مطالعۂ روحانیّت و خواب

آفاق و انفس کے معجزات

(انتساب)

۱۔ اے نورعین من! کامل توجہ سے سن لو اور خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے جو جو معجزات مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والے ہیں، وہ زمانۂ آدم سے اس طرف انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کے عالم شخصی میں ظاہر ہوتے آئے ہیں، کیونکہ ایسا کوئی معجزہ کبھی ہونے والا ہی نہیں جو سنت الٰہی کے مطابق خدا کے خاص بندوں میں رونما نہ ہوا ہو (بحوالہ آیاتِ قرآنی متعلقہ سنتِ الٰہی )۔

۲۔ اے نورعین من! قرآن حکیم میں ہر سوال کا جواب اور ہر چیز کا بیان موجود ہے (۱۶: ۸۹) بشرطے کہ اس کو نور معلم (۰۵: ۱۵) کی روشنی میں پڑھا جائے، یقیناً ربّ العزّت کی سنت بے بدل یہی رہی ہے کہ اس تعالیٰ شانہ نے جب بھی کوئی آسمانی کتاب نازل فرمائی تو اس کے ساتھ ساتھ نور بھی بھیجا، یعنی ناطق اور اساس، پھر امام، کیونکہ خدائے سبحان واحد اور احد ہے، اور اس کے بعد تمام اعلیٰ و ادنیٰ چیزیں دو دو ہیں (دیکھو قرآن، ۵۵: ۵۲، ۱۱: ۴۰، ۱۳: ۰۳، ۵۱: ۴۹، ۳۶: ۳۶)۔

 

۳۔ اے نور عین من! تم اللہ، رسولؐ، اور صاحبِ امرؑ کی حقیقی اطاعت کرکے اپنے عالم شخصی میں روحانی انقلاب برپا کرو اور معجزات

 

۱

 

کو دیکھو، کون سے معجزات؟ سیرالی اللہ و سیر فی اللہ کے معجزات تاکہ خزانہ معرفت حاصل ہو۔

 

۴۔ اے نور عین من! سائنس کے عجائب و غرائب اللہ تعالیٰ کے وہ معجزے ہیں جو آفاق میں دکھا رہا ہے تاہم ان کی وجہ سے منکرین خدا کی ہستی کے قائل نہیں ہوں گے جب تک کہ خود ان کےنفوس میں معجزات کا ظہور نہ ہو، اس سے معلوم ہوا کہ عالم شخصی کے معجزات زبردست موثر ہوا کرتے ہیں۔

 

۵۔ اے نور عین من! خداوند تعالیٰ کا ایک دن ہماری گنتی کے مطابق ہزار سال کا ہوتا ہے (۲۲: ۴۷) چنانچہ چھ ناطق اللہ کے چھ دن ہوگئے، جن کا زمانہ چھ ہزار برس کا ہوا، اب حضرت قائمؑ یعنی خدا کا ساتواں دن شروع ہوچکا ہے، جو ہزار برس تک چلے گا، جس میں اجتماعی روحانی انقلاب آنے والا ہے، پس ان لوگوں کی بہت بڑی سعادت مندی ہے جو اس دن کو پہلے ہی سے پہچانتے آئے ہیں۔

 

۶۔ اے نور عین من! امامِ زمانہ صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہ مظہرِ نور خدا اور اسم اعظم اس معنیٰ میں ہے کہ تم حقیقی معنوں میں اس کی فرمانبرداری کرتے روحانی ترقی کا فائدہ حاصل کرو، روحانی علم میں بہت زیادہ آگے بڑھو، حضرت امام اقدسؑ کے نیک نام اداروں کی مدد کرو اور خاموش خدمت کرتے ہوئے جاؤ تاکہ اسی وسیلے سے خدا کی

 

۲

 

خوشنودی حاصل ہو جائے، جس میں سب کچھ ہے۔

 

۷۔ انتساب: میرے عم زادہ برادر کلان ماسٹر موکھی تولد شاہ صاحب (ابنِ خلیفہ عافیت شاہ ابنِ خلیفہ محمد رفیع) بڑے دیندار، پرہیز گار، شب خیز، عبادت گزار، علم دوست، درویش صفت، پاک باطن، محبِّ اہل بیّت اطہار (علیہم السّلام) اور جماعت با سعادت کے حقیقی خادم ہیں، انہوں نے زندگی بھر تعلیمات، مذہبی رسومات، جماعت خانہ اور مولائے پاک کے مریدوں کی پُرخلوص خدمات انجام دی ہیں۔

۸۔ میرے برادر بزرگ تولد شاہ اور ان کی اہلیہ نوران کو خداوند قدّوس نے اولاد و احفاد اور خاندان کے افراد کے خزانوں سے مالا مال فرمایا ہے، جیسے محمد سلیم ہونزائی ابنِ تولد شاہ، نامور سکالر شہناز سلیم ہونزائی، جو علم و حکمت کے آسمان پر ایک درخشان ستارہ ہیں، مصباح سلیم (دس سالہ) صائمہ سلیم (آٹھ سالہ)اور مکے تاج سلیم (پانچ سالہ) ان شاء اللہ العزیز، یہ نیک بخت بچیاں اپنے اپنے وقت میں عظیم شخصیّات میں سے ہوں گی، کیونکہ یہ روشن زمانے میں اور ایک اچھے خاندان میں پیدا ہوئی ہیں، الحمد للہ علی منّہٖ و احسانہٖ۔

 

نصیر الدین نصیر (حب علی) ہونزائی

کراچی ہیڈ آفس

مولانا شنبہ ۱۸ محرم الحرام ۱۴۱۶ھ / ۱۷ جون ۱۹۹۵ء

 

۳

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمہید

 

علامہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اینڈ فاؤنڈیشن (عارف)کا قیام مشرقی کینیڈا میں علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی صاحب کے روح پرور اور ایمان افروز دورے، جس میں موصوف کی تبحر علمی اور منطقی استدلال سے جماعت میں بالعموم اور طلبہ میں بالخصوص ایک روح پھونکی گئی تھی، کے نتیجے میں مارچ ۱۹۷۸ء میں یونیورسٹیوں، مثلاً واٹرلو (کچنر) گویلف، مکگیل کے طلبہ اور جماعتی ممبروں پر مشتمل ایک گروپ، جن کو ہمارے مقدّس مذہب کے روحانی اور باطنی پہلو کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کا شوق ہے، کی کوششوں سے وجود میں آیا ہے۔ علامہ موصوف کو اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائےکینیڈا کی ریجنل کمیٹی برائے مشرقی کینیڈا نے تاویل قرآن کریم اور اسماعیلی روحانیّت پر لیکچروں کی خاطر دعوت دی تھی۔

 

چنانچہ ہمارے لئے یہ ایک بڑی سعادت ہے کہ عارف کے وسیلے سے علم کی خدمت کا موقع ملا ہے، کیونکہ یہ بات سب پر ظاہر ہے کہ امام

 

۵

 

عالی مقام جماعت میں علم عام کردینا چاہتے ہیں، جس کے لئے آپ نہ صرف ہر وقت فرمان کرتے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس مقصد کے حصول کے لئے جماعت کے دائرے میں اور اس کے باہر ایسے بڑے بڑے عطیات بھی دیتے ہیں کہ ان کی مثال نہیں ملتی، اس سے بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ امامؑ کی نظر میں علم کی کتنی بڑی اہمیت ہے۔

 

آپ نے تواریخ کا یہ المناک حادثہ سنا ہوگا، کہ بہت سی گرانقدر اسماعیلی کتابیں ضائع ہوچکی ہیں، جن کی تیاری میں دانشوروں کی عمریں صرف ہوئی تھیں، اور ہم اپنوں کو کچھ گلہ بھی نہیں کرسکتے ہیں ، کہ یہ حادثہ کیوں پیش آنے دیا، اس کے برعکس اگر ہم اپنے وقت کے دانشوروں کے علمی آثار کو محفوظ نہ کریں تو آنے والی نسلیں ہم کو سخت گلہ کریں گی، کیونکہ ہمیں ایسی کچھ مجبوریاں نہیں ہیں، جیسی ماضی میں تھیں، ہمارا زمانہ تو خدا کے فضل و کرم سے آزادی اور ترقی کا زمانہ ہے اور اس میں احیائے علم کے سارے سامان موجود ہیں۔

 

ہم نے ادارۂ “عارف” کے تحت اپنے اوپر جو ذمہ داری رکھی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ ہم علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی کی ان کتابوں اور مقالوں، جو بروشسکی، فارسی اور اردو میں ہیں اور جو اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے پاکستان، دارالحکمتہ الاسماعیلیہ ہونزہ (گلگت) اور خانہ حکمت کراچی (پاکستان) سے چھپ گئے ہیں، کا انگریزی، فرانسیسی، گجراتی

 

۶

 

اور بوقت ضرورت دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ کریں۔

 

علامہ موصوف نے مشرق و مغرب کی کئی روحوں کو اپنے علم اور امام زمانؑ کے لئے جذبۂ جان نثاری سے مستنیر فرمایا ہے۔ آپ امام زمانؑ کے ایک وفادار غلام اور جماعت کے خیر سگال خادم ہیں، انہوں نے اب تک پاک اسماعیلی مذہب پر تقریباً ایک سو کتابیں لکھی ہیں، ہمیں کچھ ایسا تجربہ بھی ہوا ہے کہ موصوف کو امام زمانؑ کی باطنی تائید حاصل ہے۔

 

میں اس موقع پر خانۂ حکمت کے پریذیڈنٹ فتح علی حبیب، عملداران اور اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان حقیقی اسماعیلیوں نے اب تک علامہ نصیر کے ساتھ مل کر بہت سی خدمات انجام دی ہیں، اور اگر ہم کچھ کرسکتے ہیں تو یہ انہی کی قربانیوں کی بنیاد پر ہے، وہ ہم سے تقریباً دس ہزار میل دور ہونے کے باؤجود ہمارے مددگار ہیں، میں آخر میں عارف کے ممبروں کا بھی قلبی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہر طرح سے اس ادارے سے تعاون کیا اور دور دور ہونے کے باؤجود اپنے فرائض کو خود بخود انجام دیتے رہے، ہر چند کہ اس ملک میں ذاتی کام بہت زیادہ ہوتا ہے ، پروردگار ان تمام معزز اسماعیلیوں کو ہر طرح سے خوش رکھے اور ان کی تمام نیک امیدیں پوری کرے! آمین!!

 

شیراز شریف

چیئرمین ادارۂ عارف

 

۷

 

شکر گزاری

 

میری ہستی کے ہر ذرّے کو چاہئے کہ وہ پروردگار عالم کے اس عظیم احسان کی شکر گزاری اور قدر دانی کرے، کہ اس رحمان و رحیم نے اپنی رحمت خاص سے ہمیں اور ہمارے دوستوں کو علم کے میدان میں ہر بار توقع سے زیادہ فتح مندی اور کامیابی عنایت فرمائی ہے، چنانچہ ملک کینیڈا کے ہمارے عزیزان پاک خداوند کی توفیق و یاری سے ایک بہت پیاری کتاب بنام “مطالعہ روحانیّت و خواب” شائع کررہے ہیں، اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی شکر گزاری ہزار برس تک کرتے رہیں، تو پھر بھی کم ہے۔

 

ہر چند کہ شمالی امریکہ (کینیڈا) میں ہمارے قابل قدر دوستوں نے شروع سے لے کر اب تک گونا گون علمی خدمات انجام دی ہیں، اور یہ سب کچھ ادارۂ “عارف” کی طرف سے کیا گیا ہے، تاہم ایک اعتبار سے یہ پہلا موقع ہے کہ اس عزیز ادارے کے نام سے اصولی طور پر ایک پُرحکمت کتاب شائع ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف “عارف” ہی کے ارکان کو بے پناہ خوشی ہورہی ہے، بلکہ یقیناً اس تاریخ ساز کارنامے سے

 

۸

 

“خانہ حکمت” کے ممبروں کو بھی بدرجہ انتہا مسرّت و شادمانی ہوگی۔

 

ادارۂ “عارف” کے ہوشمند اور علم پرور اراکین نے ہر ممکن خدمت انجام دی ہے، لہٰذا مجھے ان سب کا پُرخلوص الفاظ میں شکریہ ادا کرنا چاہئے، اس سلسلے میں سب سے پہلے معزز اور مؤسس چیئرمین کا ذکر جمیل آتا ہے، ہمارے قابل قدر چیئرمین شیراز شریف بہت سی انسانی اور ایمانی صلاحیتوں کے مالک ہیں، وہ گویلف یونیورسٹی کے اسماعیلی سٹوڈنز کے چیئرمین بھی ہیں اور جماعت کے عملدار بھی، لیکن ان تمام صفات اور خوبیوں کے باؤجود ان کو فخر اور بڑائی ذرا بھی پسند نہیں، آپ کے مزاج میں ہمیشہ سنجیدگی اور تواضع کا عنصر غالب رہتا ہے، وہ حقیقی علم کے شیدائی اور مولا کے عاشق ہیں، ان کو علم کی روشنی پھیلانے کا زبردست شوق ہے، آپ حق کی حمایت میں شیر جیسے لگتے ہیں، مگر مقام بندگی پر ایک معصوم بچے کی طرح آنسو بہاتے ہیں، ان کی شخصیّت کو معاشرے میں جیسا مقام ملا ہے اس لحاظ سے وہ بادشاہ جیسے ہیں، لیکن ان کے دل میں جیسی دینی محبت اور عشق الٰہی ہے اس کے اعتبار سے وہ درویش کی طرح ہیں۔

شیراز نے حقیقی علم کی روشنی پھیلانے کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں، وہ “عارف” کے توسط سے مستقبل میں بھی کوئی بڑا علمی کارنامہ انجام دینا چاہتے ہیں، انہوں نے اپنے پروگرام اور کارکردگی ایک مختصر

