معراجِ روح

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ابتدائیہ

“معراج” کی اہمیّت:

چونکہ “معراج” حضرت محمد مصطفیٰ رسولِ خدا سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عالیشان روحانیّت و نورانیّت اور اللہ تعالیٰ سے قربت و نزدیکی کو ظاہر کرتی ہے، لہٰذا دینِ اسلام میں اس سلسلے کے حقائق و معارف جاننے کی بڑ ی اہمیّت و ضرورت ہے، کیوں نہ ہو، جبکہ حضورِ اکرمؐ  کی پاک و پاکیزہ اور بابرکت روحانیّت ایسی کامل ومکمل اور جامع معرفت ہے کہ اسی معرفتِ کلی میں کون و مکان کی تمام حقیقتیں اور معرفتیں داخل اور شامل ہیں اور جبکہ یہی معرفت دینِ حق کا سب سے بڑا سرمایہ اورانمول خزانہ ہے، یعنی یہ وہی گنجِ مخفی ہے، جس کا پُرحکمت ذکر حدیثِ قدسی میں فرمایا گیا ہے ۔

 

۲

 

معراج قربِ خداوندی :

جو حضرات قرآنی حکمتوں کی روشنی میں ہر چیز کی تحقیق کر سکتے ہیں، وہ اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ معراج کا مقصد و منشا خدا تعالیٰ سے روحانی طور پر قریب ہو جانا ہے اور یہ فضل و شرف درجہ بدرجہ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کو حاصل ہے، اور ظاہر ہے کہ روحانیّت، معرفت اور خدا کی نزدیکی کئی درجات میں ہے، لہٰذا معراج بھی روحانیّت و نورانیّت کے کئی مقامات پر محیط ہے، چنانچہ ہر کامل انسان کا روحانی عروج و ارتقاء اپنی منزلت کی ایک معراج ہے۔

 

حکمتِ قرآن کی ایک خصوصیت:

یہ بات قرآنی حکمت کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ ایک ہی حقیقت کو طرح طرح کی مثالوں میں اور قسم قسم کے الفاظ میں بیان کرتا ہے، جیسے اگر حضرت موسیٰؑ کو کلیم اللہ (خدا سے کلام کرنے والا ) کہا گیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہو سکتا کہ خداوندِ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا مرتبہ صرف اور صرف جناب موسیٰؑ کی ذات تک محدود تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسی طرح دوسرے کئی انبیائے عظامؑ  کی بھی تعریف کی گئی ہے، مگر جیسا کہ کہا گیا ظاہری طور پر مثالوں اور لفظوں میں فرق ہونے کی وجہ سے عوام اس مطلب کو نہیں سمجھتے ہیں۔

 

۳

 

اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ اگرچہ معراج بدرجۂ اتم رحمتِ عالم فخرِ نبی آدم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو حاصل ہے، تاہم معراج ذیلی درجات میں بحیثیتِ روحانیّت تمام انبیاء و اولیاء کو بھی شامل کرلیتی ہے، بلکہ ان کے پیچھے پیچھے یہ فضیلت ہر اس حقیقی مومن کے لیے بھی ممکن ہے، جو حضورِ اکرمؐ کی سیرتِ طیبہ اور اسوۂ حسنہ کے مطابق دین پر عمل کرتا ہے، آپ اس حقیقت کی شہادت کو قرآن کی (۳۳: ۲۱) میں دیکھ سکتے ہیں۔

 

معراج اور معرفت:

اگر یہ اصول مانا جائے کہ معراج دائرہ معرفت کے اندر ہے اور یہ بھی قبول ہو کہ معرفت یعنی پہچان روحانیّت کے مشاہدات میں ہے، تو پھر اس کے معنی یوں ہوں گے کہ معراج کے تمام تر واقعات اہلِ معرفت کے روحانی مشاہدات میں سے ہیں ۔

 

اللہ تعالیٰ کی سنت:

اللہ پاک کی سنت و عادت یعنی قانونِ الہٰی ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے (۳۳: ۶۲) اور اس میں بنیادی طور پر کبھی تبدیلی نہیں آئی ہے (۳۳: ۶۲) اور خدا سے واصل ہو جانے کا راستہ بھی صرف ایک ہی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دینِ اسلام قدیم ہے اور اس کی کوئی چیز اساسی طور پر نئی نہیں، چنانچہ معراج انبیائے سلف کے روحانی واقعات میں پوشیدہ

 

۴

 

تھی، اور حضرت خاتم الانبیاءؐ پر آکر پوری طرح سے اس کا روحانی ظہور ہوا  اس کے یہ معنی ہوئے کہ انبیائے قرآن کے تذکروں سے بھی واقعۂ معراج کی وضاحت ہوسکتی ہے، چنانچہ قرآنِ مقدس کا ارشاد ہے کہ:

وقال اِنّی ذاھِبٌ اِلیٰ ربّی سیھدینِ (۳۷: ۹۹)

اور ابراہیم کہنے لگے کہ میں تو اپنے ربّ کی طرف چلا جاتا ہوں وہ مجھ کو ہدایت کردے گا۔ اس آیۂ کریمہ کی حکمت سے یہ حقیقت صاف صاف روشن ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کا اپنے پروردگار کی طرف چلا جانا روحانی اعتبار سے درست ہے جسمانی لحاظ سے نہیں، اسی روحانی سفر کو ہم ابراہیم خلیل اللہ کی “معراجِ روح” قرار دے سکتے ہیں، اور یہیں سے آنحضورؐ کے سفرِ روحانیّت اور معراجِ نورانیّت کا ایک روشن ثبوت بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔

اسماعیلیّت کی روشنی میں:

حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کے مبارک ارشادات کا ایک خاص حصّہ روح اور روحانیّت کی حقیقتوں کے بارے میں ہے، جس کے بغور مطالعے سے مومنین پر یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ معراج روحانی طور پر پیش آئی ہے، حکیم پیر ناصر خسرو قدس سِرہٗ کی شہرۂ آفاق کتاب ــ “وجہِ دین” میں بھی اس امر واقعی کے کئی واضح اشارے ملتے ہیں، خصوصاً کلام نمبر ۱۵ کی فصل نمبر ۴ میں فرمایا گیا ہے کہ رسولِ اکرمؐ روحانی معراج

 

۵

 

کے سلسلے میں نفسِ کلّ کے آسمان پر تشریف لے گئے تھے۔

 

تصوّف کی روشنی میں:

صوفیوں کے نزدیک بھی یہ تصوردرست اور حقیقت ہے کہ رسولِ خداؐ کو واقعۂ معراج کشفِ باطن اور عروجِ روحانیّت کے سلسلے میں پیش آیا ہے، چنانچہ سرمدؔ کہتے ہیں:۔

آن راکہ سِرِ حقیقتش باورشد

خود پہن تر از سپہر پہناورشد

ملا گوید کہ برشد احمدؐ بفلک

سرمدؔ  گوید فلک بہ احمدؐ درشد

ترجمہ :۔ جس کو اپنی حقیقت (یعنی انائیّت و خودی یا ذات کی معرفت ) کے بھید کا یقین آگیا تو وہ خود (باطن میں ) اس وسیع کائنات سے بھی زیادہ وسیع ہوگیا، مُلّا کہتا ہے کہ احمدؐ (معراج کی رات ) جسمانیّت میں آسمان پر گئے، لیکن سرمدؔ کا کہنا ہے کہ فلک (روحانی طور پر ) احمدؐ میں داخل اور شامل ہوگیا۔

 

یہ کتابچہ:

جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ کتابچہ تین مقالوں کا مجموعہ ہے (الف) معراجِ روج (ب) روح اور روحانیّت (ج) نور کی کیفیت و حقیقت،

 

۶

 

ہر چند کہ یہ مقالے مربوط کتابی منصوبے کے بغیر مختلف موقعوں پر الگ الگ لکھے گئے تھے، اس لئے ان کے آپس میں نمایاں طور پر ربط و تعلق نہیں ہے، لیکن اس کے باؤجود ذرا غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ ان تینوں مقالوں کا ایک ہی موضوع ہے اور وہ روحانیّت ہے، چنانچہ ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ان میں معنویّت و حقیقت کے اعتبار سے مکمل ربط و رشتہ موجود ہے اور یہ ایک دوسرے کی تفسیر وتشریح کرتے ہیں۔

 

خانۂ حکمت اورعارف:

“خانۂ حکمت” اور “عارف” ہمارے عزیزوں کے دوعلمی ادارے ہیں، اور اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو یہ دو نہیں بلکہ ایک ہی جمعیّت ہے، پس زہے سعادت اور زہے مسرّت و شادمانی! کہ ہمارے عزیزان جذبۂ خدمت اور اتفاق واتحاد کی روح میں ایک ہوکر فردِ واحد کی طرح کام کررہے ہیں، وہ اس راز کو بخوبی جانتے ہیں کہ دینی خدمت کی شیرینی اور خوشی یکدلی اور یک جہتی کے بغیر حاصل نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے سوا خدا کی خوشنودی ممکن ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں اداروں کے معزز اراکین کی یہ دینی اور روحانی اخوت و یگانگت رحمتِ خداوندی کی ایک صورت ہے، پس شکر ہے پروردگارِ عالم کی اس عظیم نعمت کا کہ اس قادرِ مطلق نے اپنی خصوصی رحمت سے ہمارے عزیزوں پر نوازشوں کی بارش برسادی ہے، جس کی بدولت وہ خود نمائی اور خود غرضی

 

۷

 

جیسی آلائشوں سے پاک و پاکیزہ ہو چکے ہیں۔

 

قرآنِ حکیم کا ایک مفہوم یہ ہے کہ حقیقی مومنین خدا کی نظر میں صدیقوں اورشہیدوں کی طرح ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ دین و دنیا میں اجر اور نور عطا کرتا ہے (۵۷: ۱۹) اس مطلب کی وضاحت یہ ہے کہ شہید دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو دین کی حفاظت و سلامتی اور سربلندی و ترقی کی خاطر اپنی جانِ عزیز کو بیدریغ قربان کردیتا ہے،  دوسرا وہ جو بالکل یہی جذبہ رکھتا ہے مگر مذہب اس کی جانی قربانی کا تقاضا نہیں کرتا، لہٰذا وہ دوسری عظیم قربانیوں سے دینی مقاصد کی تکمیل میں مصروف رہتا ہے، اس بیان سے ہمارے عزیزوں کی علمی خدمت کی فضیلت ظاہر ہے۔

 

پروردگارا! تو اپنی رحمتِ بے نہایت سے جملہ جماعت کو دین و دنیا کی عافیت و سلامتی عطا فرما! تومومنین کی ہر مشکل آسان کردے! ان کو تمام نیک کوششوں میں کامیابی نصیب ہو!

