علمی خزانہ
(پنج مقالہ سیٹ)
کتابی خزانہ
میرے عزیز دوست فردوس مومن ادارۂ عارف برانچ امریکا کے رکنِ رکین ہیں، ان کی نظر میں ہر پُرحکمت کتاب ایک انمول خزانہ ہے، اسی سبب سے آپ علم و حکمت کے عاشقوں کی صفِ اوّل میں ہیں۔
بحضور مستطاب حضرت اجل اکرم فاضل گرامی جناب آقای نصیر الدین صاحب المحترم دامت برکاتہ
السلام علیکم
پس از عرض سلام و تشکر و امتنان از مراحم عالی باستحضار خاطر مبارک میرساند: کہ کتابہای قیمتی و نفیس اھدائے آن سرور ارجمند توسط برادر عزیز جناب آقای عباس برہانی صاحب واصل گردید از درگاہ خداوند متعال سلامتی و طول عمر جنابعالے و توفیق روز افزون شمارا در راہ خدمت بیشتر بہ نحو احسن را مسئلت می نمایم۔
با تقدیم احترام
جزاک اللہ تعالیٰ و کل اللہ مساعیک بالنجاح
ادارۃ الثقافۃ الاسلامیۃ ۳۔۲ حامد علی منزل ۵ سول لائن
یونیوسٹی ایریا۔ علی گڑھ نمبر ۲
انڈیا
الدکتور علی محمد ظہیر
رئیس کلیۃ معارف الاسلامیۃ
پنج مقالہ نمبر ۱
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حرفِ آغاز
اللہ تعالیٰ ۔ قیوم و قادر ۔ کا بے حد و بے حساب شکر ہو کہ ہم ایسے عاجز و ناتوان بندوں سے بھی گاہے بگاہے ایک چھوٹی سی علمی خدمت لی جاتی ہے، پروردگارِ عالم کی اس بڑی نعمت اور اس عظیم احسان کے لئے اگر ہم سجدۂ شکرگزاری سے آخری دم تک سر نہ اٹھائیں، تو بھی ذرہ برابر حق ادا نہ ہوگا۔
پنج مقالہ کے اِس نام سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ یہ کتاب صرف پانچ موضوعات کا مجموعہ ہے لیکن میرے نزدیک اس کا ہر موضوع بڑی اہمیّت و افادیّت کا حامل، پُرمغز اور جامع قسم کا ہے، اس لئے اگر کہا جائے کہ ہر مقالہ بجائے خود ایک ضخیم کتاب کی حیثیت سے ہے تو بے جا نہ ہوگا، اور ویسے تو کتاب کی قدر و قیمت کی تقدیر کرنے کا انحصار قارئین کی آراء پر ہے۔
“پنج مقالہ نمبر ۱” میں سب سے پہلے وہ مقالہ ہے جس میں قرآنِ حکیم کی روشنی میں “اسماءِ حسنیٰ” یعنی اللہ تعالیٰ کے بزرگ ناموں
۷
کے حقائق و معارف بیان کئے گئے ہیں، اس مضمون میں عقل و دانش اور رشد و ہدایت سے کام لینے والے مومن کے لئے ہزاروں سوالات کے جوابات مہیّا و موجود ہیں، کیونکہ جب مانا گیا کہ دنیا میں لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم بصورتِ انسانِ کامل حاضر اور موجود ہے، تو اس کے بہت سے منطقی نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں اور ان سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
دوسرا مقالہ “خدا کی رسی” ہے جو قرآنِ پاک کا ایک تاویلی موضوع ہے، جس کی ان حکمتوں کی مدد سے جو یہاں بتائی گئی ہیں، قرآنِ مجید کی بہت سی حقیقتیں کھل کر سامنے آسکتی ہیں، جبکہ تائیدِ الٰہی رہنمائی اور دست گیری کرے۔
تیسرا مقالہ “تقویٰ” ہے اور تقویٰ کی اہمیت یہ ہے کہ وہ تمام اسلامی عبادات و معاملات کا مغز ہے اور حق یہ ہے کہ شروع ہی سے تقویٰ کی اہمیّت و ضرورت رہی ہے، یعنی تمام انبیائے سلف علیہم السّلام کی دعوتوں اور شریعتوں میں مقصدِ تقویٰ ہی ملحوظِ نظر تھا، لہٰذا اس موضوع پر خامہ فرسائی کرنا اور اس کو یہاں جگہ دینا ایک ضروری امر تھا۔
چوتھا مقالہ “فلسفۂ عقیدہ” ہے اور اس موضوع کی ضرورت
۸
اس لئے ہے کہ دنیا کے اکثر لوگ عقیدہ کی اہمیّت کو نہیں سمجھ رہے ہیں، اسی سبب سے وہ دین اور مذہب کے دائرے سے نکل کر لا دینیت کے بیابان میں سرگردان پھر رہے ہیں، وہ آج اپنا قلبی سکون اور امیدِ فردا کھو چکے ہیں، لہٰذا اس بڑے عالمگیر خطرے کے پیشِ نظر فلسفۂ عقیدہ کی کچھ بنیادی باتیں سمجھ لینا حقیقی دیندار کا ایک اہم فریضہ ہوتا ہے۔
پانچواں مقالہ “اسلام کی بنیادی حقیقتیں” ہے جس میں چالیس (۴۰) اہم نکات بیان کئے گئے ہیں، میرے خیال کے مطابق ان میں سے ہر نکتہ اہلِ دانش کے لئے بہت سے جوابی معنی رکھتا ہے، بشرطیکہ ذرا غور و فکر سے کام لیا جائے، کیونکہ مطلب و معنی کا مغز صرف غور و فکر ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔
اس مختصر تمہید کے بعد مجھے ان علم پرور حضرات کی گوناگون معاونت کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جو دنیائے اسماعیلیّت کے مختلف مقامات پر سکونت پذیر ہیں، جن کی دور رس نگاہوں میں علم کی بہت بڑی قدر و منزلت ہے جو ہمیشہ علم کی روشنی پھیلانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں جن کی عقل و روح کی غذا علم و معرفت اور ذکر و عبادت ہے، جن کا سب سے پسندیدہ شغل دینی کتابوں کا مطالعہ ہے، اور اسی طرح روز بروز اپنی مذہبی معلومات کے ذخیرے میں
۹
اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں، جس سے ان کی روحانی ترقی یقینی ہو جاتی ہے، ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے، اور نتیجے کے طور پر خداوند تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ان پر شب و روز نازل ہوتی رہتی ہیں۔
فقط بندۂ عاجز
نصیر الدین نصیر ہونزائی
بروز یک شنبہ ۶ ، رمضان ۱۳۹۷ھ
۲۱ ، اگست ۱۹۷۷ء
۱۰
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خدا کے بزرگ نام
۱۔ وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۰۷: ۱۸۰۔ اور اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں (ناموں) سے پکارو۔
۲۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا کہ:
“للہ الاسماء الحسنیٰ” ہم ہیں کہ ہماری معرفت کے بغیر کسی کا کوئی عمل قبول ہی نہ کیا جائے گا۔
۳۔ اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے نام دو قسموں میں ہیں، کلماتی یا قولی نام اور نورانی نام، خدا کے نورانی نام یا اسمائے عظام أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام ہی ہیں، جن کے وسیلے سے خدا کو پکارنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔
۴۔ خدا کا وہ اسمِ اعظم جس کی شناخت وقت اور زمانے کے لحاظ سے نہایت ہی ضروری اور لازمی ہے، امامِ زمان ہی ہیں، مذکورۂ بالا آیت کی روشنی میں اس حقیقت کو ذہن نشین کر لو۔
۵۔ خدا کی ذات و صفات میں کوئی درجہ بندی نہیں، کیونکہ وہ
۱۱
ہر اعتبار سے ایک ہی ہے لیکن جہاں خدا تعالیٰ کے اوصاف کو ظاہر کرنے اور سمجھانے کے لئے مختلف معنوں اور جدا جدا چیزوں سے کام لیا گیا ہے، ان میں فرق ہے، نیز اس میں زمان و مکان کی ضرورت بھی پیشِ نظر ہے۔
۶۔ چنانچہ قولی اسماء کے مقابلے میں خدا کے نورانی نام اسمائے عظام ہیں جو انبیاء اور أئمّہ علیہم السّلام ہیں، اور اس سلسلے میں امامِ زمانؑ موجودہ وقت کا اسمِ اعظم ہیں۔
۷۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے کچھ نام صامت (خاموش) ہیں اور کچھ ناطق (بولنے والے) ہیں، یعنی ہدایت دینے والے اور نجات دلانے والے ہیں۔
۸۔ اللہ تعالیٰ کا عرش زندہ ہے، قلم زندہ ہے، کرسی زندہ ہے اور لوح زندہ ہے، غرض آنکہ جو چیز خاصِ خدا ہو وہ زندہ، گویندہ اور عقل والی ہوا کرتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لئے جو مثال دی گئی ہے وہ اعلیٰ ہی ہوتی ہے، وہ اس طرح کہ جب کہا جائے “خدا کا ہاتھ” تو یہ مثال ہے، اور اس کا اعلیٰ ہونا یہ ہے کہ پیغمبرؐ اور امامؑ کو خدا کا ہاتھ قرار دیا گیا ہے، اسی طرح خدا کا چہرہ بھی یہی ممثول رکھتا ہے۔
۹۔ اب آپ مذکورۂ بالا کلمات کی روشنی میں بتلائیے کہ خدائے
۱۲
بزرگ کے اسمِ بزرگ سے کون لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ کیا اسمِ اعظم سب لوگوں کے لئے قابلِ رسا ہو سکتا ہے یا نہیں؟
۱۰۔ اللہ پاک نے جو ارشاد فرمایا کہ: تم اللہ کو اس کے اچھے ناموں سے پکارا کرو۔ اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ بات ہو سکتی ہے کہ جو شخص خدا کے حقیقی نام کو نہیں جانتا ہو اس کا کچھ بھی سنا نہیں جائے گا؟
۱۱۔ کیا یہ بات درست ہے کہ پیغمبر اور امام خدا کے حقیقی نام ہیں اس لئے انہیں کے وسیلے سے خدا کو پکارنا چاہئے اور انہیں کے ذریعے سے خدا کی طرف رجوع کرنا چاہئے؟
۱۲۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ خدا کا اسمِ اعظم اور خدا کا خلیفہ دو الگ الگ چیزیں نہیں ہو سکتیں، اگر ایسا ہوا ہوتا تو دونوں کے مرتبے ناتمام اور غیرمکمل ہوتے، جبکہ اسمِ بزرگ میں خلافتِ الٰہیہ کے اوصاف نہیں ہوتے اور جبکہ خلیفۂ خدا اسمِ اعظم کی جگہ پر نہ ہوتے۔
۱۳۔ یہ کتنی صاف اور ستھری منطق ہے کہ جو پیغمبر اور امامِ زمانؑ خدا کا خلیفہ اور نمائندہ ہو سکتے ہیں، وہ اسمِ اعظم کی جگہ پر بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ جہاں ذاتِ خدا کی خلافت و نمائندگی ممکن ہے، وہاں اس کے اسماء کی جانشینی اور بھی زیادہ ممکن ہے۔
۱۳
۱۴۔ جب سے حضرت آدم علیہ السّلام اللہ جلّ شانہٗ کی خلافت و نیابتِ جلیلہ پر فائز ہوئے، تب سے یہ عظیم الشّان منصب انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کے مقدّس سلسلے میں چلتے آیا ہے اور کبھی ایسا نہیں فرمایا گیا کہ اب اللہ تعالیٰ کی خلافت آسمانی کتاب کے ذمہ ہوگی، یا بیت اللہ کو حاصل ہوگی یا فرشتوں میں سے کوئی خلیفۂ خدا ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ امرِ خلافت منصبِ نبوّت اور مرتبۂ امامت سے الگ ہرگز نہیں، پس انسانِ کامل ہی (جو کبھی پیغمبر اور کبھی امام کی صورت میں ہوتا ہے) اسمِ اعظم بھی ہے۔
۱۴
اللہ تعالیٰ کی رسی
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں جتنی پُرحکمت مثالیں بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک نہایت خوبصورت اور انتہائی جامع مثال حبل اللہ (یعنی خدا کی رسی) ہے، اور اس مثال کا ممثول یقینی طور پر اللہ پاک کا نورِ ہدایت ہی ہے جو ازل سے موجود ہے اور انبیائے کرام و أئمّہٌ عظام علیہم السّلام کے مقدّس سلسلے میں ظاہر ہوکر دنیا والوں کی ہدایت و رہنمائی کرتے چلے آیا ہے، چنانچہ ہم یہاں خدا تعالیٰ کی توفیق سے اس نورانی رسی کے بارے میں کچھ حقائق و معارف بیان کرتے ہیں۔
جاننا چاہئے کہ قرآنِ حکیم میں اس نوعیت کی بہت سی آیتیں موجود ہیں، جن میں قربِ الٰہی کا وسیلہ ڈھونڈھنے اور اللہ تعالیٰ کو محکم پکڑنے کے لئے ارشاد ہوا ہے اور ایک وہ آیت ہے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ:
“تم سب لوگ مل کر خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور
۱۵
فرقہ فرقہ نہ ہو جاؤ۔” (۳: ۱۰۳) اس فرمانِ خداوندی سے اہلِ دانش پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ حبل اللہ کی یہ آیۂ مبارکہ ان تمام آیاتِ مقدّسہ کی ترجمانی اور وضاحت کرتی ہے، جن میں ہدایتِ الٰہی سے وابستہ رہنے، اس کی طرف نزدیک ہو جانے اور اس کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے، کیونکہ اگر کسی وسیلے کے بغیر خدا مل جاتا اور انسان کا ہاتھ اس کے دامن کو چھو سکتا تو پھر یہ نہ فرمایا جاتا کہ تم خدا کی رسی کو پکڑو اور صراطِ مستقیم کی ہدایت اور ہادی کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی، پس یہاں سے صاف طور پر یہ مطلب روشن ہوگیا کہ یہ آیتِ پُرحکمت جو حبل اللہ سے متعلق ہے، کلیدی حیثیت کی حامل ہے، لہٰذا دانشمندوں کو اس آیت کی حکمتوں پر غور کرنا چاہئے۔
حکمت نمبر ۱:
خدا تعالیٰ نے جس طرح سلسلۂ نورِ ہدایت کی تشبیہہ و تمثیل رسی سے دی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ خدائی ہدایت کا یہ سلسلہ ازل سے ابد تک غیر منقطع اور قائم و مستحکم ہے جس کا ایک سرا خدا کے ہاتھ میں اور دوسرا لوگوں کے درمیان ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ ہدایتِ الٰہی کی رسی ازل و ابد اور عالمِ علوی و عالمِ سفلی کے درمیان دائرے کی صورت میں واقع ہے، اور اس
۱۶
دنیا میں ہمیشہ اس کا ظہور ہادئ زمان علیہ السّلام کی شخصیّت میں ہوتا رہتا ہے۔
حکمت نمبر ۲:
یہ دنیا جو عالمِ سفلی ہے عالمِ علوی کے مقابل میں ایک تنگ و تاریک کنویں کی طرح ہے کہ انسان خدائی ہدایت کی رسی سے وابستہ ہوکر رہے، تا کہ اس کو روحانی اور نورانی طور پر بلند کرکے عالمِ ملکوت کی روشن فضاؤں میں پہنچا دیا جائے، کیونکہ دنیاوی مثال میں بھی رسی اور کمند سے کام لینے کا ایک وقت وہ ہوتا ہے جبکہ کوئی انسان کسی وجہ سے کسی گہرے کنویں میں یا عمیق کھڈے میں گر کر مبتلا ہو جاتا ہے۔
حکمت نمبر ۳:
قانونِ قدرت کی رو سے یہ امر ممکن تھا کہ بعض لوگ خدا کی رسی کو حاضر و موجود پانے کے باوجود بھی نہ پکڑیں، یہ بھی ہو سکتا تھا، کہ کچھ لوگ ڈھیلے ہاتھوں سے پکڑیں اور اس بات کی بھی امکانیت تھی کہ بعض شروع شروع میں اسے پکڑے رہیں، پھر یکایک اسے چھوڑ کر الگ الگ ہو جائیں، اور واقعاً ایسا ہی ہوا، اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ خوب جانتا تھا اسی لئے فرمایا کہ: و اعتصموا: مضبوطی سے پکڑو (یعنی ڈھیلا پنے سے نہیں) بحبل اللّٰہ: خدا کی رسی (یعنی سلسلۂ نورِ ہدایت) کو، جمیعاً: سب کے سب
۱۷
(یعنی الگ الگ نہیں) و لا تفرقوا: اور فرقہ فرقہ نہ ہو جاؤ (یعنی اگر تم سب مل کر نورِ ہدایت کی رسی کو تھامے ہوئے نہ رہو تو تم فرقہ بازی میں مبتلا ہو جاؤ گے) اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ مبارک میں حبل اللہ سے وابستہ رہنے کی مکمل ہدایت موجود ہے۔
حکمت نمبر ۴:
حبل اللہ کی اس آیۂ شریفہ کے بموجب دینِ اسلام میں تفرقہ اور انتشار سے سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی تھی جس کی تاکیدی صورت معلوم کرنے کے لئے کلامِ ربّانی کے ربط اور ماحول کو دیکھا جائے کہ اس ارشاد سے قبل اور اس کے بعد کن کن امور کا ذکر ہوا ہے، مطلب یہ ہے کہ افتراق و انتشار دین کے جس مقام پر بھی ہو، یعنی یہ امت میں ہو یا جماعت میں، کسی مذہبی ادارے میں ہو یا کسی مؤمن کے خیالات میں، ایک بہت بڑا خسارہ ہے، لہٰذا اس بنیادی ہدایت میں اس کی ممانعت کی گئی ہے، اور اس کے تدارک و سدِ باب کے لئے فرمایا گیا ہے کہ تم ہمیشہ خدا کی رسی سے وابستہ رہو۔
حکمت نمبر ۵:
ہدایتِ ربّانی کی رسی کے لئے جس طرح یہ ضروری ہے کہ وہ ہر زمانے میں ظاہر اور موجود ہو اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ہر شخص کو پہنچ سکے، اور یقیناً وہ ہدایت اور
۱۸
امر و فرمان کی صورت میں ہر فرد تک پہنچ سکتی ہے تاکہ اس حیثیت میں ہر شخص کے سامنے خدا کی رسی موجود ہو اور ہر آدمی کے لئے خدا کے حکم کی تعمیل ممکن ہو۔
حکمت نمبر ۶:
رسی کے چند اجزاء ہوا کرتے ہیں، چنانچہ خدا کی رسی کا ایک جزو قرآن کی روح اور روحانیّت ہے جسے ہم حقیقت، حکمت اور تاویل جیسے ناموں سے بھی یاد کر سکتے ہیں اور دوسرا جزو امام کا نور ہے مگر چونکہ دنیا کی رسی ایک مادّی چیز ہوتی ہے، اس لئے اس کے اجزاء ایک دوسرے سے الگ کئے جا سکتے ہیں، اور دین کی رسی روحانی اور نورانی قسم کی چیز ہوتی ہے لہٰذا اس کے اجزاء ایسے باہم ملے ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔
حکمت نمبر ۷:
ارشادِ ربّانی ہے کہ: اور تم کیونکر کفر کروگے حالانکہ اللہ کی نشانیاں تم پر پڑھی جاتی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا پیغمبر موجود ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو محکم پکڑے پس تحقیق وہ سیدھی راہ پر لگ گیا (۰۳: ۱۰۱)۔
اس فرمانِ خداوندی سے ظاہر ہے کہ زمانۂ رسول میں خدا کو یعنی خدا کی رسی کو مضبوط پکڑانے اور راہِ راست کی ہدایت دینے
۱۹
کی صورت یہی تھی کہ مسلمین و مؤمنین کو آنحضرت بحکمِ خدا دینی یک رنگی و یک جہتی کی مقدّس تعلیمات دے دیا کرتے تھے اس لئے حضورؐ خود ہی اپنے عہدِ مبارک میں خدا کی رسی کا درجہ رکھتے تھے۔
حکمت نمبر ۸:
رسولِ اکرم صلعم کے بعد مولانا علیؑ اور آپ کے سلسلۂ اولاد کے أئمّۂ برحق میں سے ہر امام اپنے وقت میں اللہ تعالیٰ کی پاک رسی کی حیثیت سے ہے، اور اللہ تعالیٰ کی یہ رسی ہمیشہ دنیا میں حاضر اور موجود رہے گی تاکہ دین و ایمان والوں کے لئے ذریعۂ اتحاد اور وسیلۂ نجات مہیا رہے۔
حکمت نمبر ۹:
جب اللہ جل شانہٗ حکم دیتا ہے کہ تم سب مل کر خدائی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور متفرق نہ ہو، تو اس قطعی اور ضروری فرمان کے سننے اور سمجھنے کے بعد یہ تصوّر ہی نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن، اسلام، رسول اور امام الگ الگ ہیں اور ان میں سے کوئی ایک اللہ کی رسی ہے اور دوسرے نہیں، حالانکہ اس حکم کا مطلب ہی یہی ہے کہ خدا کی چیزیں تو پہلے ہی سے ایک ہیں انسان ایک ہو جائیں، کیونکہ یہ امرِ مبارک ایسا ہے کہ اس میں دین کے درجات کو ایک دوسرے کے قریب ماننے اور انسان کی ایمانی طاقتوں کو ایک کرنے کی تعلیم دی گئی ہے تا کہ دینی اتحاد و اتفاق اور یکجائی
۲۰
و مرکزیت اور اخوّت و یگانگت قائم ہوسکے۔
حکمت نمبر ۱۰:
حبل اللہ (خدا کی رسی) کا مطلب جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے سلسلۂ ہدایت ہی ہے، جو انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کے نورِ ہدایت کا سلسلہ ہے یعنی خدا اور رسول کا نور ہی (جس کا مظہر امامِ زمانؑ ہے) خدا کی رسی ہے جس کی ہدایت کے مطابق عمل کرنا اس سے وابستہ ہو جانا ہے۔
حکمت نمبر ۱۱:
امامِ زمانؑ جو حق تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے وہی ہادئ برحق بھی ہے اور صراطِ مستقیم بھی، کیونکہ ان تمام مثالوں کا آخری ممثول اور مطلب ایک ہی ہے، اور تمام قرآن میں اسی ایک حقیقت کی مختلف مثالیں بیان کی گئی ہیں (۱۷: ۸۹)۔
حکمت نمبر ۱۲:
امامِ زمان صلوات اللہ علیہ خداوند تعالیٰ کی پاک رسی ہیں کیونکہ آپ خدا و رسول کے خلیفۂ برحق اور نائب و نمائندہ ہیں، پس امام کی بیعت، اطاعت اور محبت سے وابستہ ہو جانا گویا خدا کی رسی سے وابستہ ہو جانا ہے۔
حکمت نمبر ۱۳:
اس حقیقت کے باؤجود کہ حق سبحانہ تعالیٰ کی شانِ عالی انسانِ ضعیف البنیان کی رسائی سے نہایت ہی برتر و بالا ہے، اس کا یہ فرمانا کہ تم سب مل کر خدا کو مضبوطی سے پکڑو، اور
۲۱
اس کی وضاحت کے طور پر یہ ارشاد کہ تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو یہ اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی مہربانی ہے کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، کیونکہ اس میں حق تعالیٰ کی انتہائی قربت و نزدیکی کی نمائندگی کا اظہار کیا گیا ہے۔
حکمت نمبر ۱۴:
جب کوئی آدمی اس امرِ خداوندی کے بموجب حبل اللہ کو محکم پکڑے گا تو اس کے معنی یوں ہوں گے کہ اس نے خدا کو پکڑا اور حقیقتاً اسے اپنا راہنما و رہبر اور وکیل قرار دیا، تو ایسے انسان کو اب یہ فکر لاحق نہ ہو سکے گی کہ میں دین کے معاملات میں کس طرح سوچوں، کس طرح بولوں، اور کیا کیا کروں، کیونکہ اس نے خدا کو جو پکڑا ہے تو ہادی اور وکیل کے معنی میں پکڑا ہے اور وہ اس مثال میں اللہ کے بہت ہی قریب ہے بلکہ اللہ اس کے ساتھ ہے۔
حکمت نمبر ۱۵:
ہر قسم کے اتحاد، ہر طرح کے اتفاق اور ہر نوع کی جمعیّت و مرکزیّت کے لئے کوئی وسیلہ اور مرکز ہوا کرتا ہے، ورنہ ایسا کوئی کام ہی ناممکن ہے جس میں مختلف مزاج و خیال کے لوگ ایک ہوسکیں، چنانچہ دینی اور ملی یک جہتی اور وحدت کا بھی ایک ذریعہ اور مرکز ہے، اور وہ یہی حبل اللہ ہے، جس کو ہاتھ سے چھوڑ دینے سے اہلِ دین کے درمیان تفرقہ پیدا ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سب کو حق بات سمجھنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
۲۲
نوٹ: اس مضمون کے سلسلے میں مزید معلومات کے لئے قرآن سے رجوع ہو، خصوصاً ۰۳: ۱۰۱، ۰۳: ۱۰۳، ۰۴: ۱۴۶، ۰۴: ۱۷۵، ۲۲: ۷۸ کا مطالعہ ضروری ہے۔
۲۳
تقویٰ
تقویٰ دینِ اسلام کی جملہ عبادات اور تمام معاملات کی روح اور جوہر کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کے بغیر نہ کوئی قول درگاہِ الٰہی میں مقبول ہوسکتا ہے اور نہ کوئی عمل، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک ایسے اقوال و اعمال کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں، جو تقویٰ کے مغز سے خالی ہوں۔
تقویٰ کا مطلب پرہیزگاری ، خدا سے ڈرنا اور ہر قسم کے گناہ سے بچنا ہے، لہٰذا تقویٰ کا معیار عوام کے لئے عام بھی ہے اور خواص کے لئے خاص بھی، یا یوں کہنا چاہئے کہ تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں اور ان درجات کے آخر میں درجۂ کمال ہے جو انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا خاصہ ہے۔
تقویٰ کی ابتدائی منزلیں نیت کے حدود میں واقع ہیں، درمیانی منزلیں قول کے سلسلے سے متعلق ہیں اور آخری منزلیں اعمال کی راہ سے تعلق رکھتی ہیں، اس کے معنی یہ ہوئے کہ تقویٰ کی اصل و بنیاد
۲۴
دل کی کیفیّت و نیّت سے شروع ہو جاتی ہے اور افکار و خیالات کے مختلف مدارج کو طے کرنے کے بعد تقویٰ قول کے مراحل میں داخل ہو جاتا ہے اور ان سے آگے گزر کر عمل کے میدان میں وارد ہو جاتا ہے۔
اس سے صاف طور پر یہ معلوم ہوا کہ تقویٰ کی اصل و اساس اور مرکز انسان کے دل میں ہے، جیسا کہ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے:
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ (۴۹: ۰۳)۔
یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پرہیزگاری کے لئے جانچ لیا ہے۔
نیز ارشاد ہے:
وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ (۲۲: ۳۲)۔
اور جس شخص نے خدا کی نشانیوں کی تعظیم کی تو کچھ شک نہیں کہ یہ بھی دلوں کی پرہیزگاری سے حاصل ہوتی ہے۔
سرورِ عالم سیدِ بنی آدم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو ارشاد فرمایا کہ اعمال کا انحصار نیات پر ہے، اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ بغیر صحیح نیت کے کوئی عمل درست نہیں ہوسکتا، اور صحیح نیت دل کی پرہیزگاری کے بغیر ناممکن ہے، لہٰذا بندۂ مومن پر یہ اساسی فرض عائد ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو نیک نیت رکھنے
۲۵
کا عادی بنائے، جو صرف دل کی پرہیزگاری کی صورت میں ہو سکتا ہے۔
انبیائے قرآن کے تذکروں سے یہ حقیقت واضح اور روشن ہو جاتی ہے کہ تقویٰ دعوتِ انبیاء علیہم السّلام کی جان ہے، اور ان حضرات کی مختلف شرائع میں سے کوئی شریعت ایسی نہیں، جس میں تقویٰ کو خاص اہمیت نہ دی گئی ہو، بلکہ اس کی ضرورت و اہمیت کا یہ عالم ہے کہ پیغمبرِ اوّل حضرت آدمؑ ہی کی شریعت میں یہ کلیہ قائم کرتے ہوئے ارشاد کیا گیا کہ:
قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (۰۵: ۲۷)۔
اُس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ صرف پرہیزگاروں ہی کا عمل قبول کرتا ہے۔
تقویٰ کی جو معنوی وسعت اور قدر و منزلت ہے، اس کا اندازہ اس قرآنی حقیقت سے ہوسکتا ہے، جو ارشاد ہے کہ:
“اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت (یعنی آدم و حوّا) سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکو اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا عزت دار وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو
۲۶
اللہ خوب جاننے والا پورا خبردار ہے” (۴۹: ۱۳)۔
اس آیۂ کریمہ کی روشنی میں ایک طرف تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ ایک ایسی صفت ہے جو دین، مذہب اور انسانیّت کے لئے ناگزیر ہے، اور بنی نوع انسان کے ہر فرد کو تقویٰ کی کسی نہ کسی منزل پر ہونا چاہئے، کیونکہ یہ آیۂ شریفہ زمانۂ آدم سے لے کر واقعۂ قیامت تک پائی جانے والی تمام دنیائے انسانیّت سے مخاطب ہے، اور اس کے معنی میں کوئی فردِ بشر تقویٰ کے اس مقابلہ سے مستثنیٰ نہیں، دوسری طرف اس آیتِ پُرحکمت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تقویٰ ایک ایسی انسانی صفت ہے جو عوام کے لئے عام اور خواص کے لئے خاص ہونے کی وجہ سے تمام انسانوں میں مشترک ہے، یہی سبب ہے کہ انسانوں کی مجموعی عزت کی شرط تقویٰ قرار پایا، اس حقیقت کے برعکس کہ خصوصی عزّت کی شرط حکمت ہے، اور حکمت وہ خیرِ کل ہے جس میں خیر و صلاح کی ایک دنیا سموئی ہوئی ہے اور اس میں تقویٰ بھی داخل ہے۔
جہاں تقویٰ کے معنی خوفِ خدا کے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ بندۂ مومن کے دل میں قانونِ الٰہی کا ڈر ہونا چاہئے، جو مکمل اطاعت و فرمانبرداری کی صورت میں ہوسکتا ہے، اور ظاہر
۲۷
ہے کہ ہر انسان اپنے عقیدہ یا نظریہ کے مطابق قانونِ قدرت کی کچھ نہ کچھ اطاعت کرتا ہے یہ خوفِ خدا عام ہونے کا ایک بین ثبوت ہے جہاں تقویٰ کے معنی پرہیزگاری کے ہیں، اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ جو خیالات و افکار اور جو اقوال و افعال حرام ہیں ان سے کنارہ کشی کی جائے اور خدا کی نافرمانیوں سے اپنے آپ کو بچا لیا جائے، تقویٰ کے یہی معنی ہیں۔
اگر ہم تقویٰ کے لفظ ہی میں محدود ہوکر قرآنِ حکیم کا مطالعہ کریں تو ہمیں اس سے متعلق ڈھائی سو سے کچھ زیادہ آیتیں ملیں گی، اور اگر ہم تقویٰ کے وسیع معنی کو پیشِ نظر رکھیں تو کوئی آیت اس موضوع سے خالی نہ ہو گی، قرآنِ حکیم کی وحدتِ معنوی کا یہی عالم دوسرے سب موضوعات کے بارے میں بھی ہے۔
چنانچہ تقویٰ کی ہمہ رسی اور جامعیّت کے ثبوت میں ایک مثال پیش کی جاتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا (۶۶: ۰۶)۔
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتشِ جہنم سے بچاؤ، ظاہر ہے کہ “قُوْآ” (بچاؤ) کا یہ حکم تقویٰ سے براہِ راست مربوط ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ دوزخ سے بچنے کا واحد رستہ
۲۸
صرف خدا کی اطاعت ہی ہے جیسا کہ قرآن میں اس کا ذکر ہے، لیکن خدا کی یہ اطاعت ایسی ہے کہ اس کے سلسلے میں خدا و رسول اور صاحبانِ امر کی جانب سے دی ہوئی تمام ہدایات پر عمل واجب ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ قرآنِ حکیم کے جامع الفاظ میں سے ہے اور اس کے مفہوم میں دین کے تمام احکام داخل و شامل ہو جاتے ہیں۔
سورۂ اعراف (۷) کے تیسرے رکوع کے آغاز میں ارشاد ہوا ہے کہ تقویٰ روحِ مومن کا بہترین لباس سے، جس کے معنی یہ ہیں، کہ پرہیزگاری وہ روحانی صفت ہے جو روح کے لئے لباس کا کام دیتی ہے، چنانچہ یہ نکتہ ہمیشہ کے لئے یاد رہے کہ جب کوئی انسان خود کو خواب میں ننگا یا پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھتا ہو، تو اسے روح کا یہ اشارہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ دینی طور پر بدپرہیزی کا شکار ہوگیا ہے، اور اگر وہ اپنے آپ کو عالمِ خواب میں یا نورانیّت کے ساتھ عالمِ خیال میں عمدہ لباس میں ملبوس پاتا ہے، تو اسے مبارک ہو کہ اس کی پرہیزگاری بہترین لباس میں متمثل ہو رہی ہے۔
قرآنِ مقدّس کی چند آیتوں میں فرمایا گیا ہے ، کہ خدا متقین سے دوستی کرتا ہے، یعنی حق تعالیٰ پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے،
۲۹
اور اس واقعہ کی تحقیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ جس آدمی کو اپنے متعلق یہ گمان ہو کہ وہ بڑا پرہیزگار ہے، تو اسے پرہیزگاری کے فوری میوہ اور نتیجہ کے لئے جو اس دنیا میں خدا کی دوستی کی صورت میں ملتا رہتا ہے اپنے باطن میں دیکھنا چاہئے کہ آیا اسے خدا کی محبت حاصل ہو رہی ہے، اور ایسی کوئی تاثیر و کشش پائی جاتی ہے جو ہر وقت یا بعض اوقات اس کے دل کو خدا کی طرف متوجہ کر دیتی ہو، کیونکہ خدا کی دوستی و محبت بغیر اثر اور بغیر کشش کی ایک خاموش اور غیر محرک چیز نہیں ہوسکتی، بلکہ وہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے، جو انسان کو زیادہ سے زیادہ خداوند تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کا جذبہ اور حوصلہ بخشتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی محبت سے متعلق آیات کا ارشاد اور اس کی حکمت ہے۔
قرآنِ پاک میں یہ بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ خدا متقین کے ساتھ ہے، اس تصوّر کا مقصد و منشاء یہ ہے کہ خدا کے متقی بندوں میں ان کے تقویٰ کے نتیجے پر صفاتِ بہیمیہ اور وساوسِ شیطانیہ ختم ہوکر صفاتِ رحمانیہ کی جلوہ آرائی ہونے لگتی ہے، اور جس دل میں خدا کی صفات کی جلوہ نمائی ہو، تو اس کے لئے سب کچھ ہے، اور کسی کے ساتھ خدا ہونے کے یہی معنی ہیں۔
۳۰
قرآنِ حکیم میں مذکور ہے کہ عفو و درگزر سے کام لینا اور عدل و انصاف کرنا تقویٰ سے بہت قریب ہے، اس سے معلوم ہوا کہ پرہیزگاری عفو سے بھی اور عدل سے بھی بالاتر ہے، حالانکہ عفو اور عدل انسان کے خاص اوصاف میں سے ہیں۔
سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۱۲۸ (والعاقبۃ للمتقین، ۰۷: ۱۲۸) کے بموجب یہ جاننا ضروری ہے کہ عاقبت کا مطلب انجامِ کار ہے، اور انجامِ کار کم از کم چار ہیں، ان میں سے دو کا تعلق انسانوں کی مجموعی حیثیت سے ہے اور دو کا تعلق ان کی انفرادی حیثیت سے ہے، وہ اس طرح ہے کہ ایک اعتبار سے تمام دنیا والوں کا انجامِ کار آخرت ہے اور دوسرے اعتبار سے سارے زمانہ والوں کا انجامِ کار آخر زمانہ ہے، اسی طرح انفرادی صورت میں ایک لحاظ سے ہر انسان کی زندگی کا آخری حصہ اس کی عاقبت ہے اور دوسرے لحاظ سے ہر عمل کا فوری نتیجہ عاقبت ہے، اس سے یہ حقیقت قطعی طور پر روشن ہوکر سامنے آ گئی کہ متقین کے لئے عاقبت کا عطیہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف آخرت اور زمانۂ آخر ہی میں صلاح و فلاح کے مالک ہوں گے بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی زندگی کے آخری حصّے میں بھی اور ہر نیک کام کے انجام میں بھی خوش و خرم ہوں گے۔
۳۱
سورۂ زخرف (۴۳) کی آیت ۶۷ میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، مگر متقین میں ایسا نہ ہوگا، (۴۳: ۶۷)۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ دوستی جو دنیاوی غرض کے لئے ہوتی ہے، اس روز باعثِ دشمنی بن جائے گی، مگر جو دوستی خدا و رسولؐ اور اولیائے برحقؑ کی نسبت سے متقین نے قائم رکھی ہے وہ قائم ہی رہے گی، جب قائم رہے گی تو ظاہر ہے کہ اس سے فائدہ ہوگا۔
البقرہ (۲) کی آیت ۱۹۷ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
“اور نیکی کا کوئی سا کام بھی کرو تو خدا اس کو خوب جانتا ہے اور (راستہ کے لئے) زادِ راہ مہیا کرلو اور سب سے بہتر زادِ راہ پرہیزگاری ہے،” (۰۲: ۱۹۷)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عموماً ہر نیک کام سے اور خصوصاً تقویٰ سے راہِ روحانیّت اور منزلِ آخرت کا توشہ اور زادِ سفر مہیا ہو جاتا ہے، چنانچہ جاننا چاہئے کہ جو مومنین روحانی ترقی کے خواہشمند ہیں لیکن اس کے باوجود کہ بہت سے نیک کام انجام دے رہے ہیں، روحانی طور پر آگے نہیں بڑھ سکتے، تو اس کا
۳۲
سبب یقیناً یہی ہے کہ ان کے پاس راہِ روحانیّت کا بہترین توشہ یعنی پرہیزگاری موجود نہیں۔
اسلام کے سات ارکان یعنی ولایت، طہارت، صلوٰۃ، زکوٰۃ، صوم، حج اور جہاد میں سے کوئی ایک بھی تقویٰ کے مقصد کے بغیر نہیں، بلکہ اگر ان سے متعلقہ آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبوّی میں دیکھا جائے، تو معلوم ہوگا، کہ ان تمام کا مقصدِ اعلیٰ تقویٰ ہی ہے، اور ان کی اصل و اساس بھی تقویٰ ہی ہے۔
چونکہ انسان تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے، یعنی جسم، روح اور عقل، اس اعتبار سے خوفِ خدا اور پرہیزگاری کے بھی تین درجے ہیں، وہ جسمانی پرہیزگاری، روحانی پرہیزگاری اور عقلی پرہیزگاری ہیں اور سب سے بلند ترین درجہ عقلی پرہیزگاری کا ہے، چنانچہ اسی درجے سے متعلق قرآنِ حکیم کا یہ مبارک ارشاد ہے:
اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ (۳۵: ۲۸)۔
خدا سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو (حقیقی) علماء ہیں۔ یہاں ظاہر ہے کہ آخری درجے کا تقویٰ حکمت و معرفت کے بغیر محال و ناممکن ہے۔
جاننا چاہئے کہ عقل و دانش اور علم و حکمت ہی کے ذریعے
۳۳
سے خدا شناسی حاصل ہوسکتی ہے اور پرہیزگاری و خوفِ خدا سمجھ میں آسکتا ہے اور یہ فرق کیا جا سکتا ہے کہ لاتعداد نظریات و عقائد میں سے کس کس کو اپنانا چاہئے اور کس کس سے پرہیز کرنا چاہئے، تا کہ جہالت و نادانی اور باطل و شرک کی آلائشوں سے دل و دماغ پاک و صاف ہوسکے، قرآنِ حکیم نے حقیقی علماء کو جو تقویٰ اور خوفِ خدا کا نمونہ قرار دیا ہے اس کی وجہ یہی ہے۔
یہ اصول بھی قرآنِ مجید ہی کی تعلیمات میں سے ہے کہ سختی اور دشواری جھیلنے کے بعد سہولت و آسانی خود بخود سامنے آجاتی ہے، چنانچہ تقویٰ کے متعدد مراحل طے کرنے کے بعد روحانیّت کے سلسلے میں ایک ایسی منزل بھی سامنے آتی ہے جہاں تقویٰ ایک زندہ کلمہ یعنی خود بخود بولنے والا اسمِ اعظم بن کر حقیقی مومنین کی روحانیّت میں ایک ذاتی قسم کی قیامت یا کہ انقلاب برپا کر دیتا ہے، جسے اہلِ معرفت طاقتِ عزرائیلیہ کہتے ہیں اور جس کے بارے میں قرآنِ حکیم کا یہ ارشاد ہے:
فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ (۴۸: ۲۶)۔
تو خدا نے اپنے رسول اور مومنین (کے دلوں) پر اپنی طرف
۳۴
سے (روحانی) سکون نازل فرمایا اور ان کو “کلمۂ تقویٰ” سے پیوستہ کر دیا اور وہ اس کے زیادہ حقدار اور اس کے اہل تھے۔
ہم نے یہاں خدائے بزرگ و برتر کی توفیق و تائید سے موضوعِ تقویٰ کی چند بنیادی اور ضروری باتیں بیان کر دیں، اللہ تعالیٰ مومنین کے لئے انہیں نافع قرار دے! آمین یا ربّ العالمین!