 

۹

 

رپورٹ اور درخواست کے ذریعہ مولانا حاضر امامؑ کے پاک حضور سے “عارف” کے نام کی تصدیق اور پُرحکمت خوشنودی حاصل کی ہے۔

 

عارف کے چیئرمین اپنے اراکین کی بڑی عزت کرتے ہیں، وہ علم کی روشنی پھیلانے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ جہالت کی تاریکی ختم ہوجائے۔

 

مجھے یقین ہے کہ عارف کے چیئرمین اور ممبران کی یہ دلی تمنا ہے کہ میں اس موقع پر مسٹر جمی جناح کی ان لاتعداد خدمات کو بھی سراہوں، جو آپ نے عارف کے عظیم مقصد کے حصول کے لئے انجام دی ہیں، جمی جناح، جن کا پورا نام جمی محمد علی نور محمد جناح ہے، ایک عالی ہمت اور فرشتہ سیرت مومن ہیں، جن کو “اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے نیروبی” جیسے پاک اور اعلیٰ ادارےمیں آنریری سیکریٹری کے فرائض انجام دینے کا تجربہ حاصل ہے، آپ نے جس طرح “خانہ حکمت” اور “عارف” کی علمی چیزیں جگہ جگہ پھیلادی ہیں، اس کی کہیں مثال نہیں ملتی ہے۔ آپ ان دونوں اداروں کے پشت پناہوں میں سے ہیں، آپ کو دینی علم سے بے حد دلچسپی ہے۔

 

جمی جناح نے دینی علم کے فروغ کی خاطر اب تک جتنی قربانیاں دی ہیں، ان کی تفصیل ان صفحات کی گنجائش سے باہر ہے، آپ علمی خدمت کی ضرورت و اہمیت کو اچھی طرح سے جانتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ

 

۱۰

 

اپنے دفتر کی زبردست مصروفیتوں کے باؤجود ہمیشہ دینی علم کی مقدّس خدمات انجام دیتے رہتے ہیں اور وہ کبھی اس سے نہیں تھکتے ہیں، قول ہے کہ:

این سعادت بزور بازو نیست

تانہ بخشد خدائے بخشندہ

 

خداوند عالم کے فضل و کرم سے ہمارے یہاں علم و ادب کا ایک اور درخشان ستارا روشنی بکھیر رہا ہے جس کا نمایان ذکر کرنے کا وقت آچکا ہے، وہ ہیں محترمہ زین رحیم قاسم، آپ انگریزی ادب میں مہارت تامّہ رکھتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بڑی خوبی کی بات یہ ہے کہ آپ دینی حکمت کی اعلیٰ کتابوں سے بھی اچھی طرح سے باخبر ہیں۔ فی الحال آپ سیدنا پیر ناصر خسرو قدس اللہ سرہ کے فلسفے پر ایم-اے کے لئے معہد دراسات اسلامیہ مکگیل میں کام کررہی ہیں۔ آپ ایک اعلیٰ درجے کی شاعرہ اور پُرنویس نثر نگار ہیں اور ان کی جنبش قلم میں ایسی سحرکاری ہے کہ اس سے علم و حکمت کی کلیاں ہمیشہ کے لئے مسکراہٹوں کی دولت سے مالا مال ہوجاتی ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی کی سب سے بڑی مسرّت و شادمانی قلم کی خدمت میں پوشیدہ ہے۔ آپ ایسی بے لوث ہیں کہ ہمیشہ دوسروں کے کام کی خاطر اپنے مقصد کو قربان کردیتی ہیں۔ منثور و منظوم ترجموں کے سلسلے میں ان کی بے لوث اور فدا کارانہ خدمات کو مشرق اور مغرب

 

۱۱

 

دونوں میں جماعتیں احترام و محبت کے ساتھ یاد کریں گی۔ آپ مستقبل قریب کی ایک بڑی روشن دماغ اور علم پرور شخصیّت ہیں۔

 

میں ان تینوں حضرات کا جان و دل سے شکر گزار اور ممنون ہوں، اور دوسرے تمام عزیزوں کا بھی، جو مشرق و مغرب میں ہیں، جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور قربانیوں سے کام لے کر خانۂ حکمت اور عارف کو قائم کیا اور ترقی دی، پس میری عاجزانہ دعا ہے کہ خداوند اپنی بے پایان رحمت سے ان سب عزیزوں کو دین و دنیا کی کامیابی اور سرفرازی عطا فرمائے! آمین!!

 

فقط علمی خادم

نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی

یکم مئی ۱۹۸۰ء

 

۱۲

 

کتابِ ہذا کی اہمیّت

 

عقل و دانش کا تقاضا یہ ہے کہ اس کتابچہ کی ضرورت و اہمیّت اور افادیّت کے بارے میں بھی کچھ بیان کیاجائے، چنانچہ یہاں جو مضامین مُندرج ہیں، ان کی مناسبت سے یہ نام درست ہے کہ اس کتابچہ میں روحانیّت اور خواب کا پُرمغز مطالعہ ہے، جس سے ایک ہوشیار مومن بتوفیق خداوند بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتا ہے، مجھے فخر سے نہیں بلکہ عاجزی اور شکر گزاری کے آنسو بہاتے ہوئے یہ بتا دینا چاہئے کہ یہ مضامین اس عملی روحانیّت کی روشنی میں بنائے گئے ہیں جو ہمیشہ حقیقی اطاعت کی شرط پر امام عالی مقام سے حاصل ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ باخبر مومنین دین حق کے اس معجزے پر یقین رکھتے ہیں، اب ہم بطریق اختصار ہر موضوع کے روحانی پہلو کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔

 

صلوات:

صلوات ایک پُرحکمت موضوع ہے، جس کا خاص تعلق روحانیّت سے ہے، کیونکہ بموجب آیۂ قرآن یہ ایک ایسی باطنی چیز ہے کہ جس کے ذریعہ خدا، ملائیکہ اور رسولؐ مومنین کو تاریکی سے نکال کر نور میں داخل

 

۱۳

 

کردینا چاہتے ہیں، اس سے مشاہدۂ عین الیقین اور نورِ معرفت مراد ہے، پس صلوات لفظ عبادت کے اعتبار سے بھی اور معنی و حکمت کے لحاظ سے بھی بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

 

جب اللہ مومنین پر صلوات بھیجتا ہے، تو کیا یہ محض ایک قول ہوسکتا ہے، یا یہ ایک خدائی فعل ہے؟ آپ خوب غور کریں، اگر آپ مانتے ہیں کہ یہ فعل ہے، تو ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ باطنی چیز ہے یعنی روحانیّت، خداوندِ عالم کی صلوات قول کے بجائے فعل اس لئے ہے کہ ہم اپنی صلوات میں اس سے درخواست کرتے ہیں کہ یا اللہ صلوات (درود) نازل فرما، تو اسی کے ساتھ قول ختم ہوجاتا ہے، اب فعل کی نوبت آتی ہے جو ارادۂ خداوندی پر منحصر ہے، لیکن جہاں اللہ خود فرماتا ہے کہ خدا اور اس کے فرشتے درود نازل کرتے ہیں، تو ظاہر ہے کہ یہ پُرحکمت چیز ایک روحانی فعل ہے، ہماری صلوات کی طرح دعا کی شکل میں نہیں۔

 

اسی طرح جب فرمایا گیا کہ اے رسولؐ مومنین پر صلوات بھیج دیں، تو اس حکم کا نمایان پہلو ہماری تعلیم کی غرض سے ہے تاکہ ہم پیغمبرؐ کے مرتبے کو جانیں اور رجوع کریں، ورنہ وہاں خدا ہی کی طرف سے خود کار ہدایت موجود تھی، بہرحال جب اللہ نے حکم دیا ہوا ہے اور قانون دین بن چکا ہے تو رسولؐ کے لئے اس سلسلے میں کوئی قول نہیں، صرف عملاً

 

۱۴

 

مومنین پر صلوات بھیجنا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبرؐ اور امامؑ کی جانب سے مومنین کو جو صلوات حاصل ہوتی ہے وہ ایک روحانی عمل ہے۔

 

صبر:

صبر کا موضوع بہت بڑا ہے، کیونکہ راہ دین کے ظاہر و باطن اور جسمانیّت و روحانیّت کے اکثر مقامات پر صبر سے کام لینا پڑتا ہے، چنانچہ صبر اتنا وسیع موضوع ہے کہ دین کی ساری باتیں پانچ ذیلی موضوعات میں تقسیم ہو کر اس میں سمو جاتی ہیں، وہ پانچ مضامین خوف، جوع، نقصانِ مال، نقصانِ جان اور نقصانِ ثمرات ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کی کئی کئی شاخیں ہیں، قرآن (۰۲: ۱۵۵) میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ صبر کے ان تمام مواقع پر اللہ تعالیٰ مومنین کو آزمانا چاہتا ہے، اور حکم ہوا کہ رسول اکرمؐ صبر کرنے والوں کو اس بات کی خوشخبری دیں کہ پروردگار کی طرف سے ان پر صلوات، رحمت اور ہدایت نازل ہوتی ہے۔

 

جاننا چاہئے کہ خوشخبری دینے کے لئے جو حکم کیا گیا ہے اس میں ایک زبردست حکمت پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ خوشخبری دینے کے لئے پیغمبر کے بعد امام کی موجودگی ضروری ہے، کیونکہ صابرین نہ صرف زمانہ نبوّت ہی میں تھے جن کو رسولِؐ خدا نے دوسروں کی شرکت کے بغیر خاص طور پر خوشخبری سنائی، بلکہ صبر کرنے والے بعد کے زمانے میں بھی ہوتے ہیں، جن کو امامؑ برحق ظاہر میں یا باطن میں خوشخبری سناتا ہے، اور باطن کا

 

۱۵

 

مطلب روحانیّت ہے، یعنی روحانیّت کے دروازے کا کھل جانا ہی بجائے خود خوشخبری ہے۔

 

اس سے معلوم ہوا کہ صبر کے نتیجے پر روحانیّت کا سورج طلوع ہوجاتا ہے، اور اس کے بعد بھی روحانیّت کی سختیوں کو اٹھانے کے لئے صبر چاہئے، تاکہ خدا تعالیٰ کی نصرت و تائید آکر بندۂ مومن کی دستگیری کرے، اور صبر کی مناسبت روحانیّت کے ساتھ یہی ہے۔

 

گریہ وزاری:

جس طرح شرعی نماز ظاہری طہارت کے سوا درست نہیں، اسی طرح حقیقی بندگی جو حصول روحانیّت کے لئے مقرر ہے باطنی پاکیزگی کے بغیر روا نہیں، اور باطنی پاکیزگی توبہ میں ہے، اور عملی توبہ گریہ و زاری ہے، تاکہ روحانیّت کا دروازہ کھل سکے۔

 

کیا آپ نے خیال نہیں کیا ہے کہ خداوند حکیم نے کس شان سے توبہ اور ظاہری صفائی کو یکجا بیان فرمایا ہے، جیسے ارشاد ہے کہ:

بے شک خدا توبہ کرنے والوں کو اور ستھرے لوگوں کو دوست رکھتا ہے، توبہ باطنی پاکیزگی ہے، جس کا ذکر ظاہری پاکیزگی کے ساتھ کیا گیا تاکہ عقل والوں پر یہ حقیقت روشن ہوکہ جس طرح ظاہری نجاست سے پاک و پاکیزہ ہوجانے کے لئے پانی ضروری ہے، اسی طرح باطنی آلودگی سے چھٹکارا پانے کے لئے توبہ چاہئے، اور وہ گریہ وزاری کی شکل میں ہے،

 

۱۶

 

اس کے بغیر روحانیّت کا فیض حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔

 

نیند:

حصول روحانیّت کے سلسلے میں نیند کا مطالعہ اس لئے ضروری ہے کہ اگر اس میں اصلاح و درستی نہ کی گئی تو یہ راہ روحانیّت میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے، لہٰذا انتہائی گہرائی سے نیند کی حقیقت جاننے کی ضرورت ہے تاکہ نیند کا مسئلہ بہ آسانی حل ہوسکے۔

 

جب آپ نیند کی روحانی سائنس جان چکے ہوں گے تو آپ باور کریں گے، کہ بندۂ مومن کی نیند معجزانہ طور پر کم سے کم ہوسکتی ہے، اور وہ کثیف سے لطیف بھی ہوسکتی ہے، قرآن حکیم (۳۹: ۴۲) کے مطابق نیند اس لئے ہے کہ وہ روح جو دن کے کام کاج اور غم و غصہ سے فرسودہ ہوجاتی ہے قبض کرلی جائے اور اس کی جگہ ایک تازہ ترین روح ڈالی جائے جس کے لئے صرف تھوڑا سا وقت چاہئے اور اگر مومن دیر تک سوئے پڑے تو وہ تازہ روح بھی نکل جاتی ہے اور اس کی جگہ غافل اور سست روح آتی ہے، اس حقیقت کا تجربہ کثرت سے عبادت کرنے والے مومنین کو حاصل ہوسکتا ہے، اور جن کی روح غافل ہی غافل ہو ان کو احساس نہیں ہوسکتا ہے کہ کون سی روح گئی اور کون سی آئی۔

 

خواب:

روحانیّت کے سلسلے میں خواب کی اہمیت یہ ہے کہ خواب نا پختہ

 

۱۷

 

روحانیّت ہے، جب یہ ذکر و عبادت کے نتیجے میں پختہ ہوجاتا ہے تو یہ مکمل روحانیّت کی شکل اختیار کرکے معجزانہ بن جاتا ہے، اور روحانیّت کے ساتھ ایک ہوجاتا ہے، خواب کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ یہ نہ صرف عالم روحانیّت کا نمونہ ہے بلکہ یہ عالم آخرت کی مثال بھی ہے اور دانشمند کے لئے اس میں اللہ تعالیٰ کی لاتعداد حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