 

یا خداوندِ برحق! تیری بے پناہ رحمت سے بعید نہیں کہ تو ہمارے عزیزوں پر اور زیادہ مہربان ہوجائے، ان کی جان، اولاد، مال اور کسب میں طرح طرح کی برکتیں پیداکرے، ان کے علم میں اضافہ اور عبادت میں ترقی ہو، ان کو عالی ہمتی اور اولوالعزمی کا درجہ ملے، اور یہ دنیا و آخرت کی رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال ہو جائیں۔

 

فقط علمی خادم

نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی

جمعہ    ۳ شعبان   ۱۳۹۹ھ

۲۹ جون   ۱۹۷۹  ء

 

۸

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

معراجِ روح

 

معراج کے لغوی معنی ہیں آلۂ عروج (اوپر چڑھنے کا آلہ) یعنی سیڑھی اور زینہ، اور اصطلاحاً اس کے معنی ہیں آنحضرت صلعم کی معراج جو آپؐ  کو بقولے نبوّت کے بارہویں سال میں ہوئی تھی، جس میں حضور اکرمؐ روحِ کلّی کے آسمان پر تشریف لے گئے تھے۔

 

اس عظیم واقعہ کے متعلق دو قسم کے نظریئے قائم کئے گئے ہیں، یعنی علمائے دین کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ خاتم انبیاء صلعم کی معراج جسمانی طور پر ہوئی تھی، اور آپؐ اپنے جسمِ اطہر کے ساتھ اس جسمانی اور ظاہری آسمان پر تشریف لے گئے تھے، دوسرے گروہ کا عقیدہ ہے کہ آنحضرتؐ کی یہ معراج جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھی، اور اس بارے میں میرا ذاتی عقیدہ بھی یہی ہے، لہٰذا ذیل میں معراجِ روح کی بابت چند روشن دلائل و براہین درج کئے جاتے ہیں:

 

دلیل ۱:  آپ سورۂ معارج (۷۰) کے شروع کی چار آیتوں کا بغور مطالعہ کریں (۷۰: ۰۱ تا ۰۴) ، آپ ان آیات کی روشنی میں اس متعلقہ حقیقت کا بخوبی مشاہدہ

 

۹

 

کریں گے کہ خدائے بزرگ و برتر جو سیڑھیوں (یعنی درجات ) کا مالک ہے، اس کے حضور کی بلندی کی طرف صرف فرشتے اور روحیں چڑھتی ہیں، ان آیتوں میں ایک طرف لفظ معراج کی جمع معارج کا ذکر کیا گیا ہے اور دوسری طرف یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ان معراجوں یعنی روحانیّت کے درجات پر سے صرف فرشتے اور روحیں چڑھ سکتی ہیں۔

 

دلیل ۲ : سورۂ سجدہ (۳۲) آیت ۵ میں ارشا د ہے (۳۲: ۰۵)، کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین کی طرف امر (روح ) کی تدبیر کرتا ہے پھر ہرامر (روح) اسی کے حضور کی طرف چڑھ جاتا ہے، جس کی مراد یہ ہے کہ روح ہی آسمان سے زمین پر اترتی ہے اور روح ہی آسمان پر چڑھتی ہے، اور اس آسمان سے آسمانِ روحانیّت مراد ہے۔

دلیل۳: قرآن حکیم (۱۵: ۱۴ تا ۱۵) میں ارشاد ہے کہ: اور اگر ہم آسمان کا ایک دروازہ بھی کھول دیں اور یہ لوگ دن دہاڑے اس دروازے سے (آسمان پر ) چڑھ بھی جائیں تب بھی یہی کہیں گے کہ ہو نہ ہو ہمارے آنکھیں (نظر بندی سے ) متوالی کردی گئیں (یا نہیں تو) ہم لوگوں پر جادو کیا گیا ہے۔ اس آیۂ مقدسہ سے اہلِ دانش کے لئے ظاہر ہے کہ لوگوں کا روحانی طور پرآسمانِ روحانیّت پر چڑھنا ممکنات میں سے ہے، مگر صرف اس صورت میں جبکہ اللہ تعالیٰ روحانیّت کا دروازہ کھول دے، کیونکہ اگر یہ بات اس ظاہری اور مادّی آسمان سے متعلق ہوتی تو دروازہ اور اس کے کھولنے کا ذکر ہی نہ ہوتا، جبکہ جسمانی آسمان کا کوئی دروازہ نہیں، اس پر تو لوگ خود بخود جانے لگے ہیں۔

 

۱۰

 

اس آیۂ کریمہ میں روحانی قسم کا وہ امکانی حال بیان ہوا ہے جس میں کچھ آدمیوں پر کسی تیاری کے بغیر یعنی ریاضت کئے بغیر روحانیّت کا یکایک کشف ہوتا ہے، جس کے مشاہدات ان کی آنکھیں برداشت نہیں کر سکتی ہیں، وہ حیران وپریشان یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ کسی نے ان پر جادو کیا ہے۔

 

دلیل۴:  یہ ارشاد سورۂ فاطر (۳۵) کی آیۂ دہم کا ہے کہ: پاکیزہ قول اس (خدا ) کی بارگاہ تک عروج کرجاتا ہے اورنیک عمل اس (قول) کو (وہاں تک) اٹھاتا ہے (۳۵: ۱۰)۔ اس فرمانِ الہٰی سے معلوم ہوا کہ انسان کا نیک قول اور نیک عمل ہی خدا کے حضور تک پہنچ سکتا ہے، جس کی مراد  روح ہے، نہ کہ جسم ۔

 

دلیل ۵: سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) کے آغاز ہی میں فرمایا گیا ہے کہ:  وہ خدا پاک وپاکیزہ ہے جو اپنے بندہ کو شب کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصا کی طرف لے گیا جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں مہیا کررکھی ہیں تاکہ اس کو اپنی نشانیاں دکھائیں (۱۸: ۰۱) اس آیۂ مبارکہ میں آنحضرتؐ کی معراج کا ذکر ہے، جس کی تاویل یہ ہے کہ ذکر وعبادت اور کشفِ روحانیّت کا بہترین وقت رات اور خضوصاً رات کا دوسراحصّہ ہے، چنانچہ آنحضورؐحسبِ معمول رات کے وقت ذکر الہٰی میں محو تھے، کہ بڑے پیمانے پر روحانیّت کا کشف ہوا اور عالمِ غیب کا پردہ سامنے سے ہٹ گیا اور یہ واقعہ آنحضرتؐ کو اس وقت پیش آیا، جبکہ آپؐ کو ابتدائی اسمِ اعظم (مسجدِ حرام)

 

۱۱

 

سے اٹھا کر دوسرے دور کے ایک اسمِ اعظم (مسجدِ اقصا) تک پہنچایا گیا، جس میں اعلیٰ درجے کی برکتیں اور قدرت کی نشانیاں موجود تھیں، یہ سب کچھ حضورؐ کے قلبِ منوّر اور روحِ اقدس میں ہوا، جس کا چشمِ ظاہر سے کوئی تعلق نہیں۔

 

دلیل ۶: قرآن حکیم (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) میں ہے کہ: اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (قدرتِ خدا کی ) نشانیاں ہیں اور خود تمہارے نفوس میں بھی ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں، جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں زمین میں مادّی طور پر بکھری ہوئی حالت میں ہیں اور نفوسِ انسانی میں روحانی طور پر یکجا ہیں، اب جو کامل انسان دیدۂ باطن سے خدا کی ان نشانیوں کا مشاہدہ کرتا ہو، جو اس کی ذات میں پوشیدہ اورمجموع ہیں تو اسے کہیں جانے کی ضرورت نہیں پڑتی، چنانچہ آنحضرتؐ نے اپنی معراج روحانیّت کے موقع پر کائنات وموجودات کی نشانیوں کا مشاہدہ اپنی ذاتِ با برکات ہی میں کیا۔

 

دلیل ۷: سورہ نور (۲۴) کی آیت ۳۵ میں ارشاد ہوا ہے کہ : اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کا نورہے (۲۴: ۳۵)، چنانچہ رسولِ خداؐ کو معراج کی شب حق تعالیٰ کے اس مقدّس نور کی انتہائی قربت حاصل ہوئی، جس کی روشنی میں حضورؐ نے چشمِ باطن سے آسمان و زمین کے عجائبات کا مشاہدہ کیا، اور اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوئے، اور جو کچھ آیا ت و احادیثِ صحیحہ میں ہے اسی کے مطابق واقعات پیش آئے مگر روح اور روحانیّت میں۔

 

دلیل ۸: سورہ شوریٰ (۴۲) کی آیت ۵۱ اور ۵۲ میں اس حقیقت

 

۱۲

 

کی شہادت موجود ہے کہ کسی آدمی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر وحی کے ذریعہ سے (جس میں خدا کا نور خود وحی یعنی اشارہ فرماتا ہے ) یا پردہ کے پیچھے سے (خدا بات کرے ) یا کوئی فرشتہ بھیج دے پھر وہ فرشتہ خدا کے اذن و  ارادہ کے مطابق وحی کرتا ہے  (۴۲: ۵۱ تا ۵۲)۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السّلام کے خدا سے ہمکلام ہونے یا وحی حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اسی دنیا ہی میں سب کچھ ہوا ہے جس میں معراج بھی شامل ہے، اور خدا کی قربت و نزدیکی  کے الگ الگ درجات بھی ہیں۔

 

یہ جاننا نہایت ہی ضروری ہے کہ آیۂ کریمہ بالا کا ارشاد روح اور روحانیّت کا ایک ایسا جامع اصول ہے، جو وحی خاص، مخاطبۂ حجاب اور وحیٔ عام کے علاوہ الہام والقاء وغیرہ جیسے ہدایتِ الٰہیہ کے تمام درجات پر حاوی اور محیط ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ اصول جس میں روحانیّت کے تمام درجات شامل ہیں جملہ ابنیاء علیہم السّلام کے درمیان مشترک ہے، چنانچہ اگر ہماری نظر حقیقت کی تہ تک نہیں پہنچ سکتی ہو تو وہ اور بات ہے ورنہ ماننا پڑے گا کہ اس آیۂ پُرحکمت کے بموجب انبیائے کرام علیہم السّلام کی روحانیّت کا سب سے بلند ترین درجہ وہ ہے جس میں نورِ الٰہی ان کو بے حجاب وحی فرماتا ہے، دوسرا درجہ وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ حجاب کے پیچھے سے کلام کرتا ہے اور تیسرا  درجہ کوئی فرشتہ بھیج کر وحی کرنے کا ہے، اور یہ سارے درجات آنحضرتؐ کی معراج روحانیّت میں داخل ہیں، اورانہیں درجات سے متعلق حضورؐ  کوایک نہیں کئی معراجیں

 

۱۳

 

ہوئی ہیں ۔

 

دلیل۹:  مذکورۂ بالا آیت یعنی سورۂ شوریٰ کی آیت ۵۱ کے بعد اسی مطلب سے مربوط آیہ کریمہ ۵۲ کا یہ ارشاد ہے:۔

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَاؕ (۴۲: ۵۲)

اوراسی طرح ہم نے اپنے امر (یعنی عالمِ امر ) سے آپ کی طرف ایک روح وحی کردی۔ اس کا واضح اور روشن مطلب یہ ہے کہ جس روح القدّس کی روحانیّت میں نبوّت و رسالت کے متذکرۂ بالا تین بڑے درجات مضمر تھے وہ روح حضورؐ کی طرف بطور وحی بھیج دی گئی، یہ روح دوسرے الفاظ میں ایک نورتھا، جس کی زندہ اوربولتی روحانیّت و نورانیّت میں حضور اکرمؐ نے معراجِ روح کے جملہ مدارج کو طے کرلیا تھا۔

دلیل۱۰: سورۂ نجم کی ابتداء ہی میں ہے کہ: قسم ہے ستارہ کی جبکہ وہ اترا (یعنی قسم ہے روحِ قدسی کی جبکہ وہ آنحضرتؐ کی ذاتِ اقدس میں اور آپ کے وصی برحقؑ کے باطن میں نازل ہوئی ) تمہارا ساتھی (محمدؐ) نہ گمراہ ہوا اور نہ بہک گیا (یعنی جب آنحضرتؐ پر ایک عظیم روح نازل ہوئی اورآپ روحانیّت کے رستے پر ہولئے تو حضورؐ اس راہ میں ایسی ثابت قدمی سے چلے کہ آپ کا کوئی قدم غلط نہیں پڑا ) اور وہ اپنی خواہش نفسانی سے نہیں بولتا(یعنی منازلِ روحانیّت طے کرنے کے بعد آپؐ نے تبلیغِ رسالت کا کام شروع کردیا) یہ نہیں ہے مگر وحی جو اس کی طرف

 

۱۴

 

بھیجی جاتی ہے (یعنی حضورؐ اس رسالت کے کام میں جو کچھ بولتے ہیں وہ وحی سے ہے اور وحی اسی عظیم روح کے ذریعہ سے ہے جو ان میں بھیجی گئی تھی) اسے بڑی سخت قوّتوں والے (خدا) اور بڑی عقل والے نے سکھایا ہے، پھروہ (روحانیّت پر) غالب ہوگیا اور آسمان (روحانیّت)  کے سب سے اونچے کنارہ پرتھا (یعنی آپؐ اس کے بعد روحِ کلّ یاکہ نفسِ کلّی کے آسمان پر پہنچ گئے) پھر وہ نزدیک ہوا (یعنی اللہ تعالیٰ کے نور کی طرف) پھرذریعہ بنایا گیا (یعنی آپؐ کو گوہرِ علم وحکمت دکھایا گیا) پھر دوکمانوں کا فاصلہ رہا  یا زیادہ نزدیک، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف (حجاب کے بغیر ) وحی کی جو کچھ کہ وحی کرنا تھا، نہیں جھوٹ کہا دل نے جوکچھ کہ اس نے(معراج میں) دیکھا (یعنی آنحضرتؐ کی معراج کے تمام واقعات و معجزات حضورؐ کے باطن میں پیش آئے تھے لہٰذا آپؐ کے قلبِ مبارک نے جوکچھ دیکھا تھا اس کے متعلق تصدیق اوریقین کیا)۔