۳۵
فلسفۂ عقیدہ
لفظی تحلیل:
لفظِ عقیدہ عقد سے نکلا ہے، اور عقد کے معنی ہیں گرہ (گانٹھ) چنانچہ عَقَدَ (رسی کو) گرہ لگانے کے لئے کہتے ہیں، اور عَقَّدَ کے معنی ہیں (رسی کو) سخت گرہ لگانا، اسی معنی میں عقیدہ دین کی ایسی باتوں اور روایتوں کے لئے استعمال ہونے لگا جن کو لوگ عموماً مانتے ہیں مگر صحیح طور پر جانتے نہیں، یا یوں کہنا چاہئے کہ تعلیم و تحقیق اور حکمت و معرفت سے قبل جس صلاحیت کی بناء پر دینی امور کے متعلق باور کیا جاتا ہے، اس کو عقیدہ کہا جاتا ہے۔
عقیدہ ایمان ہے:
یہاں پر یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ عقیدہ ایمان کا دوسرا نام ہے، مگر یہ وہ ایمان ہے جو ابتدائی نوعیت کا ہوتا ہے، جس کو
۳۶
لغت میں باور کرنا کہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے کہ:
“اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول پر (جیسا کہ چاہئے) ایمان لاؤ (۰۴: ۱۳۶)”۔ یعنی اے لوگو! جنہوں نے صرف عقیدہ کی حد میں محدود ہو کر دین کے اصول و فروع کو تسلیم کر لیا ہے، اب حقیقتوں اور معرفتوں کی روشنی میں ایمان لاؤ اور صحیح معنوں میں مومن ہو جاؤ، چنانچہ دین و دانش کا تقاضا بھی تو یہی ہے کہ پہلے مرحلے میں خدا و رسول اور صاحبِ امر کی مقدّس باتوں اور متعلقہ روایتوں کو لوگ عقیدۂ راسخ قرار دے کر مان لیں اور اس کے بعد رفتہ رفتہ حقائق و معارف سے کام لیتے ہوئے ایمان کو درجۂ کمال پر پہنچا دیں۔
عقیدۂ راسخ:
لوگوں کے عقائد ایک جیسے تو نہیں ہوتے، بلکہ وہ مختلف درجات کے ہوتے ہیں، ان کے عقائد میں ایسا عقیدہ بھی ہے جو بالکل نہ ہونے کے برابر ہے اور ایک عقیدہ وہ بھی ہے جو انتہائی درجے کا راسخ ہے، اور جو شخص عقیدۂ راسخ رکھتا ہو وہی دین کے راستے میں
۳۷
ترقی کر سکتا ہے، اور عقیدے کا استحکام و ارتقاء حقیقی محبت اور فرمانبرداری میں ہے، پس بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دینی محبت سے سرشار، امامِ برحق کے فرمانبردار اور راسخ العقیدت ہیں، ایسے ہی انسان اخلاقی، دینی اور روحانی طور پر کامیابی حاصل کرتے ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جو آگے چل کر اپنے عقیدے کو ایمانِ کامل کی صورت دے سکتے ہیں۔
عقیدہ وسیلہ ہے:
جاننا چاہئے کہ عقیدہ ایمان کی اصل و اساس ہے، جس کے بغیر ایمانِ کامل اور یقینِ محکم پیدا نہیں ہو سکتا، عقیدہ اور اعتقاد ہی وہ وسیلہ ہے جس سے انسان خود کو علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے سرچشموں تک پہنچا سکتا ہے، جس آدمی کا عقیدہ نہ ہو وہ نہ ہونے کے برابر ہے، کیونکہ کسی انسان کے مذہبی وجود کا تصوّر صرف اسی وقت درست ہوتا ہے جبکہ وہ کوئی عقیدہ اپناتا ہے۔
عقائد کی بنیاد:
عقائد کی بنیاد خدا و رسول اور أئمّۂ کرام کے مقدّس ارشادات
۳۸
پر قائم ہوتی ہے اور اس سلسلے میں تشریح و توضیح کے طور پر روایات و رسومات بھی آتی ہیں جو اعتقادات کی بقا و دوام کے لئے ضروری ہیں، کیونکہ عقیدہ کے وجود کے لئے دین کی معمولی سے معمولی چیزیں بھی بڑی اہمیت کی حامل ہوا کرتی ہیں، جس کی مثال ہم کسی میوہ دار درخت کی نازک نازک شاخوں اور باریک باریک جڑوں سے لے سکتے ہیں، کہ جن شاخوں میں میٹھے میٹھے پھل پیدا ہوتے ہیں، وہ ایک عام انسان کی نگاہ میں چھوٹی چھوٹی اور حقیر سی چیزیں نظر آتی ہیں، اور اسی طرح درخت جہاں زمین سے اجزائے قوّت جذب کر لیتا ہے، وہاں درخت کی جڑیں اتنی چھوٹی چھوٹی اور ایسی بے ترتیب پھیلی ہوئی چیزیں ہیں کہ کوئی بے بصیرت انسان ان کو قطعاً فضول سمجھ بیٹھے، حالانکہ درخت کے سرسبز و شاداب ہونے اور پھلنے پھولنے کا دارومدار انہی ننھی منی جڑوں اور نرم و نازک شاخوں پر ہے۔
عقائد کا احترام:
جو شخص قلعۂ دین کی پناہ میں ہونے کے باوجود عقائد کا احترام نہیں کرتا، وہ حقائق تک نہیں پہنچ سکتا ہے، اور نہ وہ ان کا احترام کر سکتا ہے، یہ بات بالکل ایسی ہی ہے جیسے ایک بچہ اگر
۳۹
گھر میں والدین کی حرمت بجا نہیں لاتا تو وہ آگے چل کر اسکول میں ماسٹر کی حرمت بھی نہیں کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے معلّم کے فیضِ علم سے محروم رہ جاتا ہے، چنانچہ جاننا چاہئے کہ عقائد و رسومات کا مرحلہ مومن کے لئے والدین کی پرورش کی طرح ہے اور حقائق و معارف کا مقام معلّم کے علم جیسا ہے۔
عقائد کے لئے خطرہ:
عقائد کے لئے سب سے بڑا خطرہ لادینیت کا تصوّر ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی مخالف نظریہ ہماری نئی نسل کو گمراہ کر سکتا ہے، لہٰذا عقیدہ کو لادینی قسم کے لوگوں کے اثرات اور غیروں کی تبلیغی کوششوں سے محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جانا چاہئے، ورنہ عقیدہ جیسی عظیم روحانی دولت کے سرمایہ سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
۴۰
اسلام کی بنیادی حقیقتیں
۱۔ اسلام اللہ تعالیٰ کا دین ہے، اس لئے یہ ہمیشہ سے موجود اور قائم ہے (۰۹: ۳۶، ۱۲: ۴۰، ۳۰: ۳۰، ۳۰: ۴۳) اور یہ حقیقت میں زمانے کے مطابق ہوا کرتا ہے، اور اسی وجہ سے یہ دینِ فطرت کہلاتا ہے، کیونکہ خدا تعالیٰ نے لوگوں کو اپنی فطرت یعنی اپنے دین و آئین کے مطابق بنایا ہے (۳۰: ۳۰) اور دینِ فطرت کا مطلب سمجھنے کے لئے فطرت کے بہترین نمونے پر غور کیا جائے، وہ نمونہ انسان ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا سا بچہ پیدا ہوکر اپنی زندگی میں ترقی کے مراحل سے گزرتا جاتا ہے اور بتدریج درجۂ کمال کو پہنچ جاتا ہے، پس اسلام بھی اسی طرح اپنی معنوی حیثیت میں قولاً و فعلاً ترقی کے مدارج کو رفتہ رفتہ طے کرتا ہے، اور نورِ اسلام کامل اور مکمل ہو جاتا ہے (۰۲: ۳۲) اور اسلام کی اس ہمہ گیر ترقی کے نتیجے میں نور کے درجۂ تمامی پر پہنچنے کی نشانی یہ ہے کہ اس وقت دینِ حق یعنی اسلام دنیا کے تمام ادیان پر غالب آئے گا (۱۲: ۳۳)۔
۲۔ یہ بات قرآنی حقیقتوں میں سے ہے کہ اسلام کے مبلغِ اعظم،
۴۱
داعئ اکبر اور مرکزِ متین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی ہیں، اور ویسے تو یہ دین نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے زمانے سے جاری ہے (۲۲: ۷۸) بلکہ یہ دین ایک اعتبار سے حضرت نوح علیہ السّلام کے وقت میں شروع ہوا (۴۲: ۱۳) اور ایک لحاظ سے یہ حضرت آدم علیہ السّلام کے عہد سے ہے (۲۳: ۵۱ تا ۵۲)۔
۳۔ نورِ اسلام ایک ہی ہے، مگر اس کے ظہورات اور جلوے وقت اور زمانے کے مطابق مختلف اور الگ الگ ہوا کرتے ہیں، چنانچہ حضرت آدمؑ، حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور آنحضرتؐ کے زمانوں میں بحقیقت ایک ہی اسلام اور ایک ہی دین تھا، مگر ان حضرات کے زمان و مکان کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، لہٰذا ان کی شریعتیں اور ہدایتیں بھی مختلف تھیں۔
۴۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ قرآنِ مجید سابقہ امتوں کی آسمانی کتابوں میں بھی موجود تھا (۲۶: ۱۹۶) اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ زبان اور ظاہری بیان کے لحاظ سے قرآنِ حکیم انبیائے سلف کے الہامی کتب میں مذکور تھا، بلکہ ان کتبِ سماوی کی روح، روحانیّت، نور اور مغزِ باطن کے اعتبار سے موجود تھا، پس اسی طرح امامِ زمانؑ
۴۲
کے مقدّس ارشادات میں بھی قرآنِ پاک کی تاویلی اور باطنی ہدایتیں ہوتی ہیں۔
۵۔ جو صحیح راستہ خدا تک جاتا ہے یا جس راہ پر خدا مل جاتا ہے، وہ صرف ایک ہی ہے، جو اسلام ہے، اور اسلام ہی صراطِ مستقیم ہے، یعنی سیدھا راستہ، پس “اھدنا الصراط المستقیم” (۰۱: ۰۵) میں حقیقی اسلام کے علم و عمل اور اس کے نتیجے میں خدا کی شناخت تک رسائی کی تعلیم دی گئی ہے اور اس میں سب سے پہلے ہادئ برحق کا وسیلہ مطلوب ہے۔
۶۔ معلوم ہوا ہے کہ راہِ اسلام کی منزلِ مقصود خدا شناسی ہے، یعنی معرفت، اور یہی مرحلہ دراصل منزلِ نجات ہے اور یہی بہشتِ حقیقی ہے، اور اسی کے لئے تمام انبیاء کی دعوتیں وقف تھیں۔
۷۔ جس طرح انبیاء علیہم السّلام کی دعوت کا مقصد اور ان کا دین ایک ہے اسی طرح ان کی کتاب بھی ایک ہے، ہر چند کہ بظاہر ان کی شریعتیں اور کتابیں متعدد اور مختلف نظر آتی ہیں۔
۸۔ قرآنِ پاک جو پروردگارِ عالم کی آخری کتاب ہے وہ تمام چیزوں کے بیانات کا مجموعہ ہے (۱۶: ۸۹) اس میں شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی ساری تعلیمات اور جملہ ہدایات مذکور ہیں،
۴۳
وہ تنزیل بھی ہے اور تاویل بھی، وہ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، وہ علم بھی ہے اور حکمت بھی، وہ پھل بھی ہے اور پھل کا مغز بھی، اس لئے اس کے ظاہر و باطن میں نہ صرف ماضی ہی سے متعلق احکامات موجود ہیں بلکہ اس میں حال اور مستقبل کی ہدایات کی بھی کوئی کمی نہیں، مگر ان تمام چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے لئے نور کی ضرورت ہے اور وہ نور دنیا میں ہمیشہ قرآن کے ساتھ ساتھ موجود ہے (۰۴: ۱۷۴)۔
۹۔ قرآنِ حکیم یقیناً اللہ کی مقدّس ہدایت ہے، مگر صرف اس کا ظاہر ہدایت نہیں، بلکہ اس کا باطن بھی ہدایت ہے اور ایک حدیث کے مطابق قرآن کا باطن اس کے ظاہر سے سات گنا زیادہ ہے، اور دوسری روایت کے مطابق ستر گنا زیادہ ہے، اور قرآنِ مجید کی ہدایتوں کی یہ فراوانی اس لئے ہے تا کہ ان ہدایات کی روشنی میں مسلمین و مومنین دینی اور دنیاوی طور پر آگے بڑھیں اور ترقی کریں، اور یہ ساری باتیں اس وقت ممکن ہیں، جبکہ وہ قرآنِ کریم کو اس کے نور کی روشنی میں پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔
۱۰۔ کوئی بھی آسمانی کتاب پیغمبر اور اس کے جانشین کے بغیر امت کے لئے مفید نہیں ہو سکتی اور نہ ہی آسمانی کتاب کسی صورت میں اور کسی وقت میں اکیلی رہی ہے، چنانچہ وہ ازل میں قلمِ الٰہی کے وجودِ عقلی
۴۴
میں تھی، پھر وہ لوحِ محفوظ کی روحانی تحریر میں آگئی، پھر جبرائیل کے حفظِ روحانی سے کام لیا گیا، بعد ازان حضورِ انورؐ کے قلبِ مبارک پر نازل کی گئی اور آخر میں پیغمبرِ برحقؐ کے حقیقی جانشین کو معلّمِ کتاب قرار دیا گیا، اور قرآن انہی کے سپرد ہوا، اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ قرآن کسی وقت میں بھی اکیلا نہیں رہا ہے نہ اب اکیلا ہے اور نہ کبھی ہوگا۔
۱۱۔ اگر قرآن فہمی کوئی آسان بات ہوتی اور راسخون فی العلم (۰۳: ۰۷) سے رجوع کی ضرورت پیش نہ آتی تو یہ بات سب سے پہلے ان مسلمانوں کو میسر ہوتی، جو رسولِ خدا کے زمانے میں عرب میں تھے وہ نہ صرف زبان اور لغت کے اعتبار سے قرآن کے انتہائی قریب تھے، بلکہ بظاہر جن تقاضوں کے مطابق قرآن نازل ہوا تھا وہ بھی انہی لوگوں کے احوال کے تقاضے تھے جیسے ان کے درپیش مسائل کے حل، ان کی ضروری ہدایات وغیرہ، لیکن پھر بھی حضور سے فرمایا گیا کہ:
“اور ہم نے قرآن آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپ ہی لوگوں کو بتائیں جو کچھ ان کے لئے نازل ہوا ہے”(۱۶: ۴۴) پس سرورِ کائنات کے بعد بھی ہمیشہ کے لئے معلّمِ کتاب کا ہونا ضروری ہے، اور وہ زمانے کا حاضر امام ہی ہے۔
۴۵
۱۲۔ دینِ اسلام میں جس طرح کسی دعویٰ کی صداقت کی شہادت کے لئے دو عادل گواہ مطلوب ہوا کرتے ہیں اسی طرح حضورِ اقدسؐ کی نبوّت کی سچائی کے ثبوت میں دو عظیم الشّان دائمی معجزے اس دنیائے ظاہر میں ہمیشہ موجود ہیں، ایک قرآنِ پاک ہے اور دوسرا اس کا معلّم جو خدا اور رسول کی جانب سے مقرر ہے، یعنی زمانے کا امام، یہی دو گرانقدر چیزیں نہ صرف اثباتِ نبوّت کے دو عظیم اور لازوال معجزے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ اسی حقیقت کی شہادت کے دو عادل گواہ بھی ہیں۔
۱۳۔ اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضرتؐ کی رسالت کی گواہی کے بنیادی کلمے بھی دو ہی ہیں، جن کو شہادتین کہا جاتا ہے، یہ اس لئے کہ کسی دعویٰ کی صداقت و حقانیت کا انحصار جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے دو گواہوں پر ہوتا ہے، لہٰذا قانونِ خداوندی کی طرف سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نبئ رحمت کی نبوّت کے اثبات کے طور پر دو عادل گواہ موجود ہیں، جو قرآنِ مقدّس اور امامِ زمانؑ ہیں۔
۱۴۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انبیائے کرام علیہم السّلام کے معجزات ہوا کرتے تھے، اور سب سے عظیم اور مفید ترین معجزہ وہ ہے جو عقلی، علمی اور دائمی قسم کا ہو، اور صرف ایسا ہی معجزہ ہمہ گیر اور دور رس نتائج کا
۴۶
حامل ہوتا ہے، چنانچہ ایسے دو متبرک معجزے رسولِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے رہتی دنیا تک جاری و باقی ہیں، جو قرآن اور امام ہیں۔
۱۵۔ جب یہ مانا گیا کہ قرآن حضورِ انورؐ کا پہلا معجزہ ہے کہ قرآن جیسی بے نظیر اور پُرحکمت کتاب پیش کرنے سے جنّ و انس عاجز ہیں اور امامِ برحقؑ آنحضرتؐ کا دوسرا معجزہ ہے کہ جنّات اور انسان کا کوئی فرد بجز امام کے قرآن کی تاویلی حکمت بیان نہیں کرسکتا، کیونکہ قرآنِ حکیم کے باطنی معانی پیغمبرِ اکرمؐ کے بعد صرف امامِ زمانؑ ہی کے پاس ہیں، پس امام کے ذاتی معجزہ کے بارے میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جبکہ امامِ وقتؑ خود رسولِ اکرمؐ کا معجزہ ہے۔
۱۶۔ اس کے علاوہ عوام کے لئے امام کے معجزات و کرامات ضروری بھی نہیں ہیں، جبکہ یہ حقیقت ہے کہ وہ خود قرآن کے ساتھ ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا زندہ معجزہ ہے، کیونکہ قرآن کے بارے میں کوئی مسلمان یہ نہیں کہتا کہ قرآن کوئی معجزہ دکھائے تا کہ ہم اس کو کلامِ الٰہی مانیں، جبکہ قرآن خود سراپا معجزہ ہی معجزہ ہے، لیکن چشمِ بصیرت چاہئے تا کہ کوئی دیکھ سکے کہ قرآن اور امام کس طرح معجزہ ہیں۔
۴۷
۱۷۔ مذکورہ صورتِ حال کے باؤجود خواص امامِ برحقؑ کو ہمیشہ مظہرالعجائب پاتے ہیں، یعنی وہ دل کی آنکھ سے امامِ عالی مقامؑ کے عجائبات کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں، اور یہ عجائبات تخیّلات و تصوّرات سے آگے بڑھ کر حقیقی روحانیّت اور قرآنی تاویلات کے مراتب تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ جن کو عقلی، روحانی اور نورانی معجزات کہتے ہیں۔
۱۸۔ کوئی منصف مزاج دانشور ذرا تکلیف گوارا کرکے دیکھے تو سہی کہ اسماعیلی بزرگوں کی تاویلی کتابوں میں قرآنِ حکیم کی کیسی کیسی عالیشان حکمتیں بیان کی گئی ہیں، ان عظیم حکمتوں کے حصول کا وسیلہ کیا ہے؟ امامِ برحقؑ کے نورِ اقدس کی تائید، پس جن کے پاس مقابلۃً حکمت زیادہ ہے انہیں کے پاس خیرِ کثیر ہے اور قرآن و امام کی موجودگی کا مقصدِ اعلیٰ یہی ہے۔
۱۹۔ قرآنِ کریم کے اشارات کے مطابق خدا تعالیٰ کے نورِ اقدس کا ایک بڑا معجزہ یہ ہے کہ اس کو کوئی نہیں بجھا سکتا، چنانچہ ظاہراً حضرت امام حسین علیہ السّلام کو میدانِ کربلا میں شہید کیا گیا، یہ خدا کے پاک نور کو بجھانے کی ایک ناکام کوشش تھی، لیکن خدائی مصلحت کے مطابق نور کو ہمیشہ کے لئے زندہ اور تابندہ رہنا تھا، جو آج تک حیّ و حاضر ہے اور بحکمِ خدا قیامت تک زندہ رہے گا۔
۴۸
۲۰۔ قرآن اور امامؑ کی علمی اور نورانی حیثیت خدا کی رسی ہے، اور اس کو مضبوطی سے پکڑ لینا یہ ہے کہ قرآن اور امامؑ کے امر و فرمان پر عمل کیا جائے، یعنی امامؑ ہی کی تعلیم و ہدایت کے مطابق قرآن پر عمل کیا جائے کیونکہ وہی قرآنی علم میں راسخ ہے۔
۲۱۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نورِ ہدایت کی مثال سورج جیسے روشنی کے عظیم سرچشمے سے کیوں نہیں دی گئی ہے، کہ گھر کے چراغ سے دی گئی ہے، یہ اس لئے کہ سورج کو ہر شخص بنظرِ دقت دیکھ کر غور نہیں کر سکتا، لیکن چراغ پر سب لوگ غور و فکر کر سکتے ہیں کہ کس طرح چراغ کا شعلہ بظاہر ایک حال پر رہتا ہے، لیکن دراصل اس میں ہر لمحہ اور ہر آن تجدید ہوتی رہتی ہے، یعنی تیل کے ذریعے سے چراغ کے نور کا سرچشمہ ہمیشہ چلتا رہتا ہے، اور روشنی فوارے کی طرح بکھرتی رہتی ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ جس علم و حکمت اور رشد و ہدایت کو نور کہا گیا ہے، وہ اپنی نورانی حرکت میں روان دوان ہے، اس میں بجلی کی سی روانی ہے، اس کا سلسلہ کسی چشمے کی طرح جاری ہے، جو کبھی نہیں رکتا، وہ ایک ایسی گفتگو کی طرح ہے جو مسلسل اور لا انتہا ہو، وہ نور کی ایک ایسی بارش ہے جو کسی وقت میں بھی تھم جانے والی نہیں، وہ ایک زندہ شے ہے اور زندگی میں مسلسل
۴۹
حرکت ہوتی ہے، یعنی نورِ ہدایت ہر سیکنڈ تازہ بتازہ نو بنو روشنی بکھیرتا رہتا ہے، جس کا احساس حقیقی مومنین کو نہ صرف ظاہر میں ہوتا ہے بلکہ ان کے دل و دماغ میں بھی اس کی لہریں دوڑتی رہتی ہیں۔
۲۲۔ دین اور مذہب کے جتنے اقوال و اعمال یا جو باتیں اور رسومات آج ہمارے درمیان موجود ہیں، وہ رسول اللہ کے وقت میں دو طرح سے پائی جاتی تھیں کچھ تو حدِّ فعل اور کچھ حدِّ قوّت میں پوشیدہ تھیں، اور دین میں ایسی بے شمار چیزیں ہیں جو نبئ رحمت کے بعد حدِّ قوّت سے حدِّ فعل میں آگئی ہیں، جیسے قرآنِ مجید کی موجودہ تحریر، اعراب اور علامتیں، جیسے ترجمے، تفاسیر اور دوسرے تمام قرآن سے متعلق علوم، حدیث کی تحریری صورت، فقہ اور ان کے اصولات، نیز امامت، خلافت اور اسلامی سلطنت اور ان کے متعلقہ قوانین کی بہت سی باتیں اس کے علاوہ اہلِ طریقت یعنی صوفیوں کے عقائد و نظریات اور ان کی اصطلاحات و تاویلات اور بہت سے ایسے دیگر علوم و فنون اور ان کے ایجادات جو اس سائنسی انقلاب کے بعد مذہب میں مستعمل ہو رہے ہیں، جیسے ٹیلیفون، تارِ برقی، لاؤڈ سپیکر، ریڈیو، اخبار، ٹیلی وژن، ریل، موٹر، جہاز وغیرہ وغیرہ تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو بات یا جو چیز ایسی ہو کہ وہ پیغمبرِ اسلام کے بعد پیدا کی گئی ہے،
۵۰
اور وہ دینی اعتبار سے مفید بھی ہو، تو وہ چیز خدا اور رسولؐ کی طرف سے ہرگز ممنوع نہیں ہو سکتی ہے، جبکہ قرآنِ حکیم کی ظاہری و باطنی ہدایت میں تمام جائز اور مناسب وسائل و ذرائع سے فائدہ اٹھا کر اسلام کو مضبوط بنانے کی ترغیب و تشویق دی گئی ہے، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے کہ:
اور (مسلمانو) ان کفار کے (مقابلہ کے) واسطے جہاں تک تم سے ہوسکے کسی بھی قوّت سے اور بندھے ہوئے گھوڑوں سے (لڑائی کا) سامان مہیا کرو اس سے خدا کے دشمن اور اپنے دشمن اور اس کے سوا دوسرے لوگوں پر بھی اپنی دھاک بٹھا لو گے جنہیں تم نہیں جانتے ہو، مگر خدا تو ان کو جانتا ہے، اور خدا کی راہ میں تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے، وہ تمہیں پوری طرح سے دے دیا جائے گا، اور تم پر کسی طرح کا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا (۰۸: ۶۰)۔
اس ربّانی ہدایت سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ ہر زمانے کے مسلمان دینِ اسلام کی مضبوطی و ترقی اور تحفظ کے لئے خود ہی سوچیں اور فیصلہ کر لیا کریں، کہ وقت کا کیا تقاضا ہے؟ دشمن کے پاس کیا کیا طاقتیں موجود ہیں؟ اور کس طاقت کے ذریعے سے دشمن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ یہاں صرف گھوڑوں کی تیاری کے ذکر کے بغیر
۵۱
کسی اور چیز کا نام نہیں بتایا گیا ہے بلکہ یہ بات مسلمانوں پر چھوڑ دی گئی ہے کہ وہ خود عقلی، علمی، اخلاقی، روحانی، مالی، سیاسی، فنی اور حربی طاقتوں میں سے جو مناسب سمجھیں اسی سے دینی دشمن کے مقابلہ کی تیاری کر رکھیں، تا کہ دشمن مرعوب ہوکر دب جائے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام میں دراصل ترقی ہی ترقی ہے، اور اس سلسلے میں دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے ہر نیک اور مفید قول و عمل کی آزادی دی گئی ہے۔
۲۳۔ قرآن پر عمل کے اعتبار سے کون سے لوگ اچھے ہو سکتے ہیں؟ وہی لوگ جو بحیثیتِ مجموعی ماضی، حال اور مستقبل میں قرآن کے ظاہر پر بھی عمل کریں اور باطن پر بھی، کیونکہ قرآن اپنے ظاہری علم کے لحاظ سے جنّت کا بے نظیر پھل ہے اور باطنی حکمت کے اعتبار سے پُرمایہ مغز ہے، اور اس مثال میں زیادہ فائدہ انہی لوگوں کو حاصل ہے جو پھل کو بھی کھائیں اور مغز کو بھی۔
۲۴۔ ہر شخص فطرتاً یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں جس رستے پر ہوں، وہی راہِ راست ہے، مگر مقابلے میں یہ دیکھنا ہو گا کہ تقویٰ کس میں زیادہ ہے اور کس میں کم، کیونکہ مذہب اور اس کی ساری عبادات و معاملات کا مغز تقویٰ ہی ہے اور دین و مذہب کا معیار بھی یہی ہے۔
۲۵۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ دینِ اسلام ہر طرح سے کامل اور مکمل
۵۲
ہے (۰۳: ۰۵) نیز ارشاد ہے کہ خدا کی ظاہری نعمتیں بھی اور باطنی نعمتیں بھی مکمل ہیں (۳۱: ۲۰) پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ امامِ زمانؑ جو معلّمِ قرآن اور ہادئ برحق ہے وہ موجود اور حاضر نہ ہو، بفرضِ محال اگر امام موجود اور حاضر نہ ہوتا، تو دین نامکمل ہوتا اور خدا کی روحانی اور علمی نعمتوں میں بڑی حد تک کمی واقع ہوتی۔
۲۶۔ آنحضرتؐ کی رحلت کے بعد تمام مسلمان اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ پیغمبرِ اکرمؐ کے جانشین کا ہونا بہت ہی ضروری ہے، اور یہ مسئلہ الگ ہے کہ کون ہو اور کون نہ ہو، حالانکہ وہ وقت ایسا تھا کہ اس میں ابھی اتنے زیادہ مسائل پیدا نہیں ہوئے تھے، جتنے کہ بعد میں پیدا ہوئے، پھر بھی انہوں نے خدا اور رسول کے حکم سے یا اپنی عقل کے فیصلے سے خلیفہ یا امام کے وجود کو تسلیم کر لیا، پھر اس وقت جبکہ دینی اور دنیاوی مسائل کی ایک بھرپور دنیا سامنے ہے تو ایسے میں امام کیوں نہ ہو۔
۲۷۔ شرعِ شریف اپنی جگہ پر حق ہے، مگر بعض لوگ شریعت ہی کی کسوٹی پر طریقت، حقیقت اور معرفت کی چیزوں کو بھی پرکھنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ بات درست نہیں، کیونکہ شریعت کا معیار صرف شریعت ہی کے لئے مقرر ہے، اور اس کے بعد کی منزلوں کے معیار الگ الگ ہیں، مثلاً شرعی نماز کی بہت سی شرطیں مقرر ہیں، جو ذکرِ الٰہی
۵۳
میں نہیں ہیں، جن کو ہر ہوشیار مومن جانتا ہے۔
۲۸۔ بعض دفعہ اسماعیلیوں سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی چاہیں تو مسجد میں آ سکتے ہیں اور اس میں کسی کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں، لیکن غیر اسماعیلیوں کو جماعت خانہ جانے کی اجازت نہیں ملتی، اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا جواب بڑا سادہ اور بہت آسان ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے مسجد ہے، جو مقامِ شریعت ہے اور یہ سب مسلمانوں کے لئے ہے، پھر خانقاہ ہے، جو مرحلۂ طریقت ہے، وہ سب کے لئے نہیں، صرف صوفیوں کے لئے ہے، اور اس کے بعد جماعتخانہ ہے جو منزلِ حقیقت ہے اور وہ فقط اسماعیلیوں ہی کے لئے مخصوص ہے چنانچہ جب تک کوئی مسلمان کسی شیخِ راہ اور پیرِ طریقت کے حلقۂ مریدی میں داخل نہیں ہوتا اور جب تک کہ بیعت نہیں ہوتی تو وہ اس کی خانقاہ میں جا نہیں سکتا، حالانکہ خانقاہ والے اور اس کے باہر والے دونوں گروہ مسلمان ہی ہیں، اور جماعتخانے کی بھی یہی مثال ہے، پس اگر ہم مسجد جائیں تو اس مبارک مقام پر اصلاً کوئی شے ہمارے عقیدہ سے باہر نہیں ہے، اس کے برعکس اگر آپ خانقاہ یا جماعت خانہ جائیں، تو اس کے آداب آپ کے لئے غیر مانوس ہوں گے، اور نہ ہی آپ وہاں
۵۴
اعتقاد و احترام کی شرطوں سے جانا چاہتے ہیں، لہٰذا اگر آپ جماعتخانہ جائیں تو یہ حقیقی معنوں میں بغیر اجازت اور بغیر ثواب کا کام ہو گا۔
۲۹۔ امامِ عالی مقام قرآنِ پاک کا زندہ نور اور کتابِ ناطق (یعنی بولنے والی کتاب) ہے اس لئے وہ لوگوں پر خدا تعالیٰ کی حجت ہے کہ دنیا میں اس کے موجود اور حاضر ہونے کے بعد لوگوں کو قیامت کے دن خدا پر کوئی حجت نہ ہو گی، یعنی کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے گا کہ دنیا میں میرے لئے کوئی ہادی موجود نہ تھا۔
۳۰۔ پیغمبرِ اسلام پر جہاں ۲۳ سال تک قرآنِ حکیم نازل ہوتا رہا، وہاں اس میں کچھ آیتیں منسوخ بھی ہو گئیں، اور ان کے احکام ناسخ آیتوں کے احکام سے بدل گئے، اس عرصے میں آنحضرتؐ کی بعض حدیثوں میں بھی وقت کے مطابق ترمیمات ہوئیں، چنانچہ اگر حضورِ انورؐ جسمانی طور پر آج موجود ہوتے تو یقیناً ان چودہ سو سالوں میں بھی ایسی بہت سی ترمیمات ہوتیں، اور یہی حقیقت ہر زمانے کے امامؑ کی تازہ بتازہ ہدایت میں موجود ہے۔
۳۱۔ قرآنِ پاک کا ارشاد ہے کہ: اے ایمان والو خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور امر والوں کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں، اس حکمِ ربّانی سے معلوم ہوا کہ رسول کی اطاعت
۵۵
خدا کی اطاعت کے علاوہ ہے اور امر والوں کی اطاعت رسول کی اطاعت کے علاوہ ہے، اور ہر درجہ کی اطاعت اختیار و ہدایت کی وجہ سے ہے، یعنی خدا اور اس کے رسول کے بعد امامِ زمانؑ صاحبِ اختیار ہے، اس لئے وہ نہ صرف خدا اور رسول کی ہدایت کو لوگوں تک پہنچاتا رہتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنے اختیار سے زمان و مکان کے تقاضا کے مطابق ذاتی ہدایت بھی کرتا ہے۔
۳۲۔ بیماری جسمانی قسم کی بھی ہوتی ہے، اور روحانی نوعیت کی بھی، وہ دنیاوی بھی ہے اور دینی بھی، پس تمام دینی اور روحانی بیماریوں کی واحد دوا امامِ وقتؑ کی محبت ہے، کیونکہ صرف محبت ہی سے امامِ زمانؑ کی حقیقی اطاعت بالکل آسان ہو جاتی ہے، اور انکار کا مادّہ مومن کے وجود سے یکسر ختم ہو جاتا ہے۔
۳۳۔ آج اسلام میں تفرقہ کیوں ہے؟ آج مسلم قوم دوسروں سے بڑھ کر طاقتور کیوں نہیں ہو سکتی؟ آج ایک ہی قرآن کی اتنی مختلف تفسیریں کیوں کی گئی ہیں؟ آج مسلم برادری میں کم از کم یہ کیوں نہیں کہ وہ بوقتِ ضرورت متفق و متحد ہو جائیں؟ اے کاش! ایسے میں پیغمبرِ برحقؐ موجود ہوتے، یا یہ کہ حضورِ انورؐ کے حقیقی جانشین کی سب کو پہچان ہوتی اور وہ اس کی پیروی اور اطاعت کرتے۔
۵۶
۳۴۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رسی سے یہ کبھی نہیں فرمایا کہ اے میری رسی، تم لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لو، بلکہ یہ حکم لوگوں ہی کو دیا گیا ہے، کہ تم سب مل کر خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو، اس سے ظاہر ہے کہ حجت لوگوں پر ہے کہ انہوں نے امامِ برحق علیہ السّلام کو کیوں نہیں پہچانا، نہ کہ امام پر کہ اُس نے روشن معجزات کے ذریعے سے اپنا تعارف کیوں نہیں کرایا۔
۳۵۔ مولا علیؑ کا ارشادِ گرامی ہے کہ مجھ سے پوچھ لو قبل اس کے کہ تم مجھ کو گم کر دو گے، اس سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ بعض لوگ آگے چل کر امام کو گم کر دینے والے تھے، اور اسی کے ساتھ پوچھنے کا رستہ بھی ان کے لئے منقطع ہونے والا تھا، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لوگ پہلے تو امام کے لئے اقرار کریں اور پھر پوچھیں جس طرح کہ پوچھنا چاہئے، جیسے قرآنی ارشاد ہے کہ: پس پوچھو اہلِ ذکر سے اگر تم نہیں جانتے (۱۶: ۴۳)۔
۳۶۔ سورۂ ابراہیم میں علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے پاک درخت کا ذکر آیا ہے، یہ مقدّس درخت پیغمبر اور امام ہیں، جن کے نور کی بدولت مومنین کو ہمیشہ ظاہری و باطنی ہدایت کا پھل ملتا رہتا ہے، پس اسلام میں سدا بہار درخت رسولِ کریمؐ کے بعد امامِ زمانؑ
۵۷
ہیں۔
۳۷۔ قرآنِ مجید میں ہے کہ: اور اچھے نام (یعنی اسمائے بزرگ) خدا تعالیٰ کے ہیں پس خدا کو انہیں ناموں سے پکارا کرو (۰۷: ۱۸۰)۔ حضرت امام جعفر الصادقؑ کے ارشاد کے مطابق خدا کے اچھے نام یعنی بزرگ نام أئمّہ علیہم السّلام ہیں، پس زمانے کا امام اللہ تعالیٰ کا زندہ اسمِ اعظم ہے، جس کے توسط سے خدا کو پکارنا افضل ترین عبادت ہے۔
۳۸۔ بہت سے استاد لوگ جہاں کوئی موجودہ حقیقت نہیں بتا سکتے وہاں اپنے معتقدین کو ماضی کے قصّوں کہانیوں میں مصروف رکھتے ہیں تا کہ ان کے وہم و گمان کی تاریکی میں ہر چیز عظیم اور ہیبت ناک نظر آئے اور سوال و تحقیق کا سلسلہ ہی ختم ہو جائے۔
۳۹۔ زمانۂ آدم سے لے کر قیامت تک دین کے جو احکام ہیں وہ دو قسم کے ہیں ایک قسم کے وہ ہیں جن میں کوئی ترمیم نہیں ہو سکتی، اور دوسری قسم کے وہ ہیں جن میں مناسب وقت پر ترمیم ہو سکتی ہے تا کہ زمان و مکان کے تقاضا کے مطابق سازگاری پیدا کی جا سکے۔
۴۰۔ دین کا آغاز و انجام اللہ تعالیٰ کی توحید ہے، یعنی اسلام میں سب سے پہلے خدا کی وحدت و یکتائی کا اقرار اور عقیدہ ہے، اور آخرکار تمام دینی اقوال و اعمال کے نتیجے میں یہ جاننا چاہئے کہ
۵۸
خدائے برحق کی وحدانیت و یگانگی کی معرفت کیا ہے۔
ہماری توحید وہی ہے جس کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے جس کا بیان حضرت مولانا امام علی علیہ السّلام نے اپنی عظیم الشّان کتاب نہج البلاغہ میں فرمایا ہے، اسی توحید کی حقیقی شناخت کے لئے ہمارے پاک اماموں نے تاکید فرمائی ہے، ہمارے بزرگانِ دین نے فلسفہ، حکمت اور تاویل کی زبان میں اسی توحید کی وضاحت کی ہے، جیسے سیدنا حمید الدین کرمانی کی مشہور کتاب راحۃ العقل اور پیر ناصر خسرو کی تعلیمات سے ظاہر ہے۔
۵۹
پنج مقالہ نمبر ۲
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ابتدائیہ
اے ربّ العالمین! اے ہمارے جسم و جان کے مالک! اے خداوندِ عزّت! اپنے محبوب رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حرمت سے اور آنحضرتؐ کے جانشین أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام کی حرمت سے اس بندۂ عاجز و ناتوان کو ایسی عالی ہمتی اور بلند حوصلگی عطا فرما! اور اس نوعیت کی نورانی توفیق و تائید عنایت کر کہ جس سے یہ خاکسار و مسکین تیری عظیم اور انتہائی عظیم نعمتوں کی جیسا کہ چاہئے شکرگزاری کر سکے، لیکن اے پروردگار! ان عالیشان توفیقات کے باؤجود ہم ایسے ناشکرگزار بندوں سے شکر (جیسا کہ اس کا حق ہے) کہاں ادا ہو سکتا ہے۔
کتاب “پنج مقالہ نمبر ۲” آپ کے سامنے ہے، آپ خود اس کا بغور مطالعہ کریں اور کتاب شناسی کے معیار سے اس کو پرکھ لیں، اہمیّت و افادیّت کے لحاظ سے جیسی بھی ہے، فوراً ہی معلوم ہو جائے گا اور پھر کتاب کے تعارف کی بھی ضرورت نہ رہے گی، کیونکہ یہ قول مشہور ہے کہ: “مشک آن است کہ خود ببوید نہ آنکہ عطار بگوید”
۶۳
یعنی کستوری وہ ہے جو خود بخود خوشبو دے اور عطار زبان سے جو “کستوری” کا لفظ ادا کرتا ہے وہ کستوری تو نہیں، تاہم ہزاروں میں کوئی ایسا فرد بھی ہو سکتا ہے جو علم کی کستوری کی روح پرور خوشبو کو بآسانی محسوس نہ کر سکتا ہو، لہٰذا یہ امر بھی ہمارے فرائض میں سے ہے کہ ہم اس کتابچہ کا قدرے تعارف کرائیں تا کہ اس سے نہ صرف کسی کی علمی بے حسی کا علاج ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ باذوق قارئین کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہو۔
چنانچہ اس کتاب کے پہلے مقالہ کا موضوع ہے “سورہ مزمل کی چند حکمتیں” یہ سورہ ترتیبِ نزولی کے لحاظ سے مکہ میں تیسرے نمبر پر نازل ہوا تھا، مگر موجودہ ترتیب میں اس کا نمبر ۷۳ ہے، اس کی بیس آیتیں اور دو رکوع ہیں، اس سورۃ کی بڑی بڑی خصوصیات ہیں، اور ان میں سے ایک یہ کہ اس میں ذکر و عبادت اور خصوصاً اسمِ اعظم کے کام کو آگے بڑھانے کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں، لہٰذا ہم نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سوال و جواب کی صورت میں سورۂ مزمل کی کچھ حکمتیں ظاہر کر دینے کی کوشش کی ہے۔
کتاب کا دوسرا مقالہ “بابِ نبی” ہے، جس کے معنی ہیں پیغمبر کا دروازہ، اور یہ ایک ایسا تصوّر ہے کہ جس سے نہ صرف ہر بڑے نبی
۶۴
کی زندگی میں امام کا موجود ہونا لازم آتا ہے بلکہ ہر عظیم پیغمبر کے بعد بھی سلسلۂ امامت کا جاری و باقی رہنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ یہ کوئی اصول ہی نہیں کہ پیغمبر کی موجودگی میں نبوّت کے علم و حکمت کا دروازہ ہو اور آپ کے بعد ہر شخص خود بخود کسی شک کے بغیر علم و حکمت کو اس طرح بآسانی حاصل کر سکے کہ وہ زمانۂ نبوّت سے بھی زیادہ آسان ہو، ایسا خیال کبھی درست نہیں ہو سکتا، بابِ نبی (پیغمبر کا دروازہ) کا یہ تصوّر خلافت و امامت کے تصوّر سے ہرگز مختلف نہیں، بلکہ دونوں باتیں ایک ہی ہیں، چنانچہ جب یہ حقیقت ہے کہ ہر چیز کا ایک دروازہ ہوا کرتا ہے تو اسی طرح خدا و رسول کے علم و حکمت کے بھی دروازے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے باب پیغمبر ہیں اور پیغمبر کے باب اساس، اساس کے باب امام ہیں اور امام کے باب حجّتِ اعظم، علیٰ ہٰذا القیاس، سو اسی اہمیّت و ضرورت کی وجہ سے ہم نے یہ مقالہ یہاں رکھا ہے۔
تیسرا مقالہ ہے “حضرت عیسیٰ روح ہیں یا جسم؟” یہ سوال جتنا بڑا ہے اتنا اہم بھی ہے، اور اس کے جواب کے سلسلے میں بہت سی روشن حقیقتیں سامنے آگئی ہیں، جن کی روشنی میں ایک طرف سے تو متعلقہ سوال کا جواب مہیا ہو جاتا ہے اور دوسری
۶۵
طرف سے قرآن فہمی اور دین شناسی کے علاوہ روح اور انسانِ کامل کی شناخت میں بھی کافی حد تک مدد مل سکتی ہے، یہی سبب ہے کہ یہاں اس موضوع سے بحث کی گئی ہے۔
چوتھا مقالہ “حلِ مسئلہ” ہے، اور یہ ایک ایسے یادگار خط کا متن ہے جو میرے ایک عظیم المرتبت اور انتہائی عزیز دوست کے حضور لکھا گیا تھا، اس مقالے کی یہاں ضرورت اس لئے تھی کہ اس میں رسولِ برحق کی عصمت و طہارت کا ذکر ہے اور آنحضرتؐ کے ہر طرح سے پاک و پاکیزہ ہونے کے دلائل بیان کئے گئے ہیں، چنانچہ ان روشن اور واضح دلیلوں سے نہ صرف رسولِ خدا کے معصوم ہونے کا یقینِ کامل ہو جاتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ حضورِ اقدس کے اہلِ بیت کے پاک و طاہر ہونے کا بھی ثبوت ملتا ہے، اور آلِ محمدؐ و اولادِ علیؑ کے أئمّہ علیہم السّلام کے تقدّس و پاکیزگی کا بھی۔
پانچواں اور آخری موضوع “اسرارِ فطرت” ہے اور یہ اس مقصد کے پیشِ نظر ہے کہ اسرارِ فطرت کا مطلب ہے کائنات و موجودات کی تخلیق کے رازہائے سربستہ، یعنی ہر قسم کی پیدائش کے چھپے ہوئے بھید، اور ایسے بھید جو ظاہر نہ ہوں وہ مل نہیں سکتے، مگر قرآنی حکمت اور تاویل سے اور عملی تاویل کے لئے اعلیٰ سطح کی روحانیّت
۶۶
چاہئے، اور ایسی ہی روحانیّت کے سلسلے میں خلقتِ آدم و اولادِ آدم کے اسرارِ سربستہ مل سکتے ہیں، بہرحال اس مقالے کا مقصد و منشاء دین کے اُن اصولی اور بنیادی بھیدوں کی طرف توجہ دلانا ہے جو انسان کی پیدائش سے متعلق ہیں کیونکہ دین ہو یا دنیا اس میں بھید ہی بہت بڑی چیز ہیں، اگر کوئی عظیم الشّان بادشاہ کسی دوست کو اپنا محرمِ راز اور بھیدی بنا لیتا ہے تو اس عمل میں وہ اس کو دوسروں پر کس قدر فوقیّت اور کتنی فضیلت دیتا ہے، لہٰذا حقیقی مومنین کو چاہئے کہ وہ دینی علم کی چوٹی کی باتوں میں خدا کے بھیدوں کی تلاش کرتے رہیں، تاکہ وہ اس وسیلے سے اللہ تعالیٰ کے انتہائی نزدیک اور پھر اس کے نور سے واصل ہو سکیں۔
اب مجھے اُن علم دوست حضرات کو بڑی قدردانی کے ساتھ یاد کرنا چاہئے، جو ہمیشہ نام و نمود سے بالاتر اور بے نیاز ہوکر محض علمی خدمت کو آگے بڑھانے کی خاطر مجھ سے تعاون کرتے رہتے ہیں، کیونکہ ان کی سب سے بڑی خوشی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ جس قدر بھی ہوسکے امامِ عالی مقام کے تائیدی علوم کے روشن چراغوں کے ذریعے سے جہالت و لا علمی کی ظلمتوں کو مٹا دیا جائے قرآنی حکمت، تاویلات، دین فہمی، اسلامی ارتقاء، امام شناسی،
۶۷
روح اور روحانیّت، حلِ مسائلِ جدیدہ، مذہب اور سائنس وغیرہ پر کتابیں لکھ کر شائع کر دی جائیں۔
وہ امامِ برحق صلوات اللہ علیہ کے علمی لشکر میں سے ہیں، وہ خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں اور بجا طور پر فخر کرتے ہیں کہ ان کو دینی علم کے فروغ سے دلچسپی ہے، ان کا کہنا ہے کہ مذہبی کتابوں کا باذوق مطالعہ باغ و گلشن کے سیر و سیاحت سے زیادہ مسرت بخش اور بہت مفید ہے، کیونکہ باغ و چمن کی رنگینی اور لذّت و راحت دنیاوی، جسمانی اور چند روزہ ہے اور علم و حکمت کی جنّت کے پھول اور پھل ایسے تو نہیں کہ کبھی ان کے رنگ و بو کو زوال آئے اور ان کی حلاوت و شیرینی میں کمی واقع ہو، وہ نعمتیں اور لذّتیں دینی اور اخروی ہیں، جو روح اور عقل کے لئے ہیں، اسی لئے وہ دائمی اور غیر فانی ہیں۔
ہم سب کو بارگاہِ خداوندی سے یہ دعا مانگنی چاہئے کہ پروردگارا تمام اہلِ ایمان کو علم کی لازوال دولت سے مالامال کر دینا! اور اس کے وسیلے سے انہیں دونوں جہان کی سعادت مندی اور سرفرازی عطا کر دینا! آمین یا ربّ العالمین!!
