سلسلۂ نورِ امامت
ہمہ رس علمی خدمت
خانۂ حکمت کے صدر فتح علی حبیب کی تجویز ہے کہ ہم ادارۂ عارف کے صدر محمّد عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ سیکریٹری یاسمین کی قابلِ قدر خدمات پر کوئی سرٹیفکیٹ دیں، اور اسی طرح دوسرے کئی عزیزوں کو بھی، جو علمی خدمت میں پیش پیش ہیں، لیکن میری گزارش یہ ہے کہ سرٹیفکیٹ سے کچھ کام نہیں بنے گا، اس لئے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے ایسے عزیزوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً کتابوں میں لکھیں گے، تاکہ ان کے زرّین کارناموں کو سب دیکھ سکیں، اور ان سے آئندہ نسل کو درسِ عالی ہمتی مِلتا رہے۔
صدر محمد عبد العزیز اور ان کی نیک بخت بیگم سیکریٹری یاسمین زمین پر چلنے والے فرشتوں میں سے ہیں، ان کی گرانقدر خدمات کی فہرست بڑی طویل ہے، یہ انہی کا وسیلہ اور احسان تھا، جس سے مجھے امریکا کی جماعت میں ایسے عزیز و عظیم دوست ملے، جو حقیقی علم کے بڑے قدردان ہیں، اور امید ہے وہ عزیزان وہاں اس علم کی روشنی کو پھیلائیں گے، عزیزانم محمد عبدالعزیز اور یاسمین کا ایک اور زرّین کارنامہ تقریباً ڈیڑھ ہزار (۱۵۰۰) آڈیو کیسیٹوں کا ریکارڈ ہے، اگر ریکارڈنگ کا یہ انتظام نہ ہوتا، تو کم از کم ایک ہزار گھنٹے کی مفید تقریر ہوا میں بکھر جاتی۔
حرفِ آغاز
بسمِ اللہ الرحمٰن الرحیم۔
المائدہ کے اس ارشادِ مبارک میں دین اسلام کی اساسی ہدایت کا ذکر فرمایا گیا ہے: قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ = تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور بیان کرنے والی کتاب آگئی ہے (۰۵: ۱۵)
سوال: اس میں کیا راز ہے کہ آیۂ کریمہ کی ترتیب میں نور کا ذکر پہلے آیا ہے، اور کتاب یعنی قرآن کا ذکر بعد میں ہوا ہے؟
جواب: اس کا راز یہ ہے کہ پہلے پہل حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نورِ نبوّت کی روشنیوں سے منوّر ہوگئے، اور اس کے بعد نزولِ قرآن کا آغاز ہوا۔
سوال: نور اور کتاب کے اس یکجا بیان میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟
جواب: اس کا اشارۂ حکمت ایک تو یہ ہے کہ نور اور کتاب باطن میں ایک چیز ہے، اور ظاہر میں دو چیزیں ہیں، یعنی شخصیّتِ نور، اور کتابِ سماوی، دوسرا اشارہ یہ ہے کہ کتاب کے ساتھ ہمیشہ معلّمِ ربّانی مقرّر ہوتا ہے، اور یہی زندہ نور ہے، جس کی روشنی میں آسمانی کتاب
۷
کا نام کتابِ مبین (بیان کرنے والی کتاب) ہے۔
سوال: مذکورۂ بالا ارشاد سے ماقبل اور ما بعد کی ایک ایک حکمت بیان کریں، تاکہ یہ حقیقت کلّی طور پر یقینی ہوجائے کہ خدا نے ہر آسمانی کتاب کے لئے ایک نورانی معلّم ( نور) مقرّرفرمایا ہے۔
جواب: آیۂ کریمہ (۰۵: ۱۵) کے شروع میں ایک مفہوم یہ ہے کہ تورات اور انجیل جب اہلِ کتاب کے عام مُعملّوں کے ہاتھ آئیں تو انہوں نے آسمانی کتاب کے حقائق و معارف کو خیانت سے بھی اور ناشناسی سے بھی چھُپا لیا، کیونکہ ان میں نور نہیں تھا، اور مابعد (۰۵: ۱۶) کی ایک حکمت یہ ہے:
خدا نور اور کتابِ مبین کے ذریعے سے ان لوگوں کو جو بہشت سے بھی بڑھ کر اس کی خوشنودی کے طالب ہیں سلامتی کی راہوں (شریعت، طریقت، حقیقت، اور معرفت) پر چلاتا ہے، اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اور صراطِ مستقیم کی منزلِ مقصود تک پہنچا دیتا ہے (۰۵: ۱۶)۔
“سلسلۂ نورِ امامت” میری اوّلین تصنیف ہے، ادبی اعتبار سے جیسی بھی ہو، لیکن اس کو بہت بڑی سعادت نصیب ہوئی کہ حضرتِ امامِ زمان صلوات اللہ علیہ وسلامہٗ کے حضورِ اقدس میں پیش کی گئی، اور نظرِ نورانی سے مشرف ہوئی، یہ وہ مبارک سال تھا جس میں مولانا حاضر امامؑ تختِ امامت پر جلوہ گر ہوئے تھے( یعنی ۱۹۵۷)۔
۸
میں مظہرِنورِ خدا، آلِ مصطفےٰؐ ، جانشین علیؑ مُرتضےٰؑکے مقدّس در پر بڑی غریبی، حاجت مندی اور عاجزی سے حاضر ہوا تھا، اس لئے جھولی بھردی گئی، حق بات کو کسی بھی وجہ سے چُھپانے سے دوستوں اور بھائیوں کا علمی نقصان ہوسکتا ہے، اس لئے میں انتہائی عاجزی سے عرض کرتا ہوں کہ میں نورِ امامت کے اصولی معجزات کا عرصۂ دراز سے مشاہدہ کرتا رہا، یہی وجہ ہے کہ میں ہر بار نور کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھنے کے لئے سعی کرتا ہوں۔
بعض بھائیوں کا یہ خیال ہے کہ روحانیّت اور نورِ امامت کے اسرار کا برملا تذکرہ نہیں کرنا چاہئے، قربان جاؤں ان کی خیر خواہی سے، بے شک ہر مبتدی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے، جب تک کہ اس میں علم کی پختگی نہیں آتی، اور قرآنی حکمت سے آگاہ نہیں ہوتا، اس کے برعکس اگر کوئی شخص نور اور قرآن کے روحانی اور عقلانی عجائب و غرائب اور علم و حکمت کے معجزات کا مشاہدہ کرکے خاموش رہتا ہے تو کیا ایسا شخص قارون کی طرح نہیں ہوگا، جو مالی زکات نہ دینے کی وجہ سے ہلاک ہوگیا؟ کیونکہ مالی زکات مثال ہے، اور علمی زکات ممثول (۲۸: ۷۶) اور علم و حکمت کی یہ روشنی ایک گواہی بھی ہے جس کو اگر کوئی شخص چھپائے تو وہ بہت بڑا ظالم قرار پاتا ہے (۰۲: ۱۴۰)۔
نور سلسلۂ انبیاء کے بعد سلسلۂ آئمّہ میں چلا آیا ہے، اس امرِ
۹
واقعی کے مطابق اس کتاب کا نام “سلسلۂ نورِ امامت” مقرّر ہوا، کتاب کی اہمیّت کے پیشِ نظرعظیم دوستوں نے انگلش میں اس کا ترجمہ بھی فرمایا ہے۔
اس میں علمِ حدودِ دین کا ایک حصّہ بھی ہے، کیونکہ تاویلی حکمت کے ابواب انہی حدود کی کلیدوں سے مفتوح ہوجاتے ہیں، اور اس کی اہمیّت سے یہ بحث الگ ہے کہ اب حدودِ دین کی کیا کیفیّت ہے؟ کیا حضرتِ امامؑ پیدائش کے دن ہی امام ہوتے ہیں یا حدودِ دین کی سیڑھی سے چڑھ کر اپنی مرتبت پر فائز ہوجاتے ہیں؟ بہر حال حدودِ دین کی تاریخی اہمیّت بھی ہے اور ان کے اسماء اصطلاحات بھی ہیں۔
حدیثِ شریف ہے:
ان اللہ مائۃ الف نبی و اربعۃ و عشرین الف نبی من ولد آدم الی القائم۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زمانۂ آدمؑ سے قائم تک (پورے دور کے لئے) اللہ کی طرف سے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ہیں (سرائرو اسرار النطقاء ۲۰۰) ان تمام حضرات کے طویل سلسلےکا تذکرہ قرآنِ حکیم کے صرف تین الفاظ میں آیا ہے، وہ پُرحکمت الفاظ یہ ہیں: نورٌ علیٰ نور = ایک نُورپر دوسرا نورہے (۲۴: ۳۵) یعنی نور کی ایک شخصیت کے بعد دوسری شخصیت ہوتی ہے، پس نورِ نبوّت کے بعد نورِ امامت کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور کوئی وقت ایسا نہیں، جس میں نور نہ ہو۔
۱۰
یہ تاویلی مثال ہے: نور کو سرچشمہ اور مرکز میں دیکھنا ہے تو سورج کو دیکھ لو، نمائندۂ واحد میں دیکھنا ہو تو چاند کو دیکھ لو، کثیرِمظاہر میں دیکھنا ہے تو ستاروں کو دیکھو، اور اگر نور کو گھر لاکر قریب ہی سے دیکھنا اور پہچاننا ہے تو گھر کا چراغ روشن کرو، چراغِ خانہ سے نورِ معرفت مراد ہے، جو قلب میں ہوتا ہے، یہ چراغ بھی ہے اور آفتاب بھی، یہی سبب ہے کہ نورِ الہٰی کی تشبیہہ و تمثیل گھر کے چراغ سے دی گئی ہے (۲۴: ۳۵)۔
تاویل کی زبان میں ظاہر کو دن اور باطن کو رات کہا گیا ہے، یعنی تنزیل دن ہے اور تاویل رات، چنانچہ نورِ نبوّت آفتاب ہے، یعنی وہ روشنی، جو ظاہر و تنزیل کے لئے چاہئے، اور نورِ امامت ماہتاب ہے یعنی ایسی روشنی، جو باطن و تاویل کے واسطے ضروری ہے، اب یہاں یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ اگر چہ تمام ستارے اپنی اپنی جگہ سورج ہی کے نمائندے ہیں، لیکن صرف چاند ہی وہ واحد نمائندہ ہے، جو قریب ہونے کی وجہ سے اہلِ زمین کو بھرپور روشنی دے سکتا ہے، اسکی تاویلی حکمت یہ ہے کہ آٔئمّہ سلف علیہم السّلام مسافتِ زمان کی وجہ سے ستاروں کی طرح رسائی سے بالاتر ہیں، لیکن امامِ وقت صلوات اللہ علیہ وسلامہٗ چاند کی طرح نزدیک ہے، جو روحانی علم اور تاویلی حکمت کا وسیلۂ واحد ہے۔
۱۱
جس طرح ظاہری سائنس اور ریسرچ ہے، اسی طرح روحانی سائنس اور اس کی ریسرچ ہے، مثال کے طور پر یہاں خدا کے فضل و کرم سے یہ تحقیق کی گئی ہے کہ کائنات کے اکثر ستاروں پر انتہائی ترقّی یافتہ انسان رہتے ہیں، وہ کوکبی بدن (Astral body)رکھتے ہیں، اس جسمِ لطیف کے کئی نام ہیں، جیسے جسمِ مثالی، نورانی پیکر، جثّۂ ابداعیہ وغیرہ، اللہ کی قسم! قرآن اور روحانیّت میں علم و معرفت کی ہر چیز موجود ہے۔
چونکہ “جشنِ خدمتِ علمی” کی آمد آمد ہے، اس لئے میں اپنے تمام ساتھیوں کو جو بےحد عزیز ہیں صمیمیّتِ قلب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، اور انتہائی عاجزی سے دعا ہے کہ پروردگارِ عالم آپ عزیزان کی علمی کوششوں کو کامیابی عطا فرمائے! اور وہ دانا و بینا اپنی رحمتِ بیکران سے آپ کی اِس بے لَوث خدمت کو سب کے لئے مفید بنائے! آمین!!
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
پیر ۲، ربیع الثّانی ۱۴۱۴
۲۰، ستمبر ۱۹۹۳، کراچی
۱۲
بحسنِ دگر
یارِمن! جامۂ نوپوش و بحسنِ دگرآ
باجہان سازوبراندازِ زمان پر ہنر آ
قصرِشاہانۂ تن ساختہ چون قصرِ بہشت
بتوزیباست شہا زود درین قصردرآ
ہمچو خورشید پسِ کرّۂ گل دیر مکن
برق وار از افقِ مشرقِ دین زود برآ
بتوزیبا نبوُدَ آنکہ نشینی بر خاک
نورِ چشمِ دلِ ما! آبنشین در نظر آ
یار و اغیار ہمہ منتظرِ دورِ تو اند
ای تو استادِ قدیم باصفتِ تازہ تر آ
۱۳
دیدہ ام دیدۂ دل مردمکِ دیدہ تُو ای
باہمان جلوہ دگر بار مرا در نظر آ
جز بدیدارِ تو این تلخیِ جان می نرود
ای تو شیرینیِ جان! باہمہ قند وشکر آ
گرچہ من راہ نشیم تو شہنشاہِ دو کون
شفقت و مہر نما وزپیِ ماچون پدرآ
تاہمہ ماہ رخان عاشقِ رُویِ توشوند
نورِ رویت بنما مایۂ شمس و قمر آ
با جلالت بنشین برسرِ مسندکہ شہ ای
باہمہ عظمتِ شاہانہ و باکرّ و فر آ
تو کہ داری زازل تجربۂ جنگِ فلک
شاہِ مردان! توبی جوشن و تیغ و سپر آ
باہمین بال و پرت کی برسی ازپیِ او
بازگرد ای کہ تو خوا ہی! بدگر بال و پرآ
جستجویٔ کن و مفتاحِ سعادت دریاب
پس بگنجینۂ اسرار شو و پُر گہرآ
۱۴
پیشِ آن شاہ کہ خوانندۂ لوحِ دلِ توست
از خود آگاہ شود با ادب و باخبر آ
گر تو از جورِفلک عرضِ شکایت داری
از رہِ صدق و صفا پیشِ شہ داد گر آ
زان درختی کہ بُوَد پاک و پُر ازمیوہ مدام
خوش بخور میوۂ دانش، ہلہ زیرِ شجر آ
شادی و خرّمی ای دل! شہِ دیدار رسید
ای غمِ ہجر! ازین بیش مرنجان بسر آ
بی پناہِ تو ہمہ مُلکِ دَ لم رفتہ زدست
باز با لشکرِ جان باہمہ فتح و ظفر آ
تو لطیفی و ہنر ہایِ فرا وان داری
گر بظاہر نرسی نور شوو در نظر آ
دلم ازبی اثری آہنِ پُر زنگ شدہ
باہمان معجزِ داؤدؑ تو باصد اثر آ
دررہِ عشق چو دریوزہ گری بنشینم
ای مہِ چاردہ! ہر بار ازیں رہ گزرآ
تا نصیرؔ بہرِ نثارِ قدمت جان بدہد
ای شہ و جانِ جہان! باز بحُسنِ دگر آ
۱۵
نور مولانا کریم
مشرقِ انوارِ یزدان نور مولانا کریم
مطلعِ اسرارِ عرفان نور مولانا کریم
کسوتِ دیگر ہمی پوشید آن یارِ قدیم
جلوہا بنمود در جان نور مولانا کریم
تو ہمان سلطانِ دینی امتحان ازما مگیر
حاضرِ ہر عصر و دوران نور مولانا کریم
مخزنِ علمِ حقائق معدنِ نور و صفا
عالمِ اسرارِ قرآن نور مولانا کریم
چشمِ دل بکشا و برقِ رُویِ زیبائش ببین
تاشناشی جان و جانان نور مولانا کریم
ظاہراً آلِ محمّدؐ ہم ز اولادِ علیؑ
اکمل و اشرف ز انسان نور مولانا کریم
رہبرِ اسلام امامِ ما شہِ دین نور حق
شاہِ مردان ماہِ خوبان نور مولانا کریم
۱۶
حاتمِ روحی سخّی جان و دل نورِ عقول
مصدرِ اکرام و احسان نور مولانا کریم
جوہرِ روحِ مقدّس گوہرِ امرِ الٰہ
نائب و فرزندِ سلمان نور مولانا کریم
عروۃ الوثقیٰ کتاب اللہ وحبل اللہ بحق
مظہرِ آیاتِ رحمان نور مولانا کریم
پادشاہِ عالمِ دین والیِ دُنیایِ دل
تاجدار ملکِ ایمان نور مولانا کریم
اخترِ برجِ تجمّل ماہِ گردونِ خیال
آفتابِ کونِ رخشان نور مولانا کریم
ای نسیمِ جان فزایِ باغِ فردوسِ برین
نورِ رویِ حور و غلمان نور مولانا کریم
بحرِ گوہر زایِ جانہا آسمانِ فیض بار
چشمہ سارِ آبِ حیوان نور مولانا کریم
عقل کُلّ و روحِ کُلّ ہم مصطفیٰ ہم مرتضیٰ
مجمعِ پیدا و پنہان نور مولانا کریم
۱۷
یوسفِ حسنِ زمان ای شاہِ خوبانِ جہان
ای بہارِ باغِ رضوان نور مولانا کریم
منبعِ دریایِ رحمت مخرجِ علم و اَدب
فیض بخشِ ابرِ نیسان نور مولانا کریم
حامی دینِ محمدؐ در لباسِ مرتضےٰؑ
کافران را تیغِ برّان نور مولانا کریم
پنجتن رایکتنی ای مقصد و مطلوبِ کُل
مذہب و دینِ مریدان نور مولانا کریم
با اُمید آمد بدر گاہت نصیرِؔ ناتوان
تاکنی ھر مشکل آسانِ نور مولانا کریم
۱۸
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-یُحْیٖ وَ یُمِیْتُۚ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۔ (۵۷: ۰۱ تا ۰۳)
ترجمہ: اللہ کی تسبیح کرتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور وہی ہے عزّت و حکمت والا۔ اس کی ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ سب چیز پر قادر ہے۔ وہی ہے سب سے اوّل اور سب سے آخر اور سب سے آشکار اور سب سے پنہان۔ اور وہ سب چیز جانتا ہے۔
۱۹
حقیقتِ شُکر
منعمِ حقیقی کی مخصوص انسانی نعمتوں کا معنوی شکر بشری وسعت کی کسی حد تک اس وقت ادا ہوسکتا ہے جبکہ شاکر کا طریقۂ شکرگزاری ولیِ نعمت کی مرضی کے مطابق ہو۔ ورنہ ممکن ہے کہ وہ شکر قبول منعم نہ ہوسکے ۔اصلیّت میں شکر نعمت کے بعد واجب ہوتا ہے۔ چنانچہ آیتِ مبارکہ شاہد ہے:
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ (۳۱: ۱۲)
ترجمہ: “اور ہم نے لقمان کو حکمت دی کہ اللہ کا شکر کر۔”
اس لئے شکر کے معنی ہیں نعمت کے حقائق سے منعم کی غرض معلوم کرنا اور اس کی مرضی کے مطابق نعمت کو استعمال کرنا۔ معنوی شکر گزاری کی تفصیل یہ ہے:
ہر نعمت کی وضعیّت، باطنیّت اور غرض غایت پر غور و فکر سے تبصرہ کرنے کے نتیجوں میں علمِ حقائق الاشیاء (ہر چیز کی حقیقت کا علم) کا حاصل کرنا، ہر نعمت کو منعمِ حقیقی کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا، نعمت کی خوبیوں کے قیاس و دلائل سے منعمِ حقیقی کے اوصاف و کمالات کا جاننا اور اس کی معرفت تلاش کرنا، اس کی دی ہوئی نعمت کو احسانِ
۲۰
محض تصوّر کرنا اور اس کے عوض میں اپنے حق میں اور خلقِ خدا کے حق میں نیکی کرنا اور سب سے آخر درجوں پر اس بات کا یقین رکھنا کہ صانعِ حکیم نے اپنی حکمتِ بالغہ سے کل جسمانی و روحانی لذّتوں کو رشتۂ کائنات میں بترتیب فضیلتِ لذّت اس لئے پرویا ہے تاکہ دانا انسان خدائے ذُوالکرام سے وہ نعمت اور وہ لذّت شب و روز طلب کرے جس میں اپنی لاثانی وغیرفانی اور لاانتہا لذتوں کے علاوہ بحیثیتِ کُل دیگرساری لذّتیں بھی موجود ہیں۔ وہ لذّتِ کُل دیدارِ الٰہی ہے۔ نعمت شناسی اور قدر دانی بحقیقت اسی مقام پر ہوسکتی ہے۔ نعمت ہر اس چیز کا نام ہے جو جسمانی یا روحانی طور پر انسان کے لئے خوشی، راحت اور لذّت کا موجب بن سکے۔ مگر ہر ایک نعمت میں یہ بات ضرور پائی جاتی ہے کہ وہ قدر و قیمت اور لذّت میں پچھلی والی نعمت سے بہتر اور اگلی والی نعمت سے کمتر ہوتی ہے۔ مثلاً موالیدِ ثلاثہ یعنی نباتات، حیوانات اور انسان کی غذاؤں پر قیاس لگائیے کہ نباتات کی غذا مٹی، پانی، ہوا اور آتشی اثرات ہے جو کہ قدر و قیمت اور لذّت میں حیوانوں کی غذا سے بہت کم ہے۔ حیوانات کی غذا ان کی نوعیّت کے مطابق ہے۔ مثلاً گھاس، پات، پھل، دانے، گوشت وغیرہ۔
پھر حیوانوں کی یہ غذا نباتات کی غذا سے قدروقیمت اور لذّت کے لحاظ سے بدرجہا بہتر ہے اور انسان کی غذا سے بدرجہا کمتر ہے۔ لیکن جانور روحِ حیوانی کی فوقیّت سے نباتات اور اس کی غذا پر بھی تصرف
۲۱
کرتا ہے، اس لئے حیوانات کو نباتات کا بادشاہ کہا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ بعض جانور عناصر سے بھی غذا حاصل کرتے ہیں اور اکثر حیوانات نباتات پر پلتے ہیں۔
اسی طرح انسان کی خوراک قدر و قیمت، ذائقہ اور منفعت میں حیوان کی غذا سے بدرجہا بہتر ہے اور فرشتوں کی غذائے جلالی سے بدرجہا بدتر اور خسیس تر ہے اور انسان بلاشبہ حیوانات، نباتات و جمادات اور دنیا کی ساری چیزوں پر بادشاہ ہے۔ حیوانات، نباتات وغیرہ سے جو چیز منفعت بخش ہو اسے اپنی غذا بنا لیتا ہے۔ لیکن روحانیّت کے طلب گاروں کے لئے یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ انسانی جملہ اقسام کی غذائیں باوجود تمام خوبیوں کے حقیقتاً حیوانوں کی غذائیں کہلاتی ہیں۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ غذا کا سوال روح کی حد میں پیدا ہوتا ہے۔ اور روح تین قسم کی ہوتی ہے۔ یعنی روحِ نامّیہ جس میں نشوونمائی کی طاقتیں ہوتی ہیں اور وہ ہر قسم کے نباتات و اشجار میں ہوتی ہے۔ اس کی خوراک کا ذکر نباتات کے بیان میں ہوچکا۔ دوسری قسم کی رُوح، روحِ حیوانیہ ہے یہ جملہ اقسام کے جانوروں میں ہوتی ہے۔ اس کی خوراک کا ذکر حیوانوں کے ذکر میں ہوچکا ہے۔ تیسری قسم کی روح، نفسِ ناطقہ یا کہ روحِ انسانی کہلاتی ہے۔ لیکن انبیاء و اولیاء کی پاک روح یعنی روح القدّس روحِ انسانی سے بالاتر اور اس میں سے مزید ہے۔
(ملاحظہ ہو کتاب زاد المسافرین)
۲۲
روح کی ظاہری ترکیب میں روحِ نامیہ سب سے نیچے ہونے کی وجہ سے ہر نبات میں صرف ایک ہی روح ہے۔ اور ہرجانور میں اپنی روح کے علاوہ روحِ نامیہ بھی ہے اور ہر انسان میں اپنی روح کے علاوہ اپنے دونوں ماتحت (حیوان و نبات) کی ارواح بھی ہیں۔ یعنی انسان میں تین ، حیوان میں دو اور نبات میں ایک رُوح ہے۔
اب روحِ ناطقہ کی غذا کے متعلق یہ ہے کہ اس کی غذائے مخصوص جس میں حیوان شریک نہیں ہوسکتا، نطق، تمیز، علم و حکمت اور معرفت وغیرہ ہے۔ یعنی موالیدِ ثلاثہ کی غذائے حدِ فاصل اوپر کی طرف سے ہے، چنانچہ نباتات کی غذا کی حد اتنی تک ہے جتنی کہ وہ غذا حاصل کرسکتی ہے۔ اور حیوانوں میں سے ہر ایک حیوان کی اپنی اصلی غذا وہ ہے جو وہ کھا سکتا ہو۔ اس لئے حیوانوں کی اوپر والی غذائے حدِ فاصل وہاں تک ہے جہاں تک وہ کھا سکتے ہیں۔ پھر درست ہوا کہ انسان ہمیشہ ایک حیوانِ مرکب پر سوار ہے۔ جس پر سے موت سے پہلے اترنا سخت مشکل ہے۔ لہٰذا وہ جس قدر بھی پُرلذّت غذائیں تناول فرماتا ہو وہ سب اپنے اس مرکبِ حیوانی کا حصّہ ہے جس کا نام نفسِ حیوانی ہے۔ لیکن انسان کی اپنی اصلی غذا وہ ہے جس سے روحِ ناطقہ اور عقل کو قوّت ملے۔ حکیم ناصر خسرو قدس اللہ روحہٗ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:
چیزی کہ ستوران و ددان با تو شریک اند
منّت ننہد با تو بدان ایزد داور
۲۳
یعنی جس چیز میں چرنے والے جانور اور درندے بھی تیرے ساتھ شریک ہوں تو اس کے بارے میں خدائے عادل تجھ پر ہرگز احسان نہیں رکھتا ہے۔
نعمت نبود آنچہ ستوران بخورندش
نے ملک بود آنچہ بدست آردش قیصر
یعنی نعمت وہ نہیں جسے جانور بھی کھا سکتے ہوں اور نہ وہ بادشاہی ہے جسے قیصر بھی حاصل کرسکتا ہو۔
انسانی نعمت اور شکر کی حقیقت کی مزید معلومات کرنے کی غرض سے قرآنِ حکیم کی اس آیت کی دقیقہ سنجی فرمائیے۔ قولہٗ تعالیٰ:
مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيْمًا (۰۴: ۱۴۷)
ترجمہ: “کیا کرے گا اللہ تمہیں عذاب کرکر۔ اگر تم شکر کرو اور مانو اور اللہ قدردان ہے۔ جاننے والا۔”
لیکن لوح التاویل میں اس آیت کے معنی اسی طرح ہے۔ نہیں کرتا (فعل) اللہ تمہارے عذاب (ریاضت) پر (ذریعے سے) اگر تم نعمت جانو اور یقین حاصل کرو۔ اللہ شکر کرانے اور علم سکھانے والا ہے۔ یعنی اگر ہم حقیقی معنوں میں شکر کریں اور کما کان حقہ ایمان لائیں تو اللہ ہماری تکلیف کے ذریعہ سے اپنا فعل نہیں کرے گا۔ بلکہ ہماری راحت ہی میں اس کا فعل ہم پر واقع ہوگا۔ جو کہ دونوں صورتوں میں خدا کا
۲۴
فعل صرف ہماری روحانی عروج کے لئے ہے۔ ازروئے تاویل کئی دلیلوں سے یہی معنی بہتر ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس عذاب کو آخرت کے ابدی عذاب تصوّر کریں تو اللہ ہمیں عذاب سے آگاہ کرنے کے بعد اپنی قدردانی اور علم پروری کی صفات کی طرف ہمیں متوجّہ نہ فرماتا۔ اس لئے کہ قرآنِ حکیم کی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر آیت کے آخر میں جیسے الفاظ یا اسماء ہوں ان کے مطابق آیت کا معنی نکلتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو، یہ تو احکم الحاکمین کا کلامِ حکمت نظام ہے۔ جزوی مثال میں بھی کوئی معمولی شعور والا انسان دوسرے انسان کو تکلیف دینے کے بعد اپنی صفت یا فعل مناسب حال الفاظ میں ظاہر کرتا ہے۔ مثلاً یا تو کہتا ہے کہ “اس میں میرا کوئی قصور نہیں اس کی اپنی غلطی ہے۔” یا یوں کہتا ہے “چکھ لیا! سزا۔”
اس بارے میں یہی ایک دلیل کافی ہے۔ لیکن اس بیان میں جو حقیقت شکر کے متعلق ہے۔ یہ بات باقی رہی ہے کہ جس طرح میں نے ہر موقعہ پر علم و حقیقت کی اہمیّت ظاہر کی، اسی طرح اس بیان کے آخر میں بھی بتوفیقِ خداوند علوم و حقائق اس بات کو دلیلوں سے محکم کرتا ہوں کہ اللہ نے انسانوں کو دنیا میں علم کی غرض سے پیدا کیا ہے اور یہی انسان کی غرض و غایت ہے۔ پھر خدائے تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے علم کو ہر قسم کی نعمتوں کی شکل میں جسمانی و روحانی طور پر موجود کیا ہے۔
ان تمام اقوال و اعمال میں بھی علم رکھا گیا ہے جس کے لئے انسان
۲۵
مامور ہوا ہو۔ غرضیکہ کوئی ایسی شۓ نہیں جس میں علم نہ ہو۔ خدائے عزّوجلّ حضرت ابراہیمؑ کی طرف سے فرماتا ہے:
وَسِعَ رَبِّيْ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۭ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ (۰۶: ۸۰)۔
