رموزِ روحانی
ترجمۂ فرمانِ مبارک
مورخۂ ۹ اکتوبر ۱۹۶۱ء
میرے عزیز روحانی فرزند
مجھے تمہارا برقیہ موصول ہوا، اور میں تمہاری فداکارانہ خدمات کے عوض میں اپنی بہترین شفقت آمیز مبارک دعائیں دیتا ہوں، میں یہ جان کر بہت ہی خوش ہوا ہوں کہ تم نے ہونزائی زبان میں گنان کی کتاب مکمل کر دی ہے۔
تمہارا مشفق
آغا خان
الواعظ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
بمعرفتِ : ایچ۔ ایچ، آغا خان اسماعیلیہ کونسل
راولپنڈی
مغربی پاکستان
۵
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دیباچہ
خداوندِ پاک کی توفیق و تائید سے اس آیۂ پُرحکمت کی روشنی میں کتابچۂ ہٰذا کے دیباچے کا آغاز کیا جاتا ہے، جو ارشاد ہے کہ:
یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ ﱟ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌ یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (۰۵: ۱۵ تا ۱۶)
تمہارے پاس تو خدا کی طرف سے ایک نور اور ظاہر کتاب (یعنی قرآن) آ چکی ہے، جو لوگ خدا کی خوشنودی کے پابند ہیں ان کی تو خدا اس (نور و کتاب) کے ذریعے سے سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے اور اپنی مرضی سے تاریکی سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور (اسی طرح) انہیں راہِ راست پر چلاتا ہے۔
اس آیۂ کریمہ کی معنوی جامعیّت میں جہاں لاتعداد حکمتیں پوشیدہ
۶
ہیں وہاں پر یہ حکمت بھی موجود ہے کہ اگرچہ خدا کی راہ شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی ہے اور صراطِ مستقیم کو ہمیشہ کے لئے ایک ہی رہنا ہے، لیکن راہِ دین کی اس وحدت و سالمیّت کے باؤجود منازلِ راہ تو الگ الگ واقع ہیں، لہٰذا ایک ہی صراطِ مستقیم کے چاروں مراحل کو یکے بعد دیگرے چار راستے قرار دے کر فرمایا گیا کہ “خدا سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے۔” چنانچہ ظاہر ہے کہ سلامتی کے راستے شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت ہیں جو صراطِ مستقیم پر ہی ہیں، کیونکہ صراطِ مستقیم کے سوا گمراہی ہے اس لئے اس سے جدا ہدایت کا کوئی راستہ نہیں، اور یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے کہ اس سے کوئی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا، پس مومن کے لئے ضروری اور لازمی ہے کہ وہ راہِ شریعت کے علاوہ طریقت، حقیقت اور معرفت کے راستوں کا بھی سفر کرے جو صرف نور اور قرآن کی ہدایت و رہنمائی میں ممکن ہے۔
اس مقدّس راستے پر چلنا جو راہِ اسلام (صراطِ مستقیم) ہے، یعنی ان راہوں کا سفر کرنا جو شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت ہیں، جہاد کے بغیر ناممکن ہے، اور جہاد تین ہیں، کافروں سے جہاد کرنا، شیطان کے خلاف جہاد کرنا اور نفسِ امّارہ سے مجاہدہ
۷
کرنا، چنانچہ ارشادِ ربّانی ہے:
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا (۲۹: ۶۹) اور جو لوگ ہمارے لئے جہاد کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستے ضرور دکھائیں گے۔ یعنی ہم انہیں ظاہر و باطن میں دینِ اسلام کی شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی راہیں بتلائیں گے، تا کہ معرفت اور توحید کے وسیلے سے ان کو ابدی نجات و سکون میسر ہو۔
اس بیان سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے، کہ اسلام دینِ فطرت یعنی آفاقی دین ہے،یہ علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی روشنی اور روحانیّت کے عجائبات و معجزات سے بھرپور ہے، اس کے ظاہر و باطن میں اخلاقی، روحانی اور عرفانی طور پر ترقی ہی ترقی ہے، اور اس کی راہیں دنیا و عقبیٰ کی سلامتی کی راہیں ہیں، جو نور اور قرآن کی روشنی میں طے ہو سکتی ہیں، اور یہ سفر دراصل روحانی اور علمی ہے۔
سیر و سلوک یعنی روحانی سفر ہمیشہ سے عجیب و غریب مشاہدات و تجربات پر منتج ہوتا ہے، اور یہ کتاب ایسی انوکھی اور نرالی دلچسپ باتوں پر مشتمل ہے، جن کو اسرارِ روحانیّت کہا جاتا ہے، اور ان میں حیات و کائنات کی معرفت پوشیدہ ہے۔
۸
اکیس (۲۱) شعروں کی اس ہونزائی نظم (جو میرے بروشسکی دیوان میں سے ہے ) کا مختصر سا ترجمہ میں نے بہت پہلے ہی کر دیا تھا، جس کو دیکھ کر میرے کچھ دوستوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ میں اس کی مزید تشریح کے ساتھ شائع کروں، لہٰذا اب اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ حسبِ توفیق اس کی تشریح اس چھوٹی سی کتاب کی صورت میں ہو کر شائع ہو گئی۔
مجھے کامل یقین ہے کہ جس روحانیّت کی روشنی میں یہ اشعار کہے گئے ہیں اور جن ذاتی تجربات کی بناء پر ان کی وضاحت کی گئی ہے، اس کی وجہ سے یہ کتاب قارئینِ کرام کے لئے کافی حد تک دلچسپ اور مفید ثابت ہو سکتی ہے، خصوصاً ان حضرات کے لئے جو روحانیّت کے دلدادہ ہیں اور روحانی ترقی چاہتے ہیں۔
میں یوں سمجھتا ہوں کہ یہ کتابچہ باطنی فلسفہ اور روحانی علم کا ایک شارٹ کورس(Short – course) ہے، جس میں یقینی علم کے لاکھوں پھولوں سے عطر نکال کر پیش کیا گیا ہے، تا کہ اس سے غیر فانی طور پر روحانیّت کی خوشبو مہیا ہوتی رہے، ان کے عزمِ عمل کو تقویّت ملے اور اشتیاق میں اضافہ ہو کہ وہ خود اپنی باطنی آنکھوں سے چمنستانِ روحانیّت کا نظارہ کریں۔
۹
اگر ہم اس خوف سے روحانیّت کی تعریف و توصیف کو نظر انداز کریں، کہ مبادا اس سے خود ستائی جیسی بات ہو جائے، تو اس صورت میں ہم سے روحانیّت کی تعظیم و تکریم کا کوئی حق ادا نہ ہو گا، لہٰذا اس مقدّس چیز کی طرف مکمل توجہ دلانے کی غرض سے اس کی بعض خوبیوں پر روشنی ڈالنا ضروری ہے، اب رہا خود ستائی کے شک کا مسئلہ، تو اس کا ازالہ اس طرح کیا جا سکتا ہے جو کہوں کہ میں کون ہوں؟ یا میں کیا ہوں؟ کچھ بھی نہیں ہوں، ایک حقیر سی شے، ایک انتہائی کمزور، فنا پذیر اور ناچیز شخصیّت، کسی بزرگ ہستی کا ایک ایسا انتہائی محتاج غلام، جس کی عاجز نگاہیں ہمیشہ اپنے آقا کی مہربانیوں کی طرف متوجّہ رہتی ہیں، اور مجھے ایسی غلامی اور عاجزی بہت ہی پسند ہے۔
