ذکرِ الٰہی
پیش لفظ
اے ربّ العزّت ! تیرے رسُولِ مقبول مُحمّد مصطفےٰ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور آنحضورؐ کی آلِ پاک کے أئمّۂ ہُدا صلوات اللہ علیہم کا میں ایک ادنیٰ سا غلام ہوں، لہٰذا اس پاک و پاکیزہ خاندان کی نسبتِ شریف کے طفیل سے اور اِسی مقدّس سلسلے کے وسیلے سے مجھے نصرت و تائید اور نورانی ہدایت دیجئے، تاکہ میری ہر نیّت قول اور عمل تیری رضا کے موافق ہو۔
میرے روحانی بھائیو اور بہنو! پروردگارِ عالم تمہارے دلوں کو نورِ معرفت کی روشنی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منوّر کردے! جیسا کہ بعض عزیزوں کو اس بات کا علم ہے کہ ذکر و عبادت میں کامیابی اور روحانی ترقی کی ضرورت کے پیشِ نظر حلقۂ احباب میں یہ گفتگو ہوئی تھی کہ ذکرِ الٰہی کے موضوع پر کوئی ایسی مفید کتاب لکھی جائے کہ اس میں متعلقہ مسائل سے بحث کی گئی ہو، یعنی اس میں
۵
ان سوالات کا تسلّی بخش حل بتادیا جائے کہ کس طرح ذکر میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے؟ عبادت میں یکسوئی کیوں نہیں ہوتی؟ خدا کی یاد شروع کرنے کے فوراً بعد طرح طرح کے دُنیاوی خیالات کیوں آتے ہیں، حالانکہ ہم نہیں چاہتے کہ ایسے خیالات پیدا ہوں؟ وغیرہ وغیرہ۔
چنانچہ وہ کتاب جس کی ضرورت شدّت سے محسوس کی گئی تھی، خُدائے علیم و حکیم کے فضل و کرم اور مُحمّد و آلِ مُحمّد صلوات اللہ علیہم کی ہدایت کی برکت سے مکمل ہو کر آپ کے سامنے ہے، میں اس کتاب کی تکمیل کے دوران تائیدِ خدا وندی کا سخت محتاج تھا اور حال و مستقبل میں بھی میری یہی حاجت اور دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کتاب میں کچھ ایسی برکتیں رکھیں کہ جن کہ وجہ سے اس کے پڑھنے والے مومنین کو روحانی اور علمی قسم کی مسرت و شادمانی حاصل ہو، ورنہ میں کیا ہوں اور میری کوشش کیا چیز ہوسکتی ہے۔
ذکرِ الٰہی کا موضوع جتنا ارفع و اعلیٰ ہے اتنا نازک اور مشکل بھی ہے، لہٰذا اس پر کچھ لکھنے کی ذمہ داری بارِ گران ثابت ہوسکتی ہے، لیکن میں زبانِ حال سے اپنے آقا و مولا کا بے حد شکر گزار
۶
ہوں کہ اُس شفیق و مہربان نے مجھے درویشی کی ایک بہت بڑی نعمت عطا کرکے میری ہر قسم کی مشکلات کو سہولتوں کا رنگ دے دیا ہے، یہ اسی مقدّس اور معجزانہ ہستی کی مہربانی ہے۔
اِس ضمن میں اپنے اُن عزیزوں کو جو اس کتاب کو پڑھیں گے یہ مشورہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو خُوب غور سے پڑھیں، ایک بار نہیں بلکہ کئی کئی بار اس کا گہرا مطالعہ کریں، اس میں سوچیں، اس کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں، شاید میرے احباب میں سے کوئی مجھ سے یہ سوال کرے کہ اس کتاب کو ایک دو دفعہ پڑھ چکنے اور اس کے مطالب کو سمجھ لینے کے بعد اور کیا چیز اس میں باقی رہ جاتی ہے، کہ اس کے حصُول کے لیے بار بار مطالعہ کیا جائے؟ اس کا جواب ذیل کی طرح ہے:
۱۔ چونکہ یہ کتاب ذکرِ الٰہی کا موضوع ہے، اور اس میں ذکرِ الٰہی کے متعلق ہدایتیں درج ہیں، ان کو ذہن نشین کرلینے کے لیے مسلسل مطالعہ اور متواتر کوشش کی سخت ضرورت ہے۔
۲۔ اس میں اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا علاج بتایا گیا ہے، اوریہ گویا اِس قسم کا ڈاکٹر ہے، تو مریض کو چاہئے کہ جب
۷
تک مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوتا، وہ اپنے مہربان ڈاکٹر سے رجوع کرتا رہے۔
۳۔ یہ ایک آئینہ ہے روح اور روحانیّت کا، سو مومن بار بار اس کو دیکھتا رہے گا کہ اس کے چہرۂ جان کے حسن و جمال کا کیا حال ہے؟ ترقی ہے یا تنزّل؟
۴۔ ذکرِ الٰہی کا احساس، ذکر کا کورس، ذکر کی باتیں، ذکر کی تیاری، اس کے متعلق اپنی کمزوریوں پر نادم ہوجانا اور ترقی کی امکانیّت دیکھ کر اس کے لیے عزمِ مصمّم کرلینا یہ سب چیزیں ذکر اور عبادت میں شامل ہیں، لہٰذا اسے بار بار پڑھنا چاہئے۔
۵۔ علمِ لدُنّی کی کوئی جھلک دیکھنے کے مختلف مواقع ہوتے ہیں اور ایک موقع یہ بھی ہے کہ مومن اپنے اندر مذہبی علم کا عشق پیدا کرے اور کسی اعلیٰ مطالب کی دینی کتاب کو بار بار پڑھتا رہے پھر یکا یک اس کو روحانی فیض کا تجربہ ہونے لگے گا، اور اس کے دل میں خوشی کی ایک لہر دوڑے گی، اور یہ کیفیت خاص کر اُس وقت ہوگی جبکہ وہ کسی جامع لفظ کے معنی اور حکمت کے لیے سنجیدگی سے غور کررہا ہو۔
۶۔ اکثر حضرات کو یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ ذکر و ریاضت
۸
تو خوب کرتے رہتے ہیں، مگر ان کی کوئی خاص روحانی ترقی نہیں ہورہی ہے، جس کی وجہ عموماً یہ ہوتی ہے کہ وہ ذکر و عبادت کے علم سے نابلد ہوتے ہیں، وہ عملی ریاضت نہیں کرتے اور وہ ریاضت یہ ہے کہ دینی کتابوں کے مغزِ حکمت تک پہنچنے کے لیے غور و فکر سے کام لیا جائے، خصوصاً ایسی کتاب پر یہ ریاضت کی جائے جو خود ذکر و عبادت کا موضوع ہے۔
۷۔ یہ بات تقریباً سب مانتے ہیں کہ”مرنے سے پہلے مرو” لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بہت کم لوگ اس کے مطلب کو سمجھتے ہوں گے، کیونکہ اس کے معنی کافی پیچیدہ ہیں، اور وہ یہ ہیں کہ اسی دنیا میں دوقسم کی زندگی ہے، عام زندگی جو نفسِ امّارہ میں جینے کا نام ہے، اور خاص زندگی جو روح الایمان میں حیات گزارنے کو کہتے ہیں مگر عملاً یہ بات اور زیادہ مشکل ہے کہ صرف عبادت ہی کے ذریعے نفسِ امّارہ کے ظالم دشمن کو شکست دی جاسکے، جب تک کہ حقیقی مومن علمِ حقیقت کے اسلحہ سے خود کو لیس نہ کرے، خصوصاً اس میں ایسے علم کی ضرورت ہے جو اسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہو۔
۸۔ جس طرح دنیا کا کوئی کام جان کے بغیر جسم نہیں کرسکتا ہے
۹
اور جسم کے بغیر جان بھی کوئی کام نہیں کرسکتی، اسی طرح دین میں عمل جسم ہے اور علم اس کی روح، چنانچہ جاننا چاہئے کہ عبادت عمل ہے اور یہ جسم کے درجے میں ہے جس کے لیے علم و حکمت کی روح چاہئے، تاکہ جسم و روح کے باہم ملنے سے مومنین کا دینی مقصد حاصل ہوجائے۔
۹۔ کتابِ ہٰذا کو بار بار پڑھنے کی مذکورۂ بالا ضرورتوں کے علاوہ ایک اور ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اس میں ذکر و عبادت سے متعلق قرآنی حکمت کے بہت سے اشارے درج کیے گئے ہیں، اس صورت میں اگر کوئی مومنِ مخلص عبادت و بندگی کے ساتھ ساتھ اس کا مطالعہ بھی کرتا رہے تو بہت ممکن ہے کہ ان اشارات کی روشنی میں وہ اپنی عبادت کی کمزوری ایسی بخوبی سمجھ پائے جو پہلے نہیں سمجھ سکتا تھا۔
میرا یقین ہے کہ اگر خدا و رسُولؐ اور امامِ زمانؑ کی روحانی تائید شاملِ حال رہی تو اِس کتاب سے قارئین کو کافی دلچسپی ہوگی اور مومنین کو اس سے علمی اور روحانی فوائد حاصل ہوں گے، یہی مقصد اِس کتاب کے مقاصد میں سب سے اعلیٰ و ارفع ہے، اور اگر یہی کچھ ہوا، جس کی میں قوّی امید رکھتا ہوں، تو خداوند عالم
۱۰
کے حضور میں انتہائی عجز و انکساری سے ایک بار پھر سجدۂ شکرانہ بجا لانے کی کوشش کروں گا، کیونکہ میں اور میرے تمام کام جو مکمل ہُوئے ہیں وہ بھی اور جو نامکمل ہیں وہ بھی رحمتِ خداوندی کے سخت محتاج ہیں۔
اس کتاب کا نام “ذکرِ الٰہی” رکھا گیا ہے، یعنی کتاب کو خود موضوع سے موسوم کیا گیا ہے، جس کے چھ حصّے بنائے ہیں، جن میں سے ہر حصّے کا ایک باب ہے اور ہر باب چند ذیلی عنوانات میں تقسیم ہوا ہے، تاکہ مضمون کے معانی و مطالب کے سمجھنے میں اُلجھن اور پیچیدگی نہ ہو، اور عنوانات کی مدد سے ہر مطلب کو الگ اور جدا کرکے سمجھ لیا جائے۔
عبارت کو ہر قسم کی لفّاظی اور غیر ضروری مشکل الفاظ کے تصنّع سے بچا کر سلیس اور عام فہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ پڑھنے والوں کے لیے اصل مطلب مبہم اور نارسا نہ ہو، اور کتاب کے حقائق و معارف سے بآسانی استفادہ کیا جاسکے۔
خیال تھا کہ اس ذکرِ الٰہی کے حِصّۂ دوم کو بھی لکھ کر تیار کیا جائے، لیکن چونکہ اس کے موضوع کا زیادہ تر تعلق ذکرِ الٰہی کے نتائج و ثمرات اور روح و روحانیّت کے عجائب و غرائب سے
۱۱
تھا، لہٰذا فی الحال مصلحتاً یہ کام زیرِ غور رہا، تا آنکہ حصّۂ اوّل کے تاثّرات سے یہ اندازہ ہوجائے کہ روحانی غذائیں کس حد تک ہضم ہوسکتی ہیں۔
اس مقام پر آکر میں اپنے اُن تمام روحانی بھائیوں اور بہنوں کو یاد کرتا ہوں جو اس کتاب کو پڑھیں گے یا سُنیں گے اور اُن عزیزوں کو تصوّر میں لاتا ہوں جو میری علمی خدمت میں میرے ساتھ ہیں، خواہ ان کی یہ حوصلہ افزائی نیک دُعاؤں، عمدہ خیالات اور روشن تصوّرات کی کیفیت میں ہویا ظاہری قول و عمل کی شکل میں، بہرحال میں ان کی اس طرح طرح کی ہمّت افزائی کے لیے جان و دل سے شکرگزار ہوں اور میری درویشانہ دُعا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر سب کو سعادتِ دارین کی دولت عنایت فرمائے! اور حقیقی علم کی لذّت و راحت نصیب ہو!
فقط جماعت کا علمی خادم
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
۲۲۔ فروری ۱۹۷۶ء
۱۲
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
باب اوّل
ذکر کے معانی و مطالب
ذکر کے کئی معانی و مطالب ہیں، جن کی یہاں الگ الگ توضیح و تشریح کی جاتی ہے تاکہ اس سے ہمارے ان بھائیوں، بہنوں، دوستوں اور عزیزوں کو ذکر کی گہری حقیقتیں سمجھنے میں کافی حد تک مدد مل سکے، جو اس عظیم الشّان، پُر اسرار اور مقدّس کام سے دلچسپی اور وابستگی رکھتے ہیں، جن کے لیے یہ کتاب تصنیف کی گئی ہے۔
ذکر کے لغوی معنی:
ذکرعربی لُغت میں یاد کو کہتے ہیں اور “یاد” ایک ایسا لفظ ہے، جس کا استعمال کسی چیز کے لیے صرف اور صرف اسی صورت میں درست اور صحیح ہوتا ہے، جبکہ وہ چیز انسان کے دائرۂ معلومات میں آنے کے بعد فراموش ہوگئی ہو، یا صرف توجّہ اِس سے ہٹ گئی
۱۳
ہو، اس کے برعکس اگر کوئی شے ایسی ہوکہ وہ نہ تو محسوس ہُوئی ہے اور نہ ہی معقول و معلوم، یعنی وہ اب تک انسان کے علم و معرفت میں نہیں آئی ہے، تو ایسی چیز کے متعلق “یاد” کا لفظ نہیں بولا جاتا، یہی مثال بُھول جانے کی بھی ہے کہ کسی شے کو بھول جانا ہرگز نہیں کہتے، جو سرّے ہی سے انسان کے علم و معرفت سے باہر ہو۔
یاد کی پانچ صورتیں:
۱۔ مثال کے طور پر زید کے نام سے ایک چھوٹا سا لڑکا تھا، اس نے اپنے استاد سے چار الفاظ کا ایک نیا سبق لے کر کچھ دیر تک دہرایا اور بزعمِ خود حفظ اور یاد کرلیا۔
۲۔ دوسرے دن جب اس نے کتاب کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کو صرف ایک ہی لفظ مکمل یاد تھا۔
۳۔ ایک اور لفظ بھول جانے کے بعد خود بخود اسے یاد آیا۔
۴۔ تیسرا لفظ اس کے غور کرنے کے نتیجے میں یاد آیا۔
۵۔ چوتھا لفظ بالکل ہی بھول چکا تھا، غور کرنے کے باؤجود بھی یاد نہیں آیا، اِس لیے اُس نے معلّم سے پوچھ کر اسےدوبارہ یاد کرلیا۔
۱۴
اِس مثال سے یہ حقیقت ظاہر ہُوئی کہ ذکر یعنی یاد کی کل پانچ صورتیں ہُوا کرتی ہیں، اب ہم ذیل میں ان پانچ صورتوں کی علیٰحدہ وضاحت کردیتے ہیں۔
یاد کی پہلی صورت:
انسان جو کچھ دیکھتا ہے، جن آوازوں کو سُنتا ہے، جیسے سونگھتا ہے، جو چیزیں چکھتا ہے اور جن اشیاء کو چُھو لیتا ہے، ان سب کے نتائج، تجربات اور معلومات کا ذخیرہ اس کی قوّتِ حافظہ کی تحویل میں محفوظ رہتا ہے، اس کے علاوہ فکری اور روحانی قسم کی معلومات بھی حافظہ ہی کی سپردگی و نگہداشت میں ہوتی ہیں، اس سلسلے میں قوّتِ ذاکرہ کے عمل اور یاد کی اوّلین صورت کی وضاحت یہ ہے کہ کسی چیز کو حواسِ ظاہری یا حواسِ باطنی کے توّسط سے محسوس اور معلوم کرکے قوّتِ حافظہ کے سپرد کردینا حفظ کہلاتا ہے اور پھر وہاں سے حفظ و یاد داشت کی پختگی اور تسلّی کے لیے قوّتِ ذاکرہ کے ذریعے اُسے دہراتے ہُوئے دل و زبان پر لانا یا صرف اس کا تصوّر کرنا ذکر اور یاد کی سب سے پہلی صورت ہے، جیسے زید نے پہلے دن اپنے سبق کو دہرا کر یاد کرنے کی کوشش کی تھی۔
۱۵
یاد کی دُوسری صورت:
کچھ باتوں کو پہلی بار حافظہ اور ذاکرہ کے ذریعے سے دہرا دہرا کر جب یہ سمجھا جاتا ہے، کہ اب یہ باتیں حافظہ کے ریکارڈ آفس میں محفوظ ہوگئیں، تو پھر انسان وہاں سے توجہ ہٹا کر دوسری مصروفیات میں لگ جاتا ہے، اور جس وقت بھی اسے ضرورت ہو تو وہ فوراً ہی اپنی قوّتِ ذاکرہ کو حافظہ کی طرف متوّجہ کرکے حکم دیتا ہے کہ کچھ وقت پہلے جو باتیں حفظ کی گئی تھیں وہ دل و زبان پر لاؤ، چنانچہ ذاکرہ حافظہ سے پوچھ لیتی ہے یا خود جھانک کر دیکھتی ہے اگر وہاں مطلوبہ باتیں محفوظ ہیں، تو وہ اس حکم کی تعمیل کرسکتی ہے، یہ عمل یاد کی دوسری صورت ہے، جس طرح مذکورۂ بالا مثال میں زید نے جب ذاکرہ سے کام لیا تو اسے ایک لفظ صحیح طور پر یاد آیا۔
یاد کی تیسری صورت:
بعض دفعہ آدمی اپنی یاد داشت کی کچھ باتیں بھول جاتا ہے اور حیرت ہے کہ کبھی کبھار ان میں سے کوئی بات خود بخود یاد آتی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ حافظہ، ذاکرہ وغیرہ کی قوّتوں کے کام پر انتہائی چھوٹے چھوٹے شعوری یا کہ نورانی ذرّات متعیّن ہیں،
۱۶
جن میں چھوٹی چھوٹی حیوانی روحیں کارفرما ہیں، ان میں سے وہ ذرّہ جس پر متعلقہ بات ریکارڈ کی گئی تھی، اپنی جگہ سے غیر حاضر ہوجانے کے بعد یکایک حاضر ہوتا ہے یا لاشعوری کے بعد شعور میں آتا ہے جس کے ساتھ وہ بات بھی دفعۃً یاد آتی ہے، جو اس ذرّہ کے ریکارڈ میں تھی، یہ یاد کی تیسری صورت ہے جس طرح کہ زید کو سبق کے بُھولے ہُوئے الفاظ میں سے ایک لفظ بغیر کسی غور کے خود ہی یاد آیا تھا۔
یاد کی چوتھی صورت:
یہ بھی ایک عام تجربے کی بات ہے کہ انسان غور و فکر کرکے بعض بھولی ہُوئی باتوں کی یاد تازہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اس کا سبب بھی جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے یہی ہے کہ دماغ میں مختلف قوّتوں کے کام کرنے کے لیے جو الگ الگ خانے بنے ہُوئے ہیں، ان کے شعوری ذرّات کسی سبب سے یا تو غیر حاضر ہوتے ہیں یا ان پر لاشعوری کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، چنانچہ جب غور و فکر کے ذریعے سے سارے دماغ میں شعوری و آگہی کی حرکت پیدا ہوتی ہے تو اس سے وہ ذرّات اپنے مقام پر آکر یا بیدار ہوکر کام کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں بُھولی ہُوئی
۱۷
باتیں دوبارہ یاد آتی ہیں، یہ یاد کی چوتھی صورت ہے جیسے زید کو غور کرنے کے بعد چوتھا لفظ یاد آیا تھا۔
یاد کی پانچویں صورت:
بھولی ہوئی باتوں کی بابت غور و فکر کرنے سے ہر بار کامیابی تو نہیں ہوسکتی کہ دماغ پر زور دے کر اُن کی یاد داشت بحال کی جائے کیونکہ کسی بات کے بھول جانے کی ایک وجہ نہیں بلکہ کئی وجوہ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ بعض حالات میں حاضر دماغی نہ ہونے کی وجہ سے یا توجہ نہ دینے کے سبب سے یا مشکل ہونے کی بنا پر شروع ہی سے وہ بات حافظہ میں نہیں ٹھہرتی یا وہ ذرّہ ہمیشہ کے لیے غائب ہوجاتا ہے جس کی روح میں اس بات کا ریکارڈ تھا، بہر حال جب سوچنے کے باوجود بھی وہ بات یاد نہیں آتی تو پھر سوائے اس کے کوئی چارہ ہی نہیں کہ اسی شخص سے رجوع کیا جائے جس نے پہلے وہ بات بتائی تھی تاکہ وہ ازسرِ نو اس بات کی یاد دلائے، یہ یاد کرنے کی پانچویں صورت ہے، جس کی مثال زید سے ملتی ہے کہ اس نے وہ لفظ جسے بالکل ہی بُھلا دیا تھا اپنے استاد سے پُوچھ کر دوبارہ یاد کرلیا۔
