[Page]

تجرباتِ روحانی

آغازِ کتاب

۱۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہ و عم نوالہ سورۂ ہود (۷: ۱۱) میں فرماتا ہے: و ھو الذی خلق السمٰوٰت و الارض فی ستۃ ایام و کان عرشہ علی الماء لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ ترجمۂ اوّل: وہ ایسی ذات ہے جس نے (عالمِ دین کے) آسمان اور زمین کو چھ دنوں (چھ ادوارِ بزرگ) میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر ظاہر ہوا تا کہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کس کا علم وعمل سب سے بہتر ہے۔ ترجمۂ دوم: وہ ایسی ذات ہے جس نے (عالمِ شخصی کے) آسمان اور زمین کو چھ دنوں (چھ ذیلی ادوار) میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر ظاہر ہوا تا کہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کس کا علم وعمل سب سے بہتر ہے۔

 

۲۔ خداوندِ قدّوس نے عالمِ دین کو جن چھ دنوں (چھ ادوارِ بزرگ) میں پیدا کیا، وہ یہ ہیں: دورِ آدمؑ، دورِ نوحؑ، دورِ ابراہیمؑ، دورِ موسیٰؑ، دورِ عیسیٰؑ، اور دورِ محمدؐ، اور جس دن خدا کا تخت (عرش) پانی پر ظاہر ہوا،

۷
[/page]

وہ دورِ قائمؑ ہے جو دین کا سنیچر ہے، یہی بیان ترجمۂ دوم کے مطابق عالمِ شخصی سے بھی متعلق ہے، مگر اس کے دن (ادوار) بہت ہی چھوٹے چھوٹے ہیں، کیونکہ کائناتِ ظاہر عالمِ شخصی میں لپیٹی ہوئی (یعنی مختصر) ہوتی ہے، پس عالمِ شخصی کے سمندر پر جو تختِ کشتی نما ہے، وہ کیونکر خالی ہو سکتا ہے، وہ اگر تخت ہے تو اس پر بادشاہ جلوہ گر ہوگا، اگر کشتی ہے تو اس میں کشتیبان ہوگا، اور اگر یہ دونوں معنوں میں ہے تو مالک بھی دونوں معنوں میں ہو گا۔

 

۳۔ سورۂ ذاریات (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) میں ارشاد ہے: و فی الارض اٰیٰت للموقنین۔ و فی انفسکم افلا تبصرون = اور کائناتی زمین (زمینِ نفسِ کل) میں اہلِ یقین کے لئے نشانیاں ہیں، اور (یہ ساری نشانیاں) تمہارے عالمِ شخصی میں بھی ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ اس ارشاد سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو گئی کہ خدائے علیم و حکیم نے کائناتِ ظاہر و باطن اور عالمِ دین کو عالمِ شخصی میں گھیر کر رکھا ہے تا کہ مومنینِ با یقین خود شناسی اور خدا شناسی کی غرض سے ان تمام معجزات (آیات ) کا مشاہدہ اور مطالعہ کریں۔

 

۴۔ مذکورۂ بالا آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور تاویلی تشریح بفضلِ خدا امام شناسی کی روشنی میں ہے، یہ سچ ہے کہ بحرِ علم پر جب تخت ہے تو یہ کشتی نما تخت ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ ایسا باکرامت تخت یا ایسی عظیم الشّان کشتی ہرگز خالی نہیں، بلکہ اس پر یا اُس میں خلیفۂ خدا یعنی

۸

حضرتِ قائم علیہ افضل التحیۃ و السّلام ہے، کیونکہ خدائے سبحان بذاتِ خود جسم نہیں کہ تخت پر متمکن ہو، اور اگر تاویل کے بغیر دیکھا جائے تویہ عقدۂ مالا ینحل ہے، اور سورۂ ذاریات (۵۱: ۲۰) کے حوالے سے ’’ارض‘‘ کا ترجمہ: کائناتی زمین (زمینِ نفسِ کلّ) بالکل ٹھیک ہے، کیونکہ آیاتِ قدرت سب کی سب سیارۂ زمین پر محدود نہیں ہیں، اور کائناتِ ظاہر و باطن کے بغیر تنہا یہ زمین عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) کے برابر نہیں ہو سکتی ہے۔

 

۵۔ اس کتاب کا نام:

حضرتِ امامِ عالی مقام صلوات اللہ علیہ و سلامہ کے علمِ روحانی کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے اس کتاب کا نام ’’تجرباتِ روحانی‘‘ مقرر ہوا، مجھے یقین ہے کہ ہمارے سکالرز ، گورنرز، علمی سولجرز، آفیسرز، اور ممبرز سب کے سب اس پیارے نام سے شادمان ہو جائیں گے، اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہماری پیاری جماعت کی خوشنودی اور دعا بھی حاصل ہو گی، جس میں بہت سی برکتیں ہیں۔

 

۶۔ اس علمی خدمت کی برکت سے یہاں جتنی پاکیزہ ہستیاں یا پاک روحیں جمع ہوئی ہیں، وہ بے شک ہمارے عالمِ شخصی کے فرشتے ہیں، وہ فرداً فرداً میرے آئینۂ خیال میں آتے رہتے ہیں، یہ عالمِ خیال کا پرحکمت احساس و ادراک میرے لئے خدا کے احسانات

۹

میں سے ہے، یہ ہر شخص کے لئے بہشت کا ایک نمونہ ہے کہ آئینۂ خیال میں دوستوں کو دیکھ سکتا ہے، قوّتِ خیال انسان کے لئے اللہ کا عظیم عطیہ ہے، ذکرِ الٰہی کی کثرت سے خیال  میں طوفانی روشنی پیدا ہوتی ہے، حتیٰ کہ یہ ایک کائنات کی شکل اختیار کرتا ہے، آپ روشن خیال ہو جائیں، یہ کام حضرتِ امام علیہ السلام کے پاک عشق سے ہو سکتا ہے، مولا کا عشق تمام اخلاقی ، روحانی اور عقلی بیماریوں کی بڑی زبردست مؤثر دوا ہے۔

 

۷۔ قرآنِ حکیم اور امامِ آلِ محمدؐ کی مقدّس خدمت ہی اسلام کی خدمت ہے، الحمد للہ کہ یہی پاکیزہ اور پسندیدہ خدمت جماعت اور انسانیت کے لئے بھی ہے، پس اپنے جملہ خوش نصیب اور نیک بخت ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ علم الیقین کی روشنی میں خدا کا شکر کریں اور شادمان ہوجائیں کہ اس نعمتِ عظمیٰ کی خوشی شکر گزاری کے معنی میں بہت مناسب ہے، رحمتِ الٰہی سے بعید نہیں کہ اس خدمتِ عالیہ کا کوئی بہت بڑا سا انعام ہو، جیسے دوستانِ عزیز کے لئے عالمِ شخصی کا مسخر ہو جانا، جس میں تسخیرِ کائنات کا راز مخفی ہے۔

 

۸۔ تجربۂ روحانیت کے فوائد:

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے (ترجمہ): یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو اپنی (ظاہری) خلقت کی مثال پر بنایا، تا کہ اس کی خلقت

۱۰

سے اس کے دین کی مثال و دلیل لی جائے اور دین سے اس کی وحدانیت کی دلیل مل سکے (وجہِ دین، حصۂ اوّل، ص ۱۰۹)۔

 

جب دین و دنیا کا اصل قانون یعنی قانونِ فطرت ایک جیسا ہے، جیسے مذکورہ حدیثِ شریف کا ارشاد ہے تو ہم اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہ کریں کہ جس طرح مادّی سائنس کے تجربات سے تمام لوگوں کو بے شمار فائدے حاصل ہو رہے ہیں، اسی طرح آج نہیں تو کل روحانی سائنس کے تجربات سے بھی لاتعداد فوائد حاصل ہونے والے ہیں۔

 

۹۔ حج یا دعوتِ قیامت:

خداوندِ علیم وحکیم کا یہی منشا تھا کہ انبیاء و اولیا علیہم السّلام کی روحانی قیامتوں کو مختلف مثالوں میں پوشیدہ رکھا جائے، چنانچہ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی قیامت حج کی مثال میں مخفی ہے (۲۲: ۲۷ تا ۲۸) پس اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیلؑ سے فرمایا: و اذن فی الناس بالحج = اور لوگوں کو حج کے لئے پکارو۔ یعنی دنیا کے مختلف برِاعظموں میں جتنے بھی لوگ ہیں، ان سب کو اسرافیل کے توسط سے پکارو تا کہ وہ بشکلِ ذرّات تمہاری قیامت میں حاضر ہو جائیں۔۔۔ تا کہ وہ اپنے ان فائدوں کو دیکھ سکیں جو ان کے امامِ وقت میں محفوظ ہیں، اور ایامِ معلومات میں بطورِ شکرانہ اسمِ خدا کا ذکر کرتے رہیں کہ اللہ نے ان کو حدودِ دین کے علم سے

۱۱

فائدہ دلایا ہے۔

 

۱۰۔ قیامت کا تعلق امامِ زمانؑ سے ہے:

سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۱) میں ارشاد ہے کہ اہلِ زمانہ کی قیامت امامِ زمان علیہ السلام میں برپا ہوتی ہے، یہی سبب ہے کہ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی پاکیزہ شخصیت میں لوگوں کی مخفی ذرّاتی قیامت کا ذکر حج کی مثال میں ہوا ہے، یہ جاننا ضروری ہے کہ حدودِ دین میں سے جس حد (درجہ) میں قیامت قائم ہوتی ہے، اس میں حضرتِ امامِ عالی مقام کا نورانی ظہور ہوتا ہے، لہٰذا قیامت ایک اعتبار سے عارف میں بپا ہوتی ہے اور دوسرے اعتبار سے حضرتِ امام میں۔

 

۱۱۔ یعسوب المومنین:

روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے مولاعلیؑ سے فرمایا تھا: انت یعسوب المومنین =تم مومنین کے بادشاہ ہو۔ یعسوب (امیر النحل) کے معنی ہیں شہد کی مکھیوں کا بادشاہ یا ملکہ، پس اس مثال کے مطابق امامِ عالی مقام یعسوب اور امیر النحل ہے، اور روحانی علم و حکمت سے وابستہ مومنین و مومنات کی روحیں اس شہد کی مکھیاں ہیں، پس کتنی بڑی خوش نصیبی ہے ان لوگوں کی جو علمی خدمت کی وجہ سے روحانیت میں امام علیہ السلام کے ساتھ ہیں۔

۱۲

۱۲۔ احسان شناسی اور قدردانی:

یہاں کچھ ارضی فرشتوں کا تذکرہ ہے، کچھ پاکیزہ اور سعادتمند روحوں کا ذکرِجمیل ہے، اور کچھ پاک مولا کے سچے عاشقوں کی پیاری پیاری یادیں ہیں، وہ حضرات جو علمِ امام کے شیدائی ہیں، وہ صاحبان جو علمی مجلس کو جان و دل سے چاہتے ہیں، وہ عزیزان جو گریہ و زاری اور مناجات کی روح سے خوب واقف و آگاہ ہیں، وہ بہت پیارے دوست جو جماعت خانہ سے بے حد دل بستگی رکھتے ہیں، وہ احباب جو جماعتی خدمت کو اپنے لئے سعادتِ دارین سمجھتے ہیں، وہ عالی ہمت مومنین و مومنات جو ہمہ وقت روحانی ترقی کے لئے سعی کرتے رہتے ہیں، وہ آدمیت کے اعلیٰ نمونے جو زیورِ اخلاقِ حسنہ سے آراستہ و پیراستہ ہیں، وہ عسکرِ حقانی جو علمی جنگ میں بنیانِ مرصوص (سیسہ پلائی ہوئی دیوار ، ۶۱: ۴) کی طرح متحد و مضبوط ہیں۔

 

۱۳۔ وہ زبردست بہادر علمی سولجرز جو قرآن، امام، اسلام، اور انسانیت کی حربی خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ معزز حضرات جو علم الیقین کی دولتِ لا زوال سے مالامال ہیں، وہ دوستانِ خدا جن کے پاس طرح طرح کے علمی ذخائر موجود ہیں، وہ حقیقی مومنین و مومنات جو سیّارۂ زمین پر روحانی علم کو پھیلا رہے ہیں، وہ اقبالمند عزیزان جن کے لئے عالمِ شخصی کی سلطنت موعود ہے، وہ ہمارے بے حد پیارے علمی احباب جو پاکستان، برطانیہ، فرانس، امریکہ، کنیڈا،

۱۳

وغیرہ میں مقیم ہیں، ان کی مقدّس دینی عقیدت و محبت، پاکیزہ علمی خدمت، اور جذبۂ ایثار و قربانی کو ہزار در ہزار بار سلام کرتے ہوئے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

 

۱۴۔ وہ اللہ کے نیک بندے جو عشقِ مولا میں مست و فنا ہو کر سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں، وہ اہلِ ایمان جو آسمانی فرشتوں ہی کی طرح تمام اہلِ زمین کے حق میں خیر سگال اور دعا گو ہیں (شوریٰ  ۴۲: ۵) وہ محبانِ اہلِ بیت جو حدیثِ شریف ’’الخلق عیال اللہ‘‘ کی حکمت پر نظر رکھتے ہیں، وہ ہمارے بڑے محترم احباب جو اپنی پاکیزہ جبین میں خانۂ خدا (جماعت خانہ) تعمیر کر رہے ہیں (یونس، ۱۰: ۸۷) وہ نیک بخت مومنین و مومنات جن کو اپنے پاک مولا کے مقدّس فرمان سے والہانہ محبت اور عشق ہے، وہ ہمارے بہت ہی عزیز رفقاء جن کا عظیم ترین عرفانی خزانہ مونوریالٹی (یک حقیقت) ہے، وہ نیک بخت سٹوڈنز جو اپنے پیارے استاد کے تعاون سے حضرتِ قائم علیہ السّلام کے علمِ تاویل کو پھیلا رہے ہیں، وہ علیٔ زمان کے علمی لشکر جو جہالت و نادانی کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔

 

۱۵۔ جدید انتساب، اوّل:

س: آپ کے نزدیک عالمِ شخصی کا موضوع بہت ہی اہم بلکہ سب سے مفید مضمون ہے، آپ یہ بتائیں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ ج: میں ناچیز کون ہوں

۱۴

کہ حقیقی علم کو درجہ وار کر سکتا ہوں، صرف اتنا ہے کہ ہم قرآنِ حکیم، حدیثِ شریف، اور أئمّۂ آلِ محمدؐ کے ارشادات کی طرف دیکھتے ہیں، پس اسی ہدایتِ حقّہ سے معلوم ہوا کہ عالمِ شخصی میں خود شناسی اور خدا شناسی کے سارے معجزات موجود ہیں۔

 

۱۶۔ س: عالمِ شخصی کن کن لوگوں کا ہوتا ہے؟ آیا اس کا تعلق ہر انسان سے ہے یا صرف مومن سے؟ عالمِ شخصی کا صدر مقام یا مرکز کہاں ہے؟ ج: ہر آدمی بحدِ قوّت ایک عالمِ شخصی ہوتا ہے، ہر نبی، ہر ولی، اور ہر عارف بحدِ فعل عالمِ شخصی ہوتا ہے، کوئی بھی انسان خدا، رسولؐ، اور ولیٔ امرؑ کی حقیقی اطاعت کرے تو یقیناً وہ عملی عالمِ شخصی ہو سکتا ہے، عالمِ شخصی کا صدر مقام یا مرکز جبین ہے، جہاں محیر العقول معجزات ہیں۔

 

۱۷۔ س: آپ نے کہا کہ عالمِ شخصی میں جبین وہ مرکز ہے جس میں انتہائی حیران کن معجزات ہیں، آپ ذرا یہ بتائیں کہ وہ کس نوعیت کے معجزات ہیں؟ وہ کیا کیا ہیں؟ ج: وہ معجزات روحانی، عقلی، علمی، عرفانی، تمثیلی، ازلی، ابدی، لامکانی، وغیرہ ہیں، مثال کے طور پر وہاں عالمِ وحدت ہے، جس کا قرآنی حوالہ نفسِ واحدہ (۳۱: ۲۸) ہے، جس سے انسانِ کامل مراد ہے، پس اس دورِاعظم میں بچشمِ معرفت دیکھا جائے تو حضرتِ آدمؑ سے شروع کرکے ہر انسانِ کامل (نفسِ واحدہ) کو اپنی جبین میں انسانی صورت کا عالمِ وحدت نظر آتا رہا ہے،

۱۵

جس میں عرش، کرسی، قلم، لوح، قرآن، کتاب، سدرہ، اسم، مسمیٰ، فرشتہ، جنّ، پری، ہر چیز، ہر چیز، اور ہر چیز انسانی صورت میں ہے، جب عالمِ وحدت کی تمام چیزیں انسانی صورت پر تھیں تو وہ سب کی سب مل کر ایک ہو گئیں۔

 

۱۸۔ ان چند حکمتوں کے بعد جدید انتساب کی بات یہ ہے کہ ہمارے بے حد پیارے اور معزز محمد عبد العزیز صدرِ ادارۂ عارف، سیکنڈ گورنر کی سنہری خدمات اور زرین کارناموں کا زندہ قصّہ بڑا طویل ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی عمرِ گرانمایہ کا ایک اچھا خاصا وقت ادارے کی مضبوطی اور ترقی کے لئے صرف کیا ہے، ہمارا نامور ادارہ سکالرز اور عملداروں کی جملہ خدمات کو قلمبند کر رہا ہے، ان شاء اللہ، دانشگاہِ خانۂ حکمت سے متعلق تمام تر کارناموں کو ’’تاریخِ زرّین‘‘ میں درج کریں گے، صدر محمد عبد العزیز کی خوش خصال اور فرشتہ صفت بیگم یاسمین محمد ریکارڈ آفیسر اور سیکنڈ گورنر کی ذات میں بہت سی اخلاقی اور ایمانی خوبیاں جمع ہیں، ان کی ازلی سعادت اور اساسی خوبی تو یہ ہے کہ آپ کا دل ذکرِالٰہی اور مناجات کے وقت فوراً ہی پگھلنے لگتا ہے، اور بڑی آسانی سے مولا کی محبت کے آنسو برسنے لگتے ہیں، پس اصل وجہ یہی ہے کہ ریکارڈ آفیسر یاسمین محمد تمام خدمات میں اپنی مثال آپ ہیں، محمد اور یاسمین کے فرزندِ ارجمند شہزاد علمی لشکر امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کی دوسری

۱۶

با سعادت اولاد سیلینہ ایم۔ بی۔ بی۔ ایس سالِ سوم کی طالبہ ہیں، اور تیسری نیک بخت اولاد کا نام زہرا ہے، جو میٹرک میں زیرِ تعلیم ہے۔

 

۱۹۔ صدر محمد عبد العزیز کی والدۂ محترمہ شیرین خانو (خانم) بنتِ شکور بڑی نیک اور دیندار خاتون تھیں، انہوں نے تقریباً ۳۰ سال تک لیڈیز والنٹیئر تنظیم میں اپنے پاک امام اور پیاری جماعت کی بے لوث خدمات انجام دیں، حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر بھی بطورِ خاص خدمت کی، ان کے پاس مختلف خدمات کے کئی میڈلز موجود تھے، آپ کی وفات ۷۲ سال کی عمر میں ہوئی، موصوف صدر کے والد محترم عبد العزیز ابنِ قاسم بڑے مذہبی اور خدا پرست انسان تھے، انہوں نے عرصۂ دراز تک جماعتی والنٹیئرز کے ساتھ امامِ عالی مقامؑ کی مقدس خدمات کو انجام دیا، آپ کسی مجلس کے موکھی بھی تھے، انہوں نے بینڈ میں بھی حصہ لیا، ان کو دینی علم اور گنان سے بے حد دلچسپی تھی، مولائے پاک نے انہیں حضور موکھی کا ٹائٹل عطا کیا تھا۔

 

۲۰۔ جدید انتساب، دوم:

س: سورۂ مومنون (۲۳: ۵۰) میں ہے: اور ہم نے ابنِ مریم اور ان کی والدہ کو بھی اپنی نشانی (آیت = معجزہ) قرار دیا اور انہیں ایک بلندی پر جہاں ٹھہرنے کی جگہ بھی تھی اور چشمہ بھی تھا پناہ دی۔ آپ بتائیں ، اس میں کیا کیا

۱۷

حکمتیں ہیں؟ ج: حکمتِ اوّل: اللہ تعالیٰ نے حضرتِ عیسیٰؑ اور ان کی والدہ حضرتِ مریمؑ کو عالمِ شخصی کے جملہ معجزات کا مجموعہ بنا دیا، حکمتِ دوم: یہ بلند و بالا مقام جبین ہے جو عالمِ شخصی کی معراج ہے، حکمتِ سوم: یہ منزلِ مقصود ہے، اس لئے یہی قرار کی جگہ ہے، حکمتِ چہارم: یہاں علمِ لدنّی کا سرچشمہ ہے جو ہمیشہ جاری رہتا ہے، حکمتِ پنجم: جملہ مومنین و مومنات تزکیۂ نفس سے اس مقامِ اعلیٰ تک پہنچ سکتے ہیں، کیونکہ یہاں ایک پرحکمت مثال موجود ہے کہ مریم سلام اللہ علیہا نبی نہ تھیں، لیکن ان کی روحانی ترقی ایک پیغمبر سے کم نہ تھی۔

 

۲۱۔ س: سورۂ فصلت (۴۱: ۲۱) کے حوالے سے سوال ہے کہ مرتبۂ روحانیت پر معجزات ہی معجزات ہیں، وہاں ہر چیز بولتی ہے، یہاں تک کہ بے جان چیزیں بھی خدا کے حکم سے کچھ بات کر سکتی ہیں، کیا آپ اس بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟ ج: (ان شاء اللہ) ہاں، ایسے معجزات بھی بہت ہیں، جیسے پرندوں کی آواز سے کچھ مختصر گفتگو، اسی طرح ہوا، پانی، اور دیگر آوازوں پر روح القدس کا تصرف، یعنی گفتگو بنانا، یہ زمانۂ انقلابِ روحانیت کی باتیں ہیں، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ قریب کے کسی لاؤڈ سپیکر پر چینی زبان میں کوئی لیکچر ہو رہا تھا، اور معجزاتی روح اس کو بروشسکی میں تبدیل کر رہی تھی، اسی طرح مرغِ سحر کی اذان سے بھی ایک ندائیہ کلمہ بنتا تھا، ایک رات میں تن تنہا

۱۸

عبادت کر رہا تھا کہ یکایک جماعت خانہ کی چار دیواری، چھت، اور فرش کی تمام چیزیں اسی طرح ذکرِ جلی کرنے لگیں، جس طرح کہ میں جماعت کو ذکر کراتا تھا، ایسا لگ رہا تھا، جیسے جماعت خانے میں ذکر ریکارڈ ہو چکاتھا، پس اس نوعیت کے معجزات بھی بہت ہیں۔

 

۲۲۔ اور یہاں سے جدید انتساب کی بات اس طرح کی جاتی ہے کہ لفظِ ’’زہراء‘‘ حضرتِ فاطمہ سیدہ سلام اللہ علیہا کا مبارک لقب ہے، یہ زَہَرَ (چراغ یا چاند یا چہرے کا چمکنا) سے مشتق ہے، جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ تیمناً و تبرکاً اہلِ بیتِ اطہار علیہم السّلام کے مبارک اسماء و القاب میں سے کسی پر اولاد کا نام رکھا جاتا ہے، چنانچہ محترم جعفر علی اور ان کی بیگم زرینہ جعفر علی کو توفیق عنایت ہوئی یا مقدّس جماعت خانہ کی طرف سے عطا ہوا کہ ان نیک فطرت والدین نے اپنی باسعادت نومولود بچی کا پسندیدہ نام زہراء رکھا، یومِ تولد جمعۂ مبارک تھا، اور تاریخ ۹ ستمبر ۱۹۷۰ء۔

 

۲۳۔ یہ سچ ہے کہ آدمی کی آدمیت کا اولین سکول ماں کی گود ہے، پھر گھر اور ماحول، خدا کے فضل و کرم سے زہراء کی اخلاقی اور مذہبی پرورش بڑی خوبی سے ہوتی رہی، اور سنِ شعور میں قدم رکھتے ہی انہوں نے جماعتی خدمت کی غرض سے جونیئر گائیڈز میں شرکت کی، پھر گرل گائیڈز، پھر سینئر گائیڈز، پھر پانی اینڈ شو کمپنی میں پُرحکمت خدمات انجام دیں، یہاں مجھے یہ خیال آیا کہ حضرتِ مولانا

۱۹

امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ و سلامہٗ نے مذہبی خدمت سکھانے کے لئے کیسی کیسی مفید تنظیمیں بنا دی ہیں، میرے ماں باپ اور میری روح ان سے فدا! کاش اس زمانۂ قیامت کے عدیم المثال امام پر کماحقہٗ کوئی کتاب ہوتی!

 

۲۴۔ محترمہ زہراء (دخترِ) جعفرعلی چونکہ شروع ہی سے مذہبی میلانات رکھتی تھیں، اس لئے مذہبی مدرسۂ شبینہ سے ایڈوانس ریلیجس ایجوکیشن کی سند حاصل کر کے ٹیچنگ میں شامل ہو گئیں، آپ نے دنیوی تعلیم میں ایم۔ اے (فارسی) کی سند حاصل کر لی ہے، اور اب تقریباً گیارہ سال کا عرصہ ہوا، دانشگاہِ خانۂ حکمت کے روحانی علوم سے محترمہ زہرا کو شغف ہے، ہم ان کو عنقریب ’’سکالر زہرا‘‘ کہہ کر بہت ہی شادمان ہو جائیں گے، آپ حقیقی علم کی بڑی شیدائی ہیں، ہر وقت اسی کی خدمت میں لگی رہتی ہیں، انسانی، اخلاقی، مذہبی، اور علمی خوبیوں اور قدروں کا ایک خزانہ ہیں۔

 

۲۵۔ زہراء جعفر علی کے پاس اتنے عہدے یا اتنی ذمہ داریاں ہیں: پرسنل سیکریٹری، چیف سیکریٹری، پروف سیکشن انچارج، ریکارڈ آفیسر، فرسٹ گورنر، اور خزانچی، ان بھاری ذمہ داریوں سے آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ بیٹی زہراء کتنی بہادر اور عالی ہمت گورنر ہیں، آپ کے والدین بہت ہی نیکوکار اور بہت ہی ایمانی ہیں، یہ انہی دونوں ارضی فرشتوں کی پرسوز دعا، دلی خواہش، اخلاقی کوشش

۲۰

اور مذہبی پرورش تھی، جس کی بدولت آج محترمہ زہراء صاحبہ دانشگاہِ خانۂ حکمت کے عظیم گورنرز کے ساتھ بھی ہیں اور عظیم سکالرز کے ساتھ بھی۔

 

۲۶۔ کاملین میں صورِ اسرافیل کی گونج:

اصل راز کی بات تو یہ ہے کہ عرفانی قیامت پیغمبر اور امام کے بعد صفِ اوّل کے کسی مومن پر بھی واقع ہو سکتی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو خود شناسی اور خدا شناسی (معرفت) محال ہوجاتی، مگر یہ بات ہرگز نہیں، ہاں معرفت جس میں سب کچھ ہے وہ انفرادی قیامت کے سوا ممکن ہی نہیں، اور معرفت (خدا شناسی) ہی وہ واحد کلید ہے، جس سے قرآنِ حکیم کے اسرارِ باطن کا دروازہ کھل جاتا ہے۔

 

۲۷۔ کہتے ہیں کہ مٹی، پتھر، وغیرہ جیسی چیزیں بے جان ہیں، جن کو جمادات کہا جاتا ہے، یہ بات ظاہر میں درست ہے، ہم بھی اکثر اسی طرح لکھتے ہیں، لیکن باطنی حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ اپنے اپنے وقت میں کاملین کو یہ یقینی اور عرفانی تجربہ ہوچکا ہے کہ جب انسانِ کامل کی قیامت برپا ہو جاتی ہے تو اس وقت نفخۂ صور سے کائنات بھر کی چیزوں کی روحیں عالمِ شخصی میں جمع ہوکر ذاتِ سبحان کے لئے تسبیح خوان ہوجاتی ہیں، انہی روحوں کے ساتھ تمام پہاڑوں اور پرندوں کی ارواح بھی شامل ہوتی ہے، انکشاف کے لئے آیۂ

۲۱

شریفۂ دہم از سورۂ سبا (۳۴: ۱۰) پیشِ نظر ہو: ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو ( اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو بھی دیا، ہم نے لوہے کو اس کے لئے نرم کر دیا۔ لوہے سے علم مراد ہے، لوہا انتہائی سخت ہے = علم بھی انتہائی سخت ہے، لوہے کو گرم کر کے کوئی استعمال کی چیز بناتے ہیں = علم کو سخت محنت سے حاصل کرکے کام میں لاتے ہیں، خدائے تعالیٰ نے حضرتِ داؤدؑ کے لئے لوہے کو نرم بنا دیا = یعنی سخت علم کو علمِ لدنی کی صورت میں بہت ہی نرم اور بہت ہی آسان بنا دیا۔

 

نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

بدھ ۱۵ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ، ۲۰ اگست ۱۹۹۷ء

۲۲

ایک بے مثال کامیابی

 

۱۔ میرے بے حد پیارے ساتھیو! میرے بہت بہت بہت عزیز دوستو! آؤ آؤ، میری روح تمہارے لئے فرشِ راہ! میری جان تم سے بار بار فدا! آؤ آؤ، میں تم سب کے پاکیزہ دیدار کا منتظر ہوں، آ جانا تا کہ ہم سب کے سب مل کر جشنِ کامیابی منائیں، اس میں سب سے پہلے بعنوانِ شکر گزاری گریہ و زاری کریں، یہ عبادت بڑی پُرحکمت اور عظیم الشّان ہے، اسی میں دین و دنیا کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔

 

۲۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے عزیزان کی پرخلوص دعا اور ہر گونہ خدمت نے آج پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے لئے ایک کارنامۂ زرّین انجام دیا، الحمد اللہ، آج ہمارے بہت ہی معزز گورنرز اور علمی لشکر کو ایک بے مثال تاریخی کامیابی نصیب ہوئی، بلکہ بہت سی کامیابیاں، کیا عملی تصوّف اور روحانی سائنس ایک انقلابی کتاب نہیں ہے؟ آیا اس کی رسمِ رونمائی پاکستان کے دو وفاقی وزیروں کے دستِ مبارک سے ادا نہیں ہوئی؟ پھر ہزار حکمت

۲۳

کی کامیابی! پھر پچاس کتابوں کے انگریزی تراجم پر جناب پروفیسر ڈاکٹر فقیر محمد ہونزائی صاحب کا جشنِ زرین (گولڈن جوبلی) اور اب کتاب: ’’تجرباتِ روحانی‘‘ کی تصنیف اور کتابت، یااللہ ! ہم تیرے عظیم احسانات تلے دب گئے ہیں، اور تیری بے شمار نعمتوں کے طوفان میں غرق ہو چکے ہیں۔

 

۳۔ اے عزیزان! آپ نے بہت پہلے مونوریالٹی (یک حقیقت) کا درس پڑھا تھا، وہ آج اور ہمیشہ کام آئے گا، پس آپ میں سے ہرایک دل ہی دل میں بار بار کہتا رہے کہ میں علامہ نصیر ہوں، میں ڈاکٹر فقیر ہوں، میں دانشمند غلام قادر ہوں، میں نے اسلام آباد میں یہ یہ کام کیا، وغیرہ وغیرہ، اس وحدت سے عزیزم غلام قادر بیگ چیف ایڈوائزر، صدر الصدور ، اور دانشمند کو بے حد خوشی ہوگی، اور یہ حقیقت ہے کہ ہم سب غلام قادر صاحب میں موجود تھے، تب ہی انہوں نے ایسا بے مثال کارنامہ انجام دیا، اور اس کی کئی وجوہ ہیں، اوّل یہ کہ ہم سب کے نمائندہ ذرّات ان میں ہیں، دوم گریہ و زاری اور دعا بہت بڑی طاقت ہے، سوم دامے، دِرمے، قدمے، سخنے بھی ایک ضروری شے ہے، چہارم اچھے کام کرنے والے عملداروں کی ہمّت افزائی بھی ضروری ہے، پنجم کوئی بھی کام ہمارے یہاں گورنرز، علمی لشکر، وغیرہ کے تعاون کے سوا انجام پذیر نہیں ہوسکتا، تا آنکہ استاد نے بارہا کہا ہے کہ عزیزان ان کے خواب و خیال اور روحانیت کے

۲۴

ممد و معاون فرشتے ہیں۔

 

۴۔ پھر بھی دانشمند غلام قادر کی تعریف کے لئے بہت بڑی گنجائش ہے، آپ عابدِ شب خیز ہیں، ایک چھوٹے سے گروپ کے ساتھ بڑی سخت ریاضت کر رہے ہیں، ان کی گریہ و زاری بے مثال اور مناجات لاجواب ہے، تمام عزیزان کو اس حقیقت پر یقین ہے کہ رات کی درویشانہ عبادت ہی سے رحمتِ الٰہی کا دروازہ مفتوح ہو جاتا ہے، عزیزم غلام قادر صدرِ صدور بے شمار خوبیوں کا ایک بھرپور خزانہ اور کمالات کا ایک انمول گنجینہ ہیں، صبوری، حلیمی، سنجیدگی، نرم دلی، نرم گوئی، اور خوش خلقی میں اپنی مثال آپ ہیں، قادر صاحب صفِ اوّل کے سکالرز میں شمار ہوتے ہیں، ان کے عاقلانہ لیکچرز اور مقالے بڑے دلنشین ہوا کرتے ہیں۔

 

۵۔ بہتر تو یہ ہے کہ میں اعتراف کروں کہ القلم کانفرنس اسلام آباد کی ہمہ گیر خوبیوں کی توصیف مجھ ایسے درویش سے کبھی ہوہی نہیں سکتی، لہٰذا میں ان تمام عزیزان سے درخواست کرتا ہوں جو اس تقریب میں حاضر تھے کہ وہ ازراہِ کرم کچھ تاریخی یادداشت بھی لکھیں، اور ساتھ ہی ساتھ قادر صاحب کے لئے کوئی ہمت افزا مکتوب بھی ہو، نیک کام کو آگے بڑھانے کا یہی ایک طریقہ ہے، میرا یقین ہے کہ میرے دوستوں میں نہ صرف علم وعمل کی روح پائی جاتی ہے، بلکہ اس چیز کی بھرپور قدردانی اور حوصلہ افزائی بھی ہے، مجھے امید ہے، کہ ہمارے عزیزان

۲۵

ایک دوسرے کی ہمت افزائی کرتے رہیں گے۔

 

۶۔ میں اس بے مثال کامیابی کے تاریخ ساز موقع پر شمالی علاقہ جات، اسلام آباد، کراچی، لنڈن، امریکہ، کنیڈا، اور فرانس کے عزیزان کو بصد شوق مبارکباد پیش کرتا ہوں، اور بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ یہ سب کچھ آپ کی دم قدم کی برکت سے ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعہ ۹ جمادی اول ۱۴۱۸ھ ، ۱۲ ستمبر ۱۹۹۷ء

۲۶

تجرباتِ روحانی

 

۱۔ الٰہی، تیری آزمائشوں میں کیسی کیسی بے پایان رحمتیں اور برکتیں پوشیدہ ہیں! خداوندا، تیرے امتحانات میں کتنی بڑی بڑی حکمتیں پنہان ہیں! یااللہ، اس بندۂ عاجز و ناتوان کو کوئی علم ہی نہ تھا کہ آگے چل کر کیا ہونے والا ہے، جب میں مصائب و آلام سے تنگ آ کر روتا تھا، تب تیری رحمت گویا بہ اندازِ بشارت مسکراتی تھی، یا رب العالمین، تیرے نوازنے کے طریقے بھی کیسے عجیب وغریب ہوا کرتے ہیں! یا ربّ، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ تو ہی مسبب الاسباب اور مفتح الابواب ہے۔

 

۲۔ اے خداوندِ قدّوس، اپنے محبوب رسول حضرت محمدِ مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حرمت سے ہماری جملہ تقصیرات سے درگزر فرما! کہ ہم تیری بے شمار نعمتوں کی شکرگزاری اور قدردانی نہیں کرسکتے ہیں، اسی لئے خوف ہے کہ ہمارے اعمال کا مآل کیا ہوگا؟ افسوس ہے کہ اب گریہ و زاری کے لئے جگر میں

۲۷

نمی نہیں، دل میں نرمی نہیں، اور غفلت و ناشکری کی کوئی کمی نہیں، ہم ہر وقت آسمانی عشق کی تعریف تو کرتے رہتے ہیں، لیکن کما کان حقّہٗ اس کو اپنے دل میں بسا نہیں سکتے، اسی وجہ سے ہمیں بڑی شرمندگی کا احساس ہو رہا ہے۔

 

۳۔ قارئینِ کرام! اگرچہ اس کتاب کا پرکشش نام “تجرباتِ روحانی” ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ روحانیت کے تمام تجربے اسی میں جمع کئے گئے ہیں، بلکہ حق بات تو یہ ہے کہ بفضلِ خدا ہماری جملہ کتابیں انہی تجربوں کی روشنی میں لکھی گئی ہیں، ہر چند کہ یہ کتاب روحانی تجربات کے اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

 

۴۔ اگر ہم روحانی تجربات کی تفصیل میں جائیں تو اس کے لئے ہمیں بہت کچھ لکھنا پڑے گا، جس کے لئے طویل وقت چاہئے، لیکن ایسا کام ہمارے منصوبے میں نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کوئی آسان کام ہے، لہٰذا یہاں روحانی تجربات سے متعلق ایک مختصر تعارف پیش کرنا مقصود ہے، تاہم خوش بختی سے میں نے اپنی کئی تصانیف میں بعض تجربوں کا تذکرہ کیا ہے، پس کوئی محقق اس جہت سے بھی میری کتابوں پر ریسرچ کر سکتا ہے، میرا خیال ہے کہ اب دنیا میں ریسرچ کی بہت بڑی اہمیت ہو گی، اس کی کئی وجوہ ہیں، قرآن اور روحانیت کے بھیدوں کا زمانہ آگیا ہے، یعنی اب دورِ تاویل شروع ہوچکا ہے، خدا مسبب الاسباب ہے، وہی لوگوں سے کام لے کر اسلام کی عالمگیر خوبیوں

۲۸

کو بتدریج ظاہر کرے گا۔

 

۵۔ میں بعض اہم باتوں کو بار بار دہراتا ہوں، اور بار بار لکھتا بھی ہوں، چنانچہ نعمت شناسی کی اس بات کو بھی دہرانا ہے کہ خداوندِ تعالیٰ نے ہم سب پر بہت بہت بڑا احسان کیا کہ ہم کو بے شمار جمادات، بے شمار نباتات، بے شمار حیوانات، بے شمار لادینوں، اور بے شمار اہلِ ادیان سے آگے بہت ہی آگے لا کر مسلمانی کا درجہ دیا، اور پھر مزید ہزار در ہزار احسان کر کے اس نہایت مہربان خداوند نے ہم کو امام شناس بنا دیا، پھر مزید احسانات کر کے حضرتِ قائم القیامتؑ کا بھی شناسا کر دیا، ایسے میں اگر ہم سے قرآن، اسلام، اور انسانیت کی کوئی خدمت ہو سکتی ہے، تو ان شاء اللہ یہ ہماری سعادت مندی ہو گی۔

 

۶۔ تجربۂ روحانی کے دو پہلو ہیں، ایک پہلو میں کیفیات ہیں، اور دوسرے میں ثمرات، الحمد للہ، ہم نے اپنی بساط کے مطابق دونوں پر کام کیا ہے، کیفیات کا یہ مطلب ہے کہ آپ اپنے روحانی مشاہدات کا براہِ راست تذکرہ کریں، اور ثمرات اس علم وحکمت کو کہیں گے، جسے آپ روحانی مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، مثال کے طور پر ہمارے اکثر عزیزان منزلِ عزرائیلی وغیرہ کے بہت سے معجزات کا تذکرہ سن چکے ہیں، یہ اس تجربے کی کیفیت یا پس منظر یا حوالہ ہے، اب اگر ان کے سامنے نفسانی موت اور ذاتی قیامت کی کوئی مشکل بات بھی کی جاتی ہے تو یہ عزیزان بڑی آسانی سے

۲۹

سمجھتے ہیں اور کسی شک کے بغیر قبول بھی کر لیتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ روحانی علم کی عظمت و برتری کا ثبوت روحانی تجربہ ہے، اور تجربے کا ثبوت پس منظر ہے۔

 

۷۔ جو علم جیسا بھی ہے، اس کا تعارف ضروری ہے، لیکن روحانی علم کا تعارف بے حد ضروری ہے، تا کہ اس کی پہچان کی وجہ سے لوگوں کو زبردست فائدہ پہنچ سکے، آپ نے حضرتِ مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کے روحانی ارشادات کو پڑھا ہوگا، لیکن قرآنِ ناطق کے کلمات کو یوں سمجھ کر پڑھنا ہے کہ یہ کلماتِ تامات کی روحانی تفاسیر ہیں، آپ امامِ برحق کے ارشادِ روحانی کے کلمات کا ورد کریں، یہ مظہرِ نورِ خدا اور جانشینِ رسولؐ کے مبارک الفاظ ہیں، اس لئے ان میں علم و حکمت کی کلیدیں پوشیدہ ہیں۔

 

