گلدستہ ای از گلزارِ مولویٔ معنوی
کلماتِ جامع
)انتساب(
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا ارشادِ مبارک ہے: بعثت بجوامع الکلم۔ مجھے جوامع الکلم (مختصر الفاظ میں بہت سے معانی کو سمو دینا) کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ دوسری حدیثِ شریف میں ہے: اوتیت جوامع الکلم۔ مجھے وہ باتیں ملیں جن میں لفظ کم ہیں لیکن معانی بہت ہیں (یعنی قرآن جس کے الفاظ تھوڑے اور معانی و مطالب بے شمار ہیں)۔
کان یتکلم بجوامع الکلم۔ آنحضرتؐ ایسے کلمے ارشاد فرمایا کرتے جو بہت ہی جامع ہوتے (یعنی الفاظ تھوڑے اور معانی بہت ہوتے) اس سے معلوم ہوا کہ “جوامع الکلمُ” قرآن اور حدیث دونوں کا نام ہے، کیونکہ حضورِ اکرمؐ کے جملہ اقوال و افعال قوانینِ قرآن کے مطابق تھے، جبکہ محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام اہلِ ایمان کو خود حکم دیتے ہیں کہ: تخلقوا باخلاق اللہ (تم اوصافِ خداوندی سے آراستہ ہو جاؤ)۔
قرآن و حدیث کی مذکورۂ بالا جامعیّت میں بطورِ خاص تاویلی حکمت کا اشارہ ہے، کیونکہ جوامع الکلم کے معانی سے تاویل الگ
۳
نہیں ہو سکتی، جبکہ قرآنِ حکیم میں تاویل کا مضمون زبردست اہمیت کا حامل ہے، آپ اُن تمام آیاتِ کریمہ کا بغور مطالعہ کر کے دیکھیں جو تاویل سے متعلق ہیں، آیا قرآنِ پاک کے تاویلی اسرار غیر ضروری ہو سکتے ہیں؟ نہیں، قرآنِ کریم کی تمام ظاہری و باطنی نعمتیں بے حد ضروری ہیں۔
لغات الحدیث، کتاب “الف” ص ۸۵ پر یہ حدیث درج ہے: اللھم فقھہ فی الدین و علمہ التاویل یا اللہ! ابنِ عباس کو دین کی سمجھ عطا فرما اور اس کو تاویل سکھلا دے۔ مولانا علی علیہ السّلام کا ارشاد ہے: ما من اٰیٰۃ الا و علمنی تاویلھا۔ قرآن کی کوئی آیت ایسی نہیں جس کی تاویل آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ کو نہیں سکھلائی ہو۔
یہ حدیثِ شریف مثنوی کے دفترِ سوم میں بھی ہے: ان للقرآن ظھرا و بطنا و لبطنہ بطن الیٰ سبعۃ ابطن۔ یقیناً قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے اور اس کے باطن کا بھی باطن ہے سات باطنوں تک (اور دوسری روایت میں ستر باطنوں کا ذکر ہے)۔
یہاں تک اس جدید انتساب کا خاص علمی حصّہ ہے، اب میں اپنے بہت ہی عزیز و شفیق دوست الامین (ابنِ صدر الدین ابنِ رجب علی خاکوانی) جنرل سیکریٹری آف خانۂ حکمت کا ذکرِ جمیل کرنا چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے کراچی کے سینئر ساتھیوں میں سے ہیں،
۴
علمی خدمت کی مقدّس راہ میں ثابت قدم، حقیقی مومن، امام شناسی کا شیدائی، مولا کا جان نثار، وفادار، محبِ اہلِ بیتِ اطہار (علیہم السّلام) ، علم و حکمت کے قدردان، کم گو، صابر، پاک باطن، متّقی، عابد، ہوشمند، خیرخواہِ خلق، اور علیٔ زمان (علیہ السّلام) کے راسخ العقیدت دامن گیر، الحمد للہ، میرے یہ عزیز ایسے بہت سے اوصاف کے مالک ہیں۔
آپ کی خوش اخلاق بیگم محترمہ نسیم بڑی ایماندار اور سلیقہ مند خاتون ہیں، تاریخِ پیدائش: ۲۶جون ۱۹۵۳ء، تعلیم: ایم۔ اے (پولیٹیکل سائنس)، سماجی خدمات: کونسلر برائے یونین کونسل “کونکر” ضلع ملیر سندھ، (۱۹۷۹ء تا ۱۹۸۳ء)، پیشہ: بینک میں ملازمت، عہدہ: پرسنل سیکریٹری برائے مینیجنگ ڈائریکٹر، علم کی مقدّس خدمت کی نسبت سے ٹو اِن وَن (TWO IN ONE) یعنی خانۂ حکمت کی بے مثال خدمات کے عظیم ثواب میں یہ دونوں فرشتے (الامین اور نسیم) ایک ہیں، کیونکہ یہ علمی ادارہ دونوں عزیزوں کو بے حد عزیز ہے۔
ان کی بہت ہی پیارے بیٹی نورین (۱۱ سالہ) اور بہت ہی عزیز بیٹا شاہ نواز (۷ سالہ) ان کے لئے محبتوں اور خوشیوں کے دو زندہ خزانے ہیں، ان شاء اللہ، علم وہنر کے اس روشن زمانے میں یہ دونوں نیک بخت بچے غیر معمولی ترقی کریں گے، اور پیاری جماعت کی اعلیٰ خدمت اور پاک مولا کی مبارک دعا سے دونوں جہان میں سرفراز ہو جائیں گے، آمین!
ن۔ن۔ (ح۔ع) ھ۔ کراچی
پیر ۸ ذی الحجہ ۱۴۱۵ھ، ۸ مئی ۱۹۹۵ء
۵
دیباچہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ قرآنِ حکیم نے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان فرمایا کہ کائنات و موجودات کی کوئی چیز (مخلوق) ایسی نہیں جو لسانِ قال یا زبانِ حال یا نمائندۂ مثال سے اللہ جلّ جلالہ کے لئے صلاۃ (نماز) نہ پڑھ رہی ہو (۲۴: ۴۱) اس کی بارگاہِ عالی میں سجدہ ریز نہ ہو رہی ہو (۱۳: ۱۵، ۱۶: ۴۹، ۲۲: ۱۸) اور حق تعالیٰ کی تسبیح خوانی نہ کر رہی ہو، لہٰذا میرے دلِ مضطرب کی پُرسوز آرزو یہ ہے کہ:
اے کاش میرا ناتوان قلم بطرزِ عاشقانِ وارفتہ مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات کرتے کرتے بار بار غلبۂ عشق سے سجدۂ شکرگزاری میں سرنگون ہو جاتا! خامۂ حقیر قطرہ ہائے خونِ شہیدان جیسے انمول آنسوؤں کے موتیوں کی بارش برساتا! کاش ہم خود بھی قلم ہی کی طرح سجدۂ عشق میں بار بار اشک ریزی کر سکتے! تا کہ اس کی برکتوں سے قلب و جان میں اہلِ بیتِ اطہار علیہم السّلام کی محبت و مودت کا ایک بہشت آسا عالم آباد ہو جاتا!
