کنز المعارف حصّۂ اوّل
انتساب
؎ ای خوشا! دیوِ جہالت از جہان خواہد گریخت
از نہیب دور تامت نور مولانا کریم
کتنی خوشی کی بات ہے! اے ہمارے مولا کریم کہ تیرے دورِ کامل کی ہیبت سے جہالت کا دیو دنیا سے بھاگ جائے گا۔
الحمد للہ مولانا حاضر امامؑ کی رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور ڈائمند جوبلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ بزرگانِ دین نے فرمایا ہے کہ حضرتِ خلیفۂ قائم (ارواحنا فداہٗ) کے وجودِ مبارک سے علمی قحط سے نجات ملے گی اور آج عملاً ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے علوم کے قحط سے انسانیّت کو نجات مل رہی ہے۔ اس سلسلے میں مولائے زمان نے اپنی گولڈن اور ڈائمنڈ دونوں جوبلیوں کے موقع پر Time and Knowledge کی قربانی پر جو زور دیا ہے اس سے یہ حقیقت ظاہر ہو رہی ہے جو استادِ بزرگوار نے مذکورۂ بالا شعر میں فرمایا ہے۔ خدمتِ علمی کے اس زرّین موقع پر مولانا حاضر امامؑ کے ارشادِ مبارک کے مطابق جو مومنات و مومنین قربانیاں دیتے ہیں وہ نہایت ہی سعادت مند ہیں۔ زہے نصیب! ایسی ایک باسعادت فیملی مرحوم شاہنشاہِ خدمات ظلِ قائم احمد ویرانی کی ہے جنہوں نے آپ کی مثالی خدمات کی روایات کو جاری رکھا ہے اور اس کتابِ مستطاب “کنز المعارف” جو استادِ بزرگوار کے غیر مطبوعہ مقالات کا ایک مجموعہ ہے، کی طباعت و اشاعت کے اخراجات کو برداشت کیا ہے، اس کا بدلہ مولا مرحوم احمد ویرانی کے لئے اپنی تجلیات کے خوش
الف
رنگ و خوش بو گلدستوں کی صورت میں اور لواحقین کو گوناگون برکتوں، کامیابیوں اور شادمانیوں کی صورت میں عطا فرمائے۔ یہ بہت بڑی شادمانی کی بات ہے کہ مرحوم احمد بھائی کو علم کا جو بے پناہ شوق تھا اس کو خاندان میں جاری رکھا ہے۔ آپ کی بیگم ظلِ فاطمہ نسیم احمد ویرانی ، آپ کی دو سعادتمند ، نوخیز حورانِ پُرنور نورین اور قرۃ العین کو حصولِ علم کا تائیدی شوق نصیب ہوا ہے۔ قرۃ العین اس وقت ڈاکٹری کا بہت ہی وقت طلب کورس کر رہی ہے، پھر بھی وہ علمِ قیامت کے لئے جان دینے تک تیار ہے۔
خانۂ حکمت پھر سے نہایت خلوص کے ساتھ مولا کے حضور دعا کرتا ہے کہ وہ کریمِ کارساز اور رحیمِ بندہ نواز مرحوم احمد بھائی کو دائمی شادمانی میں رکھے اور لواحقین کو حصول و اشاعتِ علم کو جاری رکھنے میں مزید عالی ہمتی سے نوازے ، ہر نیک نیت کو پوری کر دے، ہر کام میں کامیابی عطا فرمائے اور ظاہری اور باطنی پناہ میں رکھے! آمین یا ربّ العالمین!!
فقیر حقیر
مرکزِ علم و حکمت، لندن
۱۳ جولائی ۲۰۱۷ء
ب
گزارشِ احوال
یہ کتاب “کنز المعارف” حضرتِ استادِ بزرگوار علامہ نصیر الدین نصیرؔ ہونزائی قس کے غیر مطبوعہ مقالوں کا ایک مجموعہ ہے، اور ان شاءاللہ موصوف کے دوسرے غیر مطبوعہ مقالوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ استادِ بزرگوار جب جسمانی صورت میں اس دنیا میں موجود تھے تو بنفسِ نفیس ہر کتاب کا دیباچہ یا تمہید تحریر فرماتے تھے، جس میں نہ فقط کتاب کا لبِ لباب ہوتا تھا بلکہ اور بھی حقائق و معارف ہوتے تھے۔ چونکہ استادِ بزرگوار کو امامِ زمانؑ کی خصوصی تائید حاصل تھی اس لئے بشمول دیباچہ ہر کتاب کا ہر جملہ اور ہر لفظ دعوتِ حق کے موازین حقائق پر تلا ہوا ہوتا تھا۔ اب ہم میں سے کسی کو وہ سعادت حاصل نہیں، اس صورت میں ہماری محدود دانست کے مطابق موصوف کے ان مقالات کے بارے میں کچھ لکھنے سے ان میں مشتمل حقائق و معارف کے سمجھنے میں کمی بیشی کا خدشہ ہے۔ اس لئے مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کو بعینہا قارئین کو پیش کیا جائے۔
اظہارِ تشکر
اس کتابِ مستطاب کو منصفۂ شہود پر لانے میں بہت سے مومنات و مومنین نے کام کیا ہے۔ بالخصوص ظلِ فاطمہ نسرین اکبر اور ظلِ قائم اکبر شمس الدین کا اس میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔ سب سے پہلے یہ مقالے جو مختلف جگہوں پر بکھرے پڑے تھے ان کو جمع کیا اور ان کو Scan کر کے محفوظ کیا اور پھر ان کی غلطیوں سے پاک ٹائپنگ کی اور آخر میں یہ
ج
انتخاب بھی ان کی محنتِ شاقہ کا نتیجہ ہے۔ اس پورے کام کو انہوں نے نہایت دقت ، جانفشانی اور تندہی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ ساتھ ساتھ ظلِ قائم نزار حبیب کی مہارت بھی اس میں کارفرما رہی ہے خصوصاً حسن و جمال سے آراستہ و پیراستہ اور پُرمعنی سرورق تیار کرانے میں جو مہارت آپ نے حاصل کی اس کی عالمگیر شہرت ہو رہی ہے۔ نہایت خوشی کی بات ہے کہ آپ کے ساتھ ایک مثالی مومنِ ممتحن ظلِ قائم امجد علی بھی اس کام میں شامل رہے ہیں۔ خانۂ حکمت ان سب کے لئے نہایت شکر گزاری کے ساتھ دعا کرتا ہے کہ خداوندِ ربّ العزّت سب کے ایسے مقاصد میں بدرجۂ اتم کامیابی عطا فرمائے اور ان کے ہر کام میں خداوند کی خوشنودی شامل ہو۔ آمین یا ربّ العالمین۔
فقیر حقیر
مرکزِ علم و حکمت، لندن
۱۳ جولائی ۲۰۱۷ء
د
علم کا انقلابی شوق
یہ ایک مفید سوال ہے کہ کوئی مومن کس طرح اپنے دل و دماغ میں ایک ایسا زبردست اور غالب علمی شوق و جذبہ پیدا کر سکتا ہے، جو بڑا پُراثر اور نتیجہ خیز ہونے کی وجہ سے علم و دانش کا انقلابی شوق و ذوق ثابت ہو سکے، وہ ایسا کار فرما اور محرک ہو کہ مومن علمی مشاغل کے بغیر چین سے نہ بیٹھے، وہ شوق عزمِ مصمم بن کر اُس شخص کی تمام صلاحیتوں کو حصولِ علم کی طرف متوجّہ رکھے، وہ جذبہ تحصیلِ حقائق و معارف کے عشق کی شکل اختیار کرے، جس سے مومن کے تمام دنیاوی خیالات پامال ہوں، وہ شوق کسبِ کمال کے سلسلے میں مشعلِ راہ کا کام کرتا رہے، اور اس سے ہمیشہ کے لئے اس بندۂ مومن کے اِرادے میں پختگی اور مضبوطی پیدا ہو؟
ایمان اور اخلاص و یقین کی روشنی میں اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسا معجزانہ شوق و ذوق آسمانی تائید کے بغیر ناممکن ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ان تمام صلاحیتوں اور قوّتوں سے کام نہ لے جو مقامِ تائید حاصل کرنے کی غرض سے عنایت کر دی گئی ہیں، جبکہ تائید کا مطلب “مدد” ہے، اور خدائی مدد کے دو مرحلے ہیں، پہلے مرحلے میں بندے کو طرح طرح کی انسانی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے راہِ راست کی ہدایتوں پر عمل کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے اور دوسرے مرحلے میں اس کے لئے مَلکی (فرشتگی) کی زندہ اور بولنے والی قوّتیں رکھی ہوئی ہیں، سو جب تک انسان راہِ روحانیّت میں مرحلۂ اوّل سے نہ گزرے تو مرحلۂ دوم کا آنا ناممکن ہے۔
اِس دنیا کے اندر دو قسم کے لوگ رہتے ہیں، ایک وہ جو دین کو فضول چیز قرار
۱
دے رہے ہیں، ایسے لوگ اپنی نافرمانیوں کے انجام پر دین کی لازوال اور ابدی دولت سے محروم ہوچکے ہیں، دوسرے وہ لوگ ہیں جو دین کے برحق ہونے پر ایمان رکھتے ہیں، اور ان کو خدا کی طرف سے یاری و دستگیری کا بھی یقین ہے، سو ان دونوں فریق میں کتنا بڑا فرق پایا جاتا ہے، اُن بدنصیب انسانوں کی کتنی بڑی شقاوت ہے، اور اِس طرف اِن خوش قسمت مومنین کی کتنی عظیم سعادت ہے، کہ یہ ایمان کی بدولت تائیدِ ربّانی کو بھی مانتے ہیں۔
قرآنِ پاک میں تائیدِ روحانی کا بیان بڑے عالیشان طریقے سے فرمایا گیا ہے، جس کے لئے آپ ایک تو “روح القدس” کے لفظ کو اور دوسرا “بِروحٍ منہ” کو دیکھ سکتے ہیں، مجھے یاد ہے کہ میں نے گریہ و زاری کے مضمون میں اس بات کی تھوڑی سی وضاحت کر دی ہے، بِروحٍ منہ، کا مطلب بھی وہی روحِ قدسی ہے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ روح القدّس کے بیان میں اصل راز ظاہر ہے اور بِروحٍ منہ میں راز بالکل راز ہی کی طرح ہے اور اس کے علاوہ ایک چیز یہ بھی ہے کہ مؤخر الذّکر میں تائید کے مختلف درجات ہیں۔
عوام کے لئے حقیقت کا سمجھ لینا کس قدر مشکل بلکہ ناممکن کام ہے، کہ جب روح القدّس کا نام آتا ہے تو اس سے صرف ایک تنہا فرشتہ مراد لیتے ہیں حالانکہ وہ گویا روحوں کی ایک دنیا ہے، قرآن میں اس کا ذکر ہے اور روحانیّت میں اس کا تجربہ، کہ عظیم فرشتے مل کر کام کرتے ہیں، چنانچہ جب پیغمبروں پر وحی نازل کر دینے کا موقع ہوتا ہے تو اس میں چاروں عظیم فرشتے مل کر کام کرتے ہیں اور اس میں جبرائیل کا نام صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ بولتا ہے، حالانکہ میکائیل اس سے زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے کہ وہ ذہن اور فہم کو متوجّہ کر دیتا ہے، میکائیل سے اسرافیل کا کام بڑھ کر ہے کہ وہ نغمۂ بیخودی و فنائیت پیش کرکے بشریت سے ملکوتیت کی طرف لے جاتا ہے
۲
اور عزرائیل کا فریضہ سب سے اعلیٰ ہے کہ وہ روحِ انسانی کو اسمِ اعظم کی کشش سے پیشانی میں مرکوز کر دیتا ہے حالانکہ حدودِ دین میں حضرت عزرائیل کا ذکر انتہائی راز ہونے کے سبب سے نہیں کیا گیا ہے۔
آپ کو قرآن میں بھی اور روحانیّت میں بھی یہ ساری باتیں بالکل اسی طرح سے ملیں گی، جس طرح کہ ہم آپ کو بتا رہے ہیں، کہ فرشتےاس طرح سے مل کر کام کرتے ہیں، مگر صرف ایک موقع ہے جس کا شاید میں نے کہیں ذکر بھی کیا ہے کہ جب ایک کامیاب روح معراجِ یقین کی طرف عروج کرتی چلی جاتی ہے، تو اس میں سارے فرشتے اور جملہ روحیں پیچھے پیچھے رہ جاتی ہیں، اور ایک مقام پر جبرائیل فرشتہ بھی رہ جاتا ہے، پھر۔۔۔۔۔۔
مجھے یقین ہے کہ اب دَورِ روحانیّت ہے ورنہ میں بھیدوں کی شان میں یہ گستاخی نہ کر سکتا ، میں خود کی تعریف کو نہیں چاہتا ہوں بلکہ عزیزوں کی علمی ترقی چاہتا ہوں، میں نے خودی کو کئی طرح سے فنا کر دی ہے، اور اُن فناؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں نے اپنے آپ کو لفظوں اور معنوں میں عزیزوں سے فدا کر دیا ہے، بہر حال علمی باتوں کو ترجیح دیجئے گا۔
آئیے پھر ہم اصل موضوع کی طرف رجوع کرتے ہیں، کہ قرآن میں ارشاد ہے حَتّٰی اِذَا جَآئَ اَحَدَکُمُ الْموَتُ تَوَفَّتْہُ َرُسُلُنا (۰۶: ۶۱) یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے تو ہمارے فرستادہ (فرشتے) اس کو اُٹھا لیتے ہیں۔ اس حکم میں صرف ایک عزرائیل کیوں نہیں ہے کہ موت کے بہت سے فرشتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے؟ جبکہ قرآن ہی میں ملک الموت (عزرائیل) کا تذکرہ بھی اس معنیٰ میں ہے کہ موت کا فرشتہ وہی ہے اور وہ ارشاد یہ ہے: قُل یَتَوَفّٰکُم مَّلَکُ المَوتِ الَّذی وُکّلَ(۳۲: ۱۱) کہہ دو کہ ملک الموت جو تمہارے اوپر تعینات ہے وہی تمہاری روحیں قبض کرے گا۔ ایسے عظیم بھیدوں کو
۳
امامِ اقدس کے غلاموں کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے، سو مطلب کی بات تو یہ ہے کہ فرشتے مل کر کام کرتے ہیں جو لوگوں کو معلوم نہیں، تو ہم بھی انشاء اللہ فرشتے ہیں اسی لئے ہم مل کر کام کر رہے ہیں، اور کس کو یا کتنوں کو خبر ہے کہ بیچارہ اور باچارہ نصیر اپنے پیارے پیارے شاگردوں کی زبان سے پیاری پیاری باتیں کرتا ہے اور وہ ہمیشہ ان کے ساتھ ہے، اور اِس بھید کے متعلق کون باور کر سکتا ہے کہ نصیر کے دل و دماغ کے اندر اپنے پسندیدہ عزیزوں کی روحیں علم کی خدمت انجام دے رہی ہیں۔
اب حقیقت روشن ہو گئی کہ روح القدس اگرچہ تائید کا فرشتہ ہے تاہم وہ اکیلا نہیں ہے، اس کے ساتھ روحوں کا ایک زبردست لشکر کام کرتا ہے، اس لئے تائید کے مختلف درجات مقرر ہیں۔
یاد رہے کہ مثال کے طور پر جبرائیل درختِ روحانیّت کی وہ سب سے پست شاخ ہے جس کو زمین ہی پر سے کھڑا کھڑا چھو کر پھل کھایا جاسکتا ہے، تاکہ ذائقہ سے لذّت گیری کے بعد درخت پر چڑھ کر زیادہ پھل حاصل کئے جائیں۔
نوٹ: براہِ کرم یہ تینوں صفحے پڑھنے کے لائق ہوں تو کاپی اتارنے کے بعد خانۂ حکمت کے کسی سرگرم رکن کو بھیج دیں، تاکہ گشتی تعلیم میں ہماری مدد ہو سکے۔
فقط نصیر
۴
حصولِ تائید کا خاص طریقہ
میرے مقدّس فرشتوں! مجھے آپ کی علمی ترقی کا زبردست شوق ہے، میں شدّت سے چاہتا ہوں کہ حقیقی علم سے امام کی پیاری جماعت کی پیاری پیاری خدمت ہو، لہٰذا ہر طرح سے علمی کوشش کی سخت ضرورت ہے، لہٰذا آج یہاں تائیدِ روحانی کے سلسلے میں ایک راز بتا دیتا ہوں:
صبح خاص و عام عبادت کے بعد دین کی ایک پُرمغز کتاب ہاتھ میں لیکر مولا سے پُرزور درخواست کی جائے کہ وہ ازراہِ رحمت روحانی علم کی کوئی جھلک دکھائے، پھر نہایت عاجزی کے ساتھ مولا کا نام لے کر بہت ہی غور سے اور بہت ہی سکون سے کتاب کا مطالعہ شروع کیا جائے، اور الفاظ و جملوں کے مختلف معنوں اور اِشاروں کے سمجھنے کے لئے اس طرح غور کیا جائے جس طرح کہ کوئی جوہری جواہرات کو الٹا پلٹا کر ہر پہلو سے دیکھا کرتا ہے، انشاء اللہ ایسی عادت ڈالنے سے پہلے پہل صرف اِس کام سے مزہ آنے لگے گا، اور پھر ایک دن ایک چھوٹا سا معجزہ ہوگا، وہ یہ کہ کسی فقرے یا لفظ میں سے ایک لطیف اور لذیذ معنی دل و دماغ کی سطح کو چھونے لگیں گے، اس کے ساتھ ساتھ دل پر خوشی کا ایک میٹھا سا دھکا لگے گا، تو سمجھ لینا کہ یہ روحانی تائید کا ایک ذرّہ تھا۔ اس عمل کو دہرانے کی ضرورت ہے۔ عمدہ کتاب کا انتخاب چاہیے۔ اس کام کے لئے غیروں کی کوئی کتاب نہ لیں۔آگے چل کر یہ طریقہ قرآن فہمی میں کام آئے گا۔
اس کو ایک زبردست علمی عبادت قرار دیں، قرآن میں اس کا ذکر فرمایا گیا ہے، جو بعد میں دکھائیں گے۔ اگر کتاب ہاتھ میں نہیں ہے تو کسی مسئلے پر بھی یہ مشق ہو سکتی
۵
ہے، یہ کام ذہنی پاکیزگی اور پُرسکون ماحول میں ممکن ہے، گریہ وزاری یا مناجات و دعا سے اس کام میں مدد ملتی ہے۔
ہمیشہ مولاسے روحانی علم کے لئے درخواست کی جائے، ایک حقیقی اسماعیلی کی حیثیت سے یقین کیا جائے، کتاب وجہِ دین میں بھی اس طریقے کا ذکر ہے۔
مجھ پر یہ معجزہ سب سے پہلے پیر ناصرِ خسرو کی کتابوں میں ہوا تھا، یعنی وجہِ دین اور زادالمسافرین میں، بعد میں قرآن اور فرامین میں بھی یہ معجزہ ہوتا رہا پھر اس کے بعد اس کے حدود بہت زیادہ بڑھ گئے ۔
نصیر ہونزائی
۶
حضرت آدمؑ کے لئے اَسمائے بزرگ اور کلماتِ تامّات
معبودِ برحق کے بابرکت نام سے ، جس نے اپنے محبوب پیغمبر صلّی اللّٰہ علیہ والہِ وسلّم پر ایک ایسی کامل و مکمل اور بینظیر کتاب نازل فرمائی کہ وہ اپنی زندہ روح (نورِ امامت) کے ساتھ ملکر آسمانِ حقائق و معارف کی سیڑھی اور صاحبِ عرش کی رسی کا کام دیتی ہے، ان جیسی اعلیٰ مثالیں اور صفات قرآنِ حکیم اور امامِ عالیمقامؑ کے لئے خاص ہیں ، چنانچہ وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں، جو نورِ ہدایت اور کتابِ سماوی کی بدولت سلامتی کی راہوں پر گامزن ہیں (۰۵: ۱۵ تا ۱۶) ۔
میری عاجز و ناتوان روح میرے امامِ اقدس و اطہرؑ کے ایسے فرشتہ سیرت مریدوں اور بہت پیارے روحانی بچوں سے ہزار گونہ شوق کے ساتھ قربان ہو! جو قرآنی حکمتوں اور بھیدوں کے جاننے میں سب سے آگے ہیں، اور جن کو قرآنِ عزیز کے اسرار اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہیں ، اور یہ میری بہت بڑی سعادت ہوگی کہ میں امامِ وقتؑ کے پسندیدہ و برگزیدہ روحانی فرزندوں سے فدا ہو جاؤں ۔
آج ہمیں جس خاص موضوع پر لکھنے کے لئے فرمایا گیا ہے، وہ اگرچہ الفاظ و ضخامت کے اعتبار سے مختصر ہے، لیکن علمی برتری کے لحاظ سے جتنا اہم ہے ، اس کا اندازہ عزیزِ عزیزان خود کریں گے، اور وہ موضوع ہے: “حضرت آدمؑ کے لئے اسمائے بزرگ اور کلماتِ تامّات” یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السّلام کو جن اسماء الحسنیٰ اور کلمات التّامّات کی
۷
تعلیم دی تھی اُن کا بیان ، چنانچہ اِس سلسلے میں سب سے پہلے یہ جاننا از بس ضروری ہے کہ حضرت آدمؑ کا قرآنی قصّہ نہ صرف نبوّت و امامت کے اسرار اور حکمتوں کا خزانہ ہے، بلکہ یہ اس کے ساتھ ساتھ مرتبۂ انسانیّت و آدمیّت کے عظیم بھیدوں کا بھی گنجینہ ہے، کیونکہ یہ قصّہ دراصل اساسی اور کلیدی تاویلات اور حکمتوں سے پُر ہے، مگر اس کا علمی و عرفانی فائدہ صرف انہی حضرات کو حاصل ہے جو چشمِ بصیرت اور گوشِ ہوش رکھنے کی سعادت سے سرفراز ہیں۔
ربّ العزت کا ارشادِ گرامی ہے : ۔ وَ عَلَّمَ ادَمَ الاَ سمَآئَ کُلَّھَا (۰۲: ۳۱) اور خدا نے آدم کو سارے نام سکھا دیئے۔ یعنی پروردگارِ عالم نے آدم علیہ السّلام کو تنزیلِ روحانیّت کے آغاز میں چند بنیادی اور کلیدی اسمائِ عظام کی تعلیم دی اور باقی اسماء و کلمات کو اسی سلسلے سے لازم کر دیا، کیونکہ دینِ فطرت کی روحانیّت کا ایک ہی قانون ہے اور وہ یہ کہ ہر کامل انسان پر روحانی واقعات بتدریج گزرتے جاتے ہیں، جس میں پہلے تنزیل اور بعد میں تاویل آتی ہے، اسی طرح قدسی ہستیوں کی ساری زندگی روحانی انکشافات سے بھرپور ہوتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ نہ صرف حضرت آدمؑ بلکہ ہر عظیم پیغمبر نے اپنے وقت میں ایک طرف سے بوسیلۂ اسماء و کلمات آسمانی تعلیم و ہدایت حاصل کی اور دوسری طرف سے اُس نے یہ تعلیم فرشتوں (یعنی حدودِ دین) کو دی، اور یہ سلسلہ زندگی بھر جاری رہا۔
یاد رہے کہ قصّۂ آدمؑ (۰۲: ۳۱) میں جس شان سے اسماء کا ذکر ہوا ہے، اس میں کلما ت بھی ہیں، اور قصّۂ ابراہیم کی (۰۲: ۱۲۴) میں جس انداز سے کلمات کا تذکرہ آیا ہے، وہاں اسماء بھی ہیں، بدین معنی کہ کلمات اسماء کے مشابہ ہیں اور اسماء کلمات کی طرح ہیں، تاہم اسماء اور کلمات کے درمیان فرق بھی ہے، وہ یہ کہ اسمائِ عِظام کا زیادہ سے زیادہ تعلّق روحانی عبادت اور روحانی انقلاب سے ہے ، جبکہ کلِماتِ تامّات کا زیادہ سے زیادہ لگاؤ عقلی عبادت اور تاویلی انقلاب سے ہے ، لہذا خدا کے بزرگ نام بحیثیتِ مجموعی پہلے آتے ہیں اور کلماتِ تامّات بعد میں، چنانچہ وہ چند کلماتِ تامّات جو حضرت
۸
آدمؑ کو گریہ و زاری کے نتیجے پر سکھائے گئے تھے، اُن میں خصوصی علم و حکمت اور وحدانیت کا نور تھا، پس آدمؑ نے ان کلمات کے وسیلے سے عقلی عبادت اور علمی توبہ کی، جس کو خداوندِ عالم نے نہ صرف قبول فرمایا، بلکہ آپؑ کو برگزیدہ بھی کیا۔
اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ حضرت آدم صفی اللہ نے اپنی لغزش کی توبہ انتہائی سخت گریہ وزاری کی صورت میں کی تھی، جو اہلِ ایمان کے لئے قابلِ تقلید ہے، لیکن توبہ کی اصل اور آخری روح اُن کلماتِ تامّات میں پوشیدہ تھی، جو ربِّ کریم نے آپؑ کو سکھا دیئے تھے، تاکہ آپؑ انہی کے نورِ معرفت کی روشنی میں “توّ اب الرحیم” کی حقیقت کو پہچان سکیں، کیونکہ توبہ کے بارے میں عوام کا جیسا خیال ہے، وہ درست نہیں، جبکہ توبہ کے کم سے کم تین دروازے ہیں، وہ اِس طرح کہ “پہلا بابِ توبہ دینِ حق کی دعوت ہے، جس سے لوگ داخل ہو کر مسلم اور مومن کہلاتے ہیں ، دوسرا بابِ توبہ علمِ حقیقت ہے جو نافرمانیوں سے دستبردار ہو جانے سے کھُل سکتا ہے، اور تیسرا بابِ توبہ خاصانِ الٰہی کے لئے مقرر ہے جس کا اوپر ذکر ہو چکا۔”
کلمۂ تامّہ کی اسمِ اعظم سے مُشابہت یہ ہے کہ اس کا بھی مسلسل ذکر کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں علمِ لدنّی کے کرشمے ہوتے رہتے ہیں، اور اسمِ اعظم کی کلمۂ تامّہ سے مماثلت یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر علم و عرفان کا سرچشمہ ہوا کرتا ہے اور کلماتِ تامّات جو علم و حکمت کے گنجِ مخفی ہیں وہ اسمائے عِظام ہی کے پھل ہوا کرتے ہیں ، پس اسماء اور کلمات کا مقصدِ اعلیٰ ایک ہی ہے۔
خانۂ حکمت کراچی
۱۱۔جنوری۔ ۱۹۸۳
۹
کلماتِ تامّات
کلماتِ تامّات انبیاء و أئمّہ علیہم السّلام کی روحانیّت میں نورِ علم و حکمت کے سرچشموں کی حیثیت سے ہیں۔ جو اسرارِ خداوندی کے جواہر سے مملو اور ایقان و عرفان کی دولت سے بھرپور ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کلمہ اپنی ہمہ گیر معنویت اور ہمہ رس حقیقت کی وجہ سے ایک مکمّل صحیفۂ آسمانی کی طرح ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک اِس امرِ واقعی کی شہادت پیش کرتا ہے کہ: ۔ رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ (۹۸: ۰۲ تا ۰۳) اللہ کا ایک رسول پاک صحیفوں کو پڑھتا ہے جن میں (ہمیشہ) قائم رہنے والی کتابیں موجود ہیں۔ چنانچہ یہاں صُحُف سے کلماتِ تامّات مراد ہیں اور کُتُب جو اُن میں پوشیدہ ہیں حقائق و معارف ہیں یہ حقیقتیں اور معرفتیں بے بدل اور لازوال ہیں اور یہی سبب ہے کہ خداوندِ عالم نے ارشاد فرمایا کہ لاَتَبدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (۱۰: ۶۴) اس کے کلماتِ تامّات بدلتے نہیں، یہی (جاننا) تو سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یعنی کلماتِ تامّات میں جو علم و حکمت اور رشد و ہدایت پنہان ہے وہ اوّل و آخر اور ظاہر و باطن کے تمام احوال پر محیط ہے اس لئے اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، اور کامیابی کا اشارہ اُن مومنین کی طرف ہے جو کلماتِ تامّات کے نورانی علم سے مستفیض ہو جاتے ہیں ۔
اِن مبارک و مقدّس اور عظیم کلمات کی حرمت سے جس طرح حضرت آدم علیہ السّلام کی توبہ قبول ہوئی اور جیسے آپؑ تاجِ خلافت سے سرفراز ہو کر روئے زمین پر خدا کے نائب مقرر ہو گئے، اس کے پس منظر کا اصل راز بھی کلماتِ تامّات ہی سے متعلق ہے ان عظیم
۱۰
الشّان کلمات کے تائیدی معنوں میں حقائق و معارف کی بے پناہ دولت پوشیدہ تھی، چنانچہ جب خلیفۂ خدا نے ان کلمات و اسماء کا الگ الگ ورد کیا تو اُن کی بدولت آپ کے دل و دماغ میں علمِ لدّنی کے سرچشمے جاری ہونے لگے، اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اسی میں تھی۔
اِس سلسلے میں قرآنِ حکیم کی ایک عالی قدر تعلیم یہ ہے کہ: کَلَّا ٓ اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہ فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کِرامٍ بَرَرَۃٍ (۸۰: ۱۱ تا ۱۶) ایسا نہیں یہ تو (ناقابلِ فراموش) نصیحت ہے پھر جو کوئی چاہے اس کو یاد کرے یہ معزز صحیفوں میں ہے اور اونچے رکھے ہوئے ہیں (اور) بہت ہی پاک ہیں، وہ لکھنے والے فرشتوں کے ہاتھ میں ہیں جو بڑے درجہ کے نیکوکار ہیں، اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ قرآنِ مقدّس اپنی روحانی شکل میں ایک ناقابلِ فراموش نصیحت ہے، اور تذکرہ کا یہی مطلب ہے، کیونکہ قرآن روحانیّت میں ایسے نورانی معجزات کے طور پر واقع ہے جو کبھی فراموش نہیں ہو سکتے، جن کے علم و حکمت کے سرچشمے کلماتِ تامّات ہیں، جن کو یہاں صُحُفِ مکرّمہ کہا گیا ہے، جو روحانیّت کی بلندیوں پر واقع ہیں اور ہر طرح سے پاک ہیں ان پر اعمال لکھنے والے عظیم فرشتے مقرر ہیں تاکہ مومنین کو نیک کوششوں کے نتیجے میں نورِ علم کی روشنی پہنچایا کریں۔
