رسولوں کے بھیجے جانے، یا ان کے جانشین مقرر کئے جانے کے بعد خدا پر لوگوں کی کوئی دلیل و حجّت (جواب دہی) باقی نہ رہ جائے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
۷۶
“لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِؕ (۰۴: ۱۶۵) تا کہ رسولوں کے بھیجے جانے کے بعد خدا پر لوگوں کی کوئی جواب دہی باقی رہ نہ جائے۔” چنانچہ رسولِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد سے قیامت تک ہر زمانے کا امام اپنے وقت میں حجّۃ الامر ہے، یعنی امامِ زمانؑ لوگوں پر خدا کے امر اور ہدایت کی حجّت ہے، اس لئے فردائے قیامت خدا پر لوگوں کی کوئی حجّت باقی نہیں۔ عصرِ باطن اس روحانی وقت کا نام ہے جو اس زمانۂ ظاہر سے بحیثیتِ روح وابستہ ہے، بالفاظِ دیگر عصر اس روحانی دور کا نام ہے، جو اس جسمانی دور کے اندر پوشیدہ ہے، اور جب یہ دور ختم ہو جائے تو وہ دور ظاہر ہونے لگے گا، جس طرح رات ختم ہونے پر دن ظاہر ہو جاتا ہے، عصر کی کچھ حقیقت سمجھانے کی مثال یہ ہے کہ غالباً آپ نے کسی وقت کسی بڑی نیکی یا کسی اچھی عبادت کے نتیجے پر کوئی نہ کوئی نورانی خواب دیکھا ہو گا، جس میں آپ نے ضرور دیکھا ہو گا کہ آپ کے عالمِ خواب کا وقت اس دنیا کے ظاہری وقت سے قطعاً مختلف تھا، ہو سکتا ہے کہ آپ نے ایسے کسی نورانی خواب میں بغیر موسم کے بہار دیکھی ہو، وہ عصر ہی ہے، اب بیداری کی ایک مثال سے عصر کی حقیقت سمجھائی جاتی ہے، فرض کیجئے کہ ایک سچا درویش یا ذاکر فقیر ہے، یا کوئی صوفیٔ حقیقت یا حقیقی مومن ہے، اور اس نے نیک کاموں کے ساتھ ساتھ عبادت اور معرفت میں یہ کمال
۷۷
حاصل کر لیا ہے کہ وہ جب بھی ظاہری آنکھیں بند کر کے باطنی آنکھوں سے دیکھنے لگتا ہے، تو ایک نورانی عالم اس کے سامنے موجود پایا جاتا ہے، اب اس نورانی عالم میں جو وقت ہو گا، وہ یہ وقت نہیں ہو گا، جو اس شخص کے جسم پر گزر رہا ہے، پس وہ وقت عصرِ باطن ہی ہے جس کی جلالت و عظمت کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھاتا ہے: وَ الْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ (۱۰۳: ۰۱ تا ۰۲) قسم ہے عصر کی کہ انسان (بوجہِ غفلت عصر کے معاملے میں) بڑے خسارے میں ہے۔” “اللھم لک سجودی و طاعتی۔ اے اللہ! میرے سجدے اور طاعت و فرمانبرداری تیرے ہی لئے ہیں۔”
فصلِ صلوٰۃ کے معنی کے بارے میں
صلوٰۃ کی تفسیر میں اختلافات پائے جاتے ہیں، اس سلسلے میں ہم اپنے خیالات ظاہر کرنے سے پہلے یہاں پر فرمان علی صاحب کے ترجمۂ قرآن کے حاشیے کی ایک نقل درج کرتے ہیں، وہ یہ ہے:
۷۸
“میں نے ترجمہ میں لفظِ آل بڑھا دیا ہے (یعنی شک نہیں کہ خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر اور ان کی آل پر درود بھیجتے ہیں) اس کی چند وجہیں ہیں:
۱۔ امام رازی نے اس کا اقرار کیا ہے کہ حضرت کے اہلِ بیت پانچ چیزوں میں آپ کے برابر ہیں، منجملہ تشہد میں ان پر درود بھیجنا۔
۲۔ شجرِ اسلام کی شادابی سے قبل ملائکہ نے حضرت علیؑ پر مدتوں درود بھیجا۔
۳۔ مناقبِ مرتضوی میں انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا کہ آپ فرماتے تھے مجھ پر اور علی پر ملائکہ نے سات مرتبہ درود بھیجا۔
۴۔ سنن ابی داؤد میں ابن ابی شیبہ سے روایت ہے، اور اس کی تصحیح ترمذی حاکم ابو القاسم، ابنِ خزیمہ اور ابنِ مسعود بدری نے کی ہے، کہ لوگوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا، آپ کو سلام کرنا تو ہم جانتے ہیں، مگر ہم آپ پر درود کیونکر بھیجیں؟ آپ نے فرمایا یوں کہو:
اللھم صل علی محمد و علیٰ آل محمد کما
۷۹
صلیت علی ابراہیم و علیٰ آل ابراہیم ۔
۵۔ مواہبِ لدنیہ میں ہے کہ حضرت رسول نماز میں یوں فرماتے تھے: اللھم صل علی محمد و آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و آل ابراہیم۔
۶۔ صواعقِ محرقہ میں ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: لا تصلوا علیٰ صلوٰۃ بترا۔ مجھ پر ناقص درود نہ بھیجا کرو، لوگوں نے عرض کی، ناقص درود کیا ہے؟ فرمایا: اللھم صل علیٰ محمد کہا کرنہ رہ جاؤ، یہ ناقص ہے، بلکہ یوں کہو: اللھم صل علی محمد و آل محمد۔
۷۔ ان سب سے قطع نظر کر کے خود قرآن میں “سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ (۳۷: ۱۳۰) موجود ہے، اور یہ واضح ہے کہ یاسین حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خطاب ہے۔ لہٰذا آلِ یاسین سے مراد آلِ محمدؐ ہے۔
۸۔ اس کے علاوہ آیۂ هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىٕكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِؕ-وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا (۳۳: ۴۳) اور علامہ زمخشری کے
۸۰
قول کے مطابق جب عام مومنین پر درود بھیجنا چاہئے تو حضراتِ اہلِ بیتؑ ان سے زیادہ اولیٰ ہیں۔
۹۔ امام شافعی نے کیا خوب کہا ہے: قطعہ
یا اہل بیت رسول اللہ حبکم
فرض من اللہ فی القرآن انزلہ
کفاکم من عظیم القدر انکم
من لم یصل علیکم لا صلوٰۃ لہ
ترجمہ: اے اہلِ بیتِ رسولؐ! خدا نے تمہاری محبّت قرآن میں فرض کر دی ہے، تمہارے مرتبہ کی بزرگی میں اسقدر کافی ہے کہ نماز میں جو شخص تم پر درود نہ بھیجے، اس کی نماز ہی صحیح نہیں۔ دیکھو تفسیرِ درِ منثور جلد ۵ صفحہ ۲۱۶ مطبوعہ مصر وغیرہ۔”
یہاں تک فرمان علی صاحب کا مذکورہ حاشیہ درج ہوا۔
صلوٰۃ کے بارے میں میرا کہنا یہ ہے کہ بے شک مذکورہ اقوال سے آلِ رسول کی فضیلت و مرتبت کی تصدیق ہوئی، اور حضرتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نام کی معیّت میں ان کے نام پر صلوٰۃ پڑھنا فرض ثابت ہوا، مگر اب یہ سمجھ لینا باقی ہے کہ ہم حضرتِ رسولؐ اور آلِ رسولؐ کے لئے کن معنوں میں صلوٰۃ پڑھیں؟ کیا یہ صحیح ہے کہ ہم صلوٰۃ کے معنی میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی رحمت طلب کرتے ہیں جو صرف ہماری ہی طلب سے ان کو میسر آ سکتی ہے؟
۸۱
