زبورِ عاشقین
علمی خدمت کی ایک جدید مثال
جن لوگوں کی نیک بخت اور پاکیزہ روحیں ہمیشہ مولائے برحق کے دریائے عشق میں مستغرق رہتی ہیں، ان کو یقیناً نیک توفیقات اور نورانی ہدایات کی نوازشات ہوتی رہتی ہیں، چنانچہ عزیزانم ظہیر لالانی، عشرت رومی، اور روبینہ برولیا، تینوں ریکارڈ آفیسرز نے اس علمی دسترخوان کے بچھانے میں اس وقت بھرپور تعاون کیا، جبکہ جمعہ ۴۔ فروری ۱۹۹۴ء کو عشرت رومی ظہیر لالانی کے نکاح میں آئیں، یہ (کتاب) گویا اس مبارک شادی کے موقع پر بچھایا ہوا، اعلیٰ اور عمدہ نعمتوں کا ایک دائمی دسترخوان ہے، اسی معنی میں کہا گیا کہ “یہ علمی خدمت کی ایک جدید مثال” ہے، پس ہماری عاجزانہ دعا ہے کہ ربِّ کریم نورِ علم کی روشنی پھیلانے والے تمام عزیزوں کو دین و دنیا میں جزائے خیر سے نوازے!
آمین!!
ن۔ن۔ (حبِ علی) ہونزائی
کراچی
۲۲/۲/۹۴
دیباچہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا (۱۷: ۴۴) اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کررہی ہیں جوان میں ہیں، کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے۔
۲۔ ہر چیز کس طرح اللہ تعالےٰ کی پاکی بیان کررہی ہے؟ یا تسبیح کر رہی ہے؟ کسی ایک مقام پر؟ یا کئی مقامات پر؟ کیا ہر بے جان اور بے عقل شیٔ ذاتِ سبحان کی حمدیہ تسبیح خود کررہی ہے؟ یا کسی نمائندگی میں؟ اگر یہ مانا جائے کہ ہر چیز ازخود اللہ جل جلالہٗ کی پاکی بیان کررہی ہے تو پھر یہ ضروری سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ آیا ایسی تسبیح علم و معرفت کے ساتھ ہے؟ یا اس کے بغیر؟ اس نوعیت کے بہت سے مسائل کا حل بفضلِ خدا اس کتاب میں
۶
موجود ہے، لیکن یہاں ایک وقتی اور فوری سوال یہ ہے کہ مذکورۂ بالا آیۂ مبارکہ کے قانونِ تسبیح کے تحت موسیقی اللہ تعالےٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے یا نہیں؟ حقیقت روشن ہے، لہٰذا اس سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا۔
۳۔ تمام انبیائے کرام علیہم السّلام مجموعاً پروردگارِ عالم کی ایک زندہ کتاب کی مرتبت میں ہیں، دورِ نبوّت کی اس بولنے والی کتاب میں ہر پیغمبر ایک باب کا درجہ رکھتا ہے، ہر ایسے باب میں جو کچھ تھا، وہ برائے ہدایت قرآنِ مجید اور دوسری آسمانی کتابوں میں موجود ہے، چنانچہ حضرتِ داؤد علیہ السّلام کتابِ نبوّت کا وہ باب ہیں، جس میں دوسرے کئی اہم موضوعات کے ساتھ ساتھ موسیقی کا موضوع بھی ہے، اور مقدّس موسیقی کی اہمیّت، افادیّت، اور کشش کا یہ عالم ہے کہ جب موسیقی کا مظاہرہ حضرتِ داؤد علیہ السّلام سے ہونے لگتا ہے تو موسیقی والی تسبیح میں شرکت و ہم آہنگی کے لئے جمادات، نباتات، اور حیوانات کی تمام روحیں نیز انسانی ارواح اور ملائکہ سب کے سب جمع ہوجاتے تھے، اور جب موسیقی کا ظہور صورِاسرافیل سے ہوجاتا ہے تو اس کی طرف طوعاً وکرھاً (خوشی سے یا زبردستی سے) تمام زندوں اور مردوں کی روحیں دوڑنے لگتی ہیں، اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ مقدّس موسیقی میں عشقِ الہٰی کی وہ سب سے زبردست طاقت پنہان ہے، جس کو ہم الواحد القھار (۴۰: ۱۶)
۷
کی قہرمانی (قہر و جلال) کی طاقت بھی کہہ سکتے ہیں۔
۴۔ ہماری اس بات سے شاید کسی کو تعجب یا سوال ہو کہ کس طرح نباتات اور حیوانات نے حضرتِ داؤدؑ کے نغمہ ہائے لاہوتی میں ہمنوائی کی، جبکہ قرآنِ حکیم میں صرف پہاڑوں کی ہم آہنگی کا ذکر ہے؟ نیز متعلقہ آیات کریمہ (۲۱: ۷۹، ۳۴: ۱۰، ۳۸: ۱۸) میں انسانوں اور فرشتوں کا ذکر کہاں ہے؟ میں بطورِ جواب عرض کروں گا کہ قرآنِ حکیم کا ہر بیان حکیمانہ جامعیّت و ایجاز کے ساتھ ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ہم ہی نے پہاڑوں (اور ان کی تمام چیزوں یعنی نباتات اور حیوانات) کو داؤد کے ساتھ مسخر کردیا کہ (پہاڑ اپنے جنگل اور جانور سمیت) تسبیح کیا کرتے تھے، اور اسی طرح پرندوں کو بھی مسخر کردیا (یعنی انسانی روحوں اور فرشتوں کو بھی ۲۱: ۷۹) یاد رہے کہ ظاہری پرندوں کا ذکر پہاڑی اور جنگلی جانوروں کے ساتھ ہے۔
۵۔ علم و معرفت کی غرض سے یہاں یہ سوال بھی ازبس ضروری ہے کہ حضرتِ داؤد علیہ السّلام کے پاس نبوّت تھی؟ یا امامت؟ اسکا درست جواب یہ ہے کہ جنابِ داؤد ظاہرمیں نبی تھے، اور باطن میں امامِ مستودع چونکہ مقصودِ اصلی امام شناسی ہی ہے، لہٰذا قرآنِ کریم کا ہر نمائندہ قصّہ اور ہر نمائندہ آیۂ کریمہ نورِ امامت کے بارے میں ہے، اور حضرتِ داؤد علیہ السّلام کی امامت کی ایک قرآنی دلیل یہ ہے: وَعَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ (۲۱: ۸۰)
۸
اور ہم ہی نے ان کو تمہاری جنگی لباس (کرتۂ ابداعیہ) کا بنانا سکھایا تاکہ تمہیں روحانی جنگ کی زد سے بچائے، تو کیا تم اس کے شکر گزار بنوگے؟
۶۔ ان شاء اللہ، حصولِ برکت کی غرض سے اس کتاب کا نام “زبورِ عاشقین” مقرر ہوا، زبور کے یہ معنی ہیں: فرشتہ، گروہ، کتاب، اور حضرتِ داؤدؑ پر نازل شدہ کتاب، اس سے چند سال قبل ہمارے عظیم دوست نے کتابِ مناجات کو زبورِ قیامت کے اسم سے موسوم فرمایا ہے الغرض اگر اس کارِ خیر میں ہماری نیّت خیر خواہی اور نیکی پر مبنی ہے تو یہ علمی خدمت بحکمِ خدا رفتہ رفتہ سب کے لئے مفید ثابت ہوگی، کیونکہ اصل خیر خواہی اور سب سے بڑی خدمت وہ ہے جو تمام لوگوں کے حق میں ہو، چنانچہ ہماری اس کتاب کا خاص موضوع عشقِ سماوی ہے، جس کی امکانی اور ابتدائی صلاحیّت سب میں پائی جاتی ہے، جس کی مثال اس ابتدائی چنگاری کی طرح ہے جو چقماق اور آتش زنہ سے نکلتی ہے، اب اگر اس چنگاری کو ٹھہرانے اور ترقی دینے کے لئے کوئی خاص علم و حکمت ہے تو اس سے بتائیدِ الہٰی سب کو فائدہ دلانا چاہئے۔
۷۔ موسیقی سے ہماری دلچسپی آج سے نہیں بلکہ شروع ہی سے رہی ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ میں جس علاقے میں پیدا ہوا، اس میں دو قسم کی موسیقی جاری تھی، دنیوی اور مذہبی، دنیوی موسیقی کے ایک سیٹ میں یہ آلے ہوتے ہیں: سرنای، ڈھول، اور نقارے، اسکے علاوہ
۹
سرنای چی کے پاس دو چیزیں اور ہوتی ہیں، وہ بانسری (نای) اور طوطیک (طوطک =الغوزہ) ہیں، مزید برآن کسی کے انفرادی شغل کے لئے ستار بھی ہوا کرتا تھا، اور مذہبی یا مقدس موسیقی کے صرف دو آلے مروج ہیں، جو دف و رباب ہیں، میں نے ساز و نواز کی دونوں محفلوں کو خوب غور سے دیکھا، اور بہت سے مفید نتائج اخذ کئے، مثلاً اہلِ دنیا اپنی موسیقی سے بے حد شادمان نظر آتے، اور اکثر لوگ روایتی انداز میں رقص کرنے کے عادی ہوا کرتے تھے، اس حرکت سے بلاشبہ ان کو بڑی حد تک ظاہری لطف و لذّت کا احساس ہوتا تھا۔
۸۔ اس چھائی ہوئی ثقافتی جنگ کو روکنے اور کم کرنے کے لئے مقدّس موسیقی کے سوا اور کون سا ہتھیار کام آسکتا تھا، پس امامِ اقدس و عالی صلواۃ اللہ علیہ کی روحانی تائید سے علاقائی زبان میں نورِ امامت کی پُرحکمت مدح سرائی کی گئی، جس میں خنجرِ عشق خود از خود کام کرنے لگا، اور عشق ہی نے پورے علاقے کو فتح کرلیا، اس سے پہلے جو حالت تھی اس کی چند مثالیں یہ ہیں:
کچھ ایسے مجازی عشقیہ گیت بنا کر پھیلا دینا، جو قواعدِ شاعری سے عاری ہونےکے علاوہ مخرب، غیر مہذب اور محبوبہ کے شوہر وغیرہ کی تحقیر اور گالی گلوچ سے آراستہ ہوں، گاؤں کی کسی چھت پر بانسری یا طوطیک یا ستار بجانا، یا ایسا کوئی ساز بجاتے ہوئے کسی کی گلی سے گزر
۱۰
جانا، وغیرہ، بعض جوانوں کی یہ حر کتیں ایسی تھیں، جن کو اچھے لوگ پسند نہیں کرتے تھے، لیکن ممانعت کا کوئی کامیاب طریقہ بھی تو نہ تھا، اسی لئے یہ چیزیں پھیل گئی تھیں۔
۹۔ دنیا میں بیماریوں کے دو طریقِ علاج مشہورہیں:
۱۔ علاج بالضد (Allopathy)
۲۔ علاج بالمثل (Homoepathy)
چنانچہ مذکورہ بیماری کے لئے علاج بالمثل سے کام لیا گیا، یعنی میرے مولا کی تعریفی نظموں نے مجازی گیتوں کو مارا، اور دف و رباب کی مقدّس موسیقی نے دنیوی موسیقی کو گھائل اور کمزور کردیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہی عمل خود علمی جہاد بھی ہے، اور اس لشکرِ جرار میں جو حضرات جرنیلی کا منصب رکھتے ہیں، وہ سپاہیوں کی طرح کام کررہے ہیں، کیونکہ ان کی شاندار وردی اور نشانیاں ظاہر نہیں، وہ کرتہ ہائے ابداعیہ اور جامہ ہائے جنّت ہیں۔
۱۰۔ جب تک یہاں آسمانی عشق کی کوئی عمدہ بات نہ ہو تو یہ دیباچہ نامکمل رہے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ قرآنِ پاک میں خزائنِ عشق بہت ہیں، ہم کس خزینے سے رجوع کریں؟ اس کے لئے دل کا کہنا ہے کہ خزانۂ خلیلی سے کوئی حکمت بیان کی جائے، چنانچہ خلیل کے معنی ہیں: (۱) درویش (۲) خالص دوست، مگر کیسے خالص دوست؟ حبیب، محب، عاشق،
۱۱
اور عاشق اس درجے کا کہ راہِ خدا میں فرزندِ جگر بند کو بھی قربان کردینے سے دریغ نہ رکھے، ایسے اعلیٰ اوصاف حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام کے تھے، آپؑ کو ربّ العزت نے تمام لوگوں کے لئے امام بنایا تھا (۰۲: ۱۲۴) اس لئے قرآنِ حکیم نے نمونۂ ہدایت کے طور پر یہ ذکر فرمایا کہ آپؑ اپنے روحانی سفر میں کس طرح مراتبِ عالیہ (ستارہ، چاند، سورج ۰۶: ۷۶ تا ۷۹) سے ہوتے ہوئے باری تعالیٰ کی وحدانیّت تک پہنچ گئے۔
۱۱۔ امامِ اقدس و عالی ہی عشق کا عنوان ہے، کیونکہ وہی وجہ اللہ کا درجہ رکھتا ہے، اور یہ ایک روشن دلیل ہے کہ چہرۂ زیباہی سرچشمۂ عشق ہوا کرتا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرتِ ابراہیمؑ کے حوالے سے ہر زمانے کا امامؑ خدا کا پر نور چہرہ یعنی صورتِ رحمان ہوا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک خاص تاویل کے اعتبار سے حضرتِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام نے کہا: میں اپنا چہرہ خالقِ کائنات کا نمائندہ چہرہ بناتا ہوں اور یہی آخری توحید اور فنائے مطلق ہے (۰۶: ۷۹)۔
۱۲۔ سورۂ رحمان میں فنائے عقلانی کا ذکر وہاں ہے، جہاں چہرۂ خدا کا ذکر آیا ہے (۵۵: ۲۶ تا ۲۸) پھر پروردگار کی جلالت و کرامت اور تمام نعمتوں کا بیان ہے، اس کی گرانمایہ اشارت و حکمت یہ ہے کہ جب کسی کامیاب عاشق کو تجدّدِ ازل و ابد کے مقام پر اپنے ربّ کے پاک دیدار کا شرف حاصل ہوجاتا ہے، تو اسی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے آپ
۱۲
کی فنافی اللہ و بقا باللہ کا عملی تجربہ اور مشاہدہ بھی کرتا ہے، اور اس پر باطنی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔
۱۳۔ حدیثِ قدسی: “کنت کنزا مخفیا” میں جس خزانۂ اسرارِ خداوندی کا ذکر ہوا ہے، وہ چھپا ہوا خزانہ بھی مرتبۂ فنا کے بعد ہی حاصل ہوجاتا ہے، دوسری حدیثِ قدسی: یَابْنَ اٰدمَ اَطِعْنِیْ اَجْعَلُکَ مِثْلِی …(اے اولادِ آدم! تو میری اطاعت کر، تاکہ میں تجھ کو اپنی مثال بناؤں گا…) کا وعدۂ الہٰی بھی اسی مقام پر پورا ہوجاتا ہے، حضرتِ امام باقر علیہ السّلام کے اس ارشادِ عالی کو بھی غور سے دیکھ لیں: ماقیل فی اللّٰہ فَھوفینا، وما قیل فینا فھوفی البلغاء من شیعتنا =جو بات اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہی گئی ہے وہ ہم پر صادق آتی ہے، اور جو بات ہمارے متعلق کہی گئی ہو، وہ ہمارے بلیغ شیعوں پر صادق آتی ہے۔ اور اسی گنجِ مخفی کی آخری تاویل یک حقیقت (مونوریالٹی = MONOREALITY) ہے، جو حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوٰۃ اللہ علیہ وسلامہ کی قیامت خیز نورانی تعلیمات میں سے ہے۔
۱۴۔ اس زمانے میں جہاں ظاہری علوم کی فروانی اور ترقی ہے، اور باطنی علوم کی کمی ہے، وہاں یہ بات بہت ممکن ہے کہ ہمارے کسی بھائی کو اپنی مذہبی روایت میں کوئی شک پیدا ہوا ہو، ایسے میں ہم پر واجب ہے کہ اس بھائی کی مدد کریں، اور اس کے پاس جو جو ناپرسیدہ سوالات ہیں،
۱۳
ان کے لئے علمی و عرفانی جوابات مہیا کردیں، الحمد للہ! یہ نیک کام اسی خیر خواہی کے جذبے سے کیا گیا ہے، اور اس میں کسی دوسرے سے کوئی بحث نہیں۔
۱۵۔ میں یہاں ایک مثالی سوال کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ کسی مومن کو مذہب کی کسی چیز میں کیوں شک پیدا ہوتا ہے؟ اسکا جواب یہ ہے: جب ذکر و عبادت میں کمی ہو، جب علم و معرفت نہ ہو، جب عشقِ مولا مفقود ہوجائے، جب اغیار کی باتوں کا اثر ہو، جب روحانی باپ کے مقدّس فرمان پر عمل نہ ہو، اور جب یہ معلوم نہ ہوجائے کہ شک خونِ گوسفند کی طرح حرام ہے۔
یاد رہے کہ شک یقین کے مقابلے میں ہے، چنانچہ اگر شک معمولی سی برائی کا نام ہوتا اور اسکا دائرہ بڑا وسیع نہ ہوتا تو اس کے ازالے کیلئے علم الیقین کا اتنا بڑا سمندر موجود نہ ہوتا ، یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جو شکوک و شبہات علم الیقین کے مقابلے میں ہیں، وہی سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔
۱۶۔ میرا ایمان، یقین اور عرفانی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بحکمِ نورٌعلیٰ نورٌ، امامِ مبین کے حظیرۃ القدس (احاطۂ نورانیّت) میں سب ہیں، اور حضرتِ داؤدؑ بھی ہیں، پس ہم تمام ساتھی جو علمی لشکر بھی ہیں اور اسرافیلی لشکر بھی، بے حد شادمان ہیں، اور ہماری اس طوفانی شادمانی کی کیفیّت میں ایک لطیف غیر ملفوظ شکر گزاری پوشیدہ ہے کہ خداوندِ عالم نے اپنی رحمتِ بے پایان
۱۴
سے ہمیں امامِ زمانؑ کے دامنِ اقدس سے وابستہ کر دیا، جس کی نورانی ہدایت کی روشنی میں ہمیں ہر گونہ نعمت عطا ہوئی، اور ایک بہت بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ آسمانی عشق نے ہمیں حضرتِ داؤد علیہ السّلام کی اصل یعنی روحانی زبور کی خوشبو سنگھا دی، جس کی مستی میں ہم نے اپنی نظموں کو زبورِ عاشقین کہا، اور اس کتاب کا یہ نام (زبورِ عاشقین) نمائندگی کے طور پر ہے۔
۱۷۔ میں اس دیباچہ میں ان تمام عزیز دوستوں کو یاد کرتا ہوں، جو حضرتِ شاہِ ولایت کی مدح سرائی و منقبت خوانی کرتے رہتے ہیں، جب خداوندِ تعالیٰ کا اصل اسمِ اعظم ہر وقت زندہ ہے اور وہ امامِ زمان علیہ السّلام ہی ہے تو پھر امامِ برحقؑ کی تعریف خدائے بزرگ و برتر کی تعریف ہوئی، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے: وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا (۰۷: ۱۸۰)اور اللہ کے نہایت ہی خوبصورت نام ہیں، پس تم انہی ناموں سے اس کو پکارو۔ یعنی جب روحانیّت کا دروازہ کھل جائے گا، اور شروع سے لے کر آخر تک نورِ امامت ہی کی تجلّیات ہوں گی، تو تب ہی کسی کو اندازہ ہوگا کہ امامِ زمانؑ جو اللہ تعالیٰ کا اسمِ اکبر ہے وہ بے قیاس حسین و جمیل ہے، اس میں عشق و جنون کی بہت بڑی دعوت ہے۔
۱۸۔ یہ کتاب میری نظر میں خزانۂ سیم و زر اور گنجِ لعل و گوہر سے بھی زیادہ قیمتی ہے، لہٰذا میں اسے “جشنِ خدمتِ علمی” کے عظیم پروگرام میں شامل کردیتا ہوں، اور تمام دوستوں کو ایسی حسین و دلنشین کتاب کے مکمل ہونے پر
۱۵
صمیمیّتِ قلب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، قبول ہو! اور میں چاہتا ہوں کہ فرداً فرداً سب کی دست بوسی کروں، اور ہر ایک کو دل میں بسانے کیلئے سینہ کھول دوں، آمین! بروشسکی شعر:
مصطفےٰ کے مرتضےٰ اُغرُم طعامن نوبلم
چوک میارر دیمی لیکن تازہ ہَک ٹݣ ٹݣ اݵسل
ترجمہ: حضرتِ محمد مصطفےٰؐ اور حضرتِ علیؑ مرتضیٰؑ مقدس کھانوں میں سے ایک طعام بطورِ تبرّک رکھا ہوا تھا، جو عرصۂ دراز کے بعد اب ہمیں نصیب ہوا، لیکن اس عظیم معجزے کو دیکھو تو سہی کہ یہ مبارک کھانا ہنوز تازہ بتازہ اور بالکل گرم ہی ہے، اور اس میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔
الحمد للّٰہ ربِّ العالمین
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
بروزِ یک شنبہ نہم رمضان المبارک ۱۴۱۴ھ
۲۰۔ فروری ۱۹۹۴ء
۱۶
چند روایات
مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی نے اپنی کتاب “اسلام اور موسیقی” کے صفحہ ۳۸ پر یہ روایت تحریر کردی ہے:
حضورؐ نے پوچھا: اس یتیمہ کا (جو عائشہؓ کے پاس تھی) کیا ہوا؟ عائشہؓ نے عرض کیا، ہم نے اسے اس کے شوہر کے پاس رخصت کر دیا، فرمایا: تم نے کوئی عورت اس کے ساتھ نہ کر دی جو ذرا گاتی، اور دف بجاتی ہوئی اس کے ساتھ جاتی، عرض کیا: ایسے گیت کے بول کیا ہونے چاہئیں تھے؟ فرمایا کہ یہ مصرعے گاتی ہوئی جاتی: (ترجمہ) ہم تمہارے گھر آئے، تم ہمارے دوارے آئے، تم ہم پر سلامتی بھیجو اور ہم تم پر، اگر زرِ سرخ نہ ہوتا تو تمہارے ہاں کوئی نہ آتا اور اگر گندمی رنگ کے گیہوں نہ ہوتے تو تمہاری لڑکیاں گداز بدن نہ ہوتیں۔
اسی طرح بخاری، ابوداؤد اور ترمذی کے حوالے سے لکھتے ہیں: جب میری (ربیع بنتِ معوذ کی) رخصتی ہوئی تو حضورؐ میرے غریب خانے پر رونق افروز ہوئے اور میرے ہی بستر پر بیٹھ گئے، چند لڑکیاں دف بجا بجا کر اپنے بدر میں شہید ہونے والے بزرگوں کی مدح سرائی کرنے لگیں، ایک نے کہیں یہ مصرعہ لگایا کہ (ترجمہ) “ہم میں ایک پیغمبر ایسا ہے جو یہ
۱۷
جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا؟” حضورؐ نے فرمایا یہ نہ کہو، وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں (یعنی گارہی تھیں)۔
مذکورہ کتاب میں حضرتِ عائشہؓ کی یہ روایت بھی ہے: حضورؐ میرے ہاں تشریف لائے، اسوقت دو لڑکیاں جنگِ بعاث کے گانے گا رہی تھیں، حضورؐ بستر پر لیٹ گئے، اور دوسری کروٹ بدل لی، اتنے میں حضرت ابوبکرؓ تشریف لائے اور مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا رسول اللہ کی موجودگی میں یہ شیطانی گیت؟ حضورؐ نے جناب ابوبکرؓ کی طرف متوجّہ ہوکر فرمایا… رہنے دو اِن بیچاریوں کو ….. یہ عید کا دن تھا…..