۸۔ اگر میں یہاں یہ کہوں کہ امام علیہ السلام دنیا میں اس لئے حاضر اور موجود ہوتا ہے تا کہ لوگ اخلاقی ، مذہبی، اور روحانی ترقی سے اس کے علمی معجزات تک رسا ہو جائیں، کیونکہ امامؑ کا نور خدا و رسولؐ کا نور ہے، جو ہمہ رس اور عالمگیر ہونے کی وجہ سے ہر شخص کے دل میں طلوع ہوسکتا ہے تو اس بات سے شاید یہ سوال پیدا ہو کہ آپ کو امامِ عالی مقام کے جوجو معجزے ہوئے ہیں، ان کا تذکرہ کریں، تو اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے، سب سے پہلے اس امرِ واقعی کی طرف توجہ دلائی جائے گی کہ جس نوجوان نے صرف دس ماہ کے قلیل عرصے میں تیسری اور

۳۰

چوتھی جماعت پڑھ کر پرائمری سکول کو خیرباد کہا تھا، اسی شخص نے ۱۹۵۷ء سے آج تک تقریباً سو (۱۰۰) کتابیں تصنیف کی ہیں، ان کتابوں کے بارے میں بعض دانشوروں کا یہ کہنا ہے کہ ان کتب میں علم وحکمت کاایک حصہ بڑا عجیب وغریب، غیر معمولی، بے مثال، اور معجزانہ قسم کا ہے، پس وہ حضرات یقیناً یہ کہتے ہیں کہ: یہ تو امامِ عالی مقام علیہ السلام کا علمی معجزہ ہے، اور حضرتِ امام کا یہ دستور زمانۂ آدم سے چلا آیا ہے۔

 

۹۔ دوسرا جواب اس طرح سے ہے: س: کوئی خوش نصیب مرید کس طرح اپنے امامِ وقتؑ سے جوہرِ قرآن (روحانیت) کی تعلیم حاصل کر سکتا ہے؟ اس مقصد کے لئے کیا کیا شرطیں مقرر ہیں؟ ج: اس عظیم ترین مقصد کے پیشِ نظر کوئی باہمت مومن سب سے پیشتر امامِ زمان علیہ السلام سے اسمِ اعظم برائے خصوصی عبادت حاصل کرتا ہے، شرائط وہی ہیں، جو حقیقی مومنین کے لئے ہوا کرتی ہیں، جب ایسا مومن اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب ہو جاتا ہے تو بحکمِ قرآن (۱۷: ۷۱) امام علیہ السلام نورانیت میں تشریف فرما ہو جاتا ہے، اور اس مومن کی ذاتی قیامت برپا ہوجاتی ہے۔ س: قیامت کی ہر گونہ سختی میں کس طرح مومن اپنے امامؑ سے روحانی تعلیم لے سکتا ہے؟ وہاں پڑھنے اور پڑھانے کا کیا طریقہ ہے؟ ج: سختی کے واقعات میں جتنی عظیم حکمتیں ہیں، وہ دل و دماغ میں اس طرح چبھ چبھ کر چسپان ہو جاتی ہیں کہ پھر وہ کبھی لوحِ حافظہ سے محو نہیں ہو سکتیں، وہاں پڑھنے

۳۱

اور پڑھانے کا طریقہ دنیا سے قطعاً مختلف اور طریقۂ آدمؑ کی طرح ہے، وہاں لسانی تعلیم بہت کم اور واقعات و اشارات کی عملی تعلیم بہت زیادہ ہے، اس میں طرح طرح کی مثالیں بھی شامل ہیں، دو ساتھی آپس میں گفتگو کرتے ہیں، اس میں بھی بہت سے اشارے ہیں، آواز کے بغیر الہام کثرت سے ہے (۹۱: ۸) اور بھی بہت سی چیزیں ہیں، لیکن روحانی احوال کے چند نمونوں کے علاوہ کلّی روحانیت کی صحیح صحیح عکاسی ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعہ ۳ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ، ۸ اگست ۱۹۹۷ء

۳۲

فنا فی اللہ

 

تو ھو میں فنا ہو جا تب گنجِ نہان تو ہے

یوں ہو تو سمجھ لینا وہ جانِ جہان تو ہے

اسرارِ خودی کو تو اے کاش سمجھ لیتا

اس عالمِ شخصی میں اک شاہِ شہان تو ہے                               ہر چیز تجھی میں ہے بیرون نہیں کچھ بھی

ہے ارض و سما تجھ میں اور کون و مکان تو ہے

تو ارض میں خاکی ہے افلاک پہ نوری ہے

یاں ذرّۂ گم گشتہ واں شمسِ عیان تو ہے                                   ناقدریٔ دنیا سے مایوس نہ ہو جانا

جا اپنا شناسا ہو جب گوہرِ کان تو ہے

اس آئینۂ دل میں اک چہرۂ زیبا ہے

اے عاشقِ مستانہ وہ چہرۂ جان تو ہے

اس عالمِ شخصی میں سلطانِ معظم ہے

تو اس میں فنا ہوجا پھر شاہِ زمان تو ہے

۳۳

آئینِ جہان دکھ ہے تو اس سے نہ گھبرانا

پیری سے نہ ہو غمگین جنت میں جوان تو ہے

تو چشمِ بصیرت سے خود کو کبھی دیکھا کر

جو حسن میں یکتا ہے وہ رشکِ بتان تو ہے

بھرپور تجلی سے باطن ہے ترا پر نور

ہر چہرۂ جنت تو، جب رازِ جنان تو ہے

تو ساری خدائی میں اعجوبۂ قدرت ہے

تو معجزۂ حق ہے اور اس کا نشان تو ہے

تو خامۂ لاہوتی تو نامۂ جبروتی

پھر اس کی زبان تو ہے اور شرح و بیان تو ہے

اشعارِ حکیمانہ! ہے دل میں کوئی استاد؟

اے جان و دلِ حکمت! ہے میرا گمان تو ہے

کہتا ہے نصیرؔ تجھ کو اے عاشقِ آوارہ

تو ھو میں فنا ہو جا تب گنجِ نہان تو ہے

 

پیر ۲ جمادی الاول ۱۴۱۷ھ، ۱۶ ستمبر ۱۹۹۶ء، کراچی

 

۳۴

 

سرمݣے برکݽ

 

۱۔ انے سرمݣے برکݽ بلݳ قرآن لو ئیڎم

ان جانِ جہان بݳی برینن جان لو ئیڎم

۲۔زندانے اُیَم یاد جݺ مݹ بیلٹے تلالجم

جنت نکݳ آر دین نمی زندانُ لو ئیڎم

۳۔ دنیݳولو شہنشان اَیَشے نورے فرشتان

بردیٹے سوکم یار چوک اسمانُ لو ئیڎم

۴۔ ئینن لݺ علیؑ، نورِ نبیے حکمتے ہا ہݣ

حکمتݣے غٹم زندہ کتاپ ہانُ لو ئیڎم

۵۔ تھم تھانے حلال میل دُمنس ممکن اکوغن

فردوسے شراب جا شلے شاہ سانُ لو ئیڎم

۶۔ ہر ماہ رُخن گلبدنن دلبرِ جانن

اُنے نورے ملاقاتنے ارمانُ لو ئیڎم

۷۔ مݹ عاشقے گنے ظاہری لعلݣ بݺ اواجی

بُٹ قیمتی لعل گنجِ ازلے کانُ لو ئیڎم

۳۵

۸۔ احباب! یݺ ژوین مݹ غتݳین حکمتِ قرآن

تل حکمتے تعریف علیے شان لو ئیڎم

۹۔ ہن نورے جہانن نمہ بݳی برچی بم انسان

جا عالمِ ملکوت کھن انسانُ لو ئیڎم

۱۰۔ فرمانِ مبارک لو بئین حکمتے چھیئمڎ

اِنے نورے نظر رحمتے فرمانُ لو ئیڎم

۱۱۔ روحانی ببا می مدتر ہول نُویا دیبم

روے برگݺ تمام عالمے میدانُ لو ئیڎم

۱۲۔ دلدادہ نصیرؔ!  دا کہ غتن رازݣے قرآن

مولا صفتݣ بُٹ بڎہ قرآن لو ئیڎم ‌

 

ترجمہ

۱۔ میں نے دیکھا کہ قرآنِ پاک میں اُس (مولا) کے اسرار کا خزانہ موجود ہے، میں نے اپنی جان (یعنی خود شناسی) میں دیکھا تم بھی دیکھو کہ وہ یقینا عالمگیر روح ہے۔

 

۲۔ قیدخانے کی یادِ شیرین کو میں کس طرح بھول سکتا ہوں، جب کہ میں نے اُس محبوب کو زندان خانے ہی میں دیکھا کہ میرے لئے بہشت لے کر آیا اور (دے کر) گیا۔

۳۶

۳۔ وہ دنیا میں ایک شاہنشاہ کی سی شان رکھتا ہے، اور آسمان پر ایک نورانی فرشتہ ہے، تعجب ہے کہ وہ محبوب جو آسمان سے زمین پر اتر آیا تھا اس کو میں نے ابھی ابھی آسمان میں دیکھا۔

 

۴۔ (بحکمِ حدیثِ شریف) مولاعلی کو نورِ نبی کے دارِ حکمت کا دروازہ مان لو، یہ سچ ہے کہ میں نے گہری حکمتوں کی زندہ (اور بولنے والی) کتاب ایک گھر میں دیکھی ہے۔

 

۵۔ یہ بات ممکن ہی نہیں کہ کسی اور جگہ شرابِ حلال مہیا ہو سکے، کیونکہ میں نے خمرِ بہشت (یعنی شرابِ طہور صرف) اپنے سلطانِ عشق ہی کے خم خانے میں دیکھی ہے۔

 

۶۔ ہر حسین، ہر نازک بدن اور ہر دلنواز محبوب کو میں نے دیکھا کہ وہ تیرے نورانی دیدار کا مشتاق ہے۔

۷۔ اب عاشق کے لئے ظاہری جواہر کی کوئی ضرورت نہیں، میں نے تو خزانۂ ازل کی کان میں انتہائی گرانمایہ گوہر کو دیکھا۔

 

۸۔ دوستانِ عزیز! ہاں آؤ، اب ہم سب مل کر قرآنِ حکیم کی حکمت کو پڑھ لیں، میں نے تو یہ دیکھا ہے کہ ساری حکیمانہ تعریف مولا علی ہی کی شان میں ہے۔

 

۹۔ جو آدمی حقیقی معنوں میں فرمانبردار ہو، وہ اپنی ذات ہی میں ایک پرنور کائنات بن چکا ہوتا ہے، میں نے انسان ہی کے باطن میں عالمِ ملکوت دیکھا۔

۳۷

۱۰۔ (امامِ زمانؑ کے) بابرکت فرمان میں حکمت کی کلیدیں پنہان ہیں، میں نے یہ دیکھا کہ اس کا مقدّس فرمان ہی اس کی نظرِ فیض اثر کا باعث ہوتا ہے۔

 

۱۱۔ (جہادِ روحانی کا تذکرہ ہے کہ) روحانی باپ ہماری مدد کے لئے لشکرِ ذرّات لے کر آیا تھا، یہ حقیقت ہے کہ میں نے سراسر دنیا کے میدان میں روحانی جنگ کا مشاہدہ کیا۔

 

۱۲۔ اے عاشق نصیرؔ! اسرار والے قرآن کو اور بھی پڑھ لو (اور پڑھتے رہو) کیونکہ میں نے قرآن میں دیکھا کہ اس میں مولائے پاک کی تعریف و توصیف بہت زیادہ ہے۔

 

نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

پیر ۲۶ ذیقعدہ ۱۴۱۶ھ، ۱۵ اپریل ۱۹۹۶ء

۳۸

نفسِ واحدہ کی مثال

ایک ، دو اور سب””

 

یہ روحانی سائنس کا ایک عمدہ مضمون ہے کہ نفسِ واحدہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السّلام ہے جو ایک، دو، اور سب ہے، یعنی باپ آدم، ماں حوّا، اور قیامۃ القیامات تک ہونے والی اولاد سب کا مجموعی نام نفسِ واحدہ ہے، کیونکہ لفظِ واحدہ (بروزنِ فاعلہ) کے دو معنی ہیں: ۱۔ فی نفسہٖ ایک ۔ ۲۔ اور ایک کر لینے والا، چنانچہ جب حضرتِ آدم پر ذاتی روحانیت کی قیامت گزر رہی تھی اس حال میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ کے عالمِ شخصی میں تمام آدمیوں کو بشکلِ ذرّات جمع کرکے متحد کر دیا تھا، اور یہی انتہائی عظیم واقعہ ہر شخصِ کامل پر گزرتا ہے، جس کے بغیر کنزِ مخفی کی معرفت ممکن ہی نہیں۔

 

ہر آدمی نفسِ واحدہ (آدم) کی اولاد ہے لہٰذا وہ بحدِ قوّت اپنے باپ ہی کی طرح ایک، دو، اور سب ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر شخص کی ہستی میں وحدت، دوئی، اور کثرت کی علامتیں بنائی گئی ہیں، وحدت یہ کہ

۳۹

انسان اپنی مجموعی ہستی میں ایک ہے، دوئی یہ کہ اس کی آنکھیں وغیرہ تمام اعضاء دو دو ہیں، اور کثرت کی علامت یہ کہ وہ بے شمار خلیّات کا مجموعہ ہے کہ ان کی تعداد صرف خدا ہی جانتا ہے، پروردگارِ عالم کی بے پایان رحمت کے پیشِ نظر یہ بات ممکن ہے کہ ہر خلیہ (Cell) ایک کائنات کا نمائندہ ہو، اس معنی میں کہ ہر ایمانی روح کے لئے ازلی و ابدی بہشت میں لاتعداد کائناتوں کی بادشاہی ہے، ان میں سے ہر کائنات میں سب کچھ ہے۔

 

شاید آپ قرآنِ حکیم کی اس حکمت کو جانتے ہوں گے کہ اللہ پاک کائنات جیسی پھیلی ہوئی چیزوں کو سمیٹ کر محدود بناتا ہے، اور محدود چیزوں کو کائنات کی حدود تک پھیلا کر وسیع بنا دیتا ہے، پس آپ میں جتنے بے شمار خلیّات ہیں، اتنے لاتعداد عوالم ہیں، اور ہر عالم میں بحدِ قوّت آپ کی بادشاہی کی رعیت ہے، اگر آپ ’’فنا فی المرشد‘‘ کے قانون سے فائدہ اٹھا کر کام کرتے ہیں تو مبارک ہو! ورنہ روزِ قیامت آپ مسئول ہوں گے۔ جیسا کہ ارشادِ نبوی کا ترجمہ ہے: تم میں سے ہر ایک راعی (چوپان = حاکم= بادشاہ) ہے اور تم میں سے ہر ایک سے سوال ہوگا کہ اس نے اپنی رعیت کو کیا دیا؟

 

عربی زبان ان تمام زبانوں کی سردار اور بادشاہ ہے جو دنیا اور بہشت میں بولی جاتی ہیں، کیونکہ یہ قرآنِ حکیم اور رسولِ اکرمؐ کی لسان ہے، لہٰذا اس کی ہر چیز نہایت خوبصورت بنائی گئی ہے، اس کے اعداد کے کمال کو دیکھئے کہ گریمر کے اعتبار سے پہلے واحد ہے،

۴۰

اس کے بعد تثنیہ، اور آخر میں جمع ہے، یہ خوبی البتہ کسی اور زبان میں نہیں، خوبی اس معنیٰ میں ہے کہ قرآنِ پاک ذاتِ خدا کے سوا ہر چیز کی دوئی کا ذکر فرماتا ہے، اس کی پہلی حکمت یہ ہے کہ کوئی مخلوق طاق اور اکیلی نہیں، بلکہ اُس کی کوئی جفت ہوتی ہے، تا کہ یہ اس حقیقت کی عالمگیر شہادت ہو کہ خدائے واحد کی کوئی جفت نہیں، اور دوسری حکمت یہ ہے کہ ہر شیٔ اس امرِ واقعی کی گواہی دیتی ہے کہ دین میں خدا کے بعد سب سے بڑا مرتبہ رسولؐ کا ہے، اور وہ ظاہراً و باطناً ہرگز بے جفت نہیں، بلکہ آپؐ مومنین کے باپ ہیں، اور اساس (علیؑ) ماں۔

 

سورۂ بلد میں ارشاد ہے: کیا ہم نے نہیں بنائیں اس کے لئے دو آنکھیں؟ اور ایک زبان اور دو ہونٹ؟ اور ہم نے دکھادیں اسے (خیر و شر) کی دونوں راہیں، مگر اس نے دشوارگزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی، اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوارگزار گھاٹی؟ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا، یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا (۹۰: ۸ تا ۱۶)۔

 

لوگ کثرت کو جانتے ہیں اور وحدتِ الٰہی کے لئے اقرار کر سکتے ہیں، لیکن دوئی کی عظیم حکمت کو نہیں سمجھتے ہیں، جس سے نبوّت اور ولایت مراد ہے، حالانکہ یہی راہِ ہدایت اور دروازۂ علم و معرفت ہے، بنا برین قرآنِ حکیم کے متعدد مقامات پر دو یا جفت کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، اور یہ حقیقت مختلف مثالوں میں ہے، جیسے قرآنِ پاک

۴۱

کا یہ ارشاد کہ انسان کو دو آنکھیں عطا ہوئی ہیں، کیسی دو بڑی نعمتیں ہیں کہ ان کی ہستی میں بے شک دوئی ہے مگر فعل میں وحدت، زبان ایک ہے مگر اس میں دوئی کی علامت، ہونٹ دو ہیں لیکن گفتگو میں وحدت و سالمیت، اور خیر و شر کے دونوں راستے الگ الگ ہیں تاہم خیر کی پیروی اور شر سے اجتناب کا اجر و صلہ مجموعی طور پر ایک ہی ہے، پس قرآنِ عظیم میں جہاں جہاں دو، جفت، اور دوئی کے اشارے آئے ہیں، وہ سب عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ نیز ناطق اور اساس کے لئے ہیں۔

 

اب دورِ تاویل ہے اس لئے آپ کو کوئی ظاہری غلام نہیں ملے گا کہ آپ اس کو آزاد کر دیتے، مگر یہ ہے کہ ہر عام شخص اپنے نفسِ امّارہ کا غلام ہے، وہ اپنی جہالت اور عاداتِ حیوانیہ کی غلامی کر رہا ہے، پس اس پر واجب ہے کہ وہ بذریعۂ علم و حکمت اپنے آپ کو اس بدترین غلامی سے چھڑا لے، اگر وہ سچ مچ ایسا کام کر سکے تو اس میں روحانی اور علمی انقلاب آئے گا، جس سے وہ اس قابل ہو جائے گا کہ اب وہ رشتہ دار یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلا سکتا ہے، اس کی تاویل بیان کرنے سے پیشتر ایک بڑی عالیشان مثال ملاحظہ ہو:

 

حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ عزوجل نے (آنحضرتؐ سے) فرمایا: میں بیمار ہو گیا تھا ابنِ آدمؑ نے میری عیادت کیوں نہیں کی؟ اور مجھے پیاس لگی تھی ابنِ آدمؑ نے مجھے کیوں پانی نہیں پلایا؟ میں نے عرض کی کہ یا ربّ کیا تو بیمار ہو جاتا ہے؟ فرمایا: اہلِ زمین کے میرے بندوں

۴۲

میں سے جب کوئی بندہ بیمار ہو جاتا ہے تو اس کی بیمار پرسی نہیں کی جاتی ہے، پس اگر اس کی عیادت کی جاتی تو یہ عیادت میرے لئے ہوتی، اور زمین میں جب کسی کو پیاس لگتی ہے تو اسے پانی نہیں پلایا جاتا ہے، اور اگر اس کو پانی دیا جاتا تو یہ میرے لئے ہوتا۔ (مسندِ احمد بن حنبل، الجزء الثالث، ص ۱۲۱، حدیث ۸۹۸۹)۔

 

اس قانونِ رحمت کی روشنی میں اب ہم یہ کہیں گے کہ حضرتِ امام کا ایک قرآنی نام یتیم ہے جس کے معنی ہیں یگانۂ روزگار اور ’’یتیما ذا مقربۃ‘‘ کا مطلب ہے وہ یگانۂ روزگار (امام) جو اہلِ ایمان کا روحانی اور نورانی رشتہ دار ہے، اور اس کو فاقے کے دن کھانا کھلانا یہ ہے کہ آپ حقدار لوگوں کو حقیقی علم دیں، اور خاک نشین مسکین کی تاویل حجّت ہے کہ وہ امام کے مریدوں کے ساتھ رہتا ہے کہ مرید خاک ہیں، کیونکہ وہ علم کے پانی کو قبول کرکے زندۂ جاوید ہو جاتے ہیں، جس طرح مٹی (زمین) ظاہری پانی سے زندہ ہو جاتی ہے، خاک نشین مسکین کا ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ حجّت زمین پر رہ کر اپنا کام کرتا ہے اور امام کا عقلی مرتبہ عالمِ علوی میں ہے، پس مسکینِ خاک نشین کو بھوک کے دن کھانا کھلانے کی تاویل یہ ہے کہ آپ علمی قحط کے زمانے میں لوگوں کے لئے حقیقی علم کا دستر خوان بچھائیں، تب ہی آپ دشوار گزار گھاٹی سے گزر سکتے ہیں۔

 

ہر آدمی نفسِ واحدہ (آدم) کی اولاد ہے لہٰذا وہ بحدِ قوّت اپنے باپ آدم ہی کی طرح ایک، دو، اور سب ہے، یہ نکتۂ دلپذیر اہلِ دانش

۴۳

کے لئے قابلِ توجہ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ عددی فارمولا (کلیہ = قانون = آئین) بڑا عالیشان اور موافق بقرآن ہے، جیسا کہ سورۂ سباء (۳۴: ۴۶) میں ارشاد ہے: اے نبیؐ ان سے کہو کہ میں تمہیں بس ایک حکمت کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم برائے خدا (روحانیت اور ذاتی قیامت میں پہلے دو دو پھر ایک ایک ہوکر کھڑے ہوجاؤ پھر سوچو۔ یعنی رجوع الی اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ تم کثرت کو چھوڑ کر دو میں فنا ہو جاؤ، اس کے بعد اللہ میں فنا ہوجاؤ، جو ایک ہے، پھر علم و معرفت کے نتائج میں سوچ لو تب کامیابی ہو گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 

آپ سورۂ یاسین (۳۶: ۳۶) میں خوب غور سے دیکھیں: (ترجمہ) وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے۔ یہاں اہلِ دانش کے لئے کئی واضح اشارے ہیں، اور ان میں سب سے خاص اشارہ یہ ہے کہ اہلِ ایمان روحانی والدین کے بغیر نہیں ہیں، جیسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے:

 

انا و انت یا علی ابوا المومنین ۔ اے علی! میں اور آپ تمام مومنین کے (روحانی) ماں باپ ہیں۔

 

نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعرات ۲۳ رجب المرجب ۱۴۱۷ھ، ۵ دسمبر ۱۹۹۶ء

۴۴

عالمِ شخصی میں پیشانی کا مرتبہ

 

آج (۹۷/۵/۱) ہم نے بفضلِ خدا ایک جدید مقام پر مناجات کی ہے، اس لئے (ان شاء اللہ) ہم کوشش کرتے ہیں کہ تحفۂ دوستان میں کچھ جدید چیزیں ہوں، چنانچہ آپ کو علم ہے کہ بہشت آٹھ ہیں، آٹھ کے چار جوڑے، چار کے دو جوڑے، دو کا ایک جوڑا، قرآن کی زبان میں زوجان، یعنی دو فرد، جیسے شوہر اور بیوی، اگر دو شخص عالمِ وحدت میں داخل ہوتے ہیں تو وہ قانونِ وحدت کی وجہ سے ایک ہو جاتے ہیں، پس بہشت ایک بھی ہے، دو بھی ہیں، چار بھی ہیں، اور آٹھ بھی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنت پھیلی ہوئی بھی ہے اور مرکوز و مجموع بھی۔

 

بہشت کائنات کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہے (۳: ۱۳۳، ۵۷: ۲۱) اور یہ عارف کے عالمِ شخصی میں خدا کے حکم سے محدود ہو جاتی ہے، اور کچھ عرصے کے بعد بطورِ خاص پیشانی میں مرکوز ہو جاتی ہے، اس معنیٰ میں پیشانی گویا عرش ہے جہاں عقلی بہشت اور اس کی ہر نعمت موجود ہے، پیشانی کے لئے قرآنِ حکیم میں لفظِ ’’جبین‘‘ آیا ہے، اس کا ایک خاص ذکر سورۂ

۴۵

صافات (۳۷: ۱۰۳) میں ہے، پس جبین (پیشانی) کا مرتبہ عالمِ شخصی میں سب سے اعلیٰ ہے، ہاں یہ سچ اور حقیقت ہے کہ حضرتِ امامِ زمان علیہ السلام کا مرکزِ نور جبین میں ہوتا ہے، یقینا یہ بہت بڑا راز ہے کہ انسانِ کامل کی بابرکت جبین میں نور خود از خود بولتا رہتا ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

۱۔ جبین میں لپیٹی ہوئی بہشت ہے۔ ۲۔ یہ عالمِ شخصی کا عرشِ اعلیٰ ہے۔ ۳۔ یہ حظیرۃ القدس ہے۔ ۴۔ یہ نمونۂ معراج ہے۔ ۵۔ کوہِ طور کا سارا قصہ جبین ہی کا قصہ ہے۔ ۶۔ جبین میں پہنچ کر ہی ازل اور لامکان کا مشاہدہ ہوسکتا ہے۔ ۷۔ کنزِ مخفی جبین ہی میں پوشیدہ ہے۔ ۸۔ جبین ہی عالمِ شخصی کا آسمان اور عالمِ عُلوی ہے۔ ۹۔ پس جملہ مومنین و مومنات کے لئے یہ امر بے حد ضروری اور لازمی ہے کہ وہ بارگاہِ ایزدی میں بار بار گریہ و زاری کریں، اور آسمانی عشق میں بڑی کثرت سے جبین کے سجدے کریں۔

 

نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی

اسلام آباد

جمعرات ۲۳ ذی الحجہ ۱۴۱۷ھ، یکم مئی ۱۹۹۷ء

۴۶

عملی شکر کی حکمت

 

۱۔ قرآنِ عظیم اللہ تعالیٰ کا کلامِ حکمت نظام ہے، لہٰذا اس کی کوئی مثال ممکن ہی نہیں، اس کے تمام مضامین جواہرِ حکمت سے لبریز ہیں، اس وقت توفیقِ الٰہی سے موضوعِ شکر کی عظمت و برتری کا تصور دل ودماغ پر محیط ہے، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ اسلام کی ہر مکمل چیز نیت، قول، اور عمل کا مجموعہ ہے، ساتھ ہی ساتھ قرآنِ حکیم جہالت و نادانی کی سخت مذمت کرتا ہے اور علم و حکمت کی بے حد تعریف فرماتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ عملی شکر حکمت کے بغیر نہیں۔

 

۲۔ شکر کا مضمون قرآن میں قصۂ نوحؑ سے شروع ہو جاتا ہے، جیسے سورۂ بنی اسرائیل کے آغاز (۱۷: ۳) میں ارشاد ہے: ذریۃ من حملنا مع نوح انہ کان عبدا شکورا ۔ معنیٔ اوّل: اے اُن لوگوں کے اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں ) سوار کیا تھا۔ بے شک نوح (ہمارے) شکر گزار بندے تھے۔ معنیٔ دوم: اے وہ ارواح جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (اس روحانی کشتی میں) سوار کیا (جو علم کے پانی پر عرشِ الٰہ

۴۷

کی مثال تھی) یقینا نوح اس نعمتِ عالیہ کا عملاً شکر کرتے تھے۔

 

۳۔ عالمِ شخصی کی تکمیل کے بعد عرشِ الٰہی کا ظہور علم کے پانی پر ہوتا ہے، پانی پر ہونے کی وجہ سے اس عرش (تخت) کا نام کشتی بھی ہے، یہی عظیم مرتبہ حضرتِ نوحؑ کی روحانی کشتی کو حاصل تھا، اور ہر زمانے کا امام وہی کشتیٔ نوح ہے، جس میں اہلِ ایمان کی روحیں سوار ہو سکتی ہیں، قرآنِ حکیم اس قانون کی طرف پرزور توجہ دلاتا ہے کہ تمام چیزیں دو (۲) دو (۲) ہیں، چنانچہ عرش بھی دو ہیں، ایک عالمِ عُلوی میں ہے اور دوسرا عالمِ سفلی میں۔

 

۴۔ سورۂ سبا (۳۴: ۱۳) میں فرمایا گیا ہے: اعملوٓا اٰل داؤد شکرا و قلیل من عبادی الشکور۔ اس آیۂ کریمہ کا خلاصۂ حکمت یہ ہے کہ داؤدؑ امام تھا اور آلِ داؤد ان کے فرزندانِ روحانی تھے، یہ سب روحانیت کے بادشاہ تھے، اور سلیمانؑ ظاہر میں بھی بادشاہ تھا، لہٰذا ان سب پر عملی شکرگزاری واجب ہوگئی، یعنی اس نعمتِ عظمیٰ کی قدردانی کے طور پر اہلِ جہان کو روحانی فیض پہنچائیں، کیونکہ خدا کے بندوں میں سے ایسے خاص بندے بہت کم ہیں جو اس طرح کی عملی شکرگزاری کر سکیں۔

 

نصیر الدین نصیر (حُبِّ علی) ہونزائی

اسلام آباد

ہفتہ ۲۵ ذی الحجہ ۱۴۱۷ھ، ۳ مئی ۱۹۹۷ء

۴۸

ظہورِ ازل و ابد

 

یہ حقیقت قرآن شناسی اور امام شناسی کی روشنی میں ہے کہ جب مومنِ سالک منزلِ مقصود میں پہنچ کر فنا بحق ہو جاتا ہے تو اس حال میں وہ چشمِ بصیرت سے ان اسرارِ معرفت کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے جو زمان و مکان سے ماورا ہیں، جیسے دھر (ٹھہرا ہوا زمانہ) جو وہی ازل بھی ہے اور ابد بھی، جس کی معرفت کا اشارہ خود سورۂ دھر کے آغاز ہی (۷۶: ۱) میں موجود ہے، پس عالمِ شخصی کے حظیرۃ القدس میں جہاں امامِ مبین کے نور میں ہر چیز کے محدود ہونے کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے (۳۶: ۱۲) وہاں ازل و ابد کا ظہور بھی ہوتا ہے۔

 

اہلِ بصیرت کے لئے قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ امام شناسی کے اسرارِ عظیم مخزون و محفوظ ہیں، چنانچہ ایک ایسا خزانہ قصۂ ذوالقرنین میں بھی ہے، کیونکہ بحکمِ حدیثِ شریف علیؑ (یعنی امامِ زمانؑ) اس امت کا ذوالقرنین ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ذوالقرنین کا قصہ بباطن امامِ عالی مقام کا قصّہ ہے، پس آپ قصّۂ ہٰذا کو سورۂ کہف (۱۸: ۸۳ تا ۹۹) میں

۴۹

پڑھ لیں، اور تاویلی حکمت کی جستجو کریں، اس میں مطلع الشمس (سورج طلوع ہونے کی جگہ) کا ذکر ہے، یہ مصدرِ نورِ ازل ہے، آپ اسے مشرقِ خورشیدِ ازل بھی کہہ سکتے ہیں، اور بڑی عجیب حکمت تو یہ ہے کہ یہی مشرق خود مغرب بھی ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں آفتابِ قیامت مغرب سے طلوع ہو جاتا ہے۔

 

اے میرے علمی عزیزان! روحانی علم کی زندہ اور بولتی یونیورسٹی امامِ زمان علیہ السلام ہے، یہ مدرسۃ العلوم اس مقام پر ہے، جس کا نام قرآنِ حکیم میں مجمع البحرین ہے (۱۸: ۶۰) یعنی دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ، دو دو دریا یہ ہیں: ا۔ ازل و ابد۔ ۲۔ اوّل و آخر۔ ۳۔ ظاہر و باطن۔ ۴۔ لامکان و مکان۔ ۵۔ دنیا و آخرت۔ ۶۔ قبض و بسط۔ ۷۔ قلم و لوح۔ ۸۔ عرش و کرسی۔ ۹۔ عقلِ کلّ و نفسِ کلّ۔ ۱۰۔ آسمان و زمین۔ ۱۱۔ فرشتہ و بشر۔ ۱۲۔ غیب و شہادت۔ ۱۳۔ عقل و جان۔ ۱۴۔ قول وعمل۔ ۱۵۔ نبوّت و امامت۔ ۱۶۔ مثال و ممثول، وغیرہ وغیرہ، یقیناً امامِ مبین میں کل چیزیں محدود ہیں، اور وہ سب دو دو ہیں، یا جفت جفت ہیں، الحمد للہ رب العالمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

اسلام آباد

پیر ۲۷، ذوالحجہ ۱۴۱۷ھ، ۵ مئی ۱۹۹۷ء

۵۰

اعلیٰ نعمتوں کا ذکرِ جمیل

 

۱۔ اہلِ معرفت پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے انتہائی عظیم احسانات ہوا کرتے ہیں، جن کا ذکرِ جمیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، دین کی اعلیٰ نعمتوں کا تذکرہ عبادت و شکرگزاری بھی ہے اور احباب کے لئے علم و حکمت بھی، کیونکہ یہی تذکرے گلشنِ روحانیت کے گلدستے ہیں جو دوستانِ عزیز کو بطورِ تحفہ دئے جا سکتے ہیں، زہے نصیب جن جن کو بہشت کے سدا بہار اور خوشبودار پھول ملتے ہیں!

 

۲۔ قرآنِ حکیم میں ظاہری اور باطنی نعمتوں کا مضمون بڑا عالیشان ہے، آپ مضامینِ قرآن کو الگ الگ پڑھیں، اور نعمتوں کے مضمون کو بھی متعلقہ آیاتِ کریمہ کے ساتھ مربوط پڑھ لیں تا کہ اس کے اسرارِ عظیم کے جاننے سے آپ کو بے پایان خوشی کا راز معلوم ہو جائے۔

 

۳۔ اللہ تعالیٰ کی کبھی ختم نہ ہونے والی نعمتوں کا بے حد شیرین مضمون سورۂ فاتحہ سے شروع ہو جاتا ہے، جیسا کہ آیۂ مبارکہ ہے: (ترجمہ) اُن لوگوں کی راہ ( پر ہمیں چلا لے) جن کو تو نے اپنی نعمتوں سے نوازا

۵۱

ہے (۱: ۶) اگر کوئی پوچھے کہ وہ حضرات کون ہیں جن پر خدا تعالیٰ کے تمام بڑے بڑے انعامات ہوئے ہیں؟ تو اس کا جواب سورۂ نسا (۴: ۶۹) میں موجود ہے، وہ اس طرح سے ہے: اور جو شخص اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کرے تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہدا اور صلحاء۔ یعنی پیغمبران، اساسان، امامان اور حجّتان، پس معلوم ہوا کہ آیۂ اھدنا میں حدودِ دین خصوصاً امامِ زمان کی پیروی کی حکمت پوشیدہ ہے۔

 

۴۔ جب حضرتِ ربّ نے خود ہی اہلِ ایمان کو مذکورۂ بالا دعا کی تعلیم دی، تو ظاہر ہے کہ تمام روحانی اور عقلی نعمتوں میں مومنین و مومنات بھی حدودِ اعلیٰ کے ساتھ ساتھ ہیں، آپ سورۂ نساء (۴: ۶۹) میں خوب غور سے دیکھ لیں، اس کے علاوہ حدیثِ نوافل میں بھی سوچیں کہ جب خدا اپنے پیارے بندے کا کان، آنکھ، زبان اور ہاتھ بن جاتا ہے تو پھر عارف کے لئے اس مقام پر کون سی نعمت ناممکن ہو سکتی ہے؟ الحمد للہ رب العالمین

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

جمعہ ۹ مئی ۱۹۹۷ء

۵۲

قرآنِ حکیم میں حقیقی مثالیں

 

۱۔ یہ بیان بعض حضرات کے لئے بڑا تعجب خیز ہو سکتا ہے کہ میری نظر میں قرآنِ حکیم کی تمام مثالیں واقعی اور حقیقی ہیں، اُن میں کوئی مثال فرضی نہیں، یعنی کسی غیر ممکن، اور ان ہونی (نا شدنی) چیز سے تشبیہہ و تمثیل نہیں دی گئی ہے، بلکہ قرآنِ عظیم کی ہر مثال اس طرح سے ہے کہ وہ ایک طرف سے کسی حقیقت کو سمجھانے کی خاطر مثال بھی ہے اور دوسری جانب سے خود اس میں کوئی بہت بڑا راز بھی پوشیدہ ہے۔

 

۲۔ اس نوعیت کی ایک پرحکمت اور عظیم الشّان مثال کے لئے سورۂ کہف (۱۸: ۵۱) میں دیکھ لیں: (ترجمہ) میں نے ان کو نہ تو آسمان اور زمین پیدا کرنے کے وقت گواہ بنایا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت (گواہ بنایا)۔ بظاہر یہ مثال ناممکن نظر آتی ہے کہ آفرینشِ عالم و آدم کے وقت کچھ لوگ حاضر اور گواہ ہوں، لیکن علم کی بہشت میں کوئی نعمت غیر ممکن نہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ عارفین و کاملین کے سامنے ہر لحظہ کائنات کو فنا کر کے از سرِ نو پیدا کرتا ہے، اس عمل کو

۵۳

تجدّدِ امثال کہتے ہیں، نیز یہ حضرات عالمِ شخصی میں اپنی روحانی اور عقلی پیدائش کو بھی دیکھتے ہیں، جبکہ بعض لوگ ایسے اسرارِ عظیم کا علم الیقین بھی نہیں رکھتے ہیں۔

 

۳۔ مذکورۂ بالا آیت کا ایک اور مفہوم بھی ہے وہ یہ کہ خداوندِ عالم نے اہلِ باطل کے بارے میں فرمایا: میں نے ان کے (غلط) نظریات کی شہادت نہ تو آسمانوں کی پیدائش سے دی ہے اور نہ خود ان کی تخلیق سے دی ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ جو نظریہ حقیقت پر مبنی ہے، اس کی شہادتیں (دلیلیں) آفاق میں بھی ہیں اور انفس میں بھی۔

 

۴۔ سورۂ قارعۃ (۱۰۱: ۴) میں ارشاد ہے: یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ جس روز لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ اس مثال میں اگر چشمِ ظاہر سے دیکھا جائے تو آدمی اور پروانہ کی جسمانیت اور بناوٹ میں کوئی مشابہت نہیں، مگر ہاں یہ درست اور حقیقت  ہے کہ جب انفرادی قیامت برپا ہو جاتی ہے اس حال میں دنیا بھر کے لوگ ذرّاتِ لطیف میں پروانوں کی طرح پرواز کرتے ہوئے آتے ہیں۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد۔ گلگت

۱۲مئی ۱۹۹۷ء

۵۴

قصّۂ مریم = قصۂ حجّت

 

۱۔ قرآنِ حکیم میں مریم علیہا السلام کا جو قصّہ ہے، وہ حجت یا عارف کی مثال بھی ہے، کیونکہ علمی بہشت کا ہر پھل اگرچہ بظاہر ایک نظر آتا ہے، لیکن وہ حقیقت میں دو ہوتے ہیں (۵۵: ۵۲) جیسے ذوالقرنین ظاہراً ایک ہے اور باطناً دو ہیں، اسی طرح آدم دو ہیں، ایک گزشتہ تاریخ میں ہے اور دوسرا آپ کے عالمِ شخصی میں، کشتیٔ نوح ایک نہیں، مثال اور ممثول دو ہیں، جہان ایک نہیں صغیر و کبیر دو ہیں، الغرض تمام چیزیں دو دو ہیں۔

 

۲۔ قصّۂ مریم میں حجّت کا تذکرہ ہونے کی اوّلین وجہ یہ ہے کہ خود مریم کو مرتبۂ حجّتی حاصل تھا، دوسری وجہ یہ ہے کہ حجّت بمقابلۂ امام روحانیت میں عورت ہے، جس طرح مریم جسمانیت میں بھی اور روحانیت میں بھی عورت ہونے کے سبب سے حجّت کی نمایان مثال ہے، اور تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح حجّتوں کے اسرار کو عامۃ الناس سے مخفی رکھنا چاہتا ہے۔

۵۵

۳۔ اسمِ اعظمِ لفظی اور اسمِ اعظمِ شخصی یہ بھی دو ہیں، چنانچہ شخصی اسمِ اعظم (امامِ زمان) نے مریم کو لفظی اسمِ اعظم عطا کیا، جس میں نور کا ظہور ہونے والا تھا، وہ ظہور کئی طرح سے ہوا، حجج اور عرفاء کے لئے انتہائی عظیم اور نہایت عجیب و غریب ظہورات ہوتے ہیں، مثلاً امامِ زمان کی ظاہری تجلّی جو نورانی بدن میں ہوتی ہے جو سب سے زیادہ حیران کن ہے، یہ مومنین اور مومنات کا نور ہے جو دوڑتا ہے یعنی اس کا معجزہ برق رفتاری سے ہوتا ہے۔

 

۴۔ صوم (روزہ) صائم (روزہ دار مرد) صائمہ (روزہ دار عورت) چنانچہ مریم صائمہ تھی، یعنی شروع شروع میں روحانی اسرار کے بارے میں خاموش رہنے کا حکم ہوا تھا، جیسا کہ ارشاد کا ترجمہ ہے: اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی ہے پس آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی (۱۹: ۲۶)۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ روحانیت کے آغاز میں اسرار فاش کرنے کی اجازت نہیں ہے، مگر ہاں درجۂ تمامیت و کمالیت کے بعد اذن ہو سکتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ربنا اتمم لنا نورنا = پروردگارا! ہمارے لئے ہمارا نور پورا کر (۶۶: ۸)۔ اس کا اشارہ یہ ہے کہ نور مکمل ہو جانے کے بعد تاویل کرنے کی اجازت ہو گی۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد ، گلگت

۱۵مئی ۱۹۹۷ء

۵۶

گورنرز اور علمی سولجرز

 

۱۔ دنیا میں صرف ایک ہی خدمت ایسی ہے جس کو خداوندِ تعالیٰ شرفِ قبولیت بخش کر زمین سے بلند کر کے آسمان پر لے جاتا ہے، وہ دینی خدمت ہے، خصوصاً علمی خدمت، جس کی بہت بڑی اہمیت ہے، جیسا کہ سورۂ محمد (۴۷: ۷) میں ارشاد ہوا ہے: یا آیھا الذین اٰمنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم = اے ایماندارو اگر تم خدا کی مدد کروگے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم بنائے گا۔ اس آیۂ کریمہ میں بہت بڑی حکمت ہے، بہت بڑا راز ہے۔

 

۲۔ اے عزیزانِ با سعادت! پروردگارِ عالم کی کتنی بڑی نوازش ہے کہ آپ کی علمی خدمت کو اتنا بلند درجہ نصیب ہوتا ہے کہ وہ گویا خدا کے لئے مدد قرار پاتی ہے اور اس کے عوض میں آسمانی تائید آتی رہتی ہے، وہ ہے سلسلۂ خدمت کو جاری رکھنے کا جذبہ، شوقِ عبادت، ذوقِ علم، روشن ضمیری، وسیع القلبی، دانائی (حکمت)، عشقِ مولا، آخرت کی اعلیٰ امیدیں، دین شناسی، نرم دلی، نیک توفیق وغیرہ۔

۵۷

۳۔ ثابت قدمی کے معنی ہیں لغزش کے بغیر ترقی کے راستے پر آگے بڑھتے چلے جانا، اس سے علمی ترقی مراد ہے، پس اگر ہم خدا کی مدد (یعنی دین کی مدد) کے لئے حقیر سی کوشش کریں تو یقیناً اللہ تعالیٰ کی نورانی تائید ہماری دستگیری کرے گی، اور ہمیں علم کے میدان میں بہت ترقی نصیب ہوگی، آمین!