اگر یہی صحیح ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس عالمگیر ارشاد اور دور رس فرمان کا مطلب کیا ہو گا؟ “وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (۲۱: ۱۰۷) اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے لئے نہیں بھیجا، مگر دنیا جہان کے لوگوں پر رحمت (مہربانی) کرنے کے لئے۔” حق بات تو یہ ہے کہ جب ہم حبیبِ خدا، سرورِ انبیا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، رحمۃ للعالمین اور آنحضرتؐ کی پاک آل کے نام پر بطورِ تعظیم صلوٰۃ پڑھا کرتے ہیں، تو ان کے وسیلے سے ہم اپنے ہی لئے خدا کی رحمت طلب کرتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (۳۳: ۵۶) بےشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی محمدؐ (اور اس کی آلؑ) کے وسیلے سے رحمت بھیجا کرتے ہیں، ایمان والو! تم (بھی) انہی کے وسیلے سے رحمت طلب کر لیا کرو، اور (اس مقصد کے لئے) پوری طرح سے ان کی تابعداری کرتے رہو۔”
آیۂ بالا کی معنوی تحقیق اس طرح کی جا سکتی ہے کہ ہم سب سے پہلے یصلون اور صلوا دونوں الفاظ کے مصدر “صلوٰۃ” کو سامنے رکھیں، جس کے معنی نماز، دعا، اور رحمت کے ہیں، پس اسی مصدر کی اساس پر یصلون کے معنی یہ ہوں گے: وہ نماز پڑھتے ہیں، دعا کرتے ہیں، یعنی مانگتے ہیں، رحمت طلب کرتے ہیں، رحمت
۸۲
بھیجتے ہیں، لیکن اس پر سب لوگ متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نہ تو کسی کے لئے نماز پڑھتا ہے، نہ کسی سے دعا کرتا ہے، اور نہ کسی سے کوئی رحمت طلب کرتا ہے، بلکہ اس کے یہی معنی درست ہیں کہ وہ اپنی طرف سے فرشتوں کے ساتھ اور محمدؐ و آلؑ کے وسیلے سے مومنین پر رحمت بھیجا کرتا ہے، پس یصلون میں یہی مطلب پوشیدہ ہے، اس کے برعکس اگر ہم یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے بھی اللہ ہی کی طرح رحمت بھیجتے ہیں، تو سوال پیدا ہو گا کہ فرشتوں کی یہ رحمت کہاں سے آئی؟ نیز یہ کہ فرشتے یہ رحمت کس کے ساتھ بھیجا کرتے ہیں؟ جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت فرشتوں کے ساتھ بھیجا کرتا ہے۔
جب یہ ثابت ہوا کہ یصلون کے معنوں میں سے یہاں صرف وہی معنی مراد ہیں، جو خدا کے فعل کے عین مطابق ہیں، پھر اسی دلیل پر یہاں صلوا سے بھی وہی معنی مراد ہیں، جو ایمان والوں کے عقیدے کے عین مناسب ہیں، پس یہاں صلوا کا امر رحمت طلب کرنے کے لئے ہے، رحمت بھیجنے کے لئے نہیں، کیونکہ آیۂ مذکورہ کے شروع میں یہ ذکر آ چکا ہے، کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے کسی کی درخواست یا سفارش کے بغیر ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اس کی آلِ پاکؑ کی طرف رحمت کافیّہ بھیجتے ہیں، تا کہ ایمان والے ان کی پوری طرح سے فرمانبرداری کرتے ہوئے یہ رحمت
۸۳
طلب اور حاصل کر سکیں۔
اب لفظِ “علیٰ” کو لیجئے، جس کے معنی مختلف محاورات میں مختلف ہوا کرتے ہیں، یعنی بعض دفعہ یہ نہیں ہوتا کہ “علیٰ” کے معنی “پر” ہو کر مطلب اسی پر ختم ہو جائے، جس کے آگے لفظ “علیٰ” آیا ہے، بلکہ مطلب جاری رہتا ہے، چنانچہ اس ارشاد میں “علیٰ” کی ایک مثال ملاحظہ ہو:
“ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ (۸۸: ۲۶) پھر ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔” اس مثال میں اگرچہ “علیٰ” اسمِ ضمیر “نا” کے ساتھ آیا ہے، مگر یہ یہاں لفظِ حساب کے معنی کو “ھم” کی طرف جاری رکھتا ہے، یعنی اس آیت کا ترجمہ یوں نہیں: “پھر ان کا حساب ہم پر ہے” صلوٰۃ کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہے۔
۸۴
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصۂ دوم
آیۂ اطاعت کے رموز
“یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا۔ اے ایمان والو!” یعنی اے امتِ محمدیہؐ کے خواص و عوام! جو نزولِ قرآن سے قیامت تک کے زمانوں میں ہو۔ “اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ (۰۴: ۵۹) اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور اولی الامر کی فرمانبرداری کرو، جو تم میں سے ہیں۔” اس آیۂ مقدّسہ کے رموز کی توضیح یہ ہے کہ مذکورہ آیت کے اعتبار سے اطاعت تین طرح کی ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی کے خلاصے سے اطاعتِ خدا، اطاعتِ رسول اور اطاعتِ اولی الامر ظاہر ہیں، اطاعتِ خدا
۸۵
(اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری) کائنات کے اٹل قوانین، نظامِ فطرت کے اصولات اور انسانوں کے مشترکہ ضابطۂ حیات پر مشتمل ہے، اندران حال دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب والے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے ہیں، یا یہ کہو کہ اس اخلاقی فرمانبرداری کے لئے تو سب لوگ قائل ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو پسندیدہ امور اسلام سے پہلے بھی موجود تھے، ان پر ایمان والوں کاعمل کرنا ہی قرآنی اصطلاح میں خدا کی اطاعت ہے، پھر یہ اخلاقی فرمانبرداری ہوئی، اطاعتِ رسول ان خاص دینی امور میں ہے، جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے دینِ اسلام کے نام سے اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وساطت سے دنیا والوں کے لئے نافذ فرمایا، جن پر عمل کرنا خدا کی ایک ایسی اطاعت ہے جس کو لوگ صرف رسول ہی کی وساطت سے کر سکتے ہیں، پس اطاعتِ رسول کا دوسرا نام دینی فرمانبرداری ہوا۔ اطاعتِ اولی الامر اس نورانی اور دائمی ہدایت سے وابستہ ہے، جو ہر زمانے کے امام میں پائی جاتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا: “اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (۱۳: ۰۷) اے محمد! آپ صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہوا کرتا ہے۔” یعنی آپ کا کام صرف ظاہری اور وقتی طور پر ڈرانا ہے اور ہر قوم میں ایک ہادی ہوا کرتا ہے، چنانچہ آپ کی قوم میں بھی ہمیشہ
۸۶
کے لئے ہادی ہوا کرے گا، پس ہادی یعنی صاحبِ امر کی اطاعت روحانی فرمانبرداری ہوئی۔
اس حکمت آگین آیت سے اب یہ نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں:
۱۔ مذکورہ ارشاد نے دینی امور کو دو قسموں میں منقسم کر دیا، جن میں سے ایک قسم کے امور کا تعلّق انذار یعنی ڈرانے سے ہے، اور دوسری قسم کے امور کا تعلق ہدایت سے ہے۔
۲۔ منذر یعنی پیغمبر جو خدا کی طرف سے لوگوں کو ڈراتا ہے، ڈرانے کے ظاہری و باطنی ذرائع سے کام لے سکتا ہے، خصوصاً ظہورِ معجزات اور نزولِ بلیّات سے، اور یہ سب کچھ اعلانیہ طور پر ہو سکتا ہے، مگر ہادی یعنی امام جو خدا کی طرف سے لوگوں کی روحانی ہدایت کے لئے مقرر ہے، نہ کسی طرح سے لوگوں کو ڈراتا ہے، نہ ہی کوئی ظاہری معجزہ اپنے نام پر ظہور میں لاتا ہے، اور نہ ہی بڑے پیمانے پر اعلانیہ تبلیغ کرتا ہے۔