اس کے بعد مذکورہ کتاب میں درج ہے: اور یہ روایت تو سب ہی جانتے ہیں کہ ہجرتِ مدینہ کے دن عورتیں دف پر یہ گارہی تھیں:
طلع البدر علینا
من ثنیات الوداع
وجب لشّکر علینا
ما دعیٰ للہ داع
ایّھا المبوث فینا
جئت بالامرالمطاع
ترجمہ: ہم پر چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے، وداع کے ٹیلوں سے، ہم پر شکر واجب ہے، جب تک دعا کرنے والا دعا کرتا رہے، اے وہ جو ہمارے اندر بھیجے گئے، آپ تو وہ دین لائے جو واجب الاطاعت ہے۔
مذکورہ کتاب کے صفحہ ۴۱ پر ہے، چنانچہ جوہری طنطاوی لکھتے ہیں:
موسیقی ایک ایسا علم ہے، جس میں نغموں اور لہجوں کے قوانین سے
۱۸
بحث کی جاتی ہے، اور ان کا جواثر یقینی طور سے دلوں پر ہوتا ہے اس سے بحث ہوتی ہے……، ابو نصر فارابی، ابنِ سینا (بوعلی سینا) صفی الدین عبدالمومن، ثابت بن قرہ صابی، اور ابو الو فاجو زجانی نے اس پر کتابیں لکھی ہیں، اس فن کا فائدہ یہ ہے کہ کبھی تو اس سے روح میں انبساط، اعتدال یا تقویّت پیدا ہوتی ہے، اور کبھی اس میں سکیڑ پیدا ہوتا ہے، پہلی قسم کا فائدہ جشنوں، جنگوں اور مریضوں کے علاج کے موقعے پر حاصل ہوتا ہے، اور اسی کے ذریعے سخاوت یا شجاعت جیسے جوہر کھلتے ہیں، اور دوسری قسم کا فائدہ مواقعِ غم یا عبادت گاہوں میں حاصل ہوتا ہے، اسوقت یہ موسیقی دلوں کو اس عالمِ فانی سے ہٹا کر اس کے اصل مبداء کی طرف پھیر دیتی ہے، اور دل آخرت و انجام پر غور و خوض کرنے لگتے ہیں۔
۱۹
رسائلِ اخوان الصفاء میں موسیقی کا تذکرہ
۱۔مذکورہ کتاب کا تعارف:
رسائلِ اخوان الصفاء دخلان الوفاء مختلف علوم کی وہ شہرۂ آفاق کتاب ہے جس کی مثال نہیں ملتی، کیونکہ یہ کتابِ مستطاب بتقا ضائے زمان و مکان حضرتِ مولانا امام تقی محمد صلوٰۃ اللہ علیہ وسلامہٗ کے حکم و ہدایتِ کاملہ کے مطابق لکھی گئی ہے، یہ کتاب دراصل اپنے وقت کے علومِ متداولہ کا سب سے عظیم انسائیکلو پیڈیا ہے، جس کی ۴ جلدوں میں ۵۱ رسالے ہیں، اور آخری رسالہ جو خلاصہ اور نچوڑ کے طور پر ہے، اس کے ساتھ ملا کر کل ۵۲ رسالے ہیں، یہ عظیم الشّان علمِ و حکمت کا بے مثال ذخیرہ کس حد تک دنیائے دانش میں مشہور و معروف ہوسکا؟ کیسے کیسے بڑے سے بڑے علماء اور اسکالرز نے اس سے ہر گونہ دلچسپی لی؟ اور دنیا کی کن بڑی زبانوں میں اسکا ترجمہ ہوا؟ یہ معلومات ضروری ہیں، آپ عارف
۲۰
تامر کی تحقیق کردہ “جامعۃ الجامعۃ” میں بھی دیکھ سکتے ہیں، یہ مذکورہ کتاب کا آخری رسالہ ہے، جس کا اوپر ذکر ہوا، اور الگ چھپا ہوا ہے۔
۲۔ “اخوان الصفاء و خلان الوفاء:”
کے معنی ہیں: برادرانِ باصفا و دوستانِ باوفا، یہ اس پاکیزہ با کرامت، اور خاص علمی جماعت کا نامِ گرامی ہے، جس نے امامِ زمان علیہ السّلام کے امرو ارشاد کے مطابق اسی نام سے یہ انمول کتاب تصنیف کی، اس پُرحکمت نام میں اسماعیلی جماعت کی طرف بھی ایک لطیف اشارہ موجود ہے، الغرض اس انسائیکلوپیڈیا کے لکھنے میں چار عظیم داعیوں کے اسماء نمایان ہیں، اور وہ یہ ہیں: عبداللہ بن حمدان، عبداللہ بن سعید، عبداللہ بن ممیون، اور عبداللہ ابنِ مبارک۔
۳۔ رسالۂ پنجم: موسیقی کے بارے میں:
اس رسالہ میں تمہید کے بعد ۱۴ فصول ہیں، ہر فصل ایک مکمل مضمون ہے اور اس کے صفحات ۵۹ ہیں، یہ رسالہ موسیقی سے متعلق علوم و فنون، عجائب غرائب اور اسرارِ باطن سے مملو ہے، اس کی تفصیلات و معلومات بڑی حیرت انگیز ہیں، میرا یقین ہے کہ موسیقی کے بارے میں کوئی ایسا اساسی سوال نہیں ہوگا، جسکا جواب اس رسالے میں موجود نہ ہو، مثال کے
۲۱
طور پر:
(الف): موسیقی کو شروع شروع میں کس نے ایجاد کیا؟ وہ ایک عام آدمی تھا؟ یا کوئی حکیم؟ اگر اس فن کا موجّد کوئی حکیم ہو، تو یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ اس حکیم کے نزدیک اس فن کا کیا مقصد تھا؟
(ب): اصل حکمت اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ حقیقی حکیم تو وہی ہے، پھر اسی حکیمِ مطلق نے ایجاد کی یہ حکمت مجازی حکیم کو عطا کردی ہوگی؟
(ج): اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے کہ حضرتِ داؤد نبی علیہ السّلام اپنی آسمانی کتاب (زبور) کی قرأت موسیقی کے ساتھ کیا کرتے تھے؟
(د): آیا یہ صحیح ہے کہ موسیقی سے کئی قسم کے امراض کا علاج ہوسکتا ہے؟ پس اس نوعیت کے بہت سے سوالات کے تسلی بخش جوابات کے لئے آپ ضرور مذکورۂ بالا رسالہ پڑھیں۔
۴۔ آسمانوں کی حرکات میں نغمات:
فصلِ ہفتم میں روشن دلائل سے یہ انتہائی عظیم حقیقت ثابت کی گئی ہے کہ آسمانوں کی حرکتوں میں تو تسبیح ہے، وہ مقدّس نغمات کی صورت میں ہے، اس کی ایک چھوٹی سی مثال بحکمِ ضرورت نغمۂ عود (سارنگی) سے دی جا سکتی ہے، ان قدسی نغموں سے اہلِ سماوات کو لذّت و شادمانی حاصل ہوجاتی ہے،
۲۲
اور وہ خود جس طرح ہمیشہ ذکر و عبادت میں مصروف رہتے ہیں، اس کی بھی یہی شان ہے، اور ان کی نغماتی تسبیح داؤد کی قرأتِ زبور سے بھی زیادہ شیرین ہے۔
۵۔ رَوح و ریحان کی حکمت:
خداوندِ بزرگ و برتر کا یہ ارشاد سورۂ واقعہ میں ہے: فَاَمَّآ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ فَرَوْحٌ وَّرَيْحَانٌ ڏ وَّجَنَّتُ نَعِيْمٍ (۵۶: ۸۸ تا ۸۹) پس اگر وہ مقربین سے ہے تو (اس کے لئے) آرام و آسائش ہے، اور خوشبودار پھول اور پر نعمت باغ۔ روح، رَوح، ریح (ہوا) ریحان ایک ہی مادّہ کے الفاظ ہیں، لہٰذا ان کے آپس میں معنوی اشتراک ہے، یعنی ان میں سے ہر ایک میں چاروں کے معنی ہیں، مثال کے طور پر روح زندہ بھی ہے، راحت بھی، ہوا بھی ہے، اور خوشبو بھی، پس روح جہاں ہوا ہے، وہ وہاں نغمہ بھی ہے اور صورِ اسرافیل بھی، کیونکہ ہر ساز کی موسیقی ہوا سے بنتی ہے، لیکن یہ نکتہ یاد رہے کہ ہوائے بہشت قابلِ تعریف ہے۔
۶۔ ایک پر حکمت سوال:
اس میں کیا راز مخفی ہے کہ مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ کا رخ مقربین کی طرف کردیا گیا ہے، حالانکہ جسمانی موت کے بعد دوسرے تمام مومنین و مومنات کو بھی وہ ساری نعمتیں میسر ہوں گی، جن کا اوپر ذکر ہوا؟ جواب: اس کا
۲۳
اشارہ یہ ہے کہ مقربین ہی وہ لوگ ہیں جو دنیا کی زندگی میں جزوی طور پر، اور بہشت میں کلّی طور پر اس آیۂ مبارکہ کے مصداق ہوتے ہیں، جس طرح سورہ مطففین (۸۳: ۱۸ تا ۲۱) میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ مقربین ہی وہ لوگ ہیں جو جسمانی موت سے پیشتر بھی نامۂ اعمال کو علیین پر دیکھ سکتے ہیں، اور اس سے مشاہدۂ روحانیّت و عقلانیّت مراد ہے۔
۷۔ ستاروں پر بہشتِ برین:
مجھے یہاں اپنی تحریروں سے دوعنوان یاد آگئے، وہ ہیں: ستاروں پر لطیف زندگی (قرآنی مینار ص ۸۷) اور عبدالاحد کا اشارہ (لعل و گوہر ص۴۱) یقیناً ہماری ناچیز سی کوشش دینِ حق کی روشنی میں ہے، اب رسالۂ موسیقی کی فصلِ دہم سے چند حکمتیں بیان کی جاتی ہیں، وہ یہ کہ اس فصل میں بھی فصلِ ہفتم کی طرح آسمانی نغمات کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے، اور اس مقدّس موسیقی کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ انسان فرمانبرداری، ذکر و عبادت، اور علم و عمل کے ذریعے سے عالمِ علوی کی نعمتوں اور لذّتوں سے مالا مال ہو جائے، جس طرح حضرتِ ادریس علیہ السّلام نے جسمانی زندگی ہی میں عالمِ بالا تک روحانی رسائی حاصل کرلی تھی (۱۹: ۵۶ تا ۵۷)۔
آگے چل کر حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا پر حکمت اور مشہور ارشاد درج کیا گیا ہے اور وہ اس طرح ہے: من لم یولد ولا دتَیْنِ لم یصعد
۲۴
الیٰ ملکوت السماءِ ، یعنی جو شخص (جسمانی زندگی ہی میں) دو دفعہ جنم نہ لے وہ آسمان کی سلطنت کی طرف چڑھ ہی نہیں سکتا۔ اس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ ہر مومنِ سالک کے لئے یہ امر ازبس ضروری ہے کہ وہ منازلِ روحانی کے آغاز میں ایک بار مرکر زندہ ہوجائے، پھر آگے چل کر مراحلِ عقلانی کے شروع میں دوبارہ فنا ہوکر زندۂ جاوید ہو۔
۸۔ مناجات الباری:
رسالۂ موسیقی کی آخری فصل موسیقار کے سروں اور نغموں کی گونا گون تاثیرات کے بارے میں ہے، اس میں بڑے بڑے اسرار منکشف ہوئے ہیں، اور آپ کو یہ جان کر بڑی حیرت اور بے حد شادمانی ہوگی کہ اس کے آخر میں مناجاۃ الباری کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:
ویروی فی الخبرأن ألذّنغمۃٍ یجدھا اھل الجنّۃ، واطیب نغمۃ یسمعونھامناجاۃُ الباری، جلّ ثناؤہٗ، ذالک قولہ تعالیٰ: تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ-وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا (۳۳: ۴۴) “ویقال انّ موسیٰ، علیہ السّلام، لمّا سمع مناجاۃ ربّہ، داخلہ من الفرح والسّرور واللذّۃ مالم یتمالک نفسہ حتّٰی طرب و ترنّم و صَغُرَ عندہ بعد ذالک کُلُّ النّغماتِ والألحان والأصوات۔ وفّقک اللّٰہ ایّھا الأخ لفھم معافی ھٰذہٖ الاشارات اللّطیفۃ والاسراد
۲۵
الخفیّۃ، و بلَّغک بلاغھا وایّانا وجمیع اخواننا حیث کانوا وأین کانوامن البلاد، انّہ رؤفٌ بالعباد ۔
ترجمہ: حدیث میں روایت کی گئی ہے کہ وہ بیحد شیرین (لاہوتی) نغمہ جو اہلِ جنّت کو حاصل ہوتا ہے اور وہ انتہائی پاکیزہ (ربّانی) نظم جسے وہ سنتے ہیں حضرتِ باری تعالیٰ جلّ ثنا وہ کی پاک مناجات ہے، جیسا کہ قرآن پاک کا ارشاد ہے، جس دن وہ اس سے ملتے ہیں (اس دن) ان کی دعا (زندہ و) سلامت ہوجاتی ہے۔ یعنی اسمِ اعظم جو ان کے حق میں حیاتِ ابدی کی دعا ہے، وہ روحانی دیدار کی برکت سے خود گو اور خود کار ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السّلام نے اپنے ربّ کی مناجات سن لی تو اس سے ان کو ایسی فرحت، مسرّت اور لذّت حاصل ہوگئی کہ آپ اپنے آپ پر قابو نہ پاسکے، یہاں تک کہ خوشی کے مارے آپے سے باہر ہوگئے، اور گنگنانے لگے، اور اس کے بعد ان کے نزدیک ہر نغمہ، ہر لحن اور ہر آواز حقیر ہوگئی۔
اے بھائی ! اللہ تعالیٰ تمہیں ان اشاراتِ لطیف اور اسرارِ باطن کے معنوں کو سمجھنے کی توفیق عنایت فرمائے! اور ان کے پیغام کو آپ تک پہنچائے، اور ہمیں بھی، اور ہمارے تمام (روحانی) بھائیوں کو بھی، جس طرح بھی وہ بستے ہوں اور جن شہروں اور علاقوں میں بھی رہتے ہوں اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔
بحوالۂ رسائل اخوان الصفاء و خلا الوفاء فی الموسیقی
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی، کراچی
سنیچر یکم رمضان المبارک ۱۴۱۴ھ ۱۲۔ فروری ۱۹۹۴ء
۲۶
موسیقی سے علاجِ امراض
مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی اپنی مشہور کتاب “اسلام اور موسیقی” کے صفحہ ۱۱۷ پر عنوانِ بالا کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
موسیقی کی جن مفید تاثیرات کا مجمل ذکر امام غزالی نے کیا ہے، اسے دوسرے حکماء اور فلاسفر بھی بیان کرچکے ہیں، مثلاً افلاطون کہتا ہے:
غم زدہ آدمی کو اچھی آوازیں سننی چاہئیں، کیونکہ جب دل پر غم طاری ہوتا ہے تو اس کی روشنی بجھ جاتی ہے، لہٰذا جب وہ وجد و کیف پیدا کرنے والی چیزیں سنتا ہے تو بجھا ہوا جذبہ پھر بھڑک اٹھتا ہے، حکماء نے اس علم کو محض طفل تسلی اور کھیل کے لئے ایجاد نہیں کیا تھا، بلکہ اس کا مقصد تھا داخلی منافع، روح اور روحانیّت کی لذّتوں کا حصول، قلبی انبساط اور گردشِ خون، جس کو اس فن میں کوئی دخل نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ موسیقی کا مقصد بجز اس کے کچھ نہیں کہ کھیل تماشا ہو، دنیا کی خواہشوں کی ترغیب ہو، اور دنیا کی آرزؤوں کے دھوکے میں پڑا رہے۔
افلاطون کی ہدایت کے مطابق آج تک حکماء و اطباء نے بیسیوں طرح کے مریضوں کا علاج موسیقی کے ذریعے سے کیا ہے، “القدیم والحدیث”
۲۷
(کتاب) کے مؤلّف محمد کرد علی نے صفحہ ۲۲۴ پر ان امراض کی ایک فہرست دی ہے، جن میں موسیقی کی امداد کامیاب ثابت ہوئی ہے، وہ امراض یہ ہیں:
۱۔ مرگی۔ ۲۔ سَوۡدا۔ ۳۔ اشتیاقِ وطن (Home Sickness) ۴۔ وہ جنون جو کسی صدمے کی وجہ سے ہو۔ ۵۔ دمہ۔۶۔ کم عقلی۔ ۷۔ عام جنون۔ ۸۔ کند ذہنی۔ ۹۔نیند میں چلنا اور بولنا۔ ۱۰۔ کابوس۔ ۱۱۔ ہسٹریا۔ ۱۲۔سکتہ ۱۳۔ فالج۔ ۱۴۔ سرسام۔ ۱۵۔ دوسرے اعصابی امراض۔ ۱۶۔ مختلف قسم کے بخار۔ ۱۷۔ نقرس۔ ۱۸۔ عرق النساء۔ ۱۹۔ گنٹھیا۔ ۲۰۔ طاعون۔ ۲۱۔ تخمہ۔ ۲۲۔ زہرِ سگ۔ ۲۳۔ زجمہ ۲۴۔ زہرِ باد۔ ۲۵۔ سوءِ ہضم ۔۲۶۔ تنفس وغیرہ۔
اس کے بعد صاحب القدیم و الحدیث لکھتے ہیں:۔
موسیقی طِب کا ایک حصّہ ہے جس سے امراض دور کئے جاتے ہیں، قدیم زمانے میں شاعری، موسیقی، اور طب تینوں فنون کی واقفیت ایک شخص کے اندر ہونا کمال سمجھا جاتا تھا۔
بہت سے اقوال نقل کرنے کے بعد محمد کرد علی ص ۲۱۳ میں دوسرے اخلاقی اور روحانی فوائد کا یوں ذکر کرتے ہیں:۔
خوش آوازی روح میں صفائی اور دل میں کیف پیدا کردیتی ہے، بعض اوقات اس کے طفیل بزدل میدانِ جنگ میں شیر دل بن جاتا ہے، بخیل سخی ہوجاتا ہے، کثیف میں لطافت اور سخت دل میں نرم دلی پیدا
۲۸
ہوجاتی ہے، کمزور قوی اور ظالم عادل بن جاتا ہے، اور کمینہ شریف ہو جاتا ہے۔
ابنِ ساعد
ابنِ ساعد نے بڑے جامع الفاظ میں موسیقی کے فوائد کا یوں ذکر کیا ہے:
موسیقی کے مختلف فوائد ہیں، روح میں انبساط پیدا کرنا، اسے اعتدال پر لانا، اسے تقویّت پہنچانا اور اس میں انقباض پیدا کرنا، کیونکہ موسیقی جب روح میں حرکت پیدا کرکے روح کو اس کے اصل مبداء سے ہٹاتی ہے تو وہ سرور و لذّت پیدا کرتی ہے، اور سخاوت و شجاعت وغیرہ کے اوصاف بروئے کار لاتی ہے، اور اصل مبداء کی طرف لیجاتی ہے تو آخرت کی فکر اور اس کے لئے تیاری پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ موسیقی کا استعمال کبھی تو خوشی، جنگ اور مریض کے علاج کے لئے ہوتا ہے، اور کبھی مواقعِ غم پر اور کبھی عبادت گاہوں میں۔
ابنِ ساعدِ غزالی، شاہ ولی اللہ اور کرد علی وغیرہم نے موسیقی و مزامیر کو جو بعض جسمانی و روحانی امراض کا علاج بتایا ہے، وہ کوئی جدید تحقیق نہیں، سید نا داؤد نے بھی اس کا تجربہ فرمایا ہے، ملاحظہ ہو: سموئیل ب۱۶ آیت ۲۳:
۲۹
“سوجب وہ بری روح خدا کی طرف سے ساؤل پر چڑھتی تھی، تو داؤد بربط لے کر ہاتھ سے بجاتا تھا اور ساؤل کو راحت ہوتی، اور وہ بحال ہوجاتا تھا، اور وہ بری روح اس پر سے اتر جاتی تھی۔”
از کتابِ “اسلام اور موسیقی”
۳۰
مقدّس موسیقی سے علاج
۱۔چار ملکوتی قوّتیں:
اہلِ دانش کے لئے اس حقیقت میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ دنیائے ظاہر عالمِ کبیر کہلاتا ہے، اور اس کی نسبت سے انسان کا نام عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) ہے، اور یہی دو عالم قرآنِ پاک میں آفاق و انفس ہیں (۴۱: ۵۳) اس کے ساتھ ساتھ یقیناً آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ جو موجودات عالمِ کبیر میں ہیں، وہی موجودات ایک طرح سے عالمِ شخصی میں بھی ہیں، اور کوئی چیز ایسی نہیں جو آسمان میں یا زمین پر موجود ہو، مگر بحدِّ قوّت انسان کی ہستی میں نہ ہو، پس یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ہر آدمی کے باطن میں آسمان زمین، اور دین و دنیا کی ہر چیز بحدِّ قوّت موجود ہے، اور اسی آفاقی قانون کے مطابق اس میں چار ملکوتی قوّتیں بھی ہیں، یعنی قوّتِ جبرائیلیہ، قوّتِ میکائیلیہ، قوّتِ اسرافیلیہ اور قوّتِ عزرائیلیہ۔
۲۔ موت کا فرشتہ:
قرآنِ حکیم جو اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کا خزانہ ہے، فرماتا ہے:۔
۳۱
(ترجمہ): (اے رسولؐ) کہہ دو کہ ملک الموت جو تمہارے ساتھ مقرر ہے، وہی تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے (۳۲: ۱۱) یعنی وقت آنے پر قبضِ روح کی غرض سے عزرائیل کہیں باہر سے نہیں آتا، بلکہ ہر شخص کا ایک ذاتی عزرائیل یعنی قوّتِ عزرائیلیہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہے، اور اسی قوّت کی بدولت ہر وقت جزوی موت (نیند وغیرہ) کا کام بھی ہوتا رہتا ہے، پس قرآنِ پاک کے اس پر حکمت اشارے سے ہمیں یہ یقین آیا کہ انسان میں ایک ساتھ چاروں ملکوتی قوّتیں موجود ہیں، اور وہ ہیں: جبرائیلیہ، میکائیلیہ، اسرافیلیہ اور عزرائیلیہ۔
۳۔ کراماً کاتبین:
سورۂ انفطار (۸۲: ۱۰ تا ۱۱) میں ایسے معزز فرشتوں کا ذکر آیا ہے، جو انسانوں کے نگہبان بھی ہیں، اور ان کے نامہ ہائے اعمال میں اندراج بھی کرتے رہتے ہیں، فی الحال یہ بحث نہیں کہ یہ فرشتے کون ہیں؟ چہار مقرب ہیں؟ یا دوسرے؟ لیکن یہ تو معلوم ہوا کہ عالمِ شخصی فرشتوں سے خالی نہیں، اور یہاں یہ حکمت بھی یاد رہے کہ ایک ہی فرشتے کی صورت میں بے شمار فرشتے کام کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عظیم فرشتوں کا تعلق عالمِ وحدت سے بھی ہے۔
۴۔ عالمِ شخصی میں فرشتوں کا نزول:
یعنی حقیقی مومنین کی ہستی میں فرشتوں کی نمائندہ صلاحیتوں کا حدِّ قوّت
۳۲
سے حدِ فعل میں آنا، یہ نزولِ ملائکہ کا ایک خاص تاویلی راز ہے، اب ایک قرآنی ارشاد کا ترجمہ ملاحظہ ہو: جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا ربّ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں،اور ان سے کہتے ہیں کہ “نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہوجاؤ اُس جنّت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست ہیں، اور آخرت میں بھی (۴۱: ۳۰ تا ۳۱)” یہ خداوندِ تعالیٰ کے دوستوں کا ذکر ہے، نیز اس حقیقت کی ایک روشن مثال ہے کہ ہر آدمی میں دوسری لاتعداد صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ فرشتوں کی صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔
۵۔ فرشتوں کی دوستی:
فرشتے کہتے ہیں: نَحْنُ اَوْلِیٰؤُ کُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنُیَاوَفِی الْآخِرَۃِ =ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی (۴۱: ۳۱)۔ یہ اعلانِ رحمت دراصل اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہے، تاکہ اہلِ ایمان علم و عمل کے وسیلے سے آگے بڑھیں، اور فرشتوں کی دوستی سے فائدہ اٹھائیں، اس ربّانی تعلیم میں جتنے حکیمانہ اشارے ہیں، ان میں ایک خاص اشارہ یہ بھی ہے کہ ہم مقدّس موسیقی کے ذریعے سے اپنے اندر قوّتِ اسرافیلیہ کو اجاگر کریں، تاکہ ہم حضرتِ اسرافیل علیہ السّلام کی دوستی سے بہرہ ور ہوسکیں، اور یہاں یہ نکتہ بھی خوب یاد رہے
۳۳
کہ اسرافیلی قوّت کے ساتھ ساتھ عزرائیلی قوّت بھی ہر وقت مفید کام کررہی ہے ان شاء اللہ ہم یہاں اس کا ذکر کریں گے۔
۶۔ موسیقی سے علاج کا طریقہ:
یہ طریقہ کوئی نیا ہرگز نہیں، بہت قدیم ہے، کیونکہ گریہ و زاری اور مناجات حضرتِ آدمؑ سے شروع ہوئی، اور تمام انبیاءؑ کی یہی سنت رہی (۱۹: ۵۸) اور اس عاشقانہ و عارفانہ اور پیغمبرانہ عبادت میں حضرت داؤدؑ نے خدا کے حکم سے مقدّس موسیقی کا اضافہ کیا، اور اس طریقِ کار کو جس طرح زبور جیسی آسمانی کتاب میں مقام عطا ہوا، وہ بڑا اعلیٰ مقام ہے، اب مجھے کسی جھجک کے بغیر یہ کہنا ہے کہ اگر آپ پر دف و رباب کی موسیقی اور عارفانہ کلام کی نغمہ سرائی سے کوئی معجزانہ مستی طاری ہوجاتی ہے تو مبارک ہو! کہ یہ اسرافیل کا فیض ہے، اور یہی ہر گونہ بیماریوں کا روحانی علاج بھی ہے اور سدِ باب بھی۔
۷۔ تسخیرِ کائنات:
قرآن فرماتا ہےکہ خدا واندِ عالم نے انسان کے لئے آسمانوں، اور زمین کی تمام چیزوں (قوّتوں) کو مسخر کردیا ہے (۳۱: ۲۰، ۴۵ :۱۳) اس سے مراد یہ ہے کہ عالمِ اکبر کی ساری زندہ قوّتیں عالمِ اصغر میں گھیری ہوئی ہیں،
۳۴
جن میں فرشتوں کی قوّتیں بھی ہیں، یہی تذکرہ ملائکہ نے دوستی کے عنوان سے کیا ہے، پس ہمیں ایک طرف قوّتِ جبریلیہ و میکائیلیہ سے اور دوسری طرف قوّتِ اسرافیلیہ و عزرائیلیہ سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے، چونکہ مقدّس موسیقی کا موضوع ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اسرافیل اور عزرائیل سے متعلق کچھ حکمتیں بیان کریں۔
۸۔ صورِ اسرافیل کی قیامت خیز طاقت:
یہ دراصل خدائی طاقت ہے جو سراسر کائنات کو ہلا دیتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے یہ طاقت پیدا کرتا ہے، اس میں جملہ اشیائے کائنات کی حمدیہ تسبیح خوانی بھی ہے، ہر چیز کی نماز بھی (۱۷: ۴۴، ۲۴: ۴۱) آسمان زمین کی ہر مخلوق کا سجدہ بھی ہے (۱۳: ۱۵، ۱۶: ۴۹) نغمۂ لاہوتی بھی، دعوتِ حق بھی ہے، سب سے بڑا معجزہ بھی، تخلیقِ آدم اور سجودِ ملائکہ کا تجدّد بھی ہے، طوفانِ نوحؑ کی مثال بھی۔
۹۔ صور کی آواز اور اسماءُ الحسنیٰ:
آوازِ صور کے بے شمار معجزات میں سے ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ اس سے خزائنِ اسرار کے ابواب مفتوح ہوجاتے ہیں، اور اسماء الحسنیٰ کا بالفعل ظہور ہوتا ہے، جس کی بدولت ناقور کی گونج میں طرح طرح کی بے حساب
۳۵
برکتوں کا اضافہ ہوجاتا ہے، اسکا مطلب یہ ہوا کہ صور پھونکنے کے عمل میں صرف ایک آواز یا صرف ایک آسمانی بانسری یا محض بہشتی شہنائی نہیں، بلکہ اس میں آسمان زمین، اور عرش و کرسی کی تمام برکتیں بھی ہیں، جن کا اوپر ذکر ہوا، یہاں یہ نکتہ خوب یاد رہے کہ خدا ہر کائنات کو لپیٹتا بھی ہے، اور پھیلاتا بھی ہے، چنانچہ نغمۂ ناقور میں صوت و صدا کی کائنات لپیٹی ہوئی ہے، پس اس میں ہر فرشتہ، ہر مقدّس روح، ہر نبی، ہر ولی، ہر عارف، ہر عاشق ہر سالک، ہر درویش، ہر شب خیز مومن و مومنہ، ہر مسلمان، ہر مخلوق اور ہر شے کی عبادات و تسبیحات مرکوز و یکجا موجود ہیں، اور دف و رباب کی مقدّس موسیقی اسی عظیم الشّان آسمانی موسیقی کی نمائندگی کررہی ہے، اور یہ اسی کا سایہ (عکس = پرتو) ہے۔
۱۰۔ رباب کی موسیقی میں شفاء:
میرا کامل یقین اور عملی تجربہ یہ ہے کہ رباب کی ایسی موسیقی میں بہت سے امراض کا علاج ہے، جو خدا، رسولؐ، اور امامؑ کی محبت پر مبنی نظموں کے ساتھ سنائی جاتی ہے، ایسی موسیقی اور ایسی محبت ہر قسم کی بیماری کے لئے نسخۂ لاہوتی ہے، خاص کر نفسیاتی، اخلاقی، اور روحانی مریضوں کا علاج اسی رحمانی طب سے ہونا ضروری ہے، کیونکہ ہم خالی موسیقی کی بات تو نہیں کررہے ہیں، اور نہ ہی کوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ آوازِ ناقور صرف
۳۶
موسیقی ہی ہے، جبکہ اس میں عالمِ ذرّ کی ہر گونہ یادو عبادت موجود ہے، اور اسماءُ الحسنیٰ پڑھے جاتے ہیں، اور اللہ کے خوبصورت اسماء (۰۷: ۱۸۰) جن کے ذریعہ پکارنے سے وہ قبول فرماتا ہے، آنحضرتؐ اور أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام ہی ہیں، پس مقدّس موسیقی سے علاج کرنے میں جوشفائی معجزہ ہے وہ دراصل اسمِ اعظم کی برکت سے ہے، اور وہ امامِ زمان صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہٗ کی ذاتِ عالی صفات ہے، کیونکہ امامِ مبینؑ میں تمام اسمائے بزرگ جمع ہیں۔
۱۱۔ رباب کے ساتھ چند اذکار:
اذکار میں ایک قدیم نامی شمسی ذکر ہے، جو دعوتِ بقاء میں دف و رباب کے ساتھ کیا جاتا ہے، یہی ذکرِ جلی بھی ہے، اور ذکرِ اجتماعی بھی دعوتِ بقاء کا سب سے زور دار ذکر “بیتِ میدان” ہے، جو سب کے سب کھڑے ہوکر کرتے ہیں، جس میں گریہ و زاری مقصود ہوتی ہے، اسی دعوتِ بقاء کے دستور کے مطابق روحانی محفل بھی ہے، جو خرچ اور وقت کے اعتبار سے آسان بھی ہے، اور جمعیّت کے لحاظ سے خاص بھی، لہٰذا امامِ زمان علیہ السّلام کے چند عاشق مل کر خداوندِ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔
جب کسی ایسی محفل میں رباب کے ساتھ ترنم سے منا جات کیجاتی ہے،
۳۷
تو خدا کی رحمت سے بعض دفعہ مجلس میں ایک خوشگوار قیامتِ صغریٰ برپا ہو جاتی ہے، یعنی کچھ افراد کی گریہ وزاری ہوتی ہے، کچھ وجد میں آتے ہیں، کچھ پر کپکپی کی حالت گزرتی ہے، بعض مست ہوجاتے ہیں، بعض بے اختیار ہوکر غیر معمولی باتیں کرنے لگتے ہیں، بعض عالمِ خیال میں روشنی کو دیکھتے ہیں، وغیرہ، اب آپ بتائیں کہ دف و رباب کی اس حیران کن اثر انگیزی سے امراض کا علاج ہوگا یا نہیں؟ میرا خیال ہے کہ یہ آسمانی طبیب کے نورِ عشق کا معجزہ ہے، اگر ہم اس سے اپنی بیماریوں کا علاج نہ کریں تو بہت بڑی ناشکری ہوگی۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعہ ۱۵۔ شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ
۲۸۔ جنوری ۱۹۹۴ء
۳۸
صورِ اسرافیلؑ
۱۔ الصُّور کا بابرکت اور پُرحکمت لفظ قرآنِ حکیم کی ۱۰دس مختلف سورتوں میں آیا ہے، وہ یہ ہیں: انعام (۰۶: ۷۳) کہف (۱۸: ۹۹) طٰہٰ (۲۰: ۱۰۲) مومنون (۲۳: ۱۰۱) نمل (۲۷: ۸۷) یٰسٓ (۳۶: ۵۱) زمر (۳۹: ۶۸) قٓ (۵۰: ۲۰) حاقہ (۶۹: ۱۳) نباء (۷۸: ۱۸) اور دوسرا لفظ الناقور مدثر (۷۴: ۰۸) میں ہے۔
۲۔ جب امرِ واقعی اس طرح سے ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ روحانیّت اور انفرادی قیامت جیسی انتہائی عظیم تبدیلی صورِ اسرافیلؑ کی طاقت سے آسکتی ہے، تو پھر ہمیں اس سرِ عظیم سے متعلق حقائق و معارف کے لئے سوچنا از بس ضروری ہے، چنانچہ سب سے پہلے یہاں لفظِ “صور” کی لغوی تحلیل کی جاتی ہے، جسکا مادّہ ہے: ص و ر، اسی سے ہے: عربی آواز دینا، جھکانا، کاٹنا، جدا کرنا، الصُّور، نرسنگھا، بگل، الصورۃ: شکل، حلیہ، تصویر، خیالی تصویر، مصور الکائنات،: اللہ تعالیٰ، پس اس لفظ میں سوچنے کے لئے یہی چند مثالیں کافی ہیں۔
۳۔ اہلِ معرفت کے نزدیک صورِ اسرافیلؑ کا تصوّرنر سنگھا یا بگل سے دینا سوائے ایک حجاب کے کچھ بھی نہیں ہے، جبکہ وہ فرشتۂ جدّ (۷۲: ۰۳)
۳۹
کے توسط سے عشقِ الہٰی کا نغمۂ جان ستان و جان بخش ہے، یعنی وہ ایک ایسی زندہ اور بے مثال و بے نظیر پر نور ملکوتی بانسری یا شہنائی ہے، جو دوستانِ خدا کے لئے فنافی اللہ و بقا باللہ کا کام کرتی ہے، کیونکہ آپ نے اوپر کی مثالوں میں دیکھا کہ “صور” کے معنوں میں آواز دینا (دعوتِ حق) بھی ہے، جھکانا (عاجز بنانا) بھی ہے، کاٹنا (ذبح کرنا) بھی ہے، لیکن یہ ذبح لوہے کی چھری سے نہیں، بلکہ خنجرِ عشق سے مناسب ہے، جس طرح حضرتِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام کے فرزندِ دلبند حضرتِ اسماعیل علیہ السّلام خدا کی راہ میں اسی خنجرِ عشقِ خداوندی سے ذبح کئے گئے تھے، ورنہ ذبیح اللہ کے کچھ معنی نہ ہوتے۔
۴۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ صورِ اسرافیل کی انتہائی پرکشش آواز دینِ حق کی آخری دعوت بھی ہے، جیسا کہ قرآنی ارشاد کا تاویلی مفہوم ہے: “اس روز تمام لوگ ایسے روحانی داعی کی پیروی کریں گے جو دنیا کی ہر زبان میں بولتا ہے (… لَا عِوَجَ لَہٗ ۲۰: ۱۰۸)۔ کیونکہ رجوع الی اللہ خوشی سے بھی ہے اور لاچاری سے بھی (…. طَوْعًا وَّ کَرْ ھاً ….، ۰۳: ۸۳) پس ہمیں اس رازِ سربستہ سے بہت سے کلیدی حکمتوں کو جاننا چاہئے۔
۵۔ درخت قرآنی مثالوں میں سے ایک نمایان اور قابلِ فہم مثال ہے، جس کے تنا کے ساتھ اجزاء دوطرح سے مربوط ہیں، یعنی شاخوں کا ربط و تعلق ظاہر ہے اور جڑوں کا لگاؤ پوشیدہ، اسی طرح قرآنِ حکیم کا ہر موضوع
۴۰
گویا ایک انتہائی عظیم ثمردار درخت ہے، اور تمام الفاظ و معانی اسکی شاخیں اور جڑیں ہیں، چنانچہ جب کوئی عاشقِ صادق قرآنِ پاک کو عشقِ الہٰی کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے، اور اسی موضوع کو لیتا ہے تو کسی شک کے بغیر قرآنی علم و حکمت کی بہشت کے ہر مقام پر علمی دیدار ہوتا ہے ( فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ۰۲: ۱۱۵) چشم بکشا کہ جلوۂ دلدار + متجلّیست از درو و دیوار او بہ پیشِ تو ایستادہ چو سرو + سرفروبردۂ تو نرگس وار۔
۶۔ علمی دیدار کا مسئلہ سامنے آیا ہے، ہر چند کہ بارہا اس بے مثال نعمت کا تذکرہ ہوچکا ہے، تاہم یہاں بھی اس کا کچھ بیان ضروری ہے، وہ یہ کہ اگر نورِ امامت کی روشنی میں قرآنِ پاک کے باطن کو دیکھا جائے تو اس میں نورِ ازل کی علمی و عرفانی تجلّیات و ظہورات ہیں، اور ہر تجلّی کا مشاہدہ دیدار ہے۔
۷۔ دوستانِ عزیز! قرآنِ پاک کو نورِ منزل (۰۵: ۱۵) کی روشنی میں پڑھو، مثال کے طور پر سورۂ علق کے شروع کی پانچ آیاتِ کریمہ کو دیکھو، جو کچھ ترجمہ و تفسیر ہے، وہ بوجہِ ظاہر درست ہے، لیکن ہم اس کے باطن کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں، وہ اس طرح سے ہے:
پڑھو (اے محمد) اپنے ربّ کے زندہ و گویندہ اسمِ اعظم کے ساتھ جس نے (انسانِ کامل کو )جسمانی، روحانی، اور عقلانی طور پر پیدا کیا، اس نے انسانِ کامل کو روحانی محبت اور عشق کے تعلق (علق) سے پیدا کیا، پڑھو
۴۱
اور تیرا ربّ بے انتہا کریم (الاکرم) ہے، جس نے قلمِ ازل (نورِ عقل =کتابِ مکنون) کے ذریعہ سے علم سکھایا، اس نے کاملین کو ان تمام اسرار سے آگاہ کیا، جن کو وہ نہیں جانتے تھے (۹۶: ۰۱ تا ۰۵)۔