یہ اصول خوب یاد رہے کہ قرآنِ حکیم میں جہاں اسمائے الٰہی کا ذکر آیا ہے وہاں کلماتِ تامّات بھی ہیں، اور جہاں کلمات کا بیان ہے وہاں اسماء بھی ہیں، کیونکہ حقیقت میں کلمہ اور اسم دو نہیں ایک ہے، جیسے ارشاد ہوا ہے کہ: اِلَیْہِ یَصعَدُ الکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ العَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہ (۳۵: ۱۰) اسی کی بارگاہ تک بلند ہو کر پاک باتیں پہنچتی ہیں اور نیک کام ہی اُن کو بلند کر لیتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ کلمہ کا مطلب اسم بھی ہے بلکہ ہر با معنی لفظ کلمہ ہے۔
کلماتِ تامّات پر عظیم فرشتوں کا مقرر ہو جانا اس معنیٰ میں ہے کہ یہ انوارِ انبیاء و اولیاء (أئمّہ) ہیں، لہٰذا یہ کلمات اپنی مخصوص صورت میں زندہ اور گویندہ ہیں، جیسے حضرت عیسیٰؑ کو کلمہ کہا گیا ہے، کیونکہ آپؑ کا اصل وجود کلماتی نور کی حیثیت میں تھا، جس کے بارے میں
۱۱
فرمایا گیا ہے کہ: جب فرشتوں نے کہا: “اے مریمؑ خدا تم کو اپنے حضور سے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام عیسیٰ ابنِ مریمؑ ہوگا (۰۳: ۴۵)۔” اب اس قرآنی حقیقت کی روشنی میں یہ بتانا آسان ہو گیا کہ ہادیٔ زمان صلوات اللہ علیہ جو خدائے برحق کا نور ہے اس کی لطیف نورانی ہستی مومنینِ بایقین کے باطن میں کلمہ اور اسم کے طور پر ہوا کرتی ہے اور اس حقیقتِ حال کا ذکر قرآنِ پاک میں موجود ہے اور وہ یہ ہے: ۔
اَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآئِ تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ م بِاِذْنِ رَبِّھَا وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْن (۱۴: ۲۴ تا ۲۵) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک کلمہ (یعنی کلمۂ نور) کی مثال کیسی بیان کی ہے کہ وہ گویا ایک پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی شاخ آسمان میں (لگی) ہوں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمہ وقت پھل دیتا ہے اور خدا لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ نصیحت (و عبرت) حاصل کریں۔ چنانچہ روحانیّت کے اعلیٰ مدارج پر کلماتِ تامّات اور اسمائے عظام ہی ہیں جو حدودِ دین میں علم و معرفت کی روشنی بکھیرتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی نبوّت و امامت کے تمام اسرار کلمات و اسماء میں پوشیدہ ہیں، آپؑ اپنی مقدّس روحانیّت کے سلسلے میں ان مراحل سے گزر رہے تھے (۰۲: ۱۲۴) ابراہیم خلیل اللہؑ کی روحانیّت آپ کی اولاد میں تا قیامِ قیامت جاری و باقی ہے اور وہ پاک نسل آنحضرتؐ کے بعد سلسلۂ امامت ہے، اس بارے میں دانا مومنین کے لئے یہ امر بہت ہی ضروری ہے کہ وہ ان آیاتِ مقدسہ میں ذرا غور سے دیکھیں جو آلِ ابراہیم سے متعلق ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ ابراہیم کی روحانیّت و نورانیّت کس طرح آنحضرتؐ سے ہو کر اِس وقت تک چلی آئی ہے، مثال کے طور پر کلمۂ باقیہ (۴۳: ۲۸) کو لیجئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے جو مقدس چیز کلمہ کی شکل میں اپنی اولاد کے سپرد کر دی تھی وہ کیا تھی؟ اسمِ اعظم (بول) کلمۂ نور اور ذکرِ خداجس میں روحانیّت و نورانیّت اور ہدایت ہے تاکہ لوگ اُن سے رجوع
۱۲
کئے رہیں، اس کے سوا اور کیا چیز ہو سکتی تھی، جس کے لئے لوگ محتاج ہوں۔
ممکن ہے کہ کوئی شخص اِس قسم کا سوال کرے کہ کلمہ کا مطلب خدا کا کلام ہے اور وہ اِس دور میں قرآن ہے، پھر کتابِ خدا سے باہر ایسا کلمہ کہاں ہے؟ ایسے امکانی سوال کا پیشگی جواب ضروری ہے اور وہ ذیل کی طرح ہے : ۔
ارشاد ہے کہ: تو ہم نے اس (یعنی مریم ؑ) میں اپنی روح پھونک دی اور اُس نے اپنے پروردگار کے کلمات اور کتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبرداری میں تھی (۶۶: ۱۲) قرآنِ پاک کی اِس حکیمانہ تعلیم سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ بی بی مریم علیھا السّلام نے دینِ حق کے اٹل قانون کے مطابق اپنی روحانیّت کو اسمائے عظّام اور کلماتِ تامّات کی بدولت مکمل کرلی تھی، جس کے نتیجے میں نہ صرف کلماتِ خداوندی ہی کی تصدیق ہوئی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے سابقہ آسمانی کتابوں کی بھی تصدیق کی، پس ظاہر ہے کہ اِس اعتبار سے اسماء و کلمات کتابِ سماوی سے الگ ہیں، جن کی حیثیت میں ہادیٔ برحق کا نور کارِ ہدایت انجام دیتا رہتا ہے، اور قرآن وہ کتاب ہے جس کی حکمتیں اسی نور کی روشنی میں واضح ہو سکتی ہیں، جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ :۔
قد جآء کُم مِّن اللّٰہِ نورٌ وّ کِتٰبٌ مُّبین (۰۵: ۱۵) تمہارے پاس تو خدا کی طرف سے ایک نور اور ظاہر کتاب (قرآن) آچکی ہے۔ چنانچہ اہلِ بصیرت کو اِس بات کا پورا یقین ہے کہ یہ نورِ ازل سلسلۂ انبیاء و أئمّہ میں تا قیامت جاری و باقی ہے، اور اس مقدّس نور سے مومنین کو خاص روشنی اسمائے عظّام اور کلماتِ تامّات ہی کے وسیلے سے ملتی رہتی ہے۔
اگر کائنات و موجودات کی ہر اُس چیز پر تحقیق وجستجو کی نظر ڈالی جائے جو ایک وسیع دائرے میں پھیلی ہوئی ہے، تو کسی شک کے بغیر معلوم ہو جائے گا کہ وہ آغاز و انجام میں خلاصہ اور مغز کی صورت میں ایک مرکز پر جمع ہو جاتی ہے اس مطلب کی مثال کے لئے میوہ دار درخت کو لیجئے کہ وہ اپنی جڑوں اور شاخوں کی حدود میں کس طرح پھیلا ہوا ہے، اور
۱۳
پھل میں جو مغز ہے، اس میں درخت کی تمام قوّتیں کس طرح مرکوز ہو گئی ہیں، پس یہ بات حقیقت ہے کہ تمام روحانیّت کا مرکز و منبع اسم اور کلمہ ہے اور جملہ قرآن کا خلاصہ بزرگ آیات ہیں، نیز یہ کہ قرآنِ حکیم کا آغاز و انجام روحانیّت اور پھر اسما و کلمات ہیں،الحمدللّٰہ علیٰ مَنّہ و اِحسانہِ۔
فقط غلامِ خاندانِ رسول
نصیر ہونزائی
۲۷۔ دسمبر۔۱۹۸۰ء
۱۴
ہدایت کی پیروی
ہدایت کا پُرحکمت اور پیارا لفظ اپنی تمام معنوی خوبیوں اور لطافتوں کے ساتھ قرآنِ حکیم میں سب سے پہلے اور سب سے بڑی اہمیت کے ساتھ قصّۂ حضرتِ آدمؑ اور آغازِ انسانیّت و آدمیّت میں ملتا ہے، جہاں انتہائی حکیمانہ انداز سے سلسلۂ نورِ ہدایت کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ:
تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (۰۲: ۳۸) اس پاک و پاکیزہ اور حکمت آگین آسمانی تعلیم میں جس جامعیت کے ساتھ ربّانی ہدایت اور اس کی پیروی کا ذکر فرمایا گیا ہے، اس سے نہ صرف ہر زمانے میں ہادیٔ برحق کی ضرورت و اہمیت ظاہر ہو جاتی ہے، بلکہ اس کے علاوہ یہاں یہ حقیقت بھی کلی طور پر روشن ہو کر عام فہم ہو جاتی ہے کہ اہلِ ایمان کو ضروری اور لازمی طور پر رہنمائے صراطِ مستقیم کے پیچھے پیچھے منزلِ مقصود کی طرف روان دوان ہو جانا ہے، کیونکہ ہدایت کی پیروی کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ صراطِ مستقیم کے نقطۂ آغاز پر ہی ٹھہر اور جم جائیں ، بلکہ اس سے خدا کا مقصد و منشا تو یہ ہے کہ راہِ دین پر قدم بقدم اور منزل بمنزل آگے چلیں اور ترقی کر جائیں۔
۱۵
پیروی یعنی پیچھے چلنے کا عربی اور قرآنی لفظ “اتباع” ہے جو قرآن میں اپنی مختلف شکلوں میں ۱۷۴ دفعہ مذکور ہوا ہے، اور یہ کلامِ الٰہی کے ان بین اور واضح الفاظ میں سے ہے، جن کی وضاحت کی روشنی میں صراطِ مستقیم اور ہدایتِ ہادی کا اصل مقصد بآسانی سمجھ میں آتا ہے، چنانچہ اس کامل و مکمل عملی ہدایت و رہنمائی کا مقصد تو یہی ہے کہ ہم ہادیٔ زمان کے پیچھے پیچھے صراطِ مستقیم پر آگے بڑھ جائیں اور آخرکار منزلِ مقصود کو پہنچ جائیں۔
ہدایتِ ہادی کا تعلق یا لگاؤ صراطِ مستقیم کے شروع سے لے کر آخر تک ہے، یعنی اعلیٰ ہدایت اور کامل پیروی یہ ہے کہ کوئی شخص جانشینِ پیغمبر کے پیچھے پیچھے شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی منزلیں طے کر جائے، یا کم سے کم مقامِ حقیقت تک پہنچ جائے، اس کے بغیر نہ تو کارِ ہدایت مکمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی پیروی اور فرمانبرداری کا حق جیسا کہ چاہئے ادا ہو سکتا ہے، چنانچہ ہم یہاں قرآن ہی سے ایک ایسی مثال پیش کرتے ہیں، جو عملی ہدایت اور کلی پیروی کے بارے میں ہے کہ خداوندِ عالم حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام کی زبان سے فرماتا ہے: فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ (۱۴: ۳۶) پس جس شخص نے میری پیروی کی تو وہ مجھ سے ہے (یعنی وہ میرا روحانی فرزند ہے) کوئی شک نہیں کہ اس میں جزوی پیروی کا بھی ذکر ہے، مگر آیۂ مبارکہ کا مقصدِ اعلیٰ یہ ہے کہ نیک بخت مومنین راہِ خدا کے شروع سے آخر تک ہادیٔ دوران کے نقشِ قدم پر چلتے جائیں، یعنی کلی طور پر رہبرِ دین کی پیروی کریں، تاکہ بالآخر ہادیٔ زمان کے ساتھ مقامِ روحانیّت اور درجۂ وصال میں مل کر “منی” کا حقیقی
۱۶
مرتبہ حاصل کر سکیں، اس مثال سے ظاہر ہے کہ مکمل عملی ہدایت اور اس کی کلی پیروی راہِ مستقیم کی ابتداء سے انتہا تک واقع ہو جاتی ہے، یعنی اس کا طول صراطِ مستقیم کے برابر ہے۔
اس سلسلے میں ایک اور قرآنی مثال پیش کی جاتی ہے اور وہ یہ ارشاد ہے کہ: اور (ابراہیم نے) کہا کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں وہ میری رہنمائی کرے گا (۳۷: ۹۹) یعنی میں راہِ دین پر آگے سے آگے جانا چاہتا ہوں اور اس میں خداوند میری ہدایت فرمائے گا، آپ اس تعلیم میں دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے مراحل میں آگے چل کر خدا کے قربِ خاص تک جانا چاہتے ہیں، جس کے لئے نورانی ہدایت لازمی ہے، پس یہ بات بالکل درست ہے کہ صراطِ مستقیم پر ہدایتِ حقہ کی پیروی مومن کی پیش رفت اور ترقی کی صورت میں ہے۔
آپ اس فرمانِ خداوندی میں بھی ذرا غور کریں کہ ارشاد ہوا ہے: “وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى (۲۰: ۴۷) اور سلامتی اسی کے لئے ہے جس نے ہدایت کی پیروی کر لی۔” یعنی مکمل اور عملی ہدایت کا مقصد یہ ہے کہ مومنین شاہراہِ مستقیم پر گامزن ہو کر منزلِ آخرین کو پہنچ جائیں، جہاں ابدی نجات، دائمی سکون اور ہمیشہ کے لئے سلامتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا پاک فرمان ہے کہ: قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ (۱۲: ۱۰۸) (اے رسول) ان سے کہہ دو کہ میرا رستہ تو یہ ہے کہ میں (لوگوں کو) خدا کی طرف بلاتا ہوں، میں اور وہ شخص جس نے میری پیروی کی ہے (یعنی علی) دونوں بصیرت پر ہیں
۱۷
(اور میرا یہ پیرو بھی لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہے)۔ ظاہر ہے کہ رسولِ خدا کا راستہ صراطِ مستقیم ہی ہے، جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لئے مقرر ہے، اور یہ دعوتِ حق کلمۂ شہادت کے پیش کرنے سے شروع ہو جاتی ہے، چنانچہ یہ دین کی عام بات ہے اور اس میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ حضورِ اکرمؐ کے برحق جانشین نے آپ کی مکمل پیروی کر لی ہے اور وہ آنحضرت کے ساتھ بصیرت پر ہیں۔
اب ہم اس آیۂ کریمہ کی روشنی میں یہ ثبوت پیش کر سکتے ہیں کہ ہدایت اور پیروی کی ابتدائی منزل میں وہ لوگ ہیں جن کو اسلام کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور وہ قبول کرتے ہیں، مرحلۂ دوم پر اہلِ شریعت ہیں، مرحلۂ سوم تصوف کا ہے، چہارم حقیقت کا، پنجم معرفت کا اور ششم اُن حضرات کا جنہوں نے کلّی طور پر صراطِ مستقیم کی پیروی کر لی ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
(اتنے میں) شہر کے اُس سرے سے ایک شخص (حبیب نجار) دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم (ان ) پیغمبروں کا کہنا مانو (پیروی کرو) ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کچھ مزدوری نہیں مانگتے اور وہ لوگ ہدایت یافتہ ہیں (۳۶: ۲۰ تا ۲۱)۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمین و مومنین کو ایک ایسی پُرحکمت دعا کی تعلیم دی ہے، جس کا واضح مقصد ان حضرات کے راستے پر چلنا ہے، جن کو خداوند نے اپنی خاص نعمت سے نوازا ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں، وہ مبارک دعا یہ ہے: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ (۰۱: ۰۵ تا ۰۶) (خدایا) ہم کو سیدھے راستے پر چلا اُن لوگوں کا راستہ جنہیں تو نے (اپنی)
۱۸
نعمت عطا کی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ حضرات کون تھے، جن کے نقشِ قدم پر چلنے اور آخرکار اُن سے جا ملنے کا حکم ہوا ہے؟ اس کا جواب متعلقہ آیت میں موجود ہے اور وہ یہ ہے:
اور جس شخص نے خدا اور رسول کی اطاعت کی تو ایسے لوگ ان (مقبول) بندوں کے ساتھ ہوں گے جنہیں خدا نے اپنی نعمتیں دی ہیں یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ لوگ کیا ہی اچھے رفیق ہیں (۰۴: ۶۹) آپ کو تو روشن ہے کہ صراطِ مستقیم پر چلنا ہی خدا و رسول کی اطاعت ہے، جس کے نتیجے میں مومنین کو ان حضرات کی رفاقت حاصل ہو جاتی ہے، جو ہدایت یافتہ ہیں اور وہ پیغمبران، اساسان، امامان اور حجتان ہیں، جن کا علی الترتیب مذکورہ آیت میں ذکر ہوا ہے۔
اگرچہ ہدایت کے بہت سے درجات مقرر ہیں (جن کا ذکر بعد میں کریں گے) لیکن انسانوں کے لئے جو ہدایت ہے اس کے تین بڑے مقامات ہیں، ہدایت کا پہلا مقام وہ ہے جہاں کسی گمراہ کو صراطِ مستقیم کی طرف بلایا جاتا ہے، دوسرا مقام صراطِ مستقیم ہے، جہاں لوگوں کو منزل کی طرف چلایا جاتا ہے اور تیسرا مقام منزلِ مقصود ہے، جہاں اللہ کے خاص بندے ہدایت یافتہ ہو جاتے ہیں، اور وہ بحکمِ خدا دوسروں کی ہدایت و رہنمائی کرتے ہیں، ایسے حضرات انبیاء وائمّہ علیہم السّلام ہیں، پس قرآنِ حکیم میں جہاں کہیں ہدایت کا ذکر آئے تو اس میں یہ ضرور دیکھنا ہو گا کہ وہ کس درجے کی ہدایت ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی سے متعلق ایک اہم قرآنی ارشاد کا ترجمہ یہ ہے: (اے رسول ان لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست
۱۹
رکھتے ہو تو میری پیروی کرو کہ خدا (بھی) تم کو دوست رکھے گا اور تم کو تمہارے گناہ بخش دے گا (۰۳: ۳۱) آپ دیکھتے ہیں کہ ذیل میں حضورِ انورؐ کے پیچھے چل کر ربّانی ہدایت کی پیروی کرنے کی ایک روشن مثال درج ہے:
خانۂ حکمت، کراچی
۹ مئی ۱۹۸۱ء
۲۰
تصوّرِ اِنبِعاث
میرے انتہائی شفیق و مہربان اور عزیز و عظیم دوست نے کچھ عرصہ پہلے مجھ سے فرمایا تھا کہ میں موضوعِ “اِنبِعاث” پر لکھوں ، لیکن سچ بات یہ ہے کہ میں اِس دُشوار ترین موضوع کی معنوی، عرفانی اور تاویلی بلندیوں اور نزاکتوں سے ڈر رہا تھا، کیونکہ انسان کی ظاہری اور جسمانی زندگی کے بارے میں کچھ کہنا آسان ہے، اِس لئے کہ یہ حالت مخفی نہیں، مگر آدم و آدمی کی روح و روحانیّت اور قیامت یا اِنبِعاث جیسے ارفع و اعلیٰ حقائق و معارف کو زیرِ بحث لانا بدرجۂ انتہا مشکل کام ہے، تاہم گروہِ مومنین کی پاکیزہ دعا اور تائیدِ خداوندی کی امید پر انتہائی عجز و انکساری کے ساتھ اِس سلسلے میں قلم اُٹھایا جاتا ہے۔
لفظِ “اِنبِعاث”:
لفظِ “اِنبِعاث” (اُٹھنا) بابِ اِنفعال سے مصدر ہے، جس کے لغوی، اصطلاحی اور تاویلی کئی معنی ہیں، اور یہ تمام معانی مقامِ تاویل پر آپس میں ملے ہوئے ہیں، جیسا کہ قرآنِ حکیم کے اِس ترجمۂ ارشاد سے ظاہر ہے: اور اگر وہ لوگ (غزوہ میں) نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کا کچھ سامان تیار کرتے لیکن خدا نے ان کے “اِنبِعاث” (اُٹھنا) کو پسند نہیں کیا (۰۹: ۴۶) یعنی اللہ تعالیٰ نے اُن کا جہاد کے لئے اُٹھنا پسند نہیں فرمایا، اور اس کے تاویلی معنی یہ ہیں کہ خدائے پاک نے ان کا مراحلِ روحانیّت سے آگے گزر کر مرتبۂ عقل پر “جی اُٹھنا” پسند نہیں فرمایا۔
۲۱
روحانیّت کا پہلا دور:
قرآنِ حکیم زبانِ حکمت سے کہہ رہا ہے کہ روحانیّت کے تین ادوار ہوا کرتے ہیں ملاحظہ ہو: “امام کی جسمانی پیدائش اور نورانی پیدائش۔”
پہلا دَور خاموش روشنیوں پر مبنی ہے، شاید آپ کو تعجب ہوگا کہ اسے دنیا (ئے روحانیّت ) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ دَور ہنوز آخرت نہیں ہے، وہ تو ابھی دُور اور روحانی موت کے بعد ہے، جیسا کہ خداوندِ عالم کا فرمان ہے: “وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَّ لَھْوًا وَّغَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا” (۰۶: ۷۰) اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش رہ جنہوں نے اپنے دین کو لہو و لعب بنا رکھا ہے اور دنیوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ اس سے وہ تمام لوگ مراد ہیں، جنہوں نے بغیر ہدایتِ حقّہ کے پیہم عبادت اور سخت ریاضت کر کے روحانیّت کی ابتدائی روشنیوں کا مشاہدہ کیا ہو، اور اسی کے نتیجے میں کوئی دین یا مسلک بنا لیا ہو، حالانکہ وہ لوگ جس روشنی کو نورِ مطلق سمجھ رہے ہیں، وہ نورِ مطلق نہیں ہے، اور نہ وہ مقام منزلِ مقصود ہے، جہاں تک ان کی رسائی ہوئی تھی، کیونکہ وہاں کی بے جان چلنے پھرنے والی تصویریں اور ساری رنگین چیزیں، جو نہایت منوّر نظر آتی ہیں، آزمائش کے لئے ہیں، اور وہ تمام صورتیں خدا کے نزدیک کھیل تماشا اور فریبِ نظر ہیں، جب تک کہ اُن میں تاویلی حکمت کی روح پیدا نہ ہو۔
دوسرا دور:
روحانیّت کا دوسرا دور بحقیقت آخرت کہلاتا ہے، کیونکہ اِس کے آغاز میں حضرتِ اسرافیل کے صور پھونکنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اور حضرتِ عزرائیل کئی دن تک قبضِ روح کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے، چنانچہ یہ پورا دور اہلِ تاویل کے نزدیک
۲۲
پیغمبرانہ یا عارفانہ موت کہلاتا ہے، جو رحمتوں اور برکتوں سے پُر اور سلامتیوں سے معمور ہے، روحانیّت کے اِس حکمت آگین دور کی تشبیہہ و تمثیل جسمانی موت سے دینے میں بہت سی حکمتیں پنہان ہیں ، جس کی یہاں صرف چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
روحانیّت کی آخرت:
ا۔ جب کوئی شخص جسمانی طور پر مر جاتا ہے تو وہ دنیائے ظاہر کو چھوڑ کر آخرت میں پہنچ جاتا ہے، اسی طرح شخصِ کامل روحانیّت کی دنیا سے بذریعۂ روحانی موت روحانیّت کی آخرت کی جانب سفر کرتا ہے۔
۲۔ ظاہر میں جس طرح رضائے الٰہی کی خاطر کسی حلال چوپایہ کی قربانی کی جاتی ہے، روحانیّت میں اسی طرح نفس اور روح کی قربانی ہوتی ہے۔
۳۔ جیسے ظاہری جہاد میں بعض مجاہدین کو شہادت کا درجہ نصیب ہو جاتا ہے، ویسے روحانی جہاد میں مجاہدین کو شہادتِ عظمیٰ کا مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے۔
۴۔ اِس مادّی دنیا میں ہر چیز کا عروج و ارتقا فنا کے بغیر ممکن نہیں، جیسے جمادات نباتات میں، نباتات حیوانات میں، اور حیوانات انسانوں میں فنا ہو کر ترقی و رفعت پاتے ہیں، اسی طرح عظیم روحیں بابِ فنا سے داخل ہو کر مراتبِ عالیہ پر فائز ہو جاتی ہیں۔
۵۔ دنیا کا یہی دستور چلا آیا ہے کہ مادّی ترقی ہونے کی صورت میں آدمی اپنے پرانے مکان کو گرا کر اس کی جگہ از سرِ نَو ایک خوبصورت مکان کی تعمیر کرتا ہے، بالکل اسی طرح جن حضرات کی روحانی ترقی ہو رہی ہو، ان کی خودی کی فرسودہ عمارت کو مسمار کرکے وہاں ایک عالیشان خانۂ خدا معمور کیا جاتا ہے، اِن مثالوں سے روحانی موت یا فنا پر
۲۳
روشنی پڑتی ہے، اور اس میں طرح طرح کی حکمتوں کے پوشیدہ ہونے کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔
روحانیّت کا تیسرا دَور ۔ “اِنبِعاث”:
روحانیّت کا تیسرا اور آخری دَور ’’اِنبِعاث‘‘ کہلاتا ہے، جس میں خدا کے وہ برگزیدہ بندے جو جیتے جی روحانیّت کی پُرحکمت موت سے گزر رہے تھے، بحقیقت زندہ ہو جاتے ہیں، جہاں عقلی اور علمی زندگی کے بھرپور وسائل موجود ہیں، جو سب کے سب رُبُوبیّت کے عظیم اسرار ہیں ، یہاں یہ نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ موجوداتِ ظاہر و باطن کے درجات مقرر ہیں، چنانچہ حقیقی اور مُطلق زندگی اُس درجے میں جو سب سے اوپر ہے، اور وہ بلند ترین درجہ عقل ہے، اور قطعی موت سب سے نچلے درجے میں ہے، یہ درجۂ اسفل جمادات (بے جان اشیاء) سے متعلق ہے چنانچہ نباتات زندہ ہیں جمادات کی نسبت سے، مگر مردہ ہیں حیوانات کی نسبت سے، حیوانات زندہ ہیں نباتات کی نسبت سے، لیکن مردہ ہیں انسانوں کی نسبت سے، اور کفر و اسلام کے اعتبار سے بنی نوعِ انسان کے بھی کئی طبقات و درجات ہیں، چنانچہ مثال کے طور پر کافر لوگ زندہ ہیں حیوانات کے مقابلے میں، لیکن مردہ ہیں اہلِ ایمان کے مقابلے میں، جیسا کہ پروردگار کا ارشاد ہے:۔
حیات و ممات کے درجات:
اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَل (۰۷: ۱۷۹) (اور ہم نے ایسے بہت سے جنّ اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے) یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ لوگ زیادہ بے راہ ہیں۔ اِس سے یہ حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے کہ کفّار دینی شعور کے اعتبار سے مردہ ہیں اور مومنین بمقابلۂ کفار زندہ ہیں، لیکن یہ سلسلہ
۲۴
یہاں پر ختم نہیں ہوتا، کیونکہ زندگی کے اور بھی مراتب باقی رہتے ہیں، جیسا کہ ربّ العزت کا فرمان ہے: اے ایمان والو تم اللہ اور اس کے رسولؐ کی دعوتِ (خاص) کو قبول کرو جبکہ رسولؐ تم کو ایک ایسی چیز کی طرف بلاتے ہوں جو تمہارے لئے حیات بخش ہے (۰۸: ۲۴) اس کے یہ معنی ہوئے کہ مومنین کی موجودہ زندگی اگرچہ ایک اعتبار سے عمدہ زندگی ہے، لیکن دوسرے اعتبار سے (یعنی حیاتِ روحانی کے مقابلے میں) یہ بھی ایک موت ہے، لہٰذا روحانی زندگی کے لئے جدّوجہد لازمی ہوئی۔
مذکورہ بالا قانون و ترتیب کے مطابق روحانیّت کا پہلا دَور بمقابلۂ جسمانیّت حیات ہے، لیکن یہ دوسرے دَور کی نسبت سے ممات ہے، اسی طرح دوسرا دَور زندگی ہے دورِ اوّل کی نسبت سے، مگر موت ہے تیسرے دور کے مقابلے میں، لیکن تیسرا دور جو آخری دور ہے وہ زندگی ہی زندگی ہے اور اس میں یا اس کے بعد کوئی موت نہیں، کیونکہ وہ اِنبِعاث ہے۔
تین دن سے تین ادوار مراد ہیں:
جب ہم قرآن و روحانیّت کی روشنی میں اس حقیقت کا یقین رکھتے ہیں کہ ہر کامل انسان اپنی دنیائے روحانیّت میں پیدا ہو جاتا ہے، اور ایک دور کے بعد اُس پر تاویلی موت واقع ہو جاتی ہے، تو پھر جیسے کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں: روحانیّت کا پہلا دور دنیائے باطن ہے، دوسرا دور اس باطنی دنیا کی آخرت ہے اور تیسرا دور اس آخرت کا یوم بعث ( جی اُٹھنے کا دن ) ہے ، جیسا کہ حضرت یحییٰ علیہ السّلام کے بارے میں فرمایا گیا ہے: وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا (۱۹: ۱۵) اور اُس پر سلامتی ہے جس دن پیدا ہوا اور جس دن انتقال کرے گا اور جس دن زندہ ہو کر اُٹھایا جائے گا۔ ان تین دنوں سے مذکورہ تین ادوار مراد ہیں، اور یہی ذکر سورۂ مریم (۱۹: ۳۳) میں حضرت
۲۵
عیسیٰ علیہ السّلام کی بابت بھی ہے۔
حق تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ(۰۲: ۲۱۳) (ایک زمانہ میں) تمام لوگ ایک ہی کیش پر تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا جو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے۔ اِس مقام پر کوئی بھی عقلِ سلیم یہ سوچ سکتی ہے یا سوال کر سکتی ہے کہ خداوندِ عالم نے انبیاء علیھم السّلام کو کہاں سے کہاں بھیجا یا کس مرکز سے بھیجا؟ کیونکہ بظاہر ایسا نہیں ہے کہ وہ حضرات کسی اور دنیا یا دوسرے ملک سے آئے ہوں، بلکہ وہ مقدّس اور کامل و مکمّل افراد اپنی حیاتِ طیّبہ کے شروع سے آخر تک دوسرے لوگوں ہی کے ساتھ رہا کرتے تھے، چنانچہ اس فکر و سوال سے ظاہر ہے کہ پیغمبروں سے متعلق “بَعَثَ” اور “اَرسَلَ” (یعنی خدا نے بھیجا ) جیسے تمام الفاظ کا ایک تاویلی پس منظر ہے، اور وہ اِس طرح ہے کہ خالقِ حکیم نے انبیاء و مُرسلین صلوات اللہ علیھم کو مختلف زمانوں میں جسمانی طور پر پیدا کرکے راہِ مستقیم پر چلایا، پھر ان کو روحانیّت و نورانیّت میں پیدا کیا، اور پھر ایک عرصے کے بعد اُن کی ذاتی و انفرادی قیامت برپا ہوئی، تاکہ پیغمبروں اور ان کے نمائندوں کی دعوتِ حق بصیرت پر مبنی ہو (۱۲: ۱۰۸) یاد رہے کہ اس مجموعی قیامت بصورتِ انفرادی قیامت سے قبل خاموش روحانیّت کا دَور گزرتا ہے، مگر جب یہ قیامت برپا ہو جاتی ہے تو اسی کے ساتھ ساتھ بولتی روحانیّت کے دَور کا آغاز ہو جاتا ہے، تاہم بتقاضائے حکمت اس دور کی روحانیّت کو کئی اعتبار سے نفسانی یا روحانی موت کہا گیا ہے، جس کا قبلاً ذکر ہو چکا ہے۔
لُولُوئے عقل:
تاویلی موت کے زمانے کے بعد انبعاث کا وقت آتا ہے، جس میں سب سے پہلے انبیائے کرامؑ بحقیقت زندہ اور عقلی طور پر بیدار ہوگئے، اُن حضرات کو اسی مقام
۲۶
پر ازل اور ابد کے تمام عظیم بھید ایک ساتھ معلوم ہوگئے، اور انہوں نے وہاں لُولُوئے عقل کے علمی کرشموں کو دیکھا، اور پھر ہر طرح کے مشاہدوں اور معرفتوں کے بعد اِسی مرکزِ عقل اور مرتبۂ قربِ خاص سے انبیاء علیھم السّلام لوگوں کی طرف بھیجے گئے، اور بَعَثَ یا اَرسَلَ جیسے الفاظ کا تاویلی پس منظر یہی ہے جو بیان ہوا۔
حضرت طالوتؑ:
فرمانِ خداوندی ہے: وَقَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا (۰۲: ۲۴۷) اور ان سے ان کے پیغمبر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ اس کی تاویلی حکمت یہ ہے کہ حضرت طالوت علیہ السّلام امام تھا، جسے پروردگارِ عالم نے تکمیلِ نور کے لئے مراحلِ روحانیّت پر گامزن کر دیا، اور مرتبۂ “نورِ عقل” میں طالوتؑ کا اِنبِعاث ہوا، جیسا کہ اِنبِعاث کا حق ہے، تاکہ وہ لوگوں کا دینی بادشاہ قرار پائے، کیونکہ دینِ خدا میں کسی دُنیوی بادشاہ کے لئے کوئی گنجائش نہیں، چنانچہ حضرت طالوتؑ کے نہ صرف علم میں بے پناہ اضافہ ہوا، بلکہ جسم میں بھی بطریقِ حکمت بے حد فراخی ہوئی، وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امام طالوت علیہ السّلام کو عالمِ ذرّ عنایت ہوا، نیز ابداعی جسم مل گیا، جو کائنات پر محیط ہے، جس میں ابداع و انبِعاث کے جملہ معجزات موجود ہیں۔
مومنین بحقیقت کون ہیں؟
ارشاد فرمایا گیا ہے : لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِم (۰۳: ۱۶۴)
تحقیق اللہ تعالیٰ نے مومنین پر اِحسان کیا جب کہ ان میں ان ہی کی جنس سے ایک پیغمبر کو بھیجا اِس آیۂ کریمہ کی تاویل یہ ہے کہ یہاں مومنین سے أئمّۂ ھُدا صلوات اللہ علیھم مراد ہیں، کیونکہ ایمان کے درجۂ کمال پر وہی حضرات ہیں، اور رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ان ہی کی جنس میں سے اور ان ہی کے باطن (ذات) میں سے ہیں، اور
۲۷
ان ہی کی روح و روحانیّت میں پیغمبرؐ بھیجا گیا ہے، کیونکہ ہر امام کے باطن میں رسولِ خداؐ کے اِنبِعاث مظاہرہ ہوتا ہے اور اسی میں سب کچھ ہے۔
بارہ نقیب پانچ گروہ جن پر انعام ہوا:
سورۂ مائدہ (۰۵: ۱۲) میں فرمایا گیا ہے: وَ بَعَثَنَا مِنھُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْباً (۰۵: ۱۲) اور ہم نے (بنی اسرائیل) میں سے بارہ سردار مقرّر کئے۔ یہ بارہ نقیب بارہ حجّت تھے، جن کو مکمّل روحانیّت حاصل ہوئی اور انہوں نے اسی جسم میں زندہ ہوتے ہوئے قیامت، نفسانی موت، اور پھر جی اُٹھنے (اِنبِعاث) کا مظاہر و منظر دیکھا، کیونکہ ان مشاہدات کے بغیر معرفت کا کوئی تصوّر نہیں، اور معرفت کے بغیر کوئی حجّت نہیں، اور یاد رہے کہ لوگوں میں سے چار گروہ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صراطِ مستقیم کی منزلِ مقصود پر پہنچا کر اپنی خاص نعمتوں سے نوازا ہے، وہ چار گروہ: انبیاء ، صدّیقین، شہداء اور صالحین اور پانچواں طُفیلی گروہ بھی ان کے ساتھ ہے، جو فرمانبردار مومنین پر مشتمل ہے (۰۴: ۶۹ تا ۷۰) اس کے معنی ہیں کہ ہر پیغمبر، ہر اساس، ہر امام، ہر بزرگِ دین اور ہر اطاعت گزار مومن کو یہ فضلِ کبیر حاصل ہے۔
اِنبِعاث غیر شعوری:
یہ سورۂ یٰسٓ کی مقدّس تعلیمات میں سے ہے: قَالُوْا ٰیوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا (۳۶: ۵۲) کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی ہم کو ہماری خوابگاہ سے کس نے اُٹھا دیا۔ ان لوگوں کا یوں کہنا زبانِ قال سے نہیں، بلکہ زبانِ حال کی ترجمانی ہے، لہٰذا یہ اِنبِعاث شعوری طور پر نہیں، بلکہ غیر شعوری کیفیت میں ہے، کیونکہ جس طرح کسی کی انفرادی قیامت میں بصورتِ ذرّاتِ لطیف سب لوگ جمع ہو جاتے ہیں، مگر وہ اپنے ذرّات کی اس نمائندگی سے بے خبر ہوتے ہیں، اسی طرح مقامِ عقل پر ( جو مقامِ اِنبعاث
۲۸
ہے) اوّلین و آخرین سب کی نمائندگی ہوتی ہے، بغیر اس کے کہ ان کو اس کا علم ہو، لیکن ہاں اس میں اور اُس میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ قیامت میں کثرت کا پہلو ہے اور انبِعاث میں وحدت کا پہلو نمایان ہے ، یعنی انبِعاث میں ذرّاتِ کثیرہ یا سب لوگوں کی نمائندگی صرف ایک ہی فرد سے ہوتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدۃٍ (۳۱: ۲۸) تم سب کا پیدا کرنا اور (روحانی موت کے بعد) زندہ کرنا ایک ہی جان کی طرح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک میں سب ہیں اور سب میں ایک ہے۔
ذرّاتِ لطیف:
سورۂ بنی اسرائیل (۱۷: ۹۸) میں ارشاد ہے: وَقَالُوْٓا ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا اور یوں کہا تھا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور بالکل ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم از سرِ نو پیدا کرکے اُٹھائے جائیں گے۔ چونکہ قرآن صرف اور صرف لسانِ قدرت اور زبانِ حکمت ہے، اور اس میں جہاں جہاں دوسروں کے خیالات یا باتوں کی ترجمانی کی گئی ہے، وہ بھی اصل قرآن اور حکمت سے بھرپور ہے، کیونکہ کمالِ قدرت سے غیروں کی باتوں کے مفہومات کو مشترک المعنیٰ الفاظ میں اِس شان سے پیش کیا گیا ہے کہ اِس سے نہ صرف کلامِ حکمت نظام کا بے نظیر اُصولِ بیان اپنی جگہ قائم رہا ہے، بلکہ اس سے کافروں کی متعلقہ باتیں بھی دلیلِ کفر کے باوجود تاویلی حکمتوں سے پُر ہوگئی ہیں، چنانچہ اِس آیۂ کریمہ میں ایسی ہڈیوں کا اشارہ جو ریزہ ریزہ ہو چکی ہیں ذرّاتِ لطیف کے لئے ہے، اور خلقِ جدید سے جُثۂ ابداعیّہ مراد ہے، جس میں ہزار گونہ جدّت ہے، چنانچہ انبعاث یوں ہے کہ انہی لاتعداد لوگوں کے نمائندہ ذرّات سے جثۂ ابداعیہ کا وجود بن جاتا ہے، اور یہ عمل بلا تاخیر چشمِ زدن میں انجام پاتا ہے،
۲۹
اور اسی طرح بے شمار انسانوں (یعنی نمائندگی کرنے والے ذرّات) کا بصورتِ جسمِ لطیف ایک کامل انسان بن جاتا ہے، پس نتیجے کے طور پر شخصِ کامل کا انبِعاث تو شعوری طور پر ہوتا ہے، اور باقی سب کا انبعاث غیر شعوری اور نمائندگی میں ہوتا ہے۔
مقامِ محمود:
یہ ارشاد بھی سورۂ بنی اسرائیل عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (۱۷: ۷۹)۔ شتاب ہے کہ آپ کا ربّ آپ کو مقامِ محمود میں جگہ دے گا۔ اِس آیۂ مقدّسہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلّم کے مرتبۂ عقلِ کُلّی میں انبِعاث کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، کہ مقامِ محمود ( وہ جگہ جس کی تعریف کی گئی ہے) مرتبۂ لُولُوئے عقل ہے، جہاں پروردگارِ عالم کے برگزیدہ بندوں کی عقلی اور علمی اِنبِعاث اور بیداری ہو جاتی ہے، مقام کے لفظی معنی دو ہیں: ا۔ کھڑا ہونا ۲۔ کھڑا ہونے کی جگہ
ابلیس یا شیطان کی مہلت:
سورۂ اعراف (۰۷: ۱۴) میں فرمایا گیا ہے: قَالَ اَنظِرْ نِیٓ اِلیٰ یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ابلیس نے کہا کہ مجھ کو مہلت دے اُس دن تک کہ (مردے) اُٹھائے جائیں گے۔ یعنی ابلیس جو شیاطین کا سردار ہے، جس کی نمائندگی ہر فردِ بشر میں ایک شیطان کرتا ہے، وہ انسانِ کامل کی ذاتی روحانیّت اور انفرادی قیامت میں مقامِ انبعاث پر جاکر شکست کھاتا ہے اور مسلمان بن جاتا ہے، جیسے مشکوٰۃ جلدِ اوّل عنوان ۳ میں آنحضرتؐ کی ایک حدیث مروی ہے حضورؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس کا ایک ہمنشین (مصاحب) جِنّات (یعنی شیاطین) میں سے اور ایک ہمنشین فرشتوں میں سے مقرر نہ کیا گیا ہو، صحابہ نے یہ سن کر پوچھا: اور یا رسول اللہ آپ کے لئے؟ فرمایا ہاں میرے
۳۰
لئے بھی، لیکن اللہ نے اُس پر مجھ کو (اپنی مدد سے) غلبہ بخشا ہے، سو وہ مسلمان ہو گیا، پھر وہ سوائے بھلائی کے مجھ سے کچھ فرمائش نہیں کرتا۔
برزخ کے معنی:
سورۂ مومنون (۲۳: ۱۰۰) میں فرمایا گیا ہے: وَمِنْ وَّرَآئِہِمْ بَرْزَخ’‘ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْن(۲۳: ۱۰۰) اور ان لوگوں کے آگے ایک پردہ ہے انبعاث کے دن تک۔ لفظِ برزخ قرآنِ پاک میں دو بار آیا ہے، ایک یہ جس کا حوالہ آپ کے سامنے ہے، اور دوسرا سورۂ رحمان (۵۵: ۲۰) میں، جیسے ارشاد ہے: مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰن(۵۵: ۱۹) بَیْنٰھُمَا بَرْزَخٌ لَّایَبْغِیٰنِ(۵۵: ۲۰) اسی نے دو دریاؤں کو ملایا کہ باہم ملے ہوئے ہیں (اور) ان دونوں کے درمیان میں ایک حجاب ہے کہ دونوں بڑھ نہیں سکتے۔ اِس سے ظاہر ہے کہ لفظِ “برزخ” پردہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، چنانچہ مذکورۂ بالا آیت کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ جسمانی طور پر مر جانے کے باوجود عقلی اور عِرفانی طور پر مرتبۂ انبِعاث تک رسا نہیں ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے آگے حجاب و پردہ ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ برزخ کے اندر رہتے ہوں اور برزخ کوئی دنیا ہو، بلکہ برزخ بمعنیٔ پردہ ان کے آگے ہے، جس کی وجہ سے وہ لوگ اِنبِعاث سے دور اور محروم ہیں، اور جب تک کسی وسیلے سے ان کا شعوری انبِعاث نہ ہو تو وہ اسی حالت میں پڑے رہیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
بصیرت یا چشمِ معرفت:
وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیْلً (۱۷: ۷۲) اور جو شخص دنیا میں اندھا رہے گا سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور زیادہ راہ گُم کردہ ہوگا۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ انسان اِس دنیا میں چشمِ معرفت حاصل کرنے کے لئے آیا
۳۱
ہے، اور چشمِ معرفت کا ایک خاص قرآنی نام “نور” ہے، کیونکہ مادّیت میں جو عالمِ کثرت ہے، چیزیں الگ الگ ہوتی ہیں، یعنی آنکھ الگ چیز ہوتی ہے اور روشنی جُداگانہ شیٔ ہوتی ہے، مگر روحانیّت جو عالمِ وحدت ہے اس میں جو نور ہے وہی چشمِ معرفت بھی ہے چنانچہ خدا اور اس کے رسولؐ نے مستقل ہدایت کے لئے جس مقدّس ہستی کو نور قرار دیا ہے، وہی مومنین کے لئے چشم و چراغ، دیدۂ دل اور عین الیقین ہے۔
امام سب کی مجموعی روح:
سورۂ مائدہ کے ارشادات میں سے ایک پُرحکمت ارشاد (۰۵: ۲۰) وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ ٰیقَوْمِ اذْکُرُوْانِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَمنْبِیَآئَ وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّ اٰتٰکُم ْ مَّالَم یُؤتِ اَحَدًا مِّنَ العٰلَمِیْنَ (۰۵: ۲۰) اور وہ وقت بھی ذکر کے قابل ہے جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کے انعام کو جو تم پر ہوا ہے یاد کرو، جب کہ خدا نے تم میں بہت سے پیغمبر بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا اور تم کو وہ چیزیں دیں جو دنیا جہان (یعنی اہلِ زمانہ) میں سے کسی کو نہیں دیں۔ اس آیۂ مبارکہ میں ایک انتہائی عظیم حکمت پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ دورِ موسیٰؑ کے مومنین اپنے اپنے امامِ وقتؑ کی روحانی وحدت و سالمیّت میں سلیمانؑ کی طرح بادشاہ تھے، اور یہ سنّتِ الٰہی ایک وقت کے لئے خاص نہیں، بلکہ ہر زمانے کے لئے ہے، اگر کوئی شخص اس تاویلی حکمت سے انکار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بنی اسرائیل کا ہر فرد ظاہری دنیا میں بادشاہ تھا، لیکن یہ بات درست نہیں، کیونکہ خود حضرت موسیٰؑ کے سامنے فرعون کی ہلاکت واقع ہونے تک بنی اسرائیل غلام تھے، ہاں جاننے کے لئے یہ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ امامِ زمان علیہ السّلام کی بابرکت ہستی میں زمانے کے تمام مومنین کس طرح بادشاہ ہوسکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امام اُس کامل و مکمل انسان کا نام
۳۲
ہے، جو ارواحِ مومنین کا مجموعہ ہوا کرتا ہے، یہ مجموعہ اور اس کا ذکر بطورِ خاص ہے ورنہ امام جملہ کائنات و موجودات کا مجموعہ ہے، جیسا کہ قولِ قرآن ہے: وَکُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْن (۳۶: ۱۲)۔
قرآن نے کافر بادشاہ کو “بادشاہ” نہیں کہا:
یہ بات بڑی پختہ اور یہ دلیل بڑی روشن ہے کہ قرآنِ حکیم نے کسی بھی کافر بادشاہ کو “مَلِک” یعنی بادشاہ نہیں کہا ہے ، اور نہ آسمانوں زمین کی خدائی سلطنت کے سوا کسی دنیوی حکمرانی کو “بادشاہی” کا نام دیا ہے، جب فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہ خدا ہی کی ہے، تو پھر کسی غیر کی بادشاہی کونسی جگہ رہ گئی؟ مگر ہاں وہ اپنی یہ عظیم بادشاہی جسے چاہے عطا کر سکتا ہے، جیسا کہ اس کا فرمان ہے : فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰھِیْمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیْنٰھُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا (۰۴: ۵۴) سو ہم نے ابراہیمؑ کے خاندان کو کتاب اور حکمت دی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت بھی دی ہے۔ پس حضرت موسیٰؑ نے جن حضرات کو مُلوک (بادشاہ) کہا وہ سب سے پہلے خاندانِ ابراہیمؑ کے أئمّہ ہیں، اور پھر ان ہی مبارک ہستیوں کے وسیلے سے مومنین بادشاہ ہیں ۔
خدا کی بادشاہی بصورتِ بہشت:
سوال: کوئی مومن یا کوئی امام جو مخلوق اور بشر ہے کس طرح خداوند تعالیٰ کی اُس بادشاہی کا مالک ہو سکتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں پھیلی ہوئی ہے، اور جو خدا کے لئے خاص ہے؟
جواب: اس کا جواب طویل سے طویل بھی ہے اور مختصر سے مختصر بھی، اور مختصر یہ ہے کہ قرآنِ پاک کی کئی آیات میں یہ ارشاد ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا کی ہے، نیز یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ کائنات تمہارے لئے مسخر ہے (۳۱: ۲۰ ، ۴۵: ۱۳) اور قرآن
۳۳
میں یہ بھی ہے کہ بہشت کائنات کے طول و عرض کے برابر ہے، یعنی بہشت خدا کی بادشاہی کا دوسرا نام ہے، پس بہشت جس کا دوسرا نام خدا کی بادشاہی ہے ملکیت کے معنی میں خدا کی تو ہے، مگر اس کی ذاتِ اقدس اس کی حاجت سے بے نیاز و برتر ہے، اس سے ظاہر ہے کہ کائنات کی بادشاہی عطا کر دینے کے معنی میں خدا تعالیٰ کی ہے، مگر اس کی اپنی ذات کے لئے خاص نہیں۔
اِطاعت کے تین درجات:
سوال: مومنین کی نجات اور بہشت یا روحانی سلطنت امامِ حیّ و حاضر کی ہستی سے کیوں وابستہ ہے، اور یہ صرف پیغمبر اکرمؐ کی ذات سے کیوں متعلق نہیں؟ کیا آنحضرتؐ مرکزِ رحمت نہیں ہیں؟
جواب: اس میں عرض یوں ہے کہ اگر یہ سوال اس وجہ سے ہو کہ رسولؐ مرتبۂ اعلیٰ پر ہیں یا اِس لئے ہو کہ آنحضرتؐ کارِ دین کے لئے ہر طرح سے بذاتِ خود کافی ہیں، تو اِس سے یہ منطقی سوال پیدا ہوگا کہ خداوند تعالیٰ نے دین کا ہر کام ذاتی طور پر کیوں نہیں کیا کہ اس نے اتنے سارے پیغمبر بھیجے، حالانکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا تھا، اور وہ ربِّ عزت ہے، پھر یہ اقرار کرنا پڑے گا، کہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی قدرت و رحمت یہی ہے کہ اُس نے لوگوں کی آسانی کی خاطر پیغمبروں کو بھیجا اور ان کے جانشین مقرر کئے چنانچہ خداوندِ عالم نے دینِ اسلام میں رسولؐ کے بعد امامؑ کو لازمی قرار دیا، اور اسے ولیٔ امر بنایا، پھر اطاعت یعنی فرمانبرداری کو اوپر سے شروع کرکے تین درجوں پر منقسم کیا، یعنی اطاعتِ خدا، اطاعتِ رسولؐ ، اور اطاعتِ امام (ولیٔ امر) اب اِس بیان سے ظاہر ہے کہ خدا و رسولؐ کی طرف سے لوگوں کو جو کچھ ملنا چاہئے، وہ درجاتِ اطاعت کے آخر میں ملے گا اور اِس سے پہلے ہرگز نہیں، اور جیسا کہ بیان ہوا اطاعت و فرمانبرداری کا آخری درجہ بحکمِ
۳۴
قرآن امامِ زمانؑ ہے، پس اِس روشن دلیل سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آئی کہ اللہ تعالیٰ اور اِس کے رسولِ برحقؐ کی طرف سے جو روحانی بادشاہی عطا ہوتی ہے وہ امامِ عالیمقامؑ کی ذاتِ عالی صفات میں پوشیدہ ہے۔
مر کر زندہ ہو جانا بڑا طویل کام ہے:
سورۂ بقرہ (۰۲: ۵۵ تا ۵۶) میں فرمایا گیا ہے: وَاِذْ قُلْتُمْ ٰیمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَھْرۃً فَاَخَذَتْکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُون ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ مِّنْ م بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن (۰۲: ۵۵ تا ۵۶) اور جب تم لوگوں نے کہا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز نہ مانیں گے تمہارے کہنے سے یہاں تک کہ ہم (خود) دیکھ لیں اللہ کو اعلانیہ طور پر سو آپڑی کڑک بجلی اور تم دیکھ رہے تھے، پھر ہم نے تم کو زندہ کر اُٹھایا تمہارے مرجانے کے بعد اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے۔
آپ دیکھتے ہیں کہ خداوندِ عالم کے اِس پُرحکمت خطاب میں بنی اسرائیل کا ہر فرد شامل ہے، مگر یہ ممکن نہیں کہ سب پر ایک جیسی نور کی سخت بجلی گری ہو اور سب نے یکسان طور پر اس کا مشاہدہ کیا ہو، لیکن ہاں یہ تصوّر بالکل درست ہے کہ ناطقؑ، اساسؑ، امامؑ اور نقیب جیسے حدودِ دین کو یہ عظیم دیدار ہوا تھا، اور وہ بھی ایک ساتھ نہیں بلکہ جُدا جُدا اوقات میں فرداً فرداً، کیونکہ بڑا دیدار اور انبِعاث فردانیت میں ہوتا ہے (۰۶: ۹۴) اس کے یہ معنی ہوئے کہ بنی اسرائیل کے عام مومنین امامِ وقت اور حدودِ دین میں بصورتِ ذرّاتِ لطیف داخل اور شامل تھے، جس طرح اوپر ذکر ہوا کہ قومِ موسیٰؑ کا ہر فرد امام کی روحانیّت میں بادشاہ تھا، بالکل اسی طرح جُدا جُدا وقتوں میں شعوری اور غیر شعوری حالت میں بحیثیتِ مجموعی حضرت موسیٰؑ کی قوم کا انبعاث ہوا، اور ان کو یہ رحمت پیغمبر اور امام علیھما السّلام کے وسیلے سے حاصل ہوئی۔
۳۵
۷۰ کیوں ؟ رجال کیوں ؟
سورۂ اعرف (۰۷: ۱۵۵) کے اِس فرمانِ خداوندی میں بھی خوب غور کیجئے: وَ اخْتَارَ مُوْسیٰ قَوْمَہٗ سَبْعِیْنَ رَجُلاً لّمِیِقَاتِنَا اور موسیٰ نے ستّر رجال (مرد) اپنی قوم میں سے ہماری “میقات” کے لئے منتخب کئے، سو جب ان کو زلزلہ (وغیرہ) نے آپکڑا تو موسیٰ عرض کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار اگر آپ کو یہ منظور ہوتا تو آپ اس کے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتے، کیا آپ ہمیں اس لئے ہلاک کر دیں گے کہ ہم میں سے بیوقوفوں نے نافرمانی کی ہے ۔
یہاں ستّر (۷۰) رجال اِس طرح ہیں : ۲۴ + ۲۴ + ۲۴ = ۷۲ – ۲ = ۷۰ تشریح: جب کوئی پیغمبر مرتبۂ ناطقی پر فائز ہو جاتا ہے، تو وہ بحکمِ خدا امام کو اساس کا درجہ دے کر اپنا وصی اور جانشین مقرر کرتا ہے، اور اسی حال میں اساس کا فرزند امام بن جاتا ہے، اور ان تینوں حضرات میں سے ہر ایک کے ۲۴ حجت ہوا کرتے ہیں، اسی طرح زمانۂ موسیٰ میں ۷۲ حجت ہوگئے، مگر اساس جو ناطق کا حجتِ اعظم تھا، اور امام جو اساس کا حجتِ اعظم تھا، اُن کا انتخاب اور اِنبِعاث پہلے ہی ہو چکا تھا، لہٰذا ۷۰ حجت رہ گئے، دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں صاحبان اہلِ بیت سے ہیں قوم سے نہیں، جبکہ یہ انتخاب قوم سے تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا طور پر جانا بالکل سچ ہے، مگر پھر بھی یہ حقیقت کی نقاب پوشی اور مثال ہے، اصل طور حضرت موسیٰؑ کی اُس روحانیّت میں تھا، جو پیشانی میں مرکوز ہوا کرتی ہے، چنانچہ موسیٰ پیغمبرؑ کے وہ تمام تر واقعات جو طور سے متعلق ہیں آپؑ کی مبارک پیشانی میں رُونما ہوئے ہیں۔
خدا کے حضور تنہا تنہا جانا ہے:
ذاتی قیامت جو شعوری ہے وہ اہلِ روحانیّت پر جُدا جُدا اوقات میں فرداً فرداً
۳۶