۳۔ جس طرح منذر لوگوں کو پہلے دوزخ سے ڈرایا کرتا ہے، اس طرح ہادی ان کو بعد میں بہشت سے امید دلاتا ہے۔ پس اس اعتبار سے یہ معلوم ہوا کہ سب سے پہلے اخلاقی فرمانبرداری آتی ہے، جو خدا کی عام اطاعت ہے، اس کے بعد دینی فرمانبرداری ہے، جو رسول کی وساطت سے کی جا سکتی ہے، اور یہ اس عام اطاعت کے مقابلے میں خدا کی خاص اطاعت
۸۷
ہے، اور اخیرمیں روحانی اطاعت آتی ہے، جو ہادی یعنی صاحبِ امر کی وساطت سے کی جا سکتی ہے، اور یہ خدا کی خاص ترین اطاعت ہے۔
یہی وجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: اے ایمان والو! خدا کی فرمانبرداری کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو، اور اولی الامر کی فرمانبرداری کرو، جو تم میں سے ہیں۔ یعنی سب سے پہلے قرآنِ پاک کی ان سادہ اور آسان باتوں پر عمل کرنا چاہئے، جو واضح ہیں، جو ہر قوم اور گروہ کے نزدیک مسلّم اور واجب العمل ہیں، اور جن کے فائدہ بخش ہونے میں لوگوں کو کوئی شک ہی نہیں، تا کہ انسان اخلاقی طور پر آگے بڑھ سکے، اور دینِ اسلام کی بنیاد اس کی فطری صلاحیتوں اور اخلاقی قابلیتوں پر مستحکم ہو سکے، اور وہ اخلاقی قوانین کی مدد سے دینی قوانین کی حکمت کو اچھی طرح سے سمجھ سکے، اس طرح کی اخلاقی درستی کے بعد قرآنِ پاک کے ان ارشادات پر عمل کیا جائے، جن کا خاص تعلق دینِ اسلام اور حضرتِ رسول سے ہے، جن کی تشریح آنحضرتؐ نے اپنی سنتِ مطہرہ اور خاص حدیثوں سے کی ہے، اس کے بعد انسان کو چاہئے کہ قرآن کے ان فرمودات پر عمل کرے، جن کا خاص تعلق روحِ اسلام اور ہادی سے ہے، اور جن کی تشریح یعنی تاویل ہادیٔ زمانؑ کی روحانی و جسمانی ہدایت میں پائی جاتی
۸۸
ہے، مگر قرآن پاک کے ایسے فرمودات پر عمل اس وقت ہو سکتا ہے، جبکہ ہادی یعنی امامِ زمانؑ کی شناخت حاصل ہو، اور اس کی حقیقی فرمانبرداری کی جائے، چنانچہ اخلاقی فرمانبرداری خدا کی ہستی کے اقرار سے شروع ہو جاتی ہے، اور حضرت محمدؐ کی رسالت کا اقرار کرنا دینی فرمانبرداری کی ابتدا ہے، اسی طرح ہادیٔ زمانؑ کی شناخت اور اس کی ہدایت کے اقرار سے روحانی فرمانبرداری کا آغاز ہوتا ہے۔
امامِ زمانؑ کی روحانی فرمانبرداری کے سلسلے میں حقیقی مومن کو حضرت محمدؐ کے اس نور کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے، جس کی مثال آنحضرتؐ نے علم کے شہر اور حکمت کے گھر کے دروازے سے دی ہے، اسی طرح امامِ زمانؑ کی روحانی فرمانبرداری میں حقیقی مومن بحقیقت رسول کی فرمانبرداری کرتا رہتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کو علم و حکمت اور خدا کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے، کیونکہ امامِ زمانؑ ہی علیؑ کا نور اور حضرت محمدؐ کے علم و حکمت کا دروازہ ہے، پس معلوم ہوا کہ امامؑ ہی کی ہدایت سے خدا اور رسول کی حقیقی فرمانبرداری ہو سکتی ہے، یہی سبب تھا کہ آیۂ اطاعت میں خدا کی عام اور ظاہری فرمانبرداری یعنی اخلاقی فرمانبرداری سب سے پہلے لازم کر دی گئی، اس کے
۸۹
بعد رسولؐ کی دینی فرمانبرداری واجب ہوئی، اور اخیر میں أئمّۂ برحق کی روحانی فرمانبرداری فرض ہوئی، اور یہ تین قسم کی اطاعتیں ظاہری اور عام قسم کی تھیں، مگر باطنی اور خاص قسم کی اطاعت امامِ زمانؑ کی روحانی فرمانبرداری سے شروع ہو جاتی ہے، جو روحانی اور نورانی ہدایت کی صورت میں ہے، جس کی روشنی میں رسولِ برحقؐ کی وہ اطاعت کی جا سکتی ہے، جس کا تعلق علم و حکمت سے ہے، اور اخیر میں خدا کی اطاعت کی جا سکتی ہے، جس کا تعلق علمِ وحدت اور خدا شناسی سے ہے۔
“وَكُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ (۳۶: ۱۲) اور ہم نے تمام چیزیں امامِ ظاہرؑ کی ذات (نور) میں محدود کر دی ہیں۔” یعنی امامِ برحقؑ کے نورمیں کائنات و موجودات کی ہر چیز علمی صورت اور روحی وجود میں موجود ہے، نیز یہ کہ اس نور میں جو خدا اور اس کے رسول کا نور ہے، آسمان و زمین سموئی ہوئی ہے، چنانچہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے: “وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ (۰۲: ۲۵۵) اس کی کرسی سب آسمانوں اور زمینوں کو گھیرے ہوئے ہے۔”کرسی سے مراد نورِ ہدایت ہے، جس کے بارے میں ارشاد ہے: “اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ (۲۴: ۳۵) اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔” جب ہر چیز کے ظاہر و باطن میں خدا کا نور ہے تو انسانی عالم میں بھی خدا کا نور ہے، اور یہی نور
۹۰
امامِ مبین ہے، اور فرمایا: “وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًا (۷۸: ۲۹) اور ہم نے ہر چیز کو ایک کتاب میں گھیر رکھا ہے۔” کتاب سے بھی وہی امامِ مبین مراد ہے، جس کے نورِ ہدایت میں سب کچھ موجود ہے، اور فرمایا: “رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا (۴۰: ۰۷) پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔” اور اس رحمت و علم سے امامِ مبین کی روح اور اس کی عقل مراد ہے، جو نفسِ کلّ اور عقلِ کلّ کے نام سے ہے۔
اب ذرا عقل اور منطق کے اصول سے سوچئے اور انصاف سے بتائیے کہ کسی ایک بڑی سے بڑی چیز میں سب چیزیں آ جانی چاہئیں یا ہر چیز میں سب چیزیں آ جانی چاہئیں؟ اگر حقیقت یہی ہے کہ ہر چیز اپنے اندر تمام چیزوں کو سمو نہیں سکتی ہے، بلکہ ایک ہی چیز اپنے اندر تمام چیزوں کو سمو سکتی ہے، اور ایسی چیز سب سے بڑی اور سب سے زیادہ وسیع ہونی چاہئے، تو سمجھ لیجئے کہ روحانی موجودات کی بھی یہی مثال ہے، اور ان میں ایک انتہائی عظیم چیز ہے، یعنی ایک نہایت وسیع حقیقت ہے، جس میں دوسری تمام حقیقتیں سموئی ہوئی ہیں، چونکہ یہ اعلیٰ ترین حقیقت اپنے اندر بہت سے حقائق اور بہت سی مثالیں پوشیدہ رکھتی ہے، اس لئے کلام کے موضوع میں جس قسم کی مثال اور جیسا اشارہ مقصود ہو، اسی قسم کے الفاظ یا کلمے میں اس حقیقتِ کلّ کا ذکر آتا ہے، تا کہ عقل و دانش والے اس حقیقتِ واحدہ کے تحت
۹۱
دوسرے تمام ضروری حقائق بھی سمجھ سکیں، اور دوسرے بہت سے لوگ صرف ان مثالوں کے ماحول ہی سے خوش ہوتے رہیں۔