یعنی “سمو رکھی ہے میرے ربّ نے ہر چیز کو علم میں۔ کیا تم دھیان نہیں کرتے؟” اس سلسلے میں ایک اور حقیقت آپ کی نگاہ کے سامنے رکھتا ہوں۔ جس سے یہی ایک مسئلہ نہیں بلکہ بہت سے مسئلے حل ہوسکتے ہیں۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ خدائے علیم و حکیم نے ہر مذکور پیغمبر کی ایک مخصوص خوبی قرآن میں ظاہر کی ہے۔ یعنی حضرت آدمؑ کو خلیفہ و مسجودِ ملائک اور صفی کے خطاب سے نوازا۔ حضرت نوحؑ کو شکور کے نام سے یاد کیا۔ ابراہیمؑ کی توحید پرستی کی تعریف کی۔ حضرت موسیٰؑ کو کلیم اللہ کہلایا۔ حضرت عیسیٰؑ کو اپنی رُوح قرار دی۔ حضرت یوسفؑ کو صدیق بتایا۔ حضرت ایوبؑ میں صبر کی حد بتائی۔ حضرت داؤدؑ کو خلافت عطا کی اور حضرت سلیمانؑ کی مملکت کا ذکر کیا۔ اسی طرح ہر پیغمبرؑمیں ایک مخصوص چیز ہونے کا ذکر کیا اور سب سے اخیر میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سردارِ انبیاء کو معراج کی رات میں اپنی خلوت گاہِ خاص میں لے جانے کی بشارت امتِ محمدیہ کو سنا دی۔ امنّا و صدّقنا۔ یہ سب حقیقت ہے۔ اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ لیکن آپ یہ خیال ہرگز نہ کرنا کہ جوچیز جس پیغمبرؑ کو دی گئی تھی وہ وہیں پر ختم ہوئی تھی۔ اور دوسرے پیغمبر اس چیز سے محروم رکھے گئے تھے۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا ہے۔
۲۶
بلکہ حکیمِ مطلق نے پیغمبروں کی ان خاصیتوں کے پسِ پردہ ایک زبردست حکمت پوشیدہ رکھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ تمام پیغمبرؐ اپنی اپنی خصوصیات کی بناء پر ایک خدائی مقدّس کتاب کے عنوانات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاکہ حقیقت تلاش کرنے والوں کو سہولت ہوسکے۔ اس قانونِ الٰہی کی بناء پر ہم شکر کی مزید حقیقت حضرت نوحؑ کی تواریخ سے معلوم کرلیتے ہیں۔ کلامِ خدائے جلیل وجبّار:
اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا (۱۷: ۰۳)۔
“اے وہ نسل! جو تم کو نوح کے ساتھ ہم نے اٹھایا۔ وہ بہت شکر کرنیوالا ایک بندہ تھا۔ یعنی اس کے پاس بہت سی روحانی نعمتیں ہیں اور وہ ان کی پوری حقیقت جانتا ہے۔”
(کَانَ: تھا، ہے) بغیر تنوین کے ( نوح) وہی نوح جو پہلے ہوگزرا ہے اور تنوین کے ساتھ ( نوح) کوئی بھی شخص جو جملہ وجوہات سے گذشتہ نوح کی مانند ہو۔ اور کشتی کی حقیقت سنئے: –
قولِ خداجلّ جلالہٗ:
وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا (۱۱: ۳۷)۔
“یعنی بنا کشتی کو ہمارے مشاہدات اور ہماری وحی کے ذریعے سے۔” یعنی عالمِ آفاق و عالمِ نفس کے معلومات سے سفینۂ نجات تیار کر۔ بس کشتی علم کے سوا اور کسی چیز سے نہیں بنائی گئی تھی۔ اگر کوئی شخص سوال کرے کہ نوحؑ کی کشتی تو اب تلک فلان حکومت کے عجائب گھر میں
۲۷
موجود ہے۔ میرا جواب یہ ہوگا کہ درست ہے لیکن اس آیت میں صرف اسی کشتی کا ذکر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ:
قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ (۱۱: ۴۰)۔
ترجمہ: “ہم نے کہا چڑھا دے اس میں کل سے جفت دواور اپنے اہل کو۔”
یعنی نوحؑ نے جب دنیا کی ساری چیزوں کو حکمت کی نظر سے دیکھا اور ہر چیز میں صانعِ حکیم کی لاانتہا حکمتیں موجود پائیں اورکل اشیاء میں حسبِ ترکیب روح موجود ہونے کی دلیل ثابت ہوئی اور اسے یہ بھی تحقیق ہوئی کہ عالمِ روحانی کی نورانیّت میں یہ ساری چیزیں کس قدر باعثِ لذّت نعمتیں بن سکتی ہیں۔ پھر حضرت نوحؑ نے غنیٔ مطلق کے حکم سے پانچوں حدود سے جو امامِ زمان میں تھیں، ہر ایک جفتِ روحانی کو حاصل کرکے سفینۂ علم میں سما رکھی۔ یعنی حدِّ وحدت حدود (امرکلّ) حدِّ عدل (عقلِ کلّ) حدِّ ترکیب (نفس کلّ) حدِّ تالیف (خود اس واقعہ کے بعد ناطق بنا) حدِّ تاویل (اساس) پھر عقل اور نفس والی ساری چیزیں جفت ہوئیں۔ یعنی عقل کی ساری چیزیں نراور نفس کی ساری چیزیں مادہ تھیں۔ اس لئے وہ سب آپس میں جفت ہوئیں۔ جسے “زَوْجَیْنِ” کہتے ہیں۔ اسی طرح ناطق کی نر چیزیں اساس کی مادہ چیزوں کے ساتھ جفت بن کر اِثْنَیْنِ کہلائیں۔ اور جو ارواح امر سے ملی
۲۸
تھیں وہ ایک چیز ہوئی۔ یعنی ان کا ایک وجود ہوا۔ یہی ہے شکر کی حقیقت جو حضرت نوحؑ نے کیا تھا۔
رسولِؐ خُدا کی وصیّت
حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی آخری وصیّت یہ تھی:
اِنّی تَارِک فِیْکُم الثَّقَلَیْنِ کتابُ اللّٰہِ وَعِتْرَتِی اَھْلَ بیتی۔
ترجمہ: یعنی “میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ جانے والا ہوں۔ خدا کی کتاب اور امام۔”
خدا و رسول کا قول ہمیشہ حکمت خیز ہی ہوتا ہے۔ اس حدیث کی پہلی حکمت: دو چیزوں میں سے ایک بدرجہ غایت مشکل کتاب ہے۔ دوسرا ہر مشکل کو نہایت ہی آسان بنا دینے والا شخص ہے۔ پھر جب مشکل کے ساتھ مشکل آسان بھی دیا جائے تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ مشکل کا چارہ صرف مشکل کشا ہی کرسکتا ہے۔ یعنی امامؑ قرآن کی تاویل کا ذمّہ دار ہے۔
دوسری حکمت: حدیث کے ربطِ الفاظ میں پہلے کتاب ہے۔ پھر امام، اس قسم کے ربطِ الفاظ کا یہ اشارہ ہے کہ پہلے قُرآن تنزیل سے تم خود پڑھو۔ پھر اس کی تاویل امام سے ملے گی۔
تیسری حکمت: رسول، قرآن اور امام دونوں کو بھاری چیزیں
۲۹
بتاتا ہے۔ لیکن ظاہراً دیکھا گیا کہ قرآن شریف اسقدر ہلکا ہے کہ چھوٹا سا بچہ بھی اُسے اٹھا سکتا ہے۔ اور امام بھی جسمانی طور پر اوسطاً وہی وزن رکھتا ہے جو دوسرے انسان رکھتے ہیں۔ گو امام ہر ایک انسان سے ظاہراً زیادہ بھاری ہرگز نہیں ہوتا ہے۔ پھر اس صورت میں دونوں چیزوں میں سے ایک پر بھی انہیں بھاری بتانے کا قول صادق نہیں آسکتا ہے۔ اندر آن حال، ہم اپنی بھولی بھالی اور بیچاری عقلِ جزوی کو امامِ زمان کے حضور میں روانہ کرتے ہیں۔ تاکہ وہ وہاں اس کے بھاری پن کا کسی نہ کسی طرح تجربہ کر کے آئے۔ وہ عقلِ خام و نا تمام، ناکام واپس آتی ہے۔ کیونکہ بھاری پن سے یہاں اور کچھ مراد نہیں ہے، سوائے اس کے کہ انسانی عقل، بذاتِ خود قرآن کی تاویل حاصل نہیں کرسکتی ہے۔ اور نہ امامِ زمان کو پہچان سکتی ہے۔اور لفظ “ثقلین” میں اس حدیث کا یہی فیصلہ ہے۔
چوتھی حکمت: لفظ “ثقلین” کے مباحث سےمعلوم ہوا کہ قرآن شریف اور امامِ زمان کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک ظاہری حیثیت اور دوسری باطنی۔ اور یہ بھی دلیلاً ثبوت ہوا کہ ابتداء میں انسان کی عقلی رسائی، ان دونوں کی باطنیت تک نہیں ہوسکتی ہے۔ اس لئےہم قرآن شریف اور امامِ زمان کو رسول کے حکم کے مطابق پہلے ظاہری طور پر مانیں گے، یعنی کلّی طور پر ہم امامِ زمان کی اطاعت کریں گے۔اگر کوئی حقیقت پسند دانا اس حدیث پر تبصرہ کرے تو امامِ زمان
۳۰
کی بے حد توانائی کا کچھ اندازہ کرسکتا ہے۔اس چیز سے کہ کروڑوں انسانوں کی رہبری روحانی و جسمانی طور پر کرسکنے کے علاوہ خدائے سبوح و قدوس کے اس کلامِ حکمت نظام کے جملہ حقائق و اسرار سے با خبر ہونا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ رسولِ پاکؐ نے قرآن شریف اور امامِ زمان کو بیک وقت ویک لفظ کس چیز کے تناسب سے بھاری کہا ہے۔ ان دونوں کی طاقت اور بھاری پن روحانی تھا۔ اِس لئے روحانی کا تناسب روحانی سے ہوتا ہے۔ لہٰذا زمین آسمان سے بھی بھاری کہنا درست نہیں۔ کیونکہ ان کو بھی رُوح نے اٹھایا ہے۔ خدا وندِ کریم فرماتا ہے:
“کہہ اگر جمع ہوویں آدمی اور جنّ اس پر کہ لادیں آیتِ قرآن۔ نہ لاسکیں گے آیت اگر وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے بھی رہیں۔ (۱۰: ۸۸)
معلوم ہوا کہ قرآنِ حکیم کی حقیقی تاویل جنّ جانتے ہیں نہ انس۔ پھر یہی تناسب ہے جس کی نسبت سے قرآن و علی ہر زمان کو عقل کے لحاظ سے بھاری کہا گیا ہے۔ یہاں فیصلہ یہ ہوا کہ جنّ و انس کا کوئی فرد قرآن کی پوری حقیقت نہیں جانتا ہے۔ پھر اگر کوئی شخص عالم القرآن ہو، جس کی خدائی شہادت مل سکتی ہو تو وہ شخص دلیلاً نہ جنّ میں سے ہے اور نہ انس میں سے ۔ جب ایسا شخص جنّ و انس سے نہ ہو تو محکم دلیل ہے کہ وہ فرشتۂ جمالی بھی نہیں بلکہ فرشتۂ جلالی ہے۔ وہ شخص جو فرشتہ ہے۔
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ
۳۱
عِلْمُ الْكِتٰبِ (۱۳: ۴۳) یہی امامِ زمان اپنے تابعین کے لئے بامقتضائےزمانہ اعمال کا وہ طریق مقرر کرتا ہے جو قرآنِ پاک کی اس گہری حکمت کے بعینہٖ مطابق ہو۔ تاکہ انہیں بالکل تاویل کے قریب رہنا پڑے۔
اصل الاصول
اللھم یا مولانا یا عَلی مَدد
طالبانِ حقیقتِ اسماعیلیّت سے مخفی نہ رہے کہ اس مقدّس مذہب کی اصل الاصول “امرِ کل” یعنی کلمۂ باری سبحانہٗ ہے۔ جو مختلف اسماء سے موسوم ہے۔ چنانچہ امر کن کاف ونون، وحدت، مبدع، بہشتِ حقیقی، معاد وغیرہ باری سبحانہٗ نے اسی امرِکل کے کلمۂ واحدہ سے بمثلِ عقلِ کل موجود کیا۔ جوکہ ہماندم کلمۂ کُنۡ میں مل کر ایک ہوا۔ امرِکل کے معنوں میں سے ایک معنی حکم یعنی فرمان ہے۔ اس لئے اگرچہ عالمِ امر کے لئے ایک ہی کلمۂ فرمان کافی تھا۔ لیکن عالمِ خلق کے لئے ہمیشہ امر کی ضرورت پڑنے کی و جہ سے فرمانِ امامِ زمان امرِکل کا مظہر ہوا۔ امرِکلّ کی روحانی عمل گاہ انسانی ارادہ ہے۔
اصُولِ دین
اصولِ دین چارہیں، عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق اور اساس۔
۳۲
ان میں سے دواصل عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ روحانی ہیں۔ دو اصل ناطق اور اساس جسمانی ہیں۔
اصول کے معنی درخت کی جڑیں ہیں۔ یعنی دین کے درخت ۔ جسکا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:
اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِي السَّمَاۗءِ ۔ تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَا ۭ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (۱۴: ۲۴ تا ۲۵)۔
اللہ تعالیٰ حقیقت شناسوں کی تعلیم کے لئے اپنے پیارے رسول حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے مخاطب ہو کر یوں فرماتا ہے کہ: “آیا اے محمد! تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک پاک کلمہ کی مثال کس طرح بیان فرمائی ہے( وہ کلمہ) ایک پاک درخت کی طرح ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ پھل دیتا ہے ہر موسم میں اپنے پروردگار کے حکم سے۔ اور اللہ لوگوں کو مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ علمی ذکر کریں۔”
پس معلوم ہوا کہ اس آیتِ شریفہ میں دو پاک چیزوں کا ذکر ہے جو کہ نفع رسانی اور ہر صفت میں ایک دوسرے کی مانند ہیں۔ یعنی جو صفت اس پاک درخت میں موجود ہے وہ صفت اس پاک کلمہ میں بھی موجود ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے تو پاک کلمے کا ذکر چھیڑا، پھر
۳۳
اس کی مثال پاک درخت سے دی۔ اور عقل مندوں کے لئے واضح کردیا کہ جس طرح پاک درخت ہر وقت اور ہر موسم میں اپنا پھل دیتا ہے۔ اسی طرح پاک کلمہ بھی عرفانی منفعت بخشتا ہے۔ اب آپ ذراغور کرکے یہ بتائیے کہ دنیا میں کہیں ایسا درخت بھی ہے جو ازل سے اپنی جڑوں پر مضبوطی سے کھڑا رہتا ہو۔ اور اَبد تک کبھی نہیں گرتا ہو اور اس کی شاخیں آسمان میں جالگی ہوں۔ جس کے پھل پکنے کی کوئی دیر اور کوئی موسم نہ ہو۔ بلکہ ہر سال، ہرماہ، ہرروز، ہر ساعت، ہرمنٹ اور ہر سیکنڈ پکا ہوا میوہ تیار ہو۔ میوہ بھی کبھی ختم نہ ہو، آپ ہرگز یہ نہیں بتا سکیں گے کہ دنیا میں فلان جگہ اس قسم کا ایک درخت ہے۔ پس سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا درخت نہیں۔ بلکہ یہ ایک مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ خود بھی فرماتا ہے کہ یہ لوگوں کو سمجھانے کی ایک مثال ہے۔ پس اس کا ممثول یہ ہے کہ یہ پاک کلمہ، کلمۂ باری سبحانہٗ ہے، جس کا ذکر بطریقِ اختصار ہوچکا۔ اور یہ درخت شجرۂ نبوّت و امامت ہے، یعنی درختِ دین جس کے چاراصولوں کا ذکر کیا گیا ، اب اسی درخت کی شاخوں کا ذکر سُنیے!
فروعِ دین
فروعِ دین چھ ہیں:
۳۴
۱- جّد۔
۲- فتح۔
۳- خیال۔
۴- امام۔
۵- حجّت۔
۶- داعی۔
ان میں سے تین فرع: جدّ، فتح اور خیال روحانی ہیں۔ اور تین فرع: امام، حجّت اور داعی جسمانی ہیں۔ جدّ اسرافیل، فتح میکائیل اور خیال جبرائیل کے نام ہیں۔ امام سے مراد امامِ زمانؑ، حجّت کا مطلب اٹھائیس حجتوں میں سب سے بڑا یعنی باب یا امام کا وہ فرزند جو لاحق نور ہو، اور داعی سے مراد تین سو ساٹھ داعیوں میں سے وہ داعی ہے جو حجتِ اعظم کا لاحق ہو۔
اصُولِ دین کی تشریح
اصلِ اوّل عقلِ کُلّ:
عقلِ کلّ کے مختلف نام: آدمِ حقیقی، علّت اولیٰ، عرشِ الٰہی، قلم، اوّل، خزینۂ الٰہی، ملکِ خدا، مجوہرالجواہر، اور عال وغیرہ۔
۳۵
عقلِ کلّ اس فرشتے کو اس لئے کہتے ہیں کہ عقل اور علم کا یہی سرچشمہ ہے اور تمام عقول اور علوم اس کے نیچے ہیں۔ کوئی شۓ ایسی نہیں جو یہ نہ جان سکے۔ کوئی علمِ اس سے باہر نہیں، تمام اشیاء پر یہ محیط ہے۔ آدمِ حقیقی اس لئے کہتے ہیں کہ یہ علم الاسماء کے عالم اورکل فرشتوں کا مسجود ہے۔ علّتِ اولیٰ اس لئے کہتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ موجود ہوا، اور اس سے دوسرے موجودات، یعنی نفسِ کلّ اور اس کے ذریعے تمام موجودات پیدا ہوئیں۔ اس کو عرشِ الٰہی اس لئے کہتے ہیں کہ کوئی موجود اس سے بڑھ کر اشرف اورافضل نہیں کہ وہ خدائے تعالیٰ کے تخت بننے کے لائق ہوسکے سوائے عقلِ کلّ کے، اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ کے یہ مستقر اور تخت ہے۔ قلم اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے ذریعے سے علم سکھایا “عَلَّمَ بِالْقَلَم۔” اوّل اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی خلقت سب سے پہلے ہوئی۔ حدیث:
اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اَلْقَلَمَ۔ اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اَلْعَقَلَ۔ اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالیٰ نُوْرِیْ۔
اسے خزینہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں سب چیز موجود ہے۔
اَوْاَلْقٰی عَلَیْہِ کَنُزٌ۔
ترجمہ: یا کیوں نہ ڈالاگیا اس پر کوئی خزینہ (۱۱: ۱۲)۔
یعنی اس کو کیوں عقلِ کلّ سے تائید نہیں ملتی ہے۔ اسے ملکِ خدا
۳۶
یعنی اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اس لئے کہتے ہیں کہ ملکِ خدا میں کوئی تفاوت نہیں پائی جاتی۔
مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۔ (۶۷: ۰۳)
” پس اس میں کوئی تفاوت نہیں۔”
مجوہر الجواہر اس لئے کہتے ہیں کہ جواہرِ علوی و سُفلی کو اسی نے جوہر بنایا ہے۔ عالؔ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ علّت کے بانی ہے۔ یعنی علّت بنانے والاہے۔ حمدؔ اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تحمید و تعریف و ستائش اسی سے ہوتی ہے۔
اصلِ دوم نفسِ کُل:
نفسِ کُل وہ فرشتہ ہے جو تمام نفوس و ارواح کے لئے مخرج اور مرّجع کی حیثیت رکھتا ہے۔ حوائے معنٰی ہونے کی وجہ سے یہ عقلِ کل کی جفت ہے۔ اسے کرسی کہتے ہیں:
وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (۰۲: ۲۵۵)۔
ترجمہ: اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمینوں کو اپنے اندر سمویا ہوا ہے۔
آسمانوں اور زمینوں کو نفسِ کلّ نے اپنی وسعت میں سموکر گھیر لیا ہے۔ لوحِ محفوظ اسے اس لئے کہتے ہیں کہ عقل کے قلم سے لکھے ہوئے صنعت کے نقوش نفسِ کلّ میں ہمیشہ محفوظ ہیں۔
بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (۸۵: ۲۱ تا ۲۲)۔
۳۷
یعنی بلکہ وہ قرآن ہے ایک محفوظ تختے میں۔ یعنی نفسِ کلّ میں جوہر چیز کے حفاظتی تختہ کی حیثیت رکھتا ہے اسے نفس واحدہ بھی کہتے ہیں۔ یعنی ایک نفس یا کہ نفوس کو ایک کرنے والا۔ اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں لیکن اسقدر تشریح کفایہ ہوگی۔
اصل سوم ناطق:
ہر دورمیں جو چھ ہزار سال کا ہو، چھ ناطق ہوتے ہیں۔ اس دور کے ناطقوں کے نام یہ ہیں: آدمؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔ آخری ناطق حضرت محمدؐ ہیں۔ ناطق کے لغوی معنی گویندہ یعنی بولنے والے کو کہتے ہیں اور اصطلاحِ دین میں ناطق اس نبیٔ مرسل کو کہتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب نازل ہوئی ہو۔ اور اللہ کے حکم سے اس نے اس کتاب کے مطابق اپنی نئی شریعت کے ذریعہ سے اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی ہو۔ خدا تعالیٰ اپنے پیارے ناطق کے بارے میں فرماتا ہے:
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى -اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى (۵۳: ۰۳ تا ۰۴)۔
یعنی “وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا ہے۔ وہ اور کچھ نہیں مگر اسے وحی نازل ہوتی ہے۔:”
اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
وَلَدَيْنَا كِتٰبٌ يَّنْطِقُ بِالْحَقِّ (۲۳: ۶۲)۔
۳۸
یعنی ہمارے پاس ایک ایسی کتاب بھی ہے جو بغیر کسی کے پڑھے وہ خود سچائی سے بولتی ہے۔ ایسی خود بولنے والی کتابِ ناطق یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔
اصلِ چہارم اساس:
اساس بنیاد کا نام ہے۔ اور اصطلاحِ دین میں حضرت مولانا مرتضیٰ علی کو کہتے ہیں۔ اس لئے کہ امامت انہیں سے ظاہر ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ:
اَنْتَ مَعَ الْاْنُبِیَآئِ سِرًّا وَّمَعِیَ جَھُرًا
یعنی مولانا علیؑ تمام پیغمبروں کے ساتھ تھے مگر عوام الناس ان کو نہیں جانتے تھے لیکن حضرت محمد صلعم کے زمانے میں آشکار ہوئے۔
اساس کو صدیق بھی کہتے ہیں۔ صدیق کے معنی ہیں تصدیق کرنے والا۔ اس لئے کہ مولانا علیؑ اپنی تاویل سے حضرت محمد صلعم کی تنزیل کی تصدیق کرتے تھے۔ چنانچہ آنحضرتؐ نے اسی بارے میں فرمایا کہ:
یَاعَلِیُّ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزَلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسیٰ
یعنی آپ میرے لئے ایسے ہیں جیسے ہارون موسیٰ کے لئے تھے۔ اور موسیٰ کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: قولہٗ تعالیٰ:
وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ
۳۹
اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ (۲۸: ۳۴)۔
یعنی موسیٰ نے کہا کہ میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ خوش بیان ہے پس اس کو میرے ساتھ مدد کے لئے بھیج دے تاکہ وہ میری تصدیق کرے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیا کریں گے، یعنی فرعون اور اس کی قوم۔
پھر خدائے تعالیٰ اور اس کے رسول کے قول سے یہ ثابت ہوا کہ مولانا علی ہر طرح سے رسول اللہ کی مدد اور اس کی تنزیل کی تصدیق کرنے والے تھے۔ شریعت اور تنزیل کی تصدیق صرف تاویل سے ہوسکتی تھی۔ چنانچہ رسول اللہ نے فرمایا:
اِنَّ مِنْکُمْ مَّنْ یُّقَاتِلُ بَعْدِ یْ عَلَی التّاوِیْلِ کَمَا قَاتَلْتُ عَلَی الّتنْزِیُلِ فَسْئَل النَّبّیُ مَنْ ھُوَ فَقَالَ خَاصِفُ النَّعْلِ یَعْنِیْ اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ۔
حضرت نبی کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے صحابۂ کرام سے مخاطب ہوکر فرمانے لگے کہ “تم میں وہ شخص بھی ہے جو کہ میرے بعد تاویل پر لڑے گا، جس طرح میں تنزیل پر لڑا تھا۔” پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ “وہ شخص کون ہے؟” آپؐ نے فرمایا کہ “وہی شخص جو تمہارے سامنے اپنے جوتے ٹھیک کر رہا ہے یعنی امیرالمومنین۔”
کوئی بھی عاقل اس حقیقت سے انکار نہیں کرے گا کہ کسی چیز کی تصدیق اس وقت بحقیقت ہوسکتی ہے جب اس چیز کی پوری اصلیت معلوم ہوجائے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
۴۰
وَكَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۙ وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ اٰتَيْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ (۳۴: ۴۵)۔
ترجمہ: اور جھٹلایا ان سے اگلوں نے بھی اور وہ نہ پہنچے تھے اس چیز کے دسویں حصے تک جو ہم نے ان کو دی تھی۔ یعنی “کتاب” پھر اس وجہ سے انھوں نے ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ پھر کیسی ناشناسی تھی۔
نکیر بروزنِ فَعِیْل یعنی فاعل برابرش ناکر ضِد عارف بمعنی ناشناس۔
اس آیت کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ظاہراً آسمانی کتاب کو تو پڑھتے تھے لیکن کتاب کی حقیقت یا تاویل کی نسبت سے ان کی رسائی کم از کم اتنی بھی نہ تھی کہ وہ تاویل کے دسویں حصّہ تک پہنچ سکے۔ پھر یہی ان کی نارسائی حقیقتاً ان سے اپنے پیغمبروں کی تکذیب ہوئی۔
بہرحال خدا و رسولؐ کے اقوال کی تاویل کے لئے مولانا مرتضیٰ علی اساس تھے اور ہر وقت بہ لباسِ دیگر و باسمِ دیگر دنیا میں حاضر ہیں۔ جو کچھ وہ فرماتے ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں وہی تاویل ہے، کیونکہ یہی قرآنِ مجید روحانی خصوصیت کے ساتھ امامِ زمان کی ذاتِ والا صفات میں ہمیشہ موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قول:
اَلْقُرْاٰنُ مَعَ عَلِیٍّ وَّعَلِیٌّ مَعَ الْقُرْاٰنِ ۔
ترجمہ: “قرآن علی کے ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ ہے۔”
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مولانا علیؑ ہر وقت قرآنِ شریف
۴۱
کو اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں، بلکہ اس کی اصلیت کچھ اور طرح کی ہے۔ اس حدیث کی مثال سے آپ اس مطلب کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا:
اَنَامَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا۔
یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔
اگر واقعی علیؑ بابِ نبیؐ ہے تو علیؑ کے اندر نبیؐ بھی ہے اور وہ تمام علوم بھی ہیں جو آنحضرت صلعم ہی جانتے تھے۔ کیونکہ شہر تو دروازہ کے اندر ہوتا ہے اور اس کے بغیر کوئی شخص شہر میں داخل نہیں ہوسکتا ہے۔ نیز دروازہ کسی شہر کا اس وقت ہوتا ہے، جبکہ ہر شخص کو اپنے اختیار سے شہر میں داخل نہ ہونے دینا مقصود ہو۔ اس صورت میں شہر کے گرداگرد ایک مضبوط فصیل بھی ہوتی ہے۔ میں کہوں گا کہ اس شہر کی فصیل بھی مرتضیٰ علیؑ ہیں۔ یعنی وہ تمام حقائق و معارف جو رسولؐ کے پاس تھے وہ سب علیؑ کی ذاتِ شریف میں موجود ہیں۔ کیونکہ رسولؐ بھولنے والوں میں سے نہیں اور جملہ قرآنِ مجید اس کے مبارک دل میں موجود تھا:
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى (۸۷: ۰۶)۔
