روشنائی نامہ – نورِ ایقان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۔ باری سبحانہ و تعالیٰ کی توحید کے بارے میں
بنام کرد گار پاک داور
کہ ہست از وھم و عقل و فکر و برتر
ترجمہ:۔
باری سبحانہ و تعالیٰ کے نام سے (آغاز کرتا ہوں) جو وہم، عقل اور فکر (کی رسائی) سے بالاتر ہے۔
تشریح:۔
انسان اپنے احساس و ادراک کی قوتوں سے تمام ظاہری اور باطنی موجودات کو محسوس و معلوم کر سکتا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی قوت خدا کے علو شان تک رسا نہیں ہو سکتی، جب تک کہ خدا خود اپنی رحمت سے اس کے لئے ایک خاص نور مقرر نہ کرے۔
ہمو اول ہمو اَخر زمبدا
نہ اول بودہ ونی اَخر اورا
ترجمہ:۔
وہی مبدا (یعنی عقلِ کل کی نسبت) سے اول بھی ہے۔ اور وہی آخر بھی ہے (مگر اپنی ذات قدیم کی نسبت سے) نہ اس کی کوئی ابتداء ہے اور نہ ہی کوئی
۱
انتہا۔
خرد حیران شدہ از کنہ ذاتش
منزہ دان زا جرام و جہاتش
ترجمہ:۔
عقل و دانش اس کی ذات کی حقیقت سے حیران رہ گئی ہے، اس کو اجسام و اطراف (کے تعین) سے پاک و برتر سمجھ لے۔
تشریح:۔
اگر انسان کی اپنی جزوی عقل کے لئے یہ امر ممکن ہوتا، کہ وہ خدا کی برتری تک رسا ہو کر اس کی حقیقت کو علمی احاطہ میں لائے، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتبِ سماوی اور نورِ ہدایت کے ساتھ انبیاء و آئمہ علیھم السلام دنیا میں نہ آتے، ظاہر ہے کہ یہ عام انسانی عقل خدا کی حقیقت سمجھنے کے لئے ناکافی تھی، اس لئے راہِ حقیقت کے راہنما دنیا میں آئے، پس پیر صاحب کا یہ بیان انسان کی اس حالت کے مطابق ہے، جس میں کہ وہ خدا کے مقرر کردہ ہادیوں کی نورانی ہدایت پر عمل نہیں کرتا۔
کجا اورا بچشم سر توان دید
کہ چشم جان تواند جان جان دید
ترجمہ:۔
سر کی آنکھ سے اس کو کہاں اور کیسے دیکھا جا سکتا ہے (جب) کہ روحانی آنکھ سے صرف جان کی جان (یعنی نفسِ کلی) کو دیکھا جا سکتا ہے۔
تشریح:۔
انسانوں کی نہ صرف انفرادی جانیں ہیں، بلکہ ان کی ایک اجتماعی جان بھی
۲
ہے، یہ ان کی اجتماعی جان روح الارواح کہلاتی ہے، بمعنی جانوں کی جان، پس جانِ جان یا نفسِ نفس یا روحِ روح کا مطلب نفسِ کلی ہے، چنانچہ نفسِ کلی کا بیان اس کتاب کے باب ۳ میں ملاحظہ ہو۔
ورای لا مکانش اَشیان است
چگویم ہرچہ گویم بیش ازان است
ترجمہ:۔
اس کا مسکن لامکان سے بھی ماوراء ہے میں (اس کی توصیف میں) کیا کہوں ! جو کچھ بھی کہتا ہوں اس کی ذات اس سے بڑھ کر ہے۔
تشریح:۔
لامکان کے معنی ہیں جگہ سے بالاتر () جو طول و عرض و عمیق کے بغیر ہے یعنی غیر مادی عالم، جس طرح انسان خواب اور خیال میں ایک جیتی جاگتی دنیا دیکھتا ہے، جس میں غیر مادی طور پر سب کچھ پایا جاتا ہے، یہ کیفیت لامکان کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ چنانچہ حکیم ناصر خسرو کا کہنا ہے، کہ حق تعالیٰ مکان اور لامکان دونوں سے برتر ہے۔
صفات و ذات اوہر دو قدیم است
شدن واقف درو سیر عظیم است
ترجمہ:۔
اس کی ذات اور صفات دونوں قدیم ہیں، اس (حقیقت) کے بارے میں واقف و آگاہ ہو جانا عظیم ترین سیر و سلوک (کا نتیجہ) ہے۔
تشریح:۔
خدا کی ذات قدیم ہونے کے یہ معنی ہیں، کہ وہ کسی ابتداء و انتہا کے بغیر
۳
ہمیشہ سے ہے، اور اس کی صفات قدیم ہونے کا مطلب یہ ہے، کہ کسی وقت سے شروع کر کے نہیں بلکہ ہمیشہ سے اس کا فعل کائنات و موجودات میں جاری و ساری ہے، مثلاً اس میں خالقیت کی صفت اس طرح سے نہیں کہ پہلے وہ بغیر مخلوق کے خالق تھا اور بعد میں مخلوق بنا کر خالق ہوا ہو، ہر گز ایسا نہیں بلکہ اس کے تمام افعال (صفات) بھی اسی طرح قدیم ہیں، جس طرح اس کی ذات اقدس قدیم ہے۔
پیر صاحب فرماتے ہیں کہ اس حقیقت سے آگاہ ہو جانا کوئی آسان بات نہیں، بلکہ یہ روحانیت و معرفت کے طویل ترین سفر طے کرنے کے نتیجے میں ممکن ہے۔
بپای ما چہ رہ شاید بریدن
بدین مرکب کجا شاید رسیدن
ترجمہ:۔
(اگر ہم پیادہ ہیں تو) ہمارے انہی پیروں سے (اس بے پایان) راہ کی کیا مسافت طے ہو سکے گی! ( اگر ہم سوار ہیں تو) اسی گھوڑے پر (خدا تک) پہنچنا کہاں ممکن ہے!
تشریح:۔
خدا اور دین کے بارے میں عقیدہ رکھ کر اس پر عمل کرنا منزلِ نجات کی طرف پیادہ سفر ہے، ظاہری علم و دانش سے کام لینا اس سلسلے کی گھڑ سواری ہے، مگر پھر بھی رسائی کے یہ دونوں ذریعے راہِ حقیقت کی بے پایان مسافت طے کر کے خدا تک پہنچنے کے لئے ناکافی ہیں، جب تک کہ نورانی ہدایت کا معجزہ کسی شخص میں معرفت کے بال و پر نہ لگائے۔
بجیب عجز عقلم سرفرو بُرد
کہ باشم من کہ یارم نام اوبرد
۴
ترجمہ:۔
(جب) میری عقل ناتوانی کے گریبان میں منہ چھپاتی ہے تو میں کون ہوں جو (بجا طور پر) اس کا نام لے سکتا ہوں!
تشریح:۔
یعنی میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی حقیقت کا تذکرہ اور بیان کر سکتا ہوں، جبکہ میری عقل اس امر میں قاصر ہونے کی وجہ سے شرم کے مارے عاجزی کے گریبان میں منہ چھپاتی ہے۔
نیارم نام او بردن نیارم
من این سرمایہ در خاطر ندارم
ترجمہ:۔
میں اس کا نام (صحیح طور پر) نہیں لے سکتا، میں اس سے عاجز ہوں، میرے دل میں یہ علمی سرمایہ نہیں۔
تشریح:۔
حضرت پیر۔ حکیم ناصر خسرو۔ حق تعالیٰ کی توحید اور عظمت و جلالت کی تعریف و توصیف ایسے خاص اصول کے مطابق کرتے ہیں، جو اکثر بزرگان دین کے نزدیک پسندیدہ ہے، وہ اصول یہ ہے کہ وہ حضرات اپنے آپ کو اور اپنے علم کو حق تعالیٰ کی جلالت و کرامت کے سامنے کا لعدم قرار دیتے ہیں۔
زبان از یاد توحیدش زبون است
کہ ازحد و قیاس مابرون است
۵
زبان اس کی توحید کے تذکرہ کرنے سے عاجز و قاصر ہے، کیونکہ وہ ہماری حد بندی اور قیاس آرائی سے باہر اور برتر ہے۔
تشریح:۔
یعنی توحید کی حقیقت کو الفاظ میں لانا ایک انتہائی مشکل کام ہے، کیونکہ اگر ہم اپنی قیاس آرائی سے کچھ الفاظ میں یہ کہیں، کہ خدا ایسا ہے، تو یہ ہماری طرف سے خدا کے لئے الفاظ کی حد بندی مقرر ہو گئی، حالانکہ خدا ہماری قیاس آرائی اور حد بندی سے پاک و برتر ہے۔
نگویم صانع ھفت و چہار او ست
ولیکن عقل را پروردگار او ست
ترجمہ:۔
میں نہیں کہتا، کہ سات اور چار کا بنانے والا وہی (خدا) ہے، لیکن (یہ حقیقت ہے کہ) عقل کا پروردگار وہی ہے۔
تشریح:۔
موجودات کی تخلیق کے بارے میں پیر صاحب کا نظریہ یہ ہے، کہ باری سبحانہ و تعالیٰ نے صرف عقلِ کل ہی کو پیدا کیا، عقلِ کل سے نفسِ کل پیدا ہوا، اور نفسِ کل سے سات آسمان اور چار عناصر پیدا ہوئے، پس حق تعالیٰ وہ نہیں جس نے سات آسمان اور چار عناصر پیدا کئے، وہ تو حقیقت میں صرف عقلِ کل ہی کا پروردگار ہے۔
چہ مقداد آفتاب و آسمان را
بدو منسوب نتوان کرداَن را
۶
ترجمہ:۔
سورج اور آسمان کی کیا قدر و قیمت ہے، یہ اس سے منسوب نہیں کئے جا سکتے۔
تشریح:۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے سامنے سورج اور آسمان کچھ بھی نہیں ہیں، اس لئے ان کو خدا کی صنعت و حکمت کا مظہر اور نمونہ قرار دیکر نہیں کہا جا سکتا، کہ یہ باری تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں، اور یہ اسی سے منسوب ہیں۔
چرا گوئی زرو لعل و جواہر
ز خاک و آب و سنگ او کرد ظاہر
ترجمہ:۔
تو کیوں کہتا ہے، کہ سونا، لعل اور موتی اسی (خدا) نے مٹی، پانی اور پتھر سے پیدا کئے ہیں۔
تشریح:۔
جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے، کہ
فتبرک اللہ احسن الخالقین (۱۴: ۲۳)
پس بڑی برکت والا ہے اللہ تعالیٰ جو سب پیدا کرنے والوں سے بہترین ہے۔ اس آیۂ کریمہ سے ظاہر ہے کہ حکیم صاحب جو ارشاد فرماتے ہیں، وہ بالکل صحیح ہے۔
نبات از گل تو گوئی اوبر اَورد
نشاید این چنین اورا صفت کرد
۷
ترجمہ:۔
تو کہتا ہے کہ مرطوب مٹی سے وہی (خدا) نباتات اگاتا ہے، اس قسم کی صفت سے اس کو موصوف کرنا اس کے شایانِ شان نہیں۔
تشریح:۔
حضرت پیر ناصر خسرو نے یہاں تک علی الترتیب یہ بتلا دیا، کہ سات آسمان، چار عناصر، جمادات اور نباتات کے بارے میں یہ خیال نہ کیا جائے، کہ یہ مخلوقات حق تعالیٰ کی انتہائی قدرت و حکمت کے نمونے ہیں۔
کہ روح نامیہ این کار دارد
گل و شمشاد بر خاک ونگارد
ترجمہ:۔
کیونکہ یہ کام تو روحِ نامیہ ہی کا ہے، وہی مٹی پر پھول اور شمشاد کا درخت پیدا کرتی ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں، کہ یہ خیال کرنا غلط ہے، کہ نباتات خدا کی اگائی ہوئی ہیں، حالانکہ یہ کام روحِ نامیہ ہی کا ہے، روح نامیہ کے معنی ہیں نشوونما والی روح، جو نباتات میں اکیلی ہے، جانوروں میں روح حیوانیہ کے ساتھ ہے، اور انسانوں میں روح ناطقیہ اور حیوانیہ کے ساتھ۔
تو عقل و جان زحق دان سیم و زر چیست
مکُن صورت پرستی پاوسر چیست
۸
ترجمہ:۔
تو عقل اور جان کو حق تعالیٰ ہی سے سمجھ لے چاندی اور سونا کیا چیز ہے، صورت پرستی نہ کیا کر پاؤں اور سر کیا شے ہے۔
تشریح:۔
یعنی موجودات میں سے صرف عقل اور روح ہی دوا ایسے گرانمایہ گوہر ہیں، جو صحیح معنوں میں باری سبحانہ و تعالیٰ کی صفاتِ کمالیہ کے آئینہ دار ہو سکتے ہیں، اور صرف ان ہی کی شناخت سے خدا کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے۔
دگر بارہ تو گوئی صورت ما
ہم از آب منی او کردہ پیدا
ترجمہ:۔
پھر تو یہ کہتا ہے، کہ ہماری صورت (یعنی شخصیت) کو بھی آب منی سے اسی (خدا) نے پیدا کیا ہے۔
تشریح:۔
آسمان، عناصر، جمادات اور نباتات کے بعد انسانی جسم کی تخلیق کے تذکرہ میں پیر صاحب فرماتے ہیں، کہ تیرا یہ خیال بھی غلط ہے، جو تو سمجھتا اور کہتا ہے، کہ خدا ہی نے بذاتِ خود ہمارے جسم کو نطفہ سے پیدا کیا ہے۔
مگو زین سان ازیرا کاین ضائع
شداز تاثیر اجرام و طبائع
ترجمہ:۔
ایسا نہ کہا کر کیونکہ یہ صنعتیں (یعنی مخلوقات) اجرامِ فلکی اور چار طبائع کی
۹
تاثیر سے پیدا ہوئی ہیں۔
تشریح:۔
مذکورہ تخلیق کے بارے میں حکیم ناصر خسرو کی کتب سے یہ ظاہر ہے، کہ اجرامِ فلکی یعنی آسمانی اجسام اور گرمی، سردی، خشکی اور تری (طبائع) یہ سب نفسِ کلی کے وہ اوزار ہیں، جن سے وہ ہر وقت تخلیق کا کام لے رہا ہے۔
سپہر و عنصر و روح نمارا
خدا خوانی چنین کفر است مارا
ترجمہ:۔
تو آسمان و عناصر اور نشو و نما والی روح کو خدا مانتا ہے، ہمارے نزدیک ایسی بات تو کفر ہے۔
تشریح:۔
آسمان، عناصر اور روح نامیہ کو کس طرح خدا مان لیا جاتا ہے؟ اس طرح جبکہ یہ کہا جائے، کہ خدا وہی ہے، جس نے جمادات، نباتات، حیوانات پیدا کئے اور انسان کے اجسام بنائے، پس اس معنی میں آسمان، عناصر اور روح نامیہ کو خدا کہا گیا، کیونکہ یہ تخلیق تو ان ہی کی ہے۔
مکن در صنع مصنوعات رہ گم
زجو جو رویدو گندم ز گندم
ترجمہ:۔
مخلوقات کی تخلیق (سمجھنے میں) رستہ غلط نہ کر جانا (یہ بات یاد رکھ کہ) جو سے جو ہی اگتا ہے اور گندم سے گندم۔
۱۰
تشریح:۔
یعنی موجودات و مخلوقات کی حقیقت نہ سمجھنا گمراہی ہے، چنانچہ جب قانونِ قدرت یہی ہے، کہ گندم کے بونے سے گندم ہی پیدا ہوتا ہے اور اس سے جو ہرگز پیدا نہیں ہوتا، پھر کیا سبب ہے، کہ خدا کی وحدت سے خلق کی کثرت پیدا ہو گئی؟ یہ بات ایسی ہے جیسے گندم سے جو پیدا ہوا! حالانکہ وحدت سے وحدت ہی پیدا ہونی چاہیئے، اور خاص حکماء کا قول بھی یہی ہے۔