بعض لوگ امامِ مبین کے معنی لوحِ محفوظ بتاتے ہیں، لیکن ان کا یہ ترجمہ صحیح نہیں، کیونکہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ لفظِ امام کے معنی لوح اور مبین کے معنی محفوظ کے ہیں، اس لئے امامِ مبین کا ترجمہ لوحِ محفوظ ہوا تو یہ کسی بھی لغوی اصول سے درست ہو نہیں سکتا، جس کی نمایان وجہ لفظی تضاد ہے، وہ یہ کہ محفوظ کے معنی نگاہ داشت اور پوشیدہ داشتہ (پوشیدہ رکھا ہوا) کے ہیں، چنانچہ کہتے ہیں حفظ السرّ = بھید چھپایا، مگر اس کے برعکس مبین کے معنی ظاہر و آشکار اور بیان کرنے والے کے ہیں، پس یہی بات حقیقت ہے کہ امامِ مبین کے معنی امامِ ظاہر کے ہیں، نیز امامِ مبین کے معنی امامِ گوئندہ یعنی امامِ ناطق کے ہیں، جس کا ذکر اس ضمن میں آئے گا۔
لفظِ امام نزولِ قرآن سے پیشتر حضرتِ آدمؑ کے زمانے میں اور نمایان طور پر حضرتِ ابراہیمؑ کے دور میں، پھر بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل کی قوم میں ایک خاص دینی اصطلاح کی حیثیت سے استعمال ہوتا رہا ہے، کہنا یہ ہے کہ لفظِ امام ہمیشہ سے لغوی طور پر دنیاوی سردار کے لئے اور اصطلاحی صورت میں اس دینی سردار اور پیشوا کے لئے مخصوص رہا ہے، جس کا منصب بظاہر ہر بڑے پیغمبر سے دوسرے درجے پر ہے، اور وہ ہر ایسے پیغمبر کے ساتھ معجزانہ
۹۲
قسم کا وزیر رہا ہے، پھر اس کے بعد ہمیشہ کے لئے اس کا وارث، وصی اور جانشین مقرر ہوتے آیا ہے، چنانچہ یہاں اس اعلیٰ ترین مطلب کی تفہیم کے لئے قرآنِ حکیم کی ایک پرحکمت آیت پیشِ نظر رکھی جاتی ہے، وہ یہ ہے: “وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ-قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ-قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْؕ-قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ (۰۲: ۱۲۴) اور جس وقت حضرت ابراہیمؑ کو اس کے پروردگار نے کلماتِ (تامّہ اور اسمِ اعظم وغیرہ) میں آزمایا، اور اس نے ان کو (نورانی ذکر کے طور پر) پورا کر دیا، (تو اس وقت) پروردگار نے اس سے فرمایا کہ میں تم کو (تمام) لوگوں کے لئے امام مقرر کروں گا، ابراہیم نے عرض کی کہ میری ذرّیّت میں سے بھی (یہ سلسلہ جاری رکھئے) ارشاد ہوا کہ (فکر نہ کرو) میرا یہ عہدہ (جس کے اندر عدل کی خاصیت ہے) ظالموں کو ملنے والا نہیں یعنی تیری ذرّیّت ہی میں عہدۂ امامت تا قیامت جاری رہے گا، اور دوسروں کو نہ ملے گا۔”
معلوم ہونا چاہئے کہ مذکورہ کلماتِ تامّہ سے مراد اسمِ اعظم اور اس کے طفیلی اسماء ہیں، جس میں نورِ نبوّت و امامت موجود ہوتا ہے، اور اس کی غرض لوگوں کی ہدایت ہے، اور یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ مسجودِ ملائکہ ہونے سے قبل حضرتِ آدمؑ کو اسماء کی تعلیم دی گئی تھی، اور جب وہ بہشت سے واپس روئے زمین پر آیا تو
۹۳
اس کو کلماتِ تامّہ کی تعلیم دی گئی، اور یہ دونوں باتیں فی الاصل ایک ہی حقیقت ہے۔ حضرت آدم علیہ السّلام کے ان کلمات سے نورِ نبوّت و امامت طلوع ہونے لگا، پس حضرتِ ابراہیمؑ کے سب سے بڑے امتحان میں انہی کلمات و اسماء اور ان کے نتائج (نبوّت و امامت) کا ذکر ہو رہا ہے۔
اس پرحکمت آیت کے نتائج میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امامت کا عظیم درجہ معمولی وحی و الہام اور عام روحانی گفت و شنید کے بعد شروع ہو جاتا ہے، اور اس کا یہ درجہ درجۂ ناطق سے قریب تر ہے، چنانچہ ظاہر ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ بلاواسطہ یا بالواسطہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام سے کلام کر رہا ہے، حضرت ابراہیمؑ یہ پاک کلام سن رہے ہیں، اور اپنی عرض پیش کر رہے ہیں، اور یہ سب کچھ امامت کی تیاری کے سلسلے میں ہے، یعنی حضرتِ ابراہیمؑ ان تمام روحانی واقعات کے بعد امام مقرر ہونے والا ہے، تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ روحانی کلام مرتبۂ امامت سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے، اور وہ اپنے خاص مرتبے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خزائنِ توفیق و ہدایت کا مالک ہوتا ہے، اور اس
۹۴
بیان میں امامت کے متعلق پیدا ہونے والے تمام سوالات کا تسلی بخش جواب موجود ہے، بشرطیکہ کوئی خوش نصیب عقل و دانش سے کام لے اور اس کو توفیق و ہدایت ملی ہو۔
اب لفظِ مبین کے بارے میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قول پر غور کیجئے: “علی باب علمی و مبین لامتی ما ارسلت بہ من بعدی ۔ علی میرے علم کا دروازہ ہے، اور میرے بعد میری امت کے واسطے اس چیز کو بیان کرنے والا ہے، جس کے ساتھ مجھ کو بھیجا گیا ہے۔” یعنی علیؑ علمِ حقیقت اور تاویلِ قرآن کا مالک ہے، اس حدیث سے نہ صرف یہ معلوم ہوا کہ مبین کے معنی ظاہر اور بیان کرنے والے کے ہیں، بلکہ یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ حدیث مذکورہ آیت و کل شیء احصینٰہ فی امام مبین کی تشریح کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یہاں صاف طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا علم و حکمت جو قرآن و حدیث کے نام سے ہیں، حضرت علیؑ کی ذاتِ با برکات میں داخل ہیں۔ اس لئے بابِ علمِ نبی کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت محمدؐ اور اس کے تمام علوم اور حکمتیں حضرت علیؑ میں اس طرح محدود اور مجموع ہیں، جس طرح ایک آبادان اور منظم شہر اپنی مضبوط فصیل (چہار دیواری) اور مستحکم دروازے کے اندر محدود اور گھرا ہوا ہوتا ہے، پس معلوم ہوا کہ حضرت محمدؐ کا نور، قرآنِ پاک کی روح اور حدیث کی حقیقت
۹۵
علیؑ یعنی امامِ مبین کے نور میں داخل ہے، پھر محمدؐ کے نور، قرآن کی روح، اور حدیث کی حقیقت سے باہر کون سی چیز پائی جا سکتی ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ خدا کی خداوندی کے آخری عظیم اسرار بھی ان ہی حقائق میں پوشیدہ ہیں، اور یہیں سے وہ اسرار کسی عارف پر منکشف ہو سکتے ہیں، پس اس کتاب میں امامِ مبین کی یہی تشریح کافی ہے۔
“اللھم یا مولانا انت السلام۔ اے اللہ اے ہمارے مولا! تو خود بذات و صفات، خود ابدی حیات اور لازوال سلامتی ہے، ومنک السلام۔ اور وہ لازوال سلامتی (کسی غیر کی طرف سے نہیں بلکہ) تجھ ہی سے ہے۔ و الیک یرجع السلام۔ اور تیری ہی طرف سلامتی لوٹتی ہے۔ حینا ربنا بالسلام۔ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں حقیقی سلامتی کی حیات عطا فرما۔ و ادخلنا دارالسلام۔ اور ہمیں مرکزی بہشت کے گھر (نورِ مشخص) میں داخل فرما۔ تبارکت ربنا و تعالیت یا ذالجلال و الاکرام۔ اے صاحبِ جلالت و کرامت! تو بڑا بابرکت اور برتر ہے۔”