” یعنی قرآنِ مجید ہم تمہیں پڑھ کر سنائیں گے اور تو ہرگز اسے نہیں بھولے گا۔”
پھر جب علیؑ کے نور میں محمدؐ کا نور موجود ہے اور علیؑ کا نور
۴۲
امامِ زمانؑ میں ہے تو یقینی ہے کہ قرآنِ مجید بھی اس نور میں ضرور موجود ہے۔ اس مثال کی حقیقت اسی طرح سمجھنا رسول اللہؐ کے حق میں بہتر ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ کوئی شخص اس علم و حقائق سے معمور شدہ شہر کو اجاڑ تصوّر کرے۔ یہ اس لئے کہ خدا اور اس کے رسولؐ کو یہ ہرگز زیبا نہیں کہ وہ ایک ایسی چیز کی تعریف و توصیف کریں جو چند دنوں کے بعد فنا ہونے والی ہو۔
پھر یہی حقیقت مکرر بتلائی جاتی ہے کہ علیؑ اساس اور تاویل کے مالک بحالِ یک نوری امامِ زمانؑ میں موجود ہے اور وہ اب بھی بالکل اسی طرح شہرِ علم کا دروازہ ہیں جس طرح پہلے تھے۔ مولانا مرتضیٰ علیؑ اپنے ایک خطبہ میں یوں فرماتے ہیں کہ “اگر میں موت سے مروں تو ہرگز نہیں مرتا۔ اور اگر مجھے قتل کردیا جائے تو میں ہر گز نہیں قتل ہوتا ہوں۔” اس خطبے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ مولانا علیؑ اپنے جسمِ مبارک کو لافانی قرار دیتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی جسم غیر فانی نہیں اور ان کے بیان کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ عالمِ روحانی میں زندہ ہیں۔ کیونکہ وہاں والے تو سب زندہ ہیں۔ اور جو صفت سب میں پائی جاتی ہے۔ دانا شخص اس پر فخر نہیں کرتا۔ لیکن جب چاہے کہ اپنی خصوصیات سے لوگوں کو آگاہ کرے تو وہ خصوصیات ظاہر کرتا ہے جو دوسروں میں موجود نہ ہو۔
۴۳
فروع کی تشریح
فرعِ اوّل جدّ:
جدّ اسرافیل کا نام ہے۔ قرآنِ مجید کی اس آیت میں اس کا کچھ ذکر ہے:
وَّاَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّلَا وَلَدًا (۷۲: ۰۳)۔
“اور یہ کہ بہت بلند ہے ہمارے پروردگار کا وہ فرشتہ جس کا نام جد ہے۔” اسی طرح دعائے قنوت میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جدّ کی بلندی بیان فرماتے ہیں:
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَجَلَّ ثَنَآؤُکَ وَلَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ اللّٰہُ اَکْبَرْط
ترجمہ: بارِ خدایا تو پاک ہے۔ اور حدِّ اوّل سے ہی تیرے لائق تحمید ہوسکتی ہے۔ اور حدِّ ثانی سے جو تیرا نام ہے تیری معرفت حاصل ہوسکتی ہے اور حدِّ ثالث یعنی جدّ سے تیری برتری کا اقرار کیا جاسکتا ہے اور رابع سے تیری بزرگی عیان ہے اور خامس پر تیری عبادت قبول ہوجاتی ہے اور اللہ حدودِ روحانی اور جسمانی سے بہت بڑا ہے۔
۴۴
اس بیان کا خاص مطلب جدّ کا ذکر ہے۔
چونکہ جدّ فروعِ روحانی میں سے بالاترین فرع ہے۔ نیز یہ فرشتۂ عشقِ حقیقی ہے۔ لہٰذا اسے برتر قرار دیا گیا ہے۔ ازانکہ درخت کے تنا سے شاخ بالاتر ہوتی ہے، لیکن اس کا قیام تنا پر ہے۔ پس بلاشک معلوم ہوکہ جس وجہ سے ان تین فرشتوں کو درختِ دین کی شاخیں مان لیتے ہیں اسی وجہ سے جدّ برتر ہے۔ اس فرشتے کا فیضِ عام ہر انسان کے لئے قوّتِ نطق ہے۔
فرعِ دوم فتح:
میکائیل کا دوسرا نام فتح ہے۔ فتح کے معنی کھولنا۔ کشودن ہے، یعنی کسی بھی بند چیز کو کھولنا۔ لیکن یہاں اس فتح سے مراد روحانی کشود ہی ہے۔ اس کا مصداق یہ آیۂ شریفہ ہے:
قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بِالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ (۳۴: ۲۶)۔
ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا۔ پھر کھولے گا ہمارے درمیان سچائی سے۔ اور وہ کھولنے والا جاننے والا ہے۔
یہاں جمع کرنے سے مراد دینِ محمدی میں داخل ہونا اور کھولنے سے مراد تنزیل کو تاویل میں بیان کرنا ہے۔ پس فتح یعنی میکائیل کی حد سے تاویل شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ قول مشہور ہے کہ میکائیل دنیا والوں کو رزق تقسیم کرنے والا فرشتہ ہے۔ پھر درست ہے
۴۵
کہ رزق دوطرح کا ہوتا ہے۔ جسمانی اور روحانی۔ روحانی رزق تاویل ہے اور تاویل کی حد غایت فتح یعنی میکائیل ہے۔ عام حالت میں ہر انسان کو اس فرشتہ سے قوّتِ فہم ملتی ہے۔
فرعِ سوم خیال:
خیال جبرائیل کو کہتے ہیں اور یہ تنزیل کا فرشتہ ہے، اور اس کو خیال اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا روحانی عمل انسانی تخیّل میں ہوتا ہے۔ طالبِ روحانیّت کے تخیّل سے حجابِ ظلمانی کا اٹھانا اسی فرشتے کا کام ہے ۔ جس طرح انسانی مدرّکات کی ترتیب میں حواسِ خمسۂ ظاہری کے بعد خیال ہے، جو کہ وہ مدرکۂ خمسۂ باطنی کی پہلی مدرکہ ہے۔ اسی طرح پنج حدِّ جسمانی کے بعد فرشتۂ خیال ہے۔ جو کہ وہ پنج حدِّ روحانی کی پہلی حدّ ہے یعنی روحانیّت خیال سے شروع ہوتی ہے۔ جبرائیل کے متعلق مزید تفصیل اس آیۂ شریفہ سے مل سکتی ہے۔ قولہٗ تعالیٰ:
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ (۰۲: ۹۷)۔
ترجمہ: کہہ جو کوئی جبرائیل کا دشمن ہو، حالانکہ اس نے اللہ کے اذن سے تیرے دل پر اتاری ہے اُس چیز کو جس پر پہلی چیز کی تصدیق ہوسکتی ہے اور مومنوں کے لئے اس میں راہ یابی و خوشخبری ہے۔
۴۶
اس آیت میں جبرائیل سے دشمنی رکھنے کے نقصاناتِ روحانی بیان کئے ہیں۔ ظاہری طور پرجبرائیل سے کسی کی دشمنی ممکن نہیں۔ فی المثل اگر کافروں کے متعلق یہ ٹھہرائیں کہ کافر لوگ جبرائیل کے دشمن اس لئے ہوتے تھے کہ وہ خدائے تعالیٰ سے حضرت محمدؐ پر وحی نازل کرتا ہے۔ پھر یہ بات محال ہوگی۔ کیونکہ اس قسم کی بات میں خدا کی ہستی اورجبرائیل کے واسطے سے حضرت محمد صلعم پر وحی نازل ہونے کے لئے اقرار ہے۔ اسی طرح جو لوگ خدا کی ہستی کو نہیں مانتے انہیں ازروئے قانونِ منطق خدا کے دشمن نہیں کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ کسی چیز سے دوستی یا دشمنی رکھنے سے پہلے اس چیز کی ہستی کے لئے اقرار کرنا ضروری ہے۔ مثلاً زیدؔ نے کہا کہ “بکر میرا دشمن ہے۔ یا میں بکر کا دشمن ہوں” تو اس جملہ میں سب سے پہلے زیدؔ اپنے دشمن بکر کی ہستی کا، پھر اس کے فعل کا اور آخر میں مخالفت کا اقرار کرتا ہے۔
پھر جبرائیل سے دشمنی کی حقیقت اسی طرح ہے کہ کوئی شخص ایسے اعمال کا مرتکب ہوجائے جن کی وجہ سے اس شخص کے دل میں جبرائیل کے روحانی فعل وقوع میں نہ آسکے۔ خواہ اس شخص کے برے اعمال کی وجہ کچھ بھی ہو۔ اس صورت میں مثال کے طور پر جبرائیل اس سے دور رہے گا۔ دور رہنا اور بھاگنا دشمنی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دشمنی ان معنوں پر حاوی ہے۔ کسی چیز کا برا لگنا، اسے نہ چاہنا،
۴۷
اپنا مخالف سمجھنا، اسے ختم یا اپنا تابع کرنے کے لئے کوشش کرنا، اس سے گریز کرنا، اور دل میں ہر قسم کے برے اندیشے رکھنا وغیرہ۔ لیکن فرشتے ان چیزوں سے پاک ہوتے ہیں۔ فرشتوں کا فعل اسی طرح پاک ہے، جس طرح سورج آسمان پر سے روشنی ڈالتا ہے، ہر اس چیز پر جو سورج سے اپنے آپ کو نہ چھپاتا ہو۔ اور جو چیز اپنے لئے کوئی پردہ بنا کر اس پردہ میں رہتا ہو، تو وہ چیز اپنے دشمن ہونے کی وجہ سے سورج کا بھی دشمن ہے۔ کیونکہ وہ چیز سورج سے دور رہتی ہے اور ان تمام الفاظ کا اس پر اطلاق ہوتا ہے، جو دشمنی کے معنی میں آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے دوسرے فرشتوں سے پہلے ہی جبرائیل سے دشمنی رکھنے کی مذمت بطریقِ حکمت بیان فرمائی۔ معلوم ہوا کہ مومنوں سے عملاً جبرائیل کی دوستی چاہتا ہے۔ اس کی وجہ جملہ وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ روحانیّت اور معرفتِ نفس جو کہ پروردگار ہی کی معرفت ہے، اور اس کا پہلا دروازہ روحانی لحاظ سے خیال یعنی جبرائیل ہے، اس لئے مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ اسی زندگی میں ہی کم از کم ایک دفعہ روحانیّت کی ہستی کوماننے کے لئے اس فرشتہ کی دوستی سے عملاً فیض حاصل کریں، اور یہ کام ناممکن نہیں۔ بلکہ اس کی امکانیّت اس آیت کے لفظِ “ہدایت اور بشارت” میں موجود ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ “جبرائیل نے تو تیرے دل پر وحی نازل کی ہے،
۴۸
دل کی حقیقت جاننے اور اسے ہر قسم کی آلائشوں سے صاف رکھنے کا اشارہ ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ سنے کہ بادشاہ یا اور کوئی عزت مند بزرگ اس کے گھر آنے والاہے تو ضروری ہے کہ وہ اپنے مکان کو صاف اور آراستہ کرنے کے لئے کوشش کرے گا۔ اور اس بات کا بھی خیال رکھے گا کہ گھر کے اندر کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے اس عزیز مہمان کو نفرت ہو۔
علاوہ ازین اس قسم کی روحانیّت حاصل کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ “تمہیں رسول کی چال سیکھنی اچھی تھی۔ جوکوئی اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔” (۳۳: ۲۱)۔
یعنی جس طرح رسولؐ روحانیّت میں تمہارے آگے چلتا تھا، تمہیں بھی اس کے پیچھے چلنا سیکھنا اچھا تھا۔ اور یہ اس شخص کے لئے ہے جو اللہ اور روحانیّت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہو۔
یوم الآخر کا ترجمہ روحانیّت سے کیا گیا ہے۔ کیونکہ روحانیّت ہی میں یوم الآخر موجود ہے۔ اس آیت میں بھی روحانیّت حاصل کرنے کی امکانیّت اور اس کے شرائط ہیں۔
فرعِ چہارم امام:
فروعِ جسمانی میں سب سے اوّل امام ہے۔ امام کے چھوٹے اور
۴۹
بڑے بہت سے مراتب ہیں، جن کا مفصّل بیان اسی کتاب کے ایک علیحدہ باب میں کیا جائے گا۔ امام کے معنی پیشوا، سردار، ہر چیز کی اصل اور دینی امور میں آگے رہنے والا وغیرہ ہیں۔ اگرچہ عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق اور اساس کو دین کے درخت کی جڑوں کی حیثیت سے اور امام کو اس درخت کی شاخ کی حیثیت سے مانتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی قابلِ تسلیم ہے کہ پھل صرف درخت کی شاخوں سے حاصل ہوسکتا ہے۔ شاخ کی وابستگی تو تنا اور جڑوں سے ضرور ہے مگر میوہ شاخ میں لگتا ہے، یعنی درخت کے اتحادی عمل کا نتیجہ اور اس کی قدر وقیمت کا اندازہ درخت کی شاخ پر نمایان ہوتا ہے۔ اسی طرح امامِ زمان ہے، جس کے علمِ تاویل سے عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق اور اساس کی شرافت و عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ نیز جس طرح درخت کے پھل لانے کا عمل اُس کی شاخ میں ظہور ہوتا ہے۔ اسی طرح چار اصول یعنی عقل کلّ، نفس کلّ، ناطق اور اساس کے روحانی عمل بھی امامِ زمان ہی سے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ کیونکہ امامِ زمان ہمیشہ دنیا میں موجود اور حاضر ہے۔ اور ہر زمانہ میں امامِ زمان روحانی و جسمانی طریقے پر دنیا والوں کو علیٰ حسب المراتب فیض بخشتا ہے۔ روحانی فروع یعنی جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل سے بلاواسطہ فیض حاصل کرنا دشوار ہے۔ اس لئے امامِ زمان کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔ تاکہ اس واسطہ سے روحانیّت آسانی سے حاصل ہوسکے۔ جس میں پہلے علمِ حدود پھر علمِ توحید کا دروازہ کھلنا ممکن ہے۔
۵۰
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاهِدُوْا فِيْ سَبِيْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۰۵: ۳۵)۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک وسیلہ ڈھونڈو، اور جدوجہد کرو اس کی راہ میں ، تاکہ تم رستگار ہوجاؤ۔
شکل تمثیلیٔ اصول و فروعِ دین بخطوطِ وحدانی
برائے تفہیم یکیٔ ہمگیٔ حدود اندرامرِکل ونسبتہائے ہمجنسی و ترکیبی و مقابلتیٔ ہریک:
۵۱
دربیانِ نعمتِ ظاہری و باطنی قولہٗ تعالیٰ:
اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّبَاطِنَةً ۭ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ (۳۱: ۲۰)۔
ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے کام پر لگائے تمہارے، جو کچھ ہیں آسمان و زمین میں۔ اور بھردی تم کو اپنی نعمتیں کھلی اور چھپی۔ اور بعض آدمی ایسے ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کے بارے میں۔ نہ سمجھ رکھیں نہ سوجھ۔ نہ کتاب چمکتی۔
شکلِ تمثیلیٔ عالمِ عُلوی، عالمِ سفلی، و عالمِ دین برائے تفہیمِ فیض رسانی
اصول و فروعِ دینِ ہر سہ عالم مانندِ درختِ چہار بیخ و شش شاخ:
۵۲
قولہٗ تعالیٰ:
وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيْنَ ۙوَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ (۱۵: ۱۶ تا ۱۷) ۔
ترجمہ: اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج اور رونق دی اس کو دیکھنے والوں کے لئے اور بچا رکھا اس کو ہر شیطانِ رجیم سے۔
۵۳
فرعِ پنجم حجّت:
حجّت دلیل کو کہتے ہیں۔ یعنی مناظرے یا بحث میں حقانیت پر کسی چیز کو نفی یا اثبات کرنے کے لئے جو معقول بات ہو اسے حجّت کہتے ہیں۔
فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ (۰۶: ۱۴۹)۔
یعنی پکی دلیل اللہ کی ہے۔
حجّت کو حجّت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ نفی اور اثبات کی دلیلیں کلّی طور پر جانتا ہے اور کبھی بھی کسی مناظرے میں عاجز نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ علمِ تاویل جانتا ہے۔ حجّت کے دوسرے معنی علمی جنگ، یعنی بحث ہے۔ اور تیسرے معنی وہ شخص جو کسی کی طرف سے جواب دہی کی ذمّہ داری رکھتا ہو۔ چنانچہ قرآنِ شریف کی یہ آیت:
لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (۴۲: ۱۵) کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی قوۡلی جھگڑا نہیں۔ دوسرے معنی میں آئی ہے:
رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا (۰۴: ۱۶۵)۔
ترجمہ: بہت سے پیغمبر خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے، تاکہ لوگوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر پیغمبروں کے بھیجے جانے کے بعد کوئی جواب دہی کی ذمّہ داری نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔
۵۴
یعنی ہر زمانے میں یہی عمل جاری رکھتا ہے۔ اس آیت میں حجّت کے تیسرے معنی مراد ہیں۔ مذکورہ بالا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن کسی کی یہ شکایت نہیں ہوگی کہ ہمارے زمانے میں کوئی رسول یا ہادی نہیں تھا جو زمانے کے مطابق ہمیں راستہ دکھاتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ظاہر کیا ہے کہ دین اور دنیا میں اسے جو کچھ ذرائع اور اسباب پیدا کرنا تھا وہ لوگوں کے لئے مہیا کرکے رکھا ہے، یعنی اس کی طرف سے لوگوں پر حجّت ہے، یعنی امام زمانہ دنیا میں ہمیشہ اس لئے ہے کہ فردائے قیامت خداتعالیٰ پر لوگوں کی حجّت نہ ہو۔ پس معلوم ہوا کہ خدا و رسول کی طرف سے حجّت لوگوں کے لئے امامِ زمان ہے اور یہ امام کے اختیار میں ہے کہ وہ بذاتِ خود دینی نظام چلائے۔ یا حجتّوں اور داعیوں کے واسطے سے چلائے۔ یہاں صرف حجّت کا ذکر ہے۔ حجّت امام کے بعد کے درجے ہیں، جس میں کل ۲۸ حجّت ہوتے ہیں، وہ اس طرح کہ دنیا کے بارہ حصّے گنے گئے ہیں۔ ہر حصّے کو جزیرہ کہا جاتا ہے۔ ہر جزیرے میں دو حجّت ہوتے ہیں۔ جن میں سے ایک کو حجّتِ روزاور دوسرے کو حجّتِ شب کہا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ امامِ زمانؑ کے حضور میں چار حجّت ہوتے ہیں۔ وہ بھی دو حجّتِ روز اور دو حجّتِ شب ہوتے ہیں۔ ان چاروں میں سے جو سب سے بڑا ہو اسے حجّتِ اعظم یا باب کہا جاتا ہے۔ جو کہ امامِ زمانؑ کا وہ فرزند ہوتا ہے۔جوامامِ روزگار کے بعد امام بننے والا ہو۔ باب دروازے کو کہتے ہیں۔
۵۵
رسولِ خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا
یعنی میں علمِ توحید کا شہر ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہیں۔
حضرت مولانا علی حضرت محمد صلعم کا حجّت اعظم یعنی باب تھا۔ اس لئے کہ دورِ ناطق کا حجّتِ اعظم امام خود ہی ہوتا ہے۔
واضح ہو کہ ۲۸ حجّت کو عالمِ دین کے اٹھائیس منازل اور بارہ حجّت کو بارہ بروج کہا جاتا ہے۔ بارہ حجّت اس طرح ہوتے ہیں، کہ دنیا کے صرف بارہ جزیرے یعنی حصّے ہیں۔ اگر بارہ جزیروں میں سے ایک ایک حجّت گنا جائے تو کل بارہ ہوئے۔ اور یہ بارہ حجّت عالمِ دین کے بارہ برج ہیں۔
حجّت کی روحانی اور علمی قابلیت کا اندازہ معلوم کرنے کے لئے اتنا کہنا کافی ہوگا کہ سلمان الفارسی، شمس تبریز، حکیم ناصر خسرو، پیر صدرالدّین، پیر حسن کبیرالدّین وغیرہ جیسے بہت سے باکرامت پیر اور بزرگ اپنے اپنے زمانے کے حجّت تھے۔ اور باقی حجّت بھی علم و کرامت اور بزرگی میں بالکل اسی طرح تھے، جس طرح یہ تھے۔ لیکن یہ دوسری بات ہے کہ اگر وقت کی ضرورت کے مطابق بعض حجّتوں نے اپنے علم و کرامت کوظاہر کیا ہو، اور بعضوں نے مصلحتاً پوشیدہ رکھا ہو۔ کسی بزرگ کی اس بیت سے بھی حجتوں کی روحانیّت ملاحظہ ہو: بیت
ازدلِ حجّت بحضرت رہ بُوَد او بتائیدِ دلش آگہ بُوَد
۵۶
یعنی حجّت کے دل سے امامِ زمان تلک روحانی صاف راستہ ہوتا ہے۔ اور امامِ زمان اپنے حجّت کے دل میں روحانی بات پہنچانے سے ایک پل بھی غافل نہیں رہتا۔
حجّت روحانی عروج کی وہ حد ہے جہاں حقائق الاشیاء کے جملہ علوم و معارف موجود ہیں۔ یہ وہ بلند مقام ہے جس پر سے چڑھنے والے کو کون و مکان کی حقیقت چشمِ باطن سے بخوبی دکھائی دیتی ہے۔ معرفتِ نفسِ انسانی جو دراصل وہی پروردگار کی معرفت ہے، بدرجۂ کمال حجّت کی حد میں حاصل ہوسکتی ہے۔ کتب سماوی اور مختلف شرائع کی تاویل بھی پوری امکانیّت کے ساتھ حجّت کو میسرہوسکتی ہے۔ حجّت اور فتح یعنی میکائیل ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں۔
فرعِ ششم داعی:
داعی بلانے والے یعنی سچے دین کی طرف دعوت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا (۳۳: ۴۶)۔
یعنی: اے محمد ( صلعم) ہم نے تجھے اللہ کی طرف اس کے اذن سے بلانے والے اور اجالے چراغ کی حیثیت میں بھیجا ہے۔
اس آیت میں آنحضرتؐ کو داعی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ خود بھی دعوت کرتے تھے اور اپنی نگرانی میں بھی دعوت کراتے تھے۔ لیکن آنحضرتؐ
۵۷
کی طرف سے دعوت کرنے والے تو ضرور موجود تھے۔ کیونکہ رسول اللہؐ کا خاص کام نبوّت ہے۔ اور دعوت نبوّت کی نگرانی میں ہوتی ہے۔
پس معلوم ہو کہ اسماعیلی مذہب کے اعتقاد کے مطابق حجّت کے بعد داعی ہے۔ ان کی تعداد ہر جزیرے میں تیس اور بارہ جزیروں میں کل تین سو ساٹھ ہے۔ جو متوسط سال کے دنوں کے برابر ہوتی ہے۔
علم و فضل کے لحاظ سے داعیوں کے بھی مراتب ہوتے ہیں ۔اور عام طور پرداعی دوقسم کے ہوتے ہیں، داعیٔ مطلق اور داعیٔ محدود، یا مکفوف۔ ان دونوں داعیوں میں جو فرق ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ داعیٔ مطلق روحانی لحاظ سے اپنے سے اوپر کے درجوں میں مل جاتا ہے۔ لیکن ظاہری کام ایک داعی کی طرح کرتا ہے۔داعیٔ محدود یا داعیٔ مکفوف ظاہراً و باطناً صرف حدِّ دعوت کے لائق ہوتا ہے۔ ان تمام داعیوں کو اپنے اپنے جزیروں کے حجّتوں سے علم و معرفت روحانی اور جسمانی دونوں طریقوں سے ہر وقت ملتی رہتی ہے۔ داعی اور خیال ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں ۔
قولہٗ تعالیٰ:
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ (۰۹: ۳۶)۔
ترجمہ: مہینوں کی گنتی اللہ کے پاس بارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ، جس دن پیدا کئے آسمان و زمین۔ ان میں چار امن کے ہیں۔
۵۸
یہی ہے دینِ قیّم۔
دربیانِ مراتب حدودِ دین
۱ مستجیب محرم
۲ ماذونِ محدود صفر
۳ ماذونِ مطلق ربیع الاوّل
۴ داعیٔ محدود ربیع الثانی
۵ داعیٔ مطلق جمادی الثانی
۶ حجّت جمادی الثانی
۷ باب رجب
۸ امام شعبان
۹ اساس رمضان
۱۰ ناطق شوّال
۱۰۰ نفسِ کُل ذیقعد
۱۰۰۰ عقلِ کُل ذوالحجّہ
حدودِ دین مستجیب سے شروع ہوتے ہیں۔ مستجیب دینی دعوت کو قبول کرنے والے مرید کا نام ہے۔ یعنی یہ اس مرید کی حد ہے جو محض
۵۹
فیض لینے والا ہو، خود سیکھتا ہو۔ جس طرح قرآنِ مجید میں ذکر ہے:
اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ (۰۶: ۳۶)۔
یعنی صرف وہی لوگ مانتے ہیں جو سنتے ہیں اورمردوں کو اللہ بعث دے گا۔ پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
مستجیب میں دعوت کرنے کی قابلیّت پیدا ہونے پر اسے دعوت کرنے کے لئے اذن ملتا ہے۔ اور وہ اس وقت ماذون کہلاتا ہے، دونوں قسم کی ماذونی کے فرائض کی انجام دہی کے بعد وہ داعیٔ مکفوف پھر داعیٔ مطلق پھر حجتِ جزیرہ کے مرتبے تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی زندگی میں مومن کی روحانی عروج کی آخری حد صرف درجۂ حجّتی ہے۔
دربیانِ ایّامِ عالمِ دین
جس طرح دنیاوی ہفتے میں سات دن ہوتے ہیں، اسی طرح دینی ہفتے کے بھی سات دن ہیں۔ کیونکہ عالمِ ظاہر اور عالمِ دین بالکل ایک دوسرے کی مانند ہیں۔ مگر فرق اتنا ضرور ہے کہ عالمِ ظاہر عالمِ دین کے مقابلے میں مردے کی طرح ہے اور عالمِ دین عالمِ ظاہر کے مقابلے میں زندہ کی طرح ہے۔ اس قول کی سچائی کی دلیل اس آیت سے ملے گی۔
قولہٗ تعالیٰ: وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (۲۹: ۶۴)۔
۶۰
ترجمہ: اور یقیناً آخرت کا گھر وہی ہے جو زندہ ہے۔ اگر وہ جانتے ہوں۔
اس آیت کے تخصیصِ بیان سے یہ ثابت ہوا کہ صرف آخرت ہی زندہ ہے، اور دنیا مردہ ہے۔ اس لئے کہ اگر دنیا بھی آخرت کی طرح زندہ ہوتی تو یہ نہ کہتا کہ آخرت کا گھر زندہ ہے۔ کیونکہ پہلی چیز دوسری چیز سے مخصوص اس وقت کی جاتی ہے جب دوسری چیز میں پہلی چیز کی وہ خاصیت موجود نہ ہو۔ اب بلاشبہ ثابت ہوا کہ آخرت زندہ اور دنیا مری ہوئی ہے۔ اب یہ جاننا ضروری ہے کہ آخرت کا گھر کس طرح زندہ ہے؟ اس حقیقت کو ہم اسی لفظ “حَیَوان” کی معنوی گہرائیوں سے نکال سکتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے یہ بھی یاد رکھئے کہ قرآنِ مجید اَحسن القصص ہونے کی وجہ سے مشترک معنی الفاظ سے پر ہے۔ اور یہ اس کی لاانتہا خوبیوں میں سے ایک ہے۔ یعنی لفظ مشترک المعنی وہ ہے جس کے کئی معنی ہوں۔ قرآنِ شریف چونکہ احکم الحاکمین کا کلام ہے اس لئے یہ جملہ علوم و اصطلاحات کے مطابق حکمت خیز معنی دینے والی کتاب ہے۔ اب پھر لفظ “حیوان” کی طرف توجّہ ہو۔ اس لفظ کے تین معنیٰ ہیں:
۱- زندہ
۲- حیوانِ صامت
۳- حیوانِ ناطق
اب حیوان کے ان تینوں معنوں کا استعمال اس طرح ہوگا۔ آخرت
۶۱
کا گھر زندہ ہے۔ آخرت کے گھر میں جان ہوتی ہے۔ یعنی وہ گھر چلنے پھرنے، حس و حرکت کرنے والا ہوتا ہے۔ آخرت کا گھر ایک انسان ہے۔ اس لئے وہ گھر اپنے اندر قیام کرنے والوں سے بات چیت کرتا ہے۔ اور اس میں قیام کرنے والے بھی اپنے مکان سے بات چیت کرتے ہیں۔
اس مطلب کا خلاصہ یہ ہوا کہ عالمِ دین ہی آخرت ہے۔ یعنی عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق، اساس، جدّ، فتح، خیال، امام، حجّت، داعی اور دیگر حدودِ دین عالمِ دین ہے اور دارالآخرت ہے۔اور یہی زندہ ہے، پھر واضح ہوکہ عالمِ دین کی تمام چیزیں زندہ ہیں۔ اسی طرح عالمِ دین کے ایّام ہیں، یعنی وہ زندہ ہیں۔ چنانچہ آدمؑ یک شنبہ، نوحؑ دوشنبہ، ابراہیمؑ سہ شنبہ، موسیٰؑ چہار شنبہ، عیسیٰؑ پنجشنبہ، محمدؐ آدینہ اور قائم علینا منہ السّلام یومِ شنبہ ہیں۔ ظاہری طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں عالَم کو پیدا کردیا اور ساتویں دن عرش پر قرار کیا۔ اوریہ بھی قرآنِ شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہمارے حساب کے ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ جس طرح قرآنِ شریف میں ذکر ہے:
وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (۲۲: ۴۷)۔
ترجمہ: اور تحقیق تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔
اس حساب سے وہ چھ دن چھ ہزار برس ہوئے۔ جن میں اللہ تعالیٰ نے عالم کو پیدا کیا ۔دوسری طرف یہ بھی قرآنِ شریف میں فرمایا
۶۲
ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو بطورِ ابداع پیدا کیا ہے۔
چنانچہ ارشاد ہوا کہ:
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ (۰۲: ۱۱۷)۔
یعنی آسمانوں اور زمین کو بغیر مادّے کے اور بغیر کسی دیر کے پیدا کرنے والا۔
یعنی خلق اور ابداع میں یہ فرق ہوتا ہے کہ خلق میں ایک چیز سے دوسری چیز پیدا کی جاتی ہے اور اس کے لئے کم یا زیادہ وقت لگتا ہے اور ابداع میں بغیر کسی چیز کے اور بغیر کسی دیر کے ایک چیز بنائی جاتی ہے۔
اب اگر اس کی حقیقت تلاش کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ چھ دن میں عالمِ دین کو پیدا کیا ہے اور اس جہان کو “کُنۡ” کے امر سے پیدا کیا ہے۔ جسے ابداع کہتے ہیں۔ اور وہی اللہ تعالیٰ کے چھ دن جن میں اس نے عالمِ دین بنایا ہے، انسانی حساب سے چھ ہزار برس ہوتے ہیں۔ اور وہ چھ ناطقوں کے چھ ہزار برس کا دور ہے۔ جن میں عالمِ دین ہر طرح سے مکمل ہوچکا ہے۔ ساتواں دن دورِ قائم ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے عرش پر قرار کیا ۔ یعنی قائم میں ظہور ہوا۔
۶۳
خلاصۂ مطلب
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ (۰۷: ۵۴)۔
ترجمہ: تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا، پھر تخت پر بیٹھا۔
۶۴
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ (۰۷: ۵۴)۔
ترجمہ: تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا، پھر تخت پر بیٹھا۔
۶۵
امامِ زمانؑ کی پہچان اور اس کی اطاعت کےبیان میں
ترجمہ از کلام حضرت حکیم سیّد شاہ ناصْر خسروقدس اللہ سرہٗ
اس دنیا کی تمام مخلوقات و موجودات میں سے انسان اشرف و اعلیٰ اس لئے ہوا کہ اسے دوسرے جانوروں کو مستثنےٰ رکھتے ہوئے عقل جیسی شریف چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہوئی، یہ محض وہ عقل تھی جو نشوونما کی ابتدائی منزل سے ہمیشہ پروشِ علمی کی محتاج ہوتی ہے۔ پھر یہ کس طرح ممکن تھا کہ حکمت اور جود والا خدا اس پیاری چیز یعنی عقل کو بغیر پرورش کے چھوڑ دیتا، بلکہ ازروئے قانونِ عقل یہ لازم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ایک خاص الخاص لوگوں کی طرف بھیجے تاکہ وہ ان کی عقول کی پرورش اپنے علم سے کرے، کیونکہ کسی حاجت مند کو پیدا کرنا اور اس کی حاجت روائی کرنے والے کو پیدا نہ کرنا محض بخالت ہوتی ہے۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ بخالت سے دور ہے۔ اگر ہم اس کائناتی کتاب سے اس حقیقت کی مزید تلاش کریں تو ہمیں ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب حیوانوں کو گھاس پات کھانے والی روح دی گئی تھی تو اس کے ساتھ ساتھ آسمانوں، ستاروں اور عناصرِ اربعہ کو بھی ان کے لئے گھاس اگانے پر مقرر کئے گئے تھے، کیونکہ اس قسم کی نباتاتی اشیاء میں جانوروں کی جسمانی پرورش ہے۔ پھر اس خدائی قانون سے یہ ثابت ہوا کہ لوگوں میں ایک ایسا
۶۶
پالنہار ضرور ہوگا جو کہ ہر وقت انسانوں کی عقول کو اس علم سے پالتا رہے جس علم کے لئے انہیں ضرورت ہوتی رہتی ہے۔
یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ جس طرح یہ ابتدائی عقل بلا شرکت تمام حیوانات کے صرف انسان کو ملی ہے بلکہ یہ تمام حیوانات سے مستشنیٰ اسے ایک عطائے الہیٰ ہے، تو اسی طرح خدائی عادت سے یہ لازم ہوتا ہے کہ جس قسم کے علم کے لئے انسانوں کی ابتدائی عقول محتاج ہوں وہ علم صرف ایک شخص کے پاس عطائی (تلاش کے بغیر) ہو اور اکتسابی یعنی کمایا ہوا نہ ہو کیونکہ اگر وہ علم اکتسابی ہوتا تو ہر شخص اپنی کوششوں سے اس علم کو حاصل کرسکتا، پھر اِس صورت میں اللہ کی طرف سے کسی پیغمبر یا ہادی کے آنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
جب تمام حیوانوں سے صرف انسان ہی اس ابتدائی عقل کی عطا کے لئے مخصوص ہوا، باوجود یکہ وہ حیوان کی ایک نوع ( قِسم) تھا، پھر یہ لازمی ہے کہ تمام انسانوں میں سے بھی صرف ایک ہی شخص کے بغیر اور کسی کو عقل پروری عطا نہیں ہوئی ہو، تاکہ کائنات سے مثال جوئی کے طریقے پر یہ ترتیب دلیلاً ٹھیک ہوسکے۔ کیونکہ نوع یعنی چھوٹی قسم جنس یعنی بڑی قِسم کے نیچے ہوتی ہے۔ اور شخص یعنی اس سے بھی چھوٹی قسم کے نوع کے نیچے ہوتی ہے۔ مثلاً حیوان اجناس میں سے ایک جنس ہے حیوانِ ناطق اور حیوانِ صامت اس کی دو نوع ہیں تمام انسان اپنی نوع یعنی حیوانِ ناطق کے افراد یا کہ اشخاص ہیں، اسی طرح تمام جانور اپنی نوع یعنی حیوانِ صامت کے افراد یعنی اشخاص ہیں۔
۶۷
جب حیوان کی جنس میں سے اس کی ایک نوع یعنی انسان فائدہ حاصل کرنے والی عطا یعنی ابتدائی عقل کے لئے مخصوص ہوا۔ تو یہ بھی لازم ہے کہ انسان کی نوع میں سے اس کے ایک شخص عطائی عقول پروری کیلئےمخصوص ہو، تاکہ یہ ترتیب از روئے دلیل درست ہوسکے اور جو شخص عطائی عقول پروری کے لئے مخصوص مِن عند اللہ ہوا ہے، پیغمبر ہے، اور جب تمام حیوانات میں سے انسان کی نوع عقل کے لئے مخصوص ہونے میں کیا تعجّب ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے:
اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰي رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ (۰۷: ۲۳)
ترجمہ: کیا تمہیں یہ تعجّب ہوا کہ نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہیں مل جائے ایک مرد پر جو وہ تم میں سے ہوتا کہ وہ تمہیں ڈرائے۔
وہی ایک شخص اپنے دَور کا پیغمبر ہوتا ہے اور اس کا وصی یہی کام اپنے عصر میں کرتا ہے اور ہر زمانے میں امامِ زمانؑ اسی طرح مخصوص ہے، جب تک دنیا قائم ہو، تو انسان کی نوع اسی ایک شخص سے جو اس مرتبے کے لئے مخصوص ہے خالی نہیں ہوگی، جس طرح حیوان کی جنس انسان کی نوع سے خالی نہیں ہے اور نہ ہوگی۔ خلقت اور کل عالم سے صانعِ حکیم کی جو غرض ہو وہ صرف وہی شخص جانتا ہے۔ پیغمبر اور اس کے وصی کی روحانی صلاحیّت کا اندازہ اسی طرح پر نہیں کہ جس طرح ایک شخص دوسرے
۶۸
شخص سے زیادہ دانا ہو، یا ایک گائے دوسری گائیوں کی نسبت زیادہ موٹی ہو، کیونکہ وہ صرف اس فرق کے بل بوتے پر ایک مرد کی طرح دوسری گائیوں کو درندوں سے نہیں بچاسکتی ہے، اور نہ وہ انہیں مقررہ وقت پر چَرا کر واپس لاسکتی ہے۔ پھر یہ ثابت ہوا کہ ہمیشہ دنیا اُسی ایک شخص سے خالی نہیں رہتی جس کے بغیر انسان کو کوئی چارہ نہیں ہوسکتا، اور وہی اکیلا شخص خلق کی اصلاح کو بچا سکتا ہے، جس طرح انسان کی نوع مویشیوں کی اصلاح بچا سکتی ہے۔ اس قول کی سچائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس حدیث سے ملے گی۔
اُمِرْتُ لِصَلَاِح دُنْیَا کُمْ وَنَجَاتِ اٰخِرَتِکُمْ
کہ مجھے تمہاری دنیوی بہتری اور اخروی آزادی کے لئے فرمایا گیا ہے۔ اگر یہی ایک شخص دنیا سے چلا جائے تو لوگوں کے درمیان سے صلاح بھی چلی جائے گی۔ فی المثل اگر تمام حیوانات میں سے انسان کی نوع وہمی طور پر اٹھائی جائے تو تمام جانور بھی نہ رہیں گے۔ اور وہ تمام جانور جن کی اصلاح انسان سے وابستہ ہے درندوں کی زَد سے مر کر ختم ہو جائیں گے۔
اسی طرح دنیا میں ہمیشہ امامِ زمان کی موجودگی اور اس کی شناخت و اطاعت کی اہمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اس حدیث سے بغور ملاحظہ ہو:
مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زمَانِہٖ مَاتَ مینۃ
۶۹
جَاھِلِیَّۃٍ وَالْجَاھِلُ فِی النَّارِ
ترجمہ: جو شخص مرجائے اور اس نے اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانا ہو تو وہ نادانی کی موت مرتا ہے۔ اور نادان آتشِ دوزخ میں ہے۔
اس حدیثِ شریف کی گہری حقیقت پر تبصرہ کرنے کیلئے حدیث کے دوسرے معنوی پہلو کو بھی بذریعۂ الفاظِ اضداد دکھائی گئی ہے۔ تامل سے ملاحظہ ہو:
۷۰
۱- تمام انسانوں میں سے۔
۲- موت جسمانی امام شناسی و نا شناسی کی حدِّ زمانی ہے۔
۳- دنیاوی زندگی کا مقصد امامِ زمان کی معرفت ہے۔
۴- وہ امام جس کی پہچان خدا کی پہچان ہو۔
۵- صرف اپنے زمانے کا امام جو حاضر ہو۔
۶- موت و حیات دو قسم کی ہے، روحانی اور جسمانی۔
۷- رُوح سے زندہ ہوچکا تھا، مگر جسم خارج تھا۔
۸- روحانی زندگی کے لئے عقل صرف امام سے حاصل ہوتی ہے۔
۹- عاقل کا سبب عقل، عقل کا سبب معرفتِ امامِ زمان۔
۱۰- بہشت ملنے کا سبب عاقل ہونا۔
مذکورہ حدیث کا فلسفہ:
اگر عقل سے پوچھا جائے کہ انسان کو کس لئے پیدا کیا گیا ہے؟ بتائے گی کہ خدا کی عبادت کے لئے! پھر عبادت کے لغوی معنی پوچھنے پر بتائے گی کہ لفظ عبادت عبد (غلام، نوکر) سے مشتق ہے، اس لئے عبادت کے معنی غلامی اور نوکری ہے، اگر اس لفظ کو فارسی میں لیا جائے تو پھر بھی یہی مطلب نکلتا ہے، مثلاً عبد بمعنی بندہ یعنی غلام، اور عبادت کے معنی بندگی یعنی غلامی یا نوکری ہے۔ لفظ عبادت کے اصلی معنی ظاہر کرنے کے لئے اتنا کہنا کافی ہوگا کہ یہ لفظ قرآنِ شریف
۷۱
میں تسبیح و تقدیس، تحمید، تمجید، نماز، سجود، رکوع، دعا، ثناء، اور ذکر کے معنوں سے بالکل جُدا ہے، لیکن یہ دوسری بات ہے کہ اگر ہم انسانوں نے اپنی عام اصطلاح میں باری سبحانہٗ کی صفاتِ جلالی و جمالی بیان کرنے کا نام عبادت رکھا ہو، مگر احکم الحاکمین انسان کی غلط اصطلاحوں کی تقلید کرنے سے بہت برتر ہے، بلکہ خدائے پاک نے اپنی حکمتِ بالغہ سے ضروری الفاظ کی حفاظت ان کی اصل میں کی ہے، یعنی ہر لفظ کا اصلی مصدربطریقِ احسن ظاہر کیا ہے، تاکہ کوئی گروہ اپنی اصطلاح سے قرآنِ مجید کے معنی نہ بدل سکے، اور تلاشِ حکمت کے لئے خود قرآنِ مجید ہی اپنے الفاظ کی حقیقی لغات اور خود تفسیر و تفصیل بن سکے، چنانچہ لفظِ “عبادت” کی اصل یعنی مصدر عبد ہے اور اس کی ایک حفاظت گاہ اس آیت میں ہے کہ:
وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكُمْ (۰۲: ۲۲۱)۔
یعنی ایک مومن غلام ایک مشرک سے بہتر ہے۔ اگرچہ تمہیں خوش آویں۔
پھر اس دلیل کی بناء پر یہ کہنا درست ہوگا کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ عبادت کو اپنے لئے منسوب کریں تو اس عبادت سے ایک ایسا عمل مقصود ہے جو کہ اس کے حکم کے مطابق ہو۔ اس قسم کے عمل قبول کرنے کے بعد عمل کے معنی علم بھی آئے گا، کیونکہ پہلے عمل پھر علم ہے، جس طرح پہلے جسم بنتا ہے، پھر روح۔ عمل جسم کی مانند ہے اور علم روح کی مانند ہے، اس لئے فرمایا: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا
۷۲
لِيَعْبُدُوْنِ (۵۱: ۵۶)۔
ترجمہ: “اور میں نے جنّ اور انس کو پیدا نہیں کیا مگر اپنی عبادت کیلئے۔”
بھلا یہ سوچئے کہ! عبادت جس کا مطلب ہے عمل کرنا، اللہ تعالیٰ کا، جو غنیٔ مطلق ہے، کیا واسطہ ہے؟ بلکہ اس کی حقیقت اسی طرح ہے کہ عبادت یعنی عمل کرنا نفس کلّ کے لئے ہے، کیونکہ نفسِ کُلّ نے جو کہ خدائے تعالیٰ کا ایک عظیم فرشتہ ہے، دنیا اور مخلوقات کو پیدا کیا ہے، اس لئے کہ عمل اس کے لئے ضرورت ہے، اور نفسِ کُلّ کا مظہر امامِ زمان ہے۔ لہٰذا امامِ زمان کی غلامی یعنی بندگی ہی نفسِ کُلّ کی اصلی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ آیت میں انسان کی دنیاوی زندگی کا سبب بتایا گیا ہے، جوکہ وہ سبب صرف عبادت ہے۔ اور مذکورہ حدیث میں انسان کی اخروی زندگی کا سبب بیان کیا گیا ہے، جو کہ صرف معرفت ہے، یعنی خدا نے جس چیز کے آغاز کا ذکر کیا تھا رسول اللہ نے اسی چیز کے انجام کا ذکر کیا ہے، ورنہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول میں اختلاف ہرگز نہیں پایا جاتا ہے، بلکہ آیت اور حدیث میں ایک ہی چیز کی اہمیت ظاہر کی گئی ہے، نیز یہی کہنا حقیقت ہے کہ جس شخص کو عبادت کی وجہ سے جسمانی زندگی ملی ہواسی شخص کو معرفت کی وجہ سے روحانی زندگی ملے گی۔
حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر زمین امامِ زمان سے ایک گھنٹہ کے لئے خالی رہ جائے تو وہ
۷۳
اپنے اوپر بسانے والوں کے ساتھ نیست ہوجائے گی۔
حدیث: وَلَوْ خَلَتِ الْاَرْضُ مِنْ اِمَامِ اْلوَقْتِ سَاعَۃً لَمَادَتْ بِاْھْلِھَا
پھر جب زمین ہمیشہ سے اپنے اوپر مخلوقات کو اٹھائے ہوئے فضا میں معلق ٹھہری ہوئی ہے اور ٹھہرے گی تو کوئی ایسا وقت لازم نہیں ہوتا جس میں امامِ زمانؑ ظاہراً و باطناً لوگوں کو فیض پہنچانے کے لئے موجود نہ ہو۔
کیونکہ اس حدیث کے کُھلے مفہوم کے مطابق زمین کا ٹھہراؤ اور ذی حیات کی زندگی کا دار و مدار امامِ زمانؑ کی موجودیّت پر ہے۔ یہ مسئلہ بہت گہری حقیقت رکھتا ہے کہ زمین اور اس کے اہالیان کی ہستی اور نیستی امامِ زمان سے کیوں وابستہ ہے؟
اصلیت ڈھونڈنے والوں کو یہ جاننا ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ بذاتِ خود فاعل نہیں بلکہ وہ بادشاہِ مطلق ہے، اس لئے اس کا فعل حدودِ علوی وسفلی کی نسبت سے ہے، لہٰذا رسولِ پاکؐ اور امامِ زمانؑ کا فعل ہی خدا کا فعل ہے، ان کی اطاعت خدا کی اطاعت اور ان کی محبّت خدا کی محبّت ہے، قولہٗ تعالیٰ:
مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ …..(۰۴: ۸۰)۔
یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ پھر جس نے رسول کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔
۷۴
اسی طرح سورۂ فتح کی دسویں آیت میں یہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ کا ہاتھ خدا کا ہاتھ تھا اور رسولؐ کی بیعت خداکی بیعت تھی۔ خلاصۂ سُخن یہ ہے کہ رسولؐ کی گفتار اور کردار خدا کے حکم سے ہونے کی وجہ سے خدا کی طرف منسُوب تھا، بحکم:
وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى (۰۸: ۱۷)۔
یعنی “تونے جس وقت کافروں کی طرف کنکر پھینکا، وہ پھینکنا تیرا نہیں تھا بلکہ اللہ نے پھینکا۔”
یعنی پہلے جملہ میں کہتا ہے کہ جس وقت تُو نے پھینکا، پھر کہتا ہے تُو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔ جب ظاہری فعل رسولؐ نے خدا کے حکم سے کیا تو خدا کا کرنا ہوا، یعنی کہ نسبت خدا کی ہوئی اور کرنے والے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تھے۔
اسی طرح مولانا مرتضیٰ علیؑ رسُول اللہؐ کے جانشین تھے، اوران کی اطاعت رسول اللہؐ کی اطاعت تھی، چونکہ وہ رسول اللہؐ کے وصی تھے، اور ہر زمانے میں امامِ زمان حاضر اس لئے ہے کہ اس کے ذریعے سے خدا اور رسولؐ کی اطاعت مومنوں سے قبول ہوسکے۔ چنانچہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر زمانے کے لوگوں کو ان کے زمانے کے امام کی زبان اور اس کی آواز سے اپنے پاس بلائے گا اور امامِ زمان کی شکل و صورت میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، جنہوں نے دنیا میں دیدۂ حقیقت سے نہیں دیکھا ہو، وہ وہاں بھی نہیں دیکھ
۷۵
سکیں گے، قولہٗ تعالیٰ:
يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ (۱۷: ۷۱) ۔
ترجمہ: “جس دن سارے لوگوں کو ان کے امام سے بلائیں گے۔”
“كُلَّ اُنَاسٍ” ناس کی جمع الجمع ہے اور اس سے مُراد اوّلین و آخرین یعنی کُل زمانوں کے انسان ہیں۔ جب ہر زمانہ والوں کو اُن کے امام سے بلانا ہے تو کوئی زمانہ ایسا نہیں جس میں امام نہ ہو، کیونکہ اللہ نے لوگوں کو قیامت کے لئے بلانے کا قانون ظاہر کیا کہ وہ صرف ان کے امام کے ذریعہ سے بلائے گا، جب اللہ کا بلانا امام کے ذریعہ سے ہے تو کلام بھی امامِ زمانؑ کی زبان سے ہوگا اور آواز بھی امامؑ کی ہوگی، پھر بالضرورت شکل و صورت بھی نورانیت میں امام کی ہوگی، کیونکہ بعضوں کا خیال ہے کہ اللہ پاک بذاتِ خود مشخص و مشکل نہیں ہے اور وہ بذاتِ یکتائی خود فعل و صفت و صورت و مادّہ اور سب چیزوں سے منزّہ و پاک ہے، لیکن قرآنِ شریف کی بہت سی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے دیدار پر یقین نہ رکھنے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔ بہرحال امامِ زمانؑ کا نورانی دیدار بتدریج لوگوں کو بھی دکھایا جائے گا۔
واضح ہوکہ اس آیت میں حرف “باء” لفظِ امام کے شروع میں آیا ہے، اسے عربی قواعد میں “بائے استعانت” کہتے ہیں، اس کے ہم معنی حرف “وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ” (۱۶: ۱۶) کا باء ہے، یعنی وہ ستاروں سے راہ پاتے ہیں، یا کہ ستاروں کے ذریعے سے راہ پاتے ہیں۔ اسی طرح ’’وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ (۱۵: ۷۹) اور وہ دونوں یعنی عقلِ کُلّ و
۷۶
نفسِ کُلّ ظاہر امام کے ذریعے سے ہیں، کیونکہ کسی عام انسان کی عقل و جان کو عقلِ جزوی و نفسِ جزوی کہتے ہیں اور زمانے کا انسانِ کامل پیغمبر یا امام کی عقل و جان کو عقلِ کُلّی و نفسِ کُلّی کہتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح امام کی یا پیغمبر کی شخصیت تمام شخصیتوں سے اشرف و اقدس ہوتی ہے، اسی طرح ان کی روح اپنی کُلّ قوّتوں سے آراستہ ہوتی ہے، اسی طرح ان کی کُلّی عقل جو ازل سے موجود تھی انہیں مستفیض کرتی ہے۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے میرا نُور پیدا کیا، یعنی عقلِ کل۔ پھر آنحضرتؐ اپنے اس نُور سے رسالت ملنے کے بعد سے مستفیض ہونے لگے، اگرچہ اس سے پہلے بھی تمام لوگوں میں سے اشرف تھے، پھر کس قدر ضروری ہے کہ پیغمبر اور امامِ زمانؑ کی نورانی شناخت ان لوگوں کے لئے جو ان کی پیروی کرتے ہیں۔
تفسیر وجُہ اللہ
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جِس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے اللہ کو دیکھا۔ اس حدیث میں مَنْ رَأنِیْ فَقَدْ رَاَللّٰہَ۔ اب ذرا غور و فکر سے کام لینے کی ضرورت ہے کہ اس حدیث کی تہہ میں کِس قسم کی حکمت پوشیدہ ہے،
۷۷
اور اس حکمت تک ہماری عقل کی رسائی کس طرح ہوسکتی ہے۔ اگر سچ پوچھنا ہے تو انسان از خود کچھ بھی نہیں ، جَب تک خداوندِ تاویل مدد نہ فرمائے، اس لئے خازنِ حقائق سے توفیق مانگتے ہیں۔ اس پُرحکمتِ حدیث کے غیر معمولی وسیع معنی سے بمثالِ قطرہ ازدریائے فراوان یوں بیان کی جاتی ہے کہ دیکھنا یعنی دیدار تین قسم کا ہوتا ہے مثال کے طور پر دائیں آنکھ سے دیکھنا، بائیں آنکھ سے دیکھنا اور دونوں آنکھوں سے دیکھنا۔ اگر آپ سے یہ پوچھا جائے کہ دیکھنے کے ان تینوں طریقوں میں سے کون سا طریقہ بہترین ہے؟ تو بلاتامّل آپ بتاسکیں گے کہ دونوں آنکھوں سے کسی چیز کو دیکھنا بہترین طریقہ ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے، اس کا ممثول یہ ہے کہ دائیں آنکھ کہتے ہیں دیدارِ جسمانی کو، بائیں آنکھ کہتے ہیں دیدارِ روحانی کو، اور دونوں آنکھوں سے مُراد جسمانی و روحانی ہے، جِس نے رسُول اللہؐ کو صرف جسمانیّت میں دیکھا اس نے حقیقت میں اپنی بائیں آنکھ بند کرلی اور جس نے رسول اللہؐ کوصرف روحانیّت میں دیکھا تو اس نے اپنی دائیں آنکھ بند کرلی، جس نے جسمانیّت اور روحانیّت دونوں حالتوں میں اپنے رسول پاکؐ کی شناخت حاصل کرلی اس کی دونوں آنکھیں کُھلی رہیں۔
اب یہ بتا دوں گا کہ ہر حالت میں دیدار کے دو بڑے مقصد ہیں، یعنی جمال اورشناخت۔ نورانیّت اور جسمانیّت میں جمال و شناخت
۷۸
کے نتیجوں سے کشش ہوسکتی ہے، اور یہ سب کچھ چہرے سے ہوسکتا ہے، از انکہ جملہ صفاتِ بشریّت کا متحمّل چہرہ اور سر کے سوا اور کوئی عضو نہیں ہے، پھر رسولِ پاکؐ نے اس حدیث کی حکمت میں داناؤں کو یہ ضرور کہا ہوگا کہ مجھے ظاہر و باطن میں دیکھو، میں خدا کا چہرہ ہوں، اس لئے میرا دیدار خدا کا دیدار ہے، میرا جمال بھی جمالِ الٰہی ہے، میری شناخت خدائے برتر کی شناخت ہے، جس نے مجھے دیکھا اور نہیں پہچانا وہ بہت خسارے میں رہا، کیونکہ نبیٔ رحمت کا یہ کہنا کہ “جِس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے اللہ کو دیکھا۔” بہت معنی رکھنے کے علاوہ دیدار کی ترغیب دیتا ہے۔ نیز اس حدیث کی عمقیّت سے زمانے کے پیغمبر اور امام کی شناخت اور ان کی فرمانبرداری و محبّت کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، اور آخر میں یہ خلاصہ نکلتا ہے کہ رسول اللہؐ اپنے زمانے میں خدا کا چہرہ تھے۔ جب وہ خدا کا چہرہ تھے تو ضرور وہ خدا کی زبان، آنکھیں، کان وغیرہ سب کچھ تھے۔ مومنوں کے لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ نبیٔ رحمت اپنے زمانے میں خدا کا چہرہ اور خدا کا دیدار تھے، اسی طرح مولانا علیؑ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا کہ “اَنَا وَجْہُ اللّٰہِ” (میں اللہ کاچہرہ ہوں)۔