فقط جماعت کا ایک علمی خادم
نصیر الدین نصیر ہونزائی
جمعرات ۱۰ رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ
اگست ۱۹۷۷ء ۲۵
۶۸
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورۂ مزمل کی چند حکمتیں
سوال و جواب کی صورت میں
سوال نمبر۱: کپڑوں میں لپٹنے والا کون ہے؟ اور اس خطاب کی وجہ کیا ہے؟
جواب: کپڑوں میں لپٹنے والا یا چادر لپیٹنے والا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مبارک ناموں میں سے ہے، اس کی وجہ بعضوں نے یہ بتائی ہے کہ ابتدائے نبوّت میں کفارِ قریش نے حضورِ اکرمؐ کو ساحر (یعنی جادوگر) کہا، آپؐ کو یہ خبر سن کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے، اور بعض کے نزدیک اس خطاب کی وجہ یہ ہے کہ شروع شروع میں جب سرورِ کونین پر نزولِ وحی کی کیفیت گزرتی تھی، تو آپؐ پسینہ پسینہ ہو جاتے تھے، اور فرماتے تھے کہ مجھے کپڑے سے لپیٹ دو، جس کی تاویل ہے کہ میری باطنی حیثیت کو ( جو اسرارِ حقیقت سے مملو ہے) دنیا والوں کی نظر سے پوشیدہ رکھو۔
سوال نمبر ۲: خدائے حکیم نے یہاں اشارہ فرمایا ہے کہ رات
۶۹
کو بروقت سوکر پھر جلد ہی ذکر و عبادت کے لئے جاگ اٹھو، اس میں کیا حکمت ہے؟ اور ساری رات جاگنے کے لئے کیوں نہیں فرمایا؟
جواب: اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ اس سے نہ صرف تھکا ہوا جسم تازہ دم ہو جاتا ہے، بلکہ مومن کا دل و دماغ بھی ہر قسم کی فکری الجھنوں سے آزاد و فارغ ہو جاتا ہے، اور ذکر و عبادت میں توجہ کی یکسوئی صرف ایسی ہی حالت میں ہو سکتی ہے، قرآنِ حکیم میں تمام رات سخت ریاضت و عبادت میں گزارنے کا بھی ذکر ہے (۷۶: ۲۶) جس کی حکمت و منفعت اس سے علیحدہ ہے۔
سوال نمبر۳: سورۂ مزمل کے ارشاد کے مطابق رات کے کس وقت سے ذکر و عبادت کا آغاز ہونا چاہئے؟
جواب: رات کی ایک تہائی گزر جانے کے بعد یا نصف شب سے یا دو تہائی کے بعد خصوصی عبادات کا آغاز ہونا چاہئے۔
سوال نمبر ۴: مذکورہ سورہ میں قرآن پڑھنے کے لئے ارشاد ہوا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟
جواب: قرآن کا مطلب قرآنِ مجید ہے، جو سرورِ انبیاء صلعم پر نازل ہوا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا ہر بزرگ اسم قرآنِ مقدّس کا ایک
۷۰
اہم جزو ہے، کیونکہ یہ قرآنِ مجید میں سے ہے، بلکہ اس میں ایک شرط کے ساتھ قرآن شریف کی معجزانہ روح اور نور پنہان ہے۔
سوال نمبر ۵: رات کی عبادت کے وقت میں کمی بیشی کرنے کی یہ گنجائش کیوں رکھی گئی ہے؟
جواب: اس لئے کہ مومن کی جسمانی حالت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی وہ کبھی زیادہ تھکا ماندہ ہوتا ہے، کبھی بیمار رہتا ہے اور کبھی سفر پر ہوتا ہے۔
سوال نمبر ۶: ترتیلِ قرآن کا مطلب بتاؤ۔
جواب: ترتیلِ قرآن کا مطلب ہے قرآن کو حسنِ ترتیب سے پڑھنا، اور اگر عبادت میں قرآن میں سے کوئی اسمِ الٰہی دیا گیا ہے تو اسے مکمل توجہ، درست تلفظ اور دل کی بیداری سے پڑھنا۔
سوال نمبر ۷: عبادت کس چیز کے حصول کے لئے تیاری ہوتی ہے؟
جواب: ذکر و عبادت کی تکمیل حقیقی مومن کی وہ تیاری ہے کہ اس کے نتیجے میں اس کو اللہ پاک کی جانب سے نیک توفیق، خاص ہدایت اور عالی ہمتی ملتی ہے۔
۷۱
سوال نمبر ۸: قولِ ثقیل کا کیا اشارہ ہے؟
جواب: قولِ ثقیل کا خاص تعلق آنحضرتؐ کی ذاتِ شریف سے ہے اور وہ ایک عظیم حکمت ہے، اور مومن کے لئے اس کا اشارہ روحانی ترقی ہے بے حد ترقی۔
سوال نمبر ۹: رات کی عبادت سے کیا کیا فائدے حاصل ہو سکتے ہیں؟
جواب: اس سے نفسِ امّارہ خوب کچل جاتا ہے، ذکرِ الٰہی آگے بڑھتا ہے اور عقل و دانش کی اصلاح و ترقی ہو جاتی ہے۔
سوال نمبر ۱۰: نفسِ امّارہ کن کن چیزوں سے پامال ہو جاتا ہے؟
جواب: فضول باتوں سے خاموشی، خلوت نشینی، فاقہ کشی اور سب سے بڑھ کر رات کے ذکر و عبادت سے نفسِ امّارہ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
سوال نمبر ۱۱: شب خیزی سے ذکر کی ترقی ہونے کا سبب کیا ہے؟
جواب: چونکہ رات نہ صرف فراغت اور سکون کا وقت ہے، بلکہ اس میں خدا کے امر سے یہ تاثیر بھی ہے کہ ذکرِ الٰہی معجزانہ حد تک آگے بڑھ جاتا ہے (۲۵: ۶۲)۔
سوال نمبر ۱۲: اس میں کیا حکمت ہے، جو آنحضرتؐ سے فرمایا
۷۲
گیا کہ آپ رات کو عبادت کے لئے اٹھا کریں، کیونکہ دن کو تو آپ کے لمبے لمبے شغل ہوتے ہیں، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ رسولِ اکرم ایسے لمبے مشاغل کے باؤجود دن کو بھی ذکر و عبادت سے کبھی خالی نہیں رہتے تھے؟
جواب: یہ دن کی عبادت پر رات کی عبادت کی فضیلت کا ایک روشن ثبوت ہے۔
سوال نمبر ۱۳: ارشاد ہے کہ اپنے ربّ کا نام یاد کرتے رہو اور سب سے قطع کرکے اسی کی طرف متوجہ رہو، اس میں کیا راز ہے کہ یہاں ذکر پہلے آیا ہے اور توجہ بعد میں ہے؟
جواب: چونکہ باطنی اور روحانی توجہ کوئی ظاہری تعلیم کی چیز ہے نہیں، وہ تو کثرتِ ذکر کے نتیجے میں خود بخود پیدا ہوتی ہے، اس لئے آیت میں ذکر کا بیان پہلے آیا اور توجہ کا بعد میں۔
سوال نمبر ۱۴: ذکر کے وقت کن کن چیزوں کو بھولنا چاہئے؟
جواب: ذکر کے دوران ذاکر ہر چیز کو قطعاً بھول جائے، یہاں تک کہ اپنے آپ کو بھی فراموش کرے، سوائے اس کے کہ اسم کے معنی اور حقیقت سے خدا کو جدا اور دور نہ سمجھے۔
سوال نمبر ۱۵: ارشاد ہے کہ “وہ مشرق و مغرب کا پروردگار ہے”
۷۳
اس تعلیمِ ربّانی کا اشارہ کیا ہے؟
جواب: یعنی اللہ تعالیٰ عالمِ دین کے تمام حدود کی تائیدی پرورش فرماتا ہے، اس لئے مومنِ ذاکر کو یہ توقع رکھنی چاہئے کہ وہ جس درجے میں بھی ہو، اسے ذکر و عبادت کا ثمرہ ملتا رہے گا۔
سوال نمبر ۱۶: یہاں آیت ۹ میں فرمایا گیا ہے کہ تم معبودِ برحق کو اپنا وکیل بناؤ، تو بتائیے کہ توکل پہلے ہے یا عبادت؟
جواب: پہلے معبودِ برحق کی عبادت ہونی چاہئے اور وہ بھی معرفت کی روشنی میں، اس کے بعد توکل کا مقام آتا ہے، مذکورہ آیۂ کریمہ سے یہی حقیقت ظاہر ہے۔
سوال نمبر ۱۷: یہاں صبر کس معنی میں ہے؟
جواب: اگر سورۂ مزمل کو ذکر و عبادت کا ایک مسلسل اور مربوط مضمون قرار دیں، تو یہاں صبر کے معنی یہ ہوں گے کہ منکرین کی باتوں سے نہ صرف ظاہری طور پر رنج ہوتا ہے، بلکہ اس سے ذکر و عبادت کے دوران بھی وسوسوں کی صورت میں اذیت پہنچتی رہتی ہے، جس کا علاج صبر و ثبات سے ذکرِ الٰہی میں مصروف رہنا ہے۔
سوال نمبر ۱۸: یہاں آیت ۱۱ میں جھٹلانے کا ذکر آیا ہے اس کا مطلب کیا ہے؟
۷۴
جواب: دین اور اس کی روح کو نہ سمجھنا ہی خدا و رسول کو جھٹلانا ہے، کیونکہ دین کی معرفت نہ ہونے سے انکار کی صورت بنتی ہے۔
سوال نمبر ۱۹: حدیثِ نفسی کیا ہے؟ اور کس طرح بنتی ہے؟
جواب: نفسِ امّارہ اپنے آپ فضول باتیں کرتا ہے، جس کو حدیثِ نفسی کہتے ہیں، اور یہ واقعہ اکثر عبادت کے دوران پیش آتا ہے، جو دنیاوی آلائشوں کے سبب سے ہے۔
سوال نمبر ۲۰: کافروں اور منافقوں کے لئے مہلت کہاں سے کہاں تک ہے؟
جواب: ان کے لئے مہلت تین قسم کی ہے، زیادہ سے زیادہ مہلت قیامت تک ہے، کم سے کم مہلت کسی ناگہانی عذاب نازل ہونے تک ہے اور درمیانی مہلت موت کے آنے تک ہے۔
سوال نمبر ۲۱: گلے میں پھنسنے والی غذا کی تاویل بتائیے۔
جواب: خدا اور دین کے بارے میں جو غلط تعلیمات ہوتی ہیں، وہ غیر عقلی اور غیر منطقی ہونے کی وجہ سے روح کے لئے ناگوار اور گلوگیر ہوا کرتی ہیں۔
سوال نمبر ۲۲: آسمان، پہاڑ اور زمین کی تاویل کیا ہے؟
جواب: پیغمبر اور امام کا نور روحانیّت کا آسمان ہے،
۷۵
حجّت درجے کی روحیں پہاڑ ہیں اور مریدوں کی روحیں زمین اور مٹی ہیں۔
سوال نمبر ۲۳: قیامت کے دن زمین اور پہاڑ کیوں ہلیں گے اور پہاڑ کیونکر ریگِ روان ہوں گے؟
جواب: کیونکہ قیامت برپا ہونے کے ساتھ مریدوں کی روحوں اور حجّتوں کو حرکت کرنی ہے، اور پیر درجے کی بڑی بڑی روحوں سے لاتعداد عام انسانی روحیں بکھر جائیں گی، جیسے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر ریت کے ٹیلے بن رہے ہوں۔
سوال نمبر ۲۴: آنحضرتؐ کی رسالت کو جنابِ موسیٰؑ کی رسالت سے کیوں تشبیہہ دی گئی، جبکہ موسیٰؑ کی رسالت سے انکار کرنے پر خدا نے فرعون اور اس کی قوم کو سختی سے پکڑا، مگر آنحضور کی رسالت سے انکار کرنے والوں کو نہیں پکڑا؟
جواب: رسولِ برحق کی نبوّت و رسالت اس طرح حضرت موسیٰؑ کی رسالت کے مشابہ ہے کہ جس طرح موسیٰؑ کے وزیر ہارون تھے اسی طرح پیغمبر اکرمؐ کے وزیر مولانا علیؑ تھے، اور حضرت محمدؐ رسول اللہ کی رسالت سے انکار کرنے والوں کو بظاہر نہیں پکڑا گیا کیونکہ قیامت بہت قریب ہے اس لئے ان کو مہلت دینے
۷۶
کے لئے فرمایا گیا۔
سوال نمبر ۲۵: سرورِ انبیاءؐ امت پر کس طرح گواہ ہیں؟
جواب: حضورؐ امت پر گواہ اس معنی میں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نور یعنی امامِ زمانؑ ہمیشہ دنیا میں حیّ و حاضر ہیں۔
سوال نمبر ۲۶: بچوں کو بوڑھا کر دینے والا دن کون سا ہے اور کس طرح سے ہے؟
جواب: وہ روحانی دور ہے، جس میں چھوٹے چھوٹے بچے بوڑھوں کی طرح عقل و دانش کا مظاہرہ کریں گے۔
سوال نمبر ۲۷: آسمان کیسے پھٹے گا اور کیوں؟
جواب: قیامت کے دن آسمان پھٹ کر گرنے کے یہ معنی ہیں کہ روحانی دور میں دنیا والوں پر روحانیّت مسلّط ہو جائے گی۔
سوال نمبر ۲۸: خدا کا وعدہ مفعول ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ پہلے ہی عمل میں آچکا ہے، وہ کس طرح سے ممکن ہے؟
جواب: کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے بارے میں جو کچھ وعدہ کیا ہے وہ وہی ہے جو اس سے پہلے بھی ہمیشہ عمل میں آچکا ہے، جبکہ خدا کی عادت و سنت اب بھی وہی ہے جو پہلے گزر چکی تھی (۴۸: ۲۳)۔
۷۷
سوال نمبر ۲۹: انسان اپنے پروردگار کی طرف کس طرح راستہ اختیار کرے؟
جواب: ہادئ برحق کی ہدایت کی روشنی میں اطاعت و عبادت کرنے سے خدا تعالیٰ کی قربت و نزدیکی حاصل ہوتی ہے۔
سوال نمبر ۳۰: اگر آنحضرتؐ پہلے ہی سے رات کی تقریباً دو تہائی یا نصف یا ایک تہائی جاگا کرتے تھے، تو پھر کیوں اس سورہ کے شروع میں ایسا کرنے کا حکم دیا گیا؟
جواب: اس حکم کا اشارہ مومنوں کی طرف ہے کہ وہ اس طرح سے جاگا کریں۔
سوال نمبر ۳۱: آنحضرتؐ کے ساتھ والوں میں سے کون سے لوگ اسی طرح باقاعدہ عبادت کے لئے جاگا کرتے ہیں؟
جواب: أئمّۂ طاہرین اور مومنین انہی اوقات میں اٹھتے ہیں۔
سوال نمبر ۳۲: اس کا کیا مطلب ہے کہ خداوند تعالیٰ دن رات کا اندازہ کرتا ہے؟
جواب: اس کا اشارہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس مومن کی مدد کرتا ہے اس کو اپنی عبادت کا وقت بہت ہی مختصر اور کم محسوس ہوتا ہے، اور جب خدا کی مدد نہیں ہوتی، تو وہ عرصہ اگرچہ کم ہو
۷۸
بہت زیادہ معلوم ہوتا ہے۔
سوال نمبر ۳۳: عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْہُ کا مطلب اور حکمت بتائیے۔
جواب: اس کے معنی ہیں: خدا نے جان لیا کہ تم اس کی گنتی نہ کر سکو گے، یعنی اسمِ اعظم کو مقررہ وقت میں جس تعداد میں پڑھنا چاہئے وہ تم سے نہ ہو سکے گا اور شمار بھی نہ کر سکو گے، اس لئے تم سے جتنا ہو سکے اتنا پڑھو۔
سوال نمبر ۳۴: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن سے جو کچھ ممکن ہو پڑھو، مگر بہت سے لوگ قرآن نہیں پڑھ سکتے ہیں، پھر اس حکمِ ربّانی کی تعمیل کس طرح سے ہو؟
جواب: مومنین کے لئے ذکرِ الٰہی قرآن کا قائم مقام ہے۔
سوال نمبر ۳۵: کیا بیماروں، مسافروں اور مجاہدوں پر بھی قرآن کا پڑھنا فرض ہے؟ دن کو یا رات کو؟ اگر دن کو ہو تو وہ کیسے جبکہ آنحضرتؐ سے فرمایا گیا کہ دن کو آپ کے لمبے لمبے شغل ہوا کرتے ہیں؟
جواب: دن کو ہو یا رات کو بیمار، مسافر اور مجاہد پر خدا کے اسم کو پڑھنا فرض ہے، اور یہی اسم قرآن کی جگہ پر ہے۔
سوال نمبر ۳۶: سورہ کے آخر میں نماز قائم کرنے کے لئے فرمایا
۷۹
گیا ہے، کیا اس سے قبل جس عبادت کے لئے ارشاد ہوا ہے وہ نماز نہیں ہے؟
جواب: ہاں وہ ذکرِ الٰہی تھا اور یہ نماز ہے۔
سوال نمبر ۳۷: یہاں پر دو قسم کی مالی قربانی کا ذکر آیا ہے، زکوٰۃ اور قرضِ حسنہ، تو بتائیے کہ زکوٰۃ کیا ہے اور قرضِ حسنہ کیا ہے؟
جواب: زکوٰۃ مال (یعنی آمدنی) کا دسواں حصہ وغیرہ ہے اور قرضِ حسنہ مہمانی ہے۔
سوال نمبر ۳۸: امر ہے کہ زندگی ہی میں اچھے اعمال کر کے آگے بھیج دئے جائیں، تو کیا وہ نیک کام جو مردوں کے حق میں کئے جاتے ہیں باطل ہیں؟
جواب: انسان کے لئے ضروری اور سب سے بہتر یہی ہے کہ وہ زندگی میں ہی نیکی کرکے آگے بھیجے تاکہ اس کو ثواب اور نجات ملے، بشرطیکہ خدا کو پہچانتا ہو، اور مرنے کے بعد جو کارِ خیر اس کے لئے کیا جاتا ہے وہ اگرچہ باطل تو نہیں لیکن اس کا ثواب بہت ہی کم ملتا ہے۔
سوال نمبر ۳۹: مرنے کے بعد نیک اعمال کا ثواب کہاں اور کس مقام پر ملے گا؟
۸۰
جواب: مرنے کے بعد انسان کے نیک اعمال کا ثواب صرف خدا ہی کے حضور سے ملے گا جبکہ اس نے خدا کی شناخت حاصل کی ہو اور خدا تک پہنچ گیا ہو، ورنہ نہیں۔
سوال نمبر ۴۰: جو لوگ خدا کے قائل نہیں، مگر وہ نیک کام کرتے ہیں تو کیا اُن کو آخرت میں ثواب ملے گا؟
جواب: اس میں دو باتیں ہیں اوّل یہ کہ نیک کام وہی ہے اور صرف وہی ہے جو خدا اور رسول اور صاحبِ امر نے فرمایا ہو، دوم یہ کہ اگر ایسے لوگوں کے کچھ کاموں کو نیک بھی سمجھ لیا جائے تو اس صورت میں بھی شرائط کے نہ ہونے سے ایسے کام ناقبول ہو جاتے ہیں۔
سوال نمبر ۴۱: اس سورہ میں استغفار کا حکم سب سے آخر میں کیوں آیا ہے؟
جواب: یہ اشارہ ہے کہ جب مومنین سورۂ مزمل کے تمام احکام پر بالتّرتیب عمل کریں گے تو اس کے نتیجے میں ان کے گناہ بخش دئے جائیں گے، یعنی نیک اعمال کی انجام دہی کے بغیر توبہ اور استغفار نہیں ہے۔
سوال نمبر ۴۲: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ہی ثواب دینے
۸۱
میں بہتر اور بڑا ہوں، تو کیا خدا کے علاوہ بھی کوئی ہے جو اس سے کم ثواب دے سکتا ہو؟
جواب: ویسے تو نیکی کا ایک چھوٹا سا عارضی بدلہ انسان بھی دے سکتا ہے، مگر سب سے بڑا اور دائمی بدلہ صرف خدا ہی دیتا ہے۔
سوال نمبر ۴۳: اللہ تعالیٰ گناہوں کو کس طرح معاف کرتا ہے؟
جواب: پروردگارِ عالم ذکر و عبادت اور علم و حکمت کے وسیلے سے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔
سوال نمبر ۴۴: سورۂ مزمل کس قسم کا موضوع ہے؟
جواب: یہ ذکر و عبادت اور روحانی ترقی کا موضوع ہے۔
۸۲
حدیث کی حکمتیں
بابِ نبی
باب کے معنی ہیں دروازہ، اور بابِ نبیؐ کا مطلب ہے نبئ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دروازہ، اور ا س سے حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السّلام مراد ہیں، کیونکہ آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: انا مدینۃ العلم و علی بابھا : میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہے، اور آنحضرتؐ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ: انا دارالحکمۃ و علی بابھا : میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے، اور قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ: وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا۪ ۔ ۰۲: ۱۸۹۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور حدیثِ شریف میں ہے کہ: لکل شیءٍ باب : ہر چیز کا ایک دروازہ ہوا کرتا ہے، غرض یہ کہ مولا علی علیہ السّلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علم و حکمت کا دروازہ ہیں۔
۸۳
پہلی حکمت: بیت اللہ یعنی خانۂ خدا کا تصوّر اسلام کے بنیادی تصوّرات میں سے ہے، اس میں ایک خاص حکمت کے بموجب یوں فرض کر لیا گیا ہے جیسا کہ اس مقدّس گھر میں اللہ تعالیٰ کا پاک دیدار ہوتا ہو، اور یہ بہت بڑی پُرحکمت مثال ہے اور اس کا ممثول اپنے وقت میں حضورِ اکرم تھے، یعنی سرورِ دو عالم فخرِ بنی آدم نبئ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدا تعالیٰ کے وہ حقیقی اور نورانی گھر تھے جس میں کہ خاص بندوں کو خداوندِ برحق کا دیدارِ مبارک اور اس کی پاکیزہ معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کا دروازہ علی علیہ السّلام تھے، یعنی علی کے توسط سے اور علی کے ذریعے سے مومنوں کو یہ شرف حاصل ہوتا تھا۔
دوسری حکمت: اس مثال میں جب سرورِ انبیاءؐ نے اپنی ذاتِ اقدس کو علم کا شہر اور حکمت کا گھر اور علیؑ کو اس شہر اور اس گھر کا دروازہ قرار دیا، تو ہر مسلم کو یہ ماننا پڑے گا کہ اس وقت قرآن اور اسلام کی تمام دوسری مثالیں بھی حضورؐ کے پیشِ نظر تھیں، چنانچہ حضرتؐ نے اس مثال میں قرآن اور اسلام کے علم و حکمت کی تمام چیزوں کو اپنی نورانی حیثیت میں محدود کر لیا، اور اس کے گرداگرد علیؑ کی شخصیت و مرتبت کے درودیوار سے
۸۴
احاطہ کیا گیا۔
تیسری حکمت: خدا تعالیٰ کی بادشاہت (یعنی کائنات و موجودات) کی کوئی چیز ایسی نہیں ملے گی، جو قدرت کے نظامِ حفاظت کے مطابق محفوظ نہ ہو، مثلاً بحر و بر کی معدنیات اور جواہرات کو دیکھو کہ قانونِ فطرت نے کس طرح ان کے وجود کی حفاظت کی ہے، درختوں کے متعلق سوچو، کہ اس کے جڑیں زیرِ زمین پوشیدہ ہیں، تنے کو سخت چھلکوں کا لباس پہنا دیا گیا ہے، نازک شاخیں زمین سے بلند کی گئی ہیں، پھل کو چھلکے میں محفوظ رکھا گیا ہے اور مغز کو گٹھلی کے غلاف کے درمیان رکھا ہوا ہے، اسی طرح جانوروں اور انسانوں کی قدرتی حفاظت کے باب میں سوچا جائے، تو نتیجے کے طور پر یہ اقرار کرنا ہوگا کہ دین کا علم و حکمت جو دنیا کی قیمتی چیزوں سے بدرجہ ہا گرانمایہ ہے بہتر اور مضبوط تر طریقے سے محفوظ ہے۔
چوتھی حکمت: قرآنِ حکیم (۳۹: ۶۳، ۴۲: ۱۲) میں آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا ذکر آیا ہے کہ وہ خدا ہی کی ہیں، نیز ارشاد ہے کہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کے ہیں (۶۳: ۰۷)۔ اس قرآنی ارشاد اور مذکورہ حدیث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن کے علم و حکمت کا خزانہ رحمتِ عالم کی ذاتِ اقدس ہے اور اس
۸۵
کے خزینہ دار مولا علیؑ مشکل کشا ہیں۔
پانچویں حکمت: قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے کہ: اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌ فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (۵۶: ۷۷ تا ۷۹) بے شک یہ قرآن ہے عزت والا ایک پوشیدہ کتاب میں اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں، یعنی قرآنِ کریم نورِ محمدیؐ کی پوشیدہ کتاب میں ہے اور پاک اہلِ بیتؑ کے أئمّہ علیہم السّلام ہی کو اس تک رسائی حاصل ہے اور اس میں سے جن کو جتنا علم حاصل ہوا ہے تو انہی حضرات کے وسیلے سے ظاہر ہوا ہے۔
چھٹی حکمت: سورۂ نور کی آیت نمبر ۳۶ (۲۴: ۳۶) میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے جس میں ایک روشن چراغ ہو، ان مبارک تعلیمات میں طاق کی مناسبت سے (کہ وہ اور کہیں نہیں گھر ہی میں ہوتا ہے) ایک گھر کا ذکر ہے یعنی خدا کے نور کی مثال جس روشن چراغ سے دی گئی ہے وہ حضرت محمد مصطفیؐ کی پاک شخصیت کے طاق میں ہے تو پھر ظاہر ہے کہ اسی پاک گھر میں سب کچھ موجود ہے جو خانۂ حکمت ہے، جس کا دروازہ علی ہیں۔
ساتویں حکمت: اھدنا الصراط المستقیم کی تعلیم کی
۸۶
مراد یہ ہے کہ ہم نہ صرف لفظی طور پر یہ دعا کر لیا کریں بلکہ اس مطلب کی مثال کو بھی خوب ذہن نشین کر لیں کہ پیغمبر اور امام کی رہنمائی و پیروی میں خدا کے حضور پہنچ جانے کا راستہ اسلام ہی ہے جس پر شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی منزلیں سامنے آتی ہیں، چنانچہ اس سے ظاہر ہے کہ جہاں دینِ حق ایک سیدھا راستہ کے مشابہ ہے وہاں اس کی منزلِ مقصود ایک گھر کے مانند ہے، جو معرفت اور حکمت کا گھر ہے جس کا دروازہ امامِ برحق ہیں۔
آٹھویں حکمت: سورۂ نساء کی آیت ۱۷۵ میں جیسا کہ ارشاد ہوا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے:
پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کو مضبوط پکڑا تو ایسوں کو خداوند اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور اپنے تک ان کو سیدھا راستہ بتلائے گا۔ (۰۴: ۱۷۵)۔
ربّ العزّت کے اس فرمانِ اقدس کا مفہوم یہ ہے کہ ہادئ برحق کے دامنِ اطاعت کو پکڑنا خدا کو مضبوط پکڑنا ہے اور اس کی ہدایات و تعلیمات کی روشنی میں راہِ راست کی منزلِ مقصود کو پہنچ جانا ایسا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خود ہی صراطِ مستقیم پر ہدایت کرکے
۸۷
کسی کو اپنی ذاتِ اقدس کی معرفت تک رسا کر دیا اور خدا کی ملاقات و معرفت تک ایسی رسائی صرف خانۂ حکمت ہی میں ممکن ہے جس کا دروازہ امامِ برحق ہیں۔
نویں حکمت: ارشادِ خداوندی ہے کہ:
“وہ جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی تو بے شک اُسے بہت زیادہ خیر و برکت دی گئی” (۰۲: ۲۶۹)۔
اس مقدّس تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں علم کا شہر اور حکمت کا گھر ہے وہاں سب کچھ ہے اور اس سے کوئی بھلائی اور بہتری باہر نہیں۔
دسویں حکمت: جب کسی شہر کا کوئی دروازہ ہوتا ہے تو لازمی طور پر اس کی چاروں طرف کوئی مضبوط فصیل اور شہر پناہ بھی ہوا کرتی ہے تا کہ وہ دشمنوں اور چوروں سے محفوظ رہے اور کسی گھر کی بھی یہی مثال ہے اور حفاظتی دیوار کے بغیر دروازے کا کوئی تصوّر ہی نہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ علی نہ صرف علم کے شہر اور حکمت کے گھر کا دروازہ ہی ہیں بلکہ آپ ان کی دیوار بھی ہیں اور اسی معنی میں فرمایا گیا ہے کہ: وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ (۳۶: ۱۲)
۸۸
اور ہم نے ہر چیز امامِ مبین میں محدود کر رکھی ہے۔
۸۹
حضرت عیسیٰؑ روح ہیں یا جسم؟
اہلِ دانش کے لئے یہ ایک بڑا پیچیدہ مسئلہ رہا ہے کہ آیا حضرت عیسیٰ علیہ السّلام جسمِ عنصری کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھا لئے گئے ہیں یا کہ صرف اور صرف روح کی حیثیت میں؟ آئیے ہم آیاتِ قرآنی کی حکمت کی روشنی میں اس اہم سوال کا صحیح حل تلاش کریں۔
ارشادِ خداوندی ہے کہ:
“جبکہ فرشتوں نے کہا کہ اے مریم بے شک اللہ تعالیٰ تم کو بشارت دیتا ہے ایک کلمہ کی جو اللہ کی جانب سے ہو گا اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا” (۰۳: ۴۵)۔
اس ارشادِ قرآنی کی حکمت سے یہ مطلب ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا حقیقی وجود پہلے پہل ایک مقدّس کلمے کی صورت میں مکمل و معین ہوا تھا اور اسی زندہ کلمے کو روح بھی کہا جاتا ہے یہی بولتا کلمہ اور یہی زندہ و پائندہ روح بحیثیتِ اسمِ اعظم بی بی مریمؑ کے کان سے القاء کی گئی تھی، جو بعد میں جامۂ بشریت میں ملبوس اور مجسم ہوگئی،
۹۰
اور پھر اپنی عمر کے آخری وقت میں جسم چھوڑ کر بالکل اسی طرح مجرّد ہوگئی جس طرح کہ پہلے تھی۔
اس سلسلے میں ہمیں وجود کی حقیقت کے بارے میں بھی خوب سوچنا چاہئے، کہ وجود دو قسموں میں ہے، یعنی ذہنی و خارجی، یا ظاہری و باطنی یا روحانی اور جسمانی یا حقیقی و اضافی یا نورانی و ظلمانی وغیرہ وغیرہ، چنانچہ انسان کا نورانی وجود اس کی روح ہے اور ظلمانی وجود جسم، جس کی ایک ظاہری مثال درخت اور اس کا سایہ ہے، ہمارا جسم جو ہمارے ظلمانی وجود کی حیثیت سے ہے، یہ بے شک کسی حد تک ہمارے نورانی وجود کے مشابہ ہے کیونکہ ہر چیز کا سایہ کلّی طور پر اس چیز کی طرح تو نہیں ہوسکتا، جیسے پتھر کا سایہ پتھر کی طرح ٹھوس اور حارج نہیں ہوتا، درخت کے سائے سے کوئی پھل نہیں ملتا، پھول کے سائے میں کوئی رنگ و بو نہیں ہوتی اور بادلوں کے سائے سے کوئی بارش نہیں برستی، مطلب یہ ہے کہ اصل چیز اور ہے اور اس کا سایہ اور، دن کے وقت تو سایوں میں بھی کچھ روشنی ملی ہوئی ہوتی ہے، اور اپنی اپنی چیزوں کے ساتھ لگے رہنے سے سایوں کی کچھ رونق بھی ہوتی ہے، مگر جب نور کا سرچشمہ ان سے دور ہو جاتا ہے تو یہ تمام سائے ایک تاریک سمندر میں ڈوب کر فنا ہو جاتے
۹۱
ہیں، یہ سمندر کرۂ ارض کا سایہ ہے، جسے رات کہا جاتا ہے یہی مثال جسمِ انسانی کی ہے کہ جب تک اس میں روح کی روشنی پھیلی ہوئی ہے، تب تک اس کا حسن و خوبی اور شان و عزّت برقرار ہے، جوں ہی طائرِ روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگیا تو اس کی قدر و قیمت ختم ہو گئی، اور اس کے اجزاء بحکمِ “کل شیءٍ یرجع الیٰ اصلہٖ ” عناصر کے ساتھ مل گئے۔
حضرت عیسی علیہ السّلام کی بابت خدائے قدّوس کا مبارک ارشاد ہے کہ:
“جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰؑ بے شک میں تم کو وفات دینے والا ہوں اور میں تم کو اپنی طرف اٹھائے لیتا ہوں اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو منکر ہیں” (۰۳: ۵۵)۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ اقدس میں حضرت عیسیٰؑ کی جسمانی وفات اور روحانی طور پر خدا کی طرف اٹھائے جانے کا ذکر صاف اور عیان ہے، اور جہاں فرمایا ہے کہ “انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا” اس کا مطلب یہ ہے کہ جناب عیسیٰؑ روح اللہ ایک پاک روح اور ایک معجزاتی کلمے کی حیثیت
۹۲
سے تھے لہٰذا روح اور کلمہ کو نہ تو سولی پر چڑھایا جاسکتا تھا اور نہ ہی قتل کیا جاسکتا تھا اور یہ بات ہمیں تعجب خیز کیوں نظرآتی ہے، جبکہ اس قرآنی حقیقت میں کوئی تعجب ہی نہیں جو ارشاد ہے کہ:
“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اُن کو مردہ مت خیال کر بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے نزدیک ان کو رزق دیا جاتا ہے” (۰۳: ۱۶۹)۔
اس حکمِ الٰہی سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ شہید لوگ اگر ایک لحاظ سے مقتول ہیں تو دوسرے لحاظ سے زندہ ہیں، یعنی شہداء جسمانی طور پر راہِ خدا میں مقتول ہوتے ہیں اور روحانی طور پر دنیا ہی سے زندہ عالمِ آخرت کو چلے جاتے ہیں، پس معلوم ہوا کہ یہاں لفظِ قتل کا اطلاق جسم پر اور لفظِ زندہ کا اطلاق روح پر ہوا ہے جیسا کہ حدیث کا ارشاد ہے:
“مومن نہیں مرتا لیکن دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف کوچ کر جاتا ہے” مگر اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مؤمن جسم سے نہیں مرتا۔
سورۂ مریم کی سترہویں آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا (۱۹: ۱۷)۔
۹۳
پس ہم نے اُن (یعنی مریم) کے پاس اپنے فرشتہ کو بھیجا اور وہ ان کے پاس ایک پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا۔ چنانچہ اگر روح اور فرشتہ مکمل طور سے انسانی شکل اختیار کرکے ظاہر ہوسکتا ہے تو ایک کامل انسان بھی جسمِ عنصری چھوڑ کر روح اور فرشتہ بن سکتا ہے تاکہ یہ اصول درست ہو کہ عالمِ جسمانی میں جسم ہی ظہور کا ذریعہ ہے اور عالمِ روحانی میں روح ہی کے وسیلے سے رسائی ہوسکتی ہے جیسا کہ خود حضرت عیسیٰؑ جو آسمانی اور الہامی کیفیّت میں ایک روح اور ایک مجرّد کلمہ تھے، آپ بغیر جسم کے دنیا میں ظاہر نہیں ہوسکتے تھے اور اسی طرح جسم چھوڑے بغیر آسمانِ روحانیّت میں ہمیشہ کے لئے مقیم بھی نہیں ہوسکتے تھے۔
نیز حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے بارے میں قرآنِ حکیم کی ۰۲: ۸۷ اور ۰۲: ۲۵۳ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِؕ: اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو واضح اور روشن معجزے دئے اور پاک روح کے ذریعے سے ان کی مدد کی۔
اس فرمانِ خداوندی میں جنابِ عیسیٰؑ کو دو آسمانی چیزیں
۹۴
دی جانے کا ذکر ہے، ایک چیز آپ کے معجزات ہیں جو واضح اور نمایان تھے اور دوسری چیز تائیدِ ایزدی ہے جو انہیں روح القدس کے توسط سے حاصل ہوتی رہتی تھی، جو ان کی ذات میں پوشیدہ و پنہان تھی، یہی سبب ہے کہ معجزات کا الگ نام لیا گیا اور تائید کا الگ، ورنہ ان دونوں حقیقتوں کو ایک ہی نام سے یاد کیا جاتا، دوسری خاص بات اس میں یہ ہے کہ ان کے ظاہری معجزات ایک مقررہ وقت تک تھے اور تائیدِ الٰہی جو ایک روحانی حقیقت تھی آپ کو اس وقت بھی حاصل ہوتی رہتی تھی جبکہ آپ جسمِ خاکی کو چھوڑ رہے تھے اور جبکہ یہود بزعمِ خود انہیں سولی پر چڑھا رہے تھے، لیکن آپ کو تائیدِ الٰہی کی بدولت نہ کوئی خوف تھا نہ کوئی غم اور نہ ہی کوئی درد و الم، کیونکہ خدا کی تائیدِ کلّی کے یہی معنی ہیں، اور ایسی تائید کی وضاحت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ دراصل ایک پاک روح اور پُرحکمت کلمے کی حیثیت میں زندہ رہ سکتے تھے، پس روح اللہ اور کلمۃ اللہ کو کس طرح سولی اور قتل کا خوف و ہراس اور دکھ ہو سکتا ہے، اور کوئی ایسی معجزانہ ہستی جس کی بقا و زندگی اور احساس و ادراک مقدّس روح اور پاک کلمے کی صورت میں ہو وہ کس طرح مصلوب و مقتول ہوسکتی ہے۔
۹۵
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰـكِنْ شُبِّهَ لَهُمْؕ (۰۴: ۱۵۷)۔ انہوں نے ان کو (یعنی حضرت عیسیٰ کو) نہ قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا لیکن ان کو (یعنی لوگوں کو) اشتباہ ہوگیا (اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ اس واقعہ سے شک میں مبتلا ہیں ان کو اس کا کوئی علم نہیں مگر وہ گمان کی پیروی کرتے ہیں اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا بلکہ ان (یعنی حضرت عیسیٰ کو) خدا نے اپنی طرف اٹھا لیا)۔ (۰۴: ۱۵۸)۔
ان ارشاداتِ خداوندی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نزدیک حضرت عیسیٰؑ مقتول و مصلوب نہیں ہوئے، لیکن کافروں کو ایسا ہی نظر آیا جیسے وہ لوگ عیسیٰؑ کو سولی پر چڑھا کر قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہوں کہ کسی طرح سے بھی زندہ نہ بچیں، جس کے معنی یہ ہیں کہ بندۂ خاصِ خدا روحانی اعتبار سے ایسا نہیں کہ اس کو سولی پر چڑھا کر قتل کیا جا سکے، خصوصاً حضرت عیسیٰؑ کو جو روح اللہ کا عظیم درجہ رکھتے تھے جو شروع ہی سے روحانی ہی روحانی تھے، جو درویشی کا ایک مکمل نمونہ ہونے کی وجہ سے برائے نام جسمانیّت رکھتے تھے، جن کی پاک روح کو اللہ تعالیٰ نے حسبِ وعدہ
۹۶
کافروں کے درمیان سے اٹھا لیا، اور ان کا مبارک جسم جو روح کے جامۂ فرسودہ کی حیثیت سے تھا، کافروں کو دے دیا، تاکہ وہ ازروئے قانون انتہائی گنہگار قرار پائیں اور شُبِّهَ لَهُمْ کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کی ظاہری شخصیّت کے متعلق یہ گمان ہوتا ہے کہ آدمی یہی کچھ ہے، چنانچہ کافروں نے عیسیٰؑ کے جسم پر قابو پاکر یہ سمجھا تھا کہ عیسیٰؑ یہی کچھ ہے حالانکہ حقیقی، روحانی اور نورانی عیسیٰؑ اور تھے، جس پر یہ لوگ ہرگز قابو نہیں پا سکتے تھے، یعنی عیسیٰؑ تو آغاز میں بھی اور انجام میں بھی روح تھے، لہٰذا فرمایا گیا کہ ان کو اشتباہ ہوگیا اور یہ اشتباہ کچھ اس معنی میں نہیں کہ انہیں کوئی شک گزرا ہو بلکہ اس کا مطلب زبانِ قدرت کی ترجمانی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کے جسم سے جو سلوک کیا وہ انہیں بالکل ایسا لگا جیسے ان کی روح سے یہ سلوک کیا ہو۔
۹۷
حلِّ مسئلہ
گزارشِ خدمتِ عالیہ آنکہ یقیناً حضورِ انور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پیدائشی طور پر پاک و پاکیزہ اور طاہر و معصوم تھے، جس کے ثبوت کے لئے قرآن و حدیث اور عقل و نقل کے بہت سے دلائل موجود ہیں، چنانچہ منجملہ چند دلیلیں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:
۱۔ سورۂ ابراہیم (۱۴: ۳۵) میں مذکور ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اپنے اور اپنی موجودہ و آئندہ اولاد کے حق میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی تھی کہ پروردگارِ عالم انہیں بتوں کی پرستش سے بچائے رکھے، کیونکہ بت پرستی نہ صرف گمراہی ہے (۱۴: ۳۶) بلکہ ناپاکی بھی ہے (۲۲: ۳۰) اور اس دعا میں ظاہری و باطنی دونوں قسم کی بت پرستی کا ذکر ہے، مختصر یہ کہ اس دعائے ابراہیمی میں جملہ اقسام کے گناہوں سے بچ کر پاک و معصوم رہنے کی التجاء کی گئی ہے، اور آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ: “میں اپنے جدِ امجد حضرت ابراہیمؑ کی دعا کا ثمرہ ہوں۔” پس معلوم ہوا کہ آلِ ابراہیمؑ کے جملہ انبیاء
۹۸
و أئمّہ علیہم السّلام پیدائشی طور پر پاک و معصوم ہیں۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کے مقدّس ارشاد: لَعَمْرُکَ (آپ کی عمر کی قسم، ۱۵: ۱۲) کی حکمت سے ظاہر ہے کہ حضورِ اکرمؐ کی تمام زندگی عصمت و طہارت کی حامل تھی، اگر یہ حقیقت نہ ہوتی تو پروردگار اپنے حبیب کی عمر کی قسم نہ کھاتا، جبکہ قسم صرف پاک و معصوم ہی چیزوں کی کھائی جاتی ہے۔
۳۔ پیغمبرِ برحق پاک و معصوم ہی تھے، اسی لئے آپ کی شان میں ” وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ” (اور بے شک آپ کے اخلاق بڑے اعلیٰ درجے کے ہیں، ۶۸: ۰۴) فرمایا گیا ہے، ظاہر ہے کہ خُلُقِ عظیم کے معانی سے امانت گزاری، تقویٰ اور عصمت و پاکیزگی باہر ہرگز نہیں۔
۴۔ نیز اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ (۴۹: ۱۳) کی صفتِ تقویٰ کا اطلاق سب سے پہلے اور سب سے اعلیٰ درجے پر خیر البشر ہی پر ہوتا ہے، پس تقویٰ کا دوسرا نام عصمت ہے۔
۵۔ اب رہا سوال وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى (اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو روحانیت سے ناواقف پایا سو اُس نے آپ کی رہنمائی کی، ۹۳: ۰۷) تو اس بارے میں عرض یہ ہے کہ اگر یہ ارشاد
۹۹
کسی ایک عام انسان کی بابت ہوتا تو اس کا مطلب اس شخص کے جملہ احوال کو پیشِ نظر رکھ کر متعین ہو جاتا اور شاید کہا جاتا کہ وہ عام انسان راہِ دین پر نہیں تھا، سو خدا نے اسے دین کا راستہ بتلا دیا، یا کہا جاتا کہ وہ آدمی جاہل تھا، اسے عالم بنا دیا وغیرہ، مگر چونکہ یہ ارشاد سردارِ رسل اور ہادئ سبل کی شان میں ہے، جن کی عصمت و طہارت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا طٰہٰ یعنی اے طاہر و معصوم (۲۰: ۰۱) لہٰذا آنحضرتؐ کی جملہ قرآنی صفات کے پیشِ نظر مذکورہ ارشاد کا مطلب متعین ہوگا، اور وہ یہ ہے کہ آغاز میں آنحضرتؐ روحانیّت، وحی و الہام اور کارِ نبوّت سے بے خبر تھے، پھر آپ پر وحی نازل ہوئی اور ہدایت کے مختلف مدارج کو طے کرتے ہوئے ہادی بن گئے کیونکہ “فھدیٰ” میں حضور سے خطاب ہونے کے سبب سے ہدایتِ کاملہ ہی کا ذکر ہے، جو ہادی و رہنما کا درجہ ہے، اور اسی آخری ہدایتِ عالیہ کی نسبت سے اور وحی و الہام کے معیارِ اعلیٰ کے پیشِ نظر حضورِ اکرمؐ کو ابتدائی وقت میں ضالاً کہا گیا ہے کہ اُس وقت آپ ایسے نہیں تھے۔ اس حقیقت کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک ہے انتہائی پستی اور ایک ہے انتہائی بلندی اور ان دونوں کے درمیان مسافت کے جتنے بھی درجات ہیں ان میں
۱۰۰
سے ہر درجہ اگر نیچے سے دیکھا جائے تو بلند ہے اور اگر اوپر سے دیکھا جائے تو پست ہے یہی حال حقیقت میں ہدایت کا بھی ہے۔
۶۔ چنانچہ قرآن ہی نے آنحضرتؐ کی ابتداء سے لے کر انتہا تک ساری زندگی کو اسوۂ حسنہ قرار دے دیا، پس معلوم ہوا کہ یہ لفظ ضآلاً یہاں معیارِ انسانیت اور راہِ دین کے اعتبار سے ہرگز نہیں، بلکہ راہِ ملکوت اور معراجِ عالمِ بالا کے لحاظ سے ہے۔
۷۔ یہ حقائق سرورِ انبیاء کی جسمانی زندگی سے متعلق ہیں، اور آپ کی نورانی زندگی بحیثیتِ عقل کلّی ازلی و ابدی ہے، جس کی مثال پانی سے دی جا سکتی ہے کہ پانی کا وجود دو درجوں میں ہے، یعنی ایک وہ پانی جو سمندر کہلاتا ہے اور دوسرا وہ پانی جو سمندر سے نکل کر بخارات، برف و باران، ندی اور دریا کی صورت میں روان دوان سمندر سے واپس جا ملتا ہے۔ چنانچہ ” اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ ” (۲: ۱۵۶) کا ارشاد تمام انسانوں کے لئے یہی نظریہ پیش کرتا ہے، مگر یہ مثال سب سے پہلے پیغمبر اور امام پر صادق آتی ہے۔
۸۔ تخلیقِ کائنات کے تصوّر کے باب میں یوں عرض کی جاتی ہے کہ بموجبِ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ ، ۲۱: ۳۳ (تمام چیزیں ایک دائرے پر چکر لگا رہی ہیں) ہستی اور نیستی روز و شب کی طرح ایک ایسے دائرے پر گردان ہیں، کہ اس کی نہ تو کوئی
۱۰۱
ابتداء ہے اور نہ ہی کوئی انتہا، یعنی ہمیشہ سے اس عظیم کائنات میں تعمیر بھی ہے اور تخریب بھی جیسا کہ حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ نے “اسلام میرے مورثوں کا مذہب” کے عنوان کے تحت فرمایا ہے اور حضرت پیر ناصر خسرو نے جو فرمایا کہ نفسِ کلّی کے مقصد کی تکمیل کے بعد یہ عالم فنا ہو جائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جملہ حالات دگرگون ہوں گے، کیونکہ انہوں نے کتابِ وجہِ دین میں فنا سے تبدیلئ حالات مراد لی ہے۔ نیز انہوں نے فرمایا ہے کہ نیستی دراصل ابداع کو کہا گیا ہے، یعنی عالمِ امر جو عالمِ خلق کے ساتھ ساتھ ہے، یعنی نیستی کا حال ایسا نہیں جیسا کہ عام لوگوں کے وہم و گمان میں ہے، پس ظاہر ہے کہ عدمِ محض محال ہے۔
۹۔ نیز حضرت پیر کی مجموعی حکمت سے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جب موجودہ نفسِ کلّ عقلِ کلّ کے درجے میں پہنچے گا تو اس کے بعد کے درجے کی ایک عظیم روح پھر وہی عمل شروع کرے گی، جو سابقہ نفسِ کلّ نے کیا تھا اور قرآنِ حکیم میں بھی ایسے اشارے ملتے ہیں۔
۱۰۔ غرض یہ کہ حکمتِ قرآن کی روشنی میں کائنات کبھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی، بجز آنکہ اس عظیم کائنات کے اندر ہمیشہ سے اور ہمیشہ کے لئے فنا و بقا کا عمل جاری ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اس
۱۰۲
کے علاوہ یہ کائنات کلّی طور پر لا انتہا دفعات میں فنا و بقا کی کیفیت سے گزرتی رہے اور اس کی ہر فنا و بقا کے لئے بے شمار سال مقرر ہوں، مگر اس صورت میں بھی بقا کو عالمِ خلق اور فنا کو عالمِ امر کہا جائے گا اور یہ قطعی معدومیّت نہ ہوگی، مگر زیادہ صحیح وہی بات ہے جو عرض کی گئی کہ عالمِ خلق اور عالمِ امر یا کہ بقا و فنا ایک ساتھ جاری ہیں۔ والسلام۔
۱۰۳
اسرارِ فطرت
جیسا کہ اہلِ دانش سے اس عنوان کے لفظی معنی پوشیدہ نہیں، کہ اسرار بھیدوں یعنی چھپی حقیقتوں کو کہتے ہیں، اور فطرت پیدائش و طریقِ پیدائش کا نام ہے، چنانچہ “اسرارِ فطرت” ایک ایسا اہم اور ضروری موضوع ہے کہ اس کی بنیادی باتوں کے سمجھنے سے نہ صرف قرآن فہمی اور دین شناسی میں بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ قانونِ قدرت اور آئینِ فطرت کے سربستہ اسرار بھی کھل جاتے ہیں، کیونکہ قرآن اور دینِ اسلام قدرت و فطرت کے عین مطابق ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایان رحمت و مہربانی ہے کہ اُس رحمان و رحیم نے اپنی عزیز کتاب اور دینِ حق کو کائنات و موجودات اور خود انسان کی فطرت کے تقاضوں کے موافق بنایا تاکہ آفاق، انفس، کتابِ سماوی اور اسلام ایک دوسرے کی تفسیر و تشریح کرتے رہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ فطرت کے بے پناہ بھیدوں کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور اس کے بعد الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ (۰۳: ۰۷)
۱۰۴
جانتے ہیں، جو پیغمبرِ برحق اور أئمّہ علیہم السّلام ہیں، اور ہاں انہی حضرات کے وسیلے سے علم و حکمت کا فیضان مومنینِ بایقین کے لئے حاصل ہوتا ہے۔
۱۔ قرآنِ حکیم کا ارشادِ مبارک ہے کہ:
اللہ تعالیٰ کی فطرت کا طریقہ وہی ہے جس پر کہ اس نے لوگوں کو پیدا کیا (۳۰: ۳۰)۔ یعنی خدا کی خدائی و بادشاہی میں ایک ہی طریقِ فطرت ہے اور ایک ہی فطرت و پیدائش، تمام انسان اسی یکتا فطرت کے مطابق پیدا کئے گئے اور آئندہ بھی قانونِ فطرت میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی۔
۲۔ حدیثِ شریف میں ہے کہ: ہر مولود فطرت کے مطابق پیدا ہوتا ہے (اور اسلام دینِ فطرت ہے) اور اس کے والدین (بعض دفعہ) اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔
۳۔ مذکورۂ بالا آیت و حدیث کی وضاحت کے بعد کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ سکتا کہ اسلام وہ واحد دین ہے، جو قانونِ فطرت کے تقاضوں کو تمام زمانوں میں پورا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ اصل میں دنیا اور زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے خلاف
۱۰۵
نہیں، چونکہ اسے دنیا زمانے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ اور قائم رہنا ہے۔
۴۔ جاننا چاہئے کہ جو عقیدہ اور نظریہ قانونِ فطرت کے خلاف رکھا جائے، اس کا بالآخر خاتمہ ہو جاتا ہے، کیونکہ کسی چیز کی قانونِ الٰہی سے مخالفت و تصادم اس کے لئے باعثِ ہلاکت ہے۔
۵۔ دنیا میں جتنی قومیں صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہیں، ان کے نیست و نابود ہو جانے کا سبب بس یہی تھا کہ انہوں نے قانونِ فطرت کے بھیدوں کو نہیں سمجھا اور زمان و مکان کے تقاضوں کے مطابق عمل نہیں کیا، سو اس بڑی خلاف ورزی کے نتیجے میں وہ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔
۶۔ جب یہ حقیقت مسلّمہ ہے کہ ہر انسانی بچہ دینِ فطرت یعنی اسلام کے مطابق پیدا ہوتا ہے، تو لازمی طور پر یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ چھوٹے چھوٹے بچے عموماً جس انداز سے طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں، اور جیسی فی البدیہہ باتیں پوچھتے رہتے ہیں، وہ دراصل قانونِ فطرت ہی کی کارفرمائی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ دینِ فطرت (یعنی اسلام) میں سوال کرنا اور پوچھنا بنیادی ضرورتوں میں سے ہے۔
۱۰۶
۷۔ جب یہ بات واقعی حقیقت ہے کہ دین و دنیا کی ضروری معلومات حاصل کر لینے کی خواہش انسانی فطرت میں داخل ہے جس کو نیک توفیق کہنا چاہئے، تو پھر یہ ایک لازمی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے لوگوں کے درمیان ایک ایسا معقول ذریعہ بھی موجود اور حاضر ہو، جو کہ ہر ہر سوال کا بخوبی جواب دے سکے، کیونکہ اگر عالمِ انسانیّت میں صرف سوال ہی کی صلاحیت ہوتی اور جواب کا کوئی وسیلہ موجود و مہیا نہ ہوتا تو پھر (نعوذ باللہ) خدا تعالیٰ کی ہدایت و رحمت میں بہت بڑی کمی رہتی۔
۸۔ قرآنِ حکیم کے جس ارشاد میں فرمایا گیا ہے کہ: اللہ تعالیٰ کی فطرت وہی ہے جس کے مطابق خدا نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات و موجودات جس قانونِ فطرت کے مطابق پیدا کی گئی ہیں، اس کا بہترین اور پُرحکمت نمونہ انسان ہے، یعنی انسان کی روحانی اور جسمانی تخلیق و ہستی فطرتِ الٰہیہ کی کامل ترین مثال ہے۔