کہ جان آفرین دانندۂ راز
ندارد در خدائی ہیچ انباز
ترجمہ:۔
کیونکہ وہ جان کا پیدا کرنے والا اور بھیدوں کا جاننے والا اپنی خدائی میں کوئی شریک نہیں رکھتا۔
تشریح:۔
ظاہر ہے، کہ جمادات، نباتات، حیوانات اور انسانی جسم کی تخلیق میں مختلف اسباب و علل کے افعال کی شرکت پائی جاتی ہے، یعنی جیسا کہ قبلاً ذکر ہو چکا، کہ ان میں سے ہر ایک چیز اجرامِ فلکی طبائع اور روحِ نامیہ کی تاثرات کے نتیجے پر پیدا ہوتی ہے، مگر حق تعالیٰ نے جو عقل اور روح پیدا کی ہے، اس میں کسی اور ہستی کا فعل شریک نہیں۔
چہ گوئی کفر و توحیدش کنی نام
خبر نا یافتہ ز آغاز و انجام
ترجمہ:۔
تو کیوں کفر کی بات کر کے اس کا نام توحید رکھتا ہے، تجھے حقیقت کے
۱۱
آغاز و انجام کی کوئی خبر نہیں۔
تشریح:۔
فرماتے ہیں کہ جو بات توحید کی حقیقت سے ذرا بھی غلط ہو، تو وہ کفر ہے، اور غلطی کی توجیہہ کرتے ہوئے آغاز و انجام کی حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا، کہ جس شخص کے لئے حق تعالیٰ ازل و ابد کا پردہ نہ ہٹائے، تو وہ توحید کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا جیسے قول قرآن ہے: ”اور ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار کر دی اور ان کے پیچھے ایک دیوار کر دی پھر ہم نے انہیں ڈھانپ لیا پس وہ دیکھ نہیں سکتے“۔ (۹: ۳۶)
نگوید این چنین جز گبر گمراہ
ازین گفتارھا استغفر اللہ
ترجمہ:۔
ایسی باتیں گمراہ گبر کے سوا اور کوئی نہیں کرتا، ایسی باتوں کی بابت میں خدا سے مغفرت چاہتا ہوں۔
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ باری سبحانہ و تعالیٰ کو ناقص مخلوقات کا خالق قرار دینا غلط اور دینِ اسلام سے دور کی بات ہے۔
خداوند جہان دانای قاہر
یکی دان ویکی زو گشت ظاہر
ترجمہ:۔
کائنات کے مالک اور زبردست دانا کو، ایک ہی جان اور ایک ہی اس سے ظاہر ہوا۔
۱۲
یعنی کوئی شک نہیں کہ حق تعالیٰ کائنات و موجودات کا حقیقی مالک اور غالب دانا ہے، مگر وہ ہر ناقص چیز کا خالق نہیں، وہ جس طرح ایک ہے، اسی طرح اس نے ایک ہی کو پیدا کیا، یعنی عقلِ کل کو۔
۱۳
۲۔ عقلِ کلّ کے بارے میں
ز اول عقل کل راکرد پیدا
ورا عرش الٰہی گفت دانا
ترجمہ:۔
(حق تعالیٰ نے) اول سے عقلِ کل کو پیدا کیا، جس کا نام دانا نے خدا کا تخت (عرش رحمٰن) رکھا۔
تشریح:۔
یہاں اول سے حکیم ناصر خسرو کی مراد مبدع حق (۱؎) ہے، یعنی امرِ کل، جس سے عقلِ کل پیدا ہوا، پس امرِ کل اول یعنی ازل ہے، اور عقلِ کل ازلی ہے، جس کو دانا (خدا) نے عرشِ الٰہی کہا۔
گروہی علّت اولیٰ ش گفتند
گروہی آدم معنیٰ ش گفتند
ترجمہ:۔
ایک گروہ نے اسے سب سے پہلی علت کہا، اور ایک گروہ نے اسے حقیقی آدم کہا۔
تشریح:۔
یعنی ایک گروہ نے عقلِ کل کو وہ اولین سبب قرار دیا، جس سے کہ دوسری سب مخلوقات پیدا ہوئیں، اور دوسرے گروہ نے کہا، کہ عقلِ کل، ہی وہ آدم ہے جس کا ذکر قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ (پہلا گروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱؎ ملاحظہ ہو زاد المسافرین، صفحہ ۱۹۴
۱۴
حکمائی ظاہر اور دوسرا گروہ حکمائی دین ہو سکتے ہیں)
مراورا عالم جبروت نام است
کہ جبریل مکرم زان مقام است
ترجمہ:۔
اس (عقلِ کل) کا نام عالمِ جبروت ہے، اور باکرامت جبرائیل اسی مقام سے ہے۔
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو کے اس نظریے کے مطابق اگر عقلِ کل عالمِ جبروت ہے، تو اس کے اوپر امرِ کل عالمِ لاہوت ہے، اور اس کے نیچے نفسِ کل عالمِ ملکوت ہے اور سب سے نیچے انسان عالمِ ناسوت ہیں۔
ازیرا خامۂ یزدانش خوانند
رسول نامۂ یزدانش خوانند
ترجمہ:۔
اسی لئے اس (عقلِ کل) کو قلمِ الٰہی بھی کہتے ہیں، اور اس کو خط خداوندی کا پیغامبر بھی کہتے ہیں۔
تشریح:۔
حضرت پیر کی دوسری کتب سے بھی یہی مستفاد ہے، یعنی عقلِ کل کا نام عالمِ جبروت اور جبرائیل اسی عالم سے ہے، وہ اس طرح کہ جبرائیل میکائیل سے وحی لاتا ہے، میکائل اسرافیل سے، اسرافیل لوح (نفسِ کل) سے، اور لوح قلم (عقلِ کل) سے۔
۱۵
جیسا کہ حدیثِ شریف ہے:۔
”بینی و بین ربی خمس و سائط: جبریل و میکائیل و اسرافیل واللوح والقلم“
میرے اور میرے پروردگار کے درمیان پانچ واسطے ہیں، وہ جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، لوح اور قلم ہیں، اسی لئے عقلِ کل کو خدا کا قلم کہتے ہیں، کہ اسی نے لوحِ محفوظ پر یا صفحۂ کائنات پر حق تعالیٰ کی عرضی کے مطابق سب کچھ لکھدیا، نیز اسی لئے اس کو خط خداوندی کا پیغامبر کہتے ہیں، کہ اللہ جل شانہ کی طرف سے وحی و الہام کا لانے والا اور کتابِ کائنات کا ظاہر کرنے والا دراصل وہی ہے۔
نخست از آفرینش برگزیدہ
خدایش بی میانجی آفریدہ
ترجمہ:۔
حق تعالیٰ نے اسے پیدائش سے پہلے برگزیدہ کیا ہے، اور اس کو کسی واسطہ کے بغیر پیدا کیا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کا مطلب ہے کہ تخلیق میں اس کو دوسری تمام مخلوقات پر ترجیح دی گئی ہے اس کو مقدم رکھا گیا ہے، اور اس کو شرف و عزت بخشی گئی ہے، اور حق تعالیٰ نے اسے بذاتِ پاک خود پیدا کر دیا ہے، اور دوسری تمام موجودات کو اسی کے ذریعے سے پیدا کیا ہے، اگر یہاں یہ پوچھا جائے۔ جب ثابت کیا گیا، کہ عقلِ کل امرِ کل سے پیدا ہوا ہے، تو پھر کس طرح یہ مانا جا سکتا ہے، کہ خدا نے اسے بلاواسطہ پیدا کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے، کہ یقیناً عقلِ کل امرِ کل سے پیدا ہوا ہے اور امرِ کل کو خدا کی وحدت مانا گیا ہے۔
۱۶
ہر آنچ از افرینش روی بنمود
مراَن را واسطہ در عالم اوبود
ترجمہ:۔
مخلوقات میں سے جو کچھ بھی رونما اور ظاہر ہوا، اس کے لئے کائنات میں (پیدا ہونے کا) واسطہ وہی (عقلِ کل) تھا۔
پیر ناصر خسرو کا قول ہے، کہ آسمان و زمین کی ہر چیز نفسِ کل کی پیدا کردہ ہے، جس میں اس کو عقلِ کل کی تائید حاصل تھی، اور خود نفسِ کل عقلِ کل سے پیدا ہوا ہے، پس اس معنی میں تخلیق کا اولین واسطہ عقلِ کل ہی ہے۔
ز اول عقلِ کل چون شد مشہر
زیکدیگر بزادند اَن دو گوہر
ترجمہ:۔
جب اول (یعنی امر) سے عقلِ کل مشہور ہوا، تو وہ دونوں گوہر ایک دوسرے سے پیدا ہوئے۔
تشریح: یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کہ کس طرح یہ بات درست ہو سکتی ہے، کہ عقلِ کل ایک طرف سے امرِ کل سے پیدا ہوا، اور دوسری طرف سے دونوں گوہر یعنی عقلِ کل اور نفسِ کل ایک دوسرے سے پیدا ہوئے؟
اس کا جواب حق تبارک و تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے یہ دیا جا سکتا ہے، کہ عقل سے نفس کی تخلیق ہوئی اور نفس سے عقل کی تکمیل، یعنی باری سبحانہ و تعالیٰ کی مصلحت و حکمت اسی میں تھی کہ عقل کل نفسِ کل کی تائید و تربیت کرتے کرتے درجۂ کمال کو پہنچ گیا۔
۱۷
۳۔ نفسِ کُل کے بارے میں:
ز عقل کل وجود نفس کل زاد
ہمی حوای معنی خواندش استاد
ترجمہ:۔
عقلِ کل سے نفسِ کل کی ہستی پیدا ہوئی اُستادِ ازل نے اسے ”حقیقی حوّا“ کے نام سے پکارا۔
تشریح:۔
حقائق موجودات کے اس بنیادی اور فکر انگیز تصور سے، کہ عقلِ کل اور نفسِ کل حقیقی آدم و حوّا ہیں، علم و حکمت کا ایک خاص دروازہ کھل جاتا ہے، بشرطیکہ صحیح طور پر ابوالبشر کے قرآنی قصے پر سوچ لیا جائے۔
بدان گر جانت با عقل اَشنا شد
کہ این حوّا و اَن آدم چرا شد
ترجمہ:۔
اگر تیری جان عقل سے آشنا اور مانوسی ہوئی ہے، تو جان لے، کہ یہ (نفسِ کل) حوّا اور وہ (عقلِ کل) آدم کیوں ہوا؟
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو یہاں سوال کے انداز میں جو کچھ اشارہ فرماتے ہیں، اس کا مفہوم یہ ہے، کہ جس طرح سیارۂ زمین کی آبادی آدم و حوّا کے ہاتھ سے شروع ہوئی، اور جس طرح انسان کی روحانی و جسمانی تعمیر و ترقی کی ابتدا اس کی عقل اور
۱۸
جان کے ذریعے ہوئی، اسی طرح کائنات و موجودات کی تخلیق و تکمیل کا آغاز عقلِ کل اور نفسِ کل کے واسطہ سے ہوا، پس شخصی عالم (انسانی ہستی) کے آدم و حوّا عقل و جان ہیں، اور کائنات و موجودات کے آدم و حوا عقلِ کل اور نفسِ کل ہیں۔
اگر معنی نامش باز دانی
ورا جمع ملائک نام خوانی
ترجمہ:۔
اگر تو اس (نفسِ کل) کے نام کی حقیقت سمجھ سکے، تو تو اس کو فرشتوں کا جامع (یعنی عالمِ ملکوت) قرار دے گا۔
تشریح:۔
نفسِ کل کے معنی ہیں سب کی جان، یعنی تمام موجودات و مخلوقات کی مجموعی روح، اور موجودات میں سب سے پہلے ملائک ہیں، پھر بنی نوع انسان وغیرہ، پس نفسِ کل واحدہ ہے، جس نے ملائک اور ارواحِ خلائق کو ایک کر لیا ہے، اسی لئے اس کو عالمِ ملائکہ (ملکوت) عالمِ جان اور عالمِ ارواح کہتے ہیں۔
ہموشد فاعل افلاک و انجم
ہمو بحر محیط جان مردم
ترجمہ:۔
وہی آسمانوں اور ستاروں کا پیدا کرنے والا ہوا، وہی نفوسِ انسانی کا سمندر ہے۔
تشریح:۔
جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا، کہ نفسِ کل نفسِ واحدہ ہے، جس نے ساری کائنات پیدا کر دی، جو مثال کے طور پر نفوسِ انسانی کا سمندر ہے، اور تمام ارواح
۱۹
اسی سے آتی ہیں، اور شعوری و غیر شعوری طور پر اسی سے جا ملتی ہیں۔
ہمو لوح و ہمو کرسی یزدان
ہم انسان دوم ہم روح انسان
ترجمہ:۔
وہی لوح اور وہی خدا کی کرسی ہے، دوسرا انسان بھی اور انسان کی روح بھی وہی ہے۔
تشریح:۔
جہاں عقلِ کل کو قلم کہا جائے وہاں نفسِ کل لوحِ محفوظ ہے، جہاں وہ عرش ہے وہاں یہ کرسی ہے (عرش کے معنی تخت اور کرسی کے معنی چبوترہ ہیں) نیز جہاں عقلِ کل انسان کبیر اول ہے، وہاں نفسِ کل انسان کبیر دوم ہے (یہ حقیقی آدم و حوا ہوئے) اور جہاں وہ انسان صغیر کی حقیقی عقل ہے وہاں یہ انسان صغیر کی حقیقی روح ہے۔
ازان آمد فرود عقل دروای
کہ زیر تخت کرسی را بود جائی
ترجمہ:۔
اسی لئے وہ (نفسِ کلی) عقلِ کلی کے نیچے معلق ہے، کہ چبوترہ تخت کے نیچے ہی ہوتا ہے۔
تشریح:۔
خدا کی حقیقت سمجھانے کے لئے انسانوں کے سامنے یہ تصور پیش کیا گیا ہے، کہ کائنات کے سب سے بیرونی آسمان پر کرسی ہے، کرسی پر عرش اور
۲۰
عرش پر رحمان، جیسے زمین پر چبوترہ بنایا جاتا ہے، چبوترہ پر تخت رکھا جاتا ہے اور تخت پر بادشاہ بیٹھتا ہے، چنانچہ اس مثال میں جو کہا گیا ہے، کہ جسم کی زمین پر روح کا چبوترہ ہے، روح کے چبوترے پر عقل کا تخت ہے اور عقل کے تخت پر حقیقی بادشاہ بیٹھا ہوا ہے، اس کا مقصد یہ ہے، کہ جو عالی ہمت انسان خدا کو پہچاننا چاہے، تو وہ پہلے اپنی روح کو پہچانے اور اس کے نتیجے میں علم و عقل کے تخت کے نزدیک ہو جائے، اب یقینی ہے کہ وہ خدا کے نور کو عقل کے تخت پر دیکھے گا، اور اس کو پہچان لے گا۔
مسیحا گفت خواہم زی پدر شد
جہانی زین سخن زیر و زبر شد
ترجمہ:۔
عیسیٰ نے کہا کہ میں باپ کے پاس جاؤں گا، اس قول سے (نظریات کی) ایک دنیا تہ و بالا ہوئی۔
تشریح:۔
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب یہ کہا کہ میں اپنے باپ کے پاس جانے والا ہوں اور میرا باپ آسمان میں ہے، تو اس قول سے دنیائے نصرانیت نظریاتی طور پر تہ و بالا ہوئی۔ اور تثلیث کا نظریہ یہیں سے شروع ہوا، تثلیث جو باپ، بیٹا اور روح القدس تین کو ماننے کا عقیدہ ہے، توحید کے خلاف ہے۔
نکو گفت او ولی رہبان ندانست