ہمیں یقین ہے کہ وہی اللہ کا ایک چہرہ ہے اور ہمیشہ دنیا میں موجود ہے۔ جس شخص سے خُدا کی معرفت حاصل ہوجائے وہی خدا کا چہرہ ہے۔ اور ایسا شخص جس پر خدا کی معرفت ہوسکتی ہو، اپنے
۷۹
اپنے زمانے میں پیغمبر اور امام ہیں، چونکہ خدا کا چہرہ لافانی ہے، اس لئے امامِ زمان ہمیشہ دنیا میں زندہ اور حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلامِ مجید میں فرماتا ہے:
كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ(۲۸: ۸۸)۔
ترجمہ: “ہر چیز فنا ہونے والی ہے اس کے چہرے کے سوا ، حکم اس کا ہے اور تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔”
ہر چیز کی بے بقائی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اپنے چہرے کو اس بے بقائی سے مستثنےٰ کرنے سے معلوم ہوا کہ اس کا چہرہ ایک لحاظ سے ان چیزوں کے ساتھ اور اسی عالم میں ہے جہاں دوسری بے بقاء چیزیں ہیں، کیونکہ کُلُّ شی کے بعد حرفِ اِلّاَ کا آنا اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ وجہہٗ بھی شۓ کی جنس سے ہے اور عالم اشیاء میں ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ چہرہ کے متعلق بعضوں کو فنا کا شُبہ پڑتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے چہرے کو غیر فانی بتایا ۔ چیزوں کا یہ ہلاک ہونا صرف جسمانی موت تھی، پھر حکم اور فیصلہ کے اور پھر اس کی طرف واپس جانے کے نتیجوں سے واضح ہوا کہ سب انسان مرجاتے ہیں اور ان کے فیصلہ ہونے پر معاد کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن خدا کا چہرہ جو امام ہے ہمیشہ دنیا میں زندہ اور غیر فانی ہے۔ اگرچہ ظاہراً یہ بھی ان جملہ انسانوں کی جنس میں سے ہے جو وہ بعد از انقضائے
۸۰
وقتِ معیّن فنا ہونے والے ہیں، لیکن امامِ زمانؑ خدا کا چہرہ اور اس کا نُور ہونے کی خصوصیت سے دوسرے ہم جنسوں سے جدا گانہ اپنے جسمانی لباس بدلتے ہوئے دنیا میں ہمیشہ موجود اور حاضر ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ احکم الحاکمین کی اس باحکمت آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چہرۂ خدا کی نسبت ایک وجہ سے ان تمام فنا پذیر اشیاء کے ساتھ ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اسے بھی پہلے کُلّ شیْ میں ذکر کیا۔ اور دوسری وجہ سے چہرۂ خدا کی ان سے کوئی نسبت نہیں، اس لئے پھر اللہ پاک نے اسے حرفِ استثنےٰ سے علیٰحدہ کردیا، لیکن پہلی نسبتِ عامہ اور دوسری نسبتِ خاصہ ہے، پھر دُنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی، جس میں آیتِ مذکورہ کی خصوصیات موجود ہوں۔ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ جملہ صفات کے ساتھ خدا کا چہرہ کہلانے کا حقدار ہوسکے۔
دوسری خصوصیت، جسمانی نسبت سے جسمانیوں کے نزدیک رہ سکے اور ان کو اپنے نزدیک کرسکے۔
تیسری خصوصیت، جسمانی نزدیکی کے نتیجوں پر ان کو نورانیّت اور بقاء کے نزدیک لاسکے۔ قولہٗ تعالیٰ:
يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ وَهُوَ الرَّحِيْمُ الْغَفُوْرُ (۳۴: ۰۲؛ ۵۷: ۰۴) ۔
وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْحُبُكِ (۵۱: ۰۷)۔
قولہٗ تعالیٰ: قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ
۸۱
يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَيَهْدِيْهِمْ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ(۰۵: ۱۵ تا ۱۶)۔
ترجمہ: تمہیں آیا ہے اللہ کی طرف سے نور اور بولنے والی کتاب جس سے اللہ راہ دکھاتا ہے جو کوئی پیروی کرے اس کے رضوان کی۔ تائید کے راستوں پر اور ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے روشنی کی طرف اپنے حکم سے اور ان کو چلاتا ہے سیدھی راہ پر۔
شکل وحدت اصول بفعل مستدیر خود
۸۲
امامِ زمان نُورِ خداوندی ہے
اس مقام پر سب سے پہلے نُور کی حقیقت اور اس کے اقسام کے متعلق بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہر چیز کی حقیقی حالت سے واقف ہونے میں بہت سے فائدے ہیں۔
نور یعنی روشنی اس چیز کا نام ہے جس سے موجودہ چیز کی حالت کا علم براہِ نظر معلوم ہوسکے۔ اس کے برعکس ظلمت یعنی اندھیرا وہ شۓ ہے جس سے موجودہ چیز کی حالت کا علم براہِ نظر حاصل نہ ہوسکے۔ دوسرے الفاظ میں نور وہ ہے جس سے موجودہ اشیاء کی ظاہری حالت کا عِلم نظر سے دماغ کو حاصل ہو اور ظلمت وہ ہے جس سے موجودہ اشیاء کی ظاہری حالت کا علم براہِ نظر دماغ کو حاصل نہ ہوسکے۔ اور یہ صرف نورِ طبیعی یعنی ظاہری روشنی کا ذکر ہے جس کا منبع صرف سورج ہے اور چاند تارے وغیرہ روشن چیزیں بذاتِ خود روشن نہیں بلکہ سورج سے ان کو روشنی حاصل ہوتی ہے۔ اس قسم کی روشنی کی حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ظاہری چیزوں کو دکھا سکتی ہے۔ یعنی مکدّر اور غیر شفاف چیزوں کی بیرونی سطح مثلاً زمین، پتھر، نباتات، حیوانات اور غیر شفاف چیز ملا ہوا
۸۳
پانی وغیرہ کے صرف بیرونی حصہ پر روشنی پڑتی ہے۔ اس قسم کی چیزوں کی سطح سے اندر کی طرف گزر کر سارے جسم میں پھیل نہیں سکتی۔ پھر اس صورت میں روشنی قبول نہ کرنے کی وجہ سے ان سے سایہ نمودار ہوتا ہے۔ لیکن اجرامِ فلکی، کرّۂ اثیر، ہوا، شفاف پانی، آئینہ اور بلور وغیرہ سے یہ روشنی گزر جاتی ہے۔ اسی طرح ایسی چیزوں کے جسم کا کوئی ذرّہ روشنی سے خالی نہیں ہوتا۔ پھر ان چیزوں کا سایہ نہیں پڑتا۔ اس لئے کہ روشنی ان سے رکتی نہیں بلکہ ان سے گزر جاتی ہے۔ اس نتیجے سے معلوم ہوا کہ روشنی کے مقابلے میں دو قسم کی چیزیں ہیں، یعنی ایک چیز وہ ہے جو اپنی ذات کی طرف سے روشنی آنے نہیں دیتی اور صرف یہی نہیں بلکہ اپنے پاس والی چیز کو بھی روشنی لینے نہیں دیتی، یعنی حجاب ہوتی ہے۔ دوسری چیز وہ ہے جو اپنی ذات میں بھی روشنی بھر لیتی ہے اور پاس والی چیز کو بھی روشنی لینے سے نہیں روکتی۔ اسی ذکر کے سلسلے میں یہ بھی سمجھ لینا کہ اس روشنی کا منبع یعنی سُورج ایک خاص مقرّر قانون پر اپنا فعل کرتا ہے، چنانچہ یہ ہمیشہ اس عالم کے درمیانی دائرے پر واقع ہے اور اس کی بالکل گول شکل ہے۔ سُورج عالم کے درمیان اور بشکل گول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی روشنی کسی خاص سمت کو نہیں بلکہ سارے عالم میں پھیل جائے جو کہ عالم بھی اسی طرح گول ہے۔
دوسری بات سورج کے متعلق یہ ہے کہ یہ اپنی غیر موجودگی میں
۸۴
چاند اور ستاروں کی وساطت سے ہمیں روشنی پہنچاتا ہے۔ مگر اتنی روشنی نہیں جتنی کہ وہ خود روشنی دیتا ہے۔ سُورج کی ایک اور عادت یہ بھی ہے کہ بالمقابل کی چیز بھلی ہو یا بُری ہو، اسے ضرورت ہو یا نہ ہو لیکن وہ ہر حالت میں اس چیز کو روشنی اور گرمی بخشتا رہتا ہے۔ اس عالم کے لئے سورج کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ ہم اسی طرح کرسکتے ہیں کہ سورج اس عالمی مشین کا وہ پرزہ ہے جس پر ساری مشین کے چلنے اور کام کرنے کا دارومدار ہو۔
دوسری مثال میں سورج کو اس عالم میں وہ حیثیت ہے جو حیثیت انسانی جسم میں دل کو ہوتی ہے، کیونکہ ہوا اور پانی کی حرکت دن رات، بہار، تابستان، خزان، زمستان اور سال ،اگنے اور بڑھنے والی چیزوں کی نشوونمائی، پھلوں کا پکنا، ذِی حیات کا جینا، چلنا پھرنا، کام کرنا اور تمام عالم کا نظامِ عمل کا دار و مدار سورج پر ہے۔ اور یہ اس لئے ہے کہ سورج روشنی کا منبع ہے۔
اب یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ یہی نور ہے، جس کا ذکر قرآنِ شریف میں ہے یا اس طبیعی نور سے بالاتر کوئی اور نور ہے؟ اس کے بارے میں یہ ہے کہ اسلام کے ساتھ دنیا کے بہت سے مذاہب میں بھی روحانی یعنی باطنی نور کا ذکر ہے۔ اس سے زیادہ محکم دلیل قرآنِ شریف سے ملتی ہے: قولہ تعالیٰ:
يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ
۸۵
ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ (۳۹: ۰۶)۔
ترجمہ: بناتا ہے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ تین قسم کے اندھیروں میں۔
اس آیت سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ کسی چیز کی حالت بہتر کرنے کے مسلسل عمل کا نام خلق ہے (پیدا کرنا) اب تین قِسم کے اندھیروں کے متعلق یہ ہے کہ جب ظلمت تین ہیں تو یقیناً نور بھی تین ہیں کیونکہ ہر چیز اپنی ضد پر پہچانی جاتی ہے۔
تُعْرَفُ الْاَشْیَآءُ بِاَضْدَادِھَا۔
یعنی چیزیں اپنی اضداد پر پہچانی جاتی ہیں۔
چنانچہ سیاہ اور سفید صفت میں باہم ضد ہیں تو سیاہ سے سفید کی اور سفید سے سیاہ کی ہستی اور صفت کا قیاس لگایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ظلمت اور نور ایک دوسرے کی ضِد ہیں، یعنی ان کا فعل ایک دوسرے کے مخالف ہے۔ اس مسئلہ کی تحقیق و تدقیق اس طرح ہوسکتی ہے کہ چیزوں کو دو یا تین یا اس سے اوپر کے اعداد میں اس وقت لائی جاتی ہیں جبکہ وہ چیزیں کسی بھی ایک وجہ سے ایک دوسرے سے جدا کی جا سکیں۔ مثلاً سورج کی روشنی گِنی نہیں جاتی، چنانچہ اگر کوئی شخص یوں کہے: “سورج کی دو (۲) روشنی، سورج کی تین یا چار روشنیاں وغیرہ۔” تو اس کی بات فضول ہوگی، کیونکہ سورج کی روشنی تو صرف ایک ہے اور اسے سورج سے علیٰحدہ کرکے تہ بتہ رکھی نہیں
۸۶
جاسکتی ہے، پھر ظلمت اور تاریکی کی کیفیت بھی بالکل اس طرح ہے۔ یعنی تاریکی جسمِ ناشفاف کا سایہ ہے۔ اس لئے جس جسم کی سطح سے اس کی ناشفافی کی وجہ سے اندر کی طرف روشنی کا گزر نہیں ہوا ۔ تو وہ جسم اپنی سطح کے دائمی سائے میں رہتا ہے۔ یعنی اس کی سطح کے علاوہ تمام جسم کا خلا اور ملا یکسان طور پر اندھیرا رہتا ہے، جب دو متضاد چیزوں کو تہہ بہ تہہ یعنی ایک دوسرے کے اوپر بغیر کسی حجاب کے رکھنا ناممکن ہے، مثال کے طور پر پانی پر آگ، اس پر پانی، اس پر پھر آگ رکھنا، تو رحم سے لے کر جسم کی سطح تک ایک دوسرے کے اوپر تین ظلمت اور تین نور کے خول کا ہونا کس طرح ممکن ہے۔ بلکہ پوست، گوشت، جھلّی اور تری سبھی باہم پیوستۂ جسم ہیں، اور ان میں کوئی روشنی نہیں، بلکہ یک لخت تاریکی ہے۔
طبیعی روشنی کی بادلیل حقیقت ظاہر کرنے کے بعد اب مجھے یہ لازمی ہے کہ نور کی اور دو قسمیں بیان کروں، جو اس بیان کو عقل والے قبول کریں جس طرح اوپر بیان ہوچکا ہے کہ اس عالم کے درمیان میں سورج معلّق ہے اور اس کی شکل بالکل گول ہے، جس طرح اس کی شکل گول ہے، اسی طرح گولائی میں اس سے روشنی نکلتی ہے اور عالم کے درمیان میں ہونے کی وجہ سے تمام عالم میں روشنی پھیلا سکتی ہے۔ چاند، تارے، بجلی، آگ، چراغ اور دوسرے پُرانے اور نئے روشنی کے ذرائع بھی دراصل سُورج ہی کے
۸۷
مظاہرات ہیں، اس لئے اس چشمۂ نور کے ہوتے ہوئے اس جسمانی عالم میں اور کسی قسم کے نور کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھا کہ اس قسم کی جسمانی روشنی کُل عالم یعنی جسمِ کُلّ کے لئے کافی تو ہے مگر یہ ظاہری چیزوں اور عالم کے کناروں تک محدود ہے۔ روح تو درکنار باوجود این ہمہ قوّت ہوا میں اڑنے والے ایک چھوٹے سے چھوٹے ذرّے کے وجود پر ساری نہیں ہوسکتی۔ پھر ہمیں معلوم ہوا کہ یہ جسمانی روشنی ہے، کیونکہ جسم اور اس کا فعل محدود ہے، جب جسم کے لئے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اور جسم ایک جداگانہ عالم ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ روح کا بھی جداگانہ اپنا ایک عالم ہے۔ اس لئے کہ یہ روا نہیں کہ جسم جو روح کا مرّکب ہے یعنی گھوڑے کی طرح ہے، ایک جداگانہ عالم میں رہتا ہو اور روح اپنا کوئی عالم نہ ہونے کی وجہ سے جسم کا محتاج رہے۔ یہ مثال ایسی ہے کہ حیوانوں کی ایک اپنی دنیا ہو اور انسانوں کی کوئی دنیا نہ ہو۔ یہ دوسری بات ہے کہ اگر انسان بھی حیوانوں سے کام لینے کی غرض سے اصطبل اور آغیل وغیرہ میں ہی جایا کریں، مگر یہ ان کا اصلی مکان نہیں ہوسکتا ہے۔
ثابت ہوا کہ ایک عالمِ روحانی بھی ضرور ہے۔ جب روحانی عالم ضرور ہے تو اس میں روحانی سورج بھی ضرور ہے، جسم اور روح سے بالاتر عقل ہے، جس طرح جسم اور روح کی نسبت عقل سب کچھ کرسکتی ہے اور عقل میں سب کچھ ہے۔ چنانچہ ایک مثال سے بے جان
۸۸
چیزوں کو جسم، حیوانوں کو روح اور انسانوں کو عقل مان لو تو پھر سوچے بغیر بتا سکتے ہو کہ تینوں میں سے غنی اور بادشاہ کون ہے؟ معلوم ہوا کہ جو ان میں سے عقل کے مرتبے پر ہو وہی غنی اور وہی بادشاہ دونوں پر ہے۔ پھر لازم ہوا کہ عقل زیادہ غنی ہے، یعنی اس کا ایک جُدا گانہ عالم ہے جس میں جسم اور روح کی نسبت بہت کچھ ہے۔ اس عقلانی عالم کی روشنی بھی اپنی قِسم کی ہے۔ یہی حقیقت تھی جب انسان اپنی ماں کے پیٹ میں رہا،تو اس سے ظلمتِ طبیعی، روحانی اور عقلانی سہنا پڑتا تھا۔ جاننے والوں کو اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودات تین قسم کی ہیں: یعنی جسم ،روح اور عقل۔ اسی طرح تین عالم میں عالمِ جسمانی ،عالمِ روحانی اور عالمِ عقلانی۔ پھر ان کے نور اور ظلمت بھی اسی طرح ہیں، یعنی ظلمتِ طبیعی، اس کے مقابلے میں نورِ طبیعی، پھر ظلمت روحانی ، اس کے مقابلے میں نورِ روحانی ، پھر ظلمتِ عقلانی اور اس کے مقابلے میں نورِ عقلانی ہے ۔
اس کے بعد اپنے اصلی مقصد کی طرف رجوع کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اپنے ان روحانی بھائیوں سے مخاطب ہوتا ہوں جو اس مختصر کتاب کو پڑھتے ہوں، جس طرح ان کے پاس اس حقیقت کی دلیلیں موجود ہیں، اسی طرح میں بھی ان کے اس عقیدے کی تصدیق کرتا ہوں کہ امامِ زمان ہی اللہ تعالیٰ کا نور ہے۔ جس طرح اس دنیا کو روشنی پہنچانے والا سورج ہمیشہ موجود ہے اسی طرح
۸۹
امامِ زمان عالمِ دین کو روشنی بخشتا ہوا ہمیشہ موجود ہے۔ سورج کا دنیا سے ناپید ہونا ممکن نہیں اسی طرح امامِ زمان لوگوں کے درمیان ہمیشہ حاضر رہتا ہے۔ اس لئے کہ انسان جسم و روح اور عقل تین چیزوں سے مرکب ہے، جسم خاکی کے لئے یہی سورج ، چاند، ستاروں اور دوسرے روشنی کے ذریعوں سے روشنی ملتی رہتی ہے۔ لیکن انسانی روح اور عقل کو جس روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ روشنی صرف امامِ زمان کے پاس ہر وقت موجود ہے۔ مگر یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ روح اور عقل کی روشنی اس جسمانی آنکھ سے دیکھی نہیں جا سکتی۔ کیونکہ اگر اس آنکھ سے وہ نور دکھائی دیتا تو اس نور کو تمام دنیا والے دیکھ سکتے اور کوئی شخص انکار نہ کرسکتا، کیونکہ اس دنیاکے سورج سے کوئی منکر نہیں ہے، اس لئے کہ اس کا نور دکھائی دیتا ہے اور اس میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ یہ سورج ہے یا نہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نور کی طرف راستہ دکھاتا ہے۔ اگر اللہ کا یہ نور ظاہری طور پر چمکنے دمکنے یا اور کسی ظاہری نشان کے ساتھ ہوتا جس کے دیکھتے ہی لوگ سمجھ سکتے کہ یہ خدا کا نور ہے تو اللہ یہ نہ فرماتا کہ میں جسے چاہتا ہوں اپنے نور کی طرف راستہ بتلاتا ہوں۔ چنانچہ آیۂ نور میں نورِ خداوندی کی تفصیل بیان ہے۔
قولہٗ تعالیٰ: اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ مَثَلُ نُوْرِهٖ
۹۰
كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ ۭ اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ ۭ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ ۙ يَّكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْۗءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۭ نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍ ۭ يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (۲۴: ۳۵)۔
ترجمہ: اللہ آسمانوں اور زمینوں کی روشنی ہے۔ اس کی روشنی کی مثال ایک طاق کی مانند جس میں چراغ ہو۔ چراغ شیشے میں ہو۔ شیشہ چمکتا ہوا تارے کی مانند سلگتا ہے۔ زیتون کے مبارک درخت سے وہ مشرق کا نہیں اور نہ مغرب کا ہے۔ اس کا تیل خود بخود سلگتا ہے۔ اگرچہ اسے آگ نہ بھی لگے۔ روشنی پر روشنی ہے۔ اللہ جسے چاہے اپنی روشنی کی طرف راستہ دکھاتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے۔ اور اللہ تمام چیزوں کا جاننے والاہے۔
اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کی تشریح
اللہ آسمانوں اور زمینوں کی روشنی ہے، یعنی اللہ کے وجودِ مطلق میں کُل عالم سمویا ہوا ہے، اپنی تمام صفات کے ساتھ جو اس میں موجود ہیں، اس سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں، وہ کُل اشیاء کو دیکھتا اور
۹۱
اپنی روشنی میں دکھا سکتا ہے۔اس کی روشنی میں کُل عالم اس طرح دکھائی دیتا ہے جس طرح کوئی صاف شیشے کا گلوب سورج کی روشنی میں۔ اسکی رحمت اور علم میں ہر چیز اس طرح سموئی ہوئی ہے جس طرح ایک شفاف چیز سورج کی روشنی میں مستغرق ہوتی ہے۔
رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا (۴۰: ۰۷)
ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہر چیز تیری رحمت اور علم میں سموئی ہوئی ہے۔
اس آیت میں بہت سی حقیقی تعلیمات ہیں، لیکن یہاں پر اس قدر تشریح کافی ہے۔ صرف ایک بات جو بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جب اللہ آسمانوں اور زمین کی روشنی ہے تو ہمیں اس کی مثال اس طرح سمجھنی چاہئے کہ آسمان اور زمین جسم ہے اور جسم کے ذرّات ہوتے ہیں، بالفاظِ دیگر ذرّات کے مجموعے کا نام جسم ہے تو اِن ذرّوں کو مجموعی طور پر عالم یا آسمان اور زمین کہا جاتا ہے۔ پھر جب روحانی طور پر کل عالم میں اللہ کی روشنی موجود ہو تو نتیجۃً یہ کہنا درست ہوگا کہ اِس عالم کی دو صورتیں ہوئیں: ایک صورت نورانی یعنی وہ صورت جو خدا کی روشنی میں نظر آتی ہو۔ دوسری صورت ظلمانی، یعنی وہ صورت جو انسانی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ چونکہ انسان پوشیدہ، تاریک اور دُور کی چیزوں کو نہ دیکھ سکنے کے علاوہ دکھائی دینے والی چیزوں کو بھی حقیقی نظر سے نہیں دیکھ سکتا ہے۔ پھر یہی عالم کی نورانی اور
۹۲
ظلمانی دو صورتیں ہونے کی وجہ سے یہ ثابت ہوا کہ اِس عالم میں ایک اور عالم پوشیدہ ہے، جو اس سے زیادہ روشن تو ضرور ہے لیکن شکل و صورت یعنی ترکیب اور وضع میں اسی عالم کی مانند ہے۔ اس قول کی سچائی اس آیت سے ملے گی۔
قولہٗ تعالےٰ: سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ (۵۷: ۲۱)
ترجمہ: ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔ ایک باغ کی طرف جس کا پھیلاؤ (یا دیکھنا۔ عرض) آسمان اور زمین کی طرح ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے تیار کر رکھا ہے جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر۔
یقیناً نورانی صورت میں یہی عالم ہے۔ وہ باغ جس کا پھیلاؤ یا دیکھنا آسمان اور زمین کی طرح ہے۔
اُس کے نور کی مثال
کسی قریبی مشابہت والی چیز سے حکمت کے حل و عقد کا نام مثل ہے، یعنی معلوم کو نامعلوم اور نامعلوم کو معلوم کرنے والی بات کو مثل کہتے ہیں اور اس سے جو چیز مقصود ہو، اسے ممثول کہتے ہیں۔ مثل اور ممثول میں بہت فرق رہتا ہے، یعنی جب کسی روحانی چیز کی مثال جسمانی چیز سے دی جائے تو اس میں روحانی چیز زندہ اور جسمانی
۹۳
چیز مقابلۃً مردہ ہونے کی وجہ سے اور بھی مثالوں کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ چنانچہ روح کی مثال دنیا کی مثال دنیا کی ساری چیزوں سے دی جاسکتی ہے۔ اس لئے کہ روح میں ساری چیزوں کی خاصیّت موجود ہے، یہی وجہ تھی کہ اس دنیا کی محسوس چیزوں سے جتنی مثالیں ممکن تھیں، ان کو قرآن شریف میں طرح طرح سے بیان کیا گیا ہے۔ قولِ خدا اِس حقیقت کا گواہ ہے:
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا (۱۸: ۵۴)
ترجمہ: اور تحقیق ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر ایک مثال کو طرح طرح سے بیان کیا ہے اور انسان بہت سی چیزوں پر بحث کرتا ہے۔
چراغ دان کی مانند
جس میں چراغ رکھا ہو چراغدان کہتے ہیں، چراغدان، ( مشکوٰۃ) نفسِ کُلّ ہے، کیونکہ چیزوں کے اٹھانے اور جسم کے بنانے والا وہی ہے اور یہ دنیا جو خدائی نور کے چراغ کے طاق یا کہ چراغ پائے کی طرح ہے۔ نفس کلّ کے لئے جسم کی مانند ہے۔ چراغدان وہاں رکھا جاتا ہے جہاں زیادہ روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح یہی دنیا ہے جس میں نور کی زیادہ ضرورت ہے، اس لئے امامِ زمان جو اس نور کے چراغ ہیں دنیا میں
۹۴
اور لوگوں کے درمیان رہتا ہے اور شرف کی اونچائی سے روشنی دیتا ہے۔ بلندی دو قسم کی ہوتی ہے: شرفی اور مکانی۔
چراغ شیشے میں ہے
چراغ امامِ زمان ہے۔ اس لئے کہ وہ دنیا میں ہمیشہ زندہ اور حاضر ہے۔
شیشہ تارے کی مانند چمکتا ہے
چراغ کی روشنی کے حفاظتی شیشہ ناطق یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں کہ ناطق جو چراغ کے شیشے کی طرح نورِ امامت کی حفاظت کرتا ہے۔ یعنی اگر ناطق دعوتِ ظاہر کو اپنی طرف سے نہ دکھاتا اور قیامت تک امام کے اسرار کو نہ چھپاتا تو امام کو جسمانی تکلیفیں ہوتیں اور جسمانی تکلیف کی وجہ سے امامت چلانے میں فرق آتا۔ جس طرح کسی لالٹین کا شیشہ نہ ہونے سے روشنی میں فرق آتا ہے تارے کی طرح شیشہ چمکنے سے یہ مراد ہے کہ ناطق نے امام سے نور حاصل کیا اور اسی نور میں اس کو چھپا لیا دیکھنے والے نے یہ قیاس لگایا کہ یہ کوئی چمکتا ستارہ ہے جو یک لخت اور اس کے اندر کوئی جوف نہیں، جو روشنی اور چمک و دمک نظر آتی ہے وہ اس ستارے کی ہے۔ واقعی ظاہری طور پر اسی طرح ہوا یعنی اس کا مطلب
۹۵
یہ ہے کہ باطنیّت میں حضرت مولانا مرتضیٰ علیؑ جو خدا کے ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان، زبان اور دل وغیرہ سب کچھ تھے۔ اس لئے خدائی کی تمام صفات اور تمام کام حضرت مولانا مرتضےٰ علی علیہ الصلوٰۃ والسّلام کے سپرد تھے۔ پھر اس لئے جناب پیغمبر کی وحی و الہام، کشفِ دیدار، اور تعلیم وغیرہ سب مظہر العجائب و الغرائب ہی سے آنحضرت کو میسّر ہوئی تھی۔ لیکن بطریقِ حکمت اِن تمام باتوں کو راز میں رکھی جاتی تھیں اور نبوّت کے سلسلے میں یہ سب آنحضرت سے ظہور پذیر ہوتا تھا، یہی مثال ہے جس میں کہا گیا ہےکہ خدائی روشنی تو چراغ میں ہے لیکن چراغ کا حفاظتی شیشہ اس کے اندر کی روشنی کی وجہ سے اس قدر تابان و درخشان ہے کہ خود مجوف یعنی اندر سے خالی شیشہ ایک کروی شکل کے چمکتے ہوئے تارے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔
کیا تعجب کا مقام ہے کہ آپ شمس تبریز اور مولائے روم جیسے بزرگوں کی کتابوں کا ذرا مطالعہ کیجئے۔ فوراً آپ کو یہی حقیقت وہاں بھی نظر آئے گی۔ چنانچہ مولانا رومؔ فرماتے ہیں، بیت
محمَّد بود قبْلہ گاہِ عالم
ولی برتخت دل سلطان علی بود
معنی: ساری دنیا کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو خانۂ کعبہ کے رتبہ میں تھے لیکن اس کے دل کے تخت پر مولانا علی بادشاہ تھے۔
۹۶
تیل جلتا ہے
اس چراغ کا تیل عقلِ کلّ ہے، تیل جلنے پر روشنی بنتی ہے، عقلِ کلّ سے روحانی عقدے کھل جاتے ہیں۔
اس مبارک زیتون سے جو وہ نہ مشرق کا ہے نہ مغرب کا۔ وہ درخت جس سے عقلِ کلّ پیدا ہوا، امرِ کلّ ہے، چونکہ وہ مشرق اور مغرب یعنی عقلِ کلّ اور نفسِ کُلّ سے برتر ہے۔
سُلگ جاتا ہے اس کا تیل بغیر آگ لگائے۔ آگ کہتے ہیں عقلِ کلّ کی تائید کو، اور اس چراغ میں تو ہمیشہ عقلِ کلّ تیل کی مانند بھرا ہوا ہے۔ خود اس میں تائید موجود ہے اس کے لئے اور تائید کی ضرورت نہیں ہے۔ اس تیل سے توحید کی روشنی نکلتی رہتی ہے۔
روشنی پر روشنی ہے
نور کی دائمیّت کے مقابلے میں جسم مستحیل اور متبدّل ہے۔ نیز تقاضائے قانونِ فطرت کی وجہ سے اسے فنا پذیر ہونا لازمی ہے۔ اس لئے امامِ زمانؑ ہر شخصی دَور کے بعد اپنا جسمانی جامہ بدلتا رہتا ہے (اس لحاظ سے گذشتہ جامہ کے شخصی دور کے کائنات سے متعلق عقلانی عمل کی صورتِ نورانی پر موجودہ جامہ کا اپنے زمانے کے لوگوں سے متعلق وہی عقلانی عمل کی نورانی صورت بڑھ جاتی ہے) کیونکہ نور کا دوسرا نام عقلانی عمل ہے۔ اس کی مثال ایسی
۹۷
ہے کہ کسی فرشتۂ جلالی نے عقل کے قلم سے روح کی کتاب میں کل مخلوقات کے ایک دن کا مجموعی عمل حکمت کے انداز میں درج کرلیا۔ جو اِس کتاب کا ایک باب بن گیا۔ اسی طرح روزانہ ایک ایک باب لکھتا گیا۔ لکھنے کی طاقت تو اس جلالی فرشتہ میں موجود ہے۔ لیکن جوں جوں مخلوقات سے عمل وقوع میں آتے ہیں، توں توں یہ لکھتا جاتا ہے۔ اسی طرح اس کے اس عمل کو “باب پر باب” کہا جاسکتا ہے۔
روشنی پر روشنی کہنے کا مطلب اسی طرح ہے۔ ورنہ اگر بالفرض نور یعنی روشنی روز بروز بڑھتی جائے تو اِس کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ نورِ ازل میں ناقص تھا، اب کامل ہو رہا ہے۔ کوئی دانا شخص اس بات کو ہرگز قبول نہیں کرتا۔ ہاں جس طرح میں نے اوپر کی مثال میں بتایا کہ عقل کا عمل زمانہ اور لوگوں کی استعداد اور ان کی قابلیّت کے مطابق ہوتا رہتا ہے، اس لئے امامِ زمانؑ ظاہراً اپنا تمام کام ایک دن میں ختم نہیں کرتا ہے۔
روشنی پر روشنی کہنے کی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہےکہ اگرکوئی شخص خدائی نور کی ابتداء اور انتہا کے بارے میں سوال کرے، تو اسے جواب ملتا ہے کہ نور کا سلسلہ لا انتہا ہے۔ اس لئے کہ روشنی پر روشنی کہنے کا جو منطقی قانون ہے۔ اگر ہم اس کو بغور دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس میں نور کی لاابتدائی اور لاانتہائی ہے۔ کیونکہ
۹۸
خدا کے نور کی موجودیّت کے قوانین میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نور پر نور ہوتا ہے۔ اس صورت میں آپ یہ سمجھیں کہ ہر ایک نور سے پہلے ایک نور کا ہونا لازمی ہے۔ تاکہ بعد کے نور کو اس قانون کے لحاظ سے پہلے کے نور “پر” کہنا درست ہوسکے اور اس کے پہلے کے نور کو بھی “پر” کہلانے کے لئے قبلاً کوئی نور کا ہونا لازمی ہے اور اِس سلسلے کا کوئی آغاز نظر نہیں آتا۔ پھر موجودہ نور پر ایک اور نور کا ہونا ضروری ہے تاکہ روشنی “پر” روشنی کہنا بجا ہو۔ اس کی کوئی انتہا ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔
یہی مطلب دوسرے الفاظ میں ادا کرتا ہوں۔ چنانچہ یہ کہنا کہ “نور پر نور ہوتا ہے” اس کا عکسی مطلب یہ ہوا کہ نور کے بغیر نور نہیں ہوتا، یعنی جب تک پہلے نور نہ ہو تو بعد میں نور نہیں ہوسکتا ۔ اس کی بھی یہی حقیقت ہوئی کہ نور سے پہلے بھی نور ہو اور بعد میں بھی نور ہو۔ اس طرح اگلی اور پچھلی طرف سے غیر منقطع طور پر نور کا ہونا لازمی ہے تاکہ ہر نور کو ایک طرف سے علیٰ (پر) اور دوسری طرف سے تحت (نیچے) کہنا حقیقتاً ٹھیک ہوسکے۔
اپنے نور کی طرف راستہ دکھاتا ہے جس کو چاہتا ہے
ہدایت کے معنی ہیں راستہ دکھانا۔ کسی کو راستہ دکھانا اس وقت ضروری ہوتا ہے جب کہ راستے پر چلنے والا شخص راستہ نہ جانتا ہو،
۹۹
اور اسے اس راستے پر چلنا ضروری ہو تو اس وقت اس کو تین طریقوں سے راستہ دکھایا جاسکتا ہے۔ اس لئے راستہ دکھانا یعنی ہدایت تین قسم کی ہوتی ہے: عملی ہدایت، قولی ہدایت اور تحریری ہدایت۔ عملی ہدایت یہ ہے کہ ہادی یعنی خود راہ دکھانے والا اس ناواقف راہی کے ساتھ منزلِ مقصود تک چلے۔ قولی ہدایت یہ ہے کہ ہادی راہ جُو کو راستے کے متعلق سمجھائے اور اس کے نشان وغیرہ بنائے۔ پوری تفصیل سے جو وہ اس ناواقف راہ رو کے لئے ضروری سمجھتا ہو اور تحریری ہدایت وہ ہوتی ہے کہ اس مسافر کے راستہ کے متعلق کوئی تفصیلی پہچان ہو یا کوئی نقشہ ہو جس سے مسافر منزلِ مقصود تک پہنچ سکے لیکن ان تینوں قسم کی ہدایتوں میں جو فرق ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی مسافر تحریری ہدایت سے فائدہ اُس وقت اٹھا سکتا ہے جبکہ وہ خواندہ ہو۔ اور اس کو کسی قسم کی غلطی ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ ورنہ اسے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے۔ قولی ہدایت میں بھی مسافر کو راستے سے متعلقہ باتیں بھول جانے یا ان کو نہ سمجھنے کا خطرہ ہے۔ پھر دینی اُمور کی ہدایت کا بھی یہی حال ہے۔ لیکن روحانی ہدایت کے لحاظ سے لوگ تین قِسم کے ہیں۔
۱- انبیاء ۲- اولیاء ۳- عوام۔
اس صورت میں تحریری ہدایت یعنی آفاق و انفس کی مرقوماتِ صنعت اور ظاہری کتاب انبیاء کےلئے مخصوص ہے۔ الہام و القاء اور کلامِ غیبی کی قولی ہدایت اولیاء کے لئے ہے اور عوام کے لئے جو
۱۰۰
ہدایت ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ہادی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ انہیں عملی ہدایت کریں جو کہ عوام کے لئے سب سے زیادہ آسان اور بے خطر ہدایت ہے۔
اور اللہ لوگوں کو مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھ سکیں
اور اللہ لوگوں کو مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ مثل سے ممثول کی دلیل لیں، وہ غور کریں کہ اللہ کے نور، چراغدان، چراغ، شیشہ، تارا، جلنا، درختِ زیتون، تیل، آگ اور ہدایت وغیرہ کہنے کا مطلب کیا ہے۔ اگر وہ صرف یہ کہے کہ اللہ تعالےٰ آسمانوں اور زمین کی روشنی ہونے میں ہمارا کوئی انکار نہ ہو تو اس مثال سے ہمیں کیوں سمجھانا چاہتا ہے۔
۱۰۱
دربیانِ علم
ترجمہ ازکلام حضرت حکیمِ سیّد ناصر خسرو قدّس سرّہٗ
سب سے پہلے مومن کو یہ جاننا چاہئے کہ علم کیا ہے؟ جب وہ اسے پہچان سکے تو اس کو حاصل کرسکے گا، کیونکہ جب تک کوئی شخص کسی چیز کو نہ پہچان سکے تو اس چیز تک اس کی رسائی ہرگز نہیں ہوتی۔ پھر میں تجھے بتاؤں گا کہ چیزوں کو ویسی کی ویسی دریافت کرنے کو علم کہتے ہیں۔ چیزوں کو اصلیّت سے جاننے والا عقل ہے اور علم عقل کے گوہر میں ہےاور عقل کی گواہی باری سبحانہ و تعالےٰ کا کلمہ ہے جس کے نیچے تمام روحانیاں اور جسمانیاں ہیں اور جو کچھ علم کے تحت نہ آئے اُسے ہست نہیں کہنا چاہئے۔ جب یہ روا نہیں کہ خدا تعالےٰ علم کے تحت ہو اور علم وہ ہے کہ چیزیں اور ہستیاں سب اس کے نیچے ہیں اور نیستی بھی اس کے نیچے ہے تو روا نہیں جو میں کہوں کہ خدا ہے یا نہیں اس لئے کہ ہستی اور نیستی علم کے تحت ہے اور خدا علم کے تحت نہیں۔
پھر میں بتاؤں گا کہ امر کا محضر خدا ہے اور جس کو دوسرے کی نسبت عِلم کا زیادہ حصّہ ملا ہے وہی نسبتاً خدا کے امر کے زیادہ
۱۰۲
نزدیک ہےاور خدا کے امر کو زیادہ قبول کیا ہے اور زیادہ فرمانبردار ہے اور جو کوئی دوسروں کی نسبت زیادہ دانا ہوجائے خدا کا زیادہ مطیع ہوتا ہے اور جو کوئی پورا دانا ہوجائے تو وہ ہمیشگی کی نعمت کو پہنچتا ہے، چونکہ دانا کا انجامِ کار خدا کی رحمت ہے۔ انسان عالم کی تمام مخلوقات سے اخیر میں پیدا ہوا ہے اور اس کا مرجع یعنی واپس جانے کی جگہ اَمر ہے جو کہ وہ دونوں جہان کی علّت یعنی سبب ہے اور چیزیں اپنی اصل کی طرف رجوع کرتی ہیں۔
بھائیو! علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہو، جس سے تم اللہ کے زیادہ نزدیک ہوجاؤ گے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی رحمت علم ہے۔
حدود ایک وقتِ معیّن تک ہیں
طالبِ حقیقت کو نہایت ہی ضروری ہے کہ وہ حدودِ دین کے بارے میں پوری علمیّت حاصل کرے کہ حدود کس ضرورت کیلئے ہیں، کیا وہ ہمیشہ کے لئے ہیں یا ان کی برخواستگی کا کوئی وقت ہے؟
میں اس موقعہ پر حدود کی ایک حقیقی تفصیل پیش کرتا ہوں جو آفاق و انفس کی نشانیوں کی دلیلوں پر مبنی ہوگی۔ اس لئے کہ جِس بات کی دلیل یا گواہی آفاق و انفس سے نہیں مل سکتی وہ محض جھوٹ ہوتی ہے۔
۱۰۳
چنانچہ حضرت رسول اکرم صَلعم کی حدیث ہے کہ:
اِنَّ اللّٰہَ اَسَّسَ دِیْنَہٗ عَلےٰ اَمْثَالِ خَلْقِہٖ لِیُسْسَدَلَّ بِخَلْقِہٖ عَلٰی دِیْنِہٖ وَبِدِیْنِہٖ عَلٰی وَحْدَ اِنیَّتِہٖ
ترجمہ: اللہ نے اپنے دین کی بنیاد اپنی مخلوقات کی مانند رکھی تاکہ اس کی مخلوقات ہی سے اس کے دین کی دلیل مل سکے اور اس کے دین سے اس کی یگانگی کی دلیل مِل سکے۔
اس حدیث میں تینوں عالم کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ تینوں عالم ایک دوسرے کی مثال ہیں: یعنی عالمِ خلق، عالمِ دین، اور عالمِ وحدت۔
اور یہی حقیقت سمجھانے کے لئے کہ جب تک آفاق و انفس کسی قول کی سچائی پر گواہی نہ دیں تو وہ قول ہرگز درست نہیں ہوسکتا۔ قرآنِ شریف کی آیت ملاحظہ ہو:
مَآ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ (۱۸: ۵۱)
ترجمہ: ہم نے ان کے لئے آسمانوں اور زمین کی آفرینش سے گواہی نہیں دی اور نہ اُن کی جانوں کی آفرینش سے۔
پھر عقل والوں کو لازم ہے کہ دین سے متعلقہ جو بات ہو اسے ظاہر کرنے سے پہلے اس کائناتی شہادت سے محکم کریں۔
چنانچہ ہم یہ کہتے ہیں کہ امامِ زمان عالمِ دین میں ہمیشہ حاضراور دائم فیضِ روحانی بخشتا ہے، تو یہ بات صحیح ہے، کیونکہ دنیا میں بھی ایک ایسی
۱۰۴
چیز ہے جو ہمیشہ سے دنیا میں موجود ہے اور روشنی بخشتی رہتی ہے وہ سورج ہے۔ امامِ زمانؑ اس دنیاوی سورج کا ممثول ہے اور سورج امامِ زمانؑ کی مثال ہے، لیکن معلوم ہوکہ مثال اور ممثول میں فرق ہوتا ہے، پھر اس کے بعد سورج کی جملہ صفات اور افعال سے امامِ زمانؑ کی قریبی مثال لی، یعنی سورج جب ہم سے دور ہوتا ہے اس وقت تاریکی ہونی شروع ہوتی ہے، پھرسورج کی طرف سے ہمیں چاند روشنی دیتا ہے اور اگر یہ بھی ہم سے دور ہو یا اس کا رخ ہماری طرف نہ ہو تو ہمیں تاروں سے روشنی ملتی ہے، پھر بعض اوقات بادل کی وجہ سے تاریکی ہی رہتی ہےاور جب سورج نکلے تو ہمیں چاند روشنی نہیں دے سکتا ہے، مگر وہ ہمیشہ اپنے لئے نور حاصل کرتا ہے، اسی طرح تارے بھی سورج نکلنے پر ہمیں نظر نہیں آتے، چاند اور تاروں میں اپنے لئے روشنی ضرور موجود رہتی ہے، کیونکہ ان کے اور سورج کے درمیان کوئی شے حائل نہیں ہوتی ہے، اسلئے کہ وہ زمین سے بہت اونچائی پر ہے۔
صفحۂ کائنات کی مذکورہ شہادت سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جب زمانہ والوں کی روحانی رسائی امام تک نہ ہو تو اس وقت امام کی طرف سے حدود مقرر ہوتے ہیں جن کا ذکر اس سے آگے ہوچکا ہے، حدودِ سفلی میں سے حجّتِ اعظم جو چاند کے مقابلے میں ہے اور دوسرے حجّت اور داعی ما ذون تک تاروں کے مقابلے میں ہیں، عالمِ دین کو علمِ دین سے روشنی دیتے ہیں۔ اور جب امامِ زمانؑ دینی لحاظ سے
۱۰۵
لوگوں کے نزدیک ہوجائے تو حدودِ سفلی کی پہچان باقی نہیں رہتی۔ ہاں جس طرح ستارے دن کے وقت نیست و نابود نہیں ہوتے لیکن ہمیں ان سے ظاہری طور پر کوئی روشنی لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، اسی طرح حدود بھی تو ہر وقت موجود ہیں اور اپنی ذات کے لئے روشن ہیں۔
حجّت کی مثال بھی اسی طرح ہے جس طرح دن کے وقت چاند کی۔ قولہٗ تعالےٰ:
وَاِذَ النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ۔ یعنی جب ستارے دیکھنے میں غیر شفاف ہوں۔ وَخَسَفَ الْقَمَرُ۔ اور چاند گہہ جائے۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ۔ اور جس وقت سورج اور چاند ایک ہو جائیں۔
یہی علامتِ حدودِ ظاہری کے اشخاص نہ دکھائی دینے کی ہے یعنی روزِ قیامت کے قریب ہونے پر امام کے سوا باقی تمام جسمانی حدود ظاہراً نہ دکھائی دیں گے اور حجّت امام کے ساتھ ایک ہوگا۔
یہاں پر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حدودِ علوی و سفلی کے بارے میں علم حاصل کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ علم حدود کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔ بمثالِ آیتِ کریمہ:
هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (۵۷: ۰۳)
۱۰۶
اوّل اسے کہتے ہیں جس کا فی الواقع کوئی آغاز ہو۔
آخر اسے کہتے ہیں جو فی الحقیقت آخر میں پیدا ہوا ہو۔
ظاؔھر بحقیقت وہ ہے جوحواسِ خمسہ سے پانچوں حسّ یا کم از کم ایک حسّ سے محسوس کیا جاسکے۔ کیونکہ لفظ کے لئے حد مقرّر ہے۔ مثلاً گلاب کے پھول کو باصرہ، شامہ، ذائقہ اور لامسہ کی قوتوں سے محسوس کیا جاسکتا ہے، لیکن سامعہ کا اس میں حصہ نہیں۔ لیکن کسی خوشبو یا بدبو جب اس کا نکاس سامنے نہ ہو تو صرف قوّتِ شامّہ کی مدد سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔ مختصر ظاہر جسم ہے اور جسم محسوس ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص لفظ کو اپنی حد سے بدل دے تو وہ ظلم ہے، لہٰذا ظاہر کے معنی وہ ہیں جو جسم رکھتا ہو اور محسوس ہو۔
باطن وہ ہے جو محسوس نہ ہو اور اسے عقل کی قوّتوں سے معلوم کیا جاسکے چنانچہ اس کی تاویل یوں ہوئی کہ اوّل عقلِ کلّ ہے کیونکہ یہ ہر چیز سے اوّل ہے اور ہر لحاظ سے اوّل ہے۔ آخر نفسِ کلّ ہے، چونکہ اوّل کے بعد آخر ہے اور یہ عقلِ کلّ جو (اوّل تھا) کے بعد پیدا ہوا۔ نیز سب سے آخر ہے، کیونکہ اس کی اتمام اس وقت ہوگی جب قائم ظہور کرے۔ ظاؔہر ناطق ہے، کیونکہ اس کی تنزیل شریعت، دعوت اور مرتبہ سب کچھ ظاہر ہے اور محسوس ہے اور خود بھی جو امام کی شخصِ اطہر (جسم) ہے۔ باطن امام ہے، کیونکہ اس کی تاویل، دعوت اور مرتبہ سب کچھ باطن ہے۔
۱۰۷
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ناطق تو فی الحال ظاہر نہیں اور امام ظاہر ہے، پھر کیسے ہوسکتا ہے، اس کے لئے جواب یہ ہے کہ امام مجمع الحُدود ہے یعنی اس کے پاس تمام حُدود موجود ہیں۔ اس آیت میں امامِ زمانؑ کے اپنے مرتبے کو باطن کہا گیا ہے۔ اسی طرح حدود کےبغیر تاویل برابر نہیں آتی ہے۔ اس لئے اگرچہ امامِ زمان کے علاوہ ظاہراً کوئی حدودِ سفلی نہ بھی ہو۔ لیکن پھر علمِ حدود ضروری ہے تاکہ حدود شناسی کے بعد خدا شناسی حاصل ہوسکے۔
ع حُدود دان چہ نباشی خدائے دان نشوے
سورج نکلنے کے بعد اگرچہ چاند اور تاروں سے ہمیں کوئی روشنی نہیں آتی ہے لیکن چاند اور تاروں سے متعلق علم ضرور ہمارے ذہن میں موجود ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔
امامِ مبینؑ
وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ (۳۶: ۱۲) قرآنِ شریف کی معنوی و باطنی بے پایان گہرائیوں کا اندازہ کرنے کے لئے رسول اللہ ؐ کی یہ حدیث کافی ہوگی:
مَا مِنْ اٰیُۃِ من اٰیَاتِ الْقُراٰنِ اِلَّا وَ لَھَا ظَھرٌ وَبَطنٌ وَلِبَطَنِہٖ بَطنٌ اِلیٰ سَبْعَ اَبْطُنٍ وَفِیْ رِوَایَۃٍ اِلیٰ سَبْعِیْنَ
۱۰۸
اَبْطُنٍ۔
ترجمہ: قرآنِ پاک کی آیتوں میں سے کوئی ایسی آیت نہیں جس کا ایک ظاہری اور دوسرا باطنی معنی نہ ہو۔ اور اس باطنی معنی کے اندر سات معنی ہیں۔ اور ایک دوسری روایت کے مطابق ستّر معنی ہیں۔
وَقَالَ النَّبِیُّ لِکُلّ حَرْفٍ مِّنْ حُرُوْفِ الْقُرْاٰنِ حَّدٌ وَّ لِکُلِّ حَدٍّ مَطْلَعٌ۔
ترجمہ: قرآن کے حُروف میں سے ہر ایک حرف کی ایک حَد ہے اور ہر ایک حَد کا ایک زینہ ہے۔
اس حدیث سے ہمیں یہ تعلیم مل جاتی ہے کہ جب کسی شخص کو قرآنِ شریف کا مطالعہ کرنا ہو تو طائرانہ نظر سے نہیں بلکہ غائرانہ نظر سے قرآنِ پاک کو پڑھے اور غور و فکر کرے۔ یہی وجہ ہے کہ خود اللہ پاک نے بھی قرآنِ پاک کو آہستگی اور غور وفکر سے پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ ذیل کی آیت میں معنوی لحاظ سے قرآن پڑھنے والوں کی تین قسمیں بتائی گئی ہیں:
۱۔ ایک وہ جو ضروری حد تک تاویل جانتے ہیں۔
۲۔ دوسرے وہ جو پڑھتے تو ہیں لیکن غور و تدبر نہیں کرتے۔
۳۔ تیسرے وہ ہیں جو غور و خوض سب کچھ کرتے ہیں لیکن دلوں پر قرآن کے قفل لگے ہوئے ہیں۔ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا (۴۷: ۲۴)۔
۱۰۹
اسرارِ قرآن کے حصول کے لئے جو واحد راستہ ہے وہ یہ ہے کہ قرآنِ شریف کو خدا و رسولؐ نے جس اصول سے ہمیں پڑھنے کا حکم فرمایا ہے اس اصول سے پڑھیں، وہ اُصول اور کچھ نہیں صرف امامِ زمانؑ کی حقیقی اطاعت ہے۔ اگر ہم کسی آیت کے ظاہری معنی لیتے ہوئے امامِ زمانؑ کی اطاعت نہ کریں تو ضرور اس آیت کی پوشیدہ حقیقت ہمارے حق میں پوشیدہ ہی رہے گی۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک انجان مسافر اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لئے ایک شخص کو اپنا رہبر بناتا ہے، جو راستے سے بخوبی واقف ہے، اب دونوں چلتے ہیں، راستے کی کچھ مسافت طے کرنے کے بعد ایک دوراہہ پر پہنچتے ہیں، راستہ دکھانے والے کو ان دونوں کے متعلق ذرّہ ذرّہ معلوم ہے کہ دونوں راستوں میں سے ضروری اشیاء کی فراوانی، خطروں سے محفوظیّت اور نزدیکی وغیرہ کے لحاظ سے کون ساراستہ اچھا ہے، اس نے کئی مرتبہ دونوں راستوں کو دیکھا، جانچا اور اس کے رنج و راحت کا کلّی توازن کیا ہوا ہے۔ لیکن وہ مسافر بھی ایسا ہے کہ اپنے راہبر کی ذاتی خصوصیات کا کچھ علم نہیں رکھتا۔ اس لئے اپنی عقل سے دونوں راستوں کی طرف نگاہ ڈالتا ہے۔ منزلِ مقصود بہت دور ہے اور اس کی نگاہ محدود ہے۔ اس لئے وہ سامنے دیکھتا ہے تو اسے ایک راستہ ذرا کھلا نظر آتا ہے۔ اسی وقت راستہ بتلانے والا شخص دوسرے راستے سے چلتا ہے جس میں
۱۱۰
ہر قسم کی آسائش ہے اور مسافر اس راستہ دکھلانے والے پر اعتماد کئے بغیر اپنے پسندیدہ راستے سے اکیلا چلتا ہے اور راستے میں اسے بہت تکلیفیں ہوتی ہیں۔
اللہ ارحم الراحمین نے اپنی لاانتہا رحمت سے انسانوں کے لئے وہ تمام اسباب مہیّا و موجود کئے ہیں جن کا ہونا حصولِ دین و دنیا کے لئے ضروری تھا۔ جس طرح خود فرماتا ہے کہ:
وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا (۱۴: ۳۴)۔
ترجمہ: اور دیا اس نے تم کو ہر وہ چیز جو تم نے مانگی یا تمہاری حالت سے جس چیز کی ضرورت معلوم ہوتی تھی اور اگر تم خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو گنو گے تم تو انہیں اپنے علم میں گھیر نہیں سکو گے۔
اب سُن لیجئے یہ آیت محکم نہیں بلکہ متشابہ ہے، اس کے متشابہ ہونے کی حد میں آپ کو بتوفیق خداوند دکھا سکوں گا۔ مذکورہ آیت کے معنیٰ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری مطلوبہ اشیاء یا نعمتیں ہمیں اس دنیا میں دی گئی ہیں اور دینے کا فعل ختم ہوچکا ہے اور وہ چیزیں سب کی سب ہماری طلب کی وجہ سے دی گئی تھیں اور اگر ان نعمتوں کو ہم گن لیں تو وہ اس قدر بے انتہا ہیں کہ انہیں ہم گن بھی نہیں سکتے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو ہمیں جتلاتا ہے، حالانکہ ہم سب مسلمان ظاہری نعمت میں ان لوگوں سے بھی بہت پیچھے ہیں
۱۱۱
جو خدا کی ہستی کو بھی ابھی تک نہیں مانتے۔ پھر اللہ کا ہم پر کیا احسان ہوا؟ پھر یہ برابر نہیں آتا۔ نیز ہماری طلب بھی ختم نہیں ہوئی ہے اور نہ اللہ کا دینا ختم ہوا ہے۔ اور نہ یہ درست ہوسکتا ہے کہ محض لفظی طلب سے کوئی شے ملتی ہے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ اللہ کی دی ہوئی ظاہری نعمتوں کو بغرضِ شکر گزاری کوئی دانا گننا چاہتا ہو۔ کیونکہ گنتی ان چیزوں کے لئے ہے جو ایک سے دوسری چیز جدا ہو۔ جیسے تسبیح کے دانے یا اس قسم کی کوئی اور شے۔ ہماری حیات میں بہت سی ایسی چیزیں بھی ہیں جن کے درمیان میں کوئی فصل یعنی جدائی نہیں۔ مثلاً زندگی، علم، عقل، ایمان وغیرہ۔ پھر معلوم ہوا کہ اس آیت کے لئے تاویل کے بغیر چارہ نہیں۔ یاد رکھ لینا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام انسانی مبدع سے لے کر معاد تک کل حالتوں پر واقع ہے۔ اس مطلب کو اور بھی آسان تر کرنے کے لئے کہتا ہوں کہ اس آیت سے ان روحانیوں کی حالت کا کچھ علم حاصل ہوتا ہے جو عالمِ روحانی کی لاانتہا حدود میں سے ایک منتقلی حد پر پہنچ چکے ہیں۔ اس حد میں ان کی مراد کی تمام چیزیں ان کے پاس موجود ہیں۔ وہاں پر اللہ پاک انہیں فرماتا ہے کہ تمہیں دی گئی ہے “کل” (امام) سے ہر چیز جو تم نے عملاً طلب کی اور اگر تم روحانی وجسمانی دفعات کوانتقالِ بقا کے عمل سے گنوگے تو انہیں ختم نہیں کرسکو گے۔ پھر آگے دو لفظوں میں دفعاتِ لاانتہا کی وجہ بیان کرتا ہے۔ انسان اپنے جسم، روح
۱۱۲