واقع ہو جاتی ہے، اور اسی طرح اِنبِعاث بھی انفرادی طور پر ہوتا ہے، کیونکہ قانون یہ ہے کہ خدا کے حضور تنہا تنہا جانا ہے۔ (۰۶: ۹۴) مگر اجتماعی قیامت و بعثت جو لوگوں کی غیر شعوری کیفیت میں ان کے نمائندہ ذرّات پر واقع ہو جاتی ہے، وہ ایک ہی وقت میں ایک ساتھ ہے، اور اس کا مظاہرہ ہر انفرادی قیامت میں ہوا کرتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو انفرادی قیامت بے معنی ہو کر رہ جاتی ۔
یہ تو مسلّمہ ہے کہ کوئی خاتون پیغمبر یا امام نہیں ہوئی ہے اور نہیں ہو سکتی ہے، مگر کسی عورت کا درجۂ حجّتی پر فائز ہو جانا خلافِ فطرت نہیں، لہٰذا ممکن ہے کہ مذکورۂ بالا ۷۰ حجتوں میں کچھ خواتین بھی ہوں ، ہر چند کہ اِس آیۂ کریمہ میں لفظِ “رجال” آیا ہے جس کے ظاہری اور تاویلی دو معنی ہیں: ۱۔ مرد بمعنیٔ جسم ۲۔ مرد بمعنیٔ روح اور علم یا دعوت، چنانچہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں پیغمبروں کو رِجال کہا گیا ہے ، وہاں وہ حضرات دونوں معنوں میں مرد ہیں۔
“ایک میں سب اور سب میں ایک”:
اِنبِعاث کی حقیقت سمجھنے کے لئے سورۂ انعام کا یہ ارشاد خاص طور پر ضروری ہے: وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّتَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآئَ ظُھُوْرِکُمْ (۰۶: ۹۴) اور تم ہمارے پاس تنہا تنہا آگئے جس طرح ہم نے اوّل بار پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اس کو اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے ۔
اللہ تعالیٰ کے حضور تنہا تنہا جانے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اصل قیامت جو شعوری اور باطنی (روحانی ) کیفیت میں ہے وہ کسی کامل شخص میں انفرادی و ذاتی طور پر واقع ہوتی ہے، اور اسی ذاتی قیامت میں ایک اجتماعی قیامت بھی پوشیدہ ہوتی ہے، مگر اہلِ جہان کو اس کی کوئی خبر نہیں ہوتی، ہم یہاں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہر روح
۳۷
“ایک میں سب اور سب میں ایک” کا قانون رکھتی ہے، لہٰذا ایک ہی فردِ کامل اپنی طرف سے اور دوسرے تمام انسانوں کی طرف سے قیامت اور بعثت کا متحمّل ہو جاتا ہے، وہ اپنی ذات میں بحکمِ خدا تمام روحانی اور عقلی مظاہرے کرتا ہے۔
ہر چیز کو اپنے پیچھے چھوڑ کر ازلی کیفیت میں اصل سے واصل ہو جانا یوں ہے کہ انسان کی اصل انا یعنی انائے علوی ہمیشہ ہمیشہ عالمِ بالا میں موجود ہے، لہٰذا ایک طرح سے دیکھا جائے تو وہ اِس دنیا میں آیا ہی نہیں، مگر ہاں وہ اپنی اصل اور لطیف ہستی کے ایک سایہ اور عکس کے طور پر یہاں آیا ہے، لہٰذا اس کے رجوع کی حالت و کیفیت یہ ہے کہ عارف کو کئی طرح کا روحانی اور نورانی دیدار ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو مُبدَع میں دیکھتا ہے۔
دُور رس اِشارات:
جس طرح تنزیلِ قرآن کے مراحل پہلے تھے اور تاویل رفتہ رفتہ بعد میں آئی، جیسے پہلے دَورِ نبوّت تھا اور اس کے بعد دَورِ امامت ہے، جس طرح انسانی جسم کی تخلیق پہلے ہوتی ہے، اور روح و عقل کی تکمیل بعد میں اسی طرح ذاتی قیامت و انبعاث میں روحی اور عقلی واقعات و معجزات پہلے ظہور پذیر ہوتے ہیں، مگر ان کی تاویلی حکمتیں بتدریج دی جاتی ہیں، چنانچہ عالمِ امر کا ہر کرشمہ انتہائی عجیب اور غور طلب ہوتا ہے، مثال کے طور پر شروع شروع میں کوئی شخص اِس بات کو کس طرح سمجھ پائے کہ وہ نورانی اور عقلی دیدار و مشاہدہ ہی رجوع تھا، وہ لطیف ابداعی ہستی اس کی اپنی انائے علوی تھی، وہ یہ تھا اور یہ وہ، یہ برق رفتاری سے ابد کی طرف جا رہا تھا، مگر تعجب ہے کہ اس کو ایک ساتھ ابد و ازل کا مِلا جُلا نمونہ مِل گیا، جہاں سب سے بڑا خزانہ بھیدوں کی صورت میں موجود تھا، وہ ایک اعتبار سے اصل میں واصل اب ہوگیا، مگر دوسرے اعتبار سے وہ ہمیشہ ہمیشہ واصل ہی رہا
۳۸
تھا، کہ کبھی فصل (جدائی) ہی واقع نہیں ہوئی تھی۔
انا کی جوڑی ( ۳۶: ۳۶، ۵۱: ۴۹):
یقینا انائے سفلی کا رجوع انائے علوی کی طرف سب سے پہلے بذریعۂ رُویت (دیدار) ہوا کرتا ہے، اور پھر بعد میں یہ رجوع عقلی، علمی، عرفانی، اور تاویلی شکل میں پختہ ہو جاتا ہے، تاکہ جسمانی موت کے بعد یہ ایک عملی حقیقت بن جائے۔
روحانی شہادت:
جیسا کہ سورۂ محمد (۴۷: ۰۴ تا ۰۶) میں فرمایا گیا ہے: وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُم (۰۴: ۴۷) سَیَھْدِیْھِمْ وَیُصْلِحُ بَالَھُمْ (۰۵: ۴۷)وَیُدْخِلُھُمُ الْجَنَّۃَ عَرَّفَھَا لَھُمْ(۴۷: ۰۶) اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا اللہ ان کو مقصود تک پہنچا دے گا اور ان کی حالت درست کرے گا اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اُن کو پہچان کرا دی ہے۔ اِس آیۂ کریمہ میں شہیدوں کی فضیلت و کرامت کا ذکر ہے، اور شہید کئی قسم کے ہوتے ہیں، ان میں سے ایک گروہ باطنی اور روحانی شُہدا کا ہے، اِس نوعیّت کی شہادت کا قبلاً ذکر ہو چکا ہے، چنانچہ یہی شہیدان ہیں جو بہشت کو صحیح معنوں میں پہچان سکتے ہیں ، ورنہ جسمانی شہیدوں کا یہ طُرّۂ امتیاز کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ حضرات بہشت کو دوسروں سے بڑھ چڑھ کر پہچانتے ہوں، اِس دلیل سے یہ حقیقت روشن ہو کر سامنے آگئی کہ روحانیّت میں ایک اعلیٰ درجے کی شہادت بھی پوشیدہ ہے، اور قرآنِ مقدّس میں جہاں جہاں شہادت کا ذکر آیا ہے، وہاں سب سے پہلے اسی شہادت کی طرف اشارہ ہے۔
خانۂ حکمت/ ادارۂ عارف
فقط خادم
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
۲۱۔ دسمبر ۔ ۱۹۸۳ء
۳۹
نوٹ:
عزیزوں سے پُرخلوص گزارش ہے کہ وہ ان مقالوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں یہ ایک زبردست روحانی علم کا کورس ہے، جس میں درج ذیل ممالک اور مقامات کے احباب حصہ لے رہے ہیں۔ کراچی، گلگت ، اوشی کھنداس، نومل، مسگار، کریم آباد، علی آباد و حیدرآباد، مرتضیٰ آباد، لنڈن، امریکا (کینڈا میں صرف انگریزی ترجمہ جاتا ہے) اس کے علاوہ بعض خاص دوستوں کو بھی کاپیاں دی جاتی ہیں۔
آپ عزیزان سے مشورہ ہے کہ اِس مقالہ کو جو بڑا اہم ہے، متعلّقہ موضوعات کے ساتھ ملا کر پڑھیں، مثلاً کتاب “روح کیا ہے؟” روح ایک پیاری حقیقت، روحانیّت اور موسیقی، قریۂ ہستی، امامِ عالیمقامؑ کی جسمانی پیدائش اور نورانی پیدائش، قیامت کے سو نام وغیرہ تاکہ اِس موضوع سے متعلق تمام سوالات حل ہو جائیں۔
۴۰
بہشت سے برتر ایک عظیم ترین مقام
اگرچہ قرآنی تعلیمات کے ابتدائی مدارج میں ہر دیندار علم جُو کو اپنی آئندہ روحانی زند گی کے مقامِ راحت و لذّت کے متعلق صرف یہی سمجھ لینا کافی ہے کہ بہشتِ برین ہی وہ مقام ہے جس میں نیک لوگوں کے لئے ہر قسم کی لازوال نعمت اور ہر طرح کی ابدی راحت موجود ہے۔ لیکن خاصانِ دانش و دین مزید بران یہ حقیقت بھی جان چکے ہیں کہ بہشتِ برین سے برتر ایک عظیم ترین مقام (درجہ) بھی ہے جس میں بہشت کی ان جملہ گونا گون بہترین نعمتوں کے علاوہ وہ سب کچھ عجائبات و غرائبات بھی ہیں جو عالمِ لامکان و مکان کے عرصۂ ممکنات میں ہوں، یہ عظیم ترین و بلند ترین مقام عالمِ رضوان ہے چنانچہ قرآنِ پاک کا قول ہے۔ وَ رِضْوانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکبَرُ (۰۹: ۷۲) اور خدا کی طرف سے خوشنودی ساری جنتوں سے بھی بہت بڑی ہے ۔ لفظ رضوان سے اور بھی معنی لئے جا سکتے ہیں۔ لیکن ہم یہاں صرف اس کے ایک ہی معنی “خوشنودی” کے باب میں کچھ نکات بیان کر دیتے ہیں۔
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ عالمِ رضوان یعنی خدا کی خوشنودی کا عالم ہی انسان کی روحانی عروج و ارتقاء کا وہ برترین مقام ہے جس میں ہر مومن صرف اِس حالت میں پہنچ سکتا ہے جب کہ اس کی روحانی پرورش علم و حکمت کی نعمتوں سے بہشت ہی میں مکمل ہو چکی ہو۔ پھر ان لا انتہا خوشیوں اور لذّتوں کی تعریف و توصیف کسی فردِ بشر سے کس طرح ادا ہو سکتی ہے جو عالمِ رضوان میں قدرتِ کاملہ کی طرف سے دی ہوئی روحانی آزادی میں مومنِ موّحِد کو غیر منقطع طور پر حاصل ہوتی رہتی ہوں۔
۴۱
خدا کی خوشنودی کی ہمہ گیر رحمت و نوازش یہی نہیں کہ ہم صرف اپنی روحانی زندگی میں بہشت کی انتہائی لذّتوں کے بعد خدا کی خوشنودی میں لازوال اور انوکھی روحانی لذّتوں کا ادراک کریں گے۔ بلکہ اس جسمانی زندگی میں بھی ہم میں سے ہر ایک اپنی اخلاقی قابلیت اور روحانی ذات کے مطابق خدا کی رحمت ریز خوشنودی کا لطف و لذّت اٹھا سکتا ہے۔ چنانچہ کسی بھی پاک باطن انسان کو اپنے ہر نیک عمل کے آغاز ہی سے ایک روح افزاء مسلسل مسرّت کا ادراک ہونے لگتا ہے پس ایسی رحمت آگین روحانی مسرت دراصل خدا کی خوشنودی کی ایک باریک ترین کرن ہے ۔
خدا کی خوشنودی کی معنوی جامعیّت کے باب میں ہم ایک اور حقیقت آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں، کہ اگر ایک سمجھ دار مومن ہر بڑی سے بڑی دنیاوی مصیبت کو صبر و تحمل اور توکل جیسی انسانی صفاتِ جمیلہ سے برداشت کر سکتا ہے، تو ان جملہ صفاتِ حسنہ سے اس کے متّصف ہونے کی غرض و غایت بھی محض خدا کی رضا جوئی ہی ہے ۔ پس اگر کوئی ذی علم حقیقی مومن متفرقہ صفاتِ انسانیہ کا معنوی عبور حاصل کر سکے۔ یعنی اسے ان تمام کی حقیقت معلوم ہو جائے تو اسے یہ محکم یقین آئے گا کہ ان تمام صفات میں بھی صرف خدا کی رضا ہی کار فرما ہے ۔ اندرین حال اسے چاہئے کہ وہ اپنے تمام نیک اقوال و اعمال صرف خدا ہی کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیّت سے کرے، اور اسی کے لئے ہمیشہ اس کی دعا و طلب ہو۔ کیونکہ انسانی عروج و ارتقا کا برترین نصبُ العین اور آخری مقام خدا کی خوشنودی ہی ہے ۔ اگر مومن اپنے کسی نیک قول و عمل کے ذریعہ خدا سے یہ چاہتا ہو کہ اسے دوزخ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے گو اس قسم کی طلب کی رخصت تو ہے مگر حقیقت میں ایسے مومن کی ارادی کوتاہی ہے کہ اس کا ارادہ اس روحانی دور و دراز سفر کی درمیانی منزلوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے اور اِس بلند ترین نصب العین اور منزلِ آخرین تک رسا ہو نہیں سکتا جس کے لئے اس اِرادہ کو پیدا کیا گیا تھا۔ مومن کا طائر ارادہ ایسا ہونا چاہئے کہ وہ منزل علیا تک پرواز کرنے
۴۲
کی بے حد خواہش مند ہو۔ مگر یہ بھی یاد رہے کہ انسان کے کسی بھی گناہ کا اثر سب سے پہلے اس کی قوّتِ ارادی پر پڑ جاتا ہے۔ اور اسے ضائع و تباہ کئے بغیر نہیں چھوڑتا، پھر اس میں وہ صلاحیت باقی نہیں رہتی جو قدرتِ الٰہی نے اسے عطا کی تھی۔ جس کے ذریعہ اسے مقامِ مقدس و معلّٰی تک پرواز کرنا ضروری تھا۔ جو کہ اس کی پرواز کی قابلیت اور اس مقام کی رفعت، میزانِ امکانیت و قدرت میں تُل کر یہ اس عروجِ آخرین تک اڑ کر پہنچ سکنے کی قابل بنی ہوئی تھی، یہ پرندہ انسان کی ارادی قوّت ہے اور وہ اعلیٰ ترین مقام رضوان ہے۔ جس کا ذکر اس مضمون میں ہو چکا ہے ارادہ کی پست ہمّتی کی ایک اور وجہ انسان کی جہالت ہے کیونکہ انسان کی ارادی قوّت کسی چیز کی طرف اس وقت عاشق، دیوانہ وار اپنا رخ کر لیتی ہے۔ جب اسے قوّتِ علم نے یہ آگاہی دی ہو کہ فلاں شئے جملہ خوبیوں سے متّصف ہے اس میں کسی بھی خوبی کی کمی نہیں ہے اور اس کے حصول سے اس قدر فائدے ہیں، اس میں اس قسم کی خوشی اور لذت ہے اس کا حاصل کرنا ممکن ہے۔ اور وہ طریقہ یہ ہے۔ وغیرہ ۔ پس معلوم ہوا کہ انسان کی علمی قوّت اس کی ارادی قوّت کی پرورش کرتی اور اُسے عالی ہمّتی بخشتی ہے۔
فقط
نصیر ہونزائی
۴۳
گوہرِ اوّل
ہمارے علمی اکابرین نے زمانے کے امام علیہ السّلام کے روحانی خزانوں سے علم و حکمت کا جو انمول ذخیرہ حاصل کر لیا ہے، وہ صرف انہی کا حصّہ ہے، اور اس میں دوسروں کی کوئی شرکت نہیں، اس سے میری مراد وہ کامیاب ہدایت ہے، جس کی ہمیشہ سے زمانے کو ضرورت رہی ہے، چنانچہ ہمارے ماضی کے بزرگوں نے نورِ امامت کی روشنی میں اپنے وقت کے علمی مسائل کو حل کیا ہے، اور اِس سلسلے میں انہی اصطلاحات سے کام لیا گیا ہے جو اس وقت کے فلسفے میں مستعمل تھیں، کیونکہ حکمت کا اصول یہی ہے کہ لوگوں سے جو کچھ کہنا ہے وہ اکثر ان کی اپنی اصطلاحات میں ہونا چاہئے تاکہ وہ آسانی سے مطلب کو سمجھ سکیں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ زمانے میں علمی عروج کی سطح شروع سے لے کر آخر تک ایک جیسی نہیں رہتی ہے، مذہب، فلسفہ، سائنس وغیرہ میں ترقی ہوتی رہتی ہے، لہٰذا اسماعیلی مذہب کا یہ تصوّر درست ہے، کہ زمانے کا امام ظاہری و باطنی ہدایت کے وسیلے سے مومنین کو جدید روحانی علم کی روشنی مہیا کر دیتا ہے، اور اس کی مثالیں بہت عام ہیں ۔
اِس موضوع میں یہاں یہ ذکر بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ حضرت مولانا امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ نے زمانے کو انقلابی تصورات عطا کر دیئے ہیں، اِس خاکسار سے جو کچھ ہو سکے، مناسب مقام پر امامِ عالیمقام کے اُن زرّین نکات کی طرف اشارہ کرے گا، قرآنی آیت کا مفہوم بجائے خود ضروری ہے، عقل و منطق تو عام و خاص سب کے لئے چاہئے۔
یہاں پر پھر ایک بار اپنے خداوند سے توفیق و ہمت چاہتا ہوں کہ وہ زمانے کے حقیقی
۴۴
مومنین کے صدقے میری مدد کرے! مجھے قلمی لغزشوں سے بچائے! اپنے پاک دوستون کے مقدّس عشق کی حرمت سے میرے غافل دل و دماغ کو نورِ علم کی روشنی سے منوّر کرے! اور میرے انتہائی عزیز دوست کی اِس پیاری اور شیرین فرمائش کو عمل میں لانے کا بھرپور حوصلہ عنایت فرمائے! آمین!!
میرے نزدیک عقلِ کُلّ کتنی پیاری اصطلاح ہے، انسانی عقول کا بیکران سمندر جو مادّی تصوّر سے ماوریٰ ہے، ایک عقلی اور علمی سالمیّت و وحدت ، ایک لامکانی اور لا زمانی مجرّد کیفیت، مظہرِ مبدِع، مرجعِ نفسِ کلّی، قلمِ الٰہی، عرشِ رحمان، آدمِ معنیٰ ، انسانِ اوّل، فرشتۂ عظیم، گنجِ حکیم، رازِ قدیم، جلوۂ کُن فکان، خلاصۂ انس و جان، عبدِ بسیط، نورِ محیط، گوہرِ خاصِ خدا، گنجینۂ کبریا، نورِ پاکِ مصطفیٰ ، علّتِ اُولیٰ وغیرہ۔
ظاہر ہے کہ عقلِ کُلّی دین کا سب سے اعلیٰ مرتبہ ہے، اس لئے کہ وہ عرشِ رحمان ہے، اور اِس لئے کہ وہ سب سے عظیم فرشتہ ہے، فرشتہ کی تخلیق اگرچہ بظاہر یکطرفہ ہے، لیکن حقیقت میں دو طرفہ ہے، یعنی اس کا تعلق نہ صرف عالمِ امر سے ہے بلکہ وہ عالمِ خلق سے بھی متعلق ہے کہ وہ بیک وقت کلمۂ “کن” کا ظہور بھی ہے اور تخلیق کا آخری نتیجہ بھی، جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
اِس موضوع کے بارے میں سب سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے نزدیک تخلیق کا کون سا تصوّر درست ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ خدا نے تخلیق کا کام کچھ اس طرح سے کیا کہ اُس نے پہلے کبھی ایسا کام نہیں کیا تھا؟ یا یہ صحیح ہے کہ جس طرح وہ ذاتِ پاک کسی ابتداء و انتہا کے بغیر ہمیشہ ہمیشہ قائم ہے اسی طرح تخلیق ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے جاری ہے، حالانکہ امام سلطان محمد شاہ علیہ السّلام نے پہلے ہی سے اس سوال کا جواب مہیا کر دیا ہے، کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ تخلیق کرتا ہے، اور یہی تصوّر اسلام کا ہے، اور یہودی تصوّر اس سے مختلف ہے جو قدیم قصّوں میں پایا جاتا ہے۔
۴۵
اگر ہمارا تصوّرِ تخلیق اِس خط (لکیر ): کی طرح ہے تو ہزاروں سوالات اُبھریں گے، جن میں سے ایک کا بھی درست جواب نہ بن پڑیگا، اور اگر ہمارا تصوّر اِس باب میں اِس دائرے: کی طرح ہے تو کوئی سوال نہیں، اور اگر سوال پیدا بھی ہو جائے تو اس کے لئے تسلی بخش جواب بھی ہے۔
بزرگانِ دین اس بات کو جان چکے تھے، مگر اُن کا زمانہ ایسا نہیں تھا کہ اِس کی وضاحت کریں، تاہم انہوں نے اپنی کتابوں میں جگہ جگہ اِس مطلب کے اِشارے کئے ہیں، یہاں اِس سلسلے میں اتنا کچھ کہنا کافی ہے۔
فقط
نصیرہونزائی
۴۶
گوہرِ دوم
(درجاتِ دین)
دانشمندوں کے لئے اِس امر میں ذرا بھی شک نہیں کہ دین کی ہدایات اور تعلیمات ہمیشہ سے درجہ وار ہوا کرتی ہیں، اس لئے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، اور اس کو قانونِ فطرت کے عین مطابق چلنا اور آگے بڑھنا ہے، یہی وجہ ہے کہ خداوندِ عالم نے دینِ حق کو راہِ راست (صراطِ مستقیم ) قرار دیا ہے، جس سے ظاہر ہے کہ مومنین کو انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام کی پیروی میں منزلِ مقصود کی طرف جانا ہے، مگر یہ سفر ایک دن میں کیسے ختم ہو سکتا ہے، اس کی مسافت تو صرف قدم بقدم اور منزل بمنزل طے ہوسکتی ہے، چنانچہ دین کے اِس مقدّس راستے میں ہر قدم پر ایک چھوٹا درجہ ہے اور ہر منزل پر ایک بڑا درجہ۔
ہمارے جن بزرگانِ دین نے عقلِ کُلّ اور نفسِ کُلّ کی عقلی و منطقی تشریحات سے جہاں دوسروں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا، وہاں انہوں نے اپنوں کو اِس سے اوپر کی حکمت پیش کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ تم خدا کے نور میں فنا ہوسکتے ہو، اور ایسے ارشادات کی ایک مثال یہ ہے:۔
زنورِ او تو ہستی ہمچو پَرتو
حجاب از پیش بردارو تو او شو
ترجمہ: تو اس کے نور کے عکس کی طرح ہے جس طرح کہ آئینہ میں سورج کا عکس ہوتا ہے، پس تو کثرت یعنی دوئی کے اِس پردے کو سامنے سے ہٹا کر اپنی حقیقت کو (جو ہمیشہ سے ایک ہے) خدا میں دیکھ لے۔
۴۷
ہمارے عظیم المرتبت بزرگوں کے ایسے گرانمایہ اقوال قرآنی حکمت سے کیسے باہر ہوسکتے ہیں، لہٰذا حضور چلئے آپ سے میری جان فدا ہو! اور مولا کے دوسرے سب عزیزوں سے بھی! یہ ناچیز جان ان مومنین سے فدا ہو جو اپنے خداوند کے فرمانبردار اور حقیقی علم کو چاہنے والے ہیں، اور آج کی تحریر کے لئے آیۂ کریمہ یہ ہے:۔
اور آخر تم ہمارے پاس اسی طرح تنہا آئے جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور جو ہم نے تم کو دیا تھا وہ سب اپنے پسِ پشت چھوڑ آئے (۰۶: ۹۴)۔
ظاہری تفسیر کے لحاظ سے یہ بات درست ہے کہ انسان دنیا و مافیہا کو اپنے پیچھے چھوڑ کر خدا کے حضور جاتا ہے، مگر بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی ہے، کیونکہ اِس فرمانِ خداوندی کی روشنی میں ظاہر ہے کہ انسان جس طرح انتہائی بلندی سے پیدا ہوتے ہوتے دنیا میں آیا تھا، یعنی وہ پہلے امرِ الٰہی میں تھا، جو مادیّت وغیرہ سے برتر ہے، پھر ’’ کُن ‘‘ کے ذریعہ عقلِ کُلی میں ، پھر نفسِ کُلی میں آیا اور پھر دنیا میں ظاہر ہوا، اسی طرح پھر اسے زینہ بزینہ واپس جانا ہے، یہاں تک کہ وہ نفسِ کُل اور عقلِ کُل کو بھی اپنے پیچھے چھوڑ جائے، کیونکہ اس کی تخلیق کا آغاز کلمہ “کُنۡ” سے ہے اور اس کی نیستی کا تصوّر اس سے بھی اوپر ہے، اور “کُن” عقل کا تعیّن ہے اور نسیتی عالمِ امر ہے تو اسے عالمِ امر جانا ہے۔
اِس گوہر میں اصل بات درجاتِ دین سے متعلق تھی، مگر ضمناً دوسرے متعلقہ حقائق پر بات ہوئی، ہاں میرے عزیز، یہ ایک عام حقیقت ہے کہ قرآنی تعلیمات دین کے مختلف درجات سے منطبق کی گئی ہیں اور واضح الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ لوگوں کے الگ الگ درجے ہیں، جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ نہ صرف مذاہبِ عالم خدا سے قریب و دور ہونے کے مختلف درجات پر ہیں، بلکہ ضمنی اور ذیلی طور پر ایک ہی مذہب کے لوگ بھی جدا جدا مراتب رکھتے ہیں، یعنی ایک سے ایک آگے ہے اور ایک سے ایک پیچھے۔
عزیزانِ من! آپ جانتے ہیں کہ ایک آسمانی کتاب کے بعد دوسری کتاب
۴۸
کا نزول بھی زمانے کی ترقی کے مرتّب کئے ہوئے درجات کی وجہ سے ہے، تاکہ اہلِ زمانہ کو ان کی ذہنی و شعوری سطح کے مطابق سمجھا دیا جائے کہ دین اور آخرت کی اہمیت ایسی ہے۔
اِرشادِ خداوندی ہے: ھُم دَرَجٰتٌ عِندَاللّٰہِ وَ اللّٰہُ بَصِیرٌ بِمَا یَعمَلُون (۰۳: ۱۶۳) اس سے نہ صرف حدودِ دین کے تعیّن کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ زادالمسافرین میں اِس سلسلے میں اِس آیت کو پیش کیا گیا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس سے لوگوں کے اعمال کے مطابق مختلف درجے مرتب ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے، تو پھر اِس حقیقت سے کوئی کس طرح انکار کر سکتا ہے، کہ دین کی تعلیم یعنی قرآن اور معلمِ قرآن کی ہدایت تدریجی صورت میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی آسانی چاہتا ہے، وہ دینی تعلیم اور ہدایت کے معاملے میں لوگوں کو مشکل میں پھنسانا نہیں چاہتا ہے، وہ یہ ہے کہ اُس نے اپنی پُرحکمت کتاب اور امام کو لوگوں کے درمیان رکھا، تاکہ دنیا زمانہ اور لوگوں کی شعوری سطح کے مطابق ہدایت دی جائے، جبکہ قرآن اور امام کے ظاہر و باطن میں تدریجی ہدایت کی ایک کائنات موجود ہے۔
کامیاب مومنین جب امام کی روحانیّت کی روشنی میں مطالعۂ قرآن کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں، تو اُن کی علمی زندگی قرآنی علم و حکمت کے مختلف مراحل و مراتب سے آگے گزرتی رہتی ہے۔
فقط
نصیر ہونزائی
۴۹
مچھلی کی تاویلی حکمت
اس پُرحکمت اور دلچسپ موضوع کے سلسلے میں میرے عزیزوں کو سب سے پہلے اپنے پاک مذہب کے اِس بنیادی اصول کو پیشِ نظر رکھنا بہت ہی ضروری ہے کہ زمانۂ نبوّت میں حضورِ اکرم صلّی اللّٰہ علیہ و آلہٖ وسلّم تنزیل کے مالک تھے اور مولانا علی صلوات اللہ علیہ تاویل کے، مگر آنحضرتؐ کی رحلت کے بعد جناب امیرالمومنین علیؑ تفسیر و تاویل یعنی دین کی ظاہری تعلیم اور باطنی حکمت دونوں کے وارث و مالک ہوگئے، اس کے معنی یہ ہیں کہ پیغمبرِ خداؐ کے بعد ہر زمانے کا امام نہ صرف دین کی ظاہری ہدایات و تعلیمات کا ذریعہ ہواکرتا ہے بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ باطنی حکمتوں (تاویلات) کا بھی سرچشمہ ہوتا ہے، سو جب ہم مانتے ہیں کہ امامِ اقدس و اطہر کی ذاتِ عالی صفات ایسی ہی ہے، تو اس کے نتیجے میں ہمیں اس حقیقت پر بھی یقین رکھنا ہوگا کہ امامِ برحق علیہ السّلام کے مقدّس اِرشادات کے دو پہلو ہوا کرتے ہیں، ایک ظاہری جو واضح اور عام فہم ہے اور دوسرا باطنی جو تاویلی حکمت سے بھرپور ہے، تاکہ مریدوں کے لئے درجہ بدرجہ اور منزل بمنزل ظاہر و باطن کی ہدایت و رہنمائی ہوتی رہے اور غوروفکر جیسی اعلیٰ صلاحیت سے کام لیا جائے۔