۱۸
ذکرِ الٰہی:
ذکرِ الٰہی کے معنی خُدا کی یاد ہیں جس کے کئی پہلو اور بہت سے درجات ہیں اور ان میں سب سے اونچا درجہ وہ ہے جہاں یادِ الٰہی معرفت کی روشنی میں کی جاتی ہے، خدا کی معرفت کا نظریہ تو تقریباً سارے مذاہب میں ہے البتہ اس کی تشریح میں اختلاف پایا جاتا ہے، بہرکیف خدا کی معرفت کے بارے میں قرآنِ حکیم کا جامع الجوامع ارشاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم کی روحوں سے پوچھا:
اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰي (۰۷: ۱۷۲)
آیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ انہوں نے عرض کیا کہ (یا خداوند) کیوں نہیں۔
اِس سے یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ ربّ اور رُبوبیّت کا بڑا اہم اور سب سے نازک اقرار لاعلمی، ناشناسی اور بے معرفتی کی تاریکی میں تونہیں ہوسکتا تھا، اور نہ ہی عدلِ خداوندی کی رُو سے یہ امرمنا سب تھا کہ ان کی جسمی، روحی اور عقلی ہر گونہ پرورش عمل میں لائے بغیر رُبوبیّت کی اَن دیکھی حقیقتوں کے بارے میں ان سے گواہی لی جائے، بلکہ قَا لُوْا بَلٰی کا یہ اقرار نورِ معرفت ہی کی روشنی میں کیا گیا تھا۔
۱۹
ذکر اور ہدایت:
اگر انسان نے ازل اور الست کے ان حقائق و معارف کو فراموش کردیا ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی حقّانی معرفت پنہان تھی، تو اس کا چارۂ کار یہی ہے کہ وہ خدا و رسُولؐ اور اولو الامرؑ کی اطاعت کو بجالائے تاکہ ان مراتبِ اطاعت کی ظاہری و باطنی ہدایات کی روشنی میں ذکر و عبادت اور حصولِ معرفت کرنے سے رفتہ رفتہ ہر چیز دوبارہ یاد آئے جیسا کہ قرآن پاک کا ارشاد ہے:
فَذَكِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ (۸۸: ۲۱)
پس (اے رسُولؐ) آپ یاد دلا دیجئے آپ تو بس یاد دلانے والے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ آنحضرتؐ اِس بات کے لیے مامور تھے کہ تمام اہلِ جہان کو راہِ حق کی دعوت و نصیحت کریں اور اپنی اُمّت کے افراد کو ہر وہ ضروری بات ان کی حیثیت کے مطابق یاد دلائیں، جو یہ بھول چکے ہیں یہاں تک کہ روزِ الست کی حقیقتوں اور معرفتوں کو بھی، مگر قانون یہ ہے کہ اسرارِ معرفت کا علم درجہ بدرجہ دیا جاتا ہے۔
اہلِ ذکر:
ذکر یادِ الٰہی کے علاوہ قرآنِ حکیم کا بھی نام ہے اور یہ رسولِ کریمؐ کا بھی اسمِ مبارک ہے، لہٰذا اہلِ ذکر
۲۰
کے تین معنی ہُوئے:
۱۔ وہ حضرات جو ذکر والے ہیں یعنی جو ذکر کا وسیلہ ہیں۔
۲۔ جو قرآن والے ہیں، یعنی جو قرآن کے علم و حکمت کے حامل ہیں۔
۳۔اور جو آلِ رسُولؐ ہیں۔
یہ تینوں خصوصیات صرف أئمّۂ آلِ محمّدؐ علیہم السّلام ہی کی ہیں، بناء برین سرورِ کائنات صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے بعد صرف أئمّۂ اطہارؑ ہی اس اعلیٰ درجے پر فائز ہیں کہ رُشد و ہدایت اور علم و حکمت کے جملہ مسائل میں ان سے رجوع کیا جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا مقدّس فرمان ہے:
فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (۱۶: ۴۳)
پس اہلِ ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے ہو۔
اِس سے صاف طور پر یہ معلوم ہوا کہ اہلِ ذکر حاملانِ نُورِ امامت ہی ہیں، کیونکہ یہی حضرات ہر سوال کا درست جواب دینے والے ہیں، ہر پوشیدہ حقیقت بتا سکتے ہیں اور ہر بھولی ہوئی بات خواہ کتنی بلند کیوں نہ ہو یاد دلاسکتے ہیں، چونکہ یہ حضرات ذکر اور مُذکِّر یعنی رسولؐ کے جانشین اور اہلِ ذکر ہیں، یعنی أئمّۂ
۲۱
طاہرین علیہم السّلام جو حضور انورؐ کے تمام علوم کے خزانہ دار اور امین ہیں جو ذکر و معرفت کے ذریعے خدائے قدوس کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔
ذکر اور خود شناسی:
دینِ اسلام کے بموجب انسان کی خود شناسی کےسوا پروردگار کی معرفت ناممکن اور محال ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ معرفت نہیں کہتے ہیں، مگر اس شناخت اور پہچان کو جو عارف کو چشمِ باطن کے مشاہدے سے حاصل ہوتی ہے، جبکہ پروردگار اپنی نورانی صفات کی تجلّیوں سے اس کی روحانی پرورش کرتا ہے اور یہ اُس صورت میں ممکن ہے کہ ایسا عارف اس مادّی دُنیا میں زندگی گزارے، کیونکہ اگر اس دنیا کے بغیر خدا کی بندگی کی آزمائش ہوسکتی اور حصولِ معرفت ممکن ہوتا تو یہ جہان بے حکمت اور فضول ہوجاتا۔
یہاں پر یہ مطلب بالکل واضح ہوگیا کہ ذکرِ الٰہی یعنی خدا کی یاد کا قرآنی مفہوم یہ ہے کہ دیدۂ دل کے سامنے سے پردۂ غفلت کو ہٹا کر واقعۂ الست کی ربّانی تجلّیوں کو عملی صورت میں یاد کیا جائے، کیونکہ ذکر و معرفت کی عملی صورت یہی ہے،
۲۲
اور ذکر کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔
ہم نے یہاں واقعۂ الست کی طرف بار بار توّجہ دلائی ہے کیونکہ وہ ایک ایسا عام فہم تصوّر اور ایک ایسی مسلّمہ حقیقت ہے کہ اس کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہوسکتا، چنانچہ اُس حال میں انسان اپنی روح کو کُلّی طور پر پہچانتا تھا اور اس کے نتیجے میں خدا کو بھی پہچانتا تھا، مگر بعد میں یہ وہ معرفت بھول گیا ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم کا یہ مبارک قول ہے کہ:
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ (۳۶: ۷۸)
اور اُس نے ہمارے لیے مثال دی اور اپنی خلقت بھول گیا۔ اس آیۂ مقدّسہ کا اشارہ یہ ہے کہ انسان اس سے بہت پہلے خود شناسی کی دولت سے مالا مال تھا، وہ اپنی خلقت کی حقیقتوں کو جانتا تھا، لیکن بعد میں وہ یہ سب کچھ بھول بیٹھا، اب اس کا علاج ذکرِ الٰہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
قرآن شریف کا ارشادِ مبارک ہے کہ:
وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ڰ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ (۰۷: ۱۱)
اس میں تو شک ہی نہیں کہ ہم نے تم کو پیدا کیا پھر
۲۳
تمہاری (روحانی) صورتیں بنائیں پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو سب کے سب جُھک پڑے سوائے ابلیس کے۔
اِس قرآنی حکمت کی تعلیم یہ ہے کہ انسان آج سے نہیں بہت پہلے سے موجود ہے اور یہ اس وقت بھی موجود تھا جبکہ فرشتوں نے آدم علیہ السّلام کو سجدہ کیا اور ابلیس منکر ہوگیا، مگر یہ واقعہ سوائے کامل انسان کے کسی کو یاد نہیں رہا، اور بہت کم لوگ ہیں جو عقیدہ کی حد میں اس کے متعلق باور کرسکیں مطلب یہ ہے کہ یہ معرفت کے بلند مقامات کی باتیں ہیں جن کا جاننا انسان کی اپنی ذات کی شناخت ہے، جس میں خدا کی معرفت پوشیدہ ہے، اور اس درجے کی تمام تر باتیں انسان بھول چکا ہے، جنہیں ذکرِ الٰہی کی روشنی میں دوبارہ یاد کرسکتا ہے اور ذکرِ خدا کا قرآنی مفہوم یہی ہے۔
قرآنِ حکیم میں فرمایا گیا ہے کہ: اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو خدا کو بُھلا بیٹھے پھر خدا نے ایسا کردیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے (۵۹: ۱۹) اس کے یہ معنی ہُوئے کہ جو شخص ذکرِ الٰہی سے دور ہوچکا ہو وہ اپنی روح کی ازلی حقیقتوں کو بھی بھول گیا ہے
۲۴
اور جو حضرات ذکر کے مختلف درجات پر ہیں وہ اپنے درجے کے مطابق اپنی روح کی گزشتہ اور آئندہ حقائق و معارف کا نورانی تصوّر کرسکتے ہیں۔
قانونِ الٰہی:
عالمِ روحانیّت کے بھولے ہوئے اسرار اور معرفت کے کھوئے ہوئے خزانے کس طرح دوبارہ حاصل کیے جاسکتے ہیں، اس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اٹل سُنت و عادت اور قانون ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک ہی ہے، یعنی جو قانون قرآنِ حکیم سے متعلق ہے وہی آفاق و انفس میں بھی کارفرما ہے، چنانچہ نہ صرف قرآنی آیات کے بارے میں بلکہ تمام کائنات اور جملہ موجودات کے ظاہر و باطن کی نشانیوں کی بابت بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: جب ہم کوئی نشانی منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اِس سے بہتر یا ویسی ہی نشانی لادیتے ہیں (۰۲: ۱۰۶)
اِس مقام پر بڑی سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، کہ کسی آیت یا نشانی کے منسوخ کرنے اور بُھلا دینے میں کیا فرق ہے، جبکہ قرآن کی کوئی آیت نازل ہوکر لوگوں کے سامنے آنے کے بعد پھر واپس نہیں لی گئی ہے کہ لوگ اسے بھول
۲۵
جائیں، اب اِس سے یہ حقیقت ناگزیر ہوگئی کہ منسوخ کا واسطہ قرآن کی تنزیل سے ہے، اور بھلا دینے کا تعلق تاویل سے ہے کہ خداوند حکیم بتقاضائے زمان و مکان ایک تاویل کو اُٹھا کر دوسری تاویل القاء فرما دیتا ہے، نیز منسوخ کرنا آسمانی کتب کی آیات کے لیے ہے، اور بُھلا دینا آفاق و انفس کی نشانیوں کے واسطے ہے، چنانچہ اگر خدائے علیم و حکیم کے اِس قانون کی رُو سے انسان حیات و کائنات کے بہت سے اسرار کو بھول چکا ہے، تو اس میں کوئی تعجب نہیں، کیونکہ وہ قادرِ مطلق ہے، لہٰذا وہ پھر اُن اسرار کی بہتر معرفت سے انسان کو آشنا کرسکتا ہے، یا سابقہ معرفت جیسی معرفت عطا کرسکتا ہے جس کا انحصار ذاکر کے ذکر پر ہے، پس ذکرِ الٰہی کے قرآنی معنی ہیں اُن اسرارِ معرفت کی بازیابی جو انسان کی یاد سے نکل گئے ہیں، جو ربّانی صفات کی تجلّیوں کے مشاہدے سے متعلق ہیں۔
۲۶
باب دوم
ذکر کی برکتیں
اِس باب میں ذکرِ الٰہی کی برکتوں کے بارے میں چند جامع مثالیں درج ہورہی ہیں، اِس سلسلے میں سب سے پہلے یہ بات ضروری ہے کہ لفظ برکت کے معنی کو بخوبی سمجھ لیا جائے، چنانچہ برکت کے معنی ہیں زیادتی، افزونی، افزائش، یعنی نعمت کی ترقی اور نیک بختی خواہ ظاہری ہو یا باطنی، جسمانی ہو یا رُوحانی۔
سرچشمۂ برکات:
ذکر حضرت ربّ العزت کے مبارک و مقدّس اسم کے ذریعے سے کیا جاتا ہے اور ارشادِ قرآنی کے مطابق پروردگارِ عالم کے بابرکت نام میں خیر و برکت، علم و حکمت اور رشد و ہدایت کے بے پایاں خزانے اور لامحدود نعمتیں پوشیدہ و پنہان ہیں، برکت کے ایسے تمام معنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآنِ پاک میں فرمایا گیا ہے کہ:
۲۷
تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ (۵۵: ۷۸)
(اے رسولؐ)آپ کا پروردگار جو صاحبِ جلالت و کرامت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات اور تمام موجودات کو ظاہراً و باطناً جو جو رحمتیں اوربرکتیں مل رہی ہیں یا ملنے والی ہیں، اور جو انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام اور مومنین کے لیے مخصوص ہیں، ان سب کا لاانتہا سرچشمہ اور بے پایان خزانہ اللہ تعالیٰ کا پاک اسم اور اس کا ذکر ہے، چنانچہ ذیل میں اس حقیقت کے ثبوت کے طور پر نیز ذکر کے اوصاف و فوائد ظاہر کرنے کی غرض سے قرآن مجید کی چند پُرحکمت آیات کی طرف توّجہ دلائی جاتی ہے۔
ذکر اور حضرت آدمؑ:
یہ خدا تعالیٰ کے مبارک نام کے ذکر ہی کی برکتیں تھیں، کہ حضرت آدم علیہ السّلام علمِ اسماء اور حقیقتِ اشیاء کی دولت سے مالا مال ہوکر خلیفۂ روئے زمین اور مسجودِ ملائک ہوگئے، کیونکہ آپ کو جن اسماء کی تعلیم دی گئی تھی، وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی کے اسماء تھے، یہ تعلیم ان اسمائے بزرگ کے روحانی معجزات کی صورت میں مل رہی تھی، اور ان تمام برکتوں
۲۸
اور سعادتوں کا انحصار اسمِ اعظم کے ذکرِ اقدس پر تھا، جو حضرت آدمؑ کو سکھایا گیا تھا۔
علاوہ برآن جنّت سے ہبوط کے بعد بھی حضرت آدمؑ نے اپنے ربّ سے چند کلمات یعنی اسمائے بزرگ سیکھ لیے اور ان کا ذکر جیسا کہ چاہئے مکمل کرلیا، جس کی برکت سے آپ کی توبہ قبول ہوئی اور توبہ قبول ہونے کے یہ معنی ہیں کہ قبلاً جو آپ کی روحانیّت و نورانیّت تھی، وہ بالکل بحال ہوگئی، اور آپ نے سیّارۂ زمین پر اللہ تعالیٰ کی خلافت و نیابت کا عظیم الشّان فریضہ انجام دیا۔
ذکر اور حضرت نوحؑ:
اگر آپ سورۂ ہود (۱۱) کی آیت نمبر ۴۸ کا غور سے مطالعہ کریں تو یقیناً معلوم ہوگا کہ حضرت نوح علیہ السّلام کے ظاہری طوفان کے پس منظر میں روحانیّت کا ایک باطنی طوفان بھی تھا، چنانچہ قصّۂ قرآن میں ہے کہ:
فرمایا گیا کہ اے نوح (اب روحانیت کے طوفان سے) اترو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تم پر ہیں اور ان لوگوں پر بھی جو تمہارے ساتھ ہیں (۱۱: ۴۸)۔
۲۹
یہ تو اصول کی بات ہے جو ہم یقین کریں کہ حضرت نوحؑ کو یہ برکتیں خدا کے بزرگ ناموں کے ذکر کے نتیجے میں حاصل ہوئی تھیں نہ کہ ظاہری قسم کے طوفان کے انجام میں کیونکہ پروردگار کے اسم اور ذکر کے بغیر کوئی سلامتی اور برکت نہیں ہوسکتی، اور یہ امر لازمی ہے کہ خدا کی سلامتی اور برکات نوح علیہ السّلام پر اس وقت سے ہوں، جب سے کہ انہیں نبوّت ملی تھی۔
ذکر اور حضرت ابراہیمؑ:
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام کے بارے میں بھی یہی قرآنی ثبوت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چند کلماتِ تامّات پر آزمایا تھا، اور اُن کلمات سے اسمائے الٰہی مراد ہیں، یعنی حضرت ابراہیمؑ نے خدا کے اسمائے عظام کے مبارک ذکر کو کما حقّہٗ انجام دیا جس کے نتیجے میں آپؑ ذاتی طور پر اور اپنے سلسلۂ اولاد کی حیثیت میں دنیا بھر کے لوگوں کے لیے امام مقرر ہوئے اور تمام خداوندی برکتوں کا سرچشمہ قرار پاگئے، یہ سورۂ بقرہ کی آیت ۱۲۴ کا واضح مفہوم ہے (۰۲: ۱۲۴)۔
ذکر اور حضرت موسیٰ ؑ:
سورۂ نمل (۲۷) کی آیت نمبر ۸ میں ارشاد ہے کہ: غرض جب موسیٰ
۳۰
اس آگ کے پاس آئے تو ا ن کو آواز آئی کہ برکت دی گئی ہے اس کو جو اس آگ (یعنی نور) میں ہے اور اس کو جو اس کے گرد ہے اور وہ خدا جو جہانوں کا پروردگار ہے پاک و پاکیزہ ہے (۲۷: ۰۸)۔ یہ وہ نورِ ہدایت تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے ذکرِ الٰہی کے نتیجے پر چشمِ باطن سے دیکھا تھا، جس میں عقل و دانش، علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی برکتیں موجود تھیں اور اسی نور کے حضور سے موسیٰ علیہ السّلام کو بھی رحمتیں اور برکتیں حاصل ہوئی تھیں۔
ذکر اور حضرت عیسیٰ ؑ:
سورۂ مریم (۱۹) کی آیت نمبر ۳۱ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے فرمایا:
وَّجَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ(۱۹: ۳۱)
اور خدا نے مجھے جہاں بھی رہوں برکت والا بنایا۔ یہاں یہ جاننا از بس ضروری ہے کہ یہ پاک آیت بڑی پُرحکمت ہے اور اس میں بہت سی حقیقتوں کی کلیدیں پنہان ہیں ا س میں لفظ “اَیْنَ” کی اینیت کا اشارہ ظاہر و باطن کی دونوں حالتوں کی طرف ہے یعنی “میں جہاں بھی رہوں” میں حضرت عیسیٰؑ یہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی نبوّت کے پورے دور میں جسمانی طور پر یا روحانی کیفیت میں