پس معلوم ہوا کہ آنحضرتؐ کی معراج بدنی نہیں روحی تھی، جیسا کہ آیات مذکورۂ بالا سے ظاہر ہے اور خاص کر یہ جو ارشاد ہوا کہ آپؐ کے دل نے جوکچھ دیکھا تھا اس کے متعلق جھوٹ نہیں بولا۔

 

دلیل۱۱: قرآن حکیم کی متعدد آیات سے ظاہر ہے کہ خدا انسان کے نہایت قریب ہے، اور یہ بات مکانی قربت کی نہیں بلکہ قدرت کی رسائی اورانسانی شرف سے متعلق ہے، چنانچہ اس حکم کا اطلاق سب سے

 

۱۵

 

پہلے انسانِ کامل پرہوتا ہے، یعنی پیغمبرؐ اپنے قلب مبارک ہی میں نور الہٰی کی تجلّیات کا مشاہدہ کرتا ہے، اورمعراج ایسے مشاہدے سے الگ نہیں۔

 

دلیل۱۲: حدیث قدسی میں ہے کہ بندۂ مومن کا دل اللہ تعالیٰ کا عرش ہے، پس اگر حقیقت یہی ہے تو سب سے پہلے اور سب سے بہتر طریق پرآنحضرتؐ کا مبارک قلب عرشِ الہٰی یعنی خدا کا تخت تھا، اور ظاہر ہے کہ جہاں عرش پر خدا ہے وہاں معراج بھی ہوتی ہے۔

 

دلیل۱۳: یہ قول قرآنی حکمت کی بنیاد پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقدّس نور دنیا میں ہمیشہ ظاہر ہے اور اس کی ظہور گاہ انبیاء و اوصیاء علیہم السّلام کا پاک سلسلہ ہے، چنانچہ آنحضرت صلعم اپنے وقت میں نورِخداوندی کے مظہر تھے، اس معنی میں جب یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح صاف عیان ہے کہ آپؐ کو روئے زمین پر ہی خدا کے نورسے انتہائی قربت و نزدیکی حاصل تھی، تویہ امر یقینی ہے کہ آنحضرتؐ کی نبوّت اور معراج کے جملہ اسرار اس نورِ خداوندی سے جدا نہیں تھے، جو نور حضورؐ کی مبارک و مقدّس پیشانی میں تھا۔

 

دلیل۱۴: قرآنِ حکیم سے یہ مطلب ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے بزرگ وبرتر نے اپنی روح حضرت آدم علیہ السّلام میں پھونک دی تھی، جس سے وہ نورِ الٰہی مراد ہے، جو رشد وہدایت، علم و حکمت اور نبوّت وامامت کا سرچشمہ ہے، جس میں اسرارِ روحانیّت اور عجائبات و معجزاتِ نورانیّت پوشیدہ ہیں، اور یہی روحِ الٰہی یعنی نورِ خداوندی اپنے تمام اوصاف اور خوبیوں کے ساتھ آنحضرتؐ میں موجود تھا، پس معلوم ہوا کہ معراج کے تمام واقعات

 

۱۶

 

روحانی قسم کے تھے جو سرورِ انبیاء صلعم کے اپنے مقدس باطن ہی میں پیش آئے۔

 

دلیل ۱۵: ہراس انسان کی، جس کے حواس صحیح ہیں، چارذاتی دنیائیں ہیں، عالمِ بیداری، عالمِ خیال، عالمِ خواب اورعالمِ روحانیّت، ایک عام انسان عالمِ بیداری کے علاوہ عالمِ خیال اورعالمِ خواب کے وجود کوبھی تسلیم کرسکتا ہے مگر عالمِ روحانیّت، جوسخت عبادت و ریاضت کرنے کے بعد کسی بندۂ خاص کے مشاہدے میں آسکتا ہے، ان تینوں عوالم سے بالاتر ہے، کیونکہ وہ ان تینوں پر محیط اور ان کا جامع ہے، وہ اس ظاہری دنیا کی طرح زندہ اور بیدار بھی ہے، بلکہ وہ اس سے کئی درجہ زیادہ روشن اور نہایت ہی حسین و دلکش ہے، دنیائے فکروخیال کی طرح اس میں سوچنے کی آزادی بھی ہے اور عالمِ خواب کی طرح بے اخیتاری بھی، پس انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کا عالمِ روحانیّت اپنی اصلی حالت میں ان پر مکشوف اور ظاہر ہوتا ہے اور اسی میں وہ تمام واقعات پیش آتے ہیں، جن کا ذکر قرآنِ حکیم میں کیا گیا ہے۔

 

دلیل ۱۶:انسان کی ہستی اور وجود جسم کے لحاظ سے مکان ہے اور روح کے اعتبار سے لامکان ہے، اور اگرچہ اللہ تعالیٰ مکان و لامکان دونوں سے برتر ہے، لیکن اس کی قربت و نزدیکی جسمانی طور سے نہیں بلکہ روحانی طور پر ممکن ہے، یعنی خدا کے حضور پہنچنے کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا نہیں پڑتا بلکہ دل (روح ) ہی میں لامکانی طور پر خدا کا انتہائی تقرب حاصل ہو سکتاہے، چنانچہ آنحضرتؐ کو جو انسانِ

 

۱۷

 

کامل تھے یہی ہوا تھا کہ آپؐ کے قلب مبارک میں نبوّت و رسالت اور معراج سے متعلق تمام باتیں وحی کردی گئیں۔

 

اس موضوع کا خاص مقصد یہی تھا کہ معراجِ روح کی حقیقت کے بارے میں چند روشن دلیلیں بیان کردی جائیں، تاکہ مومنین کویہ یقین ہو کہ حضور انورؐ رحمتہ للعٰلمین کی حیثیت سے روحانیّت و نورانیّت کے ایک عظیم عالَم تھے، ایک ایساعالَم کہ اس میں سب کچھ موجود تھا اور اس سے کوئی شے خارج نہیں تھی۔

 

والسلام

 

۱۸

 

روح اور روحانیّت

 

بہتر یہ ہے کہ ہم آج کی مجلس میں روح اور روحانیّت کے بارے میں کچھ بنیادی اور خاص قسم کی باتیں بتائیں، کیونکہ روح اور روحانیّت دینِ اسلام میں سب سے بڑا اور اہم ترین موضوع ہے، اس لئے کہ معرفتِ ذات یعنی انسان کی اپنی شناخت ہی سے معرفتِ خدا حاصل ہوتی ہے، جو علم وعمل کا کامیاب نتیجہ اور دین کا سب سے آخری مقصد ہے۔

 

جامع الجوامع:۔

جب یہ امر واقعی ہے کہ ربّ العزّت کی معرفت کا انمول خزانہ اوراس کی بے پناہ، لازوال اورغیر فانی دولت انسان کی اپنی معرفت میں پوشیدہ ہے، اور اصلیت میں معرفت روح کو دیدۂ دل سے دیکھنے اورکلّی طور پر پہچاننے کا نام ہے، تو پھر روح اور روحانیّت کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ کیوں نہ دی جائے، جبکہ یہ امر عظیم ایک ایسا وسیع اور جامع الجوامع موضوع ہے کہ اس میں دین کے تمام موضوعات خود بخود محدود ہو جاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفتِ عالیہ میں تمام چیزیں سموئی ہوئی ہیں، یا یوں کہنا چاہئے کہ ربّ العزّت کی معرفت ایسا موضوع ہے جو کہ تمام موضوعات پر حاوی

 

۱۹

 

اور بسیط ہے، اسی لئے میرا کہنا ہے کہ روح اور روحانیّت کے موضوع کی طرف توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔

 

حضرت مولانا امیر المومنین علی علیہ السّلام کا ارشادِ گرامی ہے کہ: جس نے اپنی روح کی معرفت حاصل کرلی یقیناً اس نے اپنے پروردگار کی معرفت حاصل کرلی، نیز فرمایا گیا ہے کہ: تم میں سے جو شخص اپنی روح کو سب سے زیادہ پہچانتا ہے وہی اپنے پروردگار کو سب سے زیادہ پہچانتا ہے، لیکن چونکہ معرفت روحانیّت کے بہت سے مراحل سے آگے گزر کر اصل سے واصل ہوجانے کے بعد مکمل ہوجاتی ہے، لہٰذا خدا شناسی کا یہ انتہائی بلند مرتبہ کسی کی ذاتی کوششوں سے حاصل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس نازک اور مشکل راہ میں ہادیٔ برحق کی دستگیری اور ہدایت و رہنمائی نہ ہو، کیونکہ معرفت مومن کی مذہبی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، جو خدا اور رسولؐ اورامامِ زمانؐ کی مقدّس ہدایت کی روشنی میں انجام پاسکتا ہے۔

 

صراطِ مستقیم اور معرفت:۔

جس طرح یہ ایک روشن اورمسلّمہ حقیقت ہے کہ اسلام کا دوسرا نام صراط مستقیم ہے، اور اس صراطِ مستقیم کے تصوّر کے سلسلے میں منزل معرفت سب سے آخر میں آتی ہے، یعنی شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت، اسی طرح انسان کی خودشناسی (جس میں خدا شناسی کا گنج مخفی موجود ہے) راہِ دین کے مرحلۂ آخرین میں ہے، جو مقامِ معرفت ہے،

 

۲۰

 

اور اس منزلِ مقصود تک بندۂ مومن حقیقی علم اور نیک عمل کے ذریعے سے پہنچ سکتا ہے، یا یوں کہنا چاہیے کہ راہِ مستقیم جو مسلمین و مومنین کے لئے اطاعت و فرمانبرداری ہی کا رستہ ہے، اس پر اہلِ ایمان علم و عمل کے وسیلے سے منزل بمنزل آگے بڑھ سکتے ہیں، یہاں تک کہ ان کا باطن نورِ معرفت کی ضیا پاشیوں سے کلّی طور پر منور ہو۔

 

مشاہدہ اور معرفت:۔

اسی طرح جب کوئی حقیقی مومن مقاماتِ معرفت تک پہنچے تو اس وقت وہ چشمِ باطن کے مشاہدات کے نتیجے پر نہ صرف اپنی ذات کی حقیقت کو پہچانتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ربّ کو بھی پہچان لیتا ہے۔

 

معرفت اگرچہ ظاہراً صرف ایک ہی لفظ ہے جس کے لغوی معنی پہچان کے ہیں، لیکن یہ اپنے حقیقی معنوں اور حکمتوں کے اعتبار سے ایسی عالی قدر اور اتنی عظیم الشّان ہے کہ اس کے معنوی جامعیّت میں حیات و کائنات کی تمام حقیقتیں اور معرفتیں محدود ہوجاتی ہیں، لیکن یہ افسوس کا مقام ہے کہ بہت ہی کم لوگ دائرہ معرفت اوراس کے معانی و مطالب کو سمجھتے ہیں، حالانکہ معرفت میں سب کچھ ہے۔

 

نورِمعرفت:۔

معرفت ایک نور کی حیثیت سے ہے، اور یہ وہی نورِ ازل ہے

 

۲۱

 

جو ہمیشہ سے موجود ہے، جس کے بہت سے نام ہیں، جیسے نورِالٰہی، نورقرآن، نور اسلام، نورنبوّت، نورِ امامت، نورِایمان، نورِ ایقان، نور مومنین وغیرہ، پھر آپ ذرا غور و فکر کرکے دیکھیں کہ نورِ معرفت کیا کچھ نہیں، وہ تو سب کچھ ہے، کیونکہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا نور ہے اور اسی لئے وہ کل کلّیات کا نور ہے، جس کی روشنی میں خدا اور خدائی کے بھید عارفوں پر ظاہر ہوجاتے ہیں، ازل اور ابد دونوں کی حقیقتوں کے زندہ اور روشن نقوش بلا کم و کاست سامنے آتے ہیں، لوح و قلم کی معرفت حاصل ہوتی ہے، ملائکہ کی شناخت ہو جاتی ہے، تخلیقِ کائنات کے اسرار سے واقفیت و آگہی ہوتی ہے، انبیاء وأئمّہ علیہم السّلام کے معجزات اور کرامات کا عملی طور پر پتہ چلتا ہے، وحی جیسی اعلیٰ سے اعلیٰ حقیقت کی کیفیات کا مشاہدہ ہوتا ہے، جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السّلام کی پہچان حاصل ہوجاتی ہے۔

