چہل کلید
دیباچہ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم یا ربّ بحقّ محمّد وآلِ محمّد(صلوات اللہ علیھم)۔ اِس بندۂ حقیرومحتاج کونعمت شناسی، قدردانی اورشکرگزاری کی توفیق وہمت عنایت فرما! اے خداوندِعالم! یہ بے چارہ دل تیرے نورِاقدس کی پاک محبت کی تشنگی سے خشک وسخت ہو رہا ہے، رحم فرما اوربارانِ رحمت برسادے، تاکہ قلب میں رقت ونرمی پیدا ہو، کیونکہ جب تک تیرے مقدّس عشق کی نورانی تائید نہ ہو، تب تک نہ توذکروعبادت سے کوئی مزہ آتا ہے، اورنہ ہی کوئی روح والی مناجات ہوسکتی ہے، اے خدائے دانا و بینا! اے حکیم آسمانی! اے طبیبِ روحانی! دراصل ہم سخت مریض ہیں، اس لئے اپنے پاک عشق اور پرحکمت دیدار باطن کے شفاخانے میں داخل کرلے، تاکہ ہمیں بہت جلد شفاءِ کلّی نصیب ہو۔
۵
خدمتِ قرآن
اللّٰہ تعالیٰ کی وہ پاک کتاب جوعلم وحکمت کے خزائن سے مملواورانتہائی جامعیّت کے اوصاف میں بے مثال ہے وہ قرآن حکیم ہی ہے، جوظاہرمیں بھی اور باطن میں بھی دائمی طورپرعقلی معجزات کا سرچشمہ ہے، جس کا نزول حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پرہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے وقت میں قرآن کے معلّم اورنورتھے (۰۵: ۱۵) اورخدا کے حکم سے یہ زندہ نور پیغمبرکے بعد حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے برحق جانشین میں منتقل ہوگیا، یعنی امام زمانؑ ہی بحقیقت اوربمرتبہ نورانیت معلّم قرآن ہیں، چنانچہ ہم نے اپنی علمی وادبی کمزوری کے باوجود بہت ساری امیدوں کا سہارا لے کرقرآن اوراس کی معلّم کی خدمت کیلئے کوشش کی، آپ سب دعا کریں کہ یہ کوشش کامیاب اورسب کے لئے نافع ہو!
اس رسالہ کانام
علم الاسرار کے خزانے، دروازے، تالے، اورکلیدیں ہوا کرتی ہیں، چنانچہ اس یقین سے کہ یہاں جوچالیس منتخب نکات درج ہوئے ہیں، وہ کنوز علم وحکمت کی کلیدوں کا کام کریں گے، اس رسالے کا نام’’چہل کلید‘‘رکھا گیا، اگرکوئی عزیزجیسا کہ چاہئے ان کلیدوں کا مطالعہ کرے، اورساتھ ہی ساتھ ہماری دوسری تمام کتابوں سے بھی خوب فائدہ اٹھائے، توان شاء اللّٰہ تعالیٰ، وہ قرآن حکیم اورنورامامت کے بہت سے بھیدوں سے واقف و آگاہ ہوسکتا ہے، اور یہ سب سے بڑی سعادت ہے۔
۶
ایک بڑا یادگار دورہ
اعزّہ واحبّا کی پرخلوص دعا اورخداوند قدّوس کے فضل وکرم سے اگرچہ ہر دورہ کامیاب اوریادگار رہا ہے، جس کا ثبوت کتابوں، مقالوں، خطوط، کیسیٹوں وغیرہ سے مل سکتا ہے، تاہم لنڈن، امریکہ اورکینیڈا کا دورہ، جو گزشتہ سال (۱۹۹۱ء) ہوا تھا، بڑا یادگار ہو سکتا ہے، جس کی کئی وجوہ ہیں، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کریمِ کارساز اور رحیمِ بندہ نواز نے ہم پراور ہمارے دوستوں پر بے شماراحسانات کئے ہیں، جن کا حق شکرگزاری ہزارسالہ زندگی میں بھی ہم سے ادا نہیں ہوسکے گا۔
مجموعی ترقی
امامِ اقدس واطہر صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی ظاہری و باطنی دعائے برکات اورنورانی تائید کے صدقے سے چند ہی سالوں میں ہمارے ادارے کی زبردست ترقی ہوئی ہے، دراصل یہ امامِ زمانؑ ہی کا باطنی اور روحانی معجزہ ہے، ورنہ یہاں ذرا غورسے دیکھا جائے توکچھ بھی نہیں، نہ علم ہے، نہ ادب، نہ ہنر ہے نہ سند اور نہ کوئی دوسری طاقت، بس صرف ایک بہت ہی حقیربندہ، جوکسی قطار و شمارمیں نہ تھا، ہاں یہ بالکل سچ ہے اورسچائی کونہیں چھپانا چاہئے کہ اس زمانے میں وہ علاقہ بہت ہی پیچھے تھا، چنانچہ وہ غیرمعروف اورگمنام لڑکا اپنے باپ
۷
کی بکریاں چرایا کرتا تھا، قانون رحمت کے مطالعے سے اب یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ شاید رحمتِ خداوندی نے اس چوپان کے دل کے کان میں بارباربعنوان توفیق یہ سرگوشی کی ہوگی کہ اب تم بھیڑبکریوں کی محبت دل سے نکالو، ان کے پیچھے پیچھے چلنا چھوڑ دو، علم کی پیروی کرو، اوراسی سے عشق ومحبت رکھو، پس ایسا ہی ہوا، اور وہ چوپان میں خود تھا، الحمدللہ، جب بھی مجھے کسی قسم کے فخرکا خطرہ ہوتا ہے، تومیں اپنے ماضی کے احوال میں سے کسی حال کو پیش نظر رکھتا ہوں۔
علمی لشکر
خانۂ حکمت اورادارۂ عارف کے عملداران و ارکان امام زمانؑ کے رضا کارعلمی لشکرمیں سے ہیں، ان کی بہت بڑی سعادت مندی یہ ہے کہ جہالت ونادانی کے خلاف جوعلمی جہاد ہے، اس میں توقع سے کہیں زیادہ کامیابی ہو رہی ہے، اورانہیں معتبر ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ علیٔ زمانؑ اس خدمت سے بے حد خوش ہیں، لہذا یہ سب عزیزان بدرجۂ انتہا شادمان اورشکرگزار ہیں، اورامامِ وقت کی یہی خوشنودی و رضا ان سب کے آپس میں اتحاد واتفاق کا باعث ہے، کیونکہ یہ سارے نیک بخت عزیزان حضرت امامؑ کے سرفروش اورجان نثارمرید ہیں، لہذا ان کے نزدیک ہرخدمت کو پرکھنے کے لئے صرف ایک ہی کسوٹی ہے، اور وہ ہے امام اقدس واطہر صلوات اللہ علیہ کی پاک خوشنودی۔
۸
خاموش خدمت کی اہمیت
یہ فخرہرگزنہیں، بلکہ مولائے پاک کی مبارک دعا اورنورانی ہدایت کی شکرگزاری ہے، بحمداللہ، کہ ہماری خاموش علمی خدمت اورآوازمیں جذب شدہ آوازعزیزشاگردوں اوردوستوں کے توسط سے پیاری جماعت میں جاری وساری ہے، بہت ہی مقدّس خدمت کی یہی نمائندگی اورعلم کی دلی آوازہماری پیاری پیاری کتابوں میں بھی ہے، جن کا دائرہ بفضل خدا روز بروز وسیع سے وسیع ترہوتا جا رہا ہے، اوراسی مقصد کے پیش نظرایک ہزارسے زیادہ آڈیوکیسیٹوں کی کاپیاں بھی بتدریج پھیل رہی ہیں، لیکن ان تمام خدمات کی بادشاہ وہ سب سے عظیم خدمت ہے، جو باطن کے علاوہ ظاہرمیں بھی امامِ وقتؑ کے دست مبارک میں پہنچ جانے کی سعادت حاصل کرے، وہ کتابوں کے ایسے ترجمے کی خدمت ہے، جسے ہمارے مولا و آقا بہت پسند فرماتے ہیں، پس میں بصدِ شوق ان تمام حضرات سے فدا ہوجانا چاہتا ہوں، جو ہماری کتابوں کا کسی بھی اہم زبان میں ترجمہ کرتے ہیں، اوراُن عزیزان سے قربان ہوجانے کا جذبہ رکھتا ہوں، جوترجمہ وغیرہ میں معاونت کرتے ہیں۔
زبان حال سے دعا
دعا دوقسم کی ہوا کرتی ہے: ایک زبانِ قال سے ہے، اور دوسری زبانِ حال سے،
۹
قال میں الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں، مگرحال میں الفاظ نہیں ہوتے، صرف کوئی خاموش کیفیت ہوتی ہے، مثال کے طورپرتم کسی مستحق محتاج آدمی کی مالی مدد کرتے ہو، وہ زبان سے تمھارے حق میں دعا کرے یا نہ کرے، لیکن وہ بہت ہی خوش ہوجاتا ہے، اوراس کی خوشی کی کیفیت میں تمھارے لئے ایک عمدہ دعا پوشیدہ ہوتی ہے، یہ “زبانِ حال سے دعا” کی ایک قابلِ فہم مثال ہے، اب یہاں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگرافلاس وتنگدستی بری چیزہے، تویہ بھی سچ ہے کہ دینی جہالت ایک عذاب ہے، جس سے بچنے اوربچانے کا خدا نے حکم دیا ہے (۶۶: ۶) پس آئیے ہم سب مل کر نورقرآن (امامؑ) کے علم کی روشنی پھیلائیں، اوربے شمارلوگوں کی زبانِ حال سے پرخلوص دعائیں حاصل کریں۔
عزیزوں کا ذکرجمیل
انسانی قلب راڈار = Radar(لاسلکی آنکھ) کی طرح گھومتا ہوا کام کرتا ہے، مگراس کا دائرۂ کارانتہائی وسیع ہے، یہاں تک کہ مکان ولامکان پراس کوعبورحاصل ہوسکتا ہے، اور راڈار یہ کام کبھی نہیں کرسکتا، چنانچہ میراقلب بڑی سرعت سے ان تمام ممالک، علاقوں، شہروں اورمقامات کی طرف متوّجہ ہوجاتا ہے، جہاں میرے عزیزان رہتے ہیں، اسی طرح اگرچہ میں اُن سب کویاد کرتا ہوں، جن کومیں پہچانتا ہوں، لیکن اعِزّہ واحِبّا کی یاد قوّی اور زور آور
۱۰
ہوتی ہے، اور اس سے بھی زیادہ پرکشش اورتمام بشری یادوں پرغالب یاد ان عزیزوں کی ہے، جوہمارے ساتھ شانہ بشانہ علمی خدمت کا مقدّس فریضہ انجام دے رہے ہیں، ہم ان کی بے حد پیاری یاد کوذکرِجمیل کہیں گے، کیونکہ عقل وجان کی نظرمیں یہ یاد نہایت ہی خوبصورت اوردل آویز ہے، اے برادر! ہم ان عزیزوں کوکیسے یاد نہ کریں، جوحصۂ دل اور پیوند جان ہوگئے ہیں، ہمارے یہاں “یک جان و دو قالب” کی جگہ “یک جان و کثیرقالب” کی مثل درست ہے، کیونکہ ہم کوامام برحقؑ نے یک حقیقت (حقیقتِ واحدہ) کی تعلیم دی ہے، جو سب سے بڑی انقلابی اور سب سے آخری قیامت خیز تعلیم ہے، اس کا قرآنی تصور نفسِ واحدہ ہے (۳۱: ۲۸)۔
سیسا پلائی ہوئی دیوار
سورۂ صف (۶۱: ۴) میں ارشاد ہے: خدا توان لوگوں سے محبت رکھتا ہے جواس کی راہ میں اس طرح قطار باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیساپلائی ہوئی دیوار ہیں (۶۱: ۴) یہ جہاد ظاہرکے لئے مثال ہے، اورجہاد باطن کے لئے حقیقت، کیونکہ صرف حقیقی مومنین کی ارواح ہی ذکروعبادت اورعلم ومعرفت کے زیراثرصحیح معنوں میں سیساپلائی ہوئی دیوار کی طرح ایک ہوسکتی ہیں، جس کی علامت زبردست اور غالب علمی جہاد ہے، جو ولیٔ امرکی نورانی تائید
۱۱
سے ہوتا ہے یہ نکتہ اچھی طرح یاد رہے کہ صف (قطار) باندھنا قرآنی حکمت اور روحانیت میں ارواح وملائکہ کے ایک ہوجانے کا نام ہے، جیسا کہ سورۂ فجر(۸۹: ۲۲) میں ارشاد ہے: وَجَائَ ربُّک والملکُ صفّاًصفّاً = اورتمھارا پروردگاراورفرشتے قطارکی قطار آجائیں گے۔ چونکہ یہ عالمِ وحدت (دارالابداع) کی سب سے اعلیٰ حقیقت ہے، جوعالم کثرت کی مثال میں پیش کی گئی ہے، لہذا اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ یہ حضرت قائم القیامت علیہ افضل التّحیۃ والسّلام کے ظہور نورانی ہی کا تذکرہ ہے، جس میں نہ صرف فرشتوں ہی کی نمائندگی ہوتی ہے، بلکہ اس میں ربّ کریم کی تجلّی بھی ہے، جس طرح امام مبین(۳۶: ۱۲) میں کلِّ شَی یعنی ہر چیزکا تصوّر ہے، مگراشیائے معرفت کے بغیرہرچیز(کُلَّ شَیْ) کس طرح ہوسکتی ہے، پس اگرامام مبینؑ کی ذات اقدس میں دیگراعلیٰ چیزوں سے بھی کہیں زیادہ ضروری عرفانی چیزیں ہیں، تو پھراس میں حضرتِ ربّ کے ظہورات وتجلّیات لازمی ہیں، کیونکہ اس کے سوا معرفت ممکن ہی نہیں۔
ایک بے حد مفید تجویز
آج بوقت شام بعد ازجماعت خانہ جمعرات۱۰ رجب المرجب۱۴۱۲ھ ۱۶جنوری ۱۹۹۲ ء کوکلاس میں ایک نہایت پرسوزمناجات کا آڈیوکیسیٹ
۱۲
پلے ہورہا تھا، نورِامامت کے عشق ومحبت کے طفیل اورپاکیزہ روحوں کی حاضری و موجودگی کی برکت سے کیسیٹ میں بہت ساری خوبیاں آئی ہوں گی، اس لئے سامعین کے ہرفرد پریہ حال طاری ہوا کہ وہ یا تودریائے مستی میں مستغرق ہو یا سیلابِ گریہ وزاری میں بہہ جائے، میں خود بھی ورطۂ حیرت میں سوچ رہا تھا کہ یہ کس محفل کا کیسیٹ ہے؟
بالآخرچند تجاویز ذہن میں آگئیں، اوران میں سے ایک بے حد مفید تجویز یہ بتائی گئی کہ جن عزیزوں کوروحانی ترقی کا زبردست شوق اورلگن ہو، وہ ہمارے کیسیٹوں میں سے، جوایک ہزارسے بھی زیادہ ہیں، چالیس۴۰ کا انتخاب کریں، جوعلمی بھی ہوں، اورمناجاتی بھی، پھر۴۰ دن تک ہرصبح بعد ازجماعتی عبادت ایک ایک کیسیٹ کوبھرپور توجہ سے سنتے جائیں، توان شاء اللہ اس عجیب وغریب پوشیدہ چلّہ سے روحانی لذّتوں کا بڑا تجربہ اورعلمی انقلاب کے لئے راستہ ہموارہوسکتا ہے، اسی طرح دینی کتب میں سے چالیس منتخب مضامین پربھی چلّہ ہوسکتا ہے، لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ ایسے بابرکت اعمال کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ان مومنین کوحاصل ہوسکتا ہے، جو پرہیزگار، عبادت گزاراوردائم الذّکر ہوتے ہیں۔
۱۳
سلام ودعا کا مقدّس فریضہ
میں آخراً شرق وغرب کے جملہ عہدہ داران وارکان کوصمیمیّتِ قلب سے سلام ودعا کرتا ہوں، وہ سب مجھے بے حد عزیزہیں، کیونکہ امام عالیمقامؑ کے اس علم کی روشنی پھیلانے کی خاطر وہ میری روح کی کاپیاں ہوگئے ہیں، کوئی شاید تعجب سے سوال کریگا کہ آیا ایسا بھی ممکن ہے؟ میں جواب دوں گا کہ جی ہاں، ممکن ہے، نہ صرف وہ میری کاپیاں ہیں، بلکہ میں خود بھی ان میں سے ہرایک کی کاپی ہوں، اس کی پہلی مثال سیسا پلائی ہوئی دیوارہے، (۶۱: ۹۴) اوردوسری مثال سدّ یاجوج (۱۸: ۹۴) یعنی ذکروعبادت، علم اوراعلیٰ خدمت کے وسیلے سے ایمانی روحوں کے ذرّات امام زمانؑ کے نوراقدس کے سانچے میں ایک ہوجاتے ہیں، اور یہی نفسِ واحدہ ہے(۳۱: ۲۸) جس کی کاپیاں مومنین کے اجسام میں ہوتی ہیں۔
نصیرالدّین نصیرؔہونزائی
کراچی
۱۱؍ رجب المرجب۱۴۱۲ھ ؍
۱۷جنوری ۱۹۹۲ء
۱۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کلید نمبر۱: سلامتی کی راہیں:
دین فطرت (اسلام) کا سب سے اہم اورسب سے بنیادی نکتہ جس کوتسلیم کرلینے میں بے شمارعلمی وعرفانی فائدے ہیں، یہ ہے کہ خداوندِ تبارک و تعالیٰ کی مکمل اور روشن ہدایت نورِ منزّل اورکتاب مبین (قرآن) میں ہے، (۰۵: ۱۵) اسی سے خدائے پاک وبرترسلامتی کی راہوں پران لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے، جواس کی خوشنودی کی پیروی کرتے ہیں، آپ ہرگز ہرگز یہ بات بھول نہ جائیں کہ اللہ جلّ جلالہ کی خوشنودی (رضوان ۰۵: ۱۶) سب سے بڑی چیز ہے (۰۹: ۷۲) اور یہی خود سب سے بڑا راز بھی ہے، جس کی معرفت امامِ زمان صوات اللہ علیہ وَسلامہ کی کامل اطاعت و فرمانبرداری ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔
اگرکوئی پوچھے کہ سلامتی کی راہیں (سُبُل السّلام ۰۵: ۱۶ ) کیا ہیں؟
۱۵
ان میں اورصراط المستقیم میں کیا فرق ہے؟ توآپ اس کو یوں جواب دیں کہ: سلامتی کی راہیں شریعت، طریقت، حقیقت اورمعرفت ہیں، چونکہ یہ خود صراط مستقیم کی چاربڑی منزلیں ہیں، لہٰذا اس میں فرق کا سوال خود بخود ختم ہوجاتا ہے، آپ متعلقہ آیۂ کریمہ(۰۵: ۱۶ ) میں دیکھ سکتے ہیں کہ پہلے سلامتی کی راہوں کی ہدایت کا ذکرفرمایا گیا ہے، اورپھرصراطِ مستقیم کی ہدایت کا، کیونکہ تمام منزلوں کی رہنمائی پوری راہ کی رہنمائی قرارپاتی ہے، تاہم یہاں یہ سوال ہے کہ صراط مستقیم کی منزل مقصود کیا ہے؟ اورکوئی شخص یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ علیٰ صراطٍ مّستقیم اور اِلیٰ صراطٍ مّستقیم میں کیا فرق ہے؟ میں جواباً یہ عرض کرونگا کہ اس راہ راست کی منزلِ مقصود خدا ہی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: اورجوشخص خدا کومضبوطی سے پکڑے تووہ ہدایت یافتہ ہوگیا (۰۳: ۱۰۱ )۔
نیزارشاد ہے: خدانے فرمایا کہ یہی راہِ راست ہے کہ مجھ تک (پہنچتی ) ہے(۱۵: ۴۱ ) اورسورۂ نساء ۰۴: ۱۷۵ میں بھی دیکھ لیں، اب علیٰ اور اِلیٰ کے بارے میں جوسوال ہوا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی صورت میں صراطٍ مستقیم پرہدایت کی بات ہے، اوردوسری صورت میں منزل مقصود کا اشارہ ہے، کیونکہ راستے کی مراد منزل ہی ہوتی ہے، اوریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گنجِ عقل میں جہاں تمام چیزوں کی حقیقتیں اورمعرفتیں لپیٹی ہوئی ہیں، وہاں صراطِ مستقیم کی عقلی صورت بھی ہے۔
۱۶
کلید نمبر۲: ہرچیزکی علمی صورت:
قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ خداوندِ عالم نے ہرچیزکے ظاہر و باطن میں حقیقی علم رکھا ہے(۰۶: ۸۰؛ ۰۷: ۸۹؛ ۲۰: ۹۸ ) اوراس کلّیہ سے ہرگزکوئی شیٔ خارج نہیں ہوسکتی، پھراس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن وحدیث کے جتنے الفاظ ہیں، ان میں سے ہرلفظ کے ظاہری معنی اپنی جگہ درست ہونے کے ساتھ ساتھ اسی مناسبت سے ایک پوشیدہ معنی بھی ہیں، اوراس میں وہ علم ہے، جس کوعلم باطن یا تاویل کہا جاتا ہے، مثال کے طور پر”سلام” ایک قرآنی لفظ ہے، جوقرآن میں متعدد بارآیا ہے، اس کے ظاہری معنی ہیں: سلامتی، دعا، سلام، امان، سالم، اللہ تعالیٰ کا نام، اوراس کے باطنی معنی ہیں: روحانی اورنورانی تائید، جس میں عقل وجان کی سلامتی پوشیدہ ہے، جیسا کہ سورۂ یاسین میں ہے: سَلَامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رّحیم (۳۶: ۵۸ ) (اوراہل جنت کو ) مہربان پروردگار کی طرف سے ایک قول (یعنی کلمہ باری باعث ) تائید ہے تاکہ اس نورانی تائید سے ان کے علم اسرارمیں اضافہ ہو۔
