کنز المعارف حصّۂ دوم

انتساب

مومنین و مومنات کے “سب سے بڑا مقدّس فریضہ” کے بارے میں استادِ بزرگوار آیت (۶۶: ۰۶) “اے لوگوجو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کواور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اورپتھر ہوں گے” کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ “اس آگ سے آتشِ جہالت ونادانی مراد ہے، جس نے دنیا کے لوگوں کی بہت بڑی اکثریت کو گھیر لیا ہے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کونسی جہالت ہے؟ جواب: حقیقی علم کا نہ ہونا ، معرفت سے دوری، وسیلۂ حکمت سے محرومی ، ہادیٔ برحق سے بیگانگی۔”

الحمدللہ! اس عظیم ترین فریضے کی ادائیگی میں فرشتۂ قلم آنسہ ظلِّ فاطمہ زہراء سندھرانی نے اپنی عزیز بہن ظلِ فاطمہ نسیم ویرانی صاحبہ کی طرح استادِ بزرگوار قس نے دنیائے انسانیت کی بھلائی کے لئے علمِ حقیقی کے جو خزائن چھوڑے ہیں ان کو جماعت اور دنیائے انسانیت تک پہنچانے کے لئے کنزالمعارف حصۂ دوم کی طباعت و اشاعت کے سلسلے میں عظیم خدمات انجام دی ہیں اور ان خدمات کو اپنے “سندھرانی خاندان” سے منسوب کرنا چاہتی ہیں۔ استادِ بزرگوار کے مقدّس علم کی حفاظت و اشاعت کے سلسلے میں آپ کی اور بھی بڑی بڑی خدمات ہیں بالخصوص قلمی خدمات، جن کے صلے میں استادِ بزرگوار قس نے آپ کو”فرشتۂ قلم” کے ٹائٹل سے نوازا ہے۔ آپ ظاہری علم میں فارسی میں ایم۔ اے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ علمِ دین سے

 

الف

 

آراستہ و پیراستہ ہیں۔ قدرت نے آپ کو اوربھی بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے، جن کی تفصیلات کے لئے ایک الگ دفتر کی ضرورت ہے۔ آپ کا خاندانِ محترم درج ذیل افراد پر مشتمل ہے: والدِ گرامی محترم جعفر علی صاحب، والد ہ ماجدہ ظلِ فاطمہ محترمہ زرینہ جعفر علی صاحبہ، بھائی محترم وزیر علی صاحب، محترم جاوید صاحب، محترم اکبر پیرانی صاحب، بہنیں ظلِ فاطمہ محترمہ منیرہ بصریا صاحبہ، ظلِ فاطمہ محترمہ زبیدہ نظر علی صاحبہ، ظلِ فاطمہ محترمہ نسیم احمد ویرانی صاحبہ۔

ربّ العزّت اِن ہمیشہ رہنے والی خدمات کا اجرِ عظیم دونوں جہانوں میں عطا فرمائے!آمین یا ربَّ العالمین!!

 

فقیر حقیر

مرکزِ علم و حکمت لندن

۲۹/اپریل۲۰۲۱ء

 

ب

 

گزارشِ احوال

 

یہ کتاب “کنز المعارف” حصّۂ دوم، حضرتِ استادِ بزرگوار علامہ نصیر الدین نصیر ہونزائی قس کے غیر مطبوعہ مقالوں کا دوسرا مجموعہ ہے، اور ان شاء اللہ موصوف کے دوسرے باقی ماندہ غیر مطبوعہ مقالوں کے اشاعت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ استادِ بزرگوار قس جب جسمانی صورت میں اس دنیا میں موجود تھے تو بنفسِ نفیس ہر کتاب کا دیباچہ یا تمہید تحریر فرماتے تھے، جس میں نہ فقط کتاب کا لبِ لباب ہوتا تھا بلکہ اور بھی حقائق و معارف ہوتے تھے۔ چونکہ استادِ بزرگوار قس کو امامِ زمانؑ کی خصوصی تائید حاصل تھی اس لئے بشمول دیباچہ ہر کتاب کا ہر جملہ اور ہر لفظ دعوتِ حق کے موازینِ حقائق پر تلا ہوا ہوتا تھا۔ اب ہم میں سے کسی کو وہ سعادت حاصل نہیں، اس صورت میں ہماری محدود دانست کے مطابق موصوف کے ان مقالات کے بارے میں کچھ لکھنے سے ان میں مشتمل حقائق و معارف کے سمجھنے میں کمی بیشی کا خدشہ ہے۔ اس لئے مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کو بعینہا قارئین کو پیش کیا جائے۔

 

اظہارِ تشکر

اس کتابِ مستطاب کو منصفۂ شہود پر لانے میں بہت سے مومنات و مومنین نے کام کیا ہے۔ بالخصوص ظلِ فاطمہ نسرین اکبر اور ظلِ قائم اکبر شمس الدین کا اس میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔ سب سے پہلے یہ مقالے جو مختلف جگہوں پر بکھرے

 

ج

 

پڑے تھے ان کو جمع کیا اور ان کو Scan کر کے محفوظ کیا اور پھر ان کی غلطیوں سے پاک ٹائپنگ کی اور آخر میں یہ انتخاب بھی ان کی محنتِ شاقہ کا نتیجہ ہے۔ اس پورے کام کو انہوں نے نہایت دقت، جانفشانی اور تندہی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ ساتھ ساتھ ظلِ قائم نزار حبیب کی مہارت بھی اس میں کار فرما رہی ہے خصوصاً حسن و جمال سے آراستہ و پیراستہ اور پر معنی سرورق تیار کرانے میں جو مہارت آپ نے حاصل کی اس کی عالمگیر شہرت ہو رہی ہے۔ نہایت خوشی کی بات ہے کہ ظلِ قائم عظیم علی لاکھانی صاحب کی نگرانی میں، لٹل اینجل مہر انگیز لاکھانی، لٹل اینجل محمد رفیع لاکھانی اور لٹل اینجل درِّ ثمین نزار، لٹل اینجل فقیر محمد نزار نے اس کتاب کے اختتام پر شامل شدہ فہارس تیار کی ہیں۔

ادارہ ان سب کے لئے نہایت شکرگزاری کے ساتھ دعا کرتا ہے کہ خداوندِ ربّ العزّت سب کو ایسے مقاصد میں بدرجۂ اتم کامیابی عطا فرمائے اور ان کے ہر کام میں خداوند کی خوشنودی شامل ہو۔ آمین یا ربّ العالمین۔

 

فقیر حقیر

مرکزِ علم و حکمت، لندن

۲۹ اپریل ۲۰۲۱ء

 

د

 

اِمامؑ کی مُحبّت جانِ بہشت

 

۱۔ اِس امرِواقعی میں کوئی شک ہی نہیں کہ بہشتِ برین کا تصوّر نہایت ہی ارفع و اعلیٰ، عجیب و غریب، بیحد دلنواز، ازبس شیرین اور زبردست مسرّت انگیز ہے، کیوں نہ ہو جبکہ جنت نہ صرف خدائے بزرگ و برتر کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ کی آئینہ داری کرتی ہے، بلکہ یہ پروردگارِ عالم کی صفاتِ جلال و جمال اور تجلیّات کی ظہور گاہ اور منظر بھی ہے، یہی سبب ہے کہ تمام کتبِ سماوی میں اور جملہ انبیائے کرام علیھم السّلام کی پاکیزہ زبان پر روضۂ رضوان کی تعریف و توصیف ہوتی رہی ہے، خصوصاً قرآنِ مقدس کو دیکھ لیجئے جو سراسر صداقتوں اور حکمتوں کا سرچشمہ ہے کہ یہ کس پَیرایۂ دلنشین میں جنت کی سدا بہار خوبیوں کو بیان فرماتا ہے، اور کیسی کیسی خوبصورت و حکمت آگین مثالوں میں اس کی لازوال و غیرفانی نعمتوں کا تذکرہ کرتا ہے، پس اِسی مناسبت سے یہاں یہ کہنا بالکل درست اور بجا ہے کہ امامِ زمان صلوات اللہ علیہ و سلامہٗ کی پاک محبت دیدۂ دانش اور قلبِ ایمانی میں بیحد شیرین اور بدرجۂ انتہا روح پرور ہے، جس کی مثال صرف اور صرف بہشتِ جاودانی کی بڑی بڑی نعمتوں سے دی جاسکتی ہے، بلکہ حق بات تو یہ ہے کہ امامِ اقدس و اطہر کی پُرحکمت محبت و عشق جانِ بہشت ہے۔

۲۔ ادیانِ عالم میں کوئی ایسا دین یا مذہب نہیں، جس میں خدا کی محبت و دوستی کا تصوّر نہ ہو لیکن چونکہ دینِ اسلام اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا ظہورِ کامل ہے، اِس لئے یہاں خدا اور اس کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی محبت کا ایک قرآنی

 

۱

 

اور نورانی وسیلہ ہمیشہ کے لئے موجود اور حاضر ہے، اور وہ سرچشمۂ محبت، نورِ ہدایت، خزانۂ علم و حکمت، ولّیٔ زمان، ترجمانِ قرآن، ہادیٔ دوران، جان و جانانِ عاشقان، اور آقائے مومنان امامِ زمان علیہ السّلام ہیں، جن کی اطاعت خدا و رسولؐ کی اطاعت کے واسطے لازمی اور ضروری قرار دی گئی ہے (۰۴: ۵۹)۔ کیونکہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی اطاعت و محبت بواسطۂ محمد رسول اللہ و أئمّۂ آلِ محمدؐ ممکن ہے (۰۳: ۳۱)۔

۳۔ سورۂ مریم کے آخری رکوع میں ہے: اِنَّ الَّذِینَ اٰمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجعَلُ لَھُمُ الرَّحمٰنُ وُدًّا (۱۹: ۹۶) بے شک جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کئے عنقریب خدا ان کی محبت لوگوں پر فرض کر دے گا۔۱  چنانچہ اِس حکمِ خداوندی کے مطابق علی اور أئمّۂ اولادِ علی (علیھم السّلام) کی محبت لوگوں پر فرض ہوگئی، لیکن کیوں؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ اس لئے کہ لوگ نورِ ہدایت کی رسّی سے وابستہ ہو جائیں، اور گمراہی سے بچ کر چلیں۔

۴۔ سورۂ شوریٰ (۴۲: ۲۳) میں امامِ آلِ محمدؐ کی دوستی کے بارے میں یہ ارشاد ہے: قُل لَّا اَسئَلُکُم عَلَیہِ اَجرًا اِلَّا المَوَدَّۃَ فیِ القُربٰی اے رسول تم کہہ دو کہ میں اِس (تبلیغِ رسالت) کا اپنے قرابت داروں (اہلِ بیتؑ) کی محبت کے سوا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ اِس آیۂ کریمہ سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ امامِ آلِ نبیؐ سے مومنین کی محبت خدا اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی کا باعث ہو جاتی ہے، اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ قرآنِ کریم کا یہ حکم ہر زمانے کے لئے ہے۔

۵۔ یہ جاننا از حد ضروری ہے کہ قرآنِ حکیم اپنی بے شمار خوبیوں کے سلسلے میں ہر آیۂ کریمہ میں خدا کے ایک اسم یا ایک سے زیادہ اسموں کی تفسیر کرتا ہے، چنانچہ ہم یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذکورۂ بالا دونوں آیتیں خدائے پاک کے اسمِ وَدُود (محبت کرنے والا) کی تفیسرکرتی ہیں، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے مظہر، خلیفہ، آئینۂ جمال و

 

۲

 

جلال، وَلیٔ امر، نورِ منزّل، معلّمِ قرآن، جانشینِ رسولؐ، اور امامِ وقت کے توسط سے محبت کرتا ہے، اور لوگوں کے لئے بھی خدا سے محبت کرنے کا یہی وسیلہ مقرر ہے۔

۶۔ وہ آیۂ مبارکہ جس میں اسمِ وَدُود آیا ہے، یہ ہے: وَ استَغفِرُوا رَبَّکُم ثُمَّ تُوبُوٓا اِلَیہِ اِنَّ رَبِّی رَحِیمٌ وَّدُودٌ (۱۱: ۹۰) اور اپنے پروردگار سے اپنی مغفرت کی دعا مانگو پھر اسی کی بارگاہ میں توبہ کرو بیشک میرا پروردگار بڑا مہربان اور محبت والا ہے۔ اِس بابرکت ارشاد میں خدائے بزرگ و برتر کے پانچ اسماء کی مربوط حکمت موجود ہے، وہ اسماء یہ ہیں: غفار، ربّ، توّاب، رحیم، اور وَدُود، اور ان کی حکمت یہ ہے کہ جو لوگ بحکمِ آیۂ مَوَدّت (۴۲: ۲۳) أئمۂ آلِ نبیؐ و اولادِ علیؑ ( یعنی امامِ زمانؑ) سے محبت کرتے ہیں، ان سے خدائے وَدُود محبت کرتا ہے اور جن لوگوں کو آسمانی محبت کی سعادت نصیب ہو جاتی ہے، ان پر مذکورہ پانچ خزانوں کے دروازے کشادہ ہو جاتے ہیں۔

۷۔ ایک اور مقام جہاں اسمِ وَدُود کا ذکر ہے یہ ہے: بیشک تمہارے پروردگار کی پکڑ بہت سخت ہے (یعنی وہ ساری کائنات کو اپنے قبضۂ قدرت میں محدود کرلیتا ہے) وہ پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرتا ہے ( یعنی مظاہرۂ نورِ عقل) اور وہی بڑا بخشنے والا محبت کرنے والا ہے ( یعنی روحانیّت کے یہ مقامات بخشش و محبت کا نتیجہ ہیں) وہ عرشِ مجید کا مالک ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے (۸۵: ۱۲ تا ۱۶) (یہ عرشِ عظیم کی معرفت کا تذکرہ ہے جس میں ازلی و ابدی حقائق و معارف جمع ہیں)۔

۸۔ قرآنِ حکیم میں نفسانی اور جسمانی دو قسم کی موت کا بیان ہے، چنانچہ قسمِ اوّل کی ایک پُرحکمت مثال ملاحظہ ہو: جن لوگوں نے (سچے دل سے) کہا کہ ہمارا پروردگار تو (بس) خدا ہے پھر وہ اسی پر قائم رہے، ان پر (بوقتِ نفسانی موت) فرشتے نازل ہوتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ کچھ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور جس بہشت کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اس کی خوشخبری سنو ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست ہیں

 

۳

 

اور آخرت میں بھی ہیں (۴۱: ۳۰ تا ۳۱)۔ یہ فرشتے کون ہو سکتے ہیں؟ کیا یہ مجرّد فرشتے ہیں؟ ان کی دوستی کا راز کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نحنُ اَولیائُ کُم ( ہم تمہارے دوست ہیں) ولی امام کا نام ہے اور اولیاء أئمّۂ طاہرین کو کہتے ہیں، چنانچہ جو مومنین امامِ زمانؑ کے وسیلے سے خدا کی محبت کو حاصل کرتے ہیں تو ان کے حق میں نورِ امامت دوست بن جاتا ہے، جس میں امامانِ برحق بمرتبۂ ملائکہ موجود ہیں، اور وہی حضرات علیھم السّلام مومنین کے اولیاء ہیں۔

۹۔ سورۂ مائدہ (۰۵: ۵۴) میں کافی غور سے دیکھیں: اے ایماندارو تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو (کچھ پرواہ نہیں پھر جائے) عنقریب ہی خدا ایسے لوگوں کو لائے گا جنہیں خدا دوست رکھتا ہوگا اور وہ اس کو دوست رکھتے ہوں گے، ایمانداروں کے ساتھ منکسر (اور) کافروں کے ساتھ کڑے، خدا کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کچھ پرواہ نہ کریں گے، یہ خدا کا فضل و کرم ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ یہ ربّانی تعلیم بھی اوپر کی بشارت کی طرح ہے، کیونکہ ایسے لوگ صرف نورانی وجود میں کوئی ایسا جہاد کر سکتے ہیں۔

۱۰۔ خدائے مہربان نے بنی نوع انسان کو بصورتِ امامِ مبینؑ (۳۶: ۱۲) سب کچھ دے رکھا ہے: وَ اٰتٰکُم مِّن کُلِّ مَا سَاَلتُمُوہُ (۱۴: ۳۴) اور جو کچھ تم نے اُس سے مانگا اس میں سے تمہیں دے دیا۔ اور اگر کسی چیز کی کمی ہے، تو اس کی وجہ علم و عمل کی کمزوری ہے (۱۵: ۲۱) یا یوں کہنا چاہئے کہ بہت بڑا امتحان سامنے ہے، جس سے کامیابی کے ساتھ گزرے بغیر خزانہ نہیں مل سکتا۔

۱۱۔ انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام کے وجودِ مبارک سے متعلق اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت و عادت رہی ہے، ہر چند کے بظاہر اس قانون کو سمجھ لینا بڑا مشکل ہے، بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر نبی اور ہر امام میں نور ہوتا ہے، جس کی ایک بنیادی خصوصیت

 

۴

 

آسمانی محبت ہے، جو باسعادت مومنین پر اثرانداز ہو کر اپنی اُس معجزانہ کشش سے جو ایمان پرور بھی ہے اور جانفزا بھی انسانِ کامل کی طرف متوجہ کر لیتی ہے، جیسا کہ پروردگارِ عالم نے حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام سے خطاب فرمایا ہے: وَ القَیتُ عَلَیکَ مَحَبَّۃً مِّنِّی(۲۰: ۳۹) اور میں نے تم پر اپنی محبت (کا پرتَو) ڈال دیا۔ لیکن یہ معجزہ ایسا نہیں تھا کہ سب کے لئے یکسان مرکزِ توجہ ہو، ایسا نہیں ہو سکتا تھا، چنانچہ اِس معاملے میں آسیہ (فرعون کی بیوی) کی بڑی خوش نصیبی تھی کہ اُس نے اِس خدائی محبت کی دل آویز خوشبو کو محسوس کیا، جس کے صدقوں سے وہ قرآن جیسی منفرد اور لازوال کتاب میں ہمیشہ کے لئے نیکنام رہیں، اور اُس نے بہشت کے سب سے اعلیٰ مقام کے لئے اللہ سے یوں درخواست کی: رَبِّ ابْنِ لِی عِنْدَکَ بَیْتاً فِی الجَنَّۃِ (۶۶: ۱۱) پروردگارا میرے لئے اپنے نزدیک بہشت میں ایک گھر بنا دے۔

۱۲۔ امامِ برحق علیہ السّلام کی مقدس محبت رسنِ نورانیت ہے یہ ایک پُرکیف کشش ہے، یہ غذائے روح الایمان ہے، یہ بڑی نرالی شان سے پگھلا دیتی ہے، فکرِ مردہ کو جِلاتی ہے، خیالاتِ باطل کو جَلاتی ہے، خوابیدہ صلاحیتوں کو جگاتی ہے، یہ جب بھی آتی ہے بُوئے بہشتِ برین اپنے ساتھ لاتی ہے، جس سے دماغ مُعطر اور دل منور ہو جاتا ہے، بخدا! آسمانی محبت تعریف کی اِس ادنیٰ سی کوشش سے بالا و برتر ہے، اور اس میں تمام روحانی معجزات کی کلیدیں پوشیدہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ امامِ زمانؑ خدائے احد و صمد کا زندہ و گویندہ اسمِ اعظم ہوا کرتا ہے، لہٰذا ذاتِ سبحان نے اپنے مظہر کی محبت کو ربّانی محبت کا درجہ عطا کرکے اہلِ ایمان کے لئے نورانی اور معجزاتی بنا دیا ہے۔

 

۱؎ ملاحظہ ہو فرمان علی کا ترجمہ اور حاشیہ ۔

 

نصیر الدّین نصیر ہونزائی

لنڈن ۵ نومبر ۱۹۸۷ء

 

۵

 

اہلِ بیتِ اطہارؑ

 

دینِ حق میں اہلِ بیتِ اطہار صلوات اللہ علیھم انتہائی پاکیزگی، تقدّس، روحانیّت اور نورانیت کے مالک ہیں، قرآن و حدیث میں جگہ جگہ انکی عظمت و بزرگی اور بشری کمالات کی شہادت ملتی ہے، اور یہ پاک نورانی ہستیاں حضرت محمد، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین صلوات اللہ علیھم ہیں، جن کے پاک و پاکیزہ گھر میں قرآن نازل ہوا اور جن کی برکت سے نورِ اسلام کی روشنی پھیل گئی۔

اہلِ بیتؑ کے اِس تصوّر میں عجیب طرح کی حکمت ہے، کیونکہ اہلِ بیت کا لفظی ترجمہ “گھر والے” ہے، یعنی رسول اکرمؐ کے افرادِ خانہ، جن میں حضور کی بیبیاں وغیرہ بھی تھے، مگر قرآن و حدیث نے اہلِ بیت کی یہ اصطلاح پنجتنِ پاک یعنی محمدؐ، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ، اور حسینؑ کے لئے خاص کر دیا ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ پیغمبرِ اکرمؐ کے دو گھر تھے، ایک ظاہری اور جسمانی اور دوسرا باطنی اور روحانی، رسولِ خداؐ کے خانۂ ظاہر میں وہ سب افراد حاضر تھے، جو ظاہری لحاظ سے اہلِ خانہ تھے، مگر خانۂ روحانیّت و نورانیّت میں صرف وہی حضرات موجود و حاضر ہوا کرتے تھے، جن کو خدائے بزرگ و برتر نے ہر طرح سے برگزیدہ فرمایا تھا، لہٰذا بحقیقت اہلِ بیت صرف پنجتنِ پاک ہی ہیں، جن کا ذکر ہوا۔

اگر آپ آیۂ اصطفا (۰۳: ۳۳) میں ہر چیز سے برتر ہو کر قانونِ خداوندی کی روشنی میں سوچیں، تو معلوم ہو جائے گا کہ آدمؑ اور نوحؑ کی برگزیدگی خاندانی، نسلی اور دائمی حیثیت میں ہے، ابراہیمؑ اور عمرانؑ کی مثال میں یہ حقیقت اور بھی زیادہ واضح و روشن ہو جاتی ہے،

 

۶

 

پس آنحضرتؐ کی برگزیدگی میں آپ کے اہلِ بیتِ اطہارؑ کی برگزیدگی کی شمولیّت ایک لازمی امر ہے اور آیۂ تطہیر کے نزول کا مقصد بھی یہی ہے (۳۳: ۳۳)۔

قرآنِ پاک نے جس حکیمانہ انداز سے اہلِ بیتؑ کا یہ پُرحکمت تصوّر دیا ہے، اور جس شان سے روحانیّت و نورانیّت کی مثال ایک گھر سے دیکر اسلام کی پانچ بزرگ ترین ہستیوں کو اس کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر دانشمند یہاں متعلّقہ حکمتوں کو سمجھے، کہ اِس بَیت (گھر ) سے وہ خانۂ روحانیّت مراد ہے، جس میں آنحضرتؐ پر قرآن نازل ہوا، جس کو اہلِ بیت چشمِ باطن سے بحسن و خوبی دیکھ لیتے تھے، کیونکہ پروردگارِ عالم نے اہلِ بیتِ کرامؑ کو ایک ساتھ بدرجۂ انتہا پاک و پاکیزہ کر دیا تھا، یعنی عقلی، روحانی اور جسمانی پاکیزگی میں حضراتِ اہلِ بیت علیھم السّلام یکسان تھے، اِس لئے کہ آیۂ تطہیر کے معنی میں اہلِ بیت برابر کے شریک ہیں، درحالیکہ نبوّت و رسالت کی فضیلت اپنی جگہ پر صحیح ہے۔

آنحضرتؐ جس مرتبۂ روحانیّت میں علم کا شہر اور حکمت کا گھر ہیں تو اُس درجے میں آپؐ بخدا قرآن کی زندہ روح اور روحانیّت ہیں، اور وہی گھر ہیں، جس کے حقائق و معارف یہاں بیان ہو رہے ہیں، اور مولاعلیؑ جس شان میں آپؐ کا باب (دروازہ) ہیں، اُس مقام پر علّیٔ مرتضیٰؑ درجۂ روحانی میں حضورؐ کے ساتھ منسلک ہیں، اور اِس دروازۂ نور سے فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ ہرگز الگ نہیں۔

رسولِ پاکؐ نے جس طرح نورِ ہدایت کی تشبیہہ ایک گھر سے دی ہے، وہ عبَث نہیں، بلکہ یہ ایک معنی خیز حقیقت ہے، لہٰذا اس میں سوچنا چاہئے، اور وہ اِس طرح کہ گھر اور “در” کے نام الگ الگ ہیں، مگر اُن کی وحدت و سالمیّت ایک ہی ہے، نیز یہ بھی جاننا چاہئے کہ در و دیوار کے اندر جو جگہ ہے وہی گھر ہے۔

جاننا چاہئے کہ ہر پیغمبر اور ہر امام اپنے وقت میں روحانیّت کا گھر ہوا کرتا ہے،

 

۷

 

جیسا کہ سورۂ نور میں ارشادِ خداوندی ہے کہ: (اور مذکورہ قندیل) اُن گھروں میں (روشن ہے) جن کی نسبت خدا کا اذن ہے کہ اُن کو رفعت دی جائے، اور اُن میں نامِ خدا کا ذکر کیا جائے (۲۴: ۳۶)۔ یعنی فرشتے اور ارواح پیغمبر اور امام کی روحانیّت میں ایسا ہی کرتی ہیں، پس اہلِ بیت اُس پاک اور عالیشان گھر کے افراد ہیں، جس میں نورِ خدا کا چراغ روشن ہے، جو عظیم فرشتوں اور مقدّس روحوں کی عبادت گاہ اور خانۂ خدا ہے۔

قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں حُرمت و طہارت (پاکیزگی) کے معنی میں بیت یا بیوت کا ذکر آیا ہے وہ یہی ایک موضوع ہے، یعنی روحانیّت کا گھر، جو خدا و رسولؐ اور امامؑ کا گھر ہے، کیونکہ یہ گھر بحقیقت ایک ہی ہے۔

حدیثِ قُدسی کا یہ حکمت آگین مفہوم برحق ہے کہ بندۂ مومن کا دل عرشِ خُدا ہے یا کہ خانۂ خُدا ہے، لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ یہ حقیقت بحدِّ قوّت ہے یا بحدِّ فعل؟ ظاہر ہے کہ اہلِ بیت ہی اِس راہِ روحانیّت میں فعلاً پیش پیش ہیں، کیونکہ وہی حضرات ایمان کے درجۂ کمال پر ہیں، اور سب سے پہلے انہی کے دل یعنی روحانیّت میں خدا کا تخت اور گھر موجود ہے، چنانچہ یقین جانئے کہ مسجدِ حرام، قبلہ، کعبہ اور بیت اللہ کی تاویل اہلِ بیت کی روحانیّت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خانۂ کعبہ اللہ تعالیٰ کا ظاہری گھر ہے اور یہ خدا کے باطنی گھر کے لئے علامت اور مثال ہے، لہٰذا اس کی اس طرح تعظیم کرنی چاہئے جس طرح کہ خدا کا حکم ہے، تاکہ اشاراتی حکمت سے یہ معلوم ہو کہ خداوند تعالیٰ کا ایک حقیقی گھر بھی ہے، جو اسی طرح کی حرمت و تعظیم کا حق رکھتا ہے اور وہ خاندانِ رسولؐ کی روحانیّت ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: لوگوں کے لئے سب سے پہلے جو گھر (یعنی روحانیّت) بنایا گیا، وہ مکّہ (یعنی عاجزی) میں ہے، جو اہلِ جہان کے لئے بابرکت اور ہدایت ہے، اس میں واضح معجزات ہیں، جو ابراہیم کا مقام (روحانیّت) ہے اور جو شخص اس میں داخل ہو گیا تو

 

۸

 

اس کو امن مل گیا (۰۳: ۹۶ تا ۹۷) یعنی عالمِ ذرّ میں سب سے پہلے انسانِ کامل کا وجودِ مبارک خانۂ خدا کی حیثیت سے تھا، جہاں پر لوگ ذرّات کی شکل میں لاشعوری عبادت کیا کرتے تھے، اور اب اس دنیا میں بھی وہی مقدّس ہستی خدا کا گھر ہے، جو برکت اور ہدایت کا سرچشمہ ہے، اس میں روشن روحانی معجزات ہیں اور یہ ابراہیمؑ کی مرتبّت ہے پس جو خانۂ روحانیّت میں داخل ہوا تو وہ امن پاگیا۔