آپ عزیزوں میں سے کوئی شاید یہ سوال اُٹھائے گا کہ بموجبِ فرمودۂ رسولؐ: اِنَّ مِنکُم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جس کا مطلب یہ ہے کہ ) علیؑ قرآنی تاویل پر جنگ کرے گا، یعنی ہر امامِ حق جو اپنے وقت کا علیؑ ہے لوگوں کو جیسی بھی ہدایت و تعلیم پیش کرے، وہی قرآنِ پاک کی صحیح تاویل ہوگی، چنانچہ اس سے ظاہر ہے کہ امامِ عالیمقامؑ کے تمام ارشادات قرآن کی حل کردہ تاویلات
۵۰
کی حیثیت سے ہیں، تو پھر ان کی مزید تاویل کرنے کی گنجائش کہاں ہے، جبکہ یہ خود تاویل ہیں، اور ان کا باطنی پہلو کیسے بنتا ہے؟
جواب (الف): یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ منازلِ راہِ اسلام میں شریعت ظاہر ہے اور طریقت اس کا باطن، مگر شاید اِس بیان سے کسی کو تعجب ہو کہ طریقت کی دو حیثیتیں ہیں، یعنی یہ شریعت کے مقابلے میں باطن ہے اور حقیقت کی نسبت سے ظاہر، اسی طرح حقیقت کے بھی دو رُخ (پہلو) ہیں، ایک یہ کہ وہ طریقت کا باطن ہے اور دوسرا یہ کہ وہ معرفت کا ظاہر ہے، مگر معرفت ایسی چیز ہے کہ یہ صرف باطن ہی باطن ہے، جس طرح صراطِ مستقیم کے اُس سرے پر شریعت سب سے ظاہر ہے۔ پس اس روشن مثال سے ہر دانشمند مومن بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ہادیٔ برحق کی ہدایات و تعلیمات کیسی ہیں۔
ب): دوسری مثال اِس مبارک فرمان سے لیجئے، جو حضرت امام آقا سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کا پاکیزہ ارشاد ہے: “انسان کا درجہ بلند ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں نیچے گرا دیتا ہے، تم میں سے کوئی کوشش کرے کہ ہم پیر صدرالدّینؒ، پیرشمسؒ یا منصورؒ جیسے بنیں، تو تم ایسے بن سکتے ہو، تم اِس سے بھی اوپر جا سکتے ہو۔”
عیان ہے کہ اِس پاک ارشاد کے ظاہری و باطنی دو پہلو ہیں، اس میں جو کچھ ظاہر ہے، اس کے ثبوت کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ تو خود ظاہر ہی ہے، مگر اس کے باطنی پہلو کو ثابت کرنے کے لئے دلیل چاہئے، اور وہ دلیل ذیل کے سوالات سے مل سکتی ہے، کیونکہ کسی ارشاد میں سوال اس وقت اٹھتا ہے جبکہ اس میں تاویل پوشیدہ ہوتی ہے، سوالات یہ ہیں:۔
سوال ۱ : انسان کا بلند ترین درجہ کیا ہے، اور اس کو حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ کونسا ہے ؟
سوال ۲: یہ انسان کونسا ہے،جو خود کو نیچے گرا دیتا ہے؟ آیا وہ حقیقی مومن ہے یا کوئی غیر؟
۵۱
سوال ۳: فرمایا ہے کہ “تم میں سے” تو کیا اس سے سب انسان مقصود ہیں یا کہ یہ خطاب صرف مومنین ہی سے کیا گیاہے؟
سوال ۴: اگر حقیقی مومنین کے لئے مذکورہ پیروں اور منصور کا سا درجہ حاصل کرنا ممکن ہے تو ہم ان کو کن کن علامات سے پہچان سکیں گے؟ آیا اس کی ضرورت ہے یا نہیں؟ کیا ایسے حضرات سے جماعت کو فائدہ ہونا چاہیے ؟
سوال ۵: اِس پاک ارشاد میں ہمارے بزرگ پیروں کے ساتھ منصورِ حلّاج کی مثال پیش کی گئی ہے، آیا وہ امام کے مرید تھے؟ نہیں تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک مردِ صوفی ہمارے عظیم المرتبت پیروں کے ساتھ ساتھ چل سکتا ہو؟
سوال ۶: فرمایا گیا ہے کہ: “تم اِس سے بھی اوپر جا سکتے ہو” اس کے کیا معنی ہیں؟ پس یہ سوالات ایسے ہیں کہ اِن سے مذکورۂ بالا فرمانِ مبارک کے تاویلی پہلو کا بیّن ثبوت ملتا ہے، اور تاویلی حکمت کے بغیر ان کی تحلیل ممکن نہیں ۔
ج): تیسری مثال ملاحظہ ہو، ارشاد ہے کہ: “کئی ہزار سال گزر گئے، اِس (عرصے) میں کتنے افراد مقصدِ (اعلیٰ) کو پہنچ گئے؟ منصور، پیر شمس اور دنیا کے دیگر چند افراد پہنچ گئے، ان سب کا کام اور راستہ ایک ہی جیسا تھا، جو وہاں پہنچ گئے وہ اپنی روح کے عاشق تھے، روح کے دوست تھے وہ اس مقام پر پہنچ گئے۔” اس مقدّس فرمان میں بھی کئی تاویل طلب سوالات موجود ہیں، خاص کر اپنی روح پر عاشق ہونے میں سب سے عظیم سوال ہے۔
اب میں خداوندِ برحق کی توفیق و تائید سے “مچھلی کی تاویلی حکمت” کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، کہ مچھلی سے جسمِ لطیف مراد ہے، کیونکہ یہ اپنی لطافت کے سبب سے ہمیشہ روحانی علم کے سمندر میں رہتا ہے، جس طرح دنیا کی مچھلی ہر وقت ظاہری پانی میں تیرتی رہتی ہے، جیسے قرآنِ پاک کہتا ہے کہ: خداوندِعالم کا تخت پانی پر تھا (۱۱: ۰۷) یعنی لوگوں کی موجودہ خلقت سے قبل خدائے پاک و برتر کا تخت جُثّۂ ابداعیّہ کی صورت میں بحرِ محیطِ علم پر قائم
۵۲
تھا، اور اسی ربّانی و نورانی تخت کو آبِ علم کی مناسبت سے مچھلی بھی کہا گیا ہے۔
سورۂ قلم کے آغاز میں حضرتِ ربّ العزّت کا ارشاد ہے کہ: قسم ہے مچھلی کی اور قلم کی اور اُس چیز کی جو لکھتے ہیں (۶۸: ۰۱) یعنی قسم ہے مُبدعِ اوّل کی جس کا نوانی ظہور جثّۂ ابداعیّہ میں تھا اور عقلِ کُلّ کی جو قلمِ قدرت ہے اور نفسِ کُلّ کی جو کائناتی تحریر کی صورت اور لوحِ محفوظ ہے۔
جس طرح اجسامِ کثیف کے اچھے اور بُرے بے شمار درجات مقرر ہیں، اسی طرح اجسامِ لطیف کے بھی لاتعداد مراتب موجود ہیں، چنانچہ حضرت یونس علیہ السّلام اپنی روحانی آزمائش کے دوران اُصولاً جسمِ لطیف کی گرفت میں آگیا تھا، جیسا کہ ارشادِ قرآنی ہے کہ: پھر اگر یونسؑ (خداکی) تسبیح (اور ذکر) نہ کرتے تو روزِ قیامت تک مچھلی ہی کے پیٹ میں رہتے (۱۴۴: ۳۷) یعنی روحانی انقلاب کے سلسلے میں حضرت یونسؑ لطیف ذرّات کے گھیرے میں آگیا تھا، اور اِس حالت کی تشبیہہ ایک بڑی مچھلی سے دی گئی ہے ورنہ کسی ظاہری مچھلی کے پیٹ میں تسبیح و عبادت اور زیادہ عرصے تک زندہ رہنا محال ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے جُثّۂ اِبداعی میں ظہورِ نور اور اس کے دیدار کے لئے درخواست کی تھی، یہ ایسا پُرجلال اور بیمثال ہے کہ موسیٰؑ اس کی ایک ہی جھلک سے بیہوش ہوگیا، یعنی محوِ حیرت ہوگیا، کہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سمجھتا تھا۔
فقط آپ کا خادم
نصیر ہونزائی
۱۸ دسمبر ۱۹۸۰ ء
۵۳
کتاب اور حکمت
قرآنِ مجید میں ایسی بہت سی آیتیں ہیں، جن سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ کتاب الگ ہے اور حکمت الگ، چنانچہ پہلے کتاب کی تعلیم ہے اور اس کے بعد کتاب کی روح یعنی حکمت کی تعلیم، سو کتاب تنزیل ہے اور حکمت تاویل، جیسے حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی صورت میں قرآن کا ارشاد ہے:۔
“اے ہمارے پروردگار اس جماعت کے اندر انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر مقرر کیجئے جو ان لوگوں کو آپ کی آیتیں پڑھ کر سنایا کرے اور ان کو (آسمانی) کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیا کرے اور ان کو پاک کر دے” (۰۲: ۱۲۹)۔
یہ ابراہیم خلیل اللہؑ کی وہ دعا ہے جو حضورِ انورؐ کی بعثت کے لئے کی گئی تھی، اس میں یہ ظاہر ہے کہ پیغمبرؐ کے چار کام ہیں: اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنانا، یعنی قرآنی احکام لوگوں کے سامنے رکھنا، کتاب سکھانا یعنی احکامِ قرآن پر عمل کرکے دکھانا جو عملی تعلیم ہے، روحانیّت کے دروازے کو کھول کر حکمت سکھانا جو ظاہری کتاب سے الگ ہے مگر اس کی عملی تاویل ہے، اور پھر ان کو پاک و پاکیزہ کر دینا، جو سب سے آخر میں ہے۔
لوگوں کو آیتیں پڑھ کر سنانا اور کتاب عملی صورت میں سکھانا یہ پیغمبرؐ کا ظاہری کام ہے، حکمت سکھانا اور پاک کر دینا یہ آنحضرتؐ کا باطنی (روحانی) کام ہے، حضورِ انورؐ نے یہ کام زمانۂ نبوّت میں ذاتی طور پر انجام دیا، اور آپؐ کے بعد یہ کام آپ کی نسل کے سلسلۂ امامت نے انجام دیا، اس تصوّر کے بغیر مذکورہ ارشادِ قرآنی کے معنی صرف زمانۂ نبوّت تک محدود ہو جاتے ہیں۔
۵۴
کتاب جسم کی طرح ہے اور حکمت روح اور روحانیّت ہے، اِس کے معنی یہ ہوئے کہ قرآنی حکمت کا راستہ ظاہر میں نہیں باطن میں ہے، جس کی رہنمائی پیغمبرؐ کے بعد صرف زمانے کا امامؑ ہی کر سکتا ہے، اور یہ رہنمائی امام کی حقیقی تابعداری اور خدا کی خصوصی عبادت میں ہے۔
جب قرآن میں حکمت یا تاویل کا ذکر آتا ہے تو اس سے روحانیّت مراد ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ کتاب (قرآن) کی عملی تعلیم الگ ہے اور حکمت یا عملی تاویل الگ، اور ایسی حکمت خیرِ کثیر ہے یعنی جس کو روحانیّت حاصل ہوتی ہے، اس کو حکمت ملتی ہے اور حکمت خیرِ کثیر ہے۔
تاویل یا حکمت دو قسم کی ہے ایک کتابی ہے اور دوسری روحانی، مگر جو حکمت کتاب (قرآن) میں ہے اس کا تعلّق زیادہ سے زیادہ روحانیّت سے ہے، کیونکہ وہ صرف روحانیّت کی روشنی میں معلوم ہو سکتی ہے، لہٰذا وہ روحانی حکمت کے تحت ہے، چنانچہ روحانیّت جو نورِ امامت کی روشنی ہے، وہ قرآن کے لئے روشنی ہے۔
اس حکمِ خداوندی میں پیغمبرؐ اور آپؐ کے جانشین (امام) کے جن چار کاموں کا ذکر آیا ہے، اُن میں مومنین کی پاکیزگی سب سے آخری چیز ہے، اس کا مطلب یہ ہُوا کہ آیات پڑھ کر سنانا کتاب کے مقصد کے لئے ہے، کتاب سکھانے کا مقصد حکمت سے نزدیکی ہے اور حکمت کی تعلیم نفوسِ مومنین کی پاکیزگی کے لئے ہے تاکہ ابدی نجات حاصل ہو۔
اس بیان سے یہ حقیقت روشن ہو گئی کہ نفوسِ مومنین کی پاکیزگی کے واسطے حکمت ضروری اور لازمی ہے، اس کے بغیر تزکیّۂ نفس ناممکن ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ آنحضرتؐ حکمت کا گھر ہیں اور علیؑ (یعنی امامِ زمانؑ) اس کا دروازہ پس جس کو حکمت چاہئے، وہ زمانے کے امام کے وسیلے سے مرتبۂ رسولؐ کو پہچان لے۔
آیۂ تطہیر (۳۳: ۳۳) میں اہلِ بیت (پنجتنِ پاک) کی پاکیزگی کا ذکر ہے ان حضرات کی یہ پاکیزگی بھی حکمت کے بغیر نہیں ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمتِ بالغہ
۵۵
عطا کر دی تھی، اس لئے وہ بدرجۂ انتہا پاک و پاکیزہ تھے۔
علم نور ہے اور حکمت نور کا آخری درجہ، لہٰذا اے عزیزان علم و حکمت کے لئے ساعی رہنا اور ہر قیمت پر اس کو حاصل کرنا، دعا ہے کہ خداوند اس نیک کوشش میں آپ کا مددگار ہو! آمین!!
نوٹ:
۱۔ اللہ نے قرآن پر روشنی ڈالنے کے لیے جو نور مقرر کر دیا ہے وہ باطن میں اور روحانیّت کی حیثیت میں ہے اور وہی حکمت ہے۔
۲۔ اسماعیلیّت میں جو خصوصی عبادت کا اہتمام کیا گیا ہے وہ باطنی طور پر قرآن کی روح اور روحانیّت پانے کے لئے ہے اور یہی روحانیّت حکمت اور عملی تاویل ہے۔
فقط آپ کا خادم
نصیرہونزائی
۴ اگست ۱۹۸۰ء
۵۶
ظاہری اور باطنی نعمتیں
بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم نعمت ہر اُس حلال چیز کا نام ہے جس سے انسان کو ظاہر میں یا باطن میں راحت اور مسرّت و شادمانی حاصل ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ایسی لاتعداد چیزیں پیدا کر دی ہیں جو جسم، جان اور عقل کے لئے نعمتوں کی حیثیت سے ہیں، چنانچہ ان نعمتوں کی تین قسمیں ہیں، جسمانی، روحانی اور عقلی نعمتیں، اِس سلسلے میں جسمانی نعمتیں ادنیٰ درجے پر ہیں، عقلی نعمتیں اعلیٰ درجے پر ہیں اور روحانی نعمتیں درمیان میں واقع ہیں۔
قرآنِ مقدّس کا ارشاد ہے کہ: کیا تم لوگ نہیں دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں (۳۱: ۲۰)۔
اِس فرمانِ خداوندی میں بزبانِ حکمت فرمایا گیا ہے کہ اِس کائنات کا ایک جسم ہے، ایک روح ہے، اور ایک عقل، اور اِن تینوں درجات میں انسان کے لئے ظاہری اور باطنی نعمتیں مکمّل اور مہیّا ہیں، ظاہری نعمتیں جسم کی خاطر ہیں اور باطنی نعمتیں جان اور عقل کے لئے، کیونکہ جسم ظاہر ہے اور جان و عقل باطن ہیں۔
اِس بیان سے معلوم ہُوا کہ ظاہری نعمتوں سے باطنی نعمتیں اعلیٰ و افضل ہیں، کیونکہ ظاہری چیزیں مادّی اور جسمانی ہیں، اور باطنی اشیاء روحی اور عقلی ہیں، جو بہتر اور برتر ہیں، اِس لئے کہ یہ نعمتیں بذاتِ خود قائم اور دائم ہیں۔
یہ ایک قرآنی (۰۵: ۰۳) حقیقت ہے کہ دینِ اسلام اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی مکمّل ترین
۵۷
اور عظیم ترین نعمت ہے کہ اس میں بے شمار نعمتیں سموئی ہوئی ہیں، اور ان میں زیادہ سے زیادہ نعمتیں باطنی ہیں، کیونکہ انسان کی ظاہری حیثیّت باعتبارِ جسم محدود ہے اور باطنی حیثیّت بلحاظِ روح اور عقل لامحدود ہے، پس یہ حقیقت روشن ہوئی کہ اصلی اور حقیقی نعمتیں دین کے باطن میں پوشیدہ ہیں، جن میں روح اور عقل کے لئے اعلیٰ درجے کی لذّتیں اور راحتیں موجود ہیں۔
رسولِ اکرمؐ کے وجودِ مبارک یا آپؐ کے جانشین (امامؑ) کی موجودگی کے سوا دین کے مکمّل ہو جانے کا کوئی تصوّر نہیں، اور نہ ہی ہادیٔ برحق کے بغیر اللہ کی کوئی عظیم نعمت حاصل ہو سکتی ہے، کیونکہ دین صراطِ مستقیم ہے، یعنی سیدھی راہ، لہٰذا دین رہنما کے بغیر مکمّل نہیں کہلا سکتا ہے۔
قرآن کے ظاہر و باطن کے درمیان کم سے کم فرق کی مثال ایسی ہے، جیسے پھل اور مغز ہیں، پس قرآن کی ہر آیت بلکہ ہر لفظ ایک نعمت (میوہ) ہے اور اس کی حکمت و تاویل مغز ہے۔
خداوند تعالیٰ کی صرف ظاہری نعمتوں پر اکتفاء کرنا اور باطنی نعمتوں کی جستجو نہ کرنا بہت بڑی بیقدری اور ناشکری ہے، جس کی وجہ جہالت و نادانی اور اندھاپن ہے، جس کے بارے میں قرآنِ کریم کا ارشاد ہے کہ: اور جو شخص دنیا میں اندھا رہے گا سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور زیادہ راہ گُم کردہ ہوگا (۱۷: ۷۲) جاننا چاہئے کہ امامِ زمان علیہ السّلام کی معرفت کا نہ ہونا ہی اندھاپن ہے، کیونکہ سورۂ بنی اسرائیل رکوع۷ آیت ۷۱ میں امام کا ذکر ہے اور آیت ۷۲ میں مذکورۂ بالا ارشاد ہے، سو ظاہر ہے کہ بصیرت اور ہدایت امام شناسی کا نتیجہ ہے اور اِس کے برعکس اندھاپن اور گمراہی انکارِ امامت کا نتیجہ ہے۔
اس مطلب کی تشریح یہ ہے کہ جو نورِ ہدایت کے دیکھنے سے اندھا ہے وہ زمانۂ نبوّت اور پوری تاریخ سے بھی اندھا ہے، پھر ایسا شخص قرآن سے بھی اندھا ہے اور تمام باطنی نعمتوں سے بھی۔
۵۸
جو خوش نصیب انسان باطنی نعمتوں کو پہچانےوہ بہشت کو پہچانتا ہے اور جو شخص دنیا میں بہشت کو پہچانے ،وہ کل بروز آخرت ہمیشہ کے لئے بہشت میں داخل ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور اِن کو جنّت میں داخل کرے گا جس کی ان کو پہچان کرا دی ہے (۴۷: ۰۶)۔
یاد رہے کہ دینِ اسلام کامل اور مکمّل ہے، اس میں کسی چیز کی کمی نہیں، اس میں نور بھی ہے اور قرآن بھی، ظاہری نعمتیں بھی ہیں اور باطنی نعمتیں بھی، اور جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ ماضی میں جو ہدایت کا وسیلہ تھا وہ اب موجود نہیں، تو ایسا شخص نورِ ہدایت سے منکر ہے۔
فقط آپ کا دُعا گو
نصیرؔ ہونزائی
۶ اگست ۱۹۸۰ ء
۵۹
جُزوی موت کی حکمت
ا۔ اِس دنیا کے کئی ناموں میں سے ایک نام “عالمِ کَون و فساد” ہے، یعنی ایسی دُنیا جس کی چیزیں ایک طرف بنتی رہتی ہیں، اور دوسری جانب بگڑتی جاتی ہیں، خواہ ساری کائنات ہو، یا صرف کُرّۂ ارض، بہرحال قانونِ فطرت یہی ہے کہ اِس میں کَون و فساد (بننا اور بگڑنا) دونوں روز و شب کی طرح ایک دوسرے کے پیچھے جاری و ساری ہیں، اور ہر دانشمند کو یقین ہے کہ قدرت کے اسی نظامِ بُودنی و نابُودنی میں بڑی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں
۲۔ آپ ذرا لفظِ “کائِنات” کی لُغوی تحلیل کرکے دیکھئے: کَون (ہونا، بننا) کائِن (ہونے والاواقعہ) کائِنۃُ (کائِن کی مؤنث، حادثہ، واقعہ، بننے والی چیز) اور کائِنۃُ کی جمع کائِنات ہے، جس سے یہ عالمِ ظاہر مراد ہے، کیونکہ اس میں حادثات، واقعات اور موجودات کا وُجود بنتا ہے، اور ظاہر و عیان ہے کہ یہ الفاظ: کائِن،کائِنۃُ، کائِنات اور کوائِن سب فاعل کے معنی رکھتے ہیں، اور فاعل وہ ہے کہ جب تک موجود ہو، تب تک اس کا فعل جاری رہتا ہے، پس کائنات اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ کارخانۂ ظاہر ہے، جس میں ہر گونہ چیزیں نہ صرف بنائی جاتی ہیں، بلکہ اپنے اپنے وقت پر مٹائی بھی جاتی ہیں۔
۳۔ جب ہم نظامِ شمسی کی کوئی بات کرنے لگتے ہیں، تو آج کی جدید سائنس بجا طور پر ٹوکتے ہوئے حکم دیتی ہے کہ “نظامہائے شموسی” کے بارے میں کچھ جان لو، اور یہ بات بالکل درست ہے، کیونکہ قرآنِ حکیم جو دفعۃً نہیں، بلکہ رفتہ رفتہ نازل ہُوا تھا (۱۷: ۱۰۶) وہ
۶۰
اپنے تدریجی نزول کی مثال سے اشارہ فرما رہا ہے کہ اس کی ہدایات و تعلیمات قانونِ فطرت کے عین مطابق بتدریج جاری و ساری ہیں، اور قانونِ فطرت وہ نظامِ تخلیق و تکمیل ہے، جس کے تحت ہر ہر چیز پیدا ہو کر درجہ بدرجہ ترقی کرتی ہے، پس اگر عصرِ حاضر میں سائنس کی بدولت ایک کائنات کی بجائے بہت سی کائناتوں کا پتا چلا ہے، تو کیا ہُوا، جبکہ قرآنِ کریم نے شروع شروع میں زیادہ سے زیادہ توجّہ دینِ حق کی طرف دلائی، اور کائنات کے بارے میں بزبانِ حکمت فرمایا گیا کہ اس کی علمی توسیع بعد میں کی جائے گی (۵۱: ۴۷) بہرکیف دنیائیں جتنی بھی ہوں، وہ سب کی سب خدائے واحد و یکتا کی پیدا کردہ ہیں، اور اُن سب کا ایک ہی قانونِ فطرت ہے، یعنی ہر مادّی دنیا کے لئے یہی قانون مقرر ہے کہ چیزیں عدم سے وجود میں آتی ہیں، اُن میں جُزوی فنا کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اور پھر وقت آنے پر معدوم ہو جاتی ہیں۔
۴۔ ہر ذی حیات مخلوق میں کُلی موت سے قبل جُزوی موت کا ایک سلسلہ جاتا ہے، اور ہر بے جان شیٔ میں کُلّی فنا سے پہلے ہر وقت جُزوی فنا نظر آتی ہے، مثال کے طور پر شعلۂ شمع کو غور سے دیکھئے کہ کس طرح اس میں وُجود و عدم (ہونا اور نہ ہونا) باہم مل کر کام کر رہے ہیں، یعنی سب سے پہلے موم بتّی نار و نور کے زیرِ اثر سلسلہ وار فنا ہو کر تیل بنتی رہتی ہے، تیل آگ میں، آگ شعلے میں، اور رنگین شعلہ آتشِ بے رنگ میں فنا ہو کر منتشِر ہو جاتا ہے، مگر تعجب یہ ہے کہ سطحی طور پر دیکھنے والوں کو شمع، چراغ، لالٹین، گیس لیمپ، بلب، وغیرہ کی اِس جزوی اور ذیلی بقا و فنا کا کوئی علم نہیں ہوتا، اور یوں لگتا ہے، جیسے ان میں سے ہر ایک کا شعلہ ساکن ہو، حالانکہ اس میں جُزئیاتی وُجود و عدم دونوں روان دوان ہیں، یہی مثال خورشیدِ جہان آرا کے طوفانی شعلوں کی بھی ہے کہ اگرچہ آفتابِ عالمتاب کا ذخیرۂ انوار انتہائی عظیم ہے، تاہم اس کا بے پناہ ہمہ جہتی اور گول اِخراج و صرف، جو گیس لائٹ (Gas Light) کی طرح ہر سُو پھیلتا رہتا ہے، وہ مقدار میں اتنا زیادہ اور زبردست ہے، کہ اس
۶۱
کی شعاعوں کے بحرِ محیط میں جملہ کائنات ڈوب جاتی ہے، اور اِس سلسلۂ عمل میں سورج بار بار بن بھی جاتا ہے اور بار بار ختم بھی ہو جاتا ہے۔
۵۔ سمندر کا وُجود اِس قانونِ فطرت سے کیسے مُستثنیٰ قرار پا سکتا تھا، چنانچہ وہ بھی ہمیشہ واقعۂ کَون و فساد، یعنی بننے اور بگڑنے کے تحت ہے، وہ اِس طرح کہ دُنیا کے عظیم دریاؤں سے ہر لمحہ اس کا وجود بنتا رہتا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ اس کی مجموعی سطح سے بُخارات اُٹھتے رہنے سے وہ جزوی طور پر فنا ہو جاتا ہے، یہی عالم بادلوں کا بھی ہے، کہ وہ دائم بقا و فنا کے تختۂ مشق ہوتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔
۶۔ مذکورۂ بالا مثالیں، اور ان کی تفصیلات کیوں ضروری ہیں؟ کیا آفاق و انفُس میں خدا کی نشانیاں ایک جیسی ہیں (۴۱: ۵۳)؟ آیا عالمِ صغیر (پرسنل ورلڈ) کی معرفت کے لئے دُنیائے ظاہر کا بغور مطالعہ لازمی ہے (۵۱: ۲۱)؟ جی ہاں، بفرمودۂ حضرتِ علی علیہ السّلام عالمِ اکبر انسان کی ذات میں لپیٹا ہوا ہے، یا لپیٹ لیا جاتا ہے (۲۱: ۱۰۴، ۳۹: ۶۷) اور اِس فعلِ خدائی کا مقصد یہ ہے کہ کائنات بھر کی حقیقتیں اور معرفتیں انسان کے باطن میں مرکوز کر دی جائیں، تاکہ وہ اِن حقائق و معارف کا خوب سے خوب ترمطالعہ کرکے کمال حاصل کرسکے، پس مطالعۂ آیاتِ خداوندی ہر مومن کے لئے بے حد ضروری ہے، کیونکہ حکمت مومن کی گُم شدہ چیز ہے ( الحکمۃُ ضالۃُ المومن ۔ حدیث) اور اِس کھوئی ہوئی شیٔ کی تلاش کے لئے تین مقام مقرر ہیں، جو قرآنِ حکیم، آفاق، اور انفس(عوالمِ شخصی) ہیں۔
۷۔ آپ جس وقت باغ و چمن کی سَیر و تفریح کے لئے جاتے ہیں، تو شاید بتقاضائے طبیعت کسی عمدہ پھول کو، جو عطرِ اعلیٰ کی دولت سے مالا مال ہو، سونگھ لیتے ہیں، اب میں اس بارے میں مؤدّبانہ سوال کرنا چاہوں گا کہ یہ خوشبو کیا چیز ہے، جو آپ نے اِس گُلِ رعنا سے محسوس کی تھی؟ روحِ نباتی کے سِوا اور کیا ہو سکتی ہے، گلاب کا پھول جب سے کھِل کر زندہ ہو جاتا ہے، تب سے مسلسل اُس کی جان (یعنی خوشبو) نکلتی رہتی ہے، اور ساتھ
۶۲
ہی ساتھ متواتر اس کی تازہ ترین روح بنتی رہتی ہے، یہ روحِ نامیہ/ روحِ نباتی کی جُزوی موت کی ایک روشن دلیل ہے، جس سے یہ حقیقت نکھر نکھر کر بدرجۂ علم الیقین چشمِ بصیرت کے سامنے آجاتی ہے کہ زندگی ایک حرکت کا نام ہے، جس کی یہاں چند قابلِ فہم مثالیں درج کی گئی ہیں۔
۸۔ یہاں کوئی ہوشمند ضرور یہ سوال کرے گا کہ اگر گلاب کا پھول ہنستے اور مہکتے ہوئے جزوی طور پر جان دیتا رہتا ہے، تو پھر یہ بھی بتا دیجئے کہ اگربتی جو ایک بے جان چیز ہے، اس کی خوشبو میں کون سی روح ہوتی ہے؟ میں جواباً عاجزی سے عرض کروں گا کہ اگربتی جیسی چیزوں کے جلانے سے جو خوشبو آتی ہے، وہ روحِ منجمد کا کرشمہ ہے، جس کی تحلیل آگ سے ہو جاتی ہے، مگر صندل (چندن) جیسی چیزوں میں جو نباتی روح منجمد ہوتی ہے، اس کی تحلیل گِھسنے سے ہو جاتی ہے۔
۹۔ اب اِن پُرمایہ مثالوں کی روشنی میں انسان کی جُزوی موت کا بیان کریں گے، کہ وہ بھی بجائے خود ایک عالمِ کون و فساد ہے، یعنی وہ ایک طرف سے بنتا رہتا ہے، اور دوسری جانب سے اسی رفتار میں بگڑتا بھی ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہ وُجودِ آدمی گویا پانی کا ایک تالاب ہے، اور وہ اس طرح بھرا ہُوا ہے کہ مدخِل سے ہمیشہ پانی داخل ہو رہا ہے، اور مخرج سے ہر وقت خارج ہوتا جارہا ہے، یہ نہ صرف جسم کی بات ہے، بلکہ اس میں روح کا بھی تذکرہ ہے۔
۱۰۔ گلہائے خوش رنگ و خوشبو کی ارواح انکی مہک پر سوار ہو کر پھیل جاتی ہیں، اور آدمی کی خوشبو اس کا قول و فعل ہے، لہٰذا اس کی روح گفتگو اور بدنی حرکتوں سے جُزوی طور پر صَرف ہوتی رہتی ہے، وہ سانس اور خیالات و افکار میں بھی خرچ ہو جاتی ہے، اگر آدمی خاموش بیٹھا ہے، تو تب بھی روح کا جُزوی اِخراج جاری رہتا ہے، تاہم نیند کے دوران بڑے پیمانے پر ذرّاتِ روح کا تبادلہ ہو جاتا ہے، جس کا ذکر قرآنِ کریم (۳۹: ۴۲)
۶۳
میں واضح طور پر موجود ہے۔