۹۔ مذکورۂ بالا فرمانِ الٰہی کا اشارہ یہ ہے کہ انسان اپنے ظاہر و باطن کی کیفیّت و حقیقت جیسا کہ چاہئے سمجھ لے تا کہ وہ اسرارِ فطرت کے مقاصد کو سمجھ سکے اور یہ سب کچھ اس کی اپنی ذات میں موجود ہے۔
۱۰۷
۱۰۔ اگر انسان کی اپنی ذات میں فطرت کے بھیدوں کے انمول خزانے پوشیدہ نہ ہوتے، تو خدا تعالیٰ وجودِ انسانی کو تمام فطرتوں کا جامع اور نمونہ قرار دے کر یہ تاکید نہ فرماتا کہ وہ حصولِ معرفت کے لئے اپنی ذات کی طرف متوجہ ہو جائے۔
۱۱۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ قانونِ فطرت کے بموجب پہلے سوال ہے اور اس کے بعد جواب، یعنی پہلے طلب ہے پھر مطلوب، اس کے یہ معنی ہوئے کہ اگرچہ انسان کی ذات میں علم و حکمت اور اسرارِ فطرت کے خزانے پوشیدہ ہیں، لیکن ان کا حصول ہادئ برحق کی ہدایت و رہنمائی کی بغیر قطعاً ناممکن ہے۔
۱۲۔ جب مانا گیا کہ قانونِ فطرت کا بہترین عملی نمونہ انسان ہے تو یہ بھی جاننا چاہئے کہ انسان کی جسمانی اور روحانی تخلیق و تکمیل یکایک نہیں بلکہ رفتہ رفتہ ہو جاتی ہے، اس لئے ہمارا یہ کہنا بالکل درست اور صحیح ہے کہ دینِ حق بھی ایک دن میں نہیں بلکہ بتدریج درجۂ کمال کو پہنچتا ہے، خواہ دینی ترقی ایک فرد کی ہو یا پوری قوم کی۔
۱۳۔ مذکورۂ بالا آیت و حدیث کی روشنی میں جب یہ حقیقت صاف طور پر ظاہر ہے کہ ہر مولود اسلامی مزاج کے مطابق پیدا ہوتا ہے، خواہ وہ جس پیغمبر کے زمانے میں بھی ہو، پھر اس سے تین حقیقتیں
۱۰۸
روشن ہوکر سامنے آتی ہیں، ایک یہ کہ دینِ فطرت یعنی اسلام اُس وقت سے ہے جب سے کہ بشریت کا آغاز ہوا، جس کی تبلیغ و دعوت جملہ انبیاء علیہم السّلام نے کی، دوسری یہ کہ اسلام اوّل سے لے کر آخر تک ایک ہی ہے، مگر اس کی ظاہری صورتیں مختلف زمانوں میں مختلف رہی ہیں، تیسری یہ کہ اسلام میں کوئی جمود و تنگی نہیں، بلکہ یہ تدریجی ہدایت اور ارتقائی فعالیّت کا سرچشمہ ہے۔
۱۴۔ قرآنِ حکیم کے جس ارشاد میں فطرتِ انسانی پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے، اس کے تقاضوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ماضی اور مستقبل کے لوگوں کے فطری احوال جاننے کے لئے ذاتی معرفت کا تجربہ حاصل کریں، کیونکہ عجائباتِ فطرت کا مشاہدہ کرنے کے لئے یہی ایک ذریعہ فرمایا گیا ہے۔
۱۵۔ اس آیت میں جس میں فطرتِ الٰہیہ کی کلیدی حکمت سمو دی گئی ہے، انبیاء و اولیاء اور تمام لوگوں کی فطرت کا یکجا طور پر ذکر کیا گیا ہے، جس کی روشنی میں متعدد حقیقتیں واضح ہو جاتی ہیں اور ان میں ایک اساسی حقیقت یہ ہے کہ انسانی روحوں کی ازلی و ابدی وحدت برحق ہے۔
۱۶۔ اس آیۂ مقدّسہ کی تعلیم سے یہ یقین حاصل آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ
۱۰۹
نے جس طریقِ فطرت پر حضرتِ انسان کو پیدا کیا ہے وہی طریقہ دوسرے تمام طریقوں میں سے ارفع و اعلیٰ اور پُرحکمت ہے، اور باقی سب طریقے اس کے سامنے ماند پڑ جاتے ہیں۔
۱۷۔ اس کلّیہ کی گہری حقیقتوں کو سمجھنے کے بعد عقل یہ ماننے لگتی ہے کہ فی الاصل حضرت آدمؑ اور حضرت عیسیٰؑ بھی اسی فطرتِ مشترکہ کے مطابق پیدا کئے گئے تھے۔
۱۸۔ آیۂ فطرت کا اشارہ یہ ہے کہ نورِ خداوندی کے درجۂ معرفت پر جو حضرات فائز ہو چکے ہیں، وہ چشمِ بصیرت اور دیدۂ دل سے اُن اسرارِ فطرت کا انتہائی باریک نگاہی سے مشاہدہ کرتے ہیں، جو آسمان، زمین، جمادات، نباتات اور حیوانات میں پوشیدہ ہیں۔
۱۹۔ پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرّہ کا ارشاد ہے کہ یہ کائنات ایک درخت کی طرح ہے، اور ہم انسان اس کے پھل ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آسمانوں کی تاثیر سے عناصر پیدا ہوتے ہیں، عناصر کے امتزاج سے موالیدِ ثلاثہ کی تخلیق عمل میں آتی ہے، موالید کی تحلیل سے انسانی شخصیّت وجود میں آتی ہے اور اس میں نفسِ نباتی و حیوانی پیدا ہوتا ہے، جس کی تزکیہ کرنے سے روحِ انسانی پھر
۱۱۰
عقل کا وجود بنتا ہے، اور یہی اللہ تعالیٰ کی دائمی فطرت ہے۔
۲۰۔ فطرت سے متعلق قرآنِ پاک کی اس حکیمانہ تعلیم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی فطرت انسان ہی کے لئے مخصوص ہے، یعنی انسان کی فطرت میں وہ تمام قوّتیں اور صلاحیتیں رکھی ہوئی ہیں، جو کچھ پروردگارِ عالم کی قدرتِ کاملہ اور رحمتِ کل کے تقاضوں کے مطابق ممکن تھیں۔
۲۱۔ اسرارِ فطرت سے واقفیت و آگہی کا طریقہ یہ ہے کہ ہر دانشمند انسان ذاتی معرفت کے عالم میں چشمِ باطن سے آفاق و انفس کے حقائق و معارف کا واجبی طور پر مشاہدہ کرے، کیونکہ روحانی اور جسمانی موجودات و مخلوقات کی پیدائش و تخلیق کے بھیدوں کا یہی ایک مرکز ہے۔
اس مختصر بیان کے خاتمے پر میں یہ کہنے کے لئے مجبور ہوں کہ اسرارِ فطرت کے بارے میں سوائے چند اشاروں کے کچھ نہ کہا جا سکا۔
۱۱۱
پنج مقالہ نمبر ۳
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سخنہای گفتنی
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور رسولِ برحق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور أئمّۂ پاک علیہم السّلام کی ظاہری و باطنی ہدایت و تائید سے “پنج مقالہ نمبر ۳” آپ کے سامنے ہے، اس کتاب کی علمی اہمیّت و افادیّت بھی بحیثیتِ مجموعی میری دوسری کتابوں کی طرح ہے، تاہم اس میں جو خاص خاص باتیں ہیں وہ بالترتیبِ موضوعات ذیل میں درج کی جاتی ہیں:
اس کتاب میں سب سے پہلے آیۂ تطہیر کی کچھ حکمتیں بیان کی گئی ہیں، جو اہلِ بیتِ کرامؑ اور أئمّۂ آلِ محمد علیہم السّلام سے متعلق ہیں، اور ان حضرات کی یہ عالی شان مرتبہ کہ خداوندِ عالم نے ان کو ہر طرح سے پاک و پاکیزہ رکھا ہے اسلام کی ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد دینِ حق کے بہت سے بھید کھل جاتے ہیں، مثال کے طور پر پنجتنِ پاک اور أئمّۂ اطہار علیہم السّلام کی عصمت و پاکیزگی کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے قرآنی مشکلات اس طرح آسان ہو جاتی
۱۱۵
ہیں اور حکمتوں کے چھپے ہوئے خزانے ایسے مل جاتے ہیں کہ ارشاد ہے:
اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌ ۵۶: ۷۷۔ فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ ۵۶: ۷۸۔ لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ۵۶: ۷۹۔
یقیناً یہ ایک مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے کہ اس کو بجز پاک حضرات کے کوئی ہاتھ نہیں لگانے پاتا۔ اس ارشاد سے صاف صاف ظاہر ہے کہ پنجتن اور أئمّۂ اہلِ بیتؑ کے پاک و پاکیزہ ہونے کا مقصدِ اعلیٰ یہ ہے کہ یہ مقدّس ہستیاں کتابِ مکنون تک رسا ہو جائیں جس میں قرآن محفوظ ہے، یہ کتابِ مکنون خواہ لوحِ محفوظ ہو یا روحانیّت کی عملی تاویل، بہرحال یہ دوسروں کی رسائی سے بالاتر ہے اور اس کے معنی یہ ہوئے کہ حضراتِ اہلِ بیت (جن میں أئمّۂ طاہرین بھی ہیں) کے سوا اور کوئی شخص قرآنی روحانیّت اور عرفانی حکمت کے اس درجے پر فائز نہیں ہوسکتا، سو ایسی حقیقتوں کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے یہاں آیۂ تطہیر کے موضوع کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
دوسرا مقالہ خاصف النعل ہے، جس میں حدیثِ نبوّیؐ کے مطابق علی و أئمّۂ اولادِ علی علیہم السّلام کے صاحبانِ تاویل ہونے کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ مولا علیؑ کی مقدّس شخصیّت کے زمانے میں تاویلِ قرآن کا آغاز ہوا اور ہر زمانے کے امام نے
۱۱۶
اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق تاویل کا ایک حصّہ لوگوں کے سامنے پیش کیا اسی طرح رفتہ رفتہ قرآنی تاویل امامِ وقتؑ کے توسط سے ظاہر ہوتی چلی آئی، اس امرِ واقعی سے ایک طرف تو یہ ثابت ہوا کہ خدا و رسولؐ کے بعد اولوالامرؑ کی اطاعت فرض ہے، اور اولوالامر أئمّۂ ہدا علیہم السّلام ہیں، اور دوسری طرف یہ حقیقت روشن ہوئی کہ دینِ اسلام کے عروج و ارتقاء کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ اولوالامر کے وسیلے سے تدریجی تاویل کے احکام پر عمل کیا جائے، تا کہ بمقتضائے زمان و مکان اسلامی ضابطۂ حیات کے مطابق دین و دنیا کی کامیابی حاصل ہو۔
تیسرا مضمون “تدریجی ہدایات” ہے جس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ قانونِ فطرت کے عمل کی تکمیل اور اسلامی ہدایات کا نفاذ تدریجی صورت میں ہے، اور اس کا ثبوت آنحضرتؐ سے پہلے ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت کا آنا ہے اور حضورِ اقدسؐ کے دور میں تنزیل کے بعد تاویل پر عمل کرنا ہے، جیسا کہ حدیثِ خاصف النعل سے ظاہر ہے کہ نبئ اکرم صلعم کی تنزیلی جنگ آنحضرتؐ کی حیاتِ طیبہ میں تھی، اور علئ مرتضیٰؑ اور آپ کے جانشین اماموں کی تاویلی جنگ بعد میں ہونے والی تھی۔
۱۱۷
چوتھا مضمون “قربانی کی حکمت” ہے جس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ عبادت اتنی قدیم اور اس کی تاریخ اتنی طویل ہے کہ زمانۂ آدمؑ سے لے کر آج تک کوئی وقت ایسا نظر نہیں آتا جس میں طرح طرح کی حق اور باطل قربانیاں نہ گزاری جاتی ہوں، چنانچہ یہ امر ضروری تھا کہ قربانی سے متعلق کچھ مفید باتیں بتائی جائیں۔
پانچواں مقالہ ہے “تین سوال انڈیا سے” ہمارے نزدیک سوال کا جواب دینا اور اس کی اشاعت کرنا اس لئے انتہائی ضروری ہے کہ سوال دین کی اُن باتوں کے بارے میں کیا جاتا ہے جن میں لوگوں کو شک و شبہ پیدا ہوتا ہو، پس اگر ایسے سوالات کے لئے جوابات مہیا نہ کئے جائیں تو رفتہ رفتہ دین لوگوں کو مشکوک نظر آئے گا، اور یہ بات بھی درست ہے کہ ہر سوال کا جواب یا تو براہِ راست ہوتا ہے یا بالواسطہ، ان دونوں میں سے جو مناسب ہو وہی کرنا چاہئے، اگر آپ عام حالت میں اپنے لوگوں کے سامنے علم کے موتی بکھیر دیں تو پھر بھی ان کی طرف بہت کم توجہ دی جائے گی، اس کے برعکس اگر آپ بحث و مناظرہ کے انداز میں علم کی باتیں کریں گے تو آپ کے لوگ چونک اٹھیں گے اور کان کھڑے کرکے خوب غور سے سننے لگیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ کے
۱۱۸
لئے عقل و دانش کی برتری اور فتح دیکھنے کا جذبہ رکھتا ہے یا یہ کہ وہ ہمیشہ مقابلہ دیکھنے کا متمنی رہتا ہے لہٰذا سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ضروری علم کو منظرِ عام پر لانا چاہئے، مگر یہ بات الگ ہے کہ آپ سوال کا جواب دے سکتے ہیں، لیکن کسی مصلحت کی بناء پر جواب نہیں دینا چاہتے۔
اگر اسماعیلی علوم عمدہ عمدہ کتابوں کی صورت میں عام ہو جائیں تو سوالات کم سے کم ہو جائیں گے، یہ بات ایسی ہے جیسے آپ نے طرح طرح کے سوالات کے لئے جوابات پہلے ہی سے تیار کر رکھے ہوں، اور جو جو کتابیں کامیاب ہوئی ہیں ان کی ایک علامت یہی ہوتی ہے کہ ان کے مطالعہ سے بہت سے سوالات حل ہو جاتے ہیں، اسی طرح شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے، اور جب شک چلا جاتا ہے تو اس کی جگہ پر یقین آتا ہے، سو ایسا ہی علم ہے جو علم الیقین کہلاتا ہے۔
ہمیں پروردگارِ عالم کی علمی نعمتوں کے لئے دل و جان سے شکر کرنا چاہئے کہ اُس نے اپنے فضل و کرم سے یہ پاک و پاکیزہ نعمتیں عنایت فرمائیں، اور علم کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لئے ظاہری و باطنی وسائل فراہم کر دئے، وہی خداوندِ برحق
۱۱۹
ہے جس نے اہلِ ایمان کی نیک دعاؤں کے وسیلے سے خدمت کا جذبہ پیدا کیا اور بہت سے علم دوست حضرات کو توفیق دی کہ وہ علمی خدمت کے سلسلے میں بھرپور تعاون کریں، الحمد للہ علیٰ احسانہٖ۔
فقط جماعت کا ایک علمی خادم
نصیر الدین نصیر ہونزائی
اتوار ۲۰ رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ
۴ ستمبر ۱۹۷۷ء
۱۲۰
قرآن کی حکمتیں
آیۂ تطہیر اور اہلِ بیت
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا ۳۳: ۳۳۔ ماسوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ اے اہلِ بیت (نبوّت) وہ تم سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں ایسا پاک رکھے جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے۔
یہ روایت مشہور ہے کہ آیۂ مذکورۂ بالا پنجتنِ پاک کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ واقعہ اُمِّ سلمہ آنحضرت کی زوجہ کے گھر میں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی و فاطمہ و حسن و حسین علیہم السّلام کو بلایا اور ان پر اپنی چادر اوڑھا دی، اور آپ خود بھی اس میں داخل ہوگئے، پھر فرمایا: اے میرے
۱۲۱
اللہ! یہ ہیں میرے اہلِ بیت جن کے بارے میں تو نے میرے ساتھ وہ وعدہ کیا جو کچھ کہ تو نے کیا، یا اللہ ان سے رجس کو دور رکھ اور انہیں پاک رکھ جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے۔ اس پر اُمِّ سلمہ بولی: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں شامل ہوسکتی ہوں؟ آپؐ نے فرمایا: اے اُمِّ سلمہ! نہیں، خوش خبری ہو کہ تو نیکی پر ہے۔
حکمت نمبر ۱:
اس آیۂ مقدّسہ سے یہ حقیقت کلّی طور پر ظاہر اور روشن ہو جاتی ہے کہ حضراتِ پنجتن ایسے انتہائی درجے پر پاک ہیں، کہ حق سبحانہ نے ان کو بکمالِ رحمت و مہربانی جیسا کہ چاہئے پاک رکھا ہے اور ان کو ہر طرح کی طہارت و پاکیزگی کا نمونہ اور ہر قسم کی پاکی و صفائی کا سرچشمہ بنایا ہے۔
حکمت نمبر ۲:
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السّلام کی یہ پاکیزگی ظاہری بھی ہے اور باطنی بھی، روحانی بھی ہے اور جسمانی بھی، دینی بھی ہے اور دنیاوی بھی، غرضیکہ وہ بزرگواران ہر طرح سے پاک و طاہر ہیں، اور اس میں ذرہ بھر شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
حکمت نمبر ۳:
اس آیۂ مبارکہ میں جو آیۂ تطہیر کے نام سے مشہور ہے، پنجتن کے انتہائی درجے پر پاک و پاکیزہ ہونے کا ذکر ہے، اور یہ ایسی پاکیزگی ہے کہ عالمِ بشریت میں اس سے اوپر
۱۲۲
اور کوئی دوسری پاکیزگی نہیں ہوسکتی، جبکہ اس مبارک ارشاد میں ذواتِ مقدسِ پنجتن کی عصمت و طہارت کا ذکر صیغۂ مبالغہ پر ختم ہوا ہے۔
حکمت نمبر ۴:
سب قائل ہیں کہ رسولِ پاک شروع ہی سے پاک تھے، لہٰذا جب حضورؐ خود بھی اہلِ بیت کی تطہیر کے اس عمل میں شامل ہوگئے، تو اس میں پاکیزگی کا تصوّر بہت ہی بلندی پر گیا، اور اس سے کئی حقیقتیں ثابت ہوگئیں، اور ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں جو تصوّر حضورؐ کے اوصافِ حمیدہ کا ہے وہی تصوّر اہلِ بیتِ کرامؐ کے دوسرے افراد کے اخلاقِ عالیہ کا بھی ہے، کیونکہ خداوند عالم نے اس آیۂ پُرحکمت میں تمام اہلِ بیتِ اطہارعلیہم السّلام کو عصمت و طہارت کے ایک ہی درجے میں یاد فرمایا ہے۔
حکمت نمبر ۵:
اس آیۂ مقدّسہ میں اللہ تعالیٰ کے ارادے کا ذکر ہے جو اہلِ بیت کو ہر قسم کی برائی سے پاک رکھنے سے متعلق ہے، تو جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ حادث نہیں بلکہ قدیم ہے، یعنی جن بزرگ ہستیوں کے بارے میں پروردگارِ عالم کا یہ ارادہ ہو کہ وہ پاک ہو جائیں تو وہ ارادہ بہت پہلے سے موجود ہوتا ہے اور وہ
۱۲۳
حضرات اس ارادۂ الٰہی کے زیرِ اثر بہت پہلے سے پاک ہوتے ہیں، نہ کہ بعد میں۔
حکمت نمبر ۶:
اب رہا سوال آیۂ تطہیر کے نزول کا اور اس عمل کا کہ رسولِ اکرمؐ نے بعد میں اپنے اہلِ بیتِ اطہارؑ کو بلا کر ان پر اپنی چادر اوڑھا دی اور ان کے حق میں پاکیزگی کی دعا فرمائی جس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کی پاکیزگی اس وقت عمل میں آئی جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا اور جبکہ رسولِ اکرمؐ نے اس کے لئے دعا مانگی، لیکن بات دراصل یہ ہے کہ خدا و رسول کی جانب سے اس ازلی حقیقت کا عملی ثبوت پیش کرنا تھا کہ اہلِ بیت عظام ایسے پاک ہیں تا کہ عوام اس کو بآسانی سمجھ سکیں۔
حکمت نمبر ۷:
قرآنِ حکیم کی بہت سی آیتوں میں مومنین کی روحانی اور جسمانی پاکیزگی کا بھی ذکر آیا ہے، جس سے اہلِ بیتِ کرامؑ کی عصمت و طہارت اور بھی اونچی نظر آتی ہے، وہ اس طرح کہ مومنین کا پاک ہو جانا رسول اور اہلِ بیت ہی کے وسیلے سے ہے اور جب بھی کوئی مومن پاک ہو جاتا ہے، تو اس کو اہلِ بیت کی برترئ عصمت کا یقین اس طرح آتا ہے
۱۲۴
جیسے ایک چھوٹا سا بچہ یوں سمجھتا تھا کہ پہاڑ کی چوٹی آسمان کو چھو رہی ہے مگر اسے جب اس چوٹی پر پہنچایا گیا تو اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ اس کا گمان ہی تھا کہ آسمان کی چھت پہاڑوں کی چوٹیوں پر رکھی ہوئی ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ آسمان پہاڑوں سے بھی بہت ہی بلند ہے۔
حکمت نمبر ۸:
بشریت کے مقام پر طہارت و پاکیزگی اور صاف دلی و پاک باطنی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو کہ خدا تعالیٰ کامل انسانوں کو شروع ہی سے اخلاقِ حسنہ کے مرتبۂ اعلیٰ پر رکھتا ہے اور ان کو اپنے نورِ ہدایت کا مظہر بنا کر ہر قسم کی نیکی اور بھلائی کا ذریعہ قرار دیتا ہے، نبوّت اور ولایت کا درجہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔
حکمت نمبر ۹:
اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے رسولِ برحق کو نورِ ہدایت کے حامل بنانے کے لئے شروع ہی سے پاک رکھا تھا، اسی طرح حضورؐ کے اہلِ بیتؑ کو بھی ابتداء ہی سے پاک رکھا تاکہ ہمیشہ کے لئے سلسلۂ ہدایت جاری رہے، اور اس میں کسی قسم کی آلودگی نہ ہو۔
حکمت نمبر ۱۰:
قرآنِ حکیم میں حضورِ اکرمؐ کے پاک اخلاق اور پاک باطن کے جتنے اشارے اور تذکرے موجود ہیں ان میں آپ کے اہلِ بیت بھی شامل ہیں، اور ان حضرات کی یہ خصوصی عصمت و
۱۲۵
طہارت رسولؐ کے ساتھ ساتھ اس لئے ہے تاکہ پیغمبرِ خدا کے بعد بھی دین میں علم و حکمت اور رشد و ہدایت کا مرکز قائم اور باقی رہے۔
حکمت نمبر ۱۱:
قرآنِ کریم (۲۲: ۳۰) میں بت پرستی ناپاکی قرار دی گئی ہے اور وہ دو قسم کی ہوتی ہے یعنی ظاہری بت پرستی اور باطنی بت پرستی، ظاہری بت پرستی سے بچ جانا بہت آسان ہے مگر باطنی بت پرستی سے بچنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں سوائے اہلِ بیتِ اطہارؑ کے کہ وہ حضرات ہر قسم کی برائی سے پاک و پاکیزہ ہیں اور باطنی بت پرستی یہ ہے کہ کوئی انسان خدا کو نہ پہچانتا ہو، غیر کو خدا مانتا ہو، حرام اور ناجائز سے محبت کرتا ہو اور حلال میں اعتدال سے کام نہ لیتا ہو، خدا کی نظر میں یہ سب چیزیں رجس (ناپاکی) ہیں، جن سے اہلِ بیتِ کرامؑ کو خدا نے پاک رکھا ہے۔
حکمت نمبر ۱۲:
یہ اسلام کا ایک عام عقیدہ ہے کہ تزکیۂ نفس اور صفائیٔ باطن سے مردِ درویش کے دل و دماغ میں روحانیّت کی روشنی پیدا ہوتی ہے اور ایسا شخص گویا فرشتہ بن جاتا ہے پس اگر ایک عام مومن کی پاک باطنی کا یہ عالم ہے تو ان مقدّس اور بزرگ ہستیوں کی پاکیزگئ قلب کی کیا کیفیت ہوگی، جن کو خدا نے خود ازل ہی سے پاک و پاکیزہ بنایا ہے، یہاں سے صاف طور پر ظاہر ہوا کہ اہلِ بیتِ
۱۲۶
اطہار علیہم السّلام اس معنی میں خدا کے نور ہیں۔
حکمت نمبر ۱۳:
قرآن (۱۷: ۸۵) میں ہے کہ روح دراصل عالمِ امر سے ہے، یعنی وہ عالمِ خلق سے نہیں، اس لئے وہ ایک ازلی جوہر اور نور ہے، وہ ایک روشن عالم ہے، اس میں خدا کی قدرت و توانائی کے عجائب و غرائب نظر آتے ہیں مگر آئینۂ روح کے یہ سارے اوصاف رسول اور آپ کے خاندان کے لئے خاص ہیں کہ جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ اپنی اصلی اور ازلی صورت میں پاک و پاکیزہ ہیں۔
حکمت نمبر ۱۴:
جاننا چاہئے کہ اہلِ بیت سب سے پہلے پنجتن پاک ہیں اور پھر آلِ نبیؐ و اولادِ علیؑ کے تمام أئمّۂ طاہرین ہیں، کیونکہ اہلِ بیت کا یہ اشارہ رسول اللہ کے ایسے گھر والوں کی طرف ہے جو جسمانی رشتہ کے علاوہ آسمانی علم و ہدایت کے مرتبے میں بھی حضورؐ کے اقرب اور ہم نشین ہیں، یہی حضرات اہلِ ذکر، صاحبانِ امر اور أئمّۂ برحق کہلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہی بزرگواروں کو ہر قسم کی بشری کمزوری، ہر طرح کی خامی اور ہر نوع کی برائی سے پاک و پاکیزہ رکھا ہے۔
۱۲۷
حدیث کی حکمتیں
خاصف النعل
یہ حدیث سنی اور شیعہ (اثنا عشری اور اسماعیلی) کے کتبِ احادیث میں مشہور ہے اور میں نے “حالات و مقالاتِ صحابہ” سے نقل کی ہے:
ابو سعید الخدری نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے تو آپ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، اس وقت علیؑ نے اس کو اٹھا لیا، اور تسمہ کو درست کرنے لگے، جوتے کو درست کرنے کے بعد آپ پھر چل پڑے اور فرمایا:
یا ایھا الناس ان منکم من یقاتل علیٰ تاویل القرآن کما قاتلت علیٰ تنزیلہ۔ قال ابو سعید فخرجت فبشرتہ بما قال رسول اللّٰہ
۱۲۸
صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم فلم یلتفت بہ فرحا گانہ قد سمع
ترجمہ: اے لوگو وہ شخص تم میں سے ہے جو قرآن کی تاویل پر لڑائی کرے گا جس طرح میں نے قرآن کی تنزیل پر لڑائی کی ہے۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں میں مجمع سے نکلا اور علیؑ کو وہ بشارت سنائی جو رسول اللہ صلعم نے ہمیں سنائی تھی، لیکن علیؑ اس پر زیادہ خوش نہ ہوئے، معلوم ہوتا تھا کہ علیؑ یہ بشارت سن چکے تھے۔
۱۔ یہاں سب سے پہلے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تنزیل اور تاویل کی یہ دو اصطلاحیں خدا و رسول کے منشاء کے مطابق ہیں، کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ایسی معتبر حدیث میں اس کی اہمیت و افادیت اور موقع و محل کا ذکر ہی نہ ہوتا اور نہ ہی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا جاتا کہ تنزیل کا زمانہ عہدِ نبوّت تھا اور تاویل امامت کے پورے دور میں پھیلی ہوئی ہے۔
۲۔ اس حدیثِ شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضورِ اکرمؐ صاحبِ تنزیل ہیں اور مولانا علیؑ صاحبِ تاویل، اور تنزیل و تاویل دونوں میں آسمانی احکام و ہدایات ہیں، پس یہ امر لازمی ہے کہ خدا و رسول کے حکم کے مطابق تنزیلی احکام کے بعد تاویلی ہدایتیں بھی
۱۲۹
شروع ہو جائیں، تا کہ رفتہ رفتہ دونوں قسم کی ہدایتوں سے مومنین کو فیض و فضیلت حاصل ہو۔
۳۔ تنزیل سے مراد قرآن کے ظاہری معنی ہیں اور تاویل قرآن کی باطنی حقیقت ہے، چنانچہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ علیؑ پیغمبرِ اکرمؐ کے جانشین اس لئے ہیں کہ حضورِ اقدس کے بعد دنیا اور زمانہ کی تبدیلی سے جو بھی مسائل پیدا ہوں گے ان کا حل اگر تنزیل سے نہ ہو تو تاویل سے بتا دیا جائے، اور اسی کو استنباط بھی کہتے ہیں۔
۴۔ اس حدیث کی حکمت سمجھنے سے معلوم ہوگا کہ حضرت محمدؐ کے زمانہ سے لے کر قیامت تک سلسلۂ امامت جاری اور باقی رہنے والا ہے، کیونکہ علیؑ اس حدیث میں سلسلۂ نورِ امامت کا عنوان ہیں، یعنی جس کام کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ علیؑ کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بے شک وہ کام علیؑ کرے گا مگر نہ صرف شخصی اور ذاتی طور پر بلکہ اپنی پاک اولاد کے سلسلۂ امامت کے ذریعے سے بھی۔
۵۔ پیغمبرِ برحق کے اس مبارک ارشاد میں ظاہری جہاد کے بعد باطنی جہاد کرنے کا ذکر آیا ہے جو کہ امام ہر زمانے میں علم کی
۱۳۰
ذوالفقار سے کرتے رہیں گے جس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ دین میں صرف شریعت نہیں ہے بلکہ طریقت، حقیقت اور معرفت بھی ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو تاویلی جنگ بے معنی ہو جاتی۔
۶۔ جس طرح تنزیل محدود ہے، اور تنزیلی جہاد بھی محدود ہے، اسی طرح تاویل غیر محدود ہے اور تاویلی جہاد بھی غیر محدود ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری جہاد صرف جسمانی طور پر کیا جاتا ہے اور باطنی جہاد روحانی و علمی طور پر کیا جاتا ہے، جس کے بہت سے طریقے ہیں۔
۷۔ علیؑ جو زمانے کے امام کے لباس میں موجود اور حاضر رہتا ہے اس کی طرف سے ایک ہمہ گیر اور دور رس جہاد یہ ہے کہ دنیا والے احوالِ زمانہ سے متاثر ہو کر اپنے نظریات میں ترمیمات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ زمانے کے ساتھ ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔
۸۔ یہ بات سب کے نزدیک حقیقت ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، اور فطرت کا سب سے بہترین نمونہ اور سب سے عمدہ مثال انسان ہے اور انسان میں قانونِ فطرت کا ظہور یہ ہے کہ وہ بتدریج ترقی کرتا ہے، بدل جاتا ہے، وہ بہت سے حالات سے گزر جاتا
۱۳۱
ہے، اور منزل بہ منزل درجۂ کمال پر پہنچ جاتا ہے، چنانچہ دینِ حق کی بھی یہی مثال ہے اور اسی مقصد کے حصول کے لئے تاویلی جہاد ضروری ہے۔
۹۔ یہاں سے ظاہر ہے کہ شریعت کے ساتھ ساتھ بھی اور شریعت کے بعد بھی طریقت، حقیقت اور معرفت کی تعلیمات پر لوگوں کو عمل کرانا ہے اور اگر انہوں نے اس سے انکار کیا تو ان کے خلاف تاویلی جنگ لازمی ہوگی اور وہ یہ کہ دنیا زمانہ ان کے لئے طرح طرح کی مشکلات پیدا کر دے گا۔
۱۰۔ اس حدیث سے یہ حقیقت بھی روزِ روشن کی طرح ظاہر اور عیان ہو جاتی ہے کہ رسول کے بعد امامِ برحق قرآنِ حکیم کی گوناگون تاویلات سے مکمل طور پر واقف و آگاہ ہیں اور امامِ زمانؑ کے وسیلے سے وہ حضرات بھی تاویل کے اصولوں کو جانتے ہیں جو مرکزِ دعوت یعنی امامِ وقتؑ کی جانب سے علمی جہاد کے لئے مقرر ہوا کرتے ہیں۔
۱۱۔ جاننا چاہئے کہ تاویل کے تین مقامات ہیں، پہلا مقام قرآن ہے جہاں پر تاویل مغزِ معنی و حکمت کی حیثیت میں ہے، دوسرا مقام امامِ زمانؑ اور اس کے حدود ہیں، جہاں تاویل روحانی مشاہدات و
۱۳۲
تجربات کی صورت میں موجود ہے، اور تیسرا مقام دنیائے ظاہر ہے جس میں تاویل عظیم انقلابات و حادثات کی شکل میں رونما ہو جاتی ہے۔
۱۲۔ قرآنِ حکیم میں تاویل کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے اس میں ایک بات یہ بھی ہے کہ تاویل نزولِ قرآن کے بعد رفتہ رفتہ آنے والی ہے، ملاحظہ ہو (۰۷: ۵۳) اور (۱۰: ۳۹)، اس میں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ آیا قرآنِ کریم کی تنزیل کے ساتھ ساتھ تاویل نہیں اتری تھی؟ اور کیا آنحضرتؐ کی ذاتِ اقدس پر تاویل نازل نہیں ہوئی تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک قرآن کی تنزیل کے ساتھ تاویل بھی تھی اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تاویل کو سب سے پہلے جانتے تھے، لیکن تیسرے مقام کی تاویل جس کا اوپر ذکر ہوا رسول اللہ کے زمانے میں ابھی نہیں آئی تھی، جو بتدریج انقلاباتِ زمانہ کے رنگ میں ظہور پذیر ہونے والی تھی اور تاویل کے اسی پہلو کی وجہ سے ارشاد ہوا تھا کہ ابھی تاویل نہیں آئی ہے، اور وہ مستقبل میں آنے والی ہے، اس کے علاوہ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انفرادی اور اجتماعی حالات میں روحانی دور کا آنا تاویل کا آنا ہے۔
۱۳۔ تاویل جس مقام کی بھی ہو، پہلے وہ دعوت کی حیثیت رکھتی ہے، اگر قبول نہ کی گئی تو یہ جنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے، لہٰذا تاویل امامِ برحق کی دعوت بھی ہے اور اس کی جنگ بھی۔
۱۳۳
تدریجی ہدایات
ہر فردِ مسلم کے نزدیک یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے اور اس میں کسی کو کوئی شک ہی نہیں کہ اسلام دینِ خدائی اور دینِ فطرت ہے، کیونکہ یقیناًاسلام ہی وہ واحد آفاقی دین ہے، جو بموجبِ ارشادِ خداوندی (۶۱: ۰۹) آگے چل کر ادیانِ عالم کو اپنے رنگ کے ساتھ ہمرنگ کر لینے والا ہے، جب یہ حقیقت پوری طرح سے واضح ہوگئی کہ اسلامی ہدایات کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی اس فطرت کے مطابق ہے، جس پر کہ اس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلامی ہدایات کا نفاذ تدریجی طور پر ہوتا ہے، یعنی اگرچہ نورِ ہدایت ہمیشہ سے موجود ہے، لیکن اس سے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے نئے تقاضوں کے مطابق تازہ بتازہ ہدایت جاری رہتی ہے، تاکہ جدید مسائل کا حل جدید انداز سے نکالا جائے، اور نئی مشکلات پر قابو ہو، چنانچہ ہم اس موضوع کے تحت قرآنِ حکیم کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بحیثیتِ مجموعی اسلامی ہدایت تدریجی انداز میں ہے۔
۱۳۴
دلیل نمبر ۱:
فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ-لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُۗ ۳۰: ۳۰۔ یہی اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ۔ خدا کی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی یہی دینِ قائم ہے۔
اس آیۂ مقدسہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے ، کہ لوگوں کو قانونِ فطرت کے موافق پیدا کیا گیا ہے اور اس قانون میں کوئی تبدیلی نہیں اور نہ اس تخلیق میں کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے، اور دینِ قائم بھی ایسا ہی ہے، پس یہاں سے معلوم ہوا کہ اسلام دینِ فطرت ہے اور اس کی ہدایات تدریجی صورت میں ہیں، یعنی اس کی ہدایت درجہ بدرجہ اور منزل بمنزل آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔
دلیل نمبر ۲:
سورۂ انعام (۰۶: ۷۵ تا ۷۹) میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو آسمانوں اور زمین کی روحانیّت کے مشاہدہ کرانے کا ذکر موجود ہے، اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے، کہ ہدایتِ الٰہی دنیا والوں کو تدریجی صورت میں دی جاتی ہے، جیسے جناب ابراہیمؑ نے سب سے پہلے ایک ستارے پر غور کیا، پھر چاند میں فکر کرتا رہا، اس کے بعد سورج کے بارے میں سوچنے لگا اور آخر کار ذاتِ خداوندی کی طرف متوجہ ہوا، یہ اس واقعہ کی تنزیلی صورت
۱۳۵
ہوئی، اور اس کی تاویل یہ ہے کہ ستارا، چاند اور سورج حدودِ دین ہیں، جن کے وسیلے سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ خدا کی معرفت کو پہنچ گئے، اور ان کی یہ ہدایت تدریجی حالت میں تھی، یعنی رفتہ رفتہ نئی نئی ہدایتوں پر عمل کرنے کا طریقہ کار فرما تھا۔
دلیل نمبر ۳:
سورۂ بقرہ کے دوسرے رکوع میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ انسان مذہبی ترقی کے راستے پر ایک ایسے مسافر کی طرح ہے، جو رات کی تاریکی میں قدم قدم پر روشنی کی نئی نئی شعاعوں کا محتاج رہتا ہے، اس کی رہنمائی کے لئے ایسے نور کی ضرورت ہے کہ وہ تازہ بتازہ نورانی کرنوں کی مسلسل بارش برسا سکے، اور اگر اس کے برعکس روشنی ایسی ہو کہ وہ کبھی تو نمودار ہوتی ہے اور کبھی غائب، تو ایسی روشنی میں مسافر صرف چند ہی قدم آگے بڑھ کر رہ جاتا ہے، جیسے آسمانی بجلی چمکنے کی روشنی میں، اور جیسے کسی جگہ پر پڑی پڑی جلتی ہوئی آگ کی روشنی میں، اس مثال سے معلوم ہوا کہ قرآنِ پاک میں جس نورِ ہدایت کی تعریف و توصیف کی گئی ہے وہ تدریجی ہدایت کا لازوال سرچشمہ ہے۔
دلیل نمبر ۴:
سورۂ حدید (۵۷) آیت نمبر ۲۸ (۵۷: ۲۸) میں ذرا غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی فرد اور کوئی گروہ صراطِ مستقیم پر ثابت
۱۳۶
قدمی سے چل نہیں سکتا، مگر اُس نورِ ہدایت کی روشنی میں جسے خدا و رسول نے مقرر فرمایا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا اور زمانے میں دین و مذہب ایک رستے کی طرح ہے، جس پر چلنے والوں کو ہدایت کی تازہ بتازہ نو بنو روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، جو گرد و پیش کی ہر چیز کو ظاہر کر سکے تا کہ مذہب کا مسافر وقت اور جگہ کے حالات سے تاریکی میں نہ رہے اور منزلِ مقصود کی طرف قدم بڑھائے۔
دلیل نمبر ۵:
قرآنِ مقدس (۰۶: ۱۲۲) میں ہے: کیا وہ شخص جو مردہ تھا پس ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور قرار دیا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہو جن سے وہ نکل ہی نہ سکے۔
اِس آیۂ مبارکہ کی تعلیم یہ ہے کہ اِس مادّی دنیا میں مذہبی زندگی گزارنے اور صحیح معنوں میں زندہ ہو جانے کے لئے ایک فرد کو خدا تعالیٰ کی جس ہدایت و رحمت کی ضرورت ہے، وہی ہدایت و رحمت پوری قوم کے لئے بھی چاہئے، ورنہ یہاں مردگی اور تاریکی کے سوا کچھ بھی نہیں، یعنی اس دنیا میں بحقیقت زندہ صرف اور صرف وہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و معرفت کی روح میں زندہ کر دیا ہے اور انہیں اپنے نورِ ہدایت سے وابستہ کر لیا ہے، اس مطلب
۱۳۷
میں ذرا غور کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے، کہ دنیا میں نہ صرف غفلت و جہالت کی موت اور تاریکی کے سامان ہمیشہ کے لئے موجود و مہیا ہیں، بلکہ اس کے مقابلے میں ذکر و معرفت کی زندگی کا وسیلہ اور نور کا ذریعہ بھی دائمی طور پر جاری ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو قیامت کے دن خدا تعالیٰ پر لوگوں کی حجت ہوتی اور کہا جاتا کہ پروردگارا! دنیا میں ظلمت ہی ظلمت تھی اور اس میں کوئی نور نہ تھا۔
اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ دنیا میں نورِ ہدایت حی و حاضر ہے اور وہ اس لئے ہے کہ صرف اسی کی ہدایت کی روشنی میں دینی اور دنیاوی زندگی کے مراحل امن و سلامتی سے طے کئے جائیں، تا کہ یہ سفر ہر طرح بے خطر اور کامیاب ہو جائے، جیسا کہ آیۂ مذکورۂ بالا سے ظاہر ہے کہ نور اس لئے ہوتا ہے کہ اس کی روشنی میں تکالیف و خطرات سے محفوظ ہوکر راہِ راست پر چلا جائے اور منزلِ مقصود تک رسائی ہو اور اسی چیز کا نام تدریجی ہدایت ہے۔
دلیل نمبر ۶:
کتابِ عزیز (۶۷: ۲۲) میں ہے کہ پھر کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلتا ہے زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا وہ جو سیدھے راستہ پر برابر چلتا ہے۔
اس آیۂ کریمہ میں صراطِ مستقیم پر چلنے اور اس سے گم گشتگی
۱۳۸
کے درمیان جو فرق پایا جاتا ہے، اس کی مثال دی گئی ہے، یہ مقام بڑی سنجیدگی سے سوچنے کا ہے کہ اگر ایک شخص کو منزلِ مقصود کا راستہ نہیں مل رہا ہو اور اس پر مزید بدبختی یہ کہ وہ ایک تندرست آدمی کی طرح چل بھی نہیں سکتا، تو وہ منہ کے بل چل کر کہاں پہنچ سکتا ہے اور سوائے ناکام کوشش اور بے فائدہ تکلیف برداشت کرنے کے وہ کیا کر سکے گا، الغرض گمراہی روحانی قسم کا رنج و عذاب ہے، اور اس کے مقابلے میں ہدایت راحت و ثواب ہے۔
جب اللہ تعالیٰ خود ضلالت کی مذمت کرتا ہے اور پھر بھی قانونِ عدل کی رو سے ضلالت و گمراہی کے سامان کی کوئی کمی نہیں، تو کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جو ہدایت پروردگارِ عالم کی خوشنودی کے مطابق ہے اس کے ذرائع مکمل نہ ہوں، یا کسی وقت مکمل ہو جانے کے بعد پھر ان میں کچھ تخفیف کی گئی ہو، یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا، اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ گمراہی ابتداء ہی سے ہے، اور انسان کے لئے اکثر کوئی نیا مسئلہ گمراہی کا باعث بن جاتا ہے، اسی طرح دوسری جانب ہدایت بھی شروع ہی سے ہے، اور ذریعۂ ہدایت کا ضروری کام یہ ہے کہ وہ پیش آمدہ مسائلِ نو پر تازہ ترین ہدایت کی روشنی ڈالتا ہے، جیسے کوئی مسافر جب اندھیری رات میں کسی روشنی
۱۳۹
کو لئے ہوئے سفر کرتا ہے تو روشنی پسِ پشت نہیں رکھتا بلکہ وہ اسے آگے آگے لئے جاتا ہے، تا کہ ہر نئے قدم رکھنے سے پیشتر قدم گاہ پر نئی روشنی ڈالی جائے، اور وہ امن و امان اور سلامتی سے منزلِ مقصود پر پہنچے۔
دلیل نمبر ۷:
سورۂ احزاب (۳۳) کی آیت نمبر ۶۲ (۳۳: ۶۲) میں فرمایا گیا ہے کہ: یہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر گئے اور تم ہرگز اللہ تعالیٰ کے طریقہ میں تبدیلی نہ پاؤگے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کی عادت و سنت کا مکمل نمونہ آنحضرتؐ سے قبل کے زمانے میں گزر چکا ہے اور اب عہدِ نبوّت سے لے کر قیامت تک اللہ کی وہی عادت کسی تبدیلی کے بغیر جاری رہے گی، وہ یہ کہ لوگ قبول کریں یا نہ کریں ہر حالت میں نورِ ہدایت کا تدریجی فیضان دنیا میں جاری رہے گا، اور زمان و مکان کی ضرورت کے مطابق ہدایت کی روشنی ممکن الحصول رہے گی۔
دلیل نمبر ۸:
سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۶۹ (۰۲: ۲۶۹) کو سامنے رکھ کر ہم یہ وضاحت کریں گے کہ اگر حکمت صرف اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے کسی کو مل سکتی ہے، اور اس کے حصول میں خیرِ کثیر ہے، تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ حکمت اور خیرِ کثیر ایسی تدریجی ہدایت کی صورت میں ہے جو وقت اور جگہ کی ضرورت کے مطابق حاصل ہوتی رہتی ہے۔
دلیل نمبر ۹:
سورۂ فتح کے آخری رکوع میں ایک انتہائی اہم ارشاد
۱۴۰
کا یہ مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایتِ کاملہ اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ دینِ حق یعنی اسلام کو تمام ادیانِ عالم پر غالب کر دیا جائے، قرآنِ حکیم کی اس پیش گوئی سے یہ حقیقت کلّی طور پر روشن ہو جاتی ہے کہ دینِ اسلام کی سب سے بنیادی اور سب سے عظیم طاقت جو عالمگیر ہے ہدایت اور حقانیت ہی ہے (جیسا کہ بالھدیٰ و دینِ الحق ۴۸: ۲۸ سے ظاہر ہے) اور یہ روحانی طاقت مرتبۂ نبوّت کے بعد درجۂ امامت کے سرچشمہ سے تازہ بتازہ نو بنو جاری ہوکر مذاہبِ عالم کو رفتہ رفتہ دینِ خدائی کی یک رنگی و یک جہتی عطا کرے گی۔
دلیل نمبر ۱۰:
قرآنِ پاک (۰۶: ۹۰) میں فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت صلعم انبیائے سلف کی مجموعی ہدایت کی پیروی کر لیا کریں، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ (نعوذ باللہ) حضورِ اکرمؐ قرآنِ حکیم کو چھوڑ کر اگلے پیغمبروں کی ہدایات پر عمل کریں، بلکہ اس کا مقصد تو یہ ہے کہ سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قرآن ہی کی صورت میں گزشتہ زمانے کے پیغمبروں کی ہدایت کی پیروی کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے تمام انبیاء علیہم السّلام کو بحیثیتِ مجموعی جو ہدایت دی تھی، وہ ہدایت قرآن کی تنزیل و تاویل کے احاطے سے باہر نہیں، پھر اس کے معنی یہ ہوئے کہ عہدِ نبوّت سے لے کر قیامت
۱۴۱
تک پورے دور کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایت مقرر ہے، وہ زمان و مکان کی نئی ضرورتوں کے مطابق تدریجی صورت میں ہے، جس طرح کہ آنحضرتؐ سے قبل کے انبیاء کی ہدایت زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی چلی آئی تھی۔
دلیل نمبر ۱۱:
قرآنِ مجید میں ہے: قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ (۱۵: ۴۱) (یعنی خدا نے) فرمایا یہی سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک (پہنچتا) ہے۔
اس سے یہ مطلب صاف صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ دینِ حق یعنی اسلام ہی وہ سیدھا راستہ ہے، جس کے ذریعے سے لوگ خدا تک پہنچ سکتے ہیں، اور یہی وہ واحد سیدھا راستہ ہے، جس کی ہدایت کا آغاز حضرت آدم علیہ السّلام نے کیا اور ہر پیغمبر نے اپنے وقت کے مطابق اس راہِ خدا کی ہدایت کی، تا آنکہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا زمانہ آیا، اور آنحضرتؐ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں اُس وقت کے مطابق مسلمانوں کی ہدایت و رہنمائی فرمائی اور مستقبل کی ایسی تدریجی ہدایت کے لئے حضورؐ نے بحکمِ خدا اپنا جانشین مقرر فرمایا، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری و باقی رہا، پس معلوم ہوا کہ خدا کی جانب سے لوگوں کے لئے جو دینی اور
۱۴۲
دنیاوی ہدایت کا مرکز مقرر کیا گیا ہے، وہ زمان و مکان کی ضرورت کے مطابق تدریجی ہدایت کی روشنی پھیلاتا ہے۔
دلیل نمبر ۱۲:
قرآنِ مقدّس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: اے ایمان والو! خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور (اللہ کے) امر والوں کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں (۰۴: ۵۹)۔ یہ ایک ایسا حکم ہے جو زمانۂ نبوّت سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والے اہلِ ایمان کو پیشِ نظر رکھ کر فرمایا گیا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ خدا کی فرمان برداری رسول کے توسط سے کی جائے اور رسول کی فرمانبرداری اپنے وقت کے امام کے ذریعے سے بجا لائی جائے، جبکہ امامِ وقت کی اطاعت کا واضح اشارہ “منکم” میں موجود ہے، اس سے ہر دانش مند پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اگر ہر انسان خود بخود قرآن کی ہدایات کو سمجھ پاتا تو فرمایا جاتا کہ تم صرف اللہ ہی کی اطاعت کرو اور بس اور اس میں رسول کی اطاعت کا کوئی حکم نہ ہوتا، نیز اگر رسول کی ہدایت کے بعد کسی اور کی ہدایت کی ضرورت نہ رہتی تو یہ حکم ہرگز نہ دیا جاتا کہ صاحبانِ امر کی اطاعت کرو، اور اسی طرح اگر چند ابتدائی أئمّۂ اطہار علیہم السّلام کے بعد امامت و ہدایت کا سلسلہ ختم ہوا ہوتا یا زمانے کے امام کی ہدایت میں کوئی بھی نئی
۱۴۳
بات نہ ہوتی اور لوگوں کو بظاہر یہ سوال پیدا نہ ہوتا کہ “اگلے اماموں کی ہدایت سے موجودہ امام کی فلان ہدایت مختلف ہے اب کس پر عمل کیا جائے؟” تو اس صورت میں خدا یہ نہ فرماتا کہ تم ایسے اختلاف کی صورت میں اپنے ہی وقت کے امام کی اطاعت کرو۔
دلیل نمبر ۱۳:
ارشادِ خداوندی ہے:
هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗؕ-یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّۚ-فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُؕ- (۰۷: ۵۳)۔ کیا وہ لوگ سوائے اس کی تاویل کے (کسی چیز کے آنے کا) انتظار کرتے ہیں جس دن اس کی تاویل آئے گی تو وہ لوگ جنہوں نے اسے پہلے ہی بھلا رکھا تھا کہیں گے بے شک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے پھر کیا ہمارے لئے بھی کوئی شفاعت کرنے والے ہیں جو ہماری شفاعت کریں یا ہمیں واپس بھیج دیا جائے کہ جیسے عمل ہم کیا کرتے تھے ان کے خلاف عمل کریں۔
اس آیۂ کریمہ کا واضح مطلب یہ ہے کہ دنیا اور زمانے کے نئے نئے واقعات و حادثات اور جدید تقاضوں کے نتیجے میں قرآن کی
۱۴۴
تاویلی ہدایت کی روشنی سلسلۂ امامت کے وسیلے سے بتدریج پھیلتی رہے گی، اور نتیجے کے طور پر ایک دن اس دنیا میں تبدیلیوں کی ایک عظیم قیامت برپا ہوگی، جن کو نظریاتی طور پر صرف وہی لوگ برداشت کر سکیں گے، جو پہلے ہی سے اسے قبول کرتے آئے ہیں۔
دلیل نمبر ۱۴:
سورۂ یونس (۱۰: ۳۹) میں ہے کہ بلکہ انہوں نے اسے (یعنی قرآن کو) جھٹلا دیا اس سبب سے کہ وہ اس کے علم کا احاطہ نہ کر سکے اور جبکہ اس کی تاویل ان کے پاس نہیں آئی ۔ (۱۰: ۳۹)۔ اس آیۂ کریمہ میں بھی بزبانِ حکمت یہی فرمایا گیا ہے کہ پہلے تو قرآن کی تنزیل مکمل ہوئی ہے، پھر اس کے بعد رفتہ رفتہ اس کی تاویل ظاہر ہوتی چلی جاتی ہے، اور اگر قرآن کی ہر آیت کی تنزیل میں ایک حصہ ہدایت ہے تو اس کی تاویل میں ستر حصہ ہدایت ہے، اسی طرح قرآن کے باطن میں بے شمار ہدایات ہیں جو کسی ایک وقت کے لئے نہیں بلکہ پورے دور کے لئے ہیں، اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ ظاہراً و باطناً قرآنی ہدایات سلسلہ وار اور درجہ وار ہیں، جس کو تدریجی ہدایات کہتے ہیں۔
دلیل نمبر ۱۵:
تنزیل و تاویل کی ان فراوان آسمانی ہدایات کی روشنی میں خدا و رسول کا خلیفہ امورِ دین کا مختار ہوا کرتا ہے، اس لئے
۱۴۵
کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسے صاحبِ امر قرار دیا ہے، اور ظاہر ہے کہ صاحبِ امر صاحبِ اختیار ہوتا ہے، اور خلیفہ کے بھی یہی معنی ہیں کہ خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور یہاں “جاء” کے مرادی معنی مرتبہ اور اختیار کے ہیں نہ کہ اس کا مطلب کوئی ظاہری اور مادّی محل و مقام ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:
یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ۔ ۳۸: ۲۶۔ اے داؤد یقیناً ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا پس تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا کرو۔
اس سے ظاہر ہوا کہ حضرت داؤد علیہ السّلام اپنے وقت میں خدا اور اس کے اُن پیغمبروں کے جو قبلاً گزر چکے تھے خلیفۂ مختار تھا، کیونکہ اگر خدا تعالیٰ خود ہی ہر بات کا فیصلہ فرماتا اور خلیفۂ خدا کا اس میں کوئی اختیار ہی نہ ہوتا تو یہ ہرگز نہ فرمایا جاتا کہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، اس دلیل سے یہ ثابت ہے کہ ہر زمانے کا امامؑ جو اپنے وقت میں اللہ و رسول کا خلیفہ ہے دینی امور میں مختار ہوا کرتا ہے اور اس کی ہدایت تدریجی ہدایت ہوتی ہے۔
۱۴۶
دلیل نمبر ۱۶:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی بات آئی انہوں نے اُسے مشہور کر دیا اور اگر وہ اسے رسول کی طرف اور ان میں سے جو (اللہ کے) امر والے ہیں ان کی طرف پھیر دیتے تو جو بات کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں وہ اِس (کی حقیقت) کو جان لیتے (۰۴: ۸۳)۔
اس ارشادِ خداوندی میں یہ حکمت ہے کہ رسولِ خدا صلعم کے بعد صرف حضراتِ اولوالامر ہی ہیں جو آیاتِ قرآنی میں سے استنباط کرکے احکامِ دین کی وضاحت اور حالاتِ زمانہ کے مطابق لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کر سکتے ہیں، صاحبانِ امر یعنی أئمّۂ اطہار علیہم السّلام ہی کے لئے استنباط مخصوص ہونے کے معنی یہی ہیں۔
دلیل نمبر ۱۷:
قرآنِ مجید کی ۰۳: ۱۹ میں فرمایا گیا ہے
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک (سچا) دین اسلام ہی ہے، نیز اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ یقیناً خدا کے نزدیک دین یہ ہے کہ امرِخداوندی کے لئے ہمیشہ تسلیم کی جائے، جو پیغمبر اور أئمّۂ ہدا ہی کے ذریعے ممکن ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ دینی ہدایت یکبارگی طور پر اور دفعۃً نہیں دی جاتی بلکہ اس کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے، پس یہی
۱۴۷
سبب تھا کہ دینِ محمدی اسلام کے اسم سے موسوم ہوا، یعنی ایسا دین جس کی نہ صرف اصل و اساس ہی میں تسلیم و فرمانبرداری ضروری ہے بلکہ اس میں ہر وقت ہدایتِ جاریہ کی اطاعت لازمی ہوتی ہے۔
دلیل نمبر ۱۸:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (۰۴: ۶۵)۔ پس ایسا نہیں ہے (اے رسول) آپ کے پروردگار کی قسم یہ لوگ کبھی مومن نہ ہوں گے جب تک کہ ان جھگڑوں میں جو ان کے درمیان پڑے ہیں آپ کو منصف نہ بنا لیں پھر جو آپ فیصلہ کریں اس سے وہ اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور ایسی تسلیم کریں جو تسلیم کرنے کا حق ہے۔
اس آیۂ پُرحکمت سے ظاہر ہے کہ قضیہ خواہ دینی ہو یا دنیاوی ہر حالت میں اس کے فیصلہ کے لئے ہادئ برحق کی طرف رجوع کرنا چاہئے، اور وہ جیسا بھی حکم دے اسے دل و جان سے قبول کرنا ضروری ہے اس کے بغیر اسلام و ایمان ناممکن ہے۔
دلیل نمبر ۱۹:
ارشاد ہے: اور تا کہ میں تم پر اپنی نعمت
۱۴۸
پوری کر دوں اور اس لئے کہ تم ہدایت یافتہ ہو جاؤ، جیسے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ (۰۲: ۱۵۰ تا ۱۵۱)۔
اس فرمانِ الٰہی میں کافی وضاحت کے ساتھ یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ جس طرح زمانۂ نبوّت میں دینی اور دنیاوی ہدایت کا سلسلہ جاری تھا، اسی طرح دورِ امامت میں بھی یہ سلسلہ جاری و باقی رہے گا، اور کارِ ہدایت میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی، چنانچہ فرمایا گیا: اور تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں (یعنی ولایت و امامت جو خدا تعالیٰ کی خاص نعمت ہے) اور اس لئے کہ تم ہدایت یافتہ ہوجاؤ (یعنی امام اور امامت کا مقصد ہی ہدایت ہے) پھر اس کے بعد مثال بیان فرماتا ہے کہ جس طرح رسولِ اکرم صلعم کے وجودِ مبارک سے طرح طرح کے روحانی اور جسمانی فیوض و برکات حاصل ہیں، اسی طرح امام کی پاک شخصیّت سے بھی علم و حکمت اور رشد و ہدایت کا فیضان حاصل ہوتا رہے گا۔
دلیل نمبر ۲۰:
آیۂ نور (۲۴: ۳۵) کے پُرحکمت اجزاء میں سے
۱۴۹
ایک جزو “نور علیٰ نور” ہے، بمعنی وہ نور بالائے نور ہے، یعنی ایک امام کے بعد دوسرا امام ہوتا رہے گا اور اسی طرح علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے ایک دور کے بعد دوسرا دور چلتا رہے گا، چنانچہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں جو نورِ ہدایت مقرر ہے وہ یکے بعد دیگرے انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کی مقدّس ہستیوں کے سلسلے میں قائم رہا ہے، اس پاک سلسلے کا ہر فرد اپنے وقت کا ہادئ برحق ہوا کرتا ہے، جس کی ہدایت کی پیروی اہلِ زمانہ پر واجب ہوتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ دینِ اسلام کی ہدایت تدریجی صورت میں ہے۔
۱۵۰
قربانی کی حکمت
قربانی کی لفظی تحلیل یہ ہے کہ یہ لفظ قربان سے ہے اور قربان قرب سے نکلا ہے جس کے معنی نزدیکی اور قریب ہونے کے ہیں، اور قربان کے معنی ہیں ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ کی قرب جوئی کی جائے، اور عرف میں قربان اور قربانی اس جانور کو کہتے ہیں جو خدا کے نام پر ذبح کیا جائے۔
قرآنِ پاک میں حضرت آدم علیہ السّلام کے زمانے سے متعلق قربانی کا تذکرہ اس طور پر آیا ہے
اور (اے رسول!) آپ اُن کو آدم کے دو بیٹوں کا قصّہ صحیح طور پر پڑھ کر سنائیے جبکہ دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی، اور اُن میں سے ایک کی تو مقبول ہوگئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی وہ دوسرا کہنے لگا کہ میں تجھ کو ضرور قتل کروں گا اُس ایک نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں ہی کا عمل قبول کرتا
۱۵۱
ہے۔ (۰۵: ۲۷)۔
یہاں پر یہ حقیقت صاف صاف روشن ہے کہ نہ صرف قربانی ہی کی سب سے بڑی شرط تقویٰ ہے بلکہ ہر وہ نیک عمل جو تقویٰ کے بغیر ہو درگاہِ الٰہی میں قطعی نامقبول ہے۔
کہتے ہیں کہ آدم کے مذکورہ دو بیٹے ہابیل اور قابیل تھے، اور ان کا قصّہ یوں ہے کہ حضرت آدمؑ ہابیلؑ کو ان کی پرہیزگاری اور قابلیت کی بناء پر اسمِ اعظم بتا کر اپنا وصی بنانا چاہتے تھے، یہ سن کر قابیل کے دل میں رشک و حسد کی آگ بھڑک اُٹھی، اور اپنے باپ سے گستاخانہ کہنے لگا کہ جانشینی کا تو مجھے حق ہے، حضرت آدمؑ نے قصّہ چکانے کی غرض سے فرما دیا کہ تم دونوں خدا کی بارگاہ میں اپنی اپنی قربانیاں پیش کرو جس کی قربانی قبول ہوگی وہی اس منصب کا مستحق سمجھا جائے گا، چنانچہ ہابیل نے ایک گوسفند پہاڑ پر لے جا کر رکھا اور قابیل نے کھیت سے کچھ بالیاں لے کر رکھ آیا، اس کے بعد حسبِ دستور آسمان سے آگ کا ایک شعلہ اترا اور ہابیل کی نذر (قربانی) کو کھا گیا اور قابیل کی نذر جوں کی توں رہ گئی، قابیل کو یہ دیکھ کر اور رشک و حسد پیدا ہوا اور اُس نے ہابیل کو مار ڈالا، یہاں صرف قربانی ہی کی حکمتیں مقصود ہیں، اس لئے ہم اس قصّہ کی تفصیلی بحث کرنا نہیں چاہتے۔
۱۵۲
قربانی کا سب سے عظیم الشّان اور انتہائی سبق آموز نمونہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السّلام کی ذاتِ گرامی سے متعلق ہے، جس کا ایک مختصر اور جامع تذکرہ قرآنِ حکیم کے سورہ الصفت (۳۷) کی آیات ۱۰۱ تا ۱۰۷ (۳۷: ۱۰۱ تا ۱۰۷) میں موجود ہے، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے اس مثالی عمل سے یہاں پر چند حکمتیں واضح کر دی جاتی ہیں:
پہلی حکمت:
چونکہ حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے خلیل یعنی دوست تھے، اس لئے ان کے نہایت ہی عزیز فرزند حضرت اسماعیل کی قربانی کی مثال سے خدا تعالیٰ نے لوگوں پر یہ ظاہر کیا کہ جن حضرات کی خدا سے سچی محبت اور حقیقی دوستی ہوتی ہے، وہ خدا کی مرضی کے مطابق ہر بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی ہرگز دریغ نہیں کرتے۔
دوسری حکمت:
کیونکہ جناب ابراہیمؑ نہ صرف اپنے وقت کے ایک جلیل المرتبت پیغمبر ہی تھے بلکہ آپ اس کے ساتھ ساتھ ایک عالی شان امام بھی تھے، لہٰذا خدا کے نزدیک کافۂ انام کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا مقصود تھا کہ پیغمبر اور امام کی ذاتِ اطہر میں یہ وصف بھی ہوتا ہے، کہ اگر خدا کی جانب سے امر ہو تو وہ کسی تامل کے بغیر جان کی قربانی بھی دے سکتے ہیں۔
تیسری حکمت:
قرآنِ مقدّس (سورۂ توبہ کی آیت ۱۱۱؛ ۰۹: ۱۱۱) میں ہے
۱۵۳
کہ پروردگارِ عالم نے انبیاء، اولیاء اور ہر دور کے اہلِ ایمان کی جانوں اور مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے، کہ ان کو جنّت ملے گی، پس حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے فرزندِ جگر بند کی قربانی کا تہیہ اور عزمِ صمیم کرکے اس حقیقت کا عملی ثبوت پیش کیا، کہ بے شک اہلِ ایمان کے نفوس ہوں یا اموال سب کچھ اللہ تعالیٰ کا خریدا ہوا ہے۔
چوتھی حکمت:
جیسا کہ قبلاً بتایا گیا کہ لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ کی ایک واضح ہدایت یہ بھی ہے، کہ وہ جل جلالہ پیغمبروں کی حسنِ سیرت سے مثال دے کر ہر پسندیدہ عمل کو ظاہر فرماتا ہے، چنانچہ حضرت ابراہیمؑ کے دل میں پروردگارِ عالم کی محبت کے سوا اور کسی چیز کی محبت ہی نہ تھی، کیونکہ آپ اپنے زمانے کے حنیف اور موحدِ اعظم تھے، لیکن رفتہ رفتہ یہ امکانیّت پیدا ہوگئی کہ خدا کی محبت کے ساتھ ساتھ اپنے فرزند حضرت اسماعیلؑ کی محبت بھی ہو، لہٰذا قانونِ الٰہی کی طرف سے حکم ہوا کہ خلیل اللہ کے سامنے سے وہ ذریعہ ہی ہٹا دیا جائے، جس کی وجہ سے آپ کے دل میں خدا کے ماسوا کی محبت پیدا ہو رہی تھی، تاکہ اس سے لوگوں کو یہ سبق حاصل ہو کہ بندۂ مومن کے دل میں جس قدر دنیاوی محبت بڑھ جاتی ہے، اس قدر خدا کی محبت میں کمی واقع ہوتی ہے۔
۱۵۴
پانچویں حکمت:
حضرت ابراہیم علیہ السّلام آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جدِّ اعلیٰ اور دینِ اسلام کے بانئ اوّل کی حیثیت رکھتے تھے، لہٰذا خدا کے قانون میں یہ ایک ضروری امر تھا، کہ دنیا میں قیامِ قیامت تک پیدا ہونے والے مسلمانوں کے لئے آپ قربانی کی یہ عدیم المثال سنت چھوڑ جائیں، تاکہ اس کی روشنی میں ملتِ اسلامیہ کے ماننے والے اپنے آپ میں بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے کا جذبہ پیدا کر سکیں۔
چھٹی حکمت:
حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو تمام مسلمین ذبیح اللہ کے لقب سے یاد کر لیا کرتے ہیں، حالانکہ آپ فی الواقع ذبح تو نہیں ہوئے تھے، لیکن آپ نے امرِ الٰہی کی تعمیل کے لئے جان و دل سے جس صبر و ثبات کا نمونہ پیش کیا اور جس شان سے خدا کی خوشنودی حاصل کی، اس کے نتیجے میں یہ لقب آپ کے شایانِ شان ہے، اور یہ اس حقیقت کی ایک روشن دلیل ہے، کہ بعض حقیقی مومنین مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں لیکن وہ حقیقتاً شہید کہلاتے ہیں، کیونکہ ان میں فرمانبرداری کے وہی جذبات اور اوصاف موجود ہیں، جو شہیدوں میں ہوا کرتے ہیں۔
ساتویں حکمت:
جب عظیم باپ بیٹے نے اس لازوال قربانی
۱۵۵
کے لئے ہر طرح سے آمادگی ظاہر کی، تو خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کی جانی قربانی معاف کر دی، اور اس کے بدلے میں مالی قربانی کو بالکل اسی طرح انتہائی عظمت و فضیلت کے ساتھ قبول فرمایا، یہ اس امر کا اشارہ ہے، کہ اگر خدا چاہے تو اپنی حکمت سے حقیقی مومنین کی مالی قربانی کا بھی وہی ثواب اور درجہ دے سکتا ہے، جو ان کی جانی قربانی کے نتیجے میں دیا جانا چاہئے۔
آٹھویں حکمت:
چونکہ قربانی کا مطلب خدا کی نزدیکی کا وسیلہ و ذریعہ ہے، اور اس معنی میں سب سے عظیم قربانی وہ ہے، جو صرف ایک ہی فرد یا چند افراد کے لئے محدود نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لئے قربِ الٰہی کا وسیلہ ہوسکے، چنانچہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کی عظیم ترین قربانی یہ ہے، کہ آپ کی پاک نسل سے أئمّۂ ہدا کا مقدّس سلسلہ جاری رہا اور آگے چل کر اسی شجرۂ طیبہ سے حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیؐ کا مبارک ظہور ہوا، پھر آپ کے بعد ہمیشہ کے لئے آلِ محمدؐ و اولادِ علیؑ کے أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام ہوتے رہے، اب ظاہر ہے کہ ان تمام حضرات کی مقدّس زندگیوں کی جس قربانی سے دنیائے اسلام کے لاتعداد لوگوں کو راہِ راست کی ہدایت اور خدا کی قربت حاصل ہوئی ہے، وہ حقیقت میں حضرت اسماعیلؑ کی جانی قربانی سے بہت
۱۵۶
بڑی ہے، پس جاننا چاہئے کہ ” وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ، ۳۷: ۱۰۷” کی ایک تاویل یہ ہے۔
نویں حکمت:
معلوم ہوا، کہ قربانی ایک ایسا جامع لفظ ہے کہ اس کے معنی میں تمام نیکیاں داخل ہو آتی ہیں، اور کوئی نیک عمل اس سے باہر نہیں رہ سکتا، کیونکہ قربانی قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے اور ہر نیکی بجائے خود یہی وسیلہ ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ قربانیاں بہت قسم کی ہیں، لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ فی الوقت دین اور مذہب اُس سے کس قسم کی قربانی کا تقاضا کر رہا ہے، یہ تو صاحبِ امر ہی بہتر جانتا ہے، لہٰذا صاحبِ امر کی اطاعت لازمی اور ضروری ہے۔
دسویں حکمت:
مذکورۂ بالا قربانی کے سلسلے میں قرآنِ حکیم (۳۷: ۱۰۶) کا ارشاد ہے، کہ یہ ایک کھلی آزمائش تھی، یعنی اس قربانی سے اللہ تعالیٰ کا مقصد حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل سے آزمائش و امتحان لینا تھا، اور اس آزمائش و امتحان کے لئے قرآنی لفظ بلاء مستعمل ہے، حالانکہ عام سمجھ کے مطابق لفظ بلا کو بہت برا سمجھا جاتا ہے، لیکن یہاں پر یہ حقیقت صاف اور روشن ہے کہ ہر بلا آزمائش ہے اور ہر آزمائش قربانی اور قربِ خداوندی کا وسیلہ ہے۔
۱۵۷
گیارہویں حکمت:
معلوم ہوا کہ ہر قربانی خواہ چھوٹی ہو یا بڑی اپنی حیثیت کی ایک آزمائش کی صورت میں سامنے آتی ہے، اور آزمائش و بلا کا دوسرا نام مصیبت ہے، پس ظاہر ہوا کہ ہر مصیبت بجائے خود ابتلا و امتحان ہے اور ہر امتحان بصورتِ کامیابی ایک قربانی اور قربِ خدا کا وسیلہ ہے، پیشِ نظر ہوں ابتلا و امتحان کی یہ تین آیتیں
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ ۰۲: ۱۵۵ تا ۱۵۷
قربانی کی حکمتیں اور تاویلیں ان کے علاوہ اور بھی ہیں، لیکن اس چھوٹے سے مقالے میں اس سے زیادہ گنجائش نہیں، آپ اگر چاہیں تو کتابِ وجہِ دین اور دوسری تاویلی کتابوں میں قربانی کی مزید حکمتوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ والسلام۔
۱۵۸
تین سوال انڈیا سے
سوال نمبر ۱:
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جبرائیل کے ذریعہ وحی نازل ہوتی تھی یا یہ آنحضرتؐ کی اپنی کوئی روحانی طاقت ایسی تھی؟
سوال نمبر ۲:
قرآن شریف میں حضرت علی علیہ السّلام کے بارے میں کون کون سی آیات نازل ہوئی ہیں؟ اور کہاں کہاں پر نازل ہوئی ہیں؟
سوال نمبر ۳:
خداوند تعالیٰ نے اس دنیا کو کیوں پیدا کیا؟ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اپنے آپ سے شناسا کر دینے کے لئے دنیا کو پیدا کیا ہے، تو پھر کیا ہماری ارواح روزِ ازل سے خدا کی پہچان نہیں رکھتی ہیں؟ جبکہ خداوند تعالیٰ نے فرما دیا کہ: اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْؕ (۷: ۱۷۲) تو ہماری روحوں نے جواباً کہا تھا کہ: قَالُوْا بَلٰىۚ (اس بارے میں
۱۵۹
وضاحت فرمائیے)۔
الجواب
نمبر ۱:
جی ہاں، پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جبرائیل فرشتہ کے ذریعہ وحی نازل ہوتی تھی، کیونکہ یہ قرآن ہی کا فیصلہ ہے، آپ قرآن میں دیکھیں: ۲: ۹۷، ۱۶: ۱۰۲، ۲۶: ۱۹۳ ۔ وغیرہ۔
لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ فرشتے انسانِ کامل کی روحانی قوّتوں سے باہر نہیں ہیں، یعنی پیغمبر اور امام کی لاتعداد روحانی قوّتیں ہی فرشتوں کی حیثیت سے ہیں، چنانچہ ان کی قوّتِ دانش جبرائیل فرشتہ ہے، قوّتِ فہم میکائیل، قوّتِ نطق اسرافیل اور قوّتِ خیال عزرائیل ہے، اور اس کے علاوہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ انسانِ کامل کی یہ طاقتیں (جو فرشتے ہیں) مختلف انسانوں کی شکل میں متشکل ہوتی ہیں، کیونکہ فرشتوں کی اپنی شکلیں نہیں ہوا کرتی ہیں۔ سو یہی وجہ ہے کہ آنحضرتؐ کی قوّتِ جبریلیہ (یعنی قوّتِ دانش) حضرت سلمان فارسی کی شکل میں متشکل ہوکر کام کرتی تھی، پس اس حقیقت کے کئی پہلو ہوئے، وہ یہ کہ جبرائیل علیہ السّلام ایک عظیم فرشتہ ہے، اور یہ درست ہے،
۱۶۰
اور یہ بھی صحیح ہے کہ انسانِ کامل کی قوّتِ دانش جبرائیل ہے، اور یہ بھی حق ہے کہ ایک اعلیٰ درجے کے حقیقی مومن کی روح کو جبرائیلؑ کا درجہ دیا جاتا ہے، جیسے سلمان فارسی کی مثال ہے، جو اوپر بتائی گئی۔
نمبر ۲:
قرآنِ شریف میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السّلام کی شانِ اقدس میں جتنی آیتیں نازل ہوئی ہیں، ان کا باقاعدہ شمار کرنا اور جائے نزول بتانا مشکل ہے، اور اگر یہ کام کیا جائے تو اس موضوع پر ایک ضخیم کتاب لکھنے اور کافی ریسرچ کرنے کی ضرورت ہوگی، لیکن ہمارا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے، لہٰذا اس امر کے لئے ان کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے، جو مناقبِ علی کی حیثیت سے ہیں، مثلاً “کوکبِ دری،” “ارجح المطالب” وغیرہ، اور سب سے پہلے شیعی تفاسیر پیشِ نظر ہوں۔
اس کے علاوہ ہم اس لمبے چوڑے کام کو مختصر سے مختصر بھی کر سکتے ہیں، وہ یہ ہے جو خود مولا علیؑ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
نزل القرآن ارباعا، فربع فینا و ربع فی عدونا و ربع سیر و امثال و ربع فرآئض و احکام و لنا کرائم القرآن۔
قرآنِ مجید چار حصوں میں نازل ہوا ہے، سو اس کی ایک چوتھائی ہماری شان میں ہے، ایک چوتھائی ہمارے دشمنوں کے
۱۶۱
بارے میں ہے، ایک چوتھائی میں قصّے اور مثالیں ہیں اور ایک چوتھائی میں فرائض و احکام ہیں، اور قرآنِ مجید کی بزرگ آیتیں ہماری شان میں ہیں۔ (کتاب ارجح المطالب صفحہ نمبر ۵۹)۔
میں اس کلامِ مولا کی وضاحت کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ قرآن کی جو چوتھائی نمایان طور پر مولا علی علیہ السّلام کی شان میں ہے وہ تو ہے ہی، اس کے علاوہ باقی تین چوتھائی میں بھی امیر المؤمنین کی تعریف و توصیف ہے، وہ اس طرح سے ہے کہ پیغمبرِ برحق نے فرمایا تھا کہ اے اللہ دوست رکھ اس کو جو علی کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو علی کو دشمن رکھے (اللّٰھم وال من والاہ و عاد من عاداہ) اس سے یہ مطلب روشن ہو جاتا ہے کہ قرآنِ مقدّس کے جس چوتھائی حصے میں خدا و رسول کے جن دشمنوں کا جیسا ذکر آیا ہے وہ دراصل علی و أئمّۂ اولادِ علیؑ کے دشمنوں کا ذکر ہے، پھر جہاں ایسے دشمنوں کی مذمت کی گئی ہے، وہاں تاویلی طور پر امیر المومنین کی تعریف و توصیف ہے۔
قرآن کے جس چوتھائی میں قصّے اور مثالیں بیان کی گئی ہیں، وہ بلا واسطہ اور بالواسطہ انبیاء علیہم السّلام کے بارے میں ہیں، اور آنحضرتؐ کا ارشاد ہے:
۱۶۲
یا علی کنت مع الانبیاء سراً و معی جھراً
اے علی آپ تمام پیغمبروں کے ساتھ پوشیدہ طور پر موجود تھے اور میرے ساتھ آپ آشکار ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علی نہ صرف سب انبیاء کے ساتھ ہیں، بلکہ ان سے متعلق تمام قصّوں کے بھی مرجع ہیں۔
اب ہم قرآنی مثالوں کے بارے میں عرض کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی بعض مثالیں مثبت پہلو سے اور بعض منفی پہلو سے حقیقت الحقائق کے تمام درجات کی حکمت بیان کرتی ہیں، چنانچہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌؕ۔ (۲۱: ۱۸)۔
بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں پس وہ (حق) اس (باطل) کا بھیجا نکال دیتا ہے، سو وہ دفعۃً جانے والا ہوتا ہے۔ اس ارشاد سے نہ صرف یہی معلوم ہوا کہ قرآن کے خاص خاص حقائق مثالوں میں بیان کئے گئے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ظاہر ہوا کہ حق و باطل کا آخری فیصلہ بھی انہی مثالوں میں موجود ہے سو یہی وجہ ہے جو رسولِ اکرم صلعم نے فرمایا کہ: الحق مع علی۔
یعنی حق علی ہی کے ساتھ ہے۔ جب یہ معلوم ہوا کہ حق اور
۱۶۳
حقیقت علیؑ ہی کے ساتھ ہے اور حقیقتیں قرآن کی مثالوں میں بیان کی گئی ہیں، تو ظاہر ہے کہ قرآن کا وہ حصہ بھی علیؑ ہی کی شان میں ہے، جس میں حقیقتِ حقائق کے درجات کی مثالیں ہیں۔
اب رہی قرآن کی آخری چوتھائی، جس میں فرائض اور احکام مذکور ہوئے ہیں، اس کے بارے میں عرض یہ ہے کہ فرائض اور احکام کی بجا آوری خدا کی اطاعت کہلاتی ہے، مگر خدا کی یہ اطاعت رسول اور اولوالامر (یعنی أئمّۂ برحق) کے وسیلے سے کی جاتی ہے، کیونکہ یہی حضرات ہیں، جو خدا کے فرمائے ہوئے فرائض و احکام کی تفصیلات لوگوں کو بمقتضایٔ زمان و مکان بتایا کرتے ہیں، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اے ایمان والو! تم اللہ کی فرمان برداری کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور اولوالامر کی فرمانبرداری کرو جو تم میں سے ہیں۔
جب یہ معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید کے اُس حصے میں بھی مولانا علیؑ کا ذکرِ جمیل موجود ہے جس میں فرائض و احکام مذکور ہیں تو اب ہم عرض کر سکتے ہیں کہ قرآن کی کوئی آیت ایسی نہیں، جس میں کسی نہ کسی طرح سے علیؑ یعنی نورِ امامت کا تذکرہ نہ کیا گیا ہو، یہ آپ کے دوسرے سوال
۱۶۴
کا مکمل جواب ہے۔
نمبر ۳:
یقیناً یہ دنیا اس لئے پیدا کی گئی کہ یہاں آ کر روحوں کو خداوند تعالیٰ کی عملی شناخت حاصل ہو، اور اگر موقع “الست” کی معرفت ہمیشہ کے لئے کافی اور باقی ہوتی تو سب انسان پیدائشی طور پر عارف ہوتے، ظاہر ہے کہ وہ ہماری معرفت جس کا ذکر قرآن (۰۷: ۱۷۲) میں ہے، عالمِ ذرّات (یعنی روحوں کے ذرّات کی دنیا) میں تھی، اور اس سے پہلے ایک تفصیلی معرفت بھی حاصل ہوئی تھی، مگر اُن معرفتوں کی تجدید کے لئے روحوں کو دنیا میں آنے کی ضرورت تھی، لہٰذا سب انسان دنیا میں آ گئے اور ابتلاء و امتحان کے میدان میں اترآئے، اور اس میں صرف تھوڑے سے کامیاب ہوگئے باقی سب ناکام ہوئے۔
اس سوال کا جواب دوسری طرح سے بھی دیا جا سکتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ تخلیق کا سلسلہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، اور اس کا مقصد ایک نہیں بہت سے مقاصد ہیں، جو ایک سے ایک بڑھ کر ہیں، چنانچہ مجموعی طور پر اس میں روحوں کی تجلّیات اور ظہورات مقصود ہیں اور ان تمام چیزوں کے لئے ہماری روح محتاج ہے اور خدا ہرگز محتاج نہیں ہے۔
۱۶۵
سپاسنامہ
بخدمت جناب الواعظ العلامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی صاحب
منجانب
دی پاک اسماعیلیہ ہونزہ (شناکی) ملٹی پرپز کو آپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ کراچی
جنابِ والا!
ریاست ہونزہ و گلگت کی اسماعیلی جماعت کے لئے اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان کی شاخ کے قیام اور جنابِ والا کی اس کے انچارج کی حیثیت سے تقرری کے مبارک و مسعود تاریخی موقع پر شناکی اسماعیلی جماعت کی دینی و دنیوی اور معنوی و صوری خوشیوں اور مسرّتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ اس موقع پر اولاً مولائے کائنات و موجودات کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اپنی بے پایاں و بیکران رحمت سے آپ جیسے علم و دانش، حکمت و معرفت جیسی جملہ صفاتِ عالیہ اور صدق و صفا، حلم و تقویٰ جیسے جملہ اخلاقِ حسنہ سے ممتاز و متصف دینی بزرگ کو خوش آمدید و خیر مقدم کرنے کی توفیق عنایت فرمائی۔
۱۶۶
ثانیاً ہم جنابِ والا کے بھی نہایت ممنون ہیں کہ آپ نے وقت کی قلت اور مصروفیات کی کثرت کے باوجود ہماری ناچیز دعوت کو شرفِ قبولیت سے نوازا۔
جنابِ والا! یہ ناچیز تقریب نہ تو کسی رسمی تعارف کی خاطر منعقد کی گئی ہے اور نہ جناب کی شخصیت اس کی محتاج ہے بلکہ اس کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ اس عظیم تاریخی موقع پر، جو ہونزہ، گلگت، پونیال، اشکومن، یاسین، کوہِ غذر بلکہ پورے وسطی ایشیا کی اسماعیلی جماعت کی روحانی اور علمی ترقی میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جنابِ والا کی ان مخلصانہ، بے لوث اور تاریخ ساز خدماتِ جلیلہ کے اعتراف میں صمیمِ قلب سے اظہارِ عقیدت و محبت اور تقدیمِ تبریک و تہنیت کریں جو آپ نے تقریباً ربع صدی میں باوجود گوناگون مصائب و عوائق کے امامِ حیّ و حاضر کی دعوتِ حق کی تبلیغ و اشاعت اور اسماعیلی جماعت کی روحانی ترقی و رستگاری اور دنیوی فلاح و بہبود کے لئے زندگی کے ہر شعبے میں انجام دی ہیں آپ نے دینِ حق کی تبلیغ و اشاعت کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ قید و بند کی صعوبات سے لے کر یار و اغیار کے شکوے شکایات اور دیگر تکالیف کو صبر و تحمل اور خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ آج کے دن ہمارے ان عظیم جانباز و سرفروش داعیانِ سلف کی زندگی سامنے آتی ہیں جنہوں نے امامِ وقت کی خوشنودی اور دین و ایمان کے تحفظ اور حکمت و فلسفہ کی ترقی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا
۱۶۷
اور بالآخر امامِ زمانؑ کی دعا و برکات اور اپنی سعئ پیہم سے میدانِ علم و حکمت اور جادۂ دین و ایمان میں ایسے نقوشِ جاودان چھوڑ گئے جو رہتی دنیا تک مٹائے نہیں مٹ سکتے۔
جنابِ والا! آپ کی ذاتِ گرامی ان ہی داعیانِ سلف کی زندہ تصویر ہے جس سے علم و حکمت اور تاویل و حقائق کی ضیاء بیزی اور ضوفشانی ہوتی ہے۔ اسماعیلی داعیوں کا یہ طرۂ امتیاز رہا ہے کہ وہ اسلام جیسے کامل، زندہ، حرکی، فطری اور آفاقی دین کی حکمت و موعظت کے ذریعے اپنے دور کی مروج و متداول فلسفیانہ اور سائنسی زبان و اصطلاحات میں تبلیغ کریں تاکہ مستجیبانِ دعوت اسلام کی حقیقتِ علم و حکمت کی روشنی میں عقل و روح کی گہرائیوں سے قبول کریں اور علم و حکمت کی روشنی میں انہیں دنیوی مزخرفات پر دین اور روحانیّت کی عظمت و برتری ثابت ہو جائے جو تمام مذاہبِ عالم کی تعلیمات کا زبدہ و خلاصہ ہے۔
اس مقصدِ عظیم کے پیشِ نظر جائزہ لیا جائے تو جنابِ والا کی تبلیغی خدمات نہایت قابلِ ستائش ہیں اور ان کا صحیح جائزہ صرف اس وقت لیا جا سکتا ہے کہ آپ کی مایۂ ناز کتب سلسلۂ نورِ امامت، میزان الحقائق، مفتاح الحکمت، پیر ناصر خسرو اور روحانیّت، درختِ طوبیٰ وغیرہ کا دقتِ نظر سے بار بار مطالعہ کیا جائے۔ ان کتابوں میں جنابِ والا نے نورِ امامت کی دائمیّت،
۱۶۸
امامت کے مقدّس اسرار، امامِ وقت کی باطنی تائید اور اس کے ذریعے روحانی ترقی، مادیّت و روحانیّت کا باہمی رشتہ اور مادیّت پر روحانیّت کی عظمت و برتری جیسے ادق مضامین پر حکمت اور سائنس کی زبان و اصطلاحات میں جو تشریحات و توضیحات فرمائی ہیں، ان کی کوئی صاحبِ عقلِ سلیم داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
جنابِ والا! آپ کی علمی عظمت کا یہ عالم ہے کہ اس انقلابی دور میں جہاں ہر علم و فن میں برق رفتار مادّی ترقی کے نتیجے میں نت نئے انکشافات اور خاص کر تسخیرِ ماہتاب اور مصنوعی انسان جیسے ناقابلِ تصوّر واقعات کے رونما ہونے پر کائنات و انسان کے بارے میں بہت سے متداول عقائد و نظریات مثلاً مرکزیتِ زمین اور مقامِ انسانیّت وغیرہ کے زیر و زبر ہو جانے سے اہلِ علم و فکر اور بالخصوص علمائے مذاہب گوناگون مسائلِ لا ینحل سے پریشان ہیں اور جہاں دنیا کی آبادی کا بیشتر حصہ مادیّت کی یلغار سے گھبرا کر زندگی کے مادّی پہلو ہی کو سب کچھ سمجھنے لگا ہے۔ وہاں جنابِ والا امامِ حیّ و حاضر کے ہمہ گیر و ہمہ رس تائیدی علم سے مسلح اور اسپِ حکمت پر سوار ہوکر شمشیرِ زبان اور تیغِ قلم سے روحانیّت کے مقابلے میں آنے والے مادیّت کے ہرگونہ علمی اور اعتقادی حملے کے دفاع کے لئے ہمہ وقت مستعد ہیں۔ یعنی آپ ہر پیش آنے والے مسئلے کا شافی و کافی جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ فلسفہ ہو یا سائنس یا مذہب کوئی بھی ایسا سوال نہیں ہے جس کا فوری حل آپ کے پاس نہ ہو۔ آپ ہر ادق
۱۶۹
سے ادق مسئلے کا جواب بڑی خندہ پیشانی اور سہولت کے ساتھ دیتے ہیں۔ بالخصوص جناب موصوف جب قرآنی حکمت اور اسرارِ روحانیّت کے لئے لب کشائی فرماتے ہیں تو آپ کے دلائل و براہین میں وہ طمانیت بخش معجزاتی استدلالی قوّت ہوتی ہے کہ اگر کوئی منکرِ دین بھی سنے تو وہ بھی طوعاً و کرہاً دین و روحانیّت کی عظمت کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا، ایسے موقع پر آپ کی تبحرِ علمی سے واقعاً عقل سر در گریبان ہو جاتی ہے اور مومنوں کو یقینِ کامل ہوتا ہے کہ بلاشبہ یہ امامِ حیّ و حاضر کی تائید ہی کا ثمرہ ہے، جس کے فیض کے اثر سے ہر فردِ بشر مسیحائی کردار ادا کر سکتا ہے۔
جنابِ والا! آپ کی زبانی اور تحریری تعلیم سے مشرق سے لے کر مغرب تک متعدد طالبانِ علم و معرفت فیض یاب ہو چکے ہیں۔ آپ نے اسماعیلی مذہب کی مختلف حیثیتوں اور صورتوں میں خدمات انجام دی ہیں اور ان میں سے ایک عظیم خدمت دار الحکمۃ کے قیام کا کارنامہ ہے۔ یہ کارنا مہ اس قابل ہے کہ اسے اسماعیلی تاریخ میں آبِ زر سے لکھا جائے۔ اس لئے کہ موجودہ دور میں اس ادارے سے قلیل عرصے میں بغیر مادّی وسائل کے اسماعیلی مذہب پر تصنیف و ترجمہ کی صورت میں جو بیش بہا کتابیں شائع ہوئی ہیں وہ کیفی اور کمی ہر دو لحاظ سے قابلِ تعریف ہیں اور موجودہ دور کی پیدا شدہ ضروریات کے عین مطابق ہیں۔
۱۷۰
جنابِ والا! اس کے علاوہ آپ کا وہ دور بھی نہایت اہم رہا ہے جس میں آپ نے اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان کے مرکز میں روحانیّت اور علمِ تاویل کے محقق اور معلّم کی حیثیت میں تحریروں اور تقریروں کی صورت میں بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔ چنانچہ اسی دور کا ایک اہم تحقیقی رسالہ “پیر ناصر خسرو اور روحانیّت” کے نام سے شائع ہو چکا ہے، جس میں آپ نے روحانیّت کے بحرِ ذخائر کو کوزے میں سمو دیا ہے۔ اور آپ کی زبانی تعلیم کا یہ اثر ہے کہ آپ سے علمِ باطن کے چند نکات کی تعلیم کے بعد دوسروں کے دلائل خواہ کتنے ہی حکیمانہ اور فلسفیانہ کیوں نہ ہوں، طفلانِ مکتب کے دلائل لگتے ہیں، اور کیوں نہ ہو، اسماعیلی داعیوں کی ہر زمانے میں یہی شان رہی ہے اور یہی ہماری حقیقی میراث ہے، چنانچہ سیدنا پیر ناصر خسرو قدّس سرّہ روحنا فداہ فرماتے ہیں:
چون من ز حقائق سخن کشایم
سقراط و فلاطون سزدعیالم
نیز فرماتے ہیں:
دان بندہا کہ بست فلاطون بہ پیش من
موم است و سست پیش کہین پیشکارِ من
فامّا سامعینِ کرام کے لئے ملحوظِ رہے کہ اسماعیلی داعیوں کا یہ دعویٰ شاعرانہ تعلّی نہیں ہے بلکہ عین حقیقت ہے اور یہ وہ خاص علم ہے جس کے متعلق جناب الواعظ صاحب خود فرماتے ہیں کہ:
۱۷۱
خاصہ علم است کہ ہر جا رسد و کم نشود
زانکہ ثبتش بسر صفحۂ عصر و ز من است
اور اس ہمہ گیر و ہمہ رس علم کا منبع اسماعیلی داعیوں کے پاس (جیسا کہ پہلے اشارہ کیا گیا ہے) امامِ زمانؑ ہی ہیں جن کی تائید اور ولایت و محبّت اور مدح و منقبت کے بغیر یہ علم حاصل نہیں ہو سکتا، جیسا کہ سید نا پیر ناصر خسرو قدّس سرّہ فرماتے ہیں:
مرا جز بتائیدِ آلِ رسول
نہ تصنیف بود و نہ قال و نہ قیل
نیز پیر فرماتے ہیں:
کی شدی این نفس من بر اسپ حکمتہا سوار
گر نہ ممدوحم سوارِ دلدلِ شہباستی
اسی طرح جناب واعظ صاحب بھی اس علم کا ذریعہ امامِ زمانؑ کے درِ اقدس کی گدائی کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں
نصیر گکھر ڎم اکوغن کھک عقلہ لعلہ برݣ
دݼنمݣ عقلݣہ سلطانہ برہ گدا ان با
جنابِ والا! ان عمومی خدمات کے علاوہ ریاستِ ہونزہ کی تاریخ میں آپ کی ایک منفرد اور خصوصی حیثیت بھی ہے اور وہ یہ کہ آپ ریاستِ ہونزہ جیسے پسماندہ علاقے کی حیرت انگیز اور برق رفتار ترقی کے روحانی نقیب کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، جس کا آغاز جیسا کہ اہلِ دانش و بینش حضرات پر روشن ہے حضرت مولانا سلطان محمد شاہ علیہ الصلواۃ والسّلام کے اس فرمانِ مبارک سے ہوا ہے جو سرکار نے دہلی ریڈیو سے ۱۱ مارچ ۱۹۴۰ء کو ارشاد فرمایا تھا کہ
۱۷۲
“جماعتِ اسماعیلیہ ہونزہ و بدخشان را سلام می رسائم و مہربانی خود۔ یقین دارید کہ نورِ محبت من مثلِ آفتاب بر جماعتِ ہونزہ خواہد رسید۔” اس میں کوئی شک نہیں کہ جنابِ والا نے آفتابِ امامت کے نورِ محبت و رحمت سے فیض پذیری میں قابل ترین جوہر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اس لئے کہ یہاں کی روحانی اور علمی ترقی جو کسی بھی قوم و ملت کی ترقی کا حقیقی معیار ہے، کا آغاز آپ کے کلامِ جانفزا سے ہوا اور جس کو زمانے کے امام حضرت مولانا شاہ کریم الحسینی علیہ الصلواۃ و السّلام نے گنان کا مرتبہ عنایت فرمایا ہے۔ آپ نے اپنے کلام میں علمِ توحید، آنحضرتؐ اور آپ کی اولادِ اطہار کی نعت و منقبت اور اسماعیلی فلسفے کو سمو کر یہاں کے مرد و زن، صغیر و کبیر ، برنا و پیر میں ایک ولولہ خیز روح پھونکی ہے۔ آپ کا کلام اردو، فارسی اور ترکی کے علاوہ مقامی زبان بروشسکی میں ہونے سے جہاں ایک طرف سہل الفہم ہے وہاں دوسری طرف ایک روحانی عالم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور اس کے اثر کا یہ عالم ہے کہ امامِ زمانؑ کے نور کے حقیقی عاشق اس کو سنتے ہی حدودِ مکان سے نکل کر لامکان پہنچتے ہیں۔ آپ کی روحانی مجالس روحانیّت کے معمل کے حیثیت رکھتی ہیں، جہاں امامِ حیّ و حاضر کے نور کے شیدائی عملاً روحانیّت کے تجربہ و مشاہدہ سے فیض یاب ہوتے ہیں۔
جنابِ والا! آپ کی گوناگون خدمات کو اس مختصر سپاسنامے میں
۱۷۳
بیان کرنے کی نہ گنجائش ہے اور نہ استطاعت۔ مختصراً یہ کہ آپ امامِ زمانؑ کے معجزۂ علمی کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہیں۔ آپ کی منثور و منظوم کتب اور آپ کی روحانی مجالس حضرت مولانا سلطان محمد شاہ علیہ الصلواۃ و السّلام کے اس پاک فرمان کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ “اسماعیلی مذہب روحانیت کا تخت ہے۔”
آخر میں دعا ہے کہ جنابِ والا کی زیرِ نگرانی اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان کی جو شاخ قائم ہوئی ہے وہ ہماری گزشتہ اسماعیلی دعوت کی صحیح جانشین ثابت ہو اور یہاں سے علم و حکمت اور روحانی تربیت سے آراستہ و پیراستہ ایسے باکمال دعاۃ و وعاظ پیدا ہوں جو امامِ حیّ و حاضر کی مقدّس ہدایت کی روشنی میں دینِ اسلام کی صحیح خدمت انجام دے سکیں اور وہ اس علاقے بلکہ چار دانگ عالم میں داعیانِ سلف کی طرح اسلام کی حقیقت اور علم و حکمت کا غلغلہ پیدا کریں۔ نیز دعا ہے کہ: جنابِ والا جس عظیم مقصد کے لئے جس اہم عہدے پر فائز ہوئے ہیں خداوندِ ربّ العزّت اس میں بدرجۂ اتم کامیابی عنایت کرے۔
۱۱جون ۱۹۷۲ء
طالبانِ دعا:
صدر و اراکین
دی پاک اسماعیلیہ ہونزہ (شناکی) ملٹی پرپز کوآپریٹیو سوسائٹی لمیٹڈ کراچی
۱۷۴
پنج مقالہ نمبر ۴
بسم اللہ الرحمن الرحیم
افتتاحیہ
خداوندِ قدّوس کے عظیم الشّان احسانات کا محرک اور با اثر تصوّر ہو، تاکہ ہمارا دل جذبۂ شکرگزاری سے معمور اور دنیا و آخرت کی نیک امیدوں سے مسرور ہو جائے، پروردگارِ عالم کا سب سے بڑا احسان، جس میں تمام احسانات سموئے ہوئے ہیں، یہ ہے کہ اُس نے اپنی بے پایان رحمت سے ہمیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آنحضرتؐ کے حقیقی جانشین کی معرفت کی دولت سے مالا مال فرمایا ہے، اس حقیقت کو صرف جاننے والے ہی جانتے ہیں کہ یہ دولت حقیقی اور غیر فانی ہے اور اس میں سب کچھ ہے۔
میں اس بات کا پورا پورا یقین رکھتا ہوں کہ “پنج مقالہ نمبر ۴” بھی بفضلِ خدا میری دوسری کتابوں کی طرح مقبولِ خاص و عام اور پھر کامیاب ہو جائے گی، کیونکہ ہماری یہ ناچیز کوشش امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کے مبارک منشاء کے مطابق ہے، اور حق بات تو یہ ہے کہ علمی خدمت کی یہ
۱۷۷
توفیق امامِ برحق کے نور کے وسیلے سے ملی ہے، بلکہ اسی معنیٰ میں وضاحت کے طور پر یہ کہنا چاہئے کہ امام ہی ہیں جو خصوصی اہتمام سے اپنے علمی خدمت گزاروں کو تیار کرتے ہیں، اگرچہ کسی اجنبی اور ناواقف شخص کے لئے یہ ایک سوال ہو سکتا ہے کہ امامِ زمانؑ کس طرح اپنے علمی نمائندوں کو روحانی علم اور باطنی حکمت دے سکتے ہیں؟
امامِ زمان علیہ السّلام خدا تعالیٰ اور رسولِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانب سے ہادئ دین ہیں، ہادی ہدایت کرتا ہے، یعنی علم و عمل کا راستہ بتلاتا ہے، آپ اس میں ذرا غور کریں کہ آیا ہدایتِ کاملہ کا صحیح تصوّر یہ نہیں کہ ہادی ظاہر و باطن میں ہدایت کر سکتا ہے؟
ہادئ برحق یعنی امامِ زمانؑ کا دوسرا نام خلیفۂ خدا اور خلیفۂ رسول ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ نورِ ہدایت اور گنجِ علم و حکمت جو اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبرِ برحق کی طرف سے عالمِ بشریت میں ہونا چاہئے وہ امامِ حیّ و حاضر ہی ہیں، جب وہ اس خلافتِ عظمیٰ کی یکتا مرتبت پر فائز ہیں تو یقین رکھنا چاہئے کہ امامِ زمان بحکمِ خدا مکانی مسافتوں اور جغرافیائی رکاوٹوں کے باؤجود حقیقی علم ان خوش نصیب افراد کو پہنچا سکتے ہیں جو اس کے حصول کی اہلیت رکھتے ہیں۔
یہاں پر دین کی ایک بلند ترین حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہوں
۱۷۸
کہ “سبحان اللہ” قرآنی ارشادات میں سے ہے، جس کے معنی ہیں خدا پاک ہے، لیکن سوال ہے کہ وہ کن کن چیزوں سے پاک ہے؟ کیا ہم اس معنیٰ میں صرف اسی پر اکتفا کریں کہ اللہ تمام عیوب سے پاک ہے؟ یا یہ کہیں کہ خدا ہر چیز سے پاک ہے، یہاں تک کہ قول و فعل سے بھی پاک ہے؟ آپ سنجیدگی سے سوچیں، میرا ذاتی عقیدہ اس سلسلے میں یہی ہے کہ خداوند تعالیٰ جس طرح ہر چیز سے بے نیاز ہے اسی طرح ہر چیز سے پاک بھی ہے، اور ان دونوں باتوں کا مطلب ایک ہی ہے، لیکن یہ جائز اور روا ہے، کہ اچھی اچھی صفات ذاتِ سبحان سے منسوب کی جائیں، کیونکہ ایسی اونچی اونچی صفتیں ان مقدّس چار اصولِ دین کی ہیں جو خدا کے امر کے تحت ہیں۔
آپ جب دقتِ نظر سے مطالعہ کریں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ “پنج مقالہ نمبر ۴” حقیقی علم اور دین شناسی کی معلومات سے کس طرح پُر ہے اور اس کو مصنف کی دوسری کتابوں کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے کس حد تک علمی روشنی میں اضافہ ہو سکتا ہے، چنانچہ امید ہے کہ آپ اپنے مذہبی جنرل نالج کے ذخیرہ کو زیادہ سے زیادہ کرکے مہیا رکھنے کے لئے دینی کتابوں کو پیشِ نظر رکھیں گے، تاکہ آپ قومی، جماعتی، خاندانی اور ذاتی سطح پر علمی مسائل کو بآسانی حل کر سکیں۔
۱۷۹
ہوشیار مومن حصولِ علم کی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ مقدّس فریضہ کس قدر اہم اور کتنا ضروری ہے، اس لئے وہ ادائے فرض اور خدا کی خوشنودی کی خاطر حقیقی علم حاصل کرنے میں جانفشانی سے کام لیتا ہے، اور خداوند تعالیٰ اس کی سخت سے سخت محنت کو دیکھ کر رحم فرماتا ہے اور رفتہ رفتہ اپنے علمی خزانوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جیسا کہ ہادئ زمانؑ کے توسط سے کرنا چاہئے۔
ان پانچ مقالات میں سب سے پہلے سورۂ زلزال کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں، جن میں روحانی ترقی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے مفید معلومات موجود ہیں، اس میں معیارِ روحانیّت کا اندازہ بتایا گیا ہے کہ ذکرِ الٰہی یعنی خصوصی عبادت سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کے لئے کتنی سخت محنت درکار ہے۔
دوسرا مقالہ “ظہوراتِ اسلام” ہے جس سے نہ صرف اسلام کی ازلی حقیقتوں کے متعلق ایک صحیح تصوّر ملتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قلمِ الٰہی یا نورِ محمدیؐ جیسی نورانی ہستیوں کی شناخت کا راستہ بھی متعیّن ہو جاتا ہے، تا کہ ہماری عقلی نظر صحیح سمت پر لگی رہے اور توجہ بار بار بھٹک نہ جائے۔ لوگ دینِ خدا کے قدیم ہونے کا زبانی اقرار تو کر سکتے ہیں، مگر اس کے ازلی و ابدی حقائق و معارف کا اتا پتا
۱۸۰
نہیں بتا سکتے۔
تیسرا مضمون ہے “ایک جوابی خط کا اہم حصہ” جس میں ایک عالی قدر دوست کے چند علمی سوالات کے جوابات درج ہیں، ظاہر ہے کہ سوال و جواب کے گھیرے میں علم کی جتنی باتیں آتی ہیں وہ سب کی سب بہت ہی معقول اور مفید ہوتی ہیں، خصوصاً ایسی باتیں جو علم دوستی کے ماحول میں کی جاتی ہیں۔
چوتھا مقالہ ہے “حقیقت کی ترجمانی” یہ شیخ عطار کے دیوان کی ایک پسندیدہ نظم اور اُس کا ترجمہ و تشریح ہے، جس میں تصوّف یعنی طریقت کے بہت سے بھیدوں کی نشاندہی کی گئی ہے، اور وہ اپنی نوعیت کے عجائب و غرائب سے بھرپور ہے۔