 

قیامت جو قرآنِ حکیم کا سب سے مخفی موضوع ہے، اس کا عملی تجربہ ہوتا ہے، حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے جوفرمایا ہے کہ وہ ایک مخفی خزانہ ہے، چنانچہ سفر روحانیّت کی اس تلاشِ حقیقت کے نتیجے میں خدا اور خدائی کا گنجِ مخفی ملتا ہے، جس میں سب کچھ ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔

 

نورِعرفان کی روشنی نہ صرف عارف کی زندگی ہی پر پڑتی ہے، بلکہ وہ جیتے جی موت اور عالم آخرت کی حقیقتوں سے بھی براہِ راست واقف و

 

۲۲

 

آگاہ ہوجاتا ہے، روح جو خدا تعالیٰ کی ایک عظیم نورانی مخلوق ہے یا کہنا چاہئے کہ “رو ح” نورِ خداوندی کا ایک زندہ تابندہ اور معجزانہ عکس ہے، اس کا حیرت انگیز مشاہدہ اور دیدار ہوتا ہے۔

عالمِ روحانیّت جو اس دنیا کے برعکس ہے کشفِ باطن کی حیثیت سے سامنے آتا ہے، دوزخ اور بہشت سے پوشیدگی کا پردہ اٹھ جاتا ہے اور دیدۂ باطن سے ان کے مناظر کو دیکھ لیا جاتاہے، خدا کے اوصاف اور اس کی وحدانیّت کا مکمل یقین آتا ہے۔

 

معرفت کی روشنی میں:۔

جاننا چاہیے کہ معرفت نورانیّت کی ایک ایسی زندہ کائنات ہے کہ اس سے کوئی شے باہر نہیں، جس کے اندر جوکچھ ہے اس کی روح ہے، بالفاظِ دیگر معرفت کی روشنی میں دیکھنے سے ہر چیز کی روح نمایان اور مخاطب ہو جاتی ہے، خواہ وہ پتھر کی طرح بے جان چیزیں کیوں نہ ہوں، جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے کہ:۔

قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ (وہ اعضاء جواب دیں گے کہ جس خدانے ہرچیز کو گویا کیا اس نے ہم کو گویا کیا) (۴۱: ۲۱) قرآنِ پاک کا یہ پُرحکمت ارشاد دنیائے معرفت ہی کی طرف ہے، جس کی ہرچیز میں روح ہے اور وہ بول سکتی ہے، چنانچہ نورِ معرفت کی روشنی میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پتھر، مٹی

 

۲۳

 

اور ہوا جیسے جمادات میں بھی روح ہوا کرتی ہے، نباتات کی روح تو نشوونما کی صلاحیت سے ظاہر ہے، جانوروں کی روح ہونے سے کسی کوذرا بھی شک نہیں، انسانی روح تو ایک روشن حقیقت کی طرح مسلّمہ ہے،  چنانچہ معرفت کی نظر میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کی روح نہ ہو، سو یہ حقیقت ہے کہ حصولِ معرفت کے دوران تمام چیزوں کی روحوں سے ملاقات اور گفتگو ہوتی ہے اور نتیجے کے طور پر ان کی شناخت کے بھیدوں سے نقاب اٹھا لیا جاتا ہے اور ان کی حقیقتیں روشن ہوجاتی ہیں۔

 

مذکورہ حقائق و معارف کی شہادتیں قرآنِ مقدّس میں بھی موجود ہیں، چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ:  اور ہم اگر ان کے پاس فرشتے بھی نازل کرتے اور ان سے مردے بھی باتیں کرنے لگتے اور تمام (روحانی ) چیزیں گروہ گروہ ان کے سامنے لاکھڑے کرتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے (۰۶: ۱۱۱)۔

 

ظاہری طور پر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیۂ کریمہ ایک مثال کی حیثیت سے ہے، لیکن جاننے والے ہی جانتے ہیں کہ یہ پُرحکمت ارشاد صرف مثال کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک زندہ حقیقت اور ایک امر واقعی بھی ہے، چنانچہ یہ بڑا عجیب و غریب واقعہ ہے کہ عالمِ روحانیّت سے براہِ راست رابطہ رکھنے والوں کونہ صرف مردوں کی روحیں، فرشتے، جنّات وغیرہ دکھائی دیتے ہیں، بلکہ ساتھ ہی ساتھ تمام زندہ انسانوں اور ساری چیزوں کی روحوں سے بھی ملاقات اور گفتگو ہوتی ہے، اور اس سلسلے کا سب سے عظیم واقعہ نورِ الٰہی کا دیدارہے۔

 

۲۴

 

معرفت کی ہمہ رسی:۔

جب اس حقیقت کو تقریباً سب تسلیم کرلیتے ہیں کہ دیدارِ نورانی اور لقائے الہٰی کے وسیلے سے خدا کی کامل معرفت حاصل ہوتی ہے، خواہ وہ مقدّس دیدار، جو جلال وجمال کی تجلّیوں سے بھر پور ہے، خدا کا ہو یا نورِ خدا کا جو اس کا خلیفہ اورنمائندہ ہے یا انسان کی اپنی روح میں یہ عظیم الشّان صلاحیت پنہان ہو کہ وقت آنے پر یہ ہراعتبار سے اور ہر صورت میں خدائے پاک کی خلافت ونیابت اورنمائندگی کرتی ہے، ہر حالت میں خدا کا دیدار برحق ہے، جس کا ماحصل معرفت ہے، جو مشاہداتِ روحانیّت کا سب سے بڑا ثبوت اورسب سے عظیم مقصد ہے۔

 

کیا اس حقیقتِ حال کے باؤجود کوئی دانشمند یہ گمان کر سکتا ہے کہ کچھ ضروری حقیقتیں اہلِ معرفت کی نگاہوں سے ہمیشہ کے لئے پردۂ اخفا میں رہتی ہیں؟  یہ گمان کس طرح درست ہو سکتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی مبارک ملاقات اور پاک معرفت ثابت ہے، حالانکہ خداوندِ برحق سب سے باطن اور باطن سے بھی باطن ہے، پھر بھی وہ بادشاہِ مطلق اپنے برگزیدہ بندوں کی روحانیّت و نورانیّت میں ظاہر اور جلوہ نما ہوکر اپنی شناخت کی لازوال دولت عطا فرماتا ہے، کیا ایسے میں معرفت کی نظر اور رسائی سے کوئی چیز مخفی اور پوشیدہ رہ سکتی ہے، جبکہ سب سے مخفی خزانے کا انکشاف ہو جاتا ہے، یعنی خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے، درحالیکہ وہ تبارک و

 

۲۵

 

تعالیٰ سب سے برتر، عظیم اور وریٰ ہے؟

 

سب سے بڑا بھید:۔

جاننا چاہیے کہ پروردگارِ عالم کی معرفت کے سامنے کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں، سب سے بڑا بھید خدا کی حقیقت ہے، چنانچہ ایک دینداراور ہوشیار آدمی آسانی سے یہ تصوّر کرسکتا ہے کہ بھیدوں میں سب سے بڑا بھید خود اللہ ہے، یعنی خدا کی معرفت کی کیفیت  بڑی دشوار شے ہے، اورسب سے مشکل چیز اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت (UNITY OF GOD) ہے، لیکن اس کے باؤجود جب باور کیا جاتا ہے کہ اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی یکتائی کی شناخت ہوتی ہے، تو کیا اس صورت میں کوئی ہوشمند انسان یہ تصوّر کر سکتا ہے کہ کچھ بھید اس کے سوا ایسے بھی ہیں کہ ان تک اہلِ معرفت نہیں پہنچ سکتے، یہ تصوّر درست نہیں، کیونکہ یہ “اللہ اکبر” کے معنی کے خلاف ہے، یعنی خدا ہی سب سے بڑا ہے اور وہی سب سے برتر اور ہر چیز سے وریٰ ہے جس کی تشریح یہ ہوئی کہ تمام چیز یں رحمتِ خدائی میں محدود ہیں اور اس کی رحمت پر اس کا علم محیط ہے، اور وہ خود علم پر محیط اور بادشاہ ہے۔

 

اس تشریح سے ایک طرف تو معرفتِ خدا کی عظمت و بزرگی اور رفعت و برتری کا مکمل یقین ہو جاتا ہے اور دوسری طرف یہ پتہ چلتا ہے کہ کوئی چیز خداوند کی رحمت اور علم سے باہر نہیں، اور اس کا لازمی

 

۲۶

 

نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جن سعادت مند انسانوں کو خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے ان کو سب کچھ ملتا ہے، جس کے اسباب اور وجوہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:۔

 

۱۔اللہ تعالیٰ حقیقی بادشاہ ہے، جب وہ کسی کو چاہتا ہے تو اپنا تعارف کراتا ہے، اور اس کو اپنا شناسا کرلیتا ہے، پھر خداوند تعالیٰ کی دوستی کے نتیجے پر ایسے بندے کو سب کچھ مل جاتا ہے۔

 

۲۔ جس کو خدا کی معرفت حاصل ہو، تو اس کومعرفت اپنے تحت خدائی علم لے کر آئی ہے اور یہ علم ہر چیز لے کر آتا ہے، کیونکہ ہم اوپر بتا چکے ہیں کہ خدا کی خدائی اور معرفت ہر چیز سے برتر ہے، اورسب چیزیں علم و رحمت کے تحت ہیں۔

 

۳۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ خدا ہر قسم کی مثال سے پاک و برتر ہے، تاہم اس کی بے پناہ رحمت و مہربانی کا یہ تقاضا تھا کہ تصورِ الوہیّت کے ابتدائی مراحل کے لئے کچھ عام فہم مثالیں پیش کی جائیں، چنانچہ خدائے علیم و حکیم نے اپنی ذاتِ اقدس  کے متعلق کئی حکمت آگین اور پُرمغز مثالیں دیں، جن میں ایک ایسی جانفزا اور روح پرور مثال بھی ہے کہ وہ ہمیشہ سے خداوند قدوس کی بے پایان رحمت کی سب سے عظیم نوازشات کی آئینہ داری اور نمائندگی کرتی چلی آئی ہے، اور وہ یہ کہ ربِّ کریم نے اپنی ذات پاک کی مثال ایک نہایت عظیم اور انتہائی گرانقدر”مخفی خزانہ” سے دی ہے،

 

۲۷

 

پس اگر مانا کہ خدا تعالیٰ اہِل معرفت کو مالک و مولا اور آقا و بادشاہ کی طرح نہیں بلکہ خزانے کی طرح مل جاتا ہے، تو اس میں کافی توجہ دے کر سوچنا چاہئے کہ یہ خدا کی کتنی بڑی نوازش ہے کہ وہ سب سے بڑا مہربان خود کو اور اپنی خداوندی کے تمام باکمال اوصاف کو نتیجۂ معرفت کا انعامی خزانہ قرار دے کر عارف کوعطا کردیتا ہے، اس راز کو اس سے زیادہ افشا نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ اس خدائی رحمت و مہربانی میں بڑی عجیب و غریب حکمتیں پوشیدہ ہیں، پس اس سے معلوم ہوا کہ نورِ معرفت سب کچھ ہے۔

 

وحدتِ کثرت نما:۔

اس مقام پر ایک ایسی وحدت کا ذکر کرنا فائدے سے خالی نہیں جو اصل میں وحدت ہی ہے مگر ظاہر میں کثرت سمجھی جاتی ہے، اس لئے اس کو وحدتِ کثرت نما کہنا چاہئے، جس کی مثال سورج اور اس کے لاتعداد عکس ہیں، کہ ان تمام عکسوں کی حقیقی وحدت سورج میں ہمیشہ سے موجود ہے، اور سورج کی مجازی کثرت ان ساری صاف وشفاف چیزوں میں ہے، جن میں سورج کا عکس نظر آتا ہے، جیسے آئینہ، صاف پانی وغیرہ ۔