کتابچۂ ہٰذا کا نام:
اس کتابچہ کا نام ہے: “گلدستہ ای از گلزارِ مولویٔ معنوی۔” کتاب چھوٹی سی مگر نام بہت بڑا
۷
ہونے میں بھی حکمت ہو سکتی ہے، یہ تشریح کی غرض سے ہے، آپ اسے “گلدستہ” کہہ سکتے ہیں، میرے نزدیک مولای رومی صوفیٔ اعظم ہیں، اس لئے ان کی تعلیمات طریقت کا بہترین نمونہ ہیں، چونکہ اسلام دینِ فطرت یعنی آفاقی دین ہونے کی وجہ سے درجات کی سیڑھی پر مبنی ہے، تاہم اس کے بڑے درجات چار ہیں: شریعت، طریقت، حقیقت، اور معرفت۔
حکمتِ فرد= بے مثال حکمت:
آپ خوب یاد رکھیں اور بھول نہ جائیں کہ قرآنِ عزیز کے پانچ مقامات پر حکمتِ فردانیت کا ذکر آیا ہے: سورۂ مریم (۱۹: ۸۰)، سورۂ مریم (۱۹: ۹۵)، سورۂ انبیاء (۲۱: ۸۹)، سورۂ انعام (۰۶: ۹۴)، سورۂ سبا (۳۴: ۴۶)۔ یہ حکمت بڑی عظیم الشّان اور اعجوبۂ دو جہان ہے، اس میں ایسے اعلیٰ عرفانی سوالات کے لئے حکمتی جوابات ہیں:
۱۔ انسان کی ازلی اور ابدی حقیقت کیا ہے؟
۲۔ کیا یہی نظریہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو فردِ واحد بنا کر پیدا کیا، اور سب کو فردِ واحد بنا کر واپس کر لے گا؟
۳۔ آیا ہم یہ مانیں کہ جو ازل ہے وہی ابد بھی ہے اور جو ابداع ہے وہی انبعاث بھی ہے؟
۴۔ یہ حقیقت کس طرح ممکن ہے کہ انسان ایک طرف ہمیشہ بہشت میں بھی ہو، اور دوسری طرف دنیا میں بھی آئے؟
۵۔ یہ
۸
تاویلی مفہوم قرآنِ عظیم کی کس سورہ اور کس آیہ میں ہے؟: “روحانی ترقی یا انفرادی قیامت کے سلسلے میں لوگوں کو یہ حکم ملا ہے کہ وہ منشائے الٰہی کے مطابق کثرت کو پیچھے چھوڑ کر صرف دو ہو جائیں، اور اس کے بعد دوئی کو بھی پسِ پشت ڈال کر ایک ہو جائیں، پھر علمِ توحید میں غور و فکر کریں۔”
شریعت اور طریقت:
سورۂ مائدہ (۵) کی آیتِ کریمہ ۴۸ کے کئی ترجموں کو غور سے پڑھ لیں، اس میں شریعت اور طریقت (شرعۃ و منہاجا، ۰۵: ۴۸) کا ذکر آیا ہے، اور اسی آیۂ شریفہ میں ایک دوسرے سے نیکیوں میں سبقت لے جانے کا حکم بھی ہے، پس اگر اسلام میں شریعت، طریقت، حقیقت، اور معرفت کے درجات نہ ہوتے تو دینِ فطرت میں ترقی اور سبقت کا کوئی حکم نہ ہوتا، حالانکہ حکم ہے:
سابقوا ۔ آگے بڑھو، سبقت کرو (۵۷: ۲۱)، سابقون۔ سبقت کرنے والے (۲۳: ۶۱)، وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ اُولٰٓىٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں، وہی تو مقرب لوگ ہیں (۵۶: ۱۰ تا ۱۱)، فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو (۰۲: ۱۴۸)۔
علم و عمل کے درجات:
قرآنِ عزیز میں جہاں جہاں کسی بھی لفظ میں راہِ اسلام کا ذکر آیا ہے، لازماً اس کی
۹
منزلیں بھی ہیں جو شریعت، طریقت، حقیقت، اور معرفت سے عبارت ہیں، یہی منازل دوسرے الفاظ میں اسلام کے چار بڑے درجات کہلاتے ہیں، جن کے بہت سے ذیلی درجے ہیں، کثیر درجوں کا مجموعی نام سیڑھی ہے، آسمانی سیڑھی کا دوسرا نام اللہ کی رسی ہے، کیونکہ یہ کوئی مادّی چیز نہیں بلکہ روح اور عقل ہے، اس لئے اس سے شخصِ کامل کا نور مراد ہے، پس علم و عمل کے درجات اسی معیار کے مطابق مرتب ہو جاتے ہیں، آپ قرآنِ حکیم میں درجات کے موضوع کو غور سے پڑھ لیں۔
شریعت کی تعریف:
حضرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شریعتِ مقدّسہ تمام سابقہ شریعتوں کا خلاصہ و جوہر ہے، یہ پاک شریعت مناسب ترمیمات کے ساتھ زمانۂ نوح سے چلی آئی ہے (۴۲: ۱۳) مسلمانانِ عالم کے لئے دینِ اسلام کا دروازہ شریعت ہی سے کھل گیا ہے، دینِ فطرت (اسلام) کی عالیشان عمارت جو چار منزلہ ہے وہ شریعت ہی کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے، اگر شریعت نہ ہوتی تو نہ دین ہوتا اور نہ اس کی کوئی چیز ہوتی، شریعت کے ظاہر و باطن کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے حضرتِ حکیم پیر ناصر خسرو ق س کی عدیم المثال کتاب وجہِ دین کا مطالعہ کریں۔
۱۰
طریقت کی تعریف:
جیسا کہ ذکر ہوا کہ قرآنِ پاک میں طریقت کا ایک خاص نام منہاج (۰۵: ۴۸) ہے، جس کے معنی ہیں: کشادہ راستہ یعنی شریعت کا باطن، کیونکہ شریعت بہشت کا میوۂ شیرین ہے، طریقت اس کا مغز، حقیقت روغنِ مغز یعنی تیل اور معرفت اس تیل سے پیدا ہونے والی روشنی (یعنی نور) ہے، حق بات تو یہ ہے کہ ایسی انتہائی خوبصورت مثال قرآنِ حکیم سے باہر کہاں ہو سکتی ہے، چنانچہ شریعت میوۂ زیتون ہے، طریقت مغزِ زیتون، حقیقت روغنِ زیتون، اور معرفت وہ روشنی ہے جو اس تیل کے جلنے سے پیدا ہو جاتی ہے (۲۴: ۳۵)۔
لفظِ زیتون زیت سے نکلا ہے، یہ درختِ زیتون اور اس کے پھل کا نام ہے، یعنی ایسا درخت اور پھل، جس کے مغز اور تیل کی بڑی کثرت و فراوانی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دینِ اسلام اور اس کی شریعت کی ہر چیز مغزِ باطن اور زیتِ حکمت سے لبریز ہے، یہی وجہ ہے کہ وجہِ دین میں شریعتِ اسلامیہ کے تمام اہم امور کی بڑی شاندار تاویل بیان کی گئی ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔
صوفیٔ اعظم:
مولویٔ معنوی نے تصوّف کی دنیا میں بڑا انقلابی کام انجام دیا ہے، اس لئے وہ صوفیٔ اعظم کہلانے کے قابل ہیں، شاید دنیا میں کوئی ایسا علمی و ادبی ادارہ نہیں، جس میں مولای رومی کے آثارِ علمی میں سے کچھ بھی نہ ہو، حضرتِ مولانا
۱۱
امام سلطان محمد شاہ صلوٰۃ اللہ علیہ و سلامہ نے ان کے تصوّف کو اہمیت دی ہے، اور امامِ عالی مقامؑ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ: ناصر خسرو کا فلسفہ مولانا رومی کی “مثنوی” کے فلسفے سے زیادہ گہرا ہے (ڈاکٹر فقیر محمد صاحب ہونزائی کی ایک کتاب: سیدنا حکیم ناصر خسرو ق س ، ص ۴۵ بحوالۂ مشن کانفرنس دار السّلام ، یکم مئی ۱۹۴۵ء)۔