پانچواں مقالہ “عقیدۂ توحید” ہے، جو بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے، چونکہ دین کا آغاز و انجام توحید ہی ہے، اور توحید کی ترجمانی کے بغیر کسی مذہب کے متعلق معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ اس کا معیار کیا ہے؟ عقائد کیسے ہیں؟ اور عبادات شرک سے کس حد تک پاک ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔
مذہب کی تمام تعلیمات کی اصل و اساس توحید کے اس تصوّر پر قائم ہے جو اہلِ مذہب کے نزدیک مسلّمہ ہے، لہٰذا کسی بھی
۱۸۱
مذہب کی تفصیلات میں جانے سے پیشتر ضروری ہوتا ہے کہ اُس مذہب کے عقیدۂ توحید کو دیکھا جائے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی تعریف کن الفاظ میں اور کس طرح سے کی گئی ہے، اور اس کی حقیقت کیا ہے۔
اس تمہید کے بعد میں علمِ حقیقت کے روشن چراغ کے اُن پروانوں کے حق میں بارگاہِ ایزدی سے دعا مانگتا ہوں، جو نورِ علم کی تجلّیوں کے دلدادہ اور مشتاق ہیں، جو قابلِ قدر قربانیاں دے کر علم کو فروغ دینا چاہتے ہیں کہ خداوندا! تو قادر و قیوم ہے، تو دانا و بینا ہے، اے غنی بادشاہ! اے توانا و توانگر! تو اپنی رحمتِ بے پایان سے اس مقدّس خدمت میں تعاون کرنے والوں کو عقل و جان اور جسم کی گوناگون برکتوں سے نوازنا، اُن سے ہر وقت راضی رہنا اور انہیں ہر طرح سے خوش رکھنا، ان کی نیک مرادوں کی تکمیل فرمانا، خداوندا! ان عزیزوں کو دونوں جہان کی سلامتی اور سرخروئی عطا ہو، آمین!! یا ربّ العٰلمین
فقط جماعت کا علمی خادم
نصیر الدین نصیر ہونزائی
بروز چہار شنبہ: ۲۸ شوال ۱۳۹۷ھ
۱۲ اکتوبر ۱۹۷۷ء
۱۸۲
سورۂ زلزال کی چند حکمتیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جب زمین بڑے زوروں کے ساتھ زلزلہ میں آ جائے گی اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی، اور (اس حالت کو دیکھ کر) آدمی کہے گا کہ اس کو کیا ہوا، اُس روز وہ اپنے سب حالات بیان کر دے گی، کیونکہ آپ کے پروردگار نے اس کو وحی کی ہوگی، اُس دن لوگ گروہ گروہ ہوکر نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھیں تو جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھ لے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی ہے تو اسے دیکھ لے گا۔ ۹۹: ۰۱ تا ۰۸۔
حکمت نمبر۱:
مٹی اور زمین تاویل میں بندۂ مومن ہے، کیونکہ صرف مومن ہی آسمانِ روحانیّت کے جملہ فیوض و برکات کو قبول کر سکتا ہے، زلزلہ حقیقی مومن کی روحانی ترقی کے سلسلے کا ایک معجزانہ وسیلۂ تطہیر ہے، یہ زلزلہ خفی سے خفی تر بھی ہے اور جلی سے جلی تر بھی، یہ مقدّس کیفیت خواب میں بھی ہوتی ہے اور بیداری میں بھی، اور روحانی دور
۱۸۳
میں اس کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔
حکمت نمبر ۲:
سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۱۴ (۰۲: ۲۱۴) میں فرمایا گیا ہے کہ: کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ بہشت میں پہنچ ہی جاؤگے حالانکہ ابھی تک تمہیں اگلے زمانہ والوں (یعنی حقیقی مومنوں) کی سی حالت نہیں پیش آئی کہ انہیں طرح طرح کی تکلیفوں اور سختیوں نے گھیر لیا اور زلزلہ میں اس قدر جھنجھوڑے گئے کہ آخر (عاجز ہوکے) پیغمبر اور ایمان والے جو اُن کے ساتھ تھے کہنے لگے (دیکھئے) خدا کی مدد کب ہوتی ہے، دیکھو (گھبراؤ نہیں) خدا کی مدد یقیناً بہت قریب ہے۔
اس فرمانِ خداوندی میں اسی روحانی زلزلے کا ذکر ہے، جس سے ہم یہاں بحث کر رہے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ حقیقت دنیاوی تکالیف سے الگ تھلگ اور ان کے بعد آتی ہے، جیسا کہ ترتیبِ بیان سے واضح ہے کہ ہر قسم کی تکلیف اور ہر طرح کی سختی سے مراد جسمانی اور دنیاوی مشقتیں ہیں، اور پھر اس کے بعد زلزلہ کا ذکر آتا ہے جو روحانیّت کا امتحان ہے اور اسی سے مومن کی تطہیر یعنی پاکیزگی ہوتی ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی خصوصی تائید اور روحانیّت کی بہشت آتی ہے۔
حکمت نمبر ۳:
چونکہ روحانی ترقی راہِ خدا میں سخت محنت و مشقت اور مسلسل عبادت کے بغیر ناممکن ہے اور اگر جسمانی طور پر
۱۸۴
یہ تمام شرائط پورے ہوگئے تو تب زلزلہ آسکتا ہے ورنہ نہیں، چنانچہ غزوۂ خندق کی بے پناہ مشقتوں کے بعد حقیقی مومنوں پر جو معجزانہ زلزلہ آیا تھا، اس کے بارے میں ارشاد ہے کہ:
اے ایماندارو! خدا کی ان نعمتوں کو یاد کرو جو اُس نے تم پر نازل کی ہیں (جنگِ خندق میں) جب تم پر (کافروں کا) لشکر (اُمنڈ کے) آ پڑا تو ہم نے (تمہاری مدد کو) ان پر آندھی بھیجی اور (اس کے علاوہ فرشتوں کا) ایسا لشکر (بھیجا) جس کو تم نے دیکھا تک نہیں، اور تم جو کر رہے ہو خدا اسے خوب دیکھ رہا ہے، جس وقت وہ لوگ تم پر تمہارے اوپر سے آ پڑے اور تمہارے نیچے کی طرف سے بھی پل گئے اور جس وقت (ان کی کثرت سے)تمہاری آنکھیں خیرہ ہو گئی تھیں اور (خوف سے) کلیجے منہ کو آ گئے تھے اور تم خدا پر طرح طرح کے خیال کرنے لگے تھے یہاں پر مومنوں کا امتحان لیا گیا تھا اور خوب اچھی طرح سے ان کو ہلایا گیا تھا ( وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا، ۳۳: ۰۹ تا ۱۱)۔
اس آیت کا اشارہ یہ ہے کہ جب تک کوئی آدمی حقیقی مومن کی حیثیت سے بہت سے نیک کاموں کے علاوہ پیغمبر اور امام کی معیت میں جہاد کا مقدّس فریضہ انجام دینے کے برابر مفید دینی خدمت نہ کرے تو اس کی روحانی ترقی ناممکن ہے۔
۱۸۵
حکمت نمبر ۴:
جو لوگ اپنی روحانی ترقی نہ ہونے کو اپنی بد قسمتی سمجھتے ہیں وہ کتنی بڑی غلطی کرتے ہیں، جبکہ وہ محنت نہیں کرتے، ان کو غزوۂ خندق کے مومنین کے تاریخی قصّے کا خوب مطالعہ کرکے اندازہ کرنا چاہئے کہ اُن جانباز مومنوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق پیغمبر اور امام علیہما السّلام کو سامنے رکھتے ہوئے اس جہاد میں کتنی سخت ترین تکالیف برداشت کی ہیں، اور پھر مزید آٹومیٹک ریاضت اور تطہیر کے طور پر ان پر روحانی زلزلہ مسلط کر دیا گیا۔
حکمت نمبر ۵:
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: یقیناً بخار ربِّ غفور کی طرف سے (مومن کی) تطہیر ہے، ویسے تو مومن کی ہر بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ ہو سکتی ہے، مگر بخار زیادہ سے زیادہ ذریعۂ تطہیر اس لئے ہے کہ وہ مذکورۂ بالا روحانی زلزلہ کا بہترین نمونہ ہے، جس میں روحانیّت کی پاکیزگی اور روح کی صفائی ہے۔
حکمت نمبر ۶:
سورۂ زلزال کی دوسری آیت میں یہ جو فرمایا گیا کہ زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی، جس کی تاویل ہے کہ اس تطہیر کے نتیجے میں مومن پر سے گناہ کا بوجھ اتار دیا جائے گا، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جہاں کہیں خدا و رسول اور امامِ برحقؑ کی جانب سے
۱۸۶
مومنین کی پاکیزگی کا ذکر آیا ہے وہاں پر تاویلاً اسی زلزلے کا بھی ذکر موجود ہے۔
حکمت نمبر ۷:
تیسری آیت میں اس روحانی معجزۂ زلزلہ سے مومن کی حیرت کا ذکر آیا ہے، کہ وہ پہلے پہل بہت حیران ہو جائے گا، کہ کبھی اس کا جسمِ عنصری متزلزل ہو جائے گا، کبھی جسمِ لطیف جو اس میں پوشیدہ ہے، کبھی خواب میں یہ واقعہ پیش آئے گا اور کبھی بیداری میں، کبھی مکان سمیت اس کو ہلا دیا جائے گا کہ صرف وہی مومن یہ محسوس کرے گا اور دوسروں کو قطعاً اس کا کوئی احساس نہ ہوگا اور کبھی مکان کے بغیر ایسا ہوگا، لہٰذا اس میں حیرت ہی حیرت اور تعجب ہی تعجب ہے۔
حکمت نمبر ۸:
چوتھی آیت میں جیسے ارشاد ہوا ہے اس کا مطلب ہے کہ مومن کی زمینِ روحانیّت اس روحانی زلزلہ کے فوراً بعد زندہ ہو جائے گی اور روحوں کی ایک بھرپور دنیا گفتگو کرنے لگے گی، اور اس روحانی گفتگو کا زیادہ سے زیادہ تعلق مومن کی اپنی ذات سے ہوگا۔
حکمت نمبر ۹:
مومن کی روحانیّت کی یہ خبریں ہر چند کہ بعض دفعہ وہ اچھی طرح سے کان کی گرفت میں نہیں آ سکتیں کسی اور کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ پاک کی جانب سے ہیں جو ابتدائی درجے کی وحی کے طریق پر ہیں۔
حکمت نمبر ۱۰:
اُس دن لوگ گروہ گروہ ہوکر نکلیں گے تاکہ اپنے
۱۸۷
اعمال کو دیکھیں، یعنی جب حقیقی مومن کی ذاتی قیامت مذکورہ طریق پر برپا ہوتی ہے، تو اس میں دنیا بھر کے لوگوں کی ارواح حاضر ہو جاتی ہیں، اگرچہ لوگ جیتے جاگتے اور اس واقعہ سے بے خبر ہیں، تاہم ان کی روحوں کا ایک ایک ذرّہ جہاں صور پھونکا جا رہا ہے وہاں جاتا ہے، اور اسی طرح ہر شخص اپنے اُس ذرے کی نمائندگی میں لاشعوری طور پر اپنے اعمال کی صورتِ حال کا جائزہ لیتا ہے اور قیامت کا منظر دیکھتا ہے۔
حکمت نمبر ۱۱:
تو جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی ہے تو اسے دیکھ لے گا، یعنی جن کی ایسی قیامت ذاتی ہے وہ تو شعوری طور پر یہ سب کچھ دیکھ لیں گے اور باقی لاشعوری طور پر، جیسا کہ ارشاد ہے:
بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، ۲۷: ۶۶۔ بلکہ (سچ یہ ہے کہ) وہ اس (قیامت) سے اندھے ہیں، یعنی قیامت ان کے سامنے ہے لیکن وہ اسے نہیں دیکھتے اور آئندہ بھی نہیں دیکھیں گے۔ غرض آنکہ قیامت بہت سے لوگوں پر اندھا پنے میں گزرنے والی ہے۔
۱۸۸
ظہوراتِ اسلام
اسلام اسمائے الٰہی میں
عقل و دانش، علم و حکمت اور ایمان و ایقان کی نظر میں یہ بات بنیادی حقیقتوں میں سے ہے، کہ اسلام خدائے علیم و حکیم کا وہ واحد برحق اور قدیم دین ہے، جو ازل سے اللہ تعالیٰ کی سنت و عادت، دینِ فطرت، دینِ قیم اور قانونِ قدرت کے ناموں سے چلا آ رہا ہے، اور اس کی ہدایات و تعلیمات کا اوّلین سرچشمہ صفاتِ خداوندی کی نورانیّت میں تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے۔
قرآنِ حکیم اور دینِ اسلام کی ایمان افروز اور روح پرور تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ سچا دین ایک ہی ہے، جو خدا و رسول کا دین ہے، جو اسلام کے نام سے مشہور و معروف ہے، جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کا مبارک ارشاد ہے کہ:
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫، ۰۳: ۱۹۔
یعنی دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ چنانچہ جب خدا کے
۱۸۹
نزدیک صرف اسلام ہی برحق دین ہے، تو یہ امر یقینی ہے کہ یہی دین اللہ تعالیٰ کے ازلی قانون کی حیثیت سے ہے، اور یہی دینِ حق دے کر تمام پیغمبر مبعوث کئے گئے ہیں، پس معلوم ہوا کہ خدا اور جملہ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا برحق دین اسلام ہی ہے اور یہ مبارک و مقدّس دین اللہ تعالیٰ کی سنت و عادت اور دینِ فطرت کی حیثیت سے ہے، لہٰذا ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ دینِ اسلام سب سے پہلے ازلی حقیقتوں کی صورت میں خدا کی صفات میں موجود تھا، کیونکہ اسلام ہدایات و تعلیمات کا نور ہے اور نور کا اوّلین سرچشمہ خدا کی صفات ہیں۔
اسلام نورِ محمدی میں
سرورِ عالم اشرفِ بنی آدم حضورِ اکرمؐ کے ارشادِ گرامی سے معلوم ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے سب سے پہلے اپنے اسمائے صفات سے حضرت خاتم الانبیاءؐ کے نورِ اقدس کو پیدا کیا، اسی نورِ محمدیؐ کو قلمِ قدرت اور عقلِ اوّل بھی کہا جاتا ہے، اور نورِ اسلام بھی یہی ہے، چنانچہ نورِ اسلام کا پہلا ظہور نورِ محمدیؐ کی صورت میں ہوا، جس کی نورانیّت میں اسرارِ ہدایت اور رموزِ حکمت
۱۹۰
کے بے پایان خزانے موجود تھے، چونکہ نور کا اپنا اصلی وجود عقلی اور علمی ہیئت میں ہوتا ہے، اس کے برعکس اگر یہ حال فرض کر لیا جائے کہ نورِ محمدیؐ میں اسلام کی ازلی، اساسی اور حقیقی ہدایات و تعلیمات کا کوئی وجود نہ تھا، تو پھر ہم کیسے یہ دعویٰ کر سکتے کہ آنحضرتؐ کا نورِ مقدّس ازل میں کامل اور مکمل پیدا کیا گیا ہے، نیز ہم یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرتؐ تخلیقِ آدم سے قبل بھی اپنی نورانیّت میں نبی تھے، حالانکہ نورِ کامل اور نورِ نبوّت علومِ اسلامیہ کا سرچشمہ ہوتا ہے۔
یہاں یہ حقیقت جاننا ازبس ضروری ہے کہ انسان عقل و شعور اور تحقیق و تدقیق کے بعد صحیح معنوں میں دین قبول کر سکتا ہے، اور یہ دین اس کے لئے ضابطۂ حیات اور وسیلۂ نجات ہے، لیکن اس کے برعکس خداوند تعالیٰ کے لئے دین نہ تو ضابطۂ حیات ہے، نہ وسیلۂ نجات اور نہ ہی اُس نے انسان کی طرح کچھ وقت کے بعد دین کو اپنایا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دینِ اسلام خدا کی سنت و عادت اور قانونِ فطرت کی حیثیت سے ہے، پس اس بیان سے یہ ثابت ہوا کہ یہ مقدّس دین ازل ہی سے قانونِ فطرت رہا ہے، جس کے عین مطابق خداوندِ عالم نے نورِ محمدیؐ کو پیدا کیا،
۱۹۱
اور اس میں اسلام کا نورانی، عقلی اور علمی ظہور تھا۔
اسلام لوحِ محفوظ میں
ہم یہاں یہ بحث نہیں کرتے کہ لوحِ محفوظ کی کیفیت و حقیقت کیا ہے، ہمیں صرف یہ ثابت کرنا ہے، کہ دینِ اسلام کا دوسرا ظہور لوحِ محفوظ پر ہوا، جو قرآنِ پاک کی روحانی تحریر کی صورت میں تھا، کیونکہ قرآن کی روح اسلام کی روح ہے، یعنی جب قلمِ الٰہی نے ہر چیز کی روحانی شکل و صورت لوحِ محفوظ پر ثبت کر دی، تو اس روحانی تحریر و عکاسی کے مجموعے کا نام ام الکتاب مقرر ہوا، جس میں قرآنِ مجید اور دوسری سب آسمانی کتابیں ایک ہی تھیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۔۸۵: ۲۱ تا ۲۲۔
بلکہ وہ قرآنِ بزرگ ہے لوحِ محفوظ میں، پس یہ آیۂ کریمہ اس حقیقت کی ایک روشن دلیل ہے کہ قرآن اور اسلام کا نقشِ ازلی اور صورتِ ابدی لوحِ محفوظ میں موجود ہے، کیونکہ قرآن اور اسلام کی حقیقت اور روح ایک ہی ہے، جس طرح اس عالمِ ظاہر میں اسلام کو قرآن سے جدا اور الگ نہیں کیا جا سکتا،
۱۹۲
اسی طرح اسلام کے علمی اور تصوّراتی خزانوں سے لوح و قلم کی ذات خالی نہیں ہوسکتی، پس معلوم ہوا کہ ازل میں اسلام کا دوسرا ظہور لوحِ محفوظ میں ہوا تھا۔
اسلام کتبِ سماوی میں
سطورِ بالا سے اس حقیقت کی وضاحت ہوچکی کہ لوحِ محفوظ یا کہ ام الکتاب میں تمام آسمانی کتابیں قرآنِ عظیم کی حیثیت سے ایک ہیں، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ۲۶: ۱۹۶۔ اور تحقیق وہ (قرآن) سابقہ امتوں کی آسمانی کتابوں میں بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگلی کتبِ سماوی کی صرف روحانی اور اصلی حالت ہی میں قرآنِ حکیم کی ایسی موجودگی ثابت ہے۔
جب یہ ثابت کیا گیا، کہ سابقہ آسمانی کتابیں نہ صرف لوحِ محفوظ میں قرآن کے ساتھ ایک ہیں بلکہ اس دنیا میں نازل ہونے کے بعد بھی جس حد تک تحریف کے بغیر اپنی اصلی حالت پر ہیں اُس حد تک وہ قرآنِ پاک کے سابقہ احکام کی حیثیت سے ہیں، تو اب ہم اس مقام پر یہ کہہ سکتے ہیں، کہ نورِ اسلام کا طلوع و ظہور مختلف زمانوں میں کتبِ سماوی کے نزول کی صورت میں ہوا، یہ سب مقدّس الہامی
۱۹۳
کتابیں دینِ حق کی تحریری شکلیں تھیں، اور دینِ حق ازل سے ابد تک ایک ہی ہے، جو اس دور میں اسلام کے نام سے پہچانا جاتا ہے، قرآنِ حکیم کی ۲۳: ۵۱ تا ۵۲ میں خوب غور کیا جائے۔
اسلام انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام میں
اسلام کا چوتھا ظہور انبیاء و اولیاء (أئمّہ) علیہم السّلام کی مبارک و مقدّس ہستیوں میں ہوا، کیونکہ اسلام اصلی حالت میں ایک زندہ نور اور ایک عظیم روح ہے، جس کا تعلق کامل انسانوں سے ہے، چنانچہ انبیاء و اولیاء کے دل و دماغ میں ان کی حیثیت و مرتبت کے مطابق توفیق، ہدایت، الہام، وحی، اور سماوی کتب کے نزول سے دینِ حق کی نورانی، عقلی، علمی اور عرفانی صورت مکمل ہوتی ہے، کیونکہ اسلام مسلم کی صفت ہے، اور سب جانتے ہیں کہ صفت موصوف کی ذات میں پیدا ہوتی ہے، اور موصوف کے بغیر کسی بھی صفت کی عملی شکل ناممکن ہے، پس جاننا چاہئے کہ ہر نبیؐ اور ہر ولی (یعنی امامؑ) اپنے زمانے کا مسلمِ اوّل ہوا کرتا ہے، یا اس مطلب کو یوں سمجھنا چاہئے، کہ دینِ حق انسانِ کامل کی ہستی میں ایک زندہ روح اور ایک مجسّم حقیقت بن جاتا ہے، جس طرح قبلاً
۱۹۴
اشارہ کیا گیا، کہ دینِ خدائی کا نورانی اور عقلی وجود بھی ہے، روحانی ہستی بھی، تحریری صورت بھی اور عملی شکل بھی، اسی طرح حقیقی اسلام اور مکمل ایمان انسانِ کامل کے لباسِ جسمانیّت میں ملبوس ہے۔
اسلام آنحضرتؐ کے زمانے میں
اگرچہ دینِ اسلام کے بنیادی حقائق اور اساسی معارف ازل ہی سے خدا کے نورِ اقدس میں موجود تھے، قلم و لوح میں اسی دینِ حق کے بھیدوں کے خزانے پوشیدہ تھے، آسمانی کتابیں اسی کی ہدایات و تعلیمات پھیلانے کی غرض سے نازل ہوئی تھیں، حضرت آدمؐ کا علمِ اسماء اسی کی حقیقتوں پر مبنی تھا، حضرت نوحؑ کو اسی دین کی شریعت بتائی گئی تھی، اور حضرت ابراہیمؑ نے اسی دینِ حق کا نام اسلام مقرر کیا تھا، لیکن یہ حقیقت سب پر روشن ہے، کہ اسلام کا مکمل عملی ظہور پیغمبرِ آخرِ زمان صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر آکر ہوا، کیونکہ حضورِ اکرمؐ کل جہانوں اور سارے زمانوں کے لئے سرچشمۂ رحمت تھے، لہٰذا اسلام کا ظہورِ کامل آپ ہی کے وسیلے سے ہونا تھا، اور ازل میں بھی اسلام کا نورانی ظہور حضورؐ ہی کے نورِ پاک میں ہوا تھا، جیسے خود رسالت مآب کا ارشادِ گرامی ہے کہ:
۱۹۵
کنت نبیّاً و آدم بین المآء و الطین یعنی میں خلقتِ آدم سے پہلے بھی نبی تھا۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ اوّل میں بھی اور آخر میں بھی آپ ہی اسلام و ایمان اور نبوّت و رسالت کے مرکزِ متین تھے، چنانچہ آنحضورؐ ہی کے جسمانی ظہور سے اسلام کی تکمیل کے وسائل و ذرائع مکمل و مہیا ہوگئے، جو قرآنِ حکیم اور ہادئ برحق کی حیثیت سے ہیں۔
سرورِ کونین صلعم کا وجودِ مبارک و مقدّس اسلام اور ایمان کا پیکرِ اکمل تھا، یعنی حضورِ اکرمؐ کی ذاتِ بابرکات قولاً و فعلاً دینِ حق کے تمام ظاہری و باطنی اوصاف کے اعلیٰ نمونوں اور مثالوں کا مجموعہ تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی حیاتِ طیبہ اسلام اور مسلمین کی جملہ خوبیوں کی حقیقی جان تھی، جس کے ہر لمحے سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی تھی کہ دینِ اسلام کی لاتعداد رحمتوں اور برکتوں کا دارومدار ہادئ برحق کی موجودگی پر ہے، چنانچہ نزولِ قرآن اور ظہورِ اسلام کے لئے آپ کا اس دنیا میں موجود ہونا ضروری تھا، آپ کی موجودگی ہی کی برکت سے عرب کے مختلف قبائل نہ صرف مشرف باسلام ہوئے، بلکہ وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر خوشگوار زندگی گزارنے لگے، حضورؐ کے علم و حکمت اور شخصیت
۱۹۶
کی موجودگی ہی نے زمانۂ نبوّت کے مسلمانوں کو مثالی قسم کے اتفاق و اتحاد کے رشتے میں منسلک کرکے دین و دنیا کی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کر دیا۔
اسلام حضورِ انور کے بعد
یہاں افسوس کے ساتھ اس تلخ حقیقت کا بھی کچھ تذکرہ کرنا پڑا ہے کہ پیغمبرِ آخر زمانؐ کی جسمانی رحلت کے بعد مسلمانوں کے آپس میں نظریاتی اختلاف کا سلسلہ شروع ہوا، جس کی وجہ سے ملتِ اسلامیہ کی وحدت و سالمیت کا شیرازہ بکھر جانے لگا، اور نتیجے کے طور پر مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گئے، حالانکہ ان کی اجتماعی و انفرادی صلاح و فلاح اس امر میں تھی، کہ وہ ایسے اختلافات کو دائرۂ اذہان و افکار ہی میں محدود رکھتے، اور ان کو تلاشِ حقیقت کا ذریعہ بناتے اور انہیں مذہبی رنگ دے کر عمل میں نہ لاتے، جب چار و ناچار اُن اختلافات کی تشکیلات بن چکیں، اور اسلام کے مختلف مکاتبِ فکر وجود میں آئے، تو پھر بھی چارۂ کار ہو سکتا تھا، جبکہ مسلمانوں کی اصولی اخوت و یگانگت برقرار و باقی ہے۔
۱۹۷
ایک جوابی خط کا اہم حصہ
میں شکرگزار ہوں کہ آپ نے ازراہِ کرم اس جانب توجہ فرمائی ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ اس طرح کی خط و کتابت سے بھلائی ہی بھلائی ہوگی اور یقین ہے کہ مولا پاک کی خوشنودی بھی اسی میں ہے، کہ ہم آپس میں دینی طور پر خط و کتابت کریں، تاکہ اس ارتباط و اتحاد کے نتیجے سے جماعت کو فائدہ حاصل ہو۔
۱۔ آپ نے سوال فرمایا ہے کہ: روح کیا ہے، جبکہ امام ہمیں اس کے بارے میں غور و فکر کرنے کے لئے فرماتے ہیں؟
جواب: روح ایک حقیقت ہے، ایک جوہرِ بسیط، ایک لطیف زندگی، ایک عظیم دنیا، ایک باطنی شعور، ایک حقیقی بیداری، ایک بے مثال شے، ایک مخفی خزانہ، ایک لازوال سلطنت، ایک نورانی ہستی، ایک خدائی عکس، ایک قدیم ذات، ایک توحیدِ صفات، ایک نمونۂ حیات، ایک لطیف کائنات، ایک آئینۂ معجزات، ایک سرچشمۂ برکات، ایک جامعِ آیات، ایک مجموعۂ حالات، ایک مرکزِ
۱۹۸
عنایات، ایک وسعتِ جَنّات، ایک رفعتِ درجات وغیرہ۔
انہی الفاظ کی کچھ تشریح و توضیح کے طور پر کہتا ہوں کہ روح ایک محدود شے نہیں، بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک پوری کائنات ہے، انسان جب خواب کی کیفیت میں ہوتا ہے، تو وہ دراصل کسی اور چیز کو نہیں بلکہ اپنی روح اور روحانیّت کو دیکھتا ہے، اگرچہ اکثر خواب روشن نہیں ہوتے ہیں، تاہم یہ روح کی شناخت کے لئے ایک عام مثال ہے، یہی خواب خصوصی ذکر و عبادت کے نتیجے میں ترقی کرتے کرتے عارف کے لئے نمونۂ روح اور روحانیّت بن جاتے ہیں، اور اسی طرح عالمِ خیال یعنی بیت الخیال روح اور روحانیّت کی شناخت کا اسکول ہے۔
چند ہی الفاظ میں روح کی تعریف مشکل بلکہ ناممکن ہے، لہٰذا اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ روح خدا کے نور کا ایک عکس ہے، اور یہ حقیقت پیغمبر اور امام میں بحیثیتِ انسانِ کامل سب سے نمایان اور بدرجۂ اتم پائی جاتی ہے، چنانچہ فرمایا گیا ہے کہ:
جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اُس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا، اگر انسانی روح خدا کے نور کا عکس نہ ہوتی، تو اس کی معرفت خدا کی معرفت نہ ہو سکتی، پس ظاہر ہے کہ روح خدائی نور کا پرتو یعنی عکس ہے،
۱۹۹
اور عکس کی مثال وہ سورج ہے جو آئینہ میں یا کسی صاف پانی میں نظر آتا ہے، جس میں اور حقیقی سورج میں بہت بڑا فرق تو ہے، لیکن یہ فرق بھی ایک طریقے سے دور ہو سکتا ہے اور وہ یہ جاننا ہے کہ اصل میں سورج اور اس کے عکس میں کوئی دوئی نہیں، کیونکہ عکس فریبِ نظر کے سوا کچھ بھی نہیں، یعنی اس میں نگاہ کو دھوکہ ہو رہا ہے، چونکہ آئینہ میں کچھ بھی نہیں ماسوائے اس کے کہ وہ ہماری نظر کو آسمان کی طرف اچھال رہاہے، جس سے ہم سورج کو آسمان ہی میں دیکھتے ہیں نہ کہ آئینہ میں، لیکن گمان کرتے ہیں کہ یہ سورج آئینہ میں ہے۔
بہرحال روح لامکانی کیفیت میں عالمِ باطن اور عالمِ امر ہے، اس میں سب کچھ ہے، اس لئے کہ وہ روحِ کلّی سے مل کر ہے الگ نہیں، مگر ہاں جس کی معرفت جتنی ہو روح کی بلندی اور وسعت بھی اتنی نظر آتی ہے، مثال کے طور پر ہم سیّارۂ زمین پر تقریباً ۹ کروڑ میل سورج سے دور رہ کر آئینہ میں سورج کا عکس اتنا محدود اور چھوٹا دیکھتے ہیں مگر جوں جوں آئینہ کو سورج سے قریب کرتے جائیں گے، توں توں سورج کا عکس بھی بڑھتا جائے گا، یہاں تک کہ ایک مقام پر جا کر
۲۰۰
آئینہ جل کر ختم ہو جائے گا، اس وقت نہ تو عکس نظر آئے گا اور نہ ہی دوئی کا کوئی شک ہو گا۔
روح اگرچہ ایک محدود شے نہیں بلکہ وہ ایک کامل اور مکمل کائنات ہے کیونکہ وہ اس عالمِ ظاہر کی زندہ روحانی صورت ہے، تاہم اس کی ایک مخصوص صورت بھی ہے اور وہ انسانی شکل ہے، یعنی روح اپنے خاص درجے میں ایک انتہائی حسین و جمیل انسان کی صورت میں ہے، اور انسان کا ہمیشہ جمالیاتی ذوق رکھنا اس لئے ہے کہ روحِ انسانی خود جمال و جلالِ خداوندی کی مظہر ہے۔
۲۔ آپ کا دوسرا سوال ہے کہ: صلوات کے حقیقی معنی کیا ہیں؟ اور یہ کن احساسات کے ساتھ پڑھنی چاہئے؟
جواب: صلوات کے کئی معنی ہیں، اور جہاں صلوات پیغمبرِ اکرمؐ اور آپؐ کی آلِ پاک کی شان میں پڑھی جاتی ہے وہاں اس کے تاویلی معنی پیچھے پیچھے چلنے کے ہیں، یعنی پیروی کرنے کے، ملاحظہ ہو کتاب وجہِ دین حصۂ دوم کلام نمبر ۵۰ صفحہ نمبر ۲۲۴، نیز مفردات القرآن کے صفحہ ۵۹۲ پر درج ہے کہ: اور آیتِ کریمہ لم نک من المصلین ، ۷۴: ۴۳، ہم مصلین سے نہیں تھے، کے معنی یہ ہیں کہ ہم انبیاء کی پیروی نہیں کرتے تھے۔
۲۰۱
چنانچہ جس آیت میں محمدؐ و آلِ محمدؐ کے لئے صلوات پڑھنے کا حکم ہے، اس کے یہ معنی ہوں گے کہ: کوئی شک نہیں کہ خدا اور اس کے فرشتے (ایک اعتبار سے) نبی محمدؐ کے پیچھے چلتے ہیں تو اے ایمان والو تم بھی اس کے پیچھے چلو اور فرمانبرداری کرو جیسا کہ فرمانبرداری کا حق ہے۔ ۳۳: ۵۶۔
جب ہم کہتے ہیں کہ: اللّٰھم صل علیٰ محمد و آل محمد تو اس کی تاویل ہوتی ہے کہ: اے اللہ مجھے محمد و آلِ محمد کے پیچھے پیچھے چلا، یعنی اے خداوند تو مجھے اس بات کی توفیق و ہمت عنایت فرما کہ میں آنحضرتؐ اور آپؐ کی آلِ پاک کے أئمّۂ طاہرینؑ کی پیروی کر سکوں۔
جاننا چاہئے کہ صلوات پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے اور اس کی خاص وجہ حکمت میں پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ خدا اور اس کے ملائکہ نبئ کریمؐ کے پیچھے اس معنیٰ میں چلتے ہیں کہ یہاں خدا کی تاویل ہے نمائندۂ خدا، مظہرِ نورِ خدا اور خلیفۂ خدا، جو پیغمبر اور امامِ زمانؑ ہیں، مگر یہاں ظاہر ہے کہ اس کی مراد امامِ وقتؑ ہیں، چنانچہ اس آیۂ شریفہ کی تاویل زمانۂ نزول کے اعتبار سے یہ ہے کہ: کوئی شک نہیں کہ خدا یعنی نمائندۂ خدا (علیؑ) اور اس کے ملائکہ یعنی (سلمان فارسی جیسے)
۲۰۲
حقیقی مومنین نبی محمدؐ کی صحیح پیروی کرتے ہیں تو اے ایمان والو تم بھی پیروی کرو اور کماحقہ فرمانبرداری کرو۔ اس مطلب کی آخری وضاحت یہ ہے کہ جس طرح نمائندۂ خدا اور خلیفۂ رسول یعنی امامِ زمانؑ اور اس کے حقیقی مومنین آنحضرتؐ کی حقیقی پیروی کرتے ہیں اسی طرح تمام ایمان والوں کو آنحضورؐ کی پیروی اور فرمانبرداری کرنی چاہئے۔
آپ نے تیسرے سوال میں اس فرمانِ خداوندی کا مطلب پوچھا ہے کہ: اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی (امانت میں) خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو حالانکہ تم سمجھتے بوجھتے ہو، ۰۸: ۲۷۔ چنانچہ جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی امانت سب سے پہلے اصحابِ رسولؐ کے سپرد ہوئی تھی، جو قرآنی تعلیمات کی حیثیت سے تھی، جس کے بارے میں پہلے پہل انہی سے فرمایا جاتا ہے کہ تم ہیئتِ قرآن اور اس کی تعلیمات و ہدایات میں ذرا بھی خیانت نہ کرنا، یعنی ایسا نہ ہو کہ کہیں اپنی ہی غرض سے قرآن کی اصل میں یا ادائے مطلب میں کوئی خیانت کرنے لگو یا کسی حقیقت کو دیدہ و دانستہ غلط بیان کرو، اور رسول کی امانت حدیث و سنت ہے، اور اس میں خیانت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مطلب کے لئے اس میں ہیر پھیر سے کام لے یا کوئی ایسی بات پیغمبر سے منسوب کرے جو آنحضرتؐ کی نہ ہو، اور
۲۰۳
اس کے بعد مسلمانوں کے آپس کی امانتوں کا ذکر ہے، جو نہ صرف مادّی اور ظاہری ہیں، بلکہ روحانی اور اخلاقی بھی ہیں، جن میں خیانت نہ کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ اگر بیانِ بالا کے مطابق خدا و رسول اور لوگوں کی امانتیں الگ الگ نہ ہوتیں تو اس آیۂ کریمہ میں تین درجوں کی خیانت کا ذکر جدا جدا نہ آتا، یعنی اگر ساری امانتیں ایک جیسی ہوتیں، تو مختصر کر کے فرمایا جاتا کہ : اے ایمان والو! امانتوں میں خیانت نہ کرو حالانکہ تم سمجھتے بوجھتے ہو۔ جبکہ قرآن زائد الفاظ سے پاک ہے اور انتہائی معنوی جامعیّت قرآنی معجزات میں سے ہے۔
۲۰۴
تصوف کے جواہر پارے
حقیقت کی ترجمانی
از دیوانِ عطار
۱۔ چارہ نیست از تو ام چہ چارہ کنم
تا بتو از ہمہ کنارہ کنم
۲۔ چکنم تا ہمہ یکی بینم
بیکی در ہمہ نظارہ کنم
۳۔ آنچہ زو ہیچ ذرہ پنہان نیست
ہمچو خورشید آشکارہ کنم
۴۔ ذرہ ای چون ہزار عالم است
پردہ بر ذرہ ذرہ پارہ کنم
۵۔ تا کہ ہر ذرہ را چو خورشیدی
بر براقِ فلک سوارہ کنم
۶۔ صد ہزاران ہزار عالم را
پیش روی تو پیشکارہ کنم
۷۔ پس بیک یک نفس ہزار جہان
تحفۂ چون تو ماہ پارہ کنم
۸۔ چون کنم قصدِ این سلوکِ شگرف
کوکبِ کفش از ستارہ کنم
۹۔ شیر دو شم ہزار دریا بیش
لیک پستان زسنگ خارہ کنم
۱۰۔ ذرہ ہائ دو کون را زان شیر
ہمچو اطفال شیر خوارہ کنم
۱۱۔ چون کمالِ بلوغ ممکن نیست
چکنم گور گہوارہ کنم
۱۲۔ ای عجب چون بسازم این ہمہ کار
ہیچ باشد ہمہ چہ چارہ کنم
۲۰۵
۱۳۔ عاقبت چون فلک فروریزم
این روش گر ہزار بارہ کنم
۱۴۔ ہمہ چون چرخ گردِ خود گردم
گرچہ خورشید پشتوارہ کنم
۱۵۔ نرہم از دوکون یک سر موی
مگر از خویشتن گزارہ کنم
۱۶۔ چون ز معشوق محو گشت فرید
تا کیش مرغِ عشق بارہ کنم
ترجمہ و مطلب:
۱۔ اے حقیقی محبوب تو میرے بارے میں کوئی تدبیر نہیں کرتا، اس کے لئے میں کیا چارہ کروں (تو میرا چارہ کر) تاکہ میں تیری وجہ سے سب سے کنارہ کش ہو جاؤں، یعنی سالک اور عاشق اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ پروردگارِ عالم کی طرف سے ذکر و عبادت میں مکمل یکسوئی اور عشقِ الٰہی کا غلبہ ہو تاکہ اسے دنیا و مافیہا کے خیالات سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔
۲۔ میں اس کے لئے کیا کروں کہ تمام موجودات یا ساری حقیقتوں کو ایک قرار دے سکوں، اور سب کو ایک مانوں، ایک دیکھوں، اور ایک ہی کے ذریعے سے سب میں دیکھ سکوں اور سب کا نظارہ و مشاہدہ کر سکوں۔
۳۔ وہ ذات جس کی ہمہ بین نظر سے کائنات و موجودات کا کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں، میں چاہتا ہوں کہ اسے سب پر آفتابِ عالم تاب کی طرح ظاہر و آشکار کر دوں۔
۲۰۶
۴۔ ذرۂ روح ایک ایسا ذرہ ہے کہ وہ ہزاروں دنیاؤں کے برابر ہے، لیکن میں اس کو پردے میں رکھنے اور چھپانے کے لئے صرف ایک ذرے کے ٹکڑے ہی سے کام لوں گا۔
۵۔ میں یہ کام اس مصلحت و حکمت کے تحت کروں گا، تاکہ ذراتِ ارواح میں سے ہر ذرے کو زمین کی پستی سے اٹھا کر آسمان کی بلندی کے براق پر سوار کر دوں۔
۶۔ میں یہ ممکن سمجھتا ہوں کہ لاکھوں دنیاؤں کو تیرے حضور میں خدمتگار کے طور پر رکھوں۔
۷۔ اس کے بعد پھر دم بدم یعنی ہر لحظہ ہزار ہزار جہاں تجھ ایسے چاند کے ٹکڑے کو تحفہ بنا کر پیش کروں۔
۸۔ جب میں اس عجیب و غریب سیر و سلوک اور اس انتہائی دور دراز سفر کے لئے عزمِ مصمم کر چکا ہوں گا، تو اس وقت میرے ایسے بے پناہ لمبے سفر کے لئے ستاروں کے جوتے بنا کر استعمال کرنے پڑیں گے۔
۹۔ اس اثنا میں مجھے بہت سے ناممکن کاموں کو ممکن کر کے دکھانا پڑے گا، مثلاً میں ہزاروں دریاؤں سے زیادہ دودھ دُہ لوں گا، لیکن اس کے لئے سخت پتھر کے پستان بناؤں گا۔
۲۰۷
۱۰۔ دونوں جہان کے روحانی و جسمانی ذرات کو، اس دودھ میں سے پلانے کے شیر خوار اطفال بناؤں گا، یعنی اس لمبے عرصے میں یہ سب کچھ واقعاً ہو کر رہے گا۔
۱۱۔ جب تک روحانیّت اور عقلانیّت کے اعتبار سے کماحقہ بلوغ یعنی مراتبِ عالیہ کا حصول ممکن نہیں، تو میں کیا کروں، سوائے اس کے کہ قبر کو گاہوارہ قرار دوں اور حقیقی بلوغ کا منتظر رہوں یعنی ایک عام انسان جس طرح خود کو بالغ سمجھتا ہے، وہ حقیقت کی نگاہ میں درست نہیں، کیونکہ بلوغ وہ ہے، جس کا یہاں ذکر ہے۔
۱۲۔ یہ بڑی تعجب خیز بات ہے کہ جب میں مذکورۂ بالا تمام کام کر چکا ہوں گا، تو پھر یہ سب کچھ ہیچ ہوگا، میں کیا کر سکتا ہوں۔ یعنی جو کچھ کرنا ہے وہ یہی ہے اور اس سے زیادہ کیا ہوگا۔
۱۳۔ آخر کار جب میں آسمان کو گرا دوں گا، اور میں یہ سلوک اور کام ہزار بار بھی کروں گا (تو پھر بھی اس میں کوئی نئی بات نہیں ہوگی، بلکہ وہی عمل ہوگا جو بارہا کیا گیا ہے)۔
۱۴۔ یہ سارا کام جو میں نے انجام دیا کچھ بھی نہیں کیا صرف اتنا ہے کہ میں اپنے آپ میں اور اپنے وجود کے گرداگرد آسمان کی طرح گھوم رہا ہوں اگرچہ میں سورج کے بوجھ کا گٹھا پیٹھ پر لئے پھرتا ہوں۔
۲۰۸
۱۵۔ دونوں جہان کی پابندئ فکر اور قیدِ غم سے مجھے بال برابر خلاصی نہیں ہوسکتی جب تک کہ میں اپنے آپ سے گزر کر فنا نہ ہو جاؤں ، یعنی جب تک اپنی خودی کو نہ مٹاؤں۔
۱۶۔ جب فرید الدین عطار معشوقِ حقیقی کے عشق کے ذریعے سے اپنے آپ سے مٹ گیا تو یہ اس کی کامیابی ہے، تاکہ میں اب اسے عشق کی آگ برسانے والا پرندہ یعنی ققنس بناؤں گا۔
۲۰۹
عقیدۂ توحید
دینِ اسلام کا بنیادی و اساسی عقیدہ یا کہ اصل الاصول توحید ہے، جس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی وحدت و یکتائی کا اقرار کرنا، اسے ایک ماننا اور یہ باور کرنا کہ خدا لاشریک اور بے نیاز ہے۔
قرآنِ حکیم اپنی صوری و معنوی ہیئت میں آسمانی علم و حکمت کی ایک وسیع و عظیم کائنات ہے، اس میں علومِ مختلفہ کے گہرے اور بے پایان سمندر پنہان ہیں، اور ان سب کا سرچشمہ و منبع علمِ توحید ہے، چنانچہ قرآنِ پاک میں جو لاتعداد مثالیں بیان کی گئی ہیں، ان سب کا مقصد و منشاء علمِ توحید ہی ہے، نیز اللہ تعالیٰ کی اسی آخری کتاب میں، جو ہمارے پیغمبرِ اکرم حضرت محمد مصطفی خاتم الانبیاء صلعم پر نازل ہوئی ہے، جہاں جہاں آنحضرتؐ سے قبل کے پیغمبروں کے تذکرے موجود ہیں، ان کی روشنی میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح صاف ظاہر ہو جاتی ہے، کہ جملہ انبیاء علیہم السلام کی تبلیغ و دعوت کی بنیاد و اساس کسی اور علم پر نہیں بلکہ علمِ توحید پر قائم کی گئی تھی، اور ان سب خدا کے برگزیدہ
۲۱۰
رسولوں کی اشاعتِ دین اور ہدایت و نصیحت کا مقصدِ اعلیٰ بھی صرف یہی تھا، کہ دنیا والوں کو ان کی سمجھ بوجھ اور ذہنیت کے مطابق علمِ توحید سے مستفیض کر دیا جائے، تاکہ فردائے قیامت وہ اہلِ نجات میں سے ہوں۔
اسی طرح حضرت رسول مقبول صلعم کے مبارک و مقدّس نظامِ دعوت کا بھی یہی اصول رہا مگر چونکہ ہر چیز اپنی مدتِ معینہ کے آخر میں مکمل اور جملہ خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہو جاتی ہے، چنانچہ دینِ حق کی تعلیمات، جن کی ابتداء حضرت آدمؑ نے کی تھی، جب پیغمبرِ آخر الزمانؐ نے پیش کیں، تو وہ علمِ توحید کے معانی و مطالب سے مملو اور خدا شناسی و عرفان کی حکمتوں سے بھرپور تھیں، جیسا کہ پروردگارِ عالم کا ارشادِ گرامی ہے کہ:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ۔ ۱۶: ۱۲۵۔
(اے رسول!) تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی راہ پر حکمت اور اچھی اچھی نصیحت کے ذریعہ سے بلاؤ اور بحث و مباحثہ کرو بھی تو اس طریقہ سے جو سب سے اچھا ہو۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، کہ خدائے علیم و حکیم نے دعوتِ اسلام
۲۱۱
کا جو اصول آنحضرتؐ کے سامنے رکھا ہے، وہی اصول قرآنی تعلیمات و ہدایات میں بھی کارفرما ہے، یعنی حکمت، نصیحت، اور بحث و مباحثہ تینوں ذریعوں سے خدائے واحد و یکتا کی وحدانیت و یگانگت کی طرف لوگوں کو بلانا، کیونکہ لوگ عقل و دانش کے اعتبار سے یکسان نہیں ہیں، بلکہ وہ عام طور پر تین درجوں میں منقسم ہیں، درجۂ اوّل کے لوگ اپنی اعلیٰ دماغی صلاحیتوں کے سبب سے اس قابل ہیں کہ اگر ان کو حکمت سکھائی جائے، تو سیکھ سکتے ہیں، درجۂ دوم کے لوگ وہ ہیں، کہ نصیحت کو سن سکتے ہیں اور اس پر عمل بھی کر سکتے ہیں اور اس کے بعد حکمت بھی سیکھ سکتے ہیں، اور درجۂ سوم کے لوگ ایسے ہیں کہ وہ نہ تو حکمت سیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی نصیحت سن سکتے ہیں، سوائے آنکہ ان سے بحث و مباحثہ کیا جائے، ممکن ہے کہ وہ اس سے دینِ اسلام اور خدا کی توحید کو قبول کریں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس کو قبول ہی نہ کریں، اگر وہ قبول نہیں کرتے ہیں، تو دعوتِ حق کے اس آخری طریقے سے ان پر حجت تو قائم ہو جائے گی، کہ انہوں نے دعوتِ توحید سے صریحاً انکار کیا۔
اب رہا سوال، کہ توحید کی کیفیت و حقیقت کیا ہے؟ اور اس کی تعریف و تشریح کس طرح ہو سکتی ہے؟ یا یوں کہنا چاہئے
۲۱۲
کہ علمِ توحید کا خلاصہ کیا ہے؟ اور وہ مناسب و موزون الفاظ و اسماء کون سے ہیں، جو حقیقتِ توحید کی صحیح صحیح ترجمانی اور اللہ تعالیٰ کی ہُویّت کی بجا طور پر عکاسی کر سکیں؟
اس انتہائی مشکل مسئلہ کے بارے میں علمائے دین کے بہت سے اقوال ہیں، اور ان سب کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ الفاظ و اسماء کے معنی میں یہ گنجائش کہاں، کہ باری تعالیٰ کی ذات و صفات اور توحید کی حقیقت و چگونگی پر محیط و حاوی ہو سکے، کیونکہ ذاتِ سبحان درجۂ عقل و علم سے بالا و برتر ہے، جیسے حضرت حکیم پیر ناصر خسرو قدس سرہ اپنی ایک منظوم کتاب روشنائی نامہ میں فرماتے ہیں:
بنامِ کردگارِ پاک داور
کہ ہست از وہم و عقل و فکر برتر
ترجمہ: باری سبحانہ کے نام سے (آغاز کرتا ہوں) جو وہم، عقل اور فکر کی رسائی سے بالا و برتر ہے۔
ہمو اوّل ہمو آخر ز مبدا
نہ اوّل بودہ و نے آخر او را
ترجمہ: وہی مبدا (یعنی عقلِ اوّل کی نسبت) سے اوّل بھی ہے اور وہی اس سے آخر بھی ہے (مگر ذاتی طور پر) نہ اس کی کوئی ابتداء
۲۱۳
ہے اور نہ کوئی انتہا۔
خرد حیران شدہ از کنہہِ ذاتش
منزہ دان ز اجرام و جہاتش
ترجمہ: عقل و دانش اس کی ذاتِ پاک کی حقیقت (سمجھنے سے قاصر اور) حیران رہ گئی ہے، اس کو اجسام و اطراف (کے تعین اور حد بندی) سے پاک و برتر سمجھنا۔
کجا او را بچشمِ سر توان دید
کہ چشمِ جان تواند جانِ جان دید
ترجمہ: سر کی آنکھ سے اس کو کہاں اور کیسے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ روحانی آنکھ سے صرف جان کی جان یعنی نفسِ کلی کو دیکھا جا سکتا ہے۔
و رایِ لا مکانش آشیان است
چہ گویم ہر چہ گویم بیش ازان است
ترجمہ: اس کا مقام لامکان سے بھی ماوراء ہے، میں اس کی توصیف میں کیا کہوں! جو کچھ کہتا ہوں وہ اس سے بڑھ کر ہے۔
خدا کی معرفت
کتابِ مستطاب نہج البلاغہ خطبۂ اوّل میں حضرت امیر المومنین
۲۱۴
علی علیہ السّلام کا ارشادِ گرامی ہے کہ:
تمام حمد اُس اللہ کے لئے ہے، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہہ تک پہنچ سکتی ہیں، اس کے کمالِ ذات کی کوئی حد معین نہیں، نہ اس کے لئے توصیفی الفاظ ہیں، نہ اس کی ابتداء کے لئے کوئی وقت ہے، جسے شمار میں لایا جا سکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے، جو کہیں پر ختم ہو جائے، اُس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمت سے ہواؤں کو چلایا، تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں۔
دین کی ابتداء اس کی معرفت ہے، کمالِ معرفت اس کی تصدیق ہے، کمالِ تصدیق توحید ہے، کمالِ توحید تنزیہ و اخلاص ہے، اور کمالِ تنزیہ و اخلاص یہ ہے، کہ اُس سے صفتوں کی نفی کی جائے، کیونکہ ہر صفت شاہد ہے، کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے، اور ہر موصوف شاہد ہے، کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی چیز ہے، لہٰذا جس نے ذاتِ الٰہی کے علاوہ صفات مانے، اُس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیا، اور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا، اُس نے دوئی
۲۱۵
پیدا کی، جس نے دوئی پیدا کی، اُس نے اس کے لئے جز بنا ڈالا، اور جو اس کے لئے اجزاء کا قائل ہوا، وہ اس سے بے خبر رہا، اور جو اُس سے بے خبر رہا، اس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا، اور جس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا، اس نے اس کی حد بندی کر دی، اور جو اسے محدود سمجھا، وہ اسے دوسری چیزوں ہی کی قطار میں لے آیا، جس نے کہا کہ وہ کس چیز میں ہے، اُس نے کسی شے کے ضمن میں فرض کر لیا، اور جس نے یہ کہا، کہ وہ کس چیز پر ہے، اُس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں۔
وہ ہے ہوا نہیں، موجود ہے مگر عدم سے وجود میں نہیں آیا، وہ ہر شے کے ساتھ ہے نہ جسمانی اتصال کی طرح، وہ ہر چیز سے علیحدہ ہے نہ جسمانی دوری کے طور پر، وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں، وہ اس وقت بھی دیکھنے والا تھا، جبکہ مخلوقات میں کوئی چیز دکھائی دینے والی نہ تھی، وہ یگانہ ہے، اس لئے کہ اس کا کوئی ساتھی ہی نہیں ہے، کہ جس سے وہ مانوس ہو، اور اسے کھو کر پریشان ہو جائے۔
اُس نے پہلے پہل خلق کو ایجاد کیا، بغیر کسی فکر کی جولانی کے اور بغیر کسی تجربہ کے، جس سے فائدہ اُٹھانے کی اسے ضرورت
۲۱۶
پڑی ہو، اور بغیر کسی حرکت کے جسے اُس نے پیدا کیا ہو، اور بغیر کسی ولولہ اور جوش کے جس سے بے تاب ہوا ہو۔
خدا شناسی و معرفت کے درجات
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے اور اس سے کسی بھی دانشمند کو ہرگز انکار نہیں ہو سکتا، کہ جس طرح ایمان و ایقان اور خدا کی نزدیکی و عندیت کے مختلف درجات مقرر ہیں، اسی طرح خدا شناسی و معرفت اور توحید کے بھی جدا جدا مراحل اور الگ الگ درجات ہوتے ہیں، جس کی وجہ صاف طور پر ظاہر ہے کہ خدا پرستی اور توحید دینِ حق کی جان ہے، دینِ حق ہی صراطِ مستقیم یعنی سیدھی راہ ہے، اور جو لوگ اس راہِ دین کے مسافر ہیں، ان کے لئے یہ بات ناممکن ہے، کہ وہ یکایک خدا کے حضور پہنچ سکیں، بلکہ وہ منزل بمنزل اور درجہ بدرجہ ہوتے ہوتے خدا تعالیٰ کے انتہائی حضور تک پہنچ سکتے ہیں، اس سے یہ حقیقت چشمِ بصیرت کے سامنے روشن ہوئی، کہ دین و ایمان اور خدا شناسی و توحید کے الگ الگ درجات ہیں۔
قرآنِ مقدّس کے حکیمانہ ارشادات سے یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام درجۂ اوّل کے موحد تھے، اور
۲۱۷
آپ کا نظریۂ توحید دنیائے اسلام کے لئے مثالی حیثیت رکھتا ہے، آپ نے اپنی زندگی میں کسی قسم کی بھی اصنام پرستی نہیں کی، یہ بالکل درست اور حقیقت ہے، اور اس میں ذرہ بھر شک نہیں، لیکن یہ اہلِ دانش کے لئے سوچنے اور سمجھنے کا مقام ہے کہ بموجب خلاصۂ آیات ۷۴ تا ۷۹ سورۂ انعام (۰۶: ۷۴ تا ۷۹) یہ کہنا بھی درست اور حقیقت ہے، کہ ابراہیم خلیل اللہ کی خدا شناسی اور توحید بتدریج اور سلسلہ وار آگے بڑھتی جاتی ہے، یعنی سب سے پہلے آپ بت پرستی کی مذمت کرتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ آپ کو آسمانوں اور زمین کے ملکوت کا مشاہدہ کراتا ہے، اور آپ سورج اور چاند کو چھوڑ کر ایک ستارے میں ایقان و عرفان کی جستجو کرتے ہیں، اس کے بعد سورج کو فروگذاشت کرکے چاند پر تبصرہ و تحقیق کرتے ہیں، اور اخیر میں سورج کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، اور ان مظاہرِ قدرت کے ظاہر و باطن میں غور و فکر کے نتیجے پر آپ خدائے برحق کی معرفتِ اعلیٰ حاصل کرتے ہیں، پس اس ترتیب سے معلوم ہوا، کہ خدا شناسی اور توحید کے درجات ہیں، ورنہ حضرت ابراہیم جیسی معجزانہ ہستی کی نظر سورج کو فروگذاشت کر کے چاند کی طرف نہ جاتی اور نہ آپ چاند کو چھوڑ کر ستارے پر تبصرہ کرتے۔