کہ او فرزند نفسِ کل بجان است
ترجمہ:۔
اس (حضرت عیسیٰ) نے ٹھیک کہا، مگر راہب (پادری) نے نہیں سمجھا،
۲۱
کیونکہ وہ روحانی لحاظ سے نفسِ کل کا فرزند ہے ہی۔
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو کہا کہ میں اپنے باپ کے پاس جانے والا ہوں اور میرا باپ آسمان میں ہے تو یہ آنجناب نے نفسِ کل کے بارے میں کہا، اور ٹھیک کہا کیونکہ روح کے اعتبار سے وہ نفسِ کل کے فرزند ہیں، جیسے قرآنی ارشاد ہے کہ:
”خلقکم من نفس واحدۃ ۱/۴
اس نے تمہیں نفسِ واحدہ یعنی (نفسِ کل) سے پیدا کیا۔“
لیکن پادری نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول کے مطلب کو نہیں سمجھا، اس نے تو صرف یہ خیال کیا، کہ آسمان والا باپ خدا ہی ہے، اس غلط خیال کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ذاتِ سبحان کا بیٹا قرار دیا گیا اور تین (تثلیث) کا عقیدہ شروع ہوا۔
۲۲
۴۔ آسمانوں اور ستاروں کی پیدائش کے بارے میں۔
چو پیوستند عقل و نفس باہم
ازیشان زاد ارواح مجسم
ترجمہ:۔
جب عقل اور نفس ایک دوسرے سے متصل ہوئے، تو ان سے مجسم روحیں پیدا ہوئیں۔
تشریح:۔
عقلِ کل اور نفسِ کل کی باہمی پیوستگی سے ارواح مجسم پیدا ہوئیں، جن سے نو آسمان مراد ہیں، آسمانوں کو ارواح مجسم اس لئے کہا گیا، کہ ان میں سے ہر ایک میں روح اور عقل ہے، ارواح مجرد (یعنی جسم کے بغیر روحوں) کے بعد ارواح مجسم ہیں۔
یکی گردون اعظم آنکہ یکسر
برو گردند ہشت افلاک دیگر
ترجمہ:۔
(ان مجسم روحوں میں سے) ایک تو فلکِ اعظم ہے، جس کے ذریعے سے دوسرے آٹھ آسمان گردش کرتے رہتے ہیں۔
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو کا ارشاد ہے، کہ ان میں سے ایک مجسم روح سب سے بیرونی آسمان ہے، جو کہ فلک الافلاک کے نام سے مشہور ہے، جس
۲۳
کی گردش اس قسم کی ہے، کہ اس سے دوسرے سارے آسمان گردش کرتے ہیں۔
خلاف گردش این ہشت گردد
برو روز یکی رہ گشت گردد
ترجمہ:۔
وہ (فلک اعظم) ان آٹھ آسمانوں کے خلاف گردش کرتا ہے، اس کی گردش سے روزانہ ایک ہی رستہ بنتا رہتا ہے۔
تشریح:۔
آسمانوں کی مجموعی ہیئت و صورت ایک ایسے پیاز کی طرح ہے، جس کی جڑوں اور ڈنٹھل کی جگہ بھی معلوم نہ ہوا اور بالکل گول ہو، اب فرض کرو، کہ پیاز کے پرت (تہ) ایک دوسرے کے نیچے نو ہیں، ان میں سب سے بیرونی پرت اس طرح گھومتا ہے، کہ اپنی حرکت کے زور سے اپنے اندر کے آٹھ پرت کو سمت مخالف کی طرف گھماتا ہے۔
دگر چرخ دہ ود و خانہ باشد
ثوابت را در و کا شانہ باشد
ترجمہ:۔
دوسرا بارہ گھر (برج) والا آسمان ہے جس میں ساکن ستارے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
تشریح:۔
حکمائے متقدمین کے نزدیک آٹھواں آسمان فللک البروج کہلاتا ہے، جس میں بارہ برج ہیں، یعنی اس کے بارہ فرضی حصے ہیں، اس فرضی تقسیم میں
۲۴
ستاروں کے نشانات سے بھی کچھ مدد لی گئی ہے، تاکہ معلوم ہو کہ ایک برج کہاں سے کہاں تک واقع ہے۔
دگر کردون کہ باشد جای کیوان
دگر دارد در و زادوش ایوان
ترجمہ:۔
پھر (اس کے نیچے) وہ آسمان ہے جو زحل کا مقام ہے، پھر (اس کے تحت) مشتری اپنا مقام رکھتا ہے۔
تشریح:۔
ساتویں آسمان میں سیارہ زحل گردش کرتا ہے اور چھٹے میں مشتری، زحل کے معنی ہیں کام سے علیحدہ رہنے والا اور مشتری کے معنی خریدنے والا۔
دگر بہرام دارد وان دیگر شید
دگر دارد بہشت آباد ناھید
ترجمہ:۔
دوسرا (پانچواں آسمان) مریخ رکھتا ہے، اور وہ دوسرا (یعنی چوتھا آسمان) شمس رکھتا ہے، اور اس سے نچلا یعنی (تیسرا آسمان) جنت نظیر زہرہ رکھتا ہے۔
تشریح:۔
پانچویں آسمان میں سیارۂ مریخ ہے، مریخ کے معنی ہیں لمبا تیر یا نیزہ، چوتھے آسمان میں شمس یعنی سورج ہے، جو جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے، کہ سیارہ نہیں ساکن ہے، تیسرے آسمان میں سیارۂ زھرہ ہے، پیر صاحب زھرہ کو ”بہشت آباد“ کہتے ہیں، جس کے معنی ہیں بہشت کی طرح آباد، مگر یہ ظاہر نہیں
۲۵
کہ یہ تعریف اس سیارہ کے ”سعد“ ہونے کے بارے میں ہے، یا وہ ظاہری طور پر آبادی کا بہترین نمونہ بھی ہے، بہر حال زہرہ کے معنی ہیں حسین و روشن۔
دوئی دیگر یکی تیر و یکی ماہ
ترا از حال ہر نہ کر دم آگاہ
ترجمہ:۔
وہ (آسمان) اور بھی ہیں، ایک عطارد رکھتا ہے اور ایک قمر (چاند) میں نے تجھے نو آسمان کی حالت سے آگاہ کر دیا۔
تشریح:۔
دوسرے آسمان میں عطارد ہے اور پہلے آسمان میں چاند۔
گرفتہ ہر یکی عقلی و جانی
بکار خویشتن ہر یک جہانی
ترجمہ:۔
(ان میں سے) ہر ایک نے ایک عقل اور ایک جان حاصل کی ہے، اپنے مقررہ کام کے اعتبار سے (ان میں سے) ہر ایک ایک دنیا ہے۔
تشریح:۔
آسمانوں اور ستاروں میں سے ہر ایک میں عقل و جان ہے، تاکہ ہر ایک کے لئے جو مقررہ کام ہے، وہ ٹھیک طرح سے کیا جا سکے، جیسا کہ قول قرآن ہے
”ربنا وسعت کل شیء رحمۃً و علماً ۷/۴۰
”اے ہمارے پروردگار تو نے رحمت اور علم میں ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے۔“ یہاں رحمت سے روح اور علم سے عقل مراد ہے، اور ہر چیز کے ذکر میں
۲۶
سب سے پہلے آسمان اور ستارے آتے ہیں، پس اس کا مطلب یہ ہوا کہ آسمانوں اور ستاروں میں سے ہر ایک کو ایک روح (رحمۃ) اور ایک عقل (علما) گھیرے ہوئے ہے۔
یکی در ملک یزدان نیک بنگر
کہ اینہا ملک یزدانند یکسر
ترجمہ:۔
خدا کی بادشاہی کو غور سے دیکھ لے، کہ یہ (آسمان اور ستارے) سب خدا کی سلطنت ہیں۔
تشریح:۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے آگاہی اس وقت ہو سکتی ہے جب اس کی بادشاہی کو غور و فکر سے دیکھ لیا جا سکے۔
ہمہ نیک و بد ما ہست ازیشان
فنا را گشتہ کو تہ دست ازیشان
ترجمہ:۔
ہماری خیر و شر سب ان ہی سے ہے۔ موت کے لئے سبب (ہماری حفاظت سے) ان کی دست برداری ہے۔
تشریح:۔
خیر و شر سے راحت اور تکلیف مراد ہے یعنی یہی آسمان اور ستارے ہماری راحت اور تکلیف کے ذرائع ہیں اور ہم میں سے کسی کی موت بھی اس وقت واقع ہو سکتی ہے، جبکہ وہ اس کی نگہداشت سے ہاتھ کھینچ لیں۔
۲۷
شدہ حیران ہمہ درضع صانع
ہمہ سرگشتگان شوق مبدع
ترجمہ:۔
یہ سب حقیقی کاریگری میں محو حیرت ہیں۔ سب مبدع کے شوق میں بیقرار ہیں۔
تشریح:۔
مبدع کہتے ہیں ابداع کرنے والے کو یعنی کسی سابقہ مادہ اور مایہ کے بغیر ممکنات کو وجود دینے والا، جیسے قرآن پاک میں ہے:۔
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ ۱۱۷/۲
”وہ آسمانوں اور زمینوں کا بلا مادہ پیدا کرنے والا ہے اور جب کوئی امر مقرر ہوا تو وہ صرف ”کن“ (ہوجا) فرما دیتا ہے اور وہ ہو جاتا ہے۔“ اب یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسماعیلی حکماء کے نزدیک مبدع اور بدیع سے مراد امرِ کل ہے جس نے عقلِ کل کو آسمانوں اور زمینوں کی روحانی نورانی صورت میں پیدا کر دیا۔
ہمی گردند در عالم چو پرکار
پدید آرندۂ خود را طلبگار
ترجمہ:۔
سبھی کائنات میں پرکار کی طرح گھوم رہے ہیں اپنے پیدا کرنے والے کو طلب کرتے ہوئے۔
۲۸
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں کہ آسمان اور ستارے جو اس عالم میں پرکار کی طرح ہمیشہ گھوم رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ارواح مجسم ہیں اور اپنے فعل کے نتیجے کی صورت میں اپنے پیدا کرنے والے سے جا ملنا چاہتے ہیں۔
بگرد کرۂ کل در شب و روز
ہمی کردند چون شمع شب افروز
ترجمہ:۔
وہ دن رات کرۂ خاکی کے گردا گرد رات کو روشن کر دینے والے چراغ کی طرح گھومتے رہتے ہیں۔
تشریح:۔
زمین ایک محدود دائرے میں گردش کرتی رہتی ہے۔ اور آسمان اپنے وسیع دائرے میں زمین کے گرد گھوم رہے ہیں اور ستارے بھی کچھ تو آزادانہ طور پر اور کچھ آسمان کے ساتھ ساتھ گردش کرتے ہیں۔ مگر سورج کائنات کے وسط میں ساکن ہے۔
کند با ما ازاں گشتن اثر ہا
رسد مارا ازیشان خیر و شر ہا
ترجمہ:۔
اس گردش سے ہم پر اثر ہوتا ہے۔ ان (آسمان اور ستاروں) سے ہمیں خیر و شر پہنچتی ہے۔
۲۹
تشریح:۔
افلاک و انجم سے باشندگان زمین متاثر ہونے کے بارے میں پیر ناصر خسرو یہاں جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں وہ نظریۂ علم نجوم کی ترجمانی ہے۔ اس باب میں ان کا جو کچھ ذاتی نظریہ ہے وہ ان کے دیوان اور دیگر کتب کے مجموعی مطالعہ سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔
یکی از چاہ اَید برسر گاہ
یکی از گاہ افتد در بن چاہ
ترجمہ:۔
ایک کنوئیں سے (نکل کر) شاہی تخت پر آ بیٹھتا ہے ایک تخت شاہی سے کنویں کی تہ میں جا گرتا ہے۔
تشریح:۔
گردش فلکی سے جو دنیا میں اتفاقات و حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ سے کچھ انسانوں کو جس طرح عزت ملتی ہے، اسی طرح بعض آدمیوں کو ذلّت ملتی ہے۔
یکی رابی ہنر مال از عدد بیش
یکی باصد ہنر دل تنگ و دل ریش
ترجمہ:۔
ایک کے پاس بے ہنر ہونے کے باوجود بے حساب دولت ہوتی ہے۔ ایک سو ہنر کے باوجود (ناداری سے) دل تنگ اور آزردہ خاطر رہتا ہے۔
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو کا ذاتی نظریہ اس بارے میں یہ ہے:۔
۳۰
چوتو خود کنی اختر خویش رابد
مدار از فلک چشم نیک اختری را
ترجمہ:۔
جب تو خود اپنے ستارے کو نحس بناتا ہے تو تو آسمان سے نیک اختری (یعنی سعادت) کی امید نہ رکھا کر۔
زحجت این سخنہا یاد میدار
کہ دریمگان نشستہ پادشہ وار
ترجمہ:۔
حجت سے ان باتوں کو یاد رکھ لے جو یمان میں بادشاہ کی طرح بیٹھا ہوا ہے۔
تشریح:۔
حجت سے خود حکیم ناصر خسرو مراد ہیں جو اپنے وقت میں حضرت مولانا امام المستنصر باللہ علیہ السلام کی جانب سے خراسان و بدخشان کے حجت تھے۔ حجت کے کئی معنی ہیں اور اس کے بنیادی معنی ہیں بحث و دلیل میں غالب آنے والا۔ اس سے ہدایت کا ایک ایسا ذریعہ مراد ہے جس کے موجود ہونے کے بعد لوگ قیامت کے روز خدا کے حضور میں یہ عذر نہ کر سکیں کہ آپ نے ہمارے لئے دنیا میں کوئی وسیلہ مقرر نہیں فرمایا تھا۔ چنانچہ اس معنی میں خدا کے حجت رسولؐ ہیں۔ رسولؐ کے حجت امام زمان ہیں۔ امام زمان کے حجت وہ حضرات ہیں جن کو خود یہی حجت کا لقب دیا گیا ہے۔ ان کے حجت داعی ہیں اور ان کے حجت ماذون ہیں۔
۳۱
۵۔ ”چار عناصر اور ارکان کے بارے میں“
ازیشان گشت پیدا چار عنصر
زمن بشنو تو این معنیٔ چون دُر
ترجمہ:۔
ان ہی افلاک سے چار عناصر پیدا ہوئے یہ موتی جیسی حقیقت مجھ سے سن لے۔
تشریح:۔
چار عنصر یا کہ عناصر اربعہ آگ، ہوا، پانی اور مٹی ہیں۔ اور ارکان کا مطلب گرمی، سردی، خشکی و تری ہے اور ہر عنصر دو طبیعتوں سے مرکب ہے۔ چنانچہ آگ گرم و خشک ہے، ہوا گرم و تر، پانی سرد و تر اور مٹی سرد و خشک ہے۔
اثیر و پس ہوا پس آب پس خاک
کہ زاد ستند این ہر چار ز افلاک
ترجمہ:۔
آگ پھر ہوا پانی اور پھر مٹی ہے، کہ یہ چاروں آسمانوں سے پیدا ہوئے ہیں۔
تشریح:۔
یہ باتیں کرۂ زمین سے متعلق ہیں چنانچہ چار عناصر میں سب سے نیچے کرۂ خاک (مٹی) ہے۔ اس کے اوپر پانی ایک گول غلاف کی صورت میں اس طرح چھایا ہوا ہے کہ زمین کی سطح کی صرف ایک چوتھائی پانی سے خالی ہے۔ اس کے اوپر
۳۲
ہوا کا گول غلاف اس طرح سے ہے کہ سارا پانی اور زمین کا خشک حصہ ہر طرف سے اس کے گھیرے میں ہے اور ہوا کے اوپر اثیر (یعنی آگ) کا غلاف ہے۔