سورۂ ھود (۱۱: ۶۹ ) میں ہے کہ: فرشتوں نے حضرت ابراہیمؑ کوسلام کیا اورآپؑ نے سلام کا جواب دیا۔ اس سے روحانی مخاطبہ (گفتگو) مراد ہے، کیونکہ فرشے کی آواز روحانیت میں ہوتی ہے، اس لئے
۱۷
دل کی زبان سے اس سے گفتگوکی جاتی ہے، یاد رہے کہ مخاطبِ روحانی کا دوسرا نام سلام ہے، جس کو تائید بھی کہتے ہیں، جیسا کہ اہلِ جنّت کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ: وہ لوگ وہاں سلام کے سوا کوئی بےہودہ بات سنیں گے ہی نہیں (۱۹: ۶۲ ) اس کی تاویل یہ ہے کہ بہشت کی ساری گفت وشنید ہمیشہ روحانیت ہی میں ہوا کرتی ہے، کیونکہ جنّت میں ظاہری قسم کا سلام نہیں ہوسکتا، جس کے معنی میں بطوردعا یہ کہا جائے کہ تم پرسلامتی ہو! جبکہ اہل جنّت خود سلامتی کے گھر (دارالسّلام ) میں رہتے ہیں (۰۶: ۱۲۷ ) دارالسّلام بہشت بھی ہے اورخدا کا گھر بھی، اس لئے کہ “السّلام” اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے (الملک القدّوس السّلام ۵۹: ۲۳ ) پس بہشت میں پروردگارعالم اورفرشتوں کے سلام سننے کے معنی ہیں: نورانی تائید، روحانی کلام، علم اسراراورمعرفت، جس سے خدا کے دوستوں کی ازلی وابدی سلامتی اورہمیشہ ہمیشہ اصل سے واصل رہنے کی حقیقت روشن ہوجاتی ہے۔
کلید نمبر۳: نفسانی موت:
سورۂ جمعہ (۶۲: ۶ ) میں ارشاد ہے: (اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم ) کہہ دوکہ اے یہودیو! اگرتم یہ خیال کرتے ہوکہ تم ہی خدا کے دوست ہو اورلوگ نہیں، تواگرتم (اپنے دعوے میں) سچے ہوتو (نفسانی) موت کی تمنا کرو (۶۲: ۶ ) کیونکہ خدا کے اولیاء کی علامت یہی ہوتی ہے، اور
۱۸
اسی تمنا کے نتیجے میں انہیں فنا فی اللہ و بقا باللہ کی سب سے بڑی سعادت حاصل ہوجاتی ہے، ورنہ ظاہری اورجسمانی موت کی آرزو کوئی ایسا آدمی بھی کرسکتا ہے، جواپنی غلط کاریوں کی بنا پر زندگی سے تنگ آچکا ہو، اوراس سلسلے میں بعض دفعہ انسان خودکشی کا ارتکاب بھی کرتا ہے، پس ظاہر ہے کہ حصولِ روحانیت کے لئے بدنی موت نہیں بلکہ نفسانی موت ضروری اورلازمی ہے۔
“تم اپنے نفس کو قتل کرو (۰۲: ۵۴ ) “یہ حکم صرف بنی اسرائیل ہی کے لئے نہ تھا، بلکہ آج بھی لوگوں سے ظاہراً یا باطناً بچھڑے کی پرستش جیسے مشرکانہ گناہ سرزد ہوسکتے ہیں، لہذا جو شخص توبہ کرکے مومنِ مُوَحِّد ہوجانا چاہتا ہو، تواُس پرواجب ہے کہ وہ علم وعمل کے ذریعے سے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے، کیونکہ یہی جہاد اکبر ہے، جو بےحد ضروری ہے، اوراس کے بغیرموت کی تمنا کرنے کا کوئی مطلب نہیں۔
بچھڑا نہ توگائے کی طرح فائدہ دے سکتا ہے اورنہ بیل کا کام کرسکتا ہے، کیونکہ یہ ابھی ناتمام ونارسیدہ ہے، چنانچہ روحانی سفرکے سلسلے میں وہ آزمائشی مقام بھی آتا ہے، جہاں سامری (شیطان) روحانی مسافرکے خلاف ایک ایسی آوازکا حربہ استعمال کرتا ہے، جو بےعلم اورغیرمفید ہونے کی وجہ سے بچھڑے کی آوازجیسی ہوتی ہے، اورسامری یہ تأثردیتا ہے کہ دیکھو یہی خدا ہے، لیکن
۱۹
توحید کا اصل مقام کئی فناؤں کے بعد ہے، لہٰذا اس امتحان سے گزر کرآگے جانے کی ضرورت ہے، سامری اوربچھڑے کا قصہ ملاحظہ ہو: ۲۰: ۸۵؛ ۲۰: ۸۷؛ ۲۰: ۹۵ اور۰۲: ۵۱؛ ۰۲: ۵۴؛ ۰۲: ۹۲؛ ۰۲: ۹۳؛ ۰۴: ۱۵۳؛ ۰۷: ۱۵۲؛ ۰۷: ۱۴۸؛ ۲۰: ۸۸، تاکہ آپ قرآنی حکمت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں۔
متعلقہ سوال وجواب: س نمبر۱ : اس کی کیا تاویل ہے کہ بنی اسرائیل کا گوسالہ (بچھڑا ) زیورات سے بنا گیا تھا؟
ج: خاموش روحانیت کے مراحل میں ہرطرف تصوراتی سیم و زر اور لعل و گوہرکی کثرت کا مشاہدہ ہوتا ہے، اورجوشخص ان چیزوں پرفریفتہ ہوجاتا ہے، اس کے لئے آوازکا ایک بچھڑا بنایا جاتا ہے۔
س نمبر۲: قر آن حکیم (۲۰: ۸۸ ) میں اس بچھڑے کے جسمانی ہونے کا ذکرہے، اس میں کیا راز ہے؟
ج: کیونکہ یہ بچھڑا ان چیزوں میں سے ہے جوذرّات جسمِ لطیف سے ہوتی ہیں۔
س نمبر۳: فرشتے کے نشان قدم کی ایک مٹھی (۲۰: ۹۶ ) سے کیا مراد ہے؟
ج: جسم لطیف کے ذرّات کی مٹھی۔
س نمبر۴: لامِساس (۲۰: ۹۷ ) کے کیا معنی؟
ج: اس کے معنی ہیں: نہ چھونا، ہاتھ نہ لگانا، یعنی سامری کوآخربڑی ذلت سے یہ کہنا پڑا کہ مجھ کونہ چھونا، جس کی تاویل ہے:
۲۰
مجھ سے تعلیم نہ لو، نیز اس کا اشارہ ہے کہ جوسامری جیسے پیشوائے باطل کی پیروی کرے، وہ گوہرمقصود کوکیسے پہنچ سکتا ہے۔
س نمبر۵: توبہ کے لئے نفس کشی کا حکم کیوں دیا گیا (۲: ۵۴ ) ؟
ج : کیونکہ حقیقی توبہ لوٹ کرفنافی اللہ ہوجانا ہے، جس کے لئے جسمانی موت سے قبل نفسانی موت ضروری ہے۔
س نمبر۶: شیطان چھوکریا لپیٹ کرکسی کومخبوط الحواس یعنی دیوانہ بنا سکتا ہے (۰۲: ۱۷۵) اس میں کیا رازہے؟
ج: جب کوئی شیطانِ انسی یا شیطانِ جنّی کسی آدمی کوگمراہ کرکے غلط باتیں سکھاتا ہے، تواس کا قول وفعل اہل بصیرت کے نزدیک دیوانے کی طرح لگتا ہے، اگرچہ وہ ظاہرمیں ایسا ہرگزنہیں کہ اسے دیوانہ کہا جائے، لیکن یہ اس کے عقائد و نظریات کے اعتبارسے ہے۔
کلید نمبر۴: حدیثِ قدسی:
حدیث قدسی میں ہے: اے آدم کی اولاد! میں ہمیشہ زندہ رہنے والا ہوں، مروںگا کبھی نہیں، توعمل کرجس کا میں نے تجھے حکم دیا ہے اورجس چیز سے تم کومنع کیا ہے اس سے رک جا، تاکہ میں تجھے زندہ رہنے والا بنا دوں کہ تومرے نہیں، اے آدم کے بیٹے! میں بادشاہ ہمیشہ رہنے والا ہوں، جب میں کسی چیزکوکہتا ہوں کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتی ہے، تومیری اطاعت کر، جن چیزوں میں مَیں نے تجھے حکم دیا ہے اورباز رہ جس سے تم کومنع کیا ہے، تاکہ توبھی
۲۱
جس چیزکو کہے کہ ہوجا تو ہو جائے۔
یہ حدیث قدسی بھی حکمتوں سے مملوہے: اے آدم کی اولاد!میری اطاعت کر، تاکہ میں تجھ کوخود جیسا زندہ اورلافانی بناؤں گا‘ اور ایسا معزز بناؤں گا کہ توکبھی ذلیل نہ ہوگا، اورایسا دولت مند بناؤں گا کہ توکبھی مفلس و نادار نہ ہوگا۔
اس قسم کے پرحکمت اشارات سے قرآنِ حکیم بھرا ہوا ہے، مثال کے طورپر: فنا فی اللہ وَبقا با اللہ کا اشارہ (۵۵: ۲۶ تا ۲۷ ) کیونکہ سورۂ رحمان میں انتہائی عظیم نعمتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، جودوستانِ خدا کوعطا ہوجاتی ہیں، نیزعنایتِ الٰہی سے ہرمومن ومومنہ کا بادشاہ ہوجانا (۰۵: ۲۰؛ ۰۳: ۲۶؛ ۶۷: ۰۱؛ ۷۶: ۲۰ ) اہل ایمان کو پروردگارسب کچھ عطا کردیتا ہے (۱۴: ۳۴ ) اہل بہشت کو ان کی خواہش کے مطابق ہرنعمت عنایت ہوتی ہے (۱۶: ۳۱؛ ۲۵: ۱۶؛ ۳۹: ۳۴؛ ۴۲: ۲۲؛ ۵۰: ۳۵ ) قرآن پاک میں فنا فی اللہ اوربقا باللہ کے اوربھی بہت سے اشارے موجود ہیں، بلکہ لاتعداد اشارات ہیں، کیونکہ جس طر ح منزل فنا (مقامِ عقل) میں پہنچ کرہرچیزہلاک و فنا ہوجاتی ہے (۲۸: ۸۸ ) اسی طرح تمام الفاظ کے معانی بھی فنا ہوکر”یک حقیقت” بن جاتے ہیں، ، مثلاً جوشخص منازِل روحانی کے پیش نظرمقرب کہلاتا ہو، وہی تجربۂ فناکی وجہ سے اصل سے واصل بھی ہے، تاہم ایسے اسرارپرامتحانی حجاب ہے کہ علم کے دعوٰی کرنے والے لوگ مقربین کو
۲۲
واصلین (۰۴: ۱۷۲؛ ۵۶: ۱۱؛ ۸۳: ۲۱؛ ۸۳: ۲۸؛ ۰۳: ۴۵؛ ۵۶: ۸۸ ) مانتے ہیں یانہیں؟
قرآن کریم میں “رجوع اِلی اللہ” کا موضوع زبردست اہمیت کا حامل ہے، جس سے بہت سی آیاتِ مقدّسہ متعلق ہیں، لیکن آخری رجوع فنا اور وصال کے معنی میں ہے، اگرچہ یہ معنی ظاہرنہیں، پوشیدہ ہیں، کیونکہ حقائق ومعارف کتاب مکنون (۵۶: ۷۷ تا ۷۹ ) میں پوشیدہ ہوا کرتے ہیں، اوراس میں کوئی شک نہیں کہ جولوگ روحانیت اورعلم وحکمت کے ذرائع سے پاک کئے گئے ہیں، وہی کتابِ مکنون کوچھوسکتے ہیں اورپڑھ سکتے ہیں اوریہی حضرات قرآنِ حکیم کی گہری حکمتوں کے اسرارسے واقف وآگاہ ہوتے ہیں۔
کلید نمبر۵: اہلِ قرآن:
قال صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم: من ارادان یّتکلّم مع اللّٰہ فلیقرء القراٰن۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ: جوشخص خدا سے کلام کرنا چاہے وہ قرآن کوپڑھے (جیساکہ پڑھنے کاحق ہے ) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ: اہل قرآن ہی خدا والے ہیں اوراس کے مقرب ہیں۔ (اہل القراٰن ھم اہل اللّٰہ وخاصّتہٖ ) دراصل یہ وصف اُن لوگوں کا ہے، جوقرآن پاک کو منشائے الٰہی کے مطابق نورکی روشنی میں حکمت کے ساتھ پڑھتے ہیں، کیونکہ اہل قرآن حضرات أئمّہؑ ہی ہیں، وہی خدا والے اورخاصانِ الٰہی ہیں، اورانہی لاہوتیوں
۲۳
کی ہدایت وتعلیم کے مطابق کوئی شخص قرآن پڑھ کرخدا سے کلام کرسکتا، اورجو پروردگارسے کلام کرے، وہ جہالت ونادانی کی نجاست سے پاک وپاکیزہ ہوجاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کاعظیم مرتبہ بھرپورعلم وحکمت کے معنی میں ہے۔
حدیث شریف ہے کہ: جوشخص (نفسانی طورپر ) مرجائے اس کی (ذاتی ) قیامت برپا ہوجاتی ہے (من مات فقد قامت قیامتہ ) یہ کوئی عام اورمعمولی بات ہرگزنہیں، بلکہ انتہائی مشکل کام ہے، خدا کے ایسے دوست جن پرذاتی قیامت کی سختیاں اورآزمائشیں گزرتی ہیں، کیسے کیسے علمی وعرفانی عجائب وغرائب اورمعجزات کا مشاہدہ کرتے ہوں گے؟ قرآنی علوم میں وہ علم جوسب سے مشکل اورانتہائی مخفی ہے، علم قیامت ہی توہے، آیا وہ لوگ (عارفین وکاملین ) جن کی قیامت قائم ہوچکی ہوقیامت کے بھیدوں سے ناواقف ہوں گے؟ آپ قرآن کریم (۰۲: ۱۷۴؛ ۰۳: ۷۷؛ ۴۲: ۵۱) کی روشنی میں یہ بتائیں کہ ایسے حضرات سے (جن کی ذاتی قیامت برپا ہوچکی ہے ) خداوندِ تعالیٰ کلام کرتا ہے یا نہیں؟ اوریہ بھی پوچھنا ہے کہ یہی نفسانی موت اورانفرادی قیامت فنافی اللہ کا باعث ہوسکتی ہے یا نہیں؟
کلید نمبر۶: دوسمندر:
خالق اکبرنے اپنی قدرتِ کاملہ اورحکمت بالغہ سے خیروشرّ کواس طرح پیدا کیا کہ اس
۲۴
علیم وحکیم نے خیرکودائمی بنایا اورشر کوعارضی، خیرگویا میٹھے اورخوشگوارپانی کا سمندر ہے، اورشرکھارا اورتلخ پانی کا سمندر، لیکن یہ دونوں سمندرمچھلیوں اورموتیوں سے یکسان طورپربھرے ہوئے ہیں (مفہوم: ۳۵: ۱۲ ) چنانچہ کوئی قرآنی مثال چاہے خیرسے متعلق ہو یا شرسے، مگراس میں ہمیشہ بھرپورمغز حکمت پوشیدہ ہوا کرتا ہے، اوریہی قانون قرآن کا ایک عظیم رازہے، جیسا کہ ارشاد خداوندی کا ترجمہ ہے: (قوم ) عاد بہت شدید وتیز آندھی سے ہلاک کئے گئے خدا نے اسے سات رات اورآٹھ دن لگا تاراُن پرچلایا (۶۹: ۷ ) یہ شراورنافرمانی کی سزا توہے ہی، تاہم اس مثال کے حجاب میں یہ حکمت بھی پنہان ہے کہ سات رات اورآٹھ دن کی یہی مدّت وہ خاص وقت ہے، جس میں مومنِ سالک اسرافیل اورعزرائیل کے فعل سے مسلسل مرتا اورزندہ ہوتا رہتا ہے۔
اگرچہ مومنِ صادق روحانی سفرکے دوران منزل عزرائیلی میں باربارمرتا اورباربارزندہ ہوجاتا ہے، جس کا اوپرذکرہوچکا، اورمقام عقل پربھی اسی طرح فنا وبقا کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، کیونکہ جزوی حیات وممات کی اس کثرت میں بے شمارحکمتیں پوشیدہ ہیں، تاہم عارفِ کامل بحیثیت مجموعی مقامِ روح اورمرتبۂ عقل پردو دفعہ مرجاتا ہے اوردو دفعہ زندہ ہوجاتا ہے، اوریہ دُرِّگرانمایہ پہلے سمندرسے نہیں، بلکہ دوسرے سمندرسے ہیں (۴۰: ۱۱ )۔
۲۵
قانون قدرت کے صاف وشفاف آئینے میں ہمیشہ سے یہی حقیقت جھلکتی آئی ہے کہ ہرکل کے بہت سے اجزا ہوا کرتے ہیں، ہرروشنی بہت سی کرنیں رکھتی ہے، ہربیج میں بحدِّ قوّت لاتعداد بیجوں کا ذخیرہ مخفی ہوتا ہے، ہرخاص وعام کتاب کی ہزاروں کاپیاں ہوسکتی ہیں، ہرآدمی کی بہت ساری تصاویر ممکن ہیں، اورآج ایک ہی شخص کی ہزارہا فلمی کاپیاں بنتی ہیں، توکیا قادرِمطلق کے لئے یہ امرکوئی مشکل ہے کہ و ہ نفسِ واحدہ (۳۱: ۲۸ ) سے بے شمارارواح و ملائیکہ پھیلائے اور ا س میں سب کولپیٹے (۳۹: ۶۷ ) یقیناً وہ ایسا ہی کرتا ہے، پس انسان ایک اکیلا بھی ہے، اورایک عالم بھی ہے، آپ اِ س سرِّعظیم میں بار بارسوچیں۔
کلید نمبر۷: سورۂ فاتحہ تفسیرِ قیامت:
انفرادی قیامت کے بارے میں گفتگواورسوال وجواب بے حد ضروری ہے، کیونکہ اس کی بہت بڑی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ یہ اجتماعی قیامت ہی کی طرح واقع ہوتی ہے، جبکہ ایک شخص کی قیامت میں سب کی قیامت پوشیدہ ہے، اورجبکہ ہرکامل انسان میں قیامت کا تجدّد ہوتا ہے، اس لئے کہ روحانی ترقی، باطنی علم اورخدا کی معرفت کے لئے تجربۂ قیامت انتہائی ضروری ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت روحانی انقلاب کا نام ہے، اوراس انقلاب کے بغیر کوئی روحانی ترقی نہیں، پس یہ حقیقت
۲۶
ہے کہ ذاتی اورانفرادی قیامت سے کوئی زمانہ خالی نہیں، یہ حدودِ جسمانی کے اگلے درجوں میں برپا ہوجاتی ہے۔
قرآن پاک شروع سے لیکرآخرتک کس طرح قیامت کے تذکروں سے بھرا ہوا ہے، اس کی ایک روشن مثال سورۂ فاتحہ سے عیاں ہوجاتی ہے، وہ یہ ہے: الحمدللّٰہ ربّ العٰلمین = سب تعریف خدا ہی کے لئے (سزاوار ) ہے جوسارے جہانوں کا پالنے والا ہے (۰۱: ۱ ) اللہ کی تعریف یہاں اس بناء پر ہے کہ وہ ہرعالم شخصی کی پرورش کرتا ہے، لیکن جس تربیت وپرورش کی وجہ سے اللہ کی حمد وستائش کی گئی ہے، وہ پرورش ان عظیم الشّان روحانی اورعقلی نعمتوں سے ہے، جومنازلِ روحانیت اورمراحل قیامت کے آخرتک پائی جاتی ہے، پس جوشخص خدا، روزقیامت، باطنی نعمتوں اوراعلیٰ پرورش کاعارف ہو وہی بہتر طریقے سے اللہ کی حمد کرسکتا ہے۔
الرّحمٰن الرّحیم = بڑامہربان (اور) نہایت رحم والا ہے (۰۱: ۲ ) رحمان اورحیم کی تفسیروتاویل کے لئے کتاب وجہِ دین گفتار (کلام ) نمبر۱۴ ملاحظہ ہو، خلاصہ یہ کہ رحمان خدا کا ایک خاص نام ہے، اس کے معنی میں جن رحمتوں اورنعمتوں کا ذکر ہے، وہ دنیا میں سب کے لئے عام ہیں، اوررحیم کے معنی میں جورحم وبخشش ہے، وہ قیامت کے دن صرف مومنین ہی کے لئے خاص ہے۔
۲۷
مٰلک یوم الدّین = روزجزا کا حاکم ہے (۰۱: ۳ ) اس میں براہِ راست روزِ آخرت کا ذکر ہے۔ ایّاک نعبدوایّاک نستعین = خدایا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورتجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں (۰۱: ۴ ) یہ عارفانہ عبادت ہے، جس کے نتیجے میں خدا کی مدد شامل حال ہوجاتی ہے، اورمرتبۂ معرفت قیامت کے بعد ہے۔
اھدنا الصّراط المستقیم = توہم کو سیدھی راہ پرچلا (۰۱: ۵ ) یعنی زندہ ہدایت کی روشنی میں ہمیں روحانیتِ اسلام اورذاتی قیامت کے مراحل میں آگے سے آگے لے جا، تا آنکہ ہم تجھ میں فنا ہوجائیں۔ صراط الّذین انعمت علیھم = ان کی راہ جنہیں تونے نعمتیں عطا کی ہیں (۱: ۶ ) یعنی ناطقوں، اساسوں، اماموں اورابواب کا راستہ (۴: ۶۹ ) جن کی لاتعداد نعمتیں انفرادی قیامت میں پوشیدہ ہیں، پس اگرکسی مومین کی ذاتی قیامت قائم ہوئی تویہ تمام نعمتیں بوسیلۂ تجدّد اس کے سامنے آتی ہیں، تاکہ وہ معرفت کاملہ کوحاصل کرے۔ غیرالمغضوب علیھم ولاالضّآلّین= نہ ان کی راہ جن پرتیراغضب ہوا، اورنہ ہی گمراہوں کا (۰۱: ۷ ) غضب الٰہی میں گرفتار اورگمراہ ہوجانے کی مثال وہ لوگ ہیں، جن کوشدید نافرمانی کی وجہ سے خدا نے مسخ کرکے بندراورخِنزیربنا دیا تھا (۰۵: ۶۰ ) پس ایسی مستقل سزا ذاتی قیامت کے بغیرنہیں ہوسکتی ہے، توآپ نے اس مثال کواچھی طرح سے دیکھ لیا کہ سورۂ فاتحہ کی کوئی آیت تذکرۂ قیامت