رسولِ کریمؐ کا یہ فرمان، کہ سلمان اہلِ بیت میں سے ہیں، اِس حقیقت کی دلیل ہے کہ سلمان خانۂ روحانیّت اور درجۂ نورانیّت میں داخل ہو چکے تھے، اور امامِ اقدس و اطہر کا ارشاد ہے کہ یہ مرتبہ صرف سلمان ہی کے لئے مخصوص نہیں ہے، بلکہ ہر مومن کے لئے روحانیّت کا یہ دروازہ کُھلا ہے، اور قرآنی آیات کے ایسے بہت سے حکیمانہ اشارے ہیں، جن سے یہ حقیقت نکھر نکھر کر زیادہ روشن ہو جاتی ہے کہ حقیقی مومنین بھی روحانیّت اور مرتبۂ باطن میں اہلِ بیت کی معیّت کو حاصل کر سکتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ قرآنی ہے: اور جس شخص نے خدا اور رسولؐ کی اطاعت کی تو ایسے لوگ ان (مقبول) بندوں کے ساتھ ہوں گے، جنہیں خدا نے اپنی نعمتیں دی ہیں، یعنی انبیاء اور صدّیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ لوگ کیا ہی اچھے رفیق ہیں (۰۴: ۶۹) ظاہر ہے کہ فرمانبردار مومنین کیلئے ناطقؐ، اساسؑ، امامؑ، اور باب کی یہ ہم نشینی اور رفاقت روحانیّت ہی میں صحیح ہے۔ قرآنِ پاک کی یہ بشارت صرف روزِ قیامت ہی سے متعلّق نہیں، بلکہ بطریقِ روحانیّت اِس دنیا میں بھی ممکن ہے اور اس حقیقت کی مثال سلمان ہیں۔

روحانیّت کی ہزاروں مثالیں ہیں، اُن میں سے ایک مثال گھر ہے، اور دوسری مثال شہر ہے، گھر اہلِ خانہ کی نزدیک ترین رشتہ داری کو ظاہر کرتا ہے، چنانچہ آلِ محمّدؐ و اولادِ علیؑ کے ہر امامؑ کو اہلِ بیتِ رسولؐ کہا جاتا ہے کیونکہ حضراتِ أئمّہؑ پیغمبرِ خدا کے انتہائی قریب ہیں، اسلئے کہ رشتۂ روحانی میں بُعد پیدا نہیں ہوتا ہے، وہ

 

۹

 

ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے، اسکے برعکس جسمانی قرابتداری میں پُشت بہ پُشت دُوری واقع ہوتی چلی جاتی ہے۔

 

والسّلام

نصیر ہونزائی

کراچی۔ ۱۵؍۶؍۱۹۸۲ء

 

 

۱۰

 

روح اللہ اور نور اللہ کی حکمت

 

روح اللہ کے معنی ہیں خدا کی روح اور نوراللہ کے معنی ہیں خدا کا نور، اور ان دونوں لفظوں (روح اور نور) کی اصلیّت وحقیقت ایک ہی ہے ، کیونکہ جو خداوندِ تعالیٰ کی پاک روح ہے وہی اس کا نور بھی ہے ، جیسا کہ قرآنِ حکیم کی آیت (۴۲: ۵۲) میں فرمایا گیا ہے کہ جو روح حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی طرف وحی کی گئی تھی ، اسی کو نور بنایا گیا تھا۔

قرآنِ مجید کا یہ قصّہ مشہور ہے کہ پروردگارِ عالم نے حضرت آدمؑ میں اپنی روح پھونک دی (۱۵: ۲۹ ، ۳۸: ۷۲) بی بی مریمؑ کے باب میں ارشاد ہؤا ہے کہ: “سو ہم نے ان (یعنی مریم ) میں اپنی روح پھونک دی (۶۶: ۱۲)۔”  حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ آپؑ اللہ تعالیٰ کے حضورِ خاص سے ایک روح تھے (۰۴: ۱۷۱) اور اسی حکم کے مطابق آپ روح اللہ کہلائے، جبرائیلؑ کی بابت فرمانِ خداوندی ہے کہ وہ بھی خدا کی روح ہیں (۱۹: ۱۷) قرآنِ مقدّس کے ایک ارشاد کا مفہوم یہ بھی ہے کہ نسلِ آدمؑ کے انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی روح پھونکی (۳۲: ۰۷ تا ۰۹) وہ فرمانِ خداوندی اس طرح ہے:

 

اَلَّذِىٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَىْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلَالَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ(۳۲: ۰۷ تا ۰۹) وہ خدا جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی اور انسان (یعنی آدمؑ) کی پیدائش مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل (یعنی اولادِ آدمؑ) کو

 

۱۱

 

خلاصۂ اخلاط یعنی حقیر پانی سے بنایا پھر اس (یعنی انسانِ کامل) کا روحانی اعتدال کیا اور اس میں اپنی روح پھونک دی اور تمہارے لئے کان آنکھیں اور دل بنائے (یعنی پیغمبر اور امام کے وسیلے سے جو انسانِ کامل ہیں تم کو حواسِ باطن دیئے) اِس سے یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ خداوندِ عالم ہر نبی اور ہر ولی (امام) میں اپنی عظیم روح پھونکتا ہے، اور اس وسیلے سے مومنین پر روح اور روحانیّت کا دروازہ کشادہ ہوجاتا ہے تاکہ خدا شناسی جیسی سب سے عظیم نعمت دنیا والوں کے لئے ممکن اور مہیّا رہے۔

یہاں یہ نکتہ خوب یاد رہے کہ خدا کی روح اِس معنیٰ میں ہرگز نہیں کہ ذاتِ سبحان کسی قسم کی روح پر اس طرح قائم ہو، جس طرح انسان کا قیام روح پر ہوتا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو روح تمام ارواح میں برگزیدہ اور افضل و اعلیٰ ہے، اور جس میں معرفتِ الٰہی کے خزانے پوشیدہ ہیں، اس کو خداوندِ تعالیٰ نے اپنا نور قرار دیکر یہ اختصاص عنایت کیا ہے کہ وہ خدا کی روح کہلائے اور اسی سے منسوب ہو، تاکہ اہلِ دانش اللہ تعالیٰ کے امروفرمان اور خوشنودی کے لئے ہادیٔ برحق کی طرف مکمل رجوع کریں، جس میں خدا کی روح ہے۔

قرآنِ پاک کہتا ہے کہ یہ عظیم خدائی روح اصلاً باری تعالیٰ کے “امر” سے ہے، جیسا کہ ۱۶: ۰۲ ، ۱۷: ۸۵، ۴۰: ۱۵ اور ۴۲: ۵۲ میں اس کا ذکر ہے، یعنی اس کا سرچشمۂ اعلیٰ “کلمۂ کُنۡ” ہے، جس کو “عالمِ امر” بھی کہتے ہیں ، جو تمام روحانی حقیقتوں کا مخرج و منبع ہے، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں “امر” باری کا ذکر آیا ہے، وہاں اِس روحِ عالیہ کی طرف ایک بلیغ اِشارہ موجود ہے، جیسے اِس آیۂ کریمہ میں ارشاد ہوا ہے ، جو أئمّۂ طاہرین صلوات اللہ علیھم کے بارے میں ہے: ۔

وَجَعَلْنَاهُمْ اَئِمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا (۲۱: ۷۳) اور ہم نے ان کو امام بنایا وہ (خلق کو) ہمارے امر سے ہدایت کرتے تھے۔ نیز ارشاد ہے: وَاُولِى الْاَمْرِ مِنْكُمْ

 

۱۲

 

(۰۴: ۵۹) اور امر والوں کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں ۔ یعنی خدا و رسولؐ کے بعد أئمّۂ اطہارؑ کی اطاعت کرو، جو امرِ باری کی روحانی حکمتوں سے واقف و آگاہ ہیں اور اسی کے مطابق رہنمائی کر لیا کرتے ہیں۔

روح اگرچہ نباتی قسم کی بھی ہے، حیوانی حیثیت کی بھی ہے اور انسانی درجے کی بھی ہے، لیکن جہاں روح شناسی اور خدا شناسی کا سوال ہوتا ہے ، وہاں سب سے اعلیٰ روح کا حوالہ دیا جاتا ہے اور وہ روحِ قدسی یعنی خدائی روح ہے، جیسا کہ یہ مطلب اِس فرمانِ الٰہی میں موجود ہے: وَيَسْالُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ    ۖ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّىْ (۱۷: ۸۵)اور یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ روح میرے پروردگار کے “امر” سے ہے۔ یعنی “الرّوح” جو سب سے عظیم روح ہے، جس میں خدا کی معرفت ہے، وہ سرچشمۂ “کُنۡ” اور عالمِ امر سے ہے۔

اب یہاں پر ایک بڑا اہم اور دلچسپ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اہلِ ایمان کو اس عظیم روح کا باطنی مشاہدہ اور تجربہ ہوتا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب اگرچہ قبلاً مہیا ہوچکا ہے، تاہم اس آیۂ مبارکہ میں بھی ایک مکمل جواب موجود ہے: وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَآئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَم (۰۷: ۱۱) اور ہم نے تم کو پیدا کیا پھر ہم نے تمہاری (روحانی) صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ یہ خطاب حقیقی مومنین سے ہے جو اہلِ معرفت ہیں، جن کی جسمانی تخلیق و تکمیل کے بعد روحانی وجود بنتا ہے، پھر ان کو ہر طرح سے روحِ قدسی کا تجربہ ہونے لگتا ہے اور وہ اسی روح کی نورانیّت میں تمام روحانی واقعات کا مشاہدہ کرتے ہیں، اور اِس سلسلے میں سب سے پہلے واقعۂ آدم اس طرح سامنے آتا ہے کہ فرشتے زمانے کے آدمؑ کو سجدہ کرتے ہوئے گرتے ہیں ۔

مولا علی صلوات اللہ علیہ کا مبارک ارشاد ہے کہ: “جس نے اپنے نفس (یعنی

 

۱۳

 

روح) کو پہچان لیا اُس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا۔”  سو ایسی پہچان جو خدا کی کامل معرفت ہوسکے روحِ نباتی، روحِ حیوانی اور روحِ ناطقہ کے وسیلے سے قطعاً ناممکن ہے، جب تک کہ بندۂ مومن کو روح القدس کی مکمل تائید اور روشنی حاصل نہ ہو، کیونکہ وہی تو ہے جو انسان کی اصل روح اور حقیقی “انا” ہے، اور امیر المومنین علی علیہ السّلام کا یہ فرمان اسی روحِ قدسی کی شناخت کے متعلق ہے کہ مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ  یعنی جس نے اپنی روحِ قدسی کو پہچان لیا، فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ، تو بیشک اُس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا۔ پس روح القدس ہی ہے، جس میں پروردگارِ عالم کی صفات کا ظہور ہوتا ہے جس سے اہلِ بصیرت کو خداوندِ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

“حِزب اللہ” یعنی حقیقی مومنین کو روحِ قدسی سے جو فیض ملتا ہے اور جیسا اس کا تجربہ حاصل ہوتا ہے اس کے بارے میں بھی ارشاد ہے کہ: اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ (۵۸: ۲۲) یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل میں خدا نے ایمان لکھ دیا ہے اور ایک ایسی روح سے ان کو تائید دی ہے جو اس کی اپنی ہے۔ یعنی ان کے دل میں ایمان کو عملی صورت دی ہے، پس وہ لوگ روحانی مشاہدے میں ایمان اور اس کے نتائج کو دیکھتے ہیں اور روح القدس کی تائید حاصل کرتے ہیں، جاننا چاہئے کہ روح القدس کی تائید بہت بڑی چیز ہے اور بہت بڑا عنوان ہے، کیونکہ قرآنِ حکیم کی بعض آیات میں حضرت عیسیٰؑ کے روحانی معجزات کا ذکر ہے، اور بعض آیات میں صرف حوالہ اور اشارہ کے طور پر خداوندِ عالم نے فرمایا کہ: “اور ہم نے اس کو روح القدس سے تائید دی” (۰۲: ۸۷)۔ چنانچہ روح القدس کی تائید کی مثال حضرت عیسیٰؑ کی ساری روحانیّت ہے۔

ہم نے اِس مضمون کے شروع ہی میں کہا تھا کہ روح اور نور کی اصلیّت اور حقیقت ایک ہی ہے اور اس کے بارے میں قرآنی ثبوت بھی پیش کیا تھا، اب ہم اِس

 

۱۴

 

سلسلے میں دوسرا ثبوت پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس پاک روح کو اپنی ذات سے منسوب کرکے فرماتا ہے کہ یہ میری روح ہے تو وہی اس کا نور بھی ہے، چنانچہ خدا تعالیٰ کا یہ فرمان کہ اُس نے اپنی روح بابا آدمؑ میں پھونک دی، اِس معنیٰ میں ہے کہ اللہ پاک نے اپنا نور آدم صفیؑ میں ڈال دیا، اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ آدمؑ سے پہلے بھی ہمیشہ سے سِلسِلۂ امامت موجود تھا، سو کسی نرالے اندازسے نہیں بلکہ ہمیشہ کی طرح قانونِ فطرت کے عین مطابق سابق امامؑ سے آدمؑ میں نورِ ہدایت مُنتقل ہُوا، اور یہی ہُوا آدم میں خدا کا روح پھونک دینا، پس اِس سے ظاہر ہے کہ عظیم روح خود نور ہے۔

جس طرح ذاتِ سبحان ایک ہے اسی طرح اس کی عادت وسُنّت یعنی قانونِ فطرت بھی ایک ہے، اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں پائی جاتی(۳۳: ۶۲، ۳۵: ۴۳)کیونکہ وہ ہمیشہ ایک ہی قانونِ پیدائش (فطرت)کے مطابق تخلیق کرتا ہے(۳۰: ۳۰)اگر اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ کو جیسا کہ عا م خیال ماں باپ کے بغیر اور حضرت عیسیٰؑ کو بغیر باپ کے پیدا کرتا تو پیدائش کے امکانی طریقے تین ہوتے ، یعنی براہِ راست مٹی سے والدین کے توسّط کے بغیر پیدا کرنا، صرف ماں ہی سے پیدا کرنا جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ کے متعلّق عام تصوّر ہے، اور والدین کے وسیلے سے پیدا کرنا جو ہمیشہ سے جاری ہے، مگر یہ بات درست نہیں ہے، چونکہ حقیقت میں پیدائش کا قانون یہی ہے جو سب لوگوں کے سامنے ہے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ۔

فِطْرَتَ اللّٰه الَّتِىْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۚ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّم(۳۰: ۳۰)اللہ تعالیٰ کی پیدائش (یعنی قانونِ فطرت ) یہی ہے جس کے مطابق اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے خدا کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ سو لازوال دین یہی ہے۔

اس مدلّل بیان سے کئی حقیقتیں روشن ہو گئیں، سب سے پہلی حقیقت تو یہ کہ

 

۱۵

 

دینِ قائم اور خدا کی بادشاہی ازل سے ہے، یعنی اس کی نہ تو کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا، لہٰذااِس آدم سے پہلے بے شمار آدم ہو گزرے ہیں اور اس کے بعد بھی لاتعدا د آدم ہوتے رہیں گے، دوسری حقیقت یہ کہ ہر پیغمبر اور ہر امام میں خدائی روح پھونکی جاتی ہے، تیسری یہ کہ روح اور نور کا مطلب یہاں ایک ہے، چوتھی یہ کہ جو آدم فردوسِ برین سے سیّارۂ زمین پر اُترآیا تھا اس کے بھی اپنے وقت میں والدین تھے، اور پانچویں حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ حکیم میں جہاں آدم کا کوئی ذکر آیا ہے وہاں درحقیقت لا تعداد آدموں کا تذکرہ موجود ہے۔

 

 

فقط آپ کا علی خادم

نصیر ہونزائی

۱۰۔ستمبر۔۱۹۸۰

 

نوٹ:

۱۔       اس کار یکارڈ ضروری ہے، کیونکہ ایسے مضامین بڑے اہم ہیں۔

۲۔       یہ مضمون کنیڈا کے عزیزوں کو بھیجا جائے۔

 

۱۶

 

حکمتِ حدیث

 

صحیح مسلم جلدِ سوُم ، باب ۲۲۴، حدیث ۱۵۰۶ میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے حضرت مولا علی علیہ السّلام سے فرمایا کہ: “اَنتَ مِنّی بِمَنْزِ لَتہِ ھٰرُوْنَ مِنْ مُوسیٰ اِلّا اَنّہٗ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ تم میرے پاس ایسے ہو، جیسےکہ حضرت ہارونؑ حضرت موسیٰؑ کے پاس تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔”

اس حدیثِ شریف کے ہمہ گیر معنی میں حکمت کے بہت سے اشارات محفوظ کئے ہوئے ہیں، اور اس کا عظیم مجموعی مطلب یہ ہے کہ بمنظورِ خدا پیغمبر اکرمؐ کے نزدیک علیّ مرتضیٰؑ کا جو روحانی اور نورانی مرتبہ ہے اس کو سمجھنے کے لئے اُن تمام آیاتِ قرآنی کا بغور مطالعہ کیا جائے، جو فضائلِ ہارونی سے متعلق ہیں، بلکہ اِس ارشادِ مبارک کا بطورِ حوالہ یہ تقاضا ہے کہ دانشمند مومنین قصّۂ موسیٰؑ کو سرتا سر پڑھیں اور اس کی گہرائی میں اُتر کر نبوّت اور امامت کی حقیقتوں کو سمجھ لیں، کیونکہ انبیائے قرآن کے تمام قصّوں میں صرف قصّۂ موسیٰؑ ہی ایک ایسا قصّہ ہے کہ اس میں پیغمبر کے علاوہ امام کی اہمیت و ضرورت بطریقِ حکمت ظاہر کی گئی ہے، ہر چند کہ سلسلۂ امامت ہمیشہ سے جاری ہے۔

یہ پُرحکمت حدیث دُور رس معنی کی حامل ہے، اور اس میں ماضی، حال اور مستقبل میں جس طرح قانونِ دین کی صورتِ حال ہے اس کا ذکر فرمایا گیا ہے، وہ یہ کہ اِس فرمانِ نبوّی میں حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کا حوالہ ماضی ہے، آنحضرتؐ اور مولا علیؑ کا ذکر حال ہے اور آپؐ کے بعد کسی نبی کا نہ ہونا مستقبل کی بات ہے، چنانچہ

 

۱۷

 

اس ارشاد کا وسیع تر مفہوم یہ ہوتا ہے کہ پہلے ہمیشہ سے امام تھے، جس کی مثال زمانۂ موسیٰؑ ہے جس میں ہارونؑ امام تھے، آنحضورؐ کے ساتھ بھی امام موجود تھے، جو امیرالمؤمنین علیؑ تھے، اور آنحضرتؐ کے بعد جبکہ قیامت تک کوئی نبی نہیں ہے تو یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ کوئی امام ہو، اور وہ برحق امام اور ہارونِ زمان علی ہی ہیں، جس کی نسلِ اطہر میں مسلسل امامت تا روزِقیامت جاری و باقی ہے، کیونکہ مذکورہ حکمِ (حدیث) میں علی سے جو مماثلِ ہارون ہیں صرف کارِ نبوّت کی نفی کرتے ہوئے جملہ فضائل و مناقب کا اثبات کیا گیا ہے، اور زبانِ حکمت سے فرمایا گیا ہے کہ مرتضیٰ علیؑ نبیِّ رحمتؐ کے ساتھ اور آپؐ کے بعد بتوسّطِ اولاد تاقیامت امامِ برحقؑ ہیں، اور رسولِ خداؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، ورنہ وہ بھی علیؑ ہی ہوتے، کیونکہ علیؑ امام، ھادی اور ولیِّ امر کے جملہ اوصاف سے موصوف ہیں۔

اِس محکم دلیل سے یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ مرتبۂ علیؑ بحیثیتِ سلسلۂ امامت و خلافت اِس دنیا میں قیامِ قیامت تک قائم و دائم ہے، تاکہ زمانے کے امام کی مبارک شخصیت علم و حکمت اور رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہو، اور حضورِ اقدسؐ کی ایسی نیابت و جانشینی سے جو ہر طرح سے کامل اور مکمل ہے، ختمِ نبوّت کی حقیقت ایک ٹھوس حقیقت ہی رہ سکے۔

یہاں عقل و دانش سے کام لے کر خوب سوچنے کا مقام ہے کہ اگر دینِ خدا (اسلام) میں مرتبۂ رسالت و نبوّت کے بعد امامت کا درجہ لازمی نہ ہوتا، تو پیغمبرِ خداؐ مولا علیؑ کو مماثلِ ہارونؑ قرار دیکر شانِ علیؑ کی شناخت کے لئے اُن تمام پُرحکمت آیات کی طرف اشارہ نہ فرماتے جومولانا ہارونؑ کے بارے میں ہیں، چنانچہ اِس فرمانِ رسولؐ سے دو طرفہ حکمت روشن ہو جاتی ہے، اُدھر یہ کہ مولانا ہارونؑ پیغمبر بھی تھے اور امام بھی، اور اِدھر یہ کہ مولانا علیؑ امام تھے اور پیغمبر نہیں، مگر آپؑ حضرت ہارونؑ ہی کی طرح نائب و نمائندۂ پیغمبرؐ تھے۔

 

۱۸

 

یہ بابرکت حدیث زبانِ حکمت سے کہہ رہی ہے کہ قرآنِ حکیم میں جو جو فضائل و مناقب براہِ راست حضرت ہارونؑ کے بارے میں ہیں، وہ سب بالواسطہ امیرالمومنین علیؑ سے بھی متعلق ہیں، لہٰذا دوستدارانِ علیؑ کو چاہئے کہ وہ آئینۂ اوصافِ ہارونی میں حسن و جمالِ مرتضویؑ کو دیکھا کریں، تاکہ ان کی روح اِس عرفانی غذا سے قوّی اور توانا ہوجائے۔

اگرچہ حضرت ہارونؑ نبی بھی تھے اور امام بھی، لیکن یہ بھید ہر کس و ناکس کی ذہنی رسائی سے بالاتر ہے کہ آپؑ نے زیادہ سے زیادہ کام کس پہلو سے انجام دیا؟ نبوّت کے پہلو سے یا امامت کے پہلو سے؟ حالانکہ نظریۂ امامت کی مکمّل روشنی میں دیکھنے سے یہ رازِ سربستہ معلوم ہوجاتا ہے کہ ہارونؑ اپنے زمانے کے ایک عظیم امام (یعنی اساس) تھے، اس لئے آپؑ کا زیادہ تر تعلق امورِ باطن اور کارہائے روحانیّت سے تھا، اور یہی تعریف ہر امام کی ہے۔

قرآنِ حکیم (۲۵: ۳۵) میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: “اور البتہ ہم نے موسیٰؑ کو کتاب (توریت) عطا کی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ھارونؑ کو (ان کا) وزیر بنایا۔” یہاں دینی عقل کی روشنی میں سوچنے کی ضرورت ہے، کہ حضرت ہارونؑ جس طرح حضرت موسیٰؑ کے وزیر تھے، اس میں سب سے پہلے کتابِ آسمانی کی وزارت کی بات آتی ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ مولانا امام ہارون علیہ السّلام روح کتاب یعنی نورِتوریت کےحامل تھے، کیونکہ وزیر وزر سے ہے، وِزر بوجھ کو کہتے ہیں اور وزیر بوجھ اُٹھانے والے کا نام ہے، اور قرآنی الفاظ وہ ہیں جن کے لغوی معنی میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔

ارشادِ خداوندی ہے کہ: اور ہم ہی نے یقیناً موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان (حق و باطل کو فرق و جدا کرنے والا معجزہ) اور نور اور ذکر عطا کیا پرہیزگاروں کے لئے (۲۱: ۴۸) اِس حکمِ قرآنی سے یہ حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے کہ پیغمبرؐ اور امامؑ کی شناخت تقویٰ کے

 

۱۹

 

بغیر ناممکن ہے اور ان کے حضورِ اقدس سے فیضانِ علم و حکمت بھی پرہیز گاروں ہی کے لئے مخصوص ہے۔

جب رسول اللہؐ پر قصّۂ موسیٰؑ کے سلسلے میں یہ آیات نازل ہوئیں: وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْ هٰرُوْنَ اَخِی اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْ وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْ (۲۰: ۲۹ تا ۳۲) تو پیغمبرِ خداؐ نے حق تعالیٰ سے درخواست کی: ۔”وَ اَنَا اَقُولُ کما قالَ موسیٰ: ربِّ اجْعَلَ لّی وَزِیْراً مّنْ اَھْلِی، عَلِیّاً اَخْیِ ، اشدُدْ بہٖ اَزْرِیْ ، اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْ ۔ اے پروردگار میں بھی عرض کرتا ہوں ، جیسے موسیٰؑ نے عرض کیا: اے پروردگار! میرے واسطے میرے خاندان میں سے ایک وزیر مقرر کر دیجئے، یعنی علی کو، کہ میرے بھائی ہیں ، ان کے ذریعے سے میری قوّت مستحکم کر دیجئے اور ان کو میرے کام میں شریک کر دیجئے۔”

 

خانۂ حکمت

۷۔اپریل۔۸۱

 

نوٹ: “قرآن اور نورِ امامت” کے صفحہ ۴۳اور ۴۴ پر دیکھیں، نیز تفسیر دُرِّمنثور جلدِ چہارم ، صفحہ ۲۹۵ ملاحظہ ہو۔

 

۲۰

 

قرآنی لفظ “برکت” میں حکمت

 

برکت کا ذکر قرآنِ پاک میں ۳۲ مقامات پر آیا ہے، اور اس کی مثال اُن چیزوں سے دی گئی ہے، جو زمین اور پہاڑوں سے مسلسل پیدا ہوتی رہتی ہیں، مثلاً معدنیات، نباتات، جانور وغیرہ، یعنی وہ تمام چیزیں جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں، نیز برکت کی تشبیہہ اُن جملہ اشیاء سے دی گئی ہے جو پانی کی بدولت پیدا ہوتی ہیں، جن کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، آپ یہ دونوں مثال (۴۱: ۱۰) اور (۵۰: ۰۹) دیکھ سکتے ہیں۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ برکت کے معنی و مفہوم کیا ہیں، سو مذکورۂ بالا بیان سے ظاہر ہے کہ کسی مفید چیز یا نعمت کے سرچشمے کا ہمیشہ جاری رہنا برکت ہے، جیسے زمین، پہاڑ اور پانی کی پیداوار کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

یاد رہے کہ ہستی یا وُجود جس چیز کا نام ہے، وہ ہمیشہ تین درجات کو شامل (پر مشتمل) ہےـ: جسم، روح اور عقل، چنانچہ برکتیں بھی تین ہیں، یعنی مادّی، روحانی اور علمی (عقلی) تاکہ عدل و انصاف کا تقاضا پورا ہو سکے، کیونکہ پروردگارِ عالمین کی ہر ہر تعریف اس لئے ہے کہ وہ نہ صرف اِس دُنیائے جسمانی کا ربّ ہے بلکہ وہ عالمِ ارواح اور عالمِ عقول کا بھی پروردگار ہے، لہٰذا مادّی اور جسمانی برکتوں کے مقابلے میں روحانی اور عقلی برکتیں کہیں زیادہ ضروری اور لازمی ہیں۔

قرآن میں خداوندِ عالم کے بڑے بابرکت یعنی برکت والا ہونے کا ذکر آتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اللہ پاک بذاتِ خود ہر قسم کی برکتوں کا منبع و سرچشمہ

 

۲۱

 

ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سبحان سرچشمہائے برکات کا بادشاہ ہے، جس طرح اُس نے پہاڑ کو مادّی برکتوں کا سرچشمہ بنایا۔

سورۂ رحمٰن جو اسرارِ خداوندی کی عُروس (دُلہن) ہے، جس کی تمام حکمتیں بطورِ خاتمہ و خلاصہ آخری آیت میں جمع کی گئی ہیں، اِس (۵۵: ۷۸) میں فرمایا گیا ہے کہ: (اے محمدؐ) تمہارا پروردگار جو صاحبِ جلال و عظمت ہے اس کا (بزرگ) نام بڑا بابرکت ہے۔ اس سے وہ اسمِ اعظم مراد ہے، جس کو نورِ حیُّ و حاضر کہا جاتا ہے، اور وہی تمام خدائی برکتوں کا سرچشمہ ہے۔ آیۂ بیعت (۴۸: ۱۰) سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ دستِ خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں، اور اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ جو ذاتِ بابرکات خدا کے ہاتھ ہونے کا مرتبۂ عُظمیٰ رکھتی ہے، اسی میں خدا نے روحانی سلطنت بھی رکھی ہے، اور برکت بھی خداوندِ عالم کے اسی ہاتھ میں ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے کہ: تَبٰرَکَ الَّذی بِیَدِہِ المُلکُ وَ ھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدِیر (۶۷: ۰۱)۔ وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی خدا اِس سے پاک و برتر ہے کہ اس کا اس طرح ہاتھ ہو، جس طرح انسان کا ہوتا ہے، مگر اس کے دو ہاتھ عالمِ روحانی میں عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ ہیں اور عالمِ جسمانی میں ناطق اور اساس ہیں اور سلطنتِ روحانی کی تمام برکتیں خدا کے انہی ہاتھوں میں ہیں۔