ازیشان گرم خشک و سرد تر ہست
چنانکہ سرد خشک و گرم تر ہست
ترجمہ:۔
ان عناصر میں خشک گرم اور تر سرد ہے جس طرح خشک سرد اور تر گرم ہے۔
تشریح:۔
خشک گرم آگ، تر سرد پانی، خشک سرد مٹی اور تر گرم ہوا ہے۔
شود پیدا ازیشان رنج و راحت
ازیشان مرہم و زیشان جراحت
ترجمہ:۔
ان ہی سے تکلیف و راحت پیدا ہوتی ہے اور ان ہی سے زخم بھی ہے اور مرہم بھی بنتا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کا فرمانا ہے کہ دنیا میں جسمانی تکلیف اور راحت کا زیادہ تر تعلق عناصر اربعہ سے ہے کیونکہ آفاق ہو یا انفس، اس میں گرمی، سردی، خشکی اور تری کے اعتدال سے راحت ہوتی ہے اور ان چار طبیعتوں کے توازن و اعتدال پر نہ ہونے سے تکلیف ہوتی ہے۔
۳۳
حکیمان این چنین گفتند باما
کہ این چار امہا تند اَن نُہ اَبا
ترجمہ:۔
حکماء نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ یہ چاروں عناصر مائیں ہیں اور وہ نو آسمان باپ ہیں۔
تشریح:۔
یہ حکماء یقیناً حکماء دین ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ تصور قرآنِ مجید کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ چنانچہ سورۂ یٰس کی آیت میں ارشاد ہے کہ: ”پاک ذات ہے جس نے زمین سے اگنے والی چیزوں کو جفت جفت پیدا کیا اور خود ان میں سے بھی اور ان چیزوں میں سے بھی جن کو وہ جانتے بھی نہیں“ یعنی تمام چیزیں کسی نہ کسی صورت میں جفت جفت ہیں۔
ازین چار و ازان نہ اے برادر
بشد موجود سہ فرزند دیگر
ترجمہ:۔
اے بھائی ان چار اور ان نو سے پھر تین فرزند پیدا ہوئے۔
تشریح:۔
یعنی نو آسمانوں سے جو باپ کی مثال ہیں اور چار عناصر سے جو ماں کی طرح ہیں تین بچے پیدا ہوئے۔
معادن پس نبات اَنگاہ حیوان
بہم بستند یکسر عہد و پیمان
۳۴
ترجمہ:۔
کانیں، اگنے والی چیزیں اور حیوانات (پیدا ہوئے) انہوں نے آپس میں عہد و پیمان باندھ لیا۔
تشریح:۔
آسمان اور عناصر کے ان تینوں فرزندوں کو موالید ثلاثہ کہتے ہیں۔ جو کانیں، نباتات اور جانور ہیں۔ اور یہ قدرتی طور پر ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔
بدریا درودرکان لعل و گوہر
کند درویش مردم راتونگر
ترجمہ:۔
دریا میں موتی اور کان میں لعل و جواہر ہوتے ہیں، جو غریب لوگوں کو امیر بناتے ہیں۔
تشریح:۔
پیر صاحب معدنیات کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ معدنیات وہ ہیں جو انسان کے لئے بہت مفید ہیں۔ مثلاً دریا سے موتی نکلتے ہیں اور کانوں سے لعل و جواہر اور یہ ایسی قیمتی چیزیں ہیں کہ اگر غریب لوگوں کو مل جائیں تو وہ فوراً امیر بن جائیں۔
غذای میوہ و نان ست کزوی
پدید اَید ہمی خون در رگ وپی
ترجمہ:۔
پھول اور روٹی کی غذا ہے کہ جس سے نسوں اور پٹھوں میں خون پیدا ہوتا ہے۔
۳۵
تشریح:۔
معدنیات کے بعد نباتات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان سے انسان کے لئے فائدہ یہ ہے کہ ان سے انسان کی غذا بنتی ہے جس سے اس کے جسم میں خون مہیا ہوتا ہے۔
ستور و گوسفند و گاؤ واشتر
کزیشان می شود روئی زمین پر
ترجمہ:۔
چوپائے گوسفند، گائے اور اونٹ ہیں جن (کی کثرت) سے زمین بھر جاتی ہے۔
تشریح:۔
معدنیات اور نباتات کے بعد حیوانات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہر قسم کے چوپائے، جانور اور مویشی ہیں جن کی کثرت سے زمین بھر جاتی ہے۔
ہمہ از بہر انسانند درکار
کشد او رایکی زین ویکی بار
ترجمہ:۔
یہ سب انسانوں کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک تو انسان کی سواری کے لئے زین اٹھاتا ہے اور ایک بوجھ اٹھاتا ہے۔
تشریح:۔
مولید ثلاثہ یعنی جمادات (معدنیات) کے بعد حیوانات کا ذکر ہے اس میں خود انسان بھی شامل ہے۔ کیونکہ حیوان کے معنی ہیں جاندار یعنی وہ
۳۶
مخلوق جو جان رکھتی ہے اور زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ حیوان کے ساتھ دو اور لفظ لگا کر یہ فرق ظاہر کر دیا گیا کہ ایک حیوان خاموش ہے اور دوسرا حیوان بولتا ہے چنانچہ زندہ اور خاموش مخلوق کو حیوانِ صامت اور دوسری مخلوق کو جو زندہ ہونے کے ساتھ ساتھ بولتی بھی ہے حیوانِ ناطق کہا۔
موالیدند ازین ہا جسم انسان
پدید آمد درین شش گوشہ ایوان
ترجمہ:۔
انہی سے انسانی اجسام پیدا ہوتے ہیں اور انہی سے اس دنیا کی آبادی ہوتی ہے۔
تشریح:۔
قانونِ قدرت کا نظام یہ ہے کہ ترتیب اور درجات میں ہر نچلی مخلوق اپنے سے ایک درجہ اوپر کی مخلوق میں فنا ہو کر اس کی حیثیت میں بقا پاتی ہے۔ چنانچہ جمادات یعنی بے جان چیزیں نباتات بن جاتی ہیں، نباتات حیوانات کے جسم بن جاتی ہیں اور حیوانات انسانوں کے جسم بن جاتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ استثنا بھی ہے کہ کوئی مخلوق اپنے سے اوپر کے چند درجات کو چھوڑ کر بالاتر بھی جا سکتی ہے۔ مثلاً پانی، ہوا، نمک اور دوسری بہت سی بے جان چیزیں دوا کی صورت میں انسان کا جزو بدن بن جاتی ہیں۔ جبکہ ان کے اوپر کے درجے نباتات اور حیوانات تھے اس طرح نباتات ہیں۔
درا ای حجت زیبا سخن گوی
کہ بردی از خلائق در سخن گوی
۳۷
ترجمہ:۔
آ جا اے پر لطف و پر کشش باتیں کرنے والے حجت، کہ تو کلام میں خلائق سے گوئی سبقت لے گیا۔
تشریح:۔
ویسے تو یہ رسم ہے کہ ہر شاعر کچھ نہ کچھ اپنی تعریف بھی کرتا ہے۔ مگر یہاں وہ بات ہرگز نہیں بلکہ حکیم ناصر خسرو جو کچھ فرماتے ہیں وہ یقیناً عین حقیقت ہے۔ کیونکہ آپ حکیم ربانی اور غواص بحر روحانی ہونے کے علاقہ وہ پہلے شاعر ہیں جس نے غزل نہیں کہی بلکہ اپنی تمام شاعری حکمت کے لئے مخصوص کر دی۔
۳۸
۶۔ متولدات کے بارے میں:۔
چہ گفتند آن حکیمان سخن گوئی
کہ بردند از ملائک در سخن گوئی
ترجمہ:۔
(سن لے کہ) کیا کہا ان سخن پرور حکماء نے، جو فصاحت و بلاغت میں فرشتوں سے بھی گوئی سبقت لے گئے ہیں۔
تشریح:۔
متولد کے معنی ہیں تولد ہونے والا، پیدا ہونے والا اور متولدات اس کی جمع ہے جس سے مراد انسان اور اس کی تخلیق و تولید ہے۔ چنانچہ حکیم صاحب حکمائی دین کے حوالے سے اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
کہ خون ما کہ آن اصل حیات ست
یکی فرزند حیوان و نبات ست
ترجمہ:۔
(حکماء نے فرمایا) کہ ہمارا خون جو کہ زندگی کی اصل و اساس ہے وہ حیوان اور نبات کی ایک اولاد ہے۔
تشریح:۔
خون کو انسانی جسم کی زندگی کی اصل و اساس اس لئے قرار دیا جاتا ہے کہ اسی میں روحِ حیوانی بصورتِ ذرات پائی جاتی ہے وہ حیوان اور نبات کے امتزاج سے پیدا ہوا ہے۔ یعنی جب ہمارا نفسِ حیوانی اناج، پھل، ترکاری وغیرہ سے بنی
۳۹
ہوئی غذائیں کھا لیتا ہے تو اس سے خون پیدا ہوتا ہے یا اس سے یہ مراد ہے کہ خون ہمارے جسم میں روحِ حیوانی اور روحِ نباتی کے عمل سے بنتا ہے۔
دگر رہ چون مصفا گردد آن خون
وزو خون سفید آید بہ بیرون
ترجمہ:۔
پھر واپس جب وہ خون صاف ہو جاتا ہے اور اس سے سفید خون خارج ہو جاتا ہے۔
تشریح:۔
خون میں یہ بھی صلاحیت ہے کہ روحِ حیوانی کے عوامل سے اس کی ایک مقدار صاف ہو کر سفید رنگ میں خارج ہو جاتی ہے۔
ورا خوانند نطفہ اہل معنی
کہ پالودہ ازاں خون ست یعنی
ترجمہ:۔
اس کو اہلِ حقیقت نطفہ کہتے ہیں۔ اس کے معنی ہیں کہ وہ خون سے صاف و پاک کیا ہوا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کا ارشاد ہے کہ اس سفید خون کو نطفہ اس لئے کہتے ہیں کہ نطفہ کے معنی صاف پانی ہیں۔
وزان پس در مشیمہ چونکہ افتاد
فگندش اوستاد چرخ بنیاد
۴۰
ترجمہ:۔
اور اس کے بعد وہ جب رحم میں جا گرتا ہے تو آسمان کا استاد اس کے لئے تخلیق کی بنیاد رکھتا ہے۔
تشریح:۔
یعنی جب مادۂ تولید مشیمہ (رحم) میں جاگزین ہوتا ہے تو خدا کے امر کے بموجب آسمان بحیثیت استاد اس نطفہ کی تعمیر و تخلیق کی عمارت قائم کرنے کی بنیاد رکھتا ہے۔
زحل یک ماہ او را تربیت کرد
دوم مہ مشتریش تقویت کرد
ترجمہ:۔
زحل نے ایک مہینے اس کی پرورش کی مشتری نے دوسرے مہینے اس کو قوت پہنچائی۔
تشریح:۔
قرآنِ پاک میں ارشادِ ربانی ہے:
وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ (۴۵: ۱۳)
”اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے سب کو تمہارے لئے مسخر کر دیا۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے جو فکر کرتے ہیں نشانیاں ہیں“۔ اس ارشادِ الٰہی سے اس حقیقت کی تصدیق ہوئی کہ ستارے انسان کے فائدے کی خاطر مصروف عمل ہیں۔
۴۱
بشد ماہ سوم بہرام یارش
چہارم ماہ خور صورت نگارش
ترجمہ:۔
تیسرے مہینے میں مریخ اس کا مددگار ہوا چوتھے مہینے میں سورج اس کا مصور (صورت بنانے والا) ہوا۔
تشریح:۔
حکیم ناصر خسرو نے آسمانوں اور ستاروں کی پیدائش کے باب میں افلاک و انجم کو ارواحِ مجسم کے نام سے موسوم فرمایا ہے اس کے معنی یہ ہوئے کہ انسانی جسم کی تخلیق کے سلسلے میں قانونِ قدرت کی طرف سے ستاروں کو جو خدمت سونپی گئی ہے وہ روحانی اور جسمانی دونوں طرح سے انجام پاتی ہے۔ چنانچہ سورج انسانی جسم کی تعمیر و تخلیق میں جو کام انجام دیتا ہے وہ بھی اسی طرح سے ہے۔
چو از خورشید تاباں زندگی یافت
دران جا قوت جنبندگی یافت
ترجمہ:۔
جب اس نے چمکنے والے سورج سے زندگی پائی تو وہاں پر اس کو ہلنے کی قوت مل گئی۔
تشریح:۔
حکماء سورج کو گرمی، روشنی اور دوسری کئی طاقتوں کے علاوہ روحِ حیوانی کا بھی سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ شاید یہی سبب ہے کہ ماں کے پیٹ کے بچے میں جو روحِ حیوانی کا داخل ہونا شروع ہوتا ہے وہ چوتھے ماہ میں ہے کیونکہ اس میں سورج کی خاص نگرانی رہتی ہے۔
۴۲
مہ پنجم کند زہرہ ورا کار
عطارد باشدش ماہ ششم یار
ترجمہ:۔
پانچویں ماہ میں زہرہ اس کے لئے کام کرتا ہے، چھٹے مہینے میں عطارد اس کا مددگار بنتا ہے۔
تشریح:۔
قرآنِ پاک کی تعلیمات میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ احسن الخالقین ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ حق تعالیٰ کی بادشاہی میں ظاہراً و باطناً تخلیق و تعمیر کی بہت سی قوتیں موجود ہیں۔ مگر حق تعالیٰ کی تخلیق ان سب سے بہترین ہے، پس اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہوا، کہ مختلف قوتوں کے ذریعے سے انسان کی تخلیق منزل بمنزل تکمیل پائی جاتی ہے اور اخیر میں روحانی تخلیق خدا ہی کے ہاتھ سے انجام پاتی ہے۔
(ملاحظہ ہو قرآن ۱۴/۲۳ اور ۱۲۵/۳۷)
بہفتم ماہ اورا ماہ باشد
بہشتم زو زحل آگاہ باشد
ترجمہ:۔
ساتویں مہینے میں چاند اس کا ساتھی ہوتا ہے۔ آٹھویں ماہ میں زحل اس کی خبر گیری کرتا ہے۔
تشریح:۔
بچے کی اس خدمت و حفاظت میں سات ستاروں کا جب پہلا دور ختم ہو جاتا ہے تو پھر دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے۔
۴۳
دران زندان تنگ اندر کشا کس
بود جائش میان آب و خون خوش
ترجمہ:۔
اس تنگ قید خانے میں (اور ایسی) کش مکش میں اس کی جگہ پانی اور خون کے درمیان (ہونے کے باوجود) اچھی محسوس ہوتی ہے۔
تشریح:۔