حضورِ انور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بنفسِ نفیس مسلمانوں کو شرعِ شریف کی عملی تعلیم دی، مگر طریقت، حقیقت اور معرفت کی ہدایات و تعلیمات اپنے وصی یعنی حضرت علی علیہ السّلام کے سپرد کر دیں، اور اسی معنیٰ میں فرمایا کہ: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ نیز فرمایا کہ: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ پس اب جو اہلِ طریقت ہیں وہ اپنے اپنے سلاسلِ بزرگان کو حضرت امیر المومنین علیؑ سے ملاتے ہوئے یہ اقرار کر لیتے ہیں کہ علمِ تصوف کا سرچشمہ مولا علیؑ ہی تھے، اہلِ حقیقت کہتے ہیں کہ: علیؑ بلباسِ دیگرے اب بھی موجود ہے کیونکہ قرآنِ حکیم کا فرمانا ہے کہ اللہ کا نور کبھی بجھتا نہیں، اور ان کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کو اسی سرچشمۂ علم و ہدایت سے حقیقت کا فیضان حاصل ہے۔
اب رہا مسئلہ اہلِ معرفت کے بارے میں کہ وہ نیک بخت لوگ کون ہو سکتے ہیں؟ اس کا مفصل جواب یہ ہے کہ وہ لوگ اہلِ حقیقت
۱۲
میں سے ہیں، جو راہِ روحانیّت پر چلنے میں کامیاب ہو گئے، ان پر قیامتِ صغریٰ اپنی تمام شدتوں کے ساتھ گزر گئی، ان کو سب سے اعلیٰ دیدار کی سعادت نصیب ہوئی، اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے ربّ کو پہچان لیا، اور اہلِ معرفت میں سے ہو گئے، انہوں نے اسرارِ ازل و اسرارِ ابد کو یکجا دیکھا جو لوگوں کے وہم و گمان کے برعکس ہیں، مثال کے طور پر عام تصوّر یہی ہے کہ ازل پہلے ہے اور ابد بعد میں، لیکن جو عالم مکان و زمان سے بالاتر ہے اس کی حقیقت کچھ اور طرح سے ہیں
بے مثال کامیابی:
ہم سب رفقائے کار مل کر بھی اور فرداً فرداً بھی بارگاہِ الٰہی میں بصد عاجزی شکرگزاری اور گریہ و زاری کرنا چاہتے ہیں کہ سال بسال اس کی رحمتوں اور برکتوں کی طوفانی بارش میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ ہر وقت ہمیں ڈرتے رہنا ہے کہ کہیں اُس کی بےشمار نعمتوں کی ناشکری اور ناقدری نہ ہو جائے، پس اے دوستانِ عزیز! ہمیں اس بے مثال کامیابی پر فخر و ناز نہیں کرنا ہے، بلکہ بار بار سجدۂ عبودیت و شکر گزاری بجا لانے کے لئے ہمیشہ کوشان رہنا ہے۔
یا اللہ ہم شکر گزاری کی ہمت و توفیق کے لئے تیری بارگاہِ عالی کی طرف رجوع کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں اپنے آپ پر کوئی بھروسہ نہیں،
۱۳
یا ربّ العزّت! ہمیں اپنے سچے عاشقوں کے نقشِ قدم پر چلا لیا کر، تو خود رہنمائی اور دستگیری فرما! ورنہ ہم گر جائیں گے، اور کوئی نہ ملے گا جو ہم کو اٹھا سکے، اے خداوندِ دانا و بینا! تو ہی ہمیشہ ہمارا وکیل و کارساز ہو جا، ورنہ ہم غلط کاموں سے شرمندہ ہو جائیں گے، اے معبودِ برحق! ہم پر دائم الوقت اپنی عبادت کا شوق مسلط رکھ تاکہ ہم تیری بندگی کی سعادت سے کبھی محروم نہ رہیں، بحرمتِ حضرتِ محمد خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔
فقط بندۂ عاجز
نصیر الدین نصیر (حبِّ علی) ہونزائی
کراچی
جمعہ ۲۳ جمادی الثانی ۱۴۱۶ھجری ، ۱۷ نومبر ۱۹۹۵ عیسوی
۱۴
دل کا آسمان
۱۔ نقش بندِ جان کہ جانہا جانبِ او مائلست
عاقلان را بر زبان و عاشقان را در دلست
ترجمہ: نقاشِ جان (یعنی خالق) جس کی طرف جانیں متوجہ اور راغب ہو جاتی ہیں۔ دانشمندوں کی زبان پر اور عاشقوں کے دل میں موجود ہے۔
۲۔ آنکہ باشد بر زبانہا لا احب الآفلین
باقیات الصالحات است آنکہ در دل حاصلست
ترجمہ: جو ظہور زبان پر ہے (اس کے بارے میں یہ ہے کہ) میں غروب اور غائب ہو جانے والوں سے دوستی نہیں رکھتا۔ اور جو ظہور دل میں ہے، وہی ہمیشہ باقی رہنے والی نیکیوں کی حقیقت ہے۔
۳۔ دل مثالِ آسمان آمد زبان ہمچون زمین
از زمین تا آسمانہا منزلِ بس مشکلست
ترجمہ: دل آسمان کی مثال ہے اور زبان زمین کی مثال ہے۔ اور زمین سے آسمانوں تک (اتنی مسافت اور بلندی طے کر کے پہنچ جانا)
۱۵
ایک انتہائی مشکل منزل ہے۔
۴۔ دل مثالِ ابر آمد سینہا چون بامہا
وین زبان چون ناودان باران ازینجا نازلست
ترجمہ: دل بادل کی مثال ہے اور سینے چھتوں کی طرح ہیں۔ اور یہ زبان پر نالے کی طرح ہے، اور یہیں سے (یعنی زبان کے پرنالے سے) بارش کا پانی گرتا ہے۔
مطلب: دل آسمان اور بادل ہونے کی تاویل یہ ہے کہ دل کی اصلیت ہی روحانیت کی بلندی ہے، اور یہیں سے روحانی علم کی بارش برستی ہے، جسے وحی و الہام کہئے یا علمِ لدّنی یا ہدایتِ خاص وغیرہ، علمِ حقیقت کے خاص الفاظ زبان پر آنے کے لئے سینے میں جمع ہو جاتے ہیں، جس طرح بارش کے قطرات یا تو پہاڑ پر پانی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں یا چھت پر، پھر یہ علم زبان کے ذریعے ظاہر ہونے لگتا ہے، جس طرح پہاڑ کا پانی نہر سے آتا ہے اور چھت کا پانی پرنالے سے گرتا ہے۔
۵۔ آب از دلِ پاک آمد تا ببامِ سینہا
سینہ چون آلودہ باشد این سخنہا باطلست
ترجمہ: علم کا یہ پانی دل کی بلندی سے لے کر سینوں کی چھتوں تک پاک اور صاف ہی آیا۔ مگر جب سینہ (گناہوں کی غلاظت سے) آلودہ ہوا، تو (علم کا یہ پانی بھی پینے اور نہانے دھونے کے قابل نہ رہا، یعنی) ایسے علم کی باتیں باطل ہیں۔
۱۶
۶۔ این خود آنکس را بود کز ابراو باران چکد
بام کو از ابر گیرد ناو دانش قائلست
ترجمہ: (ہر شخص کی روحانیّت کے بادلوں سے علم کی بارش نہیں برستی، لہٰذا) یہ مثال صرف اُس شخص کی ہے، جس کے بادل بارش برسا دیتے ہیں، اور جو چھت بادل سے پانی حاصل کرتی ہے، اُس کا حال پرنالہ ہی بتا سکتا ہے۔
۱۷
عشقِ حقیقی
۱۔ آن روح را کہ عشقِ حقیقی شعار نیست
نابودہ بہ کہ بودنِ او غیرِ عار نیست
ترجمہ: جو روح عشقِ حقیقی کی عادی نہیں۔ اُس کا موجود نہ ہونا بہتر ہے، کیونکہ اُس کا موجود ہونا شرم کے سوا کچھ بھی نہیں۔