۸۔ قلمِ اعلیٰ (قلمِ الہٰی) عالمِ شخصی کے حظیرۃ القدس میں ہے، جہاں تمام اسرارِ حقائق و معارف بحکمِ آیۂ احصینٰہ (۳۶: ۱۲) مجموع و محدود ہیں، جب بندۂ مومن نورِ منزل کی روشنی میں اپنے آپ کو اور اپنے ربّ کو پہچان لیتا ہے، تو اسی کے ساتھ ساتھ نہ صرف قلم اور دوسری عظیم چیزوں کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے، بلکہ پروردگار جو الاکرم (بے انتہا کریم) ہے، وہ اپنے بندے کو قلمِ اعلیٰ یعنی نورِ عقل کے ذریعہ سے علم بھی سکھاتا ہے، پھر ایسے میں بندۂ مومن کو خدا سے عشق کیوں نہ ہو۔
۹۔ یہ قرآنی تعلیم بھی ہے اور کلیہ بھی کہ: “کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو (۱۷: ۴۴)۔” اہلِ ایمان کو اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ہمارے لئے کسی ایسی چیز کی تسبیح ممدّو معاون ثابت ہو سکتی ہے، جس کو ہم محسوس کرسکیں، جیسے طیور چمن کے نغموں کی تسبیح، یا صورِ اسرافیل جیسے دف و رباب کی تسبیح، یا منظرِ گلشن کی خاموش تسبیح، وغیرہ، کیونکہ انسان میں حقیقی عشق کی صلاحیت تو موجود ہے، لیکن وہ اس کو آسانی سے اجاگر نہیں کرسکتا، اس لئے اس کو کوئی سہارا چاہئے۔
۱۰۔ ربّ الاکرم کے حکمِ عالی سے حضرتِ داؤد علیہ السّلام کے ظاہر و
۴۲
باطن میں مسلسل صورِ اسرافیل بج رہا تھا، جس میں نغمۂ عشقِ الہٰی کا معجزہ ہونے کی وجہ سے کسی استثناء کے بغیر تمام چیزیں ہم آہنگ ہو کر تسبیح کرتی تھیں، جس میں پہاڑوں کی گونج اور پرندوں کی نغمہ سرائی نمایان تھی، جیسا کہ ارشادِ خداوندی کا ترجمہ ہے: اور ہم نے داؤدؑ کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا، جو تسبیح کرتے تھے (۲۱: ۷۹) ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا (۳۴: ۱۰) یہیں سے پتہ چلا کہ پہاڑ میں بھی روح کی کارفرمائی ہے۔
۱۱۔ اگرچہ اساسی اور باطنی طور پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائی جاتی (۴۸: ۲۳) اور انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کے روحانی اور عقلانی معجزات ایک جیسے ہوا کرتے ہیں، تاہم ظاہراً خداوندی پروگرام ایسا ہے کہ بتقاضائے زمان و مکان ہر پیغمبر اور ہر ولی (امام) کو ایک الگ کام دیا جاتا ہے، چنانچہ حضرتِ داؤدؑ کے حصے میں یہ کام آیا کہ آپؑ فرشتۂ جدّ کی نمائندگی کریں، اور ناسوت و ملکوت کے درمیان مقدّس موسیقی کا ایک مضبوط پل تعمیر کریں، تاکہ دینِ حق کی بے شمار نعمتوں میں خدا و رسولؐ اور امامؑ کے عشق کی عظیم نعمت بھی موجود ہو، اسی مقصدِ اعلیٰ کے پیشِ نظر حضرت داؤد علیہ السّلام نے زبور کے حمدیہ، دعائیہ وغیرہ گیتوں میں مختلف سازوں کی موسیقی کو شامل کرلیا۔
۴۳
۱۲۔ جب خداوندِ پاک کے امر سے مومنِ سالک کی ذاتی قیامت کا وقت آتا ہے، تو صورِ اسرافیل کے عجائب و غرائب کا آغاز اس آواز سے ہوجاتا ہے، جس کو “کان بجنا” کہتے ہیں، اور قرآنی حکمت میں اسکی مثال عربی (مچھر=اس کی آواز، ۰۲: ۲۶) ہے، جس کے بارے میں مولا علیؑ نے فرمایا کہ: میں وہ بعوضہ ہوں جس کی مثال اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمائی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ کان بجنے کی آواز صورِ اسرافیل کی بنیاد بھی ہے اور نورِ امامت کی ایک چنگاری بھی، پس یہی آواز رفتہ رفتہ بلند ہوکر ساری کائنات پر محیط ہوجاتی ہے، تاکہ تمام لوگ جس طرح قرآن میں ہے، فیصلۂ قیامت کے لئے جمع اور حاضر ہوجائیں۔
۱۳۔ سوال:
نغمۂ اسرافیل یعنی آوازِ صور کی سماعت ظاہری کان سے ہوتی ہے یا باطنی کان سے؟ جواب: دونوں سے، کیونکہ انفرادی قیامت کے شروع ہی میں یا جوج و ماجوج بشکلِ ذرّات پیدا ہوکر اس نفسانی دیوار یا حجاب کو چاٹ چاٹ کر کھا جاتے ہیں (۱۸: ۹۴، ۲۱: ۹۶) جو حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن کے درمیان ہے، پھر ہمیشہ یا کچھ وقت کے لئے ظاہری اور باطنی حواس ایک ہوجاتےہیں، نیز یہ بھی حقیقت ہے کہ صورِ قیامت کے دو پہلو ہیں، ایک لطیف جسمانی اور دوسرا روحانی۔
۴۴
۱۴۔ سوال:
آپ نے کہا کہ: انبیاء و اولیاءعلیہم السّلام کے روحانی اور عقلانی معجزات ایک جیسے ہوا کرتے ہیں، تو پھر آپ ہی بتائیں کہ حضرت آدمؑ کی ذات میں دورِ قیامت کا کون سا معجزہ تھا؟ جواب: حضرتِ آدم علیہ السّلام میں جو الہٰی روح پھونک دی گئی تھی (۱۵: ۲۹، ۳۸: ۷۲) اس کا عمل صورِ اسرافیل کے ذریعہ سے ہوا تھا، کیونکہ قرآنِ مجید میں ن ف خ کے جتنے صیغے ہیں، ان کی مثالیں اگرچہ ظاہر میں الگ الگ ہیں، لیکن تاویل ایک ہی ہے، اور وہ ہے صور پھونکنا۔
۱۵۔ سوال:
قرآنِ پاک میں ہےکہ: کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں… (۱۵: ۲۱) کیا ہم خدا کے خزانوں کو بہشت کہہ سکتے ہیں؟ اور یہ مان سکتے ہیں کہ موسیقی اور اس کے آلہ جات جنّت سے نازل ہوئے ہیں؟ جواب: بے شک خزائنِ الہٰی بہشت ہیں، اور دنیا کی تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی صورت جنّت میں چھوڑ کر مادّی طور پر دنیا میں آئی ہیں، یہ تو ہر چیز کی روحانی شکل اور جسمانی شکل کی بات ہے، بہر حال موسیقی کی اصل روح بہشت میں ہے، اور اس کا سایہ دنیا میں آیا ہے،
۴۵
پس بہشت کی نعمتوں کے سائے بھی نعمتیں ہیں مگر کمترین۔
۱۶۔ سوال:
جہاں حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام خدا کے اذن سے مردوں کو زندہ کرسکتے تھے (۰۳: ۴۹) وہاں یہ کام خالقِ اکبر کے لئے بڑا آسان ہے کہ وہ قادرِ مطلق قیامت کے دن سارے مردوں کو امرِ کن یا صرف ارادہ ہی سے زندہ کرے، لیکن اس میں کیا رازِ حکمت پوشیدہ ہے کہ اہلِ قبور میں روح پھونک دینے کا کام اسرافیلؑ کے ذمہ کردیا گیا؟ جواب: اس میں بہت بڑا راز اور عظیم حکمت آگین اشارہ یہ ہے کہ دین میں سب سے بڑی اور آخری طاقت خدا، رسولؐ، اور امامِ زمانؑ کا پاک عشق ہے، اور اس مبارک عشق کو حرکت میں لانے کا خاص ذریعہ مقدّس موسیقی ہے، تاکہ اس بے مثال قوّت سے قلبی مردگی دور ہوجائے، اور حقیقی زندگی ملنے لگے، پس صورِ اسرافیل کا پُرحکمت اشارہ یہی ہے، بشرطیکہ کوئی دانشمند اس میں غور و فکر کرے اور بھید کو سمجھ کر فائدہ اٹھائے۔
۱۷۔ سوال:
آیا اس بات کی کوئی قرآنی دلیل مل سکتی ہے کہ بہشت میں موسیقی اور نغمات ہیں؟ جواب: جی ہاں، اسکی کئی روشن دلیلیں ہیں، پہلی
۴۶
دلیل: صورِ اسرافیل ہے، کیونکہ وہ خدا کے حضور سے ہے، اور بہشت کی نعمتوں میں سے ہے، دوسری دلیل: جو لوگ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء اور صدیقین، اور شہداء اور صالحین، کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں (۰۴: ۶۹) اس سلسلے میں اہلِ ایمان بہشت میں حضرتِ داؤد علیہ السّلام کو بھی دیکھ کر از حد شادمان ہوں گے، کیونکہ ان کے نامۂ اعمال میں نغمہ ہائے زبور اور تمام متعلقہ موسیقی ہوگی۔
۱۸۔ سوال:
سورۂ زخرف میں ہے: اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ = تم اور تمہارے جوڑے جنّت میں جاؤ، جہاں تمہیں نغمے سنائے جائیں گے (۴۳: ۷۰) آیا اس آیۂ کریمہ کا یہ ترجمہ درست ہے، جو مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی کی کتاب “اسلام اور موسیقی” کے ص ۱۹ پر درج ہے؟ جواب: جی ہاں، یہ ترجمہ بالکل درست ہے۔
مذکورہ کتاب کے صفحہ ۲۰ پر بھی دیکھیں: فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِيْ رَوْضَةٍ يُّحْبَرُوْنَ =جو لوگ ایمان لائے اور اس کے مطابق عمل کئے وہ چمن میں نغمے سن رہے ہوں گے ( ۳۰: ۱۵)۔
۴۷
۱۹۔ سوال:
آپ یہ بتائیں کہ آیا اس حدیثِ شریف میں موسیقی کا کوئی اشارہ موجود ہے؟ اِنَّ اللّٰہَ اَسّٓسٓ دِیْنہٗ عَلیٰ اَمْثاَلِ خَلْقِہٖ لیُسْتَدلَّ بخلقِہٖ عَلیٰ دینہٖ وبدینہٖ علیٰ وحدانیّتِہٖ= یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنیاد اپنی آفرینش کی مثالوں پر رکھی تاکہ اس کی آفرینش سے اس کے دین کی دلیل لیجائے اور اس کے دین سے اس کی وحدانیت کا استدلال کیا جائے (وجہ دین، فارسی، ص ۶۶) جواب: جی ہاں، اس حدیث میں یہ واضح اشارہ ہے کہ جیسی جیسی ادنیٰ چیزیں دنیا میں ہیں، ویسی ویسی اعلیٰ چیزیں دین میں ہیں، پس دنیا میں جب کم درجے کی موسیقی ہے تو دین میں اعلیٰ درجے کی مقدّس موسیقی کیوں نہ ہو۔
۲۰۔ سوال:
کتابِ “کوکبِ دری” بابِ سوم منقبت نمبر ۵۶ میں حضرت مولا علیؑ کا ارشاد ہے: اناالنّاقور الَّذی قال اللّٰہ تعالیٰ: فَاِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُوْرِ (۷۴: ۰۸) یعنی میں ہوں وہ ناقور (صورِ اسرافیل) جس کا ذکر حق تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے، جبکہ صور میں پھونکا جائے گا۔ یہاں پوچھنا یہ ہے کہ امامِ عالیمقام علیہ السّلام کی ذاتِ بابرکات کس معنیٰ میں ناقور ہوسکتی
۴۸
ہے؟ اور کیوں ایسا ہونا ضروری ہے؟ جواب: آپ جس پاک ہستی کو نور مانتے ہیں، وہ حواسِ ظاہر و باطن کا نور ہے، یعنی نورِ امامت جو نورِ ہدایت ہے، وہ انسان کی ہر حس اور ہر مدرکہ کے مطابق ہے، دوسرے الفاظ میں یہ کہوں گا کہ ایک ہی نور کے کئی ظہورات ہیں، تاکہ آنکھ، کان، ناک وغیرہ کے لئے ہدایت بھی ہو، اور نعمت بھی، پس ظہورِ نور ناقور میں بھی ہے۔
۲۱۔ سوال:
سورۂ فصلت (حٰمٓ السجدۃ) میں ان الفاظِ مبارک کو غور سے دیکھ لیں: قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْٓ اَنْــطَقَ كُلَّ شَيْءٍ =وہ (کھالیں) جواب دیں گی “ہمیں اسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کردیا ہے (۴۱: ۲۱) یعنی ہر چیز خواہ وہ بے جان کیوں نہ ہو، خدا کے حکم سے بولتی ہے، یہ بہت بڑا معجزہ کب اور کہاں یش آتا ہے؟ جواب: جب اسرافیلؑ خدا کے دوستوں کے کان میں صور پھونکتا ہے، اور عزرائیلؑ بار بار ان کی روح کو قبض کرلیتا ہے، تو اس وقت ہر چیز کی گفتگو کے معجزات شروع ہو جاتے ہیں۔
۲۲۔ سوال:
اس آیۂ کریمہ کا ترجمہ اور تاویلی مفہوم بتائیں: اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ۔
۴۹
اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ (۳۷: ۴۰ تا ۴۱) جواب: مگر خدا کے برگزیدہ بندے ان کے واسطے (بہشت میں) مقرر روزی ہوگی، تاویل: مگر اللہ کے دین شناس اور مؤحد بندے وہ ہیں جن کو ایسا روحانی رزق ملے گا کہ وہ اسے دنیا میں بھی جانتے تھے۔ یعنی دین کی ہر گونہ نعمت، علم، حکمت، دیدارِ پاک، عشقِ مولا، روحانیّت، نور، سرور، اسرار، فتح، کامیابی، نغمہ ہائے روحانی، سروحدت وغیرہ، جیسا کہ سورۂ محمد (۴۷: ۰۶) میں یہ مفہوم ہے کہ دنیا ہی میں بہشت کی معرفت ہونی چاہئے۔
۲۳۔ سوال:
“رباب نے کیا کہا؟” کے عنوان کے تحت آپ نے تحریر کیا ہے کہ رباب نے کہا: “برائے دین، برائے دین” یعنی دین کے لئے، دین کے لئے، اس کا ایک مطلب تو آپ نے بتا دیا ہے، پھر بھی ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ آیا، اس میں مزید کوئی تاویلی حکمت ہوسکتی ہے؟ جواب: جی ہاں، اس کی دوسری تاویل یہ ہے کہ رباب دراصل ایک مقدّس ساز ہے، جس کا تعلق صورِ اسرافیل سے ہے، اس لئے اس کو صرف دین ہی کے لئے مخصوص کیا جائے، اور کوئی شخص اس کو دنیوی موسیقی کے لئے استعمال نہ کرے۔
۲۴۔ سوال:
بحوالۂ مضمون: “ایک عجیب نورانی خواب۔” آپ کا کہنا ہے کہ آپ کو نورانی خواب میں مولانا
۵۰
شاہ کریم الحسینی حاضر امام صلوٰۃ اللہ علیہ نے مئی ۱۹۸۲ء میں رباب کو ترقی دینے کے لئے حکم دیا تھا، اس پر آپ نے کس حد تک عمل کیا؟ جواب: میں بہت ہی عاجز اور قاصر ہوں، حکیم پیر ناصر خسرو قدس اللہ سرہٗ کا حلقۂ دعوت بڑا وسیع ہے، جس میں دف و رباب کی مقدّس روایت چلی آئی ہے، سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے، تاہم خداوندِ قدوس کی توفیق و یاری سے اپنی سی حقیر کوشش کی، اور کچھ نظمیں لکھیں، اور اب سعی کررہا ہوں کہ اس کی اہمیّت و افادیّت قرآن اور روحانیّت کی روشنی میں ظاہر کردی جائے، ان شاء اللہ تعالیٰ جو روایت جماعت کے لئے مفید ہو، وہ اپنی جگہ جاری و ساری ہی رہے گی۔
۲۵۔ سوال:
اس کی وجہ کیا ہے کہ ہر آدمی فطری طور پر ساز و سوز اور موسیقی کا دلدادہ ہوتا ہے؟ مگر یہ بات اس سوال سے الگ ہے کہ کوئی مذہب اس چیز کو نہیں چاہتا ہو؟ جواب: یہ سوال بڑا دلچسپ اور اساسی نوعیّت کا ہے، ربّ الاکرم کی بے مثال مصلحت و حکمت اسی امر میں پوشیدہ تھی کہ حضرتِ آدم علیہ السّلام کی طینت و سرشت میں موسیقی کا عنصر بھی داخل کردیا جائے، چنانچہ خالقِ اکبر نے ابوالبشر کو صلصال (کھنکھناتی ہوئی مٹی) سے پیدا کیا، قرآن (۱۵: ۲۶، ۱۵: ۲۸، ۱۵: ۳۳، ۵۵: ۱۴) میں صلصال کو دیکھئے، اور مستند عربی لغات میں بھی دیکھئے،
۵۱
اس لفظ کے معنی ہیں: سوکھی ہوئی بجنے والی مٹی، یور یا لگام کا آواز دینا، بادل کا گرجنا، گھنٹی کا گونجنا، تخلیقِ آدمؑ کا ظاہری قصّہ سب کو معلوم ہے، لہٰذا اس مقام پر ان کی روحانی تخلیق کی بات کی جاتی ہے، وہ یہ کہ صلصال سے صورِ اسرافیل کی گونج مراد ہے، جس سے حضرتِ آدمؑ کی روحانی آفرینش شروع ہوئی، چونکہ آدمؑ کی سرشت میں مقدّس موسیقی داخل ہوئی تھی، اسی وجہ سے خاندانی طور پر اولادِ آدمؑ کو موسیقی اور خوش الحانی مرغوب و دلپسند رہتی ہے۔
۲۶۔ سوال:
دنیا کی ہر گونہ موسیقی کا اصل سرچشمہ کہاں ہے؟ جواب: سورۂ حجر (۱۵: ۲۱) میں خوب غور سے دیکھ لیں، تاکہ اس حقیقت پر یقین ہو کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو خزائنِ الہٰی سے نازل ہوئی ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ لوگ اس نعمت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔
۲۷۔ سوال:
چونکہ آپ کا یہ مضمون موسیقی، خوش الحانی اور سماعی جمالیات سے متعلق ہے، اس مناسبت سے ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ گانے والے
۵۲
پرندوں میں سے کس کس کو زیادہ پسند کرتے ہیں؟ اور آپ نے کس پرند کی بولی میں کوئی معجزہ سنا؟ جواب: میں گانے اور چہچہانے والے تمام پرندوں کو پسند کرتا ہوں، سب سے پہلے مݳݵون (اوریول = ORIOLE) سنہری کوّا ہے، جس کی نغمہ سرائی ہمارے علاقے میں بیمثال ہے، پھر ٹیرو ہے، یعنی چنڈول (SKY LARK) پھر ڎیو=متُم ڞِن (کالی چڑیا) وغیرہ ہیں، تاہم خروسِ سحر نے اذان دیتے ہوئے جو کچھ کہا، وہ زبردست روحانی معجزہ تھا، یہ قرانگغو توغراق (یار قند) کی بات ہے۔
۲۸۔ سوال:
اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ زبور آسمانی اور الہامی کتاب ہے، لیکن اس کے شروع سے لیکر آخر تک حضرتِ داؤد علیہ السّلام ہی کا اپنا منظوم کلام ہے، اس میں کیا راز ہے؟ جواب: قرآنِ پاک (۰۴: ۱۶۳، ۱۷: ۵۵) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ داؤدؑ کو زبور عطا کردی۔ چونکہ حضرتِ داؤد خلیفۃ اللہ علیہ السّلام عاشقانہ گریہ و زاری سے بار بار فنا فی اللہ کا مرتبہ حاصل کرتے تھے، اور اس حال میں (جیسا کہ حدیثِ نوافل میں ہے) ربّ الاکرم ان کی زبان ہوکر کلام کرتا تھا، اور خدا کے لئے اس امر میں کوئی مشکل نہیں، پس زبور ظاہراً حضرتِ داؤدؑ کے حمدیہ، دعائیہ، وغیرہ
۵۳
گیتوں کا مجموعہ ہے، اور باطناً خدا کا کلام ہے، اور اس حقیقت کی قرآنی دلیل یہ ہے:
وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى (۰۸: ۱۷) اور (اے رسولؐ) تم نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی (۰۸: ۱۷) اس سے یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ پیغمبر اور امام کا قول و فعل خدا کا قول و فعل ہوجاتا ہے، پس زبور کسی شک کے بغیر آسمانی کتاب ہے۔
۲۹۔ سوال:
آپ کہتے ہیں کہ خداوندِ تعالیٰ نے انسان کو ایک کائنات کے طور پر پیدا کیا ہے، اس لئے اس میں سب کچھ ہے، اگر یہ بات حقیقت ہے تو اس میں قلم، لوح، اسرافیل، میکائیل اور جبرائیل کہاں ہیں؟ جواب: جی ہاں، یہ بات حقیقت ہے، لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ حدِّ قوّت سے حدِّ فعل تک جتنی روحانی منزلیں ہیں، آپ ان کو طے کرکے اپنے آپ کو کماحقہٗ پہچان لیں، تاکہ آپ کو مکمل یقین حاصل ہوکہ آپ کے عالمِ شخصی میں عقل قلم ہے، روح لوحِ محفوظ، قوّتِ عشقِ اسرافیل، قوّتِ فہم میکائیل، اور قوّتِ خیال جبرائیل ہے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا (۱۶: ۸۱) اور اللہ نے بنا دیئے تمہارے واسطے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے سائے (۱۶: ۸۱) یعنی تمہارے عالمِ شخصی میں
۵۴
ہر چیز کا زندہ سایہ (مظہر) ہے، خصوصاً پانچ حدودِ روحانی اور پانچ حدودِ جسمانی کے سائے (مظاہر)، وہ یہ ہیں: قلم، لوح، جدّ، فتح، خیال، ناطق، اساس، امام، حجّت، داعی۔
۳۰۔ سوال:
آپ کبھی کبھار اپنی گفتگو یا تحریر میں “آسمانی عشق” کے لفظ کو استعمال کرتے ہیں، اس سے کون سا عشق مراد ہے؟ اور ایسے عشق کا کیا فائدہ ہے؟ جواب: آسمانی عشق اُس انتہائی پاک و پاکیزہ اور شدید محبّت کا نام ہے، جو اہلِ ایمان کے دل میں خدا، رسولؐ، اور امامِ زمانؑ کے لئےہوتی ہے، جس کا حکم آسمانی کتاب (یعنی قرآن) کے بہت سے مقامات پر موجود ہے، دنیا اور آخرت میں اس کے بے شمار فائدوں کا کیا کہنا! اگر دین کا مقصد خیر خواہی ہے تو اس کی بہترین صورت عشق ہے، تمام دینی فرائض کی بجا آوری عشق ہی سے آسان ہوجاتی ہے، اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (۹۴: ۰۵) کی تفسیر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر مشکل کام عشق سے آسان ہوجاتا ہے، ذکرِ الہٰی کی کئی قسمیں ہیں، لیکن ذکرِعشق ذکرِاعظم اور ذکرِ اکبر ہے، اور وہ اعلیٰ سطح پر صورِاسرافیلؑ کے ساتھ ہوتا ہے، اور ابتدائی طور پر رباب کے ساتھ، ذکرِاعظم یہ ہے کہ اس میں نہ صرف زبان اور دل کا ذکر ہوتا ہے، بلکہ تمام ذرّاتِ روح اور جملہ خلیاتِ بدن بھی ہم آہنگ ہوکر خدا کو یاد کرتے
۵۵
ہیں، اور ایسے میں بندۂ مومن کی ہستی پر نورِ عشق محیط ہوجاتا ہے۔
۳۱۔ سوال:
سماوی یا حقیقی عشق کس طرح پیدا ہوجاتا ہے؟ اور کس وسیلے سے اس کی ترقی ہوسکتی ہے؟ جواب: یہ بات قرآن ہی کی روشنی میں ہے کہ اللہ کی محبت رسولؐ کی محبت سے، اور آنحضرتؐ کی محبت آپؐ کے قرابت داروں کی محبت سے حاصل ہوتی ہے (۰۳: ۳۱، ۴۲: ۲۳) پس امامِ زمانؑ ہی خدا کے اسمِ ودود (۱۱: ۹۰، ۸۵: ۱۴) کا مظہر ہے، ودود کے معنی ہیں محبت کرنے والا، چنانچہ امامِ حیّ و حاضر اپنی اس صفتِ مظہریّت میں لوگوں سے مختلف درجات پر محبت کرتا ہے، اگر تم اس سے خاص محبت کرو گے تو وہ بھی تم سے خاص محبت کرے گا، اگر تمہاری محبت بفضلِ خدا شدید ہے تو اس کا نام نارِ مقدّس یعنی آتشِ عشق ہوگا، اور یہ آسمان سے نازل ہوئی ہوگی، جس طرح یہ آگ حضرتِ ہابیلؑ کی گوسفندِ نفس کو قبولنے کے لئے آسمان سے آئی تھی (۰۵: ۲۷) یہاں یہ بڑا ضروری نکتہ یاد رہے کہ نور کا نام نار (آتشِ عشق) بھی ہے جیسے حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کے قصّۂ قرآن میں ہے کہ ظاہراً ان کو مادّی آگ کی ضرورت تھی اور باطناً آتشِ عشق کی تلاش (۲۷: ۰۷) اور آیۂ کریمہ کا تاویلی مفہوم یہ ہے کہ جب حضرتِ موسیٰؑ اس آگ کے پاس آئے تو آواز آئی کہ مبارک (برکت دیا گیا) ہے وہ جو آتشِ عشق (نورِ عشق=نورِ عقل) میں
۵۶
ہے، اور جو اس کے گرد ہے، اور اللہ اس مرتبہ سے پاک و برتر ہے، کیونکہ وہ عوالمِ شخصی کا پروردگار ہے (۲۷: ۰۸) یعنی وہ ان کی پرورش رفتہ رفتہ انتہائی اعلیٰ درجہ تک کرتا ہے۔
آسمانی محبّت اور عشق کی ترقی اس بات میں ہے کہ بندۂ مومن فرمانبردار اور متّقی ہو، وہ علم الیقین کی روشنی میں اپنے امامِ وقتؑ کی بے مثال خوبیوں کو دیکھے، عین الیقین سے اس کے باطنی حسن و جمال کی گونا گون تجلّیات کا مشاہدہ کرے، حق الیقین کی آخری منزل میں اس کی کامل معرفت حاصل کرلے، قرآن میں امام اور امامِ مبین میں قرآن کو دیکھے تو پھر یقیناً آسمانی عشق درجۂ کمال پر پہنچ جائے گا۔
۳۲۔ سوال:
کیا حکیم پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرہٗ کے حلقۂ دعوت کے علاوہ اسمٰعیلی تاریخ میں اور کہیں موسیقی کی کوئی روایت تھی؟ جواب: جی ہاں، اس سلسلے میں ہم ریسرچ کررہے ہیں، فی الحال ایک بڑی اہم روایت کا پتا چلا ہے، وہ یہ ہے کہ حضرتِ مولانا امام المعزالدّین اللہ علیہ السّلام سلطانِ مصر کے محل کے لئے ہر رات ایک ہزار محافظ ہوا کرتے تھے، جن میں پانسو سوار اور پانسو پیادہ ہوتے تھے، ان کا یہ کام تھا کہ شام سے لے کر صبح تک شاہی محل کے گرد اگرد گشت کریں، اور ساتھ ہی ساتھ
۵۷
ڈھول، نقارے اور شہنائی بجاتے جائیں، اس کے علاوہ اس شاہی جلوس میں بھی یہی باجے بجاتے تھے، جو ہر سال افتتاحِ خلیج (نہر) کے لئے نکلتا تھا (بحوالۂ سفر نامۂ ناصر خسرو)۔
۳۳۔ سوال:
سورۂ بنی اسرٓائیل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: (ترجمہ) اور (سارے جہان میں) کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو (۱۷: ۴۴) کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں کہ یہ حقیقت کس طرح ہے؟ جواب: یہ اسرارِ عظیم اسی آیۂ کریمہ (۱۷: ۴۴) میں ہیں کہ قلم (حمد =عقل) اللہ کی تسبیح کرتا ہے، لوحِ محفوظ تسبیح کرتی ہے، سات آسمان اور زمین اور ان میں جتنی چیزیں ہیں وہ سب اس کی تسبیح کررہی ہیں، قلم، لوح، سات آسمان، اور زمین دس کلیات ہوئے، پس ہر کل میں سب کی نمائندگی لازمی امر ہے، اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ماننا پڑے گا کہ ہر چیز غیر شعوری طور پر کم از کم دس مقامات پر ذاتِ سبحان کی تسبیح کررہی ہے، اور یہ تسبیح ہر مقام کے مطابق ہے، اور سب سے اعلیٰ تسبیح مرتبۂ عقل پر ہے، جس کا نام قلم بھی ہے، اور حمد بھی، چنانچہ تجدّدِ امثال کے معنی میں قلمِ الہٰی (حمد=عقل) ابھی ابھی کائنات و موجودات کی اشیاء کو لکھ رہا ہے، اور ایسے میں تمام چیزیں خدا کی حمد کے ساتھ یعنی عقل کے
۵۸
توّسط سے اللہ کی تسبیح کرتی ہیں، یعنی اس کو ہر چیز سے پاک و برتر قرار دیتی ہیں، اسی طرح ہر چیز لوحِ محفوظ (نفسِ کلّی) میں روحانی تحریر کی صورت کو قبول کرتے ہوئے تسبیح کرتی ہے، اور ہر آسمان کی کیفیّت و خاصیّت میں بھی، اور زمین پر جو چیز جیسی پیدا کی گئی ہے، اس حالت میں بھی تسبیح ہوتی رہتی ہے۔
چیزیں تین طرح سے تسبیح کرتی ہیں:
۱۔ زبانِ حال سے۔
۲۔ زبانِ قال سے۔
۳۔ اشارۂ عقل سے۔
ان تینوں میں سے ہر ایک دو قسموں میں ہے: ایک زبانِ حال خاموشی میں ہے، جیسے پتھر وغیرہ، اور دوسری آوازِ بے گفتگو میں، جیسے پرندوں کی آواز، ایک زبانِ قال معرفت کے بغیر ہے، اور دوسری زبانِ قال معرفت کے ساتھ، ایک اشارۂ عقل نمائندگی کے طور پر ہے، اور دوسرا ذاتی، پس تسبیح کے مقامات یا درجات دس سے زیادہ ہیں، اور اس کی قسمیں چھ ہیں۔
۳۴۔ سوال:
ہم مانتے ہیں کہ ہر چیز اپنے مقام اور اپنی کیفیّت کے مطابق تسبیح کرتی رہتی ہے، اور کوئی شیٔ تسبیح کے بغیر ٹھہر نہیں سکتی، لیکن اس کی کیا وجہ ہے
۵۹
کہ آپ موسیقی کے بعض آلہ جات کو زیادہ پسند کرتے ہیں؟ جیسے دف و رباب (چھردہ) وغیرہ؟
جواب: عقیدت و محبت دین کی سب سے بڑی بنیادی طاقت ہے، شروع شروع میں ہم علم جیسی بہت بڑی دولت سے بے بہرہ تھے، لیکن دف و چھردہ کے ساتھ جس طرح حضرتِ مولا کی منقبت سنائی گئی، وہ ہمارے لئے بہت بڑی کرامت ثابت ہوئی، اس سے ہم نہ صرف ایک راسخ العقیدت مومن ہوگئے بلکہ الحمدللہ! بہت سی عنایات ہوئیں، یقیناً مولائے برحقؑ کے پاک دین میں اور بھی کئی مقدّس روایات ہیں، لیکن میں جس حلقۂ دعوت میں پیدا ہوا، اسی کی روایت میں میرے لئے آسانی بھی تھی، اور افادیّت بھی، اور اس کے ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ میرا عقیدہ یا حسنِ ظن ہے کہ اس مقدّس روایت کو حکیم پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرہٗ نے امامِ وقت کے اذن سے اپنے حلقۂ دعوت میں رائج کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل اس بابرکت روایت کا آغاز ہوا، اور اب تک بفضلِ الہٰ شمالی علاقہ جات، چترال، افغانستان، تاجیکستان (روس) سریقول اور یار قند (چین) میں زندہ اور جاری ہے۔
۳۵۔ سوال:
کیا آپ یہ ثبوت پیش کرسکتے ہیں کہ حضرتِ مولا علی علیہ السّلام نے کبھی کسی موسیقی کی طرف توجہ فرمائی تھی؟ جواب: جی ہاں، آپ کتابِ
۶۰
کوکبِ دری، بابِ پنجم، منقبت نمبر ۳۳ کو پڑھیں، اس میں یہ روایت بہ اسنادِ خود درج ہے: حارث بن اعور کہتا ہے کہ میں امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ کے ہمراہ عیرہ میں جو کوفہ کے نزدیک ہے گیا، اسوقت ایک دَیرانی پر میرا گزر ہوا جو ناقوس (سنکھ) بجارہا تھا، مولاؑ نے فرمایا “اے حارث! تجھے معلوم ہے کہ یہ ناقوس کیا کہتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ خاتم الانبیاءؐ کا وصی بہتر جانتا ہے، فرمایا: وہ دنیا اور اس کی خرابی و بربادی کو ضرب المثل کے طور پر بیان کرتا ہے، پھر مولا علی علیہ السّلام نے ناقوس کے اشعار کو پڑھ کر سنایا جو مذکورہ کتاب میں ہیں۔
۳۶۔ سوال:
استادِ محترم! ہم آپ سے کوئی بحث و مناظرہ تو نہیں کرتے، مگر قیمتی معلومات کی غرض سے شاگردانہ سوالات کرتے ہیں، کیونکہ ہم اپنے مسائل کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، سو آپ بمہربانی یہ بتائیں کہ علاقۂ ہونزہ میں زمانۂ قدیم سے اب تک ڈھول، نقاروں، اور شہنای کی موسیقی کا جیسا رواج رہا ہے، اور اس پر مزید آپ کے گاؤں حیدر آباد میں فوجی بینڈ بھی ہے، آپ کے نزدیک اس کا کیا جواز ہے؟ اور اس میں عوام کے لئے کیا کیا فائدے ہیں؟ جواب: قرآنِ پاک میں خوب غور سے دیکھ لیں،اس میں جتنی چیزیں حرام ہیں، وہ تو حرام ہی ہیں، لیکن اللہ کی بنائی ہوئی زینت کس نے حرام کردی،
۶۱
آپ آیۂ زینت کو سورۂ اعراف (۰۷: ۳۲) میں گہری نظر سے پڑھ لیں، پس زینۃ اللہ جو ظاہری ہے وہ پانچ حواسِ ظاہر کے مطابق ہے: باصرہ کے لئے باغ و گلشن وغیرہ کا نظارہ ہے، سامعہ کے لئے موسیقی اور خوش الحانی، شامّہ کے لئے ہرگونہ خوشبو، ذائقہ کے لئے پاک و عمدہ غذائیں، اور لامسہ (بدن) کے لئے اچھا اور مناسب لباس ہے، چنانچہ ہر حس کے لئے ایک جداگانہ زینت ہے، جس کا یہاں ذکر ہوا، اب ہم یہ بتائیں گے کہ آج کل ہونزہ میں دیسی بینڈ خاص خاص مواقع پر بجاتے ہیں، جس میں عوام کا میدانی اجتماع ہوتا ہے، ایسے اجتماعات اکثر مذہبی تہواروں سے متعلق ہوتے ہیں، جس میں بچوں اور بڑوں کی کچھ تقاریر ہوتی ہیں، کچھ حصہ تفریحی ثقافت کا بھی ہوتا ہے، جس سے تھکے ہوئے زمیندار تازہ دم ہوجاتے ہیں، اور تمام حاضرین کو بے حد خوشی حاصل ہوجاتی ہے۔
اگر ایسا کوئی اجتماع کسی مذہبی جشن سے متعلق ہے، تو اس کے زیرِ اثر مرد و زن، صغیر و کبیر، برنا و پیر سب پگھل جاتے ہیں، کیونکہ وہ لوگ سب بڑے راسخ العقیدت مومنین و مومنات ہیں۔
۳۷۔ سوال:
آپ اپنی وسیع معلومات کی روشنی میں ہمیں یہ بتائیں کہ آیا موسیقی کے ذریعہ بعض بیماریوں کا علاج بھی ہوسکتا ہے؟ جواب: جی ہاں، اس
۶۲
سے علاج کا کام لیا جاسکتا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ ہر ایسی چیز بطورِ دوا استعمال ہوسکتی ہے، جس میں کم و بیش کوئی اثر موجود ہو، اور ہم دیکھتے ہیں کہ موسیقی میں زبردست تاثیر ہے، انسان تو انسان ہی ہے، اس سے بعض جانور بھی متأثر ہوجاتے ہیں، پس موسیقی سے علاج نفسیات کے بعض مریضوں کے لئے مفید ہوسکتا ہے، اور اگر دف و رباب (چھردہ) کی مقدّس موسیقی کی بات کریں تو یہ تمام روحانی، اخلاقی اور نفسیاتی بیماریوں کے لئے اکسیرِ اعظم کا کام کرتی ہے، پس یقیناً موسیقی میں علاج و شفاء کا راز پوشیدہ ہے۔
۳۸۔ سوال:
“عشق افضل ہے یا عقل” یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس پر بحثیں تو بہت ہوئی ہیں، مگر کوئی تسلّی بخش جواب نہیں، کیا آپ اس میں ہماری مدد کرسکتے ہیں؟ جواب: ان شاء اللہ، یعنی اگر خدا نے چاہا تویہ کام ہوسکتا ہے، ورنہ نہیں، عرض یہ ہے کہ بحوالۂ حدیثِ قدسی عشق گویا درخت ہے اور عقل اس کا پھل، کیونکہ خدا عقل کو صرف ایسے شخص میں کامل اور مکمل کردیتا ہے، جس کو وہ محبوب رکھتا ہے، اور وہ خدا کو محبوب رکھتا ہے، اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ عقل عشق کی پیداوار ہے، یا یوں کہا جائے کہ آتشِ عشق سے نورِعقل کا ظہور ہوتا ہے، یہاں مزید سوچنے کی ضرورت ہے کہ
۶۳
بے شک عقل ثمرۂ محبّت و عشق ضرور ہے، لیکن جب غور سے دیکھئے کہ ثمرِعقل کی گٹھلی میں کوئی پودا پنہان ہے، اور وہ ہے عشق کا پودا، پس عشق میں عقل پوشیدہ ہے، اور عقل میں عشق مخفی۔
۳۹۔ سوال:
آپ نے آیۂ زینت (۰۷: ۳۲) کی حکمت بڑی عمدگی سے بیان کی ہے، تاہم اس کلیدی حکمت کی اہمیّت و افادیّت کے پیشِ نظر کچھ مزید وضاحت کریں۔ جواب: یہ تو آپ جانتے ہوں گے کہ قرآنِ حکیم کی ایک آیت کی تفسیر دوسری آیت سے ہوتی ہے، چنانچہ لفظ “زینت” کی ایک تفسیر سورۂ طٰہٰ (۲۰: ۵۹) میں ملتی ہے کہ وہاں فرعون کے جشن (سالگرہ) کو یوم الزینۃ کہا گیا ہے، یعنی زینت کا دن، یہاں سے زینت کے معنی کا یقین آتا ہے کہ اس میں موسیقی اوّلین چیز تھی، ورنہ فرعون کا جشن نامکمل ہوجاتا، اس مثال کے علاوہ یہ حدیث ملاحظہ ہو: زَیَّنُوا الْقراٰن بِاَصْوَاتکُم =قرآن کو عمدہ آواز سے پڑھا کرو۔ پس یہاں یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ زینت میں کان کے لئے بھی برابر کا حصہ ہے۔