میں مسگر اور کراچی کے احباب اور عزیزوں کی جمعیّت کا بہت ہی شکر گزار اور ممنون ہوں کہ انہوں نے بغرضِ علم گستری بار بار مجھ سے تعاؤن کیا ہے، پروردگارِعالم انہیں دونوں جہان کی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے! (آمین یا ربّ العالمین)۔
فقط بندۂ عاجز
نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی
بروزِ شنبہ: ۱۸ جمادی الاول ۱۳۹۷ھ / ۷ مئی ۱۹۷۷ء
۱۰
بسم اللہ الرحمن الرحیم
روحانی رمزک
۱۱
ترجمۂ اشعار و تشریح
عرشِ دل :
ترجمۂ شعر نمبر ۱: کسی حقیقی مومن کے عرشِ دل پر خدائے رحمان کا نورانی ظہور ایک حیران کن امر ہے، ذکر کی وسعت پذیری کی بدولت نقطۂ دل کا آسمان بن جانا ایک تعجب خیز بات ہے۔
تشریح: یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان بحدِّ فعل یا بحدِّ قوّت اپنے آپ میں ایک روحانی کائنات ہے، چنانچہ اس باب میں قرآنِ مقدّس کا ارشادِ گرامی ہے کہ: سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّؕ (۴۱: ۵۳) ہم عنقریب ان کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں اس کائنات میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے نفوس میں بھی۔ اس آیۂ کریمہ سے یہ حقیقت آفتابِ عالمتاب کی طرح روشن اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جتنی نشانیاں اس ظاہری کائنات میں سموئی ہوئی ہیں، وہ سب کی سب اپنی روحانی شکل و صورت میں انسان کے باطن میں موجود
۱۴
ہیں، انہی معنوں میں فرمایا گیا ہے کہ انسان عالمِ صغیر ہے اور یہ بیرونی کائنات عالمِ کبیر، عالمِ صغیر یعنی نفسِ انسانی میں جس قدر اللہ تبارک و تعالیٰ کے روشن اور زندہ معجزات ہیں یا جتنی قدرت کی نشانیاں ہیں، ان میں سب سے بڑا معجزہ اور سب سے عظیم قدرت کی نشانی خود اللہ کا نورانی ظہور اور اس کا پاک دیدار ہے۔
دیدارِ الٰہی کا نہ صرف اشارہ بلکہ اس کا واضح ذکر قرآن و حدیث کے بہت سے ارشادات میں موجود ہے، من جملہ سورۂ نور (۲۴) کی آیت نمبر ۳۵ میں غور سے دیکھئے کہ: مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ (۲۴: ۳۵) میں ہادئ برحق کی مبارک پیشانی سے خدا کے نورِ اقدس طلوع ہو جانے کی مثال کس پرحکمت انداز سے بیان کی گئی ہے اس آیۂ مبارکہ کی تفسیر و تشریح سے کتابوں کے صفحات بھرے ہوئے ہیں، کہ ربّ العزّت کے نور کی نیابت و نمائندگی کا یہ شرف صرف انسانِ کامل ہی کو حاصل ہے، لیکن یہ بھی تو حقیقت ہی ہے کہ حقیقی مومن انسانِ کامل کے انتہائی قریب ہوتا ہے، لہٰذا اس مقدّس نور کا ایک مکمل نمونہ، ایک روشن مثال اور ایک زندہ عکس
۱۵
ایسے مومن کے دل کے تخت پر ہونا چاہئے، جو ایمان کے درجۂ کمال پر ہے، تو یہ ہوا کسی حقیقی مومن کے عرشِ دل پر رحمان کے پاک نور کا جلوہ گر ہونا۔
قدرتِ خداوندی اور معجزۂ الٰہی ہمیشہ سے تعجب خیز ہی ہوا کرتا ہے، اور اس تعجب و حیرت کے معنی میں یہ کیفیّت و حقیقت پنہان ہے، کہ انسانی عقل قدرت و معجزہ کی توجیہہ کرنے سے عاجز و قاصر ہو جاتی ہے اور وہ اس سلسلے کے غور و فکر میں ہر بار ناکام ہو کر رہ جاتی ہے، کیونکہ قادرِ مطلق کی قدرت اور معجزہ عقلِ جزوی کی سمجھ سے ماوراء ہے۔ ہاں اگر اس میں اللہ تعالیٰ کی نورانی تائید نے دستگیری کی تو وہ اور بات ہے۔
اگرچہ روح بذاتِ خود ایک ناقابلِ تقسیم جوہر ہے، لیکن یہ جہاں جسمِ لطیف یا اثیر (Ether) سے وابستہ ہے، وہاں ایسے فلکی جسم کے لاتعداد ذرّات روح کے ذرّات متصوّر ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک پر روح سوار ہے یا وہ روح کی گرفت میں ہے، لہٰذا وہ اڑتے ہوئے آتے جاتے ہیں اور ان میں سے بےشمار ذرّے قالبِ عنصری میں بھی سموئے ہوئے ہیں، چنانچہ نقطۂ دل یا نقطۂ روح سے وہ زندہ ذرّہ مراد ہے جو دل و دماغ کے
۱۶
ربط و اشتراک کے مقام یعنی شعور کے مرکز پر کام کرتا ہے، پھر جب ذکرِ الٰہی کا سلسلہ اپنی تمام شرطوں کی تکمیل کے ساتھ جاری رہتا ہے تو اس وقت نتیجے کے طور پر یہ لطیف ذرّہ، جو انسانی حیات و بقا کا مرکز ہے، روشنی میں تحلیل و تبدیل ہو کر دوسرے بہت سے ذرّات کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ روحانی روشنی کا دائرہ پھیلتا جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ دائرہ کائنات کی وسعتوں کو پا لیتا ہے، قرآنِ حکیم کی ۰۶: ۱۲۵، ۲۰: ۲۵، ۳۹: ۲۲، ۹۴: ۰۱، میں شرحِ صدر یعنی وسعتِ قلبی کے عنوان سے اس روحانی حقیقت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
نقطۂ قرآن :
ترجمۂ شعر نمبر ۲: قرآن کے تمام معنوں کا باہم مل کر ایک ہی نقطہ بن جانا حیرت انگیز حکمت ہے، پھر اسی ایک نقطے کے معانی کی کثرت سے قرآن بھر جانا بڑی عجیب بات ہے۔
تشریح: اس حقیقت میں کوئی شک ہی نہیں کہ قرآنِ مقدّس علم و حکمت کی ایک عظیم کائنات ہے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کتابِ الٰہی اتنی عظمت اور وسعت کے باؤجود اپنے نقطۂ آغاز میں سمو جاتی ہے، اس پُرحکمت اور معجزاتی نقطے کو روحِ قرآن تصوّر کریں، یا نور مان لیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر سمجھیں،
۱۷
جو حضورؐ نے خصوصی عبادت کے طور پر انجام دیا تھا، یا کہیں کہ بائے بسم اللہ کا نقطہ ہی ایسے معنی میں ہے، بہر صورت یہ حقیقت نکھر نکھر کر سامنے آئی کہ جس طرح قرآنِ مقدّس کا ایک رخ تفسیر و تشریح اور کثرتِ معانی کی طرف ہے، اسی طرح اس کا دوسرا رخ اسمائے عظّام اور کلماتِ تامّات کے ذریعے سے معنوی مرکزیّت اور وحدت کی جانب بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ ابراہیم (۱۴: ۲۴) میں قرآن اور نورِ قرآن (یعنی معلمِ کتاب) کی تشبیہہ ایک پاک درخت سے دی ہے، جس کا اشارہ یہ ہے کہ قرآن جہاں روحانیّت کے مقام پر حکمت ہے وہاں پر یہ میوہ اور مغز ہے اور جس جگہ یہ کتاب ہے اس جگہ قرآن درخت ہے، جیسا کہ خود قرآن میں کتاب اور حکمت دونوں چیزوں کا الگ الگ ذکر آیا ہے، اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح پورا درخت پھل اور مغز میں سمٹ سمٹ کر سمو جاتا ہے، بالکل اسی طرح قرآن کے تمام علم کو حکمت میں سمو دیا گیا ہے، اسی معنیٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ: و من یوت الحکمۃ فقد اوتی خیراً کثیراً (۰۲: ۲۶۹)