 

اسی طرح روحوں کا بھی ایک سرچشمہ ہے، جس کو عالمِ روحانیّت کا سورج یا نورکہا جاتاہے، جہاں پر تمام روحوں کی حقیقی وحدت ہے، اور ارواحِ جزوی میں مجازی کثرت ہے، اور اگر ہم اس سلسلے میں ایک کلی بات کرنا چاہیں تو اسے وحدتِ کثرت نما بھی کہہ سکتے ہیں، جس کے

 

۲۸

 

معنی یہ ہوئے کہ نورِ ازل میں ہمیشہ کے لئے تمام روحوں کی جو وحدت قائم ہے، وہ افراد و اشخاص میں ہنگامی طور پر کثرت کی صورت میں ظاہر ہے، جس طرح سورج اور اس کی روشنی کے ذرّات یعنی کرنوں کے درمیان ایک طرف حقیقی وحدت ہے اور دوسری طرف مجازی کثرت یعنی وحدتِ کثرت نما ہے۔

 

نفسِ واحدہ:۔

قرآنِ پاک میں بطریق حکمت نفسِ واحدہ کا ذکر آیا ہے، یہ نفسِ واحدہ نفسِ کلّی ہے، جو تمام روحوں کا سرچشمہ اور نورِ ازل کی حیثیت سے ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہواہے کہ:۔

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍؕ (۳۱: ۲۸)

تم سب کا پیدا کرنا اور (دوبارہ) زندہ کرنا بس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا۔ یعنی نفوس خلائق ازل میں نفسِ کلّی کے ساتھ ساتھ پیدا ہوئے ہیں، اس لئے وہاں ان کی وحدت ایک جان کی وحدت کی طرح ہے، جو ہمیشہ کے لئے نفسِ کلّی میں قائم ہے، یا اس حقیقت کو یوں سمجھنا چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کی ایک انائے عُلوی یعنی روح کی اعلیٰ حقیقت اب بھی نفسِ کلّی سے اسی طرح وابستہ ہے جس طرح کہ یہ ازل میں تھی، اس کے علاوہ ہماری ایک انائے سفلی بھی ہے، یعنی ذیلی اور عارضی زندگی جو ہماری شخصیّت پر قائم ہے، جس کی مثال سورج کے عکس سے دی جا سکتی ہے جو آئینے میں نظر آتا ہے۔

 

۲۹

 

جب کسی مومن کی روحانیّت کے سلسلے میں انفرادی قیامت برپا ہو جاتی ہے، تو اس وقت وہ کائنات بھر کی روحوں کے ساتھ، جو  ذرّات کی شکل میں اس میں آئے ہوئے ہوتے ہیں، خود کو کبھی کبھی یکایک نفسِ کلّی کے ساتھ مربوط پاتا ہے، پس یہ ہوا شخصی روحانیّت میں اجتماعی قیامت کا نمونہ، جس میں سب لوگ اپنے آپ کو اچانک شعوری طور پر نفسِ کلّی میں زندہ پائیں گے، جیسا کہ اس کا اشارہ آیۂ مذکورۂ بالا میں موجود ہے۔

قرآنِ مقدّس میں ہے کہ:۔

مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں (۴۹: ۱۰)۔

 

اور ایک حد یثِ شریف میں اسی مطلب کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیاہے کہ: مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں اور انبیاء (علیہم السّلام ) ایک جان کی طرح ہیں، اس سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیان ہو جاتی ہے کہ انسانیّت اگرچہ نچلے درجات پر منتشر ہوجاتی ہے لیکن وحدت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ اوپر سے اوپر متحد نظر آتی ہے، اور نفسِ کلّی کی بلندی پر تو یہ ازل سے لے کر ابد تک ایک ہی جان کی طرح ہے، ان حقائق ومعارف سے حقیقتِ واحدہ (MONOREALISM) کے سمجھنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔

 

معرفت اور قرآن:۔

اس سلسلے میں یہ سوال کسی نہ کسی طرح ضرور پیدا ہو سکتا ہے کہ قرآن

 

۳۰

 

میں معرفت کی بابت کیا ارشاد ہوا ہے؟ سواس کا جواب یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں جگہ جگہ مخصوص حکمت کی زبان میں معرفتِ الہٰی کا ذکر کیا گیا ہے، جس کی چند روشن مثالیں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:۔

۱۔سورۂ نور میں ارشاد ہوا ہے کہ: “اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے” (۲۴: ۳۵)  اس کا اشارہ سب سے پہلے اور سب سے اعلیٰ درجے پر ایک ایسی ربّانی روشنی کی طرف ہے، جو اہل بصیرت کو روحانی عل، نورانی ہدایت اور خداوندی معرفت عطا کرتی ہے، کیونکہ جب اللہ نور ہے تو اس کے معنی یقیناً خدائے علیم و حکیم کے ظہورات وتجلّیات کے ہیں اور عارف کے مشاہدات اور حصولِ معرفت کے ہیں، اس لئے کہ نورنہ صرف تاریکیوں کومٹا کرچھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کردیتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ خود بھی ظاہر ہوجاتا ہے، جیسے سورج کہ وہ جہاں اندھیروں کو ختم کرکے روشنی پھیلاتا ہے اور آسمان و زمین کونمایان کردیتا ہے تو وہاں وہ خود بھی عیان و آشکار ہوجاتا ہے، چنانچہ اس معنیٰ کے مطابق یہ حقیقت مسلّمہ ہے کہ دیدۂ دل سے اہلِ معرفت کو نورِ خداوندی کی تجلّیوں کا مشاہدہ ہوتا ہے، تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن حکیم میں جہاں جہاں نور کا ذکر ہے وہاں معرفتِ الٰہی کا تذکرہ ہے۔

 

۲۔ قرآنِ پاک (۳۳: ۴۵ تا ۴۶) میں ہے کہ آنخضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدائے  برتر نے نبی، رسول، شاہد، مبشر، نذیر، داعی الی اللہ اور سراجِ منیر بناکر بھیجا تھا، چنانچہ حضورِ اکرمؐ کے ان

 

۳۱

 

مبارک ناموں میں معرفت کے معنی موجود ہیں، کہ نبی اس کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دیتا ہے، اور حقیقت میں اس کی بنیاد  روحانیّت اور تجلّیاتِ نور کے مشاہدات پر ہے، اسی طرح رسول وہ ہے جس کو خدا نے اپنی انتہائی قربت و نزدیکی سے بھیجا ہے، اور شاہد کے معنی وہ شخص ہیں جس نے اصل واقعہ اور حقیقتِ حال کا مشاہدہ کیا ہے اور جو اس معاملے کا گواہ ہے، اس میں نبیٔ رحمت کی روحانیّت و معرفت کا نمایان ذکر ہے، کہ اگر جنّت اور دیدارِ الٰہی کا مشاہدہ نہ کیا ہوتا تو حقیقت میں حضور شاہد (گواہ ) نہ کہلاتے اور نہ ہی خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے ہوتے، کیونکہ ان تمام ناموں کا اطلاق عالمِ روحانیّت کے مشاہدے کے بعد ہی صحیح ہے، اور داعی الی اللہ کا مطلب خدا سے واصل کردینے والا ہے، اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ حضورؐ خود اللہ سے واصل تھے، لہٰذا آپؐ خدا کے حکم سے دوسروں کو بھی صراطِ مستقیم پر گامزن ہو کر واصل باللہ ہو جانے کے لئے بلایا کرتے تھے، اور حضورِ انو رؐ  تبلیغ و دعوت کا یہ عظیم الشّان کام نورِ معرفت ہی کی روشنی میں انجام دیا کرتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نورِ ہدایت کے روشن چراغ کی حیثیت سے تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ ہی نور معرفت تھے، پس اس مثال سے صاف صاف یہ معلوم ہوا کہ قرآنِ حکیم کی حکمت میں معرفتِ الہٰی کا تذکرہ موجود ہے، خصوصاً ان آیاتِ کریمہ میں جو انسانِ کامل کے اوصافِ حمیدہ سے متعلق ہیں ۔

 

۳۲

 

۳۔ قرآنِ مقدّس (۱۳: ۴۳) میں فرمایا گیا ہے کہ: اور (اے رسولؐ) کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم پیغمبر نہیں ہو تو تم (ان سے ) کہدو کہ میرے اور تمہارے درمیان ( میری رسالت کی ) گواہی کے واسطے خدا اور وہ شخص جس کے پاس (آسمانی ) کتاب کا علم ہے کافی ہیں ۔

 

آپ چاہیں تو کسی بھی شیعی تفیسر میں اس آیۂ کریمہ کے متعلق یہ بات معلوم کرسکتے ہیں (جہاں کئی سنی مستند حوالے بھی ملیں گے ) کہ کارِ رسالت کی اس عالی شان گواہی میں خدا کے بعد جس انسانِ کامل کا ذکر کیا گیا ہے، وہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السّلام ہی ہیں، چنانچہ خواہ کافر کچھ بھی کہیں، لیکن خداوند تعالیٰ اور علی امامِ مبین اس امرِ واقعی کے شاہدین عدل (دو عادل گواہ ) ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برحق رسول ہیں ۔

 

اب آپ کو یہاں بطریقِ عاقلانہ یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ حضرت علیؑ کی اس گواہی کا معیار کیا ہے؟ آپ یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ سب سے بلند ترین معیار اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاک وپاکیزہ شہادت (گواہی) ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ تصدیقِ رسالت کے بارے میں جناب مرتضیٰ علیؑ کی گواہی بھی ربّانی شہادت کی طرح بلیغ، ہمہ گیراور مضبوط ہے، اور یہ شہادت قیاسی، سطحی اور محدود قسم کی ہرگز نہیں، بلکہ سراسر عینی مشاہدات پر مبنی ہے، کیونکہ غارِ حرا سے لے کر شبِ معراج کے تمام روحانی عجائب و غرائب کی کیفیت و حقیقت کو دیکھے بغیر حضورِ اکرمؐ کی رسالت کے گواہ بن جانے کے کچھ معنی نہیں ہوتے، جبکہ آنحضرتؐ

 

۳۳

 

کی نبوّت و رسالت روح اور روحانیّت کے تمام مدارج پر محیط ہے اور جبکہ اس انتہائی عظیم امر کے ثبوت کے لئے پہلا گواہ پروردگارِ عالم خود ہے۔

 

اس فرمانِ خداوندی میں علی کے گواہِ رسالت ہونے کے علاوہ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ آپؑ کے پاس آسمانی کتاب کاعلم ہے، حالانکہ آسمانی کتاب کا علم نہ صرف قرآن کے ظاہر و باطن میں ہے، بلکہ یہ روح اور روحانیّت کی لوحِ محفوظ میں بھی موجود ہے، جو ام الکتاب ہے، کیونکہ دائرہ علم میں کتاب اور ام الکتاب دونوں ایک ہیں، ان حقیقتوں کی روشنی میں یہ بات نکھر کرسامنے آتی ہے کہ باطن اور روحانیّت کی کسی بھی منزل میں نور ولایت  نورِ نبوّت سے الگ نہیں تھا، اس کے معنی یہ ہیں کہ جب بھی نورِ نبوّت نے خدا کی تجلّیوں کو دیکھا تو نورِ ولایت نے بھی دیکھا،  اس صفت کے بغیر کوئی شخص خدا کے ساتھ ساتھ رسالتِ محمدیؐ کے گواہ ہو جانے کے معیار پر پورا نہیں اتر سکتا ہے، اس سے اندازہ ہوگیا کہ قرآنی حکمت میں کس طرح معرفت کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔

 

معرفت اور جنّت:۔

جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ جہاں نورِمعرفت کے وسیلے سے پروردگار کو پہچان لیا جاتا ہے وہاں معرفت سے کوئی چیز باہر نہیں رہ سکتی، کیونکہ نورِ معرفت ہر چیز پر محیط اور حاوی ہے، چنانچہ اس وسیع احاطے میں جنّت بھی شامل ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ کامیاب ذکر اور نورانی عبادت کے نتیجے میں روح اور روحانیّت کے جو