 

جو مومنین کارِ بزرگ میں داخل ہیں ان کی کامیابی کا نتیجہ خواب و خیال دونوں میں نکلتا ہے، پس مومن کو چاہئے کہ وہ اپنی روحانی ترقی کو ان دونوں معیاروں پر پرکھ لے، چنانچہ اگر اچھے اچھے خواب آتے ہیں تو شکر گزاری کی عبادت کرے اور اگر بُرے خواب ہیں تو توبہ کرے جیسا کہ اس کا حق ہے۔

 

فقط بندۂ عاجز

نصیر ہونزائی

۲ مئی ۱۹۸۰ ء

 

۱۸

 

صلوات کی حکمت

 

یاد رہے کہ حکمتِ دین کے عظیم خزانوں کی کلیدیں عجیب و غریب قسم کی ہوا کرتی ہیں،  کہ وہ بھی حکمت ہی کی ہوتی ہیں، چنانچہ قرآن حکیم میں صلوات (درود) کا موضوع حکمت کا ایک عظیم خزانہ ہے، جس کی حکیمانہ کلید اس امر میں ہے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات پڑھنے کے لئے فرمایا جاتا ہے (۳۳: ۵۶) تاکہ دانشمند مومنین اس مقام پر سوچیں جیسا کہ سوچنا چاہئے اور پوچھیں جیسا کہ پوچھنے کا حق ہے تاکہ وہ دین کی خاص خاص حکمتوں سے باخبر ہوجائیں، جس میں روحانی عظمت و بزرگی پوشیدہ ہے۔

 

اس پُرحکمت موضوع کی تفصیلات میں جانے سے قبل بہتر ہے کہ ہم اس کے اہم سوالات کو سامنے لائیں تاکہ جس سے ایک طرف اس بحث کی اہمیت ظاہر ہو اور دوسری طرف مشکل حکمتیں آسان ہوجائیں، چنانچہ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات کا پڑھنا کیوں ضروری ہوا، اس معنی میں کہ اللہ تعالیٰ آپ پر اور آپ کی آل پر رحمت نازل فرمائے، جبکہ آنحضورؐ خود بحکم خدا پہلے ہی سے سارے جہانوں کے

 

۱۹

 

لئے رحمت ہیں (۲۱: ۱۰۷)؟

 

دوسرا سوال ہے کہ جہاں خداوندِ عالم اور اس کے فرشتے مومنین پر درود بھیجتے ہیں وہاں یہ درود براہِ راست آتی ہے یا آنحضرتؐ اور آپؐ کی آلؑ کے توسط سے؟ اگر براہ راست آتی ہے تو پھر رسول اکرمؐ کس معنیٰ میں رحمت عالم ہوئے؟ اور اگر یہ صلوات سرچشمہ رحمت یعنی آنحضرتؐ اور آپؐ کی آلؑ کی راہ سے آتی ہے تو پھر سوال ہے کہ آیا خدا اور اس کے فرشتوں کی صلوات سرچشمۂ رحمت یعنی نور محمدیؐ میں پہلے ہی سے موجود نہیں ہے؟

 

تیسرا سوال یہ ہے کہ قرآن حکیم میں جن خزائن الٰہی کا ذکر آیا ہے اور جن میں تمام چیزیں موجود ہیں (۱۵: ۲۱) وہ کس حیثیت سے ہیں اور کہاں ہیں؟

چوتھا سوال ہے کہ خداوند تعالیٰ کس طرح مومنین پر صلوات بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے کس معنیٰ میں صلوات بھیجتے ہیں؟ کیا یہ ایک ہی صلوات کی بات ہے یا یہ دو ہیں؟

 

پانچواں سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں سے صلوات حاصل کرنے کے لئے کوئی شرط بھی ہے یا یہ کسی شرط کے بغیر ہے؟ اور اگر کوئی شرط ہے تو وہ کیا ہے؟

 

چھٹا سوال: اللہ تعالیٰ اپنے رسولؐ سے فرماتا ہے کہ:

 

۲۰

 

وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ  (۰۹: ۱۰۳)

کیا خدا کے اس فرمان میں پیغمبرؐ کی جانب سے مومنین پر درود بھیجنا مقصود ہے یا کوئی عام سی دعا؟ اگر یہ درود ہے تو اس کا ثبوت چاہئے۔

 

ساتواں سوال: اگر یہاں لفظ صلوات عام دعا کے معنی میں نہیں بلکہ ایک خاص اصطلاح کے طور پر ہے تو اس کی کیا دلیل ہوسکتی ہے؟ اس کی دلیل قرآن سے ہو۔

 

اب خداوند کی توفیق و یاری سے مذکورہ سوالات کے لئے جوابات مہیا کئے جاتے ہیں:

 

سوال نمبر ۱کا جواب: جب قرآنی ارشاد کے مطابق خداوند عالم اور اس کے فرشتے مومنین پر صلوات بھیجتے ہیں تو ظاہر ہے کہ یہ صلوات محمدؐ و آل محمدؐ ہی کے وسیلے سے بھیجتے ہیں (۳۳: ۴۳) چنانچہ اسی آسمانی اور ربّانی صلوات کے حصول کے لئے خدا اور رسولؐ نے اسی طرح صلوات پڑھنے کی تعلیم دی کہ مومنین کہا کریں:

اللھم صل علی محمد و آل محمد

اے اللہ! محمدؐ و آل محمدؐ پر (وہ) صلوات نازل فرما (جو مومنین کے لئے تو بھیجتا ہے، ۳۳: ۵۶) نیز اس حکم میں پیغمبر اکرمؐ اور أئمّہ طاہرینؑ کے پیچھے پیچھے چلنا مقصود ہے، جس کا بیان دوسری تحریروں میں آچکا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ لاہوتی اور ملکوتی درود مومنین پر اس وقت نازل ہوسکتی

 

۲۱

 

ہے جب کہ یہ محمدؐ و آل محمدؐ کی تعظیم بجا لائیں اور ان کی پیروی کریں۔

 

سوال نمبر ۲ کا جواب:اگر اللہ اور فرشتوں کا مومنین پر صلوات نازل کردینا آنحضرت کے توسط کے بغیر ممکن ہوتا تو قرآن اور اسلام کی کچھ چیزیں بھی مومنین پر براہ راست نازل ہوجاتیں، لیکن یہ بات محال ہے، سو یہ حقیقت ہے کہ نہ صرف درود الٰہی بلکہ خداوند تعالیٰ کی ہر روحانی نعمت خزائن خدا یعنی رحمت عالمؐ اور آپؐ کے برحق جانشینؑ کے وسیلے سے حاصل ہوسکتی ہے، نیز یہ نکتہ یہاں یاد رہے کہ خدا اور فرشتوں کی صلوات مومنوں کے لئے پہلے ہی سرچشمہ رحمت (نور محمدؐ) میں موجود ہے، اس لئے جب بھی نور ہدایت سے درود مومنین کو ملتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے نازل ہوئی اور یہ بات درست ہے، کیونکہ حقیقت میں خدا کا کام پہلے ہی سے ہوچکا ہوتا ہے ( وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَۨا ۳۳: ۳۷) مگر محض انسان کی نارسائی کی وجہ سے پردۂ انتظار میں ہے، لہٰذا جو کام ہوچکا ہے اس کے متعلق کہنا پڑتا ہے کہ ہوتا ہے یا ہوگا اور یہ بات قرآنی حکمت کے سلسلے میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

 

سوال نمبر ۳ کا جواب: خدا تعالیٰ کے خزانے، جن کا ذکر قرآن پاک (۱۵: ۲۱) میں فرمایا گیا ہے، عقل کلّ، نفس کلّ، ناطقؐ اور اساسؑ ہیں، اور ان سب کا نور امامِ زمانؑ ہیں، جیسا کہ سورۂ یاسین میں فرمایا گیا

 

۲۲

 

ہے کہ ہر ہر چیز امامِ مبینؑ کی ذاتِ اقدس میں سموئی ہوئی ہے، چنانچہ اس معنی میں امام مبین اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا جامع خزانہ ہے، یعنی وہ تمام خزانوں پر محیط اور حاوی ہے، اور اہل ایمان کے لئے سب کچھ امامؑ کے پاک نور میں ہے، جیسا کہ ارشاد قرآنی ہے کہ : اور اللہ نے تم کو سب کچھ دے رکھا ہے جو تم نے مانگا (۱۴: ۳۴) یعنی ازل میں جو کچھ تم نے خدا سے مانگا تھا، وہ سب کچھ اس نے تمھارے لئے خزانہ بنا کر امام مبین میں رکھا ہے۔

 

سوال نمبر ۴ کا جواب: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کا مومنوں پر درود بھیجنا اس طرح سے ہے کہ خداوند صرف امر فرماتا ہے جیسا کہ امر کرنا چاہئے (اور یہ سوال الگ ہے کہ باری تعالیٰ کے امر کی حقیقت کیا ہے؟ یا کلمہ “کُنۡ” کی تاویل کیا ہے؟) اور فرشتے خزائن الٰہی سے یہ صلوات مومنین کو پہنچا دیتے ہیں، اور اس میں جو کچھ فرق ہے وہ صاف صاف ظاہر ہے۔

 

سوال نمبر ۵ کا جواب: خزائن رحمت سے اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائیکہ کی صلوات حاصل کرنے کی اوّلین شرط محمدؐ و آل محمدؐ کی پیروی (فرمانبرداری) ہے، کیونکہ خدا اور رسولؐ کے حکم کے مطابق جس طرح صلوات پڑھی جاتی ہے، اس کی حکمت میں محمدؐ و آل محمدؐ کے پیچھے پیچھے چلنے کے لئے فرمایا گیا ہے، یعنی قرآن کی اس آیہ کریمہ میں جو آنحضرتؐ پر

 

۲۳

 

صلوات بھیجنے سے متعلق ہے اور صلوات کے الفاظ میں جو خود حضورؐ نے مقرر کئے، تاویلی زبان میں محمدؐ و آل محمدؐ کی تابعداری لازمی کی گئی ہے، جس کے بغیر مومنین کو خدا اور ملائکہ کی صلوات حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔

 

دوسری شرط مالی قربانی ہے، تاکہ جس کے وسیلے سے ہادیٔ برحق مومن کو پاک و پاکیزہ کردے، اور اسی طرح مومن خدا کے قریب ہو، تاکہ وہ اللہ اور اس کے فرشتوں کی صلوات کو حاصل کرسکے، اور اس کی تفصیل سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۹۹ اور آیت نمبر ۱۰۳ میں ملتی ہے۔

تیسری شرط کثرت ذکر اور صبح و شام کی تسبیح و عبادت ہے، جس کے لئے آپ سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۴۱ اور ۴۲ کو دیکھ سکتے ہیں، جہاں اس صلوات کا ذکر بھی ہے جو پروردگار عالم اور اس کے ملائیکہ کی جانب سے مومنین پر نازل ہوتی ہے۔

 

چوتھی شرط کی تفصیل کے لئے آپ سورۂ بقرہ کی آیات نمبر ۱۵۵، ۱۵۶، ۱۵۷ کو ذرا غور سے دیکھیں (۰۲: ۱۵۵ تا ۱۵۷)، جس کا خلاصہ صبر ہے، صبر کے وسیلے سے خدا کی طرف رجوع ہے اور رجوع کے بعد صلوات حاصل ہوتی ہے۔

 

سوال نمبر ۶ کا جواب: اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیبؐ سے یہ فرمانا کہ : وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ (۰۹: ۱۰۳) بہت بڑے معنی رکھتا ہے، یہ کوئی عام دعا نہیں، بلکہ صلوات ہی ہے، اور یہ وہی صلوات ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ خدا اور اس کے

 

۲۴

 

فرشتے مومنین پر صلوات بھیجتے ہیں، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرتؐ سے فرمایا کہ مومنین کو صلوات دیجئے، تو یہی صلوات امرِ خداوندی کی بنیاد پر دراصل خدا ہی کی صلوات قرار پائی ہے اور ملائیکہ کی صلوات بھی اسی میں ہے، اس سے یہ حقیقت کلّی طور پر روشن ہوجاتی ہے کہ خدا، ملائیکہ اور رسول اکرمؐ کی ایک ہی صلوات ہے۔

 

مذکورہ بالا آیت میں رسول خداؐ کی صلوات باعث تسکین قرار دی گئی ہے اور جس وقت ہم قرآن میں اس لفظ کے معنی اور حکمت دیکھتے ہیں تو صلواتِ رسولؐ کی عظمت و بزرگی ظاہر ہوجاتی ہے، کیونکہ اس مطلب کی وضاحت یا اس سوال کا جواب کہ “سکن” کے کیا معنی ہیں؟ کئی آیات میں موجود ہے، اور وہ ہیں ۰۲: ۲۴۸، ۴۸: ۰۴، ۴۸: ۱۸، ۰۹: ۲۶، ۰۹: ۴۰، ۴۸: ۲۶ ان آیات کریمہ میں “سکینہ” کے تحت روحانی تسکین کا ذکر فرمایا گیا ہے، جس میں ہر درجے کی روحانیّت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، آپ خود بھی ان آیتوں میں غور کریں۔

 

اسی کے ساتھ صلوات رسولؐ کی اہمیت کا بیان ختم نہیں ہوتا ہے، بلکہ یہ ضروری ہے کہ ہر اس آیت میں جو صلوات سے متعلق ہے بغور دیکھا جائے کہ صلوات کا ثمرہ، میوہ اور مقصد کیا ہے تاکہ اس سے صلوات کی ضرورت و اہمیت ظاہر ہوسکے، مثال کے طور پر (۳۳: ۳۴) سے ظاہر ہے کہ خدا اور فرشتوں کے صلوات بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ مومنوں