سلام کے لغوی معنی جسم و جان دونوں کی صحت، درستی اور سالمیّت کے ہیں، اور اس کے اصطلاحی معنی تائید کے ہیں، یعنی وہ روحانی اور نورانی مدد جو معجزانہ قسم کے علم و حکمت کی صورت میں انبیاء و أئمّہ اور چوٹی کے مومنوں کو ملا کرتی ہے، جس میں ان
۹۶
سے روحانین مخاطبہ کرتے ہیں، اور بصری و سمعی رموز و اشارات کے ذریعہ ان کو علم و حکمت اور ضروری ہدایت دی جاتی ہے، ان تمام حقائق و صفات کا جامع “السلام” ہے، جو اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ میں سے ایک اسم ہے، اس مقام پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام دوسرے نام سے جدا اس وقت ہو سکتا ہے، جبکہ اس میں جداگانہ معنی اور خصوصیات موجود ہوں، چنانچہ خدا کے ناموں میں سے ایک نام “الظاہر” ہے، جس کے معنی آشکار کے ہیں، پھر اگر اس نام میں ظہورِ نور، ظہورِ قدرت، ظہورِ علم، ظہورِ معجزہ اور ظہورِ کلام میں سے کوئی ایک واقعہ بھی نہ ہوتا، تو اللہ تعالیٰ اس نام کو اس قسم کے معنوں کے ساتھ کیوں اپناتا۔ پس معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ کا ہر نام دوسرے نام سے اس لئے جدا ہوتا ہے کہ اس میں جداگانہ معنی اور علیٰحدہ خصوصیات ہوتی ہیں، بنابرین مذکورہ دعا میں اسم “السلام” کی خصوصیات اور ذکر و دعا میں اس کی اہمیّت و ضرورت کے متعلق بیان ہے، مختصر یہ کہ اس اسم کا تعلق امامِ زمانؑ کے نوری (فلکی) جسم سے ہے، جس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کے موکّل، مظاہر اور خزانہ دار ہوا کرتے ہیں، اس بارے میں حقیقی مومنوں کے لئے یہی بیان کافی ہے۔
“اللھم یا مولانا منک مددی۔ اے اللہ! اے ہمارے
۹۷
مولا! تجھ ہی سے میری (روحانی) امداد ہوتی رہتی ہے۔ و علیک معتمدی۔ اور تو ہی میرا بھروسہ اور سہارا ہے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے امداد طلب کرتے ہیں۔ یا علی بلطفک ادرکنی۔ یا علی (جو خدا ہی کا ہے، جس کے فعل کی خاص نسبت خدا ہی سے ہے) اپنے لطف و عنایت سے میری امداد کے لئے پہنچئے۔ لا الہ الا اللہ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمد رسول اللہ۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کے رسول ہیں، علی امیر المومنین علی اللہ۔ اور امیر المومنین حضرت علی علیہ السّلام خدا ہی کے مقرر کردہ ہیں۔ مولانا شاہ کریم الحسینی الامام الحاضر الموجود۔ اور ہمارے مولانا شاہ کریم الحسینی امام حاضر الموجود ہیں۔”
“اللّٰھم لک سجودی و طاعتی۔ اے اللہ! میرے سجدے اور عبادت تیرے ہی لئے ہیں۔”
۹۸
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصۂ سوم
قرآنی تبلیغ کا آخری مقصد
“یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ-وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ (۰۵: ۶۷) اے رسول! جو امر تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے، تم اسے پہنچا دو، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو (سمجھ لو کہ سرے سے) تم نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا، اور (تم ڈرو نہیں) خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ ”
۹۹
جب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حجۃ الوداع سے فارغ ہو کر مدینہ منوّرہ کی طرف مراجعت فرما ہوئے تھے، تو اثنائے راہ میں مقامِ حجفہ پر جو غدیرِ خم سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر واقع ہے، جبرئیلِ امین مذکورۂ بالا آیت لے کر نازل ہوا، چنانچہ شیعوں کے علاوہ بعض حقیقت پسند سنی علماء کی کتابوں میں بھی یہ روایت مشہور ہے، ہم اس بارے میں فرمان علی صاحب کے ایک حوالے کو یہاں درج کرتے ہیں، وہ اپنے ترجمۂ قرآن صفحہ ۱۸۸ کے حاشیے پر یوں لکھتے ہیں: “ابنِ ابی حاتم نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ یہ آیت غدیرِ خم میں حضرت علیؑ کے بارے میں نازل ہوئی، اسی وجہ سے ابنِ مردویہ نے ابنِ مسعود سے روایت کی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ کے زمانے میں اس آیت کو یوں پڑھتے تھے:
یا یھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ان علیا مولی المومنین و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ و اللہ یعصمک من الناس۔ اے رسول! جو حکم اس بات کا کہ “علی تمام مومنین کے حاکم ہیں” تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے پہنچا دو، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو سمجھ لو کہ تم نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا۔ اور (تم ڈرو نہیں) خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ دیکھو تفسیر
۱۰۰
درِ منثور، جلال الدین سیوطی جلد ۳، صفحہ ۳۹۸ سطر ۸، غیر مطبوعہ۔ سچ تو یوں ہے کہ جناب رسالتمآب ایک عرصہ سے چاہتے تھے کہ علی بن ابی طالبؑ کو اپنا خلیفہ نامزد کر دیں، مگر کچھ اپنے ساتھیوں کی مخالفت کے خوف سے اس پر اقدام نہ کرتے تھے، آخر خدا نے آخری حج کے بعد راستے میں تاکیدی حکم نازل کیا، تب تو حضرتؐ مجبور ہو گئے اور ایک مقام پر جس کا نام غدیرِ خم تھا، ایک لاکھ آدمیوں کے سامنے اپنا خلیفہ نامزد کیا، اور پھر لوگوں نے حضرت علیؑ کو ان کی خلافت و ولایت کی مبارک باد دی، شعراء نے قصیدے نذر کئے، چنانچہ حسان کا یہ شعر مشہور ہے:
فقال لہ قم یا علی فاننی
رضیک من بعدی اماما و ہادیا
ترجمہ: پس رسول نے فرمایا اے علی! کھڑے ہو جائیے کہ یقیناً میں نے آپ کو اپنے بعد امام اور ہادی مقرر کر دیا۔”
“لا الہ الا اللہ الحی القیوم۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو ہمیشہ بذاتِ خود زندہ اور قائم ہے۔ لا الٰہ الا اللہ الملک الحق المبین۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو ظاہر کا حقیقی بادشاہ ہے۔ لا الٰہ الا اللہ الملک حق الیقین۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو یقین کا حقیقی بادشاہ ہے۔ لا الٰہ الا اللہ مالک یوم الدین۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو روزِ جزا کا مالک (صاحبِ اختیار) ہے۔”
۱۰۱
“لا فتیٰ الا علی لا سیف الا ذوالفقار۔ کوئی بہادر نہیں سوائے علی کے، اور کوئی جوہردار تلوار نہیں سوائے ذوالفقار کے۔ توسلوا عند المصائب بمولاکم الحاضر الموجود شاہ کریم الحسینی۔ تم مصیبتوں کے وقت اپنے حاضر اور موجود مولا شاہ کریم الحسینی کا وسیلہ اور تقرب حاصل کرو۔”