۱۱۔ اسلام میں چالیس دن کی بہت بڑی اہمیّت اس وجہ سے ہے کہ اُس مدّت میں آدمی کے جسم و جان کی سراسر اور مکمّل تجدید ہو جاتی ہے، چِلّہ (چالیس دن کا عرصہ) اتنا کافی وقت ہوتا ہے کہ اس میں تمام خلّیاتِ بدن اور ذرّاتِ روح کی شِکست و ریخت کے بعد از سرِ نَو تعمیر ہو جاتی ہے، یہ بڑا عجیب واقعہ ہے کہ اُس عرصے میں انسان جُزوی موت کی قسطوں میں مرتے مرتے ایک کامل موت سے دوچار ہو جاتا ہے، ساتھ ہی ساتھ وہ زندہ بھی ہو جاتا ہے، حالانکہ اُس کو کوئی پتا ہی نہیں چلتا، یہی سبب ہے کہ چالیس دن کی کوئی خصوصی اور عاکِفانہ عبادت بڑی حد تک نتیجہ خیز اور بار آور ثابت ہو جاتی ہے، اور آپ جانتے ہوں گے کہ حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام کی ایک بڑی اہم عبادت چالیس (۴۰) رات کی تھی (۰۷: ۱۴۲) ۔
۱۲۔ روحِ انسانی کا مسلسل اخراج اور جزوی موت کا ایک سائنسی ثبوت ہالۂ نور ہے، جس کو اورا (Aura) کہا جاتا ہے، یہ دراصل روحِ حیوانی کی خارج شُدہ کرنوں کا کُنڈل ہوتا ہے، نفسِ حیوانی آدمی کے پورے بدن میں پھیلا ہُواہے، لہٰذا روشنی کا یہ ہالہ (کُنڈل) تمام جسم سے نکلتا رہتا ہے، تاہم یہ صرف روحِ حیوانی کی روشنی ہے، اور اصل نور ہرگز نہیں، جس طرح کِرمِ شب چراغ (جُگنو = Firefly) میں اس روشنی کا ایک نمایان نمونہ ہوتا ہے، تو کوئی دانشمند کِرمکِ شب افروز کو کس طرح کسی بڑے نور کا درجہ دے سکتا ہے، بہرحال جُگنو کی مثال سے اس حقیقت کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ وجودِ آدمی کا چراغ ہمیشہ جلتا رہتا ہے، اور درجہ بدرجہ اس کی روشنی پھیلتی جاتی ہے۔
۱۳۔ جب انسان محنتِ شاقّہ سے تھک کر چُور چُور ہو جاتا ہے، جس وقت شدید بیماری سے لاغر و کمزور پڑتا ہے، اور جب کئی روز تک اس کی خوراک میں کمی واقع ہو جاتی ہے تو اُس وقت اس کے بہت سے خلیے (Cells) ضائع ہو کر جُزوی موت کی علامت واضح ہو جاتی ہے، مگر عام حالت میں اِس پُرحکمت موت کا پتا نہیں چلتا، جیسے ہوائی جہاز
۶۴
کی بلند پرواز کے دوران لوگ کسی نہر یا دریا کو تو دیکھ لیتے ہیں، لیکن پانی کی روانی کو نہیں دیکھ سکتے، الغرض جُزوی موت کی حکمت بڑی عجیب و غریب ہے، لہٰذایہ علمی علاج کے سلسلے میں ازحد مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
فقط
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
۱۹ ، جون ۱۹۸۷ء
جمعہ ۲۲، شوال ۱۴۰۷ھ
۶۵
دُہری موت اور دُہری زندگی
اِس عنوان کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں غافل اور جاہل لوگ جیتے جی غفلت و جہالت کی موت مرتے ہیں، اور اس کے بعد وہ ابدی طور پر مرنے والے ہیں، اور جو ذکر و معرفت والے ہیں وہ آج زندہ ہیں اور کل وہ زندۂ جاوید ہو جانے والے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: لِیُنذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ القَوْلُ عَلَی الکٰفِرِیْنَ (۳۶: ۷۰) تاکہ ایسے شخص کو ڈرائے جو زندہ ہے اور تاکہ کافروں پر (عذاب کی) حجّت ثابت ہو جائے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ مومن اس جہان میں محدود پیمانے پر زندہ ہے اور دوسرے جہان میں وسیع پیمانے پر زندہ ہو جائے گا، مگر کافر دنیا میں جیتے جی مرچکا ہے اور آخرت میں ہمیشہ کے لئے مر جائے گا۔
یہی مطلب سورۂ انفال آیت ۴۲ میں بھی ہے: لِیَھلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَۃٍ وَّ یَحیٰی مَنْ حیَّ عَن بَیِّنَۃٍ (۰۸: ۴۲) تاکہ ہلاک ہو وہ شخص جو دلیلِ روشن سے ہلاک ہوگیا ہو اور زندہ ہو جو دلیلِ روشن سے زندہ ہوگیا ہو۔ یعنی جو مذہبی طور پر حقیقت کی روح رکھتا ہے وہ زندہ ہے اور جو ایسا نہیں باطل پر ہے وہ مردہ ہے، پس قانونِ قدرت یہ چاہتا ہے کہ جو آج حق پر ہے اور زندہ ہے تو اس کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا جائے، اور جو اس کے برعکس باطل پر ہے اور مردہ ہے تو اس کو ہمیشہ کے لئے ہلاک کر دیا جائے۔
اس سے ظاہر ہے کہ اسلام تقلید کا مذہب نہیں بلکہ عقل و منطق کا مذہب ہے، یہی وجہ ہے کہ مذکورۂ بالا آیت میں روشن دلیلوں کو مذہبی زندگی کی علامت قرار دی گئی ہیں، اور
۶۶
فرمایا گیا ہے کہ جس کا مذہب خدا کے نزدیک روشن دلائل پر مبنی ہے وہی زندہ ہے اور جس کے مذہب کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے وہ مرچکا ہے، اگرچہ بظاہر زندہ ہے، یعنی اس میں عقل و دانش والی روح نہیں ہے۔
جسمانی زندگی اور مُردگی کے درمیان فرق یہ ہے کہ جو زندہ ہے اس میں حس و حرکت ہوتی ہے اور جو مرچکا ہو وہ بے حس و حرکت ہو جاتا ہے، چنانچہ جو حقیقت میں بہرے، گونگے اور اندھے ہیں، وہ عقلی حرکت نہیں رکھتے ہیں، اس لئے وہ گویا مرچکے ہیں، پس وہ رجوع نہیں کر سکتے ہیں، جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ: صُمٌ بُکمٌ عُمیٌ فَھُم لاَ یَرجِعُون (۰۲: ۱۸) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں پس وہ رجوع نہیں کرتے ہیں۔
فقط
نصیر ہونزائی
۲۔ستمبر۔۱۹۸۰ء
۶۷
کشتیٔ نوحؑ (وسیلۂ نجات)
تنزیلِ آسمانی اور تاریخِ انسانی میں یہ قصّہ مشہور و معروف ہے کہ حضرت نوح علیہ السّلام کے عہدِ نبوّت میں پانی کا ایک ایسا زبردست طوفان برپا ہُوا تھا کہ اس میں سارے کافر ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے، اِس پُرحکمت قصّہ میں بالواسطہ اِس بات کی نشاندہی کے لئے کہ اس میں تاویل ہے چند بڑے بڑے سوالات اُبھرتے ہیں جو ذیل کی طرح ہیں:۔
سوال ۱: آیا طوفانِ نوح تمام روئے زمین پر اُٹھا تھا یا اِس کا دائرۂ متعلّق صرف چند ملکوں یا بعض شہروں تک محدود تھا؟
سوال ۲: کیا سیّارۂ زمین کے طول و عرض میں نوح پیغمبرؐ کی براہِ راست یا بالواسطہ دعوت ہو رہی تھی؟ اُس وقت دنیا میں انسانی آبادی کا کیا اندازہ تھا؟
سوال ۳: کیا یہ صحیح ہے کہ تمام سطحِ زمین اس تباہ کُنۡ طوفان کی زد میں آگئی تھی، کیونکہ دنیا کے ہر ملک سے خدا اور اس کے رسولؑ کی نافرمانی ہوئی تھی؟
سوال ۴: آیا سائنسی لحاظ سے بھی یہ ممکن ہے کہ پوری دُنیا میں اتنے عرصے تک ایک ساتھ ایسی طوفان خیز بارش برسے؟
سوال ۵: کشتیٔ نوحؑ کا کیا سائز تھا؟ اس میں کتنے لوگوں اور جانوروں کے لئے جگہ اور گنجائش تھی؟
سوال ۶: دنیا کے کلّ جانوروں کی تمام قسموں میں سے دو دو (نر و مادّہ) کو کشتی میں بچالینے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟
۶۸
جیسا کہ شروع ہی میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان سوالات کا اصل مقصد تاویلی امکانیت کے پہلو کو اجاگر کرنا ہے، کیونکہ اِس قصّے میں تاویلی حکمت پوشیدہ ہے، چنانچہ جاننا چاہیے کہ طوفانِ نوحؑ مادّی اور روحانی دو قسم کا تھا، اور روحانیّت کا طوفان تو ہر زمانے میں آیا کرتا ہے، سو نوح علیہ السّلام کا مادّی طوفان محدود اور روحانی طوفان عالمگیر نوعیّت کا تھا، اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کے جس حصّے میں حضرت نوحؑ بذاتِ خود دعوت کرتے تھے وہاں ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے طوفان بپا ہُوئے تھے، اور باقی حصّوں میں جہاں آپؑ کے حجّتوں کے توسّط سے دعوت کی جاتی تھی وہاں صرف روحانی طوفان اُٹھا تھا۔
حضرت نوح علیہ السّلام کی دعوتِ دین بلاواسطہ اور بالواسطہ تمام رُوئے زمین پر محیط تھی، جس طرح حضرت آدمؑ کی خلافت پوری دُنیا کے لئے تھی، کیونکہ قانونِ دین کے مطابق زمین کے بارہ جزیروں پر نوح پیغمبرؑ کے بارہ حجت اور تین سو ساٹھ داعی پھیلے ہوئے تھے، دعوت کا یہ پھیلاؤ اور ربط و نظم قدرتی اور روحانی قسم کا تھا، اُس وقت دنیا میں کافی لوگ بستے تھے، کیونکہ اِس دَور کے آدمؑ سے پہلے بھی مختلف ادوار میں لاتعداد آدم ہوتے رہے ہیں۔
سیّارۂ زمین کی تمام سطح پر ایک ساتھ طوفان نہیں آیا تھا، اور نہ ہی ایسا ممکن ہے، نافرمانی کی اصل اور بڑی سزا روحانی طور پر ملتی ہے، لہٰذا سب سے بڑا اور عالمگیر طوفان روحانیّت میں تھا۔
اگر جنرل سائنس کی نظر سے دیکھا جائے تو دنیا کے تمام حصّوں میں ایک ساتھ مسلسل بارش اور طوفان ناممکن ہے، کیونکہ بارش کے لئے بادلوں کی ضرورت ہوتی ہے اور بادلوں کا وجود دھوپ اور سمندر سے بنتا ہے، اِس سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ دنیا کے بعض حصّوں میں دھوپ پڑے تو دوسرے حصّوں میں بارش ہو سکتی ہے ورنہ نہیں۔
نوحؑ کی ظاہری کشتی میں اتنی بڑی گنجائش نہیں تھی، کہ اس میں مومنین کے علاوہ
۶۹
تمام جانوروں کی قسموں میں سے ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ آجاتے، اِس کا سائز بائبل میں مذکور ہے۔
د نیا بھر کے تمام جانوروں کی ہر قسم سے دو دو (یعنی نر و مادہ) کو روحانی کشتی میں چڑھا کر بچا لینے میں یہ حکمت ہے کہ انسانِ کامل اِس کائنات کی اصل و اساس بھی ہے اور خلاصہ و نتیجہ بھی، بالفاظِ دیگر کامل انسان اور کائنات و موجودات کا رشتہ وہی ہے جو پھل اور درخت کے درمیان ہوتا ہے، چنانچہ جس طرح درخت کی جملہ خصوصیات پھل (یعنی بیج) میں جمع ہو جاتی ہیں، اسی طرح حضرت نوحؑ کی مبارک ہستی میں دنیا کی ساری چیزوں کی اصلیں اور طاقتیں روحانی طور پر محفوظ کی گئیں، تاکہ نافرمان دنیا کو ہلاک کر کے نوح علیہ السّلام سے ایک نئی دُنیا کو وجود دیا جائے۔
اِس بیان سے یہ حقیقت روشن ہُوئی کہ قرآنِ حکیم کے ارشاد (۱۱: ۴۰ ، ۲۳: ۲۷) کے مطابق نو ح علیہ السّلام نے ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ روحانی ذرّات کی شکل میں بچالیا تھا، ورنہ اتنی بڑی کشتی کہاں تھی کہ اس میں دُنیا بھر کے انواع و اقسام کے جانوروں کو جگہ ملے، اور نہ ہی یہ امر ممکن تھا کہ جسمانی طور پر حضرت نوحؑ دنیا کے گوشہ گوشہ سے ان تمام جانوروں کو جمع کرکے کشتی میں داخل کر لیں، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ مطلوبہ جانوروں کے تخم (بیج) روحانی ذرّات کی صورت میں تھے، جن کے واسطے کشتیٔ نجات آپؑ کی مبارک شخصیّت ہی تھی، یعنی روحانی کشتی نوح علیہ السّلام خود تھے۔
یہ بات ہمیشہ کے لئے یاد رہے کہ “عالمِ ذرّ” دنیائے روحانیّت کا نام ہے، جو سراسر ذرّاتِ روحانی پر مبنی ہے، جہاں چیونٹی ہو یا ہاتھی، آدمی ہو یا فرشتہ ایک انتہائی چھوٹا ذرّہ ہے، چنانچہ عالمِ روحانی یا عالمِ ذرّ کی بارش اور طوفان بھی انہی زندہ ذرّات یعنی روحوں کا تھا۔
حضرت نوح علیہ السّلام کا ظاہری اور مادّی طوفان اُس باطنی اور روحانی طوفان
۷۰
کے لئے حجاب اور مثال کی حیثیت سے تھا، جو ہر پیغمبر اور ہر امام کے زمانے میں آیا کرتا ہے، تاکہ اہلِ ایمان کو نجات دیکر نافرمانوں کو روحانی طور پر ہلاک کر دیا جائے، مگر یہاں یہ نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ جو لوگ روحانیّت کے اعتبار سے ہلاک ہو جاتے ہیں، ان کے لئے یہ شرط ضروری نہیں کہ ساتھ ہی ساتھ جسمانی طور پر بھی مر کر ختم ہو جائیں، چنانچہ جب زمانۂ آدمؑ میں یہ روحانی طوفان آیا تو سجدۂ اطاعت بجا لانے والے مومنین جن کو خداوند تعالیٰ نے قرآن میں ملائک کا ٹائٹل عطا کیا ہے ناجی ہو گئے اور ابلیس بمع اپنی بے شمار ذرّیت کے ہلاک ہو گیا، مگر اِس ہلاکت کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ شیاطین کا وجود یکسر مٹ گیا۔
جب امامِ وقت صلوات اللہ علیہ کی ذاتِ عالی صفات میں آدمؑ کی طرح خداوند تعالیٰ کی روحِ اقدس پھونک دی جاتی ہے۔ یعنی جس وقت نورِ امامت ایک جامہ سے دوسرے جامہ میں منتقل ہو جاتا ہے تو عین اسی وقت تمام ملائکہ (یعنی ارواحِ مومنین وغیرہ کے نمائندہ ذرّات) آدمِ زمانؑ کی مبارک ہستی میں سجدہ کرتے ہوئے گِرجاتے ہیں، اور ان ذرّات کا یہی عمل کشتیٔ نجات میں مومنین کا داخل ہو جانا بھی ہے، پس یہی سبب ہے کہ رسولِ اکرمؐ نے اہلِ بیت (أئمّۂ اطہار)کی تشبیہہ سفینۂ نوح سے دی ہے۔
فقط آپ کا علمی خادم
نصیر ہونزائی
۱۴ نومبر ۱۹۸۰ء
۷۱
امامِ عالیمقامؑ کی جسمانی پیدائش اور نورانی پیدائش
نورِمطلق کی نسبت جہاں زمان و مکان سے برتر ازلی و ابدی کیفیّت میں خداوند تعالیٰ سے ہے، وہاں یہ قدیم ہے، یعنی کسی کمی و بیشی اور تغیّر و تبدّل کے بغیر ہمیشہ ایک ہی حال میں قائم اور موجود ہے، اور اس کے نہ ہونے یا پیدا ہو جانے کا کوئی سوال نہیں، لیکن جہاں نور کا تعلق جسم اور مظہرِ نورِ خدا (یعنی پیغمبر اور امام علیھما السّلام) سے ہے، وہاں یہ دو طرح سے جنم لیتا ہے، انسانِ کامل میں سرچشمۂ نور اور مرکزِ ہدایت کی حیثیت سے، اور مومنین میں عکسِ نور (یعنی زندہ تصویر) کی حیثیت سے، جیسے سورج جب طلوع ہو جاتا ہے، تو کسی تاخیر کے بغیر ہر چیز پر اسکی روشنی پڑتی ہے، اور بعض چیزوں سے جو صاف شفاف ہیں، سورج کا عکس نمودار ہوتا ہے۔
آفتابِ عالمتاب کائنات کے وسط میں ٹھیرا ہُوا ہے، اس کی شکل گول ہے، لہٰذا حرارت و روشنی کا کوئی ایک رُخ نہیں، بلکہ یہ ہر طرف بکھر جاتی ہے، چنانچہ اس بے پناہ مادّی نور کا ایک محدود حصّہ سیّارۂ زمین کی طرف آتا ہے، مگر یہاں کی چیزیں سورج سے فیضیاب ہونے میں یکسان نہیں ہیں، ہر چند کے خورشیدِ انور ہر جگہ کسی فرق و امتیاز کے بغیر شعاعوں کی بارش برساتا ہے، پھر بھی کچھ جانور ایسے ہیں، جو سورج کی ضیاپاشی سے بھاگ کر اندھیروں میں چھپ جاتے ہیں۔
جو جانور سورج کی روشنی کو دیکھنا نہیں چاہتے ہیں یا دیکھ نہیں سکتے ہیں، وہ بھی
۷۲
سورج کے فائدے سے خالی نہیں، کیونکہ وہ جو کچھ کھاتے ہیں، اس میں سورج کی طاقتیں کار فرما ہوتی ہیں، دوسری طرف سے جو چیزیں سورج کی روشنی کو قبولتی ہیں، وہ مختلف مدارج پر ٹھیری ہوئی ہیں، مثال کے طور پر آئینہ اس عمل میں بہت نمایان ہے کہ وہ نہ صرف نورِ خورشید کو قبولتا ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنی صلاحیّت کی بدولت سورج کے عکس کو بھی دکھاتا ہے، قانونِ فطرت کی اس مثال سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ اگرچہ آفتابِ ہدایت کے فیض سے کوئی فردِ بشر خالی نہیں، تاہم اس میں لوگوں کے مختلف درجات ہیں، چنانچہ جو لوگ بہ امرِ خدا پاک باطن ہیں وہ مظہرِ نورِ خدا کے لئے آئینے کا کام دیتے ہیں، اور اسی معنیٰ میں کہا گیا کہ سرچشمۂ نور امامِ اقدس وَ اطہرؑ میں ہُوا کرتا ہے، اور اس کا ایک مکمّل عکس حقیقی مومنین میں ہوتا ہے۔
آپ نظامِ تخلیق اور قانونِ فطرت کا بغور مطالعہ کر سکتے ہیں،کہ نباتات کا قیام جمادات (یعنی مٹی وغیرہ) پر ہے، حیوانات کا قیام نباتات پر ہے، اور انسان حیوان پر قائم ہے، یہ حقیقت نہ صرف دنیائے ظاہر سے متعلق ہے، بلکہ عالمِ شخصی میں بھی یہی قانون کار فرما ہے، کہ انسانی جسم و جان کی تخلیق و تکمیل کے سلسلے میں سب سے پہلے بنیادی جسم بنتا ہے، پھر روحِ نباتی، پھر روحِ حیوانی، پھر روحِ انسانی (یعنی روحِ ناطقہ) اور آخر میں عقل پیدا ہو جاتی ہے، سو اِس قانونِ فطرت سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ امامِ عالیمقامؑ کی جسمانی پیدائش پہلے ہے اور نورانی پیدائش بعد میں۔
سورۂ مریم (۱۹: ۱۵، ۱۹: ۳۳) میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیھم السّلام کے بارے میں اِرشاد ہُوا ہے کہ “اُن پر اُس دن سلامتی تھی جس میں وہ پیدا ہوگئے اور جس دن اُن کا انتقال ہو گیا اور جس روز وہ دوبارہ زندہ ہو گئے۔” آپ غور کرکے دیکھ سکتے ہیں کہ اِس حکم میں تاویلی حکمت پوشیدہ ہے، کیونکہ اس کے ظاہری ترجمہ کی کچھ منطق نہیں بنتی ہے، کہ انسانِ کامل پر سلامتی صرف اور صرف تین دنوں میں محدود ہو، یعنی یومِ پیدائش، یومِ وفات،
۷۳
اور یومِ بعث میں، اور باقی دنوں میں سلامتی ایسی مقدس ہستیوں سے الگ اور دور ہو، بلکہ اِس ارشادِ مبارک کے تاویلی معنی یوں ہیں کہ یہاں دن سے زمانہ مراد ہے، وہ اِس طرح کہ ہر کامل انسان کی روحانیّت تین زمانوں پر پھیل جاتی ہے، پہلا زمانہ یا دَور ابتدائی روشنی سے لے کر انفرادی قیامت تک ہے، اور یہ تاویل کی زبان میں یومِ پیدائش کہلاتا ہے، دوسرا دَور منزلِ عزرائیلی سے شروع ہو جاتا ہے، جہاں حضرت عزرائیل علیہ السّلام کے عمل سے ایک حکمت آگین نفسانی موت واقع ہوتی ہے، اور یہ دَور جو انفرادی قیامت اور زندہ روحانیّت کے عظیم واقعات و تجربات سے بھرپور ہے اور جسے قرآن نے پیغمبرانہ و عارفانہ موت قرار دیا ہے۱، وہ مقامِ اِنبعاث تک پھیلا ہُوا ہے، اور تیسرے مرحلے پر انبعاث کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے، جو روحانیّت کا آخری دَور اور بلند ترین مقام ہے، اس سے یہ مطلب صاف طور پر ظاہر ہُوا کہ حضراتِ انبیاء و أئمّہ علیھم السّلام پر تین ادوار گزرتے ہیں، جن کا ذکر ہُوا، اور ہر دَور میں اُن پر سلامتی ہے، اور سلامتی سے تائید و مکمّل روحانیّت مراد ہے۔
جیسا کہ بتایا گیا کہ امامِ برحق صلوات اللہ علیہ کی جسمانی پیدائش پہلے ہوتی ہے، اور نورانی پیدائش بعد میں مکمّل ہو جاتی ہے، اور امامِ زمانؑ کے “یومِ پیدائش” کی جو سالگرہ منائی جاتی ہے، وہ دراصل امام کے نورانی جنم کا دن ہے، اگر یہ بات نہ ہوتی، تو امام کی امامت یعنی مسند نشینی سے قبل بھی جماعتی سطح پر یومِ پیدائش کی اس طرح سالگرہ منائی جاتی، جس طرح آج منائی جاتی ہے، پس ظاہر ہے کہ سالگرہ نور کی شناخت کے لئے ہے۔
عوام النّاس جس حال کو زندگی سمجھتے ہیں، وہ صحیح معنیٰ میں زندگی نہیں، نہ جسمانی موت تاویلی (نفسانی) موت ہے، اور نہ ہی اِنبِعاث (مرنے کے بعد زندہ ہو جانا) ایسا ہے جیسا کہ عام خیال ہے ، بلکہ ان حقائق و معارف کا نمونہ اور معیار انسانِ کامل ہے، پس مومنین پر لازم ہے کہ وہ ہادیٔ برحق کی رہنمائی میں راہِ روحانیّت کے مراحل کو طے کریں،
۱؎: یہ عارفانہ موت فنا فی اللہ ہے، اور انبعاث بقا باللہ۔
۷۴
تاکہ حقیقتِ حال کا مشاہدہ ہو۔
اس سے قبل سلامتی کا ذکر ہُوا تھا، اور مفہوم یہ تھا کہ انسانِ کامل (پیغمبر اور امام علیھما السّلام) پر مسلسل سلامتی ہُوا کرتی ہے، اور وضاحت ہوئی تھی کہ سلامتی سے تائید و روحانیّت مراد ہے، مگر یہ وضاحت کافی نہیں ہے، کیونکہ قرآنِ حکیم میں لفظ “سلام” خاص خاص مواقع پر استعمال ہُوا ہے، اور یہ خصوصی حکمت کا حامل ہے، چنانچہ اس کی مزید صراحت کی جاتی ہےکہ سلام کے معنی ایسی تائید و روحانیّت کے ہیں، جس میں ہر طرح کی سلامتی ہے ،یعنی جسم و جان اور عقل کی سلامتی، اور اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ مومن خود کو دارُالسّلام ( خانۂ سلامتی) سے ازلی و ابدی طور پر وابستہ پائے، “السّلام” اللہ تعالیٰ کا ایک زندہ نام ہے، جو بصورتِ انسانی ایک جلالی فرشتہ ہے، جو عقل و جان اور لطیف جسم کے درجۂ کمال پر ہے، اور یہی بہشتِ جاودانی ہے، اور سلامتی کا گھر یہی ہے۔
حدیث ہے کہ محمّد و علی (صلوات اللہ علیھما) کا مقدّس نور ایک پاک صُلب سے ایک پاک بطن میں منتقل ہوتا ہُواآیا ہے، (کوکبِ دُرّی، ص: ۱۷۸) اس میں ہر دانشمند کو خوب غورکرنا چاہئے کہ آیا یہ نُور وہی نہیں، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں جگہ جگہ فرمایا گیاہے؟ جس کے متعلّق ارشاد ہے کہ خدا اپنے نور کو درجۂ کمال تک پہنچانے والا ہے (۶۱: ۰۸) یعنی اس کا سِلسلہ جاری ہے، تو پھر اس کا مطلب یہ ہُوا کہ شخصِ کامل کی جسمانی اور نورانی پیدائش بار بار ہوتی رہتی ہے، جیسے چاند بار بار کامل ہوتا رہتا ہے، ہر چند کہ سورج کی ہستی میں چاند ایک حال پر قائم ہے، کہ وہاں یہ نہ بڑھتا ہے اور نہ گھٹتا ہے۔
مولاعلیؑ کا ارشادِ گرامی ہے: اِنّ لی الکرّۃ بعد الکرّۃ والرّجعۃ بعد الرّجعۃ و انا صاحب الرّاجعٰت والکرّات (کوکبِ دُرّی، ص: ۷۵) بے شک میرے لئے دنیا میں بار بار آنا اور رجعت کرنا ہے، میں رجعتوں والااور باریوں والا ہوں۔ یہ نُورٌ عَلیٰ نُورٌ (۲۴: ۳۵) کی تفسیر ہے، یعنی ایک امام کے بعد دوسرا امام ہونا، اور امامِ عالیمقامؑ کی ہر
۷۵
سالگرہ ایسی حقیقتوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
آپکا ایک دینی خادم
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
۱۲ دسمبر ۱۹۸۳ ء
۷۶
بہشت میں سب کچھ ہے
میں آج علم و حکمت کا ایک گوہر اپنے عزیزوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور یہ ایک ایسا معجزانہ گوہر ہے کہ یہ ہر متعلقہ سوال کا جواب مہیا کرے گا، ان شاء اللہ میرے عزیزوں کو اس سے بہت فائدہ ہوگا، اور وہ ہے یہ آیۂ مقدسہ: لَھُم مَّا یَشَآءُ ونَ فِیھَا وَ لَدَینَا مَزِیدٌ (۵۰: ۳۵) اِن کے لئے اُس (بہشت) میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جو وہ چاہتے ہیں اور ہمارے پاس اس کے علاوہ بھی ہے، یعنی مومنین کی کوئی ایسی خواہش نہیں ہے جس کی بہشت میں تکمیل نہ ہو، یا یوں کہنا چاہئے کہ بہشت ایسے مقام کا نام ہے جس میں مومن کی تمام خواہشات پوری ہو جاتی ہیں اور جنّت میں وہ چیزیں بھی ہیں جن کے متعلق انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔
بہشت میں سب کچھ ہے اس لئے انسانی فطرت میں طرح طرح کی خواہشات پائی جاتی ہے، کیونکہ اگر خدا تعالیٰ صرف کسی خواہش کو پیدا کرتا اور اس کی تکمیل کا کوئی ذریعہ نہ بناتا تو یہ ظلم ہوتا نہ کہ عدل، مگر خدا ظلم سے پاک و برتر ہے، اور وہ بڑا کرم والا ہے۔
اِس سے معلوم ہوا، کہ جنّت میں کوئی چیز ناممکن نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وہاں ہر چیز مومن کو دے رکھی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: وَ ٰا تٰکُم مِّنْ کُلِّ مَاسَاَلتُمُوہُ(۱۴: ۳۴) اور اُس نے تم کو دے رکھا ہے جو کچھ کہ تم نے اُس سے مانگا، یعنی تم نے زبانِ حال سے جو کچھ بھی اُس سے طلب کیا تھا وہ سب تم کو دے دیا ہے۔ یا یہ کہ ازل میں تمہاری روحوں نے سوال کیا تھا وہ تمہارے لئے دے رکھا تھا۔
۷۷
اب آپ کوئی بھی نیک خواہش دل میں لائیں اور کہیں کہ کیا یہ چیز مجھے بہشت میں مل سکے گی تو اس کا جواب اثبات میں ہوگا، آپ کہیں کہ میں ہمیشہ زندہ رہنا چاہتا ہوں، بار بار دنیا میں آنا چاہتا ہوں، مرد سے عورت اور عورت سے مرد بننا چاہتا ہوں، ہزاروں دفعہ پادشاہوں کی صورت میں پیدا ہونا چاہتا ہوں، اعلیٰ سے اعلیٰ حدودِ دین بن جانا چاہتا ہوں، یہاں تک کہ خدا کے نور میں ہمیشہ کے لئے رہنا چاہتا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی آنا چاہتا ہوں، کائنات کو نئے سرے سے بنانا چاہتا ہوں، دنیا ہی سے شروع کرکے بہشت کی نعمتوں کو دیکھنا چاہتا ہوں، وغیرہ تو یہ سب ممکن ہے۔