 

۲۵

 

کو تاریکیوں سے نور کی طرف لایا جائے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ صلوات اصل مقام پر روحانیّت اور علم و حکمت کی شکل میں ہے۔

 

سوال نمبر ۷ کا جواب: (الف) جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں فرمایا کہ:

“ھو الذی یصلی علیکم” تو اصطلاح ہوگئی کیونکہ یہاں “یصلی” کے لغوی معنی نہیں بنتے ہیں، کہ اس کا مطلب نماز کا ہو یا دعا کا، جبکہ خداوند پاک خود معبود برحق ہے عابد نہیں، سو اس کے معنی درود بھیجنے کے ہیں، اور یہ اصطلاح ہے۔

 

(ب) جہاں “یصلی” کے اصطلاحی معنی کے مطابق خداوند عالم اور ملائک بندگان خاص پر درود نازل کرتے ہیں، وہاں یہ درود رسول برحقؐ کے نور کے وسیلے سے بندوں کو ملتی ہے، اور بالکل اسی معنی میں رسول پاکؐ سے فرمایا جاتا ہے کہ:

وصل علیھم (اور ان پر درود بھیج دیجئے) اس سے یہ حقیقت دانشمندوں پر ظاہر ہوجاتی ہے کہ یہ لفظ درود کے معنی میں ہے اور اصطلاح کے طور پر ہے۔

(ج) پیغمبرؐ اور أئمّہ طاہرینؑ کی ہر دعا خاص ہوا کرتی ہے، اور ان حضرات کی کوئی دعا عام نہیں ہوتی، لیکن اس پاک دعا کے عام و خاص ہونے کی وجہ خود مومنین ہی ہیں کہ اگر وہ اعمال میں کمزور ہیں تو ان کے

 

۲۶

 

لئے عفو و درگزر کی دعا چاہئے اور یہ عام دعا ہوگئی، اور اگر وہ پاک ہیں تو پھر ان کو صلوات (درود) ملنی چاہئے۔

 

۲۷

 

صبر کی حکمت

 

صبر دراصل ایک خاص قرآنی اور عرفانی موضوع ہے، جو اسرار روحانیّت اور تاویل و حکمت کے جواہر سے پُر اور دین شناسی و خدادانی کی لازوال نعمتوں سے مالا مال ہے، اس لئے کہ صبر کا وصف انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام کے اخلاق حسنہ کا ایک اہم عنصر ہے اور اس لئے کہ یہ حقیقی مومنین کی روحانی ترقی کے لئے ایک آسمانی لائحہ عمل (پروگرام) پیش کرتا ہے، جس کے مطابق کام کرنے میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

 

صبر کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ یہ خود اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے، کیونکہ “الصبور” خدائے پاک کے ناموں میں سے ہے، اور اس سلسلے میں سب سے عظیم حکمت یہ ہے کہ پروردگار عالم کا اسم (الصبور) دوسرے اسماء کی طرح قرآن حکیم میں مذکور نہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خداوند قدوس اپنے اس مبارک نام سے متعلق بھیدوں کو عوام پر ظاہر کردینا نہیں چاہتاہے، کیونکہ یہ ایسے اہم اور بنیادی قسم کے بھید ہیں کہ ان کی روشنی میں دوسرے بہت سے ربّانی اسرار کا بھی علم ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر اگر مال لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ نام (الصبور) زمانہ

 

۲۸

 

نبوّت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور آپؐ کے بعد ہر زمانے میں امام وقت صلوات اللہ علیہ الصبور ہیں، تو پھر خدائی اسرار کے منشکف ہوجانے کا سلسلہ لا انتہا شروع ہوجاتا ہے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ خدائے قدّوس کے نام “صبور” کا مکمل مظہر امام برحقؑ ہیں اور اسی طرح دوسرے تمام اسماء کا بھی، مگر اس نام میں سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں خدا کے افعال کا انسان کامل کی ذات عالی صفات سے ظہور پذیر ہوجانا زیادہ قابل فہم ہے، کیونکہ صبر قرآن ہی کی روشنی میں ایک ایسا فعل اور ایک ایسا عمل ہے کہ اس کا تعلق ناسوت اور بشریت سے ہے نہ کہ ذات سبحان سے، اور ویسے بھی دیکھا جائے تو یہ اساسی قانون ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو ہر ہر چیز سے بے نیاز اور پاک و برتر ہے، وہ موصوف نہیں اور بے صفت بھی نہیں، بلکہ دونوں صورتوں سے برتر ہے یعنی دونوں پربادشاہ ہے، کوئی چیز اس کی ذات میں نہیں، اس لئے صفات اور دوسری تمام چیزیں اس کے خزانوں میں موجود ہیں، اور کوئی شے ایسی نہیں جو خدا کے خزانوں سے باہر ہو، چنانچہ اس باب میں یہ آیہ کریمہ بہت کچھ روشنی مہیا کردیتا ہے:

وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاۗىِٕنُهٗ = اور (ممکنات میں سے) کوئی چیز ایسی نہیں مگر اس کے خزانے ہمارے پاس ہیں (یعنی خدا کی تمام چیزیں اس کی ذات میں نہیں اس کے خزانوں میں ہیں)۔

 

۲۹

 

وَمَا نُنَزِّلُهٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (۱۵: ۲۱) اور ہم کسی چیز کو نازل نہیں کرتے ہیں مگر دانستہ مقدار میں۔

 

اللہ تعالیٰ کے اس مقدّس ارشاد سے اہل ایمان کے لئے علم توحید کا خصوصی دروازہ کھل جاتا ہے، وہ خزائن الٰہی کی طرف بصد شوق متوجہ ہوسکتے ہیں، کیونکہ اس حکم میں بڑی بڑی بشارتیں ہیں، بہت سی غیر متوقع دولت کی نشاندہی کی گئی ہے، بہت سے مشکل مسائل کا حل موجود ہے اور بہت سی روح پرور باتیں ہیں۔

قرآن میں صبر کے تین درجے مقرر کئے گئے ہیں، اور صبر کی کیفیّت و حقیقت یا کہ صبر کی تعریف بھی انہی سطحوں پر محدود ہے، وہ ہیں درجہ انبیاء، مرتبہ أئمّہ اور مقام مومنین، اور ان کے سوا جو بھی ہیں، ان کے بارے میں صبر کا لفظ اپنے اصل معنوں کے ساتھ استعمال نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کبھی ہوسکتا ہے، کیونکہ دین سب سے بڑا قانون ہے، اور اس میں حکمت کے علاوہ عقل و منطق بھی بدرجہ اتم موجود ہے، سو دائرۂ اسلام کے باہر کہیں بھی صبر کا وجود نہیں ہے، جو حقیقی معنوں میں صبر کہلا سکے۔

 

صبر کا اطلاق فرشتے پر بھی نہیں ہوسکتا ہے، کیونکہ صبر وہ صفت ہے جو عقل و نفس کی فطری کشمکش اور پھر عقل کی حمایت اور نفس کی مخالفت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، جبکہ فرشتہ صرف عقل رکھتا ہے اور نفس

 

۳۰

 

نہیں، اور حیوان میں بھی صبر کی صلاحیت اس لئے نہیں ہے کہ وہ صرف نفس کا مالک ہے اور اس کی کوئی عقل نہیں، چنانچہ صبر جیسی عالی شان صفت وہاں پیدا ہوجاتی ہے جہاں عقل و نفس دونوں کی قوّتیں موجود ہوتی ہیں، اور ایسا مقام انسانیّت و بشریّت ہی کا ہے، جس سے انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام اور ان کی تابعداری کرنے والے افراد مراد ہیں، اور یہی صحیح معنوں میں انسان ہیں، اور جو لوگ حقیقت میں انسان نہیں صرف شکل سے انسان لگتے ہیں تو ان کے بارے میں قرآن کا حکم آپ خود سن لیں اور دیکھیں کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا  ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا  ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ  ۭاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(۰۷: ۱۷۹)

اور گویا ہم نے (خود) بہتیرے جنّات اور آدمیوں کو جہنم کے واسطے پیدا کیا اور ان کے دل تو ہیں (مگر) ان سے سمجھتے ہی نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے سننے کا کام ہی نہیں لیتے یہ لوگ گویا جانور ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ بے خبر ہیں۔

 

اس ارشاد الٰہی سے یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ بہت سے لوگ انسانی

 

۳۱

 

شکل میں ہونے کے باؤجود حیوان ہیں، یا یوں کہنا چاہئے کہ وہ انسان نما حیوان ہے، جس کی وجہ آیت کی تفصیل سے ظاہر ہے کہ نہ تو کوئی ظلم اور زیادتی ہے اور نہ ہی کوئی ہدایت کی کمی، بلکہ انہوں نے دل، آنکھ اور کان سے وہ کام نہیں لیا، جس کے لئے یہ قوّتیں ان کو عطا کردی گئی تھیں، اور پھر نتیجے کے طور پر یہ لوگ درجہ آدمیّت سے نیچے گرگئے اور حیوان سے بھی زیادہ گمراہ ہوگئے ہیں، اس لئے کہ حیوان کو جو مقام ملا ہے وہ اسی پر ٹھہرا ہوا ہے، مگر وہ لوگ اصل مقام سے بہت دور پڑگئے ہیں اور ان کی تمام غلط کاریوں کی بنیادی وجہ غفلت ہے، اور لفظ غفلت کے اندر بہت سے قابل فہم اشارات موجود ہیں کہ انہوں نے زمانے کے سرچشمہ ہدایت کو نظر انداز کردیا، لہٰذا ان کو وہ علم نہیں ملا جس کے ہوتے ہوئے انسانی دل و دماغ اور چشم و گوش پر غفلت کا پردہ نہیں پڑ سکتا ہے۔

 

اس بیان سے یہ سارے مسائل حل ہوگئے کہ صبر کی اہمیت اور قدر ومنزلت کیا ہے؟ صبر کا تعلق لوگوں کے کن مراتب سے ہے؟ خدا کے صبر کا ذکر قرآن میں کیوں موجود نہیں؟ کیا خدا کی صفات بھی خدا کے خزانوں میں ہیں، جس طرح اس کی ہر ہر چیز اس کے خزانوں میں ہے؟ فرشتہ اور حیوان میں صبر کا وجود نہیں تو اس کا کیا سبب ہوسکتا ہے؟ وغیرہ۔

 

جب ہم صبر کو خدا کی ذات اقدس سے منسوب کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس کے ایسے معنی نہیں ہوتے جیسے بندوں کے صبر کے ہوتے ہیں، بلکہ

 

۳۲

 

صبر اور دوسری تمام صفات اللہ کے اس معنی میں ہیں کہ یہ چیزیں اس کے خزانوں میں اس کی ملکیت کے طور پر ہیں، کیونکہ مالک حقیقت وہی ہے، اور دوسری خاص بات یہ ہے کہ ویسے تو سب چیزیں خدا کی ہیں، مگر کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو خدا سے خصوصی نسبت رکھتی ہیں، جیسے قلم الہٰی، لوح محفوظ، عرش، کرسی، خدا کی روح (روح اللہ)، خدا کی رسی، خدا کا چہرہ، خدا کا ہاتھ، خدا کی کتاب، اور خدا کا دین، جس کا سبب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی حکمت کے قانون کے مطابق اعلیٰ اعلیٰ درجات کو اپنانے کی مثال میں لوگوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ خلیفہ روئے زمین (امام زمانؑ) کی فرمانبرداری کے وسیلے سے قربِ خداوندی کے ان درجات کو حاصل کریں۔

 

جب ہم مذکورہ حقیقتوں کی روشنی میں یہ مانتے ہیں کہ صبر کا دائرہ پیغمبرؐ، امامؑ اور مومنین تک محدود ہے، تو یہ قرآن حکیم کے دوسرے لفظوں میں حزب اللہ (۰۵: ۵۶) کی بات ہوئی، جس سے خدا کا لشکر مراد ہے، چنانچہ اللہ کا صبر اس کے لشکر میں ہے، اور یہیں پر اس کی کار فرمائی ہوتی رہتی ہے، یہ خدائی فوج (گروہ مومنین) اپنے علم و عمل کی تمام تر قوّتوں کے ساتھ ہمیشہ حزبِ شیطان کے خلاف نبرد آزما ہے، اس مسلسل جنگ کا زبردست پہلو روحانیّت میں ہے، اور گمسان کی لڑائی نورانی عبادت کے دوران، اور روزانہ زندگی میں ہے جس خوبی کے ساتھ صبر کا درس لینا

 

۳۳

 

چاہئے وہ بھی اس جنگ عظیم کی تیاری کے طور پر ہے، تاکہ صبر و عبادت کی بدولت اللہ تعالیٰ کی معجزانہ مدد حاصل ہو، کہ قرآن حکیم نے آسمانی تائید اور فتح مبین کی یہی دو شرط بتائی ہیں، مختصر یہ کہ صبر کا خاص مظاہرہ جہاد اصغر اور جہاد اکبر میں کیا جاتا ہے، مگر آج کل صرف جہاد اکبر ہی میں سب کچھ رکھا گیا ہے۔

 

قرآن پاک میں تقریباً سو مقامات پر صبر کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں، اور ہر عظیم حکمت ایک بڑے مضمون کی شکل میں پھیلائی جاسکتی ہے، کیونکہ روحانی اور قرآنی حکمتوں کی تاویلی ہم آہنگی اور معنوی وحدت کی مثال ایک بڑے تالاب کے پانی کی طرح ہے، کہ جہاں کہیں سے بھی بالٹی بھر بھر کر پانی اٹھالیا جائے، تو بجائے اس کے کہ وہاں ذرا جگہ خالی ہو اور اردگرد کا پانی اپنے مقام پر ٹھہرا رہے، سارے پانی کا رخ بالٹی کی طرف ہوجاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حقیقی مومنین امام اطہرؑ کی یاری سے علم و حکمت کے میدان میں آگے بڑھتے ہیں اور جس وقت دینی صداقت و حقیقت کی کوئی بات کرتے ہیں تو اس میں ان کی سچائی کی شہادت دینے کے لئے قرآن مقدّس کی ہر ہر آیت تیار نظر آتی ہے۔