۲۸
سے خالی نہیں، پس یہی حال اوریہی مثال قرآن عظیم کی تمام دوسری سورتوں کی بھی ہے۔
کلید نمبر۸: دو بھلائیوں میں سے ایک:
قرآن حکیم کی بے شماراعلیٰ اوربے حد مفید حکمتوں میں سے ایک پرکشش حکمت سورۂ توبہ (۰۹: ۵۲) میں ہے، اور وہ ہے: اِحْدَالْحُسْنَیْنِ (دوبھلائیوں میں سے ایک ) یعنی خداوند تعالیٰ اس دنیا میں اہلِ ایمان کے ہرفرد کوآمنے سامنے کی دواچھی چیزوں میں ایک نہ ایک ضرورعطا کردیتا ہے، جیسے زمانۂ نبوت کے جہاد میں یا تو فتح حاصل ہوتی تھی، یا شہادت کی سعادت، اسی طرح نہ صرف جسمانی راحت ہی نعمت ہے، بلکہ دوسری جانب ظاہری تکلیف بھی عقل وجان کے لئے نعمت ہے، مگراس میں سوچنے کی ضرورت ہے۔
دنیا میں علمی، فنی، اورعسکری امتحانات لوگوں کی ترقی ہی کے لئے ہوا کرتے ہیں، ہرمیدان میں جوشخص جتنے امتحانوں سے کامیابی کے ساتھ گزرتا ہے، اتنی اس کی عزت ہوتی ہے، مگر یہ دیکھنا ہوگا کہ لفظ “امتحان” کے اصل معنی کیا ہیں؟ اورقرآن مجید میں اس کا دوسرا لفظ کیا ہے؟ امتحان مَحَنْ سے ہے، مَحَنْ کے معنی ہیں: آزمانا، چاندی کوتپا کرصاف کرنا، کپڑا پہن کرپرانا کرنا، دینا، کنویں کی مٹی نکالنا، اونٹنی کوچلا کرتھکانا، اورچمڑے کونرم
۲۹
کرنا، پس اس کا مجموعی مطلب ہے: محنت، مشقت، ریاضت اوراس کا دوسرا لفظ قرآن میں بَلاء ہے (امتحان، آزمائش، غم، تکلیف ) سورۂ بقرہ (۰۲: ۱۵۵ تا ۱۵۷ ) میں دیکھیں کہ ہرقسم کا خوف، ہرنوع کی بھوک، ہرطرح کا مالی نقصان، جانوں کی کوئی کمی اورپھلوں (پیداوار ) کی کمی مومن اورمومنہ کی آزمائش یعنی امتحان ہے، اورایسی مصائب میں جولوگ جذبۂ دینداری سے صبرکریں، توان کونورِہدایت کی جانب سے کامیابی کی عملی (یعنی روحانی ) خوشخبری ملتی ہے، اورایسے ہی لوگوں کے دل میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورامام زمانؑ کا ادب اورعشق پیدا ہوتا ہے۔
سورۂ حجرات ۴۹: ۱ تا ۸ آیات کریمہ کوغورسے پڑھیں، آیا پیغمبراکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے برحق جانشین کی مبارک ہستی اللہ کی وہ کسوٹی نہیں ہے، جس سے مومنین کے ایمان، اخلاص، تقوٰی اورعشق کو پرکھ لیا جاتا ہے؟ کیا خدا کی بے بدل سنت یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ قلوب میں کلمۂ تقوٰی کے روحانی معجزات کے لئے جوبھی امتحان لیا کرتا ہے، وہ ہادیٔ برحق کی اطاعت اورمحبت کے تحت ہوتا ہے؟
کلید نمبر۹: علّیّین:
جس طرح قرآن حکیم کی ہرہرآیت اسرارِ حکمت سے مملوہے، اسی طرح سورۂ مطَفِّفِین (۸۳) کی آیاتِ مقدسہ ہیں، آپ ان تمام کی حکمت کے لئے غور و فکر کریں،
۳۰
اوریہ دیکھیں کہ نیک لوگوں (ابرار ) کا مشترکہ اورمتّحدہ نامۂ اعمال کہاں ہے؟ عِلِّیّیِن میں ہے (۸۳: ۱۸ ) عِلِّیّین یاعِلّیّیون کیا ہے؟ وہ خود بھی لکھی ہوئی زندہ کتاب اورچاراصول دین کی وحدت ہے، اوریہی کائناتی کتاب بھی ہے، جوآسمانوں کولپیٹ کربنائی جاتی ہے (۲۱: ۱۰۴ ) اوراسی میں نیکوکاروں کااعمال نامہ درج ہوتا ہے، آیا نیک لوگ اپنے اس عالیشان نامۂ اعمال کوآج دیکھ سکتے ہیں؟ نہیں، مگران میں سے جومقربین ہیں، وہی چشم باطن سے ان اسرار سربستہ کا مشاہدہ کرسکتے ہیں (۸۳: ۲۱) اس کا مطلب یہ ہوا کہ مقربین وہ حضرات ہیں، جن کی ذاتی قیامت جسمانی زندگی ہی میں برپا ہوچکی ہوتی ہے، کیونکہ وہ تمام نیک کاموں میں سب سے آگے آگے ہوتے ہیں۔
وحدتِ محض خدا کے لئے ہے، اور وحدتِ متَکثّرمخلوق کے لئے، چنانچہ اسی کثرت پذیروحدت کی وجہ سے ہم نے عالمِ عقل کوعالمِ وحدت کہا، یقیناً عالمِ وحدت میں سب ایک ہیں، یعنی ایک ہے، جوآدم کی طرح رحمانی صورت میں ہے، جس میں کون ومکان کی تمام چیزیں موجود ومحدود ہیں، مگرسب سے بہترین شکل میں، اوروہ انسانی شکل ہے، جوعقلِ کامل اورروحِ قدسی کے زیورِ بہشت سے آراستہ وپیراستہ ہے، پس عالم وحدت یعنی عِلِّیِّین میں نیک لوگوں کا نامۂ اعمال وہی شخصِ واحد ہے، جو
۳۱
انتہائی عظیم فرشتہ، انسان کامل، امام مبین (۳۶: ۱۲) اورخدا کے حکم سے سب کچھ ہے۔
کلید نمبر۱۰: عقل کی ترجمانی:
عالمِ عقل جوعالمِ وحدت ہے، اس میں ہرچیززبان حال اورعقل کی ترجمانی سے خدا کی تسبیح کرتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: اورکوئی چیزایسی نہیں جواس کی حمد کے ذریعہ تسبیح نہ کرتی ہو مگرتم لوگ اس کی تسبیح نہیں سمجھتے (۱۷: ۴۴ ) تسبیح کے معنی ہیں: ذات سبحان کومخلوقات کی صفات سے پاک وبرترقراردینا، جیسا کہ خداوندِ عالم کا ارشاد ہے: سبحٰن ربِّک ربِّ العزّۃِ عمّایَصِفون (۳۷: ۱۸۰ ) تمھارا ربّ عزّت کا پروردگاراس وصف سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ یعنی خدا بذاتِ خود ہرچیزسے بے نیاز و پاک ہے، وہ دین کے ہرمعززکی عزت میں اضافہ کرتا ہے، اوراس کا درجہ عرش تک پہنچا دیتا ہے، قولہ تعالٰی: رفیع الدَّرَجٰتِ ذوالعرشِ (۴۰: ۱۵ ) درجوں کا بلند کرنے والا صاحب عرش۔ اس میں واضح اشارہ ہے کہ فنافی اللّٰہ وَ بقا باللّٰہ کامرتبہ عرش ہی پرہے۔
عرش کے ایک معنی ہیں: چھت، جمع عروش (چھتین) اس کی تاویل ہے: ازل اورنورازل، کیونکہ عالم دین اورعالم شخصی کی چھت یا سقفِ مرفوع (۵۲: ۵ ) یا سقفِ محفوظ (۲۱: ۳۲ ) مرتبۂ ازل ہی
۳۲
ہے، جومقام عقل ہے، یہ اس چھت کی تعریف ہے جس کواللہ تعالیٰ نے مرفوع (بلند ) ومحفوظ کیا ہے، اور اس کے سوا وہ چھتیں (عروش ۰۲: ۲۵۹ ؛ ۱۸: ۴۲ ؛ ۲۲: ۴۵ ) جوگرجاتی ہیں، وہ روحانیت کے نچلے درجات کی مثال ہیں، جیسے عملِ عزرائیل کے دوران سرسے روح کی چھت باربارگرجاتی ہے۔
علم ومعرفت کے انتہائی عظیم میوہ ہائے اسرارکے باغات جومرتبۂ ازل اورمقام عقل پرتیارہوتے ہیں، وہ جَنّاتٍ معروشات (۰۶: ۱۴۱ ) کہلاتے ہیں، لفظ معروش عرش سے ہے، یعنی بلند کیا ہوا، نورِازل اوردرجۂ عقل تک پہنچایا ہوا، اوردوسرے روحانی باغوں کا ذکرفرمایا گیا، جوان سے کم درجوں پرہیں، اوروہ ہیں: غیرمعروشات (۰۶: ۱۴۱ ) جن میں حقائق ومعارف ازل وابد کا تجدّد نہیں ہے۔
اب رہا سوال حاملان عرش (۴۰: ۷ ؛ ۶۹: ۱۷ ) کا، تو وہ حضرات حاملان نورِ ازل ہیں، جونورِعقل ہے، یعنی أئمّۂ طاہرینؑ، جوایک کے بعد دوسرا، حاملِ نوراورامام ہوتا ہے، یقیناً جوشخص کامل خدا کا زندہ گھرہے، وہی نورِعرش کا حامل بھی ہے، اوریہ اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے کہ اس نے اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے امام مبین (۳۶: ۱۲ ) کے عالمِ شخصی کونہ صرف عالمِ ذرّ بنایا، بلکہ اس میں تمام ازلی، ابدی، نورانی، عقلی، علمی، عرفانی، اور روحانی چیزوں کوبھی لپیٹ کر (۲۱: ۱۰۴، ۳۹: ۶۷ ) محدود
۳۳
کردیا، پس امام زمانؑ ہی مرتبۂ عقل پرعالمِ وحدت اورعِلِّیّین ہے۔
کلید نمبر۱۱: حضرت آدمؑ کی کاپیاں:
اگرانسان کسی حقیقت کونہیں جانتا ہو، یا جاننے کے بعد بھول چکا ہو، تواس کی وجہ سے وہ حقیقت ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنی جگہ قائم ہی رہتی ہے، اس کی مثال واقعہ الست (۰۷: ۱۷۲ ) ہے، جس کولوگ یکسربھول چکے ہیں، لیکن قرآن مجید اس کی گواہی دیتا ہے، قرآن کریم کا فرمانا ہے کہ: خدانے تم کونفسِ واحدہ (یعنی آدمؑ ) سے پیدا کیا (اس سے یہ مراد ہے کہ مرتبۂ روح اورمرتبۂ عقل پرتم سب آدمؑ کی کاپیاں ہو (۰۷: ۱۸۹؛ ۳۱: ۲۸؛ ۳۹: ۶ ) پھرانہی روحوں میں سے ایک زوجہ آدم بنائی گئی، یہی پُرحکمت مفہوم سورۂ اعراف (۰۷: ۱۱) میں بھی ہے: ہم نے تم کومقامِ روح پرپیدا کیا اورمقامِ عقل پرمکمل کرکے اپنی رحمانی صورت دی پھرفرشتوں سے کہا کہ تم سب کے سب آدم کے لئے سجدہ کرو۔ ۔ ۔ میں پوچھتا ہوں، کیا یہ سرگزشت آپ کویاد ہے؟ نہیں، پھرآپ کوایک ایسے علم الیقین کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی درستی اورصفائی کی وجہ سے آپ کومشاہدے کی طرح کام کرے۔
جب خداوندِ جہان نے نفسِ واحدہ (انسان کامل) سے لوگوں کوپیدا کیا تو ان کی دودوانائیں، یا دودو بقائیں مقرر ہوئیں، مستقر یا مستودع (۰۶: ۹۸ ) مستقرکا دوسرا نام حدیث شریف کی روشنی میں “رفیقِ اعلیٰ” ہے، اوریہی وہ زندہ کرتۂ ابداعیہ ہے، جس کا ذکرسورۂ نحل (۱۶: ۸۱ ) ۔
۳۴
میں فرمایا گیا ہے، اوریہ کرتے روحانی اورعقلانی دوقسم کے ہوا کرتے ہیں، جوہادیٔ برحق کے نورسے بنتے ہیں، جن کا ذکرہوچکا ہے۔
خدا ایک ہے، اورانسان دو، بلکہ تمام مخلوقات دودو ہیں (۳۶: ۳۶ ) پس انسان کی تخلیق وہستی کی بنیاد دوئی پرہے، اوراسی میں سب سے بڑی حکمت پوشیدہ ہے، آدمی اوراس کے سایہ کے درمیان آسمان زمین کا فرق پایا جاتا ہے، کچھ ایسا فرق حیاتِ ابداعی اورظاہری زندگی کے مابین بھی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کُرتۂ ابداعیہ میں ہرمومن اورمومنہ کی روح امامِ اقدس واطہرؑ کی کاپی اوربہشت کی بادشاہ ہے (۷۶: ۲۰ ) اورجسم خاکی میں انسان ضعیف البُنیان، مصرع: ببین تفاوتِ راہ ازکجاست تابکجا۔
کلید نمبر۱۲: سلیمان زمانؑ:
حقیقت صرف ایک ہی ہے، مگراس کی گوناگون مثالیں بہت زیادہ ہیں (۱۷: ۸۹؛ ۱۸: ۵۴ ) چنانچہ حضرت سلیمانؑ کا قصۂ قرآن انہی مثالوں میں سے ہے، وہ اس طرح کہ شاہنشاہِ دین سلیمان زمان ہے، جملہ دنیوی بادشاہی ملکۂ سبا کی حکمرانی ہے، اورجس طرح تختِ بلقیس حضرت سلیمانؑ کے حضورلایا گیا، وہ محض روحانی عمل ہے، کیونکہ اسلام کی حقیقی غالبیت اورفتح باطن اورروحانیت ہی میں ہے،
۳۵
پس جنوں، انسانوں اورپرندوں کا روحانی (سلیمانی یا اسلامی ) لشکراب بھی موجود ہے، جن کا کوڈ (خفیہ code =) نام یاجوج وماجوج (۱۸: ۹۴؛ ۲۱: ۹۶ ) ہے اورحدودِ مقرّب دربارسلیمان کے سردارہیں، جن سے ملکۂ سبا کے تخت کوحاضرکرنے کے بارے میں سوال ہوا تھا سورۂ نمل (۲۷: ۱۵ تا ۴۴ ) میں غورکریں۔
حشرکے معنی ہیں: جمع کرنا، اکٹھا کرنا، یومُ الحشرقیامت کے دن کوکہتے ہیں، کیونکہ اس دن لوگوں کواکٹھا کیا جاتا ہے، اب اس آیۂ کریمہ میں غورکریں: وَحُشِرَلِسُلیمانَ جُنودُہ مِنَ الْجنِّ والاِ نسِ وَالطیّرِ۔ ۔ ۔ اورسلیمان کے لئے ان کے لشکرجنّات اورآدمی اورپرندے سب (بطور ذاتی قیامت ) جمع کئے گئے (۲۷: ۱۷) چونکہ حضرت سلیمانؑ دینی اور روحانی بادشاہ تھے، اس لئے بہت ممکن ہے کہ یہ انفرادی قیامت ان کے حدود جسمانی میں سے کسی میں برپا ہوئی ہو، کیونکہ بادشاہ وہ سب سے معزز اور مختار شخص ہوتا ہے، جوحکم دے کر لوگوں سے کام کراتا ہے، مگرضروری نہیں کہ وہ بھی اس طرح کام کرے۔
قرآنی حکایت ہے: ترجمہ: ملکہ نے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب کسی بستی میں (بزورِ فتح ) داخل ہوتے ہیں تواس کواجاڑدیتے ہیں وہ وہاں کے معزز لوگوں کوذلیل و رسوا کردیتے ہیں، اوریہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے (۲۷: ۳۴ ) تاویلی مفہوم: بلقیس
۳۶
نے کہا اماموں کا دستور ہے کہ جب کسی عالمِ شخصی میں (روحانی لشکرکے ساتھ ) داخل ہوتے ہیں تو (تعمیرِنو کی غرض سے) اس کو بگاڑ دیتے ہیں، وہ وہاں کے سخت دل لوگوں کونرم دل بناتے ہیں اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: اذِلّتہ (نرم دل ) اعزّتہ (سخت دل ) سورۂ مائدہ (۰۵: ۵۴ )۔
۳۶
کلید نمبر۱۳: روحانی لشکر:
قرآن حکیم شروع سے آخرتک علم وحکمت اوررشد و ہدایت کی نعمتوں سے بھرا ہوا ہے، اس لئے یہ اہلِ ایمان کے لئے اوّلین بہشت ہے، اس کے حکیمانہ ثمرات اساسی اورمثالی اہمیت کے حامل ہیں، چونکہ یہ خدائے بزرگ وبرترکا کلامِ حکمت نظام ہے، اس لئے اس کی ہرہرآیت معنویت کا ایک ایسا معجزہ ہے کہ اس کی برکتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، پس اس میں جگہ جگہ رحیقِ مختوم کا نمونہ اورکستوری کی خوشبوکیوں نہ ہو (۸۳: ۲۵ تا ۲۶ )۔
سورۂ مائدہ (۰۵: ۵۴ ) کی اس ربّانی تعلیم میں دیدۂ دانش سے دیکھنا ہے: اے ایمان والو! تم میں سے جوکوئی اپنے دین سے پھرجائے توعنقریب ہی خدا ایسے لوگوں کولائے گا جن سے اللہ محبت کریگا، اوروہ اللہ سے محبت کریں گے، مومنین پرنرم دل ہوں گے اورکافروں پرسخت دل ہوں گے، اورخدا کی راہ میں جہاد کریں گے، اورملامت کرنے والوں کی ملامت سے
۳۷
نہیں ڈریں گے، یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ ۔ ۔ (۰۵: ۵۴ ) یہ ایسے لوگ نہیں جو بشری لباس میں ظاہر ہوں، بلکہ اسلام کے روحانی لشکرہیں، فرمایا گیا کہ وہ مومنین پرنرم دل یعنی مہربان ہیں، اس سے پتہ چلا کہ وہ جسمانی مومنین سے الگ ہیں۔
خداوندعالم کے روحانی لشکردوبڑی قسموں میں ہیں: سماوی اورارضی (۴۸: ۴؛ ۴۸: ۷ ) ان کوکوئی نہیں دیکھ سکتا، مگرپیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورامامؑ اوروہ شخص جس پرذاتی قیامت گزررہی ہو (۰۹: ۴۰؛ ۳۳: ۹ ) ان میں سے زمینی (ارضی ) لشکروہ ہیں، جو یاجوج و ماجوج کہلاتے ہیں، اوروہ انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرّات کی شکل میں ہیں، وہ حدّ و حساب سے باہرہیں، اورجوآسمانی لشکر ہیں وہ کوکبی لطیف بدن (Astral Body) میں ہیں، مگران کی سب سے عجیب بات تویہ ہے کہ وہ ایک کی وحدت وسالمیت میں پوشیدہ ہو کر سب آتے ہیں، آپ یہاں ایک بہت ضروری نکتہ یاد رکھیں کہ بڑے فرشتوں کی قطاراورصف بندی ایسی منظم ہے کہ اس میں سب کے سب مل کرایک ہی فرد ہوجاتے ہیں، اس صورت میں ان کو قرآنی حکمت کی زبان میں محراب (قلعہ ) کہا جاتا ہے (۳۴: ۱۳ ) کیونکہ جس طرح دنیا کے قلعے میں بہت سے فوجی یا سپاہی رہتے ہیں، اسی طرح ایک آسمانی فرشتے میں اس جیسے بے شمار فرشتے پوشیدہ ہوتے ہیں، آپ ان کو کاپیاں کہہ سکتے ہیں۔
۳۸
کلید نمبر۱۴: رفاقت روحانی:
اب ہم مذکورۂ بالاحقیقت کی روشنی میں یہ بتا سکتے ہیں کہ جب خدا کے حکم سے فرشتوں نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کیا، تو تم بھی آدمؑ کی وحدتِ مُتکثّر میں پوشیدہ پوشیدہ موجود تھے (۰۷: ۱۱ ) اوراسی طرح قرآن پاک کا حکیمانہ اشارہ ہے کہ تم ہرعظیم پیغمبرکے ساتھ تھے، جیسا کہ حضرت نوحؑ کے بارے میں ارشاد ہوا: کہا گیا اے نوح! اترو ہماری طرف سے سلامتی اوربرکتیں تم پرنازل ہوں گی، اوران جماعتوں پربھی جوتمھارے ساتھ ہیں (۱۱: ۴۸ ) جماعتوں کے سرپرست انبیاء وأئمّہؑ ہیں، جس طرح حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں فرمایاگیا: بیشک ابراہیم ایک امت، خدا کے فرمانبردار اورباطل سے کترا کے چلنے والے تھے (۱۶: ۱۲۰ ) نیزاس عظیم الشّان قانون میں دیکھیں، قولہ تعالیٰ: اورجوخدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اورصاحبانِ امر ) کی اطاعت کرتے ہیں، وہ صراط مستقیم پر) ان کے ساتھ ہیں جنہیں خدا نے اپنی نعمتیں دی ہیں، یعنی انبیاء اورصِدّیقین اورشہدا اورصلَحاء اور یہ لوگ کیا ہی اچھے رفیق ہیں (۰۴: ۶۹ ) یعنی کامیاب مومنین قبل ازجسمانی موت اپنے روحانی سفرمیں حجتوں، اماموں، اساسوں اورناطقوں سے جا ملتے ہیں۔
جس مومن کے عالمِ شخصی میں انفرادی قیامت قائم ہوتی ہے، اس میں درِپردہ تمام لوگوں کی غیرشعوری قیامت واقع ہوجاتی ہے،
۳۹