اور عقل میں برابری نہیں رکھ سکتا ۔ یعنی برابری سے مراد کسی ایک حد میں رک جانا اور تینوں عالم کی سیر کو ختم کرنا۔ اس حقیقت کی مثال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ترازو میں کمی بیشی کرے تو تولنے کا عمل ہرگز ختم نہیں ہوگا۔ جب تک حقیقی برابری نہ ہو تو ترازو کی حرکت جاری رہتی ہے۔ پھر کہتا ہے کہ انسان کی سرشت کوئی ایسی نہیں کہ وہ ایک حدّ میں جاکر حصولِ نعمت سے تھک جائے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر انسان روحانیّت کو بشرطِ خود حاصل کرے تو ایک لاانتہا دائرے پر لاغایت نعمتوں میں دائمی عروج کرتا رہتاہے۔
۱۱۳
جن دوستوں کو تاویل کی واقفیّت نہیں، انہیں یہ باتیں سمجھنا بہت سخت کام ہے اور اوپر کے بیان کے مطابق دنیا میں عمل کریں ۔ جس طرح فرمایا گیا ہے کہ تمہیں کل یعنی امامِ زمان ہی سے ہر وہ چیز دی جائے گی جسے تم عملاً طلب کرو گے۔ پھر وہ کون سی چیز ہے جو امامِ زمان میں نہ ہو۔ اگر عمل شائستہ کرکے کسی چیز کا حقدار بنے تو جو چیز یہاں ملنے والی ہو تو یہاں ملے گی اور جو چیز اُس جہان میں ملنے والی ہو تو وہاں ملے گی۔ اگر اچھے کام کئے جائے تو ہمارے نیک عمل کا پھل ہمیں بغیر طلب کے بھی دیا جائے گا۔ میرے اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ اس کتاب کے پڑھنے والوں کو اپنے امامِ زمانؑ کی مہربانیوں کا صحیح اندازہ ہوسکے۔ نیز انہیں معلوم ہوجائے کہ امام کی مدد کے بغیر کوئی تاویل بیان نہیں کرسکتا ۔ اس کی مدد بھی انوکھی قسم کی ہے۔
دوسرے بہت سے دلائل کے ساتھ اِس آیت میں بھی امامِ زمانؑ کے پاس علم القرآن موجود ہونے کی دلیل ہے۔ قولہٗ تعالیٰ:
وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ (۱۳: ۴۳)۔
ترجمہ: اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تو رسول نہیں ہے۔ کہہ دے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے کافی ہے اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔
آنحضرتؐ کی رسالت کے گواہ اللہ اور مولانا علیؑ کے سِوا اور کوئی
۱۱۴
نہیں ہوسکتے ہیں۔ لیکن آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں کس قِسم کی گواہی ہے۔ کیا یہ بھی دنیاوی گواہی کی طرح ہے یا اور کچھ! اگر گواہی کی ضرورت ہوئی تو ہمارا عقیدہ کیا ہونا چاہئے۔ یعنی حضرت محمد صلعم کی رسالت سے کافر لوگ محض لفظی انکار نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی عقل کے مطابق دلیلیں بھی پیش کرتے تھے ۔ مثال کے طور پر اگر اب کوئی شخص سائنس اور ایٹمی دلیل سے قرآنِ شریف اور رسالت محمدؐ کوباطل کرنے کے لئے کوشش کرے تو گواہ کا کیا کام ہونا چاہئے؟ اللہ جل جلالہٗ تو پاک ہے، وہ گواہی دینے سے بالاتر ہے۔ اس لئے وہ دنیا میں ظہور نہیں فرمائے گا۔ مولانا علیؑ اور پاک محمدؐ بھی ظاہراً رحلت کرگئے، اب یہ گواہی چند روزہ تھی یا دائمی؟
دیکھئے! جس طرح یہ تمام سوالات اسی آیت سے پیدا ہوئے ہیں اسی طرح ان کے جوابات بھی اسی میں موجود ہیں۔ اللہ اور رسولؐ کے ذکر ہوتے ہوئے مولاناعلی ؑکی طرف علم کی نسبت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ صرف مولانا علیؑ ہی رسولؐ اور لوگوں کے درمیان گواہ ہے، اور یہ نہیں ہوسکتا کہ خدائے دانا و بینا یا رسولِ پاکؐ مولانا علیؑ سے کچھ کم علم رکھتے تھے، اس لئے مولانا علیؑ کو عالم الکتاب کہا گیا ہو اوریہ گواہی بھی کوئی عام گواہی نہیں تھی بلکہ یہود و نصاریٰ وغیرہ عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ قِسم قِسم کے سوالات لے کر آتے تھے اور ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح حضرت محمدؐ کی رسالت میں کوئی شک پیدا کرسکیں۔
۱۱۵
کس کی مجال تھی کہ امیر المومنین کے ہوتے ہوئے رسالت کی تکذیب کر سکے۔ حضرت مولانا مرتضیٰ علیؑ ہر ایسے شخص کو سوالوں کا جواب دیتے۔ تواریخ سے اس قسم کے مفصل حالات پڑھئے۔ اللہ اور رسولؐ کی طرف سے مولانا مرتضیٰ علیؑ ہی گواہ تھے اور ہر زمانہ میں اس طرح ہوا۔ علم الکتاب ظاہر میں یہی قرآنِ شریف ہے۔ اور اس آیت کے مطابق صرف امامِ زمان اس زمانے میں بلاشک مولانا مرتضیٰ علیؑ ہیں۔ جو علم الکتاب کے مالک ہیں۔ اور اس آیت کی قطعی دلیل یہ ہے کہ رسولؐ اور اُمّت کے درمیان میں امامِ زمان کی چند خصوصیات ہیں۔
۱- اوّل: خدا اور اپنی طرف سے رسولؐ اور خلق کے درمیان میں گواہ۔
۲- دوم: جملہ انسانوں سے دانا۔ کیونکہ دانائی کی وجہ بھی تھی۔ جو گواہ کے لائق ہوا، اور دوسرا کوئی نہ ہوسکا۔
۳- سوم: ہمیشہ دنیا میں زندہ رہنے والا۔ کیونکہ یہ گواہی دنیا میں قیامت تک رہے گی۔
۴- چہارم: قرآنِ شریف کی ساری اصلیّت جاننے والا۔
۵- پنجم: قرآن سے دین روشن کرنے والا کیونکہ گواہ اس لئے ہوا ہے کہ دشمنوں کی شر سے اسلام کو محفوظ رکھے اور دین روشن کرے۔
نیز اس آیت میں بالکل واضح ہے کہ قرآن کی ذمّہ داری خدا و
۱۱۶
رسولؐ کی طرف سے صرف امامِ زمانؑ کے علاوہ اور کسی کو نہیں پہنچتی اور یہی فیصلہ خدا و رسولؐ کا ہے۔
آیت مطلوبہ کی لغات
واؤ یہاں حرفِ عطف کے علاوہ قسم اور ربّ کے لئے بھی آیا ہے۔ “کُلَّ: کل کا لفظ تین قسم کا ہے، تنوین کے ساتھ کلاً ،کلٍ،کلٌ (سب) کلَ،کلِ،کلُ، (سب کے سب) الکل (سبھوں کا سب) شیٍٔ: وہ ہے جس کا کچھ علم اور خبر ممکن ہو اور وہ عقل میں آسکے، روحانی اور جسمانی میں سے۔ اَحْصَیْنَاہُ: بروزنِ اخفیناہ۔ اس کا اصل حصی بروزنِ خفی ہے۔ حصی کے معنوں میں سے (۱) گھیرنا (۲) گننا اور ضبط کرنا (۳) کنکرمارنا (۴) کنکر (۵) قیمتی پتھر یعنی گوہر (۶) عدد رائی عقل (۷) وافرالعقل (۸) ختم کرنا (۹) نہ بھولنا، یاد رکھنا (۱۰) لکھنا (۱۱) مکمل کرنا (۱۲) قرار کرنا (۱۳) علم کے حصار میں لانا وغیرہ۔ مبین: بیان کرنے والا، بولنے والا، آشکار، ظاہر، ترجمان اور دو چیزوں کے درمیان کام کرنے والا۔ (لوح التاویل)۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ لفظ حصی قرآنِ کریم میں اکثر احاطہ اور عدد سے اوپر کے معنوں کے لئے مستعمل ہوا ہے۔
قولہٗ تعالیٰ: لِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا . اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ
۱۱۷
مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا . لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَاَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا (۷۲: ۲۶ تا ۲۸)۔
تنزیل: غیب کا جاننے والا۔ پس نہیں ظاہر کرتا اپنے غیب کسی کو۔ لیکن کسی رسول میں سے جو پسند ہو۔ پس وہ چلاتا ہے اس کے آگے اور پیچھے چوکیدار۔ تاکہ جانے کہ انھوں نے اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں۔ اور احاطہ میں لایا جو کچھ ان کے پاس تھا۔ اور ہر چیز کو عدد میں گھیر لیا۔
تاویل: غیب بمعنی پوشیدہ اور دور۔ خدا کے لئے نہ کوئی شۓ پوشیدہ ہے نہ دور۔ اس لئے لفظ غیب مخلوقات کی نسبت سے مقرر کردہ لفظ ہے۔ اب سُنیے! آسمان والوں کے لئے زمین دور اور پوشیدہ۔ زمین والوں کے لئے آسمان غیب اور دور۔ مشرق کے لئے مغرب غیب، مغرب کے لئے مشرق ناپدید۔ شمال سے جنوب دور۔ جنوب سے شمال پوشیدہ، انسان جاندار، نباتات اور عالم کے کل ذرّات ایک دوسرے کے حق میں غیب ہیں۔ عالمِ روحانی دنیا سے پنہان اور مُردوں سے دنیا پوشیدہ۔ پھر غیب کے لئے کوئی حد مقرّر نہیں۔ جسے حقیقی طور پر غیب کہا جائے۔ پھر غیب یہی عالم ہے، کیونکہ پوشیدگی اور دوری کا نام ہی غیب ہے۔ پوشیدگی حجاب کا اور دوری مسافت کا نام ہے۔ حجاب اور مسافت جسم ہے۔ جان و عقل میں نہ حجاب ہے نہ مسافت۔ اس لئے فرماتا ہے کہ عالم کا جاننے والا ہے اور اس کی سطح پر جو عالمِ علوی ہے کسی کو نہیں چڑھاتا۔ مگر جو شخص
۱۱۸
رُسل سے پسند کیا گیا ہو۔ یعنی حضرت مولانا علی مرتضی لذکرہِ السّجود و التسبیح قائم کے درجے ہیں۔ پھر یہ قائم اپنے آگے اور پیچھے کے اشخاصِ امامت کو رشتۂ نور اللہ میں پروتا ہے جو کہ وہ امامانِ ناظرانِ رسل یعنی گواہ ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ انھوں نے اپنے ربّ کے پیغامات یعنی قائم کی خبریں پہنچا دی ہیں اور قائم نے اپنی لپیٹ میں لیا جو کچھ ان کے پاس تھا اور ہر چیز کو گنتی میں گھیر لیا۔ یعنی بحالِ روحانی اور ھیولیٰ کے بغیر اس نے کل عالم یاکہ جسمِ کلّ کی صورتِ لطیف کو عالمِ بالا میں پہنچایا۔ اس جہان کا اٹھ جانا یہی ہے۔ اس میں جو بات سوال طلب ہے وہ یہ ہے کہ عالم بالا جانا مومنوں کو ازخود نہیں بلکہ امام یا حدود کی نسبت سے ہے۔ پورے دور کے انبیاء و امامان کے فعل قائم کی طرف سے منسوب ہونے کی وجہ سے اور عالم بالا میں ماضی اور مستقبل نہ ہونے کہ وجہ سے۔ حضرت قائم علینا سلامہ اپنے سے آگے اور پیچھے کے سلسلۂ امامت کو با رشتۂ نورِ الٰہی پیغمبروں کے دلوں میں پروتا ہے، کیونکہ حقیقی نظارت دل ہی میں ہوتی ہے۔
اس تاویلی ثبوت سے یہ مطلب روشن ہوا کہ بڑے دَور کے آخری فعل کا نام “حصی” ہے اور وہ حضرت قائم کا فعل ہے جو کہ سارے حالات، واقعات اور کلّی تواریخِ کائنات اور تمام علوم و فنون و نقوشِ مخلوقاتِ ارض و سماء کو گھیرتا اور ان کو ہیولیٰ سے مجرّد کرتا ہے۔ اس کا دوسرا لفظ “کُنۡ” ہے۔ لطیف سے کثیف بنانے کو “خلق” اور
۱۱۹
کثیف سے لطیف بنانے کو “کن” کہتے ہیں۔ خلق میں وقت لگتا ہے اور “کُنۡ” میں کوئی وقت نہیں۔
تاویل: وَکُلَّ شَیْ ءٍ اَحْصَیْنٰہُ فِیْ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۔
ترجمہ: اور ہر ایک چیز کو ہم نے امامِ ظاہر میں گھیر رکھی ہے۔
۱- یعنی روحانی صورت میں تمام چیزوں کو جمع کی گئی ہیں۔ گھیرنے میں یہ معنی پوشیدہ ہوتے ہیں: کسی چیز کو کہیں نہ جانے دینا، محدود کرنا، منتشر چیزوں کی یکجائی، ان کو ضبط اور قابُو میں رکھنا، چیزوں کی باہمی نزدیکی وغیرہ۔
۲- ہم نے کل ارواح و عقول کو اس امامِ ظاہر میں محصور (گھیرنا) کردیئے ہیں جو ان کے زمانے کا ہو۔ یعنی امام مبین تنوین کے ساتھ آنے سے اماموں میں سے ایک امام مُراد ہے۔ روحانیّت میں جو چیز ہو وہ عقل اور روح کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ اس لئے چیزوں سے مراد ارواح و عقول ہیں۔ اگر بیانِ مذکور کی بناء پر یہ سوال اٹھایا جائے کہ آپ نے لفظِ احصٰی میں کُل عالم کے نقوش موجود ہونے کا اثبات کیا تھا۔ اب وہ عقل و جان کیسے ہوسکتے ہیں۔
جواب یہ ہے کہ اگر فی المثل روحانیّت میں پتھر کا نقشہ ہوتو اس میں بھی عقل و جان ہوتی ہے۔
۳- ہم نے ہر چیز کو علم البیان والے امام میں تاویل سکھائی ہے۔ کنکرمارنا تاویل میں مسئلہ دینے کو کہتے ہیں اور مبین کے معنی بیَان
۱۲۰
کرنے والا ہے۔
۴- ہم نے ہر ایک چیز کو جو وہ غرض تھی امامِ گویندہ میں جوہر بنایا ہے۔ کنکر کی حقیقت لعل، یاقوت وغیرہ ہے جسے جوہر کہتے ہیں۔
۵- ہم نے جمیعِ علوم و معارف کو گوہرِ عقل میں سمو دیئے ہیں جوکہ امامِ زمانؑ کے پاس ہیں۔
۶- ہم نے دونوں جہان کی جُملہ اشیاء کو بلامکان دونوں کے درمیان والے امام میں جمع کئے ہیں۔ کل شیءٍ سے دونوں جہان کی چیزیں مراد ہیں۔ مبین بروزنِ مقیم اور بین سے مشتق درمیان میں رہنے والاہے۔
۷- اور ہر چیز کے کل کو ہم نے امامِ ظاہر میں گوہر بنایا ہے۔
۸- اور دونوں جہان کی ساری چیزوں کو ہم نے امامِ گویا میں مجمتع کردیا ہے۔
غرضیکہ لطائف میں سے کوئی ایسی لطیف شے نہیں جو امامِ زمانؑ کی ذاتِ عالی صفات میں موجود نہ ہو۔ اس لئے مذکورہ آیت شریفہ کی تشریح میں کوئی شُبہ کی گنجائش ہی نہیں۔ اس تاویل کی صداقت کی ساری دلیلیں موجود ہیں۔ مذکورہ دلائل پر مزید ایک اور دلیل یہ ہے کہ اگر عقل کو بغیر جِسم کے دنیا میں موجود ہونا ممکن ہوتا تو وہ بغیر جسم کے ضرور موجود ہوتی۔ کیونکہ اگر کوئی شخص اپنا کام خود اچھی طرح سے اور مکمل طور پر کرسکتا ہو تو وہ کبھی دوسروں کا محتاج نہیں
۱۲۱
ہوتا۔ جزوی عقول سے ان کے کل کے متعلق کچھ علم حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر عالمِ مجرّد عقول میں ان کی تکمیل کی ساری چیزیں ممکن ہوتیں تو ان کا یہاں آنا فضول ہوتا۔ معلوم ہوا کہ عقل کی تکمیل کا طریقۂ احسن یہی ہے جواب ہے:
فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (۳۰: ۳۰)۔
ترجمہ: “اللہ کا پیدا کرنا وہی ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا۔”
یعنی پہلے کی خلقت بھی بالکل اسی طرح ہوئی تھی جس طرح تمہارے زمانے میں ہوتی ہے (اس آیت کی تاویل میں علمِ توحید کا ایک بے پایان خزانہ چُھپا ہوا ہے۔ اس لئے جن بزرگوں کو اس علم سے واسطہ ہو وہ اس سے فائدہ اٹھائے)۔
جب یہ ثابت ہوا کہ جزوی عقل کا تعلق انسانِ ناقص کے ساتھ ہے اور وہ صرف جسم میں عقلِ جزوی کہلانے کی حقدار ہوتی ہے تو پھر درست ہوا کہ کلّی عقل کا تعلق انسانِ کامل کے ساتھ ہے۔ روحِ جزوی اور روحِ کلّی بھی اسی طرح ہیں۔ پھر یہ دلیل روشن ہے کہ انسانِ کامل میں روحِ کامل اور عقلِ کامل موجود ہیں، اور ان تینوں چیزوں کی اتحادی، انحصار اور احاطے سے کوئی شۓ باہر نہیں۔ میں نے روحانی اور جسمانی کل کے متعلق سمجھانے کے لئے اسی کتاب میں لکھا ہے۔
مثال:
سمندر سے دور افتادہ پانی کی مختلف شاخیں سمندر
۱۲۲
کے اجزاء ہیں اور سمندر ان تمام شاخوں کا کُل ہے، یعنی علی الترتیب ہوا کی رطوبت، بادل، بارش یا برف، پہاڑوں کی دائمی یخ اور وہ پانی جو کسی صورت میں زمین میں داخل ہو کر پھر چشموں کی شکل میں نکلتا ہے یا میدانی علاقوں میں کنویں (کھوہ) کی صورت میں نکالا جاتا ہے، ندی، نالے، نہریں اور وہ رطوبت جو نباتات میں ہے، اگرچہ چھوٹی سے چھوٹی چیزیں بھی کیوں نہ ہوں، اور جملہ حیوانات کی تری خواہ کس قدر بھی چھوٹا ذی حیات کیوں نہ ہو یہ سب سمندر کے اجزاء ہیں اور سمندر ان کا کُل ہے۔
ہوا جس کی طبیعت گرمی اور تری ہے، کرّۂ اثیر (آگ کا کرّہ) سے گرمی اور سمندر سے تری ہر وقت حاصل کرتی ہے، اس لئے ہوا کو مثال کے طور پر آگ کا جسم اور سمندر کی روح مان لو، کیونکہ لطافت اور ترکیب کی دلیل سے یہ مثال درست ہے۔ اب گوشِ ہوش سے سنئے کہ سمندر اگرچہ بظاہر اپنے اجزاء سے دور اور علٰحیدہ ہے، لیکن درحقیقت اپنے اجزاء پر محیط ہے۔ آپ کو تعجّب نہ ہو، میں دلائل سے ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ سمندر اپنے اجزاء پر کس طرح محیط ہے۔
پہلی دلیل یہ ہے کہ مذکورہ بیان کے مطابق سمندر سے دور پانی کا کوئی چھوٹے سے بھی چھوٹا قطرہ ایسا نہیں جو ابتدا میں سمندر سے جدا ہو کر آیا ہوا نہ ہو، اور وہیں پر از خود یا اور کسی وجہ سے پیدا ہوا ہو، بلکہ مذکورہ تمام شاخیں پہلے سمندر سے ملی ہوئی تھیں، اس لئے
۱۲۳
جس چیز کا نام سمندر ہے وہ ان پر محیط (گھیرے ہوئے) تھا اور خشکی کا تمام پانی اپنے “کُل” کی وجہ سے خشکی پر آسکا، اور یہاں آکر کچھ پانی دوسرے عناصر (مٹی، ہوا، آگ) کی معیّت میں نباتات، جانور اور انسان کی شکل میں نمودار ہوا۔ اگر یہ پانی بطریق وہم کسی ایسی چٹان میں ہوتا جو کسی پہاڑ یا زمین کے نیچے ہونے کی وجہ سے ہزاروں برس گِھستا مِٹتا نہ ہو اور اس چٹان سے پانی نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو، تو ہرگز وہ پانی نہیں نکل سکتا، اور نہ اس کی کوئی قدر و قیمت ہوسکتی ہے، جس طرح نباتات، جانور اور انسان کے جسم بنانے میں ہوتی ہے، اسی طرح جوہڑ اور تالاب پر سوچیے! گرمیوں میں چند دنوں یا چند ہفتوں کے بعد جوہڑ اور تالاب کے پانی کا وجود اپنے حق میں ختم ہو جاتا ہے، یعنی بتدریج بخارات کی شکل میں ہوا سے مل جاتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کیوں ختم ہوا؟ اس لئے ختم ہوا کہ جوہڑ اور تالاب کے پانی تک ان کے “کُل” یعنی سمندر سے کوئی سلسلۂ فیض لگا ہوا نہیں تھا۔ اس کا مطلب عیان ہے کہ اگر کسی ندی نالے یا بارش وغیرہ سے کچھ پانی مسلسل یا وقتاً فوقتاً جوہڑ اور تالاب میں گرتا رہتا تو کبھی یہ دونوں ختم نہ ہوتے۔ پھر معلوم ہوا کہ خشکی کے تمام پانی سمندر کے اجزاء ہیں، کیونکہ یہ سمندر سے آتے ہیں اور وہاں جانے والے ہیں، اور سمندر کے بغیر یہ ختم ہوجا تے ہیں۔ بحکمِ حدیثِ شریف:
کُلُّ شَیْءٍ یَرْجِعُ اِلیٰ اَصْلِہٖ ۔ یعنی ہر چیز اپنی اصل (جڑ، بنیاد،
۱۲۴
اساس، کان اور کُل) کی طرف واپس جاتی ہے۔
تو اس چیز کی اصل یا کُل اس چیز پر محیط ہے، کیونکہ یہ اپنے کُل کے دوامی عمل کے گھیرے میں ہے، مثلاً کسی بڑے دریا کو لے لیجئے جو سمندر سے دور بہتا ہو، دریا بہتا ہے اس لئے کہ اس کے اوپر کی طرف سے سمندر اپنے عمل سے دھکیلتا رہتا ہے، یعنی اگر سمندر سے بارش نہ ہو تو دریا کچھ عرصہ کے بعد ختم ہوجائے گا۔
دوسری دلیل:
ہوا جو سمندر کے حق میں روح کی مانند ہے اور سمندر کو اس کے سارے عمل میں مدد دیتا ہے اور سمندر ہوا کو مدد دیتا ہے، یعنی ہوا کی تری سمندر سے ہر وقت ملتی ہے تو پھر یہ ہوا جو بلاشک سمندر کی روح کی حیثیت سے ہے، اس لئے سمندر کا عمل بشرکتِ ہوا اپنے اجزاء پر محیط ہے۔
ان دلیلوں سے ثابت ہوا کہ جسمانی طور پر بھی کسی چیز کے گھیرے جانے کی مثالیں موجود ہیں، مثلاً کسی مختار بادشاہ یا کوئی دانا صَدر کی مثال سمجھئے کہ اس نے اپنی تدبیر سے اپنے ملک کو کس طرح گھیرا ہے۔ حقیقت میں وہ حاکم یا صدر اپنی حکمتِ عملی سے اپنے ملک کے گرداگرد آنے کے علاوہ اپنے ملک والوں کے دلوں میں بھی ایک وجہ سے موجود ہے، اور وہ وجہ یہ کہ لوگوں کے دلوں میں یا تو اپنے حاکم کی طرف سے خوشی ہوتی ہے یا ناراضگی۔ پھر یہ خوشی یا ناراضگی اور کچھ نہیں صرف اس شخص کے اثرات ہیں۔ معلوم ہوا کہ ایک ایسی چیز بھی ہے
۱۲۵
کہ اس سے دوسری بہت سی چیزیں پیدا ہوتی ہیں، اور وہ کم یا زیادہ نہیں ہوتا ہے، اور یہ صرف روحانی ہے۔ مقصودِ سخن یہ ہے کہ ایک چیز اپنی جگہ پر ہوتی ہوئی دوسری بہت سی اشیاء پر محیط ہونے کی مثالیں جسمانی طورپر بھی موجود ہیں۔ پھر روح تو اپنی خصوصیات کی وجہ سے جسم سے بہت بالا ہے، لیکن جس طرح دنیاوی چیزوں کو ان کے “کل” گھیرتے ہیں، یعنی خاکی ذرّات پر ان کا کل یعنی کرۂ زمین محیط ہے، آبی ذرّات پر سمندر محیط ہے، بادی ذرّات پر کرّۂ ہوا محیط ہے، آتشی ذرّات پر کرّۂ اثیر محیط ہے، اسی طرح فلکِ قمر اپنے اجزا کا “کل” اور محیط ہے۔ بالکل اسی طرح ہر آسمان اپنے اجزاء کا “کل” اور محیط ہے، اور اخیر میں فلک نہم سارے آسمانوں اور عناصر پر محیط ہے۔ نیچے سے اوپر تک یعنی فلک نہم تک اوپر کا کرہ نچلے کرے پر محیط ہے۔ فلک ہشتم سے کرّۂ خاک تک ہر کرہ اپنے اوپر کے کرے میں اس طرح سمویا ہوا ہے جس طرح پیاز کے پرتیں (پرت۔ پوست) تہ بہ تہ ہوتے ہیں اور اوپر کا پرت نچلے پر محیط، نچلا پرت اوپر کے پرت میں گھرا ہوا۔ بالکل اس عالم کی ظاہری شکل اس طرح ہے، لیکن اس کی حرکتوں کا تصوّر دوسرا ہے جو دائرے میں تیروں کی شکل سے دکھایا گیا ہے۔
نورِ امامت میں عالمِ لطیف مستغرق ہونے کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ سورج اقتضائے حکمت اور عدل کے لحاظ سے اس عالم کے
۱۲۶
مدارِ اوسط پر واقع ہے، یعنی چوتھے آسمان کے قطر کے درمیان میں ہے۔ اس قیاس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جتنا فاصلہ سورج سے حاشیۂ عالم تک ہو اتنا فاصلہ مرکز تک ہے، تاکہ سورج اپنے مدار پر گردش کرتے ہوئے جسمِ کلّ کو برابر روشنی پہنچا سکے۔ اب یہ کہنا ہے کہ اگرچہ سورج خود تو آسمانوں کے گھیرے میں ہے لیکن اس نے اپنے نور سے سارے عالم کو گھیر لیا ہے۔ چنانچہ رات کے وقت جب آسمان صاف ہوتو بہت سے تارے زمین پر کسی قدر روشنی پھینکتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ تاروں سے جو تھوڑی سی روشنی زمین تک پہنچ جاتی ہے کتنے فاصلے سے آتی ہے؟ سنئے! اس روشنی کی مسافت دن کی روشنی کی مسافت کی نسبت تگنی سے بھی کچھ زیادہ ہوتی ہے، یعنی سورج سے آٹھویں آسمان کے تاروں تک اور تاروں سے چوتھے آسمان تک اور وہاں سے زمین تک، یعنی دن کو تو روشنی چوتھے آسمان سے سیدھی آتی ہے اور رات کو سورج اور تاروں کا درمیانی فاصلہ اور تاروں سے چوتھے آسمان تک کا فاصلہ زیادہ ہے، پھر قیاس کریں کہ سورج کی روشنی کتنی دور تک پہنچ سکتی ہے۔
اس دلیل سے یقین ہے کہ سورج کی روشنی اس عالم کی سطح تک پہنچتی ہے اور عالم کو اپنی روشنی میں گھیر لیا ہے۔ اسی مثال سے سمجھ لینا کہ امامِ زمانؑ جو کہ عالمِ دین کے چوتھے آسمان پر جلوہ گر
۱۲۷
ہے اس سے بھی مکمل اور پورے طور پر عالمِ دین کو گھیر لیا ہے، جس طرح سورج نے گھیرا ہے، کیونکہ سورج تو جسم ہے اور جسم بلا حرکت ہر جگہ نہیں پہنچ سکتا، اور امامِ زمان روح ہے یعنی نور، وہ صرف ارادہ سے ہر جگہ پہنچ سکتا ہے۔
۱۲۸
حقیقتِ کلّ و جُزو
عالم گیر روح کا نام نفسِ کُل اس لئے رکھا گیا ہے کہ تمام انسانی نفوس اوّل سے آخر تک اس سے پیدا ہوئے ہیں، چنانچہ جملہ خلائق کے نفوس نفسِ کُلّ کے اجزاء ہیں، مگرنفسِ کُلّ کا تصوّر کسی جسمانی کلّ کے تصوّر کی طرح نہیں کرسکتے ہیں، چونکہ مادّیاتی اجسام میں متعدد اجزاء ہوتے ہیں، اگر ان میں سے ایک بھی جزو نکال دیا جائے تو یہ کُلّ کہلانے کے قابل نہیں رہتے ہیں، یا سوائے ایک حصّہ کے تمام حصص اس میں شامل کر دیئے جائیں تو بھی کُلّ نہیں کہہ سکتے ہیں، کیونکہ ایک جزو اس سے علٰحیدہ ہے۔ ایک ہی جزو کی علٰحیدگی کی وجہ سے قانوناً وہ جامع الاجزاءِ کُلّ کے نام کا حقدار نہیں رہتا ہے۔ جب اس علٰحیدہ شدہ جزو کو اس جامع الاجزاء سے ملا دیا جائے تو اس وقت وہ حدِّ کُل تک پہنچ سکتا ہے اور اس کو حقیقتاً کُلّ کہنا درست ہوگا۔ یہ جسمانی کُلّ اور اس کے اجزاء کی حقیقت ہے۔
اب روحانی کُلّ اور اس کے اجزاء کے متعلق اگر ہم غور کریں تو دورِ حاضرہ کی سائنس سے بہت مثالیں سمجھ سکتے ہیں، جس نے روحانیّت کے طلب گاروں کو تعلیمی مثالوں سے مستفیض بنادیا ہے۔ یہ
۱۲۹
مثالیں جسمانی ترقی کے تقریباً آخری کرشمے ہیں، لہٰذا جسم کے مدارجِ کمالیّت کی حقیقت پر غور سے تبصرہ کیا جائے تو روح کی توانائی کے درجۂ اوّل کا قیاس کرسکتے ہیں، مثال کے طور پر اگر ایک اعلیٰ چیز ہمارے سامنے موجود نہیں، تو ایک ادنیٰ چیز کی سب سے بڑی صفت کی مثال سے اس اعلیٰ چیز کی ایک چھوٹی سی صفت کا اندازہ کرسکتے ہیں، فرض کیجئے ایک آدمی ایک دریا کے کنارے پر بیٹھ کر عالمِ تصوّر میں اس دریا کو بہت ہی عمیق اور وسیع سمجھے تو یہ تصو ر اسکے لئے سمندر کا ایک ادنیٰ مثال پیش کرتا ہے، اگرچہ اس نے سمندر کو نہیں دیکھا ہے، پھر بھی سمندر کے متعلق ایک تصوّر قائم کرسکتا ہے جوکسی حد تک درست ہے۔