کوئی فرد مومن ذاتی اعتبار سے ایسا کبھی نہ سوچےکہ صبر اس کو ایک بنی بنائی ہوئی چیز کی شکل میں ملے گا، ایسا ممکن نہیں، بلکہ خداوندِ عالم کی زبردست حکمت اسی میں ہے کہ ہوشمند مومن اپنی ذات میں یہ عالیشان

 

۳۴

 

صفت پیدا کرے، جس کے لئے ہر قسم کی صلاحیت عطا کی گئی ہے، تاکہ بندۂ حق پرست میں اللہ کی عادتیں پیدا ہوں، کہ اس کی کئی عادتوں کو بندوں ہی سے ظاہر ہونا ہے، کیونکہ اللہ کی عادتوں کو اپنائے بغیر اس کا قرب حاصل نہیں ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر گیلی لکڑی آگ سے دور ہے، سوکھی لکڑی قریب، اور جلتی ہوئی لکڑی آگ سے مل رہی ہے، چنانچہ جب ہم یہ مانتے ہیں کہ فنا فی اللہ کا درجہ حق اور اس کا نظریہ صحیح ہے تو پھر ہمیں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اس فنا سے پہلے اللہ کی ان عادات کو قبولنا پڑتا ہے جو عالم ناسوت سے خاص تعلق رکھتی ہیں، جیسے صبر، حلم، رحم عفو وغیرہ کیونکہ بندے کی مکمل تیاریوں کے بغیر منزل فنا خود بخود سامنے نہیں آسکتی ہے، وہاں تک پہنچ جانے کے لئے علم و عمل کا ایک دشوار سفر ہے، مگر اس میں خداوند کی رحمت دستگیری کرسکتی ہے۔

 

۳۵

 

گریہ و زاری اور خصوصی دعا

 

گریہ و زاری فارسی کا ایک مرکب لفظ ہے، جس میں “گریہ” کے لغوی معنی ہیں: رونا، آنسو بہانا، اور زاری کا مطلب ہے خود کو عاجز و ناتوان قرار دینا، اور اصطلاحاً اس سے وہ تسبیح و عبادت مراد ہے، جو بحدِّ امکان عجز و انکساری، رقت قلبی اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ ادا کی جاتی ہے، اور خصوصی دعا وہ ہے جو گریہ و زاری کی ایسی ہی حالت میں اپنے لئے یا دوسروں کے حق میں مانگی جاتی ہے، تاکہ پاک خداوند کی رحمت و یاری مومنین کی دستگیری کے لئے آجائے، خصوصی دعا کا ذکر یہاں اس لئے آیا ہے کہ اس کا وجود قیام گریہ و زاری پر ہے، یا یوں کہا جائے کہ یہ گریہ و زاری کا دوسرا نام ہے۔

 

ہر ہوشمند مومن کو یہ حقیقت ضروری طور پر جاننا چاہئے کہ دین حق کی اساسی اور ضروری باتیں ہمیشہ سے ایک ہی حال پر قائم رہتی ہیں اور ان میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، چنانچہ آپ قرآن مقدّس میں یقین کی حد تک اس حقیقت کا مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ دین کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو شروع سے لے کر آخر تک تمام پیغمبروں میں مشترکہ طور پر پائی

 

۳۶

 

جاتی ہیں، اس لئے وہ ضروری اور بنیادی قسم کی ہیں، انہی اہمیت والے امور میں سے ایک گریہ و زاری بھی ہے، جو کل انبیاء و اولیاء کی پاکیزہ عادت کی حیثیت سے چلی آئی ہے، اور دنیا میں کوئی ایسا رسول، ولی، عارف اور عاشق نہیں آیا ہے، جس نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے گریہ و زاری نہ کی ہو۔

 

قرآن حکیم میں حضرت آدمؑ سے شروع کرکے جہاں جہاں توبہ کا ذکر ہے، تو وہاں آپ ہر گز یہ خیال نہیں کرنا کہ برستے ہوئے آنسوؤں کے بغیر خشک خشک لفظوں کی کوئی توبہ قبول ہوسکتی ہے، جبکہ توبہ کی روح سخت ندامت و پشیمانی ہے اور پشیمانی کا عمل گریہ و زاری۔

 

آئینہ قرآن میں انبیاء و اولیاء (علیھم السّلام) کے نمونہ عمل کے تابناک چہرے کو دیکھنے سے یہ حقیقیت واضح ہوجاتی ہے کہ وجود بشریّت میں آنسوؤں کے بیش بہا موتیوں کا خزانہ اس عظیم مقصد ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ یہ گوہر آبدار صرف اور صرف راہ مولا میں نچھاور کئے جائیں، جس کے لئے بہت سے مواقع ہیں مگر اس سلسلے کی سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ آیات خداوندی سے متاثر ہوکر مومنین اشک ریز ہو جائیں، اور عجز و انکساری، اور قدردانی و شکرگزاری کے ان اشکوں کے ساتھ ساتھ سجدۂ عبودیّت میں جاکر ٹھہریں، یعنی آنسوؤں سے کام لینے کی سب سے بڑی فضیلت اس بات میں ہے کہ قرآن اور امام دونوں کے

 

۳۷

 

زیر اثر بہا دیئے جائیں، کیونکہ خدا کی نشانیوں (یعنی معجزات) کے وہ سرچشمے جو مومنین کے سامنے ہیں یہی دو ہیں، اور میں یہاں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ قرآن پاک کی (۱۷: ۱۰۹) اور (۱۹: ۵۸) کی روشنی میں ہے۔

 

قرآن پاک خاموش آیات کا سرچشمہ ہے اور امام اطہرؑ بولنے والی آیتوں کا اور آیات کے اصل معنی معجزات ہیں، چنانچہ مرتبۂ امامت کے ظاہر و باطن کا کوئی مقام ایسا نہیں ہے جو بصیرت والے مومنین کے لئے ظہور معجزات کے بغیر ہو، کیونکہ امام زمانؑ خدائے واحد کا نور مطلق ہے، اس لئے نورانیّت میں اس کے ساتھ معجزات (آیات) کی وابستگی ایسی ہے جیسے سورج کے ساتھ شعاعوں کی، مگر ہمیشہ کے لئے یہ بات یاد رہے کہ ہر چیز کی ترتیب ہوا کرتی ہے اسی طرح معجزات کی بھی ترتیب ہے یعنی معجزات زینہ بزینہ واقع ہیں، مثال کے طور پر زمین سے لے کر عرش اعلیٰ تک عجائب و غرائب (معجزات) کی سیڑھی لگی ہے، جس کا سفر قرآن کے ظاہر کے مطابق ۵۰۰۰۰ (پچاس ہزار) برس کا ہے، دیکھیں المعارج (۷۰: ۰۴)۔

 

اس کے معنی یہ ہوئے کہ انبیاء و أئمّہ کے نقش قدم پر چلنے والے مومنین میں سے جن حضرات کو معراج معرفت کے آخری درجے تک پہنچ جانے کی سعادت حاصل ہوتی ہے، ان کے مشاہدہ کئے ہوئے معجزات کی تفصیل پچاس ہزار برس کی انسانی زندگی پر پھیلائی جاسکتی ہے، یہ

 

۳۸

 

معجزوں کی ترتیب اور فراوانی کی بات ہے، مگر افسوس ہے کہ لوگ معجزہ کے اصول اور ترتیب کو نہیں سمجھتے ہیں اور اس کی کلیدوں کو قبول نہیں کرتے ہیں اور پھر یکایک درمیانی یا اونچے درجے کے معجزات کا تقاضا کرتے ہیں جو بڑا خطرناک کام ہے۔

 

اس سوال کا جواب کہ اصول اور ترتیب کے بغیر کوئی معجزہ کیونکر تباہی و بربادی کا باعث ہوسکتا ہے؟ اور کیا اگلے زمانے کے کافروں نے اپنے اپنے پیغمبروں سے ایسے ہی خطرناک معجزے طلب کئے تھے؟ یہ ہے کہ ہاں، وہ بڑی غلطی اور گمراہی پر تھے، کیونکہ مومنین نے ہادیٔ وقت کی اطاعت و محبت کو اپنا شیوہ بنالیا، تو ان کو سب سے پہلے ذکر و عبادت سے زبردست مزہ پانے کا معجزہ اور گریہ و زاری کا معجزہ ہونے لگا، جس سے رفتہ رفتہ ان کی روحانی پاکیزگی ہوئی اور باطنی آنکھ روشن ہوگئی، پھر وہ علی الترتیب معجزات دیکھنے اور ان کے بوجھ کو سہارنے کے قابل ہوگئے، مگر منکروں نے اپنی جہالت و نادانی سے ایسے بڑے معجزے کی شرط لگائی، جس کے برداشت کرنے کے وہ قابل ہی نہ تھے، پھر اس معجزے نے ان کو یا تو اپنی مادّی طاقت سے یا علمی قوّت سے ہلاک کردیا، اور اس میں قانون قدرت کا کیا قصور ہوسکتا ہے۔

 

اس بیان سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ دین میں گریہ وزاری کی بہت بڑی اہمیت ہے، کیونکہ وہ نہ صرف خصوصی دعا کے معنی میں ہے، بلکہ

 

۳۹

 

وہ توبہ کی بنیادی شرط کی حیثیت سے بھی ہے، یہ زمزمہ عشق بھی ہے اور اولیائی عبادت بھی، یہ خود خوف الٰہی رکھنے کا ثبوت بھی ہے اور شکر گزاری کی دلیل بھی، یہ حقیقی محبّت کا وسیلہ بھی ہے اور نورانی دیدار کا ذریعہ بھی، اس میں دل کی پاکیزگی بھی ہے اور روح کی تازگی بھی، یہ ایک میٹھا میٹھا سا پُرحکمت درد بھی ہے اور ایک لذیذ دوا بھی، پس ان تمام اعلیٰ درجے کی خوبیوں کی وجہ سے گریہ و زاری سب سے اونچی عبادت ہے، لہٰذا وہ ان سارے معنوں کے ساتھ بارگاہ ربّ العزّت میں قبول ہوجاتی ہے۔

گریہ و زاری اور عجز و انکساری کے عمل سے لاتعداد روحانی فائدے حاصل ہونے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انسان اگرچہ اپنے باطن کو اس طرح پاک نہیں کرسکتا ہے، جس طرح کہ کسی مشینری کے بیرونی حصے کو صاف کرتا ہے یا اس کے اندرونی پرزوں کو کھول کھول کر صاف کیا جاتا ہے، لیکن وہ جب بھی چاہے تو اپنے بہترین قول و عمل کے زوردار اثر سے دل و جان کو پاک و پاکیزہ کرسکتا ہے، کیونکہ وہ خدا کی بے پناہ رحمت سے ایسی ایسی قوّتوں اور صلاحیتوں کا مالک ہے کہ جن کی بدولت وہ تزکیۂ نفس اور تطہیرِقلب کا کام بحسن و خوبی انجام دے سکتا ہے اور اسی طرح وہ ظاہر و باطن میں پاک و پاکیزہ ہوسکتا ہے۔

 

گریہ وزاری، جیسا کہ بیان ہوا، ایک انتہائی طاقتور اور پُراثر قول

 

۴۰

 

و عمل ہے، جو دل سے ہر قسم کی آلائش کو دھو کر صاف کرتا ہے، چنانچہ حقیقی مومنین گریہ و زاری اور مناجات کے لئے جو جو الفاظ استعمال کرتے ہیں وہ رفتہ رفتہ قدرتی طور پر دل کی گہرائی سے نکلنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ ان میں روحانی تائید کی جھلکیاں نظر آتی ہیں، یعنی فرشتے اس میں مدد کرتے ہیں، اور اس وقت مومن توفیق، روحانی ہدایت، القاء، الہام اوراولیائی وحی کے مقامات میں سے کسی مقام پر ہوتا ہے۔

عوام وحی کے متعلق جو کچھ معلومات رکھتے ہیں وہ بہت ہی محدود ہیں، جبکہ خواص اس کے بہت سے بھیدوں کو جانتے ہیں، چنانچہ وحی کی ایک قسم وہ بھی ہے جو انتہائی پاکیزہ عاشقانہ گریہ و زاری کی سطح پر نازل ہوتی ہے، اور انہی الفاظ کے ظاہر و باطن میں قائم رہتی ہے، جو گریہ و زاری میں مناجات کے طور پر استعمال کئے گئے تھے، اور یہ پیغمبرانہ درجے کی بات ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ وحی کبھی تو زبان الوہیّت سے واقع ہوتی ہے اور کبھی زبان عبودیّت کو استعمال کرتی ہے، جس کی مثال ہم قرآن اور زبور سے لے سکتے ہیں، کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ بندوں سے مخاطب ہے اور زبور میں بندہ خداوندِ تعالیٰ سے مناجات کررہا ہے، مگریہ کتاب بھی آسمانی وحی کی حیثیت سے ہے، ہر چند کہ بظاہر حضرت داؤدؑ کی زبان سے ہے۔

 

یہ کیوں ایسا ہے کہ گریہ و زاری بتدریج اتنی ترقی کرتی ہے کہ بعض

 

۴۱

 