پھراللہ تعالیٰ اس باشعورمومن میں سب کوسمیٹتا ہے، اورفردِ واحد کے طورپراس کا انبعاث ہوتاہے (۱۷: ۱۰۴؛ ۱۹: ۹۵ ) قرآن پاک نے بڑے واضح الفاظ میں فرمایا کہ لوگوں کو اللہ کے پاس تنہا تنہا جانا ہے، جیسے قرآن حکیم میں ہے: ولقد جئتمونافرادٰی کماخلقنٰکم اوّل مرّتہٍ۔ ۔ ۔ (۰۶: ۹۵ ) اورتم ہمارے پاس تنہا تنہا آگئے، جس طرح ہم نے پہلی بارتم کو پیدا کیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور یہی روشن دلیل سورۂ مریم میں بھی ہے: ترجمہ: اورجوکچھ یہ کہتا ہے ہم اس کے وارث ہوں گے، اوریہ ہمارے پاس اکیلاہی آئے گا (۱۹: ۸۰ )۔
اس کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت وحکمت سے اونٹ کو سوئی کے ناکہ سے گزارتا ہے یا پِروتا ہے (۰۷: ۴۰ ) وہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کوبعنوان قیامت فردِ واحد میں داخل کردیتا ہے، تاکہ اس وسیلے سے سب کونجات ملے، اوریہی رحمتِ کلّ کا سرِّعظیم ہے، اونٹ کوعربی میں جَمَلْ کہتے ہیں، ج م ل میں جمع کے معنی بھی ہیں، جیسے جَمَل، جمع کیا یا جمع کرنا، جُمْلَتہ، مجموعہ، جُمُلْ، لوگوں کا گروہ، یعنی لاحق سوئی بھی ہے اوردرزی بھی، کیونکہ وہی روحانی لباس تیارکرتا ہے، لہٰذا قیامت صغرٰی کے موقع پرلوگ اسی کی شخصیت میں داخل ہوجاتے ہیں۔
۴۰
کلید نمبر۱۵: حدیث شریف کی پیش گوئی:
سید امیرعلی کی کتاب “روح اسلام” صفحہ۳۰۵ تا ۳۰۶ پرحوالۂ جامعِ ترمذی یہ حدیث شریف درج ہے: وعن ابی ھُرَیْرَۃَ قال قا ل رسول اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیہ وَسلّم: اِنَّکم فی زمانٍ مَّن تَرَکَ مِنکم عُشرَمااُمِرَ بِہٖ ھلک ثمّ یاتی زمانٌ مّن عَمِلَ مِنہم بِعُشۡر ما اُمِرَ بہٖ نجا۔ تم لوگ ایک ایسے دورسے گزررہے ہوکہ اگرتم احکام کے دسویں حصے سے بھی تغافل برتو تو برباد ہوجاؤگے اس کے بعد ایک ایسا وقت آئے گا کہ اس وقت جواحکام دیئے گئے ہیں اگرکوئی ان کے دسویں حصے پربھی عمل کرے گا تواسے نجات نصیب ہوجائے گی۔ ملاحظہ ہو: جامعِ ترمذی، جلد دوم، باب الفتن، نیزمشکٰوۃ، جلد اوّل، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتٰب والسّنّۃ فصل دوم۔
کلید نمبر۱۶: مرتبۂ فنا:
اگرچہ ہماری تحریروں میں’’فنا‘‘ کا تذکرہ اس کی بہت بڑی اہمیت کی وجہ سے باربارہوا ہے، لیکن یہ تصورچونکہ منزلِ مقصود سے متعلق ہے، اس لئے ہمیشہ اس کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے، چنانچہ آپ کو یاد ہوگا کہ عالم شخصی میں عرفانی سفرکی آخری منزل “فنا فی اللہ” ہے، جس کا دروازہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں، اورآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دروازہ امام زمانؑ،
۴۱
تاہم آپ کوتعجب نہ ہوکہ یہ دراصل ایک ہی فنا ہے، ہرچند کہ اس کی تعبیریں الگ الگ ہیں۔
اگرکوئی پوچھے کہ روحانیت کیا ہے؟ توآپ جواب دیں کہ وہ کائنات وموجودات کا نچوڑ، خلاصہ اورجوہر ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ روحانیت وہ سب سے بڑی حیران کن چیز (عجوبہ ) ہے جس میں تمام معانی (خواہ متضاد کیوں نہ ہوں ) جمع ہیں، ان بے شمارمعنوں اورحقیقتوں میں شروع سے لیکرآخرتک فنا و بقا کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے، اورابدی زندگی کا پیش خیمہ یہی ہے، یہاں تک کہ اپنی ذات کا اندرونی سفرآفتاب نورکے سامنے جاکرختم ہوجاتا ہے، جہاں سب سے عظیم الشّان دیدار کا مخفی خزانہ موجود ہے۔
مذکورہ بیان سے آپ نے ضروریہ نتیجہ اخذ کرلیا ہوگا کہ سلسلۂ فنا کے چھوٹے سے چھوٹے اوربڑے سے بڑے بہت سے درجات ہیں، مثال کے طور پرجب آپ مخلصانہ عبادت اورعاشقانہ گریہ وزاری سے پگھل جاتے ہیں، تو یہ ایک قسم کی امید افزا فنا ہے، اورجس وقت آپ علم ومعرفت کی باتوں سے بے حد مسرور و شادمان ہوتے ہیں، تویہ بھی ایک بڑی مفید فنا ہے، اورہرفنا تبدیلی کا نام ہے، مگرمذہبی فنا کا مقصد یہ ہے کہ قلب کی حالت وکیفیت پہلے سے بہترہو، اور یہ انقلابی عمل
۴۲
آگے بڑھ جاتا ہے، جیسے قانون فطرت میں ہرچیزکی مثبت فنا یہ ہے کہ وہ بلندی کی طرف حرکت کرے، مثلاً جماد، نبات، حیوان، انسان اور فرشتہ، کہ ان میں سے ہر ایک کی مفید فنائیت اس بات میں ہے کہ وہ اپنے اوپرکے درجے میں فنا ہوجائے۔
کلید نمبر۱۷: مصدر نورِ ازل:
دوات میں جو روشنائی (سیاہی ) ہے، اس میں بحدِّ قوّت دنیا بھرکی قدیم وجدید زبانوں کے تمام الفاظ اوران کے سارے معنی جمع ہیں، درحالے کہ اس میں کوئی ایک لفظ بھی ظاہر نہیں، لیکن جب تم قلم اوردوات (سیاہی ) سے کچھ لکھنا چاہو تو بڑی آسانی سے لکھ سکتے ہو، یہ مثال ہے اس دوات کی، جومقامِ عقل اورعالمِ علوی میں موجود ہے، جس میں سب کچھ مجموع ومخزون ہے، جیسا کہ قرآ ن کریم کا ارشاد ہے: نٓ والقلمِ وما یسطرونَ (۶۸: ۱) قسم ہے نون (دوات ) کی اورقلم کی اوراس چیزکی جولکھتے ہیں۔
نٓ سے مصدرنورِازل مراد ہے، یعنی نورِعقل کا مشرق ومغرب، کہ وہاں شرق وغرب ایک ہی ہے، پس مشرقِ ازل سے آفتابِ عقل کا طلوع ہوجانا ایسا ہے، جیسے دوات سے قلم کچھ لکھنے کے لئے برآمد ہوجاتا ہے، القلم کی تاویل نورِعقل (یاآفتابِ عقل) ہے، اورمرتبۂ عقل پرجوکچھ لکھتے ہیں (و ما یسطرون )۔
۴۳
وہ کلماتِ التّامات ہیں، وہ عارف میں ایک ہے اورعارفین میں کثیر ہیں۔
قرآنِ حکیم نے اپنی کئی پُرحکمت مثالوں میں درختوں کی طرف توجہ دلائی ہے، یہ آپ کا اورہمارا ایمان ہے کہ اس میں کچھ بھید ہوں گے، آئیے ہم نور الٰہی کی تائید کے لئے درخواست کرتے ہوئے اس میں سوچتے ہیں، اگرچشمِ بصیرت سے کسی پُرثمرشجرکا مطالعہ کیا جائے، تومعلوم ہوجاتا ہے کہ یہ نہ صرف ایک آیۂ قدرت ہے، بلکہ اس کا وجود ایک کامل صحیفۂ آسمانی کی طرح ہے، اگرچہ اس کی تفسیرلکھنے سے ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے، لیکن ہمارا مقصد صرف اتنا بتانا ہے کہ میوہ داردرخت میں تین اساسی مثالیں ہیں: پھول اورپھل کے بغیر درخت مادّیت کی مثال ہے، درخت کے پھول اورپھل روحانیت کی مثال ہیں، اور مغزعقلانیت کی مثال ہے، اب قدرت خدا کے عجیب وغریب نظاروں کو دیکھئے کہ درخت کی گیلی لکڑی سے پھول اورپھل اپنی تمامترخوبیوں کے ساتھ کیسے بنے! اور میوے میں جومغزہیں، اس میں خوب غورکیجئے، مغز گویا قلم بھی ہے اور دوات بھی، تاکہ اس سے کتابِ شجر کوفعلاً رقم کردیا جائے۔
کلید نمبر۱۸: لپیٹی ہوئی کائنات:
درخت اپنی جگہ موجود بھی ہے، اور اس کو گٹھلی (مغز )
۴۴
میں دستِ قدرت نے لپیٹ بھی لیا ہے، پس اسی حقیقت کا یقین کرنا ہوگا کہ جب اورجہاں درخت کا وجود مغزمیں مانا جائے، تواس وقت درخت کے جملہ اجزا مغز ہی مغز کی وحدت وسالمیت میں نظرآئیں گے، یعنی جڑیں، تنا، چھلکے، شاخیں، غنچے، پتے، وغیرہ سب کے سب مغز کی صورت میں موجود ہیں، اسی طرح آسمانوں اورزمین یعنی کائنات وموجودات ظاہراً برجا بھی ہیں اورباطناً مرتبۂ عقل پرلپیٹی ہوئی بھی ہیں، جس میں ہرچیزعقل کے ساتھ ایک ہوگئی ہے، جیسے درخت کے چھلکے، پتے اوردیگراجزا گٹھلی میں جاکر مغز بن جاتے ہیں اورجب گٹھلی زمین میں بوئی جاتی ہے، تواس کے مغزسے پودا پھردرخت بن جاتا ہے۔
اس سلسلے میں قرآ ن حکیم کے ان بابرکت الفاظ میں گہری نظرسے دیکھیں: واللّٰہ یقبض ویبسط (۰۲: ۲۴۵ ) پہلا ترجمہ: خدا ہی (رزق و روزی) میں تنگی کرتا ہے اورکشائش کرتا ہے، دوسرا ترجمہ: خدا ہی (چیزوں کودستِ قدرت کی ) مٹھی میں لیتا ہے اور پھیلاتا ہے۔ یہ کائناتی کلّیہ ہے، جس میں ایک طرف سمیٹنے کا ذکر ہے، اور دوسری طرف پھیلانے کا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم “القابض” ہے، اوردوسرا “الباسط” ان دونوں میں سے جولفظ آپ کے نزدیک آسان ہو، اسی پر پہلے غور کریں، چنانچہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ قرآن مجید میں”باسط” پھیلانے کے
۴۵
معنی میں آیا ہے (۰۵: ۲۸؛ ۱۳: ۱۴؛ ۱۸: ۱۸ ) پس الباسط کے معنی ہیں پھیلانے والا اوراسی نام کے پیش نظر القابض کے معنی ہوئے سمیٹنے والا، پس اللہ قابض ہے کہ عالم اکبر کی عقلی اور روحانی صورت کوعالمِ شخصی میں لپیٹ لیتا ہے، اور باسط ہے کہ اسی کائنات کے سانچے میں ہرمومنِ صادق کے لئے ایک باطنی کائنات اور بہت بڑی سلطنت کو پھیلاتا ہے، یعنی بہشت تیار کرتا ہے (۰۳: ۱۳۳؛ ۵۷: ۲۱؛ ۷۶: ۲۰ )۔
کلید نمبر۱۹: حشر و نشر:
قرآن عظیم کے پُرحکمت اور برعکس الفا ظ میں سے دو اورلفظ حشراورنشر ہیں، یعنی کسی چیزکوجمع کرنا اور پھیلانا، اصطلاحاً روحوں کو قیامت میں یکجا کر دینا، پھر ان کو منتشر کرنا، یہاں ایک اہم سوال سامنے آتاہے، وہ یہ کہ جب ارواحِ خلائق قیامت کے دن اکٹھی کی جاتی ہیں، تو پھر کہاں پھیلائی جاتی ہیں؟ اور کیون؟ اس کا جواب یہ ہے: ذاتی قیامت زمانۂ نبوّت کے جہاد کی طرح ہے، جس کی غرض سے لشکراسلام کو اکٹھا کیا جاتا تھا، اور فتح و کامیابی کے بعد ان کو منتشر ہونا پڑتا تھا، حشرونشر کی دوسری مثال نمازجمعہ سے دی گئی ہے (۶۲: ۹ تا ۱۰ ) کہ اس کی اذان کی تاویل صورِاسرافیل کی آواز ہے، نمازِجمعہ قیامت ہے، جس کی طرف روحیں دوڑتی ہیں، کیونکہ وہاں اسم اعظم کا خصوصی ذکر چل رہا ہوتا ہے، اورنماز ادا
۴۶
ہوجانے کے بعد زمین میں پھیل جانے کے لئے فرمایا گیا ہے، یعنی ذاتی قیامت کے بعد روحیں دنیا پرمحیط ہوجاتی ہیں، تاکہ خدا کے فضل وکرم سے روحانی سلطنت قائم ہو، اور کثرت سے خدا کو یاد کرنے کا حکم ہے، تاکہ قیامت کے تاویلی فائدے حاصل ہوں۔
ذاتی حشرونشرکی تیسری مثال حج بیت اللہ ہے، جس سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے اہل اسلام جمع ہوجاتے ہیں، اورپھر واپس ہوکردنیا میں پھیل جاتے ہیں، جیسا کہ ان حکیمانہ الفاظ کا اشارہ ہے: واذِّن فی النّاسِ بِالحجّ۔ اورتُو (اسرافیل کے توسط سے) دنیا بھرکے لوگوں کوحج کے لئے پکار۔۔۔ (۲۲: ۲۷ ) یعنی ذاتی حشر جو باطنی حج ہے۔ سورۂ اِنشِقاق (۸۴: ۷ تا ۹ ) میں بھی غورسے دیکھ لیں: پھر (اس دن) جس کا نامۂ عمل اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، اس سے توحساب آسان طریقہ سے لیا جائے گا، اورپھر وہ اپنے (مومنین کے) قبیلہ کی طرف خوش خوش پلٹے گا (۸۴: ۷ تا ۹) آیا یہ انفرادی حشر نہیں ہے کہ حساب دینے والا (یعنی نفسانی موت سے آگے جانے والا سالک) اپنے لوگوں سے الگ بھی ہوجاتا ہے، پھران کی طرف واپس بھی آتا ہے؟
۴۷
کلید نمبر۲۰: بہشت کی ہمیشگی:
سوال: بہشت میں نیک لوگوں کے ہمیشہ رہنے کا تصورکس طرح ہے؟ کیا جنت میں لوگ اپنے اپنے وقت پرداخل نہیں ہوتے، جبکہ جنت بہت پہلے سے بنی بنائی موجود ہوتی ہے؟ اوردوسرے اعتبار سے یہ سوال بھی ہے کہ آیا بہشت و دوزخ کی ایک مقررہ عمرنہیں ہے، جو کائنات کی مدت عمرکے برابر ہے؟ پھراہلِ بہشت کس طرح ہمیشہ بہشت میں رہ سکتے ہیں (۱۱: ۱۰۷ تا ۱۰۸ ) ؟
جواب: انسان جہاں اپنی انائے علوی میں ازلی طور پراصل سے واصل ہے، اور وہاں ہمیشہ بہشت میں رہتا ہے، مگر انائے سفلی کے اعتبار سے وہ ہنوز جنت میں داخل نہیں ہوا ہے، سورۂ ھود (۱۱: ۱۰۷ تا ۱۰۸) میں جس طرح دوزخ، اور بہشت کا دوام (ہمیشگی) کائنات کے دوام سے وابستہ کیا گیا ہے، اور پھریہ اشارہ بھی فرمایا گیا ہے کہ وقت آنے پرآسمانوں کو لپیٹ لیا جائے گا، اس سے بظاہر یوں لگتا ہے، جیسے عالمِ جسمانی کی کوئی خاص عمرہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورۂ ھود کے مذکورہ ارشاد کا تعلق عالمِ شخصی کے احوال سے ہے، کیونکہ جس وقت عارف کی ذاتی کائنات لپیٹ لی جاتی ہے، تواس وقت نہ صرف دوزخ اورذیلی بہشت دستِ قدرت کی گرفت اورلپیٹ میں آکر وجہ اللہ کے سامنے فنا ہوجاتی ہے، بلکہ ہرچیزپراس قانونِ کلّ کا اطلاق ہوجاتا ہے،
۴۸
لیکن یہاں یہ دیکھنا بے حد ضروری ہے کہ وہ فنا کس مقام کی ہے؟ اورکس نوعیت کی؟
یہ حکمت ہمیشہ کے لئے یاد رہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے عالمِ شخصی کولپیٹ لیتا ہے، توخدا کے اس فعل سے دوزخِ جہالت جو شر ہے، وہ ختم ہوکر خیر بن جاتا ہے، کیونکہ خدا کے ہاتھ میں شر ٹھہر ہی نہیں سکتا (۰۳: ۲۶ ) اسی طرح دوزخ کی عمرعارف کے نزدیک ختم ہوجاتی ہے، مگربہشت کی عمرختم ہوجا نے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ اس کے بارے میں ارشاد ہوا: عَطَائً غیرَ مجذوذ (۱۱: ۱۰۸) وہ غیرمنقطع بخشش ہے۔ اورجہاں تک فنا کا تعلق ہے، وہ تو دارالابداع میں امرِکُن (ہوجا ) کے تحت ہے، اورخدا جس چیزکو”ہوجا” فرمائے، وہ بجائے بہترسے بہتر ہونے کے کس طرح نیست و نابود یا معدوم ہوسکتی ہے۔
کلید نمبر۲۱: علمی دیدار:
ہماری تقریروں اورتحریروں میں جس قدربھی اصل اورخاص چیزیں ہیں، وہ بلاشبہ سب کی سب درِّامامت کے دریوزے (بھیک ) سے ہیں، چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ “علمی دیدار” ایک انقلابی تصوّر ہے، اور ازلی حقیقت پرمبنی ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست مفید ہے، پس یہاں حقیقی راز کو منکشف کرنا چاہئے کہ کسی عارف کے لئے خدا کا سب سے بڑا اور ازلی و ابدی علمی دیدار وہ ہے،
۴۹
جس میں وہ پاک وبرتراپنے دستِ قدرت سے کائنات و موجودات کو لپیٹ لیتا ہے (۲۱: ۱۰۴؛ ۳۹: ۶۷ ) یہ خلاصۂ کائنات، مجموعۂ موجودات، ملفوفۂ مصنوعات، اورجوہرِاشیاء ایسا جامعِ جوامع اورکُلِّ کُلّیّات ہے کہ ہرمسما اور ہراسم کی نمائندگی کرتا ہے، پس یہ خدا کے ہاتھ میں کوہِ عقل اورطورِموسیٰؑ بھی ہے، جو ہرعالمِ شخصی میں خدا کی تجلّی سے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔
دلائل و براہین اورغور و فکرکے بعد ہی کسی کو یقین آسکتا ہے کہ حقیقی علم میں سرتا سر خداوندِ تعالیٰ کے اسی ظہورِنوراوردیدارکا تصوّر اورتذکرہ ہے، جومرتبۂ عقل پرخدا کے خاص دوستوں کوحاصل ہوجاتا ہے، ہرآیۂ قرآن میں اسی تجلّی کا اشارہ، ہرمثال میں اسی ظہورکی تاویل، ہرجملہ میں وہی سرِاعظم پنہان، ہر حکمت اسی دیدارسے متعلق، ہرقصّہ میں اسی ملاقات کی خوبیاں، ہرعلم کا سرچشمہ وہی گوہر، ہرخزانے کا سرمایہ وہی لُولُوئے مکنون، وہی گنج، وہی گنجور (گنج ور ) وہی طور، وہی جبلِ نور، وہی جلوۂ حور، وہی بہشت کے محلات و قصور، وہی کتاب مسطور، وہی رَقِ منشور، وہی بیت المعمور، اور وہی سب کچھ۔
آپ آیۂ کریمہ کوازسرِنو غورسے دیکھیں کہ اس میں لفظ لِلْجَبَل ہے عَلَی الْجَبَل نہیں، کیونکہ خدا پہاڑ پر نہیں بلکہ کوہِ عقل ہاتھ میں لیے ہوئے ظاہر ہوا تھا، تاکہ اس کو ریزہ ریزہ کرکے حقائق و
۵۰
معارف کی ایک کائنات کو وجود میں لائے (۰۷: ۱۴۳ ) اوراس قادرِمطلق نے عالمِ شخصی میں ایسا ہی کیا، پس اہلِ بصیرت کے نزدیک حقیقی علم کی ہربات آئینۂ خدا نما ہے، اورعلمی دیدارکے یہی معنی ہیں، جیسا کہ خود قرآن کریم کا ارشاد ہے: فاینما تُولّوافثمّ وجہُ اللّٰہ (۰۲: ۱۱۵ ) سو جس طرف تم منہ کرو وہاں ہی اللہ کا چہرہ (اوردیدار ) ہے۔
کلید نمبر۲۲: جامۂ جنت:
قرآن کریم کی ہرآیۂ مقدّسہ کے ظاہری معنی کے ساتھ ساتھ باطنی حکمت بھی ہے، جیسا کہ یہ ارشاد ہے: اے آدمؑ کی اولاد ہم نے تمھارے لئے پوشاک نازل کی جوتمہاری شرمگاہوں کوچھپاتی ہے اورزینت کے کپڑے اور (اس کے علاوہ ) پرہیزگاری کا لباس اور یہ سب سے بہتر ہے (۰۷: ۲۶ ) حکمت: اے آدم کی روحانی اولاد! ہم نے تمھارے بدن کو لباس کے طور پر بنایا جوتمہاری باطنی شرمگاہوں (خاص بھیدوں ) کو چھپاتا ہے، اورہم نے تمہارے لئے جسم فلکی (ریش ) بنایا، جس میں زینت اور پرواز کی طاقت ہے، اس کے علاوہ ہم نے تمھارے واسطے جامۂ تقوٰی بنایا، یعنی وہ جثّۂ ابداعی، جوروحانی جنگ میں ہرطرح سے محفوظ اورغالب رہتاہے، اوریہی سب سے بہترین ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق حضرت قائم القیامت علیہ افضل التّحیّۃ والسّلام سے ہے۔ سورۂ نحل (۱۶: ۸۱ ) میں بھی دیکھ لیں۔
۵۱
جثّۂ ابداعی یا فرشتہ روحانی لشکرکا قلعہ ہوا کرتا ہے، اس لئے ایک فرشتہ میں بہت سے فرشتے پوشیدہ ہوتے ہیں، مثلاً ایک ہزار یا تین ہزار یا پانچ ہزار، کیونکہ فرشتوں کا جوہر ایک ہی ہے، آپ ایسے فرشتوں کا تذکرہ جنگِ بدر سے متعلق آیات کریمہ (۰۸: ۹؛ ۰۳: ۱۲۴؛ ۰۳: ۱۲۵) میں پڑھیں، اوریہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ مُسَوِّمین (۰۳: ۱۲۵ علامات والوں ) کے یہ معنی ہیں کہ ایسے فرشتے جنگی علامت کے طور پر ہاتھ میں کوئی ہتھیار لئے ہوئے ہوتے ہیں، مگریہ صرف اشارہ ہے، جبکہ روحانی طریق پرلڑتے ہیں۔
کلید نمبر۲۳: ظہورِ ازل:
خود شناسی اورخدا شناسی صرف کہنے کے لئے نہیں، بلکہ وہ ایک امرِ واقعی بھی ہے، چنانچہ قرآنِ مجید وہ ہدایت نامۂ سماوی ہے، جو دوسری تمام ضروری تعلیمات کے ساتھ ساتھ باطنی مشاہدہ، دیدار، اورمعرفت کے تذکروں سے بھی بھرا ہوا ہے، جیسا کہ سورۂ ملک (۶۷: ۱ ) میں ہے کہ جملہ برکات کا سرچشمہ ظہورِازل ہے، یہی ازل جو دوسرے اعتبارسے ابد ہے، عالمِ شخصی میں مخفی ہے، یہی ظہورِازل وہ گنجِ مخفی ہے، جس میں تمام اسرارِ عرفان پوشیدہ ہوتے ہیں، یہ خزینۂ خزائن خدا کے ہاتھ میں ہے، اس میں سب چیزیں بصورت جوہرجمع اوریکجا ہیں، اس لئے اس کے اتنے اسماء ہیں جتنے دونوں جہان کے مُسمّا ہیں، اس سے ایسا لگتاہے کہ یقیناً حضرت آدمؑ
۵۲
کواسی مقام پرعلم اسماء کی آخری تعلیم دی گئی تھی، پس وہ اعجوبہ جواللہ کے ہاتھ میں ہے، ہرچیزکا نمائندہ ہے، اورمُلک وملکوت کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
انسان پہلے زندگی گزارتا ہے، اوراس کے بعد ہی موت کے دروازے سے داخل ہوجاتا ہے، لیکن سورۂ ملک (۶۷: ۲ ) میں یہ ترتیب اس کے برعکس ہے، وہ یہ کہ خدا نے (پہلے ) موت اور (پھر ) زندگی کو پیدا کیا۔ یہ کس طرح ہے؟
ج : انسان کی جسمانی زندگی دراصل موت ہے، اوراس میں ہمارا زبردست امتحان ہے کہ ہم کواپنی زندگی نما موت کا بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے یا نہیں؟ اگرکسی خوش نصیب آدمی کواِس بات کا یقین ہو کہ حقیقی زندگی یہاں سے بہت دورآگے چلنے سے مل سکتی ہے، اوروہ اس کے ساتھ ساتھ علم وعمل کا سہارا لے کرآگے بڑھتا ہو تو ان شاء اللہ وہ اسی جسم میں ہوتے ہوئے بحقیقت زندہ ہوجائے گا، اوراُس حال میں بھی علم وعمل کا امتحان ہے۔
کلید نمبر۲۴ : سات آسمان:
خداوندِ تعالیٰ نے عالمِ عقل کے سات آسمانوں کوایک دوسرے کے مطابق اورموافق بنایا ہے، جس کی وجہ سے وہ سب ایک ہوگئے ہیں، یعنی ایک ہی آسمان کی حیثیت میں سات آسمان ہیں، کیونکہ عالم وحدت میں ایسا ہی ہوتا ہے، مثال کے طور پرتم عدد واحد (۱)
۵۳
کوایک ہی جگہ پرسات باراس طرح لکھتے ہو کہ پہلی شکل میں ذرا بھی فرق نہیں پڑتا، تواس حال میں یہ کہناغلط نہ ہوگا کہ وہ عدد ظاہراً ایک ہے، اورباطناً سات، اسی طرح کسی ایک روحانی یاعقلی چیز میں اپنی نوعیت کی ہزار بلکہ بے شمارچیزیں سما سکتی ہیں، جبکہ غیرمادّی اورلامکانی اشیاء کے لئے جگہ اورگنجائش کا مسلہ ہے ہی نہیں۔
خدا کی خدائی میں مخلوقات کے لئے درجات بھی ہیں اور مساوات (برابری) بھی، چنانچہ عالمِ ظاہراورعالمِ روحانی میں بے شماردرجات ہیں، اور عالمِ عقل (عالمِ وحدت ) میں مساوات ہی مساوات ہے، کیونکہ مراتب کی سیڑھی صرف چھت (عرش) تک جاتی ہے، اورچھت جو ہموار ہے، اس پرکوئی سیڑھی نہیں، یا یوں کہا جائے کہ دور و درازسفر کے مراحل و منازل ضرور ہوا کرتی ہیں، مگرمنزلِ مقصود کے بعد نہ توسفرہے اورنہ ہی کوئی منزل، اورقرآنِ پاک کا ارشاد ہے کہ ابداع وانبعاث کے مقام پرسب لوگ ایک جان کی طرح (مساوی اور یکسان ) ہیں (۳۱: ۲۸ ) پس جن لوگوں پرآفتابِ نورِعقل کسی حجاب کے بغیرطلوع ہوتا ہے، (۱۸: ۹۰ ) وہ خدا کے معزز بندے ہم مثل اوربرابرہیں (۲۱: ۲۶ )۔
بہشت کی سب سے بڑی عزت وہاں کی بادشاہت ہے، جس کا ذکرقرآن حکیم کی بہت سی آیات میں موجود ہے، اورجہاں جہاں سُرُرْ (واحد، سریر=تخت ) اور ارائک (واحد، اریکۃ= تخت )
۵۴
جیسے الفاظ آئے ہیں، وہاں بھی فردوسِ برین کی بادشاہی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، کیونکہ تخت نشین صرف وہی شخص ہوسکتا ہے، جوبادشاہ ہو، جیسا کہ سورۂ حجرمیں ہے: اورجوکچھ ان کے دل میں رنج تھا اس کوبھی ہم نکال دیں گے اوریہ باہم ایک دوسرے کے آمنے سامنے (شاہی ) تختوں پر برادرانہ محبت سے بیٹھے ہوں گے (۱۵: ۴۷ ) پس ان سب بہشت کے بادشاہوں کے آمنے سامنے اور بھائی بھائی جیسے ہونے کا مطلب برابری ہے، یہ جنت کا وہ سب سے اعلیٰ مقام ہے، جہاں پرنچلے تمام درجات رفتہ رفتہ پہنچ کرمساواتِ رحمانی میں بدل جاتے ہیں۔
کلید نمبر۲۵: نورانی عشق:
خدا، رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورامام زمانؑ کا پاک و پاکیزہ عشق وہ لاہوتی عطرہے، جس کی جان پرور اور ایمان افروزخوشبو اہلِ ایمان کے لئے طبِّ سماوی کے معجزے دکھاتی ہے، کیونکہ یہ عشق دراصل ایک کامل ومکمل نور ہے، اورنورکا کام ہے تمام ترمشکل حالات میں رہنمائی اوردستگیری کرنا، ہرنبی اورہرولی میں ہاہو (شور) کے بغیرخاموش اورسنجیدہ مگر زبردست عشق الٰہی پوشیدہ ہوا کرتا ہے، اوراسی عشق سے ہمیشہ اخلاقی اور روحانی امراض کاعلاج ہوتا رہا ہے، جیسے قرآن حکیم کا ارشاد ہے: وَالّذین اٰمنواشدُّ حُبّاً للّٰہِ (۰۲: ۱۶۵ ) اورمومنین توخدا ہی سے قوّی محبت رکھتے ہیں۔
۵۵
یہ خدا اوراس کے مظہرکے لئے بڑی شدید محبت اورعشق ہے، چونکہ خدا کی محبت اورعشق کوقرآنِ حکیم نے شدّت کے معنی میں بیاں فرمایا، اورشدّت طاقت ہوا کرتی ہے، اس لئے ہم تسلیم کریں گے کہ حقیقی عشق ومحبت سب سے بڑی اصلاحی طاقت ہے، جس کی بدولت بڑی حد تک اخلاقی اور روحانی ترقی ہوسکتی ہے، اگریہ بات بالکل درست ہے، توپھرآسمانی عشق سے بھرپورفائدہ اٹھانے میں لَیت ولَعَلُ (ٹال مٹول ) نہیں کرنا چاہئے، درحالے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت ومحبت خدا کی اطاعت ومحبت ہے، اورامام زمانؑ کی اطاعت ومحبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت ومحبت، یہ محبت یعنی عشق ایک مخفی اورقلبی معجزہ ہے، جس سے زندگی کی ہرتلخی شرینی میں تبدیل ہوسکتی ہے، اگرعشق سچ مچ معجزہ ہے، توپھردین کی کون سی نعمت ہے جواس کے ذریعہ حاصل نہ ہو؟
عشق نوربھی ہے اورنار (آگ) بھی، چنانچہ آپ اگرعلم وعمل کے وسیلے سے عشق امام کے لئے ایندھن ہو جائیں، توآپ اپنے عالم شخصی میں نوراور اس کے جملہ کمالات ومعجزات کا مشاہدہ کرسکیں گے، اوراسی طرح اپنی ذات کی معرفت سے پروردگارکی معرفت حاصل ہوجائے گی، جبکہ اسی مقصد کے حصول کی خاطرانسان دنیا میں آیا ہے۔
۵۶
کلید نمبر ۲۶: گریہ وزاری:
سب جانتے ہیں اورسب کومعلوم ہے کہ قرآن اوراسلام میں بڑی سختی سے تکبّرکی مذّمت کی گئی ہے، مذّمت ہی پراکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے دفعیّہ اورتوڑکے کئی طریقے بھی بتائے گئے ہیں، وہ ہیں: توضع، عاجزی، کسرِ نفسی، نرم دلی اورسب سے بڑھ کر گریہ وزاری کا طریقہ ہے، جس کی عادت ہونے سے تکبّر کی بدترین بیماری کا بڑی حد تک علاج ہوسکتا ہے، کیونکہ گریہ وزاری خوفِ خدا سے ہوسکتی ہے، یاعشقِ الٰہی سے، یا برسبیل دعا ومناجات، یا بعنوانِ توبہ، یا بربنائے عبادت وغیرہ، پس بہرحال اس میں یادِ خداوندی کے طوفانی عالم ہونے کی برکت سے فخروتکبرکے خیالات یکسر مٹ جاتے ہیں، اورمومن کا قلب عکسِ آفتابِ ہدایت کے لئے مثالِ آئینہ پاک وصاف ہوجاتا ہے، اور بہت سے معنوں میں گریہ وزاری بے حد مفید ثابت ہوجاتی ہے۔
انسان کے ظاہری اقوال واعمال کا انحصارخیالات پر ہے، کیونکہ اچھے خیالات فرشتے ہیں اوربرے خیالات شیاطین، شیطانوں کو دور کرکے فرشتوں کو بلانے کا طریقہ ذکرِالٰہی کی کثرت ہے، اورسب سے بہترین اورانقلابی ذکر گریہ وزاری اورمناجات ہے، چنانچہ جب بندۂ مومن بارگاہِ خداوندی میں تضّرع اور گڑگڑاہٹ کے ساتھ دعا کرتا ہے، تواس پرخدا کی رحمت برستی ہے، اور
۵۷
اس کاعالمِ دل منور ہوجاتا ہے، اوراس کے مزاج میں بے حد نرمی، سنجیدگی اورعاجزی پیدا ہوتی ہے، اوراس سے روحانی ترقی کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔
گریہ و زاری خواہ انفرادی ہو، یا اجتماعی، اس کے لئے قرآنی آداب مقرر ہیں اورادب کے بغیرکوئی عبادت و بندگی خدا کو پسند نہیں، ملاحظہ ہو (ترجمۂ آیۂ کریمہ ): تم اپنے ربّ سے دعا کیا کرو، گڑگڑا کراورآہستہ آہستہ، بے شک وہ حد سے تجاوزکرنے والوں کودوست نہیں رکھتا (۰۷: ۵۵ ) نیز سورۂ بنی اسرائیل میں دیکھیں: اوریہ لوگ (سجدے کے لئے ) ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں اور روتے جاتے ہیں اور یہ قرآن ان کی عاجزی بڑھاتا جاتاہے (۱۷: ۱۰۹ )۔
کلید نمبر ۲۷: امام مبینؑ میں ہرچیز:
یہی توکمالِ قدّرت اورزبردست معجزے کی بات ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی پیدا کردہ ایک ہی چیز اپنی تمامیّت، کمالیت، اورکفایت کی وجہ سے ہرچیز ہوسکتی ہے، یا ایک ہی شیٔ سب کچھ ہے، یا ایک ہی مخلوق میں تمام مخلوقات محدود ہیں، خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ خداوندِعالم نے تمام حقیقی اوراعلیٰ چیزیں (ازقسم روحانی، عقلانی اورعلمی ) امام مبینؑ میں گھیرکر رکھی ہیں (۳۶: ۱۲) مگریہاں یہ نکتہ اچھی طرح یاد رہے کہ مذکورہ چیزیں عقل وجان کے
۵۸
نورسے معمور و منوّر ہیں، اس لئے وہ زندہ و گوئندہ ہیں اور ان سے ہر وقت علم و حکمت کی ضوفشانی ہوتی رہتی ہے، ان تمام چیزوں میں سب سے پہلے یہ نام آتے ہیں: نورمحمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، عقل، قلم، لوح، عرش، کرسی، کتابِ مکنون، خزانۂ ازل، آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، سمندر، باغ، شہر، لوگ وغیرہ اوراسی طرح ان انتہائی عظیم چیزوں میں اسماء الحسنیٰ بھی ہیں (۰۷: ۱۸۰؛ ۱۷: ۱۱۰؛ ۲۰: ۸؛ ۵۹: ۲۴ )۔
قرآنی الفاظ کے معنی اصل لغت سے ہٹ کرنہیں ہوتے، چنانچہ اسماءُ الحسنیٰ کے معنی ہیں اللہ کے بہت خوبصورت نام، یعنی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورأئمّۂ طاہرین ؑ، خداوندِ دوجہان کے یہ اسمائے عظام سچ مچ انتہائی خوبصورت ہیں، کیونکہ ان بزرگ اسماء میں سے ہراسم اپنے وقت میں زندہ بہشت کا مرتبہ رکھتا ہے، اوربہشت وہ مقام ہے، جس کا ہر منظر بےحد حسین، ہر شیٔ نہایت خوبصورت، ہرمخلوق بدرجۂ کمال جمیل، ہرجلوہ حیران کن، ہرصورت مایۂ زیبائی و رعنائی، ہرچہرہ رشکِ آفتاب و ماہتاب، ہرملاقات مسرّت انگیز، ہردیدارجان پرور، ہرنعمت نشاط افزا، ہرروح پیکرِحسن وجمال، ہرقطرۂ باران درّ ثمین، ہردریا بحرِگوہر زا، ہرپانی اَبِ کوثر، ہر پہاڑ کوہِ طور، ہر پھتر حجرِ مکرم، اورہرفرد رنگِ خدا سے رنگین ہے، یہ اسماءُ الحسنیٰ کی ایک بہت مختصر وضاحت ہے۔
۵۹
کلید نمبر۲۸ـ : کتاب لاریب:
قرآن مجید کے مقاصد میں سے ایک خاص مقصد یہ ہے کہ یہ اگلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اورساتھ ہی ساتھ کتاب لاریب (۱۰: ۳۷) کی تفصیلات بیان کرتا ہے، الکتاب لاریب فیہ (۱۰: ۳۷) کیا ہے؟ ج: وہ روحانی اورعقلانی کتاب ہے، آپ اسے کتابِ مکنون (۵۶: ۷۸ ) یا نورِعقل یا نورِامامت بھی کہہ سکتے ہیں، جس میں کوئی شک نہیں، یعنی وہ توعینُ الیقین اورحقُ الیقین کے مقام پر ہے، اس لئے اس کا نام کتاب لاریب ہوا، لیکن وہ امثال واشارات سے بھری ہوئی ہے، لہٰذا وہ مُجَمل ہے، مُفَصَّل نہیں، اورقرآن کریم اس کی تفسیرو تفصیل ہے، جیسا کہ سورۂ انعام (۰۶: ۱۱۵ ) میں ہے: وھوالّذی انزل الیکم اِلکتٰاب مُفَصَّلاً۔ وہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے پاس مفصل (واضح ) کتاب نازل کی۔
کامل ومکمل روحانیت وعقلانیت جودرجہ بدرجہ بلند ہوکراسرارِ ازل تک پہنچ جاتی ہے الکتاب کہلاتی ہے، اُس میں کوئی شک نہیں، کیونکہ اس میں یقین ہی یقین ہے، جیسا کہ اوپرذکرہوا، اورروحانی واقعات کا یہی سلسلہ دوسرے الفاظ میں یوم القیامۃ لاریب فیہ (روز قیامت جس میں شک نہیں ۰۴: ۸۷؛ ۰۶: ۱۲؛ ۴۵: ۲۶ ) بھی ہے، کیونکہ عالمِ لطیف میں چیزیں آپس میں مل کرایک ہوتی ہیں، جبکہ عالمِ کثیف کی اشیاء الگ الگ ہوا
۶۰
کرتی ہیں، پس قرآن حکیم میں قیامت کے جتنے نام آئے ہیں، وہ سب کے سب امام اقدس و اطہرؑ کی روحانیت ونورانیت کے ناموں میں سے ہیں، ملاحظہ ہو: کتاب کوکب دری، ص۲۲۶، منقبت۲۷ تا ۲۸ کہ امامؑ السّاعہ (قیامت ) بھی ہیں اورکتاب لاریب فیہ بھی۔
جانشین رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (امامؑ) پریقین رکھنا آخرت پریقین رکھنا ہے (۰۲: ۴) کیونکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جس نور پرایمان لانا واجب ہے، وہ امام عالیمقام ؑ ہی ہیں (۰۷: ۱۵۷ ) جو ہراعتبارسے یوم الآخرہیں، جیسے مولاعلیؑ نے ارشاد فرمایا: اناالّذی اقومُ السّاعۃ (میں ہوں وہ شخص کہ قیامت برپا کرتا ہوں۔ مذکورہ کتاب، ص۲۲۹، منقبت ۵۳ )۔
کلید نمبر۲۹: اصل سے واصل:
حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صَلَوات اللّٰہ علیہ کا ارشاد گرامی ہے کہ: دنیا میں رہ کر مومن کے کام کرو، اس دنیا میں بھی مومن اصل میں واصل ہوسکتا ہے، اپنے مذہب میں رہتے ہوئے اصل میں واصل ہونا آسان معاملہ ہے۔ (دارالسلام۹۔ ۳۔ ۱۹۲۵ء ) میں آپ کو اس فرمان مبارک کی معنوی گہرائی اورحکمت کی طرف دعوتِ فکرکی غرض سے چند سوالات کرتا ہوں کہ آیا “اصل سے واصل ہونا” روحانی سفراورترقی کی آخری منزل
۶۱
نہیں ہے؟ کیا اس میں نفسانی موت سے گزرجانے کا اشارہ نہیں ہے؟ اصل سے واصل اورفنا فی اللہ میں کیا فرق ہے؟ آیا امامِ عالیمقامؑ کے اس فرمان مقدّس میں ذاتی یا انفرادی قیامت کا واقعہ پوشیدہ نہیں؟ آپ کے نزدیک اصل سے کیا مراد ہے؟ نفسِ واحدہ؟ یا مُبدِع؟ یا نورالانوار؟ یا روحِ کُلّی؟ یا بہشت؟ یا امامِ زمانؑ؟ یا کوئی اورمرتبہ؟ یا رفیقِ اعلیٰ؟ یا انائےعلوی؟ یا عِلّیّین؟ یا گنجِ ازل؟ یا خداوندِ تبارک وتعالیٰ؟ الغرض آپ کو حضرت اما مؑ کے ایسے اہم اور پرازحکمت ارشادات میں اچھی طرح سے غور کرنا ضروری ہے۔
کلید نمبر۳۰: قصۂ قارون:
حدیث شریف میں ہے کہ: آیاتِ قرآن میں سے ہرآیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن..، پھرقصۂ
قارون (۲۸: ۷۶؛ ۲۸: ۷۹؛ ۲۹: ۳۹؛ ۴۰: ۲۴ ) کس طرح باطنی حکمت کے بغیرصرف ظاہری معنی میں محدود ہوسکتا ہے، جبکہ خود قرآن حکیم ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے، جواسے اساطیر الاوّلین (اگلوں کی کہانیاں ۰۶: ۲۵ ) قراردیتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حکایات قرآن کی نصیحت وعبرت اورعلم وحکمت کو ذرا بھی نہیں سمجھتے، القصۂ قارون حضرت موسیٰؑ کے قرابتداروں میں سے تھا، اس کوظاہری دولت اس کثرت سے حاصل ہوئی کہ اس کے کثیرخزانوں کی کنجیاں ایک طاقت ورجماعت کوتھکا دیتی تھیں، جب اس کوادائے زکات کا حکم دیا گیا، تواس نے صریحاً انکارکیا،