۱۸
اور جس کو حکمت دی گئی تو اس میں شک نہیں کہ اسے بہت سی خوبیاں دی گئیں۔
قرآنِ پاک کی ایسی مرکزیّت و جامعیّت کے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ ہے کہ اس کے تمام مطالب و حقائق ام الکتاب (سورۂ فاتحہ) میں مجموع ہیں اور اس کا لبِ لباب اور آخری مجموعہ بائے بسم اللہ کا نقطہ ہے، گویا “الحمد” درختِ قرآن کا میوہ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس میوہ کا مغز ہے اور حرف باء کا نقطہ مغز کا وہ ذرّہ ہے، جس کے اندر درخت اگانے کی روح پوشیدہ ہوتی ہے۔
قطرے کا سمندر بن جانا:
ترجمۂ شعر نمبر ۳: سمندر کا بادل اور بارش ہو کر ایک قطرے کی شکل اختیار کر لینا عجیب ہے، پھر ایک قطرے کا دریا کے ساتھ مل کر سمندر بن جانا عجیب ہے۔
تشریح: پانی کی یہ گردش کی مثال خصوصاً روح اور روحانیت کے گول سفر کے لئے ہے جو لا انتہا ہے، اور اس میں تعجب کی بات تو یہ ہے، کہ کُل کیوں جزو کی طرف آتا رہتا ہے! جیسے سمندر کہ وہ بادل، بارش، اور قطرات کی صورت اختیار کر کے
۱۹
اپنے آپ کی نمائندگی کرتا ہے، اور دوسری طرف عجیب واقعہ یہ ہے کہ ایک قطرہ جب ندی سے مل گیا، تو وہ زبانِ حال سے کہنے لگا کہ میں ندی ہوں، جب ندی آگے بہہ کر دریا کے ساتھ مل گئی تو قطرے نے دعویٰ کیا کہ اب میں دریا بن گیا، اور جس وقت دریا بہتے بہتے سمندر میں جا گرا تو قطرہ بول اٹھا کہ میں اس وقت سمندر ہوں اور اس سے پہلے بھی میں سمندر تھا، وہ گویا یہ بھی کہتا ہے کہ میں اس حال میں نہ صرف سمندر ہوں بلکہ وہ سب کچھ ہوں جو کچھ پانی کے اجزاء میں سے ہے یا جس میں پانی کا دخل ہے۔
پانی کا یہ دائمی چکر قانونِ فطرت کی ایک نمایان مثال ہے جو ہر چیز کے ایک محدود دائرے میں گردش کرنے کی دلیل ہے، جیسے قرآنِ مجید کا ارشاد ہے کہ: و کل فی فلک یسبحون (۳۶: ۴۰) اور تمام چیزیں ایک ایک دائرے میں گردش کرتی ہیں۔
سمندر قطرے میں:
ترجمۂ شعر نمبر ۴: سمندر میں قطرہ سمو جانے کی مثال تو میں نے واضح
۲۰
طور پر دیکھ لی ہے (اور اس میں مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا) لیکن قطرے کے تنگ وجود میں ایک سمندر کا سمو جانا عجیب بات ہے۔
تشریح: نفوسِ جزّوی قطروں کی مثال پر ہیں، اور نفسِ کلّی سمندر کی طرح ہے، سو نفوسِ خلائق کے نفسِ کلّیہ میں سمو جانے میں کوئی تعجب نہیں، مگر تعجّب اس بات میں ہے کہ کس طرح جزّو میں کُلّ سمو آیا! جبکہ عارف نے اپنی ذات ہی میں نفسِ کُلّ کا مکمل تصوّر کیا! جبکہ نورانیّت میں مشاہدہ اور دیدار ہوا! اور جبکہ معرفت یعنی شناخت حاصل ہوئی، یہ واقعہ ایسا معجزانہ ہے، جیسے قطرے کی چھوٹی سی ہستی میں سمندر سمو آیا ہو، چنانچہ حضرتِ امیر المومنین علی علیہ السّلام کا مبارک ارشاد ہے کہ:
و تحسب انک جرم صغیر
و فیک انطوی العالم الاکبر
ترجمہ: اور تو گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا جسم ہے، حالانکہ تجھ میں عالمِ اکبر لپٹا ہوا ہے۔
دل کی کائنات:
ترجمۂ شعر نمبر ۵: اس ظاہری وسیع جہان میں انسان کا سمو رہنا تو یقینی بات ہے، لیکن انسان کے اس مٹھی بھر دل میں ایک عظیم روشن دنیا کا وجود
۲۱
حیرت خیز ہے۔
تشریح: کسی شاعر نے کہا ہے کہ:
رفتم بسوی دریا دیدم عجب تماشا
دریا درونِ کشتی، کشتی درونِ دریا
یعنی جب میں دریا کی طرف گیا تو عجیب تماشا دیکھا کہ دریا کشتی کے اندر تھا اور کشتی دریا کے اندر تھی، چنانچہ انسان ہر چند کہ خود جسمانی اعتبار سے اس وسیع و عریض کائنات کی ایک انتہائی چھوٹی سی جگہ پر محدود ہے، لیکن اس کے دل کے نقطے میں ہمیشہ ایک عظیم عالم سمویا ہوا رہتا ہے، جس کا نام موقع اور وقت کے مطابق بدلتا رہتا ہے، اور وہ اس طرح کہ اگر انسان بیدار ہے یعنی جاگتا ہے تواس کی یہ باطنی دنیا عالمِ خیال، یا عالمِ تصوّر یا عالمِ تفکّر کہلاتی ہے، اگر وہ سویا ہوا ہے تو یہ عالم اس وقت عالمِ خواب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اور اگر آدمی خواب و خیال سے گزر کر روحانی کیفیّت میں مستغرق ہے تو اس وقت اس کے دل کی دنیا کو عالمِ روحانیّت کہا جاتا ہے۔
:بس نقطہ ہی نقطہ
ترجمۂ شعر نمبر ۶: (تعجب ہے کہ علم و حکمت کی بنیاد صرف ایک ہی نقطہ ہے
۲۲
اور بس، چنانچہ) نقطہ کی رفتار کی شکل سے حرف اور حروف کے ملانے سے لفظ (کا بننا) لفظ کا جملہ (بننا اور) جملے کا فرقانِ حکمت بن جانا از بس عجیب ہے۔
تشریح: یہ ایک عجیب حکمت ہے کہ تمام حروف کے ظاہر و باطن میں نقطہ ہی نقطہ ہے، کیونکہ سارے حروف کی ترکیب و ساخت صرف نقطے ہی سے ہے، جبکہ مختلف شکلوں میں نقطہ کے چلنے سے حروف بنتے ہیں، گویا سارے حروف نقطے کے نقوشِ پا ہیں، اور وہ اس طرح کہ جب کوئی لکھنے والا کسی حرف کی شکل بنانا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر قلم کی نوک کے دباؤ سے نقطہ بناتا ہے پھر رکے بغیر فوراً ہی اسی نقطے کو مختلف اطراف میں چلا کر حرف کی یا حروف کی شکلیں بناتا ہے، سو یہ ہوا نقطے کی رفتار کی شکل سے حرف بن جانا۔
اس شعر میں جو لفظ “فرقان” استعمال کیا گیا ہے، اس کے یہاں کم سے کم دو معنی مراد ہیں، وہ قرآنِ کریم اور کلمۂ نور ہیں، قرآنِ پاک کا مرتبہ تو سب پر ظاہر ہے، لہٰذا یہاں صرف کلمۂ نور کے بارے میں کچھ وضاحت کی جاتی ہے، کہ قرآنِ مجید کی ۰۴: ۱۷۴ ، اور ۰۵: ۱۵ میں جس نورِ مقدّس کا ذکر آیا ہے، وہ نور یقیناً آنحضرت
۲۳
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے حقیقی جانشین ہیں، چنانچہ ہادئ برحق کے اس نور کی روحانیّت اور معرفت کے سلسلے میں ایک انتہائی پرحکمت کلمہ سامنے آتا ہے، جس کو کلمۂ نور کہا جاتا ہے، جو انسانِ کامل کی مبارک آواز میں دہرایا جاتا ہے، پس یہی کلمہ حقیقی مومن کی ذاتی روحانیّت میں فرقان یعنی علم و حکمت کی باتوں میں تحقیق و تدقیق کرنے کا معجزہ ہے، اور ہادئ برحق کے نور کی عظیم ترین علامت ہے، یہی سبب ہے کہ اس کو کلمۂ نور کہا گیا ہے۔