 

۳۴

 

مشاہدات سامنے آتے ہیں انہیں مشاہدات میں جنت بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ:۔

وَیُدْخِلُھُمُ الْجَنَّۃَ عَرَّ فَھَا لَھُمْ  (۴۷: ۰۶) اور ان کو اس بہشت میں داخل کرے گا جس کا انہیں (پہلے سے ) شناسا کررکھا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بہشت کی شناخت دنیا کی زندگی ہی میں ہونی چاہئے تاکہ مرنے کے بعد یہ ہمیشہ کے لئے حاصل ہو سکے، اوراگر یہاں کسی کو جنّت کی معرفت حاصل نہ ہوئی توپھر آخرت میں ناممکن ہے، اسی معنی میں فرمانِ خداوندی ہے کہ:۔

اورجو شخص دنیا میں اندھا رہے گا  سو  وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اورزیادہ راہ گم کردہ ہوگا  (۱۷: ۷۲) اس ارشاد سے چشمِ بصیرت اور مشاہدۂ روحانیّت کی اہمیت صاف طور پر ظاہر ہو جاتی ہے، لہذا مومن کو چاہئے کہ خود کو امامِ زمان کے امر و فرمان سے وابستہ کرے، کیونکہ خدا اور اس کے برگزیدہ رسولؐ کی جانب سے صرف امامِ وقت ہی اس مرتبۂ اعلیٰ پر مقرر ہیں، کہ ان کی اطاعت و فرمانبرداری سے علم الیقین اور نورِ معرفت حاصل ہوجاتا ہے۔

 

علم الیقین:۔

اگر کوئی مومن دنیاوی زندگی ہی میں دل کی آنکھ سے روح اور روحانیّت کی جنت کا مشاہدہ نہیں کر سکتا ہے اور اس کی باطنی آنکھ

 

۳۵

 

ابھی نہیں کھلی ہے، تو پھر بھی اسے مایوس نہیں ہونا چاہئے، جبکہ وہ ایمان اور امام کی محبت میں پختہ اور مضبوط ہے، وہ ایسی صورت میں علم الیقین سے کام لے کر آخرت اور بہشت کی حقیقتوں کا تصوّر کر سکتا ہے، کیونکہ جہاں دیدۂ دل اور نورباطن نہ ہو وہاں یقینی علم کی روشنی آنکھ کا کام دیتی ہے، جس کے بارے میں قرآنِ کریم کا یہ ارشاد ہے کہ:۔

 

ہرگز نہیں اگر تم علم الیقین جان لو البتہ  تم دوزخ کو ضرور دیکھو گے۔ (۱۰۲: ۰۴ تا ۰۵) ۔ اس فرمانِ خداوندی میں علم الیقین کی تعریف و توصیف کی گئی ہے، اور اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جن سعادت مند مومنین کے پاس علم الیقین ہو تو وہ نہ صرف دوزخ کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ وہ اس کی روشنی میں جنّت کے حقائق کو بھی دیکھ کر پہچان سکتے ہیں، اور یہ سب کچھ مرجانے سے قبل اسی دنیا میں مکمل ہو جانا چاہئے، تاکہ علم الیقین کے بعد عین الیقین کا درجہ حاصل ہو۔

 

عین الیقین:۔

عین الیقین کے معنی ہیں یقین کی آنکھ ، جس سے دیدۂ دل اور چشمِ باطن مراد ہے، انسان اسی باطنی آنکھ سے اپنی روح اور روحانیّت کو دیکھتا اور پہچانتا ہے، عالمِ روحانیّت اور جنت کی ہر چیز کا مشاہدہ کر سکتا ہے، اور معرفت اسی مقام پر مکمل ہو جاتی ہے۔

 

۳۶

 

اگر کسی مومن کو ابھی یہ مقام حاصل نہ ہو سکا ہے تو جاننا چاہئے کہ اس کے علم القین میں کمی ہے یا عبادت و ریاضت اور حقیقی محبت میں کوتاہی ہے، لہٰذا مومنین کوچاہئے کہ وہ اخلاص و محبت سے امامِ زمان کی مکمل تابعداری کرتے ہوئے ذکر وعبادت اور حقیقی علم کے لئے جدوجہد کریں، تاکہ خدا اور رسولؐ کی خوشنودی سے امام کی دستگیری اور نورانی ہدایت حاصل ہوتی رہے جس سے بڑی آسانی کے ساتھ علم الیقین اور عین الیقین کا درجہ حاصل ہو۔

 

۳۷

 

نور کی کیفیت و حقیقت

 

نور کے لفظی اور لغوی معنی روشنی کے ہیں، اور دینی اصطلاح میں اس سے نورِ ہدایت مراد ہے، جو علم و حکمت اور یقین و معرفت کا سرچشمہ اور دین و دنیا کی رہنمائی کا وسیلہ ہے، وہ پروردگارِ عالم کا نور ہے، جو انسانِ کامل کے لباسِ بشریت میں ملبوس ہوکر ہادیٔ برحق صلوات اللہ علیہ کی حیثیت سے دنیا میں موجود اور حاضر ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ اس نورِ خداوندی کا ذکر آیا ہے، وہ ہر لحاظ سے کامل و مکمل اور زندہ نور ہے، جس کی تمام ہدایات شکوک وشبہات سے پاک و پاکیزہ ہیں، اس کی روشنی میں نہ صرف آسمان و زمین کی حقیقتیں روشن اور محدود ہوکر سامنے آتی ہیں، بلکہ وہ اوّل و آخر اور ظاہر و باطن کے جملہ احوال پر بھی روشنی ڈالتا ہے، کیونکہ وہ ہر اعتبار سے خدائے قادرِ مطلق کا نورہے۔

 

نور کی تعریف:۔

اگر کوئی شخص سوال کرے کہ نور کی تعریف کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نور جہاں طلوع ہوتا ہے وہاں وہ ظاہرہو جاتا ہے اور اس کے ظہور کی ضیا پاشیوں سے ظلمتیں مٹ جاتی ہیں، اس کے معنی یہ ہوئے کہ نور کی ایک خاص صفت ظہور ہے، لہٰذا وہ نہ صرف خود ظاہر ہو جاتاہے،

 

۳۸

 

بلکہ ساتھ ہی ساتھ اندھیروں میں چھپی ہوئی چیزوں کو بھی آشکار اور اجاگر کر دیتا ہے۔

 

نور کی قسمیں:۔

جیسا کہ اس موضوع کی تمہید سے ظاہر ہے، کہ ہم یہاں جس نور کے بارے میں کچھ تذکرہ کرنا چاہتے ہیں وہ صرف روحانی نور ہے مادّی قسم کی روشنی نہیں، اور نہ ظاہری اور دنیاوی روشنی سے یہاں کوئی بحث مقصود ہے، مگر ہاں اس سے مثال لی جا سکتی ہے، چنانچہ جاننا چاہئے کہ روحانی یا دینی نور کی تین قسمیں ہیں، یا یوں کہا جائے کہ نورِ ہدایت حقیقت میں تو ایک ہی ہے مگر اس کے تین پہلو ہیں، جو اخلاقی، روحانی اورعقلی پہلو ہیں، اسی معنیٰ میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انسانی ہدایت کے لئے تین انوار مقرر ہیں، کیونکہ ظاہر و باطن میں جو وجود  و ہستی ہے وہ تین قسم کی ہے، وہ  عقلِ کلّ، نفسِ کلّ  اور جسمِ کلّ (کائنات) ہے، نیز انسان کا قیام و قرار بھی تین چیزوں پر ہے، یعنی عقل، نفس اور جسم، پھر اس کی ذاتی دنیائیں بھی تین ہیں، جو دنیائے عقل و دانش، دنیائے روح و روحانیّت اور دنیائے جسم و بشریّت ہیں، اور عالمِ لاہوت یعنی ذاتِ وحدت کے تحت عوالم بھی تین ہیں، جبروت، ملکوت اور ناسوت، پس ان تمام مثالوں سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ نورِ ہدایت کے مدارج تین ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو جسم،  روح اور عقل کے مقام پر برابر برابر ہدایت دی جائے۔

 

۳۹

 

نورِ ہدایت کے تین قسموں میں ہونے یا اس کے تین پہلو ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ہادیٔ برحق نہ صرف عقل اور روح کے اعتبار سے نورِ خداوندی ہیں بلکہ آپ کے جسمِ پاک کو بھی یہ فضیلت حاصل ہے، کیونکہ اگر جسم کے بغیر عقل و روح کے لئے دنیا والوں کی ہدایت و رہنمائی ممکن ہوتی، تو اس صورت میں فرشتوں کو روئے زمین کے پیغمبر اور امام بنا کر بھیج دیا جاتا، مگر امرِ واقعی ایسا نہیں ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ عالمِ بشریت اور دنیائے جسمانیّت میں صرف جسم ہی کے وسیلے سے عملی ہدایت کا نمونہ پیش کیا جاسکتا ہے، اس لئے عالمِ ظاہر میں جسم ہی نور کا کام انجام دے سکتا ہے، پس اس معنٰی میں ہادیٔ زمان کا مقدّس جسم نور ہدایت کا ابتدائی پہلو ہے یا کہ یہ ظاہری نور ہے۔

 

اخلاقی نور:۔

دنیائے انسانیّت میں جہاں جہاں بری عادتوں کے سائے پائے جاتے ہیں وہ بد اخلاقی کی تاریکیاں ہیں، جن کا ازالہ صرف اور صرف اخلاقِ حسنہ ہی کے نور سے ممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ پروردگارِ بزرگ و برتر نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انسانی سیرت و کردار کا اعلیٰ ترین نمونہ بناکر بھیجا، جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے کہ:۔

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ  (۶۸: ۰۴)

اوربے شک آپ اخلاق (حسنہ ) کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں۔ یعنی

 

۴۰

 

آپؐ نیک عادتوں کے درجۂ کمال پر فائز ہیں، تاکہ آپؐ کے ہر قول و فعل کے وسیلے سے لوگوں کونورِہدایت کی روشنی ظاہر ہو، اور اسی اسوۂ حسنہ کی روشنی کے پیچھے پیچھے جادۂ مستقیم پر چلا جائے۔

 

قرآنِ پاک نے آنحضرتؐ کو سراجِ منیر (روشن چراغ) قرار دیا ہے (۳۳: ۴۶) اور اس صفت کا اطلاق سب سے پہلے حضورِ انورؐ کی مبارک و مقدّس شخصیّت پر ہوتا ہے، کیونکہ جن باسعادت انسانوں نے رسولِ خداؐ سے دین کی ابتدائی روشنی حاصل کرلی، وہ آپؐ کی شخصیّت کے وسیلے سے تھی، یا یوں کہا جائے کہ جس روشن چراغ کو دنیا میں بھیجا گیا تھا، اس کا کام یہ تھا کہ عقل و روح کے نور سے پیشتر انسانیّت و اخلاق کی روشنی پھیلائے، پھر روح اور عقل کی طرف رہنمائی کرے، کیونکہ انسان کی تخلیق میں بھی یہی ترتیب ہے، کہ سب سے پہلے جسم بنتا ہے، اس کے بعد روح آتی ہے اور آخر میں عقل کی تکمیل ہوتی ہے۔

 

اگر کوئی شخص مذکورۂ بالا وضاحت کے باؤجود یہ سوال کرے کہ ہادیٔ برحق کی شخصیّت نورِ ہدایت میں شامل ہے یا کہ اس سے الگ ہے؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ انسانِ کامل کی جسمانیّت و شخصیّت نور میں شامل ہے، کیونکہ اخلاق، روح اور عقل کی روشنی جسم کے سہارے کے بغیر ناممکن ہے، یہی سبب ہے کہ قرآنِ حکیم (۲۴: ۳۵) میں جس طرح نورِ ہدایت کی تشبیہہ ایک روشن چراغ سے دی گئی ہے، اس میں نہ صرف شعلہ اور  روشنی کو نور کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے بلکہ اس کے ساتھ

 

۴۱

 

ساتھ ظرفِ چراغ اور طاق کو بھی نور قرار دیا گیا، جیسے ارشاد ہواہے کہ:۔

 