دراصل یہ ایک تاویلی قصّہ ہے، اس لئے یہاں ستارہ، چاند
۲۱۸
اور سورج کی مراد حدودِ دین ہی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی نزدیکی و عندیت اور معرفت و توحید کے درجات ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِؕ -وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۔( ۰۳: ۱۶۳)۔
وہ (حدودِ دین) خدا کے نزدیک درجات ہیں اور خدا ان کے اعمال کو خوب جانتا ہے۔
توحید کتابِ جامع الحکمتین میں
عقل و دانش اور بصیرت و حکمت کی نظر میں یہ ایک روشن اور واضح حقیقت ہے، کہ حکیم پیر ناصرِ خسرو قدّس اللہ سرّہ کے تمام تر کُتب خدا شناسی اور توحید کی پُرحکمت تعلیمات سے مملو ہیں، جیسا کہ آپ خود اپنی ایک غیر مطبوعہ نظم میں ارشاد فرماتے ہیں:
خدا شناس شوی راہِ دین بیاموزی
اگر تو بر سخنِ ناصری شوی پیرو
ترجمہ: اگر تم ناصر خسرو کے اقوال کی پیروی کرو گے، تو خدا شناس ہو جاؤ گے اور دینِ حق کی راہ پر گامزن ہو سکو گے۔
چنانچہ پیر صاحب نے اپنی مایۂ ناز کتاب جامع الحکمتین کے صفحہ ۳۰ سے لے کر ۷۳ تک توحید کے موضوع سے حکیمانہ انداز
۲۱۹
پر بحث کی ہے، اور نہایت ہی پرمغز اور مدلل اسلوب بیان سے توحید کی حقیقتوں کو اجاگر کر دیا ہے، آپ اس پُرحکمت مضمون کے آغاز میں فرماتے ہیں کہ بحیثیتِ مجموعی دینِ حق کے علم کا مقصد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شناخت ہے، جو وحدانیتِ محض سے اور توحیدِ مطلق کے ایسے اثبات سے حاصل ہو سکتی ہے، کہ وہ تشبیہہ سے دور اور تعطیل سے پاک ہو، جس کی تکمیل محل اور عبودیت کے اعتبار سے حضرت رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مرتبۂ مقامِ محمود اور خلقِ عظیم میں ہوتی ہے، اور خصوصاً اس وقت جبکہ آنحضرتؐ کے دین کا شرف تمام ادیانِ عالم پر ظاہر ہوگا۔
پیر صاحب نے اس فصل میں بڑی عمدگی اور صفائی سے بنی نوع انسان کے اخلاقیات اور اعتقادات کے بنیادی فرق اور اختلاف کا ذکر کیا ہے، آپ فرماتے ہیں، کہ نظریات و عقائد کے لحاظ سے لوگوں کے بنیادی و اساسی فرقے دو ہیں، ایک فرقہ دہریہ ہے، یعنی اہلِ تعطیل، جن کا کہنا ہے، کہ عالم قدیم ہے اور اس کا کوئی خالق و صانع نہیں، بلکہ نباتات اور حیوانات جیسی مخلوقات کو اس عقل و خرد ہی نے پیدا کیا ہے، جو آسمانوں اور ستاروں میں موجود ہے، جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے رہے گی۔
۲۲۰
دوسرا فرقہ اہلِ ادیان کا ہے، جو خدا اور اس کی خدائی کے لئے اقرار کرتا ہے، اس کے بھی دو گروہ ہیں، ایک گروہ ان لوگوں کا ہے، جو کہتے ہیں، کہ خدا ایک سے زیادہ ہیں، جیسے ترسا (نصاریٰ) کہ وہ تین کو مانتے ہیں، یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس، اور جیسے ثنوی (ثنویہ) جو دو خداؤں کا عقیدہ رکھتے ہیں، ایک یزدان اور دوسرا اہرمن اور نور و ظلمت کو یہ لوگ قدیم مانتے ہیں۔
اہلِ ادیان کے دوسرے گروہ کا کہنا ہے، کہ خدا ایک ہے، اور اس کے باوجود کہ وہ ایک خدا کے معتقد ہیں، پرستش و عبادت کے لحاظ سے ان کی پانچ صنف ہیں۔
ان پانچ اصناف میں سے ایک صنف وہ ہے، جس کا عقیدہ ہے کہ خدا ایک تو ہے، لیکن قابلِ پرستش ایک سے زیادہ ہیں، اور ایسے لوگ بت پرست ہیں جو خدا کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بتوں کی پرستش محض اس لئے کرتے ہیں تا کہ جس کے ذریعے سے ہمیں خدا کی نزدیکی حاصل ہو، جیسا کہ ارشادِ باری ہے:
وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَۘ-مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰىؕ۔ ۳۹: ۰۳۔
اور جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) اپنے اولیاء بنا لئے ہیں (اور کہتے ہیں کہ)
۲۲۱
ہم تو ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں ہمارا تقرب بڑھا دیں گے۔ اس آیۂ کریمہ کے بارے میں اہلِ تاویل کا قول ہے، کہ یہ بات امت میں سے کچھ ایسے لوگوں پر مثل ہے، جو کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپؐ کے عترت کے سوا ایسے لوگوں کو دوست رکھنا چاہئے، کہ جن کی وجہ سے ہمیں خدا کی نزدیکی میں اضافہ ہو۔
دوسری صنف ترسا ہیں، جو تین خداؤں کے قائل ہیں، اور کہتے ہیں کہ تینوں ایک ہے اور وہی قابلِ پرستش ہے، تیسری صنف ثنوی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ خدا دو ہیں، لیکن قابلِ پرستش ایک ہے، جو یزدان ہے، چوتھی صنف فلاسفہ ہیں، جن کا کہنا ہے، کہ لوگوں پر خدا تعالیٰ کی پرستش واجب نہیں، بلکہ خدا اور اس کی قدرت و عظمت اور اس کی بادشاہی کے بارے میں علم ضروری ہے، اور پانچویں صنف موحدین ہیں، جو ایمان رکھتے ہیں، کہ خدا ایک ہے اور لائقِ عبادت بھی وہی ہے۔
جب ہم یہ حقیقت ثابت کریں گے، کہ خدا ایک ہے، تو اس سے نہ صرف یہی کہ دہریت کا بطلان ظاہر ہوگا، بلکہ ساتھ ہی ساتھ نصرانیّت اور ثنویّت بھی باطل قرار پائیں گی۔
۲۲۲
موحدین جو خدائے واحد اور معبودِ برحق کو مانتے ہیں، بہت سے اختلافات کے ساتھ وہ بھی توحید کے لحاظ سے تین گروہ ہیں، ان میں سے ایک گروہ اہلِ تقلید کا ہے، اور اکثر لوگ اسی گروہ کے ساتھ ہیں، وہ قرآنِ مقدّس کے صرف ظاہر پر ٹھہرے ہوئے ہیں، اور کہتے ہیں، کہ ہم اللہ تعالیٰ کو صرف ان ہی صفات کے ساتھ مانتے ہیں، جو خدا نے اپنی کتاب میں خود اپنائی ہوئی ہیں، اور جو صفت ایسی ہو، کہ وہ خدا کے قابل نہیں، مگر قرآن نے اس سے منسوب کر دیا ہے، تو ہم اس کو نہیں جانتے، نہ ایسی صفت سے بحث کرتے ہیں، اور اس کی تاویل خدا ہی جانتا ہے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ۔ ۰۳: ۰۷۔ (اور اس کی تاویل اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا) اور وہ آیت کے اس حصے میں اور الفاظ نہیں بڑھاتے ہیں۔
موحدین کا دوسرا گروہ معتزلہ اور کرامی جیسے متکلمین ہیں، وہ کہتے ہیں کہ توحید کے بارے میں فکر و نظر کی ضرورت ہے، اور ہم دلائل و براہین اور فکری بصیرت کے ذریعہ حق سبحانہ سے تشبیہہ کی نفی کرتے ہیں۔
موحدین کا تیسرا گروہ خاندانِ رسولِ مقبول صلعم کے شیعہ ہیں،
۲۲۳
جو کہا کرتے ہیں، کہ خدا کی کتاب کی تاویل ہے، وہ کہتے ہیں، کہ ہم تاویلِ عقلی کے ذریعے مخلوق کی صفات کو خالق سے نفی کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے، کہ تشبیہہ و تعطیل کے مابین ایک منزلت ہے، جس پر ہماری توحید قائم ہے، وہ حضرت امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے روایت کرتے ہیں آپ سے پوچھا گیا، کہ توحید کے بارے میں حق تعطیل ہے یا کہ تشبیہہ؟ آپ نے فرمایا: منزلۃ بین المنزلتین ۔
توحید کتابِ وجہِ دین میں
پیر ناصر خسرو کی تاویلی کتاب “وجہِ دین” میں جگہ جگہ بلا واسطہ اور بالواسطہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے حقائق و معارف بیان کئے گئے ہیں، چنانچہ مذکورہ کتاب کے ترجمۂ حصّۂ اوّل کے صفحہ ۷۳ پر ہے کہ:
تیسری قوّت عقل ہے، جس کے ذریعہ انسان توحید کو تشبیہہ اور تعطیل سے مجرّد کرتا ہے، (یعنی اللہ تعالیٰ جلّ شانہٗ کو نہ تو کسی چیز کے مانند قرار دیتا ہے اور نہ ہی اس کے ارادۂ فعل سے انکار کرتا ہے)
۲۲۴
اور وہ جانتا ہے، کہ انسان کی عقل تمام چیزوں پر حاوی ہو جاتی ہے، اور وہ عقل اس کے لئے ایک عطا ہے، کہ وہ عطا اسے ایک ایسی ذات کی طرف سے ہے، جو خود اس کی احتیاج سے برتر ہے، اور یہ توحید کو مجرّد کرنے کا ایک اشارہ ہے۔
کتاب کے مذکورہ حصے کے صفحہ ۸۵ پر ایک مشہور حدیث درج ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ:
یقیناً اللہ نے اپنے دین کی بنیاد اپنی خلقت کی طرح رکھی، تاکہ اس کی خلق سے اس کے دین کی دلیل لی جائے۔ اور اس کے دین سے اس کی وحدانیّت کی دلیل لی جائے۔
صفحہ ۸۸ پر مذکور ہے کہ: پس میں کہتا ہوں کہ روا نہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خدا تعالیٰ کو دیکھا ہو، کیونکہ یہ امر ناممکن ہے، لیکن آپ کے لئے حق تعالیٰ کی وحدانیت پر دو عادل گواہوں نے گواہی دی، اور ساری مخلوق ان دو گواہوں کی گواہی سننے سے عاجز و قاصر تھی، اور ان دو گواہوں میں سے ایک تو آفاق (عالمِ جسمانی) تھا اور دوسرا انفس، کہ وہ دونوں آنحضرتؐ کے لئے ایک واضح قول میں گواہی دے رہے تھے، کہ خدائے واحد
۲۲۵
کے سوا کوئی خدا نہیں، یہاں تک کہ آنحضرتؐ نے حق و صداقت کے ساتھ ان کی گواہی پر گواہی دی۔
صفحہ ۸۹ کے نصفِ آخر اور ۹۰ کے اوپر کے حصے پر تحریر ہے کہ: پس شہادت سے مخلوق کا حصہ خدا تعالیٰ سے ان صفات کی نفی کرنا ہے، جو صفات جسمانیوں اور روحانیوں میں باقی ہیں، اور جو حصّہ باری تعالیٰ کی وحدت کی جانب ہے، وہ کسی آمیزش کے بغیر ایک ایسی حقیقت کے ذریعہ اثباتِ محض کرنا ہے، کہ وہ حقیقت لطیف اور کثیف دونوں مخلوق کی صفات میں موجود نہیں، نہ نفی کے طریقہ پر اور نہ اثبات کے طور پر، اور اس قول کے یہ معنی ہیں، کہ جسمانی یعنی مخلوقِ کثیف دکھائی دینے والی اور سنائی دینے والی ہے، دکھائی نہ دینے والی اور سنائی نہ دینے والی نہیں، اور روحانی یعنی مخلوقِ لطیف کے بارے میں کہوں گا، کہ دکھائی نہ دینے والی اور سنائی نہ دینے والی ہے، دکھائی دینے والی اور سنائی دینے والی نہیں۔
پس باری تعالیٰ سبحانہ سے ان دونوں اثباتوں اور دونوں نفیوں کی نفی کرنا چاہئے، وہ تجھے یوں کہنا ہوگا، کہ وہ (خدا) دکھائی دینے والا اور سمجھ میں آنے والا نہیں، دکھائی نہ دینے والا
۲۲۶
اور سمجھ میں نہ آنے والا نہیں، کیونکہ یہ سب مخلوق کی صفات ہیں، یہی سبب ہے کہ رسولِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نفی و اثبات پر اس کلمے کی بنیاد رکھی۔
نیز صفحہ ۱۲۳ پر ہے کہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’قل ہو اللّٰہ احد ۔ اے محمد (صلعم) کہہ دیجئے کہ وہ خدا ایک ہے۔” اس کی تاویل اس طرح ہے کہ جیسے “ھو” کہتا ہے اس سے خدائے تعالیٰ کی مراد ایک ایسا کلمہ ہے، جو ھویتِ محض ہے، اور ھویت کے لئے حقیقت کے بغیر چارہ نہیں (یعنی وہی کلمۂ باری ہی خدائے تعالیٰ کی ھویت اور اس کی حقیقت ہے) اور لفظ اللہ کے ان چاروں حروف سے مراد چار اصولِ دین ہیں، کیونکہ وہی چار اصول کلمۂ باری کے اثرات کے لئے چنے ہوئے ہیں جن میں سے اپنے اپنے مرتبے کے مطابق دو روحانی اور دو جسمانی ہیں، اور احد سے یہ مراد لیتا ہے، کہ جب ان چار اصول میں سے ہر ایک نے کلمۂ باری سے اپنا حصّہ جو کچھ حاصل کرنا تھا حاصل کر لیا تو انہوں نے توحید کو جملہ صفات سے پاک اور بے نظیر مانا، اور ہر اُس چیز سے بھی پاک و بے نظیر مانا جس کی جفت ہے، خواہ لطیف ہو یا کثیف، اور انہوں نے سبحانہ کو ایسی صفات والے ناموں سے
۲۲۷
موسوم کرنے سے برتر سمجھا، جو صفات قول کے اعتبار سے اور روحانی و طبعی عمل کے لحاظ سے ایک دوسرے کی مقابل یعنی ضد یا مخالف ہوں، جیسے ہست اور نیست، مکانی اور لامکانی، تعریف کیا ہوا اور تعریف نہ کیا ہوا وغیرہ وغیرہ۔
پھر وہ چار اصول ساری روحانی اور جسمانی مخلوقات میں سے اسی بزرگی کے سبب سے ممتاز ہوئے، اور اسی وجہ سے بے نظیر ہوئے، پس فرمایا: “اللہ الصمد” یعنی خدا صمد ہے، اور صمد کے معنی سید کے ہیں (یعنی جس کی طرف مہمات میں رجوع کیا جائے نیز صمد کے معنی ٹھوس کے ہیں) یعنی جس میں جوف یا کہ کھوکھلاپن نہ ہو (نیز یہ بے نیاز کے معنی میں بھی آیا ہے) اس آیت کی تاویل یہ ہے، جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان چار حدود نے جن پر (لفظ اللہ کے) یہ چار حروف دلالت کرتے ہیں، جب خدا کی توحید کو بحقیقت پہچان لیا، تو انہوں نے اس کو ہر قسم کی آلائش سے پاک مانا، اور ان میں سے ہر ایک حد روحانیوں کا سید و سردار ہوا، اور سارے روحانیوں اور جسمانیوں نے فائدہ حاصل کرنے کے لئے انہی کی طرف رجوع کیا، مگر وہ خود بے نیاز ہیں، اور ان حدود کی حقیقتِ حال معلوم کرنے کے لئے ان کے ماتحت روحانیوں اور جسمانیوں کو ان کی ذات کی طرف کوئی راستہ نہ ملا، یہ ایک ایسی
۲۲۸
ٹھوس چیز کی مثال کی طرح ہے، جس کے درمیان (جھانکنے کے لئے) کوئی راستہ ہی نہ ہو، تو جو کچھ اس کے اندر پوشیدہ ہے، کوئی شخص اس کی اطلاع نہیں پا سکتا پھر فرمایا قولہ تعالیٰ
لم یلد و لم یولد ۔ ۱۱۲: ۰۳ یعنی نہ اُس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اُس کو جنا۔ اس کی تاویل یہ ہے، کہ باری سبحانہ جو کسی سابقہ مایہ اور ذریعہ کے بغیر چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے، اور اُس نے ابتدائی چیز (عقل) کو دوسری چیزوں کے لئے علت (یعنی سبب و مایہ) ٹھہرا دی ہے، اور وہ خود اس بات سے برتر ہے، کہ کسی چیز کی علت و مایہ ہو، چنانچہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ چیزیں اسی (باری سبحانہ) سے پیدا ہوئی ہیں، اگر واقعاً ایسا ہی ہوتا تو وہ خود ہی چیزوں کی علت ہو جاتا (حالانکہ) علت چیزوں کے باپ کے مانند ہے، اور باپ جننے والے کے مانند ہے، اور فرزند گویا اس کا جنا ہوا ہے، اور وہ جلیل القدرت خدا چیزوں کی علت نہیں، یہ لم یلد کی تاویل ہوئی۔
و لم یولد کی تاویل یہ ہے، کہ وہ جلت عظمۃ کسی چیز سے پیدا نہیں ہوا، تاکہ وہ چیز اس کی علت کہلائے، اور وہ جل جلالہ معلول بنے، چنانچہ فرزند باپ کا معلول ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جس کی کوئی علت ہو، تو گویا وہ اپنی علت ہی کی جنی ہوئی ہوتی ہے، پس خدا تعالیٰ
۲۲۹
جس طرح چیزوں کی علت نہیں، اسی طرح وہ ان کا معلول بھی نہیں، اور جو کوئی خدا تعالیٰ کو عالم کہتا ہے یا حکیم یا قادر کہتا ہے، تو ایسا شخص علم، حکمت اور قدرت کو اس کی علت مانتا ہے، اس لئے کہ عالم کی علت اس کا علم ہے، حکیم کی علت اس کی حکمت ہے اور قادر کی علت اس کی قدرت ہے، پس اُس شخص نے (نتیجے کے طور پر) یہ کہا ہوگا، کہ خدا کو جنم دیا گیا ہے، پھر فرمایا:
و لم یکن لہ کفواً احد ۔ ۱۱۲: ۰۴۔ یعنی اس کے برابر کا کوئی نہیں ۔ اس کی تاویل یہ ہے، کہ احدیت (یکتائی) جو ابداع ہے (یعنی کسی سابقہ مایہ و ماخذ کے بغیر چیزوں کو ایجاد کرنے کی طاقت) وہ عقلِ کلّ کی علت ہے، اور عقلِ کلّ اپنی تمام لطافت و جلالت کے باوجود مبدعِ حق کے برابر نہیں، اور ابداع وہ ہے، کہ انسانی اوہام (یعنی تصوّرات) کے لئے فوری طور پر اُس حقیقت تک راستہ مل نہیں سکتا، اس لئے دانا حکماء نے ابداع کو “نیست” کا نام دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے، کہ وہ سب سے پہلا موجود، جس سے دوسری تمام موجودات پیدا ہوئیں، عقلِ کلّ تھا، اور عقلِ کلّ احدیت سے پیدا ہوا، اور انسانی عقل کے فیصلے سے یہ لازم آتا ہے، کہ ہست نیست ہی سے پیدا ہو، اور جب احدیت
۲۳۰
کے لئے کوئی اثبات ہی نہ تھا، تو انہوں نے اس کو “نیست” کا نام دیا، اور کسی انسانی وہم و تصوّر کی یہ طاقت نہیں، کہ مایۂ اوہام (وہموں کی بنیاد) یعنی عقلِ کلّ سے آگے گزر سکے، تاکہ عقلِ کلّ کے پیدا کرنے والے تک پہنچ جائے، اگر کوئی شخص (اس مقام تک پہنچنے کے لئے ) قوّتِ واہمہ چلائے، تو یہ ایک ناممکن چیز کی طلب ہوگی، مگر چیزیں تو محسوس کے مشاہدے سے (اس کو) جانتی ہیں، اسی لئے گواہی دیتی ہیں، کہ مماثل ہستیوں کے مانند قرار دئے جانے سے خدا پاک ہے۔
وحدانیّت اور ازل
حکیم پیر ناصر خسرو قدّس اللہ سرّہ زاد المسافرین کے صفحہ ۱۹۵ پر فرماتے ہیں کہ: ازل خدا کی وحدت کا اثبات ہے، اس سے حضرت پیر کی مراد یہ ہے، کہ ازل ہی کا تصوّر اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کا مناسب و موزوں اور آسان تصوّر ہے، یعنی خدائے قدوس اور واحد و لا شریک تمام روحانی اور جسمانی موجودات و مخلوقات کی صفات سے کس طرح پاک ہے، اور وہ ان کی شرکت سے کیسے بے نیاز ہو سکتا ہے، اس کا ثبوت ازل کی حقیقت ہے، اور پیر صاحب کا یہ نظریۂ توحید اہلِ بصیرت کے لئے اس قدر روشن ہے، کہ وہ اس اصولِ وحدانیت کی روشنی میں توحید کے تمام تر نکات کو سمجھ سکتے ہیں۔
۲۳۱
اسی مقام پر آپ نے ازل اور ازلی و ازلیّت کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے، جس کا مطلب یہ ہے، کہ عقلِ اوّل کو ازل کی طرف راجع کرکے اسے ازلی کہنا چاہئے، اور ازلیّت وہ حقیقت ہے، جس سے ازلی چیز کا ثبوت ملے اور وہ ازلیّت ابداع ہے، اور ابداع کے معنی ہیں بغیر آلہ بغیر مادّہ اور بغیر مکان و زمان کے کسی شے کو ایجاد کرنا، چنانچہ ظاہر ہوا، کہ ازل خدا کی وحدت و یکتائی کا ثبوت ہے، ازلی عقلِ اوّل کی صفت ہے اور ازلیّت کی مثال ابداع ہے، یعنی عقل کو ایجاد کرنا۔
اگر چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے، تو خدا کی توحید کا موضوع مذکورہ کتاب میں ابتداء سے لے کر انتہا تک پھیلا ہوا ہے، تاہم واضح اور نمایان طور پر اس کا آغاز صفحہ ۱۸۵ سے ہوتا ہے اور کتاب کے انتہائی آخر میں صفحہ ۴۸۶ پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔
مبدعِ حق اور ھویت
مبدِع کے معنی ہیں بغیر مادّہ اور بغیر سابقہ نمونہ کے پیدا کرنے والا، اللہ تعالیٰ، اور ہویّت کے معنی ہیں حقیقتِ مطلقہ، چنانچہ پیر صاحب کتاب “خوان الاخوان” کی صفحہ نمبر ۲۳ میں فرماتے ہیں، کہ مبدعِ
۲۳۲
حق ھویت و ناھویت سے دور اور برتر ہے، کیونکہ ھویت عقلِ اوّل کے لئے ہے، جبکہ حقیقی ہستی اسی کی ہے، اور ناھویت ابداع کی ہے، یعنی مبدعِ حق نے بغیر کسی سابقہ مادّہ و نمونہ کے عقلِ اوّل کو جس طرح سے ایجاد کیا، وہ ابداع و اختراع اور ناھویت ہی ہے۔
اس بیان سے پیر صاحب کی مراد یہ ہے، کہ جب مبدعِ حق نے عقلِ اوّل کو تخلیق کے طور پر نہیں بلکہ ابداع و اختراع کے طریق سے نیستی سے ہستی میں لایا، تو نیستی اور ابداع ناھویت ہے، اور عقلِ اوّل کی ہستی ھویت ہے، لیکن مبدعِ حق خود ہستی اور نیستی دونوں سے پاک و برتر ہے، لہٰذا اس کی نہ کوئی ھویت ہے اور نہ ناھویت، بلکہ وہ اس ھویت و ناھویت سے بے نیاز ہے۔
آپ فرماتے ہیں، کہ عقلِ اوّل نے اپنی ہستی اور ابداع کی نیستی کی دلیل سے اپنے مبدع کو پہچان لیا، اور اپنے پیدا کرنے والے سے ان دونوں صفتوں یعنی ہستی و نیستی کی نفی کی، اور عقل نے اپنی ہستی کی شناخت کے نتیجے پر باری تعالیٰ کی ھویّت کو ہست اور ناہست سے برتر قرار دیا۔
۲۳۳
پنج مقالہ نمبر ۵
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حرفِ اوّل
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور نورِ نبئ مختار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی روحانی نصرت و تائید سے آج بوقتِ سوا بارہ بجے شبِ سہ شنبہ مورخہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۷ء کو “پنج مقالہ نمبر ۵” کا دیباچہ لکھ رہا ہوں، اور ان شاء اللہ تعالیٰ یہ کتاب بھی عنقریب شائع ہو جائے گی، خدا کرے کہ اہلِ ایمان کو ان کتابوں کے مطالعے سے دلچسپی اور فائدہ ہو!
حقیقی اسماعیلی کتب
بجائے اس کے کہ میں یہاں صرف اپنی ہی کتابوں، مقالوں اور تحریروں کا تعارف کراؤں کیوں نہ تمام حقیقی اسماعیلی کتب کی تعریف کروں، تاکہ انتہائی مفید مشورے کی باتیں جو میں بتانا چاہتا ہوں وہ خودی اور خود ستائی کے شکوک و شبہات سے بالا اور پاکیزہ رہیں اور ساتھ ہی ساتھ علمِ حقیقت کے قدر دانوں کا دائرۂ مفاد بھی وسیع تر ہو۔ چنانچہ ایسی اسماعیلی کتابوں کی تعریف درجِ ذیل کی طرح ہے:
۲۳۷
۱۔ یہ نہ صرف دعویٰ ہی ہے بلکہ حقیقت بھی یہی ہے کہ اسماعیلیت قولاً و فعلاً صراطِ مستقیم ہے، یعنی یہی علم و حکمت اور رشد و ہدایت کا راستہ ہے جس سے کہ معرفت اور نجات حاصل ہوتی ہے، تو پھر اس مذہب کے کتب صداقت و حقیقت کی عکاسی اور ترجمانی کیوں نہ کریں۔
۲۔ اسماعیلی کتب قرآن و حدیث کی ظاہری و باطنی حکمتوں اور حقیقتوں سے پر ہیں، کیونکہ یہ کتابیں دراصل أئمّۂ ہدا صلوات اللہ علیہم کے مقدّس ارشادات کی روشنی میں لکھی گئی ہیں۔
۳۔ ہمارے عظیم المرتبت پیروں اور بزرگوں نے اپنے اپنے زمانے کے امامِ عالی مقام کی نورانی تائید سے تعلیم و تربیت کی نہایت ہی درست اور بہت ہی مستحکم بنیادیں رکھ دی ہیں، اور ان حضرات نے اس سلسلے میں بڑی جانفشانی سے بہت کچھ کام کیا ہے، جس کے نتیجے میں علم و حکمت کا یہ قلعہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا آیا ہے۔
۴۔ یہ حقیقت ہے کہ امامِ زمانؑ کا نورِ اقدس سرچشمۂ رشد و ہدایت بھی ہے اور خزینۂ علم و حکمت بھی، لیکن چونکہ وہ شہنشاہِ دین ہیں اس لئے کارِ ہدایت کو تو ہمیشہ خود ہی انجام دیتے ہیں اور علم و تعلیم کی خدمت اکثر دفعہ حجت، داعی یا پیر، بزرگ، عالم اور معلم کے
۲۳۸
سپرد کر دیتے ہیں، اُس صورت میں اِن حدودِ دین کا علم دراصل امام ہی کا علم ہوتا ہے یا یوں سمجھنا چاہئے کہ امامِ برحق اپنے علمی نمائندوں کو طریقِ نورانیت سے علم دے سکتا ہے، اگر آپ کے نزدیک یہ بات صحیح ہے، تو پھر آپ سوچیں کہ حقیقی کتابوں میں کس کی باتیں ہیں؟
۵۔ حقیقی کتابوں کے ان اوصاف کے باوجود جن کا اوپر ذکر کیا گیا کبھی کبھار کسی کتاب میں ایک آدھ کمزوری بھی ہو سکتی ہے، لیکن امامِ زمان علیہ السّلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی اتنی سی چھوٹی بات میں کوئی وزن ہو سکتا ہے کہ جس سے پوری کتاب کا رجحان حق کی طرف سے پھر جائے، لہٰذا لغزشِ بشری معاف ہو سکتی ہے، مگر قصد نہیں۔
۶۔ اگر آپ کسی حکیم، فلاسفر، عالمِ دین، دانشور، شاعر وغیرہ کے نقطۂ نظر کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو اس کی تمام کتابوں اور تحریروں کا یکجا طور پر دقیق مطالعہ کریں، تاکہ معلوم ہو جائے کہ اُس نے اپنے بیان کے سلسلے میں جہاں جہاں اشارے کئے ہیں، اُن کی وضاحتیں کہاں کہاں پائی جاتی ہیں؟ جو سوالات پیدا ہوئے ہیں، ان کے جوابات ملتے ہیں یا نہیں؟ وہ اپنے نظریہ پر قائم ہے یا رفتہ رفتہ بدلتا گیا ہے؟ اور اگر اس میں تبدیلی پائی جاتی ہے تو وہ ترقی ہے یاکوئی اور چیز؟ وغیرہ وغیرہ، تاکہ آپ کے اس تحقیقی منصوبہ پر عمل کرنے سے نہ صرف صحیح علم حاصل ہوگا، بلکہ اس
۲۳۹
کے ساتھ ساتھ آپ کے دل و دماغ میں ریسرچ کی مختلف صلاحتیں بھی اُجاگر ہو جائیں گی۔
۷۔ علم و حکمت الگ ہے اور شخصیت و شہرت الگ، اگرچہ بعض دفعہ ان دونوں چیزوں کے کسی انسان میں جمع ہو جانے سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے کہ وہ بآسانی علم کی طرف رجوع کر جاتے ہیں، لیکن جب شخصیّت و شہرت اصلی اور حقیقی نہیں بلکہ جعلی اور بناوٹی ہوتی ہے، اور اس کا مقصد نچلے درجے کے علم کو بڑھا چڑھا کر دکھانا ہوتا ہے، تو اس صورت میں لوگوں کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے، کہ اصلیت و حقیقت سے محروم اور دور رہ جاتے ہیں۔
۸۔ مذہبی کتابیں گویا جنت کے باغات ہیں، ان میں عقل و جان کے گوناگون شیرین پھل اور رنگ برنگ کے خوشبودار پھول کسی موسم کی تخصیص کے بغیر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موجود و مہیا ہوتے ہیں، ان باغوں کے حقیقی مالک امامِ عالی مقام ہی ہیں اور آپ کے حکم سے جنہوں نے ان کی تعمیر و تکمیل کا مقدّس فریضہ انجام دیا ہے وہ صرف اور صرف باغبانوں کی حیثیت سے ہیں۔
۹۔ جب یہ نظریۂ اسلام کی ایک اساسی حقیقت ہے کہ خلیفۂ خدا رسول ہیں اور خلیفۂ رسول امامِ برحق ہیں، تو پھر دین کے اس
۲۴۰
اٹل قانون میں کسی کو کیا شک ہو سکتا ہے، کہ مذہب کا سارا نظام خلافت و نیابت اور جانشینی و نمائندگی ہی پر قائم ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ جماعت کے کام کرنے والے تمام ادارے اور خصوصی خدمات انجام دینے والے افراد امامِ زمانؑ کے خلفاء اور نمائندوں کی حیثیت سے ہیں، ظاہر میں نام کچھ بھی ہوں مگر یہ نظام خلیفگی اور جانشینی کے معنوں سے ہرگز الگ نہیں ہو سکتا، پس اس صورت میں بھی وہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ امام کے علمی نمائندوں کی حقیقی کتابیں گویا امام کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں، جبکہ امام کا ہر قائم مقام ادارہ اور ہر نمائندہ جماعتی کام کے اعتبار سے مولا کا ہاتھ ہے اور مذہبی ہدایت کے لحاظ سے مولا کی زبان۔
۱۰۔ سورۂ فاطر (۳۵) کی آیت نمبر ۳۲ (۳۵: ۳۲) کی شیعی تفسیر سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد قرآن حکیم کی وراثت أئمّۂ طاہرین علیہم السّلام کو عطا کر دی ہے، اور حقیقی کتابیں قرآنی علم و حکمت پر مشتمل ہوتی ہیں، چنانچہ معلوم ہوا کہ مرکزِ نبوّت و امامت سے باہر قرآن کا کوئی علم نہیں، اور اگر کوئی علم نظر آتا ہے تو وہ حضرت رسولؐ اور أئمّۂ ہدا کے ارشادات کی بدولت ہے، پس ثابت ہوا کہ حقیقی علم امامِ زمانؑ کی ملکیت ہے اور اگر یہ کسی اور کے پاس بھی کچھ
۲۴۱
حصّہ پایا جاتا ہے، تو اُسی کا عطیہ ہے۔
اس کتاب کی اہمیت
پنج مقالہ نمبر ۵ کا پہلا موضوع ہے “چند تاویلات سورۂ رحمان میں سے۔” اس سورہ کی اہمیت و افادیت یہ ہے کہ اس کی باطنی اور معنوی حیثیت میں جن عظیم الشّان اور خوب ترین روحانی نعمتوں کا حکیمانہ ذکر فرمایا گیا ہے اس کی وجہ سے اس سورہ کا نام عروس القرآن (قرآن کی دلہن) مشہور ہے، اس سورہ کے کل تین رکوع میں سے یہاں دو کی تنزیل و تاویل درج ہے۔
دوسرا مقالہ سورۂ دہر سے متعلق ہے، جس میں سب سے پہلے انسان کی ازلی و ابدی حقیقت یعنی انا کا ذکر ہے، کہ انسان کی خودی تخلیق سے پہلے ایک ایسی بے مثال حقیقت تھی کہ اس کا نہ تو کوئی نام تھا اور نہ کوئی نشان، جیسا کہ مولای روم کہتے ہیں کہ:
من آن روز بودم کہ اسما نبود
نشان از وجودِ مسما نبود
ترجمہ: میں اُس وقت بھی تھا جبکہ نام نہیں تھے، مسما کی ہستی کا کوئی نشان نہیں تھا۔ روایت مشہور ہے کہ یہ پورا سورہ حضرت امیر المومنین،
۲۴۲
جناب فاطمۂ زہرا اور حسنین علیہم الصلواۃ و السّلام کی شان میں نازل ہوا ہے۔
تیسرا مقالہ “حدیثِ مماثلتِ ہارونی” ہے، جو تصوّرِ امامت کی کلیدی حدیثوں میں سے ہے، جس کی روشنی میں دیکھنے سے ان تمام قرآنی آیات سے، جو حضرت ہارون علیہ السّلام کے بارے میں ہیں، یہ ثبوت ملتا ہے کہ تمام انبیاء کے ساتھ بھی اور ان کے بعد بھی دین میں امام کا حیّ و حاضر رہنا انتہائی ضروری امر ہے، نیز ان آیتوں سے یہ حقیقت بھی روشن ہو جاتی ہے کہ پیغمبر اور امام روحانیّت و نورانیّت میں ہمیشہ سے ایک ہوا کرتے ہیں۔
چوتھا مضمون ہے “قرآنِ پاک اسمِ اعظم میں” عنوان ہی سے اس کی اہمیت ظاہر ہے کہ قرآن کی روح و روحانیّت اللہ تعالیٰ کے اسمِ بزرگ میں پوشیدہ ہوتی ہے، چنانچہ قرآن کے روحانی پس منظر کی تحقیقی وضاحت لازمی تھی، تاکہ اس سے اہلِ ایمان کو ایک طرف قرآن کی شناخت میں مدد ملے اور دوسری طرف ان کے شوقِ عبادت میں اضافہ ہو اور وہ ذکرِ الٰہی میں ترقی کریں تا کہ وہ اپنے باطن ہی میں قرآنِ ناطق کو حاصل کر سکیں۔
اس کتاب کا پانچواں اور آخری موضوع “ہمہ اوست” ہے، یہ
۲۴۳
بہت ہی اہم اور بڑا دلچسپ موضوع ہے، اس سے روح اور خدا کی حقیقت سمجھنے کے دروازے کھل جاتے ہیں، اور سب سے اونچی حقیقت یعنی حقیقت الحقائق کا پتہ چلتا ہے۔
خداوندِ برحق کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج کے دن “پنج مقالہ نمبر ۵” تحریری طور پر مکمل ہوئی، اور یہ پانچ پانچ مقالوں کے اس سلسلے کی آخری کتاب ہے، یہ سلسلہ گویا ایک سپیشل کورس ہے، اور ان پانچ کتابوں میں ۲۵ مقالے اور دیباچوں کو بھی ملا کر ۳۰ مقالے اس پُرمغز اور اعلیٰ درجے کے کورس کے انتہائی منظم اور نہایت ہی معلوماتی لیکچرز ہیں، پس آپ کم از کم ان پانچوں کتابوں کے مطالعے کا یہ کورس عملاً خوب محنت سے کرکے دیکھیں کہ میرا دعویٰ حق بجانب ہے یا نہیں، مجھے یقین ہے کہ اگر آپ نے جیسا کہ چاہئے ذمہ داری اور فرض شناسی سے اس کورس کو مکمل کر لیا تو آپ کے علم میں زبردست اضافہ ہوگا، اور آپ کے بہت سے سوالات شعوری طور پر بھی اور لاشعوری طور پر بھی حل ہو جائیں گے۔
میں سچے دل سے شکرگزار اور احسان مند ہوں اُن دینداروں، دوستوں اور عزیزوں کا، جن کے گوناگون تعاون کے بغیر میری یہ علمی خدمت آگے نہیں بڑھ سکتی ہے، میں اس بات سے بے حد خوش
۲۴۴
ہوں کہ یہاں اُن عقیدتمندوں کو بڑی قدردانی سے یاد کر رہا ہوں، جن کو مذہبی علم انتہائی عزیز ہے، وہ ہر وقت مادّی دولت پر علم کی دولت کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی نظر میں علم ہی حقیقی دولت اور لازوال عزت ہے، اسی بناء پر وہ کتابوں کو اصل گنجینہ قرار دیتے ہیں۔ آئیے ہم سب مل کر ربّ العزّت کی بارگاہِ عالی سے عاجزانہ دعا مانگیں، کہ “اے خداوندِ عالم! تواپنی بے پناہ رحمت کے پیشِ نظر علم کے خدمت گزاروں اور خیرخواہوں کو ہر شر سے اور ہر بلا سے اپنی پناہ میں رکھنا، ان کی تمام نیک مرادوں کو پوری کر دینا اور ان کو دونوں جہان کی صلاح و فلاح سے سرفراز! فرمانا
(آمین یا ربّ العٰلمین)
فقط آپ کا ملی خادم
نصیر الدین نصیر ہونزائی
بروز چہار شنبہ
۱۳ ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ
۲۶ اکتوبر ۱۹۷۷ء
۲۴۵
چند تاویلات سورۂ رحمن (۵۵) میں سے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تنزیل نمبر۱: رحمان نے قرآن کی تعلیم دی۔ (۵۵: ۰۱ تا ۰۲)
تاویل: خدائے رحمان نے قرآن کی یہ تعلیم سب سے پہلے کس کو دی؟ اور یہ کب کی بات ہے؟ خداوند تعالیٰ نے یہ تعلیم ازل میں عقلِ اوّل کو دی، جس کو عقلِ کلّ اور قلمِ الٰہی بھی کہا جاتا ہے۔
تنزیل نمبر۲: اُس نے انسان کو پیدا کیا، اُس کو گویائی سکھائی۔ (۵۵: ۰۳ تا ۰۴)
تاویل: یہ انسان کون ہے؟ اور وہ گویائی کس نوعیت کی ہے؟ یہ انسان عقلِ ثانی ہے، جس کو نفسِ کلّ اور لوحِ محفوظ بھی کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اسی کو علمِ بیان یعنی تاویل سکھائی۔
تنزیل نمبر۳: سورج اور چاند ایک حساب کے ساتھ ہیں، اور بوٹیاں بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں۔ (۵۵: ۰۵ تا ۰۶)
تاویل: سورج ناطق ہیں یعنی نبئ آخر زمان اور چاند اساس
۲۴۶
ہیں، یعنی علی مرتضیٰؑ جن کی تنزیل و تاویل ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور دونوں کا مقصد ایک ہی ہے، اور بوٹیوں بیلوں سے نفوسِ خلائق مراد ہیں اور درختوں کے معنی حدودِ دین ہیں کہ یہ سب اپنے اپنے طور سے خدا کے لئے سجدہ یعنی اطاعت کرتے ہیں۔
تنزیل نمبر۴: اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو رکھ دی تا کہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو اور تول کم نہ کرو۔ (۵۵: ۰۷ تا ۰۹)
تاویل: روحانیت کی زمین کو پستی سے اُٹھا کر آسمان کا درجہ دیا اور علم و حکمت کا معیار اسی آسمان میں رکھا، اور اگر علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی یہ کسوٹی زمینِ روحانیّت پر رکھی جاتی تو اس کے استعمال میں کمی بیشی ہو جاتی، اس لئے یہ ترازو روحانیّت کے اونچے درجات کے سپرد کی گئی، اس مقام پر تمام حدودِ دین کو مخاطب کیا گیا ہے، اور سب کے فعل کو ایک قرار دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ تمہارے لئے آسانی اور درستی اسی میں ہے کہ تم حقیقتوں اور معرفتوں کی ترازو کو حدودِ بالا کے وسیلے سے کام میں لاؤ۔
تنزیل نمبر۵: اور اسی نے خلقت کے واسطے زمین کو رکھ دیا۔ (۵۵: ۱۰)
تاویل: زمینِ روحانیّت قابلِ رسا بنا دی کہ وہ آسمانِ روحانیّت
۲۴۷
کی طرح بلند اور مشکل نہیں تاکہ سب لوگ جو کمزور ہیں کیا خویش اور کیا بیگانہ اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔
تنزیل نمبر۶: اس (زمین) میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جن (کے پھل) پر غلاف ہوتا ہے، اور غلہ ہے جن میں بھوسہ (بھی ہوتا ہے) اور (اس میں) غذا کی چیز (بھی) ہے۔ (۵۵: ۱۱ تا ۱۲)
تاویل: یعنی اس روحانی زمین میں روحانی قسم کی غذا اور مسرت و شادمانی کی چیزیں ہیں، کہ ان کا فائدہ بآسانی اور بغیر دقت کے حاصل ہو سکتا ہے، مگر کچھ چیزیں تاویل طلب بھی ہیں، جیسے بعض میوے اور غلہ جات، کہ کچھ میوؤں کے اوپر غلاف ہوتا ہے اور غلوں کو تو بہت کچھ کام کرنے کے بعد کھایا جا سکتا ہے۔
تنزیل نمبر۷: سو اے جنّ و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
تاویل: پس اے مخلوقِ لطیف اور مخلوقِ کثیف تم اپنے ربّ کی مذکورہ نعمتوں میں سے کن کن نعمتوں سے انکار کرو گے، جبکہ یہ تمام نعمتیں تمہارے فائدے کی خاطر پیدا کی گئی ہیں، روحانیّت کے آسمان و زمین اور تمام وہ چیزیں جو ان میں ہیں سب کی سب نعمتیں ہیں مخلوقِ لطیف اور مخلوقِ کثیف کے لئے۔
۲۴۸
تنزیل نمبر۸: اُسی نے انسان کو ایسی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکرے کی طرح بجتی تھی، اور جنات کو خالص آگ سے پیدا کیا سو اے جنّ و انس تم اپنے ربّ کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ (۵۵: ۱۴ تا ۱۶)
تاویل: یہ اشارہ انسان کی روحانی تخلیق کی طرف ہے کہ اس کی یہ تخلیق اُس وقت شروع ہو جاتی ہے جبکہ ایک کھنکھناتی ہوئی لطیف آواز اس کے کان میں سنائی دیتی ہے، یہ آواز کیا ہے؟ صورِ اسرافیل بجنے کا آغاز ہے، جس کی ابتداء بار بار کان بجنے سے ہوتی ہے، یہ مخلوقِ کثیف کی تخلیق کی علامت ہوئی، جو انسانی جسم کے وسیلے سے ہے، اور مخلوقِ لطیف کی تخلیق یہ ہے کہ اسی انسان کی اعلیٰ ترین روحانیّت سے مخلوقِ لطیف کو پیدا کیا، یعنی خاموش، سلجھی ہوئی ، اور بے رنگ روحانیّت سے، جس طرح آگ دو قسم کی ہوتی ہے، دکھائی دینے والی اور نہ دکھائی دینے والی، یعنی ایک تو شعلوں اور انگاروں کی صورت میں ہوتی ہے، جس میں گرمی، روشنی اور رنگ ہوتا ہے اور یہ آگ نظر آتی ہے، اور دوسری آگ وہ ہے جو نظر نہیں آتی، جس میں گرمی اور جلانے کی قوّت تو موجود ہوتی ہے، مگر روشنی اور رنگ نہیں ہوتا، لہٰذا وہ دکھائی نہیں دیتی، جیسے ٹیبل لیمپ وغیرہ کے شعلے کے ذرا اوپر ایسی نادیدنی آگ موجود ہوتی ہے کہ اس
۲۴۹
میں کاغذ کے ذرا چھو جانے سے آگ ظاہر ہو جاتی ہے۔
تنزیل نمبر۹: وہی دونوں مشرقوں کا پروردگار ہے اور دونوں مغربوں کا پروردگار ہے، سو اے دو گروہ تم اپنے ربّ کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ (۵۵: ۱۷ تا ۱۸)
تاویل: دین اور روحانیّت میں ہر اوپر کا درجہ مشرق ہے اور ہر نچلا درجہ مغرب، اسی طرح دینی تعلیم میں ہر استاد مشرق اور ہر شاگرد مغرب ہے، کیونکہ ہمیشہ توحید اور تعلیم کا نور اوپر کے درجے سے طلوع اور نچلے درجے میں غروب ہوتا رہتا ہے، چنانچہ بحیثیتِ مجموعی عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ نورِ توحید کے دو مشرق ہیں اور ناطق و اساس اس کے دو مغرب ہیں، کہ ہمیشہ نورِ توحید کا سورج اُن دونوں سے طلوع اور اِن دونوں میں غروب ہوتا رہتا ہے۔
تنزیل نمبر ۱۰: اِسی نے دو دریاؤں کو ملایا کہ باہم ملے ہوئے ہیں (اور) ان کے درمیان ایک حجاب ہے کہ دونوں بڑھ نہیں سکتے، سو اے دونوں گروہ تم اپنے ربّ کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ (۵۵: ۱۹ تا ۲۱)
تاویل: یہ دو دریا روحانیّت اور جسمانیّت ہیں، خیر و شر ہیں، دنیا اور آخرت ہیں وغیرہ، جو ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور باہم مل کر ہیں، اور ان دونوں کے درمیان پردہ ہے، اس لئے یہ دونوں
۲۵۰
درجے اپنی اپنی حیثیت کو ختم کرکے قطعی طور پر ایک نہیں ہو سکتے، اور ان کے اسی طرح پیدا کئے جانے میں بہت سی حکمتیں اور نعمتیں ہیں۔
تنزیل نمبر ۱۱: ان دونوں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں، پس تم دونوں گروہ اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ (۵۵: ۲۲ تا ۲۳)
تاویل: یعنی حدودِ روحانی اور حدودِ جسمانی اسی روحانیّت اور جسمانیّت کے دو دریاؤں کے موتی اور مونگے ہیں۔
تنزیل نمبر ۱۲: اور اسی کے ہیں جہاز جو پہاڑوں کی طرح سمندر میں کھڑے نظر آتے ہیں، پس تم دونوں گروہ اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت سے انکار کروگے۔ (۵۵: ۲۴ تا ۲۵)
تاویل: یہ وسیع و عریض کائنات لطیف فلکی جسم یا کہ ایتھر کا ایک انتہائی عظیم سمندر ہے اور اس میں جتنے سیّارے ستارے موجود ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے جہاز ہیں، اور ان میں سے ایک جہاز سیّارۂ زمین ہے۔
تنزیل نمبر ۱۳: جتنے لوگ روئے زمین پر موجود ہیں سب فنا ہونے والے ہیں، آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت و کرامت والی ہے باقی رہ جائے گی، سو اے جنّ و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ (۵۵: ۲۶ تا ۲۸)
۲۵۱
تاویل: ہر سیّارے اور ستارے پر (سوائے سورج کے) البتہ کسی نہ کسی وقت بھرپور آبادی ہوتی ہے یا لطیف جسمانیّت میں مخلوقات رہتی ہیں، اور جب وقت آتا ہے تو سب لوگ فنا ہو جاتے ہیں، مگر یہاں جس فنا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے، کیونکہ اس سورہ میں پروردگارِ عالم نے اکثر اپنے بڑے بڑے احسانات کا تذکرہ فرمایا ہے، پس ہر دنیا والوں کا مقررہ وقت پر فنا ہو جانا یہ ہے کہ وہ جسمِ کثیف سے جسمِ لطیف میں منتقل ہو جائیں گے اور پھر فنا فی اللہ اور بقا باللہ کی سب سے بڑی نعمت عطا ہوگی، لیکن اس عظیم واقعہ سے قبل بہت سے لوگ جہالت و نادانی کی موت مرچکے ہوں گے۔
تنزیل نمبر ۱۴: جتنے لوگ سارے آسمان و زمین میں ہیں (سب) اسی سے مانگتے ہیں، وہ ہر روز (یعنی ہر وقت) کسی نہ کسی شان میں رہتا ہے، سو اے جنّ و انس تم اپنے ربّ کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہو جاؤگے۔ (۵۵: ۲۹ تا ۳۰)
تاویل: روحانیّت کے آسمان و زمین میں اور مادیّت کی بلندی و پستی میں جتنی مخلوقات موجود ہیں، وہ سب اُسی پروردگار سے اپنی حاجتیں طلب کرتی ہیں، وہ ہر دور میں اور ہر وقت کسی ایک
۲۵۲
شان میں ہوتا ہے، یعنی اس کی صفات کے مختلف ظہورات میں سے کوئی ظہور ہوتا ہے۔
تنزیل نمبر ۱۵: اے جنّ و انس ہم عنقریب تمہارے لئے فارغ ہو جاتے ہیں، سو اے دو گروہ تم اپنے ربّ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ (۵۵: ۳۱ تا ۳۲)
تاویل: اللہ تعالیٰ کے فارغ ہو جانے کی تاویل دورِ روحانیّت کا آنا ہے، کہ اس میں سب لوگ روحانی طاقت کے گھیرے میں ہوں گے۔
تنزیل نمبر ۱۶: اے جنّ اور انسان کے گروہ اگر تم سے ہو سکتا ہے کہ آسمان اور زمین کے حدود سے باہر نکل جاؤ تو نکلو مگر زور کے بغیر نہیں نکل سکتے، پس تم جنّ و انس اپنے پروردگار کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے۔ (۵۵: ۳۳ تا ۳۴)
تاویل: یہ اشارہ ہے کہ زمان و مکان کے تصوّر کی قید و پابندی سے نکل جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، مگر علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے زور سے اور سخت عبادت و ریاضت اور گریہ و زاری کے وسیلے سے، نیز اشارہ ہے کہ “سلطان” کے بغیر یعنی اس کے دنیا میں آنے سے پیشتر ظاہراً و باطناً عالمِ بالا تک
۲۵۳
پہنچ جانا ممکن نہیں۔
تنزیل نمبر ۱۷: تم دونوں پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا، پھر (اس کو) تم نہ ہٹا سکو گے، سو اے جنّ و انس تم اپنے ربّ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ (۵۵: ۳۵ تا ۳۶)
تاویل: روحانیّت کی بلندیوں کی طرف نہ جا سکنے کے دو سبب ہوتے ہیں، یا تو ابتدائی قسم کی جو تیز روشنی ہے وہ ہمیشہ سامنے آتی رہتی ہے جس سے دل کی آنکھ خیرہ ہو جاتی ہے یعنی اس میں چکا چوندھی آتی ہے، جس کی وجہ سے انسان آگے نہیں بڑھ سکتا، یا باطن میں بالکل اندھیرا ہی اندھیرا رہتا ہے، جیسے دھوئیں کا طوفان اٹھا ہو۔
تنزیل نمبر ۱۸: پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی طرح لال ہو جائے گا، تو تم دونوں اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں سے مکرو گے، تو اس دن نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھا جائے گا اور نہ کسی جنّ سے تم دونوں اپنے مالک کی کس کس نعمت کی ناشناسی کرو گے۔ (۵۵: ۳۷ تا ۳۹)
تاویل: انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی حالت میں جب بھی قیامت برپا ہو، تو اس وقت انسان کے تصوّر کے سامنے سے
۲۵۴
روحانیّت کے بہت سے پردے ہٹا دئے جاتے ہیں، اور آسمان کے پھٹ جانے کے معنی یہی ہیں، اُس وقت دیدۂ دل کے سامنے جو روشنی آتی ہے اس کا رنگ مذکورہ نشاندہی کے مطابق سرخ ہوتا ہے۔
تنزیل نمبر ۱۹: تو اُس روز کسی انسان اور جن سے اُس کے جرم کے متعلق نہ پوچھا جائے گا، سو اے جنّ و انس تم اپنے ربّ کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہو جاؤ گے، گنہگار لوگ تو اپنے چہروں ہی سے پہچان لئے جائیں گے، سو (ان کے) سر کے بال اور پاؤں پکڑ لئے جائیں گے، سو اے جنّ و انس تم اپنے ربّ کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہو جاؤ گے۔ (۵۵: ۳۹ تا ۴۲)
تاویل: یعنی جب روحانی دور آئے گا، تو اس میں روحانی کیفیت جنّ و انس کے ہر فرد پر اس کے اعمال کے مطابق گزرے گی، اور ہر کام خود بخود جاری ہوگا، یہاں سر کے بال سے ظاہری اور باطنی حواس مراد ہیں اور قدموں کے معنی ہیں خیالات و عبادت کہ ان کے ذریعے ذہنی طور پر چلا جاتا ہے، چنانچہ روحانیّت جب بھی کسی پر مسلط ہو جاتی ہے تو وہ حواسِ ظاہر و باطن اور خیالات و افکار اور عبادات و اذکار کو اپنی گرفت میں لے کر مسلط ہو جاتی ہے۔
تنزیل نمبر۲۰: یہی وہ جہنم ہے جسے مجرم لوگ جھٹلایا کرتے تھے، یہ لوگ دوزخ اور حد درجہ کھولتے ہوئے پانی کے درمیان
۲۵۵
چکر لگاتے پھریں گے، پس تم دونوں اپنے ربّ کی کن کن نعمتوں سے انکار کرو گے۔ (۵۵: ۴۳ تا ۴۵)
تاویل: یعنی غیرمانوس، تکلیف دہ اور سخت قسم کی روحانیّت ان کے لئے جہنم ہے، اور وہ روحانی باتیں جو کسی کو فنا کر دینے کے لئے مقرر ہیں گرم پانی ہیں۔
۲۵۶
سورۂ دہر (۷۶) کی چند حکمتیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حکمت نمبر ۱: کیا انسان پر دہر میں سے وہ وقت آیا ہے جس میں کہ وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا (۷۶: ۰۱)۔۔۔ یعنی انسان کی “انا” ازل میں بغیر کسی شے کے اور بغیر کسی نام و نشان کے تھی اور آگے چل کر پھر یہی حال اُس پر گزرنے والا ہے ۔۔۔ یہاں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ انسان شے اور لا شے اور صفت اور لاصفت کے دائرے پر گردش کر رہا ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ وہ ہستی اور نیستی کے دن رات سے گزرتا رہتا ہے۔