یہ بات خاص و عام سب جانتے ہیں کہ اس مادی زندگی میں انسان سانس لئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ تاہم کچھ حالات ایسے بھی ہیں جن میں سانس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے مثلاً جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں تھا نیز جبکہ روحانیت کی ایک خاص منزل سے گزرتا ہے اور یہی سبب ہے جو ائمہ علیھم السلام نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص پانی میں ڈوب کر مر جائے تو اس کو ایک دن اور ایک رات رکھ کر دفن کیا جائے اور اگر آسمانی بجلی گرنے سے کسی پر موت کی سی کیفیت طاری ہوئی ہو تو اس کو تین دن سے پہلے دفن نہ کیا جائے۔
پس از نہ ماہ زاووش خجستہ
برون آرد ورا زان راہ بستہ
ترجمہ:۔
نو مہینے کے بعد مبارک مشتری اس کو اس دشوار اور تنگ راستہ سے باہر لاتا ہے۔
تشریح:۔
ایک طرف انسان کی مادی تخلیق شکمِ مادر میں نو ماہ کے بعد مکمل ہو جاتی ہے، دوسری طرف سے اس کی روحانی تخلیق دعوتِ حق میں نو درجوں کی شناخت
۴۴
کے بعد مکمل ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہیں۔ مستجیب۱، ماذون محدود۲، ماذون مطلق۳، داعی محدود۴، داعی مطلق۵، حجتِ جزیرہ۶،حجتِ اعظم۷، امام۸،اساس۹۔
ازان تاریک دان آید درین جائی
جہان بیند خوش و خوب و دل آرائی
ترجمہ:۔
اس تاریک مقام سے اس ظاہری دنیا میں آتا ہے اور دنیا کو خوش منظر خوبصورت اور مسرت بخش دیکھتا ہے۔
تشریح:۔
قرآنِ کریم کا ارشاد ہے کہ رحمِ مادر میں جب بچے کی تخلیق ہوتی ہے اس وقت وہ تین قسم کی تاریکیوں میں پوشیدہ ہوتا ہے جس سے عقلانی، روحانی اور جسمانی تاریکی مراد ہے۔
سرائی بس فراخ و مسکن خوش
ہوائی بس لطیف و خوب و دلکش
ترجمہ:۔
ایک بہت وسیع گھر اور ایک خوش منظر مقام ایک انتہائی لطیف، عمدہ اور دل کش ہوا (کو دیکھتا ہے)۔
تشریح:۔
یعنی نو مولود بچہ اس دنیا کو ہر لحاظ سے بہتر اور دل کش پاتا ہے اور اپنی ماں کے پیٹ کی نسبت یکایک یہاں بڑا فرق دیکھتا ہے۔
۴۵
چنان پندارد آن مسکین درین جا
کزین خوشتر نباشد ہیچ ماوا
ترجمہ:۔
وہ بیچارہ اس دنیا میں آ کر ایسا گمان کرتا ہے کہ اس سے بہتر کوئی مقام نہیں ہو سکتا۔
تشریح:۔
پیر صاحب نومولود بچے کی زبانِ حال کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ جب شکمِ مادر کی تنگی سے آزاد ہو کر دنیا کی وسعت و کشادگی میں آتا ہے تو وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس سے بہتر کوئی جگہ نہیں بس یہی ہے جو کچھ ہونا چاہیئے۔
نمی داند کزین خوشتر سرائیست
کہ این در جنب آں تاریک جائیست
ترجمہ:۔
وہ نہیں جانتا کہ اس سے ایک بہتر گھر ہے جس کے مقابلے میں یہ ایک اندھیرا مقام ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کے اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ عالمِ سفلی یعنی دنیا ایک انتہائی تاریک اور گہرے کنوئیں کی طرح ہے، جبکہ عالمِ علوی یعنی آخرت ایک روشن دنیا کی مثال پر ہے۔ اگر واقعاً ایسا نہ ہوتا، تو قرآنِ مجید کی تعلیمات میں یہ مثال نہیں دی جاتی کہ ”اور تم سب لوگ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو اور متفرق نہ ہو“ اس سے یہ معلوم ہوا کہ دنیا ایک تاریک کنواں ہے جس سے نکل کر عالمِ بالا میں چڑھنے کا واحد ذریعہ اللہ کی وہ رسی ہے جو اس غرض کے لئے عالمِ علوی اور عالمِ
۴۶
سفلی کے درمیان قائم کر دی گئی ہے۔
نبات آسا بود یک چند حالش
بر آید زین تر و تازہ نہالش
ترجمہ:۔
کچھ عرصہ اس (بچے) کی حالت نبات کی طرح ہوتی ہے جس سے وہ خوب نشو و نما پاتا ہے۔
تشریح:۔
ایک بالغ اور عام انسان میں بیک وقت تین روحیں اپنا اپنا کام کرتی ہیں، مگر سب سے پہلے انسانی جسم بنانے کا کام روحِ نباتی آغاز کرتی ہے اسی طرح بچہ چار ماہ تک نباتات کی مثال میں نشو و نما پانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتا۔
وزاں پس ہمچو حیوان روزگاری
بجز خوردن ندارد ہیچ کاری
ترجمہ:۔
اور اس کے بعد روحِ حیوانی کے داخل ہونے سے تھوڑی سی حرکت بھی کرنے لگتا ہے اور جب وہ پیدا ہوتا ہے تو حرکت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے مگر ایک مدت تک حیوان کی طرح کھانے پینے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ یعنی بول نہیں سکتا لہٰذا اس عرصہ میں وہ حیوان سے ملتا جلتا ہے۔
سوم بارہ دران جان سخنور
شود پیدا و زوگردد منور
۴۷
ترجمہ:۔
تیسرے مرحلے پر اس میں روحِ ناطقہ پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ درخشاں اور روشن ہو جاتا ہے۔
تشریح:۔
یعنی جب وہ روحِ ناطقہ کے سبب سے باتیں کرنے لگتا ہے تو وہ اس وقت حیوانِ ناطق یا کہ انسان کی منزل میں قدم رکھتا ہے اور آہستہ آہستہ علم و ہنر کے آسمان کا ایک روشن ستارہ بن جاتا ہے۔
۴۸
۷۔ حشر کے بارے میں
دگر بارہ ازیں ویرانہ گلخن
گر اید سوئی آن آباد گلشن
ترجمہ:۔
پھر وہ اس اجڑے ہوئے چولھے (یعنی دنیا) سے اس آباد گلشن (یعنی آخرت) کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
تشریح:۔ پیر صاحب دنیا کو آخرت کے مقابلے میں ایک اجڑے ہوئے چولھے سے تشبیہہ دیتے ہیں، جس میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں وہ راکھ، کوئلہ، کاجل اور کالک کے سوا کچھ بھی نہیں۔
بدان رہ کامدست او باز گردد
ولی بایدکہ نیکو ساز گردد
ترجمہ:۔
وہ جس راہ سے آیا ہے اسی سے واپس ہو جاتا ہے۔ لیکن اسے خوب تیار ہو کر واپس جانا چاہیئے۔
تشریح:۔
یعنی وہ روحانی عالم کی راہ سے یہاں آیا ہوا ہے اور اسی راہ سے اس کو واپس جانا ہے لیکن اسے چاہیئے کہ علم و عمل کی بہترین تیاری کے ساتھ جائے۔
۴۹
کہ در ہر منزلی مشکل سوالی
کنند اورا ز دیگر گو نہ حالی
ترجمہ:۔
کیونکہ (آخرت کی) ہر منزل میں اس سے ایک عجیب قسم کا مشکل سوال کیا جائے گا۔
تشریح:۔
پیر صاحب کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ روحانیت کے طویل سفر میں بے شمار منزلیں آتی ہیں اور ہر منزل پر اس آخرت کی طرف واپس جانے والے سے علم و عرفان کا ایک عجیب سوال کیا جائے گا۔
اگر دارد جواب آن سوال او
رسد اندر سرائی بیزوال او
ترجمہ:۔
اگر اس کے پاس اس سوال کا جواب موجود ہے تو وہ (بہشت کے) لازوال گھر میں پہنچ سکتا ہے۔
تشریح:۔
قرآنِ مجید میں کئی آیتیں ہیں۔ جن سے اس حقیقت کی توثیق و تصدیق ہوتی ہے کہ عالم آخرت کے راستے میں مختلف سوالات کئے جائیں گے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:۔
و قفوھم انھم مسئولون (۲۴/۳۷)
اور انہیں ٹھہراؤ یقیناً ان سے سوال کئے جانے ہیں۔
۵۰
وگرنہ اندران منزل بماند
نخستین منزل اندر گل بماند
ترجمہ:۔
ورنہ وہ اسی منزل میں رہ جاتا ہے۔ سب سے پہلی منزل (یہ کہ) وہ مٹی میں رہ جاتا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں کہ اگر وہ ان سوالات کے جوابات دینے میں ناکام ہو جائے تو جس منزل میں ناکامی سے دوچار ہو وہیں رہے گا اور جس کے اعتبار سے پہلی منزل مٹی ہے۔
بدین سان میرود منزل بمنزل
گلشن سوئی گل آید دل سوئی دل
ترجمہ:۔
وہ اسی طرح سے ایک منزل سے دوسری منزل ہوتے ہوئے گزر جاتا ہے، اس کی مٹی (یعنی جسم) مٹی کی طرف لوٹتی ہے اور دل ( یعنی روح) دل (روح کل) کی طرف۔
تشریح:۔
یعنی اگر وہ جا سکے تو منزل بمنزل ہوتے ہوئے جاتا ہے، اس کا جسم تو مٹی میں جا ملتا ہے، مگر اس کی روح الارواح سے جا ملتی ہے۔
ازیدر گردلش کامل شودباز
رسد اورا بہشت و نعمت و ناز
۵۱
ترجمہ:۔
اگر یہاں سے اس کا دل کامل ہو کر لوٹ جائے تو اس کی بہشت اور ناز و نعمت حاصل ہوتی ہے۔
تشریح:۔
دل سے انسان کی ذات یعنی روح مراد ہے اور نور معرفت کا حصول ہی اس کی تکمیل ہے۔ چنانچہ ربانی ارشاد ہے:۔
ربنا اتمم لنا نورنا واغفرلنا ۸/۶۶
اے ہمارے پروردگار تو ہمارے لئے ہمارا نور کامل کر دے اور ہمیں بخش دے۔
وگر در باز گشتن نا تمام ست
بہ آتش در بماند زانکہ خام ست
ترجمہ:۔
اور اگر وہ لوٹ جانے میں ناتمام اور نامکمل ہے تو آگ ہی میں رہے گا، کیونکہ وہ کچا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کے اس کلام سے نیز ان کی دوسری کتب سے یہ ظاہر ہے کہ جہالت کی تاریکی آتشِ دوزخ ہے اور علم و معرفت کی روشنی بہشت ہے (دوزخ اور بہشت کی تفصیلی بحث کے لئے دیکھئیے کتاب ”وجہ دین“ کا اردو ترجمہ حصہ اول صفحہ ۴۳۔۴۴ نیز ۵۳۔۵۹)
۵۲
ہمین ست اعتقاد اندر قیامت
اگرچہ از خران یابم ملامت
ترجمہ:۔
قیامت کے بارے میں (میرا) اعتقاد ہی ہے اگرچہ بے وقوف لوگ مجھے ملامت کریں۔
تشریح:۔
پیر صاحب دوزخ اور بہشت کے متعلق اپنے اعتقاد اور نظریہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اس امکانیت کا بھی ذکر کرتے ہیں، کہ گدھوں کی طرح بے وقوف لوگ جو حقائق و معارف سے بالکل کورے ہیں اس بارے میں حرف گیری تو کریں گے مگر کسی بھی دلیل سے تردید نہیں کر سکتے۔
بہشت و دوزخت در آستین ست
چنین دانی اگر رایت رزین ست
ترجمہ:۔
تیری بہشت اور دوزخ تیرے ہاتھ میں ہیں اگر تیری رائے مستحکم اور گرانمایہ ہے تو تو ایسا ہی سجھے گا۔
تشریح:۔
اس مطلب کی وضاحت ہو چکی ہے کہ بہشت اور دوزخ علم و جہالت کی صورت میں ہیں جو انسان کے ہاتھ میں اور اسکے اختیار میں ہیں اور یہ اس کی خواہش و مرضی پر ہے کہ جہالت کو اپنائے یا علم کو۔
بہشت و دوزخ دیگر جز این نیست
جزاین داند کہ بارائی رزین نیست
۵۳
ترجمہ:۔
اس کے بغیر دوسری کوئی بہشت و دوزخ نہیں ہے۔ وہ شخص (ان دونوں کو ) اس کے سوا اور برعکس سمجھے گا جو استوار رائے نہیں رکھتا ہو۔
تشریح:۔
بہشت اور دوزخ اسی طرح ہیں جیسے ان کا ذکر کیا گیا۔ اس کے سوا کوئی بہشت و دوزخ نہیں ہے اور جو لوگ عقل و دانش میں مضبوط نہ ہوں، تو وہ لازماً ان دو جگہوں کو کچھ اور سمجھیں گے۔
۵۴
۸۔ ”انسانی روح کی حقیقت“
تو خود رامی ندانی کیستی تو
بگوتا درجہان بر چیستی تو
ترجمہ:۔
تو خود کو نہیں جانتا کہ تو کون ہے (اگر تو خود کو جانتا ہے تو) بتا دے کہ دنیا میں تیرا قیام کس چیز پر ہے۔
تشریح:۔
تو اپنے آپ کو نہیں پہچانتا کہ تو کون ہے۔ تیری ابتدائی حقیقت کیا تھی اور آخری حقیقت کیا ہو گی۔ اگر تو اپنے آپ کو پہچانتا ہے تو ہمیں بتا دے کہ اس دنیا میں تو کس بنیادی طاقت پر کھڑا ہے۔
توئی تو بگوتا خود کدام ست
تنی یا جان ترا آخر چہ نام ست
ترجمہ:۔
اپنی انتہائی خودی اور انا بتا دے کہ کونسی ہے؟ تو جسم ہے یا جان ہے آخر تیرا کیا نام ہے؟
تشریح:۔
انسان گفتگو میں جب اپنے کسی عضو یا اپنی کسی چیز کی طرف معنوی اشارہ کرتا تو کہتا ہے کہ ”میرا“ یا کہتا ہے ”میری“ جس میں وہ کسی عضو یا کسی چیز کو اپنی خودی اور انا سے منسوب کرتا ہے اور جب وہ اپنی خودی اور انائیت کی طرف
۵۵
اشارہ کرتا ہے تو ”میں“ کا لفظ استعمال کرتا ہے جس میں انسان کی اس آخری حقیقتِ واحدہ کا ذکر ہے جو بہت سی چیزوں کو اپنانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پھر ان سب کو چھوڑ کر مجرد اور بے تعلق ہو سکتی ہے۔
تو این ریش و سرو سبلت کا بینی
تو پنداری توئی نی نی نہ اینی
ترجمہ:۔
جب تو اپنی اس داڑھی، مونچھ اور سر کو دیکھتا ہے تو گمان کرتا ہے کہ بس تو یہی جسم ہے، نہیں نہیں، تو یہ نہیں ہے۔
تشریح:۔
جب تو اپنے جسم اور اس کے اعضاء کو دیکھتا ہے تو تیرا گمان ہوتا ہے کہ بس تو سب کچھ یہی جسم ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یوں نہیں، تو اپنی ابتدائی اصلیت اور آخری خودی میں جسم نہیں ہے۔ بلکہ تو کچھ اور حقیقت ہے۔