۲۔ در عشق باش مست کہ عشق است ہر چہ ہست
بی کاروبار عشق برِ دوست بار نیست
ترجمہ: عشق میں مست رہا کر کیونکہ جو کچھ ہے تو عشق ہی ہے۔ (اس لئے کہ) عشق کے کاروبار کے بغیر دوست کے حضور میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔
۳۔ گویند: عشق چیست؟ بگو: ترکِ اختیار
ہر کو ز اختیار نرست اختیار نیست
ترجمہ: کہتے ہیں کہ عشق کیا ہے؟ کہو کہ اختیار ترک کر دینا ہی عشق ہے کیونکہ جو کوئی اختیار سے چھٹکارا حاصل نہ کرے تو وہ (بحقیقت)
۱۸
مختار ہی نہیں (یعنی اختیار ملنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہونا چاہئے کہ اس کو ترک کر کے بے اختیار ہو جایا جائے)۔
۴۔ عاشق شہنشہیست دو عالم بر و نثار
ہیچ التفاتِ شاہ بسوی نثار نیست
ترجمہ: عاشق ایک ایسا شاہنشاہ ہے، جس پر دونوں عالم نثار ہو جاتے ہیں (اور کمال استغنا سے) بادشاہ نثار کی طرف توجہ بھی نہیں دیتا۔
۵۔ عشقست و عاشقست کہ باقیست تا ابد
دل بر جزین منہ کہ بجز مستعار نیست
ترجمہ: صرف عشق اور عاشق ہی ابد تک باقی ہے (اور بس) ان دونوں کے سوا جو کچھ بھی ہو، وہ چند روزہ ہے۔
۶۔ تا کی کنار گیری معشوقِ مردہ را
جان را کنار گیر کہ او را کنار نیست
ترجمہ: تو کب تک اپنی آغوش میں مردہ معشوق (یعنی دنیا) لئے بیٹھے گا؟ روح کو آغوش میں لیا کر کیونکہ (اُس کی بقا و حیات) لامحدود ہے۔
۷۔ آن کز بہار زاد بمیرد گہ خزان
گلزارِ عشق را مدد از نو بہار نیست
ترجمہ: جو کچھ (پھول وغیرہ) بہار سے پیدا ہو جاتا ہے، وہ خزان کے وقت مر جاتا ہے۔ مگر عشق کے گلشن کو نو بہار کی مدد (کی کوئی
۱۹
ضرورت ہی) نہیں۔
۸۔ آن گل کہ از بہار بود خار یارِ اوست
وان می کہ از عصیر بود بی خمار نیست
ترجمہ: وہ پھول جو بہار سے پیدا ہو جاتا ہے، کانٹا اس کا ساتھی ہے۔ وہ شراب جو انگور کے رس سے بنتی ہے، دردِ سر کے بغیر نہیں۔
۹۔ نظارہ گو مباش درین راہ و منتظر
واللہ کہ ہیچ مرگ بترز انتظار نیست
ترجمہ: گو کہ اس طریقِ روحانیّت میں نظارہ اور جس کے لئے انتظار کیا جاتا ہے، دونوں نہ ہوں۔ خدا کی قسم انتظار سے بدتر کوئی موت نہیں۔
۱۰۔ بر نقدِ قلب زن تو اگر قلب نیستی
این نکتہ گوش کن اگرت گوشوار نیست
ترجمہ: اگر تو کھوٹا نہیں، تو اپنے دل کو (حقیقت کے معیار پر) پرکھ لے۔ یہ نکتہ سن لے اور (اسے اپنے کان کا آویزہ بنا لے) اگر تجھے کوئی آویزہ نہیں۔
۱۱۔ بر اسپِ تن ملرز سبکتر پیادہ شو
پرشِ دہد خدای کہ بر تن سوار نیست
ترجمہ: جسم کے گھوڑے پر لرزتا ہوا سوار مت ہو جا۔ جو شخص جسم پر سوار نہ ہو (یعنی جسم پر دارومدار نہ رکھے) تو خدا تعالیٰ ایسے شخص
۲۰
کو اڑ جانے کی طاقت بخشتا ہے۔
۱۲۔ اندیشہ را رہا کن و دل سادہ شو تمام
چون روی آئنہ کہ بنقش و نگار نیست
ترجمہ: فکر و اندیشہ کو چھوڑ دے اور پوری طرح سے صاف دل ہو جا۔ آئینے کی سطح کی طرح، کہ اُس پر کوئی نقش و نگار نہیں۔
۱۳۔ چون سادہ شد ز نقش ہمہ نقشہا در وست
آن سادہ رو ز روی کسی شرمسار نیست
ترجمہ: جب آئینہ نقش و نگار سے صاف ہوا، تو اُس میں تمام نقشے نظر آنے لگے۔ اور وہ پاک و صاف آئینہ کسی کے چہرے کے مقابل ہونے سے نہیں شرماتا ہے۔
۱۴۔ از عیب سادہ خواہی خود را؟ در و نگر
کو راز راست گوئی شرم و حذار نیست
ترجمہ: کیا تو اپنے آپ کو عیب سے پاک و صاف کر دینا چاہتا ہے؟ تو پھر آئینے میں دیکھ۔ کیونکہ وہ سچ بتانے میں کوئی شرم اور خوف نہیں رکھتا ہے۔
۱۵۔ چون روئی آہنین نہ صفا این ہنر بیافت
تا روئی دل چہ یابد کو را غبار نیست
ترجمہ: جب لوہے کی سطح کو صفائی کی بدولت یہ ہنر ملا (کہ ریتی سے صاف کرنے سے یہ آئینہ بن گیا اور اس میں مادّی قسم کی تمام چیزیں
۲۱
نظر آنے لگیں) تو پھر اُس دل (کے آئینے) کی سطح پر کیا کیا چیزیں نظر آئیں گی، جس میں کوئی کدورت ہی نہ ہو۔
۱۶۔ گویم: چہ یابد او؟ نہ، نگویم خمش بہ است
تا دلستان نگوید کو: راز دار نیست
ترجمہ: کیا میں یہ بتاؤں کہ ایسے دل کے آئینے میں کون سی چیز نظر آتی ہے؟ نہیں، میں نہیں بتاؤں گا خاموشی بہتر ہے۔ تا کہ میرا حقیقی معشوق یہ نہ کہے کہ وہ رازدار نہیں (یعنی بھید کی نگہداشت کرنے کے قابل نہیں)۔
۲۲
مقامِ فنا فی اللہ
۱۔ ہر کہ را اسرارِ عشق اظہار شد
رفت یاری زانکہ محوِ یار شد
ترجمہ: جس شخص کو عشق کے اسرار پوری طرح سے ظاہر ہو گئے، تو اُس کی دوستی چلی گئی، اس لئے کہ وہ تو دوست میں فنا ہی ہو گیا۔
۲۔ شمعِ افروزان بنہ در آفتاب
بنگرش، چون محوِ آن انوار شد
ترجمہ: (فنا کی حقیقت سمجھنے کے لئے) ایک جلتی ہوئی شمع دھوپ میں رکھ لے، اور دیکھ لے کہ وہ کس طرح (سورج کے) اُن انوار میں محو اور فنا ہوا۔
۳۔ نیست نورِ شمع، ہست آن نورِ شمع
ہم نشد آثار ہم آثار شد
ترجمہ: ایک اعتبار سے اُس شمع کی روشنی موجود ہے، اور دوسرے
۲۳
اعتبار سے اُس شمع کی روشنی موجود نہیں۔ اُس کے نشان ایک طرف سے باقی رہے اور دوسری طرف سے باقی نہ رہے۔
۴۔ ہمچنان در نورِ روح این نارِ تن
ہم نشد این نار و ہم این نار شد
ترجمہ: بالکل اسی طرح روح کے نور میں اس جسم کی آگ۔ آگ نہ بھی رہتی ہے اور آگ رہتی بھی ہے۔
۵۔ جوی جویان است و پویان سوی بحر
گم شود چون غرقِ دریا بار شد
ترجمہ: نہر جستجو کرتی ہوئی دریا کی طرف دوڑتی چلی جاتی ہے۔ جب وہ دریا گرنے کی جگہ (یعنی سمندر) میں غرق ہوئی، تو اس کی ہستی گم ہو جاتی ہے۔
۶۔ تا طلب جنبان بود مطلوب نیست
مطلب آمد، آن طلب بیکار شد
ترجمہ: جب تک طلب حرکت میں ہے، تو مطلوب نہیں۔ جب مطلب حاصل ہوا، تو وہ طلب بے کار ہوئی۔
۷۔ پس طلب تا ہست ناقص بد طلب
چون نماند آنگہی سالار شد
ترجمہ: پس جب تک طلب موجود ہے، تو وہ ناتمام ہی رہتی ہے۔ جب یہ نہ رہی تو اس وقت یہ مکمل اور سردار ہو گئی۔