۳۱
جن لوگوں کے درمیان رہونگا ان کے لیے مجھے برکت کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
اس ارشادِ قرآنی سے ایک تو یہ حکمت ظاہر ہے کہ اسمِ اعظم اور آسمانی کتاب سے خیر و برکت حاصل کرنے کا جو طریقہ مقرر ہے اس کی عمومی اور خصوصی ہدایت کا حصول ہادیٔ زمانؑ کے بغیر ناممکن ہے، اس کی دُوسری حکمت یہ ہے کہ جو دینی پیشوا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر ہے، اس کی قربت و نزدیکی اور صحبت و ہم نشینی دو طرح کی ہوا کرتی ہے، ایک جسمانی اور دوسری روحانی کیونکہ اگر ہم صرف یہی خیال کریں کہ حضرت عیسیٰؑ صرف انہیں لوگوں کے واسطے باعثِ برکت تھے، جو جسمانی طور پر ہمیشہ آپ کی صحبت میں رہا کرتے تھے، تو اس سے خداوندی فیوض و برکات پر مکان و زمان کی حد بندی لازم ہوگی، اور جس کے نتیجے میں ان رحمتوں اور برکتوں سے ایسے لوگ محروم ہوجائیں گے، جو بہت ایماندار اور تابعدار ہیں، مگر جسمانی طور پر اپنے پیشوا اور ہادی سے کہیں دُور رہتے ہوں اور تیسری حکمت اِس آیت میں یہ ہے کہ اسمِ اعظم، آسمانی کتاب اور ہادیٔ وقت کی روحانیّت و نورانیّت حقیقت میں ایک ہی ہے
۳۲
یہی سبب ہے کہ برکت کا سرچشمہ بعض دفعہ خدا کے نام کو قرار دیا گیا ہے بعض اوقات آسمانی کتاب کو اور بعض صورتوں میں ہادیٔ برحقؑ کو اور ان تینوں باتوں کا مطلب ایک ہی ہے کیونکہ روحانیّت کا یہی اصول ہے کہ ایک ہی حقیقت کے کئی نام ہوا کرتے ہیں۔
اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰؑ کا برکت والاہونا اس حقیقت کا ایک روشن ثبوت ہے، کہ ان کو یہ مرتبۂ اعلیٰ ذکرِ الٰہی کے نتیجے میں دیا گیا تھا کیونکہ خدا کے نامِ بزرگ اور ذکرِ مقدّس کے بغیر کوئی رحمت و برکت نہیں مل سکتی۔
ذکر اور حضرت محمد صلعم:
قرآنِ حکیم کے متعدّد ارشادات سے یہ حقیقت ثابت ہے کہ حضرت رسُولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کو اپنے پروردگار کے بابرکت اسمِ اعظم کے ساتھ روحانی تعلق اور نورانی وابستگی تھی، آپؐ نبوّت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی خدا کے اسی عظیم ترین اسم اور اس کے ساتھ والے اسمائے عظام کا ذکر کرلیا کرتے تھے، اور آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بزرگ ناموں کی روحانیّت
۳۳
و نورانیّت اور علم و حکمت کا خزانہ دار بنا دیا تھا۔
جاننا چاہئے کہ ذکر قرآن کو بھی کہا گیا ہے، جس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قرآن کے معنی ہیں پڑھنا (۷۵: ۱۷ تا ۱۸) اور ذکر کا مطلب ہے خدا کو یاد کرنا، آن حضورؐ اسمِ اعظم پڑھا کرتے تھے اور خدا کو یاد کیا کرتے، جس کے نتیجے میں آپؐ پر اللہ کی آخری کتاب نازل ہوئی، چنانچہ آنحضرتؐ کے نامِ خدا پڑھنے کی نسبت سے اِس پاک کتاب کو قرآن اور خدا کو یاد کرنے کی وجہ سے ذکر کے اسم سے موسوم کیا گیا۔
نیز قرآن مجید کو ذکر کہنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی ساری نصیحتیں، ہدایتیں، روح اور زندہ حقیقتیں مومنوں کی سہولت و آسانی کے لیے خدا کے مبارک نام اور پاک ذکر میں سمو دی گئی ہیں، جیسا کہ سورۂ قمر (۵۴: ۱۷) میں فرمایا گیا ہے کہ:
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ
اور ہم نے قرآن کو ذکر کے لیے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے جو ذکر کرے۔ قرآنِ حکیم کو انتہائی حد تک آسان کردینا یہ ہے کہ قادرِ مطلق نے اسے ایک زندہ روح اور ایک کامل
۳۴
نور قرار دے کر اپنے معجزاتی اسم کی روحانیّت میں سمو رکھا ہے اور یہ ارشاد اِس سورہ میں بار بار فرمایا گیا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ اہلِ علم و دانش اس عظیم حکمت کی طرف ضرور توّجہ دیں کہ قرآن مقدّس اپنے ظاہری و باطنی معنوں اور جملہ خوبیوں کے ساتھ اسمِ اعظم کے ذکر میں سموگیا ہے اس مثال سے مومنوں کو یہ اندازہ ہوسکتا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کے مبارک اسم اور پاک ذکرمیں کیسی لاتعداد رحمتیں اور برکتیں موجود ہیں۔
ذکر کے متعلق بحوالۂ قرآن (۶۵: ۱۰ تا ۱۱) یہ بھی ایک قرآنی حقیقت ہے کہ ذکر رسول اکرمؐ کے پاک ناموں میں سے ہے، کیونکہ حضورِ انورؐ اپنے مبارک عہد میں خدائے رحمان و رحیم کا زندہ اسمِ اعظم اور معجز نما یاد تھے، اور اس لیے بھی کہ آپؐ کا پاک نور اور قرآن کی قدسی روح کی حقیقت ایک ہی تھی۔
آنحضرتؐ کی دُعائے برکات:
خدائے رحمان و رحیم کی یہ شان ہے کہ اُس نے حضرت عیسیٰؑ کو اپنے وقت میں تابعدار لوگوں کے لیے مبارک یعنی برکتوں کا ذریعہ بنایا تھا، اسی طرح اللہ پاک نے
۳۵
سرورِ انبیاء صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کو اپنے عہد میں ذاتی طور پر اور مستقبل میں اپنے جانشین کے توّسط سے رحمتوں اور برکتوں کا سرچشمہ اور وسیلہ قرار دیا ہے، تاکہ دُنیا خدا کی رحمت و برکت سے خالی نہ ہوجائے۔
چنانچہ آنحضرتؐ کی دُعائے برکات کی ایک قرآنی مثال یہ ہے جو ارشاد ہوا ہے کہ: ہے کوئی جو خدا کو قرضِ حسنہ دے تاکہ خدا اس کے مال کو اس کے لیے کئی گنا بڑھادے (۰۲: ۲۴۵)۔
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک لوگوں سے قرضِ حسنہ کے عنوان سے کچھ مال لینا چاہتا ہے، اور ان کی اِس مالی قربانی کے عوض دین و دُنیا کی رحمتوں اور برکتوں سے انہیں نوازنا مقصود ہے، مگر ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ بذاتِ خود کوئی مادّی چیز نہیں لیتا، بلکہ اپنے رسولؐ کے ذریعے سے اور ادائے زکوٰۃ وغیرہ کے عوض میں کسی کو دعائے برکات بھی پیغمبر اکرمؐ ہی کے توّسط سے ملا کرتی ہے، چنانچہ سورۂ توبہ (۹) کی آیت نمبر ۱۰۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ:
(اے رسولؐ) آپ ان کے مال کی زکوٰۃ لیجئے تاکہ آپ
۳۶
ان کو (گناہوں سے) پاک صاف کردیں گے اور ان کے لئے دُعائے خیر و برکت کیجئے کیونکہ آپ کی دُعا ان لوگوں کے حق میں اطمینان (کا باعث) ہے (۰۹: ۱۰۳)۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر قسم کی خیر و برکت کا سرچشمہ بحکمِ خدا حضور اقدس کی مبارک دُعا ہے، اور آنحضرتؐ کے جانشینؑ کی دُعا بھی یہی شان رکھتی ہے۔
قرآن (۱۳: ۲۸) میں حضرت ربّ العزّت کا یہ فرمان ہے کہ: یاد رکھو کہ خدا ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوا کرتا ہے۔ اب اِس آیۂ پُرحکمت کے متعلق یہ سوال ضرور پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر کسی شرط کے بغیر صرف خدا کے ذکر ہی سے کسی کے دل کو اطمینان حاصل ہوسکتا تھا، تو پھر خدا نے آنحضرتؐ سے یہ کیوں فرمایا کہ آپؐ کی دُعا میں ان کے لیے اطمینان ہے؟ اس کا واحد جواب یوں ہے کہ یہاں اللہ کے جس ذکر کو دلوں کا اطمینان قرار دیا گیا ہے، وہ صرف اور صرف وہی ذکر ہے، جس کے متعلق حضور اکرمؐ نے یا آپؐ کے جانشینؑ نے اذن، ہدایت اور دعائے برکات دی ہو، ورنہ حقیقی اطمینان مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے۔
ذکر اور أئمّۂ اطہارؑ:
جیسا کہ بابِ اوّل میں مختصراً بتایا گیا، کہ اہلِ ذکر أئمّۂ اہل بیت
۳۷
علیہم السّلام ہی ہیں، اور یہ نام ان حضرات کے قرآنی القاب میں سے ہے، چنانچہ اہلِ ذکر کی معنویّت و حقیقت کے کئی پہلو ہیں،
۱۔ جیسے اہلِ رسُولؐ یا آلِ رسولؐ، یعنی وہ حضرات جو اہلِ بیتِ رسُولؐ ہیں، جو مدینۂ علمِ نبوّی کے باب کی حیثیت سے ہیں، جو خانۂ حکمتِ مُحمّدیؐ کے دروازے کا درجہ رکھتے ہیں اور جو اسرارِ دینیّہ سے کما حقّہٗ واقف و آگاہ ہیں۔
۲۔ اہلِ قرآن، یعنی وہ حضرات جنہیں خدائے پاک نے “الراسخون فی العلم” کے پیارے نام سے یاد فرمایا، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی محمد صلعم کے توّسط سے قرآن کی تنزیل و تاویل کا علم عطا فرمایا ہے اور جو آفاق و انفس کے تمام حقائق و معارف کے خزانہ دار ہیں۔
۳۔ نصیحت و ہدایت کرنے والے، جو خدا و رسولؐ کے بعد اولا الامر کی حیثیت سے لوگوں کی رہبری و رہنمائی کرنے والے ہیں، جن کی اطاعت لوگوں پر فرض کی گئی ہے۔
۴۔ ذکرِ الٰہی والے، یعنی خدا کی یاد کرنے والے اور خدا کی یاد دلانے والے، اسمائے عِظام سکھانے والے، ذکر کے تمام طریقوں کے پیشوا، ان کے جملہ رموز و اسرار کے واقف کار،
۳۸
منازلِ روحانیّت اور مراحلِ نورانیّت کے شناسا اور سبیلِ معرفت کے نورِ ہدایت۔
أئمّۂ پاک علیہم السّلام میں سے ہر امامؑ اپنےزمانے میں خداوند تعالیٰ کے اسمِ بزرگِ حیّ و حاضر اور ذکرِ خفی و قلبی کا خزانہ دار اور محافظ ہوا کرتا ہے، کیونکہ حضرت امام علیہ السّلام خدا اور رسولؐ کی خلافت و نیابت کے درجے پر ہوتا ہے، لہٰذا خدا و رسولؐ کی رحمتوں اور برکتوں کے بے پایان خزانے امامِ عالی مقامؑ ہی کے سپُرد ہوتے ہیں۔
خلافتِ جزوی:
حقیقی مومن کو اس بات کا جاننا از حد ضروری ہے کہ بنی نوع انسان کی اجتماعی اور انفرادی کیفیت کےاعتبار سے خدا کی دو خلافتیں ہوا کرتی ہیں، ایک تو کُلّی خلافت ہے، جس کا تعلق پوری دنیا سے ہے، جیسے حضرت آدم علیہ السّلام کی خلافت، اور دُوسری جزوی خلافت ہے، جو ایک مومن فرد کی اپنی ذات سے متعلق ہے، کُلّی طور پر خلیفہ اپنے اپنے زمانے میں انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام ہوا کرتے ہیں، اور جزوی طور پر خلیفہ ہر وہ حقیقی مومن ہو سکتا ہے، جو اپنے وقت کے ہادیٔ برحقؑ کی
۳۹
نورانی ہدایت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پاک اسم کا ذکر کرتا ہے، اور اس میں جیسا کہ چاہئے کامیابی ہوئی ہو، تو ایسا کامیاب و بامراد مومن اپنی ذاتی روحانیّت کی دُنیا میں خدا تعالیٰ کی خلافت و نیابت سے سرفراز ہوجاتا ہے، جس کا ظاہری نتیجہ علمِ حقیقت و معرفت کی صورت میں ہوتا ہے، یہ ذکرِ الٰہی کی برکات میں سے ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تم میں سے جن لوگوں نے ایمان لایا اور اچھے اچھے کام کیے اُن سے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انکو روئے زمین پر ضرور (اپنا) خلیفہ مقرر کرے گا جس طرح ان لوگوں کو خلیفہ بنایا جو ان سے پہلے گزر چُکے ہیں (۲۴: ۵۵)۔
یہ جو فرمایا “تم میں سے” اس سے ظاہر ہے کہ یہ خطاب ان سب لوگوں سے ہے جنہوں نے ایمان لایا، مگر جن سے خلافت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سب نہیں بلکہ ان میں سے بعض ہیں، وہ وہی ہیں جو صحیح معنوں میں ایمان لائے اور جو حقیقی معنوں میں اچھے کام کریں، ان کو زمینِ روحانیّت کی خلافت دی جائے گی، جس طرح سابقہ اُمتوں کے مومنوں کو یہ خلافت دی گئی تھی جو
۴۰
ظاہر نہیں، اسی طرح اب بھی ظاہر نہ ہوگی، کیونکہ یہ خلافت ذاتی ہے۔
برکت کی ایک مثال:
پرور دگارِ عالم کے مقدّس ذکر کی خیرات و برکات کی مثال اس صاف و شفاف پانی کی طرح ہے، جو آسمان یعنی بلندی سے برستا ہے، کیونکہ سورۂ قٓ (۵۰) کی آیت ۹ (۵۰: ۰۹) کے مطابق پانی جسمانی برکتوں کا سرچشمہ ہے، آپ اندازہ کریں کہ پانی کی بدولت کس طرح پوری دنیا آباد و سرسبز ہوتی رہتی ہے، کیسے کیسے عمدہ اور دلکش باغ و گلشن پیدا ہوتے ہیں اور کس طرح لہلہاتے ہوئے کھیتوں سے لوگوں کی روزی کے لیے اناج کا ذخیرہ جمع ہوتا ہے، نیز یہ بھی دیکھنا ہے کہ پانی کی برکت سے وہ شہر کس طرح زندہ ہوجاتا ہے، جو موسمِ سرما میں مرچکا تھا، پانی کی یہ مثال ذکرِ الٰہی کے فیوض و برکات کی حقیقتیں سمجھنے کے لیے ہے، جن سے ایمانی روح کی آبادی ہوتی ہے، اور مومن کی حقیقی زندگی بنتی ہے۔
آسمان و زمین کی برکات:
سورۂ اعراف کی آیت ۹۶ میں فرمایا گیا ہے کہ: اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور پرہیز گار بنتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں (کے ابواب) کو کھول
۴۱
دیتے (۰۷: ۹۶) جاننا چاہئے کہ اس آیۂ کریمہ کے معنی کا تعلق مادّی برکتوں سے کم اور روحانی برکتوں سے زیادہ ہے، اور ہر حالت میں فیوض و برکات کی کلیدیں اسمائے الٰہی میں ہیں اور ضروری ہدایات صاحبِ امر سے حاصل ہوسکتی ہیں۔
دونوں جہان کی برکات:
قرآن (۰۷: ۵۴) میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: آگاہ رہو کہ عالمِ خلق اور عالمِ امر (دونوں) اسی (خدا) کے ہیں وہ خدا جو عالموں کا پروردگار ہے بڑا برکت والا ہے۔ اس آیۂ مقدّسہ میں بطورِ اشارہ یہ فرمایا گیا ہے کہ پروردگارِ عالمین کی لاانتہا رحمتیں اور برکتیں عالمِ جسمانیّت اور عالمِ روحانیّت دونوں میں پھیلی ہوئی ہیں، جن کی کلید خداتعالیٰ کے مبارک و مقدّس اسم کے ذکر میں پوشیدہ ہے جس کا بیان ہوا۔
اس باب کے سلسلے میں شروع سے یہاں تک قرآن پاک کی روشنی میں جو خاص باتیں بتائی گئیں، اُن کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھاکہ اللہ تعالیٰ کے مبارک و مقدس اسم کے ذکر میں دین و دنیا اور ظاہر و باطن کی جملہ رحمتیں اور برکتیں سموئی ہوئی ہیں، لہٰذا کوئی دیندار یادِ الٰہی سے غافل نہ رہے اور جو ذکرِ الٰہی میں مصروف ہے،
۴۲
وہ اس کے تمام فوائد سے آگہی کے ساتھ عمل کرے تاکہ علم اور عمل دونوں کے یکجا ہونے سے جلد ہی کامیابی حاصل ہو۔
۴۳
باب سوم
ذکر کی قسمیں
یہ امر حقیقی مومنین کے فرائضِ ضرور یہ میں سے ہے، کہ وہ ذکرِ الٰہی کی مختلف قسموں کی کچھ مثالیں سمجھ لیں تاکہ وقت اور جگہ کے تقاضا کے مطابق ان سے دینی اور روحانی فائدہ اُٹھایا جاسکے کیونکہ قدرت و فطرت کا یہی قانون ہے کہ دین و دُنیا کی کوئی بھی چیز کُلّی طور پر مفید اور سود مند ثابت نہیں ہوسکتی، جب تک کہ اس کے متعلق پُورا پُورا علم حاصل نہ کیا جائے، لہٰذا یہ جاننا ضروری ہے، کہ مختلف اعتبارات سے ذکر کی کئی قسمیں ہیں، جن میں سے بعض اہم قسموں کو ہم یہاں بطور مثال زیرِ بحث لاتے ہیں، چنانچہ ذکرِ فرد، ذکرِ جماعت، ذکرِ جلی، ذکرِ خفی، ذکرِ کثیر، ذکرِ قلیل، ذکرِ لسانی، ذکرِ قلبی، ذکرِ بصری، ذکرِ سمعی، ذکرِ بدنی اور ذکرِ خواب۔
اقسامِ ذکر کا ثبوت:
اگر سنجیدگی سے غور و فکر کیا جائے تو مذکورۂ بالااقسام کے ذکر کی واضح مثالیں اِس آیۂ کریمہ سے ملتی ہیں، جو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
۴۴
فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا (۰۲: ۲۰۰)
پس تم اس طرح ذکرِ خدا کرو جس طرح تم اپنے باپ داداؤں کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بڑھ کے۔
چنانچہ سب سے پہلے اس ارشاد مبارک سے ایک شخص کے انفرادی ذکر کی مثال ملتی ہے کیونکہ اپنے باپ کی یاد کوئی ایک فرد بھی کرسکتا ہے، پھر اس سے جماعتی ذکر ثابت ہے، جبکہ چند بیٹے مل کر بھی اپنے آبا و اجداد کو یاد کرتے ہیں، اس کے بعد ذکرِ جلی کا اشارہ ہے، چونکہ کوئی شخص اپنے باپ داداؤں کی یاد و تعریف ترنّم اور قصیدہ خوانی کی صورت میں بھی کرتا ہے، جیسا کہ عرب کے لوگ شروع شروع میں کرتے تھے، بعد از ان ذکرِ خفی کا ثبوت ہے اس لیے کہ آدمی اپنے دل میں پوشیدگی سے بھی باپ دادا کو یاد کرتا ہے، ذکرِ کثیر اور ذکرِ قلیل کی مثال تو زیادہ واضح ہے، کہ انسان اپنے باپ کو زیادہ یاد کرتا ہے یا کم یاد کرتا ہے، ذکرِ لسانی کی مثال ذکرِ جلی کے ساتھ اور ذکرِ قلبی کی مثال ذکرِ خفی کے ساتھ ہی آگئی، ذکرِ بصری کی دلیل یہ ہے کہ ہر بیٹا اپنے باپ کو اور اس کی خاص چیزوں کو محبّت کی نگاہ سے دیکھتا ہے یا باپ کے دیدار