“اللھم لک سجودی و طاعتی۔ اے اللہ! میرے سجدے اور عبادت تیرے ہی لئے ہیں۔”
کلمۂ لا الہ الا اللہ، قرآنِ حکیم کے کلماتِ تامّہ میں سے ہے، کلماتِ تامّہ سے مراد وہ مختصر اقوال (باتیں) ہیں، جن میں حقائقِ کائنات و موجودات کے متعلق بہت سے معانی سمو دیئے گئے ہوں، مثال کے طور پر کلمۂ کن بھی انہی کلمات میں سے ہے، جس کا ترجمہ بظاہر یہی ایک لفظ “ہو جا” ہے، مگر اس کے اندر بےپایان حقائق پوشیدہ ہیں، چنانچہ حضرت حکیم پیر ناصر خسرو (قدّس اللہ سرّہ العظیم) نے کتابِ “وجہِ دین” کلام ۱۱ میں کلمۂ لا الہ الا اللہ کی تاویل بیان کر دی ہے، جو ۲۹ صفحات پر مشتمل ہے۔
۱۰۲
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصۂ چہارم
حقیقی بیعت کے لئے پیغمبر یا امام کی موجودگی لازمی ہے
“اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ-فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا (۴۸: ۱۰) ۔ (اے رسول!) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں، تو وہ (واقع میں) اللہ تعالیٰ سے بیعت کر رہے ہیں، خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، پھر (بیعت کے بعد) جو شخص عہد توڑے گا، تو اس کے عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا، اور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا، جس پر (بیعت میں) خدا سے عہد کیا ہے، سو عنقریب خدا اس کو
۱۰۳
بڑا اجر دے گا۔”
لفظ “بیعت” بیع (خرید و فروخت) سے بنا ہے، جس کے اصطلاحی معنی ہیں، حضرتِ رسولؐ یا اس کے قائم مقام کے ذریعہ خدا سے مومنوں کا عہد و پیمان کر لینا، کہ وہ خدا کی خوشنودی اور نجات حاصل کرنے کی خاطر ہر قسم کی جانی و مالی قربانی دینے کے لئے راضی اور تیار ہوئے، نیز خدا، رسول، اور صاحب الامر کی حقیقی فرمانبرداری کرنے کے لئے بری خواہشات سے دستبردار ہوئے، کیونکہ قرآنِ پاک میں تین جگہوں پر بیعت کا ذکر آیا ہے، جس کا مجموعی مطلب یہی ہے، جو یہاں مذکور ہوا، وہ جگہیں الفتح کی دسویں اور اٹھارہویں آیت، نیز الممتحنہ کی بارہویں آیت ہیں۔
یہاں اس حقیقت کا ذکر کر دینا لازمی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مصلحت بینی اور اختیار کے اعتبار سے قرآنِ پاک کے فرامین دو طرح سے واقع ہوئے ہیں، جن میں سے ایک طرح کے فرامین وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی ارادے سے یا رسولِ مقبولؐ کی خواہش سے صادر فرمایا، بعد ازان ان پر عمل ہونے لگا، دوسری طرح کے فرامین وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا پوشیدہ اشارہ تھا، یا رسول اللہ نے جن کو مصلحتِ وقت کے مطابق اپنے اختیار سے عمل میں لایا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نزولِ وحی سے ایسے اعمال کی
۱۰۴
تصدیق و توثیق فرمائی، چنانچہ بیعتِ رضوان کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ ۶ھ میں صلحِ حدیبیہ کے موقع پر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیک وقت چودہ سو اصحاب سے بیعت لی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح کی دو آیتوں میں اس پرحکمت عمل کی توثیق فرمائی۔
پس حقیقی بیعت اور اس کی شرائط پر عمل کرنا اسلام اور ایمان کا ایک آخری امتحان ہے، جس کے لئے رسولِ خداؐ یا امامِ زمانؑ کی موجودگی لازمی ہے، کیونکہ مومنوں سے حقیقی بیعت لینے کے لئے دنیا میں ایک ایسی شخصیّت کا حاضر اور موجود رہنا ضروری ہے، جس کی ذاتِ شریف کی نسبت سے یہ بیعت خدا کی بیعت کہلا سکے، اور اس کا مبارک ہاتھ جس پر مومنوں نے بیعت کی خدا کا ہاتھ قرار دیا جا سکے، تا کہ مومنوں کو اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان بار بار یاد آ جائیں کہ انہوں نے گویا خدائے تعالیٰ ہی سے بیعت کی ہے، اور اس کے روبرو ہو کر اس کی حقیقی فرمانبرداری کا عہد و پیمان کر لیا ہے۔
’’اللھم اغفرلنا ذنوبنا۔ اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے گناہوں کو بخش دے۔ وارۡزقنا وارۡحمنا۔ اور ہمیں روحانی و جسمانی رزق عطا فرما، اور ہم پر رحم فرما۔ بحق رسلک المقربین و ائمتک المطھرین ۔ اپنے
۱۰۵
مقرّب پیغمبروں اور اپنے پاک اماموں کی حرمت سے۔ و بحق مولانا و امامنا شاہ کریم الحسینی۔ اور ہمارے مولا و امام شاہ کریم الحسینی کی حرمت سے۔”
“اللھم لک سجودی و طاعتی۔ اے اللہ میرے سجدے اور عبادت تیرے ہی لئے ہیں۔”
۱۰۶
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصۂ پنجم
قرآن اور امامت، خدا اور رسول کی امانات ہیں
’’یایھا الذین اٰمنوا لا تخونوا اللہ و الرسول و تخونوا اماناتکم و انتم تعلمون (۰۸: ۲۸) اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی (امانت میں) خیانت کرو، اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، حالانکہ تم سمجھتے بوجھتے ہو۔”
اس ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ حقیقتِ قرآن اور رتبۂ آلِ محمدؐ
۱۰۷
(امامت) خدا اور رسول کی امانتیں ہیں، پس ایمان والوں کوچاہئے کہ وہ ان امانتوں میں خیانت نہ کریں، یعنی وہ ان مقدّس امانتوں کے مالک ہونے کا دعویٰ نہ کریں، بلکہ ان کو خدا و رسول کی ملکیّت سمجھیں، چنانچہ قرآن کے متعلق یہ عقیدہ رکھیں کہ قرآن کی حقیقت اللہ تعالیٰ جانتا ہے، اور اس کا رسول جانتا ہے، اور وہ شخص جانتا ہے جس کو خدا اور رسول نے مقرر کر دیا ہے، اور رتبۂ امامت کے بارے میں یہ عقیدہ رکھیں کہ امامت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہے، اور اس کے بعد یہ امانت اس کی آلِ پاکؑ کی ہے، اور امت کو اس میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں، اس عقیدہ اور تصوّر کی مثال ایسی ہے جیسی کہ خدا اور رسولؐ کی امانتیں ادا کر دی گئیں، اور خدا و رسولؐ کی منشا کے مطابق ان سے فائدہ اٹھایا گیا، اور آیت کے آخری حصّے کا اشارہ حسبِ ذیل ہے:
یہ جو فرماتا ہے کہ “اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔” اس سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ اگر تم خدا و رسول کی امانتوں میں خیانت کرو گے، تو تم میں سے ہر ایک شخص دانستہ طور پر اپنی ہی امانت میں خود خیانت کرنے لگے گا، وہ اس طرح کہ جب کسی شخص نے قرآنِ پاک کے علم و حکمت کوسمجھنے کا دعویٰ کیا، بغیر اس کے کہ اس نے آلِ رسولؐ یعنی امامِ زمانؑ سے علم حاصل کیا ہو، تو اس نے خدا و رسول کی امانتوں میں خیانت کی، اور اس خیانت کے نتیجے میں وہ اپنی اس امانت میں بھی