۴۰۔ سوال:
علامہ صاحب! آپ دف و رباب کے تقدّس کے قائل ہیں، حالانکہ
۶۴
آپ کے بعض دوستوں اور شاگردوں نے کچھ دوسرے سازوں کو بھی شروع کیا ہے، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب: میں ان سے قربان! یہی تو رباب کی ترقی ہے، جس کا حکم مولائے پاک نے اس بندۂ ناچیز کو خواب میں دیا تھا، کیونکہ رباب مرکز ہے، اور باقی چیزیں اسکی ترقی ہیں۔
جب کسی سالگرہ کے جشن میں دیسی بینڈ پر طغرا یا بحرِطویل بجاتے ہیں، تو میں غلبۂ عقیدت و محبّت سے پگھل جاتا ہوں، اور میرا دل مرغِ نیم بسمل کی طرح تڑپنے لگتا ہے، اور ایسے میں میری روح قفسِ عنصری سے نکل کر پرواز کرنا چاہتی ہے۔
۴۱۔ سوال:
پیارے سر!کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ بہشت میں خدا و رسولؐ، اور امامؑ کا عشق ہے یا نہیں؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ اصل اور پاک عشق تو جنّت میں ہے، تو پھر آپ کو اس کا قرآنی ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ جواب: دین و دنیا کی ہر چیز خدا کے خزانوں سے آتی ہے (۱۵: ۲۱) یہ بھرے ہوئے الہٰی خزائن بہشت میں ہیں، چونکہ عشقِ الہٰ کی ایک انتہائی ادنیٰ مثال شراب ہے، اس لئے قرآنِ مجید میں جہاں جہاں خمرِ بہشت کا ذکر آیا ہے، وہاں دراصل عشقِ حقیقی کا تذکرہ ہے، بہشت کا ہر چشمہ، چشمۂ عقل بھی ہے، چشمۂ علم بھی، اور چشمۂ عشق بھی ہے، کیونکہ وہاں اعلیٰ نعمتوں کی وحدت و سالمیت
۶۵
ہوا کرتی ہے، دنیا کی شراب پینے سے عقل زائل ہوجاتی ہے، لیکن شرابِ جنّت (جو شرابِ عشق ہے) کے پینے سے نئی روح اور تازہ عقل آتی ہے، چنانچہ بہشت کی بے شمار نہریں چار قسموں میں ہیں (۴۷: ۱۵) ان میں سے ایک قسم شراب کی نہروں کی ہے، اس سے حقیقی عشق کی تجلّیات مراد ہیں۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعہ یکم شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ
۱۴۔ جنوری ۱۹۹۴ء
۶۶
عالمِ ذرّ
۱۔ مادّہ اور ضروری مُشتقات:
ذ۔ر۔ر: الذّرُّ (واحد، ذرّۃ) چھوٹی چیونٹیاں، کرمک، ہوا میں مُنتشر غبار، مٹی کے وہ انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرّات جو کھڑکی سے آنے والی دھوپ میں نظر آتے ہیں، ذرّاتٌ (واحد، ذرّۃ) نسل، ذُرّیَّۃُ (جمع۔ ذرِّیَّاتُ) اولاد، نسل۔
۲۔ حقیقی بنی آدم:
اگرچہ ظاہری اعتبار سے سارے انسان بنی آدم کہلاتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ معلوم ہے کہ لوگوں کے بہت سے درجات ہیں، یعنی بہت سے لوگ حضرتِ آدم علیہ السّلام کے رشتۂ روحانی کو چھوڑ کر بہت دور چلے گئے ہیں، چنانچہ ابوالبشر سے روحانی رشتہ کے بارے میں یہ تین باتیں ہمیشہ کے لئے یاد رکھیں: (الف) خلیفۂ خدا (آدمؑ) کا رشتۂ روحانی قائم رہتا ہے، جس کی مثال انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام
۶۷
ہیں،اور یہی حضرات بحقیقت بنی آدم ہیں (ب) نافرمانی کی وجہ سے روحانی رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، جس کی مثال حضرت نوحؑ کا ایک بیٹا کنعان ہے (ج) روحانی رشتہ ٹوٹ جائے تو اسے جوڑ لیا جاتا ہے، جیسے یہ کام سلمان فارسی نے کیا، اس سے اہلِ دانش کے لئے یہ رازِ قرآن منکشف ہوگیا کہ بنی آدم حقیقی معنوں میں انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام اور ان کے مومنین ہیں، اور جو خود آدمِ دور ہے، وہ بھی ابنِ آدم ہے، کیونکہ آدموں کا سلسلہ لا ابتداء ولا انتہا ہے۔
۳۔ عالمِ ذرّ کہاں ہے؟:
یاد رہے کہ عالمِ شخصی ہی کا ابتدائی نام عالمِ ذرّ ہے، جس کو ربّ الاکرم بنی آدم کی پشت سے پیدا کرتا ہے، جن کا اوپر ذکر ہوا، اور اللہ تعالیٰ کے عظیم اسرارِ باطن بڑے عجیب و غریب اور انتہائی حیران کن ہیں، کہ عالمِ ذرّ میں ہر ہر چیز کی روح موجود ہے، یہاں تک کہ مٹی اور پتھر جیسی جمادات کی روح بھی وہاں ہوتی ہے، کیونکہ ہر چیز کو پہلے پہل بحالتِ ذرّہ خزائنِ الہٰی میں موجود ہونا ہے (۱۵: ۲۱) چنانچہ خالقِ اکبر ہر ابنِ آدم کی پشت سے اس کی ذرّیت اور دیگر تمام ذرّات کو بتوسطِ اسرافیل و عزرائیل اخذ (۰۷: ۱۷۲) کرکے ان سے عالم ذرّ بنا دیتا ہے، اور اس کی روحانی اور عقلانی پرورش اس حد تک کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے ارواح کے لئے اقرارِ
۶۸
ربوبیّت ممکن ہوجاتا ہے، یہی تذکرہ سورۂ اعراف (۰۷: ۱۷۲) میں موجود ہے۔
۴۔ بنی آدم کی تعریف و توصیف:
بنی آدم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ جب بھی ذکر و مناجات اور عبادت کرتے ہیں، اس وقت ان کی ذات میں نورِ الہٰی کی روشنی آجاتی ہے، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا: (ترجمہ) اے اولادِ آدم! ہر عبادت میں اپنی (روحانی) آرائش حاصل کرو (۰۷: ۳۱) یعنی تمہاری ہر نماز، ہر عبادت، اور ہر گریہ و زاری ایسی ہو کہ اس سے روح کے لئے کوئی بھی روشنی اور زینت پیدا ہوجائے۔
بنی آدم پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا سب سے بڑا کرم یہ ہے: (ترجمہ) اور ہم نے یقیناً آدم کی اولاد کو بڑی عزت دی اور خشکی و سمندر (جسمانیّت و روحانیّت) میں ان کو لئے لئے پھرے، اور انہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں (یعنی روحانی علم سے ان کی روحوں کو تقویّت بخشی) اور اپنی بہت سی مخلوقات (جن میں فرشتے بھی ہیں) پر ان کو اچھی خاصی فضیلت دی (۱۷: ۷۰)۔
۵۔ انبیاءؑ اور عالمِ ذرّ:
تمام پیغمبروں کے قصّے عالمِ ذرّ سے متعلق ہیں، چنانچہ حضرتِ آدمؑ کے لئے جن فرشتوں نے سجدہ کیا، وہ ظاہر میں مومنین تھے اور باطن میں عالمِ
۶۹
ذرّ کے تمام ذرّات، حضرتِ نوحؑ کی ایک کشتی مثال اور دوسری ممثول تھی، انہوں نے جن بے شمار چیزوں میں سے دو دو جوڑے اپنے ساتھ جس کشتی میں لئے، وہ تمام جمادات، ساری نباتات، جملہ حیوانات، اور کل انسانوں کے روحانی ذرّات تھے، اور وہ کشتی حضرت نوحؑ کی روح تھی (۱۱: ۴۰، ۲۳: ۲۷)۔
حضرتِ ابراہیمؑ نے اپنے وقت میں دنیا بھر کے لوگوں کو بیت اللہ کی زیارت (حج) کی دعوت دی، اور آپؑ خود خدا کا گھر تھے، اور دعوت صورِ اسرافیل کے ذریعہ سے کی جارہی تھی، اس لئے انسانوں کے علاوہ پتھر، درخت، حیوان، چرند و پرند کی روحیں بھی آپؑ کے عالمِ ذرّ میں آگئیں، اسی طرح ان سب کے انسانِ کامل کے حضور آکر روحانی ملاقات کرنے میں بڑی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں (۲۲: ۲۷، ۲۲: ۲۸)۔
حضرتِ موسیٰؑ نے مدین شہر میں حضرتِ شعیبؑ کے لئے آٹھ یا دس۱۰ سال تک بھیڑ بکریاں چرانے (چوپانی) کا کام کیا، یہ قصّہ ظاہر میں درست ہے (۲۸: ۲۷) اور اس کا تاویلی پہلو یہ ہے کہ آپؑ کے عالمِ ذرّ میں بے حساب و بے شمار روحیں آئی ہوئی تھیں، جن کی آپؑ پرورش اور حفاظت کرتے تھے۔
حضرتِ عیسیٰؑ خدا کے اذن سے پرواز کرنے والے بہشتی کُرتے بناکر ان میں صورِ اسرافیل کے توسّط سے عالمِ ذرّ پھونک دیتے تھے، اس
۷۰
تاویلی حکمت کے لئے آپ سورۂ آلِ عمران (۰۳: ۴۹) میں خوب غور کرسکتے ہیں۔
حضرتِ محمد مصطفےٰ، رسولِ خدا، سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کا مجسّم اور زندہ دین تھے، جب آنحضرتؐ کی ذاتی قیامت قائم ہوئی تو حسبِ وعدۂ الہٰی (۰۹: ۳۳، ۴۸: ۲۸، ۶۱: ۰۹) دنیا بھر کے لوگ بصورتِ ذرّات آپؐ کے عالمِ شخصی میں داخل ہوگئے (۱۱۰: ۰۱ تا ۰۳) سورۂ نصر میں لفظِ نصر اسرافیل کا نام ہے، فتح میکائیل ہے،ناس سے تمام لوگ مراد ہیں، دینِ اللہ، یعنی خدا کا دین آنحضرت صلعم ہیں، کیونکہ خدا کی ہر چیز زندہ ہوا کرتی ہے۔
۶۔ امامِ مبین اور عالمِ ذرّ:
عالمِ ذرّہر زمانے میں انسانِ کامل کی مبارک شخصیّت ہی میں رہ کر اپنا کام کرتا رہتا ہے، وہ دراصل عالمِ ارواح و ملائکہ ہے، کیونکہ حضرتِ آدمؑ کی مثال میں روحیں بھی تھیں، اور فرشتے بھی تھے، ان سب کا مجموعی نام نور ہے، یعنی بہت بڑی روح، یا نفسِ واحدہ، جس میں سب لوگ جمع ہیں، بلکہ کائنات و موجودات کی ساری چیزیں بھی ساتھ ہیں، اس لئے کہ کوئی چیز رحمت اور علم کے بغیر نہیں (۴۰: ۰۷) پس اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو امامِ مبین کی ذاتِ عالی صفات میں گھیر لیا (۳۶: ۱۲) اور خدا کے اس قانون سے عالمِ ذرّ باہر نہیں ہوسکتا۔
۷۱
۷۔ امامِ مبین کے معانی:
(الف) پیشوا جو ظاہر ہے، جو اس دنیا میں حاضر اور موجود ہے۔
(ب) امامِ ناطق (بولنے والا امام) کیونکہ قرآن بھی امام ہے، مگر وہ بولتا نہیں۔
(ج) امامِ مؤول (تاویل کرنیوالا امام) کیونکہ لفظِ مبین میں جو بیان ہے، وہ تاویل کو بھی کہتے ہیں۔
(د) نمایان اور واضح راستہ، یعنی صراطِ مستقیم، کیونکہ جس طرح امام اللہ کی رسی ہے، اسی طرح وہ خدا کا زندہ راستہ بھی ہے۔
۸۔ متعلقہ آیۂ کریمہ:
اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ (۳۶: ۱۲) ہم ہی یقیناً مردوں کو زندہ کرتے ہیں (مردے دو قسم کے ہوتے ہیں: نفسانی اور جسمانی) اور لوگوں کے اعمال و آثار کو لکھتے ہیں، اور ہم نے تمام چیزوں کو امامِ مبین میں گھیر لیا ہے (۳۶: ۱۲) یعنی امامِ زمان علیہ السّلام اللہ کا گھر ہے، جس میں خدا کی وجہ سے ساری خدائی (بادشاہی) موجود ہے، اب اگر میں یہ کہوں کہ
۷۲
امامِ مبین میں عرش، کرسی، قلم، لوح، آسمان، زمین، اور ان کی جزئیات ساری چیزیں موجود ہیں، تو یہ مزید تشریح ہوگی، الغرض خداوندِ عالم کل اشیاء کو ہر وقت لپیٹتا بھی ہے اور پھیلاتا بھی ہے (۰۲: ۲۴۵)۔
۹۔ جمادات اور عالمِ ذرّ:
یقیناً عالمِ ذرّ میں جملہ اشیائے کائنات و موجودات کے نمائندہ ذرّات موجود ہیں، اس لئے لازماً وہاں جمادات کے ذرّات بھی ہیں، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں پہاڑ کا ذکر آیا ہے، وہاں خوب غور سے دیکھنا ہوگا، پہاڑ اور پرندے کس طرح حضرتِ داؤد علیہ السّلام کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر اللہ کی تسبیح کرتے تھے؟ اپنی جگہ پر؟ یا جنابِ داؤدؑ کے عالمِ ذرّ میں؟ صورِ اسرافیل کی مدد سے؟ یا اس کے بغیر؟ (۲۱: ۷۹، ۳۴: ۱۰، ۳۸: ۱۸) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرکے اڑادے گا (۲۰: ۱۰۵) آیا یہ معجزہ ظاہر میں ہوگا؟ یا باطن میں؟ اس میں کیا راز ہے کہ پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے (۷۰: ۰۹)؟ یہ آپ کے لئے فکر انگیز اور نتیجہ خیز سوالات ہیں، آپ حقائقِ عالیہ ص ۳۳، اور قرآنی مینار ص ۲۲۳ پر “روح اور مادّہ” کے مضمون کو بھی پڑھیں۔
سورۂ لقمان کے اس ارشاد میں واضح طور پر ذرۂ روح کا ذکر فرمایا گیا ہے: (ترجمہ: لقمان نے کہا:) اے بیٹا! اس میں شک نہیں۔ اگر کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین
۷۳
میں کہیں چھپی ہوئی ہو اللہ اسے نکال لائے گا (۳۱: ۱۶) یعنی صورِ اسرافیل کی دعوت پر ایسی چیزوں سے بھی ذرّاتِ روح عالمِ ذرّ میں آنے لگتے ہیں، جن کو لوگ بے جان سمجھتے ہیں۔
۱۰۔ ان تجلّیات کا کیا اشارہ ہے؟:
یہ صرف ابتدائی روحانیّت کے احوال ہیں، مثال کے طور پر: عین الیقین کے مشاہدے میں ایک بڑا عجیب پُرنور منظر تھا، پھر یکایک دوسرا حسین و خوشنما منظر سامنے آیا، یہ روح کی تجلّیات ہیں، اب اس کا ظہور بہشت جیسے ایک خوبصورت باغ کی شکل میں ہوا، پھر لمحہ بھر میں یہ جلوۂ جانفزا بھی بدل گیا، اب ایک عجیب و غریب شہر نظر آرہا ہے، جس کی ہر گلی کوچے میں سیم و زرّ اور لعل و گوہر بکھرے پڑے ہیں، اتنے میں ایک عظیم الشّان پہاڑ پر نظر پڑتی ہے، جس میں جگہ جگہ ہر گونہ جواہر کی کانیں موجود ہیں، پھر ایک تابناک سمندر کا نظارہ ہوتا ہے، پس آغازِ روحانیّت کی ان گونا گون تجلّیوں کا یہ اشارہ ہے:
(الف) کائنات و موجودات کی ایک متحدہ روح ہے، جس کو عالمگیر روح کہتے ہیں۔
(ب) اس ہمہ گیر روح کے ذرّات سے کوئی چیز خالی نہیں۔
(ج) عالمِ ذرّ میں عالمِ ظاہر کی تمام اشیاء کی نمائندگی ہے۔
۷۴
(د) عالمِ ذرّ کسی مبارک ہستی میں اُس وقت پیدا ہوجاتا ہے، جبکہ اسرافیل خدا کے حکم سے اس کے لئے صور بجاتا ہے: الحمد للہ ربّ العالمین ۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی۔
منگل ۵۔ شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ
۱۸۔ جنوری ۱۹۹۴ء
۷۵
رباب نے کیا کہا؟
۱۔ حضرتِ حکیم پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرہٗ کے حلقۂ دعوت میں منقبت خوانی دف و رباب کی موسیقی کے ساتھ ہوتی ہے، اس کا رواج تقریباً ہزار سال قبل شروع ہوا، اس مقدّس روایت نے اتنے لمبے عرصے میں گویا مکتبِ عشق اور صورِ اسرافیل کا کردار ادا کیا، جس کے وسیلے سے یہاں کے بے شمار اسماعیلیوں کو امامِ برحق علیہ السّلام سے عقیدت و محبّت کی فضیلت حاصل ہوتی رہی، پس یہ اہلِ بصیرت کے نزدیک اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ایک خصوصی نعمت ہے، خدا ہمیں ایسا زمانہ نہ دکھائے، جس میں یہ پُرحکمت چیز ہم سے چھن گئی ہو۔
۲۔ یار قند (چین) کا ایک واقعہ ہے کہ جب یہ خاکسار درویش اپنے روحانی انقلاب کے مراحل سے گزر رہا تھا، اسی زمانے میں کسی شام کے وقت وہ گھر میں انفرادی ذکر کے دوران رباب کو چھیڑنے لگا (جس کے چھ تاروں میں سے ایک انتہائی زیر، دو درمیانی زیر، ایک انتہائی بم اور دو درمیانی بم ہوا کرتے ہیں) خدا وندِ تعالیٰ کی قدرت بڑی عجیب و غریب ہے، کہ میں نے جب مضراب سے رباب کے تاروں کو چھیڑا تو کچھ تار صاف
۷۶
آواز میں بولنے لگے، انتہائی بم نے کہا: “برائے دین، برائے دین” (یعنی دین کی خاطر، دین کی خاطر) اور درمیانی زیر کے دونوں تار نے کسی معجزانہ شخصیّت کے نام کو دہرایا، اس روحانی معجزہ کی دونوں باتوں سے مجھے بدرجۂ انتہا حیرت ہوئی، یقیناً اس معجزۂ امامت میں عقلمندوں کے لئے بہت سے اشارے موجود ہیں، نیز اس میں میرے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی بھی تھی۔