طلسم و بندوز ندان تو است ایں
بزوچشم خود بکشا و خودبین
ترجمہ:۔
پیر صاحب کا ارشاد ہے کہ (جسم اور اس کے حواس) تیرے لئے جادو، بندھن اور قید خانے کی حیثیت سے ہیں۔ پس جا اور دیدۂ دانش کھول کر اپنے آپ کو دیکھ لے۔
تشریح:۔
جسمانی لذتیں طلسم، بندھن اور قید خانے کی مثال ہیں کہ انسان ان سے نکل کر اپنی ذات کی معرفت تک پہنچ سکتا۔ لہٰذا جب تک علم و دانش کی
۵۶
آنکھ حاصل نہ کی جائے تو نہ ان رکاوٹوں سے نکل جانے کا کوئی راستہ دیکھا جا سکتا ہے اور نہ انسان کی آخری حقیقت معلوم ہو سکتی ہے۔
تو صورت نیستی معنی طلب کن
نظر در جسم و جان بوالعجب کن
ترجمہ:۔
تو ظاہریت نہیں ہے (بلکہ معنویت ہے۔ پس) تو معنویت طلب کر (اور اپنے اس) عجب جسم اور جان کو دیکھا کر۔
تشریح:۔
انسان کی ظاہریت بادام کے بیرونی چھلکوں کی طرح ہے اور اس کی معنویت یعنی جسمِ لطیف اور روحِ ناطقہ مغز بادام اور اس کے تیل کی طرح ہے پس تو اپنے جسمِ خاکی پر نظر نہ رکھ بلکہ اپنے اس عجیب اور معجزانہ جسمِ لطیف اور روحِ ناطقہ کا مشاہدہ کر۔
زہی نادان کہ خودرا جسمِ دانی
رہا کن این سخن زیرا کہ جانی
ترجمہ:۔
تو عجیب نادان ہے کہ اپنے آپ کو جسم سمجھتا ہے اس بات کو چھوڑ دے کیونکہ تو جان ہے۔
تشریح:۔
اگر انسان اپنی ساری کوششیں صرف جسم ہی کے لئے کر رہا ہو، تو گویا وہ اپنے آپ کو صرف جسم ہی سمجھتا ہے حالانکہ اسے یوں نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ وہ
۵۷
دراصل جان یعنی روح کی حیثیت سے ہے۔
کدا میں جاں؟ نہ این جان طبیعی
نکو بنگر کہ چیزی بس بدیعی
ترجمہ:۔
کون سی جان، یہ جان نہیں جو طبعی ہے، اچھی طرح سے دیکھ لے، کہ تو ایک عجیب چیز ہے۔
تشریح:۔
فرماتے ہیں، میں نے جو کہا کہ تو جسم نہیں بلکہ جان ہے، تو اس سے میری مراد وہ جان ہرگز نہیں جو طبعی قسم کی ہے یعنی یہ ہو نفس نہیں ہے جو خشکی، تری، سردی اور گرمی کے اعتدال پر زندہ رہ سکتا ہے۔ پس اچھی طرح سے اپنی حقیقت کا مشاہدہ کر، کیونکہ تو ایک انتہائی معجزانہ چیز ہے۔
توئی جان سخن گوئی حقیقی
کہ با روح القدس دارد رفیقی
ترجمہ:۔
تو بحقیقت وہ بولنے والی جان ہے جو روح القدس کے ساتھ رہا کرتی ہے۔
تشریح:۔
تو وہ روح ہے، جو بحقیقت بولنے والی ہے جس کو روحِ ناطقہ کہا جاتا ہے، جو روح القدس کی ہم نشین ہے۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ کلام کرنا اس روح کی خاصیت ہے تو اس کی رفاقت اور ہمکلامی کے لئے ایک اور روح کا ہونا لازم آتا ہے۔ پس درست ہے کہ روحِ ناطقی روح القدس کی ہمنشین اور ہمکلام ہے۔
۵۸
زجائی واز جہت ہستی منزہ
ببیں تاکیستی انصاف خود دہ
ترجمہ:۔
مکان اور طرف سے تو پاک ہے پس دیکھ لے اور خود ہی انصاف سے بتا دے کہ تو کون ہے۔
تشریح:۔
جب یہ مانا گیا کہ انسان بحقیقت جسم نہیں، بلکہ روح کی حیثیت سے ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان ایک لامکانی اور لاجہتی حقیقت ہے، کیونکہ روح مکان و زمان سے بالاتر ہے، پس معرفت کی آنکھ سے اپنے آپ کو دیکھ لے اور خود ہی انصاف سے بتا دے، کہ تو کون ہے اور تیری ہستی کی آخری حقیقت کیا ہے۔
بچشم سر جمالت دیدنی نیست
کسی کو دید رویت چشم معنی ست
ترجمہ:۔
سر کی آنکھ سے تیرا جمال دکھائی دینے والا نہیں وہ شخص جس نے تیرا (یہ روحانی) چہرہ دیکھا (کوئی نہ تھا، مگر) چشمِ حقیقت ہی ہے۔
تشریح:۔
اس ظاہری آنکھ سے تیرا جمال دکھائی دینے والا نہیں، وہ شخص جس نے تیرا (یہ روحانی) چہرہ دیکھا (کوئی نہ تھا، مگر) چشمِ حقیقت ہی ہے۔
تشریح:۔
اس ظاہری آنکھ سے تیرا روحانی حسن و جمال دیکھا نہیں جا سکتا، پھر ایسا کوئی شخص کہاں ہے جس نے اپنی ظاہری آنکھ سے اپنا یہ جلوہ دیکھا ہو، مگر یہی ہے کہ دیدۂ حقیقت بین سے یہ جلوہ دیکھا گیا ہے۔
نگر تادر گمان اینجا نیفتی
قدم بفشار تا از پانیفتی
۵۹
ترجمہ:۔
(چشمِ باطن سے) دیکھ لیا کر، تاکہ تو اس مقام پر ہی گمان میں گر نہ جائے قدم جما کر چل تاکہ تو گر نہ پڑے۔
تشریح:۔
معرفتِ ذات کی ابتدائی منزل علم الیقین ہے، درمیانی منزل عین الیقین ہے اور آخری منزل حق الیقین ہے اور علم الیقین سے پہلے جو راستہ آتا ہے وہ گمان ہی گمان ہے یعنی وہ ایک تاریک راستہ ہے اور اگر اس تاریکی میں خدا کے نور نے ہدایت نہ فرمائی تو انسان گر جانے کا خطرہ در پیش رکھتا ہے، پس انسان کو چاہئیے کہ دیدۂ دانش سے کام لے کر ذریعۂ ہدایت کو پہچان لیا کرے اور قدم جما کر منازلِ یقین کی طرف آگے بڑھتا جائے۔
صفتہایت صفتہائی خدائیست
ترا این روشنی زان روشنائیست
ترجمہ:۔
تیری (روحانی) صفات خدائے تعالیٰ کی صفات ہیں۔ تجھ کو یہ علم و دانش کی (روحانی) روشنی اسی (خدا کی ہمہ گیر و ہمہ رس) روشنی سے حاصل ہے۔
تشریح:۔
جب قرآن ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ خدائے تعالیٰ عقلانی اور روحانی طور پر کائنات و موجودات کا نور ہے۔ تو لازماً وہ مہربان مالک انسانی صفات کا بھی نور ہے، پس انسان کی یہ باطنی روشنی دراصل خدا ہی کی روشنی ہے اور اس روشنی کے زیرِ اثر انسان کی جو پسندیدہ صفات ہوتی ہیں وہ گویا خدا ہی کی اپنی صفات ہیں۔
۶۰
ہمی بخشد کزو چیزی نکاہد
ترا داد و دہد آنرا کہ خواھد
ترجمہ:۔
تجھ کو وہ (اپنی صفات سے صفات) کچھ اس طرح عطا فرماتا ہے کہ (اس کی صفات میں) کوئی کمی واقع نہیں ہوتی تجھے عطا فرمایا اور اسی طرح وہ جس کو چاہے عطا فرماتا ہے۔
تشریح:۔
جب خدائے تعالیٰ اپنی صفات اور اپنی روشنی میں سے اپنے خاص بندوں کو صفاتِ عالیہ اور نورِ ھدایت عطا فرماتا ہے۔ تو اس کی ذات و صفات میں ہرگز کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ اور اس کے اختیار میں ہے کہ وہ جس کو چاہے عطا کرے جس طرح خود تجھے یہ روحانی نعمتیں عطا کی گئی تھیں۔
زنورِ اوتو ہستی ہمچو پرتو
وجود خود بپر داز و تو اوشو
ترجمہ:۔
تو اس کے نور سے عکس (یعنی نور کی تصویر، مثلاً آئینے میں سورج) کی طرح ہے (پس) اپنی ہستی کو خالی کر دے، اور تو وہ (خدا) ہو جا۔
تشریح:۔
خدائے تعالیٰ گویا نورانیت کا سورج ہے، اور تو اس کا وہ عکس ہے، جو صاف و شفاف پانی میں یا آئینے میں نظر آتا ہے۔ پس اگر تو چاہتا ہے کہ یہ عکس سورج کے ساتھ ملکر ایک ہو جائے، تو اپنے وجود کے آئینے کو خالی بلکہ ختم کر ڈال۔ یعنی بطریق عبادت و ریاضت جب تیری خودی اور انائیت خدا کے نور تک پہنچ
۶۱
چکی ہے، تو اپنی ہستی کو مٹا دے تاکہ دوئی ختم ہو کر وحدت ہی وحدت باقی رہے۔
حجابت دور دارد گرنجوئی
حجاب از پیش برداری تو اوئی
ترجمہ:۔
اگر تو اس کی جستجو نہ کرے تو تیرے وجود کا پردہ تجھے (اس سے) دور رکھے گا۔ اگر تو اس پردے کو سامنے سے ہٹا دے تو (یہ حقیقت تجھ پر منکشف ہو گی کہ) تو خود ہی وہ (خدا) ہے۔
تشریح:۔
اگر تو اس کو نہ ڈھونڈے تو تیری نفسانی ہستی کا یہ پردہ ایسا ہے کہ تجھے خدا سے روز بروز دور کرتا رہے گا۔ اگر تو یہ پردہ ہٹا سکے، تو یہ حقیقت تجھ پر کھل جائے گی کہ فی الاصل تیری خودی اور انائیت خدا سے کبھی جدا ہی نہیں ہوئی ہے۔
ز دنیا تابعقبیٰ نیست بسیار
ولی در رہ وجود تست دیوار
ترجمہ:۔
دنیا سے آخرت تک کچھ زیادہ مسافت تو نہیں لیکن راستہ میں تیری اپنی ہستی ہی دیوار بنی ہوئی ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کا ارشاد ہے، کہ دنیا اور آخرت کے درمیان کچھ زیادہ فاصلہ اور مسافت نہیں۔ کیونکہ دنیا سے مراد جسمانیت اور آخرت سے مراد روحانیت ہے اور ان دونوں کے درمیان انسان کی اپنی ہستی اور خودی دیوار اور رکاوٹ بنی ہوئی
۶۲
ہے۔ پس جس شخص نے بموجب ارشاد:
موتوا قبل ان تموتوا
اپنی خودی مٹائی اس کی دنیا و آخرت مل کر ایک ہو گئیں۔
۶۳
۹۔ ”اعراض و جواہر کے بارے میں“
ہر آنچ آن ہست ز اعلیٰ تابا سفل
دو چیز آمد ز آخر تابہ اول
ترجمہ:۔
بلندی سے پستی تک جو کچھ موجود ہے (اس میں) آخر سے اول تک دو چیزیں پیدا ہوئی ہیں۔
تشریح:۔
آسمان سے لیکر زمین تک اور اول سے لیکر آخر تک جو کچھ کلی طور پر موجود ہے وہ دو چیزوں پر مشتمل ہے۔
یکی اعراض و آن دیگر جواہر
چنین گفتند استادان ماہر
ترجمہ:۔
ایک اعراض ہیں اور وہ دوسرے جواہر ہیں۔ ماہر استادوں نے یوں فرمایا ہے۔
تشریح:۔
اعراض عرض کی جمع اور جواہر جوہر کی جمع ہے۔ ارشاد ہے کہ جو کچھ موجود ہے وہ ان ہی دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ ایک چیز تو عرض ہے اور دوسری چیز جوہر۔
۶۴
چہ باشد جوہری؟ کوہست دائم
بذات خویشتن پیوستہ قائم
ترجمہ:۔
کوئی جوہر کیا ہوتا ہے؟ (یعنی جوہر کو کیوں جوہر کہتے ہیں؟) کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی ذات پر قائم ہے۔
تشریح:۔
فرماتے ہیں کہ جوہر وہ چیز ہے جو اپنی ذات پر قائم رہے اور قیام و بقا کے لئے دوسری چیز کا محتاج نہ ہو۔ جیسے روح، کہ وہ اپنی ذات پر قائم ہے۔
عرض قائم بذات جوہر آمد
خرد را این سخنہا باور آمد
ترجمہ:۔
عرض جوہر کی ذات پر قائم ہے۔ عقل ان باتوں پر اعتبار کرتی ہے۔
تشریح:۔
عرض کی تعریف یہ ہے، کہ وہ اپنے آپ پر قائم نہیں بلکہ اس کا قیام جوہر کی ذات پر ہے۔ پس جواہر اور عرض کے درمیان فرق یہی ہے کہ جوہر کا قیام اپنے آپ پر ہے اور عرض کا قیام جوہر پر۔
بود قابل عرض بے شک فنارا
ولی جوہر بود قابل بقارا
ترجمہ:۔
بےشک عرض فنا کے قابل ہے۔ لیکن جوہر بقا کے قابل ہے۔
۶۵
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں کہ عرض فنا کو قبولنے والا ہوا کرتا ہے۔ اور اس کے برعکس جوہر بقا کو قبولتا اور اپناتا ہے۔
توئی فرع عرض ہم اصل جوہر
ہمہ عالم توئی جان برادر
ترجمہ:۔
تو عرض کی شاخ بھی ہے (اور) جوہر کی جڑ بھی۔ بھائی جان! تو خود ہی ساری کائنات ہے۔
تشریح:۔
کوئی شک نہیں کہ کائنات میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں، وہ عرض اور جوہر کے سوا کچھ بھی نہیں، اور دوسری طرف سے یہ بھی ہے کہ تو عرض کی شاخ اور جوہر کی جڑ ہے۔ لہٰذا تو خود ہی ساری کائنات ہے۔
عرض جسم ست و زجان جوہری تو
ازان برہر دو عالم سروری تو
ترجمہ:۔
(تیرا) جسم عرض ہے اور روح کے لحاظ سے تو جوہر ہے۔ اسی وجہ سے تو دونوں جہاں کا سردار ہے۔
تشریح:۔
تیرا جسم عرض کی شاخ ہے یعنی چار عنصر سے بنا ہے اور عناصر عرض ہیں اور تیری روح جوہر کی جڑ ہے یعنی تیری روح کی وجہ سے جوہر کی جوہریت ثابت
۶۶
ہے۔ پس تو جسم سے دنیا کا سردار ہے کہ تیرا جسم مادی چیزوں سے افضل ہے اور روح سے عقبیٰ کا سردار ہے کہ تیری ذاتی آخرت تیری روح پر قیام رکھتی ہے۔
خرد مندان عالم راکہ گویند
ازین معنی جزاین ہر دو نجویند
ترجمہ:۔
دنیا کے دانشمندوں کے بارے میں تذکرہ کرتے ہیں کہ وہ اس حقیقت سے ان دونوں (جوہر اور عرض) کے سوا کسی اور چیز کو طلب نہیں کرتے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کا فرمانا ہے کہ شروع سے اب تک اس دنیا میں جتنے حکیم اور دانشمند ہوئے ہیں۔ ان کے متعلق بھی یہی کہا جاتا ہے کہ وہ جوہر و عرض کے سوا کسی اور مخلوق کا تصور ہی نہیں کرتے۔
ترا از ہر دو عالم آفریدند
ازان برہر دو عالم بر گزیدند
ترجمہ:۔