حکمت نمبر ۲: ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا کہ اسے آزمائیں تو ہم نے اسے سنتا دیکھتا بنایا (۷۶: ۰۲)۔۔۔ یعنی جس طرح مرد عورت دونوں کے نطفے سے مل کر انسان پیدا ہوتا ہے، اسی طرح انسانی حقیقت بقا و فنا یعنی ہستی اور نیستی پر مشتمل ہے ۔۔۔ یہاں یہ بھی سوچنا
۲۵۷
ہے کہ حضرت آدمؑ اور حضرت عیسیٰؑ بھی اس عمومی حکم کے تحت ہیں یا نہیں؟ جبکہ انسان کے نام سے کوئی فردِ بشر باہر نہیں ہو سکتا۔
حکمت نمبر ۳: ہم نے اس کو (خیر کا بھی اور شر کا بھی) راستہ دکھا دیا خواہ وہ شکرگزار ہو خواہ ناشکرا(۷۶: ۰۳) (یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو ہادئ برحق کو خیر کا وسیلہ قرار دیا اور دوسری طرف مضل یعنی گمراہ کن = شیطان کو شر کا ذریعہ بنایا)۔
حکمت نمبر ۴: ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں، طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے (۷۶: ۰۴) (یعنی غلط روایات، کورانہ تقلید اور جہالت)۔
حکمت نمبر ۵: بے شک نیکوکار لوگ شراب کے وہ ساغر پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی (۷۶: ۰۵) (یعنی نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی اُن پر حقیقی عشق کی کیفیت طاری ہوگی، اور ایسی پاک شراب میں کافور کی آمیزش کی تاویل ہے حقیقی محبت کا وہ خاصہ جو دل و دماغ کو منوّر اور گناہ کو دور کر دینے سے متعلق ہے، جیسے لفظِ کافور سے ظاہر ہے کہ اس کے معنی چھپانا اور دور کر دینا۔
حکمت نمبر۶: ایک چشمہ ہے جس میں خدا کے (خاص) بندے پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بہا لے جائیں گے (۷۶: ۰۶) (یعنی علمِ روحانی جس کا سرچشمہ ایک پاک کلمے کے اندر ہے جس کا ذکر سورۂ
۲۵۸
ابراہیم میں بھی ہے، یہ پاک کلمہ اپنی معنوی امکانیّت میں ہموار میدان کے چشمے کی طرح ہے، کہ اس کا پانی جس جانب کو بھی چاہیں بہا کر لے جا سکتے ہیں)۔
حکمت نمبر ۷: یہ وہ لوگ ہیں جو نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوگی ڈرتے ہیں۔ (۷۶: ۰۷) (یعنی وہ مزید اور خصوصی عبادات اور خوفِ آخرت کو اپنا شیوہ بناتے ہیں، نذر کے معنی ہیں کسی حادثہ کی وجہ سے غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کر لینا، یعنی ایسی عبادات اپنے اوپر لازم کر لینا جو عام سطح سے بلند ہیں)۔
حکمت نمبر ۸: اور اس (اللہ) کی محبت میں مسکین اور یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں (۷۶: ۰۸) (قرآن کی ۰۳: ۳۱ کے بموجب خدا کی دوستی و محبت کی شرط رسول اللہ کی پیروی ہے، لہٰذا ظاہر ہے کہ جن حضرات کی یہاں تعریف و توصیف ہو رہی ہے اُن میں یہ شرط پوری ہے، وہ اہلِ بیتِ رسول اور حقیقی مومنین ہیں، یہاں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اہلِ ایمان کی ہر ہر نیکی حقیقی عشق سے ہونی چاہئے)۔
حکمت نمبر ۹: (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو تم کو بس خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں ہم نہ تم سے بدلہ کے خواستگار ہیں اور نہ
۲۵۹
شکرگزاری کے (۷۶: ۰۹) (لوجہ اللہ کا مطلب خدا کے دیدار کی خاطر بھی ہو سکتا ہے جو مومن کا مقصدِ اعلیٰ ہے اور محبتِ خداوندی سے اس کا تعلق ہے)۔
حکمت نمبر ۱۰: ہم کو تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جس میں منہ بن جائیں گے (اور) چہرے پر ہوائیاں اڑتی ہوں گی (۷۶: ۱۰) (یعنی قیامت کی ہولناکی اور سختی کی وجہ سے)۔
حکمت نمبر ۱۱: تو خدا انہیں اس دن کی تکلیف سے بچا لے گا اور ان کو تازگی اور خوش دلی عطا فرمائے گا (۷۶: ۱۱) (یعنی مذہبی زندگی کی کامیابی اور اس کے اجر و صلہ سے بے پناہ خوشی حاصل ہوگی)۔
حکمت نمبر ۱۲: اور ان کے صبر کے بدلے جنّت اور ریشم (کی پوشاک) عطا فرمائے گا (۷۶: ۱۲) (صبر کا مطلب ہے ظاہراً و باطناً دینی امور کی انجام دہی کے سلسلے میں ہر طرح کی تکلیف برداشت کرنا، جنت دو قسم کی ہے جزوی اور کلّی، جزوی جنت اس دنیا میں روحانیّت کا مشاہدہ ہے، اور کلّی جنّت موت کے بعد عالمِ روحانیّت کی کامیاب زندگی ہے، جب حقیقی مومنین جزوی جنّت میں اپنی روحوں کے جمال و جلال کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کو انتہائی حیرت اور بے حد خوشی ہوتی ہے کہ ان کی روحیں اللہ تعالیٰ کے نورِ مقدّس کے رنگ میں رنگی ہوئی ہوتی ہیں، اور ان کی لطیف شخصیّت کا جلوۂ حسن یوں نظر
۲۶۰
آتا ہے جیسے وہ ریشمی نمونے کے نورانی لباس میں ملبوس ہوں)۔
حکمت نمبر ۱۳: وہاں وہ تختوں پر تکئے لگائے (بیٹھے) ہوں گے نہ وہاں (آفتاب کی) دھوپ دیکھیں گے اور نہ شدت کی سردی (۷۶: ۱۳) (تختوں کا مطلب ہے اسمائے الٰہی اور کلماتِ تامّات جن کے ساتھ مومنین کا خیال و شعور وابستہ ہوگا انہیں از خود سوچنے اور کسی طرح کی تکلیف کرنے کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ اُن اسماء اور کلمات کا نور ان کی خودی اور علمی تحلیل کا کام انجام دے گا، دھوپ اور سردی وہاں نہ ہونے کے معنی ہیں کہ وہ راحت دراصل روحانی قسم کی ہے مادّی قسم کی نہیں)۔
حکمت نمبر ۱۴: اور گھنے درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور میوؤں کے گچھے ان کے بہت قریب ہر طرح ان کے اختیار میں (۷۶: ۱۴) (یعنی حدودِ دین کے فیوض و برکات گھنے درختوں کے سائے ہیں اور تائیدی علم و حکمت میوے ہیں)۔
حکمت نمبر ۱۵: اور ان کے سامنے چاندی کے ساغر اور شیشے کے نہایت شفاف گلاس کا دور چل رہا ہو گا (۷۶: ۱۵) (بہشت کی شراب کے لئے چاندی کے ساغر اور شیشے کے گلاس ہونے کی تاویل ہے کہ حقیقی عشق کا ظہور انتہائی پاک و پاکیزہ تجلّیات سے ہوگا جو درجۂ اساس اور درجۂ امام سے متعلق ہیں)۔
۲۶۱
حکمت نمبر ۱۶: اور شیشے بھی (کانچ کے نہیں) چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں (۷۶: ۱۶) (یعنی ظہوراتِ لطائفِ تاویلی، یاد رہے کہ سونا ناطق کی مثال ہے، چاندی اساس کی اور شیشہ امام کی مثال ہے)۔
حکمت نمبر ۱۷: اور وہاں انہیں ایسی شراب پلائی جائے گی جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی (۷۶: ۱۷) (یعنی ایسی مسرت و شادمانی جس کی بنیاد علمِ باطن اور معرفت کے بھیدوں پر ہے جیسی زنجبیل خوشبودار جڑیں ہیں اور جڑیں زمین کے باطن میں پوشیدہ ہوتی ہیں)۔
حکمت نمبر ۱۸: یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے (۷۶: ۱۸) (یعنی ہادئ برحق کا نور، جیسے “سل” معنی پوچھ اور “سبیل” معنی راستہ۔ سل + سبیل =سلسبیل (راستے سے پوچھ) یعنی ہادئ برحق سے ہدایت حاصل کر کہ وہی صراطِ مستقیم یعنی زندہ راہِ خدا ہے)۔
حکمت نمبر ۱۹: اور ان کے سامنے ہمیشہ ایک حالت پر رہنے والے نوجوان لڑکے چکر لگاتے ہوں گے جب تم ان کو دیکھو تو سمجھو کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں (۷۶: ۱۹) (یعنی نہ صرف جسمِ لطیف کے ذرات میں بلکہ تصوّراتی تجلّیات میں بھی اور ابدی جنت میں بھی)۔
۲۶۲
حکمت نمبر۲۰: جب تم (یہاں) دیکھو گے پھر (وہاں بھی) دیکھو گے نعمت اور عظیم الشّان سلطنت (۷۶: ۲۰) (یعنی جنّت کا نمونہ دنیا میں روح کی شناخت ہے پھر موت کے بعد جنّت کی نعمتیں ہیں اور اخیر میں روحانیّت کی عظیم سلطنت ہے)۔
حکمت نمبر۲۱: ان جنتیوں پر باریک ریشم کے کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے کپڑے بھی اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا (۷۶: ۲۱) (ریشمی لباس سے روح کی نورانی تجلّیات مراد ہیں، چاندی کے کنگن دائرۂ لا انتہائی کا علم ہے اور ربّ کا ساقی ہونا کلامِ الٰہی اور دیدارِ خداوندی کی مسرّت و شادمانی ہے)۔
حکمت نمبر۲۲: یہ یقیناً تمہارے لئے ہو گا (تمہاری کارگزاریوں کے) صلہ میں اور تمہاری کوشش قابلِ شکرگزاری ہے (۷۶: ۲۲) (یہ ساری تعریف اہلِ بیتِ رسول کی شان میں ہے، اور انہی حضرات کے طفیل سے اوروں کو بھی اس سے حصہ مل سکتا ہے)۔
حکمت نمبر ۲۳: (اے رسول) ہم نے آپ پر قرآن کو رفتہ رفتہ نازل کیا (۷۶: ۲۳) (یعنی تقریباً ۲۲ سال، ۵ ماہ اور ۱۴ دن کے عرصے میں قرآن کی تنزیل ہوتی رہی اور قیامت کے آخر تک
۲۶۳
اس کی تاویل آنے کا سلسلہ جاری رہے گا)۔
حکمت نمبر۲۴: تو آپ اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کیجئے اور ان لوگوں میں سے گنہگار اور ناشکرے کی پیروی نہ کرنا (۷۶: ۲۴) (ظاہر ہے کہ ربّانی ہدایت و فیصلہ کے لئے انتظار بھی کرنا پڑتا ہے مگر ہرگز گنہگار اور کافر کی بات نہیں ماننی چاہئے)۔
حکمت نمبر ۲۵: اور صبح و شام آپ اپنے پروردگار کا نام لیتے رہیں (۷۶: ۲۵) (پروردگار کے نام کے ذکر کو تو ہر وقت کرنا چاہئے مگر یہاں صبح و شام کو ترجیح دی گئی کیونکہ زیادہ اہمیّت اور فضیلت صبح و شام کی عبادت کی ہے یہ البتہ عام مومنین کے لحاظ سے ہے)۔
حکمت نمبر۲۶: اور کچھ رات میں سے اس کا سجدہ کرو اور لمبی رات تک اس کی تسبیح کرتے رہو (۷۶: ۲۶) (سجدہ کو رات میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ اکثر گریہ و زاری کا نتیجہ ہوتا ہے اور گریہ و زاری کا بہترین وقت رات ہے تاکہ خلوت و تنہائی میں مناجات ہوسکے، اور لمبی رات تسبیح کرنے کا مطلب ہے پوری رات عبادت کرنا نیز اُس رات عبادت کرنا جو سال میں سب سے لمبی ہوتی ہے، اس رات کو فارسی میں شبِ یلدا کہتے ہیں، جو
۲۶۴
موسمِ خزان کی آخری رات اور موسمِ سرما کی پہلی رات ہوتی ہے، جب سورج برج جدی میں داخل ہونے کو ہوتا ہے یعنی ۳۰ دسمبر کی رات)۔
حکمت نمبر ۲۷: بے شک یہ لوگ فوری زندگی کو پسند کرتے ہیں اور بڑے بھاری دن کو اپنے پسِ پشت چھوڑتے ہیں (۷۶: ۲۷) (یعنی دنیاوی زندگی کو ترجیح دے کر آخرت کے کام کو نظر انداز کرتے ہیں)۔
حکمت نمبر ۲۸: ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے اعضاء کو مضبوط بنایا اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے ان ہی کے ایسے لوگ لے آئیں (۷۶: ۲۸) (یہاں تبدلِ امثال کا ذکر ہے وہ انسان کی جزوی تبدیلی بھی ہے جو ذرات کے بدل جانے سے بنتی ہے، اس کی مراد جسمِ مثالی بھی ہے اور اس کا مطلب ایک قوم کی جگہ پر دوسری قوم کا آنا بھی ہے)۔
حکمت نمبر ۲۹: بے شک یہ قرآن سراسر نصیحت ہے تو جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی راہ لے (۷۶: ۲۹) (یعنی قرآن میں ہر سطح کے لئے ہدایت و نصیحت ہے جو کوئی چاہے اپنے پروردگار سے جا مل سکتا ہے)۔
حکمت نمبر۳۰: اور تم کچھ چاہتے ہی نہیں مگر وہی جو اللہ چاہتا ہے بے شک خدا بڑا جاننے والا اور نہایت حکمت والا ہے (۷۶: ۳۰) (یعنی تمہارا چاہنا بھی اللہ کے چاہنے کے تحت ہے)۔
۲۶۵
حکمت نمبر ۳۱: جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے اور ظالموں کے واسطے اُس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے (۷۶: ۳۱) (اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیاوی اور دینی زندگی میں کچھ لوگ تو خدا کی رحمت کے اندر ہیں اور کچھ اس کے باہر، اور یہ رحمت حقیقی مہر و محبت ہی ہے پس حقیقی محبت سب کچھ ہے)۔
۲۶۶
حدیث کی چند حکمتیں
حدیثِ مماثلتِ ہارونی
بحوالۂ کتاب “مفتاح کنوز السنۃ” صفحہ ۳۵۲، شائع کردہ سہیل اکیڈمی لاہور۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن الترمذی، سنن ابنِ ماجہ، طبقاتِ ابنِ سعد، مسندِ احمد بن حنبل اور مسند الطیاسی میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السّلام سے فرمایا:
اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ
ترجمہ: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو، کہ تمہارا درجہ میرے پاس ایسا ہو جیسا کہ حضرت ہارون کا حضرت موسیٰ کے پاس تھا۔ یہ ارشاد اُس موقع پر فرمایا گیا جب کہ حضورؐ غزوۂ تبوک کے لئے تشریف لے جانے لگے اور حضرت علیؑ کو مدینۂ منورہ میں خلیفہ مقرر کرگئے تو علی علیہ السّلام نے کہا کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جاتے ہیں۔
۲۶۷
چنانچہ ہم ذیل میں اللہ تعالیٰ کی توفیق و یاری سے اس حدیثِ شریف کی چند حکمتیں بیان کرتے ہیں:
حکمت نمبر۱: یہ انتہائی جامع قسم کی حدیث ہے، کیونکہ اس ارشاد کے بموجب قرآنِ حکیم کی وہ تمام آیات مولانا علی علیہ السّلام کے اوصاف سے بھی متعلق ہو جاتی ہیں، جو حضرت ہارون علیہ السّلام کے بارے میں ہیں، جبکہ علیؑ زمانے کے ہارونؑ ہیں سوائے نبوّت کے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
حکمت نمبر۲: خدائے برتر کا ارشاد ہے کہ:
و قال موسیٰ لاخیہ ہارون اخلفنی فی قومی و اصلح ۔ ۰۷: ۱۴۲۔
یعنی موسیٰؑ نے (کوہِ طور کی طرف) چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارونؑ سے کہا کہ: میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور اصلاح کرتے رہنا (یعنی میری تنزیل کی تاویل بتاتے رہنا) یہاں سے معلوم ہوا کہ علیؑ نبیؐ کے برحق جانشین اور تاویل کے مالک ہیں۔
حکمت نمبر ۳: اور یقیناً ہم موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان اور روشنی اور ذکر عطا کر چکے ہیں متقی لوگوں کی بھلائی کے لئے (۲۱: ۴۸)۔ اس سے ظاہر ہے کہ آسمانی کتاب کی روحانیّت، نور اور ذکر میں علیؑ
۲۶۸
نبیؐ سے الگ نہ تھے بلکہ وہ دونوں حضرات ایسے باہم شریک تھے جیسے موسیٰؑ اور ہارونؑ۔
حکمت نمبر ۴: ارشاد ہے کہ: ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (مددگار) کے طور پر لگایا (۲۵: ۳۵)۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جس طرح ہارون موسیٰؑ کے وزیر تھے، اسی طرح علیؑ آنحضرتؐ کے وزیر تھے، اور سب جانتے ہیں کہ کسی بادشاہ کا وزیر ایسا شخص ہو سکتا ہے جو نظامِ بادشاہت کے تمام بھیدوں کو خوب جانتا ہے، چنانچہ یہاں کتاب اور وزیر کا ایک ساتھ ذکر آیا ہے، جس کے یہ معنی ہیں کہ زمانے کا ہارونؑ آسمانی کتاب کی تاویلی بیان سے مومنین کی رہنمائی کرتے ہوئے پیغمبر کی مدد کرتا ہے۔
حکمت نمبر ۵: اور اُن سے اُن کے پیغمبر نے فرمایا کہ ان کے (یعنی طالوت کے خدا کی جانب سے) بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آ جاوے گا جس میں تسکین (اور برکت) کی چیز ہے تمہارے ربّ کی طرف سے اور بچی ہوئی چیزیں جن کو آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون چھوڑ گئے ہیں اس صندوق کو فرشتے لے آویں گے اس میں تم لوگوں کے واسطے نشانی (یعنی معجزہ) ہے
۲۶۹
اگر تم حقیقی مومن ہو (۰۲: ۲۴۸)۔
جاننا چاہئے کہ یہ اشارہ بھی زمانے کے امامؑ کی طرف ہے کہ وہی اللہ کی طرف سے روحانی سلطنت کے مالک ہیں اور انہی کی بدولت مومنین کو اسرارِ روحانیّت کا صندوق (جس میں معجزات اور طرح طرح کی برکتیں ہیں ) آ سکتا ہے، جس میں آلِ محمدؐ و اولادِ علیؑ کا علم و حکمت موجود ہے، کیونکہ مومنین کی تسکین علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے بغیر اور کسی چیز میں نہیں ہے۔
حکمت نمبر۶: اور ہم نے موسیٰؑ اور ہارونؑ پر احسان کیا اور ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بڑے غم سے نجات دی اور ہم نے ان سب کی مدد کی سو یہی لوگ غالب آئے اور ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب دی اور ہم نے ان دونوں کو سیدھے راستہ پر قائم رکھا (۳۷: ۱۱۴ تا ۱۱۸)، اس سے ظاہر ہے کہ جو احسان آنحضرتؐ پر فرمایا گیا ہے وہ علیؑ پر بھی ہے اور آسمانی کتاب یعنی قرآن کا علم و حکمت صرف پیغمبر اور امام ہی کے وسیلے سے مل سکتی ہے۔
۲۷۰
قرآنِ پاک اسمِ اعظم میں
یہ نکتہ روشن حقیقتوں میں سے ہے کہ قرآنِ مقدّس کا مقصد و منشاء علم و حکمت اور رشد و ہدایت ہے، یعنی قرآنِ مجید دنیا میں اس لئے بھیجا گیا ہے کہ لوگ اس کے ذریعے خدا و رسول اور اولوالامر کی اطاعت کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو جس میں جسم و جان کی سلامتی اور دونوں جہان کی صلاح و فلاح پوشیدہ ہے۔
آپ فراخدلی سے سوچیں کہ آیا قرآن کلامِ الٰہی ہونے کی حیثیت سے محدود ہونا چاہئے یا غیر محدود؟ اس سوال کا تسلی بخش جواب آپ کو سورۂ لقمان (۳۱) کی آیت نمبر ۲۷ (۳۱: ۲۷) اور سورۂ کہف (۱۸) کی آیت نمبر ۱۰۹ (۱۸: ۱۰۹) سے ملے گا، نیز آپ خوب سوچ کر یہ بتائیں کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کے پاس سے آیا وہ کبھی ختم ہو جاتا ہے، مثلاً قرآن، جو اس ظاہری دنیا میں نازل ہوا ہے؟ کیا یہ اب اللہ کے حضور میں بالکل اُسی طرح موجود نہیں، جیسے یہ ازل میں تھا؟ اس بارے میں قرآنِ کریم کا ارشاد تو یہ ہے کہ جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ تو ختم
۲۷۱
ہو جاتا ہے، اور جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ باقی رہتا ہے (۱۶: ۹۶) اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگرچہ قرآنِ مقدّس کا نورانی ظہور سب سے پہلے قلمِ الٰہی کی صورت میں “امرِ کن” سے ہوا، لیکن اس کے باوجود کلمۂ کُنۡ یعنی امرِ کلّ میں قرآن کی امری کیفیت و اصلیت ویسی کی ویسی باقی و برقرار تھی، کیونکہ امرِ باری تعالیٰ ازلی و ابدی طور پر ممکنات کا سرچشمہ ہے، جو اشیائے ممکنہ سے کبھی خالی نہیں ہوتا۔
پھر قلمِ الٰہی کے ذریعے قرآنِ مجید لوحِ محفوظ میں درج ہوا جیسا کہ اس مقام پر درج ہونا چاہئے، لیکن کوئی دانشمند ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا کہ اب قلمِ قدرت میں قرآن نہیں رہا، اس وجہ سے کہ وہ لوحِ محفوظ میں نازل ہوا ہے، اہلِ دانش کے تصوّر کے مطابق قلمِ الٰہی کی ذات میں قرآن بلا کم و کاست اس معنیٰ میں موجود ہے کہ وہ قلم عقلی وجود رکھتا ہے، یعنی وہ عقلِ کلّی ہے، اور جب عقل کے سرچشمے سے کوئی چیز خارج ہوجاتی ہے تو اس کی کیفیت مادیّت کے برعکس ہوتی ہے، یعنی اس کی جگہ خالی نہیں ہوتی، بلکہ وہی چیز اصلاً وہاں پر بھی موجود ہوتی ہے، عقلِ کلّ کی مثال قلم سے اس لئے دی گئی ہے کہ قلم میں لکھنے کی صفات کا جو خزانہ ہے وہ خرچ ہوتے ہوئے بھی کم نہیں ہوتا۔ ایک دفعہ قلم سے جو کچھ لکھا جائے وہی اگر چاہیں تو ہزار
۲۷۲
بار بھی لکھا جا سکتا ہے، اس مثال سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ قرآنِ پاک نہ صرف اس ظاہری دنیا میں موجود ہے، بلکہ یہ کلمۂ کُنۡ، قلمِ الٰہی اور لوحِ محفوظ میں بھی ہے۔
قرآنِ حکیم کی امری کیفیت و حقیقت اور عقلی وجود کے بیان کے بعد اس کی روحانی تحریر کا ذکر آتا ہے، جو لوحِ محفوظ میں ہے، اور اس کے لئے سورۂ بروج (۸۵) کی ان دو پُرحکمت آیتوں کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ:
بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ۔ ۸۵: ۲۱۔ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۔ ۸۵: ۲۲۔
بلکہ وہ ایک باعظمت قرآن ہے جو لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
ظاہر ہے کہ قرآن لوحِ محفوظ میں روح اور روحانیّت کے طور پر درج ہے نہ کہ ظاہری اور مادّی تحریر میں، کیونکہ لوحِ محفوظ نفسِ کلّی ہے، چنانچہ اس مقام پر ہم قرآن کے اس روحانی وجود کو روحانی تحریر بھی کہہ سکتے ہیں، بہرحال یہ حقیقت تو واضح ہوگئی کہ قرآن روحانی طور پر لوحِ محفوظ میں ہمیشہ کے لئے موجود ہے، جبکہ لوحِ محفوظ کا مطلب کائناتی روح کا تختہ ہے، جس کے اندر نہ صرف قرآنِ مجید ہمیشہ کے لئے محفوظ ہے، بلکہ اس میں ہر چیز کی دائمی نگہداشت
۲۷۳
کی گئی ہے۔
اگر آپ کو اس امرِ واقعی کے بارے میں سوال ہو کہ کس طرح قرآنی آیات کائناتی روح میں مکتوب و محفوظ ہیں، تو سورہ نمبر ۴۱ کی آیت نمبر ۵۳ میں ذرا غور و فکر کیجئے، جس کا مفہوم و مطلب یہ ہے کہ اس وسیع کائنات میں بھی اور نفوسِ انسانی میں بھی اللہ تعالیٰ کی آیات پوشیدہ ہیں جن کو عوام الناس دیکھ نہیں سکتے، لیکن اس کے باوجود ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے، کہ اس میں خدا ان کو اپنی یہ نشانیاں دکھا دے گا، اس سے ثابت ہوا کہ کائنات کے ظاہر و باطن میں اور خود انسان کی ذات میں ربِّ کریم کی آیات (نشانیاں) درج ہیں، مگر خدائی تحریر انسانوں کی تحریر سے بالکل مختلف اور انتہائی اعلیٰ ہے، اور یہ بھی جاننا چاہئے کہ خداوند تعالیٰ کی تمام آیات، خواہ وہ آفاق میں ہوں یا انفس میں، قرآن ہیں، اگرچہ وہ آیات نشانیوں کے معنی میں ہوں یا زندہ معجزات کے معنی میں، جبکہ قرآن نشانۂ الٰہی بھی ہے اور معجزۂ قدرت بھی، یہ ایک واضح ثبوت ہے جو لوحِ محفوظ میں قرآنِ مجید کی روحانی تحریر کے بارے میں پیش کیا گیا۔
مزید برآن یہاں پر ایک عام فہم مثال بھی درج کی جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب ایک دانشور کوئی کتاب تصنیف کرتا ہے، تو وہ کتاب زمانۂ قدیم کی صورتِ حال کے مطابق بیک وقت کم سے کم چار
۲۷۴
مقامات پر موجود ہوتی ہے، یعنی دانشور کے دل و دماغ میں بھی، قلم میں بھی، دوات میں بھی اور کتاب کے صفحات پر بھی، ہر چند کہ کتاب کی شکل و صورت ان چاروں مراحل میں مختلف ہوتی ہے، چنانچہ کتاب مصنف کے دل و دماغ میں الگ الگ درجات کے افکار و خیالات کی حیثیت سے ہے، قلم میں حروف سے متعلق طرح طرح کی حرکات کی صورت میں ہے، دوات میں نقاطِ علم و حکمت کی وحدت کے طور پر ہے اور صفحات پر معین حروف کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے، سو اگر کوئی جلالی فرشتہ کتاب کی تکمیل سے پہلے یا اس کے بعد نورِ خداوندی کی روشنی میں دانشور کے ذہن و ضمیر پر نظر ڈالے تو اس کو فکری صورت میں وہی کتاب ملے گی جو خارجی طور پر معرضِ وجود میں آنے والی ہے یا وجود میں آچکی ہے، اسی طرح وہ قلم کی تمام حرکتوں کا بھی روحانی اور علمی مشاہدہ کر کے پوری کتاب کی باتیں بتا سکتا ہے، اور وہ خدا کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے سیاہی کے باطن سے بھی کتاب کی ساری تفصیلات پڑھ سکتا ہے، کہ کس طرح نقطۂ واحد نے۔۔۔۔ جو ہر بار دوات سے قلم کی نوک پر منتقل ہوتا رہا ۔۔۔۔۔ اپنے مختلف ظہورات کی بدولت سارے حروف کی تشکیل کی۔
مذکورۂ بالا چار صورتوں کے علاوہ دورِ جدید کی ایسی بہت سی
۲۷۵
حقیقتیں ہیں، جن کی مدد سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی کتاب نہ صرف ظاہری اور نمایان تحریر میں موجود ہو سکتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کی اور بھی بہت سی صورتیں ہیں، جن میں سے بعض میں وہ بولتی ہے اور بعض میں خاموش ہے، مثلاً گراموفون کو لیجئے جس میں ریکارڈ ہونے کے بعد آپ چاہیں تو کتاب بولتی ہے ورنہ خاموش رہتی ہے، اور اس میں ایک طرح سے محفوظ بھی ہے، ٹیلیفون، وائرلیس اور ریڈیو پر غور کیجئے کہ آیا یہ چیزیں ایک قسم کی کتاب کا کام دے سکتی ہیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ ٹیپ ریکارڈ بھی کتاب کا کام دیتا ہے، سینما اور ٹیلی وژن تو روحانیّت کی زندہ کتاب کی ایک بہترین مثال ہیں، مائیکروفلم اور فِش فلم خود ایک قسم کی خاموش کتاب ہیں، لیکن یہ سب چیزیں بڑی عجیب و غریب ہونے کے باوجود ظاہری، مادّی اور دنیاوی ہیں، اور یہ سب کچھ ایسے خام و ناتمام انسانوں کی کوششوں کی پیداوار ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے سامنے ہیچ ہیں، تو کیا پھر بھی ہم قلمِ قدرت اور لوحِ محفوظ کو مادّی اور انسان کی بنائی ہوئی چیزوں کی طرح عقل و جان کی صفاتِ عالیہ سے عاری سمجھیں؟ یا یہ کہ ہم قلم اور لوح کو دو عظیم فرشتے مانیں، جو عقلِ کلّی اور نفسِ کلّی اور محمدؐ و علیؑ کے نور ہیں؟ سو یہ حقیقت ہے کہ قلم نورِ محمدیؐ کا نام ہے اور
۲۷۶
لوحِ محفوظ نورِ علیؑ ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ قلم و لوح اور قرآن کی روح و روحانیّت کے متعلق علم الیقین حاصل کرنے کے لئے مذکورۂ بالا مادّی مثالوں سے بہت کچھ مدد مل سکتی ہے، لیکن یہاں یہ نکتہ بھی خوب یاد رہے کہ عقل و روح کی حقیقت اور مادّہ کی کیفیت کے درمیان آسمان زمین کا فرق پایا جاتا ہے، تاہم ظاہر سے باطن میں جانے کے لئے اور ادنیٰ کی مثال سے اعلیٰ کی حقیقت سمجھنے کے لئے یہی ایک راستہ ہے، تاکہ ہم قرآن کی روحانیّت و نورانیّت کی شناخت کے سلسلے میں علم الیقین سے عین الیقین کی طرف قدم بڑھا سکیں، جہاں پر کل حقیقتوں کا براہِ راست مشاہدہ ہوتا ہے، اور اسی طرح تمام عقلی اور روحانی چیزوں کو یقین کی آنکھ سے دیکھنے اور پہچاننے کا نام معرفت ہے، جس میں قرآن کے تمام درجات بھی شامل ہے، لیکن بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف خدا ہی کی پہچان معرفت ہے، اگر یہ بات مان لی جائے تو اس کے معنی یوں ہوں گے کہ ازل، ابد، لامکان، مکان، لازمان، زمان، قلم، لوح، روح، جنت، دوزخ اور کائنات و موجودات کی بقا و فنا کا مشاہدہ اور پہچان خدا کے دیدار اور معرفت سے زیادہ مشکل ہے، حالانکہ یہ تصوّر درست نہیں، اور
۲۷۷
درست یہی ہے جیسا کہ بتایا گیا کہ تمام معقولات کو عینِ یقین سے دیکھنے اور پہچاننے کا نام معرفت ہے۔
سورۂ زخرف کی آیت نمبر ۳ و نمبر ۴ کا ارشاد ہے کہ:
اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (۴۳: ۰۳)۔ وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌ ۔ (۴۳: ۰۴)۔
ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ (اے عرب) تم (آسانی سے) سمجھ لو اور وہ ہمارے پاس ام الکتاب میں بڑا عالیقدر اور حکمت والا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ قرآن جہاں ام الکتاب میں خدا کے حضور میں ہے وہاں اس سے بھی زیادہ عالی شان اور پُرحکمت ہے، یعنی کہ وہ روحانی تحریر اور خدائی زبان میں ہے جو حکمتی زبان ہے، بالفاظِ دیگر وہ زندہ اور گویندہ ہے، اور قرآن جس سرزمین میں نازل ہوا وہاں عربی زبان میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا پہلے سے یہی قانون رہا ہے کہ اُس نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا ہے (۱۴: ۰۴) چنانچہ ظاہری اعتبار سے زمانۂ رسول کے عرب مسلمانوں کو مسلم قوم کی مرکز کی حیثیت حاصل ہے اور تمام مسلمان ایک ہی قوم ہیں اور ان کی قومی اور ملی لسان عربی ہے۔
حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ ام الکتاب ظاہر میں سورۂ فاتحہ کا نام ہے اور باطن میں ام الکتاب علیؑ ہیں، اور
۲۷۸
یہ دونوں حقیقتیں اپنی اپنی جگہ پر بجا اور صحیح و درست ہیں، لیکن یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ سورۂ الحمد کے احاطے میں جس قدر الفاظ سموئے ہیں وہ سب کے سب صرف اسی سورہ کے لئے ہیں اور باقی قرآن کا حصہ اس کے بعد سینکڑوں صفحات پر پھیلا ہوا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم سورۂ فاتحہ میں تمام قرآن سمو جانے کا تصوّر کریں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح کسی درخت کے پھل کی گٹھلی میں مغز ہوتا ہے اور مغز میں ایک عظیم درخت پیدا کر دینے کی صلاحیت پنہان ہوتی ہے، اسی طرح ام الکتاب (سورۂ فاتحہ) میں معنوی طور پر پورا قرآن پوشیدہ ہے۔
نیز جس طرح سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۶۱ (۰۲: ۲۶۱) کی مثال ہے کہ ایک ہی دانۂ گندم سے سات خوشے اور ہر خوشہ میں سو دانے پیدا ہوتے ہیں، اور اس حساب سے ایک ہی فصل میں ایک کے سات سو دانے بنتے ہیں، اور نتیجے کے طور پر اس میں اتنے اضافے کی گنجائش ہے کہ دنیا بھر کی کاشت کے لئے بیج کافی ہو جائیں، مگر اس کے لئے وقت چاہئے، اسی طرح لیکن کسی تاخیر کے بغیر ام الکتاب کے معنی میں ایک ساتھ تمام قرآن کے معانی سموئے ہوئے ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ سورۂ فاتحہ کے الفاظ اور مطالب اتنے جامع اور
۲۷۹
ایسے ہمہ گیر ہیں کہ اس میں قرآن کی ساری حقیقتیں اور حکمتیں سموئی ہوئی ہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت و عادت ہے کہ وہ اپنے کمالِ قدرت سے ایک پوری کائنات کو ایک انتہائی چھوٹی سی چیز میں سمو دیتا ہے، اور پھر چھوٹی سی چیز کو عالم کی بے پناہ وسعتوں کے برابر پھیلا دیتا ہے، جیسا کہ وہ ہمیشہ سے “کُنۡ” کے ایک ہی کلمے سے پوری کائنات کو پیدا کرتا ہے اور پھر تمام کائنات و موجودات کو ایک لطیف گوہر بنا کر اسی کلمۂ کن میں سمو دیتا ہے (۰۶: ۷۳)۔
یہاں تک اس موضوع کے سلسلے میں جو حقائق و معارف بیان ہوئے، ان سے صاف صاف ظاہر ہے کہ کلامِ الٰہی لامحدود ہے، اور اس کے کئی سرچشمے ہیں، چنانچہ قرآن کی امری کیفیت کلمۂ “کُنۡ” میں ہے، اس کی نورانی صورت اور عقلی وجود قلمِ الٰہی میں ہے، وہ روحانی طور پر لوحِ محفوظ میں ہے، جو نفسِ کلّی ہے، اس کا معنوی مغز ام الکتاب میں ہے اور قرآن اپنی تنزیلی شکل میں جیسا کہ ہونا چاہئے دنیا میں ظاہر ہے، اور یہ راز سوائے اہلِ حقیقت کے اور کوئی نہیں جانتا کہ امامِ مقیم حضرت مولانا ابو طالب علیہ السّلام نے آنحضورؐ کو اسمِ اعظم کی تعلیم دی تھی اور اسی ذریعے سے آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کا خصوصی ذکر کر لیا کرتے تھے، جس کے نتیجے میں آپ
۲۸۰
پر قرآن نازل ہوا جو شروع شروع میں قلم، لوح، اسرافیل، میکائیل اور جبرائیل کے توسط سے تھا۔
ہم اوپر بتا چکے ہیں کہ ظاہر میں سورۂ فاتحہ ام الکتاب ہے اور باطن میں مولانا مرتضیٰ علی علیہ السّلام ام الکتاب ہیں، کیونکہ امامِ مبین بھی اور لوحِ محفوظ بھی وہی ہیں، جبکہ نورِ نبوّت عقلِ کلّی ہے اور نورِ امامت نفسِ کلّی، اور جبکہ نورِ محمد عرشِ عظیم ہے اور نورِ علی کرسئ قدیم، پس معلوم ہوا کہ پروردگارِ عالم نے نورِ محمدی کے قلم سے نورِ علیؑ کی لوحِ محفوظ پر قرآنِ مجید ثبت کر دیا ہے، پھر قرآن بتدریج تنزیل و تاویل کی صورت میں آنحضرتؐ کی شخصیت پر نازل ہوا اور آنحضرتؐ نے اسمِ اعظم کی تعلیم کے ذریعے سے قرآن کی روح اور روحانیّت یعنی عملی تاویل کی حکمتوں کو اپنے برحق جانشین مولا علیؑ کے سپرد کر دی، اور یہ امرِ عظیم سلسلۂ امامت میں نسلاً بعد نسل جاری و باقی رہا، یعنی ہر امام نے اپنے جانشین امام کو اسمِ اعظم کے توسط سے قرآن کی روح (نور) روحانیّت، نورانیّت اور عملی تاویل سونپ دی، یہ سنت نہ صرف حضورِ انورؐ اور آپؐ کے جانشین أئمّۂ اطہار کی ہے، بلکہ اس سے پہلے حضرت ابراہیمؑ نے بھی اسی سنت کے مطابق عمل کیا تھا، چنانچہ
۲۸۱
ارشاد ہے:
وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ ۴۳: ۲۸۔
اور ابراہیم نے اُس (روحانیّت و نورانیّت) کو اپنی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ (یعنی اسمِ اعظم) قرار دیا تا کہ لوگ (اسمِ اعظم کی وجہ سے) رجوع کرتے رہیں، یہی قانون خدا تعالیٰ کی سنت ہے جو تمام پیغمبروں کے لئے مقرر ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ:
اور جبکہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء سے کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آوے جو تصدیق کرنے والا ہو گا اس کا جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اُس رسول پر باور کرنا اور اس کی مدد کرنا فرمایا کہ آیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا وہ بولے ہم نے اقرار کیا ارشاد فرمایا پھر تم گواہ رہنا اور میں اس پر تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں ۔ ۰۳: ۸۱۔
اس ارشادِ مبارک سے ایک طرف تو اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ دورِ نبوّت میں انبیاء علیہم السّلام کا سلسلہ کلّی طور پر پیوستہ اور کسی انقطاع کے بغیر چلے آیا تھا اور دوسری طرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے بعد کے پیغمبر پر نہ صرف باور کیا بلکہ اسمِ اعظم کی تعلیم دے کر ہر طرح سے اس کی مدد بھی کی، اور اسی مقصد کے لئے خداوند تعالیٰ
۲۸۲
نے انبیاء علیہم السّلام سے عہد لیا تھا۔
پیغمبروں کو اسی اسمِ اعظم کے وسیلے سے نور و نورانیّت اور کتاب و حکمت حاصل ہوئی تھی، کیونکہ خدائے بزرگ و برتر اپنے اچھے اچھے ناموں کے وسیلے سے سنتا ہے اور عقل و روح کی تمام برکتیں اللہ تعالیٰ کے اسمِ اعظم میں پوشیدہ ہیں، جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ:
تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۔ ۵۵: ۷۸۔
بڑا بابرکت نام ہے آپ کے پروردگار کا جو جلالت والا اور کرامت والا ہے۔ جاننا چاہئے کہ یہاں ربّ کے نام سے اسمِ اعظم مراد ہے، اور اس کے بابرکت ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ تمام ظاہری و باطنی برکتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہیں اسمِ اعظم کے خزانوں سے ملا کرتی ہیں، اور انہی برکتوں میں حقیقی مومنین کے لئے آسمانی کتاب کا علم و حکمت بھی ہے، جس کے معنی ہیں قرآن کی پاک روح اور روحانیّت، یعنی عملی تاویل، چنانچہ سورۂ قمر (۵۴) کی آیت نمبر ۱۷، ۲۲، ۳۲ اور ۴۰ (۵۴: ۱۷، ۵۴: ۲۲، ۵۴: ۳۲، ۵۴: ۴۰) میں اللہ تعالیٰ کا تاکیدی فرمان ہے کہ: وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۔ اور ہم نے قرآن کو ذکر و نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے سو کوئی یاد کرنے ولا ہے۔ قرآن کو ذکر و نصیحت
۲۸۳
کے لئے آسان بنا دینا یہ ہے کہ وہ مختصر سے مختصر ہوکر اسمِ اعظم میں سمویا ہوا ہے تاکہ حقیقی مومنین بآسانی اس کا ذکر کر لیا کریں، اور نتیجے کے طور پر اس کی روحانیّت سے قرآن کی زندہ اور منہ بولتی حقیقتیں سامنے آئیں اور یہی قرآن کی حکمت اور عملی تاویل ہے۔
حق تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو جو علمِ اسماء عطا کیا تھا، وہ دراصل اسمِ اعظم کے نتائج و ثمرات کی شکل میں تھا، اور آدم علیہ السّلام نے ناموں کے متعلق فرشتوں کو جو آگہی دی تھی وہ بھی کوئی ظاہری تعلیم نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے بزرگ ہی کی تعلیم تھی، جو حضرت آدمؑ کی آسمانی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔
دورِ نبوّت میں زمانے کا پیغمبر ہی خدا تعالیٰ کے نورانی اسمِ اعظم کی حیثیت سے ہوتا ہے، اور دورِ امامت میں امام وقتؑ یہی مرتبہ رکھتا ہے، اور حضراتِ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام میں سے ہر ایک اپنے وقت کے بعض حقیقی مومنوں کو کوئی لفظی اسمِ اعظم عطا کر دیتا ہے، اور اس سلسلے میں جب ایسے مومنین کی ترقی اور کامیابی ہوتی ہے تو انہیں روحانیّت کے مختلف ذرائع سے قرآنی علم و حکمت کا فیضان حاصل ہونے لگتا ہے، بزرگارنِ دین نے حقائق و معارف کے جو موتی بکھیر دئے ہیں، وہ اسی اسمِ اعظم کی بدولت ہیں۔
۲۸۴
اسمِ اعظم خدا و رسول اور امامِ زمانؑ کا نور ہے، یہی نور قرآن کی روح اور روشنی ہے، یہی روح نورِ ہدایت اور نورِ ایمان ہے، یہی مومنین کا نور ہے، اور یہی سراجِ منیر (یعنی روشن چراغ) ہے، اسی سے اہلِ ایمان کی دنیائے دل روشن ہو جاتی ہے اور یہی نور کائنات کی بلندی و پستی کی روشنی ہے۔
جب اللہ تعالیٰ کے اسمِ بزرگ کی خصوصی عبادت و ریاضت میں کوئی بندۂ مومن اعلیٰ درجے پر کامیابی حاصل کرتا ہے، تو اس کے لئے رحمتِ خداوندی کے ابواب کشادہ ہو جاتے ہیں، مومن سے روح اور روحانیین کی مخاطبت ہوتی ہے ایک ایسی بے مثال کائنات جو روحانیّت اور نورانیت سے معمور ہے، جس کا ہر ذرہ اپنی ہزارگونہ جلوہ نمائی اور بے پناہ ضوفشانی سے دیدۂ دل کو خیرہ کر دیتی ہے، وہ شب و روز مومن کے سامنے رہتی ہے، وہ اس ظاہری اور مادّی دنیا کے برعکس ہے، کیونکہ اس کے چار عناصر عقل و جان اور تنزیل و تاویل کے ہیں، وہ ایک ایسی دنیا ہے جس کی ہر چیز ایک بولتی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے، کیوں نہ ہو جبکہ وہ عالمِ روحانیّت اور اسمِ اعظم کی نورانیّت ہے، اور جبکہ وہ قرآنی علم و حکمت کی جنت ہے۔
انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کے نقشِ قدم پر مومن کی روحانی ترقی،
۲۸۵
جو اسمِ اعظم کے وسیلے سے ہوسکتی ہے، اس موضوع کی تفصیلات کے مطابق ہے جو بیان کی گئیں، لیکن میں نہیں کہہ سکتا ہوں کہ مجھ سے قرآنِ مقدّس اور اسمِ اعظم جیسی دو عظیم الشّان حقیقتوں کا حقِ تعریف و توصیف ادا ہو سکا۔
۲۸۶
ہمہ اوست
از دیوانِ شیخ فرید الدین عطار
۱۔ ہر چہ ہست اوست و ہر چہ اوست توی + او توی و تو اوست نیست دوی
ترجمہ: (وجود و ہستی میں) جو کچھ ہے وہ ہے اور جو کچھ وہ ہے تو ہے، پس وہ تو ہے اور تو وہ ہے کوئی دوئی نہیں۔
شرح: حضرت شیخ فرید الدین عطار علیہ رحمۃ فرماتے ہیں کہ اے طالبِ حقیقت! تیرا حقیقی معشوق عرصۂ امکان کی ہست و بود کا سب کچھ ہے اور جس طرح بحدِّ فعل وہ سب کچھ ہے اسی طرح بحدِّ قوّت تو سب کچھ ہے، کیونکہ کل جزو پر حاوی اور محیط ہے اور جزو کلّ میں شامل اور داخل ہے جب ان معنوں میں وہ تو ہے اور تو وہ ہے، تو پھر جاننا چاہئے کہ اس کے اور تیرے درمیان بحقیقت کوئی دوئی نہیں۔
۲۔ در حقیقت چو اوست جملہ تو ہیچ + تو مجازی دو بینی و شنوی
ترجمہ: جب حقیقت میں وہ سب کچھ ہے، تو تو کچھ بھی نہیں ، تو مجازی طور پر دو (۲) دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔
۲۸۷
شرح: جب حقیقت و اصلیت میں یہ مانا گیا کہ ھوالکل (یعنی ہمہ اوست ، وہ سب کچھ ہے) کا نظریہ برحق ہے تو پھر حقیقتاً تو اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں، ہاں اگر تو اس کے ساتھ ایک ہو سکتا ہے، تو یہی صفت تیری بھی ہے، اور جس طرح تو خود کو اور مطلوبِ روحانی کو دو (۲) دیکھتا ہے یہ تو تیرا ظاہری اور مجازی مشاہدہ ہے۔
۳۔ کی رسی در وصالِ خود ہرگز +کہ تو پیوستہ در فراقِ خودی
ترجمہ: تو اپنے دیدار تک کب پہنچے گا! ہرگز نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ تو ہمیشہ اپنی جدائی میں گرفتار ہے۔
شرح: عطار فرماتے ہیں کہ تیرا حقیقی وجود یہ تو نہیں جو تو اس وقت رکھتا ہے بلکہ وہ محبوب خود ہی تیری اصلی خودی اور تیری ازلی روح ہے جس کا وصال تیرے لئے بہت ہی ضروری ہے۔ تجھ سے اس کی یہ جدائی دراصل تجھ کو اپنے آپ کی جدائی ہے، تو اپنے روحانی دیدار تک نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ تو مجاہدۂ نفس سے گریز کر کے اپنی اصلیت سے دور ہو جاتا ہے اور اپنی حقیقی روح کی جدائی میں مبتلا رہتا ہے۔
۴۔ زاں خبر نیست از تویِّ خودت +کہ تو تافوقِ عرش تو بتوی
۲۸۸
ترجمہ: تجھے اپنی خودی اور انا کی خبر اس لئے نہیں، کہ تو (زمین سے لے کر) عرشِ عظیم کے اوپر تک تہ بتہ اور پیچ در پیچ ہے۔
شرح: فرمایا جاتا ہے کہ تجھے اپنی خودی و ہستی سے واقفیت و آگہی اس لئے نہ ہو سکی ہے کہ تیرے کلی وجود کے اجزاء زمین سے لے کر بالائے عرشِ عظیم تک اس طرح درہم برہم اور پیچ در پیچ ہیں کہ ان کی حقیقت و اصلیت کا جاننا تیرے لئے بہت مشکل ہو گیا ہے۔
۵۔ تا وجودِ تو کلِّ کل نشود +جزو و با شی بکل کجا گروی
ترجمہ: جب تک تیرا وجود (فنا ہوکر) کُل کی حقیقت نہ بنے، تب تک تو جزو ہی رہے گا (اور) کُل تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔
شرح: عطار صاحب اس مقام پر ” اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ ” (۰۲: ۱۵۶) کی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب تک تو معاد سے مکمل رجوع ہوکر اپنے وجود کے قطرے کو وجودِ کل کے سمندر میں نہیں ملا دیتا تب تک تو قطرہ اور جزو ہی رہے گا اور کُل تک کیسے اور کہاں پہنچے گا۔
۶۔ نقطہ ای از تو بر تو ظاہر گشت +تو بدان نقطہ دائماً گروی
۲۸۹
ترجمہ: تجھ پر تیری ہستی میں سے صرف ایک نقطہ ظاہر ہوا ہے، اور تو ہمیشہ اسی نقطے کی طرف متوجہ رہا ہے۔
شرح: تیرے وجودِ کلی میں سے فی الحال تجھ پر صرف ایک نقطہ ظاہر ہو چکا ہے یعنی تو جس طرح کُل ہے اس کا تجھے کوئی علم نہیں، صرف اتنا ہے کہ تو اپنی ظاہری شخصیت ہی کو جانتا ہے یہ تو تیرے عظیم وجود کا ایک چھوٹا سا نقطہ ہے، افسوس ہے کہ صرف اسی جزوی ہستی کے نقطے سے تیرا رجوع ہے۔
۷۔ نقطۂ تو اگر بدائرہ رفت +رو کہ کونین را تو پیش روی
ترجمہ: اگر تیرا نقطہ دائرے میں داخل ہوگیا تو چلے جا کہ تو (اب) دونوں جہان کا پیشوا اور مقتدا ہے۔
شرح: اگر کوئی خوش نصیب انسان روحانی اور عرفانی طور پر اپنے نقطۂ وجود کو وجود کے دائرۂ کلّی کے مرکز پر پہنچا دیتا ہے۔ تو ایسے عارفِ ربّانی سے کہا جائے گا کہ جا مبارک ہو اب تو کونین کا پیشوا بن گیا۔
۸۔ ور درین نقطہ باز ماندی تو +اینت سجینِ صعب و ضیقِ قوی
ترجمہ: اور اگر تو اسی نقطے میں رہ گیا، تو یہی تیرا سخت اور
۲۹۰
بہت ہی تنگ دوزخ ہے۔
شرح: فرماتے ہیں کہ اگر تجھے بقایِ کلّی کی معرفت حاصل نہ ہو اور صرف اپنی ظاہریت ہی کے نقطے میں محدود رہا تو بس یہی حال تیرے لئے سخت اور انتہائی تنگ جہنم ہے۔
۹۔ چون تو در نقطہ کشتہ باشی تخم +نہ ہمانا کہ دائرہ در وی
ترجمہ: جب تو نقطہ (جتنی جگہ) میں کوئی بیج بوتا ہے تو کیا ایسا نہیں ہے کہ تو دائرہ بھر فصل کاٹتا ہے۔
شرح: نقطہ سے دائرہ کس طرح بنتا ہے وہ پرکار کی مثال سے ظاہر ہے کہ پرکار نقطۂ مرکز پر قائم ہو کر دائرہ بناتا ہے اسی طرح نقطہ بھر جگہ میں بیج بوکر ایک دائرہ جتنی فصل حاصل کی جاتی ہے، چنانچہ اگر نقطۂ خودی کی معرفت حاصل ہونے سے دائرۂ امکان کی ابدی سلطنت مل جاتی ہے تو اس میں کیا تعجب ہے۔
۱۰۔ نتوان رست از چنین ضیقی +جز بخورشیدِ نورِ مصطفوی
ترجمہ: ایسے تنگ مقام سے چھٹکارا نہیں مل سکتا، نورِ محمدی کے سورج کے بغیر۔
شرح: بیج خواہ درخت کا ہو یا کسی فصل کا جب زمین میں بو دیا جاتا
۲۹۱
ہے، تو وہ زمین کے اندر نقطہ بھر تنگ و تاریک جگہ میں مقید و محبوس رہتا ہے، اور اسے ہمہ وقت سورج کی حرارت و روشنی کی سخت ضرورت پڑتی ہے تاکہ وہ بیج تنگئ زمین سے نکل کر پروان چڑھے، اور پھلے پھولے، بالکل اسی طرح جزوی ہستی کے نقطے کی تنگی سے کسی فردِ بشر کو نجات نہیں مل سکتی ہے مگر اس وقت جبکہ اس کے دل و دماغ پر نورِ محمدیؐ کا سورج ضوفشانی کرنے لگتا ہے پھر ایسے سعادت مند انسان کی روحانی و علمی بالیدگی شروع ہو جاتی ہے۔
۱۱۔ کرد عطار در علو پرواز +تا بدو تافت اخترِ نبوی
ترجمہ: عطار نے بلندی کی طرف پرواز کیا، جبکہ پیغمبر (صلعم) کے ستارے نے اس پر روشنی ڈالی۔
شرح: جب اندھیری رات میں کسی مسافر کے آگے آگے کوئی روشن مشعل چلتا رہتا ہے، تو اس کا مقصد و منشاء یہ ہوتا ہے کہ مسافر اس کے پیچھے پیچھے چلا جائے، اسی طرح جب سرورِ انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ستارۂ عزت و رفعت نے عطار کے باطن پر ضوفشانی کی تو عطار روحانیّت کی فضاؤں میں پرواز کر گیا۔
۲۹۲