سورۂ نمل میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: فَلَمَّا جَآ ئَ ھَا نُودِیَ اَنْ بُورِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَولَھَا (۲۷: ۰۸) جب موسیٰ اُس (آگ) کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ (نور) میں ہیں بابرکت ہیں اور وہ جو آگ کے اِردگرد ہیں۔ اِس سے صاف ظاہر ہے کہ جس نور کا یہاں ذکر ہے وہ ذاتِ سبحان نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقت مظہریت و نمائندگی کی ہے، کیونکہ اس میں کئی علامتیں ایسی ہیں، جن سے ذاتِ باری تعالیٰ برتر اور

 

۲۲

 

پاک ہے، مثلاً لفظ بُورِکَ (اُسے برکت دی گئی/ہے) خدا کے لئے نہیں آسکتا ہے، اِس لئے کہ یہ محال ہے کہ کوئی ہستی خدا کو برکت دے اور اُس پر برکت دینے کا فعل واقع ہو، پس یہاں اگر “مَنْ” کی ضمیر واحد ہے تو یہ ہادیٔ برحق کے لئے ہے اور اگر یہ جمع ہے تو اُن عالی قدر روحوں کے لئے ہے، جو اصل نور ہو چکی ہیں، وہ ایک بھی ہیں اور بے شمار بھی، اور اِس ضمیر (مَنْ) کے دونوں معنی درست ہیں، آپ قرآن میں “مَنْ” کے استعمال کو دیکھ سکتے ہیں کہ یہ واحد، تثنیہ، جمع، مذکر، مونث سب ذی عقول کے لئے آتی ہے۔

بُورِکَ میں عقل و جان کی برکتوں کی طرف اشارہ ہے، اور اگر اس میں مادّی برکت کا بھی ذکر ہو تو وہ ثانوی چیز ہے، عقل کے لئے برکات روحانی علوم اور حقائق و معارف کا سلسلہ ہے، روح کی برکتیں فرشتگانہ عبادات ہیں، اور جسمانی برکتیں ظاہری نعمتوں کی صورت میں ہیں۔

برکت کے موضوع سے متعلق جملہ آیات میں زیادہ سے زیادہ عقل و جان کی بَرکات کا ذکر ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے: (یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہلِ عقل نصیحت پکڑیں (۳۸: ۲۹)۔ ظاہر ہے کہ قرآن میں عقلی اور روحانی برکتوں کے خزانے پوشیدہ ہیں، اگر اس کی تمام برکتیں ظاہر اور کھلی مل سکتیں، تو پھر غور کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی، اور عقل والوں کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس کی برکتوں کو حاصل کر سکتے مگر ایسا نہیں ہے۔

مسجدِ اقصیٰ جس کے گرداگرد برکتیں رکھی ہوئی ہیں (۱۷: ۰۱) روحانیّت کا دوسرا انقلابی اسمِ اعظم ہے، کیونکہ یہاں مسجد کی تاویل اسمِ بزرگِ خدا ہے، جو نور بھی ہے اور شخصیت بھی، یعنی درجۂ امام کے بعد درجۂ اساس، جیسے آنحضرتؐ مسجدِ اقصیٰ کی طرف تشریف لے گئے اور یہاں برکتوں سے اسرارِ روحانیّت مراد ہیں۔

 

۲۳

 

قرآن کہتا ہے کہ: اور ابراہیم اور لوط کو اُس سرزمین کی طرف بچا نکالاجس میں ہم نے اہلِ عالم کے لئے برکت رکھی ہے (۲۱: ۷۱) اِس ارض سے حدودِ دین اور روحانیّت کی زمین مراد ہے، جس میں تمام اہلِ جہان کے لئے برکتیں رکھی ہوئی ہیں۔

ارشاد ہوا ہے کہ: اور ہم نے تیز ہوا سلیمانؑ کے تابع (فرمان) کر دی تھی جو ان کے حکم سے اُس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی ہے (۲۱: ۸۱)۔ تیز ہوا کی تاویل قوّتِ اسرافیلیّہ ہے اور برکت والی زمین (ارض) زمینِ روحانیّت ہے۔

فرمانِ خداوندی کا ترجمہ ہے کہ: اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہو جاتے تو ہم اُن پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے (۰۷: ۹۶) یعنی حدودِ دین کے آسمان و زمین کی برکتیں، جو عقل و جان کے لئے ضروری ہیں کیونکہ جسمانی برکتیں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔

لفظِ “برکت” میں تاویلی حکمت ہونے کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن میں کافروں کی دولت کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے، اور کبھی یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ منکرین کو کسی چیز میں برکت دی گئی تھی۔

درختِ زیتون کو مبارک (بابرکت) قرار دیا گیا ہے (۲۴: ۳۵) جس سے امامِ برحقؑ کی شخصیت مراد ہے اور روغنِ زیتون امامِ عالی مقامؑ کی پاک روح اور روحانیّت ہے۔ شخصِ امامت کے بابرکت ہونے میں کسی مومن کو کیا شک ہو سکتا ہے اور یہ کلام ایسا ہے جیسے حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا: اور میں جہاں ہوں مجھے صاحبِ برکت بنایا ہے (۱۹: ۳۱)، یعنی پیغمبرؐ اور امامؑ سے جو جو برکتیں لوگوں کو میّسر ہو جاتی ہیں وہ نہ صرف ان کے مقامِ عقل اور درجۂ روح سے متعلق ہیں بلکہ مرتبۂ جسم سے بھی حاصل ہو جاتی ہیں۔

شبِ قدر (حجتِ حضرتِ قائمؑ) اِس معنٰی میں مبارک ہے کہ اس میں نورِ قائم

 

۲۴

 

کا نزول ہوتا ہے اور فرشتوں اور روح کا نزول ہوتا ہے (۴۴: ۰۳) آپ سورۂ قدر (۹۷) کو دیکھیں۔

(خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمان میں (بارہ) بُرج بنائے اور ان میں (روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بنایا (۲۵: ۶۱) یعنی خدا تعالیٰ کی جانب سے کائناتِ دین کے لئے برکت یہ ہے کہ اُس نے ہادیٔ برحق کو نورانی سورج، ان کے باب کو ماہِ درخشان اور بارہ حجتوں کو علمِ دین کے منارہ بنایا۔

اہلِ بیتِ رسولؐ پر خدا کی رحمت اور برکتیں نازل ہوتی رہتی ہیں، جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ کے اہلِ بیت کے بارے میں ارشاد ہے: فرشتوں نے کہا، کیا تم امرِ خدا سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہلِ بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں (۱۱: ۷۳) اس کا اشارہ یہ ہے کہ خاندانِ رسولؐ مومنین و مسلمین کے لئے باعثِ رحمت و برکت ہے۔

طوفان تھم جانے کے بعد حضرت نوحؑ کو حکم ہوا کہ اے نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اُتر آؤ (۱۱: ۴۸) یعنی روحانی طوفان سے سلامتی (تائید) اور تاویلی بَرَکات اپنے ساتھ لیتے ہوئے زمینِ دعوت پر اُتر آؤ۔

یہاں اُمَمٍ(اُمّتیں یا جماعتیں) بصیغۂ جمع اس لئے ہیں کہ ہر زمانہ کے اہلِ نجات کشتیٔ نوح میں تھے، چنانچہ فرمایا گیا ہے: جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں) کو کشتی میں سوار کر لیا (۶۹: ۱۱) یعنی کشتیٔ نورِ ہدایت میں۔

 

خانۂ حکمت

کراچی

۳۔اکتوبر۔ ۱۹۸۲ء

 

۲۵

 

نورانی وقت

 

نورانی وقت سے وہ خاص وقت مراد ہے جو ہنگامِ سحر خصوصی ذکر کے لئے مقرّر ہے، قرآنِ حکیم کے کئی مقامات پر اِس نور کے وقت کی تعریف و توصیف کی گئی ہے۔

ارشاد ہوا ہے کہ: اِنَّ قراٰنَ الفَجر کَانَ مشھُوداً (۱۷: ۷۸) بے شک صبح کا پڑھنا (یعنی ذکر روحانی چیزوں کے ) حاضر ہونے کا وقت ہے۔

“قرآن الفجر” صبح کا ذکر ہے یعنی خصوصی عبادت اور مشہود کا مطلب ہے  چشمِ باطن کے سامنے چیزوں کا حاضر ہو جانا یعنی روشنی اور روحانیّت کا ظہور۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ صبح ہی وہ وقت ہے جس میں ذکر کرنے سے دل کی تاریکی دُور ہوجاتی ہے، روح کی آنکھ کھل جاتی ہے اور عالمِ روحانی سامنے حاضر ہو جاتا ہے۔

اگرچہ “مشہود”  کے لفظ میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ کیا کیا چیزیں حاضر ہو جاتی ہیں اور نہ ہی اس میں کوئی حدّ بتائی گئی ہے، مگر عقل و دانش کے لئے ظاہر ہے کہ اس میں ان تمام چیزوں کی حاضری مقصود ہے جو انسان کی ظاہری نظر سے غائب ہیں ، یعنی کامیاب ذکر کے نتیجے میں بوقتِ صبح عالمِ غیب سے پردہ اُٹھایا جاتا ہے اور روحانی طور پر ہر چیز حاضر ہو جاتی ہے لیکن یہ صرف ایک دن کی بات نہیں، اس کے لئے مسلسل کوشش چاہئے۔

سورۂ مزمّل میں نورانی وقت میں خاص عبادت کرنے کا بیان ہے اور قرآن میں جہاں جہاں رات کی عبادت کا ذکر آیا ہے اس کا مقصد بھی صبح کے وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ جو مومن جس قدر صبح پہلے اُٹھے گا

 

۲۶

 

وہ اتنا زیادہ نورانی وقت سے فائدہ اُٹھائے گا۔

انبیاء و اولیاء اور مومنین کی روحانیّت درجہ وار ہے، مگر ان سب میں کچھ باتیں مشترک بھی ہیں، اور ایک بات یہ ہے کہ سب کو روحانیّت کی ابتدائی روشنی صبح کے وقت نظر آتی ہے اور بڑے بڑے معجزات بھی نورانی وقت میں پیش آتے ہیں۔

یہ حقیقت قرآن میں ہے اور عملی روحانیّت اس کی تصدیق کرتی ہے کہ نیند کے ساتھ ساتھ انسان کی روح کے پرانے ذرّات قبض کئے جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے ذرّات ڈالے جاتے ہیں، یہی وہ راز ہے جس میں نورانی وقت کی سعادت پوشیدہ ہے، پس صبح سویرے نئی تازہ روح میں جو تقصیرات سے کسی حد تک ہلکی ہوتی ہے، کامیاب ذکر ہو سکتا ہے۔

یہ بات بہت ہی عجیب ہے جو ہم نے کہا کہ روح کے ذرّات ہوتے ہیں، یعنی ایک شخص میں لاتعداد روحیں ہیں، اور یہ اُس  سے بھی زیادہ عجیب ہے، جو کہا گیا کہ آدمی ہر روز جزوی طور پر مرتا ہے اور پھر جزوی طور پر زندہ ہو جاتا ہے مگر اس میں تعجب کی کیا بات ہے جبکہ یہ روحانی علم ہے اور ہم الحمدللہ  روح شناس ہیں، سو ہم ایسی باتیں ہمیشہ کہتے رہتے ہیں، چنانچہ قرآن (۳۹: ۴۲) کو دیکھئے کہ انسان کی ایک کُلّی موت ہے اور ایک جزوی موت، کُلّی موت یہ کہ وہ ایک دن پوری طرح سے مر جاتا ہے جسے سب جانتے ہیں اور جزوی موت یہ کہ ہر نیند میں اس کی روح کے ذرّات بدلتے ہیں جس کو صرف روح شناس ہی جانتے ہیں۔

نورانی وقت کی فضیلت کے باب میں کئی حدیثیں وارد ہوئی ہیں، مثلاً ایک حدیثِ قدسی کا یہ مفہوم ہے کہ دستِ قدرت نے قالبِ آدم کے گارے کو چالیس صبحوں میں مکمل کر دیا تھا، اس کا اشارہ یہ ہے کہ مومن کی روحانی تخلیق نورانی وقت میں  ہوتی ہے اور اس کی کم سے کم مدت چالیس دن ہیں یعنی چالیس صبح، چنانچہ آدم، جو اپنے

 

۲۷

 

وقت کا انسانِ کامل تھا، نورانی وقت میں خصوصی عبادت کیا کرتا تھا، اس کی روحانی تخلیق کے لئے چالیس صبحیں لگی تھیں۔

میرے بہت ہی پیارے بچو! تم صبح وقت پر اُٹھا کرو، اور خوب تیاری کے ساتھ ذکرِ الٰہی میں مصروف ہو جاؤ اور چالیس دن تک ایسی شاندار خصوصی عبادت کرو کہ جس سے تم کامیاب ہو سکو، اگر اِس قلیل مدّت میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی ہے تو سمجھ لو کہ تم حضرت آدم خلیفۂ خدا کی طرح تو نہیں ہو، اس لئے تمہیں مزید کورس کی ضرورت ہے، مگر یہ نہیں معلوم کہ تم کو یہ چہل روزہ (چالیس دنوں کا) کورس کتنی دفعہ دُہرانا چاہئے، بہرحال جب ذکر سے  مزہ آنے لگتا ہے تو معاملہ آسان ہو جاتا ہے۔

 

میرا ارادہ تھا کہ نورانی وقت کے بارے میں کچھ مفید باتیں بتاؤں مولا کا شکر ہے کہ عمدہ عمدہ باتیں بتائی گئیں۔

فقط آپ کا “سر”

نصیرؔ ہونزائی ۔۳۰۔جون۔ ۱۹۸۰ء

 

۲۸

 

ذکر و تسبیح کا ایک انعام

 

ویسے تو ذکر و تسبیح کے بے شمار انعامات ہیں جن کی تشریح نہیں ہو سکتی ہے مگر مثال کے طور پر کسی ایک انعامِ خداوندی کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں، چنانچہ جب ہم قرآنِ حکیم میں عبادت اور ذکر و تسبیح کے موضوع سےمتعلق آیات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں عبادت و بندگی کے گونا گون نتائج سے آگہی ہوتی ہے اور جب ہم اِس سلسلے میں سورۂ احزاب (۳۳) میں نگاہ کرتے ہیں تو اللہ کا یہ ارشاد سامنے آتا ہے:۔

اے ایماندارو! بکثرت ذکرِ الٰہی کر لیا کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو وہ وہی ہے جو خود تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جائے اور خدا ایمانداروں پر بڑا مہربان ہے(۳۳: ۴۱ تا ۴۳)

میں نے اس آیت کا انتخاب اِس لئے کیا ہے کہ اِس میں انقلابی علم و حکمت ہے، وہ یہ کہ خدا اور اس کے فرشتے مومنین پر اِس حالت میں درود بھیجا کرتے ہیں جبکہ وہ مومنین کثرت سے ذکر کرتے ہیں اور صبح و شام تسبیح کر لیا کرتے ہیں۔ تو کیا پروردگار کے حضور سے اور اس کے عظیم فرشتوں کی طرف سے بندوں پر درود کا نزول تعجّب خیز بات نہیں ہے؟ کیونکہ یہ صلوات اتنی عالی ہے کہ ہم بندے اِسے اپنی دانست اور دینی رسم کے مطابق صرف پیغمبرؐ اور آپؐ کی آل کی شان میں پڑھتے ہیں۔

اس کی تاویل ہم نے لکھی ہے جس کی نقل بعد میں بھیجیں گے فی الحال اس میں غور کیا جائے کہ یہ انعام بھی کتنا عظیم ہے کہ مومنین پر اللہ تعالیٰ اور اس کے بڑے

 

۲۹

 

بڑے فرشتے صلوات بھیجا کرتے ہیں، جبکہ مومنین ذکر و تسبیح کی شرط بجا لاتے ہیں۔

اس سے یہ راز بھی کُھلتا ہے کہ مولا کی رحمت اور بندے کی حرکت کی مثال ایسی ہے جیسے کسی انسان کو رسّی کی مدد سے کسی گہرے خزانے میں اتارا گیا ہے، اب اگر رسّی اوپر کے سرے سے ہلتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جلدی کرو خزانہ سمیٹ کر بلندی کی طرف آ جاؤ، اور اگر نیچے سے ہلتی ہے تو اس کے معنی ہیں کہ میں خزانہ لے کر منتظر ہوں مجھے اوپر نکالاجائے، دونوں صورتیں ممکن ہیں اور دونوں میں بھلائی ہے۔

۱۔قرآن کی حکمتوں کو جاننے سے دل پر مسرّت و شادمانی کے میٹھے میٹھے دھکّے لگتے ہیں اور روحانیّت کے بھیدوں کو جاننے سے بھی ایسا ہوتا ہے۔ یہ ایمان کی اونچی سطح پر فائز ہونے کی علامت ہے۔

۲۔ قرآنِ حکیم (۲۷: ۰۸) میں ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ نے دُور سے روشنی کو دیکھ کر آگ خیال کیا اور پھر نزدیک آیا تو نِدا ہُوئی کہ: بُورِکَ مَنْ فیِ النَّارِ ومَنْ حَوْلَھَا یعنی مبارک ہیں جو اس آگ کے اندر ہیں اور جو اس کے گردا گرد ہیں۔

۳۔ اس سے ظاہر ہے کہ حقیقت میں نور کو نار (آگ) کہا جا سکتا ہے، اس معنی میں کہ اس کی کیفیّت ایک اعتبار سے آگ کی طرح ہے، کہ نور اعلیٰ درجے کی روحوں کو جلا جلا کر نور بنا لیتا ہے اسی لئے فرمایا گیا کہ جو حقیقی عشق میں جل کر نور بن چکے ہیں اور نور کے اندر رہتے ہیں وہ بڑے بابرکت ہیں اور جو جلنے کے قریب ہیں اور روشنی و گرمی کو حاصل کر رہے ہیں وہ بھی دوسرے سے بہت آگے ہیں اور نور کی برکتوں کو حاصل کر رہے ہیں۔

۴۔ اس میں سوچنے سے بہت سی عمدہ باتیں یعنی حکمتیں سمجھ میں آسکتی ہیں، وہ اس طرح کہ علم اور عشق و عبادت کے وسیلے سے پگھلنا اور جلنا خدا کے نور میں ایک ہو جانا ہے، امام کے اِس نور میں ایندھن کی طرح جلنے کے لئے یقین اور سچّی محبّت چاہئے

 

۳۰

 

اور علم، تاکہ جس سے سمجھ آئے اور ہمّت ہو۔

۵۔ جب بندۂ مومن کسی طرح سے بھی امام کو یاد کرتے کرتے آنسوؤں کی بارش برساتا ہے، تو وہ خدائی نور میں جلنے لگتا ہے، اور اگر وہ اِس عمل میں ترقی کرے تو یقیناً ایک نہ ایک دن بڑے پیمانے پر نور بن جانے کا تجربہ حاصل کر سکتا ہے۔

۶ ۔ اِس آیت میں زبردست حکمت ہے، اور رحمت یہ کہ اس کا سمجھ لینا بہت آسان ہے، کیونکہ اس کے اندر اسماعیلی حقیقت بہت نمایان ہے، یہی حقیقی اسلام ہے یہی تصوّف اور یہی Monorealism ۔

۷۔ مونوریالزم (یک حقیقت) کتنی عظیم رحمت ہے، اسرارِ روحانیّت کا عظیم خزانہ اور ازلی و ابدی بہشت۔

آیت کی بہت کچھ تشریح چاہئے۔

 

والسّلام

آپکا “سر” اور علمی باپ

نصیرؔہونزائی

۳؍۳؍۱۹۸۰ ء

 

۳۱

 

سنہری نصیحت ۔ ۱

دائِمُ الذِّکر

 

پیر پندیاتِ جوانمردی کی مقدّس کتاب میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حقیقی مومن وہی ہے جو “دائمُ الذّکر” ہوا کرتا ہے، اور یہاں اِس حقیقت کی وضاحت بہت ہی ضروری ہے کہ دائمُ الذّکر کا کیا مطلب ہے، چنانچہ جاننا چاہئے کہ “دائمُ الذّکر” اس باعمل بندۂ مومن کو کہا جاتا ہے جو ہر روز کثرت سے خدائے پاک کو یاد کرتا ہے، بلکہ مسلسل اور ہمیشہ یادِ الٰہی میں مصروف رہتا ہے، خواہ پروردگارِ عالم کی یہ یاد ایک ہی اسم سے ہو یا مختلف اسماء سے، ذکرخفی ہو یا جلی، ذکرِ خداوندی کی نوعیّت چاہے کچھ بھی ہو، جیسے خاص و عام عبادات، حمد و ثنا، نعمتوں کی شکرگزاری، مناجات، مذہبی کتابوں کا مطالعہ، علمی اور روحانی مجالس کی حاضری، گر یہ وزاری، شوقِ دیدار وغیرہ یہ سب ذکرِ خدا ہے، اور اسی طرح جو یادِ الٰہی میں مصروف رہے اس کو “دائمُ الذّکر” کہا جاتا ہے، اور ایسا مومن بڑا خوش نصیب اور کامیاب ہوتا ہے۔

آپ اگر کسی کو ہزار گونہ غیر منظّم نصیحتیں کرتے رہیں اور طرح طرح کی ہدایات دیتے جائیں، تو پھر بھی ان ساری دینی باتوں سے اس کو کوئی مستقل فائدہ نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کو ایک کامل متّقی اور پرہیزگار شخص کی طرح اپنے حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن پر مکمّل ضبط اور کنٹرول قائم نہ ہو، اور یہ زبردست اور مشکل کام کیسے ہوسکتا ہے، جب تک کہ دل پر پورا پورا کنٹرول نہ ہو، کیونکہ وہی تو ہے جو حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن کے جنکشن اور مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، مگر دل پر سخت کنٹرول کرنا اور اس کو ہر طرح

 

۳۲

 

سے قابو میں رکھنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں، کیونکہ یہ تو بڑا معجزانہ کام ہے، لہٰذا دانشمند مومن کو چاہئے کہ وہ شب و روز کی کثرتِ ذکر سے اپنے دل کے گردا گرد ایک انتہائی مضبوط اور ناقابلِ شکست حصار قائم کرلے، تاکہ لشکرِ شیطان قلعۂ دل میں داخل نہ ہونے پائے، یعنی بندۂ مومن ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو پکارا کرے، اسی سے ہر وقت رجوع کرے، اسی کے ساتھ دل ہی دل میں مناجات جاری رکھے، اسی کے حضور میں اپنی ہر مشکل پیش کرے، اسی سے مدد اور یاری چاہے اور اسی سے دائمی طور پر محبّت رکھے، تاکہ ان تمام معنوں کے وسیلے سے وہ دائمُ الذّکرہو سکے۔

چنانچہ دائم خدا کو یاد کرنے سے دل پر صفاتِ رحمانیّت کا ضبط اور کنٹرول قائم ہوتا ہے اور جب اس ذریعے سے دل رحمان کے قبضۂ قدرت میں محفوظ رہتا ہے، تو حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن خود بخود شیطان کے شرّ سے چھٹکارا پاتے ہیں، اور جب اسی طرح مومن کی ظاہری اور باطنی قوّتیں خداوند تعالیٰ کے حفظ و امان میں محفوظ و سلامت ہو جاتی ہیں، تو اس کا نتیجہ ہزاروں نصیحتوں سے بڑھ کر نکلتا ہے، اور مومن کو معراجِ روحانیّت حاصل ہوتی ہے۔

پس حقیقی مومن کی کامیابی کا راز اِس بات میں ہے، کہ وہ اپنے خداوندِ قدّوس کو کثرت سے یاد کیا کرے، اور لمحہ بھر کے لئے بھی اس کو فراموش نہ کر بیٹھے، وہ یقیناً دنیا کے بہت سے کاموں کے باوجود “دائمُ الذّکر” ہو کر خدا کو پاسکتا ہے اور روحانیّت کی مثالی ترقی کرسکتا ہے ۔

 

خانۂ حکمت

۲۶۔مئی۔۱۹۷۹ء

 

۳۳

 

سنہری نصیحت ۔ ۲

حقیقی مسرّت و شادمانی کا راز

 

انہوں نے کہا کہ: “یہ تو بیشک ہم کو تجربہ ہو چکا ہے، کہ کثرت سے خدا کو یاد کرنے سے دل کو طمانیّت، راحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں، کہ ذکرِ الٰہی سے جو حقیقی مسرّت و شادمانی حاصل ہوتی ہے، اس کا پس منظر اور اصل راز کیا ہے؟”

آپ دیکھتے ہیں کہ ان دانشمند عزیزوں نے کتنا اہم، مفید اور سائنسی سوال اٹھایا ہے، جس کے مکمّل اور درست جواب کے سلسلے میں ایسی گہری حکمتوں اور حقیقتوں کی طرف اشارہ ممکن ہے، جن کے جاننے سے ذاکر مومنین کو حوصلہ اور ہمّت کی ایک نئی روح مل سکتی ہے، چنانچہ یہاں مذکورہ دلچسپ سوال کا جواب کئی پہلوؤں سے پیش کیا جاتا ہے: ۔

۱۔ قانونِ الٰہی کا یہ ایک اٹل فیصلہ ہے کہ انسان جس چیز کو محبّت سے اکثر یاد کرتا رہتا ہے، وہ فکر و خیال اور تصوّر میں اس کے ساتھ لگی رہتی ہے، اسی طرح جب بندۂ مومن اللہ کو خوب یاد کرتا ہے تو وہ مومن فکری، ذہنی اور روحانی طور پر خدائے برتر و بزرگ کے مقدّس قرب کو پاتا ہے، اور خداوند تعالیٰ کا قرب وہ اعلیٰ اور معجزاتی مقام ہے، جہاں خوف و غم کی گھناؤنی ظلمتیں مٹ کر امید و مسرّت کا نور طلوع ہو جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ذکرِ الٰہی کی کثرت سے حقیقی خوشی حاصل ہو جاتی ہے۔

۲۔ جب حقیقی مومن کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کر لیا کرتا ہے، تو وہ اس کے

 

۳۴

 

ذریعے وسوسۂ شیطانی کے پُرخطر پھندوں سے بچ کر خدا کی پناہ میں محفوظ اور سلامت رہتا ہے، اور یہ حکمت آگین عمل شیطان کے مسلسل حملوں کے خلاف ایک ایسا زبردست اور مضبوط و مستحکم قلعہ ہے، کہ وہ ایمان کا دشمن اس کی تسخیر اور فتح سے ناکام اور مایوس ہو کر دور ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ خوش نصیب مومن نفسِ امّارہ کی غلامی سے نجات پاکر عقل و ایمان کی بادشاہی کی راحتوں اور مسرّتوں سے وابستہ ہو جاتا ہے۔

۳۔ جس طرح اِس مادّی دنیا میں اگر ایک طرف تاریکی ہے تو دوسری طرف روشنی بھی ہے، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ انسان فطری طور پر ظلمتوں سے گھبراتا اور تنگ ہو جاتا ہے اور روشنیوں سے مسرور و شادمان، سو یہی مثال اس کی روحانیّت کی بھی ہے، کہ خدا کو بھول جانا باطن کی ظلمت ہے اور مکمّل ذکر نور، چنانچہ یادِ الٰہی سے حقیقی خوشی اس لئے حاصل ہوتی ہے کہ مومنِ ذاکر کی روح اپنے طور پر نورِ خداوندی کی ضیا پاشیوں کو دیکھتی ہے، اور جب روحانیّت کی نمایان ترقّی ہونے لگتی ہے تو مومن شعوری طور پر بھی اس کیفیت و حقیقت کا مشاہدہ اور تجربہ کر سکتا ہے۔

۴۔ فرمایا گیا ہے کہ: یاد رکھو کہ ذکرِ الٰہی سے دِلوں کو تسلّی ہوا کرتی ہے (۱۳: ۲۸) اور جاننا چاہئے کہ طمانیّت و تسلّی حصولِ مقصد اور اس کی امید و یقین کے بغیر ناممکن ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ذکر سے یا تو دل کا مقصد پورا ہو جاتا ہے یا ایسا ہونے کی پوری پوری امید ہوتی ہے، جس سے دل کو تسلّی اور خوشی ہوتی ہے۔