۲۴
۸۔ ہر تنِ بے عشق کو جوید کلہ
سرندار و جملگی دستار شد
ترجمہ: ہر بے عشق جسم، جو کہ اپنے سر پر پگڑی باندھتا ہے، وہ حقیقت میں سر نہیں رکھتا ہے بلکہ وہ سب پگڑی ہے۔
۹۔ ہمچو من شد در ہوای شمس دین
آنکہ او را در سر این اسرار شد
ترجمہ: شمسِ دین کے عشق میں میری طرح ہوا۔ وہ شخص جس کے سر میں یہ اسرار داخل ہوئے۔
۲۵
اسرارِ خودی
۱۔ ازان بادہ ندانم، چون فنایم
ازان بیجا نمی دانم کجایم
ترجمہ: اُس حقیقی شراب کے کیف و سرور کے متعلق میں کچھ بھی نہیں سمجھتا، جب کہ میں فنا ہوں۔ اُس لامکان کے بارے میں (جس میں میں رہتا ہوں) میں نہیں جانتا کہ کہاں ہوں۔
۲۔ زمانی قصرِ دریایی در افتم
دمی دیگر چو خورشیدی برایم
ترجمہ: کبھی تو میں ایک گہرے دریا کی تہ میں جا گرتا ہوں۔ اور کبھی ایک سورج کی طرح (آسمان کی بلندی سے) طلوع ہو جاتا ہوں۔
۳۔ زمانی از من آبستن جہانی
زمانی چون جہان خلقی بزایم
ترجمہ: کبھی تو مجھ سے (یعنی میری روحانیّت اور تصورات سے) ایک بھرپور دنیا حاملہ ہو جاتی ہے۔ کبھی اس دنیا کی طرح (اپنے
۲۶
وجود سے بے شمار) مخلوقات کو جنم دیتا ہوں۔
۴۔ چو طوطی جان شکر خاید بنا گہ
شوم سرمست و طوطی را بخایم
ترجمہ: طوطے کی طرح میری جان شکر کھاتی ہے (اور) یکایک میں مست ہو کر (اس جان کے) طوطے کو بھی کھا جاتا ہوں۔
۵۔ بجایی در نگنجیدم بعالم
بجز آن یارِ بی جا را نشایم
ترجمہ: میں اس عالم کے کسی مقام میں سمو نہ سکا۔ پس میں اُس لامکانی دوست کے سوا کسی چیز کے قابل نہیں ہوں۔
۶۔ منم آن رندِ مستِ سخت شیدا
میانِ جملہ رندان ہای ہایم
ترجمہ: میں وہ انتہائی مست لا ابالی عاشق ہوں (کہ) میں تمام لا ابالی عاشقوں کے درمیان درد و غم کا ایک غوغا ہوں۔
۷۔ مرا گوئی چرا با خود نیائی
تو بنما خود کہ تا با خود بیایم
ترجمہ: آپ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ تو کیوں ہوش میں نہیں آتا ہے؟ آپ اپنے آپ کو مجھے دکھادیجئے تاکہ میں ہوش میں آ سکوں۔
۸۔ مرا سایۂ ہما چندان نوازد
کہ گوئی سایہ او شد من ہمایم
۲۷
ترجمہ: مجھے ہما کا سایہ اس قدر نوازتا ہے، کہ گویا ہما خود سایہ بن جاتا ہے اور میں ہما بن جاتا ہوں۔
۹۔ بدیدم حسن را سرمست می گفت
بلایم من، بلایم من، بلایم
ترجمہ: میں نے حسن کو دیکھا جو مستی میں کہتا تھا (کہ) بلا ہوں میں، بلا ہوں میں، بلا ہوں۔
۱۰۔ جوابش آمد از ہر سوز صد جان
ترایم من، ترایم من، ترایم
ترجمہ: ہر طرف سے سیکڑوں نفوس نے حسن کو یہ جواب دیا۔ کہ میں تیرا ہوں، میں تیرا ہوں، تیرا ہوں۔
۱۱۔ تو آن نوری کہ با موسیٰ ہمی گفت
خدایم من، خدایم من، خدایم
ترجمہ: آپ وہ نور ہیں، جس نے موسیٰ سے کہا۔ کہ خدا ہوں میں، خدا ہوں میں، خدا ہوں۔
۱۲۔ بگفتم شمس تبریزی کی؟ گفت
شمایم من، شمایم من، شمایم
ترجمہ: میں نے کہا کہ ای شمس تبریز! آپ کون ہیں؟ تو کہا کہ تم ہوں میں، تم ہوں میں، تم ہوں۔
۲۸
طلبِ حقیقت کے لئے ترغیب
۱۔ اگر تو یار نداری چرا طلب نکنی؟
و گر بیار رسیدی چرا طرب نکنی؟
ترجمہ: اگر تیرا کوئی حقیقی دوست نہیں، تو تو طلب کیوں نہیں کرتا؟ اور اگر تو دوست تک پہنچا ہوا ہے، تو پھر کیوں تو خوش نہیں رہتا؟
۲۔ و گر رفیق نسازد چرا تو او نشوی؟
و گر رباب ننالد چراش ادب نکنی؟
ترجمہ: اگر حقیقی دوست (اپنی صفاتِ عالیہ کی بنا پر) تیرے ساتھ موافقت نہیں کرتا، تو تو (اپنی صفات کو بلند کر کے) اپنے دوست کا روپ کیوں نہیں دھارتا؟ اور اگر (تیرے دل کا) رباب نہیں روتا، تو اس کو ادب کیوں نہیں سکھاتا؟
۳۔ و گر حجاب شود مر ترا ابو جہلی
چرا غزای ابو جہل و بو لہب نکنی؟
ترجمہ: اور اگر تیری نورانیّت کے لئے کوئی ابو جہل (یعنی نفسِ امّارہ) پردہ بن جائے، تو تو ابو جہل اور ابو لہب سے غزا کیوں نہیں کرتا؟
۲۹
۴۔ بکاہلی بنشینی کہ این عجب کاریست
عجب توی کہ ہو ای چنان عجب نکنی
ترجمہ: تو سستی سے یہ کہہ کر بیٹھ جاتا ہے کہ یہ عجیب کام ہے۔ عجیب تو خود ہی ہے کہ تو (روحانیّت جیسی) عجیب چیز کی خواہش نہیں کرتا۔
۵۔ تو آفتابِ جہانی، چرا سیاہ دلی
کہ تا دگر ہوسِ عقدۂ ذنب نکنی
ترجمہ: تو دنیا کا سورج ہے، کیوں تو نے اپنے دل کو تاریک کر رکھا ہے؟ (میں نے یہ راز اس لئے ظاہر کیا) تاکہ تو دوبارہ ستارۂ ذنب کی گانٹھ کی خواہش ہی نہ کرے۔
۶۔ مثال زر تو بکورہ ازان گرفتاری
کہ تا دگر طمع کیسۂ ذہب نکنی
ترجمہ: سونے کی طرح کوئلے میں تو اس لئے گرفتار ہے۔ تا کہ تو دوبارہ سونے کے کیسے میں رہنے کی طمع نہ کرے۔
۷۔ چو وحدت است غرب خانۂ یکی گویان
تو روح را ز جز حق چرا غرب نکنی؟
ترجمہ: جب وحدت ہی خدا کو ایک ماننے والوں کی تجرید گاہ ہے۔ پھر تو اپنی روح کو خدا کے ماسوا سے کیوں مجرّد نہیں کرتا؟
۸۔ تو ہیچ مجنون دیدی کہ با دو لیلیٰ ساخت؟
چرا ہوای یکی روی و یک غبب نکنی؟
۳۰
ترجمہ: تو نے کوئی مجنون دیکھا ہے، جو کہ دو لیلیٰ کا عاشق رہا ہو؟ پھر تو کیوں صرف ایک ہی چہرہ اور ایک ہی طوقِ گلو سے محبت نہیں کرتا؟
۹۔ شبِ وجودِ ترا در کمین چنان ماہیت
چرا دعا و مناجاتِ نیم شب نکنی؟
ترجمہ: تیری ہستی کی رات میں ایک ایسا حسین چاند پوشیدہ ہے، (اس کے دیدار کی غرض سے) تو آدھی رات کی دعا اور مناجات کیوں نہیں کرتا؟
۱۰۔ اگرچہ مست قدیمی و نو شراب نۂ
شرابِ حق نگذارد کہ تو شغب نکنی
ترجمہ: اگرچہ تو (دنیاوی قسم کی) پرانی اور نئی شراب سے مست نہیں ہے۔ لیکن حق تعالیٰ کی شراب تجھے شور کرائے بغیر نہیں چھوڑے گی۔
۱۱۔ شرابم آتشِ عشق ست و خاصہ از کفِ حق
حرام بار حیاتت کہ جان حطب نکنی
ترجمہ: عشق کی آگ ہی میری شراب ہے (اور وہ بھی) خصوصاً حق تعالیٰ کے ہاتھ سے۔ (اے عاشق!) اس موقع پر اگر تو اپنی جان (اس آگ کے لئے) ایندھن نہیں بناتا، تو تیری زندگی حرام ہو!