مثالوں میں آسمانی وحی کی شکل اختیار کرلیتی ہے یا اسکے قریب قریب جاتی ہے؟ یا یوں پوچھنا چاہئے کہ کیوں اللہ تعالیٰ یا فرشتہ بندۂ عاجز کی زبان سے بولنا پسند کرتا ہے؟ جواب ہے کہ بندۂ مومن کی خودی (انا) یا تو خاص ذکر سے فنا ہوجاتی ہے یا گریہ وزاری سے، اس وسیلے سے جب خدائی نورانیّت دل میں آتی ہے تو خودی کی ظلمت چلی جاتی ہے۔

یہ سب گریہ و زاری کی تعریف اور فضیلت ہے، جو قلب انسانی کو دھوکر اور نچوڑ کر رکھ دیتی ہے، تاکہ روح قدسی اس کو استعمال کرسکے، اور قدسی روح ہی میں روحانیّت کے سارے معجزات پوشیدہ ہیں، اور یہاں “قدس” کے لفظ میں انتہائی پاکیزگی کا تصوّر پیش کیا گیا ہے، جس کا واضح اشارہ یہ ہے کہ مومنین خود کو ہر قسم کی کدورتوں اور آلائشوں سے پاک و صاف رکھیں، اور یہ بھی جان رکھیں کہ روح قدسی امام کے مخالفین سے قلبی دوستی رکھنے والوں سے گریز کرتی ہے۔ (قرآن میں روحانی تائید سے متعلق ذکر میں دیکھیں)۔

 

گریہ و زاری شیطان اور نفسِ امّارہ کے خلاف جہاد اکبر ہے، جس سے شیطان ایک بار دور ہوجاتا اور نفس نیم مردہ ہوکر رہ جاتا ہے، پس گریہ و زاری کی بار بار ضرورت رہتی ہے، تا آنکہ مومن کو نجات ملے، کوئی شک نہیں کہ آنسوؤں کی قربانی سے اخلاقی قوّتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، فرشتوں اور پاک روحوں کو آکر باطن کی صفائی کرنے کا موقع ملتا ہے،

 

۴۲

 

آسمانی رحمت و درود نازل ہوجاتی ہے، چہرے پر ایک پروقار روشنی چمکتی ہے، باہمی اخوّت و محبت کا دور دورہ ہوتا ہے اور آئینہ دل میں روحانی تجلّیات کی بشارت ملتی ہے۔

ایک شیر خوار بچہ جو بول نہیں سکتا ہے، وہ گریہ سے کام لے کر مادر مہربان کی تمامتر محبتوں اور مہربانیوں کو حاصل کرسکتا ہے، اور اس کے رونے میں اتنا زبردست اثر ہے کہ اس سے ماں کے دل کو سینے کے اندر محفوظ ہونے کے باؤجود بڑا دھکا لگتا ہے، جس سے مادر مشفقہ کو بہت کچھ رحم آتا ہے اور افسوس ہوتا ہے کہ اس کا محبوب بچہ دیر تک روتا رہا۔

 

اگر مان لیا جائے کہ دل زمین کی طرح اپنی قسم کی پیداوار کا سرچشمہ ہے، تو پھر اس میں روحانیّت کے باغ و چمن پیدا کرنے کے لئے ہمیشہ عقیدت مندی اور اخلاص و محبت کے آنسوؤں کا پانی چاہئے، اگر آپ کا کہنا یہ ہے کہ دل لوہے کی طرح سخت ہے، تو اس کو پگھلا کر کوئی مفید اور عمدہ چیز بنانے کے لئے گریہ و زاری اور حقیقی عشق کی آگ چاہئے، اگر دل کسی ایسی چیز کی طرح ہے جس کو بار بار دھونے کی ضرورت پڑتی ہے، تو اس میں بھی وہی آنسوؤں کا پانی چاہئے، اور اگر دل حیات و بقاء کا سمندر ہے اور آنسو اس کے موتی ہیں، تو اس صورت میں بھی یہی عمل چاہئے، تاکہ گوہر درخشندہ سے شاہنشاہ کی شایان شان مہمانی کی جائے۔

جب ہواؤں کے دوش پر اٹھائے ہوئے بوجھل بوجھل بادل فضاؤں

 

۴۳

 

پر محیط ہو کر موسم بہار کی بارش برساتے ہیں، تو اس میں ایک طرف باغ و بوستان کی سیرابی اور تروتازگی کا دلکش منظر ہوتا ہے، اور دوسری طرف درختوں کے پتوں اور پھولوں کی پنکھڑیوں پر آبی قطرات کے جھلکتے ہوئے موتیوں کی حسین بہار، یہ بندۂ مومن کے ان پاک و پاکیزہ آنسوؤں کی ایک بہترین مثال ہے جو امامِ برحقؑ کے مقدّس عشق میں برس پڑتے ہیں۔

 

آپ نے مطالعہ قدرت کے سلسلے میں ضرور یہ سوچا ہوگا کہ بارش کا سرچشمہ کہاں ہے اور یہ وہاں سے کس طرح آتی ہے، جی ہاں! اس کا سرچشمہ تو سمندر ہے، مگر بارش کے سلسلے میں سورج کا کرشمہ بہت ہی عجیب اور عظیم ہے، کہ وہ سطح سمندر پر گرم شعاعیں برساتا ہے، اور پانی کے بہت بڑے ذخیرے کو کثیف سے لطیف بنا کر بخارات اور پھر بادلوں کی شکل میں بلند کردیتا ہے، اور فضا میں پھیلا دیتا ہے، جس میں بظاہر ہوا کی مدد ہوتی ہے مگر حقیقت میں خود ہوا کی حرکت سورج کی وجہ سے ہے، پس سورج ہی ہے جو یہ سب کام کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بارش برستی ہے، یہی حال مومن کی روحانی بارش کا بھی ہے، کہ جس کے تمام ذرائع نور ہی کی بدولت ہیں، جو عالم روحانیّت کا سورج ہے، چنانچہ نور امامت کا خیال و تصوّر، ذکر و فکر اور عشق و محبت کی مثال ایسی ہے، جیسے باطنی سورج کی ضیاپاش کِرنیں وجود مومن کے سمندر پر پڑرہی ہیں، جس سے دل

 

۴۴

 

و دماغ کے آسمان میں نورانی دیدار کے احساسات و جذبات کے کالے کالے بادل چھا جاتے ہیں، اور پھر آنکھوں کی راہ سے جواہر کی مینہ برسنے لگتی ہے، جس میں روح اور روحانیّت کی آبادی ہے۔

 

یہاں پر ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن باسعادت مومنین کا باطن مذکورہ وسیلے سے دھل کر پاک ہوجاتا ہے تو ذاتی اور خصوصی ذکر و عبادت کے علاوہ ان کو اور کیا کیا کرنا چاہئے؟ جواب ہے کہ چونکہ وہ وقت رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا ہے اور دعائیں قبول ہونے کا موقع ہے اس لئے وہ دنیا کے تمام مومنین کے حق میں نیک دعائیں مانگا کریں، پھر بھی یہ ایک عام بات ہے اور اس میں کوئی دقت نہیں، سو ایسے مواقع پر ان حقیقی مومنین کی عظیم قربانی یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے عزیزوں ہی کے لئے خاص خاص دعائیں کرلیا کریں بلکہ ساتھ ہی ساتھ ایسے دینداروں کے لئے بھی خیر خواہی کریں اور نیک دعائیں مانگیں، جن سے یہ ظاہر میں یا باطن میں ناراض ہیں، تاکہ اس نعمت عظمیٰ کا حق شکر گزاری ہر طرح سے ادا ہو، اور خداوند قدوس راضی ہو کر مزید نعمتیں عطا فرمائے۔

 

۴۵

 

نیند کے بارے میں ضروری نکات عبادت کی مناسبت سے

 

عبادت و بندگی کے سلسلے میں نیند ایک بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے، اس لئے یہ ضروری ہے کہ دانشمند مومن نیند کی حقیقتوں کو اچھی طرح سے سمجھ لے۔

 

نیند پر طبی اور سائنسی نقطہ نظر سے غور کرنے اور مذہبی و روحانی نقطہ نظر سے غور کرنے کے درمیان بڑا فرق پایا جاتا ہے، سب سے پہلے مختلف قسم کے جانوروں میں نیند کا تجزیہ کرنا چاہئے، تاکہ اس سے یہ بات ظاہر ہو کہ نیند کا معاملہ اتنا ضروری نہیں جتنا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے، کیونکہ بعض جانور ایسے ہیں جو گہری نیند سوتے ہیں، جیسے خرگوش، جو اس بارے میں مشہور ہے، اور کچھ جانور ایسے بھی ہیں جو جاگے رہتے ہیں، جس طرح گھوڑا، اب اس سے یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ اس حقیقت کے باؤجود کہ گھوڑا جو کچھ سخت کام کرتا ہے اس کے مقابلے میں خرگوش کچھ بھی نہیں کرتا ہے، تو پھر خرگوش کے لئے نیند کیوں اتنی ضروری ہے، جبکہ گھوڑے کے لئے اتنی ضروری نہیں؟ اس میں اللہ

 

۴۶

 

تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لئے ایک اشارہ ہے کہ اگر آدمی چاہے تو خرگوش کی سی نیند میں سوسکتا ہے یا چاہے تو گھوڑے کی طرح بیدار رہ سکتا ہے، کیونکہ انسان میں دنیا بھر کے جانوروں کے عناصر موجود ہیں، خاص زبان میں کہنا چاہئے کہ اس کی عادت بدل سکتی ہے اور خاص ترین زبان میں کہنا چاہئے کہ اس کی روح بدل سکتی ہے، کیونکہ انسانی روح کے ارتقاء و بلندی کے لئے کئی درجات مقرر ہیں، جو روح نباتی، روح حیوانی، روح ناطقہ اور روح قدسی ہیں۔

 

اب ہم صرف حیوانی روح کے بارے میں بات کرتے ہیں، کیونکہ نیند اسی سے متعلق ہے، لفظ “حیوان” تمام جانوروں میں مشترک ہے، اس صورتحال میں آدمی کی روح حیوانی سے کیا مراد ہوسکتی ہے؟ کیا اس کی مراد خرگوش جیسے جانور کی سی روح ہے جو اکثر گہری نیند میں رہتا ہے، یا (اس کا مطلب) گھوڑے کی سی روح ہے جو سوئے بغیر رہتا ہے؟ یہ صرف آدمی کی عادت اور فعل کو دیکھنے سے معلوم ہوجائے گا۔

 

یہ بہت ہی عجیب بات ہے کہ اگرچہ دماغی یا جسمانی کام کرکے سب ہی لوگ تھک جاتے ہیں، تاہم نیند کی بابت ان سب کی عادتیں مختلف ہوا کرتی ہیں، ہر چند کہ ان کے اجسام ایک جیسے ہوتے ہیں، یعنی کہنا یوں ہے کہ کچھ لوگ بہت کم سوتے ہیں اور کچھ لوگ زیادہ، اس کے بعد چلئے اب ہم صرف ایک ہی شخص کی مثال لیتے ہیں، کہ وہ بعض حالات میں بہت ہی

 

۴۷

 

کم سوتا ہے، بعض دفعہ بہت زیادہ سوتا ہے اور بعض اوقات وہ بالکل سو ہی نہیں سکتا، مثلاً جبکہ ایک بہت بڑی رقم ساتھ لے کر کہیں سفر پر جارہا ہو، ایسی حالت میں جب وہ غیر مانوس جگہوں پر رات گزارتا ہے تو اس کو اس خوف سے نیند ہی نہیں آتی کہ کہیں چور اس کے روپوں کو نہ چرا لے جائے۔

 

کامل انسانوں کے علاوہ کچھ مومنین ہوا کرتے ہیں، جو بہت ہی کم سوتے ہیں، اس کے باؤجود بھی ان کو آرام کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے، کیونکہ ان کی روح ایک غافل شخص کی روح سے مختلف ہوتی ہے، اور اسی وجہ سے ایسی روح نیند اور سکون کے مقصد کو بہت ہی کم وقت میں حاصل کرسکتی ہے، کیا یہ خداوند قادر مطلق کے لئے ناممکن ہے کہ اپنے برگزیدہ بندوں کو نیند سے آزاد کردے؟ یا ان سے خواب غفلت کو دور کرکے ان کو اعتدال کی نیند سوجانے کے عادی بنائے؟ اس میں زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں ایک عظیم بھید پوشیدہ ہے۔

 

پیغمبرِ اکرمؐ اور امامِ عالی مقامؑ کے اخلاق حسنہ میں ایسے تمام سوالات کے لئے جوابات موجود ہیں، جو جسمانیّت و بشریّت کے بارے میں پیدا ہوجاتے ہیں، ان مقدّس ہستیوں کا نمونہ عمل قرآن اور روحانیّت دونوں میں موجود ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ رسول اطہرؐ کے خصائل محمودہ کا ذکر فرماتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہے کہ حضور انورمومنین و متقین کے

 

۴۸

 

سردار تھے، چنانچہ آنحضرتؐ جسمانی زندگی کے اعتبار سے ایک ایسے مقام پر کھڑے تھے، جہاں پر انسانی فطرت کا آخری سرا ہوتا ہے اور جہاں سے ملکوتی (فرشتوں کی) فطرت شروع ہوجاتی ہے، یہ بات اس اعتبار سے ہے کہ آنحضرتؐ فرشتوں سے بھی آگے تھے، اور آپ کے برحق جانشین (یعنی امامؑ) بھی ایسے ہیں، اس کے معنی یہ ہوئے کہ انسانِ کامل کے نقش قدم پر چل کر بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے، چنانچہ نیند کوئی ایسی چیز نہیں جس پر مومن غالب نہ آسکے، نیند بموجب قرآن (۷۸: ۰۹) سبات ہے (یعنی سکون) لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کا اشارہ خوابِ غفلت کی طرف نہیں، بلکہ اس سے معجزانہ نیند مراد ہے، جس کا ذکر قرآن کے ایک اور مقام پر “نعاس” کے لفظ میں ہوا ہے (۰۸: ۱۱) جو ذاکر پر کامیاب ذکر کے دوران طاری ہوجاتی ہے، اسی قسم کی نیند سے محویّت و فنائیّت حاصل آتی ہے، جس کے نتیجے میں مومن دنیا و مافیہا کو بھول جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی خودی بھی فراموش ہوجاتی ہے اور صرف خدا ہی کی یاد جاری و باقی رہتی ہے، جبکہ دل و دماغ سے سب کچھ مٹ جاتا ہے۔