 

۴۔ اے میرے معزز گورنرز اور علمی سولجرز! میں آپ کی دینی عزت و برتری کے لئے ہر صبح و شام سلام کرتا ہوں، میں آپ سب کو بہت چاہتا ہوں، ہم سب کو اس مقدّس خدمت اور نظریۂ یک حقیقت (مونوریالٹی) نے ایک کر دیا ہے، ہم سب کا نامۂ اعمال بھی ایک ہوچکا ہے، سو یہ کتنی خوشی کی بات ہے! ہم سب صرف تن نہیں ہیں، بلکہ جان بھی ہیں، ہم صرف جان نہیں ہیں، بلکہ جانان بھی ہیں، یہ نعرۂ انا الحق نہیں، بلکہ نعرۂ ’’یک حقیقت‘‘ ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد ، گلگت۔

۱۶مئی ۱۹۹۷ء

۵۸

فنا فی الامام

 

۱۔ حقیقت میں قانونِ فنا اس ترتیب سے ہے: فنا فی الامام، فنا فی الرسول، فنا فی اللہ، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: لکل شی باب = ہر چیز کا دروازہ ہوا کرتا ہے، کسی اور موقع پر فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ حضورؐ نے کبھی یہ بھی فرمایا: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ چونکہ علی اپنے وقت کا امام تھا، لہٰذا مذکورہ دونوں حدیثوں میں باب (دروازہ) سے امامِ زمان مراد ہے۔

 

۲۔ اب یہ حقیقت روزِ روشن سے بھی زیادہ ظاہر ہوگئی کہ علم کے شہر اور حکمت کے گھر (یعنی رسول) میں فنا ہو جانے کی غرض سے اوّل اوّل دروازہ (امامِ وقت) میں فنا ہوجانا ضروری ہے، اور فنا فی اللہ سے پہلے فنا فی الرسول لازمی امر ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہاں ایک بڑا اہم سوال یہ ہے کہ آپ جس امام میں فنا ہو جانا چاہتے ہیں، آیا وہ خود رسول اور اللہ میں فنا ہوچکا ہے یا نہیں؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو ایسے امام میں اور تم میں کیا فرق ہے؟ اگر آپ علم الیقین کی روشنی میں کہتے ہیں کہ

۵۹

امامِ عالی مقام نورٌعلیٰ نور (۲۴: ۳۵) کی زندہ تفسیر ہے، یعنی اس میں نورِخدا، نورِرسول اور نورِامام کے معنوں میں ایک ہی نور ہے، اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ امام یقیناً رسول اور اللہ میں فنا شدہ ہوتا ہے، لہٰذا فنا فی الامام خود فنا فی الرسول بھی ہے اور فنا فی اللہ بھی۔

 

۳۔ حضرتِ امامِ اقدس و اطہرعلیہ السلام کے پاک عالمِ شخصی میں تمام عوالم مجموع ہیں، آپ قلبِ قرآن (سورۂ یاسین ، ۳۶: ۱۲) میں خوب غور سے دیکھ لیں، آیا تمام روحانی، علمی، عقلی اور عرفانی چیزیں امامِ مبین کے حظیرۂ قدس (جبینِ مبارک) میں محدود و موجود نہیں ہیں؟ کیا یہ مقام بحقیقت بیت اللہ اور بیت المعمور نہیں ہے؟ آیا اس کلیّہ اور بہشتِ کل سے دیدارِ الٰہی باہر ہے؟ نہیں نہیں، عزیزِ من! ہرگز نہیں۔

 

۴۔ فنا فی الامام کا مرتبۂ عالیہ عشق ومحبت کے بغیر ممکن ہی نہیں، اور عشق و محبت کا انحصار اس علم پر ہے جس سے رفتہ رفتہ حضرتِ مولا کی بے مثال خوبیاں مکشوف ومعلوم ہو جاتی ہیں، پس ان لوگوں کی بہت بڑی سعادت ہے، جن کو قرآن وحدیث کی روشنی میں ہر سو جلوۂ جانان نظر آتا ہے، پھر عشق و فنا کا عالم کیوں نہ ہو، جیسا کہ ارشاد ہے: فاینما تولوا فثم وجہ اللہ = پس جہاں کہیں رخ کرلو وہیں خدا کا چہرہ ہے (۲: ۱۱۵) یعنی عارفِ کامل ہر جگہ خدا ہی کو دیکھتا ہے، الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

اتوار، ۱۰ محرم الحرام، ۱۴۱۸ھ، ۱۸ مئی ۱۹۹۷ء

۶۰

کیا ظلِّ خورشید ہوتا ہے؟

 

۱۔ سوال: کیا یہ کہنا درست ہے کہ ہر چیز کا ظل یعنی سایہ ہوتا ہے؟ یا یہ صحیح ہے کہ بعض چیزوں کا سایہ ہوتا ہے اور بعض کا نہیں ہوتا؟ اگر اس کے بارے میں قرآنِ حکیم میں کوئی ارشاد ہے تو یقیناً وہی جوابِ باصواب فیصلہ کن ہوگا، ہاں ایک پرحکمت ارشاد اس طرح ہے: و اللہ جعل لکم مما خلق ظلا = اور خدا ہی نے تمہارے لئے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے (۱۶: ۸۱)۔ اس ارشادِ مبارک سے معلوم ہوا کہ ہر مخلوق شیٔ کا سایہ ہوا کرتا ہے، چنانچہ ہر روشن چیز کا بھی سایہ ہوتا ہے، جیسے سورج، چاند اور ستارے کا عکس صاف پانی اور آئینے میں نظر آتا ہے۔

 

۲۔ اگر ہم بجا طور پر سوچ نہیں سکتے ہیں تو یہ فرشِ زمین کے سائے ہیں، حالانکہ علم و معرفت کی روشنی میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عرشِ برین کے سائے ہیں، کیونکہ جن آیاتِ کریمہ میں اللہ کے عظیم احسانات کا تذکرہ ہو، اس کا تعلق صرف اہلِ ایمان سے ہوتا ہے، جیسے یہاں اس حقیقت کی دلیل “لکم” (تمہارے لئے) ہے، یعنی یہ وہ عظیم الشّان

۶۱

سائے ہیں جو صرف تمہارے لئے خاص ہیں، جیسے عالمِ شخصی میں ظلِّ عرش و کرسی، قلمِ اعلیٰ اور لوحِ محفوظ کا عکس، الغرض عالمِ عُلوی کی ہر عقلی اور روحانی چیز کا زندہ عکس، کیونکہ عالمِ بالا اور اس کی ہر شیٔ مخلوق ہے، اور مخلوقات کے درجہ بدرجہ سائے ہوا کرتے ہیں۔

 

۳۔ آدمی کا سایہ جب زمین پر پڑتا ہے تو وہ تاریک اور بے جان ہو جاتا ہے، لیکن جس وقت یہی سایہ قدِ آدم آئینے پر پڑتا ہے تو صاف روشن اور زندہ نظر آتا ہے، حالانکہ آئینۂ ظاہر بے جان اور بے عقل ہے، پھر بھی اس میں آدمی کا جو سایہ ہے وہ دراصل سایہ نہیں، بلکہ عکس اور کاپی (COPY) ہے، پس عالمِ شخصی میں جو آئینۂ باطن ہے جو عقل و جان کے اوصاف و کمالات سے آراستہ ہے، اس کا نورانی معجزہ بڑا عجیب وغریب ہے، اس میں تو عالمِ عُلوی کی چیزیں ہوبہو نظر آتی ہیں، اس کی ہر کاپی اصل ہی کی طرح ہوتی ہے، کیونکہ اس میں ہر چیز کا تجدّد ہوتا ہے۔

 

۴۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ عالمِ شخصی میں بہشت کی ہر نعمت کا سایہ = عکس = کاپی ہے، بلکہ بے شمار کاپیاں ہیں، مثال کے طور پر بازارِ جنّت میں جو تصویریں ہیں، اگر ان میں سے کسی تصویر کو لاکھوں آدمی چاہتے ہیں تو وہ سب کے سب صاحبِ تصویر کی باعقل و جان کاپیاں ہوجائیں گے، الحمد للہ رب العالمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

پیر ۱۱ محرم الحرام، ۱۴۱۸ھ، ۱۹ مئی ۱۹۹۷ء

۶۲

انتہائی عظیم راز

 

۱۔ علمی احباب کے لئے یہ ایک بڑا حیرت انگیز سوال ہو سکتا ہے کہ قرآنِ حکیم اور حدیثِ شریف کے ہر مقام پر اسرار ہی اسرار ہیں، ایسے میں کسی ایک راز کے بارے میں کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ یہی سب سے بڑا راز ہے یا انتہائی عظیم راز ہے؟ ہاں، حقیقتِ حال ایسی مشکل تو ہے، لیکن زمانۂ قیامت کے امامِ عالی مقام علیہ السلام جس راز کو آخری راز کے طور پر انکشاف کرے، وہی انتہائی عظیم راز ہے، اور وہ یک حقیقت (مونوریالٹی) ہے، تصورِ یک حقیقت ہی وہ سب سے آخری اور انتہائی عظیم راز ہے، جس کو عظیم الشّان امام حضرتِ مولانا سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے تمام اہلِ جہان کے سامنے پیش کیا۔

 

۲۔ یک حقیقت کے معجزات حظیرۃ القدس میں رونما ہوتے ہیں، معجزے کچھ اس طرح سے ہیں: (الف) کائنات کو لپیٹنے اور پھیلانے کا مسلسل عمل (ب) بنی آدم کا بہشت (حظیرۃ القدس) میں داخل ہوتے ہی اپنے باپ آدم کی صورت پر ہو جانا، آدم کو خدا نے اپنی رحمانی صورت پر پیدا کیا تھا

۶۳

(ج) جس طرح سارے انسان ایک ہی آدم سے پیدا ہوکر پھیل گئے تھے، اسی طرح سب کا واپس مل کر ایک ہی آدم / نفسِ واحدہ ہو جانا (د) آفتابِ قیامت کا مغرب سے طلوع ہو جانا (ھ) سورج، چاند اور ستاروں کا مل کر ایک ہو جانا (و) عارف کا اپنے آپ کو خدا میں پانا (ز) تمام جنّوں، انسانوں اور فرشتوں کا فردِ واحد ہو جانا (ح) یہی انسانی شکل کا فردِ واحد عرش، کرسی، قلم اور لوح بھی ہے (ط) یہاں تمام مثالوں کی نمائندگی صرف ایک ہی مثال کرتی ہے (ی) اس مقام پر صرف ایک ہی قول / کلمہ اور ایک ہی فعل ہے۔

 

۳۔ یہاں نمائندہ درخت ایک ہی ہے جو انسانِ کامل کی شکل میں زندہ ہے، وہ کبھی تین ہے، کبھی زیتون، کبھی شجرۂ طیبہ، کبھی شجرِ طور، کبھی درختِ خرما، کبھی سدرۃ وغیرہ، یہاں بحروبر کے جملہ جواہر اور معدنیات کا نمائندہ گوہر ایک ہی ہے، یہی گوہر شمس و قمر اور انجم بھی ہے اور نور بھی، نور کس کا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ، انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام اور مومنین و مومنات کا، پس یک حقیقت (مونوریالٹی) کی قابلِ فہم تعریف یہ ہے کہ نفسِ واحدہ کا نورانی ظہور جو حظیرۃ القدس میں ہے، اس کا ایک ہی نور، ایک ہی قول، ایک ہی فعل اور ایک ہی اشارہ (مثال) ہے، اور اسی کے ساتھ یہ سب کچھ ہے، اور کوئی حقیقت اس سے باہر نہیں، الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

منگل ۱۲ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲۰ مئی ۱۹۹۷ء

۶۴

زندہ شہید اور عارف

 

۱۔ یہ بات سچ اور حقیقت ہے کہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں ظاہری شہیدوں کا ذکر آیا ہے، وہاں ساتھ ساتھ روحانی شہداء کا ذکر بھی موجود ہے، کیونکہ علمی بہشت کا ہر پھل دہرا ہوا کرتا ہے، یعنی اس کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہوتا ہے، اور کسی شک کے بغیر ہر آیۂ قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔

 

۲۔ سورۂ محمد کے اس ارشاد میں خوب غور سے دیکھ لیں: (ترجمہ) اور جو لوگ اللہ کی راہ (روحانی جہاد) میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا، ان کا حال درست کر دے گا، اور ان کو اس بہشت میں داخل کرے گا، جس سے ان کو شناسا کراچکا ہے (۴۷: ۴ تا ۶) اس ربّانی تعلیم میں زیادہ تر روحانی جنگ کے زندہ شہیدوں کا تذکرہ ہے، کیونکہ اعمال ضائع نہ ہونے کی یقین دہانی، رہنمائی کی ضرورت، اصلاحِ احوال اور بہشت کی پیشگی معرفت دنیا کی زندگی ہی میں ہو سکتی ہے۔

۶۵

۳۔ بہشت کی پیشگی معرفت ہو یا حضرتِ ربّ کی معرفت، وہ خود شناسی کے سوا محال ہے، خود شناسی یعنی معرفتِ ذات نفسانی موت اور تجربۂ قیامت کے بغیر ممکن ہی نہیں، پس بڑا مبارک ہے وہ مومنِ سالک جو جسمانی موت سے پہلے مرکر قیامت کا سر تا سر مشاہدہ کرتا ہے، چونکہ قیامت دینِ حق کی آخری دعوت اور روحانی جنگ ہے جو امامِ زمان علیہ السلام کے توسط سے ہوتی ہے (۱۷: ۷۱) لہٰذا اس جنگ میں جو شخص مر جاتا ہے، وہ زندہ شہید اور عارفِ کامل ہو جاتا ہے۔

 

۴۔ سورۂ آلِ عمران (۳: ۱۶۹) کی اس آیتِ کریمہ میں بھی سوچ لیں: (ترجمہ) جو لوگ اللہ کی راہ (روحانی جنگ) میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے ربّ کے پاس رزق پا رہے ہیں۔ اس آیۂ مبارکہ کا زیادہ سے زیادہ تعلق روحانی شہداء سے ہے کیونکہ ظاہری شہید جسم سے تو مر جاتا ہے مگر روحانی شہید فی الحال جسم سے بھی نہیں مرتا، اور وہ اپنے ربّ کے پاس رزق یعنی روحانی علم پا رہا ہے، اس بیان سے معلوم ہوا کہ جو عارفِ کامل ہوتا ہے وہ زندہ شہید بھی ہوتا ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

ہفتہ ۱۶ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲۴ مئی ۱۹۹۷ء

۶۶

کوئی نعمت ناممکن نہیں

 

۱۔ فرمایا گیا ہے: اݹ منسن اپݵ = کوئی چیز یا کوئی کام یا کوئی نعمت ناممکن نہیں۔ اس کلمہ کی اصل صورت یہ ہے: اݹ مناسن اپݵ ۔ اس کے دس حروف ہیں، جو دس حدود کی طرف اشارہ ہے، وہ یہ ہیں: مستجیب، ماذونِ اصغر، ماذونِ اکبر، داعیٔ مکفوف، داعیٔ مطلق، حجتِ جزیرہ، حجتِ مقرب، امام، اساس، ناطق، جیسا کہ ارشاد ہے: تلک عشرۃ کاملۃ (۲: ۱۹۶) یہ پورے دس ہوئے۔ یعنی عددِ کامل دس ہے۔

 

۲۔ اس پُرحکمت کلمے کا خاص تعلق بہشت سے ہے کہ اس میں ہر نعمت ممکن ہے اور کوئی چیز ناممکن نہیں، کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان میں کسی نعمت کی خواہش تو پیدا کی جائے مگر وہ نعمت خود جنت میں موجود نہ ہو، ایسا ہونا محال ہے، بلکہ امرِ واقعی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں کسی طلب کو پیدا کرنے سے بہت پہلے ہی مطلوبہ شیٔ کو پیدا کیا ہے، پس مثال کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اہلِ ایمان کی ہر جائز خواہش بہشت کی کسی نعمت کا وہ پرتَو ہے جو ان کے دل و دماغ پر پڑتا ہے۔

۶۷

 

۳۔ اݹ منسن اپݵ (oo manasan api) = جو چیز غیرممکن ہے وہ نہ تو بہشت میں موجود ہے اور نہ ہی انسان کی خواہش میں آسکتی ہے، لیکن جو نعمت ممکن ہے وہ جنت میں بھی ہے اور مومنین کے علمی خیال میں بھی، اس صراحت سے معلوم ہوا کہ کلیۂ ہٰذا بڑا پرمغز اور حکمت آگین ہے۔

۴۔ اس مخاطبۂ روحانی میں وعدہ اور خوشخبری کا پہلو بھی ہے کہ بہشت میں اہلِ ایمان کے لئے سب کچھ ہے، جیسے سورۂ قمر کے آخر (۵۴: ۵۴ تا ۵۵) میں ہے: بے شک متقین باغوں اور نہروں میں ہوں گے، علم کی سچائی کی جگہ، صاحبِ قدرت بادشاہ کے پاس۔ عقلی اور روحانی بہشت کی چار نہریں یا چار دریا یہ ہیں: عقلِ کلّ، نفسِ کلّ، ناطق، اساس، پس پرہیزگار لوگ ان دریاؤں میں مستغرق ہوں گے، یہ حقیقی علم کا مقام ہے، پھر وہ قدرت والے بادشاہ میں فنا ہوکر بڑے عجیب وغریب کام کر سکیں گے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

اتوار، ۱۷ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲۵ مئی ۱۹۹۷ء

۶۸

علمِ شریف اور جسمِ لطیف

 

۱۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و أئمّہ علیہم السلام کو تمام اہلِ جہان پر فضیلت دی ہے، ساتھ ہی ساتھ قرآنِ حکیم اور ارشاداتِ رسول سے یہ بھی ظاہر ہوجاتا ہے کہ خدا اور پیغمبر ہی امام کو دینی اور روحانی بادشاہ بناتے ہیں، آپ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۴۵ کے بعد امام طالوت کا پورا قصّہ غور و فکر سے پڑھیں، جیسا کہ ارشاد کا ترجمہ ہے: (اے رسول) کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے سرداروں (حجّتوں اور داعیوں) کو نہیں دیکھا؟ جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا: ہمارے لئے ایک (دینی اور روحانی ) بادشاہ مقرر کر دو (ابعث لنا ملکا)۔

 

۲۔ مذکورہ آیت کے لفظِ ابعث میں بہت بڑا راز ہے، وہ یہ ہے کہ اگرچہ امام کا ظہور اعلیٰ درجات میں بھی ہے ، لیکن اس کا ایک درجہ ایسا ہے کہ وہ نبی کے تحت ہوتا ہے، چنانچہ بنی اسرائیل کے حجّتوں اور داعیوں نے اپنے پیغمبر سے کہا: ابعث لنا ملکا = ہمارے لئے ایک (دینی اور روحانی ) بادشاہ مبعوث کر دو۔ یعنی ایسے

۶۹

بادشاہ کے پاس ذاتی قیامت، روحانیت، اور ابداع و انبعاث کا بھرپور تجربہ ہونا ضروری ہے۔

 

۳۔ (ترجمۂ آیت) اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ بے شک خدا نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ کے طور پر مبعوث کیا ہے، یہ سن کر وہ بولے: ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حقدار ہو گیا؟ اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں، وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے، نبی نے جواب دیا: اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے، اور اسے علم و جسم دونوں میں کشادگی زیادہ دی ہے۔ یعنی اس کو خدا نے علمِ شریف (روحانی علم) اور جسمِ لطیف عطا کیا ہے۔

 

۴۔ یہاں سے اس حقیقت کا ثبوت مل جاتا ہے کہ امامِ عالی مقام کے پاس کائناتی علم بھی ہے اور ہمہ گیر جسم بھی، ہمہ گیر جسم سے جسمِ کلّی مراد ہے، جو پوری کائنات کا جوہر ہے، یہی کائناتی جوہر دینی اور روحانی بادشاہ (امام) کا ہمہ گیر جسمِ لطیف ہے، کیونکہ جب عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) کے لئے دو جسم ہیں: ایک کثیف اور ایک لطیف، تو عالمِ کبیر کے لئے بھی یقیناً دو جسم ہیں، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جسمِ لطیف کی وجہ سے انسان کائنات ہو جاتا ہے اور کائنات انسان ہو جاتی ہے، یہی سبب ہے کہ آدمی انسانِ صغیر کہلاتا ہے اور کائنات انسانِ کبیر۔

 

۵۔ ارشادِ نبوی ہے: یا بنی عبد المطلب، اطیعونی تکونوا ملوک الارض و حکامھا، ان اللہ لم یبعث نبیا الا جعل لہ وصیا و

۷۰

وزیرا و وارثا و اخا و ولیا = اے اولادِ عبد المطلب، میری فرمانبرداری کرو تا کہ تم سب روئے زمین کے سلاطین اور حکام ہو سکو، بے شک اللہ تعالیٰ نے جب بھی کوئی نبی مبعوث کیا اس کے لئے ایک وصی، وزیر، وارث، بھائی، اور ولی مقرر کیا ہے (دعائم الاسلام، جلدِ اوّل، ولایتِ امیر المومنین علیؑ)

 

۶۔ قرآن و حدیث دونوں جوامع الکلم ہیں، لہٰذا اس حدیث میں کئی عظیم حکمتیں پنہان ہیں، پہلی حکمت: ہر فردِ بشر اپنی ذات میں بحدِ قوت ایک بہت بڑا عالم ہے، جس کا آسمان و زمین بے حد کشادہ ہے، دوسری حکمت: ہر سیارہ اور ستارہ ایک جہان ہے، اور اس کا اپنا آسمان و زمین ہے، تیسری حکمت: عقلِ کلّی آسمان ہے اور نفسِ کلّی زمین، ہر آسمان اور زمین کی بے شمار کاپیاں ہیں، وہ اس طرح کہ اصل اور کاپی میں کوئی فرق نہیں، پس خدا کی خدائی میں بادشاہی کی بڑی گنجائش ہے، لہٰذا حضرتِ امام علیہ السلام کے بعد بے حساب لوگ بہشت کے بادشاہ ہو سکتے ہیں۔

 

۷۔ قرآن و حدیث کے ظاہر و باطن سے معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا و رسول نے مولا علی یعنی امام کو بادشاہ بنایا ہے، اور وہ اپنے تمام تابعدار روحانی بچوں کو بادشاہ بنا سکتا ہے، جبکہ دنیا کا کوئی بادشاہ اپنے جملہ شاہ زادوں اور شاہ زادیوں کو وارثِ تخت و تاج نہیں بنا سکتا، ہاں صرف ایک کو بنا سکتا ہے۔

 

۸۔ یہ تذکرہ بے حد ضروری ہے کہ عرفاء اپنی حیاتِ دنیوی ہی میں آخرت اور بہشت کی معرفت حاصل کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ محمد (۴۷: ۶)

۷۱

کے حوالے سے آپ نے پڑھا ہے، اور قرآنِ پاک کی یہی گواہی سورۂ دہر (۷۶: ۲۰) میں بھی ہے، وہ ارشاد یہ ہے: و اذا رایت ثم رایت نعیما و ملکا کبیرا = اور جب تم (دنیا میں) دیکھو گے تو پھر (آخرت میں کلّی طور پر) بہشت کی ہرگونہ نعمت اور عظیم الشّان سلطنت دیکھو گے۔

 

۹۔ سورۂ نمل (۲۷: ۳۴) میں حضراتِ أئمّہ علیہم السّلام کی ایک پرحکمت مثال آئی ہے جو اس طرح سے ہے: (ترجمہ) بلقیس کہنے لگی: بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب کسی بستی میں (بزورِ فتح) داخل ہوتے ہیں تو اس کو اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے ۔ یعنی جب صاحبِ زمان کے لشکر (یاجوج و ماجوج) کسی عالمِ شخصی میں داخل ہوتے ہیں تو برائے تعمیرِ نو اس کو بگاڑ دیتے ہیں، اور مومنِ سالک پر بہت بڑی سختی گزرتی ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

بدھ ۲۰ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲۸ مئی ۱۹۹۷ء

۷۲

نامۂ اعمال = نورانی موویز

 

۱۔ سوال: آیا نامۂ اعمال کسی ظاہری تحریر میں ہوتا ہے یا روحانی تحریر میں؟ وہ کس زبان میں ہے؟ جواب: کتابِ اعمال روحانی تحریر میں ہوتی ہے، ہم اس کو روحانی سائنس کی زبان میں نورانی موویز (MOVIES) بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ وہ بڑی عجیب و غریب معجزاتی کتاب ہے، جو زندہ ذرّات، متحرک تجلّیات اور بہشت آسا ماحول و مناظر کی زندہ تصاویر کے ساتھ ہے، نامۂ اعمال ہر شخص کی اپنی زبان میں ہوتا ہے۔

 

۲۔ کیا کوئی انسان جسمانی طور پر مرنے سے قبل اپنے نامۂ اعمال کو دیکھ سکتا ہے؟ اگر دیکھ سکتا ہے تو اس کا طریقِ کار کیا ہے؟ اور یہ کام کس علم کے تحت ہے؟ جواب: جی ہاں، جو آدمی جیتے جی روحانی قیامت سے گزرتا ہے وہ ضرور نامۂ اعمال کو دیکھتا ہے، طریقِ کار کے لئے کتاب ’’ذکرِ الٰہی‘‘ کو دیکھ لیں اور یہ کام علم الآخرت (معرفت) کے تحت ہے، اس حقیقت کی چند دلیلیں درجِ ذیل ہیں:

 

۳۔ پہلی دلیل: (۴۷: ۴) جو لوگ راہِ خدا (روحانی جنگ) میں قتل

۷۳

کئے جاتے ہیں (وہ زندہ شہید کہلاتے ہیں)۔۔۔ یعنی وہ حظیرۃ القدس کی بہشت کے عارف ہوتے ہیں (۴۷: ۶) یہ عظیم مرتبہ نامۂ اعمال کو علیین (۸۳: ۱۸) میں دیکھنے کے بعد حاصل ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ کہنا حقیقت ہے کہ ہر عارف نامۂ اعمال کو دیکھتا ہے۔

 

۴۔ دوسری دلیل: سورہ تطفیف (۸۳: ۱۸) میں فرمایا گیا ہے کہ نیک لوگوں کا نامۂ اعمال علیین میں ہے، جس کو مقربین پیشگی طور پر دیکھ سکتے ہیں (۸۳: ۲۱)۔

 

۵۔ تیسری دلیل: سورۂ نمل کے اس ارشاد کو گہرائی سے دیکھ لیں: (ترجمہ) بلکہ آخرت کے بارے میں ان کے علم کا خاتمہ ہو گیا ہے، بلکہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہیں، بلکہ یہ لوگ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں (۲۷: ۶۶) اس پرمغز ارشاد کا خلاصۂ بیان یہ ہے کہ یہ لوگ اگر نورانی ہدایت کی پیروی کرتے تو ان میں چشمِ بصیرت پیدا ہوتی، اور یہ آخرت سے متعلق سب کچھ دیکھ چکے ہوتے، اور آخرت کے اندھے نہیں کہلاتے۔

 

۶۔ چوتھی دلیل: آپ نے غور کیا ہو گا کہ جو آدمی شروع ہی سے سن نہیں سکتا وہ بول بھی نہیں سکتا ہے، اور جو بول نہیں سکتا ہو، اس میں عقل جیسی عظیم نعمت پیدا نہیں ہوسکتی ہے، اسی طرح جو شخص علم الیقین کی باتوں کو سننے سے گریز کرے، وہ اس علم میں گفتگو نہیں کر سکتا، اور جو اس علم میں گونگا ہو، اس میں چشمِ بصیرت پیدا نہیں ہوتی ہے، جیسا کہ

۷۴

ارشاد ہے: صم بکم عمی فھم لا یرجعون (۲: ۱۸)۔ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں پس یہ رجوع نہ ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ حقیقی معنوں میں فرمانبردار ہیں، وہ چشمِ بصیرت رکھتے ہیں۔

 

۷۔ سائنسی عجائب وغرائب یقیناً آیاتِ قدرت میں سے ہیں، ان کی روشن مثالوں سے اسرارِ روحانیت کے سمجھنے میں بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے، بلکہ یہ دورِ قیامت اور زمانۂ تاویل کی علامات ہیں، پس نامۂ اعمال جو کتابِ ناطق ہے، اس کو نورانی موویز کہنا ایک روشن حقیقت ہے، اور کوئی شخص اس کی تردید نہیں کرسکتا۔

 

۸۔ اے عزیزانِ من! بھرپور توجہ اور محویت سے سن لو کہ عارفین و کاملین کی ذاتی قیامت قرآنی تاویل کا سب سے بڑا خزانہ ہے، اور اگر یہ  مانا جائے کہ اصل قیامت تو روحانی طور پر آتی ہے، مگر اس کا ایک مادّی نتیجہ بھی ہوتا ہے، جیسے اس دور میں سائنسی انقلاب ہے، تو مجھے یقین نہیں کہ سب لوگ قیامت کے ظاہری پہلو سے تاویلی فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ لوگوں کی بہت بڑی اکثریت بہت پہلے ہی تاویل کو بھول چکی ہے۔

 

۹۔ سورۂ اعراف (۷: ۵۲ تا ۵۳) میں کافی دقتِ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے، چنانچہ اس ارشادِ مبارک کے مختصر مفہوم کے مطابق پہلی آیت میں قرآنِ پاک کی تعریف ہے، اور دوسری آیت میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ بہت بڑی قیامت قرآنی تاویل کی صورت میں آنے والی

۷۵

ہے، اس کے سوا یہ لوگ کس چیز کے آنے کے منتظر ہیں؟

 

۱۰۔ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۱) میں قیامت کا یہ اساسی قانون مذکور ہے: یوم ندعوا کل اناس بامامھم = جس دن ہم اہلِ زمانہ کو ان کے پیشوا کے توسط سے بلائیں گے۔ (پوری آیت کے لئے قرآن میں دیکھ لیں) اس کے بعد ارشاد ہے: و من کان فی ہٰذہ اعمیٰ فھو فی الاٰخرۃ اعمیٰ و اضل سبیلا = اور جو شخص دنیا میں اندھا رہے گا سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا، اور زیادہ راہ گم کردہ ہو گا (۱۷: ۷۲) ۔ اس کی چند حکمتیں یہ ہیں: (الف) ہر ناطق کے دور میں جتنے أئمّہ ہوئے ہیں، اتنی قیامات برپا ہو چکی ہیں، مگر آنحضرتؐ کے دور کے آخر میں قیامۃ القیامات آنے والی ہے (ب) امام ہر زمانے میں ہوتا ہے (ج) چشمِ بصیرت اور معرفت دنیا ہی سے لے کر جانا بے حد ضروری ہے، ورنہ آخرت میں محرومی ہو گی (د) یہاں پہلی آیت (۱۷: ۷۱) میں حضرتِ امامؑ کا ذکر ہے، اور دوسری آیت (۱۷: ۷۲) میں اسی صاحبِ قیامت کی پہچان کے لئے سخت تاکید آئی ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

جمعرات ۲۱ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲۹ مئی ۱۹۹۷ء

۷۶

عقل اور عشق کی بحث

 

۱۔ یہ بحث و سوال بہت پہلے سے جاری ہے کہ عقل برتر ہے یا عشق؟ اگر عقل کو عشق پر فوقیت و برتری حاصل ہے تو اس کی کیا دلیل ہے؟ اور اگر اس کے برعکس عشق عقل سے افضل و اعلیٰ ہے تو اس کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے؟ اس کے بارے میں بعض حضراتِ علماء نے عقل کی اوّلیت پر زور دیا، اور فرمایا کہ قرآن اور حدیث دونوں میں کہیں لفظِ “عشق” نہیں آیا ہے، انہوں نے شاید خیال کیا کہ عشق محبت سے الگ شیٔ ہے۔

 

۲۔ اس باب میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ لفظِ عشق قرآنِ حکیم میں کسی بھی صورت میں موجود ہے یا نہیں؟ اس کے لئے بطریقِ حکمت دیکھنا ہو گا، تاہم عشق کو محبت سے الگ کرنا بڑی مشکل بات ہے، بلکہ ناممکن ہے، کیونکہ محبت ہی عشق کا دوسرا نام ہے، آپ المنجد میں دیکھ لیں، جو مستند لغات ہے: عشقہ عشقا ۔۔۔ محبت کرنا، محبت میں حد سے بڑھ جانا، پس یہ سچ ہے کہ قرآنِ عزیز میں عشق کا ایک ہم معنی لفظ حب

۷۷

(محبۃ) ہے، جیسے قرآنی ارشاد ہے: والذین اٰمنوا اشد حبا للہ (۲: ۱۶۵) اور جو مومن ہیں ان کو (صرف) اللہ کے ساتھ بہت سخت محبت (عشق) ہے۔

 

۳۔ یہ تاریخی واقعہ سب کو معلوم ہے کہ حضرتِ یوسف علیہ السلام کے حسن و جمالِ ظاہری و باطنی سے زلیخا کو بدرجۂ انتہا عشق ہوا تھا، جس کو قرآنِ حکیم نے حب (حبا ، ۱۲: ۳۰) کہا ہے پس ظاہر ہے کہ عشق کا دوسرا نام حب (محبت) ہے، جیسے ایک مستند ترجمہ ہے: اس غلام کا عشق اس کے دل میں جگہ کر گیا ہے (۱۲: ۳۰)۔

 

۴۔ کوئی تم میں سے اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوتا، جب تک اپنے باپ، بیٹے اور سب لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ رکھے (حدیث) یہی تو عشقِ رسول ہے جو دنیا کی ہر محبت اور ہر عشق سے افضل و اعلیٰ اور انتہائی پاک ہے، اور یہی عشق یقیناً عشقِ الٰہی کا وسیلہ بھی ہے یا بالواسطہ خداوند تعالیٰ کا عشق ہے۔

 

۵۔ آیۂ مبارکہ کی تفسیر میں کیا شک ہوسکتا ہے کہ قرآنِ کریم ایک ایسی کامل و مکمل اور بے مثال کتاب ہے کہ اس کے کلّی بیان سے کوئی چیز باہر نہیں (۱۶: ۸۹) پس یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ ’’عشق‘‘ جیسا ہمہ گیر مضمون قرآنِ حکیم میں موجود نہ ہو، یقیناً کئی مترادفات، اشارات، اور امثال میں خدا، رسول، اور امام کے پاک عشق کا تذکرہ پوشیدہ ہے، کیونکہ عشق ہی سرِ اسرار ہے، لہٰذا اس کا ذکرِ جمیل اکثر بطریقِ راز فرمایا گیا ہے، چنانچہ قرآنِ عظیم میں جہاں جہاں خمرِ بہشت کا تذکرہ آیا ہے، وہاں اسی آسمانی عشق

۷۸

کی مثال ہے، اسی وجہ سے عشاق کہتے ہیں کہ یقیناً عشقِ سماوی شرابِ جنت ہے۔

۶۔ آسمانی عشق و محبت کے تقدّس کی یہ شان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمِ اکبر اور عشقِ اقدس کو ایک دوسرے کے بالکل قریب لا کر دونوں کی عظمت کی قسم کھائی ہے، سورۂ شوریٰ کے آغاز میں دیکھئے: حٰمٓ (۱) عٓسٓقٓ (۲) ان حروفِ مقطعات کی ایک تاویل اس طرح ہے: ح م = الحی القیوم۔ ع س ق = عشق۔ یعنی اسمِ اعظم الحیّ القیوم کی قسم ہے (اور) عشقِ سماوی کی قسم ہے (۴۲: ۱ تا ۲)۔

 

۷۔ حدیثِ شریف ہے: اوّل ما خلق اللہ العقل = اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا۔ لیکن بہت سے لوگ یہ نہیں سوچتے کہ عقل کی تخلیق و تکمیل کا یہ عظیم الشّان کام کہاں ہوا؟ خدا کے کسی محبوب کے عالمِ شخصی میں؟ جی ہاں، یہی درست اور حقیقت ہے، آپ اس حدیثِ شریف میں بھی غور سے دیکھیں:

لما خلق اللہ العقل استنطقہ ثم قال لہ: اقبل فاقبل، ثم قال لہ: ادبر فادبر، ثم قال: و عزتی و جلالی ما خلقت خلقا ھو احب الی منک و لا اکملتک الا فی من احب، اما انی ایاک اٰمر و ایاک انہیٰ و ایاک اعاقب و ایاک اثیب۔

ترجمہ: جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو وہ بحکمِ خدا بولنے لگی، پھر خدا نے اسے فرمایا: آگے آ، تو وہ آگے آئی، پھر اسے فرمایا: پیچھے جا،

۷۹

تو وہ پیچھے گئی، پھر ارشاد ہوا: میری عزت و جلالت کی قسم! کہ میں نے کوئی ایسی خلق پیدا نہیں کیا ہے، جو تیرے مقابلے میں مجھ کو زیادہ محبوب ہو، اور بات یہ ہے کہ میں نے تجھ کو صرف ایسے شخص میں کامل و مکمل کر دیا ہے، جس سے میں محبت کرتا ہوں، ہاں میرے امر و نہی کا خطاب ہمیشہ تجھ ہی سے ہوتا رہے گا، اور عذاب و ثواب کا تعلق بھی تجھ ہی سے ہو گا۔

 

۸۔ مذکورۂ بالا حدیث میں عالمِ شخصی ہی کا قصہ ہے کہ انسانِ کامل سب سے پہلے جسمانی طور پر پیدا ہو جاتا ہے، پھر اس کی روحانی پیدائش ہوتی ہے، پھر محبوبِ خدا ہونے کی وجہ سے اس کی جبین (پیشانی) میں نورِعقل پیدا ہوتا ہے، پھر یہ نور رفتہ رفتہ مکمل ہوتا ہے، پھر خاص عقلی زندگی شروع ہوتی ہے، جس کی بنا پر فرمایا گیا کہ: خدا نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا۔

 

۹۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ عشق و محبت علت ہے اور عقل معلول، یہ ایک درخت ہے اور وہ (عقل) اس کا میوۂ شیرین، یہ گویا حضرتِ مریمؑ ہے اور وہ حضرتِ عیسیٰؑ ، عشق بحرِعمیق ہے اور عقل درِّ گرانمایہ، یہ کانِ گوہر ہے اور وہ گوہرِکان، یہ آسمانِ حکمت ہے اور وہ خورشیدِ انور، یہ کارخانۂ عشق ہے اور وہ اس کی پیداوار۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

سوموار، ۲۵ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۲ جون ۱۹۹۷ء

۸۰

اپنی روح کی کاپیوں سے سوالات

 

۱۔ سوال: آپ سب کو حضرتِ امامِ عالی مقام علیہ السلام کے دیدارِ مقدّس کی اوّلین سعادت کب اور کس شہر میں نصیب ہوئی؟ کیا اُس بے مثال موقع پر کسی عظیم معجزے کا ظہور ہوا تھا یا صرف دیدارِ پاک کی شرف یابی ہوئی تھی؟

 

۲۔ سوال: یہ کون سا بیحد پسندیدہ حسن آباد تھا؟ جہاں جماعت کے ایک بڑے گروپ کے ساتھ ہم عاجزان مولائے پاک سے شب خیزی اور خصوصی عبادت کی نورانی ہدایت حاصل کر رہے تھے؟