۴۵
کا مشتاق رہتا ہے، ذکرِ سمعی کا ثبوت یہ ہے کہ ہر انسان اپنے آباواجداد کی تعریف و تذکرہ شوق سے سُنتا ہے، ذکرِ بدنی کی مثال یہ ہے کہ ہر وہ آدمی جسے اپنے باپ کے پاس جانا ضروری ہو، جسمانی حرکت کرتا ہے اور محنت و مشقت برداشت کرتا ہے، اور ذکرِ خواب کی مثال یہ ہے کہ ہر نیک دل انسان اپنے پدرِ بزرگوار کو کبھی کبھار خواب میں دیکھتا ہے، جس کی وجہ سے باپ کی یاد و محبّت اور بھی قوّی ہوجاتی ہے۔
ذکرِ فرد:
ذکرِ فرد سے انفرادی ذکر مراد ہے، خواہ ذاکر کسی جماعت کے ساتھ ہو یا کہیں الگ، ہر حال میں جب وہ جماعت کی کسی پابندی اور ہم آہنگی کے بغیر اپنی مرضی اور آزادی سے ذکر کرتا ہو، تو یہ اس کا انفرادی ذکر کہلاتا ہے، بندۂ ذاکر کا انفرادی ذکر ہر جگہ اور ہر موقع پر مفید اور سود مند ثابت ہوتا ہے، لیکن جماعتی ذکر چھوڑ کر اس کو اختیار نہ کیا جائے، کیونکہ جماعتی ذکر کی فضیلت انتہائی عظیم ہے۔
ذکرِ جماعت:
جماعتی ذکر یا اجتماعی ذکر کی صورت یہ ہے کہ اس میں ایک سے زیادہ جتنے بھی ہوں مومنوں کی مجلس ہوا کرتی ہے، جس میں سب ہم آواز ہوکر ذکر کرلیا کرتے
۴۶
ہیں، اگر مجلسِ ذکر سے متعلق تمام شرائط اور آداب بجالائے جائیں تو اس میں ذکر و عبادت کے دوسرے طریقوں کی نسبت روحانی ترقی کے زیادہ امکانات موجود ہوتے ہیں، جس کی حکمت یہ ہے کہ ذکر خدا تعالیٰ کی نورانی رسّی ہے اور اس کو اجتماعی طور پر مضبوطی سے پکڑنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔
ذکرِ جلی:
ذکرِ جلی ایک فرد یا چند افراد کے اُس ذکر کا نام ہے، جو مؤثر آواز کے ساتھ کیا جاتا ہے، جس کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے کہ انسان کا دل غفلت اور غلط کاریوں کے سبب سے بہت جلد زنگ آلود اور تاریک ہوجاتا ہے اور ایسے دل میں ذکرِ خفی نہیں اُترتا، تاوقتیکہ ذکرِ جلی اور گریہ و زاری سے دل کی مکمل صفائی نہ ہو۔
یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے تمام اجزاء میں سے جو بھی جُز ہو جب اسے بلند اور پُر اثر آواز سے پڑھا جاتا ہے، تو وہ ذکرِ جلی کہلاتا ہے، مثلاً کسی جماعت کا بآواز بلند سبحان اللہ کی تسبیح پڑھنا وغیرہ، غرض جو بھی عبادت اونچی آواز کے ساتھ ہو وہ ذکرِ جلی ہے۔
ذکرِ خفی:
ذکرِ خفی کا مقصد پوشیدہ اور پنہان طریق پر ذکر کرنا ہے، جو کہ ذکرِ قلبی سے بہت قریب ہے۔ اس کا فائدہ
۴۷
یہ ہے کہ اس میں درویشی کی کوئی نمائش نہیں ہوتی، اور نہ ہی لوگ ایسے ذاکر کے خلاف چہ میگوئیاں کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ بتدریج دل میں اُتر کر ذکرِ قلبی کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
ذکرِ کثیر:
ذکرِ کثیر کا مطلب ہے خدا کو کثرت سے یاد کرنا، خواہ وہ یاد مختلف اذکار و عبادات کی حیثیت سے ہو یا ایک ہی ذکر کی صورت میں، وقفہ وقفہ سے ہو یا مسلسل طور پر، جلی ہویا خفی، بہرحال وہ ذکرِ کثیر ہی کہلائے گا، جبکہ مجموعی طور پر اس کی مقدار بہت زیادہ ہو۔
اس سلسلے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن پاک کی ایک آیت میں نہیں بلکہ متعدد آیات میں ذکرِ کثیر کا حکم دیا گیا ہے، جس سے یہ امر واجب اور لازم ہوتا ہے کہ مومن کو شب و روز زیادہ سے زیادہ یادِ الٰہی اور نیک کاموں میں مصروف رہنا چاہئے، کیونکہ انسان کے دل میں دو مخالف طاقتیں کار فرما ہیں، ایک تو خیر کی طاقت ہے اور دوسری شر کی، چنانچہ بندۂ مومن درست طریقے سے جتنی دیر تک خدا کو یاد کرتا رہتا ہے، اتنی مدّت کے لیے شر کی کارفرمائی بند اور خیر کی فرمائش آزاد ہوجاتی ہے، اس کے برعکس
۴۸
جب بھی انسان خدا کو بھول جاتا ہے، اس وقت خیر کی صلاحیت دب کر شر کی قوّت اُبھر آتی ہے، پس اگر شیطان اور نفسِ امّارہ کی تمام بُرائیوں کے جراثیم سے بچ کر رہنا مطلوب ہو تو اس کا چارۂ کار ذکرِ کثیر ہے۔
ذکرِ قلیل:
ذکرِ قلیل کا مطلب ہے بہت کم ذکر کرنا، اگر کم ذکر کرنے کی وجہ محض سُستی ہی ہے، تو یہ اچھی علامت نہیں، کیونکہ قرآن میں سُستی و کاہلی کی مذمت کی گئی ہے، اگر کوئی اور سبب سے کم ذکر کیا جاتا ہے اور اس میں اضافہ ہوجانے کا یقین ہے، تو خیر ہے۔
ذکرِ لسانی:
ذکرِ لسانی سے ہر وہ ذکر مراد ہے، جو زبان کی حرکت سے کیا جاتا ہے، خواہ اس میں آواز بلند ہو یا پست، اِس ذکر کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے نہ صرف ذاکر کا دل حقیقی محبّت کی طرف متوّجہ اور منتظر ہوجاتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ دوسروں کے سوئے ہوئے دلوں کو بھی خوابِ غفلت سے جگا دیتا ہے۔ کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے زبان اس لیے دی ہے کہ اس سے جتنا ہوسکے اس کا ذکر کیا جائے۔
۴۹
ذکرِ قلبی:
ذکرِ قلبی کا مطلب ہے دل کا ذکر، یہ ذکر تمام اذکار میں مخصوص ترین اور عجائباتِ روحانیّت کا حامل ہے، لیکن یہ جتنا خاص، معجزانہ اور پُرحکمت ہے، اتنا نازک اور مشکل بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ دوسرے تمام اذکار و عبادات اور نیک کاموں کے ذریعے سے اس کی مدد کی جاتی ہے، تاکہ اس کی ترقی ہو، اس کے لاتعداد فائدے ہیں اور بنیادی طور پر اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی باقاعدہ اور مسلسل مشق سے دل کی زبان کُھل جاتی ہے، جس کے نتیجے میں روحانیّت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کشادہ رہتا ہے۔
ذکرِ بصری:
بصری ذکر بندۂ مومن کی آنکھ کا ذکر ہے اور یہ کئی طرح سے ہوتا ہے، مثلاً خداوند تعالیٰ کے کسی بزرگ اسم کی دلکش تحریر کو آنکھوں کے سامنے اس غرض سے رکھنا کہ اس پر مسلسل نظر جمائے رکھنے کی مشق سے یہ مبارک اسم دل پر نقش ہوجائے، یا براہِ راست ایسے کسی اسم کا تصوّر کرنا یا قرآنِ پاک اور درجۂ اعلیٰ کی دینی کتابوں کا بغور مطالعہ کرنا نیز آیاتِ کائنات کا محقّقانہ مطالعہ کرنا آنکھوں کے اذکار میں سے ہیں۔
۵۰
ذکرِ سمعی:
یہ متبرک ذکر کان سے متعلق ہے، مثلاً اگر ایک شخص ذکر کررہا ہے اور دُوسرا شوق سے سُن رہا ہے تو یہ دونوں ذکر کررہے ہیں، اس میں پہلے کا ذکر لسانی ہے اور دوسرے کا سمعی، نیز اگر ایک مومن حسنِ قرأت کے ساتھ قرآن شریف پڑھتا ہے یا کسی بھی زبان میں خواہ منظوم ہو یا منثور، خدا کی حمد و ثنا کرتا ہے، تو یہ روح پرور آواز ایسے فرد یا افراد کے حق میں ذکرِ سمعی کا درجہ رکھتی ہے جو توّجہ اور انہماک سے سنتے رہتے ہیں۔
ذکرِ بدنی:
یعنی ایسا ذکر جس کا تعلق بدن سے ہے، اس کی بھی چند قسمیں ہیں، مگر یہاں صرف اتنا ہی بتا دینا ضروری ہے کہ ہر قسم کے ذکر اور ہر طرح کی عبادت کے سلسلے میں جو بھی محنت و مشقت لازمی طور پر اُٹھانی پڑتی ہے، وہ سب جسم ہی برداشت کرتا ہے اور خاص کر قوم اور جماعت کے حق میں جو فائدہ بخش دینی خدمت بجالائی جاتی ہے، وہ جسم ہی کی قوّتوں سے انجام پاتی ہے، جو ذکر کی ترقی کی جان ہے، بشرطیکہ یہ خدمت دنیاوی مقاصد کی تکمیل کے لیے نہ ہو، بلکہ محض خداوند تعالیٰ کی رضا جوئی کی نیت سے ہو۔
۵۱
ذکرِ خواب:
بعض دفعہ مومن ایسا نیک خواب بھی دیکھتا ہے کہ وہ اس میں ذکر و عبادت کرتا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس کیفیّت میں ایسی کوئی بندگی کرتا ہے، درست یا غلط؟ چنانچہ اگر وہ بحالتِ خواب کچھ وقت کے لیے مسلسل ذکر کرتا رہتا ہے اور اسے خوشی بھی محسوس ہوتی ہے، تو یہ اُس کی روحانی ترقی کی بشارت ہے، اگر اس کے برعکس خواب کے ذکر میں یا عبادت میں اسے دِقّت پیش آتی ہو اور سلسلہ بار بار ٹوٹ جاتا ہو تو سمجھنا چاہئے کہ وہ ذکر کے معاملے میں ہنوز کمزور ہے۔
۵۲
باب چہارم
ذکر کے عام شرائط
ذکر کے عام شرائط کی تعمیل و تکمیل یہ ہے کہ مردِ درویش اوّلًا اسلام و ایمان کی واضح اور ظاہری تعلیمات و ہدایات کے بموجب اخلاقِ حسنہ اور دینداری کی صفات سے خود کو آراستہ و پیراستہ کرلیتا ہے، یہ سب کچھ صرف نیک قول اور نیک عمل کی صورت میں کیا جاسکتا ہے، چنانچہ اِس باب میں اِسی سلسلے کے بعض اہم امور سے بحث کی جاتی ہے۔
نیکی کا ذریعہ:
جاننا چاہئے کہ نیکی کا ذریعہ ذاتی لحاظ سے نیّت ہے، پھر قول ہے اور آخر میں عمل ہے، چنانچہ ان تین ذریعوں سے ہر وہ نیکی انجام پاسکتی ہے، جو احکامِ دین کے حدود میں ہے، جو روحِ اسلام اور حکمتِ دین کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد و منشاء حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی اور خدا وند تعالیٰ کی رضا جوئی ہے، جس سے دین و ایمان کو تقویّت، علم کو فروغ، دل کو سکون اور روح کو راحت
۵۳
میسر ہو، جو نہ صرف فرد کی اخلاقی بلندی کا باعث ہے، بلکہ یہ قومی عزّت و آبرو اور ترقی و خوشحالی کا بھی ذریعہ ہے، جسے نیک نیتی، نیک قول اور نیک عمل کہا جاتا ہے، اور ایمان و عملِ صالح بھی یہی ہے، یہی تقویٰ اور عدل و احسان ہے اور اسی میں دین و دُنیا کی صلاح و فلاح پوشیدہ ہے، پس بندۂ ذاکر کو ہمیشہ نیکی پر لازم رہنا چاہئے، جس کا ذریعہ نیّت اور قول و عمل ہے۔
قول و عمل:
آپ اگر دین کی تشریح و تفصیل میں جانا چاہتے ہیں، تو اس کے سلسلے میں بہت سی باتوں کو پیشِ نظر رکھنا پڑے گا اور اگر آپ دین کی تعریف مختصر سے مختصر طور پر کرنا چاہتے ہیں تو وہ صرف دو لفظوں میں سمٹ جائے گی وہ یہ کہ دین قول و عمل ہے، یعنی پاکیزہ قول اور نیک عمل کا نام دین ہے، جیسا کہ قرآن حکیم کا ارشاد ہے:
اسی (خدا) کی طرف پاکیزہ قول چڑھ جاتا ہے اور نیک عمل ہی اسے اُٹھالے جاتا ہے (۳۵: ۱۰) یعنی عقیدہ و ایمان، عبادت، ذکر اور علم یہ سب قول ہیں، اور قول خواہ کچھ بھی ہو اس کا یہ حال ہے کہ وہ نیک عمل کے بغیر خدا کے حضور تک نہیں پہنچ سکتا، اس کے معنی یہ ہوئے کہ مومنِ ذاکر خدا کے ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ
۵۴
ضروری طور پر نیک کاموں کو بھی انجام دے تاکہ وہ خدا کے پاک نور کا تقرب حاصل کرسکے۔
قرآن حکیم میں ایسے بہت سے ارشادات ہیں جن سے اس حقیقت کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ دینِ اسلام کے تمام احکام قول و عمل میں مجموع و محدود ہیں، اور قول و عمل سے باہر کوئی چیز نہیں، اور اگر نیّت ہے تو وہ دل کے ارادے کا نام ہے، جو ان دونوں سے متعلق ہے یعنی پاکیزہ قول اور نیک عمل میں نیّت (دلی ارادہ) خود بخود شامل ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے:
اور بات میں اس شخص سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں (۴۱: ۳۳) یہاں “خدا کی طرف بلانے” میں دین کی تمام باتیں شامل ہیں، کیونکہ اسلام کی تمام باتوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جس میں بلاواسطہ یا بالواسطہ خدا کی طرف بلانے کا کوئی پہلو نہ ہو، اسی طرح “نیک عمل” میں دین کے بتائے ہوئے تمام کاموں کا تذکرہ ہے، غرض یہ کہ دین دو بڑی چیزوں کا مجموعہ ہے وہ قول اور عمل ہیں، چنانچہ ذکر نہ صرف اس معنی میں دعوت ہے کہ اس میں خدا کو پکارا جاتا ہے بلکہ یہ اس اعتبار سے بھی دعوت
۵۵
ہے، کہ اسکے ذریعے انسان اپنے نفس کو خدا کی طرف بُلاتا ہے، مگر یہ دعوت جس مقصد کیلئے بھی ہو اس وقت مقبول اور کامیاب ہوجاتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ نیک عمل بھی ہو۔
عمل اور خدا کی مدد:
ظاہر ہے کہ ذکر کے معنی میں خدا کو پکارا جاتا ہے۔ اب ضرور یہ دیکھنا ہے کہ مومنِ ذاکر خدا تعالیٰ کو کس مقصد سے پکارتا ہے، اگر وہ کسی قسم کی مدد کے لیےپکارتا ہے، تو قانونِ قدرت لازماً اسے یہ جواب دے گا کہ تم پہلے اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام تو کرو، پھر اس کے بعد مدد کے لیے پکارو، کیونکہ دنیاوی طور پر بھی یہی اصول ہے کہ کسی آدمی کی مدد اس وقت کی جاتی ہے، جبکہ وہ اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر انتہائی کوشش کے باوجود متعلقہ کام نہیں کرسکتا ہو۔
عمل اور خدا کی محبّت:
اگر ذکرِ الٰہی کا مقصد خدا کی دوستی و محبت ہے تو پھر بھی اعمالِ صالحہ کے بغیر ناممکن ہے، کیونکہ دوست کی دوستی و محبت صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہے، جبکہ اس کے حکم کے مطابق عمل کیا جائے، وہ جس کام کے لیے فرماتا ہے اسے بجا لایا جائے اور جس چیز کی ممانعت کرتا ہے اس کے پیچھے
۵۶
نہ چلا جائے، پس معلوم ہوا کہ ذکر سے پہلے یا اس کے ساتھ ساتھ دین کے تمام احکام پر عمل کرنا ضروری ہے۔
عمل اور خدا کی خوشنودی:
یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص اللہ کا ذکر کسی اور غرض سے نہیں بلکہ محض اس کی خوشنودی ہی کی نیّت سے کرتا ہو لیکن اسے یہ ضرور جاننا چاہئے کہ خدا کی خوشنودی اس کے امروفرمان پر عمل کرنے ہی سے حاصل ہوتی ہے، لہٰذا مومن کا قول اور عمل دونوں آئینِ دین کے مطابق ہونے چاہئیں۔
عمل اور عبادت:
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک سادہ لوح انسان ذکرِ الٰہی میں اس خیال سے مصروف رہا کرے کہ خدا کی جملہ عبادات بس اسی میں ہے اور صرف قول (ذکر) ہی کو لے کر گوشہ نشین ہو جائے، حالانکہ عبادت غلامی کو کہتے ہیں، اور کسی غلام کی صحیح غلامی وہ ہے جس میں وہ اپنے آقا کے حکم کے مطابق گھر اور باہر کا سب کام کرتا رہتا ہے، اسی طرح خدا کی عبادت بھی قول و عمل دونوں سے کی جاتی ہے، اس مثال سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی دین کے سارے اقوال اور تمام اعمال پر مشتمل ہے۔
۵۷
عمل اور روحانی ترقی:
یہ بالکل درست ہے کہ ذکرِ الٰہی کے بہت سے مقاصد میں سے ایک خاص مقصد روحانی اور اخلاقی ترقی ہے جس میں ہر اعلیٰ چیز خود بخود شامل ہوجاتی ہے، یعنی اس میں خدا کی مدد اور حقیقی محبت بھی ہے اور اس کی خوشنودی و عبادت بھی، لیکن یہاں پر بھی پھر وہی عمل کی بحث سامنے آجاتی ہے، کیونکہ روحانی ترقی جو دین کا سب سے بڑا کام ہے اعمالِ صالحہ کی انجام دہی کے بغیر ناممکن ہے، چنانچہ فرض کیجئے کہ ایک شخص معاشرہ اور خاندان سے الگ تھلگ ہوکر گوشۂ تنہائی میں چالیس سال تک ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتا ہے، تو ہم نے یہ مان لیا کہ ایسے آدمی نے خدا کے حقوق میں سے صرف ایک بڑے حق کو ادا کیا اور خدا کے باقی حقوق اس کی گردن پر رہ گئے، اور دوسری طرف سے خدا کے بندوں کے حقوق تو ویسے کے ویسے ہی رہ گئے، یعنی اس شخص نے بندگانِ خدا کے بہت سے حقوق میں سے ایک بھی ادا نہیں کیا، مثلاً والدین کا حق، بیوی بچّوں کے حقوق، گھر والوں کے حقوق، خویش و اقربا اور پڑوسیوں کے حقوق، یتیموں، غریبوں، محتاجوں اور بیماروں کے حقوق، زندوں اور مُردوں کے حقوق، معاشرہ،