۵۔ دل کی کیفیّت بڑی عجیب و غریب شیٔ ہے، کہ اس میں بغیر کسی ظاہری آواز و تلفظ کے ہر وقت روحانی گفتگو کا ایک سلسلۂ لامُتناہی جاری رہتا ہے، جس میں نیکی اور بدی کے دونوں مؤکّل انسان کے ضمیر کی حالت پر خوب باریکی اور بڑے شدّ و مد سے بحث کرتے رہتے ہیں، اگر آدمی یادِ خدا سے غافل اور بُرائی کی طرف مائل ہے تو اس کی وجہ سے شرّ کے فرشتے کا زور چلتا ہے اور وہ اس آدمی کی مذمّت کرتا ہے جس کی بناء

 

۳۵

 

پر اس کو اندر ہی اندر سے بوریت، مایوسی اور غمگینی پیدا ہوتی رہتی ہے، اور اگر وہ خدا تعالیٰ کی یاد میں مصروف ہے، اور اس کے دل میں بھلائی کا رجحان پایا جاتا ہے، تو اس کے سبب سے خیرکا فرشتہ غالب ہو جاتا ہے اور وہ اس بندۂ ذاکر کی تعریف و توصیف کرتا ہے، جس کے اثرات باطنی مسرّت و شادمانی کی صورت میں مرتّب ہو جاتے ہیں۔

۶۔ جس طرح انسانی جسم کی اپنی الگ غذا ہے اسی طرح روح اور عقل کی بھی اپنی اپنی مخصوص غذائیں ہوا کرتی ہیں، چنانچہ روح کی خوراک ذکر و عبادت ہے اور عقل کی غذا علم و حکمت ، پس ذکر و بندگی سے روح کو تسکین و تسلّی اور خوشی اس لئے حاصل ہوتی ہے کہ اس سے اس کو نور کی غذائیّت اور تقویّت ملتی ہے۔

۷۔ اِس دنیا میں جہاں انسان کو گونا گون جسمانی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں، وہاں اس کو طرح طرح کی روحانی اور ذہنی بیماریوں سے دوچار ہوجانا بھی ممکن ہے، مگر ان دونوں قسم کی بیماریوں میں بڑا فرق یہ ہے کہ جسمانی مرض کا تو اکثر پتہ چل سکتا ہے کہ کیا ہے اور کہاں ہے، لیکن روحانی مرض کی نشاندہی انتہائی مشکل چیز ہے، لہٰذا نہ صرف علاج کے طور پر بلکہ حفظِ ما تقدّم کے اصول پر بھی کثرتِ ذکر کی تاکید فرمائی گئی ہے، تاکہ ہر حالت میں اس کا نتیجہ روح کی صحت و سلامتی اور راحت و خوشی کی صورت میں نکلے۔

۸۔ قرآنِ حکیم کا یہ پاک ارشاد ہے کہ انسان کی نیکیاں اس کی برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ( ۱۱: ۱۱۴ ) چنانچہ کثرت سے ربّ العزّت کو یاد کرنا اللہ تعالیٰ کی بخشش کا ایک ایسا اعلیٰ وسیلہ ہے کہ اس سے مومنین کے تمام گناہ دُھل سکتے ہیں، جس کا اشارہ بندۂ ذاکر کو سکونِ قلب اور حقیقی خوشی کی صورت میں ملتا ہے۔

۹۔ پروردگارِ عالم کے بابرکت نام میں روحانیّت اور آخرت کی ساری برکتیں اور نعمتیں سمو کر پوشیدہ ہیں، لہٰذا بندۂ مومن جس کثرت سے خدا کے نام کو یاد کرتا ہے اس

 

۳۶

 

کثرت سے اس کو روحانی برکتیں اور نعمتیں حاصل ہو جاتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ خوش ہو جاتا ہے۔

پس اِن مثالوں سےاس سوال کا مفصّل اور مکمّل جواب مہیّا ہوگیا، جس میں پوچھا گیا تھا کہ “ذکرِ الٰہی سے حقیقی مسرّت و شادمانی حاصل ہونے کا پس منظر اور اصل راز کیا ہے ۔”

 

نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی

۱۹۷۹ء

 

۳۷

 

سُجود میں سکون

 

سُجود (سجدہ) کے اصل معنی ہیں جُھکاؤ، یعنی فروتنی اور عاجزی کرنا، اور دینی اصطلاح میں سُجود اللہ تعالیٰ کی عظمت و بزرگی کے سامنے عجز و انکساری سے جُھکنے اور اس کی غلامی و بندگی کے تصوّر سے زمین پر سر رکھنے کو کہتے ہیں، اسی لفظ سے “سجّاد” ہے جو بہت عبادت گزار کے لئے استعمال ہوتا ہے، سجّادہ (جائے نماز) مسجد (عبادت، عبادتگاہ) مَسجَد (پیشانی) وغیرہ اسی مصدر سے ہیں، اور ان تمام الفاظ کے پس منظر میں بنیادی طور پر جھکنے کے معنی پوشیدہ ہیں۔

سجود کے تاویلی معنی اطاعت و فرمانبرداری ہیں، کیونکہ حکم ماننا گویا جُھکنا اور سجدہ کرنا ہے، چنانچہ خداوندِعالم نے ذرّاتِ ارواح و ملائکہ سے فرمایا کہ: فَقَعُوا لَہٗ سٰجدین (۱۵: ۲۹، ۳۸: ۷۲) پس تم گِر پڑو اس کے لئے سجدہ کرتے ہوئے، یعنی تم اے ذرّاتِ روحانی! رفعتِ روحانیّت سے وجودِ آدمؑ میں گِر پڑو اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری بجا لاؤ۔ سجود کی تین قسمیں ہیں،۱۔ سجودِ تسخیری جو جمادات، نباتات، حیوانات اور تمام انسانوں کے حق میں عام ہے، ۲۔ سجودِ اختیاری جو دائرۂ انسانیّت کے لئے مخصوص ہے ، ۳۔اور سجودِ عرفانی جو صرف اہلِ معرفت ہی کے لئے ہے۔ یہ سب سے ارفع و اعلیٰ اور خاص ترین ہے، اور نجاتِ آخرت اسی میں پوشیدہ ہے۔

آسمان و زمین کی کوئی چیز یا مخلوق ایسی نہیں جو اپنی فطرت کے مطابق خدا

 

۳۸

 

کے لئے تسخیری سجدہ نہ کرتی ہو، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت اور جانور یہ سب شعور و اختیار کے بغیر اسی سجود میں لگے ہوئے ہیں، یہی نہیں بلکہ تمام انسان بھی ایک پہلو سے ان چیزوں کے ساتھ سجودِ تسخیری کر رہے ہیں، اس کے بعد سجودِ اختیاری کا ذکر آتا ہے جو دنیا کے مختلف ادیان میں رائج ہے، مگر جب آپ قرآنِ پاک میں موضوعِ سجود کا بغور مطالعہ کریں گے تو یہ حقیقت روشن ہو جائے گی کہ بہت سے لوگوں کے سجدے ایسے ہیں، جن میں ابدی نجات کی کوئی ضمانت نہیں اور نہ اُن میں کسی بھی درجے کا حقیقی سکون ہے، کیونکہ وہ معرفت یعنی خدا شناسی کے بغیر ہیں، اس قسم کے سجدوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ: لاَ تَسجُدُوا لِلشَّمسِ ولاَ لِلقَمَرِ وَاسجُدُوا لِلّٰہِ الَّذی خَلَقَھُنَّ اِنْ کُنتُم اِیَّاہُ (۴۱: ۳۷) تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرنا اور نہ چاند کو اور اگر تم کو خدا ہی کی عبادت کرنی منظور ہے تو بس اسی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ یہاں یہ حقیقت پوشیدہ نہیں بلکہ ظاہر اور روشن ہے کہ اس نوعیّت کے سارے سجدے ممنوع ہیں، کیونکہ یہ معبودِ برحق کے لئے نہیں ہیں، مطلب یہ کہ ان میں معرفتِ خدا نہیں، پس ربّ العزّت کی رضا و خوشنودی صرف اور صرف اسی سجدے میں مخفی ہے، جو ہر قسم کے شرک کی آلائش سے پاک و پاکیزہ اور عرفان و توحید کے نور سے منوّر ہو، بس ایسے ہی سجدے سے عبادت و معنویت کا قابلِ اعتماد سکون حاصل ہو جاتا ہے۔

سجود کا قصّہ بڑا طویل بھی ہے اور از بس عجیب و غریب بھی، یہ حکمت آگین اور پُراسرار موضوع بیحد دلکش، جانفزا اور مسرّت بخش ہے، کیونکہ یہ کلامِ الٰہی کے اہم ترین مضامین میں سے ہے، اس کا ذکر قرآنِ پاک میں سب سے پہلے قصّۂ آدمؑ میں ملتا ہے، چنانچہ ابلیس جس نافرمانی کے سبب سے بارگاہِ ایزدی سے راندہ ہو گیا ہے وہ یہ تھی کہ اُس نے آدم علیہ السّلام کے لئے سجدہ کرنے سے انکار کیا، اور یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ

 

۳۹

 

اس کو دنیا بھر کے مذاہب والے انتہائی عبرتناک اور سبق آموز ہونے کی حیثیت سے کبھی فراموش نہیں کر سکتے، عدلِ خداوندی کی ترازو میں ایک طرف ابلیس کے ہزاروں برس کی عبادات اور نیکیاں تھیں، اور دوسری طرف صرف ایک ہی سجدہ نہ کرنے کی نافرمانی پھر لوگ اس مقام پر تعجب اور غور کیوں نہیں کرتے کہ اتنی ساری عبادت و نیکی کا وزن کیونکر نہ ہونے کے برابر ہوا اور کس وجہ سے ایک اکیلی نافرمانی کا پلّہ اتنا سنگین ہو کر زمین سے لگ گیا؟ ہر چند کہ وہ ساری عبادات خدائے واحد کے لئے تھیں، اور سجدے سے سرتابی کا سبب ابلیس کے نزدیک جو کچھ تھا وہ تو ظاہر ہے، مگر کوئی ہوشمند یہ کہنے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ ابلیس کے معاملے میں ظلم ہوا ہے، پس سوچنا چاہئے کہ اس میں ضرور کوئی سرِّعظیم پنہان ہے ۔

ارشادِ خداوندی ہے کہ: یَومَ یُکشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدعَونَ اِلیَ السُّجُودِ فَلاَ یَسْتَطِیعُونَ(۶۸: ۴۲) جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور لوگ سجدے کے لئے بلائے جائیں گے تو (سجدہ) نہ کرسکیں گے۔ یہ ایک عظیم اور پُرحکمت تاویلی اشارہ ہے، جس میں سجودِ عرفانی کا ذکر پوشیدہ ہے، چنانچہ ساقِ خدائی سے نورِ امامت کی پاک شخصیت مراد ہے جو زمین پر مظہرِ عقلِ کُلّی کی حیثیت سے ہے، ساق کھول دینے کے معنی ہیں امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کی عظیم الشّان اور پُرحکمت ہدایات کے کامیاب نتائج کا ظہور و اعلان، اور لوگوں کو سجدے کے لئے بُلانے کی تاویل یہ ہے کہ زبانِ قال و حال سے انہیں کہا جائے گا کہ تم کم از کم اِس وقت امامِ عالیمقامؑ کی اطاعت و پیروی کرو، مگر وہ یہ نہ کر سکیں گے، کیونکہ اِس سے قبل جب ٹھیک وقت پر ان کو دعوت دی گئی تھی، تو اس کو انہوں نے قبول نہ کیا تھا دران حالیکہ وہ سالم تھے (۶۸: ۴۳) یعنی وہ سجدۂ عرفانی کو بجا لانے سے قاصر تھے، اور اُن کا جُثۂ حقیقت جُھکا اور ٹوٹا ہی نہ تھا بلکہ وہ بالکل ہی سالم تھا۔

 

۴۰

 

اللہ تبارک و تعالیٰ کا مقدّس فرمان ہے کہ: وَ اَشْرَقَتِ الاَرضُ بِنُوْرِ رَبِّھَا(۳۹: ۶۹) اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اُٹھے گی۔ اس کے معنی یہ ہرگز نہیں کہ آئندہ کسی زمانے میں نورِ خداوندی آفتاب و ماہتاب کے ساتھ مل کر مادّی صورت میں طلوع ہو جائے گا اور جمادات، نباتات اور حیوانات کو پہلے سے کہیں زیادہ تابان و درخشان بنا دے گا، یہ بات قطعاً ناممکن ہے، بلکہ اِس آسمانی پیشگوئی کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں نورِ الٰہی اوجِ کمال سے عالمِ انسانیّت پر طلوع ہو جائے گا، جس کی بدولت روئے زمین پر علم و حکمت، عدل و انصاف، اتّفاق و اتّحاد اور اخلاقی ترقی کا دَور دَورہ ہوگا، مگر اہلِ دنیا میں وہ معرفت کہاں، جس سے انہیں یہ معلوم ہو سکے کہ مرکزِ نور کہاں ہے اور کیا ہے؟ یہ وہی زمانہ ہوگا جس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ پنڈلی کھول دی جائے گی اور لوگ سجدے کے لئے بلائے جائیں گے۔

آپ ذاتی طور پر بھی قرآنِ حکیم کی اُن حکمت آگین آیات کا گہرا مطالعہ کرکے دیکھیں جو سجود کے بارے میں ہیں، یقیناً بڑی گرانقدر معلومات فراہم ہو جائیں گی، کیونکہ سجدہ کا موضوع بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے، یہ نہ صرف عبادت کا عنوان اور سرنامہ ہی ہے بلکہ یہ اس کا اہم ترین جزو بھی ہے، سجود ہی بندۂ مومن کے لئے ایک ایسا کامیاب وسیلہ ہے، جس کی برکت سے وہ ہر بار حضورِ الٰہی میں انتہائی عاجزی اور نیازمندی کا مظاہرہ کرسکتا ہے، وہ اس موقع پر خودی اور خودنمائی کی آلودگی سے صاف پاک ہو کر محویت و فنائیت اور خداوندِ عالم کے قربِ خاص کو حاصل کر سکتا ہے، جیسا کہ ارشادِ قرآنی ہے: وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِب(۹۶: ۱۹) اور سجدہ کرتے رہو اور خدا کے نزدیک ہو جاؤ۔

سجدہ، سجود اور ساجد جیسے الفاظ قرآنِ مقدّس کے مختلف مقامات پر آٹھ کم سو (۱۰۰) دفعہ آئے ہیں جن کے ساتھ لازمی طور پر بہت سی دوسری پُرحکمت تشریحی آیاتِ مقدسہ شامل ہیں اور اگر ان لفظوں کے معانی و مطالب کی مزید وضاحت کے لئے مترادفات (ہم

 

۴۱

 

معنی الفاظ) سے بھی کام لیا جائے (جبکہ سجود کے ساتھ عبادت کا ذکر منسلک ہے، ساجد کا مطلب عابد ہے اور مسجود کا دوسرا لفظ معبود ہے) تو اس صورت میں یہ پُرحکمت موضوع قرآنِ کریم کی آخری حدود تک پھیل جاتا ہے۔

حقیقی سکون اور روحانی راحت کی غیر فانی اور لازوال دولت صرف ایسے بابرکت سجدوں میں ہے جو خداشناس مومنین عشق و محبت کے پاکیزہ آنسوؤں کے ساتھ بجا لاتے ہیں، جبکہ ان کے دل و جان پر رحمت و علم کے نور کی تابش ہونے لگتی ہے اور جبکہ اُن میں دینِ حق کی عظیم نعمتوں کے لئے شکرگزاری کا ایک طوفانی جذبہ اُبھرتا ہے، اور اسی سعادتمندی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ: وَ یَخِرُّوْنَ لِلاَذْقَانِ یَبکُونَ وَیَزِیدُھُم خُشوُعاً (۱۷: ۱۰۹) اور یہ لوگ (سجدے کے لئے) ٹھوڑیوں کے بَل گر پڑتے ہیں اور روتے جاتے ہیں اور یہ عالم ان کی خاکساری کو بڑھاتا جاتا ہے۔

اِس حقیقت سے ہر دانشمند مومن باخبر ہے کہ شیطان فخر و تکبّر اور خود پسندی کی وجہ سے سجدۂ آدم اور امرِخدا سے منکر ہوا تھا اسی کا ایک مکمل نمونہ ہر انسان کے باطن میں پوشیدہ رہا کرتا ہے اور وہ نفسِ امّارہ ہے جس کو تہذیب و تربیت دے کر مسلمان بنانے کے لئے پُرزور، مؤثر اور کامیاب سجدوں کی سخت ضرورت ہے، تاکہ اِس پُرحکمت عمل سے جو شیطان اور نمائندہ شیطان (نفسِ امّارہ) کی کافرانہ عادت و مرضی کے خلاف ہے نفس کو مغلوب کیا جائے، مغلوب اس لئے ہوگا کہ ہر چیز کا اثر اس کی ضد سے زائل ہو جاتا ہے، یعنی گرمی کا علاج سردی سے اور سردی کا مُداوا گرمی سے کیا جاتا ہے، جس کو علاج بِالضّد کہتے ہیں۔

جس طرح ہر عبادت کے اختتام پر سجدہ کرنا پڑتا ہے، اسی طرح یادِ مولا کی تپش (حرارت) سے دل پگھلنے کے نتیجے پر مومنِ صادق توفیقِ خداوندی سے سجدہ ریز ہو جاتا ہے، جس سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ سجدہ بندگی کی انتہا اور معراجِ عبادت ہے، اور

 

۴۲

 

ربِّ عزت کی نزدیکی کے لئے اس سے بہتر کوئی مقام نہیں، پس یہی وجہ ہے کہ جب تائید و نصرتِ سماوی ازحد ضروری ہوتی ہے تو اس وقت بندۂ مومن سربسجود ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضورِ اقدس میں عجزو انکساری سے التجاء کرتا ہے۔

 

نصیرہونزائی

کراچی ۔۶۔دسمبر ۔۱۹۸۰ء

 

۴۳

 

علم کا عبادت سے گہرا تعلّق

 

دلیل ا ؎: حقیقی علم جس میں دین و دُنیا کی بہتری اور بھلائی ہے، وہ نورِ خدا کی روشنی ہے، اور تمام مذاہب والوں کو اِس حقیقت کا اقرار ہے کہ عبادت خدا کی طرف قربِ روحانی کا وسیلہ ہے، جس کا نتیجۂ خاص علم ہے۔ پس یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ علم کا عبادت سے گہرا تعلّق ہے۔

دلیل ۲  ؎: حضراتِ انبیاء علیھم السّلام اللہ تعالیٰ کے خصوصی عبادت گزار بندے ہُوا کرتے ہیں، ان کی انتہائی عاجزی سے عبادت کرنے کا طریقہ قرآن میں مذکور ہے، اِس بندگی کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر خاتم الانبیاءؐ تک جملہ پیغمبروں کو کتبِ سماوی اور روحانی علم کے خزانوں سے مالامال فرمایا، اور دینی علم کی یہ وراثت ہمیشہ سے چلتی رہی، اِس سے ظاہر ہے کہ علم عبادت کا سب سے بڑا انعام ہے۔

دلیل ۳ ؎: قرآنِ حکیم میں علم کا ایک خاص موضوع قصۂ آدمؑ ہے، جو کئی وجوہ سے بہت بڑی اہمیّت کا حامل ہے، وہ حکیمانہ بھیدوں سے بھرپور ہے، وہ اُن دو دیواروں میں سے ایک ہے، جن کا ذکر سورۂ یاسین (۳۶: ۰۹) میں ہے ، اِس پُرحکمت قصّے میں عبادتِ الٰہی کے ساتھ علم کا ربط و تعلّق یوں ہے کہ خدائے برتر نے حضرت آدمؑ کو اسمِ اعظم کی عبادت سکھا دی، جس کے نتیجے میں روحانیّت کا دروازہ کُھل گیا، اور آدم صفی اللہؑ کو اسماء کا علم سکھایا گیا۔

 

۴۴

 

دلیل ۴ ؎: اسمائِ حُسنیٰ (خدا کے خوبصورت نام = بزرگ بزرگ نام) کے بارے میں ایک ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ ربّ العزّت کی عبادت و بندگی اس کے اسمائِ عُظّام کے وسیلے سے ضروری ہے، اور جو لوگ خدا کے ایسے ناموں کو نہیں سمجھتے ہیں ان کو الگ چھوڑ دینا چاہئے۔۔۔۔۔(۰۷: ۱۸۰) ۔ اب ظاہر بات ہے کہ تمام انبیاء اِس معاملے میں حضور اکرمؐ کے ساتھ ہیں اور وہ حضرات اپنے اپنے وقت میں اسمِ اعظم پر بندگی کیا کرتے تھے، کیونکہ انبیاء ایسے زُمرے میں شامل نہیں ہو سکتے ہیں جو خدا کے بزرگ نام سے نابلد ہے، اس سے معلوم ہُوا کہ اسمِ اعظم کی بندگی سے علم ملتا ہے، اور یاد رہے کہ اسمِ اعظم کی دو قسمیں ہیں، اسمِ اعظمِ ناطق اور اسمِ اعظمِ صامت، یعنی پیغمبر اور امامِ زمانؑ تو خدا کے وہ بزرگ نام ہیں جو بولتے ہیں اور ہر وہ اسم جو ان کی ہدایت سے ہو اللہ تعالیٰ کا خاموش اسمِ اعظم ہے۔

دلیل ۵ ؎: سورۂ آلِ عمران (۰۳: ۱۹۰ تا ۱۹۱) میں فرمایا گیا ہے کہ اس کائنات کے ظاہر و باطن میں خداوند تعالیٰ کے بے حساب معجزات اور نشانیاں موجود ہیں جو صرف اہلِ دانش ہی سمجھ سکتے ہیں پھر ان کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ کھڑے کھڑے، بیٹھے بیٹھے، اور لیٹے لیٹے یعنی ہر حالت میں ذکرِ خدا کیا کرتے ہیں، اور اسی کے نتیجے میں نورانی غوروفکر کر سکتے ہیں تاکہ اسرارِ کائنات اُن پر منکشف ہو جائیں۔

دلیل ۶ ؎: قرآن کا ہر رکوع عام طور ہر ایک جداگانہ مضمون یا کئی مضامین پر مبنی ہوتا ہے، اسی وجہ سے سِلسِلۂ آیات میں بیانِ مضمون کا ربط موجود ہوتا ہے، چنانچہ سورۂ احزاب کے رکوع ۶ ؎کی تین ابتدائی آیات کا ربط اس طرح ہے: اے اہلِ ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو، اور صبح اور شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو، وہی تو ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے اور خدا مومنوں پر بڑا مہربان ہے (۳۳: ۴۱ تا ۴۳) اِن پاک آیتوں میں نورِ علم

 

۴۵

 

اور بندگی کے درمیان بڑی گہرائی سے تعلّق ہونے کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔

دلیل ۷ ؎: ارشادِ خداوندی کا ترجمہ ہے: خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحبِ علم ہیں (۳۵: ۲۸) یہاں لفظ “عِباد” میں عبادت کا تذکرہ ہے اور خدا سے ڈرنے میں سب سے خاص عبادت ہے، اور ایسی عبادت کا گہرا تعلّق جس میں تقویٰ ہو علم کے ساتھ ہے۔

دلیل ۸ ؎: قرآن کی بہت سی آیات سے اِس حقیقت کی شہادت ملتی ہے کہ فکر سے علم و حکمت کی راہیں کُھل جاتی ہیں، اور فکر پر ذکرِ خدا کا کنٹرول ہے، پس معلوم ہُوا کہ عبادت کا خاص پھل علم کی صورت میں ملتا ہے۔

دلیل ۹ ؎: فرمانِ خداوندی ہے: قُل اَفَغَیرَ اللّٰہِ تَامُرُونّی اَعبُدُاَیُّھَا الجٰھِلُون(۳۹: ۶۴) کہہ دو کہ اے نادانو! تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں غیرِ خدا کی پرستش کرنے لگوں۔ اِس پُرحکمت آیت میں ایک طرف تو معبودِ برحق کی عبادت سے علم و دانش ملنے کا ذکر ہے، اور دوسری طرف غیرِ خدا کی پرستش میں جہالت ہی جہالت ہونے کا۔

دلیل ۱۰ ؎: قولِ خدا ہے: و اعبُد رَبَّک حَتّیٰ یَاتِیَک الیَقِین(۱۵: ۹۹) اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہیں حق الیقین آجائے۔

دلیل ۱۱ ؎: صحیح بُخاری ، جلدِ سوم، حدیثِ قدسی ۱۴۲۲ میں ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا کہ: اللہ فرماتا ہے: جس نے میرے دوست سے دُشمنی کی، میں اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں، اور میرا بندہ میری فرض کی ہوئی محبوب چیزوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل نہیں کرتا ہے، اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعہ مجھ سے قر ب حاصل کرتا ہے، یہاں تک کہ میں اُس سے محبّت کرنے لگتا ہوں، جب میں اُس سے محبّت کرنے لگتا ہوں، تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سُنتا ہے، اور

 

۴۶

 

اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا ہاتھ ہو جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اِس حدیثِ قدسی سے ظاہر ہے کہ عبادت سے نہ صرف قربِ خدا مل جاتا ہے بلکہ اس سے خود خدا بھی مل جاتا ہے اور خدا ہی علم و معرفت کا مخفی خزا نہ ہے۔

دلیل ۲ا ؎: حقیقت میں تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اُس شخص کے لئے جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے (۳۳: ۲۱) اِس آیۂ کریمہ میں دانشمند مومنوں کے لئے انتہائی بلند درجے کی خوشخبری ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ پیغمبرِ خداؐ کے نقشِ قدم پر چلنے میں علم ہی علم ہے جس کی شرط کثرت سے خدا کو یاد کرنا ہے۔

دلیل ۳ ۱ ؎: ایک ارشاد کا ترجمہ اس طرح ہے: بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو ( تو کیا وہ کسی سخت دل کی طرح ہو سکتا ہے) پس اُن پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں، اور یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں (۳۹: ۲۲) اس کے یہ معنی ہیں کہ جو ذکرِ خدا میں پگھل جاتے ہیں ان کو نورِ خدا کی روشنی ملتی ہے اور جو سخت دلی کی بیماری میں مبتلا ہیں وہ اِس سے دُور ہیں۔

 

خانۂ حکمت ، کراچی

۲۔نومبر۔۱۹۸۲ء

 

 

۴۷

 

سلامتی کی راہیں

 

قرآنِ حکیم میں جہاں دینِ اسلام کی اساسی حقیقتوں کے ساتھ سلامتی کی راہوں کا ذکر ہوا ہے، وہ پُرحکمت ارشاد اس طرح شروع ہو جاتا ہے کہ: ۔

اے اہلِ کتاب تمہارے پاس ہمارا پیغمبر (محمدؐ) آچکا ہے کہ جو کچھ تم کتابِ (الٰہی) میں سے چھپاتے تھے وہ اِس میں سے بہت کچھ کھول کھول کر بتا دیتا ہے اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتا ہے۔ یقیناً تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور ظاہر کتاب (قرآن) آچکی ہے ( قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتَابٌ مُّبِيْنٌ ۰۵: ۱۵) جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو سلامتی کی راہوں پر چلاتا ہے اور اپنے حکم سے ( بِاِذْنِہٖ) اندھیروں سے نکال کر روشنی (نور) کی طرف لاتا ہے اور (اسی طرح) ان کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے (يَهْدِىْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَيَهْدِيْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ۰۵: ۱۶) اِس آسمانی تعلیم کے متعلق چند اہم سوالات پیدا ہو جاتے ہیں، اور وہ درجِ ذیل ہیں: ۔

سوال ۱: اس کی کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نہ صرف اسی ارشاد میں بلکہ قرآنِ کریم کے کئی اور مقامات پر بھی یہود و نصاریٰ کو “اھلِ کتاب” کے نام سے پکارتا ہے، حالانکہ آسمانی کتاب مسلمانوں کے پاس بھی ہے؟ “اھلِ کتاب” کا یہ نام کب سے شروع ہوا؟

سوال ۲: اہلِ کتاب توریت اور انجیل میں سے اکثر کس نوعیت کی

 

۴۸

 

باتوں کو چھپایا کرتے تھے؟ اِس میں ان کا خاص مقصد کیا تھا؟

سوال ۳: آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُن کی چھپائی ہوئی باتوں کو کس طرح کھول کھول کر بیان فرماتے تھے؟