۱۲۔ اگرچہ موجِ سخن میزند و لیک آن بہ
کہ شرحِ آن بدل و جان کنی بلب نکنی
ترجمہ: اگرچہ روحانی باتوں کا سمندر موج زن ہو رہا ہے، لیکن
۳۱
بہتر یہ ہے کہ تو حقیقت کی تشریح دل اور جان ہی میں کرے زبان اور ہونٹوں سے کچھ نہ کہے۔
۳۲
دعوتِ حقائق
۱۔ بے جا شود در وحدت، در عینِ فنا جا کن
ہر سر کہ دوئی دارد در گردنِ ترسا کن
ترجمہ: (جگہ سے بے نیاز ہو کر) درجۂ وحدت میں لامکان ہو جا، اور فنا کی عینیت (یعنی حقیقت) میں جگہ حاصل کر۔ جو سر دوئی کا خیال رکھتا ہو (اُسے کاٹ کر) ترسا کے گلے میں لٹکا دے۔
۲۔ اندر قفسِ ہستی این طوطیٔ قدسی را
زان پیش کہ بر پرد شکرانہ شکر خا کن
ترجمہ: وجود کے اس قفس میں عالمِ قدس کے اس طوطے کو۔ اس سے پیشتر کہ یہ یہاں سے اڑ کر عالمِ بالا چلا جائے، قدردانی کے طور پر شکر کھانے کے قابل بنا دے (یعنی اپنی روح کے طوطے کو جو عالمِ بالا سے یہاں لایا گیا ہے، اس دنیا سے پرواز کر جانے سے پیشتر ہی بہشت کی نعمتیں کھانے کے قابل بنا دے)۔
۳۔ چون مستِ ازل گشتی شمشیر ابد بستان
ہندو بک ہستی را ترکانہ تو یغما کن
۳۳
ترجمہ: جب تو ازل (کے بعد بھیدوں کی شراب) سے مست ہوا، تو ابد (کے ہاتھ سے خوفِ مستقبل) کی تلوار چھین لے، اور اپنی ہستی کے اس ہندو امیر کو ترکوں کے انداز پر لوٹ لیا کر۔
۴۔ دُردیٔ وجودت را صافی کن و پا لودہ
وان شیشۂ معنی را پر صافیٔ صہبا کن
ترجمہ: اپنی ہستی کی تلچھٹ کو نتھار کر اور نچوڑ کر صاف و پاک کر لے۔ اور حقیقت کے اُس پیالے کو سفید انگوروں کی صاف شراب سے بھر دے۔
۵۔ تامارِ زمین باشی کیٔ ماہیٔ دین باشی
مارا چو شدی ماہی پس حملہ بدریا کن
ترجمہ: جب تک تو زمین پر رینگنے والا سانپ ہی رہے، تو تو دین (کے سمندر) کی مچھلی کس طرح بن سکے گا۔ اے سانپ! جب تو مچھلی بن گیا، تو حملہ کر کے دریا میں داخل ہو جا۔
۶۔ اندر حیوان بنگر سر سوی زمین دارد
گر آدمیٔ آخر سر جانبِ بالا کن
ترجمہ: حیوان کی وضع دیکھ کہ سر زمین کی طرف رکھتا ہے۔ اگر تو آدمی ہے تو آخر سر کو اوپر کی طرف رکھ (یعنی حیوان و انسان کی وضع سے ظاہر ہے، کہ کس کو نفسانی پستی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور کس کو روحانی بلندی کے لئے پیدا کیا ہے، پس اپنے سر کو اونچا کر یعنی کہ اخلاقی بلندی کی طرف مائل ہو جا)۔
۳۴
۷۔ در مدرسۂ آدم با حق چو شدی محرم
بر صدرِ ملک بنشین تدریس ز اسما کن
ترجمہ: آدمؑ کے مدرسے میں جب تو خدا کے ساتھ محرم (یعنی رازدار) ہوا۔ تو فرشتوں کے مرتبۂ صدارت پر بیٹھ جا اور انہیں “علم الاسماء” کی تعلیم دیا کر۔
۸۔ چون سلطنتِ الا خواہی برلا ، لا شو
جا روب ز لا بستان فراشیٔ اشیا کن
ترجمہ: جب تو حقیقتِ الا اللہ کی لازوال سلطنت چاہتا ہے، تو کلمۂ لا پر پہنچتے ہی فنا ہو جا۔ اور لا (یعنی نیستی اور فنا) کا جھاڑو لے کر (کائنات و موجودات کو شرک و شبہت کے گرد و غبار سے صاف کر اور نئے سرے سے) اشیا کو بچھا دے۔
۹۔ گر عزمِ سفر داری بر مرکبِ معنی رو
ور زانکہ کنی مسکن بر طارمِ خضرا کن
ترجمہ: اگر تو سفر کا ارادہ رکھتا ہے، تو (کسی اور ذریعے سے نہیں، بلکہ) حقیقت ہی کے گھوڑے پر جا۔ اور اگر تو اپنا کوئی مسکن بنانا چاہے، تو آسمان ہی پر مسکن بنا۔
۱۰۔ می باش چو مستسقی کو را نبود سیری
ہر چند شوی عالی، توجہد با علا کن
ترجمہ: (حصولِ حقیقت و روحانیّت کے سلسلے میں) تو استسقاء کے
۳۵
مریض کی طرح ہو جا، کہ وہ بار بار پانی پیتا جاتا ہے (مگر) سیراب نہیں ہوتا۔ تو جس قدر بھی سربلند ہو جائے، پھر بھی انتہائی بلندی کے لئے کوشان رہ۔
۱۱۔ ہر روح کہ سر دارد، او روی بدر دارد
داری سرِ این سودا سر در سرِ سودا کن
ترجمہ: جس روح کا سر ہو، وہ آپ کے دروازے کی طرف متوجہ رہتی ہے۔ یہی جنون رکھنے والا سر تیرا بھی ہے، پس اسی جنون کے لئے انتہائی کوشش کر۔
۱۲۔ بے سایہ نباشد تن، سایہ نبود روشن
بر پر تو سوی روزن پرواز تو تنہا کن
ترجمہ: جسم سائے کے بغیر نہیں، اور سایہ نور نہیں ہوتا (اس لئے تو ریاضت و معرفت کے) روشن دان سے اوپر کی طرف اڑ جا، مگر تنہا ہی پرواز کرنا۔
۱۳۔ بر قاعدۂ مجنون سر فتنۂ غوغا شو
کین عشق ہمی گوید کز عقل تبرا کن
ترجمہ: دیوانے کے اصول کے مطابق شور و غوغا برپا کرنے والا ہو جا۔ کیونکہ عشق ہی یہی کہتا ہے کہ عقل سے بیزاری ظاہر کر۔