۵۸
جماعت، قوم اور ملک و ملّت کے حقوق، پس کسی ایسے شخص کی روحانی ترقی کس طرح ہوسکتی ہے، جس نے ان تمام حقوق سے گریز کیا ہے جن کو خدا و رسولؐ نے مقرر فرمایا تھا، جن کی ادائیگی سے اعمالِ صالح مرتب ہوتے تھے۔ اس سے نہ صرف نیک کاموں کی اہمیّت و افادیّت ظاہر ہوئی، بلکہ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں رہبانیّت اس لیے ممنوع ہے کہ اس سے روحانی طور پر اتنا فائدہ نہیں جتنا کہ جماعت کے ساتھ مل جُل کر مذہبی زندگی گزارنے سے حاصل ہوسکتا ہے۔
عمل جسم ہے اور قول روح:
اس عالمِ ظاہر میں وجودِ انسانی کی تکمیل دو چیزوں کے یکجا ہونے سے ہوسکتی ہے، اگر ایسا نہ ہو تو نہ تنہا روح کوئی کام کرسکتی ہے اور نہ خالی جسم، اسی طرح اگر پاکیزہ قول دین کی روح کا درجہ رکھتا ہے تو نیک عمل اس کے جسم کی حیثیت سے ہے، پس بندۂ مومن کو چاہئے کہ ذکرِ الٰہی کی رُوح جتنی پاکیزہ ہے، اس کے مطابق نیک عمل کو بھی انجام دے تاکہ اس کے ملکوتی وجود کی تکمیل ہوکر ایک فرشتہ بن سکے۔
دینِ حق ایک انتہائی دانش مند، سالم الاعضاء اور
۵۹
صحت مند انسان کی مثال پر ہے، اب ہم یہ حقیقت واضح کریں گے کہ ذکرِ الٰہی جثّۂ دین کے دل و دماغ اور عقل و دانش کا مرتبہ رکھتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ دل کو سینہ ہی محفوظ رکھتا ہے اور دماغ کی حفاظت سر کرتا ہے، اسی طرح سینہ و سر بھی ہمیشہ دُوسرے تمام اعضاء کے لیے محتاج رہتے ہیں، جن میں سے ہر عضو اپنے مقام پر بڑی اہمیّت کا حامل ہوتا ہے، اس مثال سے یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ دین کے تمام اقوال و اعمال اسی طرح باہم مربوط اور ملے ہوئے ہیں، جس طرح انسان کی روحانی اور جسمانی قوّتیں اور حواسِ ظاہر و باطن ایک دوسرے کے ساتھ مربوط اور منظّم ہیں، چنانچہ اگر دین کے کسی قول کو یا کسی عمل کو نظر انداز کردیا گیا تو دین کا سارا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے، اس لیے دین کی ہر ہدایت پر عمل ضروری ہے۔
دین کی کوئی چیز فضول نہیں:
ایک ہوشیار انسان جب کسی جہاز یا گاڑی یا کسی مشین کے نظامِ ساخت پر غور کرتا ہے، تو وہ کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں فلان پرزہ یا فلان چیز فضول یا زائد ہے، کیونکہ اسے یقین ہے، کہ اس کے تمام چھوٹے بڑے اجزاءاپنی اپنی جگہ پر ضروری ہیں
۶۰
اور ان میں سے کوئی ایک چیز بھی غیر ضروری نہیں، یہی مثال امورِ دین کے اِس مقدس مجموعے کی بھی ہے، کہ اس میں چھوٹی بڑی جتنی چیزیں رکھی گئی ہیں وہ سب کی سب نتیجہ خیز اور مُفید ہیں اور ان میں سے کوئی چیز فضول نہیں، لہٰذا دین کے ہر حکم پر عمل کرنا واجب ہے۔
معلوم ہوا کہ دین کی کوئی چیز فضول نہیں، تاہم اسی حقیقت کی مزید تفہیم کے لیے دین کی ایک اور واضح مثال درخت سے دی جاتی ہے، چنانچہ درخت اپنے تمام اجزاء کا مجموعہ ہوتا ہے، اور پھل اس کا مقصد اعلیٰ ہے، لیکن پھل چھوٹی چھوٹی اور نازک نازک شاخوں میں لگتا ہے، جن کا قیام بڑی شاخوں پر ہے بڑی شاخوں کو تنا قائم رکھتا ہے، اور تنے کا انحصار جڑوں پر ہے، درخت کے نہ تو پتّے بیکار ہیں اور نہ ہی چھلکے فضول، جبکہ پھل پتّوں کے توڑنے سے ٹھیک طرح سے نہیں پکتا اور جبکہ چھلکے درخت کے لباس کا کام دیتے ہیں، اگر چھلکے نہ ہوں تو درخت سردی اور گرمی سے سوکھ جاتا ہے، یہی حال درختِ دین کا بھی ہے کہ اگرچہ ذکرِ خدا اس کا پھل اور مقصدِ اعلیٰ ہے، لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پُورے درخت کی پرورش و حفاظت کے بغیر عمدہ اور خوشگوار پھل حاصل کیا جائے، دینی درخت کا پھل مطلوب ہو یا
۶۱
پھول اور سایہ، ہر حالت میں اِس درخت کے تمام اجزاء کی محافظت و نگہبانی واجب ہوتی ہے۔
کشتی کی مثال:
اگر ایک انسان دین کے قول و عمل میں سے ایک کو بجا لاتا ہے اور دُوسرے کو پسِ پشت ڈالتا ہے تو اس کی مثال ایک ایسے ناواقف اور انجان ملاح کی طرح ہے جواپنی کشتی کو منزل کی طرف لے جانے کی غرض سے ایک ہی چپّو کو چلاتا ہے اور دوسرے کو استعمال نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں کشتی آگے بڑھنے کی بجائے چکّر کاٹتی رہتی ہے وہ اس گمان میں مبتلا ہے کہ کشتی منزل مقصود کی طرف بڑھ رہی ہے، آپ اس مثال سے بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ قول و عمل میں سے ایک کو لیے بیٹھنا اور دوسرے کو چھوڑ دینا کتنی بڑی غلطی اور ناکامی ہے، لہٰذا دانش مند مومن وہ ہے جو دین کی ہر بات اور کام کی قدر و قیمت کو سمجھ لیتا ہے اور اسے جیسا کہ چاہئے انجام دیتا ہے۔
۶۲
باب پنجم
ذکر کے خاص شرائط
ذکرِ الٰہی امورِ دین میں سے ایک ایسا امر ہے جو عوام میں عام اور خواص میں خاص ہے، یہی وجہ ہے جو گزشتہ باب میں ذکر کے عام شرائط درج کیے گئے اور اب اس باب میں خاص شرائط بیان کیے جاتے ہیں تاکہ ہر مومنِ ذاکر کو اِس عظیم الشّان کام کی باریکیوں اور نزاکتوں کا پختہ علم حاصل ہو، اور علم ہی کی روشنی میں حصولِ مقصد کے لیے عمل کیا جائے۔
ذکر اور اذن:
مومنین کو اس حقیقتِ ثابتہ پر مکمل یقین رکھنا چاہئے کہ ذکرِ الٰہی کی ترقی و کامیابی کا اصل راز اذن و اجازت میں پنہان ہے، اور اس کے سوا حقیقی روحانیت کا دروازہ نہیں کُھلتا، جیسے قرآن پاک کی پُرحکمت تعلیمات سے یہ مطلب ظاہر ہوتا ہے کہ اذن دینِ اسلام کے خاص اصولات میں سے ہے، چنانچہ خدائے پاک کا ارشاد ہے:
۶۳
(ترجمہ) سوائے اس کے نہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسُول پر ایمان لائے ہیں اور جب کسی مجمع کے موقع پر رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک رسول سے اجازت نہ لے لیں چلے نہیں جاتے۔ بیشک جو لوگ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں وہی تو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں پھر جب وہ تم سے اپنے کسی خاص کام کے لیے اجازت چاہیں تو ان میں سے تم جس کو چاہو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لیے خدا سے مغفرت طلب کیا کرو۔ (۲۴: ۶۲)
اس ارشاد مبارک سے یہ حقیقت صاف طور پر روشن ہوجاتی ہے کہ مرکزِ ہدایت سے اذن لینا نہ صرف حقیقی مومنوں کے اوصاف میں سے ہے، بلکہ یہ پروردگارِ عالم کا ایک خاص امر بھی ہے کہ آنحضرتؐ ایسے مومنوں میں سے جن کو چاہیں مخصوص قسم کے دینی کاموں کی اجازت دے دیا کریں، اور اس کے علاوہ ان کے گناہوں کی بخشش کے لیے خدا سے دُعا بھی مانگیں، تاکہ خداوند تعالیٰ انہیں ان کاموں میں کامیابی اور برکت عطا فرمائے۔
ظاہر ہے کہ یہ اجازت ایسے اقوال و اعمال سے متعلق ہے جو دائرہ دینِ متین کے اندر ہیں اور جن کے کرنے میں خدا و رسولؐ
۶۴
کی مرضی ہو اور اس سے یہ تخصیص بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہ چیز سب کو میّسر نہیں بلکہ یہ صرف ان مومنوں کے واسطے ہے جو صحیح معنوں میں ایمان لائے ہیں اور دل و جان سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی تابعداری کرتے ہیں، پس عجب نہیں کہ اس اجازت میں ذکرِ الٰہی جیسے عالی شان امر کی طرف بھی اشارہ ہو اور یقیناً ایسا ہی ہے، کیونکہ صرف ایسا ذکر سکونِ قلب کا ذریعہ بن سکتا ہے، جس میں رسُولِؐ خدا کی اجازت اور دُعا شاملِ حال رہے۔
قرآنِ حکیم (۵۸: ۱۲ تا ۱۳) میں اللہ تعالیٰ کا جو ارشاد ہے، اس کا مختصر مطلب یہ ہے کہ عہدِ نبوّت میں حضور انورؐ سے مومنین انفرادی طور پر خلوت میں یا سرگوشی کے انداز میں راز کی باتیں پوچھ لیا کرتے تھے، چنانچہ اس امرِ واقع سے کئی حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے ان میں سے ایک تو یہ کہ یہاں سے شریعت کے علاوہ طریقت، حقیقت اور معرفت کے مدارج کی تعلیمات بھی ثابت ہوجاتی ہیں کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اُن عمومی ہدایات و تعلیمات کے لیے جو ایک بار قانونِ شریعت کی حیثیت سے علی الاعلان تمام مسلمانوں کے سامنے رکھی گئی ہیں، آنحضرتؐ کو دوبارہ تکلیف دینے کی ضرورت ہی نہ ہوتی، لیکن چونکہ حضور اقدسؐ ہر شخص کو اجتماعی تعلیم کے
۶۵
علاوہ اس کے علم و عمل کی کیفیت اور اس کی طلب کے مطابق طریقت، حقیقت اور معرفت کی تعلیمات سے سرفراز فرما دیا کرتے تھے، اگر یہ خصوصی اور انفرادی تعلیم و ہدایت ان مومنوں کو اِس طرح کی راز داری کی صورت میں نہ دی جاتی، تو اس سے نہ صرف یہی کہ بعض ذہین اور مستعد افراد کی علمی اور روحانی پرورش ادھوری رہ جاتی بلکہ ساتھ ہی ساتھ رسُول محمد مصطفےٰ صلعم کے علم و حکمت کا ایک گران مایہ حصّہ نایاب ہوجاتا۔
چنانچہ حضرت مولانا امیر المومنین علی علیہ السّلام کے بارے میں معتبر تفاسیر کی یہ روایت ہے کہ آن جنابؑ اکثر رسُول اکرمؐ سے اِس راز جوئی کے طور پر خاص علوم دینیہ کی تعلیم لیا کرتے تھے، اِس سے یہ حقیقت واضح اور روشن ہوگئی کہ جو حقائق و معارف سرورِ انبیاءؐ سے مولانا علی علیہ السّلام نے حاصل کرلیے تھے، وہ أئمّۂ آلِ محمّد علیہم السّلام کے پاک سلسلے میں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوئے آج بھی اس دُنیا میں موجود ہیں، اور ذکرِ الٰہی کی خصوصی ہدایت و اجازت بھی انہی اسرار میں سے ہے۔
اگر کوئی شخص آیۂ نجوٰی کے بارے میں یہ خیال رکھتا ہو کہ اصحابِ رسُولؐ تخلیہ میں آنحضرتؐ سے جو راز کی باتیں پوچھ لیا
۶۶
کرتے تھے، وہ سب دُنیاوی صلاح و بہبود کی باتیں ہوتی تھیں، کیونکہ آنحضرتؐ نہ صرف اخروی نجات کے لیے مبعوث ہوئے تھے، بلکہ دُنیاوی صلاح و فلاح کی ہدایت بھی آپؐ ہی سے مل سکتی تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کی دُنیاوی بہتری اور ترقی بھی دین کی ظاہری اور عمومی ہدایات سے الگ نہیں ہوسکتی تھی، کیونکہ وہ تو ایک اجتماعی اور قومی مسئلہ تھا، تاہم اس سے انکار نہیں کہ اس رازداری کے سلسلے میں بہت تھوڑی مثالیں دُنیاوی قسم کی بھی ہوسکتی ہیں، مگر آیۂ نجویٰ کے نفسِ مضمون کی حکمت کے علاوہ اس کے ترجمہ و تفسیرسے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا زیادہ تر تعلق دینی امور سے ہے، خصوصاً اس کا اشارہ اسرارِ علوم اور مدارجِ روحانیت کی طرف ہے۔
اسی سلسلے میں اس آیۂ پُرحکمت پر غور کیا جائے، جو ارشاد ہے کہ:
فَذَكِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ (۸۸: ۲۱)
تم تو نصیحت کرتے رہو تم تو بس نصیحت کرنے والے ہو۔
یعنی اے رسُولؐ آپ تو انہیں یاد دلاتے رہیے آپ تو بس یاد دلانے والے ہیں، چنانچہ اس حکم کے مطابق یہ امر لازم آتا ہے کہ آنحضرتؐ اپنے عہد مبارک میں بعض خواص
۶۷
کو ذکرِ الٰہی کی اجازت دے کر کماحقہٗ عملی طور پر یاد دلائیں جن حقائق و معارف کی یاد مقصود تھی، کیونکہ “ذَکِّر” کا مطلب ہے یاد دلائیے، ذکر کرائیے اور ذکر کی اجازت کا ذریعہ مہیّا کیجئے، کیونکہ عدلِ خداوندی کا تقاضا یہ ہے کہ عہدِ نبوّت کے بعد جو زمانہ قیامت تک آنے والا تھا اس میں بھی آنحضرتؐ کا یہ فیض جاری و باقی رہے، اور وہ صرف اسی صورت میں ممکن تھا کہ حضور اقدسؐ ذکرِ الٰہی کی ہدایت و اجازت اپنے جانشین کے سپرد کردیں تاکہ لوگوں کی طرف سے خدا و رسولؐ پر کوئی ایسی حجت قائم نہ ہوسکے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے پیغمبرؐ نے صرف زمانۂ نبوّت ہی کے لوگوں کو سب کچھ عنایت کردیا تھا۔
سورۂ ابراہیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: (اے رسُولؐ) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک کلمے کی کیسی مثال بیان کی ہے کہ (پاک کلمہ) گویا ایک پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی ٹہنیاں آسمان میں لگی ہوں اپنے پروردگار کی اجازت سے ہمہ وقت پھل دیتا رہتا ہے اور خدا لوگوں کے واسطے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں (۱۴: ۲۴ تا ۲۵)۔
۶۸
اِس آیۂ کریمہ میں جو عظیم الشّان حکمتیں پوشیدہ ہیں، ان کی کلید لفظ “اذن” یعنی اجازت کے معنی میں پنہان ہے، وہ اس طرح کہ یہ پاک و پاکیزہ درخت اس کے باوجود کہ میوہ تو ہر موسم اور ہر فصل میں تیار اور موجود رکھتا ہے، لیکن یہ اپنا پھل کسی انسان کو صرف اُس وقت دے سکتا ہے جبکہ پروردگار دینے کے لیے حُکم دیتا ہے، اور اگر خدا کی اجازت نہ ہو تو نہیں دیتا، اس حال سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس شجرۂ طیبہ کو پہلے ہی سے خدا تعالیٰ کے اذن و اجازت کا علم دیا گیا ہے، یا یہ کہ اس کو ہر وقت خدا کی طرف سے نورانی توفیق و ہدایت ملتی رہتی ہے جس کی روشنی میں یہ خوب جانتا ہے کہ خداوند تعالیٰ یہ پھل کس کس کو دینا چاہتا ہے اور کس کس کو نہیں چاہتا۔
چنانچہ شیعہ امامیہ کی تفاسیر میں ہے کہ اس آیت میں شجرۂ طیبہ کا مطلب حضرت امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا کہ: یہاں وہ درخت مراد ہے جس کی جڑ جناب رسولِ خُدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور تنا جناب امیر المومنین علی علیہ السّلام اور شاخیں أئمّہ علیہم السّلام ہیں جو ان ہر
۶۹
دو بزرگواروں کی ذرّیت ہیں أئمّہ علیہم السّلام کا علم اس درخت کا پھل ہے اور ان حضرات کے شیعہ مومنین اس درخت کے پتّے ہیں۔
اسم کا تقرّر:
یہ حقیقت بجائے خود مانی ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں، ان میں سے جس نام سے بھی اسے پُکارا جائے، وہ سُنتا ہے اور ہر اسم سے ایک طرح کا ذکر ہوتا ہے، جو موجبِ ثواب ہے اور خدا کے سب نام اچھے اور بڑے ہیں، لیکن اس حقیقت کے باوجود بھی اسمِ اعظم کا جو تصوّر ہے وہ بالکل درست اور صحیح ہے، جس کی دلیل یہ ہے کہ زمان و مکان اور منازلِ روحانیّت کا جیسا بھی تقاضا ہو ویسا ہی کوئی نامِ خدا بزرگ ترین اسم قرار پاتا ہے۔
چنانچہ جب حضرت آدم علیہ السّلام بہشت سے بحکمِ خدا نکل آئے تو اس وقت وہ کچھ ایسے تو نہ تھے کہ خدا کے سب نام بھول گئے ہوں، لیکن موقع اور ضرورت کے اعتبار سے اس وقت اللہ کے ناموں میں سے کس نام کا ذکر کرنا چاہئے یہ بات البتہ وہ نہیں جانتے تھے، لہٰذا پروردگار عالم کی جانب سے حضرت آدمؑ کو اُس حالت کے عین مطابق اسم اور کلماتِ تامّات کا تقرّر ہوا، جس سے ان کی توبہ قبول ہوگئی، یعنی ان کا روحانی
۷۰
اور اصلی مرتبہ بحال ہوگیا۔