۱۰۸
خیانت کر رہا ہے، جو امامِ زمانؑ کے پاس ہے، جس کی حجّت اس شخص پر رہے گی جس نے اپنی امانت میں خود خیانت کی ہے، حالانکہ وہ یہ جانتا تھا کہ ایسے غلط راستے پر چلنے سے وہ شخص علمِ الٰہی کے خزانہ دار کو نہ دیکھ پا سکے گا، اور علم و حکمت کے شہرستان میں داخل نہ ہو سکے گا، چنانچہ مولاناعلی علیہ السّلام نے فرمایا ہے: “انا ترجمان وحی اللہ ۔ میں ہوں وحیٔ خدا کی تفسیر و بیان کرنے والا۔” نیز فرمایا: “انا خازن علم اللہ۔” میں ہوں علمِ الٰہی کا خزانچی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے: “انا مدینۃ العلم و علی بابھا فمن اراد العلم فلیات الباب۔ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، پس جو شخص علم کو چاہتا ہے، تو اس کو لازم ہے کہ شہر کے دروازے سے داخل ہو جائے۔” اور اللہ تعالیٰ نے اسی بارے میں فرمایا ہے:
ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاۚ (۳۵: ۳۲) پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے خاص اُن لوگوں (یعنی أئمّہؑ) کو قرآن کا وارث بنایا جنہیں (قدرتی قابلیت کی بنا پر) ہم نے منتخب کیا ہے، کیونکہ (عام) بندوں میں سے کچھ تو (نافرمانی کر کے) اپنی جان پر ستم ڈھاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے نیکی و بدی کے درمیان ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگ خدا کے اختیار سے نیکیوں میں (دوسروں سے) گویا سبقت لے گئے ہیں، یہی (انتخاب و سبقت) تو
۱۰۹
خدا کا بڑا فضل ہے۔”
“ربنا اغفرلنا ذنوبنا و سھل امورنا و ارزقنا و ارحمنا انک علیٰ کل شیء قدیر۔ اے ہمارے پروردگار! تو ہمارے لئے ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہمارے کاموں کو آسان کر دے، ہمیں روحانی و جسمانی رزق عطا فرما، اور ہم پر رحم فرما، یقیناً تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔”
“یا علی یا محمد۔۔۔ یا محمد یا علی۔۔۔”
“یا امام الزمان یا مولانا انت قوّتی و انت سندی و علیک التکالی یاحاضر یا موجود یا شاہ کریم الحسینی انت الامام الحق المبین ۔ اے امامِ زمانؑ! اے ہمارے مولا! آپ ہی میری قوّت اور آپ ہی میرا سہارا ہیں، اور آپ ہی میرا توکّل (اعتماد و بھروسہ) ہے، اے حاضر! اے موجود! یا شاہ کریم الحسینی آپ ہی برحق اور ظاہر امام ہیں۔”
“اللھم لک سجودی و طاعتی۔ اے اللہ! میرے سجدے اور عبادت تیرے ہی لئے ہیں”
۱۱۰
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصۂ ششم
سورۂ اخلاص کے معارف
’’قل ھو اللہ احد۔ (اے محمد) کہہ دیجئے کہ وہ اللہ (وحدۃ الوجود) ایک ہے۔ اللہ الصمد۔ اللہ بےنیاز ہے‘‘۔ یعنی وحدت الوجود اپنی صفات کے صوری و معنوی ظہورات میں سب کچھ ہے۔ ’’لم یلد۔ اس کی کوئی اولاد نہیں‘‘۔ اس لئے کہ وحدتِ وجود خود ہی ایک ابدی اور ہمہ رس حقیقت ہے، پس اسے اولاد کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ اولاد کی ضرورت ایک ایسے موجود کو ہو سکتی ہے، جو فانی ہو، اور ہمہ رس نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ وحدتِ وجود سے کوئی اور اس طرح کی وحدت
۱۱۱
پیدا نہیں ہوئی۔ ’’و لم یولد ۔ اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے‘‘۔ کیونکہ فی الحقیقت یہ وحدت خود ہی ازلی ہے، یعنی ہمیشہ سے ہے، اور ہمیشہ رہے گی، پھر کس طرح یہ وحدت کسی کی پیدا کردہ مانی جا سکتی ہے۔ ’’و لم یکن لہ کفوا احد (۱۱۲: ۰۱ تا ۰۴) اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔” کیونکہ یہ وحدت اپنی ضروری صفات، گوناگون ظہورات اور رنگ برنگ تجلیات کے ساتھ اپنے اندر جیسا کہ چاہئے انتہائی تمامیّت و کمالیّت رکھتی ہے۔
اس مطلب کو واضح کرنے کے لئے ایک مثال ریاضی سے پیش کی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر ہم تمام اعداد کو عددِ “واحد” کے مظاہر مانیں تو پھر یہ بھی کہنا درست ہو گا کہ اعداد و شمار کے عالم میں فی الاصل عددِ “واحد” ہی سب کچھ ہے، اس لئے کہ اعداد میں سے کوئی عدد ایسا نہیں، جس کے وجود کا قیام صرف چند اکائیوں پر ہی منحصر ہو، پس معلوم ہوا کہ شمار و حساب کی ترجمانی کرنے کے لئے عددِ “واحد” درحقیقت کسی دوسرے عدد کا محتاج ہی نہیں، نہ “عددِ واحد” سے بحقیقت کوئی دوسرا عدد پیدا ہوا، نہ عددِ واحد کسی دوسرے عدد سے پیدا ہوا، اور نہ کوئی دوسرا عدد اس کے برابر کا ہے، چونکہ تمام اعداد دراصل خود واحد ہی کی مختلف صورتیں ہیں، اور تمام قرآن میں اسی حقیقتِ واحدہ کی مختلف مثالیں بیان کی گئی ہیں، چنانچہ ارشاد ہے:
۱۱۲
“فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ (۰۲: ۱۱۵) پس تم جس طرف بھی متوّجہ ہو جاؤ، وہاں ہی خدا کی ذات موجود ہے۔” اس ہمہ گیر حقیقت کا اطلاق نہ صرف اطراف و جوانب ہی پر ہوتا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی مراد ہے کہ ہر چیز کی ذات میں وحدت کی کوئی نہ کوئی جلوہ نمائی موجود ہے، کیونکہ اس پُرحکمت تعلیم کا اشارہ ذاتِ وحدت کی لامحدودیّت کی طرف ہے، اور لفظ “این” لا انتہا زمانہ، وسیع کائنات اور لاتعداد موجودات کی ذات کی نشاندہی کرتا ہے، نیز متوّجہ کا تعلق بھی زمان و مکان اور متمکن ہی سے ہے، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر چیز کی ذات میں وحدت کی ایک خاص جلوہ نمائی موجود ہے، بالفاظِ دیگر ذاتِ ذوات کا نام وحدت الوجود اور اللہ ہے۔
اس حقیقت کی مزید وضاحت اس آیت سے ہو سکتی ہے: “كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ (۲۸: ۸۸) اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔” اب اس آیۂ مقدّسہ میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ حرفِ استثنا (الا) کسی جملے میں اس وقت آتا ہے، جبکہ بیان میں ایک جنس کی چند اشیا میں سے کسی ایک شے کو مستثنا رکھنا مقصود ہو، یعنی جب وہ چیز ہم جنسیّت کے اعتبار سے اپنی ہم جنس چیزوں میں شمار ہو، مگر اس بیانِ حال کے اعتبار سے ان میں شمار نہ ہو، یہی مثال خدا کی ذات یعنی وحدتِ وجود کی ہے کہ یہ وحدت اشیا کی باطنی بقا سے جدا نہیں، لیکن اشیا کی ظاہری فنا سے اس کی فنا لازم
۱۱۳