۱۴۔ ہم آتشِ سوزان شو، ہم پختہ و بریان شو
ہم مست شو و ہم می بے ہر دو تو گیرا شو
ترجمہ: تو خود ہی جلنے والی آگ بھی ہو جا، اور خود ہی پکی ہوئی اور بھتی
۳۶
ہوئی غذا بھی۔ خود ہی مست بھی ہو جا اور خود ہی شراب بھی، اور مست و شراب کے بغیر خود ہی اثر انداز ہو جا۔
۱۵۔ ہم سر شو و محرم شو ہم دم زن و ہمدم شو
ہم ما شو و مارا شو، ہم بندگیٔ ما کن
ترجمہ: تو خود ہی راز بھی ہو جا اور راز دار بھی، تو خود ہی معشوق گری کا دعویٰ بھی کر اور رفیق (یعنی عاشق) ہونے کا دعویٰ بھی، تو ہم بھی ہو جا اور ہمارا بھی (یعنی تو ہم سے مل کر ایک بھی ہو جا اور ہم سے جدا رہ کر ہمارا عاشق بھی ہو جا) اور ہماری بندگی بھی کر۔
۱۶۔ تا دہ نبرد ترسا دُزدیدہ بدیرِ تو
گہ عاشقِ زناری گہ قصد چلیپا کن
ترجمہ: تا کہ وہ عیسائی شخص (موقع پا کر) چوری سے تیرے بت خانے (یعنی خانۂ حقیقت) میں داخل نہ ہونے پائے۔ (اس لئے) تو کبھی تو جنیو (جو برہمن کی علامت ہے) کا عاشق ہو جایا کر، اور کبھی نشانِ صلیب کی طرف مائل ہو جایا کر (تا کہ جس سے اُس عیسائی کو تیرا مسلک ہی معلوم نہ ہو)۔
۱۷۔ دانا شدۂ لیکن از دانش ہستانہ
بی دیدۂ ہستانہ دو دیدہ تو بینا کن
ترجمہ: تو دانا ہوا ہے لیکن یہ اصولِ ہستی کی دانش کا نتیجہ ہے۔ اصولِ ہستی کی آنکھ کے بغیر تو اپنی (روح کی) دونوں آنکھوں کو تعلیم دے کر بینا بنا دے۔
۳۷
۱۸۔ موسای خضر سیرت شمس الحق تبریزی
از سر تو قدم سازش قصدِ یدِ بیضا کن
ترجمہ: شمس الحق تبریز ایک ایسا موسیٰ ہیں، جو خضر کی سیرت رکھتا ہو۔ تو ان کے معجزۂ “یدِ بیضا” دیکھنے کے لئے اپنے سر کے بل چلتے جا۔
۲۹۔۵۔۶۷
۳۸
مرکزِ توحید
۱۔ عاشقان را جستجو از خویش نیست
در جہان جوئندہ جز او بیش نیست
ترجمہ: عاشقوں کی یہ جستجو ان کی اپنی طرف سے نہیں ۔ (کیونکہ دراصل) اس عالم میں جستجو کرنے والا اُس (انسانِ کامل) کے سوا کوئی بھی نہیں۔
۲۔ این جہان و آن جہان یک گوہر است
در حقیقت کفر و دین و کیش نیست
ترجمہ: دنیا و آخرت (فی الاصل) ایک ہی جوہر ہے۔ حقیقت (یعنی مقامِ وحدت) میں کفر، دین اور مذہب کا کوئی وجود ہی نہیں۔
۳۔ ای دمت عیسیٰ، دم از دوری مزن
من غلامِ آنکہ دور اندیش نیست
ترجمہ: ای (طالبِ حقیقت!) تیرا نَفَس خود ہی عیسیٰ (یعنی شفا بخش) ہے، دوری کی بات نہ کر، میں اُس شخص کا غلام ہوں جو دور اندیش نہیں۔
۳۹
۴۔ گر بگوی پس روم نے پس مرو
ور بگوئی پیش، نے رہ پیش نیست
ترجمہ: (اے طالبِ حقیقت!) اگر تو یہ کہتا ہے، کہ میں (تصوراتی طور پر تلاشِ حقیقت کے سلسلے میں) ابد کی طرف جاؤں (تو میں کہتا ہوں کہ) نہیں ابد کی طرف مت جا اور اگر تو یہ کہتا ہے کہ میں ازل کی طرف جاؤں (تو میں کہتا ہوں کہ) نہیں ازل کی طرف خود کوئی راستہ ہی نہیں۔
۵۔ دست بکشاد امنِ خود را بگیر
مرہمِ این ریش جز این ریش نیست
ترجمہ: اپنا ہاتھ کھول کر اپنا ہی دامن پکڑ لے۔ اس زخم کا مرہم سوائے اس زخم کے اور کوئی چیز ہی نہیں۔ (یعنی حقیقتِ کلیہ اپنی ذات ہی سے حاصل کر)۔
جزو درویشند جملہ نیک و بد
ہر کہ نبود او چنین، درویش نیست
ترجمہ: تمام اچھے اور برے لوگ مردِ درویش کے اجزا ہیں۔ جو شخص (قولاً و فعلاً) ایسا نہ ہو، تو وہ درویش ہی نہیں۔
۷۔ ہر کہ از جا رفت جائے او دلست
ہمچو دل اندر جہان جائیش نیست
ترجمہ: جو شخص اس مکان (یعنی دنیا) سے گزر گیا، تو اس کا ٹھکانہ دل میں ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کو اس جہان میں دل سے بہتر جگہ کہیں بھی نہیں۔
۳۰۔۵۔۶۷۔
۴۰
شرائط و حقائقِ عشق
۱۔ ہر کہ نے سرِ تو از لوحِ درون مے خواند
از درِ خویش شہِ عشق تو اس مے راند
ترجمہ: (اے حقیقی معشوق!) جو شخص اپنی لوحِ باطن سے آپ کے بھید کو نہ پڑھ سکے، تو اس کو آپ کے عشق کا بادشاہ اپنے دروازے سے دور کر دیتاہے۔
۲۔ وانکہ چون ذرہ بخورشیدِ درخشان نہ رسید
جان ہمی کا ہدو در ظلمتِ بن مے ماند
ترجمہ: اور جو شخص ذرّے کی طرح (کہ وہ اس ظاہری سورج کو پہنچ کر روشن اور نمایان ہو جاتا ہے اُس باطنی) چمکتے ہوئے سورج کو نہ پہنچے، تو اس کی جان کم ہوتی جاتی ہے اور وہ جسم کی تاریکی میں پڑا رہتا ہے۔
۳۔ ہر دلی کو چو دلم لذتِ دردِ تو چشید
بجز از دردِ تو دیگر نَفَسے نتواند!