نقطہ اور کتابِ کائنات:
ترجمۂ شعر نمبر ۷: حروف کا سرِ آغاز الف (ہے اور الف) کے سر پر نقطۂ توحید کو پہچان لے، نور کے ایک ہی نقطے سے کتابِ کائنات کی جو تخلیق و تکمیل ہوئی اس میں بڑی حیرت ہے۔
تشریح: آگے چل کر بھی اس کا ذکر آئے گا کہ ہر چیز کا وجود کئی نقطوں کے مجموعے پر قائم ہے، پس نقطہ ہی ہر وجود کی وحدت و سالمیّت کا ذریعہ ہے، اور نقطہ ہی روحانی اور جسمانی طور پر حقیقی عدل و انصاف اور مساوات کا وسیلہ ہے۔
نیز اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کتابِ کائنات بنائی تو اس میں قلمِ الٰہی کی مثال کے مطابق سب سے پہلے نور کا
۲۴
ایک ہی نقطہ بنایا گیا ، اور اسی کے ذریعے سے کائنات و موجودات کی تخلیق ہوئی، جیسے حروفِ تہجی کے آغازمیں الف ہے، اور الف کی چوٹی پر نقطۂ آغاز پوشیدہ ہے، جس سے تمام حروف کی ترکیب ہے اور ساری تحریر دراصل اسی ایک نقطے سے بنتی ہے۔
شخصی روحانیّت کے عالم میں بھی یہی مثال ملتی ہے، کہ اس کی تخلیق کا آغاز بھی نقطۂ نور ہی سے ہوتا ہے، اور یہاں نقطۂ نور سے میری مراد وہ اسمِ بزرگ یا پُرحکمت کلمہ ہے جو مرشدِ کامل اپنی زبانِ درفشان سے پڑھ کر مرید کو سناتے ہیں، اور یہی مقدّس تلفظ حقیقی مومن کی روحانی تخلیق کا نقطۂ آغاز ہوتا ہے، اور بندۂ مومن اسی مبارک اسم کے ذریعہ ذکرِ الٰہی کی طرف خصوصی طور پر متوجّہ ہو جاتا ہے۔
وحدت اور کثرت:
ترجمۂ شعر نمبر ۸: قلمِ قدرت کی نوک پر بھی توحید کا نقطہ تھا، وحدت کے فعل میں کثرت کا امکان ہونا تعجب خیز بات ہے۔
تشریح: جیسا کہ شعر نمبر ۷ کی تشریح میں اوپر بتایا گیا کہ قلمِ الٰہی نے لوحِ محفوظ پر جو کچھ لکھ دیا اس میں سب سے پہلے نقطۂ توحید
۲۵
وجود میں آیا یعنی جب عقلِ کلّی نے نفسِ کلّی کی تخلیق کا آغاز کیا تو سب سے پہلے نفسِ کُلّ کا نور وجود میں آیا، اور اس کے بعد اسی نور کے وسیلے سے وہ تمام چیزیں پیدا کی گئیں، جو لوحِ محفوظ (نفسِ کُلّی) پر قائم ہیں، تو یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ قلمِ الٰہی کا فعل بطورِ نمائندگی کے خدا کا فعل تھا، تو اس میں بجائے وحدت کے کثرت کیوں آگئی؟ یعنی وحدت سے وحدت کیوں نہ پیدا ہوئی کہ کثرت پیدا ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل وحدت سے کثرت پیدا ہوئی ہی نہیں، بلکہ وحدت سے وحدت ہی پیدا ہوئی ہے، کیونکہ جس کثرت کے متعلق یہاں سوال پیدا ہوا ہے وہ حقیقت میں کثرت نہیں، بلکہ وحدتِ کثرت نما ہے، یعنی وہ ایک ایسی وحدت ہے جو بظاہر کثرت نظر آتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے کہ: ما خلقکم و لا بعثکم الا کنفسٍ واحدۃٍ (۳۱: ۲۸) تم سب کا پیدا کرنا اور زندہ کرنا بس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا۔ اس فرمانِ خداوندی سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ ازل میں بھی اور ابد میں بھی نفسِ واحدہ (نفسِ کُلّی) کے ساتھ نفوسِ خلائق کی وحدت قائم ہے، کیونکہ یہ تمام نفوس اس کے
۲۶
اجزاء کی حیثیت سے ہیں، چنانچہ جب وہ پیدا ہوا تو یہ بھی پیدا ہوئے، اور جس وقت وہ عقلِ کُلّ کے درجے پر پہنچے گا تو یہ بھی اس مرتبے پر پہنچے گے، اور آیۂ مذکورۂ بالا کا مطلب یہی ہے۔
نقطۂ ابتداء اور نقطۂ انتہا:
ترجمۂ شعر نمبر ۹: نقطے ہی سے (ہر چیز کی) ابتداء اور نقطے ہی سے انتہا ہوتی ہے، نقطے ہی میں حد اور فاصلہ (کا راز) پنہان ہونا قابلِ تعجب ہے۔
تشریح: یہ امرِ واقعی ہے کہ جسم ہو یا کہ جان ہر چیز کی تخلیق کا آغاز نقطے ہی سے ہوتا ہے، پھر ذرّہ ذرّہ اور نقطہ نقطہ بڑھتے ہوئے اس کی تکمیل ہو جاتی ہے، اور پھر کسی نقطے پر جا کر اس کی انتہا ہو جاتی ہے، اسی طرح چیزوں کی تقسیم و تمیز اور کمی و بیشی کی حقیقی حد اور فاصلے کا صحیح تعین بھی نقطے ہی سے ہو سکتا ہے۔
قانونِ قدرت کے حساب کتاب اور لین دین کی نزاکت و باریکی بھی ذرّہ شماری تک پہنچ جاتی ہے، جیسا کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: فمن یعمل مثقال ذرۃٍ خیرا یرہ (۹۹: ۰۷) و من یعمل مثقال ذرۃٍ شرا یرہ (۹۹: ۰۸) سو جو شخص ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا اور جو شخص ذرّہ برابر بدی کرے
۲۷
گا وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اس کا اشارہ یہ ہے کہ ہر شخص کو اعمال نامہ زندہ معجزاتی ذرّات کی صورت میں دیا جائے گا، جیسے حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: و نخرج لہ یوم القیامۃ کتٰبا یلقہ منشورا (۱۷: ۱۳) اور قیامت کے دن ہم (نامۂ اعمال) اس کے لئے نکال لیں گے ایک بکھری ہوئی کتاب اس پر ڈالی جائے گی۔ یعنی روحانی ذرّات کی کتاب اس پر ڈالی جائے گی۔
نقطۂ تعلق :
ترجمۂ شعر نمبر ۱۰: نقطے میں روح اور جسم کا تعلق اور ملاپ ہے، نقطے ہی سے برابری، بیشی اور کمی کا تعین ہونا حیران کن امر ہے۔
تشریح: جسم کی دو قسمیں ہیں، جسمِ کثیف اور جسمِ لطیف، چنانچہ جسمِ کثیف سے روح کا تعلق چند روزہ اور عارضی ہے اور وہ بھی براہِ راست نہیں، مگر جسمِ لطیف کے ساتھ روح کی وابستگی مستقل اور دائمی ہے، لیکن یاد رہے کہ جسمِ لطیف کچھ نورانی ذرّات پر مشتمل ہے، لہٰذا اس شعر میں کہا گیا ہے کہ روح اور جسم کا تعلق نقطہ ہی میں ہوتا ہے، اور یہاں نقطے سے جسمِ لطیف کے ذرّات مراد ہیں، جو روحِ اعظم کے کائناتی سمندر میں بھی ہیں اور انسانی جسم میں بھی۔
۲۸
ہمارے اس جسمِ کثیف کے اندر جسمِ لطیف کے انتہائی چھوٹے چھوٹے لاتعداد ذرّات موجود ہیں اور روح کا تعلق براہِ راست انہی ذرّات سے ہے، جن میں روحِ نباتی، روحِ حیوانی، روحِ انسانی اور روحِ قدسی کی پذیرائی و قابلیّت موجود ہوتی ہے، جسمِ لطیف کے قرآنی ناموں میں سے ایک نام سلالہ ہے، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے کہ: و لقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین (۲۳: ۱۲) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ (جوہر) سے بنایا۔ یعنی جسمِ لطیف سے انسان کی مکمل خلقت ہوئی، چونکہ فرمایا گیا ہے کہ: “ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے بنایا۔”