علاوہ ازین جسم اور روح کے درمیان کئی متضاد صفات موجود ہیں جن کی وجہ سے روحانی قوّت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، فی المثل جسم فانی ہے اور روح باقی ہے، اسی طرح فانی ضد ہے باقی کی، چنانچہ جسم کیلئے مکان و زمان کی ضرورت ہے، روح کے لئے وقت اور جگہ معین نہیں، جسم کیلئے کئی چیزیں رکاوٹ ہوسکتی ہیں لیکن روح کے لئے کوئی چیز حائل نہیں، باوجود این ہمہ اس ایٹمی دور میں جسمانی اور مادّیاتی ارتقاء کا یہ عالم ہے کہ حضرتِ انسان کے لئے ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک رسائی بھی ممکنات میں سے نظر آتی ہے۔ ہم ہر روز ان عجیب و غریب ایجادات کے مشاہدے کرتے ہیں جن کو جسمانی
۱۳۰
کمالات کہا جاسکتا ہے، ہزاروں میل دور سے ہم ٹیلیویژن کے ذریعے ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکتے ہیں، اس کے علاوہ ٹیلیفون، ریڈیو، وائرلیس، دوربین، محرک تصویریں یعنی فلمیں جو عجیب و غریب ہونے کے باوجود ہمارے لئے اس قدر معمولی اور سادہ نمایان ہوگئے ہیں کہ ان کو کوئی بھی تعجب کی نگاہ سے نہیں دیکھتا ہے۔
معلوم ہوا کہ جسم، روح کے مقابلے میں کوئی قوّت نہیں رکھتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ جسم روح کے مقابلے میں بالکل بے جان اور جامد ہے، اس کے باوجود روح کی وساطت سے مافوق الفطرت امور سرانجام دے سکتا ہے، ہزاروں میل کی مسافت لمحوں میں طے کرسکتا ہے، ہزاروں میل دور کی چیزیں دیکھ سکتا ہے، ہزاروں سال کے حالات کا مطالعہ کرسکتا ہے، آسمان پر چڑھ سکتا ہے، کائنات کو نقطۂ نظر میں سمو سکتا ہے، غرض وہ سب کچھ کرسکتا ہے جن کو ہم دیکھتے ہیں اور سُنتے ہیں۔ اگر جسم جس کی حیثیت سوائے مشتِ خاک کے کچھ بھی نہیں، اس قدر عجیب و غریب کمالات روح کے تعاون اور امداد سے انجام دے سکتا ہے تو اندازہ لگائیے کہ روح بذاتِ خود کس قدر توانا اور قوی ہوگی۔ اس قیاس کے ساتھ ساتھ آپ نفسِ کُلّ کا اندازہ لگائیے کہ اس کا جزو اس قدر قادر اور قوّی ہو تو نفسِ کُلّ کا اندازہ کس طرح کرسکیں اور اس کی لامحدود قوّتوں کا تصوّر کیونکر
۱۳۱
کرسکیں۔
سنیما کے پردۂ سیمین پر آپ کو وہ سب محرک تصویریں نظر آتی ہیں جن کو آپ انسانی زندگی کے ہر پہلو پر تنقید کرتے ہوئے دیکھتے ہو۔ یہ تصویریں اور صاحبِ تصویروں میں کوئی پیوستگی نہیں، سوائے اس کے کہ صاحبِ تصویر یعنی ایکٹر کی تصویرلی گئی ہے، نہ تصویر لینے سے صاحب تصویر میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔ ہزار سال پہلے مَرے ہوئے ایک شخص کی تصویر بھی فلم کے پردہ پر تماشائیوں کے لئے زندہ انسان کی طرح باعثِ تفریح ہوسکتی ہے، اگر صاحبِ تصویر میں کوئی ایسی حکمت ہوتی کہ بجائے تصویرنکلوانے کے خود ہی تصویربن جاتا تو وہ شخص قیودِ جسم سے آزاد ہوکر جسمِ لطیف تیار کرلیتا۔
اس جسمانی مثال سے ایک ایسے کُلّ کا تصوّر ہوسکتا ہے جس کی تکمیل اجزاء سے ہوئی، اور وہ بےنیاز ہوا لیکن اگر اس محسوسی مثال کی مَدد سے ایک اور فرضی مثال کا تصوّر کریں تو وہ روحانی کُلّ کے بالکل قریب ہوگی، یعنی آپ یہ فرض کریں کہ فلمی دنیا ایک روحانی کُلّ ہے اور تصویروں کے مطابق تصویر والوں کو پیدا کیا گیا ہے، نہ کہ ان سے تصویریں لی گئی ہیں، یعنی ان سے ان کی تصویریں پہلے موجود تھیں اور یہی روح کی حقیقت ہے۔
حدیث شریف میں آیا ہے کہ: خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالٰے اٰدَمَ
۱۳۲
عَلیٰ صُوْرَۃِ الرَّحْمٰنِ۔
یعنی “اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی رحمانیت کی تصویر کے مطابق پیدا کیا ہے۔”
مولائے روم جو کاشفِ اسرارِ الٰہی تھے، اس موضوع پر یوں فرماتے ہیں:
تن چوسایہ بر زمین و جانِ پاکِ عاشقان
دربہشت عدن تجری تحتہا الانہار مست
یعنی عاشقانِ الٰہی کے جسم سایہ کی طرح زمین پر ہے مگر ان کی روح جنّت العَدن میں مست ہیں، جہاں نہریں روان ہیں، یعنی شہد، شراب، دودھ اور پانی کی چار نہریں روان ہیں۔ قرآنِ مجید کی اس آیتِ کریمہ میں بھی یہی حقیقت نمایان ہے:
“وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاىِٕنُهٗ ۡ وَمَا نُنَزِّلُهٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (۱۵: ۲۱)۔ یعنی کوئی بھی چیز نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں اور اس چیز کو عالم میں گنجائش کی مقدار پر نازل کرتے ہیں۔”
معلوم اس عالَم کا نام ہے اور بقدرِ معلوم سےمراد عالّم کی گنجائش ہے۔ معلوم ہوا کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اللہ کے پاس بشکلِ روحانی موجود ہے۔ ہمارا یہ مضمون مثال در مثال ہورہا ہے، اس لئے پھر ایک بار روحانی جزو وکُلّ اور بہشت کی حقیقت کی طرف توجّہ مبذول
۱۳۳
کریں۔
ہمارا یقین ہے کہ قرآنِ شریف میں جہاں کہیں لفظ “کُلّ” آیا ہو وہاں ضرور کُلّ کے متعلق معلومات موجود ہیں، لہٰذا اس آیتِ حکمتِ آگین پر چشمِ بصیرت سے تبصرہ کرتے ہیں:
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّهَا (۰۲: ۳۱)یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے بہترین طریقے پر حضرت آدمؑ کو سارے نام سکھائے اور کوئی ایسا نام نہ رہا جو اسے نہ سکھایا گیا ہو۔ خواہ وہ خالق کے نام ہوں یا مخلوق کے، اور سب سے بہترین طریقہ وہ تھا کہ اللہ نےکل مسمّیات کو بہشت میں بشکلِ نورانی اور روحانی نعمتوں کی حیثیت سے بتدریج دکھایا، ساتھ ہی ان مسمّیات کے نام، وجہ تسمیہ، شکل و صورت اور ان کے مظاہرات کی تخلیق و فنا کی غرض کی ساری حکمتیں سکھائیں۔ غرضیکہ کوئی ایسی بات نہ رہی جو علمِ الاسماء میں نہ آئی ہو۔ بزرگانِ دین نے اس بات کی تحقیق کی ہے کہ علم الفاظ میں ہے اور الفاظ اسماء ہیں، پھر اسماء کے مسمّیات ہوتے ہیں، پھر سارے اسماء و مسمّیات اس عالَم میں سموئے ہوئے ہیں۔ آدمِ حقیقی یعنی عقلِ کُلّ کو یہی عالّم کلی طور پر نورانی شکل میں دکھایا جارہا تھا، جس سے کوئی اسم یا مسمّٰی باہر نہ تھا، اور ایک دلیل سے دنیاوی حساب کے مطابق یہ تمام روحانی لذّتیں ۰۰۰ ۹۰۰(نو لاکھ) برس کے عرصہ میں ایک دفعہ پایان تک پہنچی تھیں۔ پھر اس صورت میں ایک تازہ عمل کی ضرورت محسوس ہورہی تھی
۱۳۴
اس لئے اپنا دَوری مظہر دنیا میں بھیجنا چاہتا تھا لیکن کُل روحانی و عقلانی نعمتیں بحالِ خود موجود تھیں اور عقلِ کُلّ بذاتِ خود نعمتوں سے مستغنی، لیکن اپنے مظہر کی طرف سے نیاز مند تھا۔ عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ کے مظاہر یا کہ سائے دنیا میں آدم و حوّا کے نام سے اس طرح آئے جس طرح دوسرے انسان آتے ہیں۔
اس حقیقت کے بیان سے آپ کو یقین ہوگا کہ بہشت بھی کُل میں موجود ہے اور غور سے پڑھا ہوگا کہ عالمِ جسمانی کی نورانی شکل ہی بہشت ہے اور وہی روحانی کُل ہے، وہی آخرت اور وہی عالمِ لطیف ہے۔ یہی مطلب بالفاظِ دیگر اگر چشم بصیرت سے دیکھا جائے تو عالمِ لطیف اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہے جس کے پڑھنے سے کوئی شک باقی نہیں رہتا۔
وَتَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ (۱۰: ۳۷)۔
یعنی “قرآن میں اس کتاب کی تفصیل ہے، جس میں شک (ضدّ یقین) نہیں، یعنی یقین ہے، اور یقین صرف آنکھوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر طلب لذّاتِ روحانی کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ بہشت ہے۔
سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ (۵۷: ۲۱ )۔
ترجمہ: اور ایک دوسرے سے آگے نکلو، اپنے پروردگار کی ایک بخشش اور ایک بہشت کی طرف، جس کی نمود آسمان اور زمین کی
۱۳۵
نمود کی طرح ہے۔
اگر روحانیّت سے دیکھا جائے تو وہی نفسِ کُلّ ہے۔
وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (۰۲: ۲۵۵) یعنی اس کی کرسی ( نفسِ کُلّ ) نے آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر سمویا ہے۔
اگر نظریۂ علم و حکمت سے دیکھا جائے تو وہی عقلِ کُلّ ہے۔
وَسِعَ رَبِّيْ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ (۰۶: ۸۰)۔
میرے پروردگار نے ہر چیز کو علم (عقلِ کُلّ) میں سمورکھا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ، تو یہی مطلب اور بھی واضح ہوا ہوگا، کہ روحانی کُلّ سے کوئی شۓ باہر نہیں، بلکہ جسمانی کُلّ بھی روحانی کُلّ میں سمویا ہوا موجود ہے اور وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اب روحانی کُلّ کے متعلق صرف اتنا کہنا ہے کہ یہ درحقیقت قسمت پذیر نہیں، یعنی یہ تقسیم نہیں ہوسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں روح ایسی نہیں کہ ایک سے دو ہونے میں اس میں کوئی کمی واقع ہو، کیونکہ کمی و بیشی جسم کی صفت ہے، مثلاً عالمِ جسمانی ایک ہے اور اس کی شکل نورانی یعنی عالمِ روحانی بھی ایک ہے۔ لیکن اس عالَم سے خدائے تعالیٰ ہزاروں نہیں بلکہ لاانتہا عالمِ نورانیت میں موجود کرسکتا ہے تاکہ اپنے بندوں میں سے ہر ایک کو جدا گانہ ایک ایک عالم میں ابدی شاہنشاہیت عطا کرے، اور یہ بھی اس کی قدرت کے لئے ہمارا اعتراف ہے کہ ایک ہی روح ان بے شمار عالموں میں بیک
۱۳۶
وقت بہر شکل و صورت موجود ہو سکتی ہے اور یہ سب کُل کے ذریعے سے ہوسکتا ہے۔
چاروں اصل امامِ زمان میں
نبی صلعم نے فرمایا کہ اللہ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔ اور ایک حدیث میں فرمایا کہ، سب سے پہلے اللہ نے میرا نُور پیدا کیا۔ اور یہ تینوں حدیثیں مشہور ہیں۔ لیکن دانا لوگ جانتے ہیں کہ ترتیب میں تینوں چیزیں ایک ہی حالت میں اوّل نہیں ہوسکتی ہیں۔ خواہ وہ تقدّمِ شرفی ہو یا تقدّمِ زمانی ہو۔ حکمائے دین اور بزرگانِ اہلِ تصوّف نے ان تینوں حدیثوں کا خلاصہ ایک بتایا ہے، یعنی عقل، قلم اور نورِ محمدی ایک ہے، اسی طرح رسول اللہؐ کے فرمان کے مطابق نبیؐ اور علیؑ ایک ہی نور ہیں، اور وہ اکیلا نور امامِ زمانؑ ہے، پھر امامِ زمانؑ ہی عقلِ کُلّ، نفسِ کُلّ، ناطق اور اساس ہے۔
اس حقیقت کی پہلی دلیل یہی ایک مسمّٰی کے پانچ نام میں موجود ہے چنانچہ عقلِ کُلّ اسے کہتے ہیں جو کُلّ اشیاء پر محیط ہو اور کوئی شے اس سے باہرنہ ہو،کیونکہ اگر عقلِ کُلّ کے گھیرے سے کوئی چیز باہر بھی ہوتی تو وہ عقلِ کُلّ کُل نہیں کہلا سکتا ، جس طرح ایک جزو کی کمی کی وجہ سے
۱۳۷
کُلّ کا نام اٹھ جانے کی محکم دلیل اسی فصل میں لکھی گئی ہے اور نفسِ کُلّ اسے کہتے ہیں۔ جو بلحاظِ حیات و جاندہی جملہ اشیاء پر محیط ہو، کیونکہ اگر بفرضِ محال کوئی چیز نفس کُلّ سے باہر ہوتی تو اس صورت میں وہ چیز تین حالتوں میں سے ضرور ایک حالت میں ہوتی، یا وہ شے نفسِ کُل سے کامل تر ہوتی، یا اس کے برابر یا اس سے ناقص تراور چوتھی کوئی حالت نہیں۔ پھر ان تینوں حالتوں میں بھی دونوں چیزوں کی وحدت لازم ہوتی، کیونکہ کامل ناقص کو اپنے ساتھ کامل بناتا ہے اور جملہ صفات میں دو برابر چیزیں اگر لطیف اور بغیر حجاب کے ہوں تو فوراً مل جاتی ہیں، لیکن عالمِ امر میں کسی کام کے لئے دیر نہیں لگتی، پھر معلوم ہوا کہ عقلِ کُلّ و نفسِ کُلّ کے درمیان میں بحقیقت دوئی نہیں بلکہ ایک چیز کے دو نام ہیں۔
اسی طرح پاک محمّد صلعم ہیں۔ چنانچہ خدا کے قول کے مطابق رسولِ پاکؐ کُل عالمین کے لئے خدا کی رحمت تھے۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (۲۱: ۱۰۷)۔
عالمین عالم کی جمع یعنی عالمِ جسمانی، عالمِ روحانی، عالمِ عقلانی، دوسرے الفاظ میں کُل اشیاء جو اللہ کے امر سے پیدا ہوئی ہوں، پھر نبی پاکؐ رحمت کُل ہوئے اور کُل اشیاء پر ان کا نورِ رحمت محیط ہے، کیونکہ خدا کی رحمت نے سارے جہانوں کو گھیر لیا ہے اور عقل گواہی نہیں دیتی کہ خدا کی رحمت سے بالاتر کوئی چیز ہے، پھر
۱۳۸
دانش والے اس بات کے لئے ہرگز تسلیم نہیں کرسکیں گے کہ عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ میں رحمت نہیں، اور رحمت میں عقل و حیات نہیں، بلکہ اصلیّت یہ ہے کہ عقل و حیات ہی رحمتِ الٰہی ہے اور رحمتِ الٰہی عقل و حیات ہے، پھر دلیل سے معلوم ہوا کہ حضرت محمدؐ ہی اپنے زمانے کے عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ تھے۔
اب رہا اساس کی شناخت، اساس کہتے ہیں بنیاد کو، وہ حقیقت میں کُلّ کائنات و موجودات کی اوّلین بنیاد تھا، جس کے بغیر کوئی شۓ نہیں ٹھہر سکتی، وہ ساری چیزوں کا آغاز تھا، اس کا اسمِ مبارک علیؑ تھا اور خدا نے یہ نام رکھا تھا، چونکہ خدا کا قول سچائی اور عدل میں پورا ہوتا ہے یعنی جس چیز کو بلند کہے وہ واقعی بلند ہوتی ہے اور اس سے دوسری کوئی چیز بلند نہیں ہوسکتی۔ علیؑ کا یہ مبارک اسم جو خدا کے حکم سے رکھا گیا تھا، بلند یعنی اونچائی کے معنی رکھتا ہے۔
بلندی یا برتری دوقسم کی ہوتی ہے، برتریٔ شرفی و برتریٔ مکانی یعنی عزّت کی بلندی اور جگہ کی بلندی، دونوں معنوں سے مولانا علیؑ جملہ اشیاء سے برتر ہے، چونکہ اس کا نور عقلِ کُلّ، روحِ کُلّ اور رحمتِ کُلّ کے ناموں سے کُلّ عالم پر محیط ہے۔ جب مولانا علیؑ جملہ مخلوقات سے بالاتر ہیں تو اسے بالائے کُلّ کہنا بالکل درست ہوگا۔ اس قسم کی برتری صرف نام کی نہیں بلکہ اس میں وہ تمام صفات موجود ہیں جن کی وجہ سے برتر کہنا حقیقتاً درست ہوسکتا ہے، یعنی اس برتری میں بھی
۱۳۹
تمام چیزیں سموئی ہوئی ہیں، جس طرح عقل، روح اور رحمت میں سموسکتی ہے گویا مولانا علیؑ عقلِ کُلّ، نفسِ کُلّ اور رحمت کُلّ ہیں۔
اسی طرح امامِ زمانؑ ہے جس کا نور وہی نور ہے جو محمدؐ اور علیؑ میں تھا۔ مذکورہ بالا تمام صفات امامِ زمانؑ کے نور میں ہر وقت موجود ہیں۔ لفظِ امام اُمّ کے مصدر سے مشتق ہے، اس لئے اِمام القوم اور اُمُّ القوم دونوں کے معنی ایک ہیں، یعنی قوم کا سردار یا قوم کا امام۔ بعض دفعہ یہی لفظ اُمّ جو امام کے معنی میں آتا ہے، اُمّۃ (امام) سے بدل جاتا ہے، جس طرح خلیف سے خلیفۃ اور ملائک سے ملا ئکۃ وغیرہ بنتے ہیں، جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ہے کہ:
اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (۱۶: ۱۲۰)۔
حضرت ابراہیمؑ امام تھے، اللہ کی توحید منوانے والے اور وہ موحدوں کے سردار تھے۔
اس قدر تشریح کے بعد لفظِ اُمّ اور امام کی اصلیّت کو دیکھیں گے۔ لفظِ اُمّ یا کہ امام کے معنی ہر چیز کی اصل ہوئی، یعنی وہ چیز جو سب سے اوّل ہو، جس سے بہت سی چیزیں پیدا ہوئی ہوں، مثلاً اُمُّ الْکِتاَب کل کتابوں کی اصل، ہر زمانے اور ہر دور کی آسمانی کتابوں کا موجد، وہ اصل اور وہ موحد امامِ زمان کا نُور ہے۔ یقین ہو کہ دلیلاً امامِ زمانؑ ہر آسمانی کتاب کی اور ہر چیز کی اصل ہے اور یہ وہ اصل ہے جس
۱۴۰
سے کوئی شے مقدم نہیں، پس اُمُّ الْکِتاَب یعنی امامِ زمانؑ ہی عقل، روح، رحمت اور برتر ہے۔ یعنی عقلِ کُلّ، نفسِ کُلّ، ناطق اور اساس کا واحد نُور امامِ زمانؑ کا نور ہے۔
وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ (۱۵: ۷۹)۔
یعنی عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ دونوں امامِ مبینؑ سے کام کرتے ہیں۔
مولائے روم فرماتے ہیں:
عقلِ کُلّ و نفسِ کُلّ مردِ خداست
عرش و کرسی را مدان کزوی جُداست
ترجمہ: عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ شخص واحد ہے۔ یہ خیال ہرگز نہ کرنا کہ عرش و کرسی اس سے جدا ہے۔
۱۴۱
تطابق دورمہین و دور کہین و ایّامِ ہفتہ
قولہٗ تعالیٰ:
تَعْرُجُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَـنَةٍ (۷۰: ۰۴) وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (۲۲: ۴۷) وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ (۱۴: ۰۵)
ترجمہ: فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں، ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔ اور ایک دن تیرے ربّ کے پاس ایک ہزار برس کی طرح ہے جو تم گنتے ہو۔ اور ہم نے تجھے سات سات اور قرآنِ عظیم دیا ہے۔ اور انھیں اللہ کے دنوں سے یاد دلا۔ اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے اور شکر کرنیوالے کیلئے۔
۴۹+قرآن العظیم (محتجب) = ۵۰×۱۰۰۰=۵۰۰۰۰
۷+۷=۱۴= ہفت امام و ہفت حجّت از فرزندانِ ایشان، بطریقِ وحدت ہفت ہفت اشخاصِ امام ۷×۷ = ۴۹۔ اشخاصِ امامت پس از پیغمبر علیہ السّلام۔
۱۴۲
وحدت ہر ہفتی از اشخاص امامت چون ہفتۂ دین و دُنیا
۱۴۳
خراجِ عقیدت از اسماعیلیۂ چین
انبیاء لرگہ شھنشاہ مصطفیٰ نِنگ یاری کیم؟
اوّل علی المُرتضا یم مصطفیٰ نِنگ یاری دُور
ھر جھاد ننگ لشکریگہ نامدار سرداری کیم؟
ذُوالفقار نِنگ ایگاسی مولانا علی سرداری دُور
بندہ لرنِنگ عیبی پا پغوچی کیم و ھم غفاری کیم؟
جُملہ ادم ننگ علی ستّاری دور غفّاری دُور
قیسی نعمت دُور کہ تو گوماس لذّتی ھمہ راحتی؟
واحد ویکتا علی ننگ رنگ برنگ دیداری دُور
سُوزلا گوچی قرآن علی دور ھرلباسی دا آشکار
ھر زمان دا ھر مکان دا صاحب اسراری دُور
ھم مکان دا لا مکان داعرشی داھم فرشی دا
مرتضیٰ دُور مرتضیٰ ننگ بُوالعجائب کاری دُور
یارننگ جلوہ عجَب دُور ھر زمان منگ شکلی دا
عاشقان لرننگ عجب برد لبر عیّاری دُور
۱۴۴
من گُل و گلزارِ دُنیا غہ فقط مُحتاج اماس
ھر زمان جان و دلیم داعشقی ننگ گلزاری دُور
شاہ ننگ دیداروچون بس بیقرار دُور شول نصیرؔ
بیقرار لرننگ قراری شاہ نِنگ دیداری دُور
۱۴۵
جذبۂ روحیّۂ اسماعیلی شرقی ترکستان
من علی گہ بندہ دور من شاہِ سُلطانیم علی
طاعتیم حجیّم نمازیم دین وایمانیم علی
کنتُ کنزاً مخفیّاً انگلاپ خدایم ایستا سَام
باشقہ بر کشی تاپمادیم اُول گنجِ پنھا نیم علی
درد و غم دین جیغلامایمن جیغلاسام دیدار چون
راحتم نوریم شفایم حِرزودرما نیم علی
کوندہ یوزمنگ مقصد یم تا پتیم علی نِنگ فضلی دین
جان پنا ھیم مھربانیم مشکل آسانیم علی
شُول زمان سلطان محمد شاہ علی دُور اُول علی
نُور یزدانیم علی دُور مغزترانیم علی
حَیدرِ صفدر علی دُور فاتحِ خیبر علی
شاہ دورانیم علی دور شاہ مردانیم علی
لافتاح الاعلی لاسیف الاذوالفقار
ھر بلا دن ساقلا غوچی سن اے نگھبا نیم علی
۱۴۶
رمز حبلُ اللہ علی دُور عُروۃ الُوثقیٰ علی
مالک حور قصُور و خُلد و رضوانیم علی
ایککی عَالم داسَخْی سُلطان مُحمّد شاہ علی
حشر دا قاضی عَلی دُور شاہ شاہا نیم علی
۱۴۷
مُکرمانہ ہدیۂ ناچیز راچیزے شمار
ای شہِ دُورِ قامت نورِ مولانا کریم
ماہِ گردونِ امامت نورِ مولانا کریم
برزمین و آسمان نورِ خدائے ذوالجلال
باعث فضل و کرامت نورِ مولانا کریم
دیدۂ باطن چو بدھی شاہِ ملک دل شوند
مملکتھا زیرِ گامت نورِ مولانا کریم
ای خوشا! دیوِ جھالت از جھان خواھد گریخت
ازنھیبِ دَورِ تامت نورِ مولانا کریم
جانِ من با توست این تن سایہ آن جان خوش
عالمِ امن و سَلامت نورِ مولانا کریم
باھزاران نام یک نوری بہ ھردُوری عیان
درجھان باشد دوامت نورِ مولانا کریم
جامع الاسماست نامت اکرم و مکرم توئی
جانِ فدا سازم بنا مت نورِ مولانا کریم
۱۴۸
یافتہ عاشق تو گنجِ مرادِ دو جھان!
از گُہرھائی کلامت نورِ مولانا کریم
جُز وصالِ تو نخواھد این جھان و آنجھان
آنکہ شد مخمورِجامت نورِ مولانا کریم
ای سپھرِ عقل وجانِ فیض بخش و نور بار
کم نباشد فیضِ عامت نورِ مولانا کریم
مرکزِ علمِ حقائق رُوح مبسوطِ دو کون
دین قائم در نظامت نورِ مولانا کریم
چشم جانِ عاشقان را نورِ تو نورِ نظر
گوشِ ھوشِ شان پیامت نورِ مولانا کریم
عشق دیدہ صد قیامت از قیامت پیشتر
ازتو ھَر دم صد قیامت نورِ مولانا کریم
رام نشود تو سنِ دوران بہ شاھان ومھان
خوش توران اندر لجامت نورِ مولانا کریم
جلوہ ھائی رنگ برنگ بینند دردنیائے دل
از رُخِ ماہِ تمامت نورِ مولانا کریم
مکرمانہ ھدیۂ ناچیز را چیزے شمُار
از نصیرالدّین غلامت نورِ مولانا کریم
۱۴۹
علمِ رُوحَانی
عزیزو! جان و دِل کرنا فدائے علمِ رُوحَانی
کہ ہم آئے ہیں دُنیا میں برائے علمِ رُوحَانی
ہماری زِندگانی کی غرض ہاں معرفت ہی ہے
مگر یہ آ نہیں سکتی سوائے علمِ رُوحَانی
خودی کو اشکِ اُلفت میں ہمیشہ دھولیا کرنا
اِسی سے سُن سکے گا دِل صَدائے علمِ رُوحَانی
مریض جہل کا ہمدرد ہو جانا اگر چَاہو
تو ہر قیمت پہ کردینا دوائے علمِ رُوحَانی
اِسی میں رازِ قرآن ہے اِسی میں نُورِ یزدان ہے
کہ ہے سب سے بڑی رحمت عطائے علمِ رُوحَانی
اِسی کی قدر و قیمت ہے خُدا کی بادشاہی میں
بہائے دین و دُنیا ہے بہائے علمِ رُوحَانی
۱۵۰
[/page]
غُبارِ دہر اس کی رفعتوں کو چُھو نہیں سکتا
فلک سے بڑھ کے عالی ہے فضائے علمِ رُوحَانی
فلک پر تُم نہ جاسکتے ، اسی کا شُکر کرنا ہے
کہ خود جُھک جُھک کے آیا ہے سمائے علمِ رُوحَانی
علاجِ دردِ نادانی نہیں ہوتا ہے دُنیا میں
مگر یہ ہے کہ حاصل ہو شفائے علمِ رُوحَانی
عروسِ رُوح کا سنگار کامل کِس طرح ہوگا
نہ ہو جب تک اسے حاصل رِدائے علمِ رُوحَانی
وہ اِک دُنیا پہ مرتا ہے یہ اِک عقبیٰ پہ مرتا ہے
تمہیں ہونا ہے جیتے جی فنائے علمِ رُوحَانی
طُلوعِ نُورِ یزدان ہو فروغِ صبحِ عرفان ہو
ضیا پاشی کرے دِل میں ضیائے علمِ رُوحَانی
بہت ہیں نعمتیں لیکن نہیں ہے کوئی شیٔ ایسی
کہ عاقل منتخب کرلے بجائے علمِ رُوحَانی
وہ اِک گنجینۂ دولت وہ اِک سر چشمۂ لذّت
وہ اِک کانِ حلاوت ہے غِذائے علمِ رُوحَانی
۱۵۱
خُدا کی اِک رضا صدہا رضائیں لے کے آتی ہے
عظیمُ الشّان ہے سب سے رضائے علمِ رُوحَانی
دلِ سنگین سے جاری ہُوئے ہیں عِلم کے چشمے
مرے مولا نے مارا ہے عصائے علمِ رُوحَانی
کہاں یہ دولتِ دُنیا کہاں گنجینۂ عِرفان
زہے قسمت کہ مل جائے غنائے علمِ رُوحَانی
تعجّب ہے کہ اُس مُحبوب کی ازبس لِقائیں ہیں
لِقائے جانفزا اس کی لِقائے علمِ رُوحَانی
برسنے کو تُلی بارش دِلوں کے باغ و گلشن پر
وہ دیکھو بدلیاں لائیں ہوائے علمِ رُوحَانی
امامِ وقت کے در کی غُلامی کر نصیرؔ الدّین
یہیں پر بن کے رہنا ہے گدائے علمِ رُوحَانی
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
۱۵۲