انسان میں جو قدرتی صلاحیتیں موجود ہیں، ان کے دو دو سرے ہوا کرتے ہیں ایک سرا خدا کی جانب ہوتا ہے اور دوسرا سرا انسان کی طرف، صلاحیّت و قوّت کا جو سرّا اللہ کے حضور کی طرف ہے، وہ بدرجہ

 

۴۹

 

انتہاء پُرحکمت، عالی شان، پاک و پاکیزہ اور مسرّت بخش ہوتا ہے، لیکن آدمی کے ہاتھ میں جو سرا ہے، وہ بہت ہی آلودہ اور تاریک ہے، جس کی اصلاح و پاکیزگی بے حد ضروری ہے اور یہ اصلاح ممکن ہے۔

 

دوسرے الفاظ میں یوں کہنا چاہئے کہ تمام انسانی صلاحیتوں اور قوّتوں کے دو دو پہلو ہوا کرتے ہیں ایک پہلو خیر کا ہے اور دوسرا شر کا، اسی طرح نیند کے بھی دو پہلے ہیں، چنانچہ دانا مومن نیک پہلو کو اچھی طرح سے پہچانتا ہے اور برے پہلو سے خود کو بچالیتا ہے تاکہ ہر کام بتقاضائے حکمت انجام پائے۔

 

یاد رہے کہ نیند کا موضوع دراصل خوابوں کے موضوع کے ساتھ مربوط و منسلک ہے۔

 

۵۰

 

عالمِ خواب

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ نیند اور خواب اللہ تعالیٰ کے عجائب و غرائب میں سے ہیں، اگر آپ چاہیں تو قرآن حکیم کی متعلقہ آیات کریمہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ چنانچہ عالمِ خواب عام حالت میں روحانیّت اور جسمانیّت کے درمیان واقع ہے، یہی وجہ ہے کہ اس میں انوکھی اور نرالی حالتیں بھی ہوا کرتی ہیں اور جانی پہچانی چیزیں بھی، اگر خواب کو علم و عمل سے کافی حد تک ترقی دی گئی ہے تو یقیناً یہ انسانی روح اور عالم باطن کی شناخت کا ایک وسیلہ بن جاتا ہے، بالفاظ دیگر خواب آگے چل کر روحانیّت کے ساتھ ایک ہوجاتے ہے، اور اس میں وہی واقعات رونما ہوتے ہیں جو مکمل روحانیّت میں پیش آتے ہیں۔

 

خواب کی کیفیت و حقیقت یہ ہے کہ اس میں انسان کے ظاہری حواس کام نہیں کرتے ہیں، جس کی وجہ سے روح کا تعلق ظاہری دنیا سے وقتی طور پر منقطع ہوجاتا ہے، اور اب روح خودبخود اپنے باطن کی طرف متوّجہ ہوجاتی ہے، اور چونکہ وہ اپنی ذات میں ایک مکمل دنیا کی حیثیت سے ہے، لہٰذا وہ بحالت خواب ہر چیز اپنے اندر دیکھتی ہے، یعنی بیداری

 

۵۱

 

اس حالت کا نام ہے جس میں آنکھ، کان، ناک، زبان اور ہاتھ پاؤں کے توسط سے روح اس مادّی دنیا کے کاموں میں مصروف رہتی ہے، اور خواب اس کیفیت کو کہتے ہیں جس میں کہ یہ ظاہری اعضاء ہنگامی طور پر خاموش اور معطل ہوجاتے ہیں اور جس کے سبب سے روح فراغت و آزادی کے ساتھ اپنے اعمال و احوال کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ اس وقت حواسِ باطن سے کام کرتی ہے، یعنی آدمی خواب میں روحانی آنکھ سے دیکھتا ہے، روحانیّت کے کان سے سنتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے وہ صرف روح کی پوشیدہ قوّتوں سے کرتا ہے۔

 

یاد رہے کہ نیند کے دوران روح جسم سے کلی طور پر الگ نہیں ہوتی، بلکہ ایک طرح سے دونوں کے مابین رابطہ قائم رہتا ہے، مگر جسم اور حواس ظاہر کو اس کی کوئی خبر نہیں ہوتی، نیند کی حالت میں جسم کس طرح غیر شعوری طور پر روح کے ساتھ وابستہ رہتی ہے، اس کے بارے میں چند روشن مثالیں پیش کی جاتی ہیں، پہلی مثال یہ ہے کہ جب آدمی خواب میں ڈر جاتا ہے، تو اس کے آثار بعض دفعہ چیخنے، پکارنے، حرکت کرنے یا پسینہ آنے سے ظاہر ہوجاتے ہیں، اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ جسم لاشعوری حالت میں روح کے ساتھ مربوط ہے، دوسری مثال یہ کہ انسان ادھر عالم خواب میں کسی سے گفتگو کرتا ہے اور ادھر شخصیّت میں بڑبڑانے لگتا ہے، تیسری مثال یہ ہے کہ وہ کبھی کبھار اپنے خواب کے زیر اثر اٹھ

 

۵۲

 

کھڑا ہوجاتا ہے اور چلنے لگتا ہے، اور اس سلسلے میں اور بھی کئی باتیں ہیں مگر ان کا ذکر یہاں ضروری نہیں۔

 

امیر المومنین حضرت مولاعلی علیہ السّلام کا ارشاد گرامی ہے کہ تین شخص ایسے ہیں جن کے اعمال کرام کاتبین درج نہیں کرتے ہیں، نابالغ، دیوانہ اور سویا ہوا آدمی، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں اختیار نہیں ہے، اس سے ظاہر ہے کہ انسان عالمِ خواب میں جو کچھ کہتا اور کرتا ہے، وہ اس کے اپنے اختیار سے نہیں، کیونکہ اب اس کا کوئی اختیار نہیں رہا۔

 

انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام کو حق تعالیٰ نے بہت سے اوصاف کمالات عطا کردیا ہے اور بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے، اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے خواب سچے اور نورانی قسم کے ہوا کرتے ہیں، یعنی وہ حضرات علم و حکمت اور رشد و ہدایت والے خواب دیکھتے ہیں، اور حقیقی مومنین کو بھی ایسے خوابوں سے حصّہ دیا جاتا ہے، تاکہ اہل ایمان کے لئے وسیلہ ہدایت استوار اور ہمہ رس ہو۔

 

الزمر (۳۹) آیت نمبر ۴۲ (۳۹: ۴۲) سے ظاہر ہے کہ نیند کی کیفیت ایک طرح کی موت ہے، اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ نیند موت کی بہن ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ جس طرح مرنے کے بعد اعمال کا حساب کتاب کلی طور پر لیا جاتا ہے اسی طرح خواب میں یہ جانچ پڑتال جزوی طور پر ہوتی ہے، اس میں نیک و بد کا بدلہ دائمی طور پر دیا جاتا ہے اوراس میں عارضی طور

 

۵۳

 

پر، تاکہ عقل و دانش والے اس مثال سے موت، روز آخرت، بہشت اور دوزخ پر یقین رکھیں۔

 

ہم پہلے ہی بتاچکے ہیں کہ خواب کی دنیا روحانیّت اور جسمانیّت کے درمیان واقع ہے، اور یہاں یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ ایک اعتبار سے انسان کے لئے چار دنیائیں مقرر ہیں: دنیائے ظاہر، دنیائے خیال، عالم خواب اور عالم روحانیّت اور ان کی ترتیب بھی یہی ہے کہ سب سے پہلے یہ مادّی دنیا ہے، اور سب سے آخر میں روحانیّت، اور روحانیّت کا دوسرا نام آخرت ہے۔

یہاں پر یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ انسان کی بیداری زمان و مکان میں محدود ہے، یعنی آدمی بیداری میں جو کام کرتا ہے یا جو وقت گزارتا ہے وہ ماضی، حال اور مستقبل سے باہر نہیں اور یہ کسی ایک جگہ میں ممکن ہے، مگر خیال، خواب اور روحانیّت زمان و مکان میں محدود نہیں، بلکہ یہ تینوں حالتیں وقت اور جگہ سے برتر اور غیر محدود ہیں، یعنی خیال و تصوّر میں جو کچھ دیکھا اور پایا جاتا ہے وہ مادّی چیزوں کی طرح نہیں، وہ تو لازمی اور لامکانی کیفیت میں ہے، یہی مثال خواب اور روحانیّت کی بھی ہے کہ وہ لازمان اور لامکان ہیں، کیونکہ وہ کثیف نہیں لطیف ہیں، مثلاً جب ہم اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے کسی دور کے شناختہ انسان کا تصوّر کرتے ہیں، اور خیال کی روشنی میں اس کو دیکھ پاتے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم مادّی

 

۵۴

 

طریق پر سفر کر کے اس شخص کے پاس پہنچ گئے ہیں، اور نہ ہی وہ اپنے مقام سے اٹھ کر ہمارے پاس آگیا، بلکہ یہ ہمارے تصوّر اور خیال کا ایک روحانی کرشمہ ہے کہ اس کی پہچان کی تصویر حافظہ کے ریکارڈ سے نکال کر پیش کیا، اس مثال سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوئی کہ خیال، خواب اور روح جیسی باطنی چیزیں وقت اور جگہ سے بالا و برتر ہیں۔

 

اس بیان سے یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ سوتے میں روح کہیں نہیں جاتی ہے، وہ صرف اپنی ذات کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے، اور اپنے باطن ہی میں سب کچھ دیکھ سکتی ہے، کیونکہ اس میں دیکھی اور اَن دیکھی سب چیزیں موجود ہیں،  دیکھی ہوئی اشیاء اس معنی میں ہیں کہ ہر چیز کا ایک ذہنی یا روحانی نقشہ موجود ہے، اور ان دیکھی چیزیں اس صورت میں ہیں کہ روح لوح محفوظ سے متصل ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ وہ ایک آئینہ قدرت نما ہے۔

 

حقیقی مومنین جادۂ مستقیم پر چلتے ہوئے جب روحانیّت کے پہلے دروازے سے داخل ہوجاتے ہیں تو ان کے لئے یہ امر بالکل آسان ہوجاتا ہے کہ وہ خصوصی عبادت کے دوران ایک پُرسکون نیند جیسی کیفیت اپنے آپ پر طاری کرکے حواس ظاہر کی مداخلت کو بند کریں، تاکہ وہ ذکر الٰہی کے سوا ہر چیز کو بھول جائیں یہاں تک کہ اپنی خودی بھی فراموش کر بیٹھیں، ایسی پُرحکمت نیند خدا کی ایک رحمت ہوتی ہے، اس کا

 

۵۵

 

تذکرہ نعاس (۰۳: ۱۵۴، ۰۸: ۱۱) اور سبات (۲۵: ۴۷، ۷۸: ۰۹) جیسے قرآنی لفظوں میں موجود ہے۔

 

ایک عام انسان کی روح صرف خواب ہی کی بدولت ظاہری اور دنیاوی خیالات و افکار سے آزاد فارغ ہوسکتی ہے تاکہ وہ ٹھیک طرح سے اپنے باطن کی طرف متوجہ ہوجائے، اگرچہ اس میں بھی اعمال کے نتائج کا دخل ہوتا ہے، تاہم وہ بیداری کی نسبت روحانیّت سے قریب تر ہوسکتی ہے، اس لئے کہ اس کے وہ حواس جو بیداری میں کام کرتے تھے اور روح کو اپنی ذات کے سمندر میں مستغرق رہنے سے روک لیتے تھے وہ اب محو خواب ہوچکے ہیں۔

 

دراصل خواب کی دنیا اللہ تعالیٰ کے عجائب و غرائب سے بھرپور ہے، اس میں جنت کے ثواب کے نمونے بھی ہیں اور دوزخ کے عذاب کی مثالیں بھی تاکہ مومنین روز آخرت کی زندگی اور مکافات عمل پر ایمان اور یقین رکھیں، کہ جسمانی طور پر مرجانے کے بعد روحانی زندگی برحق ہے جس میں یہ جسم نہ ہوگا، جیسے ہم خواب میں اپنے آپ کو اس جسم کے بغیر زندہ پاتے ہیں، ہم اگر اس میں دیکھتے، سنتے، بولتے، چلتے اور بہت کچھ کرتے ہیں تو وہ ہمارے جسمانی اعضاء سے نہیں،اگرچہ ہمارے شعور کی سطح بعض دفعہ بلند ہوتی ہے اور بعض دفعہ پست، کبھی روشنی ہوتی ہے اور کبھی تاریکی، لیکن بہرحال یہ احساس و شعور ضرور ہوتا ہے کہ ہم ایک

 

۵۶

 

زندگی رکھتے ہیں جو ظاہری زندگی سے بہت مختلف اور عجیب ہے۔ نیند اور خواب کے جسمانی اور روحانی طور پر بہت سے مقاصد ہیں، اور ان میں ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے روحانیّت اور آخرت کے مختلف احوال اور الگ الگ درجات کی مثالیں پیش کی جائیں، اور یہ بات ان لوگوں سے متعلق ہے جن کے خوابوں میں اعلیٰ سے اعلیٰ نمونے بھی ہو اور ادنیٰ سے ادنیٰ مثالیں بھی۔