اب میں فارسی میں کہوں گا کہ: “ھیچ نا ممکنی نیست” یا “ناشدنی نیست” روزانہ پانچ سوال کرکے سوچیں کہ بہشت میں کون سی نعمت ناممکن ہے ۔
فقط
علامہ نصیرالدّین نصیرؔ ہونزائی
۲۔ستمبر۔۱۹۷۶ء
۷۸
مائدۂ عیسیٰؑ
قرآنِ پاک میں فرمایا گیا ہے: وہ وقت قابلِ ذکر ہے جبکہ حواریین نے عرض کیا کہ اے عیسیٰ ابنِ مریم کیا آپ کا ربّ ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے کوئی دسترخوان (یعنی کھانا) نازل فرمائے، آپ نے فرمایا کہ خدا سے ڈرو، اگر تم ایماندار ہو، وہ بولے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دلوں کو پورا اطمینان ہو جائے اور ہم یہ جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ بولا ہے اور ہم گواہی دینے والوں میں سے ہو جائیں عیسیٰ ابنِ مریم نے دعا کی کہ اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے دسترخوان نازل فرمائیے کہ وہ ہمارے اوّل و آخر کے واسطے اور آپ کی طرف سے ایک نشانی ہو اور آپ ہم کو رزق دیں اور آپ سب رزق دینے والوں سے اچھے ہیں۔ (۰۵: ۱۱۳ تا ۱۱۴)۔
خداوندِ تعالیٰ نے ایسا دسترخوان نازل فرمایا، مگر وہ روحانی قسم کا تھا اور اس پر عقل و روح کی پسندیدہ غذائیں چُنی ہوئی تھیں، یعنی وہ بطریقِ روحانیّت روحانی نعمتیں تھیں، نہ کہ ظاہری اور مادّی نوعیت کے کچھ کھانے تھے۔
یہاں آسمان کا مطلب آسمانِ روحانیّت ہے، دل کے اطمینان کے معنی مشاہدۂ روح اور باطنی معجزات ہیں، اور پیغمبر کے فرمان کی صداقت کا علم ہو جانا اور اس پر گواہ رہنا یہ ہے کہ جو کچھ آخرت کے بارے میں فرمایا جاتا ہے وہ چشمِ دل کے سامنے آ جائے اور مومن خود بخود اس کا گواہ بن جائے۔
۷۹
اگر یہ دسترخوان جسمانی غذاؤں کا ہوتا تو حضرتِ عیسیٰؑ اس کو دنیا و آخرت کی خوشی قرار نہیں دیتے، اور اس کو خدا کا نشان نہ ٹھہراتے، اور نہ ہی وہ خیر الرازقین کا رزق کہلاتا، کیونکہ حکمت میں خدا خیر الرازقین اس لئے نہیں ہے کہ اس نے جسمانی غذائیں بنائی ہیں، بلکہ اس کی یہ صفت اس وجہ سے ہے کہ وہ عقل و جان کے لئے روحانیّت کی اعلیٰ غذائیں پیدا کرتا ہے۔ جس طرح جسمانیّت میں عمدہ غذائیں آسانی سے جزوِ بدن ہو جاتی ہیں، اسی طرح روحانیّت میں علم کی اعلیٰ باتیں بڑی جلدی سے جزوِ روح ہو جاتی ہیں، کیونکہ روح کے لئے ذکر و عبادت کسرت یعنی ایکسرسائز ہے اور علم غذا ہے۔
جب بیمار آدمی کا اشتہا بند ہو جاتا ہے اور بھوک نہیں لگتی تو اس وقت آپ اگر اسے زور و زبردستی سے کچھ کھلائیں تو اس کو اس غذا سے کوئی مزہ نہیں آتا، یہ علامت ہے اس بات کی کہ ایسی حالت میں غذا جسم کا حصّہ نہیں بن سکتی ہے، اس کے برعکس جب تندرست انسان کو بھوک لگتی ہے اور وہ کھانا کھاتے ہوئے لذّت محسوس کرتا ہے تو یہ اس چیز کی نشانی ہے کہ غذا اس کو ہضم ہو کر جزوِ بدن بننے والی ہے۔
یہ اس حقیقت کی ایک بہترین مثال ہے کہ جن بد نصیب لوگوں کو حقیقی علم سے لذّت و خوشی محسوس نہیں ہوتی ہو تو وہ روح کے مریض ہیں، اور روح کا مرض گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے، ایسے آدمیوں کی روح بہت کمزور ہوتی ہے، مگر جو مومنین ایسے ہوں کہ ان کو علم و حکمت کی باتوں سے بڑا مزہ آتا ہے اور وہ شادمان و مسرور ہو جاتے ہیں، تو یہ حالت ان کے لئے مبارک ہے کہ ان کی روح میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کے باطن کی تطہیر ہورہی ہے۔
ہم جسمانی خوشی پر غور کر کے روحانی خوشی کے بھیدوں کو سمجھ سکتے ہیں، اس کے لئے ہم اپنے آپ سے سوال کریں گے کہ ظاہری اور مادّی خوشی کب کب حاصل ہوتی ہے؟ جواب ہے کہ جب جسم صحت مند ہو، صاف اور آرام سے ہو، اور کوئی اچھی نعمت ملے۔
۸۰
چنانچہ جب روحانی طور پر کوئی مومن خوش ہو جاتا ہے تو وہ خوشی بھی بغیر سبب کے نہیں ہے، بلکہ اس کا بھی کوئی پس منظر ہے، وہ یہ کہ روح کو کوئی چیز مل رہی ہے، غذا، صحت، پاکیزگی، عفو، اور امیدِ فردا، اور سب سے بڑھ کر خدا کی خوشنودی، کیونکہ خداوند کی رضا کے سوا کوئی روحانی خوشی نہیں ہے، اور خداوند تعالیٰ کی رضا مندی کے تحت ساری نعمتیں ہیں۔
فقط آپ کا علمی خادم
نصیر ہونزائی
۱۲ اگست ۱۹۸۰ء
۸۱
خزائنِ الٰہی
خداوندِ علیم و حکیم کا مبارک ارشاد ہے کہ:
وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآىٕنُهٗ٘ (۱۵: ۲۱) اور کوئی چیز نہیں مگر اس کے خزانے ہمارے پاس موجود ہیں۔یعنی ممکنات کی ہر شیٔ جو ارادۂ الٰہی میں ہےاس کے وجود و ظہور کے اسباب و اجزائے ضروریہ کے خزانے خدا کے پاس ہیں، تاکہ بحکمِ خدا اسباب وعلل اور اجزا کی فراہمی سے اشیائے ممکنہ عرصۂ وجود میں آئیں۔
یہاں ایک اہم سوال “عندنا” سے متعلق پیدا ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عندیت (نزدیکی) سے کیا مراد ہے؟ جبکہ اس کے قبضۂ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں؟ کیونکہ وہ اگر ایک اعتبار سے مکان و لامکان سے پاک و برتر ہے تو دوسرے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہے؟
جواب: خدا تعالیٰ مکان و لامکان سے پاک و برتر بھی ہے اس کے باوجود وہ ہر جگہ بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کا ایک خاص مقام بھی ہے اور وہ روحانیّت کا مقام ہے، جو اس کی عندیت و نزدیکی ہے، اور خزائنِ الٰہی روحانیّت میں ہیں، اور روحانیّت کا تعلق بندوں سے ہے، سو خدا کے خزانے بندے ہیں، جن میں تمام چیزیں موجود ہیں۔
قرآنِ پاک میں اللہ کے قرب و حضور اور عندیت کے معنی میں جتنے الفاظ آئے ہیں ان سب کی مراد روحانیّت و نورانیت ہے اور یہ مرتبت انسانوں کے لئے مخصوص ہے، اور پروردگار کے خزانے بھی انسانوں میں سے وہی حضرات ہیں، جن کو خداوندِ عالم
۸۲
نے اپنے بندوں سے برگزیدہ فرمایا ہے، یعنی انبیاء و ائمّہ علیہم السّلام اور حقیقی مومنین، جو خزائنِ الٰہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اگر بندۂ مومن پیغمبر اور امام کے طفیل سے خزانۂ الٰہی نہ ہوتا تو اسے اپنی ذات کی معرفت کی طرف توجہ نہ دلائی جاتی اور یہ ارشاد نہ ہوتا کہ: “جس نے اپنی روح کو پہچان لیا یقیناً اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔” اس سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ حقیقی مومن خزائنِ الٰہی میں سے ہے، وہ ذرّاتِ روح خزانہ ہے، اور ان ذرّات میں سب کچھ ہے، اس لئے کہ تمام مادّی چیزوں کی روحیں ہوا کرتی ہیں، جو ذرّات کی شکل میں ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی آیات (نشانیاں) اگر آفاق میں منتشر ہیں تو نفسِ انسانی میں یہ آیات یکجا ہیں (۴۱: ۵۳) اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز مادی طور پر اس کائنات میں ظاہر ہے اور روحانیّت میں انسان کے اندر پوشیدہ ہے، اسی طرح وہ اپنے باطن میں دونوں جہان خریدنے کے لئے عظیم سرمایہ اور خزانہ رکھتا ہے، یا دوسرے اعتبار سے یوں کہنا چاہئے کہ وہ خود کونین کا خلاصہ اور صورتِ روحانی ہے یا ایسا معجزاتی عالم ہے کہ اس میں بصورتِ لطیف دنیا بھی ہے عقبیٰ بھی ہے۔
یہ کتنا اہم ارشاد ہے جو فرمایا گیا ہے کہ شریعت کا باطن طریقت ہے، طریقت کا باطن حقیقت ہے اور حقیقت کا باطن معرفت، سو معرفت سب کچھ ہے، اس لئے کہ اس میں ہر چیز کی روح اور قیمت موجود ہے، اور معرفت نہیں ہے مگر انسان کی ذات میں، اس سے معلوم ہوا کہ آدمی خزانۂ الٰہی ہے۔
قرآنی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو تمام مخلوقات پر کرامت و فضیلت دی ہے (۱۷: ۷۰) اس کے معنی یہ ہوئے کہ قانونِ خدا کی نظر میں کائنات و موجودات کی جو قدر و قیمت ہے اس سے آدمی کہیں بڑھ کر ہے۔
مولا علی صلوات اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ: “آیاتو گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا
۸۳
جسم ہے اور حالانکہ تجھ میں عالمِ اکبر سمویا ہوا ہے۔” یعنی پوری کائنات لطیف روحانی شکل میں تیرے باطن میں پوشیدہ ہے، پس اس سے ظاہر ہوا کہ مومنین خزائنِ الٰہی ہیں اور یہ حقیقت ایسی ہے کہ اسے گہرائی سے سمجھنے اور عمل میں لانے کی سخت ضرورت ہے۔
فقط دعا گو
نصیر ہونزائی
۱۳ اکتوبر ۱۹۸۰ء
حیدرآباد، ہونزا، گلگت
۸۴
بہشت اور شجرۂ ممنوعہ
جب حکمت اور تاویل کی روشنی کے بغیر سوچا جاتا ہے توحیرت ہی حیرت ہوتی ہے کہ خداوندِ عالم نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ایسی بہشت بنائی کہ اس میں ہر قسم کی لازوال نعمتیں موجود ہیں، لیکن انسان وہاں بھی آزمائش سے خالی نہیں، کیونکہ وہاں پر ایک پُرکشش درخت موجود ہے جو بڑا خطرناک ہے، کہ اگر انسان اس کا پھل کھائے تو بس اس کی خیر نہیں۔
یہ مسئلہ بڑا مشکل ہے، جس سے بہت سے ذیلی سوالات پیدا ہوتے ہیں، مثال کے طور پر دنیا کے اتنے سارے امتحانات کے بعد مومن کا جنت میں داخل ہو جانا اور پھر وہاں بھی اس کو یہ خوف کہ کہیں بھول سے درختِ ممنوعہ کا پھل نہ کھا بیٹھے، کیونکہ جب حضرت آدم علیہ السّلام اس سے نہ بچ سکے تو ہم بے چارے کون ہوتے ہیں۔
جاننا چاہئے کہ خداوند تعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ سے ایک چیز بنائی جو وحدت و کثرت کے درمیان ہے جو بڑی پُرحکمت ہے اور وہ دو کا عدد ہے، پس ذاتِ واحد نے ہر چیز کو دو کے موافق پیدا کیا، یعنی ہر چیز کے جوڑے بنائے تاکہ یہ شہادت ہو کہ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے اس میں دوئی ہے مگر خدا میں دوئی نہیں، اس میں صرف وحدت ہی وحدت ہے، چنانچہ انسان کی دو انائیں بنائیں، ایک انائے علوی اور دوسری انائے سفلی۔
انسانی فطرت ایسی ہے کہ جہاں انتخاب کے لئے دو عمدہ چیزیں ہیں تو اس وقت دونوں کو چاہتا ہے، جب اس کے سامنے ایک اعلیٰ چیز اور دوسرے درجے کی چیز ہوتی
۸۵
ہے تب بھی وہ دونوں کو چاہتا ہے، چنانچہ انسان جو دو اناؤں کا مرکب ہے وہ نہ صرف ہمیشہ کے لئے بہشت میں رہنا چاہتا ہے بلکہ وہ ساتھ ہی ساتھ بار بار دنیا میں بھی آنا چاہتا ہے، جبکہ وہ اپنی انائے علوی اور انائے سفلی سے دونوں جہان میں زندہ ہو سکتا ہے، تاکہ اسی طرح وہ خدا کی لاتعداد نعمتوں کو پائے۔
جو دانشمند ہے وہ ہر مسئلے میں امام کی طرف دیکھتا ہے، امام نور بھی ہیں اور شخصیت بھی، وہ نور میں عالمِ علوی میں ہیں اور جسم میں عالمِ سفلی میں ہیں، وہ باعتبارِ جسم بار بار دنیا میں آتے ہیں اور باعتبارِ نور ہمیشہ بہشت میں ہیں، ان کو دنیا کا کوئی خوف نہیں اور نہ ہی کوئی غم ہے، جیسا کہ قرآنِ شریف کا ارشاد ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (۱۰: ۶۲) یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ وہ مغموم ہوتے ہیں، کیونکہ وہ خدا کے اولیاء ہیں اور خدا کے بھیدوں کو جانتے ہیں، وہ دیکھتے ہیں کہ ہر چیز میں حکمت ہے، وہ جسم سے دنیا میں ہیں مگر نور سے بہشت میں ہیں، وہ انائے علوی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عالمِ علوی میں رہتے ہیں، اور مبادل شخصیتوں کے اعتبار سے بار بار دنیا میں آتے رہتے ہیں۔
فقط
نصیر ہونزائی
۸۶
آئینۂ حکمت
روح اور روحانیّت سے متعلق پُرحکمت مثالوں میں آئینے کی مثال بہت ہی واضح، روشن اور بیحد مفید ثابت ہو سکتی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ آئینہ ایک مادّی شیٔ ہونے کے باوصف بعض لطیف خصوصیات رکھتا ہے، چنانچہ ذیل میں اِس سلسلے کی چند حکمتیں درج کی جاتی ہیں:۔
حکمت ۔ا: ایک سادہ شیشہ جو رنگین نہ ہو اور ایک آئینہ (دونوں چیزیں) سامنے رکھ کر غوروفکر کے ساتھ تجربہ کریں، شیشے میں آپ کا چہرہ نظر نہیں آتا ہے، اور آئینے میں چہرہ دکھائی دیتا ہے، اس کا کیا سبب ہے، حالانکہ دونوں اپنی اصل میں ایک ہی ہیں؟ اس کا سبب یہ ہے کہ سادہ شیشہ حجاب بن کر نگاہ کو نہیں روک سکتا، اِس لئے نظر صاف شفاف شیشے سے آگے گزر کر سامنے والی چیزوں کو دیکھتی ہے، اس کے برعکس آئینے میں یہ خاصیت ہے، کہ اس کی سطح کو چھوتے ہی نظر چہرے کی طرف لوٹ جاتی ہے، اور اسی طرح انسان اِس ردِّ عمل سے اپنے آپ کو دیکھتا ہے، اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ دیکھنے کا یہی ردِّ عمل کسی اور چیز پر کیوں نہیں ہوتا، جیسے پتھر، لکڑی وغیرہ ؟ جواب یوں عرض ہے کہ نظر کو لوٹا دینے کی خاصیت صرف ایسی چیزوں میں ہوتی ہے، جو شیشے کی طرح صاف شفاف اور آئینے کی طرح پچھلی جانب سے تاریک ہوں، ورنہ نظر کا عمل اسی چیز پر ختم ہو جاتا ہے جو سامنے ہوتی ہے۔
حکمت ۔ ۲: حواس کے ردِّ عمل کے اعتبار سے چیزیں مختلف ہوا کرتی ہیں،
۸۷
مثلاً لاٹھی مارنے کا ردِّ عمل صرف پتھر جیسی سخت چیزوں سے ہو سکتا ہے، کیونکہ ایسی چیزیں ضرب کو قبول نہیں کرتی ہیں، لہٰذا ہاتھ کا زور پتھر سے واپس لاٹھی پر پڑتا ہے، پھر لاٹھی سے ہاتھ پر، اگر لاٹھی کمزور ہے، جس کی وجہ سے وہ ٹوٹ جاتی ہے یا لچک دار ہے جس سے وہ لچک جاتی ہے، تو اُس صورت میں ہاتھ میں چندان درد نہیں ہوگا، اور اگر لاٹھی بڑی سخت اور مضبوط ہے تو ردِّعمل کا سارا زور بِلا کم و کاست ہاتھ پر پڑے گا، یہ تو سخت چیزوں پر لاٹھی مارنے کی بات ہوئی، مگر پانی جیسی نرم چیزوں پر لاٹھی مارنے سے نہ تو لاٹھی ٹوٹ جاتی ہے اور نہ ہی ہاتھ میں کوئی ایسی چوٹ لگ جاتی ہے، سبب ظاہر ہے کہ اِس کا ردِّعمل نہیں، اسی طرح بلند آواز سے پُکارنے کا ردِّعمل صرف گنبد یا پہاڑ جیسی جگہوں میں واقع ہوتا ہے، جہاں آواز ٹکرا کر پیچھے کی طرف لوٹ جاتی ہے، یہی مثال اُس نظر کی بھی ہے جو سطحِ آئینہ سے ٹکرا کر آدمی کی طرف لوٹ آتی ہے۔
حکمت۔ ۳: پروردگارِ عالم کا ارشاد ہے: وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلاً (۱۶: ۸۱) اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمام مخلوق چیزوں کے سائے بنائے۔ اِس حکم (فیصلہ) سے ظاہر ہے کہ کوئی چیز بغیر سایہ کے نہیں، یہاں تک کہ سورج کا بھی سایہ ہے، اور وہ سایہ یعنی عکس چاند ہے، نیز ستارے سورج کے سائے ہیں، اور اِس فرمانِ خداوندی سے یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ اِن سارے سایوں میں انسان کے لئے فائدے ہیں، مگر یہاں یہ بات ضرور جاننا چاہئے کہ فائدے کا اصل اشارہ عقلی اور روحانی چیزوں کی طرف ہے، کیونکہ جسم جو مکانی اور زمانی اعتبار سے محدود ہے، وہ کائنات بھر کے سایوں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا، مگر عقل و روح لامحدود اور غیرفانی ہیں، لہٰذا وہ غیر محدود نعمتیں حاصل کر سکتی ہیں۔
حکمت۔۴: اگر آپ دو آئینے ایک دوسرے کے آمنے سامنے رکھیں تو ہر ایک کا لطیف سایہ یا عکس دوسرے میں موجود ہوگا، بغیر اس کے کہ نمایان طور پر نظر آئے، آپ اس کا تجربہ اس طرح کرسکتے ہیں، کہ ایک پر سُرخ نشان لگائیں اور دوسرے پر سبز، چنانچہ اِس
۸۸
عمل کی مدد سے آپ یقین کرسکیں گے کہ مقابل کے آئینے خواہ دو ہوں یا زیادہ ایک دوسرے پر لطیف عکس ڈالتے ہیں، یہ ہر روح میں تمام روحوں کی نمائندگی موجود ہونے کی ایک بہترین مثال ہے، اور حقیقتِ واحدہ (Monorealism) کی ایک روشن دلیل ہے۔
حکمت۔۵: ارشادِ نبویؐ ہے کہ: ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہوا کرتا ہے۔ اِس حقیقت کے کئی معنوی پہلو ہیں، المؤمنُ مِرأۃَ المؤمن = مومن مومن کا آئینہ ہے، یعنی انسانِ کامل مومنوں کی روحانیّت کا آئینہ ہے۔ اور ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ ہر مومن کی روح میں نہ صرف تمام ارواح کے روحانی سائے موجود ہوتے ہیں، بلکہ ہر ہر شیٔ کا سایہ موجود ہوتا ہے، جیسا کہ آیۂ مذکورۂ بالا کا ارشاد ہے کہ “خدا نے تمہارے لئے تمام مخلوقات کے سائے بنائے ہیں، یعنی مومن کے باطن میں ساری چیزوں کے عقلی، روحانی اور جسمانی سائے بصورتِ ذرّاتِ لطیف محدود ہیں۔
حکمت۔۶: جملہ ارواح کی یک حقیقتی (Monorealism) ایسی ہے جیسے آمنے سامنے کے بہت سے آئینے اپنے عکس میں ایک ہو جاتے ہیں، آپ دیکھتے ہیں کہ اِن لطیف سایوں کے یکجا ہونے میں کوئی تنگی واقع نہیں ہوتی ہے، حالانکہ آئینے مادّی چیزیں ہیں، اِس وحدت کی وجہ یک صفتی و یک رنگی ہے، کہ جب ایک آئینے کا عکس دوسرے پر پڑتا تو اِس سے کچھ فرق نہیں آتا، اور نہ اس میں کچھ اضافہ ہو جاتا ہے۔
حکمت۔۷: یاد رکھئے گا کہ لطیف چیزوں کے سائے لطیف ہوا کرتے ہیں اور کثیف چیزوں کے سائے کثیف، نیز یہ بھی یاد رہے کہ ہر سایہ جس طرح پھیل جاتا ہے اسی طرح سِمٹ جاتا ہے، چنانچہ روحِ مومن میں تمام زندہ سائے جو عقلی اور روحانی ہیں محدود کئے گئے ہیں، جیسا کہ پروردگارِ عالم کا مبارک ارشاد ہے: کیا تم نے اپنے پروردگار کی طرف نہیں دیکھا کہ اُس نے سایہ کو کیونکر پھیلا یا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو ٹھہرا ہوا رکھتا پھر ہم نے آفتاب کو اُس پر دلیل بنایا (۲۵: ۴۵) یعنی عقلی اور روحانی سائے عالمِ
۸۹
کبیر میں پھیلے ہوئے ہیں، لیکن وہ خورشیدِ نور کے تصرّف میں ہیں، جس نے ان کو مومن کی ذاتی دنیا میں محدود و یکجا کر دیا ہے، اور بالآخر وہ دستِ قدرت کی مُٹھی میں جمع ہیں (۲۵: ۴۶)۔
حکمت۔۸: ماہِ کامل کی رات میں ایک بہترین آئینہ لے کر اِس میں چاند کا حسین عکس دیکھ لیجئے آپ یقیناً جانتے ہوں گے کہ یہ آپ کے سامنے آئینے میں جو روشنی ہے، وہ دراصل سورج سے ہے جو چاند کے توسط سے آئی ہے، اِس صورت میں اگر آپ نور کے مراتب کو شمار کریں گے تو مرتبۂ اوّل سورج، مرتبۂ دوم چاند اور مرتبۂ سوُم عکسِ آئینہ تین درجے ہوں گے، چنانچہ اِس حال میں سورج کا مظہر چاند ہے اور چاند کا مظہر آئینہ ہے، اور اگر آپ اِن مراتب کی وحدت اور سرچشمۂ نور کو دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ اُس رات کو علمی اور ذہنی طور پر سیّارۂ ماہتاب پر جاکر دیکھئے، اِس بات سے آپ کو تعجب ہوگا کہ وہاں اس وقت رات نہیں دن ہے اور ہر قسم کی روشنی وہاں سے دیکھنے کے مطابق سورج میں ایک ہے۔
حکمت۔۹: قرآنِ مقدّس سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ دین کی بنیاد خلافتِ الٰہیہ پر قائم ہوئی ہے، یعنی دینِ حق کا آغاز اِس طرح سے ہوا کہ خداوند تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السّلام کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا، پھر اگر کوئی نیک بخت انسان خلیفۂ خدا کو آئینۂ خدا یا مظہرِ خدا مانتا ہے تو وہ حق بجانب ہے، کیونکہ اِس صفت کے بغیر کوئی شخص خلیفہ نہیں ہوسکتا ہے، اور اِس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ یہ خلیفہ یعنی آدم جس طرح روحِ خدا اور نورِ خدا ہے، اسی طرح وہ اُس کا آئینہ اور مظہر بھی ہے، اور جملہ انبیا و أئمّہ علیھم السّلام اپنے اپنے وقت میں ایسی صفات سے متّصف تھے، اور ہادیٔ زمان صلوات اللہ علیہ یہی مرتبہ رکھتا ہے۔
حکمت۔۱۰: فرشتہ شفاف شیشے کی طرح ہوتا ہے، یعنی ٹرانسپیرنٹ (Transparent) جس کی وجہ سے وہ آئینۂ خدا نہیں بن سکتا، کیونکہ اس میں نورِ خداوندی کا عکس
۹۰
نہیں بنتا اور نہ ہی انعکاس (Reflection) ہوتا ہے، چنانچہ خدائے علیم و حکیم نے حضرت آدم علیہ السّلام کی بابرکت ہستی کو پہلے شفاف شیشہ بنایا، اور پھر اس کے بعد چند امتحانات سے گزار کر اسے آئینۂ جمال و جلالِ ربّانی کے مرتبے پر فائز کر دیا، اِس پُرحکمت مثال سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ انسانِ کامل یقینا آئینۂ خدا ہے اور اس کی بشریت اِس حکمت آگین آئینے کی پُشت ہے، تاکہ نور منعکس (Reflected) ہو سکے۔
حکمت۔۱۱: روایت ہے، کہ سیّارۂ زمین پر حضرت آدم کے آنے سے قبل جِنّات بستے تھے، اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ دَورِ روحانیّت تھا، جس میں لوگ کثیف جسم کو چھوڑ کر لطیف جسم میں منتقل ہوگئے تھے، کیونکہ انسان خدا کی قدیم صفات سے وابستہ ہونے کے سبب سے ہمیشہ سے ہے، وہ دائرۂ لا ابتدا و لاانتہا پر ہمیشہ ہمیشہ سفر کرتا رہتا ہے، جس کا نصف وجودِ لطیف اور نصف وجودِ کثیف پر مبنی ہے، جس کی مثال ریشم کا کیڑا یا پروانہ ہے، چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ وہ زمین پر اپنا ایک نائب مقرر کرنے والا ہے، تو اِس سے فرشتوں کو تعجب ہوا، کیونکہ اِس سے قبل بھی ایسا کیا گیا تھا مگر اِس سے زمین پر فساد اور خونریزی ہوئی تھی، لہٰذا بطریقِ اشارہ انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی، کہ خلیفۂ خدا فرشتوں میں سے کسی کو بنایا جائے (مفہوم: ۰۲: ۳۰)۔
حکمت ۔۱۲: شیشہ صرف شیشہ ہی ہے، مگر آئینہ شیشہ بھی ہے اور آئینہ بھی، اسی طرح انسانِ حقیقی انسان بھی ہے اور فرشتہ بھی، اور اس کی یہ دو متضاد صفت مَجْمَعَ الْبَحْرَیْن (۱۸: ۶۰) کی طرح ہیں، جو علمِ لَدُنّی کا مقام ہے، یعنی خیر و شر کے دو دریاؤں کا سنگم، خیر مستقل ہے اور شر عارضی، کیونکہ شر کا ذریعہ شیطان ہے اور وہ انفرادی یا اجتماعی قیامت تک محدود ہے، یا یوں سمجھ لیں کہ اس کو مسلمان (فرمانبردار) بنانا ہے یا اس کو مغلوب و مایوس بنا دینا ہے، تاکہ شر بنیاد ہی سے ختم ہو جائے اور خیر قائم رہے۔
نوٹ: خانۂ حکمت اور ادارۂ عارف کی یہ علمی خدمت بے حد ضروری ہے، آپ اسے خوب دل نشین کرلیں، اور پھر اسے اپنے ریکارڈ میں رکھ لیں، تاکہ کام آئے۔
فقط آپ کا علمی خادم
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
۱۴۔ نومبر ۔ ۱۹۸۳ء
۹۱
حضرتِ آدم سے پہلے بھی لوگ موجو د تھے
دلیل نمبر ۱: ارشادِ ربّانی کا ترجمہ ہے کہ: (ایک زمانے میں) سب لوگ ایک ہی امت تھے پھر خدا تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا (۰۲: ۲۱۳) اس حکم سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دورِ انبیاء جو حضرتِ آدمؑ سے شروع ہوا اس سے پہلے بھی لوگ موجود تھے، کیونکہ یہاں بے پایان زمانے کے جس پہلو کا بیان ہوا ہے، اس میں لوگ پہلے ہیں اور انبیاء علیہم السّلام بعد میں، اور حضرت آدم علیہ السّلام مذکورہ امتِ واحدہ کے بعد پیغمبر مقرر ہوئے ہیں۔
دلیل نمبر ۲: قرآنِ حکیم میں فرمایا گیا ہے کہ: یقیناً اللہ تعالیٰ نے (کارِ ہدایت کے لئے) منتخب فرمایا ہے آدم کو اور نوح کو اور آلِ ابراہیمؑ کو اور آلِ عمرانؑ کو دنیا والوں پر (۰۳: ۳۳) اس پُرحکمت اشارے سے صاف صاف ظاہر ہے کہ زمانۂ آدمؑ میں اہلِ جہان موجود تھے، جن میں سے خداوندِ عالم نے حضرت آدمؑ کو منتخب فرمایا، جس طرح دوسرے حضرات کو بعد میں دنیا والوں سے منتخب کیا تھا، اور سب جانتے ہیں کہ اگر صرف ایک ہی شخص موجود ہے تو اس صورت میں انتخاب اور برگزیدگی کا لفظ نہیں بولا جاتا ہے، جب تک کہ جمع کی حالت نہ ہو۔