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثل ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے جس میں ایک روشن چراغ ہو (۲۴: ۳۵) آپ دیکھتے ہیں کہ نورِ خداوندی کی اس پُرحکمت مثال میں نہ صر ف شعلہ اور روشنی ہی کا ذکر ہے بلکہ اس میں ظرفِ چراغ اور طاق کو بھی شامل کیا گیا ہے، اس سے یہ ثبوت ملا کہ پیغمبرِ اسلامؐ اور امامِ اطہرؑ کے اخلاق،  روح اور عقل کے ساتھ شخصیّت اور خاندان بھی نور کا حصہ ہے، جبکہ شخصیّت خدائی نور کے ظرفِ چراغ کی حیثیت سے اور خاندان طاق کی طرح ہے جس میں چراغ ہوتا ہے۔

 

اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرتؐ کے “رحمتہ للعٰلمین” ہونے کے جو جومعانی ہیں، ان میں ایک بنیادی اور اہم بات یہ بھی ہے کہ شروع سے لے کر آخر تک دنیائے انسانیّت میں جو کچھ انسانی اور اخلاقی خوبیاں پائی جاتی ہیں، وہ سب کی سب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقی نور کے طفیل سے ہیں، ورنہ تمام جہانوں کے لئے سرورِ انبیاء  کو رحمت بنا کر مبعوث کردینے کے معنی ادھورے رہ جاتے ہیں، لیکن یہ بات الگ ہے کہ کوئی شخص حضورؐ کی انسانیّت و اخلاق کی روشنی کے بعد آپؐ کے روحانی اور عقلی نور کے فیض کو بھی قبول کرتا ہے یا نہیں ۔

 

۴۲

 

روحانی نور:۔

اس دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں، جو ہمیشہ سے روح اور روحانیّت کی تاریکی میں مبتلا اور اخروی حقیقتوں سے منکر ہیں، کیونکہ وہ عقیدہ اور مذہب سے کوئی تعلق اور دلچسپی نہیں رکھتے ہیں، ان کے نزدیک یہی ظاہری اور دنیاوی زندگی سب کچھ ہے، حالانکہ مذہب کی نظر میں روحانیّت اور آخرت بدرجہا بہتر اور برتر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے روح اور روحانیّت کے اندھیروں کو دور کر دینے کے لئے روحانی نور کو مقرر فرمایا، یعنی ہر زمانے میں ایک ہادیٔ برحق کی مبارک و مقدّس روح کو روحانی روشنی کا سرچشمہ قرار دیا، تاکہ اہلِ بصیرت کے لئے دنیائے روحانیّت دنیائے مادیّت سے کہیں زیادہ تابان و درخشان ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: اور (اے محمدؐ)  ہم نے تم کو سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے  (۲۱: ۱۰۷)  اس کے یہ معنی ہیں کہ نورِ محمدیؐ مشیتِ الہٰی کے مطابق عالمِ لاہوت سے طلوع ہوا، اور ہمیشہ کے لئے یہ پاک نور علم وحکمت اور رشد و ہدایت کی شکل میں جبروت، ملکوت اور ناسوت میں جاری اور باقی رہا، جاننا چاہیے کہ مثال کے طور پر ناسوت جو انسانوں کی دنیا ہے سب سے نیچے ہے، ملکوت جو  ارواح و ملائکہ کی دنیا ہے اس سے اوپر ہے، جبروت جو جلالی فرشتوں

 

۴۳

 

اور صفاتِ خداوندی کا عالم ہے اس سے بھی اوپر ہے، اور لاہوت جو عالمِ وحدت یا عالمِ ذات ہے سب سے اوپر ہے، اور اصل میں بلندی کی یہ ترتیب مکانی نہیں بلکہ شرفی ہے۔

 

خدائے رحمان و رحیم نے تینوں عالم میں ہدایت و رحمت کے نور کو اس لئے مقرر فرمایا کہ انسان جو ذاتِ احد کے حضور سے اس دنیا میں آیا ہے، اور جس کو بحکمِ “اِنّا اِلیہِ راجعون” خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اس کی اس ہدایت و رحمت سے دستگیری اور مدد کی جائے کیونکہ خداوند خوب جانتا تھا کہ انسان جو ہر طرح سے کمزور ہے وہ خدائی نصرت و یاری کے بغیر اس دور  و دراز سلسلۂ سفر میں کامیاب نہیں ہو سکتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کو یہ امر منظور ہوا کہ وسیلۂ نورِ ہدایت سے اس کی دستگیری اور یاری کی جائے، اور قدم بقدم، منزل بمنزل اور عالم بعالم رہنمائی کرتے ہوئے اس کو اصل مرتبہ پر پہنچا دیا جائے۔

 

یہ اہلِ طریقت کا سب سے بڑا پسندیدہ تصوّر ہے کہ سالکِ صادق کو سب سے پہلے مرشد کامل میں فنا ہو جانا چاہئے، تاکہ وہ اس وسیلے سے رسولؐ میں فنا ہو سکے، اور پھر رسولؐ کے ذریعے سے فنا فی اللہ اور بقا باللہ کا درجہ حاصل کرسکے، اس بیان سے ایک طرف تو یہ حقیقت واضح اور روشن ہوئی کہ نورِ ہدایت کی ضرورت و اہمیت نہ صرف عالمِ ناسوت ہی میں ہے بلکہ ہمیشہ سے بحکمِ خدا عالمِ ملکوت اور عالمِ جبروت میں بھی اسی کی کار فرمائی جاری وساری ہے دوسری طرف یہ ظاہر ہوا کہ سالک کی

 

۴۴

 

منزلِ مقصود فنا فی اللہ ہے، یعنی اسے مرتبہ آخرین میں جاکر اپنی ہستی اور انائیّت کو خدا کی حقیقت میں ختم اور فنا کردینا ہے اور خدا کی ازلی و ابدی وحدت میں زندہ ہو جانا ہے۔

 

روحانیّت کی تدریجی روشنی:۔

انسان فطری طور پر ایسا ہے کہ وہ ہر میدان میں پہلے پہل کمزور ہو تا ہے، پھر رفتہ رفتہ ترقی کرتا ہے، اسی قانونِ فطرت کے مطابق روحانی روشنی شروع شروع میں بہت ہی کم اور مدھم دکھائی دیتی ہے، اور پھر بتدریج اس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، تا آنکہ ایک دن یہ انتہائی تیز روشنیوں کی ایک طوفانی دنیا بن کر سامنے آتی ہے، اور یہ سب سے بڑے امتحان کا مرحلہ ہوتا ہے۔

 

روحانیّت کی ابتدائی روشنی ایک اعتبار سے مادّی روشنی کے مشابہ ہوتی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ کئی اعتبار سے اس سے مختلف بھی ہے، کیونکہ روحانی نور ایک ایسی غیر مادّی حقیقت ہے جو جسم کی کیفیات و صفات سے پاک و برتر اور زمان و مکان کی قید سے باہر ہے، وہ ظاہری روشنی سے بدرجۂ انتہا اعلیٰ، افضل اور اکمل ہے، نہایت ہی خوبصورت، بیحد دلکش اور از بس جاذبِ نظر ہے، اس کی روح پرور  رنگینیاں، دلفریب ضیا پاشیاں اور مسرّت بخش  درخشانیاں بیمثال ہیں اور وہ معجزاتِ روحانیّت اور تجلّیاتِ نورانیت کی ایک رنگین پُربہار دنیا ہے،

 

۴۵

 

جو زمین و آسمان کی تمام اشیاء کے روحانی حسن و جمال کی مظہر کاملہ ہے، لہٰذا لمحہ بہ لمحہ اس کے ظہورات و تجلّیات کی گوناگون شکلیں بدلتی رہتی ہیں، اس کی ہر ہر چیز شہکارِ قدرت اور نمونۂ حکمت ہونے کے باعث اپنی جانفزا تجلّیوں سے دیدۂ دل کو بہت کچھ ٹھنڈک عطا کر دیتی ہے۔

 

روحانی نور خدا کا ہے جو رسول میں تھا اور رسول کا ہے جو امام میں ہے، یہ روشنی خود دل کی دنیا بھی ہے اور دل کی آنکھ بھی، وہ روح بھی ہے اور روحانیّت  بھی، آخرت بھی ہے اور جنّت بھی، یہ غذائے جان بھی ہے اور دل و دماغ کی راحت بھی، کیونکہ دراصل روح خود ہی سب کچھ ہے، اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے امر سے ہے (۱۷: ۸۵) بلکہ ظہورِ روح اور مشاہدۂ روحانیّت کے اس اعلیٰ مقام پر یہ خود ہی عالمِ امر ہے، لہٰذا یہاں روح ہر وقت ــ “کن فیکون” کے ظہورات و تجلّیات کی آئینہ داری کرتی رہتی ہے، یعنی مشاہدات روح اور روحانیّت سے معلوم ہوتا ہے کہ ربّ العزّت “کُنۡ” کے امر سے کس طرح ہر چیز کو وجودِ  نورانی عطا کردیتا ہے اور کس طرح اس کلمہ کے تحت عالمِ روحانیّت میں ہر وقت چیزیں ظہور پذیر ہوتی رہتی ہیں۔

 

رنگِ روحانیّت:۔

ویسے ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو باغِ کائنات اور گلشنِ موجودات کے ظاہر کی تمام چیزوں کے حسن و جمال کی لطافت و رنگینی بھی خدا کی طرف سے ہے، تاہم دوسرے اعتبار سے اس قادر مطلق اور حکیمِ برحق کا خصوصی اور امتیازی رنگ روح و عالمِ روحانیّت ہی میں پوشیدہ ہے، جو نورِ ہدایت

 

۴۶

 

اور اسلام و ایمان کا رنگ ہے، جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:۔

 

صِبْغَةَ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً٘-وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ (۰۲: ۱۳۸) اللہ کے رنگ کی بات کرو اور خدائی رنگ سے بہتر کون سا رنگ ہو سکتا ہے اورہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں، یعنی نصاریٰ سے کہو کہ ظاہری رنگ چھڑکنے (بچوں کو بپتسمہ دینے ) سے معرفت اور نجات حاصل نہیں ہوتی، یہ تو ایمان اور روح و روحانیّت کے رنگ میں رنگ جانے سے حاصل ہوتی ہے، یہی اللہ کا رنگ ہے اور رنگینی عطا کرنے میں خدا سے بہتر کون ہوسکتا ہے۔

 

رنگِ روحانیّت کا تذکرہ قرآنِ حکیم کی ان آیاتِ کریمہ میں کثرت سے ملتا ہے جو نور، قیامت اور جنّت کے موضوعات سے متعلق ہیں، اور اس کے علاوہ قرآنِ کریم میں جہاں کہیں کسی رنگینی کا ذکر آیا ہو، اس میں بھی اکثر رنگ روحانیّت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، مثال کے طور پر سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۶۹ میں (۰۲: ۶۹) نبی اسرائیل کے جس بیل کے مسرّت بخش زرد  رنگ کا بیان آیا ہے، اس کی تاویلی مراد روحانی رنگ ہے، جس کوبندۂ مومن ہادیٔ برحق کے وسیلے سے اپنے باطن میں دیکھتا ہے، یہ زبردست خوشی اس رنگ روحانیّت کے اوّلین مشاہدہ سے بھی ہے اور دل کی آنکھ کے پہلی بار کھل جانے سے بھی، ورنہ محض زرد رنگ کے ایک ظاہری اور دنیاوی بیل کو دیکھنے سے کسی کو کیونکر

 

۴۷

 

اتنی ساری مسرّت وشادمانی ہو سکتی ہے کہ جس کا ذکر بڑے اہتمام سے خدا خود کرے۔

 

روحانی قوّتیں:۔

جس طرح رات کی تاریکی دنیا کی چیزوں کو چھپا لیتی ہے اور دن کی روشنی ان کو ظاہر کردیتی ہے، اس طرح نورِ ہدایت روح اور روحانیّت کی ان تمام چیزوں کو ظاہر اور نمایان کردیتا ہے، جو غفلت وجہالت کی ظلمت میں پوشیدہ ہیں، اسی سلسلے میں روحانیّت کی گوناگون قوّتیں اور طرح طرح کی صلاحیتیں اجاگر ہو جاتی ہیں، جن میں روحانی طور پر دیکھنا، سننا، سونگھنا، بولنا اور چھونا خاص ہیں، ان پانچ قوّتوں کو حواسِ خمسۂ باطنی کہتے ہیں، جن کے توسط سے نورِ ہدایت مومنین کے باطن میں طلوع ہو جاتا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ نور ہدایت نہ صرف روحانی روشنی کی کیفیت میں رہبری و رہنمانی کرتا ہے، بلکہ یہ روحانی اور نورانی طور پرسننے، سونگھنے، بولنے اور چھونے کی صورت میں بھی ہر قسم کی ہدایات دیتا ہے۔