تجھ کو دونوں جہاں سے پیدا کیا گیا ہے۔ اسی لئے (تجھ کو) دونوں جہاں پر برگزیدہ کیا گیا ہے۔
تشریح:۔
تیری روح اُس جہاں سے اور تیرا جسم اس جہاں سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تیری تخلیق دونوں جہاں سے کی گئی ہے۔ یعنی تو دونوں عالم کا خلاصہ ہے۔ اس لئے تو دنیا و آخرت پر برگزیدہ ہے۔
۶۷
یعنی تو دونوں عالم کا خلاصہ ہے۔ اس لئے تو دنیا و آخرت پر برگزیدہ ہے۔
مسخر کن ہم آن را و ہم این را
حقیقت کن گمان را و یقین را
ترجمہ:۔
اس کو بھی اور اس کو بھی تابع بنا لے۔ گمان اور یقین دونوں کو حقیقت بنا لے۔
تشریح:۔
حق تبارک و تعالیٰ نے اپنی لا انتہا رحمت سے انسان کو یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ دنیا و آخرت کو اپنے زیر فرمان لا سکتا ہے۔ اور وہ اپنی ان تمام امیدوں کو جو اس کے گمان میں ہیں اور یقین میں ہیں۔ حقیقت بنا سکتا ہے۔
بدین این و بدان آن ہر دو بشناس
بتن جسم و بجان جان ہر دو بشناس
ترجمہ:۔
اس سے یہ اور اس سے وہ دونوں کو پہچان لے (یعنی) بدن سے جسم (دنیا) اور جان سے جان (آخرت) دونوں کو پہچان لے۔
تشریح:۔
اگر دنیا جسمانی اور آخرت روحانی ہے تو انسان بھی ایک طرف سے جسم اور دوسری طرف سے روح رکھتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے بدن کے ذریعے اس جسمانی عالم کو پہچان سکے اور اپنی روح کے توسط سے اس روحانی عالم کو پہچان سکے۔
۶۸
۱۰۔ ”حواسِ ظاہر و باطن کے بارے میں“
ترا این خان شش سو رہگذر شد
دریں خان خانۂ تو پنج در شد
ترجمہ:۔
تجھے اس شش پہلو کاروان سرا میں آنے کا اتفاق ہوا۔ اس کاروان سرائے میں تیرا گھر پانچ دروازوں مقرر ہوا۔
تشریح:۔
یعنی دنیا کا یہ شش پہلو مسافر خانہ جو تیرے آنے جانے کا راہ مقرر ہوئی ہے۔ اس میں تجھے جو گھر ملا ہے اس کے پانچ دروازے ہیں یعنی جسم جو تیری روح کا گھر ہے پانچ حواس رکھتا ہے۔
کشادہ ہردری در بوستانی
زہر درمی در آید کاروانی
ترجمہ:۔
ہر دروازہ ایک گلشن کی طرف کھلا ہے، ہر دروازے سے ایک قافلہ داخل ہوتا رہتا ہے۔
تشریح:۔
ہر حس کا دروازہ محسوسات کے ایک گلشن کی طرف کھلا ہے، اور ان پانچوں دروازوں سے محسوسات کا ایک ایک کاروان داخل ہوتا رہتا ہے۔
۶۹
اگرچہ اندرین خانہ غریبی
ازین ہر پنج درہا با نصیبی
ترجمہ:۔
اگرچہ تو اس (جسم کے) گھر میں نادار اور مفلس ہے (لیکن) ان پانچوں دروازوں سے تو بہرہ مند اور مستفید ہے۔
تشریح:۔
انسان عقل و شعور اور علم و عرفان کی دولت کو حاصل نہیں کر سکتا، مگر حواسِ ظاہر کے ذریعے سے، کیونکہ سب سے پہلے انسان کے حواسِ ظاہر پختہ ہو جاتے ہیں، پھر ظاہری علم حاصل کیا جا سکتا ہے اس کے ذریعے سے حواسِ باطن پختہ ہو جاتے ہیں، اور پھر باطنی علم کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔
یکی چشم است کو بیند عجائب
شود زان دیدنی رای تو صائب
ترجمہ:۔
ایک تو آنکھ ہے جو عجائبات دیکھتی ہے، اس مشاہدہ سے تیری رائے درست ہو جاتی ہے۔
تشریح:۔
جسم کے گھر کے پانچ دروازوں میں سے ایک تو آنکھ ہے، جس کا کام ہے عجائبات کا مشاہدہ کرنا، جس سے انسان کی رائے صحیح اور درست ہو سکتی ہے، یعنی انسان مادی چیزوں کے بارے میں جو کچھ سنتا ہے اور جو کچھ سمجھتا ہے، اس کی تصدیق ان چیزوں کے مشاہدہ ہی سے ہو سکتی ہے۔
۷۰
دگر گوشت کہ شہراہ کلام است
دلت زو بامعانی تمام است
ترجمہ:۔
دوسرا (دروازہ) تیرا کان ہے، جو کلام کی شاہ راہ ہے، تیرے دل کو اس سے مکمل معانی حاصل ہوتے ہیں۔
تشریح:۔
حواسِ ظاہر میں سے کان وہ دروازہ اور شاہراہ ہے، جس سے کلام کا قافلہ انسانی دل و دماغ میں داخل ہوا کرتا ہے، اور وہیں پر کلام کے معانی و حقائق سمجھ لئے جاتے ہیں۔
گہ از الحان مرغان گہ زا و تار
خبر آرند جانت راز اسرار
ترجمہ:۔
کبھی پرندوں کی آوازوں سے کبھی (سازوں کے) تار سے (تیرے کان) تیرے لئے بھیدوں کی خبر لاتے ہیں۔
تشریح:۔
مطلب یہ کہ ہر قسم کی آواز میں جو معنی اور حقیقتیں پوشیدہ ہیں، وہ کانوں ہی کے ذریعہ نفسِ انسانی تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔
دگر بینی کہ بوئی گل پذیرد
دماغ و دل ز بویش ذوق گیرد
۷۱
ترجمہ:۔
تیسرا (دروازہ) ناک ہے جو پھول کی بو سونگھتی ہے، دل و دماغ اس کی خوشبو سے لذت حاصل کرتا ہے۔
تشریح:۔
یعنی ناک کا کام یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی خوش بو اور بدبو کا احساس کرتی ہے، تاکہ خوش بو سے فرحت و مسرت حاصل ہو، اور بدبو سے بچاؤ کیا جائے۔
چہارم ذوق پنجم لمس باشد
نصیب لذتت زین خمس باشد
ترجمہ:۔
چوتھا (دروازہ) ذائقہ اور پانچواں لامسہ ہے، تیری لذت کا حصہ بس ان پانچوں سے ہے۔
تشریح:۔
یعنی چوتھا دروازہ چکھنے کی قوت اور پانچواں دروازہ چھونے کی قوت ہے، اور تجھے اس عالم میں مادی قسم کی لذتوں کا جو حصہ ملا ہے، وہ انہی پانچ حواسِ ظاہر کی بدولت ہے۔
حواسِ ظاہرند این پنج و باطن
بود پنج دگر ای یار محسن
ترجمہ:۔
یہ پانچ تو حواسِ ظاہر ہیں، اور دوسرے پانچ حواسِ باطن ہیں اے نیک کردار دوست!
۷۲
تشریح:۔
باصرہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ اور لامسہ یا کہ دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا اور چھونا یہ پانچ حواسِ ظاہر ہیں اور دوسرے پانچ جن کا ذیل میں ذکر آئے گا، حواسِ باطن ہیں۔
خیال و وہم و فہم و حفظ دیگر
کہ حس مشترک خوانیش برسر
ترجمہ:۔
(حواسِ باطن) خیال، وہم، فہم، اور پھر حفظ ہے، جس کو تو سر پر حس مشترک کہتا ہے۔
تشریح:۔
حواسِ باطن میں سے خیال، وہم، فہم اور حفظ ہیں، اور حفظ کو حس مشترک کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ظاہری حواس کے نتائج اسی میں محفوظ ہوتے ہیں، اور یہیں سے لیکر ان نتائج پر باطنی حواس کام کرتے ہیں۔
دگر ذکرت کہ شہباز کلام است
دلت زوبا معانیہا تمام است
ترجمہ:۔
پھر تیرا ذکر ہے جو کلام کا شہباز ہے، جس کی بدولت تیرا دل معنوں سے بھرپور ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب نے قوتِ ذاکرہ کو شہباز کلام قرار دیا ہے، جس کے کئی اسباب
۷۳
ہیں، ایک سبب تو یہ ہے، کہ کلام کرنے کا جوہر اس وقت کھلتا ہے، جبکہ بڑی کثرت سے ذکرِ الٰہی کیا جاتا ہے، دوسرا سبب یہ ہے، کہ بہترین گفتگو اس وقت کی جا سکتی ہے، جبکہ ذاکرہ کی علمی پرورش صحیح طور سے ہوئی ہو۔
خطا بینند از این پنجگانہ
توانی راست بین شان کردیانہ
ترجمہ:۔
اگر یہ پانچ غلط دیکھنے والے ہیں، تو کیا تو ان کو صحیح دیکھنے والے بنا سکتا ہے یا نہیں؟
تشریح:۔
حواسِ باطن میں جو اصلی اور فطری صلاحیتیں ہوتی ہیں، وہ حواسِ ظاہر کی غلط کاریوں کے سبب سے تقریباً ختم ہو جاتی ہیں، لیکن جہاں کوئی بیماری ہو، وہاں اس کا کوئی علاج بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا سوال یہ ہے، کہ تو اپنے غلط کار حواسِ باطن کو درست کار بنا سکتا ہے یا نہیں؟
ریاضت کش مراین را راست بین کن
پس آنگاہی گمانت را یقین کن
ترجمہ:۔
ریاضت کر کے ان کو درست دیکھنے والے بنا لے، پھر اس کے بعد اپنے گمان کو یقین بنا لے۔
تشریح:۔
پیر صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ حواسِ باطن کی قدرتی صلاحیتوں کی بحالی
۷۴
اور درست کاری کے لئے یہ ضروری ہے، کہ تو عبادت و ریاضت اور تزکیۂ نفس کا رستہ اختیار کرے، تاکہ روحانی مشاہدات و تجربات کے متعلق تیرا جو گمان ہے، وہ یقین کی صورت میں بدل جائے۔
چو اینہا راست بین گردند زان پس
ترا سرمایہ این اندر جہان بس
ترجمہ:۔
جب اس کے بعد یہ (حواسِ باطن) درست دیکھنے والے ہونگے، تو تجھے یہی سرمایہ اس جہاں میں کافی ہے۔
تشریح:۔
تطہیر و تزکیہ کے نتیجے پر جب حواسِ باطن صحیح طور سے کام کرنے لگیں گے، تو اس وقت تجھے اس دنیوی زندگی میں جو کچھ عمل کرنا ہے، اس کے لئے یہی سرمایہ کافی ہے۔
کشادہ گردد آنگہ چشم بینی
ببینی از ورای آفرینش
ترجمہ:۔
اس وقت چشمِ بصیرت کھل جائے گی (اور) تو پیدائش سے قبل (کی حقیقت) دیکھے گا۔
تشریح:۔
یعنی حواسِ باطن کی اصلاح و تطہیر کے بعد دل کی آنکھ کھل جاتی ہے اور جس سے تو اس وقت کا یا عالمِ امر کا مشاہدہ کرے گا، جو عالمِ خلق سے برتر ہے۔
۷۵
۱۱۔ انسانی کمال کی صفت:۔
درخت است این جہان و میوہ مائیم
کہ خرم بر درخت او برآئیم
ترجمہ:۔
یہ جہاں درخت ہے اور (اس کا) میوہ ہم ہی ہیں، کیونکہ ہم اسی (جہاں کے) درخت پر تر و تازہ نشوونما پاتے ہیں۔
تشریح:۔
اگر چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے، تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ کائنات ایک درخت کی طرح ہے، اور اس کا پھل انسان ہے، کیونکہ کائناتی وحدت سے جو جو چیزیں پیدا ہوتی ہیں، ان سب کے فوائد انسان ہی کی طرف عائد ہوتے ہیں، یعنی تمام چیزوں کی تخلیق و تکمیل کے بعد ہی انسان کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، اور اس حقیقت کی مثال ایسی ہے، جیسے درخت کی تکمیل اور ساری تیاری کا مقصد پھل ہی ہوتا ہے۔
دگر ہستند برگ و ماہمہ بر
طفیل ما شدند اینہا سراسر
ترجمہ:۔
دوسری (مخلوقات) پتے ہیں اور ہم سب (انسان) پھل ہیں، یہ ساری (مخلوقات) ہمارے طفیل سے ہوئی ہیں۔
۷۶
تشریح:۔
درخت کا اصلی مقصد اور حاصل پھل ہی ہوا کرتا ہے، اگرچہ درخت کے اجزاء میں اور بھی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں، اور اگر غور و فکر سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا، کہ درخت کے تمام اجزاء پھل کی بدولت بنتے ہیں۔
شرف دارد درخت از میوہ آری
کہ باشد تاندارد ہیچ باری
ترجمہ:۔
ہاں درخت کو شرف و عزت پھل ہی سے حاصل ہے، ورنہ کون رہنے دیتا ہے، جبکہ اس کا کوئی پھل نہ ہو۔
تشریح:۔
ہر وہ انسان جو باغبانی کرتا ہے، پھل دار درخت کو بغیر پھل کے درختوں کے مقابلے میں عزیز رکھتا ہے، اور اس کی حفاظت و نگہداشت میں ہر وقت لگا رہتا ہے، اور ان تمام باتوں کی وجہ اس درخت کے پھل ہیں۔
زبوی و لذت خوش میوہ ہارا
شرف باشد چنانک از عقل مارا
ترجمہ:۔
خوشبو اور خوش ذائقہ ہونا پھلوں کے لئے باعثِ شرف و فضیلت ہے، جیسے ہم (انسانوں) کے لئے عقل و دانش سے (شرف و عزت) ہے۔
تشریح:۔
یعنی پھل جتنے زیادہ خوش بودار اور خوش مزہ ہوں، اتنی ان کی قدر و قیمت
۷۷
زیادہ ہوتی ہے، اسی طرح انسان کی عقل و دانش جس قدر زیادہ ہو، اس قدر اس کی شرافت و عزت زیادہ ہوتی ہے۔
نیا بد مرد جاہل در جہاں کام
ندارد بوئے و لذت میوۂ خام
ترجمہ:۔
ناداں آدمی دنیا میں مقصد حاصل نہیں کر سکتا، کچے پھل میں بو اور ذائقہ نہیں ہوتا۔
تشریح:۔
نادان اور جاہل آدمی کچے پھل کی طرح ہے، کیونکہ جس طرح کچا پھل خوشبودار اور خوش ذائقہ نہیں ہوتا، اسی طرح جاہل انسان میں عقل و دانش نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے وہ دنیا میں ناکام ہو جاتا ہے۔
مشو چون میوہ ہای نا رسیدہ
سقط ہرگز نہ باشد چوں گزیدہ
ترجمہ:۔
کچے پھلوں کی طرح نہ ہو جا (درخت سے) ناتمام گرا ہوا پک کر چنا ہوا پھل دونوں برابر نہیں ہوتے۔
تشریح:۔
بے شک تمام انسان درخت کائنات کے پھل ہیں، لیکن سب پھل یکساں نہیں ہوتے، ان میں کچھ تو مکمل طور سے پک کر خوشبودار اور خوش ذائقہ ہو جاتے ہیں، اور کچھ مکمل ہوئے اور پکے بغیر گر جاتے ہیں، خیر یہ پھل تو بے اختیار