۶۲
اورکہا کہ یہ (مال ودولت ) تومجھے اپنے علم کی وجہ سے حاصل ہوا ہے (۲۸: ۷۸ ) پس یہ ہرایسے شخص کے لئے تنبیہی مثال ہے، جومادّی یاعلمی دولت کے خزانوں سے مالامال ہو، اور وہ ہادی برحق کی اطاعت نہ کرے، اورمالی یاعلمی زکات نہ دے۔
قرآن پاک اپنی نوعیت کا ایک عالم ہے، اس میں گویا دو سمندر (بحران ۳۵: ۱۲ ) ہیں، ایک کا پانی پینے کے لئے شرین وخوشگوار ہے اوردوسرے کا کھارا اور کڑوا ہے، لیکن یہ دونوں مچھلیوں اورموتیوں کی فراوانی میں یکسان ہیں (۳۵: ۱۲ ) چنانچہ قصۂ قارون کا ظاہر واضح اورمعلوم ہے، لیکن اس کا باطن ایک پوشیدہ اشارہ ہے جو روحانی علم کے خزانوں، کلیدوں اورکلید برداروں (خزانچیوں ) کا تصوّر دیتا ہے، وہ علم طوفان نوحؑ جیسے بے پناہ اورمنتشرمثال میں ہونے کے باوجود منظم کُنُوز و مفاتح اور ایک قوّی خزانچی جماعت کے تحت ہے۔
کلید نمبر۳۱: فعل خدا کی نمائندگی:
سورۂ صٓ (۳۸: ۱۷) سے دیکھیں: اللہ تعالیٰ کا اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ فرمانا کہ تم ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشاہدۂ باطن اورمراحل نورِعقل کے حوالے سے ہے، کیونکہ اس آیۂ کریمہ میں حضرت داؤدؑ کو”ذاالاید” اور”اوّاب” یعنی ہاتھوں والا اور رجوع کرنے والا کہا گیا ہے، اورہاتھوں کی یہ تعریف نہ
۶۳
صرف کتاب مکنون کوچھونے کی وجہ سے ہے، بلکہ یہ دستِ خدا اورفعلِ الٰہی کی نمائندگی کے سبب سے بھی ہے، اورکسی پیغمبرکا خدا سے رجوع یا توبہ (لوٹ جانا ) یہ ہے کہ وہ انتہائی عظیم دیدارتک پہنچ جائے، جس میں فنا ہوجانا ہے۔
عالم انسانیت میں دو قسم کے نفوس (ارواح) ہیں: منجمد اور ذرّات، نفوسِ منجمد گویا جبال (پہاڑ) ہیں، اورذرّات پرند (طیور) پس حضرتِ داؤدؑ کی انفرادی قیامت میں پہاڑوں کواپنی جگہ مسخرکرکے پرندوں کوجمع کیا گیا اور وہ سب حضرتِ داؤدؑ کے ساتھ ملکر صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھا کرتے تھے (۳۸: ۱۸) عالمِ ابداع میں دنیائے ظاہر کا وقت سمیٹا ہوا ہوتا ہے، اس لئے وہاں شام کی تسبیح صبح کی تسبیح سے ملی ہوئی ہے۔ دنیا کی سلطنتوں کا نچوڑاور جوہر روحانی بادشاہی میں ضم کیا جاتا ہے، جس طرح ملکۂ سبا کی سلطنت حضرت سلیمانؑ کی مملکت میں ملائی گئی تھی، یہاں حکمت سے لُولُوئے عقل مراد ہے، اور “فصل الخطاب” کلمۂ باری ہے (۳۸: ۲۰ )۔
کلید نمبر ۳۲: دُ نبیوں کا مسئلہ:
دروازے سے آنا ان حدود کی علامت ہے، جوجسمِ لطیف (آسٹرل باڈی ) میں دین کا کام کررہے ہیں، اور دیوار سے آنا حدودِ روحانی کی نشانی ہے، چنانچہ حضرتِ داؤد نبیؑ کے پاس
۶۴
جوحدودِ دین دیوارکوچیرکرآئے، وہ جبرائیل اورمیکائیل جیسے روحانی تھے (۳۸ : ۲۱) ۹۹+۱=۱۰۰ دُنبیاں خدا کے اسمائے صفاتی کی مثال ہیں، جوعلم وحکمت کے خزانے ہیں (۳۸: ۲۳) مگرتمام خزانوں کی کلیدیں اسم اعظم میں ہیں، جوخزانۂ اعظم اورکنزالکنوز ہے، جس کی تشبیہ وتمثیل مذکورہ قصہ میں ایک ایسی دنبی سے دی گئی ہے، جس کا نر (دنبہ ) موجود ہے، اس لئے یہ نسل پھیلانے کے اعتبارسے ان ننانوے دنبیوں سے زیادہ فائدہ بخش ہے، جودوسرے بھائی کے پاس ہیں، کیونکہ وہ سب کی سب نرکے بغیرہیں۔
ذاتِ سبحان کے سوا کوئی بھی شیٔ ایک اکیلی نہیں، کیونکہ خداوندِ عالم نے تمام چیزوں کوجفت جفت پیدا کیا ہے (۳۶: ۳۶ ) اورقرآنِ عظیم میں بارہا اس قانونِ دوئی کا ذکروبیان فرمایا گیا ہے، اس روشن حقیقت میں ذرہ بھرشک وشبہ نہیں کہ کائنات و موجودات کی جملہ اشیاء دو دو یعنی جوڑی جوڑی ہیں، یہ قاعدہ کئی طرح سے ہے، جیسے نر و مادہ کا نظام، اضداد کا طریقہ، وغیرہ، ہم نے بارباراس کا تذکرہ کیا ہے، پس اسم اعظم بھی اسی قانونِ فطرت کے مطابق دو ہیں، ایک اسم لفظی ہے، جوصامت (خاموش ) ہے، اوردوسرا شخصی، نورانی ہے، جو ناطق یعنی بولنے والا ہے، اس سے زمانے کا نورِمجسّم مراد ہے۔
حرفی اسمِ اعظم دلیل ہے، شخصی اسمِ اعظم مدلول، وہ گویا
۶۵
آسمانی کتاب ہے، یہ ربّانی معلّم اورنور، وہ روحانی خزانہ ہے، تو یہ اس کا خزانہ دار، وہ جسم کی طرح ہے، یہ روح کا درجہ رکھتا ہے، وہ حیاتِ سرمدی کا اشارہ ہے، یہ مُشارٌ اِلیہ اور خود اسی حیات کاسرچشمہ، وہ طالب کی طلب ہے، تویہ مطلب اور مطلوب، وہ ایک چراغ ہے، مگرہنوزروشن نہیں ہوا، یہ ایک ایسا روشن چراغ ہے، جواس کوبھی فروزان کرسکتا ہے، وہ آسمان روحانیت کے لئے نردبان (سیڑھی ) ہے، تویہ روحانیت ونورانیت کا آسمان ہے، وہ ایسا درخت ہے جس میں علمی درخت کا پیوند لگ سکتا ہے، یہ علم کا زندہ شجرہے، لہذا اپنے نورانی علم کا پیوند اس درخت میں لگا سکتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ زندہ اسمِ اعظم (امام زمانؑ ) کا نور لفظی اسمِ اعظم کے توسط سے قلوب مومنین میں طلوع ہوسکتا ہے۔
کلید نمبر ۳۳: کوہِ قاف:
حضرت امیرالمومنین علیؑ کا ارشادِ گرامی ہے: انا لولوالاھداف، اناجبل قاف، یعنی میں ہی وہ گوہریک دانہ ہوں، جس میں تمام اعلیٰ مقاصد جمع ہیں، اورمیں ہی کوہِ قاف ہوں، جس پرعالمِ عقل کے عجائب وغرائب موجود ہیں، درّیتیم یا گوہریکدانہ (لُولُوئےعقل) کے بارے میں اگرچہ بہت کچھ لکھا گیا ہے، تاہم یہاں اس میں اضافہ کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے
۶۶
کہ گوہرِعقل میں کائنات ومخلوقات کے آثار متَحجّرات [fossils] پائے جاتے ہیں، یعنی جس طرح سائنسی تحقیق سے اس بات کا علم ہوچکا ہے کہ زمانۂ قبلِ تاریخ کی بہت سی نباتی اورحیوانی چیزیں پتھربن کرپہاڑ میں محفوظ ہوچکی ہیں، جسے رکازی ریکارڈ [Fossil Record] کہا جاتا ہے، اسی طرح کوہِ عقل میں تمام باطنی چیزوں کا نورانی ریکارڈ موجود ہے۔
سورۂ قٓ (۵۰: ۱ ) کا ارشاد مبارک ہے: قٓ۔ والقراٰنِ المجید (۵۰: ۱ ) قسم ہے قاف کی اورباعظمت قرآن کی۔ حرف “ق” کی ابجدی قیمت ۱۰۰ ہے، اورسو۱۰۰ کا جملِ اصغرایک ہوتا ہے، جس کی عددی تاویل عقلِ کلّ ہے، جوقلمِ قدرت اورکوہِ عقل ہی کا نام ہے، اوریہی عالمِ شخصی میں نورِازل بھی کہلاتا ہے، اس مقام پرقرآن مجید سے لوحِ محفوظ مراد ہے، جس میں عظمت والا قرآن درج ہے (۸۵: ۲۱ تا ۲۲ ) اورلوحِ محفوظ ہی نفسِ کلّ ہے، چونکہ دنیائے ظاہرکے ارتقاء کا آغاز جمادات سے ہوجاتا ہے، اس لئے ظہوراتِ عقل میں پہاڑ کی مثال کو بہت بڑی اہمیت حاصل تھی، پس کوہِ عقل کا نام ایک اعتبارسے کوہِ قاف ہوا، قاف کے بہت سے معنی ہیں، جیسے قدرت، قلم، قدیم، قرآن وغیرہ اورکوہِ قاف کی وجہ تسمیہ یہ بھی ہے کہ عالمِ شخصی کے اس پُرنور پہاڑ پرعربی کے ایسے بہت سے الفاظ درج ہیں، جن میں سے ہرلفظ کے آخر
۶۷
میں “ق” آتا ہے، اوریہاں یہ نکتۂ دلپذیر بھی سن لیجئے کہ قرآن حکیم میں اس نوری تحریرکا نام الرّقیم (۱۸: ۹ ) ہے، جس کے معنی ہیں نوشتۂ روحانی، اورہرلفظ کے آخرمیں “ق” ہونے کا البتہ یہ اشارہ ہے کہ ہم ایسے الفاظ مقدّس کوقرآنِ کریم میں دیکھیں، اور ان میں کوہِ قافِ عقل کے اَسرارِمعرفت کی جستجو کریں۔
کلید نمبر ۳۴ : اصحاب فیل:
سورۂ فیل کوقرآن (۱۰۵: ۱ تا ۵ ) میں پڑھ لیں: (اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمھارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیر غلط نہیں کردی؟ اوران پرپرندوں کے غول کے غول بھیجے، جوان پرسنگ گِل کی کنکریاں پھینکتے تھے، پس اللہ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسا کی طرح کردیا (۱۰۵: ۱ تا ۵ ) ترجمہ وتفسیراورتاریخی واقعہ کے بعد اس ربّانی تعلیم کی حکمت اس طرح ہے کہ شروع میں عالمِ شخصی کے حوالے سے مشاہدۂ روحانیت کی طرف بھرپور توجہ دلائی گئی ہے، جس میں اقتدار والے مخالفین (ہاتھی والے) بصورتِ ذرّات خدا کے باطنی گھرکو ڈھانے کی غرض سے حملہ آور ہوئے تھے، مگراللہ نے ان پرایک زبردست روحی لشکر کو بھیجا جس نے منجمد روح کی کنکریاں برسا کران کوکھائے ہوئے بھوسا جیسا کردیا، جس سے وہ روحانی طور پر ہلاک ہوگئے، کھایا ہوا بھوسا وہ ہے جوگائے بیل،
۶۸
وغیرہ کے پیٹ میں متغیر ہونے لگتا ہے، تاکہ اس کا کچھ حصہ حیوانی جسم کے ساتھ ملکرایک ہو، اورکچھ حصہ گوبرکی صورت میں خارج ہوجائے، یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ حملہ آور روحیں ہلاک ہوکرعارف کے نفسِ حیوانی کے لئے خمیر بھی ہوجاتی ہیں، اورپھوک کی طرح خارج بھی۔
کلید نمبر۳۵ : نور کا ذکرِجمیل:
سورۂ حدید کی پانچ آیات کریمہ میں جس شانِ حکمت سے نورکا ذکرِجمیل آیا ہے، اس کا مجموعی مطالعہ بےحد ضروری ہے، تاکہ دنیا ہی میں نورکی شناخت کی اہمیت کا اندازہ ہوجائے، چنانچہ اِ س باب میں سب سے پہلے (۵۷: ۹ ) میں ذرا غورسے دیکھ لیں، اوریہ بتائیں کہ آیا نزول قرآن اوراس کی بابرکت تعلیمات کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگوں کوکفروجہالت کی تاریکیوں سے نکال کرنورکی طرف لایا جائے؟ تاکہ نورانی ہدایت اورعلم وعمل کے نتیجے میں دنیا ہی میں مومنین ومومنات پر روحانی ترقی کا وہ وقت بھی آئے، جس میں ان کا نور ان کے آگے اورداہنی طرف دوڑنے لگتا ہے(۵۷: ۱۲) روحانی ترقی ہی قیامت صغرٰ ی ہے، جوعالمِ شخصی میں واقع ہوتی ہے، جس میں بعض حدودِ دین کی نیابت ونمائندگی سرِّعظیم ہے، ایسی انفرادی قیامت میں جہاں تمام روحوں کی حاضری ہوتی ہے، وہاں منافقین ومنافقات کی روحیں کیا کہتی ہیں،
۶۹
اس کوبھی سورۂ حدید (۵۷: ۱۳ ) ہی سے پڑھ لیں۔
اس کے بعد نورکا ایک اورعظیم الشّان تذکرہ یہ ہے: اورجولوگ خدا اوراس کے رسولوں پر (حقیقی معنوں میں ) ایمان لائے ہیں یہی لوگ اپنے پروردگارکے نزدیک صدّیقوں اورشہیدوں کے درجے میں ہیں، ان کے لئے اپنا اجراور (زندہ ) نور ہے (۵۷: ۱۹)۔ یقین کے ساتھ جاننا چاہئے کہ جس طرح دنیا کے چھوٹے بڑے بے شمارکام شمس اورنظام شمسی سے وابستہ ہیں، اسی طرح جملہ اموردینی کی وابستگی نوراورنظام نورانی سے ہے، پس یہاں یہ حقیقت اور زیادہ روشن ہوجاتی ہے کہ دنیا ہی کی روحانیت میں مومنین ومومنات کا نوران کے آگے اورداہنی طرف سعی کرتا ہے، یعنی بڑی سرعت سے ظہورات ابداع و اِنبعاث کے نمونے پیش کرتا رہتا ہے۔
سورۂ حدید کی وہ آیۂ مقدسہ، جونورِامامت کی معرفت سے متعلق بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس طرح ہے (ترجمہ): اے ایماندارو! خدا سے ڈرو (جیسا کہ ڈرنا چاہئے ) اوراس کے رسول (محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ) پرایمان لاؤ (جیسا کہ حق ہے ) توخدا تم کواپنی رحمت کے دوحصے اجرعطا فرمائے گا اور تم کوایسا نور (یعنی نورِامامت ) مقررفرمائے گا، اورخدا توبڑا بخشنے والا مہربان ہے (۵۷: ۲۸ ) الغرض نہ صرف سورۂ حدید
۷۰
ہی میں بلکہ سر تا سر قرآن میں جتنی آیات نور ہیں، ان سب کا مجموعی اور مربوط و یکجا مطالعہ بےحد ضروری ہے، تاکہ موضوعِ نور زیادہ سے زیادہ قابل فہم ہوسکے، ان شاء اللہ، خدا، رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اورامام زمانؑ کے عشق سے ہرعلمی مشکل آسان ہوجائے گی۔
کلید نمبر۳۶: سجدۂ تفویض:
سورۂ یوسف (۱۲: ۱۰۰) میں ارشاد ہے: ورفع البویہ علی العرش وخرّوالہ سجّداً (اور یوسفؑ نے اپنے ماں باپ کوتخت پر بٹھایا اور یہ سب کے سب یوسفؑ کے سامنے سجدہ میں گر پڑے ) اور یوسفؑ نے کہا: اے ابا یہ تاویل ہے میرے اس پہلے خواب کی کہ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا۔
تاویل ظاہرمیں نہیں باطن میں ہوتی ہے، چنانچہ حضرت یوسفؑ نے جو وارثِ امامت تھے، منازلِ روحانیت اورمراحلِ عقلانیت کوطے کرلیا، اور اپنے روحانی ماں باپ/ امام اور باب کوعالمِ شخصی کے تختِ عقل (عرش ) پربٹھا دیا، پھروہ سب وہاں یوسفؑ کے لئے سجدہ میں گر پڑے، یعنی خدا کے حکم سے مرتبۂ امامت حضرت یوسفؑ کوحاصل ہوا، اوران کی اطاعت کی گئی، اوران کے خواب کی تاویل یہی تھی۔
کلید نمبر۳۷: دو دفعہ پیدا ہو جانا:
حضرت عیسیٰؑ کے ایک ارشاد کاعربی
۷۱
ترجمہ ہے: لَنْ یَلِجَ مَلَکو تَ السّمٰواتِ مَنْ لم یُوْلَدْ مَرَّتَیْنِ (وہ شخص آسمانوں کی بادشاہی میں ہرگز داخل نہیں ہوسکتا، جو دو دفعہ پیدا نہ ہوجائے) اس کی وضاحت یہ ہے کہ سب سے پہلے بتائیدِ الٰہی نفسِ حیوانی سے مرجائے اور روح انسانی میں زندہ ہوجائے، اوراس کے بعد روح انسانی سے بھی فنا ہوکرروح مَلکی (نورِعقل ) میں زندہ ہوجائے، مگریہ سب کچھ اسی زندگی میں کرنا پڑے گا، دوسر ے الفاظ میں نفسِ امّارہ سے مرکرنفسِ لوّامہ میں جینا ہے، پھرنفسِ لوّامہ سے بھی مرجانا ہے، اورآخرمیں نفسِ مطمئنہ میں زندہ ہوجانا ہے، پس یہی ہے زندگی ہی میں دو دفعہ مرجانا، اوردو دفعہ زندہ ہوجانا، جیسا کہ سورۂ مومن (۴۰: ۱۱ ) میں بزبانِ حکمت اس واقعہ کا ذکرفرمایا گیا ہے۔
کلید نمبر ۳۸: خدا کے سات دن:
حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراھیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، اورحضرت محمد مصطفیٰ علیھم السّلام اللہ تبارک وتعالیٰ کے چھ دن ہیں، جن میں اس قدرت والے نے عالمِ دین کو پیدا کیا، یعنی ان چھ ناطقوں کے چھ بڑے ادوارمیں عالم دین مکمل ہوا، اورحضرت قائم علیہ السّلام ساتواں دن (دَور) ہے، یعنی سینچر، جس میں پروردگار عالم نے وہ تمام امورانجام دیئے، جونورِعرش (نورِعقل ) سے متعلق ہیں، اوریہی خدا کے سات
۷۲
دن ہیں، جوایّام اللہ (۱۴: ۵؛ ۴۵: ۱۴) کہلاتے ہیں، اورانہی دنوں کا نام ایّامٍ معلومات (۲۲: ۲۸ ) بھی ہے، کیونکہ یہ روحانی علم وحکمت سے پُر ہیں۔
اگرخداوندِ جَلّ جلالہ اپنی قدرت سے چیزوں کوایک طرف پھیلاتا ہے، تو دوسری طرف لپیٹتا بھی ہے، چنانچہ سات بڑے ادوارمیں سے ہر دَورِ بزرگ کے سات ذیلی ادوار مقرر ہوگئے، اوریہ أئمّۂ ھُداعلیھم السّلام کے چھوٹے چھوٹے ادوار ہیں، اب آئیے عالمِ شخصی کی بات کرتے ہیں کہ اس میں بھی ۶+۱=۷ دن یا سات مختصرادوار ہیں، ان میں انبیائے کرام اورأئمّۂ عِظام صَلَوات اللہ علیھم کی نورانی معرفت کے خزائن پوشیدہ ہیں، اور معارف کا گنجِ آخرین جو خزینۃ الخزائن ہے، وہ حضرت قائم القیامت علیہ افضل التّحیّۃ والسّلام سے متعلق ہے۔
کلید نمبر ۳۹: ظہورِ قائم:
قرآن حکیم نے ابتداءً اپنی مخصوص زبانِ حکمت میں یہ فرمایا تھا کہ دنیا میں قائم القیامت کاحجاب دارظہور ہوگا، اِ س لئے کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ قائم تشریف لاچکے ہیں اورقیامت برپا ہورہی ہے، جبکہ قیامت باطنی اور روحانی واقعہ ہے، جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے: ھَل ینظرون الّاالسّاعۃ ان تاتیھم بغتۃً وھم لایشعرون (۴۳: ۶۶ ) کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر بیٹھے ہیں کہ اچانک ہی ان پرآجائے اوران کوخبرتک نہ ہو۔ پس
۷۳
حضرت قائم القیامت علیہ افضل التّحیّۃ والسّلام کوکوئی نہیں پہچان سکتا، مگرپانچ حدود کے ذریعے سے، اوروہ یہ ہیں: اساس، امام، باب، حجت، اورداعی۔
کلید نمبر۴۰ : خلافت صغرٰی:
اگرمومنین خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خوشنودی کے مطابق نورِہدایت کی پیروی، ایمان کامل، اعمالِ صالحہ، اورنورانی عشق میں کامیاب ہوگئے، تو ربِّ کریم ان کوحسبِ وعدہ عالمِ شخصی کا خلیفہ بنائے گا (۲۴: ۵۵ ) جس میں تمام مراتب جمع ہیں، یعنی وہ خلیفہ بھی ہیں، بادشاہ بھی (۰۵: ۲۰ ) نوربھی (۵۷: ۱۲ ) اور اصل کی کاپی بھی ہیں (۵۵: ۲۷ ) کیونکہ خلافتِ الٰھیہ میں سب کچھ ہیں، یہ اگرچہ عالمِ شخصی کی بات ہوئی، لیکن یہ نفسِ کلّ سے ملکرکل کائنات پرمحیط ہوجاتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کے سارے وعدے خلافتِ عظمیٰ سے متعلق ہوجاتے ہیں، وَمَا توفیقی اِلّا بِاللّٰہِ۔
نصیرالدّ ین نصیرؔ ہونزائی،
کراچی
جمعرات، ۳، رجب المرجب ۱۴۱۲ھ
۹، جنوری ۱۹۹۲ء
۷۴
تاریخی تحفہ
۱۔ یہ حقیقت مرتبۂ ازل اورگنج عقل کے عظیم اسرار میں سے ہے کہ تمام انسان سرچشمۂ روح میں ایک تھے، اب بھی عالمِ علوی میں ایک ہیں، اور کثرتِ اجسام سے فارغ ہوجانے کے بعد بھی ارواح کی یہی یکجائی اور وحدت سامنے آئے گی، مگراس میں جیسے بے شمار لوگ جمع ہیں، ویسے بے حساب ظہورات ہوں گے، تاکہ وحدت و کثرت کے دونوں دریا ہمیشہ اس طرح متصل بہتے رہیں کہ دونوں کا وجود اپنی اپنی جگہ قائم وباقی رہے، (قرآن پاک کے چارمقام پراَلْبَحْرَیْن کی حکمت کودیکھ لیں )۔
۲۔ عزیزانِ من!امام عالیمقامؑ کی خواہش ہے کہ ہردانشمند مرید قرآنی حکمت کی طرف بھرپورتوجہ دے، اس سلسلے میں میری ایک عاجزانہ گزارش یہ ہے کہ آپ قرآن حکیم کوبہت سے طریقوں سے پڑھیں، اورحصولِ حکمت کے لئے اس کے کلّیات کوسمجھنا بےحد
۷۵
ضروری ہے، مثال کے طور پر تسخیرِ کائنات و موجودات کے موضوع کو لے کردیکھیں کہ اس میں سب سے بڑا کلّیہ کونسا ہے، شاید آپ میں سے جن کے پاس زیادہ علم ہو، وہ یہ بتائیں گے کہ اِس مضمون پر کل ۳۱ آیات ہیں، اوران میں سب سے بڑا کلّیہ وہ ہے، جس کا ترجمہ اس طرح ہے: اوراسی نے وہ سب جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اپنی طرف سے تمھارے کام میں لگا رکھا ہے، اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جوغورکرتے ہیں (۴۵: ۱۳)۔
۳۔ ارشادِ ربّانی کی حکمت یہ ہے کہ سماواتِ عقلِ کلّ اورارضِ نفسِ کلّ میں جوکچھ ہے وہ سب تم میں سے ہرایک کے لئے مسخرکیا گیا ہے، اوراس قانون سے کوئی چیز، کوئی طاقت اورکوئی نعمت باہرنہیں، جبکہ عقلِ کلّ، نفسِ کلّ اوردوسرے تمام درجات اس تسخیرمیں شامل ہیں، اس کامطلب یہ ہوا کہ خداوندِ تعالیٰ ہرکامیاب مومن کو اپنی اُس خلافت عالیہ سے سرفراز کردینا چاہتا ہے، جس سے حضرت آدمؑ کوسربلند فرمایا تھا، مگریہ عظیم کائناتی سلطنت روحانیت اور بہشت میں حاصل ہوسکتی ہے۔
۴۔ ہرشخص دین میں خوشخبری کی باتیں توسنتا رہتا ہے، لیکن درحقیقت علم وحکمت ہی کی روشنی میں بہشت کی ذاتی بشارت کسی کے لئے روشن اوریقینی ہوسکتی ہے، جس کے تین درجے ہیں: علم الیقین، عین الیقین، اورحق الیقین، آپ پہلے پہل درجۂ
۷۶
علم الیقین پردینی اورروحانی بشارتوں کا مکمل اطمینان حاصل کرلیں، پھران شاء اللہ، دیدۂ باطن کے کھل جانے سے اور روحانی معجزات کے مشاہدے سے مرتبۂ عین الیقین کی عملی خوشخبری ملے گی، ورنہ اجتماعی اورقولی بشارت میں کسی نافرمان اورلاعلم شخص کو یہ گمان اور قیاس ہوسکتا ہے کہ یہ سب کچھ اسی کے لئے ہے، پس یاد رہے کہ دنیا میں دوستانِ خدا کوآخری عملی مژدہ مرتبۂ حق الیقین پرملتا ہے۔
۵۔ قرآن حکیم کا خطاب نہ صرف زمانۂ نبوّت ہی کے مومنین سے ہے، بلکہ یہ آئندہ مسلمانوں کے لئے بھی ہے، چنانچہ آپ اس حکم میں غور کریں: اور ہم تم کو آزمائیں گے کبھی خوف سے، کبھی بھوک سے، کبھی مال میں نقصان سے، کبھی جان کے نقصان سے، اورکبھی پھلوں میں نقصان سے، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم! تم بشارت سنا دوصابرین کو (۰۲: ۱۵۵ ) اس ارشاد کا یہ مطلب توصاف ظاہر ہے کہ اب اس وقت یا آئندہ جب اللہ کسی مومن کو ہرمصیبت میں آزمائے، اوروہ بندہ اس پرصبرکرے، توتب اس کوپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف سے تین مقامات کی عملی تہنیت ملے گی، اوراس سے پہلے ذاتی خوشخبری نہیں، پس معلوم ہوا کہ خوشخبری ایک عملی حقیقت ہوا کرتی ہے، یعنی نیک کاموں کے بعد ہی کسی مومن کوبشارت دی جاتی ہے۔
۷۷
۶۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنی حکمت میں سوچنے کی اعلیٰ ہمت اورتوفیق عطا فرمائے! ورنہ بڑی آسان بات بھی شدید مشکل ہوسکتی ہے، اوراس کی لا تعداد مثالیں موجود ہیں۔
۷۔ خوب غوراوربڑی ذمہ داری سے سن لیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نہ صرف اپنی عقلِ کامل اورروحِ اقدس ہی سے نورِ ھدایت تھے، بلکہ جسمِ اطہرسے بھی نورتھے، کیونکہ اہلِ بصیرت کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی پاک وپاکیزہ شخصیت کے ہرقول وفعل سے نورِ ھدایت کی ضیا پاشی ہوتی تھی، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اپنے نورکے باطنی پہلو (عقل و روح ) کے اعتبارسے خدا کے نزدیک تھے، اورنورکے ظاہری پہلو (شخصیت) کے لحاظ سے لوگوں کے پاس آئے، اور قدجاء کم مِنَ اللّٰہ نور (تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نورآیا ہے (۰۵: ۱۵ ) کی حکمت یہی ہے، یعنی اس آیۂ کریمہ میں حضورانور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی مبارک شخصیت کا ذکر ہے، پس یہ پاک نور بحکم “نورعلٰی نور” دَور نبوّت کے اختتام پراشخاص امامت کے سلسلے میں منتقل ہوگیا، اورآج الحمدللّٰہ یہ نورمنَزَّل امامِ حیّ و حاضرصلوات اللہ علیہ میں جلوہ گرہے۔
۸۔ المعجم الصّوفی ص۱۲۵۸پردرج ہے: اِنَّ اللّٰہَ خلق مِائَۃَ الف آدم۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ آدموں کوپیدا
۷۸
کیا ہے۔ اگریہ قول احادیث صحیحہ میں سے ہے تواس میں ایک بڑے دَور کی بات ہوسکتی ہے، کیونکہ تصورِآفرینش یہی درست ثابت ہوا ہے کہ خدا کے فعلِ خالقیت کسی ابتدا و انتہا کے بغیر ہمیشہ جاری ہے، لہٰذا بے پایان ادوار میں ایسے لاتعداد آدموں کا سلسلہ چلتا رہا ہے کہ ان کا شمارممکن نہیں۔
۹۔ سیدنا جعفربن منصوریمن فرماتے ہیں کہ آدم کسی ذاتی شخص کا نام نہیں بلکہ یہ خدا کی جانب سے ایک دینی لقب ہے، جوہرناطق کے لئے اس کے وقت میں اورہرامام کے لئے اس کے عصرمیں استعمال ہوتا ہے، موصوف سیدنا کی کتابِ سرائرکے مطابق اس دَورِاعظم کا آدمؑ، جس کا ذاتی نام تخوم بن بجلاح بن قوامۃ بن ورقۃ الرّویادی تھا، سراندیب (سیلون ) کے مضافات میں سے جزیرۂ بوران کے شہرسوباط میں پیدا ہوا، قدیم ترین تاریخ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تخوم کا ایک اورنام یا لقب عبداللہ بھی تھا۔
۱۰۔ اللہ تعالیٰ کے ہر پیغمبرمیں درجۂ کمال کی نیک عادات ہوا کرتی ہیں، اورقرآن کریم میں ان کا ذکرجمیل اس مقصد کے پیش نظرفرمایا گیا ہے کہ اس سے نیک بخت مومنین بھرپورفائدہ اٹھائیں، چنانچہ حضرت ابراھیمؑ کا تذکرہ ہے کہ آپؑ بڑے نرم دل اور بے حد ہمدرد تھے، آپؑ بہت گریہ وزاری کرتے اور آہیں بھرتے تھے، جیسا کہ ارشاد ربّانی ہے: اِنّ ابراھیمَ لَاَوّاہٌ حلیم (۰۹: ۱۱۴ )
۷۹
بیشک ابراھیم بہت آہیں کرنے والا اورمتحمل تھا۔ نیزسورۂ ھود (۱۱: ۷۵ ) میں ہے: بیشک ابراھیم تحمل والا بہت آہیں کرنے والا اور رجوع کرنے والا تھا۔
۱۱۔ علم بہت بڑی دولت ہے، جس کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ کسی بد نصیب انسان کو مست ومغروربنا سکتا ہے، لہذا قرآنی حکمت کا یہ اشارہ ہے کہ اہل علم حضرات اوردرویش صفت مومنین غرورکی مہلک بیماری سے بچنے کی خاطرخدا کے حضورگریہ وزاری کریں، مگرانتہائی ادب اور بڑی عاجزی سے یہ عمل ہونا چاہئے، کیونکہ کوئی بھی گستاخانہ آواز اورحرکت اللہ کو پسند نہیں، سورۂ بنی اسرائیل کے آخرمیں دیکھئے، یہ کون حضرات ہیں، جن کو نزولِ قرآن سے پہلے ہی علم دیا گیا ہے؟ پھروہ کیوں روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرتے ہیں؟ کوئی دانشمند اس کا جواب با صواب اس طرح دے گا:۔
۱۲۔ چونکہ اسلام میں با ادب، خاموش یا کم آواز گریہ وزاری چوٹی کی عبادت ہے، لہذا اس میں ایسے اعلیٰ معانی پوشیدہ ہوا کرتے ہیں، جیسے: استغفار، عبادت کی کمی، توبہ، رجوع، پناہ بخدا، طلب رحمت، محویّت، فنائیت، شکرگزاری، نعمت شناسی، شوقِ دیدار، خوفِ الٰہی، عاشقانہ عبادت، روحانی ترقی، دعائے خاص، مناجات، سب کے لئے دعا، وغیرہ، جس طرح کوئی طفلِ
۸۰
شیرخوار مختلف اوقات میں جدا جدا ضرورتوں کی غرض سے صرف روتا رہتا ہے، اورالفاظ میں کچھ کہہ نہیں سکتا، تاہم مجموعی طور پراس کے رونے میں بہت سے معنی کارفرما ہیں۔
۱۳۔ اے عزیزانِ من! اس مقالے میں جتنا حصہ علم وحکمت کا ہے، وہ توسب کے لئے ہے، اورجونصیحت کی تلخ دوا اوراظہارتشکرکے سدابہار پھول ہیں، وہ آپ کے لئے ہیں، نصیحت یہ ہے، جس کی کاپی نامدارکونسل کے ریکارڈ میں بھی رہے گی کہ : ۔
الف: ہمارا مقصد اصلی علمی خدمت ہے۔
ب: ہمارے لئے عبادت کی بہترین جگہ جماعت خانہ ہے۔
ج: دن کو یا رات کو ادارے کی میٹنگ اورکامیابی کے لئے مناجات بھی ہوسکتی ہے۔
د: دعوتِ بقا میں جس طرح علمی باتوں کے علاوہ منقبت خوانی اورذکربھی ہوتا ہے، اسی طرح مگربغیرخرچ اورآسان روحانی مجلس بھی مفید ہوسکتی ہے، تاہم آداب وقواعد کا پابند ہونا ضروری ہے، اس کے لئے ہرشخص مسئول اورجواب دہ ہوگا۔
ہ: ہرمقام پرعملداردیکھا کریں کہ کوئی شخص یا اشخاص خانۂ حکمت کوغلط استعمال نہ کریں۔
۱۴۔ اور وہ سدا بہار پھول یہ ہیں کہ آپ بڑی سعادت مندی سے صحراؤں اوربیابانوں میں باغ وچمن لگا رہے ہیں، یہ کتابیں
۸۱
تیار کرنے اورعلم پھیلانے کی مثال ہے، کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہاں جوعمدہ سے عمدہ کام ہو رہا ہے، وہ آپ سب کے تعاون سے اورادارے کی صورت میں ہو رہا ہے؟ کیا آپ کو باور نہیں کہ میں آپ میں سے ہرفرد کواپنی جان ہی کی طرح عزیزرکھتا ہوں، اورشاگردوں کو”عزیزان” کے پیارے نام سے یاد کرتا ہوں؟ کیونکہ آپ سب اس علمی درخت کی مضبوط جڑیں ہیں، پیارے ساتھیو! یہ قوّت خیال ہرشخص کے لئے اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے کہ میں عالمِ خیال میں گاہ و بیگاہ مسگارکی مقدّس محفلوں کو دیکھتا ہوں، اورپاکیزہ روحوں کوخدا اورسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اورامامؑ کے عشق میں سرشار پاکر بےحد شادمان ہوجاتا ہوں، تمام ایسی مجالس کا تصور، جوجگہ جگہ ہوتی رہی ہے، کیسے نہ کروں، اوراُ ن مبارک چہروں کوکس طرح فراموش کروں، جن پر رحمتِ خداوندی کی بارش برس رہی تھی!
۱۵۔ میں دنیا کے تمام مومنین کو جان و دل سے چاہتا ہوں، خصوصاً ان پیاری پیاری روحوں کو، جوپیش قدمی کرکے میری نظم ونثر کے خزائن د رّ و مرجان کو لوٹتی رہتی ہیں، اِ س خوانِ یغما کے لے جانے میں عزیزان بھی ہیں، اوردوست بھی، رشتہ داربھی ہیں، اوراہل زمانہ بھی، الحمدللہ۔
۱۶۔ ہرچیزکے وجود میں آنے اورقائم ہوجانے کے لئے ابتدائی قوّتیں ازحد ضروری ہوتی ہیں، چنانچہ خداوند قدوس کے فضل و کرم
۸۳
سے شمالی علاقہ جات میں میرے لئے شروع ہی سے وسیلۂ دوستان پیدا ہوا ہے، احباب نہ صرف خانۂ حکمت ہی میں ہیں، بلکہ اِس سے باہربھی ہیں۔
۱۷۔ شمالی علاقہ جات میں خانۂ حکمت کی یہ برانچز ہیں ۱۔ مسگاربرانچ ۲۔ التت، اورکریم آباد برانچ ۳۔ حیدرآباد اورعلی آباد برانچ ۴۔ مرتضیٰ آباد برانچ ۵۔ گلگت برانچ، جس میں اوشی کھنداس اورنومل کے حلقے بھی شامل ہیں، ان شاخوں میں ہمارے بہت ہی پیارے عملداران اوراراکین بڑی سرگرمی اورلگن سے کام کر رہے ہیں، علاوہ برآن گلگت میں ادارۂ عارف اوربروشسکی ریسرچ اکیڈمی بھی ہیں، جن کے عہدہ داران وارکان کئی کئی حیثیتوں میں کام کررہے ہیں، الغرض ادارہ ہو یا اس سے باہر، ہمارے روحانی باپ کے بچوں میں سے ایسی ایسی نیک بخت اورپاکیزہ روحیں بھی ہیں، جن کو ہم عالم شخصی کے فرشتے قرار دے کر بےحد شادمان ہوجاتے ہیں۔
۱۸۔ خداوندعالم کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ مناسب وقت پرخانۂ حکمت کی برانچ اسلام آباد میں بھی قائم ہوئی، چونکہ یہ مقام ہمارے ملک کا مرکز ہے، اور یہاں اعلیٰ سطح کے لوگ رہتے ہیں، اس لئے ہماری برانچ کوبڑے بڑے لوگوں کی حمایت حاصل ہے، جن میں ڈاکٹرز، پروفیسرز، انجیئرز، جماعتی عملداران، وغیرہ شامل ہیں، پس امید واثق ہے کہ ہماری اس شاخ کی بہت جلد ترقی ہوگی۔
۸۳
۱۹۔ کراچی میں خانۂ حکمت اورادارۂ عارف کا مرکزہے، ہاں مرکزتو ہے ہی، لیکن کوئی جدا گانہ دفترنہیں، تاہم سنئے رحمتِ خداوندی اورعلم سے عشق ہونے کی بات کہ یہاں ہرعملدارکا گھراپنی نوعیت کا دفترہے، اورایسے دفتراورسٹورتقریباً نو ہیں، جن میں دفترکے ضروری سامان کے علاوہ کتابوں کے ذخائر رکھے ہوئے ہیں، اگرہمارے یہ رفقائے کار درویش صفت اورمولائے پاک کے نورِ علم کے عاشق نہ ہوتے، تواپنے صاف ستھرے گھروں کو سٹور جیسے نہ ہونے دیتے، لیکن میں سچ کہہ رہا ہوں کہ ہمارے تمام عزیزوں کوعلم سے شدید محبت یعنی عشق ہے، کیوں نہ ہوجبکہ علم امامِ اقدس واطہرؑ کا نورِمنتشر ہے، جیسا کہ میں نے بارہا دیکھا ہے کہ ہرعزیزمقالۂ نو اورنئی کتاب کوبھرپورعقیدت ومحبت سے چومتا ہے، اوراحتراماً آنکھوں سے لگا لیتا ہے۔
۲۰۔ مرکز کی دیگرشاخوں کی طرح کراچی شہرمیں بھی خانۂ حکمت کی دو برانچ ہیں، ایک “شاہ بی بی برانچ” اوردوسری کریم آباد برانچ، “شاہ بی بی برانچ” ہیڈ مسٹریس شاہ بی بی کی تحویل میں ہے، آپ ہمارے ادارے کی ایک بہت سینئیر رکن اورایک ایڈوائزر ہیں، ان کی انسانی اورایمانی خوبیوں کی وجہ سے سب عزت کرتے ہیں، وہ گویا زمین پرایک فرشتہ ہیں، پروردگارِعالم ان کودوجہان کی کامیابی اورسربلندی عنایت فرمائے!
۸۴
۲۱۔ کریم آباد برانچ پرخدا کی طرف سے رحمت وعلم کی بارش برس رہی ہے، اس لئے یقین آتا ہے کہ اس خوش نصیب برانچ کی بہت ترقی ہوگی، اس میں ہمارے ہیڈ آفس کی بھی بہت بڑی سعادت ہے کہ کریم آباد برانچ میں بہت کام ہورہا ہے، خوشی کی بات تویہ ہے کہ سبھی روحانی تائید پریقین رکھتے ہیں، اس لئے یہ اکثراوقات ذکر و عبادت اورگریہ وزاری سے عقل و روح کی قوّتیں حاصل کرتے ہیں۔
۲۲۔ ہمیں نعمت شناسی کے بہت سارے آنسو بہاتے ہوئے اور ٹھوڑی کے بل گرتے ہوئے عاجزانہ سجدۂ شکرگزاری بجا لانا چاہئے کہ خداوندعالم کے فضل وکرم سے ہمارے ادارے میں کئی بدنی ڈاکٹرز بھی ہیں، جن میں سے بعض علم دوست اورفرشتہ صفت ڈاکٹروں نے اپنے اپنے کلینک کا نام اپنے علمی استاد کے نام پررکھا ہے، اوروہ میڈیکل ایڈوائزر بھی ہیں، یعنی محترم ڈاکٹر رفیق جنت علی، جوخانۂ حکمت کے اعزازی سیکریٹری بھی ہیں، اوران کی بیگم محترمہ ڈاکٹرشاہ سلطانہ، اورمحترمہ ڈاکٹر زرینہ اہلیہ حسین (مرحوم )۔
۲۳۔ دراصل یہ مظہرِنورِ خدا، ہادیٔ زمان، امام برحق صلوات اللہ علیہ کا علمی معجزہ ہے کہ ہماری کتابیں ایسی تیزی سے دنیائے اسماعیلیت میں پھیل رہی ہیں، اب ان شاء اللہ تعالیٰ روس کی
۸۵
جانب بھی جا رہی ہیں، آپ نے یہ نویدِ جانفزا پہلے ہی سنی ہوگی کہ مولا اِن کتابوں سے اور اس علمی خدمت سے بہت ہی راضی اورخوشنود ہیں، یہ میرا ایمان ہے کہ حاضرامامؑ کی اِس خوشنودی میں تمام عمدہ سے عمدہ دعائیں جمع ہیں، پس ہمارے جملہ عزیزوں کوامامِ اقدس و اطہرؑ کی پرحکمت رضا اورخوشنودی مبارک ہو! ہزاربارمبارک ہو! لاکھ بارمبارک ہو! آمین!!