سوال ۴: یہاں نور سے کیا مراد ہے؟ اس کا ذکر کتاب کے ساتھ کیوں فرمایا گیا؟ نیز یہاں یہ پوچھنا ہے کہ ترتیبِ بیان میں جس طرح نور پہلے ہے اور کتاب بعد میں، اس میں کیا حکمت ہے؟

سوال۵: اِس فرمانِ خداوندی سے یہ حقیقت تو واضح ہو جاتی ہے کہ خدا اِس نور اور کتاب کے ذریعے سے صرف ان ہی لوگوں کو سلامتی کی راہوں پر چلاتا ہے، جو اس کی خوشنودی کی پیروی کرتے ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اگر اِس ہدایت کی اوّلین شرط اللہ کی رضامندی کا حصول ہے تو یہ شرط ہدایت سے پیشتر کس طرح پوری ہو سکتی ہے؟ اس کے بارے میں قابلِ فہم وضاحت کی جائے۔

سوال ۶: سلامتی کی راہیں کیا ہیں ؟ آیا یہ راہیں صراطِ مستقیم سے جُدا ہیں یا مل کر؟ اگر ملکر ہیں تو پھر یہ صیغۂ جمع میں (یعنی سُبُل) کیونکر ہو سکتی ہیں؟ کیا خدا کی طرف جانے کا راستہ صرف ایک ہی نہیں ہے، جو صراطِ مستقیم ہے؟

سوال ۷: یہاں اِذن (حکم) کا بھی ذکر آیا ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟ کیونکہ اگر مان لیا جائے کہ یہ تمام ہدایات، جن کا اِس مقام پر ذکر فرمایا گیا ہے، خدا خود ہی فرماتا ہے، تو اُس صورت میں اِذن یا حکم کا کہیں اطلاق نہیں ہوسکتا ہے۔

سوال ۸: اِس میں کوئی شک نہیں کہ خدا لوگوں کو اندھیروں میں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا اِس روشنی (نور) کا اُس نور سے جو کتاب کے ساتھ لوگوں کے پاس آیا ہے کوئی تعلق اور رشتہ ہے یا نہیں ؟

سوال ۹: اِس قرآنی تعلیم میں پہلے سلامتی کی راہوں کی ہدایت کا تذکرہ

 

۴۹

 

ہے، پھر صراطِ مستقیم کی ہدایت کا، اس ترتیب میں کیا حکمت ہے؟ آیا یہ درست ہے کہ سلامتی کی راہیں صراطِ مستقیم کے مختلف مراحل و مدارج یا اجزاء کی حیثیت سے ہیں ؟

 

جواب ۱: خدائے حکیم نے جس طرح یہود و نصاریٰ کو اہلِ کتاب قرار دیا ہے، اس کی وجہ پوشیدہ نہیں کہ انہوں نے ہادیٔ برحق یعنی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان نہیں لایا، اور سابقہ کتاب اور( توریت و انجیل) ہی کو کافی سمجھا اور اگر وہ پیغمبرِ آخر زمانؐ کی طرف آتے تو یہ بات نہ ہوتی، اور یہاں ان کو اصل کتاب بھی مل جاتی۔ اُن کا یہ نام (اہلِ کتاب) شروع سے نہیں، بلکہ اِس کا اطلاق یہود پر زمانۂ عیسیٰؑ سے اور نصاریٰ پر ظہورِ اسلام کے وقت سے ہوتا ہے۔

جواب ۲: اہلِ کتاب توریت و انجیل میں سے اکثر ایسی باتوں کو پوشیدہ رکھتے تھے، جو مستقبل کے نورِ ہدایت سے متعلق ہوتی تھیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ تعصّب کے مارے نور سے دشمنی کرتے تھے، اور تعصّب انسانی فطرت میں ایک ایسا زبردست عنصر ہے کہ اس سے کوئی آدمی خالی نہیں ہوسکتا، مگر یہ ہے کہ جو لوگ حق پر ہیں ان کا تعصّب حق کی حمایت میں فنا ہو جاتا ہے ۔

جواب ۳: آنحضرتؐ اہلِ کتاب کی چھُپائی ہوئی باتوں کو قرآنی علم و حکمت کی صورت میں کھول کھول کر بیان فرماتے تھے، اور آپؐ کے برحق جانشین یعنی امام علیہ السّلام بھی ایسا کرتے آئے ہیں۔

جواب ۴: یہاں نور سے پیغمبرِ اکرمؐ مراد ہیں جیسے خداوند نے ایک اور جگہ آپؐ کو سراجِ منیر (روشن چراغ ۳۳: ۴۶) کے نام سے یاد فرمایا ہے، اور چونکہ منظورِ الٰہی یہ نہیں تھا کہ نورِ خدا کا یہ درخشندہ چراغ بُجھ جائے (۰۹: ۳۲ ، ۶۱: ۰۸) لہٰذا یہ مقدس نور جو کتابِ سماوی کے ساتھ مذکور ہے آنحضرتؐ کے بعد نورِ امامت کی حیثیت سے جاری و باقی رہا، تاکہ کرّۂ ارض ہادیٔ برحقؑ کے وجودِ مبارک سے خالی نہ ہو۔ مذکورہ آیت میں نورِ

 

۵۰

 

ہدایت کا ذکر کتاب (قرآن) کے ساتھ اس لئے فرمایا گیا ہے کہ نور اور کتاب ظاہراً و باطناً ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، چنانچہ یہ ربّانی نور کتاب پر روشنی ڈالتا ہے اور کتاب صرف اسی صورت میں وسیع پیمانے پر حقیقتیں اور معرفتیں فراہم کر دیتی ہے، پس لوگوں کی ہمہ گیر ہدایت کے اسرار اسی میں پوشیدہ ہیں کہ وہ اس پاک نور کی روشنی میں قرآن کو دیکھیں جو اللہ کی طرف سے اِس مقصد کے لئے مقرر ہے۔ آیت کے ترتیبِ بیان میں نور پہلے اور کتاب بعد میں ( نُوْرٌ وَّكِتَابٌ مُّبِيْنٌ) ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم دنیا میں پہلے تشریف لائے اور قرآنِ پاک کا نزول بعد میں ہوا۔

جواب ۵: اس جواب کے دو مرحلے ہیں، مرحلۂ اوّل یہ ہے کہ اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے سچے دل سے اسلام کو قبول کیا، اس کا اصل سبب یہ تھا کہ انہوں نے اپنے دینی شعور اور عقل و دانش کی مدد سے قانونِ خداوندی کو سمجھ لیا، اور وہ اپنی تمام مانوس روایات پر خدا کی مرضی کو فوقیت دے کر نورِ اسلام کی پیروی کرنے لگے، یہ ہوئی اللہ کی خوشنودی جو ہدایتِ اسلام کی اوّلین شرط ہے۔

مرحلۂ دوم جس کا تعلق صرف خواص ہی سے ہے، یہ ہے کہ ایسے نیک بخت مومنین جو ہمیشہ اپنی مذہبی زندگی میں رضائے الٰہی کے حصول کے لئے نفسِ امّارہ کی خواہشوں اور فرمائشوں کی سخت مخالفت کرتے رہتے ہیں جس کی بدولت ان کو ہر بار خداوند کی رضا و خوشنودی کا ایک حصہ دیا جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر نورِ ہدایت ان کو سلامتی کی راہوں پر بتدریج آگے لے جاتا ہے، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی حقیقی پیروی اور پھر نور و کتاب کی ہدایت کی روشنی میں سلامتی کی راہوں پر آگے بڑھ جانا۔

جواب ۶: سلامتی کی راہیں راہِ اسلام کی چار منزلیں ہیں، جو شریعت ، طریقت، حقیقت اور معرفت کے نام سے مشہور ہیں، ان کے صراطِ مستقیم سے الگ ہونے کا سوال ہی نہیں ، یہ تو شاہراہِ مستقیم پر ہی واقع ہیں، کیونکہ یہ اس کے مراحل اور

 

۵۱

 

درجات یا اجزاء ہیں، جیسے کسی طویل راستے کی چند منزلیں ہؤا کرتی ہیں، اگرچہ منازل تقسیمِ مسافت کے اعتبار سے ایک سے زیادہ راہیں شمار ہوتی ہیں، لیکن مجموعی راستہ تو ایک ہی ہوتا ہے، پس خدائے واحد کی طرف جانے کا راستہ جو صراطِ مستقیم ہے وہ ایک ہی ہے جو چار منزلوں پر مشتمل ہے۔

علاوہ بران سلامتی کی راہوں سے تائیداتِ روحانی مراد ہیں جو عقلِ کُلّ ، نفسِ کُلّ، ناطقؐ اور اساسؑ کے تحت ہیں، جیسے سُبُل السّلام (سلامتی کی راہیں ) کے اس کلمے کے چار ٹکڑے ہیں اور وہ اس طرح ہیں: سبل + ا + لسلا + م = سُبُل السّلام ،ایسے یہ چار عظیم اصولِ دین ہیں، جن کی تشبیہہ بہشت کی چار نہروں سے دی گئی ہے، یعنی پانی کی نہر ( عقلِ کُلّ)، دودھ کی نہر ( نفسِ کُلّ)، شراب کی نہر (ناطقؐ) اور شہد کی نہر (اساسؑ) پس سلامتی کی راہوں پر نور اور کتاب کی رہنمائی اس طرح ہے کہ اساسؑ کی تاویل سے روحانیّت کا دروازہ کھُل جاتا ہے اور ناطقؐ کی شناخت حاصل ہو جاتی ہے، ناطقؐ کے وسیلے سے نفسِ کُلّی کا راستہ مل جاتا ہے، نفسِ کُلّی سے عقلِ کُلّی کا، اور پھر گوہرِ عقل سے توحیدِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، جس میں کامل سلامتی اور ابدی نجات ہے۔

جواب ۷: اِس آیۂ کریمہ میں جس طرح “بِاِذْنہٖ” یعنی خدا کے حکم سے فرمایا گیا ہے، اس کا واضح اشارہ یہ ہے کہ ربّانی ہدایت و رہنمائی کا سارا کام نورِ مقدس کے سپرد ہے، جو اللہ کے حکم سے ظاہر و باطن میں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے، اور چونکہ نورِ ہدایت خدا کی جانب سے ہے، اِس لئے ہدایت دینے کا کام خدا سے منسوب ہو جاتا ہے۔

جواب ۸: علم و حکمت کی روشنی کا تعلق اور رشتہ سرچشمۂ نورِ ہدایت کے ساتھ ایسا مربوط و منظم ہے، جیسے شعاعوں اور حرارت کا سلسلہ آفتابِ عالمتاب کے ساتھ وابستہ ہے، چنانچہ مذکورہ آیۂ کریمہ میں جس روشنی کی طرف لوگوں کو لانے کا ذکر ہؤا

 

۵۲

 

ہے وہ علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی روشنی ہے، جس کا براہِ راست تعلق نورِ ہدایت سے ہے۔

جواب ۹: ہاں، اِس قرآنی تعلیم میں پہلے سلامتی کی راہوں کی ہدایت کا تذکرہ ہے، پھر صراطِ مستقیم کی ہدایت کا، جس کی حکمت یہ ہے کہ اوّل جُدا جُدا مراحلِ راہ کی نشاندہی کی گئی ہے، اور ان میں اہلِ ایمان کی ترقی و پیشرفت کا تصوّر پیش کیا گیا ہے، اور اس کے بعد بطریقِ خُلاصہ و نتیجہ صراطِ مستقیم کے تذکرے میں گویا یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ منازل ہیں اور یہ ان کا مجموعہ، اور مقصد یہ ہے کہ خدا کی خوشنودی اور نور کی روشنی میں قدم بقدم اور منزل بمنزل آگے چل کر دائمی سلامتی اور ابدی نجات حاصل کی جائے۔ جیسا کہ فرمانِ خداوندی ہے کہ: اور (خدا) تم کو ایسا نور مقرّر کر دیگا جس (کی روشنی) میں تم چلو گے (۵۷: ۲۸) اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہدایت میں چلانے اور چلنے کے معنی ہیں۔ خداوند عالم کا فرمان ہے کہ: اَفَمَنْ يَّمْشِىْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٓ ٖ اَهْدٰٓى اَمَّنْ يَّمْشِىْ سَوِيًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ(۶۷: ۲۲)۔ بھلا جو شخص اوندھا اپنے منہ کے بل چلے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہوگا، یا وہ شخص جو سیدھا برابر راہِ راست پر چل رہا ہو۔

 

صراطِ مستقیم

راہِ شریعت             راہِ طریقت             راہِ حقیقت              راہِ معرفت

 

سلامتی کی راہیں

اِہدنا الصّراطَ المستقیم =ہم کو سیدھے رستے چلا

 

امامِ زمان ؑکا ایک ادنیٰ غلام

نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی

۱۴ ۔ مئی۔ ۱۹۸۱ء

 

۵۳

 

قریۂ ہستی میں سب کچھ

 

بِسمِ اللّٰہِ الرّحمٰن الرّحیم۔

میں ایک انتہائی مفلس و بیچارہ بندے کی حیثیت سے بصد عاجزی و حاجتمندی پروردگارِ عالم کی درگاہِ اقدس سے توفیق و ہمّت کی بھیک مانگتا ہوں، میرے مالک و آقا کے علم میں یہ بات ہر گز پوشیدہ نہیں، کہ میں بہت ہی کمزور اور قابلِ رحم ہوں، اس لئے اے میرے بہت ہی شفیق و مہربان دوستو! آپ سب از راہِ عنایت میرے حق میں کریمانہ دعا کریں، تاکہ خداوندِ قدوس اپنی رحمتِ خاص سے اِس بندۂ کمترین کی دستگیری و یاری فرمائے! آمین !!

میری یہ عاجزانہ کوشش اور تحریر میرے خاص احباب کے ایک قابلِ احترام حکم کی تعمیل کے لئے ہے، جو سورۂ بقرہ کی آیتِ پُرحکمت ۲۵۹ سے متعلق ہے۔ میرا سر، میرا تن، اور میری جان امامِ اقدس و اطہر صلوات اللہ علیہ و سلامہ کے ایسے پسندیدہ دوستوں سے ہزار گونہ فدا اور قربان ہو! میرے امامِ زمانؑ کے یہ برگزیدہ دوستدار میرے لئے باعثِ رحمتِ خداوندی ہیں، اور ان کی عالیشان علمی دوستی میں اِس بندۂ درویش کی سعادت کا بہت بڑا راز پوشیدہ ہے، الحمدللّٰہ علٰی اِحسانہِ۔

 

جوابِ اوّل:

ا۔        کسی کامل شخص کا ایک قریہ (گاؤں) پر گزرنا،

تاویل: اس کے اپنے باطن اور روح و روحانیّت میں سفر کرنا، کیونکہ قریہ سے شخصیت کا روحانی پہلو اور عالمِ شخصی مراد ہے، جس کو عالمِ صغیر کہتے ہیں۔

 

۲۔       گاؤں کے مکانات کا اپنی چھتوں پر گِرجانا،

تاویل: راہِ روحانیّت کے مرحلۂ عزرائیلی پر ذرّاتِ روح کا زیر و زبر ہو جانا،

 

۵۴

 

کیونکہ اُس مقام پر حضرت عزرائیلؑ کئی دن تک قبضِ روح کا مظاہرہ (Demonstration)  کرتا رہتا ہے۔

۳۔       اُس عظیم انسان کا یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کیونکر اِس بستی کو مرنے کے بعد زندہ کرے گا،

تاویل: اس واقعۂ حکمت آگین سے اظہارِ تعجب اور تقاضائے اِنبِعاث (زندہ ہو جانا) ۔

 

۴۔       اللّٰہ تعالیٰ نے اُس شخص کو سو سال تک موت دے رکھا،

تاویل: منازلِ روحانیّت میں سے ہو کر نفسِ کلّی تک رسا ہو جانا، کیونکہ وہ روحانیّت جو منزلِ عزرائیل سے لے کر مرحلۂ انبِعاث تک واقع ہے تاویل کی زبان میں موت کہلاتی ہے، اور سو سال ایک اندازے کے مطابق روحِ اعظم (نفسِ کلّ) تک مبسوط (Detailed) روحانی سفر ہے، جس سے تاویلی طول مراد ہے، اور ظاہر ہے کہ سو کا عدد نفسِ کلّ کے لئے مقرر ہے۔

 

۵۔       پھر خدا نے اِسے زندہ کر دیا،

تاویل: خداوندِ تبارک و تعالیٰ نے اپنی بے پایان رحمت سے اس کا انبعاث۱ کیا۔ اور وہ اِس طرح کہ اس کو درجۂ عقلِ کلّی اور مرتبۂ مُبدِع اور مُبدَع کی رؤیت حاصل ہوئی، اور اُس پر یہ سرِّعظیم فاش کیا گیا کہ اس کی انائے علوی اسی کارخانۂ ابداع میں ہمیشہ ہمیشہ موجود تھی۔

 

۶۔       خداوندِ عالم نے زبانِ حکمت میں پوچھا کہ تو اِس موت میں کتنی دیر تک رہا؟

تاویل: یعنی تیرے نزدیک یہ روحانیّت کس درجے تک تھی؟

 

۷۔       اُس نے کہا کہ ایک دن رہا ہوں گا یا اُس سے بھی کم،

تاویل: چونکہ یہ اس کی روحانی زندگی کا تنزیلی دَور تھا، اور تاویل ہنوز نہیں آئی تھی، لہٰذا اُس نے روحانیّت کو محدود سمجھا۔

 

۸۔       ارشاد ہوا بلکہ تو اِس حال میں سَو برس رہا ہے،

تاویل: فرمایا گیا کہ اگرچہ بظاہر اِس روحانیّت کی منزلیں محدود وقت میں طے ہوئی ہیں، لیکن باعتبارِ تاویل یہ سو سال پر پھیلی ہوئی ہے، کیونکہ یہ نفسِ کُلّ تک جا پہنچتی ہے۔

۹۔       تو اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی طرف دیکھ لے کہ وہ نہیں سڑی ہیں،

تاویل: تو نے جسمانی زندگی میں جن چیزوں کو کھایا پیا اور سُونگھا تھا، یہاں ویسی چیزوں

 

۵۵

 

کو دیکھ لے کہ خوشبوؤں کی صورت میں تازہ بتازہ محفوظ اور مہیّا ہیں، نیز تنزیل و تاویل کے پانی اور طعام کو دیکھ کہ یہ زمانۂ آدمؑ سے پڑا ہے اور یہ ہرگز نہیں سڑتا۔

 

۱۰۔    اور اپنے گدھے کی طرف نظر کر،

تاویل: یعنی اپنے جسمِ عُنصری کو دیکھ لے کہ یہ بھی روحِ قدسی کے زیرِ اثر ایک طرح سے مر کر زندہ ہو گیا ہے، چونکہ جُثّۂ ابداعی کے مقابلے میں جسمِ خاکی بہت فرو مایہ شیٔ ہے، لہٰذا اسے سواری کا گدھا قرار دیا گیا ہے۔

 

۱۱۔    تاکہ ہم تجھ کو لوگوں کے لئے ایک نشانی قرار دیں۔

تاویل: تیرے اِس واقعہ کو اہلِ دانش کے لئے اصولِ تاویل کا ایک اہم حصّہ بنائیں۔

 

۱۲۔    اور ہڈیوں کی طرف نظر کر کہ ہم ان کو کس طرح ترکیب دیتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں،

تاویل: ذرّاتِ لطیف جو مُنتشر ہیں، ان کو امرِ کُنۡ سے کس طرح یکجا کر دیتے ہیں اور اُن سے کس طرح گوشت کے مشابہ کام لیتے ہیں کہ یہ جسمِ مثالی (ابداعی بدن) جو تیرے سامنے ہے بالکل ایک انتہائی صحتمند اور بے حد خوبصورت انسان کی طرح ہے۔

 

۱۳۔    پھر جب یہ سب کیفیت اس شخص کو واضح ہوگئی تو کہہ اُٹھا کہ میں جانتا

ہوں کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے،

تاویل: جب بتدریج اس کو اپنی روحانیّت کی تاویل کا ایک ضروری حصّہ آگیا، تو اُس نے صحیح معنوں میں قدرتِ خدا کی معرفت حاصل کرلی۔

 

وضاحت: ۔

اگر کسی مومن نے اسمِ بزرگ ترین اور بندگی کے زیرِ اثر عرصۂ دراز تک ایک روشن اور خاموش شخصی عالم کا مشاہدہ کیا ہو، تو پھر بھی یہ اس کی نفسانی (روحانی) موت نہیں، اور نہ ہی یہ اس کی انفرادی قیامت کہلا سکتی ہے، مگر ہاں یہ ابتدائی روحانیّت ضرور ہے، ذاتی قیامت اور نفسانی موت ایک ساتھ ہیں، اور یہ اس وقت واقع ہو جاتی ہیں، جبکہ صور پھونکا جاتا ہے۔

قرآنِ حکیم میں لفظ “قریہ” تاویلاً عالمِ شخصی ( Personal World) کے لئے آیا ہے، سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیۂ مقدسہ (۰۲: ۲۵۹) میں جس شخص کے روحانی واقعات کا ذکر فرمایا گیا ہے،

 

۵۶

 

وہ کامل انسانوں میں سے تھا، مگر اس کی روحانیّت کے گرانمایہ خزانے کو پوشیدہ رکھنے کی غرض سے نام نہیں بتایا گیا ہے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ خدائے پاک و برتر نے نہ صرف اپنی ذاتِ اقدس کے لئے حجاب (۴۲: ۵۱) سے کام لیا ہے، بلکہ اُس نے اپنے اسرارِ عظیم کو بھی طرح طرح کے پردوں میں پوشیدہ رکھا ہے، جیسے عالمِ صغیر کا حجاب یعنی مثال قریہ ہے ، روحانیّت کا حجاب موت و فنا ہے، وغیرہ۔

ایک ہی واقعہ کی تاویلات مختلف اعتبارات سے مختلف ہوا کرتی ہیں، کیونکہ قرآنِ حکیم میں ایک ہی حقیقت کی طرح طرح سے تشبیہات و تمثیلات دی گئی ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ(۱۸: ۵۴) اور ہم نے قرآن میں لوگوں کے واسطے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۲ چنانچہ سو برس تک موت کی نیند میں پڑے رہنے کی تاویل وہ روحانیّت ہے جو منزلِ عزرائیلی سے شروع ہو کر مرتبۂ نفسِ کُلّی تک پھیلی ہوئی ہے، اور یہ حکمت کی رُو سے ملفوف بھی ہے اور مبسوط بھی، ملفوف کا مطلب تنزیل کا مختصر سے مختصر وقت ہے، اور مبسوط سے تاویل کی طوالت مراد ہے۔

اس بیان میں بفضلِ خداوندِ حکمت جتنی اہم باتیں درج ہوئی ہیں، وہ آپ کے حضور میں ظاہر ہیں، مِن جُملہ ایک قابلِ توجّہ نکتہ یہ ہے کہ اِنبِعاث اور اِبداع ایک ہی حقیقت ہے، اور اس میں جو فرق ہے وہ صرف لفظی ہے معنوی نہیں، اس کی مثال ذیل کی طرح ہے: ۔

اِس دائرے میں اوپر کی طرف آپ دیکھتے ہیں کہ ایک ہی تحریر میں لفظ ابداع

 

۵۷

 

اور انبعاث کو ملا کر درج کیا گیا ہے، یہ اِس حقیقت کی مثال ہے کہ بارِ اوّل پیدا ہونا اور مرنے کے بعد زندہ ہو جانا ایک ہی بات ہے، اور یہ دونوں چیزیں امرِکُنۡ کے تحت ہیں۔

اسی طرح ازل اور ابد ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں، جس کی وجہ اِس دائرہ سے ظاہر ہے کہ سفرِ روحانیّت گول ہے، چنانچہ انسان جس نقطۂ آغاز سے اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے، آخر کار اسی نقطے پر جا پہنچتا ہے، پس یہی مقام عالمِ جسمانی میں آنے کے اعتبار سے ازل اور مُبدا ہے اور لوٹ جانے کے لحاظ سے ابد اور معاد ہے، اور اگر تاویلی سفر جاری رہا تو ظاہر ہے کہ ابد ازل کی صورت اختیار کرتا ہے۔

 

جوابِ دُوم: ۔

یہاں پر مصلحت و حکمت اسی امر میں ہے کہ موضوع سے متعلق مِلی جُلی باتیں کی جائیں:

۱۔ قرآنِ حکیم میں قانونِ درجات بھی ہے اور قانونِ مُساوات بھی، آیۂ فضیلت بھی ہے اور آیۂ وحدت بھی، چونکہ درجات سیڑھیوں کی طرح ہیں (۷۰: ۰۳) اور مُساوات منزلِ مقصود میں ہے، لہٰذا اس میں کوئی منطقی تصادم نہیں۔

۲۔ اصولِ اصطفاء (برگزیدگی ۰۳: ۳۳) میں تین باتوں میں سے ایک بات مقصود ہے: خدا کا ذاتی فائدہ ؟ انبیاء کا ذاتی فائدہ ؟ لوگوں کا ذاتی فائدہ؟ اِس بارے میں یہ سوچا جا سکتا ہے کہ خداوند تعالیٰ فائدہ اور نقصان سے بالا و برتر ہے، یہ بھی درست نہیں کہ اس برگزیدگی کا مقصد صرف انبیاء علیھم السّلام کا ذاتی فائدہ ہو، اِس منطق سے ظاہر ہے کہ اگر خدائے حکیم لوگوں میں سے کسی کو منتخب فرماتا ہے، تو اس میں لوگوں کا فائدہ مقصود ہے۔

۳۔ امامؑ کے حجت ہونے کے کم از کم تین مقام ہیں: پہلا یہ کہ حدودِ دین کے سلسلے میں امامؑ مرتبۂ امامت پر فائز ہوجانے سے قبل حجت ہوتا ہے، دوسرا ہر پیغمبر کے بارہ حجت ہوا کرتے ہیں، اور اُن میں حجتِ اعظم (باب = دروازۂ روحانیّت) امام ہوتا ہے، اور تیسرا یہ ہے کہ جس طرح رسول صلی ا للہ علیہ وآلہٖ وسلم خلق پر حجتِ خدا ہیں،

 

۵۸

 

اُسی طرح امام زمانۂ خلق پر حجتِ رسولؐ ہیں اور امامِ عالیمقامؑ کا یہ مرتبہ بہت ہی عظیم ہے۔

۴۔ ہم اسلام کے دینِ فطرت ہونے کو تو مانتے ہیں، مگر اِس تصور کی حقیقت کو ٹھیک طرح سے نہیں سمجھ سکتے، حالانکہ مطلب بڑا آسان ہے، اور وہ یہ کہ اگر ہم باطن کے باطن میں جاکر مشاہدہ کر سکتے تو اِس امرِ واقعی کو مانتے کہ وہاں نور ہمیشہ ایک جیسا ہے، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں، مگر حالِ ظاہر اس کے برعکس اور قانونِ فطرت کے موافق ہے، کہ نور بتدریج درجۂ کمال کی طرف جاتا ہے، ہر دانشمند آیۂ مبارکہ (۶۱: ۰۸) میں ٹھنڈے دل سے غور کر سکتا ہے کہ “وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُورِہٖ” کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ اس کے معنی ظاہر ہیں کہ خدا اپنے نور کو درجۂ تمام و کمال پر پہنچانے والا ہے، اور یہ نظامِ فطرت کے مطابق ہے، پس ہمیں ماننا چاہئے کہ اب نورِ امامت پہلے سے کہیں زیادہ کام کر رہا ہے، اور یہ امامِ اقدس و اطہرؑ کی شخصیتِ عظیم ہونے کی ایک روشن دلیل ہے۔

۵۔ نور باطن میں یا باطن کے باطن میں ایک ہی حال پر قائم ہونے کی مثال سورج ہے، کہ اس کا سرچشمہ ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے، اور ظاہر میں نور کے مختلف احوال ہونے کی تشبیہ و تمثیل سورج کی اس روشنی سے دی جاسکتی ہے، جس کا تعلق سیّارۂ زمین سے ہے، زمین اگر ایک رُخ کے اعتبار سے پشت پھیرے تو وہ تاریکی میں ڈوب جائے گی، اس میں سورج کا کوئی قصور نہیں، یہ مثال ہے اور زمین مجبور ہے، مگر انسان مجبور نہیں۔

۶۔ شبِ دین بڑی لمبی ہوتی ہے اور روزِ دین بڑا طویل، یہ قانونِ فطرت ہی ہے کہ رفتہ رفتہ رات گزر جائے اور آہستہ آہستہ روشنی پھیل جائے، اِس وقت صبح ہو چکی ہے، لہٰذا اب امامِ برحق علیہ السّلام ظاہراً و باطناً بڑے بڑے کام کرے گا، کیونکہ انسانیّت دورِ قیامت میں داخل ہوچکی ہے، اور امام قائم القیامت کا درجہ رکھتا ہے۔