نہیں آتی، اور نہ کُل اشیا بیک وقت ہلاک ہو سکتی ہیں، اور جو چیزیں بظاہر فنا بھی ہو جائیں، تو پھر بھی ان کی نورانی صورت اور ازلی پیکر وحدتِ وجود میں باقی رہتی ہیں، لہٰذا اس وحدت میں کسی بھی قسم کی کمی واقع نہیں ہوتی، اس کے برعکس اگر ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ازل میں ذاتِ باری تعالیٰ و تقدّس تو موجود تھی، مگر اس کی کوئی مخلوق نہ تھی، تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ایک خالق تھا، مگر اس نے ابھی کوئی مخلوق پیدا نہیں کی تھی، پھر کھربوں سال کے بعد اس نے مخلوقات پیدا کیں، اندرین حال خدا حادث ہوا، یعنی وہ ایک حال سے دوسرے حال میں بدل گیا کہ پہلے اس نے کوئی چیز پیدا نہیں کی تھی، اور اب اس نے اتنی مخلوقات پیدا کیں، مگر یہ واقعہ ناممکن ہے، اور حقیقت اس کے برعکس ہے، وہ یہ ہے کہ خدا خود اپنی ذات و صفات میں سب کچھ ہے، اور یہ تشریح “ھو الکل” اور “ہمہ اوست” کی ہے، جو یہاں وحدتِ وجود کے عنوان سے کی گئی، پس “قل ھو اللہ احد” کا اشارہ وحدتِ وجود کی طرف ہے، نہ کسی جداگانہ ذات کی انفرادیت کی طرف، کیونکہ وحدتِ محض سے بحقیقت کثرت کا پیدا ہونا محال ہے، چنانچہ حکیم ناصر خسرو علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے:
مکن در صنع مصنوعات رہ گم
ز جو جو روید و گندم ز گندم
۱۱۴
یعنی حقیقتِ مصنوعات کی تلاش میں راستہ نہ بھول جا (اور یہ اصول یاد رکھنا) کہ جَو سے جَو ہی اگتا ہے اور گندم سے گندم ہی اگتا ہے، یعنی وحدت سے بحقیقت کثرت پیدا نہیں ہوئی، مگر مجازاً یہ سب کچھ مانی گئی ہے، اور نہ وحدتِ وجود کو ایک ازلی حقیقت ماننے کے بعد کوئی شے پیدا ہونے کا سوال اٹھ سکتا ہے، بجز آنکہ اس امرِ واقع کے لئے تسلیم کر لیا جائے کہ وحدتِ وجود ہی ایک کثرت نما وحدت ہے، جس طرح سمندر، بادل، بارش، ندی، چشمہ، اور ہر قسم کی تری کی وحدت کا نام پانی ہے، خواہ وہ تری ہوا میں ہو یا نباتات و حیوانات میں، مگر پانی کے نام، صفت، خاصیّت، رنگ اور ذائقہ میں فی الاصل یہ سب چیزیں ایک ہیں، اور اگر ان کے افعال میں کچھ فرق ہے، تو وہ ان کی مقدار کی کمی بیشی کی وجہ سے ہے، چنانچہ اگر سمندر اپنے بادلوں کے ذریعے ساری زمین پر بارش برسا دیتا ہے، اور کوئی قطرہ یہ کام ہرگز نہیں کر سکتا تو اس کی وجہ سمندر کی وہ عظیم مقدار ہے جس میں بہت سے قطرے مل کر یہ کام کر رہے ہیں، اور یہ مثال پانی کی اس وحدتِ وجود کی ہے جو دائرے کی شکل میں ہے، اور ایک کثرت نما وحدت ہے۔
“اللھم بحق محمد المصطفیٰ و علی المرتضیٰ و فاطمۃ الزہراء و الحسن و الحسین۔ اے اللہ! حضرت محمد مصطفیٰؐ اور حضرت علی مرتضیٰؑ، اور
۱۱۵
حضرت فاطمۃ الزہراؑ، اور حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ کی حرمت و وسیلے سے۔”
“اللھم بحق مولانا علیؑ (تا حاضر جامہ) و بحق مولانا و امامنا الحاضر الموجود شاہ کریم الحسینی ارحمنا و اغفرلنا انک علیٰ کل شی قدیر۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
اللھم لک سجودی و طاعتی۔
اے اللہ! ہمارے مولا علی کی حرمت و وسیلے سے، مولانا الحسین، مولانا زین العابدین، مولانا محمد الباقر، مولانا جعفر الصادق، مولانا اسماعیل، مولانا محمد بن اسماعیل، مولانا وفی احمد، مولانا تقی محمد، مولانا رضی الدین عبداللہ، مولانا محمد المہدی، مولانا القائم، مولانا المنصور، مولانا المعز، مولانا العزیز، مولانا الحاکم بامر اللہ، مولانا الظاہر، مولانا المستنصرباللہ، مولانا نزار، مولانا ہادی، مولانا مہتدی، مولانا قاہر، مولانا علیٰ ذکرہ السلام، مولانا اعلیٰ محمد، مولانا جلال الدین حسین، مولانا علاؤالدین محمد، مولانا رکن الدین خور شاہ، مولانا شمس الدین محمد، مولانا قاسم شاہ، مولانا اسلام شاہ، مولانا محمد بن اسلام شاہ، مولانا المستنصر باللہ، مولانا عبدالسلام، مولانا غریب میرزا، مولانا ابو ذر علی، مولانا مراد میرزا، مولانا ذوالفقار علی، مولانا نورالدین علی، مولانا خلیل اللہ علی، مولانا نزار، مولانا السید علی، مولانا حسن علی، مولانا قاسم علی، مولانا ابو الحسن علی، مولانا خلیل اللہ علی، مولانا شاہ حسن علی، مولانا شاہ علی شاہ، مولانا
۱۱۶
سلطان محمد شاہ، اور ہمارے مولا و امام حاضر و موجود شاہ کریم الحسینی کی حرمت و وسیلے سے تو ہم پر رحم فرما، اور ہمیں بخش دے۔ بےشک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور ہر ستائش و تعریف اللہ کی ہے، جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔
اے اللہ! میرے سجدے اور عبادت تیرے ہی لئے ہیں۔”
۲۸ صفر المظفر ۱۳۸۶ھ
بمطابق ۱۸ جون ۱۹۶۶ء
۱۱۷
دعائے جماعت خانہ کے فیوض و برکات
مومن کو سدا رحمتِ رحمان دعا ہے
طاعت میں یہی مقصدِ قرآن دعا ہے
من احسن قولاً سے دعا ہی کو سراہا
اللہ نے، پس مایۂ ایمان دعا ہے
یہ میوۂ توفیق ہے یہ مغزِ عبادت
بس حاصل ایمانِ مسلمان دعا ہے
مولا کی اطاعت میں جھکا دو سرِ تسلیم
سمجھو کہ تمہیں ثمرۂ فرمان دعا ہے
تم راہِ حقیقت میں دعا ہی سے مدد لو
اس راہ میں جب شمعِ فروزان دعا ہے
گرجان میں ہے کوئی مرض یا کہ بدن میں
ہر درد و مرض کے لئے درمان دعا ہے
جب جلوۂ انوارِ الہٰی کی طلب ہو
دیکھو کہ تمہیں دیدۂ عرفان دعا ہے
ہے عالمِ دل نورِ حقیقت سے منور
خورشیدِ ضیا بخشِ دل و جان دعا ہے
دنیا میں اگر رنج و الم ہے تو نہیں غم
صد شکر کہ یاں روضۂ رضوان دعا ہے
۱۱۸
معلوم ہوئی توبۂ آدمؑ کہ دعا تھی
پھر نوحؑ کا وہ باعثِ طوفان دعا ہے
ہو جائے اگر آتشِ نمرود ہویدا
ہو کوئی خلیلؑ اب بھی گلستان دعا ہے
یونسؑ کو دعا ہی نے دلائی ہے خلاصی
ہر دور میں بس رحمتِ یزدان دعا ہے
ہاں خضرؑ ہوا زندۂ جاوید اسی سے
دنیا میں یہی چشمۂ حیوان دعا ہے
موسیٰؑ کو عصا اور یدِ بیضا کے نشانے
حاصل جو ہوئے وجہِ نمایان دعا ہے
عیسیٰؑ میں جو تھا معجزۂ روحِ مقدّس
اس معجزہ کی حکمتِ پنہان دعا ہے
احمد جو ہوئے گوشہ نشین غارِ حرا میں
مقصودِ نبیؐ شمعِ شبستان دعا ہے
مولائے کریم دہر میں ہے نورِ الہٰی
اس نور سے کچھ فیض کا امکان دعا ہے
گر نورِ امامت بمثلِ راہِ خدا ہے
اس راہ میں بھی مشعلِ ایقان دعا ہے
عاشق نے جو کچھ دیکھ لیا دیدۂ دل سے
صد گونہ یہاں جلوۂ جانان دعا ہے
۱۱۹
تو شام و سحر آکے یہاں ذکر و دعا کر
اخلاق و عقیدت کی نگہبان دعا ہے
جس راہ سے منزلِ وحدت کا سفر ہے
منزل کی طرف وہ رہِ آسان دعا ہے
اس نظمِ نصیری میں ہے اک گنجِ حقائق
گنجینۂ پر گوہرِ رحمان دعا ہے
شوال ۱۳۹۵ھ۔ اکتوبر ۱۹۷۵ء
۱۲۰