 

نورِ ہدایت کن کن کیفیات میں اور کیسے کیسے طریقوں سے مومنین کی مدد، دستگیری اور رہنمائی کرتا ہے، اس کے لئے اس حدیث قدسی میں ذرا غور کیا جائے، اور وہ ارشاد یہ ہے کہ: میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعہ مجھ سے قرب حاصل کرتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت

 

۴۸

 

کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑ تا ہے، اور اس کا پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے (بحوالۂ صحیح بخاری جلد سوم، باب ۸۴۴، حدیث نمبر ۱۴۲۲)

 

اہلِ دانش کو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اوصاف ہادیٔ برحق کے ہیں، جو نورِ ہدایت ہے، جس کو انسانیّت کے ظاہر و باطن میں ذاتِ سبحان کی خلافت و نیابت اور نمائندگی کا عظیم شرف حاصل ہے۔

 

چنانچہ اس کی ہدایت و رہنمائی کا عمل خدا کا فعل قرار پاتا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک و برتر ہے کہ وہ بذاتِ خود اپنے بندے کا کان، آنکھ ہاتھ اور پاؤں بن جائے۔

 

مذکورۂ بالا تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ نورجسمانی، روحانی اور عقلی قوّتوں کا سرچشمہ اور ہر قسم کے احساس و ادراک کا ذریعہ ہے، لہٰذا نور کے بہت سے معانی ہیں اور وہ سب کچھ ہے، مثال کے طور پر جب نور سے ہدایت و رہنمائی مراد ہے تو یہ صاف ظاہر ہے کہ آنکھوں کی ہدایت روشنی کی صورت میں ہوسکتی ہے، کانوں کی ہدایت کلام کے بغیر ناممکن ہے، اس سے معلوم ہوا کہ نور  آواز و ندا  کی کیفیت میں بھی ہے، اگر ناک کوبھی ہدایت کا کوئی حصّہ ہے تو وہ خوشبوؤں کی شکل میں مناسب ہے، اور یہ حقیقت ہے، چنانچہ ثابت ہوا کہ نور

 

۴۹

 

کی ایک کیفیت جنّت کی خوشبو کی طرح بھی ہے، زبان کی ہدایت قدرتی او رمعجزاتی گفتگو کی حیثیت میں ہے، کہ جس سے وہ خود بخود بولنے لگے اور اسی طرح نور چھونے کی قوّت بن کر بھی آتا ہے۔

 

نور عالمِ دین کا سورج ہے یا یوں سمجھ لینا کہ نور خدا کا بجلی گھر ہے، اب آپ مادّی اور سائنسی طور پر خوب سوچیں کہ سورج اور پاور ہاؤس سے کیا کیا چیزیں بنتی ہیں اور کیسی کیسی طاقتیں وجود میں آتی ہیں، ظاہر ہے کہ آفتاب عالمتاب سے صرف روشنی مراد نہیں اور نہ ہی بجلی گھر سے صرف روشنی کا کام لیا جاتا ہے، بلکہ مادّی طاقت کے ان دو سرچشموں میں لاتعداد چیزیں اور بے شمار قوّتیں پنہان ہیں جن کو صر ف سائنسدان ہی جانتے ہیں، پھر اسی مثال کی مدد سے آپ عقل و جان کے نور کے بارے میں سوچیں اور درمیان میں جو فرق و تفاوت ہے اس کو بھی پیش نظر رکھیں، کہ مادّی نورِ عقل و جان کی صفت سے عاری اور دین و دانش کی دولت سے خالی ہے، اور روحانی نور عقل و جان کے اوصافِ کمال کے اس مرتبۂ اعلیٰ پر ہے کہ خداوند تعالیٰ نے اسے روئے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے۔

 

عقلی نور:۔

یہ جاننا ازبس ضروری ہے کہ نور کا سب سے اونچا مرتبۂ عقلی کیفیت میں ہے، درمیانی درجہ روحانی صورت میں ہے، اور سب سے نچلا مقام

 

۵۰

 

جسمانی شکل میں ہے، ہر چند کہ عقل، روح اور انسانی جسم ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں، دوسرے الفاظ میں اس مطلب کو یوں ادا کرنا چاہئے کہ ہادیٔ برحق صلوات اللہ علیہ کی شخصیّت کا نور ظاہر ہے، اس کی روح کا نور باطن ہے اور اس کی عقل کا نور باطن سے بھی باطن ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ نورِ عقل کا ادراک روحانیّت کے آخری مراحل میں ہوتا ہے، اور وہ اکثر روحانیّت کی اعلیٰ مثالوں میں متشکل ہوکر سامنے آتا ہے، ورنہ وہ اپنی مجرّد صورت میں نظر آنے والی چیز نہیں، یہی سبب ہے کہ میں نے اس کو باطن سے بھی باطن قراردیا ہے۔

 

نورِ ہدایت اپنے جسم کے توسط سے علم الیقین کی روشنی پھیلا تا ہے، روح کے ذریعے سے عین الیقین کی روشنی مہیا کرتا ہے اورعقل کے وسیلے سے حق الیقین کی روشنی پہنچاتا ہے، اور مومنین ہدایت کے ان فیوض و برکات کو اس طرح حاصل کرتے ہیں کہ حواسِ ظاہر سے علم الیقین کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں، حواس باطن سے عین الیقین کے ساتھ اور مدرکاتِ عقل کے ذریعہ حق الیقین کا ادراک کر لیتے ہیں۔

 

ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو کائنات پر کرسی قائم ہے اور کرسی پر عرش کا قیام ہے اور دوسرے اعتبار سے یہ کہنا بھی درست ہے کہ عرش (عقلِ کل) نے کرسی (نفسِ کلّ) کو گھیر رکھا ہے اور کرسی میں کائنات محدود ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ عقلی نور نے روحانی نور کو اپنے احاطۂ علمی میں لے لیا ہے، اور روحانی نور جسمِ کلّی پر محیط

 

۵۱

 

ہے، اس وضاحت سے یہ حقیقت روشن ہو کر سامنے آتی ہے کہ نورِ عقل اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کا تخت ہے، جس پر خدائے پاک و برتر کی حقیقی توحید اور کامل معرفت قائم ہے، اس سے عقلی نور کا مرتبہ ظاہر ہوا۔

 

کہتے ہیں کہ یہ کائنات ایک عظیم انسان کی طرح ہے کہ اس کی جان بھی ہے اورعقل بھی، یعنی نفسِ کلّ اور عقل کلّ، اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ انسانِ کامل اس معنیٰ میں کامل اور مکمل کہلاتا ہے کہ عقلِ کلّ اسی کی عقل برتر کا نام ہے، نفسِ کلّ اسی کی عظیم روح کو کہتے ہیں اورجسمِ کلّ سے اسی کا لطیف جسم مراد ہے جو ساری کائنات پر حاوی اور محیط ہے، پس یہی ہادیٔ برحق عقلِ کلّ بھی ہے اور نفسِ کلّ بھی عرش بھی ہے اور کرسی بھی، جیسا کہ مولائے روم کا قول ہے:۔

عقلِ کلّ و نفسِ کلّ مردِ خداست

عرش و کرسی رامدان کزوی جداست

ترجمہ: انسانِ کامل خود ہی بیک وقت عقل کلّ بھی ہے اور نفس کلّ بھی اور عرش و کرسی کے بارے میں بھی یہ نہ سمجھنا کہ وہ اس سے الگ ہیں، یعنی اس کی عقل عرشِ الہٰی بھی ہے اورعقلِ کلّی بھی، اور اس کی روح کرسی بھی ہے اور نفس کلّی بھی۔

 

مظہرِ نورِ عقل:۔

چونکہ عقلی نور ایک ایسی حقیقت ہے جو غیر مرئی ہے یعنی

 

۵۲

 

وہ دکھائی دینے والی شے نہیں،  لہٰذا پہلے مقام پر اس کی مظہر روح ہے اور دوسرے مقام پر شخصیّت، جیسا کہ ہم اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اگر شخصیّت کا نور ظاہر ہے تو روحانیّت کا نور باطن ہے اورعقل کا نور باطن سے بھی باطن ہے، جس کی یہاں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ نورِ عقل اگرچہ ازخود نظر نہیں آتا ہے اور صرف ذہنی و فکری طور پر اس کے فیض کا ادراک ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ روحانیّت کی مختلف مثالوں میں متشکل بھی ہوسکتا ہے، اور اس حالت میں حواسِ باطن سے عقل کے اس روحانی ظہور کا فیضان حاصل کیا جاسکتا ہے۔

 

نورِ عقل کا ظہور نہ صر ف مظہرِ روحانیّت ہی سے ہوتا ہے بلکہ وہ مظہرِ شخصیّت کے وسیلے سے بھی ظاہر ہوتا ہے، جس کی روشنی سے اہلِ ایمان حواس ظاہر کے توسط سے استفادہ کرسکتے ہیں، اور اگر دنیا میں نورِ عقل کا یہ ظہور نہ ہوتا، تو دنیا والے سب کے سب گمراہ ہوجاتے۔

 

نور کی اصل کیفیت:۔

نور کا اصل سرچشمہ عقل ہے، اور عقل کی روشنی، ہمیشہ علمی صورت میں نکلتی رہتی ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ نور جہالت و نادانی کی تاریکی کو دور کرنے کے لئے مقرر ہے، چنانچہ نورِ عقل ایک ایسے گوہر کی طرح ہے جس سے ہر وقت علم و حکمت کی روشنی پھیلتی رہتی ہے، جیسے

 

۵۳

 

سرچشمۂ آفتاب کہ وہ کائنات میں مسلسل ضوفشانی کررہا ہے، مگر چونکہ نورِ عقل کی روشنی جو علمی کیفیت میں ہے وہ غیر مادّی ہے، اس لئے وہ دکھائی نہیں دیتی، اور نہ ہی لاعلمی اور جہالت کوئی ایسی چیز ہے جو ظاہری آنکھوں کے سامنے ہو، پس یہی وجہ ہے کہ ظاہر پرست لوگ دنیا کی روشینوں اور تاریکیوں کو تو خوب جانتے ہیں، مگر عالمِ دین کی روشنی اور تاریکی کے درمیان فرق و امیتاز نہیں کر سکتے ہیں۔

 

عقلی نور یا عقلی روشنی اگر ایک طرف سے علم ہے تو دوسری طرف  سے وہ ہدایت ہے، کیونکہ علم وہدایت انجامِ کار میں ایک ہی چیز ہے، یعنی ان دونوں چیزوں کا مطلب اور مقصد ایک ہی ہے، اس لئے کہ علم جاننے  کو کہتے ہیں اور حقیقت میں اس کی مراد خدا ہے اور ہدایت کے معنی ہیں راہِ راست پر چل کر منزلِ مقصود کو پہنچ جانا، اور منزلِ مقصود اللہ تعالیٰ ہے، اسی طرح نورِ عقل کی روشنی یقین و معرفت بھی ہے، جس سے شکوک و شبہات کی ظلمتیں اور کفر وانکار کی تاریکیاں دور ہو جاتی ہیں اور حق الیقین کے مقام پر معرفتِ الہٰی مکمل ہو جاتی ہے۔

 

جب یہ حقیقت واضح ہوئی کہ عقلی نور علم و حکمت، رشد و ہدایت اور یقین و معرفت کی شکل میں ہوا کرتا ہے، تو یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ وہ وحی والہام بھی ہے اور تائید و توفیق بھی، کیونکہ ایسے تمام معانی علم کے معنی میں ایک ہو جاتے ہیں اور ان سارے الفاظ و اصطلاحات کی بنیادی اور آخری حقیقت ایک ہی ہے۔

 

۵۴