اگر قرآن حکیم کی روشنی میں احوالِ انبیاء علیہم السّلام پر جیسا کہ چاہئے غور کیا جائے، تو یقیناً صاف صاف معلوم ہوجائے گا کہ خدا کی طرف سے اسمِ اعظم کا تقرّر ان حضرات کے الگ الگ مواقع کے مطابق ہوتا تھا، چنانچہ یہ بات خدا و رسولؐ اور صاحبِ امرؑ ہی خُوب جانتے ہیں کہ کس وقت کون سا اسم ہونا چاہئے اور کس مومن کو کیا دینا چاہئے، جس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ اگر ایک غیر مسلم انسان حضور انور نبی محمد صلعم کی نبوّت کے لیےاقرار کیے بغیر چالیس سال تک اللہ کے تمام ناموں کا ذکر کرتے رہا کرے تو صاف ظاہر ہے کہ محض خدا کے ناموں کے وسیلے سے اس کو وہ نور نہ ملے گا جو دینِ اسلام میں ہے، اِس سے پھر وہی روشن حقیقت سامنے آئی کہ ہر ضرورت مند کے لیے اسمِ اعظم الگ مقرر ہوتا ہے، چنانچہ اگر وہ غیر مسلم شخص (جس نے خدا کے سب ناموں کا ذکر کیا اور کچھ نہ پایا) اِس بات پر پوری طرح سے عمل کرتا کہ خُدا کے آخری دین میں وہ اسمِ اعظم جسے سب سے پہلے اپنانا چاہئے محمّد رسُول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی ذات عالی صفات ہی ہے، تو پھر وہ سب کچھ پالیتا۔
۷۱
ذکر اور نیّت:
دینِ اسلام میں خلوصِ نیّت کے بغیر کوئی قول و عمل درست نہیں لہٰذا ذکرِالٰہی کے خاص شرائط میں سے ایک شرط نیّت کی پاکیزگی ہے، وہ یہ کہ روحانی ترقی اور خدا کی نزدیکی کی نیّت سے اور خاص کر خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے ذکر کیا جائے، اس کے برعکس اگر کوئی شخص کسی دُنیاوی مقصد کے حصول کی خاطر ذکر و عبادت کرتا ہو تواسے ذکر میں کوئی کامیابی نہ ہوسکے گی، اگر کچھ کامیابی ہوبھی گئی تو اِس سے دینی اور اُخروی طور پر کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
ذکر اور عقیدہ:
عقیدہ ایمان و ایقان کی اصل و اساس اور ابتدائی شکل ہے اور بعض معنوں میں یہ خود ایمان بھی ہے، اس لیے ذاکر میں عقیدۂ راسخ کا ہونا از حد ضروری اور لازمی ہے، کیونکہ جس آدمی کا عقیدہ اور اعتقاد کمزور ہو، وہ ذکر میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتا جس کا اعتقاد نہ ہو وہ ایک قسم کا بے دین ہوجاتا ہے، اور جس کا عقیدہ مضبوط ہو وہی دین میں ہر قسم کی ترقی کرسکتا ہے۔
۷۲
ذکر اور طہارت:
قرآنِ پاک نے متعدّد آیات میں طہارت یعنی ظاہری اور باطنی صفائی و پاکیزگی پر زور دیا ہے، ان میں سے ایک آیۂ مبارکہ کا ارشاد یہ ہے: بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے (۰۲: ۲۲۲) یہاں توبہ پہلے آئی ہے اور طہارت بعد میں، جس کی حکمت یہ ہے کہ جب تک گناہوں سے قطعی توبہ نہ کی جائے، اس وقت تک نہ تو دل کی پاکیزگی ہوسکتی ہے اور نہ ہی ظاہری طہارت و صفائی کام آسکتی ہے، لہٰذا مومنین پر فرض ہے کہ ظاہر و باطن کی دونوں صورتوں میں ہمیشہ پاک صاف رہنے کی عادت کو اپنائے رہیں۔
ذکر اور شب خیزی:
قرآنِ حکیم نے شب خیزی یعنی رات کے ذکر و عبادت کی بہت تعریف و توصیف فرمائی ہے اور خصوصاً سورۂ مزّمل میں جس پُرحکمت اور دل نشین انداز سے شب بیداری کی ترغیب دی گئی ہے، اس کا واضح مفہوم و مطلب یہ ہے کہ مستقل طور پر شبینہ ذکر و عبادت کی عادت ڈالنے سے نفسِ امّارہ مغلوب و پامال ہوجاتا ہے جس
۷۳
کے نتیجے میں نہ صرف ذکر کا تسلسل قائم رہتا ہے بلکہ اس سے انسان کی عقل و دانش اور طرزِ بیان میں بھی زیادہ سے زیادہ استقلال و استقامت پیدا ہوجاتی ہے۔
ذکر اور گریہ و زاری:
گریہ و زاری کا اصطلاحی مطلب ہے بندۂ مومن کا خداوند تعالیٰ کے حضور زار زار رونا، اپنے چھوٹے بڑے گناہوں کی پشیمانی کے ساتھ عجز و انکساری کا مظاہرہ کرنا اور بارگاہِ ایزدی سے عفوومغفرت اور ہدایت و رحمت کا خواستگار رہنا، یہی طریقہ نہ صرف ہر قسم کے گناہ سے توبہ کرنے کی صحیح عملی صورت ہے بلکہ یہی خود تقویٰ اور تواضع کی اصل و بنیاد بھی ہے اور غرور و تکبّر کا بہترین سدِّباب بھی۔
اگر کوئی شخص فوری طور پر قرآنی اور روحانی حکمتوں کی روشنی میں گریہ و زاری کی اخلاقی اور دینی قدروں کا مشاہدہ نہ کرسکتا ہو، تو وہ سنجیدہ قسم کے فلسفہ اور معیاری نفسیات کی روشنی میں اس کی اصلاحی کارکردگی کا جائزہ لے، یا کم از کم یہ پُرحکمت عمل بطور تجربہ خود ہی کرکے دیکھے۔
یہ بات علیٰحدہ ہے کہ کوشش کے باوجود کسی مومن سے
۷۴
بوقتِ ضرورت کوئی گریہ و زاری نہیں ہوتی، ایسی صورت میں اسے بڑی سختی کے ساتھ احساس ہونا چاہیے کہ ایسا شخص “قساوتِ قلبی” کے مرضِ روحانی میں مبتلا ہوچکا ہے، جو بیجا طور پر دل سخت ہوجانے اور خوفِ خدا نہ ہونے کی بیماری ہے، جس آدمی میں قساوتِ قلبی کی بیماری ہو وہ روحانیّت میں کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ ہی وہ درویش کہلاسکتا ہے۔
دینی علم کی باتیں سنتے وقت، عبادت و ریاضت کے دوران اور ذکرِ خفی و جلی کے موقع پر مومن کے دل میں رقّت و نرمی اور سوز و گداز کا پیدا نہ ہونا بدقسمتی ہرگز نہیں، بلکہ یہ انجام مومن کے اپنے ہی گناہوں کے سبب سے ہے، اس لیے اسے یہ امر ضروری ہوگیا ہے کہ اپنے تمام اقوال و اعمال اور عادات و اطوار کا نہایت ہی باریکی سے جائزہ لے کر ہر چھوٹے بڑے گناہ سے تائب ہوجائے اور ہر نادرست عادت کی درستی و اصلاح کرے۔
اب ہمیں ذرا گریہ و زاری کی عملی کیفیت و حقیقت پر غور کرنا چاہیے کہ یہ چیز انسانی دل و دماغ میں کس طرح ایک عظیم اصلاحی انقلاب برپا کر دیتی ہے، اور اس کی تاثیر کی کارفرمائی سے انسان کا ہر ارادہ، ہر بات اور ہرکام کیسے درست ہوسکتا ہے،
۷۵
چنانچہ مثال کے طور پر جاننا چاہیے کہ جب انسان اس دُنیا میں پیدا ہوتا ہے اور جب تک شیر خوارگی اور معصُومی کی زندگی گزارتا ہے اس وقت تک ایک عام آدمی کا دل و دماغ بڑی مشکل سے اصلی اور فطری حالت پر قائم رہ سکتا ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ “ہرمولود دینِ فطرت کے عین مطابق پیدا ہوتا ہے” پھر اس کے بعد جوں جوں اس کی عمر آگے بڑھتی جاتی ہے توں توں اس کے فطری دل کے اوپر ایک ایک غلاف چڑھتا جاتا ہے کچھ تو دُوسرے لوگوں کے غلط تاثرات کے سبب سے اور کچھ اس کے اپنے نفس کی خواہشات کی وجہ سے، چنانچہ رفتہ رفتہ انسان کے دل و دماغ پر زنگ و کدورت کے بہت سے غلاف چڑھے ہوئے ہوتے ہیں، اب اس کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں، کہ وہ توبہ کے طور پر بھی اور دیدارِ الٰہی کی شدّتِ شوق سے بھی گریہ و زاری کرلیا کرے تاکہ بتدریج یہ سب غلاف زائل ہوجائیں اور آئینۂ دل کا اصلی اور فطری نکھار اور چمک دمک ظاہر ہو۔
جب بندۂ مومن خدا کے حضور توبہ کی صورت میں یا نورانی دیدار کے جذب و شوق سے گریہ و زاری کرتا ہے اور گڑگڑاتے
۷۶
ہوئے دُعا مانگتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کی رحمت شاملِ حال ہوجاتی ہے اور روز روز کے اس عمل سے دل اور نفس کا تزکیہ ہوجاتا ہے اور اسے روحانی ترقی میں کامیابی حاصل ہوتی ہے یہ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے، کہ اگر انسان کا نفس میلا، زنگ آلود اور ناپاک نہ ہوجاتا، تو قرآن کبھی نہ فرماتا کہ جس نے اس (نفس = جان) کو پاک کیا وہ تو کامیاب ہوا اور جس نے اسے دبا دیا وہ نامراد رہا (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا ، ۹۱: ۰۹ تا ۱۰)اِس آیۂ مبارکہ کی حکمت اپنی پُرمایہ مثال سے مومن کی غیرتِ ایمانی کو جگا دیتی ہے کہ نفس یعنی جان گناہوں کے ڈھیر میں دب گئی ہے اسے جلد از جلد نکال کر پاک صاف کردیا جائے اور یہ بڑا مشکل کام صرف گریہ و زاری، توبہ و تواضع اور ذکر و عبادت سے انجام پاسکتا ہے۔
جو ہوش مند یہ سمجھتا ہو کہ وہ حقیقت میں ابھی تک روحانیّت کا جوان اور پہلوان نہ ہوسکا ہے، بلکہ وہ راہِ روحانیّت کا طفلِ شیر خوار یعنی چھوٹا بچّہ ہی ہے، تو پھر وہ اپنی روحانی پرورش اور باطنی نشو و نما کے لیے گریہ و زاری کرتا رہے، تاکہ دایۂ نُورِ الٰہی کو رحم آئے، اور اس کی معجزاتی پرورش و تربیت ہونے لگے۔
۷۷
وہ حقیقی مومنین، جو روحانیت کی ترقی پر ہیں، جب پچھلی رات کو مناجات، منقبت اور گنان کی صورت میں خوب گریہ و زاری اور دُعا کرکے نورانی عبادت میں لگ جاتے ہیں تو اس میں ان کا مقدّس ذکر پُرنور اور پُرمعجزہ بن جاتا ہے، ان کے دل میں حقیقی محبت کا سمندر موجزن ہونے لگتا ہے، اور اسی کامیاب اصول کے اپنانے سے ان کے گلشنِ روحانیّت میں ہر روز ایک نئی عظیم الشّان بہار اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ گریہ و زاری میں نہ صرف لغزشوں اور گناہوں سے توبہ اور طلبِ مغفرت کے معنی پوشیدہ ہیں بلکہ اس میں ایمان و ایقان کی ترقی و مضبوطی اور آئندہ خطرات و بلیّات سے بچنے کی پُرسوز اور مقبول دُعا بھی پنہان ہے۔
قرآن حکیم نے بڑے سے بڑے نقصانات اور شدید ترین مصائب و آلام کے موقع پر بھی رونے کی ممانعت فرمائی ہے اور ہر تکلیف و مصیبت کو صبر و استقلال سے برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے برعکس انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام اور درجۂ اوّل کے مومنین کی اُس گریہ و زاری کی بے حد تعریف کی گئی ہے کہ یہ گریہ و زاری وہ حضرات اکثر روحانی ترقی اور
۷۸
دیدارِ الٰہی کے حصول کی غرض سے کرلیا کرتے تھے۔
قرآن مقدّس میں حقیقی مومنین کی ایک اور خاص صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ جب جذبۂ ایمانی سے رویا کرتے ہیں تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرتے ہیں، یقیناً یہ عمل خدا کے نزدیک عاجزی و انکساری کی انتہائی حد ہے جس کے نتیجے میں خداوند عالم اہلِ ایمان پر اپنی بے پناہ رحمتوں اور برکتوں کی بارش برسا دیتا ہے۔
گریہ و زاری کی ایک اور حکمت یہ ہے کہ جب انسان ایک شیرخوار طفل ہوتا ہے تو اس وقت وہ کچھ بھی بول نہیں سکتا یعنی وہ بظاہر بے زبان سا ہوتا ہے، مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، کیونکہ انسان بچّہ ہونے کے باوجود بھی اشرف المخلوقات ہی ہے لہٰذا پروردگار عالم بچّے میں رونے کی صلاحیت و قوّت پیدا کردیتا ہے، تاکہ بچّہ بوقتِ ضرورت رو لیا کرے، اور بچّے کا یہی رونا ہر قسم کی حاجت طلبی ہے، جس کا مطلب مادرِ مشفقہ بآسانی سمجھ لیتی ہے اور ہر طرح سے اس کی خبر گیری و پرورش کرتی رہتی ہے۔
مختصر یہ کہ پروردگارِ عالم کے حضور میں گریہ و زاری کرنے سے بندۂ مومن کی نفسانی خواہشات اور باطل خیالات وقتی
۷۹
طور پر یکسر مٹ کر ذکر و عبادت کا جوہر کھلتا ہے اور اسی طریق پر بار بار کے عمل سے دانش مند مومن کو خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
ذکر اور دُعا:
ذکر کے اس موضوع میں یہ امر بھی زیادہ مناسب ہے کہ دُعا کی بابت چند بنیادی اور ضروری باتیں بتا دی جائیں کہ دُعا کی اہمیت و افادیت کیا ہے، کون کون سے اوقات و مواقع اس کے لیے موزوں ہوتے ہیں اس کا طریقِ کار کیا ہونا چاہیے وغیرہ، چنانچہ جاننا چاہیے کہ دُعا مومن کی ایک قابلِ قدر صلاحیت اور بہترین قوّت ہے اور یہ سب انسانوں کے لیے عام نہیں، بلکہ صرف مومنین ہی کے لیے خاص ہے، قرآنِ حکیم کی جو آیات دُعا کے موضوع سے متعلق ہیں، ان کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دُعا اہلِ ایمان کے لیے نہایت ہی ضروری ہے اور انہیں اِس سے ہر وقت اور ہر موقع پر فائدہ اُٹھانا چاہیے، خصوصاً سخت کاموں اور مشکلات کے سامنے آنے پر اور ہر کام کے آغاز میں بارگاہِ ایزدی میں گریہ و زاری اور عاجزی و محتاجی کے ساتھ دُعا کی جائے کیونکہ حقیقی مومن کی دُعا کبھی ضائع نہیں جاتی، وہ اِس طرح کہ اوّل تو وہی مقصد بلا تاخیر
۸۰
یا بدیر حاصل ہوتا ہے، جس کے لیے دُعا کی جاتی ہے، اگر خدا کے نزدیک اس مقصد کے حصول میں مومن کی بہتری نہ ہو تو دُعا کا پھل کسی اور صورت میں مل جاتا ہے، مثلاً گناہ کی معافی، خواہشاتِ نفس سے خلاصی، حسنِ توفیق، بُری عادات سے چھٹکارا، شوقِ عبادت، قلب کی صفائی، فہم و ادراک کی تیزی، حلیمی اور تواضع، گفتگو میں سنجیدگی، صبر و سکون، جذبۂ علم، دین سے دلچسپی، نجاتِ آخرت وغیرہ وغیرہ۔
چنانچہ بڑے خوش نصیب ہیں وہ مومنین جو اپنے تمام نیک کاموں میں اللہ تعالیٰ کی روحانی اور غیبی مدد کے لیے دُعا کرنے کے عادی ہیں،مثال کے طور پر وہ جب رات کے وقت اپنے کام کاج اور عبادت و بندگی سے فارغ ہوکر بستر پر لیٹ جاتے ہیں، تو ایسی دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو نیند کے دوران ہر بلا اور ہر بُرائی سے محفوظ اور سلامت رکھے، اور انہیں نُورانی عبادت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے وقت پر جاگنا نصیب ہو، وہ جب وقت پر جاگتے ہیں تو انتہائی مسرت و شادمانی سے خداوند تعالیٰ کا شکر بجالاتے ہیں اور دُعا مانگتے ہیں کہ سارا دن یادِ الٰہی اور نیک کاموں میں گُزرجائے جب وہ ذکر کی تیاری کرتے ہیں تو
۸۱
اپنی ہی زبان اور اپنے الفاظ میں آہستہ آہستہ مناجات کرتے ہوئے اُس طرف رحمان و رحیم کی بے پناہ رحمت اور اِس طرف اس قدر روحانی مفلسی، غربت، محتاجی، پس ماندگی، گناہ، غفلت، سستی، لاعلمی وغیرہ کا تصوّر کرکے گریہ و زاری اور سوز و گداز کے عالم میں جبینِ نیاز مندی زمین پر رکھ کر التجا کرتے ہیں کہ خُدائے قادرِ مطلق کی طرف سے معجزانہ طور پر ان کی دستگیری اور یاری و مدد حاصل ہو۔
یاد رہے کہ بندۂ مومن کو دُعا کے ذاتی پہلو کے علاوہ دوسرے تمام پہلوؤں سے بھی فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہے، یعنی رسُول اللہ صلعم، صاحبِ امرؑ اور مومنین کی اجتماعی و انفرادی دُعاؤں کا فیض بھی مل سکتا ہے، مگر شرائط کی بجا آوری کے بغیر یہ امر ناممکن ہے اور وہ شرائط دینداری اور ایمانداری کے اوصاف ہی ہیں، یعنی انسان عملاً مومن ہوکر دُعا کے ہر رُخ سے فیضان حاصل کرسکتا ہے یا مختصراً یُوں کہنا چاہیے کہ دُعا کی ہر قسم سے مستفیض ہونے کی واحد شرط فرمانبرداری ہی ہے، اور نافرمانی کی صورت میں کوئی بھی دُعا مفید نہیں ہوسکتی۔
ہمیں حضرت نوح علیہ السّلام کے قرآنی قصّے میں خوب غور و فکر کرنا چاہیے کہ آنجنابؑ نے اپنے نافرمان بیٹے کی نجات
۸۲
کے لیے خدا کے حضور کس قدر چاہت سے سفارش کی تھی، کیا ان کی ایسی خواہش میں دُعا کی رُوح پوشیدہ نہیں تھی، جبکہ دُعا کے معنی طلب کرنے کے ہوتے ہیں؟ لیکن اس وصف کے باوجود کہ آپ ایک خاص پیغمبر تھے، آپ کی یہ سفارش اور دُعا نا منظور ہوئی، اس لیے کہ دعا وہاں کام آتی ہے جہاں اس کے شرائط بجالائے گئے ہوں، دُوسری طرف حضرت نوحؑ نے اپنے وقت کے کافروں کو بد دُعا دی تھی، وہ تو غرق اور ہلاک ہوگئے، کیونکہ ان کافروں میں آپ کی بد دُعا کار گر ثابت ہوجانے کے شرائط پُورے ہوچکے تھے۔
اس پُورے بیان کا خلاصہ یہ ہوا کہ اپنی اور دُوسروں کی کوئی نیک دُعا اس وقت مفید ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ اس کی شرطیں پُوری کی گئی ہوں، غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جس جامعیّت سے طرح طرح کی صلاحیتوں اور قوّتوں کو مومن کے باطن میں سمودیا ہے، اُن سے کام نہ لینا، اپنے بس کی بات کسی اور کے ذمہ ٹھہرانا، اپنے اندر آرام طلبی اور کاہلی کی عادت ڈالنا اور عظیم الشّان فرائض منصبی سے گریز کر جانا بہت بڑی ناشکری اور عظیم گناہ ہے۔
۸۳
ذکر اور خوراک:
جو مومن ذکرِ الٰہی کے روحانی خزانوں تک رسا ہوجانا چاہتا ہے، اسے متعلقہ آداب کے سلسلے میں بڑی احتیاط سے یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس کے کھانے پینے میں جو جو چیزیں شامل ہیں وہ سب کی سب شریعتِ محمدیؐ کے مطابق حلال و جائز ہوں، کیونکہ مومن کبھی حرام خور نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ حلال ہی کھاتا پیتا ہے، وہ حلال میں بھی بڑا محتاط رہتا ہے، یعنی وہ اس طرح پیٹ بھر کر غذائیں نہیں کھاتا جس سے کہ ذکر و عبادت کے دوران سُستی، بے توجہی اور نیند کا غلبہ ہو، خصوصاً شام کے وقت اس کا زیادہ خیال رکھتا ہے تاکہ رات کو بروقت یادِ الٰہی کے لیے اُٹھ سکے اور خاطر جمعی سے ذکر کے تسلسل کو قائم رکھ سکے، ورنہ ذکر میں طرح طرح کی رکاوٹیں اور مزاحمتیں پیش آتی رہتی ہیں۔
ذکر اور نیند:
مومنِ ذاکر کے لیے جس طرح کھانے پینے میں احتیاط و اعتدال سے کام لینے کی سخت ضرورت ہے، اسی طرح اسے نیند کے بارے میں بھی محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ نیند کے عالم میں زیادہ دیر تک پڑے رہنے سے ایمانی روح بیحد کمزور ہوجاتی ہے، اس لیے کہ نیند ایک قسم کی
۸۴
مُردگی (موت) ہے جس میں مَلَکی طاقتیں قائم نہیں رہ سکتی ہیں، اور نہ اس میں روح الایمان ٹھہر سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پرہیز گاروں کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ بہت کم سویا کرتے ہیں (۵۱: ۱۷) اس تھوڑی سی نیند میں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے کہ اس سے انسان کا دل و دماغ دن بھر کے دُنیاوی خیالات و افکار سے کافی حد تک آزاد ہوجاتا ہے، ساتھ ہی ساتھ تھکاوٹ دُور ہوکر طبیعت میں تازگی پیدا ہوتی ہے، اس لیے کچھ دیر تک لیٹ کر آرام سے سوجانا چاہیے، چنانچہ اگر کسی خاص کام کی مجبوری نہ ہو، تو رات کو بروقت سوجانا ضروری ہے اور مقرّرہ وقت پر کسی تاخیر کے بغیر جاگ اُٹھنا چاہیے، مگر یہ بات علیٰحدہ ہے کہ بعض دفعہ ذکر و عبادت کی محفل شام سے لے کر صبح تک قائم رہتی ہے جس کا اشارہ قرآن (۷۶: ۲۶) میں موجود ہے۔
اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ: کیا یہ بہتر نہیں کہ ایک مومن بجائے اس کے کہ وہ رات کو بہت پہلے اُٹھ کر عبادت کرے، وہی عبادت یا اس سے کچھ زیادہ عبادت سونے سے قبل بجا لاکر سوجائے اور صبح دیر سے اُٹھے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کام کئی وجوہ سے درست نہیں، اوّل اس لیے کہ خُدا
۸۵
کا حُکم ایسا نہیں ، دوم یہ کہ رات بھر سوئے رہنے سے جیسا کہ اُوپر بتایا گیا مومن کی روح کمزور ہوجاتی ہے، سوم یہ کہ جو عبادت کچھ دیر سوجانے کے بعد اُٹھ کر کی جاتی ہے وہ شام کی عبادت سے بدرجہ ہا افضل ہوتی ہے، کیونکہ اس میں دن بھر کے دُنیاوی خیالات و افکار کا اکثر حِصّہ نیند کی بدولت انسان کے ذہن و خاطر سے مٹ جاتا ہے، پس یہی سبب ہے کہ سورۂ مزّمل میں عبادت کی غرض سے ذرا سوکر اُٹھنے کے لیے فرمایا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ صبح کے وقت توبہ کرنا پرہیزگاری کی علامت قرار دی گئی ہے۔ (قرآن ۵۱: ۱۸)
ذکر اور علم:
ذکر کی مثال سیر و سفر ہے، اور علم و ہدایت کی مثال روشنی اور بصارت (بینائی) چنانچہ اگر کوئی انسان ذکر کے ذریعے سے چل کر اپنی ذات کے عالمِ باطن میں بحکم “سِيْرُوْا فِيْهَا (۳۴: ۱۸)” سیر و سفر کرنے کا خواہشمند ہے تو اسے نہ صرف دینی ہدایت کی آنکھ چاہیے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ علم الیقین کی روشنی بھی ضروری ہے کیونکہ جب ایک آدمی منزل بہ منزل کسی دُور ملک میں جانا چاہتا ہے تو وہ صرف روشنی ہی میں آسانی اور خوشی سے سفر کرسکتا ہے، اور اس کے
۸۶
بغیر رات کی تاریکی میں چل نہیں سکتا، اور اگر وہ اندھوں کی طرح کچھ چل بھی سکتا ہو، تو رستے کے مناظرِ قدرت سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا، نہ ایسے سفر سے وہ چندان خوش ہوجاتا ہے، نہ اسے نشانِ منزل کی کوئی آگہی ہوتی ہے اور نہ سفر سے کچھ تجربات اور معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔
نیز یہ حقیقت جاننا چاہیے کہ یقینِ کامل جس اعلیٰ ترین معرفت کا نام ہے وہ تین درجوں میں ہے، ابتدائی درجہ علم الیقین کا ہے اس سے اُوپر کا درجہ عین الیقین کا ہے اور سب سے اوپر کا درجہ حق الیقین کا ہے اس سے یہ ثابت ہوا کہ علم الیقین کے بغیر عین الیقین تک پہنچنا ناممکن ہے جو روحانی مشاہدات کا مقام ہے، اور عین الیقین کے مرتبے کے بغیر حق الیقین محال ہے، پس معلوم ہوا کہ خصوصی ہدایت اور دینی علم کے بغیر ذکر کی کوئی ترقی نہیں۔
ذکر اور وقت:
قرآنِ حکیم کی کئی آیاتِ مقدّسہ میں یادِ الٰہی کثرت سے کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے، جس کے یہ معنی ہوتے ہیں، کہ دن رات کے تمام اوقات میں جس قدر بھی ہوسکے زیادہ سے زیادہ ذکر و عبادت
۸۷
کرنا چاہیے، دُوسری طرف سورۂ مزّمل میں رات ہی کو ذکر کے لیے مناسب و موزوں وقت قرار دیا گیا ہے (۷۳: ۰۶) اور اس کی وجہ بھی ظاہر کی گئی ہے کہ دن کے وقت بہت مشغولِ کار رہنا ہے (۷۳: ۰۷) ان دونوں مقدّس ہدایتوں میں یکجا طور پر غور کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو حکم شب و روز کثرت سے خدا کو یاد کرنے کے بارے میں ہے، اس کا مقصد ذکرِ کثیر ہی ہے، جو آسان اور عام ذکر ہے اور جس ارشاد میں شب یعنی پچھلی رات کے ذکر کے لیے تاکیدی امر ہوا ہے، وہ ذکرِ خفی اور ذکرِ قلبی ہے، جو مشکل اور خاص ذکر ہے اور آنحضرتؐ کو مخاطب کرکے یہ جو فرمایا گیا ہے کہ دن کے وقت تو تم بہت مشغولِ کار رہتے ہو (۷۳: ۰۷) اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حضور انورؐ کو دن کے وقت ذکر و عبادت کے لیے فرصت ہی نہیں ملتی تھی، جبکہ آنحضرتؐ خود سراپا ذکر تھے، یعنی آپؐ کی پیشانی مبارک میں نُورانی ذکر خود ہی بولتا رہتا تھا بلکہ اس کا مقصد تو یہ ہے کہ اس اشارے سے دن کے ذکر کو ذکرِ عام اور رات کے ذکر کو خاص قرار دیا جائے، تاکہ دن کے وقت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مومنین سے جس قدر بھی ہوسکے آسانی سے خدا کو بھی یاد کریں اور اپنے
۸۸
کام کو بھی انجام دیں، اور رات کے مخصوص وقت میں خاص ذکر کو پوری دل جمعی اور مکمل توّجہ سے بجا لائیں تاکہ رات کی خصوصی عبادت کو دن کی عمومی عبادت سے امداد و تقوّیت ملے، اور اسی طرح ذکر و عبادت کا ایک خاص مرکز قرار پائے، اور مومنین روحانی اور نورانی نتائج کے لیے اس مرکز کو دیکھتے رہا کریں۔
ایک بہت شریف اور متقی تاجر بڑے انہماک سے تجارت کا کام کررہا ہے، اس کا کاروبار خُوب چل رہا ہے اور دکان پر خریداروں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے، اس تاجر کے پاس اس کا ایک بہت بزرگ دوست بیٹھا ہے، دوکاندار بڑے اطمینان اور شریفانہ انداز سے کبھی خریداروں سے اور کبھی بزرگ دوست سے بات چیت کررہا ہے، جب یہ شخص کسی خریدار کی طرف یا کسی مطلوبہ چیز کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، تو اس وقت اس کے بزرگ دوست کو یہ احساس ہرگز نہیں ہوتا کہ اس کے دکاندار دوست نے اس کے ساتھ سلسلۂ گفتگو کو کیوں قائم نہیں رکھا اور کیوں بے توجہی کی گئی کیونکہ ان دونوں کے آپس میں گہری محبّت اور بڑا اعتماد ہے، لہٰذا بزرگ خوش ہے کہ اس کے دوست کا سب کام ٹھیک ہے اور دکان خُوب چل رہی ہے، چنانچہ یہ ایک مثال ہے اس
۸۹
امر کی کہ حقیقی مومن دُنیاوی کام کاج کے ساتھ ساتھ کسی بھی اسم میں ذکرِالٰہی بھی کرسکتا ہے، اور اگر ایسے عام ذکر کا سلسلہ بار بار ٹوٹ جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔
ذکر اور موقع:
حقیقی مومن کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ ذکر کے لیے جو خاص و عام اوقات مقرّر ہیں ان کے علاوہ بعض دفعہ اس کے خصوصی مواقع بھی ہوا کرتے ہیں جن کے آنے پر ذکر کو آگے سے آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے، چنانچہ جب اللہ تعالیٰ بندۂ مومن کو کسی مصیبت میں مبتلا کرکے آزمانے لگتا ہے تو اس وقت دانشمند مومن کےلیے یادِ الٰہی کا ایک خصوصی موقع فراہم ہوتا ہے، وہ اسے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، کیونکہ بموجب ارشادِ قرآنی ہر مصیبت میں تین چیزیں پوشیدہ ہوتی ہیں، وہ خدا کی طرف سے درود، رحمت اور ہدایت ہیں وہ ایسے صابروں کو ملتی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا کے ہیں اور ہم اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور پھر اس کی یاد کرتے رہتے ہیں۔ (۰۲: ۱۵۵ تا ۱۵۷)۔
یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ انسان کا اپنا نفسِ امّارہ ہی سب سے طاقتور اور بڑا چالاک دینی دُشمن ہے، جو ہر نیک
۹۰
کام میں خاص کر ذکر و عبادت میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتا رہتا ہے یہ مخالفت، دُشمنی اور بُری کوششوں سے ہرگز نہیں تھکتا اور اکثر غالب ہی رہتا ہے، مگر کچھ خاص مواقع ایسے بھی ہیں جن میں مومن اپنے نفس پر بآسانی غالب آسکتا ہے، وہ مواقع ہیں مصائب و آلام کے اوقات کہ اُن میں نفسِ امّارہ آفت زدگی کی کیفیت میں مایوس اور عاجز ہوکر رہ جاتا ہے، پس ایسے موقع پر ذکر و عبادت کے وسیلوں سے نفس کو مغلوب و پامال کرکے ذکر کو کسی اگلی منزل تک پہنچا دیا جاسکتا ہے۔
نفسِ امّارہ کے مغلوب ہوجانے کا ایک اور سنہرا موقع ہے وہ ہے حقیقی علم اور عشقِ الٰہی کی باتیں سُننے کا موقع، جس میں مومن کی روح الایمان اور عقل شادمان و محظوظ اور طاقتور ہوجاتی ہیں، جس کی بدولت نفسِ امّارہ کی کارفرمائی سُست اور کمزور ہوجاتی ہے اور ایسی صورت میں کچھ وقت ذکر کرنے سے کامیابی حاصل ہوجاتی ہے۔
۹۱
باب ششم
ذکر کا طریق کار
آپ کو ضرور اس بات کا یقین ہوگا کہ دینی دُنیاوی، ظاہری باطنی، رُوحانی جسمانی اور ذہنی و خارجی امور میں کوئی امر ایسا نہیں جو طریقِ کار کے بغیر انجام پاسکے، لہٰذا اس باب میں ذکرِ الٰہی کے متعلق اساسی باتیں اور مُفید معلومات فراہم کردی جاتی ہیں، تاکہ ذاکرین کو اِن سے مدد مل سکے۔
ذکر میں باقاعدگی:
قانونِ فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ حصولِ مقصد کے لیے باقاعدگی سے محنت و مشقّت برداشت کی جائے، اور اس کے سوا کوئی کامیابی نہیں، چنانچہ ذکرکے بارے میں اصل ورزش اور دُرست ریاضت یہی ہے کہ ذکر میں کسی وجہ سے بھی ناغہ نہ ہونے پائے، وقت کی پابندی ہو اور کسی بھی تکلیف سے گریز کیے بغیر مقرّرہ اوقات میں ذکر کیا جائے،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
۹۲
(ترجمہ) اور جن لوگوں نے ہمارے بارے میں مشقتیں برداشت کیں ہم ضرور انہیں اپنے رستے دکھلا دیں گے اور یقیناً اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے (۲۹: ۶۹) یہ تو سب جانتے ہیں کہ خدا کا رستہ یعنی دینِ حق ایک ہی ہے، لہٰذا یہاں جو ارشاد ہوا ہے کہ ہم اپنے رستے دکھا دیں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ راہِ خدا اگرچہ ایک ہی ہے مگر اس کی صورتیں بہت ہیں، مثال کے طور پر ایمان، ایقان، تقویٰ، خوفِ خدا، علم، عمل، اخلاص، عدل، احسان، تواضع، محبّت، فرمانبرداری، صبر، شکر، عبادت، تسلیم، رضا وغیرہ یہ سب دینداری اور مومنی کے ایسے اوصاف ہیں، کہ ان میں سے ہر ایک صراطِ مستقیم کی ایک گونہ صورت کا درجہ رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایک دُوسرے کے ساتھ مربوط اور ملے ہوئے ہیں، اور معنویّت کی گہرائیوں میں یہ سب ایک حقیقت کی حیثیت سے ہیں، یہی سبب ہے کہ قرآنِ حکیم کے مختلف موضوعات میں مومنی کے ان اوصاف میں سے ہر ایک کی اس طرح فضیلت بیان کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بس وہی صفت سب کچھ ہے، یہ بات دُرست ہے اور اسی میں حکمت ہے لیکن اندرونی طور پر دُوسرے تمام اوصاف بھی اس کے ساتھ منسلک ہیں۔
۹۳
اس کے یہ معنی ہوئے کہ جب مومن خُوب دل لگا کر ذکر و ریاضت کرنے کا عادی ہوگا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی بے پناہ رحمت سے اسے مومنی کے جملہ اوصاف سے متصف کردے گا، اور ان تمام اوصاف کی روحانیّت اور نُورانیّت اس پر منکشف ہوگی، یہ ہوا خدا تعالیٰ کا اپنے رستے دکھانا۔
حواسِ باطنی:
قرآنِ حکیم سورۂ بقرہ میں کافروں کے کفر و انکار اور اس کے نتائج کی مذمت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرماتا ہے: (ترجمہ) وہ گونگے ہیں بہرے ہیں اندھے ہیں پس وہ (اپنی اصل کی طرف) رجوع نہیں کرتے ہیں (۰۲: ۱۸) نیز اسی سورہ میں کافروں کی بابت فرمایا گیا ہے کہ: (ترجمہ) یہ لوگ گونگے ہیں بہرے ہیں اندھے ہیں پھر وہ کچھ بھی عقل نہیں رکھتے (۰۲: ۱۷۱) چنانچہ اِس حُکمِ خداوندی میں جہاں حواسِ باطنی سے کافروں کی مایوسی و محرومی کا تذکرہ ہے وہاں مسلمین و مومنین کو اُمیدِ رحمت اور توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ اِس حُکم میں کافروں سے الگ تھلگ ہیں، لہٰذا وہ دل کی زبان سے ذکر و عبادت کرسکتے ہیں، دل کے کان سے ہدایت سُن سکتے ہیں اور دل کی آنکھ سے عجائباتِ قدرت کا مشاہدہ کرسکتے ہیں، جس کا مقصد عقل و دانش اور علم و حکمت اور جس کا مقصد اللہ تعالیٰ
۹۴
کی طرف رجُوع ہوجانا ہے۔
دل کے کان:
ذکر کی ابتدائی منزل میں دل کے کان کی شناخت بھی ضروری ہے، وہ اس طرح سے ہے کہ نوآموز ذاکر ایک ایسی جگہ کچھ دیر تک انتہائی خاموشی اور سکوّت سے بیٹھے رہے، جہاں کوئی بھی آواز نہ ہو، پھر وہ اپنے دل و دماغ کی طرف خُوب متوّجہ ہوکر یہ کوشش کرے کہ زبان سے خاموش رہنے کے علاوہ دل میں بھی کچھ نہ کہے، چنانچہ جب وہ ظاہر و باطن میں خاموشی اختیار کرچکا ہوگا، تو اس وقت اچانک غیر ارادی طور پر اس کے ذہن میں کچھ تتّر بتّر سے خیالات پیدا ہونے لگیں گے، یہ نفسِ امّارہ کے وسوسے ہیں، جن کو حدیثِ نفسی بھی کہا جاتا ہے، ان چیزوں کا سُننا نہ صرف دل کے کان موجود ہونے کا ثبوت ہے، بلکہ یہ اِس حقیقت کی دلیل بھی ہے کہ جس طرح دل میں شر کی آواز آسکتی ہے، اسی طرح خیر کی آواز بھی آسکتی ہے۔
اگر چہ نفس کی آواز نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن وہ خاموشی کے اس تجربے میں خلل انداز ہوئی، جس کو دل کے کان نے نہایت ہی آہستگی کی ایک کیفیّت میں سُن لیا، اور یہی نفس کی باتیں ذکر و عبادت میں رخنہ ڈالتی رہتی ہیں، جن کو محسوس
۹۵
کرکے مومن کو سخت پریشانی اور بے چینی ہوتی ہے، لیکن اسے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ کچھ آگے چل کر اسی طرح عقل اور عشق کی باتیں بھی سنائی دے سکتی ہیں۔
دل کی زبان:
قلبی ذکر کی کوئی مشق شروع کرنے سے پیشتر دل کی زبان اور اس کی آواز سے واقفیت و آگہی لازمی ہوتی ہے، جب تک یہ نہ ہو تو دل سے ذکرِ الٰہی کا کام لینا بہت ہی مشکل ہے، چنانچہ دل یا کہ ضمیر کی آواز کی کیفیّت و حقیقت سمجھ لینے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مبتدی زبان کو بالکل بند کرکے دل ہی دل میں قرآنِ پاک کی کوئی چھوٹی سورت یا کوئی آیت یا خدا تعالیٰ کا کوئی اسم وغیرہ کچھ دیر کے لیے پڑھا کرے، ساتھ ہی ساتھ متوجہ ہوکر دل کے کان سے دل کی آواز کو سُنتا رہے، اس وقت اسے یقین ہوگا کہ وہ اس تجربے میں جو کچھ پڑھ رہا تھا، وہ ظاہری زبان سے نہیں بلکہ باطنی زبان سے پڑھا جارہا تھا، یعنی یہ آواز دل کی زبان کی تھی، جسے دل کے کان سے سُن رہا تھا، اس کا مطلب یہ ہُوا کہ دل میں بھی ایک زبان ہے جو ظاہری زبان سے بالکل الگ ہے، اور اسی سے ذکرِ قلبی کیا جاتا ہے۔
۹۶
دل کی آنکھ:
اسی سلسلے میں دل کی آنکھ کے وجود کی تحقیق اور روحانی مشاہدات کا تجربہ کرنا بھی نہایت ہی ضروری ہے، کیونکہ حواسِ باطنی کے اقرار اور شناخت نہ ہونے کی صورت میں روحانی ترقی تو درکنار اس کے انکار کی کیفیّت دل میں جڑ پکڑتی ہے چنانچہ دل کی آنکھ کی تحقیق و تجربہ اس طرح ہونا چاہئے کہ مبتدی ذکر کی مخصوص نشست میں نچنت اور بے فکر ہوکر بیٹھ جائے اور کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کرکے عالمِ خیال (یعنی اپنے باطن)کی طرف متوجّہ ہوجائے، پھر وہ خدا کے ناموں میں سے پانچ کو منتخب کرکے ہر ایک کی تحریر کا علیٰحدہ علیٰحدہ تصوّر کرے، یعنی وہ اپنے خیال میں ان ناموں کی تحریری شکل کو دیکھے اور پڑھے، اگر وہ ناخواندہ ہے تو یوں تصوّر کرے کہ ایک شخص اس کے سامنےقرآن شریف پڑھ رہا ہے، اب وہ غور سے دیکھے کہ وہ کون ہے، کیسے لباس ہیں وغیرہ، اس کے علاوہ کچھ دُوسرے آدمیوں کا تصوّر کرے، کیا وہ جس چہرے کو چاہتا ہے وہ سامنے آتا ہے؟ پھر کسی پھل یا پھول کا تصوّر کرے، علیٰ ہذا لقیاس، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اِس طریق پر بہت سی چیزوں کا تصوّر کرسکے گا، یعنی وہ جس چیز کو چاہے خیال میں لاکر اس کا روحانی مشاہدہ کرسکے گا،
۹۷
مگر شروع شروع میں باطنی روشنی اور دل کی بینائی بہت ہی کمزور بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوگی، بہرحال یہ اندازہ تو ہوہی گیا کہ یہ دل کی آنکھ کے دیکھنے کی ابتدائی صورت ہے، جو اگر ایک طرف سے دل کی آنکھ کے وجود کا ثبوت ہے تو دُوسری طرف سے عالمِ روحانیّت کی ہستی کی دلیل ہے۔
ذکر اور خوفِ خدا:
اگر مومنِ ذاکر کے دل میں خوفِ خدا جیسا کہ ہونا چاہئے موجود ہو تو ذکر کا کام بہت آسان ہوجاتا ہے، جاننا چاہئے کہ خدا کا ڈر مصنوعی بھی ہے اور حقیقی بھی، مصنوعی یہ کہ اپنی عقل کے مطابق خوفِ خدا کا ایک بناوٹی تصوّر کرلیا جائے، جو کسی حد تک مفید تو ہے مگر دیرپا نہیں، اور حقیقی خوف تقویٰ ہے، یعنی دائمی پرہیز گاری، چنانچہ اگر ذاکر متقی ہے تو ذکرِ الٰہی کے آغاز ہوتے ہی اس پر خوفِ خدا کی معجزانہ کیفیت طاری ہوجائے گی، پھر طرح طرح کے خیالات پیدا ہونے اور ذکر کا سلسلہ بار بار ٹوٹ جانے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا کیونکہ اس حقیقی خوف کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پوشیدہ ہے جس کی بدولت دل کی زبان اور کان کی مضبوط گرفت
۹۸
میں بحسن و خُوبی ذکر کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
جب بندۂ مومن ہر فکر و خیال اور ہر قول و فعل میں خدا کی اطاعت کرتا ہے اور اس کی نافرمانی سے ڈر جانے کا عادی ہوجاتا ہے، تو لازماً وہ ذکر کے موقع پر بھی بآسانی خوفِ خدا کی کیفیت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سلسلۂ ذکر کو صحیح و سلامت آگے بڑھا سکتا ہے، جیسا کہ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے:
(ترجمہ)اللہ تعالیٰ نے سب سے بہترین بات کتاب کی حیثیت سے نازل فرمائی جو متشابہ اور دہرائی گئی ہے اس کے ذکر سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اس ذکرِ الٰہی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں (۳۹: ۲۳) یہ سب سے بہترین بات اگر ایک طرف قرآن حکیم ہے تو دوسری طرف اسمِ اعظم ہے، جبکہ اسمِ اعظم قرآن ہی کی روحانیت و نورانیت ہے، اور ہر اسمِ اعظم بہت سے حقائق و معارف کے حامل ہونے کی نسبت سے متشابہ ہے اور ذکر میں دہرانے کی وجہ سے مثانی ہے، اس کے ذکر سے صرف متقی لوگوں کے رونگٹے اس لیے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ان کے جسم کے اندر جو کھربوں خلیّاتی روحیں سوئی ہوئی ہیں ان
۹۹
میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ذکرِ الٰہی کی آواز سے یکایک بیدار ہوجاتی ہیں، اس واقعہ کو عُرفِ عام میں رونگٹے کھڑے ہوجانا کہتے ہیں مگر جو لوگ متّقی نہیں، اُن پر ذکر سے ایسی کوئی کیفیت نہیں گزرتی، ہاں کسی دُنیاوی اور مادّی خوف سے ان کے رونگٹے ضرور کھڑے ہوجاتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ اور خوفِ خدا سے ذکر کا جوہر کھلتا ہے، اس لیے کہ اِس سے ذکر دل کی زبان پر چسپان ہوکر خُوب چلنے لگتا ہے اور دل کے کان میں اس کی گونج بہت سُریلی لگتی ہے، کیونکہ خوفِ خدا کا اصل مطلب ہمیشہ گناہوں کی آلائش سے پاک رہنا ہے اور پاک رہنے سے خدائے پاک کے خوف کا معجزہ رہنمائی کرتا ہے۔
ذکر اور اُمید:
مومنِ ذاکر کی ایک ایمانی قوّت اس بات میں بھی مضمر ہے کہ وہ رحمتِ خداوندی کی اُمید رکھے، اور مایوس نہ ہوجائے، کیونکہ خدا کی رحمت سے مایوس ہوجانا کُفر ہے، کیوں کہ جس طرح خوفِ خدا میں اہلِ ایمان کی بہتری اور فضیلت ہے، اسی طرح اُمیدِ رحمت میں بھی ان کے لیے صلاح و فلاح ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم کی بہت سی آیات
۱۰۰
کا یہ مفہوم ہے کہ بندۂ مومن دل میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی اُمید اور طمع رکھے اور محنت شاقہ سے عمل کرے۔
ذکر اور عاجزی:
نہ صرف ذکر سے پہلے اور ذکر کے دوران بلکہ ہمیشہ کے لیے اپنے اندر عجز و انکساری کی کیفیت و صفت پیدا کرلینا مومنِ ذاکر کی بڑی دانش مندی ہے، کیونکہ عاجزی حقیقی عِشق کی ابتدائی صورت اور اس کا پیش خیمہ ہے اور عاجزی ہی میں تکبّر سے بچ جانے کی ضمانت موجود ہے، جس کے بغیر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور ہدایت و رحمت قریب بھی نہیں آتی، لہٰذا ذاکر کو چاہیے کہ انتہائی حد کی سنجیدگی اور پستی اختیار کرلے، تاکہ ذکر کی آواز میں معجزانہ طور پر جاذبیت و دلکشی اور دیدۂ باطن کے سامنے روشنی پیدا ہوسکے۔
قانونِ قدرت کا ہمیشہ سے یہ عالم رہا ہے کہ وہ اس شخص کو ناچیز کردیتا ہے، جو خود کو کوئی چیز سمجھتا ہو اور اُس آدمی کو ہر چیز سے اعلیٰ و افضل بنا دیتا ہے، جو اپنے آپ کو ناچیز قرار دیتا ہو، پس جاننا چاہیے کہ بندۂ ذاکر کی کامیابی کا راز عجز و انکساری اور فروتنی میں پنہان ہے۔
۱۰۱
ذکر اور عشق:
خدائے قدّوس کی محبّت اور عشق ہی روحانیّت کا وہ مرتبہ و مقام ہے، جہاں مومنِ ذاکر کو نفسِ امّارہ کے گونا گون وسوسوں اور باطل خیالات سے کما حقّہٗ نجات مل سکتی ہے، کیونکہ عشقِ الٰہی ایک ایسی پُرحکمت آگ ہے جو ذکرِ خداوندی کے ماسوا خیالات و افکار کو جلا کر ختم کر ڈالتی ہے، حقیقی عشق خود ذکرِ الٰہی کی اصلی اور عملی صورت ہے، جس میں عاشقِ صادق سراپا ذکرِ مجسّم بن جاتا ہے، کیوں نہ ہو جبکہ عشق مثال کے طور پر ایک نہایت ہی شیرین قسم کا دردِ دل ہے، اور کسی دردِ دل میں سارے بدن کا شریک ہوجانا ایک فطری امر ہے، اس لیے کہ عشق دل و دماغ کی اس کیفیّت کو کہتے ہیں جس میں یادِ محبوب اور اشتیاقِ ملاقات درجۂ کمال پر ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ جسم کے ظاہر و باطن پر دل و دماغ ہی کی بادشاہی اور حکمرانی ہے، غرض یہ کہ عشقِ الٰہی کے مرحلے میں روح کے علاوہ جسم بھی ذکر میں ایک طرح سے مصروف و مشغول رہتا ہے۔
اگر کوئی یہ سوال کرے کہ عشق تو محض ایک ذہنی اور قلبی کیفیّت ہے وہ تمام جسم کو کس طرح متاثر و مجبور اور مطیع کرسکتی ہے؟ اس کے لیے جواب یہ ہے کہ انسان کا غُصّہ بھی صرف
۱۰۲
ایک ذہنی کیفیّت ہی ہے جس سے آدمی آگ بگولا ہوکر کانپنے لگتا ہے، جب وہ لوگوں کے درمیان سخت شرم کے احساس میں مبتلا ہوجاتا ہے، تو اس کے چہرے کا رنگ دفعتاً پیلا پڑتا ہے اور شرم کے مارے لرزہ براندام ہوکر پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے، اگر وہ شادمان ہوا، تو اس کا چہرہ خوشی سے دمکتا ہے اور اگر وہ غمگین ہے تو وہ پژمردہ ہوکر سُکڑ جاتا ہے، حالانکہ یہ سب ذہنی و قلبی کیفیات کے سوا کچھ بھی نہیں، مگر بات دراصل وہی ہے جو بتائی گئی کہ انسان کے پُورے جسم پر اس کے دل و دماغ کی حکمرانی ہے، بالفاظِ دیگر جسمِ انسانی رُوحِ حیوانی کے زیرِ اثر ہے، رُوحِ حیوانی رُوحِ انسانی سے متاثر ہوتی رہتی ہے، اور رُوحِ انسانی پر عقل اثر ڈالتی ہے، اس سے یہ ثابت ہوا کہ انسان کے دل و دماغ میں جو شعوری کیفیت گزرتی ہے، اس کی لہریں سارے بدن میں دوڑتی ہیں، چنانچہ درجۂ عشق میں جس طرح ذاکرِ عاشق کے تن بدن کا حال عشقِ الٰہی کے ادراک سے متغیر اور دگرگون ہوجاتا ہے اور جس شان سے عاشق سرتاپا مجسّم ذکر بن جاتا ہے وہ ایک حقیقت ہے، پس بندۂ مومن کوذکر کی جملہ مشکلات میں عشقِ حقیقی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اور اس کا مستقل طریقہ یہ ہے کہ ذکرِ الٰہی
۱۰۳
کے جتنے آداب و شرائط ہیں اور دینداری و مومنی کی جو صفات ہیں ان میں سب سے زیادہ اہمیّت عشقِ حقیقی کو دے دی جائے۔
ذکر اور توجّہ:
ذکر کی طرف توجّہ دینے کی بابت کچھ اہم باتیں اس سے پہلے بھی بتائی گئی ہیں، تاہم اِس بارے میں یہاں پر بھی چند ضروری نکات بیان کئے جاتے ہیں کہ دل کی تین قوّتیں خاص ہیں، کان، زبان اور آنکھ، جن کا بیان قبلاً ہوگزرا ہے، چنانچہ ذکر کی طرف مکمل توجّہ دل کی ان تینوں طاقتوں کے بغیر مشکل ہے، لہٰذا قلبی زبان پر زور دے کر مسلسل ذکر کرتے رہو، دل کے کان سے خُوب متوجہ ہوکر اپنے ذکر کو سُنتے جاؤ، اور باطنی آنکھ کو انتہائی کوشش سے اس بات پر مجبور کرو کہ ذکر کی روحانی تحریر پر نظر جمائے رہے، اور ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس فریضہ سے غافل نہ ہوجائے، یہ ذکر کی طرف کامل طور پر توجّہ ہوئی، اب اسی حال میں قوّتِ ارادی سے اپنے باطن میں زیادہ سے زیادہ عجز و انکساری کی کیفیّت پیدا کرنا، یعنی دل ہی دل میں خدا کے حضور رو رو کر دُعا مانگو کہ اس کی معجزانہ تائید و نصرت شاملِ حال ہو تاکہ ذکر کی طرف تینوں طاقتوں کی یہ توجہ قائم اور برقرار رہے اور غفلت و نسیان کے بادل چھٹ جائیں،
۱۰۴
پس اُمید رکھنا اور مایوس نہ ہوجانا کہ بار بار کے اس عمل کی ریاضت سے اس میں تمہیں کامیابی حاصل ہوگی۔
ذکر کی رفتار:
یہاں ایک بڑا اہم مسئلہ ذکر کی رفتار کے بارے میں ہے کہ ذکرِ قلبی کی رفتار کیا ہونی چاہئے؟ اور اس کا اندازہ کس طرح ہوسکتا ہے؟ یہ ایک ایسا ضروری سوال ہے کہ کوئی دانش مند ذاکر اس کو نظر انداز نہیں کرسکتا، چنانچہ جاننا چاہیے کہ سورۂ لقمان کے ایک اشارے کے بموجب ذکر کی چال درمیانی قسم کی ہونی چاہیے، یعنی وہ نہ تو بہت تیز ہو اور نہ بہت سُست، بلکہ وہ ایسی رفتار کا ہو جیسے کوئی مُسافر کسی منزل کی طرف درمیانی چال سے چلتا ہے مگر ہاں جب مُسافر کو رستے میں ایسا کوئی خطرہ در پیش ہو، مثلا وہاں ڈاکوؤں کے آنے کی امکانیّت ہے، یا بارش برسنے والی ہے، یا پہاڑ سے پتھر گررہے ہیں، یا کوئی زبردست دُشمن تعاقب کررہا ہے، یا رات کی تاریکی قریب ہے، تو لازمی طور پر تیز تیز چلنا پڑے گا، یہی حال راہِ روحانیّت کے مسافر کا بھی ہے کہ اگر ذکر کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہو یا طرح طرح کے خیالات پیدا ہوتے ہوں، یا نیند اور سُستی آتی ہو یا شیطان اور نفس کا کوئی غلبہ ہو، تو قوّتِ ارادی سے طبیعت پر دباؤ ڈال کر ذکر کی رفتار میں اضافہ
۱۰۵
کرنا چاہیے، جس کا اندازہ یہ ہے کہ اگر ذاکر کا اسم چار حرف کا ہے تو ایسا اسم ایک گھنٹے کے اندر اندر تقریباً دس ہزار مرتبہ پڑھا جانا چاہیے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ تین منٹ پینتالیس سیکنڈ میں ایسے اسم کو تقریباً چھ سو پچیس بار دہرانا چاہیے، یہ صرف ایک چار حرفی لفظ کا اندازہ ہے۔
ذکر کا سلسلہ:
اگر آپ ذکرِ قلبی مخصوص وقت میں اہتمام کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں، تو یہ مربوط اور سلسلہ وار ہونا چاہیے، جس کے لیے صحیح تلفظ کی ادائیگی از بس ضروری ہے اور صحیح تلفّظ پُوری توجہ اور مضبوط گرفت کے ساتھ دل کی زبان سے ذکر کا لفظ پڑھنے سے اور دل کے کان سے اسے سُنتے رہنے سے ادا ہوسکتا ہے، کیونکہ سلسلۂ ذکر ٹوٹ نہیں جاتا مگر اس وقت جبکہ اسے لفظ بلفظ دُرستی سے نہ پڑھا جائے، اور دل کے کان سے اس کی طرف کامل و مکمل توجہ نہ دی جائے، جیسے ظاہری گفتگو میں لغزش اس وقت آتی ہے، جبکہ بات کرنے والے کی توجہ کی گرفت ڈھیلی ہوجاتی ہے یعنی جب زبان کی گویائی اور کان کی سماعت میں سے کوئی ایک سُست ہوجاتی ہے، تو تقریر و گفتگو میں لغزش ہوتی ہے، اور قوّتِ سماعت ہی کے
۱۰۶
ذریعے سے معلوم ہوتا ہے، کہ ا س کی تقریر میں لغزش ہوئی ہے، یا فلان فلان الفاظ ٹھیک طرح سے نہ بولے گئے ہیں۔
چنانچہ ذکر کا سلسلہ قائم رکھنا اور اسے لمحہ لمحہ بھول جانے کی لغزشوں سے محفوظ رکھنا دل کی زبان اور دل کے کان دونوں کی ذِمّہ داری ہے کہ یہ سِلسلۂ ذکر کی ہر کڑی یعنی ہر لفظ صاف صاف بولے، اور وہ بڑی توجہ سے سُنتے رہے، بلکہ دل کی آنکھ سے بھی توجہ دی جائے تاکہ ذکرِ الٰہی کا سلسلہ کہیں سے بھی ٹوٹ نہ جائے۔
جس بندۂ مومن کے ذکرِ قلبی کا سلسلہ کوشش کے باوجود بار بار ٹوٹتا رہتا ہے اس کا سبب یا تو کوئی گناہ ہوسکتا ہے یا لاعلمی، پس اسے ان دونوں بیماریوں کا علاج کرنا چاہیے یعنی وہ ہمیشہ توبہ و تقویٰ سے کام لینے کے ساتھ ساتھ ذکر سے متعلق ضروری معلومات بھی فراہم کرتا رہے تاکہ وہ اپنے ذکر کو مربوط اور مسلسل بنانے میں کامیاب ہوسکے۔
ذکر اور محویت:
جب حقیقی مومن تمام متعلقہ آداب بجالا کر شائستگی سے ذکر کرنے لگتا ہے، تو اس کے ذہن میں رفتہ رفتہ لا تعلقی کی کیفیّت پیدا ہوتی ہے وہ نہ
۱۰۷
خواب کا عالم ہے نہ بیداری کا، بلکہ یہ محویّت کی منزل ہے جسے بیخودی بھی کہتے ہیں اس حالت میں ذاکر کے ذہن و شعور سے ظاہر و باطن کی ہر چیز مٹ جاتی ہے، مگر ذکر باقی و جاری رہتا ہے، مومنِ ذاکر ایسے میں اپنے آپ کو بھی قطعاً بھول جاتا ہے اور اسے یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں بیٹھا ہے، کہاں نہیں، کون سی جگہ ہے گھر ہے یا باہر، اس کو یہ تک احساس نہیں ہوتا کہ اس کا جسم موجود ہے یا کہیں غائب ہوگیا، گُم گیا، چنانچہ اگر مبتدی پر ایسی حالت گزرتی ہے تو یقین کرنا چاہیے کہ وہ روحانیّت میں رُو بہ ترقی ہورہا ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے، تو جاننا چاہیے کہ یہ ناکامی اس کی اپنی ہی خامیوں اور غلطیوں کی وجہ سے ہے اور دوسری کوئی وجہ نہیں۔
ختم شُد
۱۰۸