۷۸
گر جاتے ہیں یا پک جاتے ہیں، مگر انسان جو اس کائنات کا پھل ہے، وہ اختیار سے اپنے آپ کو گراتا ہے یا عقل و دانش سے پختہ ہو جاتا ہے۔
سقط باشد درین باغ آنچہ خامند
حکیمان میوہ ہای خوش طعامند
ترجمہ:۔
اس باغ میں جو کچے ہیں، وہ سقط (ناتمام و نا پختہ گرئے ہوئے) ہیں، اہل حکمت خوش ذائقہ پھل ہیں۔
تشریح:۔
اس دنیا میں جو لوگ عقل و دانش کے اختیار سے خام و نا تمام ہیں، وہ ایسے پھل ہیں، جو کچے ہی گر کر ناکارہ ہو جاتے ہیں، مگر حکماء اپنے علم و حکمت کے لحاظ سے خوش بودار رسیلے میوے ہیں۔
درختی کان لطیف و میوہ دا راست
مرو را باغباں پروردگار است
ترجمہ:۔
جو درخت عمدہ اور پھلدار ہو، باغبان اسی کی (زیادہ سے زیادہ) پرورش کرتا رہتا ہے۔
تشریح:۔
جس طرح دنیاوی مثال میں باغبان اپنے باغ کے اس درخت کی سب سے زیادہ پرورش کرتا ہے، جو عمدہ قسم کا اور زیادہ پھل دینے والا ہو، اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت و رحمت کے فیضان سے حکمائے دین کو ہمیشہ نوازتا رہتا ہے۔
۷۹
نخواہد میوہ جز خوشبوئے و شیرین
بیندازد سقطہای بدآئین
ترجمہ:۔
(باغبان) خوشبودار اور میٹھے پھل کے بغیر نہیں چاہتا ہے، ناکارہ گرے ہوئے پھلوں کو پھینک دیتا ہے۔
تشریح:۔
یعنی باغبان کا مقصد یہ ہوتا ہے، کہ اس کے باغ کے درخت سراسر خوشبودار اور پُر ذائقہ پھل لائیں، اس کے سوا دوسرے پھلوں کو نہیں چاہتا، یہی سبب ہے کہ وہ کچے گرے ہوئے پھلوں کو پھینک دیتا ہے۔
سقط خوار است خواری را رہا کن
تمامی جوی و خود راپر بہا کن
ترجمہ:۔
ناتمام بے قدر ہے بے قدری کو چھوڑ دے، تمامیت کی جستجو کر اور اپنے آپ کو پر قیمت بنا لے۔
تشریح:۔
کچا گرا ہوا پھل بے قدر اور بے مایہ ہوا کرتا ہے، تو باغ دین میں اس جیسا پھل نہ بن جا اور بے قدری و بے مانگی کو چھوڑ دے، بلکہ انسانیت اور علم و دانش کا ایک پختہ اور پرلذت میوہ بن کر اپنی ذات کو گرانمایہ بنا لے۔
ہر آن میوہ کہ نہ بود طعم و بویش
نباشد باغبان در جستجویش
۸۰
ترجمہ:۔
ہر وہ پھل جس کی (کوئی) لذت اور خوشبو نہ ہو، باغبان اس کی طلب میں نہیں رہتا ہے۔
تشریح:۔
جس طرح ناقص پھل درخت سے خودبخود گر جاتے ہیں، یا باغبان انہیں تازہ پھلوں سے جدا کر کے پھینک دیتا ہے، کیونکہ نہ ان کے کھانے سے کوئی لذت حاصل ہوتی ہے، نہ ان کے سونگھنے سے کوئی خوشبو، اسی طرح ہر وہ انسان جو آخری دم تک اپنے اندر انسانیت، اخلاق اور دینداری کی کوئی لذت و خوشبو نہ رکھتا ہو، اس کو اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب ہی نہیں کرتی ہے۔
ترا لذت ز علم است از عمل بوی
کمالیت ز علم باعمل جوی
ترجمہ:۔
تیرے لئے علم سے لذت اور عمل سے خوشبو ہے (اسی طرح) اس علم سے جو عمل کے ساتھ ہو، تمامیت و کمالیت کو طلب کر۔
تشریح:۔
تجھ کو جو باغ دین کا ایک لذیذ اور خوشبودار میوہ بننا ہے تو اس کے لئے یہ ہے، کہ علم سے تجھ میں لذت اور عمل سے خوشبو پیدا ہو، اسی طرح تو اپنی شخصیت کے اس پھل کی تمامیت و پختگی حاصل کر سکتا ہے۔
گر از سر چشمۂ معنی خوری آب
شوی در باغ جنت میوۂ ناب
۸۱
ترجمہ:۔
اگر تو حقیقت کے سرچشمے سے پانی پیا کرے، تو تُو جنت کے باغ میں پاک و صاف میوہ بن سکتا ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب کے اس قول کا مطلب یہ ہے، کہ کسی درخت کے نشوونما پانے اور اس میں عمدہ پھل پیدا ہونے کے لئے معتدل اور موافق آب و ہوا کی ضرورت ہے، پس اگر تو جو باغ دین کا ایک درخت ہے، سرچشمۂ حقیقت سے سیراب ہو جایا کرے، تو بےشک تو باغِ جنت کا عمدہ پھل بن سکتا ہے۔
وگر باشی سقط در خاک مانی
معذب دربلای جاودانی
ترجمہ:۔
اور اگر تو گر جائے، تو تُو مٹی میں رہ جائے گا، دائمی مصیبت کا عذاب اٹھاتے ہوئے۔
تشریح:۔
انسان سے مخاطب ہو کر یوں فرماتے ہیں، کہ اے دینی درخت کے پھل! اگر تو درختِ دین پر جم کر نہ پکے اور خام و ناتمام گر جائے، تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا، کہ تو مٹی میں پڑے ہوئے دائمی عذاب میں مبتلا رہے گا۔
نہ باشی در خور خوان شہنشاہ
چو خاکی خوار باشی برسر راہ
۸۲
ترجمہ:۔
(اس صورت میں) تو شاہنشاہ کے دسترخوان کے قابل نہ ہو گا، رستے کی مٹی کی طرح حقیر و ذلیل ہو جائے گا۔
تشریح:۔
اس شعر میں کچے پھل کی مثال دے کر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب تک علم و معرفت سے انسان کی روحانی تکمیل و پختگی نہ ہو، تو وہ اپنے سے ایک برتر ہستی میں فنا اور واصل ہونے کے قابل نہیں ہوتا، اور اگر وہ اس مرحلے میں خام و ناتمام گر جائے، تو اس کے لئے بس ابدی عذاب یہی ہے۔
بر آتش ہمچو خار خشک سوزی
اگر چشم خرد را باز دوزی
ترجمہ:۔
تو آگ میں سوکھے کانٹوں کی طرح جلتا رہے گا، اگر تو دیدۂ دانش سئے رکھے گا۔
تشریح:۔
یعنی اگر تو اس دنیاوی زندگی ہی میں چشمِ بصیرت کھول کر خدا کی پہچان حاصل نہ کرے، تو اس غفلت و جہالت کا انجام یہی مقرر ہے، کہ تو حسرت و افسوس کی آگ میں سوکھے کانٹوں کی طرح جلتا رہے گا۔
چو خواہی تاکہ یابی دانش و ہوش
مکن پند حکیمان را فراموش
۸۳
ترجمہ:۔
جب تو چاہتا ہے، کہ تجھے عقل و شعور حاصل ہو، تو حکماء کی نصیحت نہ بھول جا۔
تشریح:۔
حجت خراساں کا ارشاد ہے کہ جب تک تیری خواہش یہ ہے، کہ تجھے عقل و دانش اور علم و عرفان حاصل ہو، تو تجھے حکماء دین کی پند و نصیحت یاد کرنا ہو گی، کیونکہ ان ہی حضرات کی نصیحتوں میں یہ سب کچھ موجود ہے۔
۸۴
۱۲۔ ”انسانوں کی قسمیں“
بنی آدمؑ گروھی بس لطیف اند
حقیقت ہم خسیس و ہم شریف اند
ترجمہ:۔
بنی آدم ایک انتہائی عجیب گروہ ہیں، حقیقت میں رذیل بھی ہیں اور اصیل بھی۔
تشریح:۔
یعنی چشمِ بصیرت سے دونوں جہاں کی مخلوقات و موجودات کو ذرا دیکھو تو سہی، کہ ان میں سب سے عجیب وغریب گروہ انسانوں کا ہے، کیونکہ مخلوقات کا ہر گروہ یا تو فرومایہ ہے، جیسے حیوانات، یا اصلیل ہے، جیسے فرشتے، مگر انسان فرومایہ بھی ہے اور اصیل بھی۔
تن از خاک اند و جان از جوہر پاک
شرف دارند بر خاصان افلاک
ترجمہ:۔
ان کے اجسام مٹی سے ہیں، اور جان پاک جوہر سے، وہ آسمانوں کے خواص (یعنی فرشتوں) پر فضل و شرف رکھتے ہیں۔
تشریح:۔
یعنی بنی آدم کی دو متضاد صفتیں (رذالت و اصالت) یہ ہیں، کہ وہ ایک طرف سے جسم ہیں، جو مٹی جیسی حقیر چیز سے ہے، اور دوسری طرف سے جان
۸۵
ہیں، جو ایک پاک جوہر سے ہے۔
ہم از نفس و ہم از عقل و ز اجرام
زچا روسہ کہ اول بردہ ام نام
ترجمہ:۔
نیز نفسِ کل و عقلِ کل اور اجرام سماوی سے ہیں، اور چار عنصر اور تین موالید سے جن کا میں نے قبلاً ذکر کیا ہے۔
تشریح:۔
انسانی جسم مٹی سے اس معنی میں ہے، کہ وہ اجرامِ فلکی کی تاثرات، عناصر کے امتزاج اور موالیدِ ثلاثہ کے خلاصے سے مکمل ہوا ہے، اور انسانی روح پاک جوہر سے اس طرح ہے، کہ وہ عقلِ کلی و نفسِ کلی کا اثر ہے۔
ہمہ در ذات انسان ہست حاصل
گلش ظلمانی نورانیش دل
ترجمہ:۔
سب کچھ انسان کی ذات و ہستی میں حاصل ہے، اس کا جسم تاریکی سے ہے اور اس کا دل نور سے۔
تشریح:۔
انسان ان تمام چیزوں کا خلاصہ ہے، جو اس عظیم کائنات کے ظاہر و باطن میں مادی، روحانی اور عقلی صورت میں پائی جاتی ہیں، چنانچہ اس کے جسم کی نسبت ظلمت سے ہے اور اس کے دل کی نسبت نور سے ہے۔
۸۶
مر این را عالم صغراش گفتند
مر آن را عالم کبراش گفتند
ترجمہ:۔
انہوں نے اس عالم کو عالمِ صغیر کہا، اور اُس کو عالمِ کبیر کہا۔
تشریح:۔
یعنی حکمای دین نے انسان کو عالمِ صغیر کہا اور کائنات کو عالمِ کبیر کہا، کیونکہ کائنات میں جو کچھ پھیلا ہوا ہے، انسان میں اسی کا خلاصہ اور حقیقت موجود ہے۔
شدہ بر آفرینش جملہ سالار
بمعنی ہم جہان و ہم جہاندار
ترجمہ:۔
وہ ساری کائنات پر سردار ہوا ہے، حقیقت میں وہ کائنات بھی ہے اور کائنات کا رکھوالا بھی۔
تشریح:۔
قرآنِ حکیم کی تعلیمات سے یہ حقیقت صاف طور پر واضح ہو جاتی ہے، کہ تمام کائنات انسان کے لئے مسخر کی گئی ہے، اور بےشک وہ اس معنی میں ساری مخلوقات پر سردار اور بادشاہ ہے، نہ صرف یہی بلکہ حقیقت میں وہ جملہ جہاں کی باطنی صورت میں ہے، اور اس کا رکھوالا بھی۔
پس و پیش و نہان و آشکار اوست
شناسائی خود و پروردگار اوست
۸۷
ترجمہ:۔
اول، آخر، باطن اور ظاہر وہی (انسان) ہے، اپنی ذات کا عارف اور پروردگار ہی ہے۔
تشریح:۔
پیر صاحب فرماتے ہیں، کہ
ھوالاول والاخر الظاہر و الباطن ۳/ ۰۷
کے اس ارشادِ الٰہی میں انسانی حقیقت کا تذکرہ ہوا ہے، یعنی اول، آخر، ظاہر اور باطن ذاتِ انسانی کی صفات ہیں، چنانچہ وہ خود ہی اپنی ذات کا عارف اور خود ہی معروف، خود ہی رب اور خود ہی مربوب ہے، اور یہ اشارہ اس حدیثِ شریف کی حکمت کی طرف ہے کہ:
من عرفہ نفسہ فقد عرف ربہّ
یعنی جس نے اپنے آپ (ذات) کو پہچانا بیشک اس نے اپنے پروردگار کو پہچانا۔
ہمہ ہم محدث اند و ہم قدیم اند
ہمہ ہم جاہل اند و ہم حکیم اند
ترجمہ:۔
وہ سب حادث بھی ہیں اور قدیم بھی، وہ سب نادان بھی ہیں اور دانا بھی۔
تشریح:۔
انسان مجازاً کچھ اور ہے اور حقیقتاً کچھ اور، وہ اپنے وجود کے پیش منظر میں حادث ہے، یعنی وہ اس سے پہلے کبھی موجود ہی نہیں تھا، اور اب موجود ہے، لیکن
۸۸
وہ اپنے پس منظر میں قدیم ہے، یعنی ماضی، حال اور مستقبل کا کوئی ایسا وقت نہیں، جس میں انسان موجود نہ ہو، اور یہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں، کہ وہ حادث بھی ہے اور قدیم بھی، اسی طرح وہ ایک طرف سے نادان بھی ہے اور دوسری طرف سے دانا۔
ہمہ دارند استعداد ہر شی
بمعنی و بصورت میّت و حی
ترجمہ:۔
سب (انسان) پر چیز کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ ظاہر اور باطن میں مردہ اور زندہ ہیں۔
تشریح:۔
یعنی ہر انسان میں وہی فطری صلاحیتیں موجود ہیں، جو دوسرے سب انسانوں میں پائی جاتی ہیں، یعنی ہر انسان ناقص بھی رہ سکتا ہے اور کامل بھی ہو سکتا ہے۔
اگرچہ آفریدہ زان واینند
ز خود ہر لحظہ چیزی آفرینند
ترجمہ:۔
اگرچہ وہ اسی چیز سے اور اس چیز سے پیدا کئے ہوئے ہیں (لیکن) وہ ہر لمحہ اپنی ذات سے کوئی نہ کوئی چیز پیدا کرتے رہتے ہیں۔
تشریح:۔
آپ نے اخروٹ کے درخت اور اس کے پھل کو دیکھا ہو گا، کہ درخت کے لازمی اجزاء کی تکمیل کے بعد اخروٹ کا پھل پک کر مکمل ہو جاتا ہے، اور
۸۹
دوسری طرف سے یہ بھی ہے، کہ اسی پھل یعنی مغز سے یہ درخت پیدا ہوتا ہے، یہی مثال انسان کی بھی ہے، کہ وہ بہت سی چیزوں سے پیدا ہوتا ہے، پھر اس سے بہت سی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔
چنین اند انبیا و اولیاء شان
کہ ارزد ملک عالمِ خاک پاشان
ترجمہ:۔
وہ اولیاء اور انبیاء (علیھم السلام) ایسے ہی ہیں، کہ ساری دنیا کی سلطنت ان کے قدموں کی مٹی کی قیمت رکھتی ہے۔
تشریح:۔
یعنی یہاں انسان کی جس حقیقت کی تعریف و توصیف کی گئی ہے، وہ دراصل انبیاء اور ائمہ طاہرین علیھم السلام کی ذاتِ اقدس سے متعلق ہے، اس لئے کہ انسانیت کے درجۂ کمال پر وہی حضرات فائز ہو چکے ہیں، اور ان کی فضیلت و مرتبت کا یہ عالم ہے، کہ اگر کسی خوش نصیب کو ان کے قدموں کی مٹی مل جائے، تو یوں سمجھ لو کہ اس کو سلطنت روئے زمین مل گئی۔
۹۰