 

۳۔ سوال: وہ کون سا مقام یا کون سا جماعت خانہ تھا جس میں بارِ اوّل روحانی روشنی کا مشاہدہ ہوا؟ نیز یہ بتائیں کہ یہ کس سال کا واقعہ ہے؟

 

۴۔ سوال: سریقول کا نورانی اور معجزانہ خواب کتنا حسین، دلنشین اور نا قابلِ فراموش ہے! آپ علم الیقین کی روشنی میں سچ سچ بتائیں کہ وہ قربانی کس کی تھی؟ کون ذبح ہوا تھا؟ کس کے لئے؟ کس کی طرف سے؟ جسم کہاں تھا اور سر کہاں؟ اس حال میں انائے عُلوی کہاں سے یہ منظر

۸۱

دیکھ رہی تھی؟ کیا یہ شہادت تھی یا ذبح و قربانی؟ کیا آپ تھے یا میں؟ یا ہم سب؟ خوب سوچ کر جواب دینا ہے۔

 

۵۔ سوال: اگرچہ یہ ایک نورانی خواب تھا، لیکن قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھنا ہو گا کہ بعض رویا (خواب) روحانیت ہی کی طرح ہوا کرتے ہیں، پس عجب نہیں کہ اس قربانی میں بہت سی حکمتیں پنہان ہوں، اس کا بیان الگ ہونا چاہئے، تا کہ اہلِ دانش پر حقیقت روشن ہو جائے۔

 

۶۔ سوال: ہم نے کہا تھا یا میری روح کی کاپیوں نے کہا تھا یا یہ تمام مومنین و مومنات کا جذبۂ جان نثاری تھا: قربان امنݽ اُنے گنے صد بار ایم جار = تیرے لئے قربان ہو جانا مجھے بیحد شیرین ہے۔ الحمد للہ، یہ پرحکمت قربانی عمل میں آئی، اور یہ بے حد شیرین اس معنیٰ میں ہے کہ بکرے کی قربانی اہلِ خانہ کی طرف سے ہوتی ہے، خدا کی قسم یہ قربانی بہت سے لوگوں کی طرف سے ہوئی، لیکن اس میں میری کاپیاں بھی قربان ہو چکی ہیں۔

 

۷۔ سوال: یہ نعمت انتہائی شیرین ہے، اس لئے میں بار بار اس کا ذکرِ جمیل کرتا رہتا ہوں، قصّہ روحانی سفر اور منزلِ عزرائیلی کا ہے، لیکن کیا ابدان کی طرح ارواح بھی الگ الگ اور دور دور رہتی ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں، حدیثِ شریف میں ہے کہ روحیں ہمیشہ لشکر کی طرح یکجا اور جمع ہوتی ہیں= الارواح جنود مجندۃ ۔ خصوصاً روحانی جنگ میں حصہ لینا اور ذاتی قیامت گاہ میں حاضر ہو جانا اس لشکر کا کام ہے، اور

۸۲

جو لوگ علمی سولجرز ہیں، ان کی عظیم روحیں کیونکر روحانی جنگ سے گریز کر سکتی ہیں۔

 

۸۔ سوال: کیا آپ نے منزلِ عزرائیلی کا روحانی قصہ نہیں سنا ہے؟ کیا اس منزل میں سب روحیں جمع نہیں ہوتی ہیں؟ مجھے کامل یقین ہے کہ وہاں آپ سب موجود تھے، اور شاید یہ علمی دوستی وہاں سے شروع ہوئی، آپ سب سے پہلے ذرّاتِ لطیف کی شکل میں آئے تھے، آپ نے عالمِ شخصی کے بے شمار عجائب و غرائب کو دیکھا ہے۔

 

۹۔ سوال: کیا آپ نے کبھی عشق و محبت سے کہا: مولانا حاضر امام روحی فداہ (میری روح اس سے فدا ہو!) کیا آپ سچ مچ اپنی پیاری روح حضرتِ امام علیہ السلام سے قربان کر دینا چاہتے ہیں؟ یا یہ ایک مہمل بات ہے؟ اگر یوں کہنا مومن کی خوبیوں میں سے ہے تو وہ عملاً کہیں قربان بھی ہوتا ہوگا۔

 

۱۰۔ سوال: کیا یہ میرا نعرۂ پرجوش کھوکھلا ہے یا پرمغز؟ جو کہتا رہتا ہوں کہ: مولا ڎم جا جی فدا! (مولا سے میری جان فدا ہو!) جماعت ڎم فدا! عزیزان ڎم فدا! نہیں کھوکھلا ہرگز نہیں، آپ تو ہر طرح سے قربان ہو چکے ہیں، اور بہت سے عزیزان علم الیقین کی روشنی میں اس امرِ واقعی کو سمجھتے بھی ہیں۔

 

۱۱۔ سوال: کیا دینِ اسلام کے زرّین اصولوں میں سے ایک اصول یہ نہیں ہے کہ دوسروں کی آسائش کی خاطر قربانی دی جاتی ہے؟ جی بلم قربان ایتم ھل دݳ کے جݶ مݣ بٹ منݽ ۔ گنڎ کے ہن قربان

۸۳

ایچم ڎہ جا ݽݽائیے کان دیا۔ یہ شعر شروع شروع کا ہے، بعد میں انکشاف ہوا کہ ایک شخص کے پاس لاتعداد جانیں ہو سکتی ہیں، چنانچہ میں نے اپنی جانوں کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی جانیں راہِ جانان میں قربان کر دیں، جو میری قیامت گاہ میں آئی تھیں۔

 

۱۲۔ سوال: اے عزیزانِ من! کیا ہم حقیقت میں ایک نہیں ہیں؟ کیا ہم ایک ہی علمی اور روحانی لشکر نہیں ہیں؟ کیا ہم منزلِ عزرائیلی میں سب ایک ساتھ نہیں مررہے تھے؟ اور ایک ساتھ زندہ نہیں ہوئے تھے؟ آیا ہم سب آدمِ زمانؑ کے ذرّاتی فرشتے نہیں تھے؟ کیا ہمارے آپس میں شدید اور بے مثال محبت نہیں ہے؟ ایسی محبت کس حقیقت کی علامت ہے؟ وحدت اور یک حقیقت کی، الحمد للہ ، ہم سب کا نامۂ اعمال ایک ہوچکا ہے، سو یہ کتنی بڑی خوشی کی بات ہے!

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقار آباد، گلگت

منگل ۲۶ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ، ۳ جون ۱۹۹۷ء

۸۴

امتحان ہی امتحان

 

۱۔ سورۂ ملک کی دوسری آیت (۶۷: ۲) میں دیکھ لیں تاکہ یہاں یہ عجیب راز معلوم ہوجائے کہ خدا تعالیٰ نے حیات سے پہلے موت کو پیدا کیا، اور اس کے بعد حیات کو پیدا کیا ہے، حالانکہ بظاہر پیدائش پہلے ہے اور موت بعد میں آتی ہے، لیکن ہم یقین کرتے ہیں کہ اس ترتیب میں کوئی بہت بڑی حکمت پنہان ہے، اور وہ یہ ہے کہ اگرچہ حیوان کے مقابلے میں ایک عام انسان بہتر زندگی رکھتا ہے، کیونکہ اس میں عقلِ جزوی اور اختیار موجود ہے، لیکن روحانی اور حقیقی زندگی کے پیشِ نظر آدمی کی یہ عامیانہ زندگی موت کی طرح ہے، پس یہ حکمت ظاہر ہوئی کہ موت و حیات (عام زندگی اور خاص زندگی) دونوں امتحان کی غرض سے ہیں، آپ آیۂ محولہ کو قرآن (۶۷: ۲) میں پڑھیں۔

 

۲۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خداوند تعالیٰ تو ہمیشہ عالم الغیب ہے، وہ اپنے بندوں کے دلوں کی حالت و کیفیت کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے، پھر کیوں ان سے امتحان لیتا ہے؟ نیز یہ پوچھنا ضروری ہے کہ بندے کو

۸۵

حضرتِ ربّ العزت کس مقام پر آزماتا ہے اور کس طرح؟

 

۳۔ بہشت میں چھوٹے بڑے لاتعداد درجات ہیں، لہٰذا امتحان ضروری ہوا تا کہ ہر شخص کو اس کے علم و عمل کے مطابق کوئی درجہ دیا جائے، انسان کی پوری زندگی شروع سے لے کر آخر تک آزمائش کا میدان ہے، جس میں کامل اطاعت و فرمانبرداری بے حد ضروری ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ نیّت، قول، علم ، اور عمل کی ہر چیز اللہ کی خوشنودی کے مطابق ہو تا کہ کامیابی نصیب ہو جائے۔

 

۴۔ جس طرح دنیا کی تعلیم درجہ بدرجہ بلند سے بلند تر ہوتی ہے، یعنی اس کے بہت سے درجات ہیں، اسی طرح دینی تعلیم کے بھی بہت سے درجات ہیں، چنانچہ قرآنِ حکیم میں آسان سے آسان ہدایات بھی ہیں، اور مشکل سے مشکل مقامات بھی، تاکہ اس طرح سے بہت سے مدارج ترتیب پائیں، اور ہر عالم اپنی علمیت کے مطابق درجہ حاصل کرے، جیسا کہ ارشاد ہے: ھم درجات عند اللہ (۳: ۱۶۳) یہ لوگ خدا کے نزدیک مختلف درجوں میں ہیں۔ یعنی کوئی درجہ جتنا بلند ہو، اس کے علم وعمل کا امتحان اتنا مشکل ہوتا ہے۔

 

۵۔ بڑے بڑے امتحانات سے متعلق اندازہ کرنے کے لئے اس زبردست حکمت والی آیت کو دیکھیں: و ھو الذی خلق السماوات و الارض فی ستۃ ایام و کان عرشہ علی الماء لیبلوکم ایکم احسن عملا ۔۔۔ (۱۱: ۷) اس کا ترجمہ عالمِ شخصی کے مطابق اس طرح ہے:

۸۶

وہ (خدا) ایسا ہے کہ اس نے (عالمِ صغیرکے ) آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا تب اس کا عرش (تخت) پانی پر ظاہر ہوا تا کہ تم کو آزمائے کہ تم میں اچھا عمل کرنے والا کون ہے۔ عالمِ شخصی کے چھ دن سے چھ ناطق مراد ہیں، اور ساتواں دن (سنیچر) حضرتِ قائم ہے۔

 

۶۔ یہ بہت بڑی آزمائش ہے، بلکہ بہت سے امتحانات ہیں کہ قرآنِ حکیم کے اکثر مضامین عالمِ شخصی کے بارے میں ہیں، یعنی آسمان، زمین، عرش، کرسی، قلم، لوح وغیرہ سب کچھ عالمِ شخصی میں محدود اور موجود ہے، بشرطیکہ اس پر نورِمعرفت کی روشنی پڑ رہی ہو، یعنی جب نورِ امامِ مبین کا عکس پڑ رہا ہو۔

 

۷۔ قرآنِ حکیم کی ایک بہت بڑی حکمت لفظِ احسن میں ہے، جس کے معنی ہیں: بہت اچھا=بہتر، آپ قرآنِ عزیز کے ۳۶ مقامات پر اس نعمتِ عظمیٰ سے لطف و لذّت حاصل کریں، الغرض اللہ تعالیٰ ہر چیز میں آزما کر یہ چاہتا ہے کہ اس کا بندہ نیّت، قول، علم، اور عمل میں حسین نہیں بلکہ احسن ہوجائے، کیونکہ خدا کے پاس بہت سے درجات ہیں، اور عظیم مرتبے بھی ہیں۔

 

۸۔ ہر امتحان وابتلا میں صبر و ثبات اور کامیابی کے لئے گریہ و زاری اور مناجات کرتے رہیں، عبادت، بندگی، کثرتِ ذکر، کثرتِ سجود، خیر خواہی ، نیکی، خدمت، عاجزی، اور نرم دلی سے فائدہ اٹھائیں، اور علم الیقین کی لازوال دولت سے مالامال ہوجائیں، کیونکہ علم ہی ہے جس سے ہر

۸۷

آزمائش آسان ہو سکتی ہے۔

 

۹۔ اگر خدا چاہے تو ہر مشکل آزمائش میں اہلِ ایمان کی مدد کرسکتا ہے، جیسا کہ سورۂ مجادلہ (۵۸: ۲۲) میں ہے: ایسے لوگوں کے دل میں خدا نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی ایک خاص روح سے ان کی مدد فرمائی ہے۔

 

نصیر الدین نصیرّ (حُبِّ علی) ہونزائی

ذوالفقارآباد، گلگت

جمعرات ، ۲۸ محرم الحرام ۱۴۱۸ ھ، ۵ جون ۱۹۹۷ء

۸۸

دعوتِ ظاہر اور دعوتِ باطن

 

۱۔ قرآنِ حکیم اور دینِ اسلام میں طاق کے بعد جفت کی بہت بڑی اہمیت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمام چیزوں کو جفت جفت یا دو دو یا اضداد کے قانون پر پیدا کیا ہے، آپ قرآنِ عزیز کے ان مقامات پر دیکھ سکتے ہیں: سورۂ ہود (۱۱: ۴۰) سورۂ رعد (۱۳: ۳) سورۂ مومنون (۲۳: ۲۷) سورہ یاسین (۳۶: ۳۶) سورۂ ذاریات (۵۱: ۴۹) اور سورۂ رحمان (۵۵: ۵۲) ، تا کہ آپ کو خدائے علیم و حکیم کی یہ عظیم حکمت معلوم ہوجائے کہ خدائے واحد طاقِ محض ہے، اور اس کی بنائی ہوئی چیزیں (مخلوقات) جفت جفت ہیں۔

 

۲۔ جیسا کہ سورۂ ذاریات میں ہے: و من کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون = اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں تا کہ تم نصیحت پکڑو (۵۱: ۴۹) زوجین کی مثالیں یہ ہیں: (الف) شوہر اور بیوی (ب) نر اور مادہ (ج) اضداد: دنیا و آخرت، آسمان و زمین ، خیر و شر، ہستی اور نیستی، دوزخ و بہشت، مکان و لامکان، روشنی اور تاریکی، جسم و جان، علم و

جہل، دوری اور نزدیکی، ممکن اور محال، ظلم و عدل، وغیرہ۔

۸۹

۳۔ اسی طرح قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے، یعنی اس کی ایک تنزیل ہے اور ایک تاویل، چنانچہ صاحبِ تنزیل رسولِ اکرمؐ ہیں اور صاحبانِ تاویل آپؐ کے جانشین ، یعنی أئمّۂ طاہرین ہیں، پس دعوتِ اسلام دو قسم کی ہے، ایک دعوتِ ظاہر ہے اور دوسری دعوتِ باطن، کیونکہ ہر رسول کا ایک وصی ہوا کرتا ہے جو وزیر کہلاتا ہے (۲۵: ۳۵) وہ دینِ حق کی باطنی اور تاویلی دعوت کرتا رہتا ہے۔

 

۴۔ ہر وہ آیۂ کریمہ اور حدیثِ نبوی جو مولاعلیؑ کی شان میں ہے، وہ دعوتِ باطن کی غرض سے ہے، ایسی آیات و احادیث بہت ہیں، تاکہ تاویلی دعوت کی اصل و اساس مستحکم ہو، کیونکہ اسی دعوتِ باطن سے ہر بار اسلام ادیانِ عالم پر غالب آتا ہے، چنانچہ وہ آیۂ شریفہ جو تمام ادیان پر دینِ حق کے غالب آنے سے متعلق ہے تین مقامات پر دہرائی گئی ہے: سورۂ توبہ (۹: ۳۳) سورہ فتح (۴۸: ۲۸) اور سورۂ صف (۶۱: ۹) پس ہر امام کے زمانے میں ایک روحانی قیامت برپا ہو جاتی ہے جو روحانی جنگ بھی ہے، اور دینِ حق کی آخری دعوت بھی، جس کے نتیجے میں اسلام دوسرے تمام ادیان پر غالب

آتا ہے، مگر لوگ اس عظیم معجزے کو دیکھ نہیں سکتے ہیں۔

 

۵۔ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۱) میں ارشاد ہے: یوم ندعوا کل اناس بامامھم = جس دین ہم زمانے کے لوگوں کو ان کے امام کے توسط سے بلائیں گے۔ یہاں لفظِ اناس (اہلِ زمانہ) سے معلوم ہوا کہ جس طرح امامت ایک سلسلہ ہے، اسی طرح قیامت بھی ایک سلسلہ

۹۰

ہے، جبکہ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔

 

۶۔ آپ دین کا یہ قانون بھول نہ جائیں کہ عظیم چیزیں دو دو ہوا کرتی ہیں، جیسے قلم و لوح، عرش و کرسی، عقلِ کلّ و نفسِ کلّ، ناطق واساس، امام و باب، حجّت و داعی وغیرہ، دوسری مثال میں ناطق اور وصی (وزیر = امام) جیسے سورج اور چاند، کہ شمس و قمر کی تین تاویلیں ہیں: ناطق و اساس، اساس و امام، امام و باب۔

 

۷۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ قیامت دینِ اسلام کی آخری دعوت ہے، کیونکہ خدا نے فرمایا: ندعوا (ہم دعوت کریں گے = ہم بلائیں گے)، پس اللہ کا بلانا دینی دعوت کے سوا نہیں، لیکن یہ لوگوں کے لئے زبردستی کی دعوت ہے، جیسے سورۂ آلِ عمران میں ارشاد ہے: و لہ اسلم من فی السماوات و الارض طوعا و کرھا و والیہ یرجعون = حال آنکہ سب اہلِ آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرمانبردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں (۳: ۸۳) پس یہاں کرھاً (زبردستی) سے باطنی قیامت مراد ہے، جو روحانی جنگ اور دینِ حق کی آخری دعوت ہے۔

 

۸۔ سورۂ طٰہٰ (۲۰: ۱۰۸) میں ہے: یومئذ یتبعون الداعی لا عوج لہ = اس روز تمام لوگ ایک ایسے داعی کی دعوت کو قبول کریں گے جو سب زبانوں کو جانتا ہے۔ الداعی (دعوت کرنے والا، بلانے والا) حضرتِ امام علیہ السلام ہے کہ اسی کے توسط

۹۱

سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو بلاتا ہے (۱۷: ۷۱) اور امامِ عالی مقام ہی ہے جو جملہ خلائق کی زبانوں کو جانتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قیامت اور روحانیت کا خطاب ہر زبان میں ممکن ہے، الحمد للہ علیٰ منہ و احسانہ۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

اسلام آباد

جمعرات ۶ صفر ۱۴۱۸ھ ، ۱۲ جون ۱۹۹۷ء

۹۲

چند اعلیٰ حکمتیں

 

حکمتِ اوّل: سورۂ جنّ کی آخری دو آیتوں (۷۲: ۲۷ تا ۲۸) کو اصولِ حکمت کے مطابق پڑھ لیں، اس ربّانی تعلیم کے آخر میں یہ اشارہ ہے کہ پیغمبروں کو خدا نے جو خزانۂ علم و معرفت عطا کیا تھا، وہ ہمیشہ عالمِ شخصی اور حظیرۃ القدس میں محفوظ ہے، اور کل چیزیں آخراً پہلے کی طرح ایک بنائی جاتی ہیں، یعنی سارے انسانوں کی وحدت و سالمیت نفسِ واحدہ میں ہوتی ہے، کیونکہ و احصیٰ کل شی عددا میں خصوصا انسانوں کا ذکر ہے۔

 

حکمتِ دوم: اے ہمارے بے حد عزیز گورنرز اور علمی سولجرز! آپ کو کسی تاخیر کے بغیر قرآنی حکمت کی لازوال دولت سے مالامال ہوجانا ہے، آپ کو حصولِ علم و حکمت کے لئے امامِ زمان علیہ السلام کے ساتھ ہو جانا ضروری ہے، جیسے سورۂ توبہ (۹: ۱۱۹) میں ارشاد ہے: اے ایمان والو خدا سے ڈرو اور سچوں (ائمہ) کے ساتھ ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بابرکت خطاب تمام زمانوں کے مومنین سے ہے، تا کہ ہر زمانے

۹۳

کے اہلِ ایمان اپنے امامِ وقت سے رجوع ہوجائیں، کیونکہ دنیا کی باتوں میں سچ بولنے والوں کی بات ہی نہیں، بلکہ دینی علم کے سچوں (الصادقین) کا ذکرِ جمیل ہے۔

 

حکمتِ سوم: پروردگارِ عالم نے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کو نورِجبین اور حظیرۃ القدس کے اسرار سے واقف و آگاہ کر دیا تھا، آپ اُس مقام پر صالحین کی وحدت کے ساتھ مل گئے تھے، جیسا کہ ارشاد ہے: رب ھب لی حکما والحقنی بالصالحین (۲۶: ۸۳)۔

 

حکمتِ چہارم: حضرتِ ابراہیمؑ بحیثیتِ امام آئندہ لوگوں میں بھی علمی صداقت کی زبان استعمال کرنا چاہتے تھے، اور یہ کام آنجناب کے سلسلۂ اولاد کے وسیلے سے ہوسکتا تھا، جو آلِ ابراہیمؑ اور آلِ محمدؐ ہیں، متعلقہ آیۂ شریفہ یہ ہے: واجعل لی لسان صدق فی الاٰخرین (۲۶: ۸۴) اور میرے لئے آئندہ لوگوں میں (علم و حکمت) کی سچی زبان بنا دے۔

 

حکمت پنجم: قرآنِ حکیم میں جن لوگوں کو بنی آدم کہا گیا ہے، وہ حقیقت میں آدمِ زمان علیہ السّلام ہی کے روحانی بچے ہیں، چنانچہ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۰) میں انہی کے بارے میں ارشاد ہے: و لقد کرمنا بنی اٰدم = اور یقینا ہم نے اولادِ آدم کو کرامت (عزت) دی، یعنی اپنے ایک اسمِ بزرگ  الاکرم  کی تجلی کے ساتھ ان کو دیدارِ پاک سے نوازا، و حملنٰھم فی البر والبحر = اور خشکی و تری میں ان کو سواریاں دیں، یعنی ان کو حدودِ دین کے دوش پر بٹھا کر روحانیت کی

۹۴

خشکی و تری کا سیر و سفر کرایا، تا آنکہ بھری ہوئی کشتی میں سوار کر لیا جو عرش بر آب بھی ہے، و رزقنٰھم من الطیبٰت= اور پاکیزہ روزی عطا کی، یعنی ایسے مقام پر ان کو علمِ حقیقی کی دولت سے مالامال فرمایا، و فضلنٰھم علیٰ کثیر ممن خلقنا تفضیلا = اور بہت سی مخلوق پر ان کو ایسی فضیلت دی جیسا کہ فضیلت دینے کا حق ہے، یعنی کشتی میں سوار ہو جانا ابدی نجات کی دلیل ہے، اور تخت (عرش) پر بیٹھنا فنا فی اللہ و بقا باللہ کی دلیل ہے جو سب سے بڑی فضیلت اور سب سے عظیم سلطنت ہے۔

 

حکمتِ ششم: سورۂ یاسین جو قلبِ قرآن ہے، اس میں بھری ہوئی کشتی کا عظیم راز بڑا عجیب وغریب ہے (۳۶: ۴۱) یقیناً یہ مونوریالٹی کا بہت بڑا بھید ہے، آپ قرآن کی فکری اور علمی عبادت کریں اور ایسے اعلیٰ مقامات میں خوب دل لگا کر سوچیں، کہ بھری ہوئی کشتی کیا ہے؟ کیا کشتی میں نوحؑ ہے؟ یا نمائندۂ اہلِ بیت؟ یا ظلِ الٰہی؟ یا صورتِ رحمان؟ یا نفسِ واحدہ؟ یا مساواتِ رحمانی؟ یا مبداء و معاد؟ یا عقلِ کلّ و نفسِ کلّ؟ یا قلمِ اعلیٰ و لوحِ محفوظ؟ یا عرش و کرسی؟ یا خداوند تعالیٰ کی تجلّی؟ یا مونوریالٹی؟ یا امامِ مبین؟

 

حکمتِ ہفتم: عرش صرف عالمِ شخصی کی ایک روحانی مثال ہے، اس سے حقیقت میں ذاتِ سبحان بے نیاز و برتر ہے، مگر اس کا سارا تذکرہ محض بندوں کو نوازنے کی غرض سے ہے، پس عالمِ

۹۵

شخصی میں دو عرش ہیں: ایک آسمان میں اور دوسرا زمین پر، جو عرش زمین پر ہے وہ پانی پر ہونے کی وجہ سے کشتی بھی ہے۔ الحمد للہ رب العالمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

یک شنبہ ۹ صفر ۱۴۱۸ھ، ۱۵ جون ۱۹۹۷ء

۹۶

مہمان نوازی اور علم گستری

 

۱۔ اگر مولائے پاک کا کوئی جان نثار عاشق مہمان نوازی یا میزبانی علم گستری کے مقصد کے پیشِ نظر کرتا ہے تو یہ بہت بڑی قربانی بھی ہے اور دعوتِ بقا کا ایک عمدہ نمونہ بھی، سچ تو یہ ہے کہ ایسی پرحکمت دعوت جناب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ عالیہ سے شروع ہوئی تھی، آپ سیرتِ طیبہ کی کتابیں پڑھیں۔

 

۲۔ ایک حقیقی مومن مختلف طریقوں سے علمِ امامت کی خدمت کرتا ہے وہ حضرتِ امام علیہ السلام کا عاشقِ صادق ہے، لہٰذا اپنے مولا و آقا کی تعریف و توصیف کو بار بار سننا چاہتا ہے، کیونکہ اسی علم میں اس کا قلبی سکون ہے، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ ہوشمند مومنین و مومنات کے نزدیک زندگی کے بہترین لمحات وہ ہیں جو حقیقی علم و عبادت اور اعلیٰ خدمت میں صرف ہو جاتے ہیں۔

 

۳۔ یہ میرے دورۂ گلگت کی مختصر رپورٹ بھی ہے، اور ان تمام معزّز و محترم خاندانوں کا پرخلوص شکریہ بھی، گوناگون نعمتوں کے دسترخوان

۹۷

اور جذبۂ میزبانی سے یوں لگتا تھا کہ وہ سب حضرات روحانی علم کے شیدائی ہیں، حق بات تو ہے کہ ہم ہر مجلس کی خوبیوں سے پگھل گئے، یقینا عشقِ سماوی کے زیرِ اثر ہم مرغِ نیم بسمل کی طرح تڑپ رہے تھے، اے کاش وہ خنجرِ عشق اس غریب دل میں بار بار لگتا! وہ مقدّس محفل! وہ پاک ساز و آواز! وہ گریۂ عشاق! وہ دعائے دل سوز! وہ بارانِ رحمت!

 

۴۔ وہ پاکیزہ دینی محبت و دوستی! وہ مونوریالٹی کا یقین! وہ بہشتِ برین میں تمام عزیزان کی ملاقات کی پرمسرت امید! وہ مشترکہ نامۂ اعمال (نورانی موویز) کی طوفانی شادمانی! وہ کاملین کی کاپیوں کی زبردست خوشی! وہ عالمِ شخصی کی سلطنت کی بشارت! وہ اسرارِ جبین کی میٹھی میٹھی باتیں! وہ دانشمندوں کی پر مغز باتیں! وہ احباب کی مشتاقانہ ملاقات! ان نعمتوں کے علاوہ اور بھی روحانی نعمتیں ہیں، ان شاء اللہ، ہم سب ایک خاص مقام پر ملنے والے ہیں، اس وقت ہم بے حد شادمان ہوں گے، الحمد للہ رب العالمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

پیر ۱۰ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ ، ۱۶ جون، ۱۹۹۷ء

۹۸

علی علی علی

 

۱۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ آج کا عنوان بڑا عاشقانہ اور مستانہ ہے، شاید اس کی کچھ وجوہ ہوسکتی ہیں، اور ایک وجہ یقیناً یہ بھی ہے کہ بہشت میں لمبی لمبی نہریں بہہ رہی ہیں، کہ اگر چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے تو بلاشبہ معلوم ہو جائے گا کہ وہ اس دنیا تک پہنچی ہوئی ہیں، ازان جملہ خمرِ جنت کی نہر بھی ہے، جس میں کیف و سرور اور مستیٔ عشقِ سماوی بھری ہوئی ہے، سماوی اس معنیٰ میں کہ اس مقدّس عشق کو دل میں جگہ دینے کا حکم آسمان سے آیا ہے، یہ وہی پاک و پاکیزہ عشق ہے، جس کی دل نشین تعلیم قرآن و حدیث میں موجود ہے، پس میرا کوئی ساقی ہے، جس کی ہر بار ایک نئی شان ہوتی ہے:

 

ہر غنچہ کہ گل گشت دگر غنچہ نہ گردد

قربان بلبِ یار گہی غنچہ گہی گل

 

۲۔ اہلِ دانش کی نظر میں یہ حقیقت روشن ہے کہ آسمانی عشق کبھی نار بن کر سارے گناہوں کو جلا دیتا ہے اور کبھی نورِ ہدایت بن کر رہنمائی

۹۹

کرتا ہے، پس عشقِ سماوی کی سیڑھی چار زینوں پر مبنی ہے: عشقِ الٰہی، عشقِ رسولؐ، عشقِ علیؑ، اور عشقِ امامِ زمان، کیونکہ بندوں کا امتحان زمانۂ ماضی سے متعلق نہیں بلکہ زمانۂ حال کے بارے میں ہوتا ہے، لہٰذا ہر مومن اور مومنہ کا یہ عقیدۂ راسخ ہونا ضروری ہے کہ امامِ وقت کا پرحکمت نام ’’علیٔ زمان‘‘ ہوتا ہے، کیونکہ اس میں علیؑ ہی کا نور ہوتا ہے۔

 

۳۔ جامعِ ترمذی ، جلدِ دوم میں ہے: ان علیا منی و انا منہ و ھو ولی کل مومن من بعدی = یقینا علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ میرے بعد ہر مومن کا ولیٔ امر ہے۔ یہاں اگر نورِ عشق ہے تو اس کی روشنی میں عقل خوب سے خوب تر کام کرسکے گی کہ علیؑ سے امامِ زمان مراد ہے، کیونکہ علیؑ اپنے زمانے کا امام تھا، جبکہ حضورؐ نے فرمایا: ’’میرے بعد‘‘ اور فرمایا: ’’ہر مومن‘‘ تو آج بھی اور کل بھی آنحضرتؐ کے بعد کا زمانہ ہے، اور ہر مومن اور مومنہ کو ایسے ولیٔ امر کی ضرورت اب بھی ہے اور آئندہ بھی ہو گی، کیونکہ حدیثِ صحیحہ جوامع الکلم میں سے ہوتی ہے، جس کا مطلب ہرگز ادھورا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں زبردست معنوی بلاغت ہوا کرتی ہے۔

 

۴۔ علی علی علی۔ یہ عنوانِ گفتگو بھی ہے، اور نعرۂ عشق بھی، میں نے عشق کی مستی میں ’’ علی علی علی ‘‘ کا فلک شگاف نعرہ لگایا، اور مجھے یقین ہے کہ عشقِ علی کی یہ پرحکمت آواز اور گونج فرشتوں کی نورانی موویز میں امر اور لازوال ہوگئی، میں اپنی روحانی زندگی کے امامِ اقدس و اطہر علیہ السلام کا

۱۰۰

عاشق ہوں، کیونکہ اسی نے ازراہِ عنایت مجھے زندہ کر دیا، جب کہ میں سچ مچ مرا ہوا پڑا تھا، حضرتِ عیسیٰؑ مردگانِ جہالت کو زندہ کرتا تھا، اور اسی کی ہمیشہ ضرورت ہے، پس دینِ اسلام جو دینِ کامل ہے، اس میں معجزۂ عیسیؑ باقی و جاری ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام ہر معجزے کو نگاہِ ظاہر سے دیکھنا اور پرکھنا چاہتے ہیں اور یہ خیال بالکل غلط ہے، اگر دنیا میں اسلام کے غیر معمولی معجزات نہ ہوتے تو قرآنِ حکیم کبھی نہ فرماتا: صم بکم عمی فھم لا یرجعون۔ (۲: ۱۸) یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں سو وہ رجوع نہیں کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ دنیا ہی سے شروع کر کے سننے کے معجزے ہیں، بولنے کے معجزے ہیں، اور دیکھنے کے معجزے ہیں۔

 

۵۔ یقینا عشق ایک آسمانی نور ہے، اور نور کی چار نسبتیں ہیں: نورِ خدا، نورِ رسول، نورِعلی اور نورِ امامِ زمان، پس آپ نورِ عشق میں فنا ہو جائیں، اور زینہ بزینہ سیڑھی سے چڑھتے جائیں، اور دیکھئے کہ کیا ہوتا ہے، میرا خیال ہے کہ آپ اسی طرح فنا فی اللہ ہو جائیں گے، پس بڑا مبارک ہے ہر وہ شخص ، جس کو کمالِ عشق حاصل ہو، کہ:

این سعادت بزورِ بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

 

۶۔ میں چاہتا ہوں اور میری عاجزانہ دعا ہے کہ تمام تر دلوں میں نورِعشق طلوع ہو! یہ عشق روحانی علم کی پیداوار ہے، یہ عشق قرآن و حدیث کا میوہ ہے، یہ عشق عقیدۂ راسخ کا نتیجہ ہے، یہ عشق مشاہدۂ حسن و جمال

۱۰۱

کا ثمرہ ہے، جس طرح وہ سب سے حسین ہے، اسی طرح اس کا پاک عشق سب سے شیرین اور سب سے اعلیٰ ہے، حافظ شیرازی کا شعر ہے:

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما

۷۔ کوئی مومن علیٔ زمان کے عشق میں بہت کمزور بھی ہوسکتا ہے، جس کی وجہ البتہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس کے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں، اس کے لئے علاج بالضّد کرنا ہوگا، یعنی قرآن وحدیث اور بزرگانِ دین کی تعلیمات کی روشنی میں حضرتِ امامِ زمان علیہ السّلام کے اوصاف و کمالات کو اجاگر کرنا پڑے گا، تاکہ مومنِ ضعیف کو امامِ وقت سے عشق ہوسکے، اگر کوئی مومن یہ کہتا ہو کہ میں تو علی کو جان و دل سے امام مانتا ہوں مگر اب اُس جیسا کوئی امام نہیں، تو ایسے شخص کے پاس حقیقی علم نہیں، کیونکہ نورِ امامت ہی کی وجہ سے اہلِ زمانہ کی ظاہری اور باطنی ترقی ہوتی جاتی ہے، لہٰذا اب علیٔ زمان پہلے کی نسبت زبردست کام کر رہا ہے، جیسے قرآن میں ہے: و اللہ متم نورہ = اور خدا اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا (۶۱: ۸) یہ زمانۂ قائم کی طرف اشارہ ہے، الحمد للہ رب العالمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

منگل ۱۱ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ، ۱۷ جون ۱۹۹۷ء

۱۰۲

سنتِ الٰہی کے اسرار

 

۱۔ شب خیزی، بندگی، گریہ و زاری، مناجات، عشقِ سماوی، اور سجود کی کمی کے احساس کے ساتھ بڑی عاجزی اور ناچاری سے قرآنِ ناطق کی طرف رجوع ہو جاتا ہوں کہ وہ ہمیشہ کی طرح میری مدد فرمائے، تا کہ یہاں چند مفید باتیں درج ہوں، عزیزانِ من! شاید آپ سب کو یا بعض کو یاد ہو کہ آج سے پہلے بھی اس مضمونِ عالی کے بارے میں کچھ کچھ اظہارِ خیال کیا گیا ہے، لیکن موضوع بڑی زبردست اہمیت کا حامل ہے، لہٰذا مزید گفتگو کے لئے سعی کی جاتی ہے۔

 

۲۔ آپ کو میرا اوّلین مشورہ یہ ہے کہ ان تمام آیاتِ شریفہ کا خوب غور سے مطالعہ کریں، جن میں اللہ تعالیٰ کی سنتِ عالیہ کا ذکر آیا ہے، سنت کے معنی ہیں: عادت، دستور، آئین، راہ، معمول، طریقہ، قانون، جیسے سورۂ مومن کے آخر میں ہے: سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ = یہی اللہ کا دستور ہے جو اس کے بندوں میں گذر چکا ہے (۴۰: ۸۵) یعنی خدا کا معمول نہ آسمان میں ہے نہ زمین پر،

۱۰۳

بلکہ اس کے خاص بندوں (انبیاء و اولیاء ) میں گذرتا رہا ہے، بالفاظِ دیگر یہ ہے کہ اللہ کی سنت عالمِ شخصی میں پائی جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خداوند تعالیٰ کا قانونِ کل یا جملہ قوانین کا عمل عوالمِ

شخصی میں کسی ابتداء و انتہا کے بغیر ہمیشہ ہمیشہ جاری و باقی ہے۔

 

۳۔ قرآنِ حکیم فرماتا ہے کہ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائی جاتی، اس کا اشارہ اساسی قوانین کی طرف ہے، مثلاً وہ الخالق ہے، جو ہمیشہ عوالم کو پیدا کرتا رہتا ہے، وہ القابض اور الباسط ہے، جو ہمیشہ کائنات کو لپیٹتا اور پھیلاتا رہتا ہے، الغرض جس طرح اس کی ذات قدیم ہے، اسی طرح اس کی ہر صفت بھی قدیم ہے، اور یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ اللہ کی کوئی صفت حادث (نئی) ہو۔

 

۴۔ جب حضرتِ رب العزت کی معرفت انسان کے عالمِ شخصی ہی میں ہے تو پھر سنتِ الٰہی کی معرفت بھی لازمی طور پر یہیں ہے، اس کے سوا اور کہیں بھی نہیں، آپ قرآنِ عظیم کی معنوی گہرائی میں دیکھیں کہ آیات و معجزاتِ الٰہی کی معرفت آفاق میں مکمل نہیں ہوتی، جب تک کہ جملہ معجزات کا مشاہدۂ باطن انفس میں نہ ہو (۴۱: ۵۳)، زمین (مکان و زمان) میں جو معجزات بکھرے ہوئے ہیں، وہ عالمِ شخصی میں منظم اور یکجا ہیں(۵۱: ۲۰ تا ۲۱)۔

 

۵۔ جب سنتِ الٰہی کا دائمی تعلق عالمِ شخصی سے ہے تو پھر معلوم ہوا کہ انسان اپنی لامحدود زندگی اور عالمِ بالا سے جو رابطہ تھا وہ سب

۱۰۴

بھول چکا ہے، وہ جسمانی پیدائش اور موت کے قیاس پر ہر چیز کی ابتداء اور انتہا کا قائل ہوگیا ہے، حالانکہ یہ جزئیات ہیں کلّیات نہیں، جیسا عالمِ انسانیت ہے کہ اس کا اگلا یا پچھلا سرا نظر نہیں آتا، اور سرا دراصل ہے بھی کہاں؟ جیسے فرمایا گیا: اݹ مش او (OO MUS OO) یعنی لاابتداء اور لاانتہا کا تصوّر رکھو، کیونکہ انسان کی حقیقت ازلی و ابدی ہے۔

 

۶۔ سورۂ دہر کے آغاز (۷۶: ۱) میں ایک عظیم خزانے کی کلید ہے: کیا انسان پر دہر (زمانِ ناگزرندہ) کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟ یعنی یہ انسان کی ازلی ’’فنا فی اللہ‘‘ کی حالت ہے، جس میں وہ بے نام و بے نشان تھا، اور اب بھی وہ انائے علوی کے اعتبار سے ایسا ہی ہے، سوال ہے کہ آیا انسان کو اپنی اس بے مثال مونوریالٹی کی معرفت حاصل ہوئی ہے؟ اس کے بعد انائے سفلی کا تذکرہ اس طرح سے ہے: ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تا کہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لئے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا (۷۶: ۲) آخری امتحان معرفت سے متعلق ہے، پس جب کوئی مومنِ سالک اپنی انائے علوی کو خدا میں فنا پاتا ہے تو یہی معرفت اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

 

۷۔ سنتِ الٰہی کے قرآنی ذکر میں عالمِ شخصی کے ہمیشہ موجود ہونے کا اشارہ ہے، کیونکہ اللہ کی ذات قدیم ہے، اس کی جملہ صفات بھی قدیم ہیں، اور کسی نہ کسی عالمِ شخصی میں اس کا قانون بھی قدیم ہے،

۱۰۵

اگرچہ عوالم شخصی کے سلسلے میں بار بار تجدّد ہوتا رہتا ہے، جیسے فرمایا گیا: تھوݽ گٹو جݹ، مݶن شرݸ جݹ، یعنی میری قدیم روح کو جدید لباس عنایت کر، اور قدیم رزق عطا فرما، تو اس میں بہت بڑی حکمت یہ ہے کہ خالقِ قدیم ہر لحظہ ایک جدید کائنات کو پیدا کرتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: کل یوم ھو فی شان= ہر آن وہ ایک نئی شان میں ہے (۵۵: ۲۹)۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعرات ۱۳ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ، ۱۹ جون ۱۹۹۷ء

۱۰۶

روحانی بھونچال کی حکمت

 

۱۔ سورۂ ذاریات میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: و فی الارض اٰیٰت للموقنین۔ و فی انفسکم افلا تبصرون (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) اور اہلِ یقین (اہلِ معرفت) کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں (معجزات) ہیں اور خود تمہاری ذات میں بھی ہیں تو کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا؟ اس فرمانِ الٰہی سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ جو چیزیں دنیائے ظاہر میں مادّی طور پر ہیں، وہ سب کی سب عالمِ شخصی میں روحانی طور پر موجود ہیں، چنانچہ یہ سچ ہے کہ مومنِ سالک کئی بار خواب، نیم خوابی، اور بیداری میں روحانی بھونچال کے شدید تجربے سے گزرتا ہے۔

 

۲۔ سورۂ حج کے شروع (۲۲: ۱ تا ۲) میں زلزلۂ قیامت کی جس شدّت کا ذکر آیا ہے، آپ خود اسے غور سے قرآنِ پاک میں پڑھ لیں، یہاں صرف چند حکمتیں درج کی جاتی ہیں: زلزلۂ قیامت کی سختی کی وجہ سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی۔ حکمت: جب معلم کے عالمِ شخصی میں روحانی بھونچال آتا ہے تو وہ اس کی شدّت

۱۰۷

کے سبب سے اپنے شاگردوں کو بھول جاتا ہے۔ ہر حمل والی اپنے حمل کو گرا دے گی۔ حکمت: معلم کی ہستی میں جتنے ذرّاتِ روحانی ہیں، وہ سب اس کے حمل (بوجھ) اولاد اور شاگرد ہیں، یہ سب کے سب زلزلۂ قیامت کی شدّت کی وجہ سے باہر آتے ہیں۔ اے سالک تجھ کو لوگ مست و مدہوش نظر آئیں گے، لیکن یہ مستی نہیں بلکہ اللہ کا سخت عذاب ہے۔ حکمت: آدمی کی ظاہری مستی اس کیفیت کا نام ہے جس میں وہ عقلی اور فکری چیزوں کو بھول جاتا ہے، چنانچہ جب قیامت آتی ہے تو اپنے ساتھ اسرارِ معرفت کی سب سے عظیم کائنات کو لے کر آتی ہے، اور گزر جاتی ہے، درحالے کہ لوگ مست (بے خبر اور بے ہوش) پڑے رہتے ہیں، پس یہ مستی دراصل عقلی عذاب ہے، جو بڑا عذاب ہے۔

 

۳۔ سورۂ زلزال (۹۹: ۱ تا ۸) کو قرآنِ حکیم میں پڑھ لیں: جب زمین اپنی سخت جنبش سے لائی جائے گی۔ حکمت: عقل کے مقابل میں روح زمین ہے، اور روح کے مقابل میں جسم زمین ہے، چنانچہ قیامت کے دن زمین میں بھونچال آنے کے یہ معنی ہیں کہ مومنِ سالک کو جسماً و روحاً بڑی سختی سے ہلا دیا جاتا ہے۔ اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینکے گی۔ حکمت: عالمِ شخصی اپنے ہر قسم کے بوجھ کو باہر پھینک دیتا ہے، تا کہ روحانی احوال کے لئے تیار ہو سکے۔ انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہو گیا ہے؟ حکمت: اس عظیم معجزے سے سالک کو بڑی حیرت ہوتی ہے۔

۱۰۸

اس روز زمین اپنی سب خبریں بیان کرے گی۔ حکمت: اس موقع پر عالمِ شخصی کی زمین روحانی باتیں کرتی ہے۔ اس سبب سے کہ تمہارا رب اس کو وحی کرے گا۔ حکمت: چونکہ یہ قیامت ہے، اس لئے اللہ حسبِ وعدہ کلام کرے گا۔ اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہوکر رجوع ہوں گے، تا کہ اپنے اعمال کو دیکھ لیں۔ حکمت: عالمِ شخصی میں جو قیامت گاہ ہے اس کی طرف تمام لوگوں کو جانا لازمی ہے۔ پس جو شخص ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھے گا، اور جو شخص ذرّہ برابر بدی کرے گا وہ اس کو دیکھے گا۔ حکمت: یہ اس نامۂ اعمال کی طرف اشارہ ہے جو روحانی ذرّات پر مبنی ہے۔

۴۔ یہاں بفضلِ خدا اہلِ دانش کے لئے معرفتِ ذات سے متعلق زبردست معلومات ہیں، آج کے دن تک آپ عزیزان پر جتنے اسرارِ قرآن منکشف ہوئے ہیں، وہ ایسے بے بہا اور انمول ہیں کہ دنیا کے تمام خزانے ان کے مقابلے میں ہیچ ہیں، پس یہ خزائنِ حکمت آپ کو مبارک ہوں، ہمیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ ناشکری نہ ہو، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ نیک توفیق عنایت فرمائے! آمین!