دلیل نمبر ۳: جب ہم اس حقیقت کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السّلام اپنے وقت کے پیغمبر تھے، تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ماننا چاہئے کہ آپ کے زمانے میں لوگ تھے اور آپ لوگوں کے لئے پیغمبر تھے۔
۹۲
دلیل نمبر ۴: سب لوگ اس حقیقت کے قائل ہیں کہ آدم خلیفۂ خدا ہیں، لیکن یہ سوال شاید کسی نے نہیں کیا ہے کہ آیا آدم براہِ راست خدا کے خلیفہ ہیں یا بالواسطہ؟ براہِ راست کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ خود ہی روئے زمین کا دینی بادشاہ ہو، پھر کچھ زمانے کے بعد خداوندِ عالم حضرت آدمؑ کو زمین پر اپنا جانشین (خلیفہ) مقرر کرے، اور بالواسطہ کے معنی یہ ہیں کہ آدم کو یہ خلافت براہِ راست خدا سے نہیں بلکہ خلیفۂ سابق کے توسط سے ملی ہو، اور صحیح بھی یہی ہے، کہ خلافتِ الٰہیہ کا یہ پاک سلسلہ اتنا قدیم ہے جتنی کہ خدا کی سنت قدیم ہے ، اور اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں، یعنی ایسا نہیں کہ دین کا یہ کام جو خلافت میں پوشیدہ ہے کبھی خدا خود کرتا ہو اور کبھی اس کے لئے خلیفہ مقرر کرتا ہو، بلکہ سلسلۂ خلافت جو خداوند تعالیٰ کی صفات کا مکمل مظہر ہے ازل سے چلتا رہا ہے اور یہ ہمیشہ جاری رہے گا۔
دلیل نمبر ۵: جس ابلیس نے سجدۂ آدم سے انکار کیا تھا اس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کافروں میں سے ہوگیا (۰۲: ۳۴) سو اگر اس وقت یا اس سے پہلے کبھی کافر لوگ موجود نہ ہوتے تو ہرگز یوں نہ فرمایا جاتا، کیونکہ کلامِ خدا اس سے پاک و برتر ہے کہ اس میں واقعیت و حقیقت کے بغیر کسی چیز کا ذکر ہو، اس سے معلوم ہوا کہ لوگ ہمیشہ سے ہیں۔
دلیل نمبر ۶: فرشتوں نے خلافتِ آدم پر جو اعتراض کیا تھا (۰۲: ۳۰) اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ انہوں نے لوحِ محفوظ میں آدم اور اولادِ آدم کے بارے میں کوئی پیش گوئی دیکھی تھی، بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے اگلے آدم کے دور کی ظاہری باتوں کو جانتے تھے، مگر باطنی حکمت سے بے خبر تھے، پس ظاہر ہے کہ آدم سے قبل بھی کئی آدم ہوئے ہیں۔
دلیل نمبر ۷: آدم انسان ہے، مگر ہر انسان آدم نہیں، لہٰذا قرآن میں انسان کے بارے میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے اس کا اطلاق آدم پر بھی ہوگا، لیکن جو کچھ آدم کے متعلق ہے اس کا اطلاق ہر انسان پر نہیں ہوگا، چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ انسان کو
۹۳
خدا تعالیٰ نے نطفۂ مخلوط سے خلق کیا ہے (۷۶: ۰۲) اس کے یہ معنی ہوئے کہ ہر انسان کے والدین ہیں، خواہ آدم ہو یا عیسیٰ۔
دلیل نمبر ۸: قرآن کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت آدمؑ کی خلقت ایک جیسی ہے (۰۳: ۵۹) اس سلسلے میں بحث کے لئے ہم تین مثالیں درج کرتے ہیں ایک یہ کہ یہ دونوں حضرات والدین کے بغیر پیدا ہوئے تھے، مگر یہ درست نہیں کیونکہ حضرت عیسیٰؑ کی والدہ تھیں، دوسری مثال یہ کہ دونوں کی ماں تھیں، لیکن یہ بات نامکمل ہے، کیونکہ اس کی کوئی وجہ نہیں کہ آدم کی ماں ہو اور باپ نہ ہو، اور تیسری مثال یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کے والدین تھے اور یہی صحیح ہے، کیونکہ قانونِ فطرت سب کے لئے ایک ہی ہے، مگر قرآن کا یہ ارشاد کہ عیسیٰؑ اور آدمؑ کی خلقت ایک جیسی ہے، اس معنیٰ میں ہے کہ جس طرح پیدائشِ عیسیٰؑ کو خدا نے راز میں رکھا ہے اسی طرح خلقتِ آدمؑ کو بھی راز میں رکھا ہے اور وہ یہ کہ ان دونوں کے والدین تھے۔
دلیل نمبر ۹: آدم و حوّا جب بہشت سے دنیا میں آئے یا ایک سیّارے سے دوسرے سیّارے پر منتقل ہوگئے یا روحانی دور سے گزر کر جسمانی دور میں داخل ہوگئے یا لطیف جسم کو چھوڑ کر کثیف بدن کو استعمال کرنے لگے تو اس وقت ان کے ساتھ لاتعداد لوگ موجود تھے، کیونکہ خدائے حکیم نے انہیں بہشت سے اتر جانے کا جو حکم دیا وہ صیغۂ جمع ہے (۰۲: ۳۸)۔
دلیل نمبر ۱۰: قرآنِ مقدّس میں اللہ تعالیٰ کی سنت کے بارے میں جس شان سے ارشاد ہوا ہے وہ گویا حکمتوں کا ایک آئینہ ہے، (۳۳: ۳۸، ۳۳: ۶۲، ۴۰: ۸۵) جس میں دیکھ کر اہلِ دانش کو یقین آتا ہے کہ خدا کا جو کام مستقبل میں ہونے والا ہے وہ بالکل وہی ہے جو ماضی میں بھی واقع ہو چکا تھا، اور اس میں کوئی چیز نئی نہیں ہے، سو یہی زمانہ ہے جو لوگوں کے درمیان گھومتا رہتا ہے جیسا کہ خداوندِ عالم کا فرمان ہے: وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ
۹۴
نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِۚ (۰۳: ۱۴۰) ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے جو وعدے فرمائے ہیں ان میں سے ایک کا مفہوم یہ ہے: تم میں سے جو لوگ (حقیقی معنوں میں) ایمان لائیں اور نیک عمل کریں خدا وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو زمین کی خلافت عطا کرے گا، جیسا کہ اگلے لوگوں (یعنی آدموں) کو خلیفہ بنایا تھا (۲۴: ۵۵) اس سے ظاہر ہے کہ بے پایان زمانے کے بہت سے ادوار ہوتے ہیں اور ہر دور کا ایک آدم ہوا کرتا ہے۔
اس ارشاد کے دو معنی ہیں ایک عوام کے پاس اور ایک خواص کے پاس، عوام کے نزدیک اس کے یہ معنی ہیں کہ کافر لوگ جسمانی طور پر ہلاک ہو جائیں گے اور مومنین کو زمین کی حکومت ملے گی، مگر خواص کہتے ہیں کہ اس سے خلافتِ الٰہیہ مراد ہے نہ کہ کفار کی جانشینی، جس کی کوئی وقعت نہیں۔
فقط آپ کا علمی خادم
نصیر ہونزائی
۱۴ ستمبر ۱۹۸۰ء
۹۵
لفظِ “احسن” کی حکمت
ویسے تو قرآنِ پاک کا کوئی لفظ حکمتِ الٰہی سے خالی نہیں، تاہم بعض الفاظ اس سلسلے میں خاص اور کلیدی اہمیت کے حامل ہیں، اور لفظِ “احسن” ان ہی میں سے ایک ہے، جس کی کچھ مثالیں یہاں بیان کی جاتی ہیں۔
اس باب میں سب سے پہلے “احسن” کے لغوی معنی اور صرفی مطلب کو ذہن نشین کر لینا چاہئے، کہ احسن کے معنی ہیں بہترین، سب سے اچھا، سب سے عمدہ، اور سب سے بڑھ کر خوب، اور صَرف میں اس کو تفضیلِ کل کہتے ہیں۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ اس مادّی دنیا میں جتنی چیزیں ہیں وہ قدر و قیمت اور اہمیت کے اعتبار سے ایک جیسی نہیں ہیں، وہ علی الترتیب اور درجہ وار ہیں، بالکل اسی طرح عالمِ دین کی چیزیں واقع ہیں، یعنی وہ ایک سے ایک بہتر ہونے کے اصول پر ہیں، جس کو ہم یہاں اصولِ احسن کہہ سکتے ہیں۔
احسن کا رہنما اصول دو اشاروں کا حامل ہے، ایک یہ کہ وہ چیز جس کو احسن کہا گیا ہے دوسری چیز سے بہتر ہے، اور بعض صورتوں میں یہ ہے کہ وہ چیز سب سے بہتر ہے، احسن کے یہ دونوں اشارے آیاتِ متعلقہ میں معلوم ہو سکتے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے: پھر ہم نے موسیٰ کو تمام کتاب دی جو سب سے بہترین (احسن) چیز پر تھی (یعنی اس کا موضوع تھا “سب سے بہترین چیز”) اور ہر چیز کی تفصیل تھی اور ہدایت و رحمت تھی تاکہ وہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات پر ایمان لائیں (۰۶: ۱۵۴)۔
۹۶
اس فرمانِ خداوندی کو ذرا غور سے دیکھنے سے یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ تورات کا اصل موضوع تھا “ملاقاتِ خداوندی” جس کو یہاں سب سے بہترین چیز فرمایا گیا ہے، کیونکہ اس حکم سے صاف طور پر ظاہر ہو جاتا ہے کہ تورات کی تفصیل، ہدایت اور رحمت کا آخری اور اعلیٰ مقصد اللہ تعالیٰ کے مقدّس نور کا دیدار ہی ہے۔
آسمانی کتاب خدائی علم کی ایک عجیب و غریب دنیا ہے، جس کی ہر طرف ایک زبردست کشش موجود ہے، یعنی ہر وہ چیز جس کی تعریف کی گئی ہے اس حسن و خوبی سے پیش کی گئی ہے کہ آدمی بس عمر بھر اسی میں کھو جائے، ایسی صورت میں اگر سب سے احسن چیز کا ذکر نہ ہوتا تو لوگ کتابِ الٰہی کے ذیلی مقاصد ہی میں گم ہو جاتے اور مقصدِ اعلیٰ کو نہیں پہنچ سکتے، مگر حقیقتِ حال اس کے برعکس ہے، وہ یہ کہ کتابِ سماوی ایک ایسے سمندر کی طرح ہے جس کا نہ صرف رخ (بہاؤ) ہی منزلِ مقصود کی طرف ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ روشنی والی برجیاں بھی ہر جگہ منزل کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اس کے باؤجود افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے لوگ دنیائے علم ہی میں گمراہ ہو چکے ہیں، شاید آپ کو اس بات سے بڑا تعجب ہوگا، کہ علم کی روشنی میں گمراہی کیسی! سو لیجئے کہ یہ حقیقت دراصل قرآن ہی کی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا گیا ہے: سو کیا آپ نے اُس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنا خدا اپنی خواہشِ نفسانی کو بنا رکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کو علم ہی پر گمراہ کر دیا ہے اور خدا نے اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے۔ (۴۵: ۲۳) اس سے ظاہر ہے کہ بہت سے لوگ آسمانی کتاب کا سطحی علم تو رکھتے ہیں، مگر خدا کو نہیں پہچانتے، جس کی وجہ سے وہ اسی ظاہری علم میں گمراہ ہو جاتے ہیں، پھر اس میں کتابِ سماوی کا کیا قصور، اس میں ذکر تو ہے کہ سب سے بہترین چیز کیا ہے، مگر وہ نہیں سمجھتے ہیں۔
نیز اصولِ احسن کے بارے میں ارشاد ہے: وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ (۱۶: ۱۲۵)
۹۷
اور ان سے اس چیز کے ذریعہ سے بحث کیجئے جو سب سے بہترین ہے۔ یعنی اُن کے نظریہ پر اپنے نظریہ کی فوقیّت کو روشن دلائل سے ثابت کیجئے، اور اسلام میں جو سب سے بہترین چیز ہے اس کا ثبوت دیجئے۔
اس اصول کے بارے میں یہ بھی فرمایا گیا ہے: پس آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو کلامِ الٰہی کو سنتے ہیں پھر اس کی بہترین باتوں پر عمل کرتے ہیں (۳۹: ۱۷ تا ۱۸) ، یعنی ظاہر کے بعد باطن اور تنزیل کے بعد تاویل پر عمل کرنا مقصود ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو مقصدِ اعلیٰ تک رسائی نا ممکن ہوگی۔
اسلام کا دوسرا نام صراطِ مستقیم (راہِ راست) ہے، اس کے معنی ہیں کہ مسلمان علم و عمل کا مسافر ہے اور خدا اس کا منزلِ مقصود ہے، اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ وہ آگے سے آگے بڑھے اور سب سے بہترین یہ ہے کہ وہ خدا سے مل جائے۔
دین کی تعلیم اور تعمیل دونوں بحیثیتِ مجموعی ایک یونیورسٹی کے مشابہ ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اقوال و اعمال کے مدارج بنے ہوئے ہیں، اور ان میں پچھلے درجہ سے اگلا درجہ بہتر ہے اور جو درجہ سب سے آخر میں ہے وہی سب سے اوپر ہے اور وہی سب سے احسن ہے۔
یہ قدرتی بات ہے کہ لوگوں کی ذہنی اور عملی صلاحیت برابر اور ایک جیسی نہیں ہوتی ہے، وہ اس اعتبار سے مختلف سطحوں پر ہوتے ہیں، لہٰذا دین کو سیدھی راہ (صراطِ مستقیم) کی صورت میں بنایا گیا، تاکہ کچھ لوگ آگے اور کچھ پیچھے چلتے رہیں اور جو سب سے آگے ہیں وہ ہدایت میں احسن قرار پائیں۔
جو صراطِ مستقیم ہے وہی خدا کی رسی بھی ہے اور جو خدا کی رسی ہے وہی خدا کی سیڑھی بھی ہے، یعنی سیدھی راہ، خدا کی رسی اور خدا کی سیڑھی ایک ہی چیز ہے، مگر نام الگ الگ ہیں، ان میں سے ہر مثال میں درجات کا تصوّر ہے، چنانچہ جو شخص صراطِ مستقیم پر
۹۸
جتنا آگے بڑھے اور جس قدر خدا سے نزدیک تر ہو جائے اتنا بہتر (احسن) ہے، کوئی مومن خدا کی رسی سے وابستہ ہو کر عالمِ علوی کی جانب جتنا بلند ہو سکے اتنا اچھا ہے اور خدا کی سیڑھی پر چڑھتے ہوئے جتنا بلند درجہ حاصل کیا جائےاتنا احسن ہے، یہ اس لئے کہ اسلام نے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا تصوّر دیا ہے (۵۷: ۲۱، ۳۵: ۳۲، ۰۹: ۱۰۰، ۲۳: ۶۱، ۵۶: ۱۰)۔
فقط دعا گو
نصیر ہونزائی
۲۱ جولائی ۱۹۸۰ء
۹۹
نور اور حواسِ ظاہر و باطن
حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن کے درمیان ایک حجاب یعنی پردہ موجود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ظاہری اور باطنی چیزوں کا احساس و مشاہدہ الگ الگ ہو سکتا ہے، اور اگر یہ پردہ کسی طرح اٹھ جائے تو پھر عجب نہیں کہ باطن کی چیزیں ظاہر میں نظر آنے لگے اور ظاہر کی چیزیں باطن میں، یہی سبب ہے کہ بعض لوگ شمع بینی، بلور بینی اور ماہتاب بینی جیسی مشقیں کر لیا کرتے ہیں، تاکہ اس نرم اور متواتر مشق سے اس پردے کی تحلیل ہو، جو چشمِ ظاہر اور چشمِ باطن کے درمیان ہے، ہمیں معلوم ہے کہ اس نوعیت کی کوشش کرنے والے افراد میں سے کچھ برائے نام کامیاب بھی ہو جاتے ہیں، مگر حقیقی ہدایت اور حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ظاہر و باطن کے درمیان جو دیوار کھڑی ہے یا اسرارِ باطن پر جو نقاب ہے اس کو عبادت و ریاضت کے زور سے ہٹانا چاہئے، تاکہ محنت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے مطابق ہو اور نتیجہ بدرجۂ انتہا مفید ثابت ہوسکے، کیونکہ صراطِ مستقیم صرف ایک ہی ہے، اور اس سے ہٹ کر جو کچھ بھی ہے وہ گمراہی اور بت پرستی ہے۔
الحمدللہ علیٰ احسانہ۔ اس بندۂ درویش نے حواسِ ظاہر اور حواسِ باطن کو ایک ہوتے ہوئے دیکھا اور اس کا مکمل تجربہ کیا، شمع، بلور اور ماہتاب کی کوئی مشق نہیں کی، مگر ان کے عجائب و غرائب کا مشاہدہ کیا، یہ ہدایتِ حقہ اور رحمتِ خداوندی کا نتیجہ تھا۔
۱۰۰
جب کوئی باسعادت مومن خدا شناسی کے مقام کو پا لیتا ہے، تو اس وقت اس کے حواس ظاہراً و باطناً غیر معمولی کام کرنے لگتے ہیں، وہ ایسے معجزات کا مشاہدہ کر سکتا ہے، جن کے متعلق لوگ وہم و گمان بھی نہیں کر سکتے، وہ ایسی آوازوں کو سن سکتا ہے جو اسرارِ روحانیّت میں سے ہیں، وہ ایسی خوشبوؤں کے سونگھنے کا تجربہ کر سکتا ہے، جن کے احساس سے لوگ قطعاً بے خبر ہیں، اور اسی طرح تمام حواسِ ظاہر و باطن کے لاتعداد عجائبات و غرائبات ہیں۔
نور اپنے وسیع تر معنوں میں صرف آنکھ کی روشنی اور رہنمائی تک محدود نہیں، بلکہ وہ مومن کے ہر احساس و ادراک کو بدرجۂ انتہا قوّی اور فعال بنا دیتا ہے، مثال کے طور پر نور جب بھی آئے تو وہ آنکھوں میں نہیں آتا، بلکہ وہ بندۂ صالح کے دل و دماغ کو اپنا مرکز بنا لیتا ہے اور وہیں سے تمام ظاہری اور باطنی حواس پر محیط ہو جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں عقل ہی وہ مقام ہے جہاں نور کا پاور ہاؤس بن سکتا ہے، اگر یہ نورانیّت و روحانیّت کا پاور ہاؤس قائم ہو چکا ہے تو تمام ظاہری اور باطنی حواس اسی کی طاقت سے کام کرنے لگیں گے، کیونکہ جسم و جان کی جملہ قوّتیں دل یعنی عقل سے منسلک ہیں، جس طرح کسی شہر کا ہر گھر اور ہر کارخانہ بجلی گھر سے منسلک ہوا کرتا ہے۔
فقط
نصیر ہونزائی
۴ جون ۱۹۸۳ء
۱۰۱
ذوالقرنین
جس ذوالقَرنَین کاقرآن(۱۸: ۸۳ تا ۹۸)میں ذکرہےوہ کتاب ’’ الامامت فی الاسلام ‘‘ کے مطابق حضرت نوح علیہ السّلام کے دور کے چوتھے امام کا نام ہے، ذوالقَرنَین کا مطلب ہے دو زمانوں کا مالک، یعنی زمانۂ ظاہر اور زمانۂ باطن، جس کو عصر بھی کہا جاتا ہے، سو ایسا کامل انسان جو زمانے کے ظاہر و باطن کا بادشاہ ہو سوائے پیغمبر اور امام کے اور کوئی نہیں ہوسکتا، چنانچہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے مولانا علی علیہ السّلام سے فرمایا کہ: ۔
یا علی اِنَّ لَکَ بَیْتاً فی الجَنَّۃِ وَ اِنَّکَ لَذُوْ قَرنَینُھا۔ یعنی جنت میں تمہارے لئے ایک مخصوص مکان ہے اور تم اِس اُمّت کے ذوالقرنین ہو، یعنی یہ مرتبہ سلسلۂ امامت میں ہمیشہ امّت کے درمیان موجود ہے۔
چنانچہ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے کہ: ۔
اور (اے رسول) آپ سے یہ لوگ ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ میں اس کا کچھ حال تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں، ہم نے اس کو زمین میں قدرت دی تھی اور ہم نے اس کو ہر چیز کا راستہ دیا تھا۔ (یعنی زمینِ ظاہر اور زمینِ روحانیّت کی ہر چیز پر تسلط دیا تھا )۔
چنانچہ وہ ایک راہ پر ہو لیا ۔( یعنی اُس نے روحانی سفر کیا)۔یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پر پہنچا تو آفتاب اس کو ایک کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا ہوا دکھلائی دیا ۔ ( یعنی نورِ توحید حدودِ جسمانی میں ڈوب جاتا تھا، اور یہ حدود جسمِ لطیف کے ذرّات کی صورت میں کام کرتے تھے ) اور وہاں پر اُس نے ایک قوم دیکھی ۔( یعنی دوسرے
۱۰۲
درجے کی روحیں جو اہلِ ادیان کی ہیں ) ہم نے (بطریقِ الہام) یہ کہا کہ اے ذوالقرنین خواہ عذاب دو اور خواہ ان کے بارے میں بھلائی سے کام لو ذوالقرنین نے عرض کیا کہ پس البتہ جو ظلم کرے گا سو اس کو ہم سزا دیں گے پھر وہ اپنے پروردگار کے پاس پہنچایا جائے گا پھر وہ اس کو سخت سزا دے گا اور جو شخص ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کے لئے بدلے میں بھلائی ملے گی اور ہم اپنے برتاؤ میں اس کو آسان بات کہیں گے ۔ (یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے خلیفۂ روئے زمین کو ہر طرح کا اختیار دیا اور خلیفۂ خدا نے ادب سے کہا کہ وہ قانونِ عدل کے مطابق لوگوں سے سلوک کرے گا روحانیّت کے مقام پر بھی اور جسمانیت میں بھی )۔
پھر ایک (دوسری) راہ پر ہو لیا یہاں تک کہ جب طلوعِ آفتاب کے مقام پر پہنچا تو آفتاب کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا جن کے لئے ہم نے آفتاب کے نیچے کوئی آڑ نہیں رکھی تھی (رازِ روحانی) اسی طرح ہے۔ (یعنی ذوالقرنین کے اِس سفرِ روحانی میں حدودِ جسمانی کے بعد حدودِ روحانی سے ملاقات ہوئی تھی جہاں اہلِ توحید کی روحیں موجود تھیں، جن پر نورِ توحید کی روشنی براہِ راست پڑتی تھی اور اُس واقعہ میں روحانیّت کا سب سے بڑا راز پوشیدہ تھا)۔
اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ (علم و حکمت) تھی ہم کو اس کی پوری خبر ہے ۔ (یعنی ذوالقرنین کے تمام بھیدوں کی تفصیل سے ہم باخبر ہیں)۔
پھر ایک اور راہ پر ہولیا یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان میں پہنچا تو اُن دو قوموں ( یعنی اہلِ توحید اور اہلِ مذاہب ) سے کم درجے کی ایک قوم کو دیکھا جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے ۔(یعنی اہلِ دنیا یا کہ لادینی لوگوں کی روحیں ) ۔
انہوں نے یعنی اہلِ ادیان نے کہا کہ اے ذوالقرنین یہ یاجوج و ماجوج زمین میں فساد مچاتے۔ ( یعنی دنیائے روحانیّت میں فساد کرنے والے یہی یاجوج و ماجوج ہیں یعنی
۱۰۳
لامذہب والوں کی روحیں) ۔ سو کیا ہم لوگ آپ کے لئے کچھ چندہ جمع کر دیں اِس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی روک بنا دیں ۔ (یعنی کچھ علم دیں ) ذوالقرنین نے جواب دیا کہ جو قدرت و تسلط میرے پروردگار نے مجھے عنایت کیا ہے وہ بہت کچھ ہے سو البتہ ذاتی قوّت سے میری مدد کرو تو میں تمہارے اور ان کے درمیان میں ایک مضبوط دیوار بنا دوں۔ (یعنی تم صرف حرکتِ روحانی سے میری مدد کرو تاکہ میں ہیولیٰ (روحانی مادّہ) کی دیوار بناؤں )۔
تم لوگ میرے پاس لوہے کے ذرّات لاؤ ۔( یعنی لوہے کے ھیولیٰ کے ذرّات، کیونکہ عالمِ ذرّ میں ذرّاتِ روحانی کی صورت میں سب کچھ موجود ہے، اور قرآن کے بہت سے مقامات پر “کُل شیئٍ” کے عنوان کے تحت اس کا ذکر ہے) یہاں تک کہ جب ان دونوں سروں کے بیچ (کے خلاء) کو برابر کر دیا تو کہا کہ دھونکو یہاں تک کہ جب اس کو لال انگارا کر دیا تو (اسوقت) حکم دیا کہ اب میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ کہ اس پر ڈال دوں۔ (یعنی دو پہاڑ روحانیّت اور جسمانیت کی مثال ہیں اور درمیان میں جو دیوار ہے وہ برزخ ہے یعنی پردہ، جس کی کیفیت نہ تو روحانی ہے اور نہ ہی جسمانی بلکہ درمیانی حالت ہے چنانچہ اسی حقیقت کی مثال سورۂ رحمٰن میں دو ایسے سمندروں سے دی گئی ہے جو ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں جن کے درمیان ایک پردہ ہے جس کی وجہ سے وہ بڑھ نہیں سکتے، تویہ درمیانی پردہ کبھی بنایا جاتا ہے اور کبھی اُٹھایا جاتا ہے، اور جب بھی یہ دیوار ہٹائی جاتی ہے تو روحانیّت و جسمانیت ایک ہو جاتی ہے اور یاجوج و ماجوج کی روحیں جو انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرّات پر سوار ہیں انسانی جسم میں پھیل جاتے ہیں، یہ تمام باتیں روحانیّت کے اسرار میں سے ہیں، پس دھونکے سے ذکر و عبادت مراد ہے جو محنت و ریاضت سے ہو اور لوہے کو گرم کرنے کے معنی ہیں اِن ذرّاتِ روحانی کو عبادت و بندگی کے زیرِ اثر لانا، اسی طرح پگھلا ہوا تانبا کا مطلب ہے ایسے دوسرے ذرّات کو سخت ذکر کے
۱۰۴
ذریعہ تحلیل کرنا)۔
سو نہ تو یاجوج و ماجوج اِس (دیوار) پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں نقب دے سکتے ہیں ۔(یعنی امامِ زمان زمانے کے ذوالقرنین ہیں اور مومنین ان کے لشکر ہیں، جن کے روحانی عمل سے روحانیّت و جسمانیت کے درمیان کی یہ دیوار یا کہ حجاب بنتا اور قائم رہتا ہے)۔
ذوالقرنین نے کہا کہ یہ میرے ربّ کی رحمت ہے، پر جس وقت میرے ربّ کا وعدہ آئے گا، تو اس کو ریزہ ریزہ کرے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے۔(یعنی دنیا والوں کے لئے یہ بھی ایک رحمت کی صورت ہے کہ اسی طرح یاجوج و ماجوج کے فساد سے محفوظ ہیں مگر جب انفرادی یا اجتماعی قیامت آئے گی تو خداوند تعالیٰ اس حجابِ روحانی کو ریزہ ریزہ کرے گا تاکہ بمع دیگر روحوں کے یاجوج و ماجوج کا ظہور ہو تاکہ روحانیّت کا دور دورہ ہو یا ایسا کوئی نمونہ کسی فرد کو پیش کیا جائے)۔
اور ہم اس دن ان کو اس طرح چھوڑ دیں گے کہ وہ ایک دوسرے میں موجزن ہو جائیں گے۔( یعنی قیامت کے موقع پر تمام روحانی ذرّات کو اس طرح چھوڑ دیں گے کہ سمندر کی طرح ایک دوسرے میں موجزن ہو جائیں گے ) اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو اکٹھا کریں گے۔(پھر اُن بے پناہ روحوں پر کسی کا کوئی کنٹرول نہ ہوگا سوائے صورِ اسرافیل کی آواز اور ذکرِ الٰہی کے اور اللّٰہ تعالیٰ سب کو اپنی حکمت سے جمع کرے گا جس طرح کہ جمع کرنے کا حق ہے )۔
اور اسی دن جہنم کو ہم ان کافروں کے سامنے کھلم کھلا پیش کریں گے جن کی آنکھیں ہمارے ذکر سے پردے میں تھیں اور وہ سن بھی نہیں سکتے تھے ۔ (یعنی وہ حق کونہیں دیکھ سکتے تھے) ۔
فقط
نصیر الدّین نصیرؔ ہونزائی
۱۰۵