تو ان مبارک الفاظ میں تخلیق کے تمام معنی آ گئے، یعنی اللہ تعالیٰ کے اسی حکم کے تحت آدم اور ابنِ آدم کی وہ شخصیت ثابت ہو گئی، جو فلکی اور لطیف جسم کی ہے اور جس کو مٹی کا جوہر کہنا بھی حقیقت ہے، کیونکہ مٹی کا جوہر فلکی جسم ہی ہے۔
پھر فرمایا گیا کہ: ثم جعلنٰہ نطفۃً فی قرارٍ مکینٍ (۲۳: ۱۳) پھر ہم نے اس کو نطفہ بنایا جو کہ (ایک مدتِ معیّنہ تک) ایک محفوظ مقام (یعنی رحم) میں رہا۔ یعنی انسان کی اس شخصیتِ لطیف کو بحال و برقرار رکھتے ہوئے پروردگارِ عالم نے اس کے کچھ لطیف
۲۹
ذرّات کو نطفے کی صورت دی جس طرح کہ قانونِ فطرت کا تقاضا ہے۔ اور یہ ساری حکمت کسی مخلوق کے بارے میں “خلق” کے بعد “جعل” آنے کے اصول میں پوشیدہ ہے، پس اس بیان سے نہ صرف یہ حقیقت روشن ہوئی کہ ہمارے جسمِ کثیف کے اندر جسمِ لطیف کے بے شمار ذرّات سموئے ہوئے ہیں جن میں سے ہر ایک کے ساتھ روح کی وابستگی ہے، جس کی وجہ سے ہمارا یہ جسم زندہ اور قائم ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ ہماری ایک اور شخصیّت بھی ہے جو فلکی جسم پر قائم ہے۔
نقطے سے ۔ جس سے ذرّہ مراد ہے ۔ برابری، کمی اور بیشی کا تعین ہونا اس طرح ہے، کہ لوگ چیزوں کی مقدار اور ظاہری مساوات کے سلسلے میں جہاں برابری تصوّر کرتے ہیں، وہ برابری ہرگز حقیقی نہیں ہے، یہ امر حقیقی تب ہو سکتا ہے جبکہ ایک ذرّہ بھی کم یا زیادہ نہ ہو، سو اس سے پتہ چلا کہ برابری، کمی اور بیشی کی حد دراصل ذرّہ اور نقطہ ہی ہے۔
ذرّاتِ لطیف کی بارش:
ترجمۂ شعر نمبر ۱۱: نقطوں سے آسمان اور زمین اور تمام موجودات (پیدا ہوئیں) نقطوں سے روحانی بارش برس کر طوفان کا برپا ہو جانا کس قدر انوکھی بات ہے۔
۳۰
تشریح: کائنات و موجودات کی ہر چیز کی ترکیب و تخلیق ذرّات کے مجموعے سے ہے، اور ان میں سے کوئی چیز یک لخت نہیں، خواہ پتھر کیوں نہ ہو، وہ اصل میں ذرّات پر مبنی ہے، چنانچہ آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، عناصر، جمادات، نباتات اور حیوانات سب کے سب ذرّات سے بنائے گئے ہیں۔
یہ بات روحانی حقیقتوں میں سے ہے کہ ہادئ برحق کی ہدایت و عنایت اور حقیقی مومن کی خصوصی عبادت و ریاضت کے نتیجے میں جب انفرادی اور ذاتی نوعیت کی قیامت قائم ہوتی ہے اور جس وقت صورِ اسرافیل کی حیرت انگیز آواز شروع ہو کر بلند سے بلند تر ہو جاتی ہے، اور جب کوئی پکارنے والا ایک عجیب نام سے روحوں کو پکارتا رہتا ہے، تو اس وقت جسمِ لطیف کے نہایت ہی چھوٹے چھوٹے ذرّات سے منسلک ہو کر آفاق و انفس کی لاتعداد روحیں امنڈ امنڈ کر مومن کی شخصیت میں داخل ہو جاتی ہیں، یہی واقعہ قرآنِ حکیم کی ایک مثال کے مطابق انتہائی سخت بارش اور طوفان کہلاتا ہے، چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ حضرت نوح علیہ السّلام کے آبی طوفان کے پس منظر میں روحانیّت کا ایسا طوفان بھی برپا ہوا تھا جیسے ارشادِ ربّانی ہے کہ:
۳۱
و قیل یا ارض ابلعی مائک و یا سمآء اقلعی (۱۱: ۴۴) اور حکم ہوا، کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان (برسنے سے ) تھم جا۔ یعنی اے شخصیّتِ نوحؑ! اب تو اپنی لاتعداد روحوں کو پہلے کی طرح اپنے اندر جذب کئے رکھ اور اے حدودِ روحانی! تم اب اپنی بے پناہ روحوں کو نوح کی طرف نہ بھیجا کرو۔ نیز ارشاد ہے کہ: “کہا گیا اے نوح (اب) اترو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں لے کر” (۱۱: ۴۸) یعنی روح اور روحانیّت کی شناخت کے نتیجے میں دونوں جہان کی سلامتی اور علم و حکمت کے فیوض و برکات کے ساتھ تنزیل کی بلندی سے تاویل کی زمین پر اترو۔
نقطۂ نور :
ترجمۂ شعر نمبر ۱۲: اس کے نور کا نقطہ میری رگِ جان سے بھی زیادہ مجھ کو قریب ہے، رب العزت کا میرے غریب دل میں مہمان ہونا حیرت کی بات ہے۔
تشریح: اس بیت کے پیش مصرع میں اس آیۂ کریمہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ: و نحن اقرب الیہ من حبل الورید (۵۰: ۱۶) اور ہم تو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ یعنی
۳۲
خداوند تعالیٰ کے نور کا عکس، جس کا ذکر شعر نمبر ۱ کی تشریح میں بھی ہو چکا، مومن کی “انا” سے انتہائی قریب ہے، پس اگر اس نمائندگی کی مثال میں پروردگارِ عزت میرے مفلس دل میں مہمان ہوا ہے تو تعجب ہی تعجب کیوں نہ ہو، جبکہ میرے غریب دل میں کوئی ایک چیز بھی اس کی شانِ عالی کے لائق نہیں۔
امرِ کن:
ترجمۂ شعر نمبر ۱۳: اُس وقت (یعنی ازل میں) جبکہ کوئی بھی فرمانبردار موجود نہ تھا تو امر کا نفاذ کس طرح ہوا؟ نیستی کی طرف “کُنۡ” (یعنی ہو جا) کہہ کر فرمان نافذ کر دینا تعجب خیز بات ہے۔
تشریح: یہ ایک ایسا اہم سوال ہے، کہ اس کے جواب کے ذریعے سے تخلیقِ کائنات کے عظیم بھیدوں سے پردہ ہٹایا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں آپ میری ایک کتاب “میزان الحقائق” کا مطالعہ کریں، خصوصاً اس مضمون کا جو امرِ “کُنۡ” کے بارے میں ہے، یہ سوال اس بناء پر کیا گیا ہے کہ پروردگارِ عالم کے “کُنۡ” کے فرمان کا اطلاق نیستی اور لا شیئیت( Non-existence and nothingness ) پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اطلاق کسی ایسی مخلوق پر ہوتا ہے جس کی جسمانی
۳۳