۳۔ صبح سویرے میں ٹھیک وقت پر جماعت خانہ گیا، ریاضت اور عبادت حسبِ معمول ادا ہوگئی، اور جماعت کے افراد اپنے اپنے گھروں کی طرف جاچکے تھے، مگر قبول آخوند جو بڑا مومن شخص تھا، وہ میرے پاس جماعت خانے میں آکر کہنے لگا: “غُوجم! (میرے خواجہ!) باہر کچھ لوگ آئے ہوئے ہیں۔” میں نے اس کے مغموم لہجے اور چہرے سے اندازہ کیا کہ وہ لوگ کچھ اچھی نیّت سے نہیں آئے ہیں، میں نے زائد دعا و تسبیح ختم کرلی اور آخری سجدہ بجالا کر باہر نکلا، تو گیٹ کے سامنے مخالفین کا ایک گروہ موجود تھا، جس کی تعداد شاید چالیس۴۰اور پچاس کے درمیان تھی، یہ لوگ مجھے گرفتار کرنے کی غرض سے آئے تھے، جس کا سبب یہ تھا کہ وہاں ہمارے جانے سے قبل ہماری جماعت پوشیدہ تھی، کیونکہ کہیں کوئی جماعت خانہ نہیں بنا تھا، لیکن ہم نے جیسے ہی کئی مقامات پر چند جماعت خانے بنوائے، تو اسی کے ساتھ اسماعیلی جماعت ظاہر
۷۷
ہوگئی، جس سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہونے لگی کہ نصیر الدین کوئی نئی تحریک چلانے کے واسطے یہاں آیا ہے، اس پر مزید مصیبت یہ کہ خود ہماری جماعت کے بعض بڑے لوگ بھی تعمیرِ جماعت خانہ کے مخالف تھے، اس لئے وہ میری شدید مخالفت کرتے تھے۔
۴۔ خداوند تعالیٰ اس حقیقتِ حال کا گواہ ہے کہ جب سے میں نے امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام کے روحانی معجزات دیکھے تھے، اور جب جب غلبۂ روحانیّت کی مستی طاری ہوتی تھی تو اس حال میں کسی بھی خطرے سے نہیں ڈرتا تھا، چنانچہ میں نے بڑی قہرمانی اور بے باکی کے ساتھ ان کے پارٹی لیڈر سے چند سوالات کئے، اور کہا کہ آیا تم نے اسماعیلی جماعت اور جماعت خانے کے خلاف یہ یہ کام کیا ہے یا نہیں؟ وہ بڑی کمزور اور مضطرب آواز میں “نہیں نہیں” بول رہا تھا۔
۵۔ کچھ دیر کے بعد ایک رائفل مین بھی وہاں حاضر ہوگیا، بڑا موٹا اور لمبا جوان تھا، جس کو دیکھتے ہی سب لوگ اٹھ کھڑے ہوگئے، اور ہر شخص نے گرم جوشی سے اس کے ساتھ مصافحہ کیا، میرے ضمیر نے جو شرابِ روحانیّت سے سرشار تھا، کسی آواز کے بغیر حکم دیا کہ اگر میری گرفتاری مطلوب ہے تو میں بکری کی طرح نہیں بلکہ شیر کی طرح گرفتار ہوجاؤں، چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھا، اور اس سپاہی یا پولیس کی رائفل کو سنگین کے پیچھے سے انتہائی سختی کے ساتھ پکڑ کر چھین لینے
۷۸
کی کوشش کی، اور قریب ہی تھا کہ رائفل میرے ہاتھ میں آئے، لیکن جب ان لوگوں نے یہ بڑا خطرناک منظر دیکھ لیا، تو فوراً سب کے سب مجھ پر حملہ آور ہوگئے، اور بڑی مشکل سے بندوق میرے ہاتھوں سے چھڑا لی گئی، مجھے یہ واقعہ بڑا عجیب لگتا ہے کہ مجھ میں اتنی زبردست طاقت کہاں سے آگئی؟ جس سے مقابلہ کرنے کے لئے اتنے سارے آدمیوں کی ضرورت ہو! اور یہ بھی بڑی حیرت کی بات ہے کہ اگر رائفل ہاتھ آتی تو میں اسے کیا کرتا! میرا کوئی منصوبہ ہی نہ تھا۔
۶۔ حملہ کرنے والوں نے بندوق کا مسئلہ حل کرکے فوراً ہی میرے دونوں ہاتھ پشت پر باندھ لئے، اب میں دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوچکا تھا، وہ مجھے اپنے مقام سے کہیں دور لیجانے والے تھے، راستے میں ایک نابکار آدمی نے (جو انقلاب سے پہلے میرے روحانی بھائی اور دوست عزیز محمد خان کا نوکر تھا) میرے پشت پر لات ماری اور بد زبانی کی، لیکن دوسرے لوگوں نے اس حرکت کی مذمت کرتے ہوئے منع کیا، آپ باور کریں گے کہ اُس وقت میرا بدن اضافی روحوں کی طاقت سے بھرپور تھا، لہٰذا ایسی کوئی چوٹ اثر انداز تو نہیں ہوسکتی تھی، تاہم نجانے میں نے کیونکر اپنے آقا سے اس گرفتاری اور اہانت کی شکایت کرلی، جس کے جواب میں ایک مقدّس اور پُرجلال آواز نے فرمایا کہ: “تم صبر کرو تمہارے نہیں میرے ہاتھ باندھ لئے ہیں۔” سبحان اللہ! یہ کتنی بڑی عنایت ہے۔
۷۹
۷۔ ہماری مقامی جماعت شاید اس مشکل مسئلہ کے حل کے لئے سوچ رہی تھی، مگر قبول آخوند جیسے عاشق کو کہاں صبر ہوسکتا تھا، وہ تو جان کی بازی لگا کر ان لوگوں کے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔
۸۔ دریائے زرافشان کے اس طویل پل کے قریب (جہاں سے یارقند کا راستہ قراغالیق اور خوتن کو جاتا ہے) مجھے ایک کھمبے کے ساتھ باندھا گیا، میں بار بار “اللہ اکبر” اور “یاعلی” کے حوصلہ مندانہ نعرے لگاتا رہا، اور دل میں خوف و ہراس جیسی چیز کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں تھی، ہر چند کہ رسی کی سخت بندش کے سبب سے ہاتھوں کی انگلیوں کے سروں سے خون ٹپکنا چاہتا تھا، مگر صبر و ہمّت کا روحانی معجزہ ساتھ تھا، یہ بھی ایک آزمائش تھی کہ اس دوران مجھے شدّت سے پیاس لگی تو میں نے پانی مانگا، لیکن اہلِ کربلا کی طرح مجھے پانی سے محروم رکھا گیا، بیچارہ قبول آخوند اپنے بے مثال جذبۂ جان نثاری کے تحت میرے پاس آنا چاہتا تھا، مگر مخالفین پتھراؤ کرکے اسے ہٹا رہے تھے، اور وہ بھی جواباً اُن پر سنگ باری کرتا تھا۔
۹۔ تقریباً چار یا تین گھنٹے تک یہ درویش اس جان گداز ستون کے ساتھ باندھا ہوا رہا، درین اثناء مخالفین نے وہاں سڑک کے بیگار (رجاکی) کرنے والے بہت سے لوگوں سے ساز باز کرکے میرے قتل کے لئے حکومت کو درخواست لکھ دی، پھر کچھ لوگوں نے مجھے پل کے پار ایک پولیس چوکی
۸۰
کے حوالہ کردیا، جہاں مجھے زندگی میں دوسری دفعہ گالی گلوچ اور ضربِ خفیف کا تجربہ ہوا، لیکن پوچھنے پر جب میں نے اپنی داستانِ ظلم و ستم اُن کو سنادی تو بظاہر وہ خاموش ہوگئے۔
۱۰۔ پت جھڑ کا موسم تھا، اس لئے رات طویل، بڑی ٹھنڈی اور وحشتناک تھی، مگر مومنین اور مجاہدینِ اسلام پر اللہ تعالیٰ کے احسانات ہوا کرتے ہیں، چنانچہ اس ابتلا و امتحان کے دوران عالمِ روحانیّت کی آوازیں اس ناچیز درویش کے ساتھ گفتگو کررہی تھیں، اس حال میں مجھے یوں تصوّر ہونے لگا کہ گونا گون آوازوں اور صداؤں کا ایک طوفانی فوارہ یا ستون میری ہستی سے بلند ہوکر کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، اس میں وہ غضبناک آوازیں بھی شامل تھیں، جو بموجبِ قرآن دوزخ والوں کے لئے مقرر ہیں، اور وہ رحمت آمیز آوازیں بھی، جو اہلِ جنّت کو نوازنے کے لئے ہوتی ہیں، نہ معلوم میں نے یہ بچگانہ گستاخی کس طرح کی اور کہا کہ: اے روحوں کے سردار! اب اسی وقت جبکہ آپ پوری کائنات سے مخاطب ہیں تو فرصت ہی کہاں کہ آپ مجھ ناچیز سے کچھ خطاب فرمائیں، سو پاک آواز فرمانے لگی کہ ایسا ہر گز نہیں، ہمیں ہر وقت فرصت ہی فرصت ہے، اور آناً فاناً مرکز سے پاکیزہ اور شیرین آواز کی ایک شاخ پیدا ہوکر مجھ سے مصروفِ گفتگو ہونے لگی، درحالے کہ مرکز کسی فرق کے بغیر اپنا کام کررہا تھا۔
۸۱
۱۱۔ جب صبح کا وقت ہوچکا تو مجھے واپس یارقند شہر کی جانب چلایا گیا، اور درمیان میں کسی دفتر میں رکنا پڑا، شام کا وقت ہوچکا تھا، وہ موقع ہی ایسا تھا کہ اکثر اوقات روحانیّت کے عظیم معجزات اور اسرار کا مشاہدہ ہوتا تھا، چنانچہ وہاں انگلیوں کے معجزے نمایان تھے، اس کا اشارہ یہ ہوا کہ جس طرح خدا کے دوستوں کی زبان کو تائید حاصل ہوتی ہے، اسی طرح ان کے ہاتھ کو بھی روحانی مدد حاصل ہوسکتی ہے، کچھ دیر کے بعد گاؤں کی جماعت کے دو مومن حکومت کی طرف سے رہائی کا حکم نامہ لے کر پہنچ گئے، اور خدا کے فضل و کرم سے میں بخیر و عافیت واپس گھر پہنچ گیا، جس گاؤں میں میرا قیام تھا، وہاں ہماری جماعت کے صرف ۴۵ گھر تھے، سب نے مل کر متفقہ طور پر حکومت سے درخواست کی تھی کہ ان کے عالمِ دین کو فوراً رہا کردیا جائے، نیز یہ کہ گاؤں میں حکومت کے ذمہ دار افسران آکر تفتیش کریں کہ تاجیک جماعت پر یہ ظلم و زیادتی کیوں ہورہی ہے۔
۱۲۔ لفظِ “تاجیک” تازی (عربی) مغیر ہے، جو چین، روس، اور افغانستان میں اسماعیلوں کے لئے استعمال ہوتا ہے، القصّہ مقامی حکومت کے سنٹر سے کچھ ذمہ دار افسران ہمارے گاؤں “قرانگغو توغراق” آگئے، جنہوں نے مسلسل نو (۹) دن تک واقعات و حالات کی تحقیقات کی، اور نتیجے کے طور پر یہ حکم صادر کیا گیا کہ تاجیک (اسماعیلی) اپنے مذہب کے معاملے میں آزاد ہیں، وہ دوسروں سے جماعتی طور پر الگ ہیں،
۸۲
ان کے جماعت خانے کی بے حرمتی اور جماعتی سکول پر قبضہ کرنے کی کوشش سراسر ظلم و ناانصافی ہے، اور اگر کوئی شخص اس حکم کے باوجود ان کے عقائد کو نقصان پہنچاتا ہے تو حکومت اس سے خبر لے گی۔
فقط آپ کا علمی خادم
نصیرؔ ہونزائی
۲۰۔ نومبر ۱۹۸۰ء
۸۳
ایک عجیب نورانی خواب
۱۔ جب بندۂ مومن کثرتِ ذکر و عبادت اور گریہ و زاری کے نتیجے میں کوئی عمدہ اور پُرحکمت خواب دیکھتا ہے تو وہ نورانی خواب کہلاتا ہے، یاد رہے کہ علم و بندگی کی ترقی کے ساتھ ساتھ خواب بھی حقائق و معارف کے مراحل میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، آپ چاہیں تو قرآنِ مقدّس کے اس مجموعہ آیاتِ کریمہ میں غور و فکر کرسکتے ہیں، جو خواب کی تاویلی حکمت سے متعلق ہے، اور وضاحت کے لئے دین کی کتب عالیہ کا بھی مطالعہ کرسکتے ہیں۔
۲۔ کینڈا، مونٹریال، جمی جناح کے گھر میں ہم چند روحانی احباب کسی شام کے وقت مل کر حسبِ معمول پروردگارِ عالمین کو یاد کرتے تھے، عزیزوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی، مگر میرے یقین کے مطابق ہر فرد بحدِّ قوّت ایک ارضی فرشتہ اور عاشقِ نور تھا، اس پر مزید یہ دعا کی گئی کہ : “یا الہٰی! تو اپنی قدرتِ کاملہ سے مشرق و مغرب کے ہمارے جملہ عزیزان کی پیاری اور پاکیزہ روحوں کو اس چھوٹی سی محفل میں یک جاکردے!” یقیناً یہ عاجزانہ دعا خداوندِ عالم کے حضور میں قبول ہوئی ہوگی کہ
۸۴
ہم سب کافی دیر تک دریائے ذکر وبندگی میں اس طرح ڈوب گئے کہ دنیا ومافیہا اس دوران ہم سے قطعاً فراموش ہوگئی، یوں محسوس ہورہا تھا کہ ہمیں منزلِ فنا مل رہی ہے، ہر فرد پگھلا ہوا نظر آتا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ یارانِ محفل اس معجزاتی بزمِ ذکر کو ہمیشہ کے لئے یاد رکھیں گے۔
۳۔ مجھے خیال آتا ہے کہ شاید زبانی تذکرے کے علاوہ کسی خط میں بھی معجزۂ رباب کا ذکر ہوا تھا، کہ شدید مصیبت کے وقت رباب نے کیا کچھ کہا، چنانچہ یہاں اس چھوٹی سی مجلس میں گویا رباب بھی اپنی خاص زبان میں خدا کی حمد و ثناء کا گیت گارہا تھا، جب محفل ختم ہوگئی تو عزیزان اپنے اپنے مقام کی طرف چلے گئے، اور یہ عاجز و ناتوان درویش خدا کا بابرکت نام لے کر سوگیا، رات کے آخری حصے میں بحالتِ خواب خود کو اپنے گاؤں حیدر آباد (ہونزہ) میں پاتا ہوں، اور کسی بڑے انتظام کے بغیر مولانا شاہ کریم الحسینی حاضرِ امام صلوات اللہ علیہ کی یکایک تشریف میری داہنی طرف سے آتی ہے، میں اپنی زمین کے اس کھیت میں رخ بشمال کھڑا ہوں، جو میرے بھائی لطفِ علی کے حصے میں شامل ہے، عجب ہے کہ وہاں پر اور کوئی نہیں ہوتا، مگر میرے عزیز بچوں کی والدۂ محترمہ عائشہ بیگم اور دوسری ایک نیک خاتون، جو میری بیگم کے آبائی خاندان (وزیر کذ) سے ہیں، میرے سامنے ہوتی ہیں۔
۸۵
۴۔ بندۂ کمترین کے ہاتھ میں وہی رباب تھا، جو اس شام کی مجلس میں بجایا گیا، جس کو میرے عزیز دوست محمد رضا بیگ عاشقِ رباب نے بنایا تھا، جو مسگار میں رہتے ہیں، مولا پاک بڑے خوش تھے، تبسم اور خوشنودی کی شعاعیں برسائی گئیں، اور موضوع فرمانِ اقدس رباب ہی تھا، فرمایا کہ: “اِدھر دو۔” تو بندۂ ناچیز نے بصد احترام رباب کو مولا کے حضور پیش کیا، حاضر امامؑ نے رباب کو دستِ مبارک میں لے کر چند لمحوں تک اس کا معائنہ فرمایا، بعد ازان فرمانے لگے کہ: “خوب ہے، اس کو مزید ترقی دو اور اگر اس کے بنانے کیلئے خرچے کی ضرورت ہو، تو میں اپنے خزانے ہی سے دیدوں گا۔”
۵۔ میں شادمانی اور حیرت کے عالم میں کھڑا تھا کوئی جواب مجھ سے نہیں بنتا تھا، اتنے میں عائشہ بیگم نے جرأت کی، اور مجھ سے کہا۔: “ارے تم مولا باپا سے صرف دعا اور روحانی تائید مانگو، اور یہ عرض کرو کہ اس چھوٹے سے کام کے لئے مولا سے خرچہ لینا ٹھیک نہیں، حاضر امام نے رباب کی اہمیّت کے پیشِ نظر یوں فرمایا ہے۔”
۶۔ اس عجیب نورانی خواب کے بعد میں بہت ہی خوش اور مطمئن تھا، اور اس کی تاویل کے لئے کئی طرح سوچا تو خاطر خواہ اور مفید نتائج سامنے تھے:
(الف) میری عقیدت اور دانست کے مطابق کسی پیش آنیوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولائے پاک نے رباب کو جہاں کہیں بھی ہو، ایک بار پھر بابرکت بنادیا، اور یہ اشارہ فرمایا کہ، وہ ان سب عاشقوں سے بہت راضی ہیں، جو
۸۶
رباب کے ساتھ منقبت پڑھتے ہیں اور سنتے ہیں، اور اس میں اشارہ بھی ہے کہ رباب کی شکل میں ترقی ہو۔
(ب) بیوی کا درجہ جسمانی طور پر کچھ بھی ہو، مگر اس کی روح کسی فرشتے کی نمائندگی کرسکتی ہے، کیونکہ ارواح، مومنین و مومنات ہی سے فرشتے بنتے ہیں۔
(ج) ناموں کی بھی تاؤیل ہوا کرتی ہے، لہٰذا لطفِ علی کے کھیت کا مطلب ہے: علیؑ کی مہربانی کی زمین (یعنی زمینِ دین=زمینِ روحانیّت) جس میں مولا تشریف فرما ہوگئے، اور اگر محمد رضا بیگ عاشقِ رباب کے نام کو بھی اس تاویل میں لیا جائے تو نور کی مدح سرائی کرنے والوں سے پیغمبرِ اکرمؐ اور امامِ برحق کے راضی ہوجانے کے معنی ہوجاتے ہیں۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔
والسلام
نصیرؔ ہونزائی
مونٹریال۔ کینڈا
۱۷۔ مئی ۱۹۸۶ء
۸۷
چند چوٹی کی حکمتیں
۱۔ حکمتِ ظلّ:
ترجمۂ آیۂ کریمہ: اور اللہ نے بنا دیئے تمہارے واسطے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے سائے (۱۶: ۸۱) یعنی بہشت ہو یا دنیا، اس میں سایہ کے بغیر کوئی چیز نہیں، لیکن درحقیقت سائے درجات پر ہیں، جیسے سورج، چاند وغیرہ کا سایہ عکس کہلاتا ہے، جو تاریک نہیں، بلکہ روشن ہوتا ہے، چنانچہ انسان بھی اپنی انائے علوی کا سایہ ہے، اسی طرح یہاں جو مقدّس موسیقی ہے، وہ جنّت کے نغمۂ لاہوتی کا سایہ ہے۔
۲۔ حکمتِ ظلِّ الہٰی:
قدیم زمانے میں کسی مسلمان بادشاہ کو بھی ظلِّ الہٰی کہا جاتا تھا، معلوم نہیں یہ عقیدت تھی یا خوش آمدی، بہرکیف یہ تصوّر اصل حقیقت کیلئے ایک جستجو ہے، یا ایک سوال کہ آیا دنیا میں ظلِّ الہٰی یا ظلِّ سبحان (یعنی خدا کا سایہ) موجود ہوتا ہے، یا نہیں؟ اس کے جواب کے لئے یوں
۸۸
عرض کرنا ہوگا کہ جی ہاں، مظہرِ نورِ حق کا دوسرا نام ظلِّ الہٰی ہے، چنانچہ ارشادِ باری کا ترجمہ ملاحظہ ہو: (اے رسولؐ!) کیا تم نے اپنے ربّ کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے کیونکر سایہ کو دراز کردیا، اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا کردیتا، پھر ہم نے آفتاب کو اس کا رہنما بنا دیا، پھر ہم نے اسے آسانی سے مٹھی میں اپنے پاس لے لیا (یعنی لپیٹ لیا، ۲۵: ۴۵)