۲۴۔ آپ کوقرآن حکیم اورمعرفت کی روشنی میں یہ نکتہ جاننا ہے کہ قولاً وَ فِعْلاً رَ بُّنَا اللّٰہ (۴۱: ۳۰ ) کہنا ہے، اور اِ ستقامہ (۴۱: ۳۰ ) کے معنی اختیاری قیامت کے ہیں، اورفرشتے جو مومنین کے اولیاء (دوست، مددگار۴۱: ۳۱) ہیں، وہ آپ کی دو طرح سے مدد کرتے ہیں، آپ میں آکر، اوردوسرے مومنین میں جاکر، الحمد للہ۔
یہی کچھ ہورہا ہے، اوراس رحمتِ خداوندی کی سب سے نمایان مثال یعنی جسمانی فرشتے (۱۷: ۹۵ ) ڈاکٹرفقیرمحمد ہونزائی، ان کی پاکیزہ سیرت بیگم رشیدہ (صمصام ) اوروہاں کے ہمارے جملہ عزیزان ہیں، یہ لنڈن کا روحانی اورعلمی قصہ ہے۔
۲۵۔ ادارۂ عارف کراچی کے صدر محمد عبد العزیز آج کل امریکا میں ہیں، چیئرمین نورالدّین راجپاری اورچیف ایڈوائزر شمس الدّ ین جمعہ، ان تینوں عملداروں کی اوردوسرے تمام عزیزوں کی خواہش اورپرخلوص دعوت پرمیں پہلی بارامریکا گیا تھا، عجیب بات ہے
۸۶
کہ وہاں کے عزیزان شوقِ ملاقات سے بیتاب تھے، جیسے بہت پہلے ہی سے ہم آپس میں یکجان اورکثیرقالب دوست ہوچکے ہوں، جی ہاں یہ حقیقت ہے، ان کے اس جذبۂ دینداری اورعلم دوستی سے میں زبردست متاثر ہوا، اورمجھے بے حد خوشی ہوئی، اورآگے سے آگے اس روحانی خوشی میں اضافہ ہوتا گیا، یہاں تک کہ ان کی یادیں دل پرنقش اورناقابلِ فراموش ہوگئیں، خدا کرے کہ میٹھی میٹھی یادیں خاموش دعائیں ہوجائیں! اورہرعزیزکے حق میں ایسا ہو!علم وہنراورامریکا جیسے عظیم ملک کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں کے عزیزان اس دورہ کے بارے میں ایک مکمل رپورٹ لکھیں کہ کن کن گھروں میں مجالس ہوئیں، اوردیگرضروری احوال۔
۲۶۔ دو بہت سینیئر لیڈی ممبرزایسی خوش نصیب ہیں کہ انہوں نے علم پھیلانے کے سلسلے میں نہ صرف امریکا ہی میں بلکہ قبلاً پاکستان میں بھی طویل اوربے شمارخدمات انجام دی ہیں، اس کا جزوی اورکلّی اجروصلہ توخداوندِعالم ہی عطا فرمائے گا، ہم صرف ان کی گرنمایہ خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے ناموں سے دو برانچز قائم کرتے ہیں: یاسمین نورعلی برانچ اورماہِ محل بدرالدّ ین برانچ امید ہے کہ میرا یہ مشورہ تمام عزیزوں کومنظورہوگا۔
۲۷۔ امریکا کے احباب کی اخلاقی جاذبیّت اورایمانی کشش
۸۷
سے باہرنکل جانا اگرچہ بڑامشکل کام تھا، تاہم طے شدہ پروگرام کے مطابق یہ بندہ ایڈمنٹن (کینیڈا ) گیا، تووہاں بھی ہمارے دوست جامِ عشقِ مولاسے مست ومدہوش تھے، قربان ہوجائیں علیٔ زمانؑ کے جان نثارمریدوں سے کہ ہرجگہ فرشتوں کی طرح کام کررہے ہیں، ادارۂ عارف کی ایڈمنٹن برانچ کے عملداریہ ہیں: ڈاکٹرنوراللہ جمعہ چیئرمین، تیریزکانجی سیکریٹری، اورنسیم جمعہ ایڈوائزر، ان شاء اللہ وہ عزیزان پروگرام کے مطابق اپنا کام کرتے رہیں گے، اوران کی بہت ترقی ہوگی۔
۲۸۔ فرانس میں ہمارے عزیز امام داد کریم بہت ہی ضروری امور کوانجام دے رہے ہیں، ان کا ایمان پہاڑ کی طرح مضبوط ہے، وہ علم کی روشنی پھیلانے میں حکمتی مدد کر رہے ہیں، پروردگار ان کو دونوں جہان کی عزت و آبرو عنایت فرمائے!
۲۹۔ جس طرح بفضل خدا ہر کامیاب دَورہ کے بعد مجھے کراچی آنا پڑتا ہے، اسی طرح اس تحریرمیں بھی آخراً کراچی میں واپس ہوکریہاں کے تمام عزیزوں کو پرخلوص سلام کرتا ہوں، اوران کی انمول خدمات پردل وجان سے مبارکباد دیتا ہوں، یعنی صدرفتح علی حبیب، نائب صدرنصراللہ قمر الدّین، صدر محمدعبدالعزیز، نائب صدرمحیُّ الدّین شاہ صوفی، اعزازی سیکریٹری ڈاکٹر رفیق جنّت علی، جائنٹ سیکریٹری الامین، اوران سب کی بیگمات، نیزچیف
۸۸
ایڈوائزرخان محمد، اوردوسرے تمام عہدہ داران وارکان کوبعد از سلام عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ خدائے رحمان و رحیم ان کو اور شرق وغرب کے جملہ عزیزوں کو ہرنیک کام میں تائیدِ روحانی اورعلمی خدمت میں کامیابی عطا فرمائے!آمین یاربّ العٰلمین!!
نصیرالدّ ین نصیرؔ ہونزائی، کراچی
اتوار،۴ربیع الثّانی ۱۴۱۲ ھ
۱۳، اکتوبر۱۹۹۱ ء
۸۹
سپاسنامہ
بخدمتِ جناب علّامہ نصیرالدّ ین نصیرؔ ہونزائی صاحب
برموقعِ واپسی ازامریکہ، ماہِ اگست ۱۹۹۱ء
مشک آنست کہ خودببوید۔ نہ آنکہ عطّار بگوید
کستوری وہ ہے جوخود ہی خوشبو پھیلا کراپنی پہچان کراتی ہے، یہ ایسی چیزنہیں کہ جسے عطارکے تعارف کی حاجت ہو، اس مثال سے کہیں بڑھ کر ہمارے بزرگوار استاد علّامہ نصیر الدّ ین نصیرؔ ہونزائی صاحب کی شخصیت ہے، جو ہرگز کسی تعارف کی محتاج نہیں، پھربھی اگرہم خلوص ومحبت کی وجہ سے آپ کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہیں، توموصوف کی ہستی کے پہلو ارفع واعلیٰ اورغیرمحدود ہیں، درحالے کہ ہماری سوچ کی پرواز نہایت ہی محدود ہے، تاہم جس طرح طفلِ نوآموزجب ماں باپ کی محبت سے بے قابو ہوکر
۹۰
ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے سہارے سے باتیں کرتا ہے، توایسے میں اُس بچے کے والدین پھولے نہیں سماتے، اوربسا اوقات خوشی اورشادمانی سے ایسی اولاد کو سینے سے لگا لیتے ہیں۔
صاحب!ہم سب آپ کے شاگرد، جوامریکہ میں رہتے ہیں، سچ مچ علمی اطفال ہیں، لیکن اس کے باوجود اِس خواہش سے بیتاب ہیں کہ ہمارے قلوب میں آپ کے لئے جیسا جذبۂ عقیدت ومحبت ہے، اورجس طرح ہم آپ کے احسان مند و ممنون ہیں، اس کا اظہار بیان کریں، تاہم کوشش بسیارکے باوصف ہم الفاظ ومعانی کی تنگ دامنی کے سبب سے اپنے دلی جذبات کواحاطۂ تحریرمیں لانے سے عاجز ہیں۔
جناب عالی! جولوگ آپ کی شخصیت سے واقف وآگاہ ہیں، وہ ہرگزاس حقیقت سے انکارنہیں کرسکتے، کہ آپ کے پاکیزہ دل میں امامِ عالیمقام صلوات اللہ علیہ کا جو دریائے علم موجزن ہے، وہ دنیاوی اور اکتسابی نہیں، بلکہ وہ عطائے ربّانی سے ہے، اس لئے اسے عطائی اورلدّنی کہا جاتا ہے، جس کی خاطر یقیناً آپ نے بے شمارمصائب وآلام کونہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا، یہاں تک کہ آپ نے قید و بند کی صعوبتیں بھی دیکھیں، آپ کوبارہا نظربند کیا گیا، آپ کے ساتھ اکثربڑے لوگوں نے ہمیشہ مخالفت اوردشمنی کی، آپ بعض دفعہ ایسے شدید مشکل حالات سے بھی گزرے
۹۱
کہ بس ایسے میں موت ہی موت نظرآتی تھی، آخریہ سب کچھ کیوں؟ اورآپ کا کیا قصورتھا؟ بس یہی کہ آپ حق کی حمایت کیوں کررہے تھے؟ اورکیوں اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ علم کی روشنی پھیلائیں؟
ان تمام نا مساعد حالات میں آپ نے عالی ہمتی سے کام لیتے ہوئے خدا پرتوکّل کیا، کیونکہ آپ عشقِ مولا سے سرشار ہوکراپنی ہستی کوفنا یا قربان کر دینے کے آرزومند تھے، اسی وجہ سے گاہ وبیگاہ امامِ برحقؑ کے نورانی دیدارکی چاہت میں مرغِ نیم بِسمل کی طرح تڑپتے رہتے، بالآخرسرکارِ عالی وقارکی دعائے برکات سے رحمتِ خداوندی جوش میں آگئی، اورآپ کو گنجینۂ ہائے عرفان سے مالامال کیا گیا، اوراس وقت سے لے کرآج تک آپ نے میدانِ علم وحکمت میں ایسے ایسے نقوشِ جاویدان ثبت کردئیے ہیں، جن کی درخشانی وتابانی رہتی دنیا تک برقرار رہے گی، یعنی یہ جوآپ کے علم وحکمت کے سدا بہار چمنستان اورباغات ہیں، ان کے مہکتے ہوئے پھول اورپُرلذّت پھل ہمیشہ کون ومکان میں پھیلتے رہیں گے۔
جناب والا! آپ کی انتہائی گرانقدر علمی کاوشوں اورخدمات سے خاوران (مشرق ومغرب ) میں لاتعداد اہلِ ایمان، سکالرز، اورعلم جُو (طالبان) مستفیض ومستفید ہو رہے ہیں، آپ نے جس شان سے حقیقی علم کی تبلیغ و اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا ہے، اس کی مثال کے لئے ڈائمنڈ کاعمل کیا خوب ہے کہ جب اس سے روشنی کی لہر
۹۲
گزرنے لگتی ہے، تو ڈائمنڈ اپنی خاصیت سے ایک ہی رنگ کی روشنی کومختلف ابوان اورنوع بنوع رنگوں میں تقسیم کرتا ہے، چنانچہ اُ ستاذِ مکرم کا طغرائے امتیاز بھی ایسا ہی ہے کہ آپ نے علمِ روحانی کومختلف النّوع حیثیتوں میں پیش کیا ہے، جیسے آپ کے روحانی علم پرمبنی پیاری پیاری کتابوں میں اچھوتے، نرالے اوراعلیٰ موضوعات کی گوناگونی اوررنگارنگی کا پُربہاراوردلکشش منظردکھائی دیتا ہے، اِسی طرح ایک ہزارسے زائد آڈیوکیسیٹوں کا پُرمغز ذخیرہ علمی عجائب وغرائب کا بہت بڑاخزانہ ہے، اس کے علاوہ تقریباً ۱۰۰ نقوشِ حکمت ہیں، ان میں سے ہرنقشہ کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ علامہ صاحب ہی کا خاصہ ہے کہ کوزہ میں دریا کو بند کیا ہے، مزید برآن آپ کی پُرحکمت نظموں کا خزانہ ہے، جوروحانی مشاہدات وتجربات کے عرفانی بھیدوں سے بھرا ہوا ہے۔
آپ کے کلام (حصۂ نظم ) کومورخۂ ۱۹،اکتوبر ۱۹۶۱ء میں امامِ زمان صلوات اللہ علیہ نے گنان کا مرتبہ مرحمت فرمایا، یہ کلام بروشسکی، فارسی، اردو اورشرقی ترکی میں ہے، شمالی علاقہ جات کے جماعت خانوں میں جب استادِ معظم کا کلام پڑھا جاتا ہے، تواس میں نورِ امامت کے عشق کی جومقدّس روح ہے، اس کے زیراثرعاشقانِ مولا پرمستی، مسرت، وجد، محویت، فنائیت، مشاہدہ اورگریہ وزاری جیسی روحانی کیفیات گزرتی ہیں۔
۹۳
یہ روحانی اورعلمی نعمتیں جولازوال اورغیرفانی ہیں، ہمارے لئے میسرآئی ہیں، اورہراُس مومنِ صادق کے لئے ہیں، جوچراغِ امامت کا پروانہ ہو، جو دیدارِ باطن کا طالب اورشیدائی ہو، اورجس خوش نصیب مومن کوگنجِ معرفت کی طلب ہو۔
علامۂ موصوف نے جن خاص الخاص موضوعات پرروشنی ڈالی ہے، ان میں سے چند نمونے یہ ہیں: قرآنیات، اسلامیات، توحید، نبوّت، امامت، آسمانی محبت، طریقۂ اسماعیلیّت، تقوٰی، ذکروعبادت، گریہ وزاری، اطاعت، نور، روح، تصوف، حکمت، باطنیت، خدا کی ہرچیز (عرش، کرسی، قلم، لوح وغیرہ ) زندہ ہے، سنت الٰہی، مطالعۂ قدرت، علمِ حدودِ دین، علم الاشارات، علم الاعداد، علم التّاویلات، علم الاسرار، علم نقوش (ڈایاگرامز) اَسرارِانبیاء وأئمّہ، یک حقیقت، عالمِ خیال، عالمِ خواب، عالمِ ذرّ، عالمِ شخصی، حکمتِ تثنیہ، انائے عُلوی، انائے سفلی، قیامت، ابداع و اِنبعاث، تخلیق درتخلیق، ازل وابد، لامکان و دھر، انسان، وحدتِ انسانی، اڑن طشتریاں، جسمِ لطیف، روحانی مشقیں، قصۂ معجزات، روحانی خوشبوئیں، روحانی سائنس، مذہب اورسائنس، علاج، زندہ بہشت، سوال وجواب، روح اورمادّہ، دائرے، لاابتدا اورلاانتہا، وغیرہ وغیرہ۔
آج کے اس دگرگون زمانے میں مذہب سے متعلق ایسے
۹۴
پیچیدہ سوالات سامنے آتے ہیں کہ جن سے عقل سربگریبان رہ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ مذاہبِ عالم کے علماء نہایت مضطرب و پریشان ہیں، اس پرستم یہ کہ دنیا کی آبادی کا بیشترحصہ مادّیت کی یلغارسے خائف ہوکر زندگی کے مادّی پہلوکوسب کچھ سمجھنے لگا ہے، ایسے میں بزرگواراستاد علم وحکمت کے اسلحہ سے لیس ہوکرہمہ وقت مستعد ہیں، تاکہ ہرگونہ سوال کاجواب دے کردین وایمان اورعقیدۂ روحانیت کا دفاع کیا جائے۔
مذہب، فلسفہ، سائنس وغیرہ الغرض کسی بھی موضوع سے سوال ہو، آپ بلا تاخیر اس کا نہایت تسلی بخش جواب مہیا کردیتے ہیں، باآنکہ بسا اوقات ہم کم علمی سے غیرمنطقی اور مبہم سوالات بھی کرتے ہیں، لیکن آپ ہمیشہ خندہ پیشانی اورمہروشفقت کے ساتھ عقدہ کشائی فرماتے ہیں، آپ کی تقریروتحریر کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس کے مطالب صاف وصریح، تضادات سے پاک اورعلم وحکمت سے آراستہ و پیراستہ ہوا کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کے پیش کردہ دلائل و براھین تسکین بخش و خاطر نشین ہوا کرتے ہیں، کہ جس میں کوئی شائبہ نہیں ہوتا، جیسا کہ کہا گیا ہے:۔
این سعادت بزورِ بازونیست۔ تانہ بخشد خدائےبخشندہ
یعنی یہ نیک بختی قوّتِ بازو سے حاصل نہیں کی جا سکتی، جب تک کہ خداوندِ مہربان کسی کوعطا نہ کرے۔
۹۵
آخراً عالی جناب ہم سب آپ کے عزیزشاگرد جوامریکہ میں رہتے ہیں تہِ دل سے ممنون وشکرگزارہیں کہ آپ نے اپنی مصروفیات کی کثرت کے باوجود اوراس سے بڑھ کر کہن سالی کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کرہماری ناچیزدعوت کوشرفِ قبولیت بخشا، اورہمیں اپنی ہمنشینی کی سعادت سے نوازا، اب ہم چشمِ پُرنم کے ساتھ اپنے قلبی احساسات کی ترجمانی کے لئے مولائے رومی کی اس رباعی کا سہارا لیتے ہیں، فرماتے ہیں:۔
نی آبِ روان زماہیان سَیر شود
نی ماہی ازان آبِ روان سیر شود
نی جانِ جہان زعاشقان تنگ آید
نی عاشق ازانِ جانِ جہان سیرشود
ترجمہ: نہ کبھی بہتا پانی مچھلیوں سے رنجیدہ ہوجاتا ہے، نہ کسی وقت مچھلیوں کا جی اس آبِ روان سے بھر جاتا ہے، نہ توحقیقی معشوق عاشقوں سے بیزار ہو جا تا ہے، اورنہ ہی عاشقوں کو کسی حال میں محبوب کے دیدارسے سیرچشمی ہوجاتی ہے۔
استاد معظم! واللہ، ہم بھی جان ودل سے آپ کوچاہتے ہیں، اورآ پ کے شیدائی ہیں، توپھریہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کی ملاقات اورعلمی مجلس سے سیرہوجائیں، ہم تودائم الوقت آپ کی عرفانی صحبت میں رہنا چاہتے ہیں، مگرہماری ایسی بڑی خوش بختی کہاں! پھربھی ہم باادب دست بستہ خواستگار ہیں کہ براہِ کرم آپ بہت جلد دوبارہ ہمارے درمیان تشریف لائیں اورہماری تشنہ لب
۹۶
روحوں کوعلمِ امامؑ کے آبِ زلال سے سیراب فرمائیں۔
پروردگارِعالم کی بارگاہِ عالی میں ہم بصد عاجزی دعا کرتے ہیں کہ جس طرح اس مسبّب الاسباب نے آپ کوعلمِ روحانی کے بے پایان خزانوں سے مالامال فرمایا ہے، اورجیسے ہمہ رس علمی خدمت کے زرین مواقع عنایت کردیئے ہیں، اسی طرح وہ مہربان آپ کی زندگی بھرکی تمام خدمات کوقبول فرمائے! اور دونوں جہان کی سرخروئی و سرفرازی عطا فرمائے!آمیں!یاربّ العٰالمین!
ازطرف اراکین ادارۂ عارف امریکہ
۱۸؍اگست ۱۹۹۱ء
۹۷
الوداعی پیغام
بزرگواروعالی وقاراستاذ! آپ نے جس شان سے بذریعۂ علم امامت، جس میں روشنی ہی روشنی ہے، ہمارے تاریک دلوں کومنوّرکردیا، اورجیسے آپ کے روشن دلائل سے ہمیں اپنے پاک مذہب کے باطنی جوہرکاعلم ہوا، ان تمام اعلیٰ نعمتوں کا رسمی شکریہ توہم مختصرالفاظ میں ادا کرسکتے ہیں، لیکن حقیقی معنوں میں انتہائی مشکل بلکہ نا ممکن ہے، چنانچہ اس اعتراف کے ساتھ ہم آپ کے جملہ عزیزان “جوادارۂ عارف امریکہ” سے وابستہ ہیں، آپ کی مہربانیوں اورنوازشوں کے لئے سرِ تعظیم خم کرتے ہوئے شکریہ ادا کرتے ہیں، اورسپاس گزارہیں۔
صاحب! جب پہلی مرتبہ آپ سے ہماری ملاقات ہوئی توہمارے دلوں سے مجموعاً یہ صدا بلند ہوئی: چشمِ ما روشن، دلِ ماشاد (آپ کی تشریف آوری سے ہماری آنکھیں روشن ہوئیں، اور
۹۸
ہمارے دل خوشی وشادمانی سے معمور ہوئے ) اب جبکہ آپ ہمارے درمیان سے تشریف لے جارہے ہیں، توحالت وکیفیت اس کے برعکس ہے، وہ یہ کہ سچ مچ اس وقت ہماری آنکھیں تاریک اوردل آفسردہ ہو رہے ہیں، اس صورتِ حال کے پیش نظراجازت ہوتومیں آپ سے عاجزانہ گزارش کروں کہ آپ فی الحال یقیناً ہم ایسے سبزۂ نوخاستہ کوچھوڑ کر جانے والے تو ہیں، لیکن خدارا! ہم سقیم الحال اورافتادۂ راہ ہیں، ہمیں آپ کے اُس خاص علم کی بے حد ضرورت ہے، جوامام عالیمقامؑ سے ملا ہے، آپ کا حالیہ دورۂ امریکہ دراصل سلسلۂ ملاقات کے لئے ایک مستحکم اورمفید بنیاد ثابت ہوا، پس ہم بہت ہی آرزومند ہیں اورامید قوّی رکھتے ہیں کہ ان شاء اللہ آپ سالِ آئندہ بھی اسی طرح یہاں تشریف فرما ہوں گے، اورہم توابھی سے آپ کے آنے کا دلکش تصورکرتے رہیں گے۔
استادِ مکرم! جب آپ واپس پاکستان جائیں تو اُس وقت ہماری طرف سے تمام عزیزساتھیوں کوسلام ودعا اورعقیدت ومحبت کا پیغام دیجئے گا، کتنی بڑی سعادت ہے کہ وہ ارضی فرشتے عرصۂ دراز سے آپ کی علمی مجلس میں رہتے آئے ہیں، اورخدمت میں بھی وہ بہت سینئیر ہیں، چنانچہ ہم اُن سب کے جذبۂ خدمت کودل وجان سے سلام کرتے ہیں، کاش! ہمیں ان کی ملاقات کا شرف حاصل ہوتا، تو ہم بڑے شوق سے ان کی دست بوسی کرتے،
۹۹
ان شاء اللہ وہ دن بھی دور نہیں، جس میں ہم سب یکجا ہوکرسب سے بڑی فتح مندی اورکامیابی کی عید منائیں گے، آمین!
استادِ محترم! اگرہم آپ کی بابرکت زندگی پرغوروفکرکریں، توبڑاتعجب ہوگا کہ آپ نے روحانی ترقی اوردینی خدمت کی خاطر کیسی کیسی شدید مشقیتں اٹھائی ہیں، کن کن ممالک کا سفرکیا ہے، اورآج تک آپ کے دور دراز دَ ورے جاری ہیں، حالانکہ آپ کی عمرِشریف اس وقت تقریباً ۷۴ برس کی ہے، ہمیں لنڈن کے احباب کی نیک بختی پررشک آتا ہے کہ شاید حسنِ کارکردگی کی کشش سے آپ اکثران حضرات کے پاس جاتے رہے ہیں، ہم آخر میں دست بستہ معذرت خواہ ہیں کہ شاید آپ کے طعام و قیام کا شایانِ شان انتظام ہم سے نہ ہو سکا، ہم اپنی ہرغلطی اور کوتا ہی پرآپ ایسے عظیم درویش سے معافی چاہتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ آپ کی درویشانہ دعا کے لئے بھی درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے خاص خاص اوقات میں ہماری دینی اوردنیاوی صلاح وفلاح کے حق میں دعا فرماتے رہیں، آمین!
از طرف خاکسارانِ ادارۂ عارف امریکا
۱۸، اگست۱۹۹۱ء
۱۰۰