 

۵۹

 

۷۔ خاص و عام روایات میں مولا علی صلوات اللہ علیہ کی پاک ذات سے بہت سے معجزات یا کرامات منسوب ہیں، اِس تصوّر میں جس طرح مومن کا فائدہ ہے اسی طرح نقصان کا بھی اِمکان ہے، وہ اِس معنی میں کہ کہیں کسی مومن کو یہ شک نہ ہو کہ علیؑ مظہرالعجائب تھے، وہ ایسے ایسے معجزے دکھایا کرتے تھے، اور حاضر امامؑ میں یہ بات نہیں، اگر کسی مرید کے دل میں ایسا خیال گزر گیا، تو اس کی بہت بڑی کمزوری ہوگی، حالانکہ اِس زمانے میں امام کے حقیقی معجزات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، اِن کو دیکھنے کے لئے بصیرت چاہئے۔

۸۔ امامِ عالیمقامؑ کی عظمت و بزرگی کی یہ شان ہے کہ وہ خداوندِ تعالیٰ کا زندہ اسمِ اعظم ہے، اِس لئے وہ اَلحیُّ القیُّوم کہلاتا ہے، جیسا کہ ربِّ کریم کا ارشاد ہے: وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا (۰۷: ۱۸۰) اور اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں پس اسے اُنہیں (ناموں) سے پکارا کرو۔ اِس سلسلے میں حضرت امام جعفرالصّادق علیہ السّلام کا فرمانِ مبارک ہے کہ: لِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ہم ہیں۔

۹۔ حضرت پیر حکیم ناصرِخسرو (قدس اللہ سرہٗ) اپنی شہرۂ آفاق کتاب “وجہ دین” گفتار ۴۳ میں فرماتے ہیں: “خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی تاویل یہ ہے کہ امامِ زمانؑ جو بحکمِ خدا مقرر ہے اس کی جگہ تُو کسی اور کو امام قرار دے ، اور حق کو کسی دوسرے سے وابستہ کرے، اور خداوندِ زمان کو اپنے ضد کے مانند ہونے سے فرد و یگانہ نہ مانے، اور تجھے یہ جاننا چاہئے کہ اِس گناہ کی بخشش ہرگز نہیں ہوسکتی۔” اِس سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ اسمِ “للّٰہ” کی تاویلی حکمت امامِ زمانؑ ہے۔

۱۰۔ ہر پیغمبرِ ناطق کی روحانی اور علمی پرورش امامِ مقیم کرتا ہے، جس کا درجہ سلسلۂ امامت میں بہت بڑا ہوتا ہے، چنانچہ حضرت آدمؑ کی روحانی تعلیم و تربیت امامِ مقیم مولانا ھُنیدؑ سے مکمل ہوئی تھی (ملاحظہ ہو کتاب الامامۃُ فی الاسلام ، صفحہ ۱۴۳ تا ۱۴۶)

 

۶۰

 

اور اُسی پاک امام نے آدم صفی اللہ کو اسمِ اعظم دیا تھا، اور قصّۂ آدمؑ کے تمام واقعات اسمِ اعظم ہی کی روح و روحانیّت میں پوشیدہ ہیں۔

 

جوابِ سوم:

مقالہ: “حکمتِ تسمیہ اور اسمائے اہلِ بیت” صفحہ اا سے متعلق:

ا۔ زندہ شبِ قدر (یعنی حجتِ قائمؑ) کی ذاتِ عالی صفات میں جس طرح فرشتوں اور روحوں کا نزول ہونا تھا، اُس کا تعلق ماضی سے بھی ہے اور مستقبل سے بھی، کیونکہ لفظِ “قدر” میں دو معنی پوشیدہ ہیں: گزشتہ دور کی “مقدار” کا خاتمہ، اور آئندہ دور کی “مقدار” کا آغاز، اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ شبِ قدر ماضی کی طرف سے قیامت کی ابتدا ہے اور مستقبل کی طرف سے دورِ جدید کا خدائی پروگرام، اور قدر، تقدیر (اندازہ) اور مقدار کا مطلب ایک ہے، جیسے اِس آیۂ کریمہ سے ظاہر ہے: وَ مَا نُنَزِّلُہ اِلاَّ بِقَدَرٍ مَّعلُومٍ  (۱۵: ۲۱)  اور ہم اِس (چیز) کو ایک مُعین مقدار میں اُتارتے رہتے ہیں۔

۲۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ قرآنی آیات ایک دوسرے کی تفسیر  و توضیح ہیں، اور خاص کر ایک ہی موضوع سے متعلق آیات، چنانچہ پروردگارِ عالمین کے اِس پاک ارشاد سے نزولِ ملائکہ کا مقصد واضح ہو جاتا ہے، اور وہ فرمانِ الٰہی یہ ہے: ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا ٓ اَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَقُضِیَ الْاَمْر وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْر(۰۲: ۲۱۰) کیا یہ لوگ (کسی اور واقعہ کا) انتظار کرتے ہیں سوائے اسکے کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس آئیں اور (قیامت کے) کام کا فیصلہ ہو جائے، اور تمام کام (مقدمات) خدا کی طرف رجوع کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح فرمایا گیا ہے: وَ جَآئَ رَبُّکَ وَ المَلَکُ صَفّاً صَفّاً (۸۹: ۲۲) اور آپ کا پروردگار اور جوق جوق فرشتے آئیں گے۔ اس کی تاویل یہ ہے کہ  شبِ قدر (یعنی حجتِ قائمؑ) کی روحانیّت میں اور عالمِ دین میں یہ سب کچھ ہوگا، مگر عالمِ ظاہر میں نہیں اور چونکہ خدائے پاک و برتر کی ذاتِ بیچون کے لئے “آنا جانا” جیسے الفاظ مجازی ہیں، لہٰذا اس کی تاویل

 

۶۱

 

ہے، اور وہ ممثول (تاویل) ہے حضرت قائم القیامت علیہ افضل التحیۃ والسّلام کا عالمِ دین میں آنا، کیونکہ وہی حضرت اللہ تعالیٰ کا نورِ کامل اور مظہرِ کُل ہے، اِس بیان سے ظاہر ہے کہ سورۂ قدر میں بزبانِ حکمت ایک طرف قیامت کا ذکر فرمایا گیا ہے اور دوسری طرف دورِ جدید  کا، اور اسی حقیقت کی طرف اشارہ “مِن کُلِّ اَمْر (۹۷: ۰۴) ہر کام کے واسطے” میں موجود ہے، کیونکہ کُلِّ اَمْر (ہر کام) کا مطلب ماضی و مستقبل دونوں پر محیط ہے۔

 

فقط بندۂ عاجز و ناتوان

نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی

کراچی۔ ۲۲۔ نومبر۔ ۱۹۸۳ء

 

۱؎   اِنبِعاث کی تاویل یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو مُبدِع اور مُبدَع کے وجود میں زندہ اور موجود  ہونے کے راز کا مشاہدہ کرے، اسی طرح اُس شخص نے جیتے جی اِنبِعاث کی معرفت حاصل کرلی۔

۲؎ اِس آیۂ مقدسہ سے ظاہر ہے کہ “حقیقتِ واحدہ” ایک ہے، مگر اس کی مثالیں مختلف اور جدا جدا ہیں اور یہ حقیقت ابداع اور انبِعاث کے سنگم پر واقع ہے۔

 

۶۲

 

سب سے عظیم مسئلہ تصوّرِ تخلیق

 

سوال ۔ا:       کیا تخلیقِ کائنات کی کوئی ابتدا اور انتہا ہے یا یہ ابتدا و انتہا کے بغیر ہمیشہ جاری ہے؟

سوال ۔۲:       آیا یہ صحیح ہے کہ کُلّی طور پر کوئی ابتدا و انتہا نہیں، مگر جزوی طور پر ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی؟

سوال۔۳:         کیا قرآنِ حکیم میں یہ ارشاد نہیں کہ ہر چیز ایک دائرے پر گردش کرتی رہتی ہے (۲۱: ۳۳)؟

سوال ۔۴:        آیا یہ حقیقت نہیں کہ عالم کی بقا و فنا بھی شب و روز (۳۶: ۴۰) اور دوسری تمام چیزوں کی طرح اپنے دائرے پر گھومتی رہتی ہیں؟

 

اِس دنیا میں کوئی ایسی باکرامت اور مبارک و مقدّس ہستی نہیں جو قرآنِ پاک اور دینِ اسلام کے مشکل ترین مسائل پر روحانی اور تائیدی علم کی روشنی ڈال کر ہمیں حقیقتِ حال سے واقف و آگاہ کر سکے، مگر امامِ زمان صلوات اللہ علیہ جو روئے زمین پر خلیفۂ خدا اور نائبِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم ہیں، جن کی اطاعت و فرمانبرداری اللہ اور پیغمبرؐ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اہلِ زمانہ پر فرض کی گئی ہے، تاکہ وہ حقیقی علم سے بہرہ ور ہو سکیں۔

 

جوا ب ۔۱: امامِ اقدس و اطہر کی پُرنور ہدایت و رہنمائی اور تائید و دستگیری

 

۶۳

 

سے اِس انتہائی اہم اور بنیادی مسئلے سے بحث کی جاتی ہے کہ اگر خدا کی تخلیق میں بنظرِ حقیقت دیکھا جائے تو کُلّی طور پر اس کی کوئی ابتدا و انتہا نہیں، کیونکہ کوئی ایسا زمانہ نہ کبھی پہلے ممکن تھا اور نہ ہی بعد میں ہوگا جس میں خداوندِ عالم فعلاً خالق نہ ہو، بلکہ وہ جس طرح ہمیشہ اور ہر حال میں خدا اور بادشاہِ مطلق ہے، اسی طرح وہ کسی ابتدا کے بغیر ہمیشہ بالفعل خالق ہے، اِس لئے کہ اُس کی ہر صفت قدیم ہے، پس کوئی ایسا زمان ممکن نہیں، جس میں خالق و رازق موجود ہو اور مخلوق و مرزوق نہ ہو۔

 

جواب۔۲: ہاں، یہ بالکل صحیح ہے کہ خدا کی بادشاہی میں کُلّی طور پر تخلیق کی کوئی ابتدا و انتہا نہیں، لیکن اس میں جزوی طور پر ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی، جس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں، جیسے کائنات کی لاتعداد چیزوں کا انفرادی حالت میں پیدا ہو جانا اور پھر فنا ہو جانا، اور ایک ایک ہو کر انسانوں کا دنیا میں آنا اور مرجانا وغیرہ۔

 

جواب ۔ ۳ـ: جی ہاں، قرآنِ حکیم (۲۱: ۳۳ ،  ۳۶: ۴۰) میں ارشاد ہے کہ ہر چیز ایک دائرے میں گردش کرتی رہتی ہے، جو لا ابتدائی اور لاانتہائی کی دلیل ہے، کیونکہ دائرے کا کوئی سِرا نہیں ہوتا، جو آغاز و انجام کی علامت ہو۔

 

جواب۔۴: جی، بالکل درست ہے کہ عالم کی بقا و فنا بھی شب و روز اور دوسری تمام چیزوں کی طرح اپنے دائرے پر دائمی گردش میں ہیں، جس میں کوئی ایک آگے اور ایک پیچھے نہیں، کیونکہ جب دو چیزیں کسی دائرے پر ہر طرح سے برابر برابر گردش کرتی ہیں تو آگے اور پیچھے کا سوال ختم ہو جاتا ہے، مثال کے طور پر دانشمند نہیں کہہ سکتا ہے کہ رات آگے ہے، اور یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ دن آگے ہے، جبکہ یہ دونوں چیزیں مل کر گول شکل میں ہیں اور اپنے مدار پر برابر برابر گردش کرتی ہیں، سو اِس سے معلوم ہوا کہ فنا و بقا میں سے کوئی اوّل و آخر نہیں ہے، اگر ان میں اوّل و آخر ہوتی، تو ایک سے وقت کی ابتدا ہوتی اور دوسری پر انتہا ہوتی، مگر ایسا نہیں ہے، بلکہ بقا و فنا بغیر ابتدا

 

۶۴

 

و انتہا کے ہیں۔

 

فنا اور نیستی کا تصوّر ایسا نہیں جیسا کہ عوام کے ذہن میں ہے، یعنی یہ عدمِ محض نہیں، بلکہ نیستی عالمِ امر کا نام ہے جو عالمِ لطیف ہے، سو عالمِ امر اور عالمِ خلق ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، یعنی ایک آگے اور ایک پیچھے نہیں، بلکہ دونوں ایک ساتھ ہیں، جیسے کسی دائرے کے دو نصف حصّے مل کر ساتھ ہوتے ہیں مثلاً ، چنانچہ عالمِ امر اور عالمِ خلق میں وقت کے لحاظ سے کوئی تقدیم و تاخیر نہیں، ہاں شرف کے لحاظ سے یہ صحیح ہے کہ ایک مقدّم ہو اور دوسرا مؤخّر، جیسے عالمِ امر کو عالمِ خلق پر باعتبارِ شرافت و فضیلت اولیّت و فوقیت حاصل ہے۔

عالمِ امر ثمر ہے اور عالمِ خلق شجر، یعنی دنیا و آخرت کے درمیان وابستگی اور رشتہ وہی ہے جو درخت اور میوہ کے درمیان ہوتا ہے وہ یہ کہ عالمِ خلق کے درخت سے عالمِ امر کا میوہ بنتا ہے اور عالمِ امر کے میوے (یعنی تخم) سے عالمِ خلق کا درخت پیدا ہوتا ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ  دونوں جہان ایک دوسرے سے پیدا ہوتے رہتے ہیں ، اور اسی طرح خدا کی بادشاہی میں ہمیشہ سے “تخلیق اندر تخلیق” کا سلسلہ جاری ہے جیسے رات سے دن اور دن سے رات کا وجود میں آنا  ایک دائمی سلسلہ ہے اور اِس کے بارے میں فرمانِ خداوندی ہے:

یہ اِس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے (۲۲: ۶۱) نیز ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے اِس میں اہلِ دانش کے لئے عبرت (استدلال) ہے (۲۴: ۴۴) رات کا اشارہ عالمِ باطن کی طرف ہے جو عالمِ امر ہے اور دن سے عالمِ ظاہر مراد ہے، جو عالمِ خلق ہے اور شب و روز کو ایک دوسرے میں داخل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ عالمِ امر سے جس طرح عالمِ خلق وجود میں آتا ہے اسی طرح عالمِ خلق سے عالمِ امر بنتا ہے، اور یہ ایک سلسلۂ لامتناہی

 

۶۵

 

ہے جیسے سمندر سے بارش اور بارش سے سمندر ہے یا جس طرح مرغی سے انڈا اور انڈے سے مرغی پیدا ہوتی رہتی ہے، اور ہر چیز کا یہی گول سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

اِس بات کا ماننا ہر کسی کے لئے آسان ہے کہ یہ کائنات جو عالمِ خلق ہے عالمِ امر سے وجود میں آئی ہے لیکن عالمِ امر کے بارے میں سوچنا یقینا  بہت سے لوگوں کے لئے مشکل ہے، اور اگر پروردگار چاہے تو اس میں کوئی مشکل نہیں، کیونکہ قرآنِ کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ عالمِ امر اس ظاہری کائنات سے بن جاتا ہے اور وہ ارشاد یہ ہے: ۔  وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَیَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْن (۰۶: ۷۳) اور (خدا) وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا (یعنی عالمِ امر سے بنایا) اور جس دن خدا “کُن” کہے تو وہ ( عالمِ امر) ہو جائے گا۔

اگر کوئی ہو شمند اس آیت میں ذرا سوچے تو معلوم ہو جائے گا کہ اِس میں دونوں جہان کے ایک دوسرے سے پیدا کئے جانے کا ذکر ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں عام روایات کے برعکس پہلے دنیا کی پیدائش کا بیان ہے اور پھر آخرت یعنی عالمِ امر کا۔

سورۂ بقرہ (۰۲: ۱۱۷) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو “کُن” فرما کر پیدا کیا ہے، اور یہاں اُوپر جو ارشاد درج ہے، اس کے مطابق آخرت بھی “کُن” کے امر سے پیدا ہوتی ہے، اِس کا مطلب یہ ہوا کہ “کُن” کا اطلاق دونوں جہان پر ہوتا ہے، بلکہ ہر چیز اسی کے تحت ہے جیسا کہ قولِ خدا ہے:

 

اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ(۳۶: ۸۲) جب (خدا) کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس اس کا معمول یہ ہے کہ اس چیز کو کہہ دیتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ دونوں جہان ایک ساتھ ہیں، لہٰذا روا ہے کہ کبھی پہلے دنیا کی تخلیق کا ذکر ہوا اور کبھی آخرت کی تخلیق کا، اور اِس میں کوئی فرق نہیں۔

 

۶۶

 

قرآنِ حکیم کہتا ہے کہ ذاتِ سبحان کے سوا جو کچھ بھی ہے اس کا جوڑا ہے (۳۶: ۳۶) نیز سورۂ ذاریات (۵۱: ۴۹) میں فرمایا گیا ہے کہ ہر چیز کا جوڑا ہے چنانچہ دنیا اور آخرت یا عالمِ ظاہر اور عالمِ باطن دونوں جوڑے ہیں، اِس معنی میں کہ دنیا جسم ہے اور آخرت اس کی روح ، اِس سے یہ حقیقیت روشن ہوگئی کہ دونوں ایک دوسرے سے وابستہ اور ایک دوسرے کے محتاج ہیں، اسی طرح کہ اگر ایک نہ ہو تو لازمی طور پر دوسرا بھی نہ ہوگا، جیسا کہ حکیم پیر ناصرِ خسرو (ق س) کا قول ہے:

تُو بکُلّ  بینا  نہ ای زانگہ  تُو  بیرا ہ  ماندای

تُو بکُلّ بینا شوی جان و جسد یکسانِ تُست

یعنی تو نصف یا جزو کو تو دیکھ سکتا ہے، مگر کُلّ کو نہیں دیکھ سکتا یہی وجہ ہے کہ تو راہِ حقیقت سے گمراہ ہو گیا ہے، اگر تُو کُلّ کو دیکھے تو اس وقت تیرے نزدیک جان اور جسم نیز آخرت اور دنیا کی اہمیت برابر ہوگی۔

موجودات کی بہت سی چیزیں اس طرح واقع ہیں کہ اگر ان کا ایک پہلو نظر آتا ہے تو دوسرا پہلو دکھائی نہیں دیتا، مثلاً سورج، چاند اور ستارے ایسے ہیں کہ آپ صرف انکے اگلے حصّے کو دیکھ سکتے ہیں اور اُن کے پس منظر کو نہیں، اور اتنے دُور سے اِن چیزوں کو جس طرح دیکھا جاتا ہے وہ بھی واقعیت اور حقیقت کے لحاظ سے ناکافی ہے، سو اِس کے لئے علم، سائنس اور تجربہ چاہئے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ اجرامِ سماوی بحقیقت کیا ہیں ، یہی مثال تصوّرِ تخلیق کی بھی ہے، کہ اس کے متعلق اگرچہ بعض لوگ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن حق بات تو یہ ہے کہ وہ بہت تھوڑا علم رکھتے ہیں، لہٰذا اس کے لئے روحانی علم اور معرفت کی ضرورت ہے۔

سورۂ انبیاء کی آیت ۱۰۴ میں فرمایا گیا ہے: یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآئَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ کَمَا بَد َاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہ (۲۱: ۱۰۴) وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے جس روز ہم آسمان کو اِس طرح لپیٹ لیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمون کا کاغذ

 

۶۷

 

لپیٹ لیا جاتا ہے اور جس طرح ہم نے خلقِ اوّل کی ابتدا کی تھی اسی طرح اِس کو دوبارہ پیدا کریں گے۔

اِس کا مفہوم یہ ہے کہ “تخلیق در تخلیق” کے لاابتدا و لاانتہا سلسلے میں جس طرح اِس سے پہلے عالمِ لطیف سے عالمِ کثیف پیدا ہوا تھا اسی طرح دوبارہ جہانِ کثیف سے جہانِ لطیف پیدا ہوگا، کیونکہ یہ کائنات اور اِس کی تمام چیزیں قلمِ قدرت کی تحریروں کی حیثیت سے ہیں، لہٰذا صفحۂ کائنات کے اِس لکھے ہوئے مضمون سے عالمِ امر کی صورت بنتی ہے، اور اس میں سب کچھ ہے، جس کو خداوند تعالیٰ مادّی طور پر نہیں بلکہ روحانی صورت میں لپیٹ کر طومار بنا دیتا ہے اور یہی چیز عالمِ امر ہے، اور پھر اسی کو مادّی شکل میں کھول کر اور پھیلا کر عالمِ خلق بناتا ہے، اِس آیت میں جس ابتدا کا ذکر ہوا ہے وہ جزوی قسم کی ہے، یعنی یہ وہ چیز ہے جو بار بار آتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے ابتدا کا تصوّر ختم ہو کر لاابتدائی کا تصوّر قائم ہو جاتا ہے۔

یہی مثال سورۂ زمر (۳۹: ۶۷) میں بھی ہے، جو ارشاد ہے: اور زمین اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں۔ یعنی ساری کائنات خدا کی داہنی مٹھی میں ہوگی، جس کی تاویل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ “کُن”  فرما کر عالمِ ظاہر کی روحانی شکل سے عالمِ امر بنا لے گا اور یہ ایک موتی کی صورت میں اللہ کے داہنے ہاتھ میں ہوگا، اور پھر اِس موتی سے یہی کائنات بنائی جائے گی، اور یہ ایک لا انتہا سلسلہ ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی زبان سے فرمایا گیا ہے کہ: قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطٰی کُلَّ شَیْئٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی (۲۰: ۵۰) موسیٰ نے کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت عطا کر دی پھر رہنمائی فرمائی۔ یعنی ہر چیز عالمِ امر میں بحالتِ روحانی موجود تھی پھر اِس کو ربُّ العزّت نے عالمِ خلق میں تخلیق کا جام عطا کر دیا، اور پھر

 

۶۸

 

اس کی ہدایت شروع کی، اور چلاتا رہا، یہاں تک کہ اس کو پھر عالمِ امر میں پہنچا دیا پس ظاہر ہے کہ عالمِ امر کی ہر چیز تخلیق کی شکل میں عالمِ خلق میں آتی ہے اور پھر یہاں کی ہر شیٔ امر کی حالت میں وہاں جاتی ہے۔ اِس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا اور آخرت (خلق اور امر) دونوں میں خدا کی قدیم بادشاہی قائم ہے جس کو کوئی زوال نہیں، اور اِس میں اوصافِ خداوندی کے زیرِ اثر جو دائمی حرکت ہے اِس کا نام تخلیق ہے، لہٰذا تخلیق کی نہ تو کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا، بلکہ یہ ہمیشہ ہمیشہ جاری رہنے والا ایک سلسلہ ہے۔   والسّلام

 

فقط آپ کا علمی خادم

نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی

۳۱۔ اگست ۔ ۱۹۸۰ء

حیدرآباد ۔ ہونزا۔ گلگت

 

۶۹

 

تین اعلیٰ سوال

 

یاعلی مدد! اشتیاق و اخلاص اور آداب و احترم سے بھرپور دست بوسی قبول کیجئے، قربانت شوم، آپ نے اپنے پیارے مکتوب میں، جو ۲۵، جنوری ۱۹۷۹ء کا ہے، روحانیّتِ عالیّہ کے تین پُرحکمت سوال فراہم کر دیئے ہیں، جن میں سے پہلے اور تیسرے کا تعلق کتاب “سو سوال” سے ہے، میں آپ کے اِس پُرخلوص اعتماد اور دینی محبت و مہربانی کے لئے ہمیشہ شکرگزار رہوں گا۔

سوال ۱: جب آخرت کا گھر زندہ ہے (۲۹: ۶۴) اور زندہ انسان اور اس کے بعد حیوان ہے، لہٰذا روح کو کسی نہ کسی جسم میں (یہاں) آنا ہے، تو اِس صورت میں مومن کی اِس زندگی کا، اُس زندگی کے ساتھ جو چھ کروڑ سال میں روحانیّت و جسمانیّت کے مکمّل دائرے کو طے کرنے میں ہے کا کیا ربط ہے، بالخصوص نصف دائرے کے ساتھ جو روحانیّت پر مبنی ہے؟

جواب: (الف) جیسا کہ یہ امرِ واقعی ہے کہ روحِ انسانی اپنے خاص مقام پر قادرِ مطلق کے تمام عجائب و غرائب کی مظہرِ کامل اور صفاتِ خداوندی کا آئینۂ صافی ہے، اور اِس حقیقت کا روشن ترین ثبوت انسانِ کامل کا مبارک و مقدّس وجود ہے، جو ہر زمانے میں موجود اور حاضر ہے کیونکہ انسان اور انسانیّت کی روحانی ترقی کا عملی نمونہ وہی ہے، چنانچہ جب ہمارا تصوّر یہ ہے کہ مومن کی زندگی ایک ایسے دائرے پر ہمیشہ سے گزرتی چلی جارہی ہے کہ جس کی نہ تو کوئی ابتدا ہے اور نہ ہی کوئی انتہا، اور

 

۷۰

 

وہ دائرہ روحانیّت و جسمانیّت دونوں پر محیط ہے اب اگر اِس صورتِ حال پر ذرا غور کیا جائے تو معلوم ہوگا، کہ کس طرح انسان کی جزوی زندگی دائرۂ اعظم کی کُلّی زندگی کے ساتھ مربوط اور وابستہ ہے وہ یہ کہ آدمی خواہ جسمانیّت کی طرف جی رہا ہو یا روحانیّت کی جانب، ہر حالت میں دائرۂ کُلّی سے باہر نہیں، وہ اگر آج دائرے کے جسمانی حصے میں ہے تو بالواسطہ روحانی حصّے سے بھی ربط و تعلّق رکھتا ہے۔

(ب) اگر ہم اپنے متعلق دو اناؤں کے قائل ہو جائیں، یعنی انائے عُلوی اور انائے سِفلی، تو اس وقت دَورِ اعظم کو ایک انتہائی عظیم گھڑی سے تشبیہہ دینی پڑے گی اور ہماری زندگی کی دو انائیں اِس گھڑی کی سُوئی کے دونوں سرے قرار پائیں گی، اِس مثال سے یہ حقیقت سورج کی طرح روشن اور ظاہر ہو جاتی ہے کہ ہمارا رابطہ نہ صرف انائے سِفلی کے وسیلے سے عالمِ جسمانی کے ساتھ قائم ہے، بلکہ ہم اپنی انائے عُلوی کے ذریعے سے عالمِ روحانی کے ساتھ بھی مُنسلِک ہیں، اور یہ مثال خود مونوریالزم (حقیقتِ واحدہ) سے بہت ہی قریب ہے۔

(ج) اِس میں کوئی شک نہیں کہ روح ایک اعتبار سے دنیا میں آئی ہے اور دوسرے اعتبار سے نہیں آئی ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ اگر مانا جائے کہ روح دنیا میں آگئی ہے، تو پھر اس کا آنا ایسا ہرگز نہیں جیسے کسی مادّی چیز کا آنا ہوتا ہے، جبکہ خود مادّی چیزوں کے آنے میں بھی آسمان زمین کا فرق ہے، چنانچہ جب کوئی آدمی آتا جاتا ہے تو وہ اس میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتا ہے، وہ کس قدر محدود و مجبور ہے کہ جب یہاں آتا ہے تو وہاں موجود نہیں، اور جس وقت یہ وہاں جاتا ہے تو یہاں حاضر نہیں، اِس کے برعکس جب ہَوا آتی جاتی ہے تو اِس سے کہیں کوئی خلا پیدا نہیں ہوتا، جس کی وجہ یہ ہے کہ ہَوا آدمی کی طرح محدود نہیں بلکہ بسیط ہے یعنی اپنے دائرے میں ہر جگہ موجود ہے، اور روح اِس سے بہت زیادہ بسیط ہے پھر آسمان کی گردش پر ذرا غور

 

۷۱

 

کیا جائے، کہ یہ آتا جاتا تو ہے، مگر اس کی کُلیّت اپنی جگہ پرٹھہری ہوئی ہے، لہٰذا اس کا آنا نہ آنے کی طرح ہے، آنے کو تو سورج کی روشنی بھی آتی ہے، ندی بھی آتی ہے اور دریا بھی آتا رہتا ہے، لیکن یہ چیزیں ایک آدمی کی طرح کب آتی ہیں، کیونکہ ان کا یہ سِرا اگر یہاں پہنچا ہوا ہے تو وہ سِرا اصل سرچشمہ میں مربوط و مُنسلِک ہے، اِن مثالوں میں سوچنے سے عالمِ روحانیّت کے ساتھ روح کے ربط و تعلّق کا کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔

(د) جب ٹی وی سے کسی انسان کی آواز سنائی دیتی ہے اور صورت نظر آتی ہے تو کوئی چھوٹا سا بچّہ یہ گمان کر سکتا ہے کہ بس یہی کچھ جو سامنے ہے مکمل آدمی ہے، حالانکہ ایک باشعور انسان کے نزدیک اس کی حقیقت کچھ اور ہے اور ایک سائنس دان کی نظر میں صورتِ حال اِس سے بھی زیادہ روشن ہے، کہ جو چیز آنکھوں کے سامنے ہے وہ اصل آدمی نہیں بلکہ اس کی بولتی چالتی ایک تصویر ہے، چنانچہ ہماری یہ دُنیاوی زندگی اُس اُخروی اور روحانی زندگی کا ایک زندہ عکس ہے جو عالمِ بالا میں ازل سے قائم ہے، جس کی مثال ایک طرح سے سورج ہے کہ وہ کُلّی طور پر اپنی جگہ چھوڑ کر آئینے میں اُتر نہیں سکتا، اور نہ ہی وہ اس کے اندر سمو کر محدود ہو سکتا ہے، مگر ہاں یہ درست ہے کہ وہ اِس پر اپنا عکس ڈالتا ہے، جس کو دیکھ کر کوئی سادہ لوح آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ سورج آئینے میں آیا، لیکن سورج خود آیا کہاں ہے یہ تو سورج کا عکس ہی ہے، اِس مثال سے ہمیں روح کے تصوّر کے سلسلے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

(ھ) اب ہم بڑی آسانی سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری اصل روح دنیا میں آئی ہی نہیں، مگر اس کا سایہ یہاں آیا ہے، سایہ سے مراد ہماری جسمانی اور جُزوی زندگی ہے، جو روحانی اور کُلّی زندگی کے درخت سے وابستہ ہے، درخت ہمیشہ اپنی جگہ پر قائم ہے، اور سایہ اپنی حدود میں حرکت کرتا ہے، اسی طرح ہماری ایک اصل یعنی کُلّی روح ہے اور ایک جُزوی روح، اِس تفصیل سے یہ حقیقت روشن ہو کر سامنے آتی ہے

 

۷۲

 

کہ ہم اپنے شعور کی سب سے اعلیٰ سطح پر ہمیشہ ہمیشہ اصل سے واصل اور مربوط ہیں، اس کے یہ معنی ہوتے ہیں، کہ ہماری سابقہ زندگی اور اس کے وہ تمام کارنامے جو دَورِ اعظم پر محیط ہیں ہماری اصل روح میں محفوظ ہیں، اور جیسے ہی ہم شعوری طور پر اس کے ساتھ مدغم ہو جائیں گے، تو سابقہ اور موجودہ زندگی کی ہر ہر زندہ تصویر کا مشاہدہ کیا جاسکے گا۔

(و) اگر ہم عالمِ روحانیّت یعنی روحِ ارواح کی تشبیہہ ایک انتہائی عظیم کائناتی ریڈیو اسٹیشن سے دیں، اور تمام جُزوی روحوں کو اس کی ریڈیائی لہروں سے بجنے والے لاتعداد ریڈیو قرار دیں، تو اُس وقت ہمیں یہ بھی فرض کر لینا ہوگا کہ وہ اسٹیشن نہایت ہی عجیب و غریب اور بڑا معجزانہ قسم کا ہے، وہ جان، عقل، علم، ارادہ اور قدرت جیسی تمام اعلیٰ صفات رکھتا ہے، اس لئے دنیا کے اسٹیشنوں کے لئے جو کچھ ناممکن ہے اس کے نزدیک وہ ممکن ہے اور اس سے سب کچھ ہو سکتا ہے، اس مثال سے مومن کی انائے عُلوی اور انائے سفلی کا باہمی رابطہ صاف طور پر ظاہر ہوجاتا ہے۔

(ز) اِن تمام تفصیلات کا خلاصہ اور نچوڑ یہ ہے کہ روحِ انسانی نہ صرف ازل اور ابد میں اپنی اصل کے ساتھ ایک ہے بلکہ وہ موجودہ وقت میں بھی کئی رشتوں سے روح الارواح کے ساتھ مربوط و مُنسلِک ہے، اور اِس حقیقت کی ایک عام مثال یہ ہے کہ جس طرح جسم روح کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح جُزوی روح بھی کُلّی روح کے سوا زندہ اور قائم نہیں رہ سکتی ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ نہ صرف ہمارا جسم ایک جان رکھتا ہے بلکہ ہماری جان کی بھی ایک جان ہے، اور وہ عالمگیر روح ہے، یعنی کائناتی روح، جس کے اور بھی بہت سے نام ہیں، جیسے روحِ اعظم، روحُ الارواح، روحِ کُلّی، عالمِ روحانیّت، عالمِ بالا، لوحِ محفوظ، کرسیٔ الٰہی وغیرہ چنانچہ روحِ جُزوی اور عالمِ روحانیّت جسم و جان کی طرح مربوط و مُنسلک ہیں، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مومن کی طویل ترین روحانی زندگی ( جو دورِ اعظم کے نصف دائرہ سے تعبیر ہے)

 

۷۳

 

روحِ کُلّی سے الگ نہیں، لہٰذا اسی معنی میں مومن اپنی سابقہ روحانیّت سے ربط و تعلق رکھتا ہے اور اس کا تصوّر کرتا ہے، اور جن لوگوں کو بنیاد ہی سے ان ازلی و ابدی حقائق و معارف کا تصوّر نہ ہو تو ان کی مذّمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ: ہم نے ایک دیوار ان کے آگے بنا دی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے پھر اوپر سے ان کو ڈھانک دیا ہے تو وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے (۳۶: ۰۹) اِس آیۂ کریمہ کی روشنی میں بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان علمی اور عملی طور پر نہ صرف ابد کے احوال تک رسائی کر سکتا ہے، بلکہ وہ اسی طرح ازل کو بھی پہنچ سکتا ہے، کیونکہ ازل اس کی روحانیّت کا ماضی ہے اور ابد مستقبل ۔

 

سوال ۲: اَفَرَئَیْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰی وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی (۵۳: ۱۹ تا ۲۰) (تو بھلا لوگوں نے لات و عُزیٰ اور تیسرے پچھلے منات کو دیکھا ) کی کیا تاویل ہوتی ہے؟

جواب: (الف) بزرگانِ دین نے اپنے اپنے زمانے کے مطابق اِس آیۂ کریمہ کی پُرحکمت تاویلیں کی ہوں گی، میں اپنی بساط کے مطابق اِس سلسلے میں جو کچھ گزارش کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ بُت اور بت پرستی نہ صرف دین کے ظاہر اور جسمانیّت میں موجود ہے بلکہ یہ باطن اور روحانیّت میں بھی پائی جاتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر و باطن کو مثال اور ممثول کے طور پر پیدا کیا ہے، اور مخلوق کے ظاہر میں جو کچھ جسمانی طور پر موجود ہے وہی دین کے باطن میں روحانی حیثیت میں بھی ہے، چنانچہ روحانیّت کے جتنے درجات مقرر ہیں وہ سب کے سب قانونِ توحید کی رُو سے بُت ہیں، سوائے اُس درجے کے جو سب سے اوپر ہے، تاکہ اِس تصوّر کے سہارے مومنِ مؤحّد کو مرتبۂ آخرین حاصل ہو سکے۔

(ب) جاننا چاہئے کہ روحانیّت کے تمام درجات صراطِ مستقیم ہی پر واقع ہیں،

 

۷۴

 

چنانچہ یکے بعد دیگری اِن درجات کو پہچانتے ہوئے منزلِ آخرین کی طرف قدم بڑھانا ہدایت ہے اور اِس کے برعکس منزلِ مقصود کے بغیر کسی مرحلے یا درجے میں پابند رہنا توحید کی نظر میں بُت پرستی اور گمراہی ہے، لہٰذا قرآنِ حکیم اگر ایک طرف جسمانی بُت پرستی کو ترک کرکے دینِ حق قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے تو دوسری طرف روحانی بتوں کو چھوڑ کر منزلِ توحید تک رسا ہو جانے کی ہدایت بھی کرتا ہے، کیونکہ پروردگارِ عالم کے قانونِ صدق و عدل کا تقاضا ہمیشہ یہی رہتا ہے، کہ اُس کا ہر فرمان متعلّقہ ہدایت و رہنمائی میں ہر طرح سے کامل اور مکمل ہو۔

(ج) عزیزوں کو یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ باطنی بُت بھی ظاہری اصنام کی طرح ہر قسم کے ہوا کرتے ہیں، چنانچہ مذکورۂ بالا آیۂ کریمہ میں جن تین بتوں کا ذکر ہوا ہے، وہ مثال کے طور پر روحانیّت کی ابتدائی دیویاں ہیں، جن کے اسماء کے معنوں میں اُن کے احوال پوشیدہ ہیں، اور اگر حقیقت و معرفت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ وہی فرشتے ہیں جن کو روحانیّت کے بُت پرست خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں، اِس لئے کہ اگرچہ ملائک اصلاً خاصۂ رجولیّت و نسوانیّت سے بالاتر ہوتے ہیں، لیکن ان کا ظہور مرد کی صورت میں بھی ہوتا ہے اور عورت کی شکل میں بھی، جیسے قرآنِ مقدّس میں اِس مطلب کا ذکر آیا ہے کہ:

اَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ (۵۳: ۲۱) کیا تمہارے لئے تو بیٹے (تجویز) ہوں اور خدا کے لئے بیٹیاں؟ یعنی جو فرشتے لڑکیوں کی صورت میں ہیں اُن کے متعلق تمہارا یہ عقیدہ باطل ہے کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں، نیز ارشاد ہے کہ: اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی (۵۳: ۲۷) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کے نام رکھتے ہیں عورتوں کے نام پر۔ اِس کے معنی ہیں کہ وہ لوگ چونکہ روحانیّت کے حقائق و معارف سے ناواقف اور انجامِ کار سے غافل ہیں لہٰذا وہ زنانہ شکل

 

۷۵

 

کے فرشتوں کو دیویاں مانتے ہیں اور یہ باطنی بُت پرستی ہے، جس کی مثال لات، عُزیٰ اور منات ہیں، کہ یہ اصل میں فرشتے ہیں مگر اہلِ باطل نے ان کو عورتوں کا نام دے کر دیویاں قرار دیا ہے۔

 

سوال ۳: ہر چند کہ حضرت یعقوبؑ نے بھائیوں کی دشمنی کی بناء پر حضرت یوسفؑ کو امامت کا اختیار منتقل کر دیا تھا، لیکن با این ہمہ ان کو امام کا دیدار نصیب نہ ہونے میں کیا حکمت تھی، جبکہ حضراتِ پنجتنِ پاک کی مثال میں اختیارِ ہدایت ایک شخص میں ہونے کے باوجود سب میں نور ہونے کا تصوّر پایا جاتا ہے؟

جواب: (الف) قانون دین کا ہو یا دنیا کا، نبوّت سے متعلّق ہو یا اِمامت کے بارے میں ہر حالت میں وہ نہ صرف اٹل قواعد و ضوابط پر مبنی ہوتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس میں خصوصی حالات اور مستثنیات کا لحاظ بھی رکھا جاتا ہے، تاکہ بوقتِ منشا اور ہنگامِ ضرورت کوئی حرج و تنگی نہ ہو، اور دینِ حق میں اِس حقیقت کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں، چنانچہ عام طور پر دیکھا جائے تو ہر پیغمبرِ ناطق کے ساتھ صرف ایک ہی اساس ہونے کا تصوّر ملتا ہے، مگر حضرت ابراہیمؑ کے اساس دو تھے، یعنی اساسِ مستقر حضرت اسماعیلؑ اور اساسِ مستودع حضرت اسحاقؑ دوسری مثال یہ کہ زمانے میں ایک ہی امام ہُوا کرتا ہے لیکن بعض دفعہ مستقر اور مستودع دو دو امام بھی ہوئے ہیں، جس طرح حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کی پاک نسل میں اِمامت کے مذکورہ دو سلسلے چلتے آئے، یہاں تک کہ حضورِ اکرمؐ کا زمانہ آیا اور مولانا علیؑ کی ذاتِ گرامی میں دونوں قسم کی اِمامتیں ایک ہو گئیں۔

(ب) اسی طرح یہ بالکل درست ہے کہ اصولی طور پر ہمیشہ نورِ امامت باپ سے بیٹے میں منتقل ہوتا ہے، لیکن جیسا کہ ہم اوپر عرض کر چکے ہیں اس میں کچھ مستثنیات بھی ہیں، جن کا علم تاریخِ امامت اور تصوّرِ امامت کی روشنی میں حاصل ہو سکتا ہے،

 

۷۶

 

مثال کے طور پر اگر ہم مانیں کہ زمانۂ آدم کا پہلا اساس مولانا ہابیلؑ تھا اور اس کی شہادت کے بعد مولانا شیثؑ اساس ہُوا، تو اِس صورت میں ہمیں یہ بھی قبول کرنا ہوگا کہ نورِ امامت کبھی کبھار بھائی سے بھائی کو منتقل ہو سکتا ہے، اِس سلسلے میں ہمیں زمانۂ موسیٰؑ کے اساس مولانا ہارونؑ اور اِس کے جانشین مولانا یوشعؑ بن نون کے جسمانی رشتے پر بھی غور کرنا چاہئے نیز عہدِ عیسیٰؑ کے اساسِ اوّل مولانا یحییٰؑ اور اساسِ دوم مولانا شمعونؑ کے بارے میں بھی خوب سوچنا ہوگا کہ اِن مقدّس ہستیوں کے آپس میں کیا رشتہ تھا، اِس بیان سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ نورِ امامت کے اٹل قانون میں بھی دوسرے قوانین کی طرح کچھ مستثنا واقعات ہُوا کرتے ہیں، تاکہ اللہ کے دین میں لوگوں کے لئے رحمت ہی رحمت مہیا رہے اوران کو کسی قسم کی مایوسی نہ ہو۔

(ج) جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ نورِ نبوّت و امامت باطن کے باطن میں ایک ہونے کے باؤجود بمقتضائے زمان و مکان مختلف درجات اور جُدا جُدا حیثیتوں میں ظہور پذیر ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ امامت کے کئی درجات ہوا کرتے ہیں، جیسے امامِ مقیم، امامِ اساس، امامِ مُتِم، امامِ مستقر اور امامِ مستودع، تاکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایتِ کاملہ کے ظاہری اور باطنی وسائل ہمیشہ مہیا رہیں اور زمانے کو امامِ عالیمقامؑ کی جس مرتبت کی ضرورت ہو اسی مرتبت میں امامِ برحقؑ کارِ ہدایت کو انجام دے۔

(د) اِس مطلب کی دوسری وضاحت یوں ہے، کہ امام مَلَکی اور بشری دونوں صفات کا مالک ہوا کرتا ہے، یعنی وہ بیک وقت فرشتۂ عظیم بھی ہے اور انسانِ کامل بھی، تاکہ وہ عملی طور پر ناسوت سے ملکوت کی طرف لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کر سکے، اِس سلسلے میں چونکہ لوگ ایک سطح کے نہیں یعنی ان کی دینی صلاحیتیں مختلف قسم کی ہوتی ہیں، اس لئے امامِ برحقؑ اپنی عملی ہدایت و رہنمائی میں نہ صرف جسمانی مشکلات پر قابو پانے کی مثالیں پیش کرتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے نمونۂ عمل سے یہ بھی ظاہر

 

۷۷

 

کرتا ہے کہ روحانی دُشواریوں کے آنے پر مومن کو کیا کرنا چاہئے، تاکہ مومنین کی ظاہری و باطنی زندگی کا کوئی گوشہ ہدایتِ کاملہ کی روشنی کے بغیر نہ رہے۔

(ھ) مذکورۂ بالا حقائق و معارف کی روشنی میں اب یہ سمجھ لینا ہمارے لئے بالکل آسان ہو گیا کہ پنجتنِ پاک صلوات اللہ علیھم کی مثال میں حضرت محمد مصطفی ناطق تھے، علیؑ اساس، حسنؑ امامِ مستودع، حسینؑ امامِ مستقر اور فاطمۂ زہراؑ پیغمبرِ اکرمؐ کے حجتوں میں سے تھیں، کہ ناطق کے حجّت عظیم ہوا کرتے ہیں، اور خاص کر آنحضرتؐ کے حجت سب سے عظیم تھے، چنانچہ حضور کا پہلا حجت (یعنی باب) اساس تھا یعنی علیؑ، دوسرا حجت امام حسنؑ، تیسرا امام حسینؑ اور چوتھی حجت فاطمۂ زہراؑ اِس سے ظاہر ہے کہ حضراتِ پنجتن نور کے مرکز تھے۔

(و) امامِ اطہر و اقدس سراپا نورِ ہدایت ہوتا ہے، لہٰذا اُس کی روحانی اور جسمانی زندگی کی ہر مثال ہدایت و رہنمائی کی حکمتوں اور مصلحتوں سے بھرپور ہوا کرتی ہے، چنانچہ حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کے قرآنی قصّے میں روحانیّت اور امام شناسی کی بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں، سو پہلی حکمت یہ ہے کہ امامِ عالی مقام کے ازلی و ابدی نور کا حقیقت میں نہ تو کوئی باپ ہے اور نہ ہی کوئی بیٹا، لیکن اِس حقیقت کے باوجود نورِ ازل کے ظہوراتِ روحانی انتہائی عجیب و غریب اور بڑے حیرت انگیز ہوا کرتے ہیں، چنانچہ یہ اس کے گوناگون جلووں میں سے ہے کہ وہ کبھی تو امام کے والدِ بزرگوار کی بے پناہ شفقتوں کی صورت میں اور کبھی اس کے فرزندِ دلبند کی مسرّت بخش محبتوں کی شکل میں جلوہ نما ہو جاتا ہے، چنانچہ شروع ہی سے حضرت یعقوبؑ کو حضرت یوسفؑ سے جو بے پناہ محبت تھی، وہ دراصل دنیاوی نہیں بلکہ نور کی وجہ سے دینی اور حقیقی محبت تھی، کیونکہ حضرت یعقوبؑ کی مبارک پیشانی میں جو امامت کا مقدس نور جلوہ گر تھا، وہ اپنی معنوی جامعیّت و ہمہ گیری کے سلسلے میں جہاں دوسری بہت سی حقیقتوں کا انکشاف و اظہار

 

۷۸

 

کرتا تھا، وہاں وہ یہ بھی فرمایا کرتا تھا کہ وہ نور جو پیشانی میں بول رہا ہے خود اِس کا بیٹا یوسف ہے، جس کے نتیجے میں یعقوب اپنے بیٹے یوسف کو ظاہر و باطن میں بیحد چاہتا تھا۔

(ز) دوسری حکمت یہ ہے کہ اگرچہ امرِ امامت (یعنی اختیار) عام طور پر امامِ سابق کی زندگی کے آخری لمحات میں منتقل ہو جاتا ہے، لیکن کبھی کبھار زمانے کا امام کسی اہم خدائی مصلحت کی بناء پر وقت سے پہلے بھی اپنے بیٹے کو عملی طور پر جانشین بنا سکتا ہے، جس کی ایک نمایان مثال حضرت یوسفؑ ہے، چنانچہ مرکزِ نور کی اِس منتقلی کے بعد اگرچہ حضرت یعقوبؑ کا باطن کاملاً منور اور روشن تھا، تاہم عرصۂ دراز تک امام کا سب سے بڑا دیدار نہیں ہو رہا تھا، لیکن مسلسل گریہ وزاری اور پُرکشش مقناطیسی یادوں کے وسیلے سے ایک دن یہ مبارک دیدار بھی حاصل ہوگیا، اور اِس عظیم واقعہ میں ایسے تمام مومنین کے لئے نمونۂ عمل اور مکمل ہدایت موجود ہے، جن کو ابھی تک امامِ زمانؑ کا روحانی دیدار نہیں ہوا ہے یا جنہیں دیدار ہو رہا ہے یا دیدار ہونے کے بعد پھر اس میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے کہ وہ دیدارِ باطن کو کوئی معمولی اور آسان کام تصور نہ کریں، نہ دیدار کے بعد سُست اور ناشکرگزار ہو جائیں اور نہ ہی کمی واقع ہونے پر مایوس ہو بیٹھیں۔

(ح) تیسری حکمت یہ ہے کہ ہم جیسے عقل کے بیچارے اکثر یہ گمان کئے ہوئے بیٹھتے ہیں کہ بس ذرا سی کوشش سے دیدار حاصل ہوگا، لیکن حضرت یعقوب کا یہ پُرحکمت واقعہ زبانِ حال سے ہمارے اِس ناچیز گمان کی بڑی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہے اور صورتِ حال کے رمز و کنایہ سے اِس بات کا تاکیدی حکم دیتا ہے کہ اگر تم کو واقعاً امامِ عالی صفات کے دیدارِ باطن کی لاتعداد برکتوں اور سعادتوں سے سرفراز ہو جانا مقصود ہے تو تم اپنے دل میں امامِ زمان علیہ السّلام کی وہ انتہائی شدید اور کامیاب ترین محبت پیدا کرو، جو حضرت یعقوب ؑکے سینۂ صافی میں موجزن تھی، کیونکہ اسی پاک و پاکیزہ محبت نے اخلاص و عقیدت اور احترام و ادب سے حضرت یوسفؑ کے دامنِ دل

 

۷۹

 

کو مضبوطی سے تھام لیا اور نہیں چھوڑا تا آنکہ وہ اُسے کشان کشان یعقوبِ حزین سے ملا دینے میں کامیاب ہوگئی۔

(ط) اِس مقام پر اشتیاقِ دیدار کے بھرپور جذبات رکھنے والے مومنین کو خوب سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ انسانیّت، اخلاق اور مذہب کے اِس درجۂ کمال پر عصمت، طہارت اور پاکیزگی کی اِس شان کے ساتھ اور عظمت، بزرگی، قدر اور منزلت کی اتنی رفعت و بلندی حاصل ہونے کے باوجود یہ کیوں کر ضروری ہوا کہ حضرت یعقوب جیسا ایک انسانِ کامل دیدارِ باطن کے لئے ابرِ نو بہار کی طرح زار زار رویا کرے اور بار بار خونِ جگر کے آنسو بہائے، آپ نتیجے کے طور پر یقیناً اِس حقیقت کو قبول کر لیں گے کہ پیغمبر اور امام کی مرتبت کے ایک کامل انسان کی طرف سے انتہائی سخت ریاضت تحلیلِ نفس اور شوقِ دیدار کا یہ نمونہ پیش کرنا اور وہ بھی کسی اور طریقے سے نہیں بلکہ قرآنِ کریم کے توسّط سے اِس لئے ضروری ہوا کہ سمجھنے والے دیدارِ مقدّس کی قدروقیمت کا خود بخود اندازہ کریں کہ اِس کے حصول کے لئے کیسی اور کتنی عظیم قربانیوں کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اسی معیار کے مطابق علم و عمل کا فریضہ انجام دیں۔

 

نصیرالدّین نصیرؔہونزائی

۱۹۷۹ء

 

۸۰

 

حضرت موسیٰ ؑ کے نو (۹) معجزات

 

۱۔ عصا (لاٹھی) یعنی معجزۂ اسمِ اعظم، کہ جس طرح جسمانی طور پر لاٹھی چلنے کے لئے اور کئی دوسرے کاموں کے لئے وسیلہ ہے، اسی طرح اسمِ اعظم روحانی سفر اور ترقی کا ذریعہ ہے۔

۲۔یدِ بیضا ء (۰۷: ۱۰۸، ۲۰: ۲۲، ۲۶: ۳۳، ۲۷: ۱۲، ۲۸: ۳۲) معجزۂ فکری بصورتِ بیان، کیونکہ فکر عقل کا ہاتھ ہے اور بیضاء کا مطلب روشن ہے، یعنی ایسی کامیاب فکر جس کا نتیجہ ہر بار نورانی کلام ہو۔

۳۔ قحط سالی (سنین ۰۷: ۱۳۰) علمی قحط ، کیونکہ جسمانی قحط عام روحانی قحط کی مثال ہے، جبکہ روحانی چیزوں کی تشبیہہ مادّی اشیاء سے دی جاتی ہے۔

۴۔ ثمرات کا نقصان (۰۷: ۱۳۰) یعنی حکمت کا مفقود ہوجانا، کیونکہ حکمت کے نہ ہونے کی مثال پھلوں کے نہ ہونے سے دی گئی ہے، جبکہ علم روح کی عام غذا ہے، اور حکمت جو پھل ہے خاص غذا ہے۔

۵۔ طوفان (۰۷: ۱۳۳) یعنی روحانی اور علمی طوفان، جس میں بہت سی قومیں ہلاک ہوچکی ہیں۔

۶۔ ٹڈیاں (جراد ۰۷: ۱۳۳) یعنی ایسی بُری روحیں اور متضاد افکار، جس سے عقل کی فصل تباہ ہوجاتی ہے، جس طرح ٹڈیاں ظاہری فصل کو برباد کر دیتی ہیں۔

۷۔قُمّل (جوئیں ۰۷: ۱۳۳)ایسی بَد روحیں ، جو جسم کو اذیت پہنچاتی ہیں، یہ

 

۸۱

 

بھی عذاب کے معجزات میں سے ہے۔

۸۔ مینڈک (ضفادع ۰۷: ۱۳۳) ایسی ادنیٰ روحیں ، جن کی مسلسل آواز کے سبب سے اعلیٰ روحوں کی آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔

۹۔ پانی کا خون بن جانا (۰۷: ۱۳۳) یعنی علم کا بگڑ جانا، اور علمی تشنگی کا باقی رہنا۔

 

نصیر الدین نصیر ہونزائی

۲۲ جولائی ۱۹۸۲ء

 

نوٹ: ۱؎ اس سے ظاہر ہے کہ بعض معجزات اس لئے رُونما ہوتے ہیں، کہ ان سے نافرمان لوگ ہلاک ہو جائیں یا عذاب میں مبتلا ہوجائیں۔

۲؎ آیاتِ تسعہ (نو معجزات) کی تاویل بہت اہم ہے، آپ اس کو توجہ سے دیکھیں۔

 

۸۲

 

تصویر اور تصوّر

 

انسان یا کسی اور چیز کی شکل و صورت اگر کاغذ وغیرہ پر بنائی گئی ہے تو وہ تصویر کہلاتی ہے، اور اگر وہ ذہن و خیال میں لائی جاتی ہے تو اس کو تصوّر کہتے ہیں، جس طرح مختلف وجوہ کی بناء پر تصویریں خاص سے خاص اور عام سے عام ہؤا کرتی ہیں، اسی طرح اعمال کے اُتار چڑھاؤ کے سبب سے تصوّرات بھی اعلیٰ سے اعلیٰ اور ادنیٰ سے ادنیٰ ہر درجے کے ہوتے ہیں، یہ نہ صرف باطن کی روشنی اور تاریکی کی بات ہے، بلکہ اس میں خود تصوّر کی نوعیّت کا بھی ذکر ہے۔

دنیا میں کوئی تصویر اپنے آپ نہیں بنتی ہے، بلکہ اس کا کوئی مصوّر ہوتا ہے وہی اس کو اصل چیز سے یا اس کی سابقہ تصویر سے یا اگر اس کو ٹھیک طرح سے پہچان لیا ہے تو تصوّر سے بنا دیتا ہے، اسی طرح انسان ہی خود اپنے تمام تصوّرات کو وجود دیتا ہے، اور ان میں سے جو تصوّرات قدرتی کہلاتے ہیں، وہ بھی اصل میں خود انسان ہی کے افکار، اقوال اوراعمال کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں، لہٰذا دانا مومن نہ صرف دیدارِ ظاہر اور تصویر بینی کے وسیلے سے عالیشان نورانی تصوّرات کا خواہان ہوتا ہے، بلکہ وہ اسکے ساتھ ساتھ خلوصِ نیّت سے نیک کاموں کو بھی انجام دیا کرتا ہے، تاکہ دل و دماغ میں حقیقی روشنی پیدا ہواور نورانیّت کے پُرحکمت تصوّرات کی حیثیّت میں باطنی دیدار کا شرف حاصل کیا جا سکے۔

بعض لوگ دل کی آنکھ کھولنے اور باطنی روشنی دیکھنے کے شوق میں بڑی

 

۸۳

 