 

جیسا کہ بتایا گیا کہ دنیائے خواب لازمان بھی ہے اور لامکان بھی، یعنی اس میں جو وقت اور جگہ کا تصوّر ہے وہ مادیّت سے مبرا اور بالا ہے، وہ اس جسمانی کائنات کے تحت نہیں بلکہ زمان و مکان پر محیط ہے، اس لئے کہ وہ بیک وقت ماضی و حال بھی ہے اور مستقبل بھی، اور اس لئے کہ وہ اپنی ذات میں آسمان بھی ہے اور زمین بھی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان تمام زمانوں پر کنٹرول کرتی ہے، کہ اس میں کبھی تو ماضی کی جھلکیاں نظر آتی ہیں، کبھی حال کے نظارے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی مستقبل کے نقوش سامنے آتے ہیں، اسی طرح آسمان و زمین کا ہر مقام عالمِ خواب کے ایک ہی نقطے سے ظاہر ہوجاتا ہے اور اس میں عظیم حکمت ہے تاکہ لازمان اور لامکان کی شناخت حاصل ہو۔

 

جو لوگ روحانیّت اور معرفت سے دور ہیں ان کے نزدیک خوابوں کی کوئی خاص اہمیت نہیں، وہ خواب کے گونا گون فائدے نہیں جانتے

 

۵۷

 

ہیں اور نہ ہی وہ اس کے اشارے سمجھتے ہیں جن میں اعمال کی اچھائی اور برائی کی نشاندہی ہوتی ہے، اس کے برعکس اہل ایمان کو یقین ہے کہ خواب اللہ تعالیٰ کی آیات یعنی معجزات میں سے ہے، لہٰذا وہ حصولِ معرفت کے سلسلے میں ایک عملی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

شروع شروع میں اگرچہ بیداری، خیال، خواب اور روحانیّت الگ الگ ہوتی ہیں، لیکن روحانی ترقی کے بعد انسان کی یہ چاروں حالتیں تقریباً تقریباً ایک ہوجاتی ہیں، وہ اس طرح کہ روحانیّت نہ صرف خواب و خیال ہی پر مسلّط ہوجاتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بیداری پر بھی ہر وقت محیط رہتی ہے، خیالات میں رنگا رنگ روشنیوں کا طوفان، خواب میں روحانیّت کا انقلاب اور بیداری میں لشکر ارواح کی معجزانہ گفتگو، یہ ساری علامتیں اس حقیقت کی شہادت دیتی ہیں کہ مذکورہ چار دنیائیں اگرچہ ایک اعتبار سے الگ الگ ہیں، تاہم دوسرے اعتبار سے ایک ہیں۔

 

قرآن حکیم کی حکیمانہ ہدایت سے ظاہر ہے کہ خوابوں کی عملی تاویل انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے، مگر وہی لوگ جو حقیقی معنوں میں ان حضرات کی اطاعت و پیروی کرتے ہیں کیونکہ یہ معرفت کا ایک حصّہ ہے اور عملی معرفت جو مشاہدات روحانیّت کا نتیجہ ہے، کتابوں میں نہیں آسکتی ہے، اس لئے کہ وہ زندہ اور حرکت کرنے

 

۵۸

 

والی روشنی ہے، اس لئے کہ وہ محرک روح اور بولتی حقیقت ہے اور اس لئے کہ وہ حقیقی زندگی کا روان دوان سرچشمہ ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس نے حضرت یوسف علیہ السّلام کو خوابوں کے علاوہ تمام باتوں کی تاویل سکھا کر عظیم احسان فرمایا تھا، پس اگر خواب کی تاویل کوئی ایسی عام چیز ہوتی جو سب کو دی جاتی ہے تو خداوند تعالیٰ حضرت یوسفؑ کے بارے میں احسان نہ جتاتا، کیونکہ پروردگارِعالم اس مثال سے بہت پاک و برتر ہے کہ وہ اپنے کسی پیغمبر کو ایک عام اور معمولی چیز دے کر احسان جتلائے۔

 

حضرت یوسفؑ کی مثال سے خوابوں کی اہمیت اور ان کی تاویل کی عظمت و رفعت کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ خدائے پاک نے یوسف علیہ السّلام کو جو تاویل سکھائی تھی اس کا ایک ذریعہ دوسرے ذرائع کے ساتھ خواب تھا، یعنی آپؑ دوسروں کے خواب کی تاویل اس بنیادی اصول کی روشنی میں کرتے تھے، کہ اس سے پیشتر آپؑ کے اپنے مبارک خواب میں آپ کو عملی اور تجرباتی تاویل سکھائی گئی تھی، اسکے سوا اور کوئی بہتر صورت نہیں تھی۔

 

خداوند تعالیٰ نے قرآن پاک میں آسمانی علم کے تصوّر کو دو حصوں میں پیش کیا ہے، اس علمی تصوّر کے حصّہ اوّل کا نام کتاب ہے اور حصّہ دوم کو حکمت کہا گیا ہے جو عظیم ہے، اور یہ بھی یاد رہے کہ جہاں کتاب کا

 

۵۹

 

دوسرا نام تنزیل ہے وہاں حکمت کا دوسرا نام تاویل ہے، اور اہل دانش پر یہ حقیقت روشن ہے کہ قرآن مجید میں جس طرح حکمت کی تعریف و توصیف کی گئی ہے بالکل اسی طرح تاویل کی تعریف و توصیف کی گئی ہے، پس ظاہر ہے کہ حکمت تاویل ہے اور تاویل حکمت، اور اس کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا کہ حکمت کا ایک حصّہ خوابوں میں پوشیدہ ہے، کیونکہ تاویل حکمت ہے۔

 

یہ ایک بشارت ہے خدا کی خوشنودی کی، کہ عظیم الشّان نورانی خوابوں سے مومنین کو ہمت ملتی ہے اور خوشگوار اثرات مرتب ہوجاتے ہیں، اور یہ ایک دھمکی ہے اللہ کی ناراضگی کی ، کہ برے خوابوں سے آدمی کا حوصلہ پست ہوجاتا ہے اور وہ کئی دن تک اداس رہتا ہے، یہ قدرتی اشارے ایسے نہیں ہیں کہ ان کو یونہی نظر انداز کردیا جائے، بلکہ انتہائی ضروری ہے کہ اچھے خوابوں کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا واجبی طور پر شکریہ ادا کیا جائے اور خوفناک خوابوں کے نتیجے میں گناہوں سے توبہ کرکے خدا سے لَو لگایا جائے، تاکہ خواب کی اس براہ راست خدائی ہدایت سے فائدہ حاصل ہو۔

 

اگر خواب کی علمی و عرفانی ترقی مکمل روحانیّت تک ہوچکی ہے تو وہ غیر معمولی مشاہدات کا وسیلہ بن جاتا ہے، کیونکہ علم و عمل سے اس میں ترقی کی بڑی گنجائش ہے یہاں تک کہ اس میں بڑے عجیب و غریب

 

۶۰

 

واقعات پیش آتے ہیں، مثال کے طور پر بعض دفعہ اس میں سے ازل اور ابد کے دریچے کھل جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اگرچہ ہم ازل سے اپنے سفر کے لئے نکل چکے ہیں، لیکن جب ہم ابد میں جا پہنچیں گے تو حیرت ہے کہ پھر ہم ازل میں ہوں گے، یہ بڑی توجہ طلب بات ہے۔

 

یہ امر بھی عالمِ خواب کے عجائب و غرائب میں سے ہے کہ کبھی کبھار آدمی اپنے خواب کے اندر ایک اور خواب دیکھتا ہے، اور ایسا “خواب در خواب” انتہائی حیرت انگیز قسم کا ہوتا ہے، جس کے پُرحکمت اشاروں میں روح کے بے پناہ ماضی و مستقبل کے معنی پوشیدہ ہوتےہیں، اور یہ تعجب خیز واقعہ اس لئے پیش آتا ہے کہ روح خواب میں عالم امر سے واصل ہوجاتی ہے بلکہ وہ عالم خود روح کی ذات میں پنہان ہے، جس میں “کُنۡ فیکون” کی حکمرانی اور کار فرمائی چلتی ہے، یہی وجہ ہے کہ خواب کے تمامتر واقعات کسی تاخیر کے بغیر ظہور پذیر ہوتے ہیں۔

 

فٹ نوٹ:

۱۔ ۷۸: ۰۹، ۰۷: ۹۷، ۳۷: ۱۰۲، ۰۸: ۴۳، ۳۰: ۲۳، ۳۹: ۴۲، ۱۲: ۴۳، ۱۷: ۶۰، ۳۷: ۱۵، ۴۸: ۲۷، ۱۲: ۰۵، ۱۲: ۴۳، ۱۲: ۱۰۰۔

۲۔ آیت کا ترجمہ: بلکہ انسان خود اپنی حالت کو خوب دیکھتا ہے (۵۷: ۱۴)۔

 

۶۱

 

خزائن الہٰی

 

خداوندِ علیم و حکیم کا مبارک ارشاد ہے کہ:وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاۗىِٕنُهٗ (۱۵: ۲۱) “اور کوئی چیز نہیں مگر اس کے خزانے ہمارے پاس موجود ہیں۔” یعنی ممکنات کی ہر شیٔ جو ارادۂ الٰہی میں ہے اس کے وجود و ظہور کے اسباب و اجزائے ضروریہ کے خزانے خدا کے پاس ہیں، تاکہ بحکم خدا اسباب و علل اور اجزاء کی فراہمی سے اشیائے ممکنہ عرصہ وجود میں آئیں۔

 

یہاں ایک اہم سوال “عندنا” سے متعلق پیدا ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عندیت (نزدیکی) سے کیا مراد ہے؟ جبکہ اس کے قبضہ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں؟ کیونکہ وہ اگر ایک اعتبار سے مکان و لامکان سے پاک و برتر ہے تو دوسرے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہے؟

 

جواب: خدا تعالیٰ مکان و لامکان سے پاک و برتر بھی ہے اس کے باؤجود وہ ہر جگہ بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کا ایک خاص مقام بھی ہے اور وہ روحانیّت کا مقام ہے، جو اس کی عندیت و نزدیکی ہے، اور

 

۶۲

 

خزائن الٰہی روحانیّت میں ہیں، اور روحانیّت کا تعلق بندوں سے ہے، سو خدا کے خزانے بندے ہیں، جن میں تمام چیزیں موجود ہیں۔

 

قرآن پاک میں اللہ کے قرب و حضور اور عندیت کے معنی میں جتنے الفاظ آئے ہیں ان سب کی مراد روحانیّت و نورانیّت ہے اور یہ مرتبت انسانوں کے لئے مخصوص ہے، اور پروردگار کے خزانے بھی انسانوں میں سے وہی حضرات ہیں، جن کو خداوندِعالم نے اپنے بندوں سے برگزیدہ فرمایا ہے، یعنی ابنیاء و أئمّہ علیھم السّلام اور حقیقی مومنین، جو خزائن الٰہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

 

اگر بندۂ مومن پیغمبرؐ اور امامؑ کے طفیل سے خزانہ الٰہی نہ ہوتا تو اسے اپنی ذات کی معرفت کی طرف توجہ نہ دلائی جاتی اور یہ ارشاد نہ ہوتا کہ: “جس نے اپنی روح کو پہچان لیا یقیناً اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔” اس سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ حقیقی مومن خزائن الٰہی میں سے ہے، وہ ذرات روح کا خزانہ ہے، اور ان ذرّات میں سب کچھ ہے، اس لئے کہ تمام مادّی چیزوں کی روحیں ہوا کرتی ہیں، جو ذرّات کی شکل میں ہوتی ہیں۔

 

اللہ تعالیٰ کی آیات (نشانیاں) اگر آفاق میں منتشر ہیں تو نفس انسانی میں آیات یکجا ہیں (۴۱: ۵۳) اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز مادّی طور پر اس کائنات میں ظاہر ہے اور روحانیّت میں انسان کے اندر پوشیدہ ہے، اسی طرح وہ اپنے باطن میں دونوں جہان خریدنے کے لئے عظیم سرمایہ اور

 

۶۳

 

خزانہ رکھتا ہے، یا دوسرے اعتبار سے یوں کہنا چاہئے کہ وہ خود کونین کا خلاصہ اور صورت روحانی ہے یا ایسا معجزاتی عالم ہے کہ اس میں بصورت لطیف دنیا بھی ہے اور عقبیٰ بھی ہے۔

 

یہ کتنا اہم ارشاد ہے جو فرمایا گیا ہے کہ شریعت کا باطن طریقت ہے، طریقت کا باطن حقیقت ہے اور حقیقت کا باطن معرفت، سو معرفت سب کچھ ہے، اس لئے کہ اس میں ہر چیز کی روح اور قیمت موجود ہے، اور معرفت نہیں ہے مگر انسان کی ذات میں، اس سے معلوم ہوا کہ آدمی خزانہ الٰہی ہے۔

قرآنی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو تمام مخلوقات پر کرامت و فضیلت دی ہے (۱۷: ۷۰) اس کے معنی یہ ہوئے کہ قانون خدا کی نظر میں کائنات و موجودات کی جو قدر و قیمت ہے اس سے آدمی کہیں بڑھ کر ہے۔

 

مولا علی صلوات اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ: “آیا تو گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے اور حالانکہ تجھ میں عالم اکبر سمویا ہوا ہے۔” یعنی پوری کائنات لطیف روحانی شکل میں تیرے باطن میں پوشیدہ ہے، پس اس سے ظاہر ہوا کہ مومنین خزائن الٰہی ہیں اور یہ حقیقت ایسی ہے کہ اسے گہرائی سے سمجھنے اور عمل میں لانے کی سخت ضرورت ہے۔

 

۶۴