جب آنحضرتؐ کو معراج میں رؤیّت (دیدار) ہوئی تو حضورؐ نے دیکھا کہ ظلِّ الہٰی (نورِ امامت) علمِ روحانی اور جسمِ ابداعی (۰۲: ۲۴۷) کے توسط سے آفاق و انفس پر محیط تھا، اور اللہ تعالیٰ بار بار نورِ منزل کو پھیلاتا بھی ہے، اور لپیٹتا بھی ہے۔
۳۔ حکمت علّیّین:
علّیّین: علی کی جمع ہے، یہ جنّت کے اعلیٰ ترین درجہ کا نام ہے، لیکن جنّت اور اس کی ہر چیز عقل و جان رکھتی ہے، لہٰذا علّیّین سے انبیاء و أئمّہ علیہم السلام کا نُور مراد ہے، یہ نور مجموعۂ انوار بھی ہے، اور نورِ واحد بھی، عالمِ شخصی میں اس نور کا مقام پیشانی ہے، اس نور میں نیکو کاروں کا نامۂ اعمال موجود ہے، جس کو دنیا میں صرف مقربین ہی دیکھ سکتے ہیں (۸۳: ۱۸ تا ۲۱)۔
۸۹
۴۔ حکمتِ نامۂ اعمال:
سورۂ حاقہ (۶۹: ۱۹) میں ہے: (ترجمہ) اس وقت جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: لو دیکھو، پڑھو میرا نامۂ اعمال (۶۹: ۱۹) اس ربّانی تعلیم سے یہ بات یقینی ہوگئی کہ مقربین اور اصحاب الیمین کے نامہ ہائے اعمال اہلِ بہشت پر ظاہر کئے جائیں گے، اور اس مشاہدے سے سب کو خوشی ہوگی۔
۵۔ حکمتِ حشر:
صورِ اسرافیل کی آواز پر آسمان زمین کی تمام چیزیں بصورتِ ذرّات عالمِ ذرّ میں یکجا ہوجاتی ہیں، اس انتہائی عظیم واقعہ کی کلّی مثالیں بھی ہیں، اور جزوی مثالیں بھی، چنانچہ ایک کلّی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قبضۂ قدرت میں ساری کائنات کو لپیٹ لیتا ہے (۲۱: ۱۰۴) جس کی ایک جزوی مثال یہ ہے: وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ= اور جس وقت جنگلی جانور اکٹھے کئے جائیں گے (۸۱: ۰۵) یعنی قیامت کے دن عالمِ ذرّ میں دوسری تمام چیزوں کے ذرّات کے ساتھ ساتھ جنگلی جانوروں کے نمائندہ ذرّات بھی جمع کئے جائیں گے۔
اسی طرح سورۂ نحل میں ہے: وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ
۹۰
الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ (۲۷: ۱۷) ترجمۂ عام: اور سلیمانؑ کے سامنے ان کے لشکر جنّات اور آدمی اور پرند سب جمع کئے گئے تھے، پھر وہ ترتیب کے ساتھ کھڑے کئے جاتے تھے۔ترجمۂ خاص باعتبارِ عالمِ ذرّ: اور سلیمانؑ کے لئے ان کے لشکر جنّات اور آدمی اور پرند سب (بصورتِ ذرّات) جمع کئے گئے، پھر وہ (روحانی جہاد کے لئے) تیار کئے گئے، اس حکمت کی کلید لفظِ حُشِرَ میں موجود ہے، جس میں ذاتی قیامت(حشر) کے معنی پوشیدہ ہیں۔
ترجمۂ خاص باعتبارِ عالمِ ابداع: اور سلیمانؑ کے واسطے ان کے ذرّاتی لشکر جنّات اور آدمی اور پرند سب کے سب (بشکلِ جثۂ ابداعی) جمع کئے گئے، پھر روحانی جہاد کا منصوبہ ہوا۔ اب حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کے پاس صرف ایک زندہ مجموعہ تھا جو وہی سب کچھ تھا، یعنی ایک اکیلا جثّۂ ابداعیہ لشکرِ جنّات بھی تھا، عسکرِ انسانان بھی، اور فوجِ پرندگان بھی تھا۔
۶۔ حکمتِ یاجوج و ماجوج:
یہ وہی زندہ ذرّات ہیں، جن کا تعلق عالمِ ذرّسے ہوا کرتا ہے، قرآن و حدیث میں جس طرح یاجوج و ماجوج کا ذکر آیا ہے، وہ تنزیلی مثال ہے، چنانچہ یاجوج و ماجوج عام روحانی لشکر ہیں، جو عالمِ شخصی
۹۱
کی زمین میں فساد کرتے ہیں، تاکہ اس تخریب کے فوراً بعد تعمیرِ نو شروع ہوجائے، لیکن جہاں جہاں روحانی انقلاب کی تیاری نہ ہو، وہاں اس لشکر کو روکنا پڑتا ہے، لشکرِ ذرّات جن بلندیوں (۲۱: ۹۶) سے دوڑتے ہوئے آنیوالے ہیں، وہ امامِ اقدس و اطہر علیہ السّلام کے مراتبِ علمی ہیں، یعنی آپؑ کے روحانی اور جسمانی حدود، کیونکہ دنیا میں بہت بڑی اہمیت والے تین سو تیرہ (۳۱۳) مومنین ہر وقت موجود رہتے ہیں، اور ۴۷ (سینتالیس) امیدوار ہیں، تاکہ جب جب ۳۱۳ میں سے کسی کو مزید روحانی ترقی ہو، یا کوئی دنیا سے گزر جائے تو ۴۷ میں سے کسی کو اس کی جگہ پر لایا جائے، اور اگر ۳۱۳ کے ساتھ ۴۷ کو جمع کیا جائے تو ۳۶۰ کا عدد بن جاتا ہے، جو بارہ جزائر (۱۲x ۳۰ = ۳۶۰) کے داعیوں کا عدد ہے۔
۷۔حکمتِ کل شیٔ:
قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں کل شی ( ہرچیز) کا ذکر آتا ہے، وہاں ایسا نہ ہو کہ آپ ادنیٰ چیزوں کا تصوّر کریں اور اعلیٰ چیزوں کو بھول جائیں، مثال کے طور پر سورۂ یسٰین (۳۶: ۱۲)میں ہے کہ خدا نے ہر چیز امامِ مبین میں گھیر کر رکھی ہے، سو یہاں یہ سوچنا ہوگا کہ شی کا اطلاق کن کن مخلوقات پر ہوتا ہے، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ عرش و کرسی، اور قلم و لوح جیسی انتہائی عظیم چیزیں بھی امامِ مبین میں محدود ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی
۹۲
تجلّی بھی اسی آئینۂ خدا نما میں ہوتی رہتی ہے، اور اس حقیقت کے ثبوت پر دلائل بہت زیادہ ہیں۔
۸۔ حکمتِ دیدار:
بعض حضرات کا عقیدہ ہے کہ اللہ پاک کا دیدار ممکن ہی نہیں، بعض کا کہنا ہے کہ دیدارِ الہٰی صرف بہشت میں ہوگا، اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چشمِ بصیرت پیدا کرلو، اور دونوں جہان میں جلوۂ جانان کو دیکھو، کیونکہ یہ ناممکن بات ہے کہ ہم یہاں چشمِ معرفت حاصل نہ کریں، اور آخرت میں جاکر بڑی سے بڑی بصری نعمتوں کی لذّت و شادمانی کو پائیں (۱۷: ۷۲) پس قرآنِ پاک میں جگہ جگہ دیدارِ خداوندی کا ذکر آیا ہے۔
۹۔ حکمتِ سعی:
سعی کے معنی ہیں: محنت، دوڑ، کوشش، کمائی، حضرتِ ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السّلام امام اور وارثِ امام کے دونمونے تھے، چنانچہ جنابِ اسماعیلؑ کو اسمِ اعظم دیا گیا، آپ نے اس میں ترقی کی، اور جب روحانیّت میں اپنے والد کے ہمراہ سعی کرنے لگے، یعنی جب ذکر خود کار ہوگیا، اور اسرافیلی و عزرائیلی معجزات کا سلسلہ شروع ہوا، تو حضرتِ ابراہیمؑ نے کہا، بیٹا! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں
۹۳
ذبح کررہا ہوں (سورۂ صافات میں دیکھ لیں: ۳۷: ۱۰۰)۔
سعی (دوڑنا) ظاہر کے علاوہ منازلِ روحانیّت میں بھی ہے، اور مراتبِ عقلانیّت میں بھی، جس کے معنی ہیں برق رفتاری سے آگے بڑھ جانا، یہاں یہ راز بڑا عجیب اور قابلِ توجہ ہے کہ حضرتِ اسماعیلؑ کی قربانی تین طرح سے ہوئی تھی:
اوّل: خواب میں، جس کا ذکر حضرتِ ابراہیمؑ نے کردیا، اور بہت ممکن ہے کہ حضرتِ اسماعیلؑ نے خواب میں خود کو ذبیح (ذبح کیا گیا) دیکھا ہو۔
دوم: آن جناب کی ظاہری اور جسمانی قربانی کہ جس کو خدا نے قبول بھی فرمایا، اور گویا اپنی رحمت سے ان کو زندہ بھی کردیا، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ اسی نوعیت کی ظاہری قربانی کی بناء پر سب آپؑ کو ذبیح اللہ کہتے ہیں۔
سوم: بڑی قربانی (ذبحٍ عظیم) یہ ان کی نفسانی موت کی قربانی تھی، پس یہ حکمت خوب یاد رہے کہ حضرتِ اسماعیلؑ کی پہلی قربانی خواب میں ہوئی، دوسری بیداری میں، اور تیسری قربانی روحانیّت میں تھی، اور یہی سب سے عظیم ہے۔
۹۴
۱۰۔ حکمتِ ذبحٍ عظیم:
تین قسم کی جانی قربانیوں کی حکمت کے بعد اب ہمیں ذبحٍ عظیم کے بارے میں بھی سوچنا ہے کہ آیا اس میں بھی کوئی بڑی تعداد پوشیدہ ہے یا یہ صرف ایک ہی قربانی ہے؟ چنانچہ معلوم ہوا ہے کہ ذبحٍ عظیم بے شمار روحانی قربانیوں کا مجموعہ ہے، کیونکہ یہ ایک نہایت عجیب و غریب روحانی عمل ہے، جس میں صورِ اسرافیل اور خنجرِ عشق کے تحت بار بار قربان ہوجانا اور بار بار زندہ ہوجانا پڑتا ہے، اور یہ سلسلہ تقریباً ایک ہفتہ اور بارہ گھنٹوں تک جاری رہتا ہے، اور امامِ برحق صلواۃ اللہ علیہ و سلامہٗ کی یہ عظیم قربانی حسبِ مراتب سب کیلئے ہے۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی
کراچی
پیر ۱۱۔ شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ
۲۴۔ جنوری ۱۹۹۴ء
۹۵
میری شاعری میں موسیقی کا تذکرہ
۱۔ زندہ پُریلو:
پُریل یا پُریلو (گبی) کا اردو نام بانسری ہے، دنیا کی ہر پُریلو بے جان ہے، اس لئے وہ کبھی ازخود نہیں بج سکتی، لیکن روحانی گبی وقت آنے پر خود بخود بجنے لگتی ہے، اگرچہ اس میں اور اِس میں آسمان زمین کا فرق ہے، تاہم روحانیّت اور بہشت میں جتنے ممثولات ہیں، ان کی پہچان کے لئے دنیا میں مثالیں موجود ہیں، اور یہی نظامِ فطرت ہے، چنانچہ صورِ اسرافیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا:
معشوق نصیرؔر نُمہ بَی زندہ پُریلو
روݺ بُرغوݺ سِر ہݵن
شرئیشݺ فرشتا روݺ باجا تِل اکولی
روݺ حرکتݺ گنݺ ہݵر
۹۶
ترجمہ: نصیر کے لئے محبوبِ جان کا ایک ظہور زندہ بانسری میں بھی ہے (اے سامع) روحانی بگل کے راز کو جان لے، فرشتۂ شادمانی اور سازِ روحانی کو بھول نہ جانا، اور اپنی روح کو حرکت میں لانے کے لئے آنسو بہانا۔
۲۔ بریشو برنڎل:
بروشسکی شعر ہے:
جا نرݺ کلمݣ ہین بجونݣ ہینس ان ڎم
جا بریشو بزنڎل اوغرا اس لو بم اݣگوؤ
ترجمہ: (اے جانِ جان!) تونے ہی مجھے قابلِ رحم گریہ و زاری اور گنگناہٹ سکھادی ہے، اے میرے دل کے مکین! تو نے ہی میری رگوں کے تاروں کو بجایا ہے۔
۳۔ شرائیشے طبُل:
طبل (ڈھول) کے لئے اصل بروشسکی لفظ ڈڈݣ ہے، تاہم اس زبان میں طبل کا لفظ بھی داخل ہوچکا ہے، چنانچہ شعر ہے:
شرائیشے طبل نیغر نصیر خوشیسے علم دیو
جا چھنم اسُ لو نورے ہلنڎ نے بسہ ئیڎم
۹۷
ترجمہ: اے نصیر! تو مسرّت و شادمانی کا ڈھول بجا بجا کر فتح و کامیابی کا پرچم بلند کرلے، کیونکہ میں نے اپنے تنگ و تاریک دل میں اب ایک نورانی چاند کی منزل دیکھ لی ہے۔
۴۔ روے شلے بزم لو ستار:
میں نے بچپن ہی میں دیکھا تھا کہ بعض افراد بڑے شوق سے ستار بجاتے ہیں، پس میں نے اس کا ایک اعلیٰ تصوّر کیا اور کہا:
اَس لو غرݺ جیݺ یار روݺ شلݺ بزمُ لو ستار
عشقݺ فرشتا اِچھݳر! جنتݺ حالݣݺ کتاب
ترجمہ: اے یارِ جانی! میرے دل میں کلام کر، تو روحانی محبّت کی محفل کا ستار ہے، تو فرشتۂ عشق (اسرافیلؑ) کی آواز یعنی نغمہ ہے، اور جنّت کے حالات بتانے والی (زندہ) کتاب ہے۔
۵۔ شُلے ہریپ:
ہریپ آوازِ ساز کا نام ہے، یعنی دھن، سر، نغمہ، چنانچہ ہریپ کا ذکر اس شعر میں ہے:
شلے ہریپ انے فوے انے المیݽے بی واخالی گبی!
نظمے دلتشکو مک ان ڎم بیسے واخالی ڈبی!
۹۸
ترجمہ: (شاعر اپنے آپ کو کہتا ہے): اے خالی خولی بانسری! یہ نغمۂ عشق اسی کی پھونک اور انگلیوں کی برکت سے بن رہا ہے، اے کھوکھلی ڈبیا! نظم کے یہ خوبصورت موتی (تجھ سے نہیں) اسی سے ہیں۔
۶۔ دوتارے ارشیم:
ستار (سہ ۳ تار) کے پہلے صرف تین تار ہوا کرتے تھے، اس لئے ستار کہلایا، دوتار کو میں نے یار قند اور کاشغر میں دیکھا، جس کے صرف دو تار ہوتے ہیں، چنانچہ دو تار پر یہ شعر ہے:
روݺ شہرݺ پادشا ہیہ شرئیش بُٹن اکھݶݽ
جا جیݺ بزمݺ مجلسݺ دوتارݺ ارشیم
ترجمہ: شہرستانِ روح کی سلطنت کی شادمانی بڑا عجیب و غریب ہے، میں بزمِ روحانی کی محفل کے نغمۂ دوتار سے مست ہوگیا۔
۷۔ شرائیشݣے مزمار:
مزمار (عربی)بانسری، باجہ، نَے، شعر ہے:
روݺ بزمݺ عجب جیند و ایم ھینݣے باجان
شرائیشݣݺ مزمار بیشل کلی تل ایالجم
ترجمہ: بزمِ روحانی میں ایک عجیب زندہ اور خوش الحان ساز بج رہا تھا، میں اس مسرّت انگیز ساز کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔
۹۹
۸۔ عشقے بُرغو:
بُرغو یا تُرُم یا تُرنرسنگھا کو کہتے ہیں، اور یہی بگل بھی ہے، اور شعر میں بُرغو سے صورِاسرافیل مراد ہے، وہ شعر یہ ہے:
عشقݺ بُرغو ولو فنا ھین دُسُو ژولے اسرافیل
جارفنا عیشے اُیم روݺ بسا پائندہ منݽ!
ترجمہ: آجا اے اسرافیل! نا قورِ عشق سے نغمۂ فنا بجا، مجھے فنا کی با راحت اور پر لذّت روحانی منزل ہمیشہ میسر رہے!
۹۔ اسے باجا سݳ تھپ:
شعر ہے:
جا رݣݵلݸ گݷݸمارݸ اسقُر ڈوݣ کݺ اس ڎم اِیݽ اپا
بُٹ اُیم نرݺ کاٹݸ ہینن سݵبی اسݺ باجا سݳ تھپ
ترجمہ: میرا رنگین اور بارونق پھول (محبوب) میرے دل سے لمحہ بھر کے لئے بھی دور نہیں، (اس لئے اس کے عشق میں) میرے دل کا ساز شب و روز ایک بہت ہی شیرین اور درد انگیز ترانہ گارہا ہے۔
۱۰۰
۱۰۔ امامے شلے غرݣ میمیٔ:
شعر اس طرح ہے:
مُرید خوش نُمݳ ہلݣ میئمی اِمامݺ شُلݺ غرݣ میئمی
حقیقتݺ خاص برِݣ میئمی محبان شکرِ مولانا
ترجمہ: (مولائے پاک کی تشریف آوری سے) مرید شادمان ہو جائیں گے اور خوشی کے نعرے بلند ہوں گے، امامِ عالی مقامؑ کی محبت کے گیت گائے جائیں گے، اور علمِ حقیقت کی خاص خاص باتیں بتادی جائیں گی، پس اے دوستانِ علی! تم مولا کی شکر گزاری گرو۔
۱۱۔ بُرغوایغرچی:
یہ شعر بھی صورِ قیامت کے بارے میں عالیشان ہے:
شل گویوݺ قیامتݺ گنݺ بٹ اُلچن ایچمے بان
جا عشقݺ فرشتار ژو ایسوین بُرغو ایغرچی
ترجمہ: اہلِ محبّت شدّت سے قیامت کا انتظار کررہے ہیں، میرے فرشتۂ عشق کو بلالو تاکہ وہ صور بجائے۔
۱۰۱
۱۲۔ ان نورے پُریل:
اس شعر میں بھی آپ خوب غور کریں:
ژولے ذکرݺ حجابُ لو دُ کویل صورِ سرافیل
ان نورݺ پریل، شل گویومزمارݺ نݺ مست بان
ترجمہ: (اے عزیز ساتھی!) آجا ذکر و عبادت کے حجاب میں نغمۂ صورِ اسرافیل کو سن لے، وہ خود زندہ نور کی بانسری ہے، اس لئے عشاق اس ساز و سوز کی وجہ سے مست ہیں۔
۱۳۔ برغوݺ غربٹ ایم:
مجھے یقین ہے کہ آپ کو ان اشعار سے روحانی خوشی حاصل ہوگی، کیونکہ ان میں دراصل سلطانِ دین کے روحانی معجزات ہی کا تذکرہ ہے، جیسے یہ شعر ہے:
ژوین لݺ قیامت منی ذکرݺ دشرگٹی منین
ذاکرݺ التمل لو برغوݺ غر بٹ ایم
ترجمہ: (لوگو!) آؤ! قیامت برپا ہورہی ہے، اس لئے مقامِ ذکر پر جمع ہوجاؤ، کیونکہ ذاکر کے کان میں نغمۂ ناقور بیحد شیرین ہے۔
۱۰۲
۱۴۔ بٹ ایم نغمان جون:
اس شعر میں انسانی زندگی کی تشبیہہ و تمثیل بڑی خوبی کے ساتھ نغمۂ ستار سے دی گئی ہے، ملاحظہ ہو:
زندگی گویا ستار نݺ بٹ ایم نغمان جون
راحتݣ بڎ ازل جون، داغم کے فکرݣ بم جون
ترجمہ: زندگی مثلاً کسی ستار کے ایک بہت ہی شیرین و دلپذیر نغمے کی طرح ہے، چنانچہ نغمۂ زندگی کے لئے راحتیں زیر کا کام دیتی ہیں، اور غم و افکار بم کی طرح کار آمد ہیں۔ کسی بھی ساز کا کوئی کامل اور دلکش نغمہ و ترانہ زیر و بم کے بغیر وجود میں آہی نہیں سکتا۔
الغرض یہ سچ بات ہے کہ ظاہراً و باطناً موسیقی سے متاثر رہا ہوں، اس لئے یہ لازمی امر ہے کہ میری کتابوں میں دیگر بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ موسیقی کا تذکرہ بھی ہو، واضح رہے کہ میں نے اس کتاب سے پہلے بھی موسیقی پر بعض مقالے لکھے ہیں، ان شاء اللہ ان کا حوالہ اس کتاب کے دیباچے میں دیا جائے گا۔
ن۔ن۔ (حُبِّ علی) ہونزائی۔ کراچی
پیر ۱۸۔ شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ
۳۱۔ جنوری ۱۹۹۴ء
۱۰۳