 

۵۔ سورۂ احزاب (۳۳: ۹ تا ۱۱) میں غور سے پڑھیں، جہاں روحانی جنگ اور نمائندہ قیامت کا ذکر ہے، کہ جب سالک اور ذرّاتِ مومنین پر ایک ذرّاتی لشکر حملہ آور ہوا تو اس پر خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے صورِ اسرافیل کی آندھی اور ایک نظر نہ آنے والی آسمانی فوج بھیجی، جیسا کہ قرآن مزید فرماتا ہے: جب دشمن کا وہ ذرّاتی لشکر تمہارے سر اور پاؤں

۱۰۹

سے حملہ کر چکا تھا، تب تمہاری نگاہیں کام نہیں کر سکتی تھیں، کیونکہ تمہاری جان نکل رہی تھی، اور تم لوگ خدا کے ساتھ طرح طرح کے گمان کر رہے تھے، اس موقع پر مومنین کا امتحان کیا گیا اور سخت زلزلہ میں ڈالے گئے۔

 

۶۔ سورۂ بقرہ (۲: ۲۱۴) میں ہے: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ (آج روحانیت کی جنت میں اور کل مستقل) جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تمہیں اگلے زمانہ والوں کی سی حالت نہیں پیش آئی ؟ انہیں طرح طرح کی تکلیفوں اور بیماری نے گھیر لیا اور زلزلہ میں اس قدر جھنجھوڑے گئے کہ پیغمبر اور ایمان والے جو اس کے ساتھ تھے کہنے لگے: خدا کی مدد کب ہوتی ہے؟ دیکھو خدا کی مدد بہت قریب ہے۔

 

۷۔ یہ روحانی بھونچال یعنی زلزلۂ قیامت کی معرفت ہے، تا کہ اسی طرح رفتہ رفتہ بعض قرآنی حکمتیں اور اسرارِ روحانیت اہلِ دانش پر مکشوف ہو جائیں، کیونکہ مومن کے سامنے ہر جگہ امتحان ہے، اور سب سے بڑا امتحان بلکہ زبردست امتحانات قرآنِ عظیم میں ہیں، پس ہم بڑی عاجزی سے دعا کرتے ہیں کہ پروردگار اپنے نورِ منزّل کے وسیلے سے ہم سب کی مدد فرمائے تا کہ ہم قرآنِ حکیم سے بانصیب ہو جائیں! آمین!

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

ہفتہ ۱۵ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ ، ۲۱ جون ۱۹۹۷ء

۱۱۰

جنگِ روحانی اور فتحِ اسلام

 

۱۔ آپ سب کو یہ جان کر بے حد شادمانی ہو گی کہ روحانی جنگ زمانۂ ابو البشر سے جاری و ساری ہے اور ہرعالمِ شخصی میں دینِ فطرت (اسلام) کو اس جہادِ اکبر میں برتری اور فتح حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ سورۂ فتح میں ارشاد ہے: و للہ جنود السماوات والارض (۴۸: ۴، ۴۸: ۷) اور سارے آسمان و زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں۔ اس آیۂ مبارکہ سے یہ مفہوم ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہ زبردست لشکر صرف اس غرض سے ہیں کہ ہر زمانے کے مومنین کی روحانی جنگ میں مدد کریں، اور ان کو غالب و فاتح بنائیں، کیونکہ جہادِ اکبر کی سعادت تمام مومنوں کے لئے ممکن ہے۔

 

۲۔ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں حربی (جنگی) الفاظ آئے ہیں، وہاں درپردہ روحانی جنگ کا تذکرہ ضرور موجود ہے، جیسے: جنود (لشکر) ، فتح،  غالب، جہاد، مجاہدین، حرب، شہید، شہدا، قتال، حزب اللہ، مغانم (غنیمتیں)، مَلک (بادشاہ)، محراب (قلعہ)، ضرب، لبوس (پوشش = زرہ)،

۱۱۱

سرابیل (کرتے)، بأس (جنگ)، غزیٰ، زحف، وغیرہ۔

 

۳۔ یہ ارشادِ مبارک سورۂ مجادلہ (۵۸: ۲۱) میں ہے: کتب اللہ لا غلبن ان و رسلی ان اللہ قوی عزیز۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات (ازل ہی میں) لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے بے شک اللہ تعالیٰ قوت والا اور غلبہ والا ہے۔ یعنی یہ خدا ہی کی مشیت اور مدد تھی کہ ہر رسولِ ناطق کے دور کے أئمّہ نے اپنے اپنے وقت میں بعنوانِ قیامت روحانی جنگ کی، جس میں ہر بار دینِ حق غالب ہوتا رہا۔

 

۴۔ مذکورۂ بالا آیت کی ایک تفسیر یہ ہے: یوم ندعوا کل اناس بامامھم (۱۷: ۷۱) اس دن (کو یاد کرو) جب ہم اہلِ زمانہ کو ان کے امام کے توسط سے بلائیں گے۔ اس سے یہ حقیقت روشن ہوئی کہ اللہ اور ہر دور کے رسول کی جانب سے زمانے کا امام روحانی جنگ کا سردار اور صاحبِ قیامت مقرر ہوا ہے، کیونکہ قانونِ اطاعت یہ کہتا ہے کہ سب سے پہلے اللہ کی اطاعت ہے، اس کے بعد رسول کی اطاعت، اور آخر میں ولیٔ امر یعنی امام کی اطاعت ہے، بعد ازان اور کسی کی اطاعت نہیں بلکہ اب یہاں قیامت کی باری آتی ہے جو روحانی جنگ کی صورت میں دعوتِ حق بھی ہے۔

 

۵۔ اسلام جو دینِ فطرت ہے، اس میں ہمیشہ تجدّد کا عمل جاری ہے، چنانچہ روحانی جنگ (جو قیامت اور باطنی دعوت بھی ہے) ہر امام کی سرداری میں ہوتی آئی ہے تاکہ حسبِ وعدۂ الٰہی تمام ادیان پر

۱۱۲

اسلام ہر زمانے میں غالب آئے، جیسا کہ سورۂ توبہ (۹: ۳۳) میں ارشاد ہے: ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ = وہی تو (وہ خدا) ہے جس نے اپنے رسول (محمد) کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ (مبعوث کرکے) بھیجا تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ الھدٰی سے مراد قرآنِ صامت اور قرآنِ ناطق (امام) ہیں، جن سے تنزیلی جنگ کے بعد تاویلی جنگ کا اشارہ ملتا ہے۔

 

۶۔ مذکورۂ بالا آیہ کریمہ سورۂ فتح (۴۸: ۲۸) اور سورۂ صف (۶۱: ۹) میں بھی ہے، اس کا مطلب یہ ہے یہ جہادِ اصغر ظاہر میں تھا، اور جہادِ اکبر باطن میں ہے جو نفسِ امّارہ کے خلاف جنگ کرنے سے شروع ہوکر نمائندہ قیامت اور عالمی روحانی جنگ کی صورت اختیار کرتا ہے، جس کا امیر اور سردار رسولِ پاک کی طرف سے امامِ زمانؑ ہوتا ہے، اور خداوند تعالیٰ کے حکم سے ادیانِ عالم کے تمام لوگ بشکلِ ذرّات دینِ حق میں داخل ہوجاتے ہیں۔

 

۷۔ سورۂ نساء (۴: ۵۴) میں دیکھ لیں: فقد اٰتینا اٰل ابراہیم الکتاب و الحکمۃ و اٰتینٰھم ملکاً عظیماً۔ ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت بھی دی ہے۔ آلِ ابراہیم کا سلسلہ محمد و آلِ محمد کے سلسلے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، لہٰذا اب آلِ ابراہیم کا نام آلِ محمد بھی ہے، جن کو خدا نے اپنی کتاب (قرآن) کی روح و روحانیت اور حکمت عطا فرمائی ہے، اور روحانیت کی بہت عظیم سلطنت بھی دی ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ روحانی جنگ اّئمّۂ آلِ

۱۱۳

محمد کی سرپرستی میں ہوتی ہے، کیونکہ خدا نے ان کو تمام معنوں میں بادشاہ بنایا ہے، اور شاہی اختیار عطا فرمایا ہے۔

 

۸۔ حدیثِ شریف ہے: رجعنا من الجہاد الاصغر الی الجہاد الاکبر= ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ جب آنحضرتؐ سے پوچھا گیا کہ جہادِ اکبر کیا شیٔ ہے؟ تو فرمایا: الا وہی مجاہدۃ النفس = اچھی طرح سن لو! جہادِ اکبر مجاہدۂ نفس ہے۔ اگر مجاہدۂ نفس کا مقصد صرف ذاتی اصلاح و نجات تک محدود ہوتا، تو یہ اس ظاہری جہاد کے مقابلے میں ’’اکبر‘‘ نہ ہوسکتا جو تمام مسلمین و مومنین کے مفاد میں ہے، پس معلوم ہوا کہ مجاہدۂ نفس دینِ اسلام کی روحانی جنگ کا سری عنوان ہے، کیونکہ مجاہدہ سے جیتے جی نفس پر کل تجرباتی موت واقع ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ روحانی جنگ اور قیامت شروع ہو جاتی ہے، جس کا بیان تمام قرآن میں پھیلا ہوا ہے۔

 

۹۔ قرآنِ حکیم کی سب سورتوں یا بعض سورتوں کے آخر میں کوئی بڑا علمی خزانہ ہوتا ہے، اسی طرح کا ایک گنجِ گرانمایہ سورۂ عنکبوت کے خاتمہ میں ہے: و الذین جاہدوا فینا لنھدینھم سبلنا و ان اللہ لمع المحسنین (۲۹: ۶۹) اور جو لوگ ہماری خاطر (اپنے نفس کے خلاف) مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکوکاروں ہی کے ساتھ ہے۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ یہ آیۂ کریمہ جہادِ اکبر کے بارے میں ہے، کیونکہ اگر قرآنِ عزیز میں

۱۱۴

جہادِ اکبر کا کوئی ذکر یا کوئی اشارہ نہ ہوتا تو حدیثِ شریف میں اس کی یہ زبردست تعریف نہ ہوتی۔

 

۱۰۔ جہادِ اکبر (روحانی جنگ) اور نمائندہ قیامت ایک باطنی چیز ہے جو انبیاء و اولیاء (أئمّہ) علیہم السّلام کے عوالمِ شخصی میں پوشیدہ طور پر چلتی رہی ہے، چنانچہ جب کسی کامل انسان یا کسی عارف پر کلّی قیامت گزرتی ہے تو اس کے اور عوام کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جاتی ہے، جس میں ایک دروازہ ہوتا ہے، اس کے اندر کی جانب رحمت ہوتی ہے، اور باہر کی طرف عذاب (۵۷: ۱۳) یہاں عذاب کے بارے میں جاننا ضروری ہے کہ یہ عقلی عذاب ہے، یعنی علم و حکمت سے محرومی اور جاہلانہ زندگی۔

 

۱۱۔ حضرتِ قائم القیامت علیہ السّلام ایک فرد تھا اور ایک قوم بھی، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جمع بصورتِ واحد اور واحد بصورتِ جمع کی نظیریں بہت ہیں، جیسے حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کی مبارک ہستی خود ایک امت تھی (۱۶: ۱۲۰) اسی طرح حضرتِ قائم کو روحانی لشکر کی نسبت سے قوم کہا گیا (۵: ۵۴) آپ غور سے سورۂ مائدہ کی اس آیت کا مطالعہ کرکے معلومات حاصل کریں۔

 

۱۲۔ سورۂ نحل (۱۶: ۸۱) میں ہے: و سرابیل تقیکم باسکم = اور ایسے کرتے بنائے جو تمہاری جنگ سے تمہاری حفاظت کریں۔ یہ اجسامِ لطیف ہیں جو روحانی جنگ کے ضرر سے محفوظ رکھتے ہیں، یاد رہے کہ

۱۱۵

جب خدا مومنین کو اپنی کسی نعمت کا احسان جتلاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ نعمت دوسروں کے پاس نہیں ہوتی، چنانچہ یہ کُرتے دنیا کی چیزیں ہرگز نہیں، بلکہ اجسامِ فلکی ہیں، جو زندہ اور با شعور ہیں۔

 

۱۳۔ روحانی جنگ کے اس مضمون میں یاجوج و ماجوج کا تذکرہ بھی لازمی ہے، حالانکہ ان کی اصل حقیقت اہلِ ظاہر سے ہمیشہ پوشیدہ رہی ہے، لیکن تجربۂ روحانیت یا روحانی سائنس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یاجوج و ماجوج ذرّاتی لشکر ہیں، جن میں سے بعض آپ کے اپنے ہیں اور بعض دشمن کے، جن کا نمایان ذکر قرآنِ پاک میں دو مقام پر ہے (۱۸: ۹۴، ۲۱: ۹۶) ان کے بارے میں قرآن میں ہے کہ یہ زمین میں فساد کرتے ہیں، اس سے روحانی جنگ اور اصلاح مراد ہے۔

 

۱۴۔ جہادِ اکبر (روحانی جنگ) کا تذکرہ قصّۂ آدمؑ سے شروع ہوتا ہے کہ فرشتوں نے کہا: آیا تو زمین میں ایسے شخص کو خلیفہ مقرر کرتا ہے جو اس میں فساد اور خونریزیاں کرے گا (۲: ۳۰) فرشتوں کے اس اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اگلے آدمؑ کی روحانی جنگ کو دیکھا تھا، مگر وہ اس بات کو نہیں جانتے تھے کہ روحانی جنگ میں بے شمار فائدے پوشیدہ ہیں، الغرض حضرتِ آدمؑ کی روحانیت میں یاجوج و ماجوج کی لڑائی ہوئی تھی، کیونکہ لشکرِ ارواح وہی ہیں۔

 

۱۵۔ حدیثِ شریف ہے: الارواح جنود مجندۃ = تمام روحیں جمع شدہ لشکر تھیں/ہیں۔ یعنی ہر انسانِ کامل کی روحانی جنگ میں جملہ روحوں

۱۱۶

نے لشکرِ خیروشر کی حیثیت سے کام کیا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں مخفی ہیں، یہاں سے معلوم ہوا کہ روح ہر انسانِ کامل کے عالمِ شخصی میں حاضر ہو سکتی ہے، جیسے عہدِ الست کا واقعہ ہے کہ عارفین و کاملین میں اس کا تجدّد ہوتا رہا ہے، کیونکہ اللہ کی سنت قدیم ہے، لہٰذا اس کے خاص بندوں کی روحانیت میں تمام بنیادی چیزیں ایک جیسی ہوا کرتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ روحانیت و قیامت اپنی نوعیت کے تجدّد کا ایک سلسلہ ہے، جس کی نہ تو کوئی ابتداء ہے اور نہ کوئی انتہا۔

 

۱۶۔ چونکہ جہادِ اکبر نفس کے خلاف ہے، اس لئے یہاں شروع ہی میں یہ معلوم ہوا کہ یہ جنگ عقل اور علم کی فوقیت و فتح کی غرض سے ہے، پس روحانی جنگ میں عقل و دانش اور علم و حکمت کی بڑی زبردست اہمیت ہے، اور اس کے بغیر فتحمندی کا کوئی تصور ہی نہیں، لہٰذا آپ سب علم و حکمت کی بھرپور طاقت کے ساتھ جہادِ اکبر کریں، ان شاء اللہ، آپ کی کوشش رائگان نہیں جائے گی۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

بریسپت ، ۲۰ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ ، ۲۶ جون ۱۹۹۷ء

۱۱۷

ربّانی نوازش کی عالی شان حکمتیں

 

۱۔ اگر آپ انبیاء علیہم السلام کے قرآنی قصّوں میں گہری نظر سے دیکھیں گے تو یقیناً آپ کو بڑی حیرت انگیز خوشی ہوگی کہ حضرتِ ربِّ جلیل و کریم نے اپنے پیارے انبیاء و اولیاء کے ساتھ ساتھ حقیقی مومنین کو بھی جملہ باطنی نعمتوں سے نوازا ہے، ہم ( ان شاء اللہ) اس کی چند مثالیں قصّۂ آدم سے شروع کرتے ہیں۔

 

۲۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ آدم علیہ السّلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا تھا (خلق اللہ اٰدم علیٰ صورتہ۔ الحدیث) اور حدیثِ شریف میں یہ ارشاد بھی ہے کہ جو شخص بھی جنّت میں جائے آدم علیہ السّلام کی صورت کے مطابق ہوکر جائے گا (کل من یدخل الجنۃ علیٰ صورۃ اٰدم۔ الحدیث) یعنی ایسے نیک بخت مومن کا عقلی تولد حظیرۂ قدس میں آدمؑ ہی کی طرح ہوجاتا ہے، کیا یہ آدمؑ اور اولادِ آدمؑ پر خداوندِ قدوس کا احسانِ عظیم نہیں ہے؟ دوسری بہت بڑی نوازش یہ ہے کہ جب فرشتوں نے حضرتِ آدمؑ کو سجدہ کیا تو اس حال میں

۱۱۸

بنی آدم اپنے باپ کے سانچے میں ڈھل ڈھل کر کاپیاں ہو گئے تھے (۷: ۱۱)۔

 

۳۔ آدم و بنی آدم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں، کہ اس مہربان نے آدمؑ کو تاجِ خلافت سے سرفراز فرمایا، اور اس کی اولاد کے حقیقی مومنین سے وعدہ فرمایا کہ عنقریب ان کو بھی اگلے خاص مومنین کی طرح کائناتی زمین کی خلافت عطا کی جائے گی (۲۴: ۵۵) یاد رہے کہ روحانیت و نورانیت میں اس کائنات کی بے شمار کاپیاں ہیں، تا کہ بے شمار مومنین کو خلافتِ کبریٰ عطا ہو جائے، جو روحانی سلطنت بھی ہے۔

 

۴۔ حضرتِ نوح علیہ السلام کی کشتیٔ ظاہر مثال تھی اور کشتیٔ باطن ممثول، سفینۂ باطن ایک اسمِ اعظم اور اس کا ذکر تھا، اور اہلِ سفینہ ایک روحانی وحدت (یک حقیقت) تھے، چنانچہ یہ سفینہ عرشِ سماوی اور عرشِ ارضی (تخت بر آب) تک رسا ہو گیا، عرشِ سماوی تک رسائی اس معنی میں کہ طوفان تھم جانے کے ساتھ کشتی کوہِ جودی پر جا کر ٹھہر گئی تھی (۱۱: ۴۴) اور جودی گوہرِ عقل کا ایک نام ہے جو نورِ عرش ہے، اور عرشِ ارضی تک کشتی کی رسائی اس طرح سے ہے کہ سفینۂ نوح پانی پر خدا کا عرش ہے (۷: ۱۱) پس یہ بہت بڑا مسرت انگیز سوال ہے کہ آیا یہ خدائے بزرگ و برتر کا انتہائی عظیم احسان نہیں ہے کہ اس نے اہلِ ایمان کی روحوں کو نہ صرف بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا بلکہ عرشِ سماوی اور عرشِ ارضی پر بھی بٹھا دیا (۳۶: ۴۱، ۱۱: ۷)؟ اب یہ سوچنا ہے کہ سفینہ جو پہلے ہی سے بھرا ہوا تھا اس میں کون سے لوگ

۱۱۹

بیٹھے تھے؟ کیا یہ مونوریالٹی (یک حقیقت) کا سرِ اعظم نہیں ہے کہ یہی تمام مومنین اس کشتی میں پہلے ہی سے سوار تھے؟ الحمدللہ۔

 

۵۔ سورۂ صافات (۳۷: ۷۹) میں ارشاد ہے: سلٰم علیٰ نوح فی العالمین = عوالمِ شخصی میں نوحؑ پر سلامتی ہے۔ یعنی ہر عالمِ شخصی میں ہمیشہ نوح کی روحانی ہستی اور پرحکمت عملی زندگی ہو گی، تا کہ اہلِ ایمان اپنی روحانی زندگی میں انبیاء و اولیاء کی رفاقت سے مستفیض و مستفید ہوسکیں، سورۂ صافات میں اور بھی مقدّس ہستیوں پر اسی طرح کا سلام ہے، اور ایک بابرکت ارشاد یہ بھی ہے سلٰم علیٰ اٰل یاسین (۳۷: ۱۳۰) ہر عالمِ شخصی میں آلِ محمد پر سلامتی ہے۔ یعنی عارفین و کاملین کے عالمِ شخصی میں امامِ زمان علیہ السّلام موجود ہوتا ہے۔

 

۶۔ قرآنِ حکیم میں حضرتِ سید الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکرِ جمیل سب سے زیادہ بلکہ بڑی کثرت سے بلکہ تمام قرآن میں ہونا ہی تھا، وہ ہو چکا ہے، اور یہ روشن حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قرآنِ کریم جیسی بے مثال اور لاثانی کتاب آپ ہی کی ذاتِ اقدس پر نازل ہوئی ہے، لہٰذا حضورِ پاک کا اسمِ مبارک ’’محمد‘‘ قرآنِ عزیز میں صرف چار مرتبہ آیا ہے، اور باقی پانچ عظیم پیغمبروں کے بابرکت اسماء قرآنِ مجید میں اس طرح سے ہیں: آدمؑ ۲۵ دفعہ، نوحؑ ۴۳ دفعہ، ابراہیمؑ ۶۹ دفعہ، موسیٰؑ ۱۳۶ دفعہ، اور عیسیٰؑ ۲۵ دفعہ، میرا مضمون بہت مختصر ہے، اس لئے میں صرف حضراتِ ناطقوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

۱۲۰

۷۔ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کے قصۂ قرآن میں اہلِ ایمان کے لئے بے پایان رحمتیں اور برکتیں ہیں، جیسے حضرتِ ابراہیمؑ کا یہ قول جو قرآن میں ہے: فمن تبعنی فانہ منی (۱۴: ۳۶)۔ پس جو شخص میری پیروی کرے تو وہ مجھ سے ہے۔ یعنی جو شخص راہِ دین اور طریقِ روحانیت پر میرے پیچھے پیچھے چلے تو وہ میرا روحانی فرزند ہے، وہ میری روحانی ہستی کا حصہ ہے یا آلِ ابراہیمؑ میں سے ہے، کیونکہ منازلِ روحانیت میں میرے پیچھے چل کر وہ وہی معجزات دیکھے گا جو میں نے دیکھے ہیں، اور بالآخر حظیرۃ القدس میں ایسے تمام لوگ میرے ساتھ ایک ہو جائیں گے۔

 

۸۔ حضرتِ ابراہیم اپنے وقت میں ایک عظیم فردِ پیغمبر بھی تھے اور ایک فرمانبردار امت بھی (۱۶: ۱۲۰) وہ سب لوگ جو اپنے پیغمبر کے عالمِ شخصی میں داخل ہو کر امتِ واحدہ ہو گئے کتنے خوش نصیب تھے! ہاں یہ سچ ہے کہ ہر پیغمبر اور ہر امام کا عالمِ شخصی مومنین و مومنات کا روحانی وطن ہوتا ہے، اور یہ عالمِ شخصی جسمانی بھی ہے اور نورانی بھی۔

 

۹۔ ترجمۂ آیۂ کریمہ (۲: ۱۲۴): اور جب ابراہیم کو ان کے ربّ نے چند کلمات میں آزمایا اور انہوں نے پورا کر دیا تو خدا نے فرمایا میں تم کو سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں، ابراہیم نے عرض کی اور میری اولاد میں سے (خدا نے) فرمایا جو ظالم ہوں گے وہ میرے عہد سے فائدہ نہ اٹھائیں گے۔ سوال: چند کلمات کیا تھے؟ جواب: اسمائے عظام اور کلماتِ تامّات، سوال: حضرتِ ابراہیم کن کن لوگوں کے امام مقرر ہو گئے تھے؟ جواب:

۱۲۱

اوّلین، حاضرین، اور آخرین یعنی سب لوگوں کے امام ہو گئے تھے، کیونکہ جب کوئی شخص خدا کے حکم سے امام ہوجاتا ہے تو وہ سلسلۂ نورٌعلیٰ نور کے مطابق ہر زمانے کا امام ہوتا ہے، سوال: یہاں ظالم کے مقابلے میں عادل کا بھی اشارہ ہے تو منصبِ امامت میں عادل کون ہے اور ظالم کون؟ جواب: عادل حضرتِ ابراہیمؑ اور ان کی آل ہیں، کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ وار أئمّہ بنایا تا وقتی کہ دنیا میں لوگ ہیں (۳: ۳۳، ۴: ۵۴) اور امام ہمیشہ عادل ہی رہتا ہے، لیکن جو شخص از خود امام بن جاتا ہے وہ ظالم ہے، اس کی نسل میں یہ جعلی امامت نہیں ٹھہر سکتی ہے۔

 

۱۰۔ ترجمۂ آیۂ کریمہ (۲: ۱۲۵) اور جب ہم نے خانۂ کعبہ کو لوگوں کے ثواب اور پناہ کی جگہ قرار دی، اور (حکم دیا کہ) ابراہیم کی جگہ کو نماز کی جگہ بناؤ۔ یعنی امام کی نورانی معرفت کو لوگوں کے ثواب اور پناہ کی جگہ قرار دی، اور اس معرفت کے سلسلے میں مرتبۂ عقل تک جانے کا حکم ہوا، جہاں حق الیقین کا مرکز ہے۔

 

۱۱۔ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کے قصۂ قرآن میں ایمان والوں کے لئے جو جو بشارتیں ہیں، ان میں سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، کہ عصائے موسیٰؑ سے اسمِ اعظم مراد ہے، حجرِ مکرم کی تاویل اساس (ہارونؑ) ہے، بارہ چشمے بارہ حجّت ہیں، چنانچہ حضرتِ موسیٰؑ نے جب حضرتِ ہارون کو اسمِ اعظم کی تعلیم دی، تو مولانا ہارونؑ کے مبارک دل سے بیک وقت بارہ حجّتوں کے لئے روحانی علم کا پانی جاری ہوا (۲: ۶۰) یہ علمی معجزہ ہر زمانے کے امام میں ہوتا ہے۔

۱۲۲

۱۲۔ سورۂ یونس (۱۰: ۸۷) میں ہے، ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی (ہارون) کے پاس وحی بھیجی کہ مصر (عالمِ شخصی) میں اپنی قوم کے لئے گھر بناؤ اور اپنے اپنے گھروں کو قبلہ بناؤ (یعنی خانۂ دل خانۂ خدا بناؤ) اور اسی میں نماز پڑھو، اور مومنین کو خوشخبری دے دو۔ یعنی جو کچھ تم نے دیکھا ہے اور جو معرفت حاصل ہوئی ہے اس کے وسیلے سے مومنین کو علمی قوّت اور بشارت دو تا کہ وہ بھی کوشش کر کے آگے بڑھیں، کیونکہ پیغمبر اور امام کی روحانی تعلیم نہ صرف زبردست مؤثر ہے بلکہ اس میں خوشخبری بھی ہے۔

 

۱۳۔ یہ سورۂ مائدہ کے ایک مثالی ارشاد (۵: ۲۰) کا ترجمہ ہے: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم جو نعمتیں خدا نے تم کو دی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ اس نے تم میں (یعنی تمہارے عالمِ شخصی میں) پیغمبر بنائے اور تم کو سلاطین بنایا اور تمہیں وہ دیا جو اہلِ زمانہ میں سے کسی کو بھی نہ دیا۔ یہ خطاب صفِ اوّل کے مومنین سے ہے، جن کے عالمِ شخصی میں انبیاء کا ظہور ہوتا ہے، جو امام کی روحانی اور عقلی کاپیوں کی وجہ سے بہشت میں بادشاہ ہوتے ہیں، کیونکہ امام ہی بادشاہ ہے اور اس کی باطنی کاپیاں بادشاہ ہیں، اور امامت ہی وہ بے مثال چیز ہے جو دنیا کی دوسری قوموں میں نہیں ہوتی ہے۔

 

۱۴۔ فاقتلوا انفسکم (۲: ۵۴) کی حکمت ہے: تم میں سے ہر ایک مجاہدہ سے اپنے نفس کو قتل کرے۔ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں معرفت

۱۲۳

کے عظیم اسرار موجود ہیں، وہاں سخت حجاب کی غرض سے بڑا حکیمانہ امتحان ہے، جیسے بنی اسرائیل کے ان لوگوں کے بارے میں ہے جو جیتے جی مر رہے تھے، یعنی وہ منزلِ عزرائیلی میں تھے، ترجمہ ہے: پھر تم کو موت نے آپکڑا اور تم (اس حالت کو) دیکھ رہے تھے (۲: ۵۵) پھر تمہیں تمہارے مرنے کے بعد ہم نے جِلا اٹھایا تا کہ تم شکر کرو (۲: ۵۶) یہ جسمانی موت نہیں بلکہ نفسانی موت تھی، جس سے روحانیت کا دروازہ کھل جاتا ہے، اور بڑے پیمانے پر باطنی نعمتیں شروع ہوتی ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہوتا ہے۔

 

۱۵۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصے میں بھی مومنین کے لئے بہت سے علمی و عرفانی فائدے ہیں، ان سب کا بیان اس مختصر مقالے کی گنجائش سے باہر ہے، لہٰذا یہاں صرف چند مثالوں پر اکتفاء کیا جاتا ہے، یہاں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ پیغمبر اور امام لفظی اور شخصی اسمِ اعظم ہیں، چنانچہ حضرتِ مریم سلام اللہ علیہا کو لفظی اسمِ اعظم (کلمہ) دیا گیا تھا، اسی میں حضرتِ عیسیٰؑ کا نور بحدِ قوّت موجود تھا (۴: ۱۷۱) یہی سبب ہے کہ حضرتِ امامِ عالی مقام بعض مریدوں کو اسمِ اعظم کی تعلیم دیتا ہے تا کہ خصوصی بندگی اور ریاضت سے ان میں امام کا نور طلوع ہو جائے۔

 

۱۶۔ سورۂ آلِ عمران (۳: ۴۹) اور سورۂ مائدہ (۵: ۱۱۰) میں ہے کہ حضرتِ عیسیٰؑ خدا کے اذن سے کچھ خاص پرندے بناتے تھے، یہ ان کی روحانی اور عقلانی ہستی کی بے شمار کاپیاں تھیں، جن کو فرشتے اور جامہ ہائے

۱۲۴

جنّت بھی کہہ سکتے ہیں، اور یہ باطنی معجزہ ہر انسانِ کامل کا ہے، تا کہ جنّت میں اس لباس کو پہن کر اہلِ ایمان پرواز کر سکیں، اس کے علاوہ ایسے مبارک لباس میں کون سا معجزہ نہیں ہوسکتا ہے، یقیناً یہی معجزاتی چیزیں بازارِ جنّت کی زندہ تصویریں بھی ہیں، جن کا ذکر حدیثِ شریف میں ہے، آپ ہزار حکمت میں دیکھ لیں۔

 

۱۷۔ فیضِ روح القدس ار باز مدد فرماید + دیگران ہم بکنند آنچہ مسیحا می کرد

حضراتِ انبیاء علیہم السلام کے تقریباً سب معجزات تاویلی ہوتے ہیں، لہٰذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کے اکثر معجزے بھی تاویلی اور باطنی تھے، مثال کے طور پر مادر زاد اندھے کو ظاہری بینائی بخشنا، اس کی تاویل یہ ہے کہ حضرتِ عیسیٰؑ اپنے پراثر علم کی تعلیم سے لوگوں کے باطن میں چشمِ بصیرت پیدا کر دیتا تھا اسی طرح مردۂ جسمانی کو زندہ کرنے کی تاویل ہے: مردۂ جہالت و نادانی کو حقیقی علم کی روح میں زندہ کرنا، وغیرہ۔

 

۱۸۔ حضرتِ محمد مصطفی رسول اللہ حبیبِ خدا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ عالی صفات اوّلین و آخرین کے تمام عوالمِ شخصی کے لئے سرچشمۂ رحمت ہے، جیسا کہ اللہ جلّ شانہ نے ارشاد فرمایا: و ما ارسلنٰک الا رحمۃ اللعٰلمین (۲۱: ۱۰۷) اے رسول ہم نے تو تم کو تمام عوالمِ شخصی کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ عوالمِ شخصی کن کن

۱۲۵

خلائق کے ہوتے ہیں؟ جنّ، انس، ملائک، رسل، انبیاء، اولیاء، عرفاء، حکماء، علماء ، وغیرہ کے عوالمِ شخصی ہوتے ہیں، الغرض سب کے لئے رحمتِ کل آنحضرتؐ کا نورِ پاک ہے۔

 

۱۹۔ ترجمۂ ارشادِ مبارک از سورۂ احزاب: درحقیقت تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے (۳۳: ۲۱) پیغمبرِاکرم کا اسوۂ حسنہ (بہترین نمونہ = بہت اچھا نمونہ) نہ صرف ظاہری علم وعمل میں ہے بلکہ یہ روحانی ترقی کے لئے بھی ہے، پس یقیناً اس پُرحکمت تعلیم میں شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا اشارہ ہے، رسولِ پاک کو دنیا (یعنی روحانی معراج) میں اللہ کا دیدار ہوا تھا، آیا نبیٔ اکرم کے اسوۂ حسنہ میں معرفتِ معراج یا معرفتِ ربّ کا اشارہ موجود ہے یا نہیں؟ مذکورہ آیۂ مبارکہ میں اللہ کی امید پہلے ہے، اور آخرت کی امید بعد میں، اس سے یہ معلوم ہوا کہ آخرت سے پہلے بھی خدا کا دیدار ہوتا ہے، اور یہ معرفت ضروری ہے، ورنہ قرآن کو سخت اعتراض ہے ۔۔۔۔(۱۷: ۷۲)۔ شروع شروع میں علم الیقین آپ کو عین الیقین کی نمائندگی کرے گا، یہ حقیقت قرآنِ عزیز (۱۰۲: ۵ تا ۷) میں ہے۔

 

۲۰۔ جب قرآن اور اسلام میں صراطِ مستقیم اور اس کے لوازم کی بہت بڑی اہمیت ہے تو منزلِ مقصود کی بڑی زبردست اہمیت کیوں نہ

۱۲۶

ہو؟ ہم اچھی طرح کیوں نہیں سوچتے کہ منزلِ مقصود کیا ہے؟ یا کون ہے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے صراطِ مستقیم کی آخری منزل نہ بتا دی ہو؟ یقینا آنحضرتؐ نے اپنے قول و فعل دونوں سے اس کی رہنمائی اور نشاندہی فرمائی ہے، اور اس سے پہلے قرآنِ حکیم کی روشن ہدایت ہے، جیسے ارشاد ہے: انا للہ و انا الیہ راجعون (۲: ۱۵۶) ہم تو خدا ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہم اللہ کے قربِ خاص سے آئے ہیں اور ہمیں لوٹ کر اسی قرب میں جانا ہے، اس میں دیدار اور معرفت کا اشارہ خود بخود موجود ہے۔

 

۲۱۔ رجوع الی اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب کوئی عظیم روح (نفسِ واحدہ) خدا کی طرف واپس جاتی ہے تو اس میں کائنات بھر کے لوگ روحاً فنا ہوچکے ہوتے ہیں، لہٰذا وہ خدا کے پاس دو معنوں میں جاتی ہے۔ (۱) وہ اکیلی جاتی ہے ۔ (۲) سب کو لے کر جاتی ہے یا سب ایک ساتھ جاتے ہیں، لیکن یہ بڑی عجیب بات ہے کہ یہ عظیم روح آخراً خود بھی خدا میں فنا ہوجاتی ہے، میرا خیال ہے کہ یہ معرفت کا بہت بڑا راز ہے، مگر ہاں، اس کی وضاحت الگ ہے۔

 

۲۲۔ اب یہ حقیقتِ عالیہ بڑی حد تک قابلِ فہم ہوگئی کہ جب رحمتِ عالمین روحانی معراج پر تشریف لے گئے تھے، اس وقت سارے جہان کی روحیں بحالتِ فنا آپ کے ساتھ موجود تھیں، یہ حضورِ اکرمؐ کا عالمِ

۱۲۷

اسلام اور عالمِ انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے، اب اگر یہاں یہ سوال ہو کہ محبوبِ خدا کے علاوہ انبیاء و اولیاء وغیرہ مشاہدۂ معراج سے سرفراز ہوئے ہیں یا نہیں؟ اس کا جواب نفی میں نہیں، اثبات میں ہے، لیکن سوال در سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کائناتِ ظاہر و باطن اور خود معراج کس محبوبِ خدا کے نام پر ہے؟ صاحبِ لولاک کون ہے؟ وہ نورِ اقدس کس کا تھا جو سب سے پہلے پیدا کیا گیا؟ سید الانبیاء کس کا لقب ہے اور کیوں؟ تمام عوالم کے لئے خدا کی رحمت کون ہے؟ وہ محسنِ اعظم کون ہے جس نے سردارِ انبیاء کی مرتبت میں تمام پیغمبروں اور امتوں کو بحدِ قوّت معراج تک پہنچا دیا؟ ان جیسے بہت سے سوالات کا واحد جواب صرف اور صرف حضرتِ محمد رسول اللہ کے مبارک نام سے دیا جا سکتا ہے۔

 