تخلیق مکمل ہو جانے کے بعد اسے روحانی صورت دینی ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت آدمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی جسمانی خلقت کے بعد ان کی روحانی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے کُنۡ فرمایا تھا، جس کے بارے میں ارشاد ہے کہ: اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ (۰۳: ۵۹) بے شک عیسیٰ (کی خلقت) کی مثال خدا کے نزدیک آدم (کی خلقت) کی طرح ہے کہ اس کو مٹی سے بنایا پھر اس سے کہا کہ ہو جا تو وہ ہو گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آدمؑ اور عیسیٰؑ دونوں کی پیدائش ایک طرح کی ہے، اب اس سلسلے میں آپ خود غور کریں کہ: “اس کو مٹی سے بنایا” کے اس ارشاد میں آدمؑ و عیسیٰؑ کی مکمل جسمانی تخلیق کا ذکر ہے یا صرف مٹی کے بے جان پتلا بنانے کا قصّہ ہے؟ آپ ضرور مان لیں گے کہ اس میں ان دونوں بزرگ پیغمبروں کی ظاہری اور جسمانی تخلیق “کُنۡ” کے امر سے پہلے مکمل ہو جانے کا ذکر ہے، اور پھر اس کے بعد “کُنۡ” فرمایا گیا ہے، پس اس سے معلوم ہوا کہ امرِ کُنۡ روحانی حیثیت کی تکمیل کے لئے ہے نہ کہ “لا شیٔ” کو شیٔ بنانے کے لئے اور نہ ہی نیستی سے کوئی چیز ہستی میں لانے کے
۳۴
لئے، اہلِ دانش کے لئے اتنا کچھ کہنا کافی ہے۔
:نقطۂ واسط
ترجمۂ شعر نمبر ۱۴: دراصل “کُنۡ” عالمِ خلق اور عالمِ امر کے درمیان نقطے (حد) کا فعل ہے، انسان کی روح اور جسم میں ہی “کُنۡ فیکون” کا واقعہ تعجب خیز بات ہے۔
تشریح: عالمِ خلق یہ ظاہری دنیا ہے، جو عالمِ اجسام ہے اور عالمِ امر عالمِ باطن ہے، جس کو عالمِ ارواح بھی کہا جاتا ہے، اگرچہ یہ دونوں جہان ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ جسم و جان کی طرح باہم مل کر ہیں کیونکہ یہ ایک دوسرے کے جسم و جان ہیں ہی، تاہم جس معنیٰ میں یہ دو ہیں، اس معنیٰ میں یہ دونوں عالم پہلو بہ پہلو ہیں، اور ان دونوں کے درمیان حدِ فاصل ہے، جس کو یہاں نقطۂ واسط کہا گیا ہے، اور یہی نقطۂ واسط وہ مقام ہے جہاں امرِ کن کا فعل وقوع میں آتا ہے، یہ مقام مثال کے طور پر “کن فیکون” کا دروازہ ہے جو عالمِ امر اور عالمِ خلق کے درمیان قائم ہے، چنانچہ جب عالمِ خلق کی کوئی چیز جسمانی اور روحانی طور پر مکمل ہو کر عالمِ امر سے واصل ہونے لگتی ہے تو اس نقطۂ واسط سے یا اس دروازے سے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر امرِ کُنۡ کا فعل واقع ہوتا ہے اور وہ آنِ واحد میں عالمِ امر کے ساتھ مل جاتی ہے۔
چونکہ انسان کی روح اور جسم ہی ہر طرح کی روحانیّت کی تجربہ گاہ
۳۵
ہے، لہٰذا کُنۡ فیکون کی تمام تر حکمتیں آدمی کی شخصیّت ہی میں پوشیدہ ہیں، پس مومن کو چاہئے کہ وہ اپنی شناخت کے خزانوں سے ان بھیدوں کو پانے کے لئے جدوجہد کرے، ان شاء اللہ تعالیٰ اسے کامیابی ہو گی۔
:معجزاتی کلمہ
ترجمۂ شعر نمبر ۱۵: (جو) ہمیشہ نورانی پھل دینے والا علم کا زندہ درخت (ہے اس کا ایک) پاکیزہ کلمے کی صورت میں ہو کر حکمت کی دلیل بن جانا ازبس متعجب ہے۔
تشریح: اس معجزاتی کلمے کا ذکر شعر نمبر ۶ میں بھی ہو چکا ہے جس کے متعلق قرآنی ارشاد سورۂ ابراہیم (۱۴) آیت نمبر ۲۴، ۲۵ (۱۴: ۲۴ تا ۲۵) میں ہے، چنانچہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ روحانیّت اور قرآن کے علم و حکمت کے خاص خاص مراکز ہوا کرتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے اسمائے بزرگ اور کلماتِ تامّات کی صورت میں ہوتے ہیں، اسمِ اعظم کے بارے میں آپ بہت سی باتیں جانتے ہوں گے، مگر کلمۂ تامّہ کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ آپ کچھ جانتے ہیں یا نہیں، بہرحال میں خداوند برحق کی توفیق سے اس کی بابت کچھ وضاحت کرتا ہوں کہ کلماتِ تامّات قرآن اور روحانیّت میں کچھ ایسے کلمے ہیں، جو
۳۶
ان میں سے ہر ایک علم و حکمت کی فراوانی کے اعتبار سے بجائے خود ایک مکمل صحیفہ یعنی کتاب ہے، اور ان کلمات کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ یہ حدودِ روحانی کے تصرّف میں ہوتے ہیں، تا کہ اس ذریعے سے حقیقی مومنین کو رشد و ہدایت کا زیادہ سے زیادہ فیض پہنچا دیا جائے، چنانچہ ارشاد ہے کہ: فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍ كِرَامٍۭ بَرَرَةٍ (۸۰: ۱۳ تا ۱۶) وہ (قرآن) ایسے صحیفوں (یعنی کلماتِ تامات) میں ہے جو مکرم ہیں عالی شان ہیں پاک ہیں جو ایسے لکھنے والوں (یعنی فرشتوں) کے ہاتھوں میں (رہتے) ہیں کہ وہ مکرّم (اور) نیک ہیں۔ یہ کلماتِ تامّات کی قرآنی تعریف و توصیف ہے، اور لکھنے والے فرشتوں کی تاویل یہ ہے کہ وہ روحانی حدود ان کلمات سے حقدار مومنین کو علم و حکمت کا فیض پہنچاتے رہتے ہیں، گویا وہ اسی معنیٰ میں مومنوں کے دل و دماغ میں لکھتے جاتے ہیں۔
:کلمۂ علیا
ترجمۂ شعر نمبر ۱۶: اثبات، نفی اور حق کے راز کی حکمت انتہائی عظیم ہے، ایک اعلیٰ کلمے (یعنی کلمۂ علیا) کا میزانِ حقائق (حقیقتوں کی ترازو) بننا حیرت انگیز ہے۔
۳۷
تشریح: واضح ہو کہ کلماتِ تامّات میں جو سب سے اونچا اور سب سے عظیم ہے، وہ کلمۂ باری تعالیٰ ہے اس کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ وہ کلمۂ امریہ ہے، اس لئے اس کا نام کلمۂ “کن” بھی ہے، اس کی ایک اور نشانی یہ ہے کہ اس میں نفی اور اثبات کے دونوں پہلو ہیں، جن میں لا ابتداء اور ابتداء کے پُرحکمت اشارات پوشیدہ ہیں، یہ کلمہ دراصل ایک علمی نور ہے، جو ازل و ابد، لامکان و مکان، لازمان و زمان، اور کائنات و موجودات کے آغاز و انجام جیسے اعلیٰ حقائق کے تصوّرات کے لئے خاص ہے، اسی مقام پر روحانیّت کی سب سے اونچی مثل (المثل الاعلیٰ، ۱۶: ۶۰) بھی جلوہ گر ہے، جو کلمۂ باری سبحانہ کی حقیقتوں کی تائید و تصدیق کرتی ہے، یہ “المثل الاعلیٰ” جو قرآنی نام ہے گوہرِ عقل سے معیّن ہو جاتی ہے۔
کلمۂ باری حقیقتوں کی بلند ترین میزان (ترازو) ہے کہ نفی و اثبات گویا اس کے دو پلے ہیں اور حق جو ان دونوں سے برتر ہے وہ ترازو کا دستہ ہے، یہاں “حق” ایک مخصوص اصطلاح کے طور پر آیا ہے، آپ اس کو ایسی حقیقت سمجھیں جو نفی اور اثبات دونوں سے بالاتر ہے۔
۳۸
:دائرۂ روح
ترجمہ شعر نمبر ۱۷: روح کے دائرے کا کوئی قرار نہیں (لیکن) مرکز میں سکون ہی سکون ہے (ان بے قرار روحوں کا) جہان سمیت پرکار کی طرح گردش کرنا حیرت کی بات ہے۔