پابندی اور سختی کے ساتھ طرح طرح کی مشقوں میں عمرِ عزیز کا ایک حصّہ صرف کرتے ہیں، جس میں اگر وہ کوئی روشنی دیکھتے بھی ہیں تو وہ غیر حقیقی اور عارضی قسم کی ہوتی ہے، جس کی کوئی اہمیّت نہیں، با اخلاص مومن ہمیشہ حقیقی نور کی تجلّیات دیکھنےکا جذبہ رکھتا ہے، اور اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے نورِ ہدایت کے مقدّس ارشادات پر جان و دل سے عمل کرتا رہتا ہے۔

حقیقی مومنین کے نزدیک مولائے زمان کی بابرکت تصویر کی بہت بڑی اہمیّت ہے، کیونکہ یہ نور کی پاک شخصیّت اور انسانِ کامل کی شناخت کی علامت اور نشانی ہے، جو یاد آوری کا وسیلہ بن کر دل میں نرمی اور حقیقی محبّت پیدا کر دیتی ہے، نیزیہ ایک طرح سے گواہی اور ثبوت کی حیثیّت رکھتی ہے کہ امامِ برحقؑ دنیا میں حیّ و حاضر ہیں، اور اس کا ایک نہایت عالیقدر روحانی پس منظر ہے، چنانچہ بڑے خوش نصیب ہیں وہ مومنین جو مولاپاک کی مبارک تصویر کو عقیدت و محبّت کی نظر سے دیکھا کرتے ہیں اور اس کا احترام بجا لاتے ہیں۔

مورخہ ۳، اگست ؁۱۹۷۹ء  کی بات ہےکہ کسی عزیز نے بسِلسِلۂ جذبۂ دینداری مجھے مولانا حاضر امام صلوات اللہ علیہ کی دو مبارک و مقدّس تصویریں جو تقریباً پوسٹ کارڈ سائز کی تھیں بطورِتحفہ عنایت کر دیں، چونکہ یہ پاک و پاکیزہ تصویریں امامِ عالی مقام ہی کی تھیں، اِس لئے ایک عاشق کی نگاہ میں اُن تصویروں کا انتہائی خوبصورت اور بیحد دلکش ہونا ہی تھا، پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ میرے آقائے نامدارکی یہ دونوں تصویر بڑی خوبصورت اور بہت ہی پیاری تھیں، ایک تصویر پُروقارسکوت و سنجیدگی کی مظہر تھی اور دوسری کے تبسّم سے مسرّت و شادمانی کے پھول برس رہے تھے، جس میں مولا باپا کی پُرنور مبارک آنکھیں کچھ یوں لگ رہی تھیں، جیسے عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ (جو دو عظیم فرشتے ہیں) دو کائناتی دُوربین (Telescope) بن کر آسمان و زمین کی بلندی و پستی کا خوب نظّارہ کر رہے ہوں،

 

۸۴

 

اورچہرۂ مبارک کی بہارِ حسن و جمال کا یہ عالم تھا ، کہ اُس پر کُل جہان کی رعنائی و زیبائی بصد شوق قربان اور نثار ہو رہی تھی۔

چونکہ میں بچپن ہی سے امامِ برحقؑ کی مبارک تصاویر کا دلدادہ اور عاشق ہوں اور حق بات یہ ہے کہ مجھے اِن پُرحکمت تصویروں سے عقیدت و محبّت کی بہت ساری دولت میسّر ہوئی ہے، چنانچہ میں نے مذکورہ دونوں تصویروں کو عقیدتمندی اور اخلاص و ادب کے بھر پور جَذَبات سے بار بار چومتے ہُوئے چشم و سینے سے لگالیا، اور کچھ دیر تک ان کی طرف دیکھتا رہا، اتنے میں میرے دل میں ایک بہت ہی میٹھی اور خوشگوارعاجزی اور پستی پیدا ہوگئی پھر وہ ایک پُر کیف جذبہ بن کر مجھے بطرزِ شیرین رُلانے لگی، میرے رُخساروں سے گوہرِ آبدار کی طرح چمکتے ہُوئے آنسوگر رہے تھے، اب دنیائے دل میں اطمینان و سکون کا عالم تھا، اِس گرانقدر روحانی نعمت کو قدردانی اور شکر گزاری کے ساتھ قبول کرتے ہُوئے میں نے موقع کو غنیمت سمجھا اور محویّت وفنائیّت والی عبادت کے لئے بیٹھ گیا، یعنی ذکرِ قلبی کے واسطے ذرا گوشہ نشین ہوگیا، اور الحمدللہ! ہمیشہ کی طرح عاجزی کی بدولت یہ کوشش نتیجہ خیز اور کامیاب تھی۔

یہ سب کے نزدیک ایک عام تجربہ ہے کہ شروع شروع میں انسان جیسے ہی ظاہری آنکھیں بند کر کے اپنے باطن کی طرف متوجّہ ہو جاتا ہے تو وہ یکایک اپنے آپ کو شعوری طور پر گُھپ اندھیرے میں پاتا ہے، وہ اِس ظلمت و تاریکی کے عالم میں کچھ نہیں دیکھتا ہے مگر وہ بڑی مشکل سے یہ اندازہ کر سکتا ہےکہ ہم تصوّر کے چند کالے کالے کارٹون حرکت کر رہے ہیں، لیکن اس کے برعکس حقیقی مومنین جب قدم بقدم اور منزل بمنزل روحانیّت میں آگے بڑھ جاتے ہیں تو اُن کی دُنیائے تصوّرات شب و روز جگمگاتی رہتی ہے، جس کی دلبریا ضیاپاشی اور جانفزا رنگینی کی کوئی مثال نہیں ملتی، اسی طرح اہلِ حقیقت کے دل و دماغ میں ہر وقت حقائق و معارف کی ایک

 

۸۵

 

جیتی جاگتی لطیف کائنات موجود رہتی ہے۔

یہ بات سب مسلمان مانتے ہیں، کہ قرآنِ پاک میں ہر چیز کا مفصّل ذکر آیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج ہم جس موضوع سے بحث کرتے ہیں، وہ قرآنِ حکیم میں بھی ہے، وہاں بیشک ہم تو عملی طور پر مانتے ہیں کہ قرآنِ مقدّس میں علمی صورت میں ہر چیز موجود ہے، اور تصویر و تصوّر کا نمایان تذکرہ حضرت سلیمان علیہ السّلام کے قصّےکا حصّہ ہے، جس میں ارشاد ہوا ہے کہ جنّات سلیمان پیغمبرؑ کے منشاء کے مطابق طرح طرح کی تماثیل (تصویریں،۳۴: ۱۳) وغیرہ بنایا کرتے تھے، اب اگر ہم اس کو تاویل کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہو جائیگا کہ زندہ اور مثالی حقائق و معارف کے مشاہدات کی خاطر سلیمانؑ کے سامنے روحانیّت کی تصویریں پیش کی جاتی تھیں، کیونکہ اس کے بغیر عین الیقین کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس سے اعلیٰ روحانیّت میں جانے کے سلسلے میں گزرنا پڑتاہے، جو انبیاء وأئمّہ علیہم السّلام کے علاوہ مومنین کے لئے بھی مُقّرر ہے، اِس بیان سے یہ حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے، کہ دل و دماغ کے تصوّرات اور تصویریں سِلسِلۂ روحانیّت کی مختلف کڑیوں کی حیثیت سے ہیں، کیونکہ تصّورات کی علمی و روحانی ترقّی سے روحانیّت کی پُرنورمثالی تصویریں بن جاتی ہیں۔

یہ قصّہ بھی باطن، روحانیّت، اور عین الیقین کے نورانی مشاہدات میں سے ہے، جو فرمایا گیا ہے، کہ ملکۂ سبا کے تخت کو چشمِ زدن سے پہلے اپنی جگہ سے اُٹھا کر حضرت سلیمانؑ کے حضور میں پیش کیا گیا تھا (۲۷: ۴۰) اور دانشمند جانتاہے کہ ظاہری اور مادّی طور پر کسی تختِ سلطنت کو غائب کر لینےکے کچھ معنی نہیں بنتے ہیں، چنانچہ اِس مطلب کی واضح تاویل یہ ہے کہ یہاں تخت سے بلقیس ملکہ کی روحانی حیثیت مراد ہے جو ان کے مسلمان ہو کر جسمانی طور پر یہاں آنے سے پیشتر سلیمان پیغمبرؑ پر منکشف کی گئی تھی، اس کے علاوہ قصّۂ سلیمانؑ میں اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جن کا زیادہ سے زیادہ

 

۸۶

 

تعلّق روحانیّت اور تاویل سے ہے، اِس سِلسِلے میں یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ انبیاء وأئمّہ علیہم السّلام اپنے اپنے زمانے میں روحانیّت کے سلیمان شاہنشاہ ہُوا کرتے ہیں، تمام روحیں خواہ وہ زندوں کی ہوں یا مردوں کی ہوں، جنّ ، انس اور طیر کے ناموں سے اُن حضرات کی روحانی سلطنت کے مختلف امور کو انجام دیتے رہتے ہیں۔

 

نصیر الدین نصیر ہونزائی

 

۸۷

 

گائے اور بچھڑے کی گفتگو

 

تمام شمالی علاقہ جات کی قدیم روایت یہ تھی کہ ہر گاؤں کے باشندے سب سے پہلے کسی مناسب مقام پر اپنے لئے ایک محفوظ قلعہ بنا کر اسی کے احاطے میں اپنا اپنا گھر بنایا کرتے تھے، اور رات کے وقت کوئی شخص قلعے سے باہر نہیں رہتا تھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ مختلف ریاستوں کے لوگ اکثر بوقتِ شب ایک دوسرے پر حملے کر کے قتل و غارت کا بازار گرم کرتے تھے، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اِس روشن زمانے میں نہ وہ روایت زندہ ہے، اور نہ کسی ایسے حملے کا خوف و ہراس باقی ہے، تاہم وہ زمانہ جس میں یہ بندہ ایک چھوٹا سا بچّہ تھا، اگرچہ سب نہیں تو بعض احوال اگلے زمانے کی طرح تھے، چنانچہ ہم سب لوگ سردیوں میں بحکمِ حاکم اپنے گاؤں (حیدرآباد) کے برائے نام قلعے میں رہتے تھے، جو ایک ٹیکری پر واقع ہے، جس کی ہمارے وقت میں نہ تو کوئی فصیل باقی تھی، نہ کوئی دروازہ، اور نہ ہی کوئی محافظ مینار (ٹاور) قائم تھا۔

مجھے یہ بات ٹھیک طرح یاد نہیں کہ میں اُس وقت کتنے سال کا بچہ تھا، مگر بہرحال یہ عجیب واقعہ خوب یاد ہے کہ موسمِ سرما کا ایک دن تھا، جبکہ ہونزہ جیسے پہاڑی علاقوں میں بڑی شدّت کی سردی ہوتی ہے، اور اگر کسی دن مطلع ابر آلود نہ ہُوا، اور ہوا بھی نہ چلی، تو پھر بھی دھوپ کی حرارت بہت ہی کم ہوتی ہے، ایک دن ایسی کمزور دھوپ پڑ رہی تھی، میں قلعہ والے گھر سے ایک بیکار چھوٹے بچے کی حیثیت سے نکل کر کھیل کے میدان (پولو گراؤنڈ) میں آ کھڑا ہوگیا، اتنے میں ایک دُبلی سی گائےمستطیل

 

۸۸

 

میدان کی شرقی جانب سے نمودار ہوئی، اور ایک چھوٹا سا کمزور بچھڑا تقریباً دوسو گز دُور سمتِ مخالف سے نظر آیا، جو اِس گائے کا بچّہ لگتا تھا۔

دونوں بیچارے جانور باری باری ڈکرانے (بولنے) لگے، تعجب ہے کہ میں نے اُس وقت کیونکر گائے اور بچھڑے کی آواز پر توجہ دی، اور اس کی یہ ترجمانی یا تاویل کی، کہ میرے فہم کے مطابق گائے نے کہا: “اے میرے عزیز بچّہ (بچھڑا)! آؤ آؤ ، تم میرے پاس چلے آؤ، تاکہ میں تم کو کچھ دودھ پلا ؤنگی۔” اس کے جواب میں بچھڑے نے کہا: “نہیں نہیں، پیاری ماں! سردی سے میرا جسم سُکڑ گیا ہے، اس لئے مجھ سےچلا نہیں جاتا، لہٰذا مہربانی کرکے تم خود میری طرف آجاؤ۔”

گائے نے پھر کہا: “اے میرے لال! دیکھو اِس میدان میں انسان کے بچّے کس طرح دوڑتے کھیلتے نظر آتے ہیں، تم بھی ذرا دوڑو، تاکہ بدن کچھ گرم ہو، اور سردی کی شکایت دُور ہو جائے۔” اِس پر بچھڑے نے فوراً کہا: “امّاں جی! انسانی بچّوں میں سے صرف وہی دوڑ سکتے ہیں، جنہوں نے کچھ کھایا پیا ہو، میرے پیٹ میں کوئی خوراک ہےہی نہیں، پھر میں کیسے دوڑ سکتا ہوں؟” آخر کار گائے مجبور ہو کر بچھڑے کے پاس چلی گئی۔

اب میں دل ہی دل میں بڑا خوش ہوا، کہ میں نے گائے اور اس کے بچّے کی گفت و شنید کی ترجمانی سیکھ لی ہے، مجھے خیال آیا کہ کسی تاخیر کے بغیر اپنے والدِ محترم سے اِس واقعہ کا ذکر کر دینا چاہئے، تاکہ انہیں خوشی حاصل ہو، قبلہ گاہ اُس وقت ہمارے ایک معزّز رشتہ دار(اُوشم) جناب حُرمت اللہ بیگ صاحب کے گھر گئے ہوئے تھے، یہ دولتخانہ پولو گراؤنڈ کے بالکل قریب ہی ہے، میں فوراً وہاں گیا، اور اِس عجیب واقعہ کی رپورٹ طفلانہ زبان میں یوں پیش کی کہ: “نا ابو! پولو گراؤنڈ میں ایک گائے تھی نا۔” اِس قصّہ کے آغاز کرنے پر سب میری طرف متوجّہ ہوگئے، تو میں نے کہا:

 

۸۹

 

“نا ابو! وہ گائے اپنے بچّے کو بلاتی تھی کہ آؤ میرے پاس آؤ، مگر بچھڑا ۔۔ ۔۔ نا ابو! نہیں مانتا تھا، اور کہتا تھا کہ تم خود آگے بڑھکر میرے پاس آ ؤ۔” اسی طرح میں نے با تفصیل قصّہ بیان کر دیا۔

اِس بات کے سننے سے رضاعی ماموں حرمت اللہ بیگ صاحب کو بڑا تعجب ہوا اور ہنسنے لگے، اور اس کے بعد مذاق سے کہا کرتے تھے کہ پرتوِ شاہ (نصیرالدّین)! تم تو عجیب ہوشمند ہو، کہ گائے اور بچھڑے کی بولی جانتے ہو، پھر کسی نہ کسی طرح یہ افواہ بھی پھیل گئی کہ خلیفۂ شاہ آباد (حُبِّ علی) کا ایک بیٹا جانوروں کی بولی جانتا ہے۔

 

علّامہ نصیرالدّین نصیرؔ ہونزائی

 

۹۰

 

ایک شیرین خواب

 

آج سے تقریباً ۲۵ سال قبل کا قصّہ ہے کہ میں نے ہونزہ میں کسی رات کو ایک بہت بڑاشیرین، حکمت آگین اور پُراسرار خواب دیکھا تھا، یہ خواب کس قدر روحانیّت اور نورانیّت سے بھرپور تھا، میں اپنے ایک باغ کی ہری ہری گھاس پر بیٹھا ہوں، میری داہنی طرف ایک مبارک و مقدّس شخصیت ربّانی شان سے بیٹھی ہے، اِس فرشتہ سے، جو بشکلِ بشر ظہور فرما تھا، مجھ پر مسرّت و شادمانی کی زبردست شعاعیں پڑ رہی تھیں، میں نے ہمت و جرأت سے کام لے کر اس پاک و پاکیزہ ہستی کے اسمِ مبارک کی بابت پوچھا، تو فرمایا گیا کہ: میرا نام “شیرین سخن” ہے۔

چونکہ یہ خواب نورانی قسم کا تھا اور سلسلۂ روحانیّت سے مربوط، اِس لئے اس کے کئی تاویلی پہلو ہیں، اُن میں سے ایک خاص پہلو تو اسم (شیرین سخن ) سے متعلق ہے، اور دوسرا داہنی جانب سے تعلق رکھتا ہے، یعنی اُس فرشتۂ رحمت کا نام “شیرین سخن” کیوں تھا، اس کی تاویل ہے، اور وہ دائیں ہاتھ کی طرف کیوں تھا، اس کی بھی تاویل ہے، وغیرہ۔

اِس فرشتۂ روحانی کا نام “شیرین سخن” اس لئے ہے کہ یہ ایک تو نتیجہ تھا اور دوسرا اشارہ، اور اشارہ یہ کہ آدمی کو ہمیشہ شیرین سخن (خوش گفتار ۔ شیرین کلام) ہونا چاہئے تاکہ قول و عمل کی لذّت و شیرینی سے خداوند تعالیٰ کی رِضا حاصل ہو۔ اس کی دوسری تاویل اصحابِ یمین کی ہے۔

 

۹۱

 

“شیرین سخن” کے اِس نام کا یہ اشارہ ہرگز نہیں کہ انسان صرف زبان کی نوک ہی سے میٹھی میٹھی باتیں کیا کرے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی زبان سے بھی اور دل سے بھی میٹھا ہو۔

لذّت و شیرینی دو قسم کی ہوا کرتی ہے، ایک حقیقی ہے اور دوسری مجازی، حقیقی شیرینی وہ ہے جو عقلی اور روحی نوعیت کی ہوتی ہے، اور مجازی شیرینی وہ ہے جو جسمانی اور دنیاوی قسم کی ہوا کرتی ہے پس “شیرین سخن” کا اصل اشارہ عقلی اور روحانی لذّتوں کی طرف ہے۔

سُخن(بات) دین اور روحانیّت میں ایک ایسا وسیلہ ہے کہ اسی سے خداوند تعالیٰ کے راز ہائے سربَستہ مومنین کے دل و دماغ میں منتقل ہوسکتے ہیں، تمام آسمانی کتابیں سُخنِ خدا ہیں مکمل روحانیّت بھی، حکمت اور دینی اسرار بھی۔

امامِ عالیمقامؑ ناسوت میں بھی اور ملکوت میں بھی “شیرین سخن” ہیں، آپؑ سے بڑھ کر کوئی بشر اور کوئی فرشتہ شیرین سخن نہیں ہو سکتا، کیونکہ آپ خدا اور اس کے رسولؐ کی زبان و ترجمان ہیں، پس بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو امامِ برحقؑ ملا ہے۔

نوٹ:

۱۔       ہمارے مقالوں کے پڑھنے سے نہ صرف بزرگانِ دین کے کتب کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے، بلکہ اس کے علاوہ قرآن اور روحانیّت کے اسرار سے آگاہی میں بھی معاونت ہو سکتی ہے۔

۲۔       اِس مختصر مضمون میں اصحاب الیمین کے اسرار بھی ہیں۔

۳۔       مجھے یقین ہے کہ میں اپنے نہایت ہی عزیز شاگردوں کی زبان اور قلم سے پیاری جماعت کی کچھ خدمت کر سکوں گا۔

 

۹۲

 

۴۔       ہماری علمی کوششیں نیک نیّتی پر مبنی ہیں، اس لئے امید ہے کہ خداوند کی نورانی ہدایت ہماری دست گیری کرے گی۔

 

فقط نصیر ؔہونزائی

۱۴۔ جولائی۔ ۱۹۸۱ء

 

۹۳

 

عجیب خواب

 

میں نے ۱۷ جولائی ۱۹۷۵ء کی رات کو ایک عجیب خواب دیکھا، میں ہونزا جیسے کسی مقام پر کہیں جاتا ہوں، اتنے میں یکایک میرے سامنے دریا کا ایسا کٹاؤ آگیا جو دریا سے بہت بلند تھا اور میں وہاں سے آگے نہیں جاسکتا تھا، جبکہ نیچے دریا بہتا تھا میں نے وہاں رُک کر کچھ دیر کے لئے سوچا کہ اب میں کیا کروں پھر یکایک مجھے یہ خیال آیا کہ مجھ میں اڑنے کی صلاحیت ہے اس سے کام لے کر میں دریا کے اوپر سے پار اُڑنے کی کوشش کروں تو اُڑ سکتا ہوں، یہ کہہ کر میں اس دریا کے اوپر سے اڑ گیا اور دریا کی پرلی آبادی میں پہنچ گیا، اتنے میں بہت سے غیر لوگ مجھ پر حملہ آور ہوئے، میرے ہاتھ میں شاید کوئی تلوار تھی، میں اُن سے جنگ کرتا ہوں، سخت جنگ ہوتی ہے، میں اکیلا ہوں مگر بہت دُشمنوں کو قتل کرتا جاتا ہوں، وہ ختم نہیں ہوتے، اور زیادہ حملے کرتے ہیں، مجھے تنگی کا وقت محسوس ہوتا ہے، نہ جانے یہ بات کس طرح میرے دل میں آگئی کہ میں نے انتہائی عاشقانہ انداز میں اور خوب ترنّم سے کوئی گنان یا منقبت پڑھنا شروع کیا پھر یکایک وہ سب لوگ میرے سامنے ایک میدان میں سُکڑ سُکڑ کر چھوٹی چھوٹی گڑیوں کی صورت میں مست و مدہوش ناچنے لگے، اور بے تحاشا ناچتے رہے، پھر مجھے خیال آیا کہ یہ سب جنّات ہیں اِن پر قابو اسی طرح پایا جاسکتا ہے، کہ کوئی اچھی نظم پڑھ کر ان کو مسحور کیا جائے، اسی اثناء میں، میں بیدار ہوگیا۔

اِس خواب کی تاویل پر سوچنے سے یہ نتیجہ نکلا کہ عبادت اور ذکر کے دوران

 

۹۴

 

جو جو وسوسے دل میں پیدا ہوتے ہیں وہ گویا جنّات ہیں ان پر قابو پانے کا ایک کامیاب طریقہ یہ ہے کہ گنان، مناجات اور گریہ و زاری سے ان کو پگھلایا جائے، اِس کے بغیر ذکر میں کامیابی مشکل ہے۔

والسّلام ۔

نصیرالدّین نصیرؔ ہونزائی

۲۸۔ جولائی۔ ۱۹۷۵ء

 

۹۵

 

قریۂ مقدّسِ مسگار اور دیگر مقامات

 

بسمِ اللہ الرَّحمٰن الرَّحیم۔

سلام ہو اُس قریۂ مقدّس پر اور ہر ایسے مقام پر، جس کے خوش قسمت باشندے پاک مذہب اور پاکیزہ روحانیّت کی لازوال اور غیر عرفانی نعمت ودولت سے مالا مال ہیں، سلام ہو ان نیک بخت اور بابرکت لوگوں پر، جن کو دین اور ایمان دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ عزیز ہے۔ سلام ہو اُس “باکرامت جمعیّت” پر، جس کے نزدیک علم و حکمت کی بہت بڑی قدروقیمت ہے، سلام ہو ان برکت والے مومنین و مومنات پر، جو ہمیشہ ذکرِ الٰہی اور خصوصی عبادت سے کماحقّہٗ دلچسپی رکھتے ہیں، اور اس کا پھل ان کو روحانی خوشی کی صورت میں ملتا رہتا ہے سلام ہو ان اہلِ ایمان پر، جو عملی تصوّرات میں روحانیّت کے تقدّس کو پاتے ہیں اور سلام ہو ان پاک و پاکیزہ انسانوں پر جن کو میں جان و دل سے “روئے زمین کے فرشتے” مانتا ہوں، جن کی عقلی نظر میں یادِ الٰہی سب سے بڑی چیز ہے۔

سلام ہو ہر اُس فردِ مومن پر، جس کو ہر وقت دینی ترقی کی آرزو لگی رہتی ہے اور جو دائم اپنے مذہب کا خیر خواہ ہوتا ہے، سلام ہو ایسے دل پر، جس میں ہمیشہ حقیقی محبت کا دریا موجزن رہتا ہے، سلام ہو ہر اُس دماغ پر، جس میں ہمہ وقت امامِ عالیمقامؑ اور اس کی پیاری جماعت کی خدمت کی فکر موجود رہتی ہے، سلام ہو ہر اُس عالی ہمّت خادم کی ہمت پر، جو دین کی خدمت کو زندگی کا مقصدِ اعلیٰ سمجھتا ہے، سلام ہو حقیقی مومن کی ہر ہر قربانی پر، جو بار بار جانی، مالی اور ذہنی طور پر پیش کرتا رہتا ہے۔

 

۹۶

 

دین و دنیا کی مکمل سلامتی ایسے مومنوں کے لئے حاصل ہوتی ہے، جو حقیقی معنوں میں فرمانبردار ہیں، اور نورِ خداوندی کے دیدارِ ظاہر اور دیدارِ باطن کے اشتیاق میں آنسوؤں کا سیلاب بہاتے ہیں اور اس وسیلے سے آئینۂ دل کو خوب جِلا بخشتے ہیں، جس کا کم سے کم نتیجہ ان کو سکونِ قلب کی صورت میں نکلتا ہے۔

ایسی ہی سلامتی ان فرشتہ سیرت اور باحقیقت افراد پر ہو، جو علم و حکمت کی چاشنیوں اور لذّتوں سے باخبر اور واقف ہو چکے ہیں، اور ہر وقت اپنے ذخیرۂ علمی میں اضافہ کرتے رہتے ہیں، اور شب و روز علم و آگہی کو چاہتے ہیں۔

سلامتی کوئی چھوٹی بات ہرگز نہیں، یہ تو اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی صفت کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ “السّلام” خدا ہی کا نام ہے، چنانچہ سلامتی کے معنی ہیں ازل سے لے کر ابد تک ہر قسم کی آفت و ہلاکت سے محفوظ اور مامون رہنا اور ہر عیب و نقصان سے پاک رہنا، اس سے ظاہر ہے کہ سلامتی کی دعا سب سے بڑی دعا ہے، کیونکہ اس میں سب کچھ ہے۔

خداوند تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اگرچہ خانۂ حکمت کے افراد جغرافیائی اعتبار سے بکھرے ہوئے موتیوں کی طرح منتشر ہیں، لیکن وہ اتفاق و اتحاد کے لحاظ سے پروئے ہوئے موتیوں کی طرح یکجا ہیں، اور اگر روحانیّت و حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ سب کے سب ایک ہی روح کی صورت بن چکے ہیں۔

میں نے ہر مقام کے عزیزوں میں حقیقی محبت کا یہ عظیم کرشمہ دیکھا اور اِس سے مجھے بیحد مسرّت و شادمانی حاصل ہوئی، کہ ان کے پاک و پُرخلوص آنسوؤں میں مذہبی تقدّس جھلک رہا تھا، جس کو میں ہرگز فراموش نہیں کر سکتا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہب کے تقدّس و عظمت کا ظہور جہاں کہیں بھی ہو، اس کے لئے میرا سر عقیدت و محبت سے جھکتا ہے۔

 

۹۷

 

جلوۂ نورِ الٰہی کوئی محدود شیٔ نہیں، وہ مرکز کے وسیلے سے جہاں سے چاہے ظاہر ہو سکتا ہے، اس کے ظہورات کا طریقِ کار بڑا عجیب و غریب ہے، الحمدللہ! ہم سب جمعیّت والے ایک ہیں، سو ہر ایک کی خوبیاں سب کی ہیں اور سب کی خوبیاں ہر ایک کی، الحمدللہ! ہم یقیناً جان چکے کہ وہ عظیم اور پاک نمائندہ ہستی بھی اِس مقدّس تصوّر میں ہمارے ساتھ ایک ہے، اور اس بے مثال وحدت میں سب کچھ ہے، اور یہ “سب کچھ” ایسا کامل اور مکمل ہے کہ اِس سے کوئی عمدہ صفت باہر نہیں۔

قرآنِ پاک میں ہے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتے مومنین پر درود بھیجا کرتے ہیں (۳۳: ۴۳) یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ مومنین درود کے حقدار ہوتے ہیں، لہٰذا ہم بھی اپنے عزیزوں پر جان و دل سے درود و سلام بھیجتے ہیں، اور جب ہم صلوات پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں: اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحمّدٍ وّآلِ مُحمّد تو اس میں حضورؐ کی روحانی اولاد کے اعتبار سے مومنین و مومنات کو بھی مراد لیتے ہیں ۔

 

فقط دعاگو

نصیر ہونزائی

۲۲۔مئی۔ ۱۹۷۹ء

 

۹۸