۲۳۔ اب یہ بتانا آسان ہوگیا کہ معراج ہر پیغمبر، ہر ولی (امام) اور ہر عارف کے لئے بے حد ضروری ہے، کیونکہ حظیرۃ القدس مقامِ معراج کا نام ہے، جہاں خزائنِ الٰہی موجود ہیں، اور علم و معرفت کی کوئی ایسی چیز نہیں جہاں وہ نہ مل سکے، لہٰذا معراج کے بغیر کوئی علم، کوئی حکمت، اور کوئی معرفت مکمل نہیں، پس قرآنِ حکیم میں یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کسی پیغمبر کی معراج کا اشارہ کہاں کہاں ہے، الغرض انسانِ کامل کی معراج کی نشاندہی ہوسکتی ہے، ان شاء اللہ اس کے لئے ایک الگ مضمون

۱۲۸

ہو گا، الحمد للہ ربِّ العالمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

اکۛارو ۲۵ صفر المظفر ۱۴۱۸ھ، یکم جولائی ۱۹۹۷ء

۱۲۹

معراج اور معارج

 

۱۔ حدیثِ شریف میں آیا ہے کہ: القراٰن ذلول ذو وجوہ فاحملوہ علیٰ احسن وجوھہ = یعنی قرآن بہت ہی رام ہونے والی چیز ہے، اور وہ متعدد پہلو (وجوہ) رکھتا ہے، لہٰذا تم اسے اس کی بہترین وجہ پر محمول کرو۔ (الاتقان، حصۂ دوم، نوع اٹھتر)۔ اس حدیثِ شریف میں نورِ نبوّت کی ایسی درخشندہ و تابندہ روشنی ہے کہ جس سے اہلِ علم و دانش کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، اور یہ حقیقت کلّی طور پر واضح اور نمایان ہو جاتی ہے کہ تمام قرآنی الفاظ اور معانی و مطالب یقیناً ایسے انمول جواہر کی طرح ہیں، جن کے متعدد پہلووں کی چمک دمک سے ناظرین کو بڑی حیرت ہوتی ہو۔

 

۲۔ سورۂ معارج کی چار ابتدائی آیات کا ترجمہ: ایک پوچھنے والے نے (براہِ تجربۂ معرفت) کافروں کے لئے ہو کر رہنے والے عذاب کے بارے میں پوچھا جس کو کوئی ٹال نہیں سکتا جو سیڑھیوں والے خدا کی طرف سے ہے ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں

۱۳۰

ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے (۷۰: ۱ تا ۴) یہ درپردہ روحانی قیامت کا تذکرہ ہے، جس میں عذاب اور رحمت کے دو پہلو ہیں، یہ شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر سوال کرنے والا شخص مومنِ سالک اور عاشقِ صادق ہے جو دیدار کے لئے جی رہا ہے اور دیدار کے لئے مر رہا ہے، خدائے تعالیٰ کی ایک صفت ذی المعارج ہے، یعنی سیڑھیوں والا، چونکہ لفظِ معارج جمع اور معراج واحد ہے، اس لئے ذی المعارج کا قابلِ فہم مطلب ہے ’’معراجوں کا مالک‘‘، یعنی خدا کی خدائی میں انبیاء ، اولیاء، اور عارفین کی بہت سی معراجیں ہیں۔

 

۳۔ اگرچہ ہر پیغمبر کا روحانی سفر یا اس کی ذاتی قیامت مختلف درجات کی ایک سیڑھی (معراج) ہے، جو حظیرۃ القدس تک پہنچ جاتی ہے، لیکن اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ حضرتِ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی معراجِ شریف تمام معراجوں کی سردار ہے، جبکہ رسولوں کے فضائل کے درجات ہیں، جبکہ آنحضرتؐ بلاشبہ تمام پیغمبروں کے سیّد (سردار) ہیں، جبکہ آپ سب کے لئے سرچشمۂ رحمتِ الٰہی ہیں، پس یہ سچ ہے کہ محبوبِ خدا کی معراج سب سے افضل ہے، اور باقی معراجیں سردارِ رسل ہادیٔ سبل صلعم کے نقشِ قدم پر چل کر عملی معرفت کی غرض سے ہیں، اور اسی طرح یہ روحانی عروج نہ ہو تو خود شناسی اور خدا شناسی محال ہے۔

 

۴۔ ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، روح سے

۱۳۱

مراد انسانِ کامل یعنی نفسِ واحدہ ہے اور ملائکہ ذیلی روحیں ہیں، نورِ ہدایت کا بڑا زبردست معجزہ ہے کہ وہ منزلِ سعی (دوڑنا) سے ہر کامل کو بڑی سرعت کے ساتھ آگے لے جاتا ہے، اور اب کم وقت میں عارف حظیرۂ قدس میں پہنچ جاتا ہے، ورنہ یہ راستہ بقولِ قرآن پچاس ہزار (۵۰۰۰۰) سال کی مسافت پر مبنی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہلِ معرفت سے عوام الناس پچاس ہزار سال پیچھے ہیں۔ ببین تفاوتِ راہ از کجاست تا بکجا۔

۵۔ سوال: قرآنِ مقدس میں ہے: فبعث اللہ النبیین (۲: ۲۱۳) اگر اس میں بھیجنے کے معنی ہیں تو اللہ پاک نے اپنے پیغمبروں کو کہاں کہاں سے بھیجا؟ اگر یہ مرکر زندہ ہو جانے کے معنی میں ہے تو یہ معجزہ کس مقام پر ہوا؟ جواب: دونوں معنی درست ہیں، چنانچہ یہ حضرات منزلِ عزرائیلی میں بھی مر کر زندہ ہو گئے تھے، اور مرتبۂ عقل پر بھی، پس ان کو مقامِ عقل (قربِ الٰہی) سے بھیجا گیا۔ سوال: عالمِ شخصی میں مقامِ عقل کہاں ہے؟ جواب: انسانِ کامل کی مبارک جبین میں۔

 

۶۔ ترجمۂ آیۂ دوازدہم از سورۂ یاسین (قلبِ قرآن ، ۳۶: ۱۲): ہم ہی یقینا مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو کچھ افعال انہوں نے کئے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں، اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک پیشوائے ظاہر میں گھیر کر رکھا ہے۔ خدا ہر قسم کے مردوں کو زندہ کرتا ہے، لیکن کاملین کی موت و

۱۳۲

حیات کا سب سے بڑا معجزہ منزلِ عزرائیلی اور منزلِ عقل میں ہے، پس یہ ایک ضروری سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا جس طرح انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کو زندہ کرتا ہے، اور جیسے ان کے پیغمبرانہ اور اولیائی کارناموں کو اور ان کے آثار کو ریکارڈ کرتا ہے وہ کہاں ہے؟ اس کا جواب دور نہیں، بلکہ ساتھ ہی ہے، اور وہ یہ ہے: اور ہم نے ہر چیز کو ایک پیشوائے ظاہر میں گھیر کر رکھا ہے۔

 

۷۔ بیانِ بالا سے معلوم ہوا کہ امامِ مبینؑ کا مرتبہ حظیرۃ القدس (احاطۂ مقدّس) ہے جس میں باطنی کائنات لپیٹی ہوئی ہے، پس امامِ مبینؑ میں سب کچھ ہے، ہر چیز ہے، پیغمبرانہ اور اولیائی کارنامے بھی ہیں، اور ان سب کی معراجیں بھی ہیں، یہ وصف ہر زمانے کے امام کے لئے ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے ہر امامِ برحق کو صاحبِ قیامت بنایا ہے (۱۷: ۷۱) اور قیامت وہ وقت ہے، جس میں ماضی ، حال، اور مستقبل کے سب لوگ امامِ وقت کے عالمِ شخصی میں جمع ہوتے ہیں (۵۶: ۴۹ تا ۵۰) اسی طرح ہر امام میں قیامت کا تجدّد ہوتا رہا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: و تلک الایام نداولھا بین الناس (۳: ۱۴۰) یہی (سات) دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ پس قیامت دین کا سنیچر ہے، جس کو بار بار آتے رہنا ہے۔

 

۸۔ حضرتِ آدم علیہ السّلام کی معراج کے ثبوت میں دو علمی وعرفانی شہادتیں پیش کی جاتی ہیں، پہلی شہادت یہ ہے کہ جس مقام پر خدا نے

۱۳۳

آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا تھا وہ معراج کا مقام تھا، کیونکہ یہ کام صرف بہشت میں ہوسکتا ہے اور مقامِ معراج بہشت کا حصہ ہے، دوسری شہادت یہ ہے کہ چیزیں دو دو ہیں، چنانچہ فرشتوں نے حضرتِ آدم کو پہلے عالمِ شخصی کی زمین پر سجدہ کیا، اس کے بعد جس وقت آدم عالمِ شخصی کے آسمان پر گیا اور حظیرۃ القدس میں داخل ہو گیا تو پھر وہاں فرشتوں نے اس کو دوسرا سجدہ کیا، اب سارے فرشتے مل کر ایک فرشتہ ہوگئے تھے، کیونکہ یہ مقامِ معراج تھا جو مقامِ وحدت ہے۔

 

۹۔ حضرتِ ادریس علیہ السّلام کی معراجِ روحانی کے بارے میں یہ آیۂ شریفہ ہے: ور فعنٰہ مکانا علیا (۱۹: ۵۷) اور ہم نے اسے (روحانیت کے) بہت اونچے مقام پر اٹھایا تھا۔ لوگ عالمِ شخصی کے اسرار سے بے خبر ہیں، جس کی وجہ سے انبیاء واولیاء علیہم السّلام کے بھیدوں کو اس مادّی کائنات میں ڈھونڈتے ہیں، حضرتِ ادریسؑ کو قرآنِ پاک میں صدّیق کے لقب سے یاد فرمایا گیا ہے (۱۹: ۵۶) صدّیق صاحبِ تاویل کو کہتے ہیں جو اپنی تاویل سے آسمانی کتاب یا کتب کی تصدیق کرتا ہے، کتاب کی تصدیق سے اس پیغمبر کی تصدیق ہوتی ہے جس کی وہ کتاب ہے اور آسمانی کتاب کی تاویل کوئی شخص نہیں جانتا، مگر پیغمبر، امام، اور حجّت، حجّت کی مثال مریم علیہا السّلام ہے، ہم ان شاء اللہ، معراجِ مریم کا بھی ذکر کریں گے۔

 

۱۰۔ حضرتِ ہود علیہ السّلام کی معراج کا اشارہ سورۂ ہود کے اس

۱۳۴

ارشاد میں ہے: ان اجری الا علی الذی فطرنی (۱۱: ۵۱) میرا اجر تو اس کے ذمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ یہاں فطرنی میں حظیرۂ قدس میں انسانِ کامل کے عقلی تولد کے معنی ہیں، جس میں وہ رحمان کی صورت پر پیدا ہوتا ہے، پس یہی آیۂ شریفہ حضرت ہودؑ کی معراج کی دلیل ہے، جیسے آیۂ کریمہ کا ترجمہ ہے: (اے رسول مقامِ عقل پر) اپنا چہرۂ جان دین کے لئے قائم کرو حنیف (موحّد) ہوکر، خدا کی (ازلی) آفرینش وہ ہے جس پر اس نے (ازل میں) لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی (اس) خلق میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی دینِ قائم ہے، مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں (۳۰: ۳۰)۔

 

۱۱۔ حضرتِ صالح علیہ السلام نے قومِ ثمود سے کہا: انی لکم رسول امین (۲۶: ۱۴۳) میں تو یقیناً تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں۔ امین کے تین معنی ہیں: امانتدار، امن والا، معتبر، جس کو قرآنِ حکیم میں امین کہا گیا ہے، وہ معراجی اسرار اور علم و معرفت کا امانتدار ہوتا ہے، وہ کلّی طور پر امن والا اور کاملاً معتبر ہوتا ہے، ہم یہ اس لئے کہتے ہیں کہ قرآن کے ہر خاص لفظ میں حکمتِ بالغہ مخفی ہوتی ہے، یعنی ایسی بلند ترین حکمت جو عرش، کرسی، قلم، لوح اور کلمۂ باری تک پہنچی ہوئی ہے، اور کتابِ مکنون کو چھو رہی ہے، کیونکہ یہ معراجی بہشت کی بلندی سے آئی ہے، پس اہلِ معرفت آپ کو حکمتِ بالغہ کی روشنی میں انبیاء و اولیاء (أئمّہ) علیہم السّلام کی معراجوں (معارج) کی نشاندہی کرسکتے ہیں، کیونکہ دینِ اسلام کی باطنی نعمتوں (۳۱: ۲۰)

۱۳۵

سے عرفانی نعمتیں مراد ہے۔ الحمد للہ۔

 

۱۲۔ سورۂ انبیاء (۲۱: ۷۱) میں حضرتِ ابراہیم اور حضرتِ لوط علیہما السلام سے متعلق ارشاد ہے: و نجینٰہ و لوطا الی الارض التی برکنا فیھا للعٰلمین۔ اور ہم نے ابراہیم اور لوط کو اس زمین میں پہنچا کر نجات دی جس میں ہم نے تمام عوالمِ شخصی کے لئے برکتیں رکھی ہیں۔ یہاں ’’الارض‘‘ سے نفسِ کلّی مراد ہے، جو عقلِ کلّی کی نسبت سے زمین ہے، اور ناطق کی نسبت سے آسمان، جس میں ہر عالمِ شخصی کے لئے جسمانی، روحانی اور عقلانی برکتیں ہیں، اور مقامِ معراج نفسِ کلّ کے آسمان میں ہے۔

 

۱۳۔ حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کو خداوند تعالیٰ نے نبوّت، رسالت، خُلّت (دوستی) اور امامت جیسے مراتبِ جلیلہ سے مشرف و سرفراز فرمایا تھا، آیۂ کریمہ: انی وجھت (۶: ۷۹) میں یہ لطیف اشارہ موجود ہے کہ آپ معراجی بہشت میں داخل ہوکر اپنے باپ آدم کی طرح رحمان کی صورت پر ہوگئے تھے، کیونکہ خدا شناس (معرفت) کا آخری درجہ یہی ہے، اے نورِعینِ من! یہ قانون ہمیشہ یاد رہے کہ دین کی اساسی چیزیں دو دو ہوتی ہیں، چنانچہ حضرتِ ابراہیم اور حضرتِ اسماعیل (ناطق و اساس) علیہما السلام دو تھے، انہوں نے خدا کے لئے دو گھر بنا دیئے تھے، ایک ظاہر میں تھا اور ایک باطن (جبین) میں، جیسا کہ ارشادِ مبارک ہے: و اتخذوا من مقام ابراہیم مصلی (۲: ۱۲۵) اور (ہم نے حکم دیا کہ) ابراہیم کی (اس) جگہ کو نماز کی جگہ بناؤ۔ یعنی ناطق اور اساس کے وسیلے سے عالمِ شخصی

۱۳۶

میں ترقی کرکے اپنی جبین میں خدا کا گھر بناؤ، یہی باطنی بیت اللہ اور مقامِ ابراہیم ہے، اسی میں نماز پڑھو اور علمی عبادت کرو۔

 

۱۴۔ سورۂ ذاریات کی دو آیتیں اس طرح کی حکمتیں بتاتی ہیں (ترجمہ): اور زمین میں اہلِ یقین (اہلِ معرفت) کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں، اور خود تم میں بھی ہیں تو تم کیا دیکھتے نہیں؟ (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) ۔  اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دو گھر ہیں، ایک ظاہر میں ہے اور ایک باطن (جبین) میں، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ خدا کا یہ گھر جس کے مجاور ہم ہی ہیں، وہ کس حالت میں ہے؟ بحدِ قوّت ہے یا بحدِ فعل؟ صفائی کی گئی ہے یا نہیں؟ اس میں کہیں بہت سے اصنام تو نہیں ہیں؟

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

ڎندورہ گنڎ ، یکم ربیع الاول ۱۴۱۸ھ ، ۷ جولائی ۱۹۹۷ء۱۳۷

باطنی نعمتوں کا تذکرہ

 

۱۔ سورۂ لقمان (۳۱: ۲۰) میں ارشاد ہے (ترجمہ): کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں (حالانکہ ان کے پاس) نہ علم ہے اور نہ ہدایت ہے اور نہ کوئی روشن کتاب ہے۔ اس پرحکمت ربانی تعلیم میں بصد عجز و انکسار سوچنے کی ضرورت ہے کہ تمام کائنات کی چیزیں در حقیقت ظاہر میں مسخر کی گئی ہیں یا باطن میں؟ خداوندِ عالم کا یہ احسان و اکرام دنیا میں ہے یا آخرت میں یا دونوں میں؟ کیا یہ بہشت کی بہت بڑی سلطنت کا ذکر ہے (۷۶: ۲۰)؟

 

۲۔ مذکورہ آیت میں یہ سوال: ’’کیا تم لوگ نہیں دیکھتے؟‘‘ اِس غرض سے ہے کہ لوگ چشمِ معرفت کی ضرورت و اہمیت کو سمجھ لیں، جیسے اَلَم تَرَ (کیا تونہیں دیکھتا)؟ کا سوال قرآن میں ۳۱ دفعہ آیا ہے، جس کا مقصد چشمِ باطن (چشمِ بصیرت ) کی طرف توجہ دلانا ہے، تا کہ ہر ذی شعور مومن دل

۱۳۸

کی آنکھ حاصل کرنے کے لئے بیش از بیش سعی کرے، اور علم وعمل کی تمام شرطوں کے ساتھ گریہ و زاری اور مناجات کرتا رہے۔

 

۳۔ کائنات کا مسخر ہوجانا انتہائی عظیم نعمت ہے، لہٰذا یہ مرتبۂ فنا فی اللہ کے بغیر ممکن ہی نہیں، فنا خوشی سے بھی ہے اور زبردستی سے بھی، ماضی میں جو لوگ جسمانی زندگی ہی میں مرکر زندہ ہوچکے تھے، وہ علم و معرفت کے اعتبار سے کتنے ضروری تھے، حق بات تو یہ ہے کہ وہ آپ کو معرفت کی بے حد مفید باتیں بتا سکتے تھے، کاش ایسے لوگوں سے آپ کی اور ہماری ملاقات ہو سکتی! یا ان کی اصل اصل (ORIGINAL)باتیں ہم تک آئی ہوتیں! لیکن ہم مایوسی کا شکار کیوں ہوجائیں، جبکہ اسلام میں ناامیدی ممنوع ہے، کیونکہ اس زندہ اور پاک مذہب میں نہ صرف کل (آخرت) کی اعلیٰ امیدیں ہیں، بلکہ ساتھ ہی ساتھ آج دنیا میں بھی بہشت کی علمی وعرفانی نعمتیں اور روحانیت کی عملی بشارتیں موجود و مہیا ہیں۔

 

۴۔ آپ نے ترجمۂ آیۂ شریفہ (۳۱: ۲۰) میں خوب غور سے دیکھا ہوگا کہ ظاہری نعمتوں کے ساتھ ساتھ باطنی نعمتیں بھی مکمل اور تیار ہیں، لیکن یہ سوال سامنے آتا ہے کہ باطنی نعمتیں کیا ہیں؟ آیا یہ قرآنِ حکیم ہی کی باطنی نعمتیں ہیں؟ کیا اس سے علمِ باطن مراد ہے؟ کیا یہ باطنی ہدایت اور تاویل ہے؟ کیا روحانیت اور علمِ لدنی کی بات ہے؟ تائید ؟ دیدار؟ معرفت؟ حکمت؟ نور؟ علم الیقین؟ عین الیقین؟ حق الیقین؟ فنا فی اللہ؟

۱۳۹

بقاباللہ؟ چشمِ بصیرت؟ وہ تمام نعمتیں جن کا ذکر سورۂ رحمان میں ہے؟ وہ ساری نعمتیں جن کا تذکرہ تمام قرآن میں ہے؟ آیا یہ سب چیزیں باطنی نعمتوں میں سے نہیں ہیں؟ اگر جواب یہ ملتا ہے کہ بے شک قرآن اور اسلام میں باطنی نعمتیں بھری پڑی ہیں، تو آئیے ہم ہادیٔ برحق سے رجوع کریں تا کہ وہ ہماری رہنمائی اور مدد فرمائے تا کہ ہم قرآن اور اسلام کی کوئی چھوٹی سی خدمت کر سکیں۔

 

۵۔ اللہ جلّ جلالہ کی چیزیں عقل و جان کی اعلیٰ خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہیں، لہٰذا کوئی بے جان سڑک خدا تک نہیں جاسکتی ہے، بلکہ راہِ خدا یعنی صراطِ مستقیم ہادیٔ زمان ہی ہے، اُسی کی معرفت اور اطاعت کی غرض سے یہ آسمانی مقدّس دعا سکھائی گئی ہے: اھدنا الصراط المستقیم۔ صراط الذین انعمت علیہم= ہم کو راہِ راست پر چلا، ان لوگوں کی راہ جنہیں تو نے (اپنی) نعمتیں عطا کی ہیں۔ اللہ کی بے بدل اور اٹل سنت کے مطابق ہمیشہ دنیا میں روحانی ہدایت کا مرکز نورِمنزّل کی صورت میں قائم ہے، جس کی پیروی کرنے والے درجہ بدرجہ حدودِ دین ہو گئے، جیسے زمانۂ آدم سے اِس طرف کے ناطقان، اساسان، امامان، اور حجّتان، جن پر اللہ نے بہت بڑا انعام فرمایا ہے، پس اہلِ ایمان میں سے جو جو اشخاص حقیقی معنوں میں اطاعت کریں گے، وہ بھی روحانیت میں ان حضرات کے ساتھ ہوجائیں گے (۴: ۶۹) ۔ الحمد للہ ربِّ العالمین۔

۱۴۰

۶۔ اے عزیزانِ من! یہ از بس مفید نکتہ یاد رہے کہ معرفت بہت ہی  ضروری شیٔ ہے، کیونکہ ہر نعمت کی تصدیق معرفت ہی سے ہوتی ہے، ورنہ تکذیب ہوتی ہے ، جیسے سورۂ رحمان (۵۵: ۱ تا ۷۸) میں کل ۳۱ بار یہ سوال دہرایا گیا ہے: پس اے جنّ و انس ، تم اپنے ربّ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاتے ہو؟ جھٹلانا ’’تکذیب‘‘ کو کہتے ہیں، جو تصدیق کی ضد ہے، اور تصدیق صرف علم و معرفت ہی سے ہوتی ہے، پس سورۂ رحمان میں جتنی نعمتوں کا ذکر ہوا ہے وہ سب مشاہدہ، معرفت، اور تصدیق کی متقاضی ہیں، اور یہ امر ممکن ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

بودو ، ۳ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ ، ۹ جولائی ۱۹۹۷ء

۱۴۱

معرفت اور اس کی جامعیّت

 

۱۔ کسی عزیز کو یہ خیال ہرگز نہ ہو کہ نورِ معرفت صرف آنکھ ہی کے لئے کام کرتا ہے اور بس، میں کہتا ہوں کہ ہرگز ایسا نہیں، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک نور ہے، جس میں عقلِ کامل ، روحِ اعظم، اور کائناتی جسمِ لطیف کی تمامتر خصوصیات جمع ہیں، لہٰذا یہ نورِ اقدس مومنِ سالک کے نہ صرف حواسِ ظاہر و باطن ہی کو حیاتِ نو عطا کرتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ تمام ذرّاتِ ہستی کو بھی ارواحِ تازہ اور قیامت خیز فعالیت بخشتا ہے، آپ نورِ معرفت کی تعریف کی غرض سے کتاب قرآنی علاج میں مضمون: ’’امواجِ نور‘‘ کو خوب غور سے پڑھیں،جس میں دعائے نور کی وضاحت ہے۔

 

۲۔ قرآنِ حکیم میں معرفت کا ذکر عیان بھی ہے اور نہان بھی، یعنی اس کا بیان براہِ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے آیا ہے، کہنا یہ ہے کہ اہلِ معرفت کی نظر میں مضمونِ معرفت عجیب طرح سے تمام قرآن میں پھیلا ہوا ہے، ہم (ان شاءاللہ ) یہاں اس کی چند مثالیں پیش کرتے ہیں:

۱۴۲

 

۳۔ مادّہ : ع ر ف:

اس کے مختلف صیغوں کو قرآنِ پاک میں دیکھ لیں، ان سب میں معرفت (پہچان) ہی کا ذکر ہے، جیسے سورۂ محمد (۴۷: ۶) میں ارشاد ہے: و یدخلھم الجنۃ عرفھا لھم = اور ان کو اُس بہشت میں داخل کرے گا جس کا انہیں شناسا کر رکھا ہے۔ خوب یاد رہے کہ یہ کلّی معرفت ہے، اور اس سے کوئی چیز باہر نہیں، کیونکہ جنّت میں سب سے بڑی نعمت حضرتِ ربّ کی ملاقات اور معرفت ہے، اور اس سے عظیم تر نہ کوئی معرفت ہے اور نہ ہی کوئی نعمت ہے۔

 

۴۔ مادّہ: ن ک ر:

سورۂ یوسف (۱۲: ۵۸) میں ہے: فعرفھم و ھم لہ منکرون =  پس حضرتِ یوسفؑ نے انہیں پہچان لیا اور وہ لوگ اس کو نہ پہچان سکے۔ اس مثال سے یہ معلوم ہوا کہ مادّۂ ہٰذا کے تمام الفاظ معرفت کے برعکس ہیں، جیسے انکار، منکر، منکرین، وغیرہ، لہٰذا ان جملہ الفاظ میں بالواسطہ معرفت کا ذکر موجود ہے، یعنی منکر کی مذمت اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ عارف نہیں ہے۔

 

۵۔ مادّہ: ی ق ن:

معرفت کا ایک مترادف یقین ہے، جس کا مادّہ ی ق ن ہے، اور اس کے تمام صیغوں میں براہِ راست معرفت کا بیان ہے، جیسے سورۂ انعام (۶: ۷۵) میں ہے: اور ابراہیم کو ہم اسی طرح آسمانوں اور زمین کا نظامِ سلطنت دکھاتے تھے تا کہ وہ یقین کرنے والوں

۱۴۳

میں سے ہو جائے۔ یعنی وہ عارفین میں سے ہو جائے۔

 

۶۔ مادّہ: ر ی ب:

ریب (شک) یقین کے خلاف ہے، چنانچہ ارشاد ہے: الٓمٓ۔ ذالک الکتٰب لا ریب فیہ = قرآنِ ناطق کی قسم، وہ کتاب ایسی ہے کہ اُس میں کوئی شک ہی نہیں ، جب شک نہیں تو یقین ہی یقین ہے، جب یقین ہے تو کامل یقین یعنی حق الیقین (معرفت) ہے۔

 

۷۔ مادّہ: ش ھ د:

اس مادّہ کے الفاظ میں معرفت کے معنی پوشیدہ ہیں، جیسے روحانی شہید، یہ وہ شخص ہے جو جہادِ اکبر میں جیتے جی نفسانی طور پر قتل ہوچکا ہوتا ہے، وہ اپنی قیامت کے جملہ واقعات کے دوران حاضر تھا، اس لئے وہ ان عظیم معجزات کا عینی گواہ (چشم دید گواہ) بھی ہے اور عارف بھی ہے، ایسے شہداء کا ذکر سورۂ حدید (۵۷: ۱۹) میں بھی ہے۔

 

۸۔ مادّہ: ع ی ن:

حدیثِ نوافل میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی آنکھ ہوجاتا ہے، اس سے اہلِ دانش کو قرآنی حکمت سمجھنے کی بڑی حد تک امید مل سکتی ہے، اور علم الیقین کا سہارا لے کر عین الیقین کی جانب آگے جا سکتے ہیں، غرض عین سے چشمِ بصیرت مراد ہے، جس کا تعلق معرفت سے ہے۔

۱۴۴

۹۔ مادّہ: ن و ر:

نور = عقل، علم، حکمت، ہادیٔ برحق، کیونکہ امامِ مبین میں تمام معانی جمع ہوجاتے ہیں (۳۶: ۱۲)۔ خداوندِ تعالیٰ امامِ زمانؑ کے وسیلے سے مومنین کو حقیقی روح میں زندہ کرکے نورِ معرفت عطا کرتاہے، وہ اس نور کے ساتھ اپنے عالمِ شخصی میں لوگوں کے درمیان چلتے پھرتے ہیں (۶: ۱۲۲) اس سے مراد عالمِ شخصی کی بادشاہی ہے۔

 

۱۰۔ مادّہ: ر أ ی:

سورۂ فرقان (۲۵: ۴۵) میں ہے: الم تر الی ربک کیف مد الظل = کیا تو نے اپنے ربّ کی طرف نہیں دیکھا کہ کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ یہ اُس دیدارِ پاک کا ذکر ہے جو روحانی قیامت کے بعد حظیرۂ قدس کی جنّت میں عارف کو حاصل ہوتا ہے، سایہ شبِ ازل ہے۔

 

۱۱۔ مادّہ: ع م ی:

سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۷۲) میں ہے: و من کان فی ہٰذہ اعمیٰ فھو فی الاٰخرۃ اعمیٰ و اضل سبیلا۔ اور جو شخص اِس دنیا میں اندھا بنا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا اور راستہ سے بہت دور بھٹکا ہوا۔ یہ چشمِ معرفت حاصل نہ کرنے کی مذمت ہے۔

 

۱۲۔ مادّہ: و ج ھ:

سورۂ قصص کے آخر (۲۸: ۸۸) میں ہے:

۱۴۵

کل شیءٍ ھالک الا وجھہ = ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے وجہُ اللہ کے۔ اس میں فنا فی اللہ کا سرِاعظم مذکور ہے کہ جب سالک منزلِ فنائے عُلوی میں پہنچ جاتا ہے تو اس کی ہر چیز فنا ہوجاتی ہے، مگر وہ صورتِ رحمان میں باقی رہتا ہے، صورتِ رحمان امام ہے۔

 

۱۳۔ مادّہ: ف ن ی:

سورۂ رحمان (۵۵: ۲۶ تا ۲۷) میں ہے: کل من علیہا فان و یبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال و الاکرام = وہ سب جو ان (کشتیوں) پر سوار ہیں فنا ہوجانے والے ہیں اور صرف تیرے ربّ کا جلیل و کریم چہرہ ہی باقی رہے گا۔ قال علی علیہ السلام انا وجہ اللہ فی السمٰوٰت و الارض۔۔۔۔ (کوکبِ دری، بابِ سوم) پس وجہ اللہ کا مضمون بطورِ خاص معرفت ہی کا مضمون ہے۔

 

۱۴۔ مادّہ: ب ص ر:

بصیرۃ = دل کی بینائی، دیدۂ دل، چشمِ باطن، سورۂ یوسف (۱۲: ۱۰۸) میں ہے: قل ہٰذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علیٰ بصیرۃ انا و من اتبعنی = تم یہ کہہ دو کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں (بھی) اور وہ (بھی) جس نے میری پیروی کی ہے بصیرت پر ہیں۔ یہ آیۂ شریفہ آنحضرت، علی، اور أئمّۂ آلِ محمد کے بارے میں ہے (صلی اللہ علیہ و علیہم اجمعین)۔

۱۴۶

۱۵۔ مادّہ: ل ق ی:

لقاء = ملاقات، دیدار، سورۂ کہف کے آخر (۱۸: ۱۱۰) میں دیکھیں: فمن کان یرجوا لقاء ربہ فلیعمل عملا صالحا و لا یشرک بعبادۃ ربہ احدا= پس جو کوئی اپنے ربّ کی ملاقات (دیدار) کا امیدوار ہو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے ربّ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ ایک شخص نے از روئے انکار مولاعلیؑ سے سوال کیا: ہل رایت ربک حتّٰی عرفتہٗ؟ کیا تو نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے کہ اس کو پہچان لیا ہے؟ حضرتِ امیر نے فرمایا: لم اعبد ربا لم ارہٗ =میں نے ربّ کی عبادت نہیں کی، جب تک کہ اس کو نہیں دیکھا۔ اُس شخص نے پوچھا: کیف رایتہٗ؟ تو نے اس کو کس طرح دیکھا؟ فرمایا: ما راتہ العیون بمشاہدۃ العیان لٰکن راتہ القلوب بحقائق العرفان۔ اس کو سر کی آنکھوں نے نہیں دیکھا، لیکن اُس کو (اولیاء کے) دلوں نے عرفانی حقیقتوں کے ساتھ دیکھا ہے۔ (بحوالۂ کوکبِ دری، بابِ پنجم)۔

 

۱۶۔ مادّہ: ہ د ی:

سورۂ نور (۲۴: ۳۵) میں ہے: نور علیٰ نور۔ یھدی اللہ لنورہ من یشاء =وہ نور پر نور ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نور کی راہ بتلا دیتا ہے۔ نور پر نور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حاملانِ نور (حضراتِ أئمّہ علیہم السّلام) کا سلسلہ ہمیشہ جاری ہے، یہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ ہدایتِ ظاہر جو اللہ کی خوشنودی

۱۴۷

کے مطابق ہے، وہ اہلِ ایمان کو اللہ کے نور تک پہنچا دیتی ہے، پھر روحانی اور نورانی ہدایت جو باطن میں ہے وہ قدم قدم پر بڑے بڑے علمی معجزات کے ساتھ ہے، پس ہدایت دو قسم کی ہے: ظاہری اور باطنی۔

 

۱۷۔ مادّہ: ح ک م:

حکمۃ =حکمت، دانش، عقلمندی ، علمِ لدنّی، اسرارِ باطن کی معرفت، جیسا کہ سورۂ بقرہ (۲: ۲۶۹) میں ارشاد ہے: یوتی الحکمۃ من یشاء و من یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرًا کثیرًا = وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عنایت فرماتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اسے (تو) بہت کچھ خیر و برکت دی گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس پاک ارشاد میں جس شان سے حکمتِ سماوی کی تعریف فرمائی گئی ہے، وہ بے مثال کیوں نہ ہو، جبکہ فرمانِ عالی ہوا کہ حکمت خیرِ کثیر ہے۔

 

۱۸۔ مادّہ: ع ل م:

علم ہر چیز پر محیط بھی ہے اور ہر چیز میں محاط بھی، یعنی وہ ہر شیٔ کا حجاب بھی ہے اور ہر شیٔ میں محجوب بھی، علم کا یہ قانون قرآن، کتابِ نفس، اور صحیفۂ کائنات میں ہے، اس کی ایک عظیم الشّان مثال یہ ہےکہ جب ربّ العزت نے حضرتِ موسیٰؑ کے سامنے اپنی تجلّی کوہِ طور پر ڈالی تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا، ان کلمات میں علم ہے، جو مثال اور حجاب ہے، اب اس حجاب کے اندر جو

۱۴۸

علم محجوب ہے وہ بڑا عجیب وغریب ہے، وہ یہ کہ طور (پہاڑ) سے حضرتِ موسیٰؑ کی مبارک ہستی مراد ہے، جس پر منزلِ اسرافیلی میں اللہ نے اپنی پاک تجلّی ڈالی تو یہ ہستی اس طرح ریزہ ریزہ ہوگئی کہ اس کے خلیات میں سے بے حد و بے حساب روحیں بکھر گئیں، اس حال میں حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام طورِ ہستی کو دیکھتا بھی تھا، اور حیرت زدہ بھی تھا، اور اس کی آخری تاویل مقامِ عقل پر ہے، الغرض یہ اس حقیقت کی چند روشن مثالیں ہیں کہ قرآنِ حکیم میں مضمونِ معرفت کی بہت بڑی اہمیت ہے، یہی سبب ہے کہ اہلِ دانش کو تمام دوسرے موضوعات میں بھی اسرارِ معرفت نظر آتے ہیں۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

پیر ۸ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ ، ۱۴ جولائی ۱۹۹۷ء

۱۴۹

 

آیات، مشاہدات، تجربات

 

۱۔ آفاق و انفس میں آیات:

سورۂ حٰمٓ السجدہ (۴۱: ۵۳) میں یہ پرازحکمت ارشاد ہے (ترجمہ): ہم عنقریب ہی ان کو اپنے معجزات آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ یقیناً وہی حق ہے۔

 

یہ سچ اور حقیقت ہے کہ قرآنی الفاظ کے ایک سے زیادہ معنی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مختلف کتابوں میں اس آیۂ کریمہ کی کئی وضاحتیں ہوچکی تھیں تاہم بہت ہی عاجزی سے یہاں ایک اور وضاحت کی جاتی ہے کہ آفاق جمع ہے اُفق کی، اور اُفق میں تین اشارے ہیں: ۱۔ وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ۲۔ وہ مقام جہاں زمینِ مادّیت اور آسمانِ روحانیت کا اتصال ہے ۔ ۳۔ وہ مرتبہ جہاں زمینِ روح اور آسمانِ عقل کا ارتباط ہے، پس یہ تین اُفق یا آفاق ہوگئے۔

 

اسی طرح انفس کے دو معنی ہیں: (الف) نفوسِ جزوی، جو
۱۵۰

لوگوں میں اب ہیں۔ (ب) نفوسِ کلّی جو لوگوں کو روحانی قیامت میں ملتے ہیں، نفوسِ کلّیہ سے انسانانِ کامل مراد ہیں، جو اہلِ ایمان کی اپنی اصل اور اعلیٰ روحیں قرار پاتے ہیں، اس مقصد کے لئے کاملین کی بے شمار کاپیاں ہیں، اور یہ خدا کی بہت بڑی عنایت ہے۔

 

۲۔ ہر اُفُق اور ہر نفس:

اُفُقِ ظاہری یا جسمانی ، اُفُقِ روحانی اُفُقِ عقلانی نفسِ جزوی، اور نفسِ کلّی یہ سب وہ مقامات ہیں، جہاں اللہ کے حکم سے ہمیشہ معجزات ہوتے رہتے ہیں، کیونکہ معجزے صفاتِ الٰہیہ کے مجموعی افعال ہیں، جن کو رکنا اور خاموش ہونا نہیں ہے، مثال کے طور پر اگر سورج اپنے قانون کے مطابق کام نہ کرے تو نظامِ شمسی پر کیا گزرے گا، الغرض خداوندِ عالم ہر وقت معجزات دکھاتا ہے، بلکہ بہت سی آیات پہلے ہی سے لوگوں کے سامنے موجود ہیں، لیکن اکثر لوگ ایسے ہیں کہ چشمِ باطن پیدا کرنے کی کوشش تو درکنار ، وہ چشمِ ظاہر سے بھی مطالعۂ قدرت کا کام نہیں لیتے ہیں۔

 

۳۔ روحانی قیامت کے تمام معجزات:

آیۂ مذکورۂ بالا میں روحانی قیامت اور اس کے تمام معجزات کا حوالہ یا ذکر ہے، اس قیامت میں ہر معجزہ رونما ہوتا ہے، جس کا مشاہدہ انسانِ کامل کے ساتھ سب اہلِ قیامت کرتے ہیں، لیکن یہ سب یا تو ذرّات میں یا بحالتِ

۱۵۱

فنا ہوتے ہیں، یعنی وہ انسانِ کامل کے عالمِ شخصی میں ہوتے ہیں، اور اسی کی روحانیت کی روشنی میں سب کچھ دیکھتے رہتے ہیں، مگر ان نمائندہ ذرّات (ارواح) اور دنیا والوں کے درمیان ایک دیوار حائل ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنی روحانی سرگزشتوں سے بے خبر بیٹھے ہیں۔

 

۴۔ ہر پہلی قیامت سے دوسری قیامت تک:

قرآنِ حکیم بزبانِ حکمت یہ فرماتا ہے کہ ہر زمانے کے امام کے ساتھ ایک پوشیدہ قیامت ہے (۱۷: ۷۱) اور ہر قیامت کی آخری اور عرفانی چوٹی پر عہدِ الست کا تجدّد ہوتا ہے، آپ سورۂ اعراف (۷: ۱۷۲) میں حسن و خوبی سے غور کریں، س: جب ربّ العزت نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی ذرّیت کو لیا تو کہاں پر لیا اور کیوں؟۔ ج: انسانِ کامل کی مبارک جبین پر لیا، اس امر میں بہت سے اسرار مخفی ہیں، منجملہ ایک راز یہ بھی ہے کہ تمام روحوں کو علمی وعرفانی پرورش کا نظام دکھاکر ان سے یہ عہد لینا مقصود تھا کہ حضرتِ ربِّ کریم حق ہے، اور یہ کام صرف مرتبۂ جبین ہی پر ہوسکتا ہے، س: کیا یہ کسی ایک زمانے کا قصّہ ہے یا دورِاعظم کے تمام انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کی قیامتوں کا ذکر ہے؟ ج: یہ جملہ جدا جدا قیامات کا مجموعی اور یکجا ذکر ہے، س: آیا انسانِ کامل کی نورانی جبین میں ربّ العزت کا دیدارِ پاک بھی ہوتا ہے یا

۱۵۲

صرف کلامِ الٰہی سننے کی سعادت نصیب ہوتی ہے؟ ۔ ج: ہر نعمتِ عظمیٰ حاصل ہوتی ہے، مگر انسانِ کامل میں فنا ہوکر، کیونکہ وہاں عالمِ یک حقیقت ہے۔

 

۵۔ مزید عرفانی سوالات:

س: آپ تو مختلف حوالوں سے ہمیشہ عشقِ سماوی کی حیران کن تعریف کرتے رہتے ہیں، لیکن الست بربکم (کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟) کے عظیم الشّان سوال میں وجودِ عشق اور اس کی پرورش کا کوئی اشارہ کہاں ہے جبکہ روح و عقل کی پرورش کا حکیمانہ اشارہ اسم ’’ربّ‘‘ میں واضح ہے؟ ۔ ج: جنابِ عالی، ربّ العالمین ہر قسم کی اعلیٰ پرورش کرتا ہے، اور اس کا پاک دیدار علی الخصوص مربیٔ عشق ہے، لہٰذا عشق کی بلندی بڑی عجیب وغریب ہے، س: کیا سوالِ الست کا تعلق صرف ذرّیتِ بنی آدم سے ہے یا اس میں آدم و بنی آدم بھی شامل ہیں؟۔ ج: یہی تو بہت بڑی حکمت ہے کہ ہر آدم قبلاً ابنِ آدم اور اُس سے پہلے ذرّیت تھا، کیونکہ اس آیۂ شریفہ کا یہی اشارہ ہے، س: اس ارشاد کی خاص حکمت کیا ہے: و اشھد ھم علٓیٰ انفسھم (۷: ۱۷۲)؟ج: اور ان کو اپنی اپنی روح پر گواہ بنایا۔ یعنی انہوں نے بتوفیقِ الٰہی حدیثِ من عرف کے مطابق اپنی معرفت سے ربّ کی معرفت حاصل کر لی۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔

۱۵۳

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

بریسپت ، ۱۱ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ، ۱۷ جولائی ۱۹۹۷ء

۱۵۴

تلخ و شیرین تجربات

 

۱۔ موت کا مزہ چکھنا:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: کل نفس ذآئقۃ الموت = ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے (۲۱: ۳۵)۔ موت اگرچہ بحیثیتِ مجموعی ایک ہی ہے، لیکن وہ طرح طرح سے واقع ہوتی ہے، چنانچہ اس کی دو بڑی قسمیں ہیں: (الف) مرگِ طبیعی، یعنی قدرتی موت، جس کی بہت سی حالتیں ہیں، (ب) مرگِ مفاجات، یعنی اچانک آنے والی موت، اس کی بھی بہت سی صورتیں ہیں، لیکن یقیناً ان تمام اموات میں سے کوئی موت ایسی نہیں ہے، جس میں مرنے والے آدمی کو بمقتضائے حکمتِ قرآن موت کا حقیقی مزہ معلوم ہوجائے، ملک الموت اور اس کے لشکر کے عظیم اسرار سے آگہی ہو، اور وہ کوئی ایسی موت کی سچی کہانی جو سب کے لئے مشترک ہو من و عن (حرف بحرف) سنا سکے، ظاہر میں کوئی ایسی موت نہیں، اور نہ کوئی ایسا شخص ہے جو حقیقی معنوں میں آیۂ مبارکۂ بالا کا مصداق ہو۔

۱۵۵

۲۔ اضطراری موت اور اختیاری موت:

صوفیائے کرام کے نزدیک موت دو قسم کی ہوا کرتی ہے، ایک نفسانی (اختیاری) موت ہے اور دوسری جسمانی (اضطراری) موت، جب اسلام میں جہادِ اکبر بھی ہے تو لازمی طور پر باطنی شہادت بھی ہے، کیونکہ ہر ظاہری نعمت کے پیچھے ایک باطنی نعمت بھی ہے، اب سمجھ لیجئے کہ باطنی شہادت ہی وہ پرحکمت موت ہے، جس کا مزہ سالکین، عارفین اور کاملین چکھ لیتے ہیں، اور منزلِ عزرائیلی میں جیسے لاتعداد عجائب وغرائبِ حکمت کا انمول خزانہ ہے، اس سے اہلِ ایمان کو مستفیض کردیتے ہیں۔

 

۳۔ کیا موت بھی کوئی چکھنے کی چیز ہوتی ہے؟

یہ سوال معلوماتی بحث کی خاطر مناسب اور دلچسپ ہے، اس کا جواب عرض کرتا ہوں کہ ہاں، موت تجربۂ علم و معرفت کے معنی میں یقیناً چکھنے کی چیز ہے، لیکن خوب یاد رہے کہ ایسی تجرباتی موت صرف نفسانی موت ہی ہے، اس پُرحکمت اور عظیم الشّان موت کا لگاتار تجربہ سات رات اور آٹھ دن تک جاری رہتا ہے (۶۹: ۷) ایسے عظیم اسرارِ روحانی حجابات کے بغیر نہیں ہوتے ہیں، پس اگر آپ اس رازِ معرفت کے حجاب کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں تو سورۂ حاقہ (۶۹: ۶) میں قومِ عاد کا واقعہ پڑھ لیں۔

۱۵۶

۴۔ کیا ہرعارف راہِ روحانیت میں عذاب کو بھی دیکھتا ہے؟

جی ہاں، حصولِ معرفت کی غرض سے عذاب و ثواب دونوں کو دیکھتا ہے، کیونکہ اس کی شخصیت میں اہلِ جہان کی نمائندہ قیامت برپا ہوتی ہے، جس میں وہ سارے لوگوں کے ذرّاتِ روحانی کا مجموعہ بھی ہے اور اہلِ زمانہ کی طرف سے نمائندہ بھی، لہٰذا قیامت کے شدید امتحان سے اسی کو گزر جانا پڑتا ہے۔

 

۵۔ روحانیت کا ہر تلخ میوہ بعداً بے حد شیرین ہوتا ہے:

روحانیت کے جتنے بھی تجربات ہیں، ان میں سے بعض تو ہمیشہ ہی از بس شیرین و دل نشین ہوا کرتے ہیں، جبکہ بعض تجربے وقتی طور پر تو نہایت تلخ و تند ہوتے ہیں، مگر آگے چل کر علم و حکمت کی وجہ سے یہ بھی از حد لذیذ و شیرین ہوجاتے ہیں، اگر کوئی شخص یہاں یہ سوال کرے کہ روحانی سفر کی ساری تلخیاں کس قانون کی بنیاد پر لذّتوں اور شادمانیوں میں بدل جاتی ہیں؟ ۔ اس کا جواب یہ ہوگا کہ خدا کی خدائی میں قانونِ خیروشر اس طرح سے ہے کہ جو خیر ہے وہ مستقل ہے، لیکن جو شر ہے، وہ مستقل نہیں، بلکہ عارضی ہے، لہٰذا وقت آنے پر ہر شر کو خیر ہوجانا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: بیدک الخیر (۳: ۲۶) تیرے ہاتھ میں بھلائی ہے۔ اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ جب اللہ پوری کائنات کو لپیٹ لیتا ہے تو اس وقت خدا کے بابرکت ہاتھ میں

۱۵۷

صرف خیر ہی ہوتا ہے، اور شَر کا وجود کہیں نظر نہیں آتا۔

 

۶۔ قیامت گاہ میں خدا کا نور:

اللہ جلّ جلالہ نے امامِ زمانؑ کو صاحبِ قیامت بنا دیا ہے (۱۷: ۷۱) اسی طرح رسول کے بعد امام نورِ ہدایت بھی ہے (۵: ۱۵) اور مجموعۂ اسماء الحسنیٰ بھی ہے (۷: ۱۸۰) یہی سبب ہے کہ خداوندِ دو جہان اپنے حبیبِ پاک سے فرماتا ہے: (اے رسول) جس دن تم مومنین و مومنات کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا (۵۷: ۱۲) یہ امام ہی کا نور ہے جو رسول کا جانشین ہے، جو منازلِ قیامت کا رہنما ہے۔

 

۷۔ مولاعلیؑ نے فرمایا ہے:

انا الساعۃ التی لمن کذب بہا سعیرا = یعنی میں وہ قیامت ہوں کہ جو شخص اس کو جھٹلائے، اور اس کا منکر ہو، اس کے لئے دوزخ واجب ہے۔ انا الذی اقوم الساعۃ = یعنی میں وہ شخص ہوں کہ قیامت برپا کرتا ہوں۔ انا الناقور الذی قال اللہ تعالی فاذا نقر فی الناقور = یعنی میں وہ ناقور ہوں جس کا ذکر حق تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے (۷۴: ۸) ۔ انا الذی ان امت فلم امت و ان قتلت فلم اقتل = یعنی میں وہ شخص ہوں کہ اگر مجھے موت دی جائے تو نہیں مروں گا، اور اگر میں قتل کیا جاؤں تو میں (درحقیقت) قتل نہ ہوں گا (کوکبِ دری)۔

۱۵۸

۸۔ دو دفعہ غیر معمولی پیدائش:

حضرتِ عیسیٰ علیہ السّلام کا قول ہے: لن یلج ملکوت السمٰوٰت من لم یولد مرتین =جو شخص دو دفعہ پیدا نہ ہو سکا وہ آسمانوں کی سلطنت میں ہرگز داخل نہیں ہوسکتا ہے۔ یعنی ہر عارف اپنی حیاتِ جسمانیہ ہی میں پہلے نفساً مر کر روحاً زندہ ہوجاتا ہے، پھر بہت آگے جا کر روحاً مر کر عقلاً زندہ ہوتا ہے، اور یہی ہے دو دفعہ خدا کے خاص دوستوں کی غیر معمولی پیدائش، اور یہی ذاتی قیامت بھی ہے، جیسا کہ حدیثِ شریف کا ارشاد ہے: من مات فقد قامت قیامتہ = جو شخص (نفساً) مر جاتا ہے اس کی قیامت برپا ہو جاتی ہے۔

 

۹۔ کیا امام صرف متّقین ہی کے لئے ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ہادیٔ زمان بالعموم امام النّاس بھی ہے (۲: ۱۲۴) اور بالخصوص امام المتّقین بھی (۲۵: ۷۴) تا کہ لوگ بہ اختیارِ خود امام کی ہدایت سے فائدہ اٹھائیں، اور متّقین اپنے امام سے براہِ راست روحانی علم حاصل کریں، کیونکہ نورانی آواز کے ذریعہ تعلیم دینے کا بے مثال طریقہ زمانۂ آدم سے چلا آیا ہے، پس جن لوگوں پر قیامت کا تلخ تجربہ گزرتا ہے، ان کے لئے عظیم ترین فائدہ یہ ہے کہ ان کی روح جو فرشتہ ہے اس کو آدمِ زمانؑ کی نورانی تعلیم مل سکتی ہے۔

۱۵۹

۱۰۔ ایک اہم سوال:

س: اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ نفسانی موت کا مزہ چکھنا اور ذاتی قیامت کے پر حکمت تجربات سے گزر جانا صرف عارفین و کاملین ہی کے لئے خاص ہے، پھر بھی سوال ہے کہ آیا اس کلّیہ میں اور کوئی راز نہیں ہے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ ہر نفس (یعنی سب) کو موت کا مزہ چکھنا ہے؟ ۔ ج: جی ہاں، اس میں ایک عظیم راز ضرور پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ لوگ جس کارنامۂ روحانی کو خود انجام نہیں دے سکتے ہیں، اس کو امامِ عالی مقامؑ انجام دیتا ہے، اس مقصد کے لئے لوگوں کے روحانی ذرّات کو عارف کی نفسانی موت اور قیامت میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، چنانچہ وہ تمام نمائندہ ذرّات یہاں آ کر تجرباتِ قیامت میں شریک ہوجاتے ہیں، مگر یہ سب کچھ ان کے حق میں غیر شعوری طور پر ہوتا ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ (۲: ۲۴۳) میں ارشاد ہے: فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم ۔ پس خدا نے ان سے فرمایا کہ سب کے سب مر جاؤ (اور وہ مرگئے) پھر خدا نے انہیں زندہ کیا۔ یہ سب لوگوں کے نمائندہ ذرّات (روحیں) ہیں جو عارف کی منزلِ عزرائیلی میں بار بار مرتے ہیں اور بار بار زندہ ہو جاتے ہیں۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

پیر، ۱۵ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ، ۲۱ جولائی ۱۹۹۷ء

۱۶۰

جشنِ زرّین

 

از برائے جشنِ زرّین ماہ و انجم آ گئے

جب پیا پے یارِ جانی کے تراجم آ گئے

دلکشی میں ترجمے ہیں تازہ دلہن کی طرح

پر بہار و جانفزا ہیں باغ و گلشن کی طرح

ترجمے کو خود پڑھیں تو رو رہا تھا میں کبھی

وادیٔ حیرت میں از خود کھو رہا تھا میں کبھی

سجدۂ شکرانہ تھا جب زار و گریان گر گیا                      میں فدایِ یارِ جانی مست و حیران گر گیا

ترجموں نے ان کتابوں کو تو مشہور کر دیا

دوستوں کے دل کو ازبس شاد و مسرور کر دیا

۱۶۱

ترجمے سے ان کتب کو روحِ جنّت مل گئی

یہ حقیقت ہے کہ مجھ کو اور عزّت مل گئی

وہ قلم سے گل فشان ہے اور زبان سے در فشان

علم و حکمت کے جہان میں کامیاب و کامران

اہلِ مغرب کے لئے اب گنجِ عرفان ہو گیا

جس نے دیکھا ہے خزانے کو وہ حیران ہو گیا

وصفِ مولا سے بھری ہے ہر کتابِ مستطاب

کیوں نہ ہو پھر یہ خزانہ کل جہان میں لاجواب

عشق و مستی کی قسم! سب ایک ہیں اے دوستان

فتحِ عالم ہے سنو اب شادمان ہو شادمان

ان کی ہر تحریر سے آتی ہے خوشبویِ گلاب

ہر عبارت دے رہی ہے عشقِ مولا کی شراب

فضل و احسانِ خدا ہے یہ فرشتہ آ گیا

ورنہ ہم ایسے کجا اور ایسے کارنامے کجا

۱۶۲


نامِ نامی ہے فقیر اور علم و حکمت میں امیر

تیرے اس علم و عمل کا صدقہ ہو جائے نصیرؔ

اک جہانِ علم ان کے ہاتھ سے آباد ہے

اس میں جو بھی بس رہا ہے شاد ہے آزاد ہے

جنگِ علمی میں نہ پوچھو ضربِ صمصامِ علی

علم شمشیرِ علی ہے دست ہے نامِ علی

“یک حقیقت” نے بتایا ہم سبھی ہیں ایک جان

سب میں اک ہے ایک میں ہیں سب نہان

میرے عالم میں عزیزان میری روح کی کاپیاں

اس سے بڑھ کر ہیں سبھی اُس پرفتوح[1] کی کاپیاں

 

 

 

۱۶۳

نور اور کتابِ مبین

 

۱۔ سورۂ مائدہ (۵: ۱۵) میں حق سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: قد جاء کم من اللہ نور و کتاب مبین = بے شک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور کتابِ مبین آئی ہے۔ یعنی ربّانی معلّم اور قرآنِ پاک = قرآنِ ناطق اور قرآنِ صامت= رسولِ اکرم اور قرآنِ حکیم= جانشینِ رسول (امامِ برحق) اور کتابِ سماوی = نورِ منزّل اور قرآنِ عزیز، اس وضاحت میں صرف ایک ہی حقیقت جھلکتی ہے، وہ یہ کہ قرآنِ مقدّس کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہر وقت ربّانی معلّم بھی موجود ہے، بمقتضائے عدلِ خداوندی ایسا ہی ہونا چاہئے، تا کہ قیامت کے دن خدا پر لوگوں کی یہ حجّت نہ ہو کہ ان کے زمانے میں کوئی مظہرِ نور ہی نہ تھا (۴: ۱۶۵)۔

 

۲۔ قرآنِ حکیم میں جتنی آیاتِ کریمہ نورِ ہدایت کے بارے میں آئی ہیں، ان سب کی یقینی شہادت یہی ہے کہ خدا و رسول نے اہلِ ایمان کے لئے جس امام کو مقرر فرمایا ہے، وہ نسلاً بعد نسلٍ دنیا میں ہمیشہ

۱۶۴

موجود و حاضر ہے، تا کہ قرآن اور اسلام کی باطنی نعمتوں کا دروازہ بند نہ ہو، کیونکہ آیۂ مبارکۂ بالا کے مطابق نور اور کتاب (قرآن) لازم وملزوم ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو صرف کتاب ہی کے آنے کا ذکر ہوتا۔

 

۳۔ قرآنِ حکیم (۲۳: ۶۲، ۴۵: ۲۹) میں ہے کہ اللہ کے پاس ایک بولنے والی کتاب بھی ہے، ایسے میں لازمی ہے کہ خدا کی یہ دونوں کتابیں ایک دوسرے سے مربوط ہوں، کیونکہ خدا کی چیزوں میں روحانی ربط ہوتا ہے، پس خداوندِ عالم کی کتابِ ناطق (نور = امام) اور کتابِ صامت (قرآن) دونوں اس طرح مربوط ہیں کہ یہ باطن میں نورٌ علیٰ نور (یعنی ایک ہی نور) ہیں، اور ظاہر میں ایک تو معلّم ہے اور ایک کتاب (قرآن) جیسے حدیثِ شریف میں ہے: علی مع القراٰن ، و القراٰن مع علی۔ (المستدرک، جلدِ سوم) اس حدیثِ شریف میں زبردست امتحانی حکمت پوشیدہ ہے وہ یہ ہے کہ علی کا قرآن کے ساتھ ہونا اس طرح سے ہے کہ سر تا سر قرآن میں علی کا ذکرِ جمیل موجود ہے، اور قرآن کا علی کے ساتھ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ قرآن علی کے نور میں ہے، یعنی مولا علی کے عالمِ شخصی میں کل معجزاتِ قرآن کا تجدّد ہوا تھا، اور قرآن کا یہی تجدّد ہر امام میں ہوتا ہے، اور امامِ مبین میں ہر چیز کے محدود ہونے کے یہی معنی ہیں کہ ہر چیز کا مجموعۂ بیان قرآن ہے (۱۶: ۸۹) اور ایسا مجموعہ امامِ مبین میں ہے (۳۶: ۱۲)۔

 

۴۔ سورۂ بروج (۸۵: ۲۱ تا ۲۲) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: بل ھو

۱۶۵

قراٰن مجید۔ فی لوحٍ محفوظٍ = بلکہ وہ کمالِ شرف والا قرآن ہے، ایسی لوح میں لکھا ہے جو محفوظ ہے۔ اس ارشادِ مبارک کی تاویل کرتے ہوئے حضرتِ امیر المومنین علی نے فرمایا: انااللوح المحفوظ یعنی میں ہی لوحِ محفوظ ہوں۔ (کوکبِ دری)۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ آنحضرتؐ کا نور قلمِ اعلیٰ اور مولاعلیؑ کا نور لوحِ محفوظ ہے، اور یہ دونوں سب سے عظیم فرشتے ہیں جو عقلِ کلّ اور نفسِ کلّ کہلاتے ہیں، کیونکہ عالمِ عُلوی کی چیزیں فرشتہ بشکلِ انسان ہوا کرتی ہیں۔

 

۵۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اوّل اوّل آدمِ دور میں آیا تھا، اس کا ذکر قرآنِ پاک میں برائے امتحان روح کے عنوان سے ہے (۱۵: ۲۹، ۳۸: ۷۲) اسی نور کے لئے فرشتوں نے سجدہ کیا اور اسی میں علمِ حقائقِ اشیاء تھا، میں اس سے پہلے یہ انقلابی راز کہیں لکھ چکا ہوں کہ ملائکہ نے حضرتِ آدم خلیفۃ اللہ علیہ السّلام کو ابتداء ً منزلِ عزرائیلی میں سجدہ کیا، اس مقام کا نام عالمِ ذرّ بھی ہے، بعد ازان بہت آگے چل کر جہاں مقامِ عقل آیا، وہاں خلیفۂ کائنات کا عقلی تولد ہوا جس میں وہ رحمان کی صورت پر ہوگیا، اور فرشتوں نے وہاں بارِ دوم سجدہ کیا۔

 

۶۔ آپ یقین کریں تو بہت فائدہ ہوگا کہ اگر توفیقِ الٰہی سے قرآنِ عظیم کے باطن کا دروازہ کھل گیا تو اس میں اسرار ہی اسرار ہیں، جیسے سورۂ اعراف کے اس ارشاد میں ہیں: و لقد خلقناکم ثم صورناکم

۱۶۶

ثم قلنا للملٰئکۃ اسجدوالاٰدم (۷: ۱۱) اور بے شک ہم نے تم کو (آدمِ زمانؑ کے عالمِ شخصی میں ) پیدا کیا، پھر تمہاری صورت بنا دی (یعنی تم آدمِ زمانؑ میں فنا ہو چکے تھے، اس حال میں تم کو صورتِ رحمان عطا ہوئی) پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو (ایسے میں تم آدم کے ساتھ ایک بھی تھے اور اس کی کاپیاں بن بن کر الگ بھی ہو رہے تھے)۔ اسی طرح آپ ہر پیغمبر اور ہر امام کی روحانیت میں ساتھ ساتھ رہے ہیں، کیونکہ ان حضرات میں سے ہر ایک شخص نفسِ واحدہ کا مرتبہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ کی بے پایان رحمت یہ ہے کہ آپ سب پر ہر نفسِ واحدہ میں ایک غیر شعوری قیامت گزری ہے، تا کہ تم آج علم الیقین کی روشنی میں اور کل بہشت میں عین الیقین کی روشنی میں اپنے آپ کو انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کی روحانیت میں دیکھ سکو، اور اس حکمتِ خداوندی پر یقین کرسکو کہ تم کو ہر اعلیٰ ہستی کی کاپی بطورِ جامۂ جنّت ملنے والی ہے، مثال کے طور پر جب کوئی شخص حضرتِ سلیمان علیہ السّلام سے لی گئی زندہ تصویر یا کاپی میں داخل ہوگا تو اس حال میں وہ خود کو سچ مچ سلیمان پائے گا۔

 

۷۔ یہ ایک زبردست پرحکمت حدیثِ شریف ہے: (ترجمہ) حضرتِ علیؑ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جنّت میں ایک بازار ہوگا جس میں خرید و فروخت نہیں ہوگی، ہاں اس میں عورتوں اور مردوں کی تصویریں ہوں گی، جو جسے پسند کرے گا، اسی کی طرح ہو

۱۶۷

جائے گا (جامع ترمذی، جلدِ دوم، ابواب صفۃ الجنۃ) اس میں اہلِ دانش کے لئے بہت سے اشارات اور بہت سے سوالات کے لئے تسلی بخش جوابات موجود ہیں، کیونکہ یہ حدیثِ شریف اپنے باطن میں بہت بڑی معنوی جامعیّت رکھتی ہے، اور یہ تصویریں کاغذی نہیں، ظاہری فلمی بھی نہیں، البتہ نورانی موویز ہوسکتی ہیں، جو زندگی اور شعور کی عمدہ عمدہ مثالیں ہوں، آپ ان کو انبیاء و اولیاء، اور بعد کے بہت سے درجات کے انسانوں کی زندہ اور بولنے والی کاپیاں کہہ سکتے ہیں، اجسامِ لطیف، لباسِ جنّت، حور وغلمان، جنّ و پری، فرشتہ وغیرہ کہہ سکتے ہیں۔

 

۸۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جنّت میں جتنی نعمتیں بنائی ہیں، ان میں ایک اعلیٰ نعمت یہ بھی ہے کہ وہاں روح کے لئے ظہورات ہیں، مثلاً اگر کوئی چاہے تو حضرتِ آدمؑ کی تصویر (کاپی) میں داخل ہوکر تجربہ کر سکتا ہے، اور اس نعمت کی امکانیت بہت پہلے ہی بنائی گئی تھی کہ تمام لوگ بشکلِ ذرّات شروع سے لے کر آخر تک آدمِ صفی اللہ کے ساتھ تھے، اور بہت سے معنوں میں خدمت کر رہے تھے، پس ان کا یہ حق بنتا ہے کہ بہشت میں اپنے باپ آدم کی طرح ہوجائیں، قس علیٰ ہٰذا۔

 

۹۔ سورۂ حشر کے آخر (۵۹: ۲۳ تا ۲۴) میں اللہ تعالیٰ کے چند خاص اسماء آئے ہیں، ان میں سے ایک اسم المصوّر (صورتوں کا بنانے والا)

۱۶۸

بھی ہے، حکماء کا کہنا ہے کہ اللہ بادشاہِ مطلق ہے، اس لئے وہ اپنے امر سے کام کراتا ہے، اور اس کی ذات کام کرنے سے بالاتر ہے، پس وہ اس معنٰی میں مصوّر ہے کہ اس کے حکم سے فرشتے، انبیاء، اور اّئمّہ نورانیت کی اعلیٰ تصویریں بناتے ہیں، جن کا اوپر ذکر ہوا، وہ حضرات اپنی اور دوسروں کی عقلانی، روحانی، اور لطیف جسمانی کاپیاں بناتے ہیں جو کاملاً انہی کی طرح زندہ اور دانندہ ہوا کرتی ہیں۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

منگل ۲۳ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ، ۲۹ جولائی ۱۹۹۷ء

۱۶۹

عرفانی سوال و جواب

 

سوال۔۱: سورۂ نمل (۲۷: ۱۶) میں ارشاد ہے: اور سلیمان نے کہا لوگو ہم کو (خدا کے فضل سے) پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔ پرندوں کی بولی سے کیا مراد ہے؟ اور ہر چیز یعنی کل چیزیں ظاہری ہیں یا باطنی، یا دونوں مراد ہیں؟۔ جواب: پرندوں کی بولی کا معجزہ حق ہے، مگر مختصر اور محدود ہے، لہٰذا اصل اشارہ ارواح و ملائکہ کی طرف ہے، جن کی بولی تمام حضراتِ انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام جانتے ہیں، جیسا کہ اسی آیۂ کریمہ میں ہے: و ورث سلیمان داؤد= اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرتِ سلیمان کی ہر چیز یعنی کل چیزیں روحانی اور باطنی تھیں جو آلِ ابراہیم کی میراث کے عنوان سے عطا ہوئی تھیں (۴: ۵۴)۔

 

سوال ۔ ۲: و حشر لسلیمان جنودہ = اور سلیمان کے لئے جنّ اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے تھے (۲۷: ۱۷)۔ کیا یہاں صیغۂ حُشِرَ میں حضرتِ سلیمان کی ذاتی قیامت کا کوئی تذکرہ یا اشارہ بھی موجود ہے یا صرف ظاہری قصّہ ہے؟ ۔ جواب: یہاں دونوں چیزیں ہیں، یعنی قصّۂ ظاہر بھی ہے اور قیامتِ  باطن بھی ، کیونکہ حُشِرکے لفظی اور اصطلاحی دو معنی ہیں، اور اصطلاحاً یہ قیامت کو ظاہر کرتا ہے، آپ قرآنِ پاک میں کم سے کم ایک مثال (۲۰: ۱۲۵) کو دیکھ سکتے ہیں۔

 

سوال۔ ۳:

جب کہا جاتا ہے کہ “روحانی لشکر” تو معلوم نہیں ہوسکتا کہ اس لشکر میں کن کن مدارج کی روحیں شامل ہوسکتی ہیں، کیونکہ ہر قسم کی نباتات اپنی اپنی نوعیت کی روحیں رکھتی ہیں حیوانات، حشرات اور جراثیم کی بھی روح ہے، پس آپ بتائیں کہ روحانی لشکر کس قسم کی روحوں کا نام ہے؟۔ جواب: یہ لشکر جنّوں ، انسانوں، اور فرشتوں پر مشتمل ہیں، اور بس، اس کی مثال حضرتِ سلیمانؑ کے لشکر ہیں (۲۷: ۱۷) کہ اس میں پرندوں سے فرشتے مراد ہیں۔

 

سوال ۔ ۴: قصّۂ ملکۂ سبا میں عرش عظیم کے کیا معنی ہیں؟ اور اس کو سلیمانؑ کے پاس لے جانے میں کیا حکمت ہے؟ ۔جواب: عرش کے کئی معنی ہیں، آپ لغات القرآن وغیرہ میں دیکھیں، ہم یہاں عرش کے صرف تین معنوں پر اکتفاء کرتے ہیں: تختِ شاہی، سلطنت، صورتِ عقل، پس بلقیس کے تخت کو حضرتِ سلیمانؑ کے پاس لے جانے کی چند حکمتیں ہیں، مثال کے طور پر دنیا کی ہر باطل بادشاہی اور حکومت روحانی طاقت سے مغلوب ہوکر حضرتِ امامِ عالی مقام کی

۱۷۱

باطنی سلطنت کا حصہ بن جاتی ہے، قرآن کہتا ہے کہ خداوند تعالیٰ کے پاس بہت سی روحانی غنیمتیں ہیں (۴: ۹۴، ۴۸: ۲۰) جب روحانی جنگ اور فتحِ اسلام ایک یقینی حقیقت ہے تو اس کے خوشگوار نتائج و ثمرات بھی یقینی ہیں۔

 

سوال ۔ ۵: وادیٔ نمل (چیونٹیوں کی وادی) کہاں ہے؟ سورۂ نمل کی آیت ۱۸ ، اور ۱۹ کو پڑھ کر بتائیں کہ وہ چیونٹی کس چیز کی مثال ہے؟ سلیمان کو کس بات سے تعجب ہو رہا تھا؟۔ جواب: ارواح کی ایک مثال چیونٹیوں سے دی گئی ہے، جیسے عالمِ ذرّ کے معنی ہیں، ان روحوں میں ایک داعی بھی ہے، اس کی آواز اتنی چھوٹی، لطیف، اور باریک ہے کہ سننے والے کو اس سے بڑا تعجب ہوتا ہے، اس آواز کا ہیولا (ہیولیٰ) کان کا بجنا ہے، اور وادیٔ نمل انسان کا کان ہے، جو روحوں کا عام راستہ اور مقام ہے۔

 

سوال۔ ۶: اکثر لوگ کان بجنے کی آواز کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے ہیں، اس کے بارے میں آپ کی روحانی معلومات کیا ہیں؟۔ جواب: یہ نفسِ انسانی کی آیاتِ قدرت میں سے ہے جن کی طرف قرآنِ پاک بار بار توجہ دلاتا ہے، چنانچہ کان بجتے بجتے صورِ قیامت کا عمل شروع ہوتا ہے، اسی آواز کو بعوضہ (۲: ۲۶) کہا گیا ہے، اور مولا نے فرمایا کہ وہ بعوضہ میں ہوں۔ نیز داعیٔ قیامت اسی آواز سے دعوت کا کام شروع کرتا ہے (۲۰: ۱۰۸) اور اسی آواز سے منادی پکارنے لگتا

۱۷۲

ہے (۴۱: ۵۰) اور یہ حکمت بھی سن لیں کہ حضرتِ عیسیٰؑ نے روحانی گہوارہ میں جس طفلانہ لہجے سے کلام کیا تھا، وہ بھی اسی لطیف آواز میں تھا، (۳: ۴۶، ۵: ۱۱۰، ۱۹: ۲۹) اور آپ کے دل کے پاس جو دو ساتھی ہیں (ایک جنّ اور ایک فرشتہ) وہ بھی اسی قسم کی آواز میں گفتگو یا بحث کرتے رہتے ہیں۔

 

سوال۔ ۷: کہا جاتا ہے کہ حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کے پاس ایک معجزاتی انگوٹھی تھی، جس میں اس کی ظاہری اور روحانی سلطنت کا راز پنہان تھا، تو کیا یہ روایت درست ہے؟۔ جواب: یہ صرف ایک مثال ہے، اور اصل حقیقت اسمِ اعظم ہے، جس کے ظہورات میں سے ایک ظہور انتہائی گرانقدر نگینے کی طرح بھی ہے، اسمِ اعظم کا ذکر قرآنِ مقدّس میں کئی طرح سے آیا ہے، اور ایک مفید ذکر سورۂ اعراف (۷: ۱۸۰) میں بھی ہے، کیونکہ اسمِ اعظم شروع شروع میں ایک ہی ملتا ہے، اگر اس کی عبادت میں کوئی شخص کامیاب ہوسکا تو اس کو کئی مزید اسماء ُ الحسنیٰ عطا ہوتے ہیں، اور یہ جاننا بہت ہی ضروری ہے کہ ہر انسانِ کامل کے پاس اسمِ اعظم ہوتا ہے۔

 

سوال۔ ۸: قرآنِ مجید میں صرف دو دفعہ لفظِ کرسی آیا ہے، پہلے آیۃ الکرسی (۲: ۲۵۵) میں الحیُّ القیوم کی کرسی کا ذکر

۱۷۳

ہے، اور قرآن میں آگے چل کر سورۂ ص (۳۸: ۳۴) میں حضرتِ سلیمانؑ کی کرسی کا تذکرہ ہے، کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ پہلی کرسی سے کیا مراد ہے اور دوسری کرسی کیا ہے؟ ۔ جواب: آیۃ الکرسی میں خدا کی کرسی کا ذکر ہے، وہ نفسِ کلّی ہے (یعنی روح الارواح) اور سورۂ ص میں سلیمان کی جس کرسی کا تذکرہ ہوا ہے، وہ بھی ظاہری نہیں، بلکہ روحانی ہے، پس وہ ہر انسانِ کامل کی روح ہے۔

 

سوال۔ ۹: حضرتِ سلیمان علیہ السّلام کی مذکورہ کرسی سے متعلق آیۂ شریفہ کا ترجمہ ہے: اور ہم نے سلیمان کا امتحان لیا اور اس کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا پھر وہ رجوع ہو گیا۔ اس میں آپ یہ بتائیں کہ وہ کیسا جسد تھا جو سلیمانؑ کی کرسی پر ڈالا گیا؟ ۔ جواب: ابتدائی آزمائشی جسمِ لطیف تھا جو سلیمانؑ کی روحانی کرسی پر ڈالا گیا تھا، کیونکہ قانونِ روحانیت یہی ہے کہ روشنی سے پہلے ظلمت آتی ہے، امن سے پہلے خوف، خوبصورت سے قبل بدصورت، خوشبو سے پیشتر بدبو، اور فرشتہ جیسے جسمِ لطیف سے پہلے جانور جیسا جسمِ لطیف آتا ہے۔

 

سوال۔ ۱۰: حضرتِ سلیمان کے لئے جو ہوا مسخّر کی گئی تھی (۲۱: ۸۱، ۳۴: ۱۲، ۳۸: ۳۶) اس کی حقیقت کیا ہے؟ آیا وہ کوئی مادّی تخت تھا؟۔ جواب: یہ ہوا دراصل صورِ اسرافیل کی آواز تھی، آواز میں ہوا ہوتی ہے، کوئی مادّی تخت نہ تھا، بلکہ یہی جدّ (اسرافیل) کا معجزہ روحانی تخت کا کام کرتا ہے جو انبیاء و اولیاء کے لئے مسخّر ہے، جس سے ان حضرات کی روحانی پرواز بڑی آسان ہو جاتی ہے۔

 

سوال۔ ۱۱: وہ زمین کون سی ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے تمام عالمین کے لئے برکتیں رکھی ہیں؟ کیا وہ سرزمینِ شام (بیت المقدّس)

۱۷۴

ہے؟ ۔ جواب: وہ برکتوں والی زمین نفسِ کلّی ہے کہ ساری کائنات کی برکات اسی سے ہیں، کیونکہ وہ زمین بھی ہے اور آسمان بھی، چنانچہ انبیاء و اولیاء علیہم السّلام کی روحانی پرواز وہاں تک ہوتی ہے (۲۱: ۷۱)۔

 

سوال۔ ۱۲: خداوندِ عالم نے حضرتِ سلیمان کے لئے ایسے شیاطین (جنّات) کو بھی تابع بنا دیا تھا جو معماری اور غواصی کا کام کرتے تھے (۳۸: ۳۷) آیا اس میں کوئی تاویلی حکمت ہے؟ اگر ہے تو بیان کریں۔ جواب: جی ہاں، اس میں زبردست تاویلی حکمت پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ جب انسانِ کامل جہادِ اکبر میں کامیاب ہو جاتا ہے، اور اس کی ذاتی قیامت برپا ہو جاتی ہے تو اس وقت شیاطین مغلوب ہو کر تابع ہو جاتے ہیں، وہ بحرِ روحانیت میں غواصی کی خدمات انجام دیتے ہیں اور عالمِ شخصی میں معماری وغیرہ کا کام کرتے رہتے ہیں۔

 

سوال۔ ۱۳: کیا یہ بات درست ہے کہ قرآنِ حکیم نے فرعون کوکبھی مَلِک (بادشاہ) نہیں کہا؟ آیا ہم اسی صورتحال کی دلالت سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآنِ پاک نے کافروں کے شاہانِ باطل کو ردّ کر دیا ہے؟۔ جواب: جی ہاں، یہ بات حقیقت ہے کہ حضرتِ موسیٰ اور فرعون کے قصۂ قرآن میں ۷۴ دفعہ فرعون کا نام آیا ہے، لیکن اس سارے قصے میں جو سب سے طویل ہے، کسی طرح سے بھی لفظِ مَلِک اس کے لئے نہیں آیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کسی کافر کا خود کو بادشاہ سمجھنا، یہ اُس کا گمان یا دعویٰ ہے، مگر حقیقت نہیں۔

۱۷۵

سوال ۔ ۱۴: یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، جس کے لئے مزید سوال و جواب کی ضرورت ہے، لہٰذا آپ یہ بتائیں کہ سورۂ یوسف میں پانچ مرتبہ جس بادشاہ کا ذکر آیا ہے وہ کون ہے؟ سورۂ نمل (۲۷: ۳۴) میں جن بادشاہوں کا تذکرہ ہوا ہے وہ کون ہیں؟ اور سورۂ کہف (۱۸: ۷۹) میں جس مَلِک کا بیان ہے، وہ کون ہے؟۔ جواب: سورۂ یوسف میں جس مَلِک کا ذکر ہوا ہے وہ تاویلاً امامِ مستقر ہے، جس کے زمانے میں حضرتِ یوسف امامِ مستودع تھا، ایسے میں امامِ مستقر خاموش رہتا ہے، سورۂ نمل میں حضراتِ أئمّہ کے بارے میں یہ بیان ہے کہ وہ اپنے عاشقوں کے عالمِ شخصی کو فتح کر لیتے ہیں، سورۂ کہف میں بھی امامِ عالی مقام ہی کا ذکرِ جمیل ہے، کہ وہ حجّتوں کی روحانی کشتی کو کبھی خود استعمال کرتا ہے اور کبھی ان کو دیتا ہے، مساکین حجّج ہیں، اگر تخت بر آب بنانے کے لئے کسی کی کشتی چھین لی جاتی ہے تو یہ اس شخص کی بہت بڑی سعادتمندی ہے۔ الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

جمعہ ، ۲۶ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ، یکم اگست ۱۹۹۷ء

۱۷۶

حضرتِ ربّ العزّت کی تجلّیات

 

۱۔ تجلّیٔ حق در آئینۂ موسیٰؑ:

یعنی حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کے آئینۂ باطن میں حق سبحانہ و تعالیٰ کی تجلّی کا بیان، سب سے پہلے یہ اُصولی بات یاد رہے کہ انسان کی خود شناسی اور خدا شناسی کے لئے جتنے بھی روحی اور عقلی معجزات ضروری ہیں وہ سب کے سب صراطِ مستقیم پر مربوط اور سلسلہ وار (ترتیب وار) ہیں، لہٰذا ہم یقین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگرچہ ظاہراً انبیائے قرآن کے معجزے الگ الگ بیان ہوئے ہیں،لیکن حقیقت میں سلسلۂ معجزات از اوّل تا آخر ایک ہی ہے، جس کو تمام انبیاء و اولیاء (أئمّہ) علیہم السّلام کے بعد عارفین و سالکین بھی دیکھ سکتے ہیں۔

 

۲۔ آپ مکمل آیۂ شریفہ اور ترجمۂ سورۂ اعراف (۷: ۱۴۳) میں پڑھ لیں، ہم یہاں اس کی صرف ایک حکمت بیان کرتے ہیں کہ جب حضرتِ موسیٰؑ کی روحانی قیامت برپا ہوئی اور اسرافیل وعزرائیل اپنا اپنا کام کرنے لگے تو اُس حال میں ربّ العزّت نے حضرتِ موسیٰؑ کے کوہِ روح پر اپنی تجلّی ڈالی، تو روح کا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر بے شمار ذرّات میں بکھر گیا،

۱۷۷

اور جبلِ روح کا ہر ذرّہ تجلیٔ حق کا دائمی آئینہ بن گیا، موسیٰؑ کی روح اب روحوں کی ایسی کائنات بن گئی جس میں ہر سو تجلّی ہی تجلّی تھی، اس وقت حضرت موسیٰؑ کو نفسانی موت کا مکمل تجربہ بھی حاصل ہوا، کیونکہ صَعِقَ کے معنی ہیں: وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا، وہ مر گیا، میرے نزدیک دوسرے معنی نفسانی موت کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہیں، کیونکہ جو شخص بے ہوش ہو جاتا ہے وہ کچھ دیکھ نہیں سکتا، جب کہ اس آیت کے مطابق خدا نے موسیٰؑ کو یہ حکم دیا تھا کہ پہاڑ کی طرف دیکھتے رہنا، پس یقیناً نفسانی موت اگرچہ بڑی سخت چیز ہے، لیکن اس میں بے ہوشی نہیں ہے، کیونکہ وہ مشاہدہ اور معرفت کی غرض سے ہے۔

 

۳۔ تجلّیٔ دوم بر کوہِ عقل:

بیانِ بالا سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگرچہ حضرتِ موسیٰؑ کو بظاہر دیدار نہیں ہوا، لیکن ان کی روح تجلّیاتِ حق میں مستغرق ہوئی تھی، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عاشقانِ الٰہی کی روح کو ہر گریہ و زاری میں دیدارِ روحانی ہوسکتا ہے، در حالے کہ ان کو پتا بھی نہ ہو، اب حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کے بارے میں عرض ہے کہ ان کو کوہِ عقل پر سب سے اعلیٰ دیدار ہوا، اس رؤیت (دیدار) میں علم و معرفت کے جملہ اشارے جمع ہوتے ہیں، سرتاسر قرآن میں اسی دیدار کی علمی تجلیات ہیں، یہی دیدارِ پاک کنزِ مخفی ہے، جس کے حصول کی غرض سے عارف کی روحانی اور عقلی تخلیق ہوتی ہے۔

۱۷۸

۴۔ تجلّیٔ حق در آسمان و زمینِ عالمِ دین:

جیسا کہ سورۂ نور (۲۴: ۳۵) میں ہے: اللہ نور السمٰوٰت و الارض = حق تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ قرآن اور اسلام کی نظر میں سورج، چاند، اور ستارے نہ تو خدا ہیں، اور نہ ہی اس کے نور کے مظاہر ہیں، بلکہ یہ اللہ کی ظاہری مخلوقات میں سے ہیں، آپ ان کو دیگر بہت سی چیزوں کی طرح صرف مظاہرِ قدرت کہہ سکتے ہیں، اور ان کے بارے میں سب سے ضروری بات تو یہ ہے کہ ظاہری آفتاب، ماہتاب، اور ستارے اس حقیقت کی روشن مثالیں ہیں کہ عالمِ دین میں بھی شمس، قمر، اور انجم ہیں، جو ناطق، اساس، امام اور ذیلی حدود ہیں، لیکن ظاہری روشنی اور نورِ باطن کے درمیان بے پایان فرق ہے۔

 

۵۔ اب آپ کو یہ سرِعظیم جاننا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ عارف کی روحانی قیامت میں کائنات کو لپیٹ لیتا ہے تو وہ کون سی کائنات ہے؟ اور اس سمیٹی ہوئی کائنات کو کہاں رکھتا ہے؟ اس کا درست جواب یہ ہے کہ عالمِ ظاہر ہمیشہ اپنی جگہ پر قائم ہے خدا تو عالمِ باطن یعنی عالمِ دین کو لپیٹ کر عالمِ شخصی میں محدود کردیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ تجلّیاتِ معرفت کے تمام ضروری آئینے عارف کے سامنے ہوا کرتے ہیں، مثلاً آئینۂ ازل و ابد، آئینۂ آدم ، آئینۂ نوح، آئینۂ ابراہیم وغیرہ۔

۱۷۹

: ۶۔ تجلّیٔ حق در آسمان و زمینِ عالمِ شخصی

سورۂ حدید (۵۷: ۳) میں ارشاد ہے: ھوالاوّل و الاٰخر والظاہر و الباطن و ھو بکل شیءٍ علیم = وہی اوّل بھی ہے اور آخر بھی، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اگرچہ خدا کی کوئی اوّلیت و آخریت نہیں، لیکن عارف کے عالمِ شخصی کے پیشِ نظر وہی اوّل و آخر ہے، اور وہی اسی عالمِ شخصی میں ظاہر، نورِعیان، اور متجلّی ہے اور وہی اسی میں مخفی ہے۔

 

۷۔ مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ میں آپ دیکھتے ہیں کہ الظّاہر اللہ تعالیٰ کے اسمائے صفات میں سے ہے، اور تجلّٰی ربہ للجبل (اس کا ربّ پہاڑ کے لئے ظاہر ہوا، ۷: ۱۴۳) کا تعلق اسی اسمِ مبارک سے ہے، پس عالمِ شخصی کے آسمان و زمین میں نورِ خدا کے ظہورات و تجلّیات کے ہونے میں کوئی شک ہی نہیں، جبکہ وہ النور بھی ہے، پس میرا ایمان اور یقین یہ ہے کہ سب سے اوّلین دیدار اسی دنیا میں ہے، لیکن اس کی ایک بہت بڑی شرط بھی ہے، وہ یہ ہے کہ ہر مومنِ سالک جسمانی موت سے قبل نفسانی طور پر مر جاتا ہے، تا کہ وہ راہِ روحانیت کے ہر قدم پر ظہورات و تجلّیات کو دیکھ سکے۔

 

۸۔ اپنے بے حد پیارے متعلمین سے سوال:

اے رفیقان و عزیزانِ من! بعض قسم کے سوالات بحث و مناظرہ اور آزمائش

۱۸۰

کی غرض سے نہیں ہوتے، بلکہ تقریر و تحریر کو منظم ، دلکش، قابلِ توجہ، آسان ، اور دل نشین بنانے کی خاطر ہوتے ہیں، چنانچہ میں بسا اوقات ایسے سوال و جواب کے لئے کوشش کرتا ہوں، پس اے عزیزان! میں بصد خلوص و محبت آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ انسان عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) ہے، تو اس کی روحانی، عقلانی، اور عرفانی روشنی کے لئے کوئی عظیم الشّان شمس یا نور موجود ہوگا یا نہیں؟ یقیناً آپ اپنے انمول ذخیرۂ علمی سے یہ جواب دیں گے کہ ہاں، عالمِ شخصی میں نور ضرور ہوگا، کیونکہ سورج (نور) کے سوا کسی عالم کا کوئی تصور ہی نہیں، تو میں کہتا ہوں کہ بالکل درست اور بجا ہے، عالمِ شخصی کے لئے جو خورشیدِ انور ہے، وہ بے مثال ہے، وہ کسی شک کے بغیر خدائے بزرگ و برتر کے نورِ اقدس کا مظہر ہے، اس لئے اس کی تعریف و توصیف کو احاطۂ تحریر میں محدود کرنا ہم جیسے کمزور انسانوں کے لئے محال ہے۔

 

۹۔ اوّل، آخر، ظاہر، اور باطن کی ایک تاویل:

یہ کہیں دور کی بات ہرگز نہیں، بلکہ عالمِ شخصی ، جبین اور احاطۂ مقدّس ہی کا ایک رازِ سربستہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے کل علمی و عرفانی اشیاء کو امامِ مبین کے نور میں اس طرح گھیر کر رکھا ہے کہ کوئی چیز اس پرحکمت جامع الجوامع سے باہر نہیں، حتّیٰ کہ یہاں ازل و ابد بھی ساتھ ساتھ چشمِ بصیرت کے سامنے موجود ہیں، اب اس مقام

۱۸۱

پر درجِ بالا چار اسماء کی تاویل اس طرح سے ہے: (الف) اسمِ اوّل: اس معنیٰ میں ہے کہ ازل نور کے ساتھ ہے (ب) اسمِ آخر: بمعنیٔ آنکہ ابد نور کے ساتھ ہے (ج) اسمِ ظاہر: بہ این معنیٰ کہ نور اس جگہ بار بار طلوع ہوتا رہتا ہے (د) اسمِ باطن: بہ این وجہ کہ نور یہاں بار بار غروب ہوتا رہتا ہے۔

 

۱۰۔ مجھے حضرتِ امامِ عالی مقام علیہ السّلام کے علمی معجزات کو بیان بھی کرنا ہے، اور ڈرنا بھی ہے کہ کہیں ہم سے ناشکری اور ناقدری نہ ہو جائے، اے کاش! اے کاش! ہم مثلِ طفلِ شیر خوار یا مانندِ ابرِنوبہار بڑی آسانی سے آنسو بہا سکتے! اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

منگل ۳۰ ربیع الاول ۱۴۱۸ھ ، ۵ اگست ۱۹۹۷  ء

۱۸۲

تاویلی سوالات

 

۱۔ س: سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۱۰۱) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کونو کھلے معجزے عطا کئے تھے، آپ ہمیں بتائیں کہ وہ معجزات کیا کیا تھے؟۔ ج: وہ معجزات قرآنی ارشاد کے مطابق یہ ہیں: عصا (۷: ۱۰۷)، یدِ بیضا (۷: ۱۰۸)، قحط، پھلوں کی کمی (۷: ۱۳۰)، طوفان، ٹڈیاں، چچڑیاں، مینڈک، اور خون (۷: ۱۳۳)۔

 

۲۔ س: عصائے موسیٰ کس چیز کی مثال ہے؟ یدِ بیضا کی کیا تاویل ہے؟ قحط اور پھلوں کی کمی سے کیا مراد ہے؟ طوفان، ٹڈیاں، چچڑیاں، مینڈک اور خون کس طرح معجزات میں شمار ہوسکتے ہیں؟۔ ج: عصا بیک وقت چار چیزیں ظاہر کرتا ہے: اساس جو حضرتِ ہارونؑ تھا، اسمِ اعظم، روحانیت، اور علم، یدِ بیضا گوہرِعقل کا معجزہ ہے جو اپنے وقت میں ہر نبی اور ہر ولی کو حاصل ہوتا ہے، قحط اور پھلوں کی کمی کا اشارہ ہے کہ جو لوگ ہادیٔ برحق کو نہیں مانتے ہیں وہ روحانی قحط میں مبتلا ہو جاتے ہیں، یاد رہے کہ معجزہ دو قسم کا ہوتا ہے: معجزۂ رحمت، اور معجزۂ

۱۸۳

عذاب، چنانچہ حضرتِ موسیٰؑ کے بعض معجزات میں عذاب تھا تا کہ اہلِ انکار کو ڈرایا جائے۔

 

۳۔ س: عصائے موسیٰ اژدہا یعنی بہت بڑا سانپ بن جاتا تھا، اس میں کیا راز ہے؟ دوسرے جانوروں کو چھوڑ کر سانپ میں ایسی خوبی کی کون سی بات ہے؟۔ ج: لمبی بے جان لاٹھی سے لمبا جاندار اژدہا بن جانا بہت بڑا معجزۂ مناسبت ہے، اور سانپ جس طرح پیروں کے بغیر دراز ہو کر چلتا ہےاور جیسے کنڈلی مار کر بیٹھتا ہے وہ صرف اسی کا خاصہ ہے، پس اس معجزے میں ان حکمتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے: (الف) اسمِ اعظم شروع شروع میں عصائے موسیٰ کی طرح بے حس و بے حرکت ہوتا ہے، پھر علم وعمل اور سخت ریاضت سے اژدہا کی طرح ہوتا ہے تاکہ آفتوں ، بلاؤں، مخالفتوں ، اور عداوتوں کو نگل سکے، (ب) اسمِ اعظم سانپ کی طرح پیٹ کے بل بھی چلتا ہے (یمشی علیٰ بطنہ،۲۴: ۴۵) یعنی باطنی طور پر چلتا ہے، (ج) روحانیت اور علم کا اژدہا جب روان دوان ہو تو بہت ہی طویل ہوجاتا ہے، لیکن جب کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے تو محدود ہو جاتا ہے (ج) اسمِ اعظم کا علمی اژدہا دنیا والوں کے ہرعلم کو نگل لیتا ہے، اور اس کا عالمِ شخصی کائنات کو بھی نگل لیتا ہے۔

 

۴۔ س: انبیائے قرآن علیہم السّلام کے معجزات کی معرفت ممکن ہے یامحال؟ اگر ممکن ہے تو حاصل کرنے کا طریقِ کار کیا ہے؟ اگر محال ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟

۱۸۴

ج: یہ معرفت ممکن ہے، اور طریقِ حصول وہی ہے جو خود شناسی اور خدا شناسی کے لئے مقرر ہے، پس عارف اپنے عالمِ شخصی میں پیغمبروں کے معجزات کو دیکھتا ہے اور تصدیق کرتا ہے، اور یہی ہے ناطقوں، اساسوں، اماموں اور حجّتوں کے ساتھ ہو جانا (۴: ۶۹)۔

 

۵۔ س: معجزۂ یدِ بیضا کی جو تاویل ہے، اس کی وضاحت کریں۔ ج: یہ تو انتہائی راز کی بات ہے کہ ہر نبی، اس کے پیچھے پیچھے ہر ولی، اور اس کے نقشِ قدم پر چل کر ہر عارف گوہرِ مقصود یعنی گوہرِعقل کو ہاتھ میں لیتا ہے، یہ ہوا کتابِ مکنون کوچھونا، یدِ بیضا کا معجزہ کرنا ، وغیرہ، اب ایسے انسانِ کامل کا علم بھی غیر معمولی ہوگا، پس حضرتِ موسیٰؑ کے معجزۂ یدِ بیضا کے دو معنی ہوئے: باطن میں گوہرِعقل کو ہاتھ میں لینا، جس کے بے شمار معنی ہیں، اور ظاہر میں غیر معمولی علم بیان کرنا۔

 

۶۔ س: قصۂ یونس علیہ السّلام کے بارے میں پوچھنا ہے کہ آیا اس کا کوئی باطنی پہلو بھی ہے؟ اگر ہے تو بیان کریں۔ ج: یقیناً اس کا تاویلی پہلو ہے، وہ یہ کہ حضرتِ یونسؑ کو روحانیت کی سب سے بڑی مچھلی نے نگل لیا تھا، یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم میں مچھلی کے لئے اسمِ معرفہ آیا ہے، یعنی النون (۲۱: ۸۷)، الحوت (۳۷: ۱۴۲) اسی مچھلی نے ان کو عالمِ شخصی کے سب سے بلند ترین مقام پر اُگل دیا اور یہاں ان کو معراج ہوئی۔

 

۷۔ س: سورۂ آلِ عمران (۳: ۵۹) میں ہے: (ترجمہ)عیسیٰ کی مثال خدا کے نزدیک آدم کی سی ہے، جسے خدا نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس

۱۸۵

سے کہا ہوجا تو وہ فوراً ہوگیا۔ اس کی حکمت کس طرح سے ہے؟۔ ج: اللہ تعالیٰ عمل میں بھی اور علم میں بھی لوگوں کو آزماتا رہتا ہے، تا کہ ان کو درجات میں بڑھا دیا جائے، چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح حضرتِ عیسیٰؑ کے والدین تھے، اسی طرح حضرتِ آدمؑ کے بھی والدین تھے، آدم و عیسیٰؑ کی جسمانی تخلیق غیر معمولی نہ تھی، اللہ نے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح مٹی سے پیدا کیا، بعد ازان ان کی روحانی تخلیق انبیاء و اولیاء علیہم السّلام ہی کی طرح شروع ہو کر مرتبۂ عقل پر مکمل ہوئی، جہاں کُن (ہو جا) کا اطلاق ہو جاتا ہے۔

 

۸۔ س: اس دن تیرے پروردگار کے عرش کو آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھا لیں گے (۶۹: ۱۷) اس کی کچھ حکمتیں بیان کریں۔ج: یہاں عرش سے نورِعقل مراد ہے جو سرچشمۂ علم و حکمت ہے، یہ نور جو خدا کے علم و حکمت کا تخت ہے، قبلاً سات اماموں کی وحدت پر قائم ہوتا ہے، لیکن جب کسی عارف کی ذاتی قیامت برپا ہو جاتی ہے، تو اس وقت وہ بھی اسی وحدت کے ساتھ مل جاتا ہے، اور اسی طرح حاملانِ عرش آٹھ ہو جاتے ہیں، یہ عالمِ شخصی کا قصّہ ہے۔

 

۹۔ س: سورۂ ابراہیم (۱۴: ۲۵) میں ایک پاک کلمہ اور ایک پاک درخت کا ذکر آیا ہے، وہ کیا ہیں؟ ۔ ج: پاکیزہ کلمہ امامِ زمان کا وہ نور ہے جو عالمِ شخصی میں اسماء ُ الحسنیٰ اور کلماتِ تامّات کی صورت میں اپنا کام کرتا ہے، اور پاک درخت (شجرۂ طیبہ) محمد و أئمّۂ آلِ محمد ہیں (صلی اللہ علیہ

۱۸۶

و علیہم اجمعین) اس پاکیزہ درخت کی جڑ جو عالمِ دین کی زمین میں مضبوط ہے وہ حضورِ اکرمؐ ہیں، اور شاخ جو عالمِ عُلوی میں پہنچی ہے وہ امامِ وقت ہیں، آپ اس سرِاعظم کو جانتے ہوں گے کہ انفرادی عالمِ عُلوی جبین میں ہے۔

۱۰۔ س: سورۂ فرقان (۲۵: ۳۰) میں ہے: اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ اس آیۂ شریفہ کی تفسیر میں بین العلماء اختلاف ہے، بعض کا قول ہے کہ خداوندِ عالم کے حضور میں رسولِ اکرمؐ کی یہ شکایت صرف کافروں کے خلاف ہے، جبکہ بعض کہتے ہیں کہ یہ آیۂ کریمہ مسلمانوں کے بارے میں ہے، اس میں آپ کیا کہتے ہیں؟۔ ج: قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کا بے مثال کلام ہے، یہ آسمانی حکمتوں سے لبریز ہے، یہ اسرارِ الٰہی سے مملو ہے، یہ روحانیت و عقلانیت کا وہ بحرِعمیق ہے، جو درّرِ گرانمایہ سے بھرا ہوا ہے، لہٰذا نورِمنزل (۵: ۱۵) کے بغیر قرآنِ پاک کے جتنے حقوق ہیں، ان کی ادائیگی محال ہے۔

 

۱۱۔ س: کیا آپ نے جثۂ ابداعیہ کو دیکھا ہے؟ اگر دیکھا ہے تو وہ کیسا ہے؟ اس کی بعض خصوصیات بیان کریں۔ج: یقیناً میں نے جثۂ ابداعیہ کو دیکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے عجائب وغرائب کا مظہر ہے، دراصل وہ بہت کچھ ہے، بلکہ سب کچھ ہے، وہ مجموعۂ اسرارِ معرفت ہے، وہ مرئی بھی ہے اور غیر مرئی بھی، وہ جنّ و انس بھی ہے اور

۱۸۷

فرشتہ بھی، کیونکہ وہ کائنات کا خلاصہ اور جوہر ہے، اگر آپ ایک ہی چیز کا جوہر نکالتے ہیں تو اس میں ایک ہی خصوصیت ہوا کرتی ہے، اگر چند چیزوں کا جوہر ہے تو اس میں صرف چند خصوصیات موجود ہوتی ہے، لیکن جہاں جوہرِ کائنات ہو تو وہاں کیا نہیں ہے، پس ایک ہی وجودِ لطیف میں انسانِ کبیر، انسانِ صغیر، روح، ارواح، جنّ (پری)، فرشتہ، لشکرِ روحانی وغیرہ وغیرہ کے ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے۔

 

۱۲۔ س: الاتقان، حصۂ اوّل میں قرآنِ پاک کے ۵۵ نام درج ہیں، ان ناموں میں مبین، مبارک، نور، روح، ذکر اور شفا بھی ہیں، آپ قرآنِ عظیم کے ان اسماء کی حکمت بتائیں۔ ج: مبین کے معنی ہیں: ظاہر، واضح، اور بیان کرنے والا، مگر اس کی لازمی شرط نورِ منزل کی روشنی ہے (۵: ۱۵) کیونکہ اللہ کا نور اور قرآن ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، مبارک کے معنی ہیں: وہ شیٔ جس میں خدا کی طرف سے بہت سی برکتیں ہوں، یہ قرآن کی صفت ہے، قرآن رسولِ اکرم کی پاک و پاکیزہ شخصیت ہی میں نور تھا، اور أئمّۂ اطہارِ آلِ محمد کے سلسلے میں بھی حسبِ دستور قرآن نور تھا، اور اب بھی یہ اسی سلسلے میں نور ہی ہے، اسی طرح قرآن ہادیٔ برحق میں زندہ روح ہے جو نور کے معنی سے الگ نہیں، ذکر کے معنی ہیں: نصیحت ، یادِ الٰہی، رسول، اہلِ ذکر، پس قرآن ان تمام معنوں کے ساتھ ہے، اور قرآن چونکہ نور کے ساتھ ہے، اس لئے علی الخصوص روح اور عقل کی کل بیماریوں کے لئے شفا اور دوا ہے،

۱۸۸

الحمد للہ ربّ العالمین۔

 

۱۳۔ س: سورۂ مریم کے ایک ارشاد (۱۹: ۷۱ تا ۷۲) کی تفسیر میں اختلاف ہے، بعض علماء کہتے ہیں کہ دوزخ کے اوپر جو پُل ہے، اس سے اہلِ ایمان کو گزر جانا ہے اور بعض کا قول ہے کہ سب کو ایک بار دوزخ میں اتر جانے کا قانون ہے، اس میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟ ۔ج: آپ ان دونوں آیتوں کو لفظ بلفظ غور سے پڑھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ مصلحت اور حکمتِ خداوندی اسی میں ہے کہ سب کو ایک بار دوزخ میں وارد ہونا (اترنا) ہے، پھر بعض کو جلدی نجات ملے گی، اور بعض کو تاخیر سے۔

 

۱۴۔ س: سورۂ بقرہ ، آیت ۳۰ کے حوالے سے سوال ہے : اللہ تعالیٰ نے حضرتِ آدم علیہ السّلام کو جس زمین میں اپنا خلیفہ (نائب) بنایا تھا، آیا وہ صرف یہی زمین ہے جس پر ہم بس رہے ہیں؟ یا کوئی اور زمین بھی ہے؟ جیسے عالمِ دین کی زمین؟ ستاروں کی زمین؟ کائناتی یا عالمِ کبیر کی زمین؟ عالمِ شخصی یا عالمِ صغیر کی زمین؟ نفسِ کلّی کی زمین؟۔ ج: یہ زمینِ نفسِ کلّی ہے، جس میں نہ صرف ہر زمین شامل ہے، بلکہ ہر آسمان بھی داخل ہے، کیونکہ وہ اللہ کی کرسی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: وسع کرسیہ السمٰوات و الارض (۲: ۲۵۵) اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو (اپنے اندر) سما لیا ہے۔ پس حضرتِ آدم علیہ السّلام کو اللہ جلّ جلالہ

۱۸۹

نے اپنی ساری خدائی میں خلافت عطا کی تھی۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

پیر ۲۰ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ ، ۲۵ اگست ۱۹۹۷ء

۱۹۰

قرآنی سائنس اور کائنات

 

۱۔ قرآنِ پاک کا پر از حکمت ارشاد ہے: فاقم وجھک للدین حنیفا فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللہ ذالک الدین القیم و لٰکن اکثر الناس لا یعلمون (سورۂ روم، ۳۰: ۳۰) آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس آیۂ شریفہ کے پانچ اجزاء ہیں، ان سے متعلق چوٹی کا مفہوم یا جبینی حکمت = روحانی سائنس یہ ہے: جزوِ اوّل: (اے رسول، اے ولی، اے عارف) تم حظیرۂ قدس میں اپنا چہرۂ عقل و جان دینِ حنیف (یک حقیقت) کے لئے قائم کرو۔

 

۲۔ جزوِ دوم: فطرت کے معنی ہیں: صورتِ رحمان، دینِ حق، آفرینشِ ازل، یک حقیقت، اور قانونِ فطرت، پس جزوِ دوم کے جبینی اسرار یہ ہیں: اللہ کی آفرینشِ ازل وہ ہے جس کے مطابق اُس نے تمام لوگوں کو پیدا کیا۔ یعنی خلاق ُ العلیم کی آفرینش عالمِ علوی میں بھی ہے اور عالمِ سفلی میں بھی، اور دونوں میں اصولی

۱۹۱

موافقت ہے، تا کہ ہر شخص دینِ حنیف کے ارشادات پر عمل کر کے خزانۂ جبین میں داخل ہو سکے۔

 

۳۔ جزوِ سوم: اللہ کی ظاہری اور باطنی آفرینش (تخلیق) میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یعنی دائرۂ اعظم میں اگرچہ ذیلی طور پر بے شمار تبدیلیاں ہیں، لیکن کلّی طور پر دیکھا جائے تو کوئی تبدل و تغیر نہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی صفتِ خلاقیت ہمیشہ ہمیشہ کسی تبدیلی کے بغیر اپنا کام کر رہی ہے، اور اس کام کی ابتداء و انتہا ممکن ہی نہیں، کیونکہ خدا کی بادشاہی قدیم (ہمیشہ) ہے۔

 

۴۔ جزوِ چہارم: قاموس القرآن میں لفظِ القیم کے یہ معنی ہیں: قائم رکھنے والا، نگرانی کرنے والا، سیدھا، صحیح، قیام سے ۔۔۔، پس جزوِ چہارم کا مفہوم ہے: یہی حضرتِ قائم القیامت کا دین ہے۔ جس کا تعارف مذکورہ آیۂ شریفہ میں موجود ہے، جس کی وضاحت کی گئی۔

 

۵۔ جزوِ پنجم: لیکن اکثر لوگ دینِ حق کے ان بھیدوں کو نہیں جانتے ہیں (جن کا یہاں ذکر ہوا)۔ پس انسان بہشت میں ہمیشہ ہمیشہ موجود ہے، یہ راز آپ کو قرآنِ حکیم کے بہت سے الفاظ میں مخفی طور پر ملے گا، مثلاً غلمان، جو بہشت کے ابدی نوجوان لڑکے ہیں، وہ ابدی بھی ہیں اور ازلی بھی، یہ کون ہیں؟ یہ کس کے زندہ اور معجزانہ لباس ہیں کہ جو بھی ان کو پہن لے تو اس

۱۹۲

کو یہ کامل یقین ہو جاتا ہے کہ وہ بہشت سے کبھی باہر نہیں آیا؟ یہ لباس آپ کے لئے ہیں، اور سب کے لئے ہیں۔

 

۶۔ اب ہم مذکورہ آیۂ فطرت کی روشنی میں کائناتِ ظاہر سے متعلق کچھ حقائق و معارف بیان کریں گے کہ ستارے اور لوگ ایک ہی قانونِ فطرت کے تحت پیدا کئے گئے ہیں، چنانچہ اس عالمی صورتِ حال میں بڑا حکمت آگین سبق ہے کہ دنیا کے تمام انسان کیوں ایک ہی ساعت اور ایک ہی دن میں پیدا نہیں ہوئے ہیں؟ سب کی طبیعی موت ایک ساتھ کیوں نہیں آتی ہے؟ یہی تو قانونِ فطرت کا زبردست اشارہ ہے کہ اسی طرح ستارے بھی دفعۃً (یکبارگی) وجود میں نہیں آئے، اور نہ ہی وہ ایک ساتھ فنا ہو جاتے ہیں، بلکہ آدمیوں ہی کی طرح ان میں بھی پیدائش اور موت کا لا ابتداء و لا انتہاء سلسلہ جاری ہے۔

 

۷۔ قرآنِ حکیم میں کائناتی قوانین یا کلّیات ہیں، جن کی روشنی میں کائنات کی ہر چیز کی معرفت ہو جاتی ہے، جیسے کلّیۂ آب کے بارے میں ارشاد ہے: و جعلنا من الماءِ کل شیءٍ حیٍ (۲۱: ۳۰) اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ یعنی مادّی پانی سے ظاہری زندگی بنتی ہے، اور روحانی پانی (علم) سے حقیقی حیات ملتی ہے، پس شروع شروع میں جب سیّارۂ زمین پر پانی کی برکت پیدا نہیں ہوئی تھی (۴۱: ۱۰) تو اس وقت یہ زمین ہنوز زندہ نہیں ہوئی

۱۹۳

تھی، اور زمانہائے دراز کے بعد جب سیارۂ زمین کے تمام آبی ذخائر (سمندر وغیرہ) ختم ہو جائیں گے (۱۸: ۷ تا ۸، ۲۳: ۱۸) اس وقت جملہ بناتات اور حیوانات نیست و نابود ہو جائیں گے، مگر انسان تب تک روحانی سائنس کی مدد سے نورانی قالب میں منتقل ہوکر کسی اور سیارے پر جا چکا ہو گا (ملاحظہ ہو: ہزار حکمت: قالب) کیونکہ قرآن فرماتا ہے: کہ تم طبقاتِ کائنات پر ضرور چڑھو گے (۸۴: ۱۹)۔

 

۸۔ س: آپ نے اپنی ایک کتاب ’’عملی تصوف اور روحانی سائنس‘‘ میں سورج کے وجود کے بارے میں زبردست مفید انکشافی بحث کی ہے، یہاں آپ یہ بتائیں کہ کائنات میں کوئی سیّارہ یا ستارہ کس طرح وجود میں آتا ہے؟ آیا اس باب میں قرآنِ حکیم کا کوئی اشارہ موجود ہے؟ اگر موجود ہے تو بتائیں۔ج: سورۂ انبیاء (۲۱: ۳۰) میں ارشاد ہے: کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ یعنی اب زمین کے جتنے ذرّات ہیں، وہ سب کے سب پہلے آسمان میں بکھرے ہوئے تھے، پس خدا کے حکم سے زمین کے لئے جو روح مقرر ہوئی، اُس نے رفتہ رفتہ تمام ذرّاتِ منتشر کو اپنے لئے جمع کرلیا، اور یہی قانونِ فطرت تمام اجرامِ سماوی کے لئے معین ہے۔ الحمد للہ۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

اسلام آباد

اتوار ، ۲۶ ربیع الثانی ۱۴۱۸ھ، ۳۱ اگست ۱۹۹۷ء

۱۹۴

کائناتی سائنس

سیارۂ زمین کی روح

 

لفظِ کائنات کی تحلیل:

الکون (مصدر) ہونا، الکائن، ہونے والا واقعہ، الکائنۃ (مؤنث) حادثہ، واقعہ جس کی جمع ہے کائنات، بمعنیٔ موجودات، نیز الکون کے معنی ہیں: کائنات، عالمِ وجود، جیسے کہتے ہیں: کونین، دونوں جہان، ہر دوعالم، دین و دنیا، ہر دو سرا۔ پس کائنات کے معنی میں غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ہمیشہ بحکمِ خدا حادثات (جدید اشیاء) واقعات، اور تخلیقات کا لاابتداء و لا انتہا سلسلہ جاری ہے۔ اب ہم ذیل میں سیّارۂ زمین کی روح کے ثبوت میں چند قرآنی دلائل پیش کرتے ہیں:

 

پہلی دلیل: یقیناً زمین کی اپنی ایک مخصوص روح ہے، جس کی وجہ سے اس کے بے شمار اجزاء و ذرّات کروی شکل میں

۱۹۵

مرکوز، مجتمع، اور یکجا ہیں، اس کی مثال آدمی کی سی ہے کہ جب تک انسان زندہ ہے، تب تک اس کا وجود قائم و برقرار رہتا ہے، لیکن جس وقت اس کی روح قالب کو چھوڑ جاتی ہے، تو اس حال میں قالب رفتہ رفتہ بوسیدہ، ریختہ اور منتشر ہو جاتا ہے، چنانچہ ہماری زمین فی الوقت بفضلِ الٰہ زندہ ہے، اور جب یہ خدا کے عظیم الشّان پروگرام کے مطابق مرنے کے قریب ہو جائے گی تو اُس حال میں سب سے پہلے بتدریج سارا پانی ختم ہو جائے گا، جیسا کہ قرآنِ حکیم (۱۸: ۷ تا ۸، ۲۳: ۱۸) میں اس کا ذکر ہے۔

 

دوسری دلیل: قرآنی ارشاد ہے کہ : اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کا نورِ ہدایت ہے (۲۴: ۳۵) یعنی وہ ذاتِ سبحان جو مادّیت اور جسم سے پاک ہے آسمانوں اور زمین میں سے ہر ایک کی روح کے لئے نورِ ہدایت ہے، کیونکہ اللہ سب سے بڑا ہے (اللہ اکبر) لہٰذا خدائے پاک و برتر جہاں اشرف المخلوقات (انسان) کے لئے انبیاء و الیاء علیہم السّلام ہی کے توسط سے نور ہے تو وہاں یہ امر کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ حضرتِ ربّ العزّت بلا واسطہ پتھر اور مٹی (زمین) کا نور ہو، مگر ہاں یہ بات درست اور حقیقت ہے کہ اللہ جلّ جلالہ روح الارض کا نورِ ہدایت ہے۔ پس اس روشن دلیل سے ثابت ہوا کہ زمین کی ایک بہت بڑی روح ہے۔

 

تیسری دلیل: سورۂ ذاریات (۵۱: ۲۰ تا ۲۱) میں بنظرِ حکمت دیکھنے

۱۹۶

سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرتِ خدا کی جو جو نشانیاں اور معجزات انسان خصوصاً انسانِ کامل میں ہیں، وہی جملہ معجزات زمین کے ظاہر و باطن میں بھی ہیں، اس سے ظاہر ہوا کہ زمین عقل و جان کے بغیر نہیں ہے۔

 

چوتھی دلیل: یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی کوئی بات اور کوئی مثال ہرگز مہمل نہیں ہوتی، چنانچہ بعض منکرین کے بارے میں خداوندِ عالم نے اپنے رسول سے فرمایا: قل کونوا حجارۃً او حدیدًا =  (اے پیغمبر ان لوگوں سے ) کہو کہ تم پتھر یا لوہا بن جاؤ (یا کوئی اور چیز بن جاؤ جو تمہارے خیال میں بڑی سخت ہو، ۱۷: ۵۰ تا ۵۱) اس سے صاف طور پر یہ معلوم ہوا کہ پتھر ، لوہا، وغیرہ میں بھی اپنی نوعیت کی روح ہے، پھر یہ کہنا حقیقت ہے کہ زمین کی ایک عظیم کلّی روح ہے۔

 

پانچویں دلیل: سورۂ حدید (۵۷: ۲۵) میں ارشاد ہے: و انزلنا الحدید۔ اور ہم نے لوہا نازل کیا۔ یعنی لوہے کی روح نازل کی، جس نے بعض خاص مقامات پر مٹی یا پتھر سے لوہا بنایا، اس سے ہمیں یہ پتا چلا کہ جو چیزیں ظاہراً بے جان کہلاتی ہیں، ان میں بھی حسبِ ضرورت روح موجود ہوتی ہے، جیسے کوئی پہاڑ ہے، جس میں قیمتی پتھر وغیرہ بنتے ہوں تو ایسا پہاڑ زندہ ہے جس میں تخلیق و تکوین کا یہ عظیم کام خدا کے حکم سے روح ہی کرتی رہتی ہے، پس زمین کی روح ہے، جس کی وجہ سے پہاڑوں کی بھی روح ہے۔

۱۹۷

چھٹی دلیل: سورۂ لقمان (۳۱: ۱۶) میں یہ پرحکمت اشارہ موجود ہے کہ جب مومنِ سالک کی انفرادی اور نمائندہ قیامت برپا ہونے لگتی ہے تو اُس وقت بشکلِ ذرّات ہر طرف اور ہر مقام سے روحیں آ کر عالمِ شخصی میں جمع ہو جاتی ہیں، یہاں تک کہ چٹانوں (پہاڑوں)، آسمانوں ، اور زمین سے بھی طوفانِ ارواح اُمنڈتا ہے، اس سے یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ کوئی چیز روح کے بغیر نہیں۔

 

ساتویں دلیل: آیۃٔ الکرسی (۲: ۲۵۵) کی عظمت و بزرگی اور علوِّ شان دراصل اس کے بڑے بڑے اسرارِ معرفت کی وجہ سے ہے، آپ یہاں اس کے ان مبارک الفاظ کو غور سے دیکھیں: وسع کرسیہ السمٰوٰت والارض = اس کی کرسی نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے۔ یعنی نفسِ کلّی (روحِ اعظم = روح الارواح) کے بحرِ نورانیت میں ساری کائنات مستغرق ہے، جس کی مثال لوہے کے ایسے ٹکڑے کی طرح ہے جو دہکتے ہوئے انگاروں کے درمیان ہونے کی وجہ سے سرخ انگارا ہو چکا ہے، ایسے میں لوہے کا کوئی ذرّہ آگ ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا ہے، پس آسمان اور زمین کا ذرّہ ذرّہ خاموش روح کا مسکن ہے۔

 

آٹھویں دلیل: ’’قرآنی سائنس اور کائنات‘‘ کے مضمون میں جس طرح آیۂ فطرت (سورۂ روم ، ۳۰: ۳۰) کی حکمت درج ہوئی ہے، وہ بے حد ضروری ہے، جس کے مطابق کائنات اور انسان کی آفرینش میں

۱۹۸

بہت سی باتیں مشترکہ اور یکسان ہیں، سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ آدمی کا جسم ہے، جسم میں بے شمار خلیات ہیں، ہر خلیہ میں بہت سی روحیں رہتی ہیں، ان کھربوں بلکہ لاتعداد روحوں کی وحدت و سالمیت ہی کا نام روحِ انسانی ہے، پھر انسان کی عقل ہے، اسی طرح کائنات کا جسمِ کلّی ہے، اس کے ہر ذرّہ میں بہت سی روحیں موجود ہیں، ان کی کلیت نفسِ کل کا بحرِ محیط ہے، جو عقلِ کلّ کے تحت ہے، یہاں سے معلوم ہوا کہ سیّارۂ زمین دیگر اجرامِ سماوی کی طرح روحِ اعظم کے سمندر میں غریق (ڈوبا ہوا) ہے، جس کی مثال مچھلی کی سی ہے جو پانی میں پیدا ہوتی ہے، اور صرف اسی میں زندہ رہ سکتی ہے۔

 

نویں دلیل: سورۂ حدید (۵۷: ۴) میں دیکھ لیں: خدا ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے یا زمین سے خارج ہوتی ہے اور جو چیز آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جو چیز آسمان کی طرف بلند ہو جاتی ہے۔ یعنی روحیں زمین میں داخل بھی ہوتی ہیں، اور اس سے خارج بھی، آسمان سے ان کا نزول بھی ہوتا ہے، اور آسمان کی طرف عروج بھی، کیونکہ کائنات میں روحوں کی دائمی حرکت جاری ہے۔

 

دسویں دلیل: سورۂ مومنون (۲۳: ۱۲) میں ارشاد ہے: و لقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین = ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ اس آیۂ شریفہ کی حکمت بڑی عجیب و غریب ہے کہ اس میں انسان کی ایک مکمل تخلیق کا ذکر بھی ہے، اور

۱۹۹

ساتھ ہی ساتھ یہ تخلیق کا آغاز بھی ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسان ایک ہمہ گیر حقیقت ہے، چنانچہ یہ لطیف بھی ہے اور کثیف بھی، نوری بھی ہے اور خاکی بھی، عالمِ علوی میں بھی ہے اور عالمِ سفلی میں بھی، پس عالمِ سفلی کے اعتبار سے انسان مٹی کے جوہر سے پیدا ہوا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ زمین میں روح پوشیدہ ہے۔

 

گیارھویں دلیل: سورۂ نوح (۷۱: ۱۷) میں ہے: و اللہ انبتکم من الارض بناتاً = اور اللہ نے اُگایا تم کو زمین سے ایک طرح کا اُگانا۔ جیسا کہ ذکر ہوا کہ انسان ایک ہمہ گیر حقیقت ہے چنانچہ اس کی روحِ سفلی زمین سے اور روحِ علوی عالمِ بالا سے ہے۔

 

بارھویں دلیل: حدیثِ شریف ہے: ان لکل شیءٍ قلباً و قلب القراٰن یٰسٓ۔ بے شک ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۂ یاسین ہے (ہزار حکمت، ص ۷۱)۔ حضورِ اکرمؐ کا فرمایا ہوا ہر کلّیہ اور ہرارشاد بڑا زبردست پرحکمت، ہمہ گیر، اور کائناتی ہے، اس میں سے جو کچھ ہم سمجھ سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہر تخم (بیج) ، ہر جانور، اور آدمی کا دل ہوتا ہے، نظامِ شمسی کا بھی دل ہے، اور وہ سورج ہے، یقیناً ستاروں سمیت زمین کا بھی دل ہے، وہ اس کا مرکز ہے، اس میں اسی روح کا دل ہو سکتا ہے، جس نے بحکمِ خدا زمین کے بکھرے ہوئے ذرّات کو جمع کر لیا تھا۔

 

میرا خیال ہے کہ مذکورہ دلائل زمین کی روح کے ثبوت کے

۲۰۰

لئے کافی ہیں، صوفیوں کا یہ قول درست ہے جو کہتے ہیں کہ عالم انسانِ کبیر ہے اور آدمی اس کی نسبت سے انسانِ صغیر، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جہانِ ظاہر عالمِ کبیر ہے اور انسان عالمِ صغیر (عالمِ شخصی) ، اور یہ حکمت بھی کتنی عجیب ہے کہ عالمِ اکبر انسان میں سماتا ہے، ہاں، تسخیرِکائنات اسی طرح ہوتی ہے۔

 

اہلِ معرفت نے چشمِ باطن سے اس حقیقتِ حال کو دیکھا ہے، اور وہ یقینِ کامل سے کہتے ہیں کہ حضرتِ نوح علیہ السلام کا اصل طوفان روحوں کا تھا، جس میں آسمان سے ذراتِ ارواح کی بارش برس رہی تھی، زمین سے گویا روحوں کے فوارے چھوٹ رہے تھے، اسی معنیٰ میں یہ ارشاد ہے: اور کہا گیا: اے زمین ! اپنا پانی نگل جا، اے آسمان رُک جا، پانی نیچے چلا گیا اور معاملہ ختم ہو گیا (۱۱: ۴۴)۔

 

روحانی سائنس ، قرآنی سائنس، اور کائناتی سائنس ایک ہی علم ہے، حق بات تو یہ ہے کہ اس کی دو بڑی شرطیں ہیں: قرآن شناسی اور امام شناسی ، یہی شیٔ خود شناسی اور خدا شناسی کا دروازہ ہے، بعد ازان ہر چیز کی معرفت ممکن ہو جاتی ہے، اگر ایک شخص ایسا کوئی بڑا کامیاب تجربہ رکھتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ جذبۂ للہیت سے وہ اپنے تجربات کو قلمبند کرے، ورنہ اس کو وہی سزا ملے گی جو قارون کو ملی تھی، کیونکہ زکات نہ صرف مال پر واجب ہے، بلکہ علمی زکات اور بھی

۲۰۱

زیادہ ضروری ہے۔

 

نصیر الدین نصیرؔ (حُبِّ علی) ہونزائی

کراچی

بدھ ، ۷ جمادی الاول ۱۴۱۸ھ، ۱۰ ستمبر ۱۹۹۷ء

 

۲۰۲

[1] پرفتوح، فتوح ، فتح کی جمع، پرفتوح، فتح پر فتح کرنے والا، یعنی امام جو ہمیشہ روحانی فتوحات کرتا ہے۔

۲۵جولائی ۱۹۹۷ء