۴۱
ترجمہ: جس دل نے میرے دل کی طرح آپ کے عشق کے درد (کا مزہ ایک بار) چکھ لیا، تو آپ کے درد کے سوا اور کوئی سانس لے نہیں سکتا۔
۴۔ دل بغواصی ازان بحر دُرر می گیرد
از رہِ ناطقہ بر خلق، ہمی افشاند
ترجمہ: (عارف کا) دل معرفت کے سمندر میں غوطہ لگا کر معرفت کے موتیوں کو حاصل کرتا رہتا ہے، اور وہ اپنے نطق و بیان کے ذریعے یہ موتی لوگوں کےلئے بکھیرتا جاتا ہے۔
۵۔ عرضِ حاجت برِ او نیست طریقِ دلِ من
زانکہ او حالِ دلم بہ ز دلم میداند
ترجمہ: میرے دل کا اصول نہیں اُس (حقیقی محبوب) کے سامنے حاجت پیش کرنا۔ کیونکہ وہ تو میرے دل کی حالت کو میرے دل سے بہتر جانتے ہیں۔
۶۔ آنکہ پایٔ رہِ او دارد و سودائے غمش
سر بسر ملکِ جہان را بجوی نستاند
ترجمہ: جس شخص میں اُس (حقیقی مطلوب) کے راستے پر چلنے والا پاؤں اور اس کے عشق کا غم ہو، تو وہ (اس دنیا کو اس قدر حقیر سمجھتا ہے کہ اگر دنیا جو کے ایک دانے کی قیمت میں مل سکے تو پھر بھی) وہ پوری دنیا کی سلطنت کو جو کے ایک دانے میں نہیں خریدتا ہے۔
۴۲
۷۔ لوحِ محفوظِ دلِ شمس کتابیست مبین
کہ از و سرِ دو عالم ہمہ بر مے خواند
ترجمہ: شمس تبریزی کے دل کی لوحِ محفوظ ایک ایسی واضح کتاب ہے، کہ وہ اُس سے دونوں عالم کے اسرار (بخوبی) معلوم کر سکتے ہیں۔
۴۳
فلسفۂ توحید
۱۔ عشق بین، با عاشقان آمیختہ
روح بین، با خاکدان آمیختہ
ترجمہ: عشق کو دیکھ لے کہ عاشقوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ روح کو دیکھ لے کہ دنیا (یعنی ہر بری اور بھلی چیز) کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔
۲۔ چند بینی این و آن و نیک و بد؟
بنگر آخر این و آن آمیختہ
ترجمہ: تو کتنا یہ ، وہ اچھی اور بری (چیزیں جدا جدا) دکھتا رہے گا؟ آخر یہ اور وہ (سب چیزیں) ملی ہوئیں دیکھ لے۔
۳۔ چند گوئی بے نشان و با نشان؟
بے نشان بین، نشان آمیختہ
ترجمہ: (خدا اور مخلوق کے بارے میں) تو کتنا کہا کرے گا کہ وہ بے نشان ہے اور یہ بانشان ہے؟ بے نشان کو دیکھ کہ نشان کے ساتھ ملا ہوا ہے (یعنی بے نشان والا خدا بانشان والے انسان کے ساتھ ملا ہوا ہے)۔
۴۴
۴۔ چند گوئی این جہان و آن جہان؟
آن جہان بین وین جہان آمیختہ
ترجمہ: تو کتنا کہتا جائے گا کہ یہ جہان (اور ہے) اور وہ جہان (اور ہے)؟ وہ جہان اور یہ جہان آپس میں ملے ہوئے دیکھ لے۔
۵۔ دل چو شاہ آمد زبان چون ترجمان
شاہ بین با ترجمان آمیختہ
ترجمہ: دل (انسانی وجود میں) بادشاہ کی طرح ہے، اور زبان ترجمان کی طرح ہے (یعنی ارادہ اور اختیار دل میں پایا جاتا ہے، اور دل کی کیفیات و صفات کی نمائندگی اور ترجمانی زبان ہی کرتی ہے)۔ بادشاہ کو دیکھ لے کہ ترجمان کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
۶۔ اندر آمیزید، زیرا بہر ماست
این زمین با آسمان آمیختہ
ترجمہ: تم سب آپس میں گھل مل جاؤ (یعنی روحانی طور پر آپس میں یکجان ہو جاؤ) کیونکہ یہ زمین اور آسمان ہمارے ہی لئے آپس میں ملے ہوئے ہیں۔
۷۔ آب و آتش بین و خاک و باد را
دشمنان چون دوستان آمیختہ
ترجمہ: پانی، آگ، مٹی اور ہوا کو دیکھ لے (کہ یہ ایک دوسرے کے) دشمن عناصر دوستوں کی طرح آپس میں ملے ہوئے ہیں۔
۴۵
۸۔ گرگ و میش و شیر و آہو چار ضد
از نہیبِ قہرمان آمیختہ
ترجمہ: (فرض کرو کہ) بھیڑیا، بھیڑ، شیر اور ہرن یہ چاروں ضد (یعنی مخالف) کسی بادشاہِ قاہر کے خوف سے آپس میں گھل مل کر ہیں۔
۹۔ آنچنان شاہی نگر کز لطفِ او
خار و گل در گلستان آمیختہ
ترجمہ: ایک ایسے بادشاہ کو دیکھ کہ اُس کی مہربانی سے گلستان میں پھول اور کانٹا مل کر ہیں۔
۱۰۔ آنچنان ابری نگر کز فیض او
آبِ چندین ناؤ دان آمیختہ
ترجمہ: ایک ایسے بادل کو دیکھ کہ اُس کے فیض سے اتنے مختلف پرنالوں کا پانی ملا ہوا ہے۔
۱۱۔ اتحاد اندر اثر بین و بدان
نو بہار و مہر گان آمیختہ
ترجمہ: (یہ حقیقی) اتحاد (مختلف فاعلوں کے) اثر ہی میں دیکھ لے، جس کے ذریعہ سے، نو بہار اور مہرگان (یعنی ماہِ مہر کی سولہویں تاریخ، مراد خزان) کے موسم ملے ہوئے ہیں (مثلاً موسمِ بہار کے آغاز سے لے کر موسمِ خزان کے اختتام تک جو پھل، اناج وغیرہ پک جاتے ہیں، اُن میں بہار و خزان کے اثرات کچھ اس طرح ملے ہوئے ہوتے ہیں، کہ اُن کو ایک دوسرے
۴۶
سے ہرگز جدا نہیں کیا جا سکتا)۔
۱۲۔ گرچہ کژ بازند و ضدانند لیک
ہمچو تیرند و کمان آمیختہ
ترجمہ: اگرچہ (بہت سی چیزیں) ٹیڑھے اور الٹے کام کرتی ہیں اور باہم ضد ہیں۔ لیکن (یہ سب) تیر و کمان کی طرح باہم ملی ہوئی ہیں (چنانچہ تیر سیدھا ہے اور کمان ٹیڑھی ہے، مگر اثر یعنی تیر مارنے میں ان کی وحدت ہے)۔
۱۳۔ قندخا، خاموش باش و حیف دان
قند و پند اندر دھان آمیختہ
ترجمہ: (اے) شکر کھانے والا، تو خاموش رہ اور دریغ و مضائقہ سمجھ لے، اس بات کو کہ قند و پند (یعنی شکر اور نصیحت) تیرے منہ میں ملی ہوئی ہیں (یعنی جس عارف پر ابھی ابھی روحانی قسم کے علمی واقعات گزرتے ہیں، اُس کو چاہئے کہ فی الحال علم بیان نہ کرے، بلکہ یہ روحانی خوراک پہلے خود ہی کھائے اور اس کو ہضم کر کے تجربہ کرے، اس کے بعد رموز و مثالات کے ذریعے اس علم سے کچھ دوسروں کو بھی دیا جا سکتا ہے)۔
۱۴۔ شمس تبریزی ہمی روید ز دل
کس نباشد آنچنان آمیختہ
ترجمہ: شمس تبریزی (اپنے عاشق کے) دل سے اگتا رہتا ہے۔ ایسا گھلا ملا ہوا کوئی شخص ہو نہیں سکتا (یعنی جس طرح سورج کے اثرات
۴۷
عناصر کے ساتھ یکجان ہو کر نباتات وغیرہ کی صورت میں زمین سے اگتی ہیں، اسی طرح شمس تبریزی بھی اپنے عاشق کے دل کی زمین سے نورانی علم کی صورت میں اگتا ہے۔
۱۔۵۔۶۷۔
۴۸