تشریح: اس کائنات کے باطن میں کیا ہے؟ اور یہ آسمان کس وجہ سے ہمیشہ گردش کرتے رہتے ہیں؟ اس کائنات کے اندر نفوس طبعی کا ایک عظیم سمندر پنہان ہے، جو دائرۂ پرکار کی شکل کا ہے، چنانچہ نفسِ طبعی کا یہ سمندر ہمیشہ گھومتا رہتا ہے لہٰذا آسمان اس کی وابستگی کی بدولت گردش کرتے رہتے ہیں، اور ان طبعی نفوس کی اس حرکت کی وجہ یہ ہے کہ ان کی فطرت میں مرکز کی تلاش کا جذبہ رکھا گیا ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ یہ سب کچھ نفسِ کلّی کے دباؤ کے سبب سے ایسا ہوتا ہے، بہرحال اس دائرے کے مرکز میں سکون ہے، اور اس کے باہر بے قراری، حیرت اور دائمی گردش ہے۔
:وحدتِ نورانیت
ترجمۂ شعر نمبر ۱۸: وہ خود مدینۂ علم (یعنی علم کا شہر) بن کر روحانی نعمتوں کا بے دریغ عطا کر دینا (اور) خود ہی جسمانیّت کا طلسماتی جامہ پہن کر اس شہر کے دروازے کا محافظ بننا حیرت انگیز ہے۔
۳۹
تشریح: حضرت رسولِ مصطفی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مولا علی علیہ السّلام سے فرمایا کہ: انت منی و انا منک ، یعنی تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ نیز پیغمبرِ برحق کا ارشادِ گرامی ہے کہ: انا مدینۃ العلم و علی بابھا : میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ جس حیثیت میں علیؑ نبیؐ سے ہیں اور نبیؐ علیؑ سے ہیں تو اس میں جسمانیّت کی بات نہیں، بلکہ یہ وحدت علمیت، روحانیّت اور نورانیّت کی ہے، اسی طرح جہاں آنحضرتؐ شہرِ علم ہیں اور جناب مرتضیٰؑ اس کا دروازہ ہیں، تو یہ بھی علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے نور کی بات ہے اور اس میں کسی جسمانی اور مادّی چیز کی تعریف ہے نہیں، چنانچہ جب شہر نور کا ہے اور دروازہ بھی نور کا ہے تو: “نور علیٰ نور” کے مطابق یہ نور ایک ہو جاتا ہے، اور اس سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ نورِ نبوّت اور نورِ امامت ایک ہی ہے، اور اسی معنیٰ میں کہا گیا ہے کہ جو نور علم کے شہر کی صورت اختیار کر کے اہلِ ایمان کو عقل و دانش کی نعمت و راحت مہیا کر دیتا ہے، وہی نور دراصل جسم کے طلسماتی لباس میں ملبوس ہو کر اس شہر کا دروازہ
۴۰
اور محافظ بھی بن گیا ہے، پھر اس میں تعجب کیوں نہ ہو۔
انسانِ کامل کی جسمانیّت و بشریت کی تشبیہہ و تمثیل طلسمی نقشہ سے اس لئے دی گئی ہے کہ جس طرح ناتجربہ کار لوگ کسی خزینہ و دفینہ کو دیکھنے کے باؤجود اس کے طلسم (سحر کا کوئی خوفناک نقشہ وغیرہ) سے ڈر کر حاصل نہیں کر سکتے، اسی طرح جب بھی نابلد لوگ ہادئ برحق کی روحانیّت و نورانیّت کے خزانوں کے حصول سے ناکام ہوئے تو اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کی نظر انسانِ کامل کی صرف بشریّت تک ہی محدود رہی تھی۔
ایک پرحکمت مثال:
ترجمۂ شعر نمبر ۱۹: ایک بڑے بت کو چھوڑ کر تیرے دل کے تمام بتوں کو توڑ ڈال، ایک پاک و پاکیزہ بت کے (عشق کے) کفر میں ایمان کا پوشیدہ ہونا تعجب کی بات ہے۔
تشریح: یہاں حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے اس قرآنی قصّہ اور مثال کی تاویلی حکمت کی طرف اشارہ ہے، جس میں آپ بڑے بت کو چھوڑ کر باقی تمام بتوں کو توڑ دیتے ہیں، سو یہ مثال عقل و دانش والوں کے لئے عرفانی حکمتوں سے بھرپور ہے۔
حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کے اس عظیم الشّان کارنامہ کے
۴۱
ظاہر میں جو کچھ درسِ حکمت معلوم ہے، وہ تو مسلَّم ہی ہے، علاوہ برین اس میں یہ اشارہ بھی ہے، جس میں آپؑ نے بزبانِ حکمت بت پرستوں سے فرمایا کہ اگر ان مختلف بتوں سے تم متعدد خداؤں کو مراد لیتے ہو، تو تمہارا یہ نظریہ بالکل غلط ہے تم صرف اور صرف ایک ہی خدا کو مانو اور اگر تم انہیں ایک خدا کے بیک وقت کئی مظاہر کے طور پر مانتے ہو تو پھر بھی یہ عقیدہ قطعاً باطل ہے اور دیکھو تم خدائے واحد کا عقیدہ رکھو اور روئے زمین پر ایک وقت میں صرف ایک ہی خلیفۂ خدا کو تسلیم کرو اور صرف اسی ایک ہی کو مظہرِ نورِ خدا قرار دو اور بس، یہی تاویلی وجہ تھی جو خلیل اللہ نے فرمایا کہ: “بلکہ (باقی تمام بتوں کو توڑنے کا) یہ کام بڑے بت نے کیا۔” یعنی قانونِ یکتائی کا تقاضا یہی تھا، نیز بڑے صنم کی تاویل خود حضرت ابراہیمؑ کی شخصیّت ہے، اگر جناب ابراہیمؑ کے اس قول میں یہ تاویلی صداقت و حقیقت نہ ہوتی تو (نعوذ باللہ) آپ جھوٹ بولنے کے مرتکب ہو جاتے جو فرمایا کہ بڑے بت نے یہ کام کیا، حالانکہ بڑے بت نے بظاہر کوئی کام نہیں کیا تھا۔
اسی طرح انسانی دل و دماغ میں بھی دینی اور دنیاوی قسم کی بہت سی پیاری چیزوں کے تصوّرات موجود ہوتے ہیں، یہ گویا
۴۲
سب کے سب اصنام (بت) ہیں، جن میں آدمی کی محبّت جو ایک خصوصی طاقت ہے تقسیم ہو کر دینی مقصد کے حصول میں بری طرح ناکام ہو جاتی ہے، اسی لئے کہا گیا ہے کہ صرف خلیفۂ خدا اور خلیفۂ رسول کے تصوّر کو چھوڑ کر باقی تمام تصوّرات کو ختم کر دیا جائے تا کہ فوراً ہی روحانیّت میں ترقی ہو سکے۔
روح کی شناخت میں خدا کی شناخت :
ترجمۂ شعر نمبر ۲۰: کیا پروردگار اور نفسِ انسانی حقیقت میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں؟ (اگر نہیں تو) روح کی معرفت میں ذاتِ خدا کی معرفت کا مکمل ہو جانا تعجب کی بات ہے۔
تشریح: مولانا علی علیہ السّلام کا ارشاد ہے کہ: من عرف نفسہ فقد عرف ربہ ، جس نے اپنے آپ کو پہچانا یقیناً اس نے اپنے پروردگار کو پہچانا۔ اس مبارک فرمان سے جس نوعیّت کا سوال پیدا ہوتا ہے، وہ ظاہر ہے کہ انسان کی اپنی روح کی شناخت سے پروردگار کی شناخت اس وقت ہو سکتی ہے، جبکہ روح پروردگار کی مثال پر ہو، یہ سوال بڑی اہمیّت کا حامل ہے، جو نظریۂ یک حقیقت (Monorealism ) کی روشنی میں حل
۴۳
ہو سکتا ہے، مگر اس میں فوری وضاحت یہ ہے کہ روح آئینۂ جمال و جلالِ خداوندی ہے، جب روح کا یہ آئینہ مکمل طور پر صاف و روشن ہو جاتا ہے تو اس میں ربّ العزّت کی صفاتِ عالیہ کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے تا آنکہ ضروری معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔
انسان اپنی کس روح کے ذریعے سے خدا کی معرفت تک رسا ہو سکتا ہے، کیا وہ روحِ نباتی، روحِ حیوانی اور روحِ انسانی کے ذریعہ ذاتِ خدا کا عارف بن سکتا ہے یا اس میں کوئی اور روح چاہئے؟ ہاں اس کے لئے روحِ قدسی بھی چاہئے ورنہ معرفت ناممکن ہے، اور روحِ قدسی کے روحانی عجائبات کا مشاہدہ اور روحانیّت و نورانیّت کا دیدار انسانِ کامل کے وسیلے سے ہو سکتا ہے۔
اپنے آپ کی تجدید:
ترجمۂ شعر نمبر ۲۱: (جب بھی ضرورت ہوئی تو) میں آتشِ عشق سے پگھل کر اور حکمت کے سانچے میں ڈھل کر اپنے آپ کی تجدید کر لوں گا، اسی طرح نصیر کی علمی مشکلات کا آسان ہو جانا حیرت خیز بات ہے۔
تشریح: یہ حقیقی عشق ہی کا کمال ہے کہ بندۂ مومن کی ذہنی اور اخلاقی فرسودگی اور جمود کو دور کر کے بیداری، ہوشیاری، تقویٰ ، یقین، اور علم و حکمت جیسی نعمتیں عطا کر دیتا ہے، اور حقیقی عشق مرشدِ کامل
۴۴
کے بغیر حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ خدا و رسول کا خلیفہ اور نمائندہ وہی ہیں اور روحانیّت کے رہنما بھی وہی ہیں۔
۴۵
فرہنگِ الفاظ
دیباچہ:
تائید = روحانی مدد۔
خوشنودی = رضامندی، خوشی۔
معنوی = معنی سے منسوب، باطنی، اندرونی۔
جامعیّت = ہمہ گیری، جس میں سب کچھ آ گیا ہو۔
وحدت و سالمیت = ایک ہونا، سالم ہونا۔
منازل = منزل کی جمع۔
مراحل = مرحلہ کی جمع۔
ذی شعور = عقل مند، ہوشیار۔
مجاہدہ = نفس کُشی، ریاضت، جدوجہد۔
آفاقی = کائناتی، ساری دنیا کا، عالمگیر۔
مشاہدات = مشاہدہ کی جمع، دیکھنا۔
منتج = نتیجہ دینے والا۔
اسرار = سر کی جمع، بھید، راز۔
دلدادہ = عاشق، فریفتہ۔
غیر فانی = لازوال، ہمیشہ رہنے والا۔
مبادا = ایسا نہ ہو، خدا نخواستہ۔
خود ستائی = اپنی آپ تعریف کرنا، اپنے منہ میاں مٹھو بننا۔
فنا پذیر = فانی، مرنے والا۔
عرشِ دل:
عرش = تخت۔
بحدِ فعل = کام کی حد میں، عملاً۔
بحدِ قوت = امکانی طور پر۔
نفوس میں =
۴۶
جانوں میں۔
عالمِ صغیر = چھوٹی دنیا۔
عالمِ کبیر = بڑی دنیا۔
نیابت = نائب ہونا، قائم مقامی۔
عکس = تصویر۔
توجیہہ = وجہ بیان کرنا، سبب بتانا۔
قادرِ مطلق = پوری پوری قدرت رکھنے والا، خدائے تعالیٰ۔
ماورأ = علاوہ، سوا۔
جسمِ لطیف = آسمانی جسم، ایتھری جسم۔
متصور = تصور میں لایا ہوا، خیال کیا گیا۔
قالبِ عنصری = وہ جسم جو چار عناصر سے بنتا ہے۔
نقطۂ قرآن:
معانی = معنی کی جمع۔
اسمائے عظام = خدا کے بڑے بڑے نام جو معجزانہ ہیں۔
کلماتِ تامّات = ایسے کلمے جو تائیدِ الٰہی کا ذریعہ اور علم و حکمت کا سرچشمہ ہوا کرتے ہیں۔
لبِ لباب = خلاصے کا خلاصہ، عطر کا عطر، نہایت خالص۔
قطرے کا سمندر بن جانا:
لا انتہا = ختم نہ ہونے والا۔
سمندر قطرے میں:
نفوسِ جزوی = وہ جانیں جو کامل اور کل نہیں بلکہ جزو کی حیثیت سے ہیں۔
نفسِ کلی = کائناتی روح، تمام روحوں کا سرچشمہ۔
عالمِ اکبر =
۴۷
یہ ظاہری کائنات، سب سے بڑی دنیا۔
دل کی کائنات:
عالمِ تفکر = عالمِ تصور، عالمِ خیال۔
مستغرق = ڈوبا ہوا، نہایت مصروف۔
بس نقطہ ہی نقطہ:
نقوشِ پا = قدم کے نشانات۔
شعوری طور پر = جان بوجھ کر۔
لاشعوری طور پر = بغیر سوچے سمجھے۔
تحقیق و تدقیق = اصلیت معلوم کرنا اور باریک بینی سے کام لینا۔
نقطہ اور کتابِ کائنات:
سرِ آغاز = عنوان، عبارت کی پیشانی۔
شخصی = ذاتی، انفرادی۔
اسمِ بزرگ = اسمِ اعظم۔
زبانِ در فشان = موتی بکھیرنے والی زبان۔
وحدت اور کثرت:
عقلِ کلّی = عقلوں کا سرچشمہ، پہلا فرشتہ۔
نقطۂ تعلق:
جسمِ کثیف = یہ جسم جو ظاہر ہے اور کثافت والا ہے۔
جسمِ لطیف = آسمانی جسم جو عام طور پر نظر نہیں آتا اور لطافت والا ہے۔
۴۸
ذرّاتِ لطیف کی بارش:
ترکیب = مرکب کرنا، کئی چیزوں کو ملانا، بناوٹ ، ساخت۔
ذرّات پر مبنی ہے = اس کی بنیاد ذرات پر ہے، وہ ذرات کی بنیاد پر ہے۔
آفاق = ظاہری کائنات۔
انفس = نفس کی جمع، جانوں کی باطنی دنیا۔
آبی طوفان = پانی کا طوفان۔
نقطۂ نور:
رگِ جان = بڑی رگ، شاہ رگ۔
انا = خودی، انسان کی وہ حقیقت جس کو انسان ’’میں ‘‘ کہتا ہے۔
امرِ ’’کُنۡ ‘‘ :
اطلاق = کہنا، بولا جانا، منطبق ہونا۔
شیٔ = چیز۔
لا شیٔ = کوئی چیز نہ ہونا۔
لا شیئیت = کوئی چیز نہ ہونے کی صفت۔
نقطۂ واسط:
واسط = درمیانی چیز، وسط سے واسط اور واسطہ ہے۔
حدِ فاصل = وہ حد جو دو چیزوں کے درمیان آ کر ان کو ایک دوسرے سے جدا کر دے۔
واصل = ملنے والا ہے۔
معجزاتی کلمہ:
مراکز = مرکز کی جمع ( centers )، درمیانی حصہ، عین وسط۔
فراوانی = بہتات، بکثرت، بہت زیادہ۔
تصرف = قبضہ، اختیار، استعمال۔
۴۹
کلمۂ علیا:
علیا = اعلیٰ کی تانیث۔
اثبات = نفی کی ضد، ثبوت، ثبت کرنا۔
نفی = اثبات کی ضد، کسی چیز کے یا کسی صفت کے نہ ہونے کی دلیل۔
باری تعالیٰ = پیدا کرنے والا، خالق، اللہ تعالیٰ۔
لا ابتداء = وہ کیفیت جو کسی آغاز کے بغیر ہمیشہ موجود ہو۔
ازل = وہ گزشتہ زمانہ جس کی کوئی ابتداء یا حد نہ ہو۔
ابد = وہ آنے والا زمانہ جس کی کوئی انتہا اور کوئی حد نہ ہو۔
لامکان = وہ حالت و کیفیت جو مکان یعنی کسی مادی جگہ کے بغیر پائی جاتی ہے، جیسے عالمِ فکر و خیال، عالمِ خواب، دل کی دنیا اور عالمِ روحانیت۔
لازمان = وقت کی نسبت سے وہ کیفیت جس میں مادی دنیا کا وقت نہ ہو، یعنی جو ماضی ، حال اور مستقبل سے بے نیاز ہو۔
دائرۂ روح:
نفوسِ طبعی = ایسی روحیں جو مادّی چیزوں کی طبیعت میں موجود اور کارفرما ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ بظاہر جو چیزیں بے جان کہلاتی ہیں ان میں بھی ایک قسم کی روح پنہان ہے۔
وحدتِ نورانیّت:
وحدتِ نورانیّت = روح اور نور کی صفت میں ایک ہونا۔
نابلد =
۵۰
نا واقف۔
ایک پرحکمت مثال:
بت = مورت، صنم، معشوق، یہاں پیاری چیزوں کے خیالات و تصوّرات مراد ہیں۔
عرفانی = خدا شناسی سے متعلق۔
عرفانی حکمت = معرفت کی حکمت۔
مظہر = ظاہر ہونے کی جگہ، جائے ظہور۔
مظاہر = مظہر کی جمع۔
روح کی شناخت میں خدا کی شناخت:
مشابہ = مانند، مثل، نظیر، یکسان۔
یک حقیقت = ایک ایسی حقیقت کے خدا ہونے کا نظریہ، جس میں تمام حقیقتیں ایک ہوں۔
اپنے آپ کی تجدید:
تجدید= نیا بنانا، نئے سرے سے بنانا، کسی موجود چیز میں جدت و تازگی پیدا کرنا۔
آتشِ عشق = عشق کی آگ۔
فرسودگی = کہنگی، پرانا ہو جانے کی کیفیت۔
جمود